مدینہ منورہ آمد کے بعد رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے جو کام کیا وہ مسجدِ نبوی ؐ کی تعمیر تھی۔ مسجدِ نبوی کے ایک گوشے میں ایک سائبان اور چبوترہ (صفہ) بنایا گیاجس پر وہ مہاجرین صحابہ کرامؓ مدینہ منورہ آکر رہنے لگے تھے جو نہ تو کچھ کاروبار کرتے تھے اور نہ ان کے پاس رہنے کو گھر تھا۔ مکہ مکرمہ اور دیگر علاقوں سے دین متین کی تعلیمات حاصل کرنے کے لیے آنے والے صحابہ کرام بھی یہاں قیام کرتے تھے ۔گویا صفہ ان غریب اور نادار صحابہ کرام کی جائے پناہ تھی جنہوں نے اپنی زندگی تعلیمِ دین ،تبلیغِ اسلام ،جہاد اور دوسری اسلامی خدمات کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
مدنی عہد نبوت میں مذہبی تعلیم وتربیت کے دو طریقے تھے ۔ ایک غیر مستقل، جس میں مختلف قبائل کے آدمی مدینہ آکر چند دن قیام کرتے اور ضروری مسائل سیکھ کرواپس چلے جاتے اور اپنے اپنے قبائل کو جاکر تعلیم دیتے۔ ضروری مسائل کی تعلیم کے بعد رسول اللہﷺ انہیں ان کے قبائل میں واپس بھیج دیتے ،چنانچہ مالکؓ بن الحویرث کو بیس دن کی تعلیم کے بعد حکم دیا:
اِرجعوا الی أھلیکم فعلّموھم ومروھم وصلواکما رأیتمونی أصلی ،واذا حضرت الصلوٰۃفلیؤذّن لکم احد کم ثم لیؤمکم اکبر کم۔ (۱)
’’تم اپنے خاندان میں واپس جاؤ اور ان میں رہ کر ان کو امور شریعت کی تعلیم دو اور جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اسی طرح پڑھانا، اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی اذان دے، پھر تم میں سے سب سے زیادہ پڑھالکھا امامت کرائے‘‘۔
اسی طرح وفد عبد القیس نے رسول اللہ ﷺ کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کی تو آپ ﷺ نے ان کو ادائے خمس ، نماز ، روزہ اور زکوٰۃ وغیر ہ کی تعلیمات دیں اور پھر فرمایا:
احفظوہ واخبروہ من وراء کم۔ (۲)
’’ان باتوں کو یاد کر لو اور جاکر دوسروں کو بھی بتا دو۔‘‘
دوسرا طریقہ مستقل تعلیم وتربیت کا تھا اور اس کے لیے صفہ کی درس گاہ مخصوص تھی۔ اس میں وہ لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے جو علائق دنیوی سے بے نیاز تھے اور انھوں نے اپنے آپ کو دینی تعلیم وتربیت اور عبادت و ریاضت کے لیے وقف کررکھا تھا۔مسجد نبوی کی اس درس گاہ کے دوحلقے تھے، ایک درس وتعلیم کاحلقہ اور دوسرا ذکر وفکر اور عبادت وریاضت کا۔حضرت عبداللہؓ بن عمر وفرماتے ہیں:
خرج رسول اللّٰہ ﷺذات یوم من بعض حجرہ،فدخل المسجد، فاذا ھو بحلقتین احدھما یقرؤن القرآن ویدعون اللّٰہ، والاخریٰ یتعلّمون ویعلّمون، فقال النبی ﷺکل علی خیر، ھؤلآء یقرءون القرآن ویدعون اللّٰہ، فان شاء اعطاھم وان شاء منعھم، وھولاء یتعلّمون و یعلّمون، وانما بعثت معلما، فجلس معھم۔ (۳)
’’ایک روز رسول اللہ ﷺاپنے کاشانۂ اقدس سے باہر تشریف لائے تو مسجد میں دو حلقے دیکھے۔ ایک حلقہ کے لوگ تلاوت ودعا میں مصروف تھے اور دوسرے حلقے کے لوگ تعلیم وتعلم میں، آپ ﷺ نے دونوں کی تحسین فرمائی اور فرمایا: دونوں بھلائی پر ہیں۔ یہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں ،اگر چاہے تو ان کو عطا فرمائے اور اگر چاہے تو روک لے،اوریہ لوگ سیکھتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔( پھر آپ ﷺیہ فرماتے ہوئے کہ) ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘حلقہ ء درس وتعلیم میں جاکر بیٹھ گئے‘‘
اصحابِ صفہ کے لیے اساتذہ کا تقرر
اصحابِ صفہ کے معلمِ اول تو خود رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس تھی۔چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے:
اقبل ابو طلحۃؓ یوما فاذا النبیﷺ قائم یقرئ اصحاب الصفۃ علی بطنہ فصیل من حجر یقیم بہ صلبہ من الجوع۔ (۴)
’’ایک دن حضرت ابو طلحہؓ آئے تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺاصحابِ صفہ کو کھڑے قرآن پڑھا رہے ہیں،آپؐ نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر کا ٹکڑا باندھاہوا تھا تاکہ کمرسیدھی ہوجائے‘‘۔
رسول اللہ ﷺ جب تعلیم ونصیحت سے فارغ ہوکر تشریف لے جاتے تو حضرت عبداللہؓ بن رواحہؓ حلقہ میں بیٹھ کر تعلیم کے سلسلہ کو اسی طرح جاری رکھتے ۔پھر جب رسول اللہﷺ دوبارہ تشریف لاتے تو لوگ خاموش ہوجاتے۔ آپ ﷺ تشریف فرما ہونے کے بعد فرماتے کہ اسی عمل میں مشغول رہیں اور اس کو جاری رکھیں۔ کبھی کبھارحضرت معاذؓ بن جبل بھی تعلیمی حلقہ سنبھا ل لیتے تھے۔(۵)
رسول اللہ ﷺکے علاوہ کئی مستقل معلمین بھی اصحابِ صفہ کی تعلیم وتربیت پر متعین تھے۔حضرت عبادہؓ بن صامت کا بیان ہے:
علّمت ناسا من أھل الصفۃ القرآن والکتاب فاھدیٰ الیّ رجل منھم قوساً۔ (۶)
’’میں نے اصحاب صفہ میں سے چند لوگوں کو قرآن مجید پڑھایا اور لکھنے کی تعلیم دی تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی‘‘۔
اسی طرح حضرت عبداللہؓ بن سعید بن العاص جو خوشخط تھے اور زمانۂ جاہلیت میں بھی کاتب کی حیثیت سے مشہور تھے، اصحابِ صفہ کو لکھنا سکھاتے تھے۔(۷)
اوقاتِ تعلیم
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نمازِ فجر ادا فرمالیتے تو ہم لوگ آپ ﷺ کے پاس بیٹھ جاتے اور ہم میں سے کوئی آپ سے قرآن کے بارے میں سوال کرتا، کوئی فرائض کے بارے میں دریافت کرتا اور کوئی خواب کی تعبیر معلوم کرتا تھا۔(۸)
سماک بن حرب نے حضرت جابرؓ بن سمرہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺکی محفل میں بیٹھا کرتے تھے ؟ تو انھوں نے کہا:ہاں،میں بہت زیادہ آپﷺ کی مجلس میں شریک رہا کرتا تھا۔ جب تک آفتاب طلوع نہیں ہوتا تھا آپ ﷺ مصلیٰ پر رہتے تھے ،اور طلوع آفتاب کے بعد اٹھ کر مجلس میں تشریف لاتے تھے،اور مجلس کے درمیان صحابہ زمانۂ جاہلیت کے واقعات بیان کرکے ہنستے تھے اور آپﷺ مسکرادیتے تھے۔
اصحابِ صفہ انتہائی نادار اور مفلس تھے اس لیے ان میں سے بعض لوگ دن میں شیریں پانی بھرلاتے،جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتے اور ان کو بیچ کر جو آمدنی ہوتی، اس سے اپنے مصارف پورے کرتے تھے۔ (۹)
اس مصروفیت کی وجہ سے ان میں سے بعض حضرات کو دن میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا، اس بنا پر ان کی تعلیم کا وقت رات کو مقرر کیا گیا تھا۔حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ سترکے قریب اصحاب صفہ رات کے وقت تعلیم حاصل کرتے تھے۔
فکانوا اذا جنّھم اللیل انطلقوا الی معلم لھم بالمدینہ، فیدرّسون اللیل حتٰی یصبحوا۔ (۱۰)
’’جب رات ہوجاتی تھی تو یہ لوگ مدینہ میں ایک معلم کے پاس جاتے اوررات بھر پڑھتے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی۔‘‘
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ مسجدِ نبوی سے ہٹ کر کوئی اور جگہ تھی جہاں اصحابِ صفہ رات کے وقت تعلیم حاصل کرتے تھے۔ گویا اصحابِ صفہ کا سارا وقت درس وتدریس ہی میں بسر ہوتا تھا۔ابن المسیبؓ نے حضرت ابو ہریرہؓ کا یہ بیان نقل کیا ہے:
یقولون: ان ابا ھریرۃؓ قد اکثر، واللّٰہ الموعد ویقولون مابال المہاجرین والانصار لا یتحدّثون مثل احادیثہ؟ وسأخبرکم عن ذالک: إن إخوانی من الانصار کان یشغلھم عمل ارضھم، واما إخوانی من المہاجرین کان یشغلھم الصفق بالاسواق، وکنت الزم رسول اللّٰہﷺ علی ملء بطنی، فاشھد اذا غابوا، واحفظ اذا نسوا، (۱۱)
’’لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہؓ کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے۔ اللہ ہی ہمارا اور تمہارا محاسبہ کرنے والا ہے۔اور لوگ کہتے ہیں کیا وجہ ہے کہ انصار ومہاجرین ابوہریرہؓ کی طرح کثرت سے حدیثیں بیان نہیں کرتے؟میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ہمارے مہاجر بھائی بازاروں میں اپنے کاروبار میں لگے رہتے تھے اور انصاری بھائی اپنی زمین کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے تھے۔ میں محتاج آدمی تھا ، میرا سار ا وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گزرتا تھا،پس جس وقت یہ موجود نہ ہوتے تھے میں موجو د رہتا تھا اور جن چیزوں کو وہ بھلا دیتے تھے میں محفوظ کرلیتا تھا‘‘۔
حضرت ابو ہریرہ‘ؓ جو خود بھی اصحابِ صفہ میں سے تھے، ان کا یہ بیان گویا اصحابِ صفہ کا ترجمان ہے۔ یہ سب لوگ درس گاہِ نبوت میں سب سے زیادہ حاضر رہنے والے تھے۔ حضرتِ ابو ہریرہ ؓ کے اس بیان کی تصدیق خود حضرت عمرؓؓ کے اس بیان سے ہوتی ہے:
کنت انا وجار لی من الانصار فی بنی امیۃ بن زید، وھی من عوالی المدینۃ، وکنا نتناوب النزول علی رسول اللّٰہ ﷺ، ینزل یوما وانزل یوما، فاذا نزلت جئتہ بخبر ذالک الیوم من الوحی وغیرہ، واذا نزل فعل مثل ذالک۔ (۱۲)
’’میں اورعوالی مدینہ میں قبیلہ امیہ بن زید کا ایک انصاری پڑوسی ہم دونوں باری باری رسول اللہ ﷺ کے یہاں جاتے تھے، ایک دن وہ جاتے اور ایک دن میں جاتا ، جب میں جاتا تو اس دن کی وحی وغیرہ کی خبر لاتا اورجس دن وہ جاتے وہ بھی اسی طرح کرتے‘‘۔
طریقۂ تعلیم
ابتدا میں مجلس میں طلبہ کے بیٹھنے کا کوئی خاص انتظام اور طریقہ نہ تھا،جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے حلقے بنا کر بیٹھ جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺنے باقاعدہ ایک حلقہ بنوایااور سب لوگ ایک ساتھ بیٹھنے لگے۔ جابرؓ بن سمرہ کا بیان ہے:
دخل رسول اللّٰہ ﷺالمسجد وھم حلق فقال ﷺ: مالی اراکم عزین۔ (۱۳)
’’رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے جہاں صحابہ کرامؓ کے جدا جدا حلقے تھے،آپﷺ نے فرمایاکہ کیا بات ہے تم لوگ جداجدا ہو (یعنی ایک ساتھ بیٹھو)‘‘
رسول اللہ ﷺ اپنے تمام حاضرین مجلس کو اس طرح تعلیم دیتے تھے کہ عالم،جاہل،شہری ، بدوی، عربی، عجمی بوڑھے،بچے،جوان پوری طرح فیض اٹھاتے تھے اور آپﷺ کی ہر بات سامعین کے دل میں اتر جاتی تھی۔حضرت انسؓ کا بیان ہے:
انہ کان اذا تکلم بکلمۃ اعادھا ثلاثا حتّٰی تفھم عنہ، واذا أتی علی قوم فسلم علیھم ثلاثا۔ (۱۴)
’’رسول اللہ ﷺجب کوئی حدیث بیان کرتے تو اس کو تین بار کہتے تھے تاکہ سمجھ لی جائے اور جب کسی جماعت کے پاس جاتے تو ان کو تین بار سلام کرتے تھے‘‘
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہؓ ،جومسجد نبوی کی اس درس گاہ کے معلم تھے ،حضرت عائشہؓ کے حجرہ کے قریب اہلِ مجلس کے سامنے جلدی جلدی حدیثیں بیان کرنے لگے۔ اس وقت ام المومنین حضرت عائشہؓ نماز میں مصروف تھیں۔جب آپؓ نماز سے فارغ ہوئیں تو ابو ہریرہؓ مجلس ختم کرکے جاچکے تھے ۔چنانچہ آپؓ نے عروہ بن زبیرؓ سے فرمایا کہ ابو ہریرہؓ مل جاتے تو میں ان کے جلدی جلدی حدیث بیان کر نے پرنکیر کرتی، اس کے بعد فرمایا:
ان رسول اللّٰہﷺ لم یکن یسرد الحدیث سردکم۔ (۱۵)
’’رسول اللہﷺ تم لوگوں کی طرح حدیث جلدجلد اور مسلسل بیان نہیں فرماتے تھے‘‘۔
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
ان رسول اللّٰہ ﷺ لیحدّث الحدیث لو شاء العادّ ان یحصیہ أحصاہ۔ (۱۶)
’’رسول اللہ ﷺاس طرح حدیث بیان کرتے تھے کہ اگر شمار کرنے والا چاہتا تو شمار کرلیتا‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کا طریقہ تعلیم یہ تھا کہ آپ بات ٹھہر ٹھہر کر اس انداز میں کہتے کہ سننے والوں کے دل میں بیٹھ جائے،یاد کرنے والے یاد کرلیں اور لکھنے والے لکھ لیں۔نرم کلامی ،شیریں بیانی اور اندازِ تعلیم کے اسی اسلوب کی بدولت بدوی لوگ بھی آپ ﷺپر فدا ہوجاتے تھے۔ حضرت معاویہؓ بن حکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کی امامت میں نماز پڑھ رہا تھا ،مجھ سے خلافِ نماز کوئی حرکت سرزد ہوگئی ،جس کی وجہ سے تمام نمازی مجھ سے بگڑ گئے اور گھورگھور کر میری طرف دیکھنے لگے، لیکن خود معلمِ انسانیت کا رویہ اور طریقہ تعلیم کیاتھا؟ صحابی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
فبأبی ھو وامی، مارأیت معلّما قبلہ ولا بعدہ احسن تعلیما منہ، فواللّٰہ ما کھر نی ولا ضربنی، ولا شتمنی، قال ﷺ: ان ھذہ الصلوۃ لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس، انما ھو التسبیح، والتکبیر وقرأۃ القرآن۔ (۱۷)
’’میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں،میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر معلم نہیں دیکھا۔خدا کی قسم نہ مجھے جھڑکا،نہ مارا اور نہ ہی سخت سست کہا ،بلکہ فرمایا نماز میں انسانی کلام اچھا نہیں ہے ۔اس میں صرف تسبیح،تکبیر اور قرآن پڑھنا ہے‘‘۔
اصحابِ صفہ میں درس وتدریس کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ ایک شخص قرآن مجید پڑھتا جاتا اور دوسرے لوگ سنتے جاتے۔ حضرت ابو سعید خدریؓکابیان ہے کہ میں ضعفاء مہاجرین کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان میں سے بعض لوگ عریانیت کے خوف سے ایک دوسرے سے مل کر بیٹھے تھے اور ایک قاری ہم لوگوں کو قرآن پڑھارہا تھا۔اس حال میں رسول اللہﷺ آکر ہمارے پاس کھڑے ہوگئے۔ آپﷺکو دیکھ کر قاری خاموش ہوگیا۔ آپﷺ نے سلام کر کے پوچھا کہ تم لوگ کیا کررہے ہو؟ہم نے کہا یا رسول اللہﷺ ایک قاری قرآن پڑھ رہا ہے اور ہم سن رہے ہیں۔ہمارا جواب سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا:
الحمد للّٰہ الذی جعل من امتی من امرت ان أصبر نفسی معھم۔
’’اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا ہے جن کے ساتھ مجھے بیٹھنے کا حکم ہے‘‘۔
یہ کہہ کر آپ ﷺ ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے تاکہ آپﷺ ہم لوگوں کے سامنے رہیں،پھرہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح بیٹھو، اور حاضرین مجلس اس طرح حلقہ بنا کر بیٹھ گئے کہ سب کا چہرہ آپ ﷺ کی طرف ہوگیا۔اور آپ ﷺ نے فرمایا: اے فقراء مہاجرین! تم کو بشارت ہو قیامت کے دن نورتام کی ، تم لوگ مالداروں سے آدھ دن پہلے جنت میں داخل ہوگے، اور یہ (دنیوی حساب سے)پانچ سو سال ہے۔(۱۸)
اصحابِ صفہ کی دعوتی سرگرمیاں
ویسے تو ہر مسلمان ہی داعی اور مبلغ ہے اور دعوت وتبلیغ ہی اس امت کا وہ خصوصی وصف ہے جس کی بدولت اس کو’’خیر الامم‘‘کے لقب سے ملقب کیا گیا۔ (۱۹) اسلامی معاشرہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دعوتِ دین کے لیے ایک ایسی جماعت تیار کرے جو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لیے اپنی زندگیوں کووقف کردے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃ’‘ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَر۔ (آل عمران، ۳:۱۰۴)
’’تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے‘‘۔
چنانچہ ہجرت مدینہ کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺنے مسجد نبوی میں ایک باقاعدہ درسگاہ قائم فرمائی، تاکہ مبلغین کی ایک تربیت یافتہ جماعت تیار کی جائے۔اصحابِ صفہ کی صورت میں جب یہ جماعت تیار ہوگئی تو آپﷺ نے ان اصحاب کو ،جو اپنے علم و فضل کی وجہ سے ’’قراء ‘‘ کہلاتے تھے،(۲۰) مختلف دعوتی وتبلیغی مہمات پر روانہ فرمایا۔
رجیع کی مہم:
صفر ۴ھ میں قبائل عضل وقارہ کے چند آدمی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارگاہِ رسالت میں درخواست کی کہ آپ اپنے رفقا میں سے کچھ آدمیوں کو ہمارے ساتھ روانہ کردیجیے تاکہ وہ لوگوں میں دین کی سمجھ پیداکریں،قرآن پڑھائیں اور شریعت اسلامیہ کی تعلیم دیں ۔رسول اللہ ﷺنے اصحابِ صفہ میں سے مندرجہ ذیل چھ (*۱) افراد منتخب کیے:مرثدؓ بن ابی مرثد غنوی، خالدؓ بن بکیرلیثی،عاصمؓ بن ثابت ،خبیبؓ بن عدی،زیدؓ بن دثنہ،عبداللہؓ بن طارق، اور مبلّغین کی اس جماعت کا امیر مرثدؓ بن ابی مرثد کو مقرر فرمایا۔
جب یہ لوگ رجیع،جو مکہ اور عسفان کے درمیان ایک جگہ ہے ،پہنچے تو قبیلہ عضل اور قارہ کے لوگوں نے مسلمانوں سے غداری کی اور قبیلہ ہذیل کو مدد کے لیے پکارا،چنانچہ ان لوگوں نے حضرت خبیبؓ بن عدی اور زیدؓ بن دثنہ کو پناہ کا دھوکہ دے کر گرفتار کرلیا، جبکہ باقی صحابہ کو شہید کردیاگیا۔زیدؓ بن دثنہ اور خبیبؓ بن عدی کو بھی ان لوگوں نے بعد میں مکہ لے جاکر فروخت کردیا، چنانچہ زیدؓ بن دثنہ کو صفوان بن امیہ نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے عوض قتل کرنے کے لیے خرید لیا ،جبکہ خبیبؓ کو حجیر بن ابو اہاب تمیمی نے خرید کر قتل کردیا۔(۲۱)
بئر معونہ کی مہم:
صفر ۴ھ میں نجد کے ایک قبیلے عامربن صعصعہ کے ایک رئیس ابوالبراء عامر بن مالک کوآپ ﷺنے اسلام کی دعوت دی ،وہ نہ اسلام لایا اورنہ اس نے تردید کی بلکہ کہنے لگا!اے محمد! اگر آپﷺ اپنے رفقا میں سے کچھ لوگوں کو اہلِ نجد کے ہاں بھیج دیں اور وہ وہاں آپ ﷺ کا پیغام پہنچاکر انہیں اسلام کی دعوت دیں تو مجھے امید ہے کہ اہلِ نجد آپ کے پیغام پر ضرور لبیک کہیں گے۔رسول اللہﷺ نے جواب دیا:مجھے اپنے آدمیوں کے متعلق اہلِ نجد سے خوف ہے۔ ابوبراء نے کہا:میں اس کاضامن ہوں، اس لیے آپ ان کو روانہ فرمادیجئے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے منذرؓ بن عمروکی قیادت میں ستر صحابہ ،جو سب کے سب درسگاہِ صفہ کے تربیت یافتہ تھے، اس کے ساتھ بھیج دیے ۔(۲۲)
ابنِ ہشام اور ابن اثیر کی روایت کے مطابق یہ جماعت چالیس صحابہ پر مشتمل تھی ۔یہ سب لوگ بئر معونہ پہنچ گئے، جو بنو سلیم کے قریب ایک جگہ تھی۔ وہاں سے اپنی جماعت کے ایک آدمی حرامؓ بن ملحا ن کو رسول اللہﷺ کا خط دے کر قبیلے کے سردار عامر بن طفیل کی طرف بھیجا، لیکن اس نے خط پڑھنے سے قبل ہی قاصد کوقتل کردیا اور بنو سلیم کے ہمراہ بئر معونہ روانہ ہوا اور باقی مسلمانوں کو بھی قتل کردیا۔(۲۳)
سطور بالا کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے دعوتی وتبلیغی مقاصد کے لیے ایک ایسی جماعت کی تیاری کو ضروری خیال کیا جس کو دعوتی مشن اپنی جان سے بھی عزیز تھا۔ رجیع اور بئر معونہ کی دعوتی مہمات میں انتہائی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ کو ان واقعات کا انتہائی رنج ہوا۔ اس لیے بعد کے دور میں خالصتاً تبلیغی مہمات بھی حفاظتی نقطۂ نظر سے مسلح کرکے بھیجی گئیں۔
درس گاہِ صفہ کے تربیت یافتہ معلمین ومبلغین کی دعوتی سرگرمیاں اس کے بعد بھی جاری رہیں۔آپﷺان لوگوں کو مختلف جہادی مہمات میں افواج کے ہمراہ بطور مبلغ روانہ فرماتے ،اس کے علاوہ قبائل عرب کی طرف سے آنے والے وفود کی تعلیم وتربیت کے لیے بھی آپ اصحابِ صفہ سے مدد لیتے تھے۔
قریش مکہ کو چونکہ مذہبی سیادت حاصل تھی، اس لیے عرب میں ان کا ادب واحترام کیاجاتا تھا اور تمام عرب مذہبی معاملات میں ان کو اپنا مقتدا اور پیشوا سمجھتے تھے۔ کفرو اسلام اور حق وباطل کی جو آویزش جاری تھی، اس میں قبائل عرب قریش کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔بالآخر جب مکہ فتح ہوگیا اور قریش سب کے سب مسلمان ہوگئے تو اب قبائل عرب کے لیے بھی اسلام کے حق میں فیصلہ کرنا آسان ہوگیا۔ ابنِ حجر لکھتے ہیں:
ان مکۃ لما فتحت بادرت العرب باسلامھم فکان کل قبیلۃ ترسل کبراء ھا یسلّموا ویتعلّمو ویرجعوا الی قومھم فیدعوھم الی الاسلام۔ (۲۴)
’’فتح مکہ کے بعد تما م عرب نے اسلام کی طرف نہایت تیزی سے قدم بڑھایا۔ ہر قبیلہ اپنے سرداروں کو بھیجتا تھاکہ جاکر اسلام لائیں اور دین کی تعلیم حاصل کریں، واپس آئیں تو اپنی قوم کو دعوتِ اسلام دیں‘‘۔
فتح مکہ کے بعد تقریباً ایک سال کے عرصہ میں تمام قبائلِ عرب نے اپنے منتخب افراد کو وفود کی صورت میں مدینہ طیبہ بھیجا تاکہ وہ پوری قوم اور قبیلہ کی طرف سے اسلام کی بیعت کریں ۔فتح مکہ سے قبل رسول اللہ ﷺکی حکمتِ عملی یہ تھی کہ جو قبیلہ اور قوم بھی اسلام قبول کرے، اسے مدینہ آکر مستقل رہنے پر آمادہ کیا جائے۔اس کی بظاہر حکمت یہ معلو م ہوتی ہے کہ ایک تو لوگ دارالہجرت میں آکر دین کی تعلیم حاصل کریں اور مزید یہ کہ دفاعی نقطہ نظر سے بھی مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد اور طاقت میں اضافہ ہو۔ چنانچہ فتح مکہ سے قبل رسول اللہ ﷺ جو دعوتی مہمات روانہ فرماتے تھے، ان کو یہی نصیحت کی جاتی تھی کہ لوگوں کو دین کی دعوت دیں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو ان کو مدینہ کی طرف ہجرت کی دعوت دیں ۔حضرت بریدہؓ کا بیان ہے:
کان رسول اللّٰہﷺ اذا بعث امیرا علی سریۃ او جیش اوصاہ بتقوی اللّٰہ فی خاصۃ نفسہ وبمن معہ من المسلمین خیرا، وقال ﷺ! ’’اذا لقیت عدوک من المشرکین فادعھم الی احدی ثلاث خصال فایتھا اجابوک الیھا فاقبل منھم وکف عنھم ،ادعھم الی الاسلام ،فان اجابوا فاقبل منہم وکف عنہم ،ثم ادعھم الی التحول من دارھم الی دارالمہاجرین وأعلمھم انھم ان فعلوا ذالک ان لہم ما للمہاجرین وان علیہم ما علی المہاجرین، فان ابوا واختاروا دارہم فأعلمھم انھم یکونون کأعراب المسلمین یجری علیہم حکم اللّٰہ الذی کان یجری علی المؤمنین ولا یکون لہم فی الفئ والغنیمۃ نصیب إلا ان یجاھدوا مع المسلمین،فان ھم ابوا فادعہم الی اعطاء الجزیۃ فان اجابوا فاقبل منہم وکف عنہم، فان ابوا فاستعن باللّٰہ وقاتلہم۔ (۲۵)
’’رسول اللہ ﷺجب کسی کو کسی جماعت یا لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرماتے تو اس کو خاص اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہیں، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتے اور یہ فرماتے: جب تمہارا مشرک دشمنوں سے سامنا ہو تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا۔ان باتوں میں سے جو بات بھی وہ مان لیں، تم اسے ان سے قبول کرلینا اور ان سے جنگ نہ کرنا۔ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو، اگر وہ اسے منظور کرلیں تو تم ان سے اسے قبول کرلو اور ان سے رک جاؤ،پھر تم ان کو اپنا علاقہ چھوڑ کر دارالمہاجرین (مدینہ منورہ)کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو اور انہیں یہ بتلادو کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو وہ تمام منافع ملیں گے جومہاجرین کو ملتے ہیں اور ان پر وہ تما م ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں اور اگر وہ اسے نہ مانیں اور اپنے علاقے میں رہنے کوہی ترجیح دیں توانہیں بتلادو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور اللہ کے احکام جو تمام مسلمانوں کے ذمہ ہیں، وہ ان کے ذمہ ہوں گے ۔ انہیں فے اور مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ہاں اگر مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو حصہ ملے گا۔اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اسے مان لیں تو تم اسے قبو ل کرلو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ اسے بھی نہ مانیں تو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ان سے جنگ کرو‘‘۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں میں رسول اللہ ﷺکی حکمتِ عملی یہ تھی کہ نو مسلم قبائل اور افراد کو مدینہ کی طرف ہجرت کی ترغیب دی جائے، لیکن فتح مکہ کی صورت میں جب اسلام کو نئی قوت وشوکت نصیب ہوئی تو رسول اللہ ﷺنے اپنی حکمتِ عملی تبدیل فرمائی اور واضح طور پر اعلان فرمادیاگیا:
لا ہجرۃ بعد فتح مکۃ۔ (۲۶)
’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے‘‘۔
اب آپ ﷺکا طریقہ کار یہ تھاکہ جو لوگ بھی انفرادی طور پر یاوفود کی صورت میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپﷺ ان کو خود تعلیم ارشاد فرماتے اور بعض اوقات انصار ومہاجرین صحابہ کو حکم دیتے کہ وہ ان لوگوں کو قرآن وسنت کی تعلیم دیں اور جب وہ لوگ دین کے بنیادی امور کا علم حاصل کرلیتے تو آپِﷺ ان وفود کو،جو عام طور پر رؤساے قبائل پر مشتمل ہو تے تھے ، واپس اپنے قبائل میں جانے کا حکم دیتے اور ان کو حکم ہوتا تھا کہ وہ جو کچھ سیکھ چکے ہیں وہ اپنے دوسرے لوگو ں کو سکھائیں۔(۲۷)
امام بخاری ؒ نے ایک جگہ’’ وصاہ النبی ﷺوفود العرب ان یبلغوا من وراۂم‘‘(۲۸)کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرامؓ سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس کو آگے دوسروں تک پہنچانا ان وفود کاسب سے اہم فریضہ تھا۔نیزبعض علاقوں کی طرف آپ ﷺنے دعوتی مہمات روانہ فرمائیں اور مبلغین کو تلقین کی کہ اگر وہ لوگ اطاعت کا اظہار کریں تو ان کو قرآن وسنت کی تعلیم دیں اور ان کو کہیں کہ وہ وفد بن کر مدینہ آئیں اور براہِ راست رسول اللہ ﷺسے فیضیاب ہوں۔(۲۹)
چنانچہ ۹ ھ میں اس کثرت سے وفود آئے اس لیے مورخین نے اس سال کو ’’ عام الوفود‘‘کا نام دے دیا۔ان وفود میں سے بعض سینکڑوں افراد پر بھی مشتمل تھے (*۲) اور بعض محض ایک،دو اور تین افراد پر۔ان وفود کی تعداد میں بھی کافی اختلاف ہے تاہم یہاں ان میں سے ان چند وفود اور قبائلی رؤسا کا ذکر کیا جارہا ہے جن کا کردار دعوت وتبلیغ کے حوالے سے اہمیت کاحامل ہے۔
قبائلی رؤسا کی تعلیم وتربیت کاانتظام
اصحابِ صفہ کی منظم اور مستقل تبلیغی جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے اس چیز کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ ہر قبیلہ اور جماعت میں سے کچھ ایسے لوگ موجود رہیں جو تعلیم وارشاد اور دعوت وتبلیغ کے فریضہ کو انجام دیتے رہیں۔اسی بنا پر قرآن مجید میں یہ حکم نازل ہوا:
وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْفَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃ’‘ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِ رُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ۔ (التوبہ ، ۹:۱۲۲)
’’اور سب مسلمان تو سفر کرکے (مدینہ)نہیں آ سکتے تو ہر قبیلہ سے ایک جماعت کیوں نہیں آتی کہ وہ دین کی سوجھ بوجھ حاصل کریں ،تاکہ جب وہ واپس جائیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں ،شاید وہ بری باتوں سے بچ جائیں ‘‘
چنانچہ بعض قبائل نے تو خود ہی اپنے نمائندہ افراد کو مدینہ بھیجااور بعض قبائل مثلاً بنو حارث بن کعب اور ہمدان وغیرہ کو خود آپﷺنے پیغام بھیجا کہ وہ اپنے وفودبھیجیں۔چنانچہ اس کے بعد عرب کے تقریباً ہر قبیلہ نے اپنے وفود بارگاہِ رسالت ؐمیں بھیجے تاکہ وہ دین کافہم حاصل کریں اور واپس آکر خود ان کو اس کی تعلیم دیں۔تفسیر خازن میں ابنِ عباسؓ کا قول مروی ہے:
کان ینطلق من کل حی من العرب عصابۃ فیأتون النبیﷺ فیسأ لونہ عما یریدون من امر دینہم ویتفقّہون فی دینہم۔ (۳۰)
’’عرب کے ہر قبیلے کا ایک گروہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے مذہبی امور دریافت کرتا اور دین کا فہم حاصل کرتا‘‘۔
آنے والے وفود اور قبائل عرب کے نمائندہ افراد کی ایسی تعلیم وتربیت کہ وہ واپس جاکر دعوت وتبلیغ کاکام کماحقہ کرسکیں،بڑی اہم ذمہ داری تھی جس کو رسول اللہ ﷺ نے انصار ومہاجرین اور اصحابِ صفہ کی مدد سے عمدہ طریقہ سے انجام دیا، چنانچہ آپ ﷺوفود عرب میں آنے والے قبائلی عمائدین کی خود تعلیم وتربیت فرماتے اور بعض اوقات انصار ومہاجرین کو حکم ہوتا کہ معزز مہمانوں کے قیام وطعام کاانتظام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو قرآن وسنت سکھائیں۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ کابیان ہے:
کان رسول اللّٰہ ﷺ یشغل، فاذا قدم رجل مہاجر علی رسول اللّٰہ ﷺ دفعہ الی رجل منا یعلمہ القرآن۔ (۳۱)
’’کوئی شخص جب ہجرت کرکے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپﷺ اس کو تعلیمِ قرآن کے لیے ہم میں سے کسی کے سپرد کردیتے‘‘۔
چنانچہ حضرت وردانؓ طائف سے آئے تو رسول اللہ ﷺنے ان کو ابانؓ بن سعید کے حوالے کیا کہ ان کے مصارف کا بار اٹھائیں اور ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیں۔ (۳۲)
انصارِ مدینہ باہر سے آنے والے حضرات کی مہمان نوازی کے ساتھ اس لگن اور دلسوزی سے ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے کہ وہ لوگ تشکر کے جذبات کے ساتھ واپس جاتے تھے۔چنانچہ وفد عبدالقیس آیا تو اس اعتراف کے ساتھ واپس گیا:
خیر اخوان، ألانوا فراشنا، وأطابوا مطعمنا، وباتوا واصبحوا یعلّمونا کتاب ربنا وسنۃ نبینا۔ (۳۳)
’’یہ ہمارے بہترین بھائی ہیں۔ انہوں نے ہمیں نرم بستر مہیا کیے، اچھا کھانا کھلایا اور دن رات ہمیں اللہ کی کتاب اور پیغمبر ﷺ کی سنت کی تعلیم دیتے رہے۔‘‘
آنے والی سطور میں ان چند قبائلی رؤسا اور مبلغین کا ذکر کیا جارہا ہے جنہو ں نے رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ سے تعلیم وتربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے قبائل میں دعوت کا فریضہ انجام دیا۔
عمیرؓ بن وہب کی قریشِ مکہ کو دعوت
عمیرؓ بن وہب قریش کے ممتا زسرداروں میں سے ایک تھے ۔یہ ابتدائے اسلام میں اسلام کے شدید ترین دشمنوں میں سے ایک تھے۔ ان کا بیٹا وہب بن عمیر غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو چھڑوانے کے بہانے رسول اللہﷺ کو مدینہ میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔اس سازش کا سوائے صفوان بن امیہ کے کسی کو علم نہ تھا، جوخود اس منصوبے میں شریک تھے۔لیکن مدینہ پہنچ کر جب وہ اس ارادے سے مسجدِ نبوی میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺنے ان کو بذریعہ وحی صفوان بن امیہ کے ساتھ تیار کردہ سازش سے آگاہ کردیااب عمیرپر حقیقتِ حال واضح ہوچکی تھی۔ اس لیے انہوں نے فوراً اسلام قبول کرلیااور آپ ﷺسے عرض کی:
فائذن لی یارسول اللّٰہﷺ فألحق بقریش فادعوہم الی اللّٰہ والی الاسلام لعل اللّٰہ ان یھدیھم۔ (۳۴)
’’یا رسول اللہ ﷺمیں چاہتا ہوں کہ آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جاکر اہلِ مکہ کو اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دوں۔امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے گا‘‘۔
ابن الاثیر کا بیان ہے کہ حضرت عمیرؓ مکہ میں مسلسل اسلام کی صدا بلند کرتے رہے۔چنانچہ صفوانؓ بن امیہ سمیت متعدد لوگوں نے آپ کی ترغیب سے ہی اسلام قبول کیا۔(۳۵)
حضرت ضحاکؓ بن سفیان کی بنو کلاب کو دعوتِ اسلام
حضرت ضحاک کی کوششوں سے بنو کلاب کا پورا قبیلہ اسلام لے آیا۔ ۹ ھ میں اس قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اسلام لانے کی اطلاع دی اور آپﷺ کو بتایا:ضحاک بن سفیان نے ہمارے درمیان کتاب اور آپ ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کیا اور ہمیں آپِﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ہم نے اسے قبول کرلیا۔(۳۶)
ابو امامہؓ باہلی کی اپنی قوم باہلہ کو دعوتِ اسلام
ابو امامہؓ باہلی نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہﷺ نے ان کو ان کی اپنی قوم کی طرف ہی مبلغ بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔قوم نے جب ان کو دیکھا تو خوش ہوکر کہا :صدیؓ بن عجلان(ابو امامہؓ کانام ہے)کو خوش آمدیدہو۔ اور کہنے لگے کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ تم بے دین ہوکر اس آدمی (رسول اللہﷺ)کی طرف مائل ہوگئے ہو۔انہوں نے جواب دیا :نہیں بلکہ میں تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف مائل ہوگیا ہوں اور مجھے اللہ اور رسول ﷺنے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میں تم پر اسلام اور اس کے احکام پیش کروں۔
چنانچہ اس کے بعد ابوامامہؓ ان کو اسلام کی دعوت دینے لگے، لیکن قوم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیااور ان پر بڑی سختی کی۔ابو امامہؓ نے بڑی استقامت کا مظاہرہ کیا۔بالآخران کی دعوت وتبلیغ کے نتیجہ میں پوری قوم مسلمان ہو گئی۔ (۳۷)
حضرت ابو امامہؓ نے اس کے بعد دعوتِ دین کو اپنی زندگی کامشن بنالیاجہاں دوچار لوگوں کو دیکھتے ان تک اسلام کا پیغام ضرور پہنچاتے ۔مسلم بن عامر کا بیان ہے:’’جب ہم ابوامامہؓ کے پاس بیٹھتے تو وہ ہم کو احادیث سناتے اور کہتے ان کو سنو، سمجھو اور جو سنتے ہو اس کو دوسروں تک پہنچاؤ‘‘ (۳۸)
سلمان بن حبیب محاربی بیان کرتے ہیں : میں حمص کی مسجد میں گیا، دیکھا کہ مکحول ؒ اور ابن زیاد زکریا دونوں بیٹھے ہوئے ہیں۔مکحول ؒ نے کہا کہ اس وقت دل چاہتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے صحابی حضرت ابوامامہؓ باہلی کے حضور چلتے ،ان کی کچھ خدمت کرتے اور ان سے کچھ حدیثیں سنتے۔سلمان کہتے ہیں:ہم لوگ اٹھے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اس کے بعد فرمایا:تمہارا میرے پاس آنا تمہارے لیے باعثِ رحمت بھی ہے اور تمہارے اوپر حجت بھی،(یعنی اگر تم حدیث کی خلاف ورزی کروگے)میں نے رسول اللہﷺ کو اس امت کے حق میں جھوٹ اور تعصب سے زیادہ اور کسی چیز کا خوف کرتے ہوئے نہیں دیکھا، آگاہ رہو جھوٹ اور تعصب سے بچوپھرفرمایا:
الا وانہ أمرنا ان نبلّغکم ذالک عنہ ألا وقد فعلنا فأبلغوا عنا ما قد بلّغناکم۔ (۳۹)
’’آگاہ رہو رسول اللہ ﷺنے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم یہ باتیں تم تک پہنچادیں۔آگاہ رہو ہم نے پہنچادیں ،لہذا اب تم ان باتوں کو جو ہم سے تم نے سنیں ہیں دوسروں تک پہنچادینا۔‘‘
حضرت عمروؓ بن مرہ جہنی کی اپنی قوم کے لیے دعوت
حضرت عمروؓ بن مرہ جہنینے رسول اللہ ﷺکی بعثت کی خبرسنی تو خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکراسلام قبول کرلیااور قرآن مجید کی تعلیم حضرت معاذ بن جبلؓ سے حاصل کی(۴۰) پھر بارگاہِ رسالت میں عرض کیا:یارسول اللہﷺ آپ مجھے میری قوم میں بھیج دیں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر بھی میرے ذریعہ فضل فرمادے جیسے آپﷺکے ذریعہ سے مجھ پرفرمایا ۔چنانچہ رسول اللہﷺنے ان کو ان کی قوم میں دعوتِ اسلام کی اجازت مرحمت فرمائی، انہوں نے قوم کوان الفاظ میں اسلام کی طرف بلایا:
یا معشر جہینۃ ! انی رسول رسول اللّٰہﷺ الیکم ادعوکم الی الاسلام واٰمر کم بحق الدماء وصلۃ الارحام، وعبادۃ اللّٰہ وحدہ، ورفض الاصنام وبحج البیت، وصام شھر رمضان شھر من اثنی عشر شھرا، فمن اجاب فلہ الجنۃ ومن عصی فلہ النار۔ (۴۱)
’’اے قبیلہ جہینہ! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کاقاصد ہوں اور تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں،اور میں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم خون کی حفاظت کرو،صلہ رحمی کرو،ایک اللہ کی عبادت کرو،بتوں کو چھوڑ دو،بیت اللہ کا حج کرو اور بارہ مہینوں میں سے رمضان کے روزے رکھو۔جو مان لے گا اس کے لیے جنت ہے اور جس نے نافرمانی کی اس کے لیے جہنم کی آگ ہے‘‘۔
حضرت عمروؓ بن مرہ کی مسلسل دعوت اور کوشش سے ان کی قوم نے اسلام قبول کرلیاتو وہ اپنی قوم کو لے کر بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا استقبال فرمایا، ان کو درازئ عمر کی دعا دی اور ان کی قوم کے لیے ایک تحریر لکھ کر دی۔ (۴۲)
رفاعہ ؓ بن زید جزامی کی اپنی قوم کے لیے بطور مبلغ تقرری
خیبر سے قبل صلح حدیبیہ کے موقع پر رفاعہؓ بن زیدجزامی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔رسول اللہ ﷺنے انہیں ایک تحریر ان کی قوم کے لیے لکھ دی اور ان کو اپنی قوم کی طرف مبلغ بنا کر روانہ فرمایا۔ اس خط میں تحریر تھا:
ھذا کتاب من محمد رسول اللّٰہﷺ لرفاعۃؓ بن زید، انی بعثتہ الی قومہ عامۃ، ومن دخل فیھم، یدعوہم الی اللّٰہ والی رسولہ، فمن اقبل منہم ففی حزب اللّٰہ وحزب رسولہ۔ (۴۳)
’’یہ محمد رسول اللہ کی جانب سے رفاعہ بن زید کے لیے تحریر ہے کہ میں نے انہیں ان کی عام قوم کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جوان کی قوم میں داخل ہوں، بھیجا ہے،رفاعہ ان سب کو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف دعوت دیں گے ،جوان کی دعوت کو قبول کرے گا ،اللہ اور اس کے رسول کی جماعت میں شمار ہوگا۔‘‘
پھر جب رفاعہ بن زید اپنی قوم میں پہنچے تو قوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور اسلام قبول کرلیا۔(۴۴)
عروہؓ بن مسعود کی ثقیف کو دعوت /عثمانؓ بن ابی العاص کا بطور امیر تقرر
ابن اسحاق کی روایت ہے کہ ماہ رمضان ۹ ھ میں جب رسول اللہﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لارہے تھے عروہؓ بن مسعود ثقفی نے آپﷺ کی خدمت میں حاضرہوکر اسلام قبول کرلیااور عرض کیا کہ مجھے اپنی قوم میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ میں ان کو اسلام کی طرف بلاؤں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہیں ایسا نہ ہو کہ ثقیف تمہیں قتل کرڈالیں ۔عروہؓ نے عرض کیا:یا رسول اللہﷺ ! میں ان کے نزدیک باکرہ عورتوں سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔
چنانچہ وہ اس امید پر کہ قوم ان کی مخالفت نہیں کرے گی بڑے جذبے کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے اسلام کی دعوت کے لیے روانہ ہوئے ۔جب وہ اپنے مکان کے بالاخانے پرنمودار ہوئے ،قوم کو اسلام کی طرف بلایا اور ان پر اپنا دین ظاہر کیا تو انہوں نے ہر طرف سے ان پر تیروں کا مینہ برسادیا جس سے آپؓ شہید ہوگئے لیکن حضرت عروہؓ بن مسعود ثقفی کی یہ قربانی رائیگاں نہ گئی، جلد ہی قوم کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔چھ افراد پر مشتمل ایک وفد بارگاہِ رسالت ؐمیں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیااور مدینہ میں ٹھہر کر اسلام کی تعلیمات سے فیض یاب ہونے لگے۔ جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو رسول اللہ ﷺنے ان کے لیے ایک تحریر لکھ دی اور عثمان بن ابی العاص کو ان کا امیر مقرر کیا ۔
ابن ہشام نے ا ن کے تقرر کی یہ حکمت بیان کی ہے:ان لوگوں میں انہیں اسلام کو ٹھیک طور پر سمجھنے اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کا سب سے زیادہ شوق تھااور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی یہ کہتے ہوئے ان کے تقرر کی سفارش کی:
یارسول اللّٰہﷺ! انی قدرأیت ھذا الغلام منھم من احر صھم علی التفقہ فی الاسلام، وتعلم القرآن۔ (۴۵)
’’یارسول اللہ ﷺ !میں اس لڑکے کو ان لوگوں میں تفقہ فی الدین ،مسائل دینی اور قرآن سیکھنے کا سب سے زیادہ حریص پاتا ہوں‘‘۔
وفد بنو تمیم
بنو تمیم کا وفد بڑی شان وشوکت سے ۹ھ میں مدینہ آیا۔ وفد میں قبیلہ کے تقریباً تمام بڑے رؤسا مثلاً اقرع بن حابس، عمروبن اہتم ،نعیم بن یزید، قیس بن حارث ،عطا رد بن حاجب زبر قان بن بدر اور عیینہ بن حصن وغیرہ شامل تھے۔ یہ لوگ اپنے خطیب اور شاعر ساتھ لے کر آئے تھے۔ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
کان فی وفد تمیم سبعون او ثمانون رجلا ثم اسلمواالقوم وبقوا بالمدینۃ مدۃ یتعلمون القرآن والدین۔ (۴۶)
’’قبیلہ بنو تمیم کے ستر یا اسی افراد وفد کی صورت میں حاضر ہوکر اسلام لائے اور مدینہ میں ایک مدت تک دین اسلام اور قرآن کی تعلیم حاصل کرتے رہے‘‘۔
اسی وفد کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ مقدسہ نازل فرمائی تھی:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَا دُوْنَکَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُھُمْ لَایَعْقِلُوْنَ۔ (الحجرات ۴۹:۴)
’’وہ لوگ جوآپ ﷺ کو حجروں کے عقب سے پکارتے ہیں ان میں سے بیشتر ناسمجھ ہیں‘‘۔
جب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو انہوں نے کہا ! اے محمدﷺ !ہم تمہارے پاس مفاخرہ کرنے کے لیے آئے ہیں ۔اس لیے ہمارے شاعر اور خطیب کو اجازت دو‘‘چنانچہ بنو تمیم کی طرف سے عطارد بن حاجب نے تقریر کی اور رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے ثابتؓ بن قیس نے اس کا جواب دیا۔ اسی طرح زبرقان بن بدر نے فخریہ اشعار پڑھے تو ابنِ اسحاق کے بقول رسول اللہﷺ نے حسانؓ بن ثابت کو بلوا بھیجا تو انہوں نے ان کا جواب دیا۔دوطرفہ مفاخرہ کے بعد اقرع بن حابس یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے:
’’باپ کی قسم! یہ آدمی (نبی کریمﷺ)وہ ہیں جن کو توفیق الہٰی حاصل ہے، ان کا خطیب ہمارے خطیب سے بہترہے ،ان کاشاعر ہمارے شاعر سے بہتر ہے اور ان کے الفاظ ہمارے الفاظ سے شیریں ہیں۔‘‘
پھر بنو تمیم کے وفد کے تمام افراد اسلام لے آئے، رسول اللہ ﷺنے انہیں بہترین انعامات سے نوازا۔(۴۷)
ضمامؓ بن ثعلبہ کی بنوسعد بن بکر کو دعوتِ اسلام
ابنِ اسحاق کا بیان ہے کہ بنو سعد بن بکرنے ضمامؓ بن ثعلبہ کو بارگاہِ رسالت میں اپنا نمائندہ بناکر بھیجا تاکہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ کر آئیں۔ضمام بڑے جری انسان تھے، چنانچہ یہ مسجدِ نبوی میں داخل ہوئے اور پوچھا: ایکم ابن عبدالمطلب؟ (تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟) رسول اللہﷺنے جواب دیا! ’’انا ابنِ عبدالمطلب‘‘۔(میں عبدالمطلب کابیٹا ہوں)۔پھر ضمامؓ بن ثعلبہ نے اسلام کے متعلق کئی سوال کیے، جن کو ابنِ ہشام اور دوسرے مؤرخین نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔مطمئن ہونے کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور کہا!
فانی اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ واشھد ان محمدا رسول اللّٰہﷺ وسأودّی ھذہ الفرائض واجتنب ما نہیتنی عنہ، ثم لا ازید ولا انقص۔ (۴۸)
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے واحد کے سوا کوئی معبو دنہیں ۔اور اقرار کرتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں،اور میں یہ فرائض ادا کرتا رہوں گا اور جن چیزوں سے آپ ﷺنے منع فرمایا ان سے پرہیز کروں گا،پھر میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی کروں گا‘‘۔
پھر اپنے اونٹ پر بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔جب اپنی قوم میں پہنچے تو پوری قوم ان کے پاس جمع ہوگئی چنانچہ انہوں نے قوم سے جوپہلی بات کہی وہ یہ تھی:
بئست اللات والعزی! قالوا: مہ یاضمام! اتق البرص، اتق الجذام، اتق الجنون! قال: ویلکم! انھما واللّٰہ لا یضران ولاینفعان، ان اللّٰہ قد بعث رسولا وانزل علیہ کتابا استنقذکم بہ مما کنتم فیہ، وانی اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ، وقد جئتکم من عندہ بما امر کم بہ، ومانھا کم عنہ۔ (۴۹)
’’لات وعزی کتنے برے ہیں،اس پر قوم نے کہا: ضمام!ٹھہرو،ٹھہرو!برص میں مبتلاہونے سے ڈرو، جذام میں مبتلا ہونے سے ڈرواور جنون سے ڈرو۔ ضمام نے جواب دیا !تمہارا براہو،خدا کی قسم ! یہ دونوں نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ نفع پہنچاسکتے ہیں۔بے شک اللہ نے ایک رسول بھیجا ہے اور اس پر ایک کتا ب نازل کی ہے جس کے ذریعے سے رسول اللہﷺنے تمہیں اس گمراہی سے نکالاہے جس میں تم پڑے ہوئے تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے واحد کے سوا کوئی اور معبودنہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمدﷺ اللہ کے بند ے اور رسول ہیں اور میں تمہارے پاس ان کی طرف سے وہ لایا ہوں جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے اور وہ لایا ہوں جس سے انہوں نے تمہیں منع کیا ہے‘‘۔
راوی (ابنِ عباس) کا بیان ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی اس قبیلے کے ہرمردوعورت نے اسلام قبول کرلیا۔
اکثمؓ بن صیفی کی اپنی قوم کو دعوتِ اسلام
حضرت اکثمؓ کو ظہورِ اسلام کی خبر ہوئی تو د وآدمیوں کو رسول اللہ کی خدمت میں بھیجا کہ تحقیقِ حال کریں وہ دونوں خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپﷺنے ان کو یہ آیت سنائی:
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِی الْقُرْبیٰ وَیَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلََّکُمْ تَذَکََّرُوْنَ۔ (النحل ، ۱۶:۹۰)
’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل،احسان اور قرابت داروں کو دینے کاحکم کرتا ہے اور فحاشی،برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔خدا تم کو نصیحت کرتا ہے شاید تم سمجھو اور سوچو‘‘۔
ان لوگوں نے جاکر ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے تمام قوم کی طرف خطاب کرکے کہا:
یا قوم! أراہ یأمر بمکارم الاخلاق وینھیٰ عن ملائمھا فکونوا فی ھذا الأمر رؤسا ولاتکونوا ادنابا وکونوا فیہ اولا ولا تکونوا فیہ آخر۔
’’اے میری قوم یہ پیغمبر مکارمِ اخلاق کاحکم دیتا ہے ۔ اور ذمائم اخلاق سے روکتا ہے تم لوگ قبول اسلام میں دم نہ بنو ،سر بنو، مقدم بنو،مؤخر نہ ہو‘‘۔
اس کے بعد تادمِ مرگ اس کوشش میں مصروف رہے،انتقال ہوا تو اہلِ عیال کوتقویٰ اور صلہ رحمی کی وصیت کی۔(۵۰)
حضرت زیادؓ بن حارث کی اپنی قوم کو بذریعہ خط دعوتِ اسلام
حضرت زیادؓ بن حارث صدائی فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام پر آپﷺسے بیعت ہوا۔مجھے پتہ چلاکہ حضورﷺنے ایک لشکر میری قوم کی طرف بھیجا ہے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپﷺ لشکر واپس بلالیں،میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میری قوم مسلمان بھی ہوجائے گی اور آپﷺ کی اطاعت بھی کرے گی۔آپﷺنے فرمایا تم جاؤ اور اس لشکر کو واپس بلالاؤ۔میں نے کہا یارسول اللہﷺ میری سواری تھکی ہوئی ہے۔حضورﷺنے ایک آدمی کو بھیج کر لشکر واپس بلوالیا۔میں نے اپنی قوم کو خط لکھا ۔ وہ مسلمان ہوگئے اور ان کا ایک وفد یہ خبرلے کر حضور کی خدمت میں آیا آپﷺنے مجھ سے فرمایا:
یا اخاصداء! ’’انک لمطاع فی قومک‘‘ فقلت: ’’بل اللّٰہ ھذا ھم للاسلام فقالﷺ: افلا اؤمّرک علیھم؟‘‘ قلت! بلی یارسول اللّٰہﷺ! قال: فکتب لی کتابا امّرنی۔ (۵۱)
’’اے صدائی بھائی!واقعی تمہار ی قوم تمہاری بات مانتی ہے ۔میں نے کہا (اس میں میرا کمال نہیں) بلکہ اللہ نے ان کو اسلام کی ہدایت دی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ان کا امیر نہ بنادوں؟میں نے کہا بنادیںیارسول اللہ!چنانچہ حضور ﷺ نے میری امارت کے بارے مجھے ایک خط لکھ کر دیا۔‘‘
فروہ ؓ بن مسیک کی اپنی قوم کو دعوتِ اسلام
فروہؓ بن مسیک ۱۰ھ میں خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔فروہ کا قبیلہ مراد سے تعلق تھا۔قبولِ اسلام کے بعد عرض کیا یارسول اللہ ﷺ مجھے اجازت ہوتو اپنی قوم کے اہلِ اسلام کو ساتھ لے کر اپنی قوم کے کافروں سے قتال کروں،رسول اللہﷺنے ان کو اجازت دے دی ۔ جب یہ چلے تو رسول اللہﷺنے ایک آدمی بھیج کر ان کو بلوالیااور فرمایا:
ادع القوم فمن اسلم منھم فاقبل منہ ومن لم یسلم فلا تعجل حتی احدثا لیک۔ (۵۲)
’’تم اپنی قوم کو اسلام کی ترغیب دینا ،جو شخص اسلام لے آئے اس کا اسلام قبول کرلینااور جو انکار کرے اس کے بارے میں توقف کرنا یہاں تک کہ میں تم کو کوئی حکم بھیجوں‘‘
ابوثعلبہؓ خشنی کی اپنی قوم کو دعوتِ اسلام
حضرت ابو ثعلبہؓ جر ثوم بن ناشب خشنیکاتعلق قبیلہ قضاعہ کی شاخ خشین سے تھا۔ یہ حدیبیہ اور بیعتِ رضوان میں شریک تھے۔ رسول اللہ ﷺنے ابو ثعلبہؓ کو ان کے اپنے قبیلہ کی طرف ہی مبلغ بنا کر بھیجا چنانچہ حضرت ابو ثعلبہؓ کی کوششوں سے ان کا پورا قبیلہ رسول اللہ کی زندگی ہی میں اسلام لے آیا۔(۵۳) ابنِ عبدالبر کا بیان ہے:
وارسلہ رسول اللّٰہ ﷺالی قومہ فاسلموا۔ (۵۴)
’’رسول اللہ ﷺ نے ان کو ان کی قوم کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا پس ان کی قوم نے ان کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا۔‘‘
عامرؓ بن شہر کی قبیلہ ہمدان کو دعوتِ اسلام
عامرؓ بن شہر ایک زمانہ تک بادشاہوں کی صحبت میں رہ چکے تھے اور اپنے قبیلے کے قابل ترین فرد تھے۔ جب رسول اللہﷺ کی بعثت کی خبر ان کے قبیلہ ہمدان کوملی تو قبیلہ والوں نے ان سے کہا کہ تم اس شخص (یعنی رسول اللہﷺ)کے پاس جاؤ اور جس چیز کو تم ہمارے لیے اچھا سمجھوگے اس کو ہم کریں گے اور جس کو برا سمجھو گے اس کونہ کریں گے۔چنانچہ عامرؓ بن شہر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگئے۔پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی تو کئی لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ۔ (۵۵)
حارثؓ بن ضرارکی اپنی قوم کو دعوتِ اسلام
حضرت حارثؓ بن ضرار نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا تو رسول اللہ ﷺنے ان کو عقائد اسلام اور زکوٰۃ کی تعلیم دی۔اس کے بعد انہوں نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺآپ ﷺمجھے اجازت دیں کہ میں اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤں تاکہ ان کو اسلام اور اداءِ زکوٰۃ کی دعوت دوں۔چنانچہ رسول اللہﷺکی اجازت سے حضرت حارثؓ بن ضرار واپس اپنی قوم میں آگئے اور ان کو اسلام کی طرف بلایا تو قوم نے ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کرلیا ۔حضرت حارثؓ زکوٰۃ اکٹھی کرکے خود مدینہ حاضر ہوئے۔ (۵۶)
عمروؓ بن حسان کی اپنی قوم کو دعوتِ اسلام
حضرت عمروؓ بن حسان نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا تو تمام لوگ مسلمان ہوگئے۔ چنانچہ وہ بارگاہِ رسا لت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہﷺ میں نے اپنے پیچھے کسی شخص کو نہیں چھوڑا جس سے میں نے اسلام پر بیعت نہ لے لی ہو اور وہ آپ ﷺپر ایمان نہ لایا ہو سوائے قبیلہ کے خاندان بنی جون کی ایک ضعیفہ یعنی میری والدہ کے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ارفق بھا (ان کے ساتھ نرمی کرو)۔ (۵۷)
قیسؓ بن نشیہ کی بنی سلیم کو دعوتِ اسلام
حضرت قیس بن نشیہؓ قبولِ اسلام کے بعد اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا:
یابنی سیلم! سمعت ترجمۃ الروم وفارس واشعار العرب والکھان ومقاول حمیر وماکلام محمدؐ یشبہ شیئًا من کلامھم فاطیعونی فی محمد فانکم اخوالہ۔ (۵۸)
’’اے بنو سلیم! میں نے روم وفارس کے تراجم اور عرب، کہان اور حمیر کے بہادروں کے اشعار سنے ہیں لیکن محمدﷺ کا کلام ان سب سے الگ ہے، پس محمد کے معاملے میں میری اطاعت کرو،کیونکہ تم ان کے ماموں ہو‘‘۔
ابنِ اثیر کی روایت کے مطابق حضرت قیس بن غزیہؓ نے بھی اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا تھا۔ (۵۹)
مالکؓ بن احمر کی اہلِ فدک کو دعوتِ اسلام
جب رسول اللہﷺ تبوک کے مقام پر تشریف لائے تو مالکؓ بن احمر بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوکر اسلام لے آئے اور عرض کیا کہ انہیں تبلیغِ دین کے بارے میں ایک اجازت لکھ دیں جس کے ذریعہ وہ اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلائیں ،چنانچہ رسول اللہﷺ نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر ان کو تحریر لکھ دی۔ (۶۰)
محیصہؓ بن مسعودکی اپنی قوم کو دعوتِ اسلام
حضرت محیصہؓ بن مسعود کورسول اللہﷺ نے اہلِ فدک کے پاس ارشاد وہدایت کے لیے روانہ فرمایا، محیصہؓ بن مسعودجوان کے بڑے بھائی تھے وہ ان ہی کی کوششوں سے مسلمان ہوئے۔ (۶۱)
مسعودؓ بن وائل کی بنی سلیم کو دعوتِ اسلام
حضرت مسعودؓ بن وائل مشرف بہ اسلام ہوئے تو درخواست کی:
یارسول اللّٰہ ﷺ! انی احب ان تبعث الی قومی رجلا یدعوھم الی الاسلام۔
’’یارسول اللہ ﷺ! آپؐ میری قوم کی طرف کسی آدمی کو روانہ کریں جو ان میں اسلام کی تبلیغ کرے‘‘۔
رسول اللہﷺنے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ خود اپنے قبیلے میں دعوت کاکام کریں۔ (۶۲)
عبداللہؓ بن عوسجہ کی قبیلہ حارثہ بن عمروکو دعوتِ اسلام
حضرت عبداللہؓ بن عوسجہ البجلی کو رسول اللہ ﷺنے اپنا خط دے کر قبیلہ حارثہ بن عمرو بن قریط کے پاس تبلیغ وہدایت کے لیے بھیجا،چنانچہ انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی ،لیکن یہ لوگ اسلام سے محروم رہے۔ (۶۳)
قیسؓ بن یزید کی اپنی قوم کو دعوتِ اسلام
اسی طرح ابن اثیر قیسؓ بن یزید کے تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے بھی اپنی قوم کواسلام کی دعوت دی:’’فدعا قومہ الی الاسلام فاسلموا‘‘ (۶۴)
عمروؓ بن حزم کا بنو حارث بن کعب کی طرف بطور مبلغ تقرر
ربیع الاول ۱۰ھ میں رسول اللہﷺ نے خالدؓبن ولید کو بنو حارث بن کعب کے پاس نجران دعوت وتبلیغ کی خاطر روانہ فرمایا ۔ بنو حارث نے اسلام قبول کرلیا ،تو خالد بن ولید نے بذریعہ خط کامیابی کی اطلاع بارگاہِ رسالت میں بھیجی تو رسول اللہ ﷺنے جوابی خط میں ان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ساتھ بنو حارث کا وفد لے کر واپس آجائیں ،چنانچہ حضرت خالدؓ بنو حارث کے وفد سمیت مدینہ حاضر ہوگئے۔ چشمہء نبوت سے براہِ راست فیض یاب ہونے کے بعد جب یہ وفد واپس جانے لگا تو آپﷺنے بنوحارث بن کعب پر قیسؓ بن حصن کو امیر مقرر فرمایا اور ان لوگوں کے جانے کے بعد آپﷺنے عمروؓ بن حزم کو ان کی طرف روانہ فرمایا۔ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان سے صدقات وغیرہ وصول کریں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد تھی۔ ابن ہشام لکھتے ہیں:
وقد کان رسول اللّٰہﷺ قد بعث الیہم بعد ان ولی وفدھم عمروؓ بن حزم، لیفقّھھم فی الدین، ویعلّمھم السنۃ ومعالم الاسلام۔ (۶۵)
’’رسول اللہﷺنے عمروؓ بن حزم کو بنو حارث بن کعب کی طرف بھیجا تاکہ وہاں جاکر ان میں دین کا فہم پیدا کریں اور انہیں سنتِ رسول ﷺاور اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں‘‘۔
رسول اللہﷺنے معاذؓ بن جبل کو یمن کے ایک حصہ کا عامل اور قاضی بنا کر بھیجا تو ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ لوگوں میں اسلامی شعور پیدا کریں اور ان کو قرآن کی تعلیم دیں ۔ابنِ عبدالبر لکھتے ہیں:
بعثہ رسول اللّٰہﷺ قاضیا الی الجند من الیمن یعلّم الناس القرآن وشرائع الاسلام۔ (۶۶)
’’رسول اللہ ﷺنے ان کو یمن کے ایک حصہ کا قاضی مقرر فرماکر بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو قرآن مجید اور احکامِ دین کی تعلیم دیں‘‘۔
خلاصۂ بحث
قبائل عرب میں کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس کو رسول اللہﷺنے براہِ راست اللہ تعالیٰ کا پیغام نہ سنایا ہو۔ بالخصوص مکی عہدِ نبوت میں جب قبائل عرب ایامِ حج میں مکہ آتے تو آپﷺایک ایک قبیلہ اور خاندان کے پاس خود جاکر ان کو اسلام کی دعوت پیش فرماتے ،تاہم وہ لوگ جن کو آپؐ ﷺبراہِ راست دعوتِ اسلام نہ دے سکے آپﷺنے ان کی طرف اپنے صحابہؓ کو بطور مبلغ روانہ فرمایا۔
مدنی عہدِ نبوت میں آپﷺنے کثرت کے ساتھ قبائل عرب کی طرف دعوتی وتبلیغی مہمات روانہ فرمائیں اور صحابہ کرامؓ کو دعوتِ اسلام کی ذمہ داری سونپی۔اگرچہ ہرقبیلہ کی طرف بھیجے جانے والے مبلیغین اور ان کی سرگرمیو ں کا ہمیں تفصیلی ذکر نہیں ملتا تاہم مدنی دور میں جس تیزی سے اسلام پھیلا وہ بذاتِ خود آپﷺ کے ان گم نام مبلغین کی انتھک کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جن کے بارے میں ماخذ یا تو بالکل خاموش ہے یا ان کے بارے میں چند اشارے اور منتشر معلومات ملتی ہیں، ایسے ہی ایک گمنام مبلغ کے بارے میں حضرت احنفؓ بن قیس کے اس بیان سے پتہ چلتا ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’میں حضرت عثمانؓ کے زمانے میں بیت اللہ کا طواف کررہاتھا کہ اتنے میں بنو لیث کے ایک آدمی نے میرا ہاتھ پکڑکر کہا میں تم کو ایک خوشخبری نہ سنادوں؟ میں نے کہا ضرور۔اس نے کہا کیاتمہیں یا دہے کہ مجھے رسول اللہﷺنے تمہاری قوم کے پاس بھیجا تھا ۔میں ان پر اسلام کوپیش کرنے لگا اور ان کو اسلام کی دعوت دینے لگا تو تم نے کہاتھا کہ تم ہمیں بھلائی کی دعوت دے رہے ہواور بھلی با ت کا حکم کررہے ہواور وہ (رسول اللہﷺ)بھلائی کی دعوت دے رہے ہیں۔ رسول اللہﷺکو جب تمہاری بات پہنچی تو آپﷺنے فرمایا: اللّٰھم! اغفر للاحنفؓ ’’اے اللہ! احنفؓ کی مغفرت فرما‘‘۔ حضرت احنفؓ فرمایاکرتے تھے کہ میرے پاس ایسا کوئی عمل نہیں ہے جس پر مجھے رسول اللہﷺ کی اس دعا سے زیادہ امید ہو۔‘‘ (۶۷)
اسی نوعیت کا ایک واقعہ عبد خیرؓ ابنِ یزید بیان کرتے ہیں:
’’میں ملکِ یمن میں تھا وہاں لوگوں کے پاس رسول اللہﷺ کا خط پہنچا جس میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔ اس وقت میرے والد کہیں باہرگئے ہوئے تھے اور میر ی عمر ابھی کم تھی، جب میرے والد واپس آئے تو میری والدہ سے کہا کہ دیگ کو کتوں کے سامنے بہادو اس لیے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں، پس اس وقت میں اسلام لے آیا۔ دیگ کے بہانے کاحکم اس لیے دیاتھا کہ اس میں مردار پکا ہواتھا‘‘۔(۶۸)
بنو لیث سے تعلق رکھنے والے یہ مبلغ صحابی کون تھے؟ جن کو رسول اللہﷺنے حضرت احنفؓ بن قیس کی قوم میں دعوت وتبلیغ کے لیے بھیجا تھا اس بارے میں ہمارے پاس کوئی ذریعہ معلومات نہیں ہے ۔ اسی طرح ملک یمن میں رسول اللہ ﷺ کا دعوتی خط لے کر جانے والے صحابی کون تھے؟جن کی سرگرمیوں کااشارہ حضرت عبد خیرؓ بن یزید کے بیان سے ملتا ہے ۔تاہم اس قسم کی روایا ت سے یہ رائے ضرور قائم کی جاسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بلا تخصیص تما م قبائل عرب کی طرف صحابہ کرامؓ کودعوت و تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا،اگرچہ ان کی دعوتی سرگرمیوں کے بارے میں کتب سیروتاریخ خاموش ہیں۔
اسی طرح وفود عرب بھی مدنی دور میں دعوت وتبلیغ کا انتہائی موثر ذریعہ ثابت ہوئے ۔وفود عرب ،جو عام طور پرقبائلی رؤسا اور سردارانِ قوم پر مشتمل ہوتے تھے،کو رسول اللہ ﷺ مناسب تعلیم وتربیت کے ساتھ ان کے اپنے ہی قبائل میں دعوت وتبلیغ کے لیے بھیج دیتے۔ رسول اللہ ﷺکی یہ حکمتِ عملی انتہائی کامیاب رہی اور اس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے۔
عرب کے مخصوص قبائلی اور معاشرتی ماحول میں جہاں سردارِ قوم کا مذہب ہی پورے قبیلے اور خاندان کامذہب اور دین ہوتا تھا ،نومسلم سرداروں نے اشاعتِ اسلام میں اہم کردار ادا کیا، چنانچہ قبائلی رؤسا کو اپنے قبائل میں جو شخصی اثرورسوخ اور وجاہت حاصل تھی اس کی بناء پر کثیر لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ فردِ واحد کی دعوت پر پورے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا،چنانچہ حضرت سعدؓ بن معاذ،ابوثعلبہؓ،زیادؓ بن حارث ،ضمامؓ بن ثعلبہ کی دعوت پر ان کے پورے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا۔اسی طرح حضرت ضمادؓ ازدی نے قبولِ اسلام کے بعد اپنی قوم کی طرف سے بھی اسلام کی بیعت کی۔
حواشی
(*۱) امام بخاری نے ان اصحاب کی تعداد دس بیان کی ہے ۔(صحیح البخاری ، کتاب المغازی ، باب غزوۃالرجیع ، ح:۴۰۸۶) امام سہیلی نے بھی دس کے قول کو ہی ترجیح دی ہے جن میں سے چھ مہاجر اور چار انصار صحابہ تھے ۔ (الروض الانف ، ذکر یوم الرجیع ،۲/۱۶۷) جب کہ ابن الاثیر نے ان مبلغین کی تعداد چھ بیان کی ہے ۔(اسد الغابہ ، تذکرہ عبداللہؓ بن طارق ، ۵/۲۵۸)
(*۲) وفد بنی تمیم ستر یا اسی افراد پر مشتمل تھا (الاستیعاب ، تذکرہ عمر وؓ بن اہتم ، ۳/۱۱۶۳) جبکہ وفد بجیلہ میں شامل افراد کی تعدا د ایک سو پچاس بیان کی جاتی ہے۔ (ابن سعد ، ۱/۳۴۷)
حوالہ جات
(۱) صحیح البخاری، کتاب الادب ،باب رحمۃ الناس والبھائم ،ح:۶۰۰۸،ص:۱۰۵۱۔ ایضاً،کتاب الاذان،باب الاذان للمسافرین.....ح:۶۳۱،ص:۱۰۴۔ صحیح مسلم ،کتاب المساجد،باب من احق بالامامۃ؟ح:۱۵۳۵،ص:۲۷۲۔ سننِ نسائی ، کتاب الاذان ،باب اجتزاء المرء باذان غیرہ فی الحضر،ح:۶۳۶،ص:۸۸
(۲) صحیح البخاری ، کتاب العلم ، باب تحریص النبی ﷺ وفد عبدالقیس علی ان یحفظو االایمان .............ح:۸۷، ص:۲۰۔ ایضاً،کتاب الایمان،باب اداء الخمس من الایمان ، ح:۵۳،ص:۱۳
(۳) سنن ابن ماجہ ، المقدمہ ، باب فضل العلماء و الحث الی طلب العلم ، ح:۲۲۹،ص:۳۵۔ سنن الدارمی ، المقدمہ ، باب فی فضل العلم والعالم ، ح :۳۵۵، ۱/۱۰۵
(۴) ابو نعیم الاصفہانی،’’حلےۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء‘‘ ، ذکر اہل الصفۃ،۱/۴۱۹،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،۱۹۹۷ء
(۵) کتانی ، عبدالحء، علامہ ، ’’نظام الحکومۃ النبوےۃ‘‘، (مترجم ، مولانا معظم الحق )ص:۳۲۷
(۶) سنن ابی داؤد ، کتاب البیوع ، باب کسب المعلم ، ح :۳۴۱۶، ص:۴۹۵۔المسند ،حدیث عبادہؓ بن صامت ح:۲۲۱۸۱، ۶/۴۲۹
(۷) اسد الغابہ ، تذکرہ عبداللہؓ بن سعید بن العاص ، ۳/ ۱۷۵۔الاستیعاب ، تذکرہ عبداللہؓ بن العاص،۳/۳۹۰
(۸) جمع الفوائد ،کتاب العلم، ۱/۴۸
(۹) المسند ، حدیث جابرؓ بن سمرہ،ح :۲۰۲۳۳۳، ۶/۹۵۔۹۶
(۱۰) المسند، مسند انسؓ بن مالک ،ح :۱۱۹۹۴، ۳/۵۹۸
(۱۱) صحیح مسلم ،کتاب فضائل الصحابہ ، باب فضائل ابی ہریرہؓ ، ح :۲۴۹۲، ص:۱۰۹۷۔ صحیح البخاری ، کتاب العلم ، باب حفظ العلم ، ح:۱۱۸، ص:۲۵
(۱۲) صحیح البخاری ، کتاب العلم ، باب التناوب فی العلم ، ح:۸۹، ص:۲۱
(۱۳) سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب فی التحلق، ح:۴۸۲۳، ص:۶۸۲
(۱۴) صحیح البخاری ، کتاب العلم ،باب من اعاد الحدیث ثلاثا لیفہم عنہ ، ح:۹۵،ص:۲۲
(۱۵) سنن ابی داؤد ،کتاب العلم ، باب فی سرد الحدیث ،ح:۳۶۵۵،ص:۵۲۴
(۱۶) ایضاً
(۱۷) صحیح مسلم ، کتاب المساجد ، باب تحریم الکلام فی الصلوۃ ، ح:۱۱۹۹،ص:۲۱۸
(۱۸) سنن ابی داؤد ، کتاب العلم ، باب فی القصص ، ح :۳۶۶۶،ص:۵۲۶
(۱۹) آل عمران ، ۳:۱۱۰
(۲۰) صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب ثبوت الجنۃ للشہید، ح:۴۹۱۷، ص:۸۵۱۔ المسند ، مسند انسؓ بن مالک ، ح:۱۱۹۹۴، ۳/۵۹۸
(۲۱) ابن ہشام ، ذکر یوم الرجیع ، ۳/۱۸۷۔۳۰۳، تاریخ الامم والملوک ، ۳/۲۹-۳۱(واقعات ۴ھ)
(۲۲) صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب ثبوت الجنۃ للشہید، ح:۴۹۱۷، ص:۸۵۱
(۲۳) ابن ہشام ، حدیث بئرمعونۃ ، ۳/۲۰۴۔۲۱۰۔ اسد الغابہ ، تذکرہ منذرؓ بن عمرو، ۴/۴۱۸
(۲۴) فتح الباری ، ۱۰/۲۵۲
(۲۵) سنن ابی داؤد ، کتاب الجہاد ، باب فی دعاء المشرکین ، ح:۲۶۱۲، ص:۳۷۷۔ سنن ابن ماجہ ، ابواب الجہاد ، باب وصےۃ الامام ، ح:۲۸۵۸، ص:۴۱۲۔ المسند ، حدیث بریدہؓ الاسلمی ، ح:۲۲۵۲۱، ۶/۴۹۲
(۲۶) المسند ، مسند صفوانؓ بن امیہ ، ح:۱۴۸۸۲، ۴/۴۰۱
(۲۷) صحیح البخاری ، کتاب الادب ، باب رحمۃ الناس وا لبہائم ، ح:۶۰۰۸، ص:۱۰۵۱
(۲۸) صحیح البخاری ، کتاب التمنی ، ص:۱۲۵۰
(۲۹) ابن ہشام ، اسلام بنی الحارث بن کعب ........... ۴/۲۴۹
(۳۰) تفسیر خازن ، تفسیر سورۃ التوبہ، آیت ما کان المؤمنون لینفروا..........۲/۴۲۱
(۳۱) المسند ،حدیث عبادہؓ بن صامت ، ح :۲۲۲۶۰، ۶/۴۴۳
(۳۲) الاصابہ ، تذکرہ وردانؓ جدالفرات ، ۳/۲۳۳
(۳۳) المسند ، حدیث و فد عبدالقیس ، ح:۱۵۱۳۱ ، ۴/۴۵۲۔ ایضاً،ح:۱۷۳۷۶، ۵/۲۳۵
(۳۴) الاصابہ ، تذکرہ عمیرؓ بن وہب ، ۴/۱۵۰
(۳۵) اسدالغابہ ، تذکرہ عمیرؓ بن وہب ، ۴/۱۵۰
(۳۶) ابن سعد ، وفدِ کلاب،۱/۳۰۰
(۳۷) المستدرک ، ذکر ابی امامۃؓ الباہلی ، ۳/۶۴۱۔الاصابۃ ، تذکرہ صدیؓ بن عجلان ، ۲/۱۸۲
(۳۸) سنن الدارمی،المقدمہ ،باب البلاغ عن رسول اللہ ﷺوتعلیم السنن،ح:۵۵۰،۱ /۱۴۳
(۳۹) اسد الغابہ ، تذکرہ صدیؓ بن عجلان ، ۳/۱۶۔۱۷
(۴۰) الاصابہ ، ۵/۱۲
(۴۱) البدایۃ،۵/۱۲۔ کنزالعمال،۷/۶۴
(۴۲) البداےۃ ، ۵/۱۲۔ کنز العمال، ۷/۶۴
(۴۳) ابن ہشام ، قدوم رفاعۃؓ بن زیدجزامی ، ۴/۲۵۲۔اسدالغابہ،تذکرہ رفاعۃؓ بن زید،۲/۱۸۱
(۴۴) ایضاً
(۴۵) ابن ہشام ، امر وفد ثقیف و اسلامھا............ ۴/۹۴۔ تاریخ الامم و الملوک ، ۳/۱۴۱ ( واقعات ۹ھ)
(۴۶) الاستیعاب ، تذکرہ عمر وؓ بن اہتم ، ۳/۱۱۶۴
(۴۷) ابن ہشام ، قدوم وفد بنی تمیم، ۴/۲۲۱
(۴۸) ابن ہشام ، قدوم ، ضمامؓ بن ثعلبۃ وافداًعن بنی سعد بن بکر ، ۴ /۲۲۹ ۔ المسند ، مسند عبداللہ بن عباسؓ ، ح:۲۲۵۴، ۱/۴۱۴۔ صحیح البخاری ، کتاب العلم ، باب القرأۃوالعرض علی المحدث ، ح:۶۳،ص:۱۵۔ الموطأ کتاب قصر الصلوۃ فی السفر ، ح :۱۹۷،ص:۱۳۰
(۴۹) ابن ہشام ، قدوم ضمامؓ بن ثعلبہ وافد اًبنی سعد بن بکر ،۴/۲۲۹۔ المسند مسند عبداللہ بن عباسؓ ، ح:۲۳۷۶، ۱/۴۳۷۔ اسد الغابہ ، تذکرہ ضمامؓ بن ثعلبہ، ۳/۴۳۔المستدرک ، رجوع ضمامؓ بن ثعلبہ علی قومہ ، ۳/۵۴
(۵۰) اسد الغابہ تذکرہ اکثمؓ بن صیفی ، ۱/۱۱۲
(۵۱) الاصابہ، تذکرہ زیادؓ بن حارث ، ۱/۵۵۷۔ البدایہ ، ۵/۸۳
(۵۲) اسد الغابہ ، تذکرہ فروہؓ ابن مسیک ، ۴/۱۸۱
(۵۳) اسد الغابہ ، تذکرہ جرثومؓ بن ناشب ، ۱/۲۷۷
(۵۴) الاستیعاب، تذکرہ ابو ثعلبہؓ الخشنی ، ۴/۱۶۱۸
(۵۵) اسد الغابہ ، تذکرہ عامرؓ بن شہر ہمدانی ، ۳/۸۳
(۵۶) ایضاً، تذکرہ حارثؓ بن ضرار ، ۱/ ۳۳۴
(۵۷) ایضاً، تذکرہ سنبر الابراشیؓ ، ۲/۳۶۰
(۵۸) ایضاً، تذکرہ قیسؓ بن نشیہ ، ۴/۲۲۸
(۵۹) اسد الغابہ ، تذکرہ قیسؓ بن غزیہ ، ۴/۲۲۳
(۶۰) ایضاً، تذکرہ مالکؓ بن احمر ، ۴/۳۷۱
(۶۱) ایضاً، تذکرہ محیصہؓ بن مسعود ،۴/۳۳۴
(۶۲) ایضاً، مسعودؓ بن وائل ، ۴/۳۶۰
(۶۳) ایضاً ، تذکرہ عبداللہؓ بن عوسجہ ،۳/۲۳۹
(۶۴) ایضاً، تذکرہ قیسؓ بن یزید، ۴/۲۲۹
(۶۵) ابن ہشام ، اسلام بنی الحارث بن کعب ، ۴/۲۵۰۔ تاریخ الامم و الملوک ، ۳/۱۵۷(واقعات ۱۰ھ)
(۶۶) الاستیعاب ، تذکرہ معا ذ بن جبل
(۶۷) اسد الغابہ ، تذکرہ احنفؓ بن قیس، ۱ / ۵۵۔ الاصابہ ، تذکرہ احنفؓ بن قیس ، ۱/۱۰۰۔ المستدرک، ذکر احنفؓ بن قیس ، ۳/۶۱۴
(۶۸) اسد الغابہ ، تذکرہ عبد خیرؓ ابن یزید ، ۳/۲۷۷
(ہماری خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی موضوع پر گفتگو ہو تو اس کے تمام اہم پہلو قارئین کے سامنے آجائیں تاکہ انہیں رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ گزشتہ دنوں ملک کے معروف کالم نگار اور دانش ور جناب عطاء الحق قاسمی نے دینی مدارس کے حوالے سے ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کی ایک تقریر کے اہم اقتباسات روزنامہ جنگ میں اپنے کالم ’روزن دیوار‘ میں شائع کیے تو اس پر بحث کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ اس سلسلہ کے مضامین اور خطوط کو یکجا طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے جن کے آخر میں ان میں اٹھائے گئے اہم نکات پر مولانا زاہد الراشدی کا تبصرہ بھی شامل ہے ۔ مدیر)
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
(عطاء الحق قاسمی )
ہمارے ذہنوں میں مولوی کا تصور وہی ہے جو آدھی رات کو مسجد کے چیختے چنگھاڑتے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے ہم تک پہنچاہے یا سیاسی مولویوں کی دو عملی ہمارے ذہنوں میں مولوی کا امیج مسخ کرنے کا باعث بنی ہے لیکن میں ’’مولویوں‘‘ میں اٹھتا بیٹھتا ہوں۔ ان کے مثبت اور منفی پہلو دونوں میرے ذہن میں ہیں۔ وہ جو صحیح معنوں میں مولوی ہیں، ان کا وژن بہت وسیع ہے۔ مسٹر حضرات ان کی جہتوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔ ان کا طرز استدلال بڑے بڑے بزرجمہروں کا منہ بند کرنے والا ہوتا ہے ۔ہمارے مسٹر حضرات مولوی پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کرتے ہیں، وہاں وہ بہت عرصے سے مولوی کو مسلم امہ کے ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کا ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں اور ہم لوگ ان کی بات پر یقین کرتے چلے جاتے ہیں۔
مجھے گزشتہ روز ڈاک میں مولانا زاہد الراشدی کی شائع شدہ ایک تحریر ملی جو انہوں نے مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرگودھا کے سالانہ اجتماع کے موقع پر کی تھی۔ اس میں مولانا نے دیگر الزامات کے علاوہ اس الزام کا جواب بھی دیا ہے جو مولوی حضرات پر مسلمانوں کے ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ مجھے مولانا کی بات میں وزن محسوس ہوا ہے اور یوں صورتحال
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
والی لگتی ہے۔ مولانا کی تقریر سے ایک طویل اقتباس درج ذیل ہے:
’’سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے آج ہم دنیا میں اپنے جائز مقام سے محروم ہیں اور ہمارے مصائب وآلام کی ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ صرف ایک مثال سے بات سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے پون صدی یا ایک صدی قبل ہم مسلمانوں کو بہت بڑی دولت سے نوازا۔ خلیج میں تیل کی دولت دی۔ یہ ہمارا ادبار کا دور تھا، زوال کا دور تھا مگر اس دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے وقت کی سب سے بڑی دولت عطا فرمائی لیکن ہماری حالت یہ تھی کہ ہم تیل زمین سے نکالنے کی صلاحیت سے محروم تھے، چشمے کھودنے کی تکنیک سے بے بہرہ تھے، تیل نکال کر اسے ریفائن کرنے کی صلاحیت سے ہم کورے تھے اور تیل کو ریفائن کرنے کے بعد دنیا کی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے مارکیٹنگ کی صلاحیت بھی ہم میں موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم مغربی ماہرین کو بلانے پر مجبور ہوئے۔ مغربی ماہرین آئے، پھر مغربی کمپنیاں آئیں، ان کے بعد بینک آئے، پھر سیاست کار آئے اور ان کے ساتھ مغرب کی فوجیں بھی آ گئیں جو آج تیل کے چشموں کا گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں۔
ذرا خیال کیجیے کہ تیل ہمارا، چشمے ہمارے، کنویں ہمارے، زمین ہماری لیکن ان پر قبضہ کس کا ہے؟ اور کس وجہ سے ہے؟ یہ ہماری نااہلی تھی کہ ہم تیل نکالنے، صاف کرنے اور عالمی مارکیٹ میں اسے بیچنے کی صلاحیت سے محروم تھے جس کی وجہ سے مغرب سے ماہرین آئے اور آج ماہرین، کمپنیاں، بینک اور پھر فوجیں خلیج میں تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ تیل نکالنے، صاف کرنے اور مارکیٹنگ کی صلاحیت آج بھی ہم میں موجود نہیں ہے اور مغرب کے ارادے یہ ہیں کہ ابھی امریکی وزارت دفاع پینٹاگون میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر سعودی عرب نے امریکی احکامات کی من وعن تابع داری نہ کی تو اس کے تیل کے چشموں پر قبضہ کر لیا جائے گا اور مغربی ملکوں میں اس کے اثاثے اور مغربی بینکوں میں اس کے اکاؤنٹس ضبط کر لیے جائیں گے۔
اس لیے ہمیں اس کی تکلیف زیادہ ہے اور ہم اس کا درد زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے اور میں ہر اس شخص کو جس کے دل میں انصاف کی ایک رتی بھی موجود ہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز وہ اپنے پاس رکھتا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے کہ امت کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟
میں تاریخ کے حوالے سے بات کروں گا۔ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی تب دو طبقے سامنے آئے تھے اور انہوں نے ملت کو سہارا دیا تھا۔ دونوں نے الگ الگ شعبوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عوام سے تعاون کے لیے رجوع کیا، چندے مانگے، گھر گھر دستک دے کر روٹیاں مانگیں، زکوٰۃ وصدقہ کے لیے دست سوال دراز کیا اور سرکاری تعاون سے بے نیاز ہو کر عوامی تعاون کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے اور اسلامی تہذیب وثقافت کے آثار کو بچانے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک ایک دروازے پر دستک دی، سر پر چنگیر رکھ کر گھر گھر سے روٹیاں مانگیں، ہاں ہاں میں نے خود روٹیاں مانگی ہیں، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں نے اپنی طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے کئی محلوں میں سر پر چھابہ رکھ کر روٹیاں مانگی ہیں۔ ہم نے اپنی عزت نفس کی پروا نہیں کی، طعنے سنے ہیں، بے عزتی برداشت کی ہے لیکن قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھا ہے جس کی گواہی آج دشمن بھی دے رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور طبقہ سامنے آیا جس نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی، سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھانے کا وعدہ کیا، انگریزی اور جدید زبانوں کی تعلیم اپنے ذمے لی۔ انہیں اس کام کے لیے ریاستی مشینری کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور انہوں نے قومی خزانے کے کھربوں روپے خرچ کر ڈالے۔ انہیں سرکاری وسائل میسر تھے، ریاستی پشت پناہی حاصل تھی لیکن وہ قوم کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں آج کی قوموں کے برابر نہ لا سکے اور آج اپنی ناکامی کی ذمہ داری مولوی کے سرتھوپ کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آج کی اجتماعی دانش سے سوال کرتا ہوں کہ وہ انصاف سے کام لے اور یہ فیصلہ کرے کہ نااہل کون ثابت ہوا اور اپنی ذمہ داری کس نے پوری نہیں کی؟ آج اگر ملک کے کسی گوشے میں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہے، قرآن وسنت کی راہ نمائی لوگوں کو میسر نہیں ہے اور اسلام کی آواز نہیں لگ رہی تو ہم مجرم ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں سے پیچھے رہنے کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالیے۔ یہ نا انصافی ہے، اس کے بارے میں ان سے پوچھیے جنہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس کے لیے سرکاری خزانے کے کھربوں روپے اب تک انہوں نے خرچ کر ڈالے ہیں۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو مساجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام میسر ہیں؟ قرآن کریم کی تعلیم کے لیے قاری مل رہے ہیں؟ رمضان میں قرآن سنانے کے لیے حافظ مل جاتے ہیں؟ جمعہ پڑھانے کے لیے خطیب موجود ہیں؟ مسئلہ بتانے والے مفتی صاحبان کی کمی تو نہیں؟ دینی راہ نمائی دینے کے لیے علماء کرام سے ملک کا کوئی گوشہ خالی تو نہیں؟ اس سے اگلی بات کہ میدان جنگ میں کفر کے خلاف صف آرا ہونے والے مجاہدین بھی ان مدارس سے آپ کو مل رہے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو دینی مدارس پر اعتراض کس بات کا ہے؟
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی آج ہی ایک محفل میں فرما رہے تھے کہ انہوں نے وفاقی وزرا سے کہا کہ سرکاری نصاب تعلیم اور نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قومی کمیشن قائم کیجیے اور ہمیں اور سرکاری تعلیم کے ذمہ داروں کو اس کے سامنے پیش کیجیے۔ ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘
(روزنامہ جنگ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء)
مولانا زاہدالراشدی کے جواب میں!
( عطاء الحق قاسمی )
کسی بھی لکھاری کے لیے اس کے قارئین کے خطوط بہت اہم ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ کالم میں شائع بھی ہوں لیکن ان سے مسئلے کو سمجھنے میں مدد ضرور ملتی ہے۔ گزشتہ دنوں میرا ایک کالم ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا جو دینی مدرسوں اور انگریزی تعلیم کے حوالے سے مولانا زاہدالراشدی کی ایک تقریر کے حوالے سے تھا۔ مجھے مولانا کی بات میں بہت وزن محسوس ہوا تھا چنانچہ میں نے ان کے نقطہ نظر کی تائید کی۔ مجھے اس کالم پر پاکستان کے مختلف شہروں سے تائیدی ٹیلیفون موصول ہوئے تاہم ٹورنٹو (کینیڈا ) سے ایک قاری انصر رضا نے مجھے اپنا موقف بذریعہ فیکس (042-7513234) ارسال کیا جو مولانا زاہدالراشدی کے نقطۂ نظر سے مختلف ہے۔ چونکہ انصر رضا صاحب نے بھی اپنی بات سلیقے سے اور دلیل سے کی ہے، سو ان کا موقف اور اس حوالے سے میری معروضات درج ذیل ہیں:
جناب عطاء الحق قاسمی صاحب
السلام علیکم
جناب زاہدالراشدی صاحب کے جس اقتباس میں آپ کو وزن محسوس ہورہا ہے اور جس سے آپ بظاہر متاثر ہیں، وہ خود فریبی اور تاریخی حقائق کو مسخ کرکے بلکہ یکسر چھپا کر اپنی پاکی داماں کی حکایت کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ اس میں ایک غلط بیانی یہ کی گئی ہے کہ انگریزوں نے دینی مدارس ختم کر دیے تھے۔ میں انگریزوں کا حامی نہیں ہوں لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مدرسہ دیوبنداور دارلعلوم ندوہ انگریزوں کے دور میں ان کی سرپرستی میں بنے۔ دارالعلوم ندوہ کا سنگ بنیاد یوپی کے لفٹیننٹ گورنر نے رکھا تھا لہٰذا انگریزوں پر یہ الزام کہ انہوں نے دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی، بالکل غلط ہے۔ کلکتہ اور دہلی کے فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانی علوم پر ریسرچ اور علما کو ’شمس العلما‘ کے خطابات سے ان کی عزت وتوقیر بڑھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انگریزوں نے نظام تعلیم کو ترقی دی۔
دوسری بات یہ ہے کہ دینی اور دنیاوی علوم کی تقسیم اسلام میں کہاں جائز ہے کہ علما اس پر راضی ہو گئے کہ ہم صرف دینی علوم پڑھیں گے اور باقی لوگ دنیاوی علوم حاصل کریں؟ ماضی کے مشہور مسلمان مفکرین اور سائنس دان دونوں علوم میں دسترس رکھتے تھے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اقتدار کا مسئلہ ہوتو سیاست دین سے الگ نہیں ہوسکتی لیکن علم سیکھنے کی بات ہو تو مشکل علوم کا بوجھ عامۃ الناس کے کندھے پر ڈال کر خود حلووں پر راضی ہو جائیں۔
جس دوسرے طبقے نے یہ نام نہاد ذمہ داری قبول کی تھی، ان کی راہ میں ان علما نے کتنے روڑے اٹکائے اور کفر کے فتووں سے کیسی کیسی گولہ باری کی، کون نہیں جانتا؟ مشہور ترین مثال سر سید احمد خان کی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو جدید علوم سے روشناس کرانے کی ٹھانی اور بدترین ظلم کا نشانہ بنے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ علمائے دین کا بنیادی کام نیکی کی دعوت اور برائی سے بچنے کی تلقین کرنا ہے۔ انہیں نوید اور و عید دونوں سنانا ہیں لیکن ہوا یہ کہ وہ لوگوں پر صرف آگ برسانے لگے۔ اگر آپ ان کے عقائد اور قرآن وسنت کی من مانی تشریح سے متفق ہیں تو آپ پکے مومن ہیں، چاہے آپ رشوت خور ہوں، ذخیرہ اندوز ہوں، مزارعوں اور ماتحتوں پر ظلم کرنے والے ہوں، دھاندلی اور دھونس سے الیکشن جیتنے والے ہوں۔ لیکن اگر آپ ان کے مفہوم دین سے متفق نہیں تو آپ قطعی طور پر زندیق اور فاسق ہیں، چاہے آپ پنج وقتہ نمازی ہوں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا حتی الوسع خیال رکھتے ہوں۔ قول وفعل کے اس تضاد اور اقتدار کی ہوس نے عوام کو ان علما سے متنفر کر دیااور یوں ایسی مسلمان امت وجود میں آئی جسے خدا ہی ملا نہ وصال صنم ، نہ وہ دین کی رہی اور نہ دنیا کی۔ اس صورت حال کی ساری ذمہ داری علماے دین پر ہے جنہوں نے ایک طرف تو عوام کی اصلاح و تربیت سے منہ موڑ لیا اور قرآنی معارف سے نہ خود آگاہ ہوئے نہ دوسروں کو اس کا شوق دلایا اور دوسری طرف دنیاوی علوم کو بیکار کہہ کر حوصلہ شکنی کی۔
والسلام۔ انصر رضا، ٹورنٹو، کینیڈا
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایک انگریز گورنر نے دارالعلوم ندوہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا لہٰذا ثابت ہوا کہ انگریز دینی تعلیم کے پروموٹر تھے تو یہ بات حقائق سے لگا نہیں کھاتی۔ آج اگر صدر بش واشنگٹن کے اسلامی مرکز میں جوتے اتار کر اندر داخل ہوتے ہیں اور وہاں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا سادہ لوحی ہو گی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ اسی طرح انصر رضا صاحب نے مشرقی علوم کے اداروں کی سرپرستی کے حوالے سے جو نتائج اخذ کیے ہیں، وہ بھی محل نظر ہیں۔ سمجھدار محکوم قوم کی نفسیات سے مکمل آگاہی اور یوں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے ایسے ادارے قائم کیا ہی کرتے ہیں۔ یہ ادارے مقامی زبانوں پر دسترس حاصل کرنے کے لیے بھی قائم کیے جاتے ہیں چنانچہ امریکہ میں بھی ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ سرپرستی میں اس نوع کے ادارے قائم ہیں اور اس نوع کے ایک ادارے کے نصاب میں راقم الحروف کی تصنیفات بھی شامل ہیں۔ نیز جن علما کو شمس العلما وغیرہ کے خطابات دیے گئے، وہ دینی تعلیم کے حوالے سے نہیں تھے۔ ان میں سے ایک ’’شمس العلماء‘‘ (مولانا محمد حسین آزاد) ایک اسلامی ملک میں باقاعدہ انگریزوں کے جاسوس تھے۔
البتہ دینی تعلیم اور انگریزی تعلیم کے حوالے سے انصررضا صاحب نے جو دوسرے نکات اٹھائے ہیں، وہ واقعی قابل توجہ ہیں۔ ان کا جواب مولانا زاہدالراشدی پر واجب ہے۔ یہ جواب اگر اتنا ہی مختصر ہوا جتنا انصررضا صاحب کا خط ہے تو ان شاء اللہ انہی کالموں میں شائع ہو گا!
(روزنامہ جنگ ، ۶ جنوری ۲۰۰۳ء)
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
(عطاء الحق قاسمی)
میرے ایک کالم میں دینی مدارس کے حوالے سے مولانا ابوعمار زاہدالراشدی صاحب کا نقطہ نظر شائع ہوا تھا اور اس کے بعد ایک قاری انصر رضا صاحب کا ایک تنقیدی خط بھی کالم میں شائع کیا گیا۔ اس کے بعد اس موضوع کی حمایت اور مخالفت میں بے شمار خطوط موصول ہوئے اور ظاہر ہے ان سب کی اشاعت ممکن نہ تھی چنانچہ میں نے یہ سلسلہ وہیں روک دیا۔ قاری کے تنقیدی خط کا جواب مولانا زاہدالراشدی نے دفتر کے پتہ پر ارسال کیا جو مجھے نہ مل سکا۔ اب انہوں نے دوبارہ یہ زحمت کی ہے جس کی وجہ سے یہ خط تاخیر سے شائع ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ دینی تعلیم دینے والے اور دنیاوی تعلیم دینے والے دونوں طبقے صرف ’’ضروری صورت‘‘ کے عالم اور دانشور پیدا کر سکے ہیں۔ دینی مدرسوں سے کوئی رازیؒ اور کوئی غزالیؒ ابھر کر سامنے نہیں آیا اور دنیاوی مدرسے ہمیں کوئی آئن سٹائن، کوئی نیوٹن نہیں دے سکے۔دونوں نے بس ’’غریبی دعوے‘‘ والا کام کیا ہے۔ باقی رہی تنگ نظری کی بات، تو اپنے رویوں کے حوالے سے ’’ملّا‘‘ دونوں طرف موجود ہیں۔ ایک طرف دین کے نام پر شٹل کاک برقعے کو لازمی قرار دینے والے بھی ہمارے درمیان ہیں اور دوسری طرف سیکولرازم اور روشن خیالی کے نام پر ترکی میں خواتین کے سکارف اوڑھنے پر بھی پابندی۔ یعنی ’’تیرے آزادبندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا‘‘ والی صورتحال ہے۔ بہرحال مولانا راشدی کا خط ملاحظہ فرمائیں:
’’برادر محترم عطاء الحق قاسمی صاحب
آپ کے کالم میں محترم انصر رضا آف ٹورنٹو کا خط پڑھا۔ آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے ہمارا نقطہ نظر جنگ کے ذریعہ ایک وسیع دائرے تک پہنچایااور انصر رضا صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس پر ناقدانہ نظر ڈال کر بہت سے قارئین کو میری معروضات دوبارہ پڑھنے اور مجھے کچھ مزید باتوں کی وضاحت کا موقع فراہم کیا۔
انگریزوں کی طرف سے دینی مدارس کی سرپرستی کے حوالہ سے آپ کا موقف درست ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جارج ڈبلیو بش صرف جوتے اتار کر مساجد میں نہیں جارہے بلکہ اخباری رپورٹوں کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستان کے دینی مدارس کی ترقی، تعمیر اور اصلاح کے لیے ایک خطیر رقم بھی مختص کر رکھی ہے اور اس رقم کا مصرف مہیا کرنے کے لیے ہوم ورک جاری ہے۔ اسے اگر انصر رضا صاحب دینی تعلیم کی سرپرستی سمجھتے ہیں تو انہیں مبارک ہو۔ ہم دینی مدارس والے اس مہربانی کے متحمل نہیں ہیں۔
جہاں تک دیوبند کے مدرسہ کی انگریزوں کی طرف سے سرپرستی کا سوال ہے، ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں دیوبند کے مدرسے اور مکتب فکرکاتاریخی استعمار دشمن کردار اس کی وضاحت کے لیے کافی ہے اور کسی منصف مزاج شخص کے لیے اس سے زیادہ کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ انصر رضا صاحب کی خدمت میں یہ سوال ضرور پیش کرنا چاہوں گا کہ اگر ان کے بقول انگریزوں نے دینی مدارس کو ختم کرنے اور ان کے نظام کو تلپٹ کر دینے کے بجائے ان کی سرپرستی کی تھی تو ۱۸۵۷ء سے پہلے جو تعلیمی نظام اور نصاب پورے برصغیرمیں رائج کیا تھا، اسے ختم کرکے اس کی جگہ نئے تعلیمی نظام کو کس نے نافذ کیاتھا؟ اگر انصر رضا صاحب نظام تعلیم کی اس تبدیلی کے محرکات اور اہم مراحل سے آگاہ کر سکیں تو ان کا ہم پر بہت کر م ہوگا۔
باقی رہی یہ بات کہ دینی مدارس نے صرف دینی تعلیم پر اکتفا کیوں کیا اور دینی علوم اور دنیاوی علوم کی تقسیم کیوں کی تھی، اس کے بارے میں عرض ہے کہ دینی علوم کے وارثین نے کبھی دین ودنیا کی تقسیم نہیں کی اور نہ ہی وہ اسے جائز سمجھتے ہیں۔ ہاں اس دور کے معروضی حالات میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم اپنے غریبی دعوے کے ساتھ اتنا کام ہی کرسکتے ہیں اور وہ انہوں نے بحمداللہ پورا کر دکھایا۔ یہ تقسیم علوم کا نہیں بلکہ تقسیم کار کا مسئلہ ہے اور اگر غصہ تھوک کر میری گزشتہ کالم کی معروضات پر سنجیدگی سے ایک نظر پھر ڈال لیں تومجھے یقین ہے کہ خود انصر رضا صاحب محترم کے ذہن میں بھی یہ اشکال باقی نہیں رہے گا۔
انصر رضا صاحب نے سرسید احمد خان مرحوم کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور ان کی دینی تعبیرات کی مخالفت کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں میر ی استدعا ہے کہ سرسید احمد خان مرحوم نے قرآن وسنت کی جس نئی تعبیر وتشریح کی داغ بیل ڈالی تھی، اس کی صرف علما نے مخالفت نہیں کی بلکہ انہیں خود سرسید مرحوم کے رفقا مولانا الطاف حسین حالی مرحوم، شبلی نعمانی مرحوم اور ان کے دیگر معاصرین مثلاً اکبر الٰہ آبادی مرحوم نے بھی قبول نہیں کیا تھا اور ان تعبیرات وتشریحات سے کھلے بندوں براء ت کا اظہار ضروری سمجھا تھا اور اس سے بڑھ کر سر سیداحمد خان مرحوم کے شاگردوں میں سے بھی کسی نے دین کی اس تعبیر وتشریح کو اختیار نہیں کیا تھا۔ اگر سرسید احمد خان مرحوم کے کسی ساتھی یا شاگرد کا نام انصررضا صاحب کو معلوم ہو کہ اس نے سرسید احمد خان کی دینی تعبیرات کو اختیار کیا تھا اور انہیں آگے بڑھانے میں دلچسپی لی تھی تو وہ اس کی نشاندہی فرما دیں۔ میں اس پر ان کا بے حد شکرگزار ہوں گا۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سلسلہ میں سرسیدکی مخالفت کے الزام کا نزلہ عضوضعیف مولوی پر ہی کیوں گرتا ہے اور ان تعبیرات کو رد کردینے والے دیگر حضرات انصر رضا صاحب جیسے دوستوں کو کیوں یاد نہیں رہتے؟
اس سلسلے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ علماے کرام نے انگریزی تعلیم کی مخالفت کی تھی۔یہ بات بھی قطعی بے بنیاد اور خلاف واقعہ ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا دور ۱۸۵۷ء سے بہت پہلے کا ہے اور ان کے فتاویٰ عزیزی میں آج بھی یہ فتویٰ موجود ہے جس میں انہوں نے انگریزی زبان سیکھنے کو جائز قرار دیا تھا جبکہ مولانا رشید احمد گنگوہی سرسید احمد خان مرحوم کے معاصرین میں سے ہیں بلکہ یہ دونوں بزرگ ایک ہی استاد مولانا مملوک علی نانوتوی کے شاگرد ہیں اور مولانا گنگوہی کے فتاویٰ رشیدیہ میں بھی فتویٰ موجود ہے کہ انگریزی زبان کو بطور زبان سیکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں اور یہ جائز ہے۔
انصر رضا صاحب اگر اس دور کے حالات کا مطالعہ رکھتے ہیں تو یہ بات بھی یقیناًان کے علم میں ہوگی کہ سرسید احمد خان مرحوم نے جب علی گڑھ میں کالج قائم کیا توا س کے شعبہ دینیات کے پہلے سربراہ مولانا عبداللہ انصاری تھے جو بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کے داماد تھے اور انہیں خصوصی فرمائش پر علی گڑھ بھیجا گیا تھا۔ انہی مولانا عبداللہ انصاری کے فرزند مولانا محمد میاں انصاری ہیں جنہوں نے راجہ مہندر پرتاب، پروفیسر برکت اللہ بھوپالی اور مولانا عبیداللہ سندھی کے ساتھ مل کر آزادی ہند کے لیے جاپان، جرمنی اور خلافت عثمانیہ کے ساتھ رابطے کرکے آزاد ہند گورنمنٹ کی بنیاد رکھی تھی اور جلاوطنی کی حالت میں کابل میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔
ان حالات میں بھی اگر انصر رضا صاحب کو یہی نظر آتا ہے کہ علما نے سرسید احمد مرحوم کے کام میں روڑے اٹکائے تھے، انگریزی تعلیم کی مخالفت کی تھی، خودانگریز کی سرپرستی میں مدرسے چلائے تھے اور وہی ساری قوم کی سب خرابیوں کے ذمہ دار ہیں تو ہم فقیر لوگ ان کے لیے دعاے صحت ہی کر سکتے ہیں۔
میں ایک بار پھر آپ کا شکر گزار ہوں لیکن کالم کی تنگ دامنی کے شکوہ کے ساتھ کہ بہت سی اور ضروری باتیں بھی اس خط میں شامل کرنا چاہتا تھا مگر.......‘‘
ڈاکٹر عبد الخالق صاحب کا مکتوب گرامی
محترم و مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی
آپ سے تعارف خاصا پرانا ہے۔ آپ کی تحریر اور تقریر کی صلاحیت کا معترف بھی ہوں اور مداح بھی۔ ندائے خلافت کے تازہ شمارہ نمبر ۱ مؤرخہ ۸ جنوری ۲۰۰۳ ء میں آپ کے مضمون ’’قصور وار کون؟‘‘ نے اتنا متاثر کیا کہ آپ سے تحریری رابطہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔ حالانکہ میں تحریر کا کافی ’’چور‘‘ واقع ہوا ہوں۔ ٹیلی فون پریا بالمشافہ ملاقات مجھے آسان محسوس ہوتی‘ بہ نسبت تحریر کے۔
مولانا ! آپ نے آج کے جدید علوم کے علمبردار طبقہ کو بہت ہی مدلل اور مؤثر جواب دیا ہے اور باوجود اس کے کہ میں نہ عالم دین ہوں اور نہ کسی روایتی مدرسے سے تعلیم یافتہ بلکہ علم کے نام پر زیادہ تر ان ’’نام نہاد جدید تعلیمی اداروں‘‘ ہی سے استفادہ کیا ہے جن پر آپ نے تنقیدکی ہے، اس کے باوجود مجھے آپ کی تحریر پسند آئی ہے۔
لیکن مولانا ! آپ سے کچھ ’’آپس کی بات‘‘ کرنے کو بھی دل چاہتا ہے۔
میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ آپ کی یہ تحریر جدید علوم کے علمبردار طبقے پر ’’ایک الزامی جواب‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسے بقول علامہ اقبال
کہا اقبال نے شیخ حرم سے تہہ محراب مسجد سو گیا کون؟
ندا مسجد کی دیواروں سے آئی فرنگی بت کدے میں کھو گیا کون؟
یہ بات درست ہے کہ جدید علوم کے نام پر اتنے وسائل خرچ کرنے (جن میں سب سے زیادہ حکومتی وسائل ہی خرچ ہوتے ہیں) کے باوجود ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنے پیچھے کیوں ہیں؟ اور آپ نے اس پر جدید علوم کے علمبرداروں اور مسلمان حکومتوں اور مسلمان حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور اس کے مقابلے میں دینی علوم کے علمبرداروں نے باوجود وسائل کی کمی اور نا مساعد حالات کے قرآن و حدیث کے علم کا سلسلہ جاری رکھا اور آج نہ کسی خطیب کی کمی ہے اور نہ حافظ قرآن کی۔
مولانا ! آپ نے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کے مقابلے میں عام دینی تعلیم کا حوالہ دے دیا۔ جدید تعلیم میں مہارت کے مقابلے میں تو دینی علوم میں مہارت کی مثال پیش کی جانی چاہیے تھی۔ جہاں تک عام مروجہ تعلیم کا تعلق ہے، اس کے ذریعے مروجہ حکومتی نظام چلانے والے کارندوں کی ضرورت ہے جو بحسن و خوبی پوری ہو رہی ہے۔ جہاں تک عام ٹیکنیکل علم و مہارت کا تعلق ہے، اس میں تو کہیں کوئی کمی نہیں ہے۔ ہاں البتہ جہاں تک جدید ٹیکنالوجی اور اس میں تحقیق اور ایجادات اور اس میں مہارت کا تعلق ہے، قریباً تمام ہی مسلمان ممالک اس میں ’’پھسڈی‘‘ ہیں۔ صرف ایک استثنا ہے کہ پاکستان نے کم از کم ایٹمی ٹیکنالوجی میں تو وہ ترقی کی ہے جس کا اعتراف ہمارا دشمن اور مغرب بھی کرنے پر مجبور ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ مہارت بھی ہمیں اللہ تعالیٰ نے خالصتاً معجزانہ انداز میں عطا فرمادی ہے، بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی اور علم و تحقیق میں عمومی ترقی کے۔ اب آئیے دینی علم کی طرف۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام دینی علوم کی ترویج کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کے مقابلے میں دینی حلقوں نے کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے؟ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق دین کو کس نے اور کہاں پیش کیا ہے؟
بعض خود ساختہ شرائط کے ساتھ اجتہاد کا دروازہ ہم نے بند کر رکھا ہے۔ طبقہ علما میں کوئی ایسی قیادت ابھر کر آئی ہے جس نے واقعتا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہو؟ پوری امت مسلمہ ’’ایک امام‘‘ سے محروم ہے۔ بلکہ برا نہ مانیے، اس عام دینی علم نے جہاں خطیب اور حافظ فراہم کیے ہیں، وہیں بدترین قسم کی فرقہ بندی اور فرقہ پرستی بھی اسی طبقے سے ابھری ہے اور دین کے غلط تصورات کو بنیاد بنا کر تخریب کاری اور دہشت گردی کی ترویج کا باعث بھی یہی طبقہ بنا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تمام طبقات ایسے نہیں ہیں لیکن جو ہیں، ان کا بھی تعلق تو اسی طبقے سے ہے نا۔
میں تو محسوس کرتا ہوں کہ : ع ہم الزام ان کو دیتے ہیں قصور اپنا نکل آیا
۵۶ کے قریب مسلمان ملکوں میں کہیں بھی طبقہ علما نے دین کو بطور نظام زندگی برپا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ دور جدید میں اسلامی فلاحی ریاست کے قیام‘ کہ جس کے ذریعے ہم اسلام کے زریں اصولوں اخوت و مساوات اور عدل و قسط کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرتے‘ میں ہم ناکام رہے ہیں۔ (ایران میں اسلامی نظام کے نام پر جو کچھ ہوا، اس میں معاشرتی سطح پر تو تبدیلی آئی لیکن معاشی سطح پر سود اور جاگیرداری نظام جاری ہے اور سیاسی سطح پر قرآن و سنت کی بجائے ’’رہبر‘‘ کی بالادستی کا طوق بھی موجود ہے۔ گویا فلاحی ریاست کا تصور وہاں بھی عنقا ہے۔) بلکہ افسوس تو یہ ہے کہ اس کی اہمیت کا احساس بھی ہمارے طبقہ علما کے بیشتر حصے میں موجود نہیں ہے۔ الا ما شاء اللہ۔ اگر ہم اپنے معاملات میں خود مختار ہوتے تو یہ جدید ٹیکنالوجی بھی ہمارے ہاتھ میں ہوتی اور اسے ہم اپنی مرضی سے استعمال کرتے۔ کجا یہ کہ ہم خود اغیار کے زیر تسلط ہیں۔ کرنے کا اصل کام تو دینی حلقوں نے بھی نہیں کیا۔
بری الذمہ کوئی بھی نہیں ! ہم سب ’’قصور وار‘‘ ہیں۔
والسلام، ڈاکٹر عبد الخالق
ناظم نشر و اشاعت تنظیم اسلامی
۹ جنوری ۲۰۰۳ء
جناب آفتا ب عروج کا مکتوب گرامی
۱۵ مارچ ۲۰۰۳ء
مکرم ومحترم جناب ابو عمار مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ قاسمی صاحب سے رابطہ کے بعد آپ کا ڈاک کا پتہ دستیاب ہوا۔ انہی کی حوصلہ افزائی سے حاضر خدمت ہو رہا ہوں۔ عرض حال یہ کہ یہ دور دلیل وبرہان، حقائق وواقعات کا دور ہے۔ جذباتیت، اشتعال انگیز تقاریر وبیانات سے حقائق تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ دوسروں کو الزام دینے کی بجائے ہمیں اپنی اصلاح کے لیے اپنی غلطیوں، فروگزاشتوں کا کھلے دل کے ساتھ اعتراف کر لینا چاہیے۔ اس کے بعد گزشتہ غلطیوں سے اجتناب کے عہد صمیم کے بعد نہایت خلوص دل کے ساتھ صراط مستقیم پر سفر زندگی کا آغاز کرکے ہی ہم اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو حاصل کر سکتے ہیں ۔
مسلم امہ، اگر کہیں ہے، تو اس کا جاہ وجلال، اقتدار وتمکنت کیوں چھن گیا؟ اس تالے کی کلید کہاں کھو گئی؟ اس کا کھوج لگانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اسباب زوال امہ تو بے شمار ہیں لیکن سردست ہمیں فوری طور پر درج ذیل اقدامات سے آغاز کرنا ہوگا۔ ۱۔ ہمیں مسٹر اور ملا کی تخصیص ختم کردینی چاہیے، ۲۔ دنیوی اور دنیاوی تعلیم کے خانے ختم کرنا ہوں گے، ۳۔ فرقہ واریت کی غیر اسلامی آہنی دیواریں مسمار کرنا ہوں گی، ۴۔ہمیں مکالمہ وبرداشت کے بند دروازے کھولنا ہوں گے۔ جیسا کہ آپ نے ایک نکتہ اٹھایا ہے، اس طرح آپ جیسے دوسرے ہمدرد دین ملت اصحاب کو بھی موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکیں۔ اس طرح ہم اپنے مستقبل کی راہ کا تعین کرنے میں کامیا ب ہو سکتے ہیں۔ میر ی رائے ہے کہ اس مسئلہ کو مملکتی سطح پر زیر بحث لانے کے لیے آپ کی سربراہی میں ایک ادارہ جس کا نام بھی میں تجویز کیے دیتا ہوں، ’’ادارہ مکالمہ وبرداشت بین المسلمین‘‘، تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
دوران تحریر اگر کسی مقام پرسوء ادبی کا مرتکب ہوا ہوں تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
آپ کی دعاؤں کا طلب گار
آفتاب عروج
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا؟
(آفتاب عروج)
مورخہ ۲۷ دسمبر۲۰۰۲ء آپ کا کالم ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘ اس کالم میں آپ مولانا زاہدالراشدی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ صحیح مولوی کا وژن بہت وسیع اور اس کا طرز استدلال بڑے بڑے بزرجمہروں کا منہ بند کرنے والا ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے آپ اپنی اس دلیل کے حق میں کسی ایک مولوی کی وسیع النظری اور اس کے طرز استدلال کی کوئی ایک مثال بیان کرتے۔ اس کے بعد آپ زاہدالراشدی کی ہم نوائی کرتے تو بات جچتی اور سمجھ میں آتی۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ کیا مصلحت تھی؟ کیوں نہیں کیا؟
میں نے آپ کے اور مولانا زاہدالراشدی کے نقطہ نظر کو تاریخی اور قرآنی حوالہ سے رد کیا ہے۔ اس پر آپ اور مولانا زاہدالراشدی صاحب کو ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے۔ میں آپ کو اور مولانا زاہدالراشدی اور ہر اس شخص کو جس کے دل میں انصاف کی ایک رتی بھی موجود ہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز وہ اپنے پاس رکھتا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ آپ سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لیں کہ امت کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟ میرے ان دلائل کی تردید آپ کے اور مولانا زاہدالراشدی کے ذمہ ہے۔ میں منتظر رہوں گا۔
گزشتہ صدی میں ایک شخصیت ہو گزری ہے جنہیں ہم علامہ اقبالؒ کہتے ہیں۔ انہوں نے بھی مولوی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے
مکتب و ملاو اسرار کتاب
کور مادر زاد ونور آفتاب
تاریخ کی چند کتب اس ناچیز کے بھی زیرمطالعہ رہی ہیں۔ مسلم امّہ کی معلوم تاریخ میں دنیا کے کسی بھی خطے میں مولوی کو اسلامی انقلاب برپا کرتے نہیں دیکھا۔ آپکی یہ دلیل درست نہیں کہ صحیح مولوی کا استدلال بڑے بڑے بزرجمہروں کا منہ بند کرنے والا ہوتا ہے۔ قاسمی صاحب! مولوی کا علم قولی و نقلی ہوتا ہے۔ دلیل و برہان، تحقیق و جستجو، جدت واختراع، روشن خیالی اس کے نصاب میں شامل نہیں۔
زاہدالراشدی صاحب کا ۱۸۵۷ء سے دو طبقات کا مفروضہ تاریخ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ مسلم امّہ میں جتنے بھی سائنس داں ہو گزرے ہیں، ان میں کوئی بھی مولوی نہ تھا اور نہ ہی ان میں کوئی انگریزی جانتا تھا ۔ لیکن انہوں نے تا حیات تحقیق و جستجو کے قرآنی حکم کو اپنا فریضہ زندگی سمجھ کر جاری رکھا۔ مصر فتح ہوا تو ہمارے سائنس داں منجنیق اور نیپام میزائل تیار کر چکے تھے۔ تمام عیسائی حکومتیں متحد ہو کر بھی مسلمانوں کی یلغار کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ یہ تمام محققین و سائنس داں آخری عباسی خلیفہ معتصم کے دور تک کے ہیں۔تیرھویں صدی عیسوی کے بعد مسلم امہ کا سائنسی اور تحقیقی آفتاب علم غروب ہونا شروع ہو گیا اور چودھویں صدی عیسوی تک بالکل ختم ہوگیا۔ اس کے بعد کی سات آٹھ صدیاں مولانا زاہدالراشدی صاحب کہاں رہے اور کیا کرتے رہے جبکہ برصغیر میں سیاسی طاقت بھی آپ کے ہاتھ میں تھی ؟
لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صاحبان علم دانش کو کائنات پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے۔میں حیران ہوں کہ مولانا زاہدالراشدی صاحب دوسروں کو الزام دینے کی بجائے اس دعوت قرآنی سے استفادہ کر لیتے تو انہیں اپنی ذمہ داری سے فرار کا راستہ اختیار نہ کرناپڑتا۔ قاسمی صاحب کی ہم نوائی بڑی معنی خیز ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم میں بیسیوں آیات موجود ہیں لیکن کوئی پڑھے اور تدبر کرے تو۔ ایک دو آیات درج ذیل ہیں:
’’اور اس کے نشانات اور تصرفات میں سے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہل دانش کے لیے ان باتوں میں بہت نشانیاں ہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے اور کہتے ہیں کہ پروردگار تو نے اس مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ تو پاک ہے۔ تو قیامت کے دن ہمیں دوزخ سے بچائیو۔ (۳:۱۹۱، ۱۹۲)
اس آیت کے الفاظ ’’دوزخ سے بچائیو‘‘ کی یہی صورت تھی کہ مولانازاہد الراشدی مندرجہ قرآنی ہدایات پر عمل کرتے اور عقل ودانش کو کام میں لاکر تسخیر کائنات کے علوم میں مہارت حاصل کرکے زندہ قوموں میں شمار ہوتے تو آج انہیں اس فریب میں مبتلا نہ ہونا پڑتا کہ ہم ملک میں قرآن سنت کی راہنمائی دے رہے ہیں۔
کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس سے استفادہ کرنا نہ کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ زندگی کی دوڑ میں جو انسان، گروہ یا قوم اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے آپ کو قانون خداوندی اور قانون فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں، وہی لوگ اللہ کی نعمتوں، سرفرازیوں، شادابیوں کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں اور دنیا کی امامت انہیں کے حصے میں آتی ہے۔ بخشیش کی جنت خدا کسی کو بھی نہیں دیتا۔
’’خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔‘‘ (۱۴/۱۴۱)
’’دیکھو بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا۔ اگر تم مومن صادق ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔‘‘ (۳/۱۳۹)
اللہ تعالیٰ نے کافروں پر غلبہ کے لیے مومن صادق کی شرط عائد کردی ہے اور اس میں دیگر احکامات کے ساتھ ۳۰/۳۲ اور ۳/۱۹۱،۱۹۲ کی شرط بھی شامل ہے ۔
جیسا کہ گزشتہ سطورمیں عرض کیا جا چکاہے، لگ بھگ تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم امہ کا سائنسی اور تحقیقی ز وال شروع ہو چکا تھا اور اس سائنسی تحقیقی علم کی شمع مغرب کی طرف منتقل ہو چکی تھی۔ بغداد جو اس وقت مسلم امہ کا دارالخلافہ تھا، مناظروں، مناقشوں اور نظری بحثوں کا اکھاڑا بن چکا تھا۔عسکری قوت ختم ہوچکی تھی۔ پھر چنگیز خان آئے، ہلاکو خاں آئے ،بڑی لمبی دردناک داستان ہے اور پھر آخر میں وہ آئے جو ہم سے ہماری میراث لے گئے۔ پھر انہوں نے بھی وہی کچھ کیا جو چنگیز خاں اور ہلاکو خاں نے کیا تھا۔ یہ ان کا حق تھا جو انہوں نے حاصل کر لیا۔ اب امریکہ اپنا حق وصول کر رہا ہے تو اب مولانا زاہدالراشدی صاحب فریاد کناں ہیں اور انصاف کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں ۱۸۵۷ء کی طرف کیونکہ مولانا زاہدالراشدی صاحب نے اپنا سوال ۱۸۵۷ء سے ہی اٹھایا ہے۔ جب ۱۸۵۷ء میں روایتی سیاسی و مذہبی قیادت ناکام ہو گئی تو مسلمانوں میں شدید اضطراب، خوف، بے دلی و سراسیمگی پیدا ہو چکی تھی۔ ان حالات میں مسلم قوم کے دردمند غیرروایتی اہل علم و دانش مل بیٹھے اور پیش پا حالات پر غوروفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ حالات میں عسکری قوت سے آزادی کا حصول ممکن نہیں، لہٰذا ہمیں اپنی حکمت عملی میں واضح اور نمایاں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حصول آزادی کی موجودہ کوشش کچھ عرصہ کے لیے موخر کرنا پڑے گی اور جس ہتھیار سے انگریزوں نے ہمیں غلام بنایا ہے، اسی ہتھیار سے ہمیں بھی لیس ہونا پڑے گا۔ یعنی انگریزی زبان و دانش اور سائنسی علوم پر دسترس و آگہی۔ مزید یہ کہ اسلام کی تعبیر کو بھی بدلتے زمانے کے ساتھ متحد وہم آہنگ کرنا ہو گا۔ ان احباب علم ودانش نے علی گڑھ کے مقام سے اس علمی تحریک کا آغاز کر دیا اور متذکرہ مقاصد کے حصول کی خاطر مختلف مقامات پر اسکول و کالج اور سائنٹفک سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گویا یہ شعور و آگہی میں انقلاب برپا کرنے کی ابتدا تھی۔اس تمام سوچ اور فکرو حکمت عملی کی منصوبہ سازی کے روح رواں سر سیّد احمد خاںؒ تھے۔
یہ ہے وہ مقام جہاں روایتی سیاسی و مذہبی قیادت اور سر سیّد احمد خاں کی فکروحکمت عملی میں تضاد کی خلیج پیدا ہو گئی جسے مولانا زاہدالراشدی صاحب انتہائی سادگی سے دو طبقات پر محمول کر بیٹھے جو واقعتا غلط ہے۔ شکست خوردہ روایتی سیاسی و مذہبی قیادت نے کبھی بھی اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا اور وہ حصول آزادی کے اپنے فرسودہ طریق کار پر نہ صرف بضد رہے بلکہ اسے مبنی برحق سمجھتے رہے۔ اس کا ثبوت تحریک خلافت اور ریشمی رومال ایسی تحریکیں ہیں جو ۱۹۱۵ء تک چلتی رہیں۔
تحریک علی گڑھ اور روایتی سیاسی و مذہبی قیادت میں جو فکری و عملی تضاد تھا، اب شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ گیا جس کے نتیجہ میں سر سیّد احمد خانؒ کو کافر، ملحد، زندیق، بے دین، نیچری کے فتووں کی شکل میں گالیاں دی گئیں۔ ان کی تضحیک کی گئی۔ دیوبند کی بنیاد اسی نفرت اور تضاد فکر کا نتیجہ تھی۔ وہ نفرت مولانا زاہدالراشدی کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی پاکستان میں دیوبند کے سرخیل مولانا مفتی محمود اور ان کے خلف الرشید مولانا فضل الرحمن اب بھی پاکستان کو گالی دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن ان کی دین سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے تمام علما اور مفتی صاحبان مل کر بھی نہیں بتا سکتے کہ ’مسلم‘ کسے کہتے ہیں۔
پاکستان کا وجود روایتی سیاسی ومذہبی قیادت کی ناکامی اور تحریک علی گڑھ کی کامیابی کا ثمر ہے جس نے غیر روایتی اور غیرمذہبی لیکن بنیادی اسلامی نظریے کی حامل قیادت علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح جیسی عظیم لیڈر شپ قوم کو عطا کی جنہوں نے محض اپنی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی سے وہ بازی جیت لی جو روایتی مسلمان حکمران اور علما ہار چکے تھے، اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالا۔ ناممکن کو ممکن بنا دیا اور مولانا زاہدالراشدی کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان حاصل کر لیا۔
آج ماشاء اللہ پاکستان پچپن برس کا ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق پچپن برس پچپن دن شمار ہوتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک پچپن سال میں وجود میں نہیں آئے اور نہ پچپن سال میں سائنس اور ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرسکے۔ قوموں کے عروج وزوال صدیوں پر محیط ہوتے ہیں اور بے شمار ریاضتوں اور قربانیوں کے بعد ترقی حاصل ہوتی ہے۔
یہ جدید علوم پر دسترس رکھنے والوں ہی کا کمال ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور جدید میزائل ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کر چکا ہے۔ جب پاکستان بنا تو ہمارے پاس ایک بندوق تک نہ تھی ، فوج نہیں تھی، ائر فورس نہیں تھی، نیوی نہیں تھی، حتیٰ کہ پاکستان بن جانے کے بعد جو انتظامیہ ہمارے حصے میں آئی، انہیں تنخواہ دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اب ہم روایتی اسلحہ میں نہ صرف خودکفالت حاصل کر چکے ہیں بلکہ برآمد بھی کررہے ہیں۔ہمارے پاس اسٹیل ملز ہیں۔ ہماری بہادر افواج ہیں۔ ائرفورس ہے جو اپنا لوہا منوا چکی ہے۔ نیوی ہے۔ ہماری سول ائر لائن ہے۔ہماری صنعت ہے۔ انڈسڑی ہے۔ہمارے کالج ہیں، یونیورسٹیاں ہیں، میڈیکل کالج ہیں جہاں ہم اپنے طالب علموں کو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں سے تحصیل علم کے بعد ملک میں اور بیرون ملک ہمارے نوجوان ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ جدید علوم سے آراستہ ماہرین نے جو ذمہ داریاں قبول کی تھیں، وہ بحسن وخوبی پوری کررہے ہیں لیکن صدیوں کا خلا پچپن دن میں پورا ہونا قانون خداوندی کے خلاف ہے۔ پاکستان پائندہ باد۔
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
خطوط ومضامین میں اٹھائے گئے اہم نکات پر ایک نظر
(ابو عمار زاہد الراشدی)
محترم عطاء الحق قاسمی صاحب ، محترم انصر رضا صاحب، محترم ڈاکٹر عبدالخالق صاحب اور محترم آفتاب عروج صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس بحث میں حصہ لیا اور ایک اہم ملی اور قومی مسئلہ پر اپنے خیالات و ارشادات کے ساتھ ہماری راہنمائی فرمائی۔ ان میں سے بہت سے اہم امور پر گزشتہ گزارشات میں ضروری بات ہو چکی ہے البتہ کچھ نکات پر اظہار خیال کی گنجائش موجود ہے جن کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔
محترم عطاء الحق قاسمی سے صرف یہ شکایت ہے کہ انہوں نے غریبی دعویٰ میں دونوں طبقات کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے حالانکہ ایک طرف عصری نظام تعلیم کی پشت پر پوری ریاستی مشینری اور وسائل چلے آرہے ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس کا سارا نظام زکوٰۃ وصدقات، چرم ہائے قربانی اور عوامی چندہ پر چلتا ہے۔ اس کے باوجود یہ دونوں غریبی دعوے میں محترم قاسمی کی نظر میں برابر ہیں تو ----------
ڈاکٹر عبدالخالق صاحب نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس نے عام دینی تعلیم تو دی ہے مگر ماہرین پیدا نہیں کیے۔ میرا خیال ہے کہ علامہ سید محمد انورشاہ کشمیریؒ ، مولانا مناظر احسن گیلانیؒ ، مولانا سید سلیمان ندویؒ ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا حمید الدین فراہیؒ ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ، مولانا غلام محمد گھوٹویؒ ، پیرسیدمہر علی شاہ گولڑویؒ بلکہ غیر روایتی حلقوں کے حوالہ سے مولانا شبلی نعمانیؒ ، مولانا ابوالکلام آزادؒ ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور ان جیسے بیسیوں شہرۂ آفاق علما انہی دینی مدارس کی پیداوار ہیں جن کی علمی مہارت اور خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اگر ڈاکٹر محترم کی معلومات اس سے مختلف ہوں تو ہم ان کے اظہار کا خیرمقدم کریں گے۔
آفتاب عروج صاحب نے میری اس گزارش کو رد کیا ہے کہ۱۸۵۷ء کے بعد قوم تعلیمی اور فکری حوالہ سے دوطبقات میں تقسیم ہوگئی تھی۔ وہ فرماتے ہیں :’’زاہدالراشدی صاحب کا ۱۸۵۷ء سے دوطبقات کا مفروضہ تاریخ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔‘‘ مگر اسی مضمون میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ : ’’روایتی سیاسی ومذہبی قیادت اور سر سیداحمد خان کی فکروحکمت عملی میں تضاد کی خلیج پیدا ہوگئی۔‘‘ اور پھر وہ اپنے مکتوب گرامی میں یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ ’’ہمیں مسڑ اور ملا کی تخصیص ختم کر دینی چاہیے۔‘‘ میرا خیال ہے کہ ا س کے بعد مجھے اپنا موقف دہرانے اور اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔
آفتا ب عروج صاحب نے فرمایا ہے کہ عباسی خلیفہ معتصم باللہ تک مسلمانوں میں سائنسی ترقی اور تحقیق وریسرچ میں پیش رفت کا دور تھا، اس کے بعد زوال کا آغاز ہو گیا۔ انہیں شکایت ہے کہ مولوی اس سے قبل بھی سائنس دانوں کی صف میں نظر نہیں آتا اور اس کے بعد بھی سائنسی ترقی اور تحقیق وریسرچ میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ درست ہے اور مجھے اس سے اتفاق ہے لیکن سوال یہ ہے کہ سائنسی ترقی اور اس کے لیے تحقیق وریسرچ مولوی کے فرائض میں کب شامل تھی اور اس نے کب اس ذمہ داری کو قبول کیا تھا؟ یہ قطعی طور پر غیر منطقی بات ہے۔ ہر قوم میں تقسیم کار ہوتی ہے۔ ہر طبقہ اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور پوری ملی جدوجہد میں مجموعی طورپر شریک سمجھا جاتا ہے۔ ہم تو زوال کا شکار ہیں اس لیے ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جن اقوام نے سائنس میں ترقی کی ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں بالادستی کے باعث وہ ہماری قسمت کی مالک بھی بن بیٹھی ہیں، ان میں بھی سائنس کے شعبے میں صرف سائنس دانوں نے ہی کام کیا ہے۔ اب کوئی شخص یہ کہے کہ برطانیہ میں جتنے سائنس دان گزرے ہیں یا موجود ہیں، ان میں ایک بھی جسٹس نہیں ہے اس لیے برطانیہ کے ججوں کا سائنسی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے تو آفتاب عروج صاحب ہی فرمائیں کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔
اصل قصہ صرف یہ ہے کہ ہمارے مہربانوں نے تاریخ میں یہ پڑھ رکھا ہے کہ یورپ میں جب سائنسی ترقی اور تحقیق وریسرچ کا دور شروع ہوا تو عیسائیوں کی مذہبی قیادت نے اس کی مخالفت کی۔ سائنس دانوں کو گمراہ قرار دیا گیا، ان پر فتوے لگائے گئے اور ان میں سے بہت سوں کو گردن زدنی قرار دے دیا گیا۔ ہمارے مہربان دوستوں نے معروضی حقائق کا جائزہ لیے بغیر مسلمانوں کے مولوی کوبھی عیسائیوں کے پادری پر قیاس کر لیا ہے اور لٹھ لے کر اس کے پیچھے دوڑ پڑے ہیں حالانکہ مولوی غریب نے کبھی سائنس اور اس میں تحقیق وریسرچ کی مخالفت نہیں کی اورا س کے ثبوت میں دور جانے کی بجائے صرف ایک بات پر غور کر لیا جائے تو بات واضح ہوجائے گی کہ ماضی قریب میں پاکستان کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کو ضروری قرار دینے اور عالم اسلام کو ایٹمی قوت کے حصول پر ابھارنے میں مختلف حلقوں کی طرف سے اٹھنے والی آوازوں میں سے سب سے بلند آواز مولوی کی تھی اور اس قوت کے تحفظ وبقا کے لیے بھی سب سے زیادہ بلند آہنگی کے ساتھ مولوی ہی آواز اٹھا رہا ہے۔
آفتاب عروج صاحب نے مولوی کے ذمہ اس الزام کو دہرانا بھی ضروری سمجھا ہے کہ اس کی مخالفت کے باوجود پاکستان قائم ہوگیا، اس لیے مولوی نے شکست کھائی ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے علمی میدان سے آؤٹ ہو جانا چاہیے مگر یہ الزام باربار دہرانے والے دیگر حضرات کی طرح انہوں نے بھی یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی کہ پاکستان کے قیام وحصول میں علامہ اقبال اور قائداعظم کی جدوجہد کو جو کامیابی حاصل ہوئی تھی، اس میں بھی مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیراحمد عثمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالحامد پیر آف مانکی شریف اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی جیسے بڑے بڑے مولوی ان کے ساتھ شریک تھے اور اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اگر یہ مولوی تحریک پاکستان کا ہراول دستہ نہ بنتے تو تحریک پاکستان کے عملی نتائج قطعی مختلف ہوتے۔
آفتاب عروج صاحب نے مجھ غریب پر بھی کرم فرمائی کی ہے کہ مولانا زاہدالراشدی کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان بن گیا۔ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میری تاریخ ولادت ۲۸ / اکتوبر ۱۹۴۸ء ہے اور جب قیام پاکستان کی حمایت ومخالفت کی برصغیر کے طول وعرض میں معرکہ آرائی ہورہی تھی تو دنیائے وجود میں اس وقت میرا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔
ان گزارشات کے بعد ایک اصولی بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں جس کا حوالہ محترم ڈاکٹر عبدالخالق صاحب اور محترم آفتاب عروج صاحب دونوں نے دیا ہے کہ غلطیاں ہر طرف سے ہوئی ہیں اور کوئی بھی ان سے مبرا نہیں ہے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے اعتراف میں کبھی حجاب نہیں رہا ۔ الشریعہ اور اس کے علاوہ روزنامہ پاکستان، روزنامہ اوصاف اور روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والے میرے مضامین کے قارئین گواہ ہیں کہ اپنے حلقہ اور طبقہ کی غلطیوں کی نشاندہی، اعتراف اور اصلاح احوال کی تجاویز سامنے لانے میں ہم نے حتی الوسع گریز نہیں کیاا لبتہ یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ ناکردہ گناہ ہمارے سر نہ تھوپے جائیں اور کسی بھی حوالہ سے ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے قبل ہم سے ہمارا موقف ضرور معلوم کرلیا جائے ۔ یہ بات قرین انصاف نہیں ہے کہ ہمارے معترضین ہمارا موقف وکردار بھی خود طے کریں، اس پر گواہی بھی اپنی ڈال دیں اور پھر منصف کا منصب سنبھال کر فیصلہ بھی خود ہی صادر فرما دیں۔ ہم اس طرح گردن زدنی قرار پانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ باقی رہی بات مکالمہ اور گفت وشنید کی تواس کے لیے ہم ہر وقت حاضر ہیں۔ اس کے لیے کوئی الگ فورم قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسائل پر اس طرح کھلے دل کے ساتھ مختلف دانش وروں کا اظہار خیال ہی اس کام کے لیے سب سے موزوں فورم ہے۔ ’الشریعہ‘ اس کے لیے اس سے قبل بھی ہمیشہ حاضر رہا ہے اور اب بھی یہ خدمت سرانجام دیتے ہوئے اسے خوشی محسوس ہوگی۔
(مسلم افکار وتحریکات پر مثبت اور بامقصد تنقید خود ان تحریکات کی بہتری، ترقی اور اصلاح کے لیے ناگزیر ہے۔ تنقیدی عمل کے اس رجحان کو فروغ دینے کی غرض سے ’الشریعہ‘ میں اس نوعیت کی تحریریں وقتاً فوقتاً شائع کی جاتی رہتی ہیں۔ زیر نظر تحریر میں، جو دراصل جناب الطاف احمد اعظمی کی کتاب ’’احیاے امت اور دینی تحریکیں‘‘ کا مقدمہ ہے، مصنف نے برصغیر کی بعض اہم فکری تحریکات اور شخصیات پر اپنی تنقید کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ ان کے نتائج فکر اور اسلوب تنقید سے اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
قوموں کے زوال کے مختلف اسباب ہیں۔ان میں سے دو سبب ایسے ہیں جو تقریباََ ہر قوم کے زوال میں کارفرما ملتے ہیں۔ ایک سبب تو عقلی قوت کا اضمحلال ہے جس کے نتیجے میں وہ قوم نہ صرف حکومت کرنے کی اہلیت سے عاری ہو جاتی ہے بلکہ اس میں با صلاحیت افراد کی پیدائش کا سلسلہ بھی بتدریج بند ہو جاتا ہے۔ اس قحط الرجال کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوم کی زمام اختیار نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے جو قومی معاملات کو رفتہ رفتہ اس حد تک خراب کر دیتے ہیں کہ ان کی اصلاح ناممکن ہو جاتی ہے۔
زوال کا دوسرا اہم سبب اخلاقی قوت کا ضعف ہے۔ جب کسی قوم میں عقلی انحطاط کے ساتھ اخلاقی ضعف بھی آجاتا ہے تو اس کے اصحاب اقتدار میں بہت سے اخلاقی معائب رونما ہوتے ہیں۔ مثلاََ وہ سخت کوشی اور جاں فروشی کے مقابلے میں تعیّش کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں، اور اسراف، نمودونمائش اور بے جا فخروغرور کا مظاہرہ ان کی زندگی کے معمولات میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ہی بھائی بندوں پر ظلم کرتے ہیں لیکن دشمن کے مقابلے میں بزدلی دکھاتے ہیں۔ خیانت، عہدشکنی، وعدہ خلانی، خوشامد، دروغ گوئی، خودستائی اور حبِّ جاہ ومال میں ان کا ہر فرد دوسرے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ عجلت و بے صبری اور یاوہ گوئی ان کا قومی مزاج بن جاتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کے درپے آزار ہوتے ہیں۔ قوم کے اربابِ حل و عقد کی اقتدا کی وجہ سے یہ سب خرابیاں امتداد زمانہ کے ساتھ عوام کے اندر بھی سرایت کر جاتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب پوری قوم اخلاقی اعتبار سے مکمل طور پر مفلوج ہو جاتی ہے۔
جب کوئی قوم عقلی اور اخلاقی زوال کے اس مقام تک پہنچ جاتی ہے تو پھر خدا کا عالم گیر قانونِ عدل حرکت میں آتا ہے اور اس ناکارہ قوم کے ہاتھ سے ملک و اقتدار لے کر کسی دوسری با صلاحیت اور آزمودہ قوم کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی دو سورتوں میں اس قانون تغیر کا ذکر آیا ہے۔ سورہ انفال آیت ۵۲ میں فرمایا گیا ہے:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مَغَیِّرًا نِعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْ ا مَا بِاَنْفُسِہِمْ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعُٗ عَلِیْمُٗ۔
’’ یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے، اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اس چیز کو نہ بدل ڈالے جس کا تعلق خود اس سے ہے۔ اور بے شک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
سورہ رعد آیت ۱۱ میں ارشاد ہوا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُغَیِّرُمَابِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ۔
’’اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرے۔‘‘
ہندوستان میں مسلمانوں کا سیاسی زوال خدا کے اس قانون عدل کے مطابق وقوع میں آیا۔ آخری دور کے مغل حکمرانوں کے حالات زندگی اور ان کے طرزِ حکومت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسلم قوم عقلی اور اخلاقی اعتبار سے پستی کی آخری حد تک پہنچ چکی تھی اور اس کا زوال یقینی تھا۔ چنانچہ ۱۸۰۶ء میں انگریزوں نے دلی کا تخت اقتدار مسلمانوں سے چھین لیا اور وہ مکمل طور پر مغلوب و محکوم بن گئے۔
اس سیاسی مغلوبیت نے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کو، جو پہلے ہی مائل بہ انتشار تھی، مزید پراگندہ کیا اور مسلمانوں میں من حیث القوم شکست خوردگی کا احساس قوی ہو گیا۔ اس نازک صورت حال کے پیش نظر قومی رہنماؤں اور مذہبی علما نے اصلاح احوال کے لیے غوروفکر شروع کیا۔ کسی نے اس خیال کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کی مذہبی تعلیم کا انتظام نہایت ضروری ہے ورنہ مغربی تہذیب کی یلغار سے مسلم نوجوانوں کے ایمان و اخلاق کی حفاظت مشکل ہو گی۔ کسی نے کہا کہ مسلمان جب تک جدید علوم و فنون کی تحصیل کی طرف مائل نہ ہوں گے، ان کی دنیوی ترقی اور قومی عروج ممکن نہیں ہے۔ مذہبی علما کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ساری خرابیوں کی وجہ جو ان کے سیاسی زوال کا پیش خیمہ بنیں، دراصل صحیح اسلامی فکروعمل کا فقدان ہے۔ مسلمان جب تک قرآن کی تعلیم اور نبی ﷺ کی سنّت کو مشعلِ راہ نہیں بنائیں گے، احیاے اُمّت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو گا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ہمہ گیر اسلامی تحریک اٹھے جس کی زیر قیادت تمام مسلمان مجتمع ہوں۔ اس آخری خیال کے زیر اثر مسلمانوں میں یکے بعد دیگرے تین جماعتیں، جمعیۃ العلما، تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی وجود میںآئیں۔
جماعت اسلامی
مسلمانوں میں علمی سطح پر جو جماعت سب سے زیادہ فعال ہے، وہ جماعت اسلامی ہے۔ ہر تحریک خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، اپنی فطرت کے لحاظ سے انقلاب انگیز ہوتی ہے۔ اس سے انسانی معاشرہ میں حرکت و ہلچل کا پیدا ہونا لازمی ہے،اس لیے کہ وہ معاشرے کی ہیئت ترکیبی کو بدلنے کا عزم لے کر کھڑی ہوتی ہے اور اس میں مروّج افکار وخیالات پر تنقید کر کے اس کی اصلاح و تہذیب کو اپنا لازمی فرض خیال کرتی ہے ۔ مختصر یہ کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا تقریباََ ہرگوشہ اس کی نظری اور عملی ترک تازی کی زد میں ہوتا ہے۔
جو لوگ معاشرے میں کسی تبدیلی کے خلاف ہوتے ہیں اور اپنے مزعومہ افکار و اعمال کو درست سمجھتے ہیں اور ان میں کسی نوع کی تبدیلی کو خلافِ دین و ایمان جانتے ہیں، وہ پوری قوت سے تحریک کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر طرح اس کی مزاحمت کرتے ہیں۔ بایں طور سماج کے ان دو مختلف الخیال طبقات کے درمیان کشمکش اور محاذ آرائی کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر تحریک مثبت اور تعمیری عناصر پر مشتمل ہوتی ہے تو وہ بہت جلد مخالفین پر غالب آ کر کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہے اور اگر اس میں تعمیری عناصر کی جگہ منفی اور تخریبی عناصر زیادہ طاقتور ہوتے ہیں تو تمام شورانگیزی اور نعرہ بازی کے باوجود آخرالامر اس کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے یعنی تحریک کا وجود کسی نہ کسی درجے میں باقی رہتا ہے لیکن اس کے اندر سے حرکت و عمل کی صلاحیت مسلوب ہو جاتی ہے اور وہ ایک جسد بے روح بن جاتی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت پیش آتا ہے جب تحریک کے مثبت اور منفی پہلوؤں میں سے کوئی ایک پہلو اتنا قوی نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے پہلو پر غالب آجائے۔ قرآن مجید کے الفاظ میں ’’خلطوا عملاً صالحاً وآخرسیئاً‘‘ جیسا معاملہ ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے جماعت اسلامی کے ساتھ یہی دوسری صورت پیش آئی۔ جماعت اب بھی قائم ہے اور ہندوستان کے علاوہ بعض دوسرے ملکوں میں بھی بعض مذہبی جماعتیں اس نام سے کام کر رہی ہیں لیکن اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جماعت اسلامی بحیثیت ایک مثبت تحریک کے تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اس کے پاس نظری سطح پر اب صرف ’’حکومتِ الٰہیہ ‘‘ کا وہ نظریہ رہ گیا ہے جو مولانا سیّد ابو الا علیٰ مودودیؒ کے مذہبی لٹریچر کا جزو غالب ہے۔ اس کو مختصراََ یوں سمجھ لیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات خلقت کا حاکم و آمر ہے اور اسی کے حکم و فرمان کے مطابق ارض و سما کا تکوینی نظام چل رہا ہے، اسی طرح وہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی اور تمدنی زندگی کا بھی حاکم علی الاطلاق ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس نظریہ پر ایمان رکھتے ہیں، ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اس زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنے کی ہر ممکن سعی کریں تاکہ یہاں اس کا قانون شرعی نافذ ہو۔ اس نظریہ کا نام مولانا مودودیؒ کی مخصوص اصطلاح میں ’حکومت الٰہیہ‘ ہے چنانچہ مولانا کے نزدیک ’’ اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم (Social order) کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق تعمیر کرنا چاہتا ہے۔‘‘
اس نظریے میں دو بڑی خرابیاں ہیں جو اوپر کی عبارت سے بالکل واضح ہیں۔ ایک خرابی تو یہ خیال ہے کہ حکومتِ الٰہیہ قائم کرنا مسلمانوں کا دینی فرض ہے اور دوسری خرابی اسلام کے خارجی پہلو کا اس کے داخلی پہلو پر غلبہ ہے یعنی تعلق مع اللہ اور تزکیہ نفس کے مرحلے سے گزرے بغیر اسلام کے اجتماعی نظام کے قیام کی دعوت دینا۔
اسلام کا آغاز کس طرح ہوا اور وہ کن مراحل سے گزر کر کامیابی کی منزل تک پہنچا، یہ محض کوئی نظری داستان نہیں بلکہ تاریخ عالم کا ایک منضبط عملی واقعہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی، کیا انفرادی اور کیا اجتماعی، اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ کیا آپ ﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز اسلام کے سیاسی و عمرانی تصوّرات کی تبلیغ سے کیا؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہو گا۔ آپ ﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز توحید کی تعلیم سے کیا جو دین اسلام کی روح اور اس کا مغز ہے۔اس کا اوّل بھی توحید اور آخر بھی توحید ہے۔ باقی چیزیں اسی شجرہ طیّبہ کے برگ و بار ہیں۔
اسلامی نظام میں توحید کی وہ حیثیت ہے جو عمارت میں بنیاد کو اور جسم میں روح کو حاصل ہے۔ اسلامی نظام کے سارے اجزا اس مرکز کے گرد ٹھیک اس طرح گھومتے اور اس سے کسب فیض کرتے ہیں جس طرح نظام شمسی میں تمام سیارے سورج کے گرد گھومتے اور اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ اسلام کے سیاسی و عمرانی نظریات کی حیثیت توحید کے توابع کی ہے، اس سے علیٰحدہ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ کسی معاشرہ میں ان نظریات کا ظہوروشیوع اسی وقت ممکن ہے جب نظریہ توحید کو سماج پر فکری اور عملی بالادستی حاصل ہو۔ اس لیے توحید کی اقامت سے پہلے ان نظریات کی اقامت کی سعی ریت پر محل بنانے کے مترادف ہے۔
جماعت اسلامی نے اپنے نصب العین میں ملک و اقتدار کے حصول کو جو بنیادی حیثیت دی ہے، وہ اس کی ایک بڑی فکری خطا ہے۔ اس باب میں قرآن مجید کی تعلیم بالکل واضح ہے اور اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں ہے، قصورفہم کی بات دوسری ہے۔ قرآن مجید کے بیان کے مطابق اہل ایمان کو زمینی غلبہ و اقتدار اس وقت عطاکیا جاتا ہے جب وہ بحیثیت مجموعی ایمان اور عمل صالح کے اوصاف سے متصّف ہوں۔ (سورہ نور۔۵۵) گویا حکومت و اقتدار ایمان اور عمل صالح کے نتائج و ثمرات ہیں نہ کہ مقصود و مطلوب جیسا کہ جماعت اسلامی کا خیال ہے۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق مسلمانوں کا دینی و ملّت نصب العین یہ قرار پاتا ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کو ایمان اور عمل صالح کے قالب میں ڈھالیں اور پھر دوسروں کو اس کی دعوت دیں۔ اس راہ میں ہر طرح کی جدوجہد مطلوب ہے اور اس جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھنا ہو گا جب تک کہ اہل ایمان کی ایک ایسی جماعت تیار نہ ہو جائے جس کا ایک ایک فرد اپنے اخلاق و کردار اور اہلیت کے اعتبار سے مثالی ہو ۔ اس معیار مطلوب تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو تمکّن فی الارض عطا کرے گا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صالحین کی موجودگی میں زمام حکومت غیر صالحین کے ہاتھ میں نہیں دی جاتی ہے بشرطیکہ صالحین فی الواقع صالحین ہوں، محض شکل و صورت کے صالحین نہ ہوں۔ غیر صالحین کے غلبہ کے معنی یہ ہیں کہ صالحین کی کوئی جماعت موجود نہیں ہے۔
اگر بالفرض عدم صالحیت کے باوجود مسلمانوں کو کہیں حکومت مل بھی جائے تو وہ صرف نام کی اسلامی حکومت ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام جس نوع کا نظام عدل اجتماعی قائم کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس نظام کے قائم کرنے والے لوگ خود اپنی زندگی میں عدل و قسط پر قائم ہوں اور حبّ جاہ و مال سے بے نیاز ہو چکے ہوں۔ ظاہر ہے کہ افراد معاشرہ میں یہ اوصاف محض تقریر و تحریر سے ہرگز پیدا نہ ہوں گے۔ اس کے لیے تعلیم و تربیت کے ایک طویل مرحلہ سے گزرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مدت نصف صدی ہو یا اس سے بھی زیادہ۔
تعلیم و تربیت کے اس مرحلہ میں جس نکتہ پر سب سے زیادہ توجہ مطلوب ہو گی، وہ ایمان باللہ اور اس کے تقاضے ہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ سے صحیح تعلق قائم نہ ہو گا اور اس کی سچی معرفت حاصل نہ ہو گی، اس وقت تک ایک مسلمان کے اندر وہ اوصاف و کمالات پیدا نہیں ہو سکتے جو عدل اجتماعی کے اسلامی نظام کے قیام کے لیے لازمی ہیں۔ حکومت تو بڑی چیز ہے، معمولی ادارے بھی بے کردار اور نا اہل افراد کے ذریعہ نہیں چلائے جا سکتے ہیں۔ذرا سوچیں، اللہ تعالیٰ اپنی زمین پر ایسے لوگوں کو اقتدار کا مالک کس طرح بنا سکتا ہے جو بے کردار ہوں اور ذہنی اعتبار سے ناکارہ بھی۔ یہی وجہ کہ جب دنیا کے کسی خطّے میں حقیقی اہل ایمان کا کوئی گروہ موجود نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ زمین پر اس قوم یا جماعت کو اقتدار عطاکرتا ہے جس میں حکومت کرنے کی اہلیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اصل چیز جس پر مسلمانوں کو من حیث القوم زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ تعمیر سیرت اور تکمیل لیاقت ہے نہ کہ مجرد اسلام کا نظری تعارف جس پر ا ب تک جماعت اسلامی کی ساری توجہ مرکوز رہی ہے۔
اگر ارباب جماعت نے اسلام کو علمی و نظری سطح پر ایک عمدہ نظریہ حیات کی حیثیت سے نہایت مدلل طور پر ثابت بھی کر دیاتو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ کچھ لوگ اسلام کی علمی فضیلت کے قائل ہو جائیں لیکن ان کا حلقہ بگوش اسلام ہونا ممکن نہیں ہے۔ کوئی بھی نظریہ ہو، جب تک وہ عمل کے قالب میں ڈھل کر دنیا کے سامنے نہیں آتا، اس کو قبول عام حاصل نہیں ہوتا ۔اسلام کی ابتدائی تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے۔ جزیرۃالعرب میں اسلام کو جو بے مثال کامیابی ملی، اس کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا پختہ ایمان اور حسن کردار تھا نہ کہ زور خطابت اور حسن تحریر۔
جماعت اسلامی سے وابستہ اہل علم کا جو طبقہ ہے، اس کی ایک بڑی تعداد نے اسلام کو محض ایک علمی مشغلہ کا درجہ دے رکھا ہے۔ ان کا اسلام کتابوں، سیمیناروں اور مجالس مذاکرہ سے باہر کہیں نظر نہیں آتا۔ یہ ایک طرح کی ذہنی تفریح ہے جس کے یہ لوگ عادی ہوچکے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے فکر کے ساتھ ذکر بھی ضروری ہے (آل عمران ۱۹۱) اور ذہن کی تابناکی کے ساتھ قلب وروح کی تابندگی بھی ناگزیر ہے۔ دنیا کے سامنے اسلامی نظام حیات کی بات کرنے سے زیادہ مقدم امر یہ ہے کہ خود افراد جماعت کی زندگیوں، ان کے گھروں میں اسلامی تعلیمات کا چراغ روشن ہو۔ ان کے کردار واعمال کو دیکھ کر اہل جہاں کو معلوم ہو کہ اسلام ایک فرد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بایں طور سنوارتا اور نکھارتا ہے۔ آپ علوم وفنون کو ضرور مسلمان بنائیں لیکن اس سے پہلے زندگی کی تاریک راہوں میں حسن عمل کی ایک شمع تو روشن کر دیں۔
تبلیغی جماعت
دین کی ایک تعبیروہ ہے جس کا ابھی اوپر ذکر ہوا یعنی جماعت اسلامی کی تعبیر دین، اور دوسری تعبیر وہ ہے جسے تبلیغی جماعت نے پیش کیا ہے۔ یہ تعبیر دین ہر اعتبار سے اول الذکر تعبیر سے مختلف ہے، ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کا تعلق علما کے اس گروہ سے تھا جو خانقاہی نظام سے منسلک تھے چنانچہ ابتدا میں وہ بھی اسی گروہ سے وابستہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سہارنپور کے معروف عربی مدرسہ میں کچھ دنوں تک درس وتدریس کا کام بھی انجام دیا۔ لیکن انہوں نے بہت جلد محسوس کر لیا کہ خدمت اسلام کے یہ دونوں طریقے گو کہ بعض اعتبار سے مفید ہیں لیکن اس سے عام مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے اور مسلم سماج کی اصلاح ان کے ذریعہ ممکن نہیں ہے۔ اس خیال کے تحت انہوں نے تبلیغی جماعت قائم کی۔
چونکہ اس کا مقصد عام مسلمانوں کی اصلاح تھا، اس لیے اس کی دعوت کو دین کے چند بنیادی امور مثلاً کلمہ کی اصلاح اور قیام نماز وغیرہ تک محدود رکھا گیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو کل اسلام سمجھتے تھے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ یہ امور دین کی الف ،ب، ت ہیں اور ان سے گزر کر اسلام کے دوسرے اصول واعمال تک تدریجاً پہنچنا ہے اور اس جدوجہد کی آخری منزل ’’سیاست نامہ‘‘ ہے۔ انہوں نے مولانا مودودی کے برخلاف طاقت وحکومت کے حصول کو اصل مطلوب ومندوب کی حیثیت نہیں دی بلکہ اس کو ایمان اور عمل صالح کا خدائی انعام قرار دیا۔
راقم کے نزدیک مولانا محمد الیاس کی دعوت بعض نقائص کے باوجود اصولی اعتبار سے بالکل درست اور قرآن وسنت کے مطابق تھی لیکن اس مرد مومن کے انتقال کے بعد تبلیغی جماعت مولانا محمد زکریا صاحب کے زیر اثر آگئی اور یہیں سے اس جماعت میں فکری اور عملی انحراف شروع ہوا۔ جس دعوت کو بانی جماعت نے دین کی الف ،ب،ت کہا تھا، اس کو کل دین قرار دے دیا گیااور آج تبلیغی جماعت اسی راہ میں گامزن ہے۔
اس سے بڑا ستم یہ ہوا کہ دین کے بعض بنیادی امور میں افراط وتفریط کے رجحان کو جس کا آغاز بانی جماعت کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا، فروغ ملا اور وہ کافی پختہ ہوگیا مثلاً ایمان وعمل میں تفریق اور نماز اور زکوٰۃ میں تفریق وغیرہ ۔ پہلی تفریق نے انہیں کردار سازی سے غافل کیا اور دوسری تفریق نے بندگان خدا کی خدمت کے تصور سے بے گانہ بنایا۔ اس کے علاوہ تو کل کے غیرقرآنی تصور کا بھی اس جماعت میں رواج ہے۔ اور اس سے بڑھ کر پیر پرستی کی بیماری ہے جس میں اس جماعت کے خاص وعام سب مبتلا ہیں۔
اس جماعت کی فکری رہنما تبلیغی نصاب (فضائل اعمال ) نامی کتاب ہے جس میں بے شمار موضوع اور ضعیف روایتیں اور بے سروپا حکایتیں بھری ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود اس کتاب کو اہل تبلیغ میں وہ ہردلعزیزی حاصل ہے کہ اس کی کوئی دوسری نظیر تاریخ امت میں کم از کم مجھے نہیں ملی۔ اس مقبولیت کی وجہ مولف کتاب سے اہل تبلیغ کی اندھی عقیدت ہے جو پیری مریدی کا لازمی نتیجہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب امت مسلمہ کے حق میں ایک بہت بڑا فتنہ ہے لیکن افسوس کہ مسلمان اس حقیقت کے ادراک سے اب تک قاصر ہیں ۔
تبلیغی جماعت کو عوام میں جو مقبولیت حاصل ہے، اس دیکھ کر بہت سے لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ بالکلیہ حق پر ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ عوام میں تبلیغی جماعت کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کی جو ذہنی اور فکری سطح ہے، وہ جماعت کی ذہنی اور فکری سطح سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ اس کے علاوہ عبادت کے چند اعمال ورسوم کی ظاہری پیروی کو کل دین کی حیثیت دے دی گئی ہے جس کی وجہ سے عام مسلمان بآسانی اس سے وابستہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اعمال واخلاق کی جن خرابیوں میں غیر تبلیغی مسلمان مبتلا ہیں، انہی خرابیوں میں تبلیغی جماعت کے افراد بھی مستثنیات سے قطع نظر ملوث نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے۔ جب ذکرلسانی، درود شریف، تبلیغی گشت، نصاب خوانی اور نوافل کا اہتمام کرنے والوں کے لیے جنت میں ہزاروں محل کی تعمیر کا مژدہ سنایا جا رہا ہو تو پھر کسی مسلمان کو کیا پڑی کہ وہ اعمال صالحہ کی گھاٹی عبور کرنے کی مشقت اٹھائے؟ تعمیر سیرت سے مکمل طور پر بے اعتنائی کی وجہ سے تبلیغی جماعت کی افادیت اس کے وسیع حلقہ اثر کے باوجود بہت تھوڑی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی مضرت کہیں زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تبلیغی جماعت نے ظاہری مذہبیت اوراس میں غلو اور شخصیت پرستی کے علاوہ مسلمانوں کو اور کچھ نہیں دیا اور نہ آیندہ وہ کچھ دے سکتی ہے۔ جس جماعت کی فکری رہنما تبلیغی نصاب (فضائل اعمال ) جیسی کتاب ہو، اس میں خیروصلاح کی توقع زمین شور سے روئیدگی کی توقع کے ہم معنی ہے۔
جمعیۃ العلما
جمعیۃ العلما کا وجود ملک کے مخصوص سیاسی حالات کا مرہون منت ہے۔ اس کا سیاسی نصب العین ملک کی مکمل آزادی اور مذہبی نصب العین اسلام کے انفرادی واجتماعی احکام کی تنفیذ تھا۔ ملک کی آزادی کے بعد اس کا سیاسی نصب العین خود بخود ختم ہوگیا اور مذہبی نصب العین بھی تبدیل ہوگیا۔اب یہ ایک نیم سیاسی نیم مذہبی جماعت ہے اور مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقہ کی نمایندگی کرتی ہے۔ ابتدا میں اس جماعت کی قیادت بلند قامت علما کے ہاتھ میں تھی۔ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ ،مولانا حسین احمد مدنی، اور مولانا حفظ الرحمن جیسے صاحب نظر اور معاملہ فہم علما اس جماعت کے قائد رہ چکے ہیں۔ ان علما کی وفات کے بعد رفتہ رفتہ ذاتی اغراض ومفاد رکھنے والوں نے اس جماعت پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اس وقت یہ جماعت خود غرضوں کے ہجوم میں تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ اس کے سب سے بڑے حصے پر جو جمعیۃ العلما ہند کے نام سے موسوم ہے، ایک فرد واحد کا تسلّط ہے۔
دوسری جماعتوں کی طرح جمعیۃ العلما کے لوگ بھی اکابر پرستی کے روگ میں مبتلا ہیں۔ مریدوں کا ایک حلقہ جو ہندوستان کے ایک بڑے عالم دین اور شیخ طریقت نے قائم کیا تھا، اب بھی اس جماعت کی ہم نوائی کے لیے موجود ہے۔ بہت سے مکاتب و مدارس اس کے علاوہ ہیں جن کے اکثر فارغین اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی وجہ، تلخ نوائی معاف، محض اکابر پرستی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جماعت کے پاس حقیقی معنی میں اب نہ کوئی دینی لائحہ عمل ہے اور نہ کوئی مثبت اصلاحی و سماجی پروگرام۔ گاہے گاہے کانفرنسوں کا انعقاد اور ان میں تجاویز کی منظوری، یہی اس کا کل جماعتی سرمایہ ہے۔
نظری طور پر اب یہ سیاسی جماعت نہیں ہے لیکن عملاً کاروبار سیاست جاری ہے۔ آزادی کے بعد مولانا ابوالکلام آزادؒ نے لکھنؤ میں مسلمانوں کے اصحاب الرائے کی جو کانفرنس منعقد کی، اس میں دیگر امور کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ مسلمانوں کی تمام سیاسی جماعتیں تحلیل کر دی جائیں۔ اس فیصلہ کے مطابق جمعیۃ العلما کا سیاسی وجود ختم ہو گیا۔ اس کے ذمہ داروں نے اعلان کیا کہ اب جمعیۃ العلما کا دائرہ کار مسلمانوں کے مذہبی اور تعلیمی امور تک محدود رہے گا۔ لیکن عملاًاس نے اس فیصلے کی پابندی نہیں کی اور برابر الیکشن کے موقع پر کانگریس کی حمایت میں سرگرمی دکھائی اور اب تک یہ سلسلہ حمایت جاری ہے۔ حد یہ ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھی ارباب جمعیۃ نے نظر ثانی کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ان دنوں حمایت کی لے کچھ مدھم ضرور ہوئی ہے لیکن اس کی وجہ خود کانگریس کی بے التفاتی ہے۔
جمعیۃ العلما کا تعارف نامکمل رہے گا اگر یہاں مولانا آزاد کا ذکر نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمعیۃ العلما کی مذہبی اور سیاسی فکر کی تشکیل میں مولانا آزاد کی فکر کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ متحدہ قومیت کا مسئلہ ہو یا جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شرکت اور کانگریس کی حمایت کا معاملہ، جمعیۃ العلما نے مولانا کے نقوش قدم کی پیروی کی ہے اور انہی کے چشمہ فکر سے اپنے جام و ساغر بھرے ہیں۔ آج بھی ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے جو مولانا آزاد کی جادو بیانی و قلم نگاری کے طلسم کے اسیر ہیں۔ ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کو آج بھی بہت سے لوگ شوق سے پڑھتے اور ان سے گرمی فکر حاصل کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے قومی مزاج کا اظہار ہوتا ہے جو بڑی حد تک جذباتی اور شاعرانہ ہے ۔
جہاں تک مولانا آزاد کی شخصیت اور ان کے علم وفضل کا معاملہ ہے، وہ قابل احترام ہے
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا کی فکر اور ان کے اسلوب نگارش نے ملت اسلامیہ کو بے اندازہ نقصان پہنچایا ہے۔ ادنیٰ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال جس طرح گاندھی جی نے کیا، اسی طرح مولانا آزاد نے بھی کیا۔ گاندھی جی تو خیر سے ایک دنیوی سیاست دان تھے اور انہوں نے فقیری کا لباس بھی اسی غرض سے پہنا تھا لیکن مولانا آزاد سیاست دان کے ساتھ ایک بڑے عالم بھی تھے ۔ ان کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ کاروبار سیاست کی گرمیِ بازار کے لیے مذہب اسلام کا جاو بے جا استعمال کریں۔ہندوؤں میں ایک سے ایک بڑا سیاسی لیڈر گزرا ہے اور ان میں مذہبی لوگ بھی شامل تھے، مثلاََ ونو با بھاوے، راج گوپال آچاریہ، آچاریہ کرپلانی اور ڈاکٹر رادھا کرشنن وغیرہ، لیکن ان میں سے ایک لیڈر نے بھی سیاسی مقاصد کے لیے اپنے مذہبی لٹریچر کا استعمال نہیں کیا۔ کسی نے کیا تو اسلام کے اس بطل جلیل نے۔
مولانا آزاد نے اپنی تحریروں میں جس کثرت سے قرآنی آیات اوراحادیث نبویہ کو اپنے سیاسی افکار کے اثبات میں بطور دلیل و ثبوت پیش کیا ہے، اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے عالم کے یہاں نہیں ملے گا۔ متحدہ قومیت کی تائید میں سیرت نبوی سے مولانا کا استشہاد نہایت درجہ مغالطہ انگیز ہے۔ تفصیل آپ کو کتاب میں ملے گی۔ ترکی خلافت، مسلم یونیورسٹی اور جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شرکت جیسے مسائل میں بھی مولانا آزاد نے غیر محتاط روش اختیار کی ہے اور قرآن کی آیات کو بلالحاظِ موقع و محل اپنے خیالات کی تائید میں پیش کیا ہے۔
مولانا آزاد کی تحریروں سے مسلمانوں کو دوسرا بڑا نقصان یہ پہنچا کہ ان کی جذباتیت اور اشتعال پذیری میں، جو متعدد اسباب سے ان کا ملّی مزاج بن چکا ہے، اضافہ ہوا اور اس کی لے آگے چل کر بہت تیز ہو گئی۔ عہدِ فرنگی میں مسلمانوں کے اس قومی مزاج کو برانگیختہ کرنے میں ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ ‘‘ کا حصّہ سب سے زیادہ ہے۔ صفحات کے صفحات الٹ جائیں، ہر جگہ مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والا خطابی اسلوب ملے گا۔ بعد کے بہت سے اہل قلم نے جذبات نگاری میں انہی کا اتباع کیا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں نے، جو دراصل مولانا آزاد کے مذہبی افکار کی صدائے بازگشت ہے، جذباتی اور خطابی طرز نگارش کو مزید مستحکم بنایا۔ اگرچہ انہوں نے مولاناآزاد کے برخلاف عربی اور فارسی کے ثقیل اور نامانوس الفاظ کے استعمال سے احتراز کیا ہے اور زبان بھی نسبتاََ سلیس اور شستہ ہے لیکن افکار و خیالات کی جو تندی، گرمی اورتلاطم خیزی مولانا آزاد کی تحریروں میں ہے، وہی گرمی اور تموّج مولانا مودودی کی تحریروں میں بھی موجود ہے۔
مولانا آزاد سے جو فکری خطائیں سرزد ہوئیں، اس کا ایک بڑا سبب ان کا جذبہ انانیت تھا۔ اردوکے انانیتی ادب میں مولانا کی تحریروں کو نمایاں مقام حاصل ہے اور وہ اس بزم خود آرائی کے صدر نشین ہیں۔ ان کی انفرادیت پسندی اور اناپرستی نے ہر جگہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ ایک نئی راہ نکالے اور ایک نیا طرز رفتار وگفتار وضع کرے۔ اس غیر معتدل روش نے ان کو کبھی اس بات کا موقع نہیں دیا کہ وہ اپنی فکر کی کجی سے باخبر ہوتے۔قرآن مجید کی تفسیر میں بھی خودنمائی کے اثرات پورے طور پر موجود ہیں۔ تفسیری جدت طرازی کے شوق میں انہوں نے بعض فکری اعتزالات ( وحدت ادیان وغیرہ ) کی داغ بیل ڈالی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خطا ؤں سے درگزر فرمائے۔
علامہ محمد اقبالؒ
مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا مودودیؒ کے بعد جس بڑی شخصیت کے خیالات نے برّصغیر کے مسلمانوں کے ذہن و فکر کو کافی متاثر کیا، وہ علامہ اقبال ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسلامی شاعر ہیں اور ان کا کلام خالص اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار ہے۔ بعض اصحاب علم کا خیال ہے کہ ان کی شاعری قرآنی بصائر و معارف کا گنجینہ ہے۔ مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’ مغربی تعلیم و تہذیب کے سمندر میں قدم رکھتے وقت وہ جتنا مسلمان تھا، اس کے منجھدار میں پہنچ کر اس سے زیادہ مسلمان پایا گیا۔ اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا، اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا یہاں تک کہ اس کی تہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہو چکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیں رہا۔ وہ جو کچھ سوچتا، قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا، جو کچھ دیکھتا تھا قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا۔‘‘
یہ ایک سطحی رائے ہے اور اس میں صریح مبالغہ ہے۔ اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ اقبال ایک بڑے شاعر تھے اور غالب کے علاوہ کوئی دوسرا اردو شاعر ان سے لگّا نہیں کھاتا ، اور یہ بھی صحیح ہے کہ وہ مسلم قوم کے حدی خواں تھے لیکن یہ کہنا کہ ان کے کلام میں قرآنی فکر سموئی ہوئی ہے، صحیح نہیں۔ ان کے کلام میں اسلامی فکر کے ساتھ دوسرے افکار کی آمیزش بالکل واضح ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ اقبال شروع سے تصوف کے دلدادہ تھے۔ ’’اسرار خودی‘‘ کے زمانہ تصنیف میں انہوں نے تصوف کے بعض پہلوؤں مثلاََترک عمل اور نفی خودی وغیرہ پر تنقید کی لیکن بہت جلد وہ دوبارہ تصوف بالخصوص اس کے بنیادی خیال ’’وحدۃ الوجود‘‘ کے حامی ہو گئے اور اخیر تک اس حمایت کا سلسلہ جاری رہا۔ اس معاملے میں دوسرے صوفی شعرا کی طرح اقبال نے بھی حد درجہ بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا ہے یہاں تک کہ بعض اشعار میں اس غیر محتاط روش کا ڈانڈا کفروشرک سے مل گیا ہے۔ اس قسم کے اشعار ان کی اکثر شعری تخلیقات بالخصوص ان کے فارسی کلام مثلاََ گلشنِ راز جدید، پیام مشرق، جاوید نامہ اور ارمغان حجاز میں بکثرت موجود ہیں۔ اقبال نے اپنی مشہور نثری تالیف ’’اسلامی الٰہیات کی تشکیل جدید‘‘ میں بھی اسلامی افکار و عقاید کا جائزہ وجودی نقطہ نظرسے لیا ہے اور منصور حلاج کے دعوائے اناالحق کی تائید و حمایت کی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات کا مفہوم بھی انہوں نے اسی غیر قرآنی فکر کی روشنی میں متعین کیا ہے اور متعدد فاش غلطیاں ان سے سرزد ہوئی ہیں۔جو قارئین اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں، وہ راقم کا رسالہ ’علامہ اقبال اور وحدۃ الوجود‘ ملا حظہ فرمائیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے مزاج کو جذباتی اور شاعرانہ یا دوسرے لفظوں میں فلک پیما اور آفاقی بنانے میں مولانا آزاد اور مولانا مودودی کی تحریروں کے ساتھ اقبال کا کلام بھی برابر کا شریک و سہیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام تحریر و تقریر دونوں میں کثرت سے نقل کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ وہ مسلمانوں کی جذباتی آسودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
اصلاح امت کا صحیح منہج
گذشتہ صفحات میں ہم نے تین اہم جماعتوں اور بعض معروف اکابر شخصیات کا جو فکری تعارف کرایا ہے، اس سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ان علما اور مفکرین نے دین اسلام کی جو تشریح و تعبیر کی ہے، اس میں قرآنی فکر کا حصّہ بہت کم ہے اور افراط و تفریط کا رجحان اس میں غالب ہے۔
دین کی تشریح و توضیح کی بنیاد دو چیزوں پر ہے، ایک قرآن مجید اور دوسرے اسوۂ رسول یعنی سنّت۔ قرآن کی بنیادی فکر توحید ہے اور اسی مستحکم بنیاد پر عبادات، اخلاق اور معاملات کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ اس بنیاد کی کمزوری کا مطلب پوری عمارت کی کمزوری ہے۔ توحید کی روح جیسا کہ پہلے بیان ہوا، غیر اللہ کی طاقت کی مکمل نفی اور دل سے اس بات پر یقین رکھنا ہے کہ ہر طرح کا نفع و ضرر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے برخلاف خیال کرنا شرک ہے۔ تینوں جماعتوں کے لٹریچر میں توحید کے اس اساسی پہلو کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔
توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃجیسے دو بڑے ارکان دین کا درجہ ہے۔ یہ دراصل توحید کی عملی صورتیں ہیں۔ یہ دونوں عبادتیں اپنا اپنا ایک علیحدہ نظام رکھتی ہیں۔ ان نظامات کی صحیح تشکیل و تکمیل پر مسلم قوم کے انفرادی اور اجتماعی معاملات کی درستی کا مدار ہے۔ بدقسمتی سے زیر بحث تینوں جماعتوں نے ان عبادات کو مسلمانوں کے نظم و اجتماع کی بنیاد قرار نہیں دیا ہے۔ صلوٰۃ کا نظام کسی نہ کسی شکل میں ضرور قائم ہے لیکن اس کی روح و غایت سے مقتدی اور امام دونوں کے ذہن خالی ہیں۔ نماز مسلمانوں کی دینی اور دنیوی اجتماعیت کی ضامن ہے۔ اس کے نظام کے ایک ایک جز سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ دراصل یہ امامت صغریٰ ہے جو امامت کبریٰ یعنی خلافت و امارت تک پہنچنے کا زینہ ہے۔ یہاں میں مولانا قاری محمد طیّب صاحب کے الفاظ مستعار لوں گا۔ لکھتے ہیں:
’’سب سے بڑی نظیر نماز کی جماعت ہے جس کا نام امامت صغریٰ ہے جو کلیۃً امامت کبریٰ یعنی امارت و خلافت پر منطبق ہے۔ وہاں اگر امام اور امیر ہے تو یہاں بھی امام ہے۔ وہاں اگر جہاد میں ہر نقل و حرکت پر نعرۂ تکبیر ہے تو یہاں بھی ہے۔ وہاں اگر امام کے حق میں سمع و طاعت فرض ہے تو یہاں بھی ہے۔ وہاں اگر مجاہدین کی صفیں مرتب اور سیدھی ہونی ضروری ہیں، تو یہاں بھی یہی ہے۔ وہاں اگر میمنہ اور میسرہ ہے تو یہاں بھی ہے۔ وہاں اگر صفوں میں شگاف آجانا ناکامی کی علامت ہے تو یہاں بھی ہے۔‘‘
غور کریں کہ کتنے نمازیوں کی نظر امامت صغریٰ اور امامت کبریٰ کے اس تعلق پر ہے؟ نمازیوں کو جانے دیں، علما اور اماموں سے استفسار کر لیں کہ ان میں سے کتنے لوگ نماز کے اس حکیمانہ پہلو سے واقف ہیں؟
یہ حال تو نظام صلوٰۃ کا ہے ۔ نظام زکوٰۃ کا حال اس سے کہیں زیادہ افسوسناک ہے۔ یہ نظام جو مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا ایک بڑا ذریعہ تھا، سرے سے موجود نہیں ہے۔ اس بے نظمی کا نتیجہ ہے کہ اربوں کی رقم جو مسلمان اپنے تمام تر دینی انحطاط اور معاشی ابتری کے باوجود ہر سال مختلف شکلوں میں مہیا کرتا ہے، ضائع ہو جاتی ہے اور اس ضیاع میں عربی مدارس کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔
مذکورہ دونوں نظاموں کا تزکیہ نفس یعنی اخلاق و معاملات کی تہذیب و تزئین سے گہرا تعلق ہے۔ ان نظاموں کی خستہ حالی اور پراگندگی سے مسلمانوں کے اخلاق اور معاملات بھی حد درجہ خراب و خستہ ہیں۔ ملت اسلامیہ کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اسلامی عبادات کا رشتہ اعتصام باللہ، تعمیر اخلاق، تطہیر نفس اور تشکیل اجتماعیت سے جوڑنے کے بجائے محض ثواب کے تصور سے جوڑ دیا گیا ہے اور انجام کار نمازیں پڑھنے اور کسی درجہ میں مال خرچ کرنے کے باوجود نہ تو مسلمانوں کے اخلاق بلند ہوتے ہیں اور نہ ان کے نفس کے عیوب دور ہوتے ہیں اور نہ ہی ان میں اجتماعی شعور پیدا ہوتا ہے۔ تصور عبادت کی اس خامی نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
حیرت تو یہ ہے کہ اسوۂ رسول اور سیرت صحابہ کی موجودگی میں عبادت کے اس سطحی تصور نے مسلمانوں میں قبول عام حاصل کر لیا ہے۔ ہر مسلمان اپنے ہادی برحق ﷺ اور آپ کے سچے اصحاب کی زندگیوں کو جو حدیث و سیر کے صفحات میں محفوظ ہیں، دیکھ کر بآسانی معلوم کر سکتا ہے کہ ان کے اخلاق و معاملات کیا تھے اور ان کی عبادات نے ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو کس طرح سنوارا کہ وہ خیر امت بن گئے۔ ان میں کسی طرح کا کوئی مذہبی اختلاف نہ تھا۔ نظری اور عملی ،دونوں اعتبار سے وہ امت واحدہ تھے، سب مل اللہ کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے تھے۔ لیکن آج مسلمانوں کی مذہبی اور ملّی زندگی اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان میں مذہبی اختلافات کی وجہ سے اتحاد عمل کا فقدان ہے، اور مختلف جماعتوں میں بٹ جانے کی وجہ سے قومی شیرازہ منتشر ہے۔
اس سے بڑا ستم یہ ہے کہ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں فرقہ بندی کی ذہنیت اور عصبیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے مسلکی اورفقہی عصبیت نے مسلمانوں کے قومی نظم و اجتماع کو درہم برہم کیا تھا اور اب جماعت سازی کی مصیبت نے ان کو مختلف خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ مجھے یہاں یہ کہنے کی اجازت دیں کہ مسلمانوں کی مختلف مذہبی جماعتیں دراصل ان کے مذہبی فرقے ہیں، اور ان کا سواد اعظم انہی فرقوں میں بٹا ہوا ہے اور ایک دوسرے کی تنقیص و تکذیب میں مصروف ہے۔ یہ بات کہ یہ جماعتیں مذہبی فرقے ہیں، حدیث ذیل سے ثابت ہے:
’’ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں، اس ڈر سے کہ کہیں یہ شر میرے اندر نہ آ جائے۔ چنانچہ میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، ہم لوگ جاہلیت اور شر کی حالت میں تھے کہ اللہ تعالیٰ یہ خیر ہمارے پاس لایا۔ کیا اس خیر کے بعد دوبارہ شر کا ظہور ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا، ہاں دوبارہ شرآئے گا۔ میں نے کہا اس شر کے بعد دوبارہ خیر آئے گا؟ فرمایا، ہاں آئے گا مگر اس میں گدلاپن ہو گا۔ میں نے پوچھا یہ گدلا پن کیا ہے؟ فرمایا، ایسے لوگ آئیں گے جو میری سنّت کے خلاف قوم کی رہنمائی کریں گے۔ تم ان میں اچھے کام بھی دیکھو گے اور برے کام بھی۔ میں نے کہا، اس نوع کے خیر کے بعد پھر شر آئے گا؟ فرمایا، ہاں۔ ایسا شر آئے گا کہ جہنّم کے دروازوں پر بلانے والے بیٹھے ہوں گے اور جو لوگ ان کی دعوت قبول کریں گے، وہ ان کو جہنّم میں پھینک دیں گے۔ میں نے کہا، ان کی کچھ صفات بیان فرمائیں۔ فرمایا، وہ ہماری قوم میں سے ہوں گے اور ہماری زبان بولیں گے۔ میں نے کہا ، اگر یہ زمانہ میں نے پا لیا تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا، مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ وابستہ رہو۔ میں نے کہا ، اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور ان کا کوئی امام بھی نہ ہو تو ایسی حالت میں کیا کروں؟ فرمایا، ان سارے فرقوں سے الگ ہو جاؤ اگرچہ تم کو کسی درخت کی جڑ کو دانتوں سے پکڑنا پڑے اور اسی حالت میں تم کو موت آ جائے۔‘‘ ( دیکھیں بخاری ، کتاب الفتن ۔ مسلم، کتاب الامارہ )
مذکورہ حدیث میں جماعۃ المسلمین اور امام المسلمین کے نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی ختم ہو جائے، یعنی ان کی حکومت باقی نہ رہے۔ اس صورت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فرقہ بندی اور جماعت سازی سے بچیں۔ اس ہدایت کی حکمت بالکل واضح ہے۔ اگر ایک بار ملّت اسلامیہ مختلف فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو گئی تو پھر اس کی دوبارہ قومی شیرازہ بندی نہایت مشکل ہو گی کیونکہ ہر فرقہ اور ہر جماعت اپنے علیحدہ مذہبی تشخص اور اپنی مخصوص تعبیر دین پر مصر ہو گی جیسا کہ موجودہ صورت حال سے بالکل واضح ہے۔ آج کوئی دینی جماعت بھی امت واحدہ بننے کی غرض سے اپنے وجود کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
دین میں اختلاف اور فرقہ بندی کبھی یہود و نصاریٰ کی خصوصیات تھیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو خبردار کیا گیاہے کہ وہ یہو دو نصاریٰ کی پیروی میں دین کے اندر اختلاف و تفرقہ سے گریز کریں۔ فرمایا گیا ہے:
ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجاء ھم البینات۔ ( آل عمران: ۱۰۵)
’’ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنھوں نے روشن اور واضح دلائل آنے کے بعد (دین میں) تفرقہ و اختلاف پیدا کیا۔‘‘
یہودیوں اور عیسائیوں دونوں کے علما اور درویشوں نے دین کے نام پر متعدد فرقے اور جماعتیں بنا لی تھیں اور ہر جماعت کا خیال تھا کہ حق پر صرف اس کا فرقہ ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے:
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شیئ انما امرھم الی اللہ ثم ینبئھم بماکانوا یفعلون۔ (انعام: ۱۵۹)
’’بے شک جنہوں (یہودی اور عیسائی ) نے اپنے دین میں تفریق کی اور فرقہ فرقہ ہو گئے ( اے نبی) ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے پاس ہے، وہ ان کو بتا دے گا جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد ہے :
الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا کل حزب بما لدیھم فرحون۔ (سورہ روم: ۳۲)
’’ ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنھوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور فرقہ فرقہ ہو گئے ( اور اب ان کا حال یہ ہے کہ)ہر جماعت کے پاس جو کچھ ہے، وہ اسی میں مگن ہے۔‘‘
قرآن حکیم کی ان واضح ہدایات کے باوجود مقام گریہ و ماتم ہے کہ ملت اسلامیہ کے علما اور دینی رہنماؤں نے کسی اندیشہ سودو زیاں کے بغیر دین میں تفرقہ و اختلاف کی صورتیں نکالیں اور پوری ملّت کو متعدد فرقوں اور جماعتوں میں بانٹ دیا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ فہم دین میں علما کے درمیان کبھی اختلاف واقع نہ ہو گا۔ انسانوں میں فہم و استعداد کا اختلاف ایک فطری امر ہے، اس لیے تفاصیل دین میں اختلاف کا ہونا مستبعد نہیں ہے۔ جزئیات میں اختلاف پہلے بھی ہوا ہے اور آیندہ بھی ہو گا، لیکن مہمات دین میں اختلاف جائز نہیں ہے۔ اور اگر قصور فہم سے اختلاف ہو جائے تو اس صورت میں ہم کو تعلیم دی گئی ہے کہ ہم معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لے جائیں۔ فرمایا گیا ہے:
یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واُولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاٰخر ذلک خیر و احسن تاویلا۔ (النساء: ۵۹)
’’ اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور تم میں جو لوگ صاحب امر ہیں ان کی بھی، پھر اگر کسی معاملے میں تم میں اور صاحب امر میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کر دیا کرو، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہ ایک اچھا طریقہ ہے اور صحیح فیصلہ تک پہنچنے میں نہایت عمدہ بھی۔‘‘
لیکن ہمارا عمل اس آیت کے خلاف ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ زیر بحث جماعتوں کے قائدین نے کبھی کوئی ایسی مجلس اس غرض کے لیے تشکیل دی ہو کہ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی روشنی میں ان کے باہمی اختلافات کا تصفیہ کرے؟ وہ کبھی ایسی کوئی مجلس تشکیل نہیں دیں گے کیونکہ ملّت کے تفرقہ میں ان کا مفاد مضمر ہے۔
اس حقیقت کو جس قدر جلد تسلیم کر لیا جائے، اتنا ہی ملّت کے حق میں مفید ہے کہ مذکورہ تینوں جماعتیں مسلمانوں کی صحیح راہنمائی سے قاصر ہیں۔ آج اُمّت جن فکری اور عملی امراض میں مبتلا ہے، اس کا نسخہ شفا ان کے پاس موجود نہیں ہے بلکہ یہ جماعتیں غیر شعوری طور پر مسلمانوں کے امراض کہنہ کو مستحکم بنا رہی ہیں۔ شخصیت پرستی میں برابر اضافہ ہو رہا ہے، جزئیات دین میں بحث و اختلاف ہمارا محبوب ملّی و دینی مشغلہ ہے، کردار سازی کی طرف مطلق توجہ نہیں ہے۔ قومیں قول سے نہیں، کردار اور ذہنی علو سے بنتی اور ترقی کرتی ہیں۔ جماعتی عصبیت کا ہر طرف چلن ہے، انسانی تصانیف سے حبّ و شغف اس درجہ بڑھ گیا ہے کہ اللہ کی کتاب مہجور ہو چکی ہے اور ایک نبی کی زبان سے فریاد کناں ہے:
یا ربّ انَ قومی اتّخذوا ھذا القرآن مھجوراََ۔ (فرقان: ۲۰)
’’ اے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔‘‘
ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی تلاوت موقوف ہو گئی ہے اور مجالس و مدارس میں قرآن کی آیات نہیں پڑھی جاتی ہیں۔ تلاوت قرآن کا سلسلہ بھی چل رہا ہے اور درس و تلقین کی مجلسیں بھی منعقد ہوتی رہتی ہیں لیکن قرآن کی دعوت سے عملاً منہ موڑ لیا گیا ہے۔ اس کا انقلاب آفریں پیغام تاویل و تحریف کے انبار کے نیچے دب کر نظروں سے اوجھل ہو چکا ہے۔ نہ کہیں توحید خالص ہے اور نہ کہیں حسن عمل۔ اسلام کے نام پر ہر طرف صرف تقریرو تحریر کی گرم بازاری ہے۔ ہمارا اصلی مرض تضاد قول و فعل ہے۔
یاد رکھیں، اس ملک میں نہ مال و زر کی کمی ہے اور نہ علم کی۔ اگر کسی چیز کی فی الواقع قلّت ہے تو وہ حسن کردار اور اخلاص ہے۔ مسلمانوں کے اندر اس جوہر گراں مایہ کی سب قوموں سے زیا دہ کمی ہے۔ مستقبل کا ہندوستان ایک صاحب کردار قوم کا منتظر ہے۔ اگر یہ جماعتیں خواب گراں سے نہ جاگیں اور نظری مباحث اور قولی وعظ و تلقین سے آگے بڑھ کر حسن عمل کا نمونہ نہ بنیں تو قرعہ فال کسی اور قوم کے حق میں نکلے گا۔ اس وقت مسلمانوں کے لیے کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔
(شاہ ولی اللہ یونیورسٹی پروجیکٹ گوجرانوالہ کے سربراہ الحاج میاں محمد رفیق درد دل سے بہرہ ور بزرگ ہیں اور شہر کے سرکردہ معززین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں گزشتہ دنوں پاکستانی جیلوں کے نظام اور حالات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنے تاثرات ومشاہدات کے ساتھ ساتھ اصلاح احوال کے لیے مفید تجاویز مندرجہ ذیل مضمون کی صورت میں پیش کی ہیں جو متعلقہ حکام کی خصوصی توجہ کی مستحق ہیں ۔ مدیر)
انسانی زندگی کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ وہ امن وعافیت سے گزرے، صلاح وفلاح غالب ہوں اور نیکیاں رواج پائیں لیکن کیا کیا جائے انسان کے شرور نفسی کا کہ وہ موقع بموقع بے لگام ہوتے ہیں اور امن وسلامتی کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جرم وسزا کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی، جزاوسزا کا دنیوی تصور بھی پیدا ہوگیا۔ اچھے کام پر انعام سے نوازا جانے لگا اور برے کاموں پر سزا دی جانے لگی۔
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوررسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی بعض جرائم پر مختلف لوگوں کو سزا ئیں دی گئیں۔ انسانی سرشت کی انہیں کمزوریوں کی بنا پر قرآن نے حدود مقرر کیے اور تعزیرات کا نظام قائم کیا گیا۔ خلفائے راشدین کے دور فرخ فال میں حضرت عمر فاروق کے عہد خلافت میں بعض بڑی انقلابی اصلاحات کی گئیں ۔ فوجداری اور پولیس کے فرائض کے ساتھ بعض صحابہ کو خصوصی اختیارات دیے گئے۔حضرت عمرفاروق نے حضرت قدامہ بن مظعون اور حضرت ابوہریرہ کو بحرین میں تحصیل مال گزاری کے لیے بھیجا تو حضرت ابوہریرہ کو صاحب الاحداث (Police Officer) بنایا اورانہیں خصوصی اختیارات دیے۔ مثلاً دکاندار ناپ تول میں دھوکہ نہ دیں، کوئی سٹرک پر مکان نہ بنائے، جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے،خلاف ورزی کرنے والوں پر کڑی نگاہ رکھ کر انہیں سزا دی جائے۔
تاہم فاروق اعظم کے دور سے پہلے جیل خانہ کا رواج نہ تھا۔ سب سے پہلے حضرت فاروق اعظم نے مکہ معظمہ میں صفوان بن امیہ کے گھر کو جیل میں تبدیل کیا۔ ۴ہزار درہم میں حکومتی سطح پر خرید کر اسے قید خانے کی صورت دے دی۔ بعدازاں مختلف اضلاع میں بھی District Jailsتعمیر کروائیں جہاں مجرموں کو رکھا جاتا تھا۔ قاضی شریح قاضی القضاۃ ہوئے توفوجداری ہی نہیں، دیوانی مقدمات کے لیے بھی مجرموں کو جیل بھیج دیا جاتا۔ اس دور میں جلاوطنی کی سزا کا بھی رواج تھا۔ ابو محجن ثقفی کو آپ نے ایک جزیرہ میں بھیج دیا ۔
عثمان غنی کے دور میں یہ پریکٹس جاری رہی چنانچہ ابوذرغفاری اپنے انقلابی خیالات اور حکومت مخالف اظہارات کی وجہ سے ربذہ میں نظربند کردیے گئے۔ بعدازاں جیل خانہ جات کا باقاعدہ رواج ہوگیااور ہر دور میں ملزموں کو عدالتی فیصلے سے پہلے اور عدالتی فیصلے کے بعد جیلوں میں رکھا جانے لگا۔ آج دنیا بھر میں پولیس اور عدلیہ سے الگ محکمہ جیل خانہ جات کا م کر رہے ہیں جنہیں پولیس اور عدالتوں کا تعاون حاصل ہے تاہم یہ امر بڑا تکلیف دہ ہے کہ سزا کی سنگینی اور کرختگی اپنی جگہ لیکن بہت سے بے گناہ لوگ بھی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہوتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ کئی کئی سال کی سزا بھگت کرمعلوم ہوتا ہے کہ ملزم بے گناہ تھا اور کئی ملزم تو جیل کے ناسازگار ماحول میں ذوق جرم پال کر باہر نکلتے ہیں اور اچھے بھلے شریف شہری جیل کی ہوا کھانے کے بعد مجرم بن جاتے ہیں۔ اس کا ایک بہت بڑا سبب جیل کے اندر کی دنیا کے مسموم اور خطرناک حد تک جرائم کو جنم دینے والے حالات ہیں۔ پاکستان کی جیلوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بھی جرم افزودگی اور جرائم کوشی کے رجحانات میں اضافے کے بین آثار نظر آتے ہیں۔ ع بڑھتا ہے ذوق جرم یہاں اور سزا کے بعد
ان سطور میں سرسری طور پر بعض کوتاہیوں، خرابیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جارہی ہے جن کا ازالہ بے حد ضروری ہے:
۱۔گزشتہ چند سالوں سے دنیا بھر بالخصوص مغربی دنیا میں نشہ کی عادت زیادہ ہو رہی ہے۔پاکستان بھی اس لعنت کی زد میں ہے۔ باوجودیکہ حکومت نے محکمہ انسداد منشیات (Narcotic Board) قائم کرکے لوگوں کو اس عادت بد سے باز رکھنے کے کئی طرح سے انتظامات کیے ہیں، نشہ بازوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے جس کا ایک بڑا سبب نشہ آور چیزوں کا سہل الحصول ہونا ہے۔ منشیات کے عادی مجرموں کو بالعموم جیل بھیج دیا جاتا ہے درآنحالیکہ یہ بات عقل ودانش کے خلاف ہے۔ نشہ بازی کی علت بیماری ہے۔ ایسے لوگوں کو بیمار سمجھ کر ان کے عام ہسپتالوں میں خصوصی وارڈ قائم کیے جائیں اور بڑے شہروں میں باقاعدہ نشہ بازوں کے لیے ہسپتال قائم کیے جائیں۔ جیل ان کا ٹھکانہ نہیں ہونا چاہیے۔ جب یہ لوگ جیل میں آتے ہیں تو دوسرے کچے پکے ذہن کے قیدیوں کوبھی بری طرح سے متاثر کرتے ہیں۔ نتیجتاً منشیات کا حصول جیل میں باہر کی نسبت آسان ہوجاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ کسی نشہ باز کواس خام خیالی سے جیل میں بھیجا گیا کہ وہ اس عادت بد سے چھٹکارا پالے گامگر ہوا یوں کہ اس نے اس علت کو جیل میں بھی جاری رکھا۔ دوسرے کئی قیدی بھی اس کے روگی ہوگئے۔ بجائے فائدے کے الٹا نقصان ہوا۔
۲۔ بالعموم ہر طرح کے ملزموں کو قبل از عدالتی کارروائی بھی جیل میں رکھا جاتا ہے جن میں ہر عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔ بچے بھی، جوان بھی، اور بوڑھے بھی۔ بالکل کچی عمر کے بچے جن کے حصول تعلیم اور کھیل کود کے دن ہوتے ہیں، جیلوں میں جاکر مکاریاں، دغابازیاں، جرم کوشیاں اور بدکردار یاں سیکھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف نہایت سن رسیدہ بھی جیلوں میں ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو قبر کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ انہیں قبل از وقت ہی موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ طرح طرح کی بیماریوں کو سینے سے لگائے وہ جیل کی تاریک کوٹھڑیوں میں پڑے سڑتے رہتے ہیں۔
تجویز: ۱۴ سال کی عمر سے کم اور ۷۰ سال کی عمر سے زیادہ معمولی جرائم کے قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ اگر جرائم سنگین نوعیت کے ہوں تو ان کی اصلاح احوال کے لیے مختلف پروگرام مرتب کرکے ان سے مثبت اور تعمیری کام لیا جائے۔ بڑے بوڑھوں سے تعلیم وتربیت کا کام لے کر اور بچوں کو تعلیم وتربیت دے کر انہیں باور کرایا جائے کہ ابھی ان کی عمر پڑی ہے۔ انہیں شریفانہ زندگی گزارنے کی تیاری کرنا چاہیے۔
۳۔ مثل مشہور ہے کہ بیکار سے بیگار بھلی۔ انگریزی میں کہتے ہیںAn idle man,s mind is devil,s workshopجیلوں میں ایک طرف تو قیدیوں کو ان کے مستقبل کے خدشات سوہان روح ہوتے ہیں، دوسری طرف وہ تعمیری مقاصد اور مثبت عنصر نہ ہونے کی وجہ سے آمادہ جرم رہتے ہیں۔ ہر قیدی کی انتہائی خواہش ہوتی ہے کہ اسے جلدازجلد رہائی مل جائے۔ تاہم اگر جیلوں میں تعمیری منصوبے شروع کر دیے جائیں تو قیدیوں کی توجہ بہت حد تک جرائم کوشی کی جانب سے ہٹ کر شریفانہ رویوں کو اپنانے کی طرف مبذول ہوسکتی ہے۔
تجویز: جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے منصوبہ تھا، ممکن ہے اب بھی ان خطوط پر سوچا جارہا ہو۔ جیلوں میں فیکٹریاں لگائی جائیں جس سے قیدیوں کی نفسیاتی کیفیات میں شخصی تبدیلیاں آنے کے روشن امکانات بھی ہیں اور ملکی معیشت میں بھی ان کا ایک کردار ہوگا۔اچھے مل مالکان اور فیکٹری اونرز سے اس ضمن میں تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔
۴۔ جیل خانہ جات بالعموم عدالتوں سے ہٹ کر فاصلے پر ہوتے ہیں۔ جیل کے اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے بالکل ہی مختلف ہوتی ہے۔ وہاں کا ماحول، وہاں کی فضا باہر کی آزاد فضا اور گہماگہمی اور پررونق فضا سے یکسر جدا ہوتی ہے۔ عدالتوں کے دور ہونے کی وجہ سے جیل حکام کو اسیروں کو عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے خاصا اہتمام پڑتا ہے۔ مقید اور زنجیربپا قیدیوں کو عدالتوں تک لے جانے میں کئی قباحتیں ہیں۔ سکیورٹی کے انتظامات، خطرناک قیدیوں کے مفرور ہوجانے کے امکانات،جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے، اور پھر عدالت تک لے جانے میں کئی دوسرے کیس میں دلچسپی رکھنے والوں کی دراندازی کے اندیشے، ان سب چیزوں کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔
تجویز: جیلوں کی چاردیواریوں میں بعض خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جس سے لانے لے جانے کے اخراجات کی بچت کے علاوہ بہت سی انتظامی اور حفاظتی تدابیر سے نجات مل جائے گی۔
۵۔ قیدیوں کا ایک مسئلہ فراہمی خوراک بھی ہے۔ ایک متمدن ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسیروں کوبھوکا نہ مارے۔ قید بہر صورت قید ہے۔ اس کی معاشرے سے کٹ جانے کی اذیت کچھ کم نہیں، چہ جائیکہ قید میں پڑے ہوئے افراد کو خوراک کی کمی کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے جو خوراک مقرر کی گئی ہے، اس کے معیار کی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی مقدار لائق تحسین ہے۔ ان دنوں فی قیدی روزانہ خوراک کا خرچہ 13.75روپے ہے۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اتنی قلیل رقم میں دو وقت کا کھانا کس طرح مہیا کیا جاسکتا ہے۔ آج کل کے مہنگا ئی کے دور میں اتنی معمولی رقم مختص کرنا ناقابل فہم ہے۔مزید برآں فی قیدی علاج معالجے کے لیے یومیہ 00.75پیسے رکھے گئے ہیں جو کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ کم خوراک، ناقص غذا اور گھٹن اور پریشانیوں کے ماحول میں قیدیوں کا بیمار ہو جانا یقینی ہو جاتا ہے جس کے لیے حکومت کو اصلاح احوال کرنی چاہیے۔ دواؤں کی قیمتوں کے پیش نظر 75پیسے بالکل ہی نا کافی ہیں ۔
تجویز: فی قیدی یومیہ خوراک کا خرچہ50 روپے کیا جائے اور علاج کے لیے 75پیسے سے بڑھا کر 5روپے کیا جانا مناسب ہے۔
۶۔ قیدیوں کے لیے ایک طرف تو کھانے کا معیار کمتر بلکہ ناقص ہے، دوسرے وہ طریق کار جس کے ذریعے قیدیوں کو کھانا مہیا کیا جاتا ہے، وہ بھی ناقص ہی نہیں، کئی طرح کی بے ضابطگیوں کا شکار ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس سے بدعنوانیوں کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اجازت نہ ہونے کے باوجود بعض قیدی گھر سے کھانا منگواتے ہیں۔ بعض جیل کے اندر ہی اپنا کھانا خود پکاتے ہیں۔ یوں کھانے کے طریقے کو تین حصوں میں بانٹ رکھا ہے : -i گھر سے کھانا مہیا ہونا، -ii جیل کی چاردیواری کے اندر ہی قیدیوں کا انفرادی سطح پر کھانا خود تیار کرنا، -iii جیل حکام کی طرف سے کھانا مہیا ہونا۔
اب جو قیدی پہلی اور دوسری شق پر عمل کر رہے ہوتے ہیں، ان میں سے گھر سے کھانا منگوانے والوں کا پورا کھانا قیدی تک نہیں پہنچتا۔ تیسری شق پر عمل پیرا ہونے سے ایک طرف تو کھانا ناقص ہوتا ہے، دوسری طرف پہلی دو شقوں یعنی گھر سے کھانا منگوانے اور خود تیار کرنے والوں کو بھی اس میں شمار کیا جاتا ہے جو ایک بے ضابطگی ہے۔ یوں وہ معمولی رقم جو اسیروں کے کھانے کے لیے مخصوص ہوتی ہے، اس میں خورد برد ہو جاتی ہے۔
تجویز: جو قیدی گھر سے کھانا منگوانا چاہیں یا جیل میں ہی اپنا کھانا خود تیار کرنا چاہیں، ان کو اس کی اجازت دے دی جائے اور ان کے لیے مختص رقم حساب کتاب کے بعد واپس خزانے میں جمع کرئی جائے یا ایسا بندوبست کیا جائے کہ ایسے قیدیوں کو جیل سے مہیا کیے گئے کھانے سے مستثنیٰ قرار دے کر ان کے لیے اس مد میں رقم حاصل نہ کی جائے۔
۷۔ قیدیوں کی اکثریت تو ان پڑھ یا نیم خواندہ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے تاہم ایک خاصی تعداد خواندہ یا تعلیم یافتہ لوگوں کی بھی ہوتی ہے مگر یہ لوگ جیل کے قوانین سے قطعاً نابلد ہوتے ہیں۔ ان قواعد وضوابط کا جاننا ہر قیدی کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہوسکیں۔
تجویز: جیل کے اہم قواعد وضوابط بورڈوں پر لکھ جیل کے مختلف حصوں میں آویزاں کیے جائیں ۔
۸۔ جیل میں مریضوں کی عمومی حالت تو ویسے ہی کچھ اچھی نہیں ہوتی تاہم ٹی بی کے مریض تو مرنے سے پہلے ہی زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان کی خصوصی دیکھ بھال کی جائے۔ چونکہ یہ علاج مسلسل بھی ہے اور مہنگا بھی، اس میں ذرا سی کوتاہی مریض کے مرض میں ایک طویل تسلسل پیدا کر دیتی ہے، ایک دن اگر دواکا ناغہ ہو جائے تو پچھلے کئی دن کا علاج اکارت جاتا ہے، اس لیے اس مد میں علاج کی مناسب سہولتیں بہم پہنچایا جانا بے حد ضروری ہے۔
تجویز: یا تو ٹی بی کے مریض کے علاج کے لیے موجودہ 75 پیسے کی بجائے 100روپے فی مریض دواؤں کے لیے فنڈ مہیا کیا جائے یا پھر انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے۔ نیز ان مریضوں کے لیے عام کھانا ان کے مرض کے ازالے میں کچھ ممد ثابت نہیں ہوتا، اس لیے ایسے مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کھانا مہیا کیا جائے۔
۹۔ قیدیوں میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پھر ان میں حاملہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ ایسا نہ ہونے پائے کہ ایک فرد کو قیدوبند میں رکھ کر ایک دوسرے فرد کی جان بھی خطرے میں پڑ جائے۔ حاملہ کے پیٹ کے بچے کا تو کوئی قصور نہیں۔ ایسی عورتوں کے ساتھ جیل کی مدت میں نرمی کا سلوک ہونا چاہیے۔
تجویز: ایسی عورتوں کو ایام زچگی سے دو ماہ پہلے اوردوماہ بعد تک رہائی دی جائے ۔
۱۰۔ بالعموم دیکھا گیا ہے کہ جیلوں میں موسم کی شدت سے بچنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں ہوتے اور قیدیوں کو محض تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہوئے اس قابل بھی نہیں سمجھا جاتا کہ وہ بھی انسانی ضروریات سے بے نیا ز نہیں۔ وہ قیدی تو ہیں لیکن بہر صورت انسان ہیں، وقتی طور پر اگر ان کا جرم ثابت بھی ہوگیا ہے تو بالکل انسانیت ان سے چھن نہیں گئی۔ زحمت قیدوبند ہی کیا کم ہے کہ مزید ان پر ستم توڑے جائیں اور انہیں زندگی کی ضروریات ہی سے محروم رکھا جائے۔
تجویز: مناسب بندوبست کرکے قیدیوں کو موسم کی شدت سے بچایا جائے۔ گرمیوں میں پنکھوں کا ہونا بے حد ضروری ہے۔
۱۱۔ جیلوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ اسیروں کی کثرت اور جگہ کی قلت ہے۔ جہاں پانچ قیدیوں کی گنجائش ہے، دس پندرہ تک بھی قیدی بند کر دیے جاتے ہیں ۔
تجویز: بقدر گنجائش قیدیوں کو جیلوں میں رکھا جائے۔ مزید برآں سکیورٹی کا مناسب بندوبست کرکے برآمدوں کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مزید بیرکس کا تعمیر کیا جانا بھی ازحد ضروری ہے۔
۱۲۔ بالعموم قیدیوں کے کمروں میں بند کرنے کے اوقات غیرمتبدل رہتے ہیں اور اگر ان میں قدرے تبدیلی بھی کی جاتی ہے تو بھی قیدیوں کو اذیت ناک حد تک موسمی شدت کو سہنا پڑتا ہے۔ مثلاً گرمیوں کے موسم میں پانچ بجے ہی قیدیوں کو کمروں میں بند کر دینا شدت موسم کی وجہ سے ان کے لیے سخت باعث تکلیف ہوتا ہے کیونکہ پھر انہیں دن کا باقی حصہ اور رات بھر اندر ہی رہنا پڑتا ہے۔
تجویز: موسمی تغیرات کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو بیرکوں میں بند کرنے کے اوقات میں مناسب تبدیلیاں لائی جائیں ۔
۱۳۔ بالعموم امیر لوگ کسی نہ کسی طرح ضمانت کروا کر جیل سے باہر آجاتے ہیں اور غریب بے چارے معمولی جرائم پر بھی کئی کئی سال جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔ ضمانت میں جج حضرات کو صوابدیدی اختیار ہوتا ہے، وہ چاہیں تو ضمانت قبول کریں، چاہیں تو مسترد کرد یں۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ جیل حکام کے پاس روبکاری کے لیے مناسب بندوبست نہیں ہوتا جس سے قیدیوں کے راہ فرار اختیار کر لینے کی بھی کئی سبیلیں نکل آتی ہیں۔
تجویز: (i) ضمانت میں جج حضرات کا صوابدیدی اختیار ختم کردیا جائے اور نوعیت جرم کے مطابق ضمانت یا عدم ضمانت کا قانون وضع کیا جائے ۔ نیز ہر ضابطہ تعزیرات کی ہر دفعہ پر ضمانت کے لیے ایک مخصوص وقت کا تعین کر دیا جائے۔ (ii) جیل سے عدالت تک یا تو نہایت بہترین انتظام کے ساتھ قیدیوں کو لایا جائے یا پھر، جیسا کہ قبل ازیں بتایا جا چکا، جیل کے اندر ہی عدالتی نظام قائم کیا جائے۔
۱۴۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ ملزم کئی کئی سال جیلوں میں پڑے رہتے ہیں، پھر کہیں جاکر ان کی بے گناہی ثابت ہونے پر انہیں بری کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے جیل میں عرصہ دراز گزارنے پر قیدی یا تو اپنی تعمیری صلاحیتیں بالکل برباد کرکے ناکارہ ہو جاتا ہے یا پھر واقعی مجرم بن کر نکلتا ہے۔
تجویز: جب تک کوئی شخص واقعی مجرم ثابت نہ ہو جائے، اسے قید میں نہ رکھا جائے۔ اس کے لیے ماہرین کوئی دوسرے طریقے سوچیں جس سے اچھا خاصا بھلا مانس انسان بدمعاش اور مجرم نہ بن سکے۔
۱۵۔ فوجداری مقدمات قائم کرنے سے پہلے F.I.Rایک مستند اور قومی دستاویز ہوتی ہے۔ کسی قتل کے بعد مقتول کے وارث عموماً F.I.Rمیں ہر اس شخص کا نام شامل کروادیتے ہیں جن سے ان کی دشمنی ہوتی ہے اور اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قاتل تو مفرور ہو جاتا ہے مگر اس کے لواحقین اور رشتے دار گرفتار کر لیے جاتے ہیں اور انہیں جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی واردات ہوتی ہے تو اصل مجرم راہ فرار اختیار کر کے روپوش ہو جاتے ہیں۔ پولیس کا ایک تفتیشی حربہ یہ بھی ہے کہ اصل مجرموں تک رسائی حاصل نہ کر سکنے کی صورت میں اس کے عزیزواقارب اور رشتہ داروں کو پکڑ کر لے جاتی ہے حالانکہ وہ بالکل بے قصور ہوتے ہیں۔ ان کی بے وجہ اہانت کی جاتی ہے اور انہیں حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے۔ جیبیں الگ بھر لی جاتی ہیں اور بے قصوروں کو الگ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بڑی ناانصافی اور زیادتی ہے کہ عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو ذلیل و رسوا کیا جائے جبکہ ان کا اس سانحے میں کوئی قصور بھی نہ ہو اور عین ممکن ہے کہ قاتل پر ان میں سے کسی کا بس بھی نہ چلتا ہو (اور ایسا بالعموم ہوتا ہے) مگر یہ بے گناہ دھر لیے جاتے ہیں اور قیدوبند کی صعوبتیں سہنے لگتے ہیں۔
تجویز: F.I.R تحریر کرتے وقت کم از کم دو معتبر گواہوں کی شہادت کو کافی سمجھ کر F.I.R میں نام درج کیے جائیں اور قاتل کے رشتے داروں کو بلاوجہ اسیری کی اذیت نہ پہنچائی جائے۔ نیز پورے وسائل تفتیش کو استعمال کرکے اصل مجرموں تک رسائی کی جائے۔ رشتے داروں کو، جو اکثر حالات میں بے گناہ ہوتے ہیں، بلاوجہ نہ دھر لیا جائے۔
۱۶۔ عدالتوں میں جج صاحبان اکثر مقدمات میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں۔ صحیح فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے کیونکہ انہیں اپنی عدالت ہی میں بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ دونوں طرف سے گواہ مع وکلا پیش ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر جج صاحبان کے پیش نظر دو ہی صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک، مجرم سزا سے بچ جاتا ہے۔ دو، بے گناہ کو سزا مل جاتی ہے۔
تجویز: جب فیصلہ کرنا مشکل ہو اور دونوں طرف سے برابر کے شواہد ہوں تو ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے پہلا موقف اختیار کرنا زیادہ قرین قیاس ہوگا۔
۱۷۔ دوسرے حکومتی اداروں کی طرح جیل خانہ جات بھی کلی طور پر حکومتی تحویل میں ہوتے ہیں۔ عامۃ الناس، متاثرہ افراد یا باشعور طبقے کے افراد کو ان کے انتظام و انصرام میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔
تجویز: انتظام و انصرام تو کلی طور پر حکومت کے ہاتھ میں رہے مگر ہر شہر میں جیلوں سے متعلق ایک مجلس مشاورت ہو جو ایک طرف تو محکمے کو مفید مشورے دے، دوسری طرف مالی معاونت بھی کرے۔ اس معاونت کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے وسائل مہیا کیے جائیں تا کہ اسیروں کی بہبود کا اہتمام ہو سکے۔
۱۸۔ حوالاتی قیدی، جو ابھی ملزم ہوتے ہیں اور ان کا جرم ثابت نہیں ہوتا، جب جیل میں آتے ہیں تو ایک عجیب ہراس انگیز فضا پیدا کرنے کے لیے اُنہیں علی الصبح قطار اندر قطار کھڑا کر دیا یابٹھا دیا جاتا ہے۔ دو تین گھنٹوں کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بغرض ملاحظہ آتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ کھڑی پولیس سے ساٹھ ستر فیصد حوالاتی ملزموں کو چھتر مرواتے ہیں۔ ان کی صوابدید پر بے وجہ کسی کو دو، کسی کو چار، اور کسی کو اس سے زیادہ چھترول ہوتی ہے۔ اس کے بعد قیدیوں کو بیرکوں میں جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔
تجویز: اس قسم کی خوفناک اور دہشت انگیز سزاؤں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ جب تک الزام ثابت نہ ہو جائے، کسی قیدی کو زدوکوب کرنا اخلاقاً کسی طرح درست نہیں۔ قانوناً بھی اس طرح کی Exercises کا امتناع ہونا چاہیے۔
۱۹۔ جب قیدی جیل میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔ کسی کے پاس نقدی ؍رقم ہو تو تقریباًآدھی تو اس سے عملہ چھین لیتا ہے اور مجبور قیدی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنا دہشت ووحشت کے زیراثر خاموش رہتا ہے۔
تجویز: قیدیوں کے پاس رقم کی کوئی حد ہونی چاہیے جس کی تفصیل بورڈ پر آویزاں ہو۔ زائد رقم وارثوں کو لوٹا دی جانی چاہیے۔
۲۰۔ کئی قیدیوں کے لیے گھر سے کھانا آتا ہے۔جیل کا عملہ اس پر نگاہ رکھتا ہے اور اس میں سے قیدی تک پہنچتے پہنچتے اکثر کھانا چوری ہو جاتا ہے۔
تجویز: ۱۔ گھر سے کھانا لانے کی اجازت ہی نہ دی جائے۔ قیدیوں کے لیے جیل ہی میں کھانے کا بندوبست کیا جائے اور کھانے کی رقم بڑھائی جائے۔ ۲۔ اگر محکمے کے لیے یہ ناممکن ہو تو پھر راستے کی دستبرد سے بچنے کے لیے قیدی تک کھانا براہ راست پہنچانے کا مناسب بندوبست ہونا چاہیے۔
۲۱۔ سال رواں میں گورنر صاحب نے اسیروں کی بہبود کے لیے بیس کروڑ روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے مگر کسی صوبائی یا مرکزی بجٹ میں اس کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی۔
تجویز: جیلوں کی تعداد اتنی ہے کہ ۲۰ کروڑ روپے کی رقم ازحد ناکافی ہے۔ جیلوں کی اصلاح و فلاح اور قیدیوں کی بہتری کے لیے صوبائی یا مرکزی بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص ہونی چاہیے۔
۲۲۔ قیدیوں کی رہائی کے وقت جیل کا عملہ ان سے پیسے وصول کرتا ہے۔ قیدی بے چارے زنداں سے بچ نکلنے پر خواہی نخواہی کچھ نہ کچھ دے دلا دیتے ہیں۔
تجویز: اس قبیح اور غلط پریکٹس کو یکسر ختم کیا جانا چاہیے۔
۲۳۔ ایسے قیدی جن کو عمر قید کی سزا ہوتی ہے، وہ سالہاسال تک اپنی بیویوں سے دور رہتے ہیں۔ اس میں ان کی بیویوں کا تو کوئی قصور نہیں ہوتا، یوں ان کو بھی خاوند کے ساتھ دوہری سزا بھگتنا پڑتی ہے۔
(ا) بالعموم معاشرے کے دستور کے مطابق گھر میں کمانے والا کوئی فرد نہیں ہوتا جس سے ان کی مالی حیثیت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے اور بے شمار سماجی، ازدواجی ،خانگی اور اخلاقی برائیوں میں ملوّث ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
(ب) ایسی عورتیں حقوق زوجیت سے محروم ہو جاتی ہیں اور نتیجے کے طور پر نہایت خوفناک قسم کی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں۔
تجویز: (ا) جیلوں میں فیکٹریاں لگائی جائیں اور ان قیدیوں سے کام لے کر اس آمدنی کا کچھ حصہ ان کے بیوی بچوں کی کفالت کے لیے استعمال کیا جائے۔ (ب) جیلوں میں چھوٹی چھوٹی اقامت گاہیں بنا ئی جائیں جن میں زندگی کے کچھ لمحات میاں بیوی اکٹھے رہ سکیں۔
۲۴۔ قیدیوں کی اسیری کی زندگی بڑی بے کیف ہو جاتی ہے اور وہ سراسیمگی کے عالم میں شب وروز گزار کر نفسیاتی اور معاشرتی کمیوں کے شدید احساس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
تجویز: عیدین، شب برات، ۱۴/ اگست، یوم قائداعظم،یوم اقبال اور ان جیسے دوسرے اسلامی و قومی دنوں کے موقع پر ان کے لیے محافل و مجالس کا اہتمام کیا جائے اور اچھے کھانے اور مشروبات فراہم کیے جائیں۔
۲۵۔ قیدیوں کی ملاقات کرنے والے تو آخر سزا کے مستحق نہیں، ان کے بیٹھنے بٹھانے کے لیے کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا۔ اُنہیں گھنٹوں دھوپ ہی میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ وہ خود کو ایک جبر مسلسل اور گھٹن کے ماحول میں محسوس کرتے ہیں۔
تجویز: ملاقاتیوں کے لیے طریق کار آسان بنایا جائے اور ان کے لیے جیل سے باہر بیٹھنے اُٹھنے کی سہولتیں مہیا کی جائیں۔
۲۶۔ نماز پنج گانہ کی سب قیدیوں کو مسجد میں پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔مسجد یں تو عام جیلوں میں بنائی گئی ہیں مگر سب قیدیوں کو نماز باجماعت کی سہولت میسر نہیں۔
تجویز: قیدیوں کو اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ مسجد میں نماز باجماعت کا موقع فراہم کیا جائے جس سے ان کی بے شمار ذہنی آلودگیاں اور فکری خرابیاں ختم ہو جانے کے روشن امکانات ہیں۔ وہ نماز باجماعت کے جسمانی و روحانی فوائد حاصل کر کے ممکن ہے کہ جیل کی زندگی کے بعد اچھے شہریوں کی حیثیت سے آبرومندانہ زندگی گزار سکیں۔
۲۷۔ نگرانی میں ڈھیل جیلوں کا معمول بن چکا ہے اور صورت حال اس حد تک بگڑی ہوئی ہے کہ جیلوں میں منشیات فروخت ہوتی ہیں اور بعض خبروں کے مطابق بعض جیلوں کے اندر منشیات تیار بھی ہوتی ہیں۔
تجویز: جیلوں میں اگر ایک طرف اصلاح احوال کی کوشش ضروری ہے تو دوسری طرف کڑی نگرانی بھی بے حد ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ اس پہلو میں ارباب بست و کشاد خصوصی دلچسپی لیں۔
۲۸۔ ملاقات کے دن کے لیے عوامی رحجانات اور آسانیوں کو مدنظر نہیں رکھاجاتا۔
تجویز: اتوار کا دن عام ہفتہ وار تعطیل کا دن ہوتا ہے۔ اگر اتوار کا دن ملاقات کے لیے مختص کر لیا جائے تو اکثر ملاقاتی اس چھٹی کے دن سے فائدہ اٹھا کر اپنے قیدی عزیزوں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
۲۹۔ جیل کے اندر خاص طور پر حوالاتی قیدی سارا دن بیکار بیٹھے گپیں ہانکتے رہتے ہیں۔
تجویز: کسی قیدی کو بیکار نہ بٹھایا جائے۔ کوئی پڑھ رہا ہو، کوئی پڑھا رہا ہو۔ جیل میں فیکٹریاں قائم کر کے ان سے کام لیا جائے۔ ایک اسکیم یہ بھی ہے کہ جیل سے باہر فیکٹری مالکان سے ضمانت لے کر contract کر لیا جائے کہ دن کو فیکٹری مالکان قیدی کو اپنی فیکٹری میں لے جائیں اور شام کو قیدی ہر روز واپس آجائیں اور یہ معاوضہ ان کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے۔
۳۰۔ جیل کے اندر کئی قیدی ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی سزا تو کاٹ چکے ہوتے ہیں لیکن جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے کئی کئی سال جیل میں پڑے رہتے ہیں۔
تجویز: اس کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے کہ ایک آدمی پر اگر ایک لاکھ جرمانہ ہے تو ادا نہ کرسکنے کی صورت میں اس کو مزید کتنا عرصہ قید کی سزا برداشت کرنا ہو گی یا عدالتوں کو پابند کیا جائے کہ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی صورت میں مزید ایک سال یا پانچ سال قید میں رہنا ہوگا۔ دوسری صورت آسان ہے کہ اگر قیدی کسی فیکٹری کی ضمانت لا دے تو اس کو رہا کر دیا جائے اور اس ضمانت کو قانونی شکل دے دی جائے کہ وہ ایک عرصہ میں یہ رقم ادا کرنے کا قانونی طور پر پابند ہو جائے ۔