شیعہ سنی کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(یہ تحریر صادق گنجی قتل کیس کے ملزم شیخ حق نواز کو پھانسی کی سزا ملنے کے بعد مارچ ۲۰۰۱ء میں لکھی گئی تھی۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں اسے معمولی ترمیم کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
لاہور، سیالکوٹ اور ملتان میں فرقہ وارانہ تشدد کے جو نئے الم ناک واقعات رونما ہوئے ہیں اور بیسیوں بے گناہ شہریوں کی افسوس ناک ہلاکت پر منتج ہوئے ہیں، انھوں نے اس سوال کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے کہ آخر اس عمل کو کب اور کہاں بریک لگے گی؟ ہم ایک بار پھر اپنی مساجد میں دروازے بند کر کے سنگینوں کے سائے میں نمازیں ادا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ا س سے شاید دونوں طرف کے کچھ جذباتی اور انتہا پسند نوجوانوں کے جذبات کو تھوڑی بہت تسکین ملتی ہو یا اس خونی کھیل کو جاری رکھنے کے خواہش مند حلقوں کے مقاصد کچھ آگے بڑھتے ہوں مگر دین، قوم اور ملک کے لیے یہ سب کچھ انتہائی تباہ کن ہے اور اس کی تباہ کاری کی صلاحیت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
سنی شیعہ مسلح کشمکش میں بیرونی عوامل کی کارفرمائی سے انکار نہیں اور ہم اس کی کئی بار اپنی معروضات میں نشان دہی کر چکے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کی محاذ آرائی کا ہے اور خارجی عوامل کے لیے بھی آلہ کار اور ایندھن کا کام ہر دو طرف کے جذباتی نوجوان سرانجام دیتے ہیں۔ اس لیے دیگر عوامل ومحرکات سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے اہل سنت اور اہل تشیع کے رہنماؤں، بالخصوص جذباتی نوجوانوں سے دو گزارشات کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ خدا کرے کہ کسی دل میں یہ بات اتر جائے اور اس خونی عمل کے کسی جگہ رکنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔
پہلی بات بخاری شریف کی اس روایت کے حوالہ سے ہے جو ’’کتاب الادب‘‘ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے منقول ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بڑے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے اور برا بھلا کہے۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے سکتا ہے؟ جناب نبی اکرم نے فرمایا کہ اس نے دوسرے کے ماں اور باپ کو گالی دی اور اس نے جواب میں اس کے باپ یا ماں کو گالی دی تو گویا اس نے اپنے ماں باپ کو خود گالی دی۔ یعنی جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق اپنے ماں باپ کے لیے گالی کا سبب اور واسطہ بننے والا شخص خود ان کو گالی دینے کا مرتکب قرار پائے گا۔ کم وبیش اسی نوعیت کی بات سورۃ الانعام کی آیت ۱۰۸ میں قرآن کریم نے بھی ارشاد فرمائی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو برا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ وہ جواب میں تمھارے سچے خداؤں کو برا بھلا کہیں گے اور اس کا سبب تم خود بنو گے۔ اس لیے ’’مرغی پہلے یا انڈا‘‘ کی طرح اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس باہمی قتل وغارت کا آغاز کس نے کیا تھا، ہم اہل سنت اور اہل تشیع، دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے جذباتی اور انتہا پسند نوجوانوں کو اس نکتہ پر غور کی دعوت دینا چاہتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے سنجیدگی اور ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے لیں کہ دونوں طرف کے جو بڑے بڑے بزرگ اور سرکردہ قائدین اس الم ناک قتل وغارت کی نذر ہو چکے ہیں، کہیں وہ سبب اور واسطہ کے درجے میں خود ہی اپنے بزرگوں کے قاتل تو قرار نہیں پاتے؟ میں تو جتنا اس مسئلہ کی گہرائی میں جاتا ہوں، دل ودماغ کے لرزہ میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اسی احساس کے تحت یہ گزارش بھی کر رہا ہوں۔
دوسری گزارش جناب نبی اکرم ﷺ کی ایک عملی سنت کے حوالہ سے کرنا چاہتا ہوں۔ عرب قبائل میں انتقام در انتقام کا سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا تھا جیسے اب سنی اور شیعہ روزانہ انتقامی جذبہ کے تحت اندھا دھند قتل ہو رہے ہیں۔ جناب نبی اکرم نے ا س سلسلہ کو بریک لگانے کے لیے حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمایا کہ گزشتہ قتلوں کے انتقام کا سلسلہ ختم کر کے نئے سرے سے پرامن زندگی کا آغاز کرو اور گزشتہ قتلوں اور ان کے انتقام کو بھول جاؤ۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کا صرف زبانی اعلان نہیں کیا بلکہ عملی طور پر بھی اس کا اظہار فرمایا کہ اپنے چچا زاد بھائی ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب کے معصوم بیٹے ایاس کا قتل معاف کرنے کا اسی مجلس میں اعلان فرما دیا اور اپنے اعلان پر عمل درآمد کا آغاز گھر سے کر دیا۔ ایاس، ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا بیٹا تھا اور بنو سعد میں پرورش پا رہا تھا کہ بنو ہذیل نے اسے قتل کر دیا۔ اس کا انتقام قبائلی روایات کے مطابق بنو عبد المطلب کے ذمہ تھا۔ متعدد لوگوں کے دلوں میں اس انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور وہ یقیناًکسی موقع کے انتظار میں ہوں گے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے بنو عبد المطلب کی طرف سے اپنے اس معصوم بچے کا خون معاف کرنے کا اعلان فرما کر نہ صرف یہ کہ انتقام در انتقام کے اس بظاہر ختم نہ ہونے والے سلسلے کو روک دیا بلکہ باقی لوگوں کے لیے بھی ایک عملی نمونہ پیش کر دیا اور یہ اسی کی برکت تھی کہ پشت در پشت خونریزی کے عادی اور خوگر عرب قبائل کو امن اور باہمی اعتماد کی منزل گم گشتہ مل گئی۔
آج بھی امن کا راستہ یہی ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے سرکردہ اکابر سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس مکروہ عمل کو بریک لگانے کے لیے سنت نبوی کی روشنی میں کوئی فارمولا طے کریں اور اس پر اپنے جذباتی نوجوانوں کو پابند کریں یا بصورت دیگر امن کا دشمن بن جانے والوں سے لا تعلقی اور براء ت کا اعلان کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ جو فریق بھی اس سمت میں پہل کرے گا، وہ جناب نبی اکرم کی سنت مبارکہ کا دامن تھامنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کے لیے بھی امن وسلامتی کا پیغام بر ثابت ہوگا لیکن اس کے لیے پاکستان کے امن اور قومی وحدت کو سبوتاژ کرنے کے خواہش مند عناصر کو ’’کراس‘‘ کرنے کا حوصلہ درکار ہے۔ خدا کرے کہ سنی شیعہ قائدین اس حوصلہ کا بروقت اظہار کر سکیں۔ آمین ثم آمین
علامہ اقبال کا نظریہ شعر و ادب
پروفیسر محمد یونس میو
علامہ اقبال کے نظریہ شعر کا جائزہ لینے سے قبل اس بنیادی اور اصولی بحث سے اعراض ممکن نہیں کہ آخر شعر وادب کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ یہی وہ چیز ہے جس کی بنیاد پر کسی فنی شاہکار اور فن پارے کی عظمت کا تعین کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان۔ ۱ انسان کی ابتدائی اور قدیم ترین زندگی میں، جسے پتھروں کا زمانہ کہا جاتا ہے، فن برائے فن کی جھلک نظر آتی ہے۔ ۲ فن میں مقصدیت کا عمل دخل بھی کوئی نیا اور جدید نہیں ہے۔ یہ اپنی قدامت کے لحاظ سے قدیم یونان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے اٹھارویں صدی عیسوی میں ’’فن برائے فن‘‘ ۳ یا ’’فن برائے زندگی‘‘ کے نام سے جمالیاتی تنقید میں معرکہ آرا مسئلے کی صورت اختیار کر لی اور آج تک متنازع فیہ ہے۔ ۴ فن برائے فن کے داعیوں ۵ کا کہنا یہ ہے کہ حسن فن کا خاصہ ہے، حسن بذاتہ ایک ایسی قدر ہے جو مطلق بھی ہے اور ہر قدر سے اعلیٰ اور برتر بھی۔ باقی تمام اقدار مثلاً صداقت اور خیر یا تو حسن کے ماتحت ہیں یا بالکل غیر متعلق۔ اس قدر اعلیٰ ہونے کی بنا پر فن کا وجود بذاتہ مقصود بن جاتا ہے۔ زندگی کی وسعتوں میں اس کی اپنی حدود ہیں اور یہ اپنے مقام پر آزاد اور مکمل ہے۔ نہ اس کی کوئی منزل مقصود ہے اور نہ یہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اس کا کام صرف اس قدر ہے کہ فن کار کو حسن محض کے ادراک سے ہم کنار اور کیفیت اہتزاز سے دوچار کرے۔ یہ مقصد خود فن ہی میں داخل ہے اور اس وقت حاصل ہو جاتا ہے جب فن تخلیق پذیر ہو۔ فن کی اپنی قدر کے علاوہ کسی اور مقصد مثلاً اخلاق، تعلیم، روپیہ پیسہ یا شہرت وغیرہ کو اس کے متعلق گرداننا دراصل اس کی اپنی قدر کی نفی ہے۔ یہ مقاصد فن کی قدر وقیمت کو گرا دیتے ہیں، اس میں اضافہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
گوتیر (Goutir) کا قول ہے کہ ہم فن کی آزادی کے قائل ہیں۔ ہمارے نزدیک فن بذات خود ایک مقصد ہے نہ کہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ۔ وہ فن کار جو فن کے بجائے کسی اور مقصد کی تلاش میں ہو، فن کار ہی نہیں۔ ایک اور جگہ اس نے کہا ہے کہ ’’جب کوئی شے مفید بن جاتی ہے تو حسین نہیں رہتی۔‘‘ آسکر وائلڈ کے نزدیک تخلیق کی اولین شرط یہ ہے کہ نقاد اس بات کو خوب جان لے کہ فن اور اخلاق کی حدود ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔ ۶ ڈاکٹر عبد الحکیم خلیفہ نے اپنے مقالہ ’’فنون لطیفہ‘‘ میں فرائڈ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’فن لطیف کا کام دل کش نفسیاتی دھوکہ پیدا کرنا ہے۔ شاعری ہو یا مصوری، ڈراما نویسی ہو یا ناول نگاری، ان سب کا مقصد زندگی کے تلخ حقائق سے گریز ہے۔‘‘ ۷ سید انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے مخصوص انداز میں یہی بات یوں کہی ہے: ’’شعر میں ایک تو شاعری ہوتی ہے، دوسرے جھوٹ اور تیسرے مبالغہ۔ شاعری میں تخیل اور خیال آفرینی ہوتی ہے یعنی حقیقت شے کے آس پاس آنا اور خود اس کو ظاہر نہ کرنا جس کا مقصد اچنبھے میں ڈالنا ہوتا ہے۔‘‘ ۸ پروفیسر حسن شاہ نواز زیدی نے لکھا ہے کہ فن کا اپنا ہی ایک معیار ہے جو اخلاقیات کی قید میں نہیں آ سکتا۔ وہ ایک مفکر کا قول نقل کرتے ہیں کہ ’’شاعری کے لیے حقیقت اور صداقت ضروری نہیں ہے بلکہ شاعری اور آرٹ مبالغے کے جتنا قریب ہوں گے، اتنا ہی پر اثر ہوں گے۔‘‘ ۹
’’فن برائے فن‘‘ سے ملتی جلتی ایک اور تحریک ’’ہیئت برائے ہیئت‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے حامیوں کے نزدیک فن کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ بات کہی کیسے جائے گی۔ باقی رہی یہ بات کہ کیا کہا گیا ہے تو ان کے نزدیک یہ کوئی اہم شے نہیں۔ جو بات آپ کہتے ہیں، وہ اچھی ہو یا بری، سچ ہو یا جھوٹ، صحیح ہو یا نادرست، فن کی قدر وقیمت پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتی کیونکہ اس کا انحصار تو اس ہیئت پر ہے جس میں فن کو وجود ملا ہے اور تمام جمالیاتی خصائص اس سے وابستہ ہیں۔ اس صورت میں ’فن برائے فن‘ کا کلیہ ’ہیئت برائے ہیئت‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ۱۰ اس لحاظ سے ’فن برائے فن‘ اور ’ہیئت برائے ہیئت‘ ایک ہی تحریک کے دو نام ہیں۔
اس تحریک کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں فن کو زندگی سے بالا وبرتر مقام دیا گیا ہے اور اس کے داعیوں نے فن کے مافیہ (Content) کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ ۱۱ ظاہر ہے کہ اس حیثیت میں ادب کوئی مفید چیز نہیں ہو سکتا۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا نظریہ ’’فن برائے زندگی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حضرات فن برائے فن کے مخالف اور فن کے مافیہ پر بہت زور دیتے ہیں۔ مولانا عبد السلام ندوی فرماتے ہیں کہ ’’فن برائے فن کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل چیز فن برائے زندگی ہے۔‘‘ ۱۲ علامہ اقبال اسی نظریہ کے داعی اور مبلغ ہیں۔ ڈاکٹر خلیفہ فرماتے ہیں: ’’فن برائے فن ایک بے ہودہ نظریہ ہے۔ علامہ اقبال نہ علم برائے علم کے قائل تھے نہ فن برائے فن کے۔‘‘ ۱۳ آپ کے ہاں زندگی اور فن کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ ان کے نظریہ فن کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ فن زندگی کا خادم ہے۔ ۱۴
ا س تحریک کا باوا آدم افلاطون کو بتایا جاتا ہے۔ ۱۵ اقبال مابعد الطبیعیاتی نقطہ نظر میں افلاطون کے سخت مخالف ہیں، ۱۵ لیکن فن کے سلسلے میں اسی کے پیروکار ہیں۔ دونوں کے نزدیک فن کا ایک ہی مقصد ہے۔ ۱۶ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقبال افلاطون سے زیادہ حالیؒ سے متاثر ہوئے ہیں۔ نقاد کہتا ہے: ’’حالی حیات انگیز شاعری میں اقبال کا پیش رو ہے اور اس کا بھی امکان ہے کہ اگر حالی نے شاعری کا رخ نہ بدل دیا ہوتا تو شاید اقبال کا بھی ظہور نہ ہوتا۔ اقبال میں حالی کا درد ملت موجود ہے اور اس کی حکیمانہ نظر حالی سے زیادہ وسیع اور گہری ہے۔‘‘ ۱۷ شیخ عبد القادر نے دیباچہ بانگ درا میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کی علمی دنیا میں جتنے نامور اس زمانے میں موجود تھے، مثلاً مولانا شبلی مرحوم، مولانا حالی مرحوم، اکبر مرحوم، سب سے اقبال کی ملاقات اور خط وکتابت تھی ۱۸ اور ان کے اثرات اقبال کے کلام پر اور اقبال کا اثر ان کی طبائع پر پڑتا رہا۔‘‘ ۱۹ یہی بات شیخ عبد القادر نے غالب کے بارے میں فرمائی ہے بلکہ اس ضمن میں تو وہ یہاں تک لکھ گئے ہیں کہ ’’اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ غالب کی روح نے دوبارہ اقبال کا نام پایا۔‘‘ ۲۰
علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں غالب کی حکمت کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ۲۱ یہ سچ ہے کہ اقبال نے افلاطون، شبلی، حالی اور غالب سے استفادہ کیا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انھوں نے اپنے نظریہ ادب وشعر کی بنیاد قرآن وحدیث کی تعلیمات پر رکھی ہے، چنانچہ آپ نے ۱۹۱۷ء میں ’’جناب رسالت مآب کا ادبی تبصرہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا جس میں دو عربی شاعروں کے موازنہ وتقابل سے فنون لطیفہ اور خصوصاً شاعری کے بارے میں اپنا نظریہ بڑی وضاحت سے بیان کر دیا۔ اس تحریر سے ایک اقتباس ہم اس مضمون کے آخر میں نقل کریں گے۔
علامہ اقبال نے انجمن ادبی کابل کے سپاس نامہ ۲۲ کے جواب میں فرمایا تھا:
’’شاعر قوم کی زندگی کی بنیاد کو آباد بھی کر سکتا ہے اور برباد بھی۔ اس ملک کے شعرا پر لازم ہے کہ وہ نوجوان قوم کے سچے رہنما بنیں۔ زندگی کی عظمت اور بزرگی کے بجائے موت کو بڑھا چڑھا کر نہ دکھائیں کیونکہ جب آرٹ موت کا نقشہ کھینچتا ہے اور اس کو بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہے، اس وقت وہ سخت خوفناک اور برباد کن ہو جاتا ہے۔‘‘۲۳
آپ نے اسی موقع پر فرمایا کہ :
’’شاعر اپنے تخیل سے قوموں کی زندگی میں نئی روح پھونکتا ہے۔ قومیں شعرا کی دست گیری سے پیدا ہوتی ہیں اور اہل سیاست کی پامردی سے نشوونما پاکر مر جاتی ہیں۔ پس مری خواہش یہ ہے کہ افغانستان کے شعرا اور انشا پرداز اپنے ہم عصروں میں ایسی روح پھونکیں جس سے وہ اپنے آپ کو پہچان سکیں۔‘‘ ۲۴
کسی قوم کے ادیب، شاعر اور فن کار اس کی زندگی میں جو مثبت یا منفی کردار ادا کرتے ہیں، اس کو جس شدت سے اقبال نے محسوس کیا، شاید ہی کسی اور نے کیا ہو۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا:
’’کسی قوم کی معنوی صحت زیادہ تر اس روح کی نوعیت پرمنحصر ہے جو اس کے اندر اس کے شعرا اور صاحبان فن پیدا کرتے ہیں ....... کسی اہل ہنر کا مائل بہ انحطاط ضمیر اور تصور ایک قوم کے لیے اٹیلا ۲۵ اور چنگیز کے لشکروں سے زیادہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔‘‘ ۲۶
سرسری نظر میں یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے کہ ادیب اور شاعر اپنی شکست خوردہ ذہنیت اور مردہ ضمیری کے ساتھ اپنی قوم کے لیے چنگیز خان اور اٹیلا سے زیادہ تباہ کن کیسے ثابت ہو تا ہے۔ اس کا جواب فکر اقبال ہی سے یوں دیا جا سکتا ہے کہ عمدہ اور لطیف شاعر کی مثال ساحر اور جادوگر کی سی ہے: ۲۷
جمیل تر ہیں گل ولالہ فیض سے اس کے
نگاہ شاعر رنگیں نوا میں ہے جادو
وہ اپنی شاعری سے قوم کو سحر زدہ کر دیتا ہے۔ اس کے دماغ سے سوچنے سمجھنے کی قوت مفقود اور اس کے اعضا وجوارح قوت عمل سے محروم ہو جاتے ہیں اور قوم بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہے جو غلامی سے بھی بد تر بتائی جاتی ہے: ۲۸
یقیں مثل خلیل آتش نشینی
یقین اللہ مستی خود گزینی
سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی
علامہ اقبال نے ’مثنوی اسرار خودی‘ لکھی تو اس میں افلاطون اور حافظ شیرازیؒ پر سخت تنقید کی۔ یہ دراصل اسی نقطہ نظر کی وضاحت تھی کہ شاعری کیسی ہونی چاہیے اور کیسی نہیں۔ اقبال کو حافظ کی شاعرانہ عظمت سے انکار نہیں تھا۔ وہ تو اسے بلند پایہ شاعر سمجھتے تھے۔ ۲۹ ان کو اختلاف اس کیفیت سے تھا جس کو وہ اپنے پڑھنے والے کے دل میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اقبال کی نگاہ میں حافظؒ اپنے شیریں فن کے ذریعے موت کی دعوت دیتے ہیں، ایسی موت جس کے لیے چنگیز خان اور اٹیلا کا مرہون منت بھی نہیں ہونا پڑتا۔ اقبال کے نزدیک شاعری کا ایک معیار ہے جو فنی اعتبار سے نہیں ہے۔ ضروری نہیں کہ شاعری صنائع بدائع کے محاسن سے مزین ہو، ۳۰ بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ شاعر کے اشعار اغراض زندگی میں کس قدر ممد ومعاون ہیں۔ اقبال اپنے مضمون ’’اسرار خودی اور تصوف‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’فردی اور ملی اعتبار سے کسی شاعر کی قدروقیمت کا اندازہ کرنے کے لیے کوئی معیار ہونا چاہیے۔ میرے نزدیک وہ معیار یہ ہے کہ اگر کسی شاعر کے اشعار اغراض زندگی میں ممد ہیں تو وہ اچھا شاعر ہیں اور اگر اس کے اشعار زندگی کے منافی ہیں یا زندگی کی قوت کو کمزور اور پست کرنے کا میلان رکھتے ہیں تو وہ شاعر خصوصاً قومی اعتبارات سے مضرت رساں ہے۔ ہر شاعر کم وبیش گردوپیش کی اشیا، عقائد، خیالات ومقاصد کو حسین وجمیل بنا کر دکھانے کی قابلیت رکھتا ہے اور شاعری نام ہی اس کا ہے کہ اشیا ومقاصد کو اصلیت سے حسین تر بنا کر دکھایا جائے تاکہ اوروں کو ان اشیا ومقاصد کی طرف توجہ ہو اور قلوب ان کی طرف کھنچ آئیں۔ ان معنوں میں ہر شاعر جادوگر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کا جادو کم چلتا ہے، کسی کا زیادہ۔ خواجہ حافظ اس اعتبار سے سب سے بڑے ساحر ہیں۔ مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ کون سے مقصد یا حالت یا خیال کو محبوب بناتے ہیں۔ وہ ایسی کیفیت کو محبوب بناتے ہیں جو اغراض زندگی کے منافی ہے بلکہ زندگی کے لیے مضر ہے۔ جو حالت خواجہ صاحب اپنے پڑھنے والے کے دل میں پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ حالت افراد واقوام کے لیے جو اس زمان ومکان کی دنیا میں رہتے ہیں، نہایت ہی خطرناک ہے۔ حافظ کی دعوت موت کی طرف ہے جس کو وہ اپنے کمال فن سے شیریں کر دیتے ہیں تاکہ مرنے والے کو اپنے دکھ کا احساس نہ ہو۔‘‘ ۳۱
اورنگ زیب عالمگیر نے، جو بڑا متشرع بادشاہ تھا، حکم دیا کہ اتنی مدت تک تمام طوائفیں نکاح کر لیں ورنہ کشتی میں بھر کر تمام کو دریا برد کر دیا جائے۔ جب تعمیل حکم میں ایک دن باقی رہ گیا تو ایک طوائف جو شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی کے پاس آئی تھی، آخری سلام کے لیے حاضر ہوئی اور سارا ماجرا سنایا۔ شیخ نے کہا کہ تم حافظ شیرازی کا یہ شعر یاد کر لو: ۳۲
در کوئے نیک نامی ما را گزر نہ دادند
گر تو نمے پسندی تغییر کن قضا را
اور کل جب تمھیں دریا کی طرف لے چلیں تو بآواز بلند اس شعر کو پڑھتی جاؤ۔ ان طوائفوں نے اس کو یاد کر لیا اور جب روانہ ہوئیں تو یاس کی حالت میں نہایت خوش الحانی سے بڑے درد انگیز لہجے میں اس شعر کو پڑھنا شروع کر دیا۔ جس جس نے سنا، دل تھام کر رہ گیا۔ جب بادشاہ کے کانوں میں آواز پہنچی تو بے قرار ہو گیا۔ ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ حکم دیا، سب کو چھوڑ دو۔ ۳۳
اس واقعے سے کلام حافظ کی تاثیر کا اندازہ فرمائیں۔ کیا ان معنوں میں حافظ کو ساحر کہنا کوئی بے جا بات تھی؟ یہ حافظ کا حسن کلام نہیں ہے بلکہ اقبال اس کو حافظ کا قبح قرار دیتے ہیں۔ ۳۴ اس لیے کہ اقبال کے خیال میں اس شعر میں حافظ نے مسئلہ تقدیر کی غلط اور حیات کش تعبیر کی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ:
’’مسئلہ تقدیر کی ایسی غلط مگر دل آویز تعبیر سے حافظ کی شاعرانہ جادوگری نے ایک متشرع اور نیک نیت بادشاہ کو، جو آئین حقہ شرعیہ اسلامیہ کی حکومت قائم کرنے اور زانیات کا خاتمہ کر کے اسلامی سوسائٹی کے دامن کو بدنما داغ سے پاک کرنے میں کوشاں تھا، قلبی اعتبار سے اس قدر ناتواں کر دیا کہ اسے قوانین اسلامیہ کی تعمیل کرانے کی ہمت نہ رہی۔‘‘ ۳۵
اقبال نے شعر عجم کی جو تنقید فرمائی ہے، اس کا پس منظر حافظ شیرازی کی شاعرانہ جادوگری ہے۔ اقبال نے بار بار اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ بعض عجمی تصورات اور افکار نے اسلام کے چشمے کو گدلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اقبال نے ایران کافرستان میں حرم کی بنیاد رکھی اور صرف ان ایرانی شعرا کے کلام کو اہمیت دی جو شعر وتصوف کی صحت مند تحریکات کے علمبردار تھے۔ ۳۶ اقبال نے رومی کو اپنا مرشد بنایا لیکن حافظ شیرازی کو ساحر اور جادوگر کہا اور اس سے بہرحال گریز کی تلقین کی: ۳۷
بے نیاز از محفل حافظ گزر
الحذر از گوسفنداں الحذر
ضرب کلیم میں ’’شاعر‘‘ اور ’’شعر العجم‘‘ کے عنوان سے دو نظموں میں انھی خیالات کا اعادہ کیا ہے۔ یہاں آپ نے ’’عجمی لے‘‘ ۳۸ اور ’’شعر العجم‘‘ کی باقاعدہ اصطلاحیں استعمال کی ہیں اور اس سے اجتناب کی وجہ بھی بیان کر دی ہے: ۳۹
تاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم
اچھی نہیں اس قوم کے حق میں ’’عجمی لے‘‘
اسی طرح شعر العجم کی طرب ناکی اور دل آویزی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے افسردگی اور بے یقینی پیدا ہوتی ہے جس سے انسانی خودی کی موت واقع ہو جاتی ہے: ۴۰
ہے شعر عجم گرچہ طرب ناک ودل آویز
اس شعر سے ہوتی نہیں شمشیر خودی تیز
افسردہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاں
بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیز
یہاں مختصراً یہ جان لینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ’خودی‘ سے کیا مراد ہے اور اس کا نظریہ فن سے کیا تعلق ہے؟ ’خودی‘ فکر اقبال کا مرکزی نکتہ ہے ۴۱ جس سے مراد نفس یا تعین ذات ہے۔ ۴۲ کبھی یہ راز درون حیات ہے اور کبھی بیدارئ کائنات۔ ۴۳ یہ ایک خاموش قوت ہے جو عمل کے لیے بے تاب رہتی ہے۔ زندگی کا نظم اور انسانی شخصیت کی پائیداری اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اقبال خودی کو قوت، حرکت اور جہد مسلسل سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب یہ خودی اپنے ذوق وشوق کا اظہار کرتی ہے تو زمین وآسمان کو خاطر میں نہیں لاتی۔ ۴۴ اقبال فرماتے ہیں، خودی وہ شراب ہے جس سے قوموں کا فہم تیز ہوتا ہے، جو تنکے کو چھو کر پہاڑ بنا دیتی ہے، جو لومڑی کو شیر، خاک کو ثریا اور قطرے کو سمندر بنا دیتی ہے۔ یہ وہ غیرت ہے جو ممولے اور چکور کو باز سے آمادۂ پیکار کرتی ہے۔ ۴۵ اقبال نے خودی کے مفہوم میں بے انتہا وسعت پیدا کر دی ہے لیکن تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ خودی سے اقبال کی خودی ذوق عمل اور قوت تسخیر ہے اور اس کامقصد فقط اتنا ہے کہ انسان اور خاص طور پر مسلمان غفلت اور تن آسانی کی روش کو چھوڑ کر سخت کوشی اور خطر پسندی کا راستہ اختیار کریں۔ فنون لطیفہ سے اقبال اسی خودی کی تعمیر کا کام لینا چاہتے ہیں۔ اسی خودی کا نام اسرار زندگی ہے۔ دیباچہ مرقع چغتائی میں فرماتے ہیں:
’’مجھے جو کچھ کہنا ہے، اس کا حاصل بس اس قدر ہے کہ میں سارے فنون لطیفہ کو زندگی اور خودی کے تابع سمجھتا ہوں۔‘‘ ۴۶
یہی بات اقبال نے ان اشعار میں بیان فرمائی ہے: ۴۷
سرود وشعر وسیاست، کتاب ودین وہنر
گہر ہیں ان کی گرہ میں تمام یک دانہ
اگر خودی کی حفاظت کریں تو عین حیات
نہ کر سکیں تو سراپا فسوں وافسانہ
ضرب کلیم میں ’’فنون لطیفہ‘‘ کے نام سے ایک نظم موجود ہے۔ اس کے ایک جملہ ’’مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے‘‘ ۴۸ میں تمام فنون لطیفہ کا مقصد بیان کر دیا ہے۔ ایک اور نظم میں شعر کا مقصد ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ۴۹
وہ شعر کہ پیغام حیات ابدی ہے
یا نغمہ جرس ہے یا بانگ اسرافیل
پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے اس شعر کی شرح میں لکھا ہے کہ ’’شاعری میں یا تو پاکیزہ خیالات بیان ہوتے ہیں جن کی بدولت قوم میں نیکی کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے یا پھر اس میں عمل صالح کی ترغیب ہوتی ہے جس کی بدولت قوم میں جہاد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔‘‘ ۵۰
اقبال نے اپنے خطوط میں بھی اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی ہے کہ شاعری بذات خود کوئی مقصد نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد عالم اسلام اور خاص طور پر مسلمانان ہند میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ آپ نے ۳ ستمبر ۱۹۱۷ کو مولانا گرامی کے نام ایک خط میں لکھا:
’’میرا مقصد کچھ شاعری نہیں ہے بلکہ غایت یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں وہ احساس ملیہ پیدا ہو جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا خاصہ تھا۔ اس قسم کے اشعار لکھنے کی غرض عبادت ہے نہ شہرت ہے۔ کیا عجب ہے کہ نبی کریم کو مری یہ کوشش پسند آجائے اور ان کا استحسان میرے لیے ذریعہ نجات ہو جائے۔‘‘ ۵۱
۱۰ اکتوبر ۱۹۱۹ء کو سید سلیمان ندویؒ کے نام ایک مکتوب میں ارقام فرماتے ہیں:
’’شاعری میں لٹریچر بحیثیت لٹریچر کے کبھی میرا مطمح نظر نہیں رہا کہ فن کی باریکیوں کی طرف توجہ کرنے کے لیے وقت نہیں۔ مقصود صرف یہ ہے کہ خیالات میں انقلاب پیدا ہو۔ بس اس بات کو مد نظر رکھ کر جن خیالات کو مفید سمجھتا ہوں، ان کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ ۵۲
اقبال کے ان خطوط سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ شاعری بذات خود کوئی مقصد نہ تھی۔ یہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ اور پردہ تھی: ۵۳
پردۂ تو از نوائے شاعری است
آنچہ گوئی ماورائے شاعری است
اس پردہ میں آپ نے ملت اسلامیہ کو بیداری اور جانبازی کا پیغام دیا ہے۔ ایک یورپی نقاد نے خوب کہا ہے کہ اقبال کا کلام ایک پیغام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ۵۴
"Muhammad Iqbal's work is nothing but a message."
اور یہ پیغام خودی اور زندگی کے نام ہے، لہٰذا شعر ہو یا آرٹ کا کوئی اور شعبہ، اقبال کے ہاں اس کی قبولیت کا معیار زندگی اور خودی ہی ہے۔ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا:
’’آرٹ زندگی کے ماتحت ہے۔ ہر چیز کو انسانی زندگی کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ اس لیے ہر وہ آرٹ جو زندگی کے لیے مفید ہو، اچھا اور جائز ہے اور جو زندگی کے خلاف ہو، جو انسانوں کی ہمتوں کو پست اور ان کے جذبات عالیہ کو مردہ کرنے والا ہے، قابل نفرت وپرہیز ہے۔ اس کی ترویج حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دی جانی چاہیے۔‘‘ ۵۵
علامہ اقبال کی ان وضاحتوں کے بعد مزید کسی شرح کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ زندگی کا شاعر ہے، حرکت وجہد کا پیام بر ہے، طاقت وقوت کا مبلغ ہے، افکار وخیالات میں پاکیزگی کا طرف دار اور علم بردار ہے۔ لہٰذا جو ادب بھی، خواہ وہ شعر ہو، موسیقی ہو، مصوری ہو، سنگ تراشی ہو، کوئی ڈراما یا تمثیل ہو، الغرض فنون لطیفہ کی کوئی بھی قسم ہو، اس کا مقصد زندگی کی صحت مند قدروں کی آب یاری ہونا چاہیے۔ اس میں ہمت اور ذوق عمل کا پیغام ہونا ضروری ہے، ورنہ وہ قابل قبول نہیں ہے۔ اقبال اپنی نظموں ’’شعر عجم‘‘ اور ’’ہنر وران ہند‘‘ میں مصوری، تمثیل وموسیقی وغیرہ سے نفرت کا اظہار اسی وقت کرتے ہیں جب وہ منفی اقدار کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔ وہ فنون لطیفہ کی طاقت کا بھرپور ادراک رکھتے تھے، اسی لیے ان کے مثبت اور تعمیری کردار پر زور دیتے تھے۔ فرماتے ہیں، ’’میرا عقیدہ ہے کہ آرٹ یعنی ادبیات یا شاعری یا مصوری یا موسیقی یا معماری ہر ایک زندگی کی معاون اور خدمت گار ہے۔‘‘ ۵۶
اس بحث کو اقبال کے مضمون ’’جناب رسالت مآب کا ادبی تبصرہ‘‘ پر ختم کیا جاتا ہے جس سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال کس قسم کی شاعری کے حامی اور کس قسم کی شاعری کے مخالف ہیں:
’’یہ وہ عقدہ ہے جس کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے وجدان نے اس طرح حل کیا ہے۔ امرؤ القیس نے اسلام سے چالیس سال پہلے کا زمانہ پایا ہے۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نسبت ایک موقع پر حسب ذیل رائے ظاہر فرمائی ہے: اشعر الشعراء وقائدہم الی النار۔ یعنی وہ شاعروں کا سردار تو ہے ہی لیکن جہنم کے مرحلے میں ان سب کا سپہ سالار بھی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امرؤ القیس کی شاعری میں وہ کون سی باتیں ہیں جنھوں نے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ رائے ظاہر کروائی۔ امرؤ القیس کے دیوان پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں شراب ارغوانی کے دور، عشق وحسن کی ہوش ربا داستانوں اور جاں گداز جذبوں، آندھیوں سے اڑی ہوئی بستیوں کے کھنڈروں کے مرثیوں، سنسان ریتلے ویرانوں کے دل ہلا دینے والے منظروں کی تصویریں نظر آتی ہیں اور یہی عرب کے دور جاہلیت کی کل تخلیقی کائنات ہے۔ امرؤ القیس قوت ارادی کو جنبش میں لانے کی بجائے اپنے سامعین کے تخیل پر جادو کے ڈورے ڈالتا ہے اور ان میں بجائے ہوشیاری کے بے خودی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حکیمانہ تنقید میں فنون لطیفہ کے اس اہم اصول کی توضیح فرمائی ہے کہ صنائع بدائع کے محاسن اور انسانی زندگی کے محاسن کچھ ضروری نہیں کہ یہ دونوں ایک ہی ہوں۔ ممکن ہے کہ شاعر بہت شعر کہے لیکن وہ شعر پڑھنے والے کو اعلیٰ علیین کی سیر کرانے کی بجائے اسفل السافلین کا تماشا دکھا دے۔ شاعری دراصل ساحری ہے اور اس شاعر پر حیف ہے جو قومی زندگی کی مشکلات وامتحانات میں دل فریبی کی شان پیدا کرنے کے بجائے وہ فرسودگی وانحطاط کو صحت اور قوت کی تصویر بنا کر دکھا دے اور اس طور پر اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف لے جائے۔ اس کا تو فرض ہے کہ قدرت کی لازوال دولتوں میں سے زندگی اور قوت کا جو حصہ اسے دکھایا گیا ہے، اس میں اوروں کو بھی شریک کرے، نہ یہ کہ اٹھائی گیرہ بن کر جو رہی سہی پونجی ان کے پاس ہے، اس کو بھی ہتھیا لے۔‘‘ ۵۷
حوالہ جات
۱ پروفیسر حسن شاہ نواز زیدی، ’’اقبال کا نظریہ فن‘‘، مجلہ ’’اقبالیات‘‘ اردو، اقبال اکادمی لاہور، جلد ۳۱، شمارہ ۲۔۴، جولائی ۹۰ تا جنوری ۹۱، ص ۲۰۶
۲ ایضاً، ص ۲۰۵
۳ ڈاکٹر نصیر احمد ناصر، ’’اقبال اور جمالیات‘‘، اقبال اکادمی لاہور، طبع دوم ۱۹۸۱ء، حصہ دوم، باب ۱۱، ص ۲۹۹
۴ وکٹر پیوگو نے ’’آرٹ برائے آرٹ‘‘ کی اصطلاح کے متعلق لکھا ہے کہ سب سے پہلے اس نے اس کو استعمال کیا، لیکن یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ شاید اس کو یہ علم نہ تھا کہ اس سے قبل یہی الفاظ وکٹر کوزین نے اپنے ایک لیکچر میں استعمال کیے گئے۔ ’’آرٹ مذہب واخلاق کی خدمت کے لیے ہے اور نہ اس کا مقصد مسرت وافادہ ہے ...... مذہب، مذہب کی خاطر ہونا چاہیے، اخلاق، اخلاق کی خاطر اور آرٹ، آرٹ کی خاطر۔ نیکی اور پاک بازی کے راستے سے افادہ اور جمال تک پہنچ نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جمال کا مقصد افادہ یا نیکی یا پاک بازی نہیں ہے۔ جمال کا راستہ جمال ہی کی طرف رہبری کر سکتا ہے۔‘‘ (ڈاکٹر یوسف حسین خان، ’’آرٹ اور اقبال‘‘، مشمولہ اقبال کا تنقیدی مطالعہ، مرتبہ پروفیسر اے جی نیازی، عشرت پبلشنگ ہاؤس، لاہور، بار اول، مارچ ۱۹۶۵، ص ۱۲۷، ۱۲۸)
۵ فرانس میں فلوبیر (Flaubert)، گوئی اے (Gautier) اور بودلیئر (Baudelair)، امریکہ میں اڈگر ایلن پو (Edger Ellen Poe) اور انگلستان میں آسکر وائلڈ نے فن برائے فن کی تحریک کو پروان چڑھایا۔ انگلستان میں والٹر پیٹر (Walter Peter) کو فن برائے فن کا عظیم نمائندہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ (سید جابر علی، اقبال کا فنی ارتقا، بزم اقبال لاہور، طبع اول، جولائی ۱۹۷۸، ص ۱۹۲)
۶ میاں محمد شریف، ’’اقبال کا نظریہ فن‘‘، مشمولہ فلسفہ اقبال، مترجمہ سجاد رضوی، مرتبہ بزم اقبال لاہور، طبع دوم، مارچ ۱۹۸۴، باب ۲، ص ۴۴، ۴۵
۷ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم، ’’فکر اقبال‘‘، بزم اقبال لاہور، طبع ہفتم جولائی ۱۹۹۰، باب ۱۶، ص ۴۳۱
۸ سید انور شاہ کشمیری، ’’ملفوظات‘‘، مرتبہ مولانا سید احمد رضا بجنوری، اشرف اکیڈمی لاہور، سن ندارد، ص ۵۱
۹ ’’اقبال کا نظریہ فن‘‘، اقبالیات، جلد ۳۱ شمارہ ۲ تا ۴، جولائی ۹۰ تا جنوری ۹۱، ص ۲۰۸
۱۰ ’’فلسفہ اقبال‘‘، ص ۴۶
۱۱ ایضاً، ص ۴۸
۱۲ مولانا عبد السلام ندوی، ’’اقبال کامل‘‘، عشرت پبلشنگ ہاؤس، لاہور، سن ندارد، ص ۳۷۲
۱۳ ’’فکر اقبال‘‘، ص ۴۲۲
۱۴ پروفیسر اشرف انصاری، ’’اقبال کا نظریہ فن‘‘، مشمولہ اقبالیات راوی، مرتبہ ڈاکٹر صدیق جاوید، الفیصل ناشران لاہور، جولائی ۱۹۸۹، ص ۲۵۸
۱۵ علامہ اقبال نے ’اسرار خودی‘ میں افلاطون پر سخت تنقید فرمائی ہے۔ اس کو قدیم زمانے کا راہب اور مسلک گوسفندی کا پیرو کہا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ اس کا جام خواب آور ہے، وہ زندگی کی نفی کرتا ہے، وہ انسان کے لباس میں گوسفند ہے، اس کا کام باسی تھا، اس کی مستی سے قومیں زہر آلود ہو گئیں، سو گئیں اور ذوق عمل سے محروم ہو گئیں۔ (علامہ محمد اقبال، کلیات اقبال (فارسی)، شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور، اشاعت پنجم مئی ۱۹۸۵، صفحات ۳۲ تا ۳۴)
۱۶ ’’فلسفہ اقبال‘‘، ص ۵۷
۱۷ ’’فکر اقبال‘‘، ص ۴۲۰
۱۸ علامہ اقبال نے فروری ۱۸۹۹ سے دسمبر ۱۹۳۴ تک جو خطوط مرقوم فرمائے، ان میں مولانا شبلی کے نام صرف ایک خط ہے جو ۱۲ جنوری ۱۹۱۲ کو لاہور سے لکھا گیا ہے۔ البتہ سید سلیمان ندوی کے نام خطوط میں مولانا شبلی کا ذکر خوب کرتے ہیں۔ لاہور سے ایک خط محررہ ۲۸ اپریل ۱۹۱۸ء میں لکھتے ہیں ’’مولانا شبلی رحمہ اللہ کے بعد آپ استاذ الکل ہیں‘‘۔ (کلیات مکاتیب اقبال، مرتبہ سید مظفر حسین برنی، اردو اکادمی دہلی، اشاعت چہارم ۱۹۹۳ء، ص ۷۰۵)
اسی طرح بعض دیگر ارباب علم کے نام اپنے خطوط میں شبلی کے علاوہ حالی اور اکبر وغیرہ کا نام نہایت عقیدت واحترام سے کیا ہے۔ مثلاً شاعر مدراس کے نام ایک خط میں حالی اور شبلی کو قادر الکلام بزرگوں میں شمار کیا ہے اور ان سے داد حاصل کرنے کو بڑے فخر کی بات بتایا ہے۔ (مکتوب بنام شاعر مدراس محررہ ۲۹ اگست ۱۹۰۸، کلیات مکاتیب اقبال، جلد اول، ص ۱۵۰)
مولانا الطاف حسین حالیؒ (۱۸۳۷۔۱۹۱۴) کے نام علامہ اقبال نے فروری ۱۸۹۹ سے حالی کی وفات تک کوئی خط نہیں لکھا۔ پھر ۱۹۱۴ میں حالی فوت ہی ہو گئے تھے، البتہ اپنے خطوط میں حالی کا تذکرہ ضرور کیا ہے۔
اکبر الٰہ آبادی کے نام آپ کے درجنوں خطوط ہیں۔ ان تمام کے مضامین ’اسرار ورموز‘ کی اشاعت، ترتیب اور مشمولات کے بارے میں ہیں۔ خواجہ حسن نظامی کے حافظ کے بارے میں فکری تنازعہ کا ذکر ان خطوط کا حصہ ہے۔ ان تمام مکتوبات کا عرصہ تحریر ۱۹۱۱ سے ۱۹۱۸ تک ہے۔ (دیکھیے کلیات مکاتیب اقبال،جلد اول)
۱۹ شیخ عبد القادر، دیباچہ بانگ درا، مشمولہ ’’نذر اقبال‘‘، (سر عبد القادر کے مضامین، مقالات، مقدمات اور مکاتیب کا مجموعہ) مرتبہ محمد حنیف شاہد، بزم اقبال لاہور، طبع اول اگست ۱۹۷۲، ص ۴۲، ۴۲
۲۰ ایضاً ص ۳۷، ۳۸
۲۱ دیکھیے کلیات اقبال (فارسی) ص ۷۱۵
۲۲ یہ اکتوبر، نومبر ۱۹۳۳ کا ذکر ہے جب نادر خان شاہ افغانستان نے علامہ اقبال، سید سلیمان ندوی اور سر راس مسعود (وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ) کو افغان یونیورسٹی کابل کے نصاب کے سلسلے میں دعوت دی۔ اس موقع پر انجمن ادبی کابل نے ان حضرات کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس موقع پر سید سلیمان ندوی اور سر راس مسعود کے علاوہ علامہ اقبال نے انجمن کے سپاس نامہ کا جواب دیتے ہوئے ایک تقریر فرمائی۔ یہ اقتباسات اسی تقریر کا حصہ ہیں۔ دیکھیے، ’’مقالات اقبال‘‘، میں کابل میں ایک تقریر، ص ۲۵۹۔ نیز دیکھیے حق نواز کا مرتبہ ’’سفرنامہ اقبال‘‘، اقبال صدی پبلی کیشنز، دہلی، اشاعت اول، ۱۹۷۷، سفر افغانستان ۱۹۳۳۔ مزید دیکھیے، ’’حیات اقبال کے چند مخفی گوشے‘‘، مرتبہ محمد حمزہ فاروقی، ادارۂ تحقیقات پاکستان، دانش گاہ پنجاب لاہور، طبع اول مارچ ۱۹۸۸، باب سیر افغان ۱۹۳۳، صفحات ۲۰۰ تا ۲۱۲
۲۳ کابل میں ایک تقریر، ’’مقالات اقبال‘‘، ص ۲۵۹
۲۴ ایضاً، ص ۲۶۰
۲۵ Attila of Etzel ، ۴۰۶۔۴۵۳، ہن حملہ آوروں کا سردار تھا جو اپنے آپ کو خدائی قہر کہتا تھا اور اس بات پر فخر کرتا تھا کہ جدھر سے اس کا گزر ہو جائے، وہاں گھاس بھی نہیں اگتی۔ سلطنت روما کے دور انحطاط میں یورپ پر (۴۳۲۔۴۵۳) عفریت کی طرح مسلط رہا۔ مشرقی اور مغربی روم کی حکومتوں کو تاخت وتاراج اور جرمنی و اطالیہ وغیرہ کے علاقوں کو تباہ وبرباد کیا۔ (اردو انسائیکلو پیڈیا، ص ۱۶۱)
۲۶ دیباچہ مرقع چغتائی، در ’’مضامین اقبال‘‘، مرتبہ تصدق حسین تاج، حیدر آباد دکن، ۱۳۶۲، ص ۱۹۷
۲۷ کلیات اقبال ص ۳۰۵۔ نیز اقبال کا مضمون ’’اسرار خودی اور تصوف‘‘، مشمولہ مقالات اقبال، ص ۲۰۷
۲۸ کلیات اقبال اردو، ص ۳۷۳
۲۹ دیکھیے اقبال کا مضمون ’’اسرار خودی اور تصوف‘‘، مشمولہ ’’مقالات اقبال‘‘، ص ۲۰۶
۳۰ ’’جناب رسالت مآب کا ادبی تبصرہ‘‘، مشمولہ مقالات اقبال، ص ۲۳۰
۳۱ ’’اسرار خودی اور تصوف‘‘، مشمولہ ’’مقالات اقبال‘‘، ص ۲۰۷
۳۲ حافظ شیرازی کا یہ شعر دیوان حافظ میں ملاحظہ ہو۔ دیوان حافظ، مقبول اکیڈمی لاہور، سن ندارد، ص ۳۳
۳۳ ’’اسرار خودی اور تصوف‘‘، مشمولہ ’’مقالات اقبال‘‘، ص ۲۰۹، ۲۱۰
۳۴ و۳۵ ایضاً ص ۲۱۰
۳۶ سید عابد علی عابد، ’’شعر اقبال‘‘، بزم اقبال لاہور، ستمبر ۱۹۹۳، ص ۱۸۴
۳۷ اقبال کا یہ شعر ان اشعار کا تتمہ ہے جو آپ نے اسرار خودی کی اولین اشاعت ۱۹۱۵ میں حافظ پر لکھے تھے اور بعد ازاں یہ تمام اشعار حذف کر دیے تھے۔ مثنوی کا یہ اولین نسخہ ہے جو حکیم محمد صاحب چشتی نظامی نے یونین سٹیم پریس لاہور سے ۵۰۰ کی تعداد میں شائع کی تھی۔ یہ نسخہ اقبال اکادمی لاہور میں محفوظ ہے۔
۳۸ سید عابد علی عابد ’’عجمی لے‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’شعر کوئی کی ایک خاص روش ہے جسے اقبال ’’عجمی لے‘‘ کہتے ہیں۔ ’’لے‘‘ اس سلسلے میں بڑا ہی پر اسرار لفظ ہے اور جب تک اس کا صحیح مفہوم متعین نہ ہو، ’’عجمی لے‘‘ کی دلالتیں واضح نہیں ہو سکتیں۔ ’’عجمی لے‘‘ یا عجمی شعر گوئی سے کیسا اسلوب شعر گوئی ملحوظ ہے، اس کا جواب اقبال اسرار خودی میں دے چکے ہیں۔ انھوں نے حافظ کو ’’عجمی لے‘‘ کا نمائندہ شاعر سمجھا تھا کہ بڑے دل کش اور دل فریب پیرایے میں نرم ونازک الفاظ کو لوری دے کر پڑھنے والے کو موت کی نیند سلاتا ہے۔ یہ موت ذہنی ہے اور ذوق عمل کے فقدان سے عبارت ہے۔‘‘ (شعر اقبال، ص ۱۸۷)
۳۹ کلیات اقبال (اردو) ص ۵۸۹
۴۰ ایضاً ص ۵۹۰
۴۱ ڈاکٹر نصیر احمد ناصر، ’’اقبال اور جمالیات‘‘، اقبال اکادمی، پاکستان لاہور، طبع دوم ۱۹۸۱، ص ۱۵
۴۲ محمد اقبال، دیباچہ مثنوی اسرار خودی، اشاعت اول ۱۹۱۵، مشمولہ مقالات اقبال، ص ۱۹۹
۴۳ ’’کلیات اقبال‘‘ (اردو) ص ۴۱۹
۴۴ خودی کی ان تمام تعبیرات کے لیے دیکھیے مثنوی اسرار خودی کا باب ’’اصل نظام عالم از خودی است وتسلسل حیات‘‘
۴۵ تمہید اسرار خودی، کلیات اقبال (فارسی) ص ۸
۴۶ دیباچہ مرقع چغتائی، در مضامین اقبال، ص ۱۹۷
۴۷ کلیات اقبال (اردو) ص ۵۶۲
۴۸ ایضاً، ص ۵۸۰
۴۹ ایضاً، ص ۵۹۰
۵۰ یوسف سلیم چشتی، ’’شرح ضرب کلیم‘‘، عشرت پبلشنگ ہاؤس لاہور، سن ندارد، ص ۳۲۵
۵۱ سید مظفر حسین برنی (مرتب) کلیات مکاتیب اقبال، اردو اکادمی دہلی، اشاعت چہارم، جلد اول، ص ۶۵۷
۵۲ ایضاً، اشاعت دوم ۱۹۹۳، جلد دوم، ص ۱۳۷
۵۳ کلیات اقبال (فارسی) ص ۷۵۵
۵۴ ایڈورڈ میک کارتھی، ’’اقبال بحیثیت شاعر‘‘، اقبال ریویو (انگریزی) مجلہ اقبال اکادمی کراچی، جلد ۲، شمارہ ۳۰، اکتوبر ۱۹۶۱، ص ۱۸
۵۵ ملفوظات محمود نظامی، ص ۱۴۵
۵۶ دیکھیے اقبال کی ’’کابل میں ایک تقریر ۱۹۲۳‘‘ مشمولہ مقالات اقبال، ص ۲۵۹
۵۷ دیکھیے اقبال کا مضمون ’’جناب رسالت مآب کا ادبی تبصرہ‘‘، مشمولہ مقالات اقبال ص ۲۲۹، ۲۳۰
یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا مسئلہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
۱۹۵۲ میں چھ ریاستوں ( بیلجیم، فرانس ، جرمنی ، اٹلی، لکسمبرگ اور نیدر لینڈ) سے جنم لینے والی یورپی یونین، ۱۹۷۳ میں پہلی توسیع ( ڈنمارک، آئر لینڈ، یو ۔کے)، ۱۹۸۱ میں دوسری توسیع (یونان)، ۱۹۸۶ میں تیسری توسیع (پرتگال ، سپین)، ۱۹۹۵ میں چوتھی توسیع (آسٹریا ، فن لینڈ اور سویڈن)، اور ۲۰۰۴ میں پانچویں توسیع (قبرص، چیک ری پبلک، اسٹونیا ، ہنگری، لیٹویا ، لیتھونیا، مالٹا ، پولینڈ، سلوویکیا اور سلووینیا) سے گزر کر ۲۰۰۷ میں چھٹی توسیع (بلغاریہ ، رومانیہ) سے ہمکنار ہوگی کہ بلغاریہ اور رومانیہ سے رکنیت کی بابت مذاکرات (Accession negotiations) ۲۰۰۰ سے شروع ہو چکے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ترکی بھی پچھلے کئی عشروں سے یورپی یونین کی رکنیت کا خواہاں ہے۔ دسمبر ۲۰۰۴ میں یورپین کونسل (جس میں ممبر ممالک کے سربراہان شریک ہوتے ہیں) ، ترکی کی رکنیت سے متعلق ’’مذاکرات ‘‘کی بابت فیصلہ کر ے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’ہاں ‘‘ کی صورت میں بھی ترکی کورکنیت کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے گا ( جیسا کہ بلغاریہ اور رومانیہ ۲۰۰۰ سے منتظر ہیں اور ۲۰۰۷ میں انھیں رکنیت ملنے کی امید ہے ) یورپی یونین کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ترکی ۲۰۱۰، ۲۰۱۵ یا ۲۰۲۵ تک ہی رکنیت حاصل کر سکے گا ، وہ بھی اس صورت میں کہ بیچ میں کوئی ’’ناگہانی‘‘ افتاد نہ آن پڑے ۔
یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ترکی کی کوششوں کا آغاز ۱۹۶۳ کے معاہدے سے ہوتا ہے جسے عموماً معاہدہ انقرہ کہا جا تا ہے اور جو جمہوریہ ترکی اور یورپین اکنامک کمیونٹی (EEC) کے درمیان ہو ا تھا۔ اس معاہدے کے توسط سے تین مراحل میں ایک CUSTOMS UNION کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ۱۹۶۳ سے لے کر ۱۹۷۰ تک کے پہلے مرحلے میں ترکی کی درآمدات میں EEC کا حصہ ۲۹ فیصد سے بڑھ کر ۴۲ فیصد تک ہو گیا ۔ آج کی یورپی یونین ، ترکی کی مجموعی بیرونی تجارت (Foreign trade)کی ۵۰ فیصد کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نومبر ۱۹۷۰ کے دوسرے پروٹوکول نے مجوزہ CUSTOMS UNION کی تکمیل کی تفصیلات اگلے ۱۲ سے ۲۲ برسوں کے لیے طے کر دیں۔تیسرے پروٹوکول میں طے پایا کہ EEC ترکی سے اپنی درآمدات کے لیے کس طرح ٹیرف اور دیگر مقداری رکاوٹیں ختم کرے گی (ٹیکسٹا ئل سمیت چند مستثنیات کے ساتھ) اسی طرح ترکی بھی کیسے جوابی اقدامات کرے گا۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۰ کی فوجی بغاوت کے سبب سے یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات چند برسوں کے لیے منجمد ہو گئے ۔ ۱۹۸۷ میں یورپی یونین کی ’’ فل ممبر شپ‘‘ کے لیے ترکی کی درخواست سے تعلقات کو نئی جہت ملی۔ ۱۹۹۰ میں یورپی یونین نے ترکی کی رکنیت کی ’’اہلیت‘‘ کی تصدیق کر دی، تاہم اس نے ترکی کی درخواست پر مکمل غور و فکر ’’زیادہ سازگار ماحول‘‘ کے ظہور تک ملتوی کر دیا۔ اس وقت کمیشن نے تعاون کے پیکیجcooperation package کا وعدہ کیا لیکن یونان کے اعتراض کی وجہ سے اسے موقوف کر دیا گیا ۔جون ۱۹۹۳ میں کوپن ہیگن یورپی کونسل نے رکنیت کے لیے مشہور و معروف ’’کوپن ہیگن معیار۱۹۹۳ ‘‘(Copenhagen criteria1993) تشکیل دیا جس کے مطابق یورپی یونین کی ممبر ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ہاں مکمل جمہوریت ہو، عدلیہ آزاد ہو ، اقلیتوں کے حقوق کا پورا تحفظ ہوتا ہو ، قانون کی حکمرانی ہو ، تشدد کا خاتمہ اور انسانی حقوق کی مکمل حفاظت ہوتی ہو ۔ مضبوط مارکیٹ اکانومی ہو ، اور معیشت پر ریاستی اجارہ داری کا خاتمہ ہو ۔ یورپی یونین یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ ریاستی قوانین (مالیاتی پالیسیوں سمیت) یونین کے قوانین سے موافق و ہم آہنگ ہوں ۔
یہ بھانپتے ہوئے کہ فل ممبر شپ کی درخواست ’’طاقِ نسیا ں ‘‘ میں رکھ دی گئی ہے، ترکی نے مختصرالمدت فائدہ اٹھانے کی غرض سے CUSTOMS UNION کی تکمیل کی کوششیں کیں۔ ۱۹۹۴ میں دونوں فریقوں کے درمیان کسٹمزیونین بات چیت کا آغاز ہوا جو مارچ ۱۹۹۵ میں مکمل ہو گئی۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۹۵ سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان صنعتی اور processed زرعی اشیا کے لیے کسٹمز یونین موثر قرار پائی ۔کسٹمز یونین پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی ترکی نے یورپی یونین کی تمام مصنوعات پر درآمدی چارجز اور ڈیوٹیاں ختم کر دیں ۔ ترکی نے مزید برآں وعدہ کیا کہ وہ پانچ برس کے اندر ان ’’تیسرے ممالک‘‘ کی صنعتی مصنوعات پر سے بھی درآمدی ٹیرف ختم کر دے گا جو یورپی یونین کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ اگرچہ بنیادی زرعی اشیا ابتدائی ایگری منٹ میں شامل نہیں تھیں لیکن بعد میں یکم جنوری ۱۹۹۸ میں ان اشیا کے لیے preferential trade regime کو اپنا لیا گیا ۔
اپریل ۱۹۹۷ کی ایسوسی ایشن کونسل میں ترکی کی رکنیت کی اہلیت کو دوبارہ تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ عندیہ دیا گیا کہ یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات کا انحصار کئی عوامل پر ہے جیسا کہ یونان ، قبرص ، انسانی حقوق وغیرہ ۔یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ ’’ ایجنڈا۲۰۰۰‘‘ میں ترکی کو ’’توسیعی عمل‘‘ سے خارج قرار دیا جس سے ترک رائے عامہ میں اضطراب پیدا ہوا اور ترکی کی رکنیت کی اہلیت کو تسلیم کرنے اور اسی سانس میں اسے توسیعی عمل سے خارج قرار دینے کو ’’تضاد ‘‘ پر محمول کیا گیا ۔
دسمبر ۱۹۹۹ میں منعقد ہونے والی Helsinki European Council میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی۔ Helsinki میں ترکی کو بغیر کسی پیشگی شرط کے دوسری امیدوار ریاستوں کی مساوی حیثیت میں سرکاری طور پر ’’امیدوار ریاست‘‘ تسلیم کر لیا گیا ۔ مارچ ۲۰۰۱ میں یورپی یونین نے Accession partnership for Turkey کو قبول کر لیا ۔
دسمبر ۲۰۰۲ کی کوپن ہیگن سربراہی کانفرنس میں یورپی یونین نے تاریخی فیصلہ دیا جس کے مطابق یکم مئی ۲۰۰۴ سے دس امیدوار ریاستوں نے اس کا ممبر بن جانا تھا۔ ترکوں کو اس توسیعی عمل سے اپنے اخراج پر یقیناًبہت دکھ ہوا ۔ بہر حال کوپن ہیگن سربراہی اجلاس نے اعادہ کیا کہ اگر دسمبر ۲۰۰۴ میں منعقد ہونے والی یورپی کونسل نے ترکی کو ’’کوپن ہیگن معیار‘‘ پر پورا پایا تو یورپی یونین بلا تاخیر رکنیت کے لیے مذاکرات کا راستہ کھول دے گی ۔
ترکی نے کوپن ہیگن معیار پر پورا اترنے کے لیے کئی اقدامات کیے :
۱۔ انسانی حقوق میں بہتری ، قانون کی حکمرانی میں مضبوطی اور جمہوری اداروں کی از سرِ نو تشکیل کے لیے دستور میں ترامیم کی گئیں ۔ ترک پارلیمنٹ نے جنوری ۲۰۰۲ میں نیا سول کوڈ اختیار کیا جس کے مطابق درج ذیل شعبوں میں بہتری آئی :
ا۔ انجمن سازی میں آزادی اور اجلاس کا حق
ب۔ مرد عورت کی مساوات
ج۔ بچوں کا تحفظ
مذکورہ اصلاحات کے بعد ۲۰۰۲ میں تین قانونی پیکیج آئے ۔ پہلے پیکیج کے مطابق دانشوروں کو ان کے خیالات کے اظہار کے سبب گرفتار اور سزا دینے کے عمل کا خاتمہ کیا جانا تھا ۔ دوسرے پیکیج میں غور و فکر کے آزادانہ اظہار، پریس کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی اور پر امن اجتماعات کے دائرے کو مزید بڑھانا مطلوب تھا۔ تیسرے پیکیج کو ترک تاریخ کا ’’سنگِ میل ‘‘ قرار دیا گیا کیونکہ اس کے مطابق :
ا۔ سزائے موت کا خاتمہ کر دیا گیا،
ب۔ انفرادی ثقافتی حقوق پر سے پابندیاں اٹھا لی گئیں ،
ج۔ انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں مقدمے کی دوبارہ سماعت (retrial) ممکن ہو گئی، جس سے پریس اور اظہار کی آزادی کی قانونی ضمانتوں کو بھی مضبوطی حاصل ہو گئی ۔
د۔ انجمن سازی اور پر امن اجتماع پر پابندیوں کو سہل کیا گیا ،
ر۔ ترکی کی اقلیتوں کے، اپنی کمیونٹی فاؤنڈیشنز کے لیے حقِ جائیداد کو یقینی بنایا گیا ۔
نومبر ۲۰۰۲ میں منعقد ہونے والے الیکشن کے فوراً بعد دسمبر ۲۰۰۲ میں ہی AKP کی نئی حکومت نے نئے قانونی پیکیج متعارف کرائے ۔ پہلے پیکیج کے مطابق ، جسے کوپن ہیگن پیکیج کہا جاتا ہے :
ا۔ ان سرکاری افسروں کے خلاف مقدمہ اور قانونی کارروائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ، جن پر ایذا رسانی اور بد سلوکی کے الزامات ہوتے تھے ۔
ب۔ ترک حکومت نے بد سلوکی اور ایذارسانی سے متعلق ’’مکمل عدمِ برداشت‘‘(Zero Tolerance) کا اعلان کیا اور اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے سرکاری افسروں کو تبدیل بھی کر دیا ۔
اصلاحات کے دوسرے پیکیج نے انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلوں کی بنیاد پرمقدمے کی دوبارہ سماعت سے متعلق سکوپ کو مزید وسعت دے دی ۔
۱۴ جنوری ۲۰۰۴ کو ترک پارلیمنٹ نے ۲۴ بین الاقوامی معاہدات کی منظوری دی ، جن پر ترکی پہلے دستخط کر چکا تھا۔ ان میں ایک کرپشن سے متعلق بھی ہے اور سزائے موت کے خاتمے کے متعلق بھی، حتیٰ کہ جنگی اور ہنگامی کیفیت میں بھی سزائے موت پر پابندی لگا دی گئی۔
یورپی یونین کی فل ممبر شپ کے حصول کے لیے ترکوں کے اقدامات کی ’’داستانِ عشق‘‘ کے بعد آئیے، سرسری طور پر دیکھتے ہیں کہ ان کے مقصد کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں ۔
غالباََ یہ فرانس کے سابق صدر Valery Giseard D' Estaing ہیں جنھوں نے ترک رکنیت کے خلاف پہلا پتھر یہ کہہ کر پھینکا کہ ’’انقرہ مختلف ثقافت ، مختلف اپروچ اور مختلف اندازِ زندگی کا حامل ہے ‘‘ اور یہ کہ ترکی کا ’’دارالخلافہ یورپ میں نہیں، اس کی ۹۵ فیصد آبادی یورپ سے باہر رہتی ہے، یہ یورپی ملک نہیں ہے ‘‘۔سابق جرمن چانسلر ہیلمٹ کوہل نے بھی سابق فرانسیسی صدر کی ہاں میں ہاں ملائی ، اس کے باوجود کہ ان کے بیٹے نے ایک ترک خاتون سے ہی شادی کی ہے۔ جرمنی کی اپوزیشن لیڈر Angela Merkel نے اپنی پارٹی Christian Democratic Union کی نمائندگی کرتے ہوئے صاف صاف کہا ہے کہ ترکی کی شمولیت سے یورپی یونین بے محابا پھیلاؤoverstretch کا شکار ہو کر اپنی موت آپ مر جائے گی۔ Angela Markel کا موقف ہے کہ ترکی کو فل ممبرشپ کی بجائے زیادہ سے زیادہ ایک مراعات یافتہ رکن Privileged Member کی حیثیت دی جائے ۔ پھر ویٹی کن کے Doctrinal Head کا رڈینل جوزف نے بھی اس ’’کارِ خیر‘‘ میں حصہ ڈالنا مناسب سمجھا اور بیان داغا کہ ترکی کی کوئی’’ مسیحی جڑیں‘‘ نہیں ہیں، اسے یورپی یونین کی طرف دیکھنے کی بجائے جنوب میں مسلم عرب بلاک کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ترکی کی حمایت میں آنے والے امریکی موقف کو یہ کہہ کر دھتکارا جا رہا ہے کہ امریکہ کے نزدیک یورپی یونین کو تباہ کرنے کا یہی یقینی طریقہ ہے۔
ترکی کی رکنیت کے خلاف سب سے سخت آواز فرانس سے آرہی ہے، لیکن فرانس میں بھی مقتدر طبقے کے ہاں اس معاملے میں یک سوئی موجود نہیں ۔ صدر شیراک نرم گوشہ رکھتے ہیں ( ان کے مطابق ترکی ۱۰ سے ۱۵ سال کے بعد ممبر بن سکتا ہے ) تو وزیر اعظم Jean Pierre Raffarin مخالفت میں سرگرم ہیں۔ وزیر خارجہ Dominique de Villepin حمایتی ہیں تو دوسری طرف وزیرِ خزانہ Nicolas Sarkozy مخالف ہیں ۔ سوشلسٹ لیڈر Francois Hollande ، مئیر آف پیرس Bertrand Delanoe اور سابق وزیرِ اعظم Lionel Jospin حمایت میں ہیں لیکن ایک اور سابق وزیرِ اعظم Laurent Fabius اور سابق وزیرِ انصاف Robert Bodinter خلاف ہیں ۔ فرانس کے وزیرِ اعظم Jean Pierre Raffarin نے وال سٹریٹ جرنل کو انٹر ویو میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’کیا ہم اسلام کے دریا کو سیکولر ازم کے دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ Do we want the river of Islam to enter the riverbed of secularism? (ہماری رائے میں فرانسیسی وزیرِ اعظم کی riverbed of secularism سے مراد درحقیقت riverbed of Christianity ہے ) ترکی کی رکنیت کے دیگر مخالفین کے نکات سے موافقت کے باوجود فرانس کی مخالفت کی ایک بڑی انفرادی وجہ’’ ترکی کا اینگلو سیکسن رویہ‘‘ بھی ہے ۔ترکی کی حمایت میں اٹھنے والی امریکی اور برطانوی آواز کوفرانسیسی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل میں ترکی کے اہم کردار کو بھانپتے ہوئے فرانسیسی فکر مند ہیں کہ ترکی کی شمولیت سے مستقبل کا یورپ فرانسیسی تصورات کے زیادہ قریب نہیں رہے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک سروے کے مطابق فرانس کے عوام کی بھی صرف ۱۶ فیصد ہی ترک رکنیت کی حامی ہے ۔
ترک رکنیت کے مخالف اس کی بڑی آبادی سے بھی خوف زدہ ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ۷۰ ملین افرادبے روزگاری وغیرہ کے سبب یورپ کا رخ کریں گے ،اس طرح یورپ میں ہر طرف ترک ہی ترک نظر آئیں گے۔ بعض مخالفین یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ وہی ترکی جو ماضی میں عسکری قوت کے بل بوتے پر یورپ کو فتح نہیں کر سکا ، اب آبادی بم سے یورپ کو ہڑپ کر لے گا۔ یوں اکیسویں صدی کے تین بڑے مظاہر ہوں گے ، (۱) امریکہ واحد سپر پاور ، (۲) چین کی ابھرتی ہوئی معیشت ، (۳) ترکوں کے ہاتھوں یورپ کی اسلامائزیشن۔ اعداد وشمار کے مطابق یورپی یونین میں نئے شامل ہونے والے دس ممالک کی مشترکہ آبادی سے بھی ترکی کی آبادی زیادہ ہے اور ۲۰۱۵ تک اس کی آبادی جرمنی سے بھی بڑھ جائے گی جو آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا سب سے بڑا ملک ہے ، پھر برسلز میں انتخابات کے موقع پر ترکی کے ووٹ سب سے زیادہ ہوں گے اور یورپی پارلیمنٹ میں یہ سب سے بڑا قومی بلاک ہو گا ۔ اس نقطہ نظر کو تقویت اس تاریخی فکر سے ملتی ہے کہ تہذیبیں دنیا کے نقشے سے اچانک غائب نہیں ہوتیں بلکہ یہ دیگر زیادہ جارح ، زیادہ طاقتور اور زیادہ بھوکی تہذیبیں ہوتی ہیں جو ان کی جگہ لے لیتی ہیں ۔ اکیسویں صدی میں مسلم تہذیب کروٹ لے رہی ہے ۔ ہو سکتا ہے پوری مسلم دنیا میں برپا موجودہ تبدیلی کی شدت پسندانہ لہر مطلوب مقاصد حاصل نہ کر سکے لیکن وہ کم از کم مسلم بیداری کی نشاندہی ضرور کر رہی ہے ۔ اس وقت یورپی یونین کی ۵ فیصدآبادی مسلم ہے (تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ ) اور مورخ Bernard Lewis بتا رہا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک یورپ کی اکثریت مسلمان ہو گی ۔ اس وقت فرانس میں ۱۶ سے ۲۴ سال کی عمر کے افراد کا ۱۵ فیصد، برسلز میں ۲۵ سال سے کم عمر افراد کا ایک چوتھائی ، مارسیلیز کی آبادی کا ۲۵ فیصد اور مالمو سویڈن کی آبادی کا ۲۰ فیصد مسلمان ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ اگلے پچاس سالوں میں یورپ کے آبائی لوگ ۱۰۰ ملین یا اس سے بھی زیادہ تخفیف کا شکار ہو جائیں گے، جبکہ یورپ کی مسلم آبادی کافی زرخیز واقع ہوئی ہے اور یہ ۲۰۱۵ تک دوگنی ہو جائے گی۔کسی تہذیب یا معاشرے کے جاری و ساری رہنے کے لیے کم از کم شرح پیدایش فی خاتون 2.1 بچے ہیں، جبکہ یورپ کی شرح پیدایش 1.5 ہے اور اس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے ۔
بہر حال ترکی کے ’’آبادی بم ‘‘ کے گوناگوں خطرات کے باعث یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اس معاملے میں مستقل بنیادوں پر تحفظاتی اقدامات Permanent Safeguard Measures کیے جائیں ، یعنی رکنیت کے باوجود ترک آبادی کویورپی یونین میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہ دی جائے ۔ اس تجویز کو یہ کہہ کر رد کیا جا رہا ہے کہ اس سے قبل یورپی یونین کی کسی بھی توسیع میں کسی بھی نوعیت کی پابندیاں ’’عارضی‘‘ رہی ہیں۔ پھر یہ کہ ترکوں سے امتیازی سلوک کوان کے ’’اسلامی پس منظر ‘‘ سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے ، جس سے یورپی یونین کی سیکولر اور غیر مذہبی حیثیت پر حرف آئے گا۔اس تعطل کی کیفیت اور مایوس کن صورتِ حال میں توسیعی کمشنر Verheugen کی ایک جرمن جریدے Der Spiegel سے بات چیت ترکوں کے لیے آس اور امید کا پیغام لائی ہے۔ Verheugen نے کہا ہے کہ یورپ کو ترکی کی ضرورت پڑے گی کیونکہ اس کی آبادی گھٹ رہی ہے ، ہم ایک روز ترکوں کی آمد پر خوش ہوں گے ۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر صحیح لوگ آ رہے ہوں؟ کہا جاتا ہے کہ Verheugen نے دوسرے کمشنروں کو قائل کر لیا ہے ، صرف ڈچ کمشنر Frits Bolkestein مخالفت پر کمر بستہ ہے اور منہ پھاڑ کر کہہ رہا ہے کہ یورپی یونین میں ترکی کے داخلے کا مطلب یہ ہے کہ ۱۶۸۳ کی جدوجہد بے کا رتھی جب ترکی کو ویانا سے پیچھے ہٹا دیا گیا تھا۔ ہمیں حیرت ہے کہ ڈچ کمشنر ماضی سے سیکھنے کی بجائے ماضی میں رہنا چاہتا ہے (یہ مرض اصل میں مسلمانوں کو لاحق ہے ) Frits ایک مغالطے کا شکار ہے جیسا کہ یہ فرض کرنا کہ قرونِ وسطیٰ کے لوگ اپنی نگاہوں میں بھی قرونِ وسطیٰ ہی کے تھے۔ ہم طوالت سے گریز کرتے ہوئے فقط اتنا کہیں گے کہ کوئی فلسفہ، تاریخ کے بے نشان راستے کا پتا نہیں بتا سکتا۔ جو لوگ خلوص اور فہم و بصیرت سے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ، تاریخ انھیں فلسفہ ضرور سکھا دیتی ہے۔ شاید Frits کو فلسفہ سکھانے سے تاریخ بھی عاجز آگئی ہے، اسی لیے اس نے عجیب و غریب شوشہ چھوڑا ہے ۔
ترک رکنیت کی مخالفت کی ایک اور وجہ اس کی کمزور معاشی حالت ہے ۔ اگر ایک طرف اس کی آبادی جرمنی سے بھی بڑھتی نظر آ رہی ہے تو دوسری طرف اس کی فی کس آمدنی پولینڈ کی نصف سے ذرا زیادہ ہے ۔ یہ سنگین صورتِ حال ہے ۔ معاشی سرگرمیوں میں ریاستی اجارہ داری ، افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی شرح ، کرپٹ سرکاری افسروں اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ سوائے مسائل پیدا کرنے کے ترکی یورپی یونین کے کس کام آ سکتا ہے؟ ترکی کے لیے تسلی بخش بات یہ ہے کہ Organization for Economic Cooperation and Development (OECD) نے، جو تیس ممالک پر مشتمل ایک تنظیم ہے، اپنی رپورٹ میں ۲۰۰۰۔ ۲۰۰۱ کے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ترک اصلاحات کو شاندار قرار دیا ہے ۔ OECD کے صدر Doland J. Johnston کے مطابق انقرہ کی معاشی کارکردگی ’’نہایت عمدہ‘‘ قرار دی جا سکتی ہے ۔Johnston نے مزید کہا کہ ترکی کا ممبر بننا ، ترکی اور یورپی یونین دونوں کے مفاد میں ہے ۔ اس تعریف و توصیف کے باوجود OECD کی رپورٹ کے مطابق انقرہ کو اخراجات پر کنٹرول ، پبلک سروسز میں بہتری ، نج کاری میں تیزی اور ٹیکس کلچر میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ملک میں پھیلی ہوئی بہت بڑی بلیک مارکیٹ کو لگام دینی ہو گی۔ ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا ، افراطِ زر میں کمی ہوگی اور ترکی طویل المدتی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا ۔ ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان نے OECD کے ممبر ممالک کے سفرا سے ملاقات میں یورپی یونین کی رکنیت کے سلسلے میں ترکی کے کیس کی سفارش کی ۔ خیال رہے کہ OECD کے ممبران میں سے ۱۹ ممالک یورپی یونین کے بھی ممبر ہیں ۔(یورپی یونین کے اس وقت کل ۲۵ ممبرز ہیں ) ترک خیال کر رہے ہیں کہ رکنیت ملنے سے ترکی میں یورپی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا سیلاب آ جائے گا جس سے ترکی کے وسائل سے زیادہ بہتر طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے گا اور معاشی ترقی کے لیے درکار مخصوص رویہ بھی پروان چڑھے گا۔
یورپی یونین اور ترکی کے معاشی تعلقات کی نوعیت پر ترکی کے اندر سے بھی آوازبلند ہو رہی ہے ۔ بعض ترک حلقوں کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں یورپی کمیشن سے ملنے والے گرین سگنل کے باوجود اور دسمبر میں رکنیت کے لیے مذاکرات کی راہ کھلنے کی چاہے توقع ہو ، پھر بھی ’’ٹیرف یونین ‘‘ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ مکمل رکنیت ملنے میں اور اس سے مفاد لینے میں برس ہا برس لگ جائیں گے۔ ان حلقوں کے مطابق ٹیرف یونین ایک سامراجی معاہدہ ہے جس کے مطابق انقرہ ، برسلز کے فیصلوں پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ ٹیرف یونین سے ترکی ، یورپی مصنوعات کا درآمدی ملک بن چکا ہے۔ ٹیرف یونین کے قواعد کے مطابق ترکی کو اپنی زرعی مصنوعات ، یورپ برآمد کرنے کی اجازت نہیں ۔ اس طرح ٹیرف یونین صرف یورپ کے مفاد میں ہے کہ ترکی کا برآمدی خسارہ بھی ۲۰ بلین ڈالرز تک پہنچ گیا ہے ۔یہ حلقے یورپ سے تعلقات کے مخالف نہیں ، بلکہ صرف قومی مفاد میں برابری کی سطح پر ہی تجارتی تعلقات چاہتے ہیں۔
ترک رکنیت کی مخالفت کے دیگر اسباب میںAgean Sea ، قبرص کا مسئلہ اوریورپی سلامتی کے امور وغیرہ شامل ہیں ۔ ترکی ۱۹۵۲ سے نیٹو کا ممبر ہے اور امریکہ کے بعد نیٹو میں اس کی سب سے بڑی فوج ہے ۔ ترکی کی سرحدیں جن ممالک سے ملتی ہیں، انھیں اسلامی ریڈیکل ازم کی cockpit کہا جاتا ہے ۔ یہ ترقی نہ کر سکنے والے کمزور ممالک ہیں جہاں امریکہ موجود ہے اور موجود رہے گا اور پھر اسرائیلی پالیسیاں بھی مغرب کی مخالفت کو بھڑکانے کو ہر دم تشکیل پاتی رہیں گی۔ ترکی کی رکنیت سے یورپی یونین مشرقِ وسطیٰ کے بحرانی خطے میں خواہ مخواہ الجھ جائے گی ۔ اس صورتِ حال کے باوجود مشترکہ خارجہ اور سلامتی پالیسی کے لیے یورپی یونین کے ہائی کمشنر Javier Solana نے ترکی کی رکنیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کی شمولیت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں بنیادی وجہ یورپی سلامتی ہے۔ Javier کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور عالمی دہشت گردی سے ڈانواں ڈول دنیا میں ترکی کی ایک خاص جغرافیائی تزویراتی پوزیشن ہے ۔ ترکی کے وسائل ، جغرافیے اور جدیدیت کے توسط سے اسلامی دنیا پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے جس سے یورپ کی سلامتی میں اضافہ ہو گا ۔
حاصلِ بحث
بات سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے حوالے سے تین آپشن موجود ہیں :
ا ۔ رکن بنا لیا جائے ، ب۔ رکن نہ بنایا جائے ، ج۔ سپیشل رکن بنایا جائے ۔
اگر ترکی کو رکن بنانے کا عندیہ دے دیا جاتا ہے تو:
(۱) اس کی فرانس اور جرمنی کے ساتھ چپقلش سی موجود رہے گی کہ فرانس کا تصورِ یورپ اور جرمنی کی بڑی آبادی والی ریاست کی حیثیت متاثر ہوگی ۔
(۲) روس، چین اور ایران سے اس کے تعلقات متوازن نہیں رہیں گے ۔
(۳) ترکی میں امریکی مفادات اور اثرات کے سبب سے یورپی یونین میں ترکی کو ’’امریکہ کے آلے ‘‘ کے طور پر لیا جائے گا ۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ سے ترکی کی ہمسائیگی اور اس خطے میں امریکی مصروفیات ، ترکی کے کردار کو خود مختار نہیں رہنے دیں گی۔
(۴) رکنیت کے حصول کے لیے ترکی کو اپنے ثقافتی اثاثے کی قربانی دینی ہو گی جو یقیناًبہت بھاری قیمت ہے۔ خیال رہے، رکنیت کا مسئلہ ترکی کی محض خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں، بلکہ اس کے لیے داخلی محاذ پر بھی انتہائی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنی ہوں گی ۔
(۵) ترکی کی مزید مغرب زدگی سے مسلم انتہا پسند مزید انتہا پسندی کی طرف مائل ہو جائیں گے جس سے خود ترکی اور یورپی یونین خطرات میں گھرے رہیں گے ۔ مزید یہ کہ باقی مسلم دنیا تنہائی کا شکار ہو جائے گی ۔
(۶) مغرب زدہ قوانین اور یورپی لوگوں سے آزادانہ اختلاط کے باوجود ترکوں میں اسلامیت موجود رہے گی جس کا اظہار سماجی سطح پر ہوتا رہے گا ۔ اس سے یورپی یونین کے اندر کشمکش جنم لے گی ۔
(۷) ترکی کے راستے سے جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی وغیرہ جیسے نظریات مشرقِ وسطیٰ میں پھل پھول سکیں گے۔
(۸) ترکی کو اسی ہزار صفحات پر مشتمل یورپی قوانین کو اختیار کرنا ہو گا ۔ ترکی کے مسلم تہذیبی پس منظر میں یہ عمل آسان نہیں ہو گا ۔
اگر ترکی کو ممبر نہیں بنایا جاتا اور صاف انکار کر دیا جاتا ہے تو :
(۱) یورپی یونین کو مسیحی کلب قرار دیا جائے گا۔ہنٹنگٹن کا تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ سچ ثابت ہو گا ۔
(۲) ترکی کے اندر مسلم ریڈیکل ازم کی تند و تیز لہر آئے گی جس کے منفی اثرات یورپی یونین پر لازماً مرتب ہوں گے ۔
(۳) ترکی کا پورا جھکاؤ روس، چین اور ایران وغیرہ کی طرف ہو جائے گا۔
(۴) مشرقِ وسطیٰ کے راستے سے آمرانہ ، جابرانہ، جانبدارانہ ، تعصب اور تنگ نظری پر مبنی کلچر ترکی پہنچے گا اور اس کے ابھرتے ہوئے جمہوری اور مارکیٹ اکانومی پر مبنی سفر کی راہ میں حائل ہو جائے گا۔ ایسا بدلا ہوا اور مزید بدلتا ہوا ترکی یورپی یونین کو بھی کچوکے لگاتا رہے گا۔
(۵) خود یورپی یونین کے اندر ’’ترک دشمن‘‘ نفسیات کو ہوا ملے گی، کیونکہ ترکی کو یونین سے مکمل باہر رکھنے والا گروہ ترکی کو باہر کر دینے کے سبب یورپی یونین کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہو گا اور یہ گروہ ترکوں کے اسلامی ماضی کو خوفناک طریقے سے لوگوں کے اذہان میں ڈالنے سے باز نہیں آئے گا۔
(۶) یورپی یونین کی داخلی وحدت تیزی سے پروان چڑھے گی، کیونکہ اس کی دہلیز پر صدیوں پرانا دشمن زخم خوردگی کی حالت میں ہوگا۔ یہ صورتِ حال یورپی یونین میں جرمنی جیسی بڑی ریاستوں کے مفاد میں ہو گی ۔
اگر ترکی کو فل ممبر کی بجائے سپیشل یا privileged ممبر بنایا جائے تو :
(۱) ترکی ، یورپی یونین اور روس، چین، ایران وغیرہ کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات قائم کرنے کی پوزیشن میں ہو گا ۔
(۲) ترکی کی حیثیت مشرقِ وسطیٰ کے بحرانی خطے اور ترقی یافتہ یورپی یونین کے درمیان ’’بفر ریاست‘‘ کی ہو گی ۔ ہر دو خطوں کے مختلف النوع اثرات ’’ترک چلمن‘‘ سے چھن چھن کر ایک دوسرے پر مرتب ہوں گے ۔
(۳) جرمنی اور بالخصوص فرانس سے بھی ترک تعلقات دوستانہ ہوں گے کیونکہ فرانس کے تحفظات فل ممبرشپ کے حوالے سے ہیں ۔
(۴) یورپی یونین کے ممبر ممالک میں ’’ ترک دشمن تاریخی فضا‘‘ میں بتدریج کمی آئے گی ۔اس دوران میں ترکی سے تحفظات کی موجودگی کے پیشِ نظر یورپی یونین میں داخلی وحدت بھی آئے گی۔ اس کے بعد ایک طرف ترک دشمنی میں نمایاں کمی آئے گی اور دوسری طرف یورپ کے داخلی وحدت سے ہمکنار ہونے کے سبب سے ترکی کی فل ممبرشپ ممکن ہوسکے گی۔ اس وقت تک ترکی مشرقِ وسطیٰ اور یورپی یونین کے اثرات کو ہر دو خطوں میں ’’امتزاجی ‘‘ اعتبار سے متعارف کروا چکا ہوگا۔ خیال رہے کہ یونین کی جانب سے رکنیت سے مکمل انکار یا مکمل ہاں کی صورت میں ’’ترک دشمنی ‘‘ کی چنگاری کو ہوا ملنے کے زیادہ امکانات ہیں ہیں۔
(۵) اگر ترکی کو ممبرشپ دینے سے یکسر انکار کر دیا جاتا ہے تو اسے اس انداز میں بھی دیکھنا چاہیے کہ یورپ اپنی قوم کے سامنے کوئی ’’چیلنج‘‘ رکھنا چاہتا ہے کہ اقوام کی زندگی چیلنجز کی عدم موجودگی میں سست روی میں ڈھل جاتی ہے ۔ لیکن چیلنج اتنا ہی ہونا چاہیے جسے قوم سہار بھی سکے ۔ ہماری رائے میں مسلم دشمنی یا ترک مسلم تہذیب کو یورپی اقوام کے سامنے بطور چیلنج رکھنا ، یورپ کے لیے خسارے کا سودہ ہو گا ۔ اگر ترکی کو ’’سپیشل ممبر‘‘ بنا دیا جاتا ہے تو یہی چیلنج تخفیفی حالت میں موجود ملے گا جو یورپ کے لیے سود مند سودا ہے ۔
(۵) ترکی کے اندر اور باہر مسلم انتہا پسند اور اعتدال پسنددونوں گروہ مطمئن رہیں گے ۔ انتہاپسند اس عمل کو مکمل مغرب زدگی سے پرہیز پر محمول کریں گے اور اعتدال پسندوں کے نزدیک یہ قدم مستقبل کے لیے سنگِ میل شمار ہو گا۔
(۶) ترکی اس پوزیشن میں ہو گا کہ اپنے ثقافتی اثاثے کی کم سے کم قربانی دے کریورپی یونین سے زیادہ زیادہ فوائد حاصل کرے کیونکہ ترکوں کو فل ممبرشپ نہ دینے کے باعث یورپی یونین ان کے (اسلامی نوعیت کے ) داخلی نظام کو بدلنے کے لیے بے جا اصرار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی ۔ اس طرح ترکوں کو نہ صرف زنا کاری جیسے معاملات میں پسپائی اختیار نہیں کرنی پڑے گی بلکہ اس کے خاندانی نظام جیسے تہذ یبی ادارے بھی قائم رہیں گے۔
اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم یہی گزارش کریں گے کہ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت کے لیے اتنی ’’فریفتگی‘‘ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہر دم وضاحتوں کے کٹہرے میں کھڑا نظر آئے ۔اس وقت زناکاری کے معاملے نے جس طرح سر اٹھایا ہے ، اسے دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ اٹلی کی رکنیت کے بعد بھی وہاں طلاق غیر قانونی رہی اور اسی طرح آئر لینڈ میں بھی اسقاطِ حمل ۱۹۹۲ تک غیر قانونی تھا۔ پھر ترکی پر رکنیت سے قبل ہی اتنا پریشر کیوں ؟ کیا یہ ترکوں کی فریفتگی کے اثراتِ بد تو نہیں؟ ہم ترک وزیرِ اعظم طیب اردگان سے گزارش کریں گے کہ جس طرح محض قانونی ڈھانچے سے مطلوب معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا (شاید اسی لیے یورپی یونین نے کہا ہے کہ ترکی کے داخلی نظام میں تبدیلی کے حوالے سے صرف ’’قانونی پہلوؤں ‘‘ کو ہی نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ان کی’’ عملی صورت‘‘ کو پرکھا جائے گا کہ مطلوب مقاصد حاصل ہوئے ہیں یا نہیں؟) اسی طرح قانون بدلنے سے کو ئی معاشرتی یا تہذیبی ڈھانچہ بھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس کی مثال نہ صرف سابق سوویت یونین میں مسلم تہذیبی ورثے کی بقا ہے بلکہ خود ترکی کی تاریخ گواہ ہے کہ ترک مسلم تہذیب کا چراغ، مصطفی کمال کی جدیدیت اور سیکولر ازم کی پھونکوں سے نہیں بجھ سکا۔ اب بھلا یورپی پھونکیں اس کا کیا بگاڑ لیں گی ؟
۱۹۹۸ میں جناب اردگان کو ایک نظم لکھنے کی پاداش میں دس ماہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔ وہ شاعر قائد کسی حد تک صاحبِ ایمان ہی ہو گا جس کی شاعر ی کا محبوب ، صنم خانے کا کوئی ’’بت خود آرا وخود بیں ‘‘ نہیں بلکہ عبادت خانہ خدائے وحدہ لا شریک، مسجد ہے ۔ جناب اردگان نے نظم میں کہا تھاکہ ’’ مساجد ہماری بیرکیں ، مینار ہماری سنگینیں ، گنبد ہمارے ہیلمٹ اور توحید پرست ہمارے سپاہی ہیں ‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا دل گداختہ شاعر راہنما بھی اگر ترک مسلم تہذیب کی خلقی صلاحیت کو فروغ دینے کی بجائے وضاحتوں کے کٹہرے میں کھڑا ہے تو پھر اس تہذیب کو ’’تاریک راہوں ‘‘ میں مارے جانے سے کون بچا سکتا ہے؟
سنی شیعہ کشیدگی کا مسئلہ
ادارہ
(۱)
وقت کی یہ ستم ظریفی بھی دیدنی ہے کہ جب مذہب کے نام پر مذہبی روح کو کچلا جا رہا تھا اور مذہب ہی کے نام پر اللہ کی زمین پر انسانی خون بہ رہا تھا ، اس وقت اسلام نے انسان کو اس کا بھولا ہوا سبق یا د دلایا اور فرمایا کہ انسان اپنی فکر اور عمل میں آزاد ہے۔ اس کے سامنے نیکی اور برائی کی دونوں راہیں کھلی ہیں۔ اپنی مر ضی سے جس راہ کو اختیار کر نا چاہے ،کر سکتا ہے۔ مسلم مفکرین نے مزید کہا کہ کائنات میں قدم قدم پرپھیلے ہوئے خدائی کاموں کا مشاہدہ و مطالعہ ایک مقدس کام ہے۔ یہ مطالعہ، یہ غور وفکر ایسی ذات گرامی کا پتہ دیتا ہے جواس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس سے رشتہ جوڑے بغیر انسانی روح کو قرارنہیں ملے گا۔
تا ریخ مذہب میں اسلام نے فکری آزادی جو اعلان کیا تھا،اس پر مغرب میں بہت کچھ لکھا گیا، لیکن بیسویں صدی میں برصغیر کے معروف مارکسی انقلابی دانشور ایم این ،رائے (M.N .Roy) نے اپنی کتاب The Historical Role of Islam میں ایک نئے انداز سے لکھا : ’’آخری بڑے مذاہب میں اسلام عظیم ترین مذہب تھا ۔چنا چہ اس نے تمام مذاہب کی بنیادوں کو ڈ ھادیا ۔ اس کا یہ عمل اس کی تاریخی عظمت کی روح ہے۔‘‘
اسلام اور عربی تعلیمات کا مرکز وہی تاریخی سر زمین ہے جہاں پر پرانی مصری ،اشوری، یہودی ،ایرانی ،اور یونانی تہذیبیں اٹھیں ،ٹکرائیں اور زوال پزیر ہوئیں۔ پہلی تہذیبوں کا مثبت نتیجہ یہ تھا کہ انھوں نے عرب کلچر کے خدوخال بنانے میں حصہ لیا اور محمد ﷺکے عظیم نظریہ تو حید نے ان پرانی قوموں کے مذہبی اصولوں کو اپنا لیا۔
مسلم دنیا کی فکری اورعملی کامیابیوں کے بعد مسلم معاشرے پر زوال آیا۔ایسا کیوں ہوا؟ اس پر لکھتے ہوئے M.N.Roy نے لکھا : ’’جب آزادی فکر کا، جس کی اجازت صحرائی لوگوں کو سادہ عقیدے (اسلام)نے دی تھی، ٹکراؤمسلمانوں کے ارباب اقتدار کی دنیاوی دلچسپیوں سے ہواتو قرطبہ کے والی نے مذہبی رہنماوں کے اصرار پر ایک فرمان جاری کیا جس میں دوزخ کی آگ کے حوالے سے مذہبی بنیادوں پر ملحدانہ خیالات کی مذمت کی گئی۔ اسلام کی مقدس ترین تعلیم کی مذمت دراصل انسانی ترقی کے تنزل کی ابتداتھی۔‘‘
سپین میں آزادی فکر کے نام لیواعربوں کے ساتھ دین ودانش کے دشمنوں نے جو سلوک کیا ، تاریخ آج تک اس کے ماتم سے فارغ نہیں ہو سکی۔
یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ اہل پاکستان کی اکثرت (شیعہ سنی) جو تو حید و رسالت کے مضبوط رشتوں میں منسلک ہے اور اسلام کی عظیم فکری اور روحانی روایات کی وارث، ابھی تک پوری طرح سے مذہبی فرقہ واریت سے نجات حاصل نہ کر سکی۔ گزشتہ مئی میں کراچی میں جو ہولناک فسادات ہوئے ہیں، اس نے بتادیا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر کس مقام پر کھڑے ہیں۔ صد افسوس ہم نے بڑی بے رحمی سے اپنی شاندار مذہبی اور روحانی روا ت کوبحیرہ عرب میں غرق کر دیا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ہم نے نہ صرف اپنے ہی بھائیوں کا خون اللہ کے گھرمیں بہایابلکہ سڑکوں پرچلنے والے عام لوگ بھی فرقہ واریت کی آگ میں جلے۔ ان کی کاریں یا دکانیں جلادی گئیں۔ کیا کوئی مذہبی ،اخلاقی اورسیاسی ضابطہ ہمیں اس بھیانک رویے کی اجازت دیتا ہے؟ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جدید دور اپنے جلو میں نئی صحت مند روایات لایا ہے۔ افسوس نہ تو ہم اپنی کلاسیکل فکری اور روحانی روایات کا تحفظ کر سکے اور نہ ہی جدید صحت مند روایات کا ساتھ دے سکے ۔ میر نے ٹھیک ہی کہا تھا۔
دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
عہد حاضرمیں دونوں جماعتوں کے اہل علم نے برابر کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کے دونوں تاریخی گروہ ایک دوسرے سے قریب تر آئیں۔ چنانچہ شیخ عبدالکریم الزنجانی النجفی نے ۱۹۶۱ء میں اپنی کتاب ( الوحدۃ الاسلامیہ والتقریب بین مذاہب المسلمین) نجف سے شائع کی۔ اس کتاب میں تفصیل سے بتایا ہے کہ امام زنجانی نجفی نے سنی شیعہ اتحاد کے لیے قاہرہ میں شیخ مصطفی المراغی اور شیخ محمود شلتوت سے کامیاب ملاقاتیں کیں اور دمشق کی اموی مسجد میں حضرت السجاد علی ابن الحسین زین العابدین سے صدیوں بعد امام نجفی اسلامی اور شیعہ تاریخ میں عہد حاضر کے پہلے آدمی ہیں جنھوں نے مسجد اموی کے منبر پر کھڑے ہو کر دنیائے اسلام کے مسلمانوں کو مخاطب کیا۔ یہ رسالہ آج بھی طہران سے شائع ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال پہلے شیخ الازہر مرحوم شیخ شلتوت نے تین طلاقوں کے بارے میں فتویٰ دیتے ہوے لکھا ہے کہ ہم اس مسئلہ میں فقہ جعفریہ کے مسلک پر فتویٰ دیتے ہیں۔
قرآن مجید نے اہل صفا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ’’اللہ کے بندے تو وہ ہیں جو زمیں پر وقار سے چلتے ہیں اور جب بے وقوف لوگ ان سے نادانی کی بات کرتے ہیں تو ’’(تم پر)سلامتی ہو‘‘سے جواب دیتے ہیں۔‘‘ (الفرقان ۶۲۔۶۳) آنحضرت ﷺسے خطاب کر تے ہوے قرآن نے فرمایا: ’’آپ اپنے پر وردگار کی راہ کی طرف لوگوں کو بلاؤ تو اس طرح کہ حکمت کی با تیں بیان کرو اور پندو نصیحت کرو اور مخالفوں سے بحث کرو تو (وہ بھی ) ایسے طریقہ پر کہ حسن وخوبی کا طریقہ ہو۔‘‘ اگر ہمیں کشاکش روزگا ر اورباہمی نفرت سے فرصت مل جائے تو نہایت ہی صبر وتحمل سے اپنی گھات میں بیٹھ کر اپنی ’انا‘ کا تماشہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ شاید اس وقت ہمیں پتاچلے کہ ہماری انا کن کن بیما ریوں کا شکار ہے۔ ان بیماریوں میں نفرت اور تشدد ایسی بیماریاں ہیں جو ہماری تباہی اور رسوائی کا سبب بنی ہیں۔ رسول کریم ﷺکا ارشاد ہے، ’’خدایا! گواہ رہنا۔ سب بندے بھائی بھائی ہیں۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا، ’’تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ اللہ کی نگاہ میں عزیز تر وہی ہے جواس کے کنبے کے لیے سب سے زیادہ بھلائی کرتا ہے۔‘‘ ایسی پاکیزہ تعلیمات رکھتے ہوئے یہ ہماری بد بختی ہے کہ ہم نہ صرف پوری انسانی سوسائٹی سے بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں سے بھی بر سرپیکار ہیں۔ سعدی نے ٹھیک کہا ہے کہ اہل صفانے تو اپنے حسن عمل سے دشمنوں کے دل جیتے ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ اپنے دوستوں کو بھی دشمن بنالیا ہے۔
شنیدم کہ مردان راہ خدا
دل دشمناں ہم نہ کردند تنگ
ترا کے میسر شود ایں مقام
کہ با دوستانت خلاف است وجنگ
بے شبہ ان فسادات نے ہمارے اخلاقی اورسماجی نظام کے چہرے سے نقاب کو الٹ دیا ہے۔حالاں کہ دونوں عظیم گروہ، شیعہ اور سنی، خدا کی توحید اور رسول اکرم ﷺکی آخری نبوت پر دل کی گہرائیوں سے یقین رکھتے ہیں، لیکن علم کلام اور فقہ کی اختلافی جزئیات نے ہماری ساری فکری، اخلاقی اورروحانی صلاحیتوں کو جذب کر لیا ہے اور صبر وتحمل اور عفو وکرم کی ساری تعلیمات جو قرآن اور اسوہ رسول ﷺسے ہمیں ورثے میں ملی تھیں، ہم نے ان کو غرق دریا کر دیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون ۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے علم الکلام کی عینک اتار کر قرآن مجید اور سیرت رسول ﷺکو پڑھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ ملکوتی نغمہ ہمارے فکر ونظر کی جلااورقلب وروح کی تسکین کے لیے اپنے پاس کیاکیا سامان رکھتا ہے۔ پکتھال نے سچ کہا تھا کہ قرآن مجید کی ایک ایسی سمفنی (symphony) ہے جس پر انسانی آنکھ کے آنسو گرتے ہیں اور سننے والا جذب ومستی سے سرشار ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل علم نے، خواہ ان کا تعلق اہل سنت سے ہے یا اہل تشیع سے، ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں ایک شیعہ اسکالر مولانا مرتضیٰ نے ’معراج العقول‘ جیسی کتاب لکھی تو ابوالکلام آزاد نے لکھا، ’’فریقانہ نزاعات اور تقلید نے ہمتوں کو پست کر دیا ہے اور کسی شخص کو راہ حقیقت میں قدم رکھنے کی جرات نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ صاحب معراج العقول کو جزائے خیر دے جنھوں اس راہ میں قدم رکھا اور اجتہاد واستقلال فکرکے ساتھ اپنی سیاحت تحقیق ختم کی۔‘‘ ابوالکلام نے مزید لکھا، ’’میں نے کبھی سنیوں کی کسی بات کو محض اس لیے اچھا نہیں کہا کہ وہ سنی ہیں اور شیعہ کی کسی سچائی سے انکار صرف اس لیے نہیں کیا کہ وہ شیعہ ہیں۔ حق وصداقت کی طہارت جماعت بندی کی گندگی سے آلودہ نہیں ہو سکتی۔‘‘ (البلاغ، ۱۸فروری ۱۹۱۶ء، ص۱۱۸)
مولانا نے ’معراج العقول‘ کے مصنف کے علم وفضل کا اعتراف کر تے ہوے لکھا، ’’بہاؤ الدین عاملی کے بعد معراج العقول کے مصنف پہلے صاحب علم ہیں جو مجتہدانہ بصیرت رکھتے ہیں ۔‘‘
خاکسار یہاں دوسرے واقعہ کو بھی بیان کرنا وقت کی ضرورت سمجھتا ہے۔ مرحوم پروفیسر اطہر علی ،علی گڑھ یونیورسٹی سے آسٹریلیاکی یو نیورسٹی میں چلے گئے تھے جہاں انھوں نے پرو فیسر بھاشم سے مل کر ہندوستان کی تاریخ پر لکھا ہے۔ انھوں نے یو پی میں جدوجہد آزادی سے متعلق تاریخی دستاویزا ت مرتب کی ہیں جسے یوپی حکومت نے شائع کیا ہے۔ ان دستاویزات میں ان علماء کرام کا بھی ذکر ہے جنھوں نے تحریک آزادی ہند میں حصہ لیا تھا۔ وہ گرمیوں میں آسٹریلیا آیا کرتے تھے۔ ان سے ۱۹۶۷ء اور ۱۹۶۸ء میں لندن یو نیو رسٹی کی طلبہ یونین میں ملاقاتیں رہتیں ۔ ایک دفعہ انھوں نے مجھ سے کہا کہ جب ۱۹۳۵ء میں یوپی میں کانگرس حکومت تھی اور پنڈت پنتھ وزیر اعلیٰ، اس وقت لکھنو میں شیعہ سنی تعلقات کشیدہ تھے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف جلوس نکال رہے تھے جس پر UP حکومت نے پابندی لگادی تھی۔ جب لکھنو کے سنی مسلمانوں نے مدح صحابہ کے سلسلے میں جلوس نکالنے کی اجازت مانگی تو حکومت نے اس سلسلے میں مولانا ابوالکلام سے رجوع کیا تو مولانا نے اپنے ایک خط بنام وزیر اعلیٰ میں لکھا کہ وہ اہل سنت کو مدح صحابہ سے متعلق جلوس نکالنے کی اجازت نہ دے۔ جب لکھنوی مسلمانوں کو اس بات کا پتہ چلا تو ان کا ایک وفد ابوالکلام سے کلکتہ میں ملا۔ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، میرے بھائیو! وقت کی نزاکت سمجھو۔ شیعہ سنی موجودہ نزاع مسلمانوں کے قومی مفاد میں نہیں۔ پروفیسر موصوف نے خاکسار سے کہا کہ انھوں نے یہ فائل خود پڑھی ہے ۔
صحیح بات وہی ہے جو علامہ سید انور شاہ کشمیری کہا کرتے تھے کہ دو مذہب کے دو شریف آدمی آپس میں مل کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن ایک ہی مذہب کے دو پست نظر نام لیوا ایک جگہ مل کر بیٹھ نھیں سکتے۔ خاکسار کو یقین ہے کہ مسلمانوں کے اہل نظر (شیعہ ہوں یا سنی) اگر ذرا متحرک ہو جائیں تو اس مسئلہ کا حل ڈھونڈسکتے ہیں۔ شیعہ حضرات میں خاکسارایسے اہل نظر کو جانتا ہے جو دونوں فریقوں کے ہاں معزز ومحترم مانے جاتے ہیں۔ کیا کوئی مرحوم پروفیسر کرار حسین یا ڈاکٹر حسین محمد جعفری کے علم وفراست اور تاریخی بصیرت سے انکار کر سکتا ہے؟ اس پایہ کے اور بھی کئی اہل علم ہیں جو کراچی کی صدائے دردناک کا شدت سے احساس رکھتے ہیں اور ہماری آستینوں میں چھپے ہوے نفرت وتشدد کے خنجر سے نجات بھی دلا سکتے ہیں۔ فہل من مدکر؟
(تحریر: ڈاکٹر رشید احمد جالندھری۔ بشکریہ سہ ماہی ’’المعارف‘‘ لاہور )
(۲)
صرف میں ہی نہیں، اس ملک کا ہر باشعور آدمی جانتا ہے کہ اس سارے عمل کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔ ملک بھر سے گنتی کے چند علما کو جمع کر کے یہ گمان کرنا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی اور مذہب کے نام پر تشدد کی لہر دم توڑ دے گی، ایک ایسی سادگی ہے جس کے نتیجے کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان علما میں کوئی ایک آدھ ہی ایسا تھا جو اس سارے معاملے میں حکومت کا اصل مخاطب ہو سکتا ہو۔ جناب اعجاز الحق اور ان کے جملہ رفقاے کار کے فہم وفراست کے باب میں ہم زیادہ توقعات وابستہ نہ کریں تو بھی ایک ایسی بات کی توقع تو ضرور کی جانی چاہیے کہ جس کا تعلق عمومی شعور (Common sense) کے ساتھ ہے۔
اس سارے معاملے میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں، شرط یہ ہے کہ کوئی اس کی خواہش رکھتا ہو۔
۱۔ مذہب میں تشدد کا تعلق دو امور سے ہے۔ ایک داخلی اور دوسرا خارجی۔ اس ملک میں شیعہ اور سنی اختلاف میں تشدد کا عنصر ۱۹۸۰ء کی دہائی میں داخل ہوا۔ دونوں طرف کے ایک آدھ اقلیتی گروہوں نے یہ راستہ اپنایا اور اپنی شدت آمیز (Aggressive) حکمت عملی سے اپنے اپنے فرقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہمارے پڑوس میں واقع مذہبی تشخص رکھنے والی ریاستوں نے حسب توفیق اس میں اپنا حصہ ڈالا اور یوں یہ شعلے بے قابو ہو گئے۔ قوم جانتی ہے اور حکومت بھی کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ان کی بعض سرگرمیاں خفیہ ہو سکتی ہیں لیکن ان کی تنظیم اور ان کا پیغام علانیہ ہے۔ جب تک حکومت ان سے کوئی معاملہ نہیں کرتی اور ان گروہوں کو دوسرے مذہبی طبقات سے الگ کر کے نہیں دیکھتی، یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔
خارجی پہلو امریکی رویہ ہے جس نے بہت سے مسلمانوں میں یہ سوچ پیدا کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور جارحیت سے نمٹنے کا ’جہاد‘ یعنی قتال کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ خود کش حملوں کی روایت کا ماخذ یہی تصور دین ہے۔ حکومت جانتی ہے اور عوام بھی کہ کون لوگ اس نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک علمی کاوش کی ضرورت ہے جو اس خیال کی مذہبی غلطی واضح کرے، اور ایک ضرورت سماجی ہے جو اس کے متبادل فکر کا ابلاغ عام کرے۔ اس کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ایک بھرپور مہم چلانا ہوگی۔ اس کے ساتھ بعض اقدامات وہ ہیں جو حکومتیں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھاتی ہیں۔
۲۔ جن حضرات سے خود کش حملوں کے خلاف فتوے لیے جا رہے ہیں، ان کے معتقدین پہلے ہی اس کو درست نہیں سمجھتے اور وہ لوگ ا ن کے فتوے کو درخور اعتنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں جو اس نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ نتیجتاً یہ فتوے تحصیل حاصل ہیں اور ان کے نتیجے میں حالات میں کوئی جوہری تبدیلی واقع ہونے والی نہیں۔
۳۔ جو لوگ اس سارے معاملے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں، ان کے بارے میں حکومت کا رویہ بہت حیرت انگیز اور غیر منطقی رہا ہے۔ ایک طرف محض شک کی بنا پر بغیر کسی ثبوت کے اپنے تئیں ان کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ اسلام آباد میں غازی عبد الرشید کی گرفتاری اور پھر اسی مکتب فکر کے بعض مذہبی اداروں پر چھاپے اسی طرز عمل کا شاخسانہ ہے۔ یہ بے بصیرتی پر مبنی (Ill-conceived) ایسا رویہ ہے کہ خود حکومت کو اس سے رجوع کرنا پڑا۔ وزیر اطلاعات نے چند روز پہلے ارشاد فرمایا کہ ان کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ طرز عمل ملک میں اکثر مقامات پر روا رکھا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کے حصے میں طعن وتشنیع آتی ہے، کاش وزارت مذہبی امور کو اس کا ادراک ہوتا۔
دوسری طرف ان لوگوں سے مکمل لاتعلقی کا مظاہرہ کیا گیا۔ حکومت نے ان کے ساتھ کبھی سنجیدہ مکالمہ نہیں کیا اور انھیں اس سارے معاملے میں شریک مشاورت نہیں کیا۔ اس کا مظاہرہ ہم اس میٹنگ میں دیکھ سکتے ہیں جو اس کالم کی بنیاد ہے۔ یہ ہمارے ہاں وزارتوں اور سرکاری اداروں کا عمومی طرز عمل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں ان لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں کرتے جو فی الواقع اس شعبے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے پیش نظر ہمیشہ بعض دوسرے عوامل رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کی اگر آپ تاریخ اٹھائیں تو ڈاکٹر ایس ایم زمان یا ڈاکٹر خالد مسعود جیسی چند مستثنیات کے علاوہ اس کے اراکین کا انتخاب علم وفضل کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے محرکات کبھی شخصی ہوتے ہیں اور کبھی سیاسی۔ آپ پاکستان ٹیلی ویژن کے مذہبی پروگرام دیکھیں۔ آدمی حیرت سے سوچتا ہے کہ اس ملک میں یہی مذہبی عالم باقی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرز عمل کے بعد وہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔
میں اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ اس ملک میں مجلس عمل کو ساتھ لیے بغیر آپ کوئی مذہبی مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ متحدہ مجلس عمل کا ایک تشخص سیاسی ہے اور ایک مذہبی۔ میرا خیال ہے کہ اگر اس فرق کو ملحوظ رکھا جائے اور حکومت مذہبی معاملات میں ان کو اعتماد میں لے تو ان مسائل کا بہتر حل نکل سکتا ہے۔ جناب قاضی حسین احمد نے چینی انجینئروں کے اغوا اور ان کے مارے جانے پر اپنے صدمے کا اظہار کیا ہے اور اس سارے عمل سے گویا اپنی لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت اگر مذہبی تشدد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کو ہم نوا بنا سکتی تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوتی اور معاشرے پر اس کے اثرات بھی ہوتے۔ مولانا فضل الرحمن نے شیعہ سنی کشیدگی کم کرانے میں بہت اہم اور غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ، جمعیت علماے اسلام سے متعلق لوگوں کی تنظیم ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنوں کی گالیاں کھائیں لیکن اس طرز عمل کی کبھی حمایت نہیں کی اور بہت کامیابی کے ساتھ دیوبندی مکتب فکر کو اس سارے عمل سے دور رکھا۔ میرے نزدیک اگر اس معاملے میں حالات میں کوئی بہتری آئی تھی تو اس کا کریڈٹ انھیں جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے بارے میں تو یہ واضح ہی ہے کہ وہ ایسی گروہ بندی پر یقین ہی نہیں رکھتی۔ حکومت اگر ان لوگوں کو نظر انداز کر کے یہ خیال کرتی ہے کہ گنتی کے چند علما خود کش حملوں کے خلاف ’’فتوے‘‘ دیں گے اور حالات سنور جائیں گے تو یہ بصیرت کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں۔ اس حوالے سے یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ حکومتوں کے کہنے پر دیے جانے والے فتوے اگر درست ہوں تو بھی معاشرے میں کبھی قبولیت عام حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو عباسی خلفا خلق قرآن کے مسئلے پر اپنی بات منوا لیتے۔ تاریخ آج صرف امام احمد بن حنبل کو جانتی ہے جنھوں نے حکومتی فتوے کو نہیں مانا۔ وہ ہزاروں علما جنھوں نے حکومت کے کہنے پر قرآن کو مخلوق کہا، آج ایک بھولی بسری داستان ہیں۔
مذہب، سچ یہ ہے کہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے، اگر اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی معاشرے پربہت گہرے ہوں۔ یہ بات یہاں سیکولر ازم کی بات کرنے والوں کی سمجھ میں آ سکی ہے اور نہ حکومت کرنے والوں کی۔ اس کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اگر اتنا سادہ ہوتا کہ آرمی ہاؤس کی ایک چھوٹی سی مسجد میں چند علما کو ایک ساتھ نماز پڑھا دینے سے حل ہو جاتا تو شاید یہ سرزمین اس سیارے پر جنت کا ایک ٹکڑا ہوتی۔
(خورشید احمد ندیم۔ روزنامہ جنگ لاہور۔ ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۴)
’’برہمن‘‘ کی پختہ زناری بھی دیکھ
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
بش اور بلیر اینڈ کمپنی کو ’’برابر کی چوٹ‘‘ کا اب تک کوئی نہ مل رہا تھا۔ یہ کمی بالآخر عراق میں فلوجہ کے ابو مصعب الزرقاوی نے پچھلے دنوں پوری کی۔ مگر افسوس کہ یہ کمی جس مقابلہ میں پوری ہوئی، اس میں بھی جیت کمپنی کی ہوئی۔ زرقاوی برابر رہ کر بھی ہار گئے۔ برابر وہ اس معنی میں رہے کہ مسٹر بلیر نے اگر ان کے مطالبہ پر جھکنے سے انکار کیا اور شدید اندرونی دباؤ کے باوجود انکار پر قائم رہے تو زرقاوی نے بھی ہر طرف سے آنے والی اپیلوں کے دباؤ کا اسی ’’ثابت قدمی‘‘ سے مقابلہ کیا اور اپنا قول کہ ’’عراقی عورتوں کو امریکن جیلوں سے نکلواؤ ورنہ تمھارا آدمی، کینتھ بِگلے (Kenneth Bigley) جو ہمارے ہاتھ میں ہے، قتل کر دیا جائے گا‘‘ پورا کر دکھایا۔ مگر زرقاوی برابری ثابت کر کے بھی اس لیے ہارے کہ انھوں نے جو کیا، وہ نہایت افسوس ناک عمل تھا۔ ان کے ہاتھ میں جو انگریز انجینئر تھا، اس کا انھوں نے کوئی گناہ نہیں بتایا تھا۔ بلیر اور بش کے گناہوں کے عوض ان کے ایک بے گناہ ہم قوم کا قتل سراسر گناہ تھا۔ اس نے اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کیے جانے کی اس مہم کو تقویت بھی پہنچائی جس کے بادل اٹھا کر افغانستان اور عراق پر چڑھائی کی راہ نکالی گئی تھی۔ اور بلیر اس کے برعکس جیتے ہوئے یوں نظر آئے کہ یہ ان کے لیے ایک سخت آزمایش کا موقع تھا اور اس موقع پر زرقاوی کی مانگ کے جواب میں جو فیصلہ انھوں نے کیا، وہ گویا تلوار کی دھار پہ چلنا تھا مگر ان کے منصب کا تقاضا یہی تھا۔ ملک اور پارٹی کا وقار اس سے وابستہ تھا۔ سخت حالات میں منصب کے تقاضوں سے وفاداری نہ چھوڑنا بڑائی دینے والی بات ہے۔
اس قصہ کے دن ستمبر کے آخری ہفتہ کے وہ دن تھے کہ مسٹر بلیر کی لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کا آغاز ہونے جا رہا تھا اور اس کانفرنس میں پارٹی کے ان لوگوں کی بھاری تعداد کا سامنا بلیر کو کرنا تھا جو عراق پر چڑھائی کے معاملے میں پہلے دن سے بلیر پالیسی کے مخالف تھے اور اب حالات وشواہد نے بلیر کو تمام تر غلط اور ان کو صحیح تر ثابت کر دیا تھا۔ ایسے میں ایک برطانوی شہری کی جان کا معاملہ، جو بلیر پالیسی ہی کا نتیجہ تھا، ایک بڑی جذباتی فضا جنگ مخالف لوگوں کے حق میں پیدا کر دینے والا معاملہ تھا۔ ان کے سوا بِگلے کا خاندان بھی جہاں زرقاوی سے رحم کی اپیلیں کر رہا تھا، وہاں اپنے وزیر اعظم پر بھی یہ جان بچانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑ رہا تھا۔ ٹی وی کیمرے ان کو پورا تعاون دے رہے تھے۔ بِگلے کی بوڑھی ضعیف ماں روتی ہوئی بیٹے کی رہائی مانگتی اسکرین پر دکھائی جا رہی تھی۔ ایسے سخت دباؤ کے ماحول میں ایک جمہوری حکمران کے لیے آسان نہ تھا کہ وہ اپنے فیصلہ پر آخر تک قائم رہ جائے۔ بلیر نے یہ کمزوری دکھانے سے انکا رکر کے یقیناًپالا جیت لیا۔ عراق پر امریکی فوج کشی میں ان کی شرکت کتنی ہی قابل مذمت ہو، وہ ایک دوسری بات ہے۔یہاں اس سے ایک بالکل الگ مسئلہ کی گفتگو ہے۔ یہ بحیثیت لیڈر ایک خاص کردار کا مسئلہ ہے۔ ٹونی بلیر نے ثابت کیا کہ وہ اس کردار کے معاملہ میں پوری طرح قابل اعتماد ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک شہری کی جان کھو کر آئندہ کے لیے ایسی مزید آزمایش کا راستہ بھی بند کر دیا اور ملک کا وقار بھی بچا لیا۔
اس آزمایشی منظر سے نظر بے اختیار اپنے یہاں کے اس منظر کی طرف جاتی اور اداس ہوتی ہے جس میں قائدانہ کردار کی یہ صلابت واستقامت نہیں ملتی۔ امریکی برطانوی سامراجیت نے جب ۲۰۰۱ء میں افغانستان کا رخ کیا تو پڑوسی پاکستان میں جن لوگوں نے خود اس کے مقابلہ کا عزم ظاہر کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس معاملہ میں ساتھ دینے کے لیے پکارا، وہ حالات کی سختی سے رفتہ رفتہ اس قدر بدلے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ جیسے وہ لوگ کوئی اور تھے جنھوں نے اس وقت وہ باتیں کی تھیں۔ امریکہ اور برطانیہ نے افغانستان پر قناعت نہ کر کے عراق کو بھی روند ڈالا ہے مگر ان کا یہ فاصلہ بڑھانے والا عمل الٹا فاصلوں کو کالعدم کرنے والا ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ۲۰۰۱ء میں جس افغانستان پر یہ لوگ عذاب بن کر نازل ہوئے تھے، وہ طالبان کا افغانستان تھا۔ ’’طالبان‘‘ کا لفظ آپ سے آپ بھی ’’مدرسہ‘‘ سے ان کے رشتہ کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ پھر مدرسے خود بھی آگے بڑھ بڑھ کر اپنا رشتہ دکھا رہے تھے۔ طالبان سے فارغ ہوتے ہی امریکہ اور اس کے ساتھ ساتھ کم وبیش تمام مغربی ممالک نے ضروری جان لیا کہ ’’طالبان‘‘ سے آئندہ کے لیے اطمینان حاصل کرنے کو پاکستان (بلکہ دنیا بھر) کے مدارس کی ’’اصلاح‘‘ لازم ہے، ورنہ یہ ’’نرسری‘‘ اگر باقی رہی تو ’’سرپھرے‘‘ پھر ضرور نکلتے رہیں گے۔ اس سلسلہ میں ان کی یہ مرکزی سوچ کوئی راز نہیں کہ وہ یہاں کے دینی تعلیم کے نظام کو اس ’’اعتدال پسند‘‘ (Moderate) اسلام کی تعلیم کے نظام سے بدلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں جس کے فارغین کو ان کے اس تصور زندگی سے ہم آہنگی میں کوئی دقت محسوس نہ ہو جسے وہ ڈیماکریسی اور لبرٹی وغیرہ کی اصطلاحات سے ادا کرتے ہیں۔
اس صورت حال میں توقع کی جاتی تھی کہ طالبان کو بچالینا اگرچہ پاکستان کے دینی قائدین کے بس کی بات نہ تھی اور یوں وہ ایک ملک بھی الگ تھا، مگر یہ جو خود پاکستان کے مدارس نشانہ پر رکھے جا رہے ہیں، ان کو تو وہ اپنے جیتے جی مغربی ’’اصلاحات‘‘ کا شکار ہرگز نہ ہونے دیں گے۔ مگر ہم ایک حیرت زدگی کے عالم میں خبریں پڑھتے ہیں کہ مغربی ممالک کے سفارت کار ہمارے مدرسوں میں گھوم پھر رہے ہیں اور نظام تعلیم کی جدید کاری کے لیے ہمہ جہت تعاون کی پیش کشیں ان کی زبانوں پر ہیں۔ دل پوچھتا ہے، کیا ان لوگوں کے لیے کسی بھی درجہ میں ہمارے ہمت افزا رویہ کا کوئی جوڑ افغانستان پر بمباری کے وقت ہمارے جذبات اور رویہ سے لگایا جا سکتا ہے؟ کسی کو اگر ان کی ڈپلومیٹک زبان کے جادو سے کوئی دھوکہ ان کے مقاصد وعزائم کے بارے میں ہو گیا ہو تو مسٹر بلیر کی اسی کانفرنس کی تقریر پڑھ لینی چاہیے جس کا ذکر اوپر آیا۔
اس کانفرنس پر عراق کا مسئلہ چھایا رہا تھا اور جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا، اس مسئلہ پر مسٹر بلیر کو خود اپنی پارٹی میں پہلے دن سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ اس کانفرنس کا موقع بظاہر ان کے لیے اس سلسلہ کی آزمایشوں کا آخری اور سخت ترین موقع تھا مگر تمام سابقہ موقعوں کی طرح وہ اس بار بھی پار ہوجانے کی صلاحیت کا ثبوت دے گئے، یا کہیے کہ قسمت ساتھ دے گئی۔ برطانوی صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے اندازوں اور ذرائع کے مطابق مسٹر بلیر کو اس کانفرنس کے لیے تقریر کی تیاری میں بذات خود بہت محنت کرنا پڑی تھی اور کیس جس قدر کمزور تھا اور جیتنا بہرحال تھا، تو اس کے لیے ضرور ایسا ہوا ہوگا۔ اس تقریر میں یوں تو اور بھی بہت کچھ تھا مگر اصلاً جو چیز محنت طلب تھی، وہ عراق پر جا پڑنے کا جواز ان سب باتوں کے باوجود بتانا جنھوں نے جواز کے لیے بنائے گئے سرے کیس کی بخیہ ادھیڑ ڈالی ہے۔ نیز اس تقاضا کو رد کرنا کہ اب جو ناسازگار حالات وہاں پر ہیں، ان کی بنا پر وہاں سے نکل آنا چاہیے، نکل آنے کے تقاضا کو رد کرتے ہوئے جو کچھ موصوف نے کہا، اس میں پاکستانی مدرسوں کا بھی صراحتاً ذکر خیر ہے اور اس طور پر کہ ابھی عراق سے نکل آنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے، یہ جو عراق میں اور جہاں تہاں دہشت گردی سر اٹھائے ہوئے ہے اور ہماری مہم کا اصل ہد ف وہی ہے، اس کے تو سرچشموں تک ہمیں پہنچنا اور تباہ کرنا ہے۔ اور ان سرچشموں میں سے ایک ہیں پاکستان کے مدرسے۔ لیجیے، تقریر کا یہ متعلقہ حصہ یہاں پڑھ لیجیے:
There are two views of what is happening in the world today. One view is that what is happening is not qualitatively different from the terrorism we have always lived with ..... We try not to provoke them and hope in time they will wither.
The other view is that this is a wholly new phenomenon. Worldwide terrorism is based on a perversion of the true, peaceful and honourable faith of Islam; that its roots are in the madrassas of Pakistan, the extreme form of Wahabi doctrine of Saudi Arabia, in the former training camps of al-Qaedah in Afghanistan. If you take this view, the only path to take is to confront the terrorism, remove its roots and branches and at all costs stop its acquiring the weapons to kill on a massive scale. (The Times, 30 Sep 2004)
’’آج جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے، اس کے بارے میں دو نقطہ نظر ہیں۔ ایک یہ کہ یہ دہشت گردی کوئی نئی نرالی چیز نہیں۔ یہ ہوتی ہی آئی ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ ان لوگوں کو چھیڑا جائے۔ یہ خود ہی ختم ہو جائیں گے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ ایک بالکل نرالا ظہور ہے۔ یہ عالمگیر نوعیت کی دہشت گردی ایک سچے، پر امن اور معزز دین، اسلام کی تحریف پر مبنی ہے اور اس کی جڑیں ہیں پاکستان کے مدرسوں میں، سعودی وہابیت کی انتہا پسندانہ شکل میں اور القاعدہ کے سابق افغانی ٹریننگ کیمپوں میں۔ اس نقطہ نظر کو قبول کیا جاتا ہے تو پھر واحد راہ عمل یہ ہے کہ اس دہشت گردی سے ٹکرایا جائے، اس کی جڑوں اور شاخوں سب کا صفایا کیا جائے اور کسی بھی قیمت پر یہ نوبت نہ آنے دی جائے کہ اس کے ہاتھ میں وسیع پیمانہ پر مار دھاڑ کے ہتھیار آ جائیں۔‘‘
کیا اس اقتباس کو پڑھ کر بھی کوئی شبہ رہنا چاہیے کہ یہ جو ہمارے مدارس کے لیے مغرب کی چھاتیوں میں ایک دم سے ’’دودھ اتر آیا‘‘ ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے؟ بش اور بلیر جو اس مہم کے پیشوا ہیں، ان میں سے بلیر صاف بتا رہے ہیں کہ وہ مدرسوں کی موجودہ تعلیم کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کو انھیں، بزعم خود اسی طرح جڑ سے اکھاڑ دینا ہے جس طرح افغانستان سے القاعدہ کے ٹریننگ کیمپ صاف کر کے ’’سابق‘‘ بنا دیے گئے۔
ہمیں تو یہی سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ جنرل پرویز صاحب نے حکومت سنبھالنے کے بعد سے جو مدارس کی ’’اصلاح‘‘ کا علم اٹھایا تو ہمارے اہل مدارس اپنے رویہ سے یہ ظاہر کرنے کے باوجود کہ وہ اس سے خطرہ محسوس کرتے ہیں، جنرل صاحب سے کبھی یہ کیوں نہ پوچھ سکے کہ دستور پاکستان کی کون سی شق حکومت کو مجاز بناتی ہے کہ ان آزاد دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں کچھ اپنی منشا داخل کریں؟ ہم نے اس خیال کے ماتحت دستور پاکستان کی ورق گردانی بھی کی، ہمیں تو کوئی ایسی شق دکھائی نہ دی۔ یہاں کے نصاب تعلیم میں کوئی چیز ایسی داخل ہو جو دستور کی رو سے ناروا ہو تو حکومت اس کو بے شک کہے کہ اصلاح کی جائے۔ مگر اس کے ماسوا تو صرف ایک عام شہری والے حق سے بس رائے زنی جائز ہو سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن اب اس پر مزید جو یہ مغربی سفارت کاروں کے ساتھ معاملہ دیکھنے میں آ رہا ہے، وہ تو یہ تاثر دیتا ہے کہ دل شاید ’’ناتواں‘‘ تھا جو مقابلہ میں دم توڑ گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اندیشہ گزر رہا تھا کہ اس میں کہیں دخل القاعدہ کی طرف منسوب ابو مصعب زرقاوی جیسے جیالوں کا طرز عمل نہ ہو جس کے حوالہ سے اسلام اور اسلامی تعلیمات کے اداروں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ کہیں اس پراپیگنڈے کے دباؤ میں تو یہ دینی قیادت نہیں آ گئی؟ خاص کر ایسے حالات میں کہ اندر خود اپنی حکومت بھی وہی ایجنڈا لیے ہوئے چل رہی ہے، لیکن ابو مصعب زرقاوی جیسے لوگ تو تمام تر جناب بش اور بلیر کی اس سفاکی کا رد عمل ہیں جس کی گواہ افغانستان اور عراق کی سرزمین ہے اور جس پر خود امریکہ اور برطانیہ کے لاکھوں لوگ اپنے صدر اور وزیر اعظم کو لعنت کناں اور شرمسار ہیں۔ امریکی صدر بش اپنی عالمی سطح کی ذمہ دارانہ حیثیت کے باوجود اگر دو تین ہزار امریکنوں کی موت پر اس قدر آپے سے باہر ہو سکتے ہیں کہ مفلوک الحال افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر بھی تسکین نہ پائیں تو عراق پر توڑی گئی ایسی قیامت سے جس کے لیے بہانہ بھی بغیر جعل سازی کے میسر نہ تھا، زرقاوی جیسے نوجوانوں کا عربوں میں نکل آنا اسے کیوں کر بجز رد عمل ماننے کے ہم سے کوئی تیار ہو سکتا ہے؟ مگر افسوس کہ ایک خبر ہمارے اندیشہ کو عین واقعہ اور حقیقت بتانے والی سامنے آ کر رہی ہے اور مسٹر بش اور بلیر کی اپنے ایک انتہائی شرمناک موقف پر ڈھٹائی کے ہم معنی مضبوطی کے مقابلہ میں اپنوں کی لچک کا منظر دیکھ کر علامہ اقبال کا یہ نوحہ یاد آگیا ہے:
دیکھ مسجد میں شکست رشتہءِ تسبیح شیخ
بتکدہ میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ
یہ خبر اسلام آباد میں ۱۶ ستمبر کو منعقدہ ’’پہلی بین المذاہب کانفرنس‘‘ کے حوالہ سے ہے جو ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ (پاکستان) شمارہ اکتوبر ۲۰۰۴ء میں تفصیل سے نقل ہوئی ہے۔ اس کانفرنس کے داعی وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد حنیف جالندھری تھے۔ مولانا کے استقبالیہ خطبہ کا جو اقتباس خبرمیں دیا گیا ہے، اس کے یہ دو تین جملے ہمارے موضوع گفتگو سے تعلق رکھتے ہیں:
’’انھوں نے مدارس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد معاشرہ کی اصلاح کا اہم ذریعہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دین ومذہب کا دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں اور ہم سب مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کریں گے۔‘‘
عام حالات میں ان جملوں کا ہر لفظ مکمل تائید کا مستحق ہے، مگر اس وقت امریکہ اور برطانیہ (یعنی بش اور بلیر) نے دہشت گردی کی اصطلاح کو مبہم رکھ کر اور باوجود دنیا کے اصرار کے اس کے مفہوم کا تعین یو این او میں بھی نہ ہونے دے کر، جو ستم اس اصطلاح کی آڑ میں اپنی سامراجیت کا مقابلہ کرنے والوں پر ہر طرف سے توڑ رکھا ہے، اس کے بعد اس مبہم ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف مزاحمت کا عہد کرنے کے لیے (خاکم بدہن) امریکہ اور برطانیہ کی پراپیگنڈا طاقت کے آگے سپر ڈال دینے کے سوا دوسری تعبیر سمجھ میں نہیں آتی۔
اس گفتگو میں روئے سخن اگرچہ خاص پاکستان کی طرف ہو گیا ہے جس کی وجہ مخفی نہ ہونی چاہیے، مگر پڑوسی ہندوستان کے اہل مدارس کے بارے میں بھی جو کچھ اسی طرح کی خبریں آنے لگی ہیں تو جو پاکستان والوں پر صادق آئے گا، وہ بعینہ ان پر بھی۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ ہمارے مدارس کے نصاب تعلیم میں تبدیلیوں کا جو سوال اٹھا ہے، یہ لکھنے والا اصولاً اس کی تائید میں ہے۔ خود اس نے مدرسہ میں پڑھا اور احسان مند ہے، مگر روز بروز شدت سے محسوس کرتا ہے کہ اس نے جو وہاں پڑھا، زمانہ کی دینی ضرورت کے لحاظ سے وہ کم تھا۔ مگر یہ تبدیلی اسلام کو مغربی تصور کے مطابق ’’ماڈرن‘‘ بنانے کے نقطہ نظر سے آئے، اس سے اللہ کی پناہ!
مجید امجد کی دو نظمیں
پروفیسر طارق محمود طارق
مجید امجد (1914...1974) کی شاعری کا صرف ایک مجموعہ (شبِ رفتہ) ان کی زندگی میں شائع ہو سکا۔ اس میں پندرہ غزلیں اور بیشتر نظمیں ہیں ۔ مجید امجد کے ہاں روایتی شعرا کی سی لفظی گھن گرج موجود نہیں۔ سخت بات کہتے ہوئے بھی ان کا لہجہ بہت دھیما رہتا ہے ۔ درخت ، مجید کی شاعری کا بنیادی استعارہ ہے جو شہر کی کلیت میں انسانی زندگی کی انتہائی مثبت قدروں کا حامل ہے اور اس کی موجودگی افراط و تفریط کے جدید عہد میں ’’قطب نما‘‘ کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے ۔ درخت سے وابستہ حیاتیاتی اثبات (Biological Assertion) کو جب مجید امجد معاشرتی سطح پر منطبق کرنے آ تے ہیں تو سانس کی ڈوری برقرار رکھنے کی کوشش میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے کروڑوں نفوس ان سے کہلوا لیتے ہیں :
وہی اک فکر اس کو بھی ،مجھے بھی
کہ آنے والی شب کیسے کٹے گی
مجید امجد نے جب شاعری کی دنیا میں قدم رکھاتھا ، اس وقت برصغیر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا رنگِ سخن ہی ’’طرزِ فغاں‘‘ قرار پا چکا تھا ۔مجید امجد نے اس اقبالی فضا میں بھی اپنی حساسیت کی ندرت قائم رکھی ۔ اپنی نظم ’’حرفِ اول‘‘ کے آخری بند میں کہتے ہیں :
بیس برس کی کاوشِ پیہم
سوچتے دن اور جاگتی راتیں
ان کا حاصل
اک یہی اظہار کی حسرت
ادب کے سنجیدہ ناقدین مجید امجد کے ان سوچتے دنوں اور جاگتی راتوں تک رسائی ’’شبِ رفتہ ‘‘ کے توسط سے پاتے ہیں اور اظہار کی حسرت کھنگالتے رہتے ہیں ۔ پروفیسر طارق محمود طارق کا شمار بھی ایسے ناقدین میں ہوتا ہے ۔ پروفیسر صاحب نے ان سطور میں اپنے ممدوح کی دو نظموں پر مختصراً لیکن بہت ہی معتبر انداز سے قلم اٹھایا ہے ۔ یوں سمجھیے کہ ان نظموں کی معنویت اجاگر کر کے طارق صاحب نے مجید امجد کی بنیادی فکر کے بے کراں پہلوؤں کو گرفت میں لینے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ (پروفیسر میاں انعام الرحمن)]
توسیع شہر
نظم کا عنوان ’توسیع شہر‘ معکوس معنی رکھتا ہے ، یعنی بظاہر یہ شہر کی توسیع ہے مگر در حقیقت ہم زندگی کے معانی کو محدود کر رہے ہیں اور زندگی کی طرف ہمارا نقطہ نظر کشادگی اور وسعت کا حامل ہونے کی بجائے ، ماضی کی نسبت محدود تر ہے ۔ مجید امجد کہتے ہیں کہ وہ درخت جو نہر کے کنارے بیس برس سے سایہ کناں تھے ، اب انھیں کاٹا جا رہا ہے ۔ درخت کاٹنے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ درخت کتنے پر سایہ ، کتنے ہرے بھرے اور کتنے خوبصورت تھے ۔ انھیں صرف اس قیمت سے سروکار ہے جو ان درختوں کی فروخت سے انھیں حاصل ہوگی ۔ یہ درخت جن کی سانس کا ہر جھونکا ایک طلسم تھا اور اس گاتی نہر کے قریب اور لہلہاتے کھیتوں کی سرحد پر جو بانکے پہریداروں کی طرح کھڑے تھے ۔
درخت اس طرزِ زندگی کا حوالہ ہے جس میں زندگی اور فطرت کے حسن سے سچی وابستگی میسر تھی اور زندگی کی ترجیحات مادی نہیں تھیں بلکہ روحانی تھیں ۔ آج کا انسان فطرت کے حسن سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ وہ درختوں کی خوبصورتی محسوس نہیں کر سکتا ، بلکہ درختوں کو کاٹ کر ان کی جگہ سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کر رہا ہے ۔ شہر کی یہ توسیع اس طرزِ زندگی اور طرزِ احساس کے خاتمے کا نتیجہ ہے ، جو فطرت کے خوبصورت مظاہر کے ساتھ وابستگی پر مبنی تھا۔ شہر کی یہ توسیع اس بد صورت طرزِ زندگی کی توسیع ہے جو مصنوعی پن اور مادی ترجیحات پر مبنی ہے۔
مجید امجد کہتے ہیں کہ اگر درختوں کا حسن بے معنی ہے تو پھر شاعر کا شعر اور فنکار کا فن بھی بے معنی اور بے مصرف ہے ۔ زندگی کے دیگر مظاہر کی طرح درخت بھی ہمارے احساسِ حسن کی تسکین کرتے ہیں ۔ وہ لوگ جو حسنِ فطرت سے وابستگی کھو چکے ہیں ، کچھ عجب نہیں کہ فنونِ لطیفہ بھی ان کے لیے بے معنی اور بے مصرف ہو کر رہ جائیں اور شاعر کی سوچ ’’لہکتی ہوئی ڈال‘‘ بھی ان کے قاتل تیشوں کی زد میں آجائے ۔
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل
پیش رو
اس یخ کدہ یقین غم میں
دیکھو یہ شگفتہ دل شگوفے
ماحول نہ کائنا ت ان کی
اک نازِ نمو حیات ان کی
مجید امجد کا بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ اپنے وسیع تر مفہوم میں زندگی جبروالم سے عبارت ہے ۔ مگر اس کائناتی جبر کے سامنے زندگی کو خوبصورتی اور رجائیت کے اسباب بھی میسر ہیں ۔ زندگی ’’یخ کدہ یقین غم ‘‘ ہے یعنی زندگی کامجموعی اور dominant پہلو زندگی کی سنگین اور بے رحم واقعیت اور اس کا یاس و الم کا پہلو ہے ، مگر الم کی یہ شدت انسانی زندگی کی خوشیوں اور خوبصورتیوں کو اور زیادہ گراں قدر بنا دیتی ہے ۔ الم کے وسیع تر منظر کے سامنے یہ فرصتِ نشاط ہمارے لیے زندگی سے وابستگی کا سامان ہے ۔ کائناتی حوالے سے انسانی زندگی ٹھٹھرا دینے والا الم ہے مگر انسانی زندگی کی گزراں اور بے ثبات خوشیاں ہمارے لیے نشاطِ آئندہ کی نوید بھی بنتی ہیں اور ہمارے لیے امید اور حوصلگی کا سامان بھی رکھتی ہیں ۔
زندگی کے عرصہ الم کی بے برگ مسافتوں میں ( خزاں زدگی میں ) اور چاروں طرف پھیلی ہوئی پت جھڑ میں ایک شاخ پر کچھ پھول کھل رہے ہیں ۔ یہ پھول بہار کی آمد کا اعلان کر رہے ہیں ۔ ان کی دسترس میں نہ ماحول ہے اور نہ کائنات ۔ (ماحول نہ کائنات ان کی )، یعنی ماحول اور کائنات کے عوامل ان کی دسترس اور ان کی بساط سے ماوراء ہیں ۔ زندگی کا وسیع تر منظر اور مہ و سال کی گردشیں ان کے وجود سے بے نیاز اسی طرح برپا رہیں گی ۔ زندگی کی لا متناہیت کے سامنے ان پھولوں کی ’’حیات یک لمحہ‘‘ کچھ حقیقت نہیں رکھتی ۔ انسانی زندگی کی گزراں اور لمحاتی خوشیاں، جبروالم کی دائمی واقعیت کے سامنے بے بساط ہیں ۔ ان کی بساط صرف ’’اک ناز نمو‘‘ ایک لمحہ گزراں ہے ۔
یہ پھول جو فصل بہار کے پیش رو ہیں ، لمحہ بھر کھل کر مرجھا جائیں گے ۔ مگر ان کی راکھ سے پھولوں بھری صبح نو کے سائے طلوع ہوں گے ۔ بہارو خزاں کا حوالہ انسانی خوشیوں اور غموں کا حوالہ ہے ۔ عہدِ خزاں روبہ اختتام ہے ۔ کچھ ’’زود شگفت شوخ کلیاں ‘‘ کھل کر بہار کی آمد کا اعلان کر رہی ہیں ۔ ان کلیوں کی حیات دو لمحہ اس حوالے سے بے حد اہم اور با معنی ہے کہ ان کے بعد چمن کی تقدیر خزاں نہیں بلکہ بہار ہے ۔ گویا یہ پھول جنہیں ایک مہلتِ مختصر میسر ہے ، ایک نئے موسم اور ایک نئے عہد کا اشارہ ہیں ۔
تاریخی حوالے سے انسانی تاریخ کے ہر عہد اور ہر انقلاب کا نقطہ آغاز ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی حیثیت ایک عہد کے نقیب کی ہوتی ہے ۔ وہ ایک نئے عہد کی آمد کی خبر دیتے ہیں ، خواہ یہ عہد اپنی بھر پور شکل میں اور اپنے تمام تر مقتضیات کے ساتھ ان کے بعد ہی برپا ہو ۔
ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس
ادارہ
ورلڈ اسلامک فورم کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئندہ تین سال کے لیے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کو فورم کا چیئرمین اور مولانا زاہد الراشدی کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے جبکہ لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کا باقاعدہ مرکز قائم کرنے اور فورم کی سرگرمیوں کو مختلف ممالک تک وسیع کرنے کا پروگرام طے کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا جو ۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی برکت اللہ، مولانا محمد عمران خان جہانگیری، مولانا عبد الحلیم ندوی، مولانا سہیل باوا، الحاج غلام قادر، محمد اعظم، مولانا محمد سلمان آف ڈھاکہ، مولانا نجم العالم، مولانا مشفق الدین، غلام جعفر، مولانا محمد اکرم ندوی، مسرور احمد اور محمد اشرف نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ہمراہ مولانا زاہد الراشدی، مولانا مشفق الدین اور مولانا محمد فاروق ملا نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور ڈھاکہ میں ورلڈ اسلامک فورم کے تعاون سے قائم ہونے والی ’’سید ابو الحسن علی ندوی اکیڈمی‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کیا۔
مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے پاکستان، بھارت، امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں مختلف اجتماعات سے خطاب کیا جبکہ مولانا زاہد الراشدی نے متحدہ عرب امارات، برطانیہ، سعودی عرب اور امریکہ کے مختلف شہروں میں دینی اجلاسوں میں شرکت کی اور متعدد علمی وفکری اجتماعات سے خطاب کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کہا کہ ورلڈ اسلامک فورم کا قیام عملی اور فکری جدوجہد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور ہم اپنی بساط کے مطابق اس محاذ پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسلام کے بارے میں دنیا میں جو منفی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اس کے ازالہ کے لیے اور اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے لانے کے لیے جس علمی اور فکری محنت کی ضرورت ہے، اس کی طرف دینی حلقوں اور علماء کرام کو توجہ دلانے اور متحرک کرنے کے لیے فکری بیداری کی سعی کرنا ورلڈ اسلامک فورم کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ ہم پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور جبر وتشدد کی کسی بھی شکل کو دین کی دعوت کے لیے جائز نہیں سمجھتے اور تعلیم اور میڈیا کے وسائل اور ذرائع کو ہی اس جدوجہد کا سب سے مناسب اور موثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے ذرائع ابلاغ، لابیاں اور بین الاقوامی ادارے اسلام کے مختلف احکام کے بارے میں جو شکوک وشبہات پھیلا رہے ہیں اور اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کی علمی وفکری سطح پر سامنا کرنے کی ضرورت ہے اور عالم اسلام بالخصوص مغربی ممالک کے دینی مراکز کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ علمی وفکری اشکالات وشبہات کا جواب علمی وفکری زبان میں ہی دیا جا سکتا ہے اور یہ علماء کرام اور دانش وروں کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لندن میں ’’دار المعارف الاسلامیۃ‘‘ کے نام سے ورلڈ اسلامک فورم کا مستقل مرکز قائم کیا جائے گا جس میں مسجد، مکتب اور اکیڈمی کا نظام قائم ہوگا اور علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے خصوصی تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد ورلڈ اسلامک فورم کے نومنتخب سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم مختلف ممالک میں دینی حلقوں اور علماء کرام سے رابطے قائم کریں گے اور اہم مقامات پر علمی وفکری سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی دینی ضرورت یہ ہے کہ مغرب کی ثقافتی یلغار کا ادراک حاصل کیا جائے اور انسانی حقوق کے عنوان سے اسلامی احکام وقوانین پر جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان کے اسباب وعوامل کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر سنت نبوی اور خلافت راشدہ کی بنیاد پر اسلامی تعلیمات کو آج کی زبان واسلوب میں دنیا کے سامنے لایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ علماء کرام کو جدید ذرائع اور اسلوب سے استفادہ کرنا چاہیے اور دینی مدارس میں بین الاقوامی زبانوں اور حالات حاضرہ کے بارے میں جدید ترین معلومات سے طلبہ کو روشناس کرانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
خصوصی تربیتی کورس کی تکمیل
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام فضلاے درس نظامی کے لیے خصوصی تربیتی کورس برائے سال ۲۰۰۴ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ جنوری سے ستمبر ۲۰۰۴ تک جاری رہنے والے اس کورس کے دوران شرکا کو حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب، تاریخ اسلام، تقابل ادیان، سیاسیات، معاشیات، حالات حاضرہ، اسلامی احکام وجدید قوانین کے تقابلی مطالعہ اور انگریزی وعربی زبانوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تحریر وتصنیف کی تربیت دی گئی۔ کورس کے اختتام پر ۱۱ ستمبر بروز ہفتہ کو اکادمی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے دور جدید کے علمی وفکری تقاضوں اور اس حوالے سے علما پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی وضاحت کی۔ اس موقع پر کورس کے شرکا میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ شرکا کے نام حسب ذیل ہیں:
مولانا محمد طاہر اقبال (بھکر)، مولانا مطیع الرحمن (بھکر)، مولانا محمد زمان (شیخوپورہ)، مولانا محمد عارف (بالاکوٹ)، مولانا عبد القیوم (بھکر)
فکری نشست کا انعقاد
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۷ ستمبر ۲۰۰۴ بعد از نماز عصر ختم نبوت کے موضوع پر ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا آغاز مولانا مطیع الرحمان نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور دیگر مقررین نے تحریک ختم نبوت میں علما کے شاندار کردار کا ذکر کیا اور ۱۹۵۳ کی تحریک کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ کے دن کو، جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے رائے عامہ کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کو متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا، پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار دن قرار دیا۔ تقریب میں سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی کی یادگار خدمات کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ مہمان خصوصی الشیخ حبیب النجار کے مختصر بیان اور دعا پر تقریب اختتام کو پہنچی۔
مدرسہ نصرۃ العلوم کے شرکاء دورہ حدیث کی آمد
۷ ستمبر ۲۰۰۴ کو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سال رواں کے شرکاء دورۂ حدیث نے الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی دعوت پر اکادمی کا دورہ کیا اور اکادمی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی جانے والے ٹی پارٹی میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث مولانا محمد داؤد صاحب بطور مہمان خصوصی تشریف لائے اور طلبہ کو اپنے مختصر اور موثر خطاب سے نوازا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمد عمار ناصر نے اکادمی کے مقاصد اور پروگراموں کا مختصر تعارف پیش کیا، جبکہ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف نے طلبہ اور دیگر مہمانوں کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
عربی لینگویج کورس کا انعقاد
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۱۱ شوال تا ۱۰ رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے لیے ایک ۳۰ روزہ عربی لینگویج کورس کا اہتمام کیا گیا جس سے ایک درجن کے قریب شرکا مستفید ہوئے۔ کورس کے دوران میں شرکا کو عربی بول چال کی مشق کرانے کے علاوہ روز مرہ محاوروں اور جدید عربی اصطلاحات سے واقفیت بہم پہنچائی گئی۔ شرکا کی خواہش پر انھیں ابتدائی انگریزی زبان کی تعلیم بھی دی گئی۔ کورس میں تعلیم وتدریس کے فرائض مولانا محمد عامر انور، مولانا عمار ناصر، پروفیسر مولانا سعید اللہ اور جناب محمد تنویر نے انجام دیے۔ شرکا کے لیے مختلف علمی وفکری موضوعات پر محاضرات کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مقررین میں پروفیسر میاں انعام الرحمن، پروفیسر محمد اکرم ورک، مولانا محمد یوسف، مولانا عمار ناصر، پروفیسر مولانا سعید اللہ اور چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ شامل تھے۔ کورس کے اختتام پر ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۴ کو شرکا کے اعزاز میں افطار پارٹی دی گئی جس میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی، جناب عثمان عمر ہاشمی، چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ اور اکادمی کے دیگر رفقا شریک ہوئے۔ اس موقع پر شرکا کو اسناد اور انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔
الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے عطیہ کتب
ادارہ
کراچی سے ہمارے ایک نہایت مشفق اور کرم فرما بزرگ، جنھوں نے اپنا نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی، الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے وقتاً فوقتاً کتب عنایت فرماتے رہتے ہیں۔ ان کی طرف سے درج ذیل کتب موصول ہو چکی ہیں۔ ہم اس کرم فرمائی پر ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔
اقبال کا سائنسی منہاج فکر
پروفیسر تقی خان
اقبال اکیڈمی حیدر آباد (انڈیا)
۲۰۰۲
ہندی اردو لغت
راجہ راجیسور راؤ اصغر
مقتدرہ قومی زبان پاکستان
۱۹۹۸
فرہنگ سیرت
سید فضل الرحمن
زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی
۲۰۰۳
تذکرہ قاریان ہند
مرزا بسم اللہ بیگ
میر محمد کتب خانہ کراچی
قرآن، سائنس اور ٹیکنالوجی
شفیع حیدر دانش صدیقی
دار الاشاعت کراچی
۲۰۰۴
بعثت نبوی کی پیشین گوئیاں
ڈاکٹر حقانی میاں قادری
دار الکتاب لاہور
۲۰۰۴
ارض مکدر
شفیع حیدر دانش
دانش کدہ کراچی
۱۹۹۹
قرآن اور ماحولیات
پروفیسر اے آر ظفر
اسلامک ہرٹیج فاؤنڈیشن حیدر آباد (انڈیا)
۲۰۰۳
حساس ادارے
سید احمد ارشاد ترمذی
فکشن ہاؤس لاہور
۲۰۰۴
عروج وزوال کا قانون اور پاکستان
ریحان احمد یوسفی
دار التذکیر لاہور
۲۰۰۳
کربلا کی حقیقت
ڈاکٹر شبیر احمد ایم ڈی
گلیکسی پبلی کیشنز۔ فلوریڈا۔ امریکہ
چچا سام کیا چاہتا ہے؟
نوم چومسکی/اسلم خواجہ
شہرزاد کراچی
۲۰۰۲
دہشت گردی کی ثقافت
نوم چومسکی/سید کاشف رضا شہرزاد کراچی
۲۰۰۳
محسن انسانیت اور انسانی حقوق
ڈاکٹر حافظ محمد ثانی
دار الاشاعت کراچی
۱۹۹۹
قرآن، سائنس اور تہذیب
ڈاکٹر حقانی میاں قادری
دار الاشاعت کراچی
۱۹۹۹
قرآن اور عالم نباتات
شفیع حیدر صدیقی
دانش کدہ کراچی
۲۰۰۲
قرآن اور اقلیم حیوان
شفیع حیدر صدیقی
دانش کدہ کراچی
۲۰۰۳
ماہنامہ فاران (سیرت نمبر)
ایڈیٹر: ماہر القادری
جنوری ۱۹۵۶
Antizion
مرتب: ولیم گرم سٹیڈ
دی نون ٹائیڈ پریس امریکہ
۱۹۷۶
Shaping the Future
رابرٹ ڈکسن کرین
ٹیپسٹری پریس میسا چوسٹس امریکہ
۱۹۹۷
World Bibliography of Translations of the Meanings of the Holy Quran, (Printed Translations 1515-1980), Ishat Binark/Halit Eren, Istanbul 1986
World Bibliography of Translations of the Meanings of the Holy Quran, In Manuscript Form, (Part 1), Mustafa Nejat Sefercioglu, Istanbul 2000
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’قادیانیوں سے تعلقات کی شرعی حیثیت‘‘
بیسویں صدی کے آغاز میں پنجاب میں احمدی تحریک کا ظہور ہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور مہدویت کے دعوے سامنے آئے تو مولانا عبید اللہ سندھی طبقہ علما میں غالباً واحد فرد تھے جنھوں نے اس تحریک کا تجزیہ سماجی سائنس کے اصولوں کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اس تحریک کے فروغ کا سبب عقائد اسلام کی دیدہ ودانستہ تحریف یا مسلمات سے انحراف کا کوئی شعوری فیصلہ نہیں ہے بلکہ من جملہ دیگر اسباب کے پنجاب میں پیر پرستی کی مضبوط روایت اور ایک خاص سماجی صورت حال کو اس کے اصل سبب کی حیثیت حاصل ہے۔ چونکہ پنجاب کے متوسط طبقات میں انگریزی حکومت کے نظام کے تحت سرکاری ملازمتوں میں جانے کی شدید خواہش موجود تھی اور مرزا صاحب نے انگریز دشمنی کی عمومی فضا میں وحی والہام کی سند پر انگریزی حکومت کے ساتھ تعاون کو ایک مذہبی فریضہ قرار دیا تھا، اس لیے ایک نفسیاتی ضرورت کے تحت، نہ کہ شعوری اعتقادی انحراف کے باعث، عوام اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہونا شروع ہو گئے۔ مولانا کا خیال یہ تھا کہ اس تحریک کو ایک اعتقادی مسئلے کا رنگ دینا حکمت عملی کے لحاظ سے درست نہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ ’’احمدیت ایک سماجی مظہر (Phenomenon) ہے۔ تحریک ختم نبوت جیسی تحریکیں نہ پہلے اس کا کچھ بگاڑ سکی ہیں اور نہ آئندہ بگاڑ سکیں گی، بلکہ ان سے اتحاد وربط اور قوت وصلابت پیدا ہوگی جیسا کہ اب تک ہوا ہے۔ احمدیت اور اس قسم کی دوسری علیحدگی پسند، رجعت پرست اور استعمار دوست مذہبی تحریکوں سے ایک ترقی پسند سماج اور سیکولر اور سوشلسٹ سیاسی نظام ہی کامیابی سے عہدہ برآ ہو سکے گا۔ اعتقادی ہتھیاروں سے یہ لڑائی نہیں لڑی جا سکتی۔‘‘ (افادات وملفوظات، مرتبہ پروفیسر محمد سرور، ص ۴۱۳، ۴۱۴)
تاہم حلقہ علما میں بالعموم اس کے مخالف نقطہ نظر کو پذیرائی حاصل ہوئی اور قادیانیت کو انگریز کا خود کاشتہ پودا باور کرتے ہوئے اس فرقہ نوزائیدہ کی تکفیر کی گئی۔ علما کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں عالم اسلام کے بیشتر ممالک میں قانونی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے، لیکن علما ہنوز مطمئن نہیں ہیں اور نظری طور پر یہ رائے رکھنے کے ساتھ ساتھ کہ قادیانی، فقہی حکم کے مطابق عام سطح کے کافر نہیں بلکہ ’زندیق‘ اور واجب القتل ہیں، اس بات کے بھی خواہش مند ہیں کہ سماجی سطح پر قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات روا نہ رکھے جائیں۔ زیر نظر کتابچہ میں اسی نقطہ نظر کی ترجمانی پر مبنی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا مشتاق احمد اور طاہر عبد الرزاق کے قلم سے نکلی ہیں۔
ایک موقف کے ابلاغ کے پہلو سے تو کتابچے کا پیغام واضح ہے، تاہم ایک سوچنے سمجھنے والے قاری کے ذہن میں اس موقف کے حوالے سے جو نہایت بنیادی سوالات پیدا ہو سکتے ہیں، ان سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ مثلاً کتابچے کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ:’’یہود ونصاریٰ اور ان کی مثل کافروں کے ساتھ اسلام نے جس نرمی، حسن اخلاق، ہمدردی وغم خواری اور کاروباری معاملات کی اجازت دی ہے، قادیانی اس کے مستحق نہیں ہیں۔ ....... عام کافر سے صرف دلی دوستی کی ممانعت ہے اور دنیوی معاملات میں اشتراک جائز ہے، لیکن قادیانیوں سے تو دنیوی معاملات میں بھی اشتراک جائز نہیں ہے‘‘، (ص ۱۳) تاہم اس ’فرق‘ پر قرآن وسنت کے نصوص سے کوئی دلیل نہیں دی گئی۔ جو آیات واحادیث دلیل کے طور پر نقل کی گئی ہیں، ان میں، کسی امتیاز کے بغیر، مطلقاً غیر مسلموں سے دوستی قائم کرنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔
ص ۲ پر اس موقف کے حق میں یوں استدلال کیا گیا ہے کہ ’’ہر قادیانی اپنی آمدنی سے ایک معقول اور مقرر حصہ جماعت کے اشاعتی اور تبلیغی پروگرام کے لیے وقف کرتا ہے۔ اب جو مسلمان ان سے کاروبار کرے گا، ان سے کوئی چیز بنوائے گا یا خریدے گا تو اس کفر کی اشاعت میں اس مسلمان کا بھی حصہ ہو جائے گا جس کا گناہ ہونا بڑا واضح ہے‘‘، لیکن اس اشکال سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا کہ اس صورت میں امت مسلمہ کے لیے تمام غیر مسلم ممالک یا گروہوں سے تجارتی معاملات کم وبیش ناممکن قرار پائیں گے، اس لیے کہ دنیا کے ہر غیر مسلم ملک یا گروہ کے وسائل کا کچھ نہ کچھ حصہ لازماً ایسے کاموں پر خرچ ہوتا ہے جو اسلامی احکام کی رو سے جواز کے دائرے میں نہیں آتے۔
اسی طرح ص ۳۳ پر قادیانیت کا قلع قمع کرنے کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر اہل اسلام یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ کسی قادیانی دکاندار سے سودا سلف نہیں لیں گے، کسی قادیانی تاجر کو اپنی ایسوسی ایشن کا ممبر نہیں بنائیں گے، دفتروں، سکولوں اور کالجوں میں اور ہر معاشرتی سطح پر قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے تو ’’آپ دیکھیں گے کہ قادیانیت صرف چند ہفتوں میں دم توڑ جائے گی، ہزاروں قادیانیوں کو اپنے جرم کا احساس ہوگا اور یہ احساس انھیں حقیقت سوچنے پر مجبور کرے گا۔‘‘ قطع نظر اس سوال سے کہ ’’حقیقت سوچنے پر مجبور کرنے‘‘ کا یہ انداز حکمت دین کے مسلمات کے کس حد تک مطابق ہے، مذکورہ مفروضے کو اس درجے میں حتمی اور قطعی خیال کر لیا گیا ہے کہ کسی دوسرے احتمال کو زیربحث لانے کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ نتیجے کے طور پر یہ سوال تشنہ جواب ہی رہ جاتا ہے کہ اگر اس رویے سے قادیانیوں تک حق کا پیغام پہنچنے کے امکانات بالکل مسدود ہو جائیں تو ایسی صورت میں تبلیغ حق کا فریضہ کیسے انجام دیا جائے گا؟
کتابچے میں، غالباً سنجیدہ تحریروں کی کمی کی تلافی کے لیے، جذباتی نوعیت کے مواد کو بھی جگہ دینا پسند کیا گیا ہے۔ قادیانیت کے خلاف عمومی طور پر تنفر کی جو فضا پائی جاتی ہے، اس میں علمی وفکری سوالات اور حکمت عملی سے متعلق امور پر سنجیدہ بحث کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اور ناقص اور تیسرے درجے کے استدلالات کو بھی ہاتھوں ہاتھ لے لیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ ایڈیشن میں مذکورہ علمی نقائص کے ازالے کی طرف توجہ دی جائے گی۔
۴۸ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت درج نہیں۔
(عمار ناصر)
’’پیغام اسلام اقوام عالم کے نام‘‘
الہامی اور غیر الہامی ادیان میں اسلام کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اپنے عالمگیر ہونے کا واضح طور پر اعلان کیا ہے: قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاہان عالم کے نام دعوتی خطوط روانہ فرمانا اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ اسلام کا پیغام پوری دنیا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام کو مختلف زبانیں سیکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اہل کتاب کے علما سے گفتگو اور خط وکتابت میں سہولت کے لیے آپ نے حضرت زید بن ثابت کو عبرانی زبان سیکھنے کا حکم دیا۔ ابن ہشام کی روایت کے مطابق آپ کے وہ تمام سفرا جنھیں آپ نے شاہان عالم کی طرف خطوط دے کر روانہ کیا، ان قوموں کی زبانوں سے واقف تھے۔
عصر حاضر میں اقوام عالم میں اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کو پوری انسانیت کے دین کے طور پر پیش کیا جائے۔ اہل مغرب کی طرف سے اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان کا دلائل اور انسانی عقل کی روشنی میں بہتر انداز میں جواب دیا جائے۔ علاوہ ازیں مغربی فکر وفلسفہ کے منفی پہلوؤں پر مدلل اور مثبت تنقید کے بغیر اہل مغرب تک اسلام کا پیغام پہنچانا ناممکن ہے۔
زیر تبصرہ کتاب، جو مولانا ضیاء الرحمن فاروقی علیہ الرحمۃ کی تصنیف ہے، ا س لحاظ سے ایک عمدہ کوشش ہے کہ اس میں مصنف مرحوم نے، جو خود بھی مغربی ممالک میں دعوت دین کا کام کرتے رہے ہیں، اہل مغرب کی طرف سے اسلام پر کیے جانے والے عمومی اعتراضات کا عمدگی سے جواب دیا ہے۔ یہ کتاب عام قارئین کے علاوہ ان مبلغین کے لیے بھی مفید ہے جن کو دوسری اقوام میں دعوت کے کام کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اگر اس کتاب کو دیگر زبانوں بالخصوص انگریزی میں بھی ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے تو اس کا افادہ زیادہ عام ہوگا۔
اشاعت المعارف، ریلوے روڈ، فیصل آباد نے اس کتاب کو شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔
(محمد اکرم ورک)