دینی مدارس کے اساتذہ کیا سوچتے ہیں؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۳ ۔۴ دسمبر ۲۰۰۳ء کو دینی مدارس کے اساتذہ کی دو روزہ باہمی مشاورت اور نصاب وتربیت کے حوالے سے مختلف امور پر مذاکرہ ومباحثہ کا اہتمام کیا گیا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ، جامعہ حقانیہ گوجرانوالہ، جامعہ فتاح العلوم گوجرانوالہ، دار العلوم مدنیہ رسول پارک لاہور، جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ، جامعہ عربیہ چنیوٹ، جامعہ حنفیہ قادریہ باغ بان پورہ لاہور، جامعہ اسلامیہ کامونکی، جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم، جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے تیس کے لگ بھگ اساتذہ نے اس مشاورت ومذاکرہ میں حصہ لیا۔ پہلی نشست کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے سینئر ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے کی اور شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے ’’درس نظامی کی اہمیت وافادیت‘‘ پر مقالہ پڑھا۔ دوسری نشست کی صدارت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے ’’طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ تیسری نشست کی صدارت جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی نے کی اور اس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب میں کی جانے والی حالیہ ترامیم کے بارے میں شرکاء مذاکرہ نے باری باری اظہار خیال کیا جبکہ چوتھی اور آخری نشست راقم الحروف کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں معہد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد کے مولانا محمد بشیر سیالکوٹی نے ’’دینی مدارس میں عربی کی تعلیم کا منہج اور ضروری اصلاحات‘‘ کے عنوان پر اظہار خیال کیا اور راقم الحروف نے ’’فکری اور مسلکی تربیت کے چند اہم پہلو‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔
پروگرام کے آغاز پر راقم الحروف نے اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے گزارش کی کہ اس مشاورت اور مذاکرہ ومباحثہ کے اہتمام میں ہمارے سامنے دو اہم مقصد ہیں۔ ایک یہ کہ دینی مدارس کے اساتذہ میں تعلیم وتربیت کے مسائل پر باہمی تبادلہ خیالات، غور وخوض اور بحث ومباحثہ کا ذوق پیدا ہو اور اس کا ماحول بنے اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام اور تعلیم وتربیت کے حوالے سے اس وقت جو امور قومی بلکہ عالمی سطح پر موضوع بحث ہیں اور جن کے بارے میں ہر طرف سے آرا وتجاویز سامنے آ رہی ہیں، ان پر دینی مدارس کے اساتذہ کی آرا اور موقف بھی سامنے آئے اور جو لوگ دینی مدارس میں طلبہ کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری براہ راست سرانجام دے رہے ہیں، ان کے رجحانات اور سوچ سے بھی لوگوں کو واقفیت حاصل ہو۔
اس مذاکرہ ومباحثہ کے ساتھ ہم اس کا آغاز کر رہے ہیں اور آئندہ بھی الشریعہ اکادمی متعلقہ مسائل وامور پر دینی مدارس کے اساتذہ کی باہمی مشاورت ومباحثہ کا وقتاً فوقتاً اہتمام کرتی رہے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
مذاکرہ ومشاورت کی مختلف نشستوں میں طلبہ کی تعلیم وتربیت اور وفاق المدارس کے ترمیم شدہ نصاب کے بارے میں اساتذہ نے جن خیالات کا اظہار کیا، ان کا خلاصہ قارئین کی معلومات کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
- وفاق المدارس کے نصاب میں جو ترامیم اور تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ خوش آئند ہیں اور ان کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی لیکن یہ ناکافی اور وقتی ہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ کم از کم نصف صدی تک کی ممکنہ صورت حال اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی طے کی جائے اور بجائے اس کے کہ ہر تین چار سال کے بعد جزوی تبدیلیاں کی جاتی رہیں، پچاس سال کے لیے ایک اصولی لائحہ عمل کا تعین کیا جائے۔ مثلاً ہم نے کچھ عرصہ قبل مڈل کی سطح کی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا اور اب میٹرک کی عصری تعلیم کو ضروری کہتے ہوئے نصاب کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ اگر ہم نے چار سال کے بعد ایف اے اور پھر چار پانچ سال کے بعد بی اے کو بھی شامل کرنا ہے تو اس کے بجائے بہتر ہے کہ یہ فیصلہ ابھی سے کر لیا جائے تاکہ مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ اور اگر اس سے آگے کے عصری نصاب کو شامل کرنا ضروری نہیں ہے تو ابھی سے حتمی طور پر کہہ دیا جائے تاکہ تذبذب اور گومگو کی فضا ختم ہو اور اساتذہ وطلبہ دل جمعی کے ساتھ کام کو آگے بڑھا سکیں۔
- مڈل تک کے نصاب کو دینی مدارس کے لیے ضروری قرار دیا گیا تو اس کا تاثر یہ تھا کہ دباؤ اور مجبوری کے تحت ایسا کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس نصاب کی تعلیم ہمارے ہاں اہتمام اور خوش دلی کے ساتھ نہیں ہو رہی بلکہ محض رسم پوری کرنے اور امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ میٹرک کے بارے میں بھی ایسا ہوگا اور ہمارے طلبہ میٹرک کر لینے کے بعد بھی میٹرک کے درجہ کی صلاحیت سے محروم رہیں گے، اس لیے یہ بات بھی ابھی سے اور دوٹوک انداز میں طے کرنے کی ہے کہ اگر تو یہ سب کچھ دباؤ اور مجبوری کی وجہ سے کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنے کی کوئی ضرورت وافادیت نہیں ہے بلکہ دباؤ قبول کرنے سے کھلے لفظوں میں انکار کر دینا چاہیے اور اگر فی الواقع اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ہم خود اس کی افادیت کا احساس کرتے ہوئے اسے شامل نصاب کرنا چاہتے ہیں تو پھر میٹرک کے نصاب کی تعلیم بھی خوش دلی اور اہتمام کے ساتھ ہونی چاہیے اور اس کے مضامین کی پوری طرح تیاری کرائی جانی چاہیے تاکہ ہمارے طلبہ اس معاملے میں دوسرے سکولوں کے طلبہ سے پیچھے نہ رہیں۔
- عربی کی تعلیم کے حوالے سے وفاق المدارس کے نصاب میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ جزوی طور پر افادیت کی حامل ضرور ہیں لیکن ان سے اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ عربی زبان کی تعلیم سے بنیادی طور پر ہمارے دو مقصد ہیں۔ ایک یہ کہ فارغ التحصیل عالم دین کا قرآن وسنت، فقہ اسلامی اور دیگر علوم اسلامی کے ساتھ تعلق ورابطہ مضبوط ہو اور وہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کر سکے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ آج کے ماحول اور ضروریات کے مطابق عربی زبان میں گفتگو کر سکے، بوقت ضرورت خطاب کر سکے، آج کے عربی لٹریچر سے استفادہ کر سکے اور مروجہ عربی زبان میں لکھ پڑھ سکے۔ درس نظامی میں عربی زبان کے حوالے سے جن علوم اور مواد کی تعلیم دی جاتی ہے، اس سے پہلا مقصد تو کسی حد تک پورا ہو جاتا ہے لیکن دوسرا مقصد کسی درجہ میں بھی حاصل نہیں ہوتا اور فارغ التحصیل علما بلکہ سالہا سال تک تدریس کا فریضہ سرانجام دینے والے اساتذہ کرام بھی مروجہ عربی میں گفتگو اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت واستعداد سے محروم رہتے ہیں۔ اس کمزوری کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے اور وفاق المدارس کے نصاب میں کی جانے والی حالیہ ترامیم سے یہ خلا پر نہیں ہوگا بلکہ صورت حال جوں کی توں رہے گی۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد قدیم عربی اور اس کے متعلقہ علوم کی اہمیت کم کرنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ جدید عربی اور اس کے تقاضوں کو شامل کرنا ہے تاکہ ہمارے فضلا قدیم لٹریچر سے استفادہ کی بھرپور صلاحیت کے ساتھ ساتھ جدید اور مروجہ عربی زبان میں بھی ضروری استعداد حاصل کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے عربی زبان کی تعلیم کے جدید اسلوب اور ادب عربی کے جدید لٹریچر سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا ناگزیر ہے اس لیے کہ اس کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔
- وفاق المدارس نے نصاب میں ترمیم واضافہ کے حوالے سے سب سے زیادہ ضروری اور اہم مسئلہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور وہ ہے اساتذہ کی تربیت اور تدریس کی فنی ٹریننگ کا نصاب جس کی غیر موجودگی بہت سی کمزوریوں اور خرابیوں کا باعث بن رہی ہے۔ ہمارے ہاں اساتذہ کی تربیت کا کوئی نصاب یا نظام موجود نہیں ہے۔ صرف دورۂ حدیث کی سند میں ذہین طالب علم کی سند پر لکھ دیا جاتا ہے کہ ’’یہ تدریس کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘ اور وہ بھی تدریس کی کسی عملی تربیت کے بغیر۔ یہ طریق کار درست نہیں ہے۔ معاصر تعلیمی نظاموں میں پرائمری سکول کے استاذ کا تقرر بھی باقاعدہ کورس کی تکمیل کے بغیر نہیں ہوتا جبکہ اس سے اعلیٰ درجوں کے لیے سال سال اور دو دو سال کے تربیتی نصاب ہیں جو ٹیچر بننے والے کو لازمی طور پر پڑھنا پڑتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کسی عملی اور فنی تعلیم وتربیت کے بغیر کوئی بھی فاضل اپنی ذہانت یا تعلقات کی بنیاد پر مسند تدریس پر فائز ہو جاتا ہے۔
خود ہمارے ہاں کچھ عرصہ قبل تک افتا کا کوئی باضابطہ کورس نہیں ہوتا تھا اور کوئی ذہین مدرس کسی پختہ کار مفتی کی نگرانی میں چند سال عملی تجربہ حاصل کر کے مفتی کے منصب پر فائز ہو جایاکرتا تھا مگر اب اسے کافی نہیں سمجھا جا رہا بلکہ افتا کا باقاعدہ نصاب طے کیا گیا ہے اور کورس مقرر کیا گیا ہے جس کی تکمیل مفتی کے منصب کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح استاذ کے منصب کے لیے بھی سابقہ طریق کار پر قناعت کافی نہیں ہے بلکہ تدریس کی فنی تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ عملی استعداد میں اضافہ اور فکری اور اخلاقی ودینی تربیت کی ضروریات پر مشتمل نصاب کی ترتیب ضروری ہے اور یہ کام وفاق المدارس ہی کو کرنا چاہیے کیونکہ استاذ تمام تر ذہانت اور لیاقت کے باوجود اگر تدریس کے فن سے آگاہ نہیں ہے تو وہ اپنا علم طلبہ تک صحیح طور پر منتقل نہیں کر سکے گا۔ اگر وہ خود کسی فکری کج روی کا شکار ہے تو اس کی یہ متعدی بیماری طلبہ تک منتقل ہوگی اور اگر اس کی دینی واخلاقی تربیت ضرورت کے مطابق مکمل نہیں ہے تو اس کے شاگرد بھی اسی کے رنگ میں رنگے جائیں گے۔ یہ سب کچھ ہمارے ہاں عملی طور پر ہو رہا ہے اور اس کے تلخ نتائج بھی ہم اپنے ماحول میں دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح مدرس اور استاذ کے لیے تیار کیے جانے والے تربیتی نصاب میں طلبہ کی نفسیات اور آج کے ماحول سے آگاہی کو شامل کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ بہت سے طلبہ صرف اس لیے تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ ان کے مزاج، نفسیات اور ماحول کا لحاظ نہیں رکھاجا تا اور ان کے لیے تعلیم کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ - فکری اور اعتقادی تعلیم کے حوالے سے بھی ہمارا نصاب تشنہ ہے۔ ’’شرح عقائد‘‘ اور ’’العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ بہت ضروری اور مفید کتابیں ہیں جن کا شامل نصاب رہنا ضروری ہے۔ ان میں اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کی ضروری تشریح موجود ہے لیکن جن گمراہ فرقوں کے عقائد کا ان کتابوں میں تذکرہ ہے، وہ صدیوں پرانے ہیں جو اب موجود نہیں ہیں یا پہلے سے مختلف شکلیں اختیار کر چکے ہیں جبکہ آج کے گمراہ فرقوں اور ان کے عقائد کے حوالے سے ہمارے نصاب میں کوئی مواد موجود نہیں ہے اور ا س سلسلے میں پانچ درجوں پر ضروری مواد کو شامل نصاب کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے:
۱۔ معاصر ادیان ومذاہب مثلاً مسیحیت، یہودیت، ہندو مت، سکھ ازم اور بدھ مت وغیرہ کے بارے میں تعارفی اور تقابلی مواد۔
۲۔ اسلام سے منحرف مذاہب مثلاً قادیانیت، بہائیت، نیشن آف اسلام وغیرہ کے بارے میں ضروری معلومات۔
۳۔ اسلام سے منسوب گمراہ گروہوں مثلاً رافضیت اور منکرین حدیث وغیرہ کا تعارف۔
۴۔ اہل سنت کے داخلی مذاہب مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری اور سلفی وغیرہ کا تعارف اور تقابلی مطالعہ۔
۵۔ مغربی فکر وفلسفہ اور تہذیب وثقافت کا تاریخی پس منظر اور اسلام کے ساتھ اس کی کشمکش کی موجودہ صورت حال۔
اس ضروری مواد کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے مستقل کتابوں کی تصنیف کی ضرورت ہے جو تدریسی نقطہ نظر سے اور تدریسی انداز میں تحریر کی گئی ہوں یا دوسری صورت یہ ہے کہ ان کے بارے میں محاضرات کا اہتمام ہو لیکن اس کے لیے اساتذہ کی تیاری اور انہیں متعلقہ مواد کی فراہمی ضروری ہوگی تاکہ وہ محاضرات کی صورت میں اپنے تلامذہ کو صحیح معلومات دے سکیں۔ - اسلامی معیشت کے بارے میں جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب شامل نصاب کی گئی ہے جو بہت مفید اور ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ جدید معاشی نظام اور علم معیشت کا تعارفی مطالعہ شامل نصاب کیا جائے کیونکہ جب تک طالب علم جدید معیشت کے اصول اور طریق کار سے واقف نہیں ہوگا، اس کے لیے اسلام کے معاشی احکام وقوانین اور جدید معاشی نظام میں فرق کو صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ جدید سماجی علوم اور جنرل سائنس کا تعارفی مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اس کا مقصد ان علوم کی باقاعدہ تعلیم نہیں بلکہ ان کے مبادیات، بنیادی اصطلاحات اور افادیت سے طلبہ کو واقف کرانا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ آج کے مجموعی ماحول، ضروریات اور آج کی مروجہ زبان واصطلاحات سے آگاہی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
- طلبہ کی فکری تربیت کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت عملی صورت حال یہ ہے کہ جس استاذ کے ساتھ کسی طالب علم کا ذہنی میلان ہوتا ہے، وہ اسی کے فکر اور سوچ سے منسلک ہو جاتا ہے اور ایک ہی درس گاہ میں مختلف سوچوں اور فکری اہداف کے الگ الگ دائرے بن جاتے ہیں جو تعلیم سے فراغت کے بعد نہ صرف قائم رہتے ہیں بلکہ مزید ترقی کرتے ہیں جس سے فکری خلفشار پیدا ہوتا ہے۔ اس صورت حال کے تدارک کی طرف وفاق المدارس کی قیادت کو توجہ دینی چاہی اور اجتماعی فکری اہداف کا ایک دائرہ طے کر کے اسے اساتذہ کے تربیتی پروگرام کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ وہ طلبہ کی صحیح رخ پر تربیت کر سکیں۔
- دینی اور اخلاقی تربیت کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ فرائض وواجبات کی ادائیگی، باہمی حقوق ومعاملات اور عام لوگوں کے ساتھ میل جول کے آداب کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے اور اس کا زیادہ تر تعلق بھی اساتذہ سے ہے۔ اساتذہ اخلاقی اور دینی لحاظ سے مضبوط کردار کے حامل ہوں گے تو طلبہ پر اس کے اثرات ہوں گے اور اگر اساتذہ کی اخلاقی اور دینی حالت کمزور ہوگی تو طلبہ کی حالت اس سے زیادہ کمزور ہوگی۔ اس لیے اس سلسلے میں مدارس کے اساتذہ اور منتظمین کے ساتھ مسلسل رابطہ اور ان کی راہ نمائی کی ضرورت ہے۔
قارئین کرام! یہ ہے خلاصہ اس گفتگو کا جو مختلف دینی مدارس کے اساتذہ نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی دو روزہ مشاورت کے دوران متعدد مجالس میں کی۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام کی موجودہ صورت حال اور اس میں اصلاح وترامیم کی ضروریات کے بارے میں ان اساتذہ کی سوچ کیا ہے اور وہ کس انداز سے ان امور پر غور کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کے مابین مشاورت، باہمی تبادلہ خیالات اور بحث ومباحثہ کے اس دائرہ کو وسیع کیا جائے، مختلف علاقوں میں دینی مراکز اس کا اہتمام کریں بلکہ خود وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام قومی اور علاقائی سطح پر ایسی مشاورتوں اور مباحثوں کا انعقاد ہو تو اس کی افادیت اور اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے۔
امید ہے کہ ارباب بست وکشاد دینی مدارس کے اساتذہ کی ان آرا وتجاویز کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے اور باہمی مشاورت ومباحثہ کی اس روایت کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ دینی مدارس کی حفاظت فرمائیں اور ہم سب کو دینی تعلیم کے فروغ کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
خطبہ حجۃ الوداع کا دعوتی پہلو اور صحابہ کرامؓ پر اس کے اثرات
پروفیسر محمد اکرم ورک
۱۰ھ میں رسول اللہﷺ نے میدانِ عرفات میں حجۃ الوداع کے موقع پر ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جسے ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘کے نام سے یادکیا جاتا ہے۔ اس خطبہ کو اسلامی تعلیمات کا نچوڑ کہاجاسکتا ہے۔آپﷺ نے اپنی پوری زندگی جس مشن کی تکمیل کے لیے صرف کی تھی، آج اس کے نتائج آپﷺکے سامنے تھے۔خطبہ کے آخر میں آپﷺ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچادیا ہے؟تو تمام حاضرین نے اقرار کیا کہ بے شک آپ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچادیا ہے۔ حاضرین کے اقرار پرآپﷺ نے اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے فرمایا: اے اللہ، تو گواہ رہنا۔ اس کے بعد آپﷺ نے دعوت وتبلیغ کی ذمہ داری ہمیشہ کے لیے امتِ محمدیہ ﷺ کو سونپتے ہوئے ارشاد فرمایا:
لیبلغ الشاھد الغائب، فان الشاھد عسیٰ ان یبلغ من ھوأوعی لہ منہ (۱)
’’جو لوگ حاضرہیں، وہ غائب تک پہنچادیں،ہوسکتا ہے کہ جس کو (اللہ تعالیٰ کا پیغام)پہنچایا جائے، وہ حاضر کی نسبت اس کو زیادہ یاد رکھنے والا ہو‘‘
ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ کے اس پیغام کے اولین مخاطب صحابہ کرامؓتھے اس لیے نبوی فرمان کی روشنی میں صحابہ کرامؓنے دعوت وتبلیغ کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ اگرچہ رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ ہی میں صحابہ کرامؓدعوت وتبلیغ میں رسول اللہﷺ کے شانہ بشانہ کام کرتے رہے لیکن آپﷺ کے وصال کے بعد اب یہ ذمہ داری براہ راست صحابہؓپر آن پڑی تھی۔ اس لیے صحا بہ کرامؓ نے کارِ نبوت کی انجام دہی میں اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ سیرتِ صحابہؓ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہﷺ نے ان کو جو مشن تفویض فرمایا تھا، اس کی بجاآوری میں صحابہ کرامؓ نے ہر دستیاب موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔سفروحضر،آسانی وتنگی ہر حال میں دعوت کے فریضہ کو اولین اہمیت دی۔ نہ صرف پوری زندگی بلکہ زندگی کی آخری سانسوں تک دعوتِ دین کی فکر ہی دامن گیر رہی اوردعوتِ دین کا فریضہ صحابہ کرامؓکے نزدیک زندگی سے بھی عزیز ترین مشن تھا۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ،جو گھوم پھر کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے ،ان کا قول ہے:
لو وضعتم الصمصامۃ علی ھٰذہ واشارالی قفاہ ثم ظننت انی انفذ کلمۃ سمعتھا من النبیﷺقبل ان تجیزوا علیّ لانفذتھا(۲)
’’اگر تم لوگ میری گردن پر تلوار رکھ دو اور مجھے یقین ہو کہ ایک کلمہ بھی جس کو میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے، ادا کرسکوں گا تو قبل اس کے کہ تلوار اپنا کام کرے، میں اس کو ادا کروں گا‘‘
دعوت وتبلیغ سے صحابہ کرامؓکو جوشغف تھا، اس کی بنا پر ایک لمحہ بھی فارغ رہنا ان کی طبیعت پر گراں گزرتاتھا۔ وابصہ الاسدی بیان کرتے ہیں کہ میں کوفہ میں دوپہر کے وقت اپنے گھر میں تھا کہ یکایک دروازے سے السلام علیکم کی آواز بلند ہوئی، میں نے جواب دیا اور باہر نکل کر دیکھا تو دروازے پر عبداللہؓ بن مسعود تھے۔میں نے کہا:اے ابوعبدالرحمن!یہ ملاقات کاوقت کیسا؟فرمانے لگے،آج بعض مشاغل ایسے پیش آئے کہ دن چڑھ گیااور اب فرصت ملی تو خیال آیا کہ کسی سے باتیں کرکے عہد مقدس کی یاد تازہ کرلوں۔غرض وہ بیٹھ گئے اور حدیثیں بیان کرنے لگے۔(۳)
زیدبن اسلمؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمرؓکے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے پاس گیا، تو انہوں نے ہمارا استقبال کرتے ہوئے کہا:ابو عبدالرحمن !خوش آمدید، اور ان کو تکیہ پیش کیا تو ابن عمرؓنے ان سے فرمایا:
انما جئت لاحدثک حدیثا سمعتہ من رسول اللّٰہ ﷺ(۴)
’’میں صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے.....‘‘اور پھر ایک حدیث بیان کی۔
صحابہ کرامؓ میں دعوت وتبلیغ کا یہ جوش وخروش سفروحضر، گلیوں اور بازاروں میں غرض ہر جگہ نظر آتا ہے۔حضرت اسلمؒ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓملک شام کے دورہ پر تھے تو میں وضو کا پانی لے کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؓنے پوچھا، تم یہ پانی کہاں سے لائے ہو؟ میں نے ایسا میٹھا پانی کبھی نہیں دیکھا،بارش کا پانی بھی اس سے عمدہ نہیں ہوگا۔میں نے کہا کہ میں پانی ایک بڑھیاکے گھر سے لایا ہوں۔وضو سے فارغ ہو کر آپؓاس بڑھیا کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے کہا:اے بڑی بی، اسلام لے آؤ۔اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کوحق دے کر بھیجا ہے ۔اس نے اپنا سر کھول کردکھایا تو اس کے سر کے بال بالکل سفید تھے اور کہنے لگی:میں بہت بوڑھی ہوچکی ہوں اور بس اب مرنے ہی والی ہوں۔ (یعنی اب اسلام لانے کا کیا فائدہ؟) حضرت عمرؓنے فرمایا:اے اللہ گواہ رہنا(یعنی ہم نے تیرا پیغام پہنچادیا)۔ (۵)
حضرت علیؓبازاروں اور گلیوں میں جہاں بھی موقع ملتا، دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ابحر بن جرموز روایت کرتے ہیں:
رأیت علیؓ بن ابی طالب یخرج من الکوفۃ، و ھو یطوف فی الاسواق،ومعہ درۃ،یأمرھم بتقوی اللّٰہ وصدق الحدیث ،وحسن البیع والوفاء بالکیل والمیزان(۶)
’’میں نے علیؓ بن ابی طالب(کو اپنے عہد خلافت میں)دیکھا کہ وہ کوفہ کے بازاروں میں ہاتھ میں درہ لیے گھومتے تھے اور لوگوں کوپرہیزگاری، سچائی،حسن معاملہ اور پورے ناپ تول کی ترغیب دیتے تھے‘‘
دعوت وتبلیغ کا جوش وخروش صحابہ کرامؓ کی طرح صحابیاتؓ میں بھی اسی طرح نظر آتا ہے ۔ابن عبدالبر سمراءؓ بنت نہیک کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:
کانت تمرّ فی الاسواق، وتأمر بالمعروف، وتنھی عن المنکر وتضرب الناس علی ذالک بسوط کان معھا(۷)
’’وہ بازاروں میں گھوم پھر کر بھلائی کاحکم دیتی تھیں اور برائی سے روکتی تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتا تھا جس سے وہ لوگوں کو منکر کے ارتکاب پر مارتی تھیں‘‘
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ انفرادی طورپر ہی نہیں، جماعتوں اور گروہوں کی صورت میں بھی دعوت وتبلیغ کے لیے نکلتے تھے۔حضرت مغیرہ بن عبداللہؓ یشکری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ میں کسی ضرورت سے بازار گیا تو میں نے یکایک وہاں ایک جماعت کو دیکھا،میں اس جماعت کے قریب گیا تو ان لوگوں نے مجھ سے رسول اللہﷺ کے اوصاف بیان کیے۔(۸)
صحابہ کرامؓ کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح زندگی بھر وہ دعوت وتبلیغ کا فریضہ ادا کرتے رہے، اسی طرح زندگی کی آخری سانسوں میں بھی اس فریضہ سے غافل نہیں ہوئے۔حضرت ابوالدرداءؓ پوری زندگی دعوت وتبلیغ میں مشغول رہے۔ ہزاروں طلبا نے ان سے کسبِ فیض کیا، جب وصال کا وقت قریب آیا تو اپنے ایک شاگردیوسف بن عبداللہ کوبلاکر کہا کہ لوگوں کو میری موت کی خبر کردو۔اس خبر کا مشتہر ہونا تھا کہ آدمیوں کا ایک طوفان امڈ آیا۔ گھر سے باہر تک آدمی ہی آدمی تھے،اندر اطلاع کی گئی تو فرمایا:مجھ کو یہاں سے باہر لے چلو۔باہر آکر اٹھ بیٹھے اور پھر تمام مجمع کو مخاطب کرکے وضو اور نماز کے متعلق ایک حدیث بیان کی۔(۹)
عمواس کے طاعون میں جب حضرت معاذؓ بن جبل بستر مرگ پر تھے توزبان مبارک سے تبلیغ حق کا سلسلہ بھی جاری تھا ۔ حضرت جابرؓ بن عبداللہ ،جو وصال کے وقت آپؓ کے خیمہ میں موجود تھے ، ان سے فرمایا : خیمے کا پر دہ اٹھا دو، میں ایک حدیث بیان کروں گا جس کو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور اس حدیث کو میں نے اب تک اس لیے مخفی رکھا تھا کہ لوگ اسی پر تکیہ کر بیٹھیں گے ۔ اس کے بعد آپؓ نے ایک حدیث بیان کی۔(۱۰)
عبیداللہ بن زیاد حضرت معقلؓ بن یسار کی عیادت کو آیا ۔آپؓ اس وقت مرض الموت میں مبتلا تھے۔فرمانے لگے، میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جسے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے،آپﷺ کا فرمان ہے:
مامن امیر یلی امر المسلمین ،ثم لا یجھد لھم وینصح الا لم یدخل معھم الجنۃ (۱۱)
’’جو امیر مسلمانوں کا والی بنایاگیا اورپھر اس نے ان کے لیے تگ ودو نہ کی اور نہ ان کی خیر خواہی کی تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا‘‘
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا آخری وقت آیا تو ان کی بیوی نے چیخ ماری۔آپؓ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
أما علمت ماقال رسول اللّٰہﷺ؟ قالت: بلی، ثم سکتت،فلما مات ، قیل لھا: أی شئ قال رسول اللہﷺ؟ قالت: قال رسول اللّٰہﷺ : لعن من حلق او خرق او سلق(۱۲)
’’کیا تمہیں رسول اللہﷺ کا فرمان معلوم نہیں؟کہنے لگیں: کیوں نہیں اور پھر خاموش ہوگئیں۔جب ابو موسیٰؓ کا انتقال ہوگیا تو ان سے کہا گیا کہ رسول اللہﷺ کا فرمان کیا تھا ؟ (جس کی یاد دہانی آپ کو ابوموسیٰؓنے کروائی)کہنے لگیں کہ آپ ﷺ کافرمان ہے:’’جس نے مردے کے سوگ میں سرمنڈایا ،کپڑے پھاڑے یا چیخا چلایاتو اس پر لعنت ہے‘‘
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓکوآخری سانسوں میں بھی یہی فکر دامن گیر رہی کہ کہیں ان کی ذات شریعت کی خلاف ورزی کا سبب نہ بن جائے۔اس لیے فوراًاصلاح کردی۔ ابوموسیٰ الاشعریؓکے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب ان کاآخری وقت آیا تو انہوں نے اپنے لواحقین کووصیت کرتے ہوئے فرمایا:
’’جب تم لوگ میرا جنازہ لے کرچلو تو ذرا تیزی سے چلنا اور کوئی دھونی دینے والا ساتھ نہ ہو،اور میری قبر میں کوئی ایسی چیز نہ رکھنا جو میرے جسم اور مٹی کے درمیان حائل ہو،اور میری قبر پر قبہ تعمیر نہ کرنا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں (میت کے سوگ میں)سرمنڈانے والے،چیخنے چلانے والے،اور کپڑے پھاڑنے والے سے بری ہوں‘‘۔ (۱۳)
اسی طرح حضرت عبادہؓ بن صامت نے مرض الموت میں اپنے بیٹے ولید کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اے بیٹے!میں تمہیں اچھی اور بری ہر طرح کی تقدیر پر ایمان لانے کی نصیحت کرتا ہوں اور اگر تو تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا تو اللہ تعالیٰ تمہیں آگ میں داخل کرے گا،کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کاحکم دیا۔ قلم نے کہا کہ کیا لکھوں ؟تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’جوہوچکا ہے اور جو قیامت تک ہونے والا ہے، سب لکھو‘‘۔(۱۴)
ان چند روایات سے اس حقیقت کا اندازہ کیاجاسکتاہے کہ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓکو حجۃ الوداع کے دن جو ذمہ داری سونپی تھی، اس ذمہ داری کو انہوں نے کس تندہی کے ساتھ ادا کیا اور زندگی کے آخری لمحات میں بھی ان کواگر کوئی فکر تھی تو یہی تھی کہ وہ دین کی کوئی بات دوسروں تک پہنچا سکیں۔دعوت وتبلیغ کے مشن سے یہی وہ لگن تھی جس کی بدولت عہدِ صحابہؓمیں اسلام بڑی تیزی اور کثرت کے ساتھ پھیلا۔
حوالہ جات
(۱) صحیح البخاری،کتاب العلم،باب قول النبیﷺ: رب مبلغ أوعی من سامع،ح:۶۷،ص:۶۱
(۲) صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم قبل القول والعمل،ح:۶۷،ص:۱۶
(۳) المسند،مسند عبداللہؓ بن مسعود ،ح:۴۲۷۴، ۲/۲۸
(۴) المسند،مسند عبداللہ بن عمرؓ ،ح:۲۳۸۷،۲/۳۳۰
(۵)
(۶) الاستیعاب،تذکرہ علیؓ،۳/۱۱۱۲۔
(۷) الاستیعاب،تذکرہ سمراءؓ بنت نہیک، ۴/۱۸۶۳
(۸) اسد الغابہ،تذکرہ عبداللہ یشکریؓ،۳/۲۷۵
(۹) المسند،حدیث ابی الدرداءؓ،ح:۲۶۹۵۱، ۷/۵۹۶
(۱۰) المسند،حدیث معاذ ؓ بن جبل،ح:۲۱۵۵۵،۶/۳۱۲
(۱۱) صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب استحقاق الولی الغاش لرعیتہ النار،ح:۳۶۶،ص:۷۳
(۱۲) المسند،حدیث ابی موسیٰ الاشعریؓ،ح:۱۹۱۲۹،۵/۵۵۳۔ سنن ابی داؤد،کتاب الجنائز،باب فی النوح، ح:۳۱۳۰، ص:۴۵۹
(۱۳) المسند ،حدیث ابی موسیٰ الاشعریؓ،ح:۱۹۰۵۳،۵/۵۴۰
(۱۴) المسند،حدیث عبادہؓ بن صامت،ح:۲۲۱۹۷،۶/۴۳۲
ارضی نظام کی آسمانی رمز
پروفیسر میاں انعام الرحمن
جدید دور کے ریاستی و جمہوری نظام کی فکری آبیاری ہابس (۱)، لاک(۲) اور روسو (۳)نے کی تھی ، پھر کارل مارکس(۴) نے اپنے عہد کے مخصوص احوال و ظروف کے طفیل اسے ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ ان مفکرین کے پیش کردہ نظریات اور ان کے اثرات اگرچہ عمومی نوعیت کے حامل رہے ہیں لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ان کا پس منظر اور واقعاتی حوالہ جات، مکمل طور پر مقامی ہیں۔ اس طرح ان نظریات کی خوبیوں اور ان میں مضمر آفاقی نکات کے باوجود، ان کا مقامی اور محدود واقعاتی حوالہ بعض تحفظات کو جنم دیتا ہے۔ یہ تحفظات آج کے دور میں نئے انداز اور نئی قوت سے سر ابھار رہے ہیں۔ خیال رہے کہ یہاں ان مفکرین کی نیتوں اور ان کے افکار پر تنقید مقصود نہیں، کہ انہی اور ان جیسے دیگر لوگوں کی ذکاوت کے طفیل تو نوع انسانی کا فکری کارواں زندگی کی شاہراہ پر رواں دواں رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج پھر کرۂ ارض اور عالمِ انسانیت کو ذکاوت درکار ہے تاکہ نہ صرف ابھرنے والے تحفظات ختم ہو سکیں بلکہ اکیسویں صدی کی دنیا اپنے قدو قامت کے مطابق نیا فکری ڈھانچہ بھی دیکھ سکے۔ جہاں تک ذکاوت کا تعلق ہے، مشہور مغربی نقاد پوپ(۵) نے کہا تھا کہ: ’’جو بات اکثر سوچی گئی مگر اتنی خوبی سے معرضِ اظہار میں نہ آئی‘‘۔
یہ مقولہ پڑھ کر پوپ کو داد دینے کو جی چاہتا ہے ، لیکن ذرا ٹھہرئیے! اور دیکھیے کہ جانسن (۶) نے پوپ کی کس طرح خبر لی ہے۔ جانسن کہتا ہے کہ : ’’یہ تعریف غلط بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔ اکثر سوچی جانے والی بات میں خرابی یہی ہوتی ہے کہ وہ اکثر سوچی جاتی ہے۔ ذکاوت کے لیے شرط یہی ہے کہ بات کو نئے سرے سے سوچا جائے‘‘۔
تو پھر یہ طے ہوا کہ ہمیں بات کو نئے سرے سے سوچنا ہو گا۔ تو آئیے پھر اپنی سی کوشش کر دیکھیں۔
موجودہ دنیا پر نظر دوڑائیے ، ہر طرف افراتفری ہے۔ کہیں بم دھماکے ہیں ، قتل و غارت ، لوٹ مار ہے اور کہیں کرپشن و لاتعلقی۔ یہ صورتِ حال کسی ایک خطے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ عموم کے زمرے میں آتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ اور اس کا حل کیا ہے؟ ۔آئیے پہلے ’’کیوں‘‘ کو ایڈریس کریں۔ راقم کی نظر میں ہابس، لاک، روسو اور مارکس کے فکری ڈھانچوں پر قائم ہونے والے نظام جدید دور کی تبدیلیوں اور تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن جن تغیرات کو جنم دے رہے ہیں، مذکورہ نظام ان کا احاطہ کرنے سے مکمل طور پرقاصر ہیں۔ آج کے انسان کو تلاشِ ذات اور تحفظِ ذات جیسے مسائل درپیش ہیں۔ یہ مسائل ہی اس بے چینی ، اضطراب اور تشویش کو ابھار رہے ہیں جس کا اظہار بم دھماکوں سے لے کر کرپشن تک ہر برائی میں ہوتا ہے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مسائل کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جائے ۔
پہلے تلاشِ ذات کو لیتے ہیں۔ ذرا اپنے ارد گرد موجود لوگوں اور خود پر تنقیدی نظر دوڑائیے ، کیا ان کو اور آپ کو ’’ شخصی بالیدگی ‘‘ حاصل ہے؟ آپ کو یہ سوال ہی بہت عجیب اور دقیانوسی معلوم ہو گا کہ بھلا یہ کیا سوال ہوا؟ زندگی تو سماجی رشتوں کی مرہونِ منت ہے ، یہ بیچ میں شخصی بالیدگی یا ذات کی بالیدگی کہاں سے ٹپک پڑی؟ حالانکہ امر واقعہ یہی ہے کہ ہم لوگ اپنی ذات کھو بیٹھے ہیں۔ ایک مثال کے ذریعے اس کی وضاحت پیشِ خدمت ہے۔ ذرا ٹی وی فلموں کے اداکاروں کو دیکھیے، وہ لوگ بیسیوں کردار ادا کرتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کردار میں خود کو گم کر دیں تاکہ متعلقہ کردار جیتا جاگتا نمونہ نظر آئے۔ اب ذرا غور کیجئے کہ کردار کو بہترین انداز سے ادا کرنے کے بعد کیا اداکار کی اپنی شخصیت، جو کردار ادا کرنے سے پہلے تھی ، ختم ہو جاتی ہے؟ کیا وہ اداکار اس کردار کو اپنی باقی زندگی پر حاوی کر لیتا ہے ؟ کیا وہ اپنی ذات یا شخصیت کو بھول جاتا ہے؟۔یقیناًایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو نئے کردار کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا ہے تا کہ اس کے روزگار اور شہرت کا سلسلہ چلتا رہے ۔اس کا مطلب یہ ہو ا کہ حقیقت میں یہ اس کی اپنی ذات یا شخصیت ہے جس کے توسط سے وہ مختلف کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے وہ کردار ادا کرنے کے بعد واپس اپنی ’’ذات‘‘ میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو بھولنے کی غلطی نہیں کرتا، اگر وہ بھول جائے تو ظاہر ہے نہ صرف اداکاری کی دوڑ سے خارج ہو جاتا ہے بلکہ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ اسے ذہنی مریض قرار دے کر ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے۔ اب ذرا غور کریں کہ ہم لوگ بھی معاشرے میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں، مختلف عمروں میں اور مختلف حیثیتوں میں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض کردار ختم ہو جاتے ہیں اور بعض نئے کردار اپنا لیے جاتے ہیں۔ شیکسپےئر(۷) نے بھی اپنی شہرۂ آفاق نظم All the World's a Stage (ساری دنیا ایک اسٹیج ہے) (۸) میں انسان کے زندگی بھرکے کرداروں کوسمیٹنے کی ہنرمندانہ کو شش کی ہے۔
راقم الحروف کی ناقص رائے میں ہم لوگ اپنے کسی نہ کسی کردار سے چمٹ جاتے ہیں۔ کوئی شخص صرف باپ بن کر رہ جاتا ہے، کوئی بیٹا، کوئی دوست اور کوئی بھائی۔ اس طرح خود کو کسی کردار میں گم کرنے کے بعد ہمارے لیے ممکن نہیں رہتا کہ اپنی ذات کی طرف بھی توجہ دیں ، ذات کی بالیدگی تو دور کی بات ہے۔چونکہ ہم اپنے کسی کردار کو ہی حرزِ جاں بنائے ہوتے ہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ زندگی اسی کا نام ہے ، لہٰذا کسی کردار کے کھو جانے پر انتہائی حد تک بوکھلا جاتے ہیں، پھر ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب زندگی کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ زندگی اور زندگی میں مضمر مقاصد تو بدرجہ اتم موجود رہتے ہیں کہ زندگی ان قواعد کے مطابق رواں دواں ہے جنہیں منطق کبھی نہیں سمجھ سکتی۔ البتہ کسی کردار میں کھو جانے کی ہماری نرالی منطق ہمیں بے سرو پا ضرور کر دیتی ہے، لہٰذا یہ بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی ذات کی بالیدگی کی طرف متوجہ ہوں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے سماجی رشتے ناتے اور دیگر تعلقات بھی اسی شخصی بالیدگی کے خمیر سے اٹھنے چاہییں، جیسا کہ اداکار کے ضمن میں بیان ہوا کہ وہ اپنی ذات کے طفیل ہی سارے کردار ادا کرتا ہے ۔ راقم کے خیال میں اس وقت ہماری صورتِ حال اس اداکار جیسی ہے جس نے اپنے آپ کو ایک کردار میں گم کر دیا ہے ، ’’فنا فی الکردار‘‘ ہو گیا ہے، ایسے شخص یا گروہ کی منزل ظاہر ہے ، ذہنی امراض کا ہسپتال ہے ۔کیا آپ راقم سے متفق نہیں ہیں کہ ساری دنیا ذات کے بحران کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن چکی ہے؟ بم دھماکے کرنے والے اور کرپشن میں ملوث افراد شاید اس لیے ایسے کاموں کی طرف راغب ہوتے ہیں کہ انہیں اس کردار کے کھو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کے گرد ان کی دنیا گھومتی ہے۔
اگر ہم کسی ایک کردار کے ساتھ چمٹ جانے کے حوالے سے پورے معاشرے پر عمومی نظر دوڑائیں تو وہ کردار ’’شہرت‘‘ کے نام سے عبارت ہے اور آپ نے اوپر پڑھ ہی لیا ہے کہ شیکسپےئر کی اس بابت کیا رائے ہے؟۔ ہاں!! ’’.... اس شہرت کی خاطر جو بلبلہ پانی کا ہے.....‘‘ شہرت آج کے عہد کا وہ کردار ہے جس کے سحر کا شکار فرد، دوسروں کی توقعات پر نظریں جمائے ہر وقت اداکاری کرتا رہتا ہے، وہ اپنا آپ بھول جاتا ہے۔بلاشبہ ذات کی بالیدگی کی قیمت پر شہرت کا حصول ایک بہت بڑی قربانی ہے جو آج کا انسان بلاسوچے سمجھے دیے جا رہا ہے۔
اب آتے ہیں تحفظِ ذات کی طرف۔ ہوتا یوں ہے کہ انسان اپنی ذات کے ان پہلوؤں کو جو کسی کرداری سانچے میں نہیں ڈھل سکے، پوری طرح پورے جبر سے دبا دیتا ہے۔ پھر جب زندگی کی شناخت کے عام وسیلے (خارجی و کرداری قسم کے) مفقود ہونے لگیں (۹) اور انسان بالکل اکیلا رہ جائے تو احساسِ تنہائی اسے آ گھیرتا ہے ، یہاں اسے اپنی اس داخلی قوت اور اندرونی وسائل کا سہارا لینے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے ، جن کی بالیدگی کی طرف اس نے کوئی توجہ نہیں دی تھی بلکہ الٹا ان کو پورے جبر سے دبا دیا تھا۔ اس طرح تنہائی اس کے لیے فقط ایک احساس نہیں ، بلکہ ایک حقیقی خطرے کے طور پر منہ پھاڑے کھڑی ہوتی ہے۔ یہیں سے تحفظِ ذات کا مسئلہ شروع ہوتا ہے کہ تلاشِ ذات میں ناکامی، تحفظِ ذات کو گھمبیر بنا دیتی ہے۔ اندریں صورت فرد کی ذات کا وہ حصہ جو کسی کرداری سانچے میں نہیں ڈھل سکا تھا اور جسے جبراً دبا دیا گیا تھا، یہاں پر’’ حفاظتی کشتی‘‘ کا کام دیتا ہے۔ آپ لوگ یہ بات تو بخوبی جانتے ہوں گے کہ دنیا میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو حفاظتی کشتی سے کود کر ڈوب مرنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مسلسل شک اور غیر یقینی کے کرب کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بم دھماکے اور کرپشن اس لیے کرتے ہیں کہ ایسے ہی کسی کرب کو برداشت نہیں کر سکتے؟
تحفظِ ذات کے اس مسئلے کی نفسی جہت کے پہلوبہ پہلو اس کی دیگر جہات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ ماحولیاتی اور حیاتیاتی جہتیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کرۂ ارض پر حیات، ماحول (۱۰)کی مرہونِ منت ہے۔ ماحول خراب ہو رہا ہے ، لہٰذا حیات ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی خرابی میں زیادہ قصور ہمارا اپنا ہے۔ ہم نہ صرف قدرتی وسائل کو بے دریغ خرچ کر رہے ہیں بلکہ افسوس ناک حد تک اس کے نتائج سے بھی غافل ہیں کیونکہ ہمیں شخصی بالیدگی حاصل نہیں اور ہماری ذات کا اظہار ان وسیلوں کے ذریعے بھی ہوتا ہے ، جنھیں ماحول اور قدرتی وسیلے کہا جاتا ہے ۔ اس لیے ہم ذات کے اظہار کی خاطر یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ نام نہاد تشخص کی خاطر ان وسائل کو بے دریغ نگل کر رہے ہیں، فرد کے طور پر بھی اور قوم کے طور پر بھی۔ جن معاشروں میں شخصی بالیدگی کی اہمیت جتنی کم ہے، وہاں ایسا رویہ اتنی ہی شدت سے موجودہے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے ماحولیاتی کانفرنسوں کے موقع پر اکثر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ وہاں انفرادی اور قومی سطح پر ذات کا اظہار قدرتی وسائل کے بے دریغ خرچ کرنے پر منحصر ہے۔ ماحولیاتی خرابی سے حیات کس قدر ڈسٹرب ہو رہی ہے ، اس کا اندازہ اسی سے ہو جاتا ہے کہ:
(۱) ممبئی کی فضا میں سانس لینا ایسے ہے جیسے روزانہ دس سگریٹ پینا۔ لاہور کی فضا بھی اس سے بہتر نہیں ہو گی۔
(۲) بنکاک میں ایک ملین لوگ صرف ۱۹۹۰ کے دوران سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ، وہاں پھیپھڑے کے سرطان کی شکایت ملک کے باقی حصوں سے تین گنا زیادہ ہے۔
(۳) اوزون کی تہہ میں شگاف بڑھ رہا ہے ، اندازہ ہے کہ آئندہ پچاس سال کے دوران صرف امریکہ میں معمول سے 1.7 ملین زائد لوگوں کی موت جلد کے کینسر میں مبتلا ہونے سے واقع ہو گی۔آنے والے دنوں میں دھوپ سینکنے کو بھی اتنا ہی نقصان دہ سمجھا جائے گا جتنا آج سگریٹ نوشی کو سمجھا جاتاہے۔
(۴) پولینڈ میں دریا کے پانی کی کم از کم نصف مقدار اتنی زیادہ آلودہ ہو چکی ہے کہ صنعتی استعمال کے قابل بھی نہیں رہی ، اسی طرح کوریا میں بہت تیزی سے ہونے والی ’’ترقی‘‘ کے سبب یہاں کا دریا ، ناک ٹانگ ، بالکل ناکارہ ہو چکا ہے۔
(۵) پچھلے کئی عشروں میں ایک کے بعد دوسری مچھلی کی قسمیں کم یاب ہونے لگی ہیں، جن میں شمال مشرقی اوقیانوس کی ہرنگ، بحرِ اوقیانوس کی کاؤ، اور شمال مغربی بحر الکاہل میں پائی جانے والی سالمن ، شامل ہیں۔ شمالی اوقیانوس سے شروع ہونے والی یہ تباہی اب دنیا کے سب سمندروں تک پھیل چکی ہے۔ شمالی نصف کرے میں ، خصوصاً سکنڈے نیویا کی ہزاروں جھیلیں ایسی ہیں جن میں مچھلی با لکل باقی نہیں رہی۔
لہٰذا یہ واضح ہو گیا کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تباہی اور افراتفری کی نوعیت ، نفسی ہونے کے ساتھ ماحولیاتی اور حیاتیاتی بھی ہے۔اب یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے کہ ہابس، لاک، روسو اور مارکس کے عہد میں انسانی مسائل کسی حد تک نفسی نوعیت کے ضرور ہوں گے، لیکن بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کے دور میں ماحولیاتی اور حیاتیاتی مسائل موجودہ نوعیت کے ہرگز نہیں تھے، اس لیے ان کی فکر نے بھی ان مسائل کو ایڈریس نہیں کیا۔مذکورہ مفکرین کے پیش کردہ نظریات اپنی جگہ اہم ہوتے ہوئے بھی ، اکیسویں صدی میں کسی طرح کی راہنمائی کرنے سے قاصر ہیں۔ راقم کی رائے میں اہلِ مغرب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید مسائل کا حل بھی انھی فکری حدود (Parameters) کے اندر ڈھونڈتے ہیں ، جن کے سوتے پچھلی صدیوں کے مقامی سرچشموں سے پھوٹے ہیں۔
خیر! آئیے، اب ہم اپنے دوسرے سوال کی طرف آئیں کہ ان مسائل کا حل کیا ہے؟ حل کے لیے ہمیں درج ذیل نکات کو ملحوظِ خاطر رکھنا پڑے گا:
(۱) پچھلے طرز کی نفی
(۲) نئے شعور کی کاشت
(۳) ظرافت ، بطور ایک قدر
(۴) خاندانی نظام
(۵) ثقافتی اپج پر مبنی سماجی نظام ، جس کی بنیاد پر نیا معاشی ڈھانچہ تشکیل پائے
(۶) حضوری
اگر ہم لوگ مسائل حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے پچھلے طرز کی نفی کرنا ہو گی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ہمیں غورو فکر کے پرانے سانچوں کو خیرباد کہنا ہو گا کہ مقامی ہونے کے باعث وہ گلوبل دنیا میں سرخرو نہیں ہو سکتے۔خوش نصیبی ہے کہ ہم مسلمانوں کی مسلمانیت کا آغاز ہی ’’ پچھلے طرز کی نفی ‘‘سے ہوتا ہے۔ ’’لا ‘‘سے ہوتا ہے (۱۱)۔ اب ہمیں ’نہیں‘‘ کہنا آ جانا چاہیے۔ راقم کی ناقص رائے میں دنیا کی تاریخ میں اتنی تباہی حریتِ فکر سے نہیں آئی، جتنی تباہی اندھے اعتقاد سے آئی ہے۔ اندھے اعتقاد کی فضا ، مکالمے اور خود کلامی کی صلاحیت کو ہڑپ کر جاتی ہے۔ خودکلامی ، شخصی بالیدگی کی اولین اینٹ ہے، اس کے بعد ہی انسان، مکالمے کے توسط سے معاشرے کے ساتھ اور دیگر خارجی مظاہر کے ساتھ شعوری رشتہ استوار کرتا ہے، ایسا رشتہ جس میں آسمانی رمز اور کائناتی پرتو جھلکتے ہیں۔یہاں یہ مت سمجھیے کہ آپ کو ایک بیمار قسم کی خود بینی کی دعوت دی جا رہی ہے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اپنی پہچان، دوسروں سے نتھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت اکثر لوگوں کی حالت اس اندھے کی سی ہے جو دوسروں کی پیٹھ چھو چھو کر اپنا راستہ تلاش کرتا رہتا ہے۔
خیر! جہاں تک نئے شعور کی کاشت کا معاملہ ہے، اس کے لیے پچھلے طرز کی نفی نا گزیر ہے۔ اس سلسلے میں مغرب کے مشہور نقاد ایڈگر ایلن پو (۱۲) نے کہا تھا کہ: ’’اختراع (جب تک کہ وہ کسی غیر معمولی ذہن کا نتیجہ نہ ہو) کسی صورت میں محض جذبہ اور وجدان کا نتیجہ نہیں۔ اگرچہ یہ ایک اعلیٰ قسم کی مثبت خوبی ہے مگر اسے حاصل کرنے کے لیے ایجاد سے زیادہ پچھلے طرز کی نفی ضروری ہے‘‘۔
نئے شعور کی کاشت کے لیے درکار پچھلے طرز کی نفی کا بہترین اظہار اسلام کے ابتدائی دور میں ہوتا ہے ۔ اہل علم جانتے ہیں کہ چاروں خلفائے راشدین کا انتخاب چار مختلف طریقوں سے ہوا تھا (۱۳)۔ غور فرمائیے کہ صحابہ کرامؓ نے اپنے آپ کو پہلے خلیفہ کے انتخاب کے کرداریا قدر سے وابستہ نہیں کیا کہ باقی خلفا کا انتخاب بھی لازماً ایسے ہی ہوگا۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ پہلے خلیفہ کے انتخاب کا ’کردار‘ ادا کرنے کے بعد واپس اپنی ’ذات‘ میں لوٹ گئے۔پہلے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر جو اختلاف (۱۴) سامنے آیا، اس سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے شخصی بالیدگی کی نیو پر ایک خارجی امر کا فیصلہ کیا (۱۵)۔ اسی سلسلے میں ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ جب رسول اکرمﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو بعض لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے اور بعض نے انکار کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعوت وہی تھی، نبی وہی تھا، معاشرہ وہی تھا، پھر ایسا کیوں ہوا کہ بعض نے قبول کیا اور بعض نے انکار کیا ؟ راقم کی ناقص رائے میں اس کی بدیہی وجہ یہ ہے کہ جن اصحابؓ نے اسلام قبول کیا ، ان کی نفسیات میں بعض ایسے پہلو پہلے سے موجود تھے جن کے توسط سے انہیں فیصلہ کرنے میں، پچھلے طرز کی نفی کرنے میں، زیادہ دشواری نہیں ہوئی (۱۶)۔یہ پہلو ذات کی بالیدگی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ لہٰذا اسلام قبول کرنے والے اصحابؓ ، قبل از اسلام بھی اپنی ذات کی شناخت یا اظہار خارجی مظاہر و رشتوں میں نہیں ڈھونڈتے تھے ، کہ ان کے ختم ہونے یا چھن جانے پر ان کو شدید قسم کا احساسِ تنہائی اور تحفظِ ذات کا مسئلہ آ گھیرتا (۱۷) جبکہ اس کے برعکس ابوجہل جیسے لوگ شخصی بالیدگی سے عاری ہونے کے سبب خارجی رشتوں اور مروجہ اقدار کو ہی حرزِ جان بنائے بیٹھے تھے۔ ایسے لوگوں کے متعلق یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ ذات کا کھوکھلا پن (ذات کی بالیدگی نہ ہونے کے سبب)، ان کے اندر نفسیاتی اعتبار سے یہ احساس اور خوف پیدا کر دیتا ہے کہ پچھلے طرز کی نفی سے، رشتوں اور اقدار سے منہ موڑ لینے سے ان کے قدم اکھڑنے لگیں گے اور وہ فنا کی بھیانک گھاٹیوں میں اتر جائیں گے (۱۸) چونکہ ایسے لوگ زندگی کی شناخت خارجی وسیلوں میں ہی پاتے ہیں، اس لیے ان وسیلوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ انہیں زندگی بے معنی سی لگنے لگتی ہے۔ حالانکہ انسان نے اپنی ذات کی بالیدگی کی طرف توجہ دی ہو تو خارجی رشتوں اور اقدار سے ایسی وفاداری کہ انسان کی ذات ہی گم ہو جائے، کبھی رونما نہیں ہوتی۔ (شاید کتا ہمارے مذہب میں اسی لیے نجس ہے کہ اس میں بھی مالک کے ساتھ ایسی ہی وفاداری پائی جاتی ہے)
اب ہم تیسرے نکتے کی طرف آتے ہیں، اور وہ ہے ظرافت بطور ایک قدر۔ آپ لوگ یہاں پر چونک جائیں گے کہ ایسی سنجیدہ گفتگو میں اس کی کیا تک؟ دراصل ظرافت کی یہی ’تک‘ ہے کہ یہ انسان کو بہت زیادہ موضوعی یا معروضی بننے سے روکتی ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کوئی شخص اپنی ذات میں بہت زیادہ گم ہو تو کوئی ظریف اس پر ’چوٹ‘ کرتا ہے (یہ تو جی اللہ میاں کی گائے ہے وغیرہ) اس پر نشانہ بننے والا مسکرانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا۔یہی مسکراہٹ اس امر کی علامت ہوتی ہے کہ وہ شخص حقیقت کی دنیا میں واپس آگیا ہے، اس کے پاؤں زمین پر لگ گئے ہیں۔ اسی طرح جو شخص بہت زیادہ معروضیت پسند ہو، صرف دنیا میں کھویا ہوا ہو، اس پر بھی کوئی ظریف موقع دیکھتے ہی پھبتی کس دیتا ہے۔ (یہ تو جی اپنے بھی خیر خواہ نہیں ، پھر بھلا .......) ماہرینِ نفسیات تو یہ کہتے ہیں کہ ہر لطیفہ ہمارے کسی نہ کسی ردِ عمل کی ترجمانی کرتا ہے، ردِ عمل کا دائرہ جتنا وسیع ہو گا ، لطیفہ اتنا ہی دل پذیر ہو گا۔
راقم کی نظر میں ظرافت اور خوش طبعی کا معقولیت، سمجھداری، ذہانت اوردانش سے دائمی رشتہ ہے۔ ظرافت انسان میں یہ خوبی پیدا کردیتی ہے کہ دوسروں کی غلط منطق، عام حماقت اور تضاد بیانی کو ہر روپ اور ہر رنگ میں سمجھ سکے۔ ایک لطیفہ ملاحظہ کیجئے: سیاسیات کا استاد اپنے شاگردوں کو ’’تقسیمِ اختیارات‘‘ کا سبق پڑھا رہا تھا۔ اس نے ایک شاگرد سے پوچھا کہ فرض کرو، ’پرویز‘ کے پاس دس اختیارات ہیں، ان میں سے اس نے دو ’جمالی‘ کو دے دیے ، اور چار ’پارلیمنٹ ‘ کو ۔ بتاؤ باقی کتنے بچے؟ شاگردنے جواب دیا ، سر ! باقی دس بچے۔ استاد نے حیرت سے پوچھا ، وہ کیسے؟ شاگرد نے شاگردِ رشید ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ، سر، میں پرویز کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ کسی کو کوئی اختیا رنہیں دے گا۔
خیال رہے، یہاں ظرافت سے مراد مسخرہ پن نہیں ہے۔ تھیٹروں میں کیا جانے والا بازاری مذاق ایک تو اس گھٹن کا نتیجہ ہے کہ معاشرے میں ظرافت موجود نہیں رہی، دوسرا یہ ظرافت کا متبادل بنتے ہوئے اس قدر کے منفی پہلو کو فروغ دے رہا ہے۔ عام لوگ اسی منفی پہلو کو ظرافت خیال کرتے ہوئے خود ظرافت کے خلاف ہو رہے ہیں ۔ اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے ۔
جہاں تک سنجیدہ امور کی بابت ہلکی پھلکی چوٹ کرنے کا تعلق ہے، اس بارے میں بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسا ہونا ممکن ہے کہ لوگ مزاح کا شکار ہو کر ’کتھارسس‘ کر لیں ، جس سے ان کا غصہ اور اضطراب ختم ہو جائے، جو کہ سنجیدہ امور کو (جو غلط سمت میں جا رہے ہوں) ٹھیک کرنے میں استعمال ہو سکتا تھا۔ اس لیے ظرافت کی نوعیت (خاص طور پر جب سامنے مجمع ہو) ایسی ہونی چاہیے کہ یہ (منفی امور کی بابت) لوگوں کے دبے جذبات کو’ہوا‘ دے، اور اگر لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوں تو انہیں ذرا دبا کر درست سمت میں پیش قدمی کرنے کے قابل کرے۔ یوں سمجھیے کہ ظرافت معاشرتی ککر کا ’سیفٹی والو‘ ہے ۔ چونکہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے، لہٰذا اس قدر کو عالمی سطح پر اپنائے جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ مزاح کبھی کبھار ہو تو سنت ہے ، لیکن بطور عادت اختیار کرنا درست نہیں ۔ راقم کی نظر میں دل مردہ بھی اس وقت ہوتا ہے جب مذاق بار بار کیا جائے، کیونکہ اس صورت میں اس کے مثبت اثرات زائل ہو جاتے ہیں، مقصود فوت ہو جاتا ہے۔ ظرافت کا بے جا استعمال، جذبات و احساسات کا ’کتھارسس‘ کر کے انسان کو بے حس کر دیتا ہے اور دل کا مردہ ٹھہرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ بہر حال خود نبی اکرمﷺ سے بھی ظرافت سے متعلقہ روایات منقول ہیں۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن ایک شخص اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا۔ فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ پہلے اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو۔ فرشتے اس کے آگے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی فہرست اس طرح پیش کریں گے کہ تم نے فلاں دن یہ کیا، فلاں دن یہ کیا۔ وہ بے چارہ اس کا اقرار کرتا جائے گا اور دل میں ڈرے گا کہ جب میرے بڑے گناہوں کی فہرست پیش کی جائے گی تو کیا ہو گا۔ فرشتے جب چھوٹے گناہوں کی فہرست پڑھ کر فارغ ہو جائیں گے تو اللہ کی طرف سے یہ حکم ہو گا کہ اس کو ہر گناہ کے بدلے ایک ایک نیکی دیتے چلے جاؤ۔ سرکارِ مدینہ ﷺ فرماتے ہیں کہ : اللہ غفور رحیم کی طرف سے یہ فرمان سن کر وہ شخص غل مچانے لگے گا کہ فرشتو، ٹھہرو ، ابھی تو میرے بہت سے بڑے بڑے گناہ باقی ہیں، ان کو بھی شمار کر لو، اس فہرست میں تو وہ مجھ کو نظر نہیں آ رہے۔ (یعنی ان گناہوں کے بدلے بھی مجھ کو نیکیاں ملنی چاہییں) حضرت ابوذر غفاریؓ جب یہ روایت بیان کرتے تو اس لفظ پر آ کر ٹھہر جاتے اور فرماتے کہ میرے آقا رسولِ خدا ﷺ جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو اس قدر ہنسا کرتے کہ آپﷺ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگتیں۔ (۱۹)
آئیے ! اب خاندانی نظام کو ڈسکس کرتے ہیں جوہمارا چوتھا نکتہ ہے۔ جدید مسائل سے عہدہ برآ ہونے اور نئے ارضی نظام کی تشکیل میں خاندان کی اہمیت بلاشبہ کلیدی ہو گی۔ہم مسلمانوں نے اس بابت عجیب رویہ اپنایا ہوا ہے کہ خاندانی نظام ہمارے پاس ہے اور مغرب کو ہماری طرف دیکھنا ہو گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سا خاندانی نظام؟ وہ جو سعودیہ میں ہے؟ یا ترکی میں، مصر میں ؟ یا پھر پاکستان میں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں بھی چاروں صوبوں کے خاندانی نظام ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں ، جنھیں ہم ’اسلامی‘ کہتے ہیں۔ اس کے بعد برادریوں کے نظام الگ سے موجود ہیں جن کے اثرات خاندانی نظام پر مسلمہ ہیں۔امرِ واقعہ یہ ہے کہ خاندانی نظام کی جڑیں ثقافتی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس لیے متعلقہ ثقافتی اقدار کے تناظر میں ہی اسے دیکھا جانا چاہیے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ثقافتی اقدار غیر متبدل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے کیونکہ خاندان کسی بھی اجتماعی نظام کی بنیادی اکائی ہے، اس لیے اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ موجودہ عالمی حالات کے سیاق و سباق میں (کہ دنیا وحدت کی طرف بڑھ رہی ہے) یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مغرب پر تنقید برائے تنقید کرنے کی بجائے، علاقائی ثقافتی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ، عالمی خاندانی نظام کے خدو خال کو واضح کریں ۔
اس وقت ہمارے ہاں خاندانی نظام میں رائج رویے بھی عجیب و غریب ہیں۔ کہیں زن مریدی ہے، کہیں والدین کی پرستش ہے اور کہیں بہن بھائیوں کے لیے زندگی تج دینے کی روایت۔ راقم یہاں پر پھر کہے گا کہ ہمیں خاندانی نظام سے وابستہ اقدار اور کردار وں کو شخصی بالیدگی کے سرچشمے سے ہی دیکھنا چاہیے۔ اگرچہ ہمیں حکم ملا ہے کہ ’’اف‘‘ نہ کریں ( ۲۰)، لیکن ایسے صحابہ کرامؓ ہو گزرے ہیں جن کے والدین نے اسلام قبول نہیں کیا یا پھر بعد میں قبول کیا۔ ذرا غور کیجئے کہ اگر وہ صحابہ کرامؓ ’’اف‘‘ نہ کرنے کے حکم سے شخصی بالیدگی کے بغیر وابستہ ہو جاتے تو کیا پھر والدین کی ہلکی سی تنبیہ بھی انہیں اس نفسیاتی کیفیت سے دوچار نہ کر دیتی کہ لو! اب سب کچھ لٹ گیا، دنیا وآخرت برباد ہوگئی۔ لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوا، کیونکہ صحابہؓ نے ’اف‘ کے حکم کو شخصی بالیدگی کے طفیل اس کے صحیح سیاق و سباق میں سمجھا اور اسی کے مطابق رویہ اختیار کیا۔ راقم کی رائے میں آج ہمارا خاندانی مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے خاندانی رشتوں، اقدار اور احکامات سے متعلقہ کسی نہ کسی ’’کردار‘‘ کو قبلہ و کعبہ بنایا ہوا ہے اور پھر دھونس یہ ہے کہ بس یہی ’’اسلامی خاندانی نظام‘‘ ہے ۔
جہاں تک ہماری بحث کے پانچویں نکتے کا تعلق ہے، اس کے مطابق سماجی نظام کو ثقافتی اپج پر استوار ہونا چاہیے کہ بعد میں اسی سے ’’ماحولیاتی معیشت ‘‘کے سوتے بھی پھوٹ سکیں گے۔ یہ آج کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ سماجی نظام کی تشکیل میں ’’تمدنی جدیدیت‘‘ پیش قدمی کرتے ہوئے بڑھتی جا رہی ہے اور’’ ثقافتی اپج ‘‘پسپائی اختیارکررہی ہے (۲۱)۔ ثقافت، وحدت اور رچاؤ کا نام ہے جبکہ تمدن، تصنع اور انتشار سے عبارت ہے۔ اسی طرح تمدن ’’سادگی‘‘ کو ہڑپ کرنے کے درپے ہے، جبکہ ثقافت ’’سادگی‘‘ کی بشارت دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسلامی دعوت کی نوعیت تمدنی نہیں، بلکہ ثقافتی اور دانشورانہ ہے (۲۲) اگر ہم دعوتِ اسلامی کی ثقافتی جہت پر سرسری نظر دوڑائیں تو اس کی بنیادی قدر ’’سادگی‘‘ دکھائی دے گی۔ عالمِ انسانیت کو آج اسی قدر کی ضرورت ہے کہ اسی قدر کے بل بوتے پر نیا سماجی و معاشی ڈھانچہ تشکیل پائے گا جو نفسی، حیاتیاتی اور ماحولیاتی مسائل پر قابو پا سکے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’’تمدنی جدیدیت‘‘ کے ماحول میں یہ’’ ثقافتی قدر ‘‘کیسے راہ پا ئے گی؟ یہاں راقم آپ کو اس ’’خاموش اکثریت‘‘ کی طرف انگلی اٹھا کر جو دنیا میں ہر جگہ موجود ہے اور موجودہ صورتِ حال سے نالاں ہے، یہ کہے گا کہ اس کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ انسان نے تمدنی جدیدیت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ انسانی ذات کی وہ جہت جسے ہم نے ابتدائی سطروں میں ’’حفاظتی کشتی‘‘ کا نام دیا تھا، آج بھی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ یہاں مسئلہ یہ آن پڑتا ہے کہ اس وقت جو لوگ ’’ثقافتی اپج‘‘ کے علمبردار بنے ہوئے ہیں، ان کی اکثریت ’’مسخروں‘‘ پر مشتمل ہے کیونکہ اصل لوگ اس محاذ پر کام کرنے سے غافل ہو چکے ہیں۔ اندریں صورت یہ خطرہ موجود ہے کہ خاموش اکثریت کہیں خاموش ہی نہ رہ جائے(۲۳) اور تمدنی جدیدیت عالمِ انسانیت پر چھا کر نفسی، حیاتیاتی اور ماحولیاتی مسائل کو مزید گھمبیر کر دے۔
بہر حال! بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ راقم کی نظر میں صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہمیں سادگی اپنانی چاہیے، یا پھر علماء کرام کی طرح زبانی جمع خرچ کرنے سے کام نہیں چلے گا کہ’’اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے ‘‘۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس وقت ہمیں سادگی کی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے نہ صرف علاقائی تقاضوں کو مدِنظر رکھنا ہو گا بلکہ اس امر پر بھی توجہ دینی ہو گی کہ ایک ہی فرد کے لیے عمر کے مختلف درجوں میں ’’سادگی‘‘ کے کیا معنی ہو سکتے ہیں ؟
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سماجی نظام اور اس کی اقدار ہی معاشی رویے کو متعین کرتی ہیں، لہٰذاثقافتی اپج کے حامل مذکورہ سماجی نظام کی کوکھ سے ہی نئے معاشی ڈھانچے کے خدوخال جنم لیں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر آج کے سماجی نظام کی بنیادی قدر ’’سادگی‘‘ ٹھہر جائے تو اس کے نتیجے میں کتنی بڑی ’’معاشی تبدیلی‘‘ رونما ہو گی۔ایک نئی معیشت جنم لے گی جسے ہم ’’ماحولیاتی معیشت‘‘ قرار دینے میں حق بجانب ہوں گے (۲۴) اس نئی معیشت کا ظہور ، نوعِ انسانی کی بقا کے لیے ناگزیر ہے (۲۵) اگر فضول خرچی اور وسائل کا بے جا اسراف کرنے والی معیشت کی جگہ ایسی معیشت لے لے جس میں تیار شدہ سامان اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کے فضلے کو بار بار استعمال کیا جا سکے تو نہ صرف توانائی کے بے تحاشا استعمال میں کمی آئے گی(۲۶) بلکہ آلودگی میں بھی حیرت انگیز حد تک تخفیف ہو سکے گی۔ مثلاً:
(ا) اگر فولاد کو اس کے سکریپ سے تیار کیا جائے تو اس سے ہوائی آلودگی ۸۵ فیصد تک اور پانی کی ۷۶ فیصد تک کم ہو سکتی ہے ۔
(ب) کاغذ کی تیاری میں اگر ردی کاغذکو ہی خام مال کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف ہوا کی آلودگی کو ۷۴ فیصد اور پانی کی آلودگی کو ۳۵ فیصد تک گھٹایا جا سکتا ہے بلکہ جنگلات پر پڑنے والے بوجھ میں بھی اسی تناسب سے کمی ہو سکتی ہے جتنی مقدار میں ردی مال کام میں لایا جائے گا۔ خیال رہے ردی کاغذکے ایسے استعمال سے زمینی آلودگی بھی ختم ہو سکتی ہے ،جو ردی کاغذ کے کچرے سے پیدا ہوتی ہے ۔
(ج) ڈسپوزیبل بوتلوں کی جگہ اگر شیشے کی بوتلیں استعمال کی جائیں تو توانائی اور خام مال کی بہت بڑی مقدار بچ جاتی ہے۔ اگر کئی دفعہ استعمال ہو سکنے والی شیشے کی ہر بوتل میں اوسطاًدس دفعہ مشروب بھرے جائیں تو توانائی کے استعمال میں فی بوتل ۹۰ فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ (۲۷)
کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کی پروفیسر سوزن اوئنز کا کہنا ہے کہ ’’ صنعتی ملکوں میں جتنی توانائی استعمال ہوتی ہے، اس کے نصف سے زیادہ کا تعلق اس ’’بعدِ مکانی‘‘ سے ہے جو لوگوں کے گھروں، ان کی ملازمت کی جگہوں اور خریداری کے مراکز کے درمیان پایا جاتا ہے۔ گھروں اور روزگار کی جگہوں میں یہ دوری توانائی کے ضائع ہونے اور ماحول کے خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے ‘‘۔ ظاہر ہے یہ دوری سٹیٹس کے سبب سے ہے۔ لوگ ’پوش‘ علاقوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ شہر کے ایک کونے میں گھر ہے، دوسرے کونے میں روزگار ہے اور تیسرے کونے میں بچے پڑھتے ہیں۔ اب خود اندازہ کیجیے کہ اس سے ٹریفک، آلودگی کے مسائل اور وقت و توانائی کا ضیاع بھی ہوتا ہے اور فراغت کے لمحے بھی کم رہ جاتے ہیں جس سے نفسی مسائل جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا ’سادگی‘ کے در آنے سے ’’بعدمکانی‘‘ کا مسئلہ بھی کافی حد تک کنٹرول ہو سکتا ہے کہ سٹیٹس کلچر ختم ہو جائے گا۔
اس وقت جاپان، جنوبی کوریا اور چین کے کئی شہروں میں انسانی فضلے سے آلودہ پانی کو کارآمد بنا کر واپس کھیتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ وہاں شہروں کے ارد گرد سبزیوں کی کاشت کے علاقے بنائے گئے ہیں۔ اس سے ایک تو ٹرانسپورٹ وغیرہ کا خرچ کم ہونے سے سبزیاں سستی پڑتی ہیں، توانائی بچتی ہے اور دوسرا سبزیوں کے ضیاع کی مقداربھی کم ہو جاتی ہے، کیونکہ مارکیٹ کھیتوں کے قریب ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شہروں کو بہت زیادہ پھیلنا نہیں چاہیے تا کہ قریبی مضافاتی علاقے ختم نہ ہوتے جائیں اور نتیجے میں شہریوں کو مہنگائی، ماحول کی خرابی وغیرہ جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر سماجی سطح پر ’سادگی‘ راہ پا جائے تو شہروں کی توسیع خود بخود تھم جاتی ہے۔
ماحولیاتی معیشت کے فروغ کے لیے اب مصنوعات کی ’’غیر ضروری پیکنگ‘‘ کو بھی روکنا ہو گا۔ یہ پیکنگ اکثر اوقات تصنع، نمائش اور دکھاوے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف مہنگائی ہوتی ہے بلکہ توانائی کے ضیاع کے ساتھ ساتھ آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ امریکہ میں خوراک کے سامان کی پیکنگ پر، صارفین کو خرچ کا جو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، وہ بعض صورتوں میں کاشتکاروں کی اصل آمدنی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ملک میں بھاری پیکنگ ٹیکس لگایا جائے اور سادگی کی طرف واپس آتے ہوئے ایسے تھیلے بنائے جائیں جو پائدار ہوں اور بار بار استعمال میں بھی آسکیں (۲۸)
بہر حال! اس مختصر تذکرے سے ماحولیاتی معیشت کا خاکہ سا سامنا آجاتا ہے جو یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ نوعِ انسانی کو اسی قسم کی معیشت کی ضرورت ہے اور اس معیشت کی کامیابی ایک مخصوص سماجی رویے کے اثرو نفوذ سے مشروط ہے ۔
اب ہم بحث کے چھٹے اور آخری نکتے کی طرف آتے ہیں جسے ہم نے ’’حضوری‘‘ کا نام دیا تھا۔ شہزاد احمد (۲۹) نے اپنی ایک نظم ’’ہوا ٹھہری ہوئی ہے‘‘ میں کہا ہے کہ:
’’۔۔۔مگر ان وسعتوں میں
جو ہر اک جانب بکھرتی جا رہی ہیں
ہم تو ریزہ بھی نہیں ہیں
سمے کے بپھرے دریاؤں میں قطرہ بھی نہیں ہیں
عبادت کرنے والے اس جہاں میں
ایک سجدہ بھی نہیں ہیں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
جی ہاں! ہماری اوقات یہی ہے۔ لیکن ’’الست بربکم، قالوا بلیٰ‘‘ (۳۰)کا ازلی مکالمہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم کچھ نہ کچھ ضرور ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے مذہبی طبقے نے (ثقافتی سطح پر) خدا کا ایسا تصور متعارف کرایا ہے جس کے مطابق انسان ، خدا سے ’’خوف‘‘ ہی کھا سکتا ہے۔ اور خوف، انسان کے یقین کو دھندلا دیتا ہے۔ خدا کی ربوبیت پر سے انسان کا یقین (۳۱) کمزور ہو جاتا ہے۔ حالانکہ انسانی تاریخ (۳۲)یہی بتاتی ہے کہ ’تصورِخدا‘ ہر عہد میں موجود رہا ہے، پھر بھلا ’خوف‘ کی کیا تک؟ خوف تو عام طور پر ’اجنبیت‘ کا پیدا کردہ ہوتا ہے اور ہم لوگ خدا سے ’اجنبی‘ نہیں ہیں۔ کم ازکم یہ مکالمہ تو یہی کچھ بتاتا ہے۔ آپ کسی پرندے یا جانور کے قریب جائیے جس کے لیے آپ ’اجنبی‘ ہیں، آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ سے خوف زدہ سا ہے، اسے آپ پر یقین نہیں ہے کہ پتہ نہیں آپ کیا ہیں ؟ اس سے کیا چاہتے ہیں ؟ اس سے کیسا سلوک کریں گے؟ یہی حالت ہماری اس وقت خدا سے تعلق میں ہے۔ ہم لوگ خوف زدہ ہیں کہ نجانے خدا کیا کرے گا؟ اس ’کیا‘ کا جواب ہمارے مذہبی طبقے نے بہت حد تک منفی دیا ہے کہ بس خیر نہیں، خدا نہیں چھوڑے گا وغیرہ۔
راقم کی رائے میں ’’الست بربکم، قالوا بلیٰ‘‘ کی معنویت کو ثقافتی سطح پر آشکار کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر ایسا ہو سکے تو اسی سے وہ ’’حضوری‘‘ جنم لے گی جس کا ارضی منتہا و مقصود ’’وحدتِ انسانی‘‘ ہے۔ آپ لوگوں نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب چار لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے ہوں تو ’مزہ‘ آنے پر بعض لوگ ’چٹخارہ‘ بھی لے لیتے ہیں، واہ بھی کہہ دیتے ہیں لیکن ایسے لوگ جن پر ’تہذیب‘ کی ملمع کاری ہوتی ہے، گردن میں سریا لیے مشینی انداز میں کھاتے رہتے ہیں۔ یہی صورتِ حال وحدتِ انسانی کی ہے۔ جب اس وحدت کی بات کی جاتی ہے تو ’’سادہ لوگ‘‘ فوراََ واہ کہہ ڈالتے ہیں اور جن لوگوں کی گردن میں ’’تہذیبی سریا‘‘ ہوتا ہے، دل میں اچھل کود ہونے کے باوجود، سنجیدہ بنے رہتے ہیں، یہاں کسی ظریف کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ان کی خام خیالی پر ’چوٹ‘ کر سکے۔ نوعِ انسانی کے ’ظریف‘ کہاں ہیں؟
حاصلِ بحث
ہم کہہ سکتے ہیں کہ اکیسویں صدی کا اصل بحران ’ذات کا بحران‘ ہے ۔ اس وقت ساری دنیا ایک ہسپتال معلوم ہوتی ہے جس میں ایسے مریض داخل ہیں جو ذات کے بحران کا شکار ہیں۔ حفاظتی کشتی کی سوار، مشرقی اور مغربی دانش دوراہے پر ہے کہ ذات کی بالیدگی کی طرف قدم بڑھائے یا پھرخود کو ’’ڈاگ سائیکی‘‘ کا شکار رکھ کر، لاتعلقی بے حسی اور تعصب کے عفریت کو راہ پانے کا موقع دے۔ بڑھی سیدھی سی بات ہے کہ عالمی دانش کو شخصی بالیدگی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا کہ انسان کا ’’ماحول‘‘ اتنا اہم نہیں ہوتا ، جتنی اہم یہ بات ہوتی ہے کہ انسان ماحول کے ساتھ ’’کیا رویہ‘‘ اختیار کرتا ہے؟ آخر بہشت کے ماحول میں کیا خرابی تھی کہ انسان کو وہاں سے نکلنا پڑا؟ اب زمین اور کرۂ ارض کا ماحول ہمارے سامنے ہے،حیاتیاتی اور نفسیاتی وغیرہ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے کہ ماحول کے ساتھ ہمارے رویے سے ہی ’’نئی تہذیب‘‘ جنم لے گی۔ اگر ہمارا رویہ شخصی بالیدگی کی آسمانی رمز سے پھوٹا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایسی تہذیب تشکیل نہ دے سکیں جس کی روح میں ’’الست بربکم، قالوا بلیٰ‘‘ جیسا ازل سے ابد تک پھیلاہوا مکالمہ پنہاں نہ ہو۔ پھر ایسا کون ہو گا ، جو ایسی تہذیب کو ’’عالمی ‘‘ کہنے سے چوک سکے۔پروفیسر طارق محمود طارق (۳۳) کی نظم ’’ممکن نہیں ہوا سے‘‘ پر بات ختم کرتے ہیں کہ اس نظم میں ’’بلیٰ‘‘ کی باز گشت گونج رہی ہے :
’’ ممکن نہیں ہوا سے
جب اوراقِ گلاب اڑائے
جب ذراتِ خواب اڑائے
چشم و دل میں الجھ کر ٹوٹتے
کانٹے بھی لے جائے
عکس بھی رہنے دے نہ پیچھے
شیشے بھی لے جائے
خواب اگر لے لے
خوابوں کے
سائے بھی لے جائے
ممکن نہیں ہوا سے
ساری حِسّیں شل کر جاتا ہے
تیز ہوا کا شور
سب کچھ بکھر بکھر جاتاہے
لیکن تیرا دھیان
تیرا دھیان بھی چھین لے مجھ سے
ممکن نہیں ہوا سے‘‘
حواشی
(۱) انگریز مفکر تھامس ہابس (1588----1679) اسٹورٹ بادشاہوں سے تعلقات کے باعث جمہوری طرزِحکومت کو ناپسند کرتا تھا۔ انگلستان کی خانہ جنگی کے دوران میں بھی وہ شاہی خاندان کا طرفدار رہا۔ ایک عرصہ تک فرانس میں رہنے کے بعد1651 میں واپس انگلستان آیااور شاہی خزانے سے پنشن پائی۔(De Corpore politico, 1640) ، (De Cive, 1642 ) اور (Levithan,1651) ہابس کی مشہور تصانیف ہیں ۔Levithan کے معنی دیو پیکر عفریت کے ہیں، ہابس نے مقتدرِاعلیٰ کو اسی عفریت سے تشبیہ دی ہے۔
ہابس کے مطابق انسان کی قدرتی حالت کا زمانہ قبل از سماج کی صورت میں تھا۔معاشرہ موجود نہ ہونے کے سبب ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ (War of all against all) اس صورتِ حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے لوگوں نے ایک معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کے مطابق لوگوں نے متفقہ طور پر اپنے تمام حقوق حکمران کو سونپ دیے ۔ حکمران اس معاہدے میں فریق نہ ہونے کے باعث بالاتر تھا۔ اب عوام کے لیے لازم ہے کہ حکمران کی اطاعت کریں، انہیں بغاوت کا کوئی حق نہیں کیونکہ معاہدے میں ایسی کوئی شق درج نہیں۔ اس طرح ہابس نے بادشاہوں کے ہاتھ مضبوط کرنے والی تھیوری پیش کی اور ریاست کو فقط ایک معاہدے کی پیداوار قرار دے کر ریاست اور حکومت میں فرق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
(۲) انگریز مفکر جان لاک (1632.....1704) پارلیمنٹ اور جمہوری اقدار کا حامی تھا۔ اسے کچھ عرصہ ہالینڈ میں بھی ٹھہرنا پڑا۔1688 کے انقلاب کے بعد اس نے آزاد ماحول میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کیا ۔1690 میں اس کی مشہور کتاب On Civil Government منظرِعام پر آئی، جس کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔
لاک کا کہنا ہے کہ انسان کی قدرتی حالت کا زمانہ معاشرتی زمانہ تھا۔ البتہ اسے قبل از سیاسی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔اس دور میں ایک نہیں بلکہ دو معاہدے ہوئے تھے۔ (۱)افراد کے مابین، (۲) افراد اور حکمران کے مابین۔ اس طرح دوسرے معاہدے میں فریق ہونے کے باعث حکمران بھی معاہدے کی شرائط کا پابند تھا، لہٰذا اگر حکمران اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا جس کے مطابق اسے فرائض ادا کرنے ہیں تو افراد بھی اس معاہدے کو ختم کرنے کے مجاز ہیں۔ اس طرح لاک نے ریاست اور حکومت میں فرق کر کے جمہوری طاقتوں کو مضبوط کیا اور بادشاہوں کے مطلق العنان اختیارات پر کاری ضرب لگائی۔
(۳) جان جیکس روسو (1712.....1778) فرانسیسی نژاد تھا۔ 1749 میں دیژون کی اکادمی کی طرف سے ’’علوم و فنون کی ترقی نے اخلاق کو پاکیزگی دی ہے یا انحطاط‘‘ کے موضوع پر مضمون نویسی کے مقابلے میں روسو انعام کا حقدار قرار پایا۔ اس نے اپنے دور کی تہذیب کو آڑے ہاتھوں لیا۔1754 میں اس کی تصنیف Discourses on the Origion of Inequality) ( منظرِعام پر آئی۔ اس کی تیسری تصنیف ایک ناول Nouvell Heloise, 1761) (ہے۔ روسو کی شہرہ آفاق تصنیف (کونترا سوسیال ) یعنی معاہدہ عمرانی 1762 میں سامنے آئی اور پھر اس کے بعد) Emile ( ایمیل تعلیمی تصنیف ہے۔ اس کی آخری تصنیف (Confessions) نے بھی فرانسیسی ادب میں تہلکہ مچا دیا۔ اس تصنیف میں روسو نے اپنی زندگی کا ہر پہلو بے دھڑک بیان کر دیا۔ اعترافات پر مبنی یہ سوانح عمری 1782 میں شائع ہوئی تو اسے پڑھ کر روسو کے مداحوں کو سخت ما یوسی ہوئی ۔ بے چارے کی زندگی بس کچھ ایسی ہی تھی۔
روسو کے نظریے کے مطابق بھی معاہدہ ایک ہی تھا۔ یہ معاہدہ ایک فرد کا تمام افراد کے ساتھ تھا۔ اس معاہدے کے مطابق ہر فرد خود کو غیر مشروط طور پر پورے معاشرے کے حوالے کر دیتا ہے ، جسے روسو ’’ منشائے عام ‘‘ کا نام دیتا ہے۔ منشائے عام ہی مقتدرِ اعلیٰ ہے۔ اس طرح ہر فرد بیک وقت حکمران بھی ہے اور رعایا بھی۔ خیال رہے کہ روسو کے مطابق قدرتی حالت کا زمانہ بہترین زمانہ تھا۔
روسو کی کتاب ’’کونترا سوسیال ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کارلائل نے کہا تھا کہ: ’’ایک شخص روسو تھا۔ اس نے ایک کتاب معاہدہ عمرانی کے نام سے سپردِ قلم کی۔ اس کتاب کی اشاعت پر روسو کا تمسخر اڑایا گیا، اسے پاگل کہا گیا ، لیکن جب یہی کتاب دوبارہ اشاعت پذیر ہوئی تو اس کی جلد انھی لوگوں کے جسم کے چمڑے سے باندھی گئی جو اس کا مذاق اڑاتے تھے۔‘‘
(تھامس کارلائل 1795.....1881 انگلستان کا مشہور مورخ گزرا ہے۔ اس کے نزدیک تاریخ شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ سر سید احمد خان نے خود کارلائل سے ملاقات کر کے اس کی تحقیقی کاوش کو سراہا تھا جب اس نے اپنی کتاب میں رسالت مآبﷺ کو دنیا کی عظیم ترین ہستی تسلیم کیا تھا)
(۴) کارل مارکس (1818....1882) سے کون واقف نہیں ۔ اس کے مداح تو اسے جانتے ہی ہیں ، نقادوں کے ہاں بھی وہ یکساں مقبول ہے۔حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ :
رازدانِ جزو و کل از خویش نا محرم شد است
آدم از سرمایہ داری قاتلِ آدم شد است !
مارکس نے اشتراکی نظریے کو علمی انداز میں پیش کیا۔ اس نے ہیگل کی جدلیت کو معکوس انداز میں استعمال کر کے تاریخ کی مادی تشریح کی۔ مارکس کے نزدیک معاشی رشتے ہی دیگر رشتوں اور اقدار کا تعین کرتے ہیں۔نظریہ قدرِ زائد پیش کر کے مارکس نے ہلچل مچائے رکھی۔ کارل مارکس کی ذہانت کا اندازہ اس امر سے ہو جاتا ہے کہ اس نے 1835 میں( پیشے کے انتخاب کے بارے میں ایک نوجوان کے خیالات) کے موضوع پر ایک مضمون لکھا کہ’’... پیشے کے انتخاب میں ہمارے لیے فیصلہ کن محرک یہ ہونا چاہیے کہ اپنی ذات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ہم بنی نوع انسان کی بہبود کا کام بھی کریں ... انسانی فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ آدمی دوسروں کی بہتری کے لیے کام کر کے ہی اپنی ذات کی تکمیل کر سکتا ہے ۔... ‘‘۔
مارکس نے شاعری بھی کی اور اپنی تین بیاضیں ’’ جینی‘‘ کو پیش کیں ، وہی جینی جس کے ساتھ مارکس کی شادی ہوئی ۔مارکس کی عہد
آفریں کتاب ’’سرمایہ ‘‘ہے جو 1876 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کے متعلق مارکس نے مزاحاً کہا تھا کہ اس سے تو اتنی قیمت بھی نہ ملی جتنی قیمت کے سگار اس نے اسے لکھتے وقت پھونک ڈالے تھے ۔ کارل مارکس نے انگریزوں کے خلاف چینیوں کی مسلح جدوجہد اور ہندوستان کی 1857 کی جنگِ آ زادی کی حمایت کی تھی ۔
(۵) الیگزینڈر پوپ ( 1688....1744) ،انگریزی ادب کا معروف شاعر و نقاد۔
(۶) ڈاکٹر جانسن انگریزی ادب کی تاریخ میں، اٹھارہویں صدی کی نو کلاسیکی اقدار کا آ خری نمائندہ ہے۔اپنے دور کی بھر پور نمائندگی کرتے ہوئے وہ عقلیت اور عقلی و عملی اخلاقیات کا علمبردار ہے۔اس کا ایک اور خوبصورت قول ملاحظہ کیجئے: ’’فطرت کی تخلیقات میں ایسی صفات موجود ہیں جن کا ہمیں علم نہیں اور فن کی صلاحیتوں میں ایسی ترکیبیں ہیں جنھیں برتا نہیں گیا‘‘۔
(۷) ولےئم شیکسپےئر (1564...1616) ، ادیب اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایکٹر بھی تھا۔ اس کی تحریریں آفاقی نوعیت کی ہیں ۔ (Hamlet)،(Othello)،(Macbeth) (، اور (King Lear)نے شیکسپےئر کو انگریزی ادب کے علاوہ عالمی ادب میں بھی اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔ اس کی دیگر تصانیف میں ،(Romeo and Juliet), (Julius Caesar and Antony and Cleopatra), (Timon of Athens and Coriolanus) وغیرہ شامل ہیں ۔
(۸)
’’ساری دنیا ایک سٹیج ہے
اور سب مرد اور عورت اس کے اداکار ہیں
اپنے اپنے وقت پر سب آتے ہیں ،رخصت ہو جاتے ہیں
اور ہر کوئی اپنی زیست میں کرتا ہے کردار کوئی
اس کردار کے ہیں سات زمانے ۔سب سے پہلے شیر خوار بچہ
جو اپنی آیا کی بانہوں میں روں روں کرتا ہے اور دودھ الٹتا رہتا ہے
اور شکوہ کناں پھر اک لڑکا جو بستہ گلے میں ڈال مدرسے جاتا ہے
اور صبح سویرے روشن روشن چہرہ لیے دھیرے دھیرے سے چلتا ہے
جاتا ہے بھلاخوش ہو کے مدرسے کب کوئی۔ اور پھر عاشق بن جاتا ہے
بھرتا ہے وہ ٹھنڈے سانس دھونکنی کی مانند ، اور اک مغموم غزل بھی کہتا ہے
محبوب کے چہرے کی تعریف میں ۔اس کے بعد سپاہی بنتا ہے
اور کیسے عجیب عجیب سی قسمیں کھاتا ہے اور چیتے جیسی گھنی داڑھی رکھتا ہے
اور عزت کی خاطر وہ حسد بھی کرتا ہے ۔لڑنے مرنے پر آمادہ وہ ہر ہر لمحے رہتا ہے
اس شہرت کی خاطر جو بلبلہ پانی کا ہے
توپ کے منہ میں بھی جھٹ سے گھستا ہے ۔اور پھر منصف بن جاتا ہے
اک گول مٹول سی توند لیے ، ہوں جس میں بھرے مرغے خصی
آنکھوں میں بھرے سختی اور چہرے پر اک رسمی سی داڑھی
مشہور مقولے دانش کے سب ازبر اور مثالیں بھی
اور یوں کردار وہ کرتا ہے ۔ پھر چھٹا زمانہ اس کے جسم کو ڈالتا ہے
اک پتلی دبلی اور پھسلوان سی پتلون کے اندر
ناک پہ عینک ، پہلو میں بٹوہ
اور اس کے جوانی کے موزے جو ابھی تلک بھی سالم ہیں ،گویا کہ وسیع ہے اک دنیا
اب اس کے سکڑے اور سمٹے سے تن کے لیے ، اور اس کی بڑی دبنگ سی مردانہ آواز
دوبارہ بچگانہ سی اور اونچے سر کی ہوتی جاتی ہے
آوازمیں سیٹی بجتی ہے۔سب سے آخر کا منظر
جو اس رنگ برنگ عجب تاریخ کو ختم کرے
ہے دوسرا بچپن اور فراموشی خالص
بے دانت بھی، اور بے آنکھ بھی اور بے ذائقہ بھی ، اور بے سب کچھ‘‘
(۹) مثال کے طور پر ریٹائرڈاعلیٰ سرکاری ملازمین کو دیکھیے ، ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی شناخت ،اپنی ذات کی اتھاہ گہرائیوں کی بجائے خالصتاً خارجی وسیلوں پر کروائی ہوتی ہے۔یہ وسیلے(عہدے) ختم ہونے پر یہ لوگ بہت تنہا رہ جاتے ہیں ، کیونکہ ان کی اندرونی ذات بھی انھی خارجی وسیلوں سے مرتب ہوتی ہے۔لہٰذا یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ انسان خارج میں یعنی معاشرے میں اپنی شناخت شخصی بالیدگی کے توسط سے استوار کرے کہ اسی میں پائداری اور پختگی ہے۔
(۱۰) یہاں ماحول سے مراد Eco System ہے۔ایکو سسٹم کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارضی میں نباتات، معدنیات، پانی، فضا اور جاندار وغیر ہ کا ایک خاص تناسب اور توازن رکھا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ حضرت انسان نے اس توازن کو بگاڑنے کی ٹھان لی ہے، جس کے منفی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔
(۱۱) ابومقائد شاعرِ عرب نے خلیفہ ہادی کی شان میں ایک قصیدہ لکھا، جس کے شروع میں حرف ’لا‘ تھا۔ خلیفہ نے کہا کہ قصیدہ تو اچھا ہے لیکن اس کی ابتدا حرفِ نفی ’لا‘ سے ہوتی ہے اور یہ حرفِ لا ہمارے لیے نامبارک فال ہے۔ شاعر نے جواب دیا کہ کلمہ توحید تمام جہان کے کلمات سے افضل ہے اور حرفِ ’لا‘ سے شروع ہوتا ہے ۔ خلیفہ نے اس جواب کو پسندیدہ قرار دے کر شاعر کو انعام واکرام سے نوازا۔
نیویارک میں بھی ایک کانفرنس کالج کی لڑکیوں کے مسائل پر منعقد ہوئی۔ اس میں یہ نکتہ پیش کیا گیا کہ ان لڑکیوں کو NO کہنا نہیں آتا ، انہیں ’’نو‘‘کہنا سکھایا جانا چاہیے۔
(۱۲) ایڈگر ایلن پو کے نظریات کی تشکیل ، انیسویں صدی کے امریکہ میں نو دولتی ذہن کی فنی و جمالیاتی اقدار سے بے تعلقی اور ان کی سخت گیر پیورٹن اخلاقیات نے کی۔ ایڈگر کے زیرِ اثر فرانس میں علامتیت(Symbolism) کی تحریک شروع ہوئی اور انگلستان میں فن برائے فن کی تحریک کا آغاز ہوا۔ پو کا کہنا ہے کہ ’’شدید ترین ، اعلیٰ ترین اور مقدس ترین مسرت ، تصورِحسن سے ملتی ہے۔‘‘
(۱۳) حضورِاکرمﷺ کے وصال کے بعد انصار، خلیفہ کے انتخاب کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے ۔ خزرج قبیلے کے سردار سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ خلیفہ انصار میں سے ہونا چاہیے کیونکہ انصار نے مشکل وقت میں مسلمانوں کی مدد کی تھی۔حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ فوراًحضرت ابوبکر صدیقؓ کو سا تھ لے کر ابو عبیدہ بن جراحؓ کی معیت میں وہاں پہنچے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ انصار کی بات کے درست ہونے میں کوئی کلام نہیں، لیکن مہاجرین ہی تھے جنہوں نے اس وقت مصیبتیں برداشت کیں جب اسلام کا کوئی نام لیوا نہیں تھا۔ مہاجرین نے اس کڑے وقت میں حضورِ اکرم ﷺ کا ساتھ دیا اس لیے ہم مہاجرین کی عزت کرتے ہیں اور انصار کی عزت بھی کرتے ہیں ، لہٰذا حکمران ہم ہوں گے آپ ہمیں مشورہ دیں گے اور ہم آپ کے مشورے سے کام کریں گے۔ انصار میں سے حبیب بن منظر نے کہا کہ ایک امیر مہاجرین میں سے اور ایک امیر انصار میں سے ہونا چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے اسے ناپسند فرماتے ہوئے نکتہ اٹھایا کہ اس سے اسلامی اتحاد کو سخت نقصان پہنچے گا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا حضرت محمدﷺ نے آپ کو مسلمانوں کی جماعت کرانے کے لیے نہیں کہا تھا ، آپ خلیفۃ الرسول ﷺ ہیں، آپ کی بیعت سب سے اچھی ہے جسے حضورِ اکرمﷺ نے پسند فرمایاتھا۔
جب حضرت ابوبکرصدیقؓ کا آخری وقت قریب آیا تو ان کے جانشین کے لیے ان سے رائے لی گئی، اگرچہ ان کی نظر میں حضرت عمرؓ موزوں ترین تھے ، لیکن انھوں نے ان کو جانشین نامزد نہیں کیا بلکہ اکابر صحابہ کرامؓ کو بلا کر ان کی رائے معلوم کی، پھر حضرت عمرؓ کی جانشینی کی بابت اپنی وصیت املا کروائی۔ صدیق اکبرؓ نے حالتِ مرض میں اپنے حجرے کے دروازے سے مسلمانوں کے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’کیا تم راضی ہو اس شخص سے جسے میں تم پہ اپنا جانشین بناؤں ؟ خدا کی قسم ! میں نے غور و فکر کر کے یہ رائے قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے اور اپنے کسی رشتہ دار کو مقرر نہیں کیا ہے ، میں نے عمر بن الخطابؓ کو جانشین بنایا ہے ، پس تم ان کی سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ مجمع سے آواز آئی، ہم نے سنا اور اطاعت کی۔
حضرت عمرؓ نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت چھ اصحاب کرامؓ کی مجلس بنا دی اور ان کے سپرد یہ کام کیا کہ باہمی مشورے سے ایک شخص کو خلیفہ تجویز کریں اور اعلان کر دیا کہ تم میں سے جو کوئی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بنے، اس کی گردن ماردو۔ اس مجلس کے کہنے پر حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے مدینہ میں گھوم پھر کر عام لوگوں کی رائے معلوم کی۔ حج کر کے واپس لوٹنے والے لوگوں سے استصواب کیا، اور اس نتیجے پر پہنچے کہ چھ میں سے دو اصحابؓ زیادہ معتمد علیہ ہیں (۱)حضرت عثمانِ غنیؓ، (۲) حضرت علی مرتضیٰؓ۔ پھر حضرت عثمانؓ کی طرف لوگوں کا زیادہ میلان دیکھ کر ان کے حق میں فیصلہ ہوا۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد سخت افراتفری تھی، اس موقع پر چند صحابہؓ حضرت علیؓ کے گرد جمع ہوئے اور خلافت سنبھالنے کی درخواست کی۔ حضرت علیؓ کے انکار پر بھی ان کا اصرار بڑھتا گیا، آخر کار علی مرتضیٰؓ نے فرمایا کہ میری بیعت خفیہ نہیں ہو سکتی اور مسلمانوں کی مرضی کے بغیر اس کا انعقاد ممکن نہیں۔ آپ مسجدِنبویﷺ میں تشریف لے گئے اور مہاجرین اور انصار کی بہت بڑی اکثریت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
حضرت علیؓ نے آخری وقت یہ پوچھنے پر کہ کیا آپ کے صاحبزادے حضرت حسنؓ کی بیعت کر لی جائے ، فرمایا، میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں ۔ تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو۔
(۱۴) دیکھیے حاشیہ نمبر ۱۳، حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب
(۱۵) حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ حکومت میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی سپہ سالاری کے عہدے سے معزولی بھی قابلِ غور ہے ۔ خالد بن ولیدؓ ، جن کی تمام عمر گھوڑے کی پیٹھ پر گزری ، انہوں نے اپنے عہدے سے دستبرداری آسانی سے قبول کر لی۔ راقم کی نظر میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ خالد بن ولیدؓ نے سپہ سالاری کو کردار کے انداز میں لیا ۔ا ن کی شخصی بالیدگی ہی ان کے خارجی تعلقات کی بنیاد تھی، لہٰذاسپہ سالاری کے کھو جانے پر بھی ان کا معتدل اور معقول ردِعمل اسی امر کی غمازی کرتا ہے ۔ پاکستان میں آرمی چیف اس لیے اپنے عہدے سے چمٹے رہتے ہیں کہ اسی خارجی مظہر یعنی عہدے کے توسط سے ہی وہ اپنی شخصیت کی شناخت اور اظہار پاتے ہیں۔وہ عہدے کو کردار کی صورت میں نہیں لیتے ۔ہمارے جرنیلوں میں ذات کی بالیدگی صفر ہے۔
(۱۶) حدیثِ نبویﷺ ہے کہ تم میں سے جو لوگ قبل از اسلام بہترین تھے ، بعد از اسلام بھی وہی لوگ بہترین ہیں۔ (خیارکم فی الجاہلیۃ خیارکم فی الاسلام اذا فقہوا)
(۱۷) ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ غریبوں میں قدرتی طور پر خارجی وسیلوں پر انحصار کم ہوتا ہے ۔ انہیں بار بار بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہو کر اپنے آپ پر انحصار کرنا پڑتا ہے، ذات کو مجتمع کرنا پڑتا ہے ۔اس لیے ان کے ہاں شخصی بالیدگی زیادہ ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غریب لوگ ہی پہلے پہل مذہب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جہاں تک امرا کا تعلق ہے ، ان کے ہاں سادگی ایسا وصف قرار پاتی ہے جس کے توسط سے ان میں بھی شخصی بالیدگی آ جاتی ہے، کیونکہ سادہ انسان خارجی مظاہر اور رشتوں ناتوں ، رواجات وغیرہ سے دور ہی بھاگتا ہے۔اس لیے اگر تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اسلام قبول کرنے والوں میں مکہ کے ایسے رےئس تھے جو سادہ تھا، اور ایسے غربا تھا جو قناعت پسند تھے ۔لہٰذا ہر دو کے ہاں ایک قدرِ مشترک جھلکتی ہے ، یعنی ذات کی بالیدگی کی قدر۔ اس قدر تک رسائی ہر دو نے اپنے اپنے مخصوص احوال و ظروف کو ایک خاص نظر سے دیکھنے سے پائی تھی۔کیا آج بھی عالمِ انسانیت کو ایسی ہی قدرِ مشترک کی ضرورت نہیں ہے؟
(۱۸) ایسے لوگوں کی مثال اس جانور سے بھی ملتی جلتی ہے جسے شکاریوں نے گھیر لیا ہو۔ایسا جانور اپنے وجوداور بقا کے مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہو تا ہے کہ اب اس کی خیر نہیں ! لیکن اہم بات یہ ہے کہ کسی جانور میں ایسا احساس جبلی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بقا کے مسئلے اور کسی دیگر مسئلے میں فرق، جبلی طور پر کرتا ہے۔انسان کی حالت اس سے بہت مختلف ہے۔ انسان صرف جبلت کا پابند نہیں ، اسے یہ اختیاردیا گیا ہے کہ وہ کسی عام مسئلے اور بقا و وجود سے متعلق خطرے میں خود خطِ امتیاز کھینچ سکے۔یہیں پر یہ نکتہ آ جاتا ہے کہ کوئی انسان اپنی بقا و وجود کو کس سیاق وسباق میں دیکھتا ہے؟ کیا خارجی وسیلوں کے حوالے سے دیکھتا ہے؟کیا اس کے لیے کوئی کاروبار ، کوئی عہدہ ، کوئی رشتہ ’ وجود‘ سے منسلک ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان میں سے کسی پر بھی حرف آنے کی صورت میں وہ بقاکے مسئلے سے دوچار ہو جائے گا اور انتہا پسند بن جائے گا۔ یورپ اور امریکہ اسی لیے انتہاپسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یہاں پر ایک سوال اسلامی دنیاکے حوالے سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ خودکش حملوں کو کس زمرے میں شمارکرے گی؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لوگوں نے بھی کسی عام مسئلے کو بقا کا مسئلہ بنا لیا ہے؟ راقم کی نظر میں یہ خود کش حملے ، ہمارے وجود پر ان حملوں کا جواب ہیں جو مغربیوں نے ہمارے تصورِ جہاد پر کیے، اور مختلف حیلوں بہانوں سے جہاد کو دین سے الگ کرنے، اسے مسخ کرنے کی صورت میں کیے۔ چونکہ ہمارے ہاں دین ایک ’وحدت‘ ہے اور اس کے عناصر ترکیبی ناقابلِ تقسیم ہیں ، اس لیے ہم مسلمانوں نے اسے بقاکے مسئلے کے طور پر لیا ہے، لہٰذا خودکش حملے اندریں صورت فطری معلوم ہوتے ہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ ہماری انتہاپسندی کا محرک ، مغربیوں کی انتہاپسندی کے محرک سے بہت بہتر ہے۔
پاکستان میں جاری فرقہ وارانہ انتہاپسندی کے تناظر میں ایک اور نکتے کی صراحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔راقم الحروف کے مطابق تو اس کی اصل میں بھی بقا کا مسئلہ پوشیدہ ہے۔ہر فرقہ پرست نے اپنے فرقے اور اس سے وابستگی کو بقا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔لہٰذا جب کبھی اس کے فرقے پر یا اس کی وابستگی پر حرف آنے لگتا ہے ، وہ بھڑک اٹھتا ہے اور انتہا پسند بن جاتا ہے۔ایسے شخص کی پہچان اور شناخت متعلقہ فرقے کے توسط سے ہی ہوتی ہے، اسے یہ اندیشہ دامن گیر رہتاہے کہ فرقہ ختم ہونے سے یا اس کی وابستگی ختم ہونے سے اس کی اپنی پہچان ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ فرقہ واریت اسلام کی تعبیرو تشریح سے پھوٹی ہے اور ہر فرقے کی اپنی ایک بے لچک رائے ہے، جو اس کے لیے دین ہے ، اور اسی لیے اس کے ’وجود‘ کا حصہ ہے، لہٰذا راقم کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی عہد سے استشہاد کرنے کی کوشش کرے ۔ اہل علم جانتے ہیں کہ وصالِ نبی اکرم ﷺکے بعدفوری طور پر چار مسائل سامنے آئے:
(ا) وصالِ نبی اکرم ﷺ پر حضرت عمرؓ کا ردِ عمل
(ب)منکرینِ زکوٰۃ کا مسئلہ
(ج) نبوت کے نئے دعویدار
(د) حضرت اسامہؓ کے لشکر کی روانگی
فرقہ پرستوں ، شخصیت پرستوں سے گزارش ہے کہ حضرت عمرؓ کے ردِ عمل پر حضرت ابوبکرصدیقؓ کے خطبے کو بغور پڑھیں ۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: ’’ اے لوگو! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا ، اسے معلوم ہوجانا چاہیے کہ محمدﷺ فوت ہو چکے ہیں ، لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ زندہ ہیں ان پر کبھی موت وارد نہیں ہوتی ۔‘‘۔ ذرا اندازہ کیجیے اگر اس وقت صدیق اکبرؓ کا خطبہ سامنے نہ آتا تو کیا ہوتا؟
راقم کی محتاط رائے یہی ہے کہ مذکورہ بالا چار مسائل میں سے پہلے تین صریحاً بقا کے مسئلے تھے۔اس لیے صدیق اکبرؓ نے کوئی لچک نہیں دکھائی۔ (فرقہ پرستوں سے گزارش ہے کہ انتہا پسندی کے ایسے ہی پیرامیٹرز ڈھونڈیں، کیونکہ اسلام میں اسی قسم کے امور کی بابت ا نتہا پسندی کی اجازت ہے)
اسی بات کوایک اور نظر سے دیکھیے۔ حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ ’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے ہاں اپنے والدین اور اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ‘‘۔ اس حدیثِ مبارکﷺ سے نبی ﷺکے مقام کی وضاحت بخوبی ہو رہی ہے ۔ صدیقِ اکبرؓ کے خطبے کو اس حدیثِ نبویﷺ سے ملا کر پڑھیے، اور پھر والدین ، بہن، بھائی اور کسی کردار، قدر وغیرہ سے اپنی ’’وابستگی‘‘ کو دیکھیے ، اور فیصلہ کیجیے کہ ایسی وابستگی کا مقام ، کیا اور کہاں تک ہو نا چاہیے اور ہم نے کیا مقام دے رکھا ہے ؟
اب ذرا پہلے اور چوتھے مسئلے کے حوالے سے صدیق اکبرؓ کے فرمانِ مبارک پر غور کیجئے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ کی مبارک شخصیت سے وابستگی کو درست نہج پر رکھتے ہیں ، اس کے بعد لشکرِ اسامہؓ کی روانگی کے وقت فرماتے ہیں کہ میں کیسے اس لشکر کی روانگی کو روکوں جس کی روانگی کا حکم خود رسولِ اکرمﷺ نے دیا تھا۔ اس سے یہ نکتہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ تزویراتی تقاضے شخصیت کے گرد نہیں گھومتے۔ ( اسی سے پاکستانی جرنیلوں کا پھوہڑپن ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ تزویراتی تقاضوں کو اپنی شخصیت سے وابستہ کر لیتے ہیں اور ان کی آڑ میں طالع آزمائی کے مزے چکھتے ہیں ۔ بلا شبہ یہ رویہ ایک ایسی قوم کے ساتھ ظلم ہے جس کی بہت ابتدائی تاریخ نے درست سمت کی نشاندہی کر دی ہو)
(۱۹) ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ، دعا فرمائیے کہ میں جنت میں چلی جاؤں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی ۔ یہ سن کر وہ بڑھیا رونے لگ گئی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، چپ کر جاؤ ( میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ) جنت میں کوئی بوڑھا نہیں ہو گا ، وہاں تو سب جوان ہی ہوں گے۔ وہ بڑھیا آپ ﷺ کی یہ بات سن کر ہنس پڑی ۔
تحریکِ خلافت کے مشہور راہنما مولانا شوکت علی سے پوچھا گیا کہ جناب ! آ پ کے بڑے بھائی ذوالفقار کا تخلص ’’گوہر‘‘ ہے اور دوسرے بھائی مولانا محمد علی کا تخلص ’’ جوہر‘‘ ہے ، قبلہ! آپ کا تخلص کیا ہے؟ مولانا شوکت علی نے برجستہ جواب دیا : ’’شوہر‘‘ ۔
مولانا شوکت علی کو عربی نہیں آتی تھی لیکن عربوں سے عربی میں بات کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک مرتبہ چند نوجوان ان کے سر ہو گئے کہ آپ کو عربی آتی نہیں، پھر بات کیسے کر لیتے ہیں ؟ اس پر مولانا نے بگڑ کر کہا، واہ ! یہ کیا بات ہوئی ، ہم عربی خوب جانتے ہیں۔ اس پر کسی لڑکے نے پوچھا ، اچھا چلیے، یہ بتائیے کہ گھٹنے کو عربی میں کیا کہتے ہیں ؟ مولانا نے بلا تامل جواب دیا، گھٹنا عرب میں ہوتا ہی نہیں ۔
(۲۰) سورۃ اسرا میں ہے : ’’اور تم اپنے والدین سے ’اف‘نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور کہو ان سے اچھی بات‘‘
(۲۱) حیرت ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے زوال کو فقط ’’سیاسی احوال و ظروف‘‘ میں دیکھتے ہیں ، حالانکہ ہمارا اصلی زوال ، ثقافتی زوال ہے جس کے سبب سے ہمارے سماجی ڈھانچے سے ’’ثقافتی اپج‘‘ معدوم ہو گئی اور خالی خولی خیالات رہ گئے ہیں۔ نماز کو ہی لے لیں، یہ ہر صورت میں فرض ہے اور روزانہ ادا کی جاتی ہے ۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وقت کی پابندی سکھاتی ہے ، اس طرح وقت کی پابندی ، اسلام کی ثقافتی قدر ٹھہرتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قدر اس وقت ہمارے سماجی ڈھانچے میں رائج ہے؟ یقیناًنہیں۔ صرف شادی بیاہ کے موقع پر ہی اس کی قلعی کھل جاتی ہے۔شادی بیاہ پر ’’تمدنی جدیدیت‘‘ کے مطابق عمل کیا جاتا ہے اور ثقافتی قدر کو ’’دقیانوسی‘‘ قرار دے کر طاقِ نسیاں میں دھر دیا جاتا ہے۔ اس طرح ’’وقت کی پابندی‘‘ ہمارے سماجی ڈھانچے میں بے ثقافت ہو کر محض ایک ’’خیال‘‘ رہ جاتی ہے۔ نماز کے حوالے سے ہی صف بندی اور ڈ سپلن کے پہلو کو دیکھیے ، معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہمارا صرف ’’جسم‘‘ ہی ڈسپلن سیکھتا ہے ، جہاں کہیں نماز کھڑی ہوتی ہے ہم لوگ ’’خودکار‘‘ انداز میں صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر یہی ڈسپلن ہماری ’’شخصیت‘‘ کا حصہ بن جائے تو لازمی بات ہے کہ ہم سماجی سطح پر بھی ’’خود کار‘‘ انداز میں قطاریں بنا لیا کریں ۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ، اسی لیے ہمیں نمازیوں کی بہت بڑی اکثریت سماجی سطح پر ’’بے نماز‘‘ دکھائی دیتی ہے ۔
ہم مسلمان یہ راگ بھی الاپتے ہیں کہ :’’ہماری تہذیب شاندار ہے، ہم مغربی تہذیب کو اس کے مقابلے میں طفلِ مکتب سمجھتے ہیں وغیرہ وغیرہ‘‘۔ حالانکہ درست بات یہ ہے کہ ہماری تہذیب شاندار تھی اور بس۔ موجودہ وقت کی تہذیب کو کیسے شاندار کہا جا سکتا ہے؟ اہل نظر جانتے ہیں کہ ہلاکو خان نے اگرچہ بغداد کو فتح کر لیا تھا ، لیکن اسلام کی تہذیبی قوت کو تسخیر نہیں کر سکا تھا کہ اس (تہذیبی قوت)کے پیچھے ثقافتی اپج موجود تھی، لہٰذا اس فرنٹ پر فاتحوں کو شکست ہوئی تھی۔ برِصغیر میں انگریزوں کی آمد پر ایسا نہیں ہو سکا اور مسلمان تہذیبی سطح پر بھی شکست کھا گئے، اسی لیے ہم انگریزوں کو مسلمان نہیں کر سکے۔ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی تہذیبی قوت بھی ہم سے بہت بہتر تھی کیونکہ اس کے پیچھے ثقافتی اپج موجود تھی۔ اس وقت بھی یہی صورتِ حال ہے ، ذرا اپنے سماجی ڈھانچے کو دیکھیے، اس میں صرف ’’خیالات‘‘ ہیں (بعض خیالات بھی درست نہیں ہیں)، سچ بولنا چاہیے، وعدہ خلافی نہیں کرنی چاہیے ، ملاوٹ نہیں کرنی چاہیے، سادگی اپنانی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔اس کے مقابلے میں مغرب کے سماجی ڈھانچے کو ملاحظہ کیجئے، کیا وہاں صرف ’’خیالات‘‘ ہیں؟ لہٰذا اگر ہم اب بھی اسی بات پر مصر ہیں کہ ہماری تہذیب شاندار ’’ہے‘‘ تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ ۔
اسی بات کو ایک اور رخ سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے ثقافتی زوال کا تجزیہ نہیں کیا ، شیکسپیئر کی مانند ’’المیہ‘‘ نہیں لکھا، کوئی ظریف بھی ہمیں اس امر کا احساس نہیں دلا سکا ، اور نہ ہی ہمیں کوئی ’’گبن‘‘ مل سکا ، جو ہمارے ثقافتی زوال پر اسی اتھارٹی سے قلم اٹھاتا جیسے اس نے سلطنتِ روما کے زوال پر اٹھایا تھا۔
(۲۲) اس موضوع پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے: ’’اسلامی دعوت کی ثقافتی جہت‘‘
(۲۳) یہاں پر راقم کی ایک نظم بعنوان: ’’ شعور کے آنسو‘‘ کا تذکرہ غیر مناسب نہیں ہو گا، ملاحظہ کیجئے:
’’میں نے دیکھا !
فطرت سے بھاگتی
دریچے سے راہ مانگتی
اک ہراساں کرن
فرار چاہتی ہے!!
شاید۔۔۔۔۔
شعور سے تہی ہے
(کہ زیست اتنی ہی ہے یا شاید اس سے بھی کچھ کم)
میرے رفیق ! اٹھو
فرار سے فرار کرو
کہ!! ان خرابوں کے سرابوں میں
وہ تیرا آنسو ہے !
فضائے شبنمی کا نقیب۔‘‘
(۲۴) ماحولیاتی معیشت سے راقم کی مراد فقط یہ ہے کہ معاشی امور میں ’’ماحولیاتی عنصر‘‘ کو پیشِ نظر رکھا جائے ، تاکہ ’’ایکو سسٹم‘‘ مزید ڈسٹرب نہ ہونے پائے۔ ماحولیاتی معیشت، قناعت کے ساتھ ساتھ ، رہنے سہنے کے ڈھنگ میں’سادگی‘ کا تقاضا کرتی ہے ۔ اس اعتبار سے اسلامی دنیا ’ماڈل‘ کے طور پر سامنے آ سکتی ہے ، کیونکہ ہماری بنیادی قدر ’سادگی‘ ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ہمارا دین ’وحدت‘ ہے ، یہ زندگی اور اس سے متعلقہ امور کو ’کل‘ کی صورت میں دیکھتا ہے اور تقسیم یا تخصیص نہیں کرتا۔(مغربی دنیا میں تخصیصیت نے بربریت پھیلا رکھی ہے) اس طرح ہماری زندگی کے تمام پہلو ’باہم مربوط‘ ہیں کہ ہماری سماجی ، معاشی،سیاسی ، اخلاقی و دیگر اقدار’الگ الگ‘ نہیں ہیں۔راقم کی نظر میں اس موضوع پر کام کی ضرورت ہے : ’’اسلام کا تصورِ ماحول :سماجی و معاشی ڈھانچوں سے اس کا ربط اوران پر اس کے اثرات‘‘۔
(۲۵) یورپین کورٹ آف جسٹس نے یہ دلیل قبول کرتے ہوئے کہ’’ماحول کا تحفظ تجارتی فائدوں سے زیادہ اہم ہے‘‘ یہ فیصلہ سنایا تھا کہ ڈنمارک میں مشروبات کی ایسی بوتلوں کا استعمال منع ہے جو ایک دفعہ کام آنے کے بعد ضائع ہو جاتی ہیں۔
(۲۶) توانائی کے ذخائر کے استعمال میں ’اسراف‘ ہی سے ماحولیاتی مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایک ماہر اقتصادیات ہرمن ڈیلی کہتا ہے کہ: ’’ہماری بنیادی غلطی ہماری یہ سوچ ہے کہ گویا زمین ایک تجارتی ادارہ ہے جو دیوالیہ ہو چکاہے کہ اس کے قرض خواہوں کو جو ہاتھ لگے، لے جائیں ‘‘لہٰذا ہم لوگ زمینی وسائل کے استعمال میں ’بے حس‘ ہو چکے ہیں ۔
(۲۷) دیکھیے حاشیہ نمبر (۲۵)
(۲۸) تھیلا ، دنیا کی ہر قوم کی ثقافت کا لازمی جز رہا ہے۔ گھر سے تھیلا لے کر کھانے پینے کی اشیا خریدنے جاناایک رچا ہوا رویہ تھا، جسے تمدنی جدیدیت نے منتشر کر دیا ہے ۔ اب لوگ ’ماڈرن‘ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے راہ چلتے ’شاپر‘ میں ہی ساری چیزیں انڈیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ دودھ دہی وغیرہ بھی ’شاپر‘ میں ڈلوا لیا جاتا ہے ۔ماحولیاتی آلودگی میں اس شاپر کلچر کا کتنا ہاتھ ہے، سبھی لوگ جانتے ہیں ۔
(۲۹) شہزاد احمد پاکستان کے معروف شاعر اور ادیب ہیں ۔ ان کے کئی شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔شہزاد صاحب کی شاعری میں تفکر کے باوجود بوجھل پن نہیں آیا۔ نفسیات کو اردو دان حضرات تک پہنچانے کے لیے بھی انھوں نے قلم اٹھایا ہے ۔
(۳۰) سورۃ الاعراف میں ہے :’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ کہنے لگے، کیوں نہیں !‘‘
(۳۱) ایک موقع پر راقم نے ’’برگشتگی‘‘ کے عنوان سے یہ سطریں قلمبند کی تھیں :
’’حیات نے شاید
یقیں کے سارے لمحے!
چن لیے ہیں
باقی زماں !
بے اعتباری ہے ‘‘۔
(۳۲) پلوٹارک ہمیں بتاتا ہے کہ :’’ ایسے شہر ملے ہیں جو بادشاہوں ، محلوں ، تہذیبوں کے نمونوں ، ادب اور تھیٹر سے محروم ہیں، لیکن کوئی شہر ایسا نہیں ملا جہاں عبادت گاہوں اور معبدوں کے آثارنہ ہوں ‘‘۔ خیال رہے پلوٹارک نے مشاہیرِ یونان اور روما پر قلم اٹھایا تھا۔ قدیم عہد کے اس مورخ کی تصنیفی کاوشوں سے فائدہ اٹھا کر ہی شیکسپیئر نے اپنے کرداروں کو اس انداز میں پیش کیا تھا کہ وہ لافانی ہو گئے، مثلاََ سیزر اور انطونی وغیرہ ۔
(۳۳) پروفیسر طارق محمود طارق، گورنمنٹ زمیندار کالج ،بھمبر روڈ گجرات میں شعبہ اردو سے منسلک ہیں ۔ شعر و شاعری اور تنقید و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں ۔ نفسیات سے بھی ان کی علیک سلیک کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ موصوف نے تراجم بھی خاصی تعداد میں کر رکھے ہیں ۔ ان کے بارے میں بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ گجرات میں ’’دانشوری کا بھرم‘‘ انھی کے دم سے قائم ہے۔
ان کی پرکاری اور ہماری سادگی!
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓاس دنیا میں آ کر آنکھ کھو لی تو اسلامی دنیا مغرب کی چیرہ دستیو ں سے لہو لہان تھی ۔یعنی خلافت اسلامیہ (عثمانی) کا تیا پانچہ مغربی قزاقوں کے ہاتھو ں ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ نو عمری شروع ہوئی تو مغرب کے آپس میں ٹکرانے اور ب ہونے (جنگ عظیم دوم )کا منظر سامنے آیا ۔پھر اس کے نتیجے میں مغربی طاقتوں کی گرفت اپنے مقبوضات پر ڈھیلی پڑی تو تاریخ کا ایک نیا باب کھلنا شروع ہوا۔ مغرب کے مقبوضات چاہے اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، ایک ایک کرکے اس کی گرفت سے آزاد ہوئے۔ اسلامی دنیا کا ایک حصہ جوکیمونسٹ روس کے پنجہء استبداد میں رہ گیا تھا، اللہ نے اس کے لیے آزادی کے اسباب غیب ہی سے پیدا کر دیے اور بیسویں صدی ختم ہونے سے پہلے ہی یہ حصہ بھی آزاد اسلامی دنیا میں شامل ہوگیا۔مگر پتہ چلا کہ آ زادی اصل میں وہ ہے جو زور بازو سے حاصل کی جائے ،نہ وہ کہ جو کسی کے دیے سے یا غیبی اسباب سے مفت مل جائے۔ ہماری اس نو آزاد دنیا کی آزادی وخود مختاری کی کیا اوقات ہے ؟ یہ ان دنوں امریکی خرمستیوں سے ایسی روشن ہوئی ہے کہ کسی مزید بیان کی حاجت نہیں۔ عالم اسلام کو پھر سے ایک نئی جدوجہد آزادی کاچیلنج درپیش ہے۔ اور جتنا بڑا ابتلا عالم اسلام کے لیے ہے اس کا ہم میں کے ہر فرد سے تقاضا ہے کہ اپنی اپنی حیثیت و بساط کے مطابق پوری سنجیدگی سے اس میں حصہ لے۔
امریکی خرمستیو ں کے پیچھے صیہونیت کا ہاتھ ہونا بھی کوئی ڈھکی چھپی چیز اب نہیں ۔ہم عام لوگ تو اس کو کہتے ہی رہتے تھے، ہمارے ارباب حکومت البتہ تکلف برتتے تھے، سو اس طبقہ پر بھی یہ تکلف بالآخر اتنا بھاری ہو ہی گیا کہ امسال او آئی سی کی دسویں سربر اہی کانفرنس (اکتوبر ۲۰۰۳ء) میں جب کہ ساری دنیا (اور خاص کر امریکی اور صیہونی) اسی طرف کو نظریں جمائے اور کان لگائے ہوئے تھی، صدر کانفرنس وزیر اعظم ملائیشیا مہاتیر محمد نے اپنی صدارتی تقریر میں اسے برطرف ہی کر دیا۔ مہاتیر نے صرف امریکہ ہی کے بارے میں نہ کہا کہ (صیہونی )یہودیوں نے اسے اپنے حق میں یرغمال بنارکھا ہے ،بلکہ دنیا (world)کالفظ اس کی جگہ بولا ۔
(Today the jews rule the world by proxy. They get others to fight and die for them.)
اور اس بیان کی سولہ آ نے سچائی سامنے آتے ذرا بھی جو دیر لگی ہو،یہودیوں کو کچھ زیادہ کرنا نہیں پڑا ۔بلکہ مہاتیر نے جس دنیا کی طرف اشارہ کیا تھا یعنی مغربی دنیا(امریکہ بشمول یورپ ) یہ پوری دنیا اسی لمحہ چیخ اٹھی کہ یہ کیسی بات کہہ دی گئی! یہ قطعاً ناقابل قبول (Totally unacceptable)ہے اور ان میں سے برطانیہ نے سب سے آ گے جاکر ملیشیائی سفیر کو باقاعدہ وزارت خارجہ میں طلب کر کے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار اس پر کیا ۔
الغرض عالم اسلام کی موجودہ آزمائشی اور ابتلائی صورت حال کا یہ وہ خاص پہلو ہے جسے کسی وقت بھی نظر انداز کرنے کی گنجائش نظرنہیں آتی۔جو طاقت دوسروں کو اپنے مقاصد وعزائم کے لیے اس انداز میں استعمال کرسکتی ہے کہ یہ اس کا آلہ کار بن کر لڑائیاں مول لیں اور جانیں دیں، اس کے لیے دنیا میں پھر اور کون سی تدبیر ی بات ہے جو مشکل یا اس سے بعید رہ جاتی ہو؟صاف الفاظ میں آپ کو یہ بھی بعید یا مشکل نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ خود آپ کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔نہیں، بلکہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بارے میں ہم تقریباً یک زبان ہیں کہ یہ واقعہ اصل میں صیہونیوں کی کارروائی تھی جسے مسلمانوں کے سر تھوپ دیا گیا۔ مگر یہ کیونکر ہوا کہ ان کا کیا ہمارے سرلگ گیا ؟یہ ایسے کہ جیسے وہ دنیا پر by proxy حکومت کر رہے ہیں، ویسے ہی ۱۱ستمبر والے جہاز بھی انھوں نے ’’بائی پراکسی‘‘ اڑائے تھے اور ان کے یہ ’’پراکسی‘‘ ہمارے نوجوان تھے۔ خود سعودی عرب کو ،جہاں کے شہری یہ نوجوان بتائے گئے تھے، بالآخر ۱۵کے بارے میں تسلیم کر لینا پڑا ہے کہ اسی کے تھے اور اس کے جو نتا ئج سعودی عرب کو بھگتنا پڑرہے ہیں، وہ تھوڑے بہت ہمارے سامنے بھی اخبارات کے ذریعہ آرہے ہیں۔ اور یہ خود سعودی عرب میں خود کش دھماکو ں کا غارت گرانہ سلسلہ ادھر چلا ہے ،یقین کرنا چاہیے کہ یہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ نتائج کے سلسلہ کو مطلوبہ انجام تک پہنچایا جاسکے۔ امریکہ کے خلاف بجاطور پر کھولتے ہوئے جذبات نے جس طرح عر ب نوجوانوں کو دشمن سازش کے جال میں پہنچایا ، ان جذبات کو عراق کے المیہ نے اور بھی جس عالم میں پہنچادیا ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے ۔خودسعودی حکومت کی طرف ان برہم جذبات کا رخ بھی کوئی راز نہیں ہے۔پس سازشوں کی ماہر قوم کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں رہ جاتا کہ ’دہشت گرد ی‘کی کارروائیاں وہ سعودی عرب کی سرزمین پر بھی خود سعودیوں ہی کے ہاتھوں کرائے ۔
پر افسوس کہ ہم، خاص کر ہمارے نوجوان، اپنے غم وغصہ میں اب تک بھی نہیں سمجھ پارہے کہ اس وقت غصہ کے حکم پر عمل کرنا دشمن کے ہاتھو ں میں کھیلنا ہے،بلکہ ہماراغصہ اور اضطراب اس وقت دشمن کاہتھیار بن گیا ہے۔ ہماراغصہ اور ہمارابے حد قیمتی جذبۂ جان سپاری دشمن کے کام آرہا ہے۔ وہ اس بہانہ سے ہمارے ہر ملک میں من مانی مداخلت کا حق حاصل کرکے اسے کھلی غلامی کا شکار ،اپنی طاقت کے بل پر ،بناڈالتا ہے ۔اپنی حکومتوں سے شکایت کتنی ہی بجا اور درست ہو (اور عراق کے خلاف ۱۹۹۱ء والی وہ امریکی کارروائی جس میں سعودی حکومت کی ہر حد سے گزری معاونت اور اس کے باقیات سے وہاں کے اہل دین کی شکایت اور اشتعال کاسلسلہ شروع ہوا ہے ،یہ راقم السطور اس معاونت کے ان اولین لمحات سے ناقد ہواتھا جب شاید ہی کوئی دوسری تنقید ی آواز سعودیہ میں یا اس باہر بلند ہوئی ہو، اور تنقید روز نامہ جنگ لندن کے ریکارڈ پر ان تائیدی بیانوں کے پہلو بہ پہلو موجود ہے جو بڑے بڑے اشتہارات کی شکل میں چھپ رہے تھے) لیکن یہ وقت کہ جب سعودیہ کے وجود کو انھی طاقتوں نے نشانہ پر رکھا ہواہے جن کے خلاف ہمارے سینو ں میں طوفان موجزن ہے، یہ وقت سعودیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کاہے نہ کہ اس کے خلاف کارروائی کے لیے اس کو اچھاموقع سمجھنے کا ۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے خونی ڈرامہ کا نشانہ عام طور پر افغانستان اور عراق کو سمجھا گیا ہے۔ مگر اس ڈرامہ کا خود اپنا کوئی پہلو اگر ایسا ہے جو کسی نشانہ کی نشاندہی کرتا ہو تو صرف ایک پہلو ہے جو بالکل صاف سعودی عرب کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اور یہ ہے اس ڈرامہ کے مبینہ ۱۹ ہواباز وں میں سے کم ازکم پندرہ کاسعودی ہونا، جسے مان لینے پر سعودی حکومت بالآخر مجبور ہوگئی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہوسکتا ہے ؟ کیا امریکہ میں بسے ہوئے عربوں میں صرف سعودیوں ہی کو ہو ابازی کاشوق لاحق ہواتھا، دوسرے عرب نژاد امریکی باشند وں کو اس شوق کی بالکل ہوا نہیں لگی جو ڈرامہ کے ذمہ دار شاطروں کو سعودیوں ہی پر انحصار کرنا پڑا؟ اس نکتہ پر توجہ دیں تو صاف نظر آجاتا ہے کہ جس منصوبے کے ماتحت ۱۱ستمبر کا ہولناک ڈرامہ کھیلا گیا، اس کے نشانوں میں سعودی عرب سب سے اول طے شدہ نشانہ تھا ۔اور سعودی امریکی تعلقات کی رو سے چونکہ اس کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ، جیسا افغانستان یا عراق کے ساتھ بلا کسی ثبوت کے کر ڈالا گیا، نہیں کیا جاسکتا تھا، بلکہ کوئی معقول جواز پیدا کر نا لازم تھا کہ طوطا چشمی کی جاسکے ۔یہ ضرورت تھی جس کے لیے عربوں میں سے چھانٹ کر سعودی ہواباز ہی آلہ کار بنائے گئے۔اور ادھر واقعہ ہوا اور دوسرے دن سے سعودیہ کے ساتھ امریکہ کا جو رویہ بدلا ہے، وہ ہم دیکھ رہے ہیں اور ساری دنیا دیکھ رہی ہے ۔
کوئی اور سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو، سعودیہ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ شاطرانِ دہر نے اسے نشانے پر لگوادیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ امریکی عفریت کے مقابلہ میں اپنے بچاؤ کی کوئی طاقت اس کے پاس نہیں ہے ۔اس لیے جنرل پرویز مشرف کی طرح سراپا ’’حاضر جناب‘‘ بن کر اگرچہ نہیں ،پھر بھی بڑی حد تک ’’تعمیل ارشاد‘‘ کردینے کا رویہ سعودی حکمرانوں نے اپنایا ہوا ہے تا کہ جان اونے پونے ہی چھوٹ جائے اور بات جہا ں جاسکتی ہے، اس کی نوبت نہ آئے۔ بے شک یہ صورت حال سعودیوں ہی کے لیے نہیں، ہر خود دار مسلمان کی خودی کو چیلنج ہے۔ مگر سوائے اس کے کہ ’’تعمیل ارشاد ‘‘ کے حدود اربعہ اور سائز پر گفتگو کی جاسکے، کیا کوئی دوسرا عملی راستہ بھی ہے جو ہم میں سے کوئی سعودی ذمہ داروں کو بتاسکے؟ کاش کہ ناراض سعودی عناصر اس بات کو سمجھیں کہ وقت حکومت کے رویہ کو چیلنج کرنے کا نہیں بلکہ خارجی دباؤ کے مقابلہ میں معاونت کی پیش کش کا ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے کہ امریکہ کے سامنے حکومت کا جو جھکاؤ ہم گراں ہے وہ کچھ کم کرایا جاسکے ۔دوسری صورت میں بظاہر حالات ہم اس کے سواکچھ نہیں کرسکیں گے کہ امریکہ کو اس انداز سے اندر آجانے کا بہانہ فراہم کردیں جس انداز کی طلب میں نشانہ باندھنے والوں نے سعودیہ کا نشانہ باندھا تھا اور پھر (اللہ نہ کرے) ہم اپنے آپ کو موجودہ سے بھی بدتر صورت حال میں پائیں ۔ا م المؤ منین عائشہ صدیقہؓ ؓکا ایسے ہی آزما ئشی موقع کاارشاد ہے جس پر غو ر کیا جانا چاہیے، جو کہ حضر ت معاویہؓ ؓکے دور میں قتل حجرؓ ؓکے موقع پر آپ سے منقول ہوا ہے۔ فرمایا : لولا انا لم نغیر شیئا الا صارت بنا الامور الی ماھو اشد منہ لغیرنا قتل حجر (اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے جب بھی معاملات کے کسی غلط رخ کو طاقت سے بدلنا چاہا تو نتیجہ اس سے بدتر ہی نکلا تو ہم حجر کے قتل پر ضرور کچھ کرتے !) یہ آپ نے ان لوگوں سے فرمایا تھا جو اس سانحہ پر آپ سے کسی اقدام کے متوقع تھے۔
سعودی عرب کے سلسلہ میں یہ بات پیش نظر رکھنے کی ہے کہ یہ اس عرب خطہ کی واحد مملکت ہے جس کی اور باتوں سے قطع نظر اس کا سیا سی استحکا م خطہ میں ایک مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ مزید برآں ،حرمین شریفین کے حوالہ سے عظمت و تقدس کا ایک یگانہ مقام اسے حاصل ہے۔اس لیے یہ مملکت اگر( خدانخواستہ)اندرونی اور بیرونی دوطرفہ دباؤ کے نتیجہ میں عد م استحکا م کا شکار اور خلفشار کی نذر ہوتی ہے تو اس کے اس سے کہیں گہر ے نفسیاتی اثرات خطہ پر پڑیں گے جواثرات عراق کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجہ میں دیکھ رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اسرائیل جس کی خاطر یہ سارا ہنگامہ بپا ہے، اس کا ایک خواب ’عظیم ترین اسرائیل‘کا ہے جس کے نقشے میں مدینہ منورہ بھی آتا ہے۔ اس خواب کو اس ہنگامہ میں پورا کر لینے کا موقع اسرائیل کو ملے یا نہ ملے، خطہ کے نفسیا تی اثر کی بدولت اپنے موجودہ حدود میں اسے وہ من مانیت آسان تر بہرحال ہوجائے گی جس نے علاقہ کی زندگی پہلے ہی کچھ کم عذاب نہیں بنا رکھی ہے۔
الغرض اسلامی دنیا اور بالخصوص عربی دنیا کو مخالف حالات کے جس چیلنج کا سامنا ہے وہ ’’کھاؤں کہاں کی چوٹ بچاؤں کہاں کی چوٹ‘‘والا ایک پیچید ہ معاملہ ہے۔ اس کا کوئی ایک پہلو رکھ کر رد عمل کو حرکت دینا قرین عقل ومصلحت نہیں ہوسکتا۔مغربی دنیا جس سے ہم ایسے معاملات میں عرصہ سے زک اٹھاتے آرہے ہیں، خیال ہوتاتھا کہ وہاں اب جو لوگ ہم میں سے آبسے ہیں، انھوں نے اس دنیا کے طور طریقوں سے ان معاملات میں ضر ور کچھ سبق سیکھ لیا ہوگا ۔مگر ان آزمائش کے دنوں میں بڑی مایوسی ہورہی ہے۔ سعودی عرب جہاں کے اندرونی ردعمل کا ابھی حوالہ آیا ،وہا ں کے لوگوں کی بھی ایک تعداد دوسرے عرب ملک والوں کی طرح یورپ میں آبسی ہے ۔ان میں ایک گروہ ہے جو سعودیہ میں نظام کی تبدیلی چاہنے والوں سے تعلق رکھتا ہے اور لندن اس کا مرکز ہے ۔سعودیہ میں رہ کر اس مقصد کے لیے آزادانہ جدوجہد نہیں کی جاسکتی ہے ۔یورپ میں کہیں ٹھکانہ بناکر آپ سب کچھ کر سکتے ہیں ۔یہاں ایک جمہوریت کے ناتے اظہار خیال کی ایسی آزادی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔دوسرے بہت دور کی سوچنے والے یہ لوگ ہیں ۔ہرملک کے ایسے گروہوں کو بڑے کام کی چیز سمجھتے اور ’’داشتہ آ ید بکار‘‘ کا معاملہ اس کے ساتھ کر تے ہیں ۔کسی ملک کی حکومت شکایت کرتی ہے کہ آپ کے زیر سایہ بیٹھ کر ہمارے خلاف یہ پروپیگنڈا ہورہا ہے تو چاہے وہ دوست ملک ہی کیوں نہ ہو ،بڑی آسانی سے عذر کردیتے ہیں کہ صاحب، ہم تو اپنے خلاف بولنے پر بھی پابند ی نہیں لگاسکتے ۔بہر حال ،جن دنوں ریا ض میں خود کش حملو ں کی وارداتیں ہوئیں، انھی دنوں میں ایک خبر پڑھی کہ اس گروہ کی کال پر ریا ض میں ایک حکومت مخالف مظاہرہ اتنے سو لوگو ں نے کیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون،جن سے توقع کی جانی چاہیے تھی کہ جو پر جوش لوگ اس وقت حکومت کے لیے اندرون ملک مسئلہ بنارہے ہیں، یہ ان کو سمجھانا چاہیں گے کہ یہ وقت اس کا م کا نہیں ہے ،وہ تو خود بے چین ہیں کہ کسی طور پر اس میں خود بھی شرکت کر لیں۔مغر ب جو ہم پر حاوی ہے، اس میں آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جب ملک کسی بیرونی طاقت کی طرف سے دباؤ میں ہو تو حزب مخالف اپنا حساب چکانے نکلے۔
مگر اپنے اس افسوس پر بعد میں خیا ل آیا کہ یہ تو پھر بھی وہ لوگ ہیں جنھوں نے باہر سے آکر یہا ں ڈیر ہ لگایا ہے۔ اپنا حال تو یہاں رشد ی کی خباثت کے بعد سے یہ ہے کہ وہ جو یہیں کی تعلیم پارہے یاپاچکے ہیں ،ان میں بھی کھیپ د رکھیپ ہمارے ایسے نوجوان دستیا ب ہیں کہ کفر کے خلاف جوش اور جذبہ کی بانسری بجاکر آپ انھیں کسی بھی مہم پر اسی ملک لگاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں ایک جماعت ’’حزب التحریر‘‘ کے نام سے قائم ہے ،جو خلافت اسلامیہ قائم کرنے کی علمبردار ہے۔ ذراغور کیجئے، یہ سرزمین برطانیہ جہاں سے نہ صرف خلافت کی آخری یادگار (ترکی )نشانہ بنی، بلکہ سارے عالم اسلام کی ہر وقت نگرانی بھی ہے کہ کہیں کسی اور اسلامی ملک کے افق سے تو یہ سورج پھر طلوع ہونے نہیں جارہا ہے! اور کہیں بھی ان کو شبہ ہوتا ہے تو فوراً اپنے اثرات اس امکان کی جڑ کاٹنے کے لیے استعما ل کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہا ں پر یہ نعرہ خلافت بلند کرنے والی جماعت مختلف مسلمان ملکو ں سے تعلق رکھنے والے یہیں کے پیدا نوجوانوں میں سینکڑوں کو اپنے نعرہ پر رقصاں کیے ہوئے ہے ۔اور ان کالجوں یونیورسٹیوں کے نوجوانو ں کی سمجھ اتنی موٹی بات کی طرف بھی نہیں جاتی کہ جو نعرہ مغرب والوں کو ہم مسلمانوں کے اپنے ملکوں میں خطرناک دکھائی دیتا ہے، اسے اپنے ملک میں گوارا ہی نہیں کررہے ،بلکہ جیسے کہ ’پرورش‘ کر رہے ہوں !
ٓٓٓٓٓٓٓاس جماعت کی طرف سے ہر طرح کا لٹریچر برسہا برس سے چھپتا اور آزادانہ تقسیم ہوتا ہے۔ جلسے جلوس ہوتے ہیں اور یہ سب محض خلافت اور اسلام کے حق میں ہی نہیں ہوتا، مغرب اور اس کی تہذیب، تاریخ اور افکارنظریا ت سے اظہار نفرت کو بھی اس میں بھر پور حصہ ملتا ہے۔پر کبھی جو روک ٹوک یہاں ہوتی ہو ۔اسی جماعت سے نکلا ہوا ایک گروہ ’’المہاجرون‘‘ کہلاتا ہے۔ وہ اپنے لیڈر کے فائر برانڈ (شعلہ بار ) ہونے کی وجہ سے حزب سے بھی چار قدم آگے ہے۔ اور ان سب کو پیچھے چھوڑنے والے مسجد فنسبری پارک لندن کے خود ساختہ امام ابوحمزہ مصری تو ساری دنیا میں معروف ہی ہوچکے ہیں جو ’’انصار الشریعہ‘‘نام کی جماعت چلاتے تھے۔ وہ بھی جب تک القاعدہ کے امریکی ہوّے نے ایک نئی پالیسی برطانیہ میں جاری نہیں کرادی، اپنی عام نصرت شریعت ہی نہیں ،خاص نصرت جہاد والی آتشیں انگریزی تقریر وں اور ٹی وی بیانوں مباحثوں کے باجود روک ٹوک سے محفو ظ نہیں تھے، برطانوی سوشل سیکورٹی سسٹم کے ماتحت دو سو پاؤ نڈ ہفتہ کا وظیفہ بھی سرکا ری فنڈ سے پارہے تھے جو اب اس بنیا د پر بند ہوا کہ ان کو عطاکردہ بر ٹش نیشنلٹی سلب کرلی گئی ہے۔ اوریہ وظیفہ کی عنایات کچھ جناب ابوحمزہ کے ساتھ مخصو ص نہیں تھیں، ان جماعتو ں کا جو شخص بھی سیکورٹی سسٹم کے ماتحت قانوناًحقد اربنتا ہو، وہ بالکل دوسرے حقدار شہریوں کی طرح اس طرح کے وظائف اور تمام لازمی شہری سہولتوں سے فیض یا ب تھا اور ہے ۔
یہ تینوں جماعتیں بھی (بلکہ گروپ کہیے ) جیسا کہ ان ناموں سے ظاہر ہورہا ہے ،ہیں تو ،سعودی گروپ کی طرح، اپنی اصل سے ،عربی ہی مگر ان تینو ں نے اپنے مبیّنہ مقصد کو کسی ملک کے ساتھ خاص نہیں کیا ہے اس لیے ان کے حلقہ میں کم وبیش ہر اسلامی ملک کی نمایند گی ہے ۔حزب التحریر اور المہاجرون کے سرگرم کارکنوں میں خاص طور سے پاکستانی اور بنگلہ دیشی نوجوان زیادہ نظر آتے ہیں۔ (وجہ شاید یہ کہ رشدی خباثت کے خلاف احتجاج دراصل برصغیر ہند ، پاکستان اور بنگلہ دیش والوں ہی کے جذبات سے عبارت تھا) ان نوجوانوں سے اگر یہ باتیں کہیے جو آپ کے لیے معما ہیں تو وہ اس پر غور کرنے کو تیار نہیں ہوں گے کہ وہ سادگی میں کسی کھیل کا شکا ر تو نہیں ہورہے ہیں،وہ کہیں گے یہاں کا قانون ہمیں ان باتوں کی آزادی دیتا ہے جو ہم کررہے ہیں۔اور یہاں کی یہی مجبوری ہے جو وہ روک ٹوک نہیں کرسکتی۔ مگر وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ یہ قوانین نہ ان کے اپنے بنائے ہوئے ہیں، نہ ان کی بقا ان کے بس میں ہے ۔حتیٰ کہ اس ملک کی جو شہنشاہیت ہے، اور جس کے نام سے ہی تمام قانون سازی ہوتی اور ساراکاروبار حکو مت چلتا ہے،خود اس کا یہ حال بقول حکیم مشرق ہے کہ:
شاہ ہے برطانوی مندر میں اک مٹّی کا بت
اس کو جب چاہیں کریں اس کے پجاری پاش پاش
یہ دراصل وہی ذہنیت ہے ،جسے بیمار کہیں یا بے شعور،جس کے ہم مسلمانانِ ہندوستان اسیر ہیں ۔ہندوستان کا دستور جس دستور ساز اسمبلی نے بنایا، اس میں مسلمان آٹے میں نمک کادرجہ رکھتے تھے۔پھرہندو مسلم بنیاد پر ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں کم ہی ان میں وہ رہ گئے تھے جو بقیہ ہندوستان میں برابر کا حق جتانے کی اس ماحول میں ہمت دکھا سکتے ہوں۔ ایسے دستور کاکیرکٹر سیکولر رکھا جانا،یہ ہند و ممبران کی اپنی مرضی اور پسند کا نتیجہ تھا ۔ مگر ہمیں جب یہ بنی بنائی چیز ملی جس پر (Made by Hindus )لکھا ہو انہیں تھا اور لکھا جا بھی نہیں سکتا تھا، تو ہم نے سچ مچ سمجھ لیا کہ واقعی یہاں ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ اور اس کے نتیجہ میں کوئی وہ عملی پالیسی اپنے لیے وضع نہیں کرسکے جو واقعی ہمیں سچ مچ برابر ی کی سطح کی طرف لے جاسکے۔چنانچہ جو دن گزرتا گیا، وہ برابری کی سطح سے نیچے ہی لیتا گیا ہے اور آج ہم ایسے کھلے مید ان میں خود کو کھڑا پارہے ہیں کہ جہاں سر پہ گویا آسمان بھی نہیں۔ امریکی خرمستیوں کے مقابلہ میں مسلم اقوام کی بے بسی پر آجکل اس بات کا کافی تذکرہ ہما رے یہاں ہے کہ ہما رے اسلحہ خانوں میں تو ہتھیا ر بھی انھیں کے دیے ہوئے ہیں، مقابلہ ہو تو کیسے ہو ۔قانونی اور دستوری اسلحہ کا معاملہ بھی اس سے کوئی مختلف چیز نہیں ہے ۔وہ اگر کسی ملک کے اندر آپ کا اپنا تیار کردہ نہیں ہے یا اس کی تیا ری میں برابر کا حصہ آپ کا نہیں رہا تو اس کے اوپر بھروسہ بھی ایک دن یقینااسی طرح پچھتاوے کا باعث ہو کے رہے گا جیسے آج اسلحہ جنگ کا معاملہ ہمیں رلا رہا ہے ۔برطانیہ میں جس قسم کے قوانین کا بظاہر تصو ر نہیں تھا اور جواب تک کی قانونی روش کی روشنی میں لا قانونیت کے ہم معنیٰ معلو م ہوتے ہیں ،وہ ادھر اس تیزی سے وجود میں آنا شروع ہوئے ہیں کہ اب نہیں کہا جاسکتا کہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا ؟اور قانون کی بات چھوڑیے ،عقل عام کیوں کر معاملہ کے اس پہلو سے بے اعتنائی روارکھ سکتی ہے کہ مغرب اگر اپنی سرزمین پر اسی خلافت اسلامیہ کے لیے جدوجہد کونہایت ٹھنڈے پیٹوں برداشت کررہا ہے جس کا مطلب اسلامی دنیا کا ایک سیاسی پیکر میں ڈھل جانا ہے ،تو یہ کیسے خالی ازعلت ہوسکتا ہے؟ بیشک ایسا ہوچکا ہے کہ فرعون کے محل میں موسیٰ کو پرورش ملی ۔ مگر اس مدت پرورش میں ایک معصوم موسیٰ تھے، وہ موسیٰ نہیں تھے جنہوں نے فرعون کے سامنے نعرہ حق بلند کیا۔ ایک دوسرا پہلو کہ وہ بھی عقل عام کو ایک تجسس(Curiosity) پر اکساتا ہے ، یہ ہے کہ القاعدہ کے ہوّے کے بعد سے ان جماعتوں کے بعض ارکا ن کسی نہ کسی درجہ کی گرفت میں آئے لیکن اس معاملہ میں لیڈروں پر الزام کی واضح گنجائش کے باجود صرف ایک ابو حمزہ پر تھوڑی سی آنچ آئی ہے۔وہ بھی اس منزل پر پہنچ کر کہ کیوبا کے Guantanamo Bay کیمپ میں جو چند برطانوی نوجوان طالبان کے ساتھ قید ہیں، ان کا سر ا ابو حمزہ سے ملنے کی پے بہ پے شہادتیں آتی گئیں۔ پھر بھی ان کے خلاف ایکشن کا جوانداز ہے، اس کی نیم دلی کو ،کم ازکم برطانیہ میں رہنے و الو ں کے لیے کسی بیا ن کی حاجت نہیں۔ جومسجد گزشتہ سال (۲۰۰۳) جنوری میں ان کی وجہ سے بند کی گئی، وہ اگلے ہی ہفتہ سے اس مسجد کے سامنے سڑک پر جمعہ کی نماز پڑھارہے ہیں۔ان کے شغل میں سڑک کے راہ عام ہونے کے حوالہ سے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی۔جبکہ پولیس کی نفری بھی اس موقع پر وہا ں متعین کی جا تی ہے !اور مسجد جو سال بھر ہونے کو آیا، اب تک نہیں کھل رہی، اس کی اصل وجہ جناب ابو حمزہ کی یہ چھوٹ ہے ۔
تو ہم اپنی معصومانہ اداؤں کو کیا کہیں؟اور کیا حق ہمیں زمانہ یا جور فلک سے شکوہ کا ہے ؟پاکستان وبنگلہ دیش یا سعودی عرب ومصر غیر ہ ہی نہیں، ہم برطانیہ وامریکہ والوں کے بیچ میں رہ کر بھی وہی رہنے کی گویا قسم کھائے ہوئے ہیں جن کی باریک چالو ں کی داد ایک دیدہ ور ان الفاظ میں دے گیا ہے:
یوں قتل سے بچو ں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسو س کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
’جہاد‘ اور ’اسلامی خلافت وحکومت‘ کے الفاظ ہماری وہ کمزوری ،ہماری سادگی اور ہمارے نامبار ک احساس محرومی ومظلومی کی وجہ سے بن گئے ہیں کہ ان کی صدا لگاکر جو بھی چاہے، ہمیں لوٹ لے جاسکتا ہے ۔ہم یورپ اور امریکہ میں دن بدن اپنی بڑ ھتی ہوئی تعد اد اورجمتی ہوئی جڑوں پر خوش تو ہوئے مگر چوکنّے پن سے بے نیازہونے کی بنا پر اس خطرہ کا کبھی بھی شاید نہیں سوچ سکے کہ ہمہ وقت چوکناّصیہونیت کو اس میں اپنے پروٹوکولی عزائم واہد اف کے لیے خطرہ نظر آئے گا اور اس لیے شاطر (Cunning ) ہر وہ کا م کرسکتے ہیں جس کے لیے یہاں کی فضا ناسازگار ہوجائے۔یہ ہماری کمزوریوں سے نہایت باخبررہنے کی کوشش کر تے ہیں ،ان کے ماہرین کی ریسرچ بڑی سرگرمی سے ہمارے سلسلہ میں جاری رہتی ہے ۔اور بلا شبہ یہ جتنا ہمیں جا ن گئے ہیں، ہم خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے ۔اور جہاں تک ان کو جاننے کا سوال ہے تو سوائے ہوائی اور خود ساختہ باتوں کے ہمارے پلّے کچھ بھی اور نہیں ہے ۔کم از کم برطانیہ میں جو تحریک خلافت ہے، اس کے بارے میں اگر ہمارا کوئی محنتی طالب علم ریسرچ پر لگ جائے تو اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہ رہ پا ئے گا کہ یہ سب پود انھی کی لگائی ہوئی ہے ۔
ہمارے بارے میں یہودی اور عیسائی ریسرچ کی کیا کیفیت ہے ،بہتر ہے کہ اس کی بھی دو مثالیں یہاں درج کردی جائیں۔گزشتہ روز دو کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک دیو بند پر امریکی مصنفہBarbara Metcکی کتاب Islamic Revival in British India; Deoband 1860-1900. جو اس نے ۱۹۷۲ء میں ہندوستان کا سفر کرکے لکھی۔ دوسری ابھی دو سال پہلے کی ایک فرنچ مصنف Gilles کی کتاب جہاد (Jihad) جو فرنچ سے انگریزی میں ترجمہ ہوئی۔ دیوبند سے اپنا پشتینی رشتہ hw،خو د پورے چار سال اس میں گزارے ،مگر اس کتا ب کو پڑھ کر جگر مراد آبادی مرحوم کا مصرعہ ذہن میں گھوم گیا:
غزل میں یہ وسعتیں کہا ں تھیں شعور فکرونظر سے پہلے
دیوبند اسکول کا اس قد ر ہمہ گیر مطالعہ ہے کہ بیشتر جگہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس خاتون کو ہر ہر پہلو کی اتنی جزئیات سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے جبکہ واقعہ یہ ہے کہ میں دیوبند ی طالب علم بھی ،کیساہی مفصل کرانا چاہوں تب بھی ان میں کی بہت سی تفصیلات سے تعرض کوایک طول لاطائل سمجھوں گا۔ علیٰ ہذا جہاد پر فرنچ مصنف کی کتاب ،جس میں عالم اسلام کے تازہ جہادی رخ (Trend)کا مطالعہ کیا گیا ہے،اس کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ خود اپنی دنیا کے بارے میں ہم جیسے کم علم بھی جو بزعم خود خاصی واقفیت رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، کس قدر ناکافی ہے ۔ بڑے کتابی سائز پر ۴۰۰صفحہ کی یہ کتاب مشرق سے مغر ب تک کی اسلامی دنیا کا جہادی مطالعہ، ہر ہر بیان کے لیے حوالہ کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔اور حوالے بظاہر ایسے کہ کسی استادی کا شک گزرنا مشکل۔
فرنچ مصنف کی اس کتاب کے ذکر پر یاد آیا کہ اسی میں ایک ایسا بیا ن ملتا ہے جسے اس مضمون کے شروع میں ظاہر کیے گئے اپنے ایک خیا ل کی تائید میں قرآنی الفاظ وشھد شاھد من اھلہا کا مصداق کہا جاسکتا ہے۔ مصر کے شیخ عبد الرحمان عمر (حفظہ اللہ تعالیٰ ) موجودہ جہادی ٹرینڈ کے معما روں میں سے ہیں اور جہاد افغانستان کے سرپرستو ں میں۔ جہاد افغانستان کی بدولت امریکی سی آئی اے سے ان کارشتہ جڑچکا تھا۔جب کہ اپنے ملک میں وہ حکومت کے لیے ناقابل برداشت۔مختصراً ،۱۹۹۱ء میں وہ (سوڈان کے بعد )پناہ کی طلب میں امریکہ پہنچے گئے اور اس کے بعد کی کہانی معلوم و مشہور ہے کہ ۱۹۹۳ء میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر بم واردات میں ملوث ٹھیر ا کر ان کا ٹھکانہ جیل کو بنادیا گیا ۔شیخ کو ملوّث کر نے کی کہانی بیا ن کرتے ہوئے جیلس کیپل نے کہا کہ ٹریڈ سینٹر کی واردات کا کام شیخ کے ارد گرد کے سادہ اور جذباتی لوگوں سے لیا گیا۔ مختصراًمسٹر کیپل کا کہنا ہے کہ جہا ں تک ان افراد کے تعین کا سوال ہے جنھوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی واردات میں بر اہ راست حصہ لیا تو اس کے مقد مہ میں کیا گیا یہ تعین یقیناکسی شک کی گنجائش نہیں رکھتا ۔یہ تما م کے تمام شیخ سے قربت والے اور ان کی آتش ناک اینٹی امریکہ ومغرب تقریروں سے متأثر لوگ تھے ۔لیکن امریکن جسٹس ڈیپارٹمنٹ کا یہ دعویٰ کہ اس واردات کی سازش کا دماغ خود شیخ تھے، یہ آج بھی قابل گفتگو ہے بلکہ یہی نہیں کہ ایک نابینا شخص جس نے یہ سینٹر کبھی دیکھا نہ اس کے لیے آسان کہ ذہن میں اس کی شبیہ قائم کرے ،کیونکر اس کوٹارگٹ بنانے کے لیے چن سکتا تھا، اس کے وہ ساتھی بھی جو اس میں ملوّث ہوئے، نہ ذہنی طور پر امریکہ سے واقفیت کے اعتبار سے اس قابل تھے کہ ان کے ہاتھوں سے ایسی کامیاب ترین پیمانہ کی واردات بغیر بیرونی امداد کے عمل میں آنا سمجھ میں آسکے ۔چنانچہ مقدمہ کے دوران میں صفائی کے وکلا کی طرف سے اس ایک مصری مخبر کے کر دار کوبھرپور نمایاں کیا گیا تھا جسے امریکن ایجنسی FBI نے شیخ کے لوگوں میں گھسادیا تھا اور ملزمان کے ساتھ اس کی ریکارڈ شدہ گفتگو ثابت کر رہی تھی کہ اس نے ان لوگوں کو اس واردات کے لیے اچھی طرح اکسایا تھا ۔ (ص:۳۰۱)
پس یہ جو اوپر یقین کے ساتھ کہا گیا تھا کہ ۱۱ستمبرکی واردات جو بظاہر ہما رے ہی ہاتھوں سے ہوئی، یہ اصل میں اوروں ہی کی ’’بائی پراکسی‘‘ واردات تھی، ہم محض استعما ل ہوئے اور اس لیے ہوئے کہ سعودی عرب کو بھی نشانہ میں لینا تھا تو مسٹرکیپل کا مذکورہ بیان اسی طریقہ واردات کی ایک دوسری مثال بھی ہمارے سامنے لے آیا ہے ،کہ شیخ عمر کو جیل میں ڈالنا تھا، ان کے آدمی قابل مؤاخذہ کا م کے لیے استعما ل کر لیے گئے ،اور اس سے پہلے کی جو کارروائی شیخ کے ساتھ اس منزل کی طرف لیجانے کے لیے ہوئی،وہ بھی مختصراً سن لینے کی ہے۔ کیپل نے لکھا ہے کہ ایک طرف تو شیخ پر مہربانی کا یہ عالم تھا کہ امریکہ پہنچ کر جنوری۹۱ء میں انھوں نے درخواست دی اور اپریل ہی میں انھیں گرین کارڈ عطا ہوگیا۔یہ اس وقت تک کی بات تھی کہ کابل ابھی روسیوں ہی کے قبضہ میں تھا ۔مگر اس کے نگاہ بدلی تو شیخ جو حج (یا عمرہ) کے لیے مکہ گئے ہوئے تھے، واپس آئے تو پتہ چلا کہ وہ اپنی درخواست میں ایک جھوٹ کے مرتکب ہوئے تھے۔وہ یہ کہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ Bigamist(ایک سے زائد بیویوں کے شوہر ) ہیں، پس اس بنیا د پر وہ گرین کارڈ سے محروم کردیے گئے ،اس پر شیخ نے سیاسی پناہ کی درخواست دی تو جیل شیخ کی پناہ ٹھیر ی ۔
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کاآسماں کیوں ہو ؟
شیخ سے دلی ہمدردی ہے ،مگر اس پر شرمند گی بھی بیحد ہے کہ جہاد کا شعلہ بار داعی، سرپرست ومربی اور امریکی طاغو ت پناہ کا طلب گار !اس کی طوطا چشمی کے بعد بھی ازسر نو طلبگار ! شیخ کے حال میں ہمارے لیے عبرت ہے کہ
عصانہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد !
دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور اس کی اہمیت و افادیت
مفتی محمد عیسی گورمانی
(۴ دسمبر ۲۰۰۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ کے دو روزہ مشاورتی اجتماع کی پہلی نشست میں پڑھا گیا۔)
فارسی زبان وادب
درس نظامی میں سب سے پہلے جس زبان کو اولیت حاصل ہے، وہ فارسی ہے ا س لیے کہ عربی گریمر یعنی صرف ونحو کی بعض کتب فارسی میں لکھی گئی ہیں جو ہمارے نصاب میں داخل ہیں۔ نیز اکثر علوم وفنون کے تراجم، شروح اور حواشی فارسی میں ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ شروع میں اس معیار کی فارسی پڑھائی جائے کہ پیش آمدہ کتب اور ان کے تراجم، شروح اور حواشی کے پڑھنے میں آسانی ہو اور بخوبی ان کو سمجھا جا سکے۔ نیز مختلف موضوعات پر اکابر علما اور مشائخ ہند کی اکثر وبیشتر کتب فارسی میں ہیں۔ اگر شروع میں فارسی زبان میں رسوخ پیدا نہ ہو تو بعد میں اس کی تلافی مشکل نظر آتی ہے۔ ایک مستند عالم اگر فارسی نہیں جانتا، تو یہ بہت بڑی کمزوری ہے اور جو اپنے بزرگوں کے علوم وفنون سے استفادہ نہ کر سکے، تو یہ کتنی بڑی محرومی ہے۔
فارسی نصاب میں جن علما کی تالیفات کو شامل کیا گیا ہے، ان میں شیخ سعدیؒ ہیں۔ ان کی ابتدائی کتاب ’کریما‘ اور انتہائی کتب ’بوستان‘ اور ’گلستان‘ ہیں۔ شیخ شرف الدین بخاریؒ کی کتاب ’نام حق‘ کا وہ پایہ نہیں ہے جو زبان اور بیان کے اعتبار سے ایک درسی کتاب کا ہونا چاہیے۔ مصنف کی قبولیت اور مبتدی کے لیے طہارت اور نماز کے ضروری اور آسان مسائل نصاب میں اس کے داخل ہونے کا باعث ہوئے ہیں۔ شیخ فرید الدین عطارؒ کی کتاب ’پند نامہ‘ جس میں سلوک اور ہدایت کے راہنما اصول بیان کیے گئے ہیں، نصاب میں داخل ہے۔ اسی طرح مولانا جامیؒ اور علامہ نظامیؒ کی ’زلیخا‘ اور ’سکندر نامہ‘ پڑھائی جاتی ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ جس نے ’پندنامہ‘ پڑھا اور اسے درویشی اور معرفت حاصل نہ ہوئی، اس نے ’پندنامہ‘ نہیں پڑھا۔ جس نے ’بوستان‘ اور ’گلستان‘ پڑھی اور اسے تجربات عالم سے آگاہی نہ ہوئی، اس نے یہ کتابیں نہیں پڑھیں۔ اسی طرح جس نے ’زلیخا‘ پڑھی اور عشق مجازی سے عشق حقیقی تک رسائی حاصل نہ کر سکا، اور جس نے ’سکندرنامہ‘ پڑھا اور اس میں فنون حربیہ سے شناسائی اور جرات پیدا نہ ہوئی، اس نے یہ کتابیں نہیں پڑھیں۔
اس نصاب کی تکمیل پر حسب صلاحیت سال یا دو سال لگ جاتے ہیں۔ زبان دانی کے ساتھ اس میں تہذیب اخلاق اور اصلاح اعمال کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
عربی صرف ونحو
فارسی نصاب کی تکمیل کے بعد عربی گریمر کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے دو اہم جزو ہیں، علم صرف اور علم نحو۔ علم صرف میں عربی الفاظ اور ان کے اشتقاق کے بارے میں بحث ہوتی ہے، ساتھ ہی ان الفاظ میں جو تغیر رونما ہوتا ہے، اس کے اسباب معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لیے کچھ قوانین اور ضوابط کی ضرورت پڑتی ہے۔ متعلم جب الفاظ کے اشتقاق اور اس کے متعلقہ قواعد میں مہارت پیدا کر لیتا ہے تو اس کے لیے صیغہ کی پہچان آسان ہو جاتی ہے۔ ’صیغہ‘ کہتے ہیں لفظ کی موجودہ شکل کو۔ علم صرف سے اس کی اصل ہیئت کا علم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اصل میں کیا تھا اور اس میں یہ تبدیلی کیسے رونما ہوئی۔ نیز یہ مجرد ہے یا مزید، اور کس باب سے ہے۔ غرضیکہ اس کا کوئی گوشہ مخفی نہ رہے۔ ’صیغہ‘ کی پہچان علم ’صرف‘ کا مقصود اصلی ہے۔
علم صرف کے بعد علم نحو کا آغاز ہوتا ہے جس میں مفرد الفاظ کے بجائے جملہ اور کلام پیش نظر ہوتا ہے کہ اس میں ایک لفظ کا دوسرے سے کس طرح کا تعلق ہے۔ پھر یہ لفظ معرب ہے یا مبنی۔ معرب ہے تو اس پر کون سا اعراب ہے، رفع نصب، جر یا جزم۔ غرضیکہ الفاظ کی ترکیب، تعلیق اور اعراب اس علم میں مطلوب ہیں۔ عربی گریمر اور صرف ونحو کتنا عمیق علم ہے اور اس میں کس قدر محنت درکار ہے، اس کا کچھ اندازہ مندرجہ ذیل حکایت سے ہوگا۔
ابن جنی جامع موصل میں نحو پڑھا رہے تھے، وہاں سے ابو علی فارسیؒ کا گزر ہوا۔ انہوں نے ان سے علم صرف کا کوئی مسئلہ دریافت کیا۔ وہ جواب دینے میں کامیاب نہ ہوئے۔ ابو علیؒ نے کہا، تم نے کچے انگوروں کا منقیٰ بنا لیا ہے۔ اس دن سے ابن جنیؒ نے ابوعلیؒ کا دامن پکڑا حتیٰ کہ چالیس سال گزر گئے۔ جب ابو علیؒ فوت ہوئے تو ابن جنیؒ اپنے استاد کی مسند پر بیٹھے۔ ابن جنیؒ کے بارے میں متنبی کہا کرتے تھے کہ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ اکثر لوگ اس کی قدر کو نہیں پہچانتے۔ ابن جنیؒ کبھی متنبی کے سامنے اس کے اشعار نہیں پڑھا کرتے تھے۔ وہ اپنے کو اس سے کہیں بڑا سمجھتے تھے۔
ہمارے سلسلہ تعلیم میں اس امر کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے کہ ایک درجے میں اچھی طرح مہارت حاصل کیے بغیر دوسرے درجے کی تعلیم کا آغاز نہ کیا جائے۔ علم نحو میں ’ماءۃ عامل‘ کے اشعار میں جو عوامل نحو ذکر کیے گئے ہیں، ان کی امثلہ اور تراکیب اچھی طرح حفظ کرا کے ’شرح ماءۃ عامل‘ شروع کرائی جائے۔ اس میں مسائل اور تراکیب کا مرحلہ اہم ہے۔ اس کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے کیونکہ نحوی ترکیب سمجھے بغیر عربی کا پڑھنا اور سمجھنا دشوار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نصاب کی مروجہ کتب پر انحصار نہ کیا جائے اور یہ کوشش کی جائے کہ فن کی نصابی کتب کے علاوہ ایک دو اور اضافی اور مفید کتابیں پڑھی جائیں۔ بعض علما ترکیب واعراب میں مبتدی کی استعداد بڑھانے کے لیے قرآن مجید کی کسی سورت یا پارہ کا انتخاب کرتے ہیں اور اس میں مبادئ ترکیب وقواعد نحویہ کا اجرا کراتے ہیں۔
’ہدایۃ النحو‘ ابو حیان اندلسیؒ کی تصنیف ہے۔ اس میں علامہ ابن حاجبؒ کی مشہور ومعروف کتاب ’کافیہ‘ کے مسائل کی تسہیل کی گئی ہے اور ان کی امثلہ اور شواہد کو واضح کیا گیا ہے تاکہ اس کے بعد پڑھی جانے والی کتاب جو اصل الاصول ہے، اس کے سمجھنے میں مدد مل سکے۔ اس کتاب میں وہ اکثر وبیشتر نحوی مسائل آ گئے ہیں جو ’کافیہ‘ میں ہیں۔ ’کافیہ‘ میں جس بات کو مد نظر رکھا گیا ہے، وہ عبارت کا ایجاز واختصار ہے۔ اس کے پڑھنے سے قبل ضروری ہے کہ اس کے مسائل پر عبور حاصل کر لیا جائے۔ ’کافیہؒ کی عبارت بہت پیچیدہ ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ ’کافیہ‘ میں اصل مقصود اس کی عبارت کا سمجھنا ہے۔ مسائل کا درجہ ثانوی ہے۔ بعض مدارس میں اس کی جگہ ’الفیہ ابن مالکؒ ‘ پڑھاتے ہیں جس میں مسائل نحویہ کو بمع امثلہ سہل انداز میں لایا گیا ہے۔ اس کے اشعار ضبط کر لینے سے کافی حد تک مسائل پر عبور حاصل ہو جاتا ہے۔ حفظ کر کے مشکل سے مشکل اعراب میں ’الفیہ‘ کے اشعار سے برجستہ استدلال کیا جا سکتا ہے۔ ’کافیہ‘ متن المتون کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کے بعد اس کی شرح جو کہ ’شرح جامی‘ کے نام سے معروف ہے، مطالعہ کی کتاب ہے۔ ’کافیہ‘ کو سمجھ کر پڑھنے والا طالب علم ’شرح جامی‘ کے اکثر وبیشتر مطالب کو اپنے مطالعہ سے حل کر لیتا ہے۔ درس میں استاد کی تقریر سے اس کا اطمینان ہو جاتا ہے کہ مطالعہ میں، میں نے جوسمجھا تھا، وہ صحیح ہے۔ اس طرح مطالعہ کا شوق پیدا ہوتا ہے اور عادۃً مطالعہ سے مشکل مقامات حل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
’شرح جامی‘ کے حواشی ’عبد الغفور‘، ’لاریؒ ، اور ’تکملہ ملا عبد الحکیم سیالکوٹی‘ سب میں مطالعاتی نظام ہے۔ اس سے علمی حقائق اور دقائق سے واسطہ پڑتا ہے جس کے توسط سے مشکل سے مشکل مقامات حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
عربی ادب
محاورات عرب اور ان کے اسلوب میں کلام کرنا، محل وموقع کی مناسبت سے ضرب الامثال لانا، برجستہ موضوع پر خطاب کے لیے تیار رہنا، مختلف پیرایے میں بیان پر قدرت اس فن کا موضوع ہے۔ ادبی ذوق پیدا کرنے کے لیے ہر کتاب کے مناسب، اس کتاب کے الفاظ ومحاورات کا خیال کرتے ہوئے استاد اردو کی ایک سادہ عبارت املا کرائے اور متعلم اس کی تعریب پیش کرے۔ مثلاً ’نفحۃ الیمن‘ درس نظامی میں ادب عربی کی پہلی کتاب ہے جسے احمد یمنی نے تصنیف کیا۔ تیرہویں صدی کے ادیب تھے۔ مولانا رشید الدین خان دہلوی صاحب ’’المکاتیب‘‘ کے دوست تھے اور انہی کے توسط سے مولانا شاہ عبد العزیزؒ کے ساتھ بھی ان کی ادبی عربی خط وکتابت ہوتی رہتی تھی۔ ’نفحۃ الیمن‘ میں مختلف موضوعات پر عجیب وغریب حکایات تحریر کی گئی ہیں۔ تجربات کا خزینہ ہے۔ نحوی تراکیب کے لیے اس کی عبارات موزوں ہیں۔ ادبی کتب کی تدریس کے وقت زبان وبیان پر عبور حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نحوی مشق کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے تاکہ متعلم اپنی ابتدائی کتابوں میں عبارت اور ترکیب میں کمال پیدا کر لے اور اسے آئندہ مطولات میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔
علم معانی
اس علم سے مقصود یہ ہے کہ کلا م میں لفظی اور معنوی اصلاح کی جائے۔ اس میں کسی قسم کا عیب نہ ہو اور مقاصد اور مطالب کے لیے ایسا اسلوب بیان اختیار کیا جائے جس سے کسی قسم کا خفا باقی نہ رہے اور ترکیب ادا بھی حسین اور دل آویز ہو۔ اس علم کی نزاکت کو ایک حکایت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
کسائیؒ نے کہا کہ عرب کہتے ہیں: ’ان الزنبور اشد لسعۃ من النحلۃ فاذا ہو ایاہا‘۔ سیبویہ نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ مثل یوں ہے: ’فاذا ہو ہی‘۔ اس پر مناظرہ کی نوبت آ گئی۔ یہ طے ہوا کہ اس مثل کو کسی خالص اعرابی سے دریافت کر لیا جائے۔ فریقین کی تحقیق اور وسعت علم کا اس کو دارومدار ٹھہرایا گیا۔ خلیفہ امین نے جو کسائی کے شاگرد تھے، ایک اعرابی کو بلایا اور اس سے اس مثل کے بارے میں پوچھا۔ اعرابی نے سیبویہ کے کلام کی تائید کی۔ امین نے اس پر زور دیا کہ تم کسائی کے کلام کی تائید کرو۔ اعرابی نے جواب دیا کہ میری زبان سے غلط مثل نہیں نکل سکتی، اس لیے میری زبان پر ’فاذا ہو ہی‘ ہی جاری ہوتا ہے۔ امین نے کہا کہ مضائقہ نہیں، لیکن تم سے ایک شخص پوچھے گا کہ سیبویہ یوں کہتے ہیں اور کسائی کا یہ قول ہے، ان دونوں میں سے حق پر کون ہے؟ تم کہنا کہ کسائی حق پر ہیں۔ اعرابی نے کہا کہ ہاں یہ کہنا ممکن ہے۔ القصہ ’فاذا ہو ہی‘ اور ’فاذا ہو ایاہا‘ میں لفظی طور پر صرف ضمائر کا فرق ہے اور ضمیر بھی دونوں میں مونث ہے لیکن یہ اتنی بڑی نازک بات تھی کہ اس پر نحو کے دو اماموں کا مناظرہ ہوا۔
واضح رہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے، جس ذات پر اتارا گیا وہ بھی عربی ہے، اس لیے عربی زبان کا اس کے قواعد وضوابط کے ساتھ اور محاورات کے توسط سے حاصل کرنا لازمی ہے۔ انا انزلنہ قرآنا عربیا لعلکم تعقلون (یوسف) ’’ہم نے اس کتاب کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم سمجھ سکو‘‘۔ بلسان عربی مبین (شعرا) ’’قرآن واضح عربی زبان میں ہے۔‘‘ وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ (ابراہیم) ’’ہم نے کسی رسول کو پیغام دے کر نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان کے موافق۔‘‘
ان آیات سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ پیغمبر اور اس پر نازل کردہ کتاب کی اصل زبان کا سیکھنا فرض ہے تاکہ علوم الٰہیہ اور علوم نبویہ کا علیٰ وجہ البصیرۃ کماحقہ ادراک کیا جا سکے۔
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
عربی علوم میں اس درجہ کے حصول کے بغیر قرآن وحدیث کا صحیح فہم پیدا نہیں ہو سکتا، چہ جائیکہ کوئی شخص اس سلسلے کا ہادی اور امین ہو۔ کتنا بڑا ظلم ہے کہ محض بی اے اور ایم اے کی سطح پر عربی کے امتحان پاس کر لینے والوں کو ’مولانا‘ کہا دیا جاتا ہے۔
علم فقہ
’فقہ‘ کہتے ہیں فہم وشعور کو۔ فقہا کی اصطلاح میں ’فقہ‘ ایک مشہور علم ہے جس میں احکام بیان کیے جاتے ہیں، خواہ وہ عبادات سے متعلق ہوں یا معاملات سے، قرآن مجید کی نصوص صریحہ یا احادیث صحیحہ کی واضح عبارات سے ثابت ہوں یا ان کا ثبوت قرآن وحدیث سے بطور استنباط کے کیا گیا ہو، یا اجماع اور قیاس کے واسطہ سے۔ ان سب امور پر فقہ کا اطلاق ہوتا ہے۔
دنیا میں نئے وقائع وحوادث کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ فقہی مسائل واحکام کا دائرہ ان کی نسبت بہت تنگ اور محدود ہے، لہٰذا داعیہ پیدا ہوا کہ فقہ کے ایسے قواعد وضوابط وضع کیے جائیں جن کی مدد سے ان مسائل کا استخراج واستنباط کیا جا سکے جو ابھی تک وجود میں نہیں آئے۔ ائمہ مجتہدین نے قرآن واحادیث کی روشنی میں اس طرح کے قواعد وضع کیے ہیں جن کو ’اصول فقہ‘ کہتے ہیں۔
جو شخص روایت اور درایت دونوں صفات سے متصف ہو، وہ فقیہ اور اصولی کہلانے کا مستحق ہے۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: ان یکون صاحب حدیث لہ معرفۃ بالفقہ لیعرف معانی الآثار او صاحب فقہ لہ معرفۃ بالحدیث لئلا یشتغل بالقیاس فی المنصوص علیہ۔ یعنی محدث ہو جو فقہ کی معرفت بھی رکھتا ہو تاکہ آثار واحادیث کے معانی کو اچھی طرح پہچان سکے، یا فقیہ ہو اور ساتھ اسے حدیث کی معرفت حاصل ہو تاکہ منصوص علیہ مسائل میں قیاس کے درپے نہ ہو۔
فقہ حنفی کی وہ کتب مطولہ جو روایت اور درایت پر مشتمل ہیں اور جن میں ادلہ، معاریض، مباحث اور مناظرہ ہے، وہ تین ہیں:
(۱) شمس الائمہ سرخسی کی ’’المبسوط ‘‘ جو نہ صرف دلائل اور براہین کا مجموعہ ہے بلکہ اس فقیہ نے مسائل اور مواقف راجحہ کی حکمت اور فضیلت بیان کرنے کا بھی التزام کیا ہے۔ عبارت نہایت فصیح، آسان اور قریب الفہم ہے اور ہر مسئلہ کو احادیث وآثار سے واضح کیا ہے۔ یہ خصوصیت کسی اور فقیہ کے ہاں دیکھنے میں نہیں آئی۔ یاد رہے کہ امام سرخسیؒ نے مبسوط کی پندرہ جلدیں اوزجند، خراسان کے جیل خانے میں، جو ایک بند کنویں کی شکل میں تھا، اپنی یادداشت سے املا کروائیں۔ ان کے تلامذہ کنویں کے دہانے پر بیٹھ کر اسے قلم بند کر لیتے تھے۔ باقی کی پندرہ جلدیں انہوں نے بالمشافہہ پڑھائیں۔ حاکم شہیدؒ نے امام محمدؒ کی کتب ستہ یعنی الجامع الصغیر، الجامع الکبیر، المبسوط، الزیادات، السیر الصغیر اور السیر الکبیر کی تلخیص کی اور اس کا نام ’’الکافی‘‘ رکھا۔ سرخسی کی ’’المبسوط‘‘ اس کی شرح ہے۔
(۲) ملک العلماء علامہ کاسانی کی ’’بدائع الصنائع ‘‘۔ انہوں نے اپنی اس اچھوتی تصنیف میں فقہ کے ایسے اصول قائم کیے ہیں جو ان شاء اللہ رہتی دنیا تک آنے والے حوادث کے لیے کافی ہوں گے۔ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ فرماتے ہیں کہ فتاویٰ شامیہ میں اگر فقہی جزئیات بکثرت پائے جاتے ہیں لیکن اگر جدید مسائل میں اصول وکلیات دیکھنے ہوں، تو اس کے لیے ’بدائع الصنائع‘ سے رجوع کرنا چاہیے۔
(۳) علامہ برہان الدین مرغینانی کی ’’الہدایہ‘‘ ۔ ائمہ اربعہ کے مابین دلائل کا تلاطم اور تسلسل، پھر امام اعظم ابو حنیفہؒ اور صاحبینؒ کے مابین دلائل کا توازن اور تبادلہ، اس کے بعد ترجیح، یہ ایسے پہلو ہیں جن سے قاری کو علم فقہ، اصول فقہ اور ساتھ ہی جدال بالاحسن کا فن آ جاتا ہے اور اسے سمجھ کر پڑھنے والا اس فن کا ماہر کہلاتا ہے۔ درس نظامی میں ’ہدایہ‘ کی چاروں جلدیں داخل نصاب ہیں۔
علم منطق
منطق، نطق سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی بات کرنے اور بولنے کے ہیں لیکن مناطقہ کی اصطلاح میں اس کے معنی ’ادراک‘ کے ہیں۔ تنہا ادراک بھی منطق نہیں بلکہ کسی مسئلہ کو اس کے کلیات اور اصول کے ذریعے کماحقہ سمجھنا، بدیہی اور عقلی استدلال کے ذریعے مجہول اور نظری نتائج اخذ کرنا منطق کا موضوع ہے۔ اصل میں یہ یونانیوں کا مصطلح فن ہے۔ وہ اس کے ذریعے اہل اسلام میں تشکیک پیدا کر کے ان کو ان کے معتقدات سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے تھے تو ہمارے قدما اہل اسلام نے اس فن کو نصاب میں داخل کیا تاکہ ان کے استدلالات سے اسلامی اصولوں کو ثابت کیا جائے اور انہی کی منطق سے اسلام کے خلاف ان کے دعاوی کا رد کیا جائے۔ اسی سلسلے میں امام غزالیؒ کی کتاب ’تہافت الفلاسفۃ‘ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی کتاب ’الرد علی المنطقیین‘ ہے۔ مشہور ہے کہ اگر ایک شخص سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت نہیں کر سکتا تو وہ منطقی نہیں ہے۔ ہم اسے انقلاب استدلال سے تعبیر کرتے ہیں۔
تاریخ
یہ ایک طبعی اور فطری موضوع ہے۔ خوراک اور لباس کی طرح ہر حساس شخص کو اس سے پالا پڑتا ہے اس لیے تاریخ کی کسی اہم کتاب کو درس نظامی کے نصاب میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن یہ ایک ایسا ضروری امر ہے کہ اس کے بغیر اسلامی تاریخ اور اسلامی سیاست کے موضوعات تشنہ رہ جاتے ہیں۔ اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ ارباب علم کو اس میں افادیت کی حامل کتب کو داخل نصاب کر لینا چاہیے۔
دورۂ تفسیر
قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمت میں حضرت مولانا حسین علی (آف واں بھچراں، میانوالی) نے جب ۱۳۰۱ھ میں دورۂ حدیث کی تکمیل کی تو آپ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ مولانا محمد مظہر نانوتویؒ سے قرآن کی تفسیر پڑھ لو، تو آپ نے مظاہر العلوم سہارنپور میں ۱۳۰۲ھ میں ان سے تفسیر پڑھی۔ حضرت مولانا حیدر حسن ٹونکیؒ فرماتے ہیں کہ مولانا محمد مظہر نانوتویؒ کا طریقہ یہ تھا کہ سب سے پہلے وہ علماے کرام کو تفاسیر متداولہ (مدارک، خازن، جلالین، بیضاوی) کا مطالعہ کراتے، پھر شاہ عبد القادر دہلویؒ کا ترجمہ اور اس کے حواشی ’موضح قرآن‘ کا درس دیتے تھے تاکہ اس ترجمہ اور اس کے حواشی کے فوائد کی قدرومنزلت کا پتہ چلے اور امام شاہ ولی اللہؒ اور ان کے خانوادہ کا فن تفسیر میں مقام معلوم ہو۔
امام شاہ ولی اللہ اپنے وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’قرآن عظیم را درس گوید بایں صفت کہ صرف قرآن بخواند بغیر تفسیر وترجمہ گوید وہرچہ در اعراب وشان نزل مشکل باشد متوقف شود وبحث نماید وبعد از فراغ تفسیر جلالین را بقدر درس بیند۔ دریں طریق فیضہا است‘‘
یعنی قرآن مجید کا اس طرح درس دیں کہ تفسیر کے بغیر صرف ترجمہ بتلائیں اور نحو یا شان نزول میں جہاں مشکل ہو، ٹھہر جائیں اور تحقیق کریں۔ اس سے فراغت کے بعد تفسیر جلالین کا درس کی مقدار مطالعہ کریں۔ اس طریقے میں بہت فیوض ہیں۔
حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ کے توسط سے حضرت مولانا حسین علیؒ کو فن تفسیر کا فیضان الٰہی نصیب ہوا اور وہ عمر بھر قرآن کا درس دیتے رہے۔ وہ توحید کے مبلغ اور داعی تھے اور ان کا فیض جاری وساری ہے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے حکم سے حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے دہلی میں ’نظارۃ المعارف‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس میں ولی اللٰہی طریقے پر قرآن کی تفسیر اور ان کی کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ‘ دو اہم موضوع تھے۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ چھ ماہ میں تفسیر مکمل کراتے تھے۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ نے کلکتہ میں ’دار الرشاد‘ کے نام سے قرآنی ادارہ قائم کیا اور علماے کرام کے لیے چھ ماہ میں سورہ فاتحہ کا درس ہوتا تھا۔ اس ترتیب اور طریق تعلیم کو دورۂ تفسیر کہتے ہیں اور امام شاہ ولی اللہؒ اس کے موجد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہند وپاک میں امام شاہ ولی اللہؒ کے دیگر آثار وتبرکات کی طرح دورۂ تفسیر بھی معمول بہ ہے۔
دورۂ حدیث
آج سے تین سو سال قبل دورۂ حدیث مشکوٰۃ شریف تک پڑھایا جاتا تھا اور شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ کی شروح کے مطابق اس کی تفصیل وتحقیق کی جاتی تھی۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے صحاح ستہ اور موطا امام مالک کو دورۂ حدیث کے نصاب میں شامل کر کے احادیث نبویہ کی حتی الوسع بڑی خدمت سرانجام دی ہے اور اس کے بعد دیگر کتب احادیث کو مطالعہ پر موقوف رکھا ہے۔
تکمیل
تکمیل سے ہماری مراد درج ذیل امور ہیں:
۱۔ ہر فن کی انتہائی کتب، مثلاً امور عامہ، متن متین اور شرح چغمینی وغیرہ۔
۲۔ تخصص فی الفقہ والافتاء، تخصص فی الحدیث، تخصص فی الکتابۃ والانشاء، تخصص فی المجادلۃ مع الفرق الباطلۃ
۳۔ مشائخ صوفیہ مثلاً امام غزالیؒ ، شیخ ابن عربیؒ ، امام مجدد الف ثانیؒ ، مولانا رومیؒ ، امام شاہ ولی اللہؒ ، قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتویؒ وغیرہ کی کتب میں تحقیق وتفتیش۔
۴۔ قومی زبان میں تحریر وانشا اور تصنیف وتالیف میں تخصص
الحاصل درس نظامی کے نصاب میں دیگر علوم اصول فقہ، علم کلام، فلسفہ وغیرہ موضوعات کی اہم کتب داخل ہیں۔ ہماری گفتگو کا موضوع درس نظامی اور اس میں پڑھائے جانے والے علوم کی افادیت ہے، درس نظامی میں شامل کتب پر سیر حاصل تبصرہ نہیں۔ اس نصاب کی تکمیل سے ایک شخص اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خلق خدا کی راہنمائی کرے، علم وعمل کی راہ پر چل کر اپنے آپ کو بطور نمونہ پیش کر سکے۔ درس نظامی ایک ایسا نصاب ہے جسے صدہا سال سے بطور تجربہ پڑھا گیا اور پڑھایا جاتا رہا ہے۔ اس پر عبور حاصل کرنے سے اس قدر خداداد قابلیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ تنہا اسلام پر کیے گئے مطاعن کا جواب دے سکتا ہے اور اس سے وہ ملکی امارت اور خلافت کا بھی استحقاق رکھتا ہے۔
اس نصاب میں تبدیلی بایں معنی کہ جس زبان میں قرآن اترا ہے، وہ زبان بدل دی جائے اور ادب قدیم کے بجائے ادب جدید پڑھایا جائے، یہ علم نہیں ہوگا بلکہ جدید قسم کی جہالت ہوگی، البتہ یہ ضروری ہے کہ ادب جدید اور ادب قدیم دونوں سے استفادہ کیا جائے۔ مکالمہ اور محادثہ، مراسلت اور مقالات اور روزہ مرہ معاملات میں ان سے کام لیا جائے۔
حفظ وضبط
بعض اہل علم یہ خیال کرتے ہیں کہ العلم دانستن، یعنی علم جاننے کا نام ہے جبکہ حفظ کرنا ایک اضافی امر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اس سلسلے کی بہت بڑی کاہلی اور کمزوری ہے۔ اگر کسی جگہ ہنگامی طور پر حالات حاضرہ کے متعلق کچھ بیان کرنے کی نوبت آئے تو ایسے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی بہت بڑی کوتاہی ہے۔ اور کچھ نہیں تو کیا موضوع سے متعلق قرآن مجید کی آیات اور احادیث نبویہ سے آنحضرت ﷺ کے چند فرامین اپنی یادداشت سے نہیں سنا سکتے؟ یہ تو پھر وہی بات ہوگی جس پر اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاریٰ کی مذمت کی ہے: ونسوا حظا مما ذکروا بہ (مائدہ) ’’وہ اپنی کتاب میں سے اس قدر حصہ بھول گئے جس میں ان کو خدا کی یاد دلائی گئی تھی۔‘‘ قرآن وحدیث کا اچھا خاصا حصہ یاد کر کے اسے بار بار دہرانا چاہیے۔ اس یادداشت کو ہم مطالعہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی ذمہ داری انبیا، ربانیین اور متبحر علما کے سپرد کی ہے۔ ’ربانی‘ کہتے ہیں اس فقیہ عالم کو جو اپنے علم پر عمل پیرا ہو، جو خلق خدا کی تربیت کر کے انہیں ابتدائی مدارج سے انتہائی مدارج پر پہنچا دے۔ ’حبر‘ کہتے ہیں اس ماہر اور کامل عالم کو جو اپنے شعبہ میں مثالی ہو۔ انہی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا گواہ ٹھہرایا ہے۔ یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا والربانیون والاحبار بما استحفظوا من کتاب اللہ وکانوا علیہ شہداء (مائدہ)
قرآن وحدیث میں مہارت تامہ حاصل کیے بغیر اور کسی استاد اور شیخ کامل سے کسب کمال کے بغیر ایسا شخص خلق خدا کی رشد وہدایت کا اہل نہیں ہو سکتا۔ امتحانی حد تک کسی زبان میں ڈگری یا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا، اردو لٹریچر پڑھ کر ازخود مجتہد اور مفسر بن جانا ایسا عہدہ نہیں کہ اسے خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز کا ترجمان یا ذمہ دار ٹھہرایا ہو۔ حاشا وکلا۔ ایسا شخص تو مندرجہ ذیل حدیث کا مصداق ہوگا:
قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من العباد ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی اذا لم یبق عالما اتخذ الناس رء وسا جہالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا (متفق علیہ)
’’آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے عطا کردہ علم یوں واپس نہ لے گا کہ زبردستی چھین لے، بلکہ علما کی موت کی صورت میں علم کو واپس لے لے گا۔ حتیٰ کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کسی عالم کو باقی نہ رکھے گا یا کوئی عالم دنیا میں باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا راہنما بنا لیں گے، ان سے مسائل دریافت کیے جائیں گے تو وہ بغیر علم اور فہم کے فتویٰ دیں گے۔ خود بھی گمراہی میں پڑ جائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘
ملا علی قاری نے لفظ ’رء وس‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مراد خلیفہ، صدر، قاضی، مفتی، امام، شیخ اور پیر ومرشد ہیں۔ یعنی لوگ جاہلوں کو صدر مملکت، حاکم، مفتی، امام اور پیشوا تسلیم کر لیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نیچری طبقہ جو قرآن وحدیث کو اپنی خام خیالی اور ناقص عقل کے ترازو میں تولنے کا روادار ہے، اسی طرح ان کے دم چھلے قادیانی، پرویزی اور ان کے ہم نوا ملحد فرقے سب اسی شجرہ خبیثہ کی شاخیں ہیں۔ اعاذنا اللہ منہا
تعلیم وتربیت
اللہ تعالیٰ نے خلق خدا کی تعلیم وتربیت کا جو طریقہ ارشاد فرمایا ہے، وہ صحیح اور فطری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے حق میں اسے تجویز کیا ہے۔ وہ ہے مربی کا تلاوت کے ذریعے سے تزکیہ اور کتاب وسنت کی تعلیم۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی سیرت اور سنت، جس سے بڑھ کر کوئی چیز باعث ہدایت نہیں ہو سکتی۔ کیا انسان کے بنائے ہوئے کورس سے یہ کم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی موعظت پر عمل کریں، قرآن کی شفا میں اپنی بیماریوں کا علاج تلاش کریں، اس کی بتلائی ہوئی راہ پر چلیں اور اس کی رحمت کے سزاوار ہوں جس سے بڑھ کر کوئی فضل ورحمت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں خشیت، تقویٰ اور اخلاص کا درس اصالتاً موجود ہے اور آنحضرت ﷺ کی زندگی کے ادوار واطوار ہمارے لیے کافی وشافی ہیں۔ ان میں صرف مربی کے توجہ دلانے سے خود، آگاہی اور شعور حاصل ہو جاتا ہے۔ کتب عقائد وفقہ میں اصلاح اعمال کے زریں اصول موقع بہ موقع موجود ہیں۔ ذرا سی توجہ کی ضرورت ہے۔ علم معانی اور علم ادب کا نصاب مربی اور استاد پر منحصر ہے۔ اگر وہ صاحب اصلاح اور احوال تربیت سے واقف ہے تو تذکرہ وتبصرہ کے طور پر ان علوم سے مستفیدین کے مناسب حال بہترین نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ ان چیزوں سے اگر وہ اثر نہیں لیتا تو پھر اور کون سا موثر کلام اور عمل ہو سکتا ہے جس سے وہ راہ راست اختیار کرے گا۔ ہر چیز کے لیے رسمی کورس اور تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسی چیزیں تو مطالعہ اور تجربہ سے حاصل ہو جاتی ہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ مستفیدین بھی مستعد اور باصلاحیت ہوں۔ درس نظامی میں سارے تعلیمی مرحلے درجہ بدرجہ تہذیب اخلاق اور اعمال کے ساتھ طے ہوتے ہیں تو تعلیم وتربیت کے لیے مستقل نصاب کا رسمی تعین اور مستقل استاذ کا انتخاب بے معنی معلوم ہوتا ہے۔
دینی مدارس کا نظام تربیت ۔ چند اصلاح طلب پہلو
ڈاکٹر محمد امین
(۴ دسمبر ۲۰۰۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ کے دو روزہ مشاورتی اجتماع کی دوسری نشست سے خطاب۔)
الحمد للہ وکفی والصلوۃ والسلام علی نبی الہدی۔ اما بعد۔ قال سبحانہ وتعالی فی کتابہ الکریم ’کما ارسلنا فیکم رسولا منکم یتلوا علیکم آیاتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتاب والحکمۃ‘۔ وقال النبی ﷺ ’ادبنی ربی فاحسن تادیبی‘
حاضرین کرام!
مجھے جب عمار ناصر صاحب نے بتایا کہ وہ دینی مدارس کے اساتذہ کی ایک مجلس مشاورت رکھنا چاہ رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ انہوں نے میرے لیے ’’تربیت طلبہ‘‘ کا موضوع تجویز کیا ہے، تو میں نے ان سے کہا کہ میرے ذہن میں تو کچھ اور باتیں تھیں جن کو اس موقع پر بیان کرنا میں زیادہ مناسب سمجھتا تھا، تاہم جب آپ نے ایک چیز طے کر لی ہے اور چھپا ہوا پروگرام بھی لوگوں کو بھجوا دیا ہے تو اب مجوزہ عنوان پر ہی اپنی معروضات پیش کروں گا۔
البتہ تمہیداً دو باتیں عرض کرنا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ مجھ سے پہلے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے دینی نظام تعلیم میں اصلاح کے حوالے سے کچھ باتیں کہی ہیں لیکن انہیں میرے مقابلے میں ایک advantage حاصل ہے، اور وہ یہ کہ چونکہ وہ دینی مدارس کے نظام سے براہ راست متعلق ہیں، اس لیے اگر وہ اس نظام میں اصلاح یا اس کے نہج میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو وہ کسی حد تک قابل قبول یا کم از کم قابل برداشت ہوتی ہے۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں مدارس کا نہیں بلکہ کالج اور یونیورسٹی کا آدمی ہوں، اور دینی مدارس کے لوگ یہ تاثر لے سکتے ہیں کہ یہ کوئی باہر کا آدمی ہے جو ہم پر تنقید کر رہا ہے۔ میں اس تاثر کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں بھی عربی اور اسلامیات کا آدمی ہوں، ساری عمر یہی مضامین پڑھتے پڑھاتے گزری ہے، صرف میدان عمل اور پلیٹ فارم کے بدل جانے سے آدمی ’’باہر‘‘ کا آدمی نہیں بن جاتا۔ ہمارا موضوع ایک ہے، مقصد ایک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آپ مدرسے میں پڑھاتے ہیں اور میں یونیورسٹی میں کام کرتا ہوں۔ چنانچہ میری گزارشات کو کسی باہر کے آدمی کی تنقید یا تنقیص نہ سمجھیے۔ میں بھی آپ ہی میں سے ہوں، آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ کا احترام کرتا ہوں اور آپ کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتا ہوں اور اسی حوالے سے ان پر غوروفکر کرتا ہوں۔
دوسری بات یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام میں اصلاح کی بات کرنے والے دو گروہ ہیں۔ ایک تو بیرونی قوتیں اور ان کے مقامی ایجنٹ ہیں جو مدارس میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ اور دوسرے کچھ اندر کے لوگ بھی ہیں جو اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے کچھ تغیرات چاہتے ہیں۔ تو ان دونوں کی پوزیشن میں فرق کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ باہر کی قوتیں دینی مدارس کے نظام میں تبدیلی اپنے دین دشمن مقاصد کے تحت چاہتی ہیں، جبکہ ہم لوگ اگر تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو دینی مقاصد کی بہتری کے لیے کرتے ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب یا میں اگر موجودہ دینی نظام تعلیم سے کوئی اختلاف کرتے ہیں تو اس سے مقصود ہرگز اس کی تنقیص یا اسے نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ یہ کام پہلے سے بہتر اور عمدہ طریقے سے انجام پائے، اور دینی مدارس میں ایسے علما تیار ہوں جو معاشرے میں زیادہ موثر دینی کردار ادا کر سکیں۔ لہٰذا کھرے اور کھوٹے میں فرق ملحوظ رکھیے۔ یہاں تو اب یہ حالت ہے کہ
ہر بو الہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
تو یہ بات ذرا ذہن میں رکھیے کہ ہم لوگ مدارس کے خیر خواہ ہیں، تبدیلی کی کوئی بات کرتے ہیں تو پیش نظر مخلصانہ اصلاح ہوتی ہے۔ ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو باہر سے بیٹھ کر توپ وتفنگ سے کام لے رہے ہوں تاکہ خدانخواستہ یہ نظام برباد اور ختم ہو جائے۔
’تربیت‘ کا مفہوم اور اہمیت
اب میں اپنے اصل موضوع یعنی ’تربیت طلبہ‘ کی طرف آتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ تربیت کیا ہے اور اس سے مقصود کیا ہے؟ جس چیز کو ہم تعلیمی اصطلاح میں ’تربیت‘ کہتے ہیں، شرعی اصطلاح میں اسے ’تزکیہ‘ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے آپ کے سامنے جو آیت کریمہ تلاوت کی، وہ تزکیہ سے متعلق ہے۔ تزکیہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ زک و ہے۔ اس کے دو معنی ہوتے ہیں: ایک کسی چیز کو پاک صاف کرنا اور دوسرے اس کو کو جلا دینا اور پروان چڑھانا۔ گویا جب ہم تزکیہ نفس کی اصطلاح استعمال کریں گے تو مطلب یہ ہوگا کو نفس کو عقائد واعمال اور اخلاق وکردار کی ساری کمزوریوں سے پاک کرنا اور ان کی جگہ ان خوبیوں کو پروان چڑھانا جو کہ شریعت کو مطلوب ہیں۔ اچھا کیا ہے، برا کیا ہے، کن اخلاق واوصاف کو پروان چڑھانا ہے اور کن چیزوں سے بچنا ہے؟ اس کافیصلہ شریعت کرتی ہے۔
اس تزکیہ کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ جتنے پیغمبر بھی اس نے بھیجے، وہ لوگوں کے تزکیے کے لیے ہی بھیجے۔ سورۃ الاعلیٰ میں ہے کہ ’قد افلح من تزکی فذکر اسم ربہ فصلی........ ان ہذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم وموسی‘ یعنی صحف ابراہیم وموسیٰ میں بھی یہی بات کہی گئی تھی کہ لوگوں کی فلاح کا دار ومدار تزکیہ (اور عبادت وترجیح آخرت) پر ہے۔ اسی طرح سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ ’اذہب الی فرعون انہ طغی فقل ہل لک الی ان تزکی‘ یعنی فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو گیا ہے اور اسے تزکیہ اختیار کرنے کی تلقین کرو۔ (النازعات ۷۹:۱۷) نبی کریم ﷺ کی ڈیوٹی بھی اللہ تعالیٰ نے یہ لگائی کہ لوگوں کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیں اور ان کا تزکیہ کریں۔ قرآن حکیم میں یہ بات چار مواقع پر بیان ہوئی ہے۔ سورہ جمعہ میں، آل عمران میں اور دو دفعہ سورۂ بقرہ میں۔ ایک جگہ پر آپ کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے تزکیہ کا ذکر شروع میں ہے اور دوسری جگہ آخر میں، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو چیز اول وآخر مطلوب ہے، وہ تزکیہ ہی ہے۔ ویسے بھی تعلیم کا مطلب ہوتا ہے علم کاحصول اور کچھ چیزوں کا جاننا۔ ظاہر ہے کہ کسی چیز کا علم یا کچھ معلومات کا جان لینا اصل مقصد نہیں ہوتا بلکہ اصل مقصد تو اس علم پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ تعلیم سے مقصود بھی تزکیہ ہی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ’قد افلح من زکاہا وقد خاب من دساہا‘۔ یعنی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا، وہ کامیاب ہے اور جس نے یہ نہ کیا، وہ ناکام ہے) (الشمس ۹۱:۹، ۱۰) تو تزکیہ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ہماری فلاح کا ضامن ہے۔ فلاح کیا ہے؟ فلاح اسلام کا ایک جامع تصور اور اصطلاح ہے۔ اس میں دین اور دنیا دونوں کی کامیابی شامل ہے۔ کامیابی یہ ہے کہ آدمی آخرت میں سرخرو ہو اور دنیا کی زندگی اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے گزارے۔ گویا تزکیہ یہ ہے کہ نفس انسانی کی ایسی تربیت ہو کہ اس کے لیے اللہ کے احکام کی اطاعت آسان ہو جائے، اور شریعت کی پیروی اس کی طبیعت بن جائے۔
دیکھیے! انسانی نفس کی جو ساخت اور بناوٹ ہے، اس میں خیر اور شر دونوں شامل ہیں۔ ’فالہمہا فجورہا وتقواہا‘(الشمس ۹۱:۸) یعنی انسان میں اللہ تعالیٰ نے نیکی کے جراثیم بھی رکھے ہیں اور برائی کے بھی۔ انسان جس پہلو کو ترقی دیتا ہے، وہی اس کی شخصیت پر غالب آ جاتا ہے۔ اس بات کو نبی کریم ﷺ نے یوں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو فطرت پر پیدا کرتا ہے لیکن والدین اور ماحول کسی کو یہودی اور کسی کو عیسائی بنا دیتا ہے۔ تو ماحول کے ان منفی اثرات کے ازالہ کے لیے انسانی جبلتوں، محرکات، عواطف اور مدرکات، ان سب کی صحیح تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی ان کی اس طریقے سے نشوونما کہ خیر کا پہلو بڑھتا جائے اور اس کی نمو ہوتی جائے، جبکہ انسانی شخصیت کا حیوانی پہلو جو فجور کا پہلو ہے، وہ دبتا چلا جائے۔ نفس انسانی کے سارے ذہنی، فکری اور جسمانی قویٰ کی ایسی نشوونما بے حد اہم ہے کیونکہ جب تک آدمی کی صحیح تربیت نہ ہو، وہ نہ اسلام نہ لا سکتا ہے اور نہ اسلامی احکام پر کماحقہ عمل کر سکتا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھیے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں، جب مسلمانوں پر بہت کڑا وقت تھا، دو آدمیوں یعنی حضرت عمر اور ابوجہل کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی کہ یا اللہ، ان میں سے کسی ایک کو قبول اسلام کی توفیق عنایت فرما۔ تو ایک کے بارے میں دعا قبول ہو گئی جبکہ دوسرے کے بارے میں نہیں ہوئی کیونکہ قبول ہدایت کی جو صلاحیت سیدنا عمرؓ میں پائی جاتی تھی، ابو جہل اس سے محروم تھا۔ تو نفس کی سعادت کا مدار اس کے تزکیے پر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس تربیت کا وسیلہ بھی بتا دیا ہے یعنی تعلیم کتاب۔ اس کی بنیاد قرآن حکیم ہے۔ قرآن حکیم علم کا ذریعہ بھی ہے اور تزکیہ کا بھی۔ جب علم اور تزکیہ دونوں کی بنیاد قرآن پر ہو اور حکمت کے ساتھ ہو تو وہ شخصیت وجود میں آتی ہے جو قرآن کو اور اسلام کومطلوب ہے۔
اس تربیت کو اگر آپ تعین کے ساتھ جاننا چاہیں کہ یہ کیا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں: ایک معصیت سے بچنا اور دوسرے درجہ ’احسان‘ کا حصول۔ یعنی تربیت کا حاصل یہ دو چیزیں ہیں: ایک یہ کہ آدمی اللہ کی معصیت سے بچ جائے، اس کی اطاعت کے قابل ہو جائے اور اس کے احکام کی پیروی آسانی سے اور خوشی سے کرنے لگ جائے۔ دوسرے یہ کہ آدمی احکام شریعت پر عمل کرتے ہوئے انہیں بہترین طریقے سے سرانجام دے۔ ’احسان‘ کا مطلب ہے کسی کام کو اپنی بہترین صورت میں اور کمال کے ساتھ کرنا۔ حدیث جبریل میں یہ بات یوں بیان کی گئی ہے کہ ’ان تعبد اللہ کانک تراہ‘ ۔ اس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ احسان کا تعلق صرف عبادت سے ہے۔ اول تو عبادت کا مطلب عربی زبان میں وسیع تر ہے۔ پھر دوسری روایت میں ان تعبد اللہ کے بجائے ان تعمل للہ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ساری زندگی میں اطاعت کے جتنے بھی کام ہوں، وہ اعلیٰ ترین درجے کے ہوں۔ گویا احسان کا مطلب ہے حصول کمال یا excellence۔
تربیت سے تغافل کے اسباب
اب ذہن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ تربیت اتنی اہم ہے اور اس کو تعلیم کی اصل غایت کی حیثیت حاصل ہے تو پھر ہمارے تعلیمی نظام میں اس سے صرف نظر کیوں کر لیا گیا ہے اور اس کو عملاً اہمیت کیوں نہیں دی جاتی؟ اس تغافل کے بہت سے نظری اور عملی اسباب ہیں۔
ایک وجہ تو یہ ہے کہ والدین کو بچوں کی تربیت کی اہمیت کا احساس ہی نہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ اچھا کھلانے پلانے اور اچھا پہنانے کے ساتھ بچوں کو سکول کالج یا مدرسے میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا جائے، اس سے زیادہ ان کو ان کی تعمیر سیرت وکردار کی کوئی فکر نہیں۔ گویا جسمانی پرورش اور ظاہری ضروریات کی فراہمی سے زیادہ وہ اپنی کوئی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ حالانکہ جو چیز بچوں کی ضروریات کے حوالے سے سب سے زیادہ اہم ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ان کی تعمیر سیرت وکردار کی خبر رکھتے، اس کے لیے پریشان ہوتے، کوشش اور جدوجہد کرتے اور خود اس کے لیے وقت نکالتے۔ آج کل بچے سکولوں میں جاتے ہیں، شام کو واپس آتے ہیں تو ٹیوشن کے لیے بھجوا دیے جاتے ہیں، رات کو ٹی وی کھول کر والدین خود بھی بیٹھ جاتے ہیں اور بچوں کو بھی ساتھ بٹھا لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ والدین بچوں کے لیے کوئی وقت نہیں نکال پاتے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ والدین کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ بچے کی تربیت بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اساتذہ بھی طلبہ کی تربیت کی ذمہ داری سے غافل ہو گئے ہیں، حالانکہ ان کا اصل کام پڑھا دینا نہیں، بلکہ تربیت کرنا ہے۔ خاص طور پر ہمارے ماحول میں اساتذہ کی یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ماحول میں ٹی وی اور وی سی آر کی صورت میں بگاڑ پیدا کرنے والے عوامل پہلے سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ان عوامل میں سے ایک بری صحبت بھی ہے۔ غربت بھی ایک مسئلہ ہے۔ والدین دو اور دو چار کے چکر میں رہتے ہیں، دال روٹی کی فکر کرتے ہیں، صبح سے شام تک ان کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی کہ دیکھیں کہ بچے کس حال میں ہیں۔ بعض اوقات والدین کی ناچاقی بھی بچوں کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔ تو تعلیمی اداروں، خاص طور سے دینی تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تربیت پر توجہ دینے کی بے حد ضرورت ہے۔
تربیت کی اقسام
تربیت کو ہم کئی قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ دینی تربیت، فکری و علمی تربیت، انتظامی تربیت اور جسمانی تربیت وغیرہ۔ یہ سارے تربیت کے مختلف پہلو ہیں اور باہم متجاوز بھی ہیں۔ اب ہم ان پر ذرا تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
۱۔ دینی تربیت:
دینی تربیت میں پورے دین کو شامل سمجھنا چاہیے۔ ہمارا جو دین ہے، اس کے مشمولات کو ہم چار بڑے شعبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: ایک عقائد، دوسرے عبادات، تیسرے اخلاق وآداب اور چوتھے معاملات۔ عقائد ظاہر ہے کہ ہر چیز کی بنیاد ہیں۔ عبادات کا تعلق بندے اور رب کے درمیان ہے، جبکہ اخلاق وآداب اور معاملات کا تعلق انسانوں کے مابین مسائل سے ہے۔ ان مسائل سے ہمارے دین کا ایک بڑا حصہ متعلق ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مدارس میں پڑھائے جانے والے مواد کا غالب حصہ فقہ سے متعلق ہوتا ہے، اس لیے کہ فقہ میں زندگی کے روز مرہ مسائل سے بحث ہوتی ہے اور انسانوں کو جن معاملات سے سابقہ پیش آتا ہے، وہ فقہ میں زیر بحث آتے ہیں۔
دینی تربیت کے بارے میں ہمارے ہاں تعلیمی اور تربیتی حلقوں میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں تصوف کے نام سے جو ادارہ تربیت اور تزکیہ کے لیے وجود میں آیا، اس میں اس وقت ہمارے ہاں زیادہ زور ذکر اور عبادات پر دیا جاتا ہے۔ تھوڑی سی توجہ اخلاق پر دے دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ میں ان چیزوں کی اہمیت کم نہیں کر رہا، لیکن ایک متوازن تربیت کی ضرورت ہے۔ عبادات یقیناًاہم ہیں لیکن کیا معاملات غیر اہم ہیں؟ کیا جھوٹ بولنا غیر اہم ہے؟ وعدہ خلافی کرنا غیر اہم ہے؟ بیوی بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا غیر اہم ہے؟ یہ بھی اسی طرح خدا ورسول کے حکم ہیں جیسے پہلی چیزیں۔ تو تربیت میں کچھ پہلوؤں کو اہمیت دینا اور کچھ کو نہ دینا یہ دینی لحاظ سے ایک غیر متوازن رویہ ہے۔
عبادات کی تربیت، (مثلاً نماز وقت پر اور باجماعت ادا کرنا) : اس میں یہ ذہن میں رہے کہ چونکہ مدارس کا ماحول دینی ہوتا ہے اس لیے اس لحاظ سے وہاں بعض پہلوؤں پر کم توجہ کی ضرورت ہوگی اور بعض دوسروں پر زیادہ کی۔ عام تعلیمی اداروں میں عبادات کے حوالے سے دینی تربیت کی زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے کیونکہ وہاں مساجد نہیں ہوتیں، طہارت خانے نہیں ہوتے، وضو کی جگہ نہیں ہوتی، وغیرہ۔
جب ہم تربیت کی بات کرتے ہیں، خصوصاً دینی لحاظ سے تو روز مرہ زندگی کے آداب پر بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاً آداب میں سے ایک یہ ہے کہ وقت پر کام کیا جائے۔ میں نے دیکھا ہے کہ دینی مجالس میں اس چیز کا اہتمام نہیں کیا جاتا حالانکہ نماز میں ہمیں سب سے پہلے یہی بات سکھائی جاتی ہے۔ جماعت کا وقت ہوتے ہی لوگ گھڑیاں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور الحمد للہ یہ مشاہدہ ہے کہ کم از کم نماز میں ہم وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ہماری عادت کیوں نہیں بنتی؟ ہم نماز میں تو وقت کی پابندی کرتے ہیں، اس کے بعد کیوں نہیں کرتے؟ نماز میں اگر یہ شریعت کا حکم ہے تو باہر کیوں نہیں؟ نماز میں حکم ہے کہ صف آگے پیچھے نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہم میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں، خلا نہ ہو، صف ٹیڑھی نہ ہو، یہ خوبیاں جو شریعت نماز میں پیدا کرنا چاہتی ہے، وہ باہر کی زندگی میں کیوں منتقل نہیں ہوتیں؟
۲۔ فکری وعلمی تربیت
فکری وعلمی تربیت میں حریت فکر، تحقیق، تقریر وتحریر کی مشق، لائبریری کا استعمال، مطالعاتی وتفریحی سفر وغیرہ شامل ہیں۔ سب سے پہلے حریت فکر کو لیجیے۔ ممکن ہے میری یہ بات آپ کو قابل ہضم نہ لگے، لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ حریت فکر کی تربیت بھی بالکل دینی اساس رکھتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی سے، جن کی ایک ایک بات ہمارے لیے حجت ہے، ہمیں اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ خود آپ نے اپنے صحابہ میں اس چیز کی حوصلہ افزائی کی۔ بدر کے موقع پر دیکھ لیجیے، جب حضرت حباب بن منذرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ! جس جگہ آپ نے فوج کو اترنے کا حکم دیا ہے، کیا وہ وحی پر مبنی ہے؟ آپ نے فرمایا، نہیں۔ تو کہا کہ یہ جگہ تو مناسب نہیں۔ غزوۂ احزاب میں بھی ایسے ہی ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے سوچا کہ کچھ دے دلا کر یہودیوں سے معاملہ طے کر لیا جائے کیونکہ باہر دشمن ہے، یہ کہیں اندر سے وار نہ کر دیں۔ انصار کے سرداروں کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ اگر وحی کی بنیاد پر حکم ہے تو سر تسلیم خم ہے لیکن اگر محض تجویز ہے تو ہم اتفاق نہیں کرتے۔ آپ نے ان کی بات مان لی۔ یہ تو خیر بڑے معاملات ہیں۔ گھر کی خادمہ حضرت بریرہؓ کا واقعہ تو آپ کے علم میں ہوگا۔ اس کا خاوند پاگل ہوا پھرتا تھا۔ روتا ہوا اس کے پیچھے گلیوں میں بھاگتا تھا۔ چاہتا تھا کہ اس کے نکاح میں رہے، کیونکہ بریرہؓ کے آزاد ہونے کی وجہ سے نکاح ختم ہو گیا تھا۔ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی سفارش کی تو آپ نے بریرہؓ کو بلایا اور کہا کہ مغیث کے ساتھ نکاح برقرار رکھو۔ اس نے کہا کیا یہ آپ کا حکم ہے؟ فرمایا نہیں، محض سفارش ہے۔ تو کہنے لگی معاف کیجیے، میں اس کے نکاح میں نہیں رہنا چاہتی۔
تو بلاشبہ کمال درجے کی اطاعت کا تصور بھی شریعت میں موجود ہے، وہ اپنی جگہ، لیکن یہ چیز اس کی نقیض نہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ صحابہ کو اس کا فرق وقتاً فوقتاً سمجھاتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو دیکھا کہ کچھ صحابہ کھڑے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ جو جہاں تھا، وہیں بیٹھ گیا۔ جو لوگ دروازے میں تھے، وہ بھی وہیں بیٹھ گئے اور راستہ بند ہو گیا۔ آپ نے بعد میں کہا کہ بھائی راستہ تو چھوڑ دو۔ صحابہ کی اطاعت کا یہ حال تھا اور ظاہر ہے کہ اگر نبی کی اطاعت بھی ہیچ پیچ کے ساتھ کریں تو وہ اطاعت کیا ہوئی؟ غیر مشروط اطاعت مطلوب ہے اور صحابہ کرام نے ہمارے لیے اس کے بہترین نمونے چھوڑے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمارا دین فکری حریت کا بھی علمبردار ہے۔ یہ چیز اللہ ورسول کی غیر مشروط اطاعت کی نقیض نہیں۔ اطاعت غیر مشروط اور پورے جذبے اور شدت کے ساتھ کرنی چاہیے، لیکن دین ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم اپنے دل ودماغ کے دروازے بند کر لیں اور سوچنا چھوڑ دیں۔
اب اگر آپ مدارس کے نظام تعلیم کے بارے میں حریت فکر کا عملی اطلاق کرنا چاہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ تین مسائل آپ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ ایک مقاصد تعلیم، دوسرے نصاب تعلیم، اور تیسرے دین میں مسلک کا مقام۔ ممکن ہے یہ موضوع سے کچھ تجاوز ہو لیکن میں درخواست کرتا ہوں کہ آئیے چند منٹ کے لیے ان پر کچھ غور کر لیں۔
مقاصد تعلیم:
جب ہم نظام تعلیم کی بات کرتے ہیں تو نصاب، کتابوں، تعلیمی ماحول اور بہت سی دیگر باتوں سے پہلے جو بات زیر بحث آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس تعلیمی نظام کے مقاصد کیا ہیں؟ ہمارے مدارس میں ایک بات مشہور ہے اور وہ یہ کہ ہم نے بس علما اور مولوی پیدا کرنے ہیں جو مسجدیں سنبھالیں اور مدرسے چلائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ناقص اور کمزور بات ہے۔ مسلمانوں کے نظام تعلیم میں کبھی ثنویت نہیں رہی، اس میں ہمیشہ وحدت رہی ہے۔ دینی نظام تعلیم کا یہ محدود ہدف دراصل گزشتہ صدی میں اس وقت کے حالات کے تناظرمیں طے کیا گیا تھا۔ درس نظامی جب ہندوستان میں رائج تھا تو سی ایس پی افسر پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے انہی مدارس سے فارغ ہونے والے لوگ تحصیل دار اور کلکٹر لگتے تھے، جج اور قاضی بھی وہی بنتے تھے، ڈاکٹر اور طبیب بھی وہی ہوتے تھے۔ ملک کا نظام چلانے کے لیے ساری بیوروکریسی انہی مدارس سے آتی تھی۔ انگریزوں کے تسلط اور قبضے کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی تواس کے ساتھ ہی اس تعلیمی نظام کی بساط بھی لپیٹ دی گئی۔ مسلمانوں نے ۱۸۵۷ء میں مزاحمت کی تو چھ چھ سو علما کو ایک دن میں درختوں کے ساتھ پھانسی دی گئی ۔ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو پوری طرح کچل دیا گیا۔ فارسی جو اس وقت کی قومی زبان بھی تھی اور سرکاری بھی، اس کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کر دیا گیا، تو فارسی عربی پڑھنے والے بیروزگار ہو گئے۔ مثل مشہور ہوگئی کہ پڑھیں فارسی بیچیں تیل۔ ان کو نوکری نہیں ملتی تھی۔ معاشرے میں ان کا کوئی ذریعہ روزگار نہیں تھا، کیونکہ انگریزی آ گئی تھی۔ اس صورت حال میں کچھ علما نے سوچا کہ اب حکومت تو ہمارے پاس رہی نہیں، پہلے بڑے بڑے وقف ہوتے تھے اور حکومتیں وسائل مہیا کرتی تھیں۔ اب یہ تعلیمی نظام ختم ہو گیا ہے اور انگریز نے سارا نظام بدل دیا ہے تو اب امت کا مستقبل کیا ہوگا؟ انہوں نے سوچا کہ ہمارا اجتماعی نظام تو باقی نہیں رہا تو کم از کم ہمارا یہ جو مساجد کا نظام ہے، اور نکاح طلاق کے جو مسائل ہیں، اور خوشی غمی کی جو رسمیں ہیں تو انفرادی اور معاشرتی زندگی کے ان دائروں میں ہی میں دین کو بچا لیا جائے، اگرچہ کسی کونے کھدرے میں لگ کر ہی بچایا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے مدرسہ دیوبند کی بنیاد ڈالی۔
لیکن یہ صورت حال ۱۹۴۷ء میں ختم ہو گئی۔ اب ہم نہ دار الحرب میں ہیں اور نہ انگریز ہم پر حکمران ہیں۔ اب تو آپ کا اپنا ملک ہے تو آپ پہلے والی پالیسی کیسے رکھ سکتے ہیں؟ لہٰذا اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں ہمیں صرف ایسے عالم دین ہی پیدا نہیں کرنے ہیں جو مدرسے اور مسجدیں سنبھالیں۔ یقیناًیہ بھی سنبھالنے چاہییں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس معاشرے کا کیا قصور ہے کہ اس کو ایسا جج نہ ملے جو دین جانتا ہو؟ مسلمانوں کی ریاست ہے تو جج آخر ایسا کیوں ہو جس کو انگریزوں کا قانون تو یاد ہو لیکن وہ شرعی قانون سے واقف نہ ہو؟ ہمارے ہاں وکیل ہیں جو قانون کی تشریح کرتے ہیں۔ ان سے پہلے مفتی ہوتے تھے، اب وکیل آ گئے ہیں۔ تو ان وکیلوں کو اسلامی قانون کی تعلیم دینا کس کا کام ہے؟ کیا وہ دینی کام نہیں؟ کیا یہ سارا نظام ایسے ہی چلتا رہے؟ ہم اس میں کوئی حصہ نہیں لیں گے؟
اس وقت دینی مدارس میں ایک اندازے کے مطابق حفظ وناظرے کے درجات کو چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ دو لاکھ طالب علم پڑھتے ہیں جبکہ گزشتہ سال کے اکنامک سروے آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق پرائمری سکول میں داخلہ لینے والے پاکستانی بچوں کی تعداد تقریباً ۲ کروڑ ہے۔ اب یہ کون سا دین ہے یا دین کی کون سی حکمت عملی ہے کہ آپ دو لاکھ بچوں کو تو پڑھا رہے ہیں اور دو کروڑ کو بھولے ہوئے ہیں؟ ان کو دین کون سکھائے گا؟ کیا وہ مسلمانوں کے بچے نہیں؟ بات اس وقت حکومت یا غیر حکومت کی نہیں ہو رہی۔ سوال یہ ہے کہ اہل دین، جو لوگوں کو دین سکھانا چاہتے ہیں، ان کی ان دو کروڑ بچوں تک اپروچ ہی نہیں۔ ان بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ میں آپ کے استاد کتنے ہیں؟ ان استادوں کی تربیت میں آپ کا کتنا ہاتھ ہے؟ آپ کے پیش نظر تو دین کی خدمت ہے، آپ تو دین کو غالب کرنا چاہتے ہیں، معاشرے میں دین دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کا مقصد تعلیم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صرف مدرسے کے مولوی پیدا کریں؟ اس ملک کو چلانے والے لوگ جو مسلمان ہیں اور آپ کے بھائی ہیں، ان کو دین سکھانا کیا آپ کی ذمہ داری نہیں؟ آپ اس نکتے پر غور فرمائیں کہ اہل دین کو صرف مدرسے اور مسجد تک محدود نہیں رہنا ہے۔ اگر آپ اس معاشرے میں اسلام چاہتے ہیں اور دین ہی کی خدمت کے لیے آپ نے ادارے بنائے ہیں، تو آپ کا دائرہ کار محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حالات کے بدلنے کی وجہ سے جو بنیادی تبدیلی آئی ہے، اس کے لحاظ سے آپ کو مقاصد تعلیم میں وسعت پیدا کرنی چاہیے۔
نصاب تعلیم:
جب آپ مقاصد تعلیم میں توسیع کریں گے تو نصاب خود بخود بدل جائے گا۔ معاف کیجیے گا، آپ کے لیے یہ بات شاید نئی ہو۔ ہم لوگ جو کالج یونیورسٹی میں ہیں، ہمارے لیے یہ بات نئی نہیں ہے۔ ہر سال یونیورسٹی میں کلاسیں شروع ہونے سے پہلے پروفیسروں کی میٹنگیں ہوتی ہیں جن میں پروفیسر یہ طے کرتا ہے کہ اس نے کیا پڑھانا ہے۔ مثلاً اصول فقہ ایک مضمون ہے تو میرے ذمے یہ ہے کہ میں نے اصول فقہ پڑھانا ہے۔ اب اس میں کیا پڑھانا ہے، تو وہ میری صواب دید پر منحصر ہے۔ یونیورسٹی مجبور نہیں کرتی کہ فلاں کتاب پڑھاؤ۔ بلکہ مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا کہ میں جب شریعہ اکیڈمی (بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) میں تھا اور ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کے ساتھ کام کرتا تھا تو ہمارے پروگرام مینیجر ایک سول جج تھے جو آج کل ایڈیشنل سیشن جج ہیں۔ میں فقہ القرآن والسنۃ پڑھاتا تھا تو انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ تم فلاں چیز پڑھاؤ۔ مجھے اس بات پر غصہ آیا اور میں نے ڈاکٹر غازی کو ان کی تحریری شکایت کی کہ یہ کون ہوتے ہیں مجھے بتانے والے کہ میں کیا پڑھاؤں اور کیا نہ پڑھاؤں؟ ڈاکٹر صاحب نے اس سے کہا کہ جاؤ اور ڈاکٹر امین سے معذرت کرو۔ یہ تمہارا کام نہیں کہ تم یونیورسٹی کے استاد کو یہ بتاؤ کہ کیا پڑھانا ہے۔
تو نصاب کوئی غیر متبدل چیز نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نصاب صرف قرآن مجید تھا۔ بعد میں لوگوں نے حدیثیں بھی پڑھنا شروع کر دیں۔ اگلی صدی میں فقہ بھی شامل ہو گئی۔ اس وقت اصول فقہ نہیں تھے۔ اس سے اگلی صدی میں اصول کی تعلیم بھی شروع ہو گئی۔ جب یونانی علوم کا ریلا آیا تو منطق بھی شامل ہو گئی۔ تو نصاب کوئی مقدس گائے نہیں ہوتی۔ یہ ہمیشہ زمانے اور معاشرے کی ضروریات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ نصاب کے کچھ اجزا مثلاً قرآن وسنت، یقیناًکبھی تبدیل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح چونکہ ہمارے دینی مآخذ عربی میں ہیں، تو عربی زبان بھی نہیں بدلے گی۔ لیکن، معاف کیجیے، فارسی کو کوئی تقدس حاصل نہیں۔ اس کی اس وقت یقیناًضرورت تھی جب اسے قومی زبان کی حیثیت حاصل تھی، یہ اس وقت معاشرتی زبان بھی تھی۔ اس وقت جو نہیں پڑھتا تھا، تیل بیچتا تھا، اسے روزگار نہیں ملتا تھا۔ یہ ذریعہ اظہار تھی۔ اب فارسی ذریعہ اظہار نہیں ہے۔ تو کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اس لحاظ سے دیکھنا چاہیے۔ نصاب کو تقدس حاصل نہیں ہوتا۔ نصاب سے مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ ایسے موثر اور متبحر علما تیار کیے جائیں جو معاشرے تک بہترین طریقے سے دین پہنچا سکیں، دین کی خدمت کر سکیں، لوگوں کے قول وعمل کو شریعت کے مطابق ڈھال سکیں۔
اب آپ ہماری موجودہ ضروریات کے لحاظ سے اس نصاب پر نظر ڈالیں تو کئی خامیاں محسوس ہوں گی۔ مغرب اور امریکہ کے ایجنڈوں کو چھوڑیے، خود سوچیے کہ کیا ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس دنیا کو سمجھیں؟ اگر امام غزالی کی یہ مجبوری تھی کہ وہ یونانی فلسفہ پڑھیں اور پھر ’’تہافت‘‘ لکھیں تو آج ہماری مجبوری یہ کیوں نہیں ہے کہ ہم پہلے مغرب کا فلسفہ پڑھیں اور پھر اس کی تردید کریں؟ آپ اگر مغرب کا فلسفہ سمجھتے ہی نہیں تو اس کا رد کیسے کریں گے؟ اس لیے ان علوم کو جاننا جو اس وقت دنیا میں مروج ہیں، خود ہماری ضرورت ہے۔ جس طرح قدیم زمانے میں یونانی فکر گمراہیوں کا سرچشمہ تھی، آج اسی طرح مغربی فکر گمراہیوں کا منبع ہے۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ انگریزی پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟ جب تک آپ انگریزی نہیں پڑھتے، آپ کو پتہ کیسے چلے گا کہ آپ کے دشمن کی سوچ کیا ہے اور اس کا رد کیسے کرنا ہے؟
اسی طرح قرآن مجید کو اس نصاب میں وہ مرکزی حیثیت حاصل نہیں جو اسے حاصل ہونی چاہیے۔ معاف کیجیے گا، آپ کو حدیث کا دورہ تو پڑتا ہے، قرآن کا کیوں نہیں پڑتا؟ کیا قرآن حدیث سے کم اہم ہے؟ پھر قرآن و حدیث کو آپ فقہی تناظر میں اور فقہی زاویہ نگاہ سے پڑھاتے ہیں۔ قرآن وحدیث کے پیغام، فلسفہ اور ان کی حکمت کے بہت کم پہلو زیر غور آتے ہیں۔ فقہی مباحث میں بھی غلط ترجیحات قائم کر لی گئی ہیں۔ بخاری کی ایک حدیث رفع یدین پر آ گئی تو حنفی نقطہ نظر کی وضاحت میں استاد چھ دن یہ ثابت کرنے پر صرف کرے گا کہ رفع یدین نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں جب معاملات سے متعلق کوئی حدیث آئے گی تو ترجمہ پڑھ کر فارغ ہو جائیں گے۔ آخر کیا قصور ہے اس حدیث کا؟ عربی زبان، جیسا کہ آپ بھی تسلیم کریں گے کہ دینی مدارس کے طلبہ کو نہ لکھنی آتی ہے اور نہ بولنی۔ تو ان سب حوالوں سے نصاب اور منہج تعلیم میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
مسلک کا مقام:
تیسری چیز یہ ہے کہ ہم نے مسالک کو دین بنا لیا ہے۔ معاف کیجیے گا، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اپنا مسلک چھوڑ دیجیے۔ مسلک ہونا چاہیے۔ فقہ ہو یا کلام، ہر آدمی کا ایک مسلک ہوتا ہے۔ یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے، لیکن وہ مسلک دین نہیں ہوتا، وہ اجتہادی مسلک ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک رائے کی ہوتی ہے۔ حضرت قائد اعظم سے کسی نے پوچھا کہ آپ شیعہ ہیں یا سنی؟ وہ وکیل آدمی تھے اور ہوشیار تھے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ شیعہ تھے یا سنی؟ سوال کرنے والا خاموش ہو گیا کیونکہ اس کے ذہن میں شرارت تھی۔ تو عرض یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مسلکی تقسیم ضرورت سے زیادہ شدید ہے اور وہ بعض حلقوں میں خونی تقسیم بن گئی ہے۔ سیکڑوں آدمی قتل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اس کے اسباب زیادہ تر دوسرے ہیں، اصلاً مسلکی اور فقہی اختلافات بنیاد نہیں، لیکن نور بشر کے جھگڑوں میں مسجدیں دھلتی ہم نے بھی دیکھی ہیں۔ حالانکہ اگر غور کریں تو ہمارے ملک میں مسلکی اختلافات کی کوئی بڑی بنیاد نہیں، اس لیے کہ غالب اکثریت حنفی ہے۔ بریلوی بھی حنفی ہیں او ردیوبندی بھی۔ اہل ظاہر یا اہل حدیث بالکل تھوڑے ہیں، پانچ یا سات فی صد ہوں گے۔ تو پھر جھگڑے کیوں؟ اس وقت شیعہ کو چھوڑ کر باقی چاروں وفاقوں کے نصاب میں کوئی خاص فرق نہیں۔ چھوٹی موٹی کتابوں کا فرق ہے۔ حتیٰ کہ اہل حدیث بھی فقہ میں ہدایہ ہی پڑھاتے ہیں۔ اس کے باوجود نصاب کیوں ایک نہیں بنتا؟ وفاق کیوں ایک نہیں بنتا؟ میں عرض کروں گا کہ یہ وفاقوں کی تقسیم بھی اسٹیبلشمنٹ کی قائم کردہ ہے۔ وہ علما میں تفریق ڈالے رکھنا چاہتی ہے۔ ان کے اندر اتحاد نہیں دیکھنا چاہتی۔ ضیاء الحق چاہتا تو پانچ وفاقوں کی اجازت نہ دیتا، دو کی دیتا تو سب اہل سنت مجبور ہوتے کہ ایک ہی نظام کے تحت کام کریں۔معاف کیجیے گا، اس معاملے میں علما کو بالغ نظری کا ثبوت دینا چاہیے۔
تحقیق:
حریت فکر کی بحث سمیٹنے کے بعد اب آئیے، فکری وعلمی تربیت کے دوسرے اجزا کی طرف۔ ان میں سرفہرست تحقیق ہے۔ ہمیں دینی علوم میں تحقیق کی ضرورت ہے اور اس تحقیق میں بھی تخلیقیت کی ضرورت ہے۔ مکھی پر مکھی مارنا کوئی کام نہیں۔ ہمارے ایک نوجوان دوست، جو لاہور کی ایک جامعہ میں استاد ہیں، مجھ سے کہنے لگے کہ میں نے لکھنے پڑھنے کا کام شروع کیا ہے، میرے لیے دعا کریں۔ میں نے کہا ماشاء اللہ بڑی خوشی کی بات ہے، آپ کیا لکھ رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ دعاؤ ں کا ایک مجموعہ تیار کر رہا ہوں۔ میں نے کہا، اس کے بعد کیا منصوبہ ہے؟ کہنے لگے کہ پھر نماز پر ایک کتاب لکھوں گا۔ میں نہیں کہتا کہ یہ دین کی خدمت نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ بار بار ایک ہی قسم کے موضوعات پر کام کرتے چلے جانا کیا صلاحیتوں اور وقت کا درست استعمال ہے؟ میں آپ کو اپنا ذاتی واقعہ سناتا ہوں۔ میں نے لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورئینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز کے ایک انگریز پروفیسر سے خط وکتابت کی کہ میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ تم مجھے ان موضوعات کی ایک فہرست بھجواؤ جن پر تم کام کرنا چاہتے ہو۔ میں نے جو فہرست بھجوائی اس میں پہلے نمبر پر میں نے جو موضوع لکھا، وہ وہی تھا جس پر میں نے سعودیہ میں ماجستیر میں مقالہ لکھا تھا، یعنی التشریع الاسلامی والغربی۔ چنانچہ میں نے پروفیسر صاحب کو لکھا کہ میں اجتہاد اور مغرب میں قانون سازی کے تقابلی مطالعے کے موضوع پر کا م کرنا چاہتا ہوں۔ اس انگریز مستشرق نے مجھے جواب میں لکھا کہ تم اجتہاد پر کیا نیا کام کر سکتے ہو؟ یہ تو رٹا رٹایا موضوع ہے۔ میں نے جب اصرار کیا کہ یہ موضوع مجھے پسند ہے اور میں اسی پر کام کرنا چاہتا ہوں تو اس نے کہا کہ تم دو باتیں بتاؤ۔ ایک یہ کہ مغربی قانون کا تمہارا کس حد تک مطالعہ ہے؟ اور دوسرے تم مجھے سکوپ آف اجتہاد یعنی اجتہاد کے دائرہ کار پر چار صفحے کا ایک مضمون لکھ کر بھیجو۔ میں نے جتنا زور لگا سکتا تھا، لگا کر مضمون لکھا اور اس کو بھیج دیا۔ اس نے لکھا کہ تمہارا مغربی قانون کا مطالعہ کمزور ہے، اس سطح کا نہیں ہے کہ تم اس میں پی ایچ ڈی کر سکو۔ اور دوسری بات یہ کہ تم نے اجتہاد کا جو سکوپ لکھا ہے، وہ مجھے اپیل نہیں کرتا۔ اس میں تم آخر کیا نئی بات کر سکو گے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ ہم چیزوں کو ری پروڈیوس کر رہے ہیں۔ جتنا لٹریچر اٹھا کر دیکھ لیں، کوئی بات نئی نہیں ہے۔ کوئی نئے مسائل نہیں ہیں جن کو زیر بحث لایا گیا ہو۔ تو جب تک آپ تخلیقیت کی طرف نہیں آئیں گے، اسلامی علوم میں تحقیق کا خلا پر نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر رفیع الدین صاحب مرحوم کی ایک تحریر سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جس میں ’’اسلامی علوم میں تحقیق کیسے کی جائے؟‘‘ کے موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
تحقیق کے لیے لائبریری بھی ایک ناگزیر ضرورت کا درجہ رکھتی ہے۔ ہمارے ہاں مدارس میں لائبریریاں نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو طلبہ کو ان میں جاتے اور استفادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ لاہور کے بڑے مدارس میں نے دیکھے ہیں۔ ان میں کوئی علمی رسائل نہیں آتے حتیٰ کہ اخبار تک نہیں آتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک لازمی لائبریری پیریڈ ہونا چاہیے تاکہ طلبہ کتب خانے میں وقت گزاریں۔ ان کو یہ تربیت دی جائے کہ کیٹلاگ کیسے استعمال کرنی ہے، کتاب کیسے ڈھونڈنی ہے۔ اسی طریقے سے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں مطالعاتی دورے کروانے چاہییں۔ انڈسٹریوں میں جانا چاہیے۔ اپنے مدرسے کے ماحول سے باہر نکل کر دنیا اور اس کے ہنگاموں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے طلبہ کی تربیت کرنا چاہتے ہیں، ان کے ذہنی افق کو وسیع کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنا ہوگا۔ مجتہد اور مفتی کی شرائط میں سے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے حالات کو جانتا ہو جن میں اس نے شریعت کا حکم دریافت کرنا ہے۔ جو آدمی اس ماحول کو ہی نہ سمجھتا ہو جس میں اس نے اجتہاد کرنا ہو تو وہ اجتہاد کا اہل کیسے ہوگا؟ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ الشریعہ میں یہ بات لکھی کہ ان کے سامنے کسی مدرسے کے مفتی صاحب کے سامنے بنک کے کسی معاملے کے متعلق استفسار آیا تو انہوں نے مولانا سے پوچھا۔ مولانا نے جواب دیا کہ مجھے تو بنکاری نظام اور اس کی تفصیلات کا پتہ نہیں کیونکہ میں نے مغربی نظام معیشت کا مطالعہ نہیں کیا، لہٰذا میں تو اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ غرض یہ کہ ہمیں ذہنی وسعت پیدا کرنے کے لیے فکری سطح پرکچھ کام کرنے چاہییں۔
تقریر وتحریر کی مشق:
علم و تحقیق کی تربیت کے ساتھ ساتھ دین کی دعوت وتبلیغ کے لیے تحریر اور تقریر کی بھی تربیت ہونی چاہیے۔ دینی مدارس میں تحریر کی صلاحیت کو نشوونما دینے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا۔ اس کے مقابلے میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دیکھیے۔ یونیورسٹی کا ہر شعبہ اپنا ایک میگزین شائع کرتا ہے اور طلبہ کو ان میں لکھنے کے لیے مقابلے کرنے پڑتے ہیں۔ ندوۃ العلما کی مثال لیجیے۔ وہاں کے فارغ التحصیل فصیح وبلیغ عربی میں تقریر اور تحریر پر قادر ہوتے ہیں جبکہ ہمارے مدارس میں شاذ ونادر ہی ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ ہم نے اکثر خطیبوں کو دیکھا ہے کہ وہ اردو بولتے ہوئے غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ وہ اردو کا مطالعہ نہیں کرتے۔ تکمیل تعلیم کے بعد کتابیں نہیں پڑھتے۔ مطالعہ جاری رکھنا چاہیے۔ تحریر کی مشق ہونی چاہیے۔ دین بیزار لوگ روز بے ہودہ مضامین کے انبار لگائے جا رہے ہیں اور ان کی تحریریں بکثرت ہمارے اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ ان کا جواب دینے کے لیے علما موجود نہیں ہیں اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کی تحریر اچھی ہو۔
میں نے علما کی ایک مجلس میں یہ بات کہی جو سب نے مانی۔ میں نے کہا کہ میں نے لاہور کے مختلف علاقوں ڈیفنس، گلبرگ، اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن وغیرہ میں مسجدوں میں جا کر جمعہ کے خطبے سنے ہیں۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ۹۰ فیصد لوگ دوسری اذان کے وقت مسجد میں آتے ہیں یعنی وہ تقریر سننے نہیں آتے بلکہ نماز پڑھنے آتے ہیں۔ آخر لوگ کیوں علما کی تقریر نہیں سننا چاہتے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اہل دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاشرے کو دین کے مطابق ڈھالیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرتے تو وہ ناکام ہیں۔ تو علما کو موثر ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں کہ لوگ ان کی تقریر ہی نہ سننے آئیں، ان کی فریکونسی اور ہو اور جو دو کروڑ بچے دوسرے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر نکل رہے ہیں، ان کی فریکونسی اور ہو۔ وہ اور طرح سے سوچتے ہوں اور ہمارے علما دوسری طرح سے سوچتے ہوں۔
۳۔ انتظامی تربیت
اسی طریقے سے انتظامی تربیت بھی ہونی ہے تاکہ طلبہ میں لیڈر شپ کی کوالٹی پیدا ہو۔ اس مقصد کے لیے طلبہ کو مختلف انتظامی کاموں میں شریک کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً تقریبات کا انتظام ان کے سپرد کیا جا سکتا ہے اور مختلف ذمہ داریاں ان کے مابین تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ تقریب کا انتظام کیسے کرنا ہے، اس کی ضروریات کیا ہیں، اس طریقے سے انہیں تربیت دیں۔ اس میں وقت کی پابندی کا بھی اہتمام انہیں سکھائیں۔ اگر تقریب کے آغاز کا وقت دس بجے طے کیا گیا ہے تو اسے دس بجے ہی شروع ہونا چاہیے۔ اس تربیت کی عملی زندگی میں بڑی اہمیت ہے۔
انتظامی تربیت سے خود اعتمادی آتی ہے، سلیقہ اور قرینہ آتا ہے۔ نظم وضبط پیدا ہوتا ہے۔ مدارس میں انتظامی کام کافی ہوتے ہیں۔ طعام وقیام کے امور ہوتے ہیں، اس کے لیے طلبہ کی ڈیوٹیاں لگائی جا سکتی ہیں، ناظم صلوٰۃ کا تقرر کیا جا سکتا ہے۔ صفائی کے امور کے جائزہ کے لیے صفائی کا ناظم بنایا جا سکتا ہے۔ طلبہ کو وقت پر جگانے، طعام گاہ کی صفائی وغیرہ کا جائزہ لینے، کھانے کی تقسیم کے معاملات، برتنوں کی صفائی وغیرہ کے سارے انتظامات طلبہ کے سپرد کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے ان کی صلاحیتیں بیدار ہوں گی۔
۴۔ جسمانی تربیت
جسمانی ورزش اور کھیلوں کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ مدارس میں اس پر توجہ نہیں دی جاتی جبکہ لیکن سکولوں اور کالجوں میں ایک ادارے کی ٹیم دوسرے ادارے میں جاتی ہے اور وہاں کی ٹیم کے ساتھ کھیلتی ہے۔ انعامات دیے جاتے ہیں۔ یہ غیر اسلامی نظام نہیں۔ کھیل اور ورزش کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور اس میں مسابقت کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے والیوں کو لکھا تھا کہ تیر اندازی کا انتظام کرو۔ یہ ساری چیزیں تربیت کے مختلف پہلو ہیں اور ان کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ ایک متوازن شخصیت وجود میں آئے اور اس کی صلاحیتوں کو نمو ملے۔
تربیت کا لائحہ عمل
ان ساری باتوں کی تربیت میں مدارس کی انتظامیہ کا بھی کردار ہے اور اساتذہ کا بھی، لہٰذا پہلے اساتذہ کی تربیت ہونی چاہیے۔ جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کے ساتھ اساتذہ کی تربیت کی بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ ان سے بھی پہلے مہتممین کی تربیت ہونی چاہیے۔ ان کی نہیں ہوگی تو اساتذہ کی کہاں سے ہونے دیں گے؟ تو استاد، طلبہ کی تربیت کا بہت بڑا آلہ ہے۔ اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ صرف معلم نہیں، مربی بھی ہے۔ جب وہ اپنے آپ کو طلبہ کی تربیت کا ذمہ دار سمجھے گا تو اسے اپنے کام کی نزاکت کا اندازہ ہوگا۔ اس کا سب سے پہلا کام یہ احساس کرنا ہے کہ طلبہ اسے ماڈل سمجھتے ہیں۔ جیسے استاد کرتا ہے، ویسے ہی طلبہ بھی کرتے ہیں۔ جیسے وہ سوچتا ہے، طلبہ بھی ویسے ہی سوچتے ہیں۔ ہمارے ایک استاد تھے، وہ کلاس میں آکر سب سے پہلے سگریٹ سلگاتے تھے۔ تو استاد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک ماڈل ہے۔ خود وہ اپنے آپ کو ماڈل نہ سمجھے، لیکن یہ دیکھے کہ اس کی سیرت وکردار ایسی ہونی چاہیے کہ طلبہ اس کی اتباع کر سکیں۔ تو دینی مدارس میں اساتذہ کی تربیت کا انتظام ہونا چاہیے اور اس میں ان کو دو باتیں سکھائی جائیں۔ ایک تو فنی تربیت کہ مثلاً تختہ سیاہ کو کیسے استعمال کیا جائے، سبق کیسے تیار کیا جائے وغیرہ۔ اور دوسرے نظریاتی تربیت جس کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود اچھا مسلمان کیسے بننا ہے اور دوسرا یہ کہ انہیں اپنے طلبہ کی تربیت کیسے کرنی ہے اور انہیں اچھا مسلمان کیسے بنانا ہے؟ استاد کا کام یہ ہے کہ وہ دین کو طلبہ کے سامنے پرکشش بنا کر پیش کرے تاکہ ان میں اس پر عمل کے لیے آمادگی پیدا ہو۔ دین کو پرکشش بنانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ استاد خود دین پر عمل کرے۔ دوسرا یہ کہ اس کے اندر اخلاص اور طلبہ کی خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ طلبہ یہ محسوس کریں کہ استاد ان کے لیے اخلاص رکھتا ہے۔ وہ ان کے ساتھ محبت سے پیش آئے۔ ڈنڈے مار کو آپ کسی کو وہ چیزیں نہیں سکھا سکتے اور نہ اس کے اندر وہ جوہر پیدا کر سکتے ہیں جو محبت اور شفقت کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ بد قسمتی سے مارپیٹ کا سلسلہ بعض مدارس میں، خاص طور پر حفظ کے درجات میں اب بھی جاری ہے۔ یہ ایک غلط طریقہ ہے۔ طلبہ کے ساتھ اپنے تعلق کو شفقت، نرمی اور محبت کی اساس پر استوار کرنا چاہیے تاکہ ان میں پڑھنے کے لیے آمادگی پیدا ہو اور تحکم کے بجائے وہ شراکت کے احساس کے ساتھ سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے ہاں تربیت کے لیے وقت مخصوص نہیں کیا جاتا۔ مجھ سے اگر پوچھیں تو میں کہوں گا کہ چونکہ غایت ہی تربیت ہے، اس لیے کم از کم پچاس فی صد وقت تربیت کے لیے دینا چاہیے، جس کا ہمارے ہاں کوئی تصور نہیں۔ تربیت کے لیے الگ پیریڈ مخصوص کرنے چاہییں اور اگر مثال کے طور پر ۱۵۰۰ نمبر کے باقی مضامین ہیں تو ان میں کم از کم ۱۰۰ نمبر کا تربیت کا پرچہ شامل کریں۔ اس کو باقاعدہ لازمی پرچہ قرار دیں، یعنی جو تربیت کے پرچے میں فیل ہو، اس کو سارے امتحان میں فیل تصور کیا جائے۔ تربیت میں دیکھا جائے کہ کون طالب علم لڑائی جھگڑا کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، چوری کرتا ہے، وقت پر کلاس میں حاضر نہیں ہوتا وغیرہ۔
اس تربیت کا باقاعدہ نصاب بھی ہونا چاہیے۔ تاہم اگر مدارس کی انتظامیہ توجہ نہ دے تو میں سمجھتا ہوں کہ اساتذہ اپنے طور پر تزکیہ اور تربیت کا نصاب بنا سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں تصوف کی بعض کتابیں شامل نصاب رہی ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ نے اس کا اہتمام کیا تھا لیکن بعد میں جب دیوبند کے تعلیمی نظام کی صورت میں اس میں ارتقا ہوا تو بعض تاریخی عوامل کی وجہ سے، جن کے تجزیے میں اس وقت میں نہیں پڑوں گا، تصوف کی کتابیں نصاب میں شامل نہ رہ سکیں۔ میرے خیال میں یہ نصاب میں ایک خامی ہے، اور تربیت اور تزکیے کا مواد نصاب میں لازماً شامل ہونا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ، امام غزالی اور دیگر اکابر تصوف کی چیزوں سے انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ روایتی تصوف کے لٹریچر میں کچھ کمزوریاں اور خرابیاں بھی موجود ہیں۔ تازہ کاموں میں سے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی چیزیں منتخب کی جا سکتی ہیں اور ایسا مواد چھانٹ کر نکالا جا سکتا ہے جو تصوف کی روایتی کمزوریوں اور بعض غیر اسلامی عناصر سے پاک ہو۔ نصاب کی خامی کو تو ایک اچھا استاد پورا کر سکتا ہے لیکن اچھے استاد کی خامی نہ نصاب پوری کر سکتا ہے اور نہ کوئی اور چیز۔ اس لیے اگر استاد تربیت کو اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو وہ سو راستے ایجاد کر لے گا۔
ہر مدرسے میں ایک تربیت کمیٹی بننی چاہیے جس کے سربراہ مہتمم صاحب ہوں یا کسی سینئر استاد کو ناظم بنا دیا جائے اور کچھ صالح طلبہ کو اس کا رکن بنا لیا جائے۔ ہر کلاس کا انچارج استاد تربیتی کمیٹی کا رکن ہو۔ وہ باقاعدہ بیٹھ کر میٹنگیں کریں۔ کچھ پرابلم کیسز ہوتے ہیں۔ بعض طلبا بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی اصلاح کے لیے، ان کے والدین کو بلانے کے لیے ایک کمیٹی بنا لیں اور والدین سے رابطہ رکھیں۔ پھر تربیت کمیٹی اپنے طور پر پورے سال کا ایک پروگرام بنا سکتی ہے مثلاً آپ ہر ہفتے مختلف اخلاقی خوبیاں پیدا کرنے اور برائیوں سے بچنے کے لیے کسی ایک چیز کو موضوع بنا سکتے ہیں۔ مثلاً اس ہفتے ہمارے پیش نظر غیبت کی مذمت ہے۔ طلبہ کوبتایا جائے کہ غیبت کیا ہے، شریعت نے اس کی کیسے مذمت کی ہے، معاشرے میں اس سے کیا فساد پیدا ہوتا ہے۔ ان باتوں کو ہر کلاس میں تختہ سیاہ پرلکھ دیا جائے۔ طعام گاہ میں لکھ دیا جائے۔ اس طرح مختلف پہلوؤں سے اس چیز کو اجاگر کر کے اس کی قباحت کا احسا س زندہ کیا جائے۔ اسی طرح ہر ہفتے کسی نئی چیز پر توجہ مرکوز کی جائے۔
حوصلہ افزائی کے لیے انعام بھی رکھا جا سکتا ہے مثلاً پچھلے ایک ماہ میں جن طلبہ کی تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی، ان کو کوئی انعام دے دیا جائے۔ اس طریقے سے بعض لوگوں نے تجربات کیے ہیں۔ راول پنڈی میں عبد الجبار غازی صاحب نے جو جماعت اسلامی سے الگ ہوئے ہیں، ایک تجربہ کیا۔ انہوں نے گراف بنا کر ہر کلاس میں لٹکا دیے۔ اس پر لڑکوں کے نام لکھے ہوتے تھے۔ جو طالب علم خوبی کے کام زیادہ کرتا، اس کے دو نمبر زیادہ ہو جاتے۔ اس کے برعکس اگر کسی نے گالی دی، تو اس کے دو نمبر کم ہو گئے۔ کسی نے جھگڑا کیا، تو اس کے چار نمبر کم ہو گئے۔ والدین نے کوئی شکایت کی تو دو نمبر اور کم ہو جاتے۔ اس طرح گراف کے ذریعے سے ہر طالب علم کے اخلاق وکردار کا پتہ چلتا رہتا اور طلبہ میں اچھے نمبروں کے لیے مسابقت پیدا ہو جاتی۔
تو یہ تربیت کے مختلف پہلو اور اس کے چند اسالیب ہیں۔ غور اور تجربے سے مزید کئی تدبیریں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ بہرحال طلبہ کو اچھے کاموں کی طرف راغب کرنے اور ان میں برے کاموں سے بچنے کا جذبہ بیدار کرنے کا ایک پورا نظام مدرسے میں ہونا چاہیے۔
جب ہم تربیت کے پہلو سے غور کرنا شروع کریں گے تو کافی کتابیں سامنے آنا شروع ہو جائیں گی، لیکن فوری طور پر دو چیزوں کی طرف میں اشارہ کر سکتا ہوں۔ ایک تو پروفیسر سید سلیم صاحبؒ کا چھوٹا سا مقالہ ’’درس گاہ کی ہم نصابی سرگرمیاں‘‘ کے نام سے ہے۔ اور ایک کوشش میں نے بھی کی تھی ’’تعلیمی ادارے اور کردار سازی‘‘ کے عنوان سے۔ یہ دونوں کتابیں تعلیمی ادارے میں تربیت سیرت وکردار سے بحث کرتی ہیں۔ اگرچہ ان کا پس منظر دینی مدارس کا نہیں ہے لیکن مسائل مشترک ہیں، مثلاً بچے کیوں بگڑتے ہیں، ان کی اصلاح کیسے ہونی چاہیے، سیرت وکردار کی خوبیاں کیسے پیدا کرنی چاہییں، اس کے لیے کیا ماڈل سامنے رکھنے چاہییں،کیا کیا گر استعمال کرنے چاہییں وغیرہ۔ میں نے اس کتاب میں اسلامی تربیت کے ۳۱ گر لکھے ہیں۔ ان سے آپ کو کچھ بنیادی مواد مل جائے گا۔
آخر میں، میں دوبارہ عرض کروں گا کہ میری گزارشات محض اخلاص اور دردمندی پر مبنی ہیں۔ میری باتوں سے آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ موضوعات بہرحال اس قابل ضرور ہیں کہ آپ ان کے بارے میں سوچیں۔ دین محض کتابوں میں نہیں لکھا ہوتا۔ یہ معاشرے کی صورت میں ایک زندہ حقیقت ہوتا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے نبی کی امت کو یہ توفیق بخشی کہ اسلامی معاشرہ پچھلی چودہ صدیوں سے بلاانقطاع قائم ہے۔ اس تسلسل کو بقا اور استحکام بخشنے کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ معاشرہ دین سے جڑا رہے۔ یہ کام علما کا ہے لہٰذا ان کے اور معاشرے کے مابین ہم آہنگی ناگزیر ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ علما اس معاشرے کی ذہنی، فکری، جسمانی اور مادی ضرورتوں کو سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق دیں۔ آمین
فکری و مسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۵ دسمبر ۲۰۰۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ کے دو روزہ مشاورتی اجتماع کی چوتھی نشست سے خطاب۔)
بعد الحمد والصلوۃ۔ کل سے مختلف مسائل پر گفتگو چل رہی ہے۔ ہم نے صبح کی نشست میں نصاب اور اساتذہ کی تدریسی اور تربیتی مشکلات کے حوالے سے بات کی، جس کے نتیجے میں تفصیلی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
اس نشست میں میری گفتگو کا عنوان ہے ’’فکری ومسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو‘‘۔ فکری تربیت سے مراد یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ جب ایک خاص نصاب کی تعلیم پاکر سوسائٹی میں جاتے ہیں اور انہیں آج کے مسائل اور حالات سے سابقہ پیش آتا ہے تو ان کی فکر اور سوچ کیا ہو؟ ان کا نصب العین اور زندگی کا مقصد کیا ہو؟ ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی فکری نصب العین بن جاتا ہے جس کے ارد گرد اس کی زندگی کی ساری تگ ودو گھومتی ہے۔ طالب علمی کے دوران میں اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی ترجیح قائم ہو جاتی ہے کہ میں نے تو یہ کام کرنا ہے، اور پھر وہ ساری زندگی اسی میں لگا رہتا ہے۔ یہ مرحلہ یعنی کسی طالب علم کی فکری تربیت کے رخ کا تعین، ہم نے اسے آزاد چھوڑا ہوا ہے اور طالب علم اپنی مرضی سے اس کا تعین کر رہے ہیں۔ اس کا تعلق بھی اس بات سے ہے جو اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے ہماری مشاورت میں زیر غور آئی، یعنی چونکہ ہمارے ہاں اساتذہ کی تربیت کا کوئی نظم موجود نہیں، اس لیے ہوتا یہ ہے کہ مدارس میں اساتذہ میں سے جس استاد کے ساتھ طالب علم زیادہ مانوس ہو جاتا ہے، تو جو ذہنی سوچ اس کی ہوتی ہے، وہی طالب علم کی بھی بن جاتی ہے۔ ایک مدرسے میں اساتذہ کے ذہنی رجحانات مختلف ہیں تو دو دو، چار چار طالب علم ان میں سے ہر ایک کے ساتھ مانوس ہو جاتے ہیں۔ اس طرح فکری تربیت تو ہوتی ہے لیکن یہ فکر کوئی اجتماعی فکر نہیں ہوتی۔ ہر طالب علم اپنے ذوق کے مطابق کسی استاد کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے اور اسی کے مطابق اس کی ذہنی وفکری تربیت ہوتی ہے اور وہ اسی سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ میں اس کو خون کے گروپ سے تعبیر کیا کرتا ہوں۔ ہمارے ہاں خون کے مختلف گروپ کام کر رہے ہیں۔ سپاہ صحابہ کا خون گروپ ہے، جہادی خون گروپ ہے، جمعیت علماء اسلام کا خون گروپ ہے۔ اسی طرح تبلیغی جماعت، اشاعت التوحید اور خدام اہل سنت کے خون گروپ موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ گروپ آپس میں ملتے ہیں اور کچھ نہیں ملتے۔ اور لطیفے کی بات یہ ہے کہ اتفاق سے میرا خون کا گروپ سب سے مل جاتا ہے۔ میرا خون سب کو لگ جاتا ہے اور سارے خون اس کو لگ جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ طالب علم کو مجموعی فکر ہم نے کیا دی ہے؟ میں وفاق والوں سے اکثر عرض کیا کرتا ہوں کہ آپ اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کریں تاکہ وہ طلبہ کا کوئی اجتماعی ذہن تو بنائیں اور انہیں کوئی بنیادی سوچ تو دیں۔ یہ تو انہیں بتائیں کہ ملک وملت کے تقاضے کیا ہیں، عالمی صورت حال کے تقاضے کیا ہیں، اور آپ کے مسلک کے بنیادی تقاضے کیا ہیں۔ انہیں کوئی اجتماعی سوچ دیں، اس کے ساتھ ساتھ ضمنی ترجیحات کا دائرہ بھی موجود رہے۔
آپ تقریباً اتفاق کریں گے کہ صورت حال ایسی ہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ہے کہ اساتذہ، جنہوں نے سوچ دینی ہے اور فکری تربیت کرنی ہے، خود ان کی اپنی اجتماعی فکر کا کوئی اہتمام نہیں۔ عصر ی تعلیم میں ہر سطح کے استاذ کے لیے اس سطح کا تربیتی کورس کرنا ضروری ہے لیکن ہمارے ہاں اس کا کوئی نظم نہیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ فکری طور پر ہم خلفشار کا شکار ہیں۔ ہم پر مغرب کی فکری اور تہذیبی یلغار ہے۔ اس کی صحیح تعبیر وہ ہے جو ہمارے شیخ حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے کی ہے کہ ’ردۃ ولا ابابکر لہا‘۔ یہ فکری ارتداد کا زمانہ ہے۔ آپ ذرا محدود حلقے میں ہیں، اللہ آپ کے ایمان کو سلامت رکھے، لیکن اگر آپ جدید حلقے میں چلے جائیں، کسی کے ذہن کو ٹٹولیں تو احتراماً اور عقیدتاً یا فتوے کے ڈر سے تو وہ شاید کوئی بات نہ کہے لیکن جب آپ اس کی فکر کا تجزیہ کریں گے تو کہیں نہ کہیں ارتداد، ارتیاب اور شک کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہوگا۔ کسی نہ کسی حوالے سے وہ آج کی فکری ارتداد کی لہر سے متاثر ہوگا۔
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کشمکش کو سرے سے سمجھ ہی نہیں رہے۔ ہم پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، ہمارے گرد حصار تنگ ہوتا جا رہا ہے اور ہم بالکل ایک دائرے میں محصور ہوتے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جدید تعلیم یافتہ نوجوان آپ سے گفتگو کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں نکاح وطلاق یا دوسرے مسائل کے بارے میں شریعت کے احکام کے بارے میں شک ہے۔ اس نے جدید لٹریچر پڑھا ہوا ہے۔ ہم اس کے شک اور اس کی وجہ کو سمجھ کر شک کا کانٹا نکالنے کے بجائے اس کے ساتھ طعنے اور فتوے کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ وہ ہمارے سامنے تو احتراماً خاموش ہو جاتا ہے لیکن اس کا شک پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے کہ کوئی بات ضرور ہے، اس لیے یہ جواب نہیں دے سکے اور مجھے ڈانٹ رہے ہیں۔ ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اس کو شک کیا ہوا ہے، اس لیے کہ خود ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اس کے پس منظر میں کون سا فکری الجھاؤ کارفرما ہے۔
بات سمجھانے کے لیے ایک حوالہ دوں گا۔ میں ایک عرصے سے مدارس کے منتظمین سے گزارش کر رہا ہوں کہ آج کا بین الاقوامی قانون جو رائج الوقت ہے، جس کی بنیاد پر ہم پر اعتراضات ہوتے ہیں اور الزام لگایا جاتا ہے، وہ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر ہے۔ اس کی تیس دفعات ہیں۔ ہم نے اس کو تسلیم کر رکھا ہے اور اس پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اس وقت عالمی کشمکش میں ایک جھگڑا یہ ہے کہ مغربی اقوام کا موقف یہ ہے کہ جب آپ نے اس چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں، اس کے نظام میں شریک ہیں، اس سے فائدے اٹھاتے ہیں، یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کے آپ رکن ہیں، آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ اس میں لکھی ہوئی باتوں کی اپنے دستور میں پابندی کریں گے، تو آپ اس کے خلاف اقدامات کیوں کر رہے ہیں؟ یہ موقف اس حوالے سے درست ہے کہ جب ہم نے باقاعدہ معاہدہ کر رکھا ہے تو یا تو اس پر عمل کریں اور یا اس سے پیچھے ہٹ جائیں۔
دوسری طرف ہماری صورت حال یہ ہے کہ اگر اس چارٹر کو اور اس کی ان تشریحات کو قبول کر لیا جائے جو اقوام متحدہ کے باضابطہ ادارے مثلاً جنیوا انسانی حقوق کنونشن، یونیسکو اور یونیسف وغیرہ کرتے ہیں، تو ہمیں احکام شرعیہ میں سے کم از کم ۸۰ فیصد سے دستبردار ہونا ہوگا۔ مثلاً اس میں لکھا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان مساوات کو یقینی بنایا جائے اور جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی قانون نہ بنایا جائے۔ مرد اور عورت کے مابین تمام معاملات میں مساوات ضروری ہے۔ اب آپ اپنے قوانین کو دیکھ لیں کہ مرد اور عورت کے لیے قوانین میں کہاں کہاں فرق نہیں ہے۔ نماز سے شروع ہو جائیں۔ عائلی قوانین کو دیکھ لیں۔ آپ مرد کو طلاق کا حق دیتے ہیں، عورت کو نہیں دیتے۔ یہ امتیازی قانون ہے۔ وراثت میں آپ مرد کو حصہ زیادہ دیتے ہیں، عورت کو کم دیتے ہیں۔ یہ امتیازی قانون ہے۔ شہادت میں آپ بعض معاملات میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں کرتے۔ یہ امتیاز کا قانون ہے۔ عورت کو آپ صدر اور وزیر اعظم بننے کا حق نہیں دیتے۔ یہ امتیاز کا قانون ہے۔ اس طرح آپ کی فقہ میں بہت سے ایسے احکام نکلیں گے جہاں آپ امتیاز کے قانون پر عمل کر رہے ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے اور اس پر فوراً کہا جائے گا کہ آپ اس کو منسوخ کریں۔
ایک دوسری مثال لیں۔ عالمی قانون میں آزادی رائے اور تبدیلی مذہب کا حق ہر شخص کو حاصل ہے۔ ہر شخص کو کوئی بھی مذہب چھوڑنے یا اختیار کرنے کا اور کسی بھی قسم کی رائے ظاہر کرنے کا حق ہے۔ لیکن ہم نے توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون نافذ کر رکھا ہے جو رائے کی آزادی کے خلاف ہے۔ ہم نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے، ان کو مسجدیں نہیں بنانے دیتے، ان کو اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کرنے دیتے جو مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔
یا مثلاً بین الاقوامی قانون میں غلامی کی تمام صورتیں ممنوع ہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ غلامی اسلام کی مطلوبہ چیزوں میں سے نہیں، اس لیے بین الاقوامی معاہدے کے تحت یہ ممنوع سہی، لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب ممنوع ہے اور آپ مانتے ہیں کہ غلامی درست نہیں تو پھر پڑھاتے کیوں ہیں؟ تعلیمی نصاب سے خارج کیوں نہیں کرتے؟ قرآن پاک سے وہ آیات اور حدیث وفقہ سے وہ ابواب خارج کیوں نہیں کرتے ؟
اسی طرح اس میں ایک دفعہ ہے کہ کوئی سزا ایسی نافذ نہیں کی جائے گی جس میں جسمانی تشدد یا ذہنی اذیت ہو یا جس میں توہین وتذلیل ہو۔ یعنی سزا کو تین چیزوں، جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور توہین وتذلیل سے خالی ہونا چاہیے۔ اب آپ کی کون سی سزا اس سے خالی ہے؟ آپ کی ساری حدود میں تشدد ہے، ہاتھ پاؤں کاٹنا، سنگسار کرنا، کوڑے مارنا، کھلے بندوں سزا دینا ہے جس میں توہین اور تذلیل ہے۔
گویا حدود کا نظام لے لیں، خاندانی نظام لے لیں، وراثت کا نظام لے لیں، نکاح وطلاق کا مسئلہ لے لیں، ہمارا کوئی بھی مسئلہ نہیں بچتا جس پر اعتراض نہ ہو۔
تو میرے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی ان تیس دفعات کو ہمارے ہاں نصاب میں پڑھایا جانا چاہیے، اس حوالے سے کہ آج کا مروجہ بین الاقوامی قانون کیا ہے، ہمارے قوانین کیا ہیں، ٹکراؤ کہاں ہے، ان کا موقف کیا ہے اور ہمارا موقف کیا ہے؟ ہمارے عالم دین کو پتہ تو ہونا چاہیے۔ جب کوئی اعتراض سامنے آئے تو وہ سمجھ تو سکے کہ اعتراض کیوں ہے؟ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ہم نے ان کی کون سی بات قبول کرنی ہے اور کون سی نہیں، لیکن کم ازکم ہمارے علما کو اس جھگڑے سے واقف تو ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں سرے سے اس کا کوئی پتہ نہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب بحث کو اپنے دائرے میں محدود رکھتے ہیں تو اپنے لوگوں کو تو مطمئن کر لیں گے لیکن جب بات جدید تعلیم یافتہ ماحول میں کریں گے تو ہماری بات سنی نہیں جائے گی کیونکہ ہماری بات ادھوری اور بے علمی پر مبنی ہوگی۔
تو فکری تربیت سے مراد یہ ہے کہ ہمارے علما کو یہ پتہ ہو کہ آج کا عالمی ماحول کیا ہے، ہماری کشمکش کس سے ہے، لڑائی کس سے ہے، اس کے مقابلے میں ہم نے کیا تیاری کی ہے؟ اس انداز سے ہم قرآن مجید کا مطالعہ کریں، احادیث کا مطالعہ کریں۔ سارا ذخیرہ موجود ہے۔ قرآن پاک میں ہر چیز موجود ہے، احادیث کے ذخیرے میں ہر بات کا جواب موجود ہے، البتہ فقہی کتابوں میں اس کی نئی تعبیرات کرنے کی ضرورت ہے، لیکن چونکہ ہماری اپنی اس انداز سے مطالعہ کرنے کی تربیت نہیں ہے، اس لیے آج کی اس فکری کشمکش میں ہم موثر طور پر حصہ لینے اور کوئی عملی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بھی پہلے بات اساتذہ کی آئے گی۔ استاد کو پتہ ہوگا تو وہ شاگرد کو بتائے گا۔ اگر اسے خود پتہ نہیں ہوگا تو شاگردوں کو کیا بتائے گا؟ میں نے وفاق والوں سے گزارش کی تھی کہ آج کے مغربی فلسفہ، عالمی کشمکش اور تہذیبی جنگ پر اساتذہ کے لیے بریفنگ کورس کا اہتمام کریں اور نصاب میں بھی ایسی چیزیں شامل کریں، خواہ وہ محاضرات کی شکل میں ہوں یا کسی کتاب کی صورت میں۔ ہمارے ہاں اس موضوع پر کام نہیں ہو رہا لیکن عرب دنیا میں کافی کام ہو رہا ہے۔ اس میں سے اچھا مواد مل جائے گا۔
اس کے بعد دوسرا مسئلہ ہے مسلکی تربیت کا۔ ہمارا مسلک کیا ہے اور دیوبندیت کیا ہے؟ یہاں میں تھوڑی سی گستاخی کروں گا جس کے لیے مجھے معاف کر دیں۔ میری عادت یہ ہے کہ جو بات سمجھ میں آتی ہے، کہہ دیا کرتا ہوں۔ اگر ناراض نہ ہوں تو ایک کہاوت عرض کرتا ہوں۔ کہتے کہ چار پانچ نابینا کہیں اکٹھے ہو گئے اور آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ طے یہ ہوا کہ اس کا فیصلہ ’مشاہدہ‘ کرنے کے بعد کیا جائے۔ اب وہ گئے اور جا کر ہاتھی کو ٹٹولنے لگے۔ دیکھا تو تھا نہیں، تو کسی کے ہاتھ کان پر آ گئے، کسی کے سونڈ پر اور کسی کے سینگ پر۔ اب وہ تبصرہ کر رہے ہیں کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے؟ ایک نے کہا کہ ہاتھی لمبا سا ہڈی کا سینگ ہوتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ نہیں وہ تو چھاج کی طرح لمبا اور چوڑا سا ہوتا ہے۔ تیسرے نے کہا کہ پانی کا ایک نل ہے جس کو ہاتھی کہتے ہیں۔ چوتھے نے کہا کہ چمڑے کے ایک بڑے سے ستون کو ہاتھی کہا جاتا ہے۔
ہمارا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہم میں سے جس شخص کو جس ماحول میں جس سے واسطہ پڑ جاتا ہے، ہماری دیوبندیت اسی تک محدود ہو جاتی ہے۔ ایک ماحول میں شیعہ سے واسطہ ہے تو دیوبندیت یہی ہے کہ ان کا مقابلہ کیا جائے۔ ہماری دیوبندیت اس دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ کہیں اہل حدیث سے سابقہ پیش آ جائے تو وہاں دیوبندیت صرف حنفیت کے دفاع میں محصور ہو جاتی ہے، باقی سارے تقاضے ختم ہو جاتے ہیں۔ کہیں بریلویوں سے لڑائی آ گئی ہے تو دیوبندیت اس دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ میں ان مسائل سے انکار نہیں کر رہا۔ یہ تمام شعبے ہیں۔ مجھے نہ حنفیت کے دفاع کی اہمیت سے انکار ہے، نہ بریلویت کے مقابلے سے اور نہ انکار حدیث اور شیعہ کا جواب دینے سے، لیکن یہ تمام جزوی شعبے ہیں۔ ہم ان الگ الگ شعبوں کی بات تو کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اہل السنت والجماعت کا جو اجتماعی دھارا چلا آ رہا ہے، اس کی بات ہم میں سے کوئی نہیں کرتا۔
قیام دیوبند کا اصل مقصد کیا تھا؟ جب انگریز یہاں آیا تھا اور اس کے ہاتھوں دین مٹ رہا تھا تو کچھ اللہ والوں نے اس تحریک کی بنیاد رکھی کہ دین کو جس حد تک ممکن ہو، بچا لیا جائے۔ مجموعی دین کو، ا س کے اجتماعی حصے کو اور سب شعبوں کو بھی۔ میرے نزدیک دیوبندیت تین چیزوں کا نام ہے۔ اگر دیوبندیت میں کسی کو معیار سمجھا جائے تو میرے نزدیک سب سے بڑا معیار شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں جن کو بطور نمونہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان میں وہ تینوں باتیں تھیں: علم بھی بدرجہ اتم، روحانیت بھی بدرجہ اتم، اور جہاد بھی بدرجہ اتم۔ گویا دیوبندیت یہ ہے کہ علم میں بھی کمال ہو، روحانیت میں بھی کمال ہو اور ملی غیرت اور جہاد کے جذبے میں بھی کمال ہو۔
دیوبندی مسلک کوئی نیا مسلک نہیں ہے۔ ہم عقائد کے لحاظ سے اہل سنت ہیں اور فقہی اعتبار سے حنفی ہیں۔ کوئی نیا تشخص ہم نے قائم نہیں کیا۔ ایک مدرسے کے ساتھ ہماری نسبت ہے، جس کے اجتماعی مقاصد کے حوالے سے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارے اکابر نے ضمنی طور پر سارے کام کیے۔ حضرت شیخ الہند کو لے لیں۔ کیا انہوں نے حنفیت کا دفاع نہیں کیا؟ ان کے اس پر رسالے موجود ہیں، لیکن اس حد تک جتنی ضرورت پڑی۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ نے ’الشہاب الثاقب‘ لکھی، لیکن یہ کام ضرورت کی حد تک محدود رہا۔ ان کا اصل مقصد ملی وجود اور ملی مقاصد تھے۔ جہاں ضرورت پڑی، ضمنی اور فروعی مسائل سے بھی تعرض کیا، لیکن اس کے لیے اپنے آپ کو وقف نہیں کر دیا۔ میں بھی یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دیوبندیت سے مراد اگر ہم نے الگ الگ شعبے لے رکھے ہیں تو میں اس کو دیوبندیت نہیں سمجھتا۔ دیوبندیت نام ہے ملت کے اجتماعی دینی کام کا۔ جہاں کسی ضمنی کام کی ضرورت پڑتی ہے، وہاں وہ ضرور کیا جائے لیکن ہمارا اجتماعی اور مین دھارا یہ ہے کہ اس ملک میں، اس معاشرے میں دین کی اجتماعی حفاظت کی جائے اور نئی نسل تک دین صحیح حالت میں منتقل ہو۔ اجتماعی مقاصد اور ملی مقاصد کے حوالے سے ہم طلبہ کی تربیت کریں۔
ہمیں اس پہلو کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ فکری تربیت، ملکی مقاصد اور مسلک کے اصل اہداف کے حوالے سے ہمیں تھوڑا سا ماضی کی طرف پلٹ کر اپنے بزرگوں کو دیکھیں اور اس کے مطابق علمی کمال، روحانیت اور ملی غیرت وحمیت کی خصوصیات اپنے طلبہ میں پیدا کر کے اجتماعی مقاصد اور ضروریات کے لیے ان کو تیار کریں۔
باتیں تو میں اور بھی بہت سی کہنا چاہتا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وقت اس کی اجازت نہیں دیتا۔ پھر کبھی موقع ملا تو ان شاء اللہ ان پر تفصیل سے بات ہوگی۔ اس وقت میں چاہوں گا کہ مولانا محمد بشیر صاحب سیالکوٹی آپ حضرات کے ساتھ عربی زبان کی تعلیم وتدریس کے جدید اسلوب اور اس کی اہمیت کے موضوع پر تفصیل کے ساتھ گفتگو فرمائیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
دینی مدارس میں عربی زبان کی تعلیم کا منہج
مولانا محمد بشیر سیالکوٹی
(۵ دسمبر ۲۰۰۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ کے دو روزہ مشاورتی اجتماع کی چوتھی نشست سے خطاب۔)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد
معزز حاضرین!
مجھ سے قبل میرے بزرگ دوست مولانا زاہد الراشدی ہمارے فکری اور مسلکی رویوں کے حوالے سے نہایت اہم گفتگو فرما رہے تھے۔ مولانا کی گفتگو مجھے بھی جرات سخن عطا کرتی ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی گفتگو میں بعض باتیں ایسی فرمائی ہیں جو عام طور پر لوگ نہیں کہتے۔
۱۹۶۵ء میں، میں کراچی میں حاضر ہوا تو حضرت مولانا یوسف بنوری صاحبؒ کے ہاں ٹھہرا۔ ہفتہ عشرہ مولانا مفتی محمد شفیعؒ کے ہاں بھی گزارا۔ مفتی صاحبؒ نے اپنی وہ معروف تقریر جو اب ’’وحدت امت‘‘ کے نام سے چھپی ہوئی ہے، ہمارے ہی ادارے ’’جامعہ تعلیمات اسلامیہ‘‘ میں فرمائی تھی۔ مولانا عبد الرحیم اشرفؒ اس کے سرپرست تھے اور میں اس ادارے کا ناظم تھا۔ اس تقریر میں انہوں نے مولانا انور شاہ کشمیریؒ کا یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک دن بڑے غمگین بیٹھے تھے۔ ہم نے پوچھا کہ حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا کہ ہم نے ساری زندگی اس بات میں لگا دی کہ حنفی مسلک کی ترجیح اور فضیلت دوسرے مسالک کے مقابلے میں ثابت کر دیں، جبکہ ہماری اصل ذمہ داری تو اسلام کی اساسی تعلیمات کو پیش کرنا تھا۔
اس رویے کا ایک پہلو تو یہی ہے جس کی طرف شاہ صاحبؒ نے اشارہ فرمایا، یعنی مسلک کی تائیدواشاعت کو ہی زندگی کا مقصد بنا لینا، حالانکہ مسلک ایک بہت محدود دائرہ ہے اور اصل چیز دین کی خدمت ہے۔ اس مسئلے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے ہاں مسلک زدگی کا مرض اس حد تک پایا جاتا ہے کہ ذہین اور باصلاحیت اہل قلم جو کچھ لکھتے ہیں، ان کی علمی کاوشوں کی قدروقیمت بھی مسلک کی بنیاد پر متعین کی جاتی ہے۔ ہمارے استاد محترم مولانا عبد الغفار حسن صاحب مدظلہ ایک نہایت فاضل علمی شخصیت ہیں اور مدینہ یونیورسٹی میں اٹھارہ سال تک علم الاسناد کے پروفیسر رہے ہیں۔ مسلکاً اہل حدیث ہیں لیکن مخصوص مسلکی مزاج نہ رکھنے کی وجہ سے ان کے اہل حدیث ہونے پر خود اہل حدیث حضرات میں کئی لطیفے بنے ہوئے ہیں۔ میں خود اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہوں، لیکن اس طرح کہ اس حوالے سے اپنا تعارف پسند نہیں کرتا، ہاں اگر کوئی مجھے اہل حدیث کہے تو اس سے براء ت بھی نہیں کرتا۔ لیکن اہل حدیث میں پانچ چھ گروہ ہیں اور عربی زبان کے حوالے سے میری جو ٹوٹی پھوٹی خدمات ہیں، ان سے عمومی استفادہ میں بھی یہی چیز حائل ہے کہ میں کس حلقے کے زیادہ قریب ہوں اور کس سے دور۔
مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کا شکوہ بھی سناتا جاؤں۔ وہ فرماتے تھے کہ میں دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کا رکن ہوں لیکن میری کتابوں کی پذیرائی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہلے ہوئی ہے اور ان درویشوں کے ہاں بعد میں۔ ان کی زندگی میں تو برصغیر کے مدارس میں بہت ہی کم ہوئی۔ یہ مرض ہمارے اس خطے میں، واقعہ یہ ہے کہ بہت زیادہ ہے۔
خیر یہ تو میرے کچھ جذبات تھے جن کا مولانا راشدی کی گفتگو کے حوالے سے اظہار ہو گیا۔ جہاں تک میرے موضوع کا تعلق ہے تو عربی زبان کے ایک خادم اور اس کی تعلیم وتدریس سے متعلق ہونے کے ناتے سے میں اپنی زندگی کے بعض تجربات سے آپ حضرات کو آگاہ کرنا چاہوں گا۔
میرے خاندان میں کوئی پرائمری پاس نہیں تھا۔ گاؤں میں پہلا سکول بنا تھا۔ جب سکھ وہاں سے گئے تو میری عمر گیارہ سال تھی۔ والد صاحب کبھی پرائمری کرنے کے لیے سکول میں داخل ہونے کو کہتے تھے، اور کبھی کہتے تھے کہ پرائمری کی کیا ضرورت ہے، تم زراعت کیا کرو۔ میں جب پہلی جماعت میں تھا توہمارے گاؤں میں ایک موحد عالم آئے۔ وہ شروع شروع میں چھوٹی موٹی بدعات کر لیا کرتے تھے تاکہ لوگ انہیں وہابی نہ سمجھیں، مثلاً ختم پڑھ لیتے تھے، لیکن ہمارے دل میں یہ بات انہوں نے ڈال دی کہ یہ شرک ہے۔ انہوں نے مجھے تین سال میں گلستان، بوستان اور پندنامہ وغیرہ کتابیں پڑھا دیں۔ بس یہ ایک تعلیمی پس منظر ذہن میں آتا ہے، ورنہ مجھ سے پہلے میرے خاندان میں کوئی شخص پڑھا لکھا نہیں تھا۔
اس کے بعد آج سے چالیس پینتالیس سال پہلے جب مجھے دینی مدارس میں پڑھنے کا موقع ملا تو صورت حال یہ تھی کہ مجھے پڑھانے والے اساتذہ پٹھان تھے، میں خود پنجابی تھا، کتاب فارسی میں تھی اور جس زبان کو سیکھنا مقصود تھا، وہ عربی تھی۔ اس صورت حال میں غالباً آج بھی کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ میں نے دو سال اس نظام میں پڑھا اور میرا شمار انعام پانے والے طلبہ میں ہوتا تھا۔ میں نے ’زرادی‘ وغیرہ کتابیں پڑھ لی تھیں اور صرف ونحو کے قواعد اچھی طرح سے رٹے ہوئے تھے۔
یہ غالباً ۵۷ء یا ۵۸ء کی بات ہے کہ کتابوں کے ایک تاجر نے بیروت سے تفسیر ابن کثیر وغیرہ کچھ عربی کی کتابیں منگوائیں جن کی پیکنگ کے لیے عربی کے پرانے اخبارات استعمال کیے گئے تھے۔ آپ یقین جانیے، ان اخبارات کو دیکھ کر مجھے پہلی مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ یہ جس زبان کی گردانیں ہم یاد کرتے اور جس کے قواعد کو ہم رٹا لگاتے ہیں، یہ دنیا کے کسی علاقے میں لکھی پڑھی بھی جاتی ہے اور اس میں اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ یعنی بات ’ضرب زید عمرا‘ سے آگے بھی ہے۔
اسی طالب علمی کے دور میں جب میں ’ابواب الصرف‘ پڑھتا تھا تو مجھے یاد ہے کہ ایک دن استاد نے لم یضرب کے صیغے پر ہلکی سی چھڑی مار دی۔ یہ پہلی اور آخری چھڑی تھی، لیکن میں نے اس وقت یہ سوچا کہ بڑا ہو کر اس کتاب کا کچھ نہ کچھ علاج ضرور کروں گا۔ اب اتنے عرصے کے بعد جب میں ’ابواب الصرف‘ کو بطرز جدید مرتب کر رہا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس وقت کی سوچی ہوئی بات کیسے حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔
عربی نصاب اور طرز تدریس کی اصلاح کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے جو ابتدائی خیال ذہن میں ڈالا تھا، وہ بعد میں انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کرنے سے اور پختہ ہوا کہ اس پہلو میں عربی مدارس کی مدد کرنی ہے، کیونکہ عربی زبان دنیا کی دوسری زبانوں کی طرح محض ایک زبان نہیں ہے۔ یہ ہمارے دین کا حصہ ہے۔
اس کے بعد مجھے عرب ممالک میں رہنے اور کام کرنے اور حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ اور مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور دوسرے عالمی سطح کے اہل علم اور مفکرین سے ملنے کا موقع ملا۔ مولانا ندویؒ فرمایا کرتے تھے کہ پاکستان میں ایک سپاہی تو ایسا ہونا چاہیے جو قرآن کی زبان کو صحیح انداز میں پیش کرنے کے لیے کام کرے۔ اس عرصے میں، میں مختلف نوکریاں بھی کرتا رہا۔ وزارت خارجہ میں کام کا موقع ملا، اقوام متحدہ سے بھی آفر ہوئی۔ اور میں کئی دفعہ بزنس اور نوکریوں کو چھوڑ کر واپس آیا کہ مجھے یہ کام کرنا ہے۔ میں اس لیے نہیں پیدا ہوا کہ کوئی کوٹھی بنا کر مرجاؤں۔
مجھے عربوں میں سرکاری سطح پر کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے حکومت پاکستان بلکہ مملکت پاکستان کے بے شمار خسارے خود ٹیبل پر بیٹھ کر دیکھے ہیں جو عربی زبان نہ جاننے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ بیس کے قریب عرب ملک ہیں جن کے ساتھ ہمیں سرکاری سطح پر ڈیلنگ کرنی ہوتی ہے۔ ان میں سے بعض نہایت خفیہ تجارتی اور سیاسی ڈیلنگز بھی ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ملک میں وزارت خارجہ کی سطح پر صرف ایک مترجم ہوتا ہے جو بوقت ضرورت صدر ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس میں بھی خدمات انجام دیتا ہے۔
میں ایک واقعہ آپ کو سنانا چاہوں گا جس کا میں عینی شاہد ہوں۔ ۱۹۷۹ء میں بیت اللہ پر جب کچھ جذباتی نوجوانوں نے قبضہ کیا تو میری ڈیوٹی اس وقت پاکستانی وزارت خارجہ میں تھی۔ اتفاق سے اس واقعہ کی اطلاع جب دفتر میں موصول ہوئی تو میں میز پر موجود نہیں تھا۔ میرے ایک ساتھی مترجم نے، جو علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے، اس کی فوری رپورٹ تیار کر کے حکومت پاکستان کو بھجوا دی، لیکن عربی سے مناسب واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ایک ایسی بھیانک غلطی ان سے سرزد ہوئی کہ اس کا بہت بھاری نقصان حکومت پاکستان کو اٹھانا پڑا۔ ہوا یوں کہ سعودی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ عربی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’بعض الخارجین علی النظام‘ یعنی حکومت کے کچھ باغیوں نے بیت اللہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ عربی زبان میں خرج کے ساتھ جب علیٰ کا صلہ آئے تو اس کا مطلب بغاوت کرنا ہوتا ہے، لیکن میرے ساتھی مترجم اس سے واقف نہیں تھے، چنانچہ انہوں نے ترجمہ یوں کر دیا کہ Some non-Muslims have captured the Kaba.، یعنی کچھ غیر مسلموں نے بیت اللہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں جب اگلے دن دفتر میں گیا اور رپورٹ کی کاپی دیکھی تو میں نے سر پکڑ لیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ آپ نے کیا کر دیا؟ کم از کم ترجمہ چیک تو کرا لیتے۔ میں نے کہا کہ فوراً پاکستان کا ریڈیو آن کرو۔ سعودیہ کے وقت کے مطابق آٹھ بجے جبکہ پاکستان کے وقت کے مطابق دس بجے کی خبریں نشر ہو رہی تھیں اور ان میں بتایا جا رہا تھا کہ یہاں علماے کرام امریکی سفارت خانے کو جلا چکے ہیں۔ ظاہر ہے، اگر یہ خبر نشر ہوگی کہ کعبہ پر کافروں نے قبضہ کر لیا ہے تو رد عمل یہی ہوگا۔ بعد میں حکومت پاکستان کو کروڑوں روپے خرچ کر کے ایمبیسی کی مرمت کرانا پڑی کیونکہ بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق ہماری حکومت اس کی حفاظت کی ذمہ دار تھی۔
اب میں مختصراً یہ بات واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ عربی زبان کی تدریس کے حوالے سے دینی مدارس میں مروج طریقے میں کیا نقص پایا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس طریقے کی بنیادی خامیاں دو ہیں:
ایک، زبان کے عملی استعمال کے بغیر صرف ونحو کے قواعد رٹانا۔
اور دوسرا، لسانی مسائل کی تعلیم میں مناسب ترتیب اور تقسیم کا فقدان۔
حقیقت یہ ہے کہ عربی کی تعلیم کے لیے ’ابواب الصرف‘ کی طرز پر گردانوں کارٹانا عربی مدارس اور دینی علوم کے لیے بدنامی کا باعث ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ گردانیں نہیں ہونی چاہییں، لیکن جس طرح سے صرف کا یہ پیچیدہ فن زبان کے عملی استعمال کے بغیر پڑھایا جاتا ہے، وہ ایک نقصان دہ بات ہے۔ دنیا کے عجائبات میں اگر اس کا شمار کریں تو غلط نہیں ہوگا۔ آپ اندازہ کیجیے کہ مثلاً ’ارشاد الصرف‘ یا ’ابواب الصرف‘ وغیرہ پڑھنے والا طالب علم تقریباً ۵۳ ہزار الفاظ پڑھتا اور یاد کرتا ہے، اور صرفی قواعد کا اتنا ماہر ہوتا ہے کہ آپ اسے پنجابی کا کوئی لفظ دیں تو وہ عربی کی طرز پر اس کی گردان بنا دے گا۔ میں خود اس طریقے سے گزرا ہوں۔ اور یہ جو مدارس میں جملہ مشہور ہے کہ ’’دعا یدعو پڑھدے نٹھے تے ہل ویندے ڈٹھے‘‘ تو حقیقت یہ ہے کہ ہم خود انہیں بھگاتے ہیں۔
اس ضمن میں دوسری بات یہ ہے کہ صرف ونحو بلکہ تمام علوم میں مناسب ترتیب اور ان کے مواد میں تقدیم وتاخیر ہونی چاہیے۔ موجودہ نصاب میں، مثال کے طور پر، نحو کی سب سے پہلی کتاب ’علم النحو‘ میں وہ بیشتر مسائل اور مثالیں جو طالب عالم اگلے مرحلے کی کتابوں ’ہدایۃ النحو‘ اور ’شرح جامی‘ وغیرہ میں پڑھتا ہے، درج کر دی گئی ہیں۔ مثلاً جملہ انشائیہ کی ساری قسمیں اسی سطح پر طالب علم کے سامنے رکھ دی گئی ہیں، جبکہ سردست صرف جملہ انشائیہ اور جملہ خبریہ کا فرق سمجھا دینا کافی ہے۔ اسی طرح مستثنیٰ منہ کی مختلف اقسام، جن میں سے بعض کافی پیچیدہ ہیں،ایک مبتدی طالب علم کو ان میں الجھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ اسی طرح باقی مباحث میں بھی موٹی موٹی اور بنیادی چیزیں سکھانے کی ضرورت ہے، باقی تفصیلات اگلے درجات پر چھوڑ دی جائیں۔ ہمارے ہاں ’شرح ماءۃ عامل‘ کو جس طرح سے پڑھایا جاتا ہے، وہ معلوم ہی ہے۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایک واقعہ ہوا کہ مصر سے نحو کے ایک بلند پایہ استاد تشریف لائے اور انہوں نے اس موضوع پر پاکستانی طلبہ کو ایک لیکچر دیا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ عبد القاہر جرجانی نے فلسفہ نحو پر ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام ’العوامل الماءۃ‘ ہے، اس پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ حاضرین نے انہیں بتایا کہ یہ کتاب تو یہاں بلکہ ترکی سے انڈونیشیا تک ہر جگہ داخل نصاب ہے اور عربی کے ابتدائی طلبہ کو پڑھائی جاتی ہے۔ وہ حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ یہ رسالہ تو فلسفہ نحو میں لکھا گیا ہے نہ کہ نحو میں اور اس کا مطالعہ ایک منتہی کو کرنا چاہیے نہ کہ ایک مبتدی طالب علم کو۔
اگر آپ کسی بچے سے یہ کہیں کہ چونکہ تم نے ABC یاد کر لی ہے، اس لیے اب ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کے قواعد بھی رٹ لو تو یہ کتنی غلط بات ہوگی۔ ان کا مرحلہ تو بہت بعد میں آئے گا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم اپنے طلبہ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ غیر معقول رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک طالب علم بیچارہ گاؤں کے ماحول سے اٹھ کر آتا ہے اور اس کو ’اسناد‘ کی نظری بحثوں سے واسطہ پڑ جاتا ہے کہ ایک ’مسند‘ ہوتا ہے اور ایک ’مسند الیہ‘، اسم ’مسند الیہ‘ بھی ہو سکتا ہے اور ’مسند‘ بھی، فعل صرف ’مسند‘ ہو سکتا ہے، ’مسند الیہ‘ نہیں ہو سکتا، جبکہ حرف نہ ’مسند‘ ہوتا ہے اور نہ ’مسند الیہ‘۔ اب واقعہ یہ ہے کہ ان نظری بحثوں اور تدقیقات کو سمجھنے کے لیے طالب علم کا ذہن اس مرحلے پر تیار نہیں ہوتا اور نتیجتاً وہ اس فن سے متوحش ہو جاتا ہے۔
یہ باتیں تو صرف ونحو کی تعلیم کے حوالے سے تھیں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عربی کی ’لغت‘ بھی سکھائی جانی چاہیے، جوکہ مدارس میں نہیں پڑھائی جاتی۔ ہم ہر چیز عربی میں پڑھاتے ہیں لیکن عربی نہیں پڑھاتے۔ زبان کے استعمال میں بعض نازک چیزیں ایسی ہیں جن پر خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً مختلف افعال کے درست مصادر کا استعمال، مصادر کے بدلنے سے معانی کے بدلنے کا علم، فعل کے مفہوم میں صلات کے بدلنے سے پیدا ہونے والی تبدیلی، اور اس طرح کے بعض دوسرے امور۔ ان چیزوں کو توجہ سے سیکھے بغیر درست عربی نہ بولی جا سکتی ہے اور نہ لکھی، بلکہ ترجمہ بھی درست نہیں کیا جا سکتا۔ آرمی میں ایک خطیب صاحب نے تقریر کرتے ہوئے ’الشیطان یعدکم الفقر’ کا ترجمہ یہ کیا کہ ’’شیطان تم سے فقر کا وعدہ کرتا ہے‘‘۔ میں نے گزارش کی کہ یہاں یعد کا معنی وعدہ کرنا نہیں بلکہ ڈرانا ہے۔ اگر وعد کا مصدر وعد ہو تو معنی وعدہ کرنا ہوتا ہے، لیکن وعید ہو تو معنی ڈرانا اور دھمکانا ہوتا ہے۔ واللہ یعدکم مغفرۃ میں پہلا جبکہ الشیطان یعدکم الفقر میں دوسرا معنی مراد ہے۔ تو کہنے لگے کہ مدارس میں ہم نے یہ چیزیں نہیں سیکھیں۔ اسی طرح گزشتہ حاضری کے موقع پر میں نے یہاں تفنن کے لیے اساتذہ اور طلبہ سے بعض افعال کے مصادر پوچھے تو غلط جواب ملا۔ مثلاً فرح یفرح کا مصدر فرحا اور نظر ینظر کا نظرا بتایا گیا، حالانکہ صحیح مصادر فرحا اور نظرا ہیں۔
اگر کسی کو تجوید کی سات کتابیں ازبر ہوں تو آپ اسے قاری نہیں مانتے، بلکہ قاریوں کا محض نقاد مانتے ہیں جو خود تو ایک سورت بھی تجوید کے قواعد کے مطابق نہ پڑھ سکے لیکن نکتہ چینی ہر قاری پر کر سکے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ عربی مدارس کے لوگوں کو صرف ونحو آتی ہے، یہ صحیح بات نہیں ہے۔ یہاں تو یہ ہو رہا ہے کہ سات آٹھ سال کے نصاب میں وہی باتیں بار بار طوطے کی طرح طلبہ کی رٹا دی جاتی ہیں اور وہ بھی بغیر استعمال کے، اور اسے آتا کچھ بھی نہیں۔ آپ کسی کو زبانی کتنا ہی لیکچر دے ڈالیں کہ ڈرائیونگ کرتے وقت گاڑی کو یوں سنبھالنا ہے، بریک یوں لگانی ہے وغیرہ، لیکن جب تک آپ اس کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھائیں گے نہیں، اسے ڈرائیونگ نہیں آئے گی۔ تمام ٹیکنیکل فنون کا یہی معاملہ ہے کہ انہیں عملی طور پر سکھانا پڑتا ہے۔ زبان بھی ایک عملی، اور استعمال کی چیز ہے۔ اس کی تعلیم میں بھی اس اصول کی پابندی کی جانی چاہیے۔ صرف ونحو کا مقصد تو آپ یہ بتاتے ہیں کہ ’صیانۃ الذہن عن الخطا اللفظی‘ یعنی لکھنے اور بولنے میں خطا سے بچ جانا، لیکن جب لکھنا بولنا ہی نہیں تو غلطی کہاں سے ہوگی؟
اس طریقے کے دفاع میں عام طور پر کئی باتیں کہی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ یہ اکابر نے بنایا ہے اور اسی کے مطابق تعلیم پا کر بڑے بڑے اہل علم تیار ہوئے ہیں۔ ہمیں اکابر کا پورا احترام ملحوظ ہے لیکن بات یہ ہے کہ ہمارے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے اگر کہیں ترمیم اور تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔
کچھ کہتے ہیں کہ آپ کو صرف عربی زبان کی فکر ہے، آپ اسی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ آپ کا ستر فی صد نصاب عربی میں ہے، تو عربی کی استعداد سے کیسے صرف نظر کیا جا سکتا ہے؟ کچھ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد عربی بطور زبان سکھانا نہیں بلکہ علوم شرعیہ اور مسائل کی تعلیم دینا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک غلط طرز فکر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بسا اوقات علما ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ عربی کی تعلیم کے مخالف ہوں۔ ہمارے اختیار کردہ طریقے سے جو قباحتیں سامنے آ رہی ہیں، میں ان میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔
ایک تو یہ کتنی عجیب بات ہے کہ دینی مدارس کے اہل علم صحیح عربی میں چند جملے بھی لکھ اور بول نہ سکیں۔ اس سے زبان بدنام ہوتی ہے۔ جب سالہا سال تک اعلیٰ عربی نصاب پڑھانے والا شیخ الحدیث عربی میں گفتگو نہ کر سکتا ہو تو ایک عام ڈاکٹر اور پروفیسر تو لازماً متوحش ہوگا کہ یہ تو ایسی مشکل زبان ہے کہ بڑے بڑے علما کو بھی زندگی بھر پڑھنے پڑھانے کے باوجود بولنی نہیں آتی۔ واقعہ یہ ہے کہ لوگ یہی سمجھتے ہیں۔ میں نے اس بات کا بڑا وسیع تجربہ کیا ہے کہ ہمارا طریقہ عربی کی بدنامی اور بالواسطہ انگریزی کے غیر ضروری تسلط اور فروغ کا سبب بن رہا ہے۔
آپ کے شہر گوجرانوالہ میں ہم نے چند ماہ قبل طالبات اور معلمات کے لیے عربی ریفریشر کورس کا اہتمام کیا۔ ایک ایم اے پاس معلمہ نے کہا کہ پہلی مرتبہ سنا ہے کہ عربی میں بھی ریفریشر کورس ہوتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ عربی ایک مردہ زبان ہے، ہمارے دین کی مقدس زبان ہے، کہیں لکھی بولی نہیں جاتی، تو اس میں ریفریشر کورس کرانے کا کیا مطلب، کیونکہ ریفریشر کورس تو نئی جان ڈالنے یا تازگی پیدا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ تصور ہمارے صرف ونحو کے طریقے سے عربی پڑھانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ عام طلبہ تو کیا، خود دینی مدارس کے اساتذہ بھی اسی تصور میں مبتلا ہیں۔ میرے پاس علما عربی میں خط لکھوانے کے لیے آتے ہیں، یا کہیں عربی میں تقریر کرنی ہو تو مجھ سے کہا جاتا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ اپنے بڑے عالم سے کہا کہ مولانا، آپ شیخ الحدیث والتفسیر ہیں، آپس میں بیٹھے ہیں، بے تکلفی سے بتائیے کہ آپ عربی کو مشکل سمجھتے ہیں یا آسان؟ کہنے لگے، خدا کی قسم مشکل ہے۔ ساری عمر پڑھی پڑھائی ہے لیکن عربوں کے پاس جاتا ہوں تو بول نہیں سکتا۔ میں نے ان سے کہا، خدا کی قسم یہ بالکل مشکل نہیں ہے۔ آپ کو مشکل اس لیے لگتی ہے کہ آپ دوڑ تو پنڈی کی طرف رہے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ لاہور نہیں آ رہا۔ اس طرح اگر آپ تیز دوڑیں گے تو لاہور قریب نہیں آئے گا بلکہ اور دور ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اردو دان لوگوں کے لیے انگریزی کی نسبت عربی سیکھنا زیادہ آسان ہے۔ دونوں زبانوں کے حروف تہجی اور ان کا تلفظ ایک جیسا ہے اور عربی زبان کے الفاظ کا ایک بڑا ذخیرہ ہم خود اپنی زبان میں روز مرہ استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح ہم انگریزی کی بہ نسبت عربی سے زیادہ مانوس ہیں۔
اسلامی تہذیب وتمدن کو مٹانے کے لیے جو بھی منصوبے استعماری طاقتوں نے تیار کیے، عربی زبان کو دبانے اور ختم کرنے کی کوششیں ان کا لازمی حصہ تھیں۔ وہ اسلام دشمنی کی بنا پر ایسا کرتے ہیں اور ہم وہی کام اپنی سادہ لوحی اور قدیم طرز تعلیم پر جمود کے ذریعے سے کر رہے ہیں۔
پھر آپ یہ دیکھیں کہ برصغیر کے علما کی تصنیفات کا ایک قیمتی ذخیرہ ہے جو اردو اور فارسی زبانوں میں ہے اور اس وجہ سے عالم عرب ان سے استفادہ کرنے سے محروم ہے۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہؒ کی کتاب ازالۃ الخفاء، جس کے بارے میں نواب صدیق حسن خانؒ نے لکھا ہے کہ لم یولف مثلہ قبلہ ولا بعدہ، لیکن عرب لوگ اس سے واقف نہیں۔ ہم کچھ دوست فیصل آباد میں مولانا اسحاق چیمہ صاحب کے گھر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے تو میں نے عرض کیا کہ مولانا، ہماری جان تو فاتحہ خلف الامام کی بحث سے نہیں چھوٹتی، جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی کام ہیں۔ مثال کے طور پر ازالۃ الخفاء کو عالمی سطح پر علمی حلقوں کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ وہیں اس کتاب کی تعریب کی ابتدائی تحریک ہوئی۔ میں نے مولانا ارشاد الحق اثری صاحب سے گزارش کی کہ وہ اس کی تخریج کر دیں اور خود میں نے اس کی تعریب کرنا شروع کر دی۔ ایک بڑے حصے کا عربی ترجمہ میں نے خود کیا ہے اور باقی ماندہ ایک عرب مترجم سے کروا رہا ہوں۔ یہ کام دو تہائی کے قریب مکمل ہو گیا ہے۔ اگر مولانا یوسف بنوریؒ حیات ہوتے تو ان سے گزارش کرتا کہ اس کا مقدمہ تحریر فرمائیں، لیکن یہ بھی مجھے خود ہی لکھنا پڑا اور اب وہ ’’الشاہ ولی اللہ، حیاتہ ودعوتہ‘‘ کے نام سے الگ کتاب کی صورت میں بیروت سے چھپ گیا ہے۔ اسی طرح شرعی عدالت نے قادیانی مسئلے پر جو فیصلہ کیا تھا، اس کا بھی میں نے عربی اور اردو دونوں زبانوں میں ترجمہ کیا۔ تو اس نوعیت کے علمی کاموں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے جو فصیح عربی میں ترجمہ کی صلاحیت رکھنے والے مستعد اور قابل نوجوانوں کی ایک بڑی کھیپ کا منتظر ہے۔
مسئلے کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ علما یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ حکومت ان کے سپرد کر دی جائے اور وہ اس کے معاملات کو چلانے کے اہل ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے عملی میدانوں میں کام کرنے کے لیے علما کی مناسب تیاری نہیں ہے جس کی وجہ سے سیکولر ذہن کے لوگوں کو ان میدانوں میں آگے بڑھنے اور سیکولر نظریات اور اقدار کو فروغ دینے کے مواقع ملتے ہیں۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) میں سیکولر مزاج کے حامل عربی کے ماہرین تیار کیے جا رہے ہیں۔ وہ لوگ مدارس پر پھبتیاں کستے ہیں کہ ان لوگوں کو عربی نہیں آتی۔ وہاں مخلوط تعلیم کا ماحول ہے اور آزاد ماحول میں تربیت پانے والے فوجی افسران اس کے نگران ہیں۔ اگر کوئی دینی مزاج رکھنے والا استاذ اس کے خلاف کوئی بات کرتا ہے تو کرنل صاحب ڈانٹ پلا دیتے ہیں۔ گویا عربی زبان کے میدان میں خدمات انجام دینے کے لیے بھی ماہرین سیکولر بنیادوں پر تیار ہو رہے ہیں، اور یہ اس لیے کہ مذہبی طبقات کے نوجوان اس کام کے لیے آگے نہیں بڑھے۔
میں اپنی ان گزارشات کا حاصل چند نکات کی صورت میں پیش کرنا چاہوں گا:
۱۔ آپ عربی زبان کو سہل اور دلچسپ بنا کر پیش کریں، اس کے مشکل ہونے کے تاثر کو ختم کریں اور صرف ونحو کے قواعد سے بقدر ضرورت مدد لیتے ہوئے اصل توجہ زبان کے عملی استعمال پر مرکوز کریں۔ اس ضمن میں اب کافی ذخیرہ سامنے آ چکا ہے، آپ اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ عرب دنیا میں رائج کتابوں میں سے ایک کتاب التحفۃ السنیۃ فی شرح الآجرومیۃ ہے، جو میں نے اہل حدیث مدارس میں لگوائی تھی اور آپ کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ کہتے ہیں کہ مصر میں یہ کتاب ہر بچے کو ازبر ہوتی ہے۔ اصل ’’رسالہ آجرومیہ‘‘ مراکش کے علاقے آجروم کے رہنے والے کسی قدیم بزرگ کا ہے اور اس کی شرح محی الدین عبد الحمید نے لکھی ہے۔ یمنیوں نے اسے مزید اتنا آسان بنا دیا ہے کہ اسے ہمارے یہاں سکول کی پہلی جماعت میں پڑھایا جا سکتا ہے۔
۲۔ ابواب الصرف کے بارے میں میری اصل رائے تو یہ ہے کہ اس طریقے سے ’صرف‘ نہ پڑھائی جائے، لیکن مانے گا کون۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اس میں استعمالات اور مشقوں کا اضافہ کر دیا جائے تاکہ کچھ تو صورت حال بہتر ہو سکے۔ مثلاً صرف کے بجائے، جو نسبتاً قلیل الاستعمال ہے، علم کی گردان پڑھائی جائے۔ اور خالی صیغے اور گردانیں رٹانے کے بجائے ان کے استعمال کے لیے جملے دیے جائیں۔ مثلاً من علمک القراء ۃ، من علمک الحدیث، ممن تعلمت الحدیث الشریف، تعلمت من فلان۔ اس طرح طالب علم گردان کے ساتھ ساتھ استعمال بھی سیکھ جائے گا۔ اسی کے ضمن میں آپ مدرسے کے ماحول سے متعلق کئی دوسرے جملوں کی مشق بھی کروا سکتے ہیں۔ مثلاً فی مدرستنا عشرۃ مدرسین۔ الشیخ محمود یعلمنا القران۔ والشیخ حامد یعلمنا الفقہ الاسلامی۔ من یعلمک اللغۃ العربیۃ؟ الاستاذ ابراہیم یعلمنا اللغۃ العربیۃ۔ وغیرہ
اسی طرح باقی کتابوں میں سے بھی کوئی کتاب عملی استعمال کے بغیر نہ پڑھائی جائے۔ فوری طور پر وہ کتابیں نصاب میں لگانی چاہییں جن میں قواعد کے استعمال کی مشقیں شامل کی گئی ہیں، کیونکہ مشق اور اجرا سے ہی قاعدہ صحیح طور پر سمجھ میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ طلبہ کو ’قصص النبیین‘ پڑھائیں لیکن مشقوں کے ساتھ۔ اس کی ورک بک بھی ساتھ پڑھائیں۔ اس طریقے سے طالب علم جب پڑھے ہوئے ذخیرے کو استعمال کرے گا تو اسے سالہ شیئا اور سالہ عن شئ جیسے محاورات کا فرق عملی طور پر سمجھ میں آئے گا اور وہ غلطی نہیں کرے گا۔ اسلامی یونیورسٹی میں محاوروں کے غلط استعمال پر اکثر مذاق ہوتا رہتا ہے۔ طالب علم کہتا ہے، سالت من المدرس یا سالت من المدیر۔ حالانکہ صحیح محاورہ یا تو سالہ شیئا ہے (یعنی کسی سے کوئی چیز مانگنا) اور یا سالہ عن شئ (یعنی کسی چیز کے بارے میں پوچھنا)۔ سال کے ساتھ من صلے کے طور پر استعمال نہیں ہوتا۔ اسی طرح مثال کے طور پر ارحم علیٰ حالنا غلط ہے۔ صحیح محاورہ اللہم ارحمنا ہے۔ رحم کے ساتھ علیٰ استعمال نہیں ہوتا۔ ہر زبان میں صلات (Prepositions) کے صحیح استعمال پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ انگریزی میں مثلاً Look into کا مطلب اور ہوتا ہے اور Look at کا معنی اور۔ تو میں نے جب یہ چیزیں انگریزی سیکھتے ہوئے محسوس کیں تو مجھے احساس ہوا کہ عربی کی تعلیم میں بھی مدارس کی اس پہلو سے مدد کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے اپنی تصنیفات میں روز مرہ محاورات میں غلطیوں کی اصلاح کے لیے قل / لاتقل کا ایک سلسلہ رکھا ہے، یعنی یوں کہیے اور یوں نہ کہیے۔
۳۔ دوران تعلیم میں درسی کتابوں کے وہ نسخے استعمال کریں جو کتابت وطباعت کے جدید معیار پر شائع کیے گئے ہیں۔ تعلیم کو دلچسپ اور پر کشش بنانے میں اس چیز کا بڑا دخل ہے۔ اس معاملے میں بھی دینی علوم کی مظلومیت کی ایک مثال دیکھیے۔ میں درس گاہ میں بیٹھا طالبات کو وفاق کے امتحان کے لیے ’شرح ماءۃ عامل‘ پڑھا رہا تھا تو اس میں مجھے ایک بحث تلاش کرنے میں کچھ وقت لگ گیا۔ میں نے سوچا کہ میں مصنف ہوتے ہوئے اتنی دقت محسوس کر رہا ہوں تو طلبہ کا کیا حال ہوگا۔ اس وقت ’شرح ماءۃ عامل‘ کا جو نسخہ بازار میں ملتا ہے، اس کی کتابت ۱۱۳ سال قبل کانپور میں ہوئی تھی اور آج بھی کراچی، ملتان اور لاہور کے تمام پبلشر اسی نسخے کا عکس چھاپتے ہیں۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس کتاب کو کمپیوٹر پر نئے سرے سے ٹائپ کرو اور اس کو نئی شکل دو۔ اس میں عوامل کو ایک چارٹ کی صورت میں واضح کرنے کے علاوہ، میں نے متن میں عوامل کو جلی کر دیا ہے اور کچھ اس کو سہل بنانے کی کوشش کی ہے، ورنہ اب تک اس کی جتنی شروح سامنے آئی ہیں، وہ اس کو منتہی درجے کی ایک مشکل کتاب بنا چکی ہیں۔
۴۔ آپ کو تربیت اساتذہ کا بھی انتظام کرنا چاہیے۔ جب تک آپ اساتذہ کی ٹریننگ کا بندوبست نہیں کرتے، اس وقت تک خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ تدریس زبان کی جدید تکنیک اور معاون ذرائع کے استعمال سے انہیں مناسب واقفیت ہونی چاہیے تاکہ وہ جدید مواد اور نصابی کتب کی بہتر طور پر تدریس کر سکیں۔ خود میں نے کتابیں لکھنے کے ساتھ ساتھ معلمین اور معلمات کی ٹیمیں بھی تیار کی ہیں۔ آپ کسی بھی شہر میں کہیں، ہم اپنے اساتذہ کی ٹیم بھیجنے کے لیے تیار ہیں جو عربی کے مدرسین کو پندرہ دن یا ایک ماہ کے دورانیے کے کورسز کروائیں گے۔ اس میں خود ان کو بھی عربی بولنے کی مشق کروائیں گے اور تدریس کے سلسلے میں ان کی پوری راہنمائی کریں گے۔ ابھی رمضان سے پہلے ہم نے دار العلوم تعلیم القرآن اور دوسرے اداروں کے تیس مدرسین کو تیس روزہ کورس مکمل کروایا ہے اور اس قسم کے مزید کورسز کے لیے درخواستیں مسلسل آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ عام پڑھے لوگوں کے لیے ہم نے پچاس روزہ عربی کورس ترتیب دیا ہے جس میں وکلا، تاجر اور فوجی افسران وغیرہ عربی سیکھ رہے ہیں۔
۵۔ یہ تجاویز وفاق والوں کے سامنے بھی پیش کریں اور اگر وہ نہیں مانتے تو آپ خود مدارس میں اس طریقے پر کام کرنا شروع کر دیں۔ ہم نے وفاق المدارس السلفیہ کا چار سال کا نصاب تو الحمد للہ کوشش کر کے تبدیل کروا دیا ہے۔ اس کے صدر پروفیسر ساجد میر ہیں جو انگریزی کے پروفیسر ہیں اور ہمارے نقطہ نظر کو سمجھتے ہیں، اس لیے وہاں عربی کا نصاب ہم نے نیا نافذ کر دیا ہے۔ اسی طرح پنجاب یونیورسٹی نے حال ہی میں ایم اے عربی کے نصاب میں ہماری تیار کردہ چار کتابیں شامل کر لی ہیں، حالانکہ میں کبھی ان سے ملنے نہیں گیا۔ آپ بھی اس طریقے سے کام شروع کر دیں۔ جب اس کے فوائد سامنے آئیں گے، آپ کے طلبہ کی عربی کی استعداد اچھی ہو جائے گی اور وہ پرچے عربی میں حل کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو کسی نہ کسی مرحلے پر وفاق والوں کو بھی تبدیلی کرنا پڑے گی۔ آپ اخلاص سے کام شروع کریں گے تو یقیناًاس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔
مولانا مشتاق احمد کا مکتوب گرامی
مولانا مشتاق احمد
باسمہ سبحانہ
بخدمت گرامی قدر مخدومی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ- مزاج گرامی؟
۸، ۹ شوال کو الشریعہ اکیڈمی میں منعقدہ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی مجلس مشاورت کے حوالے سے ایک بات مزید عرض کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ اگر وفاق المدارس سے وابستہ اہم علمی شخصیات ’میبذی‘ اور ’ہدیہ سعیدیہ‘ وغیرہ کو امام رازیؒ وغزالیؒ کی تصنیفات کو سمجھنے کے لیے ضروری خیال کرتی ہیں تو ان کی شخصیات وآرا اپنی جگہ مسلم ومحترم ہیں، لیکن ان سے یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر ہر طالب علم پر میبذی/ہدیہ سعیدیہ کا پڑھنا لازم کرنے کے بجائے اردو میں فلسفہ کے کسی سینئر استاد سے عام فہم اور جامع مانع انداز میں ایک کتاب لکھوا کر بطور تعارف شامل نصاب کر دی جائے جس سے پرانے فلسفہ کو سمجھنا آسان ہو۔ نیز اس میں یہ بھی مذکور ہو کہ جدید سائنسی تحقیقات نے پرانے فلسفہ کے کس کس پہلو کو بیکار ثابت کر دیا ہے۔ ہدیہ سعیدیہ اور میبذی کی تعلیم وتعلم کو فرض عین قرار دینے کے بجائے اگر اس طرز کی اردو کتاب شامل نصاب کر دی جائے تو یہ پرانے فلسفہ کی بہتر خدمت ہوگی اور اس کو پڑھانے کی غرض وغایت بھی احسن طریق سے پوری ہو سکے گی۔ اگر یہ کتاب دو تین حضرات سے مشترکہ طور پر لکھوائی جائے تو بہتر ہوگا۔
الشریعہ اکیڈمی کے مذکورہ پروگرام (دینی اساتذہ کرام کی مجلس مشاورت) کے حوالے سے چند باتیں عرض ہیں:
۱۔ اس پروگرام کو سالانہ حیثیت دیں اور زیادہ انحصار گوجرانوالہ کے دینی مدارس پر نہ ہو بلکہ دوسرے شہروں کے دینی مدارس پر ہو۔ ’گھر کی مرغی دال برابر‘ کے مصداق مقامی حضرات کسی بھی شخصیت اور پروگرام کی ناقدری کرتے ہیں۔ اس ناقدری کا مشاہدہ گزشتہ پروگرام میں بخوبی ہوا ہے۔
۲۔ دو یا تین دن کا جو پروگرام بھی ہو، بھرپور ہو۔ صبح سے رات گئے تک مصروفیات ہوں۔ مولانا قاضی حمید اللہ خان صاحب مدظلہ جیسے سینئر مدرسین کو بھی دعوت دی جائے جو کہ مختلف فنون پڑھانے کے متعلق اپنے تجربات سے رہنمائی فرمائیں اور ہر فن کے پڑھانے کا جو مخصوص طریقہ ہے، اس کی نشان دہی کریں۔
۳۔ مولانا بشیر احمد صاحب سیالکوٹی کا جدید عربی کا پروگرام ایک ہفتہ کا ضرور رکھیں۔ ایک ہزار روپے فیس ہوگی تو صرف قدر دان ہی آ سکیں گے، قدر ناشناسوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ البتہ آپ کو میزبانی کا بار گراں اٹھانا پڑے گا۔ اس پروگرام کی بہت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
۴۔ آئندہ پروگراموں میں مجالس مذاکرہ کے چند مجوزہ عنوانات درج ذیل ہیں:
(الف) علماے کرام میں مطالعہ وتحقیق کے ذوق کی کمی کے وجوہ
(ب) معاشرہ پر علماے کرام کے اثرات کی کمی کے وجوہ، بالفاظ دیگر معاشرہ اور علماے کرام میں بڑھتی ہوئی خلیج کے اسباب
(ج) دور حاضر کے جدید تقاضے جو کہ علماے کرام کی فوری توجہ چاہتے ہیں
امید واثق ہے کہ آپ مذکورہ عنوانات اور دیگر اہم موضوعات پر مجالس مذاکرہ کا اہتمام فرماتے رہیں گے۔
۵۔ محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب نے مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حوالے سے پچاس صفحات کا مضمون لکھا۔ احقر نے پڑھا بھی تھا، پھر محترم مولانا محمد یوسف صاحب سے اس کا خلاصہ بھی سنا اور ان کی تنقیدی رائے بھی سنی اور پڑھی۔ بعض اور حضرات کی آرا بھی پڑھیں۔ احقر معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ محترم مولانا عمار صاحب کے مضمون کی حکمت سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر اس مضمون کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ کیا یہ اپنی صلاحیتوں کا ضیاع نہیں ہے؟ احقر کے نزدیک یہ اسی قسم کی تحقیق ہے جس قسم کی تحقیق تاتاریوں کے ہاتھوں سقوط بغداد کے وقت بغداد کے علماے کرام کر رہے تھے۔ خدارا، مولانا عمار صاحب محترم کو ایسی بے فائدہ تحقیقات سے روکیے۔ تحقیق طلب مسائل کی تو بہت لمبی فہرست ہے، اس پر وہ زور قلم صرف کریں تو بہتر ہوگا، ان کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔ تلخ نوائی پر ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں۔ (اگر اس تنقیدی رائے کو بوقت اشاعت خط سے حذف کرنا چاہیں تو اجازت ہے)
اللہ تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔
والسلام۔ آپ کا نیاز مند
مشتاق احمد عفی عنہ
استاذ جامعہ عربیہ چنیوٹ
وفاق المدارس کے نصاب میں نئی ترامیم کے حوالے سے دینی مدارس کے اساتذہ کا ایک مذاکرہ
ادارہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۳۔۴ دسمبر ۲۰۰۳ء کو دینی مدارس کے اساتذہ کے دو روزہ مشاورتی اجتماع کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف تعلیمی اداروں کے مندرجہ ذیل اساتذہ نے شرکت کی:
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
| مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد فیاض خان سواتی، مولانا ظفر فیاض، مولانا محمد عمار خان ناصر، مولانا محمد عرباض خان سواتی
|
مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ
| مولانا عبد الواحد رسول نگری
|
دار العلوم مدنیہ لاہور
| مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی
|
جامعہ فتاح العلوم گوجرانوالہ
| مولانا حافظ احمد اللہ
|
جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ
| مولانا قاری گلزار احمد قاسمی، مولانا حامد گلزار قاسمی۔
|
جامعہ حقانیہ گوجرانوالہ
| مولانا محمد یعقوب تبسم، مولانا ظہیر الدین بابر۔
|
جامعہ اسلامیہ کامونکی
| مولانا عبد الرؤف فاروقی
|
جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم
| مولانا ظفر اقبال، مولانا حافظ محمد ابوبکر
|
جامعہ حنفیہ قادریہ لاہور
| مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا ذکاء الرحمن اختر
|
جامعہ عربیہ چنیوٹ
| مولانا مشتاق احمد
|
جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ
| مولانا حماد انذر قاسمی
|
معہد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد
| مولانا محمد بشیر سیالکوٹی
|
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ
| مولانا حافظ محمد یوسف، مفتی محمد عامر، مولانا احسن ندیم، مولانا عبد الحمید، پروفیسر میاں انعام الرحمن، پروفیسر حافظ منیر احمد
|
اجتماع کی پہلی نشست کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے سینئر ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے کی جس میں شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے ’’درس نظامی کی اہمیت وافادیت‘‘ پر مقالہ پیش کیا۔ دوسری نشست کی صدارت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی جس میں پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے ’’طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ تیسری نشست جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں شرکاء اجلاس نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ترمیم شدہ نصاب کے بارے میں اظہار خیال کیا جبکہ چوتھی اور آخری نشست کی صدارت مولانا زاہد الراشدی نے کی اور اس میں معہد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد کے مولانا محمد بشیر سیالکوٹی نے ’’دینی مدارس میں عربی کی تعلیم کا منہج اور ضروری اصلاحات‘‘ کے عنوان پر اظہار خیال کیا اور مولانا زاہد الراشدی نے ’’فکری اور مسلکی تربیت کے چند اہم پہلو‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔
وفاق المدارس العربیہ کے ترمیم شدہ نصاب کے بارے میں نشست کی مختصر روداد درج ذیل ہے:
ترامیم کا خلاصہ
الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے استاذ مولانا محمد عمار خان ناصر نے نئی ترامیم کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نصاب میں چار طرح کی تبدیلیاں رو بہ عمل لائی گئی ہیں:
۱۔ بعض نئے مضامین کا اضافہ کیا گیا ہے، مثلاً:
- سیرت وتاریخ جس کے تحت ثانویہ خاصہ سال اول میں عبد السلام قدوائی کی ’’مختصر تاریخ اسلام‘‘ اور عالیہ سال اول میں ابراہیم شریقی کی ’’التاریخ الاسلامی‘‘ پڑھائی جائے گی۔
- علوم القرآن جس کے تحت عالمیہ سال اول میں الشیخ محمد علی الصابونی کی ’’التبیان فی علوم القرآن‘‘ پڑھائی جائے گی۔
- جدید فقہی مسائل جس کے تحت عالمیہ سال اول میں مولانا تقی عثمانی کی ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت‘‘ پڑھائی جائے گی۔
- مقارنۃ الادیان والفرق جس کے تحت عالمیہ سال اول میں مولانا اللہ وسایا کی ’’آئینہ قادیانیت‘‘ پڑھائی جائے گی۔
۲۔ بعض مضامین میں سابقہ کتب کی جگہ نئی کتب شامل کی گئی ہیں، مثلاً:
- عالیہ سال اول میں فلسفہ قدیم کی ’’میبذی‘‘ کی جگہ ’’ہدیہ سعیدیہ‘‘ اور ’’ہدایت الحکمۃ‘‘، جبکہ عربی ادب میں ’’دیوان المتنبی‘‘ کی جگہ ’’مختارات من ادب العرب‘‘ پڑھائی جائے گی۔
- عالیہ سال دوم میں حدیث کے مضمون میں ’’کتاب الآثار‘‘ کی جگہ ’’موطا امام محمد‘‘ اور ’’مسند امام اعظم‘‘ کو شامل کیا گیا ہے۔
۳۔ زیادہ تر مضامین میں پہلے سے پڑھائی جانے والی کتب کے ساتھ معاون کتب کا اضافہ کیا گیا ہے، چنانچہ:
- ثانویہ عامہ سال اول میں نحوی قواعد کی تمرین کے لیے ’’المنہاج فی القواعد والاعراب، النحو الیسیر اور تسہیل النحو‘‘ شامل کی گئی ہیں۔
- ثانویہ عامہ سال دوم میں ’’ہدایۃ النحو‘‘ کے ساتھ تمرینات از ’’تسہیل الادب‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔
- ثانویہ خاصہ سال اول میں ’’اصول الشاشی‘‘ سے قبل ’’آسان اصول الفقہ‘‘ کو شامل کیا گیا ہے۔
- ثانویہ خاصہ سال دوم کے نصاب میں علم بلاغت کی دو کتابوں ’’دروس البلاغہ‘‘ اور ’’تلخیص المفتاح‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے جو عالیہ سال اول میں ’’مختصر المعانی‘‘ کی تعلیم کے لیے بنیاد کا کام دیں گی۔
- عالیہ سال اول میں عقائد کے مضمون میں ’’الانتباہات المفیدۃ‘‘ کا جبکہ سال دوم میں ’’العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس درجے میں اصول حدیث میں ’’خیر الاصول‘‘ اور علم الفرائض میں ’’سراجی‘‘ کے ساتھ ’’تسہیل الفرائض‘‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
- عالمیہ سال اول میں ’’ہدایہ‘‘ کے ساتھ اصول افتا پر ’’شرح عقود رسم المفتی‘‘ شامل کی گئی ہے۔
۴۔ بعض کتب کو ترتیب میں مقدم اور موخر کیا گیا ہے۔ مثلاً:
- اصول تفسیر کی کتاب ’’الفوز الکبیر‘‘ کو، جو قبل ازیں عالمیہ سال اول میں پڑھائی جاتی تھی، عالیہ سال دوم کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
- ’’موطا امام محمد‘‘ کو، جو عالمیہ سال دوم کے نصاب میں تھی، عالیہ سال دوم میں شامل کر دیا گیا ہے۔
۵۔ بعض کتابیں نصاب سے بالکل خارج کر دی گئی ہیں جن میں عالیہ سال اول میں علم منطق کی ’’سلم العلوم‘‘، عربی شاعری کی ’’دیوان المتنبی‘‘، جبکہ عالیہ سال دوم میں قدیم فلسفہ کی ’’میبذی‘‘ شامل ہیں۔ اسی طرح عالمیہ سال اول سے علم بلاغت کی کتاب ’’مطول‘‘ خارج کر دی گئی ہے۔
اس کے بعد مذاکرہ کے شرکا نے فرداً فرداً ان تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مولانا مشتاق احمد (جامعہ عربیہ چنیوٹ)
- عربی زبان وادب کی تدریس کے لیے نئے نصاب میں نسبتاً بہتر کتابیں شامل کی گئی ہیں، لیکن اس سے عربی بول چال کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس خامی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تدریس، مدرسے کی حدود میں گفتگو اور امتحانی پرچوں کے حل کے لیے عربی کو لازم قرار دے دیا جائے۔
- عقائد میں شامل کی جانے والی کتب نئی ضروریات کے حوالے سے ناکافی ہیں۔ اس ضمن میں نصابی ضروریات کے پیش نظر ایک نئی کتاب مرتب کروانے کی ضرورت ہے۔
- قدیم فلسفہ میں ’’میبذی‘‘ کی ’’ہدیہ سعیدیہ‘‘ کو شامل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ معاملہ جوں کا توں رہتا ہے۔ ’’الانتباہات المفیدۃ‘‘ عقلی استدلال کے حوالے سے نہایت مفید ہے لیکن اس کے لیے خود استاذ کو گہرے مطالعہ اور غیر معمولی تیاری کی ضرورت ہے۔
- مقارنۃ الادیان والفرق کا اضافہ خوش آئند ہے۔
- تاریخ سے علما وطلبا کی شناسائی کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ اس ضمن میں تاریخ کو باقاعدہ نصاب میں شامل کرنا اچھا اقدام ہے۔
- ’’سلم العلوم‘‘ کی طرح کی کتابوں کا اخراج بھی مثبت قدم ہے۔
مفتی محمد عامر (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)
- عربی صرف ونحو کی موجودہ کتابیں اور طرز تعلیم مطلوبہ استعداد پیدا نہیں کرتیں اور درجہ رابعہ تک مسلسل عربی قواعد پڑھنے کے باوجود عربی سے مناسب شناسائی نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ’’کافیہ‘‘ اور ’’شرح جامی‘‘ وغیرہ کتابوں میں غیر ضروری طویل بحثیں کی جاتی ہیں۔ ’’علم الصیغہ‘‘ فارسی کی جگہ اردو کو شامل نصاب کرنا چاہیے۔اسی طرح ’’کافیہ‘‘ اور ’’شرح جامی‘‘ کی جگہ دوسری سہل اور مفید کتابیں شامل کرنی چاہییں۔
- قدیم عربی زبان وادب کے حوالے سے تو بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں لیکن جدید عربی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ہمارے علما وطلبا جدید عربی ذخیرے سے استفادہ کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسی طرح بول چال اور تحریر وتقریر میں عربی زبان کے استعمال کی صورت حال پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ کراچی کے اکثر مدارس میں معہد اللغۃ العربیہ قائم ہے جس سے استفادہ کرنے والے طلبہ عربی زبان میں پرچے حل کرتے ہیں اور اس طرح امتحانات میں اچھی پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں۔
- مدارس کے طلبہ کا اردو تلفظ، املا اور استعمال بھی کافی کمزور ہے، اس لیے اردو زبان کو بھی بطور مستقل مضمون کے شامل نصاب کرنا چاہیے۔
مولانا محمد ابوبکر (جامعہ حنفیہ جہلم)
- درس نظامی کا کورس پہلے ہی کافی طویل ہے اور اس کے دورانیے میں اضافہ نئے آنے والے طلبہ کے لیے مزید توحش کا باعث بنے گا۔
مولانا عبد الحمید (چار سدہ)
- جدید عربی کو بھی نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
- معیشت وتجارت کے حوالے سے اسلامی احکام وقوانین کے ساتھ ساتھ جدید معاشیات کو بطور مستقل مضمون کے نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔
مولانا احسن ندیم (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)
- عربی زبان کی تعلیم کے حوالے سے قدیم عربی کے ساتھ جدید عربی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
- میٹرک تک جدید تعلیم کو، اختیاری درجے میں ہی سہی، شامل نصاب کرنا مستحسن اقدام ہے۔ اسی طرح بی اے کی سطح تک جدید تعلیم کو بھی نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔ جس طرح میٹرک کے لیے ایک سال الگ مخصوص کر دیا گیا ہے، اسی طر ح ہر مرحلے کی تکمیل پر اگلے مرحلے میں داخلے سے قبل ایک سال مساوی جدید تعلیم کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ مثلاً عالیہ سے قبل ایف اے اور عالمیہ سے قبل بی اے مکمل کرنا ضروری قرار دیا جائے۔
- اردو زبان وادب کو بھی باقاعدہ نصابی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔
مولانا محمد عمار خا ن ناصر (مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)
- عربی زبان وادب کی تعلیم کے لیے کیے جانے والے اضافے اور تبدیلیاں یقیناًمثبت ہیں، تاہم چند مزید پہلووں پر توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ بعض کتابیں مفید ہونے کے باوجود غلط جگہ پر رکھے جانے کے باعث الٹا مشکل کا باعث بن جاتی ہیں۔ مثلاً نئے نصاب میں عربی نحو کی تمرین کے لیے ’’المنہاج فی القواعد والاعراب‘‘ کو ثانویہ عامہ سال اول میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں عربی جملوں کی فنی تحلیل جس سطح پر کی گئی اور اس کے لیے قرآن اور اشعار سے جن مثالوں کا انتخاب کیا گیا ہے، اس کے لحاظ سے اسے ’’شرح جامی‘‘ کے بھی بعد پڑھایا جانا چاہیے۔ موجودہ ترتیب میں اس کتاب سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
- اسی طرح کی صورت حال ’’معلم الانشاء‘‘ کے حوالے سے درپیش ہے جو عربی ترجمہ وانشا کی مشق کے لیے ایک مفید کتاب ہے لیکن اس سے قبل طالب علم کے پاس عربی الفاظ ومحاورات کا مناسب ذخیرہ ہونا چاہیے جنہیں وہ جملوں میں استعمال کرنے کی مشق کر سکے۔ ندوۃ العلماء لکھنو کے نصاب میں اسی وجہ سے ’’معلم الانشاء‘‘ کو عربی نظم ونثر کا اچھا خاصا ذخیرہ پڑھانے کے بعد رکھا گیا ہے، جبکہ ہمارے ہاں اس کی تعلیم کا آغاز ثانویہ عامہ سے کر دیا جاتا ہے جب طالب علم ابھی عربی جملوں کی ساخت اور محاوروں سے مناسب طور پر مانوس نہیں ہوا ہوتا۔ چنانچہ عملاً یہ کتاب طلبہ میں ترجمہ اور انشا کی کوئی صلاحیت پیدا نہیں کرتی بلکہ اساتذہ مشقوں کا ترجمہ ازخود بنا کر طلبہ کو دے دیتے ہیں جنہیں رٹ کر طلبہ امتحان میں کام یاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
- عربی نظم کا کچھ حصہ تو قدیم جاہلی ادب کی صورت میں داخل نصاب ہے، لیکن نثر کا حصہ ناکافی ہے۔ اس ضمن میں ’’دیوان المتنبی‘‘ کی جگہ ’’مختارات من ادب العرب‘‘ کا شامل کیا جانا قابل تحسین ہے۔ لیکن عربی نثر کی تعلیم کے طریقے میں تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ طریقے میں متن کا لفظی یا بامحاورہ ترجمہ یاد کرانے پر اکتفا کی جاتی ہے، لیکن متن میں استعمال ہونے والے الفاظ، محاورات اور تراکیب کو طالب علم کے لسانی ذخیرہ کا حصہ بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ تعلیم زبان کے جدید طریقے میں متن کے مطالعہ کو مفید اور موثر بنانے کے لیے لسانی اصولوں پر مبنی مختلف مشقیں تیار کی جاتی ہیں جو زبان کے فہم اور استعمال پر گرفت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ’’القراء ۃ الراشدہ، نفحۃ العرب، مختارات اور ریاض الصالحین‘‘ کے شامل نصاب حصوں پر اس نوعیت کی جامع مشقیں تیار کروا کر اساتذہ کو فراہم کی جائیں اور اس طریقے کو تدریسی نظام کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔
مولانا ذکاء اللہ اختر (جامعہ حنفیہ لاہور)
- نصاب میں موجودہ تبدیلیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بارے میں پایا جانے والا جمود ٹوٹ رہا ہے اور اہل نظر کافی عرصہ سے جس نظر ثانی کا مشورہ دے رہے تھے، اس کی اہمیت کا احساس کیا جانے لگا ہے۔
- جدید علوم میں معیشت کے ساتھ ساتھ دوسرے سماجی علوم مثلاً سیاسیات، علم معاشرہ اور نفسیات وغیرہ کو بھی شامل کیا جائے۔
- مقارنۃ الادیان میں آئینہ قادیانیت پر اکتفا درست نہیں۔ دیگر معاصر فتنوں کے حوالے سے بھی مواد شامل نصاب ہونا چاہیے۔
قاری جمیل الرحمن اختر (جامعہ حنفیہ لاہور)
- نصاب میں کی جانے والی تبدیلیاں بلاشبہ درست سمت میں اقدام ہے، لیکن اصل مسئلہ اساتذہ کی تربیت کا ہے۔ ایک اچھے نصاب کی تدریس کے لیے اگر ماہر اور تربیت یافتہ اساتذہ میسر نہ ہوں تو کیا فائدہ؟ یہ تربیت تعلیم وتدریس کے حوالے سے بھی ہونی چاہیے، اخلاق وکردار کے حوالے سے بھی اور اس حوالے سے بھی کہ اساتذہ کو آگے طلبہ کی تربیت کیسے کرنی ہے۔ اساتذہ کی نئی پود میں اپنی یا طلبہ کی تربیت کی اہمیت کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے اور بسا اوقات ان کا رویہ ناگوار اثرات پیدا کرتا ہے۔ وفاق المدارس کو نئے حالات کے تحت تربیت اساتذہ کا بھی باقاعدہ نظام وضع کرنا چاہیے، جیسا کہ افتا کی تربیت کے لیے ایک باقاعدہ نظام بنا لیا گیا ہے۔
مولانا حماد انذر قاسمی (جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ)
- مدارس میں عربی زبان کا معیار تعلیم بہتر کرنے کے لیے سب سے پہلے خود اساتذہ کا معیار بہتر کرنا ہوگا۔ اگر اساتذہ ہی عربی بول چال اور تحریر وتقریر پر قدرت نہیں رکھتے تو طلبہ میں یہ صلاحیت کیسے پیدا ہوگی؟
- قدیم عربی کے ساتھ جدید عربی پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
- قدیم اعتقادی فرقوں کے ساتھ ساتھ جدید علمی واعتقادی فتنوں سے واقفیت بھی طلبہ کو بہم پہنچائی جانی چاہیے اور ان کی ایسی فکری تربیت ہونی چاہیے کہ وہ عملی میدان میں ان فتنوں کے پیدا کردہ شبہات کا موثر جواب دے سکیں۔ اس حوالے سے کسی خاصے درجے کے نصاب میں کوئی ایک آدھ کتاب شامل کر دینے کے بجائے اساتذہ کو ایسا مواد فراہم کیا جائے جس کی بنیاد پر وہ تسلسل کے ساتھ تمام طلبہ کی ذہنی اور فکری تربیت کر سکیں۔
- اساتذہ کے لیے طلبہ کی نفسیاتی ساخت اور صلاحیتوں سے واقف ہونا بھی بہت ضروری ہے، اس لیے اساتذہ کو تعلیمی نفسیات کے مضمون کا باقاعدہ مطالعہ کرنا چاہیے اور طلبہ کے ساتھ شفقت ومحبت پر مبنی شخصی تعلق قائم کر کے ان کی فکری وعملی تربیت کی کوشش کرنی چاہیے۔
- اساتذہ کے انتخاب میں معیار کی حیثیت علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ تدریسی صلاحیت اور اخلاق وکردار کو حاصل ہونی چاہیے۔ اقرا تعلیم الاطفال کے نظام میں تربیت اساتذہ کے نظام ہی کی بدولت اچھے تعلیمی نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔
مولانا قاری ظفر اقبال (جامعہ حنفیہ جہلم)
- * درس نظامی کے موجودہ نصاب کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص قبولیت حاصل ہے، اگرچہ اس میں ضروریات کے لحاظ سے تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔ جدید تعلیم کو میٹرک کی سطح تک شامل کرنا تو قابل قبول ہے لیکن اس سے زائد اسے جگہ دینا دینی تعلیم کو مغلوب کرنے کے مترادف ہوگا۔
- اصل ضرورت تربیت اساتذہ کی ہے۔ اس سے پہلے اسی نصاب سے اچھے طلبہ تیار ہوتے رہے ہیں، کیونکہ اساتذہ محنتی اور قابل تھے۔ اصل خامی نصاب میں نہیں بلکہ طریق تدریس میں ہے۔
- بعض کتابوں پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ مثلاً ’’شرح جامی‘‘ عربی عبارت میں مہارت پیدا کرنے کے لیے بے نظیر ہے۔ اسی طرح ’’شرح عقائد‘‘ کے آخری حصے میں بہت سے جدید اعتقادی فتنوں کی تردید کے لیے بھی مواد موجود ہے۔
- جدید عربی اور عربی بول چال کی فی الواقع نہایت کمی ہے لیکن اس کی تلافی بھی اساتذہ کی تربیت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔
- استاذ کے لیے علمی وتدریسی قابلیت، اعتقادی اصلاح اور اخلاقیات کے لحاظ سے ایک معیار متعین ہونا چاہیے کیونکہ استاذ کے نظریات اور کردار کے اثرات طلبہ پر پڑتے ہیں۔ اساتذہ کو یہ حقیقت جاننی چاہیے کہ دینی تعلیم کا خاصہ ہی یہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کی جائے۔
مولانا محمد یوسف (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)
- اسلامی معاشی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید معیشت کے اصول وضوابط اور جدید سیاسی نظام کا مطالعہ بھی شامل نصاب کیا جائے۔ اسی طرح دیگر سماجی علوم پڑھا کر طلبہ میں جدید معاشرے کی ضروریات کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ وہ مدرسے اور مسجد کے ماحول تک محدود رہنے کے بجائے عام زندگی کے شعبوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں۔
- گمراہ مذاہب اور فرقوں کا تعارف اور اسی طرح تاریخ اسلام کسی خاص درجے کے بجائے درجہ ثالثہ کے بعد مسلسل پڑھائے جائیں۔ سیرت اور تاریخ کے وہ پہلو جن پر مستشرقین وغیرہ کے اعتراضات ہیں، ان پر خاص توجہ دی جائے۔
- جدید تعلیم بورڈ کے نصاب کے مطابق مکمل دی جائے اور اس کا باقاعدہ امتحان بھی بورڈ سے دلوایا جائے۔ اس ضمن میں میٹرک کی سطح پر صرف انگریزی اور ریاضی مسلسل پڑھانے کی ضرورت ہے۔ باقی مضامین کی تیاری آخری ایک دو ماہ میں بآسانی کروائی جا سکتی ہے۔
- درس نظامی کو تدریج کے اصول پر مختلف مراحل میں تقسیم کرنا چاہیے۔ بنیادی مضامین آغاز کے درجوں میں پڑھائے جائیں اور مشکل علوم وفنون کو بعد کے مراحل میں شامل کیا جائے۔ اس طرح طلبہ کو یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنی صلاحیت اور رجحان کے مطابق جس مرحلہ کی تکمیل پر تعلیم کو چھوڑنا چاہیں، چھوڑ سکیں۔
مولانا زاہد الراشدی (مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)
- اساتذہ کی تربیت، عربی بول چال اور تحریر کی صلاحیت اور جدید اعتقادی فتنوں سے واقفیت کے حوالے سے جو تجاویز سامنے آئی ہیں، مجھے ان سے اتفاق ہے۔
- اس کے ساتھ میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ جدید عالمی حالات اور مغربی فکر وفلسفہ کو بھی بطور مضمون مدارس میں پڑھایا جانا چاہیے۔
مولانا عبد الرؤف فاروقی (جامعہ اسلامیہ کامونکی)
- نصاب میں عربی زبان وادب، عقیدہ، جدیدمعیشت، تاریخ اور مقارنۃ الادیان کے حوالے سے کیے جانے والے اضافے اور تبدیلیاں یقیناًدرپیش ضروریات کے حوالے سے مثبت ہیں، لیکن معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے ان پر انحصار کافی نہیں۔ ایک عمومی مسئلہ یہ ہے کہ ان مضامین کو بہتر انداز میں پڑھانے والے اساتذہ کیا ہر سطح پر مدارس کو میسر ہیں؟ علاوہ ازیں نظام تعلیم میں فن کو بطور فن سمجھنے اور پڑھنے کے بجائے محض امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا رجحان فروغ پا چکا ہے۔ ہر سطح پر کتابوں کے تراجم، شروح اور امتحان کے لیے منتخب مقامات کی تیاری میں مدد دینے والی کتابیں عام ہو چکی ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی تلافی کتابوں میں اضافے یا تبدیلی سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے اساتذہ کے معیار اور طریق تدریس کو بہتر بنانا ہوگا۔
- جدید تعلیم کے حوالے سے ایک واضح اور شعوری رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر جدید علوم دینی نظام کے لیے نقصان دہ ہیں تو حکومتی دباؤ کو بالکل مسترد کر دینا چاہیے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔ لیکن اگر یہ علوم کسی نہ کسی درجے میں علما کی ضرورت ہیں تو پھر اس کے حوالے سے ہر دو چار سال کے بعد بیرونی دباؤ پر ہنگامی فیصلے کرنے کے بجائے تعلیمی ضروریات کے حوالے سے ایک مستقل اور جامع پالیسی وضع کی جائے۔ موجودہ نصاب میں میٹرک کی سطح تک تعلیم کو بے دلی سے جگہ دی گئی ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ میٹرک کی تعلیم بھی، اگر دی گئی تو، اسی پست معیار پر دی جائے گی جس پر ہم مڈل کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ہماری بہت عرصے سے یہ تجویز ہے کہ داخلے کے لیے میٹرک کو شرط قرار دے کر چھ سال میں درس نظامی کو مکمل کروایا جائے۔
- مقارنۃ الادیان وغیرہ پر کتابوں کو داخل نصاب کرنے کے بجائے موضوع کے ماہرین سے لیکچرز دلوائے جائیں اور تفصیلی مطالعہ کے لیے متعلقہ کتابوں کی طرف رہنمائی کر دی جائے۔
- اساتذہ اور طلبہ کی تربیت کا مسئلہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ دینی مدارس کا نظام تربیت، سلیقہ مندی، اخلاقیات اور نظم وضبط کے لحاظ سے دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکا ہے۔
مولانا زاہد الراشدی کا سفر بنگلہ دیش و دوبئی
ادارہ
’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ء سے ۱۰ جنوری ۲۰۰۴ء تک دوبئی اور بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور دوبئی، شارجہ، ابو ظبی، ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج اور دیگر مقامات پر متعدد اجتماعات سے خطاب کیا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری بھی اس دورہ میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ مولانا راشدی کے قلم سے اس دورہ کی تفصیلی رپورٹ اور تاثرات ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں شائع کیے جائیں گے۔
مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی گوجرانوالہ تشریف آوری
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری ۲۱ جنوری ۲۰۰۴ء کو گوجرانوالہ تشریف لائے اور الشریعہ اکادمی میں اساتذہ وطلبہ کی ایک نشست سے فکر انگیز خطاب کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم اور دیگر اداروں کا دورہ کیا۔ ان کے دورہ کی رپورٹ ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں پیش کی جا رہی ہے۔ ان شاء اللہ العزیز
حافظ ظفر یاسین بٹ انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
گکھڑ کی معروف سماجی شخصیت اور معارف اسلامیہ اکادمی کے سیکرٹری جنرل حافظ ظفر یاسین بٹ گزشتہ روز انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی نماز جنازہ مولانا زاہد الراشدی نے پڑھائی جس میں ہر طبقہ کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مرحوم جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے سرگرم راہ نماؤں میں شامل رہے اور انہوں نے متعدد دینی تحریکات میں بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے معتمد ساتھیوں اور مولانا زاہد الراشدی کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں، کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور جملہ پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔