جون ۲۰۰۴ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
انسانی حقوق کا عالمی منشورادارہ 
دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیتپروفیسر میاں انعام الرحمن 
قومی نصاب تعلیم کے فکری اور نظریاتی خلاڈاکٹر خورشید حسنین 
SDPI کی رپورٹ کا ایک جائزہپروفیسر میاں انعام الرحمن 
تعارف و تبصرہادارہ 
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تعلیمی و مطالعاتی دورہادارہ 
الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے ہدیہ کتبادارہ 
حضرت داؤد علیہ السلام اور حج بیت اللہ کی آرزوادارہ 

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اقوام متحدہ کا ’’انسانی حقوق کا چارٹر‘‘ الشریعہ کے زیر نظر شمارے میں شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ اردو ترجمہ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے اور یہ چارٹر کا سرکاری ترجمہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کو آج کی دنیا میں بین الاقوامی دستور کا درجہ حاصل ہے اور کم وبیش تمام ممالک نے اس پر دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر دستخط کرنے والے تمام ممالک نے یہ پابندی قبول کی ہوئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک میں دستور وقانون کے نفاذ اور ملکی نظام کو چلاتے وقت اس معاہدہ کا لحاظ رکھیں گے اور اپنے باشندوں کو وہ تمام حقوق دیں گے جن کا اس چارٹر میں ذکر کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا کمیشن اور دیگر بہت سے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کے حوالے سے دنیا بھر کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ہر سال مختلف رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں ان حقوق کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک اور عالمی ادارے متعلقہ ملکوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں کی ترجیحات قائم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں۔ مسلم ممالک اور پاکستان کے بارے میں بھی یہ رپورٹیں ہر سال جاری ہوتی ہیں اور ان میں نہ صرف واقعات کے حوالے سے اس چارٹر کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی کی نشان دہی کی جاتی ہے بلکہ ملک میں نافذ ایسے قوانین کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے جو رپورٹ جاری کرنے والے اداروں کے خیال میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی خلاف ورزی تصور کیے جاتے ہیں۔
اسی چارٹر کے حوالے سے متعدد اسلامی احکام وقوانین پر مسلسل تنقید ہوتی رہتی ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چونکہ یہ اسلامی قوانین واحکام اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہیں اور بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں اس لیے ان احکام وقوانین کو نافذ نہیں ہونا چاہیے اور اگر کسی ملک میں یہ اسلامی احکام وقوانین نافذ ہیں تو انھیں انسانی حقوق کے مذکورہ بالا چارٹر کی روشنی میں ختم یا تبدیل کر دینا چاہیے۔ اسی بنیاد پر اسلامی نظام اور شرعی قوانین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آج کے عالمی حالات سے ہم آہنگ نہیں ہیں، دور جدید کے تقاضے پورے نہیں کرتے اور مستقبل کی گلوبل اور عالمی سوسائٹی کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ اعتراضات صرف غیر مسلم اداروں اور لابیوں کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ متعدد مسلم ادارے اور دانش ور بھی بین الاقوامی معاہدہ کی پابندی اور عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگی کے نام پر اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ہزاروں این جی اوز اس وقت اس ایجنڈے پر عالم اسلام کے مختلف ممالک میں مصروف عمل ہیں اور مسلمان نوجوانوں اور عورتوں کو ان حقوق کے عنوان سے اسلامی شریعت اور احکام وقوانین کے خلاف ورغلانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔ ہم نے اس سلسلے میں متعدد علمی ودینی مراکز کو توجہ دلائی ہے اور ایک عرصہ سے اس ضمن میں آواز بلند کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا اس طور پر تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کون کون سے اسلامی احکام وقوانین اس کی کون کون سی دفعات کی زد میں آتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کا اس چارٹر کے ساتھ کہاں کہاں ٹکراؤ ہے۔ ظاہر بات ہے کہ مابہ النزاع امور کی نشان دہی ہوگی تو اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا جا سکے گا اور ان کا جواب بھی دیا جا سکے گا، مگر ہمیں افسوس ہے کہ مسلسل چیخ پکار کے باوجود ہمارے بڑے علمی ودینی مراکز اس طرف متوجہ نہیں ہو رہے بلکہ بعض اہم علمی اداروں نے ہماری درخواست کے جواب میں لکھا ہے کہ انھیں اس کام کی کوئی ضرورت اور افادیت محسوس نہیں ہوتی اس لیے وہ اس سلسلے میں کسی پیش رفت سے قاصر ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے ملک کے تمام علمی ودینی مراکز سے عمومی اتمام حجت کے طور پر ہم یہ گزارش کر رہے ہیں کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مذکورہ چارٹر کا، جو اس وقت بین الاقوامی دستور کے طور پر دنیا بھر میں نافذ ہے اور بین الاقوامی معاہدہ کی حیثیت سے اس کی پابندی تمام ممالک پر لازم ہے، جائزہ لیں اور اس کا گہری سنجیدگی اور باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کر کے اس سلسلے میں اپنی دینی وملی ذمہ داری سے سبک دوش ہوں۔
ہمارے نزدیک اس کے لیے تین مراحل میں کام کرنے کی ضرورت ہے:
پہلے مرحلہ میں اس چارٹر کا دفعہ وار تفصیلی مطالعہ کر کے ان اسلامی احکام وقوانین کی نشان دہی کی جائے جو اس منشور کی زد میں آتے ہیں اور جن پر اس حوالے سے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں تقابلی مطالعہ کے ساتھ اسلامی احکام وقوانین کی صحت وبرتری کی وضاحت کی جائے اور نہ صرف عقلی ونقلی بلکہ معروضی دلائل کے ساتھ اسلامی احکام وقوانین کی افادیت اور ضرورت کو ثابت کیا جائے۔
تیسرے مرحلے میں اسلامی دستور کے لیے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ ۳۱ علماے کرام کے مرتب کردہ ۲۲ دستوری نکات کی طرز پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسانی حقوق کا ایسا جامع چارٹر مرتب کرنے کی ضرورت ہے جسے اقوام متحدہ کے مذکورہ چارٹر کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکے اور جسے ۲۲ دستوری نکات کی طرح تمام مکاتب فکر کے اکابر علماے کرام کی تصدیق حاصل ہو۔ اس پر بحث کی تمہید اور گفتگو کے آغاز کے طور پر ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے حوالے سے ان چند اسلامی احکام وقوانین کی نشان دہی کر رہے ہیں جن پر اس منشور کی بنیاد پر اعتراضات سامنے آ رہے ہیں اور جن پر اس وقت عالمی سطح پر گفتگو اور بحث ومباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔

عورتوں کے امتیازی قوانین

اس منشور کی تمہید میں مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا بطور عقیدہ ذکر کیا گیا ہے اور اسی حوالے سے دنیا بھر میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان ہر شعبہ میں برابری اور مساوات قائم کی جائے اور کوئی ایسا قانو ن نافذ نہ کیا جائے جو عورتوں کے حوالے سے امتیازی حیثیت رکھتا ہو۔ اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے جو اسلامی احکام امتیازی قوانین قرار پاتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
  • اسلام میں حکمرانی کا حق صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے۔
  • پبلک مقامات پر عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل جول کی ممانعت ہے۔
  • دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔
  • وراثت میں مردوں اور عورتوں کے حصوں میں فرق ہے۔
  • عورتوں کے لیے طلاق کا حق تسلیم نہیں کیا گیا۔

غلامی کا مسئلہ

انسانی حقوق کے مذکورہ چارٹر کی دفعہ ۴ میں کہا گیا ہے کہ:
’’کوئی شخص غلام یا لونڈی بنا کر نہ رکھا جا سکے گا، غلامی اور بردہ فروشی چاہے اس کی کوئی بھی شکل ہو، ممنوع قرار دی جائے گی۔‘‘
اس دفعہ کے حوالے سے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ جب مسلم حکومتیں بین الاقوامی معاہدے کی رو سے غلامی کو ختم کرنے کا عہد کر چکی ہیں تو پھر اسلامی ممالک میں قرآن کریم، احادیث نبوی اور فقہ اسلامی سے غلامی کے احکام کو خارج کیوں نہیں کیا جا رہا اور دینی مدارس میں ان مسائل واحکام کی مسلسل تعلیم کیوں دی جا رہی ہے؟

شرعی حدود کا مسئلہ

دفعہ ۵ میں کہا گیا ہے کہ:
’’کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ سلوک، انسانیت سوز، ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘
اس دفعہ کی رو سے کسی بھی سزا کا جسمانی اذیت اور تذلیل سے خالی ہونا ضروری ہے جبکہ ہاتھ کاٹنا، سنگسار کرنا، کوڑے مارنا اور سرعام سزا دینا وغیرہ جسمانی اذیت اور تذلیل پر مشتمل سزائیں ہیں۔ اسی بنا پر ان سزاؤں کو وحشیانہ کہا جاتا ہے اور انھیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔

خاندانی قوانین

دفعہ ۱۶ میں کہا گیا ہے کہ:
’’بالغ مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی ایسی پابندی کے جو نسل، قومیت یا مذہب کی بنا پر لگائی جائے، شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہے، مردوں اور عورتوں کو نکاح، ازدواجی زندگی اور نکاح کو فسخ کرنے کے معاملے میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔‘‘
اس دفعہ کی رو سے مندرجہ ذیل احکام انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار پاتے ہیں:
  • کم سنی کے نکاح کا جواز
  • غیر مسلموں کے ساتھ شادی نکاح کی ممانعت
  • کفو اور ولایت کے تمام احکام
  • عورت کے لیے طلاق کا حق تسلیم نہ کرنا۔ اور
  • خاندانی ماحول میں مرد کا حاکم ہونا۔

آزادی مذہب

دفعہ ۱۸ اور دفعہ ۱۹ میں رائے کی آزادی، مذہب کی آزادی، مذہب تبدیل کرنے کا حق، اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا حق اور اس کے لیے دعوت وتبلیغ کا حق ہر شخص کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے اور اس کی رو سے ارتداد کی شرعی سزا، توہین مذہب اور توہین رسالت کی سزا، غیر مسلموں کا مسلم معاشرہ میں اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا اور امتناع قادیانیت آرڈی ننس وغیرہ سب انسانی حقوق کی خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے عالمی حلقوں اور لابیوں کی تنقید کا مسلسل نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ 
یہ چند امور بطور نمونہ عرض کیے گئے ہیں تاکہ اس انداز سے انسانی حقوق کے چارٹر کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس چارٹر کی ہر بات کی مخالفت کی جائے۔ اس میں بہت سی باتیں درست ہیں اور ان سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے لیکن جو امور متنازعہ ہیں اور جن کی بنا پر بہت سے اسلامی احکام وقوانین کی مخالفت کی جا رہی ہے بلکہ مسلم ممالک اور حکومتوں پر ان کے خاتمہ کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ان کی نشان دہی اور ان کے بارے میں مسلمانوں کا علمی موقف سامنے لانا بہرحال ہماری دینی وملی ذمہ داری ہے۔ امید ہے کہ تمام علمی ودینی مراکز اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گے اور اسلام کی نمائندگی وترجمانی کا فرض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی نئی نسل کی علمی وفکری راہ نمائی کی ذمہ داری سے بھی سبک دوش ہوں گے۔

انسانی حقوق کا عالمی منشور

ادارہ

Adopted and proclaimed by General Assembly resolution 217 A (III) of 10 December 1948.
On December 10, 1948 the General Assembly of the United Nations adopted and proclaimed the Universal Declaration of Human Rights the full text of which appears in the following pages. Following this historic act the Assembly called upon all member countries to publicize the text of the Declaration and "to cause it to be disseminated, displayed, read and expounded principally in schools and other educational institutions, without distinction based on the political status of countries or territories."

تمہید

  • چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
  • چونکہ انسانی حقوق سے لاپروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمے پہنچے ہیں اور عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔
  • چونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو قانون کی عمل داری کے ذریعے محفوظ رکھا جائے، اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان عاجز آکر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوں۔
  • چونکہ یہ ضروری ہے کہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھایا جائے۔
  • چونکہ اقوام متحدہ کی ممبر قوموں نے اپنے چارٹر میں بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کی حرمت اور قدر اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں اپنے عقیدے کی دوبارہ تصدیق کر دی ہے اور وسیع تر آزادی کی فضا میں معاشرتی ترقی کو تقویت دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔
  • چونکہ ممبر ملکوں نے یہ عہد کر لیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اشتراک عمل سے ساری دنیا میں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے۔
  • چونکہ اس عہد کی تکمیل کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سب سمجھ سکیں۔ 

لہٰذا جنرل اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصول مقصد کا مشترک معیار ہوگا تاکہ ہر فرد اور معاشرے کا ہر ادارہ اس منشور کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیم وتبلیغ کے ذریعے ان حقوق اور آزادیوں کا احترام پیدا کرے اور انھیں قومی اور بین الاقوامی کارروائیوں کے ذریعے ممبر ملکوں میں اور ان قوموں میں جو ممبر ملکوں کے ماتحت ہوں، منوانے کے لیے بتدریج کوشش کر سکے۔

دفعہ ۱

تمام انسان آزاد اور حقوق وعزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔ انھیں ضمیر اور عقل ودیعت ہوئی ہے۔ اس لیے انھیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے۔

دفعہ ۲

(۱) ہر شخص ان تمام آزادیوں اور حقوق کا مستحق ہے جو اس اعلان میں بیان کیے گئے ہیں اور اس حق پر نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب اور سیاسی تفریق کا یا کسی قسم کے عقیدے، قوم، معاشرے، دولت یا خاندانی حیثیت وغیرہ کا کوئی اثر نہ پڑے گا۔
(۲) اس کے علاوہ جس علاقے یا ملک سے جو شخص تعلق رکھتا ہے، اس کی سیاسی کیفیت، دائرۂ اختیار یا بین الاقوامی حیثیت کی بنا پر اس سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ ملک یا علاقہ آزاد ہو یا تولیتی ہو یا غیر مختار ہو یا سیاسی اقتدار کے لحاظ سے کسی دوسری بندش کا پابند ہو۔

دفعہ ۳

ہر شخص کو اپنی جان، آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق ہے۔

دفعہ ۴

کوئی شخص غلام یا لونڈی بنا کر نہ رکھا جا سکے گا۔ غلامی اور بردہ فروشی، چاہے اس کی کوئی شکل بھی ہو، ممنوع قرار دی جائے گی۔

دفعہ ۵ 

کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ، انسانیت سوز یا ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی۔

دفعہ ۶ 

ہر شخص کا حق ہے کہ ہر مقام پر قانون اس کی شخصیت کو تسلیم کرے۔

دفعہ ۷ 

قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب بغیر کسی تفریق کے قانون کے اندر امان پانے کے برابر کے حق دار ہیں۔ اس اعلان کے خلاف جو تفریق کی جائے یا جس تفریق کے لیے ترغیب دی جائے، اس سے سب برابر کے بچاؤ کے حق دار ہیں۔

دفعہ ۸

ہر شخص کو ان افعال کے خلاف جو اس دستور یا قانون میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کو تلف کرتے ہوں، بااختیار قومی عدالتوں سے موثر طریقے پر چارہ جوئی کرنے کا پورا حق ہے۔

دفعہ ۹

کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار، نظر بند یا جلاوطن نہیں کیا جائے گا۔

دفعہ ۱۰

ہر ایک شخص کو یکساں طور پر حق حاصل ہے کہ اس کے حقوق وفرائض کا تعین یا اس کے خلاف کسی عائد کردہ جرم کے بارے میں مقدمہ کی سماعت آزاد اور غیر جانب دار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے پر ہو۔

دفعہ ۱۱

(۱) ایسے ہر شخص کو جس پر کوئی فوجداری کا الزام عائد کیا جائے، بے گناہ شمار کیے جانے کا حق ہے تاوقتیکہ اس پر کھلی عدالت میں قانون کے مطابق جرم ثابت نہ ہوجائے اور اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع نہ دیا جا چکا ہو۔
(۲) کسی شخص کو کسی ایسے فعل پر فروگزاشت کی بنا پر جو ارتکاب کے وقت قومی یا بین الاقوامی قانون کے اندر تعزیری جرم شمار نہیں کیا جاتا تھا، کسی تعزیری جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔

دفعہ ۱۲ 

کسی شخص کی نجی زندگی، خانگی زندگی، گھر بار، خط وکتابت میں من مانے طریقے پر مداخلت نہ کی جائے گی اور نہ ہی اس کی عزت اور نیک نامی پر حملے کیے جائیں گے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ قانون اسے حملے یا مداخلت سے محفوظ رکھے۔

دفعہ ۱۳ 

(۱) ہر شخص کا حق ہے کہ اسے ہر ریاست کی حدود کے اندر نقل وحرکت کرنے اور سکونت اختیار کرنے کی آزادی ہو۔
(۲) ہر شخص کو اس بات کا حق ہے کہ وہ ملک سے چلا جائے، چاہے یہ ملک اس کا اپنا ہو۔ اور اسی طرح اسے ملک میں واپس آجانے کا بھی حق ہے۔

دفعہ ۱۴

(۱) ہر شخص کو ایذا رسانی سے دوسرے ملکوں میں پناہ ڈھونڈنے، اور پناہ مل جائے تو اس سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔
(۲) یہ حق ان عدالتی کارروائیوں سے بچنے کے لیے استعمال میں نہیں لایا جا سکتا جو خالصاً غیر سیاسی جرائم یا ایسے افعال کی وجہ سے عمل میں آتی ہیں جو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصول کے خلاف ہیں۔

دفعہ ۱۵

(۱) ہر شخص کو قومیت کا حق ہے۔
(۲) کوئی شخص محض حاکم کی مرضی پر اپنی قومیت سے محروم نہیں کیا جائے گا اور اس کو قومیت تبدیل کرنے کا حق دینے سے انکار نہ کیا جائے گا۔

دفعہ ۱۶

(۱) بالغ مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی ایسی پابندی کے جو نسل، قومیت یا مذہب کی بنا پر لگائی جائے، شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہے۔ مردوں اور عورتوں کو نکاح، ازدواجی زندگی اور نکاح کو فسخ کرنے کے معاملہ میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
(۲) نکاح فریقین کی پوری اور آزاد رضامندی سے ہوگا۔
(۳) خاندان، معاشرے کی فطری اور بنیادی اکائی ہے اور وہ معاشرے اور ریاست دونوں کی طرف سے حفاظت کا حق دار ہے۔

دفعہ ۱۷

(۱) ہر انسان کو تنہا یا دوسروں سے مل کر جائیداد رکھنے کا حق ہے۔
(۲) کسی شخص کو زبردستی اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

دفعہ ۱۸

ہر انسان کو آزادی فکر، آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا پورا حق ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے اور پبلک میں یا نجی طور پر، تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل جل کر عقیدے کی تبلیغ، عمل، عبادت اور مذہبی رسمیں پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔

دفعہ ۱۹

 ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اور جس ذریعے سے چاہے، ملکی سرحدوں کا خیال کیے بغیر علم اور خیالات کی تلاش کرے، انھیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے۔

دفعہ ۲۰ 

(۱) ہر شخص کو پر امن طریقے پر ملنے جلنے اور انجمنیں قائم کرنے کی آزادی کا حق ہے۔
(۲) کسی شخص کو کسی انجمن میں شامل ہونے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ ۲۱

 (۱) ہر شخص کو اپنے ملک کی حکومت میں براہ راست یا آزادانہ طور پر منتخب کیے ہوئے نمائندوں کے ذریعے حصہ لینے کا حق ہے۔
(۲) ہر شخص کو اپنے ملک میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا برابر کا حق ہے۔
(۳) عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیاد ہوگی۔ یہ مرضی وقتاً فوقتاً ایسے حقیقی انتخابات کے ذریعے ظاہر کی جائے گی جو عام اور مساوی رائے دہندگی سے ہوں گے اور جو خفیہ ووٹ یا اس کے مساوی کسی دوسرے آزادانہ طریق رائے دہندگی کے مطابق عمل میں آئیں گے۔

دفعہ ۲۲ 

معاشرے کے رکن کی حیثیت سے ہر شخص کو معاشرتی تحفظ کا حق حاصل ہے اور یہ حق بھی کہ وہ ملک کے نظام اور وسائل کے مطابق قومی کوشش اور بین الاقوامی تعاون سے ایسے اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کو حاصل کرے جو اس کی عزت اور شخصیت کی آزادانہ نشوونما کے لیے لازم ہیں۔

دفعہ ۲۳

(۱) ہر شخص کو کام کاج، روزگار کے آزادانہ انتخاب، کام کاج کی مناسب ومعقول شرائط اور بے روزگاری کے خلاف تحفظ کا حق ہے۔
(۲) ہر شخص کو کسی تفریق کے بغیر مساوی کام کے لیے مساوی معاوضے کا حق ہے۔
(۳) ہر شخص جو کام کرتا ہے، وہ ایسے مناسب ومعقول مشاہرے کا حق رکھتا ہے جو خود اس کے اور اس کے اہل وعیال کے لیے باعزت زندگی کا ضامن ہو اور جس میں اگر ضروری ہو تو معاشرتی تحفظ کے دوسرے ذریعوں سے اضافہ کیا جا سکے۔
(۴) ہر شخص کو اپنے مفاد کے بچاؤ کے لیے تجارتی انجمنیں قائم کرنے اور اس میں شریک ہونے کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۲۴ 

ہر شخص کو آرام اور فرصت کا حق ہے جس میں کام کے گھنٹوں کی حد بندی اور تنخواہ کے علاوہ مقررہ وقفوں کے ساتھ تعطیلات بھی شامل ہیں۔

دفعہ ۲۵

 (۱) ہر شخص کو اپنی اور اپنے اہل وعیال کی صحت اور فلاح وبہبود کے لیے مناسب معیار زندگی کا حق ہے جس میں خوراک، پوشاک، مکان اور علاج کی سہولتیں اور دوسری ضروری معاشرتی مراعات شامل ہیں اور بے روزگاری، بیماری، معذوری، بیوگی، بڑھاپا یا ان حالات میں روزگار سے محرومی جو اس کے قبضہ قدرت سے باہر ہوں، کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہے۔
(۲) زچہ اور بچہ خاص توجہ اور امداد کے حق دار ہیں۔ تمام بچے خواہ وہ شادی سے پہلے پید اہوئے ہوں یا شادی کے بعد، معاشرتی تحفظ سے یکساں طور پر مستفید ہوں گے۔

دفعہ ۲۶

 (۱) ہر شخص کو تعلیم کا حق ہے۔ تعلیم مفت ہوگی، کم سے کم ابتدائی اور بنیادی درجوں میں۔ ابتدائی تعلیم جبری ہوگی۔ فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے کا عام انتظام کیا جائے گا اور لیاقت کی بنا پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا سب کے لیے مساوی طور پر ممکن ہوگا۔
(۲) تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی پوری نشوونما ہوگا اور وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام میں اضافہ کرنے کا ذریعہ ہوگی۔ وہ تمام قوموں اور نسلی یا مذہبی گروہوں کے درمیان باہمی مفاہمت، رواداری اور دوستی کو ترقی دے گی اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔
(۳) والدین کو اس بات کے انتخاب کا اولین حق ہے کہ ان کے بچوں کو کس قسم کی تعلیم دی جائے گی۔

دفعہ ۲۷

(۱) ہر شخص کو قوم کی ثقافتی زندگی میں آزادانہ حصہ لینے، ادبیات سے مستفید ہونے اور سائنس کی ترقی اور اس کے فوائد میں شرکت کا حق حاصل ہے۔
(۲) ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ اس کے ان اخلاقی اور مادی مفادات کا بچاؤ کیا جائے جو اسے ایسی سائنسی، علمی یا ادبی تصنیف سے جس کا وہ مصنف ہے، حاصل ہوتے ہیں۔

دفعہ ۲۸

(۱) ہر شخص ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی نظام میں شامل ہونے کا حق دار ہے جس میں وہ تمام آزادیاں اور حقوق حاصل ہو سکیں جو اس اعلان میں پیش کر دیے گئے ہیں۔

دفعہ ۲۹

(۱) ہر شخص پر معاشرے کے حقوق ہیں کیونکہ معاشرے میں رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آزادانہ اور پوری نشوونما ممکن ہے۔
(۲) اپنی آزادیوں اور حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہر شخص صرف ایسی حدود کا پابند ہوگا جو دوسروں کی آزادیوں اور حقوق کو تسلیم کرانے اور ان کا احترام کرانے کی غرض سے یا جمہوری نظام میں اخلاق، امن عامہ اور عام فلاح وبہبود کے مناسب لوازمات کو پورا کرنے کے لیے قانون کی طرف سے عائد کیے گئے ہیں۔
(۳) یہ حقوق اور آزادیاں کسی حالت میں بھی اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصول کے خلاف عمل میں نہیں لائی جا سکتیں۔

دفعہ ۳۰

اس اعلان کی کسی چیز سے کوئی ایسی بات مراد نہیں لی جا سکتی جس سے ملک، گروہ یا شخص کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے یا کسی ایسے کام کو انجام دینے کا حق پیدا ہو جس کا منشا ان حقوق اور آزادیوں کی تخریب ہو جو یہاں پیش کی گئی ہیں۔
(http://www.unhchr.ch/udhr/lang/urd.htm)

دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت

پروفیسر میاں انعام الرحمن

معاشرے میں چھائی ہوئی ابتری کے پیشِ نظر ہمارے ہاں ایک جملے کی مقبولیت کا گراف مسلسل بلند ہوتا جا رہا ہے۔ وہ مقبولِ عام جملہ یہ ہے کہ ’’لوگ بے دین ہو گئے ہیں ‘‘۔ حالانکہ یہ بات صریحاً غلط ہے، کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ جس سوچ کو دین کا نام دیا جا رہا ہے، وہ دین نہیں ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ وہ دین کی فقط ایک جہت ہے۔ اسی کی وجہ سے معاشرتی ابتری بڑھ رہی ہے نہ یہ کہ بے دینی اس کاسبب ہے۔ 
راقم کی نظر میں ہمارے محترم علما جب بھی دین کی بات کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں حقیقتاً ’’ فقہ‘‘ ہوتی ہے اور فقہ کی بھی جزئیات (۱) یہ ایک عظیم فروگزاشت ہے جو تسلسل سے ہو رہی ہے۔اگر کسی صاحب کو اس بنیادی نکتے سے ہی اختلاف ہو جس پر اس مضمون کی پوری عمارت کھڑی ہے تو گزارش ہے کہ ذرا دینی مدارس کے نصاب اور اس نصاب کو پڑھانے کی ’’اپروچ‘‘ پر سرسری نظر ڈال لیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ فقہ کو دین کے متوازی کھڑا کرنے اور اسی کو دین قرار دینے سے معاشرتی بگاڑآج جن جہتوں پر پنپ رہا ہے ، وہ کسی وقت بھی ان امکانات کو چٹ کر سکتا ہے جو ٹمٹماتے چراغوں کی مانند اب بھی ہمارے باطن میں روشنیاں بکھیر رہے ہیں۔
ہمارے ہاں دین کی غلط تعبیر کی مانند ’عالم‘ کی تعریف بھی غلط کی گئی ہے۔ آج جنھیں ’علما‘ کہا جاتا ہے ، وہ دراصل ’ماہرین فقہ‘ کہلائے جانے کے زیادہ مستحق ہیں (۲)۔ چونکہ ان ’ماہرین فقہ‘ کو علما گردانا جا رہا ہے، اس لیے اس حدیث مبارکﷺ کے مطابق کہ’’علما، انبیا کے وارث ہیں ‘‘ ’ماہرین فقہ‘ کو ہی انبیا کا وارث تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی قابلِ گرفت فروگزاشت ہے ۔اس حدیثِ مبارک ﷺ میں ’’علما‘‘ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یوں نہیں فرمایا گیا کہ ’عالم انبیاء کا وارث ہے ‘ ۔ کیوں ؟ آخر اس میں کیا حکمت ہے ؟ راقم کی محتاط رائے میں جمع کا صیغہ یہ لطیف اشارہ دے رہا ہے کہ کوئی شخص انفرادی حیثیت میں انبیا کی وراثت کے تقاضے نہیں نبھا سکتا کہ انبیا کی شخصیت اور دعوت ہمہ گیر و ہمہ جہت ہوتی ہے ۔جہاں تک رسولِ پاکﷺ کی ذاتِ گرامی اور آپ کی سیرتِ طیبہ کا تعلق ہے ، وہ قرآن مجید، فرقان حمید کی ’’عملی تفسیر‘‘ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ قرآن مجید اپنے اندر بے شمار امکانات رکھتا ہے ، بالکل اسی طرح نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی بھی بے شمار امکانات کی حامل ہے ۔ لہٰذا اگر ہم ’ماہر فقہ‘ کو عالم تسلیم کر بھی لیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا انبیاء کرام کی دعوت (بالخصوص خاتم النبیینﷺ کی دعوت) محض ’’فقہ‘‘ کے گرد گھومتی تھی؟ کیا کوئی ’فقیہ‘سیرت النبی ﷺ میں مضمر امکانات کا احاطہ کر سکتا ہے ؟ یقیناًنہیں۔ تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ انبیاء کرام کی وراثت کے دعویدار حضرات فقہ کے علاوہ ان دیگر پہلوؤں کو بھی تلاش کریں جو ان کی شخصیت و دعوت میں امتیازی اہمیت رکھتے تھے۔ راقم کی نظر میں قرآن مجید آخری الہامی کتاب ہونے کی حیثیت سے اور محمد مصطفی ﷺ آخری نبی ہونے کی حیثیت سے تما م قسم کے ’’امکانات ‘‘پر حاوی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ کی وراثت کے تقاضے نبھانے کے لیے (تصورِ خاتمیت کے تحت) امکانات کو چھونے کی سکت بھی ہو نی چاہیے۔ آخر ان امکانات کو کیسے چھوا جا سکتا ہے ؟ کیا اجتہادی نور کی روشنیوں کے بغیر ایسا ہو سکتا ہے ؟اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم لوگ اس مطلوب اجتہادی نور کو نہیں اپناتے ، تو اس کا حقیقت میں یہ مطلب ہو گا کہ ہم لوگ (نعوذ باللہ) دین کے تصورِ خاتمیت سے عملاً منحرف ہیں ، جو ہمارے دین کی امتیازی پہچان ہے اور جس کی وجہ سے ہمارے دین اور سابقہ شریعتوں میں بنیادی فرق ہو تا ہے۔
چونکہ آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی ﷺ ’’مثالی نمونہ ‘‘ ہے اس لیے دین کی اس امتیازی صفت یعنی تصورِ خاتمیت سے پھوٹنے والی اجتہادی جہت کی مثال بھی آپ کی سیرت طیبہ سے مل جاتی ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ، یا رسول اللہ مجھ میں چار بری خصلتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بدکار ہوں ، دوسری یہ کہ چوری کرتا ہوں، تیسری یہ کہ شراب پیتا ہوں ، چوتھی یہ کہ جھوٹ بولتا ہوں ۔ ان میں سے جس کو فرمائیے ، آپﷺ کی خاطر چھوڑ دوں ۔ ارشاد فرمایا کہ جھوٹ نہ بولا کرو ۔ چنانچہ اس نے عہد کیا ۔ جب رات ہوئی تو اس کا شراب پینے کو جی چاہا اور پھر بدکاری کے لیے آمادہ ہوا ، تو اس کو خیال گزرا کہ صبح کو جب رسول کریم ﷺ استفسار فرمائیں گے کہ رات تم نے شراب پی اور بدکاری کی تھی؟ تو کیا جواب دوں گا ۔اگر ہاں کہوں تو شراب اور زنا کی سزا دی جائے گی اور اگر نہیں کہوں تو عہد کے خلاف ہو گا ۔ یہ سوچ کر ان دونوں سے باز رہا ۔ جب رات گزری اور اندھیرا چھا گیا تو چوری کے لیے گھر سے نکلنا چاہا۔ پھر اسی خیال نے اس کا دامن تھام لیا کہ کل پوچھ گچھ ہوئی تو کیا کہوں گا ؟ ہاں کہوں گا تو ہاتھ کٹے گا اور نہیں کہتا ہوں تو بد عہدی ہوتی ہے ۔اس خیال کے آتے ہی اس جرم سے باز آ گیا۔ صبح ہوئی تو وہ بار گاہِ رسالتﷺ میں حاضر ہوا اور عرض کی ، یا رسول اللہ ! جھوٹ نہ بولنے سے چاروں بری خصلتیں مجھ سے چھوٹ گئی ہیں ۔یہ سن کر رسول کریم ﷺ بہت مسرور ہوئے ۔ 
اس حدیث مبارک میں مضمر جہانِ حکمت سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی ذاتِ گرامی کے اس بیش بہا پہلو کو کہ آپﷺ نے چار قباحتوں میں سے بنیادی قباحت کو ’’ایڈریس‘‘ کیا ، جس سے دیگر قباحتوں پر بھی باآسانی قابو پا لیا گیا، آج کے دور میں کیوں پیشِ نظر نہیں رکھا جا رہا؟ کیا اس کا سبب یہ نہیں کہ چونکہ ہمارے علما اصل میں ’ماہر فقہ‘ ہیں، اسی لیے شعورِ نبوت کی پیروی کے بجائے انبیاء کرام کی وراثت کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے خالصتاََ فقہی انداز میں معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر جھوٹ کے بجائے دیگر تین معاملات پر زیادہ ہے۔ چوری ، زنا ، شراب اور اسی نوعیت کی دیگر قباحتوں پر انھوں نے دفتروں کے دفتر لکھ ڈالے ہیں ، لیکن جھوٹ پر یوں سمجھیے کہ ایک چھوٹی سی تختی بھی موجود نہیں۔ حالانکہ اس حدیث مبارک ﷺسے صاف مترشح ہوتا ہے کہ جھوٹ باقی قباحتوں کی ’’جڑ‘‘ ہے ۔ پھر ہمارے ہاں معاملات کو ایڈریس کرنے میں یہ افراط و تفریط آخر کیونکر ہے ؟ اس کی وجہ ایک ہی ہے کہ علما، فقہ کے سحر کا شکار ہو کرتصورِ خاتمیت سے دور ہو گئے ہیں۔ان میں اتنی سکت نہیں کہ معاشرتی معاملات کو ’’اجتہادی نظر ‘‘ سے دیکھ سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت بھی ہمارے معاشرے میں یہ تمام قباحتیں عروج پر ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ علما ابھی تک مصر ہیں کہ شریعت نافذ کی جائے۔ شریعت نہ ہوئی ، جادو کی چھڑی ہو گئی کہ اس کے حرکت میں آتے ہی ’خلافتِ راشدہ‘ کا عہد لوٹ آئے گا۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ جس عہد کی بازیافت چاہتے ہیں ، خود اپنے احوال و ظروف میں اس مثالی عہدکے تصورات کو سمونے کی بجائے(۳) بعد کے تصورات کو لیے بیٹھے ہیں ۔ راقم کی رائے میں تو فقہی انداز میں معاملات کو دیکھنے کا مطلب کچھ ایسے ہی ہے کہ کنویں میں مراہوا کتا موجود ہو ، اور پانی کے چند ڈول باہر پھینک کر یہ کہا جائے کہ ’’کنواں پاک ہو گیا‘‘ ۔اس وقت ہمارے معاشرتی کنو یں میں مرا ہوا کتا ’’جھوٹ‘‘ ہے (۴) سطح پر نظر آنے والے ’’چند مظاہر‘‘ کے ڈول باہر پھینک دینے سے یہ کنواں پاک نہیں ہو گا ۔ اگر مرے ہوئے کتے کو نکال باہر پھینکا جائے ، تو بار بار ڈول نکالنے کا تکلف نہیں کرنا پڑے گا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مرا ہوا کتا ’’فقیہ‘‘ نکالے گا؟ کیا یہ ’’فقہ‘‘ کا منصب ہے کہ ’’جھوٹ‘‘ کو ایڈریس کرے؟ راقم کے خیال میں یہ کام فقہ کا نہیں ، آرٹ کا ہے۔ (۵)
اسی بات کا ایک اور رخ نہایت قابلِ غور ہے کہ فقہ کو دین اور فقیہ کو عالم تسلیم کرنے سے مسلم ذہن نے ہمیشہ انکار کیا ہے ۔ یہ انکار ، تفہیم و اظہار کی لطیف سطح پر بہت بلیغ اندازمیں کیا گیا ہے ۔ راقم کا اشارہ اردو شاعری میں مقبول ترکیب ’’فقیہِ شہر‘‘ کی جانب ہے ۔ کیا کوئی ایسا شعر بھی ہے جس میں فقیہِ شہر کو نرمی سے اور بغیر طنز کے مخاطب کیا گیا ہو؟ اس ترکیب کا اسی انداز میں متواتر اور مسلسل استعمال اور پھر مسلم معاشرے کا اس پر لبیک کہنا ، اس فرمانِ رسولﷺ کے عین مطابق ہے کہ ’’میری امت گمراہی پر متفق نہیں ہو سکتی ‘‘ ۔ جن لوگوں کو دین کے فقہی ایڈیشن پر اب بھی اصرار ہو ، ان سے فقط ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے ۔
اب اگر ہم فقہی خول اتار کر دینی حوالہ پیشِ نظر رکھیں تو ہماری نظر اس آرٹ پر پڑتی ہے جس کا تعلق خطابت ، گفتگو، اور مکالمے سے ہے ۔ اس حوالے سے رسالت مآب ﷺ کا کوہِ صفا پر خطاب سامنے آتا ہے ۔ ذرا غور کیجیے کہ آپ ﷺ نے وہاں کیا اندازِ خطابت اختیار فرمایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم سے کہوں کہ وادی میں ایک لشکر اتر آیا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کو سچ مانو گے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں ! تم ہمیشہ ہمارے تجربے میں سچے ثابت ہوئے ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں نذیر یعنی تمہیں متنبہ کرنے والا ہوں کہ تمہارے آگے سخت عذاب موجود ہے ۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا ، تیرے لیے سارے دن موجبِ ہلاکت و بربادی ہوں ، کیا تو نے اسی لیے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس پر مجمع منتشر ہو گیا ۔ 
کوہِ صفا کے اس واقعے پر بغور نظر دوڑائیں ۔ مخاطبین کا پہلا جواب رسولِ پاک ﷺ کے ’’سٹیٹس ‘‘ کو ظاہر کر رہا ہے۔، وہ لوگ آپ ﷺ کی جملہ صفات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا اعتراف بھی کر رہے ہیں ۔ اس اعتراف کی روشنی میں دوسرا جواب ’’غیر متوقع‘‘ معلوم ہوتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ راقم کی ناقص رائے میں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے خطاب مبارک سے جو فضا وہاں پر اس وقت قائم ہوئی ، وہ سراسر شعورِ انسانی کو ایڈریس کرنے والی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے سٹیٹس کے ذریعے ان کے جذبات کو ’’ہائی جیک‘‘ کرنے کی بجائے ان کے شعور کو مخاطب کیا۔ اگرچہ ان کے جذبات سے کھیل کر انہیں فوری طور پر مائل بہ اسلام کیا جا سکتا تھا، جس سے وہ عارضی طور پرتو مسلمان ہو جاتے لیکن ان کی روح کی گہرائیوں میں اسلام کی جڑیں مضبوط نہ ہونے سے وہ کردار نہ بنتا جس کا اظہار حبشہ میں مسلم وفد نے کیا (۶)۔ آج مسلم معاشرے میں ’’کردار‘‘ اسی لیے سامنے نہیں آرہا کہ ہمارا خطیب شعورِ نبوت کی پیروی کے بجائے مداری گر کی طرح لوگوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے، غوغا آرائی اور شور شرابہ کر رہا ہے ۔جھوٹا آرٹ جھوٹ کو کیسے ختم کر سکتا ہے ؟یہ صحیح ہے کہ جذباتی فضا قائم کر کے وقتی طور پر ’’اسلامیت ‘‘ ظاہر کی جاسکتی ہے ، چندہ نکلوایا جا سکتا ہے، سہ روزے ، چالیس روزے کا ’’ارادہ‘‘ کروایا جاسکتا ہے ، نو جوانوں کو بارڈر پر بھیجا جا سکتا ہے ، لیکن بہرحال اس فضا سے وہ ’’کردار ‘‘ نہیں بن سکتا جو صرف اور صرف شعورِ انسانی کو مخاطب کرنے سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔ بفرضِ محال اگر کہیں کہیں خلوص جھلکتا ہے تو بھی ہمارے خطیب کے خطاب کی نوعیت ’’پراپیگنڈا‘‘ والی ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے تمام خطبات گواہ ہیں کہ رسول کے فنِ خطابت میں پراپیگنڈے کا عمل دخل نہیں ہوتا، کیونکہ پراپیگنڈا کے پیچھے دوسرے کو ’’پھانسنے‘‘ کی نفسیات کام کر رہی ہوتی ہے ، جبکہ شعورِ نبوت ، ہر حوالے سے ہر سطح پر شعورکو خطاب کرتا ہے کہ وہ ’’آزادانہ ‘‘فیصلہ کرے۔ لا اکراہ فی الدین کے یہی معنی ہیں ۔ یہاں پر پھر وہی ’’اجتہادی روح‘‘ نظر آتی ہے جو اسلام کی امتیازی صفت ’’تصورِ خاتمیت‘‘ کا نتیجہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ پراپیگنڈا والے انداز کے بجائے ’’اجتہادی طریق‘‘ کو خطاب میں سمویا جائے۔ سوال پیدا ہوتا ہے شعورِ انسانی کو خطاب کرنے کے اس ’’نبوی آرٹ‘‘ سے ہم کب تک پہلوتہی کریں گے ؟
اسی بات کو اگر دوسرے رخ سے دیکھیں تو نہایت سنگین صورتِ حال سے پالا پڑتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ فطرت، روحِ انسانی ہے اور روح کے نہاں خانوں میں انسان کے مذہبی عقائد کی جڑیں ہوتی ہیں ۔ آرٹ کے ذریعے روح اظہار کرتی ہے ، یعنی انسان کے انتہائی اندرونی عقائد ،منظرِ عام پر آتے ہیں ۔ اس طرح آرٹ کی وہ قسم جسے خطابت کہا جاتا ہے ، یہی ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے خطیبوں کا ’’دینی ادراک‘‘ انتہائی حد تک ناقص ہے۔ ان کے موضوعات ، مواد، الفاظ کا چناؤ اور اپروچ یہی چغلی کھاتے ہیں کہ ان کا دینی ادراک ،گھن گرج، چیخ پکار ،لفظی مباحث ، جگت بازی ، جذباتیت اور فروعی مسائل کے گرد گھومتا ہے ۔ اگر موسیقی کو جذبات انگیز قرار دے کر ہم اس کی بابت بہت ’’حساس ‘‘ ہو سکتے ہیں تو ایسی حساسیت کا مظاہرہ ، مشترکہ علت کی بنا پر ایسے فنِ خطابت کے حولے سے بھی ہونا چاہیے جو لوگوں کے جذبات ’’ ہائی جیک ‘‘ کرنے کو اوڑھنا بچھونا بنا چکا ہو ۔ راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مذہبی طبقے کے فنِ خطابت کا فنی جائزہ یہی مترشح کرتا ہے کہ ان کا دینی ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہے۔ اگر صورتِ حال اس کے بر عکس ہوتی تو معاشرہ بھی بہت مختلف ہوتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شعورِ نبوت کی پیروی اختیار کی جائے ، اس آرٹ پر ایسی کتب لکھی جائیں جن میں نبی ﷺ کے فنِ خطابت پر سیر حاصل بحث ہو اور تصورِ خاتمیت کے تحت اجتہادی روح بھی متحرک ہو ، پھر ایسی کتب کو دینی نصاب میں با قا عدہ جگہ دی جائے ، تاکہ یہ آرٹ دین کی معاشرتی ترویج میں ممدو معان ثابت ہو نہ کہ افراتفری کو ہوا دے ۔ 
دین کی ترویج میں آرٹ کی اہمیت کا اندازہ خطبۃالوداع کے اس نکتے سے واضح ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’ جو لوگ یہاں موجود ہیں، انہیں چاہیے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں ، ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو ‘‘۔ مسلمانوں نے اس حکمِ رسول کریم ﷺ کی پیروی میں پیغام رسانی اور ’’بتا دینے کو‘‘ اجتہادی رنگ و نور سے بہت بڑا آرٹ بنا ڈالا ۔ اس فرمانِ مبارک ﷺ سے ہی وہ آرٹ متشکل ہونا شروع ہوا جو حدیث شریف اور اسماء الرجال سے ہوتا ہوا ابنِ خلدون کے مقدمے تک جا پہنچا ۔برِ صغیر میں سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک کی یہی بنیادی خوبی ہے کہ اس نے مسلمانوں کی توجہ دوبارہ اس آرٹ کی طرف مبذول کرائی ۔ اس تحریک نے تاریخ اور ابلاغ کے آرٹ کا احیا کیا ۔ الطاف حسین حالی کی ’’مسدس‘‘ اور شبلی نعمانی کی ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ اسی آرٹ کا بیش بہا اظہار ہیں ۔راقم کی رائے میں تو برِ صغیر کی مسلم معاشرت پر ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کے اثرات اس حد تک مرتب نہیں ہوسکے ، جس ٖحد تک گہرے نقوش ’’سیرت النبی‘‘ اور ’’مسدسِ حالی‘‘ نے چھوڑے ہیں ۔ بہر حال خطبۃالوداع کے اسی نکتے کی پیروی میں ، جس طرح صحابہ کرامؓ نے (غیر فقہی انداز میں ، کہ فقہ پر اس طرح زور ہی نہیں دیا جا رہا تھا ) اسلام کو پوری دنیا میں پھیلا دیا ، وہ اپنی جگہ ایک مثال ہے ۔ بحث کے اس مقام پر تبلیغ کوبطور ’’ارفع آرٹ‘‘ دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ کیا تبلیغ ارفع آرٹ نہیں ہے ؟ کیا اس آرٹ کو ’’تصورِ خاتمیت‘‘ سے الگ رکھا جا سکتا ہے ؟ کیا نبوت کے خاتمے کے بعد یہ ذمہ داری خالصتاً مسلمانوں کے سپرد نہیں ہو جاتی کہ وہ قولی ، عملی ، تحریری و دیگر انداز سے اس الہیاتی پیغام کو،ممکنہ حد تک اس کے امکانی پرت کھول کھول کر، تمام عالمِ انسانیت تک پہنچاتے رہیں؟ لہٰذا ہمارے لیے اہم ہو جاتا ہے کہ تبلیغ کی کسی بھی سطح اور نوع کو جانچتے وقت اس میں جاری ’’اجتہادی روح ‘‘ کو تلاش کریں ،(یعنی اس کی ’اپروچ‘ کیا ہے ، کیا یہ شعورِ انسانی کو خطاب کرتی ہے؟ ) اگر یہ موجود ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تصورِ خاتمیت اس میں پوری شان سے موجود ہے اور مبلغ کا ’’دینی ادراک‘‘ بھی ابلیسیت سے محفوظ ہے۔ خیال رہے، یہاں تبلیغ کو ارفع آرٹ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے اندر ہی خطابت ، گفتگو، مکالمہ، تحریراور خطاطی وغیرہ آجاتے ہیں ۔ خطیب بھی ایک طرح سے تبلیغ کر رہا ہوتا ہے ، اس کا ذکر ہو چکا۔ اب ادیب کی بات ہو جائے ، جس کا ضمنی ذکر سطورِ بالا میں ہوا ۔ 
یہ بڑی عجیب اور افسوس ناک بات ہے کہ ہمارے ہاں جس تحریر کو ’’دینی‘‘ سمجھا جاتا ہے ، اسے شاید دینی کے علاوہ اور سب کچھ کہا جا سکتا ہے ۔ ذرا ’’دینی رسائل ‘‘ کے محض عنوانات پر ہی سرسری نظر ڈال لیجیے ، آپ اپنا سر پیٹ لیں گے۔ ان کے مدیران کا دینی درک تو’’ سرورق‘‘ سے ہی فاش ہو جاتا ہے کہ رسالے کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے: ’’فلاں .......کا ترجمان‘‘ یہ کیا ہے ؟ یہ آرٹ کی کون سی سطح ہے ؟ کیا یہ سطح ، تصورِ خاتمیت سے میل کھاتی ہے ؟ راقم کی نظر میں فروعی اختلافات پر مبنی کتابیں اور ان اختلافات کو بھڑکانے والے رسائل و جرائد، حقیقت میں ان لوگوں کے روحانی میل کچیل اور ذہنی کثافت کی علامت ہیں جن کے ہاں تصورِ خاتمیت’’ دھندلا ‘‘گیا ہے ، جس کے سبب سے اجتہادی نور بھی ان سے گریزاں ہے ۔یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ایسے میں اپنی روح اور اپنے اساسی الہام سے بچھڑ کر ثانوی چیزوں کو ہی ’’بنیادی‘‘ تسلیم کر لیا جائے اور لوگوں کو انتہائی سطحی آرٹ کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ لیجیے ہم نے ’’سونے کا انڈہ‘‘ دے دیا ہے ۔ 
اگر ’’دینی ادب‘‘ میں موضوع اور مواد کے اعتبار سے شاذ شاذ کام کی چیز نظر بھی آتی ہے تو ’’اپروچ‘‘ کے حوالے سے پراپیگنڈا سے سابقہ پڑتا ہے ۔ تزکیہ نفس سے لے کر تاریخی واقعات کے بیان تک ، ہر جگہ کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے ۔ نسیم حجازی کی تصانیف دیکھ لیجیے ، اور سچ سچ بتائیے کہ ان کا اثر جذبات پر پڑتا ہے یا شعور پر؟ آرٹ کی یہ سطح ، عہدِ رفتہ کے مقابر کی مجاوری کی مانند ہے اور مجاوری کبھی شعور نہیں بخشتی۔ اسی طرح دیگر مصنفین بھی موضوع کے انتخاب اور مواد کے چناؤ میں ’’ خلوص‘‘ کا نمونہ نظر آتے ہیں لیکن چونکہ ان کا دینی ادراک (تصورِ خاتمیت دھندلانے سے)اجتہادی روح میں گندھا ہوا نہیں ہوتا ، اس لیے وہ جبر اور پراپیگنڈے کی بھول بھلیاں میں گرفتار ہو جاتے ہیں جس کے باعث معاشرے پر ان کی تحریروں کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں کیونکہ قاری محض وقتی طور پر ، جذبات کی سطح تک ہی متاثر ہوتا ہے ۔ 
اسی سلسلے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقت میں دینی ادب کی اصطلاح ہی عجیب و غریب ہے ۔ کیونکہ ادب ، انسان کی شخصیت ، اس کے باطن ، اس کے وجدان کا اظہار ہے ۔ اس کا مخرج وہ مقام ہے ، جہاں انسان کے مذہبی عقائد پڑاؤ ڈالے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ادب (ہر سطح کا ) ، ہوتا ہی دینی ہے ، البتہ اس کے ذریعے فرد کے دینی عقائد کی نوعیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے ۔ مذہبی طبقے کے ’’باطنی اظہار ‘‘ کے متعلق بات ہو چکی ۔ اگر ہم غیر مذہبی طبقے کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی صورتِ حال مختلف نہیں ہے ۔ یہ طبقہ آج کل بڑے زور و شور سے رونا رو رہا ہے کہ عوام الناس ، مطالعہ ادب سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ان سے گزارش ہے کہ بھئی عوام ایسے ادب کی طرف مائل کیوں ہوں گے جس کے پیچھے روحانی و باطنی سر چشمے کے بجائے محض خارجی واقعیت کا جبر جھلکتا ہو ۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس وقت مذہبی اور غیر مذہبی آرٹسٹ ، جھوٹے آرٹ کو فروغ دے رہا ہے ۔ 
اگر ہم اپنی معاشرتی برائیوں کی فہرست مرتب کریں تو یہ بہت طویل ہو گی ۔ صرف موٹی موٹی برائیوں کو ہی گن لیں، مثلاً کرپشن، رشوت، جھوٹ ، قانون شکنی ، نمود و نمائش ، دولت کی ہوس، طاقت کی بھوک، اپنی اپنی دوڑ وغیرہ وغیرہ۔ اب ذرا بتائیے کہ انہیں ایڈریس کرنے کے لیے کیا ’’آرٹ‘‘ کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا لوگوں میں سادگی ، محبت ، اخوت ، انکساری ، رحم، رواداری ، صدق، قانون پسندی ،قناعت، ایثار وغیرہ آرٹ کے بغیر پیدا کیے جا سکتے ہیں؟راقم کی نظر میں ایسا نہیں کہ ہماری سوسائٹی میں آرٹ موجود نہیں، کیونکہ کوئی سوسائٹی بغیر آرٹ کے نہیں ہو سکتی ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے ’’جھوٹاآرٹ‘‘ ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے۔موجودہ معاشرتی ابتری ، اسی آرٹ کا ’’عطیہ‘‘ ہے جسے ہم بھگت رہے ہیں ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں ’’نقد و انتقاد‘‘ کے پلیٹ فارم سے جھوٹے اور سچے آرٹ پر بحث کی جائے ۔ راقم کی رائے میں سچا آرٹ وہی ہے جس میں ’’تصورِ خاتمیت ‘‘ جھلکتا ہو ۔ لہٰذا ہمارے لیے لازمی ٹھہرجاتا ہے کہ تصورِ خاتمیت کے معنوی ابعاد مسلسل آشکار کرتے رہیں ۔ اس سلسلے میں چند نکات پیشِ خدمت ہیں۔ تصورِ خاتمیت تقاضا کرتا ہے کہ آرٹ کے ہر نمونے میں :
(۱) وحدتِ انسانیت رچی بسی ہو ۔
(۲) مساواتِ انسانی کا پیغام ہو۔
(۳) مساوات کے قیام کے لیے انسان سے ماورا ہستی کا اثبات موجود ہو ۔
(۴) تکریمِ انسانیت کا سبق آفتاب کی مانند واضح ہو۔
(۵) عورت کو ’شے‘ کی بجائے انسان گردانا جاتا ہو۔
(۶) کمتر اور محکوموں سے اعلیٰ حسنِ سلوک کی تعلیم ہو۔
(۷) انفرادی و گروہی تشخص کی تسلیمیت پنہاں ہو۔
(۸)جبر کی نفی کا تاثر بھر پور ملتا ہو ۔ 
یہ چند نکات ہیں۔ انہیں ’’دینی ادب ‘‘ پر منطبق کیجیے ، خاصی شرمندگی اٹھانی پڑے گی ۔ہمارے مذہبی طبقے کا بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اسے آرٹ کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ۔ یہ طبقہ لگے بندھے اصولوں پر دین کی ’’معاشرتی ترویج ‘‘ کے لیے کوشاں ہے ۔ اس کے ہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ فقہی ڈنڈے سے اصلاحِ عام ہو جائے گی ۔ اگر یہ طبقہ اور دوسرا ادبی طبقہ بھی ، تصورِ خاتمیت کی روح کو تھام لے تو عظیم تبدیلی رونما ہو سکتی ہے ۔ نماز ، روزے ، حج، زکوۃ، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور دیگر احکامات اگر شعورِ انسانی کو مخاطب کرنے والی ’’اپروچ ‘‘ سے مکالموں، انشائیوں ، ناولوں وغیرہ میں پیش کیے جائیں تو اس کے اثرات زیادہ تیزی سے اور دور رس مرتب ہوں گے ۔ مثلاً ناول کے کسی کردارکو اس طرح ’’ایکٹ‘‘ کرتے دکھایا جا سکتا ہے کہ’’جب اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی پانچ بجا چکی تھی ، وہ جلدی جلدی ہاتھ منہ دھونے کی نیت سے اٹھا ، لیکن پھر اسے خیال آیا ، اوہو! آج تو جمعہ ہے، غسل کرنا چاہیے ......... ‘‘۔اس طرح قاری کوجمعہ کے دن کی فضیلت اور غسل کے مسائل (غیر فقہی زبان میں ) سمجھائے جا سکتے ہیں، کچھ اس طرح کہ شاید وہ دوبارہ کبھی نہ بھولے۔ اسی طرح دیگر ضروری احکام جن کی بابت آگاہی تمام مسلمانوں کے لیے لازمی ہے ،بہت فنکارانہ انداز میں قارئین کے اذہان میں نقش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تبلیغ کی وہ سطح ہوگی ، جس میں اجتہادی رنگ نظر آئے گا کہ ہر لکھاری بہتر سے بہتر اور منفرد انداز سے قلم اٹھائے گا ۔راقم کے خیال میں ہمارے معاشرے میں ’’السلام علیکم‘‘ کہنے کی ریت ، آرٹ کے توسط سے آئی ہے ، فقیہِ شہر کی چیخ پکار کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بہت بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے، اگر ہماری ’’اپروچ‘‘ پراپیگنڈا کی بجائے شعور کو ایڈریس کرنے والی ہو ۔ 
آرٹ کے دیگر نمونوں پر بھی مذکورہ بالا نکات کا انطباق کرنے سے انتہائی غیر تسلی بخش صورت سامنے آتی ہے ۔ فنِ تعمیر کو ہی لیجیے اور مساجد کے ’’جغرافیہ ‘‘ پر ناقدانہ نظر دوڑائیے۔ پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ یہ اسلامی معاشرہ ہے اس لیے مسلمانوں کی کثیر تعداد کے پیشِ نظر مساجد کندھے سے کندھا ملائے کھڑی ہیں ۔ لیکن جب معاملے کو ذرا گہرائی سے دیکھیں تو پسینہ چھوٹ جاتا ہے ۔ امرواقعہ یہ ہے کہ مساجد کے ماتھے ’’نیتوں کے فتور‘‘ کا برملا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ مسجد عام طور پر اس لیے نہیں بنائی جاتی کہ فلاں علاقے میں مسجدکی’’ ضرورت ‘‘ہے بلکہ تعمیر اس لیے اٹھائی جاتی ہے کہ فلاں علاقے میں ’’ہماری‘‘ مسجد موجود نہیں۔ اب انصاف سے فیصلہ کیجیے کہ جب مسلم معاشرت کی اجتماعیت کی پہلی اکائی کے پیچھے ایسی نیت ہے جو تفریق ڈالنے والی ہے ، تو پھر ہم (خاص طور پر مذہبی طبقہ) شور شرابہ کر کے آسمان سر پر کیوں اٹھائے ہوئے ہیں کہ مسلمان ’’متحد‘‘ نہیں ہوتے۔ بہت صاف اور کھری سی بات ہے کہ ’’فنِ تعمیر‘‘ کسی قوم کے باطن کو متشکل کرتا ہے۔ ہندوؤں کے گھروں ،محلوں وغیرہ کی پیچیدگی ، تنگی اور اندھیارے سے ان کے باطن(مذہبی عقائد) کا بعینہ اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارا فنِ تعمیر بھی ہمارے دینی ادراک کا اظہار ہے ۔ ہم توتعمیر کے لیے جگہ کے انتخاب یعنی ’’جغرافیے ‘‘ پر آ کر ہی اٹک جاتے ہیں کہ دینی درک ’’منقسم ‘‘ کرنے والا دکھائی دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا دین یہ کہتا ہے کہ تفرقے میں پڑ جاؤ ؟ اگر نہیں، تو پھر ’’مسجدِ ضرار کی توسیع‘‘ کیوں نظر آرہی ہے ؟اس کا جواب ایک ہی ہے کہ ہمارا دینی ادراک ، ابلیسیت زدہ ہو چکا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ فقہ ایسی مساجد کے لیے ’’جوازات‘‘ تلاش کر لے ، لیکن آرٹ کی سطح سے ، اس کا دفاع کرنا ممکن نہیں ۔ راقم کی رائے میں ان مساجد کے قیام کے پیچھے بنیادی طور پر ’’پراپیگنڈا ‘‘ کی نفسیات کام کر رہی ہوتی ہے نہ کہ شعورِ انسانی کو خطاب کرنے کی ذمہ داری کا جمالیاتی احساس۔ 
مساجد کی تعمیر کے پیچھے جس قسم کی نیت نظر آتی ہے ، اسی قسم کے ارادوں کا اظہار دیگر اجتماعی اداروں کے پس منظر میں بھی جھلکتا ہے ۔جی ہاں ! عیدین’’اپنے اپنے فرقے ‘‘ کے مولوی صاحب کے پیچھے ہی ادا ہوتی ہیں ، اگرچہ نماز کی ادائیگی کے بعد ’’کسی اور پلیٹ فارم ‘‘ پر یہی متفرق لوگ ’’آپس میں ‘‘مل بیٹھتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذہب تو لوگوں کے مابین ’’تفریق‘‘ڈالتا ہے لیکن دیگر معاشرتی رشتے ناتے انہیں آپس میں گوندھ دیتے ہیں ۔یہ کیا ہے؟ ہمارے مذہبی طبقے کے سامنے یہ بہت بڑا سوال ہے۔ عیدین کے مواقع پر ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جو لوگ خوش قسمتی سے کسی فقیہِ شہر کے ’’ تنگنائے فکر ‘‘ کے حصار میں نہیں ہوتے ، (آرٹ کے رسیا ہونے کے باعث )، وہ منہ اٹھائے کسی بھی اجتماع میں جا گھستے ہیں۔ شاید ایسے لوگ ہی اجتماع کی اصل روح کی ’’کفایت ‘‘ ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کے علاوہ جو لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں ، ان کی نفاستِ طبع انہیں اجتماع میں جانے سے روک لیتی ہے(آخر لطافت کا کثافت سے کیا میل؟) ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ بھی امریکہ کی سازش ہے؟
ہماری سب سے بڑی اجتماعی علامت حج ہے ۔ یہ علامت بھی مسجد اور عیدین کی طرح موجودتو ہے ، لیکن اس کا ادراک بھی آلودہ ہو چکا ہے ۔ اب ماضی کی نسبت لوگوں کی بہت بڑی تعداد حج کرتی ہے۔ جس نسبت سے تعداد بڑھ رہی ہے، اسی نسبت سے ’’حاجی‘‘ کے معنی بھی معنی خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ حج کے موقع پر مسلمانوں کو ’’ابلیس ‘‘ کی پہچان بھی کرائی جاتی ہے، جمرات کا مقصود ابلیس کو دھتکارنا بھی ہے اور للکارنا بھی ۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ اب ان دھتکارنے للکارنے والوں پر معاشرہ ’’جمرات‘‘ کرتا ہے ، لطائف بنا کر ، پھبتیاں کس کر ،ان پر کنکریاں مارتا ہے ۔ اگر ہم حقیقت سے آنکھ چرانا چاہیں تو الگ بات ہے ورنہ صورتِ حال یہی ہے ۔ یہاں بھی سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟راقم کی نظر میں بات وہی ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ آرٹ سے بے بہرہ ہے ۔ اس لیے نہ صرف وہ خود اجتہادی روح سے بیگانہ ہو کر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے بلکہ سادہ لوح عوام کو بھی شعور دینے سے قاصر ہے۔ جس طرح ’’السلام علیکم‘‘ کی ریت غیر مذہبی طبقے نے ڈالی ہے، اسی طرح اجتماعیت کی اصل روح کا ادراک بھی (جو کہیں کہیں نظر آتا ہے ) اسی طبقے نے دیا ہے ۔ 
اجتماعیت کی یہ بات فنِ تعمیر سے چلی تھی ۔ رسولِ کریمﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’مومن کی دولت کو جو چیز کھا جاتی ہے اور نفع نہیں پہنچاتی ، وہ عمارت ہے ‘‘۔ اس حدیث مبارک ﷺ کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ پر شکوہ عمارتیں ہمارے دینی ادراک کا اظہار نہیں ہیں۔ البتہ یہ ہماری ’’آرزوؤں ‘‘ کا نوحہ ضرور ہیں۔ جب ہم لوگ دین کی عالمگیر،آفاقی اور اجتہادی روح کو باہم رشتوں، رویوں میں سمو نہیں پاتے تو یہ روح ، پر شکوہ اور شاندار عمارتوں کی صورت میں (گنبد ، مینار وغیرہ آفاقیت کی علامت ہیں ) اپنا جلوہ دکھاتی ہے ۔ راقم کے خیال میں جب مسلم معاشرت نے دینی ادراک کا اظہار ، باہم رشتوں ناتوں میں کرنا شروع کر دیا تو ایسی پرشکوہ عمارتیں بننا بند ہو جائیں گی کہ روح کو اظہار کااصل راستہ مل جائے گا۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں یہ روح چونکہ آرزو نہیں ، بلکہ اظہار کر رہی تھی، اس لیے پر شکوہ عمارتوں کا سلسلہ ہائے دراز اس عہد میں نہیں ملتا ۔
دین اسلام کا تصورِ خاتمیت انسان کے ’’آزاد اور ذمہ دار ‘‘ رویے پربھی دلالت کرتا ہے ۔ اس طرح ہونا یہ چاہیے تھا کہ اسلامی ادب(اور آرٹ کی دیگر اقسام) کی اپروچ ، آزادانہ اور ذمہ دارانہ ہوتی ، جس کے نتیجے میں عالمی ادب کا کثیر حصہ مسلمانوں کی تحریروں پر مشتمل ہوتا ۔لیکن تصورِ خاتمیت دھندلانے سے ، آزادی اور ذمہ داری کی دونوں خصوصیات مسلمانوں کے دینی ادراک سے یکسر اٹھ گئیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ’’ وحدتِ انسانیت ‘‘ کا خواب بکھر کر رہ گیا ۔ یہودی اور عیسائی ’’آرٹ‘‘ کے پلیٹ فارم سے بھی وحدتِ انسانیت کو فروغ نہیں دے سکتے تھے ، کیونکہ یہودی موحد ہوتے ہوئے بھی نسل پرست ہیں ، عیسائی اگرچہ نسل پرست نہیں لیکن ان کے ہاں توحید نہیں پائی جاتی ۔ اس طرح صرف اسلام کے پیروکار ہی موحد ہیں اور (تصورِ خاتمیت کے توسط سے ) ساتھ ساتھ وحدتِ انسانیت کے علمبردار بھی۔ سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو ، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد اور عورت دنیامیں پھیلا دیے ‘‘سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تین بڑے گروہ (جو اپنے اپنے تئیں اپنی ہی اپروچ کو دین سمجھتے ہیں یعنی فقہی، جہادی اور تبلیغی) موحد ہوتے ہوئے بھی وحدتِ انسانیت کے فروغ کی ضمانت دیتے ہیں ؟ کیا فقہ ،انسانوں کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے کیا پراپیگنڈا والے جہاد سے افتراق کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا تبلیغ کا منظم انداز دوسروں کو منفی طور پر الرٹ نہیں کر دیتا ؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تینوں گروہ ’’اجتہادی روح ‘‘سے عاری ہیں (اجتہادی نظر کا نہ ہونا ہی سب سے بڑی بدعت ہے ) اسی لیے تینوں ایک دوسرے سے بیگانہ ، بے لچک انداز میں کام کر رہے ہیں ۔ اجتہادی نظر ہی واحد نقطہ اشتراک ہے ۔ اگر کوئی جہادی ہے اور اس کے ساتھ اجتہادی ہے ، اگر کوئی فقہی ہے اور اس کے ساتھ اجتہادی ہے ، اسی طرح اگر کوئی تبلیغی ہے اور اس کے ساتھ اجتہادی ہے (خیال رہے کہ اجتہادی نظر ، تصورِ خاتمیت کے سبب ہے ) تواس سے نہ صرف آپس میں ربط بڑھے گا بلکہ ان کے اپنے اپنے مخصوص شعبے میں بھی تازگی ہمہ دم موجود رہے گی ۔ اسی ربط اور تازگی سے دین کی پوری تصویر سامنے آئے گی اور وحدتِ انسانیت کی طرف پیش قدمی ممکن ہو سکے گی ۔
وحدتِ انسانیت کے حوالے سے ہی ایک بات یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ایک طرف گلوبلائزیشن کا شورو غوغا ہے تو دوسری طرف علاقائی ثقافتیں ابھر رہی ہیں ، جس سے عالمی فضا غیر یقینی سی ہو گئی ہے ۔ راقم کے نزدیک گلوبلائزیشن اور علاقائی ثقافتوں کا احیا ، دو متضاد رجحانات نہیں ہیں ۔ ذرا غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ علاقائی ثقافتیں ’’لوک ورثے‘‘ کا احیا چاہتی ہیں ۔ لوک ورثے کے احیا سے گلوبلائزیشن کے ظاہری عمل کو ’’روح ‘‘ مل جائے گی ۔ کیونکہ روحِ انسانی فطرت ہے ،آرٹ کے ذریعے روحِ انسانی کا اظہار ہوتا ہے اور دنیا کا بہترین آرٹ ’’لوک سطح‘‘ پر ملتا ہے ۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ ’’لوک سطح ‘‘ پر انسانی فطرت خارجی علم اور خارجی عناصر سے ممکنہ حد تک بچی رہتی ہے اور خالصتاً داخل کا، باطن کا اظہار کرتی ہے ۔اس لیے ہمیں دنیا کی تمام ثقافتوں کا لوک ورثہ ’’ملتا جلتا ‘‘ دکھائی دے گا کیونکہ روحِ انسانی ایک ہے ۔ اس طرح لوک ورثے کی جانب رجوع ، وحدت کا سفر ہے ۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر جب خارجی جبر(تمدنی سطح پر ) گلوبلائزیشن لا رہا ہے، انسان کا داخل بھی (ثقافتی سطح پر ) وحدت سے از سرِ نو آشنائی پیدا کر رہا ہے۔ جہاں تک لوک سطح پر افتراق کا تعلق ہے ، وہ بہت جزوی ہے ۔ ایسا فرق کچھ ایسے ہی ہے جیسے سورج کی روشنی کو منشور سے گزاریں تو وہ سات رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ روحِ انسانی بھی جب ’’ارضی منشور ‘‘ سے گزرتی ہے تو (شاید سات) رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے ، حالانکہ اس کی اصل سورج کی روشنی (سفیدی )کی مانندایک ہے ۔ قرآن مجید میں (سورۃ الحجرات ، آیت ۱۳)اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’ لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ، پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیے ، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے ، جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ، اللہ سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے ‘‘(۷) راقم الحروف کے مطابق رنگا رنگی کا یہ فرق ’’اندیشوں ‘‘ میں اس وقت ڈھلتا ہے جب کوئی رنگ یا ہر رنگ ’’اصل ‘‘ سے دور ہٹتے ہوئے اپنے رنگ کو ہی ’’اصل ‘‘ سمجھ بیٹھتا ہے ۔پھر اندیشوں کی ایسی سرزمین میں قوم پرستی، نسل پرستی اور زبان پرستی وغیرہ کی ’’باڑیں ‘‘ لگنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ اگر نوعِ انسانی اس ’’تعارفی رنگا رنگی‘‘کو قائم رکھتے ہوئے بھی، اپنی اصل کے ساتھ ’’وابستگی ‘‘سے محترز نہ ہو توتصادم کی بجائے موافقت و اخوت پروان چڑھے گی اور وحدتِ انسانیت کا ازلی خواب پورا ہو گا ۔ راقم کے نزدیک تبلیغی جماعت ان مختلف ثقافتی منطقوں کو ’’اصل‘‘ سے متعارف کرا رہی ہے ۔ یہ عظیم خدمت ہے ۔ اگر تبلیغی جماعت ،دین اسلام کے امتیازی وصف ’’تصورِ خاتمیت‘‘ کی روح ،یعنی اجتہادی نظر کو اپنے احوال میں سمو لے ، توتبلیغ کے جامد اور لگے بندھے طریقے ،رونما ہونے والی ممکنہ تبدیلی کی راہ نہیں روک سکیں گے ۔رسول کریم ﷺ کا ارشادِ پاک ہے ’’من استوی یو ماہ فہو مغبون‘‘ کہ جس شخص کے دو دن یکساں ہوں، یعنی جس نے کل کے مقابلے میں آج کوئی ترقی نہیں کی وہ شخص گھاٹے میں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ’’کل یوم ھو فی شان ‘‘ بھی یکسانیت کو رد کرتا ہے کہ یک رنگی زندگی کی سرشت میں ہی نہیں ۔ لہٰذا ہمارے مبلغ کو ’’آرٹ‘‘ کی طرف رجوع کرنا ہو گا ۔
سورۃ الحجرات کی اس آیت مبارکہ سے ایک اور نکتہ سامنے آتاہے کہ زندگی کا حسن اور رعنائی ’’سادگی‘‘ میں ہے ۔ جیسے سورج کی روشنی سفید ہونے کے باعث ، سادہ ہوتی ہے لیکن اس میں حسن اس اعتبار سے عروج پر ہوتا ہے کہ اس میں ’’ساتوں رنگ‘‘ گھلے ملے ہوتے ہیں ۔ بظاہر ایسا معلوم ہو گا کہ(منشور سے گزر کر ) ہر رنگ ’’سفیدی‘‘ سے زیادہ خوش نما ہے ، لیکن اہلِ نظر کو سفیدی میں ہی ایک کے بجائے ساتوں رنگ اکٹھے دکھائی دیں گے ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ حسن ، سادگی میں ہے ۔ راقم کی رائے میں اگر انسان حسن پسند بن جائے تو وہ لازماً حقیقی حسن کو ظاہری رنگا رنگی کی بجائے اس وحدت میں دیکھے گا جہاں تمام رنگ بغل گیر ہوتے ہیں ۔ ایسی حسن پسندی کبھی بھی انسانوں کے مابین اس حد تک تفریق نہیں ہونے دے گی کہ کراہت زندگی کا لازمہ بن جائے ۔ سوال وہی ہے کہ کیا فقہ ، حسن پسندی کو فروغ دے سکتی ہے ؟ راقم کے نزدیک یہ منصب آرٹ کا ہی ہے ۔ کیا ہمارے آرٹ کی موجودہ سطح، ایسی رمزیت کی حامل ہے کہ ہم اس سے ایسی امیدیں باندھ سکیں؟ یقیناًایسا نہیں ہے ۔لہٰذا اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آرٹ کو اس کا مقام دیتے ہوئے ، دین اسلام کے عالمگیر تصورات کو ، جو وحدتِ انسانیت اور تکریمِ انسانیت کے گرد گھومتے ہیں ، اجاگر کیا جائے ۔ 

حواشی 

(۱) خیال رہے کہ یہاں فقہ بمعنی قانون مراد ہے ۔ 
(۲) اگرچہ علوم کے ایک شعبہ پر دسترس کے باعث انہیں ’عالم‘ کہا جا سکتا ہے ، لیکن اس حوالے سے انہیں عالم قرار نہیں دیا جا سکتا ، جس حوالے سے وہ خود کو عالم سمجھتے ہیں ، یا معاشرہ میں انہیں سمجھا جاتا ہے ۔
(۳) خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ نے قحط کے زمانے میں چوری کی سزا (ہاتھ کاٹنے کو ) ساقط قرار دیا تھا ۔ان کے ہاں یہ اپروچ ، تصورِ خاتمیت سے پھوٹنے والی اجتہادی نظر کا نتیجہ ہے ۔ 
(۴)جھوٹ ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں جس قدر سرایت کر چکا ہے اس سے بات بہت بڑھ گئی ہے ۔ برِ صغیر میں انگریز راج کے دوران لارڈ کرزن (وائسرائے ہند) نے کہا تھا کہ ہندوستانی بہت جھوٹے ہوتے ہیں ۔ اس پر ایک انگریز ادیب نے کہا تھاکہ ہندوستانی غیر معمولی طور پر جھوٹے ہوں گے کہ کرزن جیسے سیاستدان کا دم بھی وہاں گھٹنے لگا ، حالانکہ پارٹی پالیٹکس کا دارو مدار ہی جھوٹ پر ہے ۔ 
اسی طرح جھوٹ کی عوامی سطح پر پذیرائی بھانپتے ہوئے لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ’’ حضور اس ملک میں بہت بڑی لعنت وہ شخص ہیں جو جھوٹی قسم کھاتے ہیں ۔ جج جھوٹ اور سچ میں امتیاز نہیں کر سکتا ۔ اگر حضور لوگوں کو سچی قسم کھانے کی عادت ڈال دیں توآپ کی شہرت کو چار چاند لگ جائیں گے اور کمپنی کو بے حد فائدہ ہو گا ۔ اگر آپ جھوٹی قسم کھانے والے کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمائیں تو حضور آپ کی شہرت کو پر لگ جائیں گے ‘‘۔راقم کی نظر میں سچی قسم کھانے کی عادت ڈالنا اور جھوٹی قسم کھانے سے روکنا ’’قانون‘‘ کے بس میں نہیں ہے ۔ 
حیرت کی بات تو ہے کہ جھوٹ اس وقت پہلے سے بھی زیادہ ’’کروفر اور شان ‘‘ سے ہماری روزمرہ زندگی کا لازمہ بن چکا ہے ۔ جھوٹ کو فرد کے نفس سے نکالنے کا ’’اظہار‘‘ تاریخِ اسلام کے اس واقعہ سے بخوبی ہو جاتا ہے ۔جب نجاشی کے دربار میں جب حضرت جعفرؓ تشریف لے گئے تو پہلے دن کی پسپائی کے بعد عمروبن العاص (جو کفارِ مکہ کی نمائندگی کر رہے تھے )نے دوسرے دن پھر دربار میں رسائی حاصل کی اور نجاشی اور درباریوں کو مشتعل کرنے کی خاطر بادشاہ سے عرض کی کہ حضرت عیسی سے متعلق مسلمانوں کا عقیدہ معلوم کیجیے، پھر فیصلہ دیجیے۔ نجاشی نے مسلمانوں سے یہ دریافت کیا تو مسلم وفد کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اگر عیسی کے ابنِ اللہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو ایمان ہاتھ سے جاتا ہے ، تاہم صحابہؓ نے حالات کی سنگینی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ’’واللہ ہم وہی کہیں گے جو اللہ کا حکم ہے اور جو ہمارے نبی کی تعلیم ہے چاہے کچھ ہو جائے ‘‘۔ 
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مسلم وفد میں ایسی کون سی چیز تھی جس نے حالات کی انتہائی سنگینی کے باوجود (کہ اسلام کا ابتدائی عہد تھا کفارِ مکہ نے جینا دوبھر کر دیا تھا، اسی لیے مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی کہ کچھ دوست مل سکیں )انہیں جھوٹ بولنے سے باز رکھا ۔ یہ سوال بہت اہم ہے ۔ ہمارا فقیہہ تو یہ کہہ کر اپنے فرض سے ’’فارغ‘‘ ہو جائے گا کہ وہ صحابہ کرامؓ کی جماعت تھی ان کا ایمان ہی اتنا مضبوط تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے ۔ یہ جواب صحیح ہونے کے باوجود ’’سطحی ‘‘ ہے ۔ بھئی ایمان آخر اتنا مضبوط کیسے ہو گیا؟ یہ تو تفقہ فی الدین سے جان چھڑانے والی بات ہے ۔ راقم کی نظر میں مسلم وفد کا سچا جواب اس وجہ سے تھا کہ رسالت مآب ﷺ نے دعوتِ دین دیتے وقت ہمیشہ مخاطب کے ’’شعور‘‘ کو ایڈریس کیا نہ کہ جذبات کو ۔ کسی انسان میں جذباتی سطح تک سمائی ہوئی فکر ، حالات سے دب کر کوئی اور رخ لے سکتی ہے ، لیکن شعور میں سمائی ہوئی فکر ،حالات کو اپنے رخ پرلے جاتی ہے ۔ لہذا یہ رسولِ کریم ﷺ کا مخصوص اندازِ دعوت تھا جس کے سبب صحابہؓ، آسمان کے ستارے بن گئے ۔ اس لیے شعور میں ’’صدق‘‘ راسخ ہونے سے صحابہؓ جھوٹ نہ بول سکے۔ ہجرتِ حبشہ کے حوالے سے ہی ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’اگر تم سر زمینِ حبشہ کو نکل جاؤ تو بہتر ہے کہ وہاں کے بادشاہ کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سرزمینِ صدق ہے ‘‘۔اس طرح روانگی سے قبل بھی سرزمینِ حبشہ کے چناؤ کی ’’وجہ‘‘ صحابہؓ کے شعور میں ڈال دی کہ وہ سرزمینِ صدق ہے ۔
(۵) آرٹ کے مترادف مختلف الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ، مثلاََ ہنر، زخرف، صناعتہ اور فن وغیرہ۔ راقم کی رائے میں قرآن مجید میں ’’حکمت‘‘ اور اسی نوع کے دیگر الفاظ ، آرٹ کی خصوصیات اور صفات کو محیط ہیں ۔ 
(۶) دیکھئے حاشیہ نمبر ۴۔ 
(۷) اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی الگ پہچان ، اس کے تشخص اور انفرادیت کے لیے ’’شعوباََ و قبائل‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔ آج کی اصطلاح میں یہ دونوں الفاظ قوم کی بجائے ’’قومیت‘‘ کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔ قومیت ، الگ تشخص کی وہ سطح ہے ، جہاں سے دوسری قومیت بھی ’’انسان ‘‘ دکھائی دیتی ہے ۔ جبکہ ایک قوم دوسری قوم کو انسان کا سٹیٹس دینے کو ’’ عملاََ ‘‘ تیارہی نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر پاکستان کی چار قومیتیں ہیں اور قوم ایک ہے ۔ وفاقی نظام کی وجہ سے چاروں قومیتوں کی ’’شناخت‘‘ قائم ہے ۔ جب ان میں سے کوئی ایک یا سبھی قومیتیں ’’قوم ‘‘ بننے کے لیے پر تو لیں تو پھر وہ اپنے الگ تشخص کے لیے اس سطح پر جا پہنچتی ہیں ، جہاں کوئی دوسرا نظر نہیں آتا ۔ یہ صورتِ حال بین الاقوامی سطح پر بہت واضح ہے کہ ہر قوم فقط اپنے آپ ہی کو ’’انسان ‘‘ سمجھتی ہے ۔ اس وقت امریکی اسی سوچ کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔ قراآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ذرا غور کیجیے کہ اگر عالمی سطح پر بھی ’’شناخت ‘‘ کو قوم کی بجائے قومیت کی حد تک رکھا جائے تو انسانوں کے مابین تفریق ’’تعارف ‘‘ کی سطح تک رہے گی اور مشترکہ انسانی حوالہ ہمیشہ پیشِ نظر رہے گا ۔ سول یہ ہے کہ اسلام کے اس آفاقی پیغام کو تمام عالمِ انسانیت تک پہنچانے کی سکت ، کیا ہمارا نام نہاد دینی طبقہ رکھتا ہے ؟ تکلف بر طرف ! کیا دینی طبقے کے اندر ،اس پیغام کی معنویت کی تفہیم بھی ہے کہ نہیں؟

قومی نصاب تعلیم کے فکری اور نظریاتی خلا

ڈاکٹر خورشید حسنین

(یہ تحریر سرکاری نظام تعلیم میں شامل نصابی کتابوں کے بارے میں SDPI کی اس رپورٹ کا پانچواں باب ہے جس پر ایک مفصل تبصرہ زیر نظر شمارے ہی میں شامل اشاعت ہے۔ اصل تحریر انگریزی میں ہے اور اس کا اردو ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

تعلیمی عمل، ایک لحاظ سے دیکھیے تو انفرادی اور اجتماعی شناخت کی تعیین اور تشکیل کا عمل ہے۔ جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھتا ہے، شعوری یا غیر شعوری طور پر فرد کے بعض بنیادی نفسیاتی اور سماجی مسائل اس کا موضوع بنتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً میں کون ہوں؟ ماضی اور مستقبل سے میرا تعلق کیا ہے؟ دوسرے انسانوں کے ساتھ میرا واسطہ کس نوعیت کا ہے؟ میری زندگی کا مقصد اور مصرف کیا ہے؟ ایک فرد جب اپنے گھر کے قریبی ماحول کی حدود سے باہر نکلتا ہے تو اس کی شخصیت (فکری اعتبار سے) وسعت پذیر ہو جاتی ہے اور وہ بالعموم اپنے قرب وجوار، شہر، ملک اور خطے سے ماورا ہو کر (دوسرے انسانوں کے ساتھ) تصورات، اقدار، اہداف اور خواہشات کی مماثلتیں تلاش کرنے لگتا ہے۔ وسعت ذہنی کے اس سفر میں حدود کا تعین ہر فرد کے لیے اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کو آزادی فکر اور آزادی عمل کس قدر حاصل ہے۔ ہمارے دور میں بالخصوص عوامی سطح پر اس طرح کے ایک آزادانہ اور وسعت نظر پر مبنی زاویہ نگاہ کی تشکیل کے جو مواقع میسر ہیں، غالباً کسی دوسرے زمانے میں نہیں تھے۔ اس میں جزوی طور پر ٹیکنالوجی کی انقلابی طاقت کا بھی دخل ہے، مثلاً الیکٹرانک میڈیا اور اس کی یہ صلاحیت کہ وہ قومی اور ثقافتی امتیازات کی تنقیح کر سکتا اور اور مقبول عام لیکن غلط تصورات کا ازالہ کر سکتا ہے۔ تاہم ان تکنیکی صلاحیتوں کا گٹھ جوڑ اگر جبر پر مبنی سیاسی نظاموں اور منظم نظریہ سازی کے ساتھ ہو جائے تو یہ تعلیم کے عمل کو برباد کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں یہ عمل آزادی فکر کا ایک تجربہ بننے کے بجائے ایک ایسی شناخت کی تشکیل کا عمل بن جائے جو اختلاف وامتیاز کے تمام مظاہر سے بے زار ہو اور اپنے ہی ماضی اور حال کے ایک بہت بڑے حصے سے اجنبی بن کر رہ جائے۔ 
آج پاکستان کے تعلیمی نظام کا منظر یہی ہے جو کہ ایک حادثے سے کم نہیں۔ اس کا بنیادی مقصد چند مخصوص نظریاتی اور سیاسی مقاصد کا حصول اور ان کے حصول میں معاون ثابت ہونے والی مخصوص ’’شناخت‘‘ کی تشکیل ہے۔ یہ نظریاتی مقاصد کیسے طے کیے گئے اور حکمران اشرافیہ کے مفادات کے لیے وہ کیا خدمات انجام دیتے ہیں، یہ سوال ان سطور کے دائرہ بحث سے خارج ہے۔ تاہم یہاں ہم اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے ملک اور زمانے کے لیے عمومی اور مخصوص اہمیت کے حامل وہ بڑے بڑے تصورات اور موضوعات کون سے ہیں جو اس مخصوصی تعلیمی سوچ کے ستم زدہ ہیں اور جنھیں نصابی کتابوں سے بالکل خارج رکھا گیا ہے۔ اور ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ اس نظریاتی تنگنائے میں فٹ نہیں بیٹھتے جن کے اندر نوجوان پاکستانی ذہن کو محدود رکھنا پیش نظر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی کا فوری نتیجہ اجنبیت کا ایک گہرا احساس پیدا کرنے کی صورت میں نکلا ہے اور (فکری) تربیت کے اس نظام سے گزرنے والی کئی نسلیں تخلیقییت پر مبنی قومی اور سماجی شناخت اور (مقاصد کے ساتھ) ایسا احساس وابستگی پیدا کرنے میں ناکام ہیں جو مذہبی تشدد پسندی، عسکریت اور تنگ نظر قومیت سے ماورا ہو۔

تاریخ

متعدد مصنفین اس بات کی نشان دہی کر چکے ہیں کہ ایک مصنوعی شناخت اور نظریہ کو فروغ دینے کے لیے تاریخ کی تدوین کو کس طرح مسخ کیا گیا ہے۔ اس ساری کوشش کا نقطہ ارتکاز یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تاریخی اختلافات اور دشمنیاں اجاگر کی جائیں اور ہندوؤں کی چالاکی، فریب اور ظلم وجبر کے مقابلے میں مسلمانوں کا حق بجانب ہونا ثابت کیا جائے۔ ایک مزید مقصد یہ بھی ہے کہ بچے کے ذہن میں یہ بات راسخ کر دی جائے کہ ان مذاہب کے ماننے والوں کے مابین دوستانہ تعلقات اور میل جول کا کوئی دور کبھی وجود میں نہیں آیا، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس کو مطالبہ پاکستان کے جواز کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔ اس شناخت کو قائم کرنے کے لیے تاریخ کو ازسرنو لکھا گیا اور ماضی کے بعض پورے کے پورے ادوار کو اس میں سے حذف کر دیا گیا۔ مثال کے طور پر ۱۹۶۱ء تک لکھی جانے والی نصابی کتابوں میں قدیم ہندو دیو مالا کی داستانیں اور ان ہندو اور بدھ حکمران خاندانوں کے بارے میں معلومات شامل تھیں جنھوں نے موجودہ پاکستان کے علاقے پر حکومت کی۔ تاہم بعد کی نصابی کتابوں سے ان قدیم ادوار (مثلاً موریہ اور اشوک خاندانوں) کو مکمل طور پر نکال دیا گیا، جبکہ بعض کتابوں میں بدھوں کے زمانے کا مختصراً حوالہ دے دیا گیا ہے (مثلاً دیکھیے جماعت ششم کی معاشرتی علوم) اس خطے کے ایک نہایت اہم دور کو حذف کرنا ایک علمی خیانت ہونے کے علاوہ اس نتیجے کو، جو کہ غالباً مطلوب بھی ہے، پیدا کرنے کا سبب ہے کہ بچے کے ذہن میں بھارت میں رہنے والے اپنے ہندو ہمسایوں سے اجنبیت کا احساس کھڑا کر دیا جائے، گویا کہ ہم کبھی ایک مشترک تاریخ یا مشترکہ تاریخی تجربات میں کبھی حصہ دار رہے ہی نہیں۔
قدیم معاشروں (موئنجو داڑو، ہڑپہ اور ہندومت سے پہلے کے دور) کا مختصر تذکرہ کرنے کے بعد تاریخ اچانک ایک چھلانگ لگا کر ہندوستان میں مسلمانوں (محمد بن قاسم) کی آمد کے مرحلے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں کہ مسلمان، فتوحات اور غلبے کی خواہشات سے متاثر ہوئے بغیر ہمیشہ اعلیٰ مقاصد ہی کے لیے میدان عمل میں آئے، سندھ کے حکمرانوں سے عربوں کے تصادم کو حاجیوں کے ایک جہاز پر حملے کا رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ نامکمل تصویر ان متعدد سابقہ کوششوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے جو عربوں نے مکران ۔بلوچستان کے علاقے میں داخل ہونے کے لیے کیں اور جنھیں مقامی حکمرانوں نے پسپا کر دیا۔ ان تصادمات کو اس زمانے میں غالب حقیقی سیاسی اور معاشی محرکات مثلاً تجارتی راستوں پر کنٹرول اور سلطنت کی توسیع وغیرہ کے ساتھ مربوط کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ ان عوامل کے دیانت دارانہ اور تنقیدی جائزہ سے صرف نظر کر کے اور ان فتوحات کی ایک پرشکوہ اور رومانوی تصویر پیش کر کے طالب علم کو ان قوتوں اور حرکیات کے علم سے محروم رکھا جاتا ہے جو تاریخ کی تشکیل کرتی ہیں، بالخصوص وہ جنھوں نے ہمارے اپنے خطے کی تاریخ کو تشکیل دیا ہے۔ اس سے ملتا جلتا تبصرہ بعد کے مسلمان حملہ آوروں مثلاً محمود غزنوی، محمود غوری اور بعد ازاں مغلوں اور آخر کار احمد شاہ ابدالی کی آمد کے بارے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان حملوں کے پیچھے موجود محرکات پر معروضی انداز میں بحث کرنے اور ان وجوہ کو واضح کرنے کے بجائے کہ حملہ آور طاقتیں کیوں عمومی طور پر مقامی مزاحمت کو فرو کرنے میں کامیاب رہیں، ان تمام واقعات کو اسلام بمقابلہ ہندو ازم کے سلسلے ہی کی مختلف کڑیاں ظاہر کیا جاتا ہے جس میں ہر مہم جو کی کام یابی اسلام کی عظمت اور فتح یابی قرار پاتی ہے۔

برطانوی دور: استعماری تجربہ اور تحریک آزادی

تاریخ کے ایک اگلے دور کی طرف آئیے۔ برطانویوں کی آمد اور ان کی جانب سے بھارت پر منظم اور تیز رفتار قبضہ اور لوٹ مار کے حوالے سے نصابی کتابیں افسوس ناک حد تک ایسی معلو مات سے خالی ہیں جن سے سامراجیت کے مظہر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہو۔ یہ کتابیں تحریک احیاے علوم اور اس کے نتیجے میں مغرب میں علم اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا کوئی ذکر نہیں کرتیں اور نہ ان میں صنعت کی اس تیز رفتار ترقی کا ذکر ہے جس نے (مصنوعات کی تیاری کے لیے) سستے خام مال اور (ان کی کھپت کے لیے) منڈیوں پر قبضے کا داعیہ مغرب میں پیدا کیا۔ وہ یہ بالکل نہیں بتاتیں کہ یہ دراصل اعلیٰ فہم وادراک، جدید ٹیکنالوجی اور انسانوں کی جانب سے ان کی بہتر تنظیم جیسے اسباب تھے جنھوں نے چند ہزار انگریزوں کے لیے کروڑوں ہندوستانیوں کو مغلوب کر لینا ممکن بنا دیا۔ اس طرح سے یہ کتابیں علم کی طاقت اور ٹیکنالوجی پر عبور کی اہمیت کا سبق ذہن نشین کرانے میں ناکام رہتی ہیں۔ طالب علم کو تاریخ کے ایک متبادل منظر سے بھی روشناس کرانا چاہیے، مثلاً اس سے یہ پوچھنا چاہیے کہ دنیا کے اس حصے کی تاریخ کیا ہوتی اگر ابتدائی مغل بادشاہ مغربی تاجروں کی اس پیش کش کو حقارت سے ٹھکرا نہ دیتے کہ وہ اپنی نو ایجاد شدہ ٹیکنالوجی مثلاً پرنٹنگ پریس کو ہندوستان میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ یہ پیش کش اکبر نے اس عذر کا سہارا لیتے ہوئے مسترد کر دی کہ اس سے کاتب بے روزگار ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں یہ کتابیں مغل حکومت اور اس وقت کے نوابوں اور راجاؤں کے دقیانوسی اور دیوالیہ معاشی اور معاشرتی نظام کے بارے میں خاموش ہیں جس نے عام آبادی میں اس بات کا کوئی محرک نہیں رہنے دیا تھا کہ وہ برطانوی اقتدار کے خلاف فوری طور پر اٹھ کھڑے ہوتے۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی بیانات مقامی سطح پر معاشی اور سماجی لحاظ سے اثر انداز ہونے والے عوامل کے ذکر سے بالکل خالی ہیں۔

سماجی ڈھانچہ

اگرچہ بہت سے مقامی افراد مثلاً میر جعفر اور میر صادق اور نظام حیدر آباد کی غداری کا تو اکثر ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن جس حقیقت کا بالکل کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ اس وقت مغل حکومت کے بے دست وپا ہو جانے کے بعد کوئی بلند تر سیاسی اکائی مثلاً قوم یا ملک کا کوئی تصور ہی باقی نہیں رہا تھا جس کے ساتھ لوگ وفاداری اختیار کرتے۔ ایک مقامی طبقاتی ڈھانچہ رکھنے والے روایتی معاشرے کے ایک قومی ریاست بننے کے گہرے مضمرات طالب علم پر بالکل واضح نہیں ہو پاتے، گروہی امتیازات کا تو ذکر ہی کیا۔ اس بحث کی غیر موجودگی میں یہ بات ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہو جاتی ہے کہ ایک اوسط درجے کا طالب علم انیسویں صدی کے آخری حصے میں ابھرنے والے قوم پرستی کے مختلف اور اکثر اوقات متضاد رجحانات کو سمجھ سکے۔ ساری گفتگو ہمیشہ مسلمان بمقابلہ ہندو کے تناظر میں ہوتی ہے ، بمقابلہ ان زیادہ بنیادی تقسیمات کے جو اس وقت موجود تھیں، یعنی انڈین قوم پرستی بمقابلہ برطانوی استعمار۔ اس طرح کی تاریخی بحث لوگوں میں محض دشمنیوں ہی کو دوام بخش سکتی ہے جبکہ اصل مطلوبہ مقصد، یعنی ایک ایسی پاکستانی شناخت کی تشکیل جس کی بنیاد محض ہندو شناخت کی نفی کے علاوہ کسی اور چیز پر بھی ہو، اس سے کسی طور بھی حاصل نہیں ہوتا۔

استحصال

اس طریقے کے نقصانات میں سے، جو سامراج مخالف جدوجہد کو (ہندو مسلم) گروہی اختلافات کے مقابلے میں محض ثانوی درجے کی اہمیت دیتا ہے، ہے، ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ پاکستانی طالب علم کو ماضی کے سامراجی نظام اور اس کی ان باقیات سے متعارف نہیں کرایا جاتا جو آج بھی سول اور ملٹری افسر شاہی، جاگیرداروں اور دلال کا کردار ادا کرنے والے سرمایہ داروں کی صورت میں اس کی زندگی پر حاوی ہیں۔ سامراجی طاقتوں نے ان لوگوں کے اندر سے جنھوں نے اپنی قوم کے لوگوں کے برخلاف اس سے تعاون کیا تھا، کیسے نئے اشرافی طبقات پیدا کیے، اور جاگیریں اور زمینیں ان کو کیسے الاٹ کرائی گئیں، اس پر کوئی بحث نہیں ہوتی کیونکہ ان وسیع وعریض جاگیروں اور ان کے ساتھ ازخود حاصل ہو جانے والی طاقت اور استحقاقات کو تقسیم کے بعد پچپن سال سے طاقت اور اقتدار کے نظام میں ایک ایسی مقدس چیز کی حیثیت حاصل ہے (جنھیں چھیڑنے کی کوئی جرات نہیں کرتا) سامراجیت نے انڈین معاشرے کے ارتقا کو کیسے متاثر کیا، مثال کے طور پر (انگریزوں نے) اپنی مصنوعات کی منڈیاں بنانے کے لیے بڑی تعداد میں فاضل سرمایے کو کیسے بیرون ملک منتقل کر دیا جس کے نتیجے میں مقامی صنعت معذور بلکہ درحقیقت ختم ہو گئی، اور اس کے نتیجے میں غربت کا دور دورہ کیسے ہوا، ان سب سوالوں کا جواب ہماری کتابیں نہیں دیتیں۔ سامراجی طاقت کی جانب سے لوگوں کے معاشی استحصال اور سماجی سطح پر اختیارات سلب کرنے کی پالیسی کو نمایاں نہیں کیا جاتا، غالباً اس لیے کہ لوگوں کو بے اختیار کرنے اور ان کے استحصال کا یہ طریقہ بعینہ آج بھی قائم ودائم ہے، فرق صرف یہ ہے کہ بدیسی آقاؤں کی جگہ دیسی آقاؤں نے لے لی ہے۔

گروہ بندی پر زور

جیسا کہ اوپر اختصار سے ذکر ہوا، ایک قابل لحاظ نکتہ یہ ہے کہ نصابی کتابوں میں آزادی کی ساری جدوجہد کے بیان میں (ہندو مسلم) گروہی مسئلہ غالب ترین حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز امر ہے کہ ہماری کتابوں میں سارا زور یہ دکھانے پر صرف کیا گیا ہے کہ یہ جدوجہد مسلمانوں کی جانب سے ایک ممکنہ ہندو تسلط کے خلاف کی جا رہی تھی، نہ یہ کہ ایک استعماری طاقت کے خلاف یہ انڈیا کے لوگوں (ہندو اور مسلمانوں وغیرہ) کی مشترکہ جدوجہد تھی۔ یہ موضوع سرسید احمد خان کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر نمایاں کرنے سے شروع ہوتا ہے جنھوں نے مسلمانوں میں دور جدید کی ضروریات کے حوالے سے بیداری پیدا کی اور مسلم قومیت کی بنیادیں قائم کیں۔ اس کا نقطہ کمال یہ ہے کہ قائد اعظم ایک ’’ملا‘‘ تھے جو شریعت کا نظام قائم کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ اس بحث میں جو چیز غائب ہے، وہ یہ کہ مولانا آزاد جیسے بہت سے ممتاز مسلمان قوم پرست ایسے بھی تھے جو تحریک آزادی کے ہراول دستے میں شامل تھے اور تقسیم کے تصور کے شدید مخالف تھے۔ مسلمانوں کو ایک متفق الرائے گروہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مسلم سیاسی قومیت کے ارتقا کے دوران میں جو دوسرے مسلم نقطہ ہائے نظر سامنے آئے، ان کی ترجمانی اس میں بالکل نہیں ہے۔ ممتاز علما سمیت بہت سے مسلمان تقسیم کے خلاف تھے جبکہ بہت سے دوسرے لوگ سرے سے اس سوال میں دل چسپی ہی نہیں رکھتے تھے۔ تاریخی صحت اور درستی کی خاطر یہ اہم بات ہے کہ طالب علموں کو یہ بتایا جائے کہ نہ مسلمان ایک متفق الرائے گروہ تھے اور نہ ہندو۔ دونوں جانب کئی آرا تھیں جن کا ذکر نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ تاہم ان گروہوں کے اندر پائے جانے والے اختلافات اور اختلافی آوازوں کا ہماری کتابوں میں کوئی ذکر نہیں جس سے اس ساری جدوجہد کے بارے میں بالکل لگی بندھی، بے لچک اور ہر لحاظ سے یکسو ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ (مثلاً انٹر میڈیٹ کلاسز، مطالعہ پاکستان، صفحہ ۱۹، مصنف مظہر الحق، طباعت چہارم، ۲۰۰۰، بک لینڈ) کم از کم انٹر میڈیٹ کے نسبتاً پختہ مرحلے پر طلبہ تاریخ کی پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں اور ہر معیار کے لحاظ سے ان چیزوں کو نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔
ان واقعات اور شخصیات کو معروضی انداز میں شامل کرنا اور متعلقہ استدلالات کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث کرنا بے حد اہم ہے۔ اس سے طلبہ میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات لازمی طور پر کسی گروہ کے ساتھ نفرت اور دشمنی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی پس منظروں کا قدرتی نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس سے ہمارے معاشرے میں رواداری اور جمہوریت کے کلچر کو فروغ دینے اور اپنے ہمسایوں یعنی ہندوؤں کے ساتھ دشمنی کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

معاصر مسائل

نصابی کتابیں قائد اعظم او رحصول پاکستان کے لیے ان کی کوششوں کے تذکرہ سے جس قدر بھری پڑی ہیں، اسی قدر یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ان کتابوں میں کہیں بھی ان کے اعلیٰ لبرل، جمہوری اور وادارانہ تصورات کو نمایاں نہیں کیا گیا۔ دستور ساز اسمبلی میں ان کی ۱۱۔ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کا کسی بھی سطح پر کوئی تذکرہ نہیں ہے، جس میں انھوں نے ایک جمہوری اور سیکولر پاکستان کا خاکہ واضح کیا تھا، جس میں ریاست کو اپنے شہریوں کے مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور جس میں مذہبی امتیاز کے بغیر تمام شہری مساوی حیثیت کے حامل ہوں گے۔ ہم اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اس ذہنی رجحان کا اظہار اس بات سے کیا تھا کہ ملک کی پہلی کابینہ جو قائد اعظم نے تشکیل دی، اس میں وزیر قانون ایک ہندو اور وزیر خارجہ ایک احمدی تھا۔ ایسا ہم اس مفروضے کے تحت کرتے ہیں کہ یہ بات اس افسانے میں، جسے ہم برقرار رکھنا چاہتے ہیں، فٹ نہیں بیٹھتی کہ قائد اعظم کے ذہن میں ایک ’’اسلامی‘‘ ریاست کا قیام تھا نہ کہ محض مسلم اکثریتی ریاست کا قیام۔ اسی تناظر میں ان تمام غیر مسلموں کا کوئی ذکر نصابی کتابوں میں نہیں ملتا جنھوں نے اس خطے کی، جو اب پاکستان کہلاتا ہے، تعلیمی، سماجی اور انسانی ترقی میں خدمات انجام دیں۔ اگرچہ وہ تعلیمی ادارے، ہسپتال اور پارک وغیرہ جو انھوں نے قائم کیے، اب بھی ان کے جذبہ خدمت انسانیت کی یادگار کے طور پر موجود ہیں، نصابی کتابوں کی حد تک وہ ناقابل قبول شخصیات ہیں۔ جن غیر مسلموں نے ۱۹۴۷ء کے بعد پاکستان کی خدمت کی، ان کا حال بھی اس سے بہتر نہیں۔ چاہے وہ ڈاکٹر عبد السلام جیسا عظیم سائنس دان ہو، یا اے آر کارنیلیس جیسا ممتاز قانون دان یا سچل چودھری جیسا فوجی ہیرو یا بہت سے دوسرے لوگ جنھوں نے اس ملک کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، ان کا کہیں بھی شایان شان ذکر نہیں کیا گیا۔ ان سے غیر مسلموں کے خلاف اس نفرت اور تعصب کو تقویت ملتی ہے جس کا حصول اسلامی شناخت کے فروغ کے نام پر پورے تعلیمی نظام کا ہدف ہے۔
تاہم یہ صرف غیر مسلم ہیروز اور غیر معمولی شخصیات ہی نہیں ہیں جن کے تذکرہ سے نصاب خالی ہے۔ اس سے بھی زیادہ نمایاں حقیقت یہ ہے کہ سول سوسائٹی کے معاصر مرد اور خواتین ہیروز، چاہے وہ قومی ہوں یا بین الاقوامی، مسلمان ہوں یا غیر مسلم، افراد ہوں یا ادارے، نصابی کتابوں سے مکمل طور پر خارج ہیں۔ نہ سائنس دانوں کا کوئی ذکر ہے، نہ فن کاروں اور سماجی کارکنوں کا اور نہ صحافیوں اور سیاست دانوں کا۔ سول سوسائٹی کی حاصل کردہ کام یابیوں کو نمایاں کرنے کے حوالے سے نصابی کتابوں میں موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ معاصر ہیروز میں سے اگر کسی کے متعلق بچوں کو بتایا گیا ہے تو وہ صرف فوجی ہیروز ہیں۔ یقیناًان لوگوں کے مقام و مرتبہ کو کم کرنا کسی کا مقصد نہیں ہو سکتا جنھوں نے اس ملک کے لیے لڑتے ہوئے جانیں قربان کر دیں، لیکن یہ بات بھی اگر زیادہ نہیں تو اتنی ہی اہم ضرور ہے کہ ان لوگوں کو بھی نمایاں کیا جائے جنھوں نے اس ملک کی بہتری کے لیے عمر بھر کام کیا۔ سول سوسائٹی کے ہیروز کا کوئی ذکر نہ کرنا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ (ہمارے معاشرے میں) ایسے قابل ذکر افراد پائے ہی نہیں جاتے جن کے کردار کو بچوں کے سامنے نمونے کے طور یا اثر انگیز شخصیات کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ اس سے فوج کے اس دعوے کو بھی تقویت ملتی ہے کہ وہی ملک کی نجات دہندہ ہے اور اس کے افراد سول سوسائٹی کے افراد سے برتر ہیں۔ معاصر شخصیات کا ذکر نہ کرنے کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم عمومی طور پر کسی شخصیت یا واقعہ کو محض ’’ہر لحاظ سے اچھا‘‘ یا ’’ہر اعتبار سے برا‘‘ ہی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی عوامی شخصیت جو کسی حوالے سے متنازعہ ہے، اس اصول پر خارج از بحث ہو جاتی ہے۔ ہمارے زمانے کی زیادہ تر بڑی شخصیات بظاہر ان غیر حقیقی معیارات پر پورا اترنے سے قاصر ہیں ، اور اس کی وجہ بالعموم یہ نہیں کہ ان کے کارنامے معمولی ہیں، بلکہ اصل سبب ان کے مذہبی یا سیاسی نظریات یا شخصی اعجوبہ کاریوں سے منسلک ہوتا ہے۔
یہ ایک بے حد اہم بات ہے کہ ہماری نصابی کتابیں معاشیات اور سیاسیات میں ایک شدید حد فاصل قائم رکھے ہوئے ہیں اور سماجی تنقید اور سوالیہ رویے کے پیدا ہونے کو دبانا چاہتی ہیں۔ یہ رویہ تقسیم اقتدار کے مقامی نظام اور عالمی مالیاتی اداروں دونوں کے حوالے سے یکساں موجود ہے۔ مثلاً معاشرتی علوم کی کتابوں (انٹر میڈیٹ کلاسز، مطالعہ پاکستان، مصنف مظہر الحق، طباعت چہارم، ۲۰۰۰، بک لینڈ) میں ایک باب پاکستانی کے قدرتی وسائل کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم اس پر سرے سے کوئی بحث نہیں کہ معاشرے میں معاشی وسائل کے تقسیم کے مضمرات کیا ہیں، اور وسائل اور مواقع تک غیر مساوی رسائی کے کیا اثرات افراد، گروہوں اور صوبوں کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ریاست کی اس ذمہ داری پر بھی کوئی گفتگو نہیں کی گئی کہ وہ صوبوں، طبقات اور دونوں صنفوں (مرد وعورت) کے مابین وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔
شہریوں کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داریوں ہی کے تناظر میں اگرچہ حکومت کی آمدن اور اخراجات سے متعلقہ باب میں ٹیکس لگانے کا ذکر کیا گیا ہے (صفحہ ۹۷ تا ۹۹) لیکن اس پر کوئی گفتگو نہیں کہ لوگ ٹیکس کیوں دیتے ہیں، اس کے بدلے میں انھیں کیا ملنا چاہیے اور کیا ہماری ریاست انھیں فی الواقع وہ سہولیات دے رہی ہے جو انھیں ادا کردہ ٹیکسوں کے عوض میں ملنی چاہییں؟ کیا حکومت پیسہ صحیح جگہ پر خرچ کر رہی ہے یا اس کی ترجیحات غلط ہیں؟ اس میں نہ صرف شہریوں کے حقوق کا بلکہ شہریوں کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داریوں کا نیز اس بات کا ذکر بھی شامل ہونا چاہیے کہ عوامی رقم کیسے وصول اور خرچ کی جاتی ہے اور یہ رقم ادا کون کرتا ہے اور اسے خرچ کون کرتا ہے، وغیرہ۔

نتیجہ

سطور بالا میں ہم نے ان بنیادی موضوعات کا ایک خاکہ پیش کیا ہے جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ انھیں چن کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ نصابی کتابوں سے خارج کیا گیا ہے، اور اس کے پیچھے کوئی علمی یا تعلیمی اسباب نہیں بلکہ زیادہ تر تنگ نظری پر مبنی نظریاتی وجوہ کارفرما ہیں۔ جابجا ہم نے ان متعین نتائج کی نشان دہی کرنے کی بھی کوشش کی ہے جو ان موضوعات کے شامل نہ ہونے سے سے طلبہ کے ذہنی رویے اور ان کے تصورات میں پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ ان کو انسان دوستی اور آزادانہ فکری وذہنی فضا سے کوئی واسطہ پیش نہیں آتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدم رواداری، بنیاد پرستی اور انتہا پسندی جیسے امراض دیگر بہت سے بنیادی ذرائع کے علاوہ اس طرح کے نصاب اور نصابی کتابوں سے بھی فروغ پا رہے ہیں جو کہ سکولوں کے ایک وسیع عوامی نظام میں نافذ العمل ہیں۔
ان موضوعات کو نظر انداز کرنے کا ایک آخری پہلو بھی ہے جس کی طرف ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں اور اس کا تعلق ایک ایسی شخصیت کی تشکیل سے ہے جو اختلافات اور بحث مباحثہ کا احترام کرتی ہو۔ انسانی حقیقت کو، چاہے وہ تاریخی ہو یا سیاسی یا سماجی، صرف ایک ہی منفرد تعبیر کی صورت میں پیش کر کے جو کہ کسی مخصوص نصابی کتاب کے ایک مخصوص پیرا گراف میں لکھی ہوئی ہے، ہماری کتابیں دور جدید میں تعلم کے پورے تصور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ پورا نصاب مجموعی طور پر اس بنیادی خامی کا شکار ہے کہ اس میں تنقیدی سوچ کے ذریعے سے تجزیہ کرنے، اور سیکھنے کے قدرتی عمل میں اختلاف رائے کو فطری طور پر طلبہ کے مزاج اور رویے کا حصہ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بذات خود سب سے بنیادی تصوراتی خلا ہے جو ہمارے تعلیمی نظام میں پایا جاتا ہے اور اس پر سنجیدہ انداز میں توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی نسل پیدا ہو جس کے لیے تعلیم کو محض مخصوص معلومات کا ڈھیر اکٹھا کرنے کے بجائے فہم وادراک کے ایک ذریعے اور آلے کی حیثیت حاصل ہو۔

SDPI کی رپورٹ کا ایک جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(سرکاری نظام تعلیم میں رائج نصابی کتب پر اسلام آباد کی ایک غیر حکومتی تنظیم SDPI کی تیار کردہ ایک رپورٹ ان دنوں علمی وتعلیمی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ ہمارے روایتی قومی مزاج کے باعث بحث ومباحثہ میں اس رپورٹ کے منفی پہلوؤں پر توجہ زیادہ مرکوز ہو گئی ہے اور اس کے نتیجے میں بحث کے بہت سے مثبت اور قابل اعتنا گوشے نظر انداز ہو گئے ہیں۔ پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب نے اسی تناظر میں اپنے خیالات قلم بند کیے ہیں جنھیں عمومی بحث ومباحثہ کی غرض سے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

پاکستان کی تاریخ محض سیاسی کشمکش کی تاریخ نہیں ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے اسے مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ان مسائل کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود ’’تعلیم ‘‘ ہمیشہ موضوع بحث ہونے کے باعث ہر دور کا مشترکہ مسئلہ رہی۔ یہ بات بہرحال تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ تعلیم کے حوالے سے حکومتوں کا رویہ بالخصوص اور غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کا رویہ بالعموم، فقط گفتار تک محدود رہا۔ حکومتی اور غیر حکومتی سطح پرہم لوگ کس حد تک گفتار کے غازی ہیں، ہماری شرح خواندگی اس کی واقعاتی گواہ ہے۔ 
تعلیم کے حوالے سے ہی وطنِ عزیز میں مختلف طبقات کے درمیان کھینچا تانی جاری رہی۔ پہلے پہلے مسٹر اور ملا کی تقسیم تھی۔ حکومتی ادارے مسٹروں کو جنم دے رہے تھے اور خالصتاً مذہبی ادارے ملا پیداکر رہے تھے۔ ان دو طبقات کی سوچ، فکر اور اپروچ میں گہری خلیج حائل تھی جس کی وجہ سے معاشرہ بھی منقسم تھااور نت نئے مسائل سر ابھار رہے تھے ۔ ان حالات کے پیشِ نظر دونوں طرف سے اصلاحِ احوال کی کوشش کی گئی۔ نتیجے کے طور پراب خلیج پہلے جیسی گہری نہیں رہی۔
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وطنِ عزیز کے مذکورہ دوطبقات نے جب شدید تگ و دو کے بعد کچھ ہم آہنگی حاصل کر لی تا کہ قومی یک جہتی کے تقاضے نبھائے جا سکیں اور معاشرتی اشتراک بھی راہ پاسکے تو ایک نہایت محدود طبقے نے قومی یک جہتی کے نام پر ہی قومی انتشار کی جھنڈی لہرا دی اور یہ واویلا شروع کردیا کہ حکومتی اداروں میں ’’اسلام کی تعلیم‘‘ دی جا رہی ہے جس سے نہ صرف جمہوری قدریں پامال ہو رہی ہیں بلکہ قومی یک جہتی بھی پارہ پارہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت ہمارے پیشِ نظر اسی طبقے کی ایک رپورٹ ہے جس میں نصابِ تعلیم اور نصابی کتابوں (اردو ، انگلش ، سوشل سٹڈیز اور سوکس )کو ہدفِ تنقید بنایا گیاہے۔ The Subtle Subversion کے عنوان سے یہ رپورٹ Sustainable Development Policy Institute نے پیش کی ہے ، جسے ہم آئندہ صفحات میں SDPI کہیں گے ۔ Subtle Subversion کے ۱۴۰صفحات گیارہ ابواب اور تین ضمیموں پر مشتمل ہیں، جنھیں مختلف اشخاص نے لکھا ہے۔ آغاز میں چار صفحات کا خلاصہ بھی الگ سے دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مرتبین جناب اے ایچ نیر اوراحمد سلیم ہیں۔ بہتر ہو گا کہ تمام ابواب کا الگ الگ سرسری جائزہ لینے سے قبل ان نکات کو دیکھ لیا جائے جو اس رپورٹ میں ’’مکرر‘‘ وارد ہوئے ہیں۔ 
کہا گیا ہے کہ ایک ’’ترقی پسند ، اعتدال پسند اور جمہوری پاکستان ‘‘ہمارا مقصد ہے ،یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب نظامِ تعلیم اس سے ہم آہنگ ہو۔ مزید یہ کہ بچوں میں مذکورہ مقصد کی تفہیم اور اس کی قدرو منزلت اجاگر کرنے کے ذریعے سے ہی پاکستان مطلوبہ ڈگر پر چل سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق نصابِ تعلیم اور نصابی کتابیں پاکستان کے ترقی پسند، اعتدال پسند اور جمہوری ہونے میں بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے تمام ٹیکسٹ بک بورڈز اور وفاقی وزارتِ تعلیم کے نصابی ونگ کا بوریا بستر لپیٹ دیا جانا چاہیے۔ مقامِ حیرت ہے کہ اس رپورٹ میں جابجا فوجی آمروں پر تنقید ملتی ہے اور تعلیمی خامیوں کو بھی ان سے نتھی کیا گیا ہے لیکن رپورٹ کا آغاز جناب جنرل پرویز مشرف کے ۱۴۔ اگست ۲۰۰۲کے ’’حکیمانہ خطاب‘‘ سے ہوتا ہے ۔ اگر ہم یہ نکتہ اٹھائیں گے کہ (SDPI) کے کرتا دھرتا افراد نے جنرل موصوف کی ’’نوازشات‘‘ سمیٹنے کی کامیاب کوشش کی ہے (۱) تو ہم پر الزام دھرا جائے گا کہ ہم ان پر الزام عائد کر رہے ہیں اور ثبوت کے طور پر یہی کہا جائے گا کہ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ جنرل صاحب کے ’’خطبہ مبارک‘‘ کے تذکرے کے فوراً بعد موصوف کی ’’کوتاہ بینی‘‘ کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے، یعنی یہ کہ جنرل صاحب نے فرقہ واریت، انتہا پسندی، دہشت گردی اور ultra-islamist عناصر کا ذکر تو کر دیا لیکن یہ غور نہیں فرمایا کہ یہ قباحتیں کیونکر معاشرے میں رچ بس گئیں؟ رپورٹ کے مرتبین کے مطابق اس کی وجہ محض ملاؤں کے مدارس نہیں ہیں بلکہ مدارس تو کسی شمار میں ہی نہیں، اصل ’’فساد کی جڑ‘‘ حکومتی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں کا نصاب اور ٹیکسٹ بک بورڈزہیں۔ ہماری رائے میں ملک کے سابقہ فوجی آمروں پر کڑی تنقید کے باوجود اور جنرل پرویز مشرف پر Suggestive criticism کے با وصف اس رپورٹ کا مطالعہ یہی تاثر دیتا ہے کہ رائے عامہ میں مطلوبہ تبدیلی پیدا کرنے کے لیے زمینی حقائق پر مبنی جمہوری، عوامی اور معاشرتی عوامل کو اختیار کرنے کے بجائے ایک فوجی آمر کی خوشنودی حاصل کر کے اپنی رائے اور تجاویز کو ملک کی اکثریتی آبادی پرجیسے تیسے ٹھونس دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ( ایسا ایک حد تک ہو بھی چکا ہے ) پرانے زمانے میں گھروں میں ایک ’’چور دروازہ‘‘ رکھا جاتا تھا تا کہ کسی ہنگامی حالت میں اسے استعمال کیا جا سکے۔ غالباً یہی رویہ ہے جس کے تحت اکیسویں صدی میں رہنے والے لوگ، اور وہ بھی ایسے جو اپنے تئیں ’’جدید ترین‘‘ ہیں، پالیسی سازی کے لیے چور دروازے اختیار کرنے کے متمنی اور دلدادہ ہیں۔ 
اس رپورٹ میں جس طرح غیر مسلم اقلیتوں کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے بھی بہتوں کے علم میں اضافہ ہوگا۔ تاثر یہ دیا گیا ہے کہ غیر مسلم پاکستان میں خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں (۲) جو شخص پاکستان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا، وہ رپورٹ کے مطالعے کے بعد یہی خیال کرے گا کہ پاکستان میں مذہبی اعتبار سے بڑی ورائٹی ہے اورایک اکثریتی طبقہ دیگر مذا ہب والوں کو زبردستی اپنے مذہب کی تعلیم دے رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقلیتوں کے ذکر کے ضمن میں(ص ۱۶ پر ) دستورِ پاکستان ۱۹۷۳ کے آرٹیکل ۳۶ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ ہمیں نہ تو اقلیتوں کے حقوق کی بات اٹھانے پر اعتراض ہے اور نہ ہی دستور کا حوالہ دینے پر۔ ہم تو فقط یہ نکتہ بیان کریں گے کہ SDPI کی اس رپورٹ میں پاکستان کو ’’اسلامی ریاست‘‘ کہنے پر تنقید کیوں کی گئی ہے؟ کیا پاکستان کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ کا لفظ دستورِ پاکستان نے نہیں لگایا؟ کیا کچھ لوگ ایسے ہی اسے اسلامی کہتے پھرتے ہیں؟ معترضین نے غالباً دستور کا پہلا آرٹیکل تو پڑھا ہو گا (تبھی تو آرٹیکل ۳۶ تک جا پہنچے) ، جس کے مطابق پاکستان ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار پاتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ دستورِ پاکستان کے آرٹیکلز کو اپنے موقف میں تقویت دینے کے لیے استعمال کرنے والے اسی دستور کے پہلے آرٹیکل سے چشم پوشی کا مظاہرہ کیوں کررہے ہیں؟ ہمارے خیال میں اس رپورٹ کو پیش کرنے والے پاکستان کو نہ تو اسلامی دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی جمہوریہ بلکہ شاید وہ پاکستان میں دستوری نظام ہی نہیں چاہتے۔ دستورِ پاکستان کے اسلامی ہونے کے باوجود انھیں ’’اسلامی‘‘ قابلِ قبول نہیں ، اور دستورِ پاکستان کے ’’جمہوری‘‘ ہونے کے باوجودوہ ایک فوجی آمر سے قربت کی پینگیں بڑھانے کی کوشش میں ہیں تاکہ ان کے موقف میں ’’سرکاری وزن‘‘ شامل ہو جائے۔ (خیال رہے کہ کوئی ملک اسی وقت جمہوریہ کہلاتا ہے جب اس کا سربراہ ’’منتخب‘‘ ہو) یہ اپروچ ان کے ’’ماڈرن ‘‘ہونے کوخوب بے نقاب کر رہی ہے۔ 
SDPI کی اس رپورٹ میں بہت زور دے کر یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اسلام اور پاکستانی نیشنل ازم کو لازمی درسی کتب میں ’’مترادف‘‘ معنوں میں استعمال کیا جاتاہے، جس سے غیر مسلم پاکستانی تحفظات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگرچہ اس نکتے کے ڈانڈے ’’اسلامی ریاست‘‘ والے نکتے سے جا ملتے ہیں اور اس رپورٹ میں بات کو اسی انداز میں لیا گیا ہے (اور حقیقتاًبات ہے بھی یہی) لیکن ہمارا رجحان اس سے متفق ہونے کے باوجود’’اپروچ‘‘ کے اعتبار سے مختلف ہے۔ ہماری رائے میں ’’امہ‘‘ کے تصور کے بموجب دنیا میں ایک وقت میں ’’ایک اسلامی ریاست‘‘ قائم کی جاسکتی ہے (خلافت کاتصور بھی یہی ہے ) اب اگر پاکستان کو اسلامی ریاست ’’تسلیم‘‘ کر لیا جائے تو اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ دیگر مسلم اقتدار کے حامل علاقے محض پاکستان کی توسیع ہیں اور بس۔ سوال یہ ہے کہ کیا دیگر علاقے پاکستان کی اس ’’توسیعی حیثیت ‘‘کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو تیار ہیں ؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس وقت کیا فقط پاکستان ہی اسلامی ریاست ہے؟آخر ’’اسلامی‘‘ کہلانے والی دیگر ریاستیں بھی تو موجود ہیں، ان کا کیا کیا جائے؟ ہماری رائے میں تو سب سے بڑا سوال، جس کا جواب آج کی عالمگیریت کی فضا میں دیا جانا اشد ضروری ہے، یہ ہے کہ کیا اسلامی ریاست کی ہےئتِ ترکیبی وہی ہے جو ہمارے ذہنوں میں اس وقت موجود ہے ؟شاید او آئی سی(OIC) کسی وقت اتنی فعال ہوجائے کہ اسلامی ریاست (خلافت) کی ذمہ داریاں سنبھال لے، تب موجودہ اسلامی ریاستوں کی حیثیت ’’مسلم اکثریتی و مسلم اتھارٹی کے حامل ‘‘ علاقوں کی ہو گی (جیسا کہ وفاقی نظام میں ریاست ایک ہوتی ہے ، لیکن صوبوں کی داخلی خود مختاری اور شناخت بھی قائم رہتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ ایک خلیفہ کے تحت مختلف سلاطین) ہمارا خیال ہے کہ اس وقت عالمگیریت کے دباؤ کی وجہ سے ریاستی نظام جس طرح proliferation کا شکار ہے ، مذکورہ امر کا واقع ہو جانا ناممکن نہیں ہو گا ۔ (۳) بہرحال The Subtle Subversion نامی رپورٹ پیش کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر انھیں حقیقتاً پاکستان کا اسلامی ریاست کہلواناچبھتا ہے اور انھیں پاکستانی نیشنل ازم اور اسلام مترادف معلوم ہوتے ہیں، تو انھیں دوا اور دعا کرنی چاہیے کہ ’’امہ‘‘ کا تصور جلد از جلد متشکل ہو جائے۔اس طرح ان کے تحفظات(ہماری محولہ بالا رائے کے بموجب) خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
SDPI کی اس رپورٹ میں ’’نظریہ پاکستان ‘‘ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ جہاں تک نظریہ پاکستان کے ’’نظریہ اسلام‘‘ ہونے کا تعلق ہے ، اس کی بابت اسلامی ریاست کی بحث کے دوران بین السطور بات ہو چکی۔ SDPI کے صاحبانِ استدلال کو تحریکِ پاکستان کے سیاق و سباق میں اس نظریے کی ’’تاریخی حیثیت‘‘ پر شبہ ہے ۔ ان کے مطابق تحریکِ پاکستان کے ایام کے دوران نظریہ پاکستان کی ’’اصطلاح‘‘ کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ یہ سراسر من گھڑت اصطلاح ہے۔ ہماری رائے میں اگر یہ اصطلاح تحریکِ پاکستان کے دوران میں استعمال نہیں ہوئی اور بعد میں اسے متعارف کروایا گیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مختلف قومیں، تہذیبیں اور معاشرے حالات و واقعات کے تحت اور فکری ارتقا کرتے ہوئے گوناگوں اصطلاحات متعارف کراتے رہتے ہیں اور یہی عمل ان کے زندہ ہونے کا ثبوت ہو تا ہے۔ لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ اس رپورٹ کے اس نکتے سے اتفاق کیا جائے جس کے مطابق وطنِ عزیز میں تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے اور طلبہ و طالبات کو State oriented history ذہن نشین کروائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر تحریکِ پاکستان کی تاریخ اچھی خاصی بگاڑ دی گئی ہے کیونکہ نظریہ پاکستان کی تاریخی حیثیت (تحریکِ پاکستان کے سیاق و سباق میں) مسلمہ نہیں ہے تو آخر کیوں اسے زبردستی تاریخ کے اس مخصوص دور کا حصہ بنایا جائے؟ خاص طور پر اسے جناح ؒ سے منسوب کر کے حقائق سے روگردانی کیوں کی جائے؟ جناحؒ کی اسلامیت کا مظہر ان کی بہت سی تقاریر ہیں۔ ان کا براہ راست حوالہ دیا جا سکتا ہے اور دیا بھی جاتا ہے۔ اربابِ بست و کشاد کو اس بابت سوچ بچار کرنی چاہیے۔ اسی طرح برصغیر پاکستان و ہند کی تاریخ کا بیشتر حصہ جو ہندوؤں اور مسلمانوں کی ’’مشترکہ تاریخ‘‘ شمار ہوتا ہے، اس سے نہ صرف ،صرفِ نظر کیا جا رہا ہے بلکہ الٹا ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحارب اور متصادم دکھانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، اور اصل متحارب گروہ یعنی انگریز سامراج پر سیر حاصل بحث سرے سے کی ہی نہیں جاتی۔ نتیجے کے طور پر نوجوان نسل کے سامنے تاریخ کی اصل تصویر نہیں آتی اور اس کے ذہن میں محض ’’ہندو مخالفت‘‘ نقش ہو جاتی ہے۔ (۴) ہماری رائے میں اس امر کی واقعتا ضرورت ہے کہ تاریخ کو وسیع تر تناظر میں پڑھا جائے۔ بلاشبہ آج کی دنیا کی صحیح تفہیم مغربی سامراجیت کے تنقیدی مطالعے کے بغیر ممکن نہیں اور نہ ہی ایسے وسیع تناظر کے بغیر ہمارے طلبہ و طالبات میں وہ بالغ نظری پیدا ہو سکتی ہے جس کے ہم سب متمنی ہیں ۔ 
اس رپورٹ میں بجا طور پر کہا گیا ہے کہ اس خطے (جنوبی ایشیا)کی تاریخ کے ذکر کے بغیر محض ۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی سے شروع ہو کر حال تک کی تاریخ پڑھانے سے(اور وہ بھی مسخ شدہ تاریخ )، اس خطے میں پر امن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے زریں اصول پروان نہیں چڑھ سکتے۔ تحریکِ پاکستان کے ضمن میں درست نشاندہی کی گئی ہے کہ کانگرس کو ہندو جماعت اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی جماعت قرار دے کر دیگر جماعتوں کا ذکر بالکل گول کر دیا گیا ہے، حالانکہ ان جماعتوں (مجلسِ احرارِ اسلام ، جمعیت علمائے ہند وغیرہ) کا برصغیر کی سیاست میں کافی فعال اور اہم کردار تھا۔ انڈین نیشنل کانگرس کو جس طرح رگیدا جا رہا ہے، اس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ اس کے قیام کا مقصد ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ کانگرس ہندوؤں کو سیاسی اعتبارسے منظم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ (۵) ہماری رائے میں بلاشبہ ایسے اندازو اطوار تاریخ کو بگاڑنے اور تنگ نظری کو فروغ دینے والے ہیں ۔ان کی حوصلہ شکنی ضروری معلوم ہوتی ہے ۔ 
SDPI کی زیر بحث رپورٹ میں تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے مسلم فاتحین کا تذکرہ بھی تنقیدی لب و لہجے میں کیا گیا ہے۔اگر توازن کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے تو یہ تسلیم کیے ہی بنتی ہے کہ SDPI کے دلائل میں خاصا وزن ہے۔ اس بارے میں یقیناًدو آرا نہیں ہو سکتیں کہ تاریخ ’’فتوحات‘‘ کے تذکرے کانام نہیں، اس میں معاشرتی ، معاشی ، نفسیاتی ، ثقافتی ،عسکری اور دیگر عوامل کا جائزہ نہایت ضروری اور ناگزیر ہوتا ہے۔ ہماری نظر میں یہ مقامِ افسوس ہے کہ تاریخ کو ایک نہایت موثر مضمون کی سطح پر لا کھڑا کرنے والے مسلمانوں کے ہاں ہی تاریخ نویسی میں پرانے اور لگے بندھے اسلوب رائج ہوگئے ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ نئی نسل کو اس قسم کی غیر تجزیاتی اور موضوعی تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ غوروفکر اور فعالیت کے فقدان کا یہ رجحان یقیناًہمارے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ 
اب ہم تمام ابواب کے ان ضروری نکات کو سلسلہ وار بیان کریں گے جن کا ذکراوپر مجموعی جائزے میں نہیں ہو سکا۔ 
پہلا باب تعارفی ہے اور اس کے سات صفحات ہیں۔ اس میں تعلیمی پالیسیوں کی بابت گوہر افشانی کی گئی ہے کہ مختلف ادوار میں بظاہر نظری تبدیلیوں کے باوجود (تعلیم ۵۸ء سے پہلے ’’ سماجی خدمت ‘‘قرار پا کر ، ایوب کے دور میں ’’ترقیاتی ضرورت‘‘ سے بہرہ مند ہو کر ۷۷ء تک بھٹو کے عہد میں’’ بنیادی حق‘‘کے لقب سے سرفراز ہوئی ) تمام پالیسیوں کے پس منظر میں ’’اسلام‘‘ جھانکتا رہا ، لیکن ضیاء الحق کے دور میں تعلیمی پالیسی کے گرد اسلامی غلاف باقاعدہ لپیٹ دیا گیا۔ ہم اس بابت یہی گزارش کریں گے کہ اس ملک کے قیام کا پس منظر اور اس کی غالب اکثریت کی حامل مسلم آبادی تعلیمی پالیسی پر اسی طرح اثر انداز ہوتے رہیں گے۔ صرف ایک بات دیکھنے کے قابل ہے کہ کہیں ایسی پالیسی بھارت مخالفت میں ’’ردِ عمل‘‘ پر تو مبنی نہیں؟ کیونکہ برصغیر میں ہمارا تاریخی پس منظر، ۱۹۴۷ء کے بعد ہمارے تقریباً ہر قول و فعل پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ اسی باب میں یہ نکتہ بالکل صحیح اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان میں سول اور ملٹری بیوروکریٹس چھائے رہے ہیں (اور تا حال چھائے ہوئے ہیں ) ،جس کی وجہ سے پالیسی سازی میں ’’وسیع مشاورت‘‘ کی بجائے ڈرائینگ روم عنصر موجود رہا۔ ہم یہی عرض کریں گے کہ سرخ فیتے کی غلط کاریوں کے قصے بھلا کسے ازبر نہیں؟تعلیم کے شعبے میں وہ شخص جسے وزیرِ تعلیم کہا جاتا ہے ، بے چارہ ان ’’باریک بینوں ‘‘ کے سامنے کچھ ایسے بھیگی بلی بنا ہوتا ہے کہ ’’زیرِ تعلیم‘‘ دکھائی پڑتا ہے۔ اسی طرح ہمیں SDPI کے اس نکتے سے بھی اتفاق ہے کہ اکثر اوقات نصاب میں محض جزوی اور معمولی سی ترامیم کر کے نئی نصابی کتابیں چھاپ دی جاتی ہیں ،جس سے والدین پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ۔ 
اس تعارفی باب میں ہی ایک نکتہ بصورتِ اعتراض یوں اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان میں پرائمری تعلیم پر اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دی گئی ۔ بظاہر یہ اعتراض (بالخصوص آج کے حالات کے تناظر میں ) درست معلوم ہوتا ہے ، لیکن ہمارے اس پر کچھ تحفظات ہیں۔ ہماری نظر میں ’’اعلیٰ تعلیم‘‘ کو ترجیح دینے کی پالیسی وقت کی ضرورت کے عین مطابق تھی ۔ پرائمری تعلیم ہمیں مختلف شعبوں میں ایسے ماہرین دینے سے قاصر تھی جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے قوم کو بین الاقوامی برادری میں باعزت اور پر وقار مقام دلا سکتے۔ ہم تو یہی خیال کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم اس وقت پرائمری تعلیم پر پوری توجہ دینے کے قابل بھی اس لیے ہوئی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دینے کی پالیسی کے باعث کسی نہ کسی درجے میں حاصل ہونے والی خود کفالت نے ’’تعلیم سب کے لیے‘‘ کے نعرے کو متشکل کرنے کی امید بندھائی ہے۔ اس لیے SDPI کا یہ اعتراض بے جا معلوم ہوتا ہے ۔ 
اب ہم دوسرے باب کی طرف آتے ہیں جسے اے ایچ نیر نے لکھا ہے۔ یہ باب پچپن (۵۵) صفحات پر مشتمل ہے ۔ جناب اے ایچ نیر نے تقریباً پورے باب میں اسلام کی بابت بہت زیادہ ’’حساسیّت‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے نصاب اور ٹیکسٹ بک بورڈ کی کسی ویب سائٹ پر Search Engine میں لفظ ’’اسلام‘‘ ٹائپ کردیا اور پھر جو کچھ سامنے آیا، جیسے تیسے ’’اندیشہ ہائے دور دراز‘‘ کے مصداق بہت ہی موضوعی انداز میں اس باب میں ’’بصورتِ اعتراضات‘‘ منتقل کر دیا۔ ایسی منفی اور یک رخی اپروچ کے باعث آں جناب کے دلائل کی اہمیت ’’ہوائی فائرنگ‘‘ کی سی ہو جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کے باوجود ہم نے نیر صاحب کے چند نکات کو نہ صرف اوپر کے مجموعی جائزے میں جگہ دی ہے بلکہ ہماری یہ کوشش ہے کہ یہاں بھی دیگر نکات کو پرکھ لیا جائے ۔ Subtle Subversion کے صفحہ نمبر ۱۰ پر نیّر صاحب نے ایک اقتباس کا حوالہ دے کر اپنی علمی وجاہت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ امر پاکستان کی نصابی دستاویزات میں تکرار کی حد تک موجود ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجئے: 
In the teaching material, no concept of separation between the worldly and the religious be given; rather all the material be presented from the Islamic point of view. 
’’تعلیمی مواد میں دین ودنیا کی تفریق کا کوئی تصور نہ دیا جائے۔ اس کے بجائے تمام مواد کو اسلامی نقطہ نگاہ سے پیش کیا جائے۔‘‘
ہم لمبی چوڑی بحث میں پڑے بغیر فقط یہ عرض کیے دیتے ہیں کہ اگر دنیاوی اور مذہبی امور کو خالصتاً اس طرح بھی تقسیم کر دیا جائے جیسا کہ ہمارے معترض چاہتے ہیں تو بھی دنیاوی معاملہ ’’دین‘‘ کی کیٹگری میں ہی آئے گا۔(۶) ایسی صورت میں نیر صاحب کیا کریں گے؟ اب ہم ان کی ’’ضیافتِ طبع ‘‘ کی خاطراپنے تصورِ دین کو تو بدلنے سے رہے۔ 
جناب اے ایچ نیرکو درسی کتابوں میں اسلامی تاریخ کے واقعات اور شخصیات کے تذکرے سے بھی ’’ذہنی بد ہضمی ‘‘ہوئی ہے۔جہاں کہیں قرآن مجید کا ذکر آتا ہے ، انھیں کھٹے ڈکار آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ شاید ان کے اور ان کے رفقا کے ہاں اسلامی تاریخ ’’تاریخ‘‘ نہیں سمجھی جاتی ، اور نہ ہی مسلم شخصیات ’’شخصیات‘‘ شمار ہوتی ہیں۔نجانے تاریخ اور شخصیات کا ان کے ہاں کیا پیمانہ ہے؟ اگر سیکولر حوالے سے بھی دیکھا جائے تو نصاب میں ظاہر ہے (مذہب سے قطع نظر ) انسانی تاریخ اور انسانی شخصیات کو بھی شامل کیا جائے گا اور جنھیں نصاب پڑھایا جا رہا ہے، انھی کی ایسی تاریخ اورایسی شخصیات کو نصابی کتب میں ترجیحاً جگہ دی جائے گی جن میں تکریمِ انسانیت ، مساوات، اخوت، ایثار اور عدل وغیرہ جیسی جملہ خصوصیات کی خوشبو رچی بسی ہو۔ پھر نصاب کے مخاطبین میں سے غالب اکثریتی گروہ کو قدرتی طور پر اس حوالے سے فوقیت بھی حاصل رہے گی۔ بہرحال ! اس رپورٹ کے بین السطور ہمارے معترض کی افتادِ طبع مذہب بیزار معلوم ہوتی ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم دیگر مذاہب کے بارے میں بھی معلومات شامل کرنے کی تجویز دے کر ایک معقول حل ڈھونڈ لیں گے لیکن موصوف کو تو نفسِ مذہب پر ہی اعتراض ہے۔ (۷) ہم یہاں طوالت کے خوف سے مذہب اور لا مذہبیت کی روایتی بحث نہیں چھیڑ سکتے، صرف یہی کہنے پر اکتفا کریں گے کہ جناب! اس وقت پوری دنیا میں مذہب کا احیا ہو رہا ہے ، مختلف فورموں پر ’’خدا کی واپسی ‘‘ کے عنوان سے بحث و نظر کو فروغ مل رہا ہے ، پھر کیا ہم ایسی عالمگیر فضا میں (جس کا ذکر اس رپورٹ میں شدو مد سے کیا گیا ہے کہ عالمی حالات و واقعات نظروں سے اوجھل نہیں ہونے چاہییں)، باقی دنیا کے مجموعی رجحان سے مکمل کٹ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لیں؟ کیا ہم پاکستان کی مستقبل کی نسل کو ’’ڈیڑھ اینٹ کی مسجد‘‘ میں رکھنے کے خواہشمند ہیں؟ 
قرآن مجید کے شاملِ نصاب ہونے کی توجیہ میں شاید یہ نکتہ کافی ہو گا کہ قرآن مجید کا مخاطب ’’انسان‘‘ بھی ہے نہ کہ صرف مومن۔ اس لیے سیکولر نقطہ نظر سے بھی قرآن مجید کی ان آیات کی نصاب میں شمولیت پر، جن میں مخاطب انسان ہے، کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آخر انسانوں کے بچوں کو ’’اخلاقیات‘‘ کی کچھ نہ کچھ تعلیم دی جانی ضروری ہے یا نہیں ؟ ہمارا موقف یہ ہے کہ قرآن مجید کے اخلاقی احکام آفاقی نوعیت کے ہیں،مثلاً ’’جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔‘‘ لہٰذا لازمی درسی کتب میں ایسی آیات کی شمولیت تو رواداری، تحمل اور عدل و احسان وغیرہ کے پھلنے پھولنے کی ضمانت کے مترادف ہے۔ ہماری رائے میں اس پر بحث کی ضرورت ہے کہ کس عمر اور کس سطح کے بچوں کو کون سی آیاتِ مبارکہ پڑھائی جانی چاہئیں۔ خیال رہے کہ SDPI نے اعتراض یہ کیا ہے کہ اسلامیات لازمی کے علاوہ، جو مسلمان بچوں کے لیے مخصوص ہے، دیگر لازمی درسی کتب میں قرآن مجید کیونکر شامل ہے؟ جہاں تک جہاد اور شہادت سے متعلق اسلامی ذخیرے پر اس اعتراض کا تعلق ہے کہ اسے کیوں درسی کتب میں شامل کیا گیا کہ اس کے اثرات کے تحت معاشرے میں جنگجویانہ فطرت پنپ رہی ہے، ہم یہی گزارش کریں گے کہ دیگر معاشروں کا ہمارے معاشرے سے موازنہ کر لیجیے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اگر معاشرے میں اس وقت موجود کسی ایسے منفی رویے کو بطور مثال پیش کیا جائے تو ہمارا یہی موقف ہو گا کہ اس وقت عالمی حالات نارمل نہیں ہیں، مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیرا جا رہا ہے۔ ایسے میں افراط و تفریط کا شکار ہو جانا اچنبھے کی بات نہیں۔ پھر یہ بھی تو ہے کہ ہماری شرح خواندگی بہت کم ہے جس کا یہی مطلب ہے کہ (ا) زیادہ تر غیر خواندہ طبقہ افراط و تفریط کا شکار ہوا ہے اور (ب) خواندہ طبقے کی بہت قلیل تعدادبھی خارجی جبر سے متاثر ہوئی ہے۔ لہٰذا جہاد اور شہادت کے ذخیرے کے وہ اثرات ہر گز معاشرے میں موجود نہیں جن کا ڈھنڈورا پیٹنے کی اس رپورٹ میں کوشش کی گئی ہے۔
نیر صاحب نے اردو اور سماجی علوم کی لازمی درسی کتب کا باقاعدہ حوالہ دے کر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ لازمی مضامین تو بلا تفریق مذہب سب کو پڑھنے ہوتے ہیں، پھر کیوں ان کتب میں اسلامی اسلامی مواد جمع کیا گیا ہے؟ بادی النظر میں ہمارے محترم کی بات میں وزن نظر آتا ہے، لیکن اس سلسلے میں نہایت اہم نکتہ جو نیر صاحب کے پیشِ نظرنہیں رہا، یہ ہے کہ ہر زبان کا ایک خاص تاریخی پس منظر ہوتا ہے۔ اردو اگرچہ برصغیر کے لوگوں کی مشترکہ زبان ہے، اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار محال ہے کہ مسلمانوں کے فکری، معاشرتی اور ثقافتی اثرات اس زبان پر بہت زیادہ ہیں۔ لسانیات سے تھوڑی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ کسی زبان کو سیکھنے کے دوران اس سے وابستہ اس کا فکری و تہذیبی پس منظر بھی خود بخود سیکھنے والے کو منتقل ہوجاتا ہے۔ زبان، محض زبان کبھی نہیں ہوسکتی۔ ہماری رائے میں یہی صورتِ حال اردو اور دیگر ایسی کتابوں کی بابت سچ ہے جو اردو زبان میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں محض محاوروں کو دیکھ لیجیے۔ مثلاً ملا کی دوڑ مسجد تک، دوملاؤں میں مرغی حرام، وغیرہ۔ اب اگر اردو زبان کے طالب علم، سیکولر انداز میں بھی ان محاوروں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ ’’ملا‘‘ کیا ہوتا ہے ؟ ’’مسجد‘‘ کیا ہے؟ اور ان محاوروں کی معنویت سے آشنائی کے بعد انھیں ملاؤں کی ’’عملی بے عملی‘‘ کا بھی ادراک ہو جائے گا۔ یوں محض زبان دانی کے عمل کے دوران ہی انھیں اسلام کے بارے میں اچھی خاصی معلومات مل جائیں گی۔ ہماری رائے میں اردو ہماری قومی زبان ہے، اسی زبان کے توسط سے ہم اس تفریق اور دوری کو ختم کر سکتے ہیں جس کے لیے SDPI نے ’’لطیف تخریب‘‘ نامی یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ لہٰذا نیر صاحب اور دیگر صاحبان کو زبان کے حوالے سے مذکورہ نوع کے پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ 
جہاں تک معاشرتی علوم میں اسلامی مواد کا تعلق ہے، ایک تو یہی زبان والی بات ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا اسلامی مواد کسی صورت بھی ’’معلوماتی ‘‘ نہیں کہلواسکتا؟ پاکستان میں آبادی کے تناسب کے مطابق طالب علموں کی اکثریت تو مسلم ہوتی ہے، اس لیے ان کا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہر جماعت میں بیٹھے ہوئے ’’اکا دکا‘‘ غیر مسلم پاکستانی، اسلامی معاشرتی مواد کو بطور ’’معلومات‘‘ پڑھ لیں تو قومی یک جہتی کو مہمیز ملے گی نہ کہ انتشار، کیونکہ ایک بہت محدود اقلیت، بہت بڑی اور غالب اکثریت کے معاشرتی رجحانات جان کر، اس کے ساتھ صحت منداور ٹھوس مکالمے کے لیے تیار ہوسکے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ معاشرتی علوم کی درسی کتب میں محض اسلامی مواد نہیں ہے بلکہ دنیاوی معلومات بھی اس میں شامل ہیں۔ اگرچہ یہ دنیاوی معلومات بھی ’’دین‘‘ میں شمار ہونے کے باعث ہمارے لیے اسلامی ہوں گی، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا۔ ہمارے معترضین انھیں دنیاوی میں شمار کرتے رہیں ، ان کی مرضی ، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔
نیر صاحب نے اپنے اسی انتہا پسندانہ زاویہ نگاہ کے باعث بعض ایسے نکتہ ہائے اعتراض بھی اٹھائے ہیں جن کی معقولیت میں غالباً سیکولر فکر رکھنے والے اہل علم کو بھی شبہ ہوگا۔ مثلاً انھیں اعتراض ہے کہ ’’اساتذہ کا احترام ‘‘ ایک ایسی کہانی ہے جو عباسی خلفا کے گرد گھومتی ہے ۔ اسی طرح انھیں صحت سے متعلقہ ایک سبق میں غیر صحت مند بات یہ نظر آئی ہے کہ اس میں اسلامی تاریخ کے اس واقعہ کا ذکر ہے جس کے مطابق ایک طبیب مدینہ میں آتا ہے اور مریضوں کے نہ آنے پر جب اسے حیرت ہوتی ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ اس بستی کے باسی صرف اسی وقت کھاتے ہیں جب انھیں بھوک لگی ہواور سیر ہونے سے پہلے کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ نیر صاحب دنیا کوآخر کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟اساتذہ کا احترام ایک آفاقی قدر ہے۔ خلفا کی مثال دینے کا مقصد یہی ہے کہ اعلیٰ اتھارٹی بھی اساتذہ کے احترام کو عین ادب خیال کرتی ہے، اس لیے تمام طبقات کے لوگوں کو استاد کا احترام کرنا چاہیے۔ ہماری رائے یہی ہے کہ عباسی خلفا کے اس نوعیت کے تذکرے کو ’’اسلامی‘‘ قرار دینے کے بجائے ’’انسانی‘‘ ہی سمجھا جائے تو بہتر ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس واقعہ کو اپنے نصاب میں شامل کر سکتا ہے۔ اسی طرح طبیب والا واقعہ اور دیگر کئی شاملِ نصاب واقعات ہیں ۔ خیال رہے، اسلامی تاریخ سے مثالیں لینے کی بابت پچھلے صفحات میں بھی بات ہو چکی ہے۔ ہم نیر صاحب سے گزارش کریں گے کہ بہت بڑی اکثریت کے حق پر ڈاکہ ڈال کر نہایت محدود اقلیت کے حقوق کی بابت سوچ سوچ کر ہلکان ہونا اپنی جگہ ، انھیں کم از کم اس ’’اعتدال پسندی‘‘ کا تھوڑا بہت مظاہرہ تو خود بھی کرنا چاہیے جو ان کے مقاصد میں سے ایک ہے۔
جہاں تک تحریکِ پاکستان کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی بابت SDPIکے موقف کا تعلق ہے،انصاف کی بات ہے کہ اس سے متفق ہوئے بغیر چارہ نہیں ۔درسی کتب میں انگریزوں کی کاسہ لیسی مکمل طور پر ہندوؤں کے سر تھوپ دی گئی ہے۔اور مسلما ن نو سو چوہے کھا کر بھی ’’حج‘‘ کے سفر پر گامزن دکھائے جاتے ہیں۔ایسے حاجی بننے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات میں ’’فسادی عناصر‘‘ صرف ہندو ہی خیال کیے جاتے ہیں، مسلم فسادی عناصر کا ذکر گول کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہندو تہذیب اور کلچر کی صرف منفی تصویر نے درسی کتب میں جگہ پائی ہے، جیسے ان میں کوئی خوبی سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ ہماری رائے میں ایسی ’’اپروچ‘‘ نہ صرف قابلِ گرفت ہے بلکہ اسے ایڈریس کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ 
The Subtle Subversion کا تیسرا باب گیارہ صفحات پر مشتمل اور احمد سلیم صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ اس میں نصابی کتب کی تاریخی غلطیوں سے تعرض کیا گیا ہے ۔ سلیم صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک میں تاریخ کو ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈے کے ’’آلہ‘‘ کے طور استعمال کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تاریخی حقائق کو بڑے کھلے ڈلے انداز میں مسخ کرنے کی روش اپنائی گئی۔ تحریکِ پاکستان پر قلم اٹھانے والے معروف مورخ کے کے عزیز کے حوالے سے جناب احمد سلیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے مطالعہ پاکستان اور تاریخ کی ۶۶ کتب کا پوسٹ مارٹم کر کے ثابت کیا ہے کہ کس حد تک تاریخ نویسی میں مبالغے سے کام لیا جا رہاہے ، مغالطے کو فرغ مل رہا ہے اور حقائق کو بگاڑا جا رہا ہے ۔ 
اس باب میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی سالوں میں صورتِ حال چنداں ایسی نہیں تھی۔ محمد بن قاسم پر بھی تنقید موجود تھی، گاندھی پر پھبتیاں کسنے کے بجائے اس کی ان خدمات کا ذکر کیا جاتا تھا جو اس نے قتل و غارت کے وقت مسلمانوں کو بچانے کے لیے کیں۔ لیکن ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد (بھارت اور مشرقی پاکستان کے ہندو اساتذہ کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر ،یعنی دیگر وجوہات سے صرفِ نظر کر کے محض جزوی عناصر کو کلیدی بنا کر) دوسرے کو برائی کا محور سمجھنے کی روش پنپنی شروع ہوئی اور ضیاء الحق کے دور میں پہنچ کر یہ روش پختہ راستہ بن گئی۔اور تاریخ کے طالب علم فقط اسی راستے پر چل پھر سکتے تھے۔ سلیم صاحب نے ایک قابلِ بحث ، پتے کی بات (بطور حوالہ) کی ہے کہ ضیاء الحق کی اسلامائزیشن نے ضیاء کے لیے وہی کام کیا جو ایوب خان کے قومی ترقی کے نظریے اور بھٹو کے سوشل ازم نے بالترتیب دونوں کے لیے کیا ۔ یعنی وقت کے تقاضوں کے مطابق محض ’’ظاہری صورت‘‘ میں تبدیلی کر لی گئی۔ 
اس باب میں A Unique View Of Pakistan کے عنوان سے تقریباً دو صفحات کی ایک فصل ہے۔ یہ واقعی خاصی دلچسپ ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ اس قسم کا مواد میٹرک کی سطح کی درسی کتب میں شامل کیا گیا ہے۔ تخیل کی ایسی پروازیں غیر نصابی کتب میں ہی جچتی ہیں کہ ایسی پروازیں ٹھوس دلائل کے بغیر اور حقائق کے منافی ہوتی ہیں۔ اس فصل میں دیے گئے اقتباسات کے مطابق نصابی کتب کے ’’فاضل مصنفین‘‘ نے ہم سب کے علم میں اضافے کی خاطر نکتہ طرازی کی ہے کہ موجودہ پاکستان تاریخ کے ہر دور میں باقی ہندوستان سے ’’الگ شناخت‘‘ کا حامل رہا۔ فرمایا گیا ہے کہ اس پاکستان نے (مسلم دورِ حکومت میں ) باقی ماندہ ہندوستان پر حکمرانی کی، وغیرہ وغیرہ۔ہم احمد سلیم صاحب سے مکمل متفق ہیں کہ الف لیلہ کی ایسی کہانیوں کو ’’تاریخ ‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔
جہاں تک ۱۹۳۷ء کی کانگرسی وزارتوں کے منفی ہتھکنڈوں کا تعلق ہے ، تاریخی حولے سے ان پر بعض رپورٹس بھی موجود ہیں ، اس لیے ہم سلیم صاحب کی اس بات سے کلی متفق نہیں ہو سکتے کہ اس ضمن میں تاریخی حقائق سے مکمل روگردانی کی گئی ہے۔ قرار دادِ مقاصد پر ان کا اعتراض بھی بے جا ہے، کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے تمام نوعیت کے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دے دیا تھا۔ البتہ اس نکتے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ۱۹۵۵ء میں تشکیل پانے والے ’’وحدت مغربی پاکستان‘‘ کے تجربے کو تجزیاتی انداز میں نہیں لیا جاتا اور نہ ہی اس بات کا تذکرہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ون یونٹ کے قیام سے صوبائی اور علاقائی حقوق کو غصب کیا گیا اور کثرت کو زبردستی وحدت میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ سلیم صاحب کی طرح ہمارے لیے بھی یہ ایک ’’انکشاف‘‘ ہے کہ ۱۹۵۶ء کا دستور کبھی عمل میں نہ آ سکا۔ (خیا ل رہے کہ یہ انکشاف درسی کتاب میں کیا گیا ہے) اسی طرح ۱۹۷۷ء کے مارشل لا کا ذمہ دار حکومت اور اپوزیشن کو ٹھہرایا گیا ہے اور ضیاء الحق ’’پوتّر‘‘ ہو کر سامنے آئے ہیں۔ 
زیرِ بحث رپورٹ کا چوتھا باب بارہ صفحات پر مشتمل ہے اور یہ اے ایچ نیر اور احمد سلیم کی مشترکہ کاوش ہے۔ یہاں یہ درست نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کی ۵۵ سالہ تاریخ میں سے ۳۰ سال ملٹری نے براہ راست حکومت کی، اس کے علاوہ باقی ادوار میں بھی پسِ پردہ ملٹری ہی طاقت اور فیصلہ سازی کا محور رہی لہٰذا تعلیمی نصاب پر ملٹری کے اثرات سے مفر ممکن نہیں۔ ہماری رائے میں بلاشبہ اس بات کے معروضی تجزیے کے لیے صحت مند بحث مباحثہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ 
چونکہ اے ایچ نیر صاحب بھی اس باب کے ایک مصنف ہیں، اس لیے ان کا ’’طریقہ تحقیق‘‘ بھی اس باب میں در آیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے موصوف نے اس با ر Search Engine میں ا لفاظ ’’جہاداور شہادت‘‘ ٹائپ کر دیے، اور سامنے آنے والے تما م مواد کو الزامی صورت میں یہاں منتقل کر دیا۔ ہمارے معترضین کو راشد منہاس شہید، لانس نائک محمد محفوط شہید، میرا وطن(ایک نظم) وغیرہ کا شاملِ نصاب ہونا کافی کھٹک رہا ہے۔ اور تو اور، انھیں اس بات پر بھی رنجش ہے کہ ملک کے دفاع کو شہری کا اولین فرض کیوں کہا گیا، دفاعی اخراجات اور جدید ہتھیاروں کی تحصیل کا ’’جواز‘‘ کیوں پیش کیا گیا؟ اسی طرح معترضین کے مطابق ایف اے کی سطح پر(۶۰۰ نمبروں کا) درج ذیل مضامین کا گروپ ، ہمارے جنگجویانہ رجحانات کا آئینہ دار ہے :
(۱) وار (۲) ملٹری ہسٹری (۳) اکنامکس آف وار (۴) ملٹری جیوگرافی (۵)ڈیفنس آف پاکستان (۶)اسپیشل ملٹری سٹڈیز
ہمارا خیال ہے کہ یہ اعتراضات انتہا پسندانہ اور reactionary رویے کے مظہر ہیں۔ 
The Subtle Subversion کا پانچ صفحات پر مشتمل پانچواں باب جناب ڈاکٹر خورشید حسنین کی عمدہ کاوش ہے ۔ اس باب میں نہ صرف معروضیت جھلک رہی ہے بلکہ اس کی اپروچ صاحبِ تحریر کے وسیع المطالعہ ہونے پر دال ہے۔ یہ پورا باب ’الشریعہ‘ کے زیر نظر شمارے میں ’’قومی نصاب تعلیم کے فکری ونظریاتی خلا‘‘ کے زیر عنوان شامل اشاعت ہے۔ اس کے جن نکات سے ہمیں اختلاف ہے، ان کا ذکر اب تک کی سطور میں کہیں نہ کہیں ہو چکا ہے ۔ 
جناب محمد پرویز کے تحریر کردہ چھٹے باب میں نصابی سیاق و سباق میں تدریسی مسائل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس کے صفحات پانچ ہیں۔ پرویز صاحب نے بجا کہا ہے کہ جو بچے پہلی کلاس میں داخل ہوتے ہیں، ان کی متنوع مادری زبانوں کے پیشِ نظر ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ صحیح لہجے میں اردو بولیں، بچوں کے ساتھ زیادتی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اردو کی تدریس میں شروعات میں الفاظ کی بجائے کریکٹرز(علامتیں، حروف)، تجویز کیے گئے ہیں ، جو درست نہیں، کیونکہ کریکٹرز بچوں کے لیے بے معنی ہوتے ہیں، جبکہ الفاظ کسی ٹھوس یا محسوس ہو سکنے والی شے کا حوالہ دینے کے باعث بچوں کے لیے دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں۔ پرویز صاحب نے ایک اعتراض یہ بھی کیا ہے کہ نصابی دستاویز میں دانستہ طور پر ’’مدرسہ اور مسجد‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، حالانکہ پاکستانی بچوں کی اکثریت سکولوں میں پڑھتی ہے مدارس میں نہیں۔ اگرچہ سکول کے ترجمے کے طور پر اردو میں ’’مدرسہ‘‘ کا لفظ مستعمل ہے لیکن ثقافتی اعتبار سے یہ ایسے اداروں سے نتھی ہوگیا ہے جو خالصتاً مذہبی ہیں ۔ دوسری طرف انگریزی لفظ اسکول اب اردو میں عام استعمال ہورہا ہے اور غیر مذہبی تعلیمی اداروں کے لیے مستعمل ہے۔ ہم یہی عرض کریں گے کہ اگر پرویز صاحب کی تسلی یوں ہوتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ 
کلاس دوم کے نصاب کی بابت ہمارے ممدوح کا کہنا ہے کہ اس میں بچے کے متعلق ’’ترقیاتی حساسیت‘‘ کی کمی جھلکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نصاب کا لازمہ ’’ترتیبی پیش قدمی‘‘ بھی کم ہے۔ اسی طرح ان کا یہ بھی موقف ہے کہ تحریری مواد کی ’’نقل‘‘ بھی غیر مناسب ہے کہ اس سے بچے کا ’’ذہنی بانکپن ‘‘ راکھ ہو کر رہ جاتا ہے۔ نقل سے بچے کے ’’ہاتھ اور ذہن کی ہم آہنگی‘‘ بھی شعلگی سے ہمکنار نہیں ہوتی۔ سائنس کی بات کرتے ہوئے پرویز صاحب نے بجا فرمایا ہے کہ بچوں کے لیے سائنس ، نظریات اور زبانی مواد کو یاد کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایسے مواقع دینے کے نام سے عبارت ہے جن سے بچوں میں کھوج کا جذبہ انگڑائیاں لیتا ہے، کوئی چیز دریافت کر لینے سے حاصل ہونے والا لطف چٹکیاں بھرتا ہے اور تحقیق و تجسس سے شرابور ہونے کا تجربہ دستک دیتا ہے۔ ہم پرویز صاحب کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں؟ کلاس دوم کے بچوں کی بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی موقف ہے کہ حب الوطنی اور اسلامی اخوت جیسے ’’نظری موضوعات‘‘ کافی بھاری ہیں، اس عمر کے بچوں کوٹھوس اور محسوس ہو سکنے والی اشیا کے متعلق ہی پڑھایا جانا چاہیے۔ ہماری رائے میں موصوف کا یہ نکتہ با وزن ہونے کے باوجود بحث و مباحثہ کا مقتضی ہے۔ کلاس سوم کے نصاب پر نظر دوڑاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ کام کی عظمت، ہمدردی، سچائی، سادگی وغیرہ جیسی بنیادی اخلاقی تعلیمات کو کاغذی بنائے بغیر یکجا کرنا قابلِ تعریف ہے۔ کلاس چہارم اور پنجم کا ذکر کرتے ہوئے ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ چونکہ نصابی کام کرنے والے تقریباً تمام ماہرین اصل میں ’’ماہرِ مضمون ‘‘ ہوتے ہیں ، اس لیے وہ بچوں اور ان کی تعلیم کی بجائے اپنے مضمون کے ’’زیادہ وفادار ‘‘ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی تدریس بچوں یا تعلیم کے گرد نہیں گھومتی،بلکہ کسی نہ کسی مضمون کے ہاں ہی اس کا پڑاؤ ہوتا ہے۔ پرویز صاحب کی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ اردو سے محبت کا ’’تقاضا‘‘ نہیں کیا جا سکتا (محبت تقاضا نہیں کرتی)، اس لیے اردو سے محبت اسی صورت میں پنپ سکتی ہے جب اسے محبت کے ساتھ اور دلچسپی پیدا کرنے والے طریقے سے پڑھایا اور سکھایا جائے۔ 
SDPI کی اس ریسرچ رپورٹ کا ساتواں باب نو صفحات پر مشتمل ہے اور اسے محترمہ آمنہ اور نیلم حسین ضبطِ تحریر میں لائی ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر عورتوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا تذکرہ ہے جو نصابی کتب میں روا رکھی جا رہی ہے۔ ہمیں داد دینی پڑتی ہے کہ اپنی بات کو تقویت دینے کے لیے نہایت ہنر مندی سے اکثریتی غریب آبادی کی محرومیوں کو بھی اپنے مسئلے کا حصہ بنا یا گیا ہے :
"......those in position of power.......are predominantly upper class and male, only upper class males should be allowed to lay claims(a) to a superior intellect and (b) to the positions they hold. All those who fall outside the existing class ,caste and gender boundaries that ensure their privileges, do so not because of lack of opportunity or poverty or a host of other social and economic problems,but because they lack the capacity to be anything other than poor, working class--or female." 
بلاشبہ مذکورہ نکتہ زوردار اور اپیل کرنے والا ہے۔ اسی طرح اس اعتراض میں بھی وزن ہے کہ ورکنگ کلاس کی بابت ’’طے ‘‘ کر لیا گیا ہے کہ وہ ٹھوس، مشینی اور ہاتھوں سے سر انجام پانے والے کام مستقلاً سنبھالے ۔دونوں خواتین کے مطابق،اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کچھ لوگوں میں ’’فطری‘‘ طور پر زیادہ ٹیلنٹ ہوتا ہے اور وہ ذہانت والے ،تخلیقی اور مجرد کام کرنے کے زیادہ قابل ہوتے ہیں۔ہم ایک طرف تو ایسی طبقاتی تقسیم پر خواتین کی تنقید سے متفق ہیں، اور دوسری طرف ہمارے ذہن میں افلاطون کا ’’نظریہ انصاف‘‘ گھوم رہا ہے جس میں اس نے بھی اسی قسم کی تقسیم کر رکھی ہے اور اسے عین انصاف قرار دیا ہے۔ 
اس باب میں خواتین کے چادر اوڑھنے اوران کے لیے معقول لباس پر زور دینے کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہوم اکنامکس کالجز کا قیام بھی اس لیے ہدفِ تنقید ٹھہرا ہے کہ اس سے خواتین کے لیے ’’مخصوص ‘‘ شعبوں میں جانے کے راستے وا کیے گئے تاکہ مردوں کی برتری قائم رہے۔ حیرت ہے کہ اسی باب میں تجاویز دیتے وقت یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ mankind کی بجائے humankind اور مردوں عورتوں کے لیے عالمی سطح پر مستعملhe کی بجائے he, she کا استعمال کیا جائے ۔ اسی طرح chairman کی جگہ chairperson اور Mrs کی جگہ Ms کو رواج دیا جائے، کیونکہ جس طرح مردوں کے لیے Mr مستعمل ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں، اسی طرح Ms تمام عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ، چاہے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ہمیں ان ’’باریکیوں‘‘ میں جانے پر اعتراض نہیں ہے، فقط یہ گزارش کریں گے کہ ایک طرف اپنی ’’نسائیت‘‘ کا اظہار اس حد تک کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر مستعمل الفاظ بدلنے کی بات کی گئی ہے اور دوسری طرف جب ان کی ’’نسائیت‘‘ یا یوں کہہ لیجیے ان کی ’’شناخت‘‘ کے لیے ہوم اکنامکس کالجز قائم کیے جائیں تو انھیں اس پر اعتراض ہے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ کیا She کے لیے الگ کالجز نہیں ہونے چاہییں؟ 
درسی کتب میں خواتین کے تذکرے پر تبصرہ کرتے ہوئے نکتہ طرازی کچھ یوں کی گئی ہے کہ صرف ان خواتین یعنی مس فاطمہ جناح اور بیگم محمد علی کو نصاب میں جگہ دی گئی ہے جن کی امتیازی حیثیت کسی مرد کے سبب قائم ہوئی۔ پھر ان خواتین کی بھی ’’انفرادی‘‘ خصوصیات کو اجاگر نہیں کیا گیا۔اسی طرح نشان دہی کی گئی ہے کہ اسباق میں لڑکی کو گھر کے کام کاج کرتے دکھایا جاتا ہے اور ماں کے کردار کو بھی اس طرح پیش کیا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ماں کا احترام اور درجہ خاندان کی دیکھ بھال، گھر کی صفائی ستھرائی اور کھانا پکانا کے سبب ہے۔ رسولِ پاک ﷺ کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ جھاڑو دینے، کپڑے دھونے جیسے کاموں کو عظمت کے منافی نہیں سمجھتے تھے تو پھر مردوں کو خواتین کا ہاتھ بٹانے کے لیے ابھاراکیوں نہیں جاتا؟ ہماری رائے میں اس حوالے سے عمومی معاشرتی رویے پر نظر ثانی کی واقعتا ضرورت ہے۔ (۸)
محترمہ آمنہ اور نیلم نے ایک اعتراض یہ کیا ہے کہ اسباق میں ’’ناموں کے انتخاب ‘‘ سے بھی ایک خاص تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے ، مثلاً یہ Mary ہے جسے تیراکی آتی ہے نہ کہ کوئی جمیلہ یا شکیلہ۔ اسی طرح ایئر ہوسٹس کو مسز براؤن کا نام دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلم ناموں سے یہ تاثر دینے کے لیے جان بوجھ کر احتراز برتا گیا ہے کہ مسلم خواتین ایسے کام نہیں کر سکتیں اور نہ ہی انھیں ایسے کام کرنے چاہییں۔ اسی طرح مستقبل کے خواب بنتے لڑکوں کو دکھایا جاتا ہے۔کیا لڑکیوں کے خواب نہیں ہوتے ؟ اسباق کی ترتیب سے بھی ایک خاص نفسیاتی فضا قائم ہوتی ہے ۔ ’’گمشدہ بیگ‘‘ نامی ایک کہانی میں ایک مرد ہی کا بیگ رکشے میں گم ہوتا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خواتین ’’سفر‘‘ نہیں کر سکتیں۔ اس سے اگلی کہانی ’’سر پرائز وزٹ‘‘ میں خواتین کو گھر کے اندر بھی ’’غیر فعال ‘‘ دکھایا گیا ہے ، وغیرہ۔ اسی باب میں کام کرنے والی خواتین کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خواتین کے ’’دوہرے دن ‘‘Double Day پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ انھیں تو جاب وغیرہ کے ساتھ ساتھ گھر آ کر دیگر کام بھی نمٹانے ہوتے ہیں جبکہ مرد حضرات کا ورکنگ ڈے گھر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے اور وہ لمبی تان کر سوتے ہیں ۔ اسی طرح بہادری کے اخلاقی پہلو کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ محترمہ آمنہ اور نیلم کے مطابق لڑکوں کو یہ بات ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے کہ بہادری ’’مسل پاور ‘‘ کا ہی نام نہیں، بلکہ اختلاف کرنے والوں کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کرنا بھی دلیری ہے۔ ہمارا خیال ہے مذکورہ تمام امور پر بحث مباحثہ ہو نا چاہیے اور سیمینارز ، ورکشاپس وغیرہ کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ 
SDPI کی زیرِ نظر رپورٹ کا آٹھواں باب گیارہ صفحات کا ہے ۔ اسے سید جعفر احمد نے سپردِ قلم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر پاکستان کی دستاویزات میں بہت کم جگہ ملی ہے ، حتیٰ کہ ۱۹۷۳ء کے دستورِ پاکستان کے’’ بنیادی حقوق‘‘ کے باب میں بھی تعلیم کا ذکر نہیں ملتا ، اگرچہ’’ پالیسی اصول‘‘ کے باب میں تلافی کی کوشش کی گئی ہے۔ہمارے خیال میں صرف یہی بات اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ تعلیم کبھی بھی ہماری ’’ترجیح ‘‘ نہیں رہی ، جس کی وجہ سے اس وقت بھی ہماری شرح خواندگی شرمناک حد تک کم ہے۔ 
اس باب میں انصاف پر مبنی ایک بات یہ کی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں سے عسکریت کا خاتمہ ، معاشرے کو demilitarise کیے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ بلاشبہ معاشرتی رویے ، تعلیمی اداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ احمد صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ نصاب میں بنیادی حقوق کو ’’باقاعدہ‘‘ موضوع نہیں بنایا گیا۔ اب یہ استاد کی ذمہ داری تھی کہ وہ تدریسی عمل کے دوران طالب علموں کی اس حوالے سے کچھ نہ کچھ تربیت کرتا ، لیکن چونکہ ہمارے معاشرے کا استاد صرف اور صرف ’’نصاب ‘‘ پر انحصار کرتا ہے اس لیے وہ مطلوب کردار ادا نہیں کر سکا، بلکہ الٹا ’’ڈکٹیٹر ‘‘ بن کر طلبہ کو ڈیل کرتا ہے۔ احمد صاحب کو یہ بھی اعتراض ہے کہ اخلاقی اسباق کے شاملِ نصاب ہونے کے باوجود سماجی برائیوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا، مثلاً کاروکاری، عدمِ مساوات، بچوں سے مشقت لینا ، بیگار ، اور وٹہ سٹہ کی شادیاں وغیرہ۔ ہماری رائے میں نہ صرف بنیادی حقوق کو باقاعدہ موضوع بنا کر شاملِ نصاب کرنے کی ضرورت ہے بلکہ سماجی برائیوں سے نفرت پیدا کرنے اور ان کی بیخ کنی کے لیے ان کا ذکر نصاب میں لازماً ہونا چاہیے۔ ہمارے ممدوح نے ایک نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ نصابی اسباق میں جہاں جہاں ممکن ہے ’’دستورِ پاکستان ‘‘ کے آرٹیکلز کا حوالہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ (بجا اعتراض ہے ) پھر خود ہی جواب دیا ہے کہ چونکہ پاکستان میں دستور ’’بے چارہ ‘‘ رہا ہے یعنی کبھی معطل اور کبھی سرے سے ہی غائب، اس لیے نصاب تیار کرنے والے یہ خیال کرتے ہیں کہ دستور کا حوالہ اصل میں ’’بے چارگی‘‘ کا حوالہ دینے والی بات ہے۔ہم اس بات سے پوری طرح متفق ہیں ، البتہ اس بابت جی ایچ کیوسے بھی ’’فرمودات‘‘ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 
زیرِ بحث رپورٹ کے نویں باب میں چھٹی سے دہم تک، اردو کی تدریس پر بات کی گئی ہے۔ طارق رحمان کے تحریر کردہ اس باب کے تین صفحات ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر سمیت کسی بھی حساس معاملے پر اگر حکومت ’’لچک‘‘ کا مظاہرہ کرنا بھی چاہے تواسے عملی طور پر دشواری کا سامنا کرپڑتا ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے طارق صاحب نے نصاب کو ہی ہدفِ تنقید بنایا ہے ، کہ نصاب یک رخی سوچ اور لگے بندھے طریقوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔ نتیجے کے طور پر جب بھی روٹین سے ہٹ کر کوئی بات ہوتی ہے تو گویا بھونچال آ جاتا ہے۔ اس کے بعد طارق صاحب نے methodology and rationale کے عنوان سے مختصراً خامہ فرسائی کی ہے ۔ 
دسواں باب چار صفحات کا ہے ۔ اس میں چھٹی سے دہم تک معاشرتی علوم کی تدریس کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کی لکھاری ہاجرہ احمد کے مطابق ، او لیول اور اے لیول کے طالب علم ’’روشن خیالی ‘‘ سے مستفید ہونے کے باعث خوش قسمت ہیں، جبکہ دیگر طالب علموں پر انھیں ’’ترس‘‘ آرہا ہے ۔یقین کیجیے ہمیں ’’روشن خیالی ‘‘ سے کوئی بیر نہیں، بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ’’خیال‘‘ ہوتا ہی روشن ہے ، البتہ خیال کی definition ضروری ہو جاتی ہے، ہر اوٹ پٹانگ بات کو ’’خیال ‘‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محترمہ کے مطابق مذاہبِ عالم کا تقابلی جائزہ طلبا کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ یہ اچھی تجویز ہے لیکن کیا کریں، جناب اے ایچ نیر کو ’’نفسِ مذہب‘‘ پر ہی اعتراض ہے ۔ اسی طرح محترمہ کے مطابق قرونِ وسطیٰ کی تاریخ (جاگیردارانہ نظام ) وغیرہ بھی طلبا کے علم میں آنا ضروری ہے۔ صنعتی انقلاب ، سامراجیت، دو عالمی جنگیں اور ۱۹۴۵ء کے بعد کی دنیا وغیرہ بھی نصاب کا حصہ ہونی چاہییں۔ محترمہ کا کہنا ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کا ذکر اگرچہ نصاب میں شامل ہیں لیکن ان تباہ کاریوں کو اس طرح پیش نہیں کیا گیا جس سے مطلوب نتائج حاصل ہو سکیں۔ ہماری رائے میں مذکورہ اسباق پر نظر ثانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ خلائی مہمات، حیاتیاتی انجینئرنگ، توانائی کے ذرائع ، ماحول اور ایٹمی ہتھیاروغیرہ جیسے موضوعات کو نصاب میں جگہ دینے کی تجویز سے ہم پوری طرح متفق ہیں ۔ 
The Subtle Subversion کے گیارہویں اور آخری باب میں محترمہ زرینہ سلامت نے قلم اٹھایا ہے ۔ اس باب کے چار صفحات ہیں ۔ جنگوں کی انسانیت سوز بربریت کی جان کاری،امن سے وابستہ خوشحالی اور زندگی کی قدروقیمت کو طالب علموں کے ذہن میں راسخ کرنے کی خاطر ، Peace Studies کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے’’مذہب‘‘ سے مدد لینے کوبھی در خور اعتنا سمجھا گیا ہے۔ بیسویں صدی کی سامراجیت اور اشتراکیت کے درمیان ہونے والی جنگوں کو بھی مجوزہ مضمون میں موضوع بنانے کی بات اٹھانے کے ساتھ ساتھ نیوکلےئر، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں پر گفتگو کو ضروری سمجھا گیا ہے ۔ محترمہ کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد کو بھی اس مضمون میں جگہ دی جانی چاہیے۔ ہمیں اس مجوزہ مضمون کی اہمیت سے انکار نہیں۔ موجودہ عالمی حالات کے سیاق و سباق میں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے ، البتہ ہم یہ گزارش ضرور کریں گے کہ ا س باب کی ایک ایک کاپی بش اور بلےئر کو لازماً بھیجی جانی چاہیے، ان کی مسلسل بڑھتی ہوئی درندگی سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ابو غریب جیل میں ’’مہذب‘‘دنیا کے باسیوں نے ’’وحشی‘‘ دنیا کے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کے پیش نظر Peace Studies کا مضمون مغربی دنیا کے لیے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ دنیا بھر کی ایسی این جی اوز جو انسانیت اور عالمی امن کی داعی ہیں، اس مضمون کے مغربیوں کے ہاں لازمی قرار دیے جانے کے لیے فعال کردار ادا کریں گی ۔
بات ختم کرتے ہوئے ہم SDPI کی اس کاوش کو اس اعتبار سے سراہتے ہیں کہ اس کے ذریعے نصاب سے متعلق بہت سی جینوئن خامیاں اور کوتاہیاں منظرِ عام پر آئیں۔ اس رپورٹ کے ایسے بے شمار نکات ہیں جن پر ہمارے کچھ تحفظات ہیں۔ طوالت کے خوف سے ہم نے ان نکات پر فرداً فرداً بات نہیں کی ، لیکن کچھ نہ کچھ اظہار ضرور کر دیا ہے۔ اس اظہار سے بننے والے خاکے سے پوری تصویر کا ادراک کرنا شاید زیادہ دشوار نہیں ہو گا۔ ایسی رپورٹس اور تحقیق کو ہم بطور ’’رائے ‘‘ دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اگر چور دروازوں سے رائے کو ’’حکومتی پالیسی‘‘ بنوانے کی مذموم کوششیں نہ کی جائیں تو بھلا ایسے ’’مکالمے اور مشاورت‘‘ کے فوائد سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟

حواشی

(۱) تنظیمِ اساتذہ پاکستان نے نصاب تعلیم ۲۰۰۴ء پر ایک قرطاس ابیض شائع کیا ہے ۔ اس کے مطابق فیصل مسجد ، طارق بن زیاد اور شہادتِ حسینؓ کے اسباق خارج کر دئیے گئے ہیں ۔ اسی طرح اسوہء کامل ﷺ، شکوہ، جوابِ شکوہ بھی نصاب میں موجود نہیں رہے ۔ یہ فہرست کافی طویل ہے۔
(۲) ص ۹ پر، اے ایچ نیر رقم طراز ہیں :
Besides being multi-lingual and multi-ethnic, Pakistan is a multi-religion society. Non-Muslims are a sizable part of the society. 
ذرا sizable part پر غور فرمائیے- ہمارے علم کے مطابق عیسائی سب سے بڑی اقلیت ہیں ، جو کہ کل آبادی کا 1.5 فیصد ہیں ۔ اگر اسے sizable قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر بھارتی مسلمانوں کو تو ہم ’’اکثریتی آبادی ‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا فیصدی تناسب خاصا بہتر ہے۔ 
(۳)اگر Regional integration (علاقائی اتحاد) کے رجحان کو دیکھیں تو صورتِ حال خاصی دلچسپ ہو جاتی ہے ۔ مستقبل میں مسائل کی نوعیت اور انھیں ایڈریس کرنے کا فورم ’’قومی یا ریاستی‘‘ نہیں ہو گا بلکہ ’’علاقائی‘‘ ہوگا ۔ اس صورت میں نیشنل ازم کی نئی تعریف کرنی پڑے گی اور نتیجے کے طور پر اسلام کی حقانیت کے نئے پہلو اجاگر ہوں گے ۔ 
(۴) SDPI کی اس رپورٹ میں ہندوؤں کی منفی تصویر پیش کرنے پر کافی تنقید کی گئی ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر مبالغے سے کام لیا گیا ہے ، لیکن رپورٹ کے موقف سے مکمل اختلاف ممکن نہیں ہے۔ 
(۵) اس رپورٹ کے ص۲۲ پر، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی آٹھویں جماعت کی معاشرتی علوم کے حولے سے درج ہے کہ ’’دسمبر ۱۸۸۵ء میں ایک انگریز مسٹر ہیوم نے ایک سیاسی جماعت، انڈین نیشنل کانگرس کے نام سے بنائی ، جس کا مقصد ہندوؤں کو سیاسی اعتبار سے منظم کرناتھا‘‘ یہ یقیناًقابلِ گرفت سنگین غلطی ہے جس سے یہ بھی ثابت کرنے کی کاوش بھی جھلک رہی ہے کہ ’’انگریز ہندو گٹھ جوڑ‘‘ تھا اور صرف مسلمان ہی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے ۔ 
(۶) اس کے لیے دیکھیے الشریعہ کے زیر نظر شمارے میں ہمارا مضمون بعنوان ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ نیز ’الشریعہ‘ دسمبر ۲۰۰۳ء (ص۴۱، ۴۲) میں مضمون بعنوان ’’کیا علاقائی کلچر اور دین میں بعد ہے ؟
(۷)اس رپورٹ کے ص۱۴ پر مختلف ٹیکسٹ بک بورڈز کی سماجی علوم کی کتب کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ دیکھیے اسلام کی مذہبی شخصیات کو یہاں سمویا گیا ہے۔ حضرت آدم، حضرت ابراہیم ،حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ ، اور حضرت محمد علیہم السلام۔ ہمیں خوشی ہے کہ صاحبِ مضمون نے اسلام کی ’’ناسخ حیثیت‘‘ تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ تمام شخصیات کو ’’اسلامی شخصیات‘‘ قرار دیا ہے ۔ اسی قسم کا مواد ص۱۵اور دیگر صفحات پر بھی ہے ۔ ص۳۵ پر Climate آب و ہوا کے نام سے ایک باب پر اس لیے تنقید کی گئی ہے کہ اللہ کا شکر ادا کیا گیا ہے ۔ 
(۸) دیکھیے ماہنامہ الشریعہ، نومبر ۲۰۰۳ء میں ابو عمار زاہدالراشدی کا مضمون ، بعنوان ’’خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام‘‘ ص ۱ تا ۵۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’درس قرآن‘‘

برصغیر کی نامور علمی و دینی شخصیت حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کے منتخب دروس قرآن کریم کو ان کے فرزند حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی مدظلہ نے نئی ترتیب اور نظر ثانی کے ساتھ پیش کیا ہے جو قرآن کریم کی مختلف سورتوں کے ۵۷ دروس پر مشتمل ہے اور فہم قرآن کریم کا ذوق رکھنے والوں کے لیے گراں قدر تحفہ ہے۔
۶۲۸ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب الفرقان بک ڈپو، نظیر آباد، لکھنؤ ۱۸، انڈیا نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔

ادارہ برائے تعلیم و تحقیق اسلام آباد کے رسائل

مذکورہ بالا ادارہ محترم جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانش وروں کا ادارہ ہے جس کے منتظم محترم خورشید احمد ندیم ہیں۔ مختلف دینی اور علمی موضوعات پر ان کا ایک مستقل نقطہ نظر اور اسلوب فکر ہے جس کا اظہار ان کے مضامین کی صورت میں سامنے آتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کے ہر نتیجہ فکر سے اتفاق کیا جائے اور ہم بھی جہاں ضرورت محسوس کرتے ہیں، ان کے فکر و اسلوب سے بلاتامل اختلاف کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مختلف پیش آمدہ دینی و ملی مسائل پر دیگر مکاتب فکر کی طرح ان کے نقطہ نظر سے بھی آگاہی حاصل کی جائے اور علمی بحث و مباحثہ اور مکالمہ کی صورت میں بحث و تمحیص کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے۔
اس وقت اس ادارہ کی مطبوعات میں سے مندرجہ ذیل رسائل ہمارے پیش نظر ہیں:

’’مسلم تحریک نسواں ‘‘

اس میں محترمہ حیفاء جواد نے امریکی مسلمان خاتون دانش ور محترمہ امینہ ودود صاحبہ کی کتاب ’’قرآن اور عورت‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے ان خواتین کے موقف کی ترجمانی کی ہے جو اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہتے ہوئے جدید معاشرتی مسائل کا حل چاہتی ہیں۔ اسے خورشید احمد ندیم صاحب نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

’’حدود، حدود آرڈیننس اور خواتین‘‘

ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب نے حدود آرڈیننس پر ہونے والے اعتراضات اور اس میں ترامیم کی مجوزہ تجاویز پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے جس سے اتفاق ضروری نہیں لیکن اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہ مقالہ اردو اور انگلش دو زبانوں میں الگ الگ شائع کیا گیا ہے۔

’’قانون ولایت اور مسلم خواتین‘‘

ملائشیا کی مسلم خواتین کی تنظیم ’’سسٹرز ان اسلام‘‘ کی طرف سے شائع کردہ اس تحریر میں خواتین کے حق ولایت وحضانت کے حوالے سے شرعی نقطہ نظر کی وضاحت کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ملائشیا میں مروجہ قانون حضانت وولایت کا بھی تعارف کرایا گیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ محترمہ لبنیٰ نازلی کے قلم سے ہے۔

’’عورت، سماج اور اسلام‘‘

یہ بھی ’’سسٹرز ان اسلام‘‘ کی طرف سے شائع کردہ مختلف تحریروں کا مجموعہ ہے جس میں مرد اور عورت کی مساوات، خاندانی منصوبہ بندی اور تعدد ازدواج جیسے مسائل پر اظہار خیال کیا گیا ہے اور ڈاکٹر محمد فاروق خان اور محترمہ لبنیٰ نازلی نے اس کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔

’’خاندان، معاشرہ اور مسلمان خواتین‘‘ 

یہ مذکورہ عنوان پر معروف عرب سکالر ڈاکٹر فتحی عثمان صاحب کے ایک مقالہ کا ترجمہ ہے جو ڈاکٹر محمد فاروق خان کے قلم سے ہے۔

’’مولانا عبید اللہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی‘‘

جنوبی ایشیا کے نامور مسلم مفکر، انقلابی راہ نما اور دینی رہبر حضرت مولانا عبید اللہ سندھی قدس اللہ سرہ العزیز کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے، جن میں تنظیم فکر ولی اللہی کے کچھ حضرات بھی پیش پیش ہیں، یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ مولانا سندھیؒ کا دینی فکر اور سیاسی و اقتصادی موقف جمہور علماء سے مختلف اور اشتراکیت کے قریب تھا۔ مولانا عبد الحق خان بشیر نے اس مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور انتہائی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ اس بات کو واضح کیا ہے کہ مولانا سندھی کی شخصیت و کردار کی جو تصویر اس انداز سے پیش کی جا رہی ہے، وہ درست نہیں ہے کیونکہ مولانا سندھیؒ بنیادی طور پر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے مشن اور تحریک کے نمائندہ تھے اور ان کا فکر و موقف وہی ہے جو حضرت شیخ الہند اور ان کی جماعت کا ہے۔
۳۱۲ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب حق چار یار اکیڈمی، مدرسہ حیات النبی، محلہ حیات النبی، گجرات نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔

’’صلیبی دہشت گردی اور عالم اسلام‘‘

عالم اسلام میں جہاد کے احیا کی حالیہ جدوجہد میں دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا کردار کسی سے مخفی نہیں ہے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالیٰ کے فکر و کردار کو اس میں اساسی حیثیت حاصل ہے۔ حضرت شیخ الحدیث کے فرزند و جانشین حضرت مولانا سمیع الحق اس مشن اور جدوجہد کا پرچم پوری استقامت اور حوصلے کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں اور مختلف محاذوں پر اس سلسلے میں اہل حق کے موقف کی بے لاگ ترجمانی کر رہے ہیں۔ ہمارے فاضل دوست مولانا عبد القیوم حقانی نے اس سلسلے میں عالمی پریس کے مختلف نمائندوں کو دیے گئے مولانا سمیع الحق کے انٹرویوز کو مرتب کر کے پیش کیا ہے جس میں موجودہ عالمی تناظر میں دینی حلقوں، جہادی قوتوں اور علمائے حق کے موقف و کردار کی بھرپور وضاحت موجود ہے۔ 
۵۰۰ صفحات پر مشتمل یہ خوب صورت مجلد کتاب القاسم اکیڈمی، خالق آباد، ضلع نوشہرہ صوبہ سرحد نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۲۴۰ روپے ہے۔

’’بیس علماے حق‘‘

مولانا حافظ اکبر شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اکابر علماے حق کی خدمات وشخصیات کے تعارف کا خصوصی ذوق بخشا ہے اور وہ اس حوالے سے مسلسل مصروف عمل رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مفتی محمد حسن، مولانا سید بدر عالم میرٹھی، مولانا خیر محمد جالندھری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا قاری محمد طیب، مولانا شمس الحق افغانی، مولانا محمد مالک کاندھلوی، علامہ محمد شریف کشمیری، مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی، مولانا محمد منظور نعمانی، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی اور مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی کے حالات زندگی اور دینی و علمی خدمات کو مرتب انداز میں پیش کیا ہے۔
۶۸۰ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مکتبہ رحمانیہ، اقراء سنٹر، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے اور قیمت درج نہیں۔

’’تحریک پاکستان کے عظیم مجاہدین‘‘

یہ بھی مولانا حافظ محمد اکبر شاہ بخاری آف جام پور کی تصنیف ہے اور اس میں تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے تاریخی پس منظر میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے خانوادہ، حضرت حاجی شریعت اللہ، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا عبید اللہ سندھی، حضرت مولانا مفتی کفایت الہ دہلوی، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا اطہر علی سلہٹی اور دیگر اکابر علمائے کرام کے حالات زندگی اور دینی و علمی خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ 
ساڑھے آٹھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب طیب اکیڈمی، بیرون بوہڑ گیٹ، ملتان نے شائع کی ہے اور قیمت درج نہیں ہے۔

’’عصر حاضر میں اجتہاد اور اس کی عملی صورتیں‘‘

شیخ زاید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مندرجہ بالا عنوان پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی، پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ڈاکٹر طاہر منصوری اور ابو عمار زاہد الراشدی کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کو زیر نظر کتابچہ کی صورت میں شیخ زاید سنٹر جامعہ پنجاب لاہور نے شائع کیا ہے۔
۹۶ صفحات کے اس کتابچہ کی قیمت ۸۰ روپے ہے۔

’’ماہنامہ ترجمان القرآن‘‘ (سید مودودیؒ نمبر)

ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ لاہور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے صد سالہ یوم ولادت کی مناسبت سے ایک خصوصی اشاعت گزشتہ سال پیش کر چکا ہے۔ زیر نظر شمارہ (مئی ۲۰۰۴) اسی سلسلے کی دوسری کڑی ہے جس میں مولانا کے رفقاء اور ان سے علمی و فکری وابستگی رکھنے والے اہل علم اور اصحاب قلم نے ان کی شخصیت، افکار و تعلیمات اور معاصر اسلامی دنیا پر ان کی جدوجہد کے اثرات کے حوالے سے اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ مولانا کی شخصیت اور افکار سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے یہ شمارہ معلومات کا ایک جامع اور بھرپور ذخیرہ ہے۔
ساڑھے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس خصوصی اشاعت کی قیمت ۸۰ روپے ہے اور اسے ادارہ ترجمان القرآن، ۶۔اے، ذیل دار پارک، اچھرہ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’مفہوم القرآن ‘‘ (جلد اول)

پسرور ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے بزرگ استاد اور ادیب و شاعر جناب عطا قاضی صاحب قرآن کریم کے ترجمہ کو اردو نظم کا جامہ پہنا رہے ہیں اور سورۂ فاتحہ سے سورۂ توبہ کے اختتام تک ان کی یہ کاوش جلد اول کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ قرآن کریم کی آیات کے سلسلہ وار نثری ترجمہ کے ساتھ ساتھ ان کا منظوم ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔
ساڑھے آٹھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب ادبی سبھا، ریلوے روڈ، پسرور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۲۵۰ روپے ہے۔

’’علمائے دیوبند کا عقیدۂ حیات النبی ﷺ‘‘

مولانا عبد الحق خان بشیر نے جناب سرور کائنات ﷺ کی حیات فی القبر کے بارے میں علمائے دیوبند کے عقیدہ کی وضاحت کی ہے اور اس سلسلے میں مولانا عطاء اللہ بندیالوی کے ایک کتابچہ میں پیش کیے گئے شبہات اور مغالطوں کا مدلل جواب دیا ہے۔
۱۲۸ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۶۰ روپے ہے اور اسے حق چار یار اکیڈمی، محلہ حیات النبی، گجرات سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’اذان قبر کا تحقیقی جائزہ‘‘

نامور بزرگ اور ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد منظور نعمانی نے ایک صاحب کے استفسار پر ’’اذان قبر‘‘ کے بدعت ہونے کو واضح کیا اور اس سلسلے میں مختلف شبہات اور دلائل کا جواب دیتے ہوئے بدعت کی حقیقت اور اس کے اثرات کی نشان دہی فرمائی۔ ۸۰ صفحات کا یہ رسالہ انجمن ارشاد المسلمین، ۱۴۔ بہاولپور روڈ مزنگ لاہور نے شائع کیا ہے اور قیمت درج نہیں۔

’’شرح دیباچہ مثنوی مولانا روم‘‘

سلسلہ نقشبندیہ کے نامور بزرگ حضرت خواجہ یعقوب چرخی رحمہ اللہ تعالیٰ نے مولانا جلال الدین رومیؒ کی شہرۂ آفاق مثنوی کے دیباچہ کی تشریح لکھی تھی۔ محترم نذیر رانجھا صاحب نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے اور جمعیۃ پبلیکیشنز، نزد مسجد پائلٹ سکول، وحدت روڈ، لاہور نے اسے شائع کیا ہے۔
پونے دو سو صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۱۱۰ روپے ہے۔

’’طہارت کے جدید مسائل اور ان کا حل‘‘

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے خلیفہ مجاز حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدظلہ کے فرزند مولانا محمد ابراہیم میمن نے، جو دار العلوم مدنیہ بفلو نیویارک امریکہ میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، طہارت کے سلسلے میں آج کل عام طور پر پیش آنے والے مسائل کا قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں حل پیش کیا ہے اور اس کے ساتھ تمہید کے طور پر حجیت حدیث پر ایک معلوماتی بحث بھی شامل کر دی ہے۔
۳۳۰ صفحات کی یہ مجلد کتاب جمعیۃ پبلیکیشنز، مسجد پائلٹ سکول، وحدت روڈ لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔

’’آخری صلیبی جنگ‘‘ (حصہ چہارم)

ہمارے بزرگ فاضل دوست جناب عبد الرشید ارشد آف جوہر آباد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغربی استعمار کی موجودہ عالمی کشمکش کے مقاصد اور اہداف کے بے نقاب کرنے میں مسلسل سرگرم ہیں اور ’’آخری صلیبی جنگ‘‘ کے عنوان سے ان کے معلوماتی اور فکر انگیز مضامین کا یہ چوتھا مجموعہ شائع ہوا ہے۔ 
۲۷۲ صفحات کی یہ کتاب النور ٹرسٹ، جوہر پریس بلڈنگ، جوہر آباد ضلع خوشاب نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے۔

’’سجدہ ہر ہر گام کیا‘‘

جناب حفیظ الرحمن خان نے اپنے سفرنامہ حج و زیارات مقدسہ کو عقیدت و محبت کے ساتھ قلم بند کیا ہے اور سفر مقدس کی واردات و کیفیات کو دل نشین انداز میں بیان کیا ہے۔
ڈیڑھ سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب بک ہوم، بک سٹریٹ، ۴۶ مزنگ روڈ لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۴۰ روپے ہے۔

’’امداد المدرسین‘‘

شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد صاحب دامت برکاتہم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں مدرسین کی تربیت کے لیے خصوصی کورس کا اہتمام فرماتے ہیں۔ اس میں ان کے چند خطابات کو اس رسالہ میں تحریری صورت میں پیش کیا گیا ہے جو دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے بہت مفید ہے اور اس میں حضرت مدظلہ نے اپنے بہت سے تدریسی تجربات کا نچوڑ پیش کیا ہے۔

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تعلیمی و مطالعاتی دورہ

ادارہ

الشریعہ اکادمی کی جانب سے ۱۸ مارچ ۲۰۰۴ء کو اکادمی کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے سیالکوٹ کے ایک تعلیمی ومطالعاتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی اور دیگر اساتذہ اس سفر میں طلبہ کے ہمراہ تھے۔ جامعہ فاروقیہ، چوک امام صاحب کے استاد مولانا حماد انذر قاسمی صاحب نے میزبان اور رہبر کی خدمات انجام دیں اور ان کی رہنمائی میں وفد نے جامعہ فاروقیہ، سیرت سٹڈی سنٹر اور علامہ اقبال مرحوم کی آبائی رہائش کے علاوہ ایک لیدر فیکٹری اور ہیڈ مرالہ کا بھی دورہ کیا۔ سیالکوٹ کینٹ میں واقع سیرت سٹڈی سنٹر کے دورے کے موقع پر وفد نے سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر عبد الجبار شیخ سے بھی ملاقات کی اور لائبریری کے قیام اور اس کی ترتیب وانتظام سے متعلق ان سے معلومات حاصل کیں۔ وفد کو سنٹر میں جاری مختلف تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وفد نے چمڑے کی مصنوعات کے حوالے سے سیالکوٹ شہر کی شہرت میں خاص دلچسپی لی اور ایک لیدر فیکٹری کا دورہ کر کے چمڑے کے دستانوں، جیکٹوں اور دیگر مصنوعات کی تیاری کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم کی جائے ولادت اور ہیڈ مرالہ برج کا دورہ کرنے کے بعد وفد واپس گوجرانوالہ شہر پہنچا جہاں اس نے گلشن اقبال پارک میں انعقاد پذیر صنعتی نمائش میں گوجرانوالہ میں تیار ہونے والی مختلف مصنوعات کے اسٹال دیکھے۔ 

عربی لینگویج کورس کی تکمیل

الشریعہ اکادمی کی طرف سے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں عربی بول چال کے ایک سہ ماہی کورس (جنوری۔اپریل ۲۰۰۴ء) کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مدارس کے طلبہ نے شرکت کی۔ یہ کلاس مغرب کی نماز کے بعد ہوتی رہی اور اس میں طلبہ کو گریمر کے ضروری قواعد کے ساتھ بول چال کی مشق کرائی۔ اکادمی میں عربی کے استاذ الشیخ حبیب النجار اور ان کے معاون مولانا محمد عامر انور نے اس میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ کورس کے اختتام پر ۱۸۔ اپریل کو مغرب کے بعد الشریعہ اکادمی میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت ناظم یونین کونسل جناب جمال حسن خان منج نے کی اور اس میں کورس میں کامیابی حاصل کرنے والے ۳۵ طلبہ کو سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ مہمان خصوصی شاعر اسلام الحاج سید سلمان گیلانی نے اپنے مخصوص انداز میں حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبول ﷺ پیش کر کے حاضرین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے شرکا کو بتایا کہ اکادمی کے زیر اہتمام دینی مدارس کے طلبہ کے لیے اسی نوعیت کا ایک انگلش لینگویج کورس بھی جاری ہے۔

فہم دین کورس کی پہلی کلاس کا اختتام

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام اس سال کے آغاز سے عوام الناس کے لیے ضروریات دین کی تعلیم پر مبنی سہ ماہی ’’فہم دین کورس‘‘ کا اجرا کیا گیا جس کی پہلی کلاس ۱۱۔ مئی کو مکمل ہوئی۔ کورس میں تدریس کے فرائض اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف اور ان کے معاون مولانا محمد احسن ندیم نے انجام دیے اور اس میں شرکا کو تجوید کے قواعد کے مطابق ناظرہ قرآن مجید، مسنون دعاؤں اور روز مرہ زندگی سے متعلق ضروری احکام ومسائل کی تعلیم دی گئی۔ کلاس کے اختتام کے موقع پر ۱۱۔ مئی کو ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں خطیب اسلام مولانا عبد الکریم ندیم تشریف لائے اور حصول علم کی اہمیت اور اس کے فضائل پر جامع اور موثر گفتگو کی۔ تقریب میں کورس مکمل کرنے والے شرکا کو اسناد اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے حضرات کو انعامات تقسیم کیے گئے۔

الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے ہدیہ کتب

ادارہ

گورنمنٹ ڈگری کالج قلعہ دیدار سنگھ میں شعبہ اسلامیات کے استاذ اور ماہنامہ الشریعہ کی مجلس ادارت کے رکن جناب پروفیسر محمد اکرم ورک نے الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے درج ذیل کتب کا ہدیہ عنایت کیا:

۱۔ سیرۃ المصطفیٰ (۳ جلدیں)
مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ 

۲۔ توہین رسالت کی سزا
پروفیسر حبیب اللہ چشتی

۳۔ صحابہ کرام کا اسلوب دعوت وتبلیغ
پروفیسر محمد اکرم ورک

۴۔ تہذیب وتمدن پر اسلام کے اثرات واحسانات
۵۔ مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش
۶۔ مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں
۷۔ عالم عربی کا المیہ
۸۔ دعوت وتبلیغ کا معجزانہ اسلوب
۹۔ مطالعہ قرآن کے اصول ومبادی
سید ابو الحسن علی ندویؒ 

۱۰۔ تحقیق کا فن
گیان چندر

۱۱۔ تاریخ وفلسفہ سائنس
۱۲۔ املا ورموز اوقاف کے مسائل (روداد سیمینار)
۱۳۔ اردو املا ورموز اوقاف (منتخب مقالات)
۱۴۔ اردو رسم الخط کے بنیادی مباحث
مقتدرہ قومی زبان

۱۵۔ توریث آدم
چارلس ڈارون

حضرت داؤد علیہ السلام اور حج بیت اللہ کی آرزو

ادارہ

’’اے لشکروں کے خداوند!
تیرے مسکن کیا ہی دلکش ہیں!
میری جان خداوند کی بارگاہوں کی مشتاق ہے بلکہ گداز ہو چلی۔
میرا دل اور جسم زندہ خدا کے لیے خوشی سے للکارتے ہیں۔
اے لشکروں کے خداوند! اے میرے بادشاہ اور میرے خدا!
تیرے مذبحوں کے پاس گوریا نے اپنا آشیانہ اور ابابیل نے اپنے لیے گھونسلا بنا لیا
جہاں وہ اپنے بچوں کو رکھے۔
مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہتے ہیں۔
وہ سدا تیری تعریف کریں گے۔ (سلاہ)
مبارک ہے وہ آدمی جس کی قوت تجھ سے ہے۔
جس کے دل میں صیون کی شاہراہیں ہیں۔
وہ وادی بکہ سے گزر کر اسے چشموں کی جگہ بنا لیتے ہیں۔
بلکہ پہلی بارش اسے برکتوں سے معمور کر دیتی ہے۔
وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔
ان میں سے ہر ایک صیون میں خدا کے حضور حاضر ہوتا ہے۔
اے خداوند لشکروں کے خدا! میری دعا سن۔
اے یعقوب کے خدا! کان لگا۔ (سلاہ)
اے خدا! ہماری سپر! دیکھ
اور اپنے ممسوح کے چہرہ پر نظر کر۔
کیونکہ تیری بارگاہوں میں ایک دن ہزار سے بہتر ہے۔
میں اپنے خدا کے گھر کا دربان ہونا
شرارت کے خیموں سے میں بسنے سے زیادہ پسند کروں گا۔
کیونکہ خداوند خدا آفتاب اور سپر ہے۔
خداوند فضل اور جلال بخشے گا۔
وہ راست رو سے کوئی نعمت باز نہ رکھے گا۔
اے لشکروں کے خداوند!
مبارک ہے وہ آدمی جس کا توکل تجھ پر ہے۔‘‘
(زبور ۸۴)