بھارت میں خواتین کے مسائل کے لیے خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ۵۔ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں حیدرآباد دکن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے ایک دینی ادارے ’’جامعۃ المومنات‘‘ نے تین عالمہ خواتین کو افتا کا کورس کرانے کے بعد فتویٰ نویسی کی تربیت دی ہے اور ان پر مشتمل خواتین مفتیوں کا ایک پینل بنا دیا ہے جو خواتین سے متعلقہ مسائل کو براہ راست سنتی اور ان کے بارے میں شرعی اصولوں کی روشنی میں فتویٰ جاری کرتی ہیں۔ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ یہ جنوبی ایشیا میں پہلی مثال ہے کہ خواتین سے متعلقہ مسائل پر خواتین کو فتویٰ جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگرچہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہؓ خواتین کے مسائل کے حوالے سے فتویٰ دیتی رہی ہیں اور بعد میں بھی امت مسلمہ میں عورتوں کے دینی امور میں رائے دینے کی روایت موجود رہی ہے، لیکن یہ معاملہ غیر رسمی رہا ہے۔ اب ہندوستان میں اس نئی روایت کا آغاز کیا گیا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
’’جامعۃ المومنات‘‘ حیدرآباد دکن کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس میں دو ہزار کے لگ بھگ طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس کے دار الافتاء کے سربراہ مولانا مفتی حسن الدین نے اپنی نگرانی میں بائیس سالہ عالمہ مفتیہ ناظمہ عزیز اور ان کی دو ساتھیوں کو فتویٰ نویسی کے لیے تیار کیا ہے اور اب خواتین ان سے براہ راست رجوع کر کے اپنے مسائل کے بارے میں رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔ رپورٹ میں اس پینل کے بعض فتاویٰ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں میک اپ سے متعلقہ مسائل اور عورت کو طلاق ہو جانے کی صورت میں اس کے بچے کی پرورش کی ذمہ داری کے بارے میں سوالات شامل ہیں۔
حیدر آباد دکن کے اس دینی ادارے کے قائم کردہ خواتین مفتیوں کے اس پینل کے بارے میں مزید معلومات تو براہ راست رابطہ کے بعد ہی حاصل ہو سکیں گی، البتہ جتنی بات کا ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے اپنے مخصوص انداز میں ذکر کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’’جامعۃ المومنات‘‘ کے اس اقدام کو عالمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کے طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ایک اہم اور انقلابی پیش رفت ہے لیکن جہاں تک عورتوں کے تعلیم حاصل کرنے اور دینی امور میں رائے دینے کا تعلق ہے، ہمارا ماضی اس سلسلے میں شاندار روایات کا حامل ہے اور اب سے ایک ہزار سال قبل تک ہمارے ہاں عورتوں کا علمی معیار اس قدر بلند رہا ہے کہ مغرب عورتوں کو آزادی اور مساوات کی منزل سے ہم کنار کرنے کے بلند بانگ دعووں کے باوجود اس کی ہم سری نہیں کر سکتا۔
خلفاے راشدینؓ کے دور میں جناب نبی اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ کی روایت کے حوالے سے جن سات صحابہ کرام کو حدیث نبوی کے سب سے بڑے راوی شمار کیا جاتا ہے، ان میں ایک ام المومنین حضرت عائشہ بھی ہیں جن سے دو ہزار سے زائد احادیث مروی ہیں اور ان سے براہ راست حدیث نبوی ﷺ روایت کرنے والے مرد وخواتین کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ وہ صرف روایت ہی نہیں کرتی تھیں بلکہ قرآن وسنت سے مسائل کا استنباط کرتی تھیں، فتویٰ بھی جاری کرتی تھیں، اپنے معاصر مفتیوں کے فتووں سے اختلاف کرتی تھیں اور ان کے فتووں کا تعلق صرف عورتوں کے مسائل سے نہیں ہوتا تھا بلکہ عقائد کی تشریح، عبادات، امت کے اجتماعی معاملات اور دیگر امور بھی ان کے فتاویٰ کا حصہ ہوتے تھے۔ ان سے خلفاے راشدین خود بھی رہنمائی حاصل کرتے تھے اور ان کے فتاویٰ عملاً نافذ ہوا کرتے تھے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ نے ایک مستقل کتابچہ میں ان فتاویٰ کا ذکر کیا ہے جن میں ام المومنین حضرت عائشہؓ نے اپنے معاصر مفتیوں اور مجتہدین سے اختلاف کیا ہے اور ان سے مختلف فتاویٰ جاری کیے ہیں۔ ان کے بارے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ہم صحابہ کرام کبھی کسی ایسی مشکل میں نہیں پھنسے جس کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس ہم نے علم اور رہنمائی نہ پائی ہو۔ حضرت عروہ بن زبیر کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے زمانے میں قرآن وسنت کی تشریح، شعر وادب، تاریخ قبائل عرب، فرائض ومیراث اور طب میں حضرت عائشہؓ سے بڑا کوئی عالم نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کے علوم کی سب سے بڑی وارث بھی ایک خاتون تھیں جن کا نام عروہ بنت عبد الرحمن ہے۔ یہ مشہور صحابی حضرت اسعد بن زرارہؓ کی پوتی ہیں، بہت ذہین وفطین خاتون تھیں، حضرت عائشہ کے ہاں رہتی تھیں اور ان کی مایہ ناز شاگرد ہونے کے علاوہ ان کے بیشتر معاملات وامور کی ذمہ دار ہوتی تھیں۔ صحابہ کرام کے آخری دور میں جب اس بات کاخطرہ نظر آنے لگا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی زندگی کا براہ راست مشاہدہ کرنے والے اور ان کے ارشادات براہ راست سننے والے حضرات کے دنیا سے رخصت ہوتے چلے جانے کے باعث کہیں سنت واحادیث کا بہت بڑا ذخیرہ ان کے ساتھ ہی نہ چلا جائے تو امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے سرکاری طور پر اس کا اہتمام کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی احادیث وسنت کو جمع کر کے محفوظ کیا جائے اور باقاعدہ تحریر میں لاکر ان کی حفاظت کی جائے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے بہت سے حضرات کی ڈیوٹی لگائی جن میں مدینہ منورہ کے قاضی ابوبکر بن قاسم بھی تھے جو حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن کے بھتیجے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے انہیں اس بات کی بطور خاص ہدایت کی کہ وہ اپنی پھوپھی کے علوم وروایات کو جمع اور محفوظ کرنے کا خصوصی اہتمام کریں کیونکہ وہ ام المومنین حضرت عائشہ کے علوم کی وارث بلکہ حافظہ ہیں۔ ابن حجر عسقلانی کے نزدیک مدینہ منورہ میں اس کام کے لیے قاضی ابوبکر بن قاسم کو مقرر کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ وہ حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن کے علوم وروایات کو منضبط کرنے کا کام زیادہ آسانی سے کر سکتے تھے۔ حافظ ابن حجر کا کہنا ہے کہ عمرہ بنت عبد الرحمن صرف احادیث روایت ہی نہیں کرتی تھیں بلکہ لوگ ان سے مسائل بھی دریافت کرتے تھے۔ وہ اپنے قاضی بھتیجے کے عدالتی فیصلوں کی نگرانی کیا کرتی تھیں اور بسا اوقات ان کو ٹوک بھی دیا کرتی تھیں۔
احادیث نبوی کی روایت میں خواتین کا کیا حصہ رہا ہے؟ اس کے بارے میں ہمارے دوست مولانا محمد اکرم ندوی نے، جو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز میں تحقیق اور ریسرچ کا کام کر رہے ہیں اور امت کی ان محدثات کے حالات جمع کرنے میں مصروف ہیں جنہوں نے احادیث نبوی باقاعدہ طور پر پڑھی اور پھر پڑھائی ہیں، گزشتہ سال شعبان میں مجھے بتایا کہ وہ اب تک چھ ہزار محدثات کے حالات جمع کر چکے ہیں جو ان کے اندازے کے مطابق دس ضخیم جلدوں میں شائع ہوں گے۔ اسی طرح فقہ وافتا میں بھی متعدد خواتین بلند ترین مقامات تک پہنچی ہیں۔ اس سلسلے میں بطور مثال چھٹی صدی ہجری کی ایک خاتون فقیہہ اور مفتیہ کا تذکرہ دل چسپی سے خالی نہ ہوگا جو فاطمہ فقیہہ کے نام سے معروف ہیں اور فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’بدائع الصنائع‘‘ کے مصنف امام ابوبکر کاسانی کی اہلیہ محترمہ ہیں۔ یہ اپنے والد اور خاوند کے ساتھ افتا کے کام میں شریک ہوتی تھیں اور خود بھی فتویٰ دیا کرتی تھیں حتیٰ کہ اس دور کے اہم مسائل پر جو فتاویٰ جاری ہوتے تھے، ان پر ان تینوں کے دستخط ہوا کرتے تھے۔
بعض روایات کے مطابق فاطمہ فقیہہ کی شادی کا واقعہ بھی دلچسپی کا حامل ہے جس کا مختصر تذکرہ علامہ شامی نے کیا ہے اور حضرت مولانا قاری محمد طیب نے اپنے ایک خطبہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جو ان کے مطبوعہ ’’خطبات حکیم الاسلام‘‘ میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فاطمہ فقیہہ خود بھی بڑی عالمہ تھیں اور ان کے والد بھی اپنے دور کے بہت بڑے عالم وفقیہ تھے۔ فاطمہ انتہائی خوب صورت خاتون تھیں اس لیے ان کے لیے بڑے بڑے خاندانوں کے رشتے آتے تھے لیکن کسی رشتے پر باپ بیٹی کا اتفاق نہیں ہوتا تھا۔ بالآخر فاطمہ فقیہہ نے خود ہی تجویز پیش کی کہ ان سے شادی کے خواہش مند حضرات موجودہ حالات کی روشنی میں فقہ حنفی پر کتاب لکھیں، وہ سب کتابوں کا مطالعہ کریں گی اور جس مصنف کی کتاب انہیں پسند آئے گی، اس سے شادی کر لیں گی۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب کے ارشاد کے مطابق اس ’’مقابلہ‘‘ میں سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں، جن میں سے ’’بدائع الصنائع‘‘ کو محترمہ نے پسند کیا اور اس کے مصنف امام ابوبکر کاسانی سے شادی کر لی۔
اس لیے بھارت کے ایک دینی ادارے نے اگر تین عالم خواتین کو افتا کی باقاعدہ تربیت دے کر ان پر مشتمل خاتون مفتیوں کا مستقل پینل بنایا ہے اور خواتین سے اپنے مسائل کے لیے ان سے براہ راست رجوع کرنے کو کہا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں میں کسی نئی روایت کا اضافہ ہے بلکہ یہ اقدام اپنے شاندار ماضی کی طرف واپس پلٹنے کا عمل ہے جو انتہائی خوش آئند اور اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے دینی حلقوں نے اپنے ماضی کی تاریخ اور اسلاف کی روایات سے آگاہی حاصل کرنے اور ان کی طرف واپس پلٹنے کی ضرورت محسوس کر لی ہے۔ اس موقع پر ہم یہ گزارش کرنے کی ضرورت بھی محسوس کر رہے ہیں کہ ’’عورت‘‘ کے حوالے سے ہماری موجودہ اور مروجہ روایات واقدار کا ایک بڑا حصہ ہمارے علاقائی کلچر سے تعلق رکھتا ہے جسے دین قرار دے کر ان کی ہر حالت میں حفاظت کا تکلف روا رکھا جا رہا ہے۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم دینی تعلیمات واقدار اور علاقائی کلچر وثقافت کی روایات واقدار کے درمیان فرق کو محسوس کریں اور اس حقیقت کا ادراک حاصل کریں کہ ہر حالت میں تحفظ صرف دینی تعلیمات واقدار کا حق ہے جبکہ کلچر اور ثقافت، حالات اور ضروریات کے تغیر کے ساتھ ساتھ بدلتی رہنے والی چیزیں ہیں۔ یہ امر واقعہ ہے کہ ہم ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کر رہے جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر بہت سے غیر ضروری مسائل اور ناواجب پیچیدگیاں جنم لے رہی ہیں۔
ان گزارشات کے ساتھ ہم ’’جامعۃ المومنات‘‘ حیدرآباد بھارت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس کے منتظمین کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کے دیگر دینی اداروں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس اچھی اور ضروری روایت کو آگے بڑھانے میں مثبت اور موثر کردار ادا کریں گے۔
صحابہ کرام کے اسلوب دعوت میں انسانی نفسیات کالحاظ (۳)
پروفیسر محمد اکرم ورک
قصص
مخاطب کو دعوت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے قصوں اور کہانیوں کی زبان میں بات کرنا انسانی نفسیات کا ایک عمدہ اسلوب ہے کیونکہ قصوں اور کہانیوں کے پیرائے میں اگر بات کی جائے تو مخاطب واقعات کا تسلسل جاننے کے لیے ہمہ وقت داعی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس لیے تعلیم و تربیت اور دعوت و تبلیغ میں قصوں اور کہانیوں کا استعمال دور قدیم سے ہی تمام معاشروں میں ایک معروف چیز رہی ہے ،کیونکہ انسان قصہ اور کہانی کی زبان سے جو کچھ سنتا ہے اس سے اثر لیتا ہے ۔ قرآن حکیم نے بھی لوگوں کی اس فطرت کو جانتے ہوئے کہ وہ طبعاً قصص کی جانب مائل ہوتی ہے اور ان سے متاثر ہوتی ہے قصص کو بطور ذریعہ تربیت اختیار کیا ہے۔ قرآن حکیم نے انتہائی اختصار کے ساتھ قصوں کی دعوتی و تربیتی تاثیر کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃ’‘لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِ ( یوسف، ۱۲:۱۱۱)
’’بے شک ان قصوں میں اہل فہم کے لیے بڑی عبرت ہے‘‘
رسول اللہ ﷺکی پیروی کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ نے بھی دعوت و تبلیغ میں سابقہ اقوام کے واقعات کو حوالے کے طور پر استعمال کر کے بہت سی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کروائیں ۔ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے وعظ فرمایا:
’’ ایک شخص جس کے نامۂ اعمال میں توحید کے سوا اور کوئی نیکی نہ تھی مرنے کے وقت وصیت کی کہ میری لاش کو جلا کر اور چکی میں پیس کر سمندر میں ڈال دینا ۔ لوگوں نے اس کی وصیت پوری کر دی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی روح سے سوال کیا : تو نے اپنی لاش کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔ کہنے لگا : اے اللہ ! تیرے خوف اور ڈر سے ۔ اس جواب پر دریائے رحمت جوش میں آیا اور وہ شخص بخش دیا گیا‘‘۔ (۱)
اس تمثیلی قصے کو بیان کرنے سے عبد اللہ بن مسعود کا مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ تمام اعمالِ حسنہ کی روح دراصل خشیتِ الٰہی ہی ہے۔
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ان کی زوجہ محترمہ فوت ہو گیءں تو محمدؓ بن کعب قرظی تعزیت کے لیے تشریف لائے اور کہا : بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو فقیہ ،عالم ، عابد اور مجتہد تھا ۔ اسکی ایک بیوی تھی جس کے ساتھ اسے غایت درجہ محبت تھی وہ فوت ہو گئی تو اس آدمی کو بڑا دھچکا لگا اور شدت ملال کے باعث وہ گھر میں بیٹھ گیا ، دروازہ بند کر لیا اور لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا ۔اب اس کے پاس کوئی نہیںآسکتا تھا۔
ایک عورت نے جب یہ بات سنی تو اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے ان سے ایک حاجت ہے جس کے سلسلے میں ان سے میں نے فتویٰ لینا ہے، بالمشافہ پوچھے بغیر بات نہیں بن پڑے گی۔ لوگ تو چلے گئے لیکن وہ عورت دروازے پر جام ہو گئی اور کہا کہ مجھے اس کے سوا چارہ نہیں، کسی نے اس عالم سے کہا کہ یہاں ایک عورت ہے جو آپ سے کوئی فتویٰ لینا چاہتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ میں بالمشافہ پوچھوں گی اور لوگ جاچکے ہیں، لیکن وہ دروازہ سے نہیں ٹلتی ۔ کہا کہ اسے اندر آنے دو۔وہ اندر آگئی اور اس نے کہا کہ میں آپ کی خدمت میں ایک مسئلہ دریافت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئی ہوں۔ کہا ؛ وہ کیا ہے؟ عورت نے کہا : میں نے اپنی ہمسائی سے کچھ زیور ادھار لیے تھے میں انھیں پہنتی رہی اور مدتوں ادھار دیتی رہی ۔ اب اس گھر والوں نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ زیور انھیں لوٹا دوں تو کیا میں ان کی طرف لوٹا دوں ؟ کہا : اللہ کی قسم ضرور ۔ عورت نے کہا : میرے پاس تو اس زیور کو مدت گذر گئی پھر واپسی کیسی؟ کہا کہ اس صورت میں تو واپس لوٹانے کا اور زیادہ حق ہو گیا کہ اتنی مدت ادھار دیئے رکھا ۔ عورت گویا ہوئی کہ حضور والا ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ،کیا آپ اس چیز پر افسوس کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ادھار دی ، پھر واپس لے لی ، کیا وہ اس کا آپ سے زیادہ حقدار نہیں؟ اس بات نے عالم کی آنکھیں کھول دیں اور اس کی بات سے اللہ تعالیٰ نے اسے فائدہ پہنچایا۔ (۲)
تشبیہہ و تمثیل سے وضاحت
استعارہ ، تشبیہہ اور تمثیل فصیح و بلیغ کلام کا لازمی عنصر ہیں،جو کلام کازیب و زینت اور زیور شمار کئے جاتے ہیں، ان کی وجہ سے مفہوم و معنیٰ قریب الفہم ہو جاتا ہے، نازک تشبیہہ و تمثیل اور لطیف استعارے سے کلام میں جو زور ،قوت اور وسعت پیدا ہوتی ہے وہ کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ۔ تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ میں ہر مکتبہ فکر اور مختلف رجحانات و خیالات کے افراد سے واسطہ پڑتا ہے، جس میں خواندہ و نا خواندہ ، حضروی و بدوی ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، چنانچہ داعی کو ہر ایک کی تفہیم کے لیے اس کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کرنا پڑتی ہے، جس سے وہ بات سمجھ جائے اور پیغام کی طرف متوجہ ہو ۔صحابہ کرامؓ دعوت و تبلیغ اورلوگوں کی تربیت میں اس اسلوب کو اختیار کرتے تھے ۔ امثال اور تشبیہات ان مجرد معانی کے ادراک میں بہت معاون ہوتی ہیں جن کا موجودہ صورت میں سمجھنا دشوار ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ مخفی اور معنوی امور کو محسوسات سے تشبیہہ دے کر سمجھاتے تھے۔
یہ ایسا اسلوبِ دعوت ہے جس میں مشکل ترین بات کو بھی عام فہم چیز کی مثال دے کر آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ قرآن حکیم نے بھی اسی اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے مشکل اور پیچیدہ خیالات کو معمولی چیزوں کے ساتھ تشبیہہ دے کر نہایت عمدگی کے ساتھ سمجھایا ہے ۔ مثلاً قرآن مجید نے کلمۂ طیبہ کی مثال ایک عمدہ اور اعلیٰ نسل کے درخت سے دی ہے ،جس کی جڑیں زمین میں گہری جمی ہوئی ہیں۔ (۳) اسی طرح کلمۂ خبیثہ کی مثال بد ذات درخت سے د ی گئی ہے جو بیکار سمجھ کر زمین سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ (۴)
یہ دعوت کا ایسا اسلوب ہے جس سے معمولی فہم و فراست رکھنے والا انسان بھی مشکل مسائل کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔زید بن اسلم نے عبد اللہ بن ارقمؓ سے کہا : مجھے صدقہ کے اونٹوں میں سے سواری کا ایک اونٹ بتائیے تاکہ میں امیر المؤمنین سے سواری کے لیے مانگ لوں عبد اللہ بن ارقمؓ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا:
’’کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا آدمی گرمی کے دنوں میں اپنے تہبند کے نیچے کی جگہ اور چڈّے دھو کر تمھیں دے تو کیا تم وہ پانی پی لو گے؟ ‘‘ زید بن اسلم ناراض ہو کر کہنے لگے : اللہ آپ کو معاف فرمائے ، آپ مجھ سے کتنی نامناسب بات کہہ رہے ہیں ، عبد اللہ بن ارقمؓ نے کہا : صدقہ لوگوں کا میل ہے جس سے وہ اپنے آپ کو دھوتے ہیں‘‘۔ (۵)
اس مثال سے حضرت عبد اللہ بن ارقمؓ کا مقصد مخاطب کے دل میں مالِ زکوٰۃ اور صدقات کے بارے میں نفرت پیدا کرنا تھا ،کیونکہ جو شخص مالِ زکوٰۃ اور صدقات کا حقدار نہ ہو یا اشد ضرورت کے بغیر ہی اس کو حاصل کرنے کا متمنی ہو تو ایسے شخص کے لیے یہ مال گویا گندگی اور قابل نفرت چیز ہے ۔
معد ان بن ابی طلحہ الیعمری کا بیان ہے : ایک دفعہ حضرت ابو الدرداءؓ نے مجھ سے پوچھا : تمھارا مکان کہاں ہے؟ میں نے کہا : حمص کے قریب ایک گاؤں میں ہے ۔ فرمانے لگے میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جس جگہ اذان اور باجماعت نماز نہ ہوتی ہو وہاں شیطان داخل ہو جاتا ہے اور پھر ان کو تنبیہہ کے انداز میں ارشاد فرمایا:
علیک بالجماعۃ فانما یأکل الذئب القاصیۃ (۶)
’’ تم جماعت کے ساتھ (شہر میں ) نماز پڑھا کرو بے شک بھیڑیا اس بکری کو کھا جاتا ہے جو گلہ سے دور رہتی ہے‘‘
ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’ یا ایھا الناس! اتقوا ھذا الشرک فانہ اخفی من دبیب النمل‘‘ (۷)
’’ اے لوگو ! شرک سے بچو ، بے شک یہ چیونٹی کی چال سے زیادہ غیر محسوس ہے‘‘۔
ایک دفعہ حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابو درداءؓ کو خط لکھا تو اس میں علم اور عالم کی عظمت کو تمثیلی اسلوب کے ذریعہ بڑی خوبصورتی سے بیان فرمایا، آپ کے تحریر کردہ خط کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’ علم ایک چشمہ ہے جس پر لوگ آتے ہیں اور اس سے نالیاں نکالتے ہیں اور اللہٰ اس سے بہتوں کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن اگر حکمت خاموش ہو تو وہ جسم بے روح ہے ، اگر علم لٹایا نہ جائے تو وہ مدفون خزانہ ہے ۔ عالم کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تاریک راستے میں چراغ دکھاتا ہے تاکہ لوگ اس سے روشنی حاصل کریں اور اس کو دعا دیں‘‘ (۸)
سوال و جواب/ باہمی گفتگو
مخاطب کو اپنی دعوت کی طرف متوجہ کرنے اور اس کو ذہن نشین کرانے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ اور اسلوب باہمی گفتگو اور بات چیت کا بھی ہے، مکالمانہ انداز اور سوال و جواب کا اسلوب مخاطب کے ذہن و فکر کو متوجہ کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ واعظانہ اسلوبِ دعوت کے مقابلہ میں یہ اسلوب اثر انگیزی میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے ،کیونکہ اس صورت میں متکلم اور سامع کے درمیان براہ راست گفتگو ہوتی ہے اور حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں مخاطب کے ذہن میں بٹھا دیا جاتا ہے ۔ فروغِ دعوت کے لیے سوال و جواب اور باہمی گفتگو کا اسلوب بہت مؤثر ہے بالخصوص اگر وہ سوال اور بحث کسی پوشیدہ حقیقت کی نقاب کشائی کے لیے ہو تو اس سے نہ صرف سائل بلکہ دوسرے لوگ بھی گمراہی سے محفوظ ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے مثبت اور تعمیری سوالات کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو پورے علمی اور تحقیقی انداز میں جوابات مرحمت فرمائے۔
عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا : کیا آپؓ نے غور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ بے شک صفا اور مروہ، اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے‘‘۔ لہٰذا آدمی پر کچھ نہیں ہے جبکہ وہ دونو ں کا طواف نہ کرے ۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا :ہرگز نہیں ،اگر بات یہی ہوتی جو تم کہہ رہے ہو تو حکم یوں ہوتا۔ ’’ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لّاَ یطَّوَّفَ بِھِمَا‘‘ یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مناۃ کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ نامی بت قدید کے بالمقابل تھا اور وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کو برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انھوں نے رسول اللہ ﷺؐسے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے‘‘۔(۸)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰنؓ ! میں نے ایک آدمی کو قرض دیا ہے اور اس سے شرط کی ہے کہ اس سے بہتر چیز لوں گا۔ عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا: یہ تو سو دہے ، کہا : اے ابو عبدالرحمٰنؓ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا : قرض تین طرح کا ہے ، ایک وہ قرض جو رضائے الٰہی کے لیے ہے، دوسرا وہ کہ دوست کی مدد کی جائے تو یہ دوست کی مدد ہے ، تیسرا وہ ہے کہ پاک مال کے بدلے ناپاک مال لے اور یہ سود ہے ۔ کہا اے ابو عبدالرحمٰنؓ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا : میرے خیال میں دستاویز کو پھاڑ دو ۔ اگر وہ تمھارے جیسی چیز دے تو قبول کر لینا ۔ اگر گھٹا دے تب بھی لے لینا کہ تمھیں اجر ملے گا ۔ اگر تمھاری چیز سے بہتر اپنی خوشی سے دے تو یہ اس نے تمھارا شکریہ ادا کیا اور تمھیں مہلت دینے کا اجر ملے گا۔ (۹)
ابن عباسؓ کی خدمت میں ایک شخص خراسان سے آیا اور عرض کی کہ ہمارا تعلق سرد علاقہ سے ہے۔ اور پھر اس نے شراب کی چند اقسام کا ذکر کیا تو ابن عباسؓ نے فرمایا:
اجتنب ما أسکر من زبیب أو تمر أو ما سوی ذالک ، قال : ما تقول فی نبیذ الجر ؟ قال : نھی رسول اللہ ﷺ عن نبیذ الجر (۱۰)
’’ ہر نشہ آور چیز مثلاً منقہ اور کھجور وغیرہ سے بچو۔ آپؓ مشکیزے کی نبیذ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺنے (روغنی) مشکیزے میں نبیذ بنانے سے منع کیا ہے‘‘۔
علقمہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے وعظ کرتے ہوئے فرمایا:
’’لعن اللہ الواشمات ، والمتوشمات ، والمتنمصات المتفلحات للحسنِ المغیّرات خلق اللہ‘‘
ام یعقوب نامی ایک عورت کو پتہ چلا تو آپؓ کے پاس آئی اور کہا: مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے یہ بات کہی ہے ۔آپؓ نے فرمایا : میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺنے کتاب اللہ میں لعنت فرمائی ہے۔ اس نے کہا: میں نے پورا قرآن پڑھا ہے میں نے یہ چیز اس میں نہیں پائی۔ آپؓ نے فرمایا: کیا تم نے قرآن میں یہ پڑھا ہے:
وَمَآ اٰتَا کُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَا نْتَھُوْا (الحشر،۵۹:۷)
اللہ کے رسول ﷺجو تمھیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔
اس نے کہا : ہا ں ، آپؓ نے فرمایا : بے شک رسول اللہ ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے اس نے کہا : میرا گمان ہے کہ آپ کے اہل خانہ ایسا کرتے ہیں ۔آپؓ نے فرمایا : جاؤ اور دیکھو ، وہ عورت گئی اور واپس آکر کہا : وہاں میں نے کچھ نہیں دیکھا ، آپ نے فرمایا : اگر میری بیوی ایسا کرتی تو میں اسے اپنے پاس نہ رہنے دیتا۔ (۱۱)
ابو الطفیل کا بیان ہے کہ میں نے ابن عباسؓ سے کہا : آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے ۔بولے : انھوں نے سچ کہا اور جھوٹ کہا ، ابو الطفیل نے عرض کیا : انھوں نے سچ کہا اور جھوٹ بھی ، یہ کیسے ؟ ابن عباسؓ نے فرمایا:
قدر مل رسول اللہ ﷺبالبیت ولیس بسنۃ ، قدر مل رسول اللہ ﷺ واصحابہ والمشرکون علی جبل قعیقعان ، فبلغہ انھم یتحدّثون أن بھم ھذلاً ، فأمر بھم أن یرملو ا لیر یھم أن بھم قوۃ (۱۲)
رسول اللہ ﷺنے بیت اللہ کا رمل فرمایا جبکہ یہ سنت نہیں ہے آپﷺ اور آپ ﷺکے اصحاب نے بھی رمل کیا جبکہ مشرک قعیقعان پر تھے ،پس رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ وہ باتیں کر رہے ہیں کہ مسلمان کمزور ہو چکے ہیں، پس رسول اللہ ﷺنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ رمل کریں تاکہ ان کو دکھا یا جا سکے کہ مسلمان طاقتور ہیں۔
سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمرؓ سے لعان کرنے والے میاں بیوی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں پھر لعان کی آیات کے شانِ نزول کو بیان فرمایا اور مسئلے کی تمام جزئیات کا تفصیلی جواب دیا۔(۱۳)
غلطی کرنے والے سے تبادلۂ خیال کی کوشش کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح اس کی عقل پر سے وہ پردہ ہٹ جاتا ہے جو حق کی قبولیت میں رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے ۔ چنانچہ آدمی سیدھی راہ قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
مصر سے ایک آدمی حج کی نیت سے مکہ آیا ۔اس نے بیت اللہ میں ایک جگہ لوگوں کا مجمع دیکھا تو پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟لوگوں نے بتایا یہ قریش کے لوگ ہیں۔ اس نے کہا : ان میں سب سے بزرگ کون ہے؟ لوگوں نے کہا : عبد اللہ بن عمرؓ۔اس نے کہا ؛ اے ابن عمرؓ میں تمھیں بیت اللہ کی عزت کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیاتمھیں معلوم ہے کہ عثمانؓ بن عفان یوم احد میں بھاگ گئے تھے؟ ابن عمر نے فرمایا : ہاں ، اس نے کہا : کیا آپؓ کو معلوم ہے کہ وہ غزوہ بدر کے دن بھی غائب تھے؟ آپؓ نے فرمایا : ہاں ، اس نے کہا : آپ کو پتہ ہے کہ وہ بیعت رضوان میں بھی غائب تھے؟ آپؓ نے فرمایا : ہاں ، تو مصری نے کہا : اللہ اکبر۔
ابن عمرؓ نے فرمایا :ذرا ادھر آؤ تاکہ میں ان چیزوں کی حقیقت بیان کر دوں جن کے بارے میں تو نے سوال کیا ہے ، جہاں تک غزوہ احد میں حضرت عثمانؓ کے فرار ہونے کا تعلق ہے ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ وہ لغزش معاف کر چکا ہے، اور جہاں تک غزوہ بدر سے غائب ہونے والی بات ہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی زوجیت میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت بیمار تھیں ۔اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تھا کہ ان کے لیے بھی بدر میں حاضر ہونے والے آدمی جتنا حصہ اور اجر ہے ۔ بیعت رضوان میں آپؓ اس وجہ سے شامل نہ تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے ان کو اہل مکہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا تھا اور بیعت رضوان ان کے جانے کے بعد ہوئی تاہم رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھ کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی تھی اور فرمایا تھا : یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر ابن عمرؓ نے اس کو مطمئن کرنے کے بعد رخصت فرمایا۔(۱۴)
اس اسلوبِ دعوت کے اہم فوائد یہ ہیں:
- مکالمانہ انداز کی اثر انگیزی مسلم ہے اور اس پیرائے میں جو بات بھی کی جائے گی وہ ضرور اثر کرے گی اور تادیر سامع کے دل و دماغ پر اس کے اثرات قائم رہیں گے۔
- سوال و جواب کے اسلوب میں گفتگو کا سلسلہ عام طور پر اس وقت ختم ہوتا ہے جب حقائق مخاطب پر پوری طرح واضح ہو جاتے ہیں اور اس بات کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ گفتگو طرفین کے اطمینان کے بغیر ختم ہو جائے، اس لیے عام طور پر مکالمے کے اختتام پر مخاطب پر حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہوتی ہے۔
- اس اسلوب میں داعی اور مخاطب دونوں کی توجہ اور انہماک پورے عروج پر ہوتا ہے، اس لیے اس کی اثر انگیزی تقریر و تحریر کے مقابلہ میں کہیں بڑھ کر ہے ۔
- مکالمانہ انداز میں داعی کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ غیر محسوس انداز میں اپنی دعوت کے دائرہ کو پھیلا کر مخاطب کو متاثر کرے۔
حوالہ جات
(۱) المسند، مسند عبداللہؓ بن مسعود، ح: ۳۷۷۶، ۱/۶۵۸
(۲) الموطأ، کتاب الجنائز، باب جامع الحسبۃ فی المصیبۃ، ح:۲۷۳، ص: ۱۶۷ (2) ابراہیم، ۱۴:۲۴
(۳) ابراہیم ۱۴:۲۶
(۴) الموطا، کتاب الصدقۃ، باب ما یکرہ من الصدقۃ، ح: ۹۵۳، ص: ۶۱۳
(۵) المسند، حدیث ابی الدرداءءؓ، ح: ۲۶۹۶۸، ۷/۵۹۹
(۶) المسند، حدیث ابی موسیٰ الاشعریؓ، ح: ۱۹۱۰۹، ۵/۵۴۹
(۷) سنن الدارمی، المقدمۃ، باب البلاغ رسول اللہﷺ وتعلیم السنن، ح: ۵۶۳، ۱/۱۴۵۔۱۴۶
(۸) الموطأ، کتاب الحج، باب جامع السعی، ح: ۴۰۲، ص: ۵۱۔صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ تعالی: ان الصفا والمروۃ من شعائراللّٰہ، ح: ۴۴۹۵، ص: ۷۶۴
(۹) الموطأ، کتاب البیوع، باب مالایجوز من السلف، ح: ۷۷۴، ص: ۴۲۰
(۱۰) المسند، مسند عبداللہ بن عباسؓ، ح: ۲۰۱۰، ۱/ ۳۷۷
(۱۱) المسند، مسند عبداللہؓ بن مسعود، ح: ۴۱۱۸،۳۹۳۵،۱/۷۱۵
(۱۲) المسند، مسند عبداللہ بن عباسؓ، ح: ۲۰۳۰، ۱/۳۸۰
(۱۳) المسند، مسند عبداللہ بن عمرؓ، ح: ۴۹۸۹، ۲/۱۳۲
(۱۴) المسند، مسند عبداللہ بن عمرؓ، ح: ۵۷۳۷، ۲/۲۳۷
عدالتی مشاہدات اور تاثرات
مولانا قاضی بشیر احمد
راقم حکومت آزاد کشمیر کے شعبہ قضا میں قاضی کے منصب پر فرائض انجام دیتا رہا ہے اور تیس سال کی مدت ملازمت مکمل ہونے پر مورخہ ۱۶/۸/۲۰۰۲ء کو ضلع قاضی کی حیثیت سے ریٹا ئر ہوا ہے۔ راقم کے فرائض کا دائرہ کار فوجداری قوانین پر عمل درآمد تک محد ود رہا ۔ بندہ نے دوران ملازمت بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ان مشاہدات و تاثرات کو اگر پورے طور پر قلم بند کیا جائے تو ایک مستقل کتا ب بن جائے گی لیکن وقت کی قلت کے باعث سردست مندرجہ ذیل سطور پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔
عدل وانصاف کو قائم رکھنا جتنا اہم ہے، اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ عدل درحقیقت اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اگر انصاف کاپلڑا کسی ایک جانب جھک جائے تو کائنات کاسارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ یہ نظام تبھی درست ہوسکتا ہے کہ عدل وانصاف کاپلڑا برابر رہے۔ عدل وانصاف کو قائم رکھنے کی ذمہ داری ہر شخص پر اپنے اپنے اختیا ر اور حدود کے مطابق عائد ہوتی ہے تاہم ان افراد پر یہ ذمہ داری زیادہ عاید ہوتی ہے جو جج ْ ْْْْْْْْْْْیا قاضی کی حیثیت سے کام کرنے پر مامور ہیں۔ ان کے اختیارات در حقیقت لو گو ں کے حقوق ہوتے ہیں اور یہ افراد ان حقو ق کے امین ہوتے ہیں لہٰذا حق کو حقدار تک پہنچانا جج یا قاضی کابنیا دی فریضہ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ یأمرکم ان تؤدوا الأمانات الی أھلہا (النساء ۵۸) ’’بے شک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ اما نتو ں کو ان کے حق داروں کے سپرد کر دو‘‘ اس ارشاد سے یہ معلو م ہوا کہ اگر حق کو حقدار تک نہ پہنچایا گیا تو یہ خیا نت ہوگی ۔
موجودہ نظام عدالت کچھ ایسا ہے کہ انصاف ملنے تک ایک صبر آزما اور طویل زمانہ لگ جاتا ہے اور اتنا مہنگا ہے کہ لوگ اپنی جائیداد کو فروخت کرکے مقدمہ لڑنے پر مجبو ر ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض لوگ عدا لتو ں سے مایوس ہوکر ان کی طرف رخ کرنے کے بجا ئے ظلم سہہ لینے کو تر جیح دیتے ہیں یا پھر بوجھل دل سے راضی نامہ پر گزارا کرتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے؟اس کی یوں توبہت سی وجوہ ہیں لیکن چنداہم نوعیت کی وجوہ ذیل میں بیان کی جا رہی ہیں۔
۱۔پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے جس کا تقاضا یہ تھا کہ پہلے دن سے ہی ملک کے وسائل وذرائع استعمال کرکے ایسے افراد تیار کیے جاتے جو حکومتی، انتظامی اور عدالتی امور میں درج ذیل اصولوں کی پاس داری کی روایت قائم کرتے:
(الف) پاکستان میں حاکمیت خدا کی ہے۔ (ب)ریاست کا قانون قرآن وسنت ہے۔ (ج) جوپچھلے قوانین شریعت سے متصادم ہیں، وہ کالعد م قرار دیے جائیں۔ (د) ریاست اپنے اختیارات کے استعمال میں اسلامی حدود سے تجاوز کرنے کی مجاز نہ ہوگی ۔
مگر نصف صدی گزر نے کے باوجود عملاًایسے افراد تیار نہیں کیے گئے۔ہمارے ملک کی قانون کی درسگاہوں اور کالجوں سے جو طلبہ فارغ ہوکر نکلتے ہیں، وہ اسلامی قوانین سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ان کی ذہنیت بھی غیر اسلامی افکار کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے۔ ان کے اندر اخلاقی صفات بھی ویسی ہی پید اہوجاتی ہیں جو مغربی قوانین کے اجرا کے لیے تو موزوں ترین مگر اسلامی قانون کو نافذ کرنے کے لیے غیر موزوں ہوتی ہیں۔ الا ماشاء اللہ
اس خامی کو دور کر نے کے لیے ضروری ہے کہ کالجوں میں داخلے کے لیے عربی زبان سے واقفیت کو لازم قرار دیا جائے۔ اگرچہ اسلامی قوانین سے متعلق کافی ذخیرہ اردو میں منتقل ہوچکا ہے مگر یہ ثانوی نوعیت کا علم ہے۔ عربی زبان کی ضرورت اپنی جگہ پھربھی باقی ہے۔ قانون کے طالب علم کو اصول قانون (Jurisprudence) کے ساتھ ساتھ اصول فقہ، اسلامی فقہ کی تاریخ، بڑے فقہی مذاہب کا مطالعہ اور قرآن و حدیث کا علم متعلقہ ماہر ین علم وفن کی نگرانی میں ضروری ہے تاکہ علمی اعتبار سے موزوں ترین افراد تیار ہوسکیں۔ اس وقت جن افراد کے ہاتھوں میں انصاف کا قلم دان ہے، وہ انہی لا کالجوں کے تعلیم یافتہ ہیں جن میں اکثر وبیشتر کو قرآن حکیم دیکھ کر بھی صحیح پڑھنا نہیں آتا اور نہ ان کو آخرت کے محاسبے کی فکر ہے۔ سائل عدالت کے باہر انصاف ملنے کے انتظار میں ہوتا ہے اور منصف اس کی حالت زار سے بے خبر چائے کی میز پر محو گفتگو ہوتا ہے۔
اسلامی نقطہ نظرسے لا کالج چالاک وکیل، نفس پرست مجسٹر یٹ اور بدکردار جج تیار کرنے کی فیکٹر ی نہیں ہے بلکہ ان کالجوں اور یونیورسٹیوں کا اصل کا م یہ ہے کہ وہ ایسے افراد تیار کریں جو سیرت وکردار کے لحاظ سے بلند ترین لوگ ہوں اور جن کی راست بازی اور عدل وانصاف پر مکمل اعتما د کیا جاسکے مگر اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جج کے منصب پر فائز کرنے کے لیے اس کی پر ہیزگاری اور خداترسی کو نہیں دیکھا جاتا جبکہ شرعاً انصاف فراہم کر نے والے کی سیرت وکردار کو بنیادی معیار کی حیثیت حاصل ہے۔ خلاصہ یہ کہ انصاف کی کرسی پر ایسے افراد کو بٹھایا جانا چاہیے جن کے اندر علمی کمال کے علاوہ عملی کمال بھی نمایاں طور پر موجود ہو۔ جبکہ اس وقت یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر اس منصب پر جو لوگ آتے ہیں، ان کی حالت دینی لحاظ سے قابل رحم ہوتی ہے ۔
۲۔ منصب عد ا لت کے لیے خصو صاً چھا ن پھٹک کر آد می کا ا نتخا ب کیا جا ئے۔ ا س مقصد کے لیے اگر چہ اس وقت ’’پبلک سر و س کمیشن ‘‘ قا ئم ہے مگر وہ کا فی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جیسا کہ ا و پر بیا ن کیا گیا ہے کہ دو کما لا ت کا ہو نا ضر و ر ی ہے یعنی ا یک علمی کما ل اور دوسرا عملی کما ل، لیکن پبلک سر و س کمیشن کے جو ممبر ہیں وہ خو د ا پنی جگہ محل نظر ہیں ۔ اس لیے خصو صاً اس منصب کے ا نتخا ب کے لیے ا یک الگ جو ڈ یشل کمیشن ہو نا چا ہیے جس کے ممبر و ہی لو گ ہو ں جو خو د اچھی شہرت کے حا مل منصف ہو ں یا منصف ر ہ چکے ہو ں۔ و ہ اس منصب کے ا مید و ا ر سے وہی سو ا لا ت پو چھیں جو عدل و ا نصا ف سے متعلق ہو ں جبکہ مو جو دہ پبلک سر وس کمیشن کے ممبر ا ن میں یہ صفا ت مکمل نہیں ہیں اور نہ ہی اس منصب کے متعلقہ سو الا ت پو چھنے کی حد تک محد و د ہیں۔ اس مر حلہ پر میں یہ بھی کہنا منا سب سمجھتا ہو ں کہ خصو صاً ’’منصف ‘‘ کے منصب پر محض میر ٹ اور سیر ت کو بنیا د بنا یا جا ئے جبکہ مو جو دہ دور میں ہر ضلع کا ا لگ کو ٹہ مقر ر ہے لیکن یہ طر ز عمل ا نصا ف کے حصو ل میں ر کا و ٹ ہے اس لیے کہ کو ٹہ کی پا بند ی کی و جہ سے ممکن ہے کہ مو ز و ں ترین آ د می اس منصب پر آ نے سے رہ جا ئے اور اس سے کم درجے کا آ د می اس منصب پر فائز ہو جا ئے ۔ البتہ اگر دونو ں آدمی بر ا بر ہو ں تو کو ٹہ کو تر جیح دی جا سکتی ہے۔ اس چھا ن پھٹک کے بعد اگر لو گ عد ا لت کی کرسی پر بیٹھیں گے تو اس سے حصو ل انصا ف کا سفر بہت سے ا مو ر میں مختصر ہو جا ئے گا ا ور حقدار کو حق ملنے کی قوی امید پید ا ہو گی۔
۳۔ کسی مقد مہ کے یکسو ہو نے تک نظا م تعمیلا ت کو بہت ا ہمیت حا صل ہے جبکہ مو جو دہ تعمیلا ت کا نظا م بہت ہی ناقص ہے جس کی ا صلا ح بہت ضر و ر ی ہے ۔ہر وقت تعمیلا ت نہ ہو نے کی و جہ سے مقد ما ت کے فیصلہ جات میں غیر معمولی تا خیر ہو جا تی ہے خصو صاً اس وقت فو جد ا ر ی میں تعمیلا ت کا نظا م صحیح نہیں ہے۔ یہ کا م پو لیس کے سپرد ہے جو ہر ضلع میں ایس پی کے ماتحت ہو تی ہے۔مطلو بہ آدمی کو کئی با ر سمن بلکہ وا رنٹ کے ذریعہ طلب کیا جا تا ہے اس کے باوجود بروقت تعمیلا ت نہیں ہو پا تیں۔ ایس پی کا اس با ر ے میں عا م طو ر پر یہ عذر ہو تا ہے کہ پو لیس کی نفر ی کم ہے اور کا م اس نسبت سے بہت زیا دہ ہے ۔پو لیس کے ذمہ دیگر بہت سے ا نتظا می نو عیت کے کا م ہو تے ہیں اس لیے تعمیلا ت کے لیے بر و قت پو لیس کے ا فرا د مہیا نہیں ہوتے۔ ا س صورت حال کے پیش نظر تعمیلات کی اصلاح کے لیے یو ں تومتعدد تجاویززیر بحث رہی ہیں جن میں سے میرے نزدیک ایک تجویز موزوں ترین ہے جسکاذکر اس مرحلہ پر کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ تعمیلات کا شعبہ ہی الگ ہو جو انتظامی نوعیت کے فرائض انجام دینے سے الگ تھلگ ہو ۔یہ شعبہ براہ راست ہائی کورٹ کے ماتحت ہو اور ماتحت عدالتوں میں تعمیل کرنے والے کانسٹیبل متعلقہ عدالت کے ماتحت ہوں جن کی ترقی، تنزلی ،تبدیلی ،معطلی اور تنخواہ جیسے امور کا اختیار متعلقہ عدالت کو حاصل ہو اور متعلقہ عدالت کی پیروکار سرکاراس کی نگران ہو۔ اب تعمیلات کے علاوہ ان افراد کا کوئی اور کام نہ ہو گااس لیے تعمیلات کی وجہ سے مقدمہ کو یکسو نہ کرنے کی شکایت ختم ہوجائے گی ۔
اس تجویز پر اتفاق بھی ہوا تھا مگر حکومت نے مالی پریشانی کاذکر کرتے ہوئے یہ کام فردا پرٹال دیا۔
۴۔ نظا م و کا لت کی ا ہمیت: نظر ی حیثیت سے نظا م و کا لت کی خو بی سے انکا ر نہیں ہے اس لیے کہ و کیل کا کام یہ ہے کہ وہ عد ا لت کو قا نو ن سمجھنے اور زیر سما عت مقد مہ کے حا لا ت پر منطبق کر نے میں مد د دے۔ا صو لاً یہ ضر و رت ا پنی جگہ مسلّم ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ایک مقد مہ میں دو ما ہر ین قا نو ن کی رائیں مختلف ہو سکتی ہیں ۔یہ ہو سکتا ہے کہ ایک کی را ئے میں ا یک فر یق کا مقد مہ مضبو ط ہو تو دوسرے کی را ئے میں دوسرے فر یق کا اور عد ا لت کے لیے صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں دونو ں طرف کے دلائل سے مطلع ہو نا یقیناًمفید ہو تا ہے لیکن سو ا ل یہ ہے کہ اس نظر یہ کو عملی جا مہ پہنا نے کی جو صو رت مو جو د ہ طر یقہ وکا لت میں ا ختیا ر کی گئی ہے، کیا فی ا لو ا قع اس سے دونو ں فو ا ئد حا صل ہو تے ہیں؟ اس وقت عملاً صو ر تحا ل یہ ہے کہ و کیل اپنی قا نو نی مہا ر ت کو لے کر قا نو ن کی دوکا ن کھو ل کر گا ہک کے انتظا ر میں بیٹھ جا تا ہے۔ مقدمہ کا جو فر یق اس کو د ما غ کا کر ایہ زیا دہ ادا کرے، اس کا د ما غ اس کے حق میں قا نو نی نکا ت سو چنا شر و ع کر د یتا ہے۔ اس کو اس سے کو ئی غر ض نہیں ہو تی کہ میرا مؤ کل حق پر ہے یا با طل پر۔ وہ صر ف یہ دیکھتا ہے کہ اس نے مجھے فیس دی ہے اور میرا کام اس کی حما یت کرنا ہے۔ اس لیے وہ مقدمہ کی نو ک پلک سنوارکر اس کو قا نو ن کے مطا بق ڈھا لتا ہے، کمزور پہلو ؤں کوچھپا تا ہے اور مو ا فق پہلوؤ ں کو ا بھارتا ہے ، روداد مقد مہ اور شہا د تو ں میں سے چن چن کر صرف وہ چیزیں نکا لتا ہے جو اس کے مؤ کل کی تا ئید میں ہوں۔ گو اہو ں کو توڑنے کی کوشش کر تا ہے تاکہ مقد مہ کے صحیح و ا قعا ت جو اسکے مؤ کل کے خلا ف ہو ں، سا منے نہ آ سکیں یا کم سے کم ہو جا ئیں۔ اس طر یقہ سے عملاً وکیل کا کردار یہ رہ گیا ہے کہ وہ جج کو گمر ا ہ کرنے کی کو شش کرتا ہے۔ اب خواہ حقیقی مجرم چھو ٹ جائے یا کو ئی بے گنا ہ پھنس جائے، وکیل کو اس سے کوئی سروکا ر نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پیشہِ وکالت نے ہما رے نظا مِ عدالت کو سخت نقصا ن پہنچایا ہے اور اس کا نقصا ن ہما ری پو ری اجتماعی زندگی میں پھیل گیا ہے اور ہما ری سیا ست بھی اس کی وجہ سے گند ی ہو کر رہ گئی ہے۔ ان حا لا ت میں مو جو دہ نظا م وکا لت کی اصلا ح کی سخت تر ین ضر و رت ہے۔ بالفر ض اگر اس کی اصلا ح ممکن نہ ہو تو اس کو بتد ریج ختم کر دینا ہی حصو ل انصا ف کے لیے ضر و ری ہے۔
۵۔ قا نو ن شہا دت ۱۸۷۲ء پر ایک نظر : کسی مقد مہ کو یکسو کر نے کے لیے جن عنا صر کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں ایک اہم عنصر شہا دت کا بھی ہے ۔ اس وقت عد ا لتو ں کے اند ر قا نو نِ شہادت وہی ہے جو ۱۸۷۲ء کا مرتب کردہ ہے۔ اسلا می نقطہ نگاہ سے اس کی بہت سی دفعات میں خا میا ں ہیں جن میں سے کچھ کی نشاندہی د رج ذیل سطو ر میں کی جاتی ہے ۔
دفعہ نمبر ۳ میں ’’Evidence‘‘ کی تعریف مانع نہیں۔ اس تعریف کی رو سے تمام دستاویزات کو بھی شہادت کہہ دیا جاتا ہے اور متعلقہ قرائن کو بھی۔ فقہی اعتبار سے یہ تعریف ’’ثبوت‘‘ کی تو ہو سکتی ہے لیکن ’’شہادت‘‘ کسی انسان کے بیان ہی کو کہا جا سکتا ہے، خواہ وہ زبانی ہو یا تحریری۔
"Proved" کی تعریف میں:
"After considering the matter before it"
کے بعد مندرجہ ذیل الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے:
"and observing the requirements of sharia"
دفعہ نمبر ۲۴ میں ہے کہ اگر اعتراف جر م کی تر غیب دی گئی ہو تو ایسا اعترا ف بھی غیرمؤ ثر قرار دیا گیا ہے حا لانکہ محض تر غیب سے اعتراف کا لعد م نہیں ہو نا چاہیے۔ چنانچہ حد یثِ لعا ن میں ’’ اِنَّ عَذَا بَ الدّنْیَا اَعْظَمْ مِنْ عَذَابِ الْاَخِرَہَ ‘‘ کہنا ایک طرح کی ترغیب بھی ہے لہذا اس دفعہ اور دفعہ نمبر ۲۸ سے "Inducement" اور "Promise" کا لفظ نکا ل دینا چا ہیے ۔
دفعہ نمبر۲۹ کی رو سے دھوکے سے حاصل کیا ہوا یا نشے کی حالت میں کیا ہوا اقرار غیر مؤثر نہیں ہوتا۔ شرعاً نشے کی حالت میں کیا گیا اقرار غیر مؤثرہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت ماعز ؓ کے بارے میں یہ اطمینان فرمایا کہ انھوں نے شراب تو نہیں پی رکھی ؟البتہ دھوکے سے کیے ہوئے اقرار کا معاملہ قابل غور ہے اور رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ ایسا اقرار بھی جرم کاکافی ثبوت نہ ہونا چاہیے ۔
باب نہم دفعہ نمبر ۱۳۸ کی ترتیب شرعاً یوں ہونی چاہیے :
(۱) بیان گواہ (Examination in chief)
(۲) سوالات قاضی(Court question)
(۳) جرح فریق مخالف (Cross examination)
(۴) بیا ن مکر ر منجا نب مشہودلہ(Re-examination)
اس تر تیب کی وجہ یہ ہے کہ مو جو دہ نظا م میں تما م تر سو ا لا ت فر یقین کی طر ف سے ہو تے ہیں۔یہ سو ا لا ت جانبدارانہ ہو تے ہیں اور ہر فر یق اپنے مطلب کی با ت ر یکا ر ڈ پر لا نے کی کو شش کر تا ہے۔ غیر جا نبد ا را نہ سو ا لا ت جس سے حقیقت حا ل و ا ضح ہو ، فر یقین میں سے کوئی نہیں کر تا اور عدالتی سو ا لا ت شا ذ و نا در ہو تے ہیں جس کی وجہ سے بسا ا وقات مقد مہ کے انتہا ئی اہم امو ر پردۂ خفا میں رہ جا تے ہیں ۔ جو ترتیب ا و پر بیا ن کی گئی ہے، اس کے مطا بق پہلے عدا لتی سو ا لا ت کے ذریعے حقیقت حال غیر جا نبد ا ر انہ طو ر پر و ا ضح ہو سکے گی جس کے بعدا گر فر یقین میں سے کو ئی کچھ سوالات کرنا چاہے تو کر سکے گا۔ لیکن گو ا ہ کو گمر اہ کر نے یا عد الت پر غلط ا ثر ڈا لنے کا انسد ا د ہو سکے گا ۔
۶۔ مر و جہ قا نو ن شہا دت مند ر جہ ذیل معا ملا ت میں خا مو ش ہے جبکہ ان ابو ا ب کا قا نو نِ شہا دت میں ہو نا بہت ضر و ری ہے:
(۱) مد عیٰ علیہ کا حلف ، اس کا طریقہ کا ر اور اس کے اثر ا ت
(۲) نکول یعنی مد عیٰ علیہ اگر حلف سے انکا ر کر دے تو مقد مے پر اس کے اثر ا ت
(۳) شہا دت سے ر جو ع اور اس کے اثر ا ت
(۴) اقرار سے رجوع اور اس کے اثرات
اسلا می قا نو نِ شہا دت مرو جہ قا نو نِ شہا دت سے کا فی مختلف ہے لہٰذا ضر ورت اس با ت کی ہے کہ مروجہ قا نو ن شہا دت کو سا منے رکھتے ہو ئے اسلا می قا نو ن شہا دت کو الگ سے مر تب کیا جائے۔
۷۔ مو جودہ نظا م عدالت میں اپیل کے مرحلہ پر اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غیرمعمولی تاخیر نہ ہو۔ عام طورپر یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اپیل متعلقہ عدالت میں دائر ہوجاتی ہے جو ایک طویل مدت کے بعداس لیے خارج کی جاتی ہے کہ یہ اپیل قابل رفتار نہیں ہے۔ اس خامی کا ازالہ اس طرح کیا جاسکتا ہے جیسا کہ سعودی عرب اور دیگر بعض اسلامی ریاستوں میں ہے کہ ایک ’’مجلس تمییز‘‘تشکیل دی جائے اور متعلقہ عدالت میں اپیل دائر ہونے سے قبل اپیل اس مجلس کے سامنے پیش کی جائے۔ اگر یہ مجلس اس نتیجے پر پہنچے کہ اپیل دائر کر نے کے قابل ہے تو اس کے بعد متعلقہ عدالت میں سماعت کے لیے دائر کی جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر اپیل دائر ہونے کے قابل نہ ہوگی تو وہیں سے واپس کردی جائے گی اور مزید وقت ضائع نہیں کرنا پڑے گا ۔
عدالتی نظام میں اگر ان خامیوں کا ازالہ ہوجائے تو ان شاء اللہ عد ل وانصاف کے تقاضے بطریق احسن پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں، آمین۔
بھارت کی مفتی خواتین
جان لین کیسٹر
حیدر آباد، انڈیا۔ گزشتہ ماہ یہاں ایک خاتون نے ایک پریشان کن معاملے پر اسلامی قانون سے راہ نمائی کے لیے مذہبی سکالروں کے ایک پینل سے رجوع کیا۔ بیوٹی ایڈز مثلاً رنگ دار کنٹیکٹ لینز، کاسمیٹکس، نیل پالش، پاؤں پر موم کا لیپ کرنے اور چہرے کے بالوں کو کم کرنے کے لیے کریموں کے استعمال کے بارے میں پیغمبر اسلام کی راہ نمائی کیا ہے؟ سکالرز نے اپنے مذہبی مآخذ سے رجوع کیا اور کچھ دن کے بعد سائلہ کو جواب دیا: بلش اور آئی لائنر کے محدود استعمال کی اجازت ہے، باقی کسی چیز کی نہیں۔ یہ جواب ایک فتویٰ کی صورت میں دیا گیا جس کا مطلب ہے، ایسا مذہبی فیصلہ جو عام مردوں پر مشتمل مسلمان مفتیوں کا کوئی پینل صادر کر تا ہے۔ تاہم مذکورہ فتویٰ کی خاص بات یہ تھی کہ اس کو صادر کرنے والی خواتین تھیں۔
’’چند حدود کے اندر میک اپ کرنا درست ہے‘‘ ان میں سے ایک مفتیہ ناظمہ عزیز نے کہا، جو سیاہ حجاب کے پیچھے روپوش تھی جس نے اس کی بڑی بڑی اور بظاہر میک اپ سے خالی آنکھوں کے سوا اس کے سارے چہرے کو چھپا رکھا تھا۔ ’’لیکن جب آپ کوئی رنگ دار لینز استعمال کرتے ہیں تو گویا آپ اپنے خدوخال کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ اللہ نے جو شکل وصورت آپ کو دی ہے، اس کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
۲۲ سالہ ناظمہ عزیز ایک مفتیہ ہے اور تین خاتون ارکان پر مشتمل ایک نئے قائم کیے جانے والے فتویٰ پینل (دار الافتاء) کی رکن ہے جو نئی دہلی کے جنوب میں ۷۵۰ میل کے فاصلے پر واقع اس شہر میں، جو کبھی ریاست کی راج دھانی تھا، خواتین کے ایک مذہبی مدرسہ میں کام کر رہا ہے ۔ سکول کی انتظامیہ، بھارت کی اخباری رپورٹوں اور بعض اکیڈمک ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں، اور غالباً پوری سنی دنیا میں، یہ اپنی نوعیت کا پہلا پینل ہے ۔ بہرصورت اس میں سابقہ روایت سے بے حد نمایاں انحراف ہے۔ کئی صدیوں سے مسلم خواتین کو اپنے بہت سے مخصوص جنسی امور مثلاً میک اپ اور حیض ونفاس پر مذہبی راہ نمائی حاصل کرنے کے لیے مردوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ اب وہ خط یا ای میل کے ذریعے سے ایک سطر لکھ کر اس مدرسے کی مفتیہ کو بھیج سکتی ہیں جو ’’جامعۃ المومنات‘‘ کے نام سے معروف ہے۔
اب تک موصول ہونے والے سوالات میں دوسری چیزوں کے علاوہ گھر سے باہر اونچی ایڑی والے جوتے پہننے، طلاق کے بعد بچے کا خرچ فراہم کرنے کی پدری ذمہ داری اور شادی سے قبل چوڑیاں پہننے جیسے امور کے متعلق پوچھا گیا ہے۔
’’اس سے قبل طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے خاوندوں یا گھر کے کسی آدمی کو اپنا سوال بتاتی تھیں جو ان کے سوال کو مفتی کے پاس لے کر جائے اور وہاں سے جواب لائے۔‘‘ محمد حسن الدین نے کہا جو میں سکول کے دار الافتاء کے رئیس ہیں۔’’لیکن اپنے دل میں وہ مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتی تھی۔ یا تو اس لیے کہ پیغام رسانی کے عمل میں سوال کی اصل صورت باقی نہیں رہتی اور یا ممکناً اس لیے کہ کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو وہ پوچھنا چاہتی ہے لیکن نہیں پوچھ سکتی کیونکہ وہ خالصتاً نسوانی مسائل ہیں۔‘‘
ان خواتین مفتیوں نے سماج میں ایک نئی طرح ڈالنے کا آغاز کیا ہے۔ وہ اسلام کی قدامت پسندانہ تعبیر پر یقین رکھتی ہیں، پردے کے قانون کی اس شدت سے پابند ہیں کہ دم گھٹتی گرمی میں بھی کاٹن کے کالے دستانے پہنتی ہیں۔ انہوں نے مذہبی وجوہ سے تصویر کھنچوانے سے انکار کر دیا (اگرچہ حسن الدین نے خوش دلی سے ان کی جگہ تصویر بنوائی) وہ اس پر زور دیتی ہیں کہ ان کا اولین مقصد اسلام کی تبلیغ ہے نہ کہ خواتین کی یک جہتی۔
ناظمہ عزیز نے، جو دوسری مفتیات کی طرح حال ہی میں دو سالہ تربیتی کورس مکمل کر چکی ہے جس کے بعد آدمی اس منصب کی ذمہ داریاں انجام دے سکتا ہے، کہا کہ ’’ہمارے فتاویٰ میں اس بات کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ اس سے خواتین خوش ہوں گی یا ناخوش۔ اصل بات یہ ہے کہ مذہبی مآخذ میں کیا ہدایات درج ہیں۔‘‘
خواتین کے اس کردار کی چند مثالیں ماضی میں ملتی ہیں۔ پیغمبر اسلام کی ازواج میں سے عائشہؓ نے چودہ صدیاں قبل خواتین کے لیے کئی فتاویٰ صادر کیے۔ خواتین مسلم سکالرز غیر رسمی طریقے پر خواتین کو مذہبی راہ نمائی فراہم کرتی چلی آ رہی ہیں اگرچہ ان کی آرا کو اسلامی قانون کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا اور مردانہ تفوق کا تصور رکھنے والے مذہبی طبقات نے ان کے اس مقام پر فائز ہونے کی مزاحمت کی ہے۔ مثال کے طور پر مصر میں قاہرہ کے جامعۃ الازہر کی، جو سنی مسلمانوں کی ایک ممتاز درس گاہ ہے، ایک ممتاز خاتون سکالر ۱۹۹۹ء سے ملک کی پہلی خاتون مفتیہ بننے کے لیے مہم چلا رہی ہے۔
یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ بھارت نے، محدود پیمانے پر ہی سہی، دینی مسائل پر خواتین کو تعبیروتشریح کا حق دینے میں مثال قائم کر دی ہے۔ انڈیا کی مسلم اقلیت، جس کی تعداد اندازاً تیرہ سے پندرہ کروڑ تک ہے، اپنی اعتدال پسندی کے لیے مشہور ہے۔ ان خدشات کے باوجود کہ بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی مسلمانوں کے مابین بھی انتہا پسند گروہوں میں اشتعال پیدا کر رہی ہے، مسلمانوں نے بالعموم بھارت کی سیکولر جمہوریت سے ہی وابستگی قائم رکھی ہوئی ہے، یا تو اس وجہ سے کہ وہ اس تصور پر فی الواقع یقین رکھتے ہیں اور یا اس لیے کہ اقلیت میں ہونے کے باعث ان کے لیے اور کوئی راستہ ہی موجود نہیں۔
انور معظم، جو عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے ریٹائرڈ سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ ’’آپ کو بھارتی مسلمانوں کا باقی تمام دنیا سے بالکل الگ طریقے سے مطالعہ کرنا ہوگا‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’فتویٰ پینل امکانی طور پر ایک بڑے واقعے کا چھوٹا سا آغاز ہے۔انہوں نے عورتوں کو اپنے مسائل کے حوالے سے قانونی آرا خود قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ ایک بڑا حساس اور نازک مسئلہ ہے۔‘‘
جامعۃ المومنات، جو حیدرآباد کے چند بڑے دینی مدارس میں سے ایک ہے، ۲۰۰۰ طالبات اورنوجوان خواتین کو شہر کے ایک گنجان آباد اور خستہ حال مسلم علاقے کی ایک چار منزلہ غیر معروف عمارت میں روایتی مذہبی تعلیم مہیا کرتا ہے۔اس کی طالبات میں سے ایک ۱۲ سالہ زرینہ بیگم ہے جو دل گرفتہ اور عینک لگائے ہوئے ہے اور پورے قرآن مجید کو زبانی تلاوت کرنے کی صلاحیت نے اسے ’’حافظہ‘‘ کا پرکشش لقب دلوا دیا ہے۔
فخر سے تمتماتے منتظمین اور ایک بیرونی مہمان کے سامنے بے خطا عربی میں قرآن مجید کا ایک حصہ سنانے کے بعد اس نے کہا، ’’یہ بہت اہم ہے کیونکہ اللہ نے قرآن کے ذریعے ہمیں اپنا پیغام بھیجا ہے‘‘ تاہم مدرسے میں بعض جدتیں بھی اختیار کی گئی ہیں۔ مثلاً ایک کمپیوٹر لیب موجود ہے جس میں انٹرنیٹ کے استعمال کی سہولت موجود ہے۔ اسی طرح انگریزی اور ریاضی کی تعلیم بھی مہیا کی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک ویب سائٹ قائم کی گئی ہے اور ۲۱ ستمبر کو خواتین کے دار الافتاء نے اپنا پہلا فتویٰ جاری کیا۔ دار الافتا کے رئیس حسن الدین کو خواتین کے جاری کردہ فتوے کو مسترد کر دینے کا حق حاصل ہے تاہم سکول کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف غلط تعبیر وتشریح کی روک تھام ہے۔
۲۳ سالہ سیدہ عتیقہ طیبہ نے، جو فی الحال چار دوسری خواتین کے ساتھ مفتی کی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہے، کہا کہ ’’لوگوں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کیے رکھا کہ خواتین کو متعدد ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جن کا انہیں حل درکار ہوتا ہے لیکن وہ مردوں کے پاس جانے سے جھجھکتی ہیں۔ یقیناًمیں اپنی والدہ سے بھی وہ سوال پوچھ سکتی ہوں لیکن کیا وہ مجھے ایک عالم دین کی طرح صحیح جواب دے سکتی ہیں؟ ہماری ضرورت تو یہ ہے کہ دین اس معاملے میں کیا کہتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے ہمیں خاتون مفتیوں کی ضرورت ہے۔‘‘
مفتی خواتین دن میں دو گھنٹے کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں اور شہر کی وسیع مسلم آبادی کی طرف سے اب تک انہیں دس سوالات موصو ل ہوئے ہیں، تاہم مدرسے کی انتظامیہ ان تک رسائی کا دائرہ ای میل اور ایک نئی ویب سائٹ کے ذریعے سے، جہاں ان کے جاری کردہ فتاویٰ دیکھے جا سکیں گے، وسیع تر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ بیوٹی ایڈز کے علاوہ مفتی خواتین نے متعدد دیگر مسئلوں پر بھی فتوے جاری کیے ہیں۔ مثلاً عورت اگر اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے والدین سے ملنے کے لیے جائے تو شوہر سے سفر خرچ وصول کرنے کی حق دار نہیں۔ اسی طرح ماہواری کے ایام میں ناخن تراشنا بہتر نہیں۔ کچھ اور سوالات ابھی ان کے زیر غور ہیں۔ مثلاً اونچی ایڑی والے جوتوں کے مسئلے پر ان کا ذہن واضح نہیں۔ ۲۷ سالہ رضوانہ زرین کہتی ہیں کہ ’’یہ ممنوع تو نہیں ہیں لیکن ہمارے مذہب میں مردوں اور خواتین دونوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ عاجزی کے ساتھ چلیں اور چلنے میں تکبر ونخوت کا اظہار نہ کریں۔ اونچی ایڑی والے جوتے پہن کر چلنے میں کچھ نہ کچھ نخوت کا احساس ہوتا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں باقاعدہ فتویٰ عنقریب جاری کر دیا جائے گا۔
(واشنگٹن پوسٹ، ۵۔ اکتوبر ۲۰۰۳ء)
مسلم مسیحی تعلقات کی نئی جہتیں
ادارہ
(۱)
کیا عیسائی مسلم اتحاد ممکن ہے؟
(خورشید احمد ندیم، روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور، ۵۔ اپریل ۲۰۰۳ء)
جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونا ہے، یہ سب نوشتہ دیوار تھا۔ طاقت کے عدم توازن کے بعد، بالخصوص اس وقت جب طاقت اخلاقیات سے بھی عاری ہو، وہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔ معجزے اب نہیں ہوتے۔ دیکھنا صرف یہ تھاکہ عراق کتنے دن مزاحمت کرتا ہے۔ اس کے سوا اس سارے معاملے میں کوئی بات غیر متوقع نہیں تھی۔ یہ حادثہ بلاشبہ معمولی نہیں۔ معلوم نہیں کتنے سال ہمارے ملی وجود سے اس درد کی ٹیسیں اٹھتی رہیں۔ اقبال کا کہنا ہے
خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
اب دیکھنا ہے کہ یہ سحر کیسے اور کب پیدا ہوتی ہے۔
ہر بڑا حادثہ اپنے اندر امکانات بھی بڑے رکھتا ہے۔ بغداد پر صدیاں پہلے بھی ایک بڑا حادثہ گزرا تھا جس کے نتیجے میں کعبے کو صنم خانے سے پاسباں مل گئے تھے۔ آج پھر اسی بغداد کو تاراج کیا جا رہا ہے۔ اس حادثے کی شدت میں کسے کلام ہو سکتاہے، سوال یہ ہے کہ آج ہمارے لیے اس حادثے میں کیا امکان پوشیدہ ہے؟ اس سوال کا جواب تو وہی دے سکتا ہے جو قوموں کے عروج و زوال پر نظر رکھتا اور واقعات کی ترتیب میں سنت الٰہی کو کار فرما دیکھ سکتا ہے۔ علامہ اقبال ہوتے تو ہمارے لیے آسانی تھی کہ وہ یہ فرض کفایہ ادا کرتے ۔ وہ نہیں ہیں تو آدمی سوچتا ہے کہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کہاں جائے۔ ممکن ہے کوئی کہیں اپنی تنہائی کو آباد کیے بیٹھا ہو جس کے پاس اس سوال کا جواب ہو، لیکن جب تک اس کی غیبت ایک حجاب ہے، ہمیں خود ہی دیکھنا ہو گا کہ اس حادثے میں ہمارے لیے کیا امکان پوشیدہ ہے۔
چند روز پہلے ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ واقعات جس تناظر میں آگے بڑھ رہے ہیں، یہ خبر بھی بظاہر اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی لیکن مجھے خیال ہو ا کہ اس میں اس امکان کی جھلک ہے، جسے آج ہم نے تلاش کرنا ہے۔ وہ امکان جو قبرستان میں زندگی کی رمق ہے، وہ امکان جو راکھ میں چنگاری ہے۔ خبر یہ ہے کہ بیت اللحم میں عیسائی دنیا کے سب سے متبرک مقام، چرچ آف نیٹیویٹی (Church of Nativity)کے ذمہ داران نے صدر بش، ٹونی بلیئر، رمزفیلڈ اور جیک سٹرا پر اس کلیسا کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عراقی بچوں کے قاتل ہیں اور اس کلیسا میں اپنے ناپاک قدم نہیں رکھ سکتے۔ چرچ آف ٹیٹیویٹی کوئی عام کلیسا نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جو عیسائی عقیدے میں سیدنا میسح ؑ کی جائے پیدائش ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ چرچ شہنشاہ قسطنطین اور اس کی والدہ ھیلینا نے چوتھی صدی میں تعمیر کرایا تھا، چھٹی صدی میں یو سطنیان نے یہاں ایک عظیم الشان عمارت کھڑی کی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کبھی سید نا داؤد بکریاں چرایا کرتے تھے۔ یہیں وہ غار ہے، جہاں بعض لوگوں کے نزدیک سیدنا مسیح ؑ کی پیدا ئش ہوئی ۔انسانی تاریخ کی وہ عظیم الشان شخصیت جو تمام عمر انسانی دکھوں کا مداوا کرتی رہی ہو، جس کی پیدائش ہی ایک معجزہ ہو اور جسے جوانی میں وقت کے ظالم اپنے تئیں مصلوب کر ڈالیں، اس کی جائے پیدائش یقیناًیہ تقدس رکھتی ہے کہ وہاں ایسے وجود داخل نہ ہوں جو گردن گردن انسانی لہو میں ڈوبے ہوں۔ عالم عیسائیت کا یہ اظہار نفرت، میرے نزدیک اپنے اندر وہ امکانات رکھتا ہے ، جس میں یہ جوھر (potential) ہے کہ وہ آنے والے تاریخ کا رخ یکسر بدل دے۔
آج دنیا میں عیسائیوں اور یہودیوں کی جو قربت ہے ،واقعہ یہ ہے کہ کبھی میری سمجھ میں نہیں آسکی۔ آج جسے یہودی عیسائی تہذیب (Juda Christian Civilization ) کا نام دیا جا تا ہے، اس کی منطق بھی ناقابل فہم ہے۔ اہل کلیسا کی یہ سادگی میرے لیے ہمیشہ سوالیہ نشان بن رہی کہ یہودی ان کے وسائل اور سیاسی حیثیت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے اور وہ بڑی سادگی کے ساتھ فریب کھاتے رہے۔ اسلامی دنیا کے حوالے سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں دو نقطہ ہائے نظر موجود رہے ہیں، ایک وہ جو تصادم پسند (Confrontation-alists) ہیں اور دوسرے وہ جو مفاہمت پسند (accommodationists) ہیں۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، صرف یہ تذکرہ کفایت کرتا ہے کہ انڈیک (Indyk)، کرک پیٹررک (Kirkpatrick)، ملر (Miller)، ڈینیل پائیپس اور برنارڈلیوس جیسے لوگ جو مسلمان دنیا کے ساتھ تصادم کے علمبردار ہیں، ان کی اکثریت یہودی ہے۔ آج جو پالیسی کا رفر ما ہے، وہ ان جیسے لوگوں کی فکری اور عملی جد وجہد کا نتیجہ ہے، جس نے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا ہے، جس میں اس کی کامیابی ، دراصل اس کی ایک بڑی ناکامی کا پیش خیمہ بننے والی ہے۔ آج امریکہ کی عالمی حیثیت مسلمہ تھی، اسے کہیں سے کوئی چیلنج درپیش نہیں تھا۔ اشتراکی دنیا اس کے زیر اثر تھی اور مسلم دنیا بھی۔ عراق دس مرتبہ بھی کو شش کرتا تو وہ امریکہ کے لیے کوئی چیلنج نہیں بن سکتا تھا۔ آج تو یہ وقت تھا کہ امریکہ اپنے اس غلبے کو تادیر قائم رکھنے کی جد و جہد کرتا، لیکن اسے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا گیا ہے، جو اس کے وسائل اور اخلاقی ساکھ دونوں کی تباہی پر منتج ہو گا۔ اخلاقی ساکھ تو ختم ہو چکی۔ اس سے پہلے اگر اس کا تھوڑا بہت لحاظ تھا تو اب آنکھوں کی شرم بھی باقی نہیں رہی۔ یہ بات طے ہے کہ کوئی قوت جب اخلاقی اقدار کو اس بے دردی سے پامال کر تی ہے تو پھر اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ یہ امریکہ کی بدقسمتی ہے کہ ایک ایسے مرحلے پر جب اسے ایک صاحب بصیرت قیادت کی ضرورت تھی، ایک انتہائی غبی شخص ان کا راہنما ہے۔ اس کے اثرات تو نکلیں گے ۔ممکن ہے کہ اس مرحلے میں امریکی قوم اور مغرب کی غالب عیسائی آبادی میں یہ تاثر بھی ابھرے کہ بش اور بلیئر جیسے لوگ اس تہذیب اور مذہب کے لیے بھی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، جو سیدنا میسح ؑ کے نام سے منسوب ہے جن کا وجود امن اور محبت کی علامت ہے۔
چرچ آف نیٹیویٹی کا فیصلہ، میرا خیال ہے کہ اسی تاثر کا اظہار ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ چند سو سال میں یہودیوں اور عیسائیوں کا جو اتحاد وجود میں آیا ہے، اس میں عیسائی سرا سر خسارے میں رہے ہیں۔یہی بات میرے لیے ناقابل فہم ہے کہ عیسائی کیوں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کے لیے آمادہ نہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو اس معاملے میں دونوں کا اختلاف بہت گہرا ہے۔ یہودی حضرت میسح ؑ اور حضرت مریم کے بارے میں جو خیالات رکھتے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور مزید یہ کہ یہودیوں کے برخلاف مسلمانوں میں حضرت مریم اور حضرت عیسی ؑ کو جو تکریم حاصل ہے ، اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس نے کبھی قرآن مجید پڑھا ہو۔ جس محبت اور عزت کے ساتھ قرآن مجید ان پاکیزہ ہستیوں کا ذکر کرتا ہے، اس کی نظیر تلاش کرنا محال ہے۔ پھر قرآن جس طرح یہودیوں کے الزامات کا جواب دیتا ہے، شاید عیسائی علم کلام میں بھی اس کی مثال نہ مل سکے۔ اس لیے میرے نزدیک اگر کوئی فطری اتحاد ہو سکتا ہے تو وہ عیسائیوں اور مسلمانوں کا ہے۔ یہی وہ سچائی تھی جس نے نجاشی کو رسالت ماٰب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے وفد کی تکریم پر آمادہ کیا۔ اور شاید یہی وہ بات ہے کہ قرآن نے روم میں عیسائیوں کی فتح کی بشارت دی جس پر مسلمانوں نے خوشی منائی۔ میں نہیں جان سکا کہ آج کس چیز نے عیسائیوں کو یہودیوں سے قریب اور مسلمانوں سے دور کیا۔
بغداد پر امریکی یلغار نے اب یہ امکانات پیدا کر دیے ہیں کہ عیسائی اور مسلمان دنیا اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں اور اس نفسیات سے نکلیں جو صلیبی جنگوں سے منسوب ہیں۔ چرچ آف نیٹیویٹی نے جو پیش قدمی کی ہے، ضرورت ہے کہ اس کا خیر مقدم کیا جائے۔ مسلمانوں کو آگے بڑھ کر عیسائیوں کو،قرآن مجید کے الفاظ میں، اس ’’کلمے‘‘ کی طرف بلانا چاہیے جو آج ہمارے اور ان کے درمیان مشترک ہے۔بغداد کے حادثے نے تہذیبوں کے تصادم، گلوبلائزیشن اور اختتام تاریخ جیسے تصورات کو ڈھا دیا ہے۔ اب ایک نئی دنیا عالم تشکیل میں ہے۔ ہر نئی دنیا ظاہر ہے کہ کسی تصور کے تحت وجود میں آتی ہے۔ اس تصورکی تشکیل ہی وہ امکان ہے جو اس حادثے میں پوشید ہ ہے۔ مسلمان صاحبان فکر آگے بڑھیں اور اس فکری خلا کو پر کریں۔ یہ کام ان سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تمام قدیم صحیفوں پر ایمان رکھنے والے اور اللہ کے آخری غیر محرف کلام کے وارث ہیں۔ کیا مسلمانوں میں کوئی صاحب فکر ایسا ہے جو ان خطوط پر سوچتا ہو؟ نئی دنیا کے لیے اگر ہم فکر ی بنیادیں فراہم کر سکیں تو یہ بات کل سیاست، تہذیب، معیشت ہر چیز کو بدل دے گی۔یہ ایک نئی دنیا کا خواب ہے۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ ایک تصوراتی بات ہو سکتی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ کوئی غور کرنے پر آمادہ ہو تو یہ ناممکنات کی دنیا کا معاملہ نہیں۔ نئی دنیا کے خواب بھی کسی بڑے حادثے کے بعد ہی دیکھے جا سکتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے علامہ اقبال نے مسجد قرطبہ کے آثار میں ایک نیا خواب دیکھا تھا۔
آب روان کبیر ! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
عالم نو ہے ابھی پردہ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب
(۲)
جرمنی کی کاتھولک کلیسا اور مسلمانوں کے حقوق
جرمنی کی کونسل آف کاتھولک بشپس نے ۲۴۔ ستمبر ۲۰۰۳ء کو منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے موقع پر جرمنی کے متعلقہ حکومتی حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جرمنی میں تقریباً تیس لاکھ کی تعداد میں مقیم مسلمانوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کریں اور ان کے ساتھ مثبت تعامل کا مظاہرہ کریں۔ کونسل نے اس موقع پر ’’جرمنی میں مسلمان اور مسیحی‘‘ کے عنوان سے دو سو صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کی ہے جس میں کاتھولک چرچ کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کے مکمل قانونی اور آئینی حقوق دلوانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کرے گی۔ دستاویز میں متعلقہ اہل حل وعقد سے حسب ذیل مطالبات کیے گئے ہیں:
- جرمنی کے سرکاری سکولوں میں مسلمان طلبہ کے نصاب میں اسلامی تعلیمات کا مضمون شامل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ مسلمان اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھ سکیں۔
- ملازمت کے مقامات، سکولوں اور یونیورسٹیوں میں ان کے لیے ایسے کھانے کا انتظام کیا جائے جو اسلامی شریعت کے اصولوں سے متصادم نہ ہو۔
- مسلمانوں کو مساجد کی تعمیر، نمازوں کے اوقات میں اذان دینے اور اپنے تمام دینی شعائر کی آزادانہ ادائیگی کی اجازت دی جائے۔
- مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسوم کے مطابق فوت شدگان کی تدفین اور ان کے لیے الگ قبرستان بنانے کی سہولتیں مہیا کی جائیں۔
کونسل نے مسلمان معلمات کے حجاب پہننے پر عائد پابندی پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کاتھولک کلیسا اس معاملے میں ان کی مدد کے لیے کوئی مداخلت نہیں کر سکی۔
دستاویز میں ذمہ دار حلقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے جائز مطالبات کا کھلے دل سے جائزہ لیں اور مسلمانوں کو اپنے پورے حقوق سے بہرہ ور ہونے دیں تاکہ جرمنی میں مذہبی رواداری کی اقدار اجاگر ہوں جس کے نتیجے میں مسلمان ممالک میں مسیحی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت ملے گی۔ دستاویز میں عرب اور مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسیحی اقلیت پر عائد کردہ پابندیوں کو نرم کریں، تاہم دستاویز میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسلم ممالک کے رد عمل میں جرمنی کی مسلم آبادی کے ساتھ اس قسم کے طرز عمل کو روا نہیں رکھا جانا چاہیے۔
کونسل آف بشپس کے صدر کارڈینل کارل لیمان نے کہا کہ مسلم مسیحی مکالمہ کو کئی سال گزرنے کے باوجود اسلام کے صحیح تعارف کی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پائیں کیونکہ ذرائع ابلاغ کے منفی اور اسلام دشمن کردار کی بدولت جرمن عوام کے ذہنوں میں اسلام کی منفی تصویر راسخ ہو چکی ہے۔ لیمان نے کہا کہ مسلمانوں پوری طرح سے جرمن معاشرے کا حصہ نہیں بن سکے جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض انتہا پسند عناصر مذہبی رواداری کے فقدان کی وجہ سے انہیں جرمن معاشرے کا فطری جزو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں مسلمانوں نے متعدد مثبت اقدامات کرنے میں پہل کی ہے لیکن دوسرے فریق کی جانب سے ان کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔
لیمان نے بتایا کہ ان کے ادارے نے مذہبی راہنماؤں، میڈیا کے ماہرین اور ماہرین نفسیات پر مشتمل مختلف کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں خوف کی فضا کو زائل کیا جائے، اسلام کی زندہ اور حقیقی تصویر پیش کی جائے اور مسلم مسیحی مکالمہ کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم مسیحی مکالمہ کا فروغ جرمن کیتھولک چرچ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور مذکورہ دستاویز اسی ضمن میں شائع کی جانے والی مطبوعات کے اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا آغاز جرمن کیتھولک چرچ نے ۱۹۸۲ء میں مسلم مسیحی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کیا تھا۔
(www.IslamOnline.net۔ ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘ ۶۔ اکتوبر ۲۰۰۳ء)
(۳)
ہم آہنگی کا ایک خوشگوار تجربہ
انہیں نہ اردو آتی ہے اور نہ وہ روز مرہ دعاؤں کا مطلب سمجھ سکتے ہیں لیکن ایان پیٹرسن (Ian Paterson) کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے کنگ عبد العزیز اسلامک سکول کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔ ڈاکٹر پیٹرسن، جو تیس سال تک اعلیٰ طبقے کے ایک مسیحی سکول کے سربراہ رہے، چھ ماہ سے ایک ایسے وقت میں اس مذہبی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ آسٹریلیا کے لوگ اسلامی سکولوں کے بارے میں بہت محتاط اور اپنے درمیان بسنے والے مسلمانوں کے بارے میں بد اعتمادی کا شکار ہیں۔
آسٹریلیا کی مسلم آبادی، جو اگرچہ اب تک امریکہ یا فرانس کی بہ نسبت تعداد میں بہت تھوڑی ہے، آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ مزید مسجدیں اور مذہبی سکول بنانے کی خواہش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان منصوبوں کو غیر مسلم آبادی کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے جن کے ذہنوں میں نیو یارک کے گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعات اور گزشتہ سال بالی کے بم دھماکے تازہ ہیں۔
ڈاکٹر پیٹرسن نے کہا کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں اپنے آپ کو ایک پل یعنی دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے مابین بہتر مفاہمت کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھتا ہوں، ‘‘ تاہم ناکس گریمر سکول (Knox Grammar School) میں انہوں نے جو دولت اور اعزاز دیکھا، اس میں اور کنگ عبد العزیز سکول، جو سڈنی کے غریب ترین علاقے میں واقع ہے، کی ناگفتہ بہ صورت حال کے مابین تفاوت بہت زیادہ ہے۔
سکول بورڈ کے ڈائریکٹر اکبر خان نے بتایا کہ’ ’جب وہ شروع شروع میں یہاں آئے تو سکول کی حالت دیکھ کر سخت حیرت زدہ رہ گئے۔ باتھ روم کی ٹائلیں ٹوٹی ہوئی تھیں، ٹائلٹ بالکل ناکارہ تھے، بچوں کے لیے سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں جبکہ گرد وغبار بہت زیادہ تھا، لیکن میں نے ان سے وعدہ کیا کہ ان میں سے زیادہ تر چیزیں چھ ماہ کے اندر اندر ٹھیک کر دی جائیں گی۔ اور ایسا کیا جا چکا ہے۔‘‘
پیٹرسن ۱۹۹۸ء میں، قانون کے مطابق ۶۵ سال کی عمر کو پہنچنے پر، ناکس سے ریٹائر ہوئے تو انہوں نے یشیوا کالج (Yeshiva College)، یعنی ایک قدامت پسند یہودی سکول سے رابطہ کیا جہاں وہ دو سال اس منصب پر فائز رہے۔ جب کنگ عبد العزیز سکول بورڈ نے پیٹرسن سے رابطہ کیا تو اس سے قبل وہ چار سال کے عرصے میں میں چار پرنسپل تبدیل کر چکا تھا، سٹاف کی بار بار تبدیلی کا مسئلہ بھی اسے درپیش تھا اور نظم وضبط بالکل برباد ہو چکا تھا۔
پیٹرسن نے کہا کہ ’’ثقافتی اور مذہبی طور پر میں میری یہاں تعیناتی ناموزوں تھی، لیکن وقت سازگار تھا اور انہیں میری اشد ضرورت تھی‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جب سے انہوں نے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، سٹاف، طلبہ اور والدین کی طرف سے انہیں خیر سگالی کا پیغام ہی ملا ہے۔ ’’جب میں نے یہاں کام کا آغاز کیا، تو مجھے سب سے زیادہ اچھی بات جو سننے کو ملی، وہ یہ تھی کہ سکول کی کونسل کے ایک رکن نے کہا کہ مسٹر پیٹرسن نے گزشتہ دو سال ایک یہودی سکول میں گزارے ہیں اور اب ان کا خیال ہے کہ اب انہیں ان کے چچا زاد بھائیوں (یعنی مسلمانوں) کے پاس بھی کام کرنا چاہیے۔‘‘ پیٹرسن نے کہا کہ ’’یہ بات مسلمانوں کے حد سے زیادہ تحمل اور رواداری کی دلیل ہے۔‘‘
تاہم کچھ دوسرے لوگوں نے زیادہ رواداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جس رات آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے پیٹرسن کے اس سکول کی ملازمت اختیار کرنے پر ایک ٹی وی پروگرام نشر کیا، تو ٹیرا مرا کے اپر مڈل کلاس کے پڑوس میں ان کے گھر کی کھڑکی پر ایک پتھر پھینکا گیا۔ اس کے بعد دھمکی آمیز فون کالیں آئیں جن کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہ قدامت پرست مسیحیوں کی طرف سے تھیں۔
’’میں بے تکلف کہتا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ مثبت رد عمل جو ملا، وہ سکول، مسلم آبادی اور میرے دوستوں کی جانب سے ہے‘‘۔ حتیٰ کہ جناب مفتی شیخ تاج الدین ہلالی نے بھی، جو آسٹریلیا کے اندازاً تین لاکھ مسلمانوں کے روحانی رہنما ہیں، پیٹرسن کی تقرری کی منظوری دے دی۔ مفتی صاحب کے ترجمان قیصر تراد نے کہا، ’’آئیڈیل صورت حال میں تو ہم ہیڈماسٹر کے طور پر کسی مسلمان ہی کو ترجیح دیتے، لیکن یہ ایک میرٹ پر مبنی نظام ہے اور پیٹرسن اس منصب کے لیے سب سے زیادہ موزوں شخص ثابت ہوئے ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں اچھی باتیں ہی سننے کو ملی ہیں۔‘‘
مسٹر خان نے کہا، ’’ہمارے ساتھ کام کے آغاز سے قبل ہم نے اس قسم کی باتیں باہم طے کر لی تھیں کہ لڑکیوں کو سکارف ضرور پہننا ہو گا اور لڑکے نماز لازماً ادا کریں گے اور پیٹرسن نے اس کے جواب میں نہایت اخلاص سے کہا کہ ’’ہم سب اپنے اپنے طریقے پر خدا کی تعظیم ہی کرتے ہیں۔‘‘
پیٹرسن نے خان سے کہا کہ مذہبی تعلیم کی نگرانی کے لیے ایک الگ کمیٹی تشکیل دے دی جائے۔ اس سے ان پر سکول بورڈ کے اعتماد میں اضافہ ہوا جو، پیٹرسن کے اعتراف کے مطابق، ملازمت اختیار کرنے کے بعد پہلے دو ماہ تک ان کی کڑی نگرانی کرتا رہا۔ ’’جب انہیں ایک دفعہ احساس ہو گیا کہ میں سکول کے کلچر کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا تو ان کے انداز میں نرمی آ گئی۔‘‘
ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے پیٹرسن نے کنگ عبد العزیز سکول میں استحکام پیدا کیا اور اس کے نظم وضبط میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یہاں بڑی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ کچھ والدین میرے طریقوں کی مخالفت کریں گے لیکن انہوں نے مجھے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے۔‘‘
خان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فجی، مصر، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا جیسے ملکوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے والدین جو اس سے پہلے بہت پریشان تھے، زیادہ تر پیٹرسن سے بہت خوش ہیں۔
ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے پیٹرسن نماز کے اوقات میں سکول کی مسجد میں بھی جاتے ہیں، عام طور پر ایک کونے میں کھڑے رہتے ہیں تاکہ بچے نظم وضبط قائم رکھیں۔ اس سے کچھ نو عمر طلبہ میں تجسس پیدا ہوا۔ ’’ایک دن پرائمری سکول کے طلبہ میں سے دو میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا کہ میں مسلمان کیوں نہیں ہو جاتا اور نماز کیوں نہیں پڑھتا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہم سب اپنا اپنا مذہب رکھتے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کا لازماً احترام کرنا چاہیے۔ یہ وضاحت کارگر ثابت ہوئی‘‘ پیٹرسن نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کا مسیحی ہونا ایک منتظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
صرف ایک فرق کے علاوہ، کہ دوسرے سکولوں میں ہفتہ وار ایک گھنٹے کے مقابلے میں اس سکول میں ہفتہ وار چھ گھنٹے مذہبی تعلیم ضروری ہے، باقی نصاب ملک کے غیر مسلم پرائیویٹ سکولوں جیسا ہی ہے۔ پیٹرسن نے بتایا کہ ’’آسٹریلیا اور باقی مغربی ممالک میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ تمام اسلامی سکول دہشت گردی کے اڈے ہیں اور ان سے مذہبی جنونی پیدا ہوتے ہیں، لیکن میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ یہ محض ایک مفروضہ ہے۔‘‘
مسلمان یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دوسرے لوگ اتنے کھلے ذہن کے مالک نہیں۔ مصعب لیغا نے، جو وائس آف اسلام ریڈیو کے سربراہ ہیں، بتایا کہ حال ہی میں سڈنی میں دو اسلامی سکولوں کی منظوری کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ ایسا کیوں ہے؟ انہیں یقین ہے کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ حکومت بچوں کو تعلیم کے لیے عام سکولوں میں بھیجنا پسند کرتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے چھوٹے کمیونٹی ہال جو عارضی مسجد کا کام دیتے ہیں، انہیں مقامی حکومتی کونسلوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ مسٹر لیغا نے کہا، ’’وہ ہم سے کہتے ہیں، تم لوگ جمعے کے دن بہت شور کرتے ہو، بہت سی گاڑیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں، اس سے ہمسایے پریشان ہوتے ہیں‘‘ ۔ حکومت کو شبہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام بڑے اجتماع اور اسلامی سکول نفرت اور عدم برداشت کو فروغ دیتے ہیں۔
پیٹرسن اس تعصب کے مقابلے کے لیے دوسرے سکولوں کے بچوں کو اپنے سکول میں آنے اور مسلمان بچوں کے ساتھ ملنے کی دعوت دیتا ہے، جس کے عام طور پر مثبت نتائج نکلتے ہیں۔ ’’مسیحی لڑکے اور لڑکیاں یہ جان کر حیران ہوتے ہیں کہ نصاب زیادہ تر ایک جیسا ہے اور بچے بھی فی الحقیقت ایک ہی جیسے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ جس بات سے الجھن ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں آزادانہ ملاقاتیں نہیں کر سکتے اور لڑکیوں کی شادیاں ان کے ماں باپ کی مرضی سے ہوتی ہیں۔‘‘
وہ بدھ بھکشوؤں اور یہودی ربیوں کو بھی سکول میں دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں طلبہ کو آگاہ کریں، اور سکول بورڈ اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ مسٹر تراد، مسیحی اور دیگر مذہبی رہنماؤں کے ساتھ، گزشتہ دو سال سے ملاقاتوں، خطابات اور سیمیناز کے ذریعے سے مختلف مذہبی گروہوں کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے مشن میں مصروف ہیں۔
مسلمانوں کے رابطہ پروگرام گیارہ ستمبر کے بعد سے ۵۰ فی صد بڑھ گئے ہیں لیکن سکول کی سطح پر مسلمان اور غیر مسلم طلبہ کے مابین تعامل اور ابلاغ کے فروغ کے لیے زیادہ کوشش نہیں کی گئی۔ تراد نے، جو لبنانی اسلامک اسوسی ایشن کے ڈائریکٹر بھی ہیں، بتایا کہ ’’ہم مختلف مسجدوں میں ’’کھلے دنوں‘‘ (Open days) کا اہتمام کرتے ہیں جس میں بعض دفعہ ۱۰۰ کے قریب مسیحی آتے ہیں اور ہمارے ساتھ رمضان کے روزے کی افطاری کرتے ہیں، لیکن ان لوگوں میں بچے شامل نہیں ہوتے‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر ایان پیٹرسن اس صورت حال کو کسی طرح سے تبدیل کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، تو یہ ایک بڑی کام یابی ہوگی۔‘‘
تو کیا پیٹرسن یہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی ہم آہنگی کے مستقبل کا دارومدار ان کی کوششوں پر ہے؟
’’زیادہ تر تو مجھے اساتذہ، والدین، اور ضدی قسم کے بچوں کے مسائل کو سنبھالنا ہوتا ہے‘‘ پیٹرسن نے ہنستے ہوئے بتایا۔ ان کی اس بات سے طلبہ بھی متفق ہیں۔ ایک طالب علم عبد اللہ حکیم نے کہا، ’’اب برا رویہ اختیار کرنے پر بچوں کو سکول سے نکال دیا جاتا ہے۔ اب ہمارے لیے معاملات ذرا سخت ہو گئے ہیں۔‘‘
(جناکی کریمر،’’کرسچین سائنس مانیٹر‘‘، ۹ ستمبر، ۲۰۰۳ء)
خارجی محاذ پر ایک نظر
ادارہ
پچھلے دنوں جنرل پرویز مشرف نے امریکہ وکینیڈا کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران میں انہوں نے مختلف فورموں پر مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے بیان کردہ بعض نکات پر تحفظات کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ان کی درج ذیل باتوں سے مکمل اتفاق کرنا پڑتا ہے:
۱۔ کشمیر اور فلسطین میں ریاستی دہشت گردی ہو رہی ہے۔
۲۔ عالمی طاقتیں بھارت کو اسلحے کی سپلائی پر ازسرنو غور کریں کیونکہ اس سپلائی سے روایتی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔
۳۔ اگر بعض مسلم تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائی گئی ہیں تو ان کے اس عمل کو بنیاد بنا کر تمام عالم اسلام کو دہشت گرد قرار دینا انتہائی منفی عمل ہے کہ اسلام اور دہشت گردی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
۴۔ ریاستی طاقت کے دو ستون ہوتے ہیں: ۱۔ عسکری، ۲۔ معاشی۔ پاکستان عسکری اعتبار سے ناقابل تسخیر پوزیشن میں ہے اور اللہ کے فضل سے معاشی اعتبار سے ’’ٹیک آف‘‘ کی پوزیشن میں ہے۔ (تاہم یہاں طاقت کے تیسرے ستون یعنی قومی وملی کردار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے)
۵۔ عراق میں پاکستان اس وقت تک فوج نہیں بھیجے گا جب تک اقوام متحدہ یا او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس مسئلہ کو ایڈریس نہ کیا جائے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ اور پاکستان کے عوام ہی آخری فیصلہ کریں گے۔
جنرل پرویز مشرف کے اس دورے کے بعد او آئی سی کا دسواں سربراہی اجلاس ملائشیا میں منعقد ہوا۔ اس سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے پانچ سابق وزراے خارجہ نے او آئی سی کے نام ایک خط لکھا۔ جناب آغا شاہی، سردار آصف احمد علی، گوہر ایوب خان، سرتاج عزیز اور عبد الستار نے اپنے خط کے ذریعے اس امر کی نشان دہی کی کہ ’’اقوام متحدہ کی اجازت اور قانونی مینڈیٹ کے بغیر خود مختار اقوام کے خلاف پیشگی حملہ کا نظریہ اور یک طرفہ فوجی کارروائی سرکشی کے مترادف ہے۔‘‘ اس خط کے مندرجات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، لیکن قومی نقطہ نگاہ سے یہ بات ہمارے لیے اس وجہ سے زیادہ اہم ہے کہ ایک تو سب ہمارے وزراے خارجہ ہیں۔ انہوں نے عالم اسلام کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اپنے تئیں آواز بلند کی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ وزراے خارجہ مختلف سیاسی جماعتوں سے منسلک رہے ہیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود ملی امور پر خیالات کی یکسانیت سے پاکستان کے خارجہ امور پر وحدت خیال پنپتی دکھائی دیتی ہے جو یقیناًقابل تحسین اور خوش آئند ہے۔
او آئی سی کے اجلاس میں جنرل پرویز مشرف، مہاتیر محمد اور شہزادہ عبد اللہ چھائے ہوئے نظر آئے۔ جنرل پرویز مشرف نے بجا طور پر تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو غلط قرار دیا اور او آئی سی کی تشکیل نو پر مثبت انداز میں زور دیا تاکہ یہ تنظیم زیادہ فعال اور سرگرم ہو سکے۔ جہاں تک جنرل پرویز مشرف کی ’’اعتدال پسند روشن خیالی‘‘ کا ذکر ہے، بظاہر یہ خوب صورت نعرہ ہے، بہتر ہوتا کہ اس کی تعبیر کرتے ہوئے ممکنہ جہتوں کا بھی احاطہ کیا جاتا۔
کانفرنس کے موقع پر ہم روسی صدر پیوٹن کے اس بیان کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں کہ ’’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اسے کسی خاص مذہب کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہیے‘‘ اس کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے کشمیر کے کلمہ حق کی بھی تعریف کرنی پڑتی ہے۔ رابطہ گروپ نے بھارتی فیصلے کی مذمت کی ہے جس کے مطابق بھارت نے کنٹرول لائن پر عالمی مبصرین کی تعیناتی کی پاکستانی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ رابطہ گروپ کے کلمہ حق سے بھارت کو خاطر خواہ شرمندگی اٹھانی پڑی ہے۔
او آئی سی کے اجلاس کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ عبد اللہ بن عبد العزیز پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ ان کا استقبال پروٹوکول سے ہٹ کر کیا گیا۔ اگرچہ نظر آ رہا تھا کہ اس استقبالیے کے ذریعے میاں نواز شریف کے استقبالیے کو دھندلانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ سرکاری گرم جوشی کے باوجود عوامی سطح پر وہ جوش وخروش سامنے نہیں آ سکا جو میاں صاحب کے دور میں تھا۔ بہرحال پاکستان سعودیہ تعلقات کے تاریخی پس منظر میں ایسا استقبالیہ شہزادہ عبد اللہ کا حق تھا۔ اس وقت بھی دونوں ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر مالیت کے قریب ہے جسے بہت بڑھایا جا سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عسکری اور مالی شعبوں میں مزید پروان چڑھیں گے۔ ایسے دوروں کے نتائج اسی قسم کے برآمد ہونے چاہییں۔
شہزادہ عبد اللہ کے دورہ کے بعد وزیر اعظم پاکستان جناب ظفر اللہ جمالی نے ایران کا دورہ کیا۔ یہ دورہ عالمی حالات کے تناظر میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس نے اپنے ایٹمی پروگرام کا معائنہ کرانے پر رضامندی بھی ظاہر کر دی ہے۔ ایران سے تعلقات کے ضمن میں ہمیں بھارتی فیکٹر پیش نظر رکھنا ہوگا کہ پچھلے ایک عشرے میں دونوں ممالک میں تعلقات تیزی سے پروان چڑھے ہیں۔ ایک بات ’’زحمت میں رحمت‘‘ کے مصداق مثبت ہو گئی ہے کہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے بھارت ایران تعلقات میں ’’توازن‘‘ شامل ہو گیا ہے۔ اسرائیلی عزائم کے پیش نظر ایران کو بھارت سے تعلقات کی نوعیت پرازسرنو غور کرنا پڑے گا۔ عالمی سیاست کی نئی صف بندی میں بھارت، اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ اکٹھے کھڑے ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان کو چین، ایران، روس اور سعودیہ سے تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا کرنی ہوگی۔ پاکستان نے ایران کو یقین دہانی بھی کرا دی ہے کہ وہ بلا خوف وخطر گیس پائپ لائن پاکستانی علاقے میں بچھا سکتا ہے۔ امید ہے ایران پاکستان کی ضمانت کو کافی سمجھے گا۔
(پروفیسر میاں انعام الرحمن)
مسلمان یہودیوں کی حکمت عملی سے سبق سیکھیں
ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ چند لاکھ یہودیوں کا مقابلہ نہ کرنا سوا ارب مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہوگی۔ انہوں نے اسلامی دنیا پر زور دیا کہ وہ یہودیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قوت بازو کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی کام لے کیونکہ اس وقت یہودی پوری دنیا پر درپردہ حکمرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک اپنی عسکری طاقت کو مضبوط اور مجتمع کریں، محض مذمتی قراردادوں سے مظلوم مسلمانوں کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوگا اور نہ ہی ہماری مذمتوں سے دشمن اپنا وحشیانہ طرز عمل تبدیل کرے گا، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ اپنے دفاع کے لیے جدید علوم اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہودیوں سے متعلق جو کچھ کہا ہے، حق اور سچ کہا ہے۔ اس سلسلے میں اپنا بیان واپس لینے یا معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ملائشیا کے شہر پتراجایا میں دسویں اسلامی سربراہی کانفرنس سے اپنے افتتاحی تاریخی خطاب اور بعد ازاں اس پر امریکا، اسرائیل اور یورپی یونین کی شدید تنقید پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ نے ایک کروڑ بیس لاکھ یہودیوں میں سے ساٹھ لاکھ یہودیوں کا صفایا کیا لیکن آج بچے کھچے چند لاکھ یہودی پوری دنیا پر درپردہ حکومت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ چند لاکھ یہودی مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتے بشرطیکہ ہم ان کے مقابلے کے لیے اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ ساتھ اپنی عقل سے بھی کام لیں اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں۔ مہاتیر محمد نے کہا کہ امت مسلمہ کو مذہبی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید دنیاوی علوم وفنون پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ آج اسی وجہ سے مسلمان ممالک اپنے دفاع کے لیے ہتھیار بھی دشمنوں سے لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو اپنے دفاع کے لیے جدید بم، توپیں، ٹینک اور طیاروں کی تیاری اور اس میں اعلیٰ مہارت ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ اسلام کسی خاص دور سے وابستہ نہیں بلکہ ہر دور کے لیے یہ ایک فطری ضابطہ حیات ہے۔ ہمیں اسلامی حدود میں رہتے ہوئے دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق اہم اور بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مہاتیر محمد نے یہودی قوم کی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نخوت اور تکبر نے یہودی قوم کو سوچنے اور سمجھنے سے محروم کر دیا ہے۔ اب انہوں نے فاش غلطیاں کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہ مزید غلطیاں کریں گے ، اس لیے ہمیں ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
مصر کی ’’جماعت اسلامی‘‘ کی پالیسی میں تبدیلی
مصری حکومت نے کالعدم الجماعۃ الاسلامیۃ اور اس کی شوریٰ کونسل سے تعلق رکھنے والے مزید ایک ہزار قیدیوں کو حال ہی میں رہا کر دیا ہے۔ شوریٰ کونسل کے رہائی پانے والے ارکان میں کرم زہدی، ناجح ابراہیم، فواد الدوالیبی، علاء الشریف، عاصم عبد المجید، حمدی عبد الرحمن اور ممدوح علی یوسف شامل ہیں۔
جماعت اسلامیہ کے متعدد قائدین کو، جن میں شوریٰ کونسل کے سربراہ کرم زہدی بھی شامل ہیں، ۱۹۸۱ء میں انور سادات کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ۹۰ء کی دہائی میں اسی گروپ نے مصری حکومت کا تختہ الٹ کر اسلامی حکومت کے قیام کے لیے چھ سال پر محیط مہم چلائی تھی ۔ تاہم شوریٰ کونسل کے سربراہ کرم زہدی نے چھ سال قبل ۱۹۹۷ء میں تشدد کا طریقہ ترک کر کے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس پر جماعت کے اندر پھوٹ پڑ گئی اور گروپ کے تشدد پسند عناصر نے ۱۹۹۷ء میں لکسر کے قصبے میں ۵۸ سیاحوں کو قتل کر دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصری حکومت کے اس اقدام سے اسلامی گروپ سیاسی میدان میں متوجہ ہوں گے اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے اس عرب ملک میں اعتدال پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ تجزیہ نگار ضیاء رشوان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یہ بتاتا ہے کہ مصری حکومت کو اب یقین ہو گیا ہے کہ جماعت کی طرف سے کسی قسم کے مسائل کھڑے نہیں کیے جائیں گے اور یہ کہ یہ گروپ تشدد کو چھوڑ کر ایک سیاسی گروہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
شوریٰ کونسل کے چیئرمین کرم زہدی اور دوسرے ارکان نے حال ہی میں اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ ان کی جماعت کی متشددانہ سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے اور وہ ریاست کے ساتھ مسلح تصادم کا طریقے کو ترک کر دینے کا عزم کر چکے ہیں۔ زہدی نے اپنی جماعت کی طرف سے کیے جانے والے مسلح آپریشنز پر معذرت کی اور کہا کہ وہ متاثرین کو تاوان دینے کے لیے تیار ہیں۔زہدی نے اپنے بیان میں مصر کے صدر انور السادات کے قتل کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان کی جماعت کو یہ اقدام نہیں کرنا چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے والے ’’باغی‘‘ تھے جنہوں نے انور سادات اور ان کے ساتھ دوسرے افراد کو ’’شہید‘‘ کر دیا۔
۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۷ء تک اسلامی گروپوں اور حکومت کے مابین مسلح تصادم کے ضمن میں گرفتار کیے جانے والوں میں سے اب تک سولہ ہزار افراد کو رہا کیا جا چکا ہے، جن میں سے پانچ ہزار افراد کی رہائی ۱۹۹۹ء سے اب تک عمل میں آئی، جبکہ ایک اندازے کے مطابق ابھی مزید دس ہزار افراد سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
مصری وزیر داخلہ حبیب العدلی نے کہا کہ حالیہ رہائیاں مصری حکومت کے طے کردہ اس واضح معیار کے مطابق عمل میں آئی ہیں کہ گرفتار شدگان اپنے طریقہ فکر میں مخلصانہ تبدیلی لے آئیں اور تشدد کا طریقہ ترک کرنے کا عزم کر لیں۔
http://www.arabicnews.com
http://www.rantburg.com)
دینی مدارس میں جدید تعلیم کا مسئلہ
ادارہ
(۱)
دینی مدارس کی سند ۔چند توجہ طلب مسائل
(مولانا مشتاق احمد)
برصغیر میں دینی مدارس کی تاریخ، نصاب اورنتائج پر برسوں سے اہل علم گفتگو کرتے چلے آرہے ہیں۔ دینی مدارس کے متعلق تین قسم کے نقطہ ہائے نظرپائے جاتے ہیں:
ایک گروہ درس نظامی کے چار سو سال پرانے نصاب میں کسی قسم کی تبدیلی کا روادار نہیں ہے۔ ان پر اتنا سخت جمود طاری ہے کہ باید وشاید۔ احقر نے بعض اہل علم کو یہ کہتے سنا کہ الحمدللہ میں نے تین دفعہ شرح جامی پڑھی ہے ۔اس گروہ کا ایک طرز یہ بھی ہے کہ طلبہ کو بعض کتب مثلاًشرح ماءۃ عامل ،کافیہ وغیرہ حفظ کراتے ہیں۔ راقم کو بعض ایسے حافظ طلبہ سے طالب علمی کے دور میں ملنے کااتفاق ہوا ہے۔ تیسیر المنطق ابتدائی طلبہ کے لیے ایک مشکل کتاب ہے اور اس مشکل کے ازالہ کے لیے بہت سی شروح تو لکھ دی گئی ہیں لیکن تیسیر المنطق کی جگہ تسہیل المنطق وغیر ہ کو داخل نصاب کرنا گوارا نہیں کیا گیا۔ اس طبقہ کے جمود کی مثالوں کا احاطہ کرنے لیے ایک الگ مقالہ درکار ہوگا ۔
دوسراگروہ اس قدیم نصا ب میں مناسب تبد یلیاں کر نے کا خو ا ہا ں ہے۔ مخد و م العلما ء محد ث العصر حضر ت مولانا سید محمد یوسف بنو ر ی قد س سرہ تبدیلی نصا ب کے ایک دور میں پر جو ش داعی تھے۔ لیکن وفا ق المد ا رس کے سربراہ ہو نے کے با و جو د ہ وہ یہ تبد یلیا ں نہ لا سکے۔ معلو م نہیں بعد میں ان کی رائے بدل گئی تھی یا وفا ق المد ارس کو اسم با مسمیٰ بنانے کا تقا ضا غا لب آیا اور دینی مد ارس کو انتشار سے بچا نے کے لیے وہ یہ قد م نہ اٹھا سکے۔
تیسرا گروہ سیکو لر ذہن رکھتا ہے اور ان کے پاس دینی مد ا رس کا نا طقہ بند کر نے کے لیے بے شما ر اعتر ا ضا ت ہیں، مثلاً:
۱۔ دینی مدا رس ’’ بنیا د پر ستی ‘‘ اور ’’دہشت گردی ‘‘ کی تعلیم دیتے ہیں ۔
۲۔ مدارس میں عصر ی تعلیم کا ا نتظا م نہیں ہے۔ وہا ں ڈا کٹر ی ، انجینئرنگ وغیرہ کے کو رس نہیں کر ائے جاتے۔
۳۔ مد ارس کا نصا ب یکسر بد ل دینا چا ہیے۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور مو لو ی صاحبان ہنو ز صد یاں پیچھے ہیں۔
۴۔ یہ مدارس فرقہ و ا ریت پھیلا نے کے مر ا کز ہیں۔ وغیرہ
اس وقت پہلا گروہ بھی ہما را مخا طب نہیں ہے کہ ہم ان کو جمود تو ڑ نے پر قا ئل کر نے لیے د لا ئل دیں۔ تیسر ے گروہ کے دینی مد ارس پر اعترا ضا ت ہما رے نز د یک خلو ص پر مبنی نہیں ہیں۔ زیا دہ تر بیو رو کریٹ اور حکمرا ن اپنی آ ز ا دی کے لیے دینی مد ا رس کو خطرہ سمجھتے ہیں اور ان کے اعترا ضا ت دینی مدارس کو دبا نے کے لیے ہو تے ہیں۔خلو ص رکھنے والے ان معتر ضین میں بہت کم ہیں۔ تا ہم اس بات کا جا ئزہ لینے کی واقعتا ضرورت ہے کہ ان کے اعتراضات کس حد تک جائز ہیں اور ان کا تد ارک کیسے کیا جا سکتا ہے۔
احقر دوسر ے گروہ سے تعلق رکھنے وا لے ا کا بر کی خد مت میں چند گزا رشات پیش کر نا چا ہتا ہے۔ ان سے التماس ہے کہ و ہ ’’ما قا ل ‘‘ پر نظر فر ما ئیں اور ’’ من قال ‘‘ کو نظر اندا ز فر ما دیں۔ الحکمۃ ضا لۃ المو من کا تقا ضا یہی ہے۔
جدید چیلنج کا مقا بلہ اور عصر ی تقا ضو ں کی رعا یت دین اسلام کی بنیادی خصو صیت ہے۔ نبی کریم ﷺ کا خا نہ کعبہ کے طر ز تعمیر کو تبدیل نہ کرنا اس با ت کی وا ضح مثا ل ہے۔ فقہ حنفی میں، جس کے ما ننے والے دنیا میں کر وڑوں کی تعداد میں ہیں، عصری تقا ضو ں کی ر عا یت پر مبنی قوا عد و ضو ابط مو جو د ہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’انا نستعد للبلاء قبل نزولھا فاذا ما وقع عرفنا الد خول فیہ والخر وج منہ۔‘‘ ہم مصیبت آنے سے پہلے اس کے مقابلہ کے لیے تیاری کر لیتے ہیں تاکہ جب وہ پیش آئے تو ہمیں معلو م ہو کہ اب کیا کر نا ہے ۔اور مزید فر ما یا ’’ لولا ھذا لیقی النا س فی الضلا لۃ‘‘ اگر یہ پیشگی تیا ری نہ ہو تو لو گ گم کر دہ راہ ہو جا ئیں۔
دینی مدارس میں عصر ی تقا ضو ں کی رعا یت کر نے کے متعلق مو لانا ر ضو ا ن القا سمی لکھتے ہیں :
’’جد ید چیلنج کے مقا بلہ اور عصری تقاضوں کی رعا یت سے میر ی مراد یہ ہے کہ طا لبانِ مدارس درس گاہو ں کے مضبو ط حصا ر سے باہر کے بعد جن حالا ت سے دو چار ہو ں، وہ ان کے لیے ناما نو س اور اجنبی نہ ہوں اور وہ یہ سوچنے پر مجبو ر نہ ہو جا ئیں کہ انہو ں نے اپنی عمر کا ایک معتد بہ حصّہ ایک ایسے قلعہ میں بند رہ کر گز ارا ہے جس کا باہر کی دنیا سے کو ئی رشتہ نہ تھا بلکہ وہ اس پوزیشن میں ہوں کہ موجودہ تمدن کو، جس کے رگ و پے میں الحاد ودہریت کا خون دوڑ رہا ہے ،جس میں علو م ومعارف کے ذریعہ خالق کائنات سے تعلق جڑنے کے بجائے ٹوٹنے اور قرار کے بجائے فرار کی تعلیم دی جاتی ہے، اسلام اور اخلاقی سانچہ میں ڈھال کر مسلمان بناسکیں۔ اسلام کے پیش کردہ نظام حیات اور اس کے تمام شعبوں پر ان کو گہری بصیر ت حاصل ہو۔ اسلام کے خلاف ہونے والے فکری اور نظریاتی اعتراضات سے بھی وہ نابلد نہ ہوں۔ اس کا مسکت جواب دینے کی بھی صلاحیت رکھتے ہوں اور اس کاجذبہ بھی اور اس پر کامل وقوف بھی۔‘‘ (دینی مدارس اور عصر حاضر صفحہ ۲۱ ،۲۲ بحوالہ برصغیر کے دینی مدارس از مولانا محمد عیسیٰ منصوری ص ۲۳،۲۴)
دینی مدارس کا آٹھ سا لہ نصا ب پڑ ھنے کے با و جو د ایک فا ضل در س نظا می جو مشکلا ت اپنے لیے محسو س کر تا ہے، اس کی چند مثا لیں درج ذیل ہیں :
۱۔ آٹھ سال دینی تعلیم پا نے کے با و جو د وہ فا ضل اتنی استعد اد نہیں ر کھتا کہ ا سلا م کی حقا نیت پر کسی نجی یا عو ا می مجلس میں آدھ پون گھنٹہ سنجیدہ گفتگو کر سکے۔
۲۔ تحر یر کا ملکہ نہ ہو نے کے برابر ہو تا ہے۔ بیشتر د ینی رسا ئل کے متعلق ہما ر ی سو چی سمجھی را ئے یہ ہے کہ ان کو شائع کر نا اور قارئین کا ان کو پڑ ھنا وقت اور و سا ئل کے ضیاع کے سو ا کچھ نہیں ۔اکثر فضلا شستہ اند از تحر یر سے محر و م ہیں۔
۳۔ فضلا تا ر یخ سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ خود مسلما نو ں کی چو دہ سو سالہ تا ر یخ کے متعلق کوئی مستند کتا ب نصا ب میں شا مل نہیں ہے۔
۴۔ ہما رے فضلا انگریزی تو ایک طر ف، عر بی بو لنے اور لکھنے سے بھی قا صر ہیں حا لا نکہ دور جد ید میں دعوت دین کے تقا ضو ں کو پو را کرنے کے لیے انگریزی اور عربی میں مافی الضمیرکے اظہار پر قد رت ضروری ہے۔ اس کے بغیر دین کی وسیع خد مت کا حق ادا نہیں ہو سکتا ۔
اس کے علاوہ دینی مدارس کے نظام کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ اسا تذہ کر ام کو طر یقہ تد ر یس کی تر بیت دینے کا کو ئی منظم طر یقہ کا ر مو جو د نہیں ہے جس کے نتیجہ میں تعلیمی زوال جنم لے رہا ہے۔
آمد م بر سر مطلب! اما م ابو حنیفہ کے فر ما ن کو ایک مر تبہ پھر دہرا لیجیے کہ ’’ مصیبت آنے سے پہلے ہم اس کے مقابلہ کی تیاری کر لیتے ہیں تا کہ جب وہ پیش آئے تو ہمیں معلو م رہے کہ اب کیا کر نا ہے۔‘‘ اس دائرے میں تو ہما رے دینی مدارس کی خدمات کا کوئی انکار نہیں کہ ان کی بد ولت مسا جد کے لیے مؤ ذن ، اما م اور خطیب وا فر بلکہ زائد از ضرورت مقد ار میں میسر ہیں۔ ان عہدوں کے لیے کبھی اشتہار بازی نہیں کر نی پڑی۔ کبھی کسی مسجد میں ایسا و ا قعہ پیش نہیں آیا کہ اما م میسّر نہ ہونے کی وجہ سے دو چا ر وقت نما ز با جما عت نہ ہو سکی ہو۔ لیکن عصر حا ضر کے تقا ضو ں کو پو را کرنے کے لیے کو ئی اجتما عی منصوبہ بندی نہیں ہے۔اس کی واضح مثا ل دینی مدارس کی اسنا د کا بحرا ن ہے۔ ہما ری نا قص رائے کے مطا بق یہ درست ہے کہ یہ بحران حکو متی ا شا روں پر پیدا ہوا او ر اس کا مقصد مجلس عمل کو بلیک میل کرنا ہے۔ یہ بھی در ست ہے کہ ان ا سنا د کے متعلق حکو متی پا لیسیو ں میں و ا ضح تضا د ہے۔ یہ سب درست ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا کبھی دینی مدا رس کے اربا ب بست و کشاد نے یہ سو چا کہ جہا ں ہم خا لص دینی علوم کے علما تیا ر کر رہے ہیں، وہا ں ہم تخصص کے درجہ میں ہر سا ل دو چا ر علما ایسے بھی تیا ر کریں جو قد یم درسی تعلیم کے ساتھ جد ید تعلیم کی مر وجہ اسنا د کے بھی حامل ہوں؟ ایسے لوگ بوقت ضر ورت کام آتے،حکو متی جبر کا بآ سا نی مقا بلہ کر لیتے اور دینی مدارس کی اسنا د کی اہمیت کو جتلانے کے لیے عجیب و غریب قسم کے استدلالات پیش کرنے کی ضر ورت پیش نہ آتی ۔ہر سال جد ید و قد یم تعلیم کا امتزاج ر کھنے والے دو چا ر علماء کرام تیا ر کرنا ، ہما رے دینی مدارس کی بالعموم اور جمعیت علماء اسلا م اور دیگر دینی و سیا سی جما عتو ں کی بالخصو ص ذمہ داری ہے۔
اگر ہما ری دینی سیا سی جماعتیں وا قعتاً قو م ، ملک اور اسلا م کا درد رکھتی ہیں تو ان جما عتو ں کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطا بق قیادت تیا ر کر نا ہو گی۔ اس کے لیے اپنی انا نیت اور جاہ پرستی کو قر با ن کر نا ہو گا ۔حکو متی دباؤ کے مؤ ثر مقا بلہ کے لیے یہ اقدام ضر وری ہے۔ ورنہ آئے دن اس طرح کے بحر انو ں کا سامنا کر نا ہو گا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ منا سب تیا ری نہ ہو نے کے باعث لبنان، ترکی یا الجزائر جیسے حالا ت پیدا ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو ا تو ’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستا نو ں میں‘‘ ۔
(۲)
۴۔ اگست ۲۰۰۳ء
جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
میں روزنامہ اسلام میں آپ کا کالم ’’نوائے حق‘‘ نہایت دلچسپی اور غور سے پڑھتی ہوں۔ ۴/ اگست کے کالم بعنوان ’’دینی خدمات انجام دنے والے عضو بیکار نہیں‘‘ میں جو باتیں آپ نے لکھی ہیں، وہ نہایت غور طلب ہیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک امر کی طرف آپ کی توجہ معذرت کے ساتھ مبذول کرانا چاہوں گی۔ وہ ہے دینی مدارس کے وفاقوں کی اسناد کا معاملہ جن کے بارے میں پورے ملک میں شک وشبہے کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔
میں اس سلسلے میں اپنے ذاتی تجربے کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گی۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے میرے سب سے چھوٹے لڑکے نے کراچی کے ایک بہترین اسکول سے او لیول اور پھر انٹر کرنے کے بعد جامعۃ الرشید میں پورے خاندان کی مخالفت کے باوجود داخلہ لیا ہے اور اب تیسرے سال میں ہے حالانکہ اس کا انٹر کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاوئنٹنٹ میں داخلہ ہو گیا تھا۔ اس کے بڑے دونوں بھائی کمپیوٹر سسٹم انجینئر ہیں اور ان کے والد بھی مکینکل انجینئر ہیں اور دونوں بہنیں کانونٹ کی پڑھی ہوئی ہیں مگر صرف اس بچے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھرانے پر اپنا خصوصی فضل کیا اور ہم کچھ ٹوٹے پھوٹے ہی سہی، دین کی طرف مائل ہو گئے اور ہمارے دلوں میں دین کے لیے درد پیدا ہو گیا۔ اگرچہ عمل میں ہم کورے ہی ہیں، مگر بزرگوں اور اکابر سے ہمارا خصوصی تعلق ہو گیا ہے۔
باوجود اس کے کہ میرا یہ بچہ مدرسے میں پڑھ رہا ہے، خاندان اور برادری کے لوگ اور ملنے والے مدارس کے عام بچوں کی طرح اس کو جاہل نہیں سمجھتے کیونکہ ایک تو اس نے او لیول کیا ہے، دوسرے انگلش آتی ہے۔ اس لیے اگر آپ بزرگوں کی رائے اس بات کے حق میں ہو اور دینی تعلیم اور تربیت پر کوئی فرق نہ پڑے تو جدید تعلیم یافتہ علما تیار کرنے کے لیے دو نکاتی پروگرام پر عمل کیا جائے:
۱۔ پورے پاکستان کے مدارس کے ذہین بچوں کو پرائیویٹ طور پر میٹرک، انٹر، بی اے اور بی کام وغیرہ کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اس طرح دو سے چھ سال کے عرصے میں ہزاروں گریجویٹ علما تیار ہو سکتے ہیں۔ ہماری قومی عادت صرف باتیں کرنے اور شور مچانے کی ہو گئی ہے اور سستی اور غفلت ہمارے اندر سرایت کر گئی ہے۔ اگر ہمیں مغرب اور خود اپنے ملک کے مغرب زدہ ذہنوں کا مقابلہ کرنا ہے تو خاموشی سے اس تعلیمی منصوبے پر عمل کرنا ہوگا۔
۲۔ علما حضرات کے خاندان، برادری اور ملنے والوں میں جو بچے او لیول کر رہے ہیں، وہ چونکہ میٹرک کرنے والے بچوں سے زیادہ ذہین اور مضامین کو جلد جذب کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں، ا س لیے ایسے بچوں کو خصوصی طور پر ترغیب دے کر مدارس میں علم دین کے حصول کے لیے آمادہ کرنے کی کوئی خصوصی پالیسی بنائی جائے ۔ چونکہ ان بچوں کی انگلش خاص طور پر معیاری ہوتی ہے، اس لیے یہ مغربی میڈیا کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں میٹرک، انٹر اور بی اے کرنا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں گائیڈز، حل شدہ پرچے، نوٹس، امکانی پرچے ہر شہر کے گلی کوچے میں بک رہے ہیں۔ یہ بھی ایک عام مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں طلبہ کی اکثریت، چاہے وہ میٹرک کی ہو یا انٹر اور بی اے کی، امتحان سے صرف ایک یا ڈیڑھ ماہ پہلے کتابیں کھولتی ہے اور کسی نہ کسی طرح رٹ رٹا کر پاس ہو جاتی ہے۔ دینی مدارس کے طلبہ کم از کم اس معیار کی ’’جدید تعلیم‘‘ تو حاصل کر ہی سکتے ہیں۔ تاہم اگر ان اسناد کو حاصل کرنے میں مدارس کے طلبہ کے اصل مقصد یعنی علوم دین کے حصول میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہو تو یقیناًان کا جدید تعلیم سے جاہل رہنا بہتر ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
اگر کوئی بات ناگوار گزری ہو تو معذرت چاہتی ہوں۔
دعاؤں کی طالب
والدۂ عماد
کراچی
نواب زادہ نصر اللہ خانؒ کا سانحہ ارتحال
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن
ایک فعال سیاسی زندگی گزارنے کے بعد نواب زادہ نصر اللہ خان بھی چل بسے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ برصغیر کی کلاسیکل سیاست کے آخری چراغ تھے۔ اس اعتبار سے ان کا سانحہ ارتحال سیاست کے روایتی اسلوب کی بھی موت ہے۔ نواب زادہ نصر اللہ مرحوم نے مروج انداز سیاست کے برعکس جی ایچ کیو کو کعبہ وقبلہ نہیں بنایا بلکہ سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو ’’غدار اور ایجنٹ‘‘ قرار دینے سے بھی ہمیشہ گریز کیا۔ ہماری رائے میں یہ ایسا طرز عمل ہے جس کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔
وطن عزیز کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ نواب زادہ مرحوم نے سیاسی فضا کی آشفتہ سری کے باوجود سیاست کو ہی اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ ان کے کردار کا قابل تعریف پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کاروباری سیاست نہیں کی، یعنی سیاست میں کاروباری انداز میں ’’سرمایہ کاری‘‘ نہیں کی، بلکہ انہوں نے ہمیشہ ’’خرچ‘‘ کرنے کی پالیسی ہی اپنائے رکھی۔
جہاں تک جمہوریت کے لیے نواب زادہ مرحوم کی خدمات کا تعلق ہے، ان کا احاطہ کرنے کے لیے وطن عزیز کی پچپن سالہ تاریخ کا تذکرہ کرنا پڑے گا جس کے لیے سینکڑوں صفحات درکار ہیں۔ یہاں اتنا عرض کرنا کافی ہوگا کہ اگر پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں سے نواب زادہ مرحوم کا کردار نکال دیا جائے اور اس مفروضے کے تحت تاریخ پاکستان کی جمہوری جہت کا مطالعہ کیا جائے کہ نواب زادہ موجود نہیں ہیں تو صاف عیاں ہو جائے گا کہ اس شخصیت کی عدم موجودگی میں آمریت کو چیلنج کرنے کی روایت قائم ہی نہ ہوتی اور آج یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا کہ ملک میں اقتدار اعلیٰ پارلیمنٹ کو حاصل ہے یا جی ایچ کیو کو۔
نواب زادہ مرحوم کے بعد اب ہم پھر ایک ’’تاریخی موڑ‘‘ پر کھڑے ہیں۔ آنے والے چند سال بتائیں گے کہ آیا ہماری جمہوری جدوجہد کا مرکز ومحور ایک ہی شخصیت تھی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ایک المیہ ہوگا۔ یہ بات ہم اس لیے عرض کر رہے ہیں کہ ہمارے ہاں ہر کام، خواہ اس کی نوعیت کوئی بھی ہو، شخصیات کے گرد گھومتا ہے۔ نواب زادہ مرحوم کی قد آور شخصیت کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ ان کی جاری کردہ جدوجہد کی نوعیت اداراتی ہے یا شخصی؟ ہمیں بجا طور پر توقع رکھنی چاہیے کہ نواب زادہ مرحوم کے تربیت یافتگان ان کے وسیع آدرش کو پیش نظر رکھیں گے۔
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے رہے ہیں اور شاید آئندہ بھی کرتے رہیں گے کہ نواب زادہ مرحوم نے ہر حکومت کو ’’گرانے‘‘ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حکومت کے خاتمے پر نئی حکومت بننے کے بعد وہ پھر ’’پرانا عمل‘‘ شروع کر دیتے تھے اور نئی حکومت کو بھی ’’گرا‘‘ کر ہی دم لیتے تھے۔ اس طرح سیاست میں ان کے کردار پر منفی چھاپ غالب نظر آتی ہے۔ بظاہر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ جمہوریت کا وجود ہی اپوزیشن کی مرہون منت ہے لہٰذا جمہوری حکومت کی مخالفت کرنے سے خرابی نہیں پیدا ہوتی بلکہ ذمہ داری کا عنصر جنم لیتا ہے۔ ویسے بھی کسی بھی جمہوری حکومت کے تمام اقدامات سے ہر شخص کلی اتفاق نہیں کر سکتا اور یہ اپوزیشن کا ہی پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں سے اختلاف کا باقاعدہ اور مسلسل اظہار کیا جاتا ہے۔ باقی رہی بات آمریت کی مخالفت کی تو اس سلسلے میں نواب زادہ کے کردار پر کوئی معذرت خواہ رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے والوں کا اپنا بوریا بستر بھی ہر صورت میں گول ہی ہونا چاہیے۔
بہرحال نواب زادہ مرحوم کے سیاسی قد کاٹھ اور ان کی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے برملا کہا جا سکتا ہے کہ ان کی وفات نے ایک عظیم خلا پیدا کر دیا ہے۔ اب بھلا
’’وقت سے کون کہے، یار، ذرا آہستہ
گر نہیں وصل تو یہ خواب رفاقت ہی ذرا دیر رہے،
وقفہ خواب کے پابند ہیں
جب تک ہم ہیں !!
یہ جو ٹوٹا تو بکھر جائیں گے سارے منظر
(تیرگی زاد کو سورج سے فنا کی تعلیم)
ہست اور نیست کے مابین اگر
خواب پل نہ رہے
کچھ نہ رہے!
وقت سے کون کہے،
یار، ذرا آہستہ!‘‘
جی ہاں، ہم نواب زادہ مرحوم کو ’’وقفہ خواب‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں، خوابِ رفاقتِ جمہوریت۔
اگرچہ وطن عزیز میں جمہوریت صحیح معنوں میں کبھی مستحکم نہیں ہو سکی کہ ہر بار اس کلی کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا گیا اور پھر کہا گیا کہ اس کے تو ’’تخم‘‘ میں ہی خامی ہے، لیکن نواب زادہ مرحوم نے جمہوریت کے تخم پر بے اعتباری کو کبھی پھلنے پھولنے نہ دیا۔ ان کی رحلت کے بعد بھی ہم دوست ملک چین کے اردو شاعر جناب چانگ شیوآن کے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں،
خزاں گزیدہ چمن میں بہار باقی ہے
کہ تخمِ گل پہ مرا اعتبار باقی ہے
الشریعہ اکادمی میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ سیمینار
ادارہ
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۴ ستمبر ۲۰۰۳ء کو عالم اسلام کے نامور محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی یاد میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کے آغاز کے بعد مقررین نے مختصر وقت میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اور ان کی خدمات کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم اور رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے صدر مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے تنہا وہ علمی کام انجام دیا ہے جو عام طور جماعتیں اور انجمنیں ہی کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یورپ کے دل میں بیٹھ کر اور فرانس جیسے شہر میں رہتے ہوئے کلمہ حق بلند کیا اور تحقیق وتالیف اور دعوت اسلام کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے چیئرمین ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے ڈاکٹر صاحب کے تحقیقی کام کے خصوصی امتیاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ اسلام کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے مستشرقین کے اعتراضات کا خود ان کی زبان اور اسلوب میں جواب دیا۔
جامعہ پنجاب میں شعبہ علوم اسلامیہ کے صدر حافظ محمود اختر صاحب نے کہا کہ بے شمار علمی مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر صاحب اپنے نام لکھے جانے والے ہر خط کو باقاعدہ جواب دیتے تھے اور ان کے نزدیک خط کا جواب دینا گویا ایسا ہی تھا جیسے سلام کا جواب دینا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے خطوط اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں کہ ان کو ایک ضخیم جلد کی صورت میں شائع کیا جا سکتا ہے۔
اشرف لیبارٹریز فیصل آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد اشرف اور ماہنامہ التجوید فیصل آباد کے ایڈیٹر ڈاکٹر قاری طاہر محمود نے بھی ڈاکٹر حمید اللہ کی شخصیت کے متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر قاری محمد طاہر نے کہا کہ ڈاکٹر حمید اللہ نے ایک بھرپور علمی انہماک کے ساتھ ایک بامقصد زندگی گزاری اور ان کی زندگی کا یہ پہلو خاص طور پر نوجوان اہل علم اور طلبہ کے لیے قابل تقلید ہے۔
گوجرانوالہ کی معروف علمی وتعلیمی شخصیت پروفیسر غلام رسول عدیم نے ڈاکٹر صاحب کی خدمات کے حوالے سے ایک جامع اور بھرپور خطاب کی تمہید باندھی لیکن وقت کی قلت کے باعث اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔
’’خصوصی تربیتی کورس‘‘ کی تکمیل
ڈاکٹر حمید اللہؒ سیمینار کی مذکورہ تقریب کے دوران میں ہی الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک سالہ خصوصی تربیتی کورس ۲۰۰۲ء کی تکمیل کرنے والے فضلا کو کامیابی کی اسناد بھی دی گئیں۔ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے اختصار کے ساتھ اس کورس کے اغراض و مقاصد اور اس کے مشمولات کا تعارف کرایا، جس کے بعد مولانا فضل الرحیم نے کورس میں شریک ہونے والے پانچ طلبہ کو اسناد اور انعامات تقسیم کیے۔ ان طلبہ کے نام حسب ذیل ہیں:
محمد عامر بن رانا محمد انور (سرگودہا) ، محمد احسن ندیم بن محمد اسماعیل( سرگودہا)، عبد الحمید بن محمد بشیر (چارسدہ)، حسین احمد بن محمود الحسن (وزیرستان)، عبد الحمیدبن حمید اللہ انور (لاہور)
تقریب کے اختتام پر الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے شرکا کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا اور ان سے اکادمی کے پروگراموں کی کامیابی اور بہتری کے لیے دعا کی درخواست کی۔
ایک روزہ تعلیمی ومطالعاتی دورہ
۲۹ ستمبر ۲۰۰۳ء کو الشریعہ اکادمی کے اساتذہ وطلبہ نے تعلیمی ومطالعاتی مقاصد کے تحت لاہور کے مختلف علمی اداروں کا دورہ کیا۔ شرکا نے قومی عجائب گھر، دار الدعوۃ السلفیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کی لائبریریاں دیکھنے کے علاوہ جناب حافظ احمد شاکر، جناب حافظ عبد الرحمن مدنی اور جناب جاوید احمد غامدی کے ساتھ ملاقات کی اور مختلف علمی وفکری مسائل پر ان سے سوالات کیے۔ شرکا نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے کمپیوٹر سنٹر کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں اس شعبے کے تحت جاری مختلف سرگرمیوں سے متعارف کرایا گیا۔ شرکا نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ مختلف مکاتب فکر کے مابین افہام وتفہیم کے فروغ اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو زیادہ بہتر انداز سے سمجھنے کے لیے اس طرح کے مطالعاتی دورے نہایت مفید ہیں اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے ایسی غیر نصابی سرگرمیوں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔
چالیس روزہ عربی بول چال کورس
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۱۶۔ ستمبر تا ۲۵۔ اکتوبر ۲۰۰۳ء دینی مدارس اور سکول وکالج کے طلبہ کے لیے چالیس روزہ عربی بول چال کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں الجزائر سے تعلق رکھنے والے عرب استاذ الشیخ حبیب النجار نے تعلیم وتدریس کے فرائض انجام دیے۔ درج ذیل طلبہ نے اس کورس میں شرکت کی اور امتحان میں کام یاب ہو کر سرٹیفکیٹ کے حق دار قرار پائے:
محمد عامر بن رانا محمد انور (سرگودھا)، محمد احسن ندیم بن محمد اسماعیل (سرگودھا)، عبد الحمید بن محمد بشیر (چارسدہ)، محمد شعیب بن اللہ یار (گوجرانوالہ)، حمید الرحمن بن حمید اللہ انور (لاہور)، محمد نعیم اللہ بن محمد اسلم (گوجرانوالہ)، محمد عمران بن محمد عارف (آزاد کشمیر)، محمد ظفر اقبال بن محمد اقبال (گوجرانوالہ)، عرفان علی بن نور علی (فجی آئر لینڈ)، خالد جاوید بن محمد الیاس (گوجرانوالہ)
مولانا محمد اعظم طارقؒ کی شہادت
محمد عمار خان ناصر
ملت اسلامیہ پاکستان کے راہنما اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا محمد اعظم طارقؒ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح جامِ شہادت نوش کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے قتل کا سانحہ نہ صرف ان کے خاندان اور ان کی جماعت کے کارکنوں کے لیے ایک عظیم صدمے کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ ملک کے وہ تمام سنجیدہ وفہمیدہ عناصر بھی اس حادثے پر غم زدہ ہیں جو وطن عزیز میں شیعہ سنی کشیدگی، فرقہ وارانہ قتل وغارت اور امن وامان کی صورت حال پر پہلے ہی خون کے آنسو رو رہے ہیں۔
اس سانحے نے شیعہ سنی تعلقات کے حوالے سے مولانا حق نواز جھنگوی شہید اور ان کے جانشینان کی اختیار کردہ پالیسی کے متعلق ان سوالات کی اہمیت کو ایک دفعہ پھر اجاگر کر دیا ہے جن پر غوروفکر کی دعوت خود سنجیدہ دیوبندی حلقے سراً وعلانیۃً آغاز ہی سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔ اہل تشیع کی جانب سے امہات المومنین اور اکابر صحابہ کرام کے خلاف نازیبا اور اخلاق سے گری ہوئی زبان کا استعمال ایک حقیقت واقعہ ہے، چنانچہ کالعدم سپاہ صحابہ یا اس کی جانشین ملت اسلامیہ پاکستان نے صحابہ کرام کی عظمت وناموس کے تحفظ کے جس مشن کا علم اٹھایا ہے، اس کے جائز اور مبنی بر حق میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کے تدارک کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی گئی، کیا اس کو وضع کرتے وقت ان آثار ونتائج کا پیشگی جائز ہ لے لیا گیا تھا جو، بہرحال، سامنے آنے تھے؟ اور اگر پیشگی ایسا نہیں کیا جا سکا تو کیا پیش آمدہ حالات وواقعات یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ یہ حکمت عملی حصول مقصد کے لیے کسی بھی طرح سے مفید نہیں بلکہ الٹا غیر مطلوب نتائج پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے؟
اگرچہ قرائن وشواہد یہ بتاتے ہیں کہ مولانا جھنگوی شہید اور ان کے جانشینوں کو اس متشددانہ حکمت عملی کے منفی اثرات نے اس پر نظر ثانی کرنے اور ایک زیادہ قابل عمل، پرامن اور نتیجہ خیز طریقہ کار اپنانے کے لیے ذہنی طور پر بڑی حد تک آمادہ کر دیا تھا، لیکن تشدد اور نفرت کی آگ ایسی ہے کہ اس کو ایک دفعہ بھڑکا دیا جائے تو پھر یہ آگ لگانے والوں کے بس میں نہیں رہتی بلکہ خود انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا اعظم طارق شہید کے جانشینوں میں اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت کا احساس کس حد تک پایا جاتا ہے، لیکن اس بات میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ اس سوال کا سامنا کرنے ہی میں ان کے مشن کی کامیابی اور قومی وملی مفادات کے تحفظ کا راز پوشیدہ ہے۔
وفیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا عزیز الرحمن ہزارویؒ کا انتقال
ممتاز عالم دین استاذ العلما حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزارویؒ گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بالکل ابتدائی زمانے کے فضلا میں سے تھے اور بعد میں ایک عرصہ تک اسی ادارے میں تعلیم وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی، مدرسہ نصرۃ العلوم کے استاذ الحدیث مولانا عبد القدوس قارن اور دیگر متعدد اساتذہ وعلما کو ان سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ مولانا مرحوم کافی عرصہ سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ ان کے دو بھائیوں کی وفات کا صدمہ، جو گزشتہ چند ماہ کے عرصے میں ہی دنیاے فانی سے رخصت ہوئے، ابھی تازہ تھا کہ اعزہ اور رفقا کو ان کی جدائی کا صدمہ بھی سہنا پڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا مرحوم اور ان کے برادران کی مغفرت فرمائیں، ان کے درجات بلند فرمائیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عنایت فرمائیں۔ آمین
ڈاکٹر غلام محمد کو صدمہ
جمعیۃ علماء اسلام (س) پنجاب کے نائب امیر ڈاکٹر غلام محمد کی والدہ محترمہ اور بیٹی گزشتہ دنوں قضاے الٰہی سے انتقال کر گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ احباب سے ان کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے دعا کی درخواست ہے۔ ڈاکٹر غلام محمد صاحب نے ان تمام احباب کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے ملک بھر سے بالمشافہہ یا بذریعہ خط ان کے تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔ (ادارہ)
شبیر احمد خان میواتی کو صدمہ
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی مجلس ادارت کے رکن شبیر احمد میواتی صاحب کے برادر محترم حافظ محمد یعقوب صاحب گزشتہ دنوں قضاے الٰہی سے وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم پر کچھ عرصہ قبل فالج کا حملہ ہوا تھا اور وہ متعدد ہسپتالوں میں زیر علاج رہے، لیکن بیماری آخر جان لیوا ثابت ہوئی۔ قارئین سے مرحوم کے لیے مغفرت اور پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گزارش ہے۔
تعارف و تبصرہ
محمد عمار خان ناصر
’’علماء دیوبند اور مطالعہ مسیحیت‘‘
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے کلیہ اصول الدین کے استاذ جناب ڈاکٹر سفیر اختر تاریخ و سیاست کے فاضل محقق ہیں اور برصغیر میں مسلم فکر وتہذیب کا ارتقا اور اور اس کے مختلف علمی و عملی پہلو ان کی دلچسپی کا خاص دائرہ ہے۔ ان کا تالیف کردہ زیر نظر کتابچہ دو اہم مضامین پر مشتمل ہے جن میں برصغیر میں مطالعہ مسیحیت کے حوالے سے علماء دیوبند کی علمی و تحقیقی کاوشوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔
’’علماء دیوبند اور مطالعہ مسیحیت’’ کے عنوان سے پہلے مضمون میں مطالعہ مسیحیت کے حوالے سے جہاں واضح اور مخصوص دیوبندی شناخت رکھنے والے بزرگوں، مثلاً مولانا محمد قاسم نانوتوی، حافظ غلام محمد راندیری، مولانا شرف الحق دہلوی، مفتی کفایت اللہ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی کا تذکرہ کیا گیا ہے، وہاں اکابر دیوبند کے ساتھ تلمذ یا استفادہ کا تعلق رکھنے والے بعض حضرات مثلاً مولانا عبد الحق حقانی اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ماضی و حال کے اہل علم کا استقصا تو مولف کے پیش نظر یقیناً نہیں ہے، تاہم اس میدان کی بعض اہم شخصیات مثلاً مولانا عبد الماجد دریابادی اور سید سلیمان ندوی کا نام بآسانی شامل کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح مضمون کا دائرہ تھوڑا سا پھیلا کر حال کے بعض اصحاب قلم، مثلاً مولانا امین صفدر اوکاڑوی، محمد اسلم رانا اور مولانا عبد اللطیف مسعود کا ذکر، سرسری طور پر ہی سہی، کر دیا جاتا تو بہتر تھا۔
دوسرا مضمون ’’میرٹھ ڈویژن میں مسیحی مشن اور مسلمانوں کا رویہ‘‘ کے زیر عنوان سید محبوب احمد رضوی کا تحریر کردہ ہے جسے فاضل مولف نے اردو کا جامہ پہنایا ہے۔ اس مضمون میں مسیحی مشنریوں کی ان تبلیغی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کے مقابلے کے لیے برصغیر کے اہل علم میں مطالعہ مسیحیت کی تحریک پیدا ہوئی۔ یہ مضمون چونکہ مطالعہ مسیحیت کی اس تحریک کے لیے پس منظر فراہم کرتا ہے، اس لیے ہمارے خیال میں ترتیب کے لحاظ سے اس کو سابقہ مضمون سے پہلے جگہ ملنی چاہیے تھی۔
کتابچہ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ برصغیر کے دوسرے علمی حلقوں کی طرح علماء دیوبند کے ہاں بھی مطالعہ مسیحیت سے اعتنا اصلاً کسی علمی یا تحقیقی غرض سے نہیں بلکہ انگریزی دور اقتدار میں مسیحی مشنریوں کی مساعی کے رد عمل میں پیدا ہوا۔ یہ پس منظر کم از کم تین اہم حوالوں سے ابھی تک اس میدان میں کی جانے والی کاوشوں پر اثر انداز ہو رہا ہے:
ایک یہ کہ علماء کی دلچسپی مطالعہ مسیحیت کے حوالے سے بنیادی طور پر مناظرانہ نوعیت کے امور تک محدود ہے اور وسیع تر تاریخی و مذہبی تناظر میں مطالعہ مذاہب کی جدید علمی روایت کو ابھی تک ان کے ہاں پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔
دوسری یہ کہ اس محدود مناظرانہ دائرے میں بھی ان کا زیادہ تر انحصار انیسویں صدی کے محققین کے فراہم کردہ مواد اور ذخیرے پر ہے۔ مولانا تقی عثمانی کی ’’عیسائیت کیا ہے؟’’، ڈاکٹر خالد محمود کے مقدمہ ’’کتاب الاستفسار’’ اور اس نوعیت کی چند دیگر تحریروں کے استثنا کے ساتھ اس سارے ذخیرے میں اسلوب یا مواد کے لحاظ سے کوئی جدت تلاش کرنا غالباً ناممکن ہوگا۔
تیسری یہ کہ یہ مساعی دعوت و ابلاغ، افہام و تفہیم اور تحقیق و تنقیح کے جذبے کے بجائے بیشتر ’’ابطال باطل‘‘ کے اسلوب اور لہجے میں کی جا رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف مسیحی مسلم تعلقات میں حالات و زمانہ کے تغیر اور مسیحی دنیا کے زاویہ فکر میں تبدیلی سے پیدا ہونے والی جہتوں سے طبقہ علماء نابلد ہے بلکہ مسلم مسیحی مذہبی تصورات میں اشتراک کے وہ پہلو بھی جن کو قرآن مجید میں نہایت اہتمام کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے، اس فضا میں بالکل اوجھل ہو گئے ہیں۔
توقع کی جانی چاہیے کہ ہمارے اہل علم، بالخصوص فرزندان دیوبند اس صورت حال کے مضمرات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔
۴۰ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ، جس کی قیمت غالباً سہواً ۵۰ روپے درج کر دی گئی ہے، دار المعارف، لوہسر شرفو، واہ کینٹ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’قواعد ترتیل القرآن فی تشریح جمال القرآن‘‘
قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے صحت تلفظ اور حسن ادائیگی کے لیے جن اصولوں اور قواعد کا لحاظ ضروری ہے، ان سے ’’علم تجوید‘‘ میں بحث کی جاتی ہے۔ مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ کی تصنیف کردہ ’’جمال القرآن‘‘ اسی فن کی ایک معروف اور متداول کتاب ہے جو دینی مدارس کے نصاب میں بھی داخل ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں اس کتاب کے مندرجات کی تشریح و تفصیل کے حوالے سے ماضی قریب کے نامور ماہر فن قاری اظہار احمد صاحب تھانویؒ کے افادات کو ان کے تلمیذ رشید قاری مومن شاہ خٹک صاحب نے مرتب کر کے طلبہ و اساتذہ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ کتاب خوب صورت کتابت وطباعت کے ساتھ شائع کی گئی ہے اور علم تجوید سے اشتغال رکھنے والوں کے لیے ایک تحفہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
صفحات: ۱۰۶۔ قیمت درج نہیں۔ ناشر: ایچ ایم اقبال اینڈ سنز، حق سٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۔ اغراض ومقاصد اور سرگرمیاں
ادارہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکیڈمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی، مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) ڈپٹی ڈائریکٹر اور حافظ محمد یوسف (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) ناظم کے طور پر ان کی معاونت کرتے ہیں۔
گزشتہ چار سال سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین پر الشریعہ اکادمی کی تین منزلہ عمارت زیر تعمیر ہے جس کا کچھ حصہ مکمل ہونے پر اکادمی کی تعلیمی سرگرمیاں دو سال قبل زیر تعمیر عمارت میں منتقل کر دی گئی ہیں۔
اکادمی کے زیر اہتمام:
- اکتوبر ۱۹۸۹ء سے علمی وفکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومشکلات اور جدید علمی وفکری چیلنجز کے حوالہ سے ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔
- اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے حالات حاضرہ کے حوالے سے معلوماتی اور فکر انگیز مضامین ہفتہ میں دو بار روزنامہ اسلام کراچی میں ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے اور روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں۔ روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے مضامین www.dailypak.com پر کالم کے سیکشن میں پڑھے جا سکتے ہیں۔
- ۲۰۰۲ء میں اردو زبان میں اسلامی ویب سائٹ www.alsharia.org لانچ کی گئی ہے جس پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے علاوہ مختلف اہم عنوانات پر منتخب مقالات ومضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
- اکادمی کی زیر تعمیر مسجد میں پانچ وقت نماز باجماعت اور مقامی بچوں اور بچیوں کے لیے ناظرہ قرآن کریم کی کلاسیں باقاعدگی سے جاری ہیں۔
- مقامی طلبہ وطالبات کے لیے عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن کریم اور ضروریات دین کے تعارف پر مبنی تین کلاسیں چل رہی ہیں۔
- دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انگریزی زبان اور کمپیوٹر ٹریننگ کے تین تین ماہ کے چار کورس اب تک ہو چکے ہیں اور ہر سال کم از کم دو کورس ہوتے ہیں۔
- ۲۰۰۳ء میں دینی مدارس کے فضلا کے لیے ایک سالہ خصوصی تربیتی کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں انہیں بین الاقوامی قوانین کا اسلامی احکام سے تقابلی مطالعہ، نفسیات، معاشیات، اور سیاسیات کا تعارفی مطالعہ، تقابل ادیان ومذاہب، تاریخ، عربی وانگریزی زبانیں، کمپیوٹر ٹریننگ اور مضمون نویسی کی تربیت کے علاوہ امام ولی اللہ دہلوی کی حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب پڑھائے جاتے ہیں۔ اس سال پانچ فضلا نے سال بھر اکادمی میں قیام کر کے اس کورس کی تکمیل کی ہے۔ کورس کے شرکا سے کوئی فیس نہیں لی جاتی اور ان کے قیام وطعام اور تعلیمی اخراجات کی کفالت اکادمی کرتی ہے۔
- دینی مدارس اور سکول وکالج کے اساتذہ کے لیے ۱۶ ۔ستمبر سے ۲۵۔ اکتوبر تک جدید عربی بول چال کے چالیس روزہ خصوصی کورس کا اہتمام کیا گیا۔
- مقامی آبادی کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ’’الشریعہ فری ڈسپنسری‘‘ قائم ہے جو روزانہ شام کے اوقات میں مریضوں کی خدمت انجام دیتی ہے۔
- ای میل کے ذریعے سے کسی دینی وعلمی فکری مسئلہ کے حوالے سے افہام وتفہیم کے لیے الشریعہ اکادمی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے مگر مناظرانہ اسلوب اور بحث برائے بحث سے مکمل گریز کی درخواست ہے۔
آئندہ تعلیمی سال کے پروگرام
دسمبر ۲۰۰۳ء میں اکادمی میں دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ایک مشاورتی وتربیتی ورک شاپ کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں دینی مدارس میں طریقہ تدریس وتعلیم اور طلبہ کی فکری وذہنی تربیت کے حوالہ سے ضروری امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
سال ۲۰۰۴ء کے لیے خصوصی تربیتی کورس کا آغاز جنوری سے ہوگا جبکہ داخلے کی درخواستیں دسمبر میں وصول کی جائیں گی۔
انٹر نیٹ پر Pal Talk پروگرام کے تحت (www.paltalk.com) تقاریر، خطبات اور لیکچرز کی براہ راست نشریات کا اہتمام کر لیا گیا ہے اور رمضان المبارک کے بعد پہلے مرحلہ میں ماہانہ فکری وعلمی نشست کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
آئندہ سال کے دوران میں ضروری دینی وتعلیمات پر مشتمل انٹرنیٹ کورس زیر ترتیب ہے۔ انتظامات مکمل ہونے پر اس کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ خالصتاً ایک تعلیمی اور رفاہی ادارہ ہے جس کی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے اور اس کے تمام تر اخراجات اصحاب خیر کے رضاکارانہ تعاون سے پورے ہوتے ہیں۔ اکادمی کے سالانہ تعلیمی اخراجات کا تخمینہ آٹھ لاکھ روپے ہے جبکہ تعمیری اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ اکادمی کے تہہ خانہ اور پہلی منزل کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہو چکا ہے جبکہ مکمل تیاری کا کام باقی ہے۔ بالخصوص مسجد، لائبریری اور مدرسۃ البنات کی فوری تکمیل ضروری ہے جس کے اخراجات کا اندازہ بارہ لاکھ روپے ہے۔
احباب سے درخواست ہے کہ اس کار خیر میں مندرجہ ذیل صورتوں میں سے کسی صورت میں ہاتھ بٹائیں:
۱۔ پروگرام کی کام یابی اور قبولیت کے لیے بارگاہ ایزدی میں خصوصی دعا فرمائیں۔
۲۔ پروگرام کی کام یابی اور بہتری کے لیے اپنے مفید مشوروں، تجاویز اور راہ نمائی سے نوازیں۔
۳۔ اس میں علمی وفکری تعاون اور اشتراک کی کوئی صورت نکالیں۔
۴۔ خود ذاتی طور پر اور دوسرے اصحاب خیر کو توجہ دلا کر اکادمی کے تعلیمی وتعمیراتی اخراجات میں جتنا ممکن ہو سکے، تعاون کریں۔
۵۔ زیادہ سے زیادہ دوستوں کو الشریعہ ویب سائٹ کا ایڈریس دیں تاکہ وہ ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ اور دیگر مضامین کا مطالعہ کر سکیں۔
۶۔ لائبریری کے لیے مختلف موضوعات پر کتابیں اور سی ڈیز مہیا کریں۔
۷۔اگر کوئی میگزین یا ویب سائٹ آپ کے زیر اثر ہے تو اس میں اکادمی کا تعارف شائع کرا دیں۔
۸۔ اپنے احباب اور متعلقین کو توجہ دلائیں تاکہ وہ اکادمی کے تعلیمی وتربیتی پروگراموں سے استفادہ کر سکیں۔
۹۔ اسلامی تعلیمات، احکام وقوانین اور تہذیب وثقافت کے حوالہ سے کوئی مخالفانہ سرگرمی، مواد یا پروگرام آپ کے علم میں آئے تو اس سے آگاہ کریں۔
۱۰۔ فضلا کے لیے ایک سالہ خصوصی کورس کے شرکا میں سے کسی کا خرچ اپنے ذمہ لے لیں۔
۱۱۔ الشریعہ فری ڈسپنسری کے لیے نقد عطیات یا دواؤں کی صورت میں تعاون فرمائیں۔
برائے تعاون و ترسیل زر
Alsharia
Current Account # 06820012601403
HBL, G.T. Road Branch
Gujranwala
Swift Code: HABBPKKA682