جدید معاشرے میں مذہبی طبقات کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(ہمدرد یونیورسٹی دہلی کے شعبہ اسلامیات کے رکن ڈاکٹر یوگندر سکند کی طرف سے ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر کے نام ارسال کردہ سوال نامہ کے جوابات۔)
سوال نمبر ۱: آپ اپنے خاندانی پس منظر اور تعلیمی قابلیت کے بارے میں ضروری معلومات سے آگاہ کرنا پسند کریں گے؟
جواب: میری ولادت ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں ہوئی۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دار العلوم دیوبند کے فاضل ہیں، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے ممتاز تلامذہ میں سے ہیں، کم وبیش ساٹھ سال تک تدریسی خدمات سرانجام دی ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث رہے ہیں، دیوبندی مسلک کے علمی ترجمان سمجھے جاتے ہیں اور کم وبیش پچاس کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف ہیں۔ بحمد اللہ حیات ہیں اور اس وقت ان کی عمر ہجری اعتبار سے ۹۳ برس ہے۔
میں نے ابتدائی تعلیم حفظ قرآن کریم اور صرف ونحو گھر میں والد محترم اور دیگر اساتذہ سے حاصل کی۔ ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۹ء تک مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درس نظامی کی تعلیم پائی۔ ۱۹۷۰ء میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی۔ تب سے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔
تدریس کا شغل بھی مسلسل جاری ہے۔ پہلے مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتا رہا ہوں اور چند برسوں سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں صدر مدرس اور ناظم تعلیمات کی ذمہ داریاں میرے سپرد ہیں۔
سوال نمبر ۲: اپنے دینی کام اور معاشرتی مصروفیات، خاص طور پر اپنے تعلیمی ادارے اور جریدے کے حوالے سے کچھ تفصیل بتائیں۔
جواب: سیاسی طور پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے وابستہ ہوں۔ کم وبیش پچیس برس تک صوبائی اور مرکزی سطح پر مختلف عہدوں پر متحرک کردار ادا کیا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمود کے رفیق کار اور اسسٹنٹ کے طور پر سالہا سال خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا ہے۔ اب ایک عام کارکن کے طور پر جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ شریک ہوں جبکہ انتخابی سیاست سے ہٹ کر فکری اور علمی حوالہ سے اسلامائزیشن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کر رہا ہوں جس کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی آف کراچی ہیں۔ ۱۹۸۹ء سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میری ادارت میں شائع ہو رہا ہے جو اسلام اور ملت اسلامیہ کو درپیش معروضی مسائل کے حوالے سے اپنی بساط کے مطابق خدمت کر رہا ہے۔ میرے بڑے فرزند حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ، جو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل اور اب اس میں مدرس ہیں اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش ہیں، اس میں میرے معاون ہیں۔ گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی کے نام سے ایک الگ تعلیمی ادارہ ہم نے قائم کر رکھا ہے جس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے امتزاج کا تجربہ کر رہے ہیں اور اس میں مختلف کورسز ہر سال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے اور روزنامہ اسلام لاہور میں ’’نوائے حق‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھتا ہوں جو حالات حاضرہ کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ www.alsharia.org کے عنوان سے ہماری اپنی ویب سائٹ کام کر رہی ہے جبکہ روزنامہ پاکستان کے کالم ویب سائٹ www.dailypak.com پر پڑھے جا سکتے ہیں۔
سوال نمبر ۳: پاکستانی مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح کے بارے میں خود علما کے حلقے میں داخلی طور پر بھی ایک آواز موجود ہے اور پاکستانی حکومت کے علاوہ مغربی حکومتوں بالخصوص امریکہ کی طرف سے بھی اس قسم کے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب: پاکستان کے دینی مدارس کے نظام ونصاب میں اصلاح کے حوالہ سے ہم ایک عرصہ سے خود سرگرم عمل ہیں اور اس سلسلہ میں میرے بیسیوں مضامین مختلف جرائد واخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس حوالہ سے ہمارا اصولی موقف یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ ڈھانچے اور نیٹ ورک کو قائم رہنا چاہیے اور ان کی آزادی وخود مختاری کا تحفظ ہونا چاہیے۔ البتہ دینی مدارس کو عصری تقاضوں کے پیش نظر اپنے نصاب اور تعلیمی طریق کار میں ایسی تبدیلیاں لانی چاہییں کہ ان کے فضلا آج کے گلوبل ماحول میں وقت کے حالات، ضروریات ، تقاضوں اور چیلنجز کو سمجھتے ہوئے آج کی زبان اور اسلوب میں دین کی نمائندگی کر سکیں۔
سوال نمبر ۴: موجودہ دینی تعلیمی نظام کی خوبیوں اور خامیوں پر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟
جواب: موجودہ دینی تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ طالب علم ذہنی، فکری، تہذیبی اور اعتقادی طور پر اپنے ماضی اور اسلاف سے وابستہ رہتا ہے مگر سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ آج کے حالات، تقاضوں اور مستقبل کی ضروریات کے ادراک سے محروم ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر ۵: کیا آپ کو بھارت کے دینی مدارس کے کچھ ایسے مثبت پہلو دکھائی دیتے ہیں جن کی پیروی پاکستانی دینی مدارس کو بھی کرنی چاہیے؟
جواب: ہمارے خیال میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے دینی مدارس کا ماحول، اہداف، طریق کار اور اسلوب کم وبیش یکساں ہے اور تمام خوبیوں اور خامیوں میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ البتہ بھارت میں ندوۃ العلماء کی طرز پر جو کام ہو رہا ہے، پاکستان میں وہ کام اس سطح پر نہیں ہو رہا۔ اس کی اپنی افادیت اور ضرورت ہے اور پاکستان میں بھی اس طرز کے ادارے قائم ہونے چاہییں۔ خود ہم نے اب سے دس بارہ برس قبل گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے جو پروجیکٹ شروع کیا تھا، اس میں ہمارے پیش نظر ندوۃ العلماء ہی تھا مگر کام کرنے والے دوستوں میں باہمی انڈر سٹینڈنگ قائم نہ رہنے کی وجہ سے ہم اپنے مقصد میں کام یاب نہ ہو سکے۔ اب وہاں شاہ ولی اللہ کیڈٹ کالج کام کر رہا ہے اور میڈیکل کالج کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ راقم الحروف اب بھی اس کا ٹرسٹی ہے مگر عملی طور پر متحرک نہیں ہے۔
سوال نمبر ۶: دینی مدارس نے مختلف مسالک کے مابین اتحاد اور مکالمہ یا کشمکش یا تصادم کے فروغ میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
سوال نمبر ۷: آپ کے خیال میں ایک مسلک کے پیروکاروں کا دوسرے مسلک کی ترجمانی اور اس کے پیروکاروں کے ساتھ تعلق کے حوالے سے کیا رویہ ہے اور مسلکی مقابلہ بازی کے فروغ میں اس رویے کا کتنا حصہ ہے؟
سوال نمبر ۸: پاکستان میں عوام اور بالخصوص علما کے مابین مسلکی تصادم کی فضا کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟
سوال نمبر ۹: پاکستان کے مختلف مسالک خاص طور پر شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی اور اہل حدیث حنفی مسلکو ں کے مابین سنجیدہ، تعمیری اور مثبت مکالمہ کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی کچھ تفصیلات بتائیں۔
جواب: مسلکی حوالہ سے مدارس کی موجودہ فضا تسلی بخش نہیں ہے اور جس طرح جذباتی اور مناظرانہ انداز میں طلبہ کی ایک دوسرے کے خلاف ذہن سازی کی جاتی ہے، وہ نقصان دہ ہے۔ اس کے بجائے ہر مسلک کے مدارس کو یہ چاہیے کہ وہ اپنے طلبہ کو اپنے مسلک اور اس کے دلائل سے ضرور متعارف کرائیں اور ان کی ذہن سازی بھی کریں مگر یہ مثبت طور پر بریفنگ کے انداز میں ہو اور دوسرے مسالک کے معروضی تعارف کے ساتھ اپنے فضلا کو منطق اور استدلال کی زبان میں گفتگو کی تربیت دیں۔ مسلکی تفریق بالکل ختم تو نہیں ہو سکتی لیکن اگر برداشت کا ماحول پیدا کیا جائے اور جذباتی انداز کے بجائے استدلال اور افہام وتفہیم کا اسلوب اختیار کیا جائے تو ا س کے نقصانات میں خاصی کمی آ سکتی ہے۔
سوال نمبر ۱۰: سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک سے آنے والے پیسے نے بین المسلکی تعلقات کو کس حوالے سے متاثر کیا ہے؟
جواب: سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ریاستوں سے مختلف مسلم ممالک میں جو رقوم تقسیم ہوتی رہی ہیں، ان میں مسلکی ترجیحات کا دخل زیادہ چلا آ رہا ہے اور اس کے نقصانات بھی واضح ہیں۔ اس سے باہمی منافرت بڑھی ہے اور خود سعودی حکومت کے بارے میں ذہنوں میں تحفظات نے جنم لیا ہے۔
سوال نمبر ۱۱: بعض پاکستانی حلقے مثلاً سپاہ صحابہ شیعہ کو کافر اور دشمن اسلام قرار دیتے ہیں۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ ہاں یا نہیں کی صورت میں آپ کی رائے کے وجوہ کیا ہیں؟ اگر آپ اس سے متفق نہیں تو اس نقطہ نظر کی تردید کے لیے آپ نے کیا کردار ادا کیا ہے؟
جواب: ہم نے سپاہ صحابہؓ کے شدت پسندانہ طریق کار سے ہمیشہ اختلاف کیا ہے اور مختلف مضامین میں اس کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس کے راہ نماؤں مثلاً مولانا حق نواز جھنگوی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی اور مولانا محمد اعظم طارق کے ساتھ براہ راست گفتگو میں بھی انھیں اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے۔ ہم جمہور علماء اہل سنت کے اس موقف سے متفق ہیں کہ جو شیعہ تحریف قرآن کریم کا قائل ہے، اکابر صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ پر قذف کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے نیز ہم امت کی چودہ سو سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں شیعہ کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ذہنی تحفظات رکھتے ہیں لیکن اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کافر کافر کی مہم، تشدد کے ساتھ ان کو دبانے اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا اس حوالہ سے موقف یہ ہے کہ عقائد اور تاریخی کردار کے حوالہ سے باہمی فرق اور فاصلہ کو قائم رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور استدلال ومنطق کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے کا راستہ ہی صحیح اور قرین عقل ہے اور اس حوالہ سے ہمیں امت مسلمہ کے اجتماعی رویہ سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔
سوال نمبر ۱۲: عام طور پر علما اور مدارس تمام غیر مسلموں کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ کیا آپ اس تصور سے متفق ہیں؟ بین المذاہب مکالمہ کے فروغ اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے میں مدارس کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ خالصتاً تبلیغی اور دعوتی کوششوں کے علاوہ کیا آپ ایسی مثالیں بتا سکتے ہیں کہ پاکستانی مدارس نے بین المذاہب مکالمہ کے فروغ میں کوئی متحرک کردار ادا کیا ہو؟
جواب: تمام غیر مسلموں کو دشمن قرار دے کر ان کے خلاف محاذ آرائی کی سوچ درست نہیں ہے اور حکمت عملی کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ دنیا کی غیر مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ اسلام کی دعوت اور پیغام سننے کے لیے تیار ہے مگر ہم اس طرف متوجہ نہیں ہیں۔ غیر مسلموں کے بہت سے حلقے مسلمانوں کی موجودہ صورت حال میں ان سے ہمدردی رکھتے ہیں اور استعمار دشمنی میں ان کے ساتھ شریک ہیں مگر ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے جبکہ اسلام سے دشمنی رکھنے والے اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا اہتمام کرنے والے غیر مسلموں کا تناسب بہت کم ہے لیکن چونکہ سیاست، معیشت، تہذیب وثقافت اور ذرائع ابلاغ پر ان کا کنٹرول ہے، اس لیے ہر طرف وہی دکھائی دیتے ہیں۔ مسلم اہل دانش کو اس صورت حال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور ’’کفر دون کفر‘‘ (Lesser Evil) کے اصول پر دنیاے کفر کے بارے میں اپنی ترجیحات نئے سرے سے طے کرنی چاہییں۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلے فکری بیداری اور ذہنی تربیت کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء کرام، اساتذہ، دانش وروں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے حضرات تک رسائی کی ضرورت ہے اور میرے خیال میں ہمدرد یونیورسٹی اس کے لیے زیادہ بہتر خدمت سرانجام دے سکتی ہے۔ اگر اس سمت میں ہمدرد یونیورسٹی یا اس جیسا کوئی اور مسلم ادارہ مثبت پیش رفت کرے تو اسے میرے جیسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسے افراد عالم اسلام میں بکھرے ہوئے ملیں گے جو اس رخ پر سوچتے ہیں مگر کوئی فورم اور مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حسرتوں کا خود اپنے ہاتھوں گلا گھونٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
گزشتہ دو ماہ کے عرصے میں بعض بزرگ شخصیات، احباب اور متعلقین دنیا سے رخصت ہو گئے:
- تبلیغی جماعت کے بزرگ رہنما مولانا مفتی زین العابدین ؒ ۔
- ملک کے نامور عالم دین مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ ۔
- شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز صفدر کے داماد حافظ محمد شفیق صاحب کے بڑے بھائی جناب محمد ادریس ؒ ۔
- جناب شبیر احمد خان میواتی اور مولانا محمد داؤد خان میواتی کی والدہ محترمہ۔
- جناب علامہ محمد احمد لدھیانوی کی بھانجی اور پروفیسر میاں انعام الرحمن کی پھوپھی زاد ہمشیرہ۔
- مدیر ’الشریعہ‘ حافظ محمد عمار خان ناصر کے ہم جماعت اور عزیز دوست جناب ضیاء اللہؒ ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان سب مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پس ماندگان کو صبر وحوصلہ کے ساتھ ان کی جدائی کا غم سہنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین (ادارہ)
دعوت اسلام میں ’اعلیٰ کردار‘ کے اثرات
پروفیسر محمد اکرم ورک
دعوت و تبلیغ کا طریقہ کار خواہ کتنا عمدہ ہو، اس وقت تک بے کار اور غیر مؤثر ہے جب تک اس کو مبلغ وداعی کی بلند کرداری، عالی ظرفی اور اخلاقی قوت کا تحفظ حاصل نہ ہو۔انسانی فطرت ہے کہ مدعو پہلے داعی کا کردار اور اس کی شخصیت کا مشاہدہ کرتاہے۔ اگر داعی کی شخصیت غیر معتبر اور کردار داغدار ہے تو دعوت وتبلیغ میں اثر پیدا ہی نہیں ہوسکتا ۔اور اگر داعی کی شخصیت اوصافِ حمیدہ کی حامل ہو اور کردار کی پاکیزگی کا پیکر ہوتو دعوت میں خودبخود تاثیر ومقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے۔
مخاطب کی تعمیرِ سیرت اور تشکیلِ ذات کے لیے سب سے اعلیٰ نمونہ خود مبلغ وداعی کا ذاتی کردار اور اخلاق ہے۔جس چیز کی وہ دعوت دے رہا ہے ،کیا وہ خود بھی اس پرعمل پیرا ہے؟ کیا اس کے قول وفعل میں تضاد تو نہیں؟کیا وہ خود بھی اس دعوت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے؟یہ وہ چیزیں ہیں جن کو مخاطب اور مدعو سب سے پہلے دیکھتا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ داعی کی سیرت ایسی پاکیزہ اور جاذبِ نظر ہو کہ لوگ خودبخود اس کی طرف کھنچے چلے آئیں ۔دراصل داعی کاذاتی کردار ہی مدعو کے ذہنی رویوں کوتبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔صحابہ کرامؓکی کامیاب دعوتی زندگی کامطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی دعوتی کامیابیوں کے پیچھے ان کی عظیم شخصیات ،بلند کردار اور اخلاق کریمانہ کی مضبوط ومستحکم فصیل کھڑی تھی۔صحابہ کرامؓکی زندگی سب لوگوں کے لیے کھلی کتاب کی طرح تھی،جس کی تحریر کاہر حرف پاکیزہ،روشن،اور نمایاں تھا۔ہر شخص صحابہؓ کے بے داغ اخلاق وکردار،امانت ودیانت اور عالی ظرفی کا معترف تھا،گویا صحابہ کرامؓانسانی کردار کااعلیٰ ترین نمونہ تھے۔انہوں نے جس دعوت کی طرف لوگوں کوبلایا پہلے اس پر عمل کرکے دکھایا۔ ایک بار حضرت صفوانؓ بن امیہ ایک بڑے برتن میں کھانا لائے اور حضرت عمرؓ کے سامنے رکھ دیا۔انہوں نے فقیروں اور غلاموں کو بلایا اور سب کو اپنے ساتھ کھانا کھلانے کے بعد فرمایا:
لحا اللّٰہ قوما یرغبون عن ارقاءھم ان یأکلوا معھم ۱
’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جن کو غلاموں کے ساتھ کھانا کھانے میں عار محسوس ہوتی ہے‘‘
ایک دفعہ حضرت ابوذر غفاریؓ کی خدمت میں کسی نے دوچادریں پیش کیں۔انہوں نے ایک کا ازار بنا لیا اور دوسری اپنے غلام کو دے دی ۔گھر سے نکلے تو لوگوں نے کہا کہ اگر آپ دونوں چادریں خود استعمال کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ فرمایا:سچ ہے ، لیکن میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے:
أطعموھم مماتأکلون وألبسو ھم مما تلبسون۲
’’جو تم خود کھاتے اور پہنتے ہو، وہی اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ اور پہناؤ‘‘
ایک مرتبہ حضرت عبادہ بن ولید، حضرت ابوالیسر کعبؓ بن عمرو سے حدیث سننے کے لیے آئے۔ دیکھاکہ خود ایک چادر اور معافر کی بنی ہوئی لنگی پہنے ہوئے ہیں اور غلام کا بھی یہی لباس ہے۔عبادہ نے عرض کی : عمِ محترم!بہتر ہو کہ ایک جوڑا مکمل کر لیجیے۔ یا تو آپؓان کی معافری لے لیں اور اپنی چادر ان کو دے دیں، یا اپنی معافری دے دیں اور ان سے چادر لے لیں۔ حضرت ابوالیسرؓ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔ پھر فرمایا: رسول اللہﷺ کا حکم ہے کہ جوتم پہنو، غلاموں کو پہناؤ اور جو تم کھاؤ، ان کو کھلاؤ۔ ۳
عرب معاشرے میں غلاموں کے بارے میں جو نفرت پائی جاتی تھی، صحابہ کرامؓنے اپنے عمل سے اس کی سختی سے بیخ کنی کی اور غلاموں کومعاشرے میں باعزت مقام دلوایا۔ صحابہ کرامؓاس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ ان کا کردار دوسرے لوگوں کے لیے حجت اور دلیل ہے، اس لیے وہ غیر شرعی امور کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے، بلکہ بعض صحابہ تو ان امور میں بھی رسول اللہﷺ کی اتباع کرنا ضروری خیال کرتے تھے جن میں ان کو مکلف نہیں بنایا گیا تھا۔
عبداللہ بن قیس بن مخرمہؓایک دفعہ مسجد بنی عمرو بن عوف میں نوافل کی ادائیگی کے بعد اپنے خچر پر سوار ہوکر واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں عبداللہ بن عمرؓسے ملاقات ہوگئی جو پیدل اسی طرف جارہے تھے۔انہیں پیدل دیکھ کر وہ خچر سے نیچے اتر آئے اور کہنے لگے:چچا جان!آپ سوار ہوجائیے۔تو انہوں نے جواب دیا :اے بھتیجے!اگر میں سوار ہونا چاہتا تو میرے پاس بھی سواری موجود تھی، لیکن میں نے رسول اللہﷺ کو اس مسجد کی طرف نماز کے لیے پیدل ہی جاتے دیکھا ،تو مجھے اسی طرح پیدل جانا پسند ہے جیساکہ میں نے رسول اللہﷺ کو پیدل جاتے دیکھا ہے ۔چنانچہ پھر وہ پیدل ہی مسجد کی طرف روانہ ہوگئے۔۴
صحابہ کرامؓکے اس جذبۂ اطاعت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شرعی امور میں ان کی فرمانبرداری کاعالم کیا ہوگا۔ حضرت جثامہؓ ابن مساحق کو حضرت عمرؓنے قاصد بنا کر ہرقل کے دربار میں بھیجا ۔خود بیان کرتے ہیں کہ میں وہاں جاکر ایک چیز پر بیٹھ گیا ۔مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ میرے نیچے کیاچیز ہے؟ یکایک مجھے معلوم ہوا کہ میرے نیچے سونے کی ایک کرسی ہے۔چنانچہ جب میں نے اسے دیکھا تو میں فوراً اس سے اتر پڑا۔ ہرقل مسکرایا اور اس نے کہا، تم اس کرسی سے کیوں اتر پڑے؟ یہ تو محض تمہار ی عظمت کے لیے بچھائی گئی تھی۔میں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ آپﷺ اس قسم کی چیز پر بیٹھنے سے منع فرماتے تھے۔۵
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابو طلحہ انصاریؓکی عیادت کے لیے ان کے ہاں گئے۔ سہل بن حنیفؓ بھی وہاں موجود تھے۔ حضرت ابو طلحہؓ نے ایک آدمی کو بلا کر کہا کہ میرے نیچے سے گدے کو نکال دو۔سہل بن حنیفؓ نے کہا کہ اسے کیوں نکلواتے ہو؟فرمایا:اس میں تصویریں ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ تمہیں معلوم ہے۔سہل نے کہا:کیا رسول اللہﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ماسوائے ان تصویروں کے جو کپڑے میں نقش ہوں؟ فرمایا:کیوں نہیں؟ لیکن میری دلی خوشی یہی ہے۔۶
حضرت عبداللہ بن عباسؓ ایک سفر میں تھے، اسی حالت میں اپنے بھائی قثم بن عباسؓ کے انتقال کی خبر سنی۔پہلے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھا، پھر راستے سے ہٹ کر دو رکعت نمازپڑھی۔نماز سے فارغ ہوکر اونٹ پر سوار ہوئے اور یہ آیت کریمہ پڑھی:
وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَإِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ إِلَّاعَلَی الْخَاشِعِیْنَ (البقرہ،۲:۴۵)
’’صبر اور نماز سے مدد طلب کرو بے شک یہ بھاری ہے سوائے ان لوگوں کے جواللہ سے ڈرنے والے ہیں‘‘۷
رسول اللہﷺنے شوہر کے علاوہ دوسرے عزیزوں کی وفات پر سوگ کے لیے صرف تین دن مقرر فرمائے ہیں۔ صحابیاتؓ نے اس حکمِ رسولﷺ پر بڑی شدت سے عمل کیا۔زینبؓ بنت جحش کے بھائی کا انتقال ہو اتو چوتھے دن کچھ عورتیں ملنے آئیں ،انہوں نے ان کے سامنے خوشبولگائی اور فرمایا:
واللّٰہ مالی بالطیب من حاجۃ غیرانی سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول:لایحل لامراۃ تؤمن باللّٰہ والیوم الاخر ان تحدّ علی میت فوق ثلاث لیال الا علٰی زوج ،اربعۃ اشھر وعشراً ۸
’’مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسو ل اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی عورت کے لیے، جو اللہ اور روزِ قیامت پر یقین رکھتی ہے، جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، کہ اس پر چار ماہ اور دس دن کا سوگ ہے‘‘
اسی طرح حضرت ام حبیبہؓکے والد ابوسفیان انتقال فرما گئے تو انھوں نے تین روز کے بعد تیل لگایا اور خوشبو ملی اور فرمایا:مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
’’کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگراپنے خاوند کا، جس کا سوگ چارماہ دس دن ہے‘‘۹
ام عطیہ ؓ کا ایک بیٹا کسی جنگ میں شریک تھا۔بیمار ہوکر بصرہ میںآیا۔ حضرت ام عطیہؓ کو خبر ہوئی تو بڑی تیزی سے مدینہ سے بصرہ آئیں لیکن ان کے پہنچنے سے ایک دن قبل اس کا انتقال ہوچکا تھا۔یہاں آکر انہوں نے بنو خلف کے قصر میں بودوباش اختیار کرلی اور پھر بصرہ سے کہیں نہ گئیں۔تیسرے دن خوشبو منگا کر ملی اور کہا کہ شوہر کے علاوہ اور کسی کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔۱۰
نافع مولیٰ ابن عمرؓکا بیان ہے کہ ابن عمرؓنے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور راستے سے ہٹ کر چلنے لگے اور پوچھا:اے نافع کیا تجھے آواز سنائی دے رہی ہے؟ میں کہتا:ہاں،پس آپؓچلتے رہے حتیٰ کہ میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آرہی۔ پھرآپؓنے انگلیاں کانوں سے نکال لیں اور اپنی سواری کو راستے پر چلانے لگے اور پھر فرمایا:
رأیت رسول اللّٰہﷺوسمع صوت زمارۃ راع فصنع مثل ھذا ۱۱
’’میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سن کر ایسا ہی کیا تھا‘‘
صدیقِ اکبرؓکے ایک غلام نے ان کو کھانے کی کوئی چیز لاکر دی ،جب آپؓکھاچکے تو غلام نے پوچھا: آپؓجانتے ہیں کہ وہ کیا شے تھی؟پوچھا: کیاتھی؟اس نے کہا: میں جاہلیت میں کہانت کاکام کرتا تھا ۔یہ شے اسی کا معاوضہ تھی۔حضرت صدیقِ اکبرؓنے سنا تو فوراً قے کردی اور پیٹ میں جوکچھ تھا وہ نکال باہر پھینکا۔۱۲
ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓکا کردار کتنا جاندار تھااور وہ دینی معاملات میں شرعی امور کا کس قدر خیال رکھنے والے تھے۔قول وفعل کی اسی مطابقت کی وجہ سے لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔
کردار کی تاثیر
شطا جومصر کا ایک بہت بڑا رئیس تھا،مسلمانوں کی اخلاقی حالت کا چرچا سن کر اسلام کا گرویدہ ہوگیااور دوہزار آدمیوں کے ساتھ اسلام قبول کرلیا ۔تاریخ مقریزی میں ہے:
فخرج شطا فی الفین من اصحابہ والحق بالمسلمین وقد کان قبل ذالک یحب الخیر ویمیل الی ما یسمعہ من سیرۃ اہل الاسلام ۱۳
’’شطا دوہزار آدمیوں کے ساتھ نکلا اور مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگیا ۔وہ پہلے بھی نیکی کے کاموں سے محبت رکھتا تھا اور مسلمانوں کے محاسن اخلاق کو سن کر ان کی طرف مائل تھا‘‘
صحابہ کرامؓاسلام کی چلتی پھرتی تصویر تھے اور انہوں نے اسلام کو اپنی ذات پر نافذ کرکے اسلامی تعلیمات کے اندر ایک ایسی کشش پیدا کردی تھی کہ لوگ اسلام کے دامن میں پناہ لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے۔صحابہ کرامؓکے محاسنِ اخلاق میں مساوات ایک ایسا وصف تھا جو خود قلوب واذہان کو اپنی طرف مائل کرتا تھا،بالخصوص جب اسلام کے اصول مساوات اور مسلمانوں کی مساویانہ طرزِ معاشرت کا ایرانیوں کی ناہموار طرزِ معاشرت سے مقابلہ ہوتا تھاتو یہ وصف خصوصیت کے ساتھ نمایاں ہوجاتا تھا اورحق پسند لوگ خود بخود اسلام کی طرف مائل ہوجاتے تھے۔چنانچہ ایک بار زہرہ نے رستم سے دورانِ گفتگو اسلام کے جومحاسن بتائے، ان میں سے ایک یہ تھا:
اخراج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ اللّٰہ تعالیٰ
’’بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں داخل کرنا اسلام کا اصلی مقصد ہے‘‘
رستم نے یہ سن کر کہا کہ ایرانیوں نے تو ارد شیر کے زمانے سے طبقہ سافلہ کے پیشے متعین کردیے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ اس دائرے سے نکلے تو شرفا کے حریف بن جائیں گے۔رفیل ابتدا ہی سے اس گفتگو کو سن رہا تھا۔ اس پر اس کا یہ اثر ہوا کہ جب رستم چلا گیا تو اس نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔۱۴
ہر مقدمہ میں گواہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن صحابہ کرامؓکو ان کی دیانت نے اس سے مستثنیٰ کردیا تھا۔حضرت سعیدؓ بن زید بن عمرو بن نفیل پر ایک عورت نے غصب کا دعویٰ کیا۔انہوں نے کہا’’میں نے رسو ل اللہﷺ سے یہ سناہے کہ جو شخص بلا استحقاق کسی کی ایک بالشت بھر زمین لے گا، اللہ زمین کے ساتوں طبق اس کے گلے کا طوق بنا دے گا۔میں نے اس کی زمین کا کوئی حصہ نہیں لیا۔‘‘ مقدمہ مروان کی عدالت میں تھا،اس نے کہا اب میں آپؓسے گواہ نہیں مانگتا۔۱۵
امرا وسلاطین تو پھر بھی مسلمان تھے، صحابہ کرامؓکے حسنِ اخلاق کے سب سے زیادہ اثرات غیر مسلموں پر پڑے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ زارِمکہ کو چھوڑ کر نکلے تو راہ میں ابن الدغنہ مل گیاجو عرب میں’’سیدالقارۃ‘‘کے خطاب سے ممتاز تھا۔اس نے پوچھا :کہاں جاتے ہو؟ بولے: مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے۔اب سیاحت کرکے خدا کی عبادت کروں گا۔اس نے کہا : تم جیسا شخص نہ وطن سے نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے۔تم غریبوں کے لیے مال پیدا کرتے ہو،صلہ رحمی کرتے ہو۔ قوم کی دیت وتاوان کا بوجھ اٹھا تے ہو۔مہمان نوازی کرتے ہو۔ مصائب قومی میں اعانت کرتے ہو۔میں تمہارا ضامن ہوں۔چلو اور اپنے ملک میں خدا کی پرستش کرو۔چنانچہ وہ پلٹے اور چند شرائط کے ساتھ کفار نے ان کو عبادت گزاری کی اجازت دے دی۔۱۶
حضرت نعیمؓ بن عبداللہ النحام نہایت فیاض صحابی تھے اور قبیلہ بنو عدی کی بیواؤں اور یتیموں کی پرورش کرتے تھے۔کفارپران کی اس نیکی کا یہ اثر تھا کہ جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو تمام کفار نے روک لیا اور کہا کہ جو مذہب چاہو اختیار کرو۔ اگر کوئی تم سے تعرض کرے گا تو سب سے پہلے ہماری جان تم پر قربان ہوگی۔۱۷
صحابہ کرامؓچونکہ اسلام کی چلتی پھرتی تصویر تھے اس لیے لوگ ان کی سیرت وکردار سے متاثر ہوکر بھی مائل بہ اسلام ہوتے تھے۔صحابہ کرامؓکواپنے علم اور کردارکی بنا پر معاشرے میں تقدس کا جو درجہ حاصل تھا، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ہر جگہ اسلام کے پیغام کو عام کیا اور عہدِ صحابہؓ میں ہر طرف اسلام ہی کا چرچاہونے لگا۔ہر قسم کے نتائج سے بے پروا ہوکر صحابہ کرامؓنے ہمیشہ حق کی تائید کی جس سے نہ صرف وقت کے حکمرانوں کو اپنے رویے میں تبدیلی کرنا پڑی بلکہ اس طرح کی آزاد تنقید سے صحابہ کرامؓنے اسلام کو بھی ہر طرح کی تحریف سے محفوظ رکھا۔ عہدِ صحابہؓمیں اسلام کو جو ترقی اور عروج حاصل ہوا،اس کا بنیادی سبب بجا طور پرصحابہ کرامؓکی حق پسندی اور بلند کرداری کو قرار دیاجاسکتا ہے۔
حوالہ جات
۱ الادب المفرد، ح:۲۰۱،ص:۶۰
۲ ابن سعد،تذکرہ ابوذرؓ ، ۴/۲۳۷
۳ صحیح مسلم،۲/۴۵۰
۴ المسند،مسند عبداللہ بن عمرؓ،ح:۵۹۶۳، ۲/۲۶۸
۵ اسد الغابہ،تذکرہ جثامہؓ ابن مساحق،۱/۲۷۳
۶ الموطّأ، ۷۸۵،ص:۵۹۲
۷ اسدالغابہ،تذکرہ قثم بن عباسؓ،۴/۱۹۷-۱۹۸
۸ صحیح البخاری، ح:۵۳۳۵،ص:۹۵۳
۹ نفس المصدر،ح:۵۳۳۴،ص:۹۵۳
۱۰ نفس المصدر،ح:۱۲۷۹،ص:۲۰۴
۱۱ المسند،مسند عبداللہ بن عمرؓ،ح:۴۵۲۱، ۲/۷۱
۱۲ صحیح البخاری ،ح:۳۸۴۲،ص:۶۴۴
۱۳ مقریزی، ’’امتاع الاسماع‘‘،۱/۲۲۶
۱۴ بلاذری ،’’فتوح البلدان‘‘:ص۲۷۴
۱۵ صحیح مسلم،۴۱۳۴،ص:۷۰۴
۱۶ صحیح البخاری ،،ح:۲۲۹۷،ص:۳۶۷
۱۷ اسد الغابہ،تذکرہ نعیمؓ بن عبداللہ النحام،۵/۳۳
ایک مثالی معلم کی کہانی، ایک شاگرد کی زبانی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
آج اساتذہ اور مربین کی کمی نہیں۔ مدرسین اور معلمین کی ہر طرف بہتات ہے، مگر ماہر فن استاذ، کامیاب مدرس، حاذق معلم، اور قابل تقلید واتباع مربی کا وجود عنقا ہے۔ جس مثالی معلم ومربی کا تذکرہ ان سطور میں مقصود ہے، اسے عنقا پر بھی یک گونہ ترجیح وفوقیت ہے۔ عنقا چار دانگ عالم میں مشہور ہے اور ہر طرف اس کا چرچا ہے۔ میں جس مایہ ناز استاذ اور مفخرۂ معلمین کی کہانی سنانے جا رہا ہوں، وہ نام اور شہرت سے بے پروا ہے، گم نامی اس کا سرمایہ حیات اور گوشہ خمول اس کی عافیت گاہ ہے۔
استاذ محترم مولانا سید محمد واضح رشید ندوی ۱ سے میں نے کئی سال باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اور مدتوں استفادہ کیا ہے۔ دار العلوم ندوۃ العلماء سے جدائی کو تیرہ سال ہو گئے ہیں لیکن آج بھی میرا دل مولانا کی محبت وعقیدت سے اسی طرح لبریز ہے۔ مولانا کی مجالس کی یاد ہمہ وقت ستاتی رہتی ہے۔ مادر علمی میں گزارے ہوئے وہ لمحات یاد آتے ہیں جب کلاس روم میں ہم مولانا کے درس سے مستفید ہوتے یا ’’الرائد‘‘ کے دفتر میں مولانا کی گفتگو اور تبصروں سے لطف اندوز ہوتے بلکہ اس سے زیادہ وہ گھڑیاں ستاتی ہیں جب ہم مولانا کی خاموشی اور سکوت سے فیض یاب ہوتے۔ ۲ مولانا کی ہر ادا، نشست وبرخاست، سکوت ونطق تعلیم وتربیت کے دروس واسباق ہیں۔ ماضی کی یہ یاد کس قدر ناخن بدل ثابت ہو رہی ہے:
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
علم وحکمت، دانش وآگہی اور ادب وصحافت مولانا کی دلچسپی کا سامان ہیں۔ مولانا کی اٹھان ہی ایسی ہے کہ لکھنا پڑھنا زندگی کا ایک ضروری مشغلہ بن گیا ہے۔ بچپن سے علم وادب کی قدر اور زندگی کی تمام دوسری قدروں پر اس کی فوقیت کا احساس مولانا کے ریشہ ریشہ میں پیوست ہے۔ مولانا کے شجرہ میں دونوں طرف علم وحکمت اور روحانیت ومعرفت رہی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ آپ سلالہ عظام اور زبدۂ کرام ہیں اور آپ کے دونوں شجرے برگ وبار ہیں شاخ حسنی وعلوی، فرع محمدی اور اصل اسماعیلی وابراہیمی کے:
اصل وفرعے را کہ بینی حاصل یک مایہ اند
آفتاب وپرتوش از بم جدا نتواں گرفت
عربی زبان وادب مولانا کا خاص موضوع ہے۔ درس وتدریس اور صحافت شغل شاغل ہے۔ آپ کا علم وفضل رشک اقران وامثال ہے۔ تحریر رواں اور ادیبانہ ہے۔ زبان میں بے ساختگی اور برجستگی ہے۔ اسلوب میں بیک وقت ایک ٹھہری ہوئی سنجیدگی اور سنبھلی ہوئی شوخی باہم ملی جلی پائی جاتی ہے۔ یہ اسلوب ایسا ہے کہ نازک سے نازک فکری، اجتماعی اور سیاسی مسائل پر بھی شگفتگی اور دل آویزی مولانا کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ میں نے مولانا کی اکثر تحریریں پڑھی ہیں اور جب بھی کوئی نئی تحریر ملتی ہے، پڑھے بغیر نہیں رہتا۔ یہ صرف میرا ہی حال نہیں، بلکہ مولانا کی تحریروں سے دلچسپی لینے، لطف اندوز ہونے اور فائدہ اٹھانے میں بہت سے لوگ میرے شریک ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی تحریروں میں کیسی بے پناہ کشش ہوتی ہے۔ ادب مولانا کی زندگی کا کوئی تفریحی مشغلہ نہیں بلکہ اسے ایک فطری اور مقدس منصب سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ اپنی عربی دانی کو کمائی یا دنیاوی عز وجاہ کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ علم وہنر ہی مولانا کی زندگی ہے: ع نہ ستایش کی تمنا نہ صلہ کی پروا
میں جب ندوہ میں تھا، طلب علم کی ایک لگن تھی اور پڑھنے لکھنے اور مطالعہ کرنے کی فکر تھی۔ مادر علمی کا ہر استاد خوبیوں کا مجموعہ اور ہنروں کا گلدستہ تھا اور ہر طالب علم کو علم وہنر کا شوق تھا اور دن رات لکھنے پڑھنے کا ذوق۔
وہ لطف لب آب کہاں سے لاؤں؟
وہ دور مئے ناب کہاں سے لاؤں؟
ممکن ہے یہ اسباب بہم ہوں لیکن
وہ دوست، وہ احباب کہاں سے لاؤں؟
مولانا شہباز اصلاحی مرحوم اور مولانا واضح صاحب کی علمی وادبی مجلسوں اور صحبتوں سے سیری نہیں ہوتی تھی۔ مولانا شہباز مرحوم ندوہ کے احاطہ میں رہتے تھے اور میرے ہاسٹل (رواق اطہر، تیسری منزل) کے نگران بھی تھے جس کی وجہ سے مولانا کی طویل صحبت ہر وقت میسر آتی لیکن مولانا واضح صاحب سے استفادہ کا موقع صرف کلاس روم میں، یا اگر کوئی گھنٹی خالی ہوتی تو ’’الرائد‘‘ کے دفتر میں ملتا۔ مولانا سے استفادہ کی عجب دھن سوار رہتی۔ مولانا کی صحبت سے اس قدر فیض حاصل ہوتا کہ بیٹھ کر اٹھنے کو جی نہ چاہتا اور نہ ہی وقت گزر جانے کا احساس ہوتا۔ ان مجالس سے دل میں ایک ابھار، ایک حوصلہ اور ایک ابتہاج پیدا ہوتا:
بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی
وہ اپنی ذات میں اک انجمن ہیں
یہ مقالہ مولانا کے کارناموں اور مآثر کی تفصیل بیان کرنے کے لیے نہیں ہے، نہ ہی اس تحریر میں آپ کی تصنیفات ومقالات کا علمی وادبی تجزیہ مقصود ہے۔ یہ مضمون مولانا کی تعلیم وتربیت کے اسالیب اور نمونوں پر روشنی ڈالنے کی ایک معمولی کوشش ہے۔ تربیت وتعلیم کے تمام جوانب کا جائزہ آسان نہیں۔ یہاں صرف ان پہلوؤں کو پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جنھوں نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ نیت یہ ہے کہ معلمین واساتذہ ان مثالوں کی پیروی کریں۔
ہمہ گیری وفراخ دلی
مولانا کی اہم خصوصیت علم کی وسعت وگہرائی ہے۔ آپ نے اپنا مطالعہ کبھی کسی ایک فکر وخیال یا ایک تہذیب وتمدن تک محدود نہیں رکھا۔ آپ کی فطرت ہے کہ کہاں سے یا کس سے کیا چیز لیں اور کیا چھوڑ دیں۔ خذ ما صفا ودع ما کدرکی حکمت آپ کے طرز عمل سے عبارت ہے۔ تعصب وگروہ بندی یا تنگ نظری کا یہاں گزر نہیں۔ فکر اسلامی کی تشریح کرتے وقت مولانا مودودیؒ ، سید قطب شہیدؒ ، محمد مبارکؒ ، مالک بن نبیؒ اور عالم اسلام کے دوسرے مفکرین کے خیالات اسی دلچسپی اور تفصیل سے پیش کرتے جس طرح مخدوم معظم مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی فکری اساسوں کا جائزہ لیتے۔ عصر حاضر کے ادبا کا تعارف کراتے، ان کی آرا وخیالات پر تنقید کرتے، طٰہٰ حسین کے فکری انحراف، احمد امین وغیرہ کی فکری مرعوبیت کا تذکرہ کرتے لیکن انصاف کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ جاتا۔ طٰہٰ حسین کی ’’علیٰ ہامش السیرۃ‘‘، ’الایام‘‘ اور ’’حدیث الاربعاء‘‘ وغیرہ، مصطفی لطفی منفلوطی کی ’’نظرات‘‘ و ’’عبرات‘‘ اور احمد امین کی ’’فجر الاسلام‘‘، ’’ضحی الاسلام‘‘، ’’ظہر الاسلام‘‘ اور مجموعہ مقالات ’’فیض الخاطر‘‘ ہم لوگوں نے مولانا ہی کے مشورہ سے پڑھیں۔ مولانا کی تربیت ورہنمائی کا یہ اثر رہا کہ طٰہٰ حسین کے انحراف یا احمد امین وغیرہ کی مرعوبیت کا ہم طلبہ نے کبھی کوئی اثر نہیں لیا۔ مولانا کے مزاج وکردار کی اس ہمہ گیری، فراخ دلی اور حقیقت آشنائی کی مثال بہت کم ملے گی۔
علمی وادبی نفع رسانی
مولانا کے درس کی اہم خصوصیت افادہ ونفع رسانی ہے۔ مولانا کے ہر درس میں عقل ودماغ کو نئے مواد ملتے، ہر مجلس میں علم وادب کی نئی معلومات حاصل ہوتیں، اور ہر صحبت میں اخلاقی وروحانی تربیت کا نیا سامان بہم ہوتا۔ نہ کہیں تکرار ممل، نہ ہی علم وادب کی سطح سے فروتر کوئی گفتگو، اور نہ اخلاقی وشایستگی سے دور کوئی تبصرہ ہوتا۔ میں نے استاذ مرحوم مولانا ابو العرفان ندوی سے ایک بار استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ندوہ کے قدیم طلبہ اور فارغین جب یہاں آتے ہیں، آپ کا اس قدر احترام کرتے ہیں اور اتنی عقیدت ومحبت سے آپ سے ملاقات کرتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا، اس کے دو اسباب ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب میں درس دیتا ہوں تو طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کچھ اخذ کر رہے ہیں اور نئی چیزیں سیکھ رہے ہیں۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ جب انتظامی امور میرے ذمہ تھے، میں نے نا انصافی اور انتقام سے احتیاط برتی۔ اگر کوئی طالب علم کسی ناجائز غرض سے میرے پاس آتا، اس پر ناراض ہوتا اور اسے کوئی سزا دیتا، اور کچھ دیر کے بعد اگر وہی طالب علم کسی جائز کام کے لیے آتا تو میں اس کا کام کر دیتا اور اپنی پچھلی ناراضی کو اس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بناتا۔ یہی طرز عمل ہے استاذ محترم مولانا محمد واضح رشید ندوی کا۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ مولانا کا درس نئے نئے علمی وادبی فوائد پر مشتمل ہوتا ہے۔
زبان واسلوب کی اصلاح
زبان واسلوب کی اصلاح پر مولانا کو غیر معمولی قدرت حاصل ہے۔ عا لمیت کے آخری سال میں ہمارا ’’تعبیر‘‘ یعنی عربی انشا پردازی وتحریر کا مضمون مولانا کے ذمے تھا۔ اس ایک سال میں عربی ترجمہ وتحریر کی جو مشق ہوئی، اسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ مولانا ہمارے ترجموں اور مضامین کی اصلاح فرماتے، زبان واسلوب درست کرتے، زبان کی نزاکتوں کو واشگاف کرتے، الفاظ وتراکیب کے نکات ودقائق سمجھاتے، فکر اسلامی کے مختلف مکاتب ومدارس سے روشناس کراتے، اور عالمی مسائل پر بصیرت افروز تبصرے فرماتے۔ مولانا کے طریقہ اصلاح کا مجھ پر بڑا اثر ہے۔ بعد میں جب ’’الرائد‘‘ کے لیے کوئی ترجمہ کرتا تو مولانا کی اصلاح سے مستفید ہوتا۔
’’الرائد‘‘ میں شائع ہونے والے مضامین وترجمے جن طلبہ یا اہل علم کے ہوتے ہیں، انھیں کے نام سے شائع ہوتے ہیں مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان میں مولانا کا کتنا اہم حصہ ہوتا ہے۔ مولانا بہت محنت اور سلیقہ سے ترجموں اور مضامین پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ نہایت دیدہ ریزی سے ان کو درست کرتے ہیں۔ اہل علم وادب پر مخفی نہیں کہ مفہوم کو برقرار رکھ کر دوسروں کی تحریروں کی اصلاح کرنا اور ان کی زبان کو درست کرنا ہر کسی کا کام نہیں۔ ’’الرائد‘‘ میں اشاعت کے لیے جو ترجمے یا مقالے آتے ہیں، ان میں سے اکثر غلطیوں کا انبار اور ژولیدہ بیانی کا طومار ہوتے ہیں۔ مولانا ہی ان کو اشاعت کے قابل بناتے ہیں۔ مولانا کی اہم خوبی یہ ہے کہ ہر ایک کا احترام کرتے ہیں اور غلطی کو غلطی سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کی غلطی کو خواہ مخواہ اہمیت دے کر رائی کا پہاڑ نہیں بناتے بلکہ معمولی اور ناقابل التفات سمجھ کر اسے درست کر دیتے ہیں۔ سالوں مولانا کے قریب رہنے کا موقع ملا ہے لیکن کبھی مولانا کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ فلاں کے مضمون میں اس قدر غلطیاں تھیں یا فلاں مضمون یا ترجمہ کی میں نے اصلاح کی ہے۔
اس حقیقت کے اظہار میں کوئی تردد نہیں کہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے فارغین کی نئی نسل میں جو لوگ بھی عربی زبان میں کچھ لکھنا جانتے ہیں، وہ بڑی حد تک ممنون ہیں مولانا کی تربیت کے۔ میں جب بھی عربی میں کوئی چیز لکھتا ہوں، اسے مولانا ہی کا فیض سمجھتا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ اپنے ہر نقش کو ابن طباطبا کے اس شعر کے ساتھ مولانا کے نام معنون کروں:
لا تنکرن اہداء نا لک منطقا
منک استفدنا حسنہ ونظامہ
فاللہ عز وجل یشکر فعل من
یتلو علیہ وحیہ وکلامہ
ہمت افزائی اور قدر دانی
مولانا کی تربیت کا اہم پہلو طلبہ کی ہمت افزائی اور قدر دانی ہے۔ مولانا کو دیکھا ہے کہ پابندی کے ساتھ اردو، عربی اور انگریزی جرائد ومجلات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ایک صحافی کی حیثیت سے مولانا کی یہ پیشہ ورانہ ذمہ داری بھی ہے۔ اس مطالعہ سے ایک طرف مولانا کی زبان واسلوب ہمیشہ جدید اور معاصر رہتی ہے۔ دوسری طرف انگریزی اور اردو اخبارات میں جو چیزیں اس لائق ہوتیں کہ انھیں ’’الرائد‘‘ میں شائع کریں، ان پر نشان لگا کر رکھ لیتے اور ہم طلبہ کے حوالے کرتے کہ ان کا ترجمہ کریں۔ ہم ان کا ترجمہ کرتے، پھر مولانا کی اصلاح کے بعد وہ ترجمے ہمارے ناموں سے شائع ہوتے۔ ’’الرائد‘‘ میں اشاعت ہی ہم لوگوں کی بڑی ہمت افزائی ہوتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ مولانا ہماری تعریف بھی فرماتے۔ مولانا کے توصیفی الفاظ بھی بہت جچے تلے ہوتے۔ مولانا کے تعریفی کلمات مشابہ نظر آتے ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے کلمات تعدیل وتوثیق کے۔ الفاظ کم، معانی زیادہ۔
بدگمانی سے پرہیز
مولانا کے یہاں بدگمانی کا نام ونشان نہیں۔ مولانا نے ایک بار مجھے یہ واقعہ سنایا کہ ندوہ کے ابتدائی زمانہ تدریس میں تخصص ادب عربی (ایم اے) کی ایک گھنٹی آپ کے ذمہ تھی۔ اس کلاس میں ایک طالب جو ممتاز تھے، آپ سے جلد ہی مانوس ہو گئے۔ ایک بار آپ کلاس روم میں پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے تو تمام طلبہ ہنس رہے تھے۔ اس ہنسی میں یہ طالب علم بھی شریک تھے۔ آپ کو شبہ ہوا کہ یہ لوگ آپ کی کسی بات پر ہنس رہے ہیں اور اس سے آپ کو کچھ تکلیف بھی ہوئی۔ آپ نے درس شروع کیا۔ اثنائے درس میں بھی ان لوگوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ آپ کو ان طلبہ کے طرز عمل سے بڑی پریشانی ہوئی۔ درس ختم ہونے کے بعد آپ نے ان طالب علم سے جو آپ سے مانوس تھے، اس ہنسنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے عرض کیا کہ مولانا، ہم آپ پر ہنسنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بات یہ تھی کہ آپ کی گھنٹی سے پہلے ہم اپنے ایک ساتھی سے مذاق کر رہے تھے اور اس کی کسی بات پر ہنس رہے تھے کہ اسی دوران آپ تشریف لے آئے اور آپ نے ہمیں ہنستے ہوئے دیکھا۔ آپ کے درس کے دوران اسی طرح کی بات آ گئی جس کی وجہ سے ہم اپنے ساتھی پر ہنس رہے تھے۔ بے ساختہ ہمیں پھر ہنسی آ گئی۔ مولانا نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد مجھ سے فرمایا کہ اس کے بعد میں نے طے کر لیا کہ کسی سے بدگمانی نہیں کروں گا۔ اور حق یہ ہے کہ مولانا نے اپنے اس عہد کو جس طرح نبھایا ہے، اس کی نظیر بمشکل کہیں ملے گی۔ میں نے ندوہ کے طویل دوران قیام میں مولانا کو کبھی بدگمان ہوتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی سے مولانا کے متعلق اس طرح کی کوئی بات سنی۔
فضول سے اجتناب
مولانا کے اوقات مشغول ہیں۔ آپ فضول گوئی اور مجلس آرائی سے پاک ہیں۔ یا پڑھنے پڑھانے اور استفادہ وافادہ کی مشغولیت، یا پھر تحریر ومقالہ نویسی اور دوسروں کے مضامین وترجموں کی اصلاح ودرستی سے مطلب۔ دوسروں کی عیب جوئی تو بہت دور کی بات ہے، آپ کے یہاں ان مباح امور کی بھی گنجایش نہیں جو نہ دنیا میں سود مند اور نہ ہی آخرت میں کارآمد۔ علم وعبادت میں آپ کے اوقات اس طرح مصروف ہیں کہ خاطر مجموع اور حضور قلب میں کنج نشینوں اور گوشہ گزینوں سے بھی سبقت لے گئے ہیں۔
مثالی زندگی
ماہرین تعلیم وتربیت متفق ہیں کہ تعلیم وتربیت کے باب میں سب سے موثر چیز اسوہ حسنہ اور عملی مثال ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ اس کی سب سے جامع اور مکمل مثال ہے۔ قرآن نے ایک طرف آپ کے حسن اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: ’’اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘ اور دوسری طرف آپ کے اسوہ کے اتباع کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے: ’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘۔
مولانا اس اسوہ نبوی کا بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کی زندگی مثالی ہے۔ نماز واذکار کے پابند ہیں۔ زہد وتقویٰ شعار ہے۔ تواضع وانکسار مزاج پر غالب ہے۔ کم آمیزی وکم گوئی طبیعت ثانیہ ہے۔ عیب جوئی کا گزر نہیں۔ ریا کاری اور نام ونمود سے کوسوں دور، بلکہ اگر تصنع وبناوٹ کرنا بھی چاہیں تو بن نہ آئے۔ جبلت میں اخلاق حسنہ رچے بسے ہیں۔ حلم ومروت کا کچھ بیان نہیں۔ بغض وحسد کا نام ونشان نہیں۔ ’’سینہ چوں آئینہ‘‘ کی تصویر ہیں اور ’’ما ہذا بشرا ان ہذا الا ملک کریم‘‘ کی تفسیر۔
پیکر آرائے ازل صورت زیبائے ترا
نقش می بست وبم از ذوق تماشا می کرد
اس تواضع وانکسار اور مجموعہ اخلاق حسنہ کے باوجود طلبہ پر آپ کا رعب ہے اور لوگ آپ کی تعظیم واحترام پر مجبور۔ ع ہیبت حق است ایں از خلق نیست
آپ کا طور ہی جدا ہے اور رنگ ڈھنگ ہی نرالا ہے۔ آپ کے یہ انفرادی اوصاف ماحول سے اس قدر مختلف ہیں کہ آپ ہر طبقہ اور ہر گروہ میں اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ صحیح معنوں میں غریب در وطن کی مثال ہیں:
نہیں گفتار ہی عالم سے نرالی اس کی
طرز رفتار الگ، بندش دستار جدا
یہی نہیں بلکہ مجاہدے کے ساتھ آپ نے تمام ناموافق ماحول اور مخالف قوتوں اور کششوں کے مقابلہ میں اپنی اصلی فطرت اور سا لمیت قائم رکھی۔ آپ کی مثالی زندگی مصداق ہے شوقی مرحوم کے اس مصرع کی۔ ع کاد المعلم ان یکون رسولا۔ خوف طوالت سے اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔
اس قد کشیدہ کی جو شرح کروں، کم ہے
اک مصرع موزوں میں سو بیت کا مطلب تھا
ما شئت قل فیہ فانت مصدق
والفضل یقضی والمحاسن تشہد
حواشی
(۱) مجھے اندازہ ہے کہ استاذ محترم کو میرا یہ مضمون پسند نہیں آئے گا، اسی وجہ سے اس تحریر میں مجھے بہت ہی پس و پیش رہا ہے۔ تردد اور لیت و لعل کے بعد اس جذبہ سے یہ تحریر پیش کرنے کی جرأت کر رہا ہوں کہ اس سے مجھ جیسے نئے اساتذہ و معلمین کو مہمیز ملے گی اور اس اسوہ کی روشنی میں تدریس و تعلیم کی دشوار گزار وادی طے کرنے میں آسانی ہوگی۔ استاد محترم کی خدمت میں معذرت کے ساتھ عرض ہے:
برا مانیے مت مرے دیکھنے سے
تمہیں حق نے ایسا بنایا تو دیکھا
آں روز کہ مہ شدی نمی دانستی
کانگشت نمائے عالم خوابی شد
(۲) اس پر استاذ مرحوم مولانا شہباز اصلاحی کی زبانی سنا یہ واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار حضرت مولانا علیہ الرحمۃ کی مجلس میں کسی نے سوال کیا کہ حضرت! اگر کوئی عارف کامل مل جائے تو اس سے کیا پوچھیں؟ حضرت مولانا نے فرمایا کہ اس کے سامنے خاموشی سے بیٹھیں۔ اس میں شک نہیں کہ اہل علم و فضل اور ارباب معرفت و کمال کی خاموشی و سکوت ان کے نطق و گویائی سے کم اہمیت کی حامل نہیں۔
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
مولانا محمد یوسف
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ کے توسط سے ان کے تازہ ترین افکار سے آشنائی ہوئی۔ موصوف نے اپنے مضمون میں آرٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے علما کے معاشرتی کردار کے حوالے سے یہ شکوہ کیا ہے کہ علما انسانی شعور کو ایڈریس کرنے کے بجائے جذباتی فضا قائم کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ غالباً اسی جذباتی فضا کا اثر ہے کہ خود میاں صاحب نے اس فضا کو ختم کرنے کے لیے جو انداز تحریر اختیار کیا ہے، وہ بھی شعور انسانی کو کم اور جذبات کو زیادہ اپیل کرنے والا ہے۔ ان کی تحریر میں سے ’’شعور‘‘ کو اپیل کرنے والا ایک نمونہ ذرا ملاحظہ فرمائیے:
’’راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مذہبی طبقے کے فن خطابت کا فنی جائزہ یہی مترشح کرتا ہے کہ ان کا دینی ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہے۔‘‘
موصوف نے اپنے مضمون میں کوہ صفا پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشہور خطبہ کا ذکر کیا ہے جس میں سراسر ’’شعور انسانی‘‘ کو مخاطب بنایا گیا تھا۔ موصوف اگر کچھ دیر کے لیے ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ اپنی اس تحریر کا موازنہ رسالت مآب ﷺ کے خطبے سے کریں گے تو نہ صرف دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا بلکہ موصوف کو اس حقیقت کا بھی علم ہو جائے گا کہ ان کے حصے میں دودھ کتنا آیا ہے اور پانی کتنا۔ موصوف کے زعم میں ان کا مخاطب طبقہ جس جذباتی فضا میں کھڑا ہے، خود انھوں نے بھی ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کی کوشش کی ہے لیکن اس نمایاں فرق کے ساتھ کہ
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہِ سیاہ میں ہے
۱۔ موصوف نے اپنے مضمون میں ’عالم‘ اور ’ماہر فقہ‘ (فقیہ) میں فرق واضح کرتے ہوئے دور حاضر کے علما کو ’ماہرین فقہ‘ قرار دیا ہے۔ موصوف رقم طراز ہیں:
’’ہمارے ہاں دین کی غلط تعبیر کی مانند ’عالم‘ کی تعریف بھی غلط کی گئی ہے۔ آج جنھیں ’علما‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ’ماہرین فقہ‘ کہلائے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔‘‘
موصوف کی اس بات کو علم فقہ کی تعریف اور اس کے مبادی ومتعلقات سے عدم واقفیت اور ناآشنائی کا نتیجہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عالم، فقیہ نہیں ہو سکتا۔ ایک فقیہ دینی مسائل میں ایک عالم سے زیادہ تحقیق رکھتا ہے۔ چونکہ ایک فقیہ کا منصب نصوص سے براہ راست احکام کا استنباط کرنا ہے جبکہ ہر عالم ایسا نہیں کر سکتا، اس لیے جو فقیہ ہوگا، وہ عالم بھی ہوگا لیکن ہر عالم، فقیہ نہیں ہو سکتا۔ ہماری معلومات کی حد تک امت مسلمہ میں کوئی فقیہ ایسا نہیں گزرا جو عالم نہ ہو۔ مدینہ منورہ کے مشہور فقہاء سبعہ سب کے سب جید علماء دین تھے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ’فقیہ‘ کی تعریف ملاحظہ ہو۔ امام اللغۃ زمخشری لکھتے ہیں:
’’الفقیہ العالم الذی یشق الاحکام ویفتش عن حقائقہا ویفتح ما استغلق منہا‘‘
’’فقیہ اس عالم کو کہتے ہیں جو احکام شریعت کو واضح کرے، ان کے حقائق کا سراغ لگائے اور مغلق اور پیچیدہ مسائل کو حل کرے۔‘‘ (الفائق)
علم فقہ کی درج بالا تعریف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فقیہ، عالم ہی کو کہتے ہیں لیکن ہر عالم کو نہیں بلکہ اس عالم کو جو احکام شریعت کو واضح کرتے ہوئے مغلق اور پیچیدہ مسائل کو حل کرتا ہے۔ چنانچہ ’فقیہ‘ اور ’عالم‘ میں میاں صاحب کا قائم کردہ فرق ان دلائل کی روشنی میں درست نہیں، بلکہ اس سے ایک عجیب تضاد بیانی وجود میں آتی ہے، کیونکہ میاں صاحب ایک طرف فقہی، جہادی اور تبلیغی تینوں گروہوں کو اجتہادی روح سے عاری قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف دور حاضر کے ہر عالم کو ’فقیہ‘ کا منصب بھی عطا فرما رہے ہیں۔
۲۔ موصوف اس پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس ضمن میں مزید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’فقہ‘ کو ’دین‘ اور ’فقیہ‘ کو ’عالم‘ تسلیم کرنے سے مسلم ذہن نے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ اپنے اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے موصوف نے ایک ’’لا جواب‘‘ دلیل پیش کی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:
’’راقم کا اشارہ اردو شاعری میں استعمال ہونے والی مشہور ترکیب ’فقیہ شہر‘ کی جانب ہے۔ کیا کوئی ایسا شعر بھی ہے جس میں ’فقیہ شہر‘ کو نرمی سے اور بغیر طنز کے مخاطب کیا گیا ہو؟‘‘
موصوف نے اپنے موقف کے حق میں اردو شاعری کی ایک ترکیب بطور دلیل پیش کی اور پھر خود ہی منصف کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اسے ’’مسلم ذہن‘‘ قرار دیا جو کہ استدلال کا ایک بالکل نرالا انداز ہے۔ شعرا رومانوی اور تصوراتی دنیا کے بادشاہ ہوتے ہیں۔ جو شاعر جتنی دور کی کوڑی لائے اور جس قدر ناممکن العمل بات کرے، اسے اتنا ہی بڑا فنکار سمجھا جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الغَاوُوْنَ O اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْنَ O وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لاَ یَفْعَلُوْنَ O اِلاَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (الشعراء: ۲۲۴۔۲۲۶)
’’شاعروں کی اتباع گمراہ ہی کیا کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ (خیالات کی) ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں، اور وہ باتیں کرتے ہیں جن پر عمل نہیں کرتے؟ ماسوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور جو اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرتے رہے۔‘‘
درج بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شعرا کا مقام اور مرتبہ متعین کرتے ہوئے نفس اور خواہشات کے پجاری شعرا اور ان کے متبعین کی مذمت جبکہ اہل ایمان، صالح اور ذاکر شعرا کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’شاعر کا کلام ایک انسان کا کلام ہے۔ اس میں خطا کا احتمال ہے۔ چنانچہ جو بات حق ہو، اسے لے لو اور جو باطل ہو، اسے چھوڑ دو۔‘‘ چنانچہ کسی شعر میں بیان ہونے والے کسی خیال یا ترکیب کو اس اصول کی روشنی میں پرکھ کر ہی اس کے حق یا باطل ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا کسی شعری ترکیب کو قرآن وحدیث کے مقابلے میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو میاں صاحب اس ترکیب کو بنیاد بنا کر ’فقہ‘ یا ’فقیہ شہر‘ کو طنز کا نشانہ کیوں بنانا چاہتے ہیں؟
میاں صاحب نے اپنی تحریر میں جس ’’آرٹ‘‘ کا ذکر کیا ہے، اسی آرٹ کو قرآن حکیم میں علم فقہ کے نا م سے موسوم کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ فرمائیے:
وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا (البقرہ: ۲۶۹)
’’جس کو حکمت عطا کی گئی، اس کو خیر کثیر عطا کی گئی۔‘‘
امت مسلمہ کے بیشتر مفسرین کی رائے کے مطابق درج بالا ارشاد خداوندی میں ’حکمت‘ سے مراد ’علم فقہ‘ ہے جبکہ میاں صاحب نے ’حکمت‘ اور اس کے مترادف الفاظ کے لیے ’’آرٹ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ نہ جانے موصوف اپنے موقف کو ’’مسلم ذہن‘‘ کیوں قرار دیتے ہیں حالانکہ نہ صرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ’فقیہ‘ کے مقام اور مرتبہ سے مسلم ذہن کو آگاہ فرمایا بلکہ مسلم ذہن نے بھی ہمیشہ اس مقام کو قبول کیا ہے۔ بطور نمونہ چند احادیث ملاحظہ فرمائیے:
فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد (سنن الترمذی، کتاب العلم، حدیث ۲۶۰۵)
’’ایک فقیہ، شیطان پر ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ بھاری ہے۔‘‘
من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین (صحیح البخاری، کتاب العلم، حدیث ۶۹)
’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔‘‘
اس تفصیل کی روشنی میں قارئین پر واضح ہو چکا ہوگا کہ شاعری کی ایک ترکیب کو بنیاد بنا کر فقہ یا فقیہ کو طنز کا نشانہ بنانے میں کتنا وزن ہے۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
۳۔ علم فقہ سے متعلق موصوف اپنے خیالات کا مزید اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’فقہ کو دین کے متوازی کھڑا کرنے اور اسی کو دین قرار دینے سے معاشرتی بگاڑ آج جن جہتوں پر پنپ رہا ہے، وہ کسی وقت بھی ان امکانات کو چٹ کر سکتا ہے جو ٹمٹماتے چراغوں کی مانند اب بھی ہمارے باطن میں روشنیاں بکھیر رہے ہیں۔‘‘
راقم الحروف موصوف کا یہ موقف سمجھنے سے قاصر ہے۔ آخر علم فقہ کو کس طرح دین کے متوازی کھڑا کیا جا سکتا ہے جبکہ علم فقہ قرآن وحدیث سے مستنبط مسائل کے مجموعہ کا نام ہے؟ قرآن کریم میں ’فقہ‘ کی بنیاد درج ذیل ارشاد ربانی ہے:
فَلَوْ لاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ (براء ۃ: ۱۲۲)
’’پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومنوں کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکل آئی ہوتی تاکہ دین میں فہم وبصیرت حاصل کرے۔‘‘
اسی فہم وبصیرت کو ’علم فقہ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ قرآن وسنت میں غور وفکر کی وسعت ’فقہ‘ کہلاتی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے ’’تفقہ فی الدین‘‘ کے مفہوم میں درج ذیل باتوں کو بھی شامل کیا ہے:
۱۔ آفات نفسانی کی باریکیوں کی پہچان، ۲۔ ان چیزوں کی پہچان جو عمل کو فاسد بنا دینے والی ہیں، ۳۔ راہ آخرت کا علم، ۴۔ اخروی نعمتوں کی طرف غایت درجہ رجحان، ۵۔ دنیا کو حقیر سمجھنے کے ساتھ اس پر قابو پانے کی طاقت، ۶۔ دل پر خوف الٰہی کا غلبہ۔ (احیاء العلوم)
احادیث مبارکہ سے بھی ’فقہ‘ کے مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ ایک موقع پر رسالت مآب ﷺ نے صحابہ کرام کو نصیحت فرمائی:
ان الناس لکم تبع وان رجالا یاتونکم من اقطار الارضین یتفقہون فی الدین فاذا اتوکم فاستوصوا بہم خیرا (سنن الترمذی، کتاب العلم، حدیث ۲۵۷۴)
’’لوگ دین کے معاملے میں تمھارے پیروکار ہیں۔ اور بہت سے لوگ زمین کے اطراف سے تمھارے پاس دین کا فہم حاصل کرنے آئیں گے۔ جب وہ آئیں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ یہ میری نصیحت ہے۔‘‘
درج بالا دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فقہ اسلامی کی بنیاد قرآن وحدیث میں موجود ہے اس لیے اس کو دین کے متوازی تصور کرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں۔ جس علم کی بنیاد قرآن حکیم میں موجود ہو، اس کو دین کے متوازی کیسے کھڑا کیا جا سکتا ہے؟ البتہ ممکن ہے کہ میاں صاحب فروعی اختلافات اور ان کے حوالے سے پائے جانے والے شدت پسندانہ رویے کو ’فقہ‘ سمجھ بیٹھے ہوں۔ اس ضمن میں ان کی طرف سے کوئی وضاحت آنے کے بعد ہی ہم کوئی گفتگو کر سکتے ہیں۔
۴۔ اسی مضمون میں موصوف نے ’السلام علیکم‘ کہنے کی سنت مبارکہ کے متعلق بھی ایک مخصوص اور منفرد نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’جس طرح ’السلام علیکم‘ کی ریت غیر مذہبی طبقے نے ڈالی ہے، اسی طرح اجتماعیت کی اس روح کا ادراک بھی (جو کہیں نظر آتا ہے) اسی طبقے نے دیا ہے۔‘‘
نہ جانے موصوف نے کس اصول کے تحت ایک مذہبی شعار کو غیر مذہبی طبقے کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ’سلام‘ کی رسم کے آغاز سے متعلق حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیے:
عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ قال خلق اللہ آدم وطولہ ستون ذراعا ثم قال اذہب فسلم علی اولئک من الملائکۃ فاستمع ما یحیونک تحیتک وتحیۃ ذریتک فقال السلام علیکم فقالوا السلام علیک ورحمۃ اللہ فزادوہ ورحمۃ اللہ۔ (صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، حدیث ۳۰۷۹)
’’حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ فرمایا، جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور جو وہ جواب دیں، اس کو سنو۔ وہی تیرے اور تیری اولاد کے لیے ’سلام‘ کرنے کا طریقہ ہوگا۔ حضرت آدم نے کہا، السلام علیکم تو فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انھوں نے جواب میں ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔‘‘
درج بالا حدیث مبارک سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ السلام علیکم کی سنت مبارکہ کا آغاز سیدنا آدم سے ہوا اور آج تک امت مسلمہ میں جاری ہے۔ میاں صاحب وضاحت فرمائیں کہ کیا حضرت آدم کا تعلق بھی غیر مذہبی طبقے سے تھا؟ اول تو مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق ہی درست نہیں کیونکہ ہر مسلمان بنیادی طور پر مذہبی ہوتا ہے۔ ممکن ہے میاں صاحب اس تفریق کا ذمہ دار بھی مذہبی طبقہ کو ٹھہرائیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ میاں صاحب اتنے بھولے بھالے اور سادہ لوح کیوں بن گئے کہ ایک غلط تفریق کو بخوشی قبول فرما رہے ہیں؟ موصوف کے بقول دینی طبقے کا ادراک تو ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہے۔ آخر موصوف کے صاف ستھرے دینی ادراک پر اس کا پرتو کیسے پڑ گیا؟ لطافت کا آخر کثافت سے کیا میل ہے؟
یہ بھی ممکن ہے کہ میاں صاحب سلام کی ریت کے بارے میں اپنے موقف کی یوں تاویل کریں کہ ان کی گفتگو سلام کی رسم کے آغاز سے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اس ریت پر عمل کرنے اور اس کو فروغ دینے سے متعلق تھی۔ میاں صاحب کی اس ممکنہ تاویل کی حقیقت کو پرکھنے کے لیے راقم الحروف چند عملی مشاہدات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنا چاہتا ہے تاکہ حقیقت حال واضح ہو سکے۔
راقم نے عصری تعلیم کے حصول کے لیے کچھ عرصہ عصری تعلیمی اداروں میں اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے کچھ عرصہ دینی تعلیمی اداروں میں گزارا ہے۔ اس ضمن میں دو تین واقعات بطور مثال عرض کرنا چاہوں گا۔
راقم الحروف جب چھٹی جماعت میں داخل ہوا اور انگریزی کے استاد سبق پڑھانے کے لیے تشریف لائے تو انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ان کلمات سے کیا: ’’عزیز طلبہ! یہ بات آپ کے لیے باعث خوشی ہوگی کہ آپ پرائمری سے مڈل حصے میں ترقی کر چکے ہیں۔ چھٹی جماعت میں آپ کو ایک نیا مضمون، ’انگریزی‘ پڑھایا جائے گا۔ آپ اپنے ماحول میں انگریزی کو عام کریں اور صبح گھر سے سکول آتے ہوئے صبح کا سلام انگریزی زبان میں Good Morning (صبح بخیر) کہہ کر کیا کریں۔‘‘ ایک طالب علم بولا کہ سر! ہمارے والدین انگریزی سے ناواقف ہیں۔ استاد محترم طالب علم کی بات سن کر مسکرائے اور ایک لطیفہ سنایا، جو یوں ہے کہ ایک بچے کو انگریزی کے استاد نے کہا کہ عزیزم، صبح جب گھر سے سکول آتے ہو تو صبح کا سلام انگریزی زبان میں کیا کرو۔ ہدایت کے مطابق بچہ جب گھر سے سکول کے لیے روانہ ہونے لگا تو انگریزی سے ناآشنا سیدھی سادھی والدہ کو ’Good Morning‘ (گڈ مارننگ) کہا۔ ماں حیرت سے بچے کا منہ تکتی رہ گئی۔ بچہ تو سلام کر کے گھر سے نکل گیا لیکن حیرت زدہ ماں نے اپنے بھائی یعنی بچے کے ماموں سے کہا: ’’میرا پتر اج گڑ منگدا منگدا سکول ٹر گیا اے‘‘ (میرا بیٹا آج گڑ مانگتا مانگتا سکول چلا گیا ہے)
کیا فرماتے ہیں محترم میاں صاحب بیچ اس مسئلے کے کہ کیا ’السلام علیکم‘ کے الفاظ چھوڑ کر Good Morning, Good Evening, Good Night وغیرہ کی ریت بھی مذہبی طبقے نے ہی ڈالی ہے؟ ان سے فقط یہی عرض کی جا سکتی ہے کہ ’’اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت‘‘۔
ایک دوسرا واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ راقم کچھ عرصہ قبل ایک نجی کام کے سلسلے میں گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں شعبہ انگریزی کے صدر سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ موصوف ایک خوش طبع اور ملنسار آدمی ہیں۔ میں نے حاضری کا مدعا بیان کیا تو اٹھ کر میرے ساتھ چل پڑے۔ ہم دائیں طرف چل رہے تھے اور راستے میں طلبہ کے مختلف گروپ کھڑے گفتگو میں مصروف تھے۔ طلبہ اس بات کا خیال کیے بغیر کہ معزز استاد تشریف لا رہے ہیں، گفتگو میں مصروف رہے۔ سلام تو درکنار، گزرنے کے لیے ہمیں راستہ بنا کر کبھی دائیں سے بائیں اور کبھی بائیں سے دائیں چلنا پڑتا تھا۔ میں نے عرض کی، سر! طلبہ کا یہ رویہ مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس تعلیمی ادارے میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں اور سب طلبہ ہر ایک استاد کو نہیں جانتے۔ میں نے عرض کی کہ اول تو سلام کے لیے جان پہچان کی ضرورت نہیں۔ دوسرے آپ کی شخصیت اور عمر سے ہر دیکھنے والے کو اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ ادارے کے استاد ہیں۔ اس پر وہ بولے کہ بھائی، ہمارے کالجوں اور دینی مدارس میں تربیت کے حوالے سے بہت فرق ہے۔ سلام کرنے کی روایت جس طرح دینی مدارس میں موجود ہے، اس طرح عصری تعلیمی اداروں میں بہت کم ہے۔
یہ عصری تعلیم کے ایک مستند ادارے کے ایک فاضل استاد کا اعتراف ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے مذہبی طبقے کے ہاں دکھائی دینے والے عمومی منظر کا بھی ذکر کر دیا جائے۔ راقم الحروف نے ملک کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں داخلہ لیا اور ایک سال کے تعلیمی عرصہ کے دوران میں روزانہ اس بات کا عملی مشاہدہ کیا کہ ہمارے استاد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ جب قرآن حکیم کی تفسیر اور بخاری شریف کا سبق پڑھانے کے لیے تشریف لاتے تو طلبہ ابھی تقریباً پچیس فٹ کے فاصلے پر منتظر ہوتے کہ استاد محترم قریب تشریف لائیں اور ہم سلام عرض کریں کہ استاد محترم پچیس فٹ کے فاصلے سے السلام علیکم کے الفاظ ادا فرما کر سلام کرنے میں سبقت لے جاتے۔ میں نے استاد محترم سے کئی بار خود سنا کہ ’’ہمارے شیخ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سلام کی سنت میں ہمیشہ سبقت فرمایا کرتے تھے۔‘‘ سلام کی سنت میں سبقت کرنے کی اسی عادت مبارکہ کا مشاہدہ راقم نے استاد محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید صاحب سواتی مدظلہ کے ہاں بھی کیا۔ اب دیکھیے، محترم میاں صاحب اپنے اس موقف کی کیا توجیہ کرتے ہیں کہ سلام کی ریت مذہبی طبقے نے نہیں بلکہ غیر مذہبی طبقے نے ڈالی ہے۔
۵۔ میاں صاحب اجتہاد کے متعلق علما اور مذہبی طبقے کے کردار سے بھی مطمئن نہیں، چنانچہ اپنا موقف انتہائی جذباتی انداز میں یوں بیان کرتے ہیں:
’’ہمارا مذہبی طبقہ آرٹ سے بے بہرہ ہے، اس لیے نہ صرف وہ خود اجتہادی روح سے بیگانہ ہو کر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے بلکہ ساتھ ساتھ عوام کو شعور دینے سے بھی قاصر ہے ۔ فقہی، جہادی اور تبلیغی، تینوں گروہ اجتہاد سے عاری ہیں۔‘‘
مذہبی طبقے پر موصوف کی عائد کردہ اس ’فرد جرم‘ کا جائزہ لینے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معنی اور مفہوم کی وضاحت کر دی جائے۔ اجتہاد کے معنی یہ ہیں کہ قرآن وحدیث سے کسی شرعی حکم کے استنباط کے لیے غور وفکر کی پوری قوت صرف کر دی جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں:ایک، قرآن وحدیث کے منصوص مسائل کی تعبیر وتشریح اور دوسری، منصوص مسائل پر قیاس کرتے ہوئے غیر منصوص مسائل کے احکام کا استخراج۔
اب آئیے اجتہاد کے حوالے سے مذہبی طبقے کے کردار کی طرف۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے راقم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جدید پیش آمدہ غیر منصوص مسائل کے حل کے لیے جید اور مستند علماء کرام کو انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر اجتہادی کوششیں بروئے کار لانی چاہییں۔ اس بات کا اعتراف کرنے میں ہمیں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ اس حوالے سے مذہبی طبقوں کی کارکردگی ادھوری اور ناقص ہے۔ آج بالفرض حکومت وریاست اور معاشرے کے تمام امور کی باگ ڈور مذہبی طبقے کو سونپ دی جائے تو ان کا علمی وفکری ہوم ورک اس درجے کا نہیں کہ دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں صورت حال کو بدل ڈالیں۔ بہت سے معاملات اور امور تشنہ تحقیق ہیں اور ان پر پوری طرح سے غور وفکر کیے بغیر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ فقہا کا فرض صرف یہ نہیں کہ وہ ناجائز اور حرام باتوں کی نشان دہی کر دیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اس کے متبادل جائز راستے تجویز کریں۔ قرآن حکیم نے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مصر کے بادشاہ نے جب ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بعد میں بتلائی جبکہ خواب میں جس آئندہ قحط کی اطلاع دی گئی تھی، اس کے سدباب کا طریقہ پہلے بتایا۔ چنانچہ فرمایا:
تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَباً فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْبُلِہٖ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تَاْکُلُوْنَ۔ (یوسف: ۴۷)
’’تم سات سال تک مسلسل فصل کاشت کرو گے۔ اس دوران میں تم جو فصل کاٹو، اس کے دانوں کو خوشوں کے اندر ہی رہنے دو، سوائے اس تھوڑی سی مقدار کے جو تمھاری خوراک بنے۔‘‘
مذہبی طبقے میں اجتہاد کے حوالے سے یہ خامی موجود ہے، تاہم وہ اجتہادی روح سے بیگانہ نہیں بلکہ اہل علم میں اجتہادی روح پوری طرح بیدار ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اجتہاد کا کام اجتماعی طور پر منظم طریقے سے انجام نہیں پا رہا، ورنہ جہاں تک جدید پیش آمدہ مسائل کے حوالے سے اجتہاد کے عمل کا تعلق ہے، وہ پوری طرح جاری وساری ہے۔ اس وجہ سے راقم میاں صاحب کے اس موقف کو کہ مذہبی طبقہ اجتہادی روح سے بیگانہ ہو کر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے اور عوام کو شعور دینے سے قاصر ہے، مبنی بر انصاف نہیں سمجھتا۔ اگر میاں صاحب کو کچھ مسائل کا سامنا ہے تو ان کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ خود ’مجتہد‘ کے منصب سے استعفا دے دیں۔ ان کے اجتہاد کے نمونے گاہے گاہے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایک دن اجتہاد کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ مسواک کا مقصد بھی دانتوں کی صفائی ہے اور ٹوتھ برش کا مقصد بھی یہی ہے، اس لیے برش سے دانت صاف کر لیے جائیں تو مسواک کی سنت ادا ہو جاتی ہے۔
اجتہاد کا منصب ہر حال میں اہل فن تک محدود رہے گا۔ ایسا نہیں کہ جس کا جی چاہے، اٹھے اور اجتہاد کرنا شروع کر دے۔ غیر ماہر فن کے اجتہاد کے نتیجے میں دین بازیچہ اطفال بن جائے گا اور اس کے بے شمار نمونے ہمارے سامنے ہیں۔ چند روز قبل راقم کا ایک ضروری کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانا ہوا۔ ایک مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب نے قرآن حکیم کا درس دینا شروع کر دیا۔ راقم بھی قرآن کریم کا ایک نسخہ لے کر سامعین میں جا بیٹھا۔ موصوف نے درس شروع کیا تو یہ جان کر بے حد دکھ ہوا کہ موصوف نہ صرف ناظرہ قرآن مجید غلط پڑھ رہے تھے بلکہ ترجمے میں بھی واضح غلطیاں کر رہے تھے۔ قرآن حکیم ہی وہ مظلوم کتاب ہے کہ جو شخص اس کی درست تلاوت تک نہیں کر سکتا، وہ اردو کی کچھ تفاسیر کا مطالعہ کر کے خود کو مفسر قرآن سمجھنے لگتا ہے اور I Think کے فتنے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ بہرحال، درس کے دوران میں ڈاکٹر صاحب نے اجتہاد کے متعلق اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیر منصوص مسائل میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اور ساتھ ہی ایک اجتہاد کر کے بھی دکھا دیا۔ کہنے لگے کہ قرآن حکیم میں صرف چار چیزوں کی حرمت بیان ہوئی ہے، یعنی مردار، دم مسفوح، خنزیر کا گوشت اور ایسا جانور جس کو ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ ان کے علاوہ باقی چیزیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، ان کے متعلق ہم اجتہاد کریں گے، چنانچہ ان کے علاوہ باقی کوئی بھی چیز حرام نہیں ہو سکتی، زیادہ سے زیادہ مکروہ ہوگی۔ درس میں شریک ایک صاحب نے سوال کیا کہ گدھے کے گوشت کا کیا حکم ہے؟ ڈاکٹر صاحب بولے کہ چونکہ اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، اس لیے یہ بھی مکروہ ہے۔ راقم اول تو آداب مجلس کی وجہ سے خاموش رہا، لیکن بالآخر بولنا پڑا۔ میں نے عرض کی کہ محترم، گدھے کا گوشت مکروہ نہیں بلکہ صریحاً حرام ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں تو عرض یہ ہے کہ قرآن مجید میں تمام حرام چیزوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کچھ کا ذکر قرآن میں ہے جبکہ کچھ کا ذکر احادیث میں کیا گیا ہے جن میں گدھا بھی شامل ہے۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کے گوشت کو صراحتاً حرام قرار دیا تھا۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، ۳۸۷۷)
مذہبی طبقے کا دینی ادراک اسی طرز فکر کے حامل احباب کو ’’ابلیسیت زدہ‘‘ دکھائی دیتا ہے، لیکن خود ان کے دینی ادراک کا عالم کیا ہے، اس کی ایک جھلک مذکورہ واقعے میں دیکھی جا سکتی ہے۔
راقم الحروف محترم میاں انعام الرحمن صاحب کا بے حد قدر دان ہے ، تاہم موصوف کے بعض ذہنی افکار اور نقطہ ہائے نظر سے اختلاف کا حق ضرور رکھتا ہے۔ درج بالا سطور میں راقم نے میاں صاحب کے بعض خیالات کے ساتھ دوستانہ اختلاف کی جسارت کی ہے اور مجھے امید ہے کہ موصوف اپنے موقف کے دفاع میں تاویلات سے کام لینے اور مذہبی طبقے کے خلاف ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہونے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے جذباتی طعنوں کا سہارا لینے کے بجائے جواب میں افہام وتفہیم پر مبنی اور شعور کو ایڈریس کرنے والا انداز تحریر اختیار کریں گے۔
مسئلہ فلسطین یہودی مذہبی پیشوا کی نظر میں
مولانا حبیب نجار
گزشتہ دنوں رابطۃ العالم الاسلامی کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ارض فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک یہودی مذہبی پیشوا یسرائیل ڈیوڈ کا انٹرویو نظر سے گزرا تو ماہنامہ الشریعہ ستمبر/اکتوبر ۲۰۰۳ء میں مولانا محمد عمار خان ناصر کی تحریر بعنوان ’’مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ ذہن میں گھومنے لگی۔ مولانا موصوف کے اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارض فلسطین اور مسجد اقصیٰ وراثت کے طور پر یہو دکو عطا ہوئی، اس لیے ان کا مسجد اقصیٰ اور ارض فلسطین پر قانونی واخلاقی حق ہے۔ مولانا کے اس مضمون پر تنقیدی تبصرے سامنے آئے جو الشریعہ دسمبر ۲۰۰۳ء میں شائع ہوئے۔ ان تحریروں میں سے ایک تحریر بعنوان ’’مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق دار کون؟‘‘ الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف صاحب کی لکھی ہوئی تھی جس میں انھوں نے مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حوالے سے قرآن وحدیث سے ٹھوس دلائل پیش کیے اور ایک اصولی نکتہ واضح کیا کہ مساجد کی تولیت کا حق خاندان کی بنیاد پر نہیں بلکہ نظریہ کی بنیاد پر ہے۔ تاہم مولانا عمار خان صاحب نے ماہنامہ الشریعہ اپریل/مئی ۲۰۰۴ء میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق مسلمانوں کے لیے تسلیم کرتے ہوئے احاطہ ہیکل کا اپنے خیال کے مطابق ایک معقول حل پیش کیا۔ راقم نے مناسب سمجھا کہ اسرائیلی ریاست اور مسجد اقصیٰ کے متعلق ایک یہودی مذہبی پیشوا کے بیانات کو بھی قارئین ’الشریعہ‘ کے سامنے لایا جائے تاکہ معاملے کی حقیقت مزید کھل کر سامنے آ جائے، کیونکہ عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ ’الفضل ما شہدت بہ الاعداء‘ اور ’صاحب البیت ادری بما فیہ‘۔ یسرائیل ڈیوڈ کے خیالات حسب ذیل ہیں:
یہودی مذہبی پیشوا یسرائیل ڈیوڈ فائس نے نیو یارک میں لبنان کے اخبار ’’المستقبل‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیلی ریاست کو غیر شرعی اور غیر قانونی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ دین یہود میں قومیت کا تصور موجود نہیں، اس لیے یہودی ریاست کا قیام تورات کی تعلیمات کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’صہیونیت‘‘ کے نام سے فلسطین میں یہودیوں کی نو آبادی قائم کرنے کی تحریک کو صرف سو سال ہوئے ہیں جبکہ تورات کی تعلیمات چار ہزار سال سے چلی آ رہی ہیں۔ یہودیت، دینی تعلیمات کا مجموعہ ہے جبکہ صہیونی تحریک اس دینی مفہوم کو بدنام کر رہی ہے۔ صہیونی تحریک کا یہودی مذہب کو اس طرح استعمال کرنا تورات کی تعلیمات کے منافی اور ان کے پاگل پن کی کھلی دلیل ہے۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی تحریک کے قیام سے قبل یہود سرزمین عرب میں امن وسکون کے ساتھ رہ رہے تھے اور ارض فلسطین کے بارے میں ان کا کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں تھا۔ صہیونی تحریک نے یہودیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت پر آمادہ کرنے کے لیے خود بھی ان کا قتل عام کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ صہیونی تحریک نے عرب ممالک خصوصاً عراق میں یہودیوں کا قتل عام کیا اور بم دھماکے کروائے تاکہ یہودی فلسطین کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جائیں۔ اسی طرح جرمنی میں صہیونی تحریک اور نازیوں کے مابین یہودیوں کے قتل عام کا باقاعدہ معاہدہ طے پایا۔
انھوں نے مسئلہ فلسطین کے حل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کو بطور ریاست ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ رہا سرزمین فلسطین میں یہودیوں کے قیام کا معاملہ تو یہ عوامی نمائندوں کی صوابدید پر منحصر ہے۔ ارض فلسطین میں رہنا صرف فلسطینیوں کا حق ہے اور گزشتہ سالوں میں صہیونی تحریک نے جو نقصانات کیے ہیں، فلسطینیوں کو ان کا ہرجانہ ملنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ عربوں اور یہودیوں کے مابین یہ نزاع پر امن اور منصفانہ طریقے سے حل ہونی چاہیے تاکہ خون ریزی کا سلسلہ رک سکے۔ مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمانی کی موجودگی کے صہیونی دعویٰ کو غلط قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس جگہ پر مسلمانوں کا حق ہے۔ تورات کے حکم کے مطابق یہودیوں کو اس مقام کی ملکیت کا حق تو کجا، ان کا اس میں داخلہ بھی ممنوع ہے۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم المقام حضرت مولانا المعظم دام مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرصہ دراز ہوا، نہ ملاقات ہوئی اور نہ ہی کوئی رابطہ۔ باغ کانفرنس میں ملاقات کی توقع تھی بلکہ ساتھیوں کو میں نے عرض کی تھی کہ اجلاس کا اعلامیہ آپ کے مشورہ سے تیار ہو مگر آپ کانفرنس میں تشریف نہ لا سکے۔ البتہ حضرت شیخ الحدیث صاحب دامت برکاتہم کی تشریف ہمارے لیے بڑی خوشی کا باعث ہوئی اور ان سے ملاقات کا شرف پا کر دل کو بڑا سکون ملا۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت عطا فرمائے۔
’’بین الاقوامی منشور‘‘ کی کاپی اور اس پر آپ کا تبصرہ دیکھا ہے۔ آپ کا تجزیہ اور اسلامی نقطہ نگاہ سے اس کی دفعات پر تبصرہ بڑا وقیع ہے مگر سوال یہ ہے، اسلامی دفعات کے تعارض سے صرف نظر بھی کریں تو انسانی نقطہ نگاہ سے جو دفعات رکھی گئی ہیں، کیا اس وقت فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، ان دفعات کے مطابق ہے؟ اگر نہیں تو اقوام متحدہ نے امریکہ کا کیا بگاڑ لیا جو ان دفعات کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور جوتے کی نوک پر بھی ان دفعات کو نہیں رکھتا؟ ایسے میں اس منشور کو زیر بحث لانا ہی ضیاع وقت ہے۔ بس قانون تو ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا چل رہا ہے۔ ہمارے مسلمان حکمران تو اپنی حکمرانی کے تحفظ کے لیے اسلامی دفعات کے خلاف اقدامات پر اعتراض کیا کرتے جبکہ اس منشور کو ان کی تائید بھی حاصل ہے۔ ان کو یہ غیرت بھی نہیں آتی کہ مسلمانوں کے ساتھ کس قدر انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے جس پر احتجاج کرنے سے قاصر ہیں۔
والسلام۔ آپ کا مخلص
(شیخ الحدیث مولانا) محمد یوسف
(دار العلوم تعلیم القرآن، پلندری، آزاد کشمیر)
۲۰۰۴/۵/۲۳
(۲)
محترم المقام ذو المجد والاحترام حضرت العلام مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدہم
السلام علیکم وعلیٰ من لدیکم
مزاج گرامی بخیر۔ اللہ آپ کو سدا خوش رکھے اور آپ کی قومی وملی خدمات کو قبول ومنظور فرمائے۔ آمین ثم آمین بحرمت سید المرسلین۔
آج مورخہ یکم ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ/۲۱ مئی ۲۰۰۴ کو بذریعہ ڈاک جریدہ ’’نوائے شریعت‘‘ اور ایک خط ملا۔ ما لہ وما علیہ پر مطلع ہو کر بڑی خوشی ہوئی۔ اس میں شک نہیں کہ میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور تجارت ومعیشت پر اقوا م متحدہ کا کنٹرول ہے اس لیے انھی دونوں شعبوں میں عالم اسلام پستی اور تنزل کے شکار ہیں۔
نازک حالات کے تقاضوں کے مطابق اقوام متحدہ کی تاسیس، غرض وغایت، کردار اور منفی خدمات کو منظر عام پر لانا اور یہودیوں کی خباثت وشرارت کو اجاگر کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ مسلمانان عالم ہر معاملہ میں اقوام متحدہ کے دروازے کھٹکھٹانے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی تیاری اور کوشش کریں۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے آج تک ایسی کوئی قرارداد پاس نہیں کی جس سے مسلمانوں کا فائدہ ہوتا ہو۔ ایسی صورت حال میں جریدہ ’’نوائے شریعت‘‘ کا اجرا واشاعت امید کی کرن ہے۔ امید ہے کہ اس میں حالات حاضرہ پر مضامین شائع ہوں گے۔
تازہ شمارے میں شامل اشاعت مضامین، انسانی حقوق کا عالمی منشور اور انسانی حقوق کا چارٹر نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس قسم کے مضامین ہمارے دینی جریدوں میں بھی شائع ہونے چاہییں۔ اللہ آپ کی محنت کو قبول فرمائے۔ امید ہے کہ ہر شمارہ ارسال فرما کر شکریہ کا موقع دیں گے۔
محترم! آپ کے زیر ادارت نکلنے والا موقر جریدہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی سے مل رہا ہے اور تبادلہ میں ’’حق نوائے احتشام‘‘ بھی ارسال کیا جا رہا ہے۔ ’’الشریعہ‘‘ شمارہ اپریل/مئی ۲۰۰۴ء میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے محترم جناب محمد عمار ناصر صاحب کا طویل مقالہ اور آپ کا اداریہ من وعن پڑھا اور تنقیدی نظر سے مطالعہ کیا۔ مجھے اس مقالہ کے متعدد مقامات ودلائل پر اعتراضات وتحفظات ہیں۔ فی نفسہٖ مقالہ معیاری اور علمی ہے۔ شروع میں ارادہ تھا کہ اس پر لکھوں، لیکن حدیث ’من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ‘ اس میں حائل بن گئی۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ آج کل ماہنامہ ’’اشراق‘‘ میں موسیقی کی حلت پر مضامین شائع کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت امریکہ بھیڑیا بن کر عالم اسلام کو تہس نہس کر رہا ہے اور اسلام کی بیخ کنی کرنے میں ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں جہاد کی تیاری کے علاوہ ذلت ونکبت سے بچنے کا کوئی اور طریقہ نظر نہیں آتا۔
زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے
معذرت کے ساتھ مضمون ختم کرتا ہوں۔
اخوکم فی اللہ
(مولانا) محمد صدیق ارکانی
(استاد) جامعہ احتشامیہ، جیکب لائن، کرا چی
۳ ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ/۲۳ مئی ۲۰۰۴ء
(۳)
۱۷/۵
گرامی قدر مولانا زاہد الراشدی صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟
یورپین/مغرب کے تصور حقوق انسانی پر آپ کا مضمون اور ’توجہ دلاؤ نوٹس‘ ملا۔ شکریہ۔ موضوع کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ جو کام ہاتھ میں ہیں، ان سے فارغ ہونے کے بعد، ان شاء اللہ، کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔
کیا پاکستان کے دینی عناصر ایسے ہی ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ کام کرتے رہیں گے کہ کبھی نصاب کا مسئلہ سامنے آ گیا تو دو چار اجلاس کر لیے، کبھی توہین رسالت کا موضوع اٹھا تو کچھ دن شور کر لیا؟ دینی سیاسی عناصر کا عدم اتحاد تو سمجھ میں آتا ہے، کیا غیر سیاسی دینی عناصر کو چند مشترکہ/متفق علیہ نکات پر جمع نہیں کیا جا سکتا تاکہ پلاننگ کے ساتھ کچھ دینی کام ہو سکے؟
مخلص
(ڈاکٹر) محمد امین
(سینئر ایڈیٹر اردو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام)
جامعہ پنجاب، لاہور
(۴)
۶/اپریل ۲۰۰۴ء
برادرم محترم
السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ کا خط اور مضمون ملے بہت دن ہو گئے۔ پچھلے عرصے میں میری مصروفیت کچھ ایسی غیر معمولی رہی کہ بروقت جواب نہ دے سکا۔
آپ کا مضمون میں نے دیکھا۔ آپ کی دیگر تحریروں کی طرح یہ بھی ایک وقیع تحریر ہے۔ عصری سیاسی حوالوں سے، میں اس میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور میرا خیال ہے کہ یہ آپ کے سابقہ مضامین پر تنقید کا شافی جواب ہے۔
مجھے بہت خوشی ہوگی اگر آپ ORE کے پروگراموں میں شریک ہوں اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں آپ کی صلاحیتیں کام آئیں۔
ہم نے گزشتہ دنوں جو چند کتابچے شائع کیے ہیں، وہ ارسال کر رہا ہوں۔ اس کو ہم نے دو عنوانات کے تحت تقسیم کیا ہے۔ ایک تراجم ہیں جنھیں ’’معاصر اسلامی فکر‘‘ کا ذیلی عنوان دیا گیا ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ دیگر مسلمان حلقوں میں ہونے والے کام سے آگاہی ہو۔ اس کے ساتھ جو چیزیں ہم اپنے مسائل کے حوالے سے شائع کریں گے، انھیں ’’مسلم معاشرے کی تشکیل نو‘‘ کا عنوان دیا ہے۔
ان کتابچوں کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے ذہن میں کوئی تجویز ہو جس پر ہم مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں تو مجھے اس کے بارے میں جان کر خوشی ہوگی۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دیں۔
والسلام۔ آپ کا بھائی
خورشید احمد ندیم
(چیئرمین ادارہ برائے تعلیم وتحقیق
مکان 1، گلی 30، G-6-1/3، اسلام آباد)
(۵)
باسمہ
۸ مئی ۲۰۰۴ء
محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں فلسطین سے متعلق آپ کے مضامین پڑھ کر محترم ڈاکٹر اسرار احمد نے کتاب ’’مسلمان امتوں کا ماضی، حال اور مستقبل‘‘ بھجوائی ہے۔ امید ہے آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی۔ نیز ان کی طرف سے سلام عرض ہے۔
والسلام
سردار اعوان
(معتمد ذاتی)
(۶)
بگرامی خدمت محترم علامہ زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مزاج گرامی؟
اسلامی تعلیمات واقدار کو جامع انداز میں متعارف کرانے کے لیے آپ کی مساعی جمیلہ لائق صد تحسین ہیں۔ اسلام کے خلاف مغرب کی منظم منصوبہ بندی اور خود اسلامیان پاکستان کی کج روی نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے، اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ملت کے دردمند اور حساس حلقے مل بیٹھ کر دین کی ترویج اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ بالخصوص پاکستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں گروہی اختلافات کی خلیج کو پاٹ کر باہمی رواداری کے فروغ کی ضرورت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی مثبت کاوشیں بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اسلامی مدارس کے بارے میں موجودہ حکومت کی منفی پالیسیوں اور ان سے منسلک افراد کے بارے میں پیدا کی گئی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے آپ نے مدارس کی اہمیت اور ضرورت اور ان کے کردار کے بارے میں اپنے موقف کو جس جاندار انداز میں پیش کیا ہے، اس پر سارے حلقے آپ کے ممنون ہیں۔
چند ماہ قبل آپ نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں میرے والد گرامی ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے اسلوب دعوت کے بارے میں ایک جامع مقالہ شائع فرمایا۔ اس اقدام نے ہمارے جملہ حلقوں میں آپ کی قدر ومنزلت میں اضافہ کیا ہے۔
آپ کا تازہ مکتوب اور اس کے ساتھ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے بارے میں چارٹر پر آپ کی تجزیاتی رپورٹ موصول ہوئی۔ مجھے آپ کے پروگرام سے مکمل اتفاق ہے۔ اہل اسلام کو اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم نے اپنے احباب کی مجلس مشاورت میں فیصلہ کیا ہے کہ ادارہ ضیاء المصنفین کی وساطت سے ان موضوعات پر تحقیقی کاوشیں منظر عام پر لائی جائیں۔ ان شاء اللہ اس کی عملی صورت آپ بہت جلد ملاحظہ فرمائیں گے۔
میری دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے خلوص نیت کے مطابق اجر جزیل عطا فرمائے اور آپ کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ طٰہٰ ویٰسین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
والسلام۔مخلص
(صاحبزادہ پیر) امین الحسنات شاہ
سجادہ نشین بھیرہ شریف
(۷)
گرامی قدر نگران مطبوعات ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خاکسار آپ کے شائع کردہ علمی مجلہ کا ایک نہایت ادنیٰ قاری ہے لیکن گزشتہ چند اشاعتوں سے مضامین کچھ مبہم اور پراسرار رمزیت کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ مثلاً مسجد اقصیٰ یا پھر حکومت کی جانب سے موجودہ تعلیمی اصلاحات وغیرہ کی بابت۔ وہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ
ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر کیوں نہیں حق اہل عرب کا
حضرت اکبر الٰہ آبادی ابھی تک ہمارے علما کی دست برد سے خاصے محفوظ چلے آ رہے ہیں۔ آپ نے بھی اسی قسم کی تعلیمی اصلاحات جو کہ لارڈ میکالے نے فرمائی تھیں، اس پر ہی کہا تھا کہ
نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے
مگر یونہی کہ گویا آب زم زم مے میں داخل ہے
نہ صرف لارڈ میکالے کے نظام پر مکمل تحقیقی وتجزیاتی کتاب بلکہ حالیہ تعلیمی اصلاحات کے نام پر منحوس تثلیث یعنی ہنود، یہود ونصاریٰ کے ایجنڈے پر عمل درآمد جو کہ واضح طور پر Jewish Protocols پر عمل درآمد کا حصہ ہے، اس کا مکمل ترجمہ تحقیقی وتنقیدی حواشی کے ساتھ شائع کرنا آپ جیسے علمی ومذہبی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آپ مختلف اہم موضوعات پر قسط وار شائع شدہ مضامین کو ’ترجمان القرآن‘ لاہور والوں کی طرح ’منشورات‘ کی طرز پر کتابچوں کی صورت میں علیحدہ بھی یکجا شائع کر سکتے ہیں۔ اس طرح کتابچے موثر رہتے ہیں اور افادہ بھی سہل طرح سے کیا جا سکتا ہے۔
جاوید احمد غامدی اینڈ کمپنی کے کتابچے پشاور جمرود روڈ سے بھی شائع ہوتے ہیں۔ ان سے دین اور دیگر امور میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ میرے پاس کچھ کتابچے ہیں۔ ان سے محض اختلاف ہی نہیں، ان پر نکیر کرنی چاہیے۔ یہ قرآن وحدیث کو اپنے باطل خیالات پر منطبق کرتے ہیں۔ یہ بھی اب NGOs کی طرح کام کر رہے ہیں۔ افغان جنگ اور اس پر ان لوگوں کے خیالات ڈھکے چھپے نہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ٹھیٹھ مذہبی ادارے اور افراد وتنظیمیں بھی اب افغان اور طالبان کو فراموش کر کے حزب اقتدار واختلاف کے کھیل میں مگن ہیں۔ دیکھیں طالبان واسامہ کی صورت میں علامہ اقبال کے اس شعر نے کیسے حقیقت کا روپ دھارا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ
قدرت کے اصولوں کی کرتا ہے نگہبانی
یا مرد کہستانی یا بندۂ صحرائی
کل کے ہیرو آج کے باغی اور آج کے ہیرو کل کیا ہوں گے؟ ارد گرد ماحول، حالات وواقعات اور روز افزوں اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر ہی یہ شعر زبان پر آ جاتا ہے کہ
اے خدا قبر کے مردوں سے نہیں میری مراد
چلتے پھرتے ہیں جو مردے انھیں زندہ کر دے
آمین یا رب العالمین
تنویر احمد بٹ
کراچی
(۸)
محترم المقام مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہنامہ ’الشریعہ‘ گاہے گاہے چونکا دینے والی تحریریں شائع کرنے کا اعزاز رکھتا ہے۔ جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ کے زیر عنوان پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون اسی قبیل کا ہے جس میں مذہبی طبقات کے خلاف ’’آرٹ‘‘ سے بے بہرہ ہونے کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ مجھے اس مضمون کے متعدد نکات سے اختلاف ہے۔
سب سے پہلے تو ’عالم‘ اور ’فقیہ‘ کے مابین میاں صاحب نے جو فرق قائم کیا ہے، وہ نہ صرف خود ساختہ بلکہ حقیقت کے برعکس ہے۔ دینی اصطلاح میں ’فقیہ‘ اس عالم کو کہتے ہیں جو احکام کے اسرار ورموز کی تہہ تک پہنچنے اور مغلق اور پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ایک ’فقیہ‘ علم وفہم کے لحاظ سے ایک ’عالم‘ سے بلند تر درجے پر فائز ہوتا ہے۔ یعنی ہر فقیہ کے لیے عالم ہونا ضروری ہے جبکہ ہر عالم کے لیے فقیہ ہونا ضروری نہیں، لیکن میاں صاحب نے اس نسبت کو بالکل الٹ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہر عالم، فقیہ ہوتا ہے، لیکن ہر فقیہ، عالم نہیں ہوتا۔
میاں صاحب نے اس بات پر بھی اعتراض کیا ہے کہ دینی جرائد کے سرورق پر کسی مخصوص ادارے یا مکتب فکر کے ’’ترجمان‘‘ ہونے کا اعلان کیوں کیا جاتا ہے۔ گزارش یہ ہے کہ میاں صاحب تو تعلیم یافتہ اور شعور کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں، وسیع المطالعہ ہونے کی بنا پر کھرے کھوٹے کو پہچاننے میں مہارت رکھتے ہیں، اور تحریر کو ایک نظر دیکھ کر جاہلوں کے برخلاف، جو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں، اس کے مصدر تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن مسئلہ تو ان سادہ لوح قارئین کا ہے جو تحریر کو پڑھنے کے بعد بھی اس کے اصل مقصد کو سمجھ نہیں پاتے اور کھرے کھوٹے کی پہچان نہیں کر سکتے۔ لہٰذا رسالے کے سرورق پر یہ لکھ دینا کہ یہ فلاں طرز فکر کا ترجمان ہے، عین حکمت ہے۔ اس سے ایک عام قاری سرورق ہی کو دیکھ کر جان جاتا ہے کہ یہ رسالہ اس کی ذہنی اور فکری تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
اسی طرح موصوف کے نزدیک مذہبی حلقوں کے موضوعات، مواد، الفاظ کا چناؤ اور اپروچ اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ ان کا دینی ادراک گھن گرج، چیخ پکار، لفظی مباحث، جگت بازی، جذبات اور فروعی مسائل کے گرد گھومتا ہے لہٰذا مذہبی طبقے کا ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہو چکا ہے۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ میاں صاحب، اور مذہبی حلقوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے ان جیسے دوسرے مخلصین ومصلحین کا دینی ادراک اگر ’’ابلیسیت زدہ‘‘ نہیں تو نا پختہ اور تعلیم وتربیت کا محتاج ضرور ہے۔ اب اگر مذہبی حلقوں کا دینی ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ اور غیر مذہبی حلقوں کا دینی ادراک نامکمل اور خام ہے تو پھر دین کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے کس کی بات کو معتبر سمجھا جائے؟
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
محمد احسن ندیم
(معاون ناظم)
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ
(۹)
۱۵ مئی ۲۰۰۴/۲۴ ربیع الاول ۱۴۲۵
بخدمت گرامی قدر مخدومی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
سب سے پہلے تو ’’اشاریہ معارف القرآن‘‘ پر دوبارہ تقریظ تحریر فرمانے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دیں۔ آمین
آپ کا مرسلہ ’’نوائے شریعت‘‘ کا خصوصی شمارہ ملا۔ یاد فرمائی کا شکریہ۔ آپ کا تجزیہ پڑھنے سے یہ دکھ پھر تازہ ہو گیا کہ ہمارے اہل علم وفضل جس رخ پر کام کر رہے ہیں، بس اسی تک محدود ہیں۔ دائیں بائیں دیکھنے کو تیار نہیں۔ عوام الناس کی فکری تربیت، لچھے دار تقریروں سے ہٹ کر، بہت کم خطبا کرتے ہیں۔ جو عالم جس خصوصی شعبہ میں کام کر رہا ہے، اس کا علم اسی تک محدود ہے۔ دوسرے دینی شعبوں میں اس کی معلومات انتہائی افسوس ناک حد تک کم ہوتی ہیں۔ خطبا نے بھی موضوع طے کر رکھے ہیں۔ کوئی سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی خطیب بریلویت، کوئی خطیب رافضیت کے رد کے حوالہ سے مشہور ہے۔ ان خطبا کو عوام الناس کی عمومی دینی حالت اور معاشرتی خرابیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ بقول شخصے اردو گا کر پڑھنا، قرآن مجید ترنم سے پڑھنا منتہاے خطابت ہے۔
حضرت والا! ایک خطیب صاحب نے ہزاروں کے مجمع میں خطاب فرمایا: ’’لوگ کہتے ہیں غربت ہے۔ ہمارے پاس تو بکرے روسٹ ہو کر آ جاتے ہیں۔ ہمیں تو غربت نظر نہیں آتی۔ معلوم نہیں غربت کہاں ہے‘‘ ایک معروف سکالر اس وقت جلسہ گاہ کے باہر احقر کے پاس بیٹھے تھے۔ ہم دونوں سر پکڑ کر اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر رہ گئے۔ ہمارے حالات یہ ہیں اور شکوہ ہوتا ہے لوگوں کی ناقدری کا۔ خطبا کی تقریروں میں مقصد کی بات بہت کم ہوتی ہے، ادھر ادھر کی باتیں تقریروں میں زیادہ ہوتی ہیں۔
پاکستان میں تمام مسالک کے دس ہزار سے زائد مدرسے ہیں لیکن ا س کے باوجود پاکستان میں بہائیت، عیسائیت، پرویزیت وغیرہ روز افزوں ہے۔ وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ اصلاح عقائد واصلاح معاشرہ کی فکر بہت کم ہے۔ مدرسہ میں اتفاقاً پہنچ جانے والے طلبا کی تربیت اور ان کے خور ونوش کے انتظامات کی فکر زیادہ ہے۔
حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تصنیفی کام بھی کیا، ملازمت بھی کی، مدرسہ بھی بنایا جو کہ دار العلوم دیوبند کے نام سے عالمی سطح پر معروف ہے، ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظرے بھی کیے، جہاد بالسیف بھی کیا۔ وہ سب کام کر سکتے ہیں اور ہم ان کے نام لیوا، ان کی طرف نسبت کر کے ’قاسمی‘ کہلانے والے کچھ نہیں کر سکتے۔ بقول شخصے جب ہمارے ذاتی مفادات پر زد پڑتی ہے تو فوراً چلاتے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے۔ جب تک ہمارے ذاتی مفادات متاثر نہ ہوں، اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ہمارے پچاس فی صد مدارس کے پاس ماشاء اللہ اتنے وسائل ہیں کہ اگر ان کے منتظم ومہتمم صاحبان چاہیں تو تحریری وتقریری طور پر فرق باطلہ کے ابطال اور اصلاح معاشرہ کا (اسلامی حکمت عملی کے ساتھ) کام کرنے کے لیے مستقل شعبہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس میں موزوں صلاحیت رکھنے والے علما وخطبا کا تقرر کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ نہ سہی، ایک دو ہی سہی۔ لیکن بے حسی کا علاج کون کرے؟
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
آپ نے اپنے مضمون میں جن تین مرحلوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے پہلے مرحلے کی آپ خود ہی ابتدا کر چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے لیے وسیع مطالعہ اور تحقیقی بنیادوں پر تالیفات کی ضرورت ہے۔ احقر نے جو حالات پہلے اجمالاً ذکر کیے ہیں، ان کی بنیاد پر مایوسی طاری ہوتی ہے۔ احقر ایک سرپھرا شخص ہے لیکن بہت سی مجبوریاں آڑے ہیں۔ فی الحال اس بوجھ کو اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ احقر کی طرح اور بھی کئی حضرات درد دل رکھنے کے باوجود مجبور ہوں گے۔ تاہم معاشی ومعاشرتی آزادی رکھنے والے علماء کرام کی بھی کمی نہیں ہے، بشرطیکہ ضرورت محسوس فرمائیں تو۔
احقر کو یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کو رابطہ عالم اسلامی کے انسانی حقوق نمبر سے رابطہ کا مرتب کردہ انسانی حقوق کا چارٹر دیا تھا بلکہ غالباً اس کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا جو کہ ’الشریعہ‘ کے ایک خاص نمبر میں شائع ہوا۔ آپ دو چار اہل علم سے انفرادی واجتماعی مشاورت فرما لیں اور رابطہ کے مرتب کردہ ’’انسانی حقوق کے چارٹر‘‘ میں جس ترمیم واضافہ کی ضرورت ہو، وہ کر کے ممتاز دینی اداروں سے تائیدی دستخط کرا لیں۔ پھر اس کو انٹر نیٹ پر اور دیگر طریقوں سے مشتہر فرمائیں۔
آپ کی وساطت سے علماء کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ ہر شعبہ میں کام کرنا اور جہاں جو فتنہ اٹھے، مکمل تیاری کے ساتھ اس کا رد کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت مبارک ہے۔ مولانا قاسم نانوتویؒ کا طریق کار بھی یہی رہا ہے۔ اسپیشلائزیشن (تخصص) کا دور ہونے کا جواز اپنی جگہ، لیکن معاشرتی ودینی فتنوں سے صرف نظر کرنے کی کیا اسلام اجازت دیتا ہے؟
تلخ نوائی کی معذرت کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔
والسلام۔ آپ کا نیاز مند
(مولانا) مشتاق احمد
جامعہ عربیہ۔ چنیوٹ
(۱۰)
۱۴ مئی ۲۰۰۴ء/۲۳ ربیع المنور ۲۵ھ
مکرمی حضرت زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ علیٰ کل حال
۱۔ اپریل کے اواخر میں بعض کتابیں بذریعہ پارسل روانہ کی تھیں۔ مل گئی ہوں گی۔
۲۔ ہندوستان سے ایک تحقیقی استفسار آیا ہے ابن عربیؒ کی کوئی تصنیف بعنوان ’’التنزلات الموصلیہ‘‘ کے بارے میں (موصل۔ عراق کا شہر) میرے پاس موجود ومیسر تذکروں میں ایسی کوئی تصنیف مذکور نہیں۔ کیا آپ کے علم میں ایسی کسی کتاب کا وجود ہے؟ اصل عربی میں ہو یا امکاناً اگر اردو ترجمہ ہوا ہو۔ آپ کے ہاں یا آپ کے علم کی حد تک پاکستان کی کسی لائبریری میں؟ اگر بہ آسانی آپ کو اس کا علم ہو سکے تو میری عدم حاضری مستقر کے باوجود برخوردار عاصم قادری سلمہ کو میرے گھر کے پتے پر مطلع فرما دیجیے۔ وہ تعاقب کر لیں گے۔ فجزاکم اللہ۔ میں نے بھی یہاں مختلف سمات میں صحرائی اذانیں دے رکھی ہیں۔
۳۔ اپریل/مئی کا ’الشریعہ‘ مل گیا، دو روز قبل۔ وقت پر شدید بلکہ ناگفتہ بہ دباؤ کے باوجود آپ کا ’کلمہ حق‘ بہرحال پڑھ لیا۔ نہ معلوم کیوں ذہن کے غار حرا میں یہ آواز گونجتی رہی کہ کیا یہ حکم خداوندی اسی قسم کے ائمۃ الجہال کے حق میں تو نہ اتری تھی جن سے آپ مخاطب ہیں: واذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاما۔ واذا مروا باللغو مرواکراما۔ صدیوں سے ان حضرات کے نزدیک تحقیق کا تلفظ تحقیر وتضحیک بلکہ بعض اوقات توبیخ ہو جاتا ہے۔ ہمارے بڑے سائیں سبحانہ تو ایسی پیاری باتیں کرتے ہیں کہ شاکرا لانعمہ سجدہ ریز ہو جاتا ہوں۔ یہ بات ان شکست خوردہ گروہ کے لیے ہی تو آئی ہوگی نا کہ ’ام عندہم خزائن رحمت ربک العزیز الوہاب۔ ام لہم ملک السماوات والارض فلیرتقوا فی الاسباب‘؟ نہیں بلکہ ان کا یہ رویہ اس لیے ہے کہ ’جند ما ہنالک مہزوم من الاحزاب۔ فتعالی اللہ الملک الحقً۔ حضرت! آپ اس قوم، کم نظر، بے ہنر وکم کوشوں کی قوم پر بہ ایں ہمہ اللہ کا انعام ہیں۔ المنۃ للہ ولہ الحمد۔ ایک بار ہلکے سے یہ آیت تو ورد کر لیجیے۔ ’لعلک باخع نفسک علی آثارہم‘۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین
فقط
سید عماد الدین قادری
کراچی
(۱۱)
مکرمی ومحترمی جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
عرض ہے کہ عام مذہبی جرائد (میری معلومات کی حد تک) پڑھنے سے قاری کو شعور وآگہی میں کوئی مدد نہیں ملتی اس لیے کہ ان کی سوچ اپنی مسلکی تنگنائے سے اوپر اٹھتی ہی نہیں، جس کا اعتراف آپ نے ’الشریعہ‘ جون ۲۰۰۴ء کے ادارے میں کیا۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ دن بدن خرد افروزی کی طرف مائل ہوتا چلا جا رہا ہے اور تقلید کی کینچلی اتار کر حقیقت دین روشناس کرانے کی جدوجہد میں مصروف ہے، جیسا کہ عزیزم عمار خان ناصر کے مسجد اقصیٰ کے متعلق مقالہ (الشریعہ، ستمبر/اکتوبر ۲۰۰۳ء، اپریل/مئی ۲۰۰۴ء) سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑی پیش رفت اور جرات ہے جو ’الشریعہ‘ نے کر دکھائی۔ میں آپ کی اور آپ کے صاحبزادے عمار خان ناصر اور پروفیسر انعام الرحمن کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں۔
ایک حسن اتفاق سے آپ کا غائبانہ تعارف ہوا اور اسی حسن اتفاق کے نتیجے میں میری الٹی سیدھی تحریر نے ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اب کے پھر میں نے عزیزم عمار خان ناصر کی پیروی میں مسجد اقصیٰ اور سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کے متعلق کچھ دوسرے لوگوں کا نقطہ نظر ارسال کیا ہے اور عزیزم عمار خان ناصر صاحب کو اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ میں لکھاری نہیں ہوں، محض ایک کم علم سا قاری ہوں، اس لیے میں تحریر کے آداب ورموز سے ناواقف ہوں۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے خیالات کو ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہوں جس کی وجہ سے شاید میری تحریر معیار ادب پر پوری نہ اترتی ہو۔ اس کے لیے معذرت خواہ ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ میری اس فرو گزاشت کو نظر انداز فرماتے ہوئے اسے ’الشریعہ‘ کی کسی قریبی اشاعت میں جگہ عطا فرما کر ممنون فرمائیں گے۔
آپ تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ سے مجھ ناچیز پر شفقت فرما رہے ہیں۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے مل رہا ہے۔ اس کے لیے میں آپ کا ممنون احسان ہوں۔ اب کے مجھ میں آپ کا مزید بار احسان اٹھانے کی ہمت نہیں رہی، اس لیے ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی دین سے متعلق شعور وآگہی کی جدوجہد میں شرکت کی غرض سے حقیر سا حصہ (دو سال کا زر مبادلہ بذریعہ منی آرڈر) ارسال خدمت ہے۔ امید ہے کہ آپ قبول فرمائیں گے۔ آپ کی صحت اور درازی عمر کا متمنی
نیاز آگیں
آفتاب عروج
(۱۲)
۲۲ مئی ۲۰۰۴
محترم جناب گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم۔ مزاج شریف
آپ کے ارسال کردہ سار ے مضامین ’بیداری‘ کی ضرورت ہیں۔ شاید کچھ مضامین وقتی نوعیت کے ہیں ورنہ بیشتر مضامین تقریباً مستقل نوعیت کے ہیں۔ اس بار ’بیداری‘ کے شمارے کے لیے دو مضامین کمپوزنگ کرا لیے تھے لیکن مواد کی زیادتی کی وجہ سے ایک مضمون کو موخر کر دیا۔ آپ کے یہ مضامین سندھی زبان میں بھی ترجمہ کر کے ’بیداری‘ سندھی میں دے رہے ہیں۔ آئندہ بھی اگر شائع ہونے والے مضامین کی فوٹو کاپی ارسال فرمائیں تو یہ عاجز ازحد ممنون ہوگا۔
دوسری خاص گزارش یہ ہے کہ بھارت میں ’الفرقان‘ کے مرتب حضرت مولانا یحییٰ نعمانی صاحب علما کے لیے ایک ایسا کورس شروع کرنا چاہ رہے ہیں جس سے ان کے اندر کسی حد تک یہ صلاحیت پیدا ہو سکے کہ وہ دور جدید کے علمی، فکری اور نظریاتی چیلنج کو سمجھ سکیں۔ اس سلسلے میں مشاورت کے لیے مولانا کا خط آیا ہے۔ اس عاجز نے انھیں لکھا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان میں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کا تجربہ سب سے زیادہ ہے اور وہ اس سلسلہ میں کافی عرصہ سے کوشاں بھی ہیں۔ آپ کی خدمت میں حضرت مولانا کا خط جو بیداری کے جون کے شمارے میں چھپ رہا ہے، کمپوزنگ شدہ ارسال خدمت ہے۔ اگر وقت نکال کر اس سلسلہ میں حضرت مولانا کی تفصیل سے اپنے تجربات کی روشنی میں رہنمائی فرما سکیں تو ازحد احسان ہوگا۔ حضرت مولانا کو آپ کے خط کا انتظار ہوگا۔ میں نے لکھا ہے کہ اس سلسلے میں اس عاجز کی ناتجربہ کاری کے پیش نظر ان شاء اللہ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب آپ کو تفصیلی خط تحریر فرمائیں گے۔
میرا علاج چل رہا ہے۔ الحمد للہ فائدہ ہے لیکن فائدہ کی رفتار سست ہے۔ خصوصی دعا کی التجا ہے۔
اس ماہ کا ’الشریعہ‘ مل چکا ہے۔ آپ کے ادارتی نوٹ سے یہ عاجز سو فی صد متفق ہے۔ خدا کرے ’بیداری‘ کا شمارہ مل گیا ہو۔
خدا کرے مزاج بخیر ہوں۔
والسلام۔ احقر
محمد موسیٰ بھٹو
(ایڈیٹر ماہنامہ ’بیداری‘)
۴۰۰/بی ، لطیف آباد یونٹ ۴، حیدر آباد)
(۱۳)
باسمہ سبحانہ
محترمی حضرت مولانا محمد یحییٰ نعمانی صاحب زیدت مکارمکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاج گرامی؟
مولانا محمد موسیٰ بھٹو آف حیدر آباد کے ذریعے سے آپ کی ایک تحریر موصول ہوئی اور ان کا پیغام ملا کہ میں اس سلسلے میں آنجناب کو اپنے خیالات وتاثرات سے آگاہ کروں۔
حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی سے میری پرانی نیاز مندی ہے۔ کم وبیش ہر سال ایک آدھ مرتبہ ان کی خدمت میں حاضری، ملاقات اور مختلف امور پر استفادے کا موقع مل جاتا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی صاحب کے ساتھ بھی ایک سفر میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی معرفت رفاقت رہی ہے۔ آپ کی زیارت کا موقع ابھی تک نہیں مل سکا، البتہ آپ کی تحریریں بسا اوقات نظر سے گزرتی رہتی ہیں اور خوشی ہوتی ہے کہ اس صحراکی آبلہ پائی میں ہم تنہا نہیں ہیں۔
ہمارے بزرگوں نے اپنے مدارس کے فضلا کو حکمت عملی کے تحت ایک دائرے میں محدود رکھنے کی شعوری کوشش کی تھی تاکہ دینی مدارس، مساجد اور مکاتب کا نظام قائم رہے اور اسے ضرورت کے مطابق رجال کار ملتے رہیں مگر ہم نے اسے ہی سب کچھ قرار دے لیا ہے اور اس دائرے سے باہر کسی ضرورت، تقاضے اور پکار کی طرف توجہ دینے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں جبکہ وقت بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھتا جا رہا ہے اور ہم وقت کی لگام کھینچنے کی ناکام کوشش میں اس کے ساتھ بری طرح گھسٹ رہے ہیں۔
اس وقت ہم عجیب مخمصے اور صورت حال سے دوچار ہیں۔ ایک طرف تحفظات اور خدشات وخطرات کے وہ تمام دائرے بدستور موجود ہیں جن کی وجہ سے ہمارے بزرگوں نے اپنے گرد ایک دائرہ کھینچ کر خود کو اس کے اندر محصور کر لیا تھا اور دوسری طرف وقت کی تیز رفتاری اور عالمی سطح پر فکر وفلسفہ اور تہذیب وثقافت کی ہمہ جہت کشمکش، توڑ پھوڑ، ایڈجسٹمنٹ اور تشکیل نو کے مختلف اور متنوع مراحل ومظاہر نے ہمارے سامنے ایسے سنگین مسائل اور چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں کہ ان سے صرف نظر کرنا ملی ضروریات سے انحراف اور ایمانی تقاضوں سے دست برداری کے مترادف محسوس ہونے لگا ہے۔
میری ایک عرصہ سے یہ سوچ چلی آ رہی ہے کہ درس نظامی کے موجودہ سسٹم کو نہ چھیڑا جائے، اسے اسی طرح چلنے دیا جائے اور اس میں داخلی اصلاحات کے ذریعے سے بہتری کی کوششیں جاری رکھی جائیں لیکن کچھ اصحاب فکر اس سے ہٹ کر وقت کی ضروریات کی طرف توجہ دیں اور ان کی تکمیل کے لیے ایک الگ تعلیمی نظام کا تجربہ کیا جائے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش تینوں جگہ انفرادی طور پر اس کے تجربات ہو رہے ہیں اور اس رخ پر کام کرنے والے اداروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن ان کے درمیان رابطہ ومشاورت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اگر اس خلا کو پر کیا جا سکے تو موجودہ کام کی افادیت دوچند ہو سکتی ہے اور اس میں مزید بہتری اور پیش رفت کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اسی سلسلے کا ایک مرحلہ درس نظامی کے فضلا کے لیے خصوصی کورسز کے اہتمام کا ہے تاکہ آج کے فکری تقاضوں کے ساتھ ان کا رشتہ جوڑا جا سکے۔ یہ کام بھی مختلف مقامات پر ہو رہا ہے اور تخصصات کے نام پر درس نظامی کے فضلا کو مختلف علوم وفنون کے خصوصی مطالعہ کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم نے بھی الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں گزشتہ سال ایک تجربہ کا آغاز کیا ہے۔ درس نظامی کے فضلا کی ایک کلاس کو ہم نے مندرجہ ذیل مضامین کی تیاری کرانے کی کوشش کی ہے:
- حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب (مقدمہ، ارتفاقات اور اسباب اختلاف صحابہ وفقہا)
- اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر (اسلامی احکام کے تقابلی مطالعہ کے ساتھ)
- مقارنۃ الادیان (یہودیت، مسیحیت، ہندو مت، بدھ مت، مجوسیت اور سکھ مت کا تعارفی مطالعہ)
- تاریخ (عمومی تاریخ، تاریخ اسلام اور معاصر تاریخی حالات)
- سیاسیات، نفسیات اور معاشیات کا تعارفی مطالعہ
- معاصر علمی وفکری بحثوں کا تعارف
- انگریزی، عربی اور کمپیوٹر ٹریننگ
یہ ایک سالہ کورس تھا جس کی افادیت ہم پڑھانے والوں کے علاوہ پڑھنے والوں نے بھی بہت زیادہ محسوس کی ہے اور اب ہمارے پاس اس سلسلے کی دوسری کلاس ہے۔ ہم اس کے بارے میں ابھی پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ بہت سے ضروری امور ہم اس میں شامل نہیں کر پائے اور بہت سے شامل امور کی تکمیل ہمارے بس میں نہیں رہی لیکن مجموعی طور پر یہ تجربہ مفید رہا۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ بھی اس رخ پر سوچ رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور حسب استطاعت مشاورت کے درجہ کے تعاون کے لیے ہم ہر وقت حاضر ہیں۔
میں نے اس سے متعلقہ امور پر بیسیوں مضامین میں گزارشات پیش کی ہیں جن میں سے بہت سے مضامین ہماری ویب سائٹ www.alsharia.org پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں آنجناب سے بھی راہ نمائی اور مشاورت کے خواست گار ہیں۔ امید ہے کہ ہمارا باہمی رابطہ قائم رہے گا اور ہم اس کارخیر کو بہتر سے بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں ایک دوسرے سے موثر تعاون کر سکیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
آپ کے ارسال کردہ دو مضامین موصول ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ’بذل المجہود‘ کے تعارف پر مبنی آپ کا مقالہ تو پاکستان کے بعض جرائد میں شائع ہو چکا ہے، البتہ ’’سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت‘‘ کے زیر عنوان مقالہ ’الشریعہ‘ کی کسی قریبی اشاعت میں شامل اشاعت کر لیا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ آپ کی طرف سے قلمی تعاون کا یہ سلسلہ امید ہے کہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
احباب ورفقا سے سلام مسنون
شکریہ! والسلام
ابو عمار زاہد الراشدی
خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
(۸/ جون ۲۰۰۴ء)
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’تجلیات سیرت‘‘
مصنف: ڈاکٹر حافظ محمد ثانی
ناشر: فضلی سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، اردو بازار، کراچی
قیمت: /-۲۰۰ روپے
سیرت رسولِ عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لامتناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر مزید بڑھتا جائے گا۔
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے
جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے۔ کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو وہ آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز ومحور ہیں۔ بقول اقبالؒ
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ او ست
گر باو نرسیدی تمام بو لہبی است
یہود و نصاریٰ اور ہندو قوم اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ مسلمان بحیثیت قوم اپنے زوال کے منطقی انجام سے صرف اسی وقت دوچار ہوں گے جب ان کے دلوں سے محمد عربی ﷺ کی محبت نکال دی جائے، چنانچہ گیارہویں صدی عیسوی سے منظم انداز میں شروع ہونے والی تحریک استشراق کا سب سے اہم ٹارگٹ ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں محمد ﷺ کی سیرت وکردار کے بارے میں تشکیک اور شبہات کے بیج بوئے جائیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے احترام رسول نکل جائے، کیونکہ محبت اور احترام کے بغیر اطاعت کا تصور محال ہے اور اس طرح اسلام خودبخود اپنی حقیقت کھو بیٹھے گا۔ اقبال نے فرنگی کی اس سازش کو بروقت بھانپتے ہوئے اسے ان الفاظ میں بے نقاب کیا:
یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز ویمن سے نکال دو
مستشرقین کا اول مقصد یہ تھا کہ عیسائی رائے عامہ کو اسلام سے ’’محفوظ‘‘ رکھا جائے اور مسلمانوں کو اگر عیسائی بنانا ممکن نہ بھی ہو تو ان کو کم از کم مسلمان نہ رہنے دیا جائے۔ چنانچہ مستشرقین کے اس گمراہ کن اور منظم پروپیگنڈا کا اثر تھا کہ یورپ میں ایک مدت تک عوام الناس میں یہ تصور رہا کہ ’’محمد‘‘ ایک بت ہے (معاذ اللہ) جس کی مسلمان پوجا کرتے ہیں۔ بعد کے مستشرقین نے اگر متقدمین کے منفی اور غلط پروپیگنڈا پر شرمندگی کا اظہار کیا تو اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ علمی ترقی کے اس دور میں محمد ﷺ کے متعلق اس قسم کی فرضی داستانیں اور الزام تراشیاں اسلام کے مقابلے میں خود ان کی تحریک کے لیے زیادہ نقصان کا باعث ہو سکتی تھیں، اس لیے ان لوگوں نے فقط تحریک استشراق کے بارے میں منفی تاثرات سے بچنے کے لیے غیر علمی خیالات کی تردید کی اور اپنے آپ کو منصف مزاج محقق ثابت کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے بعض پہلوؤں کی دل کھول کر تعریف کی۔ تاہم انصاف کے آئینے میں حقائق کو پوری طرح سے دیکھنے کی توفیق ان کو بھی نہ ہوئی۔ ان کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ اس طریقے سے مسلمانوں کی حمایت حاصل کی جائے اور اپنے رویے میں معمولی تبدیلی سے انہوں نے یہ مقصد حاصل کر لیا۔ منٹگمری واٹ اور تھامس کارلائل جیسے لوگوں نے اسلام کے متعلق چند کلمات خیر لکھ دیے تو مسلمانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور مصنفوں نے دل کھول کر ان کی تعریف کی اور انہیں منصف مزاج اور غیر جانب دار محقق کے خطابات سے نوازا، حالانکہ انہی لوگوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی سیرت پر بھرپور حملے بھی کیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مستشرقین کی تحقیقات کو پوری احتیاط سے لیا جائے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے چند کلمات خیر کی وجہ سے ان کی جملہ زہر آلود تحقیقات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ ذہنی بیداری کے اس دور میں بعض مستشرقین نے مثبت باتیں بھی کی ہیں اور وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی عظمت کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔
زیر نظر کتاب ’’تجلیات سیرت‘‘ میں مستشرقین کی جن کتب سے استفادہ کیا گیا ہے، وہ اکثر اسی نوعیت کی ہیں۔ مصنف نے بڑی محنت اور جانفشانی سے ایسے مستشرقین کے بیانات کو اکٹھا کیا ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے محاسن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور پھر اپنی تحقیقات میں اس کا برملا اعتراف اور اظہار بھی کیا۔ کسی نظریے کے مخالف کا اس کی عظمت کو تسلیم کرنا معمولی بات نہیں۔ عربی مقولہ ہے: ’الفضل ما شہدت بہ الاعداء‘۔ یعنی حقیقی فضیلت وہ ہے جس کی دشمن بھی گواہی دیں۔
فاضل مصنف نے ایسے تمام بیانات کو بڑی تحقیق کے بعد یکجا کر دیا ہے اور مخالفین کی زبان سے اسلام اور پیغمبر اسلام کی عظمت کو بڑے خوب صورت اسلوب میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔
کتاب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس دور میں اسلام اور پیغمبر اسلام پر جس قدر بھی اعتراضات مستشرقین کی طرف سے عام طور پر کیے جاتے ہیں، تقریباً ان سب کا بڑی عمدگی سے جواب دیا گیا ہے۔ سید محمد قطب شہیدؒ کی کتاب ’’شبہات حول الاسلام‘‘ کی طرح یہ کتاب بھی جدید تعلیم یافتہ طبقے اور مغربی علوم سے مرعوب نوجوانوں کے لیے بڑی مفید کاوش ہے۔ اگر کتاب کا عربی، انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں ترجمہ ممکن ہو تو امید افزا نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
کتاب کے آخری باب میں مصنف نے ہندو اور سکھ شعراء کا نعتیہ کلام بھی جمع کیا ہے۔ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں ہندو اور سکھ شعراء کے نذرانہ عقیدت پر مشتمل ۵۵ نعتوں کے اس مجموعہ نے جہاں کتاب کو دوسری کتب سیرت کے مقابلے میں امتیاز بخشا ہے، وہاں اس سے ذات مصطفی کے ساتھ خود مصنف کی والہانہ محبت اور عقیدت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
’’تجلیات سیرت‘‘ کو یقینی طور پر کتب سیرت میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر آئندہ ایڈیشن میں حسب ذیل تجاویز کو مد نظر رکھا جائے تو کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا:
۱۔ حوالہ جات کو فٹ نوٹ میں درج کیا جائے۔
۲۔ بہت سے مقامات پر حوالہ جات ناقص ہیں، انہیں مکمل کیا جائے۔
۳۔ بعض اقتباسات کو مصنف کی طرف منسوب کرنے پر اکتفا کی گئی ہے اور کتاب کا نام درج نہیں کیا گیا۔ اس نقص کی تلافی ہونی چاہیے۔
۴۔ بعض مقامات پر ثانوی مصادر سے حوالہ جات نقل کیے گئے ہیں حالانکہ اصل کتب تک بھی رسائی ہو سکتی تھی۔
۵۔ ہندو اور سکھ شعراء کی نعتیں ان کے جن مجموعہ ہائے کلام سے لی گئی ہیں، اگر ان کا حوالہ بھی درج کر دیا جائے تو بہتر ہو گا۔
(پروفیسر محمد اکرم ورک)
حکیم الامت اکیڈمی مانچسٹر کے رسائل
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے خلیفہ مجاز الحاج ابراہیم یوسف باوا رنگونی اور ان کے لائق فرزند مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی ادارہ اشاعت الاسلام گلاسٹر اور حکیم الامت اکیڈمی مانچسٹر (برطانیہ) کی طرف سے مختلف دینی موضوعات پر مفید اور معلوماتی کتابچے شائع کرتے رہتے ہیں اور برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح اور دینی اصلاح کے لیے مسلسل مصروف کار رہتے ہیں۔ اس وقت ان کے مندرجہ ذیل رسائل ہمارے پیش نظر ہیں:
’’مجموعہ قرآنی اعمال‘‘
اس میں قرآن کریم کی دعاؤں اور روحانی اعمال کا ایک مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔
’’رمضان کے روزے‘‘
اس میں روزے کی فرضیت، فضیلت اور مسائل کا عام فہم انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔
’’صحاح ستہ‘‘
اس میں خلفائے راشدین کے علاوہ عشرہ مبشرہ میں شامل چھ بزرگوں کے حالات زندگی اور فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے۔
’’حضرت امیر معاویہ‘‘
سیدنا حضرت امیر معاویہ کے بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی مختلف تحریرات و ملفوظات کو مرتب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
’’امام اعظم ابو حنیفہ‘‘
حضرت امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت اور علمی مقام کے بارے میں امام عبد الوہاب شعرانی کے ارشادات کو حافظ محمد اقبال رنگونی نے خوب صورت انداز میں مرتب کیا ہے۔
’’ماتم نہ کیجیے‘‘
اس میں ماتم کے بارے میں قرآن و سنت اور ائمہ اہل بیت کے ارشادات کی روشنی میں شرعی مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے۔
’’تذکرۂ محمود‘‘
برما کے بزرگ عالم دین اور مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمود داؤد ہاشم یوسف کے حالات زندگی اور علمی و دینی خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں یہ تمام رسالے مکتبہ الفاروق، ۱۹۔ سلطان پورہ روڈ لاہور سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
(ادارہ)