امریکی استعمار، عالم اسلام اور بائیں بازو کی جدوجہد
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا کے مختلف ملکوں کے سینکڑوں شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور اسے وسائل پر قبضے کا جنون قرار دیتے ہوئے دنیا کے کروڑوں انسانوں نے امریکی عزائم کی مذمت کی۔ بادی النظر میں ان مظاہروں کا اہتمام زیادہ تر ان حلقوں کی طرف سے کیا گیا ہے جنہیں بائیں بازو کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور جو امریکہ اور سوویت یونین کے خلاف ’’سرد جنگ‘‘ کے عنوان سے گزشتہ پون صدی کے دوران بپا ہونے والی کشمکش میں سوویت یونین کے حلیف یا ہم خیال تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ ان مظاہروں سے محسوس ہوتا ہے کہ سوویت یونین کی شکست وریخت کے صدمہ سے سنبھل کر اب دنیا بھر میں بایاں بازو پھر سے منظم ہونے جا رہا ہے اور عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف فکری اور سیاسی محاذ میں اس نے سبقت بھی حاصل کر لی ہے۔
گزشتہ سال افغانستان پر امریکہ کی طرف سے مسلط کی جانے والی جنگ کے خلاف بھی مختلف شہروں میں عوامی مظاہرے ہوئے تھے اور عوام کی بڑی تعداد نے امریکی عزائم اور پروگرام کے خلاف جذبات کا اظہار کیا تھا۔ لندن میں ہونے والے ایک بڑے عوامی مظاہرے میں راقم الحروف بھی شریک تھا بلکہ اس مظاہرے میں شرکت کے لیے مسلمان تنظیموں کو آمادہ کرنے کی مہم میں بھی شامل تھا۔ یہ ۱۱ ستمبر کے سانحہ سے صرف دو تین ہفتے بعد کی بات ہے۔ اس وقت امریکی دھمکیوں اور مغربی میڈیا کے کردار کش طرز عمل کی وجہ سے عام مسلمانوں پر سراسیمگی کی کیفیت طاری تھی جبکہ بعض دینی حلقوں کو یہ اشکال تھا کہ اس مظاہرے میں بہت سی غیر اسلامی حرکات ہوں گی، نیم عریاں عورتیں ہوں گی، ڈانس اور گانا ہوگا اس لیے ہم اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور راقم الحروف نے مظاہرہ سے قبل بہت سی مسلمان تنظیموں سے رابطہ قائم کیا اور ان سے گزارش کی کہ اس مظاہرے میں مسلمانوں کی شرکت ضروری ہے، انہیں اعتماد اور حوصلے کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جذبات اور موقف کے اظہار کے لیے جو موقع ملے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے دوستوں سے یہ بھی عرض کیا کہ وہ یوں سمجھیں کہ عکاظ کے میلے میں جا رہے ہیں جہاں تمام خرافات اور منکرات کے باوجود جناب نبی اکرم ﷺ اپنی دعوت پیش کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ برطانوی مسلمانوں کے مختلف راہ نماؤں نے بھی اس مظاہرہ میں مسلمانوں کی شرکت کے لیے کوشش کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس مظاہرہ میں شریک ہوئی۔ اس مظاہرہ میں مجھے بائیں بازو کی بعض تنظیموں کے بینرز، پمفلٹس اور نعرے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا اور اندازہ ہوا کہ اس عوامی ریلی کو منظم کرنے کے لیے بائیں بازو کی تنظیموں نے خاصی محنت کی ہے۔
اس سال ابھی چند روز قبل لندن میں جو مظاہرہ ہوا ہے، اس کے بارے میں اخباری رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گزشتہ سال کے مظاہرے سے دوگنا بڑا تھا اور اس کو منظم کرنے میں بائیں بازو کے عناصر پیش پیش تھے۔ ویسے عراق پر امریکی حملے کے تیزی سے بڑھتے ہوئے امکانات کے خلاف میدان میں آنا بائیں بازو کا حق بھی تھا کہ عراق کے صدر صدام حسین جو امریکی پروگرام کا سب سے بڑا ہدف ہیں، معروف طور پر بائیں بازو سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور جس ’’بعث پارٹی‘‘ کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، وہ عرب قومیت کی علم بردار اور بائیں بازو کے رجحانات کی حامل ہے۔ اس حوالے سے ان کی حمایت میں بائیں بازو کو ضرور سیاسی میدان میں آنا چاہیے تھا، چنانچہ بائیں بازو نے یہ حق ادا کر دیا ہے اور لگتا ہے کہ بائیں بازو کی اس عالمگیر منظم سیاسی مہم کی وجہ سے امریکہ کی پریشانیوں میں اس قدر اضافہ ضرور ہو گیا ہے کہ اسے عالمی فورم پر تنہائی کا کچھ کچھ احساس ہونے لگا ہے۔ یہ تنہائی اسے عراق پر حملہ کرنے سے باز رکھ سکتی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر ہمارے لیے یہ بات زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے کہ دنیا بھرمیں بائیں بازو نے پھر سے منظم ہونے کی طرف پیش رفت کی ہے اور اس کا عملی مظاہرہ بھی دنیا کے سامنے کام یابی کے ساتھ کر دیا ہے۔
بائیں بازو کی اس جدوجہد میں اس کی طرف سے جاری کردہ ’’منشور‘‘ میں جو موقف اختیار کیا گیا ہے، وہ اس کے روایتی تناظر میں معاشی مفادات کی کشمکش کے حوالے سے ہے اور ’’منشور‘‘ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ جنگ نہ مذہب کے لیے ہے، نہ اس کا تہذیب سے کوئی تعلق ہے اور نہ انسانی حقوق اور انسانیت کے تقاضوں ہی سے اسے کوئی نسبت ہے۔ یہ سیدھی سادی معاشی مفادات کی جنگ ہے اور امریکہ ایک عالمی استعمار اور سامراج کا کردار ادا کرتے ہوئے عراق پر حملے کے ذریعے تیل کے چشموں کا کنٹرول براہ راست حاصل کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کو نہ عراق کے عوام کے حقوق سے کوئی دل چسپی ہے اور نہ عراق کی مختلف قومیتوں کی مظلومیت اس کا مسئلہ ہے۔ وہ ان باتوں کو صرف بہانے اور عنوان کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ اس کا مسئلہ صرف اور صرف تیل ہے۔
بائیں بازو کی جاری کرد ہ تفصیلات کے مطابق ’’ڈیلی مرر‘‘ نے ۲۹ جنوری ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہیلتھ آرگنائزیشن نے عراق پر امریکہ کے ممکنہ اور مجوزہ حملہ کی صورت میں ہونے والے نقصانات کا جو اندازہ لگایا ہے، وہ یہ ہے کہ امریکی بمباری سے براہ راست مرنے والوں کے علاوہ پانچ لاکھ افراد کو فوری علاج کی ضرورت ہوگی جو بالواسطہ زخمی ہوں گے، پچاس لاکھ افراد قحط کا شکار ہوں گے، وبائیں لاکھوں افراد کو لپیٹ میں لے لیں گی، نو لاکھ افراد ہجرت پر مجبور ہوں گے، ستر فی صد آبادی پینے کے پانی سے محروم ہو جائے گی، ڈیموں کی تباہی سے جنوبی عراق اکہتر ارب کیوبک پانی میں ڈوب جائے گا اور تیل کے کنووں کو آگ لگنے سے جنگ کے بعد چالیس ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔
اقوام متحدہ کے شعبہ صحت کی یہ رپورٹ یقیناًامریکی حکمرانوں کی نظر سے گزری ہوگی اور انہیں یہ رپورٹ پڑھنے کی ضرورت بھی کیا ہے کہ خود وہ جو کچھ کرنے جا رہے ہیں، اس کے نتائج ونقصانات کا انہیں سب سے بہتر اندازہ بلکہ علم ہے، لیکن اس سب کچھ کے باوجود امریکہ عراق پر حملے پر تلا بیٹھا ہے اور وہ عالمی رائے عامہ کے شدید احتجاج کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے عراق پر حملہ کی دھمکیوں اور تیاریوں کے سلسلے میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے۔
امریکہ کے معاشی عزائم اور وسائل پر قبضہ کرنے کے جنون کے حوالے سے ہمیں بائیں بازو کے اس موقف سے اختلاف نہیں ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نہ صرف عراق پر ممکنہ حملے بلکہ افغانستان پر گزشتہ سال سے جاری فوج کشی کے مقاصد میں بھی تیل، گیس اور ذخائر کے وسائل پر قبضہ کرنے اور عالمی معیشت پر فیصلہ کن کنٹرول کی مہم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لیکن ہم اس سارے قضیے کو صرف اس دائرہ میں محدود نہیں سمجھتے اور ہمارا موقف یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کی سرحدوں میں توسیع کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے خلیجی ممالک کی پہلی سرحدات کو توڑ پھوڑ کا شکار بنانا بھی امریکی عزائم کا حصہ ہے۔ اسرائیل کا قضیہ خالصتاً مذہبی اور نسلی ہے۔ یہودی اپنے مذہبی عقائد اور پروگرام کی تکمیل کے لیے ’’بیت المقدس‘‘ پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور نسلی برتری کے زعم میں عربوں پر حکمرانی کا ’’مزعومہ حق‘‘ استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس مہم میں انہیں امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور اسرائیل نے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے، وہ امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے ورنہ اس کے لیے اپنے وجود کو قائم رکھنا بھی مشکل تھا۔ پھر عرب ممالک بالخصوص خلیج کے ممالک میں شخصی آمریتوں اور خاندانی بادشاہتوں کو تحفظ فراہم کر کے اس خطہ کے کروڑوں عوام کو انسانی اور شہری حقوق سے مسلسل محروم رکھنے میں بھی امریکہ کا یہ خوف کارفرما ہے کہ سیاسی آزادیوں اور شہری حقوق کی بحالی سے ان ممالک میں اسلامی رجحانات کے حامل عناصر کو آگے آنے کا موقع ملے گا جو عالم اسلام کو نظریاتی مرکز اور قیادت فراہم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کے حوالے سے اسلامی احکام وقوانین کی مخالفت اور ان کے خلاف مکروہ اور معاندانہ پراپیگنڈا بھی امریکی مہم کا حصہ ہے جس کے بارے میں امریکی قیادت کے ذمہ دار حضرات کئی بار اظہار خیال کر چکے ہیں، اس لیے ہم پورے شعور اور شرح صدر کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان، عراق اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف امریکی عزائم اور یلغار صرف اور صرف معاشی مفادات کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں مذاہب کے درمیان کشمکش اور مغربی تہذیب کو زبردستی مسلط کرنے کی مہم بھی بنیادی اسباب کے طور پر پوری طرح کار فرما ہیں اور ان سے صرف نظر کرنا معروضی حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔
تاہم اس نظری اور فکری اختلاف کے باوجود ہمیں امریکی سامراج کے خلاف بائیں بازو کی اس عالمی مہم سے اختلاف نہیں ہے اور موجودہ حالات میں اسے بروقت اور ضروری سمجھتے ہوئے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہمیں محترم قاضی حسین احمد صاحب امیر جماعت اسلامی پاکستان کے اس موقف سے اتفاق نہیں ہے کہ:
’’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یورپ میں مظاہرے امریکہ اور برطانیہ کی پالیسی تبدیل کرانے کے لیے ہیں یا مسلمانوں کا رد عمل کم کرنے کے لیے ہیں، وہ مسلمانوں کا رد عمل ان مظاہروں کے ذریعہ اس لیے بھی کم کرنا چاہتے ہیں کہ مسلم رد عمل زیادہ تلخ اور پر تشدد ہوگا۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ لاہور، ۱۷ فروری ۲۰۰۳ء)
دنیا میں اگر مسلم رد عمل کہیں نظر آ رہا ہوتا تو شاید ہم بھی یہی کچھ کہتے لیکن بد قسمتی سے عالم اسلام میں اس حوالہ سے جو ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے، اس کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ہمارے لیے محترم قاضی صاحب کے اس ارشاد کی تائید کرنا ممکن نہیں ہے۔ مسلم دنیا میں حکمرانوں کے کیمپ کا یہ حال ہے کہ جنرل پرویز مشرف، حسنی مبارک، خلیفہ بن حماد، اور عبد اللہ گل سمیت بہت سے مسلم حکمران اس بات پر کھلم کھلا بے بسی کا اظہار کر چکے ہیں کہ اس جنگ کو روکنا ہمارے بس میں نہیں ہے بلکہ ہم امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی کی حالت یہ ہے کہ وہ اس نازک ترین وقت میں سربراہی اجلاس تو کجا، وزارتی اور سفارتی سطح پر بھی اس مسئلے کے حوالے سے باہمی مشاورت اور کسی موقف کے اظہار کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی بلکہ گزشتہ روز اسلام آباد کی ایک محفل میں ہم نے عرض کیا کہ او آئی سی کا سربراہی اجلاس طلب کرنے کی مہم چلانی چاہیے تو ایک صاحب علم ودانش بزرگ نے یہ کہہ کر ہمیں ٹوک دیا کہ مولانا، خدا کے لیے اسے رہنے دیجیے کیونکہ مسلم حکمران اگر کسی جگہ اکٹھے ہو گئے تو بھی وہ عراق کے بجائے امریکہ ہی کی حمایت میں کوئی نہ کوئی قرارداد منظور کر کے اپنے اپنے ملکوں کو واپس سدھار جائیں گے۔
دینی کیمپ کا منظر یہ ہے کہ حج کے موقع پر سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ نے اپنے خطبہ حج میں یہ کہہ کر ضرور مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے کہ:
’’اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو اقتصادی طور پر اپنا غلام رکھنا چاہتی ہیں۔ یہ قوتیں اسلامی ممالک کی منڈیوں پر اپنا تصرف اور قبضہ چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان مجبور رہیں اور اپنی اقتصادی ضرورتوں کے لیے صرف انہی کی طرف دیکھیں۔ رب ذو الجلال نے مسلمانوں کو ہر طرح کے مادی وسائل اور قیمتی ذخائر سے مالامال کیا ہے۔ مسلمان ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی اقتصادیات کی طرف توجہ دیں، اپنے فیصلے خود کریں، معاشی طور پرخود کفیل ہونے کی کوشش کریں، دنیا کو بتائیں کہ ہم آزاد اور خود مختار ہیں، ہم اپنے معاشی پروگرام خود مرتب کریں گے اور کسی کی محکومی اور غلامی قبول نہیں کریں گے۔ اس مقصد کے لیے عالم اسلام کو متحد ویک جان ہونا پڑے گا، اتحاد واتفاق کے بغیر امت مسلمہ کی معاشی، سماجی اور فطری آزادی محال ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اپنی آوازیں ایک کی جائیں، کندھے کندھوں سے ملائے جائیں، ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے، ایک دوسرے کی مدد کی جائے، نظم وضبط کے ساتھ یک دلی اور یک جہتی کے ساتھ مشترکہ آواز اٹھائی جائے۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۱۵ فروری ۲۰۰۳ء)
لیکن شیخ محترم کا یہ حقیقت پسندانہ خطبہ صرف ان کے ارشاد اور حجاج کرام کے سماع تک محدود رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی، موتمر عالم اسلامی اور لیبیا کی جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ جیسی عالمی تنظیموں میں سے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس ارشاد کو کسی جدوجہد کی بنیاد بنائیں یا معالی الشیخ عبد العزیز آل شیخ نے مسلمانوں کے جذبات کی جو ترجمانی کی ہے، اسے ایک منظم مہم کی شکل دے سکیں حتیٰ کہ حج کے موقع پر اسی منٰی کے میدان میں مسلم ممالک سے آئے ہوئے ہزاروں سرکردہ علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کے درمیان بھی اس حوالے سے کسی مشاورت ورابطہ کی کسی درجے میں کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
مسلم ممالک کی دینی تنظیمات وعلمی مراکز اپنے اپنے دائرۂ فکر وعمل پر قناعت کیے ہوئے ہیں اور انہیں عالم اسلام کی مجموعی صورت حال کے حوالے سے کسی اجتماعی کاوش اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت کی طرف توجہ دلانا اب وقت ضائع کرنے بلکہ بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔
لے دے کے چند جہادی تحریکات اور کچھ سرپھرے نوجوان ہیں جو عالم اسلام کے مختلف محاذوں پر جانیں ہتھیلی پر رکھے امریکی استعمار کی آہنی دیوار کے ساتھ سر ٹکرانے میں مصروف ہیں اور صرف انہیں دیکھ کر کچھ احساس ہوتا ہے کہ شاید ملت اسلامیہ کے جسم میں تھوڑی سی حرارت باقی ہے لیکن ان کی یہ حرکت بھی ہمارے اکثر وبیشتر دانش وروں کو ہضم نہیں ہو پا رہی اور آج کی دنیا سے عقل ودانش کی سند حاصل کرنے کے لیے ان سے لاتعلقی کے اعلان کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
تاریخ کے عمل اور تسلسل میں خلا قانون فطرت کے خلاف ہے۔ امریکی استعمار کی طوفانی جارحیت کے رد عمل میں کسی نہ کسی کو تو آگے آنا ہی تھا۔ اگر اسلامی تحریکات اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں اور انہوں نے اپنا چانس ضائع کرنے میں عافیت سمجھی ہے تو جس نے اس خلا کو پر کرنے کا ’’رسک‘‘ لے لیا ہے، اس کی جرات وجسارت کو یہ کہہ کر رد نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہم اگر یہ کرتے تو زیادہ سخت انداز میں کرتے یا ہمارے سخت رد عمل کو نرم کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔
ہمارے نزدیک تمام تحفظات کے باوجود بائیں بازو کی یہ عالمی مہم وقت کی ضرورت اور بسا غنیمت ہے جس سے ہمیں سبق لینا چاہیے، راہ نمائی حاصل کرنی چاہیے اور تعاون واشتراک عمل کے امکانات تلاش کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ مسئلہ اصل میں ہمارا ہے، ان کا نہیں۔
صحابہ کرام کا اسلوب دعوت (۵)
مکی عہد نبوت میں مدینہ کے اہم دعوتی و تبلیغی مراکز
پروفیسر محمد اکرم ورک
بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد مدینہ منورہ میں اسلام انتہائی سرعت کے ساتھ پھیلا۔بالخصوص حضرت مصعبؓ بن عمیرکے خوبصورت اور دلکش اسلوبِ دعوت کی بدولت انصار کے دونوں قبائل اوس وخزرج کے عوام اور اعیان واشراف جوق درجوق اسلام میں داخل ہونے لگے اور ہجرت عامہ سے دوسال قبل ہی وہاں مساجد کی تعمیر اور قرآن کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوچکا تھا۔ حضرت جابرؓ کابیان ہے :
لقد لبثنا بالمدینۃ قبل أن یقدم علینا رسول اللّٰہ ﷺ سنتین، نعمر المساجد ونقیم الصلوٰۃ۔ (۱)
’’ہمارے یہاں رسول اللہﷺ کی تشریف آوری سے دوسال پہلے ہی ہم لو گ مدینہ میں مساجد کی تعمیر اور نماز کی ادائیگی میں مشغول تھے‘‘۔
اس دوسالہ درمیانی مدت میں تعمیر شدہ مساجد میں نماز کی امامت کرانے والے صحابہ کرامؓ ہی معلم کی خدمات بھی انجام دیتے تھے۔اسی دوران مدینہ منورہ میں تین مستقل درس گاہیں بھی قائم ہوچکی تھیں اور ان میں باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔چونکہ اس وقت تک صرف نماز ہی فرض ہوئی تھی اس لیے قرآن مجید کے ساتھ عموماً نماز کے احکام ومسائل اور مکارمِ اخلاق کی تعلیم دی جاتی تھی۔یہ تینوں درس گاہیں اس طرح اہل مدینہ کی دینی ضروریات کو اس انداز میں پورا کررہی تھیں کہ شہر مدینہ اور اس کے انتہائی کناروں اور آس پاس کے مسلمان آسانی سے وہاں تعلیم حاصل کرسکتے تھے۔
پہلی درسگاہ قلبِ شہر میں مسجدِ بنی زریق تھی۔دوسری درسگاہ مدینہ کے جنوب میں تھوڑے فاصلے پرِ قبا میں تھی اور تیسری درس گاہ مدینہ کے شمال میں کچھ فاصلے پر ’’نقیع النحصمات‘‘نامی علاقے میں تھی۔ ان تین مستقل تعلیمی مراکز کے علاوہ انصار کے مختلف قبائل اور آبادیوں میں قرآن اور دینی احکام کی تعلیم جاری تھی اور ان کے معلم ومنتظم انصار کے رؤسا اور بااثر حضرات تھے ۔مکہ مکرمہ میں ضعفا ومساکین نے سب سے پہلے دعوتِ اسلام پر لبیک کہا اور سردارانِ قریش کے مظالم اور جبروتشدد کانشانہ بنے۔جبکہ مدینہ منورہ کے مسلمانوں کامعاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ یہاں سب سے پہلے سردارانِ قبائل نے برضا ورغبت اسلام قبول کیا اور دعوتی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا۔بالخصوص قرآن مجید کی اشاعت اور تعلیم کامعقول انتظام کیا۔قبل از ہجرت مدینہ میں جو درس گاہیں تعلیم قرآن کا مرکز تھیں، ان کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:
درس گاہِ مسجد بن زریق
مدینہ منورہ میں تعلیم قرآن کا اولین مرکز اور درس گاہ مسجد بنی زریق تھی۔ ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں:
فاول مسجد قرئ فیہ القرآن بالمدینہ مسجد بنی زریق (۲)
’’مدینہ میں سب سے پہلے جس مسجدمیں قرآن پڑھا گیا، وہ مسجد بنی زریق ہے‘‘۔
اس درس گاہ کے معلم حضرت را فع ؓ بن مالک زرقی قبیلہ خزرج کی شاخ بنی زریق سے تھے۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ کے موقع پر مسلمان ہوئے اور دس سال کی مدت میں جس قدر قرآن نازل ہوا تھا، رسول اللہﷺ نے ان کو عنایت فرمایاجس میں سورہ یوسف بھی شامل تھی۔ اپنے قبیلے کے نقیب اور رئیس تھے۔ انہوں نے مدینہ واپس آنے کے بعد ہی اپنے قبیلے کے مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم پر آمادہ کیا اور آبادی میں ایک بلند جگہ (چبوترے)پر تعلیم دینی شروع کی۔مدینہ میں سب سے پہلے سورہ یوسف کی تعلیم حضرت رافعؓ ہی نے دی تھی۔جب مکہ میں سورۃ طٰہٰ نازل ہوئی تو انہوں نے اسے لکھا اور مدینہ لے آئے اور بنی زریق کو اس کی تعلیم دی اور یہاں کے پہلے معلم ومقری یہی تھے۔ بعد میں اسی چبوترہ پر مسجد بنی زریق کی تعمیر ہوئی جو قلب شہر میں مصلی (مسجدغمامہ) کے قریب جنوب میں واقع تھی۔رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لانے کے بعد حضرت رافعؓ کی تعلیمی ودینی خدمات اور ان کی سلامتی طبع کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ (۳) اس درس گاہ کے استاد اور اکثر شاگرد قبیلۂ خزرج کی شاخ بنی زریق کے مسلمان تھے۔
قبا کی درس گاہ
دوسری درس گاہ مدینہ کے جنوب میں تھوڑے فاصلے پرمقامِ قبا میں تھی،جہاں بعد میں مسجد کی تعمیر ہوئی۔بیعت عقبہ کے بعد بہت سے صحابہ کرامؓ جن میں ضعفاء اسلام کی اکثریت تھی، مکہ سے ہجرت کرکے مقامِ قبا میں آنے لگے اور قلیل مدت میں ان کی اچھی خاصی تعدا د ہوگئی۔ ان میں حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ قرآن کے سب سے بڑے عالم تھے، وہی ان حضرات کو تعلیم دیتے تھے اور امامت بھی کراتے تھے۔یہ تعلیمی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری تک جاری تھا۔عبدالرحمنؓ بن غنم کا بیان ہے:
حدثنی عشرۃ من اصحاب رسول اللّٰہ ﷺ قالوا:کنا نتدارس العلم فی مسجد قبا اذ خرج علینا رسول اللّٰہ ﷺ، فقال: تعلّموا ماشئتم ان تعلّموا فلن یأجرکم اللّٰہ حتی تعملوا۔ (۴)
’’رسول اللہﷺ کے کئی صحابہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم لوگ مسجد قبا میں علم دین پڑھتے پڑھاتے تھے۔اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ ہمار ے پاس آئے اور فرمایا تم لوگ جو چاہو پڑھو،جب تک عمل نہیں کرو گے، اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اجروثواب نہیں دے گا‘‘۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قبا کے مہاجرین میں متعدد حضرات قرآن کے عالم ومعلم تھے۔ان میں حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ سب سے زیادہ علم رکھتے تھے اور وہی امامت کے ساتھ تدریسی خدمت میں بھی نمایا ں تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کابیان ہے:
لما قدم المہاجرون الاولون العصبۃ، موضع بقباء، قبل مقدم رسول اللّٰہﷺکان سالمؓ مولٰی ابی حذیفہؓ یؤم المہاجرین الاولین فی مسجد قباء وکان اکثرھم قرآنا۔ (۵)
’’رسول اللہﷺ کے آنے سے پہلے مہاجرین اولین کی جماعت جب عصبہ آئی،جو قبا کی ایک جگہ ہے ،مسجدِ قبا میں ان لوگوں کی امامت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ کرتے تھے،وہ ان میں قرآن کے سب سے بڑے عالم تھے‘‘۔
حضرت سالمؓ جنگِ یمامہ میں مہاجرین کے علمبردار تھے،بعض لوگوں کو ان کی قیادت میں کلام ہوا تو انہوں نے کہا:
بئس حامل القرآن انا (یعنی ان فررت)
اگر میں جنگ سے فرار ہوا توبرا حاملِ قرآن ہوں گا۔
اور غزوہ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیاتو جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیا اور وہ بھی زخمی ہوگیا تو بغل میں لے لیا اور جب زخمی ہوکر گرگئے تو اپنے آقا حضرت ابوحذیفہؓ کا حال دریافت کیا۔ جب معلوم ہوا کہ وہ شہید ہوگئے ہیں تو کہا کہ مجھے ان ہی کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ حضرت ابوحذیفہؓ نے سالمؓ کو اپنا بیٹا بنالیاتھا۔(۶)
ان تصریحات سے حضرت سالمؓ کے علم وفضل اور قرآن میں ان کے امتیاز کا بخوبی اندازہ کیاجاسکتاہے اور یہ کہ وہی قبا کی درسگاہ میں تعلیمی اور تدریسی خدمات انجام دیتے تھے۔رسول اللہﷺنے صحابہ کرام کو قرآن کے جن چار علما اور قاریوں سے قرآن پڑھنے کی تاکید فرمائی، ان میں سے ایک حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ بھی تھے۔(*۱)
یہاں حضرت ابو خیثمہ سعد بن خیثمہ اویسیؓ کامکان گویا مدرسہ قبا کے طلبہ کے لیے دارالاقامہ تھا ۔وہ اپنے قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے نقیب ورئیس تھے،بیعتِ عقبہ کے موقع پر اسلام لائے،مجرد تھے اور ان کا مکان خالی تھا،اس لیے اس میں ایسے مہاجرین قیام کرتے جو اپنے بال بچوں کو مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے تھے یا جن کی آل اولاد نہیں تھی۔اس وجہ سے ان کے مکان کو ’’بیت العزاب‘‘ یعنی کنواروں کا گھر کہاجاتا تھا۔رسو ل اللہﷺ ہجرت کے وقت قبا میں حضرت کلثوم بن ہدمؓ کے مکان میں فروکش تھے۔ اسی کے قریب حضرت سعد بن خیثمہؓ کا گھر تھا،رسول اللہﷺ وقتاً فوقتاً وہاں تشریف لے جاتے اور مہاجرین کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ مکان مسجدِ قبا سے متصل جنوبی سمت میں تھا اور یہیں دار کلثوم بن ہدمؓ بھی تھا۔(۷)
گویا اس درس گاہ کے استاد اور شاگرد دونوں مہاجرینِ اولین تھے تاہم مقامی مسلمان بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔
درس گاہ نقیع الخصمات
تیسری درس گاہ مدینہ کے شمال میں تقریباً ایک میل دور حضرت اسعدؓ بن زرارہ کے مکان میں تھی جو حرہ بنی بیاضہ میں واقع تھا۔یہ آبادی بنو سلمہ کی بستی کے بعد ’’نقیع الخصمات‘‘نامی علاقے میں تھی۔یہ درس گاہ اپنے محلِ وقوع کے اعتبارسے پرکشش ہونے کے ساتھ اپنی جامعیت اور اپنی افادیت میں دونوں مذکورہ درس گاہوں سے مختلف اور ممتاز تھی۔ بیعتِ عقبہ میں انصار کے دونوں قبائل اوس اور خزرج کے رؤسا نے قبولِ اسلام کے بعد بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا کہ مدینہ میں قرآن اور دین کی تعلیم کے لیے کوئی معلم بھیجا جائے تو ان کے اصرار پر آپ ﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کو روانہ فرمایا۔
ابنِ اسحاق کی روایت کے مطابق بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد ہی رسول اللہﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کو انصار کے ساتھ مدینہ روانہ فرمایا:
فلما انصرف عنہ القوم بعث رسول اللّٰہ ﷺ معھم مصعبؓ بن عمیر وأمرہ ان یقرءھم القرآن ویعلّمھم الاسلام، ویفقّھھم فی الدّین فکان یسمی المقرئ بالمدینۃ معصبؓ، وکان منزلہ علی اسعدؓ بن زرارۃ بن عدس ابی امامۃؓ۔ (۸)
’’جب انصار بیعت کرکے لوٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ مصعبؓ بن عمیرکو روانہ فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہاں لوگوں کو قرآن پڑھائیں، اسلام کی تعلیم دیں اور ان میں دین کی بصیر ت اور صحیح سمجھ پیدا کریں۔چنانچہ حضرت مصعبؓ مدینہ میں ’’معلمِ مدینہ‘‘کے لقب سے مشہور تھے اور ان کا قیام حضرت ابو امامہ اسعدؓ بن زرارہ کے مکان پر تھا‘‘۔
حضرت مصعبؓ بن عمیر ابتدائی دور میں اسلام لائے۔نازونعمت میں پلے ہوئے تھے۔ جب ان کے مسلمان ہونے کی خبر خاندان والوں کو ہوئی تو انہوں نے سخت سزا دے کر مکان کے اندر بند کردیامگر حضرت مصعب بن عمیرؓ کسی طرح نکل کر مہاجرینِ حبشہ میں شامل ہوگئے۔ (۹) بعد میں جب قریش کے اسلام قبول کرنے کی افوہ پھیلی تو آپؓ مکہ واپس آئے اور پھرمدینہ کی طرف ہجرت کی۔(۱۰)
حضرت اسعدؓ بن زرارہ خزرجی نجاری بیعتِ عقبہ اولیٰ میں اسلام لانے والوں میں سے تھے۔اپنے قبیلے کے نقیب تھے،ایک روایت کے مطابق وہ’’ نقیب النقباء ‘‘بھی تھے۔ابن اسحاق کی روایت کے مطابق ان کا انتقال 1ھ میں اس وقت ہوا جب کہ مسجدِ نبوی کی تعمیر جاری تھی۔قبیلۂ بنو نجار کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے کسی نقیب کو مقرر فرمادیں ۔آپﷺ نے فرمایا:
انتم اخوالی وانا بما فیکم وانا نقیبکم۔ (۱۱)
’’تم لوگ رشتے میں میرے ماموں ہو۔ میں ان امور کی اصلاح کے لیے موجود ہوں جو تمہارے درمیان رونما ہوں اور میں تمہارا نقیب ہوں‘‘۔
ایک قول کے مطابق حضرت اسعدؓ بن زرارہ بیعتِ عقبہ اولیٰ سے قبل ہی مکہ جاکر مسلمان ہوگئے تھے، گویا وہ انصار مدینہ میں پہلے مسلمان تھے۔ (۱۲) یہ دونوں حضرات قرآن کی تعلیم اور اسلام کی اشاعت میں ایک دوسرے کے شریک تھے۔حضرت مصعبؓ بن عمیر قرآن کی تعلیم کے ساتھ اوس اور خزرج دونوں قبائل کی امامت بھی کرتے تھے اور جب ایک سال کے بعد بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر اہلِ مدینہ کو لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو ان کا لقب ’’مقرئ المدینہ‘‘یعنی معلمِ مدینہ مشہور ہوچکا تھا۔ (۱۳)
حضرت اسعدؓبن زرارہ نے جمعہ کی فرضیت سے پہلے ہی مدینہ میں نماز جمعہ کااہتمام فرمایا۔نمازِ جمعہ کا اجتماع بنی بیاضہ کی جگہ ’’نقیع الخصمات‘‘میں ہوتا تھا۔ (۱۴)گویانقیع الخصمات کی یہ درس گاہ صرف قرآنی مکتب اور مدرسہ ہی نہیں تھی بلکہ ہجرت سے پہلے مدینہ میں اسلامی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔حضرت مصعبؓ بن عمیر اوس وخزرج کے اس مشترکہ اجتماع کی امامت کیاکرتے تھے۔(۱۵) اسی لیے نماز جمعہ کے قیام کی نسبت بعض روایتوں میں ان کی طرف کی گئی ہے۔ (۱۶)
اگرچہ رسول اللہﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیرکے ہمراہ ابن ام مکتومؓ کو بھی مدینہ روانہ فرمایا تھا لیکن چونکہ حضرت مصعبؓ بن عمیرکو خاص طور پر تعلیم کے لیے بھیجا تھا اس لیے اس درس گاہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں ابن امِ مکتومؓ کا تذکرہ نہیں آتا۔ ویسے بھی ابن امِ مکتومؓ نابینا ہونے کی وجہ سے محدود پیمانے پر ہی تبلیغی ودعوتی خدمات سرانجام دے سکتے تھے۔
’’نقیع الخصمات‘‘کی اس درس گاہ اور اسلامی مرکز کی وجہ سے مدینہ کے یہودیوں کے دینی وعلمی مرکز’’بیت المدراس‘‘کی حیثیت کم ہوگئی جہاں جمع ہوکر یہودِ مدینہ درس وتدریس ،تعلیم وتربیت اور دعا خوانی کے ذریعہ اپنی مذہبی سرگرمیاں جاری رکھتے تھے۔
اوس وخزرج یہودیوں سے بے نیاز ہوکر اپنے علمی ودینی مرکزسے وابستہ ہوگئے۔اسلام سے قبل اوس وخزرج میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا اور اس معاملہ میں وہ یہودیوں کے محتاج تھے۔البتہ چند لوگ لکھنا جانتے تھے ۔ان میں رافع ؓ بن مالک زرقی،زیدؓ بن ثابت ،اسیدؓ بن حضیر،سعدؓبن عبادہ،ابیؓ بن کعب وغیرہ تھے۔ان میں سے اکثر نے ہجرت سے پہلے ہی اسلام قبول کرلیا اور وہ اب بڑی سرگرمی سے مسلمانوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کررہے تھے۔’’نقیع الخصمات‘‘کے مرکز سے ان کا خصوصی رابطہ تھا۔اس زمانے میں مدینہ منورہ کے مختلف علاقوں اور قبائل میں تدریسی وتعلیمی مجالس برپا رہتی تھیں۔خاص طور پر بنو نجار،بنو عبدالاشہل ،بنوظفر ،بنو عمرو بن عوف،بنو سالم وغیرہ کی مساجد میں علمی مجالس کا انتظام تھااور عبادہؓ بن صامت،عتبہؓ بن مالک،معاذؓ بن جبل ،عمرؓ بن سلمہ،اسیدؓ بن حضیراور مالکؓ بن مویرت ان کے امام ومعلم تھے۔ (* ۲)
نصابِ تعلیم
ان درس گاہوں کے نصابِ تعلیم کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس وقت تک عبادات میں صرف نماز فرض ہوئی تھی لہٰذا یہاں پر زیادہ تر نماز کے احکام ومسائل، قرآن اور اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تھی اور اسی طرح وہ اخلاقیات جن پر بیعتِ عقبہ میں رسول اللہ ﷺ نے انصار کے مردوخواتین سب کو بیعت کیاتھا،کی تعلیم دی جاتی تھی۔ عبادۃؓ بن صامت اس بیعت کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
بایعنا رسول اللّٰہﷺ لیلۃ العقبۃ الاولٰی علی ان لا نشرک باللّٰہ شیءًا، ولا نسرق، ولا نزنی، ولا نقتل اولادنا، ولا نأتی ببھتان نفتریہ من بین ایدینا وارجلنا، ولا نعصیہ فی معروف۔ (۱۷)
’’ہم نے بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی بیعت اس چیز پر کی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہیں کریں گے ،نہ چوری کریں گے ،نہ زنا کریں گے، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گے ،نہ کسی پر بہتان لگائیں گے اور نہ رسول اللہ ﷺ کی معروف میں نافرمانی کریں گے‘‘۔
چنانچہ ان درس گاہوں میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ انہی اخلاقی امور کی تعلیم وتربیت دی جاتی تھی۔رسول اللہﷺ نے جس وقت حضرت مصعبؓ بن عمیر کو اہل مدینہ کے ساتھ روانہ فرمایا تو ان کویہ حکم دیا تھا:
ان یقرء ھم القرآن، ویعلّمہم الاسلام، ویفقّھہم فی الدین۔ (۱۸)
’’ان کو قرآن پڑھائیں،اسلام کی تعلیم دیں،اور ان میں دین کی سمجھ پیدا کریں‘‘
اس مدت میں جس قدر قرآن نازل ہوچکا تھا، ان درس گاہوں میں اس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی اور عام طور پر آیات و سور زبانی یاد کرائی جاتی تھیں۔انصارنے بیعتِ عقبہ میں جن باتوں کااقرار کیاتھا، ان پر عمل کی تلقین وتاکید کی جاتی تھی۔چنانچہ اس درس گاہ کے ایک طالب علم حضرت براءؓ بن عازب کا بیان ہے :
فما قدم حتی قرأت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ) فی سور من المفصّل۔ (۱۹)
’’رسول اللہﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ہی میں نے سورۃ الاعلیٰ سمیت ’’طوال مفصل‘‘(*۳) کی کئی سورتیں یاد کرلی تھیں‘‘۔
رسول اللہ ﷺجب مدینہ تشریف لائے تو انصار نے حضرت زیدؓ بن ثابت کو بڑے فخر سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیااور عرض کیا:
یارسول اللّٰہﷺ! ھذا غلام من بنی النجار معہ مما انزل اللّٰہ علیک بضع عشرۃ سورۃ، فأعجب ذالک النبیﷺ۔ (۲۰)
’’اے اللہ کے رسولﷺ!اس لڑکے کا تعلق بنو النجار سے ہے۔ جوکلام آپﷺ پر نازل ہوا ہے، اس کو اس میں سے دس سے زائد سورتیں یاد ہیں۔رسول اللہ ﷺنے یہ سن کر خوشی کا اظہار فرمایا‘‘۔
یہ درس گاہیں دن رات،صبح وشام کی قید سے آزاد تھیں اور ہر شخص ہر وقت ان سے استفادہ کرسکتاتھا۔
حواشی
(*۱) عن عبداللّٰہؓ بن عمرو قال سمعت النبی ﷺ یقول: ’’استقرء وا القران من اربعۃ: من ابن مسعودؓ وسالمؓ مولیٰ ابی حذیفۃؓ و ابیّؓ و معاذؓ بن جبل‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ، مناقب سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ،ح:۳۷۵۸، ص:۳۲۔ ایضاً، کتاب المناقب، باب مناقب معاذؓ بن جبل، ح:۳۸۰۶، ص:۶۳۹۔ المسند، مسندعبداللہؓ بن عمرو، ح :۶۴۸۷، ۲/۳۴۸)
(*۲) ان معلومات کے لیے دیکھیے طبقات ابن سعد،سیرت ابنِ ہشام،سیرتِ حلبیہ،وفاء الوفا او رروض الانف وغیرہ
(*۳) قرآن مجید کی ساتویں منزل یعنی سورۃ الحجرات سے سورۃ الناس تک کی سورتوں کو ’’مفصّل ‘‘کہتے ہیں ۔
حوالہ جات
(۱) وفا ء الوفا ، ۱/۲۵۰
(۲) زاد المعاد ، ۱/۱۰۰
(۳) اسد الغابہ ، تذکرہ رافع ؓ بن مالک ، ۲/۱۵۷۔ فتوح البلدان ، ص:۴۵۹
(۴) جامع بیان العلم ، باب جامع القول فی العمل بالعلم، ۲/۶
(۵) صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، باب امامۃ العبدوالمولیٰ، ح :۶۹۲، ص:۱۱۳۔ ایضاً، کتاب الاحکام ، باب استقضاء الموالی واستعمالھم ، ح :۷۱۷۵، ص:۱۲۳۶۔ الاصابہ ، تذکرہ سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ، ۲ / ۷
(۶) الاصابہ ، تذکرہ سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ، ۲/۷۔ اسد الغابہ ، تذکرہ سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ، ۲/۲۴۶
(۷) ابن ہشام ، حجرۃ الرسول ﷺ ، ۲/ ۱۰۶۔۱۰۷
(۸) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ و مصعبؓ بن عمیر ، ۲/ ۴۷۔۴۸
(۹)ایضاً ، ذکر الہجرۃ الاولیٰ الیٰ ارض الحبشہ ، ۱/۳۶۲
(۱۰) ایضاً، ذکر من عاد من ارض الحبشۃ لما بلغہم اسلام اہل مکہ ، ۱/۴۰۳
(۱۱) ابن ہشام ، المواخاۃ بین المہاجرین والانصار ، ۲/ ۱۲۱
(۱۲) اسد الغابہ ، تذکرہ اسعدؓ بن زرارہ، ۱/ ۷۱
(۱۳) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ ومصعبؓ بن عمیر ، ۲/ ۴۸
(۱۴) کنز العمال ، فضائل ابو امامہؓ ، ۱۳/ ۶۱۰
(۱۵) ابنِ ہشام،العقبۃ الاولیٰ ومعصبؓ بن عمیر،۲/۴۸
(۱۶) ابنِ ہشام،اول جمعۃ اقیمت بالمدینۃ،۲/۴۸
(۱۷) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ و مصعبؓ بن عمیر ، ۲/۴۷۔ المسند ، حدیث عبادہؓ بن صامت ، ح:۲۲۲۴۸،۶/۴۴۱
(۱۸) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ و مصعبؓ بن عمیر ، ۲/۴۷
(۱۹) صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب مقدم النبی ﷺ و اصحابہ المدینۃ ، ح :۳۹۲۵، ص:۶۶۲۔ ایضاً، کتاب التفسیر ، سورۃ سبح اسم ربک الا علٰی، ح : ۴۹۴۱، ص :۸۸۲۔ المسند، حدیث البراءؓ بن عازب ، ح :۱۸۰۴۱، ۵/ ۳۶۰
(۲۰) المسند ، حدیث زیدؓ بن ثابت ، ح :۲۱۱۰۸، ۶/ ۲۳۸
(جاری)
نفاذ اسلام میں نظام تعلیم کا کردار
ڈاکٹر محمد امین
(۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں مجلس فکر ونظر کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے لیے لکھا گیا۔)
پیشتر اس کے کہ ہم صلب موضوع کو زیر بحث لائیں، دو ضروری باتیں بطور تمہید کہنا چاہتے ہیں۔ ایک کا تعلق پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالے سے دینی عناصر کی غلط فہمی سے ہے اور دوسری کا ان کی خوش فہمی سے۔ غلط فہمی اس بات کی کہ ایک طویل عرصے تک پاکستان کے دینی عناصر یہ سمجھتے رہے ہیں اور عوام کو بھی یہ باور کراتے رہے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کا مطلب ہے اسلامی قانون کا اجرا یعنی جب پاکستان کا قانون، اسلام کے مطابق بن جائے گا تو گویا شریعت نافذ ہو جائے گی۔ چنانچہ دینی عناصر کے مشورے سے صدر ضیاء الحق نے ۱۹۷۹ء میں حدود کے قوانین پاکستان میں نافذ کر دیے۔ اس موقع پر بڑا جشن منایا گیا اور دینی عناصر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے پھرتے تھے کہ الحمد للہ، پاکستان میں اسلام نافذ ہو گیا ہے لیکن آج اس خوش فہمی کے غبارے سے بڑی حد تک ہوا نکل چکی ہے کیونکہ ۲۳ سال گزرنے کے باوجود آج تک کسی چور کا ہاتھ نہیں کٹا، کوئی زانی سنگسار نہیں ہوا اور کسی ڈاکو کے پاؤں نہیں کٹے۔ گویا ایک بھی حد عملاً نافذ نہیں ہوئی لہٰذا چند قانون پاس کر کے یہ اعلان کرنا کہ ہم چوبیس گھنٹے میں اسلام نافذ کر دیں گے یا دو ماہ میں اسلام نافذ کر دیں گے، مضحکہ خیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون پاس کر دینے سے اسلام نافذ نہیں ہو جاتا لہٰذا اگر صوبہ سرحد میں سارے قوانین بھی اسلام کے مطابق تبدیل کر دیے جائیں یا اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بھی قانونی سانچے میں ڈھال دیا جائے تو اس کے باوجود وہاں اسلام نافذ نہیں ہو جائے گا بلکہ اسلام اس وقت نافذ ہوگا جب وہاں کے عوام دل وجان سے اسلامی تعلیمات اور قوانین پر عمل شروع کر دیں گے اور جب وہاں کی پولیس اور بیوروکریسی خوش دلی اور اخلاص سے خود اسلامی قوانین پر عمل کرے گی اور دوسروں سے کرائے گی۔
دوسری بات کا تعلق خوش فہمی سے ہے اور اس سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ اگر ہمارے دینی عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی عوام کی دینی تربیت کی ہے اور لوگ اب دل سے اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے ہمیں ووٹ دیے ہیں اور ہمیں انتخابات میں کام یاب کروایا ہے تو یہ محض ان کی خوش فہمی ہے، حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ دینی جماعتوں کو ان علاقوں سے ووٹ ملے ہیں جو افغانستان سے ملحق ہیں، جنہوں نے افغانستان میں امریکی مظالم کا مشاہدہ کیا ہے اور جو خود بھی وہاں کی تباہی سے متاثر ہوئے ہیں، جن کے اعزہ واقارب وہاں ہیں اور جنہوں نے بالواسطہ اور بلاواسطہ افغان جہاد میں حصہ لیا ہے۔ ہماری بات کا ثبوت یہ ہے کہ صوبہ سرحد کے لوگ افغانستان کے حالات سے زیادہ متاثر ہوئے لہٰذا انہوں نے غالب اکثریت سے دینی جماعتوں کو ووٹ دیے۔ صوبہ بلوچستان اس سے جزواً متاثر ہوا لہٰذا علما کو وہاں جزوی کام یابی ہوئی اور سندھ وپنجاب افغان صورت حال سے کم متاثر ہوئے لہٰذا دینی عناصر کو وہاں سے ووٹ بھی نہیں ملے۔ اگر دینی عناصر کو ان کے دینی کام کی وجہ سے ووٹ ملے ہوتے تو انہیں پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں سے زیادہ ووٹ ملتے جہاں ان کا کام نسبتاً زیادہ ہے لیکن انہیں ووٹ امریکہ کی مخالفت اور افغان فیکٹر کی وجہ سے ملے لہٰذا صرف سرحد وبلوچستان سے ملے۔ ہمارے کہنے کا مدعا یہ ہے کہ دینی عناصر کے اس خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی گنجائش نہیں ہے کہ انہوں نے عوام کی دینی تعلیم وتربیت کا کام سرانجام دے لیا ہے اور اب مستقبل کا راستہ صاف ہو گیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی انہوں نے یہ ہمالہ سر کرنا ہے، سرحد اور بلوچستان میں بھی تاکہ انہیں نفاذ اسلام کی کوششوں میں صدق دلانہ تعاون میسر آسکے اور پنجاب وسندھ میں بھی تاکہ وہاں سے انہیں مستقبل میں حمایت میسر آ سکے۔
ہمارے نزدیک تعلیم وتربیت کے ذریعے عوامی ذہن سازی کا یہ کام انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور کرنے کا اصل کام یہی ہے کیونکہ سید بادشاہ کا قافلہ اپنے تمام تر اخلاص، اخلاق اور عزیمت کے باوجود یہاں کی وادیوں میں اس لیے کھو گیا تھا کہ انہیں نفاذ شریعت کے لیے عوام وخواص کا صدق دلانہ تعاون میسر نہ آ سکا تھا (اگرچہ تحریک مجاہدین کی بظاہر ناکامی کے دوسرے بھی کئی عوامل ہیں جن سے انکار ممکن نہیں) ہم ایک دفعہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات پڑھ رہے تھے تو وہاں ہم نے یہ واقعہ پڑھا کہ ان کی ایک مجلس میں اسلامی حکومت کی باتیں ہو رہی تھیں۔ مولانا نے کہا کہ اگر مجھے حکومت مل جائے تو میں دس سال اصلاح کا کام کروں گا۔ مطلب یہ کہ حکومت ملتے ہی حدود وتعزیرات سے ابتدا نہیں کروں گا بلکہ پہلے ایک لمبے عرصے تک اصلاحی کوششوں سے لوگوں کے دل ودماغ کو بدلنے کی سعی کروں گا تاکہ وہ خوش دلی سے اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور کوڑے مارنے اور ہاتھ کاٹنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
اسی قسم کا ایک تازہ واقعہ بھی سنیے۔ چند سال پیشتر جب ہم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکیڈمی میں پڑھاتے تھے تو ایک دفعہ ہم لوگوں نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب افضل ظلہ صاحب کو لیکچر کے لیے مدعو کیا۔ ان کے لیکچر کے بعد سوال وجواب کی نشست میں ہم نے ان سے پوچھا کہ جب وہ چیف جسٹس تھے تو قصاص ودیت کا قانون سپریم کورٹ میں تقریباً ۹ سال پڑا رہا لیکن انہوں نے اس کی اپیل نہیں لگائی، تو اس کی کیا وجہ تھی؟ جسٹس صاحب نے کہا کہ میں ایمان داری سے یہ سمجھتا تھا کہ ہمارا معاشرہ اس کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ جوں ہی قصاص ودیت کا قانون نافذ ہوا تو ڈرائیوروں نے ہڑتال کر دی اور اس کے بعد بھی حدود کے قوانین نے پولیس کا رشوت کا ریٹ ہی بڑھایا ہے، حدود عملاً نتیجہ خیز طریقے سے نافذ تو نہیں ہو سکیں۔
تو ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ محض قانون بنا دینے سے اسلام نافذ نہیں ہو جاتا جب تک کہ معاشرے کے مختلف طبقے عملاً خوش دلی سے اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہ ہوں اور اسی سے تعلیم وتربیت کی اہمیت واضح ہوتی ہے کیونکہ لوگوں کے ذہن اور دل بدلنے کا سب سے بڑا ذریعہ، تعلیم ہی ہے۔
یہ بات کہ لوگوں کے دل ودماغ کو بدلنے کا سب سے موثر ذریعہ تعلیم وتربیت ہے، اگرچہ عقل ومنطق پر مبنی ہے اور عام فہم بھی ہے لیکن چونکہ ہمارے مخاطب علما بھی ہیں اس لیے ہم عرض کرتے ہیں کہ ہماری بات سو فی صد قرآن وسنت پر مبنی ہے چنانچہ قرآن حکیم میں کئی جگہ آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی اصلاح اور تبدیلی کا جو طریق کار ہدایت فرمایا تھا، وہ دو نکات پرمبنی تھا یعنی تعلیم کتاب وحکمت اور تزکیہ، چنانچہ سورہ آل عمران میں فرمایا:
لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم یتلوا علیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔ (۳ ۔ ۱۶۴)
’’یقیناًاللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول کو مبعوث کیا جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کرسناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور بے شک اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
اور دوسری جگہ فرمایا کہ پہلے انبیا کو بھی یہی طریقہ بتایا گیا تھا چنانچہ سورۃ الاعلیٰ میں ہے:
قد افلح من تزکی O وذکر اسم ربہ فصلی O بل تؤثرون الحیاۃ الدنیا O والآخرۃ خیر وابقی O ان ہذا لفی الصحف الاولی O صحف ابراہیم وموسیٰ (۸۷ ۔ ۱۴۔۱۹)
’’یقیناًوہ شخص کام یاب ہے جس نے پاکیزگی اختیار کر لی اور اپنے رب کے نام کو یاد کیا پھر نماز پڑھی۔ بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور پائیدار ہے۔ یہی بات پہلے صحیفوں میں بھی ہے، ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔‘‘
اب دیکھیے کہ تعلیم کتاب وحکمت اور تزکیہ کیا ہے؟ یہ وہی چیز ہے جسے آج کل کی اصطلاح میں ہم تعلیم وتربیت یا تطہیر فکر وتعمیر سیرت کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پر امن طریقے سے ترغیب کے ذریعے، تعلیم کے ذریعے لوگوں کے دل ودماغ کو بدلو، ان کی فکری تطہیر کرو تاکہ ان کے نفوس کا ایسا تزکیہ اور تربیت ہو کہ وہ خوش دلی سے، اپنی مرضی سے شریعت حقہ پر عمل کرنے لگیں، اللہ کی اطاعت ان کے لیے سہل ہو جائے، شریعت طبیعت بن جائے بلکہ اللہ کی شریعت پر عمل ان کی خواہش اور مطالبہ وتقاضا بن جائے۔ یہ ہے صحیح تعلیم وتربیت کی اہمیت۔
اب یہ دیکھیے کہ نفاذ اسلام اس کے سوا کیا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔ اگر ہم اچھے، سچے اور باعمل مسلمان ہوں تو ریاست کا کام آسان ہو جاتا ہے کہ وہ ریاستی مشینری کے ذریعے ان احکام پر عمل درآمد کروا دے جن پرمسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں عمل ہونا چاہیے لیکن مسئلہ تو یہی ہے کہ ہم اچھے اور باعمل مسلمان نہیں ہیں لہٰذا ریاست کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ وہ اسلامی قوانین اسمبلی میں پاس کر دے بلکہ اس سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ لوگوں کے دل ودماغ اور فکر وعمل کو بدلا جائے تاکہ وہ اچھے اور باعمل مسلمان بن جائیں۔ اسی لیے ہمارا یہ کہنا ہے کہ نفاذ اسلام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ تعلیم کتاب وحکمت اور تزکیہ کے ذریعے عامۃ المسلمین کے فکر وعمل کوبدلا جائے تاکہ وہ دلی رضامندی سے اسلامی تعلیمات پر خود عمل کریں اور حکومت سے بھی تعاون کریں۔
نفاذ اسلام میں تعلیم کتاب وحکمت اور تزکیے کی اہمیت وضرورت واضح کرنے کے بعد آئیے اب یہ دیکھیں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں مروج نظام تعلیم وتربیت کا کیا حال ہے اور کیسے اسے اسلامی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے اور اس میں ایک اسلامی حکومت کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ لیکن اس سے بھی پہلے یہ دیکھیے کہ ہمارے ہاں تعلیم ہے کہاں؟ حکومت پاکستان کی شائع کردہ مردم شماری ۱۹۹۸ء کے اعداد وشمار کے مطابق صوبہ سرحد کی ۸۳ فی صد آبادی دیہی ہے اور وہاں شرح خواندگی ۳۱ فی صد ہے جس میں عورتوں کی شرح خواندگی صرف ۱۴ فی صد ہے۔ ظاہر ہے یہ صورت حال افسوس ناک ہی نہیں شرم ناک بھی ہے۔ لہٰذا موجودہ تعلیم کی کوالٹی بہتر بنانے کا سوچتے ہوئے پہلے اس کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ خواندگی میں اضافے کے لیے زیادہ بجٹ مختص کیا جائے، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے لیے کمیونٹی کو متحرک کیا جائے۔ ہمارا کوئی گاؤں محلہ ایسا نہیں جہاں مسجد نہ ہو، جہاں پڑھا لکھا امام مسجد نہ ہو اور کوئی ریٹائرڈ استاد یا فوجی اور سول ملازم نہ ہو لہٰذا اگر کمیونٹی کو متحرک کیا جائے اور انہیں قائل کیا جائے کہ تعلیم حاصل کرنا نہ صرف ہماری دنیاوی ضرورت ہے بلکہ یہ حکم خدا ورسول بھی ہے تو حکومتی مدد کے بغیر ہر گاؤں میں مسجد کو چھوٹے بچوں کی تعلیم کا مرکز بنایا جا سکتا ہے اور اس کے علاوہ بھی مقامی بچوں بچیوں کے لیے الگ الگ سکول قائم کیا جا سکتا ہے۔ ان مکتب سکولوں کا نصاب ایسا ہونا چاہیے کہ قرآن حکیم اور اسلامیات کی تعلیم اس کا حصہ ہو اور انہیں الگ سے قرآن پڑھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
جہاں تک ہمارے معاشرے میں مروج دینی نظام تعلیم (درس نظامی) کا تعلق ہے، ہم دینی علوم کا طالب علم ہونے اور علما کا انتہائی احترام کرنے کے باوجود، معذرت کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ وہ فوری نظر ثانی کا محتاج ہے اور سنجیدہ علما اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ ’’مجلس فکر ونظر‘‘ نے دو اڑھائی سال کی محنت کے بعد اور اہل سنت کے چاروں وفاقوں کے ذمہ دار علما کے ساتھ طویل نشستوں کے بعد موجودہ دینی نصاب میں تبدیلی کے لیے متفقہ سفارشات تیار کی ہیں اور انہیں متبادل نصاب بھی تیار کر کے دیا ہے جسے فی الفور نافذ کیا جا سکتا ہے۔ سرحد کی حکومت کو وہاں کے دینی مدارس کے علما پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے جو باہمی مشاورت سے خود درس نظامی میں تبدیلیاں تجویز کرے اور ان پر عمل درآمد کروائے۔
ہماری مجلس نے جو تبدیلیاں تجویز کی ہیں، وہ یہ ہیں: قرآن حکیم پر مزید ترکیز، بخاری ومسلم کا تحقیقی مطالعہ، فقہ واصول فقہ کا تقابلی مطالعہ، عربی زبان کی اس طرح تدریس کہ بولنے اور لکھنے کی مہارتیں بھی حاصل ہوں، نیز سیرت النبی، اسلامی تاریخ، تقابل ادیان، گمراہ مذاہب، اسلام اور عصری مسائل جیسے مضامین بھی پڑھائے جانے چاہییں۔ اس کے علاوہ انگریزی زبان، جدید سماجی وسائنسی علوم اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا تعارفی مطالعہ بھی درس نظامی کا حصہ ہونا چاہیے۔ دینی علوم کا اسلوب تدریس غیر فرقہ وارانہ ہونا چاہیے اور دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ سرحد کی حکومت کودینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کی کم از کم ایک اکیڈمی تو فوراً کھول دینا چاہیے۔
یہ تو دینی تعلیم کی بات تھی جس کی اہمیت مسلمہ ہے لیکن ہم علما سے عرض کرتے ہیں کہ جدید تعلیم کی اہمیت اس سے زیادہ ہی ہے، کم نہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ علما دینی مدارس میں کتنے طلبہ کی تعلیم وتربیت کا انتظام کرتے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ لاکھ دو لاکھ، لیکن دوسری طرف جدید تعلیم کا یہ حال ہے کہ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پچھلے سال پاکستان کے پرائمری سکولوں میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد دو کروڑ تھی۔ اب کیا ان کروڑوں بچوں کی اسلامی تعلیم وتربیت علما کی ذمہ داری نہیں؟ کیا علما ان کی اسلامی تعلیم وتربیت سے غفلت برت کر اپنے دینی فرائض سے عہدہ برآ ہونے کا اطمینان رکھ سکتے ہیں؟
اب یہ ایک تلخ لیکن ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہمارا جدید تعلیم کا سارا ڈھانچہ مغربی نظام تعلیم کی نقالی پر مبنی ہے۔ اس کی فکری اساس سے لے کر تنظیمی مدارج اور عملی مظاہر تک سب مغربی تہذیب اور اس کی فکر پر استوار ہیں۔ دینی عناصر کے مطالبے پر اس میں بعض اسلامی مظاہر کی دخ اندوزی ضرور کی گئی ہے جس نے اسے مزید غیر نافع اور غیر موثر بنا دیا ہے کیونکہ کفر میں اگر بعض خوبیاں ہیں تو اس کا سکہ تو چل سکتا ہے لیکن منافقت کی کشتی کبھی پار نہیں لگتی۔ وہ ہمیشہ بیچ منجدھار کے ڈوبتی ہے اسی لیے ہمارا جدید تعلیمی نظام پاکستانی بچوں کو یکسو اور کام یاب مسلم شخصیت میں ڈھالنے کی بجائے انہیں نظریاتی انتشار اور اخلاقی انارکی میں مبتلا کر رہا ہے اور یہی ہمارا سب سے بڑا نقصان ہے کیونکہ جس معاشرے میں انسان سازی کا کام معاشرے کے عقائد کے مطابق نہ ہو رہا ہو، اس کے مستقبل کی تباہی یقینی ہوتی ہے اور وہ قومیں مٹ جاتی ہیں جو یہ بھول جاتی ہیں کہ قوموں کے عروج وزوال کی جنگ کلاس روم میں لڑی جاتی ہے۔
یہ نشست چونکہ کسی تفصیلی تجزیے کی متحمل نہیں ہو سکتی، اس لیے ہم اختصار کے ساتھ ان اقدامات کا ذکر کرتے ہیں جو ہمارے موجودہ نظام تعلیم کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
- ہماری سب سے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ ہم علم کو اسلامائز کریں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دینیات کا کورس بڑھا دیا جائے یا مغربی علوم کی کتابوں میں خدا ورسول کے ناموں کا اضافہ کر دیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے علوم کو اسلامی تناظر میں مدون کیا جائے۔ یاد رہے کہ مسلمانوں کا ایک منفرد تصور علم ہے جو مغرب سے بالکل متضاد ہے۔ اس تصور علم کی بنیاد وحی اور اسلام کے مخصوص ورلڈ ویو یعنی تصور انسان وکائنات پر ہے اور یہ ہر قسم کے سماعی اور مشاہداتی علوم کو اپنے جلو میں لے کر چلتا ہے لیکن وحی کی سیادت میں۔ اس تصور علم کے مطابق جب علوم کی تدوین ہوگی اور اس کے مطابق جو نصابات تیار ہوں گے، وہ ان شاء اللہ یکسو مسلم شخصیت کو جنم دیں گے۔
- تعلیمی ثنویت کو ختم کیا جائے۔ دینی تعلیم الگ اور جدید تعلیم الگ کا تصور لازماً سیکولرزم کو فروغ دیتا ہے اور اسلام اس سیکولرزم کامخالف ہے لہٰذا نظام تعلیم میں وحدت ہونی چاہیے اور دینی تعلیم کو ایک تخصص کے طور پر اس کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید تعلیم اس طرح دی جائے کہ دینی علوم اس کا حصہ ہوں اور وہ اپنے مواد اور اسلوب میں بھی دینی بنیاد رکھتی ہو اور دینی تعلیم اس طرح دی جائے کہ عصری علوم اس کا حصہ ہوں۔
- تزکیہ وتربیت کے اسلامی تصور کا احیا کیا جائے۔ تعلیم صرف تدریس اور حصول علم کا نام نہیں بلکہ اس کا لازمی نتیجہ سیرت وکردار کی صورت میں نکلنا چاہیے۔ اس کے لیے مغربی طرز کی ہم نصابی سرگرمیاں کافی نہیں بلکہ جس طرح اسلام کااپنا تصور علم ہے، اسی طرح اس کا اپنا ایک مخصوص تصور تربیت (تزکیہ) بھی ہے لہٰذا اسلامی تربیت کو تعلیم کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں اسلامی تربیت کا منہاج اور لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ یہ آج کے اسلامی مفکرین اور ماہرین اسلامی تعلیم کے سامنے بہت بڑا سوال ہے جس پر تحقیق وتجربات کی ضرورت ہے۔ راقم نے اپنی بساط کی حد تک اپنی کتاب ’’تعلیمی ادارے اور کردار سازی‘‘ میں تعلیمی اداروں میں اسلامی تربیت کے طریق کار کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
تربیت طلبہ کے علاوہ تربیت اساتذہ کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ جب تک استاد کی صحیح تربیت نہ ہوگی، وہ اپنے طلبہ کی صحیح تربیت کیسے کرے گا؟ اور وہ ادارے جو ہم نے تربیت اساتذہ کے لیے قائم کر رکھے ہیں، ان میں فنی تربیت کا انتظام تو جیسا کیسا بھی ہو، موجود رہتا ہے لیکن نظریاتی تربیت کا وہاں کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ نہ انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ خود اچھا مسلمان کیسے بنتے ہیں اور طلبہ کو اچھا مسلمان کیسے بناتے ہیں۔ - تعلیم کا معیار نہایت اونچا ہونا چاہیے اور یہ محض کوئی دنیاوی بات نہیں (اسلام میں ویسے بھی دنیا دین سے الگ نہیں) بلکہ اسلام ہر بات میں ’’احسان‘‘ کا تصور پیش کرتا ہے۔ احسان کا مطلب یہ ہے کہ جو کام بھی کیا جائے، وہ اپنی بہترین صورت میں کیا جائے۔ یہی انگریزی لفظ Excellence کا مفہوم ہے۔ گویا اسلام کی رو سے تعلیم میں بھی ہر سطح پر ایکسی لینس مطلوب ہے۔
- نظام تعلیم ایسا ہونا چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے کی ساری دنیوی ضرورتیں بھی بطریق احسن پوری کرے یعنی ہر قسم کی ٹیکنیکل اور سائنسی تعلیم اسلامی نظام تعلیم کا جزو ہے۔ الحمد للہ کہ اسلامی معاشرہ پچھلے چودہ سو سال سے بلا انقطاع قائم ہے۔ سائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم ماضی میں بھی ہمارے نظام تعلیم کا حصہ تھی اور آج بھی ہونی چاہیے بلکہ جس طرح ماضی میں ہم سائنس وٹیکنالوجی میں دوسری دنیا سے آگے تھے، آج بھی ہمیں ان میں دوسری دنیا سے آگے ہونا چاہیے اور ہمارا نظام تعلیم ایسا اعلیٰ اور شاندار ہونا چاہیے کہ وہ ہمیں اس ترقی کی ضمانت دے۔
- بچیوں کی تعلیم کو اہمیت دی جائے کیونکہ ایک ماں کو پڑھانے کا مطلب ہے سارے خاندان کو تعلیم یافتہ بنانا۔ نیز مخلوط تعلیم ختم کر کے بچیوں کے الگ تعلیمی ادارے بنائے جائیں، ان کے لیے الگ خصوصی نصاب تیار کیا جائے اور ان کے شعبے میں مردوں کا عمل دخل بند کیا جائے۔
اسلامی نظام تعلیم کے حوالے سے یہ چند ضروری باتیں تھیں لیکن ان کی نوعیت نظریاتی تھی۔ اب ہم انتہائی اختصار کے ساتھ ان چند عملی اقدامات کا ذکر کرتے ہیں جو حکومت سرحد کو اسلامی نظام تعلیم کے حوالے سے کرنے چاہییں:
- ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے مغربی فکر وتہذیب کی بالادستی ختم ہو۔ مثلاً انگریزی ذریعہ تعلیم پر پابندی لگا دی جائے اور اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔ انگریزی کو اختیاری مضمون بنا دیا جائے۔ ہاں یونیورسٹی میں بزنس اورسائنسی مضامین کی تدریس انگریزی میں ہو تو کوئی ہرج نہیں۔ سکولوں میں انگریزی لباس پر بھی پابندی لگا دی جائے۔ آخر کب تک ہم اپنے بچوں کو غلام بننے کی ٹریننگ دیتے رہیں گے؟ اسی طرح دفتری زبان اردو ہونی چاہیے اور مقابلے کے امتحان بھی اردو میں ہونے چاہییں۔
- علوم کی اسلامائزیشن کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے جو مستقل بنیادوں پر کام کرتا رہے۔ اس کمیشن کے کام کی روشنی میں ہر تعلیمی سطح کے نصابات ازسرنو مدون کر کے رائج کیے جائیں۔
- تعلیمی اداروں میں اسلامی نظام تربیت جاری کیا جائے۔ اساتذہ کے ٹریننگ کالجوں کانصاب اور اسلوب بدلا جائے۔
- میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی کی جائے۔ کالج یونیورسٹی کی تعلیم کو سستا کیا جائے۔ مسجد کو ابتدائی تعلیم کا مرکز بنایا جائے۔ پشاور میں ایک خواتین یونیورسٹی بنائی جائے اور مخلوط تعلیم ختم کر کے مزید خواتین کالج کھولے جائیں۔
- تعلیم سے طبقہ واریت ختم کی جائے۔ پرائیویٹ سکولوں کی نگرانی کی جائے اور انہیں اسلامی نصاب وتربیت اور کم فیسوں کا پابند بنایا جائے۔
- معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ خصوصاً بزنس، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ ترین معیار کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔
- دینی نصاب تعلیم میں اصلاح کے لیے علما کی کمیٹی بنائی جائے اور دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے اکیڈمی کھولی جائے۔
یہ چند تجاویز ہیں جن پر اگر اخلاص اور محنت سے عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ ہمارا نظام تعلیم صحیح راہ اختیار کر لے گا اور ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھالنے میں ممد ومعاون ثابت ہوگا، ان شاء اللہ۔ تاہم ان سے فوری نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ تعلیمی انقلاب خاموش انقلاب ہوتا ہے۔ یہ دیر سے آتا ہے لیکن دیرپا ہوتا ہے۔
نظام حکومت کی اصلاح کے چند اہم پہلو
جسٹس (ر) عبد الحفیظ چیمہ
(۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں مجلس فکر ونظر کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیا گیا۔)
معزز ومحترم حاضرین
آج جس موضوع پر ہم غور وفکر (Deliberations) کرنے چلے ہیں، وہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آئیں، کچھ زمینی حقائق کا ذکر ضروری ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے لیے بڑا نازک اور کڑا وقت ہے۔ دنیا کی واحد سپر پاور نے باقاعدہ ایک سوچے سمجھے اور طویل منصوبے کے تحت مسلمانوں کو کچل کر ان کے وسائل دولت بالخصوص تیل پر ہاتھ صاف کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس پروگرام کے رو بہ عمل لانے میں وہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک پلان کے تحت افغان حکومت کے خلاف ایک زور دار پراپیگنڈا مہم چلائی گئی اور یہ کہا گیا کہ افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ افغانستان کو اس لیے سبق سکھانا ضروری ہو گیا ہے کہ انہوں نے تمام عالم اسلام کے لیے جہادی ٹریننگ کے مراکز کھول رکھے ہیں۔ افغانستان کو اس طرح ایک زبردست اور وسیع (Massive) پراپیگنڈا کے تحت فساد کی جڑ مشہور کیا گیا۔ اس سے قبل مغربی قوتوں نے الجزائر کی اسلامی جماعتوں پر، جو کہ جمہوری اور جائز (Valid) طریقے سے اقتدار حاصل کرنے والی تھیں، جعلی الزامات لگا کر فوج کو ان کے سامنے لا کھڑا کیا اور الجزائر میں ایک لامتناہی قتل وغارت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ چنانچہ مسلمان ملکوں میں اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ ایسے حکمرانوں کو آگے لایاجائے جو احیاے اسلام کو روکیں اور مغرب کے ایجنڈے کو آگے لائیں۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ ہمارے حکمران بالعموم اسلام اور اسلامی نظام کی تضحیک وتحقیر میں اہل مغرب سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ غیرت نام کی کوئی چیز ان میں نہیں ہے۔
یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ الجزائر میں فتنہ وفساد برپا کرنے کے بعد افغانستان کی اسلامی حکومت کی تباہی وبربادی پوری طرح امریکہ اور اہل مغرب کے ایجنڈے پر تھی اور ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء والے واقعہ کا اس سے تعلق نہ تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ۱۱ ستمبر کے چند دن بعد ہمارے سابق سیکرٹری خارجہ جناب نیاز اے نائیک کا بیان اخبارات میں جلی سرخیوں سے چھپا تھا کہ اس واقعہ سے کچھ پہلے برلن میں مغربی ممالک کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں جناب نائیک بھی موجود تھے۔ اس میٹنگ میں افغانستان پرحملہ کر کے طالبان حکومت کو ہٹانے (Unseat) کا پروگرام سامنے آیا تھا۔ چنانچہ یہ کہنا کہ افغانستان پر ۱۱ ستمبر کے واقعات کی وجہ سے قیامت برپا کی گئی، درست نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ طالبان کومشق ستم بنانے میں تیزی آ گئی۔ تمام مسلمان ممالک بشمول افغانستان اور اسامہ بن لادن نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ان کا ۱۱ ۔ستمبر کے واقعات میں عمل دخل نہیں۔
دوسری طرف امریکہ اور برطانیہ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ ان کے پاس نام زد ملزمان پر مقدمہ چلانے (Prosecution) کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے اور اب تو مغربی دنیا میں اور بذات خود امریکہ میں یہ گمان بڑے زور سے جڑ پکڑ رہا ہے کہ یہ امریکی ایجنسیوں کا کام ہے جس پر یہودیوں کا بالعموم کنٹرول ہے۔ فرانس میں ایک مستند کتاب اس موضوع پر شائع ہوئی ہے جس میں امریکی موقف کی پرزور تردید کی گئی ہے اور اسے امریکی ایجنسیوں کا ہی کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف ہماری حکومت مسلسل یہ اعلان کیے جا رہی تھی کہ ان کو اسامہ اور افغانیوں کے ملوث ہونے (Involvement) کے ثبوت مل چکے ہیں۔ چنانچہ بعد میں Logistic Support اور جو جو سپورٹ ہم نے ان کو دل وجان سے پیش کی، وہ آپ کے سامنے ہے۔ جب مسٹر کولن پاول کا فون ہمارے ’صاحب‘ کو آیا تو انہوں نے اپنے رفقاے کار کے مشورہ کے بغیر ہی امریکیوں کی توقع کے برخلاف بہت زیادہ تعاون کی پیش کش کر دی اور اس مشورہ نہ کرنے کے عمل کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بقول نپولین : ’’بعض اوقات قریبی احباب سے بھی مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور خود ہی فیصلہ کر دینا چاہیے۔‘‘ حالانکہ قرآن حکیم جناب نبی آخر الزمان ﷺ کو ، جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ سے براہ راست رابطہ تھا، حکم دیتا ہے کہ:
وشاورہم فی الامر۔ (آل عمران)
’’ان سے امور میں مشورہ کر لیا کریں۔‘‘
وامرہم شوریٰ بینہم۔ (الجاثیہ)
’’باہمی مشورے سے ہی نظام مملکت چلایا جائے۔‘‘
چنانچہ اس وقت ۵۶ مسلمان ملکوں کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ ان مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کا عمل اپنے عوام کی آرا سے بالکل مختلف ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے لیڈروں سے سخت بے زار ہیں اور وہ ان سے بے زار۔
نعشوں کو تم نہ جانچو، لوگوں سے مل کے دیکھو
کیا چیز جی رہی ہے، کیا چیز مر رہی ہے
کچھ عرصہ قبل میں نے انگلینڈ میں ایک جلسہ میں شرکت کی جس میں مقرر یہ کہہ رہا تھا کہ ۵۶ مسلم ممالک ۴۶ صفر ہیں اور ان میں ایک ملک ایٹمی صفر (Nuclear Zero)ہے۔ ان سے زیادہ وقیع اور طاقتور تو مشرقی تیمور ہے۔ اس وقت تمام مسلمان ممالک، بے بسی اور بے چارگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی تباہی وبربادی کی باری (Turn) کا انتظار کر رہے ہیں۔ افغانستان کے بعد اب عراق، پھر ایران، پاکستان، سعودیہ اور نہ جانے کس کی باری کب آتی ہے۔
ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ بر کف
بخیال آنکہ گاہے بشکار خواہی آمد
مختصراً اب صورت حال یہ ہے کہ امریکہ ایک بد مست ہاتھی کی طرح ساری مسلم دنیا کو تہس نہس کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ ری پبلکن پارٹی جو اس وقت برسر اقتدار ہے، اس کا Symbol (نشان) بھی ہاتھی ہے جبکہ ڈیمو کریٹس کا نشان گدھا ہے۔
امریکہ اور اس کے حلیفوں کا عالم اسلام میں مداخلت کا حال یہ ہے کہ وہ بڑے دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ دینی مدارس کو بند کرو اور اس میں سے قرآن کی وہ آیات جو جہاد کی تعلیم دیتی ہیں، وہ سب نکالو۔ تعلیمی نظام کو ازسر نو Restructure کیا جائے اور اس میں ان کے کہنے کے مطابق اصلاحات اور تبدیلیاں لائی جائیں۔ عربی مدارس کو جو کہ غریب اور نادار طلبہ کو مفت تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کے طعام وقیام کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کو مغرب دہشت گردی کی نرسریاں کہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں امریکہ کے ایک پادری جیری فال نے جناب رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بڑی دیدہ دلیری سے (نقل کفر کفر نہ باشد) خاکم بدہن دہشت گرد کہا۔ جارج بش نے اردن کے شاہ عبد اللہ کو ریسیو کرنے کے بعد کہا کہ Islam is a false religion (اسلام ایک جھوٹا مذہب ہے) اس سارے پس منظر میں ہماری حکومت کا حال یہ ہے کہ وہ مغرب کے وفادار کارندے کے طور پر کام کر رہی ہے اور بار بار یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ ۵۸۔ ٹو بی ہمار یاختیار میں ہے اور کسی بھی حکومت کو کسی بھی وقت ڈس مس کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں ان سے کوئی بعید نہیں کہ آقاؤں سے اپنے انعام کی خاطر یہ کام کر ہی گزریں۔ لہٰذا صوبہ سرحد کی حکومت کے لیے مناسب یہ ہوگا کہ Go Slow کی پالیسی اختیار کی جائے لیکن عملی طور پر ایسے اقدام کیے جائیں کہ ان کے دور رس اثرات ملک میں محسوس کیے جائیں اور یہ حکومت اپنے حسن عمل سے پسندیدہ حکومت قرار پائے۔
اولین ترجیح: معاشی مسائل
جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زمانے میں اسلام آباد سیکرٹیریٹ میں برطانیہ کی ایک خاتون، جو کہ اسلامی قوانین کا مطالعہ کر رہی تھی، مجھ سے ملنے آئی تو اس نے کہا: ’’چونکہ یہاں اسلام نافذ ہو گیا ہے اس لیے میں اس کے اثرات کا مطالعہ کرنے آئی ہوں۔‘‘ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کو کس بات سے اندازہ ہوا کہ یہاں اسلام نافذ ہو چکا ہے؟ اس نے جواب دیا:
"Since punishment in the shape of flogging has been imposed in respect of certain offences, therefore I believe that Islam has been enforced."
’’چونکہ چند مخصوص جرائم پر کوڑے لگانے کی سزا یہاں نافذ کر دی گئی ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ یہاں اسلام کا نفاذ ہو گیا ہے۔‘‘
اس نظریہ کی نفی کرنا مقصود نہیں ہے کہ یہ اسلامی قانون کا ایک پہلو بلکہ بہت اہم پہلو ہے لیکن یہ سب کچھ نہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ جرائم کی اسلامی سزائیں معاشرے کی درستی اور امن بحال کرنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن میں بڑے ادب سے گزارش کروں گا کہ بشروا ولا تنفروا اور یسروا ولا تعسروا کے اصول کو سامنے رکھ کر قانون سازی کی جائے۔ اس سلسلے میں ایک قانون دان (Jurist) نے فرمایا:
’’لوگ بڑا غضب کرتے ہیں کہ اسلام کے پروگرام کی ساری تفصیل چھوڑ کر اس کی سخت سزاؤں پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ اسلام پہلے لوگوں میں ایمان پیدا کرتا ہے، پھر اخلاق پاکیزہ بناتا ہے، پھر تمام تدابیر سے ایک ایسی مضبوط رائے عام تعمیر کرتا ہے جس میں بھلائیاں پھلیں پھولیں اور برائیاں پنپ نہ سکیں۔ پھر معاشی، سیاسی ایسا نظام قائم کرتا ہے جس میں بدی کرنا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہو جائے۔ وہ ان تمام دروازوں کو بند کر دیتا ہے جن سے فواحش اور جرائم نشوونما پاتے ہیں۔ اس کے بعد ڈنڈا وہ آخری چیز ہے جس سے ایک پاک معاشرے میں سر اٹھانے والی ناپاکی کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔ اب اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے کہ ایسے برحق نظام کو بدنام کرنے کے لیے آخری چیز کو پہلی چیز قرار دیتا ہے اور بیچ کی سب چیزوں کو نگل جاتا ہے۔‘‘
سب سے اہم مسئلہ جو بڑی اہمیت کا حامل ہے، وہ لوگوں کے معاشی مسائل ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے اصول ریاست انسانیت کی فلاح وبہبود کے ضامن ہیں:
کس نہ باشد در جہاں محتاج کس
نکتہ شرع مبیں ایں است وبس
بڑے بڑے مسائل جن کو اولین ترجیح دینی چاہیے، وہ یہ ہیں:
۱۔ بے روزگاری
۲۔ مہنگائی
۳۔ سرکاری عملہ کی کرپشن اور عوام سے بد سلوکی، بالخصوص پولیس کی زیادتی
۴۔ سرحد کے حوالے سے محکمہ جنگلات کی کرپشن
۵۔ سمگلنگ اور کار چوری
ان تمام امور کے بارے میں قومی اخبارات میں شکایات بالعموم چھپتی رہتی ہیں۔ صوبے میں چور، ڈاکو، سمگلر، نشئی اور دیگر مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔ پچھلے پچاس برس میں صوبہ سرحد سمگلنگ کامرکز رہا جس سے سارا پاکستان متاثر ہوا۔ سمگلر، قانون اور قانون نافذ کرنے والوں کو اپنے حقیر نمبردار اور تابع سمجھتے ہیں۔ صوبہ سرحد گاڑیوں کے غیر قانونی کاروبار اور کار چوروں کا مرکز ہے۔ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سے جب کاریں یا ویگنیں اٹھائی جاتی ہیں تو وہ گھنٹوں کے اندر پشاور، مردان کے راستے سے غیر علاقے خصوصاً باڑہ یا باجوڑ ایجنسی میں پہنچائی جاتی ہیں۔ جس کی کار چوری ہوتی ہے، اسے رقعہ مل جاتا ہے کہ پولیس سے رابطہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہمارے ساتھ فلاں حجرے میں بات کرو۔ چند لاکھ دے کر گاڑی واپس مل جائے گی۔ صوبہ کی پولیس کو ان ڈاکوؤں اور چوروں کاپورا علم ہے مگر یہ کاروبار چل رہا ہے اور پولیس کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
فاٹا اور صوبہ سرحد منشیات اور غیر ملکی سامان کی تجارت کاعرصے سے مرکز ہے۔ وقتاً فوقتاً چند بوریوں کو تشہیر کے لیے آگ لگائی جاتی ہے لیکن اس کاروبار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔
بے روزگاری ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کے بڑے بھیانک نتائج نکل رہے ہیں۔ ڈاکے، چوریاں اور دیگر جرائم کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔ صوبہ میں ۴۳۰ صنعتی یونٹس بند پڑے ہیں۔ مرکز سے مل کر ان کو دوبارہ چالو کرنے کی ضررت ہے۔ گدون امازئی میں کافی یونٹ کام کر رہے تھے۔ اب وہاں صرف چند ایک صنعتی یونٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کی بحالی کی اشد ضرورت ہے۔ فاٹا میں جو انڈسٹریز تھیں، ان کو بحال کیا جائے۔ ماربلز انڈسٹریز کی طرف توجہ دے کر ان کے مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ماربل Extraction کے بعد کٹنگ وغیرہ کے سارے مراحل صوبہ سرحد میں ہی طے ہونے چاہییں تاکہ یہاں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار میسر آ سکے۔
تعلیم وتربیت
انگریزی تعلیم کو نصاب تعلیم سے نکالنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انگریزی کو مسلمان کیا جائے اور برطانوی مسلمان سکولوں کی طرز پر کورسز ترتیب دیے جائیں۔
دینی مدارس پر توجہ دی جائے۔ دینی علوم کے ساتھ سائنسی اور جدید علوم پڑھائے جائیں تاکہ اسلام کی آفاقیت اور فوقیت ان کے ذہنوں پر نقش کی جا سکے۔ ایک برطانوی رسالے نے ایم ایم اے کی حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے:
(1) Ensure Good Governance.
(2) Win back sovereignty and independence of Pakistan.
یعنی عوام دوست طرز حکومت کو یقینی بنایا جائے اور پاکستان کی خود مختاری اور آزادی کو بازیاب کیا جائے۔
ٹی وی میں جو وقت اب علاقائی پروگرام میں مل سکتا ہے، اس میں پشتو اور اردو میں اس امر کا اہتمام کیا جائے کہ لوگوں کو اخلاق، شرافت، دیانت، ایمان داری جو کہ امت مسلمہ کا طرۂ امتیاز رہا ہے، اس کا خوب صورت انداز میں درس دیا جائے۔ لوگوں میں Civility اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس Civic Sense) (پیدا کیا جائے۔ اگر ہو سکے تو ایک دو پیریڈ بچوں کے سکول کورسز کی دہرائی کے لیے بھی مختص کر دیے جائیں۔ اس سے بچوں کو ٹیوشن پڑھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
علامہ اقبال جاپان کی ترقی کا راز بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جاپان نے ۱۹۰۰ء میں ملک میں صنعتی سکولوں کے جال بچھا دیے تھے جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ صنعتی تعلیم کے ادارے ہر جگہ کھولے جائیں۔
قوت مغرب نہ از چنگ ورباب
نے زرقص دختران بے حجاب
نے ز سحر ساحران لالہ رو است
نے ز عریاں ساق ونے از قطع مو است
قوت افرنگ از علم وفن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
عدلیہ
میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بذات خود ایک ایمان دار آدمی ہو اور وہ یہ چاہے کہ صوبائی عدلیہ میں کرپشن نہ ہو تو کوئی سول جج، مجسٹریٹ، ایڈیشنل سیشن جج یا سیشن جج رشوت لینے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اس سلسلے میں مجلس عمل کو بڑا چوکنا رہنا ہوگا اور چیف جسٹس سے رابطے کے بعد ان کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے رہنا ہوگا۔ اگر صحیح رپورٹوں کی بنا پر چند کرپٹ سول جج یا مجسٹریٹ یا دیگر سرکاری افسر سروس سے نکالے جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ باقیوں کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور وہ ڈر کر کام کریں گے۔ اسی طرح ایک ضلع کا سیشن جج اور ڈی سی او ایمان دار ہو اور وہ یہ چاہے کہ اس کے زیر اثر افسران میں سے کرپشن ختم کی جائے تو اس کے لیے کوئی عمل مانع نہیں ہے۔ کیا متحدہ مجلس عمل کی گورنمنٹ صوبے میں آٹھ یا دس ایمان دار اور باصلاحیت سیشن جج بھی نہیں ڈھونڈ سکتی؟ اگر اس سلسلے میں ایک سنجیدہ کاوش کر لی جائے تو آپ دیکھیں گے کہ لوگ آپ سے انتہائی مطمئن اور خوش ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ قانونی ضابطے ایک کرپٹ آدمی کو بے ایمانی کرنے سے نہیں روک سکتے لہٰذا زور اس امر پر دینا چاہیے کہ اختیارات کا استعمال کرنے والا شخص (Man behind the gun) صحیح کردار کاحامل ہو۔
جج یا مجسٹریٹ صاحبان کے لیے عدالتی کارروائی شروع کرنے سے پہلے ایک حلف مقرر کیا جانا چاہیے جیسا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ ۱۹۹۷ء کی دفعہ ۱۶ کے تحت ہر جج پر لازم ہے کہ وہ ہر مقدمہ کی کارروائی شروع کرنے سے قبل یہ حلف لے کہ ایمان داری، راست بازی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔ غیر مسلموں کے سلسلے میں حلف یہ ہوگا کہ وہ ایمان داری اور راست بازی کے ساتھ اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں بہت سی خرابیاں واقع ہو چکی ہیں لیکن پھر بھی ایک گیا گزرا مسلمان جج بھی اس حلف کے بعد بہت احتیاط برتے گا۔
ہماری بے مقصد تعلیم کے باعث افسران میں احساس ذمہ داری اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی کا احساس یا تو ہے ہی نہیں یا بہت کم ہے جس کی وجہ سے ان کے فرائض کی سرانجام دہی میں بے شمار کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک عمدہ ٹریننگ کا اہتمام بہت ضروری ہے جس میں افسران کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ ایک بڑی نازک ذمہ داری کے حامل ہیں جس میں احتساب بڑا سخت ہے۔ عدلیہ کے بارے میں جج صاحبان کو اس عہدے کی نزاکت اور شدید جواب دہی کے متعلق آیات قرآنی اور احادیث نبوی سے روشناس کرایا جائے اور انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ عدل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور عدل ایک فرض کے ساتھ ساتھ عبادت بھی ہے۔ اچھی ٹریننگ کے اثرات بہت دور رس اور عمدہ نکلتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت سرحد کے پاس جناب عبد اللہ صاحب سابق چیف سیکرٹری سرحد جیسا ذمہ دار اور دیانت دار افسر موجود ہے جن کی خدمات سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔ اگر نئی جوڈیشل اکیڈمی قائم کرنے پر خرچ زیادہ اٹھتا ہو تو پہلے سے قائم شدہ ادارے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ نیپا (Nipa) پشاور میں جناب عبد اللہ پہلے ہی ایک عرصہ تک یہی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
سول ججز : ماتحت عدلیہ کا انتخاب بہت حد تک آپ کے پاس ہے۔ آپ کا پبلک سروس کمیشن ان کا امتحان لیتا ہے۔ اچھے بیج سے اچھی فصل پیدا ہوتی ہے۔ انصاف کی فراہمی کا شعبہ بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ یہ سب سے پہلی اور بنیادی عدالت ہے جس سے عوام کو بالعموم واسطہ پڑتا ہے لہٰذا اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ برطانوی چیف جسٹس لارڈ سنگ سے کسی نے پوچھا کہ اچھے جج کی کیا تعریف ہے؟ اس نے جواب دیا:
"A judge should be honest. He should be hardworking. He should understand men and matters and if knows little bit of law that would be blessing over blessings."
’’جج کو ایمان دار اور محنتی ہونا چاہیے۔ اس میں انسانوں کوجانچنے کی صلاحیت اور معاملات کی سوجھ بوجھ ہونی چاہیے، اور اگر اس کے ساتھ اسے قانون کی شد بد بھی ہو تو یہ سونے پر سہاگہ ہے۔‘‘
آپ کو علم ہے کہ تقریباً ۹۰ فی صد مقدمات انہی عدالتوں میں ہوتے ہیں لہٰذا سول جج صاحبان کے انتخاب پر ایک اچھی حکومت کو پوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ حضرت عمرؓ کی کوشش یہ ہوتی کہ قاضی صاحبان صاحب اثر اور صاحب ثروت لوگوں سے لیں اور اس پر مزید یہ خیال رکھتے کہ قاضی عمدہ کردار کا حامل ہو۔ ایسے حضرات اپنی دنیوی خواہشات کا جلد شکار نہ ہوتے تھے۔
بفرض محال اگر کسی صورت ایسے مشکوک کردار کے لوگ کسی طرح سروس میں گھس گئے تو انہیں کنفرم نہ کیا جائے اور نکال باہر کیا جائے۔ جیسا کہ خاردار جھاڑیوں کی تراش خراش ضروری ہوتی ہے، اسی طرح شریف سوسائٹی کو ایسے ناہنجار لوگوں کو نکال باہر کرنا چاہیے۔
ایڈیشنل سیشن جج صاحبان: اگرچہ ان کے انتخاب کا تمام تر پروسس ہائی کورٹ کے ہاتھوں ہوتا ہے لیکن چونکہ تقرری گورنمنٹ کرتی ہے لہٰذا عدالت عالیہ کی مشاورت سے اعلیٰ کردار کے حامل لوگوں کو اس سروس میں لانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ موجودہ طریق کار میں کردار کی تفتیش وتحقیق کم ہی ہوتی ہے اور ہر قسم کے لوگ امتحان پاس کر کے اس اعلیٰ پائے کی سروس میں آ گھستے ہیں۔ ایمان دار اور محنتی ججز کو بروقت ترقی ملنی چاہیے اور غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ہائی کورٹ ججز کی تقرری میں بے احتیاطی ملکی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اس میں بہت سی احتیاط کی ضرورت ہے۔
اگرچہ چیف جسٹس ججز کی تقرری کو Initiate کرتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے لہٰذا وزیر اعلیٰ پورے زور سے غلط تقرریوں کی مخالفت کر کے اس عہدہ عالیہ کو غلط قسم کے لوگوں سے بچا سکتے ہیں۔
تعزیرات پاکستان کی دفعات ۱۸۲ اور ۲۱۱ کا صحیح اور فوری استعمال بہت سے جرائم کو روکنے میں ممد ثابت ہو سکتا ہے۔
اس وقت پروسس بڑا طویل اور صبر آزما ہے۔ جج کو یہ اختیار دے دینا چاہیے کہ اگر وہ مقدمہ بد نیتی پر دائر کردہ پائے تو ملزموں کو بری کرتے ہوئے غلط اطلاع اور غلط الزام لگانے کو اسی وقت سزا دے دے۔
احتساب کا ایک عمدہ نظام قائم ہونا چاہیے جو اوپر سے شروع ہو کر نیچے آئے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اگر ایک چیف جسٹس دیانت دار ہے اور وہ اس بات پر کمربستہ ہے کہ صوبے کی عدلیہ میں کرپشن نہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ کرپشن رک نہ سکے۔ اسی طرح اگر ایک چیف سیکرٹری ایمان دار ہے اور اس بات کے لیے مصمم ارادہ رکھتا ہے کہ کرپشن روکی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس پر قابو نہ پا سکے۔ جب تک احتساب کا نظام کڑا نہیں ہوگا، اس وقت تک افسروں کی صحیح نگہداشت نہیں ہو سکے گی اور عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
صوبائی محتسب ایک ایسے شخص کو مقرر کیا جانا چاہیے جسے دینی علوم کے علاوہ جدید علوم پربھی دسترس حاصل ہو اور وہ عام لوگوں کو ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل میں ریلیف دے سکیں۔
صوبے میں سیشن کورٹ اور اس کے ماتحت عدالتوں کے علاوہ بے شمار عدالتیں قائم ہیں۔ اس سے بھی لوگوں کو انتہائی پریشانی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر انٹی کرپشن کورٹ، سروس ٹربیونل، لیبر کورٹ، انسداد دہشت گردی عدالت وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کو ختم کر کے عام عدالتوں کو، جو کہ سیشن جج کے ماتحت ہوتی ہیں، یا سیشن جج صاحبان کو یہ اختیارات تفویض کر دینے چاہییں۔ اس سے لوگوں کے مقدمات کی سماعت بہت جلد ہو سکے گی اور اس تنوع کے باعث جو پریشانیاں عوام کو ہوتی ہیں، ان سے بچا جا سکے گا۔
اس وقت عدلیہ کے متعلق عدم اعتماد کی جو فضا ملک بھر میں پائی جاتی ہے، وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کے بعد اگرچہ انتظامیہ کے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن اگر صوبائی حکومت خلوص دل سے کچھ کرنا چاہے تو ضرور کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی گزارش یہ ہوگی کہ جناب اکرم درانی صاحب چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے ہاں جا کر بذات خود ملاقات کریں اور ان سے اپنے پروگرام اور منشور پر عمل درآمد کے سلسلے میں مدد طلب کریں۔ اس کے بعد چیف جسٹس صاحب اور سینئر جج صاحبان کو اپنے ہاں مدعو کرتے رہا کریں۔ چونکہ درانی صاحب خود وکیل ہیں اس لیے وہ لازماً اس کی افادیت سے پوری طرح آگاہ ہوں گے۔
دینی مسائل میں رہنمائی کے لیے علما کا بورڈ
ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جس میں صوبہ سرحد اور دوسرے صوبوں کے نامور علما، پروفیسرز اور قانون دان شامل ہوں جو کہ عملی کردار کے حامل ہوں اور ان کے تبحر علمی کا ہر کہ ومہ قائل ہو، تاکہ وہ دقیق امور میں سرکار کی رہنمائی کر سکیں۔ سعودی عرب میں ایسا ہی ایک ادارہ ہیءۃ کبار العلماء کے نام سے قائم ہے۔ یہ ادارہ وقتاً فوقتاً گورنمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رہنمائی کرتا رہے۔ جب تک ایسا ادارہ سرحد حکومت قائم نہیں کر پاتی، اس وقت تک اسلامی نظریاتی کونسل سے استفادہ کرے۔
وفود کی تشکیل
اب تک ایم ایم اے نے جو مثالی کردار پیش کیا ہے اور جس طرح اتحاد کو قائم رکھا ہے، اس سے عوام کی امیدوں کے چراغ روشن ہو گئے ہیں اور بیورو کریسی بھی ان شاء اللہ اس سے بہت متاثر ہوگی۔ بیرونی ممالک میں پاکستان کا امیج بہت خراب ہے اور ہمارے کیس کو کسی نے اچھی طرح سے پیش نہیں کیا اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرونی ممالک خصوصاً اسلامی ممالک کا دورہ کر کے پاکستانی عوام کے جذبات سے ان کو آگاہ کیا جائے۔ امریکہ اور تمام عیسائی دنیا کو یہ بتایا جائے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ جب ایرانیوں کے ہاتھوں عیسائیوں کو شکست ہوئی تو سورۂ روم میں فرمایا گیا کہ یہ شکست عارضی ہے اور چند سال بعد عیسائی، دشمن کے مقابلے میں کام یاب ہوں گے جس سے مسلمان خوش ہو جائیں گے۔
ہمیں ان سے صرف یہ گلہ ہے کہ بلاجواز مسلمانوں کے خلاف ہوا کھڑا کر کے ان کو بدنام کیا جا رہا ہے حالانکہ دنیا میں وہ یہودیوں، ہندوؤں اور روسیوں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں اور اہل کلیسا ان کی ناجائز مدد کر کے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں۔
’’قرب قیامت کی پیش گوئیاں‘‘ ۔ حافظ عبد الرحمن صاحب مدنی کے نام مکتوب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مجلس التحقیق الاسلامی، ۹۹ جے ماڈل ٹاؤن لاہور کے زیر اہتمام ۲۶ جنوری ۲۰۰۳ء کو ’’قرب قیامت کی پیش گوئیوں‘‘ کے موضوع پر ایک علمی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ’’الشریعہ‘‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کا جو مکتوب حاضرین مجلس کو پڑھ کر سنایا گیا، اسے ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے۔ (مدیر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بگرامی خدمت مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب زید مکارمکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مزاج گرامی؟
۲۶ جنوری ۲۰۰۳ء کے مذاکرہ میں شرکت کے لیے دعوت نامہ موصول ہوا۔ یاد فرمائی کا تہ دل سے شکریہ۔ میں ۲۶ جنوری کو نماز ظہر اور اس کے بعد ایک پروگرام کا وعدہ لاہور میں ہی ایک اور جگہ پہلے سے کر چکا ہوں اس لیے مذاکرہ میں شرکت میرے لیے مشکل ہوگی جس پر معذرت خواہ ہوں۔ عزیزم حافظ محمدعمار خان ناصر سلمہ مذاکرہ میں شرکت کے لیے حاضر ہو رہا ہے، اس سے مجھے ضروری تفصیلات معلوم ہو جائیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
جس مسئلہ پرمذاکرہ کا انعقاد ہو رہا ہے، اس کے تمام پہلوؤں پر کچھ عرض کرنا تو سردست مشکل ہے البتہ ایک دو اصولی باتوں کے حوالے سے مختصراً گزارش کر رہا ہوں کہ:
قرآن کریم یا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کا اپنے دور کے واقعات پر اطلاق یا انہیں مستقبل کے حوالہ کر کے ان کے وقوع کا انتظار خود حضرات صحابہ کرام کے دور میں بھی مختلف فیہ رہا ہے۔ سورۃ الدخان میں ’’دخان‘‘ اور ’’البطشۃ الکبریٰ‘‘ کی پیش گوئیوں کا حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ اپنے دور کے حالات پر اطلاق کرتے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ انہیں قیامت کی نشانیوں میں شمار کر کے اپنے دور میں ان کے وقوع کی بات قبول نہیں کرتے۔ اس سے اصولاً یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیش گوئیوں کے بارے میں تعبیر وتاویل کا دامن اس قدر تنگ نہیں ہے اور اہل علم کے لیے اس کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔
اصل الجھن ہمارے ہاں یہ رہی ہے کہ ہر دور میں اس نوعیت کی پیش گوئیوں کو اپنے دور کے احوال وظروف کے دائرے میں رہ کر سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ وہی بات اب بھی ہو رہی ہے جبکہ مستقبل کا افق بہت وسیع ہے مثلاً امام مہدی کے ظہور کی روایات کا اطلاق بعض اہل علم نے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ پر بھی کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ اس لیے ہوا تھا کہ ایسا کرنے والوں کے سامنے صرف اس دور کا تناظر تھا جبکہ مستقبل کے قیامت تک کے تناظر اور امکانات کو بھی سامنے رکھا جائے تو تاویل وتعبیر میں اس قدر آگے جانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کا ظاہری مفہوم سرے سے اس میں تحلیل ہو کر رہ جائے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ذہنوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے کہ پیش گوئی کا ظاہری حالات میں پورا ہونا ممکن نظر نہیں آتا تو اسے عقلی طور پر قابل قبول بنانے کے لیے تاویل کا سہارا لینا مناسب سمجھا جاتا ہے جو ایک غیر ضروری محنت ہے کیونکہ مستقبل کے امکانات کا دائرہ حال کے امکانات سے کہیں زیادہ وسیع اور مختلف ہوتا ہے ۔ مثلاً یہودیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ اور اس میں یہود کی ابتدائی کام یابیوں کا جن روایات میں تذکرہ ملتا ہے، آج سے ایک صدی قبل کے احوال وظروف میں اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا لیکن آج اس کا وقوع بھی ہو چکا ہے۔
اس لیے میرا اپنا ذوق تو یہی ہے کہ پیش گوئیوں کو ان کے اصل مفہوم میں ہی سمجھنے کی کوشش کی جائے اور اپنے دور کے حالات پر ان کا ہر حال میں اطلاق کرنے یا ان کے بظاہر ممکن نہ ہونے کو حتمی سمجھنے کے بجائے مستقبل کے پردۂ غیب میں مستور امکانات کے حوالے کر دیا جائے، البتہ اس باب میں اہل علم کے بحث ومباحثہ اور تاویل وتعبیر کے حق سے انکار نہ کیا جائے۔ بحث ومباحثہ اور تعبیر وتاویل کا یہ عمل گزشتہ چودہ صدیوں سے جاری ہے اور اب اس پر قدغن لگانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ اس کی ضرورت ہی ہے۔
مذاکرہ کے شرکا سے سلام مسنون عرض ہے۔ شکریہ
والسلام
ابو عمار زاہد الراشدی
اسمبلیوں میں ’اسلام‘ کی نمائندگی
قاضی عبد الحلیم حقانی
’الشریعہ‘ گوجرانوالہ وہ واحد پرچہ ہے جس کا میں باقاعدہ خریدار ہوں ورنہ عام مولویوں کی طرح میرا بھی دینی پرچوں کے معاملے میں مفت خوری کا ذوق ہے جو واقعۃً کسی طرح بھی درست نہیں کہ دین کے پرچے جب دین کے نام پر کھانے والے کمانے والے نہ خریدیں تو کون خریدے؟ ہاں ’الشریعہ‘ کا میں بھی آسانی سے خریدار نہیں بن سکا۔ ’الشریعہ‘ کے مدیر اعلیٰ کا بعض ضروری تحفظات کے ساتھ ابتدا سے میں مداح اور قائل ہوں۔ شاید اس کا اثر ہو کہ ایک دفعہ ’الشریعہ‘ کے مدیر اعلیٰ زاہد الراشدی صاحب نے خواب میں مجھے بے تکلفی سے کہا کہ نکالو صد روپیہ ’الشریعہ‘ کے چندہ کا۔ اتفاق سے دو چار روز کے بعد لاہور کے کسی شان دار ہوٹل میں (کسی مسجد مدرسہ میں نہیں) اسلامی نظام کے دعوے داروں کی اعلیٰ تقریب میں (جب کہ میں تقریب میں مدعو نہیں تھا، کسی اور کام سے لاہور گیا ہوا تھا) مولانا زاہد الراشدی صاحب سے آمنا سامنا ہوا تو میں نے سو روپیہ کا سرخ نوٹ نکال کر مولانا کو تھماتے ہوئے کہا کہ ’’لے لو ’الشریعہ‘ کا چندہ جس کا آپ نے خواب میں آرڈر دیا تھا۔‘‘
یہ کافی زمانہ پہلے کی بات ہے۔ بہرحال اس وقت سے ’الشریعہ‘ مطالعہ میں ہے اور جب چندہ کے ختم ہونے کی اطلاع آتی ہے تو میں اب خواب دیکھے بغیر بھی تجدید وفا کر لیتا ہوں۔
’الشریعہ‘ اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کی دوسری تحریرات اور راشدی صاحب سے ملنے والوں کی گفتگو سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ راشدی صاحب تسلسل کے ساتھ مختلف پیرایوں سے یہ بات دہرایا کرتے تھے (جب کہ بعض باتیں مثلاً کفر واسلام کے اختلاط کی بات تسلسل سے دہرانے کے وہ روادار نہیں) کہ کاش جمعیتیں ( ف س ) کا اتفاق ہو جاتا تو اسمبلیوں میں علما کی معقول نمائندگی ہو جاتی۔ حق تعالیٰ نے راشدی صاحب کی اس خواہش کو ایسے پورا کر دیا کہ صرف ف س کا اتحاد نہیں ہوا بلکہ ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانے والوں، مشرک مشرک کی پھبتی کسنے والوں، امام اعظم ابو حنیفہؒ پر غلاظتوں کے انبار ڈالنے والوں، ایک دوسرے سے آئینوں میں تصادم رکھنے والوں، ایک دوسرے پر غیر ملکی چوہے چوہے کے آوازے کسنے والوں نے اتحاد کی برکت سے مکالموں کی وہ تمام دستاویزات جس میں یہ تمام باتیں ریکارڈ پر ہیں، خس وخاشاک کی طرح بہا دیں اور تمام فرقے ماشاء اللہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے باہم شیر وشکر ہو گئے۔ والحمد للہ
ہمیں بے حد خوشی ہے کہ حق تعالیٰ نے راشدی صاحب کی خواہش کو پورا فرما دیا اور تمام اسمبلیوں میں مولوی کی معقول اور بھرپور نمائندگی ہو گئی اور شاید کسی مولوی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہو کہ مولانا سید شمس الحق افغانیؒ ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ، مولانا عبد الحق صاحبؒ شیخ الحدیث حقانیہ، مولانا خیر محمد صاحب جالندھریؒ اور مولانا قاضی عبد الکریم صاحب آف کلاچی جیسے درویش صفت علماء دین کے ہاتھوں سے جھونپڑیوں میں (ہم دوش فلک دفاتر میں نہیں) قائم ہونے والے ادارہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی برکت سے آج چٹائیوں پر پڑھنے والا مولوی اپنے آپ کو گریجویٹ مولوی کہہ کر فخر بھی محسوس کر رہا ہے اور اسی وفاق کی برکت سے یہ مولوی آج ملک کی اسمبلیوں میں معقول نمائندگی کر رہا ہے۔
’الشریعہ‘ کے ایک ادنیٰ قاری کی حیثیت سے کیا مدیر ’الشریعہ‘ مجھے یہ حق دیں گے کہ جہاں وہ اپنی بات تسلسل کے ساتھ امت تک پہنچاتے رہے کہ اتحاد سے مولوی کی معقول نمائندگی ہو جاوے گی، کیا وہ میری یہ بات قارئین ’الشریعہ‘ تک پہنچانے میں مدد دے سکیں گے کہ اسمبلیوں میں مولوی کی معقول نمائندگی تو ہو گئی، کیا اب اسلام کی بھی معقول نمائندگی ہو سکے گی اور اسمبلیوں میں کسی مولوی کی یہ تقریر بھی سنی جا سکے گی کہ:
۱۔ پارلیمنٹ پر اسلام کی بالادستی کا قانون پاس ہونا چاہیے۔
۲۔ کلیدی عہدوں سے غیر مسلموں اور کفر کا ناجائز قبضہ ختم ہونا چاہیے۔
۳۔ خیار ناس، خیار امت اصحاب رسول اللہ ﷺ کی عزت کے تحفظ کا موثر قانون بننا چاہیے۔
۴۔ کفریہ عقائد رکھنے والوں کو اقلیت قرار دینا چاہیے۔
آہ! حضرت مولانا عبید الرحمنؒ
مفتی محمد جمیل خان
حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوری رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے صاحب زادے، پاکستان اور انگلینڈ کی معروف ترین شخصیت اور ظلمت کدہ برطانیہ کی ہر دینی تحریک کے پشتی بان اور سرزمین بہبودی کے علمی خانوادہ کے سرپرست اعلیٰ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اجل اور حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوری رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین حضرت مولانا عبید الرحمن مختصر علالت کے بعد اپنے آبائی وطن بہبودی میں بروز بدھ ۲۲ جنوری ۲۰۰۳ء کو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اللہ تعالیٰ اپنی برگزیدہ ہستیوں کے ساتھ عجیب معاملہ فرماتے ہیں۔ آپ کے سب سے چھوٹے بھائی امام اہل سنت مولانا مفتی احمد الرحمن اس شان سے رخصت ہوئے کہ عشا کی نماز پڑھتے ہیں، مشکوٰۃ شریف کی آخری حدیث کا درس جامعہ بنوریہ میں دیتے ہیں اور گھر آ کر اس شان بان سے رخصت ہوتے ہیں کہ چہرہ وجوہ یومئذ ناضرۃ اور ضاحکۃ مستبشرۃ کا مشاہدہ کراتا ہے اور ہمارے ممدوح مولانا عبید الرحمن اس شان سے رخصت ہوتے ہیں کہ فجر کی نماز ادا فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں محو ہو جاتے ہیں۔ زبان پر فجر کے بعد کے معمولات جاری ہوتے ہیں کہ محبوب حقیقی کی طرف سے بلاوا آجاتا ہے۔ زندگی بھر کوئی نماز قضا ہونے کی ندامت اور حسرت سے باری تعالیٰ نے محفوظ رکھا تو مرض الموت میں اپنے مقرب ومحبوب بندے کو کس طرح باری تعالیٰ اس ندامت اور حسرت کے ساتھ اپنے پاس بلا سکتا تھا۔
بعض شخصیات اس آن بان سے رخصت ہوتی ہیں کہ اہل علم ودین اپنے آپ کو یتیم اور بے سہارا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ مدارس اور دینی کاموں سے متعلق لوگ بے آسرا سے ہو جاتے ہیں۔ حضرت مولانا عبید الرحمن صاحب ظلمت کدہ انگلستان میں تپتی دھوپ میں ایک سایہ دار شجر اور شدید سردی میں ایک گرم مکان کی مانند اہل دین کو فیض یاب کرتے نظر آتے تھے۔ پوری زندگی علماء کرام اور اہل دین کی خدمت میں گزاری۔ انگلینڈ جانے والوں کی طرح پاؤنڈوں کو مطمح نظر نہیں بنایا۔ فقیری کے باوجود غنی دل کے ساتھ مہمان نوازی اور سخاوت ان کاطرۂ امتیاز تھی اور مسلمانوں کی حالت زار پر ان کی کڑھن قابل رشک اور مسلمانوں کے حقوق کی طلبی اور ان کی اصلاح کے لیے موج زن جذبات قابل تحسین تھے۔ دن رات کی تمیز کیے بغیر خدمت اہل دین سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ تواضع وانکسار ان کی زینت اور اللہ پر یقین وتوکل ان کا ہتھیار تھا۔ مشکل گھڑیوں اور صبر آزما حالات میں وہ ساتھ دینے والی عظیم شخصیت تھے۔ ذاتی نفع ونقصان سے بالاتر دین کی بالادستی اور علماء کرام کے احترام ووقار کے لیے وہ زندگی بھر کوشاں رہے۔ ان کا گھر سیاسی اختلافات ومفادات سے بالاتر ہو کر علما کے لیے مہمان خانہ تھا۔ میزبانی کا ذوق وشوق ان کی بدولت گھر کے ایک ایک فرد کے رگ وریشہ میں پیوست ہو گیا تھا۔ چوبیس گھنٹے کے کسی لمحہ میں بھی کوئی مہمان اس گھر سے سیر ہوئے بغیر واپس لوٹنے کے تصور سے عاری تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، وفاق المدارس العربیۃ پاکستان، سپاہ صحابہ، مجاہدین کی تمام تنظیمیں اور پاکستان کی اکثرخانقاہیں اورمدارس کے منتظمین اور علما ہی نہیں، متعلقین کے لیے بھی اس گھر کی حیثیت اپنے گھر کی سی تھی۔ مولانا مفتی محمود، علامہ سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا سید محمد اسعد مدنی، حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی اور دیگر بڑے بڑے علماء کرام سے لے کر ہم جیسے ناکارہ لوگوں کے لیے آپ اور آپ کا گھرانہ چشم براہ رہتا تھا۔ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے آتے جاتے کسی نہ کسی طرح یہ گھر میزبانی کا شرف حاصل کر لیتا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے کچے گھر کی طرح مولانا عبید الرحمن صاحب کے گھر کی حیثیت بھی جنکشن کی تھی جہاں ہر طبقہ فکر کے اہل علم کا گزرے بغیر چارہ نہیں تھا۔
حضرت مولانا عبید الرحمن صاحب ۱۹۳۲ء میں سہارنپور کے جس مبارک اور پاکیزہ ماحول میں پیدا ہوئے، اس وقت مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کی مسند حدیث پر حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری جیسی عظیم المرتبت ہستی رونق افروز تھی اور مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا محمد زکریا کاندھلوی، مولانا محمد الیاس رحمہم اللہ تعالیٰ جیسی نورانی شخصیات تدریس اور سرپرستی میں مصروف تھیں۔ ان ہستیوں کی دعاؤں اور صحبت میں آپ کا بچپن گزرا۔ قاری سعید الرحمن صاحب کے مطابق حفظ قرآن کے لیے بسم اللہ کا آغاز ان بزرگوں کی دعاؤں سے ہوا۔ حفظ کی تکمیل مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور میں کی ہی تھی کہ والد محترم حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوریؒ نے ابتدائی تعلیم اور تربیت کے لیے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ حضرت مولانا ابرار الحق کے پاس ہردوئی بھیج دیا۔ ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ درس نظامی کی متوسط کتابوں کی تعلیم کے لیے مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور آئے اور ابھی تعلیم کے مراحل طے نہیں ہوئے تھے کہ قیام پاکستان کا عمل پیش آ گیا اور ہندوستان سے مسلمانوں کی ہجرت اور فسادات کے اندوہ ناک واقعات پیش آئے اور لاکھوں مسلمانوں کے کشت وخون کی ہولی نے ایک ایسی خلیج اور نفرت کی دیوار کھڑی کی کہ آج پچاس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نفرتوں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس لیے مظاہر العلوم سہارنپور کی تدریس کے لیے واپس جانا حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوری کے لیے ممکن نہ رہا اس لیے مولانا عبید الرحمن صاحب اپنا تعلیمی سلسلہ بزرگوں کی نگرانی میں پورا نہ کر سکے۔ کچھ عرصہ اپنے آبائی علاقہ بہبودی کے اطراف میں علماء کرام سے کتابیں پڑھتے رہے، بعد ازاں حضرت مولانا خیر محمد جالندھری کی زیر نگرانی جامعہ خیر المدارس ملتان میں، جو کہ اس وقت دیوبندی مدارس میں ممتاز حیثیت کا حامل تھا، تعلیم کا منقطع سلسلہ بحال کیا۔
اسی دوران مولانا احتشام الحق تھانوی کی دعوت پر جب حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوری، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری اور دیگر بڑے بڑے بزرگ دار العلوم ٹنڈو الٰہ یار میں تدریس کے لیے جمع ہوئے تو مولانا عبید الرحمن، قاری سعید الرحمن کو بھی تعلیم کے لیے اپنے ساتھ اس مدرسہ میں لے آئے اور مولانا سید محمد یوسف بنوری کی نگرانی میں ۱۹۵۴ء میں حدیث کی تکمیل کر کے دستار فضیلت اور سند حدیث حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ اپنے علاقہ میں علمی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں جب علامہ سید محمد یوسف بنوری نے کراچی میں ’’مدرسہ عربیہ اسلامیہ‘‘ کے نام سے ایک جدید طرز پر تعلیمی ادارہ قائم کیا ( جو اب الحمد للہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور اس کی سترہ شاخوں کی شکل میں مولانا سید محمد یوسف بنوری، مفتی احمد الرحمن، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، مولانا سید مصباح اللہ شاہ، سید محمد بنوری، مولانا بدیع الزمان رحمہم اللہ کا صدقہ جاریہ ہے) تو مولانا بنوری کے حکم پر ۱۹۵۵ء میں اس مدرسہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ کئی سال مولانا بنوری کی زیر نگرانی خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں مولانا عبد الرحمن کامل پوری کی علالت کی وجہ سے بہبودی واپس آ گئے اور وہیں مدرسہ میں تعلیمی سلسلہ کے ساتھ والد محترم کی خدمت اور تیمارداری میں مصروف ہو گئے۔
حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوری کے حکم پر مولانا عبید الرحمن اور قاری سعید الرحمن نے جامعہ اسلامیہ کے نام سے پنڈی میں مدرسہ کا آغاز کیا تو اس میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد والد محترم کی اجازت سے ظلمت کدہ انگلستان میں دینی رہنمائی کے لیے ۱۹۵۶ء میں تشریف لے گئے۔ اس وقت انگلستان میں مسلمانوں کی حالت زار بہت ہی مخدوش تھی۔ مساجد نہ ہونے کے برابر تھیں، لوگ گھروں میں نمازیں ادا کرتے تھے، حلال گوشت کا تصور تک نہیں تھا، پردہ اور اسلامی لباس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا،مسلمانوں کو کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں تھے۔ لوگ انفرادی طور پر دینی امور کی انجام دہی کی خفیہ طور پر کوشش کرتے۔ اس صورت حال میں مولانا عبید الرحمن نے مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا عزم اور علماء کرام اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی تربیت کی وجہ سے جرات وبہادری اور دینی حمیت آپ کی رگ رگ میں پیوست تھی اور علمی خاندان کی وجہ سے خدمت دین آپ کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے شیفیلڈ کو مرکز بنایا اور محنت ومزدوری کے ذریعہ مسلمانوں کے لیے حلال رزق کا بندوبست کیا اور اعزازی طور پر رضاکارانہ انداز میں خدمت دین شروع کی۔ دار العلوم ڈیوز بری میں تدریسی عمل کے ساتھ علماء کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور ’’جمعیت علماء برطانیہ‘‘ کے نام سے ایک مذہبی پلیٹ فارم قائم کیا جس کی وجہ سے علماء کرام اجتماعی کام کی طرف متوجہ ہوئے اور مسلمانوں کو مربوط زندگی گزارنے کے لیے ایک مرکز مل گیا۔ علماء کرام کے اس پلیٹ فارم سے سب سے پہلے مساجد اور مکاتب قرآن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ حلال اشیا کی تجارت کی طرف متوجہ ہوں۔ حکومت سے بات چیت کی گئی اور آخر کار حکومت نے مسلم ذبیحہ کی اجازت دی۔ سکولوں میں مسلمانوں کی مذہبی تعلیم کے لیے وقت حاصل کیا گیا اور علماء کرام کو اس خدمت کے لیے مقرر کیا گیا۔ کالجوں، یونیورسٹیوں کے ساتھ جیلوں میں بھی اسلامی تعلیم کے لیے وقت حاصل کیا گیا۔ عید کی نمازوں کے لیے کھلی جگہیں حاصل کی گئیں اور مختلف شہروں میں دینی پروگرام شروع کیے گئے۔ دعوت وتبلیغ کو مربوط کرنے کے ساتھ پاکستان بھر سے علماء کرام مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا احتشام الحق تھانوی، ہندوستان سے مولانا ابو الحسن علی ندوی اورمولانا سید اسعد مدنی وغیرہ کو بلوا کر مسلمانوں کے مشترکہ اجتماعات کیے گئے۔ مسلمانوں کے عائلی اور معاشرتی مسائل حل کرنے کے لیے ’’مجلس قضا‘‘ کے نام سے علماء کرام کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور حکومت سے فیصلہ کرایا گیا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل ان کے مذہب کی بنیاد پر حل کیے جائیں گے۔
۱۹۸۴ء میں جب قادیانیوں کے لیے امتناع قادیانیت آرڈی ننس جاری کیا گیا اور مرزا طاہر پاکستان سے فرار ہو کر لندن چلا گیا اور وہاں قادیانیت کا مرکز بنا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور قادیانی بنانے کی مہم شروع کی تو مولانا عبید الرحمنؒ اور مولانا محمد یوسف متالا اور دیگر علماء کرام کی کوششوں اور جمعیت علماء برطانیہ، حزب العلما کے تعاون سے ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ کے انعقاد کافیصلہ کیا گیا اور ۱۹۸۶ء میں پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی اور اس کے بعد ان کی مشاورت سے انگلینڈ میں ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ قائم کی گئی۔ اس دوران مکی مسجد اور ان کا مکان مرکز کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا رہا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد زید مجدہم، مفتی احمد الرحمن، مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی کوششو ں اور مولانا عبید الرحمن، مولانا محمد یوسف متالا، مولانا مفتی محمد اسلم، مولانا مفتی مقبول احمد اور دیگر علماء کرام کی محنتوں سے لندن میں دفتر ختم نبوت ۳۵۔ سٹاک ویل گرین میں قائم کیا گیا اور مولانا منظور احمدالحسینی، حاجی عبد الرحمن یعقوب باوا کا مبلغ کی حیثیت سے تقرر کیا گیا۔ مولانا عبید الرحمن ختم نبوت کے سرپرست اور نائب صدر مقرر ہوئے اور اس کے بعد ہر سال اس ماہ میں ختم نبوت کانفرنس بھی منعقد ہوتی رہی۔ وفات تک آپ ختم نبوت کے اس عہدہ جلیلہ، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کی تردید میں مصروف عمل رہے۔
جمعیت علماء برطانیہ اور ختم نبوت کی خدمات کے ساتھ آپ نے شیفیلڈ اور انگلینڈ میں مساجد اور مدارس کے قیام کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی۔ شیفیلڈ میں کئی مساجد قائم ہوئیں، لڑکیوں کے لیے اسکول اور مدرسہ قائم کیا گیا۔ غرض انگلینڈ کی ہر دینی خدمت اور تحریک میں آپ کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے۔ انگلینڈ کے ساتھ آپ پاکستان کے حالات سے لاتعلق نہیں ہوئے بلکہ جمعیت علماء اسلام اور دینی مدارس کے ساتھ اپنا مضبوط رشتہ برقرار رکھا اور ان کی ترقی کے لیے بھرپور تعاون کرتے رہے۔ انتخابی معرکہ ہو یا کسی مدرسہ کا قیام، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، جامعہ اسلامیہ راول پنڈی اور بہبودی کا مدرسہ، ان کی ترقی میں آپ بھرپور تعاون کرتے رہے۔ جہاد افغانستان، کشمیر، چیچنیا، فلسطین میں شریک مجاہدین کی بھرپور امداد کرتے رہے۔
گزشتہ ایک سال سے جگر کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ ڈاکٹروں نے ڈائی لائسز تجویز کیا مگر اللہ تعالیٰ پر توکل اور قوت ارادی کے بل بوتے پر بیماری کا مقابلہ کرتے رہے اور ڈائی لائسز نہیں کرایا۔ آخر کار یہی بیماری آپ کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا خاندان اور آپ کی علمی میراث آپ کے لیے صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعد میں آنے والے آپ کی پر عزم زندگی سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔
’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ ۔ ’مجلس فکر و نظر‘ کے زیر اہتمام ہمدرد سنٹر لاہور میں سیمینار
ادارہ
پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی علوم کے اساتذہ کی طرف سے قائم کردہ’مجلس فکر ونظر‘ نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت سازی کے تناظر میں ۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کے انعقاد کا اہتمام کیا جس میں ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کا پیش کردہ مقالہ گزشتہ شمارے میں شائع کیا جا چکا ہے۔ اس سیمینار کے لیے ڈاکٹر محمد امین صاحب اور جسٹس (ر) عبد الحفیظ صاحب چیمہ کے تحریر کردہ مقالہ جات زیر نظر شمارے میں شامل اشاعت ہیں جبکہ ڈاکٹر محمود الحسن عارف اور کے ایم اعظم صاحب کے مقالات آئندہ شمارے میں شائع کیے جائیں گے۔ مذکورہ اصحاب فکر کے علاوہ حکیم سرو سہارن پوری، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ، پروفیسر عبد الجبار شاکر، پروفیسر محمد ابراہیم اور حافظ حسین احمد نے اپنے خیالات کا اظہار فی البدیہ کیا۔ ’مجلس فکر ونظر‘ کی طرف سے ان حضرات کے خیالات کا خلاصہ مرتب کر کے ہمیں بھیجا گیا ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (مدیر)
حکیم سرو سہارن پوری
تحریک اسلامی کے امیر حکیم محمود احمد صاحب سرو سہارن پوری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ :
- متحدہ مجلس عمل کو جو کام یابی ملی ہے، وہ بنیادی طور پر ان کے اتحاد کا نتیجہ ہے لہٰذا انہیں تحمل، برداشت اور رواداری سے کام لینا چاہیے اور ہر قیمت پر اپنے اتحاد کوبرقرار رکھنا چاہیے۔ اس سے قبل تحریک پاکستان میں جو کام یابی حاصل ہوئی، وہ بھی علما کے اتحاد کا نتیجہ تھی اور دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سب مسالک کے علما نے اس تحریک کا ساتھ دیا تھا۔ اب بھی اگر دینی عناصر متحد رہے تو دوسرے صوبوں میں بھی ان شاء اللہ کام یابی مل سکتی ہے۔ اتحاد کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے دینی مدارس میں تدریس ایسی ہونی چاہیے کہ دوسرے مسالک کو غلط
- اور گمراہ ثابت نہ کیا جائے، تاکہ علما میں اخوت ومحبت کو فروغ حاصل ہو اور اختلافات کا دائرہ نہ پھیلے۔
- عوامی ذہن سازی کے لیے دعوت کو بنیاد بنایا جائے لیکن اس ضمن میں گفتار سے زیادہ کردار کی اہمیت ہے لہٰذا عملی نمونہ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
- سرحد میں نفاذ اسلام کی حکمت کے ساتھ منصوبہ بندی کی جائے۔ اس کے لیے ہم بھی ہر ممکن اور غیر مشروط تعاون کریں گے اور عوام بھی ساتھ دیں گے۔
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ
جامعہ پنجاب میں شعبہ صحافت کے سینئر استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی گفتگو کے مرکزی نکات یہ تھے:
- دینی عناصر نے میڈیا کو اہمیت نہیں دی اور اسے ہمیشہ غیر شریفانہ کام سمجھا ہے اس لیے الیکٹرانک میڈیا اور انگلش پریس میں خصوصاً اسلامی اثرات بالکل نہیں ہیں اور وہ ایسے لوگوں کے قبضے میں ہیں جنہیں اسلام اور پاکستان سے بہت کم دل چسپی ہے۔ دینی اہداف سے دل چسپی رکھنے والوں کو اپنے بچے یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں بھجوانے چاہییں اور انہیں میڈیا میں اپنا مستقبل بنانے کی ترغیب دینی چاہیے۔
- ایسی فلمیں اور ڈرامے بنانے چاہییں جو اسلامی تصورات کو ذہنوں میں راسخ کریں۔
- ایک ایسا ریسرچ سنٹر بنانا چاہیے جس میں موجودہ میڈیا پروگراموں کو سائنسی بنیادوں پر جانچا جائے اور ان کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے اور پھر ان کے تدارک کی کوشش کی جائے۔ ایسا سنٹر اس وقت سارے ملک میں ایک بھی نہیں ہے۔ جو پروگرام پشاور میں مقامی طور پر تیار ہوتے ہیں، ان کو فوراً زیر نگرانی لے کر ان کا قبلہ درست کرنا چاہیے۔
- مسجد کا منبر ایک بڑی ابلاغی قوت ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ اسے باشعور اور منظم طریقے سے استعمال کیا جائے۔
- ایم ایم اے کے موقف خصوصاً سرحد میں نفاذ اسلام کے حوالے سے لوگوں میں بہت کنفیوژن ہے اس لیے ایم ایم اے کو بیرون ملک اور اندرون ملک وفود بھیجنے چاہییں جو غلط فہمیوں کو دور کریں، ان کے نقطہ نظر کو پروموٹ کریں اور صحیح حقائق لوگوں کو بتائیں۔
پروفیسر عبد الجبار شاکر
بیت الحکمۃ لاہور کے ڈائریکٹر پروفیسر عبد الجبار شاکر نے اپنی مختصر گفتگو میں کہا کہ:
- نفاذ اسلام میں عصری تقاضوں کو پیش نظر رکھا جائے۔
- تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات لوگوں تک پہنچائی جائیں۔
- باہمی اتحاد کے لیے شعوری کوششیں کی جائیں مثلاً فرقہ وارانہ اختلافات پر کتابوں، پمفلٹوں اور اشتہاروں پر پابندی لگائی جائے۔
پروفیسر محمد ابراہیم
متحدہ مجلس عمل صوبہ سرحد کے رہنما پروفیسر محمد ابراہیم صاحب نے درج ذیل خیالات کا اظہار کیا:
- ہمارے سامنے فلاحی اسلامی ریاست کا تصور ہے لہٰذا ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم نفاذ اسلام کی ابتدا ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے سے کریں گے، لیکن جان ومال کے تحفظ اور امن وامان کی بحالی کے لیے حدود وقصاص کے نفاذ کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں اس لیے ان کے خلاف پراپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔
- ہمیں احساس ہے کہ ہماری کام یابی اتحاد کا نتیجہ ہے اس لیے ہم ان شاء اللہ ہر قیمت پر اتحاد کو برقرار رکھیں گے۔
- ہم سادگی کو رواج دے رہے ہیں اور غیر ضروری پروٹوکول ختم کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ہم تک پہنچنے میں مشکل پیش نہ آئے۔
- طالبان اچھے لوگ تھے لیکن وہ ہمارے لیے ماڈل نہیں ہیں۔ ہمارے لیے ماڈل صرف اور صرف نبی اکرم ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے۔
- ہم خواتین کالج اور خواتین یونیورسٹیاں بنائیں گے تاکہ جو بچیاں مخلوط ماحول میں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتیں، وہ بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔
- نفاذ اسلام کے لیے پشاور میں سینئر منسٹر کی کوٹھی میں ایک ریسرچ سنٹر بنا دیا گیا ہے اور ہم سب کام ان شاء اللہ تدبر اور حکمت سے کریں گے۔
حافظ حسین احمد
متحدہ مجلس عمل کے مرکزی راہنما اور ممبر قومی اسمبلی حافظ حسین احمد نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ:
- نفاذ اسلام کے لیے ان شاء اللہ ہم پوری کوشش کریں گے لیکن لوگوں کو غالباً ہماری مشکلات کا پوری طرح اندازہ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی بلکہ اس کا رویہ مزاحمانہ ہے۔ آئین میں صوبوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، وہ بھی صوبوں کو حاصل نہیں بلکہ صوبوں کے اختیارات سے متعلق آئین کی کئی شقیں اس وقت بھی معطل ہیں۔ سینٹ میں بھی حکومت نے ہوشیاری دکھائی ہے۔ بظاہر صوبوں میں مساوات دکھائی جاتی ہے لیکن فاٹا کے ارکان اور فیڈرل ایریا کے ارکان ہمیشہ حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ہم صوبوں کے لیے اختیارات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، اسی لیے ہماری کوشش ہے کہ جمالی حکومت مضبوط ہو کیونکہ جب تک وفاقی حکومت بے اختیار ہے، صوبوں کے پاس حقوق کہاں سے آئیں گے؟ لوکل گورنمنٹ کے ادارے کو صوبوں کے بالمقابل لاکھڑا کیا گیا ہے اور انہیں ایل ایف او کے ذریعے سے اس طرح براہ راست مرکز کے تحت کر دیا گیا ہے کہ اب صوبے صدر مملکت کی رضا مندی کے بغیر لوکل گورنمنٹ کے اداروں سے کوئی کام نہیں لے سکتے۔ ان سب امور کے پیش نظر ہماری کوشش ہے کہ صدر وردی اتاریں، نیشنل سکیورٹی کونسل ختم ہو اور اقتدار حقیقتاً مرکز میں سیاسی حکومت کو ملے۔
- ہمیں اتحاد کی قدروقیمت کا احساس ہے اور ہم ان شاء اللہ اسے برقرار رکھیں گے لیکن اختلافات سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ اختلافات تو ایک پارٹی کے اندر بھی ہوتے ہیں۔ ہمارا اتحاد دوسرے اتحادوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ عام طور پر منفی مقاصد کے لیے مثلاً کسی حکومت کو ہٹانے کے لیے اتحاد بنائے جاتے ہیں جو مقصد حاصل ہونے کے بعد ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہمارے اتحاد کی ابتدا ہی حقیقتاً انتخابات جیتنے کے بعد ہوئی۔ یہ مشکل ترین بات ہے لیکن ہم ان شاء اللہ اس کو برقرار رکھیں گے۔
- ہم مجلس فکر ونظر کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس طرح کے سیمینار پشاور اور کوئٹہ میں بھی رکھے تاکہ ہمارے وزرا اس میں شریک ہو کر استفادہ کر سکیں۔
پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس / امریکی حملہ اور جامعہ ازہر کا فتویٰ / فاضل عربی کا نصاب
ادارہ
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی کونسل کا اجلاس
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی کونسل کا اجلاس ۱۶ فروری ۲۰۰۳ء کو جامع مسجد سلمان فارسی اسلام آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبد الرشید انصاری، مولانا عبد الخالق، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا صلاح الدین فاروقی، مولانا قاری میاں محمد نقش بندی، مولانا مفتی سیف الدین، مولانا اکرام الحق صدیقی، احمد یعقوب چودھری، پروفیسر ڈاکٹر احمد خان، ڈاکٹر مسعود احمد اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔
اجلاس میں مولانا مفتی سیف الدین نے شمالی علاقہ جات کے زلزلہ زدہ علاقوں کی تازہ ترین صورت حال سے شرکا کو آگاہ کیا اور ایک قرارداد کے ذریعہ مرکزی کونسل نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ مبینہ طور پر مذہبی تعصب کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کی طرف ضروری توجہ نہیں دے رہی اور نہ صرف یہ کہ متاثرہ علاقوں سے عوام کی منتقلی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے بلکہ غریب عوام کے لیے باہر سے جانے والی امداد بھی مستحق لوگوں تک نہیں پہنچ رہی۔ قرارداد میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خود امدادی سرگرمیوں کو کنٹرول کرے اور صدر اور وزیر اعظم فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی غفلت ہزاروں خاندانوں کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستان شریعت کونسل نے پاکستان کے بزرگ دینی وسیاسی رہنما اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سابق امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ماہنامہ انوار القرآن کراچی کے ضخیم نمبر کی اشاعت پر مسرت واطمینان کا اظہار کیا اور طے پایا کہ اس خصوصی اشاعت کی رونمائی کے لیے پریس کلب راول پنڈی میں ۵ مارچ بدھ کو ایک باوقار تقریب منعقد کی جائے گی جس میں دیگر راہ نماؤں کے علاوہ مولانا فضل الرحمن، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا سمیع الحق، راجہ محمد ظفر الحق، قاضی حسین احمد، مولانا محمد اعظم طارق، پروفیسر ساجد میر اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ محمد اکرم خان درانی کو بطور خاص شرکت وخطاب کی دعوت دی جائے گی۔ اس تقریب کے انتظامات کے لیے مولانا عبد الخالق، مولانا محمد رمضان علوی، احمد یعقوب چودھری، مولانا میاں محمد نقش بندی، ڈاکٹر احمد خان اعوان، شفیق الرحمن اور شاہد خان پر مشتمل انتظامیہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
اجلاس میں عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور عراق پر امریکہ کے مجوزہ حملہ کے خلاف عالمی رائے عامہ کے منظم رد عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایک قرارداد میں کہا گیا کہ عالمی رائے عامہ کے رد عمل سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ خلیج میں تیل کے چشموں پر قبضے کے لیے عراق کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، امریکہ تمام بین الاقوامی اصول وضوابط کو پامال کرتے ہوئے عراق پر حملہ کر کے تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے پر تل گیا ہے اور اس کی یہ ہٹ دھرمی پوری دنیا پر پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔ قرارداد میں مسلم ممالک کی سربراہی تنظیم او آئی سی کے حالیہ کردار اور خاموشی کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ او آئی سی امریکہ کی حاشیہ برداری کی پالیسی پرنظر ثانی کرے اور عالم اسلام کے خلاف امریکہ کے معاندانہ عزائم کی روک تھام کے لیے جرات مندانہ موقف اور لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عالم اسلام کی موجودہ صورت حال اور امریکہ کے معاندانہ کردار کے حوالہ سے پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے ایک جامع عرض داشت اسلام آباد میں مسلم ممالک کے سفرا کو پیش کی جائے گی اور پاکستان شریعت کونسل کا وفد مسلم ممالک کے سفرا کے علاوہ پاکستان کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی اور پارلیمنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کرے گی۔ ان شاء اللہ العزیز
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی فضل ہادی شنواری کی طرف سے ملک میں کیبل نیٹ ورک اور فحاشی کے دیگر مراکز پر پابندی لگانے کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا اور پاکستان کی حکومت اور عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھی افغانستان کی سپریم کورٹ کی طرح اسلامی تہذیب وثقافت کے تحفظ اور مغرب کی بے حیا اور عریاں ثقافت کی روک تھام کے لیے ٹھوس طرز عمل اختیار کریں اور پاکستان کی نظریاتی حیثیت اور تہذیبی تشخص کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔
اجلاس میں ایک اور قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے ملک کو نجات دلانے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے صوبہ سرحد میں اکرم درانی کی حکومت کی طرف سے اسلامی قوانین کے نفاذ کے عزائم اور اعلانات کاخیر مقدم کیا گیا اور اس سلسلے میں پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے مکمل حمایت وتعاون کا یقین دلایا گیا۔
اجلاس میں بسنت اور ویلنٹائن ڈے کے نام پر بے حیائی اور رقص وسرود کے فروغ کی سرکاری پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد میں کہا گیا کہ حکومتی طبقے ملک میں مغربی اور ہندو ثقافت کی ترویج کے لیے سرکاری وسائل استعمال کر کے پاکستان کے بنیادی نظریہ اور دستور کے تقاضوں سے انحراف کر رہے ہیں جس کا تمام محب وطن حلقوں کو نوٹس لینا چاہیے۔
اجلاس میں کشمیر، افغانستان، فلسطین، چیچنیا اور دنیا کے مختلف حصوں میں عالمی استعمار کے خلاف جنگ لڑنے والے مجاہدین کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعہ ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔
عراق پر امریکی حملہ اور جامعہ ازہر کا فتویٰ
مصر اور عالم عرب میں الازہر یونیورسٹی کے فتویٰ نے ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے فتویٰ کمیٹی کے سربراہ شیخ علی ابو الحسن کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ مصر کے علاوہ دیگر عرب ملکوں کے علما اور دانش وروں میں بھی ایک ہل چل مچی ہوئی ہے۔ عالمی صہیونیت کے علم بردار شیخ پر الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کے قتل کا فتویٰ دیا ہے جس سے ڈیڑھ لاکھ امریکی فوج کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو اس وقت مشرق وسطیٰ میں عراق پر حملے کے لیے جمع ہے۔
شیخ کا کہنا ہے کہ صہیونی ان کے فتوے کو غلط رنگ میں پیش کر رہے ہیں چنانچہ لندن اور جدہ سے شائع ہونے والے ویکلی ’’المجلہ‘‘ کے نمائندے عوض الغنام اور احمد الخطیب نے مفتی الازہر اور فتویٰ کمیٹی کے سربراہ شیخ علی ابو الحسن کا انٹرویو لیا اور ان سے اصل حقیقت دریافت کی جس کی تفصیل یہ ہے:
سب سے پہلے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کا اصل فتویٰ کیا تھا؟ شیخ علی نے بتایا کہ عالمی صہیونیت مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ میرے فتوے کو بھی توڑ مروڑ کر غلط معنی پہنائے گئے ہیں۔ ہم نے کہا تھا کہ اگر عراق پر حملہ کسی جارحیت کے جواب میں ہوا یا کسی حق دار کو اس کا حق دلانے کے لیے ہوا تو یہ انصاف کی بات ہوگی اور شرعاً یہ جائز ہوگا۔ اگر امریکہ عراق پر حملہ اس لیے کرتا ہے کہ وہ ایک مسلمان ملک ہے اور وہ اس پر قبضہ کر کے دولت لوٹنا چاہتا ہے تو پھر امریکی فوجیوں کا خون مباح ہے اور ان سے لڑنا اور قتل کرنا جہاد ہوگا۔ یہاں امریکی ہونے کی وجہ سے کسی کے قتل کا فتویٰ نہیں ہے بلکہ ایک کمزور مسلمان قوم کے خلاف جارحیت کرنے والوں کے خون کو مباح قرار دیا گیا ہے۔
’’آپ ہی نے ۱۹۹۰ء میں فتویٰ دیا تھا کہ ’’ڈیزرٹ سٹارم‘‘ میں امریکی فوج کا ساتھ دینا جائز ہے مگر اب آپ اس کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں تو یہ تناقض نہیں ہے؟‘‘ اس سوال پر شیخ علی ابو الحسن نے کہا کہ اس وقت عراق نے اپنے برادر ملک کویت کے خلاف جارحیت کی تھی۔ امریکہ عراق کو اس سرکشی کی سزا دے کر کویت کے مسلمانوں کو ان کا حق دلا رہا تھا اور یہ ازروئے قرآن جائز ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں مفتی الازہر نے کہا کہ عراق کو غیر مسلح کرنا تو ایک بہانہ ہے۔ دراصل بش نے عالم اسلام کے خلاف صلیبی جنگ شروع کر رکھی ہے جو افغانستان سے ہوتے ہوئے اب عراق تک آن پہنچی ہے اور اگر عالمی صہیونیت کے مفاد میں لڑی جانے والی یہ صلیبی جنگ یہاں نہ رکی تو کل یمن کی باری، پھر کسی اور مسلمان ملک کی۔
اس سوال کے جواب میں کہ بش نے معذرت کے ساتھ کروسیڈ کے الفاظ واپس لے لیے تھے، شیخ نے کہا کہ جارج بش ایک طاقت ور ملک کے سربراہ ہیں، جلدی میں سچ ان کی زبان پر آ گیا۔ قرآن کہتا ہے: ’’نفرت اور بغض ان کی زبانوں پر آ گیا ہے، مگر جو کچھ ابھی ان کے سینوں میں بھرا ہے، وہ اس سے بھی بڑا ہے۔‘‘ امریکی اور اسرائیل کے صہیونی تو اسلام کو سب سے بڑا خطرہ کہتے ہیں۔
اس سوال پر کہ امریکی فوج کے ساتھ کوئی سپاہی اپنے ملک کے حکم پرعراق کے خلاف لڑتا ہے تو جائز ہوگا؟ شیخ نے کہا کہ ہمارا وطن دین اسلام ہے۔ ہم اپنی اسلامی سرزمین کا دفاع تو ضرور کریں گے مگر مسلمان کا وطن تو سارا جہاں ہے، وہ تو صرف حق اور سچ کا ساتھ دیتا ہے۔
شیخ سے پوچھا گیا کہ آپ کے اس فتوے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے، آپ کے ملک کی سیاسی قیادت آپ سے ناراض نہیں ہوئی؟ تو انہوں نے کہا کہ مصر کی سیاسی قیادت حقائق سے آگاہ ہے۔ پھر شیخ الازہربھی تو فرما چکے ہیں کہ عراق کے خلاف مدد ناجائز ہے۔ سب کو علم ہے کہ عالم اسلام اپنی تاریخ کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل کے پاس بھی تو بڑی تباہی کا اسلحہ ہول ناک مقدار میں موجود ہے مگر بش کو صرف مسلمانوں کا اسلحہ نظر آتا ہے۔
امریکہ بھی تو ۱۱ ستمبر کی دہشت گردی کے نتیجے میں اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس سوال کے جواب میں الازہر یونیورسٹی کی فتویٰ کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ جارج بش نے بغیر تحقیق کے ہی اسامہ بن لادن کو ملزم ٹھہرایا۔ پھر اس ایک فرد کو سزا دینے کے لیے لاکھوں افغانیوں کو موت کی نیند سلا دیا اور اب باقی اسلامی ملکوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں، ظلم ہے۔ ایک فرد کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا کو سزا دیان صرف یہودیوں کی خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہوگی۔
پوچھا گیا کہ آپ نے تو یہودیوں کا خون بھی مباح قرار دیا ہے تو شیخ علی نے جواب دیا کہ یہودی اہل کتاب ہیں، جن کا تحفظ اور ان سے نیکی کے لیے تعاون ہمارا ایمان ہے۔ بات دراصل عالمی صہیونیت کی ہے۔ صہیونیوں نے اسلام کو اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے بدنام کر کے مسلمانوں کے خلاف دنیا میں زہر پھیلا رکھا ہے۔ ہمارا فتویٰ صہیونیوں کی اس عداوت، نفرت اور انتقام کے خلاف ہے۔ ہم نے صرف ان کے خون کو مباح قرار دیا ہے۔ انہوں نے ہی دنیا کے امن کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔
( رپورٹ: ڈاکٹر ظہور احمد اظہر۔ بہ شکریہ روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور)
فاضل عربی کا نصاب اور ’پاکستان عربی سوسائٹی‘ کی تجاویز
عربی زبان کے ممتاز ادیب اور پاکستان عربی سوسائٹی کے صدر مولانا محمد بشیر نے انٹر بورڈز کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فاضل عربی کے ڈیڑھ سو سالہ پرانے نصاب تعلیم کو تبدیل کر کے اسے نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق اس طرح ترتیب دے کہ اسے پڑھنے والے طلبہ اور طالبات عربی زبان اور شرعی علوم کے بنیادی اور ضروری فنون سے واقعتاً آگاہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ فاضل عربی کا نصاب متحدہ ہندوستان میں برطانوی دور حکومت میں اس پس منظر میں مرتب کیا گیا تھا کہ اس کا مطالعہ اور تیاری ایسے طلبہ کرتے تھے جو اس وقت کے دینی مدارس میں پانچ یا چھ سال تک علوم اسلامیہ اور عربی زبان کے جملہ فنون کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر چکے ہوتے تھے اس لیے اس وقت کے نوجوان علما مدارس سے فراغت کے بعد نئی تیاری کر کے یہ امتحان دیا کرتے تھے جبکہ فاضل عربی کی سند علما کی سب سے بڑی ڈگری شمار ہوتی تھی اس لیے ماضی میں ہمارے کئی اکابر علما کے پاس اپنی دینی درس گاہ کی سند کے علاوہ حکومت سے منظور شدہ صرف یہی سند ہوتی تھی جس کی بنیاد پر وہ اونچے اونچے مناصب پر تعینات ہوتے چلے آ رہے تھے۔ بعد میں مختلف اسباب کی بنا پر اس نصاب کے حاملین کا معیار بتدریج گرتا رہا اور اب اسے پڑھنے اور اس کا امتحان پاس کرنے والے کا معیار گرتے گرتے زیرو تک پہنچ چکا ہے۔ اب یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ صرف ایسے خلاصوں اور گائیڈوں کو دیکھ کر ہی امتحان کی تیاری کرتے ہیں جو نہایت فرسودہ اور طرح طرح کی اغلاط سے پر ہوتے ہیں اور اصل کتابوں کو کوئی پڑھتا ہے نہ دیکھتا ہے۔ یہ افسوس ناک صورت حال ہمارے دینی تصورات اور دینی علوم سے محبت کے یکسر منافی ہے۔
ان حالات میں پاکستان عربی سوسائٹی نے فاضل عربی کے نصاب تعلیم اور امتحان کی اصلاح وترقی کے لیے ماہرین تعلیم، علماء کرام اور عربی معلمین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو نیا نصاب مرتب کرکے اسے متعلقہ بورڈ سے منظور کرائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انٹر بورڈز کمیٹی اس بارے میں اپنے فرائض کو ادا کرتے ہوئے اس اہم کورس کی جلد اصلاح کرے گی۔انہوں نے اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والے علما اور اساتذہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس بارے میں کمیٹی کی راہ نمائی کریں اور اپنی تجاویز اور آرا کو مرتب کر کے کمیٹی کو ارسال کریں۔ عربی سوسائٹی کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان شاء اللہ تعالیٰ اس کورس کی تمام نصابی اور معاون کتابوں کو ایک سال کے اندر پوری صحت کے ساتھ اور نہایت خوب صورت طباعت میں شائع کرنے کا اہتمام کریں گے۔
اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے پاکستانی عربی سوسائٹی، 96 آئی اینڈ ٹی سنٹر، جی نائن ون اسلام آباد سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ فون : 2253733
تعارف و تبصرہ
ادارہ
ماہنامہ انوار القرآن کا ’’حافظ الحدیث نمبر‘‘
حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی علمی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی جدوجہد اور تعلیمات و افکار سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لیے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی کے ترجمان ماہنامہ انوار القرآن نے ’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے جس میں ملک کے نامور علماء کرام اور اصحاب قلم کی نگارشات کے علاوہ حضرت درخواستی کے حالات زندگی اور ان کے ارشادات و فرمودات کا بھی ایک اہم حصہ شامل ہے۔ ہمارے فاضل دوست مولانا عبد الرشید انصاری نے حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کی نگرانی میں اس نمبر کی تیاری اور اسے ایک جامع اشاعت بنانے میں جو محنت کی ہے، وہ قابل داد ہے اور حضرت درخواستی کے معتقدین و متوسلین کی ایک دیرینہ خواہش کافی حد تک اس سے پوری ہو گئی ہے۔
سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ ضخیم نمبر خوب صورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین ہے اور طباعت و کمپوزنگ کے ساتھ ساتھ کاغذ بھی عمدہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی قیمت ۳۰۰ روپے ہے اور جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن، 11-C-1 نارتھ کراچی کے دفتر سے اسے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’وقفۃ مع اللامذہبیۃ فی شبہ القارۃ الہندیۃ‘‘
بھارت کے ممتاز عالم دین مولانا محمد ابوبکر غازی پوری نے علماء دیوبند کے بارے میں عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب میں غیر مقلدین کی طرف سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کے پس منظر میں علماء دیوبند کے عقائد کی وضاحت کے ساتھ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اس بات کا باحوالہ تذکرہ کیا ہے کہ غیر مقلدین کی طرف سے اکابر علماء دیوبند کے خلاف جو الزامات عائد کیے جاتے ہیں، خود غیر مقلدین کے اکابر علماء بھی انہی امور کے قائل اور ان پر عامل چلے آ رہے ہیں اور ان کا سعودی عرب کی اس سلفی تحریک کے ساتھ کوئی فکری یا عملی تعلق نہیں ہے جو نجد کے نامور مصلح الشیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ تعالیٰ نے شروع کی تھی۔
کتاب عربی میں ہے اور عرب علماء کے لیے ہی لکھی گئی ہے۔ اڑھائی سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب مکتبہ فاروقیہ پوسٹ بکس ۱۱۰۲۰ شاہ فیصل کالونی نمبر ۴ کراچی نے شائع کی ہے۔
’’پادریوں کے کرتوت‘‘
جناب محمد متین خالد ایک صاحب مطالعہ اور باہمت نوجوان ہیں جو قادیانیوں اور بعض مسیحی اداروں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے تعاقب میں ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں۔ قرآن کریم نے مسیحیت کے بارے میں فرمایا ہے کہ رہبانیت اور ترک دنیا کا طریقہ خود انہوں نے اپنے لیے اختیار کیا تھا لیکن وہ اس کی رعایت نہ رکھ سکے۔ اس کا سب سے بڑا مظہر مسیحی چرچ کے وہ مذہبی پیشوا ہیں جن کے لیے شادی تو شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے اور نن کے نام پر بے شمار لڑکیوں کو بھی شادی کے حق سے محروم کر کے تقدس کے نام پر تجرد کی زندگی اختیار کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے لیکن تقدس کی آڑ میں ان چرچوں میں جو گل کھلائے جاتے ہیں، وہ مذہبی تاریخ کا ایک شرم ناک باب ہیں اور صدیوں سے اس کی داستانیں زبان زد عوام ہیں۔
جناب محمد متین خالد نے پادری صاحبان کی جنسی زندگی اور وارداتوں کے بارے میں مختلف اصحاب قلم اور محققین کی نگارشات کو مرتب انداز میں پیش کیا ہے اور خود بھی بعض مضامین میں اس سلسلے میں معلوماتی مواد کا اضافہ کیا ہے۔
ساڑھے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب خوبصورت ٹائٹل اور عمدہ طباعت سے مزین ہے جس کی قیمت ۲۵۰ روپے ہے اور اسے علم و عرفان پبلشرز ۳۴/بی ارو بازار سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’ایشیا کا مقدمہ‘‘
ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد دور حاضر کے مسلم حکمرانوں میں اس لحاظ سے خصوصی امتیاز کے حامل ہیں کہ وہ نہ صرف عالمی استعمار کے عزائم اور اسلام و عالم اسلام کے خلاف مغرب کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً جرات کے ساتھ ان کے بارے میں اظہار خیال بھی کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل ’’ایشیا کا مقدمہ‘‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں ایشیا کے خلاف مغربی ملکوں کے استعماری عزائم اور طریق کار کو بے نقاب کیا تھا۔ خواہش تھی کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ ہو جائے تو ہم جیسے لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔
جمہوری پبلیکیشنز، ۹/ الشجر بلڈنگ، نیلا گنبد لاہور نے یہ ترجمہ پیش کیا ہے جو جناب نعیم قادر کی کاوش کا نتیجہ ہے اور جناب فرخ سہیل گوئندی نے اس کا پیش لفظ تحریر کیا ہے۔ ایک سو تیس صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ڈیڑھ سو روپے ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ہر دینی اور سیاسی کارکن کے لیے اس کتاب کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔
ایام حج وزیارت مدینہ کی یاد میں
سید سلمان گیلانی
کس منہ سے کروں شکر ادا تیرا خدایا
اک بندۂ ناچیز کو گھر اپنا دکھایا
واللہ اس اعزاز کے قابل میں کہاں تھا
یہ فضل ہے تیرا کہ مجھے تو نے بلایا
جس گھر کے ترے پاک نبی نے لیے پھیرے
صد شکر کہ تو نے مجھے گرد اس کے پھرایا
لگتا نہ تھا دل اور کسی ذکر میں میرا
لبیک کا نغمہ مجھے اس طرح سے بھایا
مزدلفہ وعرفات ومنیٰ وصفا مروہ
ہر جا تری رحمت نے گلے مجھ کو لگایا
ہوتی رہی بارش تری رحمت کی بھی چھم چھم
مجھ کو بھی بہت میری ندامت نے رلایا
محشر میں بھی رکھ لینا بھرم اپنے کرم سے
جیسے میرے عیبوں کو ہے دنیا میں چھپایا
محشر میں بھی کوثر کا مجھے جام عطا ہو
جیسے یہاں پانی مجھے زم زم کا پلایا
جیسے یہاں سایہ ترے کعبے کا ملا ہے
محشر میں بھی حاصل ہو ترے عرش کا سایا
مت پوچھیے مکے میں جو گزرے مرے ایام
ہر آن نیا کیف نیا لطف اٹھایا
مکے سے مدینے کے سفر کو جو میں نکلا
بے نام سا اک خوف تھا دل پر مرے چھایا
ہمت نہیں پاتا تھا کروں سامنا ان کا
ہر پل تو بغیر ان کی اطاعت کے گنوایا
وہ تو کہو یاد ان کا کرم آ گیا مجھ کو
ہر رنج والم دل سے لگا اس نے مٹایا
رفتار تھی اس شوق کی پھر دیکھنے والی
خود سے بھی قدم دو قدم آگے اسے پایا
ہونٹوں پہ درودوں کے مچلنے لگے نغمے
جب دور سے ہی گنبد خضرا نظر آیا
کچھ عرض زباں سے تو وہاں کرنا ہے مشکل
حال اپنا بس اشکوں کی زبانی ہی سنایا
جتنا بھی کروں ناز مقدر پہ وہ کم ہے
سرکار نے اپنا مجھے مہمان بنایا
سلمان مرے دل میں جو کعبے کے ہیں جلوے
آنکھوں میں مری گنبد خضرا ہے سمایا