امریکہ کا حالیہ سفر اور چند تاثرات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مجھے گزشتہ ماہ کے دوران دو ہفتے کے لیے امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اس سال سہ ماہی اور شش ماہی امتحان یکجا کر دیے گئے اور سال کے درمیان میں ایک ہی امتحان رکھا گیا جس کے بعد دو ہفتے کی چھٹیاں کر دی گئیں۔ میرے پاس امریکہ کا ویزا موجود تھا اس لیے میں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ۱۰ مئی ۲۰۰۳ء کو لاہور سے پی آئی اے کے ذریعے روانہ ہوا اور اسی روز ہیتھرو سے یونائیٹڈ ایئر کے ذریعے شام کو واشنگٹن جا پہنچا۔ اس سے قبل ۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء تک چار پانچ دفعہ امریکہ جا چکا ہوں اور امریکہ کے بہت سے شہروں میں مہینوں گھوما پھرا ہوں۔ اس کے بعد ویزے کی کوشش کرتا رہا مگر ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا حتیٰ کہ مئی ۲۰۰۱ء میں مجھے پانچ سال کے لیے ملٹی پل ویزا مل گیا مگر اس کے بعد ۱۱ ستمبر کے سانحہ کے باعث حالات میں ایسی تبدیلی آئی کہ خواہش کے باوجود امریکہ کا سفر نہ کر سکا اور اب تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ کے مختصر سے مطالعاتی دورے کا موقع مل گیا۔
واشنگٹن میٹرو پولیٹن کے علاقے میں ڈمفریز کے مقام پر میرے ہم زلف محمد یونس صاحب سالہا سال سے بچوں سمیت قیام پذیر ہیں۔ ان کے ہاں قیام رہا جبکہ اس کے قریب سپرنگ فیلڈ میں دار الہدیٰ نامی ایک دینی مرکز میری دینی سرگرمیوں کا محور تھا۔ پیر طریقت حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مجاز مولانا عبد الحمید اصغر اس مرکز کے منتظم ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انجینئر ہیں اور انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں استاذ رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے واشنگٹن میں قیام پذیر ہیں۔ پہلے الیگزینڈریا کے علاقے میں کرایے کے مکان میں دینی مرکز قائم کر کے کام کر رہے تھے، اب سپرنگ فیلڈ میں ایک بلڈنگ خرید کر وہاں ۱۹۹۴ء سے مصروف کار ہیں۔ جامع مسجد ہے، اس کے ساتھ مقامی بچوں اور بچیوں کے لیے سکول ہے اور قرآن کریم اور عربی کی تعلیم کا بھی نظم ہے۔ میں نے واشنگٹن کے قیام کے دوران میں دونوں جمعے وہیں پڑھائے اور جتنے دن رہا، مغرب کے بعد سیرت النبی ﷺ پر بیان ہوتا رہا۔
اس دوران میں دو روز کے لیے نیو یارک اور ایک روز کے لیے بفیلو جانے کا موقع ملا۔ نیو یارک کے کوئینز کے علاقے میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے مولانا مفتی روح الامین کی قیادت میں ’’دار العلوم نیو یارک‘‘ کے نام سے دینی درس گاہ قائم کر رکھی ہے۔ وہاں ایک عوامی تقریب میں شرکت ہوئی اور بہت سے پرانے دوستوں سے ملاقات ہو ئی۔ اس موقع پر یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ دار العلوم میں درس نظامی کے نصاب کی باقاعدہ تعلیم ہوتی ہے اور اس سال حفظ کے شعبہ میں گیارہ بچوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے۔ دوسرے روز بروک لین کی مکی مسجد میں مغرب کے بعد درس ہوا اور مسجد کے خطیب حافظ محمد صابر صاحب کے گھر میں سرکردہ دوستوں سے ملاقات اور تبادلہ خیالات کی ایک نشست ہوئی۔
میرے ایک پرانے دوست اور جمعیۃ علماء اسلام کے سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبد الرزاق عزیز کچھ عرصہ سے نیو یارک کے علاقہ لانگ آئی لینڈ میں ایک دینی مرکز سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاں حاضری ہوئی اور انہوں نے جزیرے کی خوب سیر کرائی۔
بفیلو نیاگرا آبشار کے قریب امریکہ کا سرحدی شہر ہے جہاں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے خلیفہ مجاز محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب نے دار العلوم مدنیہ کے نام سے ایک بڑا دینی مرکز قائم کر رکھا ہے۔ طالبات کا شعبہ ہے جہاں ایک سو کے لگ بھگ طالبات ہاسٹل میں رہتی ہیں اور درس نظامی کے ساتھ ساتھ سکول کی مروجہ تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ دورۂ حدیث بھی ہوتا ہے۔ طلبہ کے ہاسٹل میں سو کے لگ بھگ طلبہ رہتے ہیں اور شعبہ حفظ اور درس نظامی کے ابتدائی درجات کی تعلیم ہوتی ہے۔ ایک بڑا چرچ خرید کر انہوں نے اس میں حضرت شیخ کے نام پر ’’مسجد زکریا‘‘ بنائی تھی جو ۱۱ ستمبر کے سانحہ کے بعد نذر آتش کر دی گئی اور اب اس کی دوبار ہ تعمیر ہو رہی ہے۔ جوہر آباد خوشاب سے تعلق رکھنے والے ہمارے پرانے دوست جناب محمد اشرف صاحب کے ہمراہ بفیلو جانے اور ڈاکٹر میمن صاحب کے اداروں اور کام کو دیکھنے کا موقع ملا اور بہت خوشی ہوئی کہ ۱۱ ستمبر کے سانحہ کے بعد رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیاں اہل دین کے کام اور عزم کو متاثر نہیں کر سکیں اور اگرچہ اس سانحہ کے اثرات سے امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کا کوئی طبقہ محفوظ نہیں رہا لیکن مشکلات ومصائب میں اضافے کے باوجود اہل دین کا سفر جاری ہے اور دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ تعلیم واصلاح کے شعبوں میں ان کا کام نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں بحمد اللہ تعالیٰ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ کے تیرہ سال قبل کے اسفار میں اپنے ایجنڈے کے دو پہلوؤں پر میں نے کام شروع کیا تھا جو ادھورا رہ گیا تھا۔ اسی کو آگے بڑھانے کے لیے بار بار امریکہ جانے کی کوشش کرتا رہا اور اب بھی وہاں جانے کے مقاصد میں ایک اہم مقصد اس ایجنڈے میں پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لینا تھا مگر بات امکانات کا جائزہ لینے تک محدود رہی اور دو ہفتے کی ملاقاتوں اور حالات کے مطالعہ کے بعد صرف اس قدر اطمینان حاصل کر سکا کہ پیش رفت کے امکانات بالکل معدوم نہیں ہوئے اور اگر تھوڑی سی محنت ہو جائے تو اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور نکل آئے گی۔ ان میں سے ایک بات تو یہ تھی کہ غالباً ۱۹۸۹ء میں امریکی ریاست اٹلانٹا کے ایک اہم مسیحی مذہبی راہ نما سے ملاقات کر کے میں نے ان سے گزارش کی تھی کہ آسمانی تعلیمات سے بے زاری اور وحی الٰہی کی راہ نمائی سے دست برداری کے موجودہ عالمی ماحول میں خاندانی نظام، شراب وسود، رقص وسرود، ہم جنس پرستی اور دیگر بہت سے حوالوں سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف اسلامی تعلیمات سے متصادم نہیں ہے بلکہ بائبل کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے اور انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات سے انحراف کے اس عالمی رجحان سے نکالنے کی کوشش کرنا مسلم علما کے ساتھ ساتھ مسیحیت کے مذہبی راہ نماؤں کی بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے میری اس گزارش سے اتفاق کیا تھا اور ہم دونوں نے آئندہ تبادلہ خیالات جاری رکھنے کا ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا مگر اس کے بعد اس کی نوبت نہ آ سکی۔ میری خواہش اور کوشش ایک عرصہ سے چلی آ رہی ہے کہ مسیحیت کے سنجیدہ راہ نماؤں کے ساتھ اس رخ پر بات کی جائے اور انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات کی طرف رجوع پر آمادہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی کوئی صورت نکالی جائے۔ برطانیہ کے بعض مسیحی مذہبی راہ نماؤں سے بھی اس مسئلہ پر میری گفتگو ہوئی ہے اور میں نے انہیں بھی اس معاملہ میں فکر مند پایا ہے۔ میری خواہش تو پاکستان کے مسیحی پادری صاحبان سے بات چیت کی بھی ہے مگر وہ این جی اوز کے جال میں اس بری طرح سے جکڑے ہوئے ہیں کہ ان میں سے کسی کے قریب جانے سے خود اپنے جکڑے جانے کا ڈر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس بارمیں چاہتا تھا کہ کسی سنجیدہ مسیحی راہ نما سے ملاقات ہو اور اس سلسلے میں ان سے گفتگو ہو مگر حالات کے تناؤ میں ابھی اس قدر کمی نہیں ہوئی کہ اس خواہش کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا اس لیے اسے کسی اگلے سفر کے لیے موخر کرنا ہی قرین مصلحت قرار پایا۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ امریکی دستور میں یہودیوں نے مسلسل محنت کے بعد اپنے لیے ایک سہولت حاصل کر رکھی ہے کہ وہ ایک خاص طریقہ کار کے تحت خاندانی قوانین اور مالیاتی معاملات میں اپنی کمیونٹی کے لیے الگ عدالتی نظام قائم کر سکتے ہیں جو ان کے مذہبی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کا مجاز ہے اور اس کے فیصلوں کا سپریم کورٹ تک میں احترام کیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم چونکہ مذہبی اقلیتوں کے عنوان سے ہے، اس لیے مسلمان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن الجھن یہ ہے کہ ایک تو امریکی مسلمانوں کی اکثریت اس دستوری سہولت اور حق سے بے خبر ہے اور دوسرے یہ کہ مسلم کمیونٹی میں اس قدر ہم آہنگی اور اشتراک کار نہیں ہے کہ وہ کوئی مشترکہ نظام اور طریق کار اس سلسلے میں طے کر سکیں۔
گزشتہ اسفار کے دوران میں، میں نے متعدد اجتماعات میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور بہت سے مسلم راہ نماؤں نے میری اس گزارش سے اتفاق کیا تھا کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو اس دستوری حق اور سہولت سے محروم نہیں رہنا چاہیے اور اسے بروے کار لانے کے لیے مشترکہ اور سنجیدہ محنت کا آغاز ہونا چاہیے۔ حالیہ سفر میں ا س مسئلہ پر مولانا عبد الحمید اصغر سے تفصیلی بات ہوئی۔ انہیں اس سلسلے میں باخبر اور فکر مند پایا اور آئندہ کسی سفر کے موقع پر ان کے ساتھ اس حوالے سے پیش رفت کے پروگرام کا ہلکا پھلکا سا نقشہ بھی طے ہوا۔
بہرحال ان سرگرمیوں اور اس قسم کے جذبات کے ساتھ ۲۴ مئی کو واشنگٹن سے واپسی ہوئی۔ ۲۵ مئی کو لندن پہنچا، حسب معمول ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اہم احباب کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ملاقات ہوئی، مختلف مسائل پر تبادلہ خیالات ہوا۔ اس کے بعد برمنگھم، نوٹنگھم، مانچسٹر اور برنلے جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ بہت سے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور کم وبیش چار دن برطانیہ میں گزارنے کے بعد پروگرام کے مطابق ۲۹ مئی کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا۔
نبوی سفرا کی دعوتی سرگرمیاں
پروفیسر محمد اکرم ورک
اسلام تمام انسانیت کا دین ہے جس کے مخاطب پوری دنیا کے انسان ہیں۔ رسول اللہ ﷺسے پہلے جتنے بھی انبیا ورسل اس دنیا میں تشریف لائے، ان کی رسالت خاص تھی اور ان کی نبوت اپنی قوم اور قبیلے تک محدود تھی۔ اس کی دلیل تحریف شدہ بائبل کے اندر اب بھی موجود ہے۔ مثلاً ایک عورت نے جب حضرت مسیح ؑ سے برکت چاہی تو آپؑ نے فرمایا:
’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا‘‘۔(۱)
اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے جب بارہ نقیب مقرر فرمائے اور ان کو مختلف علاقوں کی طرف دعوت وتبلیغ کے لیے روانہ فرمایا تو بطور خاص ان کو تلقین فرمائی:
’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا‘‘۔(۲)
یہ امتیاز صرف رسالتِ محمدی ﷺ کوہی حاصل ہے کہ آپ کی بعثت روے زمین کی ہر قوم اور ہر جنس کے لیے ہوئی۔ قرآن مجید اور کتب احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ (۳) چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہﷺ کو کچھ اطمینان نصیب ہوا اور مشرکین مکہ سے محاذ آرائی کا سلسلہ وقتی طور پر بند ہوگیا تو آپﷺنے اسلام کی آفاقی دعوت کو اطراف واکنافِ عالم میں پھیلانے کافیصلہ کیا۔ ایک دن رسول اکرمﷺ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے، صحابہ کرامؓ جمع تھے۔ آپﷺ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا:
’’انی بعثت رحمۃ وکافّۃ فأدوا عنی یرحمکم اللّٰہ ولا تختلفوا علیّ کاختلاف الحواریین علی عیسیٰ بن مریم قالوا: ’’یارسول اللّٰہﷺ وکیف کان اختلافھم‘‘قالﷺ:’’دعا الی مثل مادعوتکم الیہ فاما من قرب بہ فأحب وسلم وأما من بعد بہ فکرہ وأبیٰ، فشکا ذالک منھم عیسیٰ الی اللّٰہ فاصبحوا من لیلتھم تلک وکل رجل منھم یتکلم بلغۃ القوم الذین بعث الیھم فقال عیسیٰ ؑ ھذا امر قد عزم اللّٰہ لکم علیہ فامضوا(۴)
’’میں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجاگیا ہوں۔ تم میر ی دعوت کوتمام دنیامیں پھیلاؤ اور میرے بارے میں ایسا اختلاف نہ کرو جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ ؑ بن مریم کے بارے میں کیاتھا ۔صحابہؓ نے عرض کیا: انہوں نے کیا اختلاف کیا تھا؟آپ نے فرمایا: عیسیٰ ؑ نے ان کو وہی دعوت دی تھی جو میں نے تم کو دی ہے۔ جوقریب تھے، انہوں نے اس دعوت کو پسند کرکے قبول کرلیا اور جو دور تھے، انہوں نے ناپسند کیا اور اسے مسترد کردیا۔ عیسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی(اس کی سزا ان کویہ ملی کہ)اس رات سے ان میں ہر شخص صرف وہ زبان بولنے لگا جس کے پاس وہ دعوتِ دین کے لیے بھیجاگیا تھا ۔اس پر عیسیٰ ؑ نے فرمایا: اب تو اللہ یہی فیصلہ تمہارے متعلق کرچکا ہے،اسی پرعمل کرو‘‘۔
ابنِ سعد کی روایت ہے : صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ کے سفرا ان لوگوں کی زبان بولنے لگے جن کی طرف انہیں بھیجا گیا۔ (۵) یہ معجزاتی واقعہ حضرت مسیح کے حواریوں کے ساتھ پیش آیا ہو یارسول اللہ ﷺ کے سفرا کے ساتھ یا دونوں ہی کی اللہ تعالیٰ نے غیب سے اس سلسلہ میں مدد کی ہو، اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ کسی سے اس کی زبان میں خطاب کیاجائے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے دوسری زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی اور صحابہ کرامؓ نے یہ زبانیں سیکھیں۔
بہرحال رسول اللہ ﷺنے حکمِ باری تعالیٰ: ’’یَااَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ‘‘(۶) (اے رسول ﷺجو تمہارے رب کی طرف سے تجھ پر نازل کیاگیا ہے، اس کو پہنچادو) کی تکمیل کرتے ہوئے مختلف سفرا کو خطوط دے کر شاہانِ عالم کے پاس بھیجا، تاکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کے آخری دین کی طرف بلائیں۔ اس مقصد کے لیے آپﷺنے وسیع دینی معلومات اور سفارت کاری کاتجربہ رکھنے والے افراد کا انتخاب فرمایا۔نبوی پیغامات اور دعوتی خطوط کامطلوبہ افراد تک پہنچانا اگرچہ بذاتِ خود ایک دعوتی وتبلیغی عمل ہے اور اگر اس حوالے سے مآخذ کا مطالعہ کیاجائے تو نبوی سفرا کی تعداد کسی طرح بھی چالیس سے کم نہیں بنتی، تاہم سطورِ ذیل میں صرف ان سفرا کا ذکر کیا جارہاہے جنہوں نے رسول اللہﷺ کے پیغامات اور دعوتی خطوط سے ہٹ کر اپنے قول وفعل اور عمل سے بھی لوگوں کو متاثر کیا اور اسلام کی طرف بلایا۔
عمروؓ بن امیۃ الضمری/ رسول اللہﷺکا گرامی نامہ شاہِ حبش کے نام
محرم ۷ ھ میں رسول اللہﷺنے شاہِ حبش کے نام ایک دعوتی مکتوب ارسال فرمایا ۔بارگاہِ رسالت کے سفیر عمروؓ بن امیہ الضمری جب شاہِ حبش کے دربار میں پہنچے تومکتوب گرامی نجاشی کی خدمت میں پیش کیا اور حسبِ ذیل اثر انگیز تقریر کی:
’’شاہِ ذی جاہ! میرے ذمہ حق کی تبلیغ ہے اور آپ کے ذمہ حق کی سماعت۔کچھ عرصے سے ہم پر آپ کی شفقت ومحبت کا یہ حال ہے کہ گویا آپ اور ہم ایک ہی ہیں۔ ہمیں آپ کی ذات پر اس قدر اطمینان ہے کہ ہم آپ کو کسی طرح اپنی جماعت سے علیحدہ نہیں سمجھتے ۔ حضرت آدمؑ کی ولادت ہماری طرف سے آپ پر حجت قطعی ہے۔ جس قدرت کے کرشمہ ساز ہاتھوں نے حضرت آدم ؑ کو بغیر والدین کے پیدا کردیا، اسی نے حضرت عیسیٰ ؑ کوبغیر باپ کے بطنِ مادر سے پیدا کیا ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان انجیل سب سے بڑی شہادت ہے۔ اسی نبی رحمت ﷺکی پیروی میں خیروبرکت کاورود اور فضیلت وبزرگی کا حصول ہے۔
شاہِ عالی جاہ! اگرآپ نے محمد رسول اللہﷺ کا اتباع نہ کیا تو اس نبی امی کا انکار آپ کے لیے وبالِ جان ہوگا جس طرح عیسیٰ ؑ کا انکار یہود کے حق میں وبالِ جان ثابت ہوا۔ میری طرح رسول اللہﷺ کی جانب سے بعض دیگر اشخاص مختلف بادشاہوں کے پاس دعوتِ اسلام کے لیے قاصد بناکر بھیجے گئے ہیں مگر سرورِ عالمﷺ کو جو امید آپ کی ذات سے ہے، دوسروں سے نہیں۔آپ سے اس بارے میں پورا اطمینان ہے کہ آپ اپنے اور خدا کے درمیان اپنی گزشتہ نیکی اور آئندہ کے اجر وثواب کا خیال رکھیں گے‘‘۔
کچھ عرصہ قبل حضرت جعفر طیار‘ؓ کی معجز بیانی سے نجاشی اسلام کی دعوت سے واقف ہوچکا تھا۔ نبوی قاصد کی اس پُراثر تقریر نے اس کے سینے میں اسلام کو راسخ کردیا، چنانچہ نجاشی ان سے مخاطب ہوکر بولا:عمروؓ! بخدا میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ خدا کے وہی برگزیدہ رسول ہیں جن کی آمد کا ہم اور یہود انتظار کررہے تھے۔نجاشی تختِ شاہی سے نیچے اتر آیا، اور نامۂ مبارک کو ہاتھ میں لے کر تعظیماً آنکھوں سے لگایا۔ (۷)
دحیہ کلبیؓ /رسول اللہﷺ کا گرامی نامہ قیصر روم کے نام
قیصر روم کو گرامی نامہ پہنچانے کے لیے دحیہؓ بن خلیفہ کلبی کاانتخاب ہوا۔حضرت دحیہؓ نے ہرقل کورسول اللہﷺ کایہ دعوتی خط اس وقت پیش کیا جب وہ ایرانیوں کو فیصلہ کن شکست دینے کے بعد اظہارِ تشکر کے طورپر بیت المقدس آیا ہوا تھا۔ اگرچہ ہرقل پر اسلام کی حقانیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی تھی ،تاہم حکومت اور بادشاہت کے لالچ نے اس کو اسلام سے محروم رکھا۔ لیکن حضرت دحیہؓ کی دعوت پر اسقف ضغا طرنے اسلام قبول کرلیااور رومیوں کے سامنے، جو گرجے میں جمع تھے، اپنے اسلام کا اظہار کرنے کے بعد ان کو بھی اسلام کی دعوت دی ،لیکن انہوں نے ان کو حملہ کرکے شہید کردیا۔ اس افسوس ناک واقعہ کے بعد حضرت دحیہؓ قیصر کی طرف سے ملنے والے تحائف کے ہمراہ واپس تشریف لے آئے۔ (۸)
حاطبؓ بن ابی بلتعہ /مقوقس شاہِ مصر کے نام مکتوبِ گرامی
بارگاہِ رسالت سے مصر کی سفارت کے لیے حاطبؓ بن ابی بلتعہ مامور ہوئے ۔وہ مسافت طے کرتے ہوئے اسکندریہ پہنچے اور مقوقسِ مصر* کے سامنے مکتوب گرامی پیش کیا ۔ابن الاثیر کی روایت ہے کہ مقوقس نے حضرت حاطب کو اپنے پاس بلوایااور ان کے درمیان حسبِ ذیل مکالمہ ہوا:
مقوقس : اخبرنی عن صاحبک ألیس ھو نبیاً ؟
’’مجھ سے اپنے صاحب کے بارے میں بیان کرو، کیا وہ نبی نہیں ہیں؟‘‘
حاطبؓ: بلی! ھو رسول اللّٰہ ﷺ۔
’’ہاں! بیشک وہ اللہ کے رسول ﷺہیں۔‘‘
مقوقس: فمالہ لم یدع علی قومہ حیث اخرجوہ من بلدتہ؟
’’پھر انہوں نے اپنی قوم پر بددعا کیوں نہیں کی جب ان کی قوم نے ان کوان کے شہر سے نکالا؟‘‘
حاطبؓ: فعیسی ابن مریم! أتشھد انہ رسول اللّٰہ ﷺفمالہ حیث اراد قومہ صلبہ لم یدع علیھم حتی رفعہ اللّٰہ؟
’’عیسیٰ بن مریم کی نسبت تو آپ خود کہتے ہیں کہ وہ خدا کے رسول تھے ۔پھر جب ان کوان کی قوم نے سولی دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کیوں نہ انہیں بد دعادی، یہاں تک کہ ان کو اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا؟‘‘
مقوقس: احسنت ! انت حکیم جاء من عند حکیم
’’تم نے اچھا جواب دیا۔ تم ایک دانا آدمی ہو اور ایک دانا آدمی کے پاس سے آئے ہو۔‘‘ (۹)
ابن قیمؒ نے اس کے علاوہ مقوقس اور حاطبؓبن ابی بلتعہ کے درمیان ہونے والے ایک اور مکالمہ کابھی ذکر کیاہے۔ حاطبؓ جب مقوقس کے دربار میں پہنچے تو حسبِ ذیل مکالمہ ہوا:
حاطبؓ: ’’(اس زمین پر )تم سے پہلے ایک شخص (فرعون )گزرا ہے جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ سمجھتا تھا۔ اللہ نے اسے آخر واول کے لیے عبرت بنادیا۔پہلے تواس کے ذریعہ لوگوں سے انتقام لیا، پھر خود اس کو انتقام کانشانہ بنایا لہٰذا دوسروں سے عبرت پکڑو،ایسا نہ ہوکہ دوسرے تم سے عبرت پکڑیں‘‘۔
مقوقس: ’’ہمارا ایک دین ہے جسے ہم چھوڑ نہیں سکتے جب تک کہ اس سے بہتر دین نہ مل جائے‘‘۔
حاطبؓ: ’’ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام ماسوا(ادیان )کے بدلے کافی بنادیاہے۔ دیکھو!اسی نبی ؐ نے لوگوں کو(اسلام کی) دعوت دی تو اس کے خلاف قریش سب سے زیادہ سخت ثابت ہوئے،یہود نے سب سے بڑھ کر دشمنی کی اور نصاریٰ سب سے زیادہ قریب رہے۔میری عمر کی قسم! جس طرح موسیٰؑ نے عیسیٰ کے لیے بشارت دی تھی ،اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے محمد ﷺکے لیے بشارت دی ہے، اور ہم تمہیں قرآن مجید کی دعوت اسی طرح دیتے ہیں جیسے تم اہلِ تورات کوانجیل کی دعوت دیتے ہو۔جونبی جس قوم کو پاجاتا ہے، وہ قوم اس کی امت ہوجاتی ہے اور اس پرلازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کرے،اور تم نے اس نبی کا عہد پالیا ہے،اور پھر ہم تمہیں دینِ مسیح سے روکتے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اسی کاحکم دیتے ہیں‘‘۔
مقوقس: ’’میں نے اس نبیﷺ کے معاملہ پر غو رکیاتو میں نے دیکھا کہ وہ کسی ناپسندیدہ بات کا حکم نہیں دیتے اور کسی پسندیدہ بات سے منع نہیں کرتے۔وہ نہ گمراہ جادو گر ہیں نہ جھوٹے کاہن،بلکہ میں دیکھتاہوں کہ ان کے ساتھ نبوت کی یہ نشانی ہے کہ وہ پوشیدہ کو نکالتے ہیں اورسرگوشی کی خبر دیتے ہیں۔ میں مزید غورکروں گا‘‘۔ (۱۰)
عبداللہؓ بن حذافہ سہمی/نامۂ رسولﷺشاہِ فارس کے نام
رسول اللہﷺکے قاصد عبداللہؓ بن حذافہ سہمی جب فارس پہنچے تو انہوں نے آپﷺ کا دعوتی مکتوب شاہِ فارس خسرو پرویز کے سامنے پیش کیا۔ (۱۱) شاہِ فارس رسول اللہﷺ کے نامہ مبارک کے آزادانہ لہجے،اس کے بے باکانہ ایجاز اور صاف گویانہ انداز کو دیکھ کر دنگ رہ گیا،پھر طیش میں آکر نبویؐ مکتوب کو چاک کردیا اور غضبناک لہجے میں گرج کر بولا:
یکتب الی ھذا وھو عبدی (۱۲)
ہمارے غلام کی یہ جرأ ت کہ ہمارے نام اس طرح خط لکھا؟
یزید بن ابی حبیب کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کو اس حرکت کا علم ہوا تو فرمایا:
’’اسی طرح اس کی حکومت کے پرزے پرزے ہوجائیں گے‘‘۔
پھر کسریٰ نے والئ یمن باذان کو لکھا کہ اس شخص کو گرفتار کرکے میرے پاس لایاجائے۔(۱۳)
رسول اللہ ﷺکے سفیرحضرت عبداللہؓ بن حذافہ یہ ساری صورتحال دیکھ رہے تھے چنانچہ وہ نہایت تحمل،متانت اور سنجیدگی کے ساتھ اہلِ دربار سے یوں مخاطب ہوئے:
’’اے اہلِ فارس! عرصۂ دراز سے تمہاری زندگی ایسی جہالت میں گزر رہی ہے کہ نہ تمہار ے پاس خدا کی کتاب ہے اور نہ کوئی اللہ کا رسول تمہارے یہاں مبعوث ہوا ہے۔ جس سلطنت پر تمہیں گھمنڈ ہے، وہ خدا کی زمین کا بہت مختصر ٹکڑا ہے۔ دنیا میں اس سے کہیں زیادہ بڑی بڑی حکومتیں موجود ہیں‘‘۔
اور پھر بادشاہ سے مخاطب ہوکر کہا!
’’آپ سے پہلے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں،ان میں سے جس نے آخرت کو اپنا منتہائے مقصود سمجھا، وہ دنیا سے اپنا حصہ لے کر بامراد گیا اور جس نے دنیا کو مقصود بنایا، اس نے آخرت کے اجر کو ضائع کردیا۔افسوس کہ میں نجات وفلاح کے جس پیغام کولے کر آیا ہوں ،آپ نے اسے حقارت سے دیکھا ،حالانکہ آپ کومعلوم ہے کہ یہ پیغام ایسی جگہ سے آیا ہے جس کاخوف آپ کے دل میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ حق کی آواز آپ کی تحقیر سے دب نہیں سکتی،،۔(۱۴)
حضرت عبداللہ بن حذافہؓ اہلِ دربار کو یہ تنبیہ کرکے دربارسے چلے آئے۔
شجاع ؓ بن وہب الاسدی /رئیس دمشق کے نام گرامی نامہ
شام کے مشہور اور تاریخی شہر دمشق پر حارث غسانی حکمران تھا۔دمشق کی سفارت شجاع ؓ بن وہب الاسدی کے سپردہوئی ۔شجاع ؓ نے یہ خط منذر کو پڑھ کر سنایا۔ اس نے نہ صرف قبول اسلام سے انکار کردیا بلکہ رسول اللہ ﷺسے مقابلہ کرنے کا بھی اعلان کیا اور آخر موتہ اور تبوک وغیرہ کی لڑائیاں پیش آئیں۔ (۱۵)
ابنِ سعد کی روایت ہے کہ جب شجاع ؓ بن وہبؓ رسول اللہﷺ کا خط لے کر دمشق پہنچے تو معلوم ہوا کہ قیصر روم بیت المقدس کی زیارت کے لیے جارہا ہے اس لیے حارث غسانی اس کے انتظام وانصرام میں مصروف ہے،چنانچہ ان فارغ اوقات میں شجاع ؓ بن وہب نے اہلِ دربار میں دعوت کے کام کو جاری رکھا اور بالآ خر ان کی کوششوں سے حارث غسانی کے ایک درباری نے اسلام قبول کرلیا۔(۱۶)
علاءؓ بن الحضرمی/منذر بن ساویٰ کے نام مکتوبِ گرامی
رسول اللہ ﷺنے ایک دعوتی خط منذر بن ساویٰ حاکم بحرین کی طرف روانہ فرمایا۔سفارت کی ذمہ داری علاءؓ بن الحضرمی نے ادا کی۔چنانچہ خود منذر اور اس کی رعایا میں سے بھی کثیر لوگوں نے اسلام قبول کرلیااور بارگاہِ رسالت میں خراج بھیجا۔ ابنِ حبیب کی روایت ہے کہ مدینہ میں سب سے پہلے حاکم بحرین ہی نے خراج بھیجا تھا۔(۱۷)
عمروؓ بن العاص /شاہ عمان کے نام خط
رسول اللہ ﷺنے ایک خط شاہِ عمان جیفر اور اس کے بھائی عبد کے نام لکھا ۔ان دونوں کے والد کانام جلندی تھا۔ ایلچی کی حیثیت سے عمروؓ بن العاص کا انتخاب عمل میں آیا ،چنانچہ انہوں نے عمان پہنچ کر دونوں بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔(۱۸)
ابنِ قیم نے عمروؓ بن العاص اور عبد بن جلندی کے درمیان ہو نے والا ایک مکالمہ بھی نقل کیاہے، جس سے عمروؓ بن العاص کی ان دعوتی کوششوں کا حال معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے کس طرح بڑی کامیابی سے ان دونوں بھائیوں کو اسلام کاقائل کرلیا، چنانچہ جب عمرؤؓوہاں پہنچے تو پہلے عبد سے ملے جو زیادہ دوراندیش اور نرم خو تھا اور پھر دونوں کے درمیان حسبِ ذیل مکالمہ ہوا:
عبد: ’’تم کس بات کی دعوت دیتے ہو؟‘‘
عمروؓ: ’’ہم ایک اللہ کی طرف بلاتے ہیں ،جوتنہا ہے ،جس کا کوئی شریک نہیں اور ہم کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ جس کی پوجا کی جاتی ہے، اسے چھوڑ دو اور یہ گواہی دو کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں‘‘۔
عبد: ’’اے عمروؓ!تم اپنی قوم کے سردار کے بیٹے ہو۔ بتاؤ ،تمہارے والد نے کیاکیا؟کیونکہ ہمارے لیے اس کا طرزِ عمل لائق اتباع ہوگا‘‘۔
عمروؓ: ’’وہ محمد ﷺ پر ایمان لائے بغیر وفات پاگئے،لیکن مجھے حسرت ہے کہ کاش انہوں نے اسلام قبول کرلیاہوتااور آپﷺ کی تصدیق کی ہوتی۔میں خود بھی انہیں کی رائے پر تھا لیکن اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی‘‘۔
عبد: ’’اچھا مجھے بتاؤ وہ کس بات کا حکم دیتے ہیں اور کس چیز سے منع کرتے ہیں؟ ‘‘
عمروؓ: ’’اللہ عز وجل کی اطاعت کاحکم دیتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے منع کرتے ہیں۔نیکی ،صلہ رحمی کاحکم دیتے ہیں۔ ظلم وزیادتی ،زناکاری،شراب نوشی اور پتھر ،بت اور صلیب کی عبادت سے منع کرتے ہیں‘‘۔
عبد: ’’یہ کتنی اچھی بات ہے جس کی طرف بلاتے ہیں‘‘۔
بالآخر دونوں بھائیوں عبد اور جیفر نے اسلام قبول کرلیا۔ (۱۹)
خلاصۂ بحث
نبویؐ سفرا کی ان دعوتی سرگرمیوں کے نتیجہ میں رسول اللہﷺ کا پیغام روے زمین کے بیشتر حکمرانوں اور بادشاہوں تک پہنچ گیا۔ رسول اللہ ﷺکے دعوتی خطوط اور صحابہ کرامؓ کی سفارت کاری کے نتیجہ میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر اختیار کیا،لیکن اتنا ضرور ہوا کہ کفر کرنے والوں کی توجہ بھی اسلام کی طرف مبذول ہوگئی اور ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺکا دین او رآپﷺکانام ایک جانی پہچانی چیز بن گئی۔صحابہ کرامؓ نے شاہانِ عالم کو دعوت دیتے وقت جو اسلوب اختیار کیا، اس کی چند جھلکیاں مذکورہ سطور میں دیکھی جاسکتی ہیں۔مثلاً :
۱۔ رسول اللہ ﷺکی بعثت عام ہے اور آپ کی دعوت ہر قوم ،زمانے اور نسل کے لوگوں کے لیے ہے۔
۲۔ داعی اگر مخاطب کے منصب اور مقام ومرتبہ کا پوری طرح لحاظ کرتے ہوئے دعوت کا فریضہ انجام دے تو ایسی دعوت زیادہ موثر ہوگی اور مخاطب داعی کی بات کوزیادہ توجہ اور انہماک سے سنے گا۔ نبویؐ سفرا کا مخاطب کو’’اے بادشاہ‘‘ اور ’’شاہِ ذی جاہ‘‘وغیرہ کے الفاظ سے مخاطب کرنا اسی اسلوبِ دعوت کی طرف اشارہ ہے۔
۳۔ دعوت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مخاطب سے بحث ومباحثہ سے حتی الامکان احتراز کیا جائے، لیکن اگر مخاطب بحث پر ہی مصر ہو تو داعی کا فرض ہے کہ وہ دورانِ گفتگو شائستگی کے دامن کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔لہجے کی شائستگی اور دلیل کے ساتھ بات کرنا ایسا اسلوب دعوت ہے جس سے نہ صرف مخاطب کو لاجواب کیاجاسکتاہے بلکہ اس کو اعترافِ حقیقت پر بھی مجبور کیا جاسکتاہے، جیسا کہ حضرت حاطبؓ نے مقوقس شاہ مصر کو مضبوط دلائل سے لاجواب کردیا تو مقوقس نے حضرت حاطبؓ اور ان کی دعوت کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا:
انت حکیم جاء من عند حکیم
تم دانا ہو اور ایک دانا کے پاس سے آئے ہو۔
۴۔ داعی کافرض ہے کہ دعوت اور مخاطب کے عقائد وافکار کے درمیان قدر مشترک تلاش کرے اور ان کی درست باتوں کو دعوت کی بنیاد بنائے۔ اگر اس اسلوبِ دعوت کو اختیار کیا جائے تو مخاطب کو دعوت سے مانوس کرنے میں مدد ملتی ہے اور مخاطب سمجھتاہے کہ جو دعوت اس کو پیش کی جارہی ہے، وہ کوئی نئی چیزنہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی اجنبی چیز کو مان لینے کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ حضرت حاطبؓ کامقوقس کو یہ کہنا:’’ہم تمہیں دین مسیح سے روکتے نہیں بلکہ ہم تو اسی کا حکم دیتے ہیں‘‘ اس اسلوبِ دعوت کی ایک عمدہ مثال ہے۔
حواشی
* مقوقس اگر چہ دولتِ ایمان سے محروم رہا، تاہم اس نے رسول اللہ ﷺ کے خط اور آپ کے قا صد کا احترام کیا اور آپ ﷺکی بارگاہ میں کچھ تحائف بھیجے جن میں دو لڑکیاں ، ماریہؓ اور سیرینؓ جو حقیقی بہنیں تھیں ، بطور تحفہ بھیجیں ۔ماریہؓ اور سیرینؓ نے راستے میں ہی حضرت حاطبؓ کی تعلیم و تلقین سے اسلام قبول کر لیا۔حضرت ماریہؓ حرم نبوی ﷺ میں داخل ہوئیں۔رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیمؓ ان ہی کے بطن سے پیداہوئے ۔جب کہ سیرینؓ کو رسول اللہﷺنے حضرت حسانؓ بن ثابت کو ہبہ کر دیا۔ (اسد الغابہ ،تذکرہ حاطبؓ بن ابی بلتعہ ، ۱/۳۶۲۔ زاد المعاد ، ۳/۶۹۲۔ ابن سعد ، ۱/۲۶۱)
حوالہ جات
(۱)کتاب مقدس ، متی ، ۱۵:۳۵
(۲) ایضاًمتی ، ۱۰:۶
(۳) ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (التوبہ ، ۹:۳۳) اس موضوع پر چند مزید آیات ملاحظہ ہوں :الفتح ، ۴۸:۲۸۔ النساء ، ۴:۷۹۔ سبا ،۳۴، ۲۸۔ الانبیاء ، ۲:۱۰۷۔ الاعراف ، ۷:۱۵۷
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :’’وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب التیمم ، باب قولہ تعالیٰ :فلم تجدواماءً ،ح:۳۳۵، ص :۵۸۔ ایضاً ، کتاب الصلوۃ ، باب قول النبی ﷺ :جعلت لی الارض مسجداًو طھوراً، ح :۴۳۸، ص:۷۶)
(۴)ابن ہشام ،خروج رسل رسول اللہﷺالی الملوک ،۴/۲۶۲۔ تاریخ الامم والملوک ، ۳/۸۵
(۵) ابن سعد ،ذکر بعثہ رسول اللہﷺ،الرسل بکتبہ، ۱/۲۵۸
(۶) المائدہ،۵:۶۷
(۷) ابن سعد ، ذکربعثہ رسول اللہﷺ الرسل بکتبہ ۱/۲۵۸۔زاد المعاد ، ۳/۶۹۸۔۶۹۰
(۸) تاریخ الامم والملوک ، ۳/۸۸( واقعات،۶ھ) اسد الغابہ ، تذکرہ ضغاطر ، ۳/۴۱
(۹) اسد الغابہ ، تذکرہ حاطبؓ بن ابی بلتعہ، ۱/۳۶۲
(۱۰) زاد المعاد ، ۳/۶۹۱-۶۹۲
(۱۱) تاریخ الامم والملوک ، ۳/۹۰(واقعات۶ھ)
(۱۲) تاریخ الامم والملوک ، ۳/ ۹۰ (واقعات،۶ھ)
(۱۳) ایضاً
(۱۴) الروض الانف ، ۲/۲۵۳
(۱۵) تاریخ الامم والملوک ،۳/۸۸ (واقعات۶ھ)
(۱۶) ابن سعد ، ذکر بعثہ رسول اللہ ﷺ الرسل بکتبہ۱/۲۶۱
(۱۷) ابن حبیب ، (م ۲۴۵ھ)محمد ، ’’کتاب المحبر ‘‘، نشرالکتب الاسلامیہ ،ص:۷۷
(۱۸) کتاب المحبر ،ص:۷۷
(۱۹) زادالمعاد ، ۳/۶۹۳-۶۹۵
اسلامی ریاست کے خارجہ تعلقات کی اساس ۔ فقہی نظریات کا ایک تقابلی جائزہ
جنید احمد ہاشمی
غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کے احکام پر مشتمل مواد کو ہمارے فقہی لٹریچر میں ’’سِیَر‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے ’’الفقہ الدولی‘‘ یا اسلامی قانون بین الاقوام (International Law) کہا جاتا ہے۔ غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کی بنیاد امن ہے یا جنگ؟ آئندہ سطور میں اس سوال کا جواب ’’سیر‘‘ یا اسلامی قانون بین الاقوام کے جدید رجحانات کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پہلا نقطہ نظر
جمہور فقہا نے، جن میں احناف کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلقات کی بنیاد جنگ کو ٹھہرایا ہے۔ اس اصول کو علامہ سرخسی نے یوں بیان فرمایا ہے: ’الاصل فی علاقات المسلمین بالکفار الحرب‘ یعنی غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات میں اصل کی حیثیت جنگ کو حاصل ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے دنیا کی دو قطبی تقسیم کی ہے: ۱۔ دار الاسلام، ۲۔ دار الحرب *
غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات کے حوالے سے دنیا کی دوسری تقسیم شوافع اور ان کے ہم خیال فقہاے کرام کی ہے جو دنیا کی تقسیم میں ’دار العہد‘ یا ’دار الصلح‘ کا اضافہ کرتے ہیں تاہم ان کے نزدیک بھی یہ حصہ در اصل دار الاسلام ہی کے ماتحت ہے۔
حق یہ ہے کہ فقہاے اسلام کی یہ تقسم حالات کی پیداوار ہے۔ یہ فقہی اجتہاد کا وہ زمانہ تھا جب اسلامی ریاست کو غیر مسلموں کی طرف سے ہمہ وقتی جنگ درپیش تھی اور امن اس میں ایک عارضی کیفیت کا درجہ رکھتا تھا۔ بقول ڈاکٹر وہبہ زحیلی، یہ کوئی منصوص تقسیم نہیں ہے بلکہ فقہاے کرام کے اس اجتہاد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے حالات کے تناظر میں کیا تھا۔ ان حضرات نے حکمت عملی کے پیش نظر اور مسلمانوں کو متحرک رکھنے کی نیت سے جب غور کیا تو محسوس کیا کہ جنگ مسلسل چلی آ رہی ہے اور امن ایک عارضی کیفیت ہے۔ جنگ کو اصل قرار دینے کی وجہ ان حضرات کے نزدیک یہ تھی کہ مسلمان تو بلاجواز جنگ کے قائل ہی نہیں اور جنگ ہمیشہ غیر مسلموں ہی کی طرف سے مسلط کی جاتی رہی ہے اس لیے یہی اصل ہے۔ چنانچہ ان فقہاے کرام کے ہاں وہ تمام آیات منسوخ قرار پائیں جن میں غیر مسلموں سے حسن سلوک، معافی، غیر جانب داری، صلح، صبر وتحمل اور طریقہ حسنیٰ کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ ان حضرات نے سورۃ التوبہ کی آیت ۳۶: ’وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَافَّۃً‘ (اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں) یا آیت ۲۹: ’قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ‘ (اہل کتاب میں سے ان سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر) کو ناسخ ٹھہرایا ہے۔ اس ضمن کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ سورہ ممتحنہ کی آیت کریمہ ہے:
لاَ یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ O (آیت ۸)
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
جصاص فرماتے ہیں کہ اسے سورۂ براء ۃ کی آیت ۵: ’فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ‘ (مشرکین کو جہاں کہیں بھی پاؤ، قتل کر ڈالو) نے منسوخ کر دیا ہے۔
اسی طرح سورۂ حشر کی آیت ۲ : ’ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ‘ (وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو تمہاری پہلی ہی فوج کشی کے نتیجے میں ان کے گھروں سے نکال دیا) کے تحت جصاصؒ نے یہود بنی نضیر سے نبی اکرم کی مصالحت کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے:
’’ہمارے نزدیک (مصالحت کا) یہ حکم منسوخ ہے ..... نسخ کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ اس وقت تک لڑتے رہنے کا حکم دیا ہے جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں یا جزیہ ادا کرنا قبول نہ کر لیں۔‘‘
ان حضرات کے نزدیک غیر مسلموں سے دائمی صلح کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ غرض ان فقہانے اصول نسخ کا مبالغہ آمیز استعمال کیا۔ قرآن کے جنگی احکام کے فہم میں تطبیقی طریق اختیار کرنے کے بجائے طریق نسخ استعمال کیا۔ آیت سیف سے ۱۴۰ آیات کو منسوخ قرار دے دیا۔ جہاد کی جارحانہ نوعیت پر زور دیا۔ جزیہ کو کفر کی سزا بلکہ کفر کا معاوضہ قرار دیا۔ پھر زمانہ تقلید کی تعبیر وتشریح نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس سے اقوام عالم میں اسلام سے متعلق بہت سی غلط فہمیوں نے جنم لیا۔
ان فقہا کا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ جہاد وقتال دراصل دعوت اسلام کا ایک ذریعہ ہے اور اسلامی دعوت کے دو ہی طریقے ہیں: زبان سے دعوت اور شمشیر وسناں سے دعوت۔ کسی کو وعظ وارشاد اور دعوت بالقول ہو جائے، وہ اسے تسلیم نہ کرے تو چاہے وہ پر امن رہے اور دعوت حق کے مقابلے میں رکاوٹ نہ بھی بنے، تب بھی اس کے لیے دعوت بالسیف اور قتال واجب ہو جاتے ہیں۔ دعوت کا یہ محدود مفہوم عملاً امت میں کسی نے بھی نہیں سمجھا نہ یہ قرآن کریم کے طریق دعوت ہی سے موافق ہے جس کی طرف قرآن نے اسلام کی نشر واشاعت کے سلسلے میں رہنمائی کی ہے۔ قرآن نے دعوت کو حجت وبرہان، منطق وعقل سے مزین کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ (النحل ۱۲۵)
اے پیغمبر! لوگوں کو دانش اور اچھی نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان کے ساتھ مجادلہ کرو۔
قرآن نے اکراہ اور جبر کو بطور وسیلہ اختیار کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے:
لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرہ ۲۵۶)
دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔
کیونکہ دین کی اساس ایمان قلبی اور اختیار واطاعت پر ہے۔ نیز پیغمبر کامنصب داروغہ کا نہیں بلکہ مذکر کا ہے:
فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌO لَّسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ O(الغاشیۃ ۲۱، ۲۲)
آپ نصیحت کر دیا کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت ہی کرنے والے ہیں۔ آپ ان پر کچھ مسلط تو نہیں ہیں۔
چنانچہ دعوت دین کے اس محدود تصور کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ قرآن کے نفی اکراہ کے تصور کے خلاف اور ایمان قلبی کی معنویت کو فراموش کرنے کے مترادف ہے۔
دوسرا نقطہ نظر
فقہاے کرام کا ایک گروہ اس نقطہ نظر کا حامل ہے کہ جنگ ایک عارضی کیفیت ہے کہ جب تک اس کے اسباب رہیں گے، جنگ رہے گی اور اسباب ختم ہونے پر یہ ختم ہو جائے گی۔ نیز غیر مسلموں سے تعلقات کی اصل صلح وامن ہے اور غیر مسلموں سے دوستانہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں اور غیر مخالفین یا غیر محارب اقوام کے ساتھ پر امن بقاے باہمی کی بات قرار پا سکتی ہے۔ فقہاے کرام میں اس نقطہ نظر کے حاملین امام ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ وغیرہ ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ رائے روح شریعت اسلام سے قریب تر اور جدید بین الاقوامی حالات کے پیش نظر معتدل اور صائب ہے۔ دور جدید کے بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف اقوام کے درمیان مسلسل مخاصمت، اور تنازعات کے تصفیہ کے لیے جنگ کو بطور مستقل وسیلہ کے قبول کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ ذیل میں موخر الذکر رائے کے حق میں دلائل ذکر کیے جاتے ہیں:
قرآن کریم
اسلام میں جنگ ایک وسیلہ ہے اسلامی دعوت کی تکمیل اور اس کے لیے اسباب فراہم کرنے کا۔ اگر دعوت کے اسباب موجود ہیں اور ان میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، مسلمانوں پر کہیں بھی مظالم نہیں ہو رہے اور وہ دنیا میں ہر جگہ اپنے دین کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہیں تو اس صورت میں جنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم کے جنگی احکامات کا استقصا کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات کی بنیاد امن وسلامتی کو ٹھہراتا ہے، جنگ کو نہیں۔ قرآن میں ہے:
وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (الانفال ۶۱)
اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔
قرآن نے امن عالم کی بنیاد رکھی ہے اور اس کی جملہ تعلیمات میں امن وسلامتی کے پیغامات ہیں۔ عالمی امن کی بنیاد اور سرچشمہ قرآن کریم کی یہ آیت ہے:
یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَافَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ O (البقرہ ۲۰۸)
اے ایمان والو، اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
نیز فرمایا:
وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرۃٌ (النساء ۹۴)
اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے، اسے فوراً نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے۔ اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سی غنیمتیں ہیں۔
غیر مسلموں سے تعلقات کی اصل ’امن‘ ہے۔ سورۂ محمد کی آیت ۴ : ’حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا‘ (تا آنکہ فریق مخالف لڑائی ترک کرکے ہتھیار رکھ دے) سے بھی اس کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اسلام میں جنگ دراصل ایک ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں قتال کی جتنی آیات آئی ہیں، وہ ظلم وتعدی کے سیاق میں آئی ہیں۔ سب سے پہلی آیت جس میں ۲ ہجری میں جنگ کی اجازت دی گئی، یہ ہے:
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا (الحج ۳۹)
جن مسلمانوں سے لڑائی کی جاتی ہے، ان کو اجازت ہے کہ وہ بھی لڑیں کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔
اس آیت میں واضح طور پر یہ قرار دیا گیا ہے کہ جنگ مسلمانوں کے اموال وانفس اور دیار واوطان کے خلاف دشمن کی جارحیت کے بعد لازم ٹھہرائی گئی ہے یا مظلوموں کی اعانت کے لیے، کیونکہ ظاہر ہے کہ دفاع ہر انسان اور معاشرے اور قوم کا حق ہے۔ قرآن کریم نے اس مسئلے میں دوسری جگہ ان الفاظ میں رہنمائی کی ہے:
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْا (البقرہ ۱۹۰)
اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں، تم بھی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو ، لیکن زیادتی نہ کرو۔
آیت کریمہ سے خالص دفاعی جنگ کا ثبوت ملتا ہے۔اسی سیاق میں ایک آیت کریمہ ہے:
فَاِنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ (البقرہ ۱۹۴)
اگر دشمن تمہارے خلاف زیادتی کرے تو تم جواب میں ویسی ہی زیادتی اس کے خلاف کر سکتے ہو جیسی اس نے تمہارے خلاف کی ہے۔
اقدامی جہاد عملاً سیرت النبی ﷺ اور تاریخ اسلامی کے اوراق سے ثابت ہے لیکن اسی قدر کہ جب دشمن کی طرف سے جارحیت کا قصد ہو تو دفاع کے لیے پیش قدمی کی جائے۔ اس کی تفصیل آئندہ سطور میں آئے گی۔
جنگ کی مشروعیت کا ایک اور سبب یہ ہے کہ فتنہ کی سرکوبی ہو، دعوت حق کے مقابلے میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کا انسداد ہو اور مسلمانوں کے عقیدہ کو متاثر کرنے والے مفسدات کا ازالہ ہو۔ قرآن نے اسے یوں بیان فرمایا ہے:
وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ (البقرہ ۱۹۳)
تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فساد نابود ہوجائے اور ملک میں دین خدا ہی کے لیے ہو جائے۔
تاہم قرآن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے:
فَاِنِ انْتَہَوْا فَلاَ عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظَّالِمِیْنَ O
اور اگر وہ فساد سے باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔
قرآن کریم نے غیر محارب کفار اور محارب دشمن میں سے ان لوگوں کے بارے میں جو مسلمانوں کے معاملے میں اعتزال اور غیر جانبداری کا رویہ اختیار کریں، واضح طور پر ہدایت فرمائی ہے:
فَاِنِ اعْتَزَلُوْکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ وَاَلْقَوْا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ عَلَیْہِمْ سَبِیْلاً O (النساء ۹۰)
اگر وہ تم سے جنگ کرنے سے کنارہ کشی اختیار کریں اور تم سے نہ لڑیں اور تمہاری طرف صلح وآشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔
آیت کریمہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جن قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات ’محاربہ‘ کے رہے ہوں، ان سے بھی ایک مرحلہ ایسا پیش آ سکتا ہے کہ محاربہ کرنے والے محاربہ سے الگ ہو جائیں اور واقعی ایک ایسا تعلق قائم ہو جائے جس کو پرامن تعلقات کے دور کی ابتدا کہا جا سکے۔
قرآن نے کہیں بھی کفر کو وجہ جنگ کے طور پر بیان نہیں کیا نہ قرآن ہر ا س قوم سے جو مسلمان نہیں، مستقل جنگی رویہ رکھنے کا حکم دیتا ہے بلکہ ان کے سلسلے میں پر امن بقائے باہمی کا اصول اور انسانیت دوستی کی تعلیم دیتا ہے:
لاَ یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الََّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ O (آیت ۸)
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
قرآن میں جہاد کا حکم اصلاً مقاتلین کے مقابلے میں دیا گیا ہے: ’وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُم‘ْ (اور تم اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔ البقرہ: ۱۹۰) یہ آیت جارح دشمن سے جنگ وجدال اور مقابلہ کو واجب ٹھہراتی ہے تاکہ ان کی دشمنی کا خاتمہ کیا جائے اور ان کے فتورکا ازالہ ممکن ہو۔ وہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کر سکیں اور دین اسلام سربلند ہو۔
جن آیات میں مطلق طور پر جنگ کا حکم دیا گیا ہے، مثلاً: ’وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ‘ (ان کو جہاں پاؤ، قتل کر ڈالو۔ البقرہ :۱۹۱) وہ بنیادی طور پر صرف اسلام دشمن مشرکین کے لیے تھا۔ مفسرین کے نزدیک یہ آیت عرب مشرکین کی بابت حکم بیان کرتی ہے جس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اس قوم سے جزیہ، صلح، غلامی وغیرہ کی کوئی صورت قبول نہیں کی جاتی جو نبی کی براہ راست مخاطب ہو چنانچہ ان کے لیے صرف اسلام یا تلوار کا انتخاب کرنا تھا۔
آیت کریمہ: ’مَالَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ‘کی تفسیر میں علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں:
’’جہاد کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ کمزور اور پسے ہوئے مسلمانوں کو ان کافروں اور مشرکوں کے پنجہء استبداد سے چھڑایا جائے جو ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتے اور ان کو ان کے دین سے انحراف پر مجبور کرتے ہیں چنانچہ جہاد فرض کیا گیا تاکہ دین کو غالب کیا جائے اور مظلوموں کی اعانت کی جائے۔‘‘
قرآن نے جہاں ہمہ وقت مستعد رہنے اور مادی ترقی اور جہد مسلسل کی تعلیم دی ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ اس سے ساری دنیا کو فتح کیا جائے یا انہیں اسلحے کے زور سے مسلمان کیا جائے یا جملہ اقوام عالم پر غلبہ پالیا جائے بلکہ اس لیے کہ کوئی انہیں کمزور سمجھ کر مہم جوئی کرنے کی جرات نہ کرے اور مسلمان کمزور قوم نہ رہیں۔
غرض قرآن کریم نے جہاد کو ایک ضرورت، ایک وسیلہ اور ذریعہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ وسیلے کو مقصد بنانا قرآنی تعلیمات کے علاوہ عقل عام اور منطق سلیم کے بھی منافی ہے۔
احادیث وسیرت رسول ﷺ
احادیث رسول مسلم ریاست کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات میں ’’حالت امن‘‘ کے اصل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا اللہ العافیۃ (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، ۲۷۴۴)
دشمن سے مڈبھیڑ کی ازخود تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت ہی کی دعا کرو۔
جناب رسول اللہ ﷺ نے قتال کی حیثیت اور غایت کو عدل،حق اور دعوت اسلام کے دائرہ میں متعین کر دیا ہے:
من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا فہو فی سبیل اللہ (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، ۲۵۹۹)
(قبیلے، رنگ و نسل اور علاقائی مقاصد کے لیے جنگ کرنے والے کے برعکس) اللہ کے راستے کا مجاہد صرف وہ ہے جو صرف اور صرف اللہ کے کلمے کی بلندی کی خاطر جنگ کرے۔
جہاد اسلام کا امتیازی وصف اور قول رسول ﷺ کی بدولت عمارت اسلام کا سب سے اونچا کنگرا ہے۔ (سنن الترمذی، الایمان، ۲۵۴۱) جہاد قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ اس کو کسی ظالم کا ظلم ختم کر سکتا ہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔ (سنن ابی داؤد، الجہاد، ۲۱۷۰) مگر یہاں دو نکات قابل غور ہیں: ایک یہ کہ اسلامی لٹریچر میں جہاد ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس کا اطلاق قتال کے علاوہ جدوجہد کے دیگر طریقوں پر بھی ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس مضمون کی احادیث میں ’جہاد‘ بمعنی سعی وجہد کی اہمیت کا بیان مقصود ہے جو ’قتال‘ کی مخصوص صورت صرف اس حالت میں اختیار کرے گا جب اس کے اسباب یعنی جارحیت، ظلم، افساد عقیدہ وغیرہ پائے جائیں گے۔
اس ضمن میں حدیث رسول ﷺ : ’امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللہ‘ (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں) (صحیح البخاری، الایمان، ۲۴) سے استدلال کرتے ہوئے غیر مسلم اقوام سے تعلقات کی اصل بنیاد جنگ کو نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ اس کی بابت علما کا اجماع ہے کہ اس سے بطور خاص مشرکین عرب ہی مراد ہیں۔
اسلام نے جنگ کی اجازت اشاعت اسلام کے تقریباً پندرہ سال گزر جانے کے بعد دی یعنی ۲ ہجری میں۔ ان پندرہ سالوں میں کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس میں جنگ کی ترغیب دی گئی ہو۔ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس غیر مسلموں سے تعلقات کے اعتبار سے حالت امن میں رہے۔ مدینہ میں بھی دعوت حق کا آغاز حالت امن ہی میں ہوا مگر جب مشرکین نے جارحیت کی تو یہ حالت امن، حالت جنگ میں تبدیل ہو گئی کہ اب اسلامی مملکت اور مسلمانوں کا دفاع ناگزیر ہو گیا تھا۔
نبی اکرم ﷺ نے قریباً ۲۷ غزوات لڑے اور ان کے علاوہ کئی سرایا بھی بھیجے۔ غزوات نبوی اور سرایا کا تاریخی منظر نامہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ غزوات وسرایا اذیت، تعذیب، دشمنی، مسلمانوں کو ان کے دیار واوطان سے نکالے جانے، ان کو ان کے دین سے منحرف کرنے کی مساعی، دین حق کی اشاعت میں رکاوٹ، ضرب وشتم اور ظلم وتعدی جیسے اسباب کی بنا پر وقوع پذیر ہوئے تھے یا پھر دشمن کے ارادۂ جارحیت کے ازالہ کی خاطر۔ کوئی راستہ ان سے چھٹکارے کا نہیں تھا ورنہ حضور اکرم ﷺ حالت امن کو برقرار رکھتے اور دست شفقت تلوار نہ اٹھاتا کیونکہ آپ کو جب بھی موقع ملا کہ بغیر تلوار اٹھائے اسلام کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں، آپ نے جنگ سے گریز کیا اور خون بہائے بغیر اپنا مقصد پورا کیا۔
صدر اول کی جنگی تاریخ گواہ ہے کہ بدر، احد، خندق، یوم الرجیع اور بئر معونہ کے واقعات دشمن کی جارحیت کے مسببات تھے۔ جارحیت کا یہ سلسلہ حدیبیہ کا تاریخی معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی جاری رہا۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ:
- قبیلہ ہوازن، بنو ثقیف اور دوسرے قبائل کے ساتھ جارحیت کے لیے بڑھا تو آپ نے ان سے جنگ کی۔
- ہجرت کے بعد یہود نے معاہدہ توڑا۔ بنو قینقاع کو بدر میں مسلمانوں کی فتح ہضم نہ ہوئی۔ انہوں نے بغاوت اور حسد کی بنا پر رئیس المنافقین ابن ابی سے محالفت کر لی، ایک مسلم خاتون کی بے حرمتی کی اور اس کے محافظ مسلمان کو قتل کیا اور پھر یہ بد تمیزی اور بے عقلی بھی کہ رسول اکرم ﷺ کو یوں مخاطب کیا: ’لا یغرنک انک
- لقیت قوما لا علم لہم بالحرب‘ (آپ کو ناتجربہ کار لوگوں سے جنگ جیتنا دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ ہم سے جنگ کریں گے تو پتہ چلے گا کہ مردوں سے جنگ کرنا کیا ہوتا ہے) پھر باقاعدہ نقض عہد کر کے قلعہ بند ہو گئے۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا اور پھر انہیں مدینہ سے نکال دیا گیا۔
- بنو نضیر نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا۔ آپ کو وحی الٰہی سے خبر ہو گئی۔ ان کے قلعوں کا محاصرہ ہوا اور بالآخر انہیں مدینہ سے نکالا گیا۔
- بنو قریظہ کو قرآن نے ان کی بد عہدی اور نقض عہد کی بنا پر گندا اور شریر کہا ہے۔ غزوۂ خندق میں انہوں نے مشرکین مکہ سے محالفت کی اور بدر میں بھی انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ان کی اعانت کی۔ ان کے نقض عہد کی بنا پر انہیں قتل کیا گیا۔
- یہود خیبر سے جنگ کی بنا بھی ان کا نقض عہد ہی تھی۔
- روم وفارس سے صحابہ کرام کی جنگیں بھی ان کی طرف سے ’’حالت امن‘‘ کو متاثر کرنے کی بنا پر لڑی گئیں۔ یہ دونوں اسلام کے پیغام کو ٹھکراتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جارحیت کے مرتکب ہوئے۔ کسرائے ایران نے تو نبی اکرم ﷺ کے مکتوب گرامی کو چاک کیا اور یمن کے گورنر باذان کے توسط سے آپ ﷺ کی گرفتاری کے لیے دو آدمیوں کو روانہ کیا۔
یہ تمام فتوحات اور معرکے عدوان (جارحانہ روش)، طغیان (استبداد)، فساد (کرپشن) اور اسراف (تجاوز عن الحد) کے خلاف برپا ہوئے اور پھر جب دشمن کی طرف سے صلح، جزیہ، اطاعت یا غیر جانبداری کی صورت نظر آئی تو ’’جنگ‘‘ ختم ہو گئی اور حالت امن نے قرار پکڑ لیا کیونکہ اسلام میں جنگ انتقام اور کسی کی ذاتی خواہش کی تکمیل کا نام نہیں:
وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا (المائدہ ۲)
اور ایک گروہ نے جو تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا، تو یہ بات تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر (ناروا) زیادتی کرنے لگو۔
اور نہ توسیع پسند کے جذبہ کی تسکین، استعماری نظام کے قیام یا اقوام عالم کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لاَ یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلاَ فَسَادًا وَّالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَO (القصص ۸۳)
یہ عالم آخرت تو ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کر دیتے ہیں جو زمین پر نہ بڑا بننا چاہتے ہیں نہ فساد کرنا۔ اور نیک انجام تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔
اس بات کو دوسرے مقام پر قرآن نے یوں بیان کیاہے:
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنَّاہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَآتَوُا الزَّکوٰۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ (الحج ۴۱)
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیک کام کا حکم دیں گے اور برے کاموں سے منع کریں گے۔
اور نہ ہی اسلام میں جنگ کا مقصد زمین پر غلبہ پانا، اپنے اقتدار کی توسیع، اثر ونفوذ کا لالچ یا قوم یا جنبہ کے اقتدار کی خاطر ساری دنیا کو اپنے قبضہ میں کرنا ہے:
وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثاً تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلاً بَیْنَکُمْ اَنْ تَکُوْنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ (النحل ۹۲)
تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا کہ تم اپنے قسموں (معاہدات) کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو محض اس وجہ سے کہ ایک گروہ دوسرے سے (کثرت وثروت میں) بڑھ جائے۔
فقہا کی آرا
احناف کے ہاں یہ بات بطور اصول سمجھی گئی ہے: ’الآدمی معصوم لیتمکن من حمل اعباء التکلیف واباحۃ القتل عارض سمح بہ لدفع شرہ‘ کہ ’’انسان معصوم الدم ہوتا ہے تاکہ وہ امور تکلیفیہ سے عہدہ برآ ہو سکے۔ رہا اس کا مباح الدم ہونا تو وہ دلیل عارض کی بنا پر ہے تاکہ اس کے شر کا ازالہ ممکن ہو۔‘‘
فقہا کے ہاں یہ بات ثابت ہے کہ جنگ کی وجہ جارحیت کا ازالہ ہے نہ کہ مذہب کا اختلاف۔ وہ کہتے ہیں کہ کفر بحیثیت کفر وجہ جنگ نہیں: ’الکفر من حیث ہو کفر لیس علۃ لقتالہم‘۔ اگر کفر جنگ وقتال کو جائز کرنے والی شے ہوتی تو جزیہ لینے کا حکم نہ دیا جاتا کیونکہ جزیہ کی صورت میں ان کا کفر پر باقی رہنا لازم آتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’لا ینبغی لمسلم ان یہریق دمہ الا فی حق ولا یہریق دما الا بحق‘۔ ’’کسی مسلمان کا حق بجز کسی ایسی (شرعی) وجہ کے حلال نہیں ہے جو اسے مباح الدم بناتی ہو۔‘‘
حنابلہ فرماتے ہیں : ’الاصل فی الدماء الحظر الا بیقین الاباحۃ‘ ۔ ’’انسانی جان میں اصل ممانعت ہے سوائے اس کے کہ کسی وجہ سے اس کے قتل کی اباحت کا یقین ہو جائے۔‘‘
ابن ہمام حنفیؒ نے البقرہ کی آیت ۳۶ : ’وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَافَّۃً‘ (اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں) کے تحت لکھا ہے: ’فافاد ان قتالنا المامور بہ جزاء لقتالہم ومسبب عنہ‘۔ یعنی ’’آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں جنگ کا حکم ان کے جنگ کرنے کے مقابلے کے طور پر دیا گیا ہے اور ان کا جنگ کرنا ہی ہمارے جنگ کرنے کا سبب ہے۔‘‘
البقرہ کی آیت ۱۹۳ : ’وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ‘ (ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ کی سرکوبی ہو جائے) کے تحت لکھتے ہیں: ’ان لا تکون فتنۃ منہم للمسلمین عن دینہم بالاکراہ بالضرب والقتل‘۔ یعنی ’’ان کا مسلمانوں کو ان کے دین کے معاملے میں مارپیٹ اور قتل وظلم کے ساتھ پریشان کرنے کا انسداد ہو جائے۔‘‘ گویا جنگ صرف مخصوص اسباب کی موجودگی تک باقی رہتی ہے۔
ابن ہمام حنفیؒ نے یہ بھی بتایا ہے: ’المقصود من القتال ہو اخلاء العالم من الفساد‘۔ ’’قتال کا مقصود زمین سے فساد کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘
ابن قیمؒ نے فرمایا: ’وفرض القتال علی المسلمین لمن قاتلہم دون من لم یقاتلہم‘۔ ’’مسلمانوں پر قتال ان لوگوں کے خلاف فرض کیا گیا ہے جو ان سے لڑتے ہیں نہ کہ ان کے خلاف جو ان سے نہیں لڑتے۔‘‘
احناف کے امام سرخسیؒ نے جنگ کا مقصود یہ بیان فرمایا ہے: ’والمقصود ان یامن المسلمون ویتمکنوا من القیام بمصالح دینہم ودنیاہم‘ یعنی ’’جہاد کا ہدف اور مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو امن وسکون میسر ہو اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مقاصد کی تکمیل امن کے ساتھ کر سکیں۔‘‘
گویا جہاد ان مقاصد کے حصول کے لیے ہے کہ مسلمان اور ان کے ہم وطن لوگ امن وامان سے رہ سکیں، مسلمانوں کے دینی مقاصد پورے ہو رہے ہوں اور ان کے دنیوی مصالح کی تکمیل ہو رہی ہو۔ اگر یہ مقاصد جنگ کی نوبت آئے بغیر ہی پورے ہو جائیں تو جنگ کرنا ناجائز ہے۔
مغنی المحتاج میں ہے: ’وجوب الجہاد وجوب الوسائل لا المقاصد واما قتل الکفار فلیس بمقصود حتی لو امکن الہدایۃ باقامۃ الدلیل بغیر جہاد کان اولی من الجہاد‘ یعنی ’’جہاد کا وجوب دراصل وسائل کی نوعیت کا ہے، مقاصد کی نوعیت کا نہیں۔ رہا کفار کا قتل کرنا تو وہ بھی مقصود نہیں چنانچہ اگر ہدایت جہاد کے بغیر محض اقامت دلیل ہی سے ممکن ہو تو یہ بات جنگ کی نسبت خوب تر ہے۔‘‘
فقہا کے ان اقوال کی روشنی میں مسلم اور غیر مسلم سلطنتوں کے مابین تعلقات کی اساس کے طور پر جنگ کا ایک عارضی کیفیت ہونا اور حالت امن کا مستقل حالت ہونا الم نشرح ہو جاتا ہے۔
مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلم ریاست کے غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات کی بنیاد امن ہے چنانچہ جنگ صرف اس صورت میں جائز ہوگی جب دشمن کی جارحیت کا سامنا ہو، مسلم مبلغین کو تبلیغ دین سے روکا جائے یا مسلمانوں اور اسلام کی حرمت پر زد پڑتی ہو تو اس صورت میں جان ومال اور عقیدہ کے تحفظ کے لیے جنگ ایک ضرورت ہوگی۔
حرف آخر
تعلقات بین الاقوام کا اسلامی نظریہ اور فلسفہ عصر حاضر کے لیے موزوں واحد فلسفہ امن ہے۔ حق یہ ہے کہ صرف اسی طرح کا فلسفہ اور انداز فکر انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب اور باہم مربوط کر سکتا ہے اور اقوام عالم کے مذہبی، ثقافتی، عمرانی اور اقتصادی تنوعات اور امتیازات کو تسلیم کرتے ہوئے مقاصد، اقدار، فلاح اور مفاہمت کے وسیع اور مشترک انسانی دائرے تشکیل دے سکتا ہے۔ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں اپنے دشمنوں کی تعداد کم سے کم کرے اور قوموں کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی صلح اور امن وسلامتی کے تعلقات کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے۔ لفظ ’اسلام‘ کا مادہ ہی سلامتی اور امن کا معنی دیتا ہے۔ ’مسلم‘ بھی سلامتی اور امن پھیلانے والے کو کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا شعار (Slogan)اور شناخت بھی امن وسلامتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ’سلام‘ ہیں، پیغمبر اسلام پیغمبرامن وسلام ہیں اور حیات انسانی امن کے ساتھ ہی پھل پھول سکتی ہے۔
مراجع و مآخذ
۱۔ابوبکر الجصاص: احکام القرآن،
۲۔ قرطبی: الجامع لاحکام القرآن،
۳۔ وہبہ زحیلی: آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی،
۴۔ ایضاً: العلاقات الدولیۃ فی الاسلام،
۵۔ سید رمضان البوطی: الجہاد فی الاسلام،
۶۔ ابن رشد: بدایۃ المجتہد،
۷۔ السرخسی: المبسوط،
۸۔ ایضاً: شرح السیر الکبیر،
۹۔ النووی: مغنی المحتاج،
۱۰۔ عبد الحمید احمد ابو سلیمان: اسلا م اور بین الاقوامی تصورات،
۱۱۔ د۔ محمد حمید اللہ: خطبات بہاولپور،
۱۲۔ د۔ محمود احمد غازی: خطبات بہاول پور،
۱۳۔ مجید خدوری:
Islamic Law of Nation، ۱۴۔ راغب الاصفہانی: مفردات القرآن،
۱۵۔ اشرف علی تھانوی: بیان القرآن
حواشی
* فقہاے سلف جب دار الحرب اور دار الاسلام کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا مقصود دراصل اعتقادی یا نظریاتی تصورات کی تفریق کی نشان دہی کرنا ہوتا ہے یا مسلم دائرہ حکومت، دائرۂ اختیار کی عمل داری کی حدود متعین کرنا ہوتا ہے۔ اس تقسیم کے پس منظر میں اسلام کی بالادستی کا وہ تصور بہرکیف نہ تھا جو موجودہ جہادی تحریکوں کا بالعموم ہے جس کے پیش نظر ساری غیر مسلم دنیا کو دشمن گردانا جاتا ہے، ہر غیر مسلم سے برسرپیکار رہنا ’’مذہبی فریضہ‘‘ ہے اور دنیا کی ان ساری اقوام کے لیے جو مسلمان نہیں، حق بقا اور علاقائی اقتدار اعلیٰ کا کوئی تصور نہیں۔
گلوبلائزیشن: عہد جدید کا چیلنج
پروفیسر میاں انعام الرحمن
تاریخ کا ہر عہد تاریخ ساز رہا ہے۔ مورخین نے اپنے اپنے انداز میں ہر عہد کا جائزہ لیا ہے ،جس سے اختلاف ہونے کے باوجود یکسر رد کرنے کا ذمہ دار بننے کوشایدکوئی بھی تیار نہ ہو۔ تاریخی دھارے کی تشریح اور تاریخی عمل کی وضاحت کے ضمن میں بعض مورخین نے واحد عنصرپر زور دیا ہے،مثلاََ مالتھس نے آبادی کی، اسمتھ نے منڈیوں کی، ویبر نے طاقت کی اور مارکس نے طبقات کی بطور واحد عنصر کے نشان دہی کی۔ اسی طرح ۱۹۵۷ء میں Karl Wittfogelنے ایشیا ئیhydraulic despotism کی تھیوری پیش کی کہ پانی کے ذخائر پر مرکزی کنٹرول کی ضرورت نے استبداد کو جنم دیا ہے۔ مذکورہ نظریات کی یک رخی کے باوجود ان کی افادیت اور اہمیت سے مفر ممکن نہیں، لیکن ان سے کلی اتفاق بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخی تشریح کے ایسے یک رخے پن کی بدولت ہی اس سے انحراف کی روایت نے جنم لیا کہ اس میں بہت سے پہلوؤں سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے، ایسے پہلو جن کے بغیر حقیقی تاریخی اثرات کا تسلی بخش احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت بھی تاریخ کے دھارے پر کنٹرول رکھنے کے دعوے دار موجودہ عشرے کو عبوری خیال کرتے ہوئے زمانے کے رخ کو اپنی من پسند تشریح کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔یہ دعوے دار گلوبلائزیشن کو محض مارکیٹ اکانومی کی توسیع سمجھتے ہیں اس لیے ان کے استحصالی ہتھکنڈے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ دعوے دار تاریخی دھارے کے کلی عنصر (macro element) پر نظریں جما کر جزوی عنصر (micro element) سے صرفِ نظر کیے ہوئے ہیں۔ بہرحال ،یہ تسلیم کیے ہی بنتی ہے کہ بیسویں صدی کی ہنگامہ خیزی اور دوعالمگیر جنگوں کے بعد اکیسویں صدی اپنے جلو میں انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں لے کر آئی ہے۔ گلوبلائزیشن کی اجتماعی جہات سے لے کر مقامی ثقافتوں کی انفرادیت پسندی تک گوناگوں پہلو اجاگر ہو رہے ہیں۔یہ مختلف الجہات تبدیلیاں جہاں مسائل پیدا کر رہی ہیں، وہاں بہت سے ایسے امکانی دھارے بھی انہی تبدیلیوں کی کوکھ سے پھوٹ رہے ہیں جو بنی نوع انسان کے روشن مستقبل کی شاید واحد امید ہیں۔
تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے اس امر کو بطور حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ تبدیلی اور ارتقا کی موجودہ روش اور نوعیت نہ صرف فطری ہے بلکہ فطری ہونے کے ناتے انسانیت کا عمومی مفادبھی اسی کے ساتھ منسلک ہے۔ اس وقت دنیا بھرمیں کم از کم چار گروہ اپنے اپنے انداز میں گلوبلائزیشن کے حوالے سے حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں: ۱۔مسلم، ۲۔غیر مسلم، ۳۔امیر اقوام وطبقات، ۴۔غریب اور پسماندہ اقوام وطبقات۔
۱۔ جہاں تک مسلم گروہ کا تعلق ہے، نظری اعتبار سے طاقتور ہونے کے باوجود اس کا تفہیم وابلاغ کا انداز (presentation) عصری تقاضوں سے لگا نہیں کھاتا،جس کے باعث اس کی بابت الٹا تحفظات جنم لے رہے ہیں۔ مسلم گروہ کی بنیادی و محوری خا می اس کا ان چند اصولوں اور قواعد سے مستقلاً وابستہ ہو جانا ہے جو اس کے اسلاف نے اپنے عہد کے تقاضوں کے پیشِ نظر تشکیل دیے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم گروہ ان اصولوں پر عہدِنبوی اور خلافتِ راشدہ سے ماخوذ ہونے کاجو لیبل لگاتا ہے، حالانکہ مذکورہ مآخذ اپنی اصل کے لحاظ سے، بشرطیکہ ان کی طرف کھلے دل ودماغ سے رجوع کیا جائے، عہدِ جدید کے تقاضوں اور مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ راقم یہاں صرف ایک پہلو کی طرف اشارہ کرنا مناسب سمجھتا ہے کہ طوالت گراں ہو سکتی ہے۔
گلوبلائزیشن کی اجتماعیت و وحدت اور مقامی ثقافتوں کی انفرادیت پسندی کے باہم متضاد تقاضوں کا لحاظ رکھنے کے حوالے سے اسلام کا تصورِہجرت اوراس میں مضمر امکانی پہلو، نہایت انقلاب انگیزثابت ہو سکتے ہیں۔ طالبانائزیشن جیسے جمود کے بجائے عہد نبوی میں زمانہ بعد از ہجرت کا عملی حالات کو ملحوظ رکھنے کا رویہ زیادہ سود مند اور پائیدار ہو گا۔لہٰذا اسلام کے تصورِہجرت کومعروضی اور تجزیاتی انداز سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اس کی نظری وسعت کئی امکانی پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ خیال رہے ،عہدِ نبو یﷺ کے واقعات محض واقعات نہیں ہیں،بلکہ اصول وقواعد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ممکنات کو بھی محیط ہیں۔
ہجرت کو کم از کم دو سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے :
i۔ خا لصتاً نظری، یعنی انسانی تاریخ میں ہجرت کے تسلسل کے اعتبار سے کہ مقامیّت کی نفی ہر دور میں موجود رہی ہے۔ انسان نے بطور ایک آپشن کے ہجرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا ہے۔ ہجرت اپنی اصل میں پسپائی کے بجائے دستبرداری کا رویہ ہے، لہٰذا تاریخ میں جس کسی گروہ یا شخص نے یہ رویّہ اپنایا، عمومی اعتبار سے اس نے در حقیقت مقامیّت کی انتہا میں مضمر محدودیت سے دستبرداری اختیار کی اور نتیجتاً توسع سے ہمکنار ہوا۔ نفسیاتی اعتبار سے ،انسان کی اپنے سے متعلقہ (self-related) شخصی امور میں بھی ایسے رویے کی نشاندہی ہوتی ہے۔روزمرہ امور میں اگر کوئی شخص بے لچک اور سخت انداز اختیار کرے تو اس سے نہ صرف اسے معاشرے میں پریشانی اٹھانی پڑتی ہے،بلکہ اسی سے اس کے شخصی ارتقا کی نوعیت اور سطح کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایک خاص زاویے سے دیکھنے سے ہجرت، مصلحت پرستی کے بجائے عزیمت کا راستہ معلوم ہوتی ہے کہ انسان کسی مقام پرمصلحتاً ٹھہرنے ،سمجھوتہ کرنے کے بجائے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہجرت کو ترجیح دیتا ہے۔ ہر قسم کی بد صورتی سے، چاہے وہ بری اقدار ہوں یا جنگ ،استحصال،بھوک ،غربت اور جبر ہو، صحت مندانہ فرار اختیارکرتا ہے اور زندگی میں زندگی کا حقیقی رنگ بھرنے کے لیے کمرِہمت باندھ لیتا ہے۔
ii۔ واقعاتی اعتبار سے،یعنی عہدِنبوی ﷺسے استشہاد کرتے ہوئے۔ اس سلسلے میں معاشرتی جبر، ہم نسل،ہم وطن اور مشترکہ ثقافت رکھنے والے گروہ کے منفی رویہ کی نوعیت اور اس کے وقوع پذیر ہونے میں شخصی و گروہی نفسیات کا معروضی و تجزیاتی مطالعہ خاصا مفید ہو سکتا ہے۔
عہدِنبویﷺ سے استشہاد کے ضمن میں ہجرت کی تزویراتی اہمیت (strategic importance) پر بحث ونظر کا فروغ ،عہدِ جدید کے تقاضوں کے عین مطابق ہو گا۔ہجرتِ مدینہ کے فوراً بعدپیش آمدہ مسائل اور ان کی بابت ثقافتی اعتبار سے دو مختلف گروہوں کا طرزِعمل اس اعتبار سے یقیناًلائقِ مطالعہ ہے کہ اسی قسم کے حالات کامسلمانوں کو اپنے معاشرے میں داخلی اعتبار سے مختلف سطحوں پر آج بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لہٰذا مہاجرین اور انصار کا باہمی تعامل(Inter-acion)جسے ’مواخات‘ کا نام دیا گیا،ثقافتی اعتبار سے دو مختلف گروہوں کے طرزِعمل کے طور پر معروضی تجزیے کا متقاضی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں موجود ثقافتی رنگا رنگی کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ہم لوگوں نے اسلامی ثقافت کے نام پر مقامی ثقافت کی نفی کرنے کو دینی غیرت کا تقاضا سمجھ رکھا ہے،جس سے اسلام کی بابت، کمیونسٹ طرز پر تنوع دشمن اور جبریہ تصور جنم لے رہا ہے۔ حالانکہ کسی بھی ثقافت کوچھوٹی سطح پر دیکھنے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جغرافیائی حوالے سے ہر دس میل کے فاصلے پر بدلی ہوئی ہے۔ مثلاً گوجرانوالہ شہر کی پنجابی اس کے دیہی علاقوں سے بہت مختلف ہے اور دیہی علاقوں کی زبان بھی آپس میں یکساں نہیں ہے۔موجودہ عہد کی ترقی کی رفتار اور ترقی کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں ذرا صبر سے کام لینا چاہیے کہ محض چند عشرے عبوری نوعیت کے ہیں،آنے والے وقت میں یہ امور جن کی بابت ہم آج بہت حساس ہیں، اضافی شمار ہوں گے اور تاریخی دھارا ہمیں خودبخود اضافیت پسندبنا دے گا۔
راقم کی رائے میں ہجرتِ مدینہ کے بعد کم از کم تین گروہوں کے درمیان معاشرتی،معاشی اور ثقافتی تعلقات کی نوعیت، جدید عہد کے گلوبل کردار کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ شہری آبادی اور علاقوں میں اضافے کے رجحان (Urbanization)کی تفہیم کے لیے بھی نہایت کارآمد ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ میثاقِ مدینہ کی نو عیت علامتی بھی ہے کہ اس وقت کا دور تاریخی اعتبار سے زرعی تھا اور آج کا دور صنعتی مرحلہ طے کر کے انفارمیشن سٹیج میں داخل ہو چکا ہے۔ اس وقت مسلم گروہ کے سامنے ایک سنجیدہ مسئلہ Urbanizationکی صورت میں موجود ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکیسویں صدی میں اس رجحان میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں urbanization ہو رہی ہے۔ ۹۰ء کے عشرے کے اختتام پر ۴۳فیصد انسانی آبادی شہروں میں رہتی تھی اور شہری آبادی میں اضافے کی شرح ۲فیصد سالانہ تھی۔شمالی امریکہ،یورپ اور جاپان میں تقریباً ۷۷ فیصد آبادی urbanizedہو چکی تھی،جبکہ ایشیا اور افریقہ میں یہ شرح ۳۵فیصد تھی ۔ صورتِ حال بظاہر خوش کن دکھائی دیتی ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہurbanization سے سماجی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دیہی زندگی کے مقابلے میں شہری زندگی کے روایتی مسائل کی موجودگی کے علاوہ globalisationسے دنیا کے بڑے بڑے شہروں مثلاًلندن، ٹوکیو،ممبئی،کراچی وغیرہ میں سماجی،معاشی اور ثقافتی اعتبار سے مسائل کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔صورتِ حال کچھ اس طرح سے ہے کہ urbanization کی گلوبل نوعیت کی وجہ سے مذکورہ بڑے بڑے شہر منی گلوب بن چکے ہیں۔ جس طرح عالمی سطح پر معاشی، معاشرتی اور ثقافتی کھینچا تانی جاری ہے،اسی طرح ان منی گلوبز میں بھی یہ رجحان جڑ پکڑ رہا ہے کیونکہ ان میں بھی لسانی، نسلی، سماجی ، ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے تنوع اور گوناگونی دیکھنے کو ملتی ہے۔ راقم کی رائے میں بین السطور واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کاتصورِ ہجرت اور مدینۃالنبی ﷺ میں اس کی عملی شکل (applied form) گلوب اور منی گلوبز کے پیدا کردہ مسائل سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ مدینۃالنبیﷺ منی گلوب کی سب سے پہلی مثال ہے۔
۲۔ جہاں تک غیر مسلم گروہ کا تعلق ہے، راقم کی رائے میں اس کی بابت پراپیگنڈا زیادہ ہے ورنہ دکھائی تو یہی دیتا ہے کہ بطور گروہ ،یہ گروہ اس طرح مربوط و متحد نہیں ہے جس طرح کا تصورہمارے ہاں کے مذہبی طبقے اور عوام الناس میں پایا جاتا ہے۔یوں سمجھیے کہ جو صورتِ حال نام نہاد مسلم گروہ کی ہے کہ یہ محض نظری طور پر موجود ہے، اس کا عملی ا ظہار کہیں بھی نہیں ملتا ،غیر مسلم گروہ بھی ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہے،بلکہ بنظرِغائر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر مسلم گروہ میں عوامی سطح پر مسلمانوں سے الگ گروہ ہونے کا تصور نہیں ملتا۔ اندریں صورت ،مسلم گروہ معاشرتی و ثقافتی سطح پر غیر مسلم کے ساتھ تعامل (inter-action) کے لیے بغیر تحفظات کے پیش قدمی کر سکتا ہے۔
۳۔ امیر اقوام و طبقات کا گروہ اس وقت زمینی حقیقت کے طور پر دنیا کے سامنے منہ پھاڑے کھڑا ہے۔اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی اس استحصالی گروہ نے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں تاکہ اپنا مستقبل محفوظ کر سکے۔اس گروہ کی تحلیلِ نفسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ گروہ نہ صرف بالغ نظر نہیں ہے بلکہ داخلی اعتبار سے انتہائی خوف زدہ ہے۔ اس گروہ کے خوف کا اندازہ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد اس کی عجیب و غریب پا لیسیوں سے ہو جاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اسی گروہ نے بذاتِ خود لوگوں میں شعور وآگہی پیدا کرنے اور اسے فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں بیسویں صدی میں، اسی گروہ کے ایسے لوگ جو فطرتِ سلیم رکھتے تھے،اپنے گروہ سے منسلک رہنے کے باوجود حق بات کہنے سے نہیں چوکتے تھے، جس کی ایک مثال حالیہ دور میں نوم چومسکی ہے۔ اوراب یہ گروہ ،با شعور لوگوں سے حماقت کی توقع باندھے ہوئے ہے کہ دنیا بھر کے لوگ اسے عقلِ کل تسلیم کرتے ہوئے اس کی ہر بات پر ’’یس باس‘‘ کا تعظیمانہ لب ولہجہ اختیار کریں۔
راقم کی رائے میں اس گروہ کی تاریخ اس کی ارتقائی ترقی کی داستان ہے اور یہ ترقی اسی انداز سے جاری بھی رہ سکتی ہے اگر یہ گروہ اپنے ماضی جیسی بصیرت کو زمانہ حال کی پالیسیوں میں جگہ دینے کے لیے تیار ہو جائے،جس کی امید اگرچہ بہت کم ہے۔یہ گروہ ایک دور میں ہماری مانند دوسروں پر انحصار کرنے والا(dependent) تھا۔فطری طورپر اس کی خواہش تھی کہ جلد از جلد خود مختار (independent)ہو جائے جس طرح ہم چاہتے ہیں۔ راقم کی رائے میں dependent سے independentکی جانب سفر نہ صرف ارتقائی ہے بلکہ عین فطری بھی ہے، کہ ہر فرد اور ہر ادارہ، چاہے وہ سیاسی ہو یا سماجی،غرض اس کی نوعیت کوئی بھی ہو، انحصار کرنے کے بجائے خودمختار ہونا چاہتا ہے۔ ہم لوگ یہ عمل روزانہ معاشرتی سطح پر دیکھتے ہیں کہ کوئی فرد آہستہ آہستہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔یہیں پر ایک نکتہ نہایت اہم ہے کہ یہی فرد اگر خودمختارانہ اندازواطوار سے چمٹ جاتا ہے تو نہ صرف اس کی ترقی کا عمل رک جاتا ہے بلکہ ہر دم خطرہ موجود رہتا ہے کہ اس کا حد سے بڑھا ہوا خود مختارانہ رویہ اسے مجموعی معاشرتی دھارے سے الگ کر کے کہیں اسے دوبارہ dependent نہ بنا دے اور ایسا ہو بھی جاتا ہے۔
dependent سےindependentبننے کے بعد ہر فرد کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اگلے ارتقائی مرحلے کے لیے تیار ہو جائے جسے باہمی انحصار کا مرحلہ (inter-dependent stage)کہا جا سکتا ہے۔اگر ہم ذرا گہرائی سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ کامیاب ترین افراد اور ادارے وہی ہوتے ہیں جواس مرحلے کو فراخ دلی سے قبول کر لیتے ہیں،لیکن بہت سے افراد اور ادارے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ’باہمی انحصار‘ کو محض ’انحصار‘ کے مترادف سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے افراداور ادارے نفسیاتی اور ذہنی اعتبار سے بیمار ہی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ بالکل یہی صورتِ حال امیر اقوام وطبقات کی ہے۔خودمختاری کے مرحلے کے بعد ،ارتقا کے اگلے مرحلے یعنیinter-dependence کو ان کے ہاں dependenceسے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ شمالی امریکہ اور برطانیہ کی حالیہ پالیسیاں (تیل کے لیے جنگ وغیرہ) راقم کے موقف پر دال ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ inter-dependenceمیں مضمر افادیت کے احاطے کے لیے بالغ نظری درکار ہے اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر فرد یا ہر قوم خودمختاری کے مرحلے کے بعد لازماً بالغ نظری کا مظاہرہ کرے۔ یہاں اس امر کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بیسویں صدی کے پہلے ربع میں امریکی صدر وڈروولسن نے inter-dependenceمیں مضمر افادیت کا ادراک کر لیا تھا لیکن امریکی معاشرے کی مجموعی دانش اسے قبول کرنے کو ،دوسرے ربع میں ہی تیار ہوئی، وہ بھی غالباََ اپنی سوچ کے تحت نہیں بلکہ عالمی سیاست کے مخصوص ماحول کی وجہ سے۔ اب عالمی ماحول بدلنے سے ’’اپنی سوچ‘‘ نے باقاعدہ جگہ پا لی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ بالغ نظری کیوں مفقود ہے ؟ راقم کی رائے میں اس کی بنیادی وجہ نفسیاتی نوعیت کی ہے۔اگر کوئی فرد ایسے مرحلے پر پہنچنے کے بعد بھی اسے قبول کرنے یا سمجھنے سے انکاری ہے تو اس کا مطلب ہے وہ کسی خوف کا شکار ہے۔ ظاہر ہے یہ خوف بظاہر تو معاشرتی یا خارجی ہی سمجھا جائے گالیکن حقیقت میںیہ خوف اس کے اندر کی پیداوار یعنی داخلی ہے۔ ایسے فرد کو ’کرداری مریض‘ قرار دیا جاتا ہے۔ عموماً اس کا علاج بھی ممکن نہیں ہوتا کہ خاص عمر کے بعد عادات پختہ ہو چکی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اوائل عمر میں ہی شخصی ارتقا کی نہج ایسی اختیار کی جائے کہ بعد میں inter-dependenceکو نفسیاتی وذہنی تحفظات کا شکار ہو کرdependence نہ سمجھا جا سکے۔
یوں سمجھیے کہ ایسے انسان یا گروہ کو رویے کے اعتبار سے ہجرت کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن ہجرت بطور ایک قدر کے اہلِ مغرب کے پاس موجود نہیں ہے ،لہٰذا ان کی ذہنی نشوونما کے جاری رہنے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ تاریخی تناظر کی روشنی میں بھی یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ چو نکہ یہ گروہ macro-historyسے (دانستہ یا غیر دانستہ)متاثر ہو کر ایک ہی عامل یعنی گلوبلائزیشن کی اپنی وضع کردہ تعریف کو ہی حتمی سمجھے ہوئے ہے اور مقامی ثقافتوں اور رجحانات کے علاوہ تاریخی عمل میں پوشیدہ نادیدہ قوتوں کوپرِ کاہ کی حیثیت بھی دینے کو تیار نہیں کہ(Anything can influence anything) اس لیے تاریخی دھارے کے جبر کا شکار ہو جانا اس گروہ کا نصیب بن سکتا ہے۔
۴۔ جہاں تک چوتھے گروہ یعنی غریب اور پسماندہ اقوام وطبقات کا تعلق ہے، وہ غالب اکثریت میں بطور مظلوم دنیا بھر میں موجود ہے،اگرچہ اب کسی حد تک ہاتھ پاؤں مارتا دکھائی دے رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں تبدیلی کی لہر اس گروہ کے لیے خوش آئند قرار نہیں دی جا سکتی ، کیونکہ تبدیلی لانے میں اس گروہ کا کردار بہت فعال نہیں ہے۔ بھوک، غربت، جبرواستحصال، قومی بے کرداری اور عوامی سطح پر کرپشن اس کے مستقبل کی بابت تاریک تصویر ہی پیش کرتے ہیں۔ اس گروہ کا سب سے بڑا مسئلہ ذہنی پسماندگی ہے کہ اس کے شعور وآگہی کے سوتے ،مذکورہ بالا تیسرے گروہ کے سر چشموں سے پھوٹے ہیں، اس لیے یہ گروہ ذہنی لحاظ سے مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہو سکا۔ پروفیسر طارق محمود طارق کی معتبر رائے کے مطابق یہ گروہ self-orientedنہیں بلکہ اپنے رویوں اور کردار میں other-orientedہے کہ یہ گروہ اپنے مخصوص عمرانی احوال کی اساس اور اس سے جنم لینے والی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے محترز ہے ۔راقم کی ناقص رائے میں یہ گروہ ایک خاص قسم کے پراپیگنڈا کا شکار ہو کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ پراپیگنڈا یہ ہے کہ میڈیا آج کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ بے شک آج کے دور میں میڈیا کی طاقت سے انکار ممکن نہیں، لیکن یہ بھی انتہا پسندی ہے کہ فقط میڈیا کو ہی قبلہ و کعبہ قرار دیا جائے اور دیگر عوامل سے مجرمانہ چشم پوشی کی جائے۔ اس گروہ کے لیے یہ المیہ ہو گا کہ میڈیا کی چکاچوند کی طرف اپنے بہترین دماغوں کو کھپا دے اور طویل المیعاد، ٹھوس اوربالغ نظری پر مشتمل منصوبہ بندی سے محترز رہے۔ جیسا کہ ابتدائی سطروں میں ذکر ہوا، تاریخی عمل میں اگرچہ کوئی واحد عنصر کلیدی ہو سکتا ہے لیکن تاریخی عمل اپنے اظہار میں جزئیات کے علاوہ بعض پوشیدہ عناصر کو بھی شریک رکھتا ہے، لہٰذا میڈیا کو اگر کلیدی عنصر تسلیم کر لیا جائے تو بھی جزئیات اور پوشیدہ عناصر سے چشم پوشی نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
حاصلِ بحث
درج بالا بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ:
۱۔تاریخی اعتبار سے ہم لوگ تبدیلی ) (transformation کے دور سے گزر رہے ہیں۔زرعی وصنعتی ادوار کے بعد اب انفارمیشن عہد ہمارے مقابل ہے۔جہاں تک اہلِ مغرب کا تعلق ہے، ان کی پچھلی چند صدیوں کی تاریخ ان کی فعالیت کی مظہر ہے اور اسی فعالیت کے طفیل ،ان کے حالات کی پیداوار،ان کی خواہشات پر مبنی پہلے یورپی،پھر عالمی نظام نے جنم لیا۔ایک چینی مورخ Wong کے مطابق:
Western social theory has generally analyzed only that created by the twin processes of European State formation and Capitalism. Western states and economies have histories that matter to the formation of the modern world. Other parts of the globe, according to the research strategies employed in most social science research, had no histories of comparable significance before western contacts began to transform them.
’’مغرب کے معاشرتی نظریے نے بالعموم انہی چند مخصوص پہلوؤں پر اپنے تجزیے کا مدار رکھا ہے جو یورپی ریاستوں کی تشکیل اور سرمایہ داری کے ارتقا کے عمل کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ مغربی ممالک اور معیشتیں ایسی تاریخ کی حامل ہیں جن کا موجودہ دور کی تشکیل سے گہرا تعلق ہے۔ معاشرتی علوم کے زیادہ تر میدانوں میں اختیار کی جانے والی ریسرچ اسٹریٹجی کے مطابق، دنیا کے باقی حصے اس دور سے پہلے کوئی قابل موازنہ اہمیت ہی نہیں رکھتے تھے جب کہ مغرب کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں ان میں تبدیلیاں رونما شروع ہوئیں۔‘‘
ہم Wongکی بات کو بڑھاتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ اگر برصغیر میں انگریز وارد نہ ہوتے تو اس خطے کا عالمی سیاست میں کردار صفر ہوتا۔ مغربیوں سے روابط کے توسط سے ہی یہ خطہ تبدیلی کی لہر کا نہ صرف ادراک کر سکابلکہ اس لہر کو اپنے مجموعی احوال میں سمونے کی بھی کوشش کرنے لگا۔ مسلم دنیا کے حوالے سے بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے بھی نئی روشنی سے متعارف کرانے میں اہلِ مغرب کا کردار کلیدی ہے اگرچہ اس کے متوازی استحصالی عنصر بھی بہت نمایاں ہے۔ یہاں ایک نکتے کا بیان ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مجموعی عالمی ماحول کی تشکیلِ نو اورtransformationکے عمل میں مسلم دنیا کا کردار قابلِ ستائش نہیں ہے لیکن یہ اپنے تئیں بہت اہم بنی ہوئی ہے، اور پدرم سلطان بود کی زندہ مثال ہے۔مختلف علوم وفنون میں متقدمین کے کارناموں کا پرچار زوروشور سے ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اہلِ مغرب کو بڑے فخریہ انداز میں جتایا جاتا ہے کہ ان کی ترقی کی عمارت درحقیقت مسلم نیوپرکھڑی ہے۔اس وقت مسلم دنیا کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا کہ عہدِجدید کی transformationمیں اس کا کردار کیا ہو سکتا ہے؟راقم کی نظر میں،اس کے معروضی تجزیے کے لیے یورپی روابط کے اثرات کا کما حقہ مطالعہ نہایت ضروری ہے،لہٰذا سردست عالمی سیاست میں قائدانہ کردار ڈھونڈنے کے بجائے داخلی محاذ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بے بصیرتی پر مبنی سطحی اقدامات کے بجائے دور رس اور دیرپا اقدامات کیے جا سکیں ۔
۲۔منی گلوبس کی مکمل تفہیم اوران سے منسلک متوقع مسائل پر گرفت حاصل کرنے کے لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم وہ نکتہ تلاش کریں جب دنیا کا پہلا منی گلوب ارتقائی منازل طے کرنے کے بجائے انحطاط وزوال کا شکار ہو گیااور دنیا کو گلوبل کردار پانے کے لیے کئی صدیاں انتظار کرنا پڑا۔ راقم کا اشارہ اموی اور عباسی ثقافت کی شدید تفریق اور ہر دو ثقافتوں کی Self-Assertion کی طرف ہے،جس کے باعث مدینۃالنبیﷺ ،اپنی طرز پر مزید منی گلوبس کے لیے راہ ہموار نہ کر سکا۔اس سلسلے میں اس عہد کے معاشی امور وتعلقات کو (شہری،علاقائی اور عالمی سطح پر)بے لاگ دیکھنا ہو گاکہ ان کے اندر ایسی خصوصیات ہوں گی جن کے سبب ایک معکوس عمل شروع ہو گیا اور وہ عمل ابھی تک کسی نہ کسی صورت میں مسلم دنیا کے اندر جاری وساری ہے۔ معاشی تعلقات کے علاوہ مزید جملہ امور توجہ کے متقاضی ہیں، مثلاًاس عہد کے تخلیق کاروں کاعمومی رویہ اور رجحانِ طبع، تخلیق کاروں کے ساتھ معاشرے اور حکمرانوں کا سلوک، ایجادات کی نوعیت اور معاشرتی ومعاشی اقدار پر، بالخصوص ان کا رخ متعین کرنے کے حوالے سے ایجادات کے اثرات ۔ یہ طریقہ تحقیق ہماری بہتر راہنمائی کر سکتا ہے،کہ مذکورہ عوامل ہی تبدیلی اورtransformationکی ساخت وہےئت کو انگیخت کرتے ہیں۔ چونکہ ہماری تبدیلی کا رخ مثبت نہیں رہا تھااور transformation کے عمل پر ہماری گرفت نہ ہونے کے برابرتھی، اس لیے وہ ثقافتی بحران پیدا ہوا جس نے ہماری صفوں میں تشتت و انتشار بھر دیااور ’سقوطِ بغداد‘ سے ’سقوطِ بغداد‘ تک کی المیاتی تاریخ نے جنم لیا۔ ایک سقوط سے دوسرے سقوط تک کے درمیانی عرصے میں ایک دو نہیں ،کئی صدیاں حائل ہیں لیکن یہ صدیاں ایک تاریخی نظریےSelf-similarity at many scales کو خاص زاویے سے دیکھنے کادرس دیتی ہیں اور بس۔
بحث کے اس مقام پر Thomas Hughesکی مشہور کتاب Electrification in Western Society Networks of Power کا حوالہ دینا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔اس کے مطابق۱۸۸۰ء کے عشرے سے اہم سائنسی دریافتوں اور ایجادات سے یہ امکان پیدا ہوا کہ Thomas EdisonاورElmer Spragueجیسے سسٹمز بلڈرز کی تخلیق کردہ پیچیدہ آرگنائزیشنز کے ذریعے،کہ وہ ان تکنیکی مسائل کو حل کرنے کی پوزیشن میں تھے جوتکنیکی امکانات کے کامیاب نفاذ کا راستہ روکے کھڑے تھے، بجلی کو قوت اور روشنی کے لیے استعمال میں لایاجائے ۔ Thomas Hughesنے ایک اور دلچسپ نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے،وہ ہے: Social implementation of the technology and pace of adoption اس نے لندن، پیرس اور شکاگو میں پاور اسٹیشنزاور پاور گرڈز کے پھیلاؤکا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ سیاسی نظاموں (عدالتی،انتظامی وغیرہ) کے کردار پر روشنی ڈالی ہے کہ تکنیکی ترقی کا سماجی سطح پر اثر ونفوذ عموماًغیر تکنیکی عناصر کے توسط سے تیزی سے ہوتا ہے۔
راقم کی رائے میں مسلم دنیا اور تیسری دنیا میں موجود غیر تکنیکی عناصر نے مجموعی طور پر منفی کردار ادا کیا ہے۔دنیا کے پہلے منی گلوب کے ظہور کے بعد ، گلوبل خصوصیات کی بڑے پیمانے پر معاشرتی ترویج بوجوہ ممکن نہ ہو سکی جس کا خمیازہ نہ صرف مسلم دنیا بھگت رہی ہے بلکہ تیسری دنیا کے لاچارومظلوم عوام بھی اس کے شکنجے میں ہیں۔ عہدِجدید ایک مرتبہ پھر چیلنج بن کر ہمارے سامنے موجود ہے کہ کیا ہم Self-oriented ہو کر گلوبلائزیشن کے چیلنج کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ عمومی معاشرتی سطح پر اس کی تنفیذ کر سکیں گے؟
سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم میں سرسید کا مبینہ حصہ
ضیاء الدین لاہوری
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے موجودہ شمارے میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار کے حوالے سے کی جانے والی ایک بحث کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ بات جناب عطاء الحق قاسمی کے کالم میں منقول مولانا زاہد الراشدی کے بیان سے شروع ہوتی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانان عالم کے پیچھے رہ جانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ جوابی بحث کرنے والوں نے اس موضوع کو صرف برصغیر تک محدود کر دیا اور سرسید احمد خان کو خواہ مخواہ بیچ میں لاکھڑا کیا کہ انہوں نے ’’مسلمانوں کو جدید علوم سے روشناس کرنے کی ٹھانی اور (علما کی جانب سے) بدترین ظلم کا نشانہ بنے۔‘‘ گویا کہ اگر یہ ’’ظلم‘‘ نہ ہوتا تو دنیا کے مسلمان اپنا جائز مقام ضروری طور پر حاصل کر لیتے اور مصائب وآلام کے اس دور سے نہ گزرتے جس سے دوچار ہیں۔
’’مظلوم سرسید‘‘ کے بارے میں یہ مسلک رکھنے والوں کا ارشاد سر آنکھوں پر کہ یہ ان کا قصور نہیں کیونکہ ہمارے تعلیمی نصاب اور ذرائع ابلاغ میں سرسید کے متعلق یہی کچھ بتایا جاتا ہے اور اس بات کی وضاحت نہیں کی جاتی کہ ان کی مبینہ تعلیمی جدوجہد کے پیچھے کیا جذبہ کارفرما تھا اور یہ کہ ان کی نظر میں جدید علوم کی تخصیص کیا تھی۔ کیا انہوں نے اپنے قائم کردہ مدرسۃ العلوم کے نصاب میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مضامین شامل کیے؟ تحقیق کیجیے تو معلوم ہو کہ سرسید آخر دم تک ٹیکنیکل تعلیم تک کے مخالف رہے۔ ان کے مدرسے کا آغاز ۱۸۷۵ء میں ہوا اور اس کے بائیس برس بعد بھی یعنی اپنے انتقال سے چند ماہ پیشتر تک وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ ’’بڑی ضرورت ہندوستان میں اعلیٰ درجے کی دماغی تعلیم کی اور اخلاقی اور سوشل حالت کی درستی کی ہے۔‘‘ (۱) ان کے مبینہ جدید علوم وفنون کا حدود اربعہ یہی کچھ تھا کیونکہ کالج کے قیام میں جو مقاصد کارفرما تھے، وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم سے قطعاً پورا نہ ہو سکتے تھے بلکہ ’’اعلیٰ درجے کی دماغی تعلیم‘‘ ہی کے ذریعے ممکن تھے۔ وہ مقاصد کیا تھے؟ اس کا پتہ ہمیں نصابی دانش وروں یا ذرائع ابلاغ کے تصوراتی تخلیق کاروں کے بجائے سرسید اور ان کے رفقا کے اصل بیانات اور تحریروں میں ملے گا جن کا ذکر ہمارے تعلیمی نصاب اور ذرائع ابلاغ میں ممنوع ہے۔
کالج کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر وائسرائے کو جو سپاس نامہ پیش کیا گیا، اس میں ’’بانیان کالج کی نگاہ میں نمایاں مقاصد‘‘ کے ضمن میں بتایا گیا ہے کہ اس کا ایک اہم مقصد ’’ہندوستان کے مسلمانوں کو سلطنت انگریزی کی لائق وکارآمد رعایا بنانا ہے۔‘‘ (۲)
کالج کے ٹرسٹیوں نے ایک موقع پر یہ اعلان کیا کہ ’’من جملہ کالج کے مقاصد اہم کے یہ مقصد نہایت اہم ہے کہ یہاں کے طلبہ کے دلوں میں حکومت برطانیہ کی برکات کا سچا اعتراف اور انگلش کیرکٹر کا نقش پیدا ہو۔‘‘ (۳)
سرسید نے اپنے ایک خطاب میں بیان کیا کہ ’’اس کالج کا بڑا مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں اور انگریزوں میں اتحاد ہو۔‘‘ (۴)
ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’میرا سب سے بڑا مقصد کالج کے قائم کرنے سے یہ ہے، مسلمانوں میں اور انگریزوں میں دوستانہ راہ ورسم پیدا ہو اور آپس کا تعصب اور نفرت دور ہو۔‘‘ (۵)
یہ مقصد وقتی نہیں تھا۔ سرسید عمر بھر اسی دھن میں مگن رہے۔ ان کے عظیم رفیق کار اور سوانح نگار الطاف حسین حالی لکھتے ہیں:
’’ان کے مقصد محمدن کالج قائم کرنے سے صرف یہی نہ تھا کہ مسلمانوں کی اولاد اس میں تعلیم پائے بلکہ سب سے بڑا مقصد، جو ۵۷ء سے لے کر آخر دم تک ان کے پیش نظر رہا، یہ تھا کہ مسلمانوں اور انگریزوں میں یک جہتی، میل جول اور اتحاد کو ترقی ہو۔‘‘ (۶)
پھر اس مقصد کو محض الفاظ تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس کی باقاعدہ تربیت دی جاتی رہی۔ طلبہ کے لیے بورڈنگ ہاؤس میں رہائش اسی وجہ سے ضروری قرار دی گئی تھی اور یہ جگہ ان کے لیے تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ مولانا حالی بیان کرتے ہیں:
’’شریفانہ اور باقاعدہ اطاعت وفرمانبرداری، جو ہر قوم کا اور خاص کر محکوم قوم کا زیور ہے، اس کی عادت ڈلوانے اور مشق کرانے کے جو ذریعے اس بورڈنگ ہاؤس میں موجود ہیں، ظاہراً ہندوستان کے کسی انسٹی ٹیوشن میں موجود نہیں ہیں۔‘‘ (۷)
سرسید کے دست راست نواب محسن الملک اس کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
’’ایک بورڈر جب مدرسۃ العلوم کی چار دیواری میں قدم رکھتا ہے، اپنے تئیں نئی آب وہوا اور ایک نئی زندگی میں پاتا ہے اور اپنے گرد وپیش کی تمام چیزوں میں زندہ دلی اور شگفتگی اور حرکت اور جوش دیکھتا ہے۔ اس کے کانوں میں ہر طرف سے محبت، ہمدردی اور گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی کی آوازیں آتی ہیں۔‘‘ (۸)
سرسید نے جو بیج بویا، اس کی توصیف بیان کرتے ہوئے مولانا حالی لکھتے ہیں:
’’وہ اپنی قوم میں وفاداری، اخلاص اور اطاعت کے ہمیشہ کے لیے بیج بو گیا ہے۔ وہ ان کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک ایسا بار آور درخت لگا گیا ہے جس کا پھل انگلش نیشن کی محنت اور انگلش گورنمنٹ کی وفاداری وفرمانبرداری ہے۔‘‘ (۹)
اسی مفہوم کو نواب محسن الملک نے ان الفاظ میں بیان کیا:
’’اس کا بیج تو بویا سرسید نے، اب جبکہ یہ پھلے پھولے گا اور اس میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تہذیب، شائستگی، علمی قابلیت اور گورنمنٹ کی وفادار رعایا ہونے کی حیثیت سے آپ اپنی مثال ہوں گے تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی کی برکتوں اور آزادی کی بشارت دیتے پھریں گے۔‘‘ (۱۰)
درج بالا حقائق کو جان کر بھی اگر کوئی یہ کہے کہ سرسید کی تعلیمی جدوجہد کے پیچھے ان کا مقصد مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانا تھا تو اسے حسن ظن ہی کہا جا سکتا ہے۔ چلیے، ایک لمحے کے لیے یہ تصور کر لیتے ہیں کہ برصغیر کے علما نے سرسید پر واقعی ’’ظلم‘‘ کیا اور ان کی تعلیمی کاوشوں کو ملیا میٹ کرنا چاہا تو کیا وہ اس میں کام یاب ہوئے؟ قطعاً نہیں۔ ان کے جاری کردہ سکول نے پہلے کالج کی سطح تک ترقی کی اور پھر ایک عظیم الشان یونیورسٹی کی صورت اختیار کر گیا۔ ہزاروں مسلمان طلبہ اس سے فیض یاب ہوئے۔ انہوں نے کسی مولوی کے کہنے پر وہاں دی جانے والی تعلیم سے منہ نہیں موڑا۔ اس کے باوجود برصغیر کے مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گئے۔ کیا دنیا کے دیگر اسلامی ممالک کے سرسید بھی اپنے اپنے ہاں کے مولویوں کے ’’بدترین ظلم‘‘ کا نشانہ بنے جو وہ ملک بھی ترقی کی منازل طے نہ کر سکا؟ ترکی کے بارے میں کیا رائے ہے کہ وہاں سرسید سے ہزار گنا ترقی پسند مصطفی کمال اور عصمت انونو جیسے افراد حکمران ہوئے جنہوں نے مولویوں کی پیداوار کا قلع قمع کر کے اپنے ملک کو الف سے یا تک یورپین بنا دیا۔ وہاں کے مسلمانوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں کس قدر ترقی کی اور اپنی قوم کو کون سا جائز مقام دلا دیا جو ہم آج تک نہیں حاصل کر پائے؟
حوالہ جات
(۱) سرسید کے آخری مضامین، مطبوعہ لاہور، ۱۸۹۸ء، ص ۱۴۱
(۲) بحوالہ دی لائف اینڈ ورک آف سرسید، مولفہ گراہم، مطبوعہ لندن، ۱۹۰۹ء، ص ۱۷۹
(۳) بحوالہ تذکرہ وقار، محمد امین زبیری، مطبوعہ آگرہ، ۱۹۳۸ء، ص ۲۱۲
(۴) روئیداد محمدن ایجوکیشنل کانفرنس اجلاس نہم، مطبوعہ آگرہ، ۱۸۹۵ء، ص ۱۷۰
(۵) مکمل مجموعہ لکچرز واسپیچز سرسید، مطبوعہ لاہور، ۱۹۰۰ء، ص ۴۳۰
(۶) حیات جاوید، الطاف حسین حالی، مطبوعہ کانپور، ۱۹۰۱ء، حصہ اول، ص ۲۹۲
(۷) ایضاً، حصہ دوم، ص ۹۲
(۸) مجموعہ لکچرز واسپیچز محسن الملک، مطبوعہ لاہور ۱۹۰۴ء، ص ۴۰۶
(۹) مقالات حالی، حصہ دوم، مطبوعہ دہلی، ۱۹۳۶ء، ص ۴۸
(۱۰) مجموعہ لکچرز واسپیچز محسن الملک، محولہ بالا، ص ۴۸۶
علما کا معاشرتی و مذہبی کردار - احمد اشرف صاحب کا مکتوب
احمد اشرف
محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے کالم ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘ میں آپ کے ایک خطاب کا اقتباس دیا جس پر چند حضرات نے موافقت اور مخالفت میں تبصرہ کیا جو ماہنامہ الشریعہ مئی / جون ۲۰۰۳ء میں چھپا۔
آپ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، تب دو طبقے سامنے آئے تھے۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور دوسرے طبقہ نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ آپ نے نتیجہ یہ نکالا کہ علما نے اپنی ذمہ داری قبول کی اور اس کو نبھایا لیکن دوسرے طبقہ نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
بات چونکہ ۱۸۵۷ء سے شروع ہوتی ہے لہٰذا پہلے تو ہندو، مسلمانوں نے مل کر انگریز کو ہندوستان سے نکالا اور ساتھ ہی ساتھ ہندوستان اور پاکستان دو ملک وجود میں آئے۔ دوسرے طبقے نے اپنی ذمہ داری یوں پوری کی کہ وہ ہندوؤں سے کسی طور پر پیچھے نہیں رہا یہاں تک کہ ایٹم بم کے معاملہ میں ایک طرح سے ہندو سے بڑھ گیا اور پھر ہندوؤں کا ایٹم بم ایک مسلمان عبد الکلام کا ممنون ہے۔ اب یہ مغربی ممالک اور امریکہ سے پیچھے رہے، اس کے کئی اسباب ہیں۔
جس رخ پر آپ نے بات کی، اس پر یقیناًعلما کام یاب رہے لیکن ناکام یاب اس طرح ہوئے کہ اول تو امت کو متحد نہ رکھ سکے۔ یہ فرقے در فرقے میں تحلیل ہوتی رہی۔ دوم ایسے ایسے عقیدے فراہم ہوئے کہ دین خالص کا حلیہ ہی بگڑ گیا۔ چند مثالیں حاضر خدمت ہیں:
۱۔ قرآن میں ہے:
’’ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔‘‘ (القصص ۸۸)
’’پھر اس (زندگی) کے بعد تمہیں موت آ کر رہے گی اور اس کے بعد قیامت کے دن تم پھر اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ (المومنون ۱۵، ۱۶)
’’اب ان سب مرنے والوں کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔‘‘ (المومنون ۱۰۰)
’’آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔‘‘ (الزمر ۲۰)
’’ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے۔ اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔‘‘ (الانبیاء ۳۴، ۳۵)
’’محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس اگر یہ مر جائیں یا شہید کر دیے جائیں ، کیا تم الٹے پیروں پھر جاؤ گے؟‘‘ (آل عمران ۱۴۴)
آیات مندرجہ بالا سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہر انسان کو بلا کسی استثنا کے مرنا ہے لیکن سنیوں (بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث) کا عقیدہ ہے کہ نبی زندہ ہیں۔ چنانچہ بہشتی زیور میں مولانا اشرف علی تھانوی، جو حکیم الامت کہلاتے ہیں، اس ادب کا حال بیان کرتے ہیں جو رسول کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر کرنا چاہیے کیونکہ نبی زندہ ہیں اور درود وسلام خود سنتے ہیں۔ کیا یہ سب مشرک نہیں ہیں؟ قرآن کے بالکل خلاف۔
۲۔ سورۂ اخلاص میں کہا گیا ہے: ’’کہو کہ اللہ ایک ہے۔ نہ کسی کا باپ نہ کسی کا بیٹا‘‘ لیکن عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نور ہے اور اس نے اپنے نور کے ایک حصے سے محمد ﷺ کو پیدا کیا اور ایک اور حصے سے پوری کائنات۔ ڈاکٹر بلگرامی جو وائس چانسلر رہ چکے ہیں، قرآن کا ترجمہ اور تفسیر لکھی ہے، سیرت النبی میں یہی عقیدہ بیان فرماتے ہیں۔ بزرگوں کی نیاز کے موقع پر زور زور سے کہا جاتا ہے: ’’نور من نور اللہ‘‘ یہ ایک قسم کا وحدت الوجود کا عقیدہ ہے جس کی حیثیت شاعرانہ تخیل پر ہے، اسلام کے بالکل خلاف۔ اللہ کی ذات الگ اور باقی سب اس کی مخلوقات۔ یہ شرک بالذات ہے۔
۳۔ قرآن میں ہے کہ ’’ہر نفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔‘‘ (آل عمران ۲۵) لیکن عمل یہ ہے کہ اپنی کمائی ہوئی نیکی جس کو چاہے ارسال کر دے۔ رؤسا حج بدل کراتے ہیں۔ بس یہ کسر رہ گئی کہ پیسے دے کر نماز پڑھوا لی جائے اور روزے رکھوا لیے جائیں اور ثواب خود لے لیں یا کسی اور کو ارسال کر دیں۔
۴۔ البقرہ ۱۶۳میں مذکور ہے کہ : ’’اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مردار نہ کھاؤ، خون اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔‘‘
لیکن عمل یہ ہے کہ بزرگوں کی نذر کے معاملے میں نام ان کا لیا جاتا ہے اور اللہ کا بھی اور اس کو حرام سمجھنے کے بجائے تبرک سمجھ کر کھایا جاتا ہے۔
ان باتوں کا نتیجہ ہے کہ ایک نیا اسلام ظہور میں ہے اور ہمارے علما اس پر خاموش ہیں کیونکہ اس گمراہی سے نپٹنا آسان نہیں ہے۔
والسلام
احمد اشرف
IV G 3/6 Nazimabad, Karachi 79600
قومی سیمینار بیاد سید خورشید احمد گیلانیؒ
پروفیسر حافظ منیر احمد
۶ جون کی گرم ترین سہ پہر کو کونسل آف نیشنل افیئرز آف پاکستان نے الحمرا ہال نمبر ۲ میں ’قومی سیمینار بیاد صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی‘ کے نام سے ایک کام یاب تعزیتی نشست کا اہتمام کیا۔ تقریب کے صدر علامہ شاہ احمد نورانی صدر متحدہ مجلس عمل جبکہ مہمان خصوصی جناب مجید نظامی مدیر اعلیٰ نوائے وقت تھے۔ سیمینار حقیقتاً ایک قومی سیمینار کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ صرف سید خورشید احمد گیلانی کی حق گوئی تھی جس کی ترجمانی ا س سیمینار سے ہو رہی تھی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حافظ حسین احمد ، سابق سپیکر قومی اسمبلی ونائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سید یوسف رضا گیلانی، مسلم لیگ ن کے سید ظفر علی شاہ، ممبر قومی اسمبلی جناب فرید احمد پراچہ، روزنامہ پاکستان کے مدیر جناب مجیب الرحمن شامی، انجینئر سلیم اللہ، صوبائی وزیر جناب ڈاکٹر شفیق چوہدری، ممتاز ادیب اور بیورو کریٹ سید شوکت علی شاہ، ڈاکٹر اجمل نیازی اور مرحوم کے بھائی جناب ارشاد احمد عارف شامل تھے۔
کونسل آف نیشنل افیئرز آف پاکستان کے صدر جناب غلام مصطفی خان میرانی نے سیمینار کی غرض وغایت اور تمہیدی کلمات سے نشست کا آغاز کیا۔
روزنامہ پاکستان کے مدیر جناب مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ آغا شورش کشمیری کے بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر بلا کے خطیب تھے۔ ان کے بعد اس سفر کو جناب خورشید احمد گیلانی نے طے کیا۔ وہ خطابت اور قلم دونوں کے دھنی تھے۔ ان کی زندگی کا ایک مقصد تھا جس کے حصول کے لیے وہ ماہی بے تاب تھے۔ وہ فرقہ واریت سے دور تھے، جبھی تو ہر مکتبہ فکر ان کو اپنا تصور کرتا تھا۔ مختلف فرقوں کے درمیان وہ ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے قیام کے پیچھے ان کی سوچ موجود ہے کیونکہ وہ ایسا اتحاد چاہتے تھے جس میں تمام فرقے اکٹھے ہو جائیں۔ انہوں نے بے شمار نوجوانوں کو حوصلہ دیا۔ جناب مجیب الرحمن شامی نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرہ اب بھی اس قابل ہے کہ بندہ اپنے آپ کو منوا سکتا ہے۔ آج کے دور میں جناب خورشید احمد گیلانی بہت یاد آتے ہیں کیونکہ وہ اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی تھے۔
ممتاز کالم نگار پروفیسر محمد اجمل نیازی نے کہا کہ سید خورشید احمد گیلانی نے ہمیشہ پڑھنے اور سننے کا پیغام دیا۔ وہ ایک مذہبی انسان تھے لیکن بہت معتدل۔ انہوں نے ہمیشہ قلم کی آبرو کو بلند رکھا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں علماے حق اپنے اسلاف کی روایات کو ملٹری الائنس کے سامنے زندہ وجاوید رکھے ہوئے ہیں۔ خورشید گیلانی بھی اسی قبیلے کے ایک فرد تھے اور وہ ہمیشہ حق کے لیے اور غلبہ دین کے لیے لڑتے رہے۔
انجینئر سلیم اللہ نے کہا کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے پانچ نکات کو تحریری شکل دینے کی سعادت جناب مرحوم کے حصے میں آئی۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔
ممتاز ادیب سید شوکت علی شاہ نے کہا کہ یہ نشست حقیقی معنوں میں ایسی نشست ہے جس میں ہمیں یہ تجدید عہد کرنا ہے کہ زندگی کو ایک خاص مقصد کے تحت گزاریں۔ خورشید گیلانی مرحوم نے بھی زندگی کا ایک مقصد بنا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں شکار پور، ڈی جی خان، حافظ آباد جہاں بھی بطور ڈپٹی کمشنر رہا، مجھے خورشید گیلانی کی رفاقت ملتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ قومیں زبان کے بغیر گونگی ہوتی ہیں۔ اگرچہ اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن اب بھی اسے تین صوبوں یہ حیثیت حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خورشید گیلانی نے اسلاف کی روایات کی ہمیشہ ترجمانی کی۔ انہوں نے صحافت کو ایک نئی سمت جبکہ اردو زبان کو نئے اسلوب عطا کیے۔
ممبر قومی اسمبلی جناب فرید احمد پراچہ نے کہا کہ خورشید گیلانی مرحوم ۱۹۷۵ء میں لاہور آئے۔ وہ والد مرحوم کی اکیڈمی کے پہلے طالب علم تھے۔ وہ خورشید جہاں تاب تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اتحاد ملت اور اسلام کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ضمیر فروشی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ آج بھی رہبری کے بھیس میں رہزنی ہوتی ہے لیکن علماے حق آج بھی اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خورشید گیلانی امام احمد بن حنبل کے قبیلے کے ایک فرد تھے۔
صوبائی وزیر ایکسائز جناب ڈاکٹر محمد شفیق چوہدری نے کہا کہ مرحوم ایک صاحب بصیرت اور انقلابی شخص تھے۔ ان کے الفاظ میں امت مسلمہ کا درد اور امت کے لیے کرب ہوتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی ذات کی نفی کی۔ نصب العین ان کی زندگی کا خاصہ تھا۔ وہ جہاں بیٹھتے، جس محفل کو رونق بخشتے، وہاں اتحاد امت کی بات کرتے۔
سابق وفاقی وزیر قانون وپارلیمانی امور سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ آج ملک کے اندر قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ تینوں شعبے اپنے فرائض سے پہلو تہی کیے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کالم نگاہوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے استعمار کے خلاف حریت پسندوں کاساتھ دیا اور یہ اعزاز نوائے وقت کے حصے میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی جیسا ادارہ مردہ پڑا ہے۔ امریکی جارحیت افغانستان سے شروع ہو کر عراق تک پہنچی اور اب ایران، عراق سرحد پر پاسپورٹ چیک کر رہی ہے۔
ڈپٹی پارلیمانی لیڈر متحدہ مجلس عمل جناب حافظ حسین احمد نے کہا کہ میں چاغی سے لاہور سید خورشید احمد گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان پڑھ ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن ہمیں فخر ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کو بھی امی ہونے کا طعنہ دیا گیا مگر ہم ابو جہل جیسے ان پڑھ نہیں۔ خورشید احمد گیلانی نے ہمیشہ آمروں کے کرتوتوں کو قلم بند کیا۔ آج کے دور میں پہلے قلم کو قلم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو تو سر کو قلم کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اہل لاہور مجھ سے بہت سی باتیں سنانے کو کہہ رہے ہیں لیکن میں صرف یہ کہوں گا کہ ہم نے آئین کی بحالی کی قسم کھا رکھی ہے۔ ہم ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جو آئین سے ماورا ہو۔ انہوں نے کہا کہ چاکری ان کو مبارک ہو۔ ایم ایم اے قوم کو اعتماد میں لے گی اور ان کو چاکری کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر ملے ہیں لیکن ہم امریکہ کے ٹکڑوں پر نہیں پل رہے۔ پانچ ارب ڈالر کے عوض ہمارے متفقہ آئین کی اسلامی دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ فیڈرل شریعت کورٹ، اسلامی نظریاتی کونسل، ۷۳ء کے آئین کی اسلامی دفعات کو بلڈوز کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس ملک کے جغرافیائی اور نظریاتی تحفظ کے لیے لڑتے رہیں گے۔
قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آج معاشرے میں حق کے ساتھ چلنا اور حق لکھنا بہت دشوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس ملک کا سب سے بڑا لمیہ یہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑا ادارہ پارلیمنٹ نامکمل ہے کیونکہ آئین کی پاس داری نہیں کی جا رہی۔ اس صورت حال میں بیدار مغز لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کروانا ہوگی۔
سید خورشید احمد گیلانی کے برادر محترم جناب ارشاد احمد عارف نے کہا کہ جاگیرداری اور فوج کا تعلق بڑا گہرا ہوتا ہے۔ جاگیرداروں کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے۔ ہمیں جاگیرداری کے چنگل سے نکل کر حق کے ساتھ چلنا ہوگا، تبھی ملک کا اسلامی تشخص بحال ہوگا۔ اتحاد، انقلاب اور اجتہاد یہی سید خورشید احمد کے اہداف تھے۔
صدر مجلس علامہ شاہ احمد نورانی نے کہا کہ خورشید مرحوم بڑے صاف گو، ملنسار اور شفقت کرنے والے انسان تھے۔ اگرچہ وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں اور صدقہ جاریہ ہیں۔ ان کے الفاظ میں بے ساختہ روانی اور ان کی تحریر میں بلا کی جاذبیت ہے اور ہر سطر سے عشق رسول ﷺ کا جذبہ ٹپکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں بطور صدقہ جاریہ باقی رہتی ہیں جن میں سے ایک علم نافع ہے اور آج گیلانی صاحب مرحوم کی تحریریں یقیناًہماری اصلاح کے لیے ایک سرمایہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایم اے کی تشکیل کے پیچھے گیلانی صاحب جیسے صاحب بصیرت لوگوں کی جہد مسلسل کارفرما ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں اتحاد نصیب فرمائے اور خورشید گیلانی جیسے قلم کار ہمارے اندر پیدا کرتا رہے، جو ہمیشہ حق کے لیے لکھیں، حق کے لیے بولیں اور حق کے لیے لڑیں۔ انہی جیسے صاحب کردار لوگوں کو آج قوم کی رہنمائی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’میزان‘‘
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جسٹس محترم وجیہ الدین احمد ان محترم جج صاحبان میں شامل ہیں جنہوں نے سودی قوانین کے خاتمہ کے بارے میں تاریخی فیصلہ دیا تھا اور وہ ان بااصول ججوں میں سے ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت نیا حلف اٹھانے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ وہ دستور پاکستان کے تحت حلف اٹھانے کے بعد اس سے متصادم کوئی اور حلف نہیں اٹھا سکتے۔ جسٹس صاحب موصوف نے مختلف تقاریر، بیانات اور انٹرویوز میں دونوں حوالوں سے اپنے موقف کی تفصیل سے وضاحت کی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کی دستوری تاریخ کے بعض اہم حصوں کی بھی نقاب کشائی کی ہے۔
مولانا عبد الرشید انصاری نے ادارہ نور علیٰ نور کے تحت ان تقاریر، بیانات اور انٹرویوز کا ایک جامع انتخاب ’’میزان‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد سے شعوری تعلق رکھنے والے علماء کرام، ارباب سیاست اور کارکنوں کے لیے اس کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔
قیمت: ۲۰۰ روپے۔ ملنے کا پتہ: پاکستان لا ہاؤس، پاکستان چوک، کراچی۔
’’ضرورت رسالت‘‘ اور ’’تحفہ پاکستان‘‘
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلطان محمود رحمہ اللہ تعالیٰ آف کٹھیالہ شیخاں ہمارے بزرگ علماء کرام میں سے تھے۔ انہوں نے ایک عرصہ تک مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی میں صدر مدرس کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے۔ منقولات اور معقولات میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور مشکل سے مشکل مسائل کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ان کا خصوصی ذوق تھا۔ انہوں نے اس دور میں مختلف دینی موضوعات پر رسائل تحریر فرمائے جن سے علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات دونوں نے استفادہ کیا۔ اب ان کے پوتے مولانا قاری اسد اللہ (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم) نے ان رسائل کی دوبارہ طباعت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان میں سے ’’ضرورت رسالت‘‘ اور ’’تحفہ پاکستان‘‘ کے نام سے دو رسالے اس وقت ہمارے سامنے ہیں۔
اول الذکر میں رسالت کی ضرورت، انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت، معجزات اور دیگر ضروری امور کی وضاحت کی گئی ہے۔ ایک سو بار ہ صفحات پر مشتمل اس کتابچہ کی قیمت پچاس روپے ہے۔ جبکہ ’’تحفہ پاکستان‘‘ میں اسلامی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور چونسٹھ صفحات کے اس کتابچہ پر اس کی قیمت ۶۵ روپے درج ہے۔ یہ دونوں کتابچے مدرسہ خادم علوم نبوت، کٹھیالہ شیخاں، ضلع گجرات سے طلب کیا جا سکتے ہیں۔
’’معجم اصطلاحات حدیث‘‘
ادارۂ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، فیصل مسجد، اسلام آباد کے شعبہ علوم القرآن و الحدیث کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سہیل حسن صاحب نے حدیث نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے حوالہ سے علم حدیث کے وسیع اور متنوع ذخیرہ میں استعمال ہونے والی سینکڑوں اصطلاحات کو حروف تہجی کی ترتیب اور مفید وضاحت کے ساتھ یکجا کر دیا ہے جو علم حدیث کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے بطور خاص ایک گراں قدر تحفہ ہے۔
۴۲۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب عمدہ کتابت و طباعت سے مزین ہے اور اس کی قیمت ۳۲۵ روپے ہے۔
’’اسلام اور عصر حاضر کے مسائل و حل‘‘
پروفیسر عبد الماجد صاحب نے عصر حاضر کے متعدد فکری و تہذیبی مسائل کا مختلف مقالات میں اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض مقالات وہ ہیں جو اہم کانفرنسوں میں پڑھے گئے اور ان پر مقتدر شخصیات کی طرف سے ایوارڈ بھی دیے گئے۔ ہمارے خیال میں جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے یہ بطور خاص افادیت کی حامل ہے اور نوجوانوں کی فکری تربیت کے نصاب میں شامل کیے جانے کے لائق ہے۔
مقالات کا یہ مجموعہ ہزارہ سوسائٹی فار سائنس ریلیجن ڈائیلاگ مانسہرہ نے شائع کیا ہے اور ۲۷۰ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے۔
’’خطبات شورش‘‘
مجاہد تحریک آزادی اور مجاہد تحریک ختم نبوت آغا شورش کاشمیری مرحوم کا شمار برصغیر کے چوٹی کے خطباء میں ہوتا ہے۔ ملت اسلامیہ میں آزادی کی روح بیدار کرنے اور عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی تحریر و تقریر دونوں کا بہت نمایاں حصہ ہے۔
شیخ حبیب الرحمن بٹالوی نے آغا صاحب مرحوم کے بعض اہم خطبات اور ان کے بارے میں مختلف اصحاب دانش کے تاثرات کا خوبصورت انتخاب پیش کیا ہے جو ہر باذوق شخص کے لیے تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
۳۳۶ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت دو سو روپے ہے اور اسے مکتبہ احرار، 69/C، حسین سٹریٹ، نیو مسلم ٹاؤن، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ‘‘
مفتی محمود اکیڈمی کراچی نے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی حیات و خدمات پر ایک سیمینار منعقد کیا جس میں ممتاز علماء کرام اور اہل دانش نے مقالات و خطبات کے ذریعہ حضرت مرحوم کی ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ ہمارے فاضل دوست جناب محمد فاروق قریشی نے ان مقالات و خطبات کو کتابی صورت میں جمع کر دیا ہے، اس میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے بعض اہم مکتوبات کا اضافہ کیا ہے، اور حضرت مرحوم کی چند نادر تحریریں بھی شامل کر دی ہیں۔
۲۱۶ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۱۳۰ روپے ہے اور اسے جمعیۃ پبلیکیشنز، مسجد پائلٹ سکول، وحدت روڈ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’حجیت حدیث‘‘
حجیت حدیث پر معروف محدث الشیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے رسالہ کا حافظ عبد الرشید اظہر صاحب نے اردو میں ترجمہ کیا ہے جس میں حدیث و سنت کی حجیت و اہمیت پر مفید بحث کے ساتھ تقلید کے جواز اور عدم جواز کی بحث کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے ہٹ کر حجیت حدیث کے حوالے سے یہ رسالہ خاصا معلوماتی ہے۔
۸۸ صفحات پر مشتمل یہ رسالہ مجلس التحقیق الاسلامی، 99/J، ماڈل ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۹ روپے درج ہے۔
’’زیارۃ القبور‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے ایک سوال کے جواب میں قبروں کے حوالے سے مختلف شرعی احکام کی وضاحت کی ہے اور قبروں پر ہونے والی رسوم و بدعات کی اپنے مخصوص انداز میں تردید کی ہے۔ اس میں توسل بالذات کے بارے میں ان کا مخصوص مسلک بھی شامل ہے۔ اس کا اردو ترجمہ المکتبۃ السلفیۃ شیش محل روڈ لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت درج نہیں ہے۔
’’ذبح کرنے کا طریقہ اسلام اور سائنس کی روشنی میں‘‘
ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب نے جانور کو ذبح کرنے کے اسلامی طریقے کی شرعی اور سائنسی اصولوں کی روشنی میں وضاحت کی ہے اور اس سے متعلقہ مسائل کو عام فہم انداز میں پیش کیا ہے۔
۲۰ صفحات کا یہ رسالہ مجلس التحقیق الاسلامی، 99/J، ماڈل ٹاؤن لاہور نے شائع کیا ہے۔
’’دعوت و تبلیغ کی چھ صفات پر منتخب آیات‘‘
تبلیغی جماعت کے مبلغین عام طور پر اپنی گفتگو کا دائرہ ۱۔ کلمہ طیبہ، ۲۔ نماز، ۳۔ علم و ذکر، ۴۔ اکرام مسلم، ۵۔ اخلاص نیت اور ۶۔ دعوت و تبلیغ کے چھ نکات تک محدود رکھتے ہیں۔ مولانا حافظ مومن خان عثمانی فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم نے ان نکات کے حوالے سے قرآن کریم کی آیات کا ایک جامع انتخاب کیا ہے اور ترجمہ کے ساتھ ساتھ مختلف تفاسیر سے ان کی وضاحت بھی درج کر دی ہے۔
دو سو چالیس صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۹۰ روپے ہے اور اسے دار الکتاب، عزیز مارکیٹ، اردو بازار لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’روئیداد اسلام آباد فقہی سیمینار‘‘
المرکز الاسلامی بنوں کے تحت مولانا سید نصیب علی شاہ ایم این اے کی نگرانی میں ۱۵، ۱۶ مارچ ۲۰۰۳ء کو جامع مسجد دار السلام اسلام آباد میں ’’اسلام کا مالیاتی نظام‘‘ کے عنوان پر علمی سیمینار منعقد ہوا جس میں عنوان سے متعلقہ بہت سے اہم پہلوؤں پر فاضل علماء اور اہل دانش نے مقالات پیش کیے۔ اس کی روداد المرکز الاسلامی ڈیرہ روڈ بنوں کی طرف سے شائع کی گئی ہے اور مختلف مقالات و خطابات کے اہم نکات بھی اس میں شامل کر دیے گئے ہیں۔
۲۴ صفحات کی رپورٹ مندرجہ بالا ایڈریس سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
چند معلوماتی اور مفید رسائل
جناب محمد عطاء اللہ صدیقی ہمارے ملک کے معروف صاحب قلم ہیں جو وقتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر اخبارات و جرائد میں معلوماتی مضامین لکھتے ہیں اور خاص طور پر مغرب کی فکری اور تہذیبی یلغار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘، ’’نور جہاں فتور جہاں‘‘، ’’بسنت‘‘ اور ’’پنجابی کانفرنس‘‘ کے بارے میں ان کے مضامین کو الگ الگ رسالوں کی صورت میں اسلامک ہیومن رائٹس فورم، 99/J، ماڈل ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے۔
’’سرکار کے قدموں میں ‘‘
معروف نعت گو شاعر سید صبیح الدین رحمانی کے حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبول ﷺ پر مشتمل کلام کا ایک مختصر اور خوب صورت انتخاب بزم غوثیہ نعت انٹر نیشنل جامع مسجد غوثیہ اے ایریا ملیر کالا بورڈ کراچی نے شائع کیا ہے۔
۳۲ صفحات کے اس جیبی سائز کے کتابچہ کی قیمت دس روپے ہے۔
ادارہ اشاعت الاسلام مانچسٹر کی مطبوعات
ادارہ اشاعت الاسلام مانچسٹر محترم الحاج ابراہیم یوسف باوا کی سرپرستی اور ان کے لائق فرزند مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی کی ادارت میں تعلیمی، اصلاحی اور اشاعتی محاذ پر گراں قدر دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے اور اس کی مختلف مطبوعات اب تک سامنے آ چکی ہیں۔ ان میں سے چند کا ایک تعارف درج ذیل ہے:
- ’’فضائل عید‘‘: اس میں الحاج ابراہیم یوسف باوا نے عید کے فضائل و احکام کا ذکر کیا ہے۔
- ’’پچاس قرآنی اعمال‘‘: مختلف امراض کے روحانی علاج کے حوالے سے پچاس قرآنی دعاؤں اور اعمال کا مجموعہ الحاج ابراہیم یوسف باوا نے مرتب کیا ہے۔
- ’’دین و ایمان کی دو باتیں‘‘: رسول اللہ ﷺ کے جن ارشادات میں دو دو باتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا ایک خوب صورت انتخاب الحاج ابراہیم یوسف باوا نے پیش کیا ہے۔
- ’’معارف طیب‘‘: حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے ارشادات و فرمودات میں سے چند اہم امور کا انتخاب حافظ محمد اقبال رنگونی نے کیا ہے جن میں عیسائی دنیا کے نام ایک اہم پیغام بھی شامل ہے۔
- ’’حضرت امیر معاویہؓ‘‘: امیر المومنین حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں اہل سنت کے عقائد کی روشنی میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ارشادات میں سے اہم باتوں کا انتخاب حافظ محمد اقبال رنگونی نے پیش کیا ہے۔
- ’’فضائل و اعمال رمضان المبارک‘‘: الحاج ابراہیم یوسف باوا کے قلم سے رمضان المبارک کے فضائل اور اعمال کا ایک مختصر انتخاب شائع کیا گیا ہے۔
خوب صورت ٹائٹل اور عمدہ کتابت و طباعت سے مزین یہ کتابچے مندرجہ ذیل پتہ سے طلب کیے جا سکتے ہیں:
IDARA ISHA'AT-UL-ISLAM, P.O. Box 36, Manchester, M16 7AN (UK)