دسمبر ۲۰۰۳ء

امریکی مسلمانوں کی صورتحال اور مستقبل کی توقعاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دور جدید میں اسلامی شریعت کا نفاذ کیسے ہو؟محمد موسی بھٹو 
حدود آرڈیننس : چند تجزیاتی آرامولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق دار کون؟مولانا محمد یوسف 
’’مسجد اقصیٰ ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ ۔ ناقدین کی آراادارہ 
کیا علاقائی کلچر اور دین میں بُعد ہے؟پروفیسر میاں انعام الرحمن 
تعارف و تبصرہادارہ 

امریکی مسلمانوں کی صورتحال اور مستقبل کی توقعات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال رجب اور شعبان کی تعطیلات امریکہ میں گزارنے کا موقع ملا۔ ۱۸ ستمبر کو میں امریکہ پہنچا اور ۴ نومبر کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ دار الہدیٰ، سپرنگ فیلڈ ورجینیا کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر کا تقاضا تھا کہ ان تعطیلات میں وہاں حاضری دوں اور دار الہدیٰ میں مختلف موضوعات پر خطابات کے سلسلے میں شریک ہوں۔ اس سے قبل اسی سال مئی کے دوران میں کم وبیش تیرہ سال کے وقفہ کے بعد دو ہفتے کے لیے امریکہ گیا تھا اور اس وقت بھی زیادہ تر قیام دار الہدیٰ میں ہی رہا تھا۔ اسی موقع پر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی سالانہ تعطیلات کے دوران دار الہدیٰ میں مختلف عنوانات پر لیکچرز کا ایک پروگرام طے پا گیا تھا۔ اسی کے مطابق یہ سفر ہوا۔ یہ پروگرام کم وبیش ایک ماہ تک جاری رہا اور سیرت نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے اہم پہلوؤں پر دس لیکچرز کے علاوہ بخاری شریف کی کتاب العلم اور مسلم شریف کی کتاب الفتن کا درس بھی اس پروگرام میں شامل تھا۔ بہت سے مسلمان بھائی اپنی مصروفیات کے باوجود پابندی کے ساتھ ان پروگراموں میں شریک ہوتے رہے۔ ان کی دلچسپی سے اندازہ ہوتا تھا کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں میں دینی بیداری کا رجحان بڑھ رہا ہے اور قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کرنے کا ذوق اضافہ پذیر ہے۔ 
سپرنگ فیلڈ اگرچہ ریاست ورجینیا کا حصہ ہے لیکن دار الحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ساتھ ملحق ہونے کی وجہ سے اسی کا ایک محلہ معلوم ہوتا ہے اور راول پنڈی واسلام آباد کی طرح بسا اوقات یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ درمیان کے جس مقام پر ہم کھڑے ہیں، یہ واشنگٹن کا حصہ ہے یا سپرنگ فیلڈ میں شامل ہے۔
اس کے علاوہ مجھے نیو یارک، لانگ آئی لینڈ، پراوی ڈنس، بوسٹن، برمنگھم، بالٹی مور، لنکاسٹر، بفلو اور دیگر علاقوں میں جانے کا بھی موقع ملا اور مختلف اجتماعات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ بوسٹن یونیورسٹیوں کا شہر ہے جہاں چند گھنٹوں کے لیے جانے اور چند یونیورسٹیوں کے درمیان گھومنے پھرنے کا اتفاق ہوا۔ آکسفورڈ کی یاد تازہ ہو گئی۔ بوسٹن جانے کا اچانک فیصلہ ہوا تھا اور پہلے سے مجھے وہاں کی صورت حال کا علم نہیں تھا ورنہ زیادہ وقت لے کر جاتا اور یونیورسٹیوں کے ارد گرد گھومنے کے بجائے ان کے اندر جا کر کچھ اصحاب دانش اور طلبہ سے گفتگو کی کوئی صورت نکالتا، اس لیے وہاں سے تشنہ ہی واپس آیا۔ خدا کرے کہ آئندہ یہ تشنگی دور کرنے کا کوئی موقع مل جائے۔
لنکاسٹر کاؤنٹی امریکہ کی ریاست پنسلوینیا میں ہے اور اس میں آمش لوگ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ جوہر آباد اور سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے دو دوستوں جناب محمد اشرف اور جناب علی ناہن کے ہمراہ وہاں کا چکر لگایا۔ آمشوں کے بارے میں سن رکھا تھا کہ وہ بجلی، فون، گیس اور دیگر سائنسی سہولتیں استعمال نہیں کرتے، دستی آلات سے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑا گاڑی کے ذریعے سے سفر کرتے ہیں اور صدیوں پرانی طرز پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہی دیکھنے کے لیے ہم وہاں گئے تھے۔ انہیں جیسا سنا تھا، ویسا ہی پایا۔ آمش لوگ تین سو برس قبل جرمنی سے امریکہ جا کر آباد ہوئے تھے۔ کٹڑ مذہبی لوگ ہیں، چرچ کی راہ نمائی پر یقین رکھتے ہیں، امریکہ میں رہنے کے باوجود اس کے نظام سیاست میں شریک نہیں ہیں، ووٹ مانگتے ہیں نہ دیتے ہیں، موم بتی اور لالٹین کی روشنی میں رہتے ہیں، فون استعمال نہیں کرتے، مقامی سطح پر تیار کردہ گیس استعمال کر لیتے ہیں، عورتیں گھریلو زندگی بسر کرتی ہیں، مردوں کے لیے سیاہ لباس، ڈاڑھی اور سر پر ہیٹ پہننا لازمی ہے، فوٹو نہیں کھنچواتے اور نہ ہی گھر میں رکھتے ہیں، خچروں کے ذریعے سے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑوں والی بگھی ان کا عام ذریعہ سفر ہے، دستی ہینڈ پمپ اور ہوائی پنکھوں سے چلنے والے نلکے ان کے ہاں پانی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں اور صدیوں پرانی رسموں پر سختی کے ساتھ کاربند ہیں۔ ان کی تعداد امریکہ میں نوے ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جو بیس ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لنکاسٹر کاؤنٹی میں ان کا گاؤں ’’انٹر کورس‘‘ کے نام سے معروف ہے جہاں مختلف علاقوں سے سیاح ان کو دیکھنے آتے ہیں۔
ایک بزرگ آمش سے ہماری ملاقات وگفتگو بھی ہوئی اور ان سے خاصی معلومات حاصل ہوئیں۔ آمشوں کی قیادت کرنے والے چرچ میں جا کر ان کے مذہبی راہ نماؤں سے ملاقات کی خواہش تھی مگر بتایا گیا کہ چرچ میں غیر آمشوں کا داخلہ ممنوع ہے اور پادری صاحبان سے بھی شاید ملاقات نہ ہو سکے۔ آمشوں کے طرز زندگی اور چرچ کی راہ نمائی کا یہ انداز دیکھ کر ذہن ماضی کی طرف مڑ گیا اور دماغ نے اس رخ پر سوچنا شروع کر دیا کہ جس چرچ کا آج کے دور میں یہ حال ہے، وہ تین سو سال قبل کس انداز سے مسیحی سوسائٹی کی قیادت کرتا ہوگا اور پھر تاریخ کے وہ اوراق نگاہ تصور میں باری باری سامنے آنے لگے جن میں بتایا گیا ہے کہ سائنسی تحقیقات اور کائنات کے مشاہدہ کے عمل کو چرچ نے مذہب سے بغاوت اور الحاد وارتداد قرار دے دیا تھا اور ان علوم کا مطالعہ اور تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کو باقاعدہ چرچ کی عدالت سے سزائیں دی جاتی تھیں اور پھر مذہب کے معاشرتی کردار سے مغرب کے اجتماعی انحراف وانکار کی وجہ بھی کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی۔
لنکاسٹر سے واشنگٹن تک واپسی کے سفر میں میرا ذہن انہی سوچوں میں گم رہا اور خیال ہوا کہ یورپ میں مذہب نے سائنسی دور کو مسترد کرنے اور بادشاہ اور جاگیردار کے مظالم کے خلاف عوام کی بغاوت میں عوام کا ساتھ دینے کے بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھی بننے کا جو کردار ادا کیا تھا، یہ اس کا رد عمل ہے کہ یورپ اور مغرب معاشرتی اور اجتماعی معاملات میں مذہب کا کوئی کردار قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور ان کی نظر میں اس حوالہ سے تمام مذاہب برابر ہیں حتیٰ کہ وہ اسلام کو بھی اس زمرہ میں شمار کر رہے ہیں جس کا معاشرتی کردار ہر دور میں اس سے قطعی مختلف رہا ہے اور اندلس میں جس اسلامی معاشرت اور تعلیم وتدریس سے استفادہ کر کے یورپ تہذیب وتمدن کے دور میں داخل ہوا تھا۔
رمضان المبارک کے آٹھ نو روز بھی میں نے وہیں گزارے اور قرآن کریم سے متعلقہ مختلف موضوعات پر نماز فجر اور نماز عشا کے بعد گفتگو کے علاوہ احباب کی خواہش پر تراویح میں تین چار پارے بھی سنائے اور اس طرح تقریباً پونے دو ماہ امریکہ کے دار الحکومت میں قیام کے بعد وطن واپس آ گیا۔
امریکہ میں عام مسلمانوں کی سطح پر جو بات میں نے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ دینی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے، مساجد ومدارس کی تعداد اور ان میں حاضری کا تناسب بڑھ رہا ہے، بچوں کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود زیادہ سے زیادہ دینی معلومات حاصل کرنے کا شوق بھی ترقی پذیر ہے۔ ایک بات سے اس صورت حال کا اندازہ کر لیں کہ بارہ تیرہ برس قبل جب میں واشنگٹن آتا تھا تو دار الہدیٰ ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں تھا اور نمازوں میں اکا دکا مسلمان دور دراز سے آیا کرتے تھے۔ اب یہ ادارہ ایک وسیع خرید کردہ بلڈنگ میں ہے، مسجد کے لیے ایک بڑا ہال ہے جو تراویح میں فل ہوتا تھا اور رش کی وجہ سے رمضان المبارک کا پہلا جمعہ اس بلڈنگ میں تین بار ادا کرنا پڑا۔
دوسری بات جو میں نے سیاسی حوالہ سے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس بات کا احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ صدارتی الیکشن میں جارج ڈبلیو بش کی حمایت کر کے غلطی کی ہے اور اب آئندہ صدارتی الیکشن میں وہ اس کی تلافی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ اگر جارج بش کے بجائے ڈیموکریٹک صدر ہوتا تو اگرچہ عالمی پالیسی اس کی بھی یہی ہوتی لیکن عراق اور افغانستان میں اس کا طریق کار یقیناًصدر بش سے مختلف ہوتا اور وہ کچھ نہ ہوتا جو وقوع پذیر ہو چکا ہے۔
بہرحال امریکی مسلمانوں میں دینی اور سیاسی بیداری کا رجحان اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی سوچ میں اضافہ میرے لیے خوشی کا باعث بنا اور میں نے بھی وہاں کے مسلمانوں سے یہی عرض کیا کہ انہیں منظم طور پر امریکہ کی قومی سیاست میں دخیل ہونا چاہیے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے تمام قانونی اور جائز ذرائع استعمال کرنے چاہییں۔ مسلمان اب امریکہ میں تعداد کے لحاظ سے یہودیوں سے کم نہیں رہے اور اگر وہ ہوش مندی اور تدبر کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں تو امریکہ کی قومی زندگی اور سیاست میں یہودیوں جیسا مقام تو شاید حاصل نہ کر سکیں مگر توازن ضرور قائم کر سکتے ہیں اور عالم اسلام کے حوالے سے امریکہ کی منفی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے یہی توازن اور بیلنس آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

دور جدید میں اسلامی شریعت کا نفاذ کیسے ہو؟

محمد موسی بھٹو

اسلامی شریعت کے نفاذ بالخصوص سزاؤں سے متعلق اس کے قوانین کے اجرا کے سلسلہ میں صحیح نبوی ترتیب کیا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو مسلم معاشروں میں اسلامی حلقوں میں ایک عرصہ سے زیر بحث ہے۔ صوبہ سرحد میں شریعت کے نفاذ کے اعلان اور اس کی منظوری کے بعد اس سوال کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یقیناًاسلامی شریعت کا نفاذ ہر دردمند مسلمان کے دل کی آواز ہے اور اس سے بڑھ کر کسی علاقہ اور صوبہ کی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا ریاستی نظام قوانین شریعت پر تشکیل دیا جائے لیکن بالخصوص موجودہ دور میں شریعت کے عملی نفاذ کے سلسلے میں جو دشواریاں پیش آ گئی ہیں، انہیں پیش نظر رکھ کر غور وفکر کے بغیر اس سلسلے میں پیش قدمی کرنا شدید دشوار ہے۔
ایک بڑا مسئلہ جو اس وقت مسلم ممالک اور پاکستان کو درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ وہ معاشی، اقتصادی اور مالیاتی طور پر عالمی اداروں اور عالمی قوتوں کے محتاج ہیں۔ اس معاشی محتاجی کی وجہ سے ان کی جملہ سیاسی، انتظامی، قانونی، تعلیمی، سماجی اور داخلی پالیسیاں عالمی اداروں اور عالمی قوت کی مرضی سے ہی متشکل ہوتی ہیں۔ اس طرح مسلم ممالک بالخصوص پاکستان بظاہر تو آزاد ممالک ہیں لیکن عملاً ان کی حیثیت غلام اور مقبوضہ ریاستوں سے مختلف نہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ جو پاکستان جیسے مسلم ممالک کو درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ پچھلے ۵۵ سال سے نظام تعلیم وتربیت اور میڈیا کے ذریعہ مختلف شعبوں کے ماہرین، صنعت وتجارت اور انتظامیہ، عدلیہ اور تعلیمی اداروں کے حاملین بڑے پیمانہ پر جس ذہن اور مزاج کے تیار کیے گئے ہیں، ان کی اکثریت اسلام کی پابندیاں قبول کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہیں۔ وہ سیکولرزم اور آزادی کے دل دادہ ہیں، جس کے تحت عیش وعشرت کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہی ان کا مقصود زندگی بن گیا ہے۔ معاشرہ کے ہر شعبہ زندگی کے یہ موثر طبقات نہ صرف یہ کہ اسلامی شریعت کے نفاذ کی راہ میں عملاً تعاون کرنے اور نفاذ اسلام کی تحریک میں معاون بننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ وہ اس عظیم اور مقدس مشن کی مزاحمت بھی کریں گے اور اسے ناکام بنانے کی بھی کوشش کریں گے۔ نظام تعلیم اور میڈیا کے ذریعہ تہذیب جدید کے مقلدین تیار کرنے کا جو نتیجہ برآمد ہوا ہے، وہ یہ ہول ناک نتیجہ ہے کہ اپنے ہی لوگ شریعت کی راہ کے مزاحم بن رہے ہیں۔ جہاں سیاسی، معاشی، تعلیمی، صنعتی، تجارتی اور انتظامی قیادت اسلامی شریعت سے بے بہرہ ہو جائے اور سیکولرزم کی حامل ہو جائے تو ظاہر ہے وہاں نفاذ شریعت کا مسئلہ دشوار تر ہو جاتا ہے۔
ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ جس ریاست میں عالمی سرمایہ دار ریاست کی سرکردگی میں سرمایہ داری کی بدترین لعنت موجود ہو، جس کی وجہ سے عوام کی عظیم اکثریت کی روز مرہ بنیادی ضروریات کی تکمیل تو دور کی بات ، انہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہ ہو اور علاج ومعالجہ کی سہولت حاصل نہ ہو، ایسی ریاست میں شریعت کے قوانین کے نفاذ سے پہلے کیا لوگوں کی بنیادی ضرورت کی چیزوں کی فراہمی کا مسئلہ اہم نہیں؟ کیا سزاؤں سے پہلے سزاؤں کے عوامل اور اسباب کا کسی حد تک ازالہ ضروری نہیں؟
تیسرا اہم مسئلہ جو قابل غور ہے، وہ یہ ہے کہ عام آبادی کی بڑی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے جو اگرچہ اسلام سے جذباتی تعلق رکھتی ہے لیکن دینی اور اخلاقی اعتبار سے اس کی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ایسے ہیں جنہیں اسلام کے عقائد حتیٰ کہ کلمہ تک پڑھنا نہیں آتا۔ نفاذ اسلام کی تحریک کا ہراول دستہ عوام ہی ہیں لیکن جب عوام کی دینی اور اخلاقی حالت پست ہو، وہ خیر وشر اور دور جدید کے باطل کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہوں تو ان کے لیے نفاذ شریعت کی تحریک میں عملاً ساتھ دینا اور مزاحم قوتوں کی مخالفت کر کے اس تحریک کو کام یاب بنانا جتنا دشوار ہو سکتا ہے، وہ ظاہر وباہر ہے۔
ان رکاوٹوں اور مشکلات کے علاوہ چوتھا اہم سوال یہ درپیش ہے کہ اسلامی شریعت کے نفاذ کا نبوی طریق کار اور حکمت عملی کیا ہے؟ کیا ہر قسم کا فاسد معاشرہ شریعت اسلامی کے قوانین کا متحمل ہو سکتا ہے یا نفاذ شریعت سے پہلے معاشرہ کی ایمانی اور اعتقادی حالت کی تبدیلی اور ذہنی، نظریاتی اور اخلاقی انقلاب برپا ہونا ناگزیر ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر غور وفکر کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ نفاذ شریعت کی تحریک کو ناکامی سے بچایا جا سکے۔
اس سلسلے میں ہم نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے ممتاز عالم دین مولانا محمد طاسین صاحبؒ سے تفصیلی تبادلہ خیال کر کے زیر بحث موضوع کے اہم پہلوؤں پر ان کے خیالات معلوم کیے تھے۔ مولانا کے ان خیالات کو ہم نے اپنے ایک مضمون میں مرتب کیا تھا۔ یہ مضمون بارہ تیرہ سال پہلے روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا تھا۔
’’ہمارے ہاں نفاذ اسلام کے مختلف تصورات موجود ہیں جو کتاب وسنت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثلاً ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک منظم جماعت قائم کر کے انتخابات یا انقلاب کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کیا جائے اور پھر ڈنڈے کے زور سے لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل پیرا ہوں اور اسلامی قوانین کی پابندی کریں، چاہے عام لوگوں میں عدم اطمینان کی وجہ سے ان احکام وقوانین کا کوئی احترام موجود ہی نہ ہو۔ اسلام کے لیے ہمارے ہاں ایک دوسرا طریق فکر یہ ہے کہ معاشرے میں ایمانی عقائد اور اسلامی اخلاق کی درستی کا تو کوئی پروگرام وانتظام نہیں ہے، لیکن سارا زور چند فقہی احکام پر صرف ہو رہا ہے۔ ایسے فقہی احکام جو معاشرت، معیشت اور سیاست سے تعلق رکھتے ہیں، جو معاشرے میں ایمانی عقائد اور اسلامی اخلاقی تغیر کے بغیر نہ تو صحیح طور پر عمل میں آ سکتے ہیں اور نہ ہی پائیداری کے ساتھ قائم رہ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اسلام کے لیے ایک تیسرا طریقہ کار یہ ہے کہ معاشرے سے ان مادی ومعنوی اسباب ومحرکات کو تو دور کرنے کا کوئی قابل عمل اور موثر پروگرام موجود نہیں جو لوگوں کو برائیوں کے ارتکاب پر ابھارتے اور مجبور کرتے ہیں لیکن وعظ ونصیحت کے ذریعہ لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ برائیوں کو ترک کر دیں اور ان سے باز آ جائیں، ورنہ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے اور خود دنیا میں بھی حد یا تعزیر کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ اسلام کے لیے چوتھا طریقہ کار یہ ہے کہ نام نہاد مسلمان معاشرے کا معاشی نظام تو سراسر سرمایہ دارانہ نوعیت کا ہے لیکن اس نظام کو اسلامی بنانے کے لیے صرف اس کے بعض اجزا مثلاً بنکاری کے شعبہ میں ردوبدل کر کے باقی نظام کو جوں کا توں قائم وبرقرار رکھنے پر زور ہے۔ یہ طریق کار سراسر غیر اسلامی ہے۔‘‘
مولانا محمد طاسین صاحب جو اسلام کی تعبیر وتشریح اور جدید مسائل کے اسلامی حل کے سلسلے میں ممتاز مقام رکھتے ہیں اور ان موضوعات پر ان کے سینکڑوں مقالے اور مضامین شائع ہو چکے ہیں، ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دین کے نفاذ کے لیے جو حکمت عملی اختیار فرمائی تھی، اس سے واقف ہو کر اسے اپنائے بغیر دین کے لیے جو کام ہوگا، وہ افراط وتفریط سے عبارت ہوگا اور اس طرح کے کام سے معاشرے میں دین اور اہل دین سے دوری کو روکنا دشوار ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی کیا تھی؟ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ ﷺ کو جو معاشرہ ملا، وہ ہر لحاظ سے بگڑا ہوا اور انتہائی فاسد معاشرہ تھا لیکن اصلاح کے بعد وہ ایک ایسا صالح اور عادلانہ معاشرہ بن گیا جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ آپ نے اللہ کی دی ہوئی اس حکمت سے کام لیا جس کا ذکر قرآن میں ’’الحکمۃ‘‘ کی صورت میں موجود ہے۔ آپ ﷺ تزکیہ کے ساتھ ساتھ حکمت کی تعلیم بھی دیتے ہیں اور کتاب کی بھی۔ اصلاح کے کام کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت اور طریق کار کو اختیار کرنا ہمارے لیے واجب ہے اور ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ غلبہ دین کے شوق میں آ کر ’’پیغمبرانہ حکمت‘‘ کو نظر انداز کرنا جہاں گناہ کا کام ہے، وہاں اس کے اثرات ونتائج سے بچنا بھی ممکن نہیں۔ اس وقت کا عرب معاشرہ صدیوں سے اعتقادی اور عملی گمراہیوں میں مبتلا تھا۔ توحید کا تصور ختم ہو چکا تھا۔ رسالت کا عقیدہ بھی ذہنوں سے نکل چکا تھا۔ تصور آخرت اور اعمال کی جزا وسزا کا احساس بھی مٹ چکا تھا۔ اسی طرح کی صورت حال اعمال کے سلسلے میں تھی۔ قرآن کے مطالعہ سے رسول اللہ ﷺ کے نفاذ دین کے سلسلے میں جو حکمت نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ عملی زندگی کے بیشتر احکام وقوانین مدنی زندگی کے دس سالہ دور میں رفتہ رفتہ اور بتدریج نازل ہوئے۔ اس میں اس وقت کی جماعت کے حالات کا پورا پورا خیال رکھا گیا۔ ہر قسم کے احکام کا نزول ونفاذ اس وقت ہوا جب اس کے عمل میں آنے اور پائیداری کے ساتھ قائم رہنے کے لیے مناسب وموافق خارجی فضا تیار ہو گئی تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ اس پر عمل کر سکیں اور ان قوانین سے بچنے کے لیے چور دروازے تلاش نہ کر سکیں۔ مثلاً سود کے مسئلے کو لیجیے۔ جہاں تک اس کے حرام ہونے کا تعلق ہے تو معاشی ظلم ہونے کی وجہ سے وہ حرام تو شروع سے تھا لیکن اس کی ممانعت کا اعلان ۹ ہجری میں اس وقت ہوا جب اس کے لیے سازگار ذہنی اور خارجی فضا تیار ہو گئی۔ سورہ بقرہ کی جن آیات میں اس کا اعلان ہوا ہے، وہ نزول کے اعتبار سے قرآن مجید کی تقریباً آخری آیات ہیں۔ اسی طرح رسو ل اللہ ﷺ نے اس کا اعلان جس خطبہ حجۃ الوداع میں کیا، ا س کا زمانہ ۱۰ ہجری ہے یعنی یہ اعلان اس وقت ہوا جب ایک طرف ذہنوں میں قرض حسنہ اور انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ عمومی طور پر بیدار ہو گیا۔ دوسری طرف مسلمان معاشی ضرورت کے لحاظ سے خود کفیل ہو گئے اور ان کے لیے یہ اندیشہ باقی نہ رہا کہ اگر یہودیوں نے معاشی بائیکاٹ کر دیا تو مسلمان جماعت اور ان کے مقاصد کو نقصان پہنچے گا۔ تیسری طرف بیت المال کا ایسا ادارہ قائم ہو گیا جس سے ضرورت مندوں کو معاشی طور پر سہارا مل گیا۔ اس کے برعکس اگر سود کے حرام ہونے اور ممانعت کا اعلان مدنی دور کے آغاز میں ہوتا تو اس سے بہت ساری پیچیدگیاں پیدا ہوتیں، مقصد حاصل نہ ہوتا اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ یہی حکمت عملی دوسرے معاملات میں قوانین اور احکام کے نفاذ کے سلسلے میں اختیار کی گئی۔ مقصد یہ ہے کہ لوگ آسانی سے ان قوانین پر عمل کرسکیں۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح اسی حکمت عملی کے ساتھ بتدریج فرمائی، اس لیے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اصلاح کے سلسلے میں جو پیش قدمی ہوئی، وہ مخالفانہ رد عمل کا شکار ہو گئی۔ اسی طرح حکمت نبوی میں ہمیں یہ لطیف عمل بھی نظر آتا ہے کہ جب تک شریعت کے اصل اور حقیقی حکم وقانون کے لیے معاشرے میں سازگار حالات پیدا نہ ہوئے، تب تک عبوری عرصہ کے لیے ایسے وقتی احکام سے کام لیا گیا جو اس عرصہ کے لیے نسبتاً مناسب ہو سکتے تھے، لیکن جوں ہی عبوری دور کی یہ مجبوری ختم ہو گئی، وہ احکام منسوخ ہو گئے۔ مثلاً سود کے قطعی حرام ہونے سے پہلے اس کی بعض بدترین صورتوں سے روکا گیا۔ اسی طرح مزارعت، جو سود سے ملتا جلتا معاملہ تھا، اس کی بعض نزاعی شکلوں سے منع کیا گیا۔ آگے چل کر اس کی ہر شکل کو ممنوع قرار دیا گیا۔ شراب کی حرمت کے بارے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
نفاذ شریعت اور اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ حکیمانہ طریق کار اور طرز عمل ایک ایسی عظیم سنت ہے جس پر مسلم زعما اور اصلاح کے علم برداروں کو گام زن ہونا چاہیے۔ بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح کے لیے شرعی قوانین کی تحریک چلانے اور انقلاب کی بات کرنے کی بجائے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ معاشرے میں شریعت کے نفاذ اور پائیداری کے ساتھ اس کے قائم رہنے کے لیے ذہنی اور خارجی طور پر فضا موجود ہے یا نہیں۔ اگر اس طرح کی فضا موجود نہیں ہے تو قوانین کے انطباق اور نفاذ کے عمل کو اس وقت تک موخر رکھنا چاہیے جب تک اس کے لیے سازگار حالات پیدا نہ ہو جائیں۔ نیز عبوری عرصہ کے لیے ایسے قوانین تیار کیے جائیں جو ان حالات میں قابل عمل اور قابل قبول ہوں اور جن پر عمل کرنے سے حالات میں نسبتاً بہتری پیدا ہو سکتی ہو۔ عبوری قوانین یا قانون کی صحت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ قابل عمل بھی ہو یعنی اس پر عمل کرنے سے داخلی طور پر شدید مخالفانہ رد عمل کا اندیشہ نہ ہو۔ نیز وہ قانون ایسا بھی ہو جس پر عمل کرنے سے حالات میں کچھ نہ کچھ تبدیلی وبہتری پیدا ہو۔ اگر عبوری عرصہ کے لیے اس قانون یا قوانین میں مذکورہ دونوں خوبیوں میں ایک بھی خوبی موجود نہ ہو تو وہ غلط ہو جاتے ہیں۔
قوانین کے نفاذ کی یہ صورت اس معاشرے کے لیے ہوگی جس نے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لا کر طے کر دیا ہو کہ وہ اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کے ہدایت کردہ احکامات کے مطابق بسر کرے گا۔ ایسا ہی معاشرہ اس بات کا استحقاق رکھتا ہے کہ ا س میں دین کے احکام بتدریج نافذ ہوں۔ اس طرح کے معاشرے کے لیے اسلامی شریعت خیر وبھلائی کو پیش نظر رکھتی ہے اور اسے زندہ اور قائم رہنے کا ڈھنگ سکھاتی ہے۔ ایسے معاشرے کو اسلامی شریعت ایک طرف تو عادلانہ اصول واحکام دیتی ہے جن پر عمل کرنے سے معاشرے کے ہر فرد کے ہر قسم کے حقوق محفوظ ہوں اور افراد معاشرہ کو اپنی فطری صلاحیتوں کو برگ وبار لانے اور ارتقا کے مواقع مہیا ہوں تو دوسری طرف افراد معاشرہ وہ معروف طور طریقے اختیار کریں جو معاشی خود کفالت اور سیاسی خود مختاری کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ تیسری طرف اجتماعی امور ومعاملات میں نظم وضبط قائم رکھنے اور کاروبار زندگی کو باقاعدگی سے چلانے کے لیے عبوری قوانین وضع کیے جائیں۔ ایسے عبوری قوانین جن سے شریعت کے حقیقی ومثالی اصول واحکام کی منزل قریب ہونے میں مدد ملتی ہو۔ چونکہ عبوری قانون سازی کا تعلق معاشرے کے تغیر پذیر حالات سے ہوتا ہے جو کچھ نہ کچھ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے عبوری قانون سازی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور نئے نئے عبوری قوانین بنتے رہنے چاہییں۔ چونکہ یہ تغیر پذیر عبوری قوانین کامل عدل پرمبنی نہیں ہوتے جو شریعت کا اصل منشا ہے بلکہ ان میں ظلم وحق تلفی کے اجزا موجود ہوتے ہیں، اس لیے ان قوانین کو پورے اسلامی اور شرعی قوانین تو نہیں کہا جا سکتا لیکن چونکہ یہ شریعت کی حکمت عملی کے مطابق ہوتے ہیں اور ان کو شریعت کی طرف سے سند جواز حاصل ہوتی ہے، اس لیے ان کو نسبتی اور اضافی طور پر اسلامی اور شرعی کہہ سکتے ہیں۔
شریعت کی نفاذ کی یہ ترتیب تو اس معاشرے کے لیے ہے جو اسلام کے نفاذ کے لیے واقعتاً سنجیدہ ہو اور اس پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے لیکن جو معاشرہ ایمان وعقائد کے اعتبار سے ناپختہ ہو، طرح طرح کی اعتقادی اور اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہو، عملی طور پر بغاوت کی شدید روش پر گام زن ہو، مادیت کی دوڑ میں شریک ہو، اس معاشرے میں اصلاح اور تعمیر افکار وکردار کے ہمہ جہتی منصوبوں کے بجائے نفاذ شریعت کی بات کرنا پیغمبرانہ حکمت عملی کے سراسر منافی ہے۔ اس معاشرہ کا تو بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ اسے ذہنی، نظری، فکری اور عملی طور پر اسلام پر چلنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔ جب تک معاشرے کی اکثریت کے ذہنوں میں ایمان وعقائد کی بنیاد پر وسیع وعالمگیر قسم کے اخلاقی جذبات واحساسات پیدا نہ ہوں جس کے زیر اثر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ عدل واحسان کی روش اختیار کریں اور معاشی طور پر بہتر نظام متشکل ہو، تب تک اس معاشرے میں کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ ایمان وعقیدہ اور اخلاقی زندگی میں تغیر پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام ہو۔
احکام شریعت کا سارا دار ومدار ایمانی عقائد پر ہے اس لیے کہ شریعت کا تعلق ہی ایسے معاشرے سے ہے جس کی بڑی اکثریت کے اندر ایمانی عقائد اپنی صحیح صورت میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس معاشرے میں یہ صورت نہ ہو، اس کے لیے شریعت کی بات ہی بے محل ہو جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں شریعت سے بے اعتنائی اور بے رغبتی کا پایا جانا ایک قدرتی امر ہے۔ ایسے معاشرے کو اسلامی بنانے کے لیے، جیسا عرض کیا گیا، ضروری ہے کہ پہلے اس کے اندر ایمانی عقائد کی بھرپور تبلیغ اور تعلیم ہو، صحیح عقائد پختہ ہوں، اس کے بغیر ذہنی فضا تیار ہی نہیں ہو سکتی، جو شریعت کے قیام کے لیے ضروری ہے۔‘‘
مولانا محمد طاسین صاحب کے یہ خیالات ایسے ہیں جو اسلام اور سیرت نبوی کے گہرے مطالعے اور غور وفکر پر مبنی ہیں۔ ہمارے ہاں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے چلنے والی تحریکوں کے نتائج کے بعد ان خیالات کی اہمیت وافادیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ کاش کہ مولانا کے ان خیالات کو گروہی اور جماعتی تعصبات سے بالاتر ہو کر پڑھا جائے اور ان کے بصیرت افروز نکات سے استفادہ کیا جائے۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’بیداری‘ ‘حیدر آباد)

حدود آرڈیننس : چند تجزیاتی آرا

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

خورشید احمد ندیم

(ہمارا معاشرہ، بہت سے دوسرے فکری اور عملی سوالات کی طرح، اسلامی قوانین کے حوالے سے بھی انتہا پسندی کا شکار ہے۔ ایک طرف جدید مغربی فلسفہ قانون سے متاثر وہ طبقہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے باوجود شرعی قوانین کی افادیت اور ان کے قابل عمل ہونے پر سرے سے یقین ہی نہیں رکھتا اور قرآن وسنت کو بطور ماخذ قانون تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ دوسری طرف مذہبی طبقات ہیں جن کے ہاں اسلامی قوانین کے بارے میں یہ تصور رائج ہے کہ گویا وہ کوئی ’’جادو کی چھڑی‘‘ (Magic Wand) ہیں جن کو معاشرے کی اخلاقی تربیت اور عملی حالات اور پیچیدگیوں کا لحاظ رکھے بغیر محض جیسے تیسے نافذ کر دینے سے مطلوبہ برکات ونتائج حاصل ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قانون کی تعبیر وتشریح، اس کے نفاذ کی عملی شکل اور اس میں درپیش معروضی مشکلات اور مسائل کے حوالے سے بھی کوئی بحث اگر سامنے آتی ہے تو مذہبی طبقات بالعموم اس میں کوئی مثبت اور تعمیری حصہ لینے کے بجائے ’اسلامائزیشن‘ اور ’سیکولرازم‘ کا غیر متعلق سوال کھڑا کر کے خلط مبحث پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ معاشرتی وقانونی مسائل کے حوالے سے غیر ضروری الجھنیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خود اہل مذہب کے شریعت وقانون کے فہم کے بارے میں بھی بد اعتمادی پید ا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ 
ہماری رائے میں شرعی قوانین کی اہمیت وافادیت کے بے لچک دفاع کے ساتھ ساتھ ان کی تعبیر اور عملی نفاذ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آزادانہ بحث وتمحیص کا رویہ ہی مذکورہ دونوں رویوں کے مابین نقطہ اعتدال ہے ۔ ذیل میں حدود آرڈیننس کے بارے میں جاری حالیہ بحث کے تناظر میں چند تجزیاتی آرا شائع کی جا رہی ہیں۔ توقع ہے کہ ان کو سنجیدہ غوروفکر کا مستحق سمجھا جائے گا۔ مدیر)

(۱)
قومی اسمبلی میں ایم ایم اے کی خواتین ارکان اسمبلی نے ویمن کمیشن کی سربراہ جسٹس ماجدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے مطالبہ پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ شرعی قوانین کی منسوخی کا کوئی قدم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ویمن کمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ملک میں نافذ ہونے والے حدود آرڈیننس کو یکسر منسوخ کر دیا جائے کیونکہ یہ آرڈیننس کمیشن کے ارکان کے بقول ملک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کا باعث بن رہا ہے اور اس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔
’’حدود‘‘ کی اصطلاح اسلامی شریعت کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جس کا اطلاق معاشرتی جرائم کی ان سزاؤں پر ہوتا ہے جو قرآن وسنت میں حتمی طور پر طے شدہ ہیں۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں کسی عدالت کو ان سزاؤں میں کمی بیشی کا اختیار نہیں ہوتا اور عدالت ان سزاؤں کو اسی صورت میں نافذ کرنے کی پابند ہوتی ہے جس طرح قرآن وسنت اور اجماع امت کے ذریعے انہیں بیان کیا گیا ہے۔ یہ صرف چند جرائم کی سزائیں ہیں، ان کے علاوہ باقی جرائم کی سزائیں متعین کرنے کا اسلامی حکومت کو اختیار حاصل ہوتا ہے اور قاضی بھی موقع محل کی مناسبت سے ان سزاؤں میں کمی بیشی یا معافی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ سزائیں تعزیرات کہلاتی ہیں اور پانچ چھ جرائم کے سوا باقی تمام صورتوں میں اسلام نے حکومت اور عدالت کو سزا دینے یا نہ دینے، سزا میں کمی بیشی کرنے یا اپنے ماحول یا ضرورت کے مطابق سزا کی کوئی شکل طے کرنے کا اختیار دیا ہے، البتہ پانچ یا چھ جرائم ایسے ہیں جن کے عدالت کے نوٹس میں آ جانے اور جرم ثابت ہو جانے کے بعد سزا کو معاف کرنے یا اس میں کمی بیشی کرنے کا اختیار عدالت کے پاس باقی نہیں رہتا اور وہ فقہ اسلامی کی وضاحت کے مطابق درج ذیل ہیں:
۱۔ چوری کی سزا قرآن کریم نے سورۃ المائدہ آیت نمبر ۳۸ کے مطابق یہ طے کی ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور متعدد روایات کے مطابق جناب نبی اکرم ﷺ نے خود بھی عملاً یہی سزا دی ہے۔
۲۔ شراب پینا اسلامی شریعت میں حرام ہے اور اس کی سزا صحابہ کرام کے اجماع کی رو سے ۸۰ کوڑے ہے۔
۳۔ کسی پاک دامن مرد یا عورت پر بدکاری کی تہمت لگانا سنگین جرم ہے جسے قذف کہا جاتا ہے اور اس کی سزا قرآن کریم نے سورۃ النور آیت نمبر ۴ کے مطابق ۸۰ کوڑے متعین کی ہے۔ 
۴۔ زنا کی سزا قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ کی واضح تشریحات کے مطابق دو درجوں میں ہے۔ اگر بدکاری کرنے والا مرد یا عورت شادی شدہ ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے اور اگر وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک غیر شادی شدہ ہے تو اسے ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے۔
۵۔ ڈکیتی کی سزا قرآن کریم نے سورۃ المائدہ آیت نمبر ۳۳ میں مختلف صورتوں میں ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹنا، سولی پر لٹکانا یا جلا وطن کرنا بیان کی ہے۔
۶۔ ارتداد یعنی کسی مسلمان کا ایک اسلامی ریاست میں اپنا مذہب چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنا بھی اسلامی شریعت کی رو سے قابل دست اندازی پولیس جرم تصور ہوتا ہے اور اس کی سزا خود جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشاد مبارک کے مطابق یہ ہے کہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں اسے قتل کر دیا جائے۔
قرآن وسنت کی بیان کردہ ان سزاؤں کو حدود کہا جاتا ہے اور جہاں بھی اسلامی نظام کی بات ہوتی ہے، فطری طور پر نفاذ اسلام کے مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ معاشرے میں جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے حدود شرعیہ کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔
ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء تک پورے متحدہ ہندوستان میں جو قانونی نظام رائج تھا، اس میں یہ حدود شامل تھیں جو ملکی قانون کی صورت میں نافذ تھیں اور عدالتیں اسی کے مطابق فیصلے دیا کرتی تھیں، مگر ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد جب برطانوی حکومت نے دہلی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی تو ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی صورت میں نافذ ان شرعی قوانین کو ختم کر کے برطانوی قوانین کے مطابق قانونی نظام کا ایک نیا ڈھانچہ متحدہ ہندوستان کی عدالتوں میں تعزیرات ہند کے نام سے نافذ کر دیا جو ابھی تک باقی چلا آ رہا ہے اور قیام پاکستان کے بعد اسی کو تعزیرات پاکستان کا نام دے دیا گیا ہے۔
پاکستان بن جانے کے بعد ملک کے دینی حلقوں نے اس بنیاد پر کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے متعدد اعلانات میں واضح کیا تھا کہ پاکستان میں وہی قوانین نافذ ہوں گے جو قرآن وسنت نے بیان کیے ہیں، مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قومی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح عدالتوں میں بھی اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور اسی مطالبہ پر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اپنے دور حکومت میں ’’حدود آرڈیننس‘‘ کے نام سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ان سزاؤں کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ ان سزاؤں کا آج تک عملی نفاذ سامنے نہیں آیا بلکہ چند شرعی قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی ان کے گرد مروجہ قانونی نظام کی بالادستی اور دیگر تحفظات کا ایک ایسا حصار قائم کر دیا گیا ہے کہ کسی جرم پر شرعی سزا کا عملاً نفاذ نہ آج تک ممکن ہو سکا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی توقع ہے، مگر ان کے باوجود ’’حدود شرعیہ‘‘ کے اس برائے نام نفاذ پر بھی پوری دنیا میں شور بپا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے حکومت پاکستان پر ان قوانین کی منسوخی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ہمارے خیال میں ویمن کمیشن کی مذکورہ سفارش بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔
حدود شرعیہ کے سلسلے میں جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ یہ قوانین آج کے مروجہ عالمی قانونی نظام سے متصادم ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں دنیا میں انسانی حقوق کی جو تشریح کی جا رہی ہے، اس کی رو سے معاشرتی جرائم کی یہ سزائیں متشددانہ اور ذہنی وجسمانی اذیت پر مشتمل ہیں، اس لیے انسانی حقوق کے منافی ہیں، حتیٰ کہ بعض معاملات میں صرف سزاؤں کی سختی اور تشدد تک بات محدود نہیں رہتی بلکہ کسی عمل کے جرم ہونے کا تصور وتعین بھی متنازعہ قرار پاتا ہے۔ مثلاً زنا یعنی اپنی جائز بیوی کے سوا کسی اور عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا اسلام کی رو سے سنگین جرم ہے جس کی انتہائی سزا موت ہے مگر اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی اداروں کی طرف سے کی گئی اس کی تشریحات کے مطابق کوئی مرد اور عورت نکاح کا تعلق نہ ہونے کے باوجود اگر باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں تو یہ سرے سے جرم ہی نہیں ہے۔ اسی طرح مرد کا مرد کے ساتھ جنسی تعلق اسلام کی رو سے قطعی حرام ہے اور اس کی سنگین سزا بیان کی گئی ہے مگرمروجہ عالمی قانونی نظام کے مطابق یہ کام جرم ہی متصور نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی خواتین کانفرنس میں قرارداد کے ذریعے دنیا بھر کی حکومتوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں میں ’’متبادل جنسی عمل‘‘ (یعنی لواطت) کو قانونی تحفظ فراہم کریں، جبکہ اکثر وبیشتر مغربی ملکوں میں اس لعنتی عمل کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔
قوانین کے سخت ہونے یا نہ ہونے کی بحث ایک طرف، مگر یہ حقیقت ہے کہ حدود شرعیہ کے نفاذ پر مغربی فلسفہ وتہذیب اور مروجہ بین الاقوامی قانونی نظام کے پس منظر میں اعتراض کرنا اور کسی مسلمان ملک میں نافذ شدہ اسلامی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنا اسلامی تہذیب وثقافت اور مغربی ثقافت ومعاشرت کے درمیان جاری کشمکش میں مغرب کی حمایت اور اس کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، اس لیے ویمن کمیشن کی مذکورہ سفارش کو اس تہذیبی کشمکش اور ثقافتی محاذ آرائی کے اس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اس کی حمایت یا مخالفت کرنے والوں کو اپنے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچ لینا چاہیے کہ وہ موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالے سے کس کیمپ میں کھڑے ہیں۔
حدود آرڈیننس کے نفاذ کے حوالے سے جو دوسرا بڑا اعتراض کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اعتراض کرنے والوں کے بقول سینکڑوں خواتین غلط الزامات کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے اور اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے کہ ان قوانین کا بہت جگہ غلط استعمال ہو رہا ہے، لیکن یہ صرف ان قوانین کی بات نہیں، ان کے علاوہ باقی قوانین کا بھی یہی حال ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں نافذ اکثر وبیشتر قوانین کا ہر سطح پر غلط استعمال ہو رہا ہے، مگر اس کا تعلق قانون کی ضرورت وافادیت سے نہیں بلکہ معاشرتی رویوں سے ہے اور ان معاشرتی اقدار سے ہے جو دور غلامی میں ہماری صفوں میں گھس آئی تھیں اور اب نیم غلامی کے دور میں مسلسل پروان چڑھ رہی ہیں اور انہوں نے پورے معاشرے کو کرپٹ کر دیا ہے۔
لہٰذا اگر قانون کے غلط استعمال کو دلیل کے طور پر قبول کر لیا جائے تو کوئی قانون اس کی زد سے نہیں بچتا اور اکثر وبیشتر مروجہ قوانین کو باقی رکھنے کا جواز مشکوک ہو جاتا ہے۔ مثلاً قتل ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا ہمارے قانون میں موت ہے۔ اگر مذکورہ بنیاد پر ملک میں قتل کے جرم میں درج کیے گئے مقدمات اور ان کے تحت گرفتار شدہ حضرات کا اسی طرح سروے کیا جائے جیسے ہماری این جی اوز حدود آرڈیننس کے مقدمات کا سروے کرتی رہتی ہیں تو قتل کے قوانین کے غلط استعمال اور ان کے ذریعے ہونے والی زیادتیوں اور مظالم کا تناسب اس سے کسی طرح کم نہیں ہوگا جس کا نقشہ حدود آرڈیننس کے مقدمات کے حوالے سے قوم کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، اس لیے اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے قتل کی سزا کا قانون ہی ختم کر دیا جائے یا قتل کو جرم قرار دینے سے انکار کر دیا جائے، بلکہ اس کا اصل اور صحیح حل یہ ہے کہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مناسب تدابیر اختیار کی جائیں اور زیادتیوں کی روک تھام کی راہ نکالی جائے۔ کسی قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے اس قانون کو ہی ختم کر دینے کے مطالبہ نہ تو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
(ابو عمار زاہد الراشدی، روزنامہ پاکستان، ۱۴ ستمبر ۲۰۰۳ء)
(۲)
چند روز پہلے حقوق نسواں کے لیے متحرک خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ایک مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حدود آرڈیننس عورتوں کے بارے میں ایک امتیازی قانون ہے جسے ختم یا تبدیل ہو نا چاہیے۔ایک آدھ دن کے بعد مذہبی جماعتوں سے وابستہ خواتین نے اس آرڈیننس کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ان کی رائے میں اس قانون کاباقی رہنا ضروری ہے کیونکہ یہ اسلامی تعلیمات کا ترجمان ہے۔ ایک دن کے وقفے سے سرحد اسمبلی نے اس قانون کے حق میں ایک قرارداد منظور کی اور اس کی مخالفت کو اسلام دشمنی سے تعبیر کیا۔ اس پر رد عمل ہوا اور سرحد کی بعض سماجی تنظیموں نے سرحد اسمبلی کے خلاف مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا۔
حدود آرڈیننس چند قوانین کا مجموعہ ہے جو ۱۹۸۰ء میں نافذ ہوئے۔ یہ قوانین اسی وقت سے متنازعہ چلے آ رہے ہیں اور یہ دونوں نقطہ ہائے نظر تب سے موجود ہیں۔ وقتاً فوقتاً بعض لوگ اپنی رائے کے اظہار میں بلند آہنگ ہو جاتے ہیں جس سے یہ بحث نئے سرے سے زندہ ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اختلاف کو بالعموم اخلاقی حدود کا پابند نہیں بنایا جاتا، اس لیے ہر اختلاف اپنے سیاق وسباق سے اوپر اٹھ کر شخصی مخالفت میں ڈھل جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ایمان اور دین سے وابستگی کے بارے میں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں، اس لیے اس بات کی ہمیشہ ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ اس نوعیت کے تمام مسائل کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھنے کی سعی کی جائے تاکہ کوئی اختلاف معاشرے میں کسی تقسیم (polarization) کو آگے بڑھانے کے بجائے ہمارے فکری ارتقا کے لیے معاون ثابت ہو۔ میں نے حدود آرڈیننس کے مسئلے کو اس تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ ’حدود‘ اور ’حدود آرڈیننس‘ میں فرق کیا جانا چاہیے۔ ’حدود‘ سے مراد وہ سزائیں ہیں جو بعض جرائم کے لیے شریعت نے متعین کر دیں اور ’حدود آرڈیننس‘ سے مراد وہ قانون ہے جو بعض انسانوں نے اپنے فہم کے مطابق حدود کے نفاذ کے لیے بنایا۔ اس قانون کو کوئی الہامی تقدس حاصل نہیں۔ اس پر تنقید ایمان کا معاملہ نہیں اور نہ ہی اسے شرعی قوانین پر تنقید سمجھنا چاہیے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ آج جو لوگ حدود آرڈیننس پر معترض ہیں، ان کی اکثریت کا اختلاف ان لوگوں کے فہم دین سے ہے جنہوں نے یہ قانون بنایا۔ اب اس بات پر کسی کو اسلام دشمن یا اسلام مخالف قرار دینا ایک انتہا پسندی ہے جس کے لیے اللہ کے حضور میں جواب طلبی ہو سکتی ہے۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ ان قوانین میں فی الواقع ایسی باتیں موجود ہیں جو ناقابل فہم ہیں۔ ان باتوں کا تعلق حدود سے نہیں بلکہ ان کے نفاذ کی عملی تدبیر سے ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فردپر حدود کے تحت کوئی مقدمہ قائم ہوتا ہے اور عدالت میں ثابت نہیں ہوتا تو اس فرد کو تعزیراً سزا دے دی جاتی ہے۔ اب کسی جرم کی دو ہی ممکنہ صورتیں ہیں۔یا تو جرم ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے۔ اگر جرم ثابت ہے تو پھر حد کا نفاذ کیوں نہیں اور اگر نہیں ثابت تو تعزیر کس بات کی؟ آخر وہ درمیانی صورت کیا ہے جس کے لیے تعزیر نافذ کی جا رہی ہے؟ مثال کے طور پر ایک شخص کے خلاف چوری کا الزام ہے۔ عدالت کو اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ اس نے چوری کی ہے یا نہیں کی۔ اب عدالت یہ کہتی ہے کہ اس پر چوری ثابت نہیں کیونکہ شہادت اس درجے کی نہیں جو چوری کا مقدمہ ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے لیکن چونکہ بعض شواہد موجود ہیں اس لیے اسے تعزیراً سزا دی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چوری سو فی صد ثابت نہیں لیکن اسی یا ستر فی صد ثابت ہے؟ کیا چوری، زنا یا قذف کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم اتنے فی صد ہوا اور اتنے فی صد نہیں ہوا؟ یہ ایک ایسی مضحکہ خیز صورت ہے جس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں۔ نہ نقلی نہ عقلی۔
حدود آرڈیننس کے نفاذ کے بعد شاید ہی کسی پر حد جاری کی گئی ہے لیکن حدود کے تحت مقدمات میں تعزیراً بے شمار لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس صورت حال پر ہماری عدالتیں، بالخصوص وفاقی شرعی عدالت ، قانون ساز اسمبلی، علما اور دوسرے حضرات غور کریں کہ کیا ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کے نقص فہم نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جس کے باعث اللہ کے قوانین بلاوجہ زیر بحث آ گئے ہیں؟
دوسری بات شہادت کے قانون سے متعلق ہے۔ حدود کے بارے میں گواہی کے معیارات کا بیان حدود آرڈیننس میں موجود ہے۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ء میں جو قانون شہادت نافذ ہوا، اسے بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان قوانین کے تحت حدود کے مقدمات میں عورت کی گواہی سرے سے قابل قبول نہیں اور دیگر مقدمات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے۔ عورت کی گواہی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ ہماری تاریخ میں جہاں عورت کی گواہی کی عدم قبولیت کے واقعات درج ہیں، وہاں یہ بھی موجود ہے کہ بعض ادوار بالخصوص خلافت راشدہ میں حدود کے مقدمات میں عورت کی گواہی قبول کی گئی ہے۔ * اس کے بعض شواہد ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اسلامی نظریاتی کونسل کے نام اپنے خط میں جمع کر دیے ہیں اور ان ہی کی بنیاد پر وہ خود بھی حدود میں عورت کی گواہی کو مصدقہ سمجھتے ہیں، اگرچہ وہ دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے برابر قرار دیتے ہیں۔ تاہم بہت سے علما ایسے بھی ہیں جو مرد اور عورت کی گواہی میں تفریق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک قرآن مجید کی جس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے، وہ استدلال درست نہیں۔ استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی نے اس پر دلائل دیے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت دستاویزی شہادت سے متعلق ہے جب گواہوں کا انتخاب انسان خود کرتے ہیں۔ واقعاتی شہادت ایک دوسری چیز ہے اور اس ضمن میں اصل حیثیت عدالت کے اطمینان کو حاصل ہے۔ اگر وہ کسی عورت کی گواہی سے مطمئن ہو جاتی ہے تو محض اس وجہ سے یہ گواہی کم قیمت نہیں ہوگی کہ وہ عورت ہے۔ جاوید صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن مجید کی یہ آیت ایک معاشرتی ہدایت ہے نہ کہ عدالت سے متعلق کوئی حکم۔ * میرا کہنا یہ ہے کہ عورت کی گواہی کا مسئلہ بھی ایسا نہیں جس پر سب اہل علم متفق ہوں۔ اب ایسے اختلافی مسئلے کو دین اسلام کا بنیادی مسئلہ بنانا بھی اپنی حدود سے تجاوز ہوگا۔ اس پہلو سے دیکھیے تو یہ قانون بہرحال عورتوں کے حوالے سے امتیازی ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ان قوانین میں زنا بالجبر کا ثبوت عورت کے ذمے ہے۔ اگر وہ یہ ثابت نہیں کر سکتی تو یہ مقدمہ اس کے خلاف زنا کے مقدمے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔ اگر زنا بالجبر کا مقدمہ ثابت نہیں ہوتا تو اس سے یہ تو ہو سکتا ہے کہ ملزموں کو چھوڑ دیا جائے لیکن عورت کو سزا دینے کا کیا جواز ہے؟ کیا اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے وقوعہ سے پہلے چار گواہوں کا اہتمام نہیں کیا جو واقعے کو بہت باریک بینی سے ملاحظہ فرماتے؟
غور کیجیے تو یہ مسئلہ بھی شریعت کا نہیں، ہمارے فہم شریعت کا ہے۔ اب اس کا نتیجہ کیا ہے؟ ہمارے ہاں شریعت کے نام پر گواہی کا جو قانون نافذ ہے، اس کے تحت کسی پر حد جاری ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کو نافذ ہوئے تئیس برس ہو گئے لیکن آج تک کسی پر، میرے علم کی حد تک، حد نافذ نہیں ہوئی۔ اب اگر کسی عورت کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے پاس دو راستے ہیں: وہ عدالت کے پاس جائے یا گھر بیٹھی رہے۔ اگر عدالت جاکر وہ اپنا مقدمہ ثابت نہیں کر سکتی تو اسے زنا کی سزا لازماً بھگتنا ہوگی۔ اس خوف کے تحت وہ عدالت سے گریز کرے گی اور گھر میں بیٹھی رہے گی۔ اگر اس حادثے کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو جاتی ہے تو معاشرے میں اس کو جس اذیت سے گزرنا پڑے گا، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ قانون بنا کر مظلوم عورت کی مدد کی یا اوباش مجرموں کی؟ اس قانون کے تحت عورتوں پر جو ظلم ہوا، اس کی ایک طویل داستان ہے۔ اس وقت اس قانون کا سقم پوری طرح نمایاں ہوا جب ایک نابینا لڑکی سفیہ بانو اوباشوں کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا بیٹھی جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ اس کی داد رسی یوں ہوئی کہ عدالت نے اسے زنا کے جرم میں تین سال قید بامشقت، پندرہ کوڑوں اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ یہ ایسا کھلا ظلم تھا کہ وفاقی شرعی عدالت کو یہ سزا ختم کرنا پڑی۔
چوتھی بات قذف سے متعلق ہے۔ اگرچہ قانون میں یہ بات موجود نہیں لیکن وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے سے یہ تاثر قائم ہوا کہ خاوند بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور ثابت نہ کر سکے تو بیوی جواباً خاوند پر قذف کا مقدمہ قائم نہیں کر سکتی۔ جس معاشرے میں خاوند اکثر اس کے مرتکب ہوتے ہوں کہ دوسری شادی یا کسی اور ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لیے بیویوں پر اخلاقی الزام عائد کرتے ہوں، وہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا عورت کو اپنی حیثیت عرفی کے دفاع کا قانونی حق نہیں ملنا چاہیے؟
پانچویں بات قید کی سزا سے متعلق ہے جس کا تعلق حدود آرڈیننس کے ساتھ نہیں، تمام قوانین سے ہے۔ قید کی سزا سے ایک عورت بالخصوص اور ایک مرد بالعموم جس اذیت سے گزرتے ہیں، وہ ایک ایسے معاشرتی المیے کو جنم دیتا ہے جس کا اندازہ ہر اس شخص کو ہو سکتا ہے جو انسانی جذبات کو ادنیٰ درجے میں بھی سمجھتا ہے۔ میں اس پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قید کی سزا کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، اسے ختم کیا جانا چاہیے۔
حدود آرڈیننس پر جو اعتراضات ہوتے ہیں، ان کا زیادہ تعلق قانون کے نفاذ اور ہمارے عدالتی نظام سے ہے۔ اس معاشرے کے ہر طبقے، مذہبی یا غیر مذہبی سے میری درخواست یہ ہے کہ وہ حدود آرڈیننس کو اس تناظر میں دیکھے کہ کیا اس سے معاشرے میں جرائم کم ہوئے ہیں؟ کیا اس میں فی الواقع خواتین کے ساتھ امتیاز اور ظلم روا رکھا گیا ہے؟ اگر جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی اور عورتوں پر مظالم بڑھے ہیں تو پھر ہمیں اپنے فہم دین پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اللہ کے قوانین تو ہیں ہی اس لیے کہ لوگوں کے ساتھ انصاف ہو اور کسی پر ظلم نہ ہو۔
(خورشید ندیم، روزنامہ جنگ ، ۱۶ ستمبر ۲۰۰۳ء)
(۳)
یہ تقریباً تین سال پرانی بات ہے جب حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے خلاف اتنی شدومد سے آوازیں اٹھنا شروع نہیں ہوئی تھیں اور میرے جیسے عام لوگ اس آرڈیننس کی کرامات سے اتنے زیادہ باخبر نہیں تھے۔ انہی دنوں ’’خواتین پر جنسی تشدد‘‘ کے موضوع پر وہ سیمینار مجھے یاد ہے جس کا اہتمام انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کیا تھا۔ موضوع پر گفتگو سے قبل ایک تھیٹر دکھایا گیا تھا کہ کس طرح ایک لڑکی بعض بااثر لوگوں کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے لیکن گھر والے زنا کے مقدمہ کے خوف اور بدنامی کے ڈر سے اس کی ایف آئی آر درج نہیں کراتے لیکن بدنامی پھر بھی اس کی جھولی میں آن گرتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بے قصور ہے، سماج اسے ٹھکرا دیتا ہے، حتیٰ کہ اس کا منگیتر بھی اس سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ یہ تھیٹر دکھانے کے بعد موضوع پر بحث کا آغاز ہوا۔ شرکا جن میں دانش ور اور تقریباً تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے افراد تھے، انہوں نے بحث میں بھرپور حصہ لیاجس میں موضوع کے سماجی، قانونی اور دیگر پہلوؤں پر بحث مباحثہ کے علاوہ ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ کیا جنسی تشدد کا شکار ہونے والی عورت یا لڑکی کی ایف آئی آر درج کرانی چاہیے یا گھر والوں کو معاملہ خاموشی سے دبا دینا چاہیے، جیسا کہ تھیٹر میں دکھایا گیااور جو ہمارے معاشرتی رویے کی ہوبہو عکاسی کر رہا تھا۔ شرکا نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق اظہار خیال کیا، جبکہ میری رائے تھی کہ ایسے واقعات کو چھپانا نہیں چاہیے۔ میرا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ لڑکی پر ظلم بھی ہو اور جرم کو چھپا کر ہم اسے احساس جرم میں بھی مبتلا کر دیں؟ میں نے استفسار کیا کہ قتل کو تو جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ آبرو ریزی کے واقعہ کو بدنامی کا موجب قرار دے کر اسے جرم کے دائرے سے خارج کر دیا جاتا ہے اور لڑکی کے سماجی مستقبل کی فکر کی جانے لگتی ہے۔ بحث مختلف جہتوں پر چلتی ہوئی بالآخر اختتام پذیر ہوئی، جس کا حاصل کیا رہا؟ یہاں اس کا بیان میرے اصل موضوع سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم میری تمام دلیلیں مجھے اس روز بے وزن سی معلوم ہوئیں جب میں نے حال ہی میں کوٹ لکھپت جیل لاہور کا وزٹ کیا۔
۱۶ یا ۱۷ برس کی ریحانہ منظور جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑی زاروقطار رو رہی تھی۔ دھرم پورہ لاہور کی یہ لڑکی زنا کے کیس میں چند روز قبل (اس اکتوبر کی دس یا گیارہ تاریخ کو) یہاں لائی گئی۔ تقریباً چھ ماہ قبل وہ اپنی بہن کے گھر گئی تھی جہاں اس کے بہنوئی نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا اور وہ چپ چاپ گھر چلی آئی۔ شاید وہ عمر بھر لب نہ کھولتی اور اپنی بہن کے گھر کے اجڑنے کے خوف سے اور اپنی بدنامی کے ڈر سے یہ ظلم سہہ جاتی، مگر بد قسمت بچی حاملہ ہوگئی جس کے بعد اس کے لیے صورت حال چھپانا ناممکن ہو گیا۔ والدہ اور بہن کو معلوم ہوا تو انہوں نے معاملہ گھر کے اندر ہی دبانے کی کوشش کی اور ریحانہ کی والدہ نے اپنے داماد الیاس کی منتیں کیں کہ وہ اپنے جرم کا اعتراف کر لے، جس پر الیاس نے بے غیرتی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی کہیں اور منہ کالا کر آئی ہے اور مجھے بدنام کر رہی ہے۔ جب صورت حال کافی بگڑ گئی تو ریحانہ کی ماں نے تھانے میں الیاس کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔ (مجھے قوی یقین ہے کہ ریحانہ کی ماں، جو ایک ان پڑھ اور قانون سے بے بہرہ عورت ہے، یہ نہیں جانتی تھی کہ تھانے میں اس کے اور اس کی بیٹی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے) تھانے میں زنا کا کیس درج کر لیا گیا اور یوں ریحانہ منظور انصاف حاصل کرنے کے بجائے جیل بھجوا دی گئی۔ ریحانہ نے روتے ہوئے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ میرے پیٹ میں حمل الیاس کا ہے، لیکن ہمارے پاس شہادتیں نہیں ہیں اور ہم غریب ہیں۔ یہ کہہ کر ریحانہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا: ’’باجی! میں رہا ہو جاؤں گی؟ باجی! میری مدد کریں‘‘ میں اسے روتا ہوا دیکھ کر سکتے میں آگئی۔ ممکن ہے وہ رہا ہو جائے، یا شاید سزا بھی ہو لیکن جب بھی وہ جیل سے گھر آئے گی تو کیا معاشرہ اسے پہلے والی حیثیت میں قبول کر لے گا؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بے قصور ہے؟
پاکستان میں روزانہ کئی عورتیں اور بچیاں مردوں کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں جن کے صحیح اعداد وشمار حاصل کرنا ناممکن ہے، کیونکہ ۸۰فی صد کیس تو بدنامی اور رسوائی کے خوف اور حدود آرڈیننس سے بچنے کے لیے چھپا لیے جاتے ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر دو گھنٹے میں ایک عورت جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے، جبکہ ہر آٹھ گھنٹے میں ایک گینگ ریپ ہوتا ہے۔ آپ کو روزانہ اخبار کی ایک خبر ریپ یا گینگ ریپ سے متعلق ضرور ملے گی اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں جب یہ حدود آرڈیننس اسلامائزیشن کے نام سے متعارف کروایا گیاتو اس کے بعد تو جیسے قانون کے ٹھیکیداروں کے ہاتھ ایک ایسا لائسنس آ گیا جسے انہوں نے رقمیں ہتھیانے اور مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور جو جنسی تشدد کی روک تھام کے بجائے اس میں اضافے کا سبب بنا۔ ۱۹۷۸ء سے لے کر اب تک جنسی تشدد اور گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کے اگر بالکل درست اعداد وشمار اکٹھے کرنا ممکن ہو (ریکارڈ اور غیر ریکارڈ شدہ) تو یہ تعداد بلامبالغہ لاکھوں میں ہوگی، کیونکہ مجرم کو ہمیشہ یہ اطمینان رہا کہ عورت کبھی چار گواہ پیش نہیں کر پائے گی اور زنا کا مرتکب ٹھہرایا جانا کوئی مسئلہ نہیں۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ۸۰ فیصد خواتین زنا کے کیسوں میں بہت بہت عرصہ ٹرائل پر ہی سزا بھگت رہی ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ اس قانون کا کئی اور طرح سے بھی Misuse ہوتا رہا اور ابھی تک ہو رہا ہے۔ کوٹ لکھپت میں ہی میری ملاقات ستوکتلہ واپڈا ٹاؤن لاہور کی ۲۰ سالہ شمائلہ بشیر سے بھی کرائی گئی جو کہ گزشتہ ۸ ماہ سے یہاں پر ہے اور اس کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اس پر بھی اس کی والدہ نے زنا کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے، کیونکہ اس نے گھر سے بھاگ کر اپنی پسند کی شادی کی تھی اور شیخوپورہ میں فاروق انجم کے ساتھ عدالت میں نکاح کیا تھا۔ اس کے پاس نکاح نامہ بھی موجود ہے۔ شمائلہ نے بتایا کہ میری ماں کو اعتراض تھا کہ لڑکا ہماری ذات کا نہیں اور ہم دونوں پر زنا اور چوری کے دو کیس درج کرا دیے۔ فاروق انجم کے گھر والے اس شادی پر رضامند ہیں۔ مدعیوں نے وکیل نہیں کیا، اس لیے مجھے شہادتوں کے لیے بھی نہیں بلایا جاتا، یوں مقدمہ طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہاں ہمیں یہ آرڈیننس پسند کی شادی پر گھر والوں کے رد عمل کے طور پر Misuse ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
واضح رہے کہ ان دنوں حدود آرڈیننس پارلیمنٹ سے لے کر وکلا اور ہر طبقہ ہائے فکر میں ایک متنازعہ موضوع بنا ہوا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک عہدیدار اور مجلس عمل حدود آرڈیننس کی حمایت میں کھڑے ہیں، جبکہ قومی کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن سمیت تمام اپوزیشن (ماسوائے مجلس عمل) اسی قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، جس میں خصوصاً خواتین اور وکلا کی تنظیموں کی طرف سے اسے ختم کرنے کے لیے حکومت پر خاصا دباؤ ہے۔ اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ سرحد کی زعفران بی بی کی سنگ ساری کی سزا کو عدالت کو معطل کرنا پڑا تھا۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین اس مسئلے پر سب سے آگے ہیں کہ اس آرڈیننس کا فوری خاتمہ کیا جائے، جبکہ اپنے دونوں دور حکومت میں انہوں نے اس معاملے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا تھا۔
شکیلہ دختر انور جو کہ رائے ونڈ لاہور کی رہائشی ہے، وہ بھی اسی جیل میں ہے۔ اس نے بھی ریاض نامی شخص سے مرضی کی شادی کی اور ماں نے اس پر زنا بالرضا کا کیس دائر کر دیا اور یہ سب کچھ بقول شکیلہ کے سوتیلے باپ کے ایما پر کیا گیا ہے۔ اب ماں مقدمہ واپس لینے کے لیے تو تیار ہے مگر ۱۹ ہزار روپے کے عوض ’’جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے، کیونکہ ہم بہت غریب ہیں‘‘ شکیلہ نے بتایا۔ اس کا شوہر ریاض بھی کیمپ جیل میں ہے۔ وہ یہاں ایک سال سے ہے۔ ریاض کے گھر والوں نے وکیل کروایا ہے لیکن ابھی اگلی تاریخ کا انتظار ہے۔ ہمارے پاس نکاح نامہ اور سارے ثبوت موجود ہیں۔ یہ کہتے ہوئے شکیلہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
حدود کے بے شمار کیسوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس آرڈیننس کا سب سے زیادہ استعمال پسند کی شادی کے جرم میں کیا گیا اور چاروں صوبوں میں ایسے بے شمار کیس سامنے آئے ہیں جن میں پسند کی شادی پر گھر والوں کو اعتراض ہوتا ہے اور وہ انتقام کی آگ میں زنا بالرضا کی ایف آئی آر درج کروا کر خود اپنی بیٹی کے لیے جہنم تیار کر ڈالتے ہیں۔ 
شکیلہ کے بعد میری ملاقات نازیہ دختر عاشق سے کرائی گئی، جس کی عمر بمشکل ۲۰ سال ہوگی۔ اس کی گود میں ایک نو ماہ کی بچی تھی جس کا نام اس نے آرزو شہزادی رکھا ہے۔ وہ لاہور کینٹ کچہری کی رہنے والی ہے اور اس کے شوہر اشفاق، جو گھر داماد تھا، کے ساتھ ساس کا زمین کے ایک ٹکڑے پر جھگڑا ہو گیا۔ ساس یعنی نازیہ کی ماں کا اور تو کوئی بس نہ چلا، داماد اور بیٹی پر زنا کا کیس دائر کر دیا۔ وہ آٹھ ماہ سے یہاں ہے۔ مقدمہ چل رہا ہے، اس کی ضمانت ہو چکی ہے، لیکن مچلکہ دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ ’’باجی! مچلکہ کا بندوبست کر دیں‘‘ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے مجھ سے درخواست کی۔ اس کی نو ماہ کی بچی حالات کی سنگینی سے بے خبر جیل کی موٹی سلاخوں والی کھڑکی کو بار بار ہاتھ مار رہی تھی، جو آٹھ ماہ سے ماں کے ساتھ جیل میں ہے۔ 
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ گھریلو تنازعات میں بھی یہ آرڈیننس کس طرح مدعی کو تحفظ دیتا ہے اور یہ آرڈیننس کس طرح مختلف شکلوں میں عدل وانصاف کی آبرو ریزی کر رہا ہے، ایسے کہ جیسے شیطانوں کے ہاتھوں میں دستی بم ہو، جس نے ہزاروں عورتوں اور ان کے خاندانوں کی عزت وحرمت اور ان کی سماجی حیثیت کے پرخچے اڑا ڈالے۔ ریحانہ، شمائلہ بشیر، شکیلہ، نازیہ دختر عاشق اور ان جیسی سینکڑوں ہزاروں عورتیں پاکستان کی کئی جیلوں میں زنا کے تحت سزائیں کاٹ رہی ہیں جن میں سے اکثر طویل عرصہ سے ٹرائل پر ہی ہیں۔
میری اگلی ملاقاتی نازیہ ممتاز تھی۔ اس کا سابقہ خاوند گلزار اس سے جسم فروشی کرواتا تھا۔ وہ مالی پورہ داتا صاحب لاہور کی رہائشی ہے۔ اس دھندے میں اس کی نند خالدہ بھی ملوث تھی۔ نازیہ نے بالآخر گلزار سے طلاق لے لی اور وہاں سے بھاگ گئی جس کے بعد اس نے ایک مزدور پیشہ شخص سے شادی کر لی۔ پہلے شوہر نے اس پر زنا بالرضا کا مقدمہ درج کروا دیا اور اس سے اس کی بچی بھی چھین لی، جبکہ اس کا بچہ اس کی جیل میں موجودگی کے دوران عدم نگہداشت کے باعث مر گیا۔ نازیہ ممتاز حاملہ ہے۔ ’’باجی! بے میری بچی مجھے واپس دلا دی جائے‘‘ نازیہ ممتاز نے مجھ سے درخواست کی۔
کوٹ لکھپت جیل میں میری ملاقات جتنی بھی قیدی عورتوں سے ہوئی، وہ سب ایک ایک سال یا کچھ مہینوں سے ٹرائل پر ہیں۔ مجھے زنا کے کچھ پرانے کیس بھی درکار تھے۔ معلوم ہوا کہ ایسے زیادہ تر کیس ملتان جیل میں ہیں، جن میں ایک فاطمہ بی بی زوجہ عزیز الرحمن تھی، جس کا ایف آئی آر نمبر 211/95 تھا۔ اسے ۱۱ جون ۱۹۹۶ء کو زنااور چوری کے جرم میں ۵ سال قید، ۲ ہزار روپے جرمانہ اور ۱۰ کوڑوں کی سزا سنانے کے بعد تھانہ ٹبی سٹی سے ملتان جیل بھیج دیا گیا تھا۔
حدود آرڈیننس کے تحت اس وقت بھی ہزاروں خواتین قید با مشقت بھگت رہی ہیں، جن میں سے اکثریت کسی دشمنی، ناچاقی، بدلے یا کسی ایسے ہی تنازعے کی بھینٹ چڑھی ہوں گی۔ حدود آرڈیننس نے معاشرے میں کس قدر بگاڑ پیدا کیا اور عدل وانصاف کے کس طرح سے پرخچے اڑائے، اس کا ایک طویل ریکارڈ ہے۔
موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ نہ صرف حدود آرڈیننس کو ختم کیا جائے بلکہ ان جرائم میں قید اور سزا کاٹنے والی عورتوں کو بھی رہا کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مزید عورتیں اس کا شکار بنتی چلی جائیں گی اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا چلا جائے گا کیونکہ ایسی عورتوں کو معاشرے میں بھی کوئی قبول نہیں کرتا، جس کے بعد ان کے پاس معاشی وسماجی حیثیت سے ایک باعزت زندگی گزارنے کا کوئی حق باقی رہ جاتا ہے؟ تو پھر کیا معاشرے میں مزید بے راہ روی نہیں پھیلے گی؟ کیا مزید گھر برباد نہیں ہوں گے؟ کیا مزید لڑکیوں کا مستقبل تاریکیوں کی نذر نہیں ہوگا؟ کیا دنیا میں اسلام کی رسوائی نہیں ہوگی؟ اور کیا مجرموں کے ہاتھ مزید مضبوط نہیں ہوں گے؟ لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ یہ Divine Law (خدائی قانون) ہے۔ وہ بتائیں کہ اب تک یہ کہاں عدل کے تقاضے پورے کر پایا ہے اور کر رہا ہے، جبکہ اسلام عدل وانصاف پر زور دیتا ہے۔ وہ شخص مومن نہیں جو پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور قریب اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ (بخاری)
(یاسمین فرخ، روزنامہ پاکستان، ۸ نومبر، ۲۰۰۳ء)

حواشی

* حدود میں عورتوں کی گواہی کے ناقابل قبول ہونے کے موقف کے حق میں واضح اور صریح دلیل کی حیثیت تنہا امام زہریؒ کے اس بیان کو حاصل ہے کہ: مضت السنۃ عن رسول اللہ ﷺ ان لا تجوز شہادۃ النساء فی الحدود ولا فی النکاح ولا فی الطلاق (ابن قدامہ، المغنی، ۷/۸۔ مسئلہ ۵۱۴۲) ’’رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ حدود اور نکاح وطلاق کے معاملات میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں۔‘‘ 
لیکن ہماری رائے میں اس قدر اہمیت اور نزاکت کے حامل معاملے میں محض امام زہریؒ کے بیان پر انحصار دو وجوہ سے بے حد کمزور ہے:
ایک یہ کہ یہ روایت امام زہریؒ نے مرسلاً بیان کی ہے اور محدثین کے نزدیک ان کی مراسیل پایہ اعتبار سے ساقط ہیں: ان یحیی بن القطان کان لا یری مراسیل الزہری وقتادۃ شیئا ویقول ہی بمنزلۃ الریح (ابن الہمام، فتح القدیر، ۵/۵۰۳) ’’یحییٰ بن القطان، زہری اور قتادہ کی مراسیل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بالکل بے وقعت ہیں۔‘‘ والزہری مراسیلہ ضعیفۃ (شوکانی، نیل الاوطار، ۷/۲۶۴) ’’زہری کی مراسیل ضعیف ہیں۔‘‘
دوسری یہ کہ امام زہریؒ کی آرا میں متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں وہ کسی چیز کو ’’سنت‘‘ یعنی عہد نبوی اور عہد صحابہ کا معمول بہ طریقہ قرار دیتے ہیں، لیکن دلائل وشواہد اس کے بالکل برخلاف ہوتے ہیں۔ اکابر اہل علم نے اس بنیاد پر بہت سے امور میں امام زہریؒ کے بیانات کو اپنی رائے کا ماخذ بنانے سے گریز کیا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
۱۔ زیر بحث روایت ہی میں امام زہریؒ نے فرمایا ہے کہ نکاح وطلاق کے معاملات میں بھی عورتوں کی گواہی ازروے سنت قابل قبول نہیں، لیکن سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ کے علاوہ تابعین میں سے عطا، شریح اور شعبی رحمہم اللہ سے اس کے برعکس فیصلے منقول ہیں، چنانچہ فقہاے احناف نے امام زہری کے اس بیان کو قبول نہیں کیا اور وہ اپنے دلائل کی بنا پر ان امور میں عورتوں کی شہادت کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۱/۶۸۵)
۲۔ امام زہریؒ سے قضاء بالیمین والشاہد کے طریقے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ: ما اعرفہ وانہا لبدعۃ واول من قضی بہ معاویۃ (جصاص، احکام القرآن ۱/۷۰۵) ’’میں اس طریقے سے واقف نہیں۔ یہ بدعت ہے۔ سب سے پہلے اس کے مطابق معاویہؓ نے فیصلہ کیا تھا۔‘‘
حالانکہ یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاے راشدین سے شہرت کے ساتھ ثابت ہے، چنانچہ خود امام زہریؒ کے جلیل القدر شاگرد امام مالکؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ فی القضاء بالیمین مع الشاہد الواحد (الموطا، کتاب الاقضیۃ) ’’ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا طریقہ رائج اور معمول بہ چلا آ رہا ہے۔‘‘
۳۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں: اہل ذمہ کی دیت کے بارے میں روئے زمین پر مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان کی دیت رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں ایک ہزار دینار تھی، لیکن جب معاویہؓ کا دور حکومت آیا تو انہوں نے مقتول کے ورثا کو پانچ سو دینار دے کر باقی رقم بیت المال میں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ (البیہقی، السنن الکبریٰ، ۸/۱۲۰)
حالانکہ روایات میں رسول اللہ ﷺ اور خلفاے راشدین سے مختلف مقدمات میں اہل ذمہ کی دیت کی مختلف مقداریں منقول ہیں اور اسی بنیاد پر ائمہ فقہا کی آرا بھی اس باب میں مختلف ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۲/۲۳۵، ۲۳۷۔ نیل الاوطار، ۷/۷۸، ۷۹) چنانچہ امام زہریؓ کے اس بیان کو کہ سیدنا معاویہؓ سے پہلے اہل ذمہ کی دیت کی ا یک ہی متعین مقدار رائج تھی، اکابر اہل علم نے قبول نہیں کیا۔ امام بیہقی لکھتے ہیں: وقد ردہ الشافعی بکونہ مرسلا وبان الزہری قبح المرسل وان روینا عن عمر وعثمان ما ہو اصح منہ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۸/۱۰۲) ’’امام زہری کے اس بیان کو امام شافعی نے اس بنیاد پر رد کر دیا ہے کہ یہ مرسل ہے اور زہری کی مراسیل بہت قبیح ہیں۔ نیز حضرت عمر اور حضرت عثمان سے اس کے برعکس فیصلے زیادہ مستند طریقے سے مروی ہیں۔‘‘ شوکانی فرماتے ہیں: وحدیث الزہری مرسل ومراسیلہ قبیحۃ لانہ حافظ کبیر لا یرسل الا لعلۃ (نیل الاوطار، ۷/۸۰) ’’زہری کا قول مرسل ہے اور ان کی مرسل روایتیں بہت قبیح ہیں، کیونکہ وہ ایک بڑے حافظ حدیث ہیں اور ارسال کا طریقہ اسی وقت اختیار کرتے ہیں جب روایت میں کوئی خرابی موجود ہو۔‘‘
۴۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں: ان السنۃ للمعتکف ان لا یخرج الا لحاجۃ الانسان ولا یتبع جنازۃ ولا یعود مریضا (سنن الدارقطنی، ۲/۲۰۱) ’’معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ ناگزیر انسانی ضروریات کے علاوہ مسجد سے نہ نکلے، نہ نماز جنازہ میں شرکت کرے اور نہ کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے۔‘‘
حالانکہ معتکف کے لیے مریض کی عیادت اور نماز جنازہ میں شرکت کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے کوئی واضح اور قطعی ہدایت منقول نہیں اور اسی وجہ سے اہل علم میں اس حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ سعید بن مسیبؒ ، مجاہدؒ ، امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ اس کے عدم جواز کے جبکہ سیدنا علیؓ، سفیان ثوریؒ ، حسن بن صالحؒ ،سعید بن جبیرؒ اور ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۱/۳۴۰، ۳۴۱۔ ابن قدامہ، المغنی، ۳/۷۰)
۵۔ اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی کتاب تمام کی تمام اشعار پرمشتمل ہو تو کیا اس کے شروع میں بسم اللہ لکھی جائے گی یا نہیں؟ امام زہریؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ ان لا یکتب فی الشعر بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ’’سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ شعر کے آغاز میں بسم اللہ نہ لکھی جائے۔‘‘ لیکن جمہور فقہا نے ان کے اس بیان کو قبول نہیں کیا اور اشعار کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کو جائز قرار دیا ہے۔ (محمد بن محمد الحطاب، مواہب الجلیل، ۱/۱۱)
۶۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ فی زکاۃ الزیتون ان توخذ ۔ ’’سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ زیتون کی فصل سے بھی زکاۃ وصول کی جائے۔‘‘ لیکن روایات سے ان کے اس بیان کی تائید نہیں ہوتی، چنانچہ امام بیہقی فرماتے ہیں: وہذا موقوف لا یعلم اشتہارہ ولا یحتج بہ علی الصحیح (نیل الاوطار ۵/۴۳۳) ’’یہ امام زہری کا اپنا بیان ہے حالانکہ زیتون کی زکاۃ وصول کرنا (عہد صحابہ میں) معروف نہیں، اور نہ صحیح رائے کے مطابق اس قول سے استدلال درست ہے۔‘‘
۷۔ نکاح کے بعد خاوند مہر کی ادائیگی سے قبل بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر سکتا ہے یا نہیں؟ امام زہریؒ فرماتے ہیں: مضت السنۃ ان لا یدخل بہا حتی یعطیہا شیئا ۔ ’’سنت یہ ہے کہ مہر کا کچھ حصہ دیے بغیر خاوند ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘ لیکن متعدد روایات سے اس کے جواز کا ثبوت ملتا ہے اور انہی کی بنا پر سعید بن مسیبؒ ، حسن بصریؒ ، ابراہیم نخعیؒ ، سفیان ثوریؒ اور امام شافعیؒ جیسے ائمہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ (المغنی، ۷/۱۸۸۔ مسئلہ ۵۶۱۱)
* فقہاے احناف سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۸۲ کو، جس میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، عدالت اور قضا سے متعلق مانتے اور عدالتی فیصلوں میں مذکورہ نصاب شہادت کی پابندی کو لازم قرار دیتے ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن، ۱/۷۰۲) جبکہ دوسرے فقہا کے نزدیک اس آیت میں خطاب چونکہ عدالت سے نہیں بلکہ معاملے کے فریقین سے ہے، اس لیے فصل مقدمات میں اس نصاب کی پابندی لازم نہیں۔ ابن قدامہؒ لکھتے ہیں: ان الآیۃ واردۃ فی التحمل دون الاداء ولہذا قال ان تضل احداہما فتذکر احداہما الاخری والنزاع فی الاداء (المغنی، ۱۰/۱۵۸۔ مسئلہ ۸۳۳۷) ’’آیت کا تعلق کسی معاملے میں گواہ بنانے سے ہے نہ کہ عدالت میں گواہی دینے سے، جس کا قرینہ یہ ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ (دو عورتوں کو گواہ بنایا جائے) تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد کرا دے۔ جبکہ اختلاف اس میں ہے کہ کیا گواہی کی ادائیگی میں بھی اس طریقے کی پیروی ضروری ہے؟‘‘
موخر الذکر رائے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے منقول فیصلوں میں کہیں اس بات کا تاثر نہیں ملتا کہ آپ نے آیت میں مذکور نصاب شہادت کے التزام کو ہر حال میں ضروری سمجھا ہو۔ اس کے بجائے آپ نے صورت حال کی نوعیت کے لحاظ سے واقعہ کے ثبوت کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔ مثلاً:
  •  بعض مقدمات میں مدعی سے فرمایا کہ اپنے حق میں دو گواہ پیش کرو ورنہ مدعا علیہ سے حلف لے کر اس کو بری الذمہ قرار دیا جائے گا۔ (بخاری، الرہن، ۲۳۳۲)
  •  بعض مقدمات میں اگر مدعی دو گواہ پیش نہ کر سکا تو ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے حلف لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ (صحیح مسلم، الاقضیۃ، ۳۲۳۰۔ سنن ابی داؤد، الاقضیۃ، ۳۱۳۳) 
  •  بعض مقدمات میں یہ قرار دیا کہ اگر مدعی کے پاس ایک ہی گواہ ہے تو مدعا علیہ کے قسم کھانے پر مقدمہ خارج کر دیا جائے گا، لیکن اگر مدعا علیہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے قائم مقام سمجھا جائے گا اور مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ، الطلاق، ۲۰۲۸)
  • ایک موقع پر محض ایک شخص کی گواہی پر سلمہ بن الاکوع کے حق میں ’سلب القتیل‘ کا فیصلہ فرمایا۔ (صحیح البخاری، المغازی، ۳۹۷۸) اسی طرح ایک موقع پر صرف ایک اعرابی کی گواہی پر رمضان کا چاند نظر آنے کا اعلان فرما دیا۔ (جامع الترمذی، الصوم، ۶۲۷) ایک دوسرے موقع پر صرف عبد اللہ بن عمرؓ کی گواہی پر آپ نے لوگوں کو رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ (ابو داؤد، الصوم، ۱۹۹۵)
  • رضاعت کے ایک مقدمے میں آپ نے محض دودھ پلانے والی عورت کی گواہی پر ثبوت رضاعت کا فیصلہ فرما دیا۔ (بخاری، العلم، ۸۶) آپ سے پوچھا گیا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے کتنے گواہ کافی ہیں؟ تو فرمایا کہ ایک مرد یا ایک عورت ۔ (مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، ۵۶۱۰) 
(مدیر)

مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق دار کون؟

مولانا محمد یوسف

روئے زمین پر سب سے محترم ومقدس مقامات مساجد ہیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: احب البلاد الی اللہ مساجدہا ۔ ان مساجد میں سے بعض ایسی ہیں جن کو کسی نہ کسی وجہ سے امتیازی مقام حاصل ہے۔ روئے زمین پر قائم تین مساجد ایسی ہیں جن کی طرف تقرب الٰہی کے حصول کی نیت سے باقاعدہ دور دراز سفر کر کے جانے کی ترغیب خود نبی اکرم ﷺ نے دی ہے۔ ارشاد گرامی ہے: لا تشد الرحال الا الی ثلثۃ مساجد المسجد الحرام والمسجد الاقصیٰ ومسجدی۔
درج بالا حدیث مبارکہ میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کو بھی مقدس مقام شمار کیا گیا ہے۔ اس کی عظمت نہ صرف مسلمانوں کی نگاہ میں ہے بلکہ یہود ونصاریٰ بھی اس کو مقدس مانتے ہیں۔ جب بھی کوئی مسلمان سورۃ اسرا کی تلاوت کرتا ہے، اس کے قلب میں اس مقام کا تقدس وجلال اثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ 
اس مقدس مسجد کو خداے واحد کی پرستش کے لیے سب سے پہلے حضرت یعقوب نے تعمیر کیا۔ بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ذر غفاریؓ نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ، دنیا میں سب سے پہلی مسجد کون سی ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا، مسجد حرام۔ ابو ذر غفاریؓ نے پھر دریافت کیا کہ اس کے بعد کون سی مسجد عالم وجود میں آئی؟ آپ نے فرمایا، مسجد اقصیٰ۔ ابو ذرؓ نے تیسری مرتبہ سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان مدت کس قدر ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، دونوں کے درمیان چالیس سال کی مدت ہے۔ (بخاری، کتاب الانبیاء)
جس طرح حضرت ابراہیم نے مسجد حرام کی تعمیر کی اور وہ مکہ مکرمہ کی آبادی کا باعث بنی، اسی طرح حضرت یعقوب نے مسجد بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔ پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سلیمان کے حکم سے اس مسجد کی جدید تعمیر کی گئی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مسجد اقصیٰ کی عظمت مسلمانوں اور یہود دونوں کے ہاں مسلم ہے تو اس کی تولیت کا حق کس کو ہے؟ اگر خاندانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق یہود کو حاصل ہے کیونکہ وہ حضرت یعقوب کی اولاد ہیں۔ حضرت یعقوب کے بڑے بیٹے یہودا کی نسبت سے ان کو یہودی کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر نظریہ کی بنیاد پر دیکھا جائے تو مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق مسلمانوں کے حصے میں آتا ہے کیونکہ قرآن وحدیث کی رو سے انبیا کے نظریاتی وارث مسلمان ہیں نہ کہ یہود۔ ذیل میں اس موقف کو قرآن کریم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ 
یہودی، اور اسی طرح نصاریٰ اور مشرکین، خود کو ملت ابراہیمی کا وارث قرار دیتے تھے۔ یہی دعویٰ مسلمانوں کا تھا۔ قرآن کریم نے یہود ونصاریٰ اور مشرکین کے اس دعوے کی واضح انداز میں تردید کی اور مسلمانوں کو ملت ابراہیمی کا اصلی وارث قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَاکَانَ اِبْرَاہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلاَ نَصْرَانِیاًّ وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ O اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرَاہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَہٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُوْمِنِیْنَ O (آل عمران )
’’حضرت ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک موحد مسلم تھے اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھے۔ ابراہیم سے نسبت رکھنے کا حق اگر کسی کوپہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے ان کی پیروی کی اور اب یہ نبی (حضرت محمد ﷺ) اور ان کے ماننے والے اس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ صرف انہی کا حامی ومددگار ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
درج بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا تعلق حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑا ہے۔ یہ تعلق نظریے کی بنیاد پر ہے نہ کہ خاندان کی بنیاد پر۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ انبیا کی تعلیمات کے وارث مسلمان ہیں نہ کہ یہود ونصاریٰ۔ جس طرح مسلمان انبیا کے نظریات کے وارث ہیں، اسی طرح ان کی قائم کردہ عبادت گاہوں کے بھی وارث ہیں۔
بنی اسرائیل حضرت یعقوب کی اولاد ہیں اور اسی بنیاد پر وہ حضرت یعقوب کو یہودی قرار دیتے تھے اور خود کو حضرت یعقوب کا وارث۔ اللہ تعالیٰ نے محض خاندان کی بنیاد پر حضرت یعقوب کے ساتھ یہود کے اس قائم کردہ تعلق کی نفی فرمائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَمْ تْقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ کَانُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی قُلْ ءَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہُ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہُ مِنَ اللّٰہِ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ O (البقرہ )
’’یا پھر تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم واسمٰعیل واسحق ویعقوب اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ تعالیٰ؟ ا س شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کے ذمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے۔ تمہاری حرکات سے اللہ تعالیٰ غافل تو نہیں ہیں۔‘‘
اس آیت مبارکہ سے بھی یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ خاندان کی بنیاد پر یہود نے حضرت یعقوب کے ساتھ اور دیگر انبیا کے ساتھ جو تعلق قائم کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی ہے۔ یہود کو مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق معمار اول حضرت یعقوب کے ساتھ نظریاتی تعلق کی وجہ سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کے ساتھ ان کے اس نظریاتی تعلق کی نفی فرما دی جو حق تولیت کی بنیاد ہے تو حق تولیت کی نفی خود بخود ہو گئی کیونکہ انبیا کی وراثت نظریے کی بنیاد پر ہوتی ہے نہ کہ خاندان کی بنیاد پر۔ جس طرح انبیا کے نظریات کے وارث مسلمان ہیں، اس طرح انبیا کی تعمیر کردہ عبادت گاہوں کے وارث بھی مسلمان ہیں۔
حدیث رسول سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انبیا کے ساتھ تعلق اور انبیا کا وارث قرار پانا نظریے کی بنیاد پر ہے نہ کہ خاندان کی بنیاد پر۔ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ جب سرکار دو عالم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہود یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں۔ جب یہود سے یوم عاشورا کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو یہود نے جواب دیا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا، یعنی حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو نجات دی اور فرعون کو غرق کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: 
نحن اولی بموسیٰ منکم فامر بصومہ۔
’’ہم تمہاری نسبت موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔‘‘
پس آپ نے اپنے پیروکاروں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے کس وجہ سے یہ ارشاد فرمایا کہ ہم موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں؟ خاندانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہود کا تعلق حضرت موسیٰ سے زیادہ قریبی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے، اس کے باوجود آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضور کے پیش نظر نظریے کی قربت ہے نہ کہ خاندان کی۔ چنانچہ آج بھی مسلمان یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں، البتہ یہود کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لیے سرکار دو عالم کے حکم کے مطابق دس محرم کے ساتھ نو محرم یا گیارہ محرم کا روزہ بھی ملایا جاتا ہے۔
یہودی تو خود کو جن انبیا کا پیروکار کہتے ہیں، ان مقدس انبیا پر نعوذ باللہ ایسے الزامات عائد کرتے ہیں کہ ان کے تصور سے ہی جسم میں جھرجھری پیدا ہو جاتی ہے۔ کیا یہود کا ان انبیا پر ایسے الزامات عائد کرنے کے بعد بھی مسجد اقصیٰ پر تولیت کا کوئی مذہبی یا اخلاقی حق باقی رہ جاتا ہے؟ حضرت سلیمان نے مسجد اقصیٰ کی جدید تعمیر کی۔ یہود نے ان کے والد محترم حضرت داؤد کے پاکیزہ دامن پر ایسا الزام لگایا جس کی توقع کسی بھی شریف آدمی سے نہیں کی جا سکتی۔ کیا حضرت سلیمان نے مسجد اقصیٰ کی جدید تعمیر ایسے ہی لوگوں کی تولیت کے لیے فرمائی تھی؟ 
اگر بیت المقدس پر یہودیوں کے حق تولیت کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر آج کے مشرکین بھی بیت اللہ پر تولیت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ چند ماہ قبل ایک ہندو نوجوان کا مقالہ نظروں سے گزرا جس نے اپنا زور تحقیق اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے صرف کیا کہ خانہ کعبہ کی تولیت کا حق ہندوؤں کا ہے۔ اس محقق نوجوان نے بخاری شریف کی روشنی میں فتح مکہ کا حوالہ دیتے ہوئے خانہ کعبہ کا نقشہ کھینچا کہ جب مسلمانوں نے مکہ فتح کیا تو وہاں بتوں کی پرستش ہوتی تھی، لوگ دیوتاؤں کے سامنے اپنی حاجات پیش کرتے تھے، صفا اور مروہ پر اساف اور نائلہ نامی بت نصب تھے۔ مگر جب مسلمانوں نے مکہ فتح کیا اور خانہ کعبہ ہمارے آباو اجداد سے چھینا تو مسلمانوں نے ہمارے دیوتاؤں کی بے حرمتی کی اور ہمارے دیوتاؤں کو ہماری عبادت گاہ سے نکال دیا۔ اس وقت سے آج تک خانہ کعبہ مسلمانوں کے قبضے میں چلا آ رہا ہے، لہٰذا اخلاقی طور پر مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خانہ کعبہ پر اپنا ناجائز قبضہ ختم کر کے اس عبادت گاہ کو ہمارے حوالے کریں۔ میرا قارئین سے سوال ہے کہ کیا اس نوجوان ہندو محقق کے اس دعویٰ کو قبول کر لیا جائے گا؟ یقیناًکوئی مسلمان بھی اس دعوے کو قبول کرنے کے لیے کسی صورت بھی تیار نہیں ہو سکتا، کیونکہ معمار کعبہ حضرت ابراہیم نے اس کو خداے واحد کی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا، نہ کہ بتوں اور دیوتاؤں کی پوجا پاٹ کے لیے۔
یہاں ممکن ہے کہ کسی قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ خانہ کعبہ پر مشرکین کے حق تولیت کو تو قرآن کریم نے منسوخ کر دیا ہے لیکن مسجد اقصیٰ پر یہود کے حق تولیت کو منسوخ نہیں کیا لہٰذا قرآن کریم کے حکم کے مطابق مشرکین کے حق تولیت کو تو منسوخ سمجھا جائے گا، لیکن مسجد اقصیٰ پر یہود کے حق تولیت کو منسوخ نہیں سمجھا جائے گا۔
اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کو مسجد اقصیٰ کی تولیت مشروط طور پر عطا فرمائی تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
یٰبَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ وَاِیَّایَ فاَرْہَبُوْنِ O (البقرہ )
’’اے بنی اسرائیل، میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں۔ میرے عہد کو پورا کرو، میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔‘‘
مسجد اقصیٰ پر یہود کی تولیت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی۔ درج بالا آیت میں اس عہد سے مراد احکام الٰہی کو قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ لیکن جب یہود نے احکام الٰہی کی نافرمانی کی تو ان کی اس نافرمانی کی وجہ سے بابل کے بادشاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کر دیا گیا جس نے یہود کو ارض مقدس سے جلاوطن کر دیا۔ بعد ازاں انبیا نے بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ سے توبہ وتضرع کی تلقین کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا اور ایرانیوں کے عہد میں ارض مقدس کی تولیت دوبارہ ان کو عطا ہوئی لیکن یہود نے احکام الٰہی کی نافرمانی کے سبب مسلط ہونے والے عذاب سے کوئی سبق نہ سیکھا اور اپنی سابقہ روش کو اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی تو بطور سزا کے ان پر رومیوں اور یونانیوں کو مسلط کیا گیا جنہوں نے یہود کا قتل عام کیا، مسجد اقصیٰ کو جلا دیا اور جلا وطن یہودی ایک بڑی تعداد میں انتہائی مایوسی کے عالم میں ارض مقدس کو چھوڑ کر مدینہ منورہ اور اس کے ارد گرد آکر آباد ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا انتظار کرنے لگے۔ آنحضرت کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آخری موقع دیا کہ وہ تورات کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے آخری نبی پر ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائیں گے ورنہ اگر یہود نے اپنی سابقہ روش اختیار کی تو ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو ماضی میں ہو چکا ہے کہ ان کی نافرمانی کے باعث مسجد اقصیٰ سے دو مرتبہ ان کی تولیت کو ختم کیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَہَنَّمَ لِلْکَافِرِیْنَ حَصِیْرًا O (بنی اسرائیل)
’’(اب محمد ﷺ کی بعثت کے بعد) ممکن ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے اور اگر پھر تم نے ویسا ہی کیا تو ہم بھی ویسا ہی کریں گے اور حق کے منکروں کے لیے ہم نے جہنم کا احاطہ بنا رکھا ہے۔‘‘
لیکن یہود نے اللہ تعالیٰ کی اس عطا کردہ مہلت سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کا نہ صرف انکار کیا بلکہ دشمنی پر اتر آئے۔ نہ صرف مدینہ منورہ اور خیبر سے ان کو جلاوطن کیا گیا بلکہ سیدنا فاروق اعظم کے دور خلافت میں اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس بجائے یہود کے مسلمانوں کو عطا فرمایا۔
امت مسلمہ کے محققین نے جن مختلف دلائل کی بنیاد پر بیت المقدس کی تولیت کا حق امت مسلمہ کے لیے ثابت کیا ہے، ان سب کو اگر ذکر کیا جائے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا۔ لہٰذا بطور مثال کے صرف ایک دلیل کو تحریر کر کے کچھ تبصرہ کیا جاتا ہے۔
سید سلیمان ندویؒ اپنی کتاب ’’سیرۃ النبی‘‘ کی جلد سوم میں ’’قرآن مجید اور معراج‘‘ کے عنوان کے تحت رقم طراز ہیں:
’’آپ کو دونوں قبلوں کی تولیت تفویض ہوئی اور نبی القبلتین کا منصب عطا ہوا۔ یہی نکتہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت کو کعبہ اور بیت المقدس دونوں طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا، اسی لیے معراج میں آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیا کی صف میں آپ کو امامت پر مامور کیا گیا تاکہ آج اس مقدس دربار میں اس کا اعلان عام ہو جائے کہ دونوں قبلوں کی تولیت سرکار محمدی کو عطا ہوتی ہے اور نبی القبلتین نامزد ہوتے ہیں۔‘‘
معراج کا مقدس سفر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار اور رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے۔ مسجد اقصیٰ میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیا کو جمع فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا امام بنایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات حکیم ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ مسجد اقصیٰ میں رسول اللہ ﷺ کو انبیا کی امامت پر مامور کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ انبیاء کرام سے لیے گئے وعدے لَتُوْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنْصُرُنَّہُ (البتہ تم ضرور بضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے) کا عملی اقرار ہو جائے اور دوسری یہ حقیقت ثابت ہو جائے کہ بانیان مسجد اقصیٰ کی موجودگی میں آپ کا امامت کے لیے بحکم خداوندی کھڑا ہونا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ آپ کی موجودگی میں جس طرح کوئی نبی مصلاے امامت پر نہیں کھڑا ہو سکتا، اسی طرح آپ کی امت کی موجودگی میں کوئی دوسری امت مسجد اقصیٰ کے مصلے پر نہیں کھڑی ہو سکتی۔ اس لیے آپ نے نہ صرف خود نماز پڑھائی بلکہ اپنی امت کو بھی اس میں نماز پڑھنے کی تعلیم وترغیب دی۔ ارشاد نبوی ہے:
بیت المقدس ارض المحشر والمنشر ایتوہ وصلوا فیہ فان صلوۃ فیہ کالف صلوۃ فی غیرہ (کنز العمال)
’’بیت المقدس حشر ونشر کی زمین ہے (قیامت برپا ہونے کا میدان سرزمین مقدس ہوگی) اس سرزمین میں جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ اس میں ایک نماز (مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سوا) دیگر مقامات میں ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔‘‘
کسی مذہب کے راہنما کا کسی عبادت گاہ میں نماز ادا کرنا اور اپنے متبعین کو اس میں عبادت کی تلقین کرنا اور اس عبادت گاہ میں کی جانے والی عبادت کو ہزار گنا فضیلت والی عبادت قرار دینا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ اس کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ اگر خاندان کی بنیاد پر یہود کو مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق ہوتا تو سرکار دو عالم مسلمانوں کو وہاں نماز پڑھنے کی ترغیب کیوں دیتے؟ کیا آپ نے اپنی پوری حیا ت طیبہ میں کسی بھی یہودی عبادت گاہ میں کوئی نماز پڑھی یا اہل ایمان کو اس کی ترغیب دی؟ اگر آپ نے کسی یہودی عبادت گاہ میں نہ خود نماز پڑھی اور نہ اہل ایمان کو اس کی ترغیب دی تو بیت المقدس میں آپ کے نماز پڑھنے اور اپنے متبعین کو اس میں نماز پڑھنے کی تلقین کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا حق تصور کرتے ہوئے وہاں نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو فاروق اعظمؓ کی دو رس نگاہ نے فتح بیت المقدس کے موقع پر بھانپ لیا تھا۔ فتح بیت المقدس کی پوری تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ہم یہاں صرف ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ فاروق اعظمؓ کی نظر میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق مسلمانوں کو ہے نہ کہ یہود کو۔
فتح بیت المقدس کے بعد حضرت عمر فاروق رات کے وقت بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے مسجد اقصیٰ میں حاضری دی اور محراب داؤد میں دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی اور پھر صبح کو اسی مقام پر باجماعت نماز فجر ادا کی۔ آپ نے عیسائیوں کے مشہور کنیسہ قیامہ کی بھی سیر کی۔ دوران سیر نماز کا وقت آ گیا۔ بطریق نے جو آپ کے ساتھ تھا، عرض کیا کہ یہیں نماز پڑھ لیجیے مگر آپ نے پیش کش قبول نہ کی اور باہر نکل کر سیڑھیوں پر تنہا نماز ادا کی۔ آپ نے بطریق سے کہا، ’’اگر میں یہاں نماز پڑھ لیتا تو میرے بعد مسلمان اس کنیسہ کو تم سے چھین لیتے کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز پڑھی تھی۔‘‘ پھر آپ نے بطریق کو اس مضمون کی ایک تحریر لکھ کر دے دی کہ گرجا کی سیڑھیوں پر بھی جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ کی جائے اور نہ اذان دی جائے۔ (تاریخ ملت، جلد اول، ص ۲۷۲)
آخر کیا وجہ ہے کہ فاروق اعظمؓ مسجد اقصیٰ میں دو رکعت تحیۃ المسجد بھی ادا فرماتے ہیں اور نماز فجر بھی باجماعت پڑھتے ہیں لیکن عیسائیوں کے مشہور کنیسہ قیامہ میں نماز کا وقت ہونے کے باوجود اور بطریق کی پیش کش کے باوجود وہاں نماز ادا نہیں فرماتے بلکہ سیڑھیوں پر تنہانماز ادا فرماتے ہیں؟ پھر سیڑھیوں پر تنہا نماز پڑھنے کے بعد یہ مضمون بھی تحریر فرما دیتے ہیں کہ سیڑھیوں پر بھی جماعت کی نہ نماز ادا کی جائے اور نہ اذان دی جائے۔ اگر آپ بیت المقدس پر یہود کی تولیت کا حق تسلیم فرماتے تو کیا وہاں نماز باجماعت ادا فرماتے؟ سیدنا عمرؓ فاروق نے اس طرز عمل سے ا س حقیقت کو عملی طور پر ثابت کیا کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے جو مذہبی عبادت گاہیں خود تعمیر کی ہیں، ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں، لیکن جہاں تک مسجد اقصیٰ کا معاملہ ہے، اس کی تولیت کا حق مسلمانوں کو ہے۔ اس مقدس مسجد کو ہرگز یہود کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ محض چند تاریخی واقعات اور تورات کی بعض عبارات کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ کی مغضوب وملعون قوم کو مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق ہرگز نہیں دیا جا سکتا۔

’’مسجد اقصیٰ ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ ۔ ناقدین کی آرا

ادارہ

(۱)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
  • محنت قابل داد ہے، ماشاء اللہ تعالیٰ۔ اللہم زد فزد۔ چشم بد دور
  • زبان بعض مقامات پر تلخ اور مناظرانہ رنگ اختیار کر گئی ہے۔ اس حوالے سے پورے مقالہ پر نظر ثانی ضروری ہے۔
  • ملل واقوام کے باہمی معاملات صرف اصولی اور نظری حوالے سے نہیں طے پاتے بلکہ تاریخی تعامل اور معروضی حقائق کا بھی ان میں خاصا دخل ہوتا ہے۔ دونوں کو سامنے رکھ کر موقف طے کرنا چاہیے۔
مندرجہ ذیل امور کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے:
۱۔ مدینہ منورہ اور خیبر میں یہود کی بستیوں پر قبضہ اور انہیں جلاوطن کرنے کے بعد ان کی تمام عبادت گاہیں ختم ہو گئی ہیں اور ان کی جگہ مسلمانوں کے مکانات اور عبادت گاہیں تعمیر ہوئی ہیں۔ اسی طرح نجران سے عیسائیوں کی جلاوطنی کے بعد ان کی عبادت گاہیں بھی باقی نہیں رہیں۔ پھر اندلس پر مسلمانوں کا قبضہ ختم ہو جانے کے بعد ان کی ہزاروں عبادت گاہوں کی ہیئت بلکہ ملکیت تبدیل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد بھارت میں ہزاروں مساجد ہندوؤں اور سکھوں نے قبضہ کر کے اپنے مکانات اور عبادت گاہوں میں انہیں تبدیل کر لیا ہے اور پاکستان میں ہندوؤں اور سکھوں کے سینکڑوں مندر مسلمانوں کے مکانات اور عبادت گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اگر اس مضمون میں اختیار کیے گئے موقف کو بطور اصول تسلیم کر لیا جائے کہ ہیئت کی تبدیلی اور قبضہ وملک کی تحویل کے بعد بھی اور عرصہ دراز گزر جانے کے باوجود سابقہ انتظام وتولیت کا حق قائم رہتا ہے تو مذکورہ بالا تمام مساجد اور عبادت گاہوں کے لیے یہی موقف اختیار کرنا پڑے گا اور یہ دنیا کے کسی بھی قانونی نظام میں قابل قبول بات نہیں ہوگی۔
۲۔ ایک اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کی جو عبادت گاہیں موجود ہیں یا جن کی ہیئت تبدیل نہیں ہوئی، ان کے بارے میں مضمون میں مذکور فقہی جزئیات واحکام بالکل درست ہیں لیکن جن عبادت گاہوں کی ہیئت اور قبضہ وملک دونوں عملاً تبدیل ہو چکے ہیں، ان پر میرے خیال میں مذکورہ فقہی احکام کا اطلاق درست نہیں ہے اور اس صورت کے بارے میں فقہی ابواب وجزئیات کا دوبارہ مطالعہ ضروری ہے۔ آج کے قانون میں بھی ایسے معاملات میں قبضہ وملک کے تسلسل کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
۳۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے یا موقف اختیار کرنے سے قبل اس سے پیدا ہونے والے پبلک تاثرات کا جائزہ لینا اور ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے بیت اللہ کی تعمیر کو ابراہیمی بنیادوں پر واپس لے جانے کی خواہش کے باوجود اس سے عملاً گریز کیا تھا اور قرآن کریم میں مدینہ منورہ کے منافقین کو صراحتاً کافر اور سازشی قرار دیے جانے کے باوجود ان کے خلاف قتال نہیں کیا تھا۔ ان دونوں فیصلوں کی وجہ خود جناب نبی اکرم ﷺ نے ’’منفی پبلک تاثر‘‘ بتائی ہے۔
۴۔ ظالم ومظلوم کی کشمکش میں اگر مظلوم کی طرف سے رد عمل کے طور پر اپنے دفاع میں کوئی ناروا بات بھی سامنے آجائے تو قرآن کریم نے اسے برداشت کرنے کی تلقین کی ہے، جیسا کہ چھٹے پارے کی پہلی آیت میں اس کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔
(ابو عمار زاہد الراشدی)
(۲)
بسم اللہ
لندن۔ ۲۴ جون ۲۰۰۳ء
مکرمی ومحترمی مولانا راشدی صاحب زید لطفہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
الشریعہ کے دو شمارے اور عزیزم عمار صاحب کا مضمون پرسوں ملا۔ الشریعہ میں اپنے خطوط تو پھر سامنے آ گئے مگر جواب اب بھی نہ ملا۔ مضمون کے بارے میں فرمائش پڑھ کر پہلا سوال ذہن میں یہ آیا کہ اس بار ’’امانت‘‘ کے لیے میرا انتخاب عمار صاحب نے کیوں کر کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ جواب فوراً نہیں پا سکتا تھا۔ پس تعمیل ارشاد میں مضمون اٹھایا۔ سرخی پرنظر پڑھی تو بڑی پریشانی ہوئی کہ پوری کتاب کی کتاب مضمون اور وہی ’’بیت المقدس، یہود اور مسلمان‘‘ کا پامال موضوع۔ یا اللہ! اس کو کیسے پڑھوں؟ مگر چند ہی سطروں کے بعد دماغ سے یہ بوجھ ہٹا۔ شکر ہے، عنوان پائمال سہی، مضمون پائمال نہیں ہے۔ اور پھر جب پڑھنے کے لیے بیٹھا تو خواہش یہ تھی کہ ایک ہی نشست میں ختم کر ڈالوں۔
مولانا، مجھے اس موضوع کی بری طرح پائمالی نے کبھی اس سے دلچسپی نہ ہونے دی۔ اس لیے نہ میرا مطالعہ نہ غور وفکر، مگر جتنی کچھ سمجھ اللہ نے دی ہے، اس کے حساب سے آپ کو مبارک باد دیتا ہوں اس کے انداز تحقیق پر۔ اللہ عمار صاحب کی زندگی میں برکت کرے اور وہ اپنے موضوعات کا ہمیشہ اسی طرح حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن اس کی اشاعت کے بارے میں یہ کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اسرائیل میں اقامہ کا انتظام کر لیں۔ اور تو اور، خود آپ کا قبیلہ علما ہی آپ لوگوں کو نہ چھوڑے گا۔ اور اشاعت بھی کریں تو میری رائے میں یہ ہر لحاظ سے مناسب ہے کہ دوسری (علمی یاجذباتی) رایوں کی تردید کا لہجہ بدلا جائے۔ اہانت اور استخفاف کا عنصر بالکل نکال دیں۔ اس معاملہ میں عمار صاحب آپ کے بالمقابل بالکل دوسرے سرے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ لہجہ لوگوں کے لیے ایک علمی تحقیق کا وزن محسوس کرنے اور غور کرنے میں بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔ 
حسب حکم مضمون ان شاء اللہ مولانا یعقوب قاسمی کو بھی بھیج دوں گا۔ اور ہاں، برصغیر میں مطالعہ حدیث پر آپ کے مقالے کی ایک کاپی بھی ادھر آ سکے تو خوشی ہوگی۔ نیز اس مئی جون کے شمارے میں ڈاکٹر خالد علوی صاحب کے مقالہ ’’اسلام اور بنیادی حقوق‘‘ کا ذکر ہے۔ نیز شش ماہی مجلہ ’’تعارف اسلامی‘‘ اگر ہو سکے تو یہ بتائیے کہ ان دونوں کے حصول کی کیا صورت ہے؟
ایک اور ضروری بات بھول گیا۔ فلسطین کا مسئلہ آج کل جس مرحلے میں ہے، اس کے پیش نظر اس وقت اس مضمون کی اشاعت کیا مناسب ہوگی؟
والسلام
عتیق الرحمن
بسم اللہ
لندن۔ ۲۶ ستمبر ۲۰۰۳ء
برادر عزیز عمار خان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مرسلہ پیکٹ موصول ہوا۔ آپ کی تحقیقی صلاحیت کے تو قائل ہو ہی گئے تھے۔ اب جرات کی بھی داد دینی پڑے گی۔ اللہ حفاظت فرمائے۔
مولانا عیسیٰ صاحب کے لیے مرسلہ ’الشریعہ‘ ان کو ڈاک سے بھیج دیا گیا۔ مولانا قاسمی کی کتاب بھی ان شاء اللہ چلی جائے گی۔
والد ماجد مدظلہ سے رابطہ ہو تو میرا بھی سلام کہیے۔ پتہ نہیں واپسی میں لندن بھی آ رہے ہیں یا نہیں؟
الشریعہ کا یہ شمارہ (ایک کاپی) اور بھیج دیں تو ایک صاحب کو دوں۔
والسلام
خیر اندیش
عتیق الرحمن
(۳) 
06/8/03
برادر مکرم ومحترم جناب مولانا عمار ناصر صاحب، مدیر الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ مسجد اقصیٰ کی شرعی حیثیت کے بارے میں آپ کا فاضلانہ مقالہ بروقت مل گیا تھا۔ میرے لیے اس کے مندرجات کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا تو دشوار ہے، اس لیے کہ میں نے مسجد اقصیٰ کی تاریخ کے بارے میں جو کچھ مطالعہ کیا تھا، اس پر خاصی مدت گزر چکی ہے۔ اب ازسرنو مطالعہ تازہ کرنے کے لیے کتابوں کی ورق گردانی ناگزیر ہے جس کی سردست فرصت نہیں۔ تاہم اگر آپ چاہیں تو علامہ ابن قیم الجوزیہ کی کتاب احکام اہل الذمہ کا مطالعہ فرمائیں جس میں انہوں نے شروط عمریہ پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ میری ناچیز رائے میں شروط عمریہ ہی اس معاملہ میں مسلمانوں کے موقف کی فقہی اور آئینی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
تاہم یہ غور ضرور کر لیں کہ کیا موجودہ حالات میں یہ بحث اٹھانا مفید ہوگا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو اور بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ اس صورت حال میں ایک نئی اختلافی بحث کھڑی کر دینا مناسب نہیں۔ علم اور خاص طور پر علم دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاں ایک بڑا اعزاز ہے، وہاں ایک مقدس امانت بھی ہے۔ اس کو استعمال کرنے میں انتہائی احتیاط اور ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔ اگر ہم میں سے کسی کے علم کا استعمال اس انداز سے ہو کہ امت مسلمہ کو اس کا نقصان یا پاداش برداشت کرنا پڑے تو شاید یہ علم کا بہتر استعمال نہیں۔ مزید مشورہ برادر مکرم جناب مولانا زاہد الراشدی اور اپنے جد محترم سے فرما لیں۔
والسلام
ڈاکٹر محمود احمد غازی
نائب رئیس الجامعہ
(۴)
محترم جناب حافظ محمد عمار خان صاحب وہم نوا
السلام علیکم
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ کا ماہنامہ الشریعہ موصول ہوا۔ مضامین پڑھ کر مسجد اقصیٰ کے متعلق جمہور علما اور مسلمانوں سے ہٹ کر آپ اور آپ کی ٹیم کی یہود نوازی اور ان کے ساتھ ہمدردی، قرآنی فیصلہ ’’سبحان الذی .... المسجد الاقصیٰ....‘‘ تاریخی اور واقعاتی دلائل اور قبضے ودیگر تمام دلائل کو آپ بیان کر کے بودا قرار دیتے ہیں، لیکن جہاں کہیں یہود کے لیے ادنیٰ سا بہانہ یا دلیل مل جائے یا محرف توراۃ سے کوئی ایک آدھ سطر مل جائے تو آپ کا قلم تند وتیز ہو جاتا ہے۔ ماشاء اللہ مسلمانوں پر آئے دن بڑھنے والے مصائب میں یہ بھی ایک نیا باب ہوگا اور یہودیوں کے لیے آپ جیسے بندے خوب کام آئیں گے اور مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے ممد ومعاون ثابت ہوں گے۔ بہرحال نہیں معلوم، ہوشیار اور بعض قابل مسلمانوں کو ایک نئی چیز کا شوشہ چھوڑنے میں کیا لذت آتی ہے؟ اور کیا مقاصد کارفرما ہیں؟ واللہ المستعان
عبد الرحیم
بلتستان، شمالی علاقہ جات
(۵)
گرامی قدر مولانا صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اللہ کرے آپ بصحت وعافیت ہوں اور آپ کا رمضان اچھا گزر رہا ہو۔
۱۔ کچھ عرصہ پہلے شبیر میواتی صاحب نے بتایا کہ آپ شریعہ اکیڈیمی میں میرا لیکچر رکھنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ کچھ تفصیل کا تو پتہ چلے کہ موضوع کیا ہے؟ دورانیہ کتنا ہوگا؟ سامعین کون ہوں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔ وہ کچھ تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو میں نے کہا کہ مولانا یا ناصر صاحب سے کہیے کہ مجھ سے رابطہ کریں۔ اس کے بعد آپ کے ہاں سے کچھ سننے میں نہیں آیا۔
۲۔ عزیزم عمار ناصر نے مسجد اقصیٰ والا مضمون چھپنے سے پہلے مجھے تبصرے کے لیے بھجوایا تھا۔ میں اس سے پہلے عزیزم کو دو مواقع پر تنقیدی خط لکھ چکا تھا اس لیے بار بار تنقید کو غیرمناسب سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی۔ پھر وہ مضمون الشریعہ اور اشراق میں آ گیا تو اب محدث وغیرہ میں اس پر جرح ونقد کا سلسلہ شروع ہے۔
بحث وتحقیق میں اختلاف رائے نہ کوئی بری بات ہے اور نہ ناقابل برداشت لیکن سوال یہ ہے کہ تحقیق کی غایت کیا ہے؟ غامدی صاحب کے حلقہ فکر کی تحقیق کے نتائج سے آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ علانیہ یا شعوری موقف خواہ کچھ ہو، عملاً یہی نظر آتا ہے کہ مغرب کی خواہشات وضروریات کے مطابق اسلام اور مسلم فکر کا حلیہ درست کیا جائے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ جہاں بھی مغرب سے فکری مرعوبیت ہوگی، انجام یہی ہوگا۔ سرسید سے لے کر قادیانیت اور پرویزیت تک یہی صورت حال نظر آتی ہے اور اسے مہمیز کرتی ہیں قائدین کی نفسیاتی اور مالی ضرورتیں۔ میری طالب علمانہ رائے میں آپ کو یہ مضمون الشریعہ میں نہیں دینا چاہیے تھا۔ الا یہ کہ آپ کو اس کے مندرجات سے اتفاق ہو۔ اگر ایسا نہیں تو آپ خود اس پر نقد کیجیے جیسے پہلے ان لوگوں کے کمزور/ غلط موقف پر کرتے رہے ہیں۔
۳۔ تازہ الشریعہ سے پتہ چلا کہ آپ اگلے ماہ دینی مدارس کے حوالے سے ’’مشاورت‘‘ رکھنا چاہ رہے ہیں۔ اس کے فریم ورک کی سمجھ نہیں آئی۔ دو تین روزہ ورکشاپ/ سیمینار کی جس شکل سے ہم مانوس ہیں، وہ یہ ہے کہ اہل علم سے رابطہ کیا جائے، انہیں موضوعات دیے جائیں، موضوعات کے گروپ بنائے جائیں، ان کے الگ الگ سیشن رکھے جائیں، ہر سیشن سے سفارشات تیار کروائی جائیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ آپ کے اعلان سے پتہ نہیں چلتا کہ کون لوگ آئیں گے اور کن موضوعات پر گفتگو ہوگی اور کس حد تک منضبط ہوگی؟ اگر سنجیدہ استفادے کی کوئی صورت ہو تو آدمی آنے کی ہمت کرے۔
والسلام
مخلص
محمد امین
(سینئر ایڈیٹر اردو دائرہ معارف اسلامیہ لاہور)
(۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا نام ’’اشراق‘‘ میں آپ کے مضمون ’’مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ کے حوالے سے سامنے آیا۔ آپ نے جو محنت اس مضمون کی ترتیب میں صرف کی ہے، وہ معمولی نہیں ہے۔ اتنے حوالے تاریخ، احادیث اور فقہ سے جمع کرنا بہت وقت طلب کام ہے۔ آپ کے اس مضمون نے بہت سارے مسائل پیدا کر دیے ہیں، دل ودماغ کی دنیا میں ایک ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مسئلہ بہت نازک ہے، بہت طویل ۱۳ صدیوں پر مشتمل ہے، اس لیے آپ اس قضیے میں ہم کو شامل کرنا چاہیں تو بات آگے بڑھائیں۔ اگر اپنی رائے جو آپ اخذ کر چکے ہیں، اس پر غور اور نظر ثانی کرنا چاہیں تو۔ ورنہ شاید وقت کا ٹھیک استعمال نہ ہوگا کہ وقت بہت قیمتی ہے۔
اگر ہم کچھ اصولی باتوں کو طے کر لیں تو ہو سکتا ہے کہ بہت دور جانے کی ضرورت نہ پڑے۔
  • قرآن وسنت میں اس مقام کو مسجد اقصیٰ کا نام دیا گیا ہے، ہیکل کا نہیں۔ یہ مسجد ، مسجد حرام کے ۴۰ سال بعد بنائی گئی۔ ۴۰ سال کا زمانہ ابراہیم اور اسحاق علیہم السلام کا بنتا ہے جبکہ یہود بعد کی پیداوار ہیں۔ ما کان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا۔ لہٰذا اصل یہ ہے کہ یہ مسجد ہی تھی اور یہ بنی اسرائیل کے لیے تھی جب وہ مسلمان تھے۔ جب وہ مسلمان نہ رہے اور یہودی ہو گئے تو نہ یہ ان کی رہی نہ ان کا اس پر دعویٰ رہا۔ انہوں نے خود اس اعزاز سے دستبرداری اختیار کر لی اور تب سے آج تک انہوں نے دوبارہ اس کی بازیابی کی درخواست اللہ کو نہیں دی۔ قرآن اس پر گواہ ہے۔
    مسجد سجدہ گاہ ہے، قیام نماز کا مقام ہے اور مسلمانوں کے علاوہ کسی کے ہاں نماز ہی نہیں۔ فخلف من بعدہم خلف اضاعوا الصلوۃ واتبعوا الشہوات فسوف یلقون غیا (مریم ۵۹) انہوں نے یعنی بنی اسرائیل نے تو نماز کو ضائع کر دیا۔
    مسجد پر صرف مسلمانوں کا حق ہے، لہٰذا اگر یہودی مسلمان ہو جائیں تو پھر مسجد اقصیٰ پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہوگا جتنا کہ باقی مسلمانوں کا ہے۔ یہی مطلب ہے عسیٰ ربکم ان یرحمکم کا ، یعنی یہ کہ اگر تم دوبارہ مسلمان ہو جاؤ تو۔ صاف ظاہر ہے کہ مسجد سجدہ کرنے والوں کی ہے، مسلمانوں کی ہے، چاہے وہ بنی اسرائیل سے ہوں، بنی اسماعیل سے یا کسی بھی نسل سے۔ ورنہ غیر مسلم رہتے ہوئے یہودی مسجد اقصیٰ پر کوئی حق نہیں جتلا سکتے۔ اور اگر آپ کا نقطہ نظر مان لیا جائے تو پھر یہ صریحاً قرآن سے منہ پھیرنے والی بات ہوگی اور اس کا انجام بڑا ہی بھیانک ہوگا۔ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور متاع ایمان بھی لٹ جائے گی۔ اللہ آپ کو اور ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ آمین
  • آپ نے اپنی تحریر میں صلیبیوں کے پہلے، دوسرے اور تیسرے حملے اور مظالم کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ان کے زائرین کے ساتھ مسلمانوں کے ناروا سلوک کا ذکر کیا جو کہ خلاف واقعہ ہے یعنی یہ واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ مسلمانوں اور مجاہدین کا مفتوحین کے ساتھ حسن سلوک خاص کر یہود کے نمائندوں نصاریٰ کے ساتھ غیر معمولی حسن سلوک کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے برعکس ایک خلاف واقعہ بات لکھ ڈالی۔
  • کیا آپ کے خیال میں ’’اخلاق‘‘ شریعت سے الگ کوئی چیز ہے جس کی آپ نے امت مسلمہ کو نصیحت کی ہے؟
  • انہوں نے خود کبھی مسجد اقصیٰ کی بازیابی کا دعویٰ نہیں کیا۔ البتہ وہ مسجد اقصیٰ اور صخرہ کو گرا کر ہیکل بنانے کی بات ضرور کرتے ہیں اور آپ پوری امت کے ڈیڑھ ہزار سالہ موقف ہی نہیں بلکہ اللہ کے فرمان وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا، رسول کی امامت انبیا کے مقام، حضرت عمر اور کبار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے موقف اور اس کے وقت کے ذمہ دار بنی اسرائیل (صفرنیوس) کے فیصلہ بلکہ رضامندانہ فیصلہ اور اس کے بعد سے آج تک پوری دنیا کے فیصلہ اور موقف سے انحراف کر رہے ہیں جبکہ ایلیا (بیت المقدس) خلافت عمر کے زمانے میں فتح ہوا، ہاں یہ صلحاً ہی فتح ہوا تھا اور یہ معاہدہ صلح آج تک تحریری صورت میں موجود ہے۔ آپ نے اپنے موقف میں جان ڈالنے کے لیے اس معاہدے کے ان الفاظ کو اپنی تحقیق میں جگہ نہ دی جن میں یہود کا ذکر ہے ’’ولا یسکن بایلیاء معہم احد من الیہود‘‘ تو انحراف کس نے کیا؟ امت مسلمہ نے، یہود نے یا آپ نے؟ یہود نے وہ بات کبھی نہ کہی بلکہ کسی نے نہ کہی جو آپ نے کہی۔ یہود تو اس کے برعکس یہ کہتے ہیں یہ ہماری ارض موعود ہے (مسجد موعود نہیں) بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں ہمارا دعویٰ خیبر پر ہے، مدینہ پر ہے بلکہ وہ کہتے ہیں، عظیم اسرائیل نہر نیل سے فرات تک ہے بلکہ آگے ترکی کا کچھ حصہ بھی شامل ہے۔
    کاش کہ آپ قرآن ہی کو پڑھ لیتے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پڑھیے کہ وہ یہ کہتے ہیں: نحن ابناؤ اللہ واحباؤہ  (المائدہ) بلکہ اس سے آگے آپ یہ بھی پڑھ لیتے: ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء  (آل عمران) آج کے یہود اخوان القردۃ والخنازیر ہیں۔ کچھ خیال کریں، آپ کن کو مسجد کی تولیت دلانا چاہتے ہیں۔ اللہ کا غضب لے کر لوٹنے والوں سے آپ ’’اخلاق‘‘ سے پیش آنے کو کہتے ہیں؟ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ناقابل فہم ہے۔ آپ نے اپنے ایمان کو بڑے خطرے سے دوچار تو نہیں کر دیا؟ آپ نے غور بھی کیا کہ ایسے ظالموں کو مسجد دے کر آپ کس مقام پر کھڑے ہو گئے اور آپ ان کو مسجد دے کر بھی بہرحال راضی نہ کر سکیں گے۔ یہ خطاب اللہ کے رسول سے ہے۔ آپ ان کی اہوا کی حمایت کر کے کیا پائیں گے اور کیا کھوئیں گے؟ ذرا آیت کا آخری حصہ غور سے پڑھیں۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خیر اندیش
محمد صابر اعوان/ حق نواز تنولی
معراج علی/ ذو الفقار علی

کیا علاقائی کلچر اور دین میں بُعد ہے؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ الشریعہ کے نومبر ۲۰۰۳ء کے شمارے میں رئیس التحریر جناب ابو عمار زاہد الراشدی کا مضمون بعنوان ’’خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام‘‘ شائع ہوا۔ راشدی صاحب کے طرز استدلال اور وسعت بیان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جن نکات پر قلم اٹھایا ہے، ان سب سے اتفاق کرنا پڑتا ہے سوائے آخری چند سطور کے۔ یہ سطریں مذکورہ شمارے کے سرورق پر بھی شائع ہوئی ہیں:
’’عورت کے حوالے سے ہماری موجودہ اور مروجہ روایات واقدار کا ایک بڑا حصہ ہمارے علاقائی کلچر سے تعلق رکھتا ہے جسے دین قرار دے کر ان کی ہر حالت میں حفاظت کا تکلف روا رکھا جا رہا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک حاصل کرنا اب ضروری ہو گیا ہے کہ ہر حالت میں تحفظ صرف دینی تعلیمات واقدار کا حق ہے جبکہ کلچر اور ثقافت، حالات اور ضروریات کے تغیر کے ساتھ ساتھ بدلتی رہنے والی چیزیں ہیں۔ ‘‘
اس پیراگراف میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، اس سے مجال انکار نہیں بلکہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ مذہبی طبقے کے نمائندہ افراد نے حالات وواقعات کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے بیان واظہار میں بھی جگہ دینی شروع کر دی ہے۔ خدا کرے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے۔ جہاں تک اس سے میرے اختلاف کا تعلق ہے تو وہ شاید بہت ’’نظری‘‘ سا ہے اور ممکن ہے کہ قارئین اسے محض میرے ’’وہم‘‘ پر محمول کریں۔ تاہم اپنی علمی کم مائیگی اور فکری ناپختگی کے باوجود اظہار رائے کی آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راقم حسب ذیل نکات اٹھانے کی جسارت کرے گا:
۱۔ علاقائی ثقافت، روایات اور اقدار بھی دین کا حصہ ہیں کیونکہ دین ایک ’’کل‘‘ ہے اور اہل ایمان کو دین میں پورے کا پورا ہی داخل ہونا ہے۔
۲۔ اگر علاقائی ثقافت اور روایات واقدار کو دین سے نتھی نہ کیا جائے تو بتائیے باقی بچتا ہی کیا ہے؟ گوشت پوست سے خالی ڈھانچہ اور بس۔
۳۔ راقم کی رائے میں امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی صحیح سپرٹ اس وقت تک سامنے آ ہی نہیں سکتی جب تک دین ثقافت کی سطح پر آکر معاشرتی زندگی میں رچ بس نہ جائے۔
مذکورہ نکات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمار اصل مسئلہ دین کی صحیح تعبیر ہے۔ ہم ابھی تک اجتماعی طور پر دین کی صحیح تعبیر سے محروم ہیں۔ غالباً راشدی صاحب کے بیان کردہ نکتہ کی صحیح تعبیر یوں ہوگی کہ علاقائی ثقافت اور روایات واقدار دین کی اس جہت سے متعلق ہیں جو تغیر پذیر ہے اور احوال وظروف کے تقاضوں کے گرد گھومتی ہے۔ ورنہ اگر ثقافت کو دین سے بالکل جدا تسلیم کر لیا جائے تو دین محض عبادات کا نام رہ جائے گا اور ہم نے اسے واقعتاً اور عملاً ایسا ہی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم دین اور ثقافت کو دو مختلف چیزیں شمار کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
چونکہ بات چل نکلی ہے، اس لیے لگے ہاتھوں ہم ایک اور نکتہ بیان کرنے کی جسارت کریں گے جس سے مذکورہ بحث مزید واضح ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں فلسفہ یونان کے اثرات کے تحت ماضی میں یہ رجحان بھی ابھرا کہ ’’انسان‘‘ ہی سب کچھ ہے۔ چونکہ قرآن مجید کا موضوع انسان ہے، اس لیے ہمارے فلاسفہ نے یونانی تاویلات سے بہرہ مند ہو کر ایک مخصوص طرز فکر کو پروان چڑھایا جس کا منطقی نتیجہ ’’دما دم مست قلندر‘‘ کی صورت میں نکلا۔ یہ طرز فکر دین اسلام کا Introvert (داخل رخی) ایڈیشن تھا۔ اس کے بعد جب اہل مغرب تجرباتی انداز فکر کی بدولت ترقی کے مدارج طے کرنے میں کام یاب ہو گئے تو اقبال نے اپنی مشہور کتاب ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ میں فرمایا کہ قرآن کی روش بنیادی طور پر اختباری ہے۔ قرآن مجید بار بار خارجی مظاہر عالم، چاند، ستاروں، سورج، زمین وآسمان وغیرہ پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ طرز فکر اسلام کا Extrovert (خارج رخی) ایڈیشن ہے۔ 
راقم کی نظر میں امت مسلمہ کے موجودہ احوال وظروف بتاتے ہیں کہ اس وقت ان دو طرز ہائے فکر میں کشمکش جاری ہے، حالانکہ دین نہ تو مکمل طور پر داخل رخی ہے اور نہ سارے کا سارا خارج رخی۔ دین داخلی اور خارجی عناصر کے ساتھ ساتھ تمام ممکنات پرمحیط ہے، اس لیے اس کے کسی ایک پہلو کو لے کر اسے ہی دین قرار دینا خلاف مصلحت ہونے کے علاوہ خود دین کے جامع تصور کی بھی نفی ہے۔ راقم کی ناقص رائے میں جو لوگ دین کو خارج رخی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، ان کی مثال ایسے ہے جیسے وہ کسی اندھے سے توقع رکھیں کہ وہ سورج کو دیکھ سکے گا۔ اسی طرح جو لوگ دین کو داخل رخی قرار دینے پر مصر ہیں، وہ ایسے ہیں جو اپنی بینائی کے بل بوتے پر رات کی تاریکی میں سورج کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خارج میں سورج کا ہونا بھی ضروری ہے اور دیکھنے والے کی نگاہوں میں بصارت کا ہونا بھی۔
قصہ مختصر، علاقائی ثقافت ہو، روایات واقدار ہوں یا زندگی کا کوئی دوسرا پہلو، اسے ایک وسیع تر مفہوم میں دین سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ علاقائی ثقافت کی کوئی آخری حد ہو جہاں سے آگے دین کی سرحد شروع ہو جائے؟ راقم کی رائے میں یہ محض خام خیالی اور دین کے جامع تصور کو کنفیوژ کرنے کے مترادف ہے۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’احکام فقہیہ قرآن کریم کی روشنی میں‘‘

جامعہ عربیہ مفتاح العلوم حیدر آباد سندھ کے نائب مہتمم مولانا ڈاکٹر عبد السلام قریشی نے سندھ یونیورسٹی جام شورو میں ڈاکٹریٹ کے لیے مقالہ تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کے احکام کو فقہی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ اردو میں احکام قرآن کو سمجھنے کے لیے یہ ایک اچھا مجموعہ ہے جس سے جدید تعلیم یافتہ حضرات زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکتے ہیں۔
چار سو سے زائد صفحات کی مجلد کتاب کی صورت میں یہ مقالہ مکتبہ الولی، بالمقابل ہوم اسٹیڈ ہال، فاطمہ جناح روڈ، پکا قلعہ، حیدر آباد سندھ نے شائع کیا ہے اور اس پر قیمت درج نہیں ہے۔

’’الکتاب المقبول فی صلوٰۃ الرسول ﷺ‘‘

مولانا حکیم محمود احمد ظفر نے اس ضخیم کتاب میں نماز کے مسائل تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں اور اس بات کا بطور خاص اہتمام کیا ہے کہ احناف جس ترتیب اور کیفیت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں، اس کی تمام تفصیلات اور جزئیات حدیث نبوی سے ثابت ہیں اور احناف کی نماز کو سنت رسول کے خلاف کہنے والے خود سنت وحدیث سے بے خبر ہیں۔ علماء کرام اور ائمہ مساجد کے لیے یہ کتاب خصوصی طور پر لائق مطالعہ و استفادہ ہے۔
ساڑھے سات سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب المکتبۃ الاشرفیہ، جامعہ اشرفیہ، فیروز پور روڈ، لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت درج نہیں ہے۔

’’قرآن، سائنس اور تہذیب وتمدن‘‘

معروف دانش ور ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری نے اپنی اس ضخیم تصنیف میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ قرآن کریم، سائنس اور تہذیب و تمدن کا مخالف نہیں بلکہ کائنات کے مطالعہ و تحقیق اور تسخیر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور یورپ نے سائنس اور تہذیب و تمدن میں جو پیشرفت کی ہے، اس کی اصل اساس قرآنی تعلیمات اور مسلم دانشوروں کی تحقیقات پر ہے۔
سوا پانچ سو کے لگ بھگ صفحات کی یہ مجلد کتاب دار الاشاعت، اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی نے شائع کی ہے اور قیمت درج نہیں ہے۔

’’فرہنگ سیرت‘‘

معروف روحانی پیشوا حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند جناب سید فضل الرحمن کو اللہ تعالیٰ نے اس دور میں سیرت نگاری کا خاص ذوق عطا فرمایا ہے اور وہ سیرت نبوی ﷺ پر ایک علمی و تحقیقی شش ماہی مجلہ کی ادارت کے فرائض سرانجام دینے کے علاوہ سیرت پر ایک جامع کتاب کے مصنف ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے سیرت نبوی میں مذکور ہونے والی اصطلاحات، اسما اور مقامات وغیرہ کی وضاحت کی ہے جو سیرت نبوی کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے گراں قدر تحفہ ہے۔ 
سوا تین سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، اے، ۴/۱۷ ، ناظم آباد نمبر ۴، کراچی ۱۸نے شائع کی ہے۔

’’پیش گوئیوں کی حقیقت اور دور حاضر میں ان کی تعبیر کا صحیح منہج‘‘

جناب سرور کائنات ﷺ نے قیامت سے قبل رونما ہونے والے متعدد واقعات کی امت کو پیشگی اطلاع دی ہے۔ ہر دور میں علماء امت اپنے زمانے کے حالات کی روشنی میں پیش گوئیوں کے مصداق اور تعبیرات کے بارے میں گفتگو کرتے چلے آئے ہیں۔ حافظ مبشر حسین لاہوری صاحب نے آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان پیش گوئیوں کے حوالہ سے بحث کی ہے اور مختلف تعبیرات کا جائزہ لے کر اپنے نقطہ نظر کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
پونے چار سو کے لگ بھگ صفحات کی یہ مجلد کتاب نعمانی کتب خانہ، حق سٹریٹ، اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے۔

’’قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں‘‘

یہ بھی حافظ مبشر حسین لاہوری صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے احادیث نبویہ کی روشنی میں قیامت کی نشانیوں کو ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے اور متعلقہ احادیث کی تخریج و تحقیق بھی کر دی ہے۔ 
سوا چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مبشر اکیڈمی لاہور نے شائع کی ہے اور اسے نعمانی کتب خانہ، حق سٹریٹ، اردو بازار، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’جنات کا پوسٹ مارٹم قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘

کہانت، نجوم، رمل، جفر، فال، جادو، جنات، دست شناسی اور عملیات کے حوالے سے استعمال ہونے والی دیگر اصطلاحات، فنون اور ذرائع پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے حافظ مبشر حسین صاحب لاہوری نے قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی اصلیت کو واضح کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی قرآن و سنت کی رو سے امراض کے روحانی علاج کے صحیح طریقہ کی بھی وضاحت کی ہے۔
ساڑھے چار سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب بھی نعمانی کتب خانہ نے شائع کی ہے۔

’’اسلام میں تصور جہاد اور دور حاضر میں عمل جہاد‘‘

اس کتاب میں حافظ مبشر حسین صاحب لاہوری نے جہاد کی تاریخ، اس کے احکام اور جہاد کے اسلامی تصور کا جائزہ لیتے ہوئے دور حاضر کی جہادی تحریکات کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے اور عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کا تحقیقی انداز میں تجزیہ کیا ہے۔
پونے پانچ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب بھی نعمانی کتب خانہ سے طلب کی جا سکتی ہے۔

’’فتنہ جمہوریت‘‘

مولانا حکیم محمود احمد ظفر نے یورپ کے جمہوری نظام اور اسلام کے شورائی نظام میں فرق کو علمی انداز میں واضح کرتے ہوئے اس کتاب میں یہ نقطہ نظر پیش کیا ہے کہ عالم اسلام میں یورپی انداز کی جمہوریت کے نفاذ وترویج کی کوشش ایک فتنہ ہے جس کی اسلامی تعلیمات کی رو سے گنجائش نہیں ہے۔
سوا دو سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب بخاری اکیڈمی، دار بنی ہاشم، مہربان کالونی، ملتان نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو پچیس روپے ہے۔

’’محسن انسانیت اور انسانی حقوق‘‘

ڈاکٹر حافظ محمد ثانی صاحب نے جناب نبی اکرم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی حقوق کی وضاحت کی ہے اور تاریخی حوالوں کی روشنی میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ ہی انسانی حقوق کے سب سے بڑے علم بردار ہیں اور انسانی حقوق کے بارے میں متوازن اور معتدل موقف وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔
پانچ سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب دار الاشاعت، اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی نے شائع کی ہے۔

’’مہر جہاں فروز ‘‘ (نعتیہ کلام)

گوجرانوالہ کے بزرگ استاذ پروفیسر محمد عبد اللہ جمال ادب و شعر کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں اور جناب نبی اکرم ﷺ کی مدح و نعت کے ساتھ انہیں خصوصی شغف ہے۔ زیر نظر کتاب ان کے نعتیہ کلام کا مجموعہ ہے جو بارگاہ رسالت مآب ﷺ کے ساتھ ان کے حسن عقیدت کا آئینہ دار ہے۔
یہ مجلد مجموعہ دو سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے، اس کی قیمت دو سو روپے ہے اور اسے جمال پبلشرز، ۲۔ نور باوا گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’ماہنامہ ترجمان القرآن ‘‘ (اشاعت خاص بیاد سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ )

جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی ولادت کو ایک سو برس گزرنے پر ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور نے ان کی زندگی، خدمات اور جدوجہد پر ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ تین سو چونتیس صفحات کی اس ضخیم اشاعت میں جناب قاضی حسین احمد، پروفیسر خورشید احمد اور دیگر ممتاز اہل قلم کی نگارشات شامل ہیں جن میں جماعت اسلامی کے قائدین نے مولانا مودودیؒ کے ساتھ اپنی محبت وعقیدت کے اظہار کے ساتھ ساتھ ان کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا بھی احاطہ کیا ہے۔
اس خصوصی شمارہ کی قیمت ۶۰ روپے ہے اور اسے ۵۔اے، ذیل دار پارک، اچھرہ، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’واقعات حیرت انگیز امام اعظم ابو حنیفہؒ ‘‘

معروف صاحب قلم مولانا عبد القیوم حقانی نے ’’امام اعظم ابو حنیفہؒ کے حیرت انگیز واقعات‘‘ کے نام سے امام اعظمؒ کی حسین یادوں کا ایک گلدستہ پیش کیا ہے جس نے خاصی قبولیت حاصل کی۔ اسی کا فارسی ترجمہ مولانا پائندہ محمد عظیم بدخشانی نے کیا ہے اور القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہؓ، خالق آباد، ضلع نوشہرہ، صوبہ سرحد نے اسے شائع کیا ہے۔

’’سوانح مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ‘‘

تحریک آزادی کے نامور مجاہد اور تحریک ختم نبوت و نفاذ شریعت کے عظیم داعی حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے حالات زندگی اور خدمات کا مولانا عبد القیوم حقانی نے اس کتاب میں اپنے مخصوص انداز میں تذکرہ کیا ہے اور سوا دو سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب بھی القاسم اکیڈمی نے شائع کی ہے۔

’’مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ‘‘

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی حیات وخدمات پر مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی کا معلوماتی مقالہ مولانا عبد القیوم حقانی کے پیش لفظ کے ساتھ القاسم اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔

’’معجزات سرور عالم ﷺ‘‘

میجر فتح محمد صاحب نے جناب سرور کائنات ﷺ کے معجزات کا دل نشین انداز میں تذکرہ کیا ہے اور القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد، ضلع نوشہرہ، صوبہ سرحد نے اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ ۸۰ صفحات کے اس کتابچہ کی قیمت تیس روپے ہے۔

’’قرآن اور اقلیم حیوان‘‘

انجینئر شفیع حیدر صدیقی صاحب نے اس کتابچہ میں قرآن کریم میں ذکر ہونے والے حیوانات کا دلچسپ انداز میں تذکرہ کیا ہے اور ان کے بارے میں مفید معلومات جمع کر دی ہیں۔
سوا سو سے زائد صفحات کا یہ کتابچہ دانش کدہ ،C-82، گلشن حدید فیز II، بن قاسم کراچی نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔

’’سوانح فتحیہ‘‘

شیخ القراء عارف باللہ حضرت مولانا قاری فتح محمد پانی پتی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات زندگی اور علمی و دینی خدمات پر استاذ القراء قاری محمد طاہر رحیمی صاحب نے قلم اٹھایا ہے اور حضرت شیخ کے حالات و خدمات اور علمی افادات کے ساتھ ساتھ پانی پت کے دیگر ممتاز علماء کرام اور قراء عظام کے بارے میں بھی معلومات کا ایک متنوع ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔
ساڑھے چھ سو کے لگ بھگ صفحات کی یہ مجلد کتاب ادارہ کتب طاہریہ، مسجد باب رحمت، مغل آباد ملتان نے شائع کی ہے۔

’’مسئلہ حیات النبی ﷺ پر یادگار خطبات‘‘

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے نوجوان فاضل اور مولانا حافظ مہر محمد میانوالوی کے فرزند مولانا محمد عمر فاروق صدیقی نے عقیدہ حیات النبی ﷺ کے بارے میں بزرگ علماء کرام کے خطبات کا ایک مجموعہ مرتب کیا ہے۔
سوا چار سو سے زائد صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۱۸۰ روپے ہے اور اسے مکتبہ حنفیہ، بَن حافظ جی، ضلع میانوالی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’بزم منور‘‘

لندن کے علاقہ بالہم کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا سید منور حسین سورتی کے افادات کو مولانا عبد القیوم حقانی کی سرپرستی میں مرتب کیا جا رہا ہے اور یہ اس کی پانچویں جلد ہے جس کے مضامین کا زیادہ تر تعلق سیرت نبوی ﷺ سے ہے۔ اس مجلد کتاب کے صفحات ۱۷۴ ہیں اور اسے القاسم اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔