اگست ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں تحقیق و تصنیف کی صورت حالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تاریخ فلسطین کی دو اہم دستاویزاتڈاکٹر رضی الدین سید 
سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت اور اس کی نگارش کا طریقہ و منہاجمولانا محمد یحیی نعمانی 
شیعہ سنی تعلقات اور متوازن رویہ ۔ ایک شیعہ عالم کے خیالاتڈاکٹر یوگندر سکند 
مکاتیبادارہ 
شوق سفر تا حشرپروفیسر میاں انعام الرحمن 
اخبار و آثارادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

دینی مدارس میں تحقیق و تصنیف کی صورت حال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۱ جولائی ۲۰۰۴ء کو شیخ زاید اسلامک سنٹر ، پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ’’دینی مدارس میں تحقیق وصحافت‘‘  کے موضوع پر جناب ڈاکٹر رفیق احمد کی زیر صدارت منعقدہ سیمینار میں پڑھا گیا۔)

نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
’’عصر حاضر میں دینی مدارس کے طریق تحقیق وتالیف کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے عنوان پر گفتگو سے قبل معاشرے میں دینی مدارس کے دائرۂ کار، اہداف اور طرز عمل کے بارے میں مجموعی صورت حال پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ اسے سامنے رکھ کر ہی ہم دینی مدارس کے ’’طریق تحقیق وتالیف‘‘ کا بہتر انداز میں جائزہ لے سکیں گے۔ 
دینی مدارس کا موجودہ نظام دور غلامی کی پیداوار ہے۔ جب جنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار نے تسلط جما کر صدیوں سے چلے آنے والے سیاسی، معاشی، عسکری، تعلیمی، دفتری اور قانونی نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا اور معاشرتی وثقافتی نظام کی بیخ کنی کے لیے پیش رفت کا آغاز کیا تو تعلیمی، دینی، ثقافتی اور فکری محاذ سے دل چسپی رکھنے والے چند مخلصین نے اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کا فیصلہ کیا اور دینی تعلیم، اسلامی ثقافت، مذہبی معاشرت اور مشرقی اقدار کے تحفظ کے لیے رضاکارانہ بنیاد پر دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع کیا اور یہ ضرورت چونکہ ہمہ گیر اور ملی نوعیت کی تھی، اس لیے اس کار خیر کا سلسلہ پھیلتے پھیلتے جنوبی ایشیا کے طول وعرض تک وسعت پذیر ہو گیا۔
ان مدارس کی بنیاد تحفظات پر تھی اور ان کے اہم اہداف یہ تھے کہ مسلمانوں کا عقیدہ وایمان سلامت رہے، اسلامی معاشرتی اقدار کے ساتھ ان کا تعلق قائم رہے، قرآن وسنت اور دیگر متعلقہ علوم کی تعلیم وتدریس کا سلسلہ قائم رہے، مساجد ومکاتب آباد رہیں اور انھیں امامت وخطابت، تدریس وافتا اور دعوت واصلاح کے ضروری کاموں کے لیے رجال کار فراہم ہوتے رہیں اور اسلامی عقائد وتہذیب کے خلاف سامنے آنے والی کوششوں کا مقابلہ ہوتا رہے۔ دینی مدارس کی اب تک کی جدوجہد تحفظات کے اسی دائرے میں مذکورہ بالا مقاصد کے گرد گھومتی ہے اور جن خطرات وخدشات اور مخالفانہ اقدامات وتحریکات کو سامنے رکھتے ہوئے ان سے تحفظ اور دفاع کے لیے یہ نظام قائم کیا گیا تھا، وہ تمام تر خدشات وخطرات اور مخالفانہ اقدامات وتحریکات چونکہ نہ صرف بدستور موجود ہیں بلکہ ان کی گیرائی، گہرائی اور اثر اندازی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے مدارس دینیہ کے اہل حل وعقد ابھی تک تحفظ ودفاع کے ماحول میں ہیں اور وہ اپنے گرد خود اپنے کھینچے ہوئے دفاعی اور تحفظاتی حصار کے دائرے کو کراس کرنے کا ’’رسک‘‘ نہیں لے رہے اور بادی النظر میں ان کی یہ حکمت عملی معروضی حالات کے تقاضوں سے کافی حد تک ہم آہنگ نظر آتی ہے۔
اس پس منظر میں دینی مدارس میں آج کے دور میں ہونے والے تحقیقی اور تصنیفی کام کا جائزہ لیا جائے تو اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا نقشہ کچھ اس طرح بنتا ہے۔

مثبت پہلو

  • روز مرہ پیش آنے والے مسائل پر عوام کی راہ نمائی کے لیے فتویٰ نویسی کا کام تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور سینکڑوں مدارس میں مستقل طور پر دار الافتاء قائم ہیں جن سے لاکھوں مسلمان رجوع کرتے ہیں اور متعلقہ مسائل میں راہ نمائی حاصل کرتے ہیں۔
  • اردو اور دیگر زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم اور تفاسیر، احادیث نبویہ اور فقہ کی مختلف کتابوں کی شروح لکھی جا رہی ہیں اور مختلف مکاتب فکر کی طرف سے سینکڑوں ضخیم کتابیں اس سلسلے میں سامنے آ چکی ہیں۔
  • عقائد، عبادات، اخلاقیات، معاملات، معاشرت اور دیگر ضروریات پر دینی مدارس کے اساتذہ اور متعلقین کی تصانیف کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد کو ہزاروں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
  • دینی مدارس کی طرف سے دینی، اصلاحی اور تحقیقی جرائد کی اشاعت کی روایت شروع سے قائم ہے اور جنوبی ایشیا کے مجموعی ماحول کو سامنے رکھ کر دینی مدارس کے جرائد کی تعداد کا اندازہ کیا جائے تو وہ یقیناًسینکڑوں سے متجاوز ہوگی۔ ان جرائد میں اپنے اپنے مسلک اور مکاتب فکر کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ عام طور پر پیش آمدہ مسائل میں مسلمانوں کی راہ نمائی، تاریخی واقعات، بزرگان اسلام کا تعارف، جدید مسائل پر بحث اور فقہی مذاہب اور فکری مکاتب فکر کے مابین مناظرانہ اور مجادلانہ بحث وتمحیص کا سلسلہ بھی موجود ہوتا ہے۔
  • کچھ عرصہ سے جدید فکری وعلمی مسائل پر اجتماعی بحث وتمحیص اور تحقیق ومطالعہ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ دیوبندی مکتب فکر میں اس وقت بھارت میں مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ کی قائم کردہ فقہ اکیڈمی، دار العلوم کراچی کے تحقیقاتی علمی کام اور المرکز الاسلامی بنوں کی علمی مجالس، بریلوی مکتب فکر میں دار العلوم امجدیہ کراچی، جامعہ غوثیہ بھیرہ اور جامعہ نعیمیہ لاہور، جماعت اسلامی کے مرکز علوم اسلامیہ منصورہ لاہور جبکہ اہل حدیث مکتب فکر میں مجلس التحقیق الاسلامی ماڈل ٹاؤن لاہور کی علمی مساعی کو اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ شیعہ مکتب فکر کا بھی اس جگہ مجھے ذکر کرنا چاہیے لیکن ان کے مدارس کے کام سے زیادہ واقف نہ ہونے کی وجہ سے سردست ایسا نہیں کر پا رہا۔
  • قومی اخبارات میں مختلف مسائل کے حوالے سے دینی مدارس کے اساتذہ اور متعلقین کے مضامین کی اشاعت کا رجحان ترقی پذیر ہے اور اردو اخبارات میں شائع ہونے والے دینی مدارس کے متعلقین کے مضامین کا تناسب اگرچہ ضرورت سے بہت کم مگر پہلے سے بہتر ہے ۔
  • مختلف دینی مدارس میں تخصصات کے شعبے قائم ہیں جن میں درس نظامی کے فضلا کو متعین عنوانات پر مطالعہ کرایا جاتا ہے، تحقیق وتالیف کی تربیت دی جاتی ہے، ان سے مقالات لکھوائے جاتے ہیں اور ان کی تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
  • دینی مدارس کے سینکڑوں فضلا نے اب تک ملک اور بیرون ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات تحریر کیے ہیں جو اگرچہ ان یونیورسٹیوں کے نظم کے تحت اور ان کی نگرانی میں لکھے گئے ہیں لیکن ان کی اصل اساس دینی مدارس کی تعلیم وتربیت پر ہی ہے۔
  • دینی مدارس سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے مکاتیب اور خطوط بھی ہزاروں لوگوں کی تعلیم وتربیت اور فکری وروحانی اصلاح کا ذریعہ بنے ہیں اور بیسیوں شخصیات کے مکاتیب وخطوط اب تک کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔
  • بعض بڑے مدارس نے انٹر نیٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اپنی ویب سائٹس قائم کر رکھی ہیں جن کی تعداد بیسیوں میں ہے اور وہ اپنے اپنے دائرے میں محدود سطح پر ہی سہی مگر مصروف کار ہیں۔ ان ویب سائٹس کے ذریعے سے جامعات کا تعارف کرایا جاتا ہے، اپنے اپنے مسلک کی ترجمانی کی جاتی ہے، اور اس کے ساتھ پیش آمدہ مسائل پر عوام کی راہ نمائی کے لیے خطبات وتقاریر، مضامین ومقالات اور سوالات کے جوابات کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔
یہ تو وہ چند پہلو ہیں جنھیں تحقیق وتالیف کے میدان میں دینی مدارس کی مثبت کارکردگی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اور جو کسی حد تک یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ دینی مدارس تحقیق وتالیف کے تقاضوں اور اہمیت سے بالکل غافل نہیں ہیں بلکہ اپنے اپنے ذوق، ماحول، فکری دائرے اور تربیتی پس منظر کے مطابق اس شعبہ میں بھی بہرحال مصروف عمل ہیں۔

منفی پہلو

اب ہم تصویر کے دوسرے رخ کی طرف آتے ہیں جسے تحقیق وتالیف کے میدان میں دینی مدارس کی کارکردگی کے منفی پہلو سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً
  • دینی مدارس میں تحقیق ومطالعہ کے حوالے سے مسلکی وابستگی اور شخصی عقیدت کو ترجیحات میں فیصلہ کن اولیت حاصل ہے، زیادہ تر وقت اور زور انھی دو ترجیحات میں صرف ہو جاتا ہے اور ترجیحات کے ان کے بعد کے مراحل کے لیے اکثر اوقات وقت اور صلاحیت، دونوں میں کوئی گنجایش باقی نہیں رہ جاتی۔
  • فقہی اور مسلکی مباحث کے حوالے سے باہمی مناظرہ ومباحثہ میں افہام وتفہیم اور تطبیق ومفاہمت کے بجائے ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کا ذوق غالب ہوتا ہے اور اس کے لیے طعن وتشنیع اور تحقیر وتمسخر کی زبان استعمال کرنے سے بھی بسا اوقات گریز نہیں کیا جاتا۔
  • تحقیق ومطالعہ کا جدید اسلوب، طریق کار، ذرائع اور بین الاقوامی سطح کے علمی وتحقیقی اداروں کے کام اور طرز سے استفادہ دینی مدارس کے نزدیک ابھی تک شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی وجہ صرف بین الاقوامی زبانوں سے ناواقفیت نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ ذہنی اور نفسیاتی کیفیت بھی اس کا باعث ہے کہ ہمیں دنیا کے دیگر تمام حلقوں پر علمی اور فکری برتری حاصل ہے اور ہمیں کسی دوسرے حلقہ کے علمی کام سے واقف ہونے اور اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
  • دینی مدارس میں عالم اسلام کے علمی حلقوں کی تحقیقات، دوسرے مسالک کے علمی کام اور غیر روایتی علمی مراکز کی تحقیقی مساعی سے استفادہ کو اپنی نفسیاتی برتری کے منافی تصور کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بعد اور فاصلہ قائم رکھنے کو بھی تحفظاتی حکمت عملی کا ایک ناگزیر حصہ بنا لیا گیا ہے۔
  • بڑے مدارس کو دیکھتے ہوئے بھیڑ چال کے معاشرتی مزاج کے باعث اب جگہ جگہ دار الافتاء قائم ہو رہے ہیں اور ان کا دائرہ ضرورت سے زیادہ پھیلتا جا رہا ہے جس سے فتویٰ کی اہمیت اور معیار، دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
  • اجتماعی اور قومی مسائل میں بھی تحقیق ومطالعہ اور علمی رائے کے اظہار کے لیے مسلکی دائرے میں پابند رہنے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور ایسی روایت ابھی جڑ نہیں پکڑ سکی کہ کسی اہم قومی مسئلہ پر مختلف مکاتب فکر کے ذمہ دار علماء کرام مل بیٹھیں، مشترکہ طور پر مطالعہ وتحقیق کا اہتمام کریں اور باہمی مشاورت کے ساتھ اجتماعی رائے کا اظہار کریں۔ اس سلسلے میں ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات اور عقیدۂ ختم نبوت وناموس رسالت ﷺ کے ناگزیر تقاضوں پر اتفاق کے سوا غیر سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر کوئی اہم کام گزشتہ نصف صدی کے دوران میں ہماری دینی تاریخ کا حصہ نہیں بن سکا۔
  • دینی مدارس میں تحقیق وتالیف کے ذوق اور صلاحیت کی آبیاری کے لیے کوئی اجتماعی اور ادارتی نظم موجود نہیں ہے۔ یہ کام زیادہ تر شخصی رجحان اور ذوق کا رہین منت ہوتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی، سرپرستی اور نگرانی بھی شخصی طور پر ہی ہوتی ہے۔
  • دینی مدارس میں لائبریریوں کا نظام ناگفتہ بہ ہے۔ گنتی کے چند مدارس کے علاوہ اکثر مدارس میں یا تو لائبریریاں موجود نہیں ہیں، اور اگر موجود ہیں تو ان میں ضرورت کی اہم کتابیں، بالخصوص مختلف موضوعات پر حوالہ کی کتابیں میسر نہیں ہیں۔ کتابوں کے انتخاب میں شخصی اور مسلکی ذوق کا غلبہ ہوتا ہے اور اگر کسی مدرسہ کی لائبریری میں کچھ کتابیں پائی جاتی ہیں تو ضرورت، وقت اور سہولت کے مطابق اساتذہ وطلبہ کی ان تک رسائی نہیں ہوتی۔
  • انسانی سوسائٹی کا معاشرتی ارتقا، تاریخ، نفسیات، پبلک ڈیلنگ، سیاسیات، معاشیات، تہذیب وثقافت اور دیگر عمرانی علوم نہ صرف دینی مدارس کی تدریس، تحقیق اور مطالعہ سے خارج ہیں بلکہ ان کی اہمیت وضرورت کا احساس بھی ابھی تک اجاگر نہیں ہو سکا جبکہ خود دینی مدارس کے مقصد قیام اور ان کے مذکورہ بالا اہداف کے حوالے سے یہ علوم انتہائی ضروری ہیں۔
  • زبانوں کا مسئلہ دینی مدارس میں سب سے زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔ انگریزی اور دیگر بین الاقوامی زبانوں کی بات تو رہی ایک طرف، عربی زبان بھی صرف کتاب فہمی تک محدود رہتی ہے اور دینی مدارس میں سالہا سال تک پڑھائی جانے والی اس زبان میں فی البدیہہ گفتگو، خطاب اور مضمون نویسی کی صلاحیت سے فضلا کی غالب اکثریت محروم ہوتی ہے اور اس سے بھی زیادہ مظلومیت کا سامنا اردو کو کرنا پڑتا ہے کہ وہ بطور زبان نہیں پڑھائی جاتی اور زبان کی اصلاح، جدید اسلوب سے شناسائی، محاوروں، ضرب الامثال اور اشعار کے برمحل استعمال کی تربیت اور سلاست وشستگی کا ذوق بیدار کرنے کا کوئی نظم اور اہتمام موجود نہیں ہے۔ بالخصوص مروجہ صحافتی زبان اور اسلوب تو سرے سے دینی مدارس کے ماحول میں اجنبی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اچھی خاصی علمی صلاحیت رکھنے والے اساتذہ اور طلبہ بھی سادہ اردو میں مافی الضمیر کے اظہار کے لیے دو تین صفحات کا مختصر مضمون لکھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔

اصلاح احوال کی تجاویز

اس وقت دینی مدارس میں ہونے والے تحقیقی اور تصنیفی کام کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا ایک سرسری جائزہ لینے کے بعد اصلاح احوال کے لیے کچھ گزارشات پیش کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو ذہنی اور فکری برتری کے نفسیاتی ماحول کی ہے جس نے دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے گرد رکاوٹوں کی بہت سی بلند وبالا دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ہمیں اس ماحول سے نکلنا ہوگا اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے سوا اور لوگ بھی اس دنیا میں رہتے ہیں اور وہ بھی عقل اور علم تک رسائی کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ ان کی رائے سے اختلاف ہمارا حق ہے لیکن ان کے وجود سے اختلاف کا ہمیں حق حاصل نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں دینی مدارس کو تین سطح کے علمی کاموں تک رسائی کو اپنے اہداف و مقاصد میں ضرور شامل کرنا چاہیے اور ان کے طریق کار سے استفادہ کرنا چاہیے:
۱۔ بین الاقوامی سطح پر وہ مسلم اور غیر مسلم علمی وتحقیقاتی ادارے جو دینی مدارس کی دل چسپی کے موضوعات پر کام کر رہے ہیں اور ان کی علمی کاوشیں مختلف حولاوں سے سامنے آ رہی ہیں۔
۲۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے علمی ادارے اور تحقیقاتی مراکز جو ان موضوعات پر کام میں مصروف ہیں۔
۳۔ دوسرے مسالک اور مکاتب فکر کی علمی تحقیقات اور مساعی جو جدید پیش آمدہ مسائل پر علمی جدوجہد کر رہے ہیں۔
دوسرے نمبر پر ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے مختلف وفاقوں کو الگ الگ طور پر اور پھر مشترکہ فورم پر اجتماعی حیثیت سے بھی اس صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے اور خود احتسابی کے جذبہ کے ساتھ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنی چاہیے جن کے باعث آج ہمارے دینی مدارس علوم دینیہ میں گہرا رسوخ رکھنے کے باوجود تحقیقی وتصنیفی میدان میں معاصر اداروں سے بہت پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔
تیسرے نمبر پر ہماری گزارش اس حوالے سے ہے کہ دینی مدارس کی قیادت کو آج کے اس خوفناک چیلنج کا ادراک واحساس کرنا چاہیے جو عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالے سے مسلم امہ کو درپیش ہے اور جس میں انسانی حقوق اور گلوبلائزیشن کے عنوان سے مسلمانوں کے عقائد وافکار، تہذیب وثقافت، خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور مسلم ممالک کے اسلامی تشخص کو پامال کر دینے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ اس کشمکش کے علمی، اعتقادی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنا، فکر وفلسفہ اور علم وتحقیق کے جدید ہتھیاروں کے ساتھ اس یلغار کا سامنا کرنا اور مسلمانوں کو اس سیلاب بلا سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کے گرد تعلیم وتربیت، دعوت واصلاح اور فکری بیداری کا حصار قائم کرنا اپنے اہداف ومقاصد کے حوالے سے دینی مدارس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور انھیں اس اہم ترین ذمہ داری سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔

تاریخ فلسطین کی دو اہم دستاویزات

ڈاکٹر رضی الدین سید

جنگ عظیم اول کے دوران برطانویوں کو اس بات کا پہلے سے اندازہ تھا کہ خلافت عثمانیہ کے تحت عرب باشندے عثمانی ترک حکمرانوں سے تنگ آ چکے ہیں، اس لیے ۱۹۱۵ء میں ہینری میک موہن نے (جو اس وقت قاہرہ میں برطانیہ کی طرف سے ہائی کمشنر تھا) عربی ہاشمی لیڈر شریف حسین کو خط لکھا کہ وہ عثمانی اقتدار کے خلاف بغاوت کا راستہ اختیار کرے۔ (مغرب اپنے سفیروں کو اسلامی مملکتوں کے عدم استحکام کے خلاف کس طرح استعمال کرتا ہے، یہ واقعہ اس کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے) جواب میں شریف حسین نے برطانیہ سے وعدہ کر لیا کہ اگر وہ میک موہن کی مرضی کے مطابق بغاوت کا راستہ اختیار کرے تو برطانیہ اسے مالی اور سیاسی، دونوں لحاظ سے تعاون دے گا۔ ہاشمی لیڈر شریف حسین نے اس خط میں برطانیہ پر یہ بات بالکل واضح کر دی تھی کہ جب تک برطانیہ یہ ذمہ داری نہ لے لے کہ ترکی حکومت کے تحت موجودہ تمام عرب ریاستیں آخر کار آزاد کر دی جائیں گی، اس وقت تک اسے کسی دوسری عرب قیادت کی مدد حاصل نہیں ہو سکے گی۔ اس نے واضح طور پر لکھا تھا کہ وہ محض ’’آقاؤں‘‘ کی تبدیلی کی خاطر بغاوت کا راستہ اختیار نہیں کرے گا، جب تک کہ عربوں کو فی الواقع آزادی نہ دے دی جائے۔ شریف حسین نے میک موہن کو وضاحت در وضاحت کے لیے کئی خطوط لکھے تھے۔ غالباً اسے برطانوی مزاج کا پہلے سے اندازہ تھا۔
۱۶۔۱۹۱۵ء میں ان دونوں اہم شخصیات کے درمیان خط وکتابت کا جو باہمی تبادلہ ہوا، اسے تاریخی طور پر ’’میک موہن /حسین خط وکتابت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ برطانیہ نے یقین دہانی کرائی کہ اگر حسین نے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا تو برطانیہ خلافت عثمانیہ کے تحت موجودہ تمام عرب علاقوں میں آزاد حکومتیں قائم کر دے گا۔
۵ جون ۱۹۱۶ء کو حسین نے عربوں کی آزادی کا اعلان کیا اور ترک عثمانیوں کے خلاف بغاوت شروع کر دی۔ اس بغاوت میں فلسطین اور شام کے عرب بھی حصہ دار بن گئے۔ اس دوران برطانویوں نے عرب علاقے میں ایک ذہین شخص ٹی ای لارنس کو روانہ کیا تاکہ وہ خلافت عثمانیہ کے خلاف خود مسلمانوں کا روپ دھار کر عربوں میں بغاوت کے جذبات پیدا کر دے۔ یہ شخص بعد میں ’’لارنس آف عریبیا‘‘ کہلایا۔
برطانوی افواج کے ساتھ شامل ہو کر عرب قافلے شریف حسین اور اس کے بیٹوں (عبد اللہ اور فیصل) کی قیادت میں فلسطین اور شام میں داخل ہو گئے جس کے بعد عثمانی قیادت دست بردار ہو گئی اور اس نے جزائر مڈ روس پر اتحادیوں کے ساتھ جنگ بندی کا ایک معاہدہ (Armistice) کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا زوال مسلم تاریخ کا ایک بہت دردناک باب ہے۔ ترکوں کی خلافت کے نتیجے میں اس وقت مسلمان دنیا میں ’’جسد واحد‘‘ کی شکل اختیار کر چکے تھے اور ساری دنیا میں ایک ہی سبز ہلالی پرچم لہراتا اور ایک ہی خلیفہ کے احکام رائج ہوتے تھے۔ دنیا میں تاریخی طور پر تین بڑے امپائر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے دو عیسائی امپائرز تھیں یعنی رومن امپائر اور برٹش امپائر، جبکہ تیسری بڑی حکومت ’’اوٹومین امپائر‘‘ (خلافت عثمانیہ) کے نام سے پہچانی جاتی تھی جو خوش قسمتی سے خود مسلمانوں کی تھی۔ اس وقت یہ اوٹومین امپائر دنیا کے تین بر اعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی اور دنیا کے کئی بڑے سمندر اس کے اپنے قبضے میں تھے۔ سازشوں کے نتیجے میں مغرب نے مسلمانوں کے اس اتحادکو، تعصبات کوا بھار ابھار کر توڑ دیا اور اس وسیع وعریض سلطنت کے اندر سے پچاس پچاس لاکھ اور ایک ایک کروڑ کے چھوٹے چھوٹے راجواڑے نما کئی ممالک برآمد کر دیے جس کے بعد سے مسلمان مزید تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کل جو علاقے عثمانیہ کے تحت محض صوبے تھے، وہ آج باقاعدہ مملکت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم برطانیہ کا مذکورہ وعدہ ادھورا ہی رہا اور اس نے عربوں کو مکمل خود مختاری نہ دی بلکہ ان علاقوں پر خود اس نے اور فرانس نے مل جل کر قبضہ کر لیا۔
’’میک موہن/ حسین خط وکتابت‘‘ کے علاوہ عربوں کی آزادی اور مسئلہ فلسطین کو مزید سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک اور اہم تاریخی دستاویز ’’کنگ کرین کمیشن رپورٹ‘‘ کا مطالعہ بھی کیا جائے۔ یہ وہ رپورٹ ہے جو امریکیوں اور برطانویوں کے بہت سے جھوٹ کا راز فاش کرتی ہے۔ ۱۸۔۱۹۱۷ء میں جب جنگ عظیم اول ختم ہوئی تو عرب علاقوں کے بارے میں صہیونیوں، برطانویوں، فرانسیسیوں اور عربوں کے متضاد دعووں پر کوئی بھی مفاہمت نہ ہو سکی، چنانچہ ۱۹۱۹ء میں اس وقت کے امریکی صدر وڈ رو ولسن نے خلافت عثمانیہ کے سابق عرب صوبوں میں ایک ’’کنگ کرین کمیشن‘‘ روانہ کیا تاکہ ان صوبوں کے لوگوں سے جنگ عظیم کے بعد کسی تصفیے کی خاطر معاملات پر پہنچنے کے لیے ان کی خواہشات معلوم کی جائیں۔ کنگ کرین کمیشن نے بہت سارے جائزوں اور ملاقاتوں کے بعد اپنی حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں نہایت واضح طور پر کہا گیا تھا کہ:
  • فلسطین کے نوے فی صد باشندے غیر یہودی (یعنی مسلم اور عیسائی) ہیں اور وہ فلسطین کے اندر ایک یہودی ریاست کے قیام کے سخت مخالف ہیں۔
  • اس کے باوجود اگر فلسطین یہودیوں کے حوالے کیا گیا تو صہیونیوں کی خواہش ہے کہ وہ ارض فلسطین سے تمام غیر یہودیوں (یعنی عربوں) کو نکال باہر کریں گے۔
  • فلسطین کی صہیونی ریاست کے قیام سے فلسطینیوں کے حق خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگی۔
  • صہیونیوں کو چاہیے کہ وہ فلسطینی باشندوں کی خواہشوں کا احترام کریں اور اپنی یہودی ریاست کے قیام کے لیے کوئی اور سرزمین تلاش کریں۔
کنگ کرین کمیشن کی یہ رپورٹ بہت جانفشانی، بہت ساری ملاقاتوں کے بعد اور انتہائی دیانت دارانہ طور پر تیار کی گئی تھی جس میں علاقے کے لیے ایک بہت منصفانہ حل تجویز کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ کمیشن امریکا نے خود سرکاری طور پر قائم کیا تھا۔ تاہم اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے صہیونی بے انتہا ناراض ہوئے۔ اسرائیل کی تاریخ بیان کرتے وقت برطانیہ اور امریکا بد قسمتی سے آج اس اہم سرکاری رپورٹ کا ذکر ہی نہیں کرتے۔ یہ رپورٹ بہت سے غلط واقعات کے خلاف واضح ثبوت تھی یعنی 
  • صہیونیوں کو معلوم تھا کہ وہ لوگوں کی تمناؤں کے برخلاف کام کر رہے ہیں۔
  • عرب فلسطینی آج جس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں، امریکا نے کنگ کرین کمیشن رپورٹ کے ذریعے کل خود اس کے جائز ہونے کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹ سے چند مزید اقتباسات:
  • یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن کے مطالبے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود فلسطین کو یہودی مملکت قرار دے دیا جائے۔
  • اس طرح کی کوئی یہودی ریاست اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ فلسطین میں موجود غیر یہودی (عرب) آبادی کی مذہبی وشہری آبادیوں کو بری طرح پامال نہ کیا جائے۔
  • اگر اصول یہ ہے کہ حکم رانی قائم کی جائے تو اس میں فیصلہ کن حیثیت فلسطینیوں کی رائے کی ہونی چاہیے، یعنی یہ کہ وہ فلسطین کا کیا مستقبل طے کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا یاد رکھنا چاہیے کہ فلسطین کی غیر یہودی (عرب) آبادی کا دس میں سے نو حصہ صہیونیوں کے اس سارے منصوبے کا شدید مخالف ہے۔ اس طرح کا ذہن رکھنے والی کسی قوم پر یہودیوں کی لاتعداد ہجرت کو مسلط کرنا اور اس پر اپنی زمین سے دست برداری کی خاطر معاشی وسماجی دباؤ ڈالنا اوپر درج کیے گئے اصولوں اور کسی قوم کے حق آزادی کی بد ترین خلاف ورزی ہوگی، اگرچہ ان ساری کارروائیوں کو قانونی الفاظ کے جامے ہی میں کیوں نہ ڈھال دیا جائے۔
  • کمیشن نے جس برطانوی افسر سے بھی رابطہ کیا، اس نے یہی بتایا کہ صہیونی منصوبہ سوائے طاقت کے اور کسی طرح تکمیل نہیں پا سکتا۔ یہ چیز بذات خود صہیونی منصوبے کی شدید ترین نا انصافی کو نمایاں کرتی ہے۔
  • یہودی نمائندوں کے ساتھ کمیشن کانفرنسوں میں یہ حقیقت بار بار ابھر کے سامنے آئی کہ فلسطین میں صہیونی غیر یہودی (عرب) آبادی کا مکمل صفایا چاہتے ہیں۔
  • صہیونی نمائندوں کی جانب سے اٹھایا گیا یہ بنیادی دعویٰ کہ دو ہزار سالہ گزشتہ آباد کاری کی بنیاد پر وہ فلسطین پر اپنا ’’حق‘‘ رکھتے ہیں، کسی بھی لحاظ سے قابل توجہ نہیں ہے۔
  • کنگ کرین کمیشن رپورٹ کے ان الفاظ سے سچائی بالکل واضح ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عربوں کے ساتھ برطانیہ، فرانس، روس، امریکا اور اقوام متحدہ سب نے سراسر جھوٹ بولا تھا۔ وہ انھیں ’’آزادی‘‘ کی مسلسل آس دلا کر ان پر تاقیامت بربادی مسلط کرتے رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اسرائیل سے صحیح واقفیت حاصل کرنے کے لیے ان دو اہم دستاویزات ’’میک موہن۔ حسین خط وکتابت‘‘ اور ’’کنگ کرین کمیشن رپورٹ‘‘ کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے جن سے امریکا وبرطانیہ کی مسلم دشمنی اور ان کا یہودیوں کی جانب جھکاؤ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔
(بشکریہ جنگ سنڈے میگزین، ۱۸ جولائی ۲۰۰۴ء)

سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت اور اس کی نگارش کا طریقہ و منہاج

مولانا محمد یحیی نعمانی

سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت کے بیان میں اس سے زیادہ اور کسی بات کی ضرورت نہیں ہے کہ اس میں انسانی افراد اور جماعتوں کے لیے وہ کامل اور سد ا بہار نمونہ ہے جس کو اسی لیے تیار کیا گیا تھاکہ فرزندان آدم ہر حال میں اس سے اپنے لیے رہنمائی اور ہدایت کی روشنی حاصل کریں، خاص طور پر اہل ایمان کے لیے ا سکا ہر پہلو لائق اقتدا، اور واجب اتباع ہے۔
اللہ کی قدرت اور نبوت محمدی کا اعجاز دیکھئے کہ محمد رسول اللہ کی نبو ت کے ۲۳؍سال کے مختصر عرصہ میں ذات نبوی علی صاحبہا السلام پر ان سارے حالات وکیفیات کا گذر ہوگیا جن سے قیامت تک کسی انسان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ فتح وشکست، غربت وامیری، شاہی وگدائی، خوشی ومسرت، غم واندوہ ،اقبال وادبار، عزت وبے عزتی، غلبہ ومغلوبیت ، سفر وحضر، تجارت ومزدوری، شادی وغمی ۔۔۔غرض وہ کون سی حالت ہے جو آپ پر نہ آئی ہو اور اس سلسلے میں آپ کا سنہرا نمونہ نہ ملتا ہو۔ آپ باپ بھی بنے شوہر بھی بنے،آپ نے رشتہ داریاں بھی کیں، تعلقات قائم کئے اور محبور ا توڑے بھی، آپ نے معاہدے کیے، آپ کو دھوکہ بھی دیا گیا اور آپ کے اوپر چھوٹے الزام بھی لگائے گئے، آپ کو نفاق کے موذی مرض کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کو ایسے وفادار دوست بھی ملے جنہوں نے مہر ووفا کے بے نظیر نقوش صفحۂ تاریخ پر ثبت کیے۔۔۔ایک عاشق رسول نے اس جامعیت کو یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے:
’’عجب دربار!! سلاطین کہتے ہیں: شاہی دربار تھاکہ فوج تھی، علم تھا، پولیس تھی، جلاد تھے، محتسب تھے، گورنر تھے، کلکٹر تھے، منصف تھے، ضبط تھا، قانون تھا۔ مولوی کہتے ہیں: مدرسہ تھا کہ درس تھا، وعظ، افتاتھا، قضا تھا، تصنیف تھی، تالیف تھی، محراب تھی، منبر تھا۔ صوفی کہتے ہیں:خانقاہ تھی کہ دعا تھی، جھاڑ تھا، پھونک تھا، ورد تھا، وظیفہ تھا، شغل تھا،۔۔۔ (چلہ) تھا، گریہ تھا ، بکا تھا، حال تھا، کشف تھا، کرامت تھی، فقر تھا، فاقہ تھا، زہد تھا، قناعت تھی، ۔۔۔مگر سچ یہ ہے کہ وہ سب کچھ تھا، کیوں کہ وہ سب کے لیے آیا تھا، آئندہ جس کو چلنا تھا، جہاں کہیں چلنا تھا، جس زمانہ میں چلنا تھا اسی کی روشنی میں چلنا تھا۔‘‘ (النبی الخاتم ص: ۱۰۱)

نبوت: انسانیت کی بنیادی ضروت

سیرت رسول کے مطالعے اور اس کی نگارش کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کے ہر فقرے اور ہر مرحلے پر یہ بات ظاہر ہو کہ یہ ایک نبیِ ہادی ﷺ کی سیرت ہے، اس مطالعے میں ہر وقت یہ شعور تازہ رہنا چاہئے کہ انسانیت کو نبوت کی کتنی اور کیونکر ضرورت ہے؟۔
انسان کے پاس جو حواس ہیں اور علم کے جو ذرائع ہیں وہ اس کو یہ نہیں بتلاسکتے کہ اس کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ اس کی صفات کیا ہیں ؟اس کا اپنی مخلوق سے کس قسم کار شتہ ہے؟ انسان کا اس کائنات میں کیامقام ہے؟ اس کا مقصد تخلیق کیا ہے؟ اس عالمِ زندگی کا کیا انجام ہے؟۔۔۔ اللہ کا نبی اللہ کی طرف سے براہ راست ان سارے سوالوں کے جواب لے کر آتا ہے۔۔۔۔ انسانوں کو اندر فتنہ وفساد کی جو فطری خرابیاں رکھی گئی ہیں، اور جو انسانی زندگی کو لگاتار مبتلا ئے آزمائش رکھتی ہیں، اخلاق کو تباہ کرتی ،آبادیوں کو اجاڑتی، تمدنوں کے فساد کا باعث ہوتی اور نفرت وہوس کی آگ بھڑکاتی ہیں، ان خرابیوں کی اصلاح کا صحیح اور کامیاب طریقہ اس علم ویقین کے ذریعہ ہے اور اس نسخے سے ہی ممکن ہے جو انبیاء علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔
سیرت کے مطالعے اور اس کی نگارش کے وقت نبوت اور کار نبوت کی اہمیت اور انسانیت کی اس کے سامنے محتاجی کا اعلان ہونا چاہئے، سیرت کو اس طور پر دیکھا جائے اور پیش کیا جائے کہ وہ اس عالم گیر فساد کا تریاق ہے جس نے انسان کو خدا کی رحمت سے دور اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکا رکھا ہے۔ یہ بھی پیش نظر آتا رہے کہ کس طرح سارے علم وہنر کی ترقیوں اور وسائل کی بہتات کے باوجود معاصر دنیا کی عقلیں عالمی جاہلیتِ عظمیٰ کے علاج ،اور اس کے فساد کے انسداد میں ناکام ثابت ہورہی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ وہ اس پر متفکر نہیں، مگر اس کے باوجو وہ جاہلیت کی یلغار کے سامنے ایک ایک کرکے مورچے ہار رہی ہیں، اور ایک ایک کرکے ظلم وفساد کو اخلاقی جواز عطا کرتی جارہی ہیں۔

اصلاح کی شاہ کلید

سیرت نبوی کا ایک اہم باب یہ بھی ہونا چاہئے کہ انسانی بگاڑ کے علاج کی وہ کون سی شاہ کلید تھی جو رسول اکرم ﷺ نے استعمال؟جس سے سارے عقد ے کھلتے چلے گئے۔
انبیاء علیہم السلام انسان کے علم وارادے کو شر سے موڑ کرخیر کی طرف لگاتے ہیں۔ وہ اس میں بھلائی کی محبت اور طلب پیدا کر تے ہیں۔ اپنی جماعت کے اندر وہ یہ احساس پیدا کردیتے ہیں کہ دنیا میں بھلائی اور نیکی کو فروغ دینا انکا فرض منصبی ہے۔انسان کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں ہیں، مگر ہوس وطمع اور شیطان ان کو صرف ظلم وشر اور نفسانیت کی طرف لے کر چلتے ہیں، یہ انبیاء کا کارنامہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے اندر خدا طلبی کا وہ ذوق پیدا کرتے ہیں کہ ان کے لیے بھلائی کے راستے کی مشکلات آسان ہی نہیں لذیذ ہوجاتی ہیں، سیرت نبوی کا یہ عظیم ترین کارنامہ ہے اس کے بغیر ہم کسی بھی مطالعے کو مکمل نہیں کہہ سکتے۔

نبی کا پیغام ودعوت

سیرت نبوی کو محض روایتی تاریخی پس منظر میں دیکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو واقعات وحوادث کا بیان سمجھ لیا جاتا ہے، جس میں خوش عقیدگی کے روغن کا اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجہ میں بقول بعض معاصر علماء کے وہ ’واقعات کی کھتونی ‘بن کر رہ گئی ہے، حالانکہ نبی کی سیرت کی اصل اہمیت اس کی ہدایت ورہنمائی اور اس پیغام کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کے لیے وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے، اسی کو وہ اپنی زندگی کا مشن بلکہ اوڑھنا بچھونا بنالیتا ہے، اسی کا فروغ اس کا مقصدِ زندگی ہوتا ہے، سیر ت کے مطالعے کے وقت فوکس اور توجہ اگر اس مشن اور پیغام سے ہٹی اور وہ کہیں پس منظر میں چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ تاریخ کی ورق گردانی بن کر رہ جائے گا، محمدرسول اللہ کے سیرت نگار کو حیات طیبہ کو اس طرح پیش کرنا چاہئے کہ اس کا سب سے نمایاں اور اہم عنصر ’’رسالت ونبوت‘‘ اور اس کی دعوت وپیغام کے تمام پہلو بھی اپنی عظمت ورعنائی اور معجزانہ شان کے ساتھ سامنے آجائیں۔

اسوۂ حسنہ

رسول اکرمؐ بحیثیت رسول، اللہ کے دین اور اس کے پیغام کے مبلغ بھی ہیں، اور انسانوں کے لیے کامل اور حسین ترین نمونہ بھی، آپ کی ذات اپنے اخلاق وصفات، مزاج وکردار، عادات ومعاملات، تمناؤں اور جذبات ہر چیز میں عملی نمونہ ہے، آپ کی شب روزکی زندگی کے بغیر اور آپ کے اعمال واخلاق کے بغیر بحیثیت رسول آپ کی سیرت نامکمل ہی رہے گی۔
یہ ایک عجیب واقعہ ہے کہ ہماری روایتی سیرت نگاری میں آپ کے خِلقی اوصاف کے بیان پر جو توجہ ہوتی ہے آپ کے اسوہ کے بیان پر اس سے بہت کم توجہ ہوتی ہے،دوسری طرف صحابہ کرامؓ کی حقیقت بینی اور بلندیِ ذوق ملاحظہ ہو کہ روایات کے ذخیرہ میں آپ کے دین اور پیغام اور اسوۂ حسنہ پر بلا مبالغہ ہزارہا ہزار روایات ہیں اور آپ کی خِلقی کیفیت پر روایات گنتی کی چند۔۔۔۔ سیرت نگاری نے اخیر زمانوں میں کافی ترقی کی ہے ، اور اب اسوۂ حسنہ سیرت کا ایک اہم جز بنتا جارہا ہے، مگر اس کو ابھی مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

نبوی مزاج کی خصوصیات

انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے جو دین لے کر آتے ہیں وہ محض خشک الفاظ کے سانچوں میں ڈھلا ہوا نہیں آتا، ایسا نہیں ہوتا کہ ان کو صرف واجبات وفرائض اور اوامر ونواہی کی ایک فہرست دے دی جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو کتاب وشریعت کے الفاظ کے ساتھ اس کی روح ومزاج کیفیات واحساسات، اور جذبات کی آئینہ دار زندگی کے ساتھ بھیجتے ہیں، یہ زندگی خود ان انبیاء کی ہوتی ہے، جو اس دین و شریعت کی اتنی صاف اور مفصل تشریح کرتی ہے کہ ان کا ہر پہلو اس کے آئینے میں مجلّیٰ ہوجاتا ہے۔
سیدنا محمد رسول اللہ کی زندگی نبوی مزاج کا آئینہ اور ان جذبات وکیفیات کا مجموعہ ہے جوبراہ راست نبوت کا خاص مقصود ہیں۔ اللہ تعالی نے جس طرح آخری دین کے اوامر ونواہی کو بحفاظت ہم تک پہونچایا ہے اسی طرح اس نے ان کیفیات کو بھی ہم تک بحفاظت پہونچایا ہے۔رسول اکرم ؐ کی زندگی پر ان کیفیات کا رنگ اس طرح چھایا ہوا تھا، کہ اگر سیرت نگار نے یا سیرت کا مطالعہ کرنے والے نے اس رنگ کو چھوڑ دیا تو سیرت کے صحیح خد وخال اور اس کی اسپرٹ اور روح سامنے نہیں آسکتے اور نہ مطالعۂ سیرت کا اصل مقصود پورا ہو سکتا ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کیفیات کے جلی عناوین ہیں: خدا طلبی و تعلق مع اللہ، اللہ سے محبت اور اسکا خوف، اس پر توکل یقین، عشق وسرافگندگی،خدا مستی وبے خودی، عبودیت وتذلل، آخرت کا استحضار ویقین،زہد واستغنا، مخلوق خدا پر شفقت ورحمت، دلسزی ودردمندی،دین پر عزیمت و استقامت، اسکی راہ میں جدو جہد وجانبازی۔۔۔۔
شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ذات نبویکی یہ ربانی کیفیات سیرت نگاری کی بہت سی کو ششوں میں واضح طور پر نظر نہیں آتیں۔ اسکا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیرت کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے رسول اللہ ؐ کی سیرت کسی دوسریقومی مصلح وقائد کی سیرت سے زیادہ مختلف نہیں رہتی، وہ اس سے متأثر ہوسکتا ہے، عقیدت کا اظہار بھی کر سکتا ہے،مگر اس کے دل میں وہ ایمان پیدا نہیں ہو سکتا جو مطالعۂ سیرت کا گوہرِ مقسود ہے۔

تعبیرات واصطلاحات کی نزاکتیں

انسانی عقل وخرد اپنے ماحول اور تجربات کی روشنی میں پیغام رسانی کے لیے نئی نئی تعبیرات واصطلاحات اختیار کرتی ہیں۔ یہ اصطلاحات جس ماحول میں پیدا ہوتی ہیں اور پروان چڑھتی ہیں اپنے ساتھ وہ انکے اثرات جرور رکھتی ہیں۔کسی طرح وہ اپنے پس منظر سے آزاد نہیں ہوسکتیں۔انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے زمانوں میں اور ان سے پہلے دنیا میں مختلف اصلاحی اور فکری تحریکیں قائم ہو چکی تھیں، الگ الگ قسم کے اخلاقی اور الٰہیاتی فلسفے تھے، جنہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں سکّہ جمایا تھا، مگر قرآن مجید کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دین کے حقائق کی تشریح اور اپنی دعوت کے لیے ان اصطلاحات اور تعبیرات کو مستعار لینا اور ان سے کام چلانا کبھی گوارہ نہیں کیا۔ اس کے بجائے ان کو اپنی پیغام رسانی کے لیے نہایت سادہ اورحقائق پر مبنی الگ اصطلاھات اور منفرد تعبیرات اللہ کی طرف سے دی گئی تھیں۔
آں حضرت ؐ سے پہلے تحریف شدہ یہودیت و نصرانیت کے علاوہ حکمت وفلسفہ یونان وہند اور فارس ومصر وروما پر چھائے ہوے تھے،ہر ذہین آدمی ان سے متأثر ضرور تھا۔ مگر نبوت محمدی نے انسانی زندگی کی پیچیدہ گتھیوں کے کھولنے اورانسان کے لیے صحیح اور متوازن طرز زندگی کی تشریح میں ایمان، احسان، تزکیہ، عبادت، تقوی ، خشیت، آخرت ، رسالت، نبوت ، وحی ، علم، عدل، انصاف، مواسات وہمدردی اوراخلاق جیسی اصطلاحات استعمال کیں۔
رسول اللہؐ کی سیرت اور آپ کے پیغام کی تشریح کے لیے نہ قدیم فلسفی واجتماعی اصطلاحات موزوں تھیں اور نہ عصر حاضر کے ازموں اور سیاسی و اجتماعی تحریکوں کی اصطلاحات۔ ماضی قریب اور معاصر لٹریچر میں سیرت نبوی کے سلسلے میں جمہوریت، اشتراکیت اور سوشلزم وغیرہ کی اصطلاحات بعض لوگوں نے فراخ دلی کے ساتھ استعمال کی ہیں۔ہر کچھ دنوں کے بعد کوئی نیا ازم، یا فلسفہ دنیا پر فیشن کی طرح چھا جاتا ہے، پھرجب وہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے انتشار و عدم توازن اور انفرادی و اجتماعی مسائل کو مزید بڑھا کر رخصت ہوتا ہے تو کوئی نیا ازم دنیا پر مسلط کر دیا جاتا ہے،اور اسکا یسا پرو پیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے سارے مسائل کا حل اسی میں نظر آنے لگتا ہے۔ اس فضا سے ہم بھی متأثر ہو جاتے ہیں، کسی کو رسو ل اللہ ؐ کی دعوت میں جمہوریت کی صدا سنائی دینے لگتی ہے، تو کوئی اسکو ایک موزوں اشتراکی تحریک کہنے لگتا ہے، کوئی سوشلسٹ اصطلاحات میں رسول اللہ کی اقتصادی اصلاحات بیان کرتا ہے، تو کوئی آں حضرت ؐ کے پیغام کو اشرافیہ کے اقتدار اور ملوکیت کے خلاف قومی بغاوت کا نام دیتا ہے، یہاں تک کہ بعض مستند علماء بھی جو سیرت کا اس کے اصل تناظر میں مطالعہ کرتے ہیں آں حضرتؐ کو جمہوری لیڈر اور آپ کی اصلاحات کو جمہوری یا سوشلسٹ اصلاحات کہہ جاتے ہیں۔
انصاف کی بات یہ ہے کہ ان تعبیرات کا پیرہن، نبوی پیغام کے لیے قطعاناموزوں ہے، انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے ’دین‘ لے کر آتے ہیں۔ ان کا کام انداز وتبشیر ہوتا ہے، ہدایت وتزکیہ ان کا طریقہ کار اور انسانوں کو اپنے خدا سے جوڑنا اور اس کی رحمتوں سے فیضیاب کرانا ان کا مشن ہوتا ہے، ان کا پیغام نہ کسی فاسد تمدن کاردعمل ہوتا ہے، اور نہ کسی ظالم اقتصادی وسیاسی نظام کے خلاف عوامی جذبے کا اظہار، وہ صرف وحی ونبوت کا نتیجہ ہوتا ہے، اور اس کے لیے یہی تعبیرات زیادہ صحیح اور موزوں ہیں۔
حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ کے سیرت طیبہ کے بیان اور آپ کے پیغام کی تعبیر وتشریح میں نہایت احتیاط کرنی چاہیے، اور اس کے لیے وہی اصطلاحات وتعبیرات باقی رکھنی چاہییں جو خود آپؐ نے اپنی احادیث میں اور آپ کو سب سے زیادہ جاننے اور سمجھے والے صحابہ کرام نے استعمال کی ہیں، نیز سیرت طیبہ کے بیان کا جو عمومی رنگ اور فضا ہو وہ اسی رنگ اور فضا سے بالکل ہم آہنگ ہونی چاہیے جس کا قرآن اور حدیث رسول کا گہرا مطالعہ کرنے والا مشاہدہ کرتا ہے۔

قدیم سرمایۂ سیرت پر ایک نظر

جامع اور متوازن سیرت نگاری اور تجزیاتی مطالعے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس سیرت پر جو مواد موجود ہے اس کی نوعیت پر نظر ہو، یہ بھی معلوم ہو کہ کسی عہد میں اس فن کی داغ بیل پڑی؟ وہ کس ماحول میں تیار ہوا؟ جس زمانے میں وہ پروان چڑھا اس کے رجحانات کیا تھے؟ یہ بھی تفصیل سے معلوم ہو کہ اس سرمایے کے اپنے مآخذ کیا ہیں؟ ان کی استنادی حیثیت اور مرتبہ کیا ہے؟ اور اس کی جانچ پر کھ کے کیا اصول ہیں؟۔
جہاں تک سیرت کے مآخذ کی درجہ بندی اور ان کے تاریخی وروایتی استناد کا تعلق ہے، یہ ایک طویل موضوع ہے۔ ہمارے ہندوستانی مؤلفین میں علامہ شبلی اور ان کے بعد کے کئی محققین نے اپنی کتب سیرت کے مقدموں میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے، بہت کم ہی ضروری مباحث ایسے ہیں جو ان کے یہاں نہیں ملتے، لہذا اس سر مایے سے متعلق کچھ متفرق ضروری باتیں عرض کی جارہی ہیں۔
۱۔ یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ اولین سیرت نگاروں نے وسیع معنی میں سیرت طیبہ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ اپنا مقصود نہیں بنایا تھا، ان کی توجہ کا اصل مرکز یہ چند پہلو تھے۔: (۱) رسول اکرم کی قبل بعثت زندگی خاص طورپر خاندانی پس منظر، ولادت، ورضاعت، وغیرہ۔ (۲) بعثت کے بعد کے اہم واقعات وحوادث، خاص طور پر مکی معاشرے کی سیاسی صورت حال (۳) مدنی عہد میں خاص طور پر غزوات وسرایا اور سیاسی آویزشیں، اس صورت حال کا اندازہ کرنے کے لیے صرف اس بات پر غور کرنا کافی ہوگا کہ فن سیرت کا نام ’’علم السیرۃ‘‘ کے بجائے ’’علم المغازی‘‘ رکھا گیا، شاید بلکہ غالبا اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان حضرات نے ان پہلووں کو خاص طور پر محفوظ کرنا چاہا جن کو محدثین کرام اپنے موضوع بحث سے کسی حد تک خارج سمھتے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے جمع وتدوین اور بحث وتحقیق کے دائرے میں صرف آں حضرت کے تشریعی ارشادات، احکام وقضایا، مواعظ وخطبات اور سنن وفرائض کی ادائیگی کے طریقے اور حقائق دین وایمان سے متعلق روایات کو ہی رکھا تھا۔
ابن اسحاق دوسری صدی میں اپنی مغازی ترتیب دے چکے تھے، موسی بن عقبہ بھی ان کے ہم عصر تھے، انہوں نے اس فن کی طرح جن بنیادوں پر ڈالی وہ اسی پر قائم رہا، ابن سعد اور طبری جیسے مورخین نے بھی عہد نبوی کی تاریخ کے لیے ان ہی بنیادوں کو استعمال کیا، ابن قیم کی زاد المعاد اور چند دوسری کو ششوں کے استثناء کے ساتھ فن سیرت جدید دور (یعنی چودھویں صدی ہجری) سے پہلے ان خطوط پر ہی اپنا سفر طے کرتا رہا، محدثین کے حلقے نے اس پر شمائل اور دلائل نبوت کا اضافہ بھی کیا۔
۲۔ سیرت وتاریخ اسلام کی روایات جس زمانے میں جمع وتدوین کے مرحلوں سے گذر کر کتابی اور مرتب علمی انداز میں محفوظ کی جانے لگیں، یہ وہ زمانہ ہے جب امویوں کی شمشیر خار اشگاف نے چہار دانگ عالم میں تہلکہ مچا رکھا ہے، اور غلبہ و اظہار دین کا خدائی وعدہ پور اہوچکا ہے۔ اس فضا کا اثر تھا یا روایتی تاریخ نویسی کا قدیم انداز کہ سیرت نگاری پر ’’مغازی‘‘ کی فضا چھا گئی، اگر آپ سیر وتاریخ کے مآخذ دیکھیں اور حدیث وسنت کے ذخیروں سے اسلام کے روحانی اصلاحی اوراخلاقی کارناموں کو جمع نہ کریں تو یہ رسول اللہ کی نہایت نامکمل سیرت ہوگی، جس میں آپ ایک تحریک کے بانی، ایک فاتح،یا ایک مصلح اور فرمانروا زیادہ نظر آئیں گے، ایک نبی وصاحب وحی اور مکمل بشری نمونہ کی تصویر کم بنے گی، آپ کو پورا عہد مدنی غزوات کے ارد گرد طواف کرتا نظر آئے گا، او رعہد مکی کی اتنی کم تفصیلات ملیں گی کہ بے اختیار تاریخی مآخذ کی تنگ دامانی کا شکوہ کرنے کو دل چاہے گا۔
فن سیرت کے قدیم مآخذ پر ’’مغازی‘‘ کی چھائی ہوئی فضا کو اور اس عہد کے عمومی ماحول کو سامنے ضرور رکھنا چاہئے، اور کوشش کرنی چاہیے کہ اصل واقعہ اور اس ماحول کے زیر اثر کی گئی اس کی تشریح وتوضیح جو راوی اور مورّخ خود کرتا ہے دونوں کے درمیان فر ق کیا جائے۔
۳۔ فن حدیث اورفن سیرت کی روایات کے درمیان ایک اہم فرق بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے، علماء اسلام نے حدیث کو براہ راست دین کا حصہ اور وحی ربانی سمجھ کر جمع کیا، اور اس کے لیے وہی احتیاط برتی جو اس کا حق تھی ۔ احتیاط کے پیش نظر ایک ایک روایت کو الگ الگ بیان کیا، ان کے درمیان تاریخی یافنی ترتیب وتسلسل قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، بیان میں کم ازکم اپنے فہم وفکر کو اثر انداز ہونے کا موقعہ دیا، جو راوی نے خود سنا وہ بیان کیا، اپنی طرف سے اسباب وعلل کے بیان سے پرہیز کیا۔ پھر اس فن کے ناقدوں نے اس کو دسیوں کسوٹیوں پر پرکھا، داخلی وخارجی ذرائع استعمال کیے، اصل واقعے کے بیان میں کہیں کسی سے کوئی تسامح ہوا تو اس کو بھی پکڑا، راوی نے کہیں تشریح وتوضیح کے طور پر اپنی طرف سے کوئی بات شامل کردی تھی (جس کو محدثین کی اصطلاح مین ادراج کہتے ہیں) تو اس کو مختلف روایات کے مطالعے کے ذریعہ اس کو بھی الگ کیا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے برخلاف سیرت و تاریخ کی روایات میں ایسا نہیں ہوسکا، ابتدائی سیرت نگاروں نے تاریخی تسلسل کو باقی رکھنے کے لیے الگ الگ روایات کو باہم ملایا بھی، اپنے قیاس سے اس کی تفسیر اور اسباب ومحرکات بھی بیان کیے۔ ظاہر بات ہے علماء اسلام کے نزدیک تاریخی واقعات کی وہ اہمیت نہیں تھی جو ان کی شریعت اور دینی واجبات کی تھی، اس لیے اس سرمایہ کو فن حدیث کے ’’صرّافوں‘‘ نے اپنے سخت معیاروں پر جانچا بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ روایات واخبار جو محدثین کی کتابوں میں تاریخ وسیرت سے متعلق موجود ہیں، خود محدثین نے ان کی اس طرح جانچ پرکھ نہیں کی ہے جس طرح وہ احکام شریعت کی روایات کی کیا کرتے تھے۔ ہمارے سرمایۂ حدیث میں احکام کی روایات پر ناقدین حدیث نے نقد وتحقیق کے اصول زیادہ سختی سے برتے اور باریک بینی سے استعمال کیے ہیں، دیگر روایات میں انہوں نے اتنی باریک بینی سے کام نہیں لیا، اس لیے یہ بات ظاہر ہے کہ دونوں کا درجہ ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔
۴۔ مسلمانوں نے روایات حدیث وتاریخ کی تنقید کے لیے جو منفرد نظام ایجا د کیا وہ بجا طور پر ان کی علمی تاریخ کا ایک درّبے بہا اور قابل صد فخر کارنامہ ہے، جس سے ممکنہ حد تک کسی تاریخی روایت کی جانچ کی جاسکتی ہے، اور اس کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ عام طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ سیرت نبوی کی روایات کی جانچ ان اصولوں پر نہیں کی جاسکتی۔ عموما اس کی وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ یہ اصول نہایت سخت ہیں، اور ان کی معقولیت وافادیت فن حدیث میں اس لیے تھی کہ اس پر عقائد وایمانیات اور حلال وحرام کا دار ومدار تھا، سیرت نبوی تو محض تاریخی واقعات وحوادث کے قسم کی چیز ہے، اس لیے اس کی روایات کو اتنے سخت اصولوں پر کسنے کی ضرورت نہیں۔
لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو صورت حال اس سے مختلف نظر آئے گی، سیرت نبوی کا تعلق براہ راست ہمارے مرکز ایمان یعنی رسول اللہ کی ذات سے ہے، سیرت ہمارے لیے گویا وہی مقام رکھتی ہے جو ابتدائے اسلام کے لوگوں کے لیے ذات نبوی کا تھا، سیرت پوری کی پوری دین ہے،اس میں کمزور روایتیں قدم قدم پر ہماری عقیدت کا امتحان لیں گی۔
ہاں!جو راویتیں خالص تاریخی نوعیت کی ہیں تو ان کو واقعات کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے اور اس عہد کی تصویر کو مکمل کرنے کے لیے ضرور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ روایتیں اسلام کے ان اصولوں سے کسی درجہ میں بھی نہ ٹکرائیں جو قرآن اور قوی ترین روایتوں سے ثابت ہوتے ہیں، ان روایتوں کا لازمی طور پر اس معجزانہ حد تک کے پاکیزہ کردار اور اعلیٰ اخلاق کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے جس کا رسول اسلام حامل تھا اور جس کی یقینی گواہی صحیح کتب حدیث کا ایک ایک صفحہ دیتا ہے۔
۵۔ شاید یہ خیال بھی زیادہ صحیح نہیں کہ کتب حدیث کے ذخیزہ میں سیرت نبوی اور عہد نبوی کے تاریخی پہلووں سے متعلق روایات بہت کم ہیں، واقعہ یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں عہد نبوی کے تاریخی پہلووں سے متعلق بہت مواد ملتا ہے، اور بسا اوقات تو اس کی نوعیت بڑی اہم اور غیر معمولی ہوتی ہے، کبھی کبھی ان میں ایسے پہلو ریکارڈ ہوجاتے ہیں جن کا کوئی سراغ تاریخ وسیر کی کتابیں نہیں دیتیں۔ یہ روایتیں حدیث کی تمام کتابوں میں بکھری ہوتی ہیں، ان کو جمع کرنا ایک لمبا کام ضرورہے۔ مگر اب لوگ کرنے لگے ہیں۔عربی اور اردو میں دو الگ محققین نے بخاری ومسلم کی ان روایات کو جمع کیا ہے جو تاریخی نقطہ نظر سے سیرت نبوی سے متعلق ہیں۔ مسند احمد کی فقہی ترتیب ’’الفتح الربانی‘‘ کی تیرہویں اور بیسویں، اکیسویں اور بائیسویں جلد میں سیرت سے متعلق نہایت وافر سرمایہ موجود ہے۔ سیرت کے معروف ماہر اور مورّخ ڈاکٹر اکرم ضیا ء عمری کے زیر نگرانی متعدد محققوں نے سیرت کے الگ الگ عہدوں اور ابواب سے متعلق حدیث وتاریخ کی روایات جمع کی ہیں، اور ان کی محدثین کے اصول کے مطابق جانچ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ یہ کام جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) کے پی ایچ ڈی اور ایم اے کے مقالات کی شکل میں تقریبا مکمل ہوچکا ہے،۔کچھ چیزیں طبع ہوچکی ہیں اور کچھ منتظر طباعت ہیں۔

عہد جاہلی

رسول اللہ کی بعثت سے پہلے کازمانہ جاہلی کہلاتا ہے، سیرت نبوی کے پس منظر کے طور پر یہ زمانہ بھی زیر بحث آتا ہے، خاص طور پر عربوں کی ماقبل اسلام تہذیب ومعاشرت دل چسپی کا موضوع بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔بعثت محمدی سے پہلے عربوں کی زندگی کورے کاغذ کی طرح تھی، قبائلی زندگی جو تمدن کے نقش ونگار اور تکلفات سے پاک تھی۔ عربوں کے علاوہ دنیا کی مختلف قوموں نے تمدن وتہذیب اور مذاہب وادیان کی وادیوں میں مختلف راہیں نکالی تھیں۔ مختلف قوموں نے فلسفہ وحکمت اور تمدن وحکومت کے پر رعب نقوش قائم کیے تھے، بہت سی منظم حکومتیں قائم تھیں، علم کی مسندیں آراستہ اور فنون کی بزمیں سجی ہوئی تھیں، مگر سب کا قبلہ غلط تھا اور شر کے رخ پر تھا، اور سب کا سب قرآن کے الفاظ میں’’بر وبحر کے عالمی فساد‘‘ کا مصداق تھا۔
عرب دنیا سے الگ اپنی صحرائی بدویانہ زندگی میں مست تھے۔ مگر یہ تصور غلط ہے کہ وہ اسلام سے پہلے محض فساد وظلم کا مجموعہ اور خیر ونیکی سے عاری تھے، شاید رسول اللہ کے کارنامے کی عظمت بیان کرنے کی نیت سے غالبا بے شعوری طو رپر اکثر یہی تصور قائم کرلیا جاتا ہے۔
عرب بے پڑھ لکھے تھے، تمدن کی رنگینیوں سے دور، اور فلسفے کی موشگافیوں سے ناواقف تھے، ان کو اپنے امی ہونے کا اور کتاب شریعت سے تہی دامن ہونے کا اعتراف تھا۔ مگر ان کی اس کمی نے ان کو فطرت سے قریب اور نفسیاتی واخلاقی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھاتھا۔ وہ مشرک تھے، مگر ان کے اندر دین ابراہیمی کے باقی ماندہ اثرات تھے۔ ان میں بلا کی اخلاقی خوبیاں تھیں، سچائی اور وفاداری میں فرد، عزم وخودداری میں یکتا، اور سادگی وشہامت اور غیرت وہمت ان کی قومی صفات تھیں۔
ان کی یہ خوبیاں ہی تھیں جن کی وجہ سے ان کا اس نبوت کے لیے انتخاب عمل میں آیا جس کی مخاطب پوری انسانی برادری تھی۔ آپؐ سے پہلے انبیاء ؑ اپنی اپنی قوموں میں آتے تھے، اس لیے کسی قوم میں نبی آنا عام حالات میں اس بات کی علامت نہیں ہوتا تھا کہ وہ قوم دوسری قوموں سے بہتر ہے۔مگر آں حضرتؐ کی بعثت عالمی تھی، اور آپؐ کے پیغام کو عربوں (بنی اسماعیل) کے واسطے سے پوری انسانیت تک پہنچنا تھا، اور وہی آپ کے دین کے سارے عالم کے لیے معلّم قرار پائے تھے۔اس لیے بنی اسماعیل کا اس عظیم کام کے لیے انتخاب خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کچھ خاص امتیازی صفات کے حامل تھے۔
خود رسول اللہ نے اس کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے بنی اسماعیل کا اور ان میں سے بنو کنانہ کا اور ان میں سے قریش کا انتخاب فرمایا، پھر ان میں سے بنی ہاشم اور میرا انتخاب فرمایا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ نے مجھے مخلوق کی بہتر جماعت میں پیدا فرمایا، پھر اس جماعت کے بہتر قبیلے میں مجھے رکھا۔۔۔ (سنن ترمذی باب فضل النبیؐ)۔
ایک معاصر سیرت نگار کو عربوں کی ان خوبیوں کو ان کی جاہلی تاریخ وادب کے خزانوں سے نکال کر لانا چاہیے، اور اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ کیوں عرب اس امانت کے لیے زیادہ موزوں تھے۔

زمانۂ قبل بعثت

رسول اکرم ؐ کی ولادت اور رضاعت کے زمانے کے بہت سے محیر العقول واقعات سیرت کی کتابوں میں روایت کیے جاتے ہیں، اگر یہ قابل اعتماد ذرائع سے اور صحیح روایات سے ثابت ہوں تو بسر وچشم قبول کیے جائیں۔ مگران کی بہت بڑی اکثریت بلکہ سوائے چند کے تمام نہایت کمزور اور بے اصل قسم کی روایتیں ہیں۔ بہت سے لوگ یہ کہہ کر ان کو قبول کرلیتے ہیں کہ فضائل ومعجزات کے باب میں ضعیف روایتیں قبول کرلی جاتی ہیں۔ مگر یہ کم علم محسوس کرتا ہے کہ ان روایتوں کی حیثیت محض ’’ضعیف‘‘ روایات کی نہیں ہے، بلکہ اکثر روایتیں نہایت کمزور اور ’’واہی‘‘ قسم کی ہیں، اور محدثین کے جس اصول کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ اتنی کمزور روایات یا ’’واہی وموضوع‘‘ روایات کے لیے نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حدیث کی عام معتبر کتابوں میں یہ روایات نہیں لی گئی ہیں۔ بلکہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان روایات کا اکثر حصہ ایسا ہے کہ اس کو اگر کوئی متقدمین کے عہد میں یہ کہہ کر روایت کرنے لگتا کہ میں تو سند بیان کر رہا ہوں لوگ راویوں کو جان کر خود ان کے بارے میں فیصلہ کرلیں گے، تو محدثین اس کو ہی ساقط الاعتبار یا کمزور قرار دے دیتے ۔ اسی لیے حدیث کی عام کتابوں میں ان روایتوں سے احتیاط برتی گئی ہے۔
بعض معاصراور ماضی قریب کے علماء نے یہ بات کہی ہے کہ حضور اکرم ؐ کی ولادت کے اور بچپن کے حالات ومعجزات اس لیے صحیح روایات میں ریکارڈ نہیں ہوسکے ،کہ مسلمانوں کی علمی بزم تو عہد مدنی کے آخری نصف میں آراستہ ہونی شروع ہوئی، ماقبل ولادت اور بچپن کے معجزات کو دیکھنے والے اس دور میں بہت کم بچے تھے، یہ بات تو حقیقت سے قریب تر ہے، مگر اسی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صحابہ کرام نے ان واقعات کو بیان کیا ہے (چاہے انہوں نے ان معجزات وواقعات کو خود دیکھا ہو، یا کسی اور اسے سنا ہو)بہر حال اگر صحابہ نے ان کو روایت کیا ہے تو یہ صرف نہایت کمزور راویوں کے یہاں کیوں ملتے ہیں، معتبر راوی ان کو روایت کیوں نہیں کرتے؟؟ اور اگر صحابہ کرام نے ان کو روایت کیا ہی نہیں ہے تو یہ کمزور راویوں کے پاس کہاں سے پہنچے؟؟۔
ایک اہم اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اگر یہ محیر العقول واقعات دینی اعتبار سے سیرت رسول کا ایک مفید وضروری عنصر ہوتے تو اللہ کی تقدیر میں یہ ضروری ہوتا کہ یہ قابل اعتماد ذریعے سے ہم تک پہنچتے، اس لیے کہ نبی آخر الزماں کی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ جس کا تعلق آپ کی نبوت ورسالت سے ہو اور جس سے سیرت کے نبوی پہلو کو تقویت ملتی ہو وہ مکمل طور پر بے اصل روایات میں ہی پایا جائے، ایسا بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔
بہر حال!کمزور روایتوں میں پائے جانے والے محیر العقول واقعات کے بکثرت بیان سے سیرت طیبہ پرایک دیو مالائی رنگ چھانے لگتا ہے، جو دین اور اس کی دعوت کے لیے مضر ہے۔ ہاں ما قبل ولادت اور بچپن اور جوانی کے جو معجزات اور آیات و دلائل معتبر روایوں اور قابل اعتماد ذرائع سے آئے ہیں ان کا بیان ضروری ہے۔
آں حضرتؐ نے بعثت سے پہلے ایک نہایت اعلی کردار کی شریفانہ زندگی گذاری تھی، مکی معاشرے میں آپ کا کردار واخلاق مسلم تھا، قرآن نے بھی مخالفین کو آپؐ کی بعثت سے پہلی زندگی کے حوالے سے غور وفکر کی دعوت دی تھی۔ ہمارے سیرت وحدیث کے سرمایے میں ایسی روایات موجود ہیں جو آپؐ کی امانت سچائی، راست بازی، عدل، ہمدردی وغم خواری، مکہ میں آپ کی معتبر شخصیت اور اعلیٰ درجہ کی روحانیت وخدا پرستی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ یہ روایتیں سیرت نگار کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

مکی عہد

جس طرح کسی بارعب وپر شکوہ وشوکت قلعے کی مضبوطی کا دار ومدار اس کی بنیاد پر ہوتا ہے، جو زمین میں چھپی ہوتی ہے، اسی طرح اسلام کے عظیم الشان قلعہ کا جو مرعوب کن منظر عہد مدنی میں نظرآتا ہے، اس کی مضبوطی کا راز عہد مکی میں چھپا ہوا ہے۔ سطحیت کے ساتھ کیا گیا مطالعہ ان عظمتوں کا راز حنین وتبوک کے میدانوں اور طائف واوطاس کی وادیوں میں دکھائے گا مگر نگاہ حقیقت بیں اور تحلیل وتجزیہ کے ساتھ کیا گیا مطالعہ اس کی جڑیں مکی عہد کی پر سوز دعوت، حکیمانہ تربیت، مؤ منانہ صبر واستقلال، اور مدبرانہ حکمت عملی میں ڈھونڈیں گے۔
مدنی عہد کی طرح مکی عہد کا اتنا مفصل ریکارڈ ہمارے حدیث وسیر کی دفتروں میں نہیں ہے، اس کے تاریخی اور سماجی اسباب بھی تھے، اس لیے یہاں ہم کو زیادہ گہرے تجزیے اور استنباط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے اس عہد کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھی ہوئی ہے کہ یہ دور سیرت نبوی کے اس وقت کا شاہد ہے جب مسلمان کمزور اور مغلوب تھے اور ایک غیر مسلم اقتدار کے تحت رہتے تھے، دعوت اسلامی کے راستے میں رکاوٹیں سخت اور بے شمار تھیں۔ پھر چند سالوں کے بعد ہی مدینہ کے افق سے اسلام کے غلبہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، صدیوں تک اس کو زوال نہیں ہوتا، اسی روشن اور پُر بہاردن میں فکر اسلامی پروان چڑھتا ہے، مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی رویّے طے کرتے ہیں، اپنی شریعت وقانون کے ضابطے متعین کرتے ہیں، ان کا پورا ذہنی سانچہ اسی غلبہ وعافیت کے دور میں تیار ہوتا ہے۔ تاآنکہ ۱۲؍صدیوں بعد یہ سورج غروب ہوتا ہے، اور اسی اندھیرے کی رات شروع ہوتی ہے جس میں رسول اللہ نے اپنے سفر کا مکہ سے آغاز کیا تھا۔
اب ایک مرتبہ پھر امت کو اسی طرح کی حکمت علمی اور دعوتی تدریج کا راستہ ڈھونڈنا ہے جس پر رسول اللہ نے مکی عہد میں اور مدینہ کے ابتدائی عہد میں سفر کیا تھا، جس میں اصولوں پر عزیمت کے ساتھ جمنے کا بھی سبق ہے، کفر وایمان کی واضح حد بندی بھی ہے، اور بھرپور حکمت عملی کے ساتھ مخالف ماحول میں اپنے لیے گنجائش پید اکرنے اور رکاوٹوں کے بیچ سے راستہ نکالنے کی تدبیریں بھی۔
ایک طرف تو آپ کفر سے اسی طرح براء ت کا اظہار کرتے ہیں جس طرح سورۂ ’’الکافرون‘‘ میں آپؐ کو حکم دیا گیا تھا، دوسری طرف آپؐ بنو ہاشم سے خاص طور پر اور بنو عبد مناف کے خاندان سے عمومی طورپر نہیں اور کمزور مسلمانوں کی حفاظت میں مدد بھی لے رہے ہیں۔ مکہ کی قبائلی زندگی میں جو رسم ورواج اور عرف ہیں آپؐ اس کو بھی استعمال کررہے ہیں۔ مدینہ میں مشرک عناصر ور یہودی قبائل پر مشتمل ایک مشترک دستوری مملکت بھی تشکیل دے رہے ہیں جو قریشی خطرے کا مقابلہ متحد ہوکر کرے گی۔۔۔۔مکی زندگی میں آپ کو لچک اور صلابت کے حدود بھی ملیں گے اور عزیمت ورخصت کے اصول بھی، اور ان کے علاوہ ایسے بہت سے رہنما اصول ملتے چلے جائیں گے جو عہد حاضر میں ہمارے طرز عمل کی شرعی بنیاد ہوں گے۔
عہد مکی کے مطالعے میں اس دور کی دعوت کے عناصر کی تلاش ایک اہم موضوع بحث ہے، اس کے متعلق قرآن مجید میں بہت اہم مواد موجود ہے، جو اس پوری فضا کی نہایت مکمل اور مفصل تصویر کشی کرتا ہے جس میں اسلامی دعوت اپنا سفر طے کررہی تھی۔ قرآن مجید اس دور کی دعوت کے بنیادی عناصر بھی بیان کرتا ہے، اس وقت اس کے کیا دلائل دیے جارہے تھے؟ کس قسم کے اعتراضات اور شبہات پیش آرہے تھے؟ اس کو بھی واضح کرتا ہے، نیز اس کے بیانات کے بین السطور اور سلوٹوں میں یہ بھی پڑھا جاسکتا ہے کہ اس مخالفت بھری فضا کے کیا نفسیاتی اثرات اہل ایمان پر پڑتے تھے۔
عہدمکی کے مطالعے کے دوران رسول اللہ کے حکیمانہ طرز عمل کا گہرا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے، جس میں یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جائے کہ آپؐ اس کثیر رخی مخالفت کا سامنا کس طرح کررہے تھے؟ کن شخصیتوں اور جماعتوں کو اللہ تعالٰی  نے آپ کے لیے ڈھال بنادیا تھا ؟ آپ کا ان شخصیتوں اور جماعتوں سے کس قسم کا رابطہ رہتا تھا؟۔
عہد مکی کا یک اہم باب ہجرت حبشہ ہے، ہجرت حبشہ کے دعوتی اور سیاسی پہلووں کو خاص طور پر اہمیت دینی چاہیے، یہ بات خاص طورپر نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ جنوبی اور مشرقی عرب کے قبائل فارسی حکومت کی سیاسی سرپرستی کے تحت تھے، اہل مکہ (اور اہل مدینہ) کے بھی کسری کے دربار سے تعلقات تھے، خود کسریٰ بھی ان علاقوں کے لوگوں کو اپنا محکوم جانتا تھا، اسی لیے جب اس کے پاس رسول اللہ کا خط پہنچا تو اس نے آمرانہ تکبر سے کہا: ’’یکتب الیّ ھذا وھو عبدی‘‘ (میرا غلام ہوکر مجھ سے اس طرح خطاب؟) اور اسی لیے اس نے اپنے یمن کے گورنر کو لکھا کہ وہ مدینہ دو آدمی (صرف دو) بھیج کر آنحضرت ؐ کو گرفتار کرواکر مدائن بھیج دے۔۔۔ اس پس منظر میں دیکھیے کہ رسول اللہ ؐ نے صحابۂ کرام کو حبشہ کی حکومت کے پاس بھیجا جو ایران کی ساسانی حکومت کی عالمی حریف سلطنت روما کے تابع اور اس کی ہم مذہب (عیسائی) تھی۔
حبشہ میں مسلمان ایک غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہنے لگے ،جوان کو ان کی ذاتی زندگی میں مذہبی آزادی بھی دیتی تھی ،اور ان کی حفاظت بھی کرتی تھی، صحابہ کرام نے بھی اس حکومت سے وفاداری اور خیر خواہی کا ثبوت اس حد تک دیاکہ اس کے لیے اپنی فوجی خدمات تک پیش کیں۔۔۔۔ حبشہ میں مسلمانوں کا رویہ اور طرز عمل ہمارے سامنے حکمت عملی کے اہم دروازے کھولتا ہے، اسی طرح حضرت جعفرؓ کی نجاشی کے دربار میں کی گئی تقریر اسلامی دعوت وسیاست کا ایک شاہکار ہے۔
اہل علم وفکر کے لیے ایک سوال یہ بھی غور طلب ہے کہ وہ کون سی مصلحت تھی کہ جس کی خاطر مہاجرین حبشہ کو رسول اللہ نے امن وحفاظت اور آزادی کا وطن میسر ہونے کے بعدبھی اس وقت تک نہیں بلایا جب تک صلح حدیبیہ نہیں ہوگئی، یہ لوگ صلح حدیبیہ کے بعد جب عرب میں کوئی بڑی مخالفت نہیں رہ گئی تھی وہاں سے واپس ہوے اور فتح خیبر کے بعد آں حضرتؐ سے ملے۔
مکی دعوت کا ایک اہم باب موسم حج اور اس کے علاوہ رسول اللہ کی قبائل کے وفود سے ملاقات بھی ہے، جس میں آپ ان کو اسلام کی بھی دعوت دیتے تھے اور اپنے لیے پناہ اور حفاظت کی بھی فرمائش کرتے تھے۔
اس عہد کے مطالعے کا ایک اہم موضوع یہ ہے کہ مکہ والوں کی اور عام طورپر سارے عرب کی مخالفت کے کیا اسباب تھے؟ وہ اسلام دشمنی اور اس کار استہ روکنے کے لیے کیا کیا وسائل استعمال کرتے تھے؟ اسی طرح ایک نہایت اہم سوال جو بہت سے دلچسپ حقائق کو سامنے لائیگا، یہ ہے کہ کیا اہل مکہ اورقریش کے لیے کچھ ایسی اخلاقی رکاوٹیں یا قبائلی وخاندانی بندشیں تھیں جو عام طورپر ان کی مخالفت کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہیں دیتی تھیں؟ راقم سطور کی نظر میں علامہ شبلی نعمانی وہ پہلے سیرت نگار ہیں جنہوں نے کسی حد تک یہ پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ قریش اور اہل مکہ اپنی مخالفت اور محاذ آرائی میں ان آخری حدوں تک کیون نہیں جاتے تھے جہاں تک جانے سے روکنے والی بظاہر کوئی مادی وجہ نہیں تھی؟راقم سطور کی ناقص نظر میں اس کا سبب آپسی قرابت داری اور خاندانی رشتوں کا پاس اور لحاظ تھا، جو عربوں کا قومی مزاج تھا، حتی کہ اگر بعض بدبخت اس مخالفت میں ان حدوں سے نکلنے کی کوشش کرنا چاہتے تھے تو بھی ان کو روکا جاتا تھا۔ رسول اللہ مکہ کے مخالفانہ اور خطرناک ماحول میں ایک طرف تو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ اپنی دعوت پر جمے ہوئے تھے، دوسری طر ف آپ اپنی دعوت کی اور اپنے حامیوں کی حفاظت کے لیے مکی معاشرے کے اجتماعی نظام کو بھی استعمال کرتے تھے اور اس کے خیر کے پہلووں کی قدر کرتے تھے۔

عہد مدنی

ہجرت کا واقعہ غیر معمولی حد تک اہم اور سبق آموز ہے، اگر چہ آپ ؐ سے ابتداء نبوت میں ہی اس بات کا واضح خدائی وعدہ کرلیا گیا تھا کہ آپ کو اپنے مخالفوں پر واضح برتری حاصل ہوگی، اور آپ کا نبوی مشن مکمل ہوکر رہے گا، مگراس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ساری احتیاطوں کا اور اپنی حدتک ان سارے وسائل کے اختیار کرنے کا حکم دیا جن سے اس عالم اسباب میں مخالفتوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے، اور خطروں سے بچا جاتا ہے۔ ہجرت کے موقعے پر اگر چہ یہ یقین ہے کہ ’’ان اللہ معنا‘‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے، اور اس کا آپ حضرت ابوبکرؓ کو اطمینان بھی دلاتے ہیں کہ ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، مگر اس کے باوجود آپ چھُپتے بھی ہیں اور بھاگتے بھی ہیں، اور ساری احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرتے ہیں۔
سیرت نبوی کے تجزیاتی مطالعے میں یہ بات بھی غور وطلب ہے کہ مدینہ اور اہل مدینہ میں وہ کون سی خاص بات تھی جو اس کے خداوندی انتخاب کا سبب بنی؟ یہ جستجو مدینہ کی نسبۃََ کافی محفوظ جغرافیائی پوزیشن (۱) ،آپ ؐ کا مدینہ میں نانیہالی رشتہ (۲)، مدینہ کے عرب قبائل کا سادہ ونرم مزاج اور خوئے وفا، جیسے اسباب تک پہنچائے گی۔ اس کے علاوہ ایک تاریخی سبب بھی سامنے آتا ہے جس کی طرف امت کی ذہین ترین خاتون ام المومنین حضرت عائشہ کی عقل رسا پہنچی ہے۔ اوس وخزرج کے درمیان کئی دہائیوں سے جنگوں کا جو طویل سلسلہ چلا آتا تھا، اس نے ان کو کسی نجات دہندہ کے استبقال کے لیے ذہنی طور پر تیار کردیا تھا، وہ نجات دہندہ اسلام ثابت ہوا (صحیح بخاری)۔
مدینہ منورہ میں منافقین کے مسئلہ سے کس طرح نمٹاگیا، نیز منافقین اور ان کے طریقۂ واردات کا مطالعہ بھی ایک اہم موضوع ہے۔
رسول اللہ جب مدینہ منورہ پہنچے تھے تو مہاجرین کی حیثیت ایک کمزور پناہ گزیں گروہ کی تھی، انصار کبھی کوئی بڑی طاقت نہیں تھے، مدینہ میں مشرک خاندانوں کے علاوہ یہودیوں کی ایک بڑی طاقت بھی تھی جو الگ الگ قبائل میں منقسم اور اپنا دفاعی نظام رکھتے تھے، سارا عرب قریش کا پیرو اور ان کی مذہبی قیادت کا معترف تھا، آپؐ نے مدینہ پہنچ کر ایک کثیر معاشرتی اور مختلف سماجی اور فوجی طاقتوں پر مشتمل ایک ریاست کی تشکیل کی، جس میں مذہبی گروہوں اور قبائلی اکائیوں کے درمیان باہمی اعتماد، آزادی اورمساوات پر مبنی تعاون ودفاع کا نظام قائم ہوا، پھر اطراف کے مشرک قبائل سے دفاعی معاہدے کیے گئے، جس میں کچھ نے حمایت کے معاہدے کیے، کچھ نے اطلاع رسانی کے، اور کچھ نے کسی حملے کی صورت میں غیر جانبدار رہنے کے۔ آپ نے مدینہ پہونچنے کے بعد تقریبا ڈیڑھ سال انہی مہموں میں اور ان مقاصد کی تگ ودو میں بسر کیا، اس سلسلے میں غزوۂ بدر سے پہلے کے سرایا اور مہمات کے مقاصد کی کھوج اور ان کی دریافت نہایت ضروری کام ہے، پتہ چلا نا چاہیے کہ ان میں کیا مقاصد حاصل کیے گئے۔
یہ دور بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس میں کمزور مسلم ممالک کے لیے نبوی حکمت عملی کی روشنی ہے۔غزوات نبوی کے اسباب اور پس منظر سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اسلام کے عادلانہ قوانین کی روشنی میں اور صحیح روایات کی روشنی میں ان کا مطالعہ کیا جانا چاہیے، مدینہ میں جو اسلامی ریاست قائم ہوئی اس کی تنظیمات، شعبہ جات، اور طریق کار سے متعلق کام ابھی عام نہیں ہوئے ہیں، معاصر مورخین نے اس طرف توجہ کی ہے، ضرورت عمومی مطالعے کی ہے۔
سیرت نبوی کا ایک نہایت اہم موضوع وہ اخلاقی اور روحانی انقلاب ہے جو آپ ؐ کے ذریعہ دنیا میں آیا، جس کے بارہ میں ہر واقف کار دوست ودشمن کی شہادت ہے کہ دنیا میں کبھی اس سے زیادہ روح پرور بہارِ اخلاق وایمان نہیں آئی۔ سچی خدا پرستی ، عدل وانصاف، اور انسانوں کی محبت ونفع رسانی میں اس نسل کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی جس کو محمد رسول اللہؐ نے تیار کیا تھا۔ یہ سیرت محمدی کا سب سے بڑا کارنامہ اور سب سے بڑا معجزہ ہے۔

حواشی

۱۔مدینہ کے مشرق ومغرب کی جانب ’’حرے‘‘ یعنی ناقابل عبور نوکیلے پتھر تھے، جنوبی طرف گھنے نخلستان، شمال مغرب میں ’’سلع‘‘ نامی پہاڑی اور شمال میں احد کا پہاڑ، اس طرح مدینہ تقریبا ۳چوتھائی گھرا ہوا تھا۔
۲۔عربوں میں بھانجے اور نواسے کار شتہ بڑی حمیت اور غیرت کا ہوتا تھا، بسا اوقات کوئی مظلوم اپنے نانیہالی رشتہ داروں کی مدد سے ہی خطروں کا مقابلہ کرتا تھا، ان کی قبائلی غیرت کے لیے یہ رشتہ اتنا حساس ہوتا تھا کہ وہ عام طور پر اپنا جان مال قربان کرکے بھی اس رشتہ کا پاس رکھتے تھے۔

شیعہ سنی تعلقات اور متوازن رویہ ۔ ایک شیعہ عالم کے خیالات

ڈاکٹر یوگندر سکند

مولانا کلب صادق انڈیا کے ممتاز اثنا عشری شیعہ راہنما ہیں۔ ان کا تعلق لکھنو کے ایک ایسے علمی خانوادے سے ہے جس نے ماضی میں کئی علما پیدا کیے۔ ایک ممتاز عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔ طلبہ اور طالبات کے لیے ایسے تعلیمی ادارے قائم کر کے جن میں اسلامی کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے، انھوں نے معاصر انڈیا میں علما کے لیے ایک نیا لائحہ عمل متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ ہندو مسلم مکالمہ کے ساتھ ساتھ شیعہ سنی اتحاد کے بھی کھلم کھلا داعی ہیں۔
شیعہ سنی تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت جناب کلب صادق کی تقریر وتحریر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے۔ دوسرے بہت سے شیعہ علما کے برعکس، کلب صادق ماہ محرم میں امام حسین کی شہادت کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس کے موقع پر شیعہ سنی تعلقات میں بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایسا بالخصوص ان متعدد مجالس میں ہوا جو انھوں نے پاکستان میں منعقد کیں، جہاں شیعہ سنی تشدد پسندی نے انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ ان کی مجلسوں میں بالعموم شیعہ اور سنی، دونوں طرح کے حاضرین شریک ہوتے ہیں۔ ان کے لیکچر وعظ وتبلیغ کے محدود مفہوم کے مطابق مخصوص شیعی نظریات کے ترجمان نہیں ہوتے۔ وہ قرآن پاک اور رسول اللہ ﷺ کی ان احادیث کا بار بار حوالہ دے کر، جو شیعہ اور سنی علما کے مابین متفقہ ہیں، معاصر حالات پر ان کا انطباق کرتے ہیں۔
کلب صادق نے انڈیا، پاکستان اور شمالی امریکہ میں مختلف مقامات پر جو متعدد مجالس منعقد کیں، ان میں سے بہت سی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں اور یہ مضمون انھی پر مبنی ہے۔ کلب صادق بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مجالس کے دو بنیادی مقصد ہیں: ایک، سامعین کو معلومات بہم پہنچانا اور دوسرے، ان کی اصلاح کرنا۔ دوسرے لفظوں میں مجالس کا مقصد ایک تو اسلام کی صحیح تعلیمات کو لوگوں تک منتقل کرنا ہے اور دوسرا ان کے مطابق لوگوں کے عقائد اور اعمال کی اصلاح کرنا۔ کلب صادق کی مجالس عام طور پر معاصر اہمیت رکھنے والے موضوعات سے بحث کرتی ہیں، مثلاً شیعہ سنی کشمکش، ہندو مسلم تصادم، جدید تعلیم اور عورتوں کے حقوق وغیرہ۔ ان مجالس کا آغاز بلا امتیاز کسی مخصوص مسئلے سے متعلق قرآن مجید کی کسی آیت سے ہوتا ہے جس کی بعد میں تشریح کی جاتی ہے اور زیر بحث مسئلے کے ساتھ اس کا تعلق واضح کیا جاتا ہے۔ مجلس کا بڑا حصہ اس حصے پر مشتمل ہوتا ہے۔ دوسرے بہت سے شیعہ علما کی مجالس کے بر عکس، امام حسین اور اہل بیت کی مظلومیت کا تذکرہ کلب صادق کی مجالس کا محض ایک جزوی حصہ ہوتا ہے، اور بالعموم لیکچر کے کل وقت کے نصف حصے سے بھی خاصا کم وقت اس میں صرف ہوتا ہے۔
شیعہ سنی اتحاد کے حوالے سے کلب صادق کا پیغام، جیسا کہ ان کی مجالس میں بیان ہوتا ہے، قرآن سے ماخوذ دلائل پر مبنی ہے۔ وہ شعوری طور پر شیعہ اور سنی مکاتب کے مابین اعتقادی اختلافات کے ذکر سے گریز کرتے ہیں اور اس کے بجائے مسلمانوں کے اتحاد پر زور دینے کے لیے بار بار قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایک مجلس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شیعہ اور سنی ۹۷ فی صد عقائد میں باہم متفق ہیں اور ان متفق علیہ عقائد پر ہی مسلمان مکاتب فکر کے باہمی افہام وتفہیم اور برداشت (Ecumenism) کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ایک خدا، حضرت محمد ﷺ اور قرآن مجید پر یقین رکھتے ہیں، اور جو ایک ہی کلمہ شہادت (لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ) زبان سے ادا کرتے ہیں، انھیں دیگر اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمان شمار کرنا چاہیے۔ وہ شیعہ اور سنی مکاتب کے مابین اور اسی طرح ہر ایک گروہ کے اندر پائے جانے والے ذیلی فرقوں کے مابین موجود اختلافات کی نفی نہیں کرتے لیکن انھیں اصرار ہے کہ یہ اختلافات نسبتاً غیر اہم ہیں اس لیے ان اختلافات کے باوجود انھیں ایک دوسرے کو مسلمان تسلیم کرنا چاہیے۔ وہ اپنے سامعین کو یاد دلاتے ہیں کہ سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور دوسرے مختلف القاب جو مختلف معاصر گروہوں نے اختیار کر رکھے ہیں، قرآن مجید میں مذکور نہیں۔ اس میں تو بس ’سچے اہل ایمان‘ کو ’مسلم‘ تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان کی رائے میں مسلمانوں کو، مختلف فرقوں کے ساتھ وابستگی کے باوجود، ایک دوسرے کو لازماً مسلمان تسلیم کرنا چاہیے۔
کلب صادق کی مجالس میں قرآن مجید کی ان مکرر تاکیدات کا حوالہ، بالخصوص شیعہ سنی کشمکش کے تناظر میں، اکثر دیا جاتا ہے جن میں اہل ایمان کو متحد رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کلب صادق قرآن کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے مابین پھوٹ ڈالنا اور تصادم پیدا کرنا شرک جیسے کبیرہ گناہ کے برابر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شرک، کفر سے بھی بدتر ہے اور وہ واحد گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے۔ ان کے نزدیک قرآن مجید کے اس ارشاد کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ امت کے مابین تقسیم کے نتیجے میں مسلمان محض ایسے انسانوں کی اتباع کرنے لگ جاتے ہیں جو اسلام کے مستند ترجمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور راہنمائی کا مصدر وماخذ بن کر قرآن کی جگہ خود سنبھال لیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر فرقہ واریت کے نتیجے میں خدا کی جگہ انسان سنبھال لیتے ہیں جو کہ شرک کی ایک صورت ہے۔ چنانچہ ان کا استدلال یہ ہے کہ مختلف فرقوں کے وہ راہنما جو دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، حقیقتاً ’شرک‘ کے مرتکب ہیں، جو کہ کفر سے بھی کہیں بدتر جرم ہے۔
کلب صادق کی نظر میں شیعہ سنی کشمکش حقیقت میں ایک سیاسی مسئلہ ہے نہ کہ مذہبی۔ ان کا اصرار ہے کہ شیعہ اور سنیوں کی اکثریت عملاً ایک دوسرے کو مسلمان تصور کرتی اور پرامن بقائے باہم پر یقین رکھتی ہے۔ دوسری طرف شیعہ سنی منافرت کو بھڑکانے میں امت کے دو دشمنوں، یعنی امریکا اور ملاؤں کے گہرے مفادات وابستہ ہیں۔ وہ تہذیبوں کے تصادم کے حوالے سے سموئیل ہنٹنگٹن کے مشہور نظریے کے حوالہ دیتے ہیں جس کا دعویٰ ہے کہ اقوام مغرب کے تسلط کو آج اسلام کی صورت میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر باہمی تقسیمات کو فروغ دیا اور فرقہ وارانہ کشمکش کو بھڑکایا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا کردار بھی، جنھیں وہ حقارتاً ’’ملا‘‘ کہتے ہیں، اگر اس سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر مجرمانہ ضرور ہے۔ وہ ’علما‘ اور ’ملا‘ کے مابین واضح فرق قائم کرتے ہیں۔ وہ اس پر زور دیتے ہیں کہ حقیقی ’علما‘ بے حد تعظیم کے مستحق ہیں کیونکہ وہ اسلام کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ لیکن انھیں اصرار ہے کہ ’’ملا‘‘ محض نیم پختہ مولوی ہوتے ہیں جو ہر وقت دنیا کے حقیر مفادات کی خاطر اپنے ضمیر اور دین ومذہب کا سودا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسے ’’ملا‘‘ اسلام کی پوری تاریخ میں موجود رہے ہیں اور ان کا آغاز یزید جیسے جابر حکمران کے دربار کے چیف جسٹس سے ہوا تھا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے یزید کے کہنے پر امام حسین کے قتل کے حق میں ایک فتویٰ جاری کیا جس پر اسے بیش بہا انعام واکرام سے نوازا گیا۔
اس قسم کے بے ضمیر ملا شیعہ اور سنی، دونوں گروہوں میں ملتے ہیں۔ دوسرے تمام مسلمان گروہوں کو کافر قرار دینے اور ان کے خلاف تشدد کو بھڑکانے میں ان کا گہرا مفاد پوشیدہ ہوتا ہے کیونکہ صرف اس صورت میں وہ اسلام کے حقیقی ترجمان ہونے کے اپنے دعوے کو تسلیم کروا سکتے ہیں۔ وہ جتنا زیادہ چیخیں چلائیں گے اور دوسرے مسلمان گروہوں کے خلاف جس قدر زیادہ پرتشدد حملے کریں گے، اتنی ہی حمایت انھیں میسر آتی چلی جائے گی اور اس کے نتیجے میں ان کی طاقت اور دولت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ان کا کاروبار عام مسلمانوں کی جہالت کی وجہ سے ترقی پاتا ہے کیونکہ عوام کو حقیقی دنیا اور اسلامی تعلیمات سے انجان رکھنے میں ہی ان کی بقا کا راز مضمر ہے۔ چنانچہ کلب صادق کے نزدیک علم ایک فوری اور خاص ضرورت ہے، خاص طور پر شیعہ سنی اتحاد کو پروان چڑھانے کے لیے۔ یوں لکھنو میں ان کے زیر انتظام چلنے والے ادارے یونٹی کالج میں شیعہ اور سنی دونوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ .......
کلب صادق شیعہ اور اہل سنت کے مابین اہم اعتقادی اختلافات کی موجودگی کی نفی نہیں کرتے، نہ ہی وہ شیعہ فہم اسلام کے ساتھ اپنی وابستگی کا انکار کرتے ہیں، اگرچہ بعض نکات پر ان کی رائے روایتی شیعہ علما سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ تمام مسلمان گروہ اپنے اپنے طریقے پر اسلام کو سمجھنے کا حق رکھتے ہیں لیکن وہ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ دوسرے نقطہ ہائے نظر کے بارے میں رواداری بھی پائی جانی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے فہم کے ساتھ وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے اظہار کے لیے پرامن مکالمے اور علمی انداز کو اختیار کرتا ہے، نہ کہ دوسروں کے خلاف تشدد کی آگ بھڑکانے یا ان کے بارے میں تکفیری فتوے جاری کرنے کا۔ یہ ’’ملاؤں‘‘ کا طریقہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ملاؤں نے جان بوجھ کر مختلف مسلمانوں گروہوں کے مابین ایک دیوار کھڑی کر رکھی ہے، اس لیے شیعہ اور سنی، دونوں کے ہاں ایک دوسرے کے بارے میں انتہائی مسخ شدہ تصورات رائج ہیں۔ وہ مختلف فرقوں کے علما سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھیں کیونکہ صرف اس طریقے سے باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن ہے۔ تاہم شیعہ سنی مکالمہ صرف علما کی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ کلب صادق تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے لیے اور پھر سنی مسلمانوں کے اندر دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی مکاتب فکر کے لیے الگ الگ مسجدوں کا نظام بھی ختم ہونا چاہیے اور تمام مسلمانوں کو مل کر مشترک مساجد میں نماز ادا کرنی چاہیے۔ اس سے مختلف گروہوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے کا موقع ملے گا اور اس کے نتیجے میں غلط تصورات اور شکوک وشبہات کے ازالے میں خاصی مدد ملے گی۔ 
کلب صادق اپنے پاکستانی سامعین کے سامنے انڈیا کے مسلمانوں کی مثال پیش کر کے انھیں اس کی پیروی کی اکثر تلقین کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے برخلاف، انڈیا میں شیعہ سنی کشمکش بالکل عنقا ہے، تاہم وہ یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں اس حقیقت کو بھی خاصا دخل ہے کہ انڈیا میں مسلمان اقلیت ہیں اور انھیں جارحانہ مسلم دشمن ہندتوا کی طرف سے خطرے کا سامنا ہے۔ وہ انڈیا کے متعدد سنی علما کے ساتھ اپنے قریبی ذاتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں اور انھیں سنی حلقوں میں جو احترام حاصل ہے، اس کی بھی بات کرتے ہیں۔ یہ کوئی خالی خولی بڑھک نہیں، کیونکہ کلب صادق کو حقیقتاً انڈیا کے سنی راہنماؤں میں ایک باعزت مقام حاصل ہے جس کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ کئی سال تک سنی اکثریت کے حامل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انڈیا میں ایسا ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان یا دنیا کے کسی اور ملک میں شیعہ سنی اس طریقے پر نہ چل سکیں۔ 
(islaminterfaith.org)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
مکرمی جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب حفظکم اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ORE کی مطبوعہ چند کتب کی شکل میں آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ موصول ہوا۔ آپ کی اس نوازش کا بہت بہت شکریہ۔ ان میں بعض کتب سے استفادہ بھی کیا۔ حدود آرڈیننس کے بارے میں کتابچے کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس کی بیشتر آرا تو ضرورت سے زیادہ جدت پسندی معلوم ہوئیں، البتہ زنا بالجبر، متضررہ عورت پر حد قذف جاری کرنے میں جلد بازی اور عورت کی گواہی کے بعض پہلو واقعی سنجیدہ غور وفکر کے متقاضی معلوم ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کا اداریہ بھی چند ماہ پہلے ’’الصیانہ‘‘ میں اس موضوع پر چھپ چکا ہے۔
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ نے دینی جرائد میں ایک مستحسن روایت قائم کی ہے کہ وہ ہر نقطہ نظر اس کے دلائل کے ساتھ اپنے قارئین کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اللہ کرے ہمارے بعض حلقوں میں غیر منصوص مسائل میں بھی دوسرے کا نقطہ نظر نہ سننے بلکہ جلدی سے اس کی نیت پر حملہ آور ہونے کا جو رجحان پایا جاتا ہے، اس کا ’الشریعہ‘ کے اس طرز عمل سے کچھ علاج ہو جائے۔ البتہ ایک بات محسوس ہوتی ہے کہ احقر کے ناقص خیال میں ’’الشریعہ‘‘ محض ایک علمی وتحقیقی مجلہ نہیں ہے بلکہ دعوتی جریدہ بھی ہے۔ ایک خالص علمی وتحقیقی رسالے کا کام محققین کے نتائج بحث قارئین تک پہنچانا ہوتا ہے۔ ان پر مرتب ہونے والے اثرات سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ جبکہ ایک مشن رکھنے والے دعوتی رسالے یا کسی بھی داعی کو اپنی کہی ہوئی بات اور کیے ہوئے عمل- خواہ وہ بذات خود کتنا ہی صحیح ہو- پر مرتب ہونے والے اثرات کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ صحیح بخاری شریف کا باب ’’باب من ترک الاختیار الخ‘‘ تو ضرور جناب کے مدنظر ہوگا۔ امید ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ میں چھپنے والے مضامین کا اس نقطہ نظر سے بھی جائزہ لیا جاتا ہوگا۔ مجھ جیسے کا آپ جیسے فرد اور گھرانے کو مشورہ دینا تو ’’حکمت بلقمان آموختن‘‘ والی بات ہوگی۔ مسجد اقصیٰ والے مسئلے میں بھی جناب نے جس نقطہ نظر کو دیانت داری سے درست اور برحق سمجھا، بڑی وضاحت کے ساتھ علمی اور تحقیقی انداز میں اسے بیان فرما دیا۔ میرا اندازہ ہے کہ اس موضوع پر مزید بحث نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہوگا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ’’الشریعہ‘‘ کی آواز کو دو بعد المشرقین لیکن ملت کا درد رکھنے والے حلقوں میں یکساں مقبول بنا کر اس سے پل کا کام لے لے۔
بندہ دعاؤں کا بہت محتاج ہے۔
والسلام
(مولانا مفتی) محمد زاہد
جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد
۱/۵/۱۴۲۵ھ
(۲) 
محترم عمار صاحب
السلام علیکم
مجھے آپ کے جریدے کی جانب سے جون کا شمارہ اور سابقہ کچھ شمارے موصول ہوئے۔ میں آپ کا نہایت ممنون ہوں۔ جواب دینے میں تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ امید ہے آپ درگزر کریں گے۔
آپ نے جون کے شمارے میں میرا مضمون ترجمہ کر کے شائع کیا ہے، ’’قومی نصاب تعلیم کے فکری اور نظریاتی خلا‘‘۔ نہایت بامحاورہ اور خوب صورت ترجمہ ہے۔ میں خود بھی ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دفعہ پھر میری طرف سے شکریہ۔
SDPI رپورٹ پر پروفیسر انعام الرحمن صاحب کا تبصرہ پڑھا۔ اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ آپ لوگوں کا رویہ صحت مندانہ اور صاحبان فہم کے شایان شان ہے۔ ہمارے نظریات اپنی جگہ، لیکن معروضی انداز میں ایک دوسرے کے خیالات پر تبصرہ Intellectual discourse کی بنیاد ہے۔
میں آپ کی اور آپ کے جریدے کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔
احقر
(ڈاکٹر) خورشید حسنین
شعبہ طبیعیات۔ قائد اعظم یونیورسٹی
اسلام آباد
(۳)
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
محترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہت عرصہ سے چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا، بوجوہ ایسا نہ کر سکا۔ جولائی ۲۰۰۴ء کا ’الشریعہ‘ دیکھا تو بلا اختیار یہ سطور لکھنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں۔ ’الشریعہ‘ کا تازہ شمارہ کسی حد تک ان فکری فرو گزاشتوں کا ’کفارہ‘ کہا جا سکتا ہے جن کا ارتکاب عزیزی عمار خان گزشتہ چند ماہ سے کسی ضمیر کی خلش کے بغیر حد درجہ جوش وخروش کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ مولانا حبیب نجار نے یہودی مذہبی پیشوا اسرائیل ڈیوڈ کے مسئلہ فلسطین کے متعلق خیالات کو عربی اخبار ’المستقبل‘ سے نقل کر کے قابل تعریف کام کیا ہے۔ حق بات یہ ہے کہ ڈیوڈ اسرائیل پہلے یہودی ربی نہیں ہیں جنہوں نے مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمان کے صہیونی دعویٰ کو غلط قرار دیا ہے۔ تورات کی تعلیمات کے سچے پیروکار یہودی عالموں کی ایک کثیر تعداد یہی رائے رکھتی ہے مگر عمار ناصر جیسے تازہ واردان بساط قلم ان کی نگارشات سے یکسر بے بہرہ ہیں اور اپنی اس لاعلمی کو امت مسلمہ کے عادلانہ موقف کی تردید کے لیے بنیاد وجواز ٹھہرانے میں انہیں نہ اسلامی حمیت باز رکھ سکتی ہے اور نہ ہی تحقیق ودانش کے خود ساختہ بلند دعوے !!
مجھے معلوم نہیں ہے کہ عزیزی عمار ناصر نے فلسطین اور بیت المقدس پر یہودیوں کا حق ’ثابت‘ کرنے کے لیے جس قلمی جدوجہد کا مظاہرہ کیا، اس کے پس پشت کسی ’علمی ذہنیت‘ کے طفلانہ اظہار کا وقتی جوش کار فرما تھا یا پھر وہ غیر شعوری طور پر ایک گروہ کے عزائم کی تکمیل کے لیے آلہ کار بننے پر آمادہ ہوئے۔ دلوں کے حال تو خدا جانتا ہے مگر ان کے مضامین ہر اس مسلمان کی دل آزاری کا باعث بنے ہیں جو امت مسلمہ کا ذرہ سا درد بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ یہ بات بے حد قابل افسوس ہے کہ آپ نے صاحبزادہ موصوف کے شر انگیز خیالات کی حوصلہ شکنی کی بجائے الٹا تائید فرما کر اس کی پیٹھ ٹھونکنا ہی مناسب سمجھا۔ آپ نے اپنے ایک اداریے میں عمار ناصر کے مضامین پر کی جانے والی تنقید کو محض ’طعن وتشنیع‘ کہہ کر صاحبزادے کی ناپختہ تحقیق کو بلند پایہ علمیت کا رنگ چڑھانے کی پدرانہ کاوش بھی فرمائی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ’طعن وتشنیع‘ کی ترکیب کا روئے نگارش راقم کی ان معروضات کی طرف تھا جو ’محدث‘ میں شائع ہوئیں۔ کاش کہ آپ جان سکتے کہ آپ کے متعلق قائم کردہ حسن ظن کو آپ کی ان تحریروں سے کس قدر نقصان پہنچا ہے۔ تحریک ختم نبوت سے وابستہ ایک عالم دین نے اس کے بعد آپ کا تذکرہ جن الفاظ میں فرمایا، اس کو اسلامی اخلاقیات بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی!!
مولانا محترم! عمار ناصر نے اپنے طویل مضامین میں زیادہ تر ان حوالہ جات اور خیالات کو جگہ دی ہے جو صہیونی تحریک کے پھیلائے ہوئے ہیں۔ موصوف حقیقی یہودیت اور صہیونیت کے درمیان تاریخی فرق کا ادراک کرنے سے قاصر معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے طویل مقالہ میں فری میسن تحریک کا عدم تذکرہ بھی ان کی یہودی تاریخ کے محض صہیونی رخ سے آگاہی کا پول کھولتا ہے۔
مجھے معلوم نہیں ہے کہ عمار ناصر کی انگریزی زبان سمجھنے کی استعداد کس قدر ہے، مگر اس فرنگی زبان میں فری میسن تحریک اور صہیونی فریب کاریوں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس کے سرسری مطالعہ ہی سے مسئلہ فلسطین کے تاریخی وسیاسی پس منظر کے بارے میں جانا جا سکتا ہے۔ کسی مسئلے کے متعلق من چاہے یک طرفہ اعداد وشمار کا انبار لگا کر اسے ’علمی تحقیق‘ کا نام دیا جا سکے تو مجھے بھی عمار ناصر کے مضامین کو ’علمی تحقیق‘ ماننے میں تامل نہ ہوگا۔
محترمی! یہودی ربی ڈیوڈ کے یہ الفاظ ’’اس جگہ پر مسلمانوں کا حق ہے۔ تورات کے حکم کے مطابق یہودیوں کو اس مقام کی ملکیت کا حق تو کجا، ان کا اس میں داخلہ بھی ممنوع ہے۔‘‘ (الشریعہ) آپ کے لیے چشم کشا نہیں ہیں؟ عمار ناصر نے اپنے غلط موقف کی تائید میں جو خون پسینہ بہایا ہے، اس سے یہ توقع کرنا تو شاید عبث ہوگا کہ وہ اپنے علمی پندار سے ذرا اوپر اٹھ کر فراخ دلی سے اپنے موقف سے رجوع کرے، مگر آپ نے جس انداز میں اس کے موقف کی تائید کی، اس سے دست بردار ہونا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ میری طرح بہت سے افراد جو آپ کی علمی سرگرمیوں کے معترف رہتے ہیں، آپ کا تازہ موقف سننے کے لیے بے تابانہ اشتیاق رکھتے ہیں۔
میری یہ تلخ معروضات ’الشریعہ‘ کے عالمانہ صفحات پر جگہ پانے کی شاید مستحق نہ سمجھی جائیں اور نہ ہی میں اس ضمن میں درخواست کرنا مناسب سمجھتا ہوں، البتہ اتنی سی خواہش ضرور ہے کہ آپ کے دل میں اگر یہ کچھ جگہ پا سکیں تو ممنون کرم ہوں گا۔
والسلام
فقط، خیر اندیش
محمد عطاء اللہ صدیقی
۹۹/جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور
(۴)
محترم ومکرم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم!
مسجد اقصیٰ کے متعلق آپ کی علمی تحقیق کو سلام پیش کرتا ہوں۔ گوجرانوالہ پیپلز کالونی میں میری رشتہ داری ہے، اس لیے گاہے گاہے گوجرانوالہ شہر آنا جانا رہتا ہے۔ اب کے جب بھی میں گوجرانوالہ گیا تو آپ کے نیاز حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔
سورہ اسرا کی پہلی آیت بے حد اہمیت کی حامل ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر روایات کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ اس پر بھی تحقیق فرما کر ان پردوں کو ہٹائیں، جیسا کہ آپ نے مسجد اقصیٰ کے متعلق کی ہے۔ قرآن کریم کے موجودہ تراجم ایک ہی طرح کے ہیں، جن سے میرے جیسے کم علم کو ماسوائے عقیدت وعجز کے کچھ پلے نہیں پڑتا۔ ایک ترجمہ وتفسیر خواجہ احمد الدین امرتسری صاحب کا بھی ہے۔ وہ دوسرے علماء کرام سے مختلف ہے لیکن اس میں بھی مجھ کم علم کی دانست میں تاویل سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔ ممکن ہے درست ہی ہو۔ یقیناًآپ بھی اس ترجمہ سے واقف ہوں گے۔ اس میں انہوں نے ’اقصا المدینۃ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ صحیح ہیں یا غلط، ان پر بھی آپ ہی روشنی ڈال سکیں گے۔ جن آیات قرآنی کا انہوں نے اس میں حوالہ دیا ہے، وہ کوشش کے باوجود تلاش نہیں کر سکا۔ شاید حوالہ غلط چھپ گیا ہو۔ یقیناًآپ بھی اس ترجمہ سے واقف ہوں گے، لیکن احتیاطاً اس کی فوٹو کاپی ارسال خدمت ہے۔
میں نے ایک دوست کے پاس دس بارہ صفحات پر مشتمل مختصر سا ایک کتابچہ (تقریبا 5X7 سائز کا) دیکھا تھا۔ اس میں اسی سورہ اسرا کی پہلی آیت کے متعلق مضمون تھا، جس میں اگر میں بھول نہیں گیا تو گجرات کے مشہور ومعروف عالم انور علی شاہ صاحب کے حوالے سے لکھا تھا کہ کسی زمانے میں مدینہ منورہ کا نام ’اقصیٰ‘ بھی رہا ہے۔ یہ بھی ایک تاریخی بات ہے۔ اس پر بھی آپ ہی تحقیق کر سکتے ہیں۔ میں نے وہ کتابچہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس دوست نے کتابچہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ البتہ ناشر کا پتہ میں نے نوٹ کر لیا تھا جو کہ منڈی بہاؤ الدین کے کسی بک ڈپو کی طرف سے شائع ہوا تھا۔ میں اس کتابچہ کی تلاش میں منڈی بہاؤ الدین گیا اور متعلقہ بک ڈپو کو تلاش کرتا رہا لیکن افسوس کہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ 
اس کتابچہ میں بھی اس سورہ اسرا کی پہلی آیت کو نبی کریم ﷺ کی مکہ مکرمہ (بیت الحرام) سے رات کے وقت اقصیٰ المدینہ کی طرف ہجرت بتائی گئی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے برکتیں اور نشانیاں رکھی تھیں۔ وہ نشانیاں اور برکتیں درج ذیل ہیں جو کہ تصوراتی نہیں، حقیقی ہیں:
۱۔ مکہ مکرمہ سے رات کے وقت مدینے کے لیے ہجرت۔
۲۔ اسی ہجرت کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم ودیگر تمام مہاجرین کو پروانہ جنت عطا فرمایا (برکتیں)۔
۳۔ وہاں (مدینہ منورہ) پہنچنے کے بعد کفار ومشرکین سے خوفناک وخون ریز تصادمات (قدرت کی نشانیاں)۔
۴۔ فتح مکہ ایک عظیم واقعہ (برکتیں)۔
۵۔ آخر الامر دین اسلام کا تمکن وغلبہ اور اللہ کی کبریائی قائم ہوئی۔ مدینہ منورہ اسلامی حکومت کا دار الخلافہ بنا (برکتیں)۔
۶۔ نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں ہی اسلامی مملکت کا دائرہ اختیار دس لاکھ مربع میل تک پھیل چکا تھا۔ (جس کے ارد گرد برکتیں)
اب میں سورہ اسرا کی پہلی آیت کا ترجمہ پیش کرتا ہوں:
’’وہ ذات پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی کعبہ) سے مسجد اقصیٰ، جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، لے گیا تاکہ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے۔ بے شک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
یہ ایک مروجہ عام ترجمہ (فتح محمد جالندھری) ہے۔ اس پر اگر تھوڑی سی توجہ اور غور کیا جائے تو اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے جس کا ترتیب کے ساتھ میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ مسجد اقصیٰ سے متعلق آپ کی تحقیق کے بعد سورہ اسرا کی پہلی آیت کی تعبیر وتشریح یہی بنتی ہے۔ 
مسجد اقصیٰ سے متعلق آپ کی اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد معاً میرے پردۂ خیال میں وہ کتابچہ اور اس کا مضمون سامنے آ گیا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے محترم عمار خان ناصر صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا جائے تاکہ وہ بذات خود اور دیگر علماء کرام بھی اس پر غور وفکر کر سکیں۔
نیاز آگیں
آفتاب عروج
(۵)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مکرمی آفتاب عروج صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
مزاج گرامی؟
آپ کا مکتوب ملا۔ شکریہ
سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور ’المسجد الاقصیٰ‘ کے مصداق سے متعلق آپ کے استفسار کے جواب میں عرض ہے کہ مجھے اس باب میں کوئی شبہہ نہیں کہ اس سے بیت المقدس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ مسجد ہی مراد ہے۔ جن لوگوں نے محض اس کے لغوی معنی یعنی ’’دور کی مسجد‘‘ کو ملحوظ رکھتے ہوئے مکہ مکرمہ سے دور واقع کسی اور مسجد کو اس کے مصداق کے طور پر متعین کرنے کی کوشش کی ہے، انھوں نے آیت کے سباق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ واقعہ اسرا سے گفتگو کا آغاز کر کے اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے بنی اسرائیل کو تورات جیسی نعمت عطا کرنے اور پھر اس سے روگردانی کی پاداش میں ان پر مسلط کی جانے والی دو تاریخی تباہیوں کا ذکر کیا ہے۔ اسی ضمن میں آیت ۷ میں ہیکل سلیمانی کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے ’ولیدخلوا المسجد‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی زبان کے قاعدے کے مطابق اگر ایک مسلسل اور مربوط کلام میں ایک ہی لفظ دو مقامات پر معرفہ کی صورت میں استعمال ہوا ہو تو دونوں جگہ اس کا مصداق لازمی طور پر ایک ہی ہوتا ہے۔ اس اصول کی رو سے پہلی آیت میں ’المسجد الاقصی‘ اور ساتویں آیت میں ’ولیدخلوا المسجد‘ کا مصداق کسی طرح سے بھی الگ الگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
جہاں تک سورۂ بنی اسرائیل کے موضوع اور مضامین کے ساتھ اس ’ابتدائیہ‘ کے تعلق کا سوال ہے، تو وہ بالکل واضح ہے۔ سورہ میں مشرکین مکہ اور یہود دونوں کو مشترک طور پر مخاطب بنایا گیا ہے اور اس ابتدائیہ میں دونوں کو ان کے انجام کی تصویر دکھا دی گئی ہے۔ یہود کو سابق سورہ، النحل کی آیت ۹۴ میں یہ وارننگ دی گئی تھی کہ اگر وہ دین حق کے خلاف اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو سرزمین عرب میں ان کو ایک عرصے سے باعزت اور پرامن زندگی گزارنے کا جو موقع میسر ہے، وہ ان سے چھین لیا جائے گا۔ (فتزل قدم بعد ثبوتہا وتذوقوا السوء بما صددتم عن سبیل اللہ) اسی دھمکی کو سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں زیادہ واضح صورت میں اور تاریخی شواہد کی تائید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے محاسبہ کی یہی تفصیل بعینہ مشرکین کے لیے بھی سبق آموز ہے، کیونکہ اس میں یہ صاف اشارہ موجود ہے کہ جس طرح تورات سے انحراف اور بے دینی کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو ہیکل سلیمانی کی تولیت سے محروم کیا گیا، مشرکین بنی اسمٰعیل سے بھی مسجد حرام کی تولیت کا حق عنقریب بالکل اسی طرح چھین لیا جائے گا۔
باقی رہا خواجہ احمد الدین صاحب کا یہ استدلال کہ چونکہ سورۂ بنی اسرائیل کے نزول کے وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی مسجد موجود نہیں تھی، اس لیے وہ اس کا مصداق نہیں ہو سکتی تو اس کی غلطی میں اپنے مضمون (الشریعہ، اپریل/مئی ۲۰۰۴ء) میں واضح کر چکا ہوں۔ ’مسجد‘ دراصل عمارت کو نہیں بلکہ اس قطعہ زمین کو کہتے ہیں جسے عبادت گاہ کے طور پر مخصوص کر دیا جائے۔ عمارت ایک اضافی اور ثانوی چیز ہے۔ اگر کسی وقت عمارت قائم نہ رہے تو بھی مسجد کی حیثیت سے اس قطعہ زمین کا تقدس اور احکام برقرار رہتے ہیں۔ 
امید ہے کہ یہ وضاحت باعث تشفی ہوگی۔ 
عمار ناصر
۱۸ جولائی ۲۰۰۴ء
(۶)
بخدمت جناب مکرمی علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مزاج گرامی؟
اسلامی تعلیمات واخلاقیات کو خوب صورت انداز میں امت مسلمہ میں متعارف فرمانے کے لیے آنجناب کی کاوشیں لائق صد تحسین ہیں۔ 
ماہنامہ ’الشریعہ‘ جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن کا مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ شائع ہوا تھا۔ موصوف نے اپنے مضمون میں علماء کرام پر تنقید اور خود کو مجتہد ثابت کرنے کے لیے جو کچھ تحریر کیا تھا، قارئین سے مخفی نہیں۔ مطالعہ کرنے کے بعد دل میں اس کا جواب تحریر کرنے کا پرجوش داعیہ تھا لیکن بعض نامساعد حالات اور مصروفیات کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔ اگلے شمارے میں جب مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم کا مکمل ومدلل جواب آیا تو دل ٹھنڈا ہو گیا۔ جناب نے جس طریق سے مجتہد صاحب کا جواب لکھا ہے، لائق صد تحسین بلکہ ہزار تحسین ہے۔ اللہ موصوف کی زندگی میں مزید برکت عطا فرمائے۔
مجھے میاں صاحب سے تو شکوہ ہے ہی کہ اس نے علماء کرام کی عزت اپنے بے بنیاد خیالات کے باعث تمام مسلمانوں کے سامنے لوٹی، لیکن مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘ سے بھی شکوہ ہے کہ آپ نے اس طرح علماء کرام کے دشمن اور بزعم خود مجتہد کا مضمون اپنے رسالے میں کس لیے شائع کیا۔ اس میں کون سا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے کہ اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا؟ بہرحال میں مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ نے علماء کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے مجتہد صاحب کے اجتہاد کا جواب دیا اور مدیر ماہنامہ سے امید رکھتا ہوں کہ آئندہ ایسے بیانات ومضامین شائع کرنے سے گریز فرماویں۔ 
اللہ تعالیٰ علماء کرام کی عزت کو برقرار رکھے۔ آمین
(نوٹ) خط کو مکاتیب ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں ضرور شائع کریں۔ شکریہ
والسلام۔ خیر اندیش
عبد الودود نعمانی
۱۲ جولائی ۲۰۰۴ء

شوق سفر تا حشر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(سید افضل حسین مرحوم کے مجموعہ کلام ’’منزل آوارگاں‘‘ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔)

سید افضل حسین مرحوم سے ناچیز کی براہ راست تو کوئی شناسائی نہیں لیکن ان کے فرزند سید وقار افضل سے نیاز مندی کے توسط سے مرحوم کی شخصیت سے واقفیت کا سلسلہ ضرور شروع ہوا ہے۔ جناب وقار افضل کی وضع داری اور ان کی گفتگو کاربط وضبط ہمیں کافی حد تک ان کے پدر محترم کا خاکہ فراہم کر دیتا ہے کہ بیٹا ایسا ہے تو مرحوم خود کیسے ہوں گے، لیکن ’’منزل آوارگاں‘‘کے منظر عام پر آنے سے ان کے شخصی خاکے کو تکمیل رنگ تو ملا ہی ہے، ہم جیسوں کے لیے بھی یقیناآسانی پیدا ہوگئی ہے۔ 
اس شعری مجموعے کا خالق شخص بلاشبہ ایسی نفسیات کا حامل ہے جس کے ہاں روایات اور تہذیبی اقدار ہر شے پر فوقیت رکھتی ہیں۔ سرسری مطالعے سے ہی کسی بھی قاری کو جہاں غزل کی کلاسیکل روایت سے سابقہ پڑتا ہے، وہاں تشبیہات، استعارے اور علامات کا فارسی پس منظر ان کی روایت پسندی پر مہر تصدیق ثبت کرنے آن موجود ہوتا ہے۔ سید افضل مرحوم نے لفظ ’شوق‘ کثرت سے استعمال کیاہے۔ ’شوق نگاہ‘ سے ’شوق سفر‘ تک اس لفظ کی جتنی معنوی پرتیں ہیں، انہوں نے کمال شوق سے انہیں کھولنے کی خوبصورت کاوش کی ہے۔ لفظ شوق سے بھی ازخود کلاسیکل روایت سے نبھاؤ کا سبھاؤ جھلکتا ہے۔ طوالت سے بچنے کی خاطر شعروں کا حوالہ دینے کے بجائے چند تراکیب کے تذکرے پر اکتفاشاید کافی ہو گا: لمحہ شوق، کاروبار شوق ، شوق دل، شوق سفر، مکتوب شوق، چراغ شوق، داستان شوق، منتہائے شوق، شوق سحر، عرض شوق، شوق گل، شوق وصل وغیرہ۔ اس کے ساتھ اگر معنوی اعتبار سے مشتق الفاظ و تراکیب کو بھی شامل کر لیا جائے تو یقیناً’عرض شوق‘ ’داستان شوق‘ میں ڈھل جائے گی کہ :
پھیلے تو تا ابد ہے جو سمٹے تو اک نظر
لمبی ہے عرض شوق بڑی مختصر بھی ہے
سید افضل حسین مرحوم کا شوق سفر اس اعتبار سے منفرد کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دوران سفر اردگرد کے حالات سے آنکھیں بند نہیں کیں۔ عموماً ہوتا یہی ہے کہ انسان اپنی توجہ اپنے مقصود پر مرکوز رکھتا ہے لیکن ہمارے شاعر نے بڑے خوبصورت پیرایے میں ان لوگوں کو وکالت کی ہے جو تاریک راہوں میں مارے گئے ؂
نشان منزل مقصود ہیں نہ یوں دیکھو
سبک خرامو حقارت سے رہ نشینوں کو
تاریخی اور معاشرتی تناظرمیں تجزیہ کرنے سے اس شعر کی معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ زندگی کی دوڑ میں ناکام یا پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی ناکامی سے ہی سبق سیکھ کر دانا لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر یہ رہ نشین نہ ہوں تو شاید نہیں بلکہ یقیناًسبک خراموں میں سے بعض کا نصیب رہ نشینی ٹھہرتا۔ مذکورہ شعر میں بائیو سوشل حوالے سے Survival of the Fittest پر نقدو گرفت بھی جھلکتی ہے۔
’منزل آوارگاں‘ کا خالق اگرچہ اعلیٰ شاعرانہ احساس رکھتا ہے لیکن معروضی جبر بھی اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہا کہ زندگی میں جو ہونا چاہیے، اپنی جگہ لیکن جو کچھ ہور ہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس سے نگاہیں نہیں چرائی جاسکتیں۔ اس حقیقت کے ادراک کے ساتھ ہمارا شاعر ایک طرف تو ہمیں فقط آم کھانے کو کہتا ہے اور دوسری طرف نہایت دھیمے لیکن تیکھے لہجے میں انہی رہ نشینوں کا نئے انداز میں ذکر کر دیتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے :
محفوظ کر نگاہوں کو گل ہائے تازہ سے
شاداب کس کے خوں سے ہوا گلستاں نہ پوچھ
’نہ پوچھ‘ کی ردیف نے معنویت کے ساتھ ساتھ شعریت کو بھی بے کراں کر دیا ہے۔ 
ایک غزل کا مقطع سید افضل حسین مرحوم کے تبحر علمی اور بھرپور تنقیدی شعور کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ؂
خوشی میں ڈھلنا کمال غم والم افضل
ہیں نالے خام جونغمات میں بدلتے نہیں
کہ کمال انتہا ہے اور کسی بھی چیز کی انتہا سے خود اس کی نفی ہو جاتی ہے مثلاً روشنی کی انتہا میں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، کچھ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح رنج واندوہ اور غم والم کی انتہا خوشی وسرمستی ہی ہو سکتی ہے۔ یہاں ہمارے شاعر نے نکتہ دانی کا مظاہرہ تو کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ شاعری کی اس سطح پر بھی چوٹ کی ہے جس میں نغمگی ڈھونڈے نہیں ملتی۔ سید افضل کے نزدیک ایسی شاعری جذبات وخیالات کی سطحیت اور کچے پن پر دلالت کرتی ہے۔ اس غزل کا دوسرا شعر بھی قابل غور ہے کہ اس کے بین السطور سخن سرائی کے نئے امکانات جھلملا رہے ہیں ؂
لحاظ حسن کہ غارت گران گلشن بھی
گلوں کو توڑتے ہیں شاخوں سے مسلتے نہیں
ہمارے شاعر نے ایک مقام پر عُشاّق کی نفسیاتی کیفیت بڑی خوبی سے عیاں کی ہے۔ ایسا شخص جس نے کوچہ عشق میں قدم نہ رکھا ہو یا بہت کم مسافت طے کی ہو، وہ ایسے کہہ سکتا ہے کہ ع
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
لیکن ایسے احباب جو حسن وعشق کے معرکوں میں شریک رہے ہوں یا انہوں نے بہت گہرائی سے ان معرکوں کو پرکھا ہو، وہ سیّد افضل حسین کی آواز میں تائیدی آواز شامل کریں گے کہ ؂
ہم تڑپیں ہجرِ یار میں، وہ ہجرِ غیر میں
آخر کسی مقام پہ قسمت تو مل گئی
’’منزل آوارگاں‘‘ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے مزید کئی صفحات درکار ہوں گے۔ بیان کردہ چند سطریں بمشکل اشارہ کر پائی ہیں۔ لیکن یہ رائے دینا ہرگز مشکل نہیں کہ ’’منزل آوارگاں‘‘ اُردو ادب میں اس اعتبار سے گراں قدر اضافہ ہے کہ اس میں روایت کے رچاؤ کے ساتھ ساتھ جدید معاشرتی ونفسیاتی کیفیات کو سمویا گیا ہے۔ اس امتزاجی عمل کے دوران سیّد افضل حسین مرحوم نے نغمگی اور شعریت پر حرف نہیں آنے دیا۔ یہی اس مجموعے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ تنوع کے باوجود یہ بات کہنا چنداں مشکل نہیں کہ سید افضل حسین کی شاعری کا بنیادی حوالہ ’’شوق‘‘ہی ہے جو بہت معتبر بھی ہے ؂
کیا حاجتِ درا تھی ہمیں راہِ یار میں
شوقِ سفر تا حشر جگانے کو کم تھا کیا؟

اخبار و آثار

ادارہ

ایشیا کے دینی مدارس پر ایک ورکشاپ

سال رواں کے ماہ مئی کے آخری ہفتے میں نیدر لینڈز کے ’’انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف اسلام ان دی ماڈرن ورلڈ‘‘ (ISIM) نے برلن کے ادارے ’’زینٹرم ماڈرنر اورینٹ‘‘ (ZMO) کے تعاون سے ’’ایشیا کے مدارس: مابین الممالک روابط اور حقیقی یا فرضی سیاسی کردار‘‘ کے عنوان پر ایک دو روزہ ورک شاپ منعقد کی۔ ورک شاپ میں پیش کیے جانے والے ۹ مقالات میں ’’دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں ایشیا کے مختلف ملکوں میں موجود مدارس کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے پانچ مقالات کا موضوع جنوبی ایشیا کے مدارس تھے، جو کہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی کا حامل خطہ ہے۔ امریکہ میں ملٹن کینز کی اوپن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب عادل مہدی نے بھارت کے مدارس اور دہشت گردی کے بارے میں گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے برعکس، جہاں چند مخصوص مدرسے دہشت گردی میں ملوث ہیں، بھارت کے کسی ایک مدرسے کا بھی دہشت گردی کی کارروائیوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ بہت سے مدارس نے بھارت کی جدوجہد آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ پھر بھی بھارتی حکومت اور ذرائع ابلاغ مدارس کو قوم دشمن قرار دے کر انھیں بدنام کرنے کی مہم مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عادل مہدی نے ’’طالبان‘‘ کے ساتھ دیوبند کے تعلق پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دونوں کا وژن مشترک تھا، لیکن حکمت عملی کے معاملے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ انھوں نے اس نکتے پر زور دیا کہ طالبان کے برسر اقتدار آنے کی وجہ ان کی دیوبندی آئیڈیالوجی کم اور دوسرے سیاسی عوامل زیادہ تھے، جن میں طالبان کو پاکستان، سعودیہ عرب اور امریکہ کی طرف سے ملنے والی سپورٹ بھی شامل ہے۔
ZMO کے Dietrich Reetz نے ۱۹۸۲ء میں مدرسہ دیوبند میں پیدا ہونے والی تفریق کے بعد اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گفتگو کی۔ دیوبندی مدارس کے بارے میں پائے جانے والے اس عام خیال کی کہ وہ تبدیلی کے خلاف ہیں، تردید کرتے ہوئے انھوں نے ان تبدیلیوں کا ذکر کیا جو دار العلوم دیوبند نے حال ہی میں اپنے نظام میں کی ہیں اور جن میں شعبہ انگریزی اور شعبہ کمپیوٹر کا قیام شامل ہے۔ دوسرے گروہوں کے ساتھ دیوبندی تعلقات کے بارے میں Reetz نے کہا کہ دیوبندی علما کو غیر مسلم گروہوں کی بہ نسبت دوسرے مسلمان گروہوں کے مقابلے سے زیادہ دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے ان کوششوں کا بھی ذکر کیا جو بعض دیوبندی حضرات ہندوؤں کے ساتھ مکالمے کے حوالے سے کر رہے ہیں۔
بھارت میں لڑکیوں کے مدارس کے حوالے سے حال ہی میں ایک تبدیلی آئی ہے۔ ISIM کے ماریک ونکل مین (Mareike Winkelmann) نے دہلی میں لڑکیوں کے لیے قائم ایک دیوبندی مدرسے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی مفت تعلیم فراہم کر کے جو ثقافتی لحاظ سے بھی موزوں ہے، اس طر ح کے مدارس غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں میں خواندگی کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس کا نصاب مرد وزن کے تعلقات کے حوالے سے قدامت پسندانہ ہے، لیکن یہ مدرسہ مسلمان لڑکیوں کے لیے عملی سرگرمیوں کے نئے میدان بھی فراہم کر رہا ہے جس میں دنیا کی سب سے بڑی مسلمان تحریک تبلیغی جماعت میں شرکت بھی شامل ہے۔ 
فارش نور کا مقالہ کراچی کے دو مدرسوں میں زیر تعلیم ایک درجن انڈونیشی اور ملائشی طلبہ کے موضوع پر تھا جنھیں حال ہی میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعلقات کے الزام میں واپس ان کے ملک بھجوا دیا گیا جہاں انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ فارش نور نے کہا کہ ان حکومتوں کی طرف سے، جنھوں نے تمام مسلمان تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے حکومت مخالف تنظیموں کو دبانے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کیا، ان طلبہ کو منصفانہ عدالتی کارروائی کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ اس معاملے کو امریکہ اور اس کی اتحادی حکومتوں کے مابین پائے جانے والے پیچیدہ تعلقات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے کیونکہ ان دونوں کے لیے مدارس کو ’’دہشت گردی کے گڑھ‘‘ قرار دینے کا نعرہ داخلی مخالفت کو دبانے کے لیے ایک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ بد قسمتی سے آج مدارس کی اصلاح کے معاملے کو دہشت گردی کے مقابلے کے مسئلے کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔
یوگندر سکند کے مقالے میں ان کوششوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو بھارت کے علما اور مسلم رہنما مدارس کے نصاب میں جدید مضامین کے شامل کیے جانے، غیر مفید مضامین اور کتابوں کے اخراج اور طریقہ تدریس کی اصلاح کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ 
لیڈن کے انسٹی ٹیوٹ فار ایشین سٹڈیز کے نور ہادی حسن نے انڈونیشیا کے سلفی یا وہابی مدارس پر گفتگو کی۔ انھوں نے انڈونیشیا میں سلفی مدارس کے ارتقا اور شافعی علما، صوفیا اور ’’بے عمل‘‘ مسلمانوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کا جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ سلفی مدارس کو سعودی حکومت کی طرف سے فراخ دلانہ امداد مل رہی ہے اور اس کا تعلق، امریکی منشا اور مفادات کے عین مطابق، سعودی حکومت کے اس وسیع تر مقصد سے ہے کہ انقلاب ایران کے بعد مسلمان ملکوں میں شہنشاہیت کے خلاف پیدا ہونے والے رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے قدامت پرستی، جمود اور لفظ پرستی پر مبنی (Literalist) اسلام کو فروغ دیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کے کچھ سلفی مدارس دہشت گرد تنظیم ’’لشکر جہاد‘‘ کے ساتھ وابستہ اور ۲۰۰۲ء میں ہونے والے بالی بم دھماکوں میں ملوث تھے جس کے بعد ان میں سے کچھ پر حکومت انڈونیشیا نے پابندی عائد کر دی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعہ کے بعد سعودی حکومت کی طرف سے انڈونیشیا کے مدارس کو ملنے والی مالی سپورٹ نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں سلفی حلقہ بحران سے دوچار ہو گیا ہے۔
Martin van Bruinessen کے مقالے میں انڈونیشیا میں اسلامی اقامتی سکولوں (pesantren) کے سسٹم پر توجہ مرکو ز کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچہ ان میں سے بعض مدارس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ جنگ جو ہیں، لیکن اکثریت کے بارے میں یہ بات درست نہیں۔ ان مدارس میں شدت پسندی کے رجحان کو ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور یہ حقیقت میں انڈونیشی حکومت کی طرف سے اپوزیشن پارٹیوں کو دبانے کی پالیسی کا رد عمل ہے۔
چین میں اسلامی تعلیم کے موضوع پر اپنے مقالے میں ابو ظبی کی زاید یونیورسٹی کے جیکی آرمیجو (Jakied Armijo)نے وسیع تر مذہبی آزادی کے ماحول میں پورے ملک میں مدارس کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا۔ ان میں سے کچھ جز وقتی سکول ہیں جو اپنے طلبہ کو بیک وقت دوسرے باقاعدہ سکولوں اور کالجوں میں بھی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ سنکیانگ کے استثنا کے ساتھ، چین کے باقی علاقوں میں مدارس، حکومت مخالف پراپیگنڈا کا مرکز نہیں ہیں۔ انھوں نے ایسے متعدد چینی مسلمانوں کا حوالہ دیا جنھوں نے ایران یا عرب ممالک میں تعلیم پائی ہے اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد چین میں اسلامی تعلیمی ادارے قائم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
جرمنی کی یونیورسٹی آف بوچم کی کرسٹین ہنر (Christine Hunner) نے آزر بائیجان میں اسلامی مدارس پر گفتگو کی۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچہ اسلام اس خطے کے لوگوں کی شناخت کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے روسی تسلط کے باعث بہت کم لوگ اسلام کے بارے میں مستند معلومات رکھتے ہیں۔ انھوں نے اسلامی معلومات کو منتقل کرنے کے بعض نئے ذرائع اور طریقوں کا بھی تذکرہ کیا، جن میں یونیورسٹی آف باکو میں قائم ہونے والی نئی ’’تھیولاجیکل فیکلٹی‘‘ اور باکو ہی میں قائم ہونے والی ’’اسلام یونیورسٹی‘‘ شامل ہیں، جس میں شیعہ اور سنی مشترکہ طور پر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انھوں نے ترکی حکومت کی ان کوششوں کے ممکنہ مضمرات پر بھی روشنی ڈالی جو وہ شیعہ اکثریت کے اس ملک میں ترکی کی طرز کے اسلامی پروگراموں کو فروغ دینے کے حوالے سے کر رہی ہے۔ 
ورک شاپ کے شرکا کا مجموعی تاثر یہ دکھائی دے رہا تھا کہ تمام یا بیشتر مدارس کو دہشت گردی کے گڑھ قرار دینے کا تصور بے بنیاد ہے، اگرچہ انھوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ بعض ممالک میں کچھ مخصوص مدارس کو جنگ جو یا دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس بات پر بھی ایک عمومی اتفاق رائے پایا گیا کہ مختلف ملکوں کے مدارس کے مابین علمی وفکری اور مالی حوالے سے عرصہ دراز سے روابط قائم ہیں اور چند مدارس کے سوا، دوسرے ممالک کے مدارس سے روابط رکھنے والے ان مدارس کا دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں۔ بعض شرکا نے اس پر زور دیا کہ کچھ مدارس میں جنگ جویانہ رجحانات کے مظہر کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ یہ کم از کم جزوی طور پر ریاستی دہشت گردی اور مغربی بالخصوص امریکی تسلط کا رد عمل ہیں۔ گمراہ کن اور بے بنیاد طور پر پھیلے ہوئے خیالات کے ازالے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شرکا نے اس نکتے کو اجاگر کیا کہ مختلف ملکوں کے مدارس اور ان کے باہمی روابط کے بارے میں حقائق پر مبنی مزید تحقیق اور مطالعہ کی ضرورت ابھی موجود ہے۔ 
(ISIM Newsletter, June 2004)

مولانا چنیوٹی ؒ اور مولانا نذیر احمدؒ کی یاد میں تعزیتی نشست

سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد آف فیصل آباد کی وفات پر ۱۷ جولائی کو الشریعہ اکادمی میں ایک تعزیتی نشست مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے راہ نماؤں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر اور مولانا محمد نواز بلوچ کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہ نما سید احمد حسین زید نے بھی خطاب کیا۔ 
مقررین نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زندگی بھر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں اور پورے جذبہ وخلوص کے ساتھ اس محاذ پر مسلمانوں کی جرات مندانہ قیادت کرتے رہے ہیں۔ وہ انتہائی جفاکش، بے باک اور ان تھک راہ نما تھے جن کا کوئی بدل اس شعبہ میں اب دکھائی نہیں دیتا۔
مقررین نے کہا کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد کی ساری زندگی تعلیم وتدریس کے ماحول میں گزری اور انھوں نے ہزاروں علماء کرام اورطلبہ کو تعلیم وتربیت دے کر دین کی خدمت کے لیے تیار کیا جو ان کا مسلسل صدقہ جاریہ رہے گا۔ اجلاس میں دونوں بزرگوں کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے دعا کی گئی اور ان کے دینی وعلمی مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

مولانا زاہد الراشدی کا دورۂ امریکہ

’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران میں دار الہدیٰ (سپرنگ فیلڈ۔ ورجینیا۔ امریکہ ) کی دعوت پر امریکہ کے مختلف شہروں کا دو ہفتے کا دورہ کیا اور ۱۹ جون سے ۲ جولائی تک واشنگٹن، نیو یارک، میری لینڈ، ورجینیا، لانگ آئی لینڈ اور دیگر علاقوں میں ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ دینی اجتماعات سے خطاب کیا۔ انھوں نے دار الہدیٰ میں مسلسل نو روز تک قرآن فہمی کے ضروری تقاضوں پر لیکچر دیے اور ۲ جولائی کو مکی مسجد بروک لین نیو یارک میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا۔ انھوں نے واشنگٹن میں پی ایچ ڈی کے لیے پاکستان سے جانے والے سینئر طلبہ کے ایک گروپ کی طرف سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے مغربی ممالک میں آنے والے طلبہ کو اس بات کا بطور خاص خیال رکھنا چاہیے کہ جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے وہ عالم اسلام اور اپنے ممالک کی ضروریات کو کس طرح پورا کر سکتے ہیں اور اس شعبہ میں پائے جا نے والے خلا کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پی ایچ ڈی کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے مضامین میں زیادہ سے زیادہ مہارت حاصل کریں اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت اور اسلامی اقدار کے ساتھ اپنی شعوری وابستگی کو مضبوط بنائیں۔ مولانا زاہد الراشدی ۴ جولائی کو گوجرانوالہ واپس پہنچ کر اپنی مصروفیات میں مشغول ہو گئے ہیں۔

الشریعہ اکادمی میں مولانا عبد الرؤف ملک کی تشریف آوری

متحدہ علما کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور آسٹریلیا مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبد الرؤف ملک ۱۹ جون کو الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور اساتذہ وطلبہ کے ساتھ ایک نشست میں شرکت کی۔ اس موقع پر انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ علماء کرام کو فکری وثقافتی محاذ پر آج کے دور کے چیلنج اور تقاضوں کو سمجھنے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انھوں نے الشریعہ اکادمی کی سرگرمیوں پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس قسم کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا محمد فیروز خان کی اہلیہ کا انتقال

میرپور آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی کی ہمشیرہ، بھمبر کے تحصیل قاضی مولانا محمد اویس خان ایوبی کی پھوپھی اور مولانا محمد فیروز خان مہتمم دار العلوم مدنیہ ڈسکہ کی اہلیہ محترمہ گزشتہ ہفتہ قضاے الٰہی سے انتقال کر گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ گزشتہ چار ماہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں۔ نماز جنازہ دار العلوم مدنیہ کی عید گاہ میں ادا کی گئی جس میں عوام، علما اور طلباکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ میر پور میں متعدد شخصیات نے ضلع مفتی میر پور سے تعزیت کی اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’شرح شمائل ترمذی‘‘ (جلد دوم)

زیر نظر کتاب جناب نبی اکرم ﷺ کی سنن و شمائل پر امام ترمذیؒ کی معروف کتاب کی اردو میں شرح کا دوسرا حصہ ہے جو ممتاز صاحب علم مولانا عبد القیوم حقانی کے قلم سے ہے اور اس میں جناب نبی اکرم ﷺ کی مبارک عادات و شمائل کی دل نشیں انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔
چھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ، صوبہ سرحد نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت درج نہیں ہے۔

’’صحابہ کرام کا اسلوب دعوت وتبلیغ‘‘

ہمارے فاضل رفیق کار پروفیسر محمد اکرم ورک کے اس تحقیقی مقالہ کے بیشتر حصے ’الشریعہ‘ میں قارئین کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ یہ مقالہ کتابی صورت میں مکتبہ جمال کرم لاہور نے شائع کیا ہے۔ 
ساڑھے تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۱۳۵ روپے ہے اور اسے الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، کنگنی والا گوجرانوالہ سے بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’مشاہیر اراکان برما اور برمی حکومت کے دل خراش مظالم‘‘

جامعہ احتشامیہ جیکب لائن کراچی کے استاذ مولانا حافظ محمد صدیق نے، جو اراکان برما سے تعلق رکھتے ہیں، اس خطے کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کی تفصیل بیان کی ہے اور برمی حکومت کے مظالم کو بے نقاب کیا ہے۔ برما کے مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی سے آگاہی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔
پونے چار سو صفحات کی یہ ضخیم معلوماتی کتاب مصنف سے مندرجہ بالا پتہ پر طلب کی جا سکتی ہے۔

’’تجزیہ قادیانیت‘‘

ہمارے فاضل دوست اور ماہنامہ الہلال مانچسٹر کے مدیر مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے قادیانی نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلاق و عادات کا جائزہ لیا ہے اور مستند حوالوں سے قادیانیت کے فریب کا پردہ چاک کیا ہے۔
سوا دو سو سے زائد صفحات کی یہ کتاب جناب عبد الرحمن باوا نے ختم نبوت اکیڈمی لندن سے شائع کی ہے اور پاکستان میں اسے مکتبہ حکیم الامت، ۳۔ ایف ۳/۲، ناظم آباد نمبر ۳، کراچی ۱۸ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’لمحہ لمحہ پھسلتے قدم‘‘

بزرگ دانش ور جناب عبد الرشید ارشد آف جوہر آباد نے اپنے متعدد مضامین میں پاکستان کے نظام تعلیم کو سیکولر بنانے کی کوششوں کا جائزہ لیا ہے اور اس سلسلے میں مغرب کی خواہشات کو بے نقاب کیا ہے۔ اس میں دیگر بعض اہم عنوانات بھی ان کے معلوماتی مضامین میں شامل ہیں۔
پونے دو سو کے لگ بھگ صفحات کی اس کتاب کی قیمت ۷۵ روپے ہے اور اسے النور ٹرسٹ، جوہر پریس بلڈنگ، جوہر آباد سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’مکتوبات افغانی‘‘

بزرگ عالم دین حضرت مولانا قاضی عبد الکریم صاحب مدظلہ آف کلاچی کے نام شیخ التفسیر حضرت مولانا علامہ شمس الحق افغانی کے مکاتیب کو مولانا عبد القیوم حقانی نے کتابی شکل میں مرتب کیا ہے جن میں علامہ افغانی نے اپنے مخصوص انداز میں مختلف مسائل کی وضاحت کی ہے۔
دو سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب القاسم اکیڈمی، خالق آباد، نوشہرہ سے طلب کی جا سکتی ہے۔ 

’’رنگ برنگی بیاض گڑنگی‘‘

مدرسہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی نے اپنی بیاض میں مختلف حوالوں سے درج کردہ معلومات کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے جو متنوع واقعات اور معلومات پر مشتمل ہے۔
صفحات: ۱۵۸۔ قیمت: ۷۰ روپے۔ ملنے کا پتہ: مکتبہ انوار مدینہ، جامع مسجد صدیق اکبر، محلہ صدیق آباد (اپر چنئی) مانسہرہ۔