فروری ۲۰۰۳ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
صحابہ کرام کا اسلوب دعوت (۴)پروفیسر محمد اکرم ورک 
مسلم امہ کو درپیش فکری مسائلڈاکٹر محمد امین 
ڈاکٹر شیر محمد زمان کا مکتوبڈاکٹر ایس ایم زمان 
ڈاکٹر عبد الخالق کا مکتوبڈاکٹر عبد الخالق 
گلوبلائزیشن: چند اہم پہلوپروفیسر میاں انعام الرحمن 
تعارف و تبصرہادارہ 

پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لٹن روڈ لاہور میں ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت ’’الشریعۃ‘‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے کی۔ سیمینار میں جسٹس (ر) عبد الحفیظ چیمہ‘ حکیم محمود احمد سرو سہارنپوری‘ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ‘ پروفیسر عبد الجبار شاکر‘ ڈاکٹر محمود الحسن عارف‘ جناب کے ایم اعظم اور پروفیسر ڈاکٹر محمدامین نے مختلف متعلقہ عنوانات پر مقالات پیش کیے اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی راہ نما حافظ حسین احمد ایم این اے اور صوبہ سرحد کے راہ نما پروفیسر محمد ابراہیم نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے نفاذ اسلام کے لیے متحدہ مجلس عمل کی پالیسی اور پروگرام نیز اس حوالہ سے صوبہ سرحد اور بلوچستان کی تازہ ترین صورت حال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اس موقع پر مولانا زاہد الراشدی کی طرف سے پیش کیا جانے والا مضمون ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے جبکہ سیمینار کے دیگر مقالات اور ضروری تفصیلات ’’الشریعۃ‘‘ کی آئندہ اشاعت میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ (ادارہ)

نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ وأصحابہ وأتباعہ أجمعین۔
نفاذ اسلام کی جدوجہد کے ایک نظریاتی کارکن کی حیثیت سے مجھے یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی تعلیم و تدریس سے متعلق اساتذہ نے اگست ۲۰۰۰ء سے ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کے نام سے ایک علمی فورم قائم کر رکھا ہے جس میں عصری مسائل پر اسلامی تناظر میں غور کیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں اور عصری مسائل کے اسلامی تناظر میں تجزیہ و حل کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی اجتماعی کام منظم نہیں ہو سکا اور اگرچہ اس حوالہ سے شخصی حوالوں سے اچھا خاصا کام سامنے آیا ہے مگر شخصی فکر اور عقیدت کے دائروں میں محدود ہونے کی وجہ سے قوم کی اجتماعی زندگی میں اس کے خاطر خواہ ثمرات مرتب نہیں ہو سکے اور نفاذ اسلام کے محاذ پر علمی و فکری ہوم ورک کا خلا بدستور ارباب علم و دانش کو کھٹک رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ جس طرح قیام پاکستان کے فوراً بعد تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ دستوری نکات مرتب کر کے نفاذ اسلام کے حوالہ سے اجتماعی علمی سوچ اور فکر کا عملی مظاہرہ کیا تھا، اس کا تسلسل قائم رہتا اور اسی جذبہ اور شعور کے ساتھ عصری مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ نفاذ اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات سے نمٹنے کی علمی جدوجہد کی جاتی لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور ہماری نصف صدی سے زیادہ عرصہ پر محیط قومی زندگی میں علماء کرام کے مذکورہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات کے بعد اگر کوئی اجتماعی علمی کاوش نظر آتی ہے تو وہ ۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت‘ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے‘ صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں وفاقی شرعی عدالت کے قیام‘ حدود آرڈیننس کے نفاذ اور اس نوعیت کے دیگر چند اقدامات تک محدود ہے یا اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور وفاقی شرعی عدالت کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے مگر جب ہم نفاذ اسلام کے سلسلہ میں عالمی سطح پر پائے جانے والے ہمہ گیر شکوک و شبہات اور مختلف عالمی حلقوں کی تشویش و اضطراب کے تناظر میں نفاذ اسلام کی اصل علمی و فکری ضروریات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ کام قطعی طور پر ناکافی دکھائی دیتا ہے۔ بالخصوص جدید علمی و فکری چیلنجز کے پس منظر میں اجتماعی علمی و فکری جدوجہد کا خلا پوری شدت کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ 
میری ایک عرصہ سے یہ کوشش اور خواہش رہی ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی تعلیم و تدریس کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والے علما اور جدید علوم و فنون بالخصوص قانونی نظام سے تعلق رکھنے والے ارباب دانش کے مشترکہ علمی فورم تشکیل پائیں اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کے طرز اجتہاد کا احیا کرتے ہوئے مسائل کے تجزیہ و تحلیل اور حل کے لیے مشاورتی طریق کار کا راستہ اختیار کیا جائے لیکن متعدد مواقع پر اس کے لیے آواز اٹھانے اور متعلقہ حضرات کو توجہ کے باوجود پیش رفت کی کوئی صورت دکھائی نہیں دی۔ اس پس منظر میں ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کے قیام پر مجھے جس قدر خوشی ہو سکتی ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا مجھے مشکل محسوس ہو رہا ہے تاہم اس میں یہ کمی میرے خیال میں ابھی تک موجود ہے کہ دینی مدارس کے سینئر اساتذہ اور قانونی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین سے استفادہ کی شاید ضرورت محسوس نہیں کی گئی یا ان سے رابطہ کا کوئی قابل عمل طریقہ طے نہیں پا سکا۔ لیکن اس حوالہ سے اپنے احساسات و تاثرات کے اظہار پر خود کو مجبور پا رہا ہوں اور اس پر ’’مجلس فکر و نظر‘‘ سے معذرت خواہ ہوں ۔ 
جہاں تک پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات پر گفتگو کا تعلق ہے، اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اب تک ہونے والے کام پر ایک نظر ڈال لی جائے تو آئندہ ترجیحات پر غور ہمارے لیے آسان ہو جائے گا۔ 
  • ملک کے دستور کی بنیاد ’’قرارداد مقاصد‘‘ پر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ کو تسلیم کر کے قرآن وسنت کی حدود میں رہتے ہوئے عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعہ ملک کا نظام چلانے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اسی حوالہ سے یہ ملک ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کہلاتا ہے اور اسی بنیاد پر پاکستان کو ایک نظریاتی اسلامی ریاست کا مقام حاصل ہے۔
  • دستور میں اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے۔
  • قرآن و سنت کے منافی قوانین نافذ نہ کیے جانے اور تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کا دستوری وعدہ کیا گیا ہے۔
  • مروجہ قوانین کی اسلامی حیثیت کے تعین کے لیے وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے دو دستوری ادارے کام کر رہے ہیں۔
  • اسلامی نظریاتی کونسل ملک کے تمام مروجہ قوانین کا جائزہ لے کر انہیں قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک جامع رپورٹ پیش کر چکی ہے۔
  • وفاقی شرعی عدالت نے متعدد قوانین کے بارے میں واضح فیصلے صادر کر رکھے ہیں۔
  • قومی اسمبلی اور سینٹ آف پاکستان مختلف مواقع پر قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا قرار دینے کا بل الگ الگ طور پر منظور کر چکی ہیں ۔
مگر اس سب کچھ کے باوجود نفاذ اسلام کی دلّی ابھی بہت دور ہے اور اس کے قریب آنے کا سردست کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کا موجودہ نظام جن طبقات کی گرفت میں ہے اور جو گروہ پاکستان کے مروجہ سسٹم کا کنٹرول پوری قوت کے ساتھ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی طبقہ بھی نفاذ اسلام کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اور وہ اسے قوم کو بہلانے کے لیے ایک کھلونے سے زیادہ کوئی حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس طبقہ میں سول اور ملٹری بیوروکریسی کے ساتھ جاگیردار اور اعلیٰ مراعات یافتہ گروہ بھی شامل ہیں اور انہیں پاکستان میں نفاذ اسلام کا ہر قیمت پر راستہ روکنے کے لیے عالمی استعمار اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے۔ اس لیے میرے نزدیک نفاذ اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعتوں اور طبقات کی ترجیحات میں سب سے پہلے اس بات کو اہمیت حاصل ہونی چاہیے کہ مروجہ نظام کی حفاظت کے لوکل اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے قائم کردہ حصار اور ریڈ لائن کو کیسے توڑا جائے؟ کیونکہ اس حصار کو توڑے بغیر اور مروجہ نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ کیے بغیر نفاذ اسلام کا کوئی سنجیدہ قدم آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی نظام میں تبدیلی کی کوئی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد تاریخ اسلام سے دو تین مواقع کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جب چند نیک دل حکمرانوں کو بگڑے ہوئے نظام کی اصلاح کا موقع ملا اور انہوں نے اس بگڑے ہوئے نظام کی اصلاح کے لیے پوری دیانت داری کے ساتھ پیش رفت کی۔ ہو سکتا ہے ان کے اقدامات اور طرز عمل سے ہمارے لیے راہ نمائی کا کوئی راستہ نکل آئے۔ 
پہلے نمبر پر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ہیں جنہوں نے پہلی صدی ہجری کے اختتام پر خلافت کی ذمہ داری قبول کی جبکہ ملکی نظام میں خاصا بگاڑ آچکا تھا۔ عوامی حاکمیت کی بجائے حکمران طبقہ وجود میں آگیا تھا۔ وی آئی پی کلچر نے مسلمان سوسائٹی میں اپنی جگہ بنا لی تھی اور قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کا یہ عالم تھا کہ بعض مؤرخین کے بقول بیت المال یعنی قومی خزانے کے اسی فی صد اموال اور اثاثے شاہی خاندان اور مراعات یافتہ طبقوں کی تحویل میں تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے برسر اقتدار آنے کے بعد اس صورت حال کی اصلاح کے لیے جو اقدامات کیے، ان کی فہرست طویل ہے لیکن ان میں چند اہم اقدامات یہ ہیں :
  • قومی خزانے کی رقوم اور اثاثوں کی واپسی کا آغاز اپنی ذات اور گھر سے کیا اور پھر کسی رو رعایت کے بغیر تمام متعلقہ لوگوں سے قومی خزانے کی رقوم اور اثاثے سختی کے ساتھ واپس لے لیے۔ 
  • سابق حکمرانوں نے رعایا پر جو ناجائز ٹیکس عائد کر رکھے تھے، وہ ختم کر دیے اور عام لوگوں کو سرکاری عمال کی لوٹ کھسوٹ سے نجات دلائی۔
  • وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کیا اور پروٹوکول اور پرسٹیج کے ضابطے ختم کر دیے۔
  • خود بھی عام لوگوں جیسی سادہ زندگی اور رہن سہن اختیار کیا اور دوسرے سرکاری حکام کو بھی عام لوگوں جیسے معیار زندگی کی طرف واپس آنے پر مجبور کیا۔
  • قانون کی عملداری بحال کی اور سرکاری عمال کو پابند کیا کہ وہ کسی شخصیت‘ طبقہ یا خاندان کی پروا کیے بغیر قرآن و سنت کے مطابق تمام امور کے فیصلے کریں۔
چھٹی صدی ہجری میں ایک نیک دل حکمران سلطان نور الدین زنگیؒ نے شام کی حکومت کا کنٹرول حاصل کیا تو اسے بھی ایک بگڑے ہوئے نظام کا سامنا تھا اور اس نے اصلاح احوال کے لیے جو طریقے اختیار کیے، ان میں سے چندایک کا مؤرخین اس طرح ذکر کرتے ہیں:
  • جزیہ اور خراج کے سوا تمام ٹیکس منسوخ کر دیے۔
  • عام ضرورت کی تمام اشیا کو چونگی اور ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔
  • منکرات و فواحش اور بدکاری و بے حیائی کے خاتمہ کے لیے سخت گیر پالیسی اختیار کی۔
  • سرکاری خرچ پر مفت شفا خانہ قائم کیا۔
  • دمشق میں علم حدیث کی تعلیم کے لیے مستقل مدرسہ قائم کیا جو عالم اسلام کا پہلا ’’سرکاری دار الحدیث‘‘ کہلاتا ہے اور جس کے شیخ الحدیث معروف محدث حافظ ابن عساکرؒ تھے۔
  • خراسان کے معروف ریاضی دان قطب الدین نیشا پوریؒ کو دمشق میں بلوا کر بڑی درسگاہ قائم کی۔ 
بارہویں صدی ہجری کے دوران جب ہندوستان میں مغل بادشاہت کا چراغ بتدریج گل ہو رہا تھا، جنوبی ہند کی ریاست میسور میں سلطان ٹیپوؒ نے اقتدار سنبھالا تو اسے ایک زوال پذیر معاشرے سے سابقہ درپیش تھا اور وہ جنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار کے تیزی سے بڑھتے ہوئے قدموں کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس نے میسور کی سلطنت خداداد کو ایک خوشحال اور مستحکم اسلامی ریاست بنانے کی ہر ممکن کوشش کی‘ تجارت و زراعت کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ دفاع اور اسلحہ سازی کی طرف خصوصی توجہ دی اور جہاز سازی کے میدان میں پیش رفت کر کے عسکری قوت میں فرنگی استعمار کے بالمقابل آنے کا عزم کیا۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ اگر ٹیپو شہیدؒ کو اس کی خواہش کے مطابق ترکی کی خلافت عثمانیہ کی سرپرستی حاصل ہو جاتی اور میسور کی پڑوسی مسلم ریاستیں اس کے مقابلہ میں فرنگی حکمرانوں کا ساتھ نہ دیتیں تو سلطان ٹیپوؒ کی حکمت عملی اور عزم میں اتنی قوت تھی کہ وہ جنوبی ایشیا کے ایک بڑے حصے کو برطانوی استعمار کے نو آبادیاتی تسلط سے آزاد رکھنے میں کامیاب ہو جاتا۔ مگر خلافت عثمانیہ اور ریاست حیدر آباد دونوں نے اس مرد غیور کا ساتھ دینے اور اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے کے بجائے انگریزوں کا ساتھ دینے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے نہ صرف سلطان ٹیپوؒ کو جام شہادت نوش کرنا پڑا بلکہ جنوبی ایشیا کی یہ اسلامی ریاست بھی تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوگئی۔ 
ہمیں پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ سنگین صورت حال درپیش ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ اور سلطان نور الدین زنگیؒ کے سامنے ایک بگڑے ہوئے نظام کی اصلاح کا مشن تھا جو انہوں نے اپنے خلوص‘ دیانت اور کردار کی بدولت پورا کر دکھایا جبکہ سلطان ٹیپوؒ کے سامنے اپنی سلطنت کی آزادی کو بچانے اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مستقبل کا سوال تھا جسے وہ حل نہ کر سکا مگر اپنی جان کا نذرانہ دے کر اس نے مسلمانوں کو اپنی آزادی‘ خود مختاری اور اسلامی تشخص کے تحفظ کی جدوجہد کا راستہ بتا دیا۔ ہمارے سامنے یہ دونوں چیلنج ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ سنگین اور خوفناک شکل میں ہیں۔ اس لیے پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کرنے والوں کو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ‘ سلطان نور الدین زنگیؒ اور سلطان ٹیپو شہیدؒ کے کردار‘ عزم اور حوصلہ و استقامت سے راہ نمائی حاصل کرنا ہوگی اور محض ’’روایتی سیاسی عمل‘‘ پر قناعت کرنے کی بجائے ایک ملی و دینی مشن کے طور پر اس کے طریق کار اور ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔ 
آخر میں صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے حوالہ سے بھی کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ وہ یہ کہ نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ دنیا بھر کی دینی تحریکات اور دینی کارکنوں کی نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں اور افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کے جبری خاتمہ نے دنیا بھر کے دینی کارکنوں کے دلوں پر جو زخم لگائے ہیں‘ وہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی کو اپنے زخموں پر مرہم کی طرح محسوس کر رہے ہیں۔ میں اس سلسلہ میں اپنے ذاتی مشاہدہ کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۲ ؁ء کے انتخابات کے موقع پر میں لندن میں تھا۔ انتخابات کے نتائج سامنے آنے پر کم از کم چھ مختلف ملکوں کے مسلم دانش وروں نے مجھ سے رابطہ قائم کیا اور مبارک باد دیتے ہوئے اپنے جذبہ اور خلوص کے مطابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی متوقع حکومت کو کامیاب بنانے کے لیے بہت سے مشورے دیے۔ انہیں یہ غلط فہمی تھی کہ شاید متحدہ مجلس عمل میں مجھے بھی ایسی حیثیت حاصل ہے کہ میں اس کی قیادت کو پالیسی اور ترجیحات کے معاملہ میں کوئی مشورہ دے سکتا ہوں اور اسی وجہ سے وہ مجھے مفید مشوروں سے نواز رہے تھے جبکہ میں اس بات پر خوش تھا کہ متحدہ مجلس عمل کو صرف پاکستان کے دین دار عوام ہی نہیں بلکہ مختلف ملکوں کے مسلمان دانش ور بھی اپنی جماعت سمجھ رہے ہیں اور اس سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ ان سب دوستوں کے مشوروں کا خلاصہ یہ تھا کہ:
  • متحدہ مجلس عمل کو صوبہ سرحد میں ایک مثالی عوامی اور اسلامی حکومت کا عملی نقشہ پیش کرنا چاہیے۔ 
  • عوامی مسائل کے حل اور مشکلات کے خاتمہ کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ 
  • سماجی انصاف اور معاشرتی عدل کی فراہمی کو اولیت دینی چاہیے۔ 
  • پروٹوکول‘ پرسٹیج اور وی آئی پی کلچر کے عذاب سے لوگوں کو نجات دلانا چاہیے۔
  • صوبائی وزراء کو قناعت‘ سادگی اور قانون کی یکساں عملداری کا اپنی ذاتی زندگی میں نمونہ بننا چاہیے۔ 
  • نا انصافی‘ رشوت‘ بد عنوانی اور سرخ فیتہ کی لعنت کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ 
  • عام لوگوں میں اپنی مدد آپ کے تحت سماجی کاموں کا شعور بیدار کرنا چاہیے اور ہر لحاظ سے دوسرے صوبوں اور دوسری سیاسی جماعتوں کے وزرا سے متحدہ مجلس عمل کے وزرا کو الگ اور ممتاز نظر آنا چاہیے تاکہ وہ نہ صرف اپنے صوبہ میں عوام کو عدل و انصاف کا صحیح ماحول فراہم کر سکیں بلکہ ان کا کردار اور حکومتی طرز عمل ملک کے دوسرے صوبوں کے عوام کے لیے بھی باعث کشش ہو اور پورے پاکستان کے عوام عملاً یہ محسوس کریں کہ ان کی فلاح و بہبود اور بہتر مستقبل اسلامی نظام اور دینی قیادت ہی سے وابستہ ہے۔ 
ان مشوروں کے ساتھ میں اپنی طرف سے سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے لیے ایک مشورہ کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامائزیشن کا بہت سا کام اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی شکل میں موجود ہے۔ صرف آئین کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لے کر صوبائی اختیارات کی حدود واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام کے بعد صوبائی اختیارات سے تعلق رکھنے والی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو چھانٹ لیجیے اور متعلقہ ماہرین کی مشاورت سے ترجیحات طے کر کے صوبائی اسمبلی کے ذریعہ ان کے بارے میں قانون سازی کا آغاز کر دیجیے کہ اس وقت آپ کے بس میں عملاً صرف یہی ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ جب اپنے بس اور اختیار کا کام آپ کر گزریں گے تو اگلی پیش رفت کی راہیں بھی اللہ تعالیٰ ضرور کھول دیں گے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔

صحابہ کرام کا اسلوب دعوت (۴)

مکی عہد نبوت کے اہم دعوتی وتبلیغی مراکز

پروفیسر محمد اکرم ورک

قبل از ہجرت مکہ مکرمہ میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی متعین تبلیغی ودعوتی مرکز نہ تھاجہاں رہ کر وہ اطمینان اور سکون کے ساتھ اپنی دعوتی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ۔ درحقیقت مکی دور میں خود رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس ہی متحرک درس گاہ تھی۔سفروحضر، دن اور رات ہر حال اور ہر مقام میں آپﷺ ہی کی ذات دعوت وتبلیغ کا منبع تھی۔صحابہ کرامؓ عام طو ر پر چھپ کر ہی قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے تاہم کفار مکہ کی ستم رانیوں کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے علاوہ حضرت ابوبکرؓ ،خبابؓ بن الارت ،مصعبؓ بن عمیر اور دیگر صحابہ کرامؓ قرآن مجید کی تعلیم اور اشاعت میں مصروف رہے۔مکی دور کے ایسے مقامات اور حلقہ جات کو دعوت وتبلیغ کے مراکز سے تعبیر کیاجاسکتاہے جہاں حالات کی نزاکت اور ضرورت کے مطابق کسی نہ کسی انداز میں قرآن مجید کی تعلیم دی جاتی تھی یا قرآن کی تلاوت کی جاتی تھی۔ذیل کی سطور میں مکی دور کے چند دعوتی وتبلیغی مراکز کا مختصر تعارف پیش کیاجاتا ہے، جہاں پر صحابہ کرامؓنے کسی نہ کسی حیثیت میں فریضۂ دعوت انجام دیا۔

مسجد ابی بکرؓ

مکی دور میں دعوت وتبلیغ کا اولین مرکز حضرت صدیقِ اکبرؓ کی وہ مسجد تھی جو آپؓ نے اپنے گھر کے صحن میں بنا رکھی تھی۔ابتدا میں یہ ایک کھلی جگہ تھی جس میںآپؓ قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور نماز پڑھا کرتے تھے۔عام طور پرآپؓ بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو کفار ومشرکین مکہ کے بچے اور عورتیں ان کے گر دجمع ہوکر قرآن سنتے، جس سے ان کا دل خود بخود اسلام کی طرف مائل ہوتا۔یہ صورت حال مشرکینِ مکہ کو بھلا کب گوارا تھی ،چنانچہ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کو سخت اذیت میں مبتلا کیا جس کی وجہ سے آپؓ نے مکہ سے ہجرت کاارادہ کرلیا۔مگر راستے میں قبیلۂ قارہ کے رئیس ابن الدغنہ سے ملاقات ہوئی۔اس نے پوچھا اے ابوبکرؓکدھر کا ارادہ ہے؟ آپؓ نے فرمایاکہ میری قوم نے مجھے ہجرت پر مجبور کردیا ہے، اب دنیا کی سیر کروں گااور کسی گوشہ میں اطمینان سے اپنے رب کی عبادت کروں گا،مگر ابن الدغنہ یہ کہہ کرآپ کو واپس لے آیاکہ آپؓجیسے باکردار شخص کو ہجرت پر مجبور نہیں کیاجاسکتا اور پھر حضرت صدیقِ اکبرؓ کے لیے اپنی پناہ کا اعلان کیا۔ ابوبکرؓ واپس تشریف لے آئے اور گھر کے صحن میں باقاعدہ مسجد بنالی۔ صحیح بخاری میں ہے:
ثم بدأ لابی بکرؓ فابتنی مسجدا بفناء دارہ وبرز فکان یصلی فیہ ویقرء القرآن۔ (۱)

’’پھر ابوبکرؓ نے اپنے مکان کے باہر صحن میں ایک مسجد بنائی،اور اس میں نماز اور قرآن پڑھتے تھے‘‘۔

مسجد ابی بکرؓ میں نہ کوئی مستقل معلم مقرر تھا اور نہ کوئی باقاعدہ طالب علم تھا۔البتہ یہ مسجد تلاوتِ قرآن اور اشاعتِ قرآن کے لیے مکی دور کی اولین درس گاہ اور تبلیغی مرکز قراردی جاسکتی ہے جہاں پر کفار مکہ کے بچے بچیاں اور عورتیں قرآن کے آفاقی پیغام کو لحنِ صدیقیؓ میں سنتے تھے اور مائل بہ اسلام ہوتے تھے۔ چنانچہ ابن اسحاق حضرت عائشہؓ کی سند سے روایت کرتے ہیں:
وکان رجلا رقیقا،اذا قرأ القرآن استبکی، فیقف علیہ الصبیان والعبید والنساء، یعجبون لما یرون من ھیئتہ، فمشی رجال من قریش الی ابن الدغنۃ، فقالوا:یا ابن الدغنۃ! انک لم تجر ھذا الرجل لیؤذینا ! انہ رجل اذا صلی وقرأ ما جاء بہ محمدﷺ یرق ویبکی، وکانت لہ ھیئتہ ونحو،فنحن نتخوّف علی صبیاننا ونسا ئنا و ضعفتنا ان یفتنھم، فأتہ،فمرہ ان یدخل بیتہ فلیصنع فیہ ماشاء۔

’’حضرت ابوبکرؓ رقیق القلب انسان تھے،جب قرآن پڑھتے تو روتے ،اس وجہ سے آپؓ کے پاس لڑکے،غلام اور عورتیں کھڑی ہوجاتیں،اور آپؓکی اس ہیئت کو پسند کرتے ،قریش کے چند لوگ ابن الدغنہ کے پاس گئے اور اس سے کہا:اے ابنِ الدغنہ!تونے اس شخص کو اس لیے تو پناہ نہیں دی تھی کہ وہ ہمیں تکلیف پہنچائے۔ وہ ایسا شخص ہے کہ جب نمازمیں وہ کلام پڑھتا ہے جو محمدﷺ لایا ہے تو اس کا دل بھر آتا ہے اوروہ روتا ہے۔اس کی ایک خاص ہیئت اور طریقہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں بچوں،عورتوں اور دیگر لوگوں کے متعلق خوف ہے کہ کہیں یہ انہیں فتنے میں نہ ڈال دے اس لیے تو اس کے پاس جااور حکم دے کہ وہ اپنے گھر کے اندر رہے اور اس میں جو چاہے کرے‘‘۔

چنانچہ ابن الدغنہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ یا تو آپؓ اس طریقے سے باز آجائیں یا میر ی پناہ مجھے واپس لوٹا دیں۔حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:میں نے تیری پناہ تجھے واپس کردی۔میرے لیے اللہ کی پناہ کافی ہے۔ (۲)

بیت فاطمہ بنتِ خطابؓ

حضرت فاطمہ بنتِ خطابؓ ،حضرت عمر بن خطابؓ کی بہن ہیں جنہوں نے ابتدائی دور میں ہی اپنے خاوند سعیدؓ بن زیدسمیت اسلام قبول کرلیا۔یہ دونوں میاں بیوی اپنے گھر میں ہی حضرت خبابؓ بن الارت سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کیاکرتے تھے۔حضرت عمرؓ ایک دن اسلام لانے سے پہلے گلے میں تلوار حمائل کیے رسول اللہﷺ کے قتل کے ارادے سے نکلے، لیکن راستے میں اپنی بہن اور بہنوئی کے مسلمان ہونے کی خبر ملی تو انتہائی غصے کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لے کر ان کے مکان پر پہنچے تو ان کو قرآن کی تلاوت اور تعلیم میں مشغول پایا۔ابنِ اسحاق کی روایت ہے:
وعندھما خبابؓ بن الارت معہ صحیفۃ فیھا: ’’طٰہٰ ‘‘یقرء ھما ایاھا۔ (۳)

’’ان دونوں کے پاس خبابؓ بن الارت تھے جن کے پاس ایک صحیفہ تھا جس میں سورہ طہٰ لکھی ہوئی تھی جو وہ ان دونوں کو پڑھا رہے تھے‘‘

سیرتِ حلبیہ میں حضرت عمرؓ کی زبانی منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے میرے بہنوئی کے یہاں دو مسلمانوں کے کھانے کا انتظام کیاتھا،ایک خباب بن الارتؓ اور دوسرے کانام مجھے یاد نہیں۔ خباب بن الارتؓ میری بہن اور بہنوئی کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کو قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔(۴)
اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ کایہ بیان ہے :
وکان القوم جلوسا یقرء ون صحیفۃ معہم۔ (۵)

’’اور ایک جماعت بیٹھ کر صحیفہ پڑھ رہی تھی جوان کے پاس موجود تھا‘‘

بیتِ فاطمہ بنتِ خطابؓ کو مکی دور میں قرآن مجید کی تعلیم اور اشاعت کا مرکز کہاجاسکتا ہے جہاں کم ازکم دو طالب علم اور ایک معلم تھا۔اور اگر حضرت عمرؓ کے بیان میں لفظ’’قوم‘‘کا اعتبار کیا جائے تو یقینی طور پریہاں قرآن پڑھنے والی ایک پوری جماعت کا پتہ چلتاہے۔

دارِ ارقمؓ

حضرت ارقم بن ابی الارقمؓ (*۱) السابقون الاولون یعنی بالکل ابتدائی دور میں اسلام لانے والوں میں سے ہیں۔ آپؓ کے بیٹے عثمان بن ارقم ،جو ثقہ محدث ہیں،کہاکرتے تھے:
انا ابن سبع الاسلام، اسلم ابی سابع سبعۃ۔ (۶)

’’میں(عثمان)ایک ایسی ہستی کافرزند ہوں جنہیں اسلام میں ساتواں درجہ حاصل ہے،میرے والد اسلام قبول کرنے والے ساتویںآدمی ہیں‘‘۔

حافظ ابنِ حجر نے بھی الاصابہ میں ابن سعد کے قول کوہی اختیار کیا ہے تاہم ابن الاثیر کے مطابق حضرت ارقمؓ کاقبول اسلام میں دسواں یابارہواں نمبر ہے۔(۷)
البتہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت ارقمؓ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کرلیاتھا۔
وکانت دارہ علی الصفاء۔ (۸)

’’مکہ میں ان کا مکان کو ہ صفا کے اوپر تھا‘‘۔

دارِ ارقم (*۲)کے نام سے شہرت حاصل کرنے والے اس مکان کو اسلامی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مکان ’’دارالاسلام‘‘کے متبرک لقب سے بھی یادکیا جاتا ہے۔(۹)
مشرکینِ مکہ جب اسلام کے پھیلاؤ کو کسی طرح بھی نہ روک سکے تو انہوں نے کمزور ضعفاء اسلام پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کو بیت اللہ میں آزادانہ نماز ادا کرنے سے روکتے،ذکر الٰہی اور تلاوتِ قرآن میں خلل انداز ہوتے ،دست درازی کرتے اور اکثر ان کارویہ انتہائی گستاخانہ ہوتاتھا۔حالات اس قدر نازک ہوچکے تھے کہ مسلمانوں کے لیے گوشوں اور گھاٹیوں تک میں محفوظ اور آزادانہ طور پر عبادت اور نماز کا ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ ابن اسحاق کا بیان ہے:
’’ایک دفعہ مسلمان مکہ کی ایک گھاٹی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین کے ایک گروہ نے انہیں دیکھ لیا اوران کو سخت سست کہنا شروع کیا۔بات بڑھتے بڑھتے لڑائی تک پہنچ گئی اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایک شخص کو اونٹ کی ہڈی کھینچ ماری جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ یہ پہلا خون تھا جو اسلام کے بارے میں بہایا گیا۔(۱۰)
یہ وہ سنگین حالات تھے جن میں رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو لے کر دارِارقم میں پناہ گزیں ہوگئے تاکہ مسلمان پورے انہماک سے اپنے رب کے حضور اپنی جبین نیاز کو جھکاسکیں،چنانچہ جلد ہی دارِارقم اسلا م اور دعوتی سرگرمیوں کامرکز بن گیاجہاں پر نہ صرف لوگوں کودائرۂ اسلام میں داخل کیا جاتا تھا بلکہ ان کی مناسب تعلیم وتربیت اور تزکیۂ نفس بھی کیاجاتا تھا ۔ ابنِ سعد کی روایت ہے:
کان النبیﷺ یسکن فیھا فی اول الاسلام وفیھا یدعو الناس الی الاسلام فاسلم فیھا قوم کثیر۔ (۱۱)

’’رسول اللہﷺ ابتدائے اسلام میں اس مکان میں رہتے تھے،لوگوں کواسلام کی دعوت دیتے تھے اور بہت سے لوگوں نے یہاں اسلام قبول کیا‘‘۔

ابنِ جریر طبری بھی مکی عہد نبوت میں دارِ ارقم کو دعوتی سرگرمیوں کا مرکز قرار دیتے ہیں جہاں پر کثیر لوگوں نے اسلام قبول کیاچنانچہ حضرت ارقمؓ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وکانت دارہ علی الصفا، وھی الدار التی کان النبیﷺ یکون فیھا فی اول الاسلام وفیھا دعا الناس الی الاسلام فاسلم فیھا قوم کثیر۔ (۱۲)

’’حضرت ارقمؓ کا گھر کوہ صفا پرواقع تھا ۔ آغازِ اسلام میں رسول اللہ ﷺاسی گھر میں رہا کرتے تھے۔ یہیں آپﷺ لوگوں کو دعوتِ اسلام دیا کرتے تھے اور یہاں پر بہت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے‘‘

ابنِ عبد البر اپنی شہرہ آفاق کتاب’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘میں حضرت ارقمؓ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:
وفی دارالارقمؓ بن ابی الارقم ھٰذا کان النبیﷺ مستخفیا من قریش بمکۃ یدعوالناس فیھا الی الاسلام فی اول الاسلام حتیٰ خرج عنھا،وکانت دارہ بمکۃ علی الصفا فاسلم فیھا جماعۃ کثیرۃ۔ (۱۳)

’’یہ ارقم بن ابی ارقمؓ وہی ہیں جن کے گھر میں رسول اللہﷺ مکہ مکرمہ میں قریش سے پوشیدہ مقیم رہتے تھے۔کھل کرسامنے آنے سے قبل اسلام میں آپ ﷺیہاں پر لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔حضرت ارقمؓ کا یہ مکان مکہ میں کوہ صفا پر واقع تھا،چنانچہ یہاں پر بہت بڑی جماعت نے اسلام قبول کیا‘‘

داارِ ارقم کے مرکزِ اسلام بننے کے بعد دعوت وتبلیغ کاکام اب قدرے اطمینان کے ساتھ مشرکین کی نظروں سے اوجھل انجام پانے لگا۔دعوتِ اسلام کایہ وہ مرحلہ ہے جس میں مکہ مکرمہ کے بے کس ،زیردست اور غلام اس نئی تحریک میں اپنی دنیاوآخرت کی نجات تصور کرتے ہوئے داخل ہوتے ہیں۔ابنِ الاثیر نے حضرت عمار بن یاسرؓاورصہیب رومیؓکے قبولِ اسلام کے متعلق ایک بڑا دلچسپ واقعہ تحریر کیا ہے۔
ایک دن یہ دونوں حضرات چھپتے چھپاتے اور دبے پاؤں دارِ ارقم کے دروازہ پر اکٹھے ہوجاتے ہیں،حیرت واستعجاب سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں پھر گفتگو کا رازدارانہ اندازشروع ہوجاتاہے۔عمار بن یاسرؓ خود بیان کرتے ہیں:
’’میں نے صہیبؓ سے پوچھاتم یہاں کیوں کھڑے ہو؟صہیبؓ نے کہا!تم کیوں کھڑے ہو؟ میں نے کہا!میں چاہتا ہوں کہ محمدﷺ کے پاس جاؤں اور ان کی باتیں سنوں،صہیبؓ نے کہا!میں بھی تو یہی چاہتا ہوں‘‘
چنانچہ یہ دونوں حضرات اکٹھے ہی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اوراسلام قبول کرلیا۔ ان بزرگوں کا اسلام تیس سے کچھ زائد آدمیوں کے بعد ہوا۔(۱۴)
دارِ ارقم نہ صرف ضعفاء اسلام کی جائے پناہ تھی بلکہ یہاں صحابہ کرامؓ کی تعلیم وتربیت کے ساتھ اجتماعی طور پر عبادات،ذکراللہ اور دعاؤں کا سلسلہ ہمہ وقت جاری رہتا تھا۔اس میں وہ دعا خصوصیت سے قابلِ ذکرہے جو رسول اللہﷺ نے عمر بن خطابؓ اور (ابوجہل)عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کے قبولِ اسلام کے لیے مانگی تھی۔ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمرؓ(معاذ اللہ)رسول اللہﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں اپنی بہن فاطمہ بنتِ خطابؓ کے گھر سورہ طٰہٰ کی تلاوت سنی تو کایا ہی پلٹ گئی ، ان کو مائل بہ اسلام دیکھ کر حضرت خبابؓ بن الارت نے انہیں خوشخبری کے انداز میں بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دارِ ارقم میں یہ دعا کرتے سناہے:
اللّٰھم اید الاسلام بابی الحکم بن ہشام او بعمر بن الخطاب۔ (۱۵)

’’اے اللہ!ابوالحکم بن ہشام یا عمر بن خطابؓ سے اسلام کی تائید فرما‘‘

چنانچہ حضرت عمرؓ یہاں سے سیدھے دارِ ارقم پہنچے اور اسلام قبول کرلیا۔
دارِ ارقم ’’دارالاسلام‘‘ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لئے’’دارالشوریٰ‘‘بھی تھا۔پہلی اور دوسری ہجرت حبشہ جیسے اہم معاملات بھی اسی جگہ باہمی مشاورت ہی سے انجام پائے۔ابنِ ہشام کے الفاظ اس مجلس مشاورت کی صاف غمازی کررہے ہیں:
قال لھم لو خرجتم الی ارض الحبشۃ فان بھاملکا لایظلم عندہ احد، وھی ارض صدق،حتی یجعل اللّٰہ لکم فرجا مما انتم فیہ۔ (۱۶)

’’رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓسے فرمایا! اگر تم سرزمینِ حبشہ کی طرف نکل جاؤ تو وہاں ایک بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ وہ سچائی کی سرزمین ہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس مشکل سے نجات دلادے جس میں تم گرفتار ہو‘‘

ان الفاظ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ خطاب صحابہ کرامؓکے کسی اجتماع سے ہی ہو گا جو دارِ ارقم میں انعقاد پذیر ہوگا۔اسی طرح ایک روز رسول اللہﷺکے صحابہؓ جمع ہوئے اور باہمی مشاورت سے طے کیا کہ قریش نے قرآن کو اپنے سامنے بلند آواز سے پڑھتے ہوئے کبھی نہیں سنا لہٰذا کوئی ایسا شخص ہو جو یہ فریضہ انجام دے۔چنانچہ حضرت عبداللہؓ بن مسعودنے یہ ذمہ داری قبول کی اور قریش کو ان کی مجلس میں جاکر قرآن کی طرف دعوت دی۔(۱۷)
اگرچہ یہ تفصیل معلوم نہیں ہوسکی کہ صحابہ کرامؓ کی یہ مجلس مشاورت کہاں پر منعقد ہوئی تاہم گمان یہی ہے کہ یہ مجلس مشاورت دارِ ارقم ہی میں قائم ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے علاوہ صحابہ کا اجتماع کسی اور جگہ پر مشکل تھا۔
ابتدائی دور کے تذکرہ نگار اور مؤرخین رسول اللہﷺ کے دارِ ارقم میں فروکش ہونے کو اتنا اہم اور انقلابی واقعہ تصور کرتے ہیں کہ واقعاتِ سیرت وتذکرۂ صحابہ میں یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ واقعہ دارِ ارقم میں داخل ہونے سے قبل کاہے اور یہ اس کے بعدکا ہے۔ گویا جس طرح عام الفیل اور حلف الفضول جیسے واقعات کے حوالے سے اہلِ مکہ اپنی معاصر تاریخ کے واقعات کا تعین کرتے تھے، مسلمان مؤرخین بھی مکی عہد نبوت میں سیرت وتاریخ اسلام کے واقعات کا تذکرہ اور اندراج بھی ہادئ اسلام ﷺکے دارِ ارقم میں فروکش ہونے کے حوالے سے کرتے ہیں۔ مثلاًمؤرخ ابن الاثیر نے مسعودؓ بن ربیعہ، عامرؓبن فہیرہ،معمرؓ بن حارث وغیرہ کے تراجم (تذکروں)میں تصریح کی ہے کہ یہ لوگ رسول اللہﷺ کے دارِ ارقم میں منتقل ہونے سے قبل مسلمان ہوچکے تھے۔اسی طرح مصعبؓ بن عمیر،صہیبؓ بن سنان، طلیبؓ بن عمیر، عماربن یاسرؓ، عمر فاروقؓ وغیرہ کے تذکروں میں ابن الاثیر نے تصریح کی ہے کہ یہ لوگ دارِ ارقم میں جاکر اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے تھے۔ (۱۸)
ابنِ سعد نے مہاجرین مکہ میں سے اولین وسابقین اسلام کے قبول دینِ حق کو دومرحلوں میں تقسیم کیاہے اور یہ واضح کیا ہے کہ وہ حضرات کون کون تھے جو دارِ ارقم کو دعوتِ دین کا مرکز بنانے کے بعد حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ابنِ سعدنے مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓکے تذکروں میں یہ بات خصوصیت سے ذکر کی ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے دار ارقم میں تشریف فرماہونے سے قبل اسلام قبول کرچکے تھے: حضرت خدیجہؓ،ابوبکرؓ،عثمان غنیؓ،علی المرتضیؓ،زیدؓ بن حارثہ،عبیدہؓ بن حارث،ابو حذیفہؓ بن عتبہ،عبداللہؓ بن جحش ،عبدالرحمنؓ بن عوف،عبداللہؓ بن مسعود،خبابؓ بن الارت،مسعودؓ بن ربیع،واقدؓ بن عبداللہ،عامرؓ بن فہیرہ،ابوسلمہؓ بن اسد،سعیدؓ بن زید،عامرؓ بن ربیعہ،خنیسؓ بن حذافہ،عبداللہؓ بن مظعون اور حاطبؓ بن عمرو۔اسی طرح ابن سعدنے ان بزرگوں کی بھی نشاندہی ضروری سمجھی ہے جو دارارقم کے اندر آکر رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ان صحابہ کرامؓمیں حضرت صہیبؓ،عمار بن یاسرؓ،مصعبؓ بن عمیر،عمر بن خطابؓ،عاقلؓ بن ابی بکر249عامرؓ بن ابی بکر،ایاسؓ بن ابی بکراورخالدؓ بن ابی بکرشامل ہیں۔(۱۹)
ابن سعد کے اس طرزِ ترتیب سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک دارِ ارقم کو دینِ حق کی دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کا مرکزو محور بنانے کا واقعہ ایک ایسانقطۂ تغیر ہے جس نے دنیا کی بے مثال اور انقلابی اسلامی تحریک کو ایک نیا رخ عطاکرنے میں ایک محفوظ پناہ گاہ اور بے مثال تربیت گاہ کاکام دیا۔اس بات پرتمام مؤرخین اور محققین کا اتفاق ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت عمرفاروقؓکے قبولِ اسلام تک دارِ ارقم میں ہی مقیم رہے۔جبکہ بعض روایات کے مطابق حضرت عمرؓ نے نبوت کے چھٹے سال میں اسلام قبول کیا تھا۔ البتہ مؤرخین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ رسول اللہﷺ دارِارقم میں کب فروکش ہوئے اور کتنا عرصہ دارِارقم مسلمانوں کی پناہ گاہ کاکام دیتا رہا۔اگرچہ بعض مؤرخین نے دارِ ارقم میں قیام کی مدت کے حوالے سے چھ ماہ اور ایک ماہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں(۲۰) لیکن اگر ماخذ کا تفصیلی جائزہ لیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دارِ ارقم میں رسول اللہﷺ کا قیام کافی مدت تک رہا ۔ اگرچہ اس مدت کا تعین تو مشکل ہے اور یہ بتانا بھی ممکن نہیں کہ رسول اللہﷺ کب دارِ ارقم میں پناہ گزین ہوئے تاہم مؤرخین کے بعض نامکمل اشارات سے ہم اس مدت کا اندازہ ضرور کرسکتے ہیں مثلاً ابن الاثیر حضرت عمرؓکے قبولِ اسلام کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’عمر بن خطاب تلوار لٹکائے گھر سے نکلے۔ ان کا ارادہ (معاذ اللہ)رسول اللہﷺکو قتل کرنے کاتھا۔مسلما ن بھی آپﷺ کے ساتھ دارِارقم میں جمع تھے ،جو کوہِ صفا کے پاس تھا۔اس وقت آنحضرت ﷺ ان مسلمانوں میں سے تقریباً چالیس مردوزن کے ساتھ وہاں پناہ گزین تھے جو ہجرت حبشہ کے لیے نہیں نکلے تھے۔‘‘ (۲۱)
ابن الاثیر کے اس قول سے واضح ہوتاہے:
۱۔ حضرت عمرؓنے ہجرتِ حبشہ کے بعد اسلام قبول کیاجبکہ ابنِ قیم نے تصریح کی ہے کہ پہلی ہجرت حبشہ ماہ رجب ۵نبوی میں پیش آئی۔ (۲۲)
۲۔ دارِ ارقم میں صرف وہ مسلمان پناہ گزین ہوئے تھے جو کسی وجہ سے حبشہ کی طرف ہجرت نہ کرسکے۔لہٰذا ان باقی ماندہ مسلمانوں کی تعداد تقریباًچالیس تھی نہ کہ اس وقت تک اسلام قبول کرنے والوں کی کل تعداد ہی چالیس تھی۔
پہلی اور دوسری ہجرت حبشہ کا فیصلہ دارِارقم ہی میں باہمی مشاورت سے ہوا تھا۔ اس لحاظ سے اگر حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام اور ہجرتِ حبشہ کے درمیانی عرصہ کو شمار کیا جائے تو وہ بھی ایک سال سے زائد ہی بنتا ہے۔جبکہ یہ بدیہی بات ہے کہ رسول اللہﷺ ہجرتِ حبشہ سے کافی پہلے دارِ ارقم میں پناہ گزیں ہوچکے تھے۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایک دو سالوں میں ہی رسول اللہﷺ دارِا رقم میں مقیم ہو گئے تھے۔ مثلاً ابن الاثیرحضرت عمار بن یاسرؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:
’’میں نے رسول اللہﷺکو (اپنے اسلام لانے کے بعد)دیکھاتو آپ ﷺکے ساتھ صرف پانچ غلام،عورتیں اور ابوبکر صدیقؓ تھے‘‘۔ (۲۳)
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت عمار بن یاسرؓ ابتدا میں اسلام قبول کرنے والے سات آدمیوں میں سے ایک تھے۔ (۲۴) جبکہ اس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دارِا رقم میں جاکر اسلام قبول کیا (۲۵) اس صور ت میں تو رسول اللہﷺ کا ابتدائے اسلام ہی میں دارِ ارقم میں قیام پذیر ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اسی طرح حضرت حمزہؓ نے کب اسلام قبول کیا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں،بعض نے کہاہے کہ اعلانِ نبوت کے پانچویں سال اور بعض نے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال ۔لیکن علماء محققین کی تحقیق یہ ہے کہ آپؓ اعلانِ نبوت کے دوسرے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔چنانچہ علامہ ابن حجر جو فن رجال کے امام ہیں،تحریر فرماتے ہیں:
واسلم فی السنۃ الثانیۃ من البعثۃ ولازم نصر رسول اللّٰہﷺ وھاجر معہ۔ (۲۶)
’’آپؓ بعثت کے دوسرے سال ایمان لائے اور ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی مدد کرتے رہے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہی ہجرت کی‘‘
اگرچہ ابن حجر نے ۶نبوی کا قول بھی نقل کیا ہے لیکن ’’قیل‘‘کے ساتھ جو ضعف پر دلالت کرتا ہے۔علامہ ابن الاثیر لکھتے ہیں:
اسلم فی السنۃ الثانیۃ من المبعث۔ (۲۷)

’’آپ بعثت کے دوسرے سال ایمان لائے‘‘ (*۳)

حضرت عمرؓ نے حضرت حمزہؓکے مسلمان ہونے کے صرف تین دن بعد اسلام قبول کیا اور علماء محققین کی یہ رائے بھی بیان کی گئی ہے کہ صحیح قول کے مطابق حضرت حمزہؓ نبوت کے دوسرے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت عمرؓنے نبوت کے دوسرے سال حضرت حمزہؓکے تین دن بعد رسول اللہ ﷺکے دستِ مبارک پر اسلام کی بیعت کی۔ اس قول کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اکثر علما کی یہ رائے ہے کہ آپؓ سے پہلے انتالیس مرد مسلمان ہوچکے تھے۔آپؓکے مسلمان ہونے سے چالیس کا عدد پورا ہوا۔حضرت عمرؓکا بیان ہے :
لقد رایتنی وما اسلم مع رسول اللّٰہ ﷺ الا تسعۃ وثلاثون وکمّلتھم اربعین۔ (۲۸)

’’میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ صرف انتالیس آدمی اسلام لاچکے ہیں اور میں نے ایمان لاکرچالیس کا عدد مکمل کیا‘‘

حاصلِ بحث یہ ہے کہ اگر محققین کے اس قول کا اعتبار کیا جائے کہ حضرت حمزہؓاور عمرؓ نے نبوت کے دوسرے سال ہی اسلام قبول کرلیا تھا تو یہ حقیقت مزید واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہﷺ بہت ابتدا ہی میں دارارقم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بناچکے تھے کیونکہ اس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ان دونوں حضرات نے دارِ ارقم میں ہی جاکر اسلام قبول کیاتھا۔
مؤرخین اسلام اور سیرت نگاروں کی مذکورہ بالا تصریحات سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے :
۱۔ رسول اللہﷺ یہاں آنے والے طالبانِ حق کو دعوتِ اسلام دیتے تھے اور جویہاں آیا فیض ہدایت پاکر ہی نکلا۔
۲۔ دارِ ارقم اہلِ اسلام کے لیے اطمینان قلب اور سکون کا مرکز تھا،بالخصوص نادار،ستائے ہوئے اور مجبور ومقہور اور غلام یہاں آکر پناہ لیتے تھے۔
۳۔ یہاں پر ذکر اللہ اور وعظ وتذکیر کا فریضہ بھی مسلسل انجام پاتا تھا ،رسول اللہﷺ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ اجتماعی دعائیں بھی فرماتے تھے۔حضرت خبابؓ کے بیان سے تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ محسنِ انسانیت یہاں راتوں کو بھی بندگانِ خداکی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور التجائیں فرماتے تھے۔
۴۔ اس مکان میں مبلغینِ اسلام کی کارکردگی کاجائزہ لیاجاتا تھا ،تبلیغ کے آئندہ منصوبے بنتے تھے اور خود مبلغین کی تربیت کا کٹھن کام بھی انجام پاتا تھا۔ دارِارقم کے تربیت یافتہ معلمین میں سے حضرت ابوبکرؓ،خبابؓ بن الارت،عبداللہؓ بن مسعودؓ اور مصعبؓ بن عمیرخاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ 
۵۔ دارِ ارقم مسلمانوں کے لیے دارالاسلام ہونے کے ساتھ ساتھ’’دارالشوریٰ‘‘بھی تھاجس میں باہمی مشاورت سے آئندہ تبلیغ کے منصوبے بنتے تھے۔ ہجرت حبشہ کا فیصلہ بھی باہمی مشورہ سے یہیں پر طے ہوا،اور اس جگہ کو تاریخ اسلام میں وہی مقام حاصل تھا جو قریش کے ہاں دارالندوہ کو حاصل تھا۔
۶۔ دارِ ارقم میں رسول اللہﷺ کا پناہ گزین ہونا ایک تاریخ ساز مرحلہ تھا اور یہ بھی حلف الفضول ،حرب الفجار اور عام الفیل جیسا مہتم با لشان واقعہ تھا۔ جس طرح کفار مکہ اپنی معاصر تاریخ کا تعین ان واقعات سے کرتے تھے، اسی طرح مسلمان مؤرخین بھی مکی عہد نبوت میں پیش آنے والے واقعات کا تعین دارِ ارقم میں رسول اللہﷺ کے داخل ہونے سے قبل اور بعد کے حوالے سے کرتے ہیں۔
۷۔ حضرت ارقمؓ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بہت ابتدا ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اس لیے بہت ممکن ہے کہ انہوں نے بہت ابتدا ہی میں اپنے مکان کو تبلیغی سرگرمیوں کے لیے وقف کردیا ہواور آپﷺابتدائی سالوں میں ہی دارارقم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کامرکز بناچکے ہوں۔
۸۔ مؤرخین کے مختلف بیانات کی روشنی میں کہاجاسکتا ہے کہ دارارقم میں رسول اللہﷺ کے قیام کی مدت ایک سال سے بہرحال زائد تھی۔
۹۔ کفار مکہ مسلمانوں کے دارِ ارقم میں پناہ گزین ہونے سے پوری طرح واقف تھے۔ * تاہم دارارقم کی اندرونی سرگرمیوں اور منصوبہ بندیوں سے وہ قطعاًناواقف تھے۔

شعبِ ابی طالب

کفارمکہ کویہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے وحشیانہ جبر وتشدد سے اسلام کی اس تحریک کوموت کی نیند سلادیں گے، لیکن جب ان کی تمام مساعی اور تدبیروں کے باوجود اسلام کا دائرہ پھیلتا ہی چلا گیا اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت حمزہؓ اور عمرؓ جیسے لوگوں نے بھی اسلام قبول کرلیا اور نجاشی کے دربار میں بھی ان کے سفیروں کو ذلت آمیز ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس چوٹ نے کفارِ مکہ کو مزید حواس باختہ کردیا، چنانچہ ان لوگوں نے طویل غوروخوض کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہﷺ اور ان کے خاندان کو محصور کرکے تباہ کردیاجائے، چنانچہ تمام قبائل نے ایک معاہدہ کیاکہ کوئی شخص خاندانِ بنی ہاشم سے قربت کرے گانہ ان کے ہاتھ خریدوفروخت کرے گااورنہ ہی ان کے پاس کھانے پینے کا سامان جانے دے گا۔یہ معاہدہ لکھ کر کعبۃ اللہ کے دروازے پر آویزاں کردیاگیا۔(۲۹)
حضرت ابوطالب مجبو ر ہوکر رسول اللہ ﷺ اور تمام خاندانِ بنی ہاشم سمیت شعبِ ابی طالب میں محرم۷ نبوی میں محصور ہوگئے۔رسو ل اللہ ﷺ نے اپنے خاندان سمیت اس حصار میں تین سال بسر کیے۔ایام حج میں چونکہ تمام لوگوں کو امن تھا اس لیے حج کے موسم میں رسول اللہ ﷺ شعبِ ابی طالب سے باہر نکل کر مختلف قبائل عرب کو دعوت دیتے جبکہ باقی اوقات میں آپ ﷺ اسی گھاٹی میں مسلمانوں کی تربیت فرماتے۔شعبِ ابی طالب میں خاندانِ بنی ہاشم کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی موجودگی کے اشارات بھی ملتے ہیں۔امام سُہَیْلِی نے سعد بن ابی وقاصؓ کا بیان نقل کیا ہے جوؓ خود بھی محصورین میں شامل تھے۔ وہ فرماتے ہیں:
لقد جعت حتی انی وطئت ذات لیلۃ علی شئ رطب ووضعتہ فی فمی وبلعتہ وما ادری ما ھو الی الان۔ (۳۰)

’’میں ایک دن از حد بھوکا تھا۔ رات کو اندھیرے میں میرا پاؤں کسی گیلی چیز پر آگیا میں نے اسے اٹھا کر منہ میں ڈالا اور نگل لیا۔مجھے اتنی ہوش بھی نہ تھی کہ میں پتہ کرتا کہ وہ کیا چیز ہے اور اب تک مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں‘‘۔

اسی طرح حضرت عتبہ بن غزوانؓ نے ایک دفعہ خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:
فلقد رأیتنی سابع سبعۃ مع رسول اللّٰہ ﷺ مالنا طعام نأکلہ الا ورق الشجر،حتی قرحت أشداقنا۔ (۳۱)

’’میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتواں مسلمان تھااور ہمارے پاس کھانے کے لیے درختوں کے پتوں کے سوا کچھ نہ تھا،حتیٰ کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں‘‘۔

یہ اور اسی نوعیت کی وہ تمام حدیثیں جن میں صحابہؓ کی زبان سے مذکورہے کہ ہم گھاس اور پتیاں کھاکر گزر بسر کرتے تھے، یہ اسی زمانہ کا واقعہ ہے ۔ اس نوع کی احادیث سے جہاں محصوری کے اس دور میں صحابہ کراأؓ کی مشکلات کا پتہ چلتاہے، وہاں شعبِ ابی طالب میں صحابہ کرامؓ کی موجودگی کا بھی واضح طور پر اشارہ ملتا ہے۔محصوری کے اس دور میں جس قدر وحی نازل ہوئی، یقیناًشعبِ ابی طالب میں رسول اللہ ﷺنے صحابہ کرامؓ کو اس کی تعلیم دی ہوگی اور یہاں صحابہ کرامؓ بھی دینی امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہوں گے ۔اس لحاظ سے شعبِ ابی طالب کو بھی مکی عہد نبوت کا ایک دعوتی مرکز قرار دیا جاسکتا ہے جہاں رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ عرصہ تین سال تک تعلیم وتعلم اور دعوت وتبلیغ میں مشغول رہے۔

حواشی

(*۱) حضرت ارقمؓ کا تعلق قبیلہ بنو مخزوم سے تھا ۔کنیت ابو عبداللہؓ اور سلسلۂ نسب اس طرح ہے: ارقمؓ بن (ابی الارقم)عبد مناف بن (ابی جندب)اسد بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ( الاستیعاب ،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم،۱/۱۳۱)
حضرت ارقمؓ کی والدہ ،کا نام تماضر بنت خدیم تھا جو قبیلہ بنو سہم بن عمرو بن ہصیص سے تعلق رکھتی تھیں۔( ایضاً، اسد الغابہ،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم،۱/۶۰،المستدرک، تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم،۳/۵۰۲)
حضرت ارقمؓ کا قبیلہ بنو مخزوم قریش مکہ کے سرکردہ اوربااثر قبائل میں سرفہرست تھا اس قبیلے کے جد امجد مخزوم بن یقظہ کاسلسلہ نسب تیسری پشت میں رسول اللہ ﷺ کے سلسلہ نسب سے جاملتاہے۔یقظہ مرہ بن کعب کا بیٹا تھا اور سرتاجِ قریش قصی (جو ہاشم بن عبد مناف کا باپ تھا)کاباپ کلاب بن مرہ بن کعب کا ہی بیٹا تھا۔(ابن حزم،ابومحمد علی احمد بن سعید،’’جمہرۃ انساب العرب‘‘،ص:۱۴۱،دارالمعارف،قاہرہ)
رسول اللہ ﷺ کے والد گرامی عبداللہ بن عبدالمطلب کی والدہ ماجدہ فاطمہ (بنت عمرو بن عائذبن عمران بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ)کا تعلق بھی بنو مخزوم ہی سے تھا۔( جمہرۃ الانساب،ص:۱۴۱،۱۵)
حضرت ارقمؓ امیر معاویہؓ کے عہد حکومت میں ۵۵ھ اور ایک روایت کے مطابق ۵۳ھ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ اس وقت ان کی عمر تراسی یا پچاسی برس تھی۔آپ کی وصیت کے مطابق سعدؓ بن ابی وقاص نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔(اسد الغابہ،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم، ۱/۶۰)
امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری کا قول ہے:وکان الارقم من آخر اہل بدر وفاۃ ’’حضرت ارقم ؓ بدری صحابہ میں سے سب سے آخر میں فوت ہوئے‘‘۔( المستدرک ،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی االارقم،۳/۵۰۲)
حضرت ارقمؓ نے وقف علی الاولاد کے طور پر اپنے گھر کو فی سبیل اللہ وقف کردیا تھا ۔حضرت ارقمؓنے اپنے گھر کو وقف فی سبیل قرار دینے سے متعلق جو نوشتہ تحریر کیا تھا امام حاکم نے وہ عبارت نقل کی ہے وہ عبارت یہ تھی۔
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ ھٰذا ما قضٰی الارقمؓ فی ربعۃ ما حاز الصفا انھا صدقۃ بمکانھا من الحرم لا تباع ولا تورث شھد ہشام بن العاص ومولیٰ ہشام بن العاص۔
’’یہ وہ فیصلہ ہے جو ار قم ؓ نے اپنی حویلی کے متعلق دیا جو کہ کوہ صفا کے ساتھ واقع ہے ۔حرم پاک کے قریب ہونے کے باعث یہ حویلی مثل حرم محترم قرار دی جاتی ہے ۔نہ یہ فروخت ہو گی نہ وراثت میں دی جائے گی۔اس پر ہشام بن عاص اور مولیٰ ہشام بن عاص گواہ ہیں ۔‘‘(المستدرک،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم،۳/۵۰۳)
(*۲) لفظ ’’دار‘‘عموماً بڑے گھروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔’’بیت ‘‘یا’’منزل‘‘بھی اگرچہ عربی الفاظ ہیں مگر ان کی حیثیت ’’دار‘‘سے کم تر ہے۔دار سے مراد ایسا مکان یا رہائش گا ہ ہے جس کی چار دیواری بالکل محفوظ ہو۔جس میں خواب گاہیں،صحن اور کمرے ہوں۔(تاج العروس،فصل الباء من باب التاء،۱/۵۲۹)
ابن منظور نے ’’لسان العرب‘‘میں ابن جنی کا قول نقل کیا ہے کہ جہاں لوگ محفوظ اور آزادانہ گزر بسر کرسکتے ہوں،اسے ’’دار‘‘ کہتے ہیں۔ (ابنِ منظور، جمال الدین محمد بن مکرم ،’’لسان العرب‘‘،دار،۴/۲۹۸ ،نشر ادب الحوزہ،قم،ایران، ۱۴۰۵ھ) 
(*۳) پیر محمد کرم شاہ الازہری نے بڑے مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حضرت حمزہؓ نبوت کے دوسرے ہی سال مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے۔ملاحظہ ہو، محمد کرم شاہ الازہری،پیر،’’ ضیاء النبی‘‘ ، ۲/۲۵۶۔۲۵۸،ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور،۲۰۰۰ء
* تمام رؤساء قریش رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی جائے پناہ سے واقف تھے ۔اسی لیے جب حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ ارادۂ قتل سے نکلے تو وہ سیدھے دارارقم کی طرف ہی جارہے تھے، البتہ بعد میں رخ تبدیل کر کے اپنی بہن کے ہاں چلے گئے ۔ (ابن ہشام ، اسلام عمر بن الخطابؓ ، ۱/۳۸۱) اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی ابو جہل کے ساتھ مڈبھیڑکا مشہور واقعہ ، جس کے نتیجہ میں حضرت حمزہؓ نے اسلام قبول کیا ، بھی کوہ صفا یعنی دار ارقم کے بالکل قریب ہی پیش آیا تھا ۔یقیناابوجہل آپ ﷺ کی قیام گاہ سے بھی واقف ہو گا۔ (ایضاً ،اسلام حمزہؓ ،۱/۳۲۸) ویسے بھی مکہ جیسے کم آبادی والے شہر میں تیس چالیس افراد کا کسی جگہ آتے جاتے رہنا ایسی بات نہ تھی جو اہل مکہ سے پوشیدہ رہ سکتی۔

حوالہ جات

(۱) صحیح البخاری،کتاب الکفالۃ،باب جوار ابی بکر الصدیقؓ فی عہد النبیﷺ وعقدہ ،ح:۲۲۹۷،ص:۳۶۷۔ ایضاً،کتاب الصلوٰۃ،باب المسجد فی الطریق.ح:۴۷۶، ایضاً، کتاب مناقب الانصار،باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ، ح:۳۹۰۵،
(۲) ابنِ ہشام،دخول ابی بکرؓ فی جوار ابن الدغنہ ورد جوارہ علیہ،۱/۴۱۱
(۳) ابنِ ہشام،اسلام عمر بن الخطابؓ۱/۳۸۲
(۴) السیرۃ الحلبیۃ،۲/۱۳
(۵) السمہودی،نورالدین علی بن احمد،’’السیرۃ الحلبیۃ‘‘ ،۲/۱۳،دارالنفائس،الریاض،
(۶) المستدرک،تذکرہ ارقم بن ابی الارقم،۳/۵۰۲
(۷) اسد الغابہ ، تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم ، ۱/ ۶۰
(۸) المستدرک ،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم ،۳/۵۰۲
(۹) ابن سعد ،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم،۳/۲۴۳
(۱۰) ابن ہشام ، مباداۃ رسول اللہﷺقومہ،وماکان منھم،۱/۲۶۳
(۱۱) ابن سعد ،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم ۳/۲۴۲۔ المستدرک،تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم،۳/۵۰۲
(۱۲) الطبری،محمد بن جریر،’’تاریخ الامم و الملوک‘‘ ،۳/۲۳۰،المطبعۃ الحسینیۃ،
(۱۳) ابنِ عبدالبر،’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘، تذکرہ ارقم ؓ بن ابی الارقم ، ۱/۱۳۱،دارالجلیل،بیروت،۱۹۹۲ء
(۱۴) اسد الغابہ ، تذکرہ عمار بن یاسرؓ ، ۴/ ۴۴ 
(۱۵) ابن ہشام ، اسلام عمر بن الخطابؓ ، ۱/۳۸۳۔ الکامل فی التاریخ ، ۲/ ۵۸
(۱۶) ابن ہشام ،ذکر الحجرۃالاولی الی ارض الحبشہ ، ۱/۳۵۸ 
(۱۷) ایضاً، اول من جہر بالقرآن ، ۱/۳۵۱
(۱۸) تفصیل کے لیے ’’اسد الغابہ‘‘ میں ان صحابہ کرامؓ کے تراجم ملاحظہ کیجئے ۔
(۱۹) ابن سعد ، ۳/۱۱۵، ۲۷۳،۴۲۵
(۲۰) حلےۃ الاولیاء ، ۱/۹۲ا۔۱۹۵
(۲۱) الکامل فی التاریخ ، ۲/۵۸
(۲۲) زادا لمعاد ، ۲/۱۰۰۔تاریخ الامم والملوک ، ۱/۹۵
(۲۳) اسد الغابہ ، تذکرہ عمار بن یاسرؓ ، ۴/۴۴
(۲۴) ایضاً
(۲۵) ایضاً
(۲۶) الاصابہ ، تذکرہ حمزہؓ بن عبدالمطلب ، ۱/ ۳۵۴
(۲۷) اسد الغابہ ، تذکرہ حمزہؓ بن عبدالمطلب ، ۲/۴۶
(۲۸) ابنِ حجر،ابوالحسن ،احمد بن علی’’فتح الباری‘‘ کتاب فضائل الصحابہ ، مناقب عمربن الخطابؓ ، ۷/۴۸،دارالمعرفۃ،بیروت
(۲۹) ابن ہشام ، خبر الصحیفۃ ، ۱/۳۸۸
(۳۰) الروض الانف ، حدیث نقض الصحیفۃ ، ۱/۲۳۲ ۔ حلیۃ الاولیاء،تذکرہ سعدؓ بن ابی وقاص ،۱/۱۳۵-۱۳۶
(۳۱) المسند، حدیث عتبہؓ بن غزوان ، ح:۲۰۰۸۶، ۶/۵۲۔ الاستیعاب ، تذکرہ عتبہؓ بن غزوان ، ۳/۱۰۲۶۔ حلیۃ الاولیاء،تذکرہ سعدؓ بن ابی وقاص،۱/۱۳۶
(جاری)

مسلم امہ کو درپیش فکری مسائل

ڈاکٹر محمد امین

مسلم امہ کو درپیش فکری مسائل کے حوالے سے ’’الشریعہ‘‘ نے کئی اصحاب علم کے رشحات فکر شائع کیے۔ ان میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے تو فکری مسائل کی ایک فہرست تیار کر دی ہے اور ان جہات کی نشاندہی کی ہے جن میں مزید کام کی ضرورت ہے اور دیگر افراد نے کسی ایک آدھ فکری پہلو پر تجزیاتی گفتگو کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صدیقی صاحب کا جامع مقالہ ان کی فطانت‘ وسعت نظر اور اسلامی امور پر گہری دسترس کا غماز ہے۔ تاہم ان کے مقالے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ در اصل ان مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں جن پر ان کے نزدیک جدید اسلامی تحریکوں کے فضلا کو کام کرنا چاہیے۔ (اور مقالہ اردو میں ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے پیش نظر بر صغیر پاک و ہند کی اسلامی تحریک کے اہل علم ہوں) تناظر کی اس تنگی کی وجہ سے انہوں نے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے امور کو دیکھا ہے اور بعض چیزیں جو اسلام اور عصری تناظر دونوں لحاظ سے اہم ہیں‘ ان کی توجہ سے محروم رہی ہیں۔ ہم زیادہ تر انہی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ اس لحاظ سے ہمارے اٹھائے ہوئے نکات تکمیلی نوعیت کے ہیں اور موضوع پر جامعیت سے لکھنا ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔

تعلیم و تزکیہ 

ان میں اہم ترین تعلیم و تزکیہ ہیں۔ انسانوں کو بدلنے کے لیے اس سے بہتر ہتھیار آج تک ایجاد نہیں ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اپنے آخری پیغمبر کو لوگوں کو بدلنے کا جو فارمولا دیا، وہ انہی دو نکات پر مشتمل تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ پہلے پیغمبروں کا طریق کار بھی یہی تھا۔ گویا انسانی معاشرے میں پائیدار صالح تبدیلی لانے کے لیے یہ ایک مستقل فارمولا ہے لیکن کئی فکری اسباب کی بنا پر جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں‘ کئی اہل علم خصوصاً جدید اسلامی تحریکوں نے ان دو نکات کو کما حقہ اہمیت نہیں دی حالانکہ امام مالکؒ نے بہت پہلے متنبہ کر دیا تھا کہ جن اصولوں پر چل کر اس امت کی ابتدا میں اصلاح ہوئی تھی‘ انہی اصولوں پر عمل سے اس کے آخر کی بھی اصلاح ہو سکے گی۔ اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ مسلمان توپ و تفنگ کی لڑائی ہارنے سے پہلے کلاس روم‘ خانقاہ اور تجربہ گاہ میں لڑی جانے والی لڑائی ہار چکے تھے اور یہ سمجھنے کے لیے بہت زیادہ دانش کی ضرورت نہیں کہ مستقبل میں اگر انہیں دشمن سے جنگ جیتنا ہے تو اس کے لیے میدان جنگ سے پہلے کلاس روم‘ خانقاہ اور تجربہ گاہ کی جنگ جیتنا ہوگی۔ اس تناظر میں تعلیم کے حوالے سے ہمارے قابل غور اہم فکری مسائل یہ ہیں :

اساس تعلیم

قرآن کی رو سے تعلیم کی اساس کتاب و حکمت یا دوسرے لفظوں میں قرآن و سنت ہیں۔ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے تصور علم کے مطابق ان کے ہاں علم کا منبع ان کا مخصوص ورلڈ ویو یعنی تصور الٰہ و انسان وکائنات (شرعی اصطلاح میں توحید و معاد و رسالت) ہے۔ گویا علم کی بنیاد وحی الٰہی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام عقلی علوم کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس کا زبردست موید ہے اور استقرائی طریق کار‘ تحقیق و جستجو اور فکری حریت پر اکساتا ہے۔ البتہ وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ عقلی علوم وحی کے تابع رہیں تاکہ ایک یکسو مسلم شخصیت پروان چڑھے جو اپنی ساری ترقیوں اور ترک تازیوں کے باوجود توحید کے کھونٹے سے بندھی رہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج مسلم تعلیم کا یہی حال ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو کیا ہم اس کے لیے فکر مند ہیں؟ کیا ہم اس کے لیے کوشاں ہیں؟ کیا ہم نے اس کے لیے موزوں علمی‘ فکری اور تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں؟

تقلید مغرب 

مغرب نے سائنس و ٹیکنا لوجی اور ترقی کے دیگر معروضی عوامل پر عمل کر کے دنیاوی خوش حالی تو حاصل کر لی ہے لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ اس کا تصور علم الحاد پر مبنی ہے۔ چنانچہ سیکولر ازم ‘ ہیومنزم‘لبرلزم وغیرہ کی بنیاد پر اور وحی کی رہنمائی کو رد کرتے ہوئے محض حواس اور تجربے کی اساس پر جو علم اس ترقی یافتہ مغرب نے پیدا کیا ہے، وہ اصولاً انکار خدا اور انکار آخرت پر مبنی ہے خواہ وہ سماجی علوم ہوں یا سائنسی۔ مسلم ممالک پر قبضہ کرنے کے بعد مغربی طاقتوں نے مسلمانوں کے نظام تعلیم کو ختم کر دیا اور اپنا نظام تعلیم بجبر نافذ کر دیا۔ آزادی کے بعد مسلم ممالک میں زمام اقتدار اکثر انہی لوگوں کے ہاتھ میں آئی جو مغرب پرست یا کم سے کم مغرب سے مرعوب تھے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی علوم کی پیروی ہی کو ترقی کی اساس اور انسانیت کی معراج جانا۔ حالانکہ بنیادی ضرورت اس بات کی تھی‘ اور ہے‘ کہ اسلامی تصور علم کی بنیاد پر سارے علوم کو نئے سرے سے مدون کیا جائے، نئے نصابات تیار کیے جائیں اور ساری کتابیں نئے سرے سے لکھی جائیں۔ یہ کرنے کا بہت بڑا کام ہے جو مسلم نشاۃ ثانیہ کے لیے بالکل نا گزیر ہے لیکن کیا ہمیں اس کی اہمیت کا احساس ہے؟ ظاہر ہے جب تک ہم اپنے پورے نصاب تعلیم کی تشکیل نو اسلامی اصولوں پر نہیں کریں گے اور تعلیم میں مغربی فکر کی تقلید کرتے رہیں گے تو اس وقت تک ہم اسلام زندہ باد کے نعرے لگانے کے باوجود ذہنی و فکری بلکہ عملی طور پر غلام نسلیں ہی پیدا کرتے رہیں گے۔ 

تعلیمی ثنویت 

نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل جدید کی بہت سی جہتیں ہیں۔ ہم یہاں مزید دو تین اہم پہلوؤں کا ذکر کریں گے جن میں سر فہرست تعلیمی ثنویت کا خاتمہ ہے جو مسلم ممالک میں عموماً اور برصغیر میں خصوصاً اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں جب انگریز نے مسلمانوں کا نظام تعلیم ختم کر دیا تو علما نے یہی غنیمت سمجھا کہ وہ مسجدوں کے امام اور خطیب تیار کرنے کے لیے دینی مدرسے قائم کر لیں تاکہ مسلم عوام اپنی ذاتی زندگی اور مذہبی اور معاشرتی رسوم میں ہی اسلام پر عمل جاری رکھ سکیں۔ دوسری طرف جدید لوگوں نے انگریزی زبان اور دیگر مغربی علوم سیکھنے پر توجہ مرکوز کی تا کہ مسلمان دنیوی ترقی کے لحاظ سے پیچھے نہ رہ جائیں، گو ان کی یہ کوشش مغرب کی اندھی تقلید کے رجحان پر منتج ہوئی۔ پہلی سوچ کا نمائندہ تعلیمی ادارہ دیوبند اور دوسری کا علی گڑھ تھا۔ بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد بھی اس صورت حال کو حکمرانوں نے بدلنے کی کوشش کی نہ علما نے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ دو تعلیمی دھارے اب بھی متوازی بہے چلے جا رہے ہیں۔ ایک مسٹر پیدا کر رہا ہے اور دوسرا مولوی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دونوں تعلیمی دھاروں کو قریب لایا جائے۔ جدید تعلیم میں دینی علوم کا معتد بہ حصہ ہونا چاہیے اور خود جدید علوم کو بھی اسلامی تناظر اور اسلوب میں از سر نو مدون کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف دینی تعلیم میں جدید سماجی و سائنسی علوم کا تعارفی مطالعہ شامل کیا جانا چاہیے۔ خود دینی علوم کا نصاب بھی نظر ثانی کامحتاج ہے۔ اس میں تدریس قرآن کا حصہ بہت کم ہے۔ حدیث کا تحقیقی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ فقہ و اصول فقہ میں تقابلی مطالعہ ہونا چاہیے۔ عربی سکھانے کے جدید طریقے استعمال کیے جانے چاہئیں تاکہ طلبہ نہ صرف عربی سمجھ سکیں بلکہ لکھ اور بول بھی سکیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔

فقدان تربیت 

قرآن کی رو سے تعلیم کا مقصد ہی تزکیہ ہے۔ تزکیہ سے مراد نفس کی ایسی تربیت کہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت آسان ہو جائے۔ کسی بھی ملک کے نظام تعلیم کا بنیادی ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے افراد تیار کرے جو ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں جن میں وہ معاشرہ یقین رکھتا ہے تاکہ وہ اس معاشرے کے مفید اور کامیاب رکن بن سکیں۔ اس طرح ایک مسلم ملک کے نظام تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسے افراد تیار کرے جو اچھے اور با عمل مسلمان ہوں۔ ہمارا نظام تعلیم ایسے افراد تیار نہیں کر رہا کیونکہ یہ اسلامی ہے ہی نہیں۔ یہ تو مغربی تصور تعلیم کی اندھی تقلید پر مبنی ہے جو مغربی معاشرے کے لیے کامیاب افراد تیار کرتا ہے۔ یوں ہمارے سکولوں‘ کالجوں میں اسلامی تربیت کا تصور ہی موجود نہیں۔ یہی حال دینی مدارس کا ہے‘ البتہ وہاں تربیت کے مسائل ذرا دوسری نوعیت کے ہیں۔ ایک تعلیمی ادارے میں اسلامی تربیت کیسے کی جائے؟ یہ آج کا اہم ترین سوال ہے جس کا جواب مسلم ماہرین و مفکرین پر قرض ہے۔ یہاں ضمناً یہ عرض کرنا بے جا نہ ہوگا کہ ماضی میں مسلمانوں نے اصلاح نفس کے لیے تصوف نامی ادارہ قائم کیا جس میں مرور زمانہ سے بہت سی غیر اسلامی باتیں شامل ہوگئیں لیکن فنی طور پر اصلاح نفس کے حوالے سے اس ادارے کے محققین کے ہاں اب بھی کام کی بہت سی چیزیں مل جاتی ہیں بشرطیکہ انہیں عصری تناظر میں خالص قرآن وسنت کے مطابق ڈھال لیا جائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو فن تزکیہ کی تجدید یا تربیت کی اسلامی تشکیل نو ایک بہت بڑا علمی و فکری چیلنج ہے۔ 
یہ بھی ذہن میں رہے کہ ایک تعلیمی ادارے میں اسلامی تربیت کی کئی جہات ہیں۔ نصاب کے علاوہ اس میں استاد کا کردار بہت اہم ہے لیکن ہمارے اساتذہ کو یہ سکھایا ہی نہیں جاتا کہ انہیں خود اچھا مسلمان کیسے بننا ہے اور طلبہ کو اچھا مسلمان کیسے بنانا ہے؟ لہٰذا تربیت اساتذہ کے منہج کی تبدیلی بھی مطلوب ہے۔ پھر تعلیمی ادارے کا ماحول کیسے بدلا جائے؟ تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کا اس میں کیا کردار ہو؟ یہ ساری باتیں غور طلب ہیں۔ 

کم شرح تعلیم 

پاکستان اور اکثر مسلم ممالک میں شرح تعلیم بہت کم ہے لیکن یہ صرف انتظامی معاملہ نہیں۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پس پردہ معاشی مسئلہ ہے کیونکہ غریب والدین بچوں کو اس لیے نہیں پڑھاتے کہ وہ انہیں کسب رزق میں لگا لیتے ہیں اور ان کی فیس ادا نہیں کر سکتے۔ حکومت کہتی ہے کہ اس کے پاس زیادہ بجٹ نہیں۔ پاکستان کی مثال لیں جس کے پاس غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے بعد ترقیاتی کاموں کے لیے دس پندرہ فیصد سے زیادہ بجٹ نہیں بچتا لیکن اگر آپ اس معاشی مسئلے کے حقیقی اسباب تلاش کریں تو وہ فکری نظر آئیں گے، اگرچہ بہت دور جا کر۔ دیکھئے ! پاکستان کو منصوبہ بندی سے قرضوں کی دلدل میں کس نے جھونکا؟ پاکستان کو کشمیر میں کس نے الجھایا کہ وہ اتنی بڑی فوج رکھنے پر مجبور ہو جائے؟ پاکستان کو کس نے اجازت نہیں دی کہ وہ مسجد کو تعلیم کا مرکز بنا کر تعلیم عام کر دے؟ ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ مغرب نے۔ اور مغرب نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ تاکہ پاکستان (اور اسی طرح سے دیگر مسلم ممالک) اپنے مسائل کی دلدل میں پھنسے رہیں‘ معاشی طور پر کمزور رہیں‘ تعلیمی طور پر کمزور رہیں مبادا کہیں وہ طاقتور نہ ہو جائیں، اسلامی فکر و تہذیب کہیں ابھر کر سامنے نہ آجائے اور مغرب کے لیے چیلنج نہ بن جائے۔

تزکیہ 

قرآن حکیم سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں تعلیم کا اصل مقصد تزکیۂ نفس ہے اور تعلیم محض اس کا ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد‘ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا‘ نفس انسانی کی ایسی اور اس طرح تربیت ہے جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی نا فرمانی سے بچ جائے اور اس کے احکام پر بہترین طریقے سے عمل کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ یہ عین دین ہے بلکہ اصل دین اور مغز دین ہے اور اللہ نے سارا دین اسی لیے نازل کیا ہے اور پیغمبر اسی لیے مبعوث فرمائے ہیں کہ انسانوں کا تزکیہ کر سکیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی احکام کے مطابق اور ان کی روشنی میں اپنے مخاطبین کا بہترین تزکیہ کیا اور ایسے افراد تیار کیے جن کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بعد میں جب اخلاقی اور معاشرتی بگاڑ بڑھنے لگا تو مسلمانوں میں ایک اصلاحی تحریک تزکیۂ نفس کے لیے چلی جسے تصوف کہا جانے لگا۔ پھر مرور ایام سے اس تحریک میں بہت سی غیر اسلامی باتیں شامل ہوگئیں۔ اب گڑبڑ یہ ہوئی کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جو تحریک اٹھی، اس کے بہت سے قائدین نے رد عمل کے جوش میں نہ صرف تصوف کو رد کر دیا بلکہ تزکیہ و تربیت کو بھی درخور اعتنا نہ جانا۔ یہ ایک عظیم فروگزاشت ہے جس کے ہولناک نتائج نکلے ہیں بلکہ ہماری نگاہوں میں جدید اسلامی تحریکوں کی ناکامی کا ایک بڑا سبب یہی امر ہے۔ اگر وہ محض تصوف کے غیر اسلامی پہلوؤں کی مذمت کرتے تو یہ بجا ہوتا لیکن جس طرح ہم پورے ذخیرہ حدیث کو یہ کہہ کر دریا برد نہیں کر سکتے کہ جعل سازوں نے بہت سی حدیثیں گھڑ لی ہیں اور ضعیف اور منکر روایتیں صحیح احادیث میں ملا دی ہیں‘ اسی طرح تصوف میں غیر اسلامی امور کی آمیزش سے ڈر کر تزکیہ و تربیت کے ادارے کو بالکل ہی خیرباد نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں ! یہ ضرور ہے کہ اس کی تجدید ہونی چاہیے، اس میں حق کو باطل سے الگ کر نا چاہیے‘ بدعات اور غیر اسلامی رسوم و رواج کی نشاندہی اور مذمت ہونی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی امت کے بہترین لوگوں نے اپنی عمریں صرف کر کے اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر تزکیہ و تربیت کے جو اصول و ضوابط وضع کیے ہیں (اور جن میں کوئی بات غیر اسلامی نہیں) انہیں نکھار کر سامنے لانا چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے لیکن معاف کیجئے گا کتنے لوگ یہ کام کر رہے ہیں؟ اور کتنے ادارے اس کام کے لیے وقف ہیں؟

مغرب اور مغربی تہذیب

اسلام زندگی کے سارے مسائل کے بارے میں احکام دیتا ہے اور ان کے نفاذ اور غلبے کا متقاضی ہے لیکن مسلمان اس وقت مغلوب ہیں (جس کی ایک بڑی وجہ اسلامی احکام پر ان کا عمل نہ کرنا ہے) دوسری طرف مغرب اور اس کی فکر و تہذیب اس وقت غالب ہے اور اس کی اساس خدا اور آخرت کے انکار پر ہے۔ مزید یہ کہ مغرب اپنی فکری‘ معاشی‘ سیاسی اور حربی قوت کے بل پر اپنے آپ کو غالب رکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے کہ مسلم فکر و تہذیب ابھر کر سامنے نہ آئے اور اس کے غلبے کا امکان پیدا نہ ہو۔ اس امر کا ادراک اور اس کا تجزیہ و تدارک خود ایک بہت بڑا فکری و عملی مسئلہ ہے لیکن اس وقت ہم جس امر کی طرف توجہ دلا رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ مغربی فکر و تہذیب مسلم مفکرین و مصلحین پر بہت شدت سے اثر انداز ہوئی ہے اور ان کی فکر پر اس کے اثرات کا مطالعہ ایک وسیع موضوع ہے۔ ہم یہاں اس وقت صرف دو باتوں کی طرف اشارہ کریں گے :

مرعوبیت و انفعالیت 

دور زوال میں ایک بالغ نظر مسلم عالم کا سرمایہ فکری استقلال ہونا چاہیے یعنی وہ فکری طور پر پسپا نہ ہو‘ غیر مسلم افکار کو قبول نہ کرے اور ان سے متاثر نہ ہو بلکہ اپنی فکر پر جما رہے‘ اس کی مدافعت و مزاحمت کرے بلکہ حسب موقع ہجومی انداز اختیار کرے اور اسلامی فکر کی صداقت و عظمت ثابت کرے اور حریف تہذیب کی فکری و عملی خامیوں کو نمایاں کرے۔ بدقسمتی سے اکثر مسلم مفکرین و مصلحین نے فکری استقلال کا ثبوت نہیں دیا اور کسی نہ کسی درجے میں مغرب کی فکر سے متاثر یا اس کے رد عمل کا شکار ہوگئے۔ مصر کی سلفیت (مفتی محمد عبدہ اور رشید رضا وغیرہ) برصغیر کی نیچریت(سر سید اور امیر علی وغیرہ) قادیانیت اور فتنہ انکار سنت (چکڑالوی‘ پرویز‘ امین احسن اصلاحی وغیرہ) اس کی چند مثالیں ہیں۔ جدید اسلامی تحریکوں کا دین کو نظام ‘ تحریک اور حکومت الٰہیہ کہنا نفاذ دین کی خاطر سیاسی جدوجہد کو عین دین قرار دینا‘ فرد کے تزکیہ نفس کو اہمیت نہ دینا اور عملی زندگی میں مغربی جمہوریت کے سیاسی نظام میں حصہ لے کر اس کا ایک حصہ بن جانا‘ تحریکی تعلیمی اداروں کا انگلش میڈیم اپنانا اور آکسفورڈ و کیمبرج کا نصاب پڑھانا‘ کاروبار میں سود کو قبول کرلینا‘ معاشرت میں مغربی لباس کو اختیار کرنا‘ حجاب کو خیرباد کہنا وغیرہ یہ سب فکری اور تہذیبی پسپائی کے مظاہر ہیں۔ یہ اسلامی قوتوں کی فکری استقامت کا حال ہے‘ جہاں تک عام مسلمان کا تعلق ہے (جن میں حکمران اور مقتدر طبقے سر فہرست ہیں) تو وہ علی الاعلان کہتے ہیں کہ عصر حاضر میں ترقی اور خوشحالی صرف مغرب کی پیروی ہی کی مرہون منت ہے ۔

مغرب سے اخذ و استفادہ کی حدود و شروط

ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم مغرب سے کیا لے سکتے ہیں اور کیا نہیں؟ اس میں بھی لوگ افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں۔ کچھ لوگ مغرب سے نفرت اور اس کے الحاد کی وجہ سے اسے کلیتاً رد کر دیتے ہیں اور بعض مغرب سے سب کچھ لے لینا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں نقطۂ اعتدال کی تلاش ضروری ہے کہ جن شعبوں میں اسلام نے تفصیلی اور ناقابل تغیر احکام نہیں دیے بلکہ صرف اصولی رہنمائی دی ہے‘ وہاں انسانی تجربے کے طور پر بعض چیزیں مغرب سے ضروری تغیر کے ساتھ لی جا سکتی ہیں۔

جدید اسلامی تحریکیں

جدید اسلامی تحریکیں امت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور وہ دین اور مسلمانوں کی عظیم خدمت انجام دے رہی ہیں۔ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ ساٹھ ستر برس کی جدوجہد کے باوجود انہیں کہیں بھی بڑی کامیابی کیوں حاصل نہیں ہوئی‘ نہ عامی سطح پر اور نہ سیاسی میدان میں۔ اگرچہ ان تحریکوں کے پاس بہت سے ٹھوس عذر بھی ہیں اور بعض میدانوں میں کامیابیاں بھی‘ تاہم ان تحریکوں کے غور کے لیے بہت سے سوالات بھی ہیں۔ مثلاً:
  • کیا یہ موقف کہ اسلامی عناصر مسلم حکمرانوں کے اقتدار کے براہ راست حریف بن کر سامنے آئیں‘ قابل نظر ثانی تو نہیں؟
  • کیا ان اسلامی تحریکوں نے استعجال سے کام تو نہیں لیا کہ معاشرے کو ہم نوا بنائے بغیر تھوڑی تنظیمی قوت کے بل پر بزن کا بگل بجا دیا‘ جس نے دشمنوں کو مشتعل اور چوکنا کر دیا اور نتیجتاً قیادت اور کارکنوں کو بلا جواز اور بے نتیجہ قربانیاں دینا پڑیں؟
  • اجتماعی تبدیلی اہم بھی ہے اور مطلوب بھی لیکن اس کا انحصار فرد کی تبدیلی پر ہوتا ہے۔ کیا ان تحریکوں نے فرد کے دل و دماغ اور کردار کی تبدیلی کو اپنی کوششوں کا ہدف بنایا ہے؟
  • کیا روایتی دینی قوتوں کو ساتھ نہ ملا کر حکمت عملی کی غلطی تو نہیں کی گئی؟
  • کیا دین کی جامعیت کے نام پر صرف سیاسی جدوجہد کو مکمل دین بنا کر پیش کرنے کا یہ نقصان تو نہیں ہوا کہ مسلم معاشرے نے اسے قبول نہیں کیا؟
  • کیا دین کو صرف ایک دنیوی نظام کے طور پر پیش کر کے آخرت پر ترکیز کرنے والے دین کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کی گئی؟
  • کیا مغرب کے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی اصولوں کو قبول کر کے ان میں حصہ لے کر فکری پسپائی تو اختیار نہیں کی گئی؟ وغیرہ وغیرہ۔

مسلم نشاۃ ثانیہ 

  • مسلم نشاۃ ثانیہ کی حکمت عملی اور لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ یہودی اگر اپنے غلبے کے لیے صدیوں پہلے پروٹوکول تیار کر سکتے ہیں اور مغرب میں جگہ جگہ تھنک ٹینک کھل سکتے ہیں تو کیا ہم مسلمان فکری طور پر بالکل ہی بانجھ ہوگئے ہیں کہ اپنے مستقبل کے لیے نہیں سوچ سکتے؟ کیا ہمارے ہاں امت کی سطح پر ایک بھی ’’امہ سٹڈی سنٹر‘‘ اور ’’انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعۂ مغرب‘‘ قائم نہیں ہو سکتا؟
  • اتنی ہزیمت اور رسوائی کے باوجود مسلمانوں کے متحد نہ ہونے کے اسباب کیا ہیں؟ اور ان اسباب کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے؟
  • اجتماعی سطح پر مسلم قیادت کا کردار آج تک مصالحانہ یا زیادہ سے زیادہ مدافعانہ و مزاحمانہ رہا ہے‘ کیوں نہ اس کو جارحانہ بنا دیا جائے؟ معاف کیجئے گا اس سے مقصود دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا نہیں بلکہ فکری اور نفسیاتی طور پر جارحانہ رویہ اختیار کرنا ہے۔
  • اسلامی کانفرنس تنظیم کی ناکامی کے بعد کیا مسلم نشاۃ ثانیہ کے لیے ایک نئے اور فعال ادارے کی ضرورت نہیں؟ یہ ادارہ کون قائم کرے گا؟

روایتی دینی قوتیں

  • وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے روایتی دینی قوتوں اور جدید اسلامی تحریکوں کو قریب نہیں آنے دیا؟ نیز ان کے تقارب کے کیا اصول و مظاہر ہونے چاہئیں؟ (مدیر الشریعہ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے)
  • دینی قوتوں کے ہاں اصلاح کے داخلی اور خارجی عوامل کو کیسے موثر اور فعال بنایا جا سکتا ہے؟

سیاسی حکمت عملی

  • مسلم حکمرانوں کو کیسے پر امن طور پر اسلامی تبدیلی قبول کرنے پر راغب کیا جا سکتا ہے؟
  • مسلم حکمرانوں اور عوام میں بعد اور دوری کو کیسے پاٹا جائے؟
  • مسلم حکمرانوں کی اصلاح کے لیے دینی عناصر کی دعوتی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟
  • مسلم حکمرانوں کو دین دشمن بین الاقوامی قوتوں کے شکنجے سے کیسے نکالا جائے؟

اجتہاد اور دین کی تعبیر و تشریح

گو فنی لحاظ سے اجتہاد اور دین کی تعبیر و تشریح میں فرق ہے لیکن اس فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو اجتہاد میں مانع اور دین کی تعبیر و تشریح میں غیر متوازن اسلوب کو جنم دیتے ہیں؟
  • کیا تقلید کی روش پر اصرار اور پہلے مجتہدین کے کام کو حرف آخر سمجھنا اور فقہ کو شریعت بنا لینا؟
  • کیا مسلک پرستی اور فرقہ واریت یعنی ہر مسلک کا اپنے تعلیمی ادارے الگ بنا لینا اور اسی عصبیت کی بنیاد پر دینی اور سیاسی جماعتیں قائم کر لینا؟
  • کیا قرآن و سنت کو عملاً دین کا ماخذ اور فیصلہ کن اتھارٹی نہ ماننا؟
  • کیا فکری حریت کو قبول نہ کرنا اور اسے پروان نہ چڑھانا؟
  • کیا بعض لوگوں کا مغرب سے متاثر ہو کر دین کو بازیچۂ اطفال بنا لینا یا کم از کم دین کی تشریح و تعبیر مغرب سے مرعوب ذہن کے ساتھ کرنا؟ (کیا مہاتیر محمد کا موقف اور خورشید احمد ندیم صاحب کے اٹھائے گئے نکات اسی کا مظہر نہیں؟)
در اصل ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تجدید اور تجمد کے درمیان راہ اعتدال کی تلاش اور اس پر عمل ہے۔ اگر کچھ لوگ عصری تقاضوں کے نام پر مغرب سے مرعوب ذہن کے ساتھ تجدد اختیار کر لیں اور دین کی حقیقی سپرٹ کو ضائع کر دیں اور دوسری طرف روایتی دینی ذہن کے مالک لوگ فکری استقلال کے نام پر اجتہادی سپرٹ اور فکری حریت کو ترک کر کے تجمد اختیار کر لیں تو ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے درمیان بعد پیدا ہو جانا فطری ہے (یہی وہ فرق ہے جو ارشاد احمد حقانی صاحب کو مہاتیر محمد اور ان کے اسلام پسند گورنر کے درمیان نظر آتا ہے) اس کا حل یہی ہے کہ ایک ایسی فکری اور علمی فضا کو پروان چڑھایا جائے جو تجدد اور تجمد کی انتہاؤں کو ترک کر کے راہ اعتدال پر چلنے کا رویہ پختہ کرے۔ ظاہر ہے اس فضا کو پیدا کرنے میں وقت تو لگے گا لیکن اگر اس کے لیے شعوری کوششیں کی جائیں اور موزوں علمی و فکری ادارے قائم کر کے صحیح سمت میں پیش رفت جاری رکھی جائے تو اس میدان میں پیش قدمی ناممکن نہیں۔

دعوت و اصلاح 

دعوت کے دو بڑے پہلو ہیں : ایک مسلم معاشرے کے لیے دعوت اور دوسرے غیر مسلموں کے لیے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ اس انتہائی اہم کام کو‘ جو امت مسلمہ کے وجود‘ اس کی بقا‘ استحکام اور تسلسل کے لیے بالکل ناگزیر ہے‘ انتہائی غیر مربوط اور غیر سائنسی انداز میں انجام دیا جا رہا ہے اور وہ اسی وجہ سے ناکامی کی حد تک بے نتیجہ ہے۔
ہماری حالت یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں کار دعوت و اصلاح کے لیے ہمارے دینی عناصر کے سامنے کوئی واضح‘ مربوط اور متفقہ پالیسی نہیں ہے۔ ہم نے کئی برس پیشتر لاہور میں ایک طالب علمانہ کوشش کی اور دینی جماعتوں کو ایک سلسلۂ ورکشاپ میں بلایا جس میں ہمارے پیش نظر یہ تھا کہ باہم مل کر پاکستانی عوام و خواص کے لیے ایک متفقہ دعوتی پالیسی تیار کی جائے۔ اس میں کئی حضرات تشریف بھی لائے لیکن وہ اپنی اپنی تنگنائے سے نکل کر اس بحر کی غواصی کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ ضرورت ہے ایسے افراد اور اداروں کی جو اہل دین کے متفرق عناصر کو جمع کر کے مسلم معاشرے کے لیے سائنسی بنیادوں پر ایک مربوط‘ واضح اور متفقہ دعوتی پالیسی طے کریں جس پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی بھی ہوتی رہے۔ 
غیر مسلموں کے لیے مسلمان تنظیمیں اور ادارے جو دعوتی کام کر رہے ہیں وہ بھی ناکافی‘ غیر مربوط اور غیر سائنسی انداز میں کیا جا رہا ہے۔ دعوتی لحاظ سے ہمارا بڑا ہدف امریکہ‘ یورپ‘ افریقہ اور وسط ایشیائی ممالک ہیں۔ کیا ہمارے ہاں دعوت کے ایسے کافی ادارے موجود ہیں جہاں غیر ملکی زبانیں سکھائی جاتی ہوں اور جہاں غیر مسلم ممالک کی فکر‘ تہذیب اور کلچر کا تفصیلی مطالعہ کروایا جاتا ہو؟ جہاں ان مذکورہ خطوں کی زبان میں اور ان کے ماحول اور معیار کے مطابق دعوتی لٹریچر تیار کیا جاتا ہو اور داعی تیار کیے جاتے ہوں؟ ہمارے علم کی حد تک ان سوالوں کا جواب ہاں میں دینا ممکن نہیں۔ تو کیا ہم سب کا فرض نہیں کہ اس کام کی فکر کریں اور اس کے لیے مقدور بھر حرکت میں آئیں؟
یہ بھی یاد رہے کہ غیر مسلموں میں دعوت کا ہدف قلوب و اذہان کو فتح کر کے اسلام پھیلانا ہوتا ہے اور مسلم معاشرے میں دعوت کا مقصد اصلاح ہوتا ہے تا کہ مسلمان واقعی اچھے مسلمان بن جائیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلامی احکام کے مطابق بسر کرنے لگیں۔

جہاد

جہاد کا مسئلہ بھی ہمارے غور و فکر کا محتاج ہے۔ طاقتور مغرب اپنی باطل فکر و تہذیب کی بالادستی اور کسی متبادل فکر وتہذیب کو سر نہ اٹھانے دینے کی غرض سے جس مسلم ملک کو چاہتا ہے، تاراج کر دیتا ہے اور جس مسلم حکمران کو چاہتا ہے، جان و اقتدار سے محروم کر دیتا ہے۔ اس فضا نے فکری استقلال سے محروم بعض مسلم اہل علم کو جہاد کے خلاف کمزور اور ہوچ پوچ آرا قائم کرنے پر آمادہ کیا جس کا ایک بڑا مظہر قادیانیت ہے۔ (آج کل ہندوستان میں مولانا وحید الدین خان اور پاکستان میں جاوید غامدی صاحب کا موقف بھی اسی قبیل سے ہے)
اسلام میں جہاد کا معروف تصور یہ ہے کہ جو عناصر اپنی قوت کے بل پر انسانوں پر انسانوں کی خدائی قائم رکھنے پر مصر ہوں اور انسانوں پر ایک خدا کی خدائی قائم کرنے میں مزاحم ہوں‘ ان کی قوت بزور توڑ دی جائے۔ ان معنوں میں مسلمان امت جہاد پر قادر ہی نہیں۔ وہ اتنی ناتواں اور خوار و زبوں ہے کہ اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ وہ بیچاری تو اپنی مدافعت پر بھی قادر نہیں اور چند سر پھرے اور اہل عزیمت ہیں جو مدافعت میں اپنی جانوں کانذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ اب یہ بزر جمہر چاہتے ہیں کہ مسلمان مدافعت بھی نہ کریں بلکہ مغرب کی فکری‘ حربی‘ سیاسی اور معاشی برتری کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور ہاتھ جوڑ کر کہیں کہ صاحب جی ! ہم تو لیٹے ہوئے ہیں‘ جتنا چاہے مار لو‘ ہم اف بھی نہیں کریں گے اور کھڑا ہونے کی کوشش بھی نہیں کریں گے۔
البتہ یہاں ایک گنجلک اور ہے‘ اور وہ یہ کہ بعض جہادی عناصر دعوت اور جہاد کے فرق کو نہیں سمجھتے جس کی حقیقت یہ ہے کہ جہاد اہل کفر کے خلاف ہوتا ہے اور مسلم معاشرے میں اصلاحی کام دعوت کے ذریعے ہونا چاہیے لیکن بعض نافہم لوگ جہاد کی تربیت کو مسلم معاشرے پر لاگو کرنے کا سوچتے ہیں اور اسے اسلامی انقلاب کا نام دیتے ہیں۔ ظاہر ہے اس طرح اسلام تو نافذ نہیں ہوتا اور نہیں ہو سکتا البتہ وہ اپنی کج فکری کی وجہ سے ضرور دار و رسن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں جہاد کے حوالے سے بہت سے سوالات تسلی بخش جوابات کے محتاج ہیں۔ مثلاً کیا جہاد دہشت گردی ہے؟ کیا مغرب کی مزاحمت خلاف شریعت و خلاف مصلحت امت ہے؟ کیا مغرب کی مزاحمت واجب شرعی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
یہ چند امور تھے جن کا ذکر ہم مسلم امہ کو درپیش اہم فکری مسائل کے حوالے سے کرنا چاہتے تھے۔ یقیناًان میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے اور ان سے اختلاف بھی۔

ڈاکٹر شیر محمد زمان کا مکتوب

ڈاکٹر ایس ایم زمان

مکرم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب دام لطفکم 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الشریعہ (شمارہ نومبر ۲۰۰۲ء) کے صفحہ ۷ پر چوکھٹے میں ڈاکٹر کریمر کا ایک اقتباس دیا گیا ہے جس کا ماقبل اور ما بعد کے مضامین سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ آپ سے محبت اور نیاز کا جو رشتہ ہے، اس کے پیش نظر خیال ہوا کہ اس اقتباس پر مبسوط تبصرہ اس وقت ممکن تو نہیں تو کم از کم اپنے فوری رد عمل کا نہایت اختصار سے اظہار کردوں۔ اقتباس کو دیکھنے کے بعد قارئین کے ذہن میں تصوف کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے حالانکہ اطراف و اکناف عالم میں ابلاغ واشاعت اسلام میں صوفیا کا کردار ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اسلامی علوم و فنون میں کوئی علم یا فن رطب و یابس سے خالی نہیں حتیٰ کہ حدیث و تفسیر میں بھی صواب و ناصواب کی آمیزش ہوگئی ہے۔ تفسیری ادب میں غیر اسلامی افکار در آئے ہیں تو حدیث میں وضع حدیث کے فتنے نے فساد پیدا کیا ہے اور محدثین کرام کو ’’موضوعات‘‘ پر مستقل کتابیں تالیف کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ظاہر ہے کہ تصوف کا وسیع ادب بھی اس سے مبرا نہیں۔ مگر تصوف کے بارے میں بلا سیاق و سباق ایک ایسا اقتباس نقل کرنے کو جس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ایک عیسائی فاضل تصوف کو عیسائی مبلغین کی کامیابی کا ایک ذریعہ تصور کرتا ہے‘ تصوف کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
تصوف میں مرور قرون کے ساتھ اور مختلف بلاد و اقالیم کے مقامی اثرات کے تحت بعض غیر اسلامی عناصر بھی داخل ہوتے رہے مگر اس سے صوفیا کے عظیم و تقدس مآب گروہ کی خدمات پر کوئی حرف نہیں آتا۔ علما و اکابر دیوبند کی عظیم شخصیتوں میں بھی تصوف ان کی سیرت کا شاندار اور تابناک پہلو رہا ہے۔
ناچیز کی ناقص رائے میں اس اقتباس کے ساتھ ادارہ الشریعہ کی طرف سے مختصر مگر شافی تبصرہ کسی بھی منفی تاثر کو زائل کرنے کے لیے مناسب ہوتا۔ تلافی مافات کسی آئندہ شمارے میں بھی ممکن ہے۔ الشریعہ کا بلند علمی معیار اس کا مقتضی ہے۔ شاید اس بارے میں آپ زیادہ احتیاط مناسب خیال فرمائیں۔ 
تحیات و تمنیات صالحہ کے ساتھ ۔
والسلام ، نیاز کیش ‘ ایس ایم زمان

ڈاکٹر عبد الخالق کا مکتوب

ڈاکٹر عبد الخالق

محترم و مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی
آپ سے تعارف خاصا پرانا ہے۔ آپ کی تحریر اور تقریر کی صلاحیت کا معترف بھی ہوں اور مداح بھی۔ ندائے خلافت کے تازہ شمارہ نمبر ۱ مؤرخہ ۸ جنوری ۲۰۰۳ء  میں آپ کے مضمون ’’قصور وار کون؟‘‘ نے اتنا متاثر کیا کہ آپ سے تحریری رابطہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔ حالانکہ میں تحریر کا کافی ’’چور‘‘ واقع ہوا ہوں۔ ٹیلی فون پریا بالمشافہ ملاقات مجھے آسان محسوس ہوتی‘ بہ نسبت تحریر کے۔ 
مولانا ! آپ نے آج کے جدید علوم کے علمبردار طبقہ کو بہت ہی مدلل اور مؤثر جواب دیا ہے اور باوجود اس کے کہ میں نہ عالم دین ہوں اور نہ کسی روایتی مدرسے سے تعلیم یافتہ بلکہ علم کے نام پر زیادہ تر ان ’’نام نہاد جدید تعلیمی اداروں‘‘ ہی سے استفادہ کیا ہے جن پر آپ نے تنقیدکی ہے، اس کے باوجود مجھے آپ کی تحریر پسند آئی ہے۔
لیکن مولانا ! آپ سے کچھ ’’آپس کی بات‘‘ کرنے کو بھی دل چاہتا ہے۔
میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ آپ کی یہ تحریر جدید علوم کے علمبردار طبقے پر ’’ایک الزامی جواب‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسے بقول علامہ اقبال ؂ 
کہا اقبال نے شیخ حرم سے تہہ محراب مسجد سو گیا کون؟
ندا مسجد کی دیواروں سے آئی فرنگی بت کدے میں کھو گیا کون؟
یہ بات درست ہے کہ جدید علوم کے نام پر اتنے وسائل خرچ کرنے (جن میں سب سے زیادہ حکومتی وسائل ہی خرچ ہوتے ہیں) کے باوجود ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنے پیچھے کیوں ہیں؟ اور آپ نے اس پر جدید علوم کے علمبرداروں اور مسلمان حکومتوں اور مسلمان حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور اس کے مقابلے میں دینی علوم کے علمبرداروں نے باوجود وسائل کی کمی اور نا مساعد حالات کے قرآن و حدیث کے علم کا سلسلہ جاری رکھا اور آج نہ کسی خطیب کی کمی ہے اور نہ حافظ قرآن کی۔
مولانا ! آپ نے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کے مقابلے میں عام دینی تعلیم کا حوالہ دے دیا۔ جدید تعلیم میں مہارت کے مقابلے میں تو دینی علوم میں مہارت کی مثال پیش کی جانی چاہیے تھی۔ جہاں تک عام مروجہ تعلیم کا تعلق ہے، اس کے ذریعے مروجہ حکومتی نظام چلانے والے کارندوں کی ضرورت ہے جو بحسن و خوبی پوری ہو رہی ہے۔ جہاں تک عام ٹیکنیکل علم و مہارت کا تعلق ہے، اس میں تو کہیں کوئی کمی نہیں ہے۔ ہاں البتہ جہاں تک جدید ٹیکنالوجی اور اس میں تحقیق اور ایجادات اور اس میں مہارت کا تعلق ہے، قریباً تمام ہی مسلمان ممالک اس میں ’’پھسڈی‘‘ ہیں۔ صرف ایک استثنا ہے کہ پاکستان نے کم از کم ایٹمی ٹیکنالوجی میں تو وہ ترقی کی ہے جس کا اعتراف ہمارا دشمن اور مغرب بھی کرنے پر مجبور ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ مہارت بھی ہمیں اللہ تعالیٰ نے خالصتاً معجزانہ انداز میں عطا فرمادی ہے، بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی اور علم و تحقیق میں عمومی ترقی کے۔ اب آئیے دینی علم کی طرف۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام دینی علوم کی ترویج کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کے مقابلے میں دینی حلقوں نے کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے؟ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق دین کو کس نے اور کہاں پیش کیا ہے؟
بعض خود ساختہ شرائط کے ساتھ اجتہاد کا دروازہ ہم نے بند کر رکھا ہے۔ طبقہ علما میں کوئی ایسی قیادت ابھر کر آئی ہے جس نے واقعتا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہو؟ پوری امت مسلمہ ’’ایک امام‘‘ سے محروم ہے۔ بلکہ برا نہ مانیے، اس عام دینی علم نے جہاں خطیب اور حافظ فراہم کیے ہیں، وہیں بدترین قسم کی فرقہ بندی اور فرقہ پرستی بھی اسی طبقے سے ابھری ہے اور دین کے غلط تصورات کو بنیاد بنا کر تخریب کاری اور دہشت گردی کی ترویج کا باعث بھی یہی طبقہ بنا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تمام طبقات ایسے نہیں ہیں لیکن جو ہیں، ان کا بھی تعلق تو اسی طبقے سے ہے نا۔ 
میں تو محسوس کرتا ہوں کہ 
ہم الزام ان کو دیتے ہیں قصور اپنا نکل آیا
۵۶ کے قریب مسلمان ملکوں میں کہیں بھی طبقہ علما نے دین کو بطور نظام زندگی برپا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ دور جدید میں اسلامی فلاحی ریاست کے قیام‘ کہ جس کے ذریعے ہم اسلام کے زریں اصولوں اخوت و مساوات اور عدل و قسط کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرتے‘ میں ہم ناکام رہے ہیں۔ (ایران میں اسلامی نظام کے نام پر جو کچھ ہوا، اس میں معاشرتی سطح پر تو تبدیلی آئی لیکن معاشی سطح پر سود اور جاگیرداری نظام جاری ہے اور سیاسی سطح پر قرآن و سنت کی بجائے ’’رہبر‘‘ کی بالادستی کا طوق بھی موجود ہے۔ گویا فلاحی ریاست کا تصور وہاں بھی عنقا ہے۔) بلکہ افسوس تو یہ ہے کہ اس کی اہمیت کا احساس بھی ہمارے طبقہ علما کے بیشتر حصے میں موجود نہیں ہے۔ الا ما شاء اللہ۔ اگر ہم اپنے معاملات میں خود مختار ہوتے تو یہ جدید ٹیکنالوجی بھی ہمارے ہاتھ میں ہوتی اور اسے ہم اپنی مرضی سے استعمال کرتے۔ کجا یہ کہ ہم خود اغیار کے زیر تسلط ہیں۔ کرنے کا اصل کام تو دینی حلقوں نے بھی نہیں کیا۔ 
بری الذمہ کوئی بھی نہیں ! ہم سب ’’قصور وار‘‘ ہیں۔
والسلام،  ڈاکٹر عبد الخالق 
ناظم نشر و اشاعت تنظیم اسلامی
۹ جنوری ۲۰۰۳ء

گلوبلائزیشن: چند اہم پہلو

پروفیسر میاں انعام الرحمن

تکنیکی ترقی اور ای کامرس سے گلوبل رجحانات کو مسلسل تقویت مل رہی ہے۔ اگرچہ اس وقت بھی لوگوں کی اکثریت اپنی اپنی ریاستوں سے گہری وابستگی رکھتی ہے لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ قومی ریاست روایتی طاقت کی حامل نہیں رہی۔ اس وقت اس کی جیسی صورت سامنے آ رہی ہے، اسے Post-sovereign nation state سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔ اکیسویں صدی کی گلوبل دنیا میں قومی ریاست کا زیادہ سے زیادہ کردار Night-watching state کا ہی ہوگا۔ 
کارل مارکس اور فریڈرک اینگلس نے ۱۸۴۸ء میں ہی گلوبلائزیشن کی نشان دہی ان الفاظ میں کر دی تھی کہ 
In place of old local and national seclusion and self-sufficiency, we have intercourse in every direction .......
لیکن یقیناًان دونوں کے لیے گلوبلائزیشن کے اس تناسب کا تصور کرنا بھی محال تھا جس سے آج پوری دنیا دوچار ہے۔ اس وقت چالیس ہزار کے لگ بھگ Transnational Corporations کراس بارڈر معیشت کو فروغ دے رہی ہیں۔ ان میں سے سرفہرست چار سو کارپوریشنیں گلوبل پرائیویٹ سیکٹر کے ٹوٹل آؤٹ پٹ کا تقریباً نصف سنبھالے ہوئے ہیں۔ اشیا اور خدمات (Goods & Services) میں عالمی تجارت تقریباً سات کھرب ڈالر سالانہ ہے اور یہ عالمی تجارت، قومی معیشتوں کے مجموعے سے تقریباً تین گنا زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کرنسی کی مارکیٹوں میں بھی انتہائی تیزی سے بڑھاوا دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ۱۹۷۳ ؁ء میں قومی سرحدوں کے پار روزانہ بیس بلین ڈالرز حرکت کرتے تھے۔ ۱۹۸۶ ؁ء میں ۲۰۷ بلین ڈالرز، ۱۹۹۲ ؁ء میں ۸۲۰ بلین ڈالرز اور ۱۹۹۸ ؁ء میں ۵ء۱ ٹرلین ڈالرز سے بھی اوپر۔ 
مذکورہ اعداد وشمار اور جائزے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ گلوبلائزیشن کے دو نمایاں پہلو ہیں ۱۔ قومی ر یاست کاخاتمہ، ۲۔ مارکیٹ کی بنیاد پر کراس بارڈر معیشت کا فروغ۔ صاف بات تو یہ ہے کہ اس دوسرے پہلو کی بدولت ہی قومی ریاست خاتمے کے قریب پہنچی ہے۔ یوں سمجھیے کہ گلوبلائزیشن اہل مغرب کا آخری انقلابی پراجیکٹ اور ان کے معاشی وسیاسی نظاموں کی ’’ثابت شدہ اعتباریت‘‘ کا حتمی پھیلاؤ ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مارکسسٹ اکانومی کی طرح مارکیٹ اکانومی بھی بے دین ہے، فرد کی نفی کرتی ہے اور انسان کو پیداواری اور صرف کرنے والے کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔ دونوں میں مذہب کو پرانی اور فرسودہ چیز سمجھا جاتا ہے جو ’’انفرادی‘‘ ہو سکتا ہے اور ’’اجتماعی طاقت‘‘ سے محروم ہو کرآخر کار میدان سیاست سے ہمیشہ کے لیے رخصتی ہی جس کا نصیب ٹھہرے گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مارکیٹ بنیادوں پر قائم متنوع علاقائی تقاضوں کو بھی ہڑپ کیا جا رہا ہے۔
آدم سمتھ نے Self-interest اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کی خواہش کو ’’خوشحالی اور ڈومیسٹک امن‘‘ کی علامت قرار دیا تھا۔ یعنی لوگوں کو آگے بڑھنے کی حرص دینا بہت آسان ہے بجائے یہ کہ جذبات کی مناسب management کی جائے۔ مغرب میں مذہبی فکر کے انخلا اور مذکورہ مادی و افادی فلسفیانہ رجحانات نے ہی مارکیٹ لبرل ازم کی بنیادیں استوار کیں اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے Economic Mode of Thinking کو رائج کر دیا۔ مغرب کے معاشی خبط کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہاں ’’مہذب اور نارمل لائف‘‘ کا شعور آمدنی کی اونچی سطح کے گرد گھومتا ہے۔ وہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ کس طرح اپنا وقت ’’مارکیٹ اور بے مارکیٹ‘‘ سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔ ایک مغربی تجزیہ نگار کے مطابق:
"Profit not religion, is the spirit of this spiritless world where one must overwork in order to live."
یعنی ایک طرح سے مارکیٹ لبرل ازم کے نام پر انسانیت کو روندا جا رہا ہے حالانکہ ایسے لبرل ازم میں ’’لبرٹی‘‘ نام کو بھی نہیں۔ اس طرح مارکیٹ لبرل ازم کی تھیوری مارکیٹ تھیوری کے قریب پہنچ جاتی ہے کہ اس کے ذریعے دیگر معاشرتی قدروں اور اداروں کی ساخت اور نوعیت کا تعین ہوگا۔ حالانکہ "A society of free work, of enterprise and of participation" کے مقولے کا تقاضا ہے کہ مارکیٹ کو معاشرتی اور ثقافتی قوتیں کنٹرول کریں اور اس کی ساخت اور نوعیت کا تعین کریں لیکن گلوبلائزیشن (جو کہ مارکیٹ بنیادوں پر ہو رہی ہے) میں یہ عنصر مفقود ہے اور برملا کہا جا رہا ہے کہ مارکیٹ لبرل ازم کی موجودہ تعریف کے سوا اور کوئی طریقہ یا نظریہ ’’جدیدیت‘‘ پر پورا نہیں اترتا اور جلد یا بدیر دنیا کے تمام معاشرے ’’یکساں اقدار و نظریات‘‘ کے حامل ہو جائیں گے۔ اس تناظر میں قومی ریاستیں مجبور ہو رہی ہیں کہ Market-Friendly پالیسیاں تشکیل دیں اگرچہ عوام کے مفادات متاثر بھی ہوتے ہوں۔ یورو زون ممالک کو ہی دیکھ لیجئے (جو ترقی یافتہ اور طاقتور ہیں) ان کی مالیاتی پالیسی کا کنٹرول اب یورپین سنٹرل بنک کے ہاتھوں میں ہے۔ اس طرح ان ممالک کے قومی سنٹرل بینکوں کی بیوروکریسی کا کردار ثانوی حیثیت کا رہ گیا ہے، اگرچہ ان ممالک نے گلوبلائزیشن کو ’’ایڈریس‘‘ کرنے کے لیے ہی ’’یوروزون‘‘ تشکیل دیا ہے اور ان کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔
موجودہ گلوبل دنیا کے لیے ماہرین سیاسیات فی الحال چار متبادل گورننس ماڈلز پر بحث کر رہے ہیں :
۱۔ (Adam Smith Revisited) اس نظریے کے مطابق ریاست اور دوسرے سیاسی اداروں کو چاہیے کہ جس حد تک ممکن ہو ’’مارکیٹ‘‘ کو کم سے کم ڈسٹرب کریں اور Trust the market کے اصول پر پالیسیاں مرتب کریں۔ 
۲۔ دوسرے ماڈل کو Fragmentation کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ریاستیں آخر کار اپنے ’’قومی کردار‘‘ کی طرف لوٹ جائیں گی۔ گلوبلائزیشن کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ معاشی‘ سیاسی اور ثقافتی بنیادوں پر انتشار پوری دنیا میں جڑ پکڑ لے گا۔ 
۳۔ تیسرے ماڈل کو Pax Americana کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق دنیا میں موجود تشتت اور انتشار پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA) کے ذریعے قابو پا لیا جائے گا۔ مسائل اور مشکلات کا حل ’’امریکی لیڈرشپ کے تحت امریکی انداز‘‘ میں ممکن ہو سکے گا۔ 
۴۔ آخری متبادل ماڈل Global Coordinationہے۔ اس ماڈل میں ریاستیں‘ علاقائی ادارے اور بین الحکومتی تنظیمیں اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ اس نظام میں قومی حکومتیں نہ صرف برقرار رہیں گی بلکہ ریجنل گورننس انسٹی ٹیوشنز اور اقوام متحدہ کی رفاقت میں کام کریں گی۔
مذکورہ چاروں نظریات میں سے کوئی بھی اپنی گرفت اتنی مضبوط نہیں کر سکا کہ باقی تینوں خارج از بحث قرار پائیں، البتہ پہلا اور تیسرا ماڈل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 

گلوبلائزیشن اور جمہوری رویہ 

اکیسویں صدی کے عالمی نظام میں گلوبلائزیشن کے در آنے سے جمہوری رویے کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ سرسری جائزہ لینے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب ووٹر کے ’’ووٹ‘‘ کی زیادہ اہمیت نہیں رہی۔ ووٹر جانتا ہے کہ اس کا ووٹ ‘ موجودہ پیچیدہ اور گلوبلائزڈ دنیا میں ’’انقلابی کردار‘‘ ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں ریڈیکل تحریکات کی جو لہر نظر آرہی ہے، شاید اس کا ایک سبب ووٹر کی ’’بے توقیری‘‘ بھی ہے۔ جمہوری رویے کو زیادہ نقصان Superiority of the market over the state کے نظریے نے پہنچایا ہے۔ قومی ریاستوں میں اگرچہ شہریوں کو مفید جمہوری حقوق میسر رہیں گے لیکن معاشی امور میں ان کی حیثیت پرکاہ کی بھی نہیں ہوگی۔ اگرچہ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ قومی ریاستیں دولت کو احسن طریقے سے تقسیم نہیں کر سکیں اس لیے دنیا کی اکثریتی آبادی غربت کا شکار ہے‘ گلوبلائزیشن کے عمل سے اور قومی ریاستوں کے کمزور ہونے سے دنیا کی اکثریتی آبادی ’’خوشحال‘‘ ہو جائے گی۔ لیکن واقعاتی شہادت ان ماہرین کی منطق کے خلاف ہے کیوں کہ گلوبلائزیشن سے امیر اور غریب کی ’’آمدنی کا فرق‘‘ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور عالمی سطح پر عوام کے احتجاج سے عالمی منڈی کے کرتا دھرتا پالیسی سازوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ انہیں کون سا ووٹ لینے ہوتے ہیں۔
مارکیٹ بنیادوں پر گلوبلائزیشن کے مسلسل پھیلاؤ سے جمہوریت کی پسپائی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ عوام اور ووٹرز سیاسی کی بجائے سماجی اداروں کے ذریعے اپنی آواز کو موثر کریں۔ اس سلسلے میں غیر حکومتی تنظیموں کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔ اب یہ انہی تنظیموں کا کام ہے کہ عالمی رجحانات کے مضمرات کو بھانپتے ہوئے شہریوں کو بحیثیت Consumers متحرک اور منضبط کریں کیونکہ فقط Consumers ہی مارکیٹ اکانومی کے فرعونوں کے لیے موسیٰ ؑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی پراڈکٹ کے Worldwide consumers انضباط اور ڈسپلن کے تحت ’’یکساں پالیسیاں‘‘ اختیار کر کے متعلقہ کمپنی کا ’’دماغ‘‘ ٹھکانے پر لا سکتے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ مترشح ہوتا ہے کہ گلوبلائزیشن کے غیر جمہوری اور غیر انسانی رویے کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر قوم کے شہریوں کا ’’ماوراے سرحد‘‘ باہمی رابطہ اشد ضروری ہے۔ 
آج کی قومی حکومتیں Supranational Associations کی طاقت کے سامنے بے بس ہیں اور آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک‘ نیٹو‘ یورپی کمیشن وغیرہ فیصلہ سازی عموماً ’’بند دروازوں‘‘ کے پیچھے کرتے ہیں۔ ان کے ’’جواب دہ‘‘ ہونے کا سوچنا بھی محال ہے کہ مذکورہ ایجنسیوں کی تشکیل میں قومی ریاست کے ’’شہریوں‘‘ کا کوئی کردار نہیں۔ لہٰذا شہریوں کی رضامندی اور نارضامندی سے ان کی پالیسیاں ’’متاثر‘‘ نہیں ہوتیں۔ ان عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی بعض سنجیدہ تجزیہ نگار Cosmopolitan Modes of Democracy کی بات کر رہے ہیں کہ 
۱۔ اقوام متحدہ کی فیصلہ سازی کی اہلیت میں اضافہ کیا جائے۔
۲۔ جنرل اسمبلی کے کردار کو موثر کیا جائے۔
۳۔ سلامتی کونسل سے ویٹو پاور ختم کی جائے۔
۴۔ مسلمہ انسانی حقوق کا تحفظ اور دفاع کیا جائے۔ 
۵۔ ریجنل اور گلوبل پارلیمنٹس کی داغ بیل ڈالی جائے۔
۶۔ عالمی اداروں کی ہر سطح پر علیحدگی اختیارات(Separation of Powers) کو متعارف کرایا جائے تاکہ اختیارات کے ارتکاز سے آمرانہ رجحانات نہ پنپ سکیں۔

گلوبلائزیشن اور وفاقیت

جن ممالک میں جمہوری اور وفاقی نظام ہے، وہ سیاسی حوالے سے بھی گلوبلائزیشن سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مثلاً ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں میساچوسٹس (وفاقی اکائی) نے برما پر تجارتی پابندی عائد کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح کیلی فورنیا اور نیویارک سٹی نے دو سوئس بینکوں پر پابندی لگا دی تاوقتیکہ معاملات طے نہ پا گئے۔ حالات کا یہ رخ دیکھتے ہوئے واشنگٹن (وفاقی حکومت) نے واویلا کیا کہ ایسے رجحانات سے ہماری خارجہ پالیسی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح کینیڈا (جو ایک وفاقی ریاست ہے) میں بھی اٹاوہ (وفاقی حکومت) اور کیوبک (وفاقی اکائی) میں اختلافات سامنے آئے۔ 
گلوبلائزیشن وفاقی ریاستوں پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے، اس کا اندازہ اس امر سے بھی ہو جاتا ہے کہ ۱۹۷۰ ؁ء میں بین الاقوامی تجارتی اکھاڑے میں صرف چار امریکی ریاستوں (وفاقی اکائیوں) کے دفاتر تھے۔ اب تقریباً چالیس پینتالیس ریاستوں (وفاقی اکائیوں) کے تقریباً تیس (۳۰) ممالک میں ۱۸۰ سے بھی زائد دفاتر ہیں۔ کینیڈا کے صوبے اس اعتبار سے زیادہ فعال ہیں۔ جرمن Londer (وفاقی اکائی) اور سوئس Canton (وفاقی اکائی) کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی ریاستیں (وفاقی اکائیاں) بھی بین الاقوامی سرگرمیوں میں کافی فعال ہیں۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ بعض وحدانی ممالک (فرانس‘ جاپان) کی ذیلی حکومتیں بھی بین الاقوامی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وحدانی ممالک کی اکثریت بھی جلد یا بدیر اپنے آپ کو وفاقی سانچے میں ڈھال لے گی۔ برطانیہ میں بھی (جو کہ ایک وحدانی ملک ہے) Devolution Act عمل میں آچکا ہے۔ اسی طرح بلجیم جو ۱۸۳۰ء میں عالمی طاقتوں کے درمیان بطورBuffer State وحدانی ملک کی صورت میں نمودار ہوا‘ نئی ضروریات کے تحت پر امن تبدیلی سے گزر کر وفاقی ملک بن گیا۔ ان مثالوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ باور کرایا جائے کہ گلوبلائزیشن سے اگر ایک طرف قومی سرحدیں بے معنی ہو رہی ہیں تو دوسری طرف مقامی رجحانات بھی فروغ پا رہے ہیں۔ وحدانی ممالک کو وفاقی انداز اپنانا پڑ رہا ہے اور وفاقی ممالک اپنی اکائیوں کو مزید اختیارات دے رہے ہیں۔ ہماری رائے میں سوویت یونین‘ چیکوسلواکیہ اور یوگوسلاویہ میں ’’وفاقی نظام‘‘ اس لیے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا کیونکہ اس میں ’’وفاقی رجحانات‘‘ کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ حالانکہ عالمی رجحان یہ تھا کہ وحدانی ممالک بھی ’’مقامی رجحانات‘‘ کو نرمی سے ایڈریس کر رہے تھے اور نئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال رہے تھے۔ 
مذکورہ تمام گفتگو کو پیش نظر رکھیں تو درج ذیل نکات اخذ ہوتے ہیں :
۱۔ گلوبلائزیشن تیزی سے نہ صرف قدم بڑھا رہی ہے بلکہ جما بھی رہی ہے اور چند کمپنیاں‘ کارپوریشنیں عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں آرہی ہیں۔
۲۔ قومی ریاستوں میں ’’مرکزیت‘‘ ختم ہو رہی ہے اور مقامی عناصر کو فروغ مل رہا ہے۔ مرکزیت ختم ہونے سے ریاستیں گلوبلائزیشن پر ’’چیک‘‘ نہیں رکھ سکتیں۔ رہے مقامی عناصر‘ تو وہ چونکہ الگ الگ ہیں اس لیے ان کی آواز اتنی موثر نہیں ہو سکتی کہ گلوبلائزیشن پر اس کے اثرات مرتب ہو سکیں۔ مثلاً صوبہ پنجاب کی ’’عالمی تجارت‘‘ میں آخر کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟
۳۔ درج بالا دو نکات سے مترشح ہوتا ہے کہ گلوبلائزیشن ’’آمرانہ اور وحدانی‘‘ انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یعنی اس میں Unity تو موجود ہے لیکن خطرہ ہے کہDiversity نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلوبلائزیشن میں بھی مقامی رجحانات کو جگہ دی جائے ورنہ یہ اپنی موت آپ اسی طرح سے مر جائے گی جس طرح سوویت یونین‘ چیکو سلواکیہ اور یوگوسلاویہ کے آمرانہ اور نام نہاد وفاقی (حقیقت میں انتہائی وحدانی) نظام مقامی رجحانات کو شامل نہ کرنے کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوگئے۔ یعنی گلوبلائزیشن کو Federalize کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح عالمی سطح پر Unity in Diversity دیکھنے کو مل سکے گی۔
سوال یہ ہے کہ گلوبلائزیشن میں ’’وفاقی عنصر‘‘ کیسے شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ قومی ریاستیں بے بس اور مقامی حکومتیں گلوبلائزیشن کے سامنے بے حیثیت ہیں؟ ہماری رائے میں علاقائی اتحاد (Regional Integration) کے ذریعے گلوبلائزیشن کو Federalize کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یورپی یونین کو ہم Federating Voice کہہ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ریاستیں باہمی اختلافات کو پس پشت رکھتے ہوئے علاقائی اتحاد کو فروغ دیں۔ ویسے بھی آنے والے زمانے میں قومی سرحدیں ’’بے معنی ‘‘ ہونے سے ’’باہمی اختلافات‘‘ بھی بے معنی ہو جائیں گے تو کیوں نہ مستقبل کو بھانپتے ہوئے بروقت ہی گلوبلائزیشن کو لگام دی جائے اس سے پہلے کہ اس میں ’’وحدانی عنصر‘‘ بہت مضبوط اور پائدار ہو جائے۔
اس وقت یورپی یونین کے ساتھ ساتھ آسیان اور نیفٹا بھی فعال ہو رہی ہیں۔ یعنی یورپی یونین کی Federating Voice نے دنیا کے دوسرے خطوں کو بھی مہمیز کیا ہے۔ دنیا کی تشکیل نو (Restructuring) کے اس عبوری دور میں ایسا رجحان خوش آئند ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنوبی ایشیا کے عوام کی قسمت میں غربت‘ افلاس‘ پسماندگی مستقل طور پر لکھ دیے گئے ہیں؟ ہمارا اشارہ ’’سارک‘‘ کی طرف ہے۔ سارک کی موجودہ ساکھ اور ماضی کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے کم از کم ’’اندازہ‘‘ تو یہی ہوتا ہے کہ گلوبل دنیا میں ’’سارک‘‘ بطور Federating Voice شمار نہیں ہوگی۔ گلوبلائزیشن اور علاقائی اتحادات کی سیاست میں جنوبی ایشیا کے خطے کی وہی حیثیت ہوگی جو کسی وفاقی ملک میں کسی کمزور وفاقی اکائی کی ہوتی ہے۔ 
اس امر کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ایشیا کے دو خطوں (جنوبی ایشیا‘ وسطی ایشیا) کی علاقائی تنظیموں کو زیادہ منظم اور زیادہ فعال کیاجائے۔ سارک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے ’’ایکو‘‘ بھی اہمیت کی حامل علاقائی تنظیم ہے ۔ اگرچہ اس امر کا غالب امکان موجود ہے کہ وسطی ایشیا میں امریکہ کی فوجی موجودگی اس تنظیم کی فعالیت میں رکاوٹ کا باعث ہے لیکن پھر بھی علاقے کے مختلف ممالک اور اقوام کو تدبر و فراست سے مستقبل کی پلاننگ کرنی ہوگی تاکہ وسطی ایشیا کا خطہ بھی گلوبلائزیشن کے نظام میں Federating Voice بن کر اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ وطن عزیز جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر ہونے کے ناطے زیادہ اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ جاندار اور موثر کردار ادا کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے ’’داخلی ڈھانچے‘‘ کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ دستور پسندی کو رواج دینے کے ساتھ ساتھ وفاقی اکائیوں کے اختیارات میں نہ صرف اضافہ کرنا ہوگا بلکہ انہیں اس قدر با اعتماد بنانا ہوگا کہ وہ بھی دیگر ممالک کی وفاقی اکائیوں کی مانند‘ عالمی تجارتی اکھاڑے میں اتر سکیں۔

عالمی منڈی میں زراعت کی صورت حال

اس وقت دنیا میں زرعی مارکیٹوں پر ترقی یافتہ ممالک کے ایک چھوٹے سے گروپ کا قبضہ ہے۔ اکثر ترقی پذیر ممالک کے لیے برآمدی مارکیٹ شمال کے انہی چند ممالک پر مشتمل ہے۔ مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ترقی پذیر ممالک کے لیے یورپی یونین سب سے بڑی زرعی برآمدی مارکیٹ ہے۔ وسطی اور جنوبی امریکہ کے ساتھ ساتھ ایشیا کے کچھ ممالک کے لیے امریکہ اور کینیڈا سب سے بڑی مارکیٹیں ہیں جبکہ جاپان اور کوریا ہم سایہ ممالک کے لیے سب سے بڑی مارکیٹیں ہیں۔ اس طرح اندازہ ہوتا ہے کہ زرعی مارکیٹ تک پہنچ کے اعتبار سے تاریخی روابط، جغرافیائی قربت کے علاوہ Regional Integration Arrangement کا کردار کلیدی ہو چکا ہے۔ چالیس ترقی پذیر ممالک کی زرعی برآمدات کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی برآمدات میں بنیادی اضافہ یورپی یونین، شمالی امریکہ، جاپان، کوریا اور EFTA کی Agricultural Liberalization کا نتیجہ ہے۔ تقریباً ستائیس ممالک کی زرعی برآمدات میں پچاس فی صد کے لگ بھگ اضافہ یورپی یونین کی زرعی Liberalization کی وجہ سے ہوا ہے۔ اسی طرح چین اور تھائی لینڈ کی زرعی برآمدات میں پچاس فی صد اضافہ جاپانی اور کورین زرعی Liberalization کے سبب ممکن ہو سکا ہے۔ مذکورہ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے شمال کے تمام ممالک کے بجائے چند ممالک بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی اکثریت کے لیے یورپی یونین کی زرعی مارکیٹ کا زیادہ کھلا ہونا ان کے مشترکہ مفاد کے تحت آتا ہے جبکہ جاپانی، کورین اور امریکہ کی مارکیٹوں سے ایشیا اور مغربی کرے میں واقع ترقی پذیر ممال کا نسبتاً چھوٹا گروپ فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
جاپان اور کوریا کی زرعی برآمدی پالیسیوں کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ جاپانی اور کورین مارکیٹوں کا سکیل امریکی اور یورپی یونین کی مارکیٹوں کے اعتبار سے اضافی ہے۔ اس وقت دنیا میں گندم کی برآمد میں ترقی پذیر ممالک کا شیئر صرف پندرہ فی صد ہے۔ پندرہ فی صد میں بھی آدھے سے زیادہ حصہ ارجنٹائن کا ہے۔ اگرچہ جاپان اور کوریا کا گندم کی درآمد میں حصہ گیارہ فی صد ہے لیکن یہ دونوں ممالک اپنی گندم کی کل درآمد میں سے صرف تین فی صد ترقی پذیر ممالک سے حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ دونوں مالک گوشت اور گوشت کی مصنوعات کی عالمی تجارت کا ستائیس فی صد سے زیادہ درآمد کرتے ہیں اور ان درآمدات کا صرف سترہ فی صد ترقی پذیر ممالک سے آتا ہے۔
اگرچہ عالمی زرعی مارکیٹوں میں Liberalization سے ترقی پذیر ممالک کو برآمد کے زیادہ مواقع ملیں گے لیکن گوشت اور دیگر زرعی اجناس کے درآمد کنندگان کے طور پر ان ممالک میں خوراک کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ خوراک درآمد کرنے والے ممالک کی اکثریت کم ترقی یافتہ اور غریب ہے لہٰذا وہاں Agricultural Liberalization سے خوراک کی درآمدات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے نہ صرف فلاح عامہ کے کام متاثر ہوں گے بلکہ یہ ممالک کسی انسانی المیے کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ چالیس ترقی پذیر ممالک کے ایک گروپ میں تیس ممالک گندم درآمد کرنے والے ہیں جبکہ ان میں سے صرف چار ممالک ایسے ہیں جو گندم اور دوسری زرعی اجناس (چاول کے علاوہ) برآمد کرتے ہیں۔ اکثر ترقی پذیر ممالک کی زرعی درآمدات کا بیس فی صد سے زیادہ گوشت اور غلے پرمشتمل ہوتا ہے۔ 
چونکہ خوراک کے تحفظ کی کوئی متعین تعریف، جو ہر اعتبار سے قابل قبول ہو، نہیں کی جا سکی اس لیے Cluster method استعمال کرتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ستر سے زیادہ ترقی پذیر ممالک خوراک کے اعتبار سے غیر محفوظ کے درجے میں آتے ہیں۔ ان ممالک کی درآمدات میں غلے اور گوشت کا زیادہ حصہ ہوتا ہے۔ غلے اور لائیو سٹاک کی حفاظت جاپان، کوریا، یورپین یونین اور EFTA میں بھی کافی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا ان مصنوعات میں تجارت کو دوسری زرعی اجناس کی بہ نسبت زیادہ درآمدی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لہٰذا لبرلائزیشن کے نتیجے میں ان اجناس کی قیمتیں دوسری اجناس (مثلاً سبزیاں، پھل وغیرہ) کی نسبت بہت زیادہ ہو جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق اگر تمام قسم کی ڈومیسٹک سپورٹ اور بارڈر پروٹیکشن وغیرہ زراعت کے شعبے میں ختم کر دی جائے تو عالمی سطح پر غلے اور لائیو سٹاک پراڈکٹ کی قیمتیں بالترتیب کم از کم دس فی صد اور پچیس فی صد بڑھ جائیں گی۔ اس کے مضمرات میں اکثر ترقی پذیر ممال کے لیے خوراک کی درآمدی قیمت میں بے پناہ اضافہ بھی شامل ہوگا۔
کچھ افریقی ممالک چند اجناس کی برآمد پربہت زیادہ انحصار کرتے ہیں مثلاً تمباکو، کافی وغیرہ۔ ان ممالک کے لیے برآمد کے زیادہ مواقع حاصل کرنا ایک زیادہ لبرلائزڈ عالمی مارکیٹ میں ممکن نہیں ہوگا۔ ان ممالک کے لیے ضروری ہوگا کہ اپنی تجارتی ساخت کو diversifyکریں۔ 

گلوبلائزیشن اور قوموں کا باہمی تجارتی انحصار 

عالمی سیاست کے نظریہ سازوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ’’کیا معاشی اعتبار سے باہمی انحصار جنگ کے امکانات کو کم کر تا ہے یا زیادہ‘‘ جاپان‘ چین اور مغربی یورپ کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت نے اس سوال کو کافی اہم بنا دیا ہے۔ گیارہ ستمبر کے تاریخی واقعہ کے بعد (اس واقعہ کی وجوہات اور نتائج کو دیکھتے ہوئے) ’’معاشی باہمی انحصار اور جنگ‘‘ قابل توجہ موضوع بن گیا ہے کہ عالمی سیاست کا لبرل مکتبہ فکر معاشی باہمی انحصار کو ایسا عنصر قرار دیتا ہے جس کے سبب جنگ کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں کہ جارحیت کا متبادل ’’تجارتی اقدار‘‘ میں ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ لہٰذا جس حد تک ’’باہمی انحصار‘‘ کو فروغ حاصل ہوگا‘ عالمی امن اسی قدر دیرپا ثابت ہوگا۔ اس نقطہ نظر کو حقیقت پسند مکتبہ فکر قابل قبول نہیں گردانتا۔ حقیقت پسندوں کے مطابق باہمی انحصار سے جنگ کے امکانات بڑھتے ہیں، کم نہیں ہوتے کہ باہمی انحصار کا مطلب Vulnerability ہے جس سے ریاستوں کو جارحیت کے لیے پیش قدمی کا ’’محرک‘‘ مل جاتا ہے تاکہ ضروری اشیا اور معدنیات وغیرہ تک ’’مسلسل رسائی‘‘ کو یقینی بنایا جائے جن پر ریاست کی طاقت اور بقا کا دارومدار ہوتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی قوم یا اقوام کا کوئی گروہ گلوبلائزیشن کی آڑ میں خام مال‘ تیل‘ معدنیات وغیرہ تک اپنی مسلسل رسائی کو یقینی بنانا چاہتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے درج بالا گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے‘ اگر ہم جنگ عظیم اول کا پس منظر دیکھیں تو لبرل مکتبہ فکر کی تہی دامنی سامنے آجاتی ہے۔ کیونکہ اس وقت مغربی طاقتوں کے درمیان تجارت غیر معمولی سطح پر پہنچ چکی تھی لیکن یہ باہمی تجارت انہیں جنگ کرنے سے نہیں روک سکی ۔ بلکہ اس زیادہ باہمی انحصار کے بعد یہ جنگ وقوع پذیر ہوئی کیونکہ پچھلے تیس سالوں سے باہمی تجارت کی شرح بہت بڑھ چکی تھی۔ ۱۹۲۰ء ؁ سے ۱۹۴۰ ؁ء تک کا عرصہ لبرل مکتبہ فکر کو سپورٹ کرتا نظر آتا ہے۔ Protectionism کی خندق کے باعث باہمی انحصار کو زوال آیا تو بین الاقوامی تناؤ اتنی بڑھ گیا کہ دنیا جنگ پر آمادہ ہوگئی، اگرچہ اس وقت بھی دو جارحیت پسند ریاستیں (جرمنی اور جاپان) خام مال کے لیے دوسری ریاستوں بشمول طاقتور ریاستوں پر کافی زیادہ انحصار کر رہی تھیں۔ لہٰذا حقیقت پسند بھی سچے معلوم ہوتے ہیں کہ ناگزیر اشیا تک ’’لازمی رسائی‘‘ کے لیے کشمکش بڑھ جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بیس کی دہائی میں جرمنی اور جاپان دوسری ریاستوں پر زیادہ انحصار کر رہے تھے لیکن انہوں نے جنگ تیس کے عشرے کے اختتام پر چھیڑی جبکہ ان کا انحصار (دوسری ریاستوں پر) کافی حد تک کم ہو چکا تھا۔ 
بعض تجزیہ نگاروں نے لبرل اور حقیقت پسند مکاتب فکر کی مذکورہ ’’اضافیت‘‘ کو (Theory of Trade Expectations) کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نظریے کے مطابق ایک نیا (Variable) متعارف کروایا گیا ہے جسے (Expectations of Future Trade) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر ریاست جنگ کرنے کا فیصلہ کرلے تو تجارتی آپشن کی مجموعی قدر پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ لہٰذا باہمی انحصار اس وقت امن کی نشوونما کرے گا اگر ریاستوں کو یقین ہو کہ تجارتی شرح‘ مستقبل بعید تک کافی بلند رہے گی۔ اگر بہت زیادہ انحصار کرنے والی ریاستوں کو اندازہ ہو جائے کہ مستقبل میں تجارتی شرح بہت زیادہ گھٹ جانے کے امکانات موجود ہیں تو یقیناًحقیقت پسندوں کے نظریے کے مطابق ایسی ریاستیں جنگ شروع کرنے سے نہیں چوکیں گی کہ انہیں اس معاشی دولت کے کھونے کا خوف لاحق ہوگا جو ان کی طویل المیعاد سلامتی کی پشتیبان ہے۔ ۱۴- ۱۹۱۳ ؁ء میں اعلیٰ باہمی انحصار کے باوجود مستقبل بعید میں ’’متوقع کٹوتی‘‘ کو بھانپتے ہوئے ہی شاید جرمن قائدین نے پہلی جنگ عظیم چھیڑ دی تاکہ خام مال اور مارکیٹوں تک ’’طویل المیعاد رسائی‘‘ ممکن ہو سکے۔ 
اس وقت وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں کا جواز مذکورہ خطوط پر تلاش کیا جا سکتا ہے کہ گلوبلائزیشن کے فروغ کے ساتھ ہی امریکی لیڈر شپ اپنی معیشت پر ’’میکرو اثرات‘‘ کی بابت تحفظات کا شکار ہو چکی ہے۔ کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے اتار چڑھاؤ سے امریکی معیشت پر بالواسطہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ریاستوں کے مابین تجارتی شرح میں ’’درآمدی جنس‘‘ کی نوعیت کو اہم حیثیت حاصل ہے کہ کسی درآمد کی جانے والی جنس کی ’’کٹوتی‘‘ پر ریاستی قوت اور خوشحالی کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جاپان‘ یورپ اور شمالی امریکہ کی معیشت کا Capital Infrastructure (ٹرانسپورٹیشن سسٹم‘ فیکٹریاں‘ مشینیں وغیرہ) خام مال اور تیل کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔ اس طرح تجارت میں تعطل سے ان ممالک کو بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ اگرچہ خام مال اور تیل رکھنے والے ممالک کا انحصار بھی ان اشیا کے ’’برآمد‘‘ کرنے پر ہے لیکن اس حوالے سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی ریاست کے لیے (درآمد و برآمد کے حوالے سے) متبادل انتظام کی سہولت کس قدر ہے۔ یعنی ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ درآمد کنندگان خام مال اور تیل کہیں اور سے حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح برآمد کنندگان خام مال اور تیل کہیں اور بھی کھپا سکتے ہیں یا نہیں۔ دنیا بھر میں صنعت کے مسلسل فروغ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں برآمد کنندگان کا پلڑا لازماً بھاری ہوگا کہ انہیں ’’سپلائی‘‘ کرنے کے لیے ’’آپشن‘‘ میسر ہوگا۔ اس لیے ترقی یافتہ ممالک کی یہ کوشش ہے کہ ترقی پذیر دنیا میں ’’صنعت حرفت‘‘ تیزی سے فروغ نہ پا سکے تاکہ برآمد کنندگان متوقع متبادل سے محروم ہو جائیں۔ پچھلے چند سالوں سے وطن عزیز میں صرف ’’واپڈا‘‘ کے ہاتھوں ہی صنعت کا جو ’’حشر نشر‘‘ ہوا ہے، اس کا ایک سبب مذکورہ نکتے میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ 
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اور زاویے سے ہم عالمی رجحانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد‘ مشرقی ایشیا اور مغربی یورپ میں امریکی فوجوں کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ جواز پیدا کرنے کے لیے ہی امریکہ نے ’’بدمعاش ریاست‘‘ اور دہشت گردی کی نئی اصطلاحیں متعارف کرائیں۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ دنیا کے ہر اہم خطے میں بد معاش ریاستیں پیدا کرتا رہے اور ان ریاستوں سے تحفظ کی خاطر متعلقہ خطوں میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز پیدا کرتا رہے کہ امریکہ کی غیر موجودگی میں بد معاش ریاست والے خطے کی ’’دیگر ریاستیں‘‘ اپنے تحفظ کی خاطر ’’ملٹری ایڈوینچر‘‘ کی طرف مائل نہ ہو سکیں۔ خیال رہے کہ کسی ریاست کو اتنی حد تک ہی بد معاش بنایا جاتا ہے کہ بعد میں اپنی دھاک بٹھانے کی خاطر اس کی خاطر خواہ ’’ٹھکائی‘‘ بھی کی جا سکے تاکہ دیگر ممالک امریکہ کی بے محابا ملٹری قوت اور اس کی فراہم کردہ ’’سکیورٹی‘‘ سے مطمئن رہیں۔ اس پالیسی کو (Adult Supervision) کا ’’معتبر‘‘ نام دیا گیا ہے۔ اس سے بہرحال اتنا واضح اندازہ ہو جاتا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ گلوبلائزیشن کے عہد میں کوئی اور قوم یا اقوام کا گروہ امریکہ کی مانند پوری دنیا میں مغربی حوالے سے نقل و حرکت کر کے ’’دخل در معقولات‘‘ کا سبب بنے۔
امریکہ اینڈ کمپنی کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ ایشیا میں قومیت پرستی کو تحریک مل سکتی ہے جس سے پورا خطہ Nuclearized ہو سکتا ہے۔ مثلاً شمالی کوریا‘ جنوبی کوریا یا مستقبل کے متوقع متحدہ کوریا کی نیوکلیرائزیشن سے جاپان، اور جاپان سے خائف ہو کر چین، اور چین سے خائف ہو کر بھارت اور تائیوان، اور بھارت سے خائف ہو کر پاکستان Aggressive Nuclearization کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں روس بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ خیال رہے یہی (Chain) الٹی بھی چل سکتی ہے۔ بہرحال ہر دو صورتوں میں قومیت پرستی کو مزید پشت پناہی ملے گی جس سے گلوبلائزیشن کا عمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے اور یہی امر‘ امریکی مفادات کے منافی ہے کہ امریکہ نے تو سرد جنگ کے دنوں سے ہی ’’کیپیٹل ازم پر مبنی گلوبلائزیشن‘‘ کے خواب بنے ہوئے تھے۔ 
Adult Supervision کے تحت امریکی پالیسی کا دوسرا پہلو یہ ہوگا کہ مشرقی ایشیا میں Japanese- led closed economic block نہ بن سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود امریکہ نے ہی جنگ عظیم دوئم کے بعد‘ جنوبی کوریا اور تائیوان کی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہوئے جاپانی سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے دونوں ممالک کے دروازے کھلوادیے تاکہ جاپان ’’ایشیا کی ورکشاپ‘‘ بن سکے۔ اس پالیسی کا پس منظر ۱۹۰۰ ؁ء سے ۱۹۴۵ ؁ء تک اس ملک کی پولیٹیکل اکانومی تھی۔ شمالی اور مشرقی ایشیا میں جاپان کی رسائی ’’خام مال اور مارکیٹ‘‘ تک کافی زیادہ تھی۔ جنگ کے بعد امریکہ کی ذمہ داری بن گئی کہ جاپانیوں کو ’’ملٹری ایڈوینچر‘‘ کی طرف مائل ہونے سے بچانے کے لیے اس کے لیے ’’خام مال اور مارکیٹ‘‘ کا مناسب بندوبست کرے۔ امریکہ کے مشہور ڈپلومیٹ اور مورخ جارج کپتان نے بہت پہلے نشاندہی کر دی تھی کہ جاپان اس امریکی بندوبست کے طفیل ہی مستقبل میں ’’معاشی بلاک‘‘ تشکیل دے سکتا ہے جس میں امریکی اثرات ’’زیرو‘‘ ہوں گے لہٰذا ضروری ہوگا کہ اس ’’خام مال اور مارکیٹ‘‘ پر قبضہ کیا جائے جس پر جاپان کا انحصار ہے۔ اندازہ یہی ہوتا ہے کہ مشرقی ایشیا اور مغربی یورپ کو متوقع حریف خیال کرتے ہوئے امریکہ کی کوشش ہے کہ ہر دو خطے جس خام مال پر انحصار کر رہے ہیں‘ اس خام مال کو ’’اپنے‘‘ قبضے میں لے لیا جائے۔ لہٰذا Expectations of Future Trade کی تھیوری کافی حد تک موجودہ عالمی حالات پر لاگو ہوتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ گلوبلائزیشن سے جنگ کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ 

اختتامی کلمات 

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ گلوبلائزیشن سے ’’فرار‘‘ ممکن نہیں اور یہ کہ دنیا کی ترقی کا غالب رجحان بھی اسی سمت میں ہے‘ ہمیں چاہیے کہ معروضی انداز میں اس کا Structure بدلنے کی کوشش کریں۔ گلوبلائزیشن کے لیے کوئی ’’تصوری ڈھانچہ‘‘ تشکیل دیں‘ جس کے مطابق اس میں نام نہاد مارکیٹ لبرل ازم کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ’’مضبوط عدل‘‘ بھی معتبر جگہ پا سکے۔ گلوبل فیصلہ سازی میں ایسے معاشروں اور اقوام کو بھی معقول اور موثر طور پر شریک کیا جائے جن کا مارکیٹ اعتبار سے وزن کم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کے درمیان Socialization کی بھی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے ورنہ موجودہ صورت حال میں تو ترقی یافتہ دنیا کا پلڑا کافی بھاری ہے۔ آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور عالمی اقتصادی تنظیم کے انتظامی ڈھانچوں اور فیصلہ سازی کے شعبوں میں امیر ممالک کا تناسب غریب ممالک سے بہت زیادہ ہے ۔ اندریں صورت یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا مغربی ممالک جمہوری رویے کو ’’قومی ریاست‘‘ تک محدود سمجھتے ہیں کہ ماوراے ریاست اداروں پر یہ رویہ لاگو نہیں ہو سکتا؟ اہل مغرب کا (Proud of Flesh) کا مظہر رویہ اور اس پر اصرار دیکھ کر شیکسپیئر کے ڈرامے ’’مرچنٹ آف وینس‘‘ کے یہ الفاظ یاد آجاتے ہیں:
".......... take then thy hand,
take then thy pound of flesh
but in the cutting of it --- shed not
one drop of Christian blood."
سوال یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے عمل میں Global Ethics کیوں نہیں سما سکتی؟ اس وقت اگرچہ گلوبل سوشل تحریکات مثلاً ایمنسٹی انٹرنیشنل اور گرین پیس وغیرہ گلوبلائزیشن کے ’’یک رخے‘‘ انداز کو دھچکا لگا رہی ہیں لیکن ان کی آواز اتنی موثر نہیں ہو سکی۔ گلوبل خطرات جیسا کہ ماحولیاتی آلودگی‘ ایڈز‘ کیمیائی ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور دہشت گردی وغیرہ سے‘ گلوبلائزیشن کے ’’غیر معاشی عناصر‘‘ پر توجہ دینے کی ضرورت بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ گلوبلائزیشن کی سمت سفر ’’قدرتی‘‘ ہے لیکن ملٹی نیشنل کمپنیاں اسے ’’ہائی جیک‘‘ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ کمپنیاں ایک ملک سے سرمایہ نکال کر اور دوسرے ملک میں سرمایہ لگا کر ’’ہلچل‘‘ مچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں مشرقی ایشیا میں ’’کرنسی کے بحران‘‘ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اندریں صورت Global Ethics کا اثر و نفوذ بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ 
ایک اہم بات یہ ہے کہ گلوبلائزیشن اصل میں ’’اسلامی قدر‘‘ ہے لیکن بنیادی انسانی حقوق اور انسان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل جیسے اقدامات کی طرح اہل مغرب نے یہ اسلامی قدر بھی اپنے آپ سے منسوب کر لی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ فروعی مسائل میں الجھنے کی بجائے اسلام کے ’’عالمی پروگرام‘‘ پر بحث و نظر کو فروغ دیں۔ مارکیٹ اکانومی کے غیر انسانی پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے متوازی ’’اسلامی پروگرام‘‘ پیش کریں۔ خطرہ ہے کہ دنیا بھر میں عوامی سطح پر گلوبلائزیشن کے خلاف رد عمل سے‘ کہیں اسلام کی عالمگیریت بھی ہدف تنقید نہ ٹھہرے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

تعارف و تبصرہ

ادارہ

(نوٹ: تعارف کتب کے لیے کتاب کی دو جلدیں موصول ہونا ضروری ہے)

’’قصیدہ بردہ شریف‘‘

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و منقبت میں امام محمد شرف الدین البوصیریؒ کے ’’قصیدہ بردہ‘‘ کو جو قبولیت عامہ نصیب ہوئی ہے، اس سے سب اہل علم آگاہ ہیں۔ ہمارے فاضل دوست سید سبط الحسن ضیغم نے، جن کے مضامین روزنامہ نوائے وقت میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں‘ قصیدہ بردہ شریف کو اردو، پنجابی، فارسی اور انگریزی زبانوں میں ملا عبد الرحمن جامیؒ، سید وارث شاہؒ، فیاض الدین چشتیؒ، مفتی عبد الرزاقؒ اور حافظ برخوردارؒ جیسے نامور اصحاب علم و قلم کے نو تراجم کے ساتھ عمدہ اور معیاری کتابت و طباعت کے ذریعہ خوبصورت اور دلکش انداز میں شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے جو ایک قابل قدر علمی و ادبی خدمت ہونے کے ساتھ ساتھ بارگاہ رسالتؐ کے ساتھ بے پایاں عقیدت و محبت کا بھی آئینہ دار ہے۔ 
پیکجز لمیٹڈ کوٹ لکھپت لاہور نے اسے شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے اور بڑے سائز کے ۲۶۸ صفحات پر مشتمل اس خوبصورت اور بابرکت مجموعہ کا ہدیہ چار سو روپے ہے۔

’’فتاویٰ مفتی محمود‘‘ (جلد سوم)

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی نگرانی میں جامعہ قاسم العلوم ملتان کے دارالافتاء سے جاری کیے جانے والے فتاویٰ کو جمعیۃ پبلیکیشنز لاہور نے شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو ایک بڑی علمی خدمت ہے۔ فتاویٰ کی دو جلدیں اس سے قبل بھی شائع ہو چکی ہیں اور تیسری جلد اس وقت ہمارے سامنے ہے جو کتاب الجنائز، کتاب الزکوٰۃ، کتاب الصوم اور کتاب الحج کے ضروری مسائل پر مشتمل ہے۔ 
پونے چھ سو کے لگ بھگ صفحات، عمدہ کمپوزنگ و طباعت، مضبوط جلد، قیمت دو سو روپے۔
ملنے کا پتہ : جمعیۃ پبلیکیشنز، جامع مسجد پائلٹ سکول، وحدت روڈ، لاہور

’’ دینی مدارس میں تعلیم: کیفیت، مسائل، امکانات‘‘

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور عالمی ادارہ فکر اسلامی نے جنوبی ایشیا میں آزاد دینی مدارس کے قیام کے پس منظر، خدمات و کردار، نصاب و نظام، طریق کار اور ان کے بارے میں مختلف حلقوں کے تاثرات بالخصوص دینی مدارس کے خلاف عالمی استعمار کی مہم کے حوالہ سے وسیع تر مطالعہ و تجزیہ کا اہتمام کیا ہے اور جناب سلیم منصور خالد نے اس مطالعہ و تجزیہ کے نتائج کو خوبصورت اور جامع انداز میں مرتب کر کے اسے اہل علم کے لیے گراں قدر تحفے کی صورت میں پیش کر دیا ہے جو دینی مدارس کے بارے میں ذہنوں میں پیدا ہونے والے اور عالمی میڈیا کی طرف سے اٹھائے جانے والے کم و بیش تمام اہم سوالات کا احاطہ کرتا ہے۔
پونے پانچ سو صفحات پر مشتمل اس معیاری کتاب کی قیمت تین سو روپے ہے اور اسے بک ٹریڈرز، نصر چیمبرز، مرکز ایف سیون، اسلام آباد سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’خطبات جالندھریؒ‘‘

تحریک ختم نبوت کے عظیم راہنما حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو اللہ تعالیٰ نے جہد و عمل کی بے پناہ قوت و توفیق کے ساتھ ساتھ گفتگو اور استدلال کے منفرد اسلوب سے بھی نوازا تھا اور ان کے خطبات دینی مواد و معلومات کا بھی بہت بڑا ذخیرہ ہوتے تھے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ’’خطبات ختم نبوت‘‘ کی پانچویں جلد کے طور پر حضرت مولانا جالندھریؒ کے متعدد خطبات کو مرتب کر دیا ہے جو توحید باری تعالیٰ، سیرتِ نبویؐ، عقیدہ ختم نبوت، حجیت حدیث، معراج النبیؐ، اتباع سنت، تصوف، اسلام اور کمیونزم اور دفاع پاکستان کی اہمیت جیسے اہم عنوانات پر انہوں نے وقتاً فوقتاً ارشاد فرمائے تھے۔ 
صفحات ۴۱۲، کتابت و طباعت معیاری، خوبصورت جلد و ٹائٹل، قیمت دو سو روپے۔ 
ملنے کا پتہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان۔

’’تحقیق الایمان‘‘

بلوچستان کے بزرگ عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی عبد القادرؒ نے علم حدیث سے تعلق رکھنے والے اہم ابواب ایمان، تقدیر اور فضائل صحابہؓ کے حوالہ سے ایک مختصر رسالہ تحریر فرمایا تھا جو علم حدیث کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے افادیت کا حامل ہے۔ 
چالیس کے لگ بھگ صفحات کا یہ علمی رسالہ مکتبہ رشیدیہ، سرکی روڈ، کوئٹہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’تاریخ المسجد الحرام‘‘

جامع مسجد خضراء، سمن آباد، لاہور کے خطیب مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مسجد حرام کی تعمیر کی مرحلہ وار تاریخ اور اس کے مختلف ادوار کے بارے میں ضروری معلومات کو جامع انداز میں مرتب کیا ہے اور اس کے ساتھ حج اور عمرہ کے ضروری مسائل بھی شامل کر دیے ہیں۔ 
تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ایک سو بیس روپے ہے اور اسے مندرجہ ذیل پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے: حافظ محمد اسامہ ،جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ، جی ٹی روڈ کامونکی، ضلع گوجرانوالہ۔

’’عہد ساز قیادت‘‘

ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے سابق مدیر اور اپنے دور کے معروف دانش ور ڈاکٹر احمد حسین کمال مرحوم نے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تاریخ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۳ء  تک مرتب کی تھی جو ان کی زندگی میں شائع ہوئی تھی اور کافی عرصہ سے ناپید تھی جبکہ جمعیۃ علماء اسلام کے سیاسی مزاج اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور مجاہد اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی سیاسی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ہر کارکن کے لیے ضروری ہے۔ جمعیۃ پبلیکیشنز، جامع مسجد پائلٹ سکول، وحدت روڈ، لاہور نے اسے دوبارہ شائع کیا ہے اور سوا دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ایک سو بیس روپے ہے۔

’’طریقۂ تعلیم‘‘

جمعیۃ علماء ہند کے نامور راہنما اور مؤرخ حضرت مولانا سید محمد میاں رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کتابچہ میں طریقۂ تعلیم پر قلم اٹھایا ہے اور اپنے مخصوص انداز میں تعلیم کی اہمیت اور اس کے طریق کار کے بارے میں اہم معلومات و ہدایات تحریر فرمادی ہیں، جو اساتذہ و مدرسین کے لیے بطور خاص مفید ہیں۔ 
صفحات ۱۴۰، قیمت ۶۰ روپے ہے اور یہ بھی جمعیۃ پبلیکیشنز کے پتہ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

’’دور حاضر کے سیاسی و اقتصادی مسائل‘‘

حکومت و سیاست، اقتصاد و معیشت، جمہوریت، ملوکیت، قانون سازی اور بیت المال جیسے اہم عنوانات پر حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کے علمی اور فکر انگیز مضامین کو جمعیۃ پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے اور دینی سیاست کے محاذ پر کام کرنے والے علماء اور کارکنوں کے لیے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔ 
دو سو اڑتیس صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ایک سو بیس روپے ہے۔

’’عالمی طاغوتی کھیل میں مکر و فریب کا راج‘‘

معروف دانش ور اور تجزیہ نگار کموڈور (ر) طارق مجید نے عالمی صہیونی تحریک کے عزائم‘ پس منظر اور مکر و دجل پر مشتمل طریق کار کو اس کتابچہ میں بے نقاب کیا ہے اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خلاف بھارتی جنگی عزائم کے پیچھے کار فرما صہیونی مقاصد پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے تجزیہ و تبصرہ کے تمام پہلوؤں سے اتفاق ضروری نہیں ہے لیکن ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد کی عالمی صورت حال کو سمجھنے کے لیے اس کتابچہ کا مطالعہ مفید ہوگا۔ 
صفحات ۱۵۲ ‘ قیمت ۷۵ روپے‘ ملنے کا پتہ: الفیصل ناشران و تاجران کتب، اردو بازار، لاہور۔

’’آفتاب محمدیؐ بجواب شمع محمدیؐ‘‘

فقہ حنفی کے مختلف مسائل کے بارے میں اہل حدیث عالم دین مولانا محمد جونا گڑھیؒ کی تنقیدی کتاب ’’شمع محمدیؐ‘‘ کے جواب میں پیر سید مشتاق علی نے قلم اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ فقہ حنفی پر ’’شمع محمدی‘‘ میں کیے گئے اعتراضات بے وزن اور معاندانہ ہیں۔ 
صفحات ۳۰۴، ملنے کا پتہ: عبد المتین اکیڈمی، گلی ۸، گوبند گڑھ، گوجرانوالہ۔

’’حقائق الفقہ بجواب حقیقۃ الفقہ‘‘

پیر سید مشتاق علی شاہ کی یہ کتاب بھی فقہ حنفی کے دفاع میں ہے اور اس میں مولانا محمد یوسف جے پوریؒ کی مشہور کتاب ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ میں فقہ حنفی پر کیے جانے والے سینکڑوں اعتراضات کا مدلل جواب دیا گیا ہے۔ 
صفحات ۵۱۰ اور ملنے کا پتہ: مکتبہ فاروقیہ، گلی ۸، گوبند گڑھ، گوجرانوالہ۔