جنوری ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا سانحہ ارتحالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
صحابہ کرام کا اسلوب دعوت (۳)پروفیسر محمد اکرم ورک 
دینی مدارس میں اصلاح کی مساعی: اصل توجہ طلب پہلوحبیب الرحمن اعظمی 
خواب جو بکھر گیا! ’طالبان‘ کی شکست کے اسباب وعوامل کا ایک جائزہمولانا عتیق الرحمن سنبھلی 
’’ایڈز‘‘ کے اسباب اور احتیاطی تدابیرحکیم محمد عمران مغل 
الشریعہ اکادمی کے تعلیمی سال کا آغازحافظ محمد یوسف 
تعارف و تبصرہادارہ 

ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا سانحہ ارتحال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ممتاز محقق، دانش ور اور مصنف ڈاکٹر محمد حمید اللہ گزشتہ دنوں فلوریڈا (امریکا) میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا علمی تعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے تھا، حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی کے تلامذہ میں سے تھے اور جامعہ عثمانیہ کے علمی وتحقیقی کاموں میں ایک عرصہ تک شریک رہے۔ حیدر آباد پر بھارت کے قبضہ کے بعد پاکستان آ گئے اور پھر یہاں سے فرانس کے دار الحکومت پیرس چلے گئے جہاں انہوں نے طویل عرصہ تک اسلام کی دعوت واشاعت کے حوالہ سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور بے شمار لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ بہت سے فرانسیسی باشندوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ وہ بنیادی طور پر تعلیم وتحقیق کی دنیا کے آدمی تھے اور انہوں نے ساری زندگی لکھنے پڑھنے کے ماحول میں گزار دی۔ فقیر منش اور قناعت پسند بزرگ تھے، کتاب زندگی بھر ان کی ساتھی رہی اور کتاب ہی کی خدمت میں وہ آخر دم تک مصروف رہے۔
وفات کے وقت ان کی عمر ۸۸ برس کے لگ بھگ تھی۔ راقم الحروف کے نام ایک مکتوب میں، جو ماہنامہ الشریعہ (فروری ۹۱ء) میں شائع ہو چکا ہے، انہوں نے لکھا تھا کہ ان کی ولادت محرم الحرام ۱۳۳۶ھ میں ہوئی تھی۔ ان کی متعدد علمی وتحقیقی تصانیف ہیں جن سے اہل علم ایک عرصہ سے استفادہ کر رہے ہیں اور ان کی بعض تصانیف متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سیرت نبوی کے سیاسی پہلوؤں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالے سے نمایاں علمی خدمات سرانجام دیں۔ رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی اور دور نبوت کے سیاسی وثائق کے حوالے سے ان کا علمی کام اہل علم کے لیے گراں قدر تحفہ ہے اور انہوں نے ’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ کی تلاش وتحقیق اور طباعت کا اہتمام کر کے منکرین حدیث کے اس اعتراض کا عملی جواب دیا کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں احادیث کی جمع وترتیب کا کام نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے پاکستان میں اسلامی قوانین کی ترتیب وتدوین کے حوالہ سے بھی مختلف اوقات میں خدمات سرانجام دیں۔ سیرت نبوی کے مختلف عنوانات پر بہاول پور اسلامی یونیورسٹی میں ان کے خطبات نے بہت مقبولیت حاصل کی جو ’’خطبات بہاول پور‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں اور ’’رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی‘‘ کے عنوان سے ان کی محققانہ تصنیف کو بھی اہل علم کے ہاں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ہر وسیع المطالعہ محقق کی طرح وہ بھی مختلف مسائل پر جداگانہ رائے رکھتے تھے اور ان کے تفردات کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے لیکن اپنی رائے پر اڑنے اور ہر حال میں اس کا دفاع کرنے کے بجائے وہ غلطی ظاہر ہونے پر اسے تسلیم کرتے تھے اور اپنی رائے سے رجوع میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
مغربی دانش وروں کی طرف سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے جانے والے اعتراضات میں ایک یہ بھی ہے کہ جب قرآن کریم میں چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی صریحاً ممانعت آ گئی اور اس کے مطابق جناب نبی اکرم ﷺ نے متعدد صحابہ کرام کو، جن کی چار سے زیادہ بیویاں تھیں، حکم دیا کہ وہ زائد بیویوں کو الگ کر دیں تو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیک وقت نو بیویاں کیوں رکھیں اور قرآنی ضابطہ کے مطابق ان میں سے چار سے زائد بیویوں کو الگ کیوں نہیں کردیا؟ اس کے جواب میں جمہور علما یہ کہتے ہیں کہ یہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے اور نبی اکرم ﷺ کو اس کی خاص اجازت دی گئی تھی۔ اس کی بہت سی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ باقی صحابہ کرام نے چار سے زائد جن بیویوں کو اپنی زوجیت سے الگ کیا، ان کے تو دوسری جگہ نکاح ہو گئے اور وہ نئے گھرو ں میں آباد ہو گئیں لیکن جناب نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی امتی کا نکاح قرآن کریم کی رو سے جائز نہیں اس لیے اگر آنحضرت ﷺ بھی چار سے زیادہ بیویوں کو الگ کر دیتے تو وہ بے سہارا ہو جاتیں اور ان کا کوئی ٹھکانہ باقی نہ رہتا جو امت کی ماؤں کے حوالہ سے بہت سنگین بات ہوتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم ﷺ کو تمام بیویاں اپنے نکاح میں باقی رکھنے کی بطور خاص اجازت دے دی۔
مگر ڈاکٹر حمید اللہ نے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد کے سہ ماہی عربی مجلہ ’’الدراسات الاسلامیۃ‘‘ کے محرم تا ربیع الاول ۱۴۱۰ھ کے شمارے میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں یہ موقف اختیار کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے قرآن کریم کے مذکورہ حکم کے بعد حقوق زوجیت کے ساتھ تو صرف چار بیویوں کو باقی رکھا اور پانچ بیویوں کو ’’اعزازی بیویوں‘‘ کی حیثیت دے دی جو جناب نبی اکرم ﷺ کی بیویاں تو سمجھی جاتی تھیں مگر انہیں ’’حقوق زوجیت‘‘ حاصل نہیں تھے۔ اس طرح ڈاکٹر صاحب مرحوم نے مغربی دانش وروں کے اعتراض کا اپنے طور پر جواب دینے کی کوشش کی۔
ہم نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ میں اس پر گرفت کی اور اکتوبر ۹۰ء کے شمارے میں پروفیسر عبد الرحیم ریحانی کا مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے اس موقف کی دلائل کے ساتھ تردید کی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے اس کے جواب میں ہمیں مضمون بھجوایا جس میں انہوں نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے اس کے حق میں دلائل دیے۔ ہم نے وہ مضمون دسمبر ۹۰ء کے شمارے میں شائع کر دیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہمیں ڈاکٹر صاحب کے موقف اور دلائل پر اطمینان نہیں ہے اور ہم اس کا علمی وتحقیقی جواب دیں گے۔ اس دوران ماہنامہ’’صدائے اسلام‘‘ پشاور نے بھی ڈاکٹر صاحب کے موقف پر گرفت کی جس کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے ’’صدائے اسلام‘‘ کے مدیر محترم کے نام مکتوب میں اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور فرمایا کہ میں نے صرف اہل مغرب کے ایک اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی تھی، اگر جمہور علماکو اس سے اتفاق نہیں ہے تو مجھے بھی اپنے موقف پر اصرار نہیں اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کا یہ مکتوب ’’صدائے اسلام‘‘ کے حوالے سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے مارچ ۱۹۹۱ء کے شمارے میں شائع کیا اور ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی حق پرستی اور فراخ دلی کا اعتراف کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ تفردات ہر صاحب علم اور محقق کا حق ہے۔ جو بھی مطالعہ کرے گا، تحقیق کرے گا اور کسی مسئلہ پرمتنوع علمی مواد کو سامنے رکھ کر اپنی رائے قائم کرے گا، اس کی رائے کسی نہ کسی مسئلہ پر باقی علما سے مختلف ہو جائے گی۔ یہ فطری بات ہے البتہ اہل علم کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی انفرادی رائے کو دوسروں پرمسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور کسی مرحلہ پر اپنی رائے کی غلطی ان پر واضح ہو جائے تو وہ ا سے رجوع میں بھی کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے۔یہ بات محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب میں بھی ہم نے دیکھی ہے جو ان کے خلوص، للہیت اور قبول حق کے جذبہ کی علامت ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے عمر بھر علمی وتحقیقی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک دنیا نے ان سے استفادہ کیا ہے۔ ہم خود ان کے خوشہ چینوں اور ان کی تحقیقات سے استفادہ کرنے والوں میں شامل ہیں اس لیے مجھے ان کی وفات پر ذاتی طور پر یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے کسی شفیق استاذ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ایک عالم، محقق، دانش ور اور صاحب فضل وکمال شخصیت کی موت پراپنے دلی جذبات کے اظہار کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ 
ڈاکٹر حمید اللہ کی وفات بلا شبہ پورے عالم اسلام کے لیے صدمہ کا باعث ہے اور علمی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی علمی ودینی خدمات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین

صحابہ کرام کا اسلوب دعوت (۳)

پروفیسر محمد اکرم ورک

مصعب بن عمیر کا اہلِ مدینہ کے لیے بطور مبلغ تقرر

۱۱ نبویؐ میں بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد اہلِ مدینہ نے ایک تربیت یافتہ معلم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا:
ابعث الینا رجلا یفقھنا فی الدین ویقرئنا القرآن (۴۷)
’’(یارسول اللہ ﷺ) ہمارے ساتھ کسی ایسے آدمی کو بھیجیں جو ہمیں دین سکھائے اور قرآن پڑھائے‘‘
چنانچہ ابنِ اسحاق کی روایت ہے:
فلما انصرف عنہ القوم، بعث رسول اللّٰہ ﷺ معھم مصعبؓ بن عمیر وأمرہ ان یقرۂم القرآن، ویعلمہم الاسلام، ویفقہم فی الدین (۴۸)
’’جب انصار بیعت کے بعد واپس پلٹے تو رسول اللہﷺ نے ان کے ساتھ مصعبؓ بن عمیر کو روانہ فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں، اسلام کی تعلیم دیں اور دین کی بصیرت اور صحیح سمجھ پیدا کریں‘‘
سرزمین مدینہ کو دارالہجرت کا شرف حاصل ہونے والا تھا اور یہ ایسی سرزمین تھی جسے جلد ہی مرکزِ اسلام بننا تھا اس لیے ضرورت اس امر کی تھی کہ مدینہ کی سرزمین میں دعوت کا کام منظم انداز میں کیاجائے تاکہ ہجرت عامہ سے سرزمینِ مدینہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ اور مضبوط پناہ گاہ کاکام دے سکے۔چنانچہ جب انصار مدینہ نے ایک معلم ہمراہ بھیجنے کی درخواست کی تو رسول اللہ ﷺ کی نگاہِ انتخاب حضرت مصعبؓ بن عمیر پر پڑی جو ہجرت حبشہ کے کٹھن مراحل سے گزرکر کندن بن چکے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ان جاں نثاروں میں سے تھے جو اسلام کی خاطر ہر مصیبت کا سامنا بڑی خندہ پیشانی سے کرنے کاحوصلہ رکھتے تھے۔نیز رسول اکرم ﷺ کو ان کے متعلق یہ اعتماد بھی تھا کہ وہ دعوت کے ہر اسلوب سے واقفیت رکھنے والوں میں سے ہیں اورمخاطب کو متاثر کرنے کا ہر ڈھنگ جانتے ہیں ۔
پروفیسر ٹی۔ڈبلیو۔آرنلڈ لکھتے ہیں:
’’یہ نوجوان مومنین اولین میں سے تھے اور ابھی ابھی حبشہ سے واپس آئے تھے ،اس وجہ سے ان کو بہت کچھ تجربہ حاصل تھا۔انہوں نے اعدائے دین کے ہاتھوں جو ظلم وستم برداشت کیے تھے،اس سے ان میں نہ صرف متانت اور سنجیدگی پید اہوگئی تھی بلکہ انہوں نے یہ بھی سیکھ لیا تھا کہ ظلم وتعدی کا کس طرح مقابلہ کرنا چاہیے اور ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے جو اسلام کی تعلیم کو سمجھے بغیر اسے مطعون کرتے ہیں۔لہٰذا رسول اکرمﷺ نے کامل بھروسے کے ساتھ نومسلموں کی تعلیم وتربیت اور یثرب کی سرزمین میں نخل اسلام کی آبیاری کا مشکل کام مصعبؓ بن عمیر کے سپردفرمادیا‘‘۔(۴۹)
پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی حضرت مصعبؓ بن عمیر کے تقرر کی حکمت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’کبار صحابہؓ اور سابقین اولین میں سے حضرت مصعبؓ بن عمیر عبدری کا انتخاب ظاہر ہے کہ ان کی سبقتِ اسلام اور شخصی وجاہت کے سبب نہیں ہوا تھا ۔وہ یقیناًسابق صحابی تھے اور انہوں نے اسلام کے لیے بڑی قربانیاں دی تھیں۔لیکن ان سے کہیں زیادہ سبقت اور قربانی کا شرف رکھنے والے صحابہ موجود تھے۔ان کا انتخاب محض اس بنا پر کیاگیا تھا کہ وہ مجموعی اعتبارسے اس منصبِ گرامی کے لیے موزوں ترین تھے۔وہ پاسداران کعبہ کے خاندان کے ایک متمول خانوادہ عبدالدار کے فرد ہونے کے علاوہ اسلام کے وفادار وجاں نثار،ثابت قدم اور ٹھنڈے مزاج کے شخص تھے جو اسلام کا پیکرِ دلنواز ہونے کا دعویٰ کرسکتے تھے ۔ان کی یہی مجموعی صفاتِ حمیدہ تھیں جنہوں نے ایک مختصر عرصہ میں اسلام کے قدم مدینہ منورہ میں مضبوطی سے جما کر ہجرت کی راہ ہموار کردی‘‘ (۵۰)

مصعبؓ بن عمیر کی دعوتی سرگرمیاں اور اسلوبِ دعوت

حضرت مصعبؓ بن عمیر مدینہ پہنچ کر حضرت اسعدؓ بن زرارہ کے مکان پر فروکش ہوگئے اور گھرگھر پھر کر تعلیمِ قرآن اور اشاعتِ اسلام کی خدمت انجام دینے لگے۔ اس طرح رفتہ رفتہ جب کلمہ گو لوگوں کی ایک جماعت پیدا ہوگئی تو نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ان کو کبھی حضرت اسعدؓ بن زرارہ کے مکان پر اور کبھی بنی ظفر کے ہاں جمع کیا کرتے۔ایک روز مصعبؓ بن عمیر حسبِ معمول بنی ظفر کے ہاں چند مسلمانوں کو تعلیم دے رہے تھے کہ قبیلہ بنی عبدالا شہل کے سردار سعد بن معاذنے اپنے رفیق اسیدبن حضیر سے کہا کہ اس داعیٔ اسلام کو اپنے محلہ سے نکال دو جو یہاں آکر ہمارے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ کرتاہے۔اگر اسعدؓ بن زرارہ سے مجھ کو رشتہ داری کاتعلق نہ ہوتا (سعدؓ بن معاذ حضرت اسعدؓ بن زرارہ کے خالہ زاد بھائی تھے)تو میں تم کو اس کی تکلیف نہ دیتا ۔یہ سن کر اسیدؓ بن حضیر نے نیز ہ اٹھایا اور حضرت مصعبؓ بن عمیراور اسعدؓ بن زرارہ کے پاس آکر ان کو خوب گالیاں دیں اور پھر انتہائی درشت لہجہ میں کہا:
’’تمہیں یہاں آنے کی کیسے جرأت ہوئی ؟ تم ہمارے کمزور اورضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ کرتے ہو۔ اگر تم کو اپنی جانیں عزیز ہیں تو یہاں سے چلے جاؤ‘‘۔
اس قدر ناروا اور درشت گفتگو کے باوجود حضرت مصعبؓ بن عمیر نے بڑی نرمی سے فرمایا:
’’آپ تشریف تورکھیں اور ہماری بات سنیں ۔اگر کوئی بات معقول اور آپ کی مرضی کے مطابق ہو تو قبول کرلیجیے گا اور اگر ہماری بات آپ کو پسند نہ آئے تو ہم خود یہاں سے چلے جائیں گے‘‘۔
اسیدؓبن حضیر نے کہا:تم نے انصاف کی بات کی ہے۔اس کے بعد انہوں نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑ دیا اور ان کی بات کو غور سے سننے لگے۔ چنانچہ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے قرآن مجید کی چند آیات تلاوت کیں اور پھر اسلام کے عقائد ومحاسن کو اس خوبی کے ساتھ بیان فرمایا کہ تھوڑی ہی دیر میں اسید بن حضیر کا دل نورِ ایمان سے چمک اٹھا اور بے تاب ہوکر کہنے لگے! کیسا اچھا مذہب ہے اور کیسی بہتر ہدایت ہے۔ اس مذہب میں داخل ہونے کا کیا طریقہ ہے؟ حضرت مصعبؓ نے فرمایا:
’’غسل کیجیے،پاک صاف ہوجائیے، کپڑے بھی پاک صاف کرلیجیے اور اس کے بعد حق کی گواہی دیجیے اور نماز ادا کیجیے‘‘۔
چنانچہ اسیدؓ کھڑے ہوگئے، غسل کیا ،کپڑے پاک کیے،کلمہ توحید پڑھا اور پھر دو رکعت نماز پڑھ کر کہنے لگے میرے پیچھے ایک شخص ہے، اگر اس نے بھی تمہاری پیروی کرلی تو اس کے بعد اس کی قوم سے کوئی فرد اسلام سے باہر نہ رہے گا۔میں ابھی اس کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں،وہ سعد بن معاذ ہے۔پھر اپنا نیزہ لیا اور سعد اور ان کی قوم کی جانب واپس گئے ۔ وہ لوگ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ۔جب سعد بن معاذ نے انہیں آتے دیکھا تو کہا! میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں کہ اسیدؓ جس حالت میں گیا تھا، اس سے بالکل جدا حالت میں واپس آرہا ہے۔جب وہ آکر مجلس میں کھڑے ہوگئے تو سعدنے پوچھا : تم نے کیاکیا؟ انہوں نے کہا: ان دونوں سے گفتگو کی۔واللہ مجھے ان دونوں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا اور میں نے انہیں منع بھی کردیا ہے اور دونوں نے اقرار کیا ہے کہ جیسا تم پسند کرو، ہم ویسا ہی کریں گے۔البتہ مجھے خبر ملی ہے کہ بنی حارثہ ،اسعدؓ بن زرارہ کوقتل کرکے تمہیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارا خالہ زاد بھائی ہے۔چنانچہ سعد بن معاذ غصے سے بھرے ہوئے بڑی تیزی سے اٹھے کہ کہیں بنی حارثہ ان کوواقعتا قتل ہی نہ کردیں، پھر ان کے ہاتھ سے نیزہ لیا اور تیزی سے ان دونوں کی طرف گئے۔ سعد بن معاذ نے دیکھا کہ وہاں حالات بالکل ٹھیک ہیں تو وہ سمجھ گئے کہ اسیدؓنے یہ حیلہ فقط اس لیے کیا ہے تاکہ مجھے ان لوگوں کی باتیں سنوائی جائیں۔چنانچہ انہوں نے جاتے ہی ان کوگالیاں دینا شروع کردیں اور اسعدؓ بن زرارہ سے کہا:
’’اے ابوامامہؓ،سنو!اگر تمہارے اور میرے درمیان رشتہ داری نہ ہوتی تو تمہیں یہ جرأت قطعاً نہ ہوتی کہ تم ہمارے محلہ میں آکر ایسی باتیں کرتے جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں‘‘۔
حضرت مصعبؓ بن عمیرنے ان کی گفتگو اور گالی گلوچ کو بڑے تحمل کے ساتھ سنا اور بڑی نرمی سے کہا:کیا آپ تشریف رکھ کر ہماری کچھ بات بھی سنیں گے؟اگر کوئی بات آپ کی مرضی کے مطابق ہو اور آپ کو پسند آئے تو اسے قبول کرلیجیے گا اور اگر اسے ناپسند کریں تو ناپسندیدہ بات کو آپ سے دور کردیاجائے گا۔سعد بن معاذ نے کہا:تم نے انصاف کی بات کہی۔اس کے بعد اپنا نیزہ گاڑ کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ پھر حضرت مصعبؓ بن عمیرنے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا اور اسلام کا نقشہ کچھ اس انداز میں پیش کیا کہ وہ فوراً ہی مسلمان ہوگئے اور جوش میں بھرے ہوئے اپنے قبیلہ اور قوم کی طرف آئے۔حضرت اسیدؓ بن حضیربھی ان کے ساتھ ہوگئے۔
جب ان کی قوم بنی عبدالا شہل نے انہیں آتے دیکھا تو کہنے لگے:اللہ کی قسم سعدؓ بن معاذبالکل مختلف انداز میں تمہاری طرف لوٹ رہے ہیں ۔جب وہ قوم کے پاس آکر کھڑے ہوگئے تو کہا: اے بنی عبدالاشہل!تم اپنے درمیان مجھے کیاسمجھتے ہو؟انہوں نے کہا،آپ ہمارے سردار ،ہم سب سے زیادہ خویش پرور،بہترین رائے والے اور بڑی عقل والے ہیں۔ انہوں نے کہا،تو تمہارے مردوں اور عورتوں سے بات کرنامجھ پر حرام ہے جب تک تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان نہ لاؤ اور پھر شام ہونے سے پہلے پہلے قبیلہ بنی عبدالاشہل نے حضرت سعدؓ بن معاذ کے زیرِ اثر اسلام قبول کرلیا۔ (۵۱)
حضرت مصعبؓ بن عمیرکا رسول اللہﷺ سے مسلسل رابطہ تھا اور آپؓ نبوی ہدایت کے مطابق ہی تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دیتے تھے۔چنانچہ ایک دن ان کو رسول اللہ ﷺ کا خط موصول ہوا کہ وہ یہود کے ہفتہ وار اجتماع کے مقابلے میں جمعہ کے دن زوال کے بعد مسلمانوں کو جمع کریں اور ان کو دو رکعت نماز پڑھائیں:
امابعد! فانظر الیوم الذی تجھر فیہ الیھود بالزبور لسبتہم، فاجمعوا نساء کم وابناء کم فاذا مال النھار عن شطرہ عندالزوال من یوم الجمعۃ فتقرّبوا الی اللّٰہ برکعتین (۵۲)
حضرت مصعبؓ بن عمیر کو رسول اللہ ﷺ نے ۱۱ نبوی میں بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد اہلِ مدینہ کے ہمراہ دعوت وتبلیغ کے لیے روانہ فرمایا۔حضرت مصعبؓ بن عمیرمدینہ میں کم وبیش ایک سال تک مقیم رہے اوراگلے سال ۱۲نبوی میں بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر بہتّرانصار صحابہ کے ہمراہ مکہ واپس لوٹ آئے۔اس دوران آپؓ نے مدینہ میں دعوت وتبلیغ کاکام اتنے احسن انداز میں کیاکہ اوس وخزرج کے اکثر لوگوں نے اسلام قبول کرلیااور ہر طرف اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہونے لگا۔مختصر وقت میں دعوت کے میدان میں اتنی بڑی اور اہم کامیابی کی بڑی وجہ وہ اسلوبِ دعوت ہے جس کی بنا پر آپ نے اہلِ مدینہ کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ذیل کی سطور میں آپؓکے اسلوبِ دعوت کے اہم نکات کا اختصار کے ساتھ ذکر کیاجارہاہے۔
۱۔حضرت مصعبؓ بن عمیر اسلام کی دعوت لے کر خود کوچہ کوچہ اور گلی گلی گئے اور یہ انتظار نہیں فرمایا کہ لوگ خود چل کر ان کے پاس آئیں بلکہ آپ ؓ مختلف محلوں میں تشریف لے جاتے اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتے۔
۲۔آپؓنے دعوت وتبلیغ کاکام محض اللہ ورسول ﷺ کی رضا کی خاطر کیا ۔آپؓ کے اس خلوص اور للہیت کی بنا پر بھی لوگ متاثر ہوکر حلقہ بگو ش اسلام ہوتے۔
۳۔ حضرت مصعبؓ بن عمیر کے طریق دعوت کی ایک اہم خصوصیت دعوت بالقرآن بھی ہے ۔جیسا کہ آپؓنے اسیدؓ بن حضیر او ر سعدؓ بن معاذکے سامنے قرآن کی تلاوت فرمائی تو دو نوں حضرات قرآن کی تعلیمات اور اس کے اسلوبِ بیان سے متاثر ہوکراسلام لے آئے۔اسیدؓ بن حضیرنے قرآن سنا تو بول اٹھے،کیسا اچھا مذہب ہے اور کیسی بہتر ہدایت ہے۔
۴۔ اگرمخاطب سے ایسے انداز میں بات کی جائے جو براہِ راست دل اور عقل کو متاثر کرنے والی ہو تو داعی کے لیے اپنا کام کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے اسیدؓ بن حضیراور سعدؓ بن معاذ کی دھمکیوں اور گالیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی معقول اور متاثر کرنے والی بات کہی، یعنی ان سے فرمایا:آپ تشریف رکھیں اور ہماری بات سنیں، اگر کوئی بات معقول اور آپ کی پسند کے مطابق ہوتو قبول کرلیجیے گا اور اگر ہماری بات آپ کو پسند نہ آئے تو ہم خود یہاں سے چلے جائیں گے‘‘۔ آپؓنے اس انداز سے درحقیقت اپنے مخاطبین کی عقل اور دل کومتاثر کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی عملی زندگی میں قوتِ محرکہ اس کا دل اور عقل ہی ہے ۔لہٰذا اگر داعی دل اور عقل کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ یقینی طور پر اپنے مخاطب کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔چنانچہ جب حضرت مصعبؓ بن عمیرنے یہ بات کہی تو دونوں سرداروں کا ایک ہی جواب تھا: ’’تم نے انصاف کی بات کہی ہے‘‘۔چنانچہ اس کے بعد دونوں وہاں سے اسلام قبول کرکے ہی اٹھے۔
۵۔ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے دعوت وتبلیغ میں نرمی اور تحمل مزاجی کے اسلوب کو اختیار فرمایا جس کی بناء پر اسیدؓ بن حضیراور سعدؓ بن معاذ جیسے درشت مزاج لوگوں کو بھی حلقہ بگو ش اسلام کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور اس کے نتیجہ میں بالآخر سعدؓ بن معاذ نے اپنے پورے قبیلے کو بھی مسلمان بنا لیا۔

قبل از ہجرت مدینہ میں نقباء اور انصار صحابہ کرامؓ کی دعوتی سرگرمیاں

دعوت وتبلیغ کے حوالے سے مکی اور مدنی دور ایک دوسرے سے مربوط نظر آتے ہیں ۔مکی دور کے آخری ایام میں کفار مکہ کی طرف سے مخالفت اور عداوت اس قدر بڑھ گئی کہ اب آپﷺ اور آپ کے صحابہ کے لیے مکہ مکرمہ میں رہنا اور دعوت وتبلیغ کے کام کو جاری رکھنا ناممکن ہوگیا۔علاوہ ازیں تیرہ سالہ مکی دورسے حاصل شدہ کامیابیوں کوکسی منطقی انجام سے ہمکنار کرنے کے لیے اسلام کو ایک مرکز کی اشد ضرورت تھی جہاں مسلمان اسلام کو ایک ضابطۂ حیات کے طور پر اپنا سکیں۔

انصار میں اسلام کی ابتدا

اس کی بظاہر یہ صورت پیدا ہوئی کہ ۱۰ نبوی کے موسم حج میں جب رسول اللہﷺ مختلف قبیلوں کی خیمہ گاہوں پر دعوت وتبلیغ کی غرض سے تشریف لے جارہے تھے تو آپﷺ کا گزر یثر ب (مدینہ)سے آئے ہوئے بنوخزرج کے چھ خوش نصیب افراد پر بھی ہوا۔آپﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، قرآن سنایا اور انہیں ایمان لانے کے فوائد سے آگاہ کیا۔ان لوگوں نے یثرب کے یہود سے نبی آخر الزماں ﷺکے متعلق سن رکھا تھا،اس لیے انہوں نے دیکھتے ہی آپﷺ کو پہچان لیا اور ایمان لے آئے۔اس وفد میں اسعدؓ بن زرارہ،عوفؓ بن الحارث،رافعؓبن مالک بن عجلان،قطبہؓبن عامر، عقبہؓ بن عامر اور جابرؓ بن عبداللہ بن رباب تھے۔ (۵۳)
قبولِ اسلام کے بعد ان لوگوں نے رسول اللہﷺ سے اس وعدہ کے ساتھ اجازت لی کہ اگلے سال پھر اسی موسم میں اسی مقام پرملیں گے،نیز آپ ﷺ کی دعوت کو آگے پہنچائیں گے۔ابنِ ہشام کا بیان ہے:
فلما قدموا المدینہ الی قومہم ذکروا لھم رسول اللّٰہ ﷺ ودعوہم الی الاسلام حتی فشا فیھم ،فلم یبق دار من دور الانصار الا وفیھا ذکر من رسول اللّٰہﷺ (۵۴)
’’جب یہ لوگ اپنی قوم کے پاس مدینہ پہنچے ،تو ان سے رسول اللہﷺ کا تذکرہ کیااور انہیں اسلام کی دعوت دی،یہاں تک کہ ان میں بھی اسلام پھیل گیا اور انصار کے گھروں میں سے کوئی گھر ایسا نہ رہا،جس میں رسول اللہ ﷺکا تذکرہ نہ ہورہا ہو‘‘۔

بیعتِ عقبہ اولیٰ (۱۱ نبوی)

آئندہ سال یہ لوگ حسبِ وعدہ مزید چھ افراد معاذؓ بن حارث بن رفاعہ،ذکوانؓ بن قیس ،عبادہؓ بن صامت،یزیدؓ بن ثعلبہ،عباسؓ بن فضلہ اور عویمؓ بن ساعدہ کے ساتھ آئے۔ رات کے وقت رسول اللہﷺ سے ملاقات کی اور آپﷺ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی۔حضرت عبادہؓ بن صامت کا بیان ہے: 
کنت فیمن حضرالعقبۃ الاولیٰ، وکنا اثنی عشر رجلا، فبایعنا رسول اللّٰہ ﷺ علی بیعۃ النساء علی ان لا نشرک باللہ شیئا ،ولا نسرق، ولانزنی، ولا نقتل اولادنا، ولا نأتی ببھتان نفتریہ بین ایدینا وارجلنا،ولا نعصیہ فی معروف، فان وفیتم فلکم الجنۃ، وان غشیتم من ذالک شیئا فأمرکم الی اللّٰہ ان شاء عذبکم وان شاء غفرلکم (۵۵)
’’میں ان لوگوں میں سے تھا جو بیعتِ عقبہ اولیٰ کے موقع پر حاضر تھے۔ ہم بارہ آدمی تھے۔ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عورتوں جیسی بیعت کی، یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے،چوری نہ کریں گے،زنا نہ کریں گے،اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے، جھوٹا الزام نہیں لگائیں گے،اور آپ ﷺ کی نیکی کے کاموں میں مخالفت اور نافرمانی نہ کریں گے۔پھر آپﷺ نے فرمایا: اگر تم نے اس عہد کوپورا کیا تو تمہارے لیے جنت ہے اوراگر تم نے بددیانتی کی تو تمہارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ چاہے تو تمہیں سزادے اور چاہے تو معاف فرما دے‘‘۔
ابنِ اسحاق کا بیان ہے کہ جب یہ لوگ وہاں سے واپس ہوئے تو رسول اللہﷺ نے ان کے ساتھ مصعبؓ بن عمیر کو بھیجا اور انہیں حکم دیا ’’ان لوگوں کو قرآن پڑھائیں،اسلام کی تعلیم دیں اور ان میں دین کی سمجھ پیدا کریں۔اسی لیے مصعبؓ بن عمیر کانام’’مقرئ المدینۃ‘ ‘پڑگیا تھا‘‘۔ (۵۶)
ابنِ قیم کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے مصعبؓ بن عمیر کے ساتھ ایک دوسرے صحابی حضرت عبداللہؓ بن ام مکتوم کو بھی بھیجا۔ یہ دونوں ابوامامہ اسعدؓ بن زرارہ کے ہاں ٹھہرے۔لوگوں کی کثیر تعداد نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔اسیدؓ بن حضیر اور سعدؓ بن معاذ بھی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے (۵۷) چنانچہ سعدؓ بن معاذ کے اثر سے بنی عبد الاشہل اور اسیدؓ بن حضیر کے اثر سے تمام قبیلہ اوس نے اسلام قبول کرلیا۔
حضرت براءؓ بن عازب کابیان ہے:
اول من قدم علینا مصعبؓ بن عمیر وابن ام مکتومؓ وکانوایقرؤن الناس۔ (۵۸)
’’سب سے اول جو ہمارے پاس آئے وہ مصعبؓ بن عمیر اور ابن ام مکتومؓ تھے۔ یہ دونوں لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتے تھے‘‘
جب مدینہ میں اسلا م پوری طرح پھیل گیا تو حضرت مصعبؓ بن عمیر واپس مکہ تشریف لے آئے۔

بیعتِ عقبہ ثا نیہ (۱۲ نبوی)

اگلے سال بہتّرانصاری مسلمان موسم حج میں مکہ آئے اوررسول اللہﷺ سے بمقام عقبہ چھپ کر ملاقا ت کی۔آپﷺنے اس گروہ میں سے بارہ افرادکا بطو رنقیب انتخاب فرمایاجن کے نام خو د انصار نے پیش کیے تھے۔ان میں نو کا تعلق قبیلہ خزرج سے اور تین کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا ۔ناموں کی تفصیل یہ ہے:قبیلہ خزرج سے اسعدؓ بن زرارہ، سعدؓ بن ربیع،عبداللہؓ بن رواحہ، رافعؓ بن مالک ،براءؓ بن معرور، عبداللہؓ بن عمرو بن حرام،عبادہؓ بن الصامت،سعدؓ بن عبادہ، المنذرؓ بن عمروبن خنیس۔ اور قبیلہ اوس سے اسیدؓ بن حضیر ،سعدؓ بن خثیمہ، رفاعہؓ بن عبدالمنذر1(۵۹)
رسول اللہ ﷺ نے نقباء کو مقرر کرتے وقت اپنے قبائل میں ان کے اثرورسوخ اور مقام ومرتبہ کو پیشِ نظر رکھا۔ اس کے علاوہ یہ افراد اپنے ذاتی خصائل اور تقدم ایمانی کی وجہ سے بھی یقینی طور پر اس ذمہ داری کے اہل تھے۔حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیعت عقبہ ثانیہ میں انصار کے نمائندہ افراد سے یہ عہد لیا:
تبا یعونی علی السمع والطاعۃ فی النشاط والکسل ، وعلی النفقۃ فی العسر والیسر، و علی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر، وعلی ان تقولوا فی اللّٰہ لا تأخذکم فیہ لومۃ لائم، وعلی ان تنصرونی اذا قدمت یثرب، فتمنعونی مما تمنعون منہ انفسکم وازواجکم وابنائکم ولکم الجنۃ۔ (۶۰)
’’تم چستی اور سستی ہرحال میں میری بات سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کرو،اور تنگی اور خوشحالی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر ،اور نیکی کاحکم کرنے اور برائی سے منع کرنے پر،اور اس بات پر کہ حق بات کہنے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہ کروگے،اور اس بات پر کہ جب میں یثرب آؤں تو تم میری مدد کروگے اورتم میری ان تمام چیزوں سے حفاظت کرو گے جن سے تم اپنی جانوں، بیویوں اور اولا د کی حفاظت کرتے ہو۔ اس کے بدلے میں تمہارے لیے جنت ہے‘‘۔
رسول اللہ ﷺنے ان تمام پر حضرت اسعدؓ بن زرارہ کو، جو قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھے،’’نقیب النقباء‘‘2 مقرر فرمایا۔ (۶۱)
جہاں تک ان نقباء کے فرائض کا تعلق ہے، رسول اللہﷺ نے بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر نقیبوں کوان کے فرائض سے اس طرح آگاہ فرمایا:
انتم علی قومکم بما فیھم کفلاء ککفالۃ الحواریین لعیسیٰ بن مریم، وانا کفیل علی قومی ، قالوا: نعم (۶۲)
’’تم اپنی قوم کے معاملات کے اس طرح ذمہ دار ہو جس طرح عیسیٰ بن مریم کے حواری ذمہ دار تھے۔ اور میں بھی اپنی قوم کا ذمہ دار ہوں۔ لوگوں نے اقرار کیا کہ ٹھیک ہے‘‘۔
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے معاشرتی اور سیاسی معاملا ت کی ذمہ داریاں ان نقیبوں کو سونپی گئی تھیں۔لیکن سب سے اہم فریضہ جو یہ نقباء انجام دیتے تھے،وہ تربیت اورتہذیب نفس کافریضہ تھا۔یہ لوگ اپنے حلقہ اثر میں لوگوں کی اخلاقی تربیت اور تزکیۂ نفس کے لیے بھر پور جدوجہد کرتے تھے۔حضرت عبداللہؓ بن رواحہ،جو ان بارہ نقیبوں میں سے ہی ایک تھے، کی تربیتی مجلس مؤرخین کے ہاں ’’مجالس ایمان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت ابو درداءؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہؓ بن رواحہ کے انداز تربیت کو کبھی نہیں بھول سکتا ۔وہ جب مجھ سے ملتے تو بہت شفقت کے ساتھ میرے شانہ پر ہاتھ رکھ کر فرماتے:
یا عویمرؓ! اجلس فلنؤمن ساعۃ فنذکراللّٰہ ماشاء ثم یقول :یا عویمرؓ! ھذہ مجالس الایمان (۶۳)
’’میرے عزیز عویمرؓ! آؤ تھوڑی دیر بیٹھ کر ایمان تازہ کریں،پس ہم اللہ کا ذکر کرتے پھر وہ فرماتے: اے عویمرؓ !یہ ایمان کی مجالس ہیں‘‘۔
حضرت اسعد بن زرارہ نے اپنے آپ کو دعوت وتبلیغ کے لیے وقف کردیا۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں اشاعتِ اسلام اور دعوت وارشاد کاکام بڑی جدوجہد ،انتہائی خلوص اور جذبہ کے ساتھ کیا ،انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ مدینہ منورہ میں اسلام بہت تیزی کے ساتھ پھیل گیا ۔ابن ہشام کی روایت ہے کہ مدینہ میں جمعہ کا اہتمام بھی انہیں کے زیرنگرانی تھا اور وہی اس کے بانیوں میں سے تھے۔ (۶۴)
رافعؓ بن مالک بن عجلان بیعتِ عقبہ اولیٰ وثانیہ میں شامل تھے ۔یہ ہجرت کرکے رسول اللہﷺ کے پاس مکہ ہی میں رہتے تھے یہ پہلے شخص تھے جو مدینہ میں سورہ یوسف لے کر آئے۔ جب سورہ طہٰ نازل ہوئی تو انہوں نے اس سورت کو لکھااور مدینہ لے آئے اور پھر بنی زریق کو اس کی تعلیم دی۔ (۶۵)
ابنِ اثیر انصار کی ہمہ گیر اور بھر پور دعوتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فلما قدموا المدینۃ ذکروا لقومہم الاسلام ودعوہم الیہ ففشا فیہم فلم تبق دار من دورالانصار الا وفیھا ذکر من رسول اللّٰہﷺ۔ (۶۶)
’’جب وہ واپس مدینہ پلٹے تو اپنی قوم سے اسلام کا تذکرہ کیا اور ان کو اسلام کی طرف بلایاپس ان میں اسلام اس طرح پھیل گیا کہ انصار کے گھرانوں میں سے کوئی ایسا گھر نہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺکاذکر خیر نہ ہو‘‘۔
بیعتِ عقبہ سے پلٹنے والے انصارِ مدینہ نے دعوت کے کام کو بڑی عمدگی سے انجام دیا چنانچہ ان کی ہمہ گیر کوششوں کاہی یہ نتیجہ تھا کہ بہت جلد مدینہ کے ہر گھر میں رسول اللہﷺ کا ذکرِ خیر ہونے لگا۔ نقباء انصار اور دیگر مسلمانوں نے بھی فروغِ دعوت میں بھرپور حصہ لیا۔لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے حالات کے مطابق مختلف اسالیب دعوت اختیار کیے۔
ابن ہشام نے حضرت معاذؓبن عمرو،جو کہ خودبیعتِ عقبہ میں شامل تھے ،کی دعوتی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ ذکر کیاہے۔ حضرت معاذؓ بن عمرو کے والد عمرو بن الجموح بنو سلمہ کے سردار تھے اور بت پرستی کے مرض میں مبتلا تھے۔عرب میں چونکہ شرک کااصلی مظہر بت ہی تھے، اس لیے صحابہ کرامؓنے قبولِ اسلام کے بعد سب سے پہلے راہِ توحید سے اسی سنگ گراں کو دور کیا۔
عرب میں دستور تھا کہ سردارانِ قبائل خاص اپنے لیے بت بناتے تھے اور ان کو گھروں میں رکھتے تھے چنانچہ اسی روایت کے مطابق عمرو بن الجموح نے لکڑی کاایک بت بنواکر گھر میں رکھا ہواتھا۔جب نوجوانانِ بنو سلمہ یعنی حضرت معاذؓبن جبل اورمعاذؓ بن عمروبن الجموح نے اسلام قبو ل کیا تو ان دونوں حضرات نے فیصلہ کیا کہ ایسا اندازاختیار کیاجائے کہ نہ صرف عمروؓ بن الجموح بلکہ تمام لوگوں پر بتوں کی بے بسی اور کمزوری عیاں ہوجائے۔ چنانچہ یہ لوگ را ت کے وقت خفیہ طو رپر آئے اور اس بت کواٹھا کر بنی سلمہ کے ایسے گڑھے میں پھینک آئے جس میں لوگ گندگی وغیرہ پھینکتے تھے۔ عمرو بن الجموح صبح اٹھے،بت کو وہاں نہ پایا تو اس کی تلاش میں نکلے۔ اسے گندگی کے ایک ڈھیر پر پایا تو دھوکراور پاک صاف کرکے خوشبو لگاکر یہ کہتے ہوئے اس کو اسی جگہ پررکھ دیا کہ واللہ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کس نے تجھ سے ایسا کیا ہے تو میں اسے ضرور ذلیل کروں گا۔جب رات کااندھیرا چھاگیا تو ان پرجوش نوجوانوں نے بت کے ساتھ وہی سلوک دوبارہ کیا۔اسی طرح جب یہ واقعہ پے درپے ہوا تو ایک دن عمرو بن الجموح نے بت کے گلے میں تلوار لٹکادی اور کہا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ کون تجھ سے یہ معاملہ کررہا ہے اور تو بھی اسے دیکھ رہا ہے،اگر تجھ میں طاقت ہے تو خو د اپنی حفاظت کرلے ۔یہ تلوار بھی تیرے ساتھ ہے۔
رات کو یہ لوگ حسبِ معمول آئے اور بت کو تلوار سمیت ایک مردہ کتے کے ساتھ باندھ کر گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ صبح عمرو بن الجموح نے بت کو اس بری حالت میں دیکھا،اور ان کی قوم کے وہ لوگ جو مسلمان ہوچکے تھے، انہوں نے بھی ان کو سمجھایا،ان پرحقیقت آشکاراہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب انہوں نے اسلام قبو ل کرلیا۔ (۶۷) پھر بت کی بے بسی پر اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اظہارِتشکر کے طور پر چند اشعار کہے جن کو ابنِ ہشام نے نقل کیاہے۔3

حوالہ جات

(۴۷) الوثائق السیاسیۃ،ص:۱۰
(۴۸) ابن ہشام،العقبۃ الاولیٰ ومصعبؓ بن عمیر۲/۴۷۔۴۸
(۴۹) آرنلڈ،ٹی،ڈبلیو، ’’دعوتِ اسلام‘‘،ص:۲۷،محکمہ اوقاف،حکومتِ پنجاب،لاہور،۱۹۷۲ء
(۵۰) یٰسین مظہر صدیقی،پروفیسر،’’عہد نبوی کانظامِ حکومت‘‘ص:۹۴،الفیصل ناشران وتاجرانِ کتب اردو بازار 
لاہور،۱۹۹۵ء
(۵۱) ابنِ ہشام،اول جمعۃ اقیمت بالمدینۃ، ۲/۴۹۔۵۰ اسد الغابہ،تذکرہ مصعبؓ بن عمیر،۴/۳۶۹
(۵۲) السہیلی،ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبداللہ’’الروض الانف‘‘ فصل فی تجمیع اصحاب رسول اللہ ﷺ الجمعۃ...۱/۲۷۰
(۵۳) ابن ہشام،بد أ اسلام الانصار، ۲/۴۲۔۴۳ زاد المعاد ،۳/۴۵
(۵۴) ابنِ ہشام،بدأاسلام الانصار، ۲/۴۴
(۵۵) المسند ،حدیث عبادہؓ بن صامت،ح:۲۲۲۴۸،۶/۴۴۱ ایضاً........ح:۲۲۱۹۴،۶/۴۳۱۔۴۳۲
(۵۶) ابن ہشام،العقبۃ الاولیٰ ومصعبؓ بن عمیر،۲/۴۸
(۵۷) زاد المعاد، ۳/۴۷ اسد الغابہ،تذکرہ مصعبؓ بن عمیر،۴/۳۶۹
(۵۸) صحیح بخاری ، کتاب مناقب الانصار،باب مقد م النبی واصحا بہ المدینۃ ،ح:۳۹۲۵،ص:۶۶۲
ایضاً،کتاب التفسیر،سورۃ سبح اسم ربک الاعلیٰ،ح:۴۹۴۱، ص:۸۸۲۔ 
المسند،حدیث البراءؓ بن عازب، ح:۱۸۰۴۱، ۵/۳۶۰
(۵۹) ابن ہشام،امر العقبۃالثانیۃ،۲/۵۶۔۵۷
(۶۰) المسند ،مسند جابرؓ بن عبداللہ ، ح :۱۴۲۴۳، ۴/۹۲۷
(۶۱) ابنِ سعد ،ذکر النقباء الاثنی عشر رجلاً....۳/۶۰۳
(۶۲) البدایہ ، ۳/ ۱۶۲۔ ابن سعد ،ذکر العقبۃ الاخرۃ، ۱/۲۲۳
(۶۳) اسد الغابہ ، تذکرہ عبداللہؓ بن رواحہ ، ۳/ ۱۵۷
(۶۴) ابن ہشام ، اول جمعہ اقیمت بالمدینۃ ، ۲/۴۸
(۶۵) اسد الغابہ ، تذکرہ رافعؓ بن مالک بن عجلان ، ۲/ ۱۵۷ 
(۶۶) اسد الغابہ ، تذکرہ رافعؓ بن مالک بن عجلان ، ۲/ ۱۵۷۔ زادالمعاد،۳/۴۵
(۶۷) ابن ہشام ، قصہ عمروؓ بن الجموح ، ۲/ ۶۵۔ ۶۶

حواشی

  1. ابنِ سعدکی روایت میں رفاعہؓ بن عبدالمنذر کے بجائے ابوالہیثمؓ بن تیہان کا نام ملتا ہے۔ (ابنِ سعد ،ذکر العقبۃ الاولیٰ، ۱/۲۲۰)
  2. صاحب تاج العروس نے نقیب کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
’’النقیب شاھد القوم و راس ھم یفتش احوالھم و یعرفھا۔۔۔۔۔۔وقیل النقیب الرئیس الاکبر‘‘ ( الزبیدی ،محمد بن محمد الحسینی ،’’تاج العروس‘‘ ، فصل النون من الباب الباء ، ’’نقب ‘‘ ۱/ ۴۹۲،دارالفکر، بیروت)
’’نقیب قوم کا شاہد و سردار ہوتاہے ۔اس لیے وہ قوم کے حالات کی چھان بین کرتاہے اور ان کے حالات سے حکومت کو با خبر رکھتاہے ۔۔۔۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نقیب بڑا سردار ہو تا ہے۔‘‘
نقیب کی مزید وضاحت کرتے ہو ئے لکھتے ہیں :
’’وانما قیل للنقیب نقیب لا نہ یعلم دخلےۃ امر القوم ویعرف منا قبھم و ھو الطریق الی معرفۃ امور ھم‘‘ (ایضاً)
’’نقیب کو نقیب اس لیے کہا جاتاہے کیونکہ وہ قوم کے اندرونی حالات سے آگاہ ہوتاہے۔ ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے (حکومت ) کو متعارف کراتاہے اور قوموں کے حالات کو سمجھنے کا یہی طریقہ ہے ‘‘
نقباء کا ذکر ہمیں سابقہ اقوام میں بھی ملتاہے ۔قرآن حکیم نے بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے عہدمیں نقیبوں کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِےْثَاقَ بَنِیٓ اِسْرَآءِیْلَ وَ بَعَثْنَا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَنَقِےْبًا ( المائدہ ، ۵:۱۲)
’’اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ نقیب مقرر کیے ‘‘
  1. یہ اشعار حسب ذیل ہیں:
واللّٰہ لو کنت الٰھا لم تکن
انت و کلب وسط بئر فی قرن 
اف لملقاک الٰھا مستدن 
الاٰن فتشناک عن سوء الغبن
الحمد للّٰہ العلی ذی المنن
الواھب الرزاق دیان الدین 
ھوالذی انقذنی من قبل ان 
اکون فی ظلمۃ قبر مرتھن
’’اللہ کی قسم تو معبود ہو تا تو ایک گڑھے میں کتے کے ساتھ نہ پڑا رہتا ۔ باوجود معبود ہونے کے تیرے اس طرح پڑے رہنے پر تف ہے اب تیر ے متعلق رائے کی بدترین غلطی آشکاراہو گئی ہے ۔ ساری تعریف تو اللہ کے لیے ہے جو احسانات والا ، صاحب عطا،روزی دینے والا اور دین داروں کو جز اء دینے والا ہے ۔ وہی ذات ہے جس نے قبر کے اندھیرے میں پھنسنے سے پہلے ہی مجھے (کفرو شرک سے)بچا لیا ۔‘‘ (ابن ہشام ،قصہ عمروؓ بن الجموح ۲/ ۶۶۔۶۷)
(جاری)

دینی مدارس میں اصلاح کی مساعی: اصل توجہ طلب پہلو

حبیب الرحمن اعظمی

مدارس اسلامیہ کے ذریعہ برصغیر بالخصوص ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی بقا وترقی کا جو محیر العقول کام ماضی قریب میں انجام پایا، وہ تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب ہے۔ عالم اسباب میں اس کی صورت یہ ہوئی کہ ان مدارس نے مسلسل ملت اسلامیہ کو ایسے افراد اور رجال کار عطا کیے جو اپنی اپنی جگہ ایک ایک امت سے کم نہ تھے۔ ان نابغہ روزگار علما نے زندگی کے ہر میدان میں بھرپور کارگزاری کا مظاہرہ کیا، اخلاص وایثار کے ساتھ مسلمانوں کی دینی، ملی، سیاسی اور سماجی ضرورتوں کو پورا کیا اور پچھلی صدی کے زبردست سیاسی وتہذیبی طوفان کے درمیان سے برصغیر کے مسلمانوں کا سفینہ پوری احتیاط اور دانش مندی سے نکال کر لے گئے۔ فجزاہم اللہ عنا وعن سائر المسلمین
مسلمانوں کے مردم ساز اداروں کی اس تاریخی خدمت کو جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے، ]کم ہے[ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے مردم سازی کا یہ کام توقع کے مطابق پورا نہیں ہو رہا ہے اور امت مدارس کی کثرت کے باوجود ان دینی وملی فوائد سے بڑی حد تک محروم ہے جو اس کو ماضی میں مدارس کی قلت کے باوصف مہیا رہے ہیں۔ ملت کے ہوش مند اس غم ناک صورت حال سے تشویش محسوس کر رہے ہیں اور اپنے اپنے نقطہ نظر سے ان خامیوں اور کمزوریوں پر غور اور ان کی تلافی کی راہیں تلاش کر رہے ہیں جن کے سبب یہ سانحہ پیش آ رہا ہے۔ 
ایک نقطہ نظر کا حاصل یہ ہے کہ نصاب تعلیم ان ضرورتوں کو پورا نہیں کر رہا ہے جنہیں عصر حاضر اپنے جلو میں لے کر آیا ہے اور اس سے وہ ذہن سازی نہیں ہو پاتی جو عصر حاضر کے چیلنج کا جواب بن سکے اس لیے اس نقطہ نظر والوں کی تمام ذہنی توانائیاں نصاب تعلیم میں ترمیم وتبدیل، حذف واضافہ پر صرف ہو رہی ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ اساتذہ میں جوہر علم منتقل کرنے کی وہ صلاحیت باقی نہیں ہے جو ماضی میں موجود تھی۔ ان میں کردار کا وہ مقناطیس نہیں جو افراد کو اپنی طرف جذب کر لے۔ ان کے دلوں میں حسن نیت اور اخلاص کی وہ لو نہیں ہے جس سے دوسرا چراغ روشن ہو سکے۔
کسی کے نزدیک اس صورت حال کا سرچشمہ خود طلبہ کی کمزوریاں ہیں۔ ان میں طلب صادق نہیں جو منزل کی رہنمائی کے لیے ضروری ہے۔ وہ ذوق تشنگی نایاب ہے جو آب حیات کی طرح گامزن کر دے۔ وہ جذبہ اخلاص نہیں جو علم کی خاطر شمع کی طرح پگھلنے کی کیفیت پیدا کرتا رہے۔
ایک جماعت کے نقطہ نظر کے مطابق اس صورت حال کی ذمہ داری مدارس اسلامیہ کے ماحول پر عائد ہوتی ہے کہ مدارس میں وہ ماحول باقی نہیں رہا جو خوش گوار موسم کی طرح غنچوں میں زندگی اور شادابی کی روح پھونکتا رہتا ہے اور بہاریں خود سمٹ کر ان کا جزو حیات بن جایا کرتی تھیں۔
یہ تمام اسباب وعوامل یقیناًکسی نہ کسی درجہ میں موجود ہیں جن سے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن اسی کے ساتھ واقعہ یہ ہے کہ یہ مرض کی صحیح ومکمل تشخیص نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ کردار اور شخصیت سازی کی وہ سعی ومحنت باقی نہیں رہی جو حضرات اکابر کا طرۂ امتیاز رہی ہے۔ موجودہ انحطاط کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ افراد سازی کی مہم سے غفلت برتی جا رہی ہے۔ عرصہ دراز سے فضلاء مدارس کو ان کی صلاحیت وحیثیت کے مطابق مشغلے نہیں دیے جا رہے ہیں بلکہ ہر نوعمر فاضل کو خلاء بسیط میں اس طرح آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے جس کو کنٹرول کرنے والی کوئی طاقت موجود نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خلا میں گردش کرتا ہوا کسی ایسی سمت نکل جاتا ہے جہاں اس کی تمام علمی وفکری توانائیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ حضرات اکابر ہر سال کے فضلا پر گہری نظر رکھتے تھے اور ان کو حسب صلاحیت تدریسی، تصنیفی، ملی اور سماجی خدمات پر مامور فرما دیتے تھے۔ اس طرح صالح اور کارآمد عناصر کی تربیت کا کام انجام پاتا رہتا تھا۔ حضرت شیخ الہند اور حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی رحمہما اللہ کے طریق تربیت کو اس کی نظیر میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان دونوں بزرگوں نے کس کس طرح افراد کی تربیت کی اور فضلا کی صلاحیتوں کو صحیح سمت دینے کے لیے کس طرح ان پر نظر رکھی۔
اب صورت حال یہ ہے کہ مدارس دینیہ کی سرزمین پر جو نہال تازہ لگتا ہے، یا تو جامعہ طبیہ وغیرہ میں اس کا قلم لگا دیا جاتا ہے یا معاشی استحکام کی طمع اس کو ہندوستان کے عصری اداروں اور عرب کے جامعات وغیرہ میں کھینچ لے جاتی ہے اور ہمارے یہاں پیدا ہونے والا ایک ایک جوہر قابل اپنی صلاحیتوں کو دوسرے میدانوں میں منتقل کر دیتا ہے اور ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔
بہتر ہوگا کہ مدارس کے ذمہ دار اکابر ماضی کے صرف بیس سال کا تفصیلی چارٹ تیار کرائیں اور یہ دیکھیں کہ مدارس سے نکلنے والے جم غفیر میں جوہر قابل کتنے تھے؟ پھر یہ کہ ان میں کتنے فضلا جامعہ طبیہ کی نذر ہو گئے، کتنوں نے اپنا سفینہ جدید تعلیم کے طوفان میں ڈال دیا اور کتنے عرب جامعات وغیرہ کی طرف پرواز کر گئے اور کتنے ایسے ہیں جو ہندوستان کے مسلمانوں کی علمی، دینی، ملی خدمت کا کام انجام دے رہے ہیں؟ پھر یہ کہ جو خدمت بخت واتفاق سے ان کے سپرد ہو گئی ہے، کیا وہ ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہے؟ نیز ہندوستان کے مسلمانوں کی خدمت میں مصروف فضلا واقعتا یہ کام خدمت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں یا ایسی مجبوریاں آ گئیں کہ وہ زندگی کا رخ اور نہج تبدیل نہ کر سکے؟
ہمیں یقین ہے کہ اس طویل مدت میں معدودے چند فضلا ہی امت کے ہاتھ آئے ہوں گے اور وہ بھی ایسی جگہوں پر اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر رہے ہوں گے جو ان کے لیے موزوں نہیں۔ بس یہی ایک سب سے بڑی وجہ ہے کہ امت ان مدارس کے صحیح فائدے سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
اس اندوہ ناک صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مردم سازی کی مہم بڑے اہتمام سے شروع کر دی جائے۔ مدارس دینیہ سے فارغ ہونے والے باصلاحیت نوجوانوں کا انتخاب، پھر ان کی صلاحیت کے مطابق کاموں کی تفویض اور نگرانی ہی دراصل اس صورت حال کو ختم کر سکتی ہے، ورنہ اگر نصاب تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کی خامیاں اور مدارس کا ماحول ہی پیش نظر رہا اور اصلاح کا سارا زور بس اسی جانب صرف کیا جاتا رہا تو اس سے صورت حال میں کسی خاطر خواہ بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کتنا اچھا ہو کہ مدارس کے ذمہ دار بالخصوص بڑے مدارس کے ارباب حل وعقد اس طرف توجہ دیں اور امت کے اجڑے ہوئے گلستاں میں پھر وہی بہاریں خیمہ زن ہو جائیں جن کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’دار العلوم‘‘ دیوبند)

خواب جو بکھر گیا! ’طالبان‘ کی شکست کے اسباب وعوامل کا ایک جائزہ

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

اس دنیا میں کامیابی اور ناکامی کے اصول وقوانین ہر کسی کے لیے یکساں ہیں۔ مومنین کو کامیابی حاصل کرنا ہو، تب اور غیر مومنین اس کے خواہاں ہوں، تب۔ دونوں کو انہیں قواعد کی راہ سے گزرنا ہوگا جو اس عالم کے خالق نے متعین فرما دیے ہیں اور تجربات کی روشنی میں وہ ہر دانا وبینا پر واضح ہو چکے ہیں۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس ارادے اور اعلان کے ساتھ ہوئی کہ آپ کے ذریعہ دین حق کا بول بالا دنیا میں کیا جائے گا اور کفار ومشرکین خواہ کتنا ہی زور مخالفت میں لگائیں، اللہ کا یہ ارادہ پورا ہی ہو کر رہے گا۔ (ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون ۔ سورۃ الصف) لیکن سیرت طیبہ کا مطالعہ صاف طور پر بتاتا ہے کہ حضرت حق کا یہ مبارک ارادہ بھی ان تمام اسبابی مراحل سے گزر کر ہی تکمیل کو پہنچا جو اسبابی مراحل اس دنیا میں انجام پانے والے کاموں کی تقدیر بنا دیے گئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے وہ ۲۳ سال جو اس مشن کے لیے جدوجہد میں صرف ہوئے، ان میں جو مشقتوں اور آزمائشوں کا ایک سلسلہ ہے جس کا تار کہیں ٹوٹتا نظر نہیں آتا، وہ نتیجہ دنیا کے اسی اسبابی قانون ہی کا تو تھا ورنہ کام اللہ تعالیٰ کا اپنا تھا اور وہ جو چاہتے، سب اختیار میں تھا۔
کفر واسلام کی اس کشمکش کے سلسلے میں اہل ایمان کا ذہن اس بے لاگ قانون وسنت الٰہی کی بابت بالکل صاف رکھنے کے لیے غزوۂ احد کے موقع پر جبکہ مسلمان ایک ناگہانی آفت شکست سے دوچار ہو گئے تھے، اس قانون کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ اس باب میں تم میں اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔ وتلک الایام نداولہا بین الناس (یہ ہار جیت کی باری ان چیزوں میں سے ہے جس کی ہم لوگوں کے بیچ لوٹ پھیر کرتے رہتے ہیں۔ آل عمران ۳: ۱۴۰) یعنی اپنے ایمانی امتیاز کے باوجود تم بھی اسی طرح منجملہ ’’الناس‘‘ ہو جیسے تمہارے مقابل۔ اور ’’الناس‘‘ کے لیے ہمارا قانون عام یہی ہے۔ ہاں آخرت کے اعتبار سے بھرپور فرق ہے کہ ترجون من اللہ ما لا یرجون (تمہیں اس چیز کی امیدواری کا حق ہے جس کے وہ (دوسرے لوگ) امیدوار نہیں ہو سکتے۔ النساء ۴:۱۰۴)
علاوہ اس کے کہ یہ قانون وسنت الٰہی ہے ہی عام، اس میں اگر اہل اسلام کے لیے کوئی استثنائی صورت پیدا کر دی جاتی اور کلمہ اسلام کا غلبہ معجزانہ طور پر ہوتا تو پھر ایمان لانے والوں کا ایمان پوری طرح ایمان بالغیب کہاں رہتا؟ جب کہ ایمان کی تو جان ہی وہ ہے! بالفاظ دیگر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہرگز نہیں چاہا کہ لوگ آزادانہ اختیار کے بجائے کسی دباؤ میں ایمان لاویں ورنہ وہ فرماتے ہیں کہ ان نشا ننزل علیہم من السماء آیۃ فظلت اعناقہم لہا خاضعین (ہمارے لیے تو ذرا بھی مشکل نہ تھا کہ آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھکی ہی رہ جائیں۔ الشعراء ۲۶: ۴) سورہ شعراء کی یہ آیت آنحضرت ﷺ کو بایں الفاظ خطاب کرتے ہوئے نازل ہوئی ہے کہ لعلک باخع نفسک ان لا یکونوا مومنین (لگتا ہے کہ تم اس غم میں جان ہی دے ڈالو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے! ۲۶: ۳) نیز ایک اور بھی ایسی ہی بڑی مصلحت استثنائی صورت پیدا نہ کرنے میں یہ تھی کہ یہ پودا پھر آپ کے بعد (معاذ اللہ) زیادہ دن تک ہرا نہیں رہ سکتا تھا اس لیے کہ ساتھیوں کی کوئی تربیت ہی اس کی خاطر جدوجہد کی نہ ہو سکی ہوتی۔ اسی کو سورۂ محمد میں کفار کی چیرہ دستیوں کے مقابلے میں جنگ آزمائی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ولو یشاء اللہ لانتصر منہم ولکن لیبلو بعضکم ببعض (اللہ اگر چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (اس کے بجائے تمہیں نپٹنے کا یہ حکم اس لیے دیا) تاکہ ایک کو دوسرے سے آزمائے۔ آیت ۵) پس اس قانون عام کے تحت ہر قسم کی جدوجہد لازم ہونے سے اصحاب کرام کے دلوں میں دین نے وہ جڑ پکڑی کہ نظام عالم بدل ڈالا اور زمانے میں اسی جدوجہد کے لیے جذبے کی امنگ قیامت تک کے لیے چھوڑ گئے۔ رضی اللہ عنہم
الغرض، اس دنیا میں مقاصد کی کام یابی کے لیے جو عام اصول وقانون ہیں، وہ سب کے لیے یکساں ہیں اور ان اصول وقوانین میں صرف محنت ومشقت اور جانبازی وجاں سپاری ہی نہیں، حالات او ر ماحول کا مطالعہ بھی ہے۔ ان کے ناموافق عنصر کو اپنے حق میں ڈھالنے یا ان کے بیچ میں سے اپنی راہ نکالنے کے لیے حکمت وتدبر بھی ہے اور ناگزیر صورتوں میں سمجھوتہ بھی۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت پاک میں ہمیں ان سب چیزوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ دعوت حق کی راہ میں شبانہ روز جدوجہد اور مخالفتوں اور اذیتوں کا تحمل، یہ تو تیرہ سالہ مکی زندگی کی وہ مسلسل کہانی ہے جس سے ہر دین آشنا مسلمان کم وبیش واقف ہے۔ البتہ اس دردناک کہانی کا ایک پہلو ایسا ضرور ہے کہ کم ہی ذکر میں آتا ہے۔ مناسب ہے کہ اس کی طرف اشارہ یہاں ہی کر دیا جائے۔ یہ وہ پہلو ہے جو طائف کی الم ناک کہانی کے بعد سامنے آتا ہے۔ طائف کی طرف آپ نے اس وقت رخ کیا تھا جب چچا ابو طالب انتقال فرما گئے اور مکہ والوں کے لیے کوئی روک اب آپ پر دست درازی سے نہ رہی۔ پر طائف کی سیہ بختی نے آپ کو لہولہان کر کے مکہ ہی میں لوٹ جانے پر مجبور کیا۔ یہاں سے آنحضرت ﷺ کا سارا زور حج کے لیے آنے والے عرب قبائل کی طرف متوجہ ہوا۔ آپ ایک ایک کے خیمے پر تشریف لے جاتے، دین حق کی دعوت پیش کرتے اور اس کے قبول میں ظاہر ہے بڑا پس وپیش سامنے آتا ہوگا۔ تب آپ صرف اس بات کے بھی طالب ہوتے کہ کوئی قبیلہ آپ کو اسی طرح کی اپنی حفاظت میں اپنے ساتھ لے جائے جیسی حفاظت آپ کو خواجہ ابو طالب کی سرپرستی میں حاصل تھی تاکہ آپ دعوت کا کام کر سکیں۔ اللہ اکبر! اللہ کا محبوب نبی اللہ کے دین کی دعوت جاری رکھ سکنے کے لیے بالکل اسی طرح غیر اللہ کی حفاظت کا طلبگار بنایا جا رہا ہے جیسے کسی دنیوی مشن کے لیے صاحب مشن کو اگر ضرورت ہوگی تو وہ یہ کرے گا۔ لیکن حضور رسالت مآب سے اگر یہ عملی نمونہ قائم نہ کرایا گیا ہوتا تو بعد والوں کو دین کے لیے ذات کو مٹانے کا حوصلہ کہاں سے ملتا؟ اللہم صل علی عبدک ونبیک صلوۃ وسلاما دائمین متلازمین الی یوم الدین۔
مکہ کے اس تیرہ سالہ دور کے بعد مدنی زندگی آئی اور کفار مکہ کے سراپا ظلم وجبر کے ماحول سے نجات پا کر آزادی کی فضا میں سانس لینا میسر آیا تو یہاں اس آزادی کے تحفظ کے لیے جہاں تلوار اٹھانا ناگزیر ہوا، وہاں حکمت وتدبر کے تقاضوں سے وہ تمام سیاسی اقدامات بھی ہوئے جو اس دنیا میں مخالفوں سے نپٹنے اور مخالفتوں کو توڑنے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے یہود مدینہ سے یکجہتی کا معاہدہ کیا۔ پھر ایک وقت آیا تو مشرکین مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کی وہ دستاویز لکھی گئی کہ ایک سیدنا ابوبکر صدیق کے علاوہ کسی مسلمان کے حلق سے نہیں اتر رہی تھی۔ صلح کی اکثر شرطیں وہ تھیں جن میں کفار کا ہاتھ اوپر اور مسلمانوں کا نیچے نظر آتا تھا مثلاً مسلمان جو کہ عمرہ کی نیت سے گئے تھے اور چھ برس سے اس کے لیے ترسے ہوئے تھے، انہیں بغیر عمرہ کیے عین مکہ کی اس سرحد سے واپس جانا تھا۔ مکہ میں جو مظلوم مسلمان اپنے کافر خاندان کے ہاتھوں میں قید پڑے تھے، وہ اگر کسی طرح موقع پا کر مدینہ کو نکل جائیں تو مکہ والوں کے مطالبے پرانہیں واپس کیے جانے کی بھی شرط تھی جبکہ مدینہ سے خدا نخواستہ کوئی مرتد ہو کر یا مزید کوئی اور جرم بھی کر کے مکہ کو بھاگ آئے تو اس کی واپسی کے مطالبے کا حق مسلمانوں کے لیے نہیں تھا۔ اور آخری درجہ کی بات یہ کہ ابھی دستاویز لکھی ہی جا رہی تھی یعنی معاہدہ ابھی ہو انہیں تھا کہ ایک نوجوان مظلوم مسلمان کسی طرح اپنی ہتھکڑیوں بیڑیوں میں گرتا پڑتا حدیبیہ میں آپہنچا کہ مسلمان اسے اس عذاب سے نجات دلا دیں۔ موقع پر مسلمان اس پوزیشن میں تھے کہ نوجوان کو اپنی حفاظت میں لے سکتے تھے مگر فریق ثانی بضد ہوا کہ اسے آپ اپنی تحویل میں نہیں لے سکتے ہیں ورنہ معاہدہ نہیں ہوگا۔ یہ قطعی بے جا ضد بھی قبول کی گئی تاکہ معاہدے کی تکمیل میں رکاوٹ نہ پڑے حالانکہ وہ نوجوان فریاد کرتا تھا کہ ہائے یہ کیا ستم ہے، مجھے ان بھیڑیوں کے ہاتھ میں واپس دیا جا رہا ہے۔ یہ اس قدر دب کر کی جانے والی مصالحت اگر نتیجے کے اعتبار سے ’فتح مبین‘ ثابت ہوئی، جیسا کہ قرآن پاک نے مسلمانوں کی بے چینی اور بد دلی کو دور کرنے کے لیے فوراً ہی اس کے ’’فتح مبین‘‘ ہونے کا مژدہ سنا دیا تھا، مگر ظاہری طور پر تو یہ ویسی ہی دب کر کی جانے والی صلح تھی جیسی نظر آ رہی تھی۔ البتہ ہوش وخرد کی زبان میں ایک سیاسی دور اندیشی اور تدبر کے ماتحت اختیار کی جانے والی محض ایک وقتی پسپائی تھی۔
یہ ہجرت مدینہ کے چھٹے سال کی بات ہے۔ اس سے ایک سال پہلے (ہجری ۵ میں) قریش مکہ اور خیبر کے یہود نے دوسرے مشرک عرب قبائل کو ملا کر مدینہ پر چڑھائی کی۔ اس واقعہ کو غزوہ احزاب اور غزوہ خندق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ احزاب کے لفظ سے اشارہ ہے دشمن کے مختلف گروہوں پر مشتمل ہونے اور خندق کا لفظ ان کے مقابلے کی دفاعی تدبیر کو بتاتا ہے جو کہ مدینے میں ان کے داخلے کو مشکل بنانے کے لیے ایک خندق کھود کر اختیار کی گئی تھی۔ یہ عرب بھر کے تمام دشمنوں کی ایک ساتھ ہو کر بڑی شدید یلغار تھی۔ دس بارہ ہزار کی جمعیت تھی جس نے مدینے پر چڑھ کر اسلام کی جڑیں کھود ڈالنے کی ٹھانی تھی اور اس کے چڑھ آنے سے مسلمان اس درجے کی آزمائش میں مختلف پہلوؤں سے مبتلا ہوئے تھے کہ قرآن پاک نے اس سے نجات دلانے کا ذکر کرتے ہوئے ان الفاظ میں اس کا نقشہ کھینچا ہے:
اذ جاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر وتظنون باللہ الظنونا ہنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (الاحزاب ۳۳: ۱۰، ۱۱)
’’اور وہ وقت یاد کرو جب آئے وہ تمہارے اوپر کی سمت سے بھی اور نیچے سے بھی، اور جب آنکھیں (مارے دہشت کے) پھٹیں اور کلیجے آگئے منہ کو۔ اور گمان تمہیں آنے لگے تھے طرح طرح کے، اللہ کے حق میں۔ یہ وقت تھا کہ مومن ہلا ڈالے گئے تھے بری طرح۔‘‘
خندق کی تدبیر نے دشمن کو اندر آجانے سے تو روک دیا لیکن وہ آسانی سے واپس جانے کو بھی کیسے آمادہ ہو سکتا تھا؟ تقریباً مہینہ بھر محاصرہ رہا، اور ساتھ ہی پشت کی طرف سے یہودی قبیلے بنی قریظہ کی طرف سے بد عہدی کا خطرہ بھی نمودار ہو گیا تھا۔ پس اس مہینہ بھر کے طویل عرصے میں مسلمانوں کو اپنی قلت تعداد، پھر سخت سرد موسم، نیز معاشی تنگ حالی کے ساتھ ہمہ وقت پہرہ چوکی کی مشقت نے اس حال کو پہنچا دیا تھا جس کا حوالہ قرآن پاک نے مذکورہ بالا آیت میں دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا شفیق ومہربان دل اپنے وفادار ساتھیوں کی اس حالت سے جتنا بھی پریشان ہوتا، کم تھا۔ آپ نے یہ اندازہ کرتے ہوئے کہ دشمن بھی لاحاصل محاصرہ کی طوالت سے تنگ آرہا ہوگا، ان کے تین میں سے ایک اس گروہ کو توڑنے کی تدبیر کا ارادہ فرمایا جس کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا کہ اس کی شرکت کا اصل محرک اسلام دشمنی نہیں بلکہ مال غنیمت ہونا چاہیے چنانچہ آپ نے اس پیشکش کے ساتھ اس سے سلسلہ جنبانی کی کہ وہ اگر باقی دو گروہوں کا ساتھ چھوڑ جائے تو مدینے کی کھجوروں کی فصل کا ایک تہائی اس کے عوض میں اس کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ گروہ قبیلہ بنو غطفان تھا۔ حضور ﷺ کا اندازہ صحیح نکلا۔ یہ راضی ہونے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے انصار مدینہ کے سرداروں کو مشورہ کے لیے طلب فرمایا اس لیے کہ مال تو انہیں کاتھا مگر یہ پیش کش جس کے لیے اللہ کے حبیب ﷺ نے اپنے آپ کو راضی کرنے میں حرج نہیں سمجھا، اس پر آپ کے غلام ان سرداروں کا جواب کیا تھا؟ عرض کیا یا رسول اللہ، اگر آپ کو یہ بات پسند ہے تو سر آنکھوں پر اور اس سے بڑھ کر اگر حکم الٰہی ہے تو پوچھنا ہی کیا؟ لیکن اگر یہ کچھ نہیں بلکہ آپ محض ہماری خاطر اس حد پہ جانا قبول فرما رہے ہیں تو یا رسول اللہ، آج تو ہم آپ کی غلامی کی عزت کے تاج دار ہیں، کل جب کہ ہم انہیں بنو غطفان کی طرح بتوں کے پجاری تھے، ایسی بات کاتو یہ اس زمانے میں بھی خواب نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ہمارا مال یہ مہمان بن کے کھا سکتے تھے یا پھر خریدار بن کے۔ انصاری سرداروں کے اس جواب پر یہ تجویز قدرتی طور پر داخل دفتر ہو گئی اس لیے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے یہ بات صرف تم لوگوں کی پریشانی دور کرنے کے لیے سوچی تھی ورنہ مجھے نہ ذاتی طور پر یہ پسند ہو سکتی تھی نہ ہی اللہ کا کوئی حکم تھا۔
الغرض جو بات سرور عالم ﷺ کے غلام ازراہ غیرت سوچ نہیں سکتے تھے، اسے آپ ازراہ سیاست کر گزرنے کی گنجائش ایسے غیرت مند فداکاروں کی موجودگی میں بھی پاتے تھے جیسا کہ یہی صلح حدیبیہ میں بھی ہوا۔ حالانکہ وہی آپ تھے کہ مکہ کی بے نوایانہ ومظلومانہ زندگی تھی،خواجہ ابو طالب کا سایہ بھی سر سے اٹھ چکا تھا۔ حج میں آنے والے قبائل کے خیموں پر اس مقصد سے گشت فرماتے کہ کوئی آپ کا اور آپ کی اسلامی دعوت کا محافظ بن جانا قبول کر لے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے لیکن کسی نے اگر اس کی قیمت میں سوائے احسان مندی کے کوئی دنیاوی وعدہ مانگا تو شدید حاجت مندی کے اس حال میں بھی صاف انکار فرما دیا اس لیے کہ یہ معاملہ جذبہ احسان وخلوص کا طالب تھا، سودے بازوں سے بات نہیں بن سکتی تھی۔ ہاں، جہاں موقع حریفوں کے ساتھ سیاست کے تقاضے برتنے کا آیا، وہاں اگر حالات کا تقاضا پیچھے ہٹنے اور دب جانے کا ہے، تو آپ ﷺ کو ایسا کرنے سے کبھی یہ خیال مانع ہوتا ہوا نہیں ملتا کہ آپ تو فرستادۂ خدا ہیں، اور دنیا کو کہہ سنایا جا چکا ہے کہ آپ کے ذریعہ کلمہ حق کو غالب ہونا ہے اور کفر کو نامراد وخوار، پس دبنا اور ہٹنا حریف ہی کو ہوگا۔
حریفوں کے ساتھ معاملت میں سیاست کے تقاضوں اور احوال وظروف کی رعایت میں یہ واقعہ بھی جس کا ہمارے یہاں کافی تذکرہ ہوتا رہتا ہے، بھول جانے کا نہیں ہے کہ ایک غزوہ (غزوہ بن المصطلق) میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جو لشکر تھا، ا س کے دو افراد ( ایک مہاجر اور ایک انصاری) میں شیطان کی فتنہ انگیزی سے ایک ناخوش گوار صورت پیدا ہو گئی تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے چاہا کہ اس موقع کو انصار ومہاجرین کے درمیان مکمل فتنے میں بدل ڈالے۔ اس نے انصار کو بھڑکانے کے لیے کہا کہ یہ ہمارا اپنا قصور ہے کہ یہ مکہ سے آئے ہوئے ہمارے سر چڑھ گئے ہیں، لیکن اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ’’اب جو عزت والا ہے، وہ ذلت والوں کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔‘‘ ایک انصاری نوجوان نے یہ کلمہ کفر حضور ﷺ کو پہنچایا تاکہ آپ اس فتنہ انگیزی کا مناسب سدباب کریں۔ حضرت عمر فاروق کو علم ہوا، اذن چاہی کہ اس واجب القتل کو قتل کریں۔ سرکار دو عالم نے فرمایا: لوگ کہیں گے ’’محمد اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر تا ہے۔‘‘ دنیا کیا کہے گی؟ اس کو بھی ملحوظ رکھنے کی اس سے بڑی اور کون سی مثال سیرت میں تلاش کرنے کو رہ جاتی ہے؟ ابن ابی کی طرف منسوب کی گئی یہ بات وہ تھی جس کو قرآن پاک نے بھی نہایت پر غیظ انداز میں بیان فرمایا۔ (سورۃ المنافقون ۶۳: ۸) مگر اللہ کے رسول ﷺ نے اہل ایمان کا غیظ ٹھنڈا کیا کہ اسلام کی مصلحت اس غیظ کو پی جانے ہی میں تھی! اور یہ ایک دن کی غیظ نوشی تھوڑا ہی تھی، مدینہ کے پورے دس سالہ عرصہ میں ان منافقین کی پیہم شرارتوں کے باوجود انہیں برداشت ہی کرنے کا حوصلہ دکھایا گیا۔ 
مختصر یہ کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لیے بھی اس سے چارہ نہیں رکھا کہ وہ اپنی رسالت کا مشن پورا کرنے کے لیے عالم اسباب کے وہ تمام طریقے عمل میں لائیں جو اس عالم کے اصول وقوانین کی رو سے کسی بھی مقصد ومدعا کی تکمیل کے لیے معروف ہیں اور اللہ کی خصوصی مدد کی امید بھی اسی طرز عمل کے پردے میں رکھیں۔ بدر میں مدد آئی تو وہی سب کچھ کرنے کے بعد جو بندے کے بس میں تھا۔ اور غزوہ خندق میں مدد آئی تو وہ بھی لگ بھگ ایک مہینہ تمام پاپڑ بیلنے کے بعد۔
آمدم بر سر مطلب۔ ۸/ اکتوبر ۲۰۰۱ء (مطابق ۲۰ رجب ۱۴۲۲ھ) کو جب امریکہ نے طالبان کی حکومت ختم کرنے کے لیے افغانستان پر حملے کا آغاز کیا تو اس کے بھی روس ہی کی طرح خوار ہو کر نکلنے کا خواب دیکھنے والے بے گنتی لوگوں میں ایک یہ راقم الحروف بھی تھا حالانکہ یہ ان میں سے نہ تھا جو طالبان کے طرز حکومت سے پوری طرح راضی ہوں۔ پھر بھی ایک طرف ایک جہاد پیشہ لوگوں کی اسلامی حکومت اور دوسری طرف بظاہر بالکل ایک بے جواز حملہ۔ اس لیے اس خواب کا پوری طرح جواز نظر آرہا تھا مگر جب رمضان مبارک کا اختتام ہوتے ہوتے یہ خواب بالکل الٹا ہو کر سامنے آیا تو اس جھٹکے سے ذہن کو تلاش ہوئی کہ خواب دیکھنے میں غلطی کیا تھی؟ اسی تلاش سے خیالات کا یہ سلسلہ ذہن میں قائم ہوا جو اوپر کی سطروں میں رقم ہوئے اور اس کے بعد ذہن جس نتیجہ پرمطمئن ہوا، وہ یہ تھا کہ غلطی اسی قسم کی تھی جس قسم کی خام خیالیوں کے ماتحت بنی اسرائیل نے خود کو (قرآن پاک کے بیان کے مطابق) اللہ کے ’ابناء واحباء‘ ٹھیرا لیا تھا اور زعم باندھ لیا تھا کہ ہمیں تو نار جہنم مشکل سے چھوئے گی۔ ہمیں قرآن پاک کی یہ آیتیں اور سیرت پاک کے یہ اوراق تو یاد نہیں رہے ہیں جن کی طرف اوپر کی سطروں میں کچھ اشارات کیے گئے ہیں۔ اس کے بجائے جو یاد رہ گیا، وہ حضرت علی مرتضیٰ، خالد بن ولید، عمرو بن العاص، طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی (رضی اللہ عنہم) کے نعرہائے اللہ اکبر، ان کی شمشیروں کی چمک دمک اور قدم چومتی ہوئی فتوحات ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں بس گیا ہے کہ اس نعرۂ ایمانی کے سامنے کفر کو بس سرنگوں ہی ہونا ہوگا اور یہ ایسا جما ہے کہ صدیوں سے ’ترشی‘ کی پیہم خوراکیں بدقسمتی ہمیں دے رہی ہیں مگر اس کے جماؤ میں فرق نہیں آتا۔ جب بھی کسی نئی آزمائش کے بادل جمع ہوتے ہیں،ہمارے ذہنوں میں شعر رقصاں ہو جاتا ہے:
آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے 
کیا کسی کوپھر کسی کا امتحاں مقصود ہے؟
اور جب نتیجہ امتحان میں ’فیل‘ ہونے کا نکلتا ہے تو زبان پر آئے نہ آئے، دلوں میں ضرور علامہ اقبال (غفر اللہ لہ) والے شکووں کا گزر شروع ہو جاتا ہے:
خندہ زن کفر ہے، احساس تجھے ہے کہ نہیں؟ 
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں؟

آئے عشاق، گئے وعدۂ فردا لے کر 
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
خدا معلوم کتنوں کے دلوں سے نکل کر زبان پر بھی ایسی بات افغانستان کے اس المیہ پر آگئی ہو۔ متعین طور سے دو ایسے شکووں کی روایت تو ایسے ثقہ اور نہایت معروف ذی علم راوی سے براہ راست سننے میں آئی کہ شبہے کی گنجائش نہیں اور ان دو متعین روایتوں کے علاوہ ہمارے اسلامی رسائل وجرائد میں اس سانحہ پر لکھے گئے مضامین سے تو صاف شہادت مل رہی ہے کہ اس موقع پر مایوسی نے عام مسلمانوں کے ایمان کو ایسی سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے کہ ان کی مایوسی دور کرنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ کوئی بھی ممکن طریقہ بچا کے نہ رکھا جائے۔ اس پس منظر میں مناسب معلوم ہوا ہے کہ اپنی ذاتی مایوسی دور کرنے والی جو باتیں ذہن میں آئیں، انہیں اپنے ہی تک محدود رکھنے کے بجائے دوسروں تک پہنچ جانے دیا جائے، شاید کچھ دلوں کے لیے اس میں تسلی کا زیادہ سامان ہو اور آئندہ ایسی مایوسیوں سے بچانے کا ذریعہ بھی بن جائے۔ اپنے ذہن کی باتوں کا حاصل، جیسا کہ اوپر آ چکا، یہ تھا کہ غلطی خود خواب اور خواب دیکھنے ہی کی تھی۔ کیوں یہ خواب غلط تھا کہ ان شاء اللہ امریکہ بھی افغانستان سے ایسے ہی رسوا ہو کر نکلے گا جیسی رسوائی سے نکلنا روس کے حصے میں آیا تھا؟ کیوں نہیں یہ خواب دیکھنا صحیح تھا؟
اولاً اس لیے کہ روسی یلغار اور امریکی یلغار کے حالات میں زمین وآسمان کا فرق تھا۔ روسی یلغار کے موقع پر پاکستان تو فوراً ہی پشت پر آکھڑا ہوا تھا، پھر امریکہ بھی اپنی روس دشمنی میں موقع سے فائدہ اٹھانے کوبھرپور کمک لے کے آپہنچا۔ سعودی عرب اور امارات وغیرہ نے مالی مدد کا محاذ سنبھالا جبکہ اس دفعہ پاکستان نے ناتا ہی نہیں توڑ لیا، وہ حملہ آور امریکہ کا خیمہ بردار بن گیا۔ پھر ان دونوں کارخ دیکھ کر عربوں نے بھی سلام کر لیا۔ شمالی اتحاد کے نام سے آستین میں ایک سانپ پہلے ہی سے پلا بیٹھا تھا جسے برابر میں لگے ہوئے ایران علیٰ ہذا تاجکستان جیسی سابق روسی ریاستوں ہی کی حمایت حاصل نہیں تھی، بھارت کی حمایت بھی تھی اور یورپ کی حمایت بھی۔ پس عالم اسباب کے حالات تو یہ سمجھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ طالبان اس دفعہ کا وار سنبھال پائیں گے۔ قرآن پاک کی رو سے بھی اہل ایمان مقابل کی جس زیادہ سے زیادہ بڑی قوت پر غلبہ کی توقع رکھ سکتے تھے، وہ دس گنی قوت تھی۔ فرمایا گیا کہ بیس ہوں گے تو دو سو (۲۰۰) پر اور سو ہوں گے تو ہزار پر غالب آ جائیں گے۔ اور پھر بعد میں اس تناسب کو بھی گھٹا کر ایک اور ۱۰ کے تقابل کو ایک اور ۲ سے بدل دیا گیا۔ (سورۃ الانفال ۶: ۶۵، ۶۶) جبکہ یہاں تو دونوں قوتوں میں تناسب کا فرق سیکڑوں نہیں، ہزاروں میں ٹھہر رہا تھا۔
ثانیاً پاکستان گورنمنٹ نے افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے آگے جس طرح بے چوں چرا سر جھکایا، ہم اسے صحیح کہیں یا غلط، مگر وہ اس بات کا صاف سگنل تھا کہ اٹلانٹک کے پار سے آتا ہوا طوفان کچھ بہت ہی غیر معمولی ہے۔ پاکستان میں کوئی سی بھی حکومت رہی ہو، حالات کچھ بھی رہے ہوں، روس سے آزاد کرائے گئے افغانستان کا ساتھ چھوڑنے کی گنجائش وہاں (سوائے مسٹر نواز شریف کے بالکل آخری چند دنوں کے) کبھی نہیں سوچی جا سکی اور ایک فوجی حکومت (جنرل ضیا کی حکومت) کے ہاتھوں بنا کردہ اس پالیسی کے تسلسل میں اصل ہاتھ بھی پاکستانی فوج ہی کا رہا تھا، چنانچہ جنرل مشرف کے آتے ہی پالیسی میں تبدیلی کی وہ بساط لپٹ گئی جس کا آغاز نواز شریف امریکہ کے دباؤ میں کرنے لگ گئے تھے اور یہ بساط ۱۱ ستمبر تک اس کے باوجود علیٰ حالہ لپٹی رہی کہ مشرف حکومت کو طالبان سے اس طرح کی شکایات بھی چل رہی تھیں کہ ان کے یہاں ایسے افراد کوپناہ مل رہی ہے جو پاکستان میں برپا فرقہ وارانہ قتل وغارت میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ دوستانہ وبرادرانہ پالیسی کا یہ تسلسل پاکستانی حکومتوں کی کوئی خالصتاً للہ فی اللہ مہربانی نہیں تھی کہ اگر پڑنے لگے تو بلا دقت اس سے دست بردار ہو جائیں، اس سے ان کی سلامتی اور دفاع جیسا اہم مفاد وابستہ تھا۔ ان کو ہندوستان سے جنگ میں یہ تجربہ ہوا تھا کہ ہندوستان سے زور آزمائی کے لیے ان کا ’آنگن‘ بہت چھوٹا ہے، افغانستان سے برادرانہ تعلق میں خاص کر طالبان جیسی ٹھیٹھ مذہبی حکومت وہاں موجود ہونے میں پھر سے کوئی وقت پڑنے پر اپنے ’آنگن‘ کو بھرپور وسعت میسر آ جائے گی۔ یہی راز تھا کہ مشرف حکومت پہلے دن سے کھلے سیکولر رجحان کا اظہار کرنے کے باوجود افغانستان کے ساتھ تعلق میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت سے ذرا بھی پیچھے نظر نہ آتی تھی۔ افغانستان سے تعلق کی اس نوعیت میں مشرف حکومت کا آن واحد میں اس تعلق کو پس پشت ڈالنے پہ راضی ہو جانا، اور اپنی ایٹمی ’طاقت‘ وغیرہ کو بھی یکسر بھول جانا، یہ سمجھانے کے لیے سو فی صد کافی ہونا ہی چاہیے تھا کہ طالبان حکومت کو نشانہ بنا کر آتا ہوا طوفان یقیناًایسا ہے کہ اللہ ہی اس حکومت کی خیر کرے۔ بے نظیر یا نواز شریف حکومت میں یہ صورت پیش آتی تو یہ گمان بھی آسان تھا کہ بزدلی میں سپر ڈال دی ہوگی مگر یہاں تو برسر حکومت وہ جنرل تھا جو ابھی ذرا پہلے کارگل جیسی خطرناک مہم جوئی کر چکا تھا۔ الغرض ایسی کھلی علامت قیامت سامنے آجانے پر بھی اگر ہم نے خواب دیکھا کہ غلبہ ان شاء اللہ طالبان ہی کو ملے گا تو یہ محض خوش عقیدگی کے سوا اور کیا تھا؟ اور غلطی اس میں خود اپنے سوا اور کس کی تھی؟ دعا بے شک کرنی تھی، بھروسہ بھی رکھنا تھا کہ اللہ چاہے تو خلاف قیاس وگمان ہو سکتا ہے مگر خطرہ دل میں حالات کے مطابق رکھنا تھا کہ مبادا دل ناصبور شکوہ سنجی کا گنہگار ہو جائے۔
ثالثاً اس لیے کہ طالبان، جہاں تک معلومات میسر تھیں، سچے جذبہ جہاد سے سرشار تھے، مخلص اہل ایمان تھے ، اللہ کے کلمہ حق کی بلندی ان کا منتہائے آرزو تھا، مگر میسر معلومات ہی کی روشنی میں یہ صاف نظر آتا تھا کہ وہ اللہ کی دی ہوئی ان خصوصیات ہی کو اپنی بقا اور مزید پیش رفت کی مکمل ضمانت سمجھتے، اور اس چیز کو کوئی خاص اہمیت نہیں دینے کو تیار تھے کہ زمانہ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے، ان کے کس فعل وفیصلے کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس پر کیا رد عمل ظاہر کرتا ہے؟ طالبان ’اصحاب حال‘ ہو سکتے تھے جن کے یہاں خوب وناخوب کا پیمانہ ہی الگ ہوتا ہے مگر ہم کو تو سوچنا تھا کہ زمانہ میں، اور وہ بھی ایسی چوطرفہ مخالفت کے زمانے میں جیسی کہ طالبان کو درپیش تھی، اس طرح جینے اور مخالف طاقتوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی مثال کہیں ملتی بھی ہے کہ ا س سب کے ساتھ بھی ہم فتح طالبان کا خواب دیکھیں؟ زمانہ کے رخ کو خاطر میں نہ لانے اور احوال وظروف کی پروا سے بالاتر رہنے کی کوئی مثال تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بھی نہیں ملی جب کہ آپ بھیجے گئے تھے تو نوشتہ فتح وظفر ہاتھ میں تھا۔ ہاں فتح وظفر نہیں، شہادت مطلوب ہو تو دوسری بات ہے اور تاریخ اسلام میں اس کی مثال ہمیں غزوہ موتہ (۸ ھ) میں ملتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے تین ہزار کا ایک لشکر حضرت زید بن حارثہ کی سرکردگی میں سرحد شام کی طرف روانہ فرمایا تھا۔ لشکر کو وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ دشمن بظاہر آگاہ ہو گیا تھا اور اس نے اتنی غیر معمولی تیاری کر رکھی تھی کہ طرفین کاکوئی مقابلہ نہیں۔ حضرت زید کی رائے ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کو اطلاع کی جائے اور پھر آپ کے حسب ہدایت قدم اٹھایا جائے مگر حضرت عبد اللہ بن رواحہ جن کو حضور ﷺ نے بشرط ضرورت تیسرے نمبر پر کمانڈر نامزد فرمایا تھا، انہوں نے اصرار فرمایا کہ نہیں، ہم تو فتح کے لیے نہیں شہادت کے لیے لڑتے ہیں، ہمیں بنام خدا اپنا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ اور اس تقریر سے شوق شہادت نے غلبہ حاصل کر لیا، چنانچہ شہادت ہی حصے میں آئی اور چوتھے نمبر پر جب کمان حضرت خالد بن ولید کو ملی تو آپ بڑی حکمت سے باقی ماندہ لشکر کو بچا کے مدینہ واپس لائے۔
طالبان کے اس ’اصحاب حال‘ جیسے رویے میں یوں تو وہ ہی باتیں آتی ہیں جن کو ان کے تمام فہمیدہ ہمدرد نفاذ شریعت میں غیر ضروری عجلت وشدت کا مظہر پاتے تھے اور جس سے نچلے اہل کاروں کے ہاتھوں ایسے واقعات تک ظہور میں آئے کہ ایک پاکستانی ٹیم میچ کھیلنے ان کے یہاں گئی اور یہ لڑکے اپنے معمول کے مطابق نیکر پہنے فیلڈ میں اترے تو اس پر یہ مہمان قابل گرفت قرار پا گئے اور سزا میں ان کے سر مونڈ دیے گئے۔ طالبان حکومت کو اس کے لیے بعد میں معذرت بھی کرنا پڑی لیکن اس سلسلے کے جس اقدام نے دنیا کی پروا کرنے نہ کرنے کے پہلو سے آخری درجے کی مثال قائم کی، وہ گوتم بدھ کے مجسموں کو توڑنا تھا۔ ان کے خلاف بدترین پروپیگنڈا تو نفاذ شریعت والے بعض اقدامات کی بنیاد پر پہلے ہی حقوق انسانی کے حوالے سے چل رہا تھا، اس اقدام نے پراپیگنڈے کی اس آگ پر تیل کا کام کر دیا۔ یہ وہ کام تھا کہ حالات کے پیش نظر خود راقم الحروف کی سمجھ میں، اس کے باوجود نہیں آ رہا تھا کہ محترم اور معتبر علما کے فتوے اس کی حمایت میں چھپ رہے تھے۔ امریکہ کے لیے طالبان کے باضابطہ نمائندہ (سید رحمت اللہ ہاشمی) کے بیان کے مطابق اس اقدام کی وجہ یہ تھی کہ ’’اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو اور سویڈن کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا ایک وفد اس منصوبے کے ساتھ افغانستان آیا کہ ان مجسموں کے چہروں میں جو کچھ ٹوٹ پھوٹ گردش ایام سے آ گئی ہے، اسے درست کر دیا جائے۔ اس پر افغان علماء کونسل نے کہا کہ آپ اس کام پر رقم خرچ کرنے کے بجائے ہمارے ان بچوں کی جان بچانے میں صرف کریں جو (اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں کی بنا پر) مناسب دواؤں اور غذاؤں کی کم یابی سے ہلاک ہو رہے ہیں، لیکن وفد کو اپنے منصوبے ہی پر اصرار رہا تو ان سے کہا گیا کہ آپ کو اگر ہمارے بچوں کو بچانے کی فکر نہیں تو پھر ہم بھی ان مجسموں کو ختم ہی کیے دیتے ہیں۔‘‘ سید رحمت اللہ ہاشمی کا یہ بیان الفرقان کے صفحات (جولائی ۲۰۰۱ء) میں بھی چھپ چکا ہے یعنی یہ مجسمہ شکنی کا اقدام صرف ایک غصے کا اقدام تھا اور وہ ایسے مخالف حالات میں کہ دنیا نے بحکم اقوام متحدہ حقہ پانی بند کر رکھا تھا۔ اس اقدام نے دنیا پر کیا اثر ڈالا؟ اور گھات لگائے ہوئے دشمن نے اس سے کس قدر فائدہ اٹھایا؟ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی کہانی نہیں ہے لیکن اس کے حق میں دیے جانے والے فتووں کی اشاعت نے بتایا کہ اس اقدام کا منفی اثر صرف غیر دنیا ہی پر نہیں پڑا، مسلم دنیا پر بھی ا س نے اس قدر مخالفانہ اثر چھوڑا کہ اس کے ازالے کی کوشش میں فتووں کی ضرورت پیش آگئی۔
فتوے تو ظاہر ہے کہ مسلم دنیا ہی میں کام آ سکنے والی چیز تھی، غیر دنیا کے لیے تو ان کے کوئی معنی نہ تھے۔ الغرض عالمی مخالفت کے ماحول کو زیادہ سے زیادہ طاقت پہنچانے والے اس رویے کے ساتھ بھلا کیسے یہ خواب دیکھنا معقول ہوتا کہ اس دفعہ کے حملہ آور کے ساتھ بھی افغانستان میں وہی ان شاء اللہ ہوگا جو روس کے ساتھ ہوا تھا؟ مگر کیا ہی لطیفہ ہے کہ جب حملہ ہوا تو استعجاب واعتراض کی یہ ساری منطق اپنے ذہن سے غائب ہو گئی اور معجزاتی فتح کی امید اس کی جگہ پر آبسی۔ وجہ بظاہر صرف وہی کہ ’’آساں نہیں مٹانا نام ونشاں ہمارا‘‘ والے ذہن کا جو ایک مبالغہ آمیز اور مغالطہ انگیز سانچہ ہمارے یہاں بنا ہوا ہے، وہ تھوڑا یا بہت لکھ پڑھ لینے کے باوجود بھی کم ہی بدلتا ہے اور یقین ہے کہ یہ سانچہ اگر اس قدر عام اور مضبوط نہ ہوتا تو کم از کم وقت کے خاص حالات میں اس مجسمہ شکنی کی حمایت کے فتوے ہمارے سامنے نہ آتے۔ اس سانحے کی عمومیت اور مضبوطی پر ۱۹۴۸ء کی بات یا دآ رہی ہے۔ حکومت ہند نے ریاست حیدر آباد کے خلاف ’’پولیس ایکشن‘‘ کے نام سے فوجی کارروائی کی۔ مسلم ریاست تھی، قدرتی طور پر مسلمان اس کارروائی سے خوش نہیں ہو سکتے تھے۔ میں اپنی نوعمری کے ان دنوں میں اتفاق سے ایک بڑی صاحب علم ومطالعہ شخصیت کی خدمت میں ٹھیرا ہوا تھا۔ دنیا اور اس سے باخبری والے علم ومطالعہ کے ساتھ بھی اس ایکشن پر میں نے ان کا بے تکلف تاثر یہ دیکھا کہ ریاست کو شکست دینا آسان نہیں ہے اور اسی زعم میں ریاست کی رضاکار تحریک نے حکومت ہند کو اس ایکشن تک لا کے ریاست کو اس تباہی سے دوچار کرایا کہ الامان الحفیظ!
چالیس سال کی عمر،جو قرآن پاک کی رو سے بھی شعوری پختگی کو پہنچ جانے کی عمر ہے، میرے والد ماجد اپنی عمر کے اس مرحلے کو پہنچے تو میری باشعور عمر کا اچھی طرح آغاز ہو چکا تھا۔ والد ماجد کے اس مرحلہ عمر تک پہنچنے سے کئی سال پہلے کی وہ بات ہے کہ انہوں نے جماعت اسلامی (برائے حکومت الٰہیہ) کی تاسیس میں پرجوش حصہ لیا اور یہ خود ان کے بقول اس رومانیت پسندی کا نتیجہ تھا جو تحریک خلافت کے پیدا کردہ فکری ماحول سے طبیعت میں بس گئی تھی (اور اس کی وجہ سے یہ حقیقت نظر سے اوجھل ہو رہی تھی کہ ہندوستان ۷۵ فی صد غیر مسلم اکثریت کا ملک ہے) جماعت سے رشتہ جلد ہی ٹوٹ جانے کے اسباب پیدا ہو جانے پر جن عملی میدانوں میں انہوں نے اپنی زندگی صرف کی، ان سب میں ان کا نقطہ نظر عملیت پسندانہ رہا اور جوں جوں عمر بڑھتی گئی، یہ طرز فکر مضبوط تر ہوتا گیا۔ اشخاص کی خصوصیات پڑھنے والے جن اصحاب کو بھی ان سے اچھے رابطے کا اتفاق ہوا، انہوں نے ہمیشہ ان کی اس عملیت پسندی کو نوٹ کیا۔ میری باشعور عمر کے ۳۵ سال پوری طرح ان کے عین زیر سایہ گزرے اور میں ان کی عملیت پسندی اور رومانویت سے دوری (یعنی ’’کیا ہونا چاہیے‘‘ کے بجائے ’’کیا ہو سکتا ہے‘‘ کا طرز فکر) دیکھتا اور اس سے اثر لیتا رہا (حتیٰ کہ بعض وقت میں نے خود کو ان سے بھی زیادہ عملیت پسند جانا) پھر یہ ۳۵ سال گزار کر اس مبارک سایہ سے دوری ہوئی تو اس مغربی دنیا میں بسنا ہو گیا جہاں عملیت ہی عملیت ہے، رومانویت کا کوئی خانہ نہیں اور اب یہاں اس بسیرے کو بھی ۲۵ سال ہو رہے ہیں مگر طالبان کی اسلامی حکومت پر، جو کہ مادی اعتبار سے تو کمزور تھی ہی، زمانے کے معیار سے فکری بلوغ وتوانائی کے حصول کے لیے بھی اسے ابھی وقت درکار تھا، جب امریکی دیو کی جارحیت مسلط ہوئی تو، جیسا کہ اوپر پڑھا جا چکا ہے، محض اس حکومت کی مخلصانہ اسلامیت کا تاثر یہ اعتماد دینے کو کافی ہو گیا کہ جارح ان شاء اللہ ذلیل ہوگا حالانکہ حالات اور اسباب کو ان کی واجبی اہمیت دینے والے عملی نقطہ نظر سے اس موقع پر بس دعا کی جا سکتی تھی کہ اللہ غیب سے حفاظت کی کوئی صورت پیدا فرما دے ورنہ مقابلہ تو کوئی تھا ہی نہیں۔ میرا احساس ہے کہ افغانستان کا یہ المیہ، جس کے لیے شیخ سعدی کا یہ مصرعہ برحق ہے کہ ع، آسماں را حق بود گر خوں ببارد بر زمیں، اس کی زیادہ ذمہ داری اسلامی حکومت کے ساتھ وابستہ اسی رومانوی طرز فکر پر، جس کے ہم سب ہی کم وبیش اسیر ہیں، جاتی ہے کہ اگر اسلام کے ساتھ خلوص ہے تو یہ بس اس حکومت کے تحفظ کی کامل ضمانت ہے اور پھر ’الاقرب فالاقرب‘ کے اصول پر یہ ذمہ داری طالبان سے ہمدردی رکھنے والے افغانستان سے باہر کے ان تمام اہل علم دین کی اسی اسیری پر ہے جو کہ طالبان سے رابطے کی سہولت اور ان کا کم وبیش اعتماد رکھتے تھے۔
طالبان سے رابطے کی سہولت اور ان کا کم وبیش اعتماد رکھنے والے باہر کے علما ہمارے علماء پاکستان تھے۔ ا ن میں سے کئی ایک حضرات کے بارے میں کامل اطمینان سے یہ کہنا صحیح معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت کی دنیا کے حالات کوجاننے اور سمجھنے کے لیے اس سے بدرجہا زیادہ بہتر پوزیشن میں تھے جیسی پوزیشن طالبان رہنماؤں کو حاصل تھی۔ ان غریبوں کو تو اول اپنے بے پناہ قسم کے اندرونی مسائل ہی سے فرصت نہ تھی جو پہلے دس برس میں روسی جارحیت پیدا کر گئی تھی اور پھر مجاہدین کمانڈروں کی آپس کی خون ریزی نے جو اضافہ ان میں کیا، نیز ان کے ملک میں نہ ایسے ذرائع معلومات تھے نہ علمی اور ذہنی سطح میں ترقی کے لیے درکار وہ سہولتیں انہیں حاصل تھیں جن سے اہالیان پاکستان بہرہ ور تھے۔ اس بہتر پوزیشن کی بنا پر ہمارے علماء پاکستان سے ان نیک دل طالبان کو وہ رہنمائی مل سکتی تھی جس کے نتیجے میں سانحہ شاید ٹل جاتا ۔ وہ اپنی حکمرانی میں جیسا طرز عمل اپنے ایمانی خلوص اور اپنی صالح قومی روایات کا تقاضا جان کر اختیار کیے ہوئے تھے، اگر معاصر دنیا کے حالات ومزاج سے پوری طرح واقف ہوتے تو ان کا ذہن دوسری طرح کام کرتا۔ اس معاملے میں رہنمائی کی مدد ان کو جن لوگوں سے ملنا تھی، وہ علماء پاکستان تھا جن کی دینی، علمی یا سیاسی منزلت کے طالبان قائل تھے اور ان سے روابط رکھتے تھے۔ (۱) مگر کیسے اپنے رنج والم کا اظہار کیا جائے کہ، جہاں تک علم ہے، ہر ممکن مدد ان کو دینے والے ہمارے علماء کرام سے جو واحد مدد انہیں نہ ملی وہ یہی ایک مدد تھی اور اس کا جو سبب صاف نظر آتا تھا، وہ یہی تھا کہ احساسات کی جو رومانوی کیفیت میرے جیسوں پر ہزاروں یا سیکڑوں میل کی دوری میں اس مرحلے پر طاری ہوئی جب حملے کے نقارے پر چوٹ پڑ گئی، ان بزرگوں پر یہ کیفیت شاید اسی لمحے سے طاری ہو گئی تھی جب طالبان کا جھنڈا کابل پر لہرا گیا اور پھر بڑھتے بڑھتے وہ اپنے نفاذ شریعت کے اعلان کے ساتھ ملک کے۹۵ فیصد علاقے پر حاکم ہو گئے۔ یقیناًیہ ان لوگوں کے لیے جن کے اسلاف حضرت سید احمد شہید اور شاہ اسمٰعیل شہید کے خوابوں کی تعبیر کے لیے تمنائیں لیے دنیا سے گزرتے گئے تھے، وہ لمحہ تھا کہ اگر سارا عالم ہی اسلام کے زیر نگیں آیا دکھائی دے گیا ہو تو بعید نہیں۔ ایسے لمحات تو شادی مرگ کا باعث بن جاتے ہیں مگر شکایت اس کی ہے کہ اس لمحے کو برسوں پر محیط ہونے دیا گیا۔ طالبان کا طرز نفاذ شریعت، ان کے اخلاص اور ان کی فدائیت کی پوری تعظیم وتوقیر کے ساتھ بلاشبہ اس کا محتاج تھا کہ اہل علم انہیں صحیح راہ (راہ اعتدال) بتائیں۔ ان کا طرز صاف بتا رہا تھا کہ وہ واقعی صرف ’طالبان‘ ہیں، انہیں کاملان وپختہ کاران کی رہنمائی درکار ہے۔
راقم کے زمانہ دیوبند کے استاذ مرحوم حضرت مولانا عبد الحق صاحب (اطاب اللہ ثراہ) کا قائم کردہ دار العلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک، صوبہ سرحد طالبان کا زبردست حامی ومددگار ادارہ تھا۔ اس کا ماہنامہ ’الحق ‘ ہر ماہ ان کے بارے میں پرجوش تحریروں اور اطلاعات سے بھرا ہوا ملتا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ ادارہ کے موجودہ سربراہ استاد زادہ محترم مولانا سمیع الحق صاحب کو لکھوں کہ ان لوگوں کو آپ کی حامیانہ سرپرستی کے ساتھ استادانہ ومصلحانہ سرپرستی کی بھی ضرورت ہے، ورنہ اس مبارک پودے کی عمر نظر نہیں آتی، مگر ان کے ماہنامہ میں حمایت کے لیے جوش وجذبہ کی کیفیت وہ ہوتی تھی جسے دیکھ کر کچھ لکھنے کی ہمت نہ پڑتی تھی، لیکن آج سے کوئی دو سال قبل ایک شمارہ جو آیا تو اس کے اداریہ کا عنوان تھا ’’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے‘‘ ! یہ خطاب طالبان سے تھا اور ’گلہ‘ وہی سب کچھ تھا جس کے بارے میں دماغ پریشان ہوتا تھا کہ الٰہی! ایک خالص اسلامی حکومت کی داغ بیل صدیوں کی دعاؤں اور آرزوؤں کے بعد ایک ایسے زمانے میں پڑی ہے کہ غیر تو غیر، اپنوں میں بھاری تعداد ایسوں کی ہو چکی ہے جو اس کے تصور کی مزاحمت میں غیروں سے بھی کچھ آگے ہی ہیں،ایسی مخالف دنیا میں، جب کہ طاقت کے خزانے بھی ہماری شامت اعمال سے انہیں اغیار کے ہاتھوں میں آ گئے ہیں، اگر اس نوخیز حکومت کے کھیون ہاروں کو اپنے پاکیزہ جذبات کے ساتھ زمانہ فہمی کی طرف توجہ نہ ہوئی اور نفاذ شریعت میں دینی حکمت کا باب ان پہ نہ کھلا تو ڈر ہے کہ یہ کلی کہیں بن کھلے ہی مرجھا نہ جائے۔ ’الحق‘ کے اس اداریے سے دل کو ایک گونہ اطمینان ہوا کہ وہاں بھی یہ بات محسوس کی جا رہی ہے کہ طالبان نے اگرچہ افغانستان کو امن وامان کی نایاب دولت دے کر بہت نام کمایا ہے، مخالف بھی مجبور ہیں کہ اعتراف کریں، ان کی سادہ زندگی اور بلا استثنا مساوات بھی دنیا سے اپنا کلمہ پڑھوا رہی ہے، پھر بھی نفاذ شریعت کے معاملے میں ان کی ترجیحات اور شدت پسندی اصولاً ہی قابل اصلاح نہیں بلکہ ان کے وجود کے لیے خطرناک بھی ہے۔ مگر افسوس کہ بات ا س ایک تحریر پر ہی اس طرح ختم ہو گئی کہ جیسے یہ صاحب تحریر نوجوان (صاحب زادہ مولانا سمیع الحق صاحب) کی ایک نوعمرانہ سبقت قلم ہو۔ مزید کسی طرح کی کوئی دل چسپی یا سرگرمی اس رخ پر پھر دیکھنے میں نہ آئی حالانکہ اس کی توقع اس لیے بھی کی جانی چاہیے تھی کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کی جو جدوجہد عرصہ دراز سے یہ حضرات کرتے آ رہے تھے، خود اس کی مصلحت بھی اس بات کا تقاضا کرتی تھی۔ پاکستان میں نفاذ شریعت یا قیام نظام اسلام کے نام سے جاری جدوجہد کو جن مشکلات کا سامنا تھا، ان میں نئے تعلیم یافتہ طبقے کی ایک خاصی تعداد کا، جو کہ مقتدر طبقوں میں اثر ونفوذ رکھتی تھی، یہ ذہن یا اندیشہ تھا کہ اس نظام کے تحت وہ پرانی فقہ رائج کر دی جائے گی جو آج کے بالکل بدلے ہوئے حالات میں من وعن موزوں نہیں ہو سکتی۔ طالبان کی سرگرم حمایت کرتے ہوئے ان کے نفاذی طرز عمل میں اصلاح کے لیے کوشش نہ کرنا اس اندیشے یا پراپیگنڈے کو مضبوط کرنے کے ہم معنی تھا۔
چند ہی مہینے اس پر گزرے ہوں گے۔ ۲۰۰۱ء کا آغاز ہوا اور اس کے ساتھ ہی بدھ مجسمے توڑے جانے کا اعلان گونجا اور پھر جب اعلان پر عمل ہونے گا اور دنیا بھر میں ہاہاکار مچی، خود پاکستانی حکومت اور دوسرے مسلم ممالک نے چاہا کہ اس پر نظر ثانی ہو تو دوسری طرف سے اعلان کی شرعی حمایت میں علما کے فتوے آئے۔ کس مسلمان کو کوئی دل چسپی ان مجسموں سے ہو سکتی تھی، بس یہی سوچ کر کہ یہ مجسموں کا معاملہ ایسا نہیں کہ اس پر اگر کسی بزرگ کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا جائے تو ان کے دل میں وسوسہ آئے کہ یورپ میں رہ کر مولوی صاحب بھی شاید کچھ اپ ٹو ڈیٹ ہو گئے ہیں، ایک ایسے محترم کی خدمت میں جن کی شخصیت اس وقت پاکستانی علماء دیوبند میں نہایت موقر بھی ہے، وہ طالبان کے حامی اور سرپرست بزرگوں میں بھی ہیں اور چند ہی مہینے پہلے لندن میں ان سے مل کر یہ تاثر بھی لیا جا چکا تھا کہ وہ نہ صرف میرے ساتھ نہایت خلیق بلکہ طبعاً بھی منکسر مزاج کے ہیں، میں نے طالبان کے اس فعل کی حمایت میں فتووں کے مسئلے پر اپنے خیالات ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کو میں نے لکھا کہ کیا آپ اس کے روادار ہوں گے کہ یہ فتوے جو مصلحت وقت کے علاوہ شرعاً بھی میری ناقص سمجھ میں بالکل نہیں آ رہے ہیں، ان کے بارے میں اپنانقطہ نظر آپ سے عرض کروں؟ میں نہیں جانتا کہ عریضہ نہیں پہنچا یا جواب مجھے نہیں پہنچا یا جواب کسی وجہ سے دیا ہی نہیں گیا، بہرحال طالبان نے ہمارے علما کی پوری حمایت کے ساتھ ان مجسموں کے بارے میں اپنا اعلان پورا کر دیا جس پر پیدا ہونے والے عالمی رد عمل کے بعد، جیسا کہ اوپر لکھا گیا، یہ خواب دیکھنا ہی اپنی ناقص سمجھ کے مطابق غلط تھا کہ اس دفعہ امریکہ افغانستان سے اسی طرح ذلیل ہو کر نکلے گا جس طرح روس اپنی باری پرنکلا تھا۔
میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے علماء پاکستان کا جو رویہ طالبان کے اس طرز حکومت کے سلسلے میں رہا، جو کہ اس حکومت کے ساتھ مکمل ہم دردی اور محترم علما کے لیے کامل شعور واجب الاحترامی کے باوجود اپنی سمجھ میں کسی طرح نہ آ پاتا تھا، اس کی کوئی اور توجیہ سوائے اس کے کیا کی جا سکتی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا تھا کہ یہ حکومت ان حضرات کے لیے ایک عام اسلامی حکومت نہیں، بلکہ اس مقدس خواب کی تعبیر تھی جو تقریباً دو صدی قبل بالاکوٹ کے میدان میں بکھر گیا تھا اور ان کے (اور ہمارے) اسلاف کی نسلوں پر نسلیں اس کی تعبیر کے لیے سراپا جہدوعمل اور دعا وآرزو بنی گزرتی رہی تھیں۔ ان حضرات کا جو مزاج دان ہے، وہ سمجھ سکتا ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں یہ کارنامہ انجام پایا، وہ ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں میں کیا کچھ نہ ہو گئے ہوں گے ورنہ ان باتوں کی کیا توجیہ آخر ہم کریں گے کہ مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی کی شہادت کا سانحہ پیش آتا ہے، وہ جماعت کے اساطین میں ہیں، پوری جماعت ہی مشرق سے مغرب تک نہیں ہل جاتی، فوجی سربراہ مملکت پاکستان جنرل پرویز مشرف تک تعزیت کے لیے گھر پر آتے ہیں، ملا محمد عمر صاحب امیر المومنین (یقیناًکسی معقول وجہ سے) صرف تعزیتی پیغام پر اکتفا کرتے ہیں مگر ان کا محض پیغام تعزیت ہم لوگوں کی نگاہ میں کیا غیر معمولی درجہ پاتا ہے؟ تقریباً ایک سال کے بعد جب کہ انہدام مجسمہ جات کا واقعہ پیش آ چکا ہے، علما کا ایک وفد اسی سلسلے میں اظہار یک جہتی کے لیے افغانستان جاتا ہے تو اس دورہ کی رپورٹ (مرتبہ مفتی محمد جمیل خان صاحب، شائع شدہ روزنامہ جنگ ۲۵ اپریل ۲۰۰۱ء) کے مطابق، یہ وفد امیر المومنین سے ملاقات میں سب سے پہلے اس سال پرانے پیغام تعزیت پر اظہار تشکر کرتا ہے۔ کیا فی الواقع یہ پیغام تعزیت اسی اہمیت کا مستحق تھا؟ اسی طرح طالبان کی حمایت کے لیے کراچی سے ہمارے ایک بڑے عالم کی سرپرستی میں جاری کیا جانے والا اخبار ’ضرب مومن‘ ملا محمد عمر صاحب کے دست راست ملا محمد ربانی کے انتقال پر تعزیتی مضمون شائع کرتا ہے تو ملا صاحب (حفظہ اللہ) کے چند تاثراتی کلمات نقل کر کے لکھتا ہے ’’یہ الفاظ کسی عام شخص کے نہیں بلکہ اس امیر المومنین کے تعزیتی کلمات ہیں جس کے نام، کارناموں اور کردار پر روس اور امریکہ سمیت پورا عالم کفر لرزہ بر اندام ......‘‘ ذرا غور کیجیے کہ وہ جس نے امت کو چودہ سو برس پرانی یہ بات آج تک بھولنے نہیں دی کہ مسلمانوں کا واقعی امیر المومنین بالکل ایک عام آدمی ہوتا ہے، اگرچہ وہ فاتح روم وایران ہو جائے، وہ ہمارے علماء کرام کے سوا اور کون تھا؟ مگر امیر المومنین ملا محمد عمر کے معاملے میں وہ خود ہی اس بات کو بھولے جا رہے ہیں کہ اس امیر المومنین کو بھی بالکل ایک عام آدمی ہونا اور شمار کیا جانا چاہیے، خاص کر جب کہ اس کی تو ایک اہم شہرت ہی سادگی اور بے امتیازی کی ہے۔
ہمارے جیسوں کے خوابوں کا نقصان تو ایک مایوسی اور بد مزگی کی شکل میں زیادہ تر ہمیں تک رہنا تھا، لیکن علماء پاکستان کے رویہ کو خود طالبان کی قسمت پر بھی، ان کے اپنے عمل اور طرز عمل کے ساتھ اثر انداز ہونا تھا کیونکہ وہ طالبان کا اعتماد نیز ان کے ہاں بزرگانہ حیثیت رکھتے تھے۔ طالبان کی ہمت کو تو آفریں ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو مہمان کہہ کے، اپنی روایات کے مطابق، اس قول کی آن کو اپنی جان جانے تک نباہنے کا بیڑا جو بل کلنٹن کے دور کی میزائل باری کے وقت سے اٹھایا تو جارج بش کا ۱۱/ستمبر کے بعد کا الٹی میٹم بھی ان کو اس سے پیچھے نہ ہٹا سکا لیکن کیا اسی طرح کی داد کا استحقاق ہمیں اپنے محترم علما کے لیے بھی اس پر ماننا ہوگا کہ انہوں نے بھی اپنے اس رویہ سے طالبان کے اس انداز فکر کی ہمت ہی بڑھائی؟ بے ادبی کی معافی چاہتے ہوئے، اپنی ناقص رائے میں اس رویہ کو داد وستائش کا حق دار نہیں مانا جا سکتا ہے۔ طالبان کا رویہ رومانوی مروت ومردانگی کے اعتبار سے بے شک لائق صد ستائش تھا مگر عملی دنیا کے تقاضوں کے اعتبار سے ہرگز قابل تائید وہمت افزائی نہ تھا، اور یہ وہ پہلو تھا جس کو سمجھنے اور اہمیت دینے کی توقع بجا طور پر ان علماء واجب الاحترام سے کی جا سکتی تھی جن میں ایسے بھی تھے جو برس ہا برس سے پاکستانی سیاست کا حصہ تھے اور ہیں۔ کیا سیاست کی دنیا میں ایسے بے لچک رومانوی رویوں کے ساتھ زندگی ممکن ہے؟ ہرگز بھی نہیں ہے، اور طالبان کو جو قضیہ اسامہ کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ درپیش تھا، وہ خالصتاً ایک سیاسی ہی قضیہ تو تھا۔ اول تو معزز مہمان ہی کو توجہ دلائی جا سکتی تھی کہ جہاں میزبان اس درجہ شرافت کا ثبوت دینے کو آمادہ ہو، وہاں مہمان کا بھی تو کچھ فرض بنتا ہے کہ اسے مخمصے سے نکلنے میں مدد دے۔ اور نہیں تو طالبان اور ملا محمد عمر ہی سے کہنا فرض بنتا تھا کہ وہ امیر المومنین کہلانے کے بعد صرف افغان روایت کے پاسبان ہی نہیں رہتے ہیں، انہیں پوری ملت اسلامیہ کی مصلحت اور سود وزیاں کی ذمہ داری کے انداز سے سوچنا ہوگا، اور اس انداز نظر کا اولین تقاضا ’امارت اسلامیہ افغانستان‘ کا تحفظ ہے نہ کہ کسی فرد کا، وہ چاہے اسامہ ہوں چاہے خود ملا عمر ہی ہوں، اور نہ ہی کسی روایت کا، وہ کیسی ہی مقدس کیوں نہ ہو! مگر کیسے کہا جائے، اور نہیں تو کیسے رہا جائے، کہ جو ہمہ وقت سیاست کی دنیا میں رہ رہے تھے، انہیں نے طالبان کے روایت پرستانہ رویے کی سب سے بڑھ کر ہمت افزائی اس حد تک کی کہ خود فریق بن کر امریکہ کو وارننگ دے ڈالی کہ اگر افغانستان پر دست درازی ہوئی تو امریکنوں کی بھی پاکستان میں خیر نہیں ہے! حالانکہ وہ کیونکر نہ جانتے ہوں گے کہ ان کے پاس اس دھمکی کو جامہ پہنانے کا کوئی وسیلہ نہیں، اور کسی طرح سے وہ کچھ کرنا اگر چاہیں گے بھی تو ان کی حکومت فی الفور انہیں بند کر دے گی، پھر امریکہ کو بھلا کیا ڈر ہو سکتا تھا؟ معلوم ہوا کہ ہم موجودہ سیاست کی دنیا کے کوچہ میں رہ بھی رہے ہوں، ہمیں دنیا کو جاننے کا اور اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو ناپنے کا موقع بھی مل رہا ہو، مگر جب بات طاقت کفر سے ٹکراؤ کی آجاتی ہے تو ہم اپنی اس وقت کی قابل رحم حالت کو بھول کر، صدیوں پہلے کی اسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جب ہمارا ستارہ عروج پر تھا اور ہماری للکار سے ایوانوں میں زلزلے آ جاتے تھے۔ اس دنیا میں آج تک کوئی بھی اپنی شرائط پر نہیں جی سکا ہے، کہیں نہ کہیں سمجھوتہ کرنا ہوتا ہے۔ قرآن پاک مسلمانوں سے صف آرا کفار سے موالات کو منافی ایمان بتاتا ہے، مگر ساتھ ہی بقدر ضرورت کی اجازت بھی دے دینا ضروری سمجھتا ہے۔ (الا ان تتقوا منہم تقاۃ۔ آل عمران ۲۸) ’’مگر یہ کہ ان کے شر سے بچاؤ چاہ رہے ہو‘‘ ہم اس کو اپنی زبان میں سیاست کہتے ہیں۔ اللہ کا کرم کہ اس نے اس کو دینی مسند سے بھی مستند کر دیا۔ اہل علم سے مخفی نہیں ہو سکتا کہ یہ اس طرح کی واحد مثال نہیں۔ اسی طرح سیرت نبوی کے صفحات میں بھی کمی نہیں ہے۔
معاملے کے سیاسی پہلو کی بات آئی ہے تو واقعہ یہ ہے کہ اس سلسلے کی سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر ذمہ داری حکومت پاکستان پر آتی ہے۔ اسے کم از کم صدر کلنٹن کے دور کی میزائل باری کے وقت سے ضرور اچھی طرح معلوم ہو گیا ہوگا کہ عالم عرب میں امریکہ کی خرمستیوں سے مشتعل اسامہ بن لادن امریکہ کے سلسلے میں ایسے عزائم رکھتے ہیں کہ امریکہ ان کو بہت اہمیت دے نہ دے، وہ ان عزائم کو کسی اقدام کا بہانہ بنا سکتا ہے، اور یہ بات تو وہ خوب ہی جانتی تھی کہ پاکستان کی آزادی بس وہیں تک ہے جہاں تک امریکہ کی رضامندی ہے۔ پس افغان حکومت کے ساتھ اپنے خصوصی تعلق کی مصلحت میں اس کا فوری اقدام ہونا تھا کہ اسامہ کے مسئلے کو حل کر لیا جائے، مگر اس طرح کی کوئی کوشش علم میں بالکل نہیں آئی یہاں تک کہ پانی سر سے اونچا ہو گیا اور ۱۱ ستمبر کے سانحہ کو (صحیح یا غلط طور پر) اسامہ کے نام ڈال کر طالبان کو الٹی میٹم دے دیا گیا اور مشرف صاحب سے پوچھ لیا گیا کہ طالبان اور اسامہ کے ساتھ ہیں یا ہمارے ساتھ؟ اس کے بعد بے شک زبردست دوڑ دھوپ شروع ہوئی مگر الٹی میٹم کے بعد اولاً افغانی فطرت اور اس پرمزید طالبانی اسلامیت سے کوئی ایسا مصالحتی فارمولا منوانا جس میں صاف طور پر جھک جانا آتا ہو، بالفرض ممکن تھا تو وہ پاکستانی علما کے متحدہ دباؤ سے! ورنہ کوئی صورت بظاہر نہ تھی، اور علماء کا رویہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ شاید ان کے لیے بھی یہاں غیرت کا سوال اہم تر ہو گیا۔
بلکہ علامات تو اس طرح کی ہیں کہ جیسے ہمارے محترم علما کی نظر میں اسامہ بن لادن کا دینی مرتبہ ملا محمد عمر صاحب سے کچھ خاص کم نہ تھا۔ اسامہ بھی وہاں اسلامی ہیرو ہی کا رتبہ پائے ہوئے تھے۔ اس کی ایک وجہ جہاں یہ ہو سکتی تھی کہ جہاد افغانستان میں ان کا بھی بڑا کردار تھا، پھر جب طالبان کے دور میں تعمیر نو کے کاموں کا کچھ سلسلہ شروع ہوا تو اس میں وہ اپنی دولت سے بھی شریک ہوئے اور تعمیری انجینئرنگ میں مہارت سے بھی۔ مزید اور بہت اہم وجہ ان کا یہ مخالف امریکہ جذبہ بھی ضرور تھا کہ علماء دیوبند اس کی خصوصی قدر کیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ انہیں مغرب دشمنی کی میراث اپنے اکابر سے ملی تھی، اور یہ وہ شے تھی کہ جہاں بھی نظر آ جائے، مبالغے کی زبان میں، وہ اسے بے اختیار ’سجدہ‘ کریں۔ الغرض اسامہ کے معاملے میں ہمارے علما کو اس وجہ سے بھی کسی ایسے فارمولے کی بات میں مددگار ہونے سے معذور ہی ہونا چاہیے جس کا مطلب ایسے جیالے مجاہد کو تنہا چھوڑ دینا ہو۔
علما تو علما، جہاد تو وہ چیز ہے کہ اس کے نام پر ایک عام سے مسلمان کا دل بھی دھڑکنے لگتا ہے اور اللہ کرے وہ دن کبھی نہ آئے جب مسلمان کا دل اس جذبے کا حامل نہ رہے کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’جس مومن نے کبھی جہاد میں حصہ لیا اور نہ کبھی اس کا دل اس جذبے سے دھڑکا، اس کی موت ایک درجے میں حالت نفاق کی موت ہوگی‘‘ اور یہ بات اس لیے ہونی چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے صلے میں آخرت کے جس اجر وانعام کی بشارتیں دی گئی ہیں اور مجاہدین کے لیے جن مراتب عالیہ کا اعلان کیا گیا ہے، یہ وہ چیزیں ہیں کہ مومن کو ان پر مرنا چاہیے، پس جو ان پر مرنے کی آرزو نہیں رکھتا، وہ خود ہی سمجھے کہ کیسا مومن ہے! مگر جس طرح یہ بات حق ہے، اسی طرح ہم اس سامنے کی حقیقت سے کس طرح آنکھ بند کرنے کا جواز پا سکتے ہیں کہ آج نماز بے شک ہے، مگر وہ نماز خال خال ہی کہیں ہے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جس کے فضائل آئے ہیں۔ یہی حال روزوں کا ہے، یہی حج کا اور یہی زکوٰۃ کا۔ اگر ان خالص عبادات کا یہ حال ہو گیا ہے کہ اپنی اصلیت پر نہ رہ سکیں تو جہاد ہی کے لیے کہاں سے گارنٹی مل سکتی ہے کہ یہ سو فی صدی آج بھی وہی ہو جس کا مرتبہ اور جس کے فضائل ہمیں قرآن وحدیث میں ملتے ہیں؟ جب کہ جہاد عبادات محضہ کے زمرہ کی چیز بھی نہیں! ہمارے سامنے اسامہ بن لادن کے جہادی تخیل کی جو تصویر اپنے علما ہی کے ذرائع سے آئی ہے، اسے دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ ایک طرف ہمارا وہ موروثی مغرب دشمن ذہن اور دوسری طرف جہاد افغانستان میں اسامہ کا ناقابل فراموش کردار، ان دونوں سے تاثر کے غلبہ نے، جو بالکل فطری تھا، ہمارے علماء واجب الاحترام کے لیے اس بات پر توجہ آسان نہ رکھی کہ اسامہ جس جہاد کے علم بردار تھے، وہ کہاں تک اہل علم کی تائید وستائش کاحق دار تھا؟ ورنہ اگر مسئلہ کو واقعی اس نظر سے دیکھا جاتا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اسامہ کے جذبات اور قربانیوں کی پوری قدر دانی کے باوجود ان کے خاص جہادی مشن کو لائق تائید نہیں مانا جا سکتا تھا۔ جس جہادی مہم میں اس قوت کا کوئی توازن بمقابلہ حریف نہ ہو جس قوت کے لیے قرآن کہتا ہے اعدوا لہم مااستطعتم من قوۃ اور یہ اس طرح کی کوئی دفاعی مہم نہ ہو جس طرح کی مہم روس نے افغانیوں پر تھوپ دی تھی، تو اس کی تائید کا سوال کیونکر پیدا ہو سکتا ہے؟ ہرچند کہ یہ مہم عربی واسلامی دنیا میں امریکن خرمستیوں سے مشتعل ہونے والے مومنانہ جذبات کا نتیجہ ہو مگر اس سے اس کی حقیقت ایک خود کشی کے اقدام سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی تھی؟ اور خود کشی بھی فرد واحد کی نہیں، کل ملت افغان کی! اور اس صورت حال میں ان کے جذبات کی پوری قدر وعزت کے باوجود ہمارے محترم علماء پاکستان کا پورا اور باصرار وزن نہ صرف افغان علماء کونسل کے اس فیصلے ہی میں پڑنا تھا کہ شیخ اسامہ سے کہا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے افغانستان چھوڑ دیں، بلکہ اس سے بھی آگے اور شیخ اسامہ سے کھلی اپیل کی جانی تھی کہ امارت اسلامیہ افغانستان ہی کی سلامتی کا خطرہ نہیں، کل ملت اسلامیہ اور بالخصوص پاکستان کی عزت وآبرو بچانے کی خاطر وہ خود کو جبار وقت کے حوالے کردیں اور اپنے لیے حدیبیہ کے حضرت ابوجندل کا کردار قبول کر لیں اس لیے کہ بیچ کی کوئی راہ نہ تھی۔ یا یہ ہونا تھا اور یا افغانستان پر وہ حملہ جس کے تیور جانچ کر پوری اسلامی دنیا نے دم سادھ لیا! اسے کاش کہ اسامہ خود سے جرات کا ثبوت دے کر اسلامی تاریخ میں وہ نام پالیتے کہ اسلامی دنیا میں ان کے جو مخالف بھی تھے، وہ بھی تحسین وستائش کے سوا اور دوسری بات کے روادار نہ رہ پاتے۔
شیخ اسامہ کے جہادی تخیل کی تصویر کے لیے اپنے علما کے ذرائع کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس کااشارہ خاص طور پر دار العلوم حقانیہ (اکوڑہ خٹک) کے ماہنامہ ’الحق‘ کے خاص نمبر (نومبر ۲۰۰۱ء) کی طرف ہے، جس نے موصوف کا خصوصی پیغام شائع کیا ہے۔ یہ پیغام از اول تا آخر پوری امت کے لیے دعوت وتلقین جہاد ہے۔ اسے دیکھ لینے پر یہ حقیقت صاف سامنے آتی ہے کہ جذبات سے بھرے اس داعی کی علمی سطح ایسی نہ تھی کہ وہ بذات خود جہاد اسلامی کی تحریک کا آغاز کر دیتے۔ زیادہ کی ان صفحات میں گنجائش نہیں، اور ضرورت بھی اس ایک مثال سے زیادہ کی غالباً نہ ہوگی کہ مشہور حدیث: امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا کا حوالہ دے کر موصوف لکھتے ہیں، ’’لہٰذا دعوت الی اللہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں ۔ اگر غیر مسلم ہماری دعوت کو قبول کر لیں تو وہ ہمارے بھائی ہیں، بصورت دیگر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔‘‘ (صفحہ ۱۲) اس میں صحیح مسلم کی ایک حدیث بھی (اس نامکمل صورت میں) استعمال کی گئی تھی کہ ’’جو (مسلمان) اس حالت میں مرا کہ بیعت امام کا قلادہ اس کی گردن میں نہیں ہے، وہ گویا جاہلیت کی موت مرا‘‘ یہ کم علم تو ’ضرب مومن‘ (کراچی) میں اس قسم کے استدلال والے پیغام کی اشاعت دیکھ کر حیران ہی رہ گیا تھا، (لا تقربوا الصلوۃ .....والا وہ ادھورا استدلال ہے جو برطانیہ میں ایک گروہ، جس کے آگے پیچھے کا کچھ پتہ یہاں کسی کو نہیں ہے، قیام خلافت کی فرضیت کے لیے سنایا کرتا ہے) اور یہ دیکھ کر تو کچھ کہنے کا یارا ہی نہ تھا کہ ملا محمد عمر کی امارت کی طرف دعوت دینے کا اصل مقصد دنیائے کفر بالخصوص سامراجیوں کے خلاف جہاد مسلح جہاد تھا۔ بے مہار امریکہ اسی عنوان سے طالبان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے کہ اسامہ بن لادن تمہارے زیر سایہ ہمارے خلاف جہاد کا منصوبہ باندھے ہے، اور اسامہ اس کے لیے ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔ یا للعجب! 
الغرض اسامہ اپنے جذبات اور قربانیوں کے اعتبار سے یقیناًاعلیٰ قدر ومنزلت کے لائق تھے مگر علمی معاملات میں تو وہ محتاج تھے کہ علما ان کی رہنمائی کریں۔ مگر قسمت کا کچھ نہیں کیا جا سکتا کہ معاملہ الٹا ہو گیا، اور ان کا یہ مرتبہ مان لیا گیا کہ وہ علماء کانفرنس کے نام ’پیغام‘ جاری کریں۔
پشاور کانفرنس میں دار العلوم دیوبند سے بھی ایک بڑا وفد شریک ہوا تھا۔ ان حضرات نے یقیناًاس ’پیغام‘ کو قابل اعتنا نہیں پایا، ورنہ یہ بات زور وشور سے سامنے آتی اور اس عدم اعتنا سے ان کے رد عمل کا خاموش اظہار ہو جاتا تھا مگر کیا اچھا ہوتا کہ وہ اس موقع پر اپنی مسلم اور موقر حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے امارت اور جہاد کے بارے میں اس علمی حقیقت کو بھی واشگاف فرما دیتے جو سرزمین پاکستان پر جذبات کے ہجوم وہیجان میں مستور ہو رہی تھی۔ ان حضرات سے بہتر کون اپنے پاکستانی ہم منصبوں کو یہ یاد دلانے والا ہو سکتا تھا کہ اپنے اکابر نے ۱۸۵۷ء میں شاملی کے میدان میں بڑے اعتماد سے انگریزوں کے خلاف قدم رکھا مگر اس پہلے ہی تجربے میں ان پر یہ حقیقت کھلی کہ حریف کی طاقت اور ان کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں ہے تو انہوں نے دانش مندی کی روایت اپناتے ہوئے کہ ’’جاہا سپر باید انداختن‘‘ فوراً میدان جنگ بدلنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں دار العلوم دیوبند اور اس کی تحریک وجود میں آئی۔ پھر پچاس ساٹھ سال کے بعد اگرچہ اکابر کی دوسری نسل نے دوبارہ اسی مسلح جدوجہد کا منصوبہ ایک دوسرے انداز سے عمل میں لانے کو بنایا مگر جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، انہیں جیسے ہی اسبابی پہلو سے اس کی کام یابی کی راہ بند نظر آئی اور دیکھا کہ عالم اسلام کمزوری کے اس درجے کو پہنچ چکا ہے کہ یورپین سامراج سے اب اسلحہ کی لڑائی جیتی نہیں جا سکتی، اب صبر سے کام لیتے ہوئے بے اسلحہ کی لڑائی ہی وہ واحد راہ ہے جس سے وقت کوبدلا جا سکتا ہے، تب سے انہوں نے اور ان کے اخلاف نے پورے شرح صدر کے ساتھ یہی راہ عمل اپنائی حتیٰ کہ ہندوستان آزاد ہوا۔ اور آج گو عالم اسلام کہنے کو آزاد ہے، اس میں ایک مملکت پاکستان کا اضافہ بھی ہو گیا ہے، اس کے پاس نیو کلیر اسلحہ بھی ہیں، مگر کون ہے جو کہہ سکے کہ ’فی الواقع‘ آزاد اور کافی طاقتور ہیں؟ اے کاش کہ اکابر وفد دیوبند نے اس ضرورت کی طرف توجہ کو وقت پایا ہوتا اور ان کے ہم قبیلہ علماء پاکستان طالبان اور اسامہ بن لادن کے سلسلے میں عین دیوبندی روایت ہی کے نام سے جس راہ پر کامل عزم واعتقاد کے ساتھ گامزن تھے، اس کے بارے میں انہیں ضرورت محسوس ہوتی کہ پھر سے غور کریں۔ اور چھوڑیے ’دیوبندی روایت‘ کے سوال کوبھی، جہاد جو اپنی اصل میں ذلت سے اٹھاتا اور عزت سے سرفراز کرتا تھا، کیا ہوا ہے کہ آج وہ عزت بخشنے کے بجائے ذلت ونکبت کی منزلیں طے کرا رہا ہے؟ کیسے نہیں ضرورت ہے کہ اس سوال پر غور کیا جائے؟
راقم آثم کے لیے یہ بات محض خوش بختی کی ہوگی کہ یہ خیالات جو ان صفحات میں پیش کیے گئے، انہیں کسی بڑے پیمانے پر قبولیت یا قابل توجہ ہونے کی حیثیت حاصل ہو جائے۔ افغانی سانحہ کے سلسلے میں اب تک جاری جتنا بھی اپنے لوگوں نے لکھا ہے، یہ اس کے بیچ میں ایک اجنبی سی آواز ہے وللناس فی ما یعشقون مذاہب کی رو سے کوئی مضائقہ اس میں نہ ہونا چاہیے۔ پھر بھی بے حد تامل رہا کہ روک کے رکھا جائے، یا ہرچہ بادا باد سے راہ دی جائے اور آج تک قدر ومحبت سے نوازنے والے کِتوں ہی کے شکوہ شکایت کا خطرہ مول لیا جائے؟ آفتاب عمر اب لب بام ہے، یہ خطرہ مول لینا آسان نہ تھا اس لیے اتنی دیر لگی کہ مجلس نوحہ وماتم برخواست ہونے کو آ رہی ہے اور اسی لیے ان خیالات کو بطور ایک مضمون شائع ہونے کے لیے نہ کہ ’الفرقان‘ کا اداریہ بننے کے لیے لکھا تھا تاکہ کسی محب ومہربان کو شکوہ ہو تو میری ذات سے ہو نہ کہ ادارہ الفرقان سے، مگر عزیز مرتبین الفرقان نے اسے ادارتی صفحات ہی میں جگہ دینا پسند کر لیا۔ میری خواہش اس کے باوجود یہ ہے کہ ان گزارشات کو میری ذاتی رائے کے طور پر پڑھا جائے۔ میں نے حتی الامکان سوچ وچار کے بعد ان خیالات کا اظہار اپنا ایسا ملی فریضہ سمجھا ہے کہ اگر اسے ادا نہ کروں تو اپنے ضمیر کی گنہگاری کا بوجھ لیے ضرور دنیا سے جاؤں گا۔ امارت طالبان کے سقوط کا حادثہ، پے در پے حادثوں کے بعد، اس قدر کرب ناک ہے کہ اور ایسے کسی حادثے کے لیے اب طاقت برداشت نظر نہیں آتی اور ہر ایسے حادثے پر دل ودماغ سوچتے سوچتے اس نتیجہ پر پختہ ہو گئے ہیں کہ قصور دشمنوں کا جو ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے، اپنی بھی خام خیالیوں اور جذباتیت کا حصہ اس میں کم نہیں ہوتا حتیٰ کہ بنی بنائی باتیں بگڑ جاتی ہیں۔ یاد کیجیے، مصر میں صدر ناصر آئے، ان کے متنازعہ دینی خیالات سے قطع نظر عرب دنیا کو ایک نئی زندگی ملتی نظر آئی، مگر جذباتیت کی رو نے جب ارد گرد کے حقائق نظر انداز کرا دیے تو چند دن کے اندر اندر بات کیا سے کیا ہو گئی اور انہیں ماننا پڑا۔ قذافی آئے، انہوں نے بھی اس سے کچھ سبق نہ لیا حتیٰ کہ امریکہ وبرطانیہ کی دراز دستی کا ذاتی تجربہ کر لیا، تب بات ان کی بھی سمجھ میں آئی۔ اے کاش کہ اب یہ تجربات بند ہو جائیں۔
(بشکریہ ماہنامہ ’الفرقان‘ لکھنو)

(۱) اس مدد کی طالبان کو کتنی ضرورت تھی، اس کا اندازہ کرنے کے لیے اس بیان کا حوالہ بالکل کافی ہونا چاہیے جو بدھ مجسموں کے انہدام کے سلسلے میں ان کے نمائندہ برائے امریکہ، سید رحمت اللہ ہاشمی، کے حوالے سے اوپر درج ہو چکا ہے۔ یہ بیان سید صاحب نے جنوبی کیلیفورنیا کی ایک یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے دیا تھا۔ وضاحتی بیان دینے کے بعد انہوں نے حاضرین سے سوال بھی کیا تھا کہ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ اگر آپ ان مسائل کا شکار ہوتے تو آپ خود کیا کرتے؟ گویا ہاشمی صاحب کے خیال میں ان کے اس استدلال سے مغربی دنیا مطمئن ہو سکتی تھی کہ ہاں افغانوں نے جو کیا غلط نہیں کیا۔ بیرونی اور خاص کر مغربی دنیا سے ناواقفیت کے لیے اس سے بڑھ کر اور کون سا ثبوت چاہیے؟

’’ایڈز‘‘ کے اسباب اور احتیاطی تدابیر

حکیم محمد عمران مغل

ایڈز کیا ہے؟

لفظ ’’ایڈز‘‘ دراصل انگریزی زبان کے چار حروف کا مجموعہ ہے۔ A سے مرادAcquired (شکار ہونا)، I سے مراد Immune (مدافعتی نظام)، D سے مراد Deficiency (کمی) اور Sسے مراد Syndrome (بیماریوں کا مجموعہ) ہے۔ ایڈز سے مراد مدافعتی نظام میں کمزوری کی وجہ سے کئی بیماریوں کا شکار ہونا ہے۔ انسانی مدافعتی نظام کا بڑا حصہ خون میں سفید خلیے (lymphocytes) ہیں۔ یہ سفید خلیے باہر سے آنے والے جراثیم (وائرس، بیکٹریا) کو ہلاک کر کے جسم کو بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ ایڈز کی صورت میں وائرس ان کو ہلاک کرتا ہے جس سے مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور کئی بیماریاں بیک وقت حملہ آور ہو جاتی ہیں۔

تاریخی پس منظر

ایڈز ایک نئی بیماری ہے۔ عام طور پر اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ ایڈز پھیلانے والا وائرس سب سے پہلے افریقہ میں ظاہر ہوا کیونکہ افریقہ میں بندر کاگوشت کھایا جاتا ہے جس میں یہ وائرس موجود ہوتا ہے۔ یہ وائرس بعد میں امریکہ اور یورپ میں پھیل گیا۔ امریکہ میں یہ وائرس غالباً ۱۹۵۰ء میں داخل ہوا۔ ۱۹۶۹ء میں ایک پندرہ سالہ لڑکا اس کا پہلا شکار ہوا اور Skin lesions (جلد پر دھبے) میں مبتلا ہو کر مر گیا۔ ڈاکٹر اس مرض کو نہ سمجھ سکے اور اس کی جلد کو محفوظ کر لیا گیا۔ حال ہی میں ان جلدی بافتوں (Tissues) کامعاینہ کیا گیا جس سے ایڈز کے وائرس کی موجودگی پائی گئی۔ ۱۹۵۹ء میں ۴۹ سالہ Hitian نیو یارک میں ایک قسم کے نمونیا سے ہلاک ہوا۔ اب اس کی موت کو ایڈز سے منسلک کیا جاتا ہے۔
برطانوی سائنس دانوں نے مانچسٹر سی مین (Manchester Seaman) جو ۱۹۵۹ء میں ہلاک ہوا، کے ٹشوز (بافتوں) سے ایڈز کا پتہ چلایا۔ اس مرض کا نام ایڈز ۱۹۸۲ء میں رکھا گیا اور ۱۹۸۳۔۸۴ء میں اس کا سبب وائرس HIV (Human Immuno Deficiency Virus)میں دریافت ہوا۔ 

ایڈز کا سبب

ایڈز کا سبب ایک قسم کا وائرس ہوتا ہے جسے HIVکہتے ہیں۔ وائرس بہت چھوٹے جاندار ہیں جو الیکٹران مائیکرو سکوپ کے نیچے دکھائی دیتے ہیں۔ وائرس کا لفظی مطلب ’’زہر‘‘ ہوتا ہے۔
HIV کا جینیاتی مادہ (Genetical Material) آر این اے پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب وائرس خون کے سفید جرثوموں(T. lymphocytes) میں داخل ہوتا ہے تو RNA سے DNA بنایا جاتا ہے۔ یہ ڈی این اے سفید جرثوموں کے کروموسوم میں داخل ہو کر اسے یرغمال بنا لیتا ہے اور اپنے لیے نیا RNA اور پروٹین کوٹ بنواتا ہے۔ اس طرح کئی وائرس ایک وقت میں سفید خون کے خلیوں سے ابھار کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور خون کے نئے سفید خلیوں پر حملہ کر دیتے ہیں جن سے سفید خلیوں کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ 

HIV-I انفیکشن کے تین مرحلے ہوتے ہیں:

(۱) کیٹگری اے: اس مرحلے پر خون کے سفید خلیوں کی تعداد ۵۰۰ فی مکعب ملی میٹر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس سٹیج پر عموماً لوگوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں مگر ایک سے دو فیصد لوگوں میں بخار، کپکپی، درد swollen lymphnodes اور خارش کے دھبے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ علامات بعد میں ختم ہو جاتی ہیں لیکن انفیکشن جاری رہتا ہے۔اس اسٹیج پر جسم کو بیماریوں کے خلاف قائم رہنے کے لیے ہر دن ایک سے دو بلین (کروڑ) نئے سفید خلیے پیدا کرنا پڑتے ہیں۔
(۲) کیٹگری بی : انفیکشن کے کئی ماہ سے کئی سال بعد مریض آہستہ آہستہ کیٹگری بی تک پہنچ جاتا ہے۔ جسم میں سفید خلیوں کی تعداد ۲۰۰ سے ۴۹۹ فی مکعب ملی میٹر تک رہ جاتی ہے۔ گردن، پیٹ اور بغلوں میں lymphnodes سوج جاتے ہیں جو تین یا تین سے زیادہ مہینوں تک رہتے ہیں۔ دوسری علامات میں سخت تھکاوٹ (Fatigue)، مسلسل بخار، اکثر رات کو پسینہ آنا، مسلسل کھانسی جو تمباکو نوشی سے نہ ہو، سردی، زکام، اور مسلسل پیچش (Persistant Diarrhea) شامل ہیں۔ ممکن ہے دماغ میں خرابی سے یادداشت گم ہو جائے اور سوچنے کی کمی، پہچان کی نا اہلی اور ڈپریشن جیسی علامات ظاہر ہوں۔
(۳) کیٹگری سی : اس مرحلے پر سفید خلیوں کی تعداد ۲۰۰ فی مکعب ملی میٹر سے کم ہو جاتی ہے۔ لمف نوڈز ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ مسلسل پیچش اور کھانسی کی وجہ سے وزن میں کمی اور کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ کئی دوسری بیماریاں جیسے پھیپھڑوں کا نمونیا، ٹی بی، پٹھوں یا دماغ کے خلیوں کو تباہ کرنے والی بیماری (Toxoplasmic encephalitus)، بلڈ کینسر (Koposi's Sarcoma) وغیرہ حملہ آور ہوتی ہیں۔ مریض ایڈز سے کم اور ان بیماریوں سے زیادہ ہلاک ہوتا ہے۔ ان بیماریوں کے خلاف ادویات استعمال کرنے سے مریض کچھ مہینوں تک نارمل رہتا ہے لیکن آخر کار وزن کی کمی، مسلسل تھکاوٹ اور بیک وقت کئی بیماریوں کے حملے کی وجہ سے مریض کو بار بار ہسپتال لے کر جانا پڑتا ہے۔ دو سے چار سال میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

ابھی تک ایڈز لاعلاج مرض ہے لیکن دو قسم کی مشہور ادویات ہیں جن میں AZT شامل ہے۔ ایڈز سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کا اختیار کرنا بہت ضروری ہے:
۱۔ غلط جنسی رویے اور نشہ ایڈز کا بڑا سبب ہے، ان سے باز رہنا چاہیے۔
۲۔ مریض کو خون لگانے سے پہلے یقین کر لیا جائے کہ یہ HIV سے پاک ہے۔
۳۔ نئی سرنج کا استعمال کرنا چاہیے۔
(ماخذ: Human Biology, 5th edition, Mader S.S, McGraw Hill )

الشریعہ اکادمی کے تعلیمی سال کا آغاز

حافظ محمد یوسف

۱۹ دسمبر ۲۰۰۲ء جمعرات کو ایک خصوصی تقریب کے انعقاد کے ساتھ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے اس سال کے تعلیمی پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے۔ تقریب میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم نے ضعف وعلالت کے باوجود شرکت فرمائی۔ دونوں بزرگوں نے تقریب سے خطاب کیا، ظہر کی نماز اکادمی میں ادا کی اور اکادمی کے تعلیمی پروگرام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی کام یابی کے لیے دعا فرمائی۔ تقریب میں گوجرانوالہ اور گرد ونواح سے دو سو کے لگ بھگ علماء کرام اور دینی کارکنوں نے شرکت کی جن میں جامعہ محمدیہ اہل حدیث کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحمید ہزاروی، جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی، جامعہ صدیقیہ مجاہد آباد گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا قاضی عطاء اللہ، جمعیۃ علماء اسلام کے راہ نما علامہ محمد احمد لدھیانوی، جمعیۃ اہل سنت کے راہ نما مولانا حافظ گلزار احمد آزاد اور پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اختر بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے بھی تقریب میں شرکت فرمانا تھی اور وہ سفر کے پہلے مرحلے میں سرگودھا پہنچ چکے تھے مگر اچانک کراچی سے ان کی خوش دامن محترمہ کے انتقال کی اطلاع موصول ہوئی اور وہ اپنا سفر منسوخ کر کے کراچی واپس چلے گئے۔ 
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان علما کو تلقین کی کہ وہ انگریزی زبان سیکھیں اور دعوت وتعلیم کے جدید اسلوب سے واقفیت حاصل کریں تاکہ وہ آج کے دور میں لوگوں تک اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر پہنچا سکیں۔ انہوں نے اپنے ربع صدی قبل کے دورۂ برطانیہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس موقع پر انہیں بعض انگریز دانش وروں سے گفتگو کا موقع ملا اور یہ احساس ہوا کہ اگر میں انگریزی زبان سے واقف ہوتا اور ترجمان کا سہارا نہ لینا پڑتا تو اسلام کی بات زیادہ بہتر انداز میں غیر مسلموں تک پہنچا سکتا تھا۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے کہا کہ قرآن کریم میں ایک چیونٹی کا ذکر ہے جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کو آتا دیکھ کر اپنی دیگر چیونٹی ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے بلوں میں گھس جائیں تاکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر بے خبری میں انہیں پاؤں تلے کچل نہ ڈالے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ساتھیوں اور قوم کے تحفظ کا شعور اللہ تعالیٰ نے چیونٹیوں کو بھی عطا فرمایا ہے اس لیے ہمیں اپنے اپنے حال میں مست نہیں رہنا چاہیے بلکہ ملک وملت کے تحفظ اور ترقی کی فکر بھی کرنی چاہیے۔
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دینی مدارس کا اصل مقصد اسلامی علوم کی حفاظت وترویج اور معاشرہ کی دینی راہ نمائی کے لیے افراد کار تیار کرنا ہے اور اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینی مدارس تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ انہوں نے نوجوان علما کو تلقین کی کہ وہ محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں اور اپنے عظیم اکابر واسلاف کے نقش قدم کی پیروی کریں۔
الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے تقریب کے شرکا کی تقریب میں تشریف آوری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اس سال کے تعلیمی پروگرام سے آگاہ کیا اور کام یابی کے لیے تعاون اور دعا کی درخواست کی۔

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تعلیمی سال کا آغاز

۲۳ دسمبر ۲۰۰۳ء بروز پیر صبح نو بجے ایک بابرکت محفل میں بانی مدرسہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کے افتتاحی خطاب اور دعا کے ساتھ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں نئے تعلیمی سال کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ تقریب میں اساتذہ اور طلبا کے علاوہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نے اپنے خطاب میں تعلیم وتعلم کی اہمیت، آداب اور اس حوالے سے اساتذہ وطلبا کی ذمہ داریوں کی وضاحت کی اور محنت، لگن اور خلوص کے ساتھ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے اور اسے ترقی دینے کی نصیحت کی۔
افتتاحی تقریب کے بعد اساتذہ کے ایک اجلاس میں اسباق کی تقسیم اور دیگر تعلیمی وانتظامی امور سے متعلق فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں طے پایا کہ مدرسہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اس سال دورۂ حدیث کے طلبہ کو اسلامی احکام کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے ساتھ موازنہ، تاریخ اسلام اور تقابل ادیان کے حوالے سے اضافی لیکچرز بھی دیں گے۔
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کی دعا کے ساتھ یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’شرح شمائل ترمذی‘‘

جناب نبی اکرم ﷺ کے اخلاق و فضائل پر امام محمد بن عیسیٰ ترمذیؒ کی کتاب صدیوں سے اہل علم کے ہاں متداول چلی آ رہی ہے اور اس کی مختلف زبانوں میں متعدد شروح لکھی گئی ہیں۔ جامعہ ابو ہریرہؓ خالق آباد ضلع نوشہرہ صوبہ سرحد کے مہتمم مولانا عبد القیوم حقانی نے اردو میں اس کی شرح لکھی ہے اور متعدد شروح کے افادات کو اپنے مخصوص انداز میں یک جا کر دیا ہے۔ 
اس کی پہلی جلد اس وقت ہمارے سامنے ہے جو ۶۳۸ صفحات پر مشتمل اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین ہے۔ قیمت درج نہیں ہے اور القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ سے طلب کی جا سکتی ہے۔

’’امام ابو حنیفہؒ : حیات، فکر اور خدمات‘‘

ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد نے اکتوبر ۹۸ء کے دوران اسلام آباد میں امام اعظم حضرت امام ابو حنیفہؒ کی حیات، فکر اور خدمات پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں ممتاز ارباب علم و دانش نے امام اعظمؒ کی علمی و دینی خدمات پر روشنی ڈالی اور تحقیقی مقالات پیش کیے۔ ان میں سے اردو کے منتخب مقالات کو مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ جناب محمد طاہر منصوری اور جناب عبد الحئی ابڑو نے کتابی شکل میں مرتب کیا ہے اور ادارۂ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے اسے شائع کیا گیا ہے۔
پونے تین سو صفحات کی یہ خوب صورت کتاب مذکورہ بالا ایڈریس سے طلب کی جا سکتی ہے۔

’’قرآن اور علم جدید‘‘

معروف کشمیری دانش ور ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم کے بارے میں حضرت مولانا عبد الماجد دریابادیؒ نے لکھا تھا کہ:
’’۱۹۵۵ء میں کراچی میں ملاقات ہوئی اور مل کر جی بڑا خوش ہوا کہ کم سے کم ایک آدمی تو ذہنی اور دماغی قویٰ میں فرنگیوں کا ہم پلہ موجود ہے، اقبال کے بعد سہی، جو اقبال کے کام اور پیغام کو دنیا تک پہنچا سکتا ہے اور اقبال ہی کی زبان اور لہجے میں گفتگو کر سکتا ہے۔‘‘
سندھ کے ممتاز محقق حافظ محمد موسیٰ بھٹو نے ’’قرآن اور علم جدید‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم کی ضخیم کتاب کی تلخیص پیش کی ہے جو اہل علم بالخصوص نوجوان علماء کے لیے بلاشبہ ایک گراں قدر تحفہ ہے۔
صفحات: ۲۷۲، قیمت: ۱۰۰ روپے، ملنے کا پتہ: سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، بی /۴۰۰، یونٹ نمبر ۴، لطیف آباد، حیدر آباد

فتنہ انکار حدیث پر ’’محدث‘‘ کی اشاعت خاص

ماہنامہ ’’محدث‘‘ لاہور ایک علمی ودینی جریدہ ہے جو ہمارے محترم اور بزرگ دوست مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی کی زیر ادارت ایک عرصہ سے علمی محاذ پر مصروف کار ہے اور علمی و فکری فتنوں سے امت کو خبردار کرتے رہنا اس کا خصوصی مشن ہے۔ فتنہ انکار حدیث پر ’’محدث‘‘ کی خصوصی اشاعت اس وقت ہمارے سامنے ہے جس میں دور حاضر میں انکار حدیث کے پس منظر اور اس کے دینی و ملی مضرات و نقصانات پر مختلف علمی مقالات کی صورت میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے ساتھ ملک کے دیگر دینی جرائد میں اس حوالے سے شائع ہونے والے مقالات و مضامین کا ایک جامع اشاریہ بھی شامل کیا گیا ہے جو تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے بہت فائدہ کی چیز ہے۔
۲۸۰ صفحات پر مشتمل اس اشاعت خاص کی الگ قیمت درج نہیں ہے اور اسے دفتر ماہنامہ ’’محدث‘ 99/J ماڈل ٹاؤن لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’مفتی محمد یوسف صاحب کے ’’علمی جائزہ‘‘ کا علمی محاسبہ‘‘

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے بعض افکار و نظریات پر علماء اہل سنت کی طرف سے گرفت کی گئی کہ انہوں نے متعدد مسائل میں جمہور علماء اہل سنت سے الگ راہ اختیار کی ہے تو اکوڑہ خٹک کے مولانا مفتی محمد یوسف نے ’’مولانا مودودی پر اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘ کے عنوان سے مولانا مودودی کے دفاع میں قلم اٹھایا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ علماء اہل سنت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات درست نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں وکیل صحابہؓ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین دامت برکاتہم نے مذکورہ بالا عنوان کے تحت اپنی کتاب میں دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ مودودی صاحب کے بارے میں اکابر علماء اہل سنت کے اعتراضات و اشکالات درست ہیں اور مفتی محمد یوسف صاحب ان میں سے کسی کو علمی بنیاد پر رد نہیں کر سکے۔
سوا چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ایک سو بیس روپے ہے اور اسے تحریک خدام اہل سنت والجماعۃ چکوال نے شائع کیا ہے۔

’’جب پنجاب اسمبلی نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھا‘‘

قیام پاکستان کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان اور قادیانی گروہ کی قیادت نے مشرقی پنجاب سے ترک وطن کر کے پاکستان میں اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیا اور چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے کنارے پر پنجاب کے انگریز گورنر سے کوڑیوں کے بھاؤ زمین لیز پر حاصل کر کے نیا شہر بسایا تو اس کا نام جان بوجھ کر فریب کاری کے لیے ربوہ رکھا اس لیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ ’’مسیح بن مریم‘‘ ہے اور ربوہ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے حوالے سے مذکور ہے۔ قادیانیوں کی اس فریب کاری کے خلاف سب سے پہلے مولانا منظور احمد چنیوٹی نے آواز بلند کی جس کی تمام دینی حلقوں نے تائید کی اور مولانا چنیوٹی نے مسلسل محنت اور تگ و دو کے بعد بالآخر پنجاب اسمبلی سے ربوہ کا نام تبدیل کرانے کا فیصلہ کرا لیا۔ زیر نظر کتاب میں مولانا چنیوٹی نے اس جدوجہد کی مرحلہ وار تفصیل بیان کی ہے اور متعلقہ ضروری دستاویزات کو اس کے ساتھ شامل کر دیا ہے۔ 
دو سو کے لگ بھگ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۹۰ روپے ہے اور اسے ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ ضلع جھنگ نے شائع کیا ہے۔

’’جمال یوسف‘‘

مولانا عبد القیوم حقانی نے محدث عصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی حیات و خدمات کا بڑے خوب صورت اور باذوق انداز میں تذکرہ کیا ہے اور حضرت بنوریؒ کے حوالے سے ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے جس پر وہ بجا طور پر شکریہ کے مستحق ہیں۔
صفحات: ۳۰۴، خوب صورت جلد و ٹائٹل، قیمت درج نہیں ہے اور القاسم اکیڈمی جامعہ ابو ہریرہؓ، خالق آباد، ضلع نوشہرہ کی طرف سے یہ کتاب شائع کی گئی ہے۔

’’نماز تراویح اور مذاہب اہل حدیث‘‘

اس کتابچہ میں مولانا عبد الحق خان بشیر نے نماز تراویح کے حوالے سے اہل حدیث کے مختلف مذاہب کا جائزہ لیا ہے اور ٹھوس دلائل اور حوالوں کے ساتھ جمہور اہل سنت کے موقف کی وضاحت کی ہے۔
صفحات: ۱۵۲، قیمت: ۴۸ روپے، ملنے کا پتہ: حق چاریار اکیڈمی، مدرسہ حیات النبی، محلہ حیات النبی، گجرات

’’اکابر علماء دیوبند کا عقیدۂ حیات النبی‘‘

مولانا حافظ عبد الحق خان بشیر نے اس کتابچہ میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات فی القبور کے بارے میں علماء دیوبند کے مسلک کی باحوالہ وضاحت کی ہے اور مولانا عطاء اللہ بندیالوی کے ایک رسالہ کا جواب دیا ہے جس میں انہوں نے حیات انبیاء علیہم السلام کے بارے میں علماء دیوبند سے مختلف موقف پیش کیا ہے۔
صفحات:۸۰، قیمت: ۲۴ روپے۔ یہ رسالہ بھی مذکورہ بالا پتہ سے منگوایا جا سکتا ہے۔

’’فلسفہ ارکان اسلامی‘‘

جلال پور بھٹیاں ضلع حافظ آباد کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا قاضی غلام نبی اصغرؒ نے ۱۹۳۵ء نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے احکام اور فلسفہ پر الگ الگ کتابچے تحریر کیے تھے جو ان کے فرزند جناب عبد الرشید ارشد نے مذکورہ بالا عنوان کے تحت یک جا شائع کر دیے ہیں۔
صفحات: ۱۱۰ روپے، قیمت : ۳۲ روپے، ملنے کا پتہ: مکتبہ رشیدیہ، ۲۵ لوئر مال، لاہور

’’فیض النحو اردو شرح نحو میر‘‘

نحومیر معروف درسی کتاب ہے۔ مولانا حافظ محمد رمضان اویسی نے اردو میں سوال وجواب کے انداز میں اس کی شرح لکھی ہے جو بچوں کو نحو کے مسائل یاد کرانے کے لیے بہت مفید ہے۔ 
صفحات : ۱۲۵، قیمت : ۵۰ روپے، ملنے کا پتہ: النظامیہ کتاب گھر، وائی بلاک، پیپلز کالونی، گوجرانوالہ

"A PILLAR OF ISLAM"

حافظ محمد اسلم رشیدی صاحب جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے فیض یافتہ ہیں، ایک عرصہ سے مانچسٹر میں مقیم ہیں اور وہاں کے ماحول میں بچوں کو قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی تعلیم دینے کا خصوصی تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے ماحول اور ضروریات کو سامنے رکھ کر نورانی قاعدہ کی طرز پر ابتدائی قاعدہ ترتیب دیا ہے اور اس کے ضروری امور کو آسان انگریزی میں واضح کیا ہے۔ انگریزی خواں بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے یہ قاعدہ بہت مفید ہے۔ اسے ادارہ اشاعت الاسلام پوسٹ بکس نمبر ۳۶، مانچسٹر ۱۶، برطانیہ نے شائع کیا ہے اور پاکستان میں یہ قاعدہ ناظم مدرسہ تجوید الفرقان، منظور کالونی، ساہیوال سے طلب کیا جا سکتا ہے۔