مارچ ۲۰۰۴ء

ڈھاکہ میں ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ کی افتتاحی تقریبمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ۔ دعوت ومکالمہ کے چند حکیمانہ پہلوپروفیسر محمد اکرم ورک 
برصغیر کی مذہبی فکر کا ایک تنقیدی جائزہ ۔ عالمی سیاست ومعیشت کے تناظر میںپروفیسر میاں انعام الرحمن 
جہادی حکمت عملی: مثبت اور منفی پہلوادارہ 
مکاتیبادارہ 
مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ پاکستانادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

ڈھاکہ میں ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ کی افتتاحی تقریب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنوری ۲۰۰۴ کا پہلا عشرہ مجھے بنگلہ دیش میں گزارنے کا موقع ملا۔ میرپور ڈھاکہ میں مدرسہ دار الرشاد کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا تقاضا تھا کہ وہ ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘ کے نام سے ایک نئے تعلیمی شعبے کا آغاز کر رہے ہیں جس کی افتتاحی تقریب یکم جنوری کو رکھی گئی ہے اور اس موقع پر ’’عصر حاضر میں دینی مدارس کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں سیمینار کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، اس لیے مجھے اس میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ مولانا سلمان ندوی سے ا س سے قبل میرا تعارف نہیں تھا، البتہ انھوں نے میرے بہت سے مضامین پڑھ رکھے تھے اور دینی مدارس کے نصاب ونظام کے حوالہ سے بنگلہ زبان میں انھوں نے ایک ضخیم کتاب شائع کی ہے جس میں اکابر علماے کرام کے مقالات کے ساتھ ساتھ میرے ایک دو مضامین کا ترجمہ بھی شامل ہے اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے بعض مضامین بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔ مجھے دعوت مولانا منصوری کی وساطت سے ملی جس میں ان کا اصرار بھی شامل تھا۔ ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق کا آغاز ہو چکا تھا اور میرے لیے ہفتہ دس دن کی غیر حاضری بہت مشکل تھی لیکن مولانا منصوری کا اصرار غالب آیا اور میں نے سفر کا پروگرام بنا لیا۔
دسمبر کے آخری عشرہ میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کا سالانہ تبلیغی اجتماع تھا جس کی وجہ سے کراچی سے براہ راست ڈھاکہ جانے والی فلائیٹ پر سیٹ نہ مل سکی اور ویزے کے حصول کے بعد براستہ دوبئی ڈھاکہ جانے کا پروگرام بن گیا۔ ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو صبح نماز فجر کے وقت میں لاہور سے دوبئی پہنچا۔ وہاں ہمارے پرانے دوست محمد فاروق شیخ اور حافظ بشیر احمد چیمہ ایئر پورٹ پر موجود تھے۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبئی میں بھی دو دن رکنے کا پروگرام بنا لیا اور دوبئی ایئرپورٹ سے ٹرانزٹ ویزاحاصل کر لیا جس کی وجہ سے دوبئی، شارجہ اور ابو ظبی میں مختلف دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔ محمد فاروق شیخ گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، جمعیۃ طلباے اسلام میں خاصے متحرک رہے ہیں اور ایک عرصہ سے شارجہ میں مقیم ہیں۔ ان کے ہاں قیام رہا۔ شارجہ میں ہی جمعیۃ کے ایک اور اہم ساتھی قاری عبید الرحمن قریشی صاحب مقیم ہیں اور ایک دینی مدرسہ چلا رہے ہیں۔ ان دونوں دوستوں نے اسی روز ابو ظبی جانے کا پروگرام بنا لیا۔ اس سے قبل ہم نے بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد اسحاق خان مدنی مدظلہ سے ملاقات کی۔ ان کا تعلق منگ آزادکشمیر سے ہے، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان دامت برکاتہم آف پلندری کے قریبی رفقا میں سے ہیں، مدت سے دوبئی میں قیام پذیر ہیں اور دینی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور قرآن کریم کی تفسیر وتشریح کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ اچانک ملاقات پر بہت خوش ہوئے، کچھ دیر گفتگو ہوتی رہی، دعاؤں سے نوازا اور دوسرے روز پھر حاضری کی دعوت دی۔
ابو ظبی میں مغرب کے بعد علماے کرام اور جماعتی احباب کے ساتھ ایک نشست ہوئی جس میں ملکی حالات، عالم اسلام کی صورت حال اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ ۳۰ دسمبر کو دوبئی میں مرکز جمعۃ الماجد میں حاضری کا موقع ملا۔ متحدہ عرب امارات کے ایک باذوق تاجر الشیخ جمعہ الماجد نے تعلیم، رفاہی خدمات اور لائبریری کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جو ان کے حسن ذوق کی علامت ہے۔ متعدد تعلیمی ادارے مصروف ہیں، رفاہی خدمات کا سلسلہ جاری ہے اور سب سے بڑھ کر وہ وسیع لائبریری ہے جس میں مختلف علوم وفنون پر کتابوں اور مخطوطات کا ایک وسیع ذخیرہ مہیا کیا گیا ہے اور استفادہ کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ کتابوں کی فراہمی، مخطوطات کے حصول اور ان کی حفاظت وترتیب کا کام انتہائی منظم طریقہ سے ہو رہا ہے اور علمی ورثہ کی حفاظت کے اس نظام کو دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ میں اس سے قبل بھی اس لائبریری میں حاضر ہو چکا ہوں۔ اب کے یہ حاضری اپنے شوق کے ساتھ ساتھ اس وجہ سے بھی تھی کہ میرے بہنوئی اور جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری خبیب احمد عمر اتفاق سے ان دنوں دوبئی گئے ہوئے تھے اور میری خواہش تھی کہ وہ اس لائبریری اور اس کے طریق کار کو دیکھیں، چنانچہ وہ بھی ہمراہ تھے اور اس علمی خدمت سے بہت محظوظ ہوئے۔ دوپہر کا کھانا ہم نے حضرت مولانا محمد اسحاق خان مدنی کے دستر خوان پر کھایا اور شام کو شارجہ میں قاری عبید الرحمن قریشی نے اپنے مدرسہ میں علماے کرام اور جماعتی احباب کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مختصر خطاب کے ساتھ احباب سے ملاقاتیں ہوئیں اور پھر ایئر پورٹ روانہ ہو گئے جہاں سے مجھے ڈھاکہ کے لیے روانہ ہونا تھا۔
۳۱ دسمبر کو صبح آٹھ بجے طیارے نے ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اترنا تھا مگر دھند اس قدر شدید تھی کہ الامارات کا طیارہ کم وبیش ڈیڑھ گھنٹہ تک فضا میں چکر کاٹتا رہا اور بالآخر پائلٹ کو اعلان کرنا پڑا کہ اگر مزید پندرہ بیس منٹ تک اسے ڈھاکہ میں اترنے کا راستہ صاف نہ ملا تو مجبوراً طیارے کو کلکتہ ایئر پورٹ پر اتارنا پڑے گا مگر ایسا نہ ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد طیارہ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ اس کے ساتھ ہی الامارات کی ایک اور فلائیٹ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اتری جس میں لندن سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد فاروق ملا اور مولانا مشفق الدین تشریف لائے۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین ہیں اور ہمارے قارئین ان سے اچھی طرح متعارف ہیں۔ مولانا محمد فاروق ملا کا تعلق گجرات انڈیا سے ہے اور برطانیہ کے شہر لیسٹر میں دار الارقم کے نام سے ایک تعلیمی ادارے کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ مولانا مشفق الدین بنگلہ دیش سلہٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور وائٹ چیپل لندن میں ابراہیم کمیونٹی کالج کے نام سے ایک تعلیمی اور رفاہی ادارہ کے منتظم ہیں۔ ایئر پورٹ پر ہم چاروں اکٹھے ہو گئے اور امیگریشن سے فارغ ہو کر مولانا سلمان صاحب کے ہمراہ، جو استقبال کے لیے ایئر پورٹ پر موجود تھے، ان کے مدرسہ دار الرشاد میر پور میں پہنچ گئے۔ اگلے روز ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ کا افتتاح تھا جس کے لیے بھارت سے دار العلوم دیوبند کے مفتی حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شریعت فیکلٹی کے سربراہ مولانا سید محمد سلمان حسینی ندوی بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔
شام کو مدرسہ دار الرشاد کی مسجد کے ہال میں مولانا سلمان حسینی نے علماے کرام اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں پر مفصل خطاب کیا اور یکم جنوری ۲۰۰۴ کو صبح نماز فجر کے بعد ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ میں علماے کرام کی کلاس کو حجۃ اللہ البالغہ کا پہلا سبق پڑھا کر اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا افتتاح کیا۔ اس سنٹر میں درس نظامی کے فضلا کے لیے دو سالہ کورس رکھا گیا ہے جس میں انھیں انگلش، بنگلہ، عربی اور اردو زبانوں کے علاوہ مقارنۃ الادیان، مغربی فکر وفلسفہ، کمپیوٹر اور دیگر ضروری مضامین کی تعلیم دی جائے گی۔ گیارہ بجے جامع مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں واقع اسلامک فاؤنڈیشن کے ہال میں سیمینار تھا جس کی صدارت بزرگ عالم دین اور جامع مسجد بیت المکرم کے خطیب حضرت مولانا عبید الحق مدظلہ نے کی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے امیر بھی ہیں اور اس سے مولانا مفتی حبیب الرحمن اعظمی، مولانا سید سلمان حسینی، مولانا محمد عیسیٰ منصوری، راقم الحروف اور دیگر حضرات کے علاوہ بزرگ عالم دین حضرت مولانا محی الدین خان صاحب نے بھی خطاب کیا جو جمعیۃ علماے اسلام کے پرانے بزرگوں میں سے ہیں اور علمی وفکری محاذ پر گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مولانا محی الدین خان جمعیۃ علماے اسلام بنگلہ دیش کے نائب امیر ہیں، ’المدینہ‘ کے نام سے بنگلہ زبان میں ایک جریدہ شائع کرتے ہیں اور علمی وفکری کامو ں کے لیے انہوں نے شریعت کونسل تشکیل دے رکھی ہے جس کی طرف سے انھوں نے ہمارے اعزاز میں ڈھاکہ کے گرینڈ آزاد ہوٹل میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا۔
ہمارے میزبان مولانا محمد سلمان صاحب نے ڈھاکہ، چاٹگام اور سلہٹ میں مختلف دینی مدارس میں ہماری حاضری کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا۔ چاٹگام میں بنگلہ دیش کے دو بڑے مدارس جامعہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری اور جامعہ اسلامیہ ٹپیا میں حاضری ہوئی جو بنگلہ دیش کے سب سے قدیمی اور بڑے ادارے ہیں۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ ہر سال فارغ ہوتے ہیں اور مخلص علماے کرام کی ایک بڑی کھیپ تعلیمی وانتظامی خدمات میں ہمہ تن مصروف ہے مگر مولانا محمد سلطان ذوق کے ’دار المعارف‘ میں جا کر بہت زیادہ خوشی ہوئی کہ انھوں نے دینی تعلیم کے روایتی طرز کے ساتھ ساتھ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اسلوب پر جدید تقاضو ں کا بھی لحاظ رکھا ہے اور علما وطلبہ کی تربیت وٹریننگ کے نئے اسلوب کو بھی نظام ونصاب کا حصہ بنایا ہے۔ سلہٹ میں ہمارا قیام دار السلام مدینۃ العلوم میں تھا جس کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد العزیز دیامیری مدظلہ انتہائی متواضع اور باذوق بزرگ ہیں، انھوں نے ایک کمیونٹی سنٹر کے ہال میں سیمینار کا اہتمام کیا ہوا تھا جس میں ’’عصر حاضر میں علماے کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر ہم لوگوں نے گفتگو کی۔
سلہٹ میں حضرت شاہ جلالؒ کے مزار کے ساتھ مدرسہ قاسم العلوم میں حاضری ہوئی اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا اکبر علی مدظلہ سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میرا پہلے سے تعارف نہیں تھا مگر انھوں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ میں ہاتھ لیتے ہی حضرت درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ شروع کر دیا اور کہا کہ حضرت درخواستیؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’ہاتھ میں چھتری، پیٹ میں مچھلی اور منہ میں پان، یہ ہے بنگالی کا نشان‘‘۔ مولانا اکبر علی معمر بزرگ ہیں اور تحریک پاکستان میں شریک رہ چکے ہیں۔ انھی کے ہاں حضرت مولانا محمد سالم قاسمی مدظلہ سے بھی ملاقات ہو گئی جو ان دنوں سلہٹ تشریف لائے ہوئے تھے۔ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی حکیم الامت حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند ہیں اور دار العلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم ہیں۔ انھیں دیکھ کر حضرت قاری صاحبؒ کی یاد تازہ ہو گئی۔ وہی چہرہ مہرہ، وہی ناک نقشہ اور وہی طرز گفتگو۔ ان سے تھوڑی دیر مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی اور ان کی شیریں بیانی کا حظ اٹھایا۔
سلہٹ میں ہی حضرت مولانا نور الدین مدظلہ سے بھی ملاقات وزیارت کا شرف حاصل ہوا۔ وہ وفاق المدارس العربیۃ بنگلہ دیش کے صدر ہیں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔ حضرت مدنی کا تذکرہ ہوا تو فرمانے لگے کہ میں نے پانچ سال حضرت مدنیؒ کی خدمت کی ہے اور ان کے سر پر تیل کی مالش کیا کرتا تھا۔ سلہٹ کے قریب سونام گنج ایک پروگرام میں شرکت کے لیے جانا ہوا تو راستہ میں دار العلوم درگا پور میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا عبد الحق مدظلہ سے ملاقات وزیارت کا موقع ملا۔ وہیں مولانا نور الاسلام خان سے بھی ملاقات ہوئی جو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں اور دار العلوم درگا پور میں شیخ الحدیث کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے نصرۃ العلوم میں ۱۳۹۱ھ میں دورۂ حدیث کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھ سے ایک سال بعد فارغ ہوئے کیونکہ میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث مکمل کر کے ۱۳۹۰ھ میں فراغت حاصل کر لی تھی۔
مجھے ۷ جنوری کو واپس آنا تھا مگر ڈھاکہ کے قریب مدھوپور میں ایک بزرگ عالم اور روحانی پیشوا حضرت مولانا عبد الحمید مدظلہ نے اصرار کر کے روک لیا کہ ان کے دینی مدرسہ جامعہ حلیمیہ کا سالانہ جلسہ ۹ جنوری کو ہو رہا تھا۔ ان کے فرزند مولانا محمد عبد اللہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں اور ہمارے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں۔ باپ بیٹے کے اصرار کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑا اور میری وجہ سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کو بھی اپنے پروگرام میں توسیع کرنا پڑی۔ جامعہ حلیمیہ کے سالانہ جلسہ میں دار العلوم دیوبند کے نائب شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق اعظمی مدظلہ مہمان خصوصی تھے۔ ان کی زیارت بھی اس بہانے ہو گئی اور انھوں نے بہت شفقت اور دعاؤں سے نوازا۔
۱۰ جنوری کو ڈھاکہ میں بہت مصروف دن گزرا۔ لال باغ دیکھنے کا پروگرام تھا مگر اس کے گیٹ پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اگلے روز بنگلہ دیش کی وزیر اعظم محترمہ خالدہ ضیا صاحبہ تشریف لانے والی ہیں۔ ان کی آمد کی تیاریوں کی وجہ سے باغ بند ہے۔ مدرسہ عالیہ ڈھاکہ میں حاضری ہوئی جو بنگلہ دیش کے سرکاری دینی مدارس میں سب سے بڑا ور سب سے قدیمی مدرسہ ہے۔ اس کے پرنسپل صاحب سے خاصی مفید گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ انگریزی زبان اور بعض دیگر مضامین کے اضافے کے ساتھ درس نظامی کا یہ مدرسہ نواب سراج الدولہ شہیدؒ کی شہادت اور بنگال پر انگریزوں کے قبضہ کے صرف ربع صدی بعد کلکتہ میں قائم ہو گیا تھا جس کے اخراجات انگریزی حکومت برداشت کرتی تھی اور طویل عرصہ تک اس کے مہتمم برطانیہ سے آنے والے انگریز رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد اسے کلکتہ سے ڈھاکہ منتقل کیا گیا اور اس میں آج بھی انگریزی اور دیگر چند جدید علوم کے ساتھ درس نظامی کے اکثر مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اس کے نصاب ونظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ بنگلہ دیش میں سرکاری اخراجات اور تعاون کے ساتھ چلنے والے دینی مدارس ’’عالیہ مدرسے‘‘ کہلاتے ہیں اور ان میں محکمہ تعلیم کے تحت ’’مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ کا نصاب پڑھایا جاتا ہے جبکہ پرائیویٹ دینی مدارس کو ’’قومی مدرسے‘‘ کہا جاتا ہے جہاں کم وبیش وہی نصاب تعلیم رائج ہے جو ہمارے ہاں دینی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ پرائیویٹ دینی مدارس کم وبیش آٹھ نو ہزار کی تعداد میں ہیں جو کسی ایک وفاق کے ساتھ ملحق نہیں ہیں بلکہ دو تین الگ الگ وفاق قائم ہیں اور بہت سے مدارس ان سے بھی الگ تھلگ ہیں جبکہ عالیہ مدرسوں کی تعداد بھی اس سے کم نہیں ہے مگر وہ مدرسہ ایجوکیشن بور ڈکے تحت ایک نظام میں منسلک ہیں۔ 
ڈھاکہ کے تبلیغی مرکز میں بھی حاضری ہوئی۔ ظہر کی نماز وہیں ادا کی اور کھانا کھایا۔ ڈھاکہ سے بنگلہ زبان میں روزنامہ ’انقلاب‘ شائع ہوتا ہے جسے دینی حلقوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے دفتر میں حاضری ہوئی اور اس کے ذمہ دار حضرات سے مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور میں دونوں ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے تو بنگلہ دیش کے سیاسی ماحول کی ایک جھلک بھی دیکھ لی۔ اس روز ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں عوامی لیگ کے جلسہ سے محترمہ حسینہ واجد نے خطاب کرنا تھا اور جلسہ میں شرکت کے لیے چاروں طرف سے عوامی لیگ کے کارکنوں کے جلوس پلٹن میدان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نوجوانوں کی پرجوش نعرہ بازی، ڈھول کی تھاپ پر رقص اور بہت سے دیگر مظاہر دیکھ کر اپنے ہاں کی پیپلز پارٹی کی یاد تازہ ہو گئی کہ کم وبیش ایک جیسا ہی انداز تھا۔ اس طرح بنگلہ دیش میں کم وبیش گیارہ روز گزار کر مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور راقم الحروف دونوں شام ڈھاکہ ایئر پورٹ پہنچے جہاں سے انھوں نے بمبئی اور میں نے کراچی کے لیے سفر کرنا تھا اور رات ہی رات ڈھاکہ سے کراچی اور کراچی سے لاہور کا سفر کر کے میں سحری کے وقت گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا۔

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ۔ دعوت ومکالمہ کے چند حکیمانہ پہلو

پروفیسر محمد اکرم ورک

(پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہریؒ بریلوی مکتبہ فکر کے ایک نامور اور سنجیدہ صاحب علم ہونے کے ناتے ممتاز مقام کے حامل ہیں۔ مسلکی اختلافات میں اعتدال و توازن اور علمی واخلاقی حدود کی پابندی ان کے طرز فکر کی نمایاں خصوصیت ہے اور اسی بنا پر انھیں تمام علمی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے بانی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ایک عبارت دیوبندی اور بریلوی حلقوں میں ہمیشہ نزاع کا باعث رہی ہے اور بریلوی مکتب فکر کے بہت سے علما کی طرف سے اس عبارت کو ختم نبوت کے انکار کے مترادف قرار دے کر حضرت نانوتویؒ کے خلاف طعن وتشنیع کی جاتی ہے۔ حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نے اس بارے میں بھی متوازن موقف اختیار کیا اور کہا کہ حضرت نانوتویؒ کی عبارت کا مطلب وہ نہیں ہے جو معترضین بیان کرتے ہیں بلکہ انھیں مذکورہ عبارت کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔ زیر نظر مضمون میں ان کی علمی ودعوتی جدوجہد کے جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے، وہ ہر مکتبہ فکر کے علما وطلبہ کی فکری وعملی تربیت کے حوالے سے خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں اور اسی تناظر میں اس مضمون کو یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری اب قیامت تک امت محمدیہ ﷺ کے ذمہ ہے ۔ داعی اعظم ﷺکی سیرت ہادیان عالم میں اس حوالے سے ممتاز اور منفرد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ کے بنیادی اصولوں کی خود تعلیم ارشاد فرمائی۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے: ’اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَا دِلھُمْ بِاَلَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ‘ (۱) 
اس آیت مقدسہ میں دعوت دین کے تین بنیادی اصول بیان ہو ئے ہیں : -iحکمت، -ii موعظہ حسنہ، -iiiبحث و تمحیص کا معقول انداز ۔ رسول کریم ﷺ کی دعوت زندگی انہی اصولوں کی عملی تفسیر اور داعیان اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے دعوت دین کے جو مختلف اسا لیب اختیار فرمائے، سیرت طیبہ کے مطالعہ سے ان کی اثر آفرینی کی بے شمار مثالیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو دعوتِ دین کے مختلف اسالیب کی تعلیم دی ۔ آپ ﷺ کی تر بیت سے براہ راست فیض یاب ہو نے والے صحابہ کرامؓ کے دعوتی کر دار میں بھی انھی اصولوں کا غلبہ نظر آتا ہے۔ ایک غیر تر بیت یا فتہ داعی دعوت دین کے لیے کس قدر غیرموزوں ہے، اس کی وضاحت کرتے ہو ئے پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ رقمطراز ہیں :
’’ ایک نادان اور غیر تر بیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کے لیے اس دعوت کے دشمنوں سے بھی زیادہ ضرر رساں ہو سکتا ہے۔ اگر اس کے پیش کیے ہو ئے دلائل بودے اور کمزور ہوں، اگر اس کا اندازِ خطابت درشت اور معاندانہ ہو گا، اگر اس کی تبلیغ اخلاص اور للہیت کے نور سے محروم ہو گی تو وہ اپنے سا معین کو اپنی دعوت سے متنفر کر دے گا ۔ کیونکہ اسلام کی نشر و اشاعت کا انحصار تبلیغ اور فقط تبلیغ پر ہے، اس کو قبول کرنے کے لیے نہ کوئی رشوت پیش کی جاتی ہے اور نہ جبرو کراہ سے کام لیا جاتا ہے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ایمان ، ایمان نہیں جس کے پس پر دہ کوئی دنیوی لالچ یا خوف و ہراس ہو اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب مکرم ﷺ کو دعوتِ اسلامی کے آداب کی تعلیم دی۔‘‘(۲) 
گویا دعوتِ دین کی کامیابی میں مر کزی کر دار داعی کا ہے۔ داعی جس قدر تر بیت یافتہ اور انسانی نفسیات کا عالم ہوگا، اسی قدر اس کی دعوت موثر ہو گی۔ ایک جاہل، ان پڑھ اور اجڈ مخاطب کو دعوت کا انداز پڑھے لکھے اور شہر کے رہنے والے سے مختلف ہو نا چاہیے۔
ضیاء الا مت پیر محمد کرم شاہ ؒ داعیانِ اسلام کے اس عظیم سلسلہ کے سر خیل اور میرِ کارواں ہیں جنھوں نے اپنی زندگیاں دعوتِ دین کے لیے وقف کیے رکھیں اور دعوت کے میدان میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ ایک سچے داعی اور عاشق رسول ﷺ کی طرح آپ ؒ نے دعوتِ دین کے وہ جملہ اسا لیب اختیار کیے جو اسوۂ رسول ﷺ ہو نے کی وجہ سے داعیانِ اسلام کا لازمی نصاب ہیں۔ آپ ؒ نے اپنے قول و فعل، تقریر ، تدریس اور تحریر کے ذریعہ ایک عالَم کو متاثر کیا ۔ پیر صاحب ؒ نے دعوتِ دین کی کامیابی کے لیے مخاطبینِ دعوت کی ذہنی استعداد، صلاحیت ،نفسیات اور موقع و محل کی مناسبت سے جو اسا لیب اختیار فرمائے، وہ ایک مستقل موضوعِ تحقیق ہے اور آپ ؒ سے محبت اور عقیدت رکھنے والے احباب پر قرض ہے کہ وہ اس موضوع کا تفصیل سے جائزہ لیں اور ان وجوہات کا تعین کریں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کارِِ نبوت ﷺ کی انجام دہی میں شاندار کامیابیاں عطا فرمائیں۔ 
دعوتِ دین کے لیے آپؒ نے جو مختلف اسالیب اختیار فرمائے، درج ذیل عناوین کے تحت ان کی وضاحت کی جا سکتی ہے تا کہ دورِ حاضر کے مبلغین ان سے بھر پور استفادہ کر سکیں ۔ سرِ دست ان سطور میں ضیاء الا مت ؒ کے تحریری سر مایہ سے چند مثالیں پیش کر کے اس حقیقت کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ مخاطبینِ دعوت کو متاثر کر نے کے لیے کس طرح آپ ؒ نے اسوہ رسول ﷺکی پیروی کی اور صحابہ کرامؓ اور داعیانِ اسلام کے طریقِ دعوت کی بھر پور خوشہ چینی کی۔

داعی کی دل سوزی / اخلاص و للہیت

اگر داعی کی نیت صحیح اور خالص ہو اور اس کا مقصود رضائے الٰہی کا حصول ہو تو نہ صرف وہ عند اللہ اجر و ثواب کا مستحق ہو گا بلکہ اس کی بات میں اثر بھی زیادہ ہو گا۔ لوگ نہ صرف اس کی بات کو زیادہ توجہ سے سنیں گے بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہوں گے ۔ کوئی شخص اس وقت تک اپنے تاریخی پس منظر، نظریاتی وابستگی اور خاندانی وقار کے تقاضوں کو نہیں بھلا سکتا ، جب تک اسے داعی کی بے لوثی ، نیک نفسی اور دل سوزی کا یقین نہ ہو جائے۔ حضرت ضیاء الا مت کی تصانیف کے مطالعہ سے یہ حقیقت نکھر کرسامنے آتی ہے کہ آپ کی تحریر کا ایک ایک لفظ واضح اور با مقصد پیغام پر مشتمل ہے اور آپ کے دل میں امت کا جو درد ہے، ہر ہرفقرہ اس در دِ نہاں کا تر جمان ہے اور آپ کی جملہ تصا نیف آپ کے خون جگر کا ثمرہ ہیں۔ ’’عصر حاضر اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہو ئے آپ کے سورزِ دروں اور دل سوزی کو ملاحظہ فرمائیں:
’’ میں یہ تصور کر کے لرز جاتا تھا۔ مجھے یہ احساس کچھ کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ اگر میرا بس چلتا تو ایسا صور پھونکتا کہ سارے سو نے والے سنی جاگ اٹھتے اور اگر کوئی سونا چاہتا تو اس کے لیے سو نا نا ممکن بنا دیتا۔ اگر میرے مقدور میں ہو تا تو میں ایسی دل دوز چیخ مارتا کہ پتھروں میں شگاف ہو جاتے اور احساسِ زیاں سے سب بے چین و بے قرار ہو جاتے ۔ طوفان بن کر آتا اور فتنہ و فساد کے شعلوں کو بھسم کر کے رکھ دیتا ۔ نسیم سحر بن کر چلتا ، خوابیدہ غنچوں کو جگاتا ، دل گرفتہ عنادل کو گدگداتا اور انہیں حیات آفریں نغموں پر مجبور کر دیتا ۔‘‘ (۳) 
ضیاء الا مت ؒ کی پوری زندگی اخلاص اور للہیت کی عملی تفسیرتھی اور آپ کے پیغام کی اثر آفرینی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ جن احباب کو براہ راست آپ کی ؒ صحبت سے فیض یاب ہو نے کا موقع ملا ہے، وہ اسلام کے لیے آپ کی والہانہ محبت،سوزِ دروں اور دل سوزی کے عینی شاہد ہیں۔ گویا اشاعت اسلام کے لیے آپ کی حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ آیت مقدسہ: ’وَمَا اَسْألُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ان اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ (۴) کی عملی تفسیر تھا ۔ آپ کی جملہ تحریروں میں اخلاص اور محبت کا یہی رنگ نمایاں ہے ۔بحیثیت داعئ اسلام آپ ؒ کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد بے اختیار زبان سے نکلتا ہے : 
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پر سوز
یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لیے

انتشار و افتراق سے اجتناب

اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات جن کے بغیر اسلام کا تشخص باقی نہیں رہتا ، مثلاً توحید ، رسالت ، آخرت اور دیگر ارکانِ اسلام وغیرہ، ان پر کوئی سمجھوتہ کرنا دین کی عمارت منہدم کرنے کے مترادف ہے اس لیے داعی کے لیے کسی صورت یہ درست نہیں کہ وہ فریق مخالف سے بنیادی عقائد پر کوئی سمجھوتہ کرے یا اپنے رویہ میں لچک پیدا کرے ، تا ہم فروعی مسائل میں داعی کارویہ نسبتاً لچک دار ہو نا چاہے اور اس کو ایسا موقف اختیار کرنا چاہیے جس سے قوم انتشار و افتراق کا شکار نہ ہو ۔دورِ حاضر میں فرقہ وارنہ تشدد لا علاج مرض کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ،حالانکہ بقول اقبال :
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
بدقسمتی سے عوام الناس ایسے تفرقہ بازوں سے بد ظن ہونے کی وجہ سے اسلام سے بھی دور ہو رہے ہیں اور صورتِ حال کچھ یوں ہے:
کوئی کارواں سے ٹوٹا، کوئی بد گماں حرم سے
کہ میرِ کارواں میں نہیں ہے خوئے دل نوازی
حضرت ضیاء الا مت نے فروعی مسائل میں ہمیشہ لچک دار رویہ اختیارکیا ہے۔ ’ ضیاء القرآن‘ اور ’ ضیاء النبی‘ سے اس کی بے شمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ آپ کو امت کے انتشار و افتراق سے جو قلبی دکھ تھا، اس کا اظہار ان الفاظ سے ہو تا ہے :
’’یہ ایک بڑی دل خراش او ر روح فر سا حقیقت ہے کہ مرورِ زمانہ سے اس امت میں بھی افتراق و انتشار کا دروازہ کھل گیا ہے جسے ’’ واعتصمو ابحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ‘‘ کا حکم دیا گیا تھا ۔ یہ امت بھی بعض خود غرض اور بد خواہ لوگوں کی ریشہ دوانیو ں سے متنازع گروہوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور جذبات میں آئے دن کشیدگی اور تلخی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اس باہمی اور داخلی انتشار کا سب سے الم ناک پہلو اہل السنۃ والجماعت کا آپس میں اختلاف ہے جس نے انہیں دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ دین کے اصولی مسائل میں دونوں متفق ہیں، اللہ تعالیٰ کی تو حیدِ ذاتی اور صفاتی ، حضور نبی کریمﷺکی رسالت اور ختمِ نبوت ، قرآن کریم، قیامت اور دیگر ضروریاتِ دین میں کلی موافقت ہے لیکن بسا اوقات طرزِ تحریر میں بے احتیاطی اور اندازِ تقریر میں بے اعتدالی کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہو تی ہیں اور باہمی سوء ظن ، غلط فہمیوں کو ایک بھیانک شکل دے دیتا ہے ۔‘‘ (۵) 
امت کو انتشار و افتراق اور گروہ بندیوں سے بچانے کا جو نسخہ آپ ؒ نے تجویز فرمایا ہے، اگر مبلغین اور واعظین حضرات اس کو پیش نظر رکھیں تو نہ صرف باہمی اختلافات کا دائرہ محدود کیا جا سکتا ہے بلکہ غیر ضروری اختلاف کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کی تجویز ملاحظہ ہو :
’’ اگر تقریر و تحریر میں احتیاط و اعتدال کا مسلک اختیار کیا جائے اور اس بد ظنی کا قلع قمع کر دیا جائے تو اکثر و بیشتر مسائل میں اختلاف ختم ہو جائے اور اگر چند امور میں اختلاف باقی رہ بھی جائے تو اس کی نوعیت ایسی نہیں ہو گی کہ دونوں فریق عصرِ حاضر کے سارے تقاضوں سے چشم پوشی کیے آستینیں چڑھائے ، لٹھ لیے ایک دوسرے کی تکفیر میں عمریں بر باد کرتے رہیں۔ ملتِ اسلامیہ کا جسم پہلے ہی اغیار کے چر کوں سے چھلنی ہو چکا ہے۔ ہمارا کام تو ان خونچکاں زخموں پر مر ہم رکھنا ہے، ان رستے ہو ئے نا سوروں کو مندمل کرنا ہے، اس کی ضائع شدہ توانائیوں کو واپس لانا ہے۔ یہ کہاں کی دانش مندی اور عقیدت مندی ہے کہ ان زخموں پر نمک پاشی کرتے رہیں، ان ناسوروں کو اور اذیت ناک اور تکلیف دہ بناتے رہیں ۔‘‘ (۶) 
خود آپ ؒ نے اپنی پیش کردہ تجویز پر کس حد تک عمل کیا، اس کو جاننے کے لیے آپ کی جملہ تصنیفات کا سر سری مطالعہ ہی کافی ہے۔ دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد علوی فرماتے ہیں:
’’اختلافی مسائل کے حوالے سے آ پ نے جو اسلوب اختیار کیا ہے، وہ بہت دل نشیں ہے۔ آپ میں دوسرے گروہ کو دکھی کیے بغیر اپنا موقف بیان کرنے کا سلیقہ اور قرینہ تھا۔ آپ میں مسلکی حوالے سے مناظرانہ رنگ نہیں تھا۔‘‘ (۷) 
اختلافِ امت سے اجتناب کی اسی روش نے آپ ؒ کو ہر مسلک کے وابستگان کی نظر میں محترم و معتبر ٹھہرایا اور اسی وجہ سے آپؒ کی تصنیفات نہ صرف ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں بطور نصاب شامل ہیں بلکہ تمام مسالک کے سر کردہ اہل علم آپ کی آرا کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلافِ امت کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے آپ کے تجویز کردہ مسلکِ اعتدال کو اختیار کیا جائے۔

عصر ی تقاضوں کا لحاظ

دعوت دین کے ہر کارکن کو اپنے گرد و پیش کا پوری ہو شیاری اور مستعدی سے جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور دعوت کے بیج کی تخم ریزی کے لیے ایسا اسلوب اختیار کرنا چاہیے جو حالات اور موقع محل کے مطابق ہو۔ ہمارے مبلغین کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ موقع محل اور عصری تقاضوں کا لحاظ کیے بغیر دعوت کا کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ان تھک اور پر خلوص کوششوں کے با وجود دعوت کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو تے۔ حضرت ضیاء الا مت ؒ نے اپنی تصانیف میں ایسا اسلوب تحریر اختیار فرمایا ہے جو عصر ی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور جس میں مخاطبینِ دعوت کی ذہنی اور نفسیاتی ضرورتوں کا پوری طرح لحاظ رکھا گیا ہے ، عصری تقاضوں اور قارئین کی خواہشات کو پوری اہمیت دی گئی ہے۔ عصری تقاضوں اور قارئین کی خواہشات کو پیش نظر رکھنے کی خوبصورت مثال تر جمہ قرآن میں ضیاء الامتؒ کا منفرد اسلوبِ تحریر ہے ۔ پیر صاحب خود فرماتے ہیں:
’’ قرآن کریم کے اردو تر اجم جو میری نظر سے گزرے ہیں، وہ عموماً دو طرح کے ہیں: ایک قسم تحت اللفظ تراجم کی ہے لیکن ان میں زورِبیان مفقود ہے جو قرآن کریم کا طرۂ امتیاز بلکہ اس کی روح رواں ہے ۔ دوسری قسم با محاورہ تراجم کی ہے۔ ان میں دقت یہ ہے کہ لفظ کہیں ہو تا ہے اور اس کا تر جمہ دو سطر پہلے یا دو سطر بعد درج ہو تا ہے اور مطالعہ کرنے والا یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ میں جو نیچے لکھا ہوا تر جمہ پڑھ رہا ہوں، اس کا تعلق کس کلمہ یا جملہ سے ہے۔ میں نے سعی کی ہے کہ ان دونوں طرزوں کو اس طرح یکجا کر دوں کہ کلام کا تسلسل اور روانی بھی بر قرار رہے، زور بیان میں بھی فرق نہ آنے پائے اور ہر کلمہ کا تر جمہ اس کے نیچے بھی مر قوم ہو ۔‘‘ (۸) 
پیر صاحب ؒ کی تفسیر ’’ ضیاء القرآن‘‘ اور تر جمہ’’ جمال القرآن ‘‘کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ عصری تقاضوں اور قارئین کی ذہنی استعداد اور ضرورتوں کے مطابق ہے۔ دورِ حاضر کے مصنفین اگر اس معاملہ میں ضیاء الا مت کے طرزِ تحریر کو سامنے رکھیں تو یقیناًوہ دعوتِ دین کا کام زیادہ موثر انداز میں کر سکتے ہیں۔
پیر صاحب ؒ نے موقع و محل کی مناسبت سے تفسیرِ قرآن میں قارئین کو محاسبہ نفس اور عمل کی طرف بلایا ہے۔ ایک ماہر اور حاذق حکیم کی طرح آپ ؒ نے حالات حاضرہ کو پیش نظررکھ کر تفسیرِ قرآن کا جو اسلوب اختیار کیا ہے، اس کی وضاحت خود آپ ؒ کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:
’’ ہم اکثر بگڑی ہو ئی قوموں کے حالات اور ان کے حسرت ناک انجام کے متعلق قرآن میں پڑھتے ہیں اور ایک لمحہ توقف کیے بغیر آگے نکل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میں نے ہر ایسے موقع پر کوشش کی ہے کہ مطالعہ کرنے والے کے وجدان کو جھنجھوڑوں اور اسے اپنا محاسبہ کرنے کی رغبت دلاؤں تا کہ وہ اپنی جنسِ عمل کواسلام اور قرآن کے مقرر کیے ہو ئے ترازو میں تولے اور اس کی کسوٹی پر پرکھے تا کہ اسے اپنے متعلق کوئی غلط فہمی یا اشتباہ نہ رہے اور اگر اس کا قدم جادۂ حق سے پھسل گیا ہے تو وہ سنبھلنے کی بروقت کوشش کرے ‘‘۔ (۹) 
عصرِحاضر کے دینی لٹریچر کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اس میں دین کے اس پہلو کو کم ہی اجاگر کیا جاتا ہے جس کا لوگوں تک اس مخصوص وقت میں پہنچنا ضروری ہو تا ہے۔ حضرت ضیاء الامت نے اپنی تصا نیف میں علمی ، عقلی ، تحقیقی اور منطقی اسلوب اختیار کیا جو ہر طبقہ فکر کے افراد کے لیے یکساں مفید ہے اور کسی نہ کسی پہلو سے ان کی ذہنی صلاحیتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ آپ کی تحریروں سے متاثر ہو نے والوں میں اصحابِ علم و ادب کی ایک بڑی تعداد ہے تو دوسری طرف طبقہ عوام سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔

بحث و تمحیص کا دل نشیں اسلوب

قرآن مجید کے بیان کردہ دعوتِ دین کے تیسرے اصول ’’ مجادلہ ‘‘ سے مراد دلائل کا باہمی تبادلہ ہے جس سے مخاطب کو مطمئن کرنے کے لیے اس کے دلائل کا جواب دیا جاتا ہے اور ایسا طرزِ استدلال اختیار کیا جاتا ہے جو فریق ثانی کو قبولِ حق پر آمادہ کر سکے۔ مجا دلہ کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اس کی نوعیت محض مناظرہ بازی نہ ہو، اس میں الزام تراشیاں ، چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوں، اور اس اسلوبِ دعوت کا مقصد فریقِ مخالف کو چپ کر ا دینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجا دینا نہ ہو بلکہ اس میں شیریں کلامی ، اعلیٰ درجہ کا شریفانہ اخلاق ، معقول اور دل لگتے دلائل ہوں ، جو مخاطب کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہو نے دیں۔ اپنی بات منوانے کے لیے مخاطب پر محبت، اعتماد، حسنِ اخلاق اور حسنِ استدلال کا ایسا جال پھینکا جائے کہ وہ داعی کی دل سوزی، اس کی بے لوثی اور اس کے اخلاص سے متاثر ہو کر اس کی بات کی صداقت پر غور کرنے کے لیے مجبور ہو جائے ۔
حضرت ضیاء الا مت کی تصنیفات اس طرزِ تحریر کا نادر نمونہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بریلوی مسلک پیر صاحب ؒ کی پہچان ہے اور پیر صاحب ؒ بریلوی مسلک کے بعض مخصوص عقائد کے مبلغ بھی ہیں، لیکن فریقِ مخالف سے بحث و تمحیص میں انہوں نے کبھی مناظرانہ انداز اختیار نہیں فرمایا۔ ان کے قلم میں نشتر کی چبھن نہیں بلکہ احساسِ زیاں کا مرہم ہے۔ ’’ ایک شیعہ دوست کے جواب میں‘‘ (۱۰) آپ کا ایک مقالہ ہے جس میں آپ نے گیارہ سوالات کے جوابات دیے ہیں۔ اس مقالے میں آپ نے جو ناصحانہ اسلوبِ تحریر اختیار فرمایا، اس کی ایک ایک سطر سے مخاطب کے لیے اخلاص جھلکتا ہے اور فریق ثانی کے لیے ’’جناب معترض‘‘ کے الفاظ آپ ؒ کی دل سوزی اور اخلاص کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس مقالے کی ہر سطر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی نظر میں فریق ثانی دشمن قوم کا فرد نہیں بلکہ اپنا ہے، مقصودِ نظر اس کو لا جواب کرنا نہیں بلکہ اس کی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ مقالے کا عنوان آپ کی اسی خواہش کا واضح ثبوت ہے ۔
میلاد النبی ﷺکے موقع پر پوری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے انداز میں بارگاہ رسالتِ مآبﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ اس موقع پرچراغاں کرنا ، جلسے اور جلوسوں کا اہتمام کرنا اور میلاد النبی کو ’’ عید ‘‘ کے طور پر منانا بریلوی مسلک کی خاص پہچان بن چکا ہے ۔ بہت سے اہل علم اس طرزِ عمل کو بدعت کہہ کر ناجائز گر دانتے ہیں ۔ پیر صاحب ؒ کوجناب رسالت مآبﷺ سے جو والہانہ عشق و محبت ہے، اس کی بنا پر آپ ؒ نے اظہارِ عقیدت کے اس انداز کا دفاع پورے علمی اور تحقیقی انداز میں اپنی کتاب ’’ضیاء النبی‘ میں تقریباً بارہ صفحات پر کیا ہے۔ (۱۱) لیکن جذبات کی رو میں بہہ کر نہ تو آپ ؒ نے مناظرانہ انداز اختیار کیا اور نہ ہی فریق ثانی پر الزام تراشیاں اور پھبتیاں کسی ہیں بلکہ آپ ؒ نے ایسا علمی اور تحقیقی انداز اختیار کیا ہے جو متلاشیانِ حق کو اپنے موقف پر نظر ثانی پر مجبور کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ خالص علمی دلائل کے بعد دل کو موہ لینے والا یہ انداز ملاحظہ ہو:
’’ ہم بصد ادب اور ازراہ جذبہ خیر اندیشی ان حضرات کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ وہ اس تشدد کو ترک کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب کی ولادت با سعادت سب امتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا عظیم الشان احسان ہے۔ آئیے اس روز مل کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ شکر ادا کریں۔ سب مل کر اس کی تسبیح و تہلیل کے نغمے الا پا کریں۔ اظہارِ مسرت کے ہر جائز طریقہ کو شر عی حدود کے اندر رہتے ہو ئے بروئے کار لائیں ‘‘۔ (۱۲) 
یہ طرزِ کلام ، یہ طرزِ تخاطب اور محبت بھرے اصرار کا یہ انداز قرآن کی اصلاح میں مجادلہ ہے۔ پیر صاحب ؒ نے اپنے طرزِ استدلال اور اسلوبِ تحریر سے ’’ مجادلہ ‘‘ اور’’ مناظرہ‘‘ کے درمیان بڑی خوبصورتی سے فرق قائم کیا ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے واعظین اورمبلغین اس فرق کو نہیں سمجھ سکے ۔ عموماً مناظرانہ طرز استدلال ،فریقِ ثانی کو ہٹ دھر می پر مجبور کر دیتا ہے جس کی وجہ سے دعوت کے مطلوبہ نتائج کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ضیاء الا مت ؒ کی مسلمانوں کے تمام مسالک میں ہر دل عزیزی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کے اسلوبِ نگارش میں اعتدال کا رنگ بڑا واضح اور نمایاں ہے ۔
اہل کتاب اور دیگر غیر مسلم اقوام میں دعوت کا کام کرنے والے کارکنوں کے لیے اس اسلوبِ دعوت کو پیش نظر رکھنا اور بھی ضروری ہے۔ بات اگر دلیل اور شائستگی کے ساتھ کی جائے تو وہ موثر ہو گی کیونکہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ دلیل سے متاثر ہو تا ہے اور جو بات وہ دلیل کے بغیر ماننے کے لیے تیار نہیں ہو تا، اس کو مضبوط دلیل کے ساتھ تسلیم کر لیتا ہے۔ ضیاء الا مت کا مقالہ ’’ مقامِ مصطفی انجیل کی روشنی میں ‘‘ اس طرزِ تخاطب اور طرزِ استدلال کی بہترین مثال ہے جس کی طرف قرآن مجید نے ان الفاظ میں واضح اشارہ کیا ہے: ’وجادلہم بالتی ہی احسن‘۔ (۱۳)

از دل خیزد بر دل ریزد / خطیبانہ طرزِ تحریر

داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی عقل کے ساتھ ساتھ انسانی دل کو بھی مخاطب کر ے کیونکہ انسانی جسم میں اصل قوتِ محرکہ دل ہے۔ اگر داعی دل کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو جائے تو باقی کام آسان ہو جاتاہے اور بسا اوقات عقلِ انسانی معمولی استدلال کے سامنے بھی ہتھیار پھینک دیتی ہے جس کی وجہ سے داعی مخاطب کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔
حضرت ضیاء الا مت ؒ دعوتِ دین کے جملہ اسالیب سے پوری طرح آگاہ تھے، اورانسانی نفسیات کا پورا شعور رکھتے تھے ۔ چنانچہ آپ کی تحریروں کا معقول حصہ ایسا بھی ہے جس میں آپ نے تحقیقی انداز کو یکسر تر ک کرتے ہو ئے براہ راست انسانی دل کو متاثر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ قاری چشم تصور میں آپ کو ایک ایسے خطیب کے روپ میں دیکھتا ہے جو اپنی جگر پاش چیخوں سے امت کے تنِ مردہ میں زندگی کی روح دوڑانا چاہتا ہے۔ خطیبانہ طرز کی یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں :
’’ اے در ماندہ راہ قوم ! قرآن تمہیں عظمت و عزت کی بلندیوں کی طرف آج بھی لے جا سکتا ہے بشر طیکہ تم اس کی قیادت قبول کر لو۔ اے اپنی قسمت بر گشتہ پر آہ و فغاں کرنے والے نوجوانو ! دنیاکی امامت تمہاری متاعِ گم گشتہ ہے۔ تمہیں یہ واپس مل سکتی ہے اگر تم میں اس کی واپسی کی تڑپ ہو ۔۔۔ قرآن تمہیں واپس دلا سکتا ہے اگر تم اس کا حکم ماننے کے لیے تیار ہو ‘‘ (۱۴) 
نوجوانانِ امت کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کا انداز ملاحظہ ہو:
’’ اے سنتِ مصطفویﷺ کے پاسبانو! تمہارے وجود سے گلشنِ اسلام میں بہاریں ہیں ۔ گلستانِ وجود میں تمہاری ہستی ہی شمع محفل ہے۔ خدارا ! اپنا فرض پہچانیے اور اپنی انانیت پر اپنی ملت کی عزت کو قر بان نہ کیجیے۔ ان سنگین حالات میں اپنی بھر پور اجتماعی کوششوں سے ملک کے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو خاک میں ملائیے‘‘۔ (۱۵) 
آپ کے دل سے نکلنے والی یہ ایسی بانگ درا تھی جس نے امت کے وسیع حلقہ کو متاثر کیا اور کتنے ہی بھٹکے ہو ئے آہو پھر سوئے حرم رواں دواں ہو گئے اور ان کے قدم پھر کبھی جادۂ حق سے نہ ڈگمگائے۔
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں مگر طاقتِ پرواز رکھتی ہے

حق گوئی وبیباکی / اظہارِ حق

اگر خود امرا ، سلاطین اور حکومتی عہدہ داروں میں حق پسندی کا مادہ موجود نہ ہو تو رعایا کی نکتہ چینی اور حقوق طلبی بالکل بیکار ہے ۔ قرونِ اولی میں خود خلفا اور امرا میں حق پسندی کا اس قدر مادہ موجود تھا کہ و ہ ہر قسم کی جائز نکتہ چینی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے تھے ۔ اس لیے جائز مثبت اور تعمیری تنقید و احتساب کے ہمیشہ عملی نتائج نکلتے تھے اور دوسری طرف عوام الناس میں حق پسندی کا مادہ پیدا ہو تا تھا جو اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے ایک ضروری اور لازمی چیز ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امرا کا احتساب جان جو کھوں کا کام ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔ ضیاء الا مت ؒ کی دعوتی زندگی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی بہترین مثال ہے۔ کلمہ حق کہنے کے جرم کی پا داش میں نہ صرف آپ کو ہراساں کیا گیا بلکہ حوالہ زنداں بھی کیا گیا لیکن دنیا کی کوئی طاقت آپ کو حق کہنے سے باز نہ رکھ سکی ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی جماعت پر بے لاگ تنقید ملاحظہ ہو :
’’پیپلز پارٹی کے لچھن صاف بتا رہے ہیں کہ کھلنڈرے بے فکروں کا یہ طائفہ لٹیا ڈبو کر رہے گا۔ ان میں حالات کا مزاج پہچاننے کی صلاحیت ہے اور نہ حالات سے نبرد آزما ہو نے کی اہلیت۔ یہ طائفہ اس سے یکسربے بہرہ ہے ۔ اجڑے ہو ئے چمن کو پھر بہار آشنا کرنا مداریوں کے بس کا روگ نہیں۔ اگر کسی کو اس پارٹی کے بارے میں غلط فہمی تھی تو وہ اس رات دور ہو گئی جس رات لاڑکانہ میں جشنِ عیش و نشاط منایا گیا ۔ شراب کے خم کے خم لنڈھائے گئے اور ملک کا عوامی صدر اپنے حواریوں کے ساتھ دنیا بھر کے سفرا کی آنکھوں کے سامنے رنگ رلیاں منانے میں مصروف ہو گیا ‘‘۔ (۱۶) 
وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے کے رویہ پر تنقید کرتے ہو ئے رقمطراز ہیں :
’’ ہمارے وزیر اعلیٰ بھی بڑے مزے کے آدمی ہیں ۔ آیتیں بھی پڑھتے ہیں اور اشتراکیت کے گن بھی گاتے ہیں اور اس کو اپنی دانشوری کا کمال بھی خیال کرتے ہیں ۔ حق و باطل کی یہ آمیزش معلوم نہیں ہمارے وزیر اعلیٰ کے لیے کس طرح قابل قبول ہے۔ ان کے نام میں حنیف اور رامے کا جو بے ربط جوڑ ہے، شاید اس کا اثر ہو ۔ بہرحال ہم ان کی خدمت میں عرض کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے لیے کسی سوشلسٹ یا کمیونسٹ نے کوئی قر بانی نہیں دی۔ اس گلشن کی آبیاری فر زندانِ تو حید نے اپنے خونِ ناب سے کی ہے ۔ اس کا حصول اور اس کی بقا غلامانِ مصطفی ﷺکی مخلصانہ سر فروشیوں کی مر ہونِ منت ہے۔ اگر پاکستان کی مانگ میں شہیدوں کے خون کی سر خی دمک نہ رہی ہو تی، اگر یتیموں اور بیواؤں کے آنسوؤں کے موتیوں کا جھومر اس کی پیشانی کو مزین نہ کر رہا ہو تا تو شاید کوئی اس مذموم ارادے میں کامیاب ہو جاتا ۔ لیکن شہیدوں کے خون کی چمک چشمِ مہر و ماہ کو خیرہ کر رہی ہو، وہاں انسانیت و کر دار کشی کی سر انڈ میں بسی ہو ئی اشتراکیت سے پاکستان کی مانگ کو ملوث کرنا کون عقلمند گوارا کرے گا ۔ ہمار ے وزیر اعلیٰ اس غلط فہمی سے جتنا جلد چھٹکارا حاصل کر لیں گے اتنا ہی ان کے مفید ہو گا ۔ سارے کمیونسٹ سن لیں اور ہمارے وزیر اعلی بھیٰ اگروہ خدا نخواستہ کمیونسٹ ہیں تو وہ بھی سن لیں کہ پاکستان نے اسلام کی آغوش میں جنم لیا ہے ،اسلام کی آغوش میں پروان چڑھا ہے اور جب تک یہ زندہ رہے گا، اس کی فضاؤں میں صرف اسلام کا پر چم ہی لہرا سکتا ہے ۔‘‘ (۱۷) 
حقیقت یہ ہے کہ آپ کے قلم کی اسی کاٹ کا اثر تھا کہ وقت کی فر عونی طاقتیں لرزہ براندام ہو گئیں۔ اس طرح آپ ؒ نے نہ صرف پاکستان کی نظریاتی سر حدوں کی حفاظت کا فریضہ کما حقہ ادا کیا بلکہ اظہارِ حق کے اس بے باک اسلوبِ تحریر نے حکمرانوں کو اپنے رویوں میں تبدیلی پر بھی مجبور کر دیا۔ آزادانہ تنقید اور حق پسندی کے اس طرزِ عمل کا مثبت اثر یہ ہوا کہ اس سے نہ صرف اسلام طاغوتی طاقتوں کی دست برد سے محفوظ ہو گیا بلکہ دوسرے اخبار و رسائل کو بھی نیا حوصلہ ملا۔ داعیانِ اسلام نے ہر دور میں ہمیشہ اس اسلوبِ دعوت کو پوری تندہی سے اختیار کیا ہے اور دین اسلام کو ہر طرح کی تحریف سے محفوظ رکھا ہے۔ اگر آج حکمران طبقہ اسلام کے خلاف زہر اگلنے میں بے باک ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کا اسلام سے تعلق محض برائے نام ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ داعیانِ اسلام اظہارِ حق کا فرض پوری قوت سے ادا نہیں کر رہے اور ملت کا اجتماعی ضمیر اس فریضہ سے غفلت کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔

مخاطب کی عزتِ نفس اور مقام و مر تبہ کا لحاظ

اگر داعی غلطی کرنے والے کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے اشارے کنایے میں اس کی کو تا ہی کو واضح کرے تو اس صورت میں غلطی کرنے والے کی عزت نفس مجروح نہیں ہو تی۔ نیز وضاحت کے اس عمومی انداز سے مخاطب کی طرف سے کس قسم کے منفی ردِ عمل کا بھی خطرہ نہیں رکھتا اور شیطان اس کے انتقامی جذبات کو ہوا دے کر انتقام کی طرف مائل نہیں کر سکتا ۔ ویسے بھی اس اسلوب سے مخاطب کے دل میں داعی کی قدر و منزلت بڑ ھ جاتی ہے اور وہ ا س کی بات کو زیادہ توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتا ہے۔ اگر بات بھلائی اور خیر خواہی کے جذبے سے کی جائے تو یہ ایسا اندازِ تر بیت ہے کہ جس سے غلطی کرنے والے کو بھی فائدہ ہو تا ہے اور عام لوگوں کو بھی ، بشر طیکہ اسے استعمال کرتے ہو ئے حکمت سے کام لیا جائے ۔
رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے دعوت و تبلیغ میں اس اسلوب کو بارہا اختیار کیا اور غلطی کرنے والے کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے عمومی وضاحت پر اکتفا کیا تا کہ مخاطب کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور اس کی اصلاح بھی ہو جائے ۔ حضرت ضیاء الا مت ؒ نے بھی دعوتِ دین کے اس اسلوب کو اپنی تحریروں میں جا بجا استعمال کیا ہے۔ آپ ؒ چونکہ خود مشائخ کرام اور پیرانِ عظام کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں مشائخ کرام کو جو مقام و مر تبہ حاصل ہے، بد قسمتی سے پیران عظام اس اثر و رسوخ کو دین کی سر بلندی کے لیے کم اور ذاتی فوائد کے لیے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ حضرت ضیاء الا متؒ نے اپنا فرضِ منصبی سمجھا کہ انھیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے لیکن اس مقصد کے لیے انھوں نے جو اسلوب تحریر اختیار کیا، اس میں ان کی عزت نفس اور معاشرتی وقار کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچنے دی، فرماتے ہیں :
’’ اگر میرے کرم فرما مجھ سے بر ہم نہ ہوں تو حدیثِ دل زبان پر لاؤں اور زخمِ جگر سے پر دہ اٹھاؤں۔ نہیں نہیں، ان کی بر ہمی کا خطرہ مول لیتے ہو ئے بھی بصد ادب و نیاز عرض کروں گا ۔موجودہ صورتِ حال کی ساری نہیں تو بیشتر ذمہ داری پیر صاحبان پر عائد ہو تی ہے جو اہل سنت کے کشورِ دل کے سلطان ہیں، جو ہماری عقیدتوں کا مر کز ہیں، جو ہمارے عشق و مستی کا عنوان ہیں، جن کے اشارہ ابرو پر نیک دل سنی دل و جان قر بان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ تسلیم کہ انھوں نے پاکستان کے حصول میں قابلِ فخر حصہ لیا ہے لیکن پاکستان کو اسلامی سلطنت بنانے کے لیے جس مسلسل جدو جہد کی ضرورت تھی، غیر اسلامی تحریکوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اور فکری میدان میں جس جہاد کی ضرورت تھی، اس کی طر ف انھوں نے توجہ نہیں دی ۔۔۔۔۔۔ اگر ہمارے مشائخ یہ فرض ادا کریں تو بخدا ہم باطل کے ہر لشکر کو ہزیمت دے سکتے ہیں، لا دینیت کی تحریکیں خود بخود حرفِ غلط کی طرح مٹ جائیں گی۔ برائی اور گناہوں کا نام و نشان تک نہ رہے گا۔ سارا پاکستان صحنِ حرم کی طرح مصفیٰ و مجلیٰ اور اس کی فضا ئیں معطر و معنبر بن جائیں گی ‘‘۔ (۱۸) 
مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے اسلامی فر قوں کے عقائد و نظریات میں باہم اختلاف موجود ہے۔ حضرت ضیاء الا متؒ کو ان میں سے کئی ایک سے اختلاف بھی ہے۔ اگرچہ باطل فر قوں کے رد میں آپؒ نے معقول سختی سے کام لیا اور نام لے کر ان کی گرفت کی ہے تا ہم اسلامی فر قوں میں پائے جانے والے فروعی اختلافات پر آپ کی تنقید بڑی حکیمانہ اور متاثر کرنے والی ہے۔ آپ نے براہ راست فریق ثانی پر طعن و تشنیع کے تیر چلانے کے بجائے نام لیے بغیر ان کے نظریات کی اصلاح کی مساعی جمیلہ فرمائی ہے۔ آپ کی جملہ تصانیف اس اسلوبِ تحریر کی بہترین مثال ہیں ۔ 

حاصل کلام 

حضرت ضیاء الا متؒ اسلام کے ایک سچے داعی تھے، انہوں نے پوری دل سوزی کے ساتھ دعوتِ دین کا مقدس فریضہ سر انجام دیا ۔ آپ ؒ کی دعوتی زندگی کا مطالعہ ایک مستقل موضوعِ تحقیق ہے ۔ سطور بالا میں آپ ؒ کے طرزِ تحریر سے دعوتِ دین کے چند اسا لیب اخذ کیے گئے ہیں۔ یہ اس سلسلہ کی بالکل ابتدائی اور غالباً پہلی تحریر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع پر بھر پور تحقیق کی جائے۔ آپ سے محبت اور عقیدت رکھنے والے اصحابِ علم پر یہ فرض ہے کہ وہ آپ ؒ کی تحریر، تدریس ، خطابت و تقاریر کے ساتھ ساتھ کر دار یت کو موضوعِ تحقیق بنائیں ، تا کہ میدانِ دعوت میں آپ ؒ کو جو کامیابیاں حاصل ہو ئی ہیں، ان کا حقیقی عرفان حاصل کیا جا سکے۔ اس طرح دورِ حاضر کے مبلغین کے لیے دعوتِ دین کے ان اصولوں اور اسالیب سے راہنمائی حاصل کرنا آسان ہو جائے گا ۔

حوالہ جات

(۱) النحل، ۱۶:۱۲۵
(۲) محمد کرم شاہ، پیر، ضیاء القرآن، ۲/۶۱۷۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور ۱۴۰۲ھ
(۳) محمد کرم شاہ، پیر، مقالات (مرتبہ: پروفیسر حافظ احمد بخش) ۱/۸۳، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور ۱۹۹۸ء
(۴) الشعراء، ۲۶:۱۲۷
(۵) ضیاء القرآن، مقدمہ، ۱/۱۱
(۶) ضیاء القرآن، مقدمہ، ۱/۱۱
(۷) چشتی، شہباز احمد، دانائے راز ضیاء الامت، ص ۳۱۷، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۲ء
(۸) ضیاء القرآن، مقدمہ، ۱/۱۲
(۹) ضیاء القرآن، مقدمہ، ۱/۱۰
(۱۰) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مقالات، ۲/۳۳۷ تا ۳۶۷
(۱۱) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: محمد کرم شاہ، پیر، ضیاء النبی، ۲/۴۶ ۔ ۵۷۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور ۱۹۹۳
(۱۲) ایضاً، ۲/۵۵
(۱۳) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مقالات، ۲/۸۔۲۲
(۱۴) ضیاء القرآن، مقدمہ، ۱/۹
(۱۵) ماہنامہ ضیاے حرم، ’سر دلبراں‘، شمارہ اگست ۱۹۷۱ء
(۱۶) ایضاً، شمارہ دسمبر، ۱۹۷۵ء
(۱۷) ایضاً، شمارہ جولائی، ۱۹۷۵ء
(۱۸) ایضاً، شمارہ دسمبر، ۱۹۷۷ء

برصغیر کی مذہبی فکر کا ایک تنقیدی جائزہ ۔ عالمی سیاست ومعیشت کے تناظر میں

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت عالمِ اسلام اور وطنِ عزیز کی ناگفتہ بہ حالت کے معروضی تجزیے کے لیے جس اخلاقی جرات اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے، شاید اس سے دیدہ و دانستہ پہلو تہی برتی جا رہی ہے۔ نتیجے کے طور پر قومی و ملی مورال گرتا جا رہاہے۔ عوام الناس آنکھوں میں سینکڑوں سوالات لیے قائدین کی طرف دیکھ رہے ہیں ، جو اب بھی ایڑیاں اٹھا اٹھا کر’ قد آور‘ ہونے کی ادھیڑ بن میں مبتلا ہیں کہ ان کی اپنی سوچ محدود، منتشر اور غیر منظم ہے۔ ان نام نہاد قائدین نے جماعت، طبقہ، ذات، حیثیت، نسل اور مسلک وغیرہ جیسی خواہشات سے دب کر اپنے نظریات اور کمٹ منٹ کو انتہائی منفی حد تک متاثر کیا ہے۔ وہ حقائق جاننے سے قبل ہی فیصلہ سنا دینے کے عادی ہو چکے ہیں، کسی کام کے دور رس نتائج کو بھانپے بغیر ہی اسے ناکام یا کامیاب قرار دیتے ہیں اور کسی صورتِ حال کا سامنا کرتے وقت ’’ادراک‘‘ مکمل ہونے سے قبل ہی آخری قدم اٹھا بیٹھتے ہیں۔ اب بات اتنی بڑھ چکی ہے کہ ان قائدین کواپنے فکری انتشاراور عملی تضادات کا احساس تک نہیں رہا (۱)، لہٰذاوہ دن قریب ہیں جب عوام الناس حدِ نظرتک پھیلی ہوئی مایوسی کے ردِعمل میں کوئی اور پلیٹ فارم ڈھونڈ لیں گے۔ 
اس زبوں حالی کی وجوہ اورحقائق جاننے کے لیے اگر ہم تاریخ کے آئینے سے مدد لیں تو عیاں ہوگا کہ صنعتی انقلاب (۲) کے بعد دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ بنیادوں پرقائم نوآبادیاتی نظام (۳) ’’منظم سامراجیت‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوا (۴) جس سے ایک طویل استحصالی سلسلہ شروع ہوا اوراس وقت کے یورپ میں قومی ریاستوں کی باہمی آویزش سے ’’کثیر قطبی‘‘دنیا سامنے آئی (۵)۔ شاید ان دنوں ایسے مواقع موجود تھے کہ دانش مندانہ حکمتِ عملی سے ابھرتے ہوئے نوآبادیاتی نظام کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکتا اور اسلامی دنیا یورپ کی قومی ریاستوں سے ’’متوازن تعلقات‘‘ قائم کر کے ’’بچاؤ اور پیش قدمی‘‘ کی کوئی راہ تلاش کر لیتی۔ اس حوالے سے فقط برِصغیر پاکستان وہند میں ٹیپو سلطان (۶)کے ہاں ہی بالغ نظری اور درکارسیاسی عزم(Required Political Will) کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس دور کے قائدین کی افسوس ناک حد تک ’’غیر منظم فکر ‘‘ نے ٹیپو کی آواز پر کان نہ دھرا، اور یہ سرمایہ دارانہ نظام (جو اپنی فطرت میں کھٹمل سے مشابہ ہے)، انیسویں صدی کے آخر تک اپنے ’’سامراجی مظہر‘‘ کے ساتھ عالمِ انسانیت کوہڑپ کر گیا۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس ’’کھٹملی فکر‘‘ کے سرخیل انگریزوں نے طاقت کے نشے سے مخمور ہو کر نہ صرف چینیوں کو افیون خریدنے اور کھانے پر مجبور کیا (۷)، بلکہ مذہب کو بھی لوٹ کھسوٹ کے لیے شرمناک حد تک ’استعمال‘ کیا(۸)۔ اہم بات یہ ہے کہ برِصغیر پاکستان وہندمیں ٹیپوسلطان کی مجاہدانہ تزویراتی کوششوں سے قبل شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ (۹) فکری سطح پر ’’منظم اور مربوط‘‘ کام کر چکے تھے۔ اگر شاہ صاحب کی فکر کو طاقِ نسیاں کی زینت بنانے کی بجائے عملی سطح پر ’’شعوری تحریک‘‘ کی صورت میں پھیلایا جاتا تو کھٹملی فکر کو بر وقت لگام دینے کا سہرا برِ صغیر کے مسلمانوں کے سر بندھتا۔ لیکن شاہ صاحب ؒ کو کوئی لینن، کوئی گورکی نہ مل سکا۔
بہرحال !تاریخ کا سفر جاری رہا اور 1857 میں سامراجیت کے خلاف جنگِ آزادی کے بعد برِ صغیر میں مسلمانوں کے دو گروہ منظرِ عام پر آئے۔ ایک نے انگریزوں کی ہم نوائی کی اور دوسرے نے تصادم کا راستہ چنا۔ علی گڑھ تحریک کا محور مسلمانوں کی’تعلیمی و معاشی‘ ترقی تھا (۱۰) ، جس کے حصول کے لیے سیاست سے قطع تعلق کرنے کو ترجیح دی گئی۔ اس کے برعکس رویہ مدرسہ دیوبند کاتھا جس نے سامراجیت کو کھلے بندوں چیلنج کیا۔ تاریخ کے اسی دور میں ’کھٹملی فکر‘ کو نکیل ڈالنے کے لیے ’مارکس ازم ‘ سامنے آیا جس نے سرمایہ داروں کی انسانیت دشمنی سب پر ظاہر کردی۔ وقت نے بیسویں صدی کا دروازہ کھٹکھٹایا تو دہلیز پر علی گڑھ تحریک کی سیاسی جہت ’آل انڈیا مسلم لیگ‘ کو برِ صغیر میں کھٹملی فکر کے علمبرداروں کا ہم نوا پایا۔ اسی صدی کی دوسری دہائی میں جناح کی مسلم لیگ میں شمولیت کے ساتھ ہی اس کے منشور میں تبدیلی ہوئی اور لیگ ’’سیاسی وژن‘‘کی حد تک سامراج مخالف ہوگئی، اگرچہ اس کی معاشی ’’آؤٹ لک‘‘ سامراج موافقت پر مبنی رہی۔ دیوبند مکتبہ فکر کا ’’خانقاہی گروہ‘‘ بھی لیگ کی اس اپروچ کا ہم نوا بن گیا۔ دوسری طرف وہ لوگ جو سامراجیت کی اصل نوعیت کو سمجھتے تھے، انہوں نے ’’ریشمی خطوط‘‘ جیسی تحاریک کے ذریعے ’کلی آزادی‘ حاصل کرنے کی کوشش کی (۱۱)۔
تاریخ کا دھارا بہتا رہا ۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) میں برطانیہ فتح یاب ہونے کے باوجود اس پوزیشن میں نہ رہا کہ برِ صغیر پر قبضہ برقرار رکھ سکے اور 1947 میں اسے یہاں سے جانا پڑا۔1945میں جاپان ، جرمنی اور اٹلی کی شکست کی صورت میں عالمی جنگ کے خاتمے سے قبل ہی عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے مدبرین نے بھانپ لیاتھا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جاپان پر گرائے جانے والے بم ’ جنگ کا تقاضا‘ نہیں تھے، بلکہ اس کے ذریعے ایک سوویت یونین کو، جو اس وقت امریکہ کا اتحادی تھا، وارننگ دینا مقصود تھااور دوسرا بموں کی ٹیسٹنگ بھی۔ اس اعتبار سے سامراجیوں کی حکمتِ عملی بہت کامیاب رہی کہ بوقتِ ضرورت سوویت یونین سے اتحاد کر کے فوری خطرے کا تدارک کیا اور اس کے دوران ہی سوویت یونین سے پنجہ آزمائی کی حکمت عملی بھی تیار کر لی(۱۲)۔
1947 میں پاکستان کے ظہور میں آنے کے بعد کلی آزادی کے علمبردار پس منظرمیں چلے گئے اورسرمایہ دارانہ فکرکے ہم رکاب (Pro-Capitalist) امورِ سلطنت پر چھا گئے ۔پراپیگنڈا اور مخصوص لٹریچر کے ذریعے کمیونسٹ مخالف(Anti-Communist) فضا قائم کی گئی ۔ یہ طے کر کے پاکستان کو سرمایہ دارانہ بلاک کا باقاعدہ حصہ بنا گیاکہ کمیونزم اسلام مخالف نظریہ ہے۔راقم کی رائے میں اس معاملے میں ’’غلو‘‘ سے کام لیا گیا ۔ضرورت اس امر کی تھی کہ دونوں بلاکوں میں کسی میں شمولیت یا غیر جانبداری اختیار کرنے کے حوالے سے ’’اجتہاد‘‘ کیا جاتا، کہ معاملہ اتنا سادہ نہ تھا۔ اس طرح غلو کی وجہ سے اسلام’’ سامراجیت پسند‘‘ بن کر سامنے آیا ، حالانکہ اسلام کی صحیح اپروچ افراط و تفریط کی بجائے توازن کے داعی اور علم بردار (Balancer) کی ہے اور اسی وجہ سے پڑھا لکھا باشعور طبقہ ’دین‘ سے دور ہوتا چلا گیا کہ شاید مذہب عوام کے لیے افیون ہی ہے کیونکہ مذہبی طبقہ بالعموم سرمایہ دارانہ سامراجیت کی حمایت کرتا رہا۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ مغربی بلاک میں شمولیت کا فیصلہ اور اس کی پشت پناہی ’عسکری ادارے‘ نے کی۔ یوں اجتہاد کا حق بھی اس ادارے نے حاصل کر لیا جس کے بل بوتے پر انگریزوں نے برِ صغیر پر حکومت کی تھی۔ (خیال رہے کہ انگریزوں کے خلاف جدوجہدِ آزادی میں ملٹری آفیسرز کی ’’دیسی کھیپ‘‘ کا کوئی کردار نہیں تھا) بہر حال ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر بنائی گئی اس اجتہادی پالیسی کے غبارے سے 1971 میں ہوا نکل گئی اور مشرقی پاکستان باقی ماندہ ملک سے کٹ گیا۔
1979 میں افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد عسکری ادارے نے ایک بار پھر ’اجتہاد اور علما نے جہاد کیا بلکہ کروایا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس بار بھی توازن قائم کرنے والی قوت (Balancer) کا کردار ادا کرنے کے بجائے ’’غلو ‘‘ کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہ غلو اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنے کے مترادف ثابت ہوا اور سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد ۹۰ کے عشرے میں’’یک قطبی‘‘ دنیا سامنے آنا شروع ہو گئی جس کے ہمہ گیر منفی اثرات اب کھل کر سامنے آچکے ہیں۔
۹۰ کے عشرے میں ہی ’کفار‘ کے خلاف جیت کے نعروں کی گونج میں افغانستان میں طالبان تحریک ابھری اور کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کوتیز کر دیا گیا۔ حسبِ سابق ’’ اجتہاد‘‘ عسکری ادارے نے کیا اور ’’جہاد‘‘ علما نے۔ چند سالوں تک کھٹملی فکر کے سرخیلوں کی ’خاموشی‘ شاید اس لیے تھی کہ اس عمل سے پاکستان کی ’عسکری قوت‘ کی وہ تمام جہات بے نقاب ہو رہی تھیں جو اس نے سوویت یونین سے ’جہاد‘ کے دوران خود حاصل کی تھیں،یاپھر مغربیوں سے اینٹھی تھیں۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر کھٹملی فکر نے اپنی عسکری قوت کے بل بوتے پر اسلامی دنیا پر چڑھائی کر دی۔ پاکستان میں عسکری ادارے کی روایت کے مطابق ’ٹیلی فونک ہاں‘ کے لیے جنرل پرویز، اسی طرح مشرف بہ اقتدارہو چکے تھے جس طرح سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت سے قبل جنرل ضیاء الحق اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئے تھے۔
اب آج کی مسلم دنیا کی صورتِ حال سب کے سامنے واضح ہے۔مذکورہ بالا پس منظر یہ بنیادی سوال پیدا کرتا ہے کہ ہم لوگوں نے سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے درمیان کشمکش میں کم از کم ’فکری و نظری سطح پر’Balancer‘ کا کردار ادا کیوں نہیں کیا؟ عسکری ادارے کی سا مراجیت پسندی پر بحث کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔ یہ سوال ان لوگوں سے ہے جو خود کو دینِ اسلام کی تفہیم کے ضمن میں حرفِ آخر خیال کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے بہتر تو کمیونسٹ ہیں جو دہریے تھے ، ان کا ایک نعرہ مذہبی طبقے کی سامراجیت پسندی کی وجہ سے ’لا الٰہ‘ بھی تھا۔ انھوں نے (لا الہ کے توسط ہی سے) کھٹملی فکر میں’’فلاحی پہلو‘‘ شامل کرادیا اور اس کی اندوہ ناکی میں تخفیف کر دی۔ سوال یہ ہے کہ الا اللہ والوں نے کیا کیا؟ کھٹملی فکر کی درستگی کے لیے ان کا کردار ’کہاں ‘ہے؟
راقم کی نظر میں اس صورتِ حال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہمارے ہاں آمریت کی وجہ سے ’مکالمہ بندی‘ کی فضا رہی جس کی وجہ سے فکری سطح پر افراط و تفریط سے پالا پڑا، اور عسکری ادارے کی پالیسیاں ہی اسلام کی ’تعبیر ‘ کہلائیں جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ کھٹملی فکر ہی اسلام کی معاشی فکر ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ابھی تک بہت سے نام نہاد مجتہد یہی سوچ رکھتے ہیں ۔ 
اس وقت موجودہ عالمی حالات تقاضاکر رہے ہیں کہ مسلمان فکری و نظری اعتبار سے واضح ہوں ۔مثلاًدہشت گردی کو ہی لیجیے۔ اسے سمجھنے کے لیے اس کے’’ تاریخی محرکات‘‘ کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنا ہوگا۔راقم کی رائے میں اس کی جڑیں ’کلی آزادی‘ کے تصور میں پیوست ہیں ۔ دہشت گردی ،درحقیقت، ان غلاموں کی بغاوت ہے جنہیں مختلف حیلوں بہانوں سے کئی صدیوں سے غلام رکھا جا رہا ہے (۱۳)۔ اس وقت ’دہشت گردی‘ کی نہیں بلکہ ’’غلامی‘‘ کی تعریف متعین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آقاؤں کے استحصالی حیلے ، کارِ جہاں کی طرح دراز نہ ہوتے جائیں ۔دینِ اسلام میں غلامی کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان نہ ہونے کا سبب شاید یہی ہے کہ غلامی اپنی فطرت میں بہروپیے سے مشابہ ہے جو اپنی صورت بدلتی رہتی ہے ، مکمل ختم نہیں ہوتی۔اگر اس کے خاتمے کا باقاعدہ اظہار کردیا جاتا تو پھر لفظی دنیا میں تو یہ موجود نہ ہوتی لیکن عملاًکسی نہ کسی مکروہ شکل میں برقرار رہتی۔ اسلام اپنی اپروچ میں اس قسم کے آئیڈیل ازم (Idealism) کو ناپسند کرتا ہے جس میں زمینی حقائق اور انسانی نفسیات کو مدِ نظر نہ رکھا جائے ۔اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام کے ’ذاتی ملکیت کے حق‘ سے اسلام کی موافقت موجود ہے کہ یہ انسانی نفسیات کے مطابق ہے،لیکن ایسے نظام میں ’طبقاتی تفاوت‘ کے در آنے کو بھانپتے ہوئے، چاہے انفرادی ، قومی یا عالمی سطح پر ہو، غلامی کا خاتمہ اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ ذاتی ملکیت سے پھوٹنے والے منفی و استحصالی رویے کو ’’غلامی‘‘ گردان کر اسے باقاعدہ ایڈریس کیا جائے نہ کہ چشم پوشی اختیار کی جائے۔ اس طرح اسلام نے سرمایہ دارانہ نظام کے ’کھٹملی پہلو‘ کو نکیل ڈالنے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے ۔ عہدِ نبوی ﷺ اور عہدِ صحابہؓ میں بہت سے ایسے واقعات مرقوم ہیں جن سے غلامی کے خاتمے کی طرف بڑھنے کے اقدامات ملتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام کا آدرش غلامی یعنی کسی بھی نوع کے استحصالی رویے میں مسلسل تخفیف کرتے رہنا ہے (۱۵) ۔ رسالت مآب ﷺ کے خطبہ حجۃالوداع کے آفاقی نکات دینِ اسلام کی اس اپروچ کا بلیغ اظہار ہیں ۔ 
تاریخی شعور اور موجودہ حالات کے سیاق و سباق ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اب پھونک پھونک کر قدم اٹھا یا جائے۔ ہمیں ماضی والے رویے کے برعکس ’مستقبل بین ‘ (Futurist) ہونا ہو گا(۱۶) ۔ ہمیں سامراجیت کی اصل نوعیت پر ہاتھ ڈالنا ہوگا اور دیکھنا ہو گا کہ ہمارے کون سے ادارے اور رویے غلامی کی نئی شکل کو تقویت دینے والے ہیں۔ غلامی کی نئی صورت ’گلوبلائزیشن ‘ کے مغربی عمل سے ظہور پا رہی ہے۔ اس حوالے سے تبلیغی جماعت کے کردار سے متعلق کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خیال رہے ، یہاں کسی کی بزرگی کو چیلنج کرنا مقصود نہیں بلکہ صرف ان چند ممکنات پر بات کرنی ہے جو غلامی کی نئی شکل کو تقویت دے سکتے ہیں۔ ایک تو یہ بات ہے کہ تبلیغی اجتماع عیدین اور حج کے درمیان بڑا مذہبی اجتماع بن چکا ہے۔ اندیشہ ہے کہ مستقبل میں اس ’تہوار‘ کو منانا بھی لازمی ہو جائے گا ۔ اس کی وجہ تبلیغی جماعت کا ’غلو‘ ہو گا جو وہ دین میں کر رہی ہے کہ تبلیغ ہی دین ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس جماعت کا رجحان ’معاملات‘ کی طرف نہ ہونے کے برابر ہے ، اسی لیے اس کے معاشرتی اثرات معاملات سے پرے پرے ہی ہیں۔ لوگ اسی طرح کرپشن کرتے ہیں، ملاوٹ کرتے ہیں، ہیرا پھیری کرتے ہیں، اگرچہ نمازی اور حاجی ہو جاتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاملات سے دانستہ چشم پوشی سے ’’نادانستگی‘‘ امت کو غلامی کی نئی شکل کا اسیر بنایا جا رہا ہے۔ جب لوگوں کے اذہان میں یہ بات ڈالی جائے کہ دولت کی تقسیم ’خدائی کام‘ ہے اور وسائل وااسباب کی کوئی اہمیت نہیں، اور یہ کہ مسلمانوں کو سب کچھ آخرت میں ہی ملے گا تو بتائیے اس کا نتیجہ معاشرتی سطح پر کیا ہوگا؟ کیا اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ ’سرمایہ دار‘ جو کرتے ہیں، انہیں کرنے دیا جائے، اس سے ہمیں کوئی سرو کار نہیں؟ کیا یہ با لواسطہ (Pro- Capitalist) اپروچ نہیں ؟ کیا یہ مذہب کی ایسی تشریح نہیں جس سے وہ عوام کے لیے حقیقتاً ’’افیون‘‘ بن جائے ؟ غصہ کرنے کی ضرورت نہیں، بس ذرا تاریخ کے آئینے سے مدد لے کر Futurist بن کر غور کیجیے ۔ انیسویں صدی میں سر سید کا آدرش بھی مسلمانوں کی ’’تعلیمی ترقی‘‘ تھا لیکن اس کے حصول کے لیے انہوں نے با لواسطہ ’’سرمایہ دارانہ فکر‘‘ کا ساتھ دیا، اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے، کیونکہ ان کے بعد مسلم لیگ، دیو بند کے خانقاہی گروہ اور پھر حیرت ناک حد تک سامراج مخالف گروہ نے بھی ایسا ہی کیا اور لوگوں کے اذہان میں کمیونزم مخالفت اس طرح بھری جیسے سر مایہ دارانہ نظام عین اسلام کے مطابق ہے، حالانکہ اسی نظام کے ذریعے مسلمانوں کو غلام رکھا جا رہا تھا اور پوری بیسویں صدی میں مسلمان غلام بنے رہے۔ اسی طرح بیسویں صدی میں شروع ہونے والی تبلیغی جماعت کا آدرش بھی مسلمانوں کی اخلاقی و مذہبی حالت کو سنوارنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں یہ جماعت بھی ’نا دانستگی ‘ میں تاریخ کو دہرا تو نہیں رہی؟ ایسی صورتِ حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دین کے فقط ایک پہلو کو ’’دین ‘‘قرار دینے کے’’غلو‘‘ سے بچتے ہوئے Balancer اور Futurist بنا جائے۔(۱۷)

حواشی

(۱) اس کی تازہ مثال متحدہ مجلسِ عمل کا بیک وقت اپوزیشن میں ہونا اور ایل ایف او کو دستورکا حصہ بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دینا ہے۔ متحدہ مجلسِ عمل کا یہ فیصلہ ،کم از کم کسی’’ منظم سوچ‘‘ کی غمازی نہیں کرتا ۔
(۲) انگلستان کے بادشاہ جارج سوم (1760-1820) کے عہد سے پہلے انگریز لوگ معمولی چرخوں پر سوت کاتتے اور معمولی کھڈیوں کے ذریعے کپڑا تیار کرتے تھے۔ یہ کپڑا بہت موٹا ہوتا تھا اور اس کی یومیہ پیداوار بھی بہت تھوڑی تھی۔1765 میں ہرگریوز نے سوت کاتنے کی کل ایجاد کی اور اس کا نام (Spinning Jenny) رکھا،اس میں 80 تکلے بیک وقت کام کرتے تھے ۔آرک رائٹ نے اس کے دو سال بعد پانی کے زور سے چلنے والی ایک اور کل(The Water Frame) ایجاد کی جو ہرگریوز کی کل سے بھی زیادہ سوت کاتتی تھی۔1779 میں ایک اور مشین ایجاد ہوئی ،جسے میول(Mule) کہتے تھے ، اس کل میں سابقہ مشینوں کے اصول اکٹھے کر دیے گئے ، اسی لیے یہ مشین کثیر مقدار میں باریک سوتی کپڑا بنتی تھی ۔ 1787 میں کارٹ رائٹ کی ایجاد کردہ کل (The Power Loom)پہلے سے بھی زیادہ کپڑا تیار کرنے لگی، کہ وہ بھاپ سے چلتی تھی(1769 میں واٹس ، بھاپ کا انجن ایجاد کر چکا تھا)۔1790 میں ہنری کورٹ نے لوہا پگھلانے کا آسان اور سستا طریقہ ایجاد کیا۔1830 میں سٹیفن سن نے متحرک انجن یعنی بھاپ کے ذریعے خودبخود چلنے والا انجن ایجاد کیا تو صنعتی انقلاب بھر پور طریقے سے پر پرزے نکالنے لگا، ریل کی پٹڑی بچھ گئی اور بھاپ کی طاقت سے چلنے والے جہاز سمندروں میں دوڑنے لگے۔
(۳)نوآبادیاتی نظام کا آغاز پندرہویں صدی کے دوسرے نصف میں ، یورپ میں تحریکِ احیائے علوم(Renaissance) کے بعد دریافتوں کے زمانے (Age Of Discovery) سے ہوا۔پرتگیزوں نے بحرِ اوقیانوس کا چپہ چپہ چھان مارا،اورکئی نامعلوم جزیرے دریافت کیے۔ 1486 میں افریقہ کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے وہ افریقہ کے عین جنوب میں اس مقام پر پہنچے جسے راس امید(Cape Of Good Hope) کہا جاتا ہے ۔ اس کے گیارہ سال بعد واسکوڈے گاما ، راس امید کا چکر کاٹ کر، افریقہ کے مشرقی ساحل کے ساتھ ساتھ ہوتاہوا، ہندوستان (کالی کٹ )پہنچ گیا۔ واسکوڈے گاما پہلا یورپی شخص تھا ، جو بالکل بحری راستے سے ہندوستان آیا۔ اس طرح یورپ نے برِصغیر پاکستان و ہند کی ’راہ‘ دیکھ لی۔تاریخ کے اسی عہد میں سپین کے شہرہ آفاق جہاز ران کولمبس نے اتفاقاً ’امریکہ ‘ دریافت کرلیا، اور پھر امریکہ بھی کالونی بنتا چلا گیا۔ سولہویں صدی کے اختتام اورسترہویں صدی کے آغاز میں ڈچ اور انگریز بھی بحرِ ہند میں ’’طالع آزمائی‘‘ کے لیے داخل ہو گئے ۔ فرانسیسی پیچھے رہنے والے نہیں تھے۔ان اقوام کے درمیان برِصغیر کی دولت اور اقتدار پر قبضے کے لیے شدید کھینچا تانی ہوئی ،جس میں انگریز آخر کار فاتح رہے ۔انگریزوں کی قوم پرستی، حربی مہارت اور سیاسی تدابیر کے ساتھ جب صنعتی انقلاب بھی ان کا ہمقدم ہوگیا تو نوآبادیاتی نظام مستحکم ہوتا چلاگیا اور ’کھٹملی فکر‘ کو مزید پاؤں پسارنے کا موقع مل گیا ۔
(۴) سامراجیت(Imperialism) اور استعماریت(Colonialism) میں تھوڑا سا فرق ہے ۔ نوآبادیت یا استعماریت کا مطلب یہ ہے کہ افراد کے کسی گروہ کا کسی ایسے خطے میں دائمی قیام کرنا جہاں عام طور پر پہلے آبادی بھی نہیں ہوتی ۔جبکہ سامراجیت سے مراد یہ ہے کہ کوئی ریاست کسی دوسری قوم کے علاقے پر ناجائزتسلط قائم کرے تاکہ وہاں کے وسائل کو اپنی طاقت اور اپنے عوام کی بہتری کے لیے تصرف میں لا سکے ۔اس طرح معلوم ہوا کہ سامراجیت ، استعماریت سے زیادہ خطرناک اورانسانیت سوز ہے ۔ 
(۵)کثیر قطبی نظام سے مراد ہے کہ اس وقت طاقت کے کئی ’مرکز‘ تھے ۔ مختلف اقوام اور ریاستیں ’توازنِ طاقت‘ کی پالیسی اختیار کر کے کسی ایک کو بالادستی قائم کرنے کا موقع نہیں دیتی تھیں ۔ سترہویں صدی میں تیس سالہ جنگ(1618-1648) کے بعد ویسٹ فالیامعاہدہ(1648) نے قومی ریاست کا نظام(Nation State System) تشکیل دے دیا۔ اسی صدی میں فرانس کے جارحانہ عزائم کو بھانپتے ہوئے انگلینڈ اور نیدرلینڈ نے باہمی اتحاد سے فرانس کو کنٹرول کیا۔اٹھارہویں صدی میں (Treaty Of Utrech) سے لے کر پولینڈ کی تقسیم تک کا دور (1713....1772) نظری اور عملی اعتبار سے توازنِ طاقت کا سنہری زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی دوران جنگ ہفت سالہ (1756-1763) تین برِاعظموں میں لڑی گئی۔1789 کے انقلابِ فرانس کے بعد نپولین کے عروج سے توازنِ طاقت بگڑ گیا تو پھر جنگوں کا ایک اورسلسلہ شروع ہوا ، جو واٹرلو میں نپولین کی شکست (1815)پر ختم ہوا ۔نپولین کو سینٹ ہلینا کے جزیرے میں قید کرنے کے بعد ’اتحادی‘ ویانا میں جمع ہوئے اور انھوں نے یورپ کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دیا۔ محکوم قوموں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے جلد ہی ’ویانا کانگرس‘ کے صلح نامے کے پرزے پرزے کر دیے۔1854 میں فرانس ، برطانیہ اور آسٹریا نے روس کے خلاف ’اتحاد‘ بنایا جس سے جنگِ کریمیا(1854-1856) چھڑ گئی۔برلن کانگرس(1878) بھی ’توازنِ طاقت‘ کے سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ اس کے ذریعے روس کو،شکست خوردہ ترکی سے کیے گئے معاہدے پر نظر ثانی کے لیے مجبورکیا گیا ۔1882 میں جرمنی ،آسٹریا اور اٹلی کا اتحاد وجود میں آیا تو جواباً ’توازن‘ رکھنے کے لیے فرانس، انگلینڈ اور روس نے اتحاد(1907) کر لیا۔ بیسویں صدی میں جب توازنِ طاقت بگڑا تو پھر ایک جنگ چھڑ گئی (1914)، جسے پہلی عالمی جنگ کہتے ہیں ۔اس میں ایک طرف (محوری)جرمنی ،آسٹریا ، ہنگری، ترکی اور بلغاریہ تھے اور دوسری طرف(اتحادی) برطانیہ ، فرانس، روس جاپان اور امریکہ تھے ۔ اٹلی پہلے تومحوری گروپ میں تھا ، بعد میں لندن پیکٹ کے تحت اتحادی کیمپ میں شامل ہوگیا۔ 1919 میں جمعیتِ اقوام(League Of Nations) کی تشکیل سے بھی توازنِ طاقت کی سٹریٹیجی متاثر نہ ہوئی اور اتحادات ، جوابی اتحادات سے 1939 میں دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی، جس میں ایک طرف اتحادی ممالک برطانیہ ، فرانس ، روس، امریکہ و غیرہ تھے ، اور دوسری طرف محوری ممالک جرمنی، اٹلی اور جاپان تھے۔اس جنگ میں محوری کیمپ کی شکست کے بعد ’’کثیر قطبی‘‘ دنیا کا خاتمہ ہوا ، اور ’’دوقطبی‘‘ دنیا کا ظہور ہوا، جس میں ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی جبکہ دوسری طرف سوویت یونین اور اس کے اتحادی تھے ۔ 
(۶) فتح علی ٹیپو سلطان(1750-1799) اٹھارہویں صدی کی سیاست کا درخشندہ ستارہ تھا ۔ٹیپو نے برِ صغیر میں انگریزوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے اعلیٰ تدبر کا مظاہرہ کیا ۔اس نے فرانس، افغانستان اور ایران سے ’تزویراتی تعلقات‘ قائم کرنے کی کوشش کی، مر ہٹوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایااور چاہا کہ میسور اور حیدرآباد کے حکمران ’خاندانی قرابت‘ کے رشتے میں منسلک ہو جائیں ۔ سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ اس کی مراسلت و سفارت کاری بھی تزویراتی اہمیت کی حامل تھی لیکن یورپی سیاست کے جبر (روس اور آسٹریا سے ترکی کی مخاصمت) نے ترکوں کو ٹیپو کی حمایت سے باز رکھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ 4 مئی1799 کو جامِ شہادت نوش کرنے والے اس عظیم فرزندِ اسلام کی یاد میں ہر سال4 مئی کو سیمینارز منعقد ہوں اور اس کے نام پرکوئی سٹریٹیجک پالیسی سازادارہ بھی قائم کیا جائے تا کہ اس کے وقت کی مسلم دنیا کی تزویراتی غلطیوں کی نشاندہی اس طور ہوسکے کہ انہیں دہرایا نہ جاسکے۔
(۷) اس سلسلے میں جنگِ افیون(1839-1842)، (1856-1860) مشہور ہیں۔ 
(۸) جنوبی افریقہ کے ایک قبائلی سردار نے اس’’ کٹھملی فکر‘‘ کو یوں عیاں کیا تھا کہ: ’’جب سفید آدمی آیا تو اس کے پاس بائبل تھی اور ہمارے پاس اراضی، اب اس کے پاس اراضی ہے اور ہمارے پاس بائبل‘‘۔ 
(۹) شاہ صاحب (1703-1763) کا اصل نام قطب الدین ہے ۔ان کے نظریات میں جدت اور ندرت پائی جاتی ہے ۔شاہ صاحب کی فکر کا معاشی پہلو اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہے کہ اس میں (Political Economy) کی جھلک نظر آتی ہے ، منصوبہ بندی اور انفرا سٹرکچر کا ذکر ملتا ہے اور اجتماعی نفع کے شواہد ملتے ہیں ۔
(۱۰) علی گڑھ تحریک کے بانی سرسید احمد خان (1817-1898) تھے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ان کے ہاں عقل ،مادیت اور معاش پر زور دینے کے باوجود’’مارکسسٹ اپروچ‘‘ نظر نہیں آتی ، حالانکہ 1876 میں ’’سرمایہ‘‘ شائع ہو چکی تھی ۔اگر سرسید نے مارکس ازم کا بغور مطالعہ کیا ہوتا تو سرمایہ دارانہ فکر کی ’’منفیت‘‘ ان پر ضرور عیاں ہوتی اور وہ انگریزوں سے مصالحت کی پالیسی کے باوجود سرمایہ دارانہ فکر پر چند تحفظات کا اظہار ضرور کرتے ۔لیکن اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی ’عقل پسندی‘ ذہنی خود کفالت کا نتیجہ نہیں بلکہ انگریزوں سے مرعوبیت کے باعث تھی۔
(۱۱) انگریزوں کے جانے کے بعد جب ریشمی رومال رپورٹ شائع ہوئی تو انڈین صدر جناب فخر الدین علی احمد نے ایوانِ صدارت میں پانچ صد منتخب مدعوین کے ساتھ (جس میں وزیرِ اعظم اور دوسرے بڑے بڑے عمائدین تھے) کتاب کا افتتاح کیا۔ 
(۱۲) خیال رہے کہ ایک گروہ ہمیشہ سے اس خیال کا حامی رہا ہے کہ برِ صغیر کی تقسیم بھی ، سوویت یونین (کمیونزم ) کے خطرے کے باعث کی گئی تھی اور اس وقت کے امریکی صدر نے تقسیم کے لیے برطانیہ پر دباؤ ڈالا تھا۔
(۱۳) پہلے سامراجیت اور نئی سامراجیت کے ذریعے ، اور اب گلوبلائزیشن کے ذریعے۔
(۱۴) اس وقت بھی بہت سے ایسے معاملات موجود ہیں جن کی بابت حکومت نے قوانین بنا رکھے ہیں لیکن پھر بھی عمل درآمد نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے۔ یہ بہت آسان بات ہے کہ کسی سنجیدہ معاملے سے جان چھڑانے کے لیے قانون بنا کر کہا جائے ، لو جی حکومت نے قانون تو بنا دیا ہے ، اب مزید اور کیا کرے ؟ 
(۱۵) استحصالی رویے کی ہر نوعیت اور ہر سطح کے خاتمے کے لیے ’خود تسخیری‘ ضروری ہے ، جو ہمیشہ ناتمام رہتی ہے ۔ بھلا خود سے ماورا ہونا کس کے بس میں ہے ؟ 
(۱۶) اگر Louis Halle ، عین سرد جنگ کے عروج کے عہد میں (1967) ، ایک کتاب The Cold War As History لکھ سکتا ہے ، تو ہم آج Uni Polar World As History کیوں نہیں لکھ سکتے ؟ 
(۱۷) قرآن مجید میں آتا ہے کہ ’’اے اہلِ کتاب تم اپنے دین میں غلو نہ کرو‘‘۔ حدیثِ نبویﷺ ہے کہ ’’ غلو فی الدین سے بچتے رہو ، کیونکہ تم سے پہلی امتیں غلو فی الدین ہی کی وجہ سے ہلاک و بر باد ہوئیں ۔‘‘

جہادی حکمت عملی: مثبت اور منفی پہلو

ادارہ

(۱) 
کشمیر کے محاذ پر کل کیا ہونے والا ہے، اس کی تفصیلات ابھی پردۂ غیب میں ہیں لیکن اب تک کیا ہو چکا، اس باب میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ ۸۹۔۱۹۸۸ء میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی تھی، اس کی صفیں اب لپیٹی جا رہی ہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں جو کچھ ہوا، اس کا قرض ان لوگوں کے ذمے ہے جنھوں نے یہ ساری حکمت عملی ترتیب دی اور جو ان کے دست وبازو بنے۔ ہمارے ہاں چونکہ خود احتسابی کی کوئی روایت نہیں، اس لیے یہ امکان تو موجود نہیں کہ یہاں کوئی تحقیقاتی کمیشن بنے جو اس ناکامی کے اسباب کو موضوع بنائے لیکن ایک احتساب بہرحال اللہ کی عدالت میں ہونا ہے۔ اب یہ ان لوگوں کو سوچنا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے حضور میں کیا عذر پیش کریں گے۔ سردست ہمارے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس نئی تبدیلی کے منفی اثرات سے اپنی قوم کو کیسے محفوظ رکھا جائے اور جو لوگ پورے اخلاص اور ایک دینی احساس کے ساتھ دامے، درمے، سخنے اس عمل میں شریک رہے ہیں، کسی نفسیاتی حادثے کا شکار نہ ہوں اور ان کی صلاحیتیں کوئی مثبت رخ اختیار کریں۔
پہلا کام جو ناگزیر ہے، وہ یہ ہے کہ جہاد کشمیر کے نام پر عامۃ الناس کے جذباتی استحصال کا سلسلہ اب رک جانا چاہیے۔ اس عنوان سے ہم نے بہت سی زندگیاں برباد کیں۔ ہمارے گھر اور مال تو محفوظ رہے لیکن ہم نے بہت سے گھروں پر دکھ کی چادر ہمیشہ کے لیے تان دی اور انھیں کوئی خوشی نہیں دے سکے۔ اپنے مذہبی راہ نماؤں سے میری درخواست ہے کہ وہ جہاد کشمیر کے نام پر اب اس قوم کے نوجوانوں کو بہکانے کا سلسلہ ازراہ کرم بند کر دیں۔ ان کی یہ بڑی خدمت ہوگی اگر وہ اس سارے معاملے کے بارے میں قوم کی صحیح راہنمائی کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ اس وقت ان کے کرنے کے کام دوسرے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو اس جانب متوجہ کریں کہ وہ تعلیم اور ہنر کے ذریعے اپنی تعمیر کریں۔ اس محاذ پر اپنی توانائیاں صرف کریں جہاں ان کی کامیابی یقینی ہے اور خود فطرت کے قانون کے تحت جس محاذ پر ان کی پیش قدمی کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
میں جانتا ہوں یہ ایک مشکل کام ہے لیکن اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ ’’جہاد‘‘ اب ختم ہو چکا، ہم نے اگر ’’مجاہدین‘‘ کی تیاری کا کام جاری رکھا تو ہم اس قوم کے مجرم ہوں گے اور اللہ کے حضور میں بھی ہمارا کوئی عذر، مجھے ڈر ہے کہ شاید قبول نہ ہو۔ میری خوش گمانی ہے کہ ہماری مذہبی قیادت میں سے اکثر حضرات نے ایک نیک جذبے اور اللہ کی رضا کے لیے اس عمل کا ساتھ دیا لیکن اب صورت حال کی تبدیلی کے بعد اللہ کی رضا ہی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جانتے بوجھتے لوگوں کو ایک آگ میں نہ جھونکیں۔ حکومت کو وہ مطعون کر سکتے ہیں کہ اس نے کیوں اس حکمت عملی پر نظر ثانی کی لیکن عوام کو صحیح صورت حال کے مطابق تیار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، تو یہاں بھی مذہبی قیادت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے پاس اب کیا راستہ باقی تھا؟ میں ان کالموں میں متعدد بار یہ بات دہرا چکا ہوں کہ دنیا میں آج کسی مسلح جدوجہد کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ ۹ ستمبر کے بعد جو کچھ ہوا، اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسے نوعیت کی کوئی سرگرمی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے تو اسے کسی نفسیاتی معالج کے پاس جانا چاہیے۔ یہاں معاملہ صحیح یا غلط کا نہیں، زمینی تبدیلیوں کے ادراک کا ہے۔ دنیا میں آنے والی تبدیلیاں یہ بتاتی ہیں کہ کسی صحیح مقصد کے لیے بھی اگر پر تشدد طریقے اختیار کیے جائیں گے تو ایسے کسی عمل کو عالمی سطح پر کوئی تائید حاصل نہیں ہوگی۔ ضرورت ہے کہ ہماری مذہبی قیادت بھی اس تبدیلی کا ادراک کرے اور اپنے متاثرین کی تربیت نئی نہج پر کرے جس میں اس تبدیلی کی رعایت رکھی گئی ہو۔
دوسرا کرنے کا کام یہ ہے کہ جو لوگ اتنے سالوں سے پورے اخلاص کے ساتھ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس عمل کو آگے بڑھاتے رہے ہیں، ان کی واپسی کا محفوظ راستہ تلاش کیا جائے۔ یہ کام حکومت اور مذہبی جماعتوں کو مل کر کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوج کے معاون ادارے کے طور پر ایک نیا ادارہ قائم کرے جس میں ان تربیت یافتہ نوجوانوں کو شامل کیا جائے۔ ان کی تنخواہوں اور ملازمت کا ایک باقاعدہ نظام ہو۔ جہاد کشمیر کے نام پر جو کروڑوں روپے جمع کیے گئے ہیں، وہ اس ادارے کو دے دیے جائیں۔ اس ادارے کو مختلف خدمات سونپ دی جائیں، جیسے تعلیمی اداروں میں این سی سی کی ٹریننگ، حادثات کی صورت میں لوگوں کی مدد، شہری دفاع کی تربیت اور اس نوعیت کے دیگر کام۔ اس طرح یہ امکان ختم ہو جائے گا کہ ان نوجوانوں کو کوئی غیر حکومتی یا عسکری تنظیم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے اور اس سے معاشرے میں بد امنی اور فساد پیدا ہو۔
اس عمل میں مقبوضہ کشمیر کے جو لوگ شریک ہیں، ان کی واپسی کے بارے میں بھی ہمیں سوچنا ہوگا۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں بھارتی حکومت سے بات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں اور بھارت ان سے کسی نوعیت کی بازپرس نہ کرے، تاکہ یہ لوگ وہاں اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔ میرے نزدیک کشمیریوں کے جان ومال کے مزید ضیاع کو روکنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس مرحلے پر جب یہ صفیں لپیٹی جا رہی ہیں، ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کے جو لوگ اس سارے عمل میں ہمارے ساتھ شریک رہے ہیں، ان کا مستقبل محفوظ ہو۔
تیسرا کام ان اثرات کا جائزہ ہے جو جہاد کے عمل کو نجی تحویل میں دے دینے سے مرتب ہوئے ہیں۔ ہمیں اس پر پوری سنجیدگی سے غور وفکر کرنا ہوگا کہ کسی دوسرے ملک یا قوم کے خلاف ہم نے جہاد کو جس طرح غیر حکومتی سطح پر منظم کیا، اس کے اثرات خود ہمارے معاشرے پر کیا مرتب ہوئے؟ یہ بات بھی میں بارہا لکھ چکا کہ اسلام میں نجی جہاد کا کوئی تصور نہیں۔ جہاد ہمیشہ ریاست اور حکومت کے اہتمام میں ہوتا ہے اور حکومت بھی یہ کام کسی خفیہ طریقے سے نہیں بلکہ علانیہ کرنے کی پابند ہے۔ ہم نے اس اصول سے انحراف کیا اور نیا اجتہاد کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی غیر محفوظ ہو گیا اور بد امنی نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا۔ جب جہاد نجی تحویل میں گیا تو یہ حق بھی مختلف تنظیموں کو منتقل ہو گیا کہ وہ اپنے طور پر یہ طے کریں کہ دین کا دشمن کون ہے۔ کسی کے نزدیک یہ دشمن خارج میں ہے اور کسی نے اسے اپنے ملک میں تلاش کیا۔ اس کے جو معاشرتی اثرات مرتب ہوئے، اس کو ہم سب بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ آج اس کی بھی ضرورت ہے کہ ہم غور کریں اور اس کو سنجیدہ بحث کا موضوع بنائیں کہ منظم فوج کی موجودگی میں جب افغانستان اور کشمیر کے تناظر میں ہم نے جہاد کو نجی تحویل میں دیا تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟
کشمیر کے محاذ پر آج جب ہم اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہے ہیں، یہ تین کام ہمیں کرنا ہوں گے۔ حکمت عملی کی تبدیلی اقوام کی زندگی میں کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قوم اس کے بارے میں باخبر ہو اور یہ جانتی ہو کہ اب اس کو کیا کرنا ہے۔ قوم کو اس معاملے میں کسی نئے انتشار فکر سے بچانا اب حکومت اور اس سے زیادہ ہماری مذہبی قیات کی ذمہ داری ہے۔
(خورشید احمد ندیم، روزنامہ جنگ، لاہور)

(۲) 
جناب خورشید احمد ندیم ہمارے محترم اور فاضل دوست ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں علم ودانش کی دولت سے نوازا ہے اور وہ اپنے کالموں کے ذریعے اس میں ہم نیاز مندوں کو بھی شریک کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سوچ اور فکر کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کی حالت زار پر اضطراب اور بے چینی کے نئے پہلوؤں کی نشان دہی ہوتی ہے اور فطری طور پر بعض معاملات میں اختلاف رائے بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کا اظہار بسا اوقات ضروری محسوس ہونے لگتا ہے۔ انھوں نے حال ہی میں کشمیر کے حوالے سے حکومت پاکستان کی حکمت عملی میں نظر آنے والی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ افغانستان اور کشمیر میں جہاد کے نام پر جو جدوجہد گزشتہ دو عشروں میں جاری رہی ہے، وہ ناکام ہو گئی ہے، اس کا آغاز ہی غلط تھا، یہ محض جذبات پر مبنی تھی اور ملک کی مذہبی قیادت کو اس حکمت عملی کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے طرز عمل اور طریقہ کار کو تبدیل کرنا چاہیے۔ انھیں اس بات پر بھی اصرار ہے کہ اس طریق کار کا مسئلہ کشمیر کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان ہوا ہے اور چونکہ یہ حکومتی اور ریاستی سطح کے بجائے پرائیویٹ طور پر نجی جماعتوں اور افراد نے شروع کی تھی، اس لیے ان کے نزدیک اس کا شرعی جواز بھی موجود نہیں تھا۔
ہمیں محترم ندیم صاحب کی ان دونوں باتوں سے اختلاف ہے۔ جہاں تک جہادی حکمت عملی کے ناکام ہونے کا تعلق ہے، اگر کسی تحریک کے صرف معروضی حالات اور محض وقتی نتائج دیکھ کر فیصلہ کر لینا ہی عقل ودانش کا تقاضا ہے تو ان کا یہ ارشاد کسی حد تک قرین قیاس لگتا ہے، لیکن اگر تحریکات کو ان کے تاریخی تسلسل اور دور رس نتائج کی روشنی میں دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے تو پھر ہم بصد ادب گزارش کریں گے کہ افغانستان اور کشمیر میں جہادی تحریکات کے بارے میں محترم خورشید احمد ندیم کا یہ تجزیہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ہمارے ہاں یہ روایت بن گئی ہے کہ کسی جدوجہد اور تحریک کی وقتی پسپائی کو دیکھ کر اس کی ناکامی کا فتویٰ صادر کر دیا جاتا ہے، حالانکہ جدوجہد اگر جاری ہے اور تحریک کی قیادت خود شکست قبول نہ کرے تو اس کی ناکامیاں بھی آخر کامیابی کا زینہ ہوتی ہیں۔ محمود غزنوی نے سومنات پر سترھویں حملے میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس کے پہلے سولہ حملوں کے بارے میں تاریخ یہ کہتی ہے کہ اگر وہ آخری حملے سے قبل ہتھیار ڈال دیتا اور شکست قبول کر کے گھر بیٹھ جاتا تو یہ سولہ حملے ناکامی ہی کے زمرے میں آتے، لیکن اس کے عزم واستقلال کے تسلسل اور جنگ جاری رکھنے کے عزم نے ان سولہ حملوں کو اس کے آخری اور کامیاب حملے کا زینہ بنا دیا تھا۔ ہمارے ہاں تحریک خلافت کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہو گئی تھی اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ خلافت ترکی کا مسئلہ تھا، اس پھڈے میں شریک ہونا دوسروں کی آگ میں ہاتھ ڈالنا تھا اور محض جذباتیت تھی، جس کا کوئی فائدہ نہیں تھا، حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ خلافت ترکی کا نہیں، عالم اسلام کا مسئلہ تھا اور جناب نبی اکرم ﷺ نے ملت اسلامی کو ’’جسد واحد‘‘ سے تشبیہ دے کر اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ جسم کا ایک حصہ تکلیف محسوس کرے تو دوسرا حصہ خود بخود اسے محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ملت اسلامیہ کے مسائل پاکستان، مصر، انڈونیشیا، سوڈان اور سعودی عرب کے جغرافیائی حوالوں سے نہیں بلکہ عالم اسلام کے اجتماعی ماحول اور ضروریات کے حوالے سے ہیں اور اگر ملت اسلامیہ کے کسی ایک حصے کے مسئلے اور تکلیف کو دوسرا حصہ محسوس نہیں کرتا اور اس کے ازالے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے آنکھ کو تکلیف ہوا ور پاؤں یہ کہہ کر ڈاکٹر کی طرف جانے سے انکار کر دیں کہ ہمیں تو کوئی تکلیف نہیں ہے، ہم کیوں آنکھ کی خاطر چلنے کی زحمت اٹھائیں۔
پھر تحریک خلافت ناکام نہیں ہوئی، بلکہ اس نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کے احساس اور جذبے کو بیدار کیا اور آزادی کی تحریکات کو نیا خون دیا۔ آپ تحریک خلافت کے بعد کی سیاسی تحریکات کو دیکھ لیجیے، وہ کانگریس ہو، مسلم لیگ ہو، مجلس احرار اسلام ہو یا جمعیت علماے ہند، ان میں سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کی ایک بڑی کھیپ تحریک خلافت ہی نے مہیا کی تھی اور اس طرح تحریک خلافت نے جنوبی ایشیا میں آزادی کی تازہ دم تحریکات کے لیے نرسری کا کام دیا تھا، اس لیے یہ کہنا کہ تحریک خلافت ناکام ہو گئی، برصغیر کی سیاسی جدوجہد کے تسلسل سے بے خبری کی علامت ہے۔ اسی طرح تحریک کشمیر میں جہادی جدوجہد کی صورت حال ہے، اور دو باتیں تو نقد نتائج کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں:
آزاد کشمیر کے نام سے جو خطہ اس وقت ہمارے ساتھ ہے، بلکہ گلگت، بلتستان اور سکردو پر مشتمل شمالی علاقہ جات کی پٹی کی آزادی بھی جہادی عمل ہی کا نتیجہ ہے، کیونکہ اسے جہاد کے باقاعدہ اور پرائیویٹ فتوے کی بنیاد پر ہی مجاہدین نے لڑ کر آزاد کرایا تھا اور اس وقت جہاد کے بجائے صرف مذاکرات کا سہارا لیا جاتا اور چند سرفروش جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف مسلح جنگ نہ لڑتے تو بھمبر سے گلگت تک کا پورا علاقہ بھی آج مقبوضہ کشمیر کے ساتھ بھارت کا حصہ ہوتا۔ دوسری بہت سی باتوں کے علاوہ ہم منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے پانی کے لیے بھی بھارت کے دست نگر ہوتے۔
آج اگر بھارت کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہے اور امریکہ سمیت دنیا کی بڑی قوتیں مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی لے رہی ہیں تو یہ بھی مجاہدین کے خون کا صدقہ ہے۔ مجاہدین نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہے۔ اس بات میں کسی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کے خلاف مجاہدین کی مسلح جدوجہد کی وجہ سے آج مسئلہ کشمیر زندہ ہے اور پوری دنیا کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے۔ اگر مجاہدین کی یہ جدوجہد نہ ہوتی تو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا وہ ماحول ہی نہ ہوتا جس نے آج کے بین الاقوامی ماحول میں پاکستان کے لیے ایٹمی قوت بننے کا کسی حد تک جواز فراہم کر رکھا ہے، اس لیے مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں انڈین آرمی کی بے بسی اور پاکستان کا ایٹمی قوت بن جانا ہی وہ اہم عنصر ہیں جو بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائے ہیں اور عالمی برادری نے بھارت کو مجبور کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر گفتگو کرے۔ اگر یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو کشمیر کا مسئلہ کبھی کا ’’داخل دفتر‘‘ ہو چکا ہوتا اور اس کا تذکرہ اقوام متحدہ کی بوسیدہ فائلوں کے سوا کہیں نہ ملتا۔ کسی دیوار کے نیچے بنیادوں میں جو روڑے اور پتھر توڑے جاتے اور کوٹ کر دبا دیے جاتے ہیں، وہ دیوار بن جانے کے بعد کسی کو نظر نہیں آتے، لیکن دیوار کی مضبوطی اور اس کے کھڑے رہنے کی اصل وجہ وہی ہوتے ہیں اور ساری دیوار کا بوجھ انھوں نے ہی اٹھایا ہوتا ہے۔ انھیں معمولی سمجھ کر بے وقعت قرار دے دینا عقل ودانش کا تقاضا ہرگز نہیں ہے۔
محترم خورشید احمد ندیم صاحب کو دوسرا اعتراض جہاد کے پرائیویٹ ہونے پر ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ جہاد کرنا صرف ریاست کا کام ہے، کسی پرائیویٹ جماعت یا فرد کا کام نہیں کہ وہ جہاد کا اعلان کرے اور اس کے لیے مسلح لوگوں کو تیار کر کے میدان جنگ میں دھکیل دے، مگر ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ فقہاے کرام نے جہاد کی جو مختلف صورتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں، ان کی روشنی میں یہ بات حالات پر منحصر ہے کہ پرائیویٹ سطح پر لوگوں کو جہاد کا فیصلہ کرنے اور اس کے لیے میدان میں آنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ اکثر وبیشتر صورتوں میں جہاد کا اعلان اور اقدام دونوں ریاست کا حق ہیں اور ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ایسی صورتوں میں ریاست ہی اس بات کی مجاز ہے کہ وہ جہاد کا اعلان کرے اور اس کے لیے عملی اقدام کرے، لیکن جہاد کی بعض صورتیں فقہا نے ایسی بھی لکھی ہیں جن میں ریاست کے اقدام اور فیصلے کے بغیر بھی عام لوگوں پر جہاد میں شرکت واجب ہو جاتی ہے حتیٰ کہ فقہاے کرام کی تصریح کے مطابق بعض صورتوں میں بیوی پر خاوند سے اجازت لینا بھی ضروری نہیں رہتا اور اس پر جہاد میں شریک ہونا واجب ہو جاتا ہے۔
یہ بات صرف فقہاے کرام تک ہی محدود نہیں بلکہ جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت وسیرت میں بھی اس کی مثال موجود ہے کہ صلح حدیبیہ میں کفار قریش نے یہ یک طرفہ اور غیر منصفانہ شرط ضد کے ساتھ معاہدے میں شامل کرا دی کہ اگر قریش کا کوئی شخص معاہدے کی دس سالہ مدت کے دوران مسلمان ہو کر مدینہ منورہ جائے گا تو نبی اکرم ﷺ اسے قریش کے مطالبے پر واپس بھجوانے کے پابند ہوں گے۔ اس کے بعد حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے مسلمان ہو کر مدینہ منورہ پہنچے تو قریش نے دو آدمی بھیج کر ان کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے معاہدے کے مطابق ابوبصیرؓ کو ان دو افراد کے ساتھ واپس بھجوا دیا۔ راستے میں ابوبصیرؓ نے موقع ملنے پر ان میں سے ایک کو قتل کر کے دوسرے کو بھگا دیا اور خود مدینہ منورہ آ گئے۔ وہ شخص بھی مدینہ منورہ پہنچا اور جناب نبی اکرم ﷺ کو ابو بصیرؓ کی کارروائی سے آگاہ کیا۔ آنحضرت ﷺ نے ابو بصیرؓ کو دوبارہ مکہ مکرمہ بھجوانے کا ارادہ کیا تو ابو بصیرؓ اس ارادے کو بھانپتے ہوئے وہاں سے کھسک گئے اور سمندر کے کنارے قریش کے شام کی طرف تجارتی راستے پر ایک جگہ ڈیرہ لگا لیا۔ مکہ مکرمہ میں اس طرح کے اور نو مسلموں کو پتہ چلا تو وہ بھی آہستہ آہستہ ان کے پاس جمع ہونے لگے اور اچھا خاصا جتھہ بن گیا۔ اب قریش کا جو تجارتی قافلہ اس راستے سے گزرتا، اس جتھے کی گوریلا کارروائیوں کا نشانہ بن جاتا، حتیٰ کہ قریش کے لیے اس راستے سے پرامن طور پر گزرنا ممکن نہ رہا۔ اس پر قریش نے جناب نبی اکرم ﷺ سے رابطہ قائم کیا اور یہ ’’گوریلا کیمپ‘‘ ختم کرنے کی شرط پر معاہدے کی مذکورہ شرط ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ اس شرط کے خاتمے پر نبی اکرم ﷺ نے ان مجاہدین کو کیمپ ختم کرنے کا حکم دے کر مدینہ منورہ بلا لیا۔
اب اگر محترم خورشید احمد ندیم کے فلسفے کی روشنی میں دیکھا جائے تو حضرت ابوبصیرؓ کی یہ کارروائی جناب نبی اکرم ﷺ اور قریش کے دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔ یہ پرائیویٹ جہاد تھا جس کی ریاست کی طرف سے اجازت نہیں تھی اور آج کے معروف معنوں میں یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی جس میں تجارت کے لیے جانے والے پرامن لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن یہی پرائیویٹ جہاد اور ریاستی نظم سے ہٹ کر مسلح جدوجہد تھی جس نے قریش مکہ کو اپنی غلط شرط پر نظر ثانی کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا اور جناب نبی اکرم ﷺ نے ان پرائیویٹ مجاہدین اور گوریلوں کی مسلح کارروائیوں کے سیاسی نتائج کو نہ صرف قبول کیا بلکہ انھیں باعزت طور پر واپس بلا کر مدینہ منورہ میں کسی باز پرس کے بغیر آباد کیا۔
دنیا کے کسی بھی حصے اور قوم کی آزادی کی تحریکات کو دیکھ لیا جائے، یہ مراحل ان میں لازمی طور پر ملیں گے۔ خود امریکہ کی جنگ آزادی کا مطالعہ کیا جائے تو اس کی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے، کیونکہ اس کے بغیر آزادی کی کوئی تحریک آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔ اس طرح جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی اندھی طاقت سے ٹکرا جانے والے گوریلے ہی قوموں کی آزادی کے اصل ہیرو ہوتے ہیں، اس لیے ہماری گزارش ہے کہ اگر مجاہدین کی جدوجہد اور قربانیوں کے اعتراف اور انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو کم از کم ان کی تحقیر تو نہ کی جائے اور انھیں جذباتی اور بیوقوف قرار دے کر ان کا تمسخر تو نہ اڑایا جائے۔
باقی رہا محترم خورشید احمد ندیم کا یہ ارشاد کہ اب مسلح تحریکوں اور قوت کے زور سے کوئی بات منوانے کا زمانہ گزر گیا ہے اور اب جو بات بھی ہوگی، مذاکرات کی میز پر ہی ہوگی، اگر ہمارے فاضل دوست ناراض نہ ہوں تو اس کے بارے میں یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ یہ وہی سبق ہے جو مغرب ہمیں پڑھانا چاہتا ہے۔ وہ مغرب جس نے خود تو اسلحہ کے ذخائر جمع کر رکھے ہیں، قوت وطاقت کا انبار لگایا ہوا ہے اور دنیا سے اپنی ہر بات طاقت، دھونس، دباؤ اور دھوکے کے ذریعے منوانے پر تلا ہوا ہے۔ اس کا ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ ہم ہتھیار کو بھول جائیں، طاقت اور قوت حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں اور ہر مسئلے پر صرف درخواستیں لکھ لکھ کر اس کی بارگاہ میں پیش کرتے چلے جائیں۔ مگر اسلام اس کی نفی کرتا ہے اور جناب نبی اکرم ﷺ نے الجہاد ماض الی یوم القیامۃ (جہاد قیامت تک جاری رہے گا) کا تاریخی جملہ ارشاد فرما کر اس فکر کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیا ہے۔ حالات اور طاقت کے جبر کا وقتی طور پر شکار ہو جانا اور بات ہے اور اسے ذہنی طور پر قبول کر لینا اور بات ہے، اور اسے اپنے موقف اور حکمت عملی کے لیے بنیاد قرار دے لینا اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔
(ابو عمار زاہد الراشدی، روزنامہ پاکستان، لاہور)
(۳) 
[یہ ایک فلسطینی کی کہانی ہے جس نے صہیونیوں کے مفاد میں اپنے دین اور ضمیر کا سودا کر لیا تھا اور ایک عرصے تک ’موساد‘ کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا رہا۔ آنکھیں کھلنے کے بعد اس نے ایک انٹرویو میں اپنی داستان بیان کی اور بعض انتہائی سنگین حقائق کا انکشاف کیا۔ اس کے انٹرویو کا ایک حصہ درج ذیل ہے:]

س: ہمیں معلوم ہے کہ بعض اسلامی اور قومی جماعتوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے میں تمھیں کامیابی ملی ہے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہوا؟
ج: درحقیقت صہیونیوں نے فلسطینیوں کی سادگی، دور اندیشی کے فقدان اور حالات کے تجزیے کی کمی کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے ہمیں مکلف کیا کہ ہم انٹرنیٹ پر اسلامی فلسطینی جہاد مقدس ، آزادی بیت المقدس، نوجوانان انتفاضہ کے نام سے ویب سائٹس جاری کریں اور ان ویب سائٹوں کے ذریعہ ہمیں بہت سے پرجوش نوجوانوں سے رابطے کا موقع ملا۔ یہ لوگ جہادی روح سے سرشار تھے۔ ہم نے انھیں مال اور ہتھیار سے لیس کیا اور انھیں بتایا کہ یہ مال انھیں کویت، اردن، خلیج اور مصر کے مال داروں کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔ 
اس طرح ہمیں اسلام اور جہاد کے نام پر مجاہدین کے اکثر حلقوں میں دراڑ ڈالنے اور ان کے اندر گھسنے کا موقع ملا اور اس سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ بعض جذباتی نوجوانوں کے ذریعے ہمیں ایسی کتابوں کی نشر واشاعت کا موقع ملا جو مسلمانوں کے درمیان فتنہ بھڑکانے اور تفرقہ ڈالنے والی تھیں۔ ان کتابوں کے لیے سرمایہ کاری اور طباعت کا کام موساد کے حساب پر ہوا۔ ان کتابوں میں ایسا مواد تھا جن سے مسلمانوں کے درمیان فروعی اختلافات پیدا ہو سکتے تھے۔ خاص طور پر فلسطین، پاکستان، یمن اور اردن میں شیعہ، سنی اختلافات کو ہوا دینے کے لیے ان ملکوں میں دسیوں موضوعات پر کتابیں شائع کی گئیں۔ بعض کتابیں شیعوں کے خلاف تھیں جن میں انتہائی گندے اور رکیک انداز میں ان پر حملہ تھا اور بعض دوسری کتابیں سنیوں کے خلاف شائع کی گئیں جن میں سنیوں پر شدید ترین حملہ کیا گیا تھا اور اس گھٹیا کام کے لیے دونوں طرف کے متعصب لوگوں کو استعمال کیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ ان کتابوں کی شان دار طباعت بعض خلیجی محسنین کے ذریعے انجام پا رہی ہے اور بقیہ کام سنی گروہ کے بعض عقل سے پیدل متعصب لوگوں نے انجام دیے۔ بہرحال ان کتابچوں کی طباعت اور نشر واشاعت کا مقصد مسلمانوں کے درمیان فتنہ اور بغض اور کینہ بھڑکانا تھا تاکہ یہ لوگ ایک دوسرے کی تکفیر اور آپس کے فروعی اور غیر ضروری معرکوں میں مشغول ہو جائیں اور اسرائیلی اسلام کو مٹانے، ارض فلسطین کو نگلنے اور مسلم نوجوانوں کی شناخت کو ملیا میٹ کرنے کے اپنے ناپاک عزائم میں آسانی سے کام یاب ہو جائیں۔ صہیونیوں کا بڑا ہدف مسلم نوجوانوں کو اخلاق کے لحاظ سے بے قید وبے راہ رو بنانا ہے یا انھیں ایک ایسے وجود میں تبدیل کرنا ہے جو زندگی کے اہم مسائل سے بے خبر ہوں اور ان کے دل اپنے مسلمان بھائیوں (خواہ شیعہ ہوں یا سنی) کے خلاف کینہ اور بغض وعداوت سے بھر جائیں۔
اس میں شک نہیں کہ اس پہلو سے موساد کو بڑی حد تک کامیابی ملی ہے۔ یہ بات یمن، پاکستان اور فلسطین میں قابل لحاظ حد تک دیکھنے میں آ رہی ہے کہ تمام مساجد اور نوجوانوں کے مراکز کو ان کتب سے بھر دیا گیا ہے جو نامعلوم صاحب ثروت لوگوں کے خرچ پر شائع کی جا رہی ہیں اور جنھیں بلاقیمت تقسیم کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ درحقیقت ان کتب کی پشت پر موساد کا ہاتھ ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت سے احمق مسلمان ، ائمہ مساجد، خطبا اور داعیان کرام پوری تن دہی اور اخلاص کے ساتھ ان کی نشر واشاعت میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ ان کتابوں سے متعلق کم سے کم جو بات کہی جا سکتی ہے، وہ یہ کہ یہ کتابیں فحاشی پر مبنی اور فتنہ پرور ہیں جبکہ فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔ یہ بیچارے اپنی ذہنی تنگی کے باعث یہ سوچ نہیں پاتے کہ یہ کتابیں جن سے کراہیت، نفرت، تفرقہ وفتنہ کی بو پھوٹ رہی ہے، اس کی اشاعت کے پیچھے حقیقی اہداف کیا ہیں اور بالخصوص آج کل کے حالات میں ان کی کیا ضرورت ہے۔
ان کتابوں کے اثرات پاکستان میں صاف طور پر دیکھنے میں آ رہے ہیں جہاں انھوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ یہاں سنیوں نے سپاہ صحابہ تشکیل کر لی ہے جس کے جوشیلے نوجوان شیعوں پر ان کے شعائر دینی، ان کے گھروں پر ان کی نمازوں کے درمیان حملے کر رہے ہیں اور مساجد میں نماز فجر کے درمیان اتنی بری طرح انھیں قتل کر رہے ہیں کہ ان مناظر کو دیکھ کر پیشانی شرم سے جھک جاتی ہے۔ اسی طرح شیعوں نے رد عمل کے طور پر سپاہ محمد بنا لی ہے اور اس کے بے ہوش نوجوان بھی سنیوں پر شدید حملے کر کے انھیں قتل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان دونوں سپاہ کے تصادم کے نتیجے میں ہر ماہ کوئی نہ کوئی خوں ریز واقعہ پیش آتا رہتا ہے اور ان کے ذریعہ دونوں فرقوں کی جانب سے سنگین قسم کے فتنے اٹھائے جا رہے ہیں اور دونوں کے درمیان غیر ضروری جنگ جاری ہے۔ ان دونوں سپاہ کے سورما دراصل (موجودہ زمانے کے) خوارج ہیں جن سے موساد مسلمانوں میں فرقہ واریت پھیلانے کے لیے خود فائدہ اٹھا رہی ہے اور اس کی منصوبہ بندی یمن میں بھی جاری ہے جہاں بڑے پیمانے پر اس جہت میں کام ہو رہا ہے جس کے افسوس ناک نتائج قریب ہی ظاہر ہوں گے۔ بالخصوص مسلکی فتنہ جو کام پاکستان اور یمن میں کر رہا ہے، وہ اب تک فلسطین میں بھی نہیں کر سکا ہے (۱)۔ 
(بہ شکریہ روزنامہ انصاف لاہور)
(۴)
اپنی زندگی کو ختم کرنے سے آدھا گھنٹہ قبل جمیل بے حد مصروف رہا۔ سی فور پلاسٹک دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی پک اپ پر بیٹھے ہوئے اس نے اپنے موبائل فون پر ۱۰۹ رابطے کیے۔ ان میں سے چند رابطوں میں اس نے صدر مشرف پر قاتلانہ حملے کے منصوبے میں شریک اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات کی۔ ۲۳ سالہ جمیل نے غالباً سوچا ہوگا کہ (موبائل پر رابطوں کی) جو شہادتیں وہ بہم پہنچا رہا ہے، مشرف پر حملے کے دوران میں ختم ہو جائیں گی لیکن اس کا اندازہ غلط تھا۔ نہ صرف یہ کہ وہ اور اس کا ایک ساتھی حملہ آور ۲۵ دسمبر کو پرویز مشرف کو قتل کرنے میں ناکام رہے بلکہ اس کے موبائل فون کی یادداشت کی مدد سے، جو تفتیش کاروں کو دھماکوں کے ملبے میں محفوظ مل گئی، حکام درجنوں مشتبہ شرکاے جرم تک پہنچا چکے ہیں۔ ان میں سے کافی لوگوں کا تعلق ایک انتہا پسند پاکستانی تنظیم ’جیش محمد‘ سے ہے۔ یہ جماعت کبھی مشرف حکومت کے ساتھ تھی لیکن اب اس کا تعلق القاعدہ کے ساتھ ہے جس کے لیڈر اسامہ بن لادن نے ایک حالیہ آڈیو ٹیپ میں مشرف کا تختہ الٹنے پر (اپنے ساتھیوں کو) اکسایا ہے۔
ایک فون کال جس نے خاص طور پر تفتیش کاروں کو پریشان کر دیا، جمیل اور صدر مشرف کے محافظ دستے کے ایک سپاہی کے مابین تھی۔ کیس کی تفتیش کرنے والے ایک افسر نے ’ٹائم‘ کو بتایا کہ اس سپاہی نے، جس کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جمیل کو اطلاع دی تھی کہ مشرف کون سی کار میں سوار ہوئے ہیں، کیونکہ صدر کئی decoy لیموسین کاریں استعمال کرتے ہیں۔ امریکی اور پاکستانی تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ ۱۴ دسمبر کے ناکام حملے کی منصوبہ بندی میں بھی، جس میں ایک پل کے نیچے پانچ بم فٹ کر دیے گئے تھے جو صدر کے وہاں سے گزرنے کے فوراً بعد پھٹ گئے، صدر مشرف کے محافظوں میں سے کوئی شخص ضرور شریک تھا۔ اس حملے کے حوالے سے بھی، جس میں صدر بال بال بچے، جیش محمد پر شک کیا جا رہا ہے۔ نئے حکم کے تحت صدر کے قافلے پر مقرر پولیس افسروں کو ڈیوٹی کے دوران میں موبائل فون ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ وہ مشرف پر حملوں میں حملہ آوروں کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
صدر کے محافظوں کی اندرونی مدد کے ساتھ جیش محمد کا اس قابل ہو جانا کہ وہ صدر پر اس طرح کے ماہرانہ حملے کروا سکے، خود مشرف کی پیدا کردہ صورت حال ہے۔ پاکستانی حکومت ایک طویل عرصے تک پہلے تو ہمسایہ ملک افغانستان سے سوویت یونین کو نکالنے اور پھر بھارت کے زیر تحویل کشمیر کے متنازعہ علاقے میں بھارتی فوج کو پریشان کرنے کے لیے انتہا پسند اسلامی گروپوں کو سپورٹ اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔ جیش محمد کو اسی دوسرے مقصد کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ سرکاری طور پر ان گروپوں کو برداشت کرنے بلکہ بعض اوقات ان کی مدد کرنے کی پالیسی ۱۹۹۹ء میں مشرف کے حکومت پر قابض ہونے کے بعد بھی جاری رہی۔ صدر مشرف، جیش محمد کے جنگجو قائد مولانا مسعود ازہر کے خاص طور پر بڑے حامی تھے۔ جب مسعود ازہر دسمبر ۲۰۰۰ میں قیدیوں کے تبادلے میں بھارتی جیل سے آزاد ہوئے تو انھیں کراچی میں ایک بہت بڑی ریلی منعقد کرنے کا موقع دیا گیا جس میں بندوقیں لہراتے ہوئے ان کے (ہزاروں) پیروکار شریک ہوئے۔ حتیٰ کہ ۲۰۰۱ء میں مشرف نے مختلف کشمیری گوریلا گروپوں کو ان کی قیادت میں متحد کرنے کی کوشش بھی جو ناکام رہی۔
انتہا پسندوں کے ساتھ حکومت کی اس رفاقت میں گیارہ ستمبر کے بعد اس وقت دراڑ پڑی جب مشرف نے اسلامی دہشت پسندی کے خلاف بش انتظامیہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود مشرف نے شروع میں اپنے ملک کے انتہا پسندوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ امریکی دباؤ کے تحت انھوں نے جنوری ۲۰۰۲ میں کئی انتہا پسند تنظیموں پر پابندی تو لگا دی لیکن ان کے قائدین کو عام طور پر کھلا چھوڑ دیا گیا اور تنظیموں کو نئے ناموں سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ جیش محمد کے حوالے سے مشرف کا رویہ اس باپ کا سا تھا جو اپنے بیٹے کے دیوالیہ ہو جانے کے بعد اس کو اپنا ماننے سے انکار کر دے۔ پاکستان کی انٹیلی جنس سروسز بھی، جو ان گروپوں کو تشکیل دینے اور بھارت کے زیر تحویل کشمیر میں در اندازی کروانے میں (باقاعدہ) کردار ادا کرتی رہیں، خود ملک کے اندر جیش محمد کی طرف سے مذہبی دہشت گردی پھیلانے کی کوششوں کے باوجودان گروپوں پر ہاتھ ڈالنے میں جھجھک محسوس کر رہی تھیں۔ حکومت اس تنظیم اور اس کے ذیلی گروپوں کو کراچی میں ہونے والے دونوں بم دھماکوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں: ایک مئی ۲۰۰۲ میں ہونے والا حملہ جس میں فرانس کے گیارہ بحری فنی ماہرین جاں بحق ہوئے، اور دوسرا جون ۲۰۰۲ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر ہونے والا دھماکہ ہوا جس میں بارہ پاکستانی شہید ہو گئے۔ اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلمان انتہا پسندوں پر سخت گرفت کرنے میں جھجھک محسوس کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان میں سے بیشتر گروپ ان مذہبی جماعتوں کے ساتھ منسلک تھے جن کی حمایت کی خود مشرف حکومت کو ضرورت تھی۔
اپنے اوپر دو حملے ہونے کے بعد مشرف کا رویہ بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ جمیل کے موبائل فون سے اکٹھی کی جانے والی معلومات کی مدد سے پولیس نے گزشتہ ہفتے وسطی پنجاب کے علاقے میں مختلف مسجدوں اور مدرسوں سے ۳۵ مشکوک افراد کو گرفتار کیا جن میں سے بیشتر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ جیش محمد سے منسلک ہیں۔ غیر معین تعداد میں کچھ لوگوں کو بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ تاہم امریکی حکام کو یہ تسلی ہے کہ مشرف آخر کار جیش محمد کا پیچھا کرنے کے بارے میں پرعزم ہو گئے ہیں۔ یہ بات امریکہ کی طرف سے بڑے عرصے سے کہی جا رہی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے کہا کہ ’’مشرف سنجیدہ ہیں۔ ۲۵ دسمبر کو انھیں ایک نئی زندگی ملی ہے۔‘‘
گزشتہ ہفتے جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں سے ایک جنوری ۲۰۰۲ میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں شریک جرم کے طور پر پہلے ہی مطلوب تھا۔ پاکستانی عدالت احمد عمر سعید شیخ کو، جو جیش محمد سے قریبی تعلق رکھنے والا ایک انتہا پسند ہے، پہلے ہی پرل کے اغوا کا مجرم قرار دے کر اسے سزائے موت دے چکی ہے (۲)۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ اصل میں پرل کو القاعدہ کے کمانڈر خالد شیخ محمود نے قتل کیا تھا، جسے امریکہ نے یکم مارچ ۲۰۰۳ کو گرفتار کر لیا اور اب وہ امریکی تحویل میں ہے۔ انسداد دہشت گردی کے ایک سینئر پاکستانی افسر کے مطابق اسے ڈیگو گارشیا کے ایک فوجی اڈے پر رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے ’ٹائم‘ کو بتایا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ۲۵ دسمبر کے حملے میں بھی القاعدہ ملوث تھی۔
القاعدہ اور جیش محمد کے آپس میں یقینی روابط ہیں۔ کشمیر میں بھارت سے جنگ کرنے سے پہلے ۹۰ کی پوری دہائی میں جیش محمد کے انتہا پسند افغانستان جا کر القاعدہ کے تربیتی کیمپوں میں شریک ہوتے رہے اور پاکستان کی انٹیلی جنس سروسز چشم پوشی کرتی رہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ آج کل جیش محمد کے کارکن القاعدہ کے دہشت گردوں کو پناہ فراہم کر رہے ہیں جبکہ القاعدہ ،جیش محمد کو فنڈز اور راہنمائی فراہم کرتی ہے اور غالباً قتل وغارت کے لیے ان کو ہدف بھی بتاتی ہے۔ اسلام آباد میں سکیورٹی امور کے ماہر ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ ’’فوج کا ان جہادی گروپوں کے ساتھ گہرا تعلق قائم رہا لیکن پھر یہ بالکل قابو سے باہر ہو گئے۔‘‘
صدر پر خود کش حملہ کرنے والا جمیل پاکستانی انٹیلی جنس کی نظروں میں تھا۔ ہمالیہ کے دامن میں بھارتی بارڈ کے قریب ایک قصبے راولا کوٹ کا رہنے والا یہ دبلا پتلا نوجوان طالبان کی جانب سے امریکیوں کے خلاف افغانستان میں لڑتا رہا۔ کابل کے سقوط کے موقع پر زخمی ہو جانے کے باعث اسے پاکستان واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ پشاور پہنچنے پر پاکستانی انٹیلی جنس سروسز نے اس سے پوچھ گچھ کی اور اپریل ۲۰۰۲ میں اسے بے ضرر قرار دے کر چھوڑ دیا۔ راولاکوٹ میں اس کے عزیزوں کے مطابق دوسرے بہت سے مسلم انتہا پسندوں کی طرح جمیل بھی مشرف کو مغرب کا ایجنٹ سمجھتا تھا۔ انتہا پسندوں کو شکایت ہے کہ مشرف نے طالبان کے ساتھ غداری کی اور اب جنوری میں بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کے لیے ان کی کوششوں کی بنا پر وہ یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ مشرف کشمیریوں سے بے وفائی کر رہے ہیں۔ ہمسایوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور مشرف کے خلاف جمیل اس قدر غم وغصے کا اظہار کرتا تھا کہ اس کے گھر والوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔ لیکن کیا جمیل ۲۵ دسمبر کے حملوں کا گروپ سربراہ تھا؟ وزیر داخلہ فیصل صالح حیات طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں۔ سربراہ خود کبھی اپنے آپ کو ہلاک نہیں کرتے۔ یہ اپنے ماتحتوں کو اس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘‘
مشرف پاکستانی انتہا پسندوں کا صفایا کرنے میں اب کتنے ہی پرعزم کیوں نہ ہوں، یہ کام لمبا اور خطرناک ہوگا۔ جمعرات کو کراچی میں دہشت گردوں نے ایک کرسچین سٹڈی سنٹر پر حملہ کر کے چودہ آدمیوں کو زخمی کر دیا۔ فیصل صالح حیات کہتے ہیں کہ ’’ان کے ہاتھ بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔‘‘ (پولیس اور فوج کو) مطلوب یہ گروپ اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ لاہور میں ان کے ایک سابقہ کمانڈر نے کہا کہ ’’لڑکے کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ بے حد مشتعل ہیں۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جہاد کے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔‘‘ 
(ہفت روزہ ٹائم، ۲۶ جنوری ۲۰۰۴ء)

حواشی

(۱) جنوری ۲۰۰۴ء میں عراق سے گرفتار ہونے والے القاعدہ کے ایک کارکن حسن گل سے پکڑی جانے والی بعض دستاویزات عراق میں القاعدہ کی طویل مدتی حکمت عملی کو واضح کرتی ہیں۔ اس میں طے کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے عراق کی شیعہ اور سنی آبادی کے مابین تصادم کرایا جائے۔ اس مقصد کے لیے شیعہ آبادی پر حملے کروائے جائیں تاکہ وہ جواب میں سنی آبادی پر حملے کریں اور اس طرح صورت حال حکومت کے قابو سے باہر ہو جائے۔ (ہفت روزہ ٹائم، ۲۳ فروری، ۲۰۰۴ء)

(۲) جولائی ۲۰۰۲ء میں جب احمد عمر سعید شیخ کو امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تو اس نے عدالت میں یہ دھمکی دی کہ: ’’دیکھتے ہیں، کون پہلے مرتا ہے۔ میں یا مشرف‘‘ ۔ صدر مشرف پر حالیہ قاتلانہ حملوں کے بعد تفتیش کار عمر شیخ کی اس دھمکی کو ایک جذباتی بیان سے بڑھ کر حیثیت دے رہے ہیں اور اسے اچانک میں حیدر آباد سے راول پنڈی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں قاتلانہ حملوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ (ہفت روزہ ٹائم، ۲ فروری ۲۰۰۴ء)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
از عتیق الرحمن سنبھلی۔ لندن
مورخہ جنوری ۲۰۰۴
بخدمت گرامی جناب ڈاکٹر صفدر محمود بالقابہ ۔ پاکستان
محترمی ڈاکٹر صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آج، ۴ جنوری کے جنگ میں جناب کے کالم (بعنوان ’’قرض اور فرض‘‘) پر نظر گئی تو شروع ہی میں حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کا نام خاص طور پر باعث ہوا کہ اسے پڑھوں۔ یہ آج کا کالم آپ نے جس سابق مضمون کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے، اس میں حضرت مولانا سے متعلق حصہ میں آپ کے آخری جملہ نے میرے دل میں تقاضا پیدا کیا تھا کہ کچھ گزارش کروں، مگر ایک دو بار کے سابق تجربہ کو یاد کر کے خیال ہوا کہ آپ ہی کیوں ایک اجنبی کی گزارش سے کوئی فرض اپنے اوپر عائد سمجھ لیں گے۔ یہ سوچ کر رہ گیا۔ مگر آج کے کالم نے جو اس دن کی بات یاد دلا دی ہے تو اب وہ آپ تک پہنچ ہی جانی بہتر لگتی ہے۔
میرے پاس آپ کا سابقہ مضمون محفوظ نہیں ہے کہ بعینہ الفاظ نقل کر سکوں، لیکن بات یاد ہے کہ آنجناب نے حضرت مولانا کا اپنے مبینہ خواب سے متعلق ارشاد نقل کر کے فرمایا تھا کہ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے بس آپ کے اسی جملہ پر کچھ عرض کرنے کا تقاضا ہوا تھا، اس لیے کہ اس میں تبصرہ نہ کر کے بھی آپ نے تبصرہ کے لیے کچھ نہ چھوڑا تھا۔ صرف ’’برہنہ گفتن‘‘ تک جانے سے احتیاط فرمائی تھی۔ اور پاکستانی تحریک کے ساتھ آپ کے قلبی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے مخالف تحریک بزرگوں کے معاملے میں اتنی احتیاط بھی قدرے قدر کی چیز تھی، ورنہ خیال ہی نہ ہوتا کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کیا جائے۔ بہرحال عرض یہ کرنا تھا کہ اہل کتاب جو اپنے بہت سے مذہبی رویوں پر اصرار کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے دیا کرتے تھے تو اس سلسلہ میں ایک موقع پر قرآن پاک میں ان سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا گیا ہے: (ترجمہ) ’’سنتے ہو، تم لوگ جھگڑ چکے اس بات میں جس کی تمھیں کچھ خبر تھی، سو اب کس بنیاد پر جھگڑتے ہو ان باتوں میں جن کا تمھیں علم نہیں؟‘‘ (آل عمران۔ ۶۶) معاف کیجیے گا، میرا مقصد آپ کے علمی مقام کی تنقیص نہیں ہے، صرف ازراہ خیر خواہی اس طرف توجہ دلانا ہے کہ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، جن سے سیاسی اختلاف کا کچھ بھی حق آپ جیسے اہل علم کو ہو، تاہم علم دین میں ان کے مقام اور مرتبہ سے اگر زیادہ نہیں تو اتنی واقفیت کے بعد بھی (جس سے آپ جیسے حضرات کی ناواقفیت کا تصور مشکل ہے) کہ وہ دیوبند جیسی مسلمہ درس گاہ کے صدر نشیں تھے، دینی معاملات میں ان کے کسی ارشاد پر اس طرح کے تبصرہ کا حق بھی اپنے لیے سمجھنا اپنے حدود سے تجاوز کے زمرہ کی بات ہے۔
میں خود کوئی ایسا صاحب علم نہیں، مگر حضرت مولانا جیسے بزرگ اہل علم کی جوتیاں سیدھی کرنے کے طفیل جو تھوڑی شد بد ہے، اس کی بنیاد پر عرض کرتا ہوں کہ حضرت مولانا نے جو یہ فرمایا تھا کہ ان پر جو کچھ منکشف ہوا، وہ تکوینی معاملہ ہے، اس سے ان کے لیے کوئی امر ونہی ثابت نہیں ہوتی ہے، تو یہ عین حق ہے۔ اور یہ انھیں کے جیسے اصحاب علم کا مقام ہے کہ تکوین اور تشریع کے باریک فرق کو سمجھ سکیں۔ عام آدمی تو واقعی کہہ اٹھے گا اور قابل معافی ہوگا کہ لیجیے صاحب، اللہ تبارک وتعالیٰ نے مولانا حسین احمد صاحب کو براہ راست بتا دیا کہ ہمارا فیصلہ پاکستان بنوانے کا ہے، لیکن (معاذ اللہ) وہ اللہ کی بھی مان کے نہیں دیے! مگر آپ کے درجہ کے اہل علم سے اگر یہ ’’دخل در معقولات‘‘ دیکھنے میں آئے تو ایک سانحہ ہی کہا جائے گا۔ عالم بالا کے فیصلے جنھیں تکوینیات کہا جاتا ہے، وہ جہاں ایسے ہوتے ہیں کہ جب پردۂ غیب سے ظہور میں آئیں تو ہم شاداں وفرحاں ہوں، وہیں ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنی بد قسمتی کو روئیں۔ یہ افغانستان اور عراق پہ جو قیامت ان دنوں ٹوٹی ہے، یہ بھی تو تکوینی فیصلوں ہی کا ظہور ہے۔ اب اگر کوئی اللہ والا عالم کشف یا خواب میں انھیں دیکھ چکا ہو تو کیا اسے چاہیے کہ کوئی کوشش اس ہونے والے حادثہ کے روک تھام کی نہ کرے؟ حضرت مولانا کی رائے میں پاکستان کا قیام مسلمانان ہند کی مجموعی مصلحت کے خلاف تھا، اس لیے وہ اپنی ملی اور شرعی ذمہ داری سمجھتے تھے کہ جو کچھ بھی اس کی مزاحمت کی راہ میں کر سکتے ہیں، کریں۔
اور ڈاکٹر صاحب، یہ تو تکوینیات کا معاملہ ہے جس کا کوئی بندہ پابند نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے کچھ منافقین کے بارے میں صراحتاً اپنا فیصلہ بتایا جاتا ہے کہ ’’آپ اگر ستر مرتبہ بھی ان کی بخشش ہم سے مانگیں تب بھی ہم ان کو بخشنے والے نہیں ہیں۔‘‘ پھر بھی آپ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے کو بڑھتے ہیں۔ اور چونکہ نماز جنازہ کی حقیقت دعاے مغفرت ہے، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ دامن کش ہوتے ہیں کہ یا رسول اللہ، آپ اس کی نماز پڑھائیں گے جس کے لیے اللہ فرما چکا کہ ستر بار بھی دعا ہو تو قبول نہیں؟ رحمت عالم نے فرمایا، تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ دعا کروں گا۔ حتیٰ کہ اللہ کی طرف سے صاف ممانعت ہی نازل ہو گئی کہ: ’لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ‘ ’’اور کبھی بھی نماز نہ پڑھیں ان میں سے کسی مرنے والے کی، نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔‘‘ (التوبہ: ۹۔۸۴)
محترم، اگر آپ خیال فرمائیں کہ آپ کا سابقہ مضمون ایک دینی مسئلہ میں اور دینی شخصیت کی بابت غلط فہمی کا باعث بنا ہوگا تو ان سطور کی اشاعت پر بھی غور فرمائیں۔ ورنہ کم از کم اتنی توقع تو رکھوں گا ہی کہ آپ کے رد عمل سے آگاہ کیا جاؤں۔ ( ڈاکٹر صاحب کی طرف سے خط کا کوئی جواب یا رسید مولانا کو نہیں بھجوائی گئی۔ مدیر)
والسلام ۔ خاکسار 
عتیق سنبھلی
(۲)
۱۲ فروری ۲۰۰۴۔ جمعرات
۲۰/۱۲/۲۴
محترم پروفیسر میاں انعام الرحمن مدظلکم ومتعنا اللہ بکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ علیٰ کل حال
آپ کا فکر انگیز مقالہ ’’ارضی نظام کی آسمانی رمز‘‘ ماہنامہ ’الشریعہ‘ گجرانوالہ کے جنوری/ فروری ۰۴ کے شمارے میں نظر سے گزرا۔ ذاتی طور پر میں اس بیش بہا تجزیاتی تحریر کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اس سلسلے میں بعض باتیں عرض کرنی ہیں جنھیں میں بلا کم وکاست، گو مختصراً، عرض کیے دے رہا ہوں، لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کا یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس میں تنقید کا کوئی پہلو ہرگز نہیں۔ یوں بھی آپ ایک ذی وقار معلم ہیں اور معلم کا وقار، معلم انسانیت ﷺ کے فرمان کے مطابق بہت بڑا مقام رکھتا ہے۔
ہم ایک علم دشمن، ہنر گریز، فن بیزار، تحقیق ناآشنا مگر جہل خود سند ملت ہیں۔ ہمارا اجتماعی جہل اب مستند ترین ہے۔ ملی فضاے بسیط پر طاری وساری اس مایوسی کے اندھیاروں میں اگر کہیں سے بھی امید کی کوئی کرن نظر آ جاتی ہے تو امید وبیم کی کشمکش میں سانس کچھ تیز سی چلنے لگتی ہے۔ فکر ونظر کی یہ جاں بخش روشنیاں کچھ ’الشریعہ‘ ہی میں نظر آتی ہیں۔ عرصہ ہوا، دینی اداروں کے جرائد کو چھونے سے بھی توبہ کر رکھی تھی کہ ان میں سواے بھس کے کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس مرد قلندر، جناب زاہد الراشدی سلمہم اللہ کو سلامت رکھیں جن کی جرات رندانہ نے اس رسالہ کا ’’فورم‘‘ قائم کیا۔ میں آپ کے مضمون کے لیے اور اسی بنا پر ’الشریعہ‘ کی ندرت فکر کے لیے اللہ تعالیٰ کا اور آپ حضرات کا شکر گزار ہوں۔ میں کون ہوں، اس وضاحت کی کم از کم فی الحال فوری ضرورت لاحق نہیں۔ آپ کے در پر یہ دستک تو ملت کے ایک فرد کی طرف سے کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے ہے۔
آپ کا یہ تجزیاتی مضمون حقائق کا مرقع ہے اور اپنی طرز کا نادر بھی۔ لیکن اس کی زبان اور اس کی انشا پر کاملاً انگریزی طرز نگارش کی چھاپ ہے۔ اس قسم کے تجزیاتی مضامین کی آج کے دور میں بے حد ضرورت ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہ دینی درس گاہوں سے فارغ طبقہ ہو کہ کالجز اور یونیورسٹیز کا، علم کے اس بحر زخار کی غواصی تو کیا کر پائے، کنارے کنارے بھی نہیں شناوری کر سکے گا۔ ذاتی طور پر چونکہ یہ بندۂ عاجز وبے نوا کئی زبانوں سے علاقہ رکھتا ہے، اس مضمون سے نہ صرف بہرہ ور ہوا بلکہ اس دھنک نے آنسوؤں کے تار دامن میں بھر دیے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین۔ لیکن میں نہایت عاجزی سے التماس کروں گا کہ اس پر غور فرمایا جائے کہ آپ کی انشا ایسی ہو کہ ہمارے دینی مدارس کے اساتذہ استفادہ کر سکیں۔ ساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی۔
آپ جدید علوم سے، خاص طور پر جدید علم سیاسیات، معاشرتی علوم، نفسیات اور علم تاریخ کے ابواب میں خاص طور پر ثروت مند ہیں۔ ادب وشاعری کے میدانوں کے شہسوار ہیں۔ میں عمر کی اڑسٹھ سیڑھیاں طے کر چکا ہوں۔ جدید وقدیم علوم کے نامور قسم کے حاملین سے واسطہ رہتا ہے۔ میں اس تہی دامن ملت کا فرد ہوں۔ گھوڑا اور میدان ہر دو کو دیکھا اور پرکھا ہے۔ بس اتنا ہی عرض کروں گا کہ کچھ نہ کہنا بہتر ہے کیونکہ ہونٹ بھی اپنے ہیں اور دانت بھی اپنے ہی ہیں۔
میری گزارش ہے کہ اپنی تحریر کو بالخصوص ہمارے علما کو سامنے رکھ کر لکھیے۔ اس طبقے کو ۹۵ فیصد حضرات اردو ادب سے قطعی نابلد ہیں۔ آپ ذرا ان کی تصنیفات ہی دیکھ لیں۔ گھر کی بولی میں فارسی کے رستے زخم اور عربی کے گومڑ ٹانک دینے کو اردو نہیں کہا جا سکتا۔ جدید علوم سے یہ حضرات اس وحشت کی حد تک نابلد ہیں کہ ان کتابوں کو چھو بھی لیں تو انہیں ذہنی احتلام ہو جاتا ہے، جبکہ جدید طبقہ --- جی ہاں، اس عاجز سے ملنے کئی پی ایچ ڈی حضرات بھی آتے ہیں --- مطالعہ سے بے بہرہ، انگریزی ایسی کہ انگریز اپنی قبر میں بے چین ہو جائے، اور اردو ! میرا خاموش رہنا بہتر ہے۔ مگر ان حضرات پر کیا دوش؟ ہم نے دو نسلوں سے پڑھایا کیا ہے؟
تلاش ذات، ثقافتی اپج، ظرافت بطور قدر، حضوری، یہ معاشرے کی تشکیل کے وہ عناصر ہیں جن کے ذکر سے قرآن کریم اور حدیث مبارک کا دفتر بھرا پڑا ہے۔ تاریخ کا شعور سب سے بڑی بات ہے۔ قرآن کریم تو ہے ہی تاریخ عروج وزوال امم اور قانون عروج وزوال امم۔ آپ کا مضمون پڑھتے ہوئے عرب پروفیسر محمد عثمان نجاتی کی عربی تصانیف ’القرآن وعلم النفس‘ اور ’الحدیث النبوی وعلم النفس‘ کے مندرجات کارواں در کارواں یادوں کے افق سے گزرنے لگے۔
دنیا میں جہاں کہیں جمال نظر آتا ہے، میاں جی جان کائنات طٰہ سیاں ﷺ کے جمال جہاں آرا کا صدقہ ہے۔ آپ کا مضمون آپ کی جمالیاتی حس کے اعلیٰ وارفع ہونے کا غماز ہے۔ میاں جی سیاں ﷺ ہی کا حکم ہے: ’کلموا الناس علی قدر عقولہم‘ (Talk to the people on their level of intelligence) اس لیے اگر آپ ان تجزیاتی نکات کو، نوبت بہ نوبت، علما کو اور جدید طبقہ کو سامنے رکھ کر دوبارہ لیکن نئے مضامین کے روپ میں لکھیں اور سبک وسلیس مثالیں، بطور توضیح، دے دیا کریں تو مجھے یقین ہے کہ ہر قاری کی فکر میں نئے دریچے کھلیں گے۔ صدیاں گزریں، من حیث الملت ہماری فکر کے دریچے کچھ یوں بند ہیں کہ پچھلا سرمایہ بھی کائی اور پھپھوند آسودہ ہے (آلودہ تو معمولی بات ہے) ؂ ’جہاں تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود‘ کتنا سچ ہے۔ 
؂ آنکھیں سوکھی ہوئی ندیاں ہو گئیں اور طوفان بدستور آتے رہے
کے مصداق، دل میں سخن ہاے گفتنی کا ایک طوفان برپا ہے، لیکن میں نے اپنے ذہن ودل اور قلم کو اس پر راضی کر لیا ہے کہ وہ مندرجہ بالا گزارش پر ہی اکتفا کر لیں۔ آخر میں، مجھے یقین ہے کہ آپ اس تحریر کو تنقید پر محمول نہیں فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی فکر ونظر کو بلندیاں عطا فرماتا رہے۔ آمین
فقط والسلام۔العبد العاجز
سید عماد الدین قادری
گلشن معمار۔ کراچی

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ پاکستان

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے جنوری کے تیسرے عشرے میں پاکستان کا دورہ کیا اور کراچی، لاہور، ملتان، چیچہ وطنی، ساہیوال اور اسلام آباد میں مختلف دینی مدارس ومراکز کے معائنہ اور سرکردہ علماے کرام سے ملاقاتوں کے علاوہ ۲۱ جنوری کو دو روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے۔ انھوں نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ اور طلبہ کی مشترکہ نشست میں موجودہ عالمی صورت حال اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کو اسی عنوان پر لیکچر دیا۔ انھوں نے جامعہ مدینہ جدید رائے ونڈ لاہور، دار بنی ہاشم مہربان کالونی ملتان، مرکزی جامع مسجد چیچہ وطنی، جامع مسجد عثمان غنی جی ٹین مرکز اسلام آباد، ادارۂ علوم اسلامی بھارہ کہو اسلام آباد، جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی، دفتر عالمی مجلس احرار اسلام نیو مسلم ٹاؤن لاہور اور دیگر اداروں میں علماے کرام اور دینی راہ نماؤں سے عالم اسلام کے مسائل پر تبادلہ خیالات کیا اور متعدد اجتماعات سے خطاب کیا۔ انھوں نے کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی سے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن میں ملاقات کی اور گوجرانوالہ میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی سے ورلڈ اسلامک فورم کے معاملات اور دیگر امور پر صلاح مشورہ کیا۔ لیسٹر برطانیہ کے تعلیمی ادارہ دار ارقم کے ڈائریکٹر مولانا محمد فاروق ملا بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اپنے خطابات میں اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے پوری نسل انسانی سے خطاب کر کے اپنی دعوت پیش کی تھی لیکن ہم نے نسل انسانی سے مخاطب ہونا چھوڑ دیا ہے اور اپنے محدود مسلکی، علاقائی اور طبقاتی حلقوں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے دنیا میں ہر دور میں دو مقاصد کے لیے کام کیا ہے۔ایک یہ کہ انسان کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے جڑ جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا راستہ اختیار کر لے اور دوسرا یہ کہ انسان کو انسان کی خدائی سے نجات دلائی جائے اور زبردستی خدا بن بیٹھنے والوں کے جبر سے غریب انسانوں کی جان چھڑائی جائے۔ آج پھر مٹھی بھر لوگ پوری دنیا کے خدا بن بیٹھے ہیں اور زمین کے بیشتر وسائل پر قبضہ کر کے پوری نسل انسانی کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ اس ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھانا اور انسان کا رشتہ اس کے خالق ومالک کے ساتھ پھر سے جوڑنا ہماری ذمہ داری ہے اس لیے کہ اب اس کام کے لیے کوئی نبی نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ﷺ کے امتی کی حیثیت سے یہ ذمہ داری ہم پر آتی ہے کہ ہم اپنے محدود حلقوں سے باہر نکل کر پوری نسل انسانی کو مخاطب بنائیں اور سب انسانوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ غریب انسانوں کو جھوٹے خداؤں کے جبر اور استحصال سے نجات دلانے کی محنت کریں۔
انھوں نے علماے کرام پر زور دیا کہ وہ آج کے حالات اور تقاضوں کو سمجھیں اور جدید علمی وفکری چیلنجز کا ادراک حاصل کر کے قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان کے بارے میں امت مسلمہ کی راہ نمائی کریں۔ انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آج مغرب مادی وسائل، سائنس، ٹیکنالوجی اور سیاست ومعیشت میں ہم سے بہت آگے ہے اور ہم کسی شعبہ میں بھی اس کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ مغرب فکری لحاظ سے تہی دامن ہے اور اس کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے۔ آج دنیا کا منظر یہ ہے کہ فکری اور تہذیبی ورثہ مسلمانوں کے پاس ہے اور وہ قرآن وسنت کی محفوظ تعلیمات کی دولت سے مالامال ہیں لیکن دنیاوی اسباب اور مادی وسائل کے حوالہ سے تہی دست ہیں جبکہ مغرب دنیاوی اسباب اور مادی وسائل کے ساتھ ساتھ عسکری قوت اور بالادستی سے مالامال ہے مگر فکری اور تہذیبی لحاظ سے تہی دامن ہے۔ اس صورت حال میں ہماری ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ہم دنیا تک خدا کا پیغام پہنچانے اور پوری نسل انسانی کو جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت واسوہ سے روشناس کرانے کے لیے کمربستہ ہو جائیں کیونکہ آج بھی دنیا کی نجات وفلاح اسی پیغام میں ہے۔
مولانا منصوری نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے پروگرام اور معمولات کا جائزہ لیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ الشریعہ اکادمی آج کے حالات اور تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے علمی اور عملی پیش رفت کر رہی ہے۔

مولانا محمد عامر انور کی شادی خانہ آبادی

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے رفیق کار مولانا محمد عامر انور ۷ فروری ۲۰۰۳ء کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی اور رفقاے کار مولانا محمد یوسف، مولانا حبیب نجار، مولانا محمد عمار ناصر، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور مولانا احسن ندیم نے ۹ فروری کو چک ۶۴ جنوبی، سلانوالی، ضلع سرگودھا میں ان کی دعوت ولیمہ میں شرکت کی اور ان کی خانہ آبادی پر انھیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد پیش کی۔ 

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’نور علیٰ نور‘‘ کا قرآن نمبر

کراچی سے مولانا عبد الرشید انصاری کی زیر ادارت ماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ نے قرآن کریم کے حوالہ سے ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے جس کا پہلا حصہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جو ممتاز اہل قلم کی نگارشات پر مشتمل ہے اور قرآن کریم کی جمع و تدوین، ناموس رسالت، عقیدۂ ختم نبوت، عظمت صحابہؓ، قرآن کا نظام اور تجوید و قراءت کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق و فرائض کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات جیسے اہم عنوانات کا احاطہ کرتا ہے۔ 
یہ نمبر معنوی اور صوری لحاظ سے مولانا عبد الرشید انصاری کے حسن ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔ عمدہ کمپوزنگ اور طباعت کے ساتھ پونے چار سو صفحات کے لگ بھگ اس خصوصی اشاعت کی قیمت ۲۵۰ روپے ہے اور اسے مسجد عائشہ صدیقہ، سیکٹر 11/B ، نارتھ کراچی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ ‘‘

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی شخصیت، حالات اور خدمات پر مختلف جرائد میں شائع ہونے والے مضامین کا ایک جامع انتخاب جناب محمد راشد شیخ کی کاوش سے المیزان پبلشرز، ۲۳۴۔ المعصوم ٹاؤن، گلی ۷، ڈاک خانہ فوارہ چوک، فیصل آباد نے شائع کیا ہے جس میں ڈاکٹر صاحب مرحوم کی تصانیف کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کے متعدد مکتوبات بھی شامل اشاعت ہیں۔ 
۵۰۰ کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل اس مجموعہ کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے۔

’’بیسل سے بغداد تک‘‘

ممتاز مصنف اور صحافی جناب محمود جاوید نے اسرائیل کے قیام کے لیے ۱۸۹۷ء میں ترتیب دیے جانے والے منصوبہ سے ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی قبضہ تک صہیونی سازشوں کو تاریخی دستاویزات کے حوالہ سے بے نقاب کیا ہے اور بتایا ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے قیام اور اس کی بالادستی کے لیے مغربی استعمار نے کن مراحل میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے پس منظر اور موجودہ عرب اسرائیل کشمکش کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید بلکہ ضروری ہے۔
تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۳۰۰ روپے ہے اور اسے حاصل کرنے کا پتہ یہ ہے: A-19، سرینہ ٹاورز، سخی حسن چورنگی، نارتھ ناظم آباد، کراچی

’’صدائے محبت‘‘

جناب محمد موسیٰ بھٹو عصر حاضر کے ان دانش وروں میں سے ہیں جو انتہائی خاموشی اور دل جمعی کے ساتھ فکری محاذ پر سرگرم عمل ہیں اور اردو اور سندھی میں اسلامی افکار و تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کے علاوہ معاصر ارباب دانش اور اہل فکر کے ساتھ مراسلت اور تبادلہ افکار کا رابطہ بھی رکھتے ہیں۔ بہت سے ممتاز ارباب علم و فکر کے نام ان کے خطوط کا مجموعہ سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، ۴۰۰۔بی، لطیف آباد نمبر ۴، حیدر آباد سندھ نے شائع کیا ہے جو بیسیوں فکری مسائل اور علمی امور کی طرف اہل فکر و دانش کو توجہ دلاتے ہیں۔
ضخامت : ۳۹۶ صفحات۔ قیمت : ۱۲۰ روپے۔

’’مولانا مفتی محمودؒ ۔ درویش سیاست دان‘‘

ملک کے معروف صحافی اور کالم نگار سید انور قدوائی نے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی شخصیت اور کردار پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے بارے میں اپنی خوب صورت یادیں قلم بند کی ہیں جن سے قومی سیاست میں حضرت مفتی صاحب کی مسلمہ حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب میں سید انور قدوائی کے تاثرات کے علاوہ نواب زادہ نصر اللہ خانؒ، میاں طفیل محمد، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، سردار محمد عبد القیوم خان، محمد صلاح الدین اور جناب مصطفی صادق کی نگارشات بھی شامل ہیں۔
۲۰۰ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے اور اسے جمعیۃ پبلیکیشنز، متصل مسجد پائلٹ ہائی اسکول، وحدت روڈ، لاہور نے شائع کیا ہے۔

’’حیات بخاریؒ ‘‘

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی حیات و خدمات پر ان کے پرانے رفیق خان غازی کابلی مرحوم نے ایک عرصہ قبل قلم اٹھایا تھا مگر یہ کتاب مدت سے ناپید تھی۔ احرار فاؤنڈیشن، 69/C، حسین اسٹریٹ، نیو مسلم ٹاؤن، وحدت روڈ، لاہور نے نئے انداز سے اسے شائع کیا ہے اور جناب شاہد بخاری نے اس میں مزید معلومات کا بھی اضافہ کیا ہے۔
دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ایک سو بیس روپے ہے۔

’’اقبالیات شورشؒ ‘‘

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے شارحین اور پیروکاروں میں آغا شورش کاشمیریؒ کا مقام بہت بلند ہے۔ انہوں نے نہ صرف اقبال کی شخصیت، کلام اور افکار سے نئی نسل کو متعارف کرایا بلکہ اقبال کے نام کو اپنے اپنے غلط افکار کے لیے استعمال کرنے والوں کا بھی زندگی بھر تعاقب کیا۔ ہمارے فاضل دوست مولانا مشتاق احمد مدرس جامعہ عربیہ چنیوٹ نے آغا شورش کاشمیریؒ کی تحریروں کو کھنگال کر ان میں سے علامہ اقبالؒ کے بارے میں ان کی منتخب تحریروں کو مرتب کیا ہے جو آج کے دور کی اہم ضرورت تھی۔
احرار فاؤنڈیشن پاکستان کی شائع کردہ اس مجلد کتاب کے صفحات ۳۸۴ اور قیمت ۱۶۰ روپے ہے۔ اسے مذکورہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ 

’’خطبات بنگلور‘‘

یہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے خطبات سیرت کا مجموعہ ہے جو انہوں نے بنگلور میں جناب نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ اور تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر ارشاد فرمائے۔ 
صفحات : ۲۰۸ مجلد۔ قیمت : ۶۰ روپے۔ ملنے کا پتہ : مکتبہ ندویہ، پوسٹ بکس ۹۳، ندوۃ العلماء، لکھنؤ، انڈیا

ماہنامہ ’’القاسم‘‘ (تذکرہ و سوانح مولانا سید سلیمان ندویؒ )

جنوبی ایشیا کی علمی و سیاسی دنیا میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں۔ جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد نوشہرہ کے سربراہ مولانا عبد القیوم حقانی نے حضرت السیدؒ کے سوانح و افکار پر ماہنامہ ’’القاسم‘‘ کی خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے جس میں حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیات و خدمات کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
یہ مجلد نمبر ۴۵۶ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت درج نہیں ہے۔

’’قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟‘‘

مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ برصغیر میں آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ قرآن فہمی کی تحریک میں بھی حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی جماعت کے اہم مفکر اور راہ نما ہیں اور بعض تفردات کے باوجود قرآن فہمی کی جدوجہد میں ان کی حیثیت مسلمہ ہے۔ ان کا گراں قدر مقالہ ’’قرآن کریم کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟‘‘ سندھ ساگر اکادمی، ۲۱ عزیز مارکیٹ، اردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے جس کے صفحات ۱۱۲ اور قیمت ۶۰ روپے ہے۔

’’انجیل بارناباس کا تحلیلی جائزہ‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں حضرت بارناباسؓ کی شخصیت کا تذکرہ مستند تاریخ میں ملتا ہے اور ان کی مرتب کردہ انجیل بھی تاریخ کے ریکارڈ میں موجود ہے مگر بہت سے مسیحی حلقے ان کی شخصیت اور ان کی مرتب کردہ انجیل کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ محترم بشیر محمود اختر نے اس سلسلے میں اصل صورت حال کا تجزیاتی جائزہ لیا ہے جو اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بہت مفید کاوش ہے۔ 
۱۱۲ صفحات کا یہ تحقیقی مقالہ مجلس علم و ادب، قاضی ہاؤس، منصور ٹاؤن، ایبٹ آباد نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۶۰ روپے ہے۔

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدیؒ ‘‘ (تین اہم رسائل)

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور حضرت امام مہدیؒ کے ظہور کے بارے میں امت کے دو نامور محققین و محدثین امام جلال الدین سیوطیؒ اور امام ابن حجر مکی ہیتمیؒ کے گراں قدر رسالوں کو ہمارے فاضل دوست مولانا قاری قیام الدین الحسینی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور الطاف اینڈ سنز، پوسٹ بکس ۵۸۸۲، کراچی ۷۴۰۰۰ نے معیاری انداز میں اسے شائع کیا ہے۔ سوا تین سو سے زائد صفحات کی اس کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔

’’تذکرہ اراکان برما‘‘

میانمار (برما) کے مسلم اکثریت کے صوبہ اراکان کے مسلمان اس وقت اپنے دینی تشخص اور آزادی کے لیے جو جاں گسل محنت کر رہے ہیں اور مصائب و آلام کے جن صبر آزما مراحل سے گزر رہے ہیں، اس سے ہمارے ملک کے اکثر مسلمان بلکہ علمائے کرام تک آگاہ نہیں ہیں۔ مولانا حافظ محمد صدیق اراکانی نے اس سلسلے میں تاریخی حقائق اور موجودہ صورت حال کو بڑی محنت کے ساتھ مرتب کیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کی طرف توجہ دلائی ہے۔ نیز اراکان کے تاریخی پس منظر اور وہاں کے مسلمانوں کی جدوجہد پر روشنی ڈالی ہے۔
صفحات : ۴۱۰۔ ملنے کا پتہ: مکتبہ فیضیہ، برمی کالونی، ۳۶/جی، لانڈھی، نزد دار العلوم کراچی۔ قیمت درج نہیں۔

جناب محمد طاہر رزاق کی تصانیف

جناب محمد طاہر رزاق قادیانیت کے رد اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے محاذ پر مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں اور اس حوالے سے ان کی متعدد تصانیف منظر عام پر آ چکی ہیں۔
’’قادیانی افسانے‘‘: جناب محمد طاہر رزاق نے قادیانیت کے حوالہ سے مختلف حقائق کو افسانوی انداز میں بے نقاب کیا ہے اور نئی نسل کو قادیانیوں کے دجل وفریب سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔ اس مجلد کتابچہ کے صفحات ۱۳۴ اور قیمت ۵۰ روپے ہے۔
’’قادیانیت‘‘ : یہ مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جس میں قادیانیت کے متعدد پہلوؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو اس فتنہ سے خبردار کیا گیا ہے۔ صفحات: ۳۵۸۔ قیمت: ۱۰۰ روپے
’’قادیانیت شکن‘‘ : اس مجموعے میں بھی مذکورہ موضوع پر مختلف مضامین کو جمع کیا گیا ہے اور پونے تین سو سے زائد صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۷۵ روپے ہے۔
مذکورہ تمام کتب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

’’موذن کا مقام اور اذان کی اہمیت و فضیلت‘‘

مولانا حبیب الرحمن ہاشمی نے اذان کے بارے میں احادیث کے ذخیرہ سے بہت سی مفید معلومات خوب صورت انداز میں جمع کی ہیں اور اذان کی فضیلت و اہمیت کے ساتھ ساتھ مؤذن کے مقام پر روشنی ڈالی ہے۔
۱۲۸ صفحات کی یہ مجلد کتاب مکتبہ قاسمیہ ملتان نے شائع کی ہے۔ اس کی قیمت ۶۰ روپے ہے اور اسے بخاری اکیڈمی، مہربان کالونی، ملتان سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

ماہنامہ ’’التبلیغ‘‘ راولپنڈی

ادارۂ غفران راولپنڈی نے ماہنامہ ’’التبلیغ‘‘ کے نام سے ایک دینی و اصلاحی جریدہ کا آغاز کیا ہے جس کا پہلا شمارہ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ مولانا مفتی محمد رضوان اس کے مدیر ہیں اور اس میں مختلف عنوانات پر علمی اور اصلاحی مضامین کو شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ کمپوزنگ اور طباعت معیاری ہے۔ فی شمارہ پندرہ روپے اور سالانہ زر مبادلہ ڈیڑھ سو روپے ہے۔ ملنے کا پتہ: ماہنامہ ’’التبلیغ‘‘، ادارہ غفران، پوسٹ بکس ۹۵۹، راولپنڈی

’’اوراد ووظائف‘‘

ہمارے ملک کے معروف خطیب مولانا عبد الکریم ندیم نے قرآن و سنت کی روشنی میں دینی و دنیاوی پریشانیوں کے حل کے لیے ’’اوراد و وظائف‘‘ کے عنوان سے یہ مختصر مجموعہ مرتب کیا ہے اور روز مرہ ضروریات و معمولات کے حوالہ سے مسنون دعاؤں اور وظائف کی طرف راہ نمائی کی ہے۔ 
صفحات : ۶۴۔ ملنے کا پتہ: انجمن خدام الاسلام حنفیہ قادریہ، مسجد امن، جی ٹی روڈ، باغبانپورہ، لاہور۔