سنی شیعہ کشیدگی ۔ چند اہم معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
سنی شیعہ تنازع کے حوالے سے ’الشریعہ‘ میں وقتاً فوقتاً ہم اظہار خیال کرتے رہتے ہیں اور اس بارے میں قارئین ہمارے عقیدہ، جذبات اور طرز عمل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ چند ماہ قبل ہم نے ہمدرد یونیورسٹی دہلی سے آمدہ ایک سوال پر اس سلسلے میں اپنے اسی موقف کو اختصار کے ساتھ دہرا دیا جس کا اظہار اس سے قبل مختلف مضامین میں کیا جا چکا ہے تو اس پر کالعدم سپاہ صحابہ کے ترجمان ماہنامہ ’’خلافت راشدہ‘‘ فیصل آباد نے ستمبر ۲۰۰۴ کے شمارے میں غصے اور ناراضی کا اظہار کیا ہے اور والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ایک فتویٰ کے حوالے سے اپنے قارئین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے جو کچھ لکھا ہے، وہ حضرت موصوف کے فتویٰ سے انحراف ہے اور ’الشریعہ‘ نے ان کے موقف سے ہٹ کر کوئی راہ اختیار کر لی ہے۔ اگر حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا حوالہ نہ ہوتا تو شاید ہم اس پر تبصرہ کی ضرورت محسوس نہ کرتے، لیکن چونکہ ’’خلافت راشدہ‘‘ کے فاضل مضمون نگار نے اپنے غیظ وغضب کے اظہار کے لیے اس فتویٰ کو آڑ بنایا ہے، اس لیے چند امور کی وضاحت ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
کالعدم سپاہ صحابہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ :
’’مولانا زاہد الراشدی جید عالم دین، عظیم اسلامی سکالر، معروف کالم نگار اور ایک مذہبی رسالہ ماہ نامہ ’الشریعہ‘ کے ایڈیٹر ہیں۔ ان کے والد محترم حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر بہت بڑی علمی شخصیت اور عظیم عالم دین ہیں۔ انھوں نے ۱۲ مارچ ۱۹۸۶ کو شیعہ کے بارے میں درج ذیل فتویٰ جاری کیا تھا:
’’الجواب ہو المصوب: شیعہ اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں جن میں تین باتیں اصولی ہیں:
۱۔ قرآن کریم ان کے نزدیک اصلی شکل میں نہیں۔
۲۔ ان کے نزدیک جمہور حضرات صحابہ کرام (العیاذ باللہ) کافر ہیں۔
۳۔ ان کے نزدیک ائمہ معصوم ہیں، حالانکہ معصوم ہونا صرف حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا خاصہ ہے۔ گویا ان کے نزدیک ہر امام نبی ہے۔ نعوذ باللہ من الخرافات۔
لہٰذا شیعہ کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں، اور ان کے تقیہ سے قطعاً متاثر نہیں ہو نا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم۔
ابو الزاہد محمد سرفراز
شیخ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
یکم رجب ۱۴۰۶ ہجری ۔ ۱۲ مارچ ۱۹۸۶‘‘
محترم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کے والد محترم کا تفصیلی فتویٰ آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے۔ اب محترم مولانا زاہد الراشدی کا اپنا طرز عمل بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ہمدرد یونیورسٹی دہلی کے شعبہ اسلامیات کے رکن شیعہ مذہب کے پیروکار ڈاکٹر یوگندر سکند نے ایک تحریری انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو محترم مولانا زاہد الراشدی نے اپنے زیر ادارت شائع ہونے والے ماہنامہ الشریعہ جولائی ۲۰۰۴ میں شائع کیا ہے۔ اس انٹرویو میں شیعہ انٹرویو نگار مذکور نے سوال نمبر ۱۱ کیا ہے کہ ’’بعض پاکستانی حلقے مثلاً سپاہ صحابہ شیعہ کو کافر اور دشمن اسلام قرار دیتے ہیں۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ ہاں یا نہیں کی صورت میں آپ کی رائے کے وجوہ کیا ہیں؟ اگر آپ اس سے متفق نہیں تو اس نقطہ نظر کی تردید کے لیے آپ نے کیا کردار ادا کیا ہے؟‘‘
اب محترم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی طرف سے جواب ملاحظہ فرمائیں:
’’ہم نے سپاہ صحابہؓ کے شدت پسندانہ طریق کار سے ہمیشہ اختلاف کیا ہے اور مختلف مضامین میں اس کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس کے راہ نماؤں مثلاً مولانا حق نواز جھنگوی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی اور مولانا محمد اعظم طارق کے ساتھ براہ راست گفتگو میں بھی انھیں اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے۔ ہم جمہور علماء اہل سنت کے اس موقف سے متفق ہیں کہ جو شیعہ تحریف قرآن کریم کا قائل ہے، اکابر صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ پر قذف کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے ۔نیز ہم امت کی چودہ سو سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں شیعہ کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ذہنی تحفظات رکھتے ہیں، لیکن اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کافر کافر کی مہم، تشدد کے ساتھ ان کو دبانے اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا اس حوالہ سے موقف یہ ہے کہ عقائد اور تاریخی کردار کے حوالہ سے باہمی فرق اور فاصلہ کو قائم رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور استدلال ومنطق کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے کا راستہ ہی صحیح اور قرین عقل ہے اور اس حوالہ سے ہمیں امت مسلمہ کے اجتماعی رویہ سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
آپ نے دیکھا کہ مسؤل کا سوال کتنا واضح اور صاف تھا، لیکن حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نے جواب کو انتہائی پیچیدہ بنا کر پیش کیا جس سے یہ تاثر صاف نکلتا ہے کہ سپاہ صحابہ والے شیعہ کو غلط کافر کہتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔ سوال کرنے والے نے پوچھا کہ سپاہ صحابہ والے شیعہ کو کافر اور دشمن اسلام قرار دیتے ہیں۔ ہاں یا نہیں کی صورت میں جواب دیں اور اس کی وجہ بیان فرما دیں۔ کاش مولانا زاہد الراشدی مدظلہ اس سوال کے جواب میں اپنے والد محترم کا فتویٰ ہی نقل کر دیتے جس میں انہوں نے واضح انداز میں نہ صرف شیعہ کو خارج از اسلام قرار دیا بلکہ ان کے کفر کی تین وجوہات بھی درج کر دی ہیں اور آخر میں پھر لکھا ہے کہ شیعہ کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور ان کے تقیہ سے قطعاً متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
ماہنامہ الشریعہ کے اگلے ماہ اگست کے شمارے میں اسی پروفیسر ڈاکٹر یوگندر سکند نے شیعہ سنی تعلقات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے شیعہ کے خلاف فتویٰ دینے والے علماء حق کو شرک کا مرتکب ہونے، ان کے فتویٰ کو کفر اختیار کرنے سے بھی بڑا جرم قرار دیا ہے۔ محترم جناب مولانا زاہد الراشدی سے دردمندانہ درخواست ہے کہ خدارا خود کو غیر جانب دار اور مذہبی سکالر ثابت کرنے کے لیے شیعہ کی سازشوں کا شکار ہو کر سپاہ صحابہ کے قائدین اور ہزاروں کارکنان کی قربانیوں اور اپنے اسلاف کے فتاویٰ جات کو خاک میں ملانے کی کوشش نہ کریں۔‘‘
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ’’خلافت راشدہ‘‘ کی اس تحریر کو ایک بار پھر پڑھ لیں اور پھر ہماری درج ذیل معروضات پر توجہ فرمائیں:
- مضمون نگار کو شکایت ہے کہ سوال میں شیعہ کے کافر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے، مگر ہم نے جواب میں بات کو لمبا کر دیا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ بات نہیں ہے، اس لیے کہ سوال میں صرف شیعہ کے کافر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں نہیں پوچھا گیا بلکہ یہ سوال سپاہ صحابہ کا نام لے کر اس کے حوالے سے کیا گیا ہے، اس لیے یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری تھی کہ جہاں اصل مسئلہ پر اپنا موقف عرض کریں، وہاں اس مسئلہ کے پس منظر میں سپاہ صحابہ کے طرز عمل کے بارے میں بھی اپنا نقطہ نظر بیان کر دیں اور ہم نے وہی کیا ہے۔
- مضمون نگار نے یہ تاثر دینا چاہا ہے کہ ہم شیعہ کے بارے میں اکابر علماء اہل سنت کے فتویٰ سے اختلاف کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے، کیونکہ جس تحریر میں سپاہ صحابہ کے طرز عمل سے اختلاف کیا گیا ہے، اسی میں فتویٰ کی تائید بھی موجود ہے۔ البتہ ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ تکفیر کرتے ہوئے اس کی وجوہ کا حوالہ بھی دیا جائے اور یہ کہہ کر تکفیر کی جائے کہ جو شیعہ قرآن کریم کی تحریف کا قائل ہے، اکابر صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے، حضرت عائشہ پر نعوذ باللہ قذف کرتا ہے، ائمہ کو انبیاء کرام کی طرح معصوم مانتا ہے یا دین کی اور کسی ضروری بات کا انکار کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ یہ صراحت اس لیے ضروری ہے کہ شیعہ کہلانے والے بعض فرقے اور افراد ایسے موجود ہیں جن کا یہ عقیدہ نہیں ہے اور اگر کوئی شخص ان عقائد سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہے اور اس کا عمل بھی اس لا تعلقی کی تائید کرتا ہے تو محض شیعہ کہلانے کی وجہ سے اس کی تکفیر کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مثلاً زیدی فرقہ شیعہ کہلاتا ہے مگر اس کے یہ عقائد نہیں ہیں۔ یمن میں ایسے زیدیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو زیدی شیعہ کہلاتے ہیں مگر ان کے عقائد اہل سنت والے ہیں حتیٰ کہ یمن کے نامور سنی عالم قاضی شوکانی کا شمار بھی زیدیوں میں کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ایران کے دستور میں زیدیوں کو صراحتاً اہل سنت کے فقہی مذاہب حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کے ساتھ شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں نور بخشی شیعوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے عقائد اثنا عشریوں سے مختلف ہیں۔ ان کے عقائد کا الگ طور پر جائزہ لیے بغیر انھیں اثنا عشریوں کے ساتھ ایک ہی فتویٰ میں شمار کر لینا ان کے ساتھ زیادتی کی بات ہوگی اور افتا کے مسلمہ اصولوں کے بھی منافی ہوگا۔ اس لیے ہمارے نزدیک بات وہی صحیح ہے جو ہمارے اکابر کہتے آ رہے ہیں کہ مذکورہ بالا عقائد یا ان میں سے کوئی ایک عقیدہ بھی رکھنے والے شیعہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔
- ہم نے اختلاف اکابر علماء کرام کے فتویٰ سے نہیں، بلکہ کالعدم سپاہ صحابہ کے طرز عمل اور طریق کار سے کیا ہے اور اب نہیں، شروع سے ہم یہ اختلاف کرتے آ رہے ہیں جس پر ہمارے بہت سے سابقہ مضامین گواہ ہیں، بلکہ سپاہ صحابہ کے قائدین کے ساتھ گفتگو میں بھی ہم نے اس کا برملا اظہار کیا ہے اور سپاہ صحابہ کے شدت پسندانہ طرز عمل کو ہم نے ہمیشہ غلط اور نقصان دہ قرار دیا ہے۔ یہ بالکل ایک الگ مسئلہ ہے اور اسے فتویٰ سے ہٹ کر ایک مستقل مسئلہ کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ کافر ہونا یا نہ ہونا الگ سوال ہے اور کافروں کے ساتھ تعلقات اور معاملات کا تعین اس سے بالکل مختلف امر ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کافروں کے ساتھ یکساں معاملہ نہیں کیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اور تھا، اہل کتاب کے ساتھ معاملات کی نوعیت اس سے مختلف تھی اور مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے درمیان رہنے والے منافقین کے ساتھ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ان دونوں سے بالکل الگ تھا۔ ان منافقین کے کفرکی گواہی قرآن کریم نے دی ہے اور ان کے کفر میں کسی شک وشبہہ کی گنجایش نہیں ہے حتیٰ کہ ان کا جنازہ پڑھانے اور ان کے لیے دعاے مغفرت کرنے سے بھی قرآن کریم نے روک دیا تھا، لیکن ان کے ساتھ شدت اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ مختلف معاملات میں مسلمانوں کے ساتھ شریک رہتے تھے، مسلمانوں کو نہ ان کے معاشرتی بائیکاٹ کا حکم دیا گیا اور نہ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسلم سوسائٹی سے الگ کیا، حتیٰ کہ بعض غیور مسلمانوں نے بعض منافقین کو قتل کرنے کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کر دیا اور فرمایا، اس سے دنیا میں غلط تاثر پھیلے گا اور لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے کلمہ گو ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں۔
- شدت پسندی کے طرز عمل سے اختلاف کر کے ہم کوئی نیا موقف اختیار نہیں کر رہے، بلکہ ہمارے بزرگوں کا موقف بھی یہی ہے جس کی ایک جھلک شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے اس مکتوب گرامی میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو انھوں نے آج سے بارہ سال قبل سپاہ صحابہ کے ارکان کے نام لکھا تھا اور جسے گوجرانوالہ کے معروف عالم دین مولانا محمد ایوب صفدر (مہتمم مدرسہ فیضان سرفراز ، پلی نوشہرہ سانسی، جناح روڈ، گوجرانوالہ) نے ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ وہ مکتوب گرامی درج ذیل ہے:
’’باسمہ سبحانہ وتعالیٰ
۱۷؍رجب ۱۴۱۲ھ/۲۳؍جنوری ۱۹۹۲ء
من ابی الزاہد
الی محترم المقام حضرت مولانا صاحب دام مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مزاج سامی!
گزارش ہے کہ سپاہ صحابہ کے حضرات نے ایران کی طاغوتی طاقت کے بل بوتے اور شہ پر ناچنے والی رافضیت کا پاکستان میں جو دروازہ بند کیا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ دینی لحاظ سے بھی فرض کفایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی اس مبارک کوشش کو کامیاب کرے اور دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
اگر بار خاطر نہ ہو تو چند ضروری باتیں عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں:
۱۔ جو ذہن آپ حضرات نے نوجوانوں کا بنایا ہے یا بنائیں گے، وہی وہ اپنائیں گے، کیونکہ اکثریت ان کی علم دین نہیں رکھتی اور اکابر کو بھی نہیں دیکھا۔ جو آپ ان کو بتائیں گے، اسی کو وہ حرف آخر سمجھیں گے اور تن، من، دھن کی بازی لگائیں گے۔ واللہ الموفق
۲۔ نوجوان جذباتی ہوتے ہیں اور جذبات میں بہت کچھ کر اور کہہ جاتے ہیں۔ شدت اور سختی سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے اور نہ قوت اور طاقت سے کسی فرد یا نظریہ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ صدر صدام حسین کی ضد اور نادانی کی وجہ سے تیس سے زائد طاقت ور حکومتیں بھی اسے ختم نہ کر سکیں اور وہ ابھی تک جیتا جاگتا ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ نوجوانوں کو قولاً اور فعلاً شدت اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ روکیں۔ رافضیوں کے کفر میں تو شک ہی نہیں، مگر در ودیوار پر کافر کافر لکھنے اور نعرہ بازی سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوگا۔ عیاں را چہ بیاں۔
۳۔ ممکن ہے بعض جذباتی اور سطحی اذہان میری اس تحریر سے یہ اخذ کریں کہ میں بک گیا ہوں یا دب گیا ہوں تو یہ نظریہ درست نہ ہوگا۔ بفضلہ تعالیٰ یہ گناہ گار انتہائی غربت اور جوانی کے زمانے میں بھی نہ بکا ہے نہ دبا۔ اب اسی (۸۰) سال کی عمر میں قبر کے پاس پہنچ کر کیسے بک یا دب سکتا ہے؟
۴۔ کافی عرصہ ہوا ہے، حضرت مولانا عطاء المنعم شاہ صاحب دام مجدہم نے حضرت امیر معاویہؓ کے سرکاری طورپر یوم منانے کی تحریک شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے ان کو مفصل خط لکھا تھا کہ آپ کے والد مرحوم امیر شریعت تو بدعات کو مٹانے کے لیے لٹھ لیے پھرتے تھے، آپ اس بدعت کو کیسے جاری کرتے ہیں؟ میرے خیال میں میرا عریضہ ضرور موثر ثابت ہوا اور اس کے بعد ان کا کوئی بیان اس بدعت کی ایجاد کرنے کا میرے علم میں نہیں ہے۔
۵۔ آپ حضرات کی طرف سے زور وشور کے ساتھ حضرات خلفاء راشدین کے ایام سرکاری طور پر منوانے کا مطالبہ آتا ہے۔ آپ جن اکابر کے دامن سے وابستہ ہیں، ان کی تاریخ دیکھ لیجیے۔ کبھی ایسی بدعات کے ایجاد کا تصور بھی انھیں نہیں آیا۔ عوام تو نہیں جانتے، مگر آپ تو علما ہیں، وسیع مطالعہ کے مالک ہیں۔ اس کارروائی کے بدعت ہونے کے بارے میں آپ حضرات کے سامنے کتابوں کے حوالے پیش کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ولا ریب فیہ
۶۔ آپ حضرات کا مطالبہ صرف اور صرف خلافت راشدہ کا نظام قائم کرنے کا ہونا چاہیے جو حکمران طبقہ اور سرمایہ داروں کے لیے پیام موت ہے۔ ایام منوانے کی بدعت کے پیچھے ہرگز نہ پڑیں۔ خلافت راشدہ کے نظام کے نافذ کرنے کے مطالبہ میں عند اللہ تعالیٰ بھی آپ سرخرو ہوں گے اور عوام کا تعاون بھی حاصل رہے گا۔
۷۔ اگر بادل نخواستہ آپ کے ایام منانے کی کوئی کوشش منظور کر لی گئی تو حکمران طبقہ بھی اور عوام بھی یہ باور کریں گے کہ ان کو اب خاموش رہنا چاہیے، ان کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔ اس سے آپ کے اصل مقصد پر زد پڑے گی۔ بھٹو صاحب نے جمعہ کے دن چھٹی کرنے پر کہہ دیا تھا کہ لو، اب اسلام نافذ ہو گیا ہے۔
۸۔ بعض غالی قسم کے اہل بدعت اس کارروائی کے خلاف سخت پراپیگنڈا کر رہے ہیں کہ دیوبندی دن منائیں تو بدعت نہ ہو اور بریلوی منائیں تو بدعت ہو جائے۔ ان کا یہ اعتراض بالکل درست ہے۔ ماہ جنوری ۱۹۹۲ء کا رضائے مصطفی ضرور بہ ضرور دیکھیں۔ وما علینا الا البلاغ
والسلام
ابو الزاہد محمد سرفراز
از گکھڑ‘‘
اس اختلاف کی ایک اور جھلک سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ کے رفیق خاص مولانا مشتاق احمد کے مضمون کے اس اقتباس میں بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو انھوں نے مولانا چنیوٹی کے حالات زندگی پر تحریر کیا ہے اور جو ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے ستمبر ۲۰۰۴ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ مولانا مشتاق احمد اس مضمون میں لکھتے ہیں :
’’مولانا چنیوٹی سپاہ صحابہؓ سے ہمدردی تورکھتے تھے لیکن ان کے مخصوص نعروں کے عام جلسوں میں لگائے جانے سے متفق نہ تھے۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ کی مسجد میں سالانہ ردمرزائیت کورس کی اختتامی تقریب منعقد ہو ئی۔ شہید ناموس صحابہ مولانااعظم طارق مرحوم مہمان خصوصی تھے۔ مولانااعظم طارق کی تقریر سے پہلے کسی نے ’’کافر کافر شیعہ کافر‘‘ کے نعرے لگائے تو مولانا چنیوٹی نے برملا ڈانٹا کہ تم اچھل اچھل کر نعرے لگانے والے توجلسہ کے بعد اپنے گھر وں کو چلے جا ؤ گے ۔ یہ غریب( مولانااعظم طارق) جیل چلاجا ئے گا۔ ان کوجیل سے باہربھی رہنے دو ۔ کیا انہیں جیل بھیجنا چاہتے ہو ؟مولانا اعظم طارق مرحوم عجیب تاثرات کے ساتھ مولانا چنیوٹی کو دیکھتے رہے لیکن اپنی تقریر میں بھی کو ئی تبصرہ نہ کیا۔‘‘
’خلافت راشدہ‘ کے فاضل مضمون نگار اور ان کے ہم نواؤں سے گزارش ہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ کے طرز عمل کے ساتھ ہمارا اختلاف بھی وہی ہے جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم، سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر بہت سے سرکردہ اور سنجیدہ علماء کرام کا ہے۔ اس پر سیخ پا ہونے کے بجائے کالعدم سپاہ صحابہ کی قیادت کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے اور اپنے طرز عمل اور طریق کار پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ شیعہ جارحیت کے خلاف اہل سنت کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کا آغاز سپاہ صحابہ نے نہیں کیا، بلکہ اس سے قبل پاکستان میں حضرت مولانا عبد الستار تونسوی مدظلہ، حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ ، حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ ، حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ ، حضرت مولانا احمد شاہ چوکیرویؒ ، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے نصف صدی تک اس جدوجہد کی قیادت اور راہ نمائی ہے، البتہ کالعدم سپاہ صحابہ نے اس میں شدت پسندی کا اضافہ کیا ہے اور تشدد کا ماحول پیدا کیا ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ اس شدت پسندی کے نفع ونقصان کا جائزہ لے لیا جائے اور پیچھے مڑ کر دیکھ لیا جائے کہ اس طرز عمل سے ہم نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے؟
ہم اس میں کالعدم سپاہ صحابہ کو تنہا قصور وار نہیں سمجھتے، بلکہ ہمارے نزدیک اس شدت پسندی کا بیج انقلاب ایران کے بعد اس کی سرپرستی میں کالعدم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے پاکستان میں فقہ جعفریہ کے جداگانہ نفاذ کا مطالبہ اور اسلام آباد کے وفاقی سیکرٹریٹ کا محاصرہ کر کے بویا تھا۔ سپاہ صحابہ اس کے رد عمل میں وجود میں آئی، لیکن اس رد عمل میں اس قدر آگے نکل گئی کہ نفع ونقصان کا توازن قائم رکھنا یاد نہ رہا اور پیچھے ہٹنے کے راستے بھی بند نظر آنے لگے۔ ہمارا مشورہ اب بھی صرف یہ ہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھ لیا جائے، سود وزیاں کا حساب کر لیا جائے اور ان اکابر واسلاف کے طریقے پر واپس آنے کی راہیں تلاش کر لی جائیں جو ہم سے زیادہ متصلب سنی تھے، اہل سنت کے عقائد کے ساتھ ہم سے زیادہ وابستگی اور وفاداری رکھتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ملی اور قومی مقاصد کا شعور بھی رکھتے تھے اور توازن کا دامن ہمیشہ تھامے رکھتے تھے۔ اسی میں سلامتی ہے، یہی صحیح راہ عمل ہے اور اسی میں اہل سنت کے عقائد، حقوق اور مفادات کا تحفظ بھی ہے۔
شیعہ سنی مسئلہ مولانا دریابادیؒ کی نظر میں
محمد موسی بھٹو
’’صدق جدید‘‘ میں مولانا عبد الماجد صاحبؒ نے مسلم امت کے مسائل پر جس بصیرت اور خون جگر سے لکھا ہے، ضرورت ہے کہ ’’صدق جدید‘‘ کے سارے فائلوں کو کھنگال کر مولانا کے اس قیمتی مواد اور ان کے پیش کردہ نکات کو قوم کے سامنے لایا جائے۔ امت میں بڑھتا ہوا مسلکی اختلاف اور اس اختلاف کی وجہ سے افتراق وانتشار اور وقت اور صلاحیتوں کا ایک دوسرے کی قوت کو کمزور کرنے میں استعمال ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے اور اس وقت کا بنیادی مسئلہ بھی۔ دین کے وسیع دائرے میں رہتے ہوئے فقہی، کلامی اور اجتہادی مسائل میں اختلاف رحمت کا باعث ہونا چاہیے۔ اختلاف کا آغاز، اس کے ارتقا، پس منظر، اختلاف کے حدود، آداب، دائرہ کار، اختلاف کو تشدد کی صورت دینے کے اسباب، امت میں یک جہتی کو فروغ دینے کی تجاویز، افتراق نے ماضی میں امت کو جو صدمات پہنچائے، ان کی تفصیل، غرض کہ اس موضوع کے بیشتر پہلوؤں پر مولانا نے لکھا ہے اور اتنا عمدہ اور بصیرت افروز لکھا ہے کہ ہر ایک صاحب علم ان نکات کو پڑھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مولانا کی کچھ تحریریں پیش خدمت ہیں:
اختلاف کی نوعیت
’’شیعہ سنی کے نام نہاد جھگڑے کے سلسلے میں یہ کہنا چاہیے کہ امیر المومنین حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کا اختلاف ہے، لیکن ذرا خلوے ذہن سے سوچیے کہ یہ کوئی دین وعقیدہ کے اختلاف کا مسئلہ تھا؟ کسی رسالت ونبوت میں کچھ ایرادات اٹھ کھڑے ہوئے تھے؟ کیا حقانیت وجامعیت قرآن سے متعلق کوئی رائیں ٹکرا رہی تھیں؟ کیا استقبال قبلہ زیر بحث آ گیا تھا؟ عبادات میں سے کسی کی فرضیت ووجوب پر مناظرہ شروع ہو گیا تھا؟ کوئی بھی شے اس قبیل کی تھی؟ آگے چلیے۔ امیر معاویہؓ نے بھی یہ دعویٰ کب پیش کیا تھا کہ میں شخصاً علیؓ سے افضل، اعلیٰ اور اشرف ہوں؟ گفتگو کا سارا خلاصہ یہ تھا کہ ایک فریق کے خیال میں خلیفۃ الرسول سے کچھ انتظامی غلطیاں اور سیاسی کوتاہیاں واقع ہو گئی تھیں۔ مثلاً یہ کہ انھیں قاتلان حضرت عثمانؓ سے قصاص فوراً لینا چاہیے تھا۔ تو فرمائیے کہ اسباب مخالفت تو تمام تر سیاسی، تدبیری وملکی وانتظامی تھے۔ دین وعقیدہ کی گھٹیاں کیسے پڑ گئیں اور کفر وایمان کی پیوند کاریاں اس میں کیسے راہ پا گئیں؟
اس سے بھی اوپر چلیے۔ خلیفہ اول ابوبکرؓ اور خلیفہ راشد علیؓ کے درمیان اختلاف کیا کوئی دینی واعتقادی تھا؟ یہ کسی اور اسلام کے قائل تھے اور وہ کسی اور کے؟ یا ایک دوسرے کے کمالات کے، فضائل کے، مناقب کے منکر تھے؟ کیا نعوذ باللہ دونوں ایک دوسرے کے نزدیک بدراہ وبدکردار تھے؟گفتگو صرف یہ چھڑی تھی کہ بہ حیثیت حکمران کون بہتر ہوگا اور شرفاے عرب کی اکثریت کس شخصیت کی طرف زیادہ آسانی سے کھنچے گی۔ پھر وہی سوال تمام تر ذاتی مقبولیت ومرجعیت کا۔ حرب عقائد کی کڑیاں اور لڑیاں جو بعد کو زلف مسلسل بنتی چلی گئیں، خدا کے لیے سوچیے کہ ابتدا میں کہاں تھیں؟ دین کی خدمت اب کاہے میں ہے؟ ان الجھنوں کو سلجھانے میں، پیچیدگیوں کا حل نکالنے میں یا اس کے برعکس الجھنوں کو اور بڑھانے اور ان گتھیوں کو مزید پیچیدہ کرنے میں؟ کاش وہی سادگی آج پھر نمودار ہو جاتی اور یہ شدید نفاق وشقاق مٹ مٹا کر بات صرف اسی سادہ اختلاف رائے کی رہ جاتی۔‘‘ (صدق جدید ۳۱ نومبر ۱۹۶۹)
سید حسین نصر اس وقت عالم اسلامی کی ایک معروف علمی شخصیت ہیں اور مسلک امامیہ اثنا عشریہ رکھتے ہیں۔ تہران یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور کچھ دن بیروت کی امریکی یونیورسٹی میں بھی بہ حیثیت استاد کام کر چکے ہیں۔ مستشرقین کی طویل صحبت ورفاقت کے بعد خود بھی ایک مستشرق فاضل بن گئے ہیں اور مستشرقین کے علمی رسالوں میں مقالے لکھتے رہتے ہیں اور مقالوں کا موضوع اسلام کی نصرت وحمایت میں مستشرقین کے خلاف دفاع ہی رہتا ہے۔
انگریزی میں کئی کتابوں کے مصنف ہیں، مثلاً:
(۱) سائنس اور تہذیب اسلام میں (Science and Civilization in Islam)
(۲) اسلامیات (Islamic Studies)
(۳) تین حکماء اسلام (Three Muslim Sages)
(۴) فرنچ زبان میں ’’تاریخ فلسفہ اسلام‘‘ پر ایک کتاب کی تصنیف میں شرکت، فرنچ مستشرق کورین (Corin) کے ساتھ۔
اور جوابی محاذ پر وہ کام کر رہے ہیں جس کا کوئی اندازہ بھی ہمارے ہاں کے مولوی صاحبان کو نہیں۔ تازہ ترین کتاب ’’اسلام کے تصورات وحقائق‘‘ (Ideals and Realities of Islam) حال میں دیکھنے میں آئی۔ ضخامت ۱۸۴ صفحہ، پبلشر George Allen & Unwin، میوزیم اسٹریٹ، لندن۔ قیمت ۲۸ شلنگ۔ کتاب انگریزی میں بسم اللہ سے شروع ہوتی ہے اور ۴، ساڑھے چار صفحہ کے مقدمہ کے بعد چھ بابوں میں تقسیم ہے۔
پہلا باب: اسلام آخری دین بھی ہے اور سب سے ابتدائی دین بھی۔ اس کے عمومی وخصوصی خط وخال۔
دوسرا باب: قرآن، خدائی کلام اور علم وعمل کا مبدا ومبتدا۔
تیسرا باب: نبی اور احادیث نبوی کا آخری نبی اور آفاقی انسان۔
چوتھا باب: شریعت یا خدائی قانون، معاشری اور انسانی معیار عمل۔
پانچواں باب: طریقت، طریق روحانیت اور اس کے قرآنی ماخذ۔
چھٹا باب: سنیت اور شیعیت، اثنا عشریت اور اسمٰعیلیت۔
اصلاً یہ چند لکچر تھے جو بیروت کی امریکی یونیورسٹی میں سرآغا خان کے سرمایہ سے دیے گئے تھے۔ نظر ثانی کے بعد انھیں کو کتابی شکل دے دی گئی۔ مصنف کا دعویٰ کہیں بھی اسلام کا جدید ’’ایڈیشن‘‘ یا ’’ماڈرن‘‘ اسلام پیش کرنے کا نہیں۔ وہ کہتے ہیں، میں تو وہی پرانا (Orthodox) اسلام پیش کر رہا ہوں جو ۱۴ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔ صرف میرا انداز بیان بیسویں صدی کا ہے۔ ہر باب کے مضمون ومفہوم کا ایک موٹا اور ہلکا سا اندازہ تو محض عنوان ہی سے ہو گیا ہوگا۔ مصنف نے بڑی حد تک اپنے اس دعوے کو نباہ دیا ہے کہ ’’تجدد‘‘ ان کی کتاب میں کم سے کم ہے۔ زیادہ تر اعادہ وتکرار انھیں پرانی باتوں کا ہے، البتہ انداز بیان نیا اور زبان اسی بیسیویں صدی کی۔ نہ کہیں تعدد ازواج کے نام سے شرم ومعذرت، نہ کہیں فرنگ کے دعواے مساوات مرد وزن کی تائید اور نہ کہیں صوفیہ کے طریق ذکر وفکر سے عار وفرار۔ شروع سے آخر تک زور بجائے عقل واجتہاد کے نقل واتباع احکام پر، توحید وایمان پر۔
کتاب کا دلچسپ ترین باب اس کا آخری باب ہے جہاں مصنف نے تعارف سنیت کے ساتھ شیعیت (اور اس کی دونوں شاخوں) کا کرایا ہے۔ باب بھر میں ذکر نہ باغ فدک کا، نہ زیاد وابن زیاد کے مظالم کے تذکرے، نہ شیعیت کا یہ تعارف کہ وہ سنیت کی حریف اور اس کے خلاف کوئی باغیانہ تحریک ہے، بلکہ یہ کہ ’’سرچشمہ‘‘ اسلام (یعنی قرآن وحدیث) کے دو بڑے دھارے شروع ہی سے چلے آ رہے۔ ایک وہ جو صحابہ کی اکثریت یا جمہور کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے اور یہی اہل سنت کا مسلک ہے، اور دوسرا وہ چھوٹا دھارا جس کو علیؓ اور یاران علیؓ (سلمان فارسیؓ، ابوذرؓ ومقدادؓ) سنبھالے رہے تھے اور اس اقلیتی دھارے کو شیعیت کہتے ہیں۔ اصلی وبنیادی اختلاف کسی عقیدہ کا نہیں، فرق جو کچھ پڑا ہے، وہ انھیں مشترک بنیادی عقائد کی تعبیر وتشریح میں پڑا ہے اور قرآن وسنت کی اسی اختلاف تعبیر نے امامت، عصمت ائمہ وغیرہ چند اہم اختلافات اور پیدا کر دیے جنھیں بعد کو اصل کی سی اہمیت دے دی گئی۔ اور حقیقت میں سب کا ماخذ ومخرج قرآن اور اس کے برابر سنت رسول تھے۔ اس نظریہ کے خطا وصواب سے یہاں بحث نہیں۔ محض اس کی ندرت کے لحاظ سے یہاں اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ نظریہ اگر کہیں شیعوں میں مقبول ہو گیا تو آگے چل کر کثرت سے شیعہ (سید امیر علی مرحوم کی طرح) شیعہ سے بڑھ کر معتزلی نظر آنے لگیں گے اور فریقین کی کتب مناظرہ کے ذخیرہ عظیم پر یکسر پانی پھر جائے گا۔ صفحہ اول پر جو عقائد کی تشریح ہوئی ہے، اس میں شیعی علم کلام کے ڈانڈے معتزلی علم کلام سے کثرت سے مل جل گئے ہیں۔ (۲۲ مارچ ۱۹۶۸)
باہمی منافرت کے سنگین نتائج
’’ابن علقمی معید الدین محمد، آخری خلیفہ مستعصم کے وزیر کا نام ہے۔ یہ ایک شیعہ خاندان سے تھے۔ ان کے ہم مذہب ابن طفلقہ نے ان کے علم وفضل، ان کی خطاطی اور ان کی کتاب دوستی کو سراہا ہے اور ان کے تدبر کی مدح کی ہے، لیکن ان تک کو یہ ماننے پر مجبور ہونا پڑا ہے کہ انھوں نے کافر تاتاریوں کے حملہ بغداد سے قبل ان سے غدارانہ خط وکتابت کر رکھی تھی۔ ابن علقمی کی وفاداری غالباً شیعہ محلہ کرخ کی تاراجی سے ختم ہو گئی تھی۔ ان کی غداری کے حدود کا جائزہ لینا مشکل ہے، تاہم اتنا تو یقینی ہے کہ جب سرداران فوج ہلاکو سے مقابلہ کی رائے دے رہے تھے تو ابن علقمی کا مشورہ نرمی وسازگاری کا تھا۔‘‘
’’ابن علقمی کو گبن نے اپنی تاریخ زوال رومہ میں دغا باز وزیر سے یاد کیا ہے۔ کسی بھی دوسری شخصیت کی غداری پر زیادہ زور دینا اب عبث سی بات ہے۔ کام کی بات یہ ہے کہ یہ دیکھیے کہ اس غداری کی محرک کیا شے ہوئی؟ مال کی طمع؟ جی نہیں۔ غرض زر، زن اور زمین کے عام محرکات میں سے کوئی شے نہیں، بلکہ شیعہ سنی کی باہمی منافرت جس نے ایک طرف سنیوں کو مجبور کیا کہ شہر کی شیعہ آبادی کو تہس نہس کر ڈالیں اور دوسری طرف شیعوں کو کہ وہ جوش انتقام میں آ کر خونخوار دشمنوں سے مل جائیں۔ تو فتنہ کی جڑ تو یہ باہمی منافرت ہوئی۔ اصل ضرورت اسی پر زور لگانے کی ہے۔ بغداد کا شاداب اور لہلہاتا ہوا باغ اسی آندھی کی نذر ہو گیا اور اتنے عظیم حادثہ سے بھی ملت کی آنکھیں نہ کھلیں اور نظر اس زہریلی اور مہلک فضا کی طرف نہ گئی۔ بادشاہ (برائے نام خلیفہ) کی غفلت وعیش پسندی، امیروں کی رنگ رلیاں اور شراب کے دور وغیرہ سب اسی تاریخی ’’زوال بغداد‘‘ میں معین ومعاون ہو ئے، لیکن آگ کی چنگاری اسی فرقہ واریت نے ڈالی اور مخاصمت شیعہ سنی تک محدود نہ تھی، بلکہ خود اہل سنت کے بھی مختلف فرقوں کے درمیان اسی زور وشور سے جاری تھی۔‘‘ (صدق جدید ۲۵ جولائی ۱۹۶۹)
پاکستان کے ایک نیم علمی نیم دینی ماہنامہ میں سرور صاحب جامعی کے سنجیدہ قلم سے:
’’پاکستان میں ہماری اسلامیت میں ہماری قومیت کی بنیاد ہے۔ اب اگر ہمارے ہاں اسلامیت ایک وحدانی شعور نہیں ہے بلکہ وہ عبارت ہے مختلف فرقوں سے جو ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اور ان میں آپس میں برابر محاربت ومبارزت رہتی ہے تو ذرا اندازہ کیجیے کہ ہم میں قومی وحدت کیسے پید اہوگی اور ہم کیسے یہ محسوس کریں گے کہ ہم ایک ہیں اور ہمارے دکھ سکھ مشترک ہیں۔ آئندہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ خود مسلمانوں کے مذہبی فرقوں کا آپس کا تصادم ہے جو برابر بڑھتا جا رہا ہے اور یہ پاکستان کی ہیئت سیاسی واجتماعی کی وحدت وہم آہنگی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے، بلکہ اگر زیادہ وضاحت سے کام لیا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ مسلمان فرقوں کا موجودہ باہمی تصادم خود پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس ضمن میں ہم تو یہاں تک کہیں گے کہ اس وقت ہمارے پاس جو مذہبی فرقہ واریت کی فضا ہے، اس کے ہوتے ہوئے خواہ پاکستان میں کتنے ہی کارخانے لگ جائیں اور تعلیم کتنی ہی پھیل جائے، ملک صحیح معنوں میں مضبوط ہوگا نہ متحد۔‘‘
پاکستان میں اس مسئلہ کی اہمیت تو ظاہر ہی ہے، لیکن ہندوستان میں بایں مغلوبی وشکستہ حالی یہ اندرونی مذہبی فرقہ واریت کچھ کم اہم اور کم قابل توجہ نہیں۔ (۹ نومبر ۱۹۶۶)
ایک شیعہ فاضل کی زبان سے، آج سے نصف صدی قبل:
’’متعصب اور خود غرض لوگوں نے ہر دو فریق کے عوام کو لکھنو میں یقین دلایا ہے کہ سنی بہ لحاظ عقیدہ شیعہ کے، اور شیعہ بہ لحاظ عقیدہ سنی کے مسلمان نہیں ہے، یعنی اقرار توحید ورسالت ومعاد وقبلہ وقرآن ایسے عقائد ہیں جن کے باوجود دنیاوی اور اسلامی معاشرت بھی قائم نہ رہنا چاہیے۔ ہر دو فریق نے اس نئی ایجاد سے اپنی قدیم فقہ پر بھی پانی پھیر دیا۔ علم اخلاق کی جو خدمت کی، وہ جدا رہی۔
شیعوں کے مقتدا اور معصوم ائمہ نے نہایت درجہ صلح اور دوستی اور صبر کے ساتھ عام مسلمانوں سے برتاؤ کیا۔ یہ بھی ہر مولوی بلکہ سنیوں کو معلوم ہوگا (کیونکہ عقائد شیخ صدوق میں لکھا ہوا ہے ) کہ قیامت تک احتیاط لازم ہے اور ائمہ معصومین نے حکم دیا ہے کہ سنت جماعت سے بیماروں کی عیادت کرو، ان کے ساتھ نماز پڑھو، عمدہ سلوک اور برتاؤ رکھو اور ایسی کوئی بات نہ کرو کہ وہ ائمہ کے خلاف مشتعل ہوں اور ایسے لوگوں سے سخت نفرت کی جائے جو محبت کے نام سے عداوت بڑھاتے ہیں۔‘‘ (منقول از اودھ پنج، ۲۵ جون ۱۹۰۸)
۱۹۰۸ میں لکھنو میں شیعہ سنیوں کے درمیان سخت تصادم برپا تھا۔ اس وقت یہ تحریر مشہور قومی کارکن اور صاحب علم خواجہ غلام الثقلین بی اے، ایل ایل بی (علیگ) کے قلم سے شائع ہوئی تھی اور اتنا عرصہ گزر جانے پر بھی باسی نہیں ہوئی ہے۔ کلمہ گو، مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا نہ دے۔
خواجہ غلام الثقلین مرحوم (متوفیٰ ۱۹۱۴) کو لوگ اب تو بھول بھال گئے۔ اپنے دور کے اکابرین میں ہوئے ہیں۔ ۱۹۱۱ میں سفر عراق، ایران، شام وغیرہ کیا اور واپسی میں روزنامچہ سیاحت مرتب کر کے تجارتی پریس میرٹھ سے شائع کیا۔ بخارا میں عین عاشورا کے دن ایک خونریز بلوہ شیعہ سنیوں کے درمیان دو ایک سال قبل ہو چکا تھا۔ اس کا ذکر کر کے لکھتے ہیں:
’’بخارا کے افسوس ناک فساد کی بنیاد صرف یہ نکلی کہ عاشورا کے دن وہاں کے شیعہ (جو ایرانی الاصل ہیں) اور منجملہ دو لاکھ آبادی کے ۱۵ ہزار کی تعداد میں ہیں، بازاروں کے اندر ماتم کرتے جا رہے تھے۔ ایک ترکمان طالب علم ان کو دیکھ کر ہنسنے لگا۔ عزا داروں نے اس کے دو تین تھپڑ مارے۔ اس پر دیگر لوگ آئے اور طرفین سے دو دن تک بلوے رہے۔ ڈیڑھ سو آدمی قتل ہو گئے۔ وزیر بخارا جو شیعہ تھا، معزول ہوا اور روس کا تسلط بخارا میں اور بھی زیادہ ہو گیا۔ اکثر مسلمانوں کی جہالت ہے کہ ایک دوسرے کا خون بہانے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے ہیں جس کی یہ ایک ادنیٰ مثال ہے۔‘‘ (ص ۳۳۸) (۱۸ ستمبر ۱۹۵۹)
رواداری کا کلچر
علامہ مناظر احسن گیلانی کے مقالہ ’’اسلام میں فرقہ بندی کی حقیقت واصلیت‘‘ سے:
’’فرقہ واری رواداری کا یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ جن دنوں میں علامہ شبلی نعمانی مرحوم ’’الفاروق‘‘ لکھ رہے تھے، علی گڑھ کالج کی پروفیسری کی خدمت پر مامور تھے۔ سرسید احمد خان کو اندیشہ ہوا کہ کالج کے ہمدردوں میں جو شیعہ حضرات ہیں، وہ حضرت عمر فاروق کی اس سوانح نگاری سے برا مان جائیں گے۔ انھوں نے ازراہ مصلحت بینی کالج کے ایک بڑے شیعہ ہمدرد ومددگار نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی کو مولانا شبلی کے ارادہ سے مطلع کرتے ہوئے اپنا خطرہ بتا دیا کہ اس کتاب سے مجھے سنی شیعہ تفریق کا ڈر ہے اور لکھا کہ میں نے مولانا شبلی کا قلم روک رکھا ہے۔ نواب صاحب مرحوم نے اس کا یہ جواب دیا کہ اسلام نے ایک فاروق پیدا کیا ہے۔ حیف ہے کہ اس کی سوانح عمری نہ لکھی جائے۔ مولوی شبلی کو ’’الفاروق‘‘ سے مت روکیے۔‘‘
مصنف ’الفاروق‘ کے مخلصانہ تعلقات نہ صرف اسی بلگرامی شریف شیعہ خاندان سے آخر تک قائم رہے، بلکہ عزیز لکھنوی اور خواجہ غلام الثقلین اور لکھنو کے اور شیعہ عمائد سے بھی رہے اور مولانا کی عزیز ترین یادگار دار المصنفین (اعظم گڑھ) کی مجلس اعلیٰ کے صدر اپنی زندگی بھر یہی عماد الملک سید حسین بلگرامی رہے اور ان کے بعد ان کے فرزند مہدی یار جنگ بہادر۔ خود علی گڑھ کی تحریک میں سالار جنگ، خلیفہ محمد حسین، سید حسن بلگرامی، سید علی بلگرامی، مرزا عابد علی بیگ اور خواجہ غلام الثقلین کا جو حصہ رہا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اور سر آغا خان اور راجہ علی محمد خاں (والی محمود آباد) تو مسلم یونیورسٹی کی روح رواں ہی مدتوں رہے ہیں۔ (۲۵ دسمبر ۱۹۵۹)
ہوش بلگرامی، جو بعد کو نواب ہوش یار جنگ بہادر ہو گئے تھے، ان کی آپ بیتی کا ایک ٹکڑا ماہ نامہ نقوش کے آپ بیتی نمبر سے:
’’خدا ہر ذی روح کاخالق ہے، بلکہ کائنات کی ہر چیز اسی کی مخلوق ہے، مگر اس کی عالمگیر تہذیب (؟توحید) اس امت کے ہاتھوں بدنام ہو رہی ہے جو توحید پرستی کے دعویدار ہونے کے باوجود خود ہی مختلف پرستشوں میں مبتلا ہو گئی ہے اور یہاں تک جراتیں بڑھ گئی ہیں کہ اسلام کا ایک فرقہ ان کو بھی برا بھلا کہنے میں بدنام ہے جن کو اگر وہ خلیفہ نہیں مانتا ہے تو ان کے صحابی ہونے سے تو انکار نہیں ہو سکتا ہے۔ اور اس پر بو العجبی یہ کہ وہ تبرا بازی کو محبت سے تعبیر کرتا ہے اور مدح وقدح کے قضیے کھڑے کر کے مسلمانی طاقت کو کو کمزور کر ہی چکا ہے، علیؓ کی شان میں بھی گستاخی کا محرک ہوتا ہے۔ جس طرح بتوں کو برا کہنے سے خدا کو برا کہلوانے کا حوصلہ پیدا کیا جاتا ہے، اسی طرح خلفاے ثلاثہ کی شان میں بے ادبیاں کر کے علی مرتضیٰ کو بلاوجہ ہدف بنایا جاتا ہے۔ ایسوں کو کون سمجھائے اور اگر سمجھائے بھی تو مذہبی جنون کب سمجھنے دیتا ہے؟ افترا پردازوں کا اجتہاد کب صحیح راستہ اختیار کرنے دیتا ہے؟ علیؓ کی حکیمانہ روش پر اگر ان کے متبع چلتے اور کسی کی مدح نہیں کر سکتے تو قدح بھی نہ کرتے تو یہ وہ راستہ ہوا جس سے دوسروں کے معتقدات کو صدمہ نہ پہنچتا، ان کے جذبات عقیدت نہ بھڑکتے اور انتقامی جذبہ اس حد تک نہ پہنچ جاتا جس سے خدا محفوظ رہا نہ رسول۔‘‘
کسی شیعہ صاحب کی نظر سے اگر یہ نوٹ گزرے تو وہ یہ یاد کر لیں کہ اوپر کی عبارت کسی سنی کے قلم سے نہیں اور نہ ا س سے مقصود کوئی مناظرہ ہے، ایک شیعہ کے قلم سے ہے اور اس سے ان کا مقصود اپنے ہی بھائیوں کی اصلاح اور نصیحت، انھیں کی ہمدردی وہوا خواہی ہے اور یقین ہے کہ اسے اسی نظر سے پڑھا بھی جائے گا۔ اکیلے ہوش بلگرامی ہی نہیں، متعدد شیعہ راقم سطور نے علی گڑھ ، حیدر آباد، لکھنو اور دلی وغیرہ میں ایسے دیکھے ہیں جو عمر فاروق کا نام ’’حضرت عمر‘‘ کہہ کر لیتے اور ہر طرح اہل سنت کے جذبات کا احترام کرتے۔ ایسوں کا وجود جب تک ہے، اتحاد اسلامی کی طرف سے مایوسی کی وجہ موجود نہیں۔‘‘ (۲۴ جولائی ۱۹۶۴)
مولانا ابو الحسن علی ندوی کے تازہ سیاحت نامہ میسور سے:
’’قدیم ریاست میسور کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہاں ہر قصبہ میں بالعموم اور شہروں میں بالخصوص بہت شاندار اور وسیع میونسپل ہال اور بہت خوبصورت، صحت افزا اور خوش وضع گیسٹ ہاؤس (سرکاری مہمان خانہ) اور ریسٹ ہاؤس (سرکاری فرو گاہیں) بنی ہوئی ہیں۔ میں نے شمالی ہند کے بڑے بڑے شہروں اور ضلع کے صدر مقام میں بھی اتنے اچھے انتظامات نہیں دیکھے۔ یہ غالباً سر مرزا اسمٰعیل کے حسن مذاق اور حسن انتظام کا نتیجہ ہے جن کے دور وزارت کی نشانیاں میسور کے چپہ چپہ پر موجود ہیں اور اہل میسور بلا تفریق مذہب وملت ان کا نام عزت سے لیتے ہیں۔‘‘
امین الملک سر مرزا اسماعیل مرحوم کا تعلق فرقہ امامیہ سے تھا۔ مولانا ندوی سلمہ سب کو معلوم ہے کہ موجودہ علماء اہل سنت کے اکابر میں ہیں۔ بات بہ ظاہر معمولی سی ہے، لیکن موجودہ ’’فرقہ وار‘‘ (اور یہی صحیح محل استعمال فرقہ واریت یا Sectarianism کا ہے، نہ کہ وہ مذہبی تعصب Communalism جس کے لیے بالکل غلط اور بے محل یہ لفظ اخباروں نے چلا دیا ہے) کشاکش کی فضا میں یہ صحیح داد مولانا کے قلم سے ادا ہونا ہر طرح مبارک اور بجائے خود قابل داد ہے۔ آج تو شیعیت کا معیار یہ رہ گیا ہے کہ بجائے امیر المومنین حضرت علیؓ سے انتہائی محبت رکھنے کے ہر سنی پر ’’ناصبیت‘‘ کی تہمت رکھ دی جائے اور سنیت کی روایت یہ ہے کہ بجائے شیخین کے نقش قد م پر چلنے کے ہر شیعہ کو رافضیت سے نواز دیا جائے۔ حالانکہ تاریخ کا فتویٰ تو یہ ہے کہ جہاں تک خالص ’’اسلامی‘‘ ثقافت (کلچر) کا تعلق ہے، وہ تو چہارم خلیفہ راشد پر ختم ہو گئی اور اس کے بعد سے جو ملی جلی مخروج اور غیر خالص ’’مسلم‘‘ تہذیب چلی اور آج تک چلی آ رہی ہے، اس میں سواد اعظم کے ساتھ ساتھ شیعہ اقلیت کا حصہ بھی اچھا خاصا شامل ہے۔ امت کی شان میں جو یہ آیا ہے: اشداء علی الکفار رحماء بینہم تو اس کے معنی یہی ہیں کہ یہ لوگ منکرین کے مقابلہ میں تو پتھر کی سی صلابت رکھتے ہیں، لیکن آپس میں ایک دوسرے کی کمزوریوں کے لیے موم کے سے نرم ہیں۔ (۳۰ دسمبر ۱۹۶۶)
اپنا مسلک ہر فرقہ بلکہ ہر مذہب کو اسی نام ولقب سے یاد کرنا ہے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے، نہ کہ ایسے لفظ سے جو وہ اپنے حق میں ناملائم بلکہ بطور گالی کے سمجھتا ہو۔ اسی اصول کے تحت لفظ ’’رافضی‘‘ کے استعمال سے ہمیشہ اجتناب رہا۔ حال میں لغت عربی خصوصاً الفاظ قرآنی کی مستند لغت کلیات ابی البقاء (متوفیٰ ۱۰۹۵) میں لغت ’رفض‘ پر نظر پڑ گئی اور اس میں یہ درج ملا:
ترجمہ: ’’روافض سے مراد وہ اہل لشکر ہیں جنھوں نے اپنے سردار کا ساتھ چھوڑ دیا۔‘‘
اس کے بعد ذکر اصطلاحی فرقہ رافضہ کا ہے۔
ترجمہ: ’’رافضہ ایسے ہی فرقہ کو کہتے ہیں، اور رافضہ شیعان کوفہ کے ایک فرقہ کا نام ہے۔ ان لوگوں نے زید بن علی (زین العابدین) سے بیعت کی تھی اور زید کا عقیدہ تھا کہ فاضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت بھی درست ہے۔ پھر ان لوگوں نے زید سے فرمایش کی کہ خلفاے شیخین سے تبرا کیجیے۔ اس سے آپ نے انکار کیا اور فرمایا کہ وہ دونوں تو میرے جد امجد (رسول اللہ ﷺ) کے وزیر تھے۔ اس پر ان لوگوں نے زید کو چھوڑ دیا اور ان سے علیحدگی اختیار کر لی اور یہی نسبت رافضی کہلاتی ہے۔‘‘
اور یہی روایت اختصار کے ساتھ لغت کی دوسری مستند کتابوں الجمہرۃ (ابن درید) صحاح جوہری، قاموس (فیروز آبادی)، لسان العرب وتاج العروس میں بھی دہرائی گئی ہے، لیکن ابو البقاء کی دینی حیثیت بھی نمایاں ہے، اس لیے پورا حوالہ انھیں کا نقل ہوا۔ روایت اگر صحیح ہے تو ظاہر ہے کہ لفظ رافضی میں بجائے خود کوئی پہلو سب وشتم کا نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مسلسل غلط محل استعمال سے اس میں ثانوی مفہوم طنز وتشنیع کا بھی پیدا ہو گیا ہے۔ (۱۰ جون ۱۹۶۶)
شیعہ سنی اتحاد کا مطلب
سوال: اسی مقصد کا ایک مضمون کسی ایرانی عالم کی طرف سے بھی آپ کے اخبار میں شائع ہو چکا ہے۔ جناب نے اس مسئلہ پر اپنا خیال مبارک ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ اتحاد ممکن بھی ہے یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ اس اتحا د کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا مشترکہ ادارت میں رسالہ شائع ہونے سے قرب حاصل ہو جائے گا؟ کیا شیعہ حضرات تبرا کرنے سے تائب ہو جائیں گے اور کیا سنی حضرات امامت حضرت علی کو جزو ایمان تسلیم کر لیں گے؟ اس کے علاوہ اس تفرقہ کے اجزا اور بھی بہت سے ہیں۔ اگر یہ ممکن ہے یعنی شیعہ حضرات کا تبرا سے تائب ہونا اور امامت حضرت علی کو تسلیم کرنا اور تمام جزوی اختلافات کو نظر انداز کرنا تو علماء حضرات آپ کے مقتدر اخبار میں اور دوسرے مذہبی رسالوں میں اعلان فرمائیں تاکہ عام مسلمانوں کی رہنمائی ہو۔ نیاز مند، عبد الستار خلجی (ناظم آباد نمبر ۳، کراچی)
صدق: جو اتحاد مطلوب ومقصود ہے، اس کے لیے صرف اصل اصول کا اشتراک بالکل کافی ہے۔ فروع بلکہ غیر اہم اصول کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ انضمام اور چیز ہے (اور اس پر کوئی بھی فرقہ کیوں راضی ہونے لگا) اور اتحاد اور۔ اتحاد کی دعوت تو قرآن مجید نے غیر مسلموں (یہود ونصاریٰ) تک کو دی ہے، یہ کہہ کر کہ توحید کو بطور نقطہ اشتراک قبول کر لو، اور ان کے دوسرے عقیدوں سے کوئی بحث ہی نہیں رکھی اور مدینہ آ کر یہود سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ اتحاد قائم ہی کر لیا تھا۔ یہ طے کر لیجیے، اس پر سختی سے جم جائیے تو اتحاد ومصالحت کی صورت بالکل آسان ہو جاتی ہے۔ نقطہ اشتراک واتحاد اقرار شہادتین ہے، یعنی اقرار توحید ورسالت۔ مسئلہ امامت وتفضیل صحابہ وغیرہ گو اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن توحید ورسالت کی طرح اور وحدت کلمہ وقبلہ کی طرح بنیادی چیزیں نہیں۔ جزئیات کی طرف جائیے گا تو خود اہل سنت کے ہاں کتنے فرقے، کتنی تفریقیں نکل آئیں گی۔ (۲۹ دسمبر ۱۹۶۷)
الحاج محمد علی سالمین جن کا ایک ادارہ گرینڈ مسلم مشن کے نام سے بمبئی میں تھا جس کا کام زیادہ تر انگریزی میں ہوتا تھا اور جو خود امامیہ عقیدے کے ہیں، ان کا ایک مکتوب ان کے آبائی وطن بحرین (خلیج عرب) سے:
’’بحرین بہت قدیم ہے۔ یہاں کے رہنے والے اکثر عرب ہیں جن میں اثنا عشری ۹۰ فیصدی ہیں۔ باقی دوسرے عرب ممالک کے عرب اور ایرانی تاجر آکر آباد ہو گئے ہیں ...... میں نے ہر ہر جگہ عرب ممالک میں دیکھا کہ لفظ شیعہ سنی بہت مکروہ ہو گیا ہے اور پبلک اس کو گوارا نہیں کرتی۔ محض لفظ مسلم کافی سمجھتے ہیں۔ دونوں میں رشتہ داریاں ہوتی رہتی ہیں۔ مغربیت عربوں پر اثر انداز ہوتی جا رہی ہے اور نسل جدید اسلام سے ناواقف ہوتی جا رہی ہے اور مغربی تہذیب وتمدن کو اپناتی جا رہی ہے۔ کھانا پینا بھی یورپین طریقے سے کھاتے ہیں۔ صرف پرانے اور ادھیڑ عمر کے لوگ عربی کھانا اور عربی تہذیب پر چلتے ہیں ...... بحرین کی حکومت میں شیعہ سنی سب کو ملازمتیں ملتی ہیں، کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور نہ تعصب سے کام لیا جاتا ہے۔ سب سے بڑی جگہ ایک شیعہ عرب کو ملی ہے جو مالیات کے سیکرٹری ہیں۔ حاکم خود سنی مسلک کے ہیں، تعصب نام کی کوئی چیز نہیں۔ تمام رعایا ان سے خوش ہے۔‘‘
شیعہ سنی اتحاد سارے کلمہ گو فرقوں کے اتحاد کی طرح وقت کی ایک بڑی ضرورت ہے ۔ اہم ہمیشہ ہی سے تھا، موجودہ مصلحت ملی نے اہم تر بنا دیا ہے۔ اس پہلو سے خبر بڑی خوشگوار ہے، لیکن اس اتحاد کی بنیاد ہمیشہ وحدت امت وحب اسلام ہی پر ہونا چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ اس کی بنیاد لامذہبی، اسلام سے کم تعلقی اور دین کی طرف سے بے پروائی پر ہو، جیساکہ اس خبرنامہ کے بعض فقروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی عقائد کی طرف سے بے پروا ہو کر سب کے سب ’’صاحب‘‘ کے دین وآئین پر آتے جا رہے ہیں۔ یہ راہ ارتداد کی ہے، اتحاد ملی کی نہیں۔ اتحاد سوچ سمجھ کر شعور کامل کے ساتھ ہو۔ (۷ فروری ۱۹۶۴)
’’اقلیت کی خانہ جنگی‘‘ کے عنوان سے جو شذرہ صدق نمبر ۴۰ میں تحریر فرمایا ہے، ا س نے ایک دیرینہ تمنا کو پھر جگا دیا ہے۔ عرصہ سے یہ تمنا ہے کہ شیعہ سنی اتحاد کے ضمن میں آپ سے ایک مضمون لکھنے کی درخواست کروں۔ وقتاً فوقتاً آپ صدق میں اس جانب اشارہ فرماتے رہتے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں فرقوں میں تفرقہ جن بنیادوں پر ہے، اسے عوام کو بتا کر خصوصاً تعلیم یافتہ طبقہ کو روشناس کرا کر پھر اس کے دور کرنے کے سلسلہ میں کوئی آپ کی جیسی اتحاد پسند مقبول الطرفین اور منصف مزاج طبیعت کا مالک عالم دین اپنی تجاویز پیش کرے اور قرآن وحدیث اور واقعات وتواریخ کی روشنی میں ان بنیادوں کی تصحیح وتغلیط کی وضاحت کرے۔ بڑے بڑے پڑھے لکھے یعنی ایم اے، بی اے حضرات کو صحیح طور پر تفرقہ مذکور کی صحیح بنا معلوم نہیں اور بالکل من گھڑت باتوں پر ایک دوسرے سے نفرت رکھتے ہیں۔ میری ناقص رائے تو یہ ہے کہ اگر طرفین کو تفرقہ کا بنیادی فرق بتا کر اس کو دور کرنے کی ترغیب وتبلیغ کی جائے تو ان شاء اللہ معجزۂ اتحاد شیعہ وسنی بہت جلد ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ کاش آپ کو اس تحریک کی ابتدا کرنے کی فرصت وسعادت حاصل ہوجائے، یا آپ کے توسط سے کوئی اور عالم دین یا رہبر قوم اس کی ابتدا کرنے پر آمادہ وکمربستہ ہو جائیں! (عباس غفر اللہ لہ، از اسلام آباد)
صدق: یہ دنیا اگر اتنی حق پسند اور سلیم الفکر ہوتی تو اس درجہ خون ریزی وسفاکی اور شقاوت ہی کی نوبت تاریخ میں کیوں آئی ہوتی! شیعہ سنی اختلاف تو پھر کچھ نہ کچھ اہمیت رکھتا ہے۔ خود سنیوں نے اس سے کہیں ہلکے اور بالکل ہی جزئی وسطحی اختلافات پر دوسرے سنیوں کے گلے کاٹ ڈالنے اور سر توڑ دینے میں تکلف نہیں کیا ہے اور ہر فرقے کے اندر ٹولے ہی نہیں، چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بھی بے شمار قائم ہو چکی ہیں۔ اختلاف اور چیز ہے، اسے تو کوئی انسان دماغوں سے مٹا ہی نہیں سکتا اور تفرقہ، نزاع، تعصب وعیب جوئی دوسری چیز۔ اسلام کی بنیاد تو صرف توحید ورسالت کی تصدیق پر ہے۔ دل میں اگر اسی عقیدہ کا بنیادی اور مرکزی تصور جما ہوا ہے تو دوسرے اختلافات خود بخود ہلکے نظر آنے لگیں گے، لیکن یہی تو نہیں اور ہم آپ ۱۳ سو سال سے (بہ زبان رومی) گرفتار ابوبکر وعلی بن چکے ہیں۔ تعصبات، ایک دوسرے سے متعلق اعتراض، روایات، الزامات واتہامات کی کوئی حد ہی نہیں۔ صدیوں کی جمی ہوئی ضد کی جڑیں اکھاڑ پھینکنا کسی بشر کا کام تو ہے نہیں۔ اللہ میاں کسی کو فوق البشر بنا کربھیج دیں تو بات ہی اور ہے۔ (۱۱ اکتوبر ۱۹۶۸)
تبرا بازی کے جواب میں صحیح رویہ
میں کسی بھی کلمہ گو فرقہ کی تکفیر کا قائل نہیں اور فرقہ شیعہ امامیہ کے افراد کے ساتھ تو میرے تعلقات خصوصیت سے حد یگانگت تک پہنچے ہوئے ہیں۔ لکھنو، دہلی، علی گڑھ، پانی پت، بلگرام، حیدر آباد، پٹنے، بلکہ لاہور، کراچی، ڈھاکے وغیرہ کے پچاسوں بہترین شیعہ افراد سے ربط ضبط نہ صرف قائم رہا ہے بلکہ بعض ملی موضوع پر ان سے اشتراک عمل کی بھی نوبت آ چکی ہے۔ چنانچہ حال ہی میں ، میں نے ایک ممتاز شیعہ فاضل سے درخواست کی کہ شیعہ اہل نظر، اہل قلم نے مسلم ثقافت اور مسلم علوم وفنون (تفسیر، کلام، تاریخ، لغت، صرف، نحو، شعر وادب، فلسفہ، ریاضیات، طبعیات وغیرہ) میں جو خدمات اس ساڑھے بارہ سو سال کی مدت میں انجام دی ہیں، اسی طرح شیعہ اہل سیف واہل سیاست نے فتوحات ملکی وغیرہ کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں، اس سب پر ایک ضخیم ومبسوط رسالہ بلکہ ہو سکے تو کتاب چند جلدوں میں تیار کیجیے اور دنیا پر دکھا دیجیے کہ آپ کے فرقہ کا قدم بھی عام ومشترک خدمات ملت میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ان شیعہ کرم فرماؤں کی ایک بڑی تعداد دنیا سے اٹھ گئی، پھر بھی جو باقی رہ گئے ہیں، ماشاء اللہ ایسی کم نہیں، ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ ان کے اخلاص پر مجھے اعتماد وفخر ہے اور کبھی کبھی انہوں نے مجاہدانہ حد تک میرے ساتھ اشتراک عمل کیا ہے۔
اس ذہنیت اور حسن ظن کے پس منظر کے ساتھ میں کانپ کر رہ گیا جب بے شان وگمان بلا کسی ادنیٰ توقع وخیال کے پاکستان کے کسی مذہبی یا مناظرانہ رسالہ میں نہیں، ایک خالص ادبی رسالہ کے دسمبر نمبر میں کسی مولوی صاحب کا نہیں، ایک ٹھیٹھ مسٹر صاحب کا افسانہ تینوں خلفاے راشدین کی ہجو وتبرا سے لبریز اپنی آنکھوں سے پڑھ لیا۔ آنکھوں کو اپنے پر یقین نہ آیا۔ دوبارہ پڑھنے کی کوشش کی اور دل پر جبر کر کے کسی حد تک تو پڑھ ہی لیا۔ مضمون نگار ایم اے پی ایچ ڈی ہیں۔ جوار لکھنو کے رہنے والے ہیں۔ لکھنو یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد تھے۔ کراچی یونیورسٹی میں بھی انگریزی ہی کے ہوں گے، یا شاید اردو کے ہوں۔ اب تک صرف اپنی تنقیدوں اور افسانوں ہی کے لیے مشہور رہے ہیں۔ میرے پرانے ملنے والے ہیں اور تقسیم سے قبل کے۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ان کا قلم اس درجہ سفاک، دل آزار وصبر آزما ثابت ہوگا۔ رسالہ کا نام ’’ساقی‘‘ (کراچی) ہے۔ معلوم ومعروف شاہد احمد مرحوم دہلوی اس کے ایڈیٹر تھے۔ اب پرچہ کے اوپر ضابطہ سے نام ان کی بیوی کا ہے، لیکن ناممکن ہے انھوں نے مضمون کو پڑھنے یا سمجھنے کے بعد درج کیا ہو۔
کسی سنی مسلمان کے لیے ممکن نہیں کہ مضمون پڑھ کر اس کا خون کھول نہ جائے اور شیعوں کی طرف غصہ ونفرت اس میں موجزن نہ ہوجائے۔ مجرم کے جرم کو ہلکا کرنے کے لیے یہ ہرگز کافی نہیں کہ افسانہ بڑے لخلخہ کے ساتھ قدیم افسانوی بندشوں اور تلازموں سے لکھا گیا ہے۔ میں مضمون کے ٹکڑے نقل کر کے خواہ مخواہ زہر کے پھیلانے کا مرتکب نہ ہوں گا اور نہ میں چاہتا ہوں کہ اب تک کسی سنی نے بھی اسے دیکھا ہو۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ صرف شیعہ ہی اسے پڑھیں اور پھر جو کچھ ان کے انصاف میں آئے، وہ سزا اس مجرم کو اپنی عدالت سے دیں اور اس طرح سنیوں کی اشک شوئی کریں۔ خدا نخواستہ یہ توقع نہ پوری ہو تو ظاہر ہے کہ اہل سنت کو چارہ جوئی کا پورا اختیار باقی رہے گا۔
۱۶، ۱۷ برس قبل اسی قسم کا بلکہ اس سے بھی کہیں تلخ وتکلیف دہ تجربہ ایک بے ادب، بے نصیب شاعر کی تحریر سے متعلق ہوا تھا۔ میں نے تحریر کو شائع کر کے فیصلہ صرف شیعہ حضرات ہی پر چھوڑ دیا تھا۔ بحمد اللہ شیعیان لکھنو (خصوصاً خان بہادر مولوی سید مہدی حسن صاحب) نے فوری طور پر کارروائی کی اور بغیر اہل سنت کو درمیان میں لائے خود ہی بدتمیز شیعہ شاعر کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ (۱۶ فروری ۱۹۶۸)
سوال: میں ہر سال یوم حضرت امیر معاویہؓ مناتا ہوں جس میں مسلمانان عالم کے اماموں اور کاتب وحی کے صرف مناقب بیان کیے جاتے ہیں تاکہ مسلمان اس مدبر کے حالات سے باخبر ہوں۔ ایسا کرنے پر مجھے مطعون کیا جاتا ہے۔ میں اپنے بزرگوں سے سالانہ جلسے پر پیغامات ارسال کرنے کی استدعا کرتا ہوں تو مجھے ڈانٹ ڈپٹ کے خط بھیجے جاتے ہیں، لیکن کچھ بھی ہو، میں مرتے دم تک ایسا کرتا رہوں گا۔ آج آنجناب کے ملاحظہ میں ایک پوسٹر پیش کرتا ہوں جو یہاں کے شیعہ حضرات نے ہر در ودیوار پر لگوایا ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ ان حضرات کو سات خون معاف اور ہم اگر فضائل بھی بیان کریں تو گنہگار۔ یہ کیسی منطق اور کیسا انصاف؟ والا جناب سے میری استدعا ہے کہ میرا نام ظاہر فرماتے ہوئے ’’صدق‘‘ میں اس تعلق سے ایک نوٹ تحریر فرمائیں کہ ایسا پوسٹر کیا دوسروں کی دل آزاری کا باعث نہیں ہے۔ (کفش بردار، مرزا جمیل احمد بیگ، ایم اے، ایل ایل بی (علیگ) ایڈووکیٹ، موتی مارکیٹ، حیدر آباد)
صدق: ایسے شر انگیز پوسٹر کے صدق میں شائع ہونے کی توقع ہی آخر کیسے کی جا سکتی تھی؟ اہل سنت کے لیے اتنا اشتعال انگیز، اتنا ہیجان آور! اسے توفوراً ہی صبر ’’جمیل‘‘ سے کام لے کر ردی میں پھینک دینا تھا، جیسا کہ دنیا کی اور بہت سی بیہودہ اور صبر آزما اشتعا ل انگیزیوں کے موقع پر کرنا ہی پڑتا ہے، عقل وشریعت دونوں کے مقتضا سے۔ لیکن یہ بھی دوسری طرف زیادتی ہے کہ ایسی تکلیف دہ صبر آزما حرکتوں کو منسوب حیدر آباد کے کل شیعوں بلکہ ان کی اکثریت کی بابت بھی کیا جائے۔ اس سرزمین پر آخر سالار جنگ اور ان کی اولاد رہ چکی ہے۔ عماد الملک سید حسین بلگرامی، ڈاکٹر سید علی بلگرامی اور بلگرامیوں کا پورا خاندان گزر چکا ہے اور بہت سے حضرات۔ آپ ان کی طرف دیکھیے۔ یہ تو ان کی صرف ایک مختصر سی ٹولی ہے، اور ایسی ٹولیاں کس فرقہ، کس قوم، کس مذہب میں نہیں ہوتیں؟
تدبر اور دور اندیشی کا تقاضا ہے کہ رواداری اور باہمی سازگاری کی ایسی فضا پیدا کی جائے جس میں ایسی آوازیں بالکل دب کر رہ جائیں۔ اپنی ساری توانائی، ہمت اور اثر انھیں مصلحانہ ومصالحانہ کوششوں میں صرف فرمائیے۔ ’’جوابی‘‘ اور ’’انتقامی‘‘ کارروائیاں محض آگ پر تیل چھڑکنے کا کام دیں گی اوران کا منحوس چکر کبھی ختم ہونے پر نہ آئے گا۔ سارا زور صرف متفقہ مسائل پر دیجیے جو بنیادی اور کلیدی مسائل ہیں۔ ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن، ایک کلمہ، ایک قبلہ، اتنی اکٹھی نعمتیں اور کس کو ملی ہیں؟ ان کی ناقدری کفران نعمت کی ایک بدترین شکل ہے۔ بہت سے اعمال بجائے خود مستحب وافضل ہوتے ہیں، لیکن جب ان سے صورت کسی فتنہ کی پیدا ہو جائے اور ترک واجب ان سے لازم آنے لگے تو ان کا ترک بھی عقلاً وشرعاً واجب ہو جاتا ہے۔
اختلافی مسائل جو کچھ بھی ہیں، وہ تمام تر فرعی (مثلاً امامت ومسئلہ ولایت) ان پر باہمی گفتگو ہمیشہ علمی وسنجیدہ انداز میں ہو سکتی ہے اور ان کی بنیاد پر کوئی فساد، ہنگامہ، بلوہ آج تک نہیں ہوا ہے۔ .....بعض تاریخی شخصیتوں کے ٹکراؤ، نزاع واختلاف بڑھانے والے گھسے پٹے ہوئے واقعات کو دہرانے کے بجائے ان حقیقتوں کو اپنی فکر ونظر کے سامنے لاتے رہیے:
(۱) سنی حکمرانوں کے وزیر اعظم اور سپہ سالار کس کثرت سے شیعہ رہا کیے ہیں اور اسی طرح شیعہ رئیسوں کے دیوان اور مینیجر سنی۔ بے شمار مثالیں مل جائیں گی۔
(۲) پختہ وراسخ سنی حکمرانوں کی مائیں اور بیگمات کس کثرت سے شیعہ گزری ہیں۔ سلطان اورنگ زیب کی والدہ کون تھیں؟ اور جہانگیر اور شاہ جہاں کی بیگمات کون؟
(۳) ’’مسلم کلچر‘‘ جس قدر قابل قدر مجموعہ کانام ہے، ا س کے اجزاء ترکیبی میں سے ایک ایک پر غور کیجیے۔ تاریخ، لغت، ادب، کلام، شاعری، طب، معماری، صناعی، منطق، فلسفہ، طبیعیات وغیرہ، ان میں سے ہر ایک کی تشکیل میں فرقہ اکثریت کے ساتھ ساتھ کتنا ہاتھ فرقہ اقلیت کا بھی ہے۔
(۴) ہندوستان میں مسلم کلچر کے اس عظیم ادارہ کی طرف نظر کیجیے جس کا نام مسلم یونیورسٹی ہے کہ شیعہ بھی اس میں کس گرم جوشی کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ (۱۳ جون ۱۹۶۹)
اسلام، عالم اسلام اور مغرب
ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی
(یکم اکتوبر ۲۰۰۴ کو آکسفرڈ کے موڈلن کالج کے ہال میں آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب سے ملائشیا کے وزیر اعظم اور اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ احمد بداوی نے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان احمد نظامی کی دعوت پر الشریعہ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ ڈاکٹر بداوی کے خطاب کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔ مدیر)
جناب ڈاکٹر فرحان نظامی صاحب،
معزز مہمانان،
خواتین وحضرات!
۱۔ آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز میں خطاب کرنا میرے لیے حقیقتاً بڑے شرف اور اعزاز کی بات ہے اور میں اس نہایت ممتاز پلیٹ فارم سے گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر جناب ڈاکٹر فرحان نظامی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ مسلم دنیا کے مطالعے کے لیے یہ سنٹر ایک اعلیٰ ادارے کے طور پر ترقی کی منزلیں طے رہے گا۔ ملائشیا اس سنٹر کی متنوع سرگرمیوں، بالخصوص مغرب میں وسیع پیمانے پر اسلام کی تفہیم کے حوالے سے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
۲۔ میں آپ کے ساتھ کئی حیثیتوں سے مخاطب ہوں۔ سب سے پہلے تو میں ایک مسلمان ہوں۔ میں ایک مذہبی عالم کا بیٹا ہوں اور میرے دادا بھی ایک عالم تھے۔ بچپن میں، میں شام کے وقت اپنے گاؤں کے قریب ایک انگریزی سکول میں جایا کرتا تھا، جبکہ صبح کے اوقات میں اپنے دادا کے مدرسے میں، جو کہ آج بھی موجود ہے، مذہبی تعلیم پاتا تھا۔ میں اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر اپنے امکان کی حد تک پورے یقین اور اخلاص کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔
۳۔ میں ایک ایسے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے بھی آپ سے مخاطب ہوں جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار بستے ہیں اور ان میں سے مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اللہ کے فضل سے آج میرا ملک ایک پرامن، مستحکم اور جمہوری ملک ہے اور ترقی کے راستے پرتیزی سے گامزن ہے۔ مسلمان، بدھ، مسیحی، ہندو اور دیگر تمام مذاہب کے پیروکار امن اور ہم آہنگی کے ماحول میں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے اور رواداری کی فضا میں رہ رہے ہیں۔
۴۔ میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی مخاطب ہوں، جو ۴ء۱ بلین آبادی رکھنے والے ۵۷ ممالک پر مشتمل ہے۔ ہماری تعداد مجموعی انسانی آبادی کے پانچ فیصد سے زائد ہے۔ او آئی سی کے چیئرمین کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کے جذبات، دکھ درد اور تمناؤں کی بھی ترجمانی کروں اور ان کا پیغام آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں۔
خواتین وحضرات!
۵۔ عالم اسلام اپنے وجود میں آنے کے بعد پندرہ صدیوں سے متنوع چیلنجوں سے دوچار رہا ہے۔ یہودیت اور مسیحیت کی طرح، جن کے ساتھ اسلام کا ایک نسبی رشتہ ہے، اسلام بھی شدید مخالفت کے ماحول میں پیدا ہوا تھا۔ یہ مخالفت پر غلبہ پا کر دنیا کا ایک عظیم مذہب بن گیا، تاہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد ہی اس کو ہمیشہ کے لیے تشتت وافتراق کا شکار ہونا پڑا۔ مسلم حکومتوں نے جلد ہی بعض ایسی اعلیٰ اور ارفع اقدار کو طاق نسیاں پر رکھ دیا جن کا اسلام علمبردار ہے اور جن کی پابندی ابتدائی حکومتوں نے پورے خلوص کے ساتھ کی۔ جبر واستبداد پر مبنی حکمرانی مسلمانوں کے سیاسی منظر میں آہستہ آہستہ نمایاں ہونا شروع ہو گئی۔
۶۔ تاہم عرب مسلم دنیا نے ۸ ویں سے ۱۱ ویں صدی کے دوران میں تہذیب وثقافت اور علم کی بلندیوں کو چھوا۔ اس نے رومی یونانی تہذیب سے بہت کچھ سیکھ کر اس میں بہت اضافہ کیا، اور اس کو پوری طرح اپنی تہذیب کا حصہ بنا کر اسے یورپ کو منتقل کر دیا۔ عربی زبان شرق اوسط میں ابلاغ کے لیے ایک مشترکہ زبان قرار پائی۔ شرح تعلیم قرون وسطیٰ کے یورپ کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ ہر جگہ مدارس موجود تھے اور یونیورسٹیوں کی بہتات تھی۔ خود تنقیدی اور بحث وجستجو پر مبنی ثقافت نے جڑیں پکڑنا شروع کر دیں۔
۷۔ اگرچہ صلیبی جنگوں نے مسلم دنیا کو ایک عظیم بحران سے دوچار کر دیا، لیکن پھر بھی ایرانی، اندلسی، عثمانی اور مغل قیادت کے تحت اس میں عظیم الشان کامیابیاں حاصل کرنے کی صلاحیت برقرار رہی۔ ا س کے بعد مسلم اقوام یورپ کے نوآبادیاتی نظام کے شکنجے میں آ گئیں اور یہاں کے عوام اپنی خود مختاری اور آزادی سے محروم ہو گئے۔ ان کے وسائل کا استحصال کیا گیا اور انھیں لوٹا گیا۔ فلسطین عربوں سے چھین لیا گیا اور اس کے بہت سے باشندے گھر سے بے گھر ہو کر پناہ گزین بننے پر مجبور ہو گئے۔
۸۔ نوآبادیاتی غلامی سے چھٹکارا پانے کے بعد ہم میں سے بعض ممالک نے تو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کچھ ملکوں کے لیے تیل ایک نعمت بن گیا جس نے وہاں کے لوگوں کے لیے ایک ایسے معیار زندگی کے حصول کو ممکن بنا دیا جس کو وہ اس کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ ممالک نے اپنے ہاں عملیت پسندی پر مبنی سیاسی، معاشی، سماجی اور تعلیمی اصلاحات بھی کیں۔
۹۔ تاہم مسلم دنیا کے بعض حصوں میں نوآبادیاتی دور کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیوں کے باوجود، مایوسی پیدا کرنے والے پہلو بھی بہت سے ہیں۔ مسلم دنیا کو درپیش مسائل کا بوجھ بہت عظیم ہے۔ کچھ مسلمان ملک تو شدید طور پر غربت، جہالت اور خوراک کی کمی کے شکار ہیں۔ کچھ جبر واستبداد اور بے انصافی کے حوالے سے نمایاں ہیں۔ عالمی سطح پر مسلمان ممالک ایک ایسی متحد آواز سے محروم ہیں جس پر سنجیدگی سے توجہ دی جاتی ہو۔
۱۰۔ ۵۷ مسلم ممالک میں سے ایک بہت تھوڑی تعداد، یعنی صرف پانچ کے بارے میں یو این ڈی پی نے قرار دیا ہے کہ وہاں اعلیٰ انسانی ترقی ہوئی ہے۔ ۲۴ ممالک متوسط رفتار سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ بقیہ ۲۸، جو کہ نصف تعداد ہے، سست رفتار ترقی کرنے والوں میں شمار کیے گئے ہیں۔ مسلم دنیا کے صرف پانچ ممالک میں فی کس مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) ۱۰ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ ۳۰ ممالک میں فی کس جی ڈی پی ۱۰۰۰ ڈالر سے کم ہے۔
۱۱۔ اسلام علم کی جستجو پر زور دیتا ہے۔ قرآن کا آغاز ’اقرا‘ (پڑھو) کے حکم سے ہوا، تاہم علم کا حصول ہی وہ میدان ہے جس میں مسلم دنیا کی اکثریت پس ماندہ رہ گئی ہے۔ بیشتر ملکوں میں تعلیمی معیار پست اور ناخواندگی کی شرح بلند ہے جس کا سبب غربت، بد انتظامی، اور وسائل کی نامناسب تخصیص کے علاوہ جنگ اور تصادم ہیں۔ بعض ملکوں میں نصف سے بھی زیادہ بالغ آبادی ناخواندہ ہے۔
۱۲۔ کرپشن مسلم دنیا کا ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تیارہ کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے مطابق ہماری کارکردگی بے حد پست ہے۔ ۲۰۰۳ میں جن ۱۳۳ ممالک کا سروے کیا گیا، اس کے مطابق کرپشن کے حوالے سے سب سے بہتر ریکارڈ رکھنے والا مسلمان ملک بھی ۲۶ ویں نمبر پر آ سکا ہے۔ چار مسلمان ملکوں کو آخری دس نمبروں میں جگہ ملی ہے۔
خواتین وحضرات!
۱۳۔ میں نے آپ کے سامنے مسلم دنیا کی خستہ حالی کی تصویر پیش کی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس تلخ حقیقت کو موجودہ عالمی نظام مزید پیچیدہ بنا رہا اور ہمارے مصائب کی سنگینی میں اضافہ کر رہا ہے۔ میں خود تنقیدی کے عمل کا بھی خواہاں ہوں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانی عظمت، قدرتی انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی اس شرم ناک پامالی کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا جس کے اثرات مسلم دنیا پر براہ راست پڑے ہیں۔ جی ہاں، ہمیں خود کو بھی مورد الزام ٹھہرانا چاہیے، لیکن اس سے وہ پالیساں بے قصور قرار نہیں پاتیں جو پوری دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کو مسلسل جبر، تباہی اور الزام تراشی کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
۱۴۔ جبر کی مثالیں تو بہت سی ہیں، لیکن سب سے واضح مثال، جو ہر مسلمان کی گفتگو کا موضوع ہے، فلسطین کی ہے۔ فلسطینیوں سے ان کی سرزمین اعلان بالفر کے ذریعے سے چھین لی گئی جس کے بارے میں بالکل درست طور پر یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ ’’ایک قوم نے دوسری قوم سے وعدہ کیا کہ وہ اسے ایک تیسری قوم کی زمین لے کر دے گی۔‘‘
۱۵۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعدد قراردادوں سے واضح ہے، دنیا کی اکثریت پر یہ بات واضح ہے کہ فلسطینی ہماری امداد اور تعاون کے حق دار ہیں اور اسرائیل کو اس بات پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ اپنی فوجوں کو ۱۹۶۷ء کی سرحدوں سے پیچھے لے جائے۔ لیکن اس کے برعکس، ہر مسئلے اور ہر استدلال کو بگاڑ کر اسرائیل کے حق میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ قابض کی مدد کی جا رہی اور اسے اسلحہ دیا جا رہا ہے جبکہ فلسطینی اپنی حفاظت کے لیے بھی ہتھیار رکھنے کے حق سے محروم ہیں۔ فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کے دہشت گردانہ اقدامات کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان کو دفاعی اقدامات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی سہولت کی خاطر ایک حربہ یہ بھی استعمال کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کی تعریف کو قصداً صرف ان کارروائیوں تک محدود رکھا گیا ہے جو نیم حکومتی یا غیر حکومتی گروپ کریں، جبکہ ریاستی کارروائیوں کو اس سے خارج رکھا گیا ہے۔
۱۶۔ مسلم دنیا کے خلاف شدید تعصب کا رویہ صرف فلسطینی مسئلے تک محدود نہیں ہے۔ دنیا کبھی نہیں بھولے گی کہ عراق پر کیا جانے والا حملہ غیر قانونی تھا۔ حملے سے قبل دنیا کو بتایا گیا کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی صورت میں درپیش خطرے کی وجہ سے حملہ ضروری ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک بے بنیاد دلیل تھی۔ (غلطی تسلیم کرنے کے بجائے) آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے نے دنیا کو پہلے سے زیادہ محفوظ بنا دیا ہے کیونکہ صدام کا تختہ الٹ کر اسے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اگر خدا کے چاہنے سے کبھی قابل اعتماد جمہوریت، رواں معیشت اور امن وامان قائم ہو گئے تو ممکن ہے عراق کے لوگ صدام سے چھٹکارا دلانے کو قابل تحسین قرار دیں، لیکن یہ مقصد، اچھا ہونے کے باوجود، اس ضمن میں اختیار کیے جانے والے ناجائز ذرائع ووسائل کو سند جواز نہیں بخش سکتا۔
۱۷۔ ایک ملک کو یک طرفہ طور پر کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا کیا حق ہے؟ ٹھیک ہے، صدام ایک ظالم اور جابر حکمران تھا لیکن حفظ ماتقدم کے طور پر حملہ کرنے کے فلسفے اور غلبہ حاصل کرنے کے نظریے کے تحت خوف کی جو فضا پیدا کی گئی ہے، وہ بھی اتنی ہی جابرانہ ہے۔ یہ بات نہایت باعث تشویش ہے کیونکہ متعین لائحہ ہائے عمل کی تعیین کے لیے کوئی معروضی معیار موجود نہیں۔ ا س کے بجائے جو کچھ ہمیں نظر آرہا ہے، وہ عالمی سطح پر ایک مخصوص طبقے کے خلاف ایذا رسانی کا رویہ ہے جس کی تکلیف مسلمان ممالک سہہ رہے ہیں۔
۱۸۔ آج ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، کیونکہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم کی افزودگی کا عمل کر رہا ہے، لیکن عالمی برادری کی زبان پر ان ۲۰۰ ایٹمی ہتھیاروں کا ذکر تک نہیں آتا جن کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہ مانا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ڈیمونا کمپلیکس (Dimona Complex)میں موجود ہیں۔ وہاں کسی تفتیش کے لیے زور نہیں دیا جاتا، نہ پابندیوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اسرائیل پر حملے کا مشورہ دینے کا تو خیر سوال ہی کیا۔
۱۹۔ غیر ذمہ دارانہ اور کھوکھلے دعووں کے ذریعے سے اسلام کو ایک جنگجو مذہب اور مسلمانوں کو علی الاطلاق جنونی دہشت گردوں کے طور پر پیش کرنے کا سلسلہ بھی رکنا چاہیے۔ مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد منفی تصور کا رائج ہونا گیارہ ستمبر کے بعد کی کوئی نئی اور منفرد صورت حال نہیں ہے۔ آج اسلام کو منفی انداز میں پیش کرنے کا رجحان ان مغربی تعصبات کی یاد دلاتا ہے جن کے علمبردار سترہویں اور اٹھارویں صدی میں والٹیئر اور فرانسس بیکن رہے ہیں۔ آج مغرب میں اسلام کے بارے میں رائج تصور انیسویں صدی کے اواخر میں ارنسٹ رینان کے اس تبصرے سے مختلف نہیں ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ’’یورپ کی مکمل نفی، سائنس کے ساتھ کامل نفرت اور مہذب معاشرے پر جبر پر مبنی ہے۔‘‘
۲۰۔ جب تک یہ کھلے یا ڈھکے چھپے شکوک وشبہات موجود ہیں، کوئی بامعنی مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ بعض مغربی قائدین نے قابل تحسین طور پر بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن یہ بات اس لیے ناکافی ہے کہ (مغرب میں) عوامی جذبات کو تحریک دینے کا کام ایک ہیجان پسند مغربی میڈیا کر رہا ہے جو کم وبیش مکمل طور پر انتہا پسندانہ بحث ومباحثہ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اسلام کو ایک ایسا مذہب فرض کر کے جو اپنی ساخت اور رنگ ڈھنگ کے لحاظ سے کلی طور پر یکساں (Monolithic) ہے، اس کے ساتھ معاملہ کیا جا رہا ہے اور خود مسلم دنیا کے اندر جاری بحث ومباحثہ کی لطیف دلالتوں (Nuances) کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے مابین آرا کا جو تنوع پایا جاتا ہے، اس کا ذکر بھی سننے میں نہیں آتا اور مسلم معاشروں میں جاری بہت سے ترقی پسندانہ تجربات کی اطلاع بھی (مغربی عوام کو) بہم نہیں پہنچائی جا رہی۔
خواتین وحضرات!
۲۱۔ میں نے مسلم ممالک کی نہایت بنیادی ناکامیوں اور اس عالمی تناظر کا تجزیہ کرنے پر خاصا وقت صرف کیا ہے جس میں اس وقت مسلمان ممالک گھرے ہوئے ہیں۔ اب میں ان مثبت تبدیلیوں کی طرف آنا چاہوں گا جن کے لیے تگ ودو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالم اسلام بھی ان مصائب سے چھٹکارا حاصل کر سکے جو ہمیں درپیش ہیں اور مغرب بھی ہمارے ساتھ بالادستی کے بجائے مخلصانہ رویے پر مبنی مکالمے کا آغاز کرنے پر آمادہ ہو سکے۔
۲۲۔ داخلی لحاظ سے دیکھیے تو مسلم دنیا کی سب سے پہلی ترجیح اچھا طرز حکمرانی (Good governance) ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ہمارے عوام کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوش حالی حاصل کرنے کا سب سے یقینی ذریعہ ہے۔ اس ضمن میں ہمیں مختلف نظریات اور دنیا بھر میں کیے جانے والے تجربات سے بھی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، لیکن مسلم دنیا کو خود اسلام اور اس کی اپنی بہترین ہدایات سے بھی عظیم رہنمائی مل سکتی ہے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات کے اندر موجود حکمت ودانش کو دریافت کر سکیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ یہ زمانہ ماضی کی کوئی قدیم اور ناقابل عمل یادگار نہیں، بلکہ جدید ضروریات کے حوالے سے بھی مکمل طورپر قابل عمل ہے۔
۲۳۔ اچھے طرز حکمرانی کے بارے میں اسلام کا حکم قرآن مجید میں صریح طور پر مذکور ہے۔ کسی بھی مسلم ملک کی قیادت سنبھالنے والے مسلمان حکمران کو سورۃ النساء کی آیت ۵۸ کی یہ ہدایت یاد دلائی جانی چاہیے کہ ’’اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے مابین فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘
۲۴۔ اچھی اور عوام کے سامنے جواب دہ طرز حکومت کی توضیح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک قانون دہندہ، منتظم، قاضی اور عسکری کمانڈر کی حیثیت سے اپنے طرز عمل سے کی۔ عہد صحابہ کی صدق اور راستی کی نمائندہ مثالیں بھی بہت سبق آموز ہیں، مثلاً خلیفہ اول کی حیثیت سے حضرت ابوبکر کی افتتاحی تقریر جس میں آپ نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ اگر وہ اپنے فیصلوں میں غلطی کریں تو لوگ ان کی اصلاح کر دیں۔
۲۵۔ صدیوں کے عمل میں تشکیل پانے والے شرعی قوانین بھی ایک ایسی حکومت کے لیے جو اسلامی اصولوں اور اقدار کی علمبردار ہو، باکردار قیادت کو ایک لازمی شرط قرار دیتے ہیں۔ امانت اور اخلاقی ساکھ، انصاف کا جذبہ اور احساس عدل، لوگوں اور بالخصوص غریبوں سے محبت، ان کے دکھ درد کو جاننے کی خواہش، اور اہل علم ودانش کے مشوروں سے استفادہ، یہ اس اچھی حکومت اور قیادت کی خصوصیات ہیں جن کی وضاحت الفارابی، الماوردی، الغزالی اور ابن خلدون جیسے معروف مسلم مفکرین نے کی ہے۔
۲۶۔ اسلام کے اچھے طرز حکمرانی کے تصور میں انصاف خاص طور پر نمایاں ہے، کیونکہ اچھی حکومت کے لیے عدل اتنی بنیادی حیثیت رکھتا ہے ہے کہ قانون کی نظر میں برابری اور قانون کی حکومت جیسے تصورات کو ابتدائی دور کی اسلامی فقہ میں بے حد اہمیت دی گئی۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جدید قانون سے بہت پہلے، اسلامی قانون (مقدمات کے تصفیے کے لیے) مناسب دورانیے کی مرکزیت کو تسلیم کر چکا تھا۔
۲۷۔ قانون کی حکومت اور مناسب دورانیے میں مقدمات کے تصفیے کا تعلق ایک دوسرے بنیادی اسلامی اصول یعنی عدلیہ کی خود مختاری کے ساتھ ہے۔ یہ بے حد اہم بات ہے کہ چودہ سو سال قبل خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب نے یہ اعلان کیا کہ قاضیوں کو ہر قسم کے انتظامی دباؤ یا اثرات، خوف یا رعایت، سازش یا بدعنوانی سے بالاتر ہونا چاہیے۔ فی الحقیقت مسلم تاریخ میں متعدد قاضیوں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنے منصب کی آزادی کا تحفظ کیا ہے۔
۲۸۔ عدلیہ کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ عوامی احتساب کا تصور بھی اسلام کا ایک ناقابل تغیر اصول ہے جس کو بہت سے معاصر مفکرین اخلاقیات پر مبنی حکومت کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی میں خلیفہ دوم عمر بن الخطاب نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ (حکومتی مناصب پر فائز افراد کے) شخصی کردار کا ہر وہ پہلو جو عوام کی فلاح وبہبود پر اثر انداز ہوتا ہو، عوامی تفتیش کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ کا بیت المال میں موجود ذرا سی دوا کو اپنے علاج کے لیے استعمال کرنے سے پہلے لوگوں سے اجازت طلب کرنا اسی کی ایک درخشندہ مثال ہے۔
۲۹۔ قانون احتساب پر عمل درآمد کی مانند لوگوں کی آرا کا احترام بھی اسلام میں یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ خلفاے راشدین نے اپنے خیالات سے ٹکرانے والی آرا کو اہمیت دی اور انھیں قبول کیا۔ ایک فرمان نبوی میں امت کے اندر اختلاف رائے کی تحسین کرتے ہوئے اسے اللہ کی رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلامی تاریخ کے مختلف مرحلوں میں مذہب اور سیاسی امور سے متعلق علما اور عوام کے مختلف طبقات کے اندر صحت مند مباحثے کیونکر ممکن ہوئے۔
۳۰۔ ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آج ہمیں اسلامی فکر کی تجدید اور اصلاح کا کام کرنا ہوگا۔ میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ مسلم دنیا میں بحث ومباحثہ کا ماحول پیدا کر کے ہم نہ صرف اپنی علم ودانش کی روایت میں اضافہ کریں گے بلکہ ان انتہا پسندانہ نظریات کو بھی براہ راست چیلنج کر سکیں گے جو گزشتہ چند سالوں سے اسلام کا نمائندہ سمجھا جا رہا ہے۔ مسلم سیاسی رہنما، اہل علم اور دانش وروں کو اعتدال اور فہم ودانش کی باتوں کو دبانے کے بجاے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ان آوازوں کو آپ جدت پسند اسلام، ترقی پسند اسلام یا لبرل اسلام میں سے کوئی بھی نام دے لیں، مجھے یقین ہے کہ یہ اسلامی فکر کی تجدید میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
۳۱۔ روایتی فکر اور آرا کی اندھی تقلید کر کے اسلام کو زمانہ قدیم کی ایک چیز نہیں بنا دینا چاہیے۔ بے لچک ابہام پرستی، سخت لفظ پرستی پر مبنی عقائد اور ماضی کے مثالی نمونوں کی بازیابی کے تصورات اسلام کو ہر زمانے اور ہر دور کا مذہب ماننے میں، جو کہ اللہ کی منشا اور مقصد ہے، مانع ہیں۔ ہمیں اصلاح اور تجدید کے امکانات کے حوالے سے اپنے ذہن کو کھلا رکھنا چاہیے۔
۳۲۔ اس ضمن میں، میں اس بات پر بار بار زور دے چکا ہوں کہ آج کے زمانے میں کسی عالم یا قانون دان کے اجتہاد کو، جس کا مطلب شریعت کے مآخذ سے کوئی ایسی رائے اخذ کرنا ہے جو ازخود واضح نہیں، آج کے حالات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ مسلم معاشروں کو جو مسائل آج درپیش ہیں، وہ چھٹی صدی میں موجود نہیں تھے۔ سیاسی ادارے، معاشی نظام اور سماجی ڈھانچے ان سے بالکل مختلف ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم، خلفاے راشدین اور اسلام کے عظیم ائمہ اور فقہا کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ آج لوگ قبائلی اتحادوں کے بجائے قومی ریاستوں کی شکل میں رہتے ہیں۔ عالمی معاشی نظام کی گہرائی اور گیرائی میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے اور اس میں باہم ربط بھی پیدا ہو چکا ہے۔ سائنس انسانی کامیابیوں کے دائرے کو مسلسل وسعت بخش رہی ہے۔ اسلامی فکر کو ان تمام تبدیلیوں سے اجنبی اور غیر متعلق نہیں رہنا چاہیے۔
۳۳۔ معاصر مسلم مفکر یوسف القرضاوی نے اسلامی فکر میں تجدید کی ضرورت کا شدید احساس کیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جدید اسلامی تحریکیں خود اپنی ہی صفوں میں میں آزادی فکر کی مخالفت کریں گی اور تجدید کے دروازے کو بند کر کے اپنے آپ کو صرف ایک طرز فکر کا اسیر بنا لیں گی جس میں کسی دوسرے نقطہ نظر کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔
۳۴۔ اجتہاد کو معاصر مسائل سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ مقاصد شریعت کے فہم پر بھی ازسر نو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی قانونی یا علمی فکر اپنے آپ کو محض الٰہی متن کی لفظی پیروی تک محدود نہیں رکھ سکتی۔ شریعت کو محض بے لچک قوانین کا ایک مجموعہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک نظام اقدار بھی ہے جس میں مخصوص قوانین اور ضابطے ان بالاتر اقدار کے صوری مظاہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
۳۵۔ مقاصد شریعت کا علم بے حد اہم ہے لیکن اسلامی تاریخ میں اکثر اسے نظر انداز کیا گیا۔ حجۃ الاسلام امام غزالی اور شاطبی جیسے مفکرین نے اس علم کی تشکیل اسی طرح کی الجھنوں اور مشکلات کے پیش نظر کی تھی جن سے آج ہم دوچار ہیں، یعنی یہ کہ مسلم فکر کو اپنے دین کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ وابستگی اختیار کرنی چاہیے اور بالکل اس کے مانعانہ پہلووں یا بالکل جامد لفظی تعبیرات پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔
۳۶۔ امام غزالی نے شریعت کے جو پانچ مقاصد متعین طور پر بیان کیے ہیں، یعنی زندگی، عقل، عقیدہ، مال اور آبرو کی حفاظت، وہ آج بھی بامعنی ہیں۔ اس کے بعد بعض دیگر مفکرین نے انصاف، انسانی عظمت حتیٰ کہ معاشی ترقی کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ مقاصد کا علم مسلمانوں کو دین کے ایک نسبتاً بنیادی تصور پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے ذریعے سے ہمیں حدود سے متجاوز لفظ پرستی اور قانونی موشگافیوں سے نجات مل سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ صرف اسی طریقے سے ہم اپنے دین کی روشنی میں جدید مشکلات کا جواب دے سکتے ہیں۔
۳۷۔ مقاصد شریعت کو سمجھنے اور جدید دور میں اجتہاد کے لیے انھیں ایک بنیاد کے طور پر تسلیم کرنے سے ہم عقلی اور فکری جستجو کی روایت کا چراغ بھی روشن کر سکیں گے جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں ایک علمی کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔ مصر کے عظیم مصلح محمد عبدہ نے انیسویں صدی کے آخر میں بالکل بجا طور پر فرمایا کہ ’’قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم کائنات کے مظاہر اور جہاں تک ممکن ہو، اس کے اجزا کے حوالے سے عقلی استنباط اور علم وفکر پر مبنی تحقیق کا رویہ اپنائیں تاکہ ان چیزوں کے بارے میں یقین کی منزل تک پہنچ سکیں جن کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن ہمیں غلامانہ ذہنیت اختیار کرنے سے منع کرتا اور ہمیں انگیخت کرنے کے لیے ان لوگوں کی مثال بطور عبرت پیش کرتا ہے جنھوں نے مکمل اطمینان کے ساتھ اور (علم وعقل سے) بالکل بے نیاز ہو کر اپنے آبا واجداد کی اندھی پیروی کی اور نتیجے کے طور پر اپنے عقائد کو مکمل زوال سے دوچار کرنے کے بعد ایک انسانی گروہ کی حیثیت سے بالکل نابود ہو گئے۔‘‘
۳۸۔ مفتی محمد عبدہ کی اس بات کی بنیاد بآسانی قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت ۱۹۰ میں بتائی جا سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’سنو! زمین وآسمان کی تخلیق میں اور دن اور رات کے آنے جانے میں اہل عقل کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔‘‘
۳۹۔ جن ’اولو الالباب‘ کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے، ان سے مراد علم وعقل، سائنس، فلسفہ اور ٹیکنالوجی کے حصول میں مصروف لوگ ہیں۔ میرے نزدیک یہ آیت مسلمانوں کو قطعی طور پر یہ حکم دیتی ہے کہ وہ اپنے ذہنوں کو آزاد کریں اور سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل کریں تاکہ آج کے دور سے بالکل لاتعلق ہوکر نہ رہ ہو جائیں۔
خواتین وحضرات!
۴۰۔ جہاں تک ملایشیا کا تعلق ہے، مجھے یقین ہے کہ ہم نے اعتدال کی درمیانی راہ پر چلنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے قرآن مجید کی سورۂ بقرہ کی آیت ۱۴۳ کے اس حکم پر سختی سے عمل کیا ہے جو کہتی ہے کہ ’’اس طرح ہم نے تمھیں ایک معتدل امت بنایا ہے۔‘‘ یہ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے یاددہانی ہے کہ وہ اعتدال پر قائم رہیں اور انتہا پسندی سے گریز کریں۔
۴۱۔ یہ بات تسلیم کہ رسوم کی بڑی اہمیت ہے اور قرآن کا لکھا ہوا متن بے حد مقدس ہے، لیکن ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ بطور مسلمان ہمیں اپنے دین کی روح اور اس کے اعلیٰ ترین مقاصد کو بھی لازماً سمجھنا چاہیے۔ ہمار یہ بھی اعتقاد ہے کہ محض رسوم پر عمل کرنے سے ہم سچے مسلمان نہیں قرار پا سکتے۔ ہمارے ذمے اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی کامیابی حاصل کرنا لازم ہے، اس لیے ہمیں اس دنیا میں ترقی کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
۴۲۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہم نے اسلامی تحریکات کو تیزی سے بڑھتا ہوا دیکھا ہے۔ ان میں سے بہت سے گروہ سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کر چکے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں کے قانونی وسیاسی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ کچھ نے اپنے آپ کو سیاست سے الگ تھلگ رکھا ہے اور اس کے بجائے اپنی توجہ سماجی اور دعوتی کاموں پر مرکوز کر رکھی ہے۔ بد قسمتی میں سے ان میں سے کچھ نے تشدد کی راہ بھی اپنا لی ہے۔
۴۳۔ اپنے ملکوں کے سیاسی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرنے والوں کو اب ’’سیاسی اسلام‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ سیاست میں حصہ تو لیتے ہیں تاہم ان کے پیش نظر ایک ایسا مقصد ہے جو اس نظام سے بہت مختلف بھی ہو سکتا ہے جس کے اندر وہ مصروف عمل ہیں۔
۴۴۔ میرے ملک میں اپوزیشن پان ملائشیا اسلامک پارٹی نے مذہب کو اس حد تک سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اسلام کی اجارہ داری کی دعویدار ہے۔ وہ دیہاتوں کے باسیوں کو یہ کہہ کر اپنے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کرتے ہیں کہ اگر وہ ان کی جماعت کو ووٹ دیں گے تو انھیں جنت کا ملنا یقینی ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ انھوں نے میری جماعت کے ارکان اور حامیوں کو کافر قرار دیا۔
۴۵۔ ۱۹۹۹ کے عام انتخابات میں اسلامک پارٹی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ا س کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں اس کی نمائندگی تین گنا ہو گئی اور تیل سے مالا مال ایک صوبے پر اسے کنٹرول حاصل ہو گیا۔ ایک مضبوط اسلام پسند اپوزیشن کو دیکھ کر میری رواداری کو فروغ دینے والی اور ترقی پسند جماعت کے کچھ لوگوں نے سوچا کہ ہمیں اپوزیشن سے بھی بڑھ کر اسلام پسند بننا پڑے گا۔ بلاشبہ یہ ایک خطرناک مزلہ اقدام (Slippery slope) تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ملائشیا کے لوگوں کے سیاسی انتخاب کے فیصلے پر مذہب پسندی کا عامل کسی حد تک ضرور اثر انداز ہوتا ہے لیکن ووٹروں کے لیے زیادہ اہمیت اچھے طرز حکومت اور وسیع بنیاد پر معاشی ترقی کو حاصل تھی۔
۴۶۔ جب گزشتہ اکتوبر میں، میں نے حکومت سنبھالی تو میں نے ان شکایات کے ازالے کے لیے جن کی وجہ سے ہم ۱۹۹۹ میں عوامی حمایت سے محروم ہو گئے تھے، عاجزانہ طور پر اصلاحات کا آغاز کیا۔ میں نے کرپشن کے خلاف سخت ایکشن لیا، پولیس فورم کے لیے ایک وسیع اصلاحی پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا، اور حکومتی اداروں، مثلاً عدلیہ کے قابل اعتماد اور خود مختار ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ میں نے بجٹ کو متوازن بنانے کا آغاز کیا اور حکومتی اخراجات کا رخ ضرورت مندوں کے لیے معاشرتی اور معاشی پروگراموں کی طرف موڑا۔ میں نے زرعی شعبے کی ترقی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دیہاتی علاقے جن کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے، پس ماندہ نہ رہ جائیں۔
۴۷۔ اللہ کے فضل سے ووٹروں نے مثبت جواب دیا۔ میری جماعت آزادی کے بعد سب سے بڑی کامیابی حاصل کر کے حکومت میں واپس آئی اور ہم وہ صوبہ بھی واپس لینے میں کامیاب ہو گئے جو ۱۹۹۹ میں ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ اس طرح ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم اسلام پسندی کے دعوے داروں کو محض یہ دعویٰ کر کے شکست نہیں دے سکتے کہ ’’ہم تم سے زیادہ دین دار ہیں‘‘، بلکہ اس کے لیے لوگوں کے غم وغصے اور جھنجھلاہٹ کی بنیادی وجوہ کو دور کرنا ہوگا۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ جن مسائل کو ہم نے اپنی توجہ کا موضوع بنایا، دوسرے مسلمان ممالک کے مسائل بھی ان سے ملتے جلتے ہیں اور ان مسائل کو حل کر کے ایک جمہوری مقابلے کے ذریعے سے اسلام کے دعوے داروں کو شکست دی جا سکتی ہے۔
۴۸۔ تاہم اس سارے معاملے کا ایک پہلو اسلام سے متعلق بھی تھا۔ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج مسلمانوں کے لیے اسلام پر عمل کرنا پہلے سے بڑھ کر لازمی فریضہ بن چکا ہے۔ مسلمان اللہ کے نام پر اور مذہب کی خاطر عمل کرنے کو لازم اور فرض سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ عظیم فریضے کی عملی ادائیگی کا ظہور بعض ایسے افعال کی صورت میں ہو رہا ہے جن کی اسلام نفی اور مذمت کرتا ہے۔ بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور بے ضرر عوام پر بموں سے حملے کرنا ایسے اقدامات ہیں جو گمراہانہ طور پر مذہب کی آڑ لے کر کیے جا رہے ہیں۔
۴۹۔ تاہم اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مذہب کی حکمرانی کس قدر طاقت ور ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دین پر عمل کے اس جذبے کو ہم ملائشیا میں نیکی، ترقی اور بہتری کے کاموں کی طرف موڑ لیں گے۔ اس اپروچ کو ہم تہذیبی اسلام یا ترقی پسند اسلامی تہذیب کا نام دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی اپروچ ہے جو شکل وصورت کو نہیں بلکہ روح اور حقیقت کو اہمیت دیتی ہے۔ یہ اپروچ مسلمانوں کو یہ بات سمجھانا چاہتی ہے کہ اسلام ترقی کو فرض قرار دیتا ہے۔ یہ اپروچ جدیدیت سے ہم آہنگ ہے، تاہم اس کی مضبوط بنیاد اسلام کی اعلیٰ اقدار اور ہدایات میں ہے۔ اس کے مطابق دس بنیادی اصول ایسے ہیں جن پر مسلم ممالک کو نمایاں طریقے سے عمل پیرا ہونا چاہیے:
۱۔ اللہ پر ایمان اور اس کا تقویٰ
۲۔ منصفانہ اور قابل اعتماد حکومت
۳۔ آزاد اور خود مختار پولیس
۴۔ علم پر مہارت کے لیے پرجوش تگ ودو
۵۔ متوازن اور جامع معاشی ترقی
۶۔ لوگوں کے لیے بہتر معیار زندگی
۷۔ اقلیتی گروہوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
۸۔ ثقافتی اور اخلاقی دیانت داری
۹۔ قدرتی وسائل اور ماحول کا تحفظ
۱۰۔ مضبوط دفاعی صلاحیت۔
۵۰۔ ان رہنما اصولوں، نظام حکومت کی بہتری کے لیے ہمارے مسلسل ریکارڈ اور عوام کے سامنے جواب دہی کے تصور سے اعلیٰ وابستگی کے ساتھ، ملایشیا مسلم دنیا میں تجدید، اصلاح اور غالباً نشاۃ ثانیہ کے لیے ایک حقیر سا عملی نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ملایشیا کے پاس مسلم دنیا کو درپیش متنوع مشکلات میں سے ہر ایک کا جواب موجود ہے۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ مختلف ممالک کو اپنے مسائل کے لیے الگ الگ حل درکار ہیں، تاہم مجھے یقین ہے کہ ملائشیا ایک کامیاب اور جدید مسلمان ریاست کا اچھا عملی نمونہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خواتین وحضرات!
۵۱۔ ملایشیا، عالم اسلام کی تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر او آئی سی کی صدارت کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ او آئی سی میں ان مسلم ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے جنھیں مسلم دنیا کی ناکامیوں اور خامیوں کا اعتراف کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان میں سے کچھ تو ان اصلاحات کو اپنا بھی رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ اچھے طرز حکمرانی اور فکری لحاظ سے زیادہ آزاد اور پرجوش امہ کی تشکیل کے سلسلے میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم عالم اسلام میں کی جانے والی ان کوششوں کی بارآوری کو (مغرب کے رویے سے) الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ مسلم دنیا میں اصلاح کے اقدامات کے ساتھ ساتھ بڑی مغربی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں میں بھی دکھائی دینے والی اور با معنی تبدیلیاں سامنے آنی چاہییں۔
۵۲۔ اگر ان ممالک کی پالیسیاں حسب سابق من مانی اور مغرب کے ’’خیر‘‘ کے مقابلے میں باقی دنیا کو ’’شر‘‘ سمجھنے کی ڈگر پر قائم رہیں گی، جن میں مسلم دنیا کے چند انتہا پسندوں کے متشددانہ موقف کا عکس نظر آتا ہے، تو پھر ہم میں سے اصلاح، تجدید اور ترقی کے خواہاں ناکام رہ جائیں گے۔ اگر مغرب کی اس عمومی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو اس سے مسلم دنیا میں بھی رویے سخت تر ہو جائیں گے۔ جو لوگ درمیان میں ایک اعتدال پسندانہ موقف اختیار کرنا چاہتے ہیں، انھیں معذرت خواہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر غدار قرار دیاجائے گا۔ دونوں جانبوں کے انتہا پسند عناصر ہماری تہذیبوں کو مزید دور کر دیں گے اور دونوں کے درمیان نقطہ اتصال کبھی پیدا نہیں ہو سکے گا۔
۵۳۔ مسلم دنیا کو مغرب کی جانب سے محض اس زبانی یقین دہانی کی ضرورت نہیں ہے کہ مغرب کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مطلوبہ اقدامات کرنے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ سب سے پہلے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دہشت گردی کی بنیادی وجوہ، مثلاً مسئلہ فلسطین کو تسلیم کر کے ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ مغرب کو اس طاقت ور جذباتی کشش کا احساس کرنا ہوگا جو فلسطین اپنے اندر مسلمانوں کے لیے رکھتا ہے۔ دوسرے نمبر پر اس بدحالی پر توجہ دینا ہوگی جس سے آج دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت دوچار ہے۔ مغرب کی طرف سے عملی اقدام تو درکنار، اس بات کی حقیقی خواہش کا بھی کبھی اظہار نہیں ہوا کہ وہ مسلم دنیا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور صلاحیتوں کی تعمیر وتربیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تیسرے نمبر پر، جیسا کہ میں نے اسی ہفتے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ذکر کیا ہے، اقوام متحدہ میں بھی تنوع اور اصلاح کے عمل کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ یہ اپنے رکن ممالک کی اکثریت کے نقطہ نظر کی صحیح طور پر نمائندگی کر سکے۔
۵۴۔ تاہم ان امور پر توجہ دینے سے قبل مغرب کو مسلم دنیا کے بارے میں بعض حقائق لو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں نے ایک مرتبہ اقوام متحدہ کے ایک سینئر افسر سے اس سلسلے میں گفتگو کی کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس افسر نے مجھ سے کہا کہ یہ کوئی زیادہ اہم بات نہیں، کیونکہ گیارہ ستمبر کے ہائی جیکرز زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بالائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ نہ تو غریب تھے اور نہ ان کا تعلق فلسطین سے تھا، اس لیے جہالت وغربت یا فلسطینی ہونے میں سے کوئی بھی عامل ان کے لیے دہشت گردی کا محرک نہیں بنا۔
۵۵۔ مغرب کو مسلم دنیا کے بارے میں جو بات سمجھ لینی چاہیے، وہ یہ ہے کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے مابین وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے اختلافات کے باوجود مسلمان اپنے آپ کو ایک اجتماعی امت تصور کرتے ہیں۔ مغرب کے انفرادیت پسندی کے فلسفے کے برعکس، مسلمان اہل ایمان کا ایک گروہ ہونے کے ناتے باہمی اخوت کا ایک مضبوط تصور رکھتے ہیں ، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے احساسات میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمان بھی جو نہ تو غریب ہیں اور نہ ان کا فلسطین سے کوئی تعلق ہے، اس مسئلے کے بارے میں شدید جذبات رکھتے ہیں۔ چنانچہ بنیادی اسباب پر توجہ دیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی۔
۵۶۔ او آئی سی کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے ملایشیا اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ساتھ دیتا رہے گا جیسا کہ ہم گیارہ ستمبر کے بعد سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کی جانب سے کیے جانے والے دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کریں گے۔ ہم ان لوگوں کا مقابلہ کریں گے جو اسلام کی خاطر لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں مسلمان کہلانے کے بھی حقدار نہیں ہیں۔ ہم مسلم دنیا میں اصلاحات کی حوصلہ افزائی کریں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملایشیا اپنے وسائل اور اپنی پرخلوص جدوجہد کو اس مقصد کے لیے بھی بھرپور طریقے سے بروے کار لاتا رہے گا کہ آج دنیا جس ڈگر پر چل رہی ہے، اس میں خاطر خواہ تبدیلی آئے۔ تاہم اہم تر بات یہ ہے کہ مغرب میں (آگے بڑھ کر) ہمارے ساتھ درمیان کی جگہ پر ملنے کی خواہش موجود ہو اور وہ اس بات کا ثبوت دے کہ اس کی پالیسیاں بھی ہماری طرف سے کی جانے والی اصلاحات کے پہلو بہ پہلو بدل سکتی ہیں۔
خواتین وحضرات!
۵۷۔ میں نے مشکلات کا بھی ذکر کیا ہے اور اس راہ کی بھی نشان دہی کی ہے جس پر میرے خیال میں مسلم دنیا اور مغرب، دونوں کو چلنا چاہیے۔ بالعموم وزراے اعظم کی تقریریں یہیں ختم ہو جاتی ہیں، تاہم آج میں کچھ مزید کہنا چاہوں گا۔ میں اپنے ملک کی طرف سے اس عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ایک خاص عزم ظاہر کرنا چاہتا ہوں ، اس لیے میں آپ کا تھوڑا سا وقت مزید لوں گا۔
۵۸۔ او آئی سی کی سربراہی کی باقی ماندہ مدت کے لیے میں اپنی حکومت کی طرف سے تین بنیادی حوالوں سے اپنے عزم کا اظہار کرنا چاہوں گا۔ پہلا یہ کہ ملائشیا کو تنازعات کے تصفیے (Conflict resolution) کے لیے ایک مرکز بنا دیا جائے۔ مسلم دنیا میں اس حوالے سے باقاعدہ طور پر کوئی مناسب کام نہیں ہو رہا۔ اگرچہ میں تہذیبوں کے مابین مکالمے کے لیے جاری کوششوں کاحامی ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ اگر مخاصمت کے دائروں میں حصول امن کی کوششوں اور اعتماد افزا اقدامات کے ساتھ دو تہذیبوں کے مابین اور کسی ایک تہذیب کے اندر مشترک طور پر پائے جانے والے تصورات اور اصولوں کا تعاون بھی شامل حال ہو جائے تو یہ عمل زیادہ با معنی ہو جائے گا۔
۵۹۔ یہ کوشش صرف مسلم دنیا کے مخاصمتی دائروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ترقی پذیر دنیا کے دوسرے ممالک تک بھی اس کو وسیع کرنا چاہیے۔ چونکہ امن دین اسلام کا بنیادی رکن ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں امن کے ساتھ اپنی وابستگی کا ایک باقاعدہ، منظم اور ادارہ جاتی صورت میں اظہار کرنا چاہیے۔ ہم مغرب میں موجود تصفیہ تنازعات کے مراکز سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ قریبی انداز میں کام کریں گے تاکہ ملایشیا کو عالم اسلام اور ترقی پذیر دنیا میں جو عزت واحترام حاصل ہے، اس کو تنازعات کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
۶۰۔ دوسرے نمبر پر میں چاہوں گا کہ ملائشیا عالم اسلام میں باہمی تجارت اور تبادلہ خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے معاملے میں پہل کرے۔ اس وقت او آئی سی کے ممالک کے مابین ۸۰۰ بلین ڈالر کی باہمی تجارت ہو رہی ہے جو کہ دنیا کی مجموعی تجارت کا چھ سے سات فیصدی ہے۔ چونکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ترقی کے لازمی اجزا کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے ہم ایسے مسلم ممالک کو جن کے پاس بڑی مقدار میں سرمایہ موجود ہے، یہ ترغیب دینے کی کوشش کریں گے کہ وہ عالم اسلام میں نمو کی صلاحیت رکھنے والی منڈیوں میں سرمایہ کاری کریں۔
۶۱۔ ملائشیا بالخصوص حلال مصنوعات اور اسلامی مالیاتی خدمات کے بنیادی دائروں پر توجہ مرکوز کرے گا جن میں ترقی کے عظیم امکانات پوشیدہ ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر حلال خوراک کی منڈی سالانہ ۱۵۰ بلین ڈالر کی ہے۔ اگر اس کو بڑھاتے ہوئے پوری دنیا میں بسنے والے ۸ء۱ بلین مسلمان صارفین تک رسائی حاصل کی جائے تو حلال خوراک کی منڈی سالانہ ۵۶۰ بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
۶۲۔ اسی طرح اسلامی مالیاتی خدمات کا شعبہ بھی ایسا ہے جس میں ترقی کے عظیم الشان امکانات ہیں۔ اس وقت ۲۵۰ بلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثے (اسلامی مالیاتی اداروں کے) زیر انتظام ہیں اور مزید ۴۰۰ بلین ڈالر اسلامی مالیاتی اور جائیداد کی سرمایہ کاری میں آ رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی رقم نہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ اسلامی مالیاتی اسکیمیں سالانہ ۲۰ سے ۳۰ فیصد کے حساب سے ترقی کریں گی۔ بہت سے غیر مسلم افراد اور ادارے بھی اس کے صارفین اور کلائنٹس کے دائرے میں شامل ہو رہے ہیں۔
۶۳۔ تیسرے نمبر پر میں ملائشیا کو اسلام کے حوالے سے ایک نسبتاً کھلے اور تنوع کے حامل مکالمے کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کرنے والا ملک بنانا چاہتا ہوں۔ ہماری یونیورسٹیاں اس اہم مکالمے کے فروغ کے لیے، جس کے مسلم دنیا میں جڑ پکڑنے کی ضرورت ہے، پوری دنیا کے اداروں، مثلاً آکسفرڈ سنٹر کے ساتھ مل کر کام کریں گی ۔ جس طرح یہ ضروری ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے ساتھ ایک مشترک اساس کو تلاش کریں، اسی طرح ہمیں خود امت کے اندر بھی مکالمہ کے دروازوں کو کھولنا ہوگا۔
۶۴۔ ملائشیا علمی وفکری اصلاح اور تجدید کے عمل کا آغاز کرنے کے لیے پوری دنیا کے اہل علم کو اپنے ہاں بلائے گا۔ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ ممکن ہے ہمیں آغاز میں ان لوگوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے جو سمجھتے ہیں کہ مذہبی معاملات پر مکالمہ کرنے کا حق ان کے لیے مخصوص ہے۔ اسی سبب سے یہ ضروری ہے کہ مکالمے کے اس عمل میں کسی حلقے کو (نظر انداز کرتے ہوئے اسے) باہر رکھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ ترقی پسند اور جدت پسند مفکرین کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے مواقع اور فضا مہیا کی جانی چاہیے، تاہم میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ عمل خود مسلمانوں کے اندر ان لوگوں کے ساتھ مکالمے کے تناظر میں ہونا چاہیے جو لفظ پرستی اور قدامت پسندانہ رجحانات کے حامل ہیں۔
۶۵۔ مغرب کے وہ مبصرین جنھوں نے مسلم دنیا میں جاری اس بحث کو گہرائی میں جا کر سمجھا ہے، اسے اسلام کے اندر اعتدال پسندوں اور قدامت پرستوں کے مابین ایک ’’جنگ‘‘ کا نام دیا ہے، لیکن میں اسے ایک مباحثہ کہنا پسند کروں گا۔ اسلام کے موضوع پر مکالمے کا حق کس کو حاصل ہے یا کون اسے حاصل کرے، اس سوال پر ’جنگ‘ سے مسلم دنیا کے کسی طبقے کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ ایک بالکل بے فائدہ جھگڑا ہوگا۔ اس کے بجائے ہمیں چاہیے کہ ایک کھلے ماحول میں روایتی دینی تعلیم پانے والے علما اور جدید تعلیم یافتہ اہل علم کو آپس میں میل ملاپ اور گفتگو کا موقع فراہم کریں تاکہ ایک زندہ اور تعمیری بحث ومباحثہ وجود پذیر ہو سکے۔
۶۶۔ یہاں میں اس ذہنی خلیج کی دونوں جانبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ مشہور ایرانی ماہر سماجیات علی شریعتی کی یہ بات نقل کرنا چاہوں گا کہ ’’حادثہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ان لوگوں نے جو گزشتہ دو صدیوں سے ہمارے مذہب پر قابض ہیں، اسے اس کی موجود جامد شکل میں تبدیل کر دیا ہے اور دوسری طرف ہمارے روشن خیال لوگ جو دور حاضر اور ہماری موجودہ نسلوں اور زمانے کی ضروریات کو سمجھتے ہیں، مذہب سے ناواقف ہیں۔‘‘
۶۷۔ اگرچہ میں علی شریعتی کے اس تاثر سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا، لیکن ان کے جذبات اس لحاظ سے قابل فہم ہیں کہ مسلم دنیا میں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ قدیم وجدید ذہنوں کا ملاپ ہے تاکہ مباحثہ اور مکالمہ کی فضا وسعت سے ہم کنار ہو سکے۔ مجھے امید ہے کہ ملائشیا کی سطح پر ہماری اس کوشش کو اس سے ملتے جلتے تجربات کا ایک نیٹ ورک پوری دنیا میں مل جائے گا جس سے اس کے مقاصد کو جہاں تک ممکن ہو سکے، زیادہ سے زیادہ ممالک اور مسلمانوں تک پھیلانے میں مدد ملے گی۔
خواتین وحضرات!
۶۸۔ میں اس امید پر آپ سے اجازت چاہوں گا کہ عظیم مسلم تہذیب کے احیا ساتھ، جو ہمارے مذہب کی تعلیمات کی پوری طرح عکاسی کرے، اسلام کا درخشندہ دور ایک مرتبہ پھر واپس آئے گا ۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ عالم اسلام اور مغرب مل کر موجودہ زمانے کی ہلچل اور افراتفری پر قابو پا سکتے ہیں، اور یہ کہ اپنی پالیسیوں اور اپنے معاشروں میں مطلوبہ تبدیلیاں پیدا کرنے کے لیے ہم مناسب جرات وہمت سے بہرہ مند ہیں۔ آئیے، اب مزید خونی تفریق وامتیاز پر گفتگو کو چھوڑ کر برابر کی سطح کے اتحاد، منصفانہ تجارت اور سائنسی بنیادوں پر باہمی تعاون کی بات کریں۔ قرآن مجید نے خلق خدا کے مابین جس ہمدردی اور تناصر کا ذکر سورہ الحجرات کی آیت ۱۳ میں کیا ہے، میں اس پر اپنی گفتگو ختم کروں گا:
۶۹۔ ’’اے بنی نوع انسان! ہم نے تمھیں مرد اور عورت کے ایک جوڑے سے پیدا کیا اور تمھیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو (اس لیے نہیں کہ ایک دوسرے سے نفرت کرو) بے شک تم میں سے سب سے زیادہ قابل احترام اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ گناہوں سے بچنے والا ہے۔ بے شک اللہ ہر بات کا علم رکھتا اور ہر چیز سے باخبر ہے۔‘‘
بے حد شکریہ۔
جناب احمد البداوی کے خطاب کا ایک جائزہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
یکم اکتوبر ۲۰۰۴ کو وزیرِ اعظم ملائشیا جناب عبد اللہ احمد بداوی نے میگڈیلن کالج آکسفرڈ یونیورسٹی (برطانیہ ) کے آکسفرڈ مرکز برائے مطالعہ اسلامیات میں خطاب کیا ۔ اس خطاب میں پیش کیے گئے نکات کی عمومی نوعیت شاید ہمارے لیے اس اعتبار سے اہم نہ ہو کہ یہ معمول کی باتیں ہیں اورہمارے ہاں زیرِ بحث آتی رہتی ہیں، لیکن جناب عبداللہ احمد بداوی کی فکر کا اظہار چونکہ ایک ایسے پلیٹ فارم پر ہو رہا تھا جو نہ صرف علومِ حاضرہ کے ایک مستند ادارے کی شاخِ زریں ہے بلکہ اس کی بین الاقوامی اہمیت بھی مسلّم ہے، اس لیے اس خطاب کی نوعیت، عمومیت کے دائرے سے باہر آجاتی ہے۔
خطاب کے آغاز میں وزیرِ اعظم ملائشیا اپنی تین حیثیتوں (۱۔ راسخ العقیدہ مسلمان، ۲۔ کثیر المذاہب قوم کا وزیرِ اعظم اور ۳۔ او آئی سی کا چےئر مین) کا ذکر کر کے خطاب کے متوازن اور کثیر الجہات ہونے کا اشارہ کر دیتے ہیں۔ پھر وہ اختصار سے اسلام کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتے ہیں ۔ ہماری رائے میں مسلم تاریخ کے درخشندہ پہلوؤں کے بیان میں جناب عبداللہ احمد بداوی نے توازن کا دامن تھامتے ہوئے بھی حالیہ مسلم نفسیات کی نمائندگی کرتے ہوئے ’’عدمِ توازن‘‘ سے کام لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹھویں صدی سے لے کر گیارہویں صدی تک مسلم تہذیب و ثقافت بلندیوں تک پہنچ گئی اور شرح خواندگی قرونِ وسطیٰ کے یورپ سے ’’مقابلتاً ‘‘ زیادہ تھی۔ جناب عبداللہ نے یورپ کو ’’جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا‘‘ کہنے سے گریز کر کے توازن قائم رکھا ہے، لیکن شرح خواندگی کے مقابلتاً زیادہ ہونے کو ’’قابلِ فخر ‘‘ انداز سے پیش کر کے عدمِ توازن کی سرحدوں کوبھی چھو لیا ہے۔ ہمارے ایک نہایت محترم بزرگ جناب سید عماد الدین قادری نے چند دن پیشتر ہی اپنے ایک خط میں یہ ذکر کر کے ہماری معلومات میں اضافہ کیا تھا کہ ۳۵۰ ہجری کے لگ بھگ سلطنتِ عباسیہ میں شرح خواندگی صرف ۵فیصد تھی۔ ہماری رائے میں جس تہذیب کا نقطہ آغاز ہی ’’اقرا ‘‘ ہو، کم از کم اس کے دور عروج میں شرح خواندگی دوسری تہذیبوں سے ’’مقابلتاً‘‘ زیادہ ہونے کے بجائے ۱۰۰ فیصد ہونی چاہیے تھی۔ (خیال رہے کہ اس وقت امریکی اور یورپی تہذیب میں شرح خواندگی مسلم تہذیب سے مقابلتاً زیادہ نہیں، بلکہ تقریباً ۱۰۰ فیصد ہے ) ۔
جناب عبداللہ احمد بداوی کا یہ کہنا بجا ہے کہ مسلمانوں کی داخلی خامیوں اور کوتاہیوں پر خود تنقیدی اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت بھی منہ پھاڑے کھڑی ہے کہ مسلمانوں کے انحطاط و زوال کا ایک سبب وہ خارجی پالیسیاں بھی ہیں جن کے ذریعے سے دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے تفصیل سے بچتے ہوئے فلسطین، عراق اور ایران کو بطور کیس سٹڈی لینے پر اکتفا کیا۔ جناب عبداللہ کے مطابق اسرائیل ’’ریاستی دہشت گردی ‘‘ کا مرتکب ہو رہا ہے اور دنیا ہے کہ دہشت گردی کو محض غیر ریاستی یا نیم ریاستی سیاق و سباق میں دیکھنے پر مصر ہے جس سے اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح عراق پر حملے کا جو جواز گھڑا گیا تھا، وہ جھوٹ کا پلندا ثابت ہوا ہے ۔ وزیرِ اعظم ملائشیا نے یہ نکتہ بھی درست اٹھایا ہے کہ اگر صدام ظالم تھا تو اقدامی جنگ بھی اتنی ہی ظالمانہ ہے کہ اس کا کوئی معروضی معیار نہیں اور مسلم دنیا خوامخواہ اقدامیوں کی ہٹ لسٹ پر ہے۔ یہاں برطانوی وزیرِ اعظم جناب ٹونی بلےئر کے ۲۴ ؍اکتوبر ۲۰۰۴ کو لیبر پارٹی سے کیے جانے والے خطاب کا تذکرہ بر محل ہو گا جس میں انھوں نے گوہر افشانی کی ہے کہ عراق، اس سے متصل خطے اور پوری اسلامی دنیا میں جمہوریت، انسانی حقوق کی علمبرداری، آزادانہ معیشت اور امن و امان وغیرہ کے لیے مداخلت اور اقدامی کارروائیاں ضروری ہیں۔ برطانوی وزیرِ اعظم سمیت مغربی دنیا کے دیگر لیڈروں کے ان ’’معقول اور نیک محرکات ‘‘ کا تیا پانچہ جناب عبداللہ احمد بداوی نے یکم اکتوبر کی زیرِ بحث تقریر میں یہ کہہ کر، کر دیا ہے کہ End cannot justify the means ۔ سیاست کی ابجد سے واقف شخص بھی اس فقرے کے پس منظر سے پوری طرح آگاہ ہے کہ یہ ’’میکاولی فکر‘‘ کے محور End justifies the means میں مضمر غیر اخلاقی اور غیر انسانی روش کی مکمل نفی اور ضدپر مبنی ہے۔ بڑی موٹی سی بات ہے ، بھلا اچھے مقاصد برے ذرائع سے کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ صرف الہٰیاتی اخلاقیات ہی نہیں بلکہ الحادی اخلاقیات بھی اچھے مقاصد کے لیے ’’برے ذرائع‘‘ اپنانے کا درس نہیں دیتی۔ ہماری رائے میں پوری مغربی دنیا کو یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس وقت اخلاقی اعتبار سے کہاں کھڑی ہے ؟ جبر کے راستے سے جمہوریت کا نفاذ؟ کتنا بڑا تضاد ہے!کیا جمہوریت کی ترویج کے لیے ہی کم از کم ایک لاکھ عراقیوں کو موت کے گھاٹ اتار ا گیا ہے؟
جناب عبداللہ بداوی نے یہ بھی درست نشاندہی کی ہے کہ اسلام کی غلط تصویر کشی گیارہ ستمبر کے بعد کے دور کا مظہر نہیں بلکہ اس ’’روشن خیالی‘‘ کا اظہار تو والٹےئر، بیکن اور رینان وغیرہ نے بہت پہلے کرنا شروع کر دیا تھا ۔ ایسے تاریخی پس منظر اور مغربی میڈیا کے موجودہ یک رخے جذباتی پن سے اصلاحِ احوال کی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی ، خاص طور پر اس تناظر میں کہ مسلم دنیا کے داخلی تنوع اور ترقی پسندرجحانات کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
وزیرِ اعظم ملائشیا نے ’’عمدہ طرز حکمرانی ‘‘ کے تذکرے میں قرآنِ مجید کے آفاقی اصول ، نبی پاکﷺ اور خلفاء راشدین کے طرزِ عمل کی مثالیں دینے کے ساتھ ساتھ فقہا کے استدلالات کا ذکر بھی بر محل اور بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔ عمدہ حکومت کے اسلامی تصور پر بحث کے ضمن میں احتساب اور عدلیہ کی آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب احمد بداوی نے مسلم دنیا کو بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی کوشش کی ہے۔
اسلامی فکر کی تشکیلِ نو کی ضرورت کے حوالے سے جناب عبداللہ بداوی نے کہا کہ روایتی فکر اور رائے کی اندھا دھند تقلید سے اسلام کو غیر متحرک اور جامد نہیں بنا دینا چاہیے ۔ اس سلسلے میں اعتدال اور عقل پسندی پر مبنی نئی آوازوں کو خوش آمدید کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ موجودہ دنیا میں فاصلے سمٹنے اور باہم مربوط نئے سیاسی اور معاشی اداروں کے جنم لینے سے عصری مسلم معاشروں کو درپیش مسائل چھٹی صدی کے مسائل سے کافی مختلف ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے عصری اجتہاد کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے احمد بداوی نے شریعت کے ساتھ ساتھ ’’مقاصدِ شریعت ‘‘ کی طرف بھر پور توجہ دلانے کی کوشش کی ہے اور بجا طور پر امام غزالی ؒ اور شاطبی ؒ جیسے مسلم مفکرین کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے کام کی نوعیت کو پھیلانے کی بات کی ہے۔ ہم جناب عبداللہ بداوی سے متفق ہیں کہ آج کی دنیا میں بھی مقاصدِ شریعت پر فوکس کرنے کی اشد ضرورت ہے ، لہٰذا عصری اجتہاد کی بنیاد ’’مقاصدِ شریعت ‘‘ ہو نے چاہئیں، کچھ اس طرح کہ عصری اجتہاد :
(۱) مقاصد کی پیداوار معلوم ہو ۔
(۲) مقاصد کی طرف گامزن کرنے والا ہو ۔
(۳) مقاصد کی حفاظت کرنے والا ہو ۔
ہماری رائے میں تو اس حوالے سے ایک ’’خاص رویے ‘‘ کی آبیاری کی ضرورت ہے جو قانون اور اصول و ضوابط کو خود مقصد سمجھنے کے بجائے انھیں مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھے ۔ اس وقت ہمارے ہاں علما کے ہاتھ میں ’’فقہی ڈنڈا‘‘ ہے تو بیوروکریسی کے ہاتھوں میں ’’سرخ فیتہ‘‘ اور بے چاری عوام چکی کے ان دو پاٹوں کے درمیان۔ (خیال رہے کہ سرخ فیتہ بھی اسی طرزِ عمل کا نام ہے کہ قانون کی منشا کی بجائے قانونی موشگافیوں اور قواعد و ضوابط کی گتھیوں میں ہی معاملے کو الجھا کر رکھا جائے) شاید اسی لیے ہمیں اونٹ نگلنے اور مچھر چھاننے کے مناظر معاشرے میں کثرت سے نظر آتے ہیں۔ اس سے صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے۔
وزیرِ اعظم ملائشیا نے سورۃ بقرہ کی آیت ۱۴۳ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے اس یقین کا اعادہ کیا ہے کہ یہ آیت درحقیقت مسلمانوں کے لیے ’’الٰہیاتی یاددہانی‘‘ ہے کہ وہ ہمیشہ اعتدال کی راہ اپنائیں اور انتہا پسندی سے گریز کرتے رہیں۔ جناب احمد بداوی نے مسلم تحریکوں کی موجودہ تیز لہر پر تند و تیز تبصرہ کیا ہے کہ ان میں سے بعض مشنری، متشدد اور غیر سیاسی ہیں، لیکن جو تحریکیں سیاسی ہیں، وہ بھی اقتدار میں آکر ایسے عزائم کی تکمیل چاہتی ہیں جو موجودہ سیاسی نظام سے متصادم ہیں۔ جناب احمد بداوی نے اسلامی تحریکوں کی بابت ہمدردی کے دو بول بھی شاید اس لیے نہیں بولے کہ وہ خود سیاست میں ہیں اور ان کی سیاست ’’انتہاپسندی کی مخالفت ‘‘ سے ہی چمکتی ہے کہ انتہاپسند ان کے سیاسی حریف ہیں۔ ہم خود بھی Holier-than-thou (ہم تم سے زیادہ دین دار ہیں) جیسے غیر اسلامی اور غیر انسانی نعرے کے قائل نہیں ہیں۔ ہماری رائے میں اکثر اسلامی تحریکوں کی انتہاپسندی کا محرک بھی یہ نعرہ نہیں بلکہ داخلی سطح پر مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل اور خارجی سطح پر مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں ہیں۔اگر نفسیاتی اعتبار سے دیکھیں تو انتہا پسندی ، مسلم دنیا کا ’’المیہ کردار ‘‘ ہے اور المیہ کردار وہ ہوتا ہے جو اپنی عزت، عصمت اور وقار کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر جان پر بھی کھیل جاتا ہے۔ ایسا کرنا ایک انسانی حق ہے اور یہ حق انسانی زندگی کی بنیادی شرط ہے (حیوانی سطح پر اس کے بغیر بھی جیا جا سکتا ہے ) مشہور فلسفی سپائی نوزا نے کہا تھا کہ’’ انسان کو ہمیشہ ابدیت کے پس منظر میں کام کرنا چاہیے اور ابدیت سے میری مراد وجودِ انسانی ہی ہے ‘‘۔ ہماری رائے یہی ہے کہ موت کے دروازے پر کھڑا انسان درحقیقت ابدیت کے پس منظر کاحامل ہوتا ہے، کیونکہ اگر اسے بہت جلد موت کا منہ دیکھنا ہے تو وہ آخر کیونکر ظاہری سانچوں، روڈمیپوں اور فارمولوں پر اپنی جان کھپائے گا؟ خود کش حملہ آور کبھی بھی اتنا خود غرض اور ذہنی مفعولیت کا شکار نہیں ہو سکتا کہ وہ خارجی جبرکی بنا پر یا محض دنیاوی شہرت کے لیے اپنی جان پر کھیل جائے ۔ وہ یہ انتہائی قدم صرف اس وقت اٹھاتا ہے جب اسے ’’بہت اندر سے ‘‘ چھیڑا گیا ہو۔ ہماری رائے میں یہی وہ صورتِ حال ہے جس سے مسلم دنیا کا ایک بہت بڑا گروہ ’’چھڑ‘‘ گیا ہے ۔ اسی عمل سے مسلم دنیا کی شناخت بار آور ہو رہی ہے اور وہ اپنے اندر چھپے امکانات کو حقیقت کے سانچے میں ڈھال رہی ہے ۔ امر واقعہ یہی ہے کہ انتہا پسندوں کے طفیل ہی :
(۱)مسلم دنیا میں عوامی سطح پر ہلچل برپا ہے۔
(۲)مسلم دنیا کے دانشور طبقے میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی ہے جس سے اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے امکانات جنم لے رہے ہیں۔
(۳) داخلی محاذ پر مسلم حکمرانوں اور خارجی محاذ پر مغربی طاقتوں کو ’’نہیں ‘‘ کہنے کی انتہاپسندانہ روش نے ہی درحقیقت اعتدال پسندوں کو ہر دو محاذوں پر ’’سندِ قبولیت ‘‘ بخشی ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں مسلم حکمران اور مغربی طاقتیں اعتدال پسندوں کو ٹکنے نہ دیتیں اور وہ یوں سہولت سے ’’روشن خیالی ‘‘ کے موتی نہ بکھیر رہے ہوتے ۔
(۴) فکرِ اسلامی کا تعلق اپنی تاریخ سے قائم و دائم ہے۔ اگر انتہا پسند نہ ہوتے تو اعتدال پسند ، تاریخ سے تخلیقی رشتہ کٹ جانے کے باعث اسلام کی صحیح تعبیر و تشریح کے بجائے یا تومعذرت خواہانہ تعبیر کر رہے ہوتے یا پھر خود انتہا پسند ہوتے۔ ہماری رائے میں اسلام کی سیکولرائزیشن کی موجودہ کوششیں بھی اس لیے ثمر آور نہیں ہو سکیں کہ اسلام مخالف طاقتیں موجودہ مسلم بیداری کی لہر کا مسلم تاریخ سے ’’نامیاتی تعلق ‘‘ منقطع نہیں کر سکیں۔ اگر ہم اس نامیاتی تعلق میں مضبوطی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو گوئٹے کے یہ شعر اس حوالے سے بہترین راہنمائی کرتے ہیں :
’’تم نے اپنے بزرگوں سے جو کچھ میراث میں پایا ہے
اسے اپنانے کے لیے اسے خود حاصل کرو ‘‘
(۵) یہ بنیادی سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ہم اس روایت کے ساتھ جو ہمیں ورثے میں ملی ہے، کس طرح ایسا تعلق قائم کر سکتے ہیں جس سے ہمیں ’’حریتِ فکر‘ ‘ کی قربانی نہ دینی پڑے۔ آج مسلم دنیا اسی سوال سے نبردآزما ہے ۔ ہماری رائے میں مسلم نشاۃِ ثانیہ بہت حد تک اسی سوال کے جواب سے مشروط ہے۔
مسلم دنیا میں انتہا پسندی کی لہر کے مذکورہ بالا مثبت پہلوؤں کے باوجود، بہر حال کچھ تحفظات بھی جنم لیتے ہیں۔ ان تحفظات کی نوعیت جناب عبداللہ احمد بداوی کے بیان کردہ نکات سے کافی مختلف ہے کیونکہ جناب بداوی تو انتہا پسندوں کو سیاسی حریف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ہماری رائے میں اگر کوئی جاندار شے اپنے امکانات کو بروئے کار لانے میں ناکام رہے تو وہ بیمار پڑ جاتی ہے، جیسے کوئی شخص چلنے پھرنے سے ہاتھ اٹھا لے تو اس کی ٹانگیں اور دیگر جسمانی اعضا کمزور ہو جاتے ہیں اور یہ کمزوری بڑھ کر حرکتِ قلب اور دورانِ خون وغیرہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص یا گروہ اپنی ذات کے امکانات کو بروئے کار نہ لائے تو وہ نفسیاتی طور پر محبوس ہو جاتا ہے ، پھر یہی غیر استعمال شدہ قوتیں اور امکانات جنھیں بادِ مخالف یا اس شخص کی پوشیدہ اندورنی کشمکش نے مفلوج کردیا ہو، جب داخلی دنیا کے نہاں خانوں میں منہ چھپا لیتے ہیں تو وہ شخص یا گروہ ذہنی طور پر بیمار ہو جا تا ہے اور خارجی سطح پر معقول رویہ اختیار کرنے کے بجائے غیر صحت مند ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ اگر انتہا پسندوں کی صورتِ حال اسی نوعیت کی ہے تو ان کی کامیابی کی صورت میں اسلام کا ایسا ایڈیشن منظرِ عام پر آ سکتا ہے جس کی عمر (ردِ عملی ہونے کے باعث) بہت کم ہوگی۔ اس ایڈیشن کی ناکامی ، اسلام کی ناکامی سمجھی جائے گی اور بے چارے اعتدال پسند وضاحتیں ہی کرتے رہ جائیں گے۔ اس طرح احیائے ملت اور غلبہ اسلام کا ایک موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پھر نجانے اور کتنا عرصہ ، مزید انتظار کرنا پڑے ۔ ہوسکتا ہے بعض احباب یہ نکتہ اٹھائیں کہ انتہا پسندی محض وقتی مظہر ہے ، بعد کی صورتِ حال میں یہی لوگ بہتر اور مطلوب طرزِ عمل کا مظاہر ہ کریں گے، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک جاری و ساری رویے میں ’’یک دم تبدیلی‘‘ کیسے اور کیونکر ممکن ہے؟ بفرضِ محال یہ نکتہ ابھی سے انتہا پسند قائدین کے پیشِ نظر ہے اور وہ ذہنی طور پر اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں تو بھی ان کے ’’پیروکاروں ‘‘ کی بابت یہ سوال موجود رہتا ہے ۔ ان کے پیروکار اس تبدیلی کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوں گے۔ ہماری رائے میں آئیڈیل صورت یہی ہو سکتی ہے کہ انتہاپسند باقاعدہ اقتدار میں آنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے اپنے عوامی پریشر اور روایتی فکری وزن سے اعتدال پسندوں کے لیے’’تحفظات ‘‘ کا باعث بنتے رہیں تاکہ اعتدال پسند، مغربی دباؤ اور جدیدیت کے طلسم کا شکار نہ ہو سکیں اور صحیح ڈگر پر چلتے ہوئے عصری اجتہاد کے ذریعے مقاصدِ شریعت کو پورا کر سکیں۔ ہماری رائے میں ملائشیا میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اگر جناب عبداللہ احمد بداوی کی حکومت اعتدال پسندی سے کام لیتے ہوئے مقاصدِ شریعت کے حصول کی طرف گامزن ہے تو اس کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ملائشیا کے انتہاپسندوں کا پریشر اور دباؤ بھی ہے۔ جناب بداوی کے زیرِ بحث خطاب کے بین السطور بھی یہ نکتہ جھلملا رہا ہے ۔
اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کی تشکیلِ نو سے لے کر تہذیبی اسلام اور قدامت پسندوں اور جدت پسندوں کے درمیان مکالمے کی اہمیت تک، اس خطاب کے اور بھی بہت سے وقیع نکات ہیں جن پر بحث ہو سکتی ہے۔ طوالت کے خوف سے ہم نے محض اچٹتی ہوئی نظر ڈالی ہے۔ پورے خطاب کے شامل اشاعت ہونے کے باعث ہم مزید بحث قارئینِ الشریعہ پر چھوڑتے ہوئے یہ کہنے پر اکتفا کریں گے کہ بحیثیت مجموعی جناب عبداللہ احمد بداوی کے خطاب میں ’’غبارِ خاطر ‘‘ کی نمناکیوں کے ساتھ ساتھ ’’مستقبلِ دیدہ ‘‘ کے مناظر کے نشیب و فراز بھی موجود ہیں جو پڑھنے والے کو یقیناً دعوتِ فکر دیتے ہیں۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
باسمہ سبحانہ
عزیز محترم حافظ حسن مدنی صاحب سلمک اللہ تعالیٰ فی الدارین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
’’محدث‘‘ کا نومبر کا شمارہ نظر سے گزرا۔ بہت خوشی ہوئی۔ قتل غیرت اور دیگر متعلقہ امور پر آپ حضرات نے سیر حاصل بحث کر کے تمام دینی حلقوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ بالخصوص آپ کے مضمون پر مزید مسرت اور اطمینان سے بہرہ ور ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی کاوشوں کو قبول فرمائیں اورنتائج وثمرات سے نوازیں۔ آمین
اس حوالہ سے میں ایک بات کی طرف احباب کو توجہ دلانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں علاقائی کلچر اور قبائلی روایات کے حوالے سے عورت پر جو مظالم ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں دینی حلقوں کی طرف سے کوئی منظم اور موثر آواز بلند نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کو اس خلا سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے او روہ عورتوں کے حقوق کی چیمپئن بن گئی ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہمارے دینی حلقوں میں کوئی ادارہ اس طرز پر کام کرے اور عورتوں پر ہونے والی زیادتیوں کی شرعی نقطہ نظر سے نشان دہی کرتے ہوئے ان کے ازالے کے لیے منظم محنت کی کوئی صورت نکالے تو یہ ہتھیار مذکورہ این جی اوز سے چھینا جا سکتا ہے اور ویسے بھی یہ ہماری دینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
اس کشمکش میں یہ پہلو میرے خیال میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور ہمیں اسے اجاگر کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ امید ہے کہ آپ بھی اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوں گے۔
والد بزرگوار اور دیگر حضرات واحباب خصوصاً عطاء اللہ صدیقی صاحب سے سلام مسنون عرض کر دیں۔
شکریہ۔ والسلام
ابو عمار زاہد الراشدی
مرکزی جامع مسجد۔ گوجرانوالہ
(۲)
محترم ایڈیٹر الشریعہ گوجرانوالہ
سلام مسنون۔ مزاج بخیر؟
’الشریعہ‘ میں شامل مضامین بحث ونقد ونظر کے نئے در کھولتے ہیں۔ اس شمارے میں اقبال کے نظریہ شعر وادب پر مضمون اچھی کاوش ہے، لیکن حوالہ جات کی بھرمار سے اسے خواہ مخواہ بوجھل بنایا گیا ہے اور خود مصنف کا نقطہ نظر معلوم کرنے میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ ۱۶۰ سطروں کے مضمون میں ۵۷ حوالے! اندازہ کیجیے، اس میں مصنف نے کتنے لفظ خود لکھے ہیں؟
والسلام
(پروفیسر) کلیم احسان بٹ
گجرات
(۳)
باسمہ سبحانہ
محترم ومکرم مدیر صاحب مجلہ ’الشریعہ‘
تسلیم وتحیہ۔ امید ہے مزاج عالی بخیر ہوں گے۔
ماہنامہ الشریعہ بابت ماہ نومبر ۲۰۰۴ موصول ہوا۔ عنایت کا شکریہ۔
ہم یہاں ہر روز صبح کی نماز سے قبل درس قرآن دیتے ہیں، لیکن آج آلہ مکبر الصوت پر حضرت رئیس التحریر مدظلہ کا کلمہ حق پڑھ کر سنایا گیا۔ جوں جوں ارشادات عالیہ پڑھے، بس دل میں ایک ہوک سی اٹھتی رہی کہ کاش، یہ جو علماء دیوبند کے مختلف دھڑے بن چکے ہیں، ان میں بھی کوئی اتحاد واخوت پیدا کرا دیتا تو آج پاکستان کی قسمت بدل چکی ہوتی۔ ہم یہ اتحاد مسلکی بنیادوں پر نہیں کہہ رہے، بلکہ ہماری غرض تو ہے تحریک دیوبند کے اتحاد سے جس کے بنیادی نکات ’علماء ہند کا شاندار ماضی‘ نامی کتاب کے ابتدائی باب میں درج ہیں۔ بہرصورت پورا شمارہ مطالعہ کر چکے ہیں اور نوجوانوں کو بار بار پڑھایا جا رہا ہے اور کلمہ حق کی فوٹو سٹیٹ کروا کر تقسیم کرنے کا پروگرام ہے۔
والسلام
محمد سعید اعوان
سرپرست نوجوانان توحید وسنت۔بمقام لالہ چک
ڈاک خانہ جلال پور جٹاں۔ ضلع گجرات
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’مسلم نشاۃ ثانیہ o اساس اور لائحہ عمل‘‘
ڈاکٹر محمد امین صاحب ہمارے محترم اور فاضل دوست ہیں، پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے سینئر ایڈیٹر ہیں اور ان دانش وروں میں سے ہیں جو مسلم امہ کی موجودہ زبوں حالی کا نہ صرف پوری طرح ادراک رکھتے اور اس پر کڑھتے ہیں بلکہ اصلاح احوال کی تدابیر سوچتے ہیں، ان پر دیگر اصحاب دانش سے مشاورت کا اہتمام کرتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کی صورتیں پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔
تعلیم وتربیت ان کے خصوصی ذوق کا شعبہ ہے، تعلیم کے دینی اور عصری دونوں قسم کے اداروں کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم وتربیت کی اصلاح کے لیے مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں۔ خاص طور پر دینی مدارس کے تعلیمی نظام ونصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ممتاز دینی مدارس کے نامور اساتذہ کی مشاورت اور راہ نمائی میں انھوں نے جو ’’ہوم ورک‘‘ کیا ہے، وہ انتہائی قابل قدر ہے اور اس کا خلاصہ ’’ہمارا دینی نظام تعلیم‘‘ کے نام سے ان کی تصنیف کی صورت میں شائع ہو چکا ہے جو دار الاخلاص ۴۹ ریلوے روڈ لاہور نے شائع کی ہے۔ تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں انھوں نے دینی مدارس کے تعلیمی نظام ونصاب کے بارے میں مختلف مکاتب فکر کے بڑے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات، مشترکہ اجلاسوں کی روداد اور متفقہ تجاویز وآرا کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جس کی تمام تفصیلات وجزئیات کے ساتھ اتفاق ضروری نہیں، لیکن ان کی محنت بہرحال قابل داد ہے اور ہماری رائے میں دینی تعلیم کا کوئی بھی ادارہ چلانے والے حضرات کے لیے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔
اس وقت ہمارے سامنے ڈاکٹر صاحب موصوف کی ایک اور تصنیف ہے جس میں انھوں نے مسلم امہ کی موجودہ زبوں حالی اور بے بسی ولاچاری کا جائزہ لیا ہے، اس کے اسباب وعوامل پر بحث کی ہے، عالم اسلام کے حریف، مغرب کے عروج کے اسباب کا تجزیہ کیا ہے، اس کے متوقع زوال کی وجوہ بیان کی ہیں اور ان راستوں کی نشان دہی کی ہے جن پر چل کر ان کے خیال میں امت مسلمہ نہ صرف زبوں حالی کی موجودہ دلدل سے نکل سکتی ہے بلکہ انسانی سوسائٹی میں اپنا کھویا ہوا مقام بھی دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ انھوں نے امت مسلمہ میں اس حوالہ سے کام کرنے والے اداروں، جماعتوں، مراکز اور حلقوں کی جدوجہد کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کی خوبیوں اور کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور اصلاح احوال کے لیے تجاویز دی ہیں۔
دین کے کسی بھی شعبہ میں کام کرنے والوں کے لیے اس کتاب میں دی گئی معلومات اور استدلال وتجزیہ کا مطالعہ بہت مفید ہوگا، بالخصوص باب سوم میں ’’مغرب کے موجودہ عروج اور متوقع زوال‘‘ کے بارے میں جو بحث کی گئی ہے، ہمارے خیال میں اسے دینی مدارس کے منتہی طلبہ کو سبقاً سبقاً پڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے ہاں اس قسم کی بحث وتمحیص اور معلومات کی فراہمی کا سرے سے کوئی ماحول نہیں ہے اور ہمارے طلبہ اور اساتذہ کا اس سے واقف ہونا انتہائی ضروری ہے۔
چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز لاہور نے شائع کی ہے، اس کی قیمت دو سو روپے ہے اور اسے کتاب سرائے، فرسٹ فلور، الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ (ابو عمار زاہد الراشدی)
’’ندوہ کا ایک دن‘‘
ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے، جو آکسفرڈ میں اسلامک سنٹر کے ریسرچ فیلو ہیں ،ندوۃ العلماء لکھنو میں طالب علمی کے دور میں اپنے قیام کے ایک دن کی تفصیلی روداد قلم بند کی ہے جو اپنے عنوان کے حوالے سے ایک طالب علم کی ڈائری ہے، لیکن اس سے ندوہ کا پورا تعلیمی ماحول اور دینی ذوق سامنے آ جاتا ہے اور وہاں کی روز مرہ کی سرگرمیوں سے قاری کو آگاہی ہوتی ہے۔ ایک سو بارہ صفحات کے اس کتابچہ کی قیمت پچاس بھارتی روپے ہے اور اسے ندوی بک ڈپو، ندوۃ العلماء لکھنو نے شائع کیا ہے۔ (راشدی)
’’وضو کا مسنون طریقہ‘‘
وضو کا سنت طریقہ کیا ہے؟ یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین ہمیشہ سے اختلافی رہا ہے اور فریقین کے پاس اپنے اپنے موقف پر دلائل موجود ہیں۔ اختلافی اور فروعی مسائل کی دعوت کو اگر اپنے اپنے حلقہ اثر تک محدود رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر انھیں مناظرانہ تقریروں اور تحریروں کی صورت میں عوام الناس کے سامنے پیش کیا جائے تو لازمی طور پر مذہبی رواداری کی فضا مکدر ہوتی ہے اور اتحاد امت کی کوششوں کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس لیے بالخصوص موجودہ تناظر میں مناظرانہ اسلوب میں اختلافی مسائل کو زیر بحث لانے سے اجتناب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
زیر تبصرہ کتابچہ، شیعہ پروفیسر جناب غلام صابر صاحب کی مناظرانہ انداز میں لکھی گئی کتاب ’’وضوء رسول‘‘ کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں پروفیسر صاحب نے مبینہ طور پر اہل سنت کے وضو کے طریقہ کو غلط اور اہل تشیع کے طریقہ وضو کو عین سنت رسول ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب نے اپنے کتابچہ میں پہلے تو وضو کا مسنون طریقہ مکمل حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کے بعد پروفیسر صاحب کے دلائل واعتراضات کا ایک ایک کر کے جواب دیا ہے۔ جو احباب اس موضوع پر دلائل کو یکجا دیکھنا چاہتے ہوں، ان کے لیے یہ کتابچہ بے حد معلوماتی اور مفید ہے۔
یہ کتابچہ عمر اکادمی نزد مدرسہ نصرۃ العلوم نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۳۰ روپے ہے۔ (محمد اکرم ورک)
’’ماں کی عظمت‘‘
اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان اہم ترین ادارہ ہے۔ خاندان کی شیرازہ بندی میں اسلام والدین کے کردار کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ خاندان کے دیگر افراد کی بہ نسبت اسلام نے ماں کو خصوصی مقام ومرتبہ اور عزت وافتخار سے نوازا ہے لیکن بد قسمتی سے مغرب کی ثقافتی یلغار کے نتیجے میں مسلمان معاشروں میں بھی خاندانی اقدار اور روایات کمزور پڑ رہی ہیں اور نئی نسل بزرگوں، بالخصوص والدین کے عزت واحترام اور حقوق میں کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب معاشرتی بگاڑ کے اس دور میں مولانا جمیل احمد بالاکوٹی کی ایک عمدہ کاوش ہے جس میں انھوں نے بالخصوص نوجوان نسل کو یہ بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے کہ دنیوی اور اخروی سعادتیں صرف والدین کے ادب واحترام کی بدولت ہی سمیٹی جا سکتی ہیں۔ کتاب کا مسلسل چھٹا ایڈیشن اس بات کی دلیل ہے کہ عوام الناس نے ان کے پیغام کو سمجھا اور اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولف کی اس اصلاحی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے اس کتاب کو ذریعہ ہدایت بنائے۔ آمین
کتابچہ کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے اور اسے القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ برانچ، پوسٹ آفس خالق آباد، نوشہرہ نے شائع کیا ہے۔ (محمد اکرم ورک)
’’فیض الصرف‘‘
زیر تبصرہ کتاب کے مولف حافظ محمد رمضان اویسی درس نظامی، بالخصوص علم صرف وعلم نحو کی تدریس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ درس نظامی کے طلبہ کی خدمت کے لیے ’’فیض النحو‘‘ کے بعد ’’فیض الصرف‘‘ ان کی طرف سے مفید علمی کاوش ہے۔ یہ اس فن پر ایک مکمل کتاب ہے اور فاضل مولف نے فارسی اور عربی کتب سے استفادہ کرتے ہوئے مواد کو بڑی عمدگی سے ترتیب دیا ہے۔ کتاب کی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔ تمام افعال اور مشتقات کی تعریف، نیز ان کے بنانے کے طریقے اور اہم اوزان کی گردانیں بطور نمونہ درج کی گئی ہیں۔ امید ہے کہ یہ کتاب درس نظامی کے طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ (محمد اکرم ورک)