موجودہ صورتحال اور علما کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۰ جولائی ۲۰۰۳ء کو جامع مسجد مکرم اہل حدیث ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں جماعت الدعوۃ پاکستان کے زیر اہتمام ’’علماء کنونشن‘‘ منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماے کرام اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ جماعت الدعوۃ پاکستان کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید جماعت اسلامی پنجاب کے امیر حافظ محمد ادریس، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پنجاب کے امیر مولانا محمد اعظم، مسجد مکرم کے خطیب مولانا اسعد محمود سلفی اور دیگر علماے کرام کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے بھی خصوصی دعوت پر کنونشن سے خطاب کیا۔ ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
بعد الحمد والصلوۃ! سب سے پہلے جماعت الدعوۃ پاکستان کا شکر گزار ہوں کہ اس محفل میں حاضری، آپ سے حضرات سے کچھ گزارشات پیش کرنے اور بہت سے علماے کرام کی گفتگو سننے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ جزاے خیر سے نوازیں اور ہم سب کو کچھ مقصد کی باتیں کہنے، سننے اور ان پر عمل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین
یہ محفل علماے کرام کی ہے اور موجودہ حالات میں ان کی ذمہ داریوں پر گفتگو اس کنونشن اک خصوصی موضوع ہے۔ جہاں تک علماے کرام کے حوالہ سے موجودہ صورت حال کا تعلق ہے، مجھے ’’چومکھی لڑائی‘‘ کا محاورہ یاد آرہا ہے جس میں انسان کو آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، چاروں طرف سے دشمنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سب سے بیک وقت لڑنا پڑتا ہے لیکن اس وقت دنیا میں اہل دین کو اور اسلام کی نمائندگی کرنے والوں کو جن محاذوں کا سامنا ہے اور جن جن مورچوں پر لڑنا پڑ رہا ہے، اسے دیکھ کر اس محاورے کا دامن تنگ نظر آتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ شاید اسے ڈبل کر کے بھی درپیش منظر کی پوری طرح عکاسی نہ کی جا سکے۔ مگر میں ان میں سے چند اہم محاذوں اور مورچوں کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جن پر اس وقت دنیاے اسلام کے اہل دین کو محاذ آرائی درپیش ہے۔
پہلا مورچہ تو عالمی سطح کا ہے کہ عالمی قوتوں نے یہ بات طے کر رکھی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں اہل دین کو اقتدار اور قوت میں آنے سے ہر قیمت پر روکنا ہے اور یہ باقاعدہ ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔ آپ حضرات کے علم میں ہوگا کہ پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی خلافت عثمانیہ بھی جرمنی کے ساتھ تھی اور جرمنی کی شکست کی وجہ سے وہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی۔ خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے لیے ایک طرف ترکوں کو ’’ترک نیشنل ازم‘‘ کے نام پر عربوں کے خلاف ابھارا گیا تھا اور دوسری طرف عربوں کو ان کی برتری کا احساس دلا کر ’’عرب قومیت‘‘ کا پرچم ان کے ہاتھ میں تھما دیا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں خلافت عثمانیہ کے گورنر شریف حسین کو عرب خالفت کالالچ دے کر ترکی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا گیا تھا جس کی بغاوت کے بعد عرب علاقے ترکی کی دسترس سے نکل گئے تھے۔ فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا تھا۔ عراق اور اردون پر شریف مکہ کے ایک ایک بیٹے کو بادشاہ بنا کر حجاز پر آل سعود کا قبضہ کرا دیا گیا تھا۔ اس دوران جنگ عظیم میں شکست کے بعد جب قسطنطنیہ یعنی استنبول پر برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجوں نے قبضہ کر لیا تو ترکوں کو ترکی کی حکومت کے حوالے کرنے کے لیے اتحادیوں کی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ترکی کے قوم پرست لیڈروں کو اس شرط پر ترکی کا حکمران تسلیم کیا گیا کہ وہ:
- ترکی کی حدود تک محدود رہیں گے۔
- خلافت کو ختم کر دیں گے۔
- ملک میں نافذ اسلامی قوانین منسوخ کر دیں گے۔
- اور اس بات کی ضمانت دیں گے کہ آئندہ کبھی اسلامی قوانین نافذ نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی خلافت بحال کی جائے گی۔
مصطفی کمال اتاترک اور دیگر ترک قوم پرست لیڈروں نے ان شرائط کو قبول کر کے ترکی کا اقتدار سنبھالا اور ان شرائط پر عمل بھی کیا۔ آج بھی یہی صورت حال درپیش ہے اور مغربی ممالک اپنی ان شرائط پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ ہمارے پڑوس افغانستان میں طالبان کی حکومت کا تیا پانچہ اسی جرم میں کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلامی قوانین نافذ کر دیے تھے اور خلافت کے قیام کی طرف پیش رفت کر رہے تھے، اس لیے ہمارا سب سے بڑا محاذ یہ عالمی گٹھ جوڑ ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام میں اصل رکاوٹ ہے۔ اس محاذ سے عالم اسلام کی رائے عامہ کو آگاہ کرتے ہوئے عام مسلمانوں کو بیدار کرنا اور اس گٹھ جوڑ کے خلاف منظم کرنا علماے کرام کی ذمہ داری ہے۔ یہ کام انہوں نے ہی کرنا ہے۔ اور کوئی یہ کام نہیں کرے گا اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سے کوئی توقع رکھنی چاہیے۔
ہمارا دوسرا محاذ داخلی ہے اور ہمارے حکمران طبقے اور مغربی کی تہذیب وترقی سے مرعوب حلقے ہم سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ اسلام کی کوئی ایسی نئی تعبیر وتشریح کی جائے جس میں اسلام کا پرچم بھی ہاتھ میں رہے، مغرب بھی ہم سے ناراض نہ ہو اور ہماری عیاشی، مفادات اور موجودہ زندگی کے طور طریقوں پر بھی کوئی اثر نہ پڑے۔ سود کی حرمت کی بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت نہیں چل سکتی، شراب کی بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ یہ دقیانوسی باتیں ہیں، ناچ گانے اور عریانی وفحاشی کی مخالفت کریں تو کلچر اور تہذیب کا سوال سامنے آ جاتا ہے اور نماز روزے کی پابندی کی طرف توجہ دلائیں تو زندگی کی مصروفیات کا بہانہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اب ایسا اسلام جس میں نماز کی پابندی ضروری نہ ہو، سود کو نہ چھیڑا جائے، شراب پر کوئی پابندی نہ ہو، اور ناچ گانے کے فروغ میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ہو، ہماری سابق تاریخ میں تو اس کی کوئی مثال نہیں ملتی لیکن اب اسے ’’روشن خیال اسلام‘‘ کے عنوان سے پیش کیا جا رہا ہے اور مطالبہ یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام کی سابقہ تعبیرات کو ترک کر کے اس ’’روشن خیالی اور ترقی پسندی‘‘ کو اپنا لیا جائے۔
میں اس کے جواب میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اس قسم کے اسلام کا مطالبہ طائف والوں نے کیا تھا جس کا ذکر مولانا سید سلیمان ندویؒ نے ’’سیرت النبی‘‘ میں قبیلہ ثقیف کے قبول اسلام کے تذکرہ میں کیا ہے کہ بنو ثقیف کا وفد جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ آیا اور گزارش کی کہ ہم طائف والے اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری چند شرائط ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہم شراب نہیں چھوڑ سکیں گے اس لیے کہ ہمارے ہاں انگور کثرت سے پیدا ہوتا ہے اور ہماری معیشت کا زیادہ تر دارومدار اسی پر ہے اس لیے شراب بنانا اور بیچنا ہماری معاشی مجبوری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم سود سے بھی دست بردار نہیں ہوں گے اس لیے کہ دوسری اقوام اور قبائل کے ساتھ ہماری تجارت سود کی بنیاد پر ہوتی ہے اور سود کو ختم کر دینے سے ہماری تجارت ٹھپ ہو کر رہ جائے گی۔ تیسری بات یہ کہ زنا کو چھوڑنا ہمارے لیے مشکل ہوگا اس لیے ہمارے ہاں شادیاں دیر سے کرنے کا رواج ہے اور زنا کے بغیر ہمارے جوانوں کا گزارہ نہیں ہوتا اور چوتھی بات یہ ہے کہ ہم پانچ وقت نماز کی پابندی بھی نہیں کر سکیں گے۔ ہماری ان شرائط کو منظور کر کے آپ ہمیں مسلمان بنانا چاہیں تو ہم سارے طائف والے کلمہ پڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ سیرت النبی میں مذکور ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے یہ چاروں شرائط مسترد کر دیں اور بالآخر اہل طائف نے غیر مشروط طور پر اسی طرح مکمل اسلام قبول کیا جس طرح باقی اقوام نے کیا تھا۔ لیکن آج بھی ہمارے سامنے پھر ’’مشروط اسلام‘‘ کا مطالبہ کھڑا کر دیا گیا ہے اور شرطیں بی کم وبیش وہی ہیں جو طائف والوں کی تھیں اس لیے علماے کرام کی یہ ذمہ داریہے کہ وہ عام مسلمانوں کو اس صورت حال سے آگاہ کریں اور انہیں یہ بات دلائل سے اور سیرت نبوی کی روشنی میں سمجھائیں کہ اسلام وہی ہے جو جناب نبی اکرم ﷺ نے پیش فرمایا تھا او امت چودہ سو سال سے اس پر عمل کرتی آ رہی ہے۔ اس میں کوئی کمی بیشی قبول نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اسلام کے حصے بخرے کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام جب بھی نافذ ہوگا یا جسے بھی اسلام قبول کرنا ہوگا، پورے کا پورا قبول کرنا ہوگا اور اسلام کے کیے ایک صریح حکم کا انکار بھی پورے اسلام کا انکار متصور ہوگا۔
ہمارا تیسرا محاذ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کا محاذ ہے جس نے پوری دنیا کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایک طرف اسلامی احکام وعقائد اور قوانین کے خلاف پروپیگنڈا ہوتا ہے اور اسلامی قوانین پر اعتراضات ہوتے ہیں، دوسری طرف دینی قوتوں اور اسلامی تحریکات کی کردار کشی کی مہم جاری ہے اور انہیں دشت گرد اور بنیاد پرست قرار دے کر ان کے خلاف پوری دنیا میں نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور تیسری طرف بے حیائی، ناچ گانا، عریانی اور سفلی خواہشات کو ابھار کر نئی نسل کو اخلاقی طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی اس یلغار کا سامنا بھی اہل دین نے ہی کرنا ہے اور یہ بھی علماء کرام اور دینی مراکز کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات اور مختلف اسلامی احکام وروایات کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا آج کی زبان اور اسلوب میں جواب دینا اور لوگوں کو مطمئن کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اسلامی تحریکات کی کردار کشی کی مہم کا مقابلہ کرنا اور عام مسلمانوں بالخصوص نئی نسل کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے آراستہ کرتے ہوئے مغربی تہذیب کے اثرات سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔
حضرات محترم! آج کے ماحول میں ہمیں کون کون سے چیلنج درپیش ہیں اور کن کن محاذوں کا سامنا ہے، اس کے بارے میں بہت کچھ کہنے کی ضرورت اور گنجائش ہے لیکن سردست ان چند امور پر اکتفا کرتے ہوئے آخر میں علماے کرام اور دینی کارکنوں سے تین گزارشات کرنا چاہتا ہوں:
- دینی جدوجہد سے لاتعلق نہ رہیں کیونکہ اس دور میں اس ماحول میں دین کی جدوجہد سے کلیۃً لا تعلق رہنے میں مجھے ایمان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ جس شعبے میں آپ آسانی سے کام کر سکتے ہیں، وہاں کام کریں لیکن کچھ نہ کچھ ضرور کریں۔ عملی جہاد میں حصہ لے سکتے ہیں تو بڑی سعادت کی بات ہے ورنہ زبان وقلم کے جہاد میں شریک ہوں، مال خرچ کر سکتے ہیں تو مال خرچ کریں، میڈیا کے محاذ پر کام کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس میں حصہ لیں، لابنگ کر سکتے ہیں تو یہ بھی ایک اہم شعبہ ہے، ذہن سازی اور فکری تربیت میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو اس میں حصہ ڈالیں۔ جو آپ کر سکتے ہیں، وہی کریں لیکن دینی جدوجہد میں خاموش تماشائی نہ بنیں، لا تعلق نہ رہیں اور کنارہ کشی کسی صورت میں اختیار نہ کریں کیونکہ یہ ایمان کے بھی خلاف ہے اور دینی غیرت کے بھی منافی ہے۔
- جو شخص دین کے جس شعبے میں اور دینی جدوجہد کے جس محاذ پر کام کر رہا ہے، اسے کام کرنے دیں، اس کی مخالفت نہ کریں، حوصلہ شکنی نہ کریں اور اس کے کام کی نفی نہ کریں۔ کمزوریاں برداشت کریں اور اچھائیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ اسی سے قوت پیدا ہوگی اور باہمی اعتماد پیدا ہوگا۔
- میری تیسری اور آخری گزارش ہے کہ علماے کرام اور دینی حلقے جہاں جہاں کام کر رہے ہیں، آپس میں رابطہ اور مشاورت کا ماحول بنائیں، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں، باہمی میل جول بڑھائیں اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں۔ میں ایک کارکن کے طور پر اپنے تجربے کی بنیاد پر عرض کرتا ہوں کہ جتنا کام ہم اپنی اپنی جگہ کر رہے ہیں، وہ بھی کم نہیں ہے۔ اگر ہم باہمی مشاورت اور تقسیم کار کے ساتھ اسی کام کو صحیح طریقے سے منظم اور مربوط کر لیں تو ہمارے موجودہ کام کی افادیت میں دس گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
میں ایک بار پھر محترم پروفیسر حافظ محمد سعید صاحب اور جماعت الدعوۃ پاکستان کے دیگر ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں دینی جدوجہد میں اپنا کردار صحیح طریقہ سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
پاک بھارت اتحاد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے خیالات
پروفیسر میاں انعام الرحمن
۲۲ جولائی ۲۰۰۳ء کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان شائع ہوا کہ پاک بھارت گول میز کانفرنس منعقد ہونی چاہیے جو اس امر کا جائزہ لے کہ آیا دونوں ممالک دوبارہ ایک ہونا چاہتے ہیں یا نہیں۔ مولانا نے اس سلسلے میں مشرقی اور مغربی جرمنی کی مثال دی جو نصف صدی کے بعد دوبارہ متحد ہو چکے ہیں۔
ہماری رائے میں جرمنی کی مثال کا اطلاق پاک بھارت اتحاد پر نہیں ہو سکتا کیونکہ جرمنی کی تقسیم خالصتاً اتحادی قوتوں کی پیدا کردہ تھی، جنہیں اندیشہ تھا کہ متحدہ جرمنی دوبارہ طاقت پکڑ کر ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ تقسیم ہند کا معاملہ اس سے خاصا مختلف ہے کہ اس تقسیم میں بنیادی کردار داخلی قوتوں کا تھا۔ ہمارا اشارہ ہندو مسلم اختلافات کی طرف ہے جو اب بھی قائم ہیں، لہٰذا یہ بات کہنے کی حد تک تو آسان ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین اختلافات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے عملاً ایسے کسی اتحاد کی طرف قدم بڑھانا جوے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس اتحاد کی کوئی صورت اگر پیدا ہوئی تو اس کی نوعیت وہ نہیں ہوگی جو مولانا کے ذہن میں ہے بلکہ یہ اتحاد غالباً اسٹیٹ سسٹم کے پھیلاؤ (proliferation) سے جڑ پکڑے گا۔ اس سلسلے میں یہ نکتہ مزید ذہن میں رہے کہ پاکستان کے ریاستی نظام کا پھیلاؤ کم از کم دو جہتوں کو محیط ہوگا۔ ایک تو، علاقائی تقاضوں کے پیش نظر، خطے کے اندر، مثال کے طور پر سارک اور ایکو وغیرہ کی فعالیت میں اضافے کی شکل میں، اور دوسرا اپنے اسلامی تشخص کی بقا اور اس کے مقصود پھیلاؤ کے پیش نظر عالمی سطح پر، مثلاً او آئی سی کے حق میں ریاستی اختیارات سے ممکنہ حد تک دست برداری کی صورت میں۔ چنانچہ صرف پاک بھارت اتحاد تاریخی تناظر، موجودہ عالمی ماحول اور ہمارے عزائم کے ساتھ زیادہ لگا نہیں کھاتا۔ اس ضمن میں موجودہ عالمی تناظر کے حوالے سے بعض تفصیلات زیر نظر شمارے میں ’’سماجی تبدیلی کے نئے افق‘‘ کے زیر عنوان ہماری تحریر میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
صحابہ کرامؓ کے اسلوب دعوت میں انسانی نفسیات کا لحاظ (۱)
پروفیسر محمد اکرم ورک
دعوت و تبلیغ ایک مقدس فریضہ اور کارِ انبیا ہے اور انسانی نفسیات اور فہم وشعور سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ انسان کی عملی زندگی میں قوتِ محرکہ اس کا دل اور دماغ ہے۔ اگر داعی مخاطب کے دل ودماغ کو اور اس کے فہم وشعور کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجائے تو پھر باقی کام آسان ہوجاتا ہے۔ اس لیے دعوت سے بھی پہلے داعی کے لیے اس اسلوب کا تعین ہے کہ مخاطب کے فہم وشعور میں یہ بات کس پیرایے میں پیش کرکے بٹھائی جائے اور اس حوالے سے انسانی نفسیات کے کس پہلو کو پیش نظر رکھا جائے؟ نفسیات دعوت وتبلیغ کا ہی موضوع اور فن ہے۔ مبلغ کا کام انسان سازی ہے اور اس کام میں اس کا علم اور حکمت دونوں استعمال ہوتے ہیں۔ دعوت وتبلیغ میں انسانی نفسیات کی کس قدر اہمیت ہے اور داعی کا ماہر نفسیات ہونا کتنا ضروری ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں:
’’جس طرح ایک بیج کے نشوونما پانے کے لیے تنہا بیج کی صلاحیتوں ہی پر نظر نہیں رکھنی پڑتی، بلکہ زمین کی آمادگی ومستعدی اور فصل وموسم کی سازگاری وموافقت کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے، اسی طرح کلمۂ حق کی دعوت میں مجرد حق کی فطری صلاحیتوں پر ہی اعتماد نہیں کرلینا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جن لوگوں کے سامنے وہ حق پیش کیا جارہا ہے، دعوت کے وقت نفسیاتی نقطۂ نظر سے ان کی حالت کیا ہے۔ زمینوں کی طرح روحوں اور دلوں کے بھی موسم ہوتے ہیں اور ایک داعی کا فرض ہے کہ ان موسموں سے اچھی طرح واقف ہو ۔جس طرح ایک دہقان زمین کی فصلوں اور موسموں کو پہچانتا ہے اور اسی وقت کوئی بیج ڈالتاہے جب موسم سازگار ہو۔ جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں، خواہ اپنی سادگی اور بھولے پن کی وجہ سے، یا اس خیال سے کہ حق اپنی ذاتی کشش سے خودبخود دلوں میں جگہ پیدا کرلے گا، اس کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنی اس غلطی کی سزا اپنی دعوت کی ناکامی کی شکل میں پاتے ہیں اور ان کی نیک نیتی ان کی اس بے تدبیری اور غفلت کے نتائج سے ان کو بچا نہیں سکتی،جو مخاطب کی نفسیات کی رعایت کے باب میں ان سے صادر ہوتی ہے۔ (۱)
اس سیاق وسباق میں کہا جاسکتا ہے کہ اصل قوتِ محرکہ داعی کی شخصیت ہے۔ وہ جتنا خودمتحرک ہوگا، دوسروں کو بھی اسی نسبت سے متحرک کرسکے گا اور وہ جس قدر تربیت یافتہ ہوگا، اسی قدر دوسرے افراد کے لیے بہترین مربی کا کردار ادا کرسکے گا۔ علم نفسیات سے واقفیت کی صورت میں داعی شریعت کے بہت سے احکام کو زیادہ بہتر طور پر پرکھنے اور ان کی حکمتوں کا کماحقہ اندازہ لگانے میں کامیاب ہوسکے گا جس کے نتیجے میں اس کے ایمان میں دن بدن اضافہ ہوتا جائے گا اور جب خود اسے شرح صدر ہوگا تو دوسرے لوگوں کے سامنے وہ اس کی بہتر دعوت پیش کرسکے گا۔ اگر داعی کو نفسیات کے اس فن سے مناسبت پیدا ہوجائے تو جن افراد اور جماعتوں کو اس نے مخاطب بنانا اور ان تک اپنی دعوت پہنچانی ہے، اس کے ذریعے اسے ان کی نفسیات اور جذبات ومیلانات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ مخاطب کے اوپر اثرانداز ہونے اور اس کے اندر اپنی بات کے لیے آمادگی پیدا کرنے کے سلسلے میں کن تدابیر کے اپنانے اور کن امور کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے، اسے کیوں کر تیار کیا جائے، کس طرح اس کے اندر نیکی اور بھلائی کے لیے جذبات کو ابھارا جائے اور بدی اور برائی کے محرکات سے اسے دور رکھا اور بچانے کی کوشش کی جائے؟ یہ تمام امور انسانی نفسیات کے جاننے ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں۔
اگر داعی لوگوں کی نفسیات، ذوق، مزاج اور ان کے جذبات ومیلانا ت کی رعایت نہ کرسکے تو اس چیز کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں کہ لوگ اس کی باتوں کو سنیں اور ان پر توجہ دیں۔ بلکہ اکثروبیشتر تو ایسا ہوگا کہ وہ ان کے اندر کوئی دلچسپی اور شوق پیدا کیے بغیر انھیں اکتاہٹ اور بیزاری کا شکار بنادے گا اور لوگ اس کے قریب ہونے کی بجائے دور رہنے کو زیادہ پسند کریں گے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو تاکید فرمائی:
یسّروا ولا تعسّروا، وبشّروا ولا تنفّروا (۲)
آسانیاں پیدا کرو اور لوگوں کے لیے مشکلیں کھڑی نہ کرو۔ انھیں خوشخبری سناؤ (کہ دین کے قریب آئیں اور اپنی کسی بات یا طرزِ عمل سے) دین سے متنفر نہ کرو۔
اس فرمان نبوی ؐکی یہی معنویت ہے کہ مخاطب کے سامنے بات اس طور پر رکھی جائے کہ اس کے اندر اس دعوت کی طرف رغبت اور میلان پیدا ہو اور اسے دین سے بیزار اور متنفر نہ کیا جائے۔ الغرض انسانی نفسیات کی رعایت کے بغیر دعوت کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ کی دعوت کی مقبولیت کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے ہمیشہ دعوت و تبلیغ میں انسانی نفسیات کا بھرپور خیال رکھا۔ زیر نظر سطور میں صحابہ کرامؓ کی سیرت سے اس کی چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔
انسانی طبائع کا لحاظ/وقفہ
صحیح بات بھی اگر مسلسل اور بغیر کسی وقفہ کے کہی جائے تو طبیعت اسے معمولی سمجھ کر حقیقی اثر قبول نہیں کرتی، اس لیے دعوت کا کام بغیر کسی وقفہ کے کیے چلے جانا کہ لوگ اس کو معمول کی کارروائی سمجھنے لگیں، درست طریقہ نہیں ہے۔ اس لیے داعی کا انسانی نفسیات کا عالم ہونا بھی ضروری ہے تاکہ وہ بروقت اندازہ لگا سکے کہ کہیں مخاطب پر اکتاہٹ تو طاری نہیں ہوچکی۔کیونکہ دعوت جب ذہنی اور روحانی آسودگی کا باعث نہ بنے گی تو غیر مؤثر ہو جائے گی ۔ داعی کیلئے ضروری ہے کہ وہ دعوت کے اوقات کو بے ہنگم نہ ہونے دے بلکہ لوگوں کی طلب اور شوق کو برقرار رکھنے کے لیے دعوت کا کام وقفے وقفے سے کرے، اور اس وقت بیان کرے جب لوگوں کی خواہش ہو اور ان کی طبائع دعوت کو قبول کرنے کیلئے تیار ہوں ۔ صحابہ کرامؓ بھی اس وجہ سے کہ کہیں لوگ اکتانہ جائیں ، لوگوں کے اشتیاق کے باوجود وقفہ کیا کرتے تھے۔ ابو وائلؓ روایت کرتے ہیں :
کان عبداﷲؓ یذکّر الناس فی کل خمیس فقال لہ رجل : یا ابا عبدالرحمٰنؓ لودِدتُّ انک ذکّر تنا کل یومِ ‘‘ قال : اما انہ یمنعنی من ذالک انی اکرہ ان اُملّکُم وانّی اتخوّلکم بالموعظۃ کما کان النبیﷺ یتخوّلنا بھا مخافۃ السآمۃ علینا (۳)
عبد اللہ بن مسعود لوگوں کو ہر جمعرات کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰنؓ !میری خواہش ہے کہ آپ روزانہ وعظ کیا کریں ، تو انھوں نے فرمایا : میں ایسا اس وجہ سے نہیں کرتا کہ کہیں تم پر بوجھ نہ بن جاؤں ۔ میں بھی اسی طرح ناغہ کر کے تمہیں نصیحت سناتا ہوں ۔ جس طرح رسول اﷲ ﷺ ہم کو نصیحت سنایا کرتے تھے کہ ہم بیزار نہ ہو جائیں ۔
ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے گھر کے سامنے وعظ سننے کے لیے لوگوں کا ہجوم تھا، یزید بن معاویہ نخعی نے ان کو خبر دی اور لوگوں کی خواہش سے آگاہ کیا ،لیکن وہ کافی دیر کے بعد گھر سے برآمد ہوئے اور فرمایا:
اِ نہ لیذکر لی مکانکم فما اَتیکم کراھیۃ أن املکم لقد کان رسول اﷲﷺ یتخوّ لنا بالموعظۃ فی الأیام کراھیۃ السآمۃ علینا(۴)
مجھے خبر تھی کہ آپ لوگ دیر سے میر اانتظار کر رہے ہیں ، لیکن میں اس خوف سے باہر نہیں آیا کہ کثرت وعظ آپ لوگوں کو تھکا نہ دے ، رسول اﷲﷺ ہم لوگوں کی تکلیف کے خیال سے کئی کئی دن کا وقفہ کرکے وعظ فرمایا کرتے تھے۔
چنانچہ صحابہ کرامؓ نے دعوت و تبلیغ میں انسانی نفسیات کے اس پہلو کا ہمیشہ لحاظ کیا۔ صحابہ کرامؓ اس اسلوبِ دعوت کی اہمیت اور اس کی تاثیر سے پوری طرح آگاہ تھے، اس لیے انھوں نے دوسروں کو بھی تلقین کی ۔ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اپنے نامور شاگرد عکرمہؒ کو دعوت و تبلیغ میں اس اسلوب کے اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:
حدّث الناس کلّ جمعۃ مرّۃ، فاِن أبیتَ فمرّتین، فان اکثرت فثلاث مرّات، ولاتملَّ الناس ھذا القرآنَ فلا ألفینّکَ تأتی القوم وھم فی حدیث من حدیثھم فتقصُّ علیھم فتقطعُ علیھم حدیثھم فتملَّھم ، ولٰکن أنصت فاذا أمروکَ فحدِّثھم وھم یشتھونہُ (۵)
لوگوں سے ہفتہ میں ایک بار وعظ کرو ، اگر یہ قبول نہیں تو دوبار اور زیادہ سے زیادہ ہفتہ میں تین بار وعظ کرو اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتانہ دو۔ میں تمھیں اس حال میں نہ دیکھوں کہ تم کسی جماعت کے پاس اس حال میں جاؤ کہ وہ اپنے کاموں میں سے کسی کام میں مشغول ہوں، تم ان کی بات کو قطع کر کے اپنا وعظ شروع کر دو، اس طرح تم ان کو اکتا دو گے ، بلکہ تمھیں چاہئے کہ خاموش رہو اور جب لوگ فرمائش کریں اور وہ خواہش سے سنیں ۔
ابن ابی السائبؓ تابعی ،مدینہ کے واعظ تھے۔ پیشہ ور واعظین کی طرح یہ بھی گرمی مجلس کے لیے نہایت مسجعّ دعائیں بنا بنا کر پڑھا کرتے تھے اور اپنے تقدس کے اظہار کے لیے موقع بے موقع ہر وقت وعظ کے لیے آمادہ رہتے تھے ۔حضرت عائشہؓ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا : تم مجھ سے تین باتوں کا عہد کرو، ورنہ میں بزور تم سے باز پرس کروں گی ۔ عرض کیا : اے ام المؤمنینؓ! وہ کیا ہیں ؟ آپؓ نے فرمایا :
اجتنب السجع من الدعاء ، فان رسول اﷲﷺ و اصحابہ کانوا لا یفعلون ذالک ، وقص علی الناس فی کل جمعۃ مرۃ، فان ابیت فثنتین، فان ابیت فثلاثاً ،فلا تملّ الناس ھٰذا الکتاب، ولا ألفینک تأ تی القوم وھم فی حدیث من حدیثھم فتقطع علیھم حدیثھم ولکن اترکھم فاذا جرؤک علیہ و أ مروک بہ فحدثھم(۶)
’’ دعاؤں میں عبارتیں مسجع نہ کرو کہ رسول اﷲﷺ اور آپ ﷺکے اصحاب ایسا نہیں کرتے تھے۔ ہفتہ میں صرف ایک دن وعظ کیا کرو ، اگر یہ منظور نہیں تو دو دن اور اگر اس سے بھی زیادہ چاہو تو تین دن۔ لوگوں کو اﷲ کی کتاب سے اکتا نہ دو ، ایسانہ کرو کہ لوگ جہاں بیٹھے ہوں آکر بیٹھ جاؤ اور قطع کلام کرکے اپنا وعظ شروع کر دو ۔ بلکہ جب ان کی خواہش ہو اور وہ درخواست کریں تب کہو‘‘
عمومی وضاحت پر اکتفا کرنا/ مخاطب کی عزت نفس کا خیال کرنا
اگر داعی غلطی کرنے والے کو براہ راست مخاطب کرنے کی بجائے اشارے کنایے میں اس کی غلطی کو واضح کرتا ہے تو اس صورت میں غلطی کرنے والے کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی ،نیز وضاحت کے اس عمومی انداز سے مخاطب کی طرف سے کسی قسم کے منفی ردعمل کا بھی کوئی خطرہ نہیں رہتا اور شیطان اس کے انتقامی جذبات کو ہوا دے کر انتقام کی طرف مائل نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی اس اسلوب سے مخاطب کے دل میں داعی کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے اور وہ اس کی بات کو زیادہ توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتا ہے۔
دعوت کا یہ اسلوب اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب مخاطب کی غلطی عام لوگوں سے پوشیدہ ہو، لیکن اگر اکثر لوگوں کو اس کا علم ہو، اور اسے معلوم ہو کہ اکثر لوگ یہ بات جانتے ہیں ، تو اس صورت میں دعوت و تبلیغ کا یہ اسلوب سخت زجر و توبیخ کا حامل اور غلطی کرنے والے کے لیے رسوائی کا باعث بن جاتا ہے ۔ اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس کو براہ راست سرزنش کر دی جائے اور یہ اسلوب اختیار نہ کیا جائے ۔ اگر بات بھلائی اور خیر خواہی کے جذبے سے کی جائے تو یہ ایسا انداز تربیت ہے کہ جس سے غلطی کرنے والے کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور عام لوگوں کو بھی ، بشرطیکہ اسے استعمال کرتے ہوئے حکمت سے کام لیا جائے۔ صحابہ کرامؓ نے دعوت و تبلیغ میں بارہا اس اسلوب کو اختیار کیا اور غلطی کرنے والے کو براہِ راست مخاطب کرنے کی بجائے عمومی وضاحت پر اکتفا کیا ،تاکہ مخاطب کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور اس کی اصلاح بھی ہو جائے ۔ اس اسلوب دعوت کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
ایک دفعہ حضرت علیؓ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا ، بعد میں پانی کا ایک برتن طلب کیا، اس سے وضو کرنے کے بعد باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر نوش فرمایا اور پھر فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر پانی پینے کو مکروہ جانتا ہے، حالانکہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (۷)
بیت اﷲ اگرچہ مکہ مکرمہ میں ہے لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے محسوس فرمایا کہ خود اہل مکہ میں وہ ذوق و شوق مفقود ہو رہا ہے جو بیرونی زائرین کیلئے نمونہ ہوناچاہیے۔ یقیناًیہ خرابی چند لوگوں کے عمل سے ظاہر ہوئی ہو گی، لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے کسی مخصوص فرد کی بجائے تمام اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
یا اھل مکۃ ! ما شا نُ النّا سِ یأتُو نَ شعثاً و انتم مدّھنون؟ اھلُّوا، اذا رأیتم الھلال(۸)
اے اہل مکہ ! کیا بات ہے کہ لوگ جب تمھارے پاس آتے ہیں تو ان کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں اور تم تیل لگاتے ہو؟ تم چاند دیکھ کر احرام باندھ لیا کرو۔
ابو نہیک اور عبد اللہ بن حنظلہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک لشکر میں حضرت سلمان فارسیؓ کے ساتھ تھے۔ ایک عرب نے کسی شخص کو بہت زیادہ مارا پیٹا ۔ اس شخص نے حضرت سلمان فارسیؓ کے پاس شکایت کی اس پر آپؓ نے کسی فرد واحد کو سرزنش کرنے کی بجائے تمام عربوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
یا معشر العرب ! الم تکونوا شرالناس دینا، وشرالناس داراً ، وشرالناس عیشا؟ فاعزّکم اﷲ واعطاکم اﷲ أتریدون ان تاخذوا الناس بعزۃ اﷲ ؟ واﷲ لتنتھنَّ او لیأخذنّ اﷲ مافی ایدیکم فلیعطینہ غیرکم(۹)
اے اہل عرب! کیا تم مذہب کے اعتبار سے برے لوگ نہ تھے؟ گھر بار کے لحاظ سے برے نہ تھے؟ اور زندگی کے لحاظ سے بد تر ین نہ تھے ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے تمھیں (اسلام کے ذریعے ) عزت عطا فرمائی اور نعمتیں بخشیں۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم لوگوں سے اﷲکے دئیے ہوئے شرفِ انسانی کو چھین لو ؟ اﷲ کی قسم! تم ایسی حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ اﷲ وہ سب کچھ تم سے واپس لے لے گا جو تمھارے پاس ہے اور اسے غیروں کو عطا کر دے گا۔
ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو قریش کے چند لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ نرد کھیلتے ہیں تو آپؓ نے ان کی تنبیہ کے لیے عمومی اصلاح اور وضاحت پر ہی اکتفا فرمایا ،چنانچہ آپؓ نے اہل مکہ کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
’’ اے اہل مکہ! مجھے قریش کے بعض لوگوں کی یہ شکایت پہنچی ہے کہ وہ ایک کھلونے سے کھیلتے ہیں جسے نرد شیر(پانسہ) کہتے ہیں ، اور یہ بہت مشکل چیز ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خمر اور میسر، اور میں قسم کھاتا ہوں کہ جو کوئی شخص پانسہ کھیلے اور میرے پاس لایا جائے تو میں اسے اس کے بال اور چمڑے پر سزا دوں گا اور جو اس کو لائے گا اسے مجرم کے بدن کی سب چیز یں دے دوں گا‘‘ (۱۰)
ایک دفعہ حضرت عقبہؓ بن عامر گورنر مصر نے مغرب کی نماز میں تاخیر کر دی ۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا: اے عقبہؓ! یہ کیسی نماز ہے؟ کہنے لگے کہ ایک کام کی وجہ سے تاخیر ہو گئی ۔ چونکہ عقبہؓ خود بھی صحابی رسول ﷺ تھے اور گورنر مصر تھے اس لیے حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے ان کے مقام اور مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
أما واﷲما بی الا ان یظن الناس انک رأیت رسول اﷲﷺ یصنع ھٰذا ، أما سمعت رسول اﷲﷺ یقول : لاتزال أمتی بخیر او علی الفطرۃ مالم یؤخروا المغرب الی أن تشتبک النجوم(۱۱)
اور اﷲ کی قسم ! مجھے یقین ہے لوگ گمان کریں گے کہ آپ نے رسول اﷲ ﷺکو ایسا ہی کرتے دیکھا ہو گا جبکہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے سنا ہے، میری امت ہمیشہ بھلائی پر رہے گی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب کو اتنا مؤخر نہ کرنے لگیں کہ ستارے خوب نمایاں ہو جائیں ۔
اس قسم کی اور بھی مثالیں سیرتِ صحابہ میں ملتی ہیں جن میں مشترک چیز یہ ہے کہ غلطی کرنے والے کو شرمندہ نہ کیا جائے۔ غلطی کرنے والے کو براہِ راست مخاطب نہ کرنے اور اشارہ سے اس کی غلطی واضح کرنے کے اس اسلوب میں بہت سے فوائد ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
- غلطی کرنے والے کی طرف سے منفی رد عمل کا خطرہ نہیں ہوتا اس طرح شیطان اس کے انتقامی جذبات کو ہوا دے کر انتقام کی طرف مائل نہیں کر سکتا۔
- اس اسلوبِ دعوت کا قلبِ انسانی پر گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان فوراً اپنی اصلاح کرلیتا ہے۔
- اس سے غلطی کرنے والے کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے غلطی کرنے والے کے دل میں داعی اور نصیحت کرنے والے کی قدر و منزلت اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
- دعوت کا یہ اسلوب اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب مخاطب کی غلطی عام لوگوں سے پوشیدہ ہو، لیکن اگر لوگوں کو اس کا علم ہو تو اس صورت میں اس کو براہ راست تنبیہ کر دینا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اگر سب کے سامنے اس کو تنبیہ کی جائے گی تو یہ سب کے سامنے اس کی رسوائی کا باعث بن جائے گی اور اس صورت میں اس کی طرف سے کسی قسم کا منفی ردِ عمل بھی ممکن ہے۔
مناسب طلب/ آمادگی کا ہونا
مناسب طلب اور ذہنی آمادگی کے بغیر دنیا کا کوئی کام بھی انسان خوش اسلوبی اور کامیابی سے انجام نہیں دے سکتا ۔دعوت و تبلیغ کے لیے بھی ذہنی آمادگی اولین شرط ہے۔ جب کوئی شخص کسی مسئلہ کو جاننے کی خواہش کرے، اس کے بارے میں سوال کرے ، اور اس کا دل اس کی طرف متوجہ ہو ، اس وقت مسئلہ بتانے سے اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ پختگی سے ذہن نشین ہو جاتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر سوال کیے بغیر اور جذبۂ شوق کو ابھارے بغیر معلومات دی جائیں تو اس قدر فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ اس لیے کارِ دعوت میں مشغول ہر شخص کو مخاطب کی ذہنی آمادگی کا لحاظ رکھنا چاہیے، تاکہ اس کی دعوت مؤثر ہو ۔صحابہ کرامؓ کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جب تک مخاطب کی ذہنی آمادگی اور خلوص نیت کا جائزہ نہ لے لیتے اس وقت تک اس کو دعوت نہ دیتے تھے۔
قیس بن کثیر سے روایت ہے کہ حضرت ابو الدرداءؓ دمشق میں تھے کہ ان کے پاس ایک شخص مدینہ سے حاضر ہوا ، آپؓ نے اس سے پوچھا : اے بھائی ! کس مقصد کیلئے آئے ؟ اس نے کہا : میں آپؓ سے صرف حدیث رسول ﷺسننے حاضر ہوا ہوں ، تو فرمایا : کسی اور حاجت یا تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ؟ تو اس نے کہا :
ما جئتُ الاّ فی طلب ھذا الحدیثِ
میں تو صرف طلب حدیث کیلئے آپؓ کے پاس آیا ہوں
چنانچہ جب حضرت ابوالدرداءؓ نے اس کے خلوص کو اچھی طرح پرکھ لیا اور حدیثِ رسول ﷺ کی طلب میں اس کو پوری طرح آمادہ پایا تو اس کے سامنے حدیث بیان کی۔ (۱۲)
حارث بن معاویہ الکندی کا بیان ہے کہ وہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں سوار ہو کر آئے، چنانچہ جب وہ مدینہ میں داخل ہوئے تو حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا کہ آپ کس وجہ سے آئے ہیں ؟ بولے : تاکہ آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کروں ۔ فرمایا : وہ تین چیزیں کیا ہیں ؟ بولے:
ربما کنت أنا والمرأۃ فی بناء ضیق فتحضر الصلٰوۃ فان صلیت انا وھی کانت بحذا ئی ، وان صلیت خلفی خرجت من البناء ‘‘ فقال عمرؓ ’’ تستر بینک وبینھا بثوب ثم تصلی بحذائک ان شئت ، وعن الرکعتین بعد العصر ، فقال : نھانی عنھما رسول اﷲﷺ ، قال : وعن القصص فانھم أرادونی علی القصص فقال : ما شئت(۱۳)
’’ بسا اوقات میں اور میری بیوی ایک تنگ مکان میں ہوتے ہیں کہ نماز کا وقت آجاتا ہے ، اگر میں نماز پڑھوں تو وہ میرے سامنے ہوتی ہے اور اگر میں تھوڑا پیچھے ہو کر نماز پڑھوں تو وہ مکان سے باہر نکل جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : تو اپنے اور اس کے درمیان ایک کپڑے سے پردہ کر لے پھر تم اپنے سامنے والے حصہ میں اگر چاہو تو نماز پڑھ لو۔ اور جہاں تک عصر کے بعد دو رکعتوں کا سوال ہے تو رسول اﷲ ﷺنے مجھے اس سے منع فرمایا ہے ۔ حارث الکندی نے کہا کہ لوگ مجھ سے وعظ گوئی کا مطالبہ کرتے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا : جو تمہاری مرضی ہو‘‘۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید جس قدر جلدی پڑھ کر ختم کر لیں اسی قدر زیادہ ثواب ملے گا۔ ایک شخص حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے ام المؤمنین ! لوگ ایک شب میں قرآن دو دو ، تین تین بار پڑھ لیتے ہیں؟ فرمایا : ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں برابر ہیں ۔ رسول اﷲﷺ تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے لیکن سورہ بقرہ ، آل عمران اور نساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے (گویا انھیں تین سورتوں تک پہنچتے پہنچتے رات آخر ہو جاتی تھی) جب کسی بشارت کی آیت پر پہنچتے تو خدا سے دعا مانگتے اور جب کسی وعید کی آیت پر پہنچتے تو پناہ مانگتے۔(۱۴)
حوالہ جات
(۱) اصلاحی ،امین احسن،’’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘‘: ص: ۱۳۳،فاران فاؤنڈیشن،لاہور
(۲) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب ما کان النبیﷺ یتخولھم بالموعظۃ الحسنۃ..... ح: ۶۹، ص:۱۷۔ صحیح البخاری، کتاب الادب، با ب قول النبیﷺ: یسّروا ولاتعسّروا، ح: ۶۱۲۵، ص:۱۰۶۷
(۳) صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من جعل لاھل العلم ایاماً معلومۃ،ح:۷۰، ص: ۱۷۔ ایضاً،کتاب الدعوات،باب الموعظۃ ساعۃ بعدساعۃ،ح:۶۴۱۱،ص:۱۱۱۳۔ صحیح مسلم،کتاب صفۃ المنافقین واحکامھم،باب الاقتصاد ،فی الموعظۃ ،ح:۷۱۲۷،ص:۱۲۲۷
(۴) المسند، مسند عبد اللہ بن مسعود، ح: ۴۰۳۱ ،۳۵۷۱ ، ۱/۶۲۳۔ صحیح البخاری،کتاب االدعوات،باب الموعظۃ ساعۃ بعد ساعۃ،ح:۶۴۱۱،ص:۱۱۱۳
(۵) المسند، حدیث السیدۃ عائشہؓ، ح،۲۵۲۹۲، ۷/۳۱۰
(۶) صحیح البخاری،کتاب الدعوات، ما یکرہ من السجع فی الدعا، حؒ ۶۳۳۷،ص۱۱۰۲
(۷) المسند،مسند علیؓ بن ابی طالب، ح:۷۹۹،۱/۱۶۴
(۸) الموطا،کتاب الحج،باب ہلال مکۃ ومن بھا من غیرھم،ح:۳۸۱،ص:۲۳۰
(۹) حلیۃ الاولیاء ،تذکرہ سلمان الفارسیؓ،۱/۲۶۰
(۱۰) الادب المفرد، باب الادب و اخراج الذین یلعبون بالنرد......ح:۱۲۷۵،ص:۳۲۸
(۱۱) المسند،حدیث ابی ایوب انصاریؓ،ح:۲۳۰۷۰ ۶؍۵۸۶
(۱۲) جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ح:۲۶۸۲،ص:۲۰۹۔ المسند،حدیث ابی الدرداءؓ،ح:۲۱۲۰۸،۶/۲۵۴
(۱۳) المسند، مسند عمر بن الخطابؓ،ح:۱۱۲ ، ۱/۳۲
(۱۴) المسند، حدیث السیدۃ عائشہؓ، ح: ۲۴۳۵۴، ۷/۱۷۱
(جاری)
سماجی تبدیلی کے نئے افق اور امت مسلمہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
(مذہبی حلقوں میں دعوت دین، معاشرے کی اصلاح وتربیت اور اہل مذہب کے معاشرتی کردار کا تصور ایک مخصوص طریقے پر چند ظاہری ’واجبات‘ کی ادائیگی تک محدود ہو چکا ہے۔ معاشرہ کیا ہے؟ اس کے اجزاے ترکیبی اور اس میں کارفرما مختلف قوتیں کون سی ہیں؟ بالخصوص دور جدید میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اذہان وافکار کا رخ متعین کرنے میں کن عوامل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے؟ اور کسی مخصوص معاشرے میں فکری اور عملی تبدیلی لانے کے لیے حکمت عملی کن اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے؟ یہ اور اس نوعیت کے دیگر سوالات ہمارے غور وفکر کے دائرے سے بالکل خارج ہیں۔ امت مسلمہ کی منصبی ذمہ داری ہونے کے تعلق سے یہ موضوع جس قدر اہمیت کا حامل ہے، اسی قدر تشنہءِ بحث ہے۔ زیر نظر تحریر میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب نے اس حوالے سے اپنے نتائج فکر پیش کیے ہیں اور ہم اس توقع کے ساتھ اسے شائع کر رہے ہیں کہ اہل علم اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے خیالات سے ہمیں مستفید فرمائیں گے۔ مدیر)
اپنے ظہور کے بعد سے انسانی معاشرہ نوع بہ نوع تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتا چلا آ رہا ہے۔اکیسو یں صدی میں یہ تبدیلیاں رفتار اور نوعیت کے اعتبار سے منفرد کہی جا سکتی ہیں۔اس وقت انسانی آبادی کی بہتات اور اس سے جنم لیتے مختلف النوع مسائل جہاں فکر انگیز ہیں، وہاں تبدیلی کی لہر کو انگیخت کرنے میں بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ افراطِ آبادی اور کرپشن سے لے کر توانائی اور پانی کے بحران تک بڑے بڑے مسائل ایسے ہیں جن پر دنیا بھر میں بحث ومباحثہ جاری ہے کہ ان پر کیونکر قابو پایا جا سکتا ہے۔ موجودہ عہد میں عالمی سطح پر جہاں تک نظامات (Systems) کا تعلق ہے، ان کی تشکیلِ نو اور تبدیلی کو کلی (Macro) اور جزوی (Micro) دو سطحوں پر پھیلا کر دیکھا جا سکتا ہے۔
جزوی تبدیلی کے تحت دنیا بھر میں ’’مقامی حکومتِ خود اختیاری‘‘ کی تشکیلِ نو ہو رہی ہے، جیسا کہ مشرف حکومت کے تحت پاکستان میں بھی یہی عمل دیکھنے میں آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرا عنصرلا مرکزیت (Decentralization) ہے کہ ریاستی سطح پر مرکزی حکو متیں ، اختیارات کو نچلی سطح (Gross Root Level)تک منتقل کررہی ہیں۔ یہ رجحان صرف وفاقی ریاستوں میں ہی نہیں جہاں صوبائی حکو متوں کی ’’دستوری‘‘ حیثیت ہوتی ہے،بلکہ وحدانی ممالک بھی تیزی سے اس طرف مائل ہو رہے ہیں ۔اگر ہم آبادی کی بہتات اور دیگر جدید مسائل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی افادیت کے ساتھ نتھی کر کے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ’’ضلعی نظام‘‘ ہی در حقیقت لامرکزیت کا محور و مصدرہے۔ مرکزی حکو متوں کو لا محالہ اس نظام کو در پیش چیلنجوں او ر تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے با اختیار بنانا ہو گا۔درپیش تقاضوں کی وضاحت کے ضمن میں فقط یہی بیان کافی ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے اور نائن الیون کے واقعہ کے بعد دفاع اور سلامتی کے لیے ریاستی ذمہ داریاں بہت زیادہ بدل گئی ہیں، لہٰذا مرکزی حکومتوں کو ترجیحات میں مجبوراً اتھل پتھل کر نے کے ساتھ ساتھ بنیادی نوعیت کی (Structural Changes)کرنی پڑ رہی ہیں۔ خیال رہے کہ افراطِ آبادی نے ہی ’’براہ راست‘‘ کی جگہ ’ ’نمائندہ جہوریت‘‘ کے لیے راہ ہموار کی تھی، اسی طرح اب لا مرکزیت اور ضلعی نظام کے لیے آبادی کی بہتات نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
کلی تبدیلی کے حوالے سے نمایاں رجحان گلوبلائزیشن کا ہے جس کے اثرات کے تحت ریاستی شان و شوکت گہنا گئی ہے۔ ورلڈ بینک ،آئی ایم ایف ،ڈبلیو ٹی او ،اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اس عمل کو تیز کر رہی ہیں ۔عالمی سطح پرتبدیلی لانے کے اعتبار سے دوسرا عنصر ’’علاقائی اتحاد‘ ‘ (Regional Integration)ہے۔ یورپی یونین، آسیان، سارک، ایکو، عرب لیگ، اور افریقہ وامریکہ کی علاقائی تنظیمیں اس عنصر کے پھلنے پھولنے اور اس کی افادیت پر دال ہیں۔ موجودہ عالمی حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ مذکورہ اتحادات، گلوبلائزیشن کا رخ اورکردار متعین کرنے میں بنیادی اور محوری اہمیت اختیار کر جائیں گے۔
عالمی نظام کی تشکیلِ نو اور تبدیلی کے کلی اور جزوی تصور کے بعد اس امر کا احساس ہو جاتاہے کہ عہدِ جدید میں ریاست کا کردار (Middle Man)کا ہو گا یا (Buffer Zone) کا، کہ ریاست کو ایک طرح سے فلٹریشن کرنی ہو گی اور وہ بھی ریاستی قوت کے بجائے سماجی عوامل کے ذریعے سے۔لہٰذا ’’وچولے کے کردار‘ ‘ کو ذمہ دارانہ انداز سے پورا کرنے کے لیے ریا ست کوطریقہ ہائے کار (Methods) میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں (Structural Changes) لا کر اپنی مجموعی نفسیات تبدیل کرنا ہو گی، کہ آخرکار یہ ریاست ہی ہے جسے اپنے اختیارات سے دستبردار ہونا ہے، اس کی صورت چاہے ا ختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہو یا کسی علاقائی اتحاد میں شمولیت کو’فعال‘ بنانا۔
مذکورہ بحث سے یہ مطلب ہر گز اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ ریاست کا اقتدارِاعلیٰ (داخلی اور خارجی)آخری دموں پر ہے ۔(خیال رہے یہاں اقتدارِ اعلیٰ سے مراد مغربی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ نہیں ، بلکہ صرف سپریم اتھارٹی کا ذکر مقصود ہے۔اب اہلِ مغرب کو بھی اسلامی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ اس کی مزید تفصیل آئندہ سطور میں آئے گی) راقم کی رائے میں تو ریاست کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے کہ اب اسے قوت و طاقت کے بجائے ذمہ دارانہ انداز سے اپنا نیا کردار تسلیم کرنا ہو گا تا کہ اس کے شہری نئے عالمی نظام کے مرکزی دھارے (Main Stream) سے باہر نہ ہونے پائیں۔ اس وقت عالمی نظام کی تشکیلِ نو اور تبدیلی کے کلی اور جزوی عناصر کی افادیت و اہمیت کے ’’اضافی‘ ‘ پہلوؤں پر نظر رکھنا ریاستی ترجیح ہونی چاہیے کہ اسی اضافیت میں ضلعی سے صوبائی، صوبائی سے قومی، قومی سے علاقائی اور علاقائی سے عالمی ربط و تعامل کے امکانات مضمر ہیں، اور انھی امکانات کے توسط سے عالمی نظام کی مثبت تشکیلِ نو ممکن ہو سکے گی۔اس ضمن میں یورپی ریاستوں کی کار کردگی مثالی قرار دی جا سکتی ہے کہ ان کے ہاں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ساتھ ساتھ علاقائی اتحاد کو فعال بنانے کے اعتبار سے پہلوتہی نہیں برتی گئی۔
بحث کے اس مقام پر ایک نہایت اہم نکتے کی صراحت ضروری ہے اور اسی نکتے کو زیر نظر تحریر کے بنیادی محور کی حیثیت حاصل ہے، کہ قاعدہ وقانون اور آئین و دستور کی بیساکھیاں ’’قربت‘‘ کی پینگیں بڑھانے میں ممدو معاون ہونے کے باجود ’’بیساکھیاں‘‘ ہی ہوتی ہیں، اگر ان کے پسِ پشت ’’سماجی منظوری‘‘ موجود نہ ہو۔اقوام و ملل کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ایسا قانون، دستور یا نظام کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکا جو مروجہ روایات و رواجات سے ہٹ کر تشکیل دیا گیا ہو۔ مثلاً امریکہ میں شراب پر دستوری ترمیم کے ذریعے سے پابندی لگائی گئی، لیکن سماجی منظوری نہ ہونے کے سبب یہ ناکامی سے دوچار ہوئی اور دوبارہ دستوری ترمیم کے ذریعے سے یہ پابندی ختم کر دی گئی کہ غالباً اس کی خلاف ورزی سے دیگر ایسے قوانین کی بابت بھی قانون شکنی کا رجحان جڑ پکڑ سکتا تھا جن کے پیچھے سماجی منظوری موجود تھی۔ (یہاں یہ ذہن میں رہے کہ عہد رسالت میں بھی شراب پر فوری پابندی عائد نہیں کی گئی تھی) اس نکتے کے بیان کے بعد اب غور طلب بات یہ ہے کہ یورپ میں، جہاں ’’قوم پرستی‘‘ عروج پر تھی اورجہاں توازنِ طاقت جیسے حیلوں بہانوں کے ذریعے قتل و غارت کا بازار گرم رہا، وہاں مفاہمت ، اشتراک اور باہمی تعاون کی درخشندہ مثال قائم کی جا رہی ہے۔ راقم کی نظر میں یورپی یونین کے علاقائی اتحاد کے پسِ پشت سماجی منظوری تسلی بخش حد تک موجود ہے، یعنی یہ اتحاد محض چندمدبروں، دانشوروں اورپالیسی سازوں کی دماغی اپج (Brain Child) نہیں، بلکہ یورپی عوام نے قومیت کے راسخ تصور سے ماورا ہو کر اسے (ا س وقت) عملی جامہ پہنایا ہے۔ یہاں اس بات کا بیان ضروری معلوم ہو تاہے کہ مذکورہ سماجی منظوری کے حصول کے لیے عملی پیش رفت دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد شروع کر دی گئی تھی (مثلاً ۱۹۴۸ء کا برسلز ٹریٹی جسے (WEU) یعنی ویسٹرن یورپین یونین کہا جاتا ہے ، ۱۹۴۹ء کی کونسل آف یورپ اور ۷۰ء کے عشرے کی (OSCE) یعنی Organization for Security and Co-operation in Europe وغیرہ ) لہٰذانیشنل ازم کے بے مروتی پر مبنی متعصبانہ اور سخت انتظامی گرفت کے نظام (Administrative Command System)کی جگہ قومی خود آگاہی وخود شناسی (National Self-awareness)کو متعارف کروایا گیا، یعنی نیشنل ازم میں ’ازم‘ کو دیس نکالا دے دیا گیااور قومی خود آگہی کے توسط سے دوسری اقوام کے وجود اور حق بقا کو تسلیم کرنے کی نئی راہ تراشی گئی جو نئی منزلوں کی طرف لے جانے والی ہے۔ راقم کی نظر میںیورپی یونین کے آغاز اور ارتقا کی مخصوص نوعیت اس کے بطور کثیر قومی ریاست (Multinational State) ابھرنے پر دال ہے ، کہ ثقافتی وتاریخی افتراق اور قومی روایات کو دبانے کے بجائے سماجی تعامل کے ذریعے سے انہیں ’’ہم آہنگ‘‘ کیا جا رہا ہے۔ یہاں بدیہی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے میں کون سے عوامل و محرکات بنیادی قرار دیے جا سکتے ہیں؟ طوالت سے بچنے کی خاطر ان کی محض نشان دہی کا فی ہو گی:
۱۔داخلی سلامتی، یعنی امن و امان کی مخدوش صورتِ حال اور دہشت گردی کی کارروائیاں، مثلاً نائن الیون سے پہلے امریکہ میں ۳۵۰۰۰ سے ۴۰۰۰۰ تک ہوائی جہاز پرواز اور لینڈ کرتے تھے اور تقریباً ۲ ملین مسافر اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے تھے، تو کیا روزانہ ۲ ملین لوگوں کو چیک کرنا ممکن ہے؟ لہٰذا زمینی حقیقت کی روشنی میں اس کا عملی اور پائیدار حل نکالنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے،جیسا کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے متعلق کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ اندریں صورت اقوام باہمی روابط کو پختہ کر رہی ہیں۔
۲۔ شہری آبادی اور علاقوں میں اضافے کا رجحان،
۳۔ماحولیاتی آلودگی،
۴۔منشیات کا مسئلہ،
۵۔ملٹی نیشنل کمپنیاں،
۶۔انٹر نیٹ اور ذرائع ابلاغ کے عالمی چینلز۔
مذکورہ عوامل پر بحث سے قطع نظر اس بات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کہ منظم نظاماتی تشکیلِ نو کے وقوع پذیر ہونے میں درکار وسیع سماجی تبدیلی کے نا گزیر لوازمات کون سے ہیں کہ سماجی رویے میں تبدیلی کے بغیر تشکیلِ نو کا عمل بار آور نہیں ہو سکتا۔ راقم کی رائے میں یہ لوازمات کم از کم سات ہیں:
۱۔آفاقی شعور،
۲۔تہذیبی و ثقافتی تنوع میں ’’اضافیت‘‘ کی تلاش،
۳۔میڈیا اور لٹریچر،
۴۔تعلیمی منصوبہ بندی میں سماجی تبدیلی پر ترکیز (Focus) کرنا ،
۵۔ کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کا کردار،
۶۔منظم گروہ بندیاں،
۷۔سپانسر شپ کی متوازن تقسیم۔
(۱) جہاں تک آفاقی شعور کا معاملہ ہے، یہ لوازمات میں سے انتہائی بنیادی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے وقوع پذیر ہونے میں بھی مذکورہ بالا لوازمات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن چند بنیادی تقاضوں کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاً:
- تاریخی اعتبار سے، کہ مطالعہ تاریخ کو درست اور غیرجانبدارانہ روش پر پروان چڑھایا جائے۔ تاریخی واقعات سے جذباتی وابستگی کے بجائے ان سے اصول اخذ کیے جائیں ۔راقم کو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اگر یورپی اقوام آج اپنے تاریخی واقعات کو جذباتی انداز میں اپنے سماجی رویوں میں سمونا شروع کر دیں تو واپس اٹھارویں صدی میں پہنچ جائیں گی۔
- سماجی اعتبار سے ، کہ رواداری ، عدمِ تشدد ، برداشت اور مواخات کو فروغ دیا جائے، ان صفات کی اسی طرح تشہیر کی جائے جیسا کہ انسانی حقوق، بہبودِ آبادی اور چائلڈ لیبر وغیرہ کی ، کی جاتی ہے۔
- انفرادی اعتبار سے، کہ’میں‘ کی نفی کرتے ہوئے ’میں‘ کی شناخت حاصل کی جائے، جیسا کہ اوپر کی سطور میں نیشنل ازم کی بابت ذکر ہوا۔اب ریاست کے روایتی کردار کے بدلے جانے سے فرد کو بھی بحیثیت شہری تبدیلی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ اس ضمن میں اسے ریاست سے متعلق اپنی توقعات اور مطالبات کی نوعیت پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔
(۲) تہذیب و ثقافت کا معاملہ خاصا گھمبیر اور پیچیدہ ہے کہ یہ انفرادی سے زیادہ اجتماعی ہے اور اجتماعی یا گروہی نفسیات کو جدوجہد کا ہدف بنانا جان جوکھوں کا کام ہے ۔ کسی بھی گروہ کی نفسیات اس بچے سے بہت مماثلت رکھتی ہے جو نامعلوم عفریت کے خوف سے اندھیرے میں جانے سے ڈرتا ہے ۔راقم کی ناقص رائے میں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا ایک دوسرے کی بابت رویہ اسی قسم کا ہے۔ مثلاً مشرق کو اہلِ مغرب خاصے طویل عرصے تک ’’پراسرار‘‘ خیال کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح مغرب کے متعلق اہل مشرق کی یہ ’’طے شدہ‘‘ رائے بلکہ فیصلہ ہے کہ ان کی تہذیب و ثقافت ، بے حیائی اور گمراہی کی نیو پر قائم ہے اور پاکیزگی اور ثواب پر مستقل اجارہ داری خیر سے صرف مشرق کا حق ہے۔ اس انتہا پسندی سے بچنے کی خاطر ’نامعلوم‘ میں چھلانگ لگانی پڑے گی، جس سے ہماری گروہی نفسیات ابھی تک پہلوتہی برت رہی ہے۔ تہذیب و ثقافت کی ’’حیات بخش‘‘ آگ میں، نامعلوم کی حیثیت ایک طرح سے ایندھن کی ہے کہ اسی کے طفیل تہذیب و ثقافت ’’متحرک قوت‘‘ کے روپ میں معاشرتی سطح پر تخلیقی عمل جاری رکھتے ہیں۔ مذکورہ عمل کے بغیر کسی بھی گروہ کی تہذیبی و ثقافتی زندگی مردہ ہو جاتی ہے۔ جس طرح آگ کے کمزور پڑنے پر اگر فوراً ایندھن نہ جھونکا جائے تو بعد میں چاہے کتنا ہی ایندھن ڈالا جائے، آگ روشن نہیں ہو تی، حالانکہ ایندھن میں جلنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے لیکن خود آگ میں ایندھن کو جلانے کی قوت باقی نہیں رہتی ۔ اسی طرح تہذیب و ثقافت کو اگر بر وقت نامعلوم سے’ آشنا ‘نہ کیا جائے تو بعد کی کثیر کاوشیں بھی رائیگاں جاتی ہیں ۔ یہاں راقم یہ کہنے سے محترز نہیں کہ نامعلوم کی قبولیت ، اضافیت پسندی کے بغیر ممکن ہی نہیں ، لہٰذا ہر تہذیب اور ہر ثقافت کو زندہ رہنے کے لیے ’’طرز کہن پہ اڑنا‘‘ کے رویے کو خیر باد کہنا ہو گا ۔
(۳) سماجی تبدیلی کے لیے درکار لوازمات میں میڈیا کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔میڈیا کے حوالے سے ایک بات بہت اہم ہے کہ کاروباری مفادات کو پورا کرنے والی تفریح (Commercial Entertainment) کے بجائے سماجی عملیت (Civic Activism) کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اس زمینی حقیقت کے باوجودکہ عالمی معاشرہ مجموعی طور پر صارفین کا معاشرہ ہے نہ کہ شہریوں کا، اور یہ کہ سماجی شعبے کے بجائے مارکیٹیں ہی بیشتر سماجی ایشوز کی نوعیت واہمیت کو متعین کرتی ہیں، یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ میڈیا کا کام، مروج رجحانات کے تسلسل میں مداخلت کرنا بھی ہے۔اس سلسلے میں جنوبی افریقہ کے ایک پروگرام کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہاں (Soul City Multimedia Project) کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت پیشہ ور سکرین رائٹرز اور پبلک ہیلتھ کے پیشہ ور ماہرین کے اشتراک سے مختلف پروگرام پیش کیے گئے ،مثلاً سگریٹ نوشی، بچوں کا استحصال اور ایڈز وغیرہ کے متعلق ڈرامے دکھائے گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آٹھ زبانوں میں ریڈیو پروگرام اور اخبارات میں فیچر کالم وغیرہ کا بھی اہتمام کیا گیا اور مقبولِ عام مزاحیہ کتب کو ڈاکٹروں کے آفس ، کمیونٹی سینٹرز میں رکھا گیا۔ اس تمام عمل کی بدولت صحت عامہ کے متعلق تربیت میں ’’اختراعی رجحانات‘ ‘ کو زبردست پذیرائی ملی۔اس تجربے کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے سماجی تبدیلی کے لیے مربوط ومنضبط پروگرام تشکیل دیے جا سکتے ہیں، مثلاً:
۱۔مہاجرین کی زندگی پر فلمیں اور ڈرامے،
۲۔مختلف برادریوں کے درمیان شادی وغیرہ سے متعلق ناول، افسانے، شاعری کے فن پارے اور ٹی وی، سینما پر ان کی کوریج ،
۳۔ ورکنگ لائف اور بڑھتی عمر کے مسائل جیسے موضوعات پر طبع آزمائی،
۴۔انٹر نیٹ چیٹ رومز کو منظم کرنااور انھیں مستقبل کے ایک نئے معاشرتی ادارے کے طور پر قبول کرنا۔
(۴) وسیع پیمانے پر سماجی تبدیلی لانے کے لیے تعلیمی منصوبہ بندی میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں لگے بندھے اور جامد تصورات ہی کو دہرائے چلے جانے کے بجائے آرا وافکار میں تنوع (Pluralism of Views) اور اختلاف رائے کو فروغ دینے کی حیثیت کلیدی ہے ، تاکہ دنیا کی بابت دبے د بے اظہار کے بجائے خیالات کا تنوع سامنے آ سکے۔ اس لازمے سے عمدہ طریقے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مذکورہ بالا میڈیا پروگرامز کو بھی تعلیمی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہو گااور تعلیم کے روایتی کردار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نصاب میں عصری موضوعات کو اجاگر کرنا ہو گا۔
(۵) سماجی تبدیلی میں کھیلوں کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ باکسر محمد علی کلے سے لے کر جنوبی افریقہ کے ہنسی کرونیے، انڈیا کے اظہرالدین، انگلینڈ کے ناصر حسین اور ڈیوڈ بیکھم، پاکستان کے عمران خان اور یوسف یوحناتک ایسے بہت سے سپورٹس مین ہیں جو معاشرتی رویے کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا رخ بھی متعین کر سکتے ہیں ۔ پچھلے دنوں انگلش فٹ بالر ڈیوڈ بیکھم اس حوالے سے موضوع سخن بنا رہا کہ وہ سپین کے ایک کلب کو جائن کر رہا ہے۔ غالباً انگریزوں نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دی ہو گی کہ سپین بھی یورپ کا حصہ ہے، وہی سپین جس کے ساتھ انگلینڈ کی کئی جنگیں ہوئیں۔ اگرچہ اب بھی کئی قوم پرست ہوں گے لیکن ان کی آواز زوردار نہیں رہی ۔ اسی طرح پاکستان میں عمران خان نے ایک نئے سماجی رویے کو جنم دیا تھا ۔ شوکت خانم ہسپتال کی مہم کو مزید مختلف جہتوں میں پھیلایا جاتا تو پندرہ بیس برسوں میں ایک صحت مند مواخاتی رویہ تشکیل پا سکتا تھا۔ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر معاشرے کی تقسیم اور تعصب کے حوالے سے محمد علی کلے اور محمد اظہرالدین ’’کیس سٹڈی‘ ‘ کے موضوع قرار دیے جا سکتے ہیں۔محمد علی کلے معاشرے میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج کے اعتبار سے عدم تشدد کے رویے کی علامت ہے۔ اس کے احتجاج نے امریکی معاشرے پر ان مٹ نقوش چھوڑ نے کے ساتھ ساتھ نئے معاشرتی رویے کو بھی مہمیز کیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے آنجہانی ہنسی کرونیے کا کردار اس اعتبار سے قابلِ تحسین رہا کہ اس نے غلطی کا اعتراف کرلیااور عوامی سطح پر کرپشن کے خلاف اعترافی رویے کی طرح ڈالی۔ اب وہاں مختلف اداروں اور انجمنوں کا کام ہے کہ سماجی تبدیلی کے لیے اس اعتراف کو مثبت انداز میں اجاگر کریں۔ مختصراًیہی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ سپورٹس میں عمومی رویہ برداشت اور عدمِ تشدد کی سپرٹ پر مبنی ہوتا ہے، لہٰذا سپورٹس مین کی مقبولیت کو سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، کہ اپنے گروہ کی جیت کی لگن کے ساتھ ساتھ برداشت اور مروت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کو تسلیم کرنے کی روایت کو فروغ دیا جائے۔
(۶) منظم گروہ بندی کی افادیت کے متعلق دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ درکار سماجی تبدیلی کے لیے اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔کسی بھی اچھی سوچ کو محض انفرادی لحاظ سے منضبط نہیں کیا جا سکتا کہ فرد کی توانائی اور اس کے کام کرنے کی اہلیت مختصر ہوتی ہے جبکہ سماجی تبدیلی کے لیے ایک مسلسل اور طویل عمل انتہائی ناگزیر ہے مثلاً میڈیا کی جدید خطوط پر تنظیم، اور پھر تنظیم کے لیے میڈیا کا جدید طرز پر استعمال کوئی گروہ ہی بہتر طور پر کر سکتا ہے ۔ اسی طرح انٹر نیٹ چیٹ رومز کو منظم گروہی انداز میں استعمال کرنے سے سماجی تبدیلی کے عمل کو بہتر اور تیز کیا جا سکتا ہے۔
(۷) انگریزی کا مقولہ ہے : Who holds purse,holds power کہ جس کے پاس پیسہ ہے` وہی طاقت و اختیار رکھتا ہے۔راقم کی نظر میں سپورٹس اور میڈیا سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سپانسر شپ کے لیے واضح اور متوازن پالیسی تشکیل دی جائے ۔ میڈیا کی صارف رخی پالیسی (Consumer Oriented Policy) کی تحدید کے لیے قانون سازوں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں دیگر شعبوں کی مانند ’’کوٹہ سسٹم‘ ‘ متعارف کروایا جا سکتا ہے کہ معاشرتی حوالے سے ترتیب دیے جانے والے موضوعات بھی اپنی جگہ پاتے ہوئے سماجی تبدیلی کے عمل کو فروغ دے سکیں۔ اسی طرح فلاحی ادارے، سپورٹس اور علمی جرائد بھی متوازن سپانسر شپ سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شہریوں میں سماجی تبدیلی کی اہمیت کا شعور اجاگر کرنے کے لیے جہاں سیمینارز، ورکشاپس اور فورمز وغیرہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہاں ان کے انعقاد اور فعال ہونے کے لیے سپانسر شپ کی اہمیت سے بھی مفر ممکن نہیں۔
مسلم امہ اور سماجی تبدیلی
اب تک کی بحث میں راقم نے مسلم امہ کا ذکر نہیں کیا کہ اس سے گفتگو خاصی طویل ہو سکتی تھی۔ اب مذکورہ بالا گفتگو کے تناظر میں اس حوالے سے چند نتائج فکر پیش کیے جا رہے ہیں:
سب سے پہلے تو اسلامی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ رائج اور متوقع عالمی رجحان میں اس کی حیثیت مرکزی قرار دی جا سکتی ہے ۔ نام نہاد جمہوری لبادے کے باوجودعالمی سطح پر حقیقی ’’انسانیت‘‘ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اقوام کے اندر اور اقوام کے مابین بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو مغربی اقتدارِ اعلیٰ کے باوصف خوب کھل کھیل رہے ہیں،کیونکہ مغربی تصور کے مطابق اقتدارِ اعلیٰ ’انسانی‘ ہے اس لیے نفسیاتی اعتبار سے ہر فرد ، گروہ اور قوم کی کوشش ہے کہ اس منصب پر فائز ہو جائے ،لیکن اس وقت ٹیکنالوجی کا جبر مختلف اقوام کو ایک لڑی میں پرونے پر مصر ہے۔ اندریں صورت مسابقت کا رویہ عصری تقاضوں سے لگا نہیں کھاتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مغربی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کی عمارت سیکولر ازم پر کھڑی ہے کہ ریاستی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ارد گرد کی دنیا سے فرد کا تعلق ان اثرات سے پاک صاف رہ سکتا ہے جو اس کی ذات کے اندر خدا سے تعلق کے سبب جنم لیتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ مغرب میں رائج اعلیٰ انسانی اقدار کا پس منظر ہمیں الہامی عقائد تک لے جاتا ہے، چاہے فرد کا احترام ہو یا انسانوں کی مساوات کی بات ہو۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے جبر نے اہلِ مغرب کو جس مقام پر لا کھڑا کیا ہے، وہاں ان کا مذہبی پس منظر ان کی راہنمائی سے قاصر نظر آتا ہے کہ عالمگیریت سے پہلے مذہب کو ذاتی معاملے کی سطح تک رکھ کر کام چل سکتا تھا، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ انسانی ترقی کے مغربی معیار کی بقا کے لیے بھی رائج مغربی اقدار کے پس منظر کی مانند اب پھر الہامی عقائد سے راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظام کی عالمگیریت کے سبب ، اس کی عالمگیریت کا مذہبی پس منظر ( کہ خدا ہی مقتدرِ اعلیٰ ہے) مطلوبہ الہامی عقیدے کی ضرورت پوری کرتا ہے، لہٰذا عالمی نظام کی تشکیلِ نو کے لیے درکار سماجی تبدیلی میں اسلامی تصورِ اقتدارِ اعلیٰ کی ترویج کلیدی ہو جاتی ہے۔
آئیے اب مسلم معاشرے کا الہامی عقائد کے اثرات کے حوالے سے سرسری جائزہ لیں۔زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، صرف اسی بات کو لے لیں کہ ٹیکنالوجی فقط اتنی ہی اچھی ہو تی ہے جتنی کہ اس معاشرے کی اقدار جو ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتا ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلم آبادی غالب اکثریت میں ہے۔ یہاں معاشرے کے ہاتھوں بیچاری ٹیکنالوجی کا جو حشر ہوتا ہے، بیان سے باہر ہے۔ میاں نواز شریف کے دور میں پبلک ٹیلی فون بوتھس کا جال بچھا دیا گیا تھا لیکن اب یہ بوتھ خال خال ہی نظر آتے ہیں ۔اسی طرح اگر سڑکیں بننے کے کچھ عرصے کے بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں تو یقین کیجئے کہ اس میں ٹیکنالوجی قصوروار نہیں ہے ۔ انٹر نیٹ کیبل ٹی وی اور دیگر معاملات میں بھی ایسا ہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے قلعے میں بھی ایسی مخدوش صورت حال کیوں ہے ؟ راقم کی ناقص رائے میں اس کی بنیادی وجہ مذہب سے دوری نہیں بلکہ مذہب کا محض ایک جذباتی قدر بن کر رہ جانا ہے۔اسی سبب سے ہمارا ایک بنیادی ادارہ یعنی مسجد معاشرتی کردار ادا نہیں کر سکا۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ معاشرتی کردار ادا کرنے کے لیے وسیع المشرب ہونا پڑتا ہے ۔ تو کیا مسجد بطور معاشرتی ادارے کے وسیع المشرب نہیں ہے؟ کیا اس کی یہی خاصیت ہے ؟ (علماے کرام کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا )راقم کی نظر میں مسجد اپنی اصل میں وسیع المشرب ادارہ ہے لیکن اس کا معاشرتی کردار فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سماجی تبدیلی اس وقت تک خواب رہے گی جب تک فرقہ وارانہ رویہ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس سلسلے میں معروضی و خارجی جبر ہی پرخار راستے کو تراش خراش کر ہموار کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر معاشرتی اداروں کے توسط سے باہر سے دباؤ ڈال کر فرقہ واریت کے عفریت کو نکیل ڈالی جائے ،مثلاً پبلک واکس کا اہتمام کیا جائے، سیمینارز اور ورکشاپس کاانعقاد کیا جائے، تعلیمی نصاب میں مسجد کے معاشرتی کردار کو اجاگر کیا جائے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں میڈیا سے بھر پور مدد لی جائے۔ ریڈیو پر مسجد اور دین کے معاشرتی کردار کے متعلق معلوماتی اور دلچسپ پروگرام نشر کیے جائیں اور پیشہ ور سکرین رائٹرز کے فن سے بھی استفادہ کیا جائے۔ مثال کے طور پر امجد اسلام امجد ، آخر فرقہ وارانہ مسائل اور ان کے سماجی تبدیلی میں رکاوٹ بننے کو موضوع کیوں نہیں بنا سکتے؟
فرقہ واریت و دیگر معاشرتی رویوں کے منفی ہونے میں بنیادی کردار، تاریخی واقعات سے جذباتی وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کے جیالے متوالے ہوں یا سول ملٹری کشمکش ہو، ان کے رویے کے منفی پن کی اصل جذباتیت کے گرد ہی گھومتی ہے۔ راقم کی رائے میں یہ ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے کہ بالمشافہہ ملاقات میں مذکورہ فریقوں میں سے کوئی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرے۔ فکروعمل کی ایسی متعصبانہ یک رخی میں دراڑ ڈالنے کے لیے چیٹ رومز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ باقاعدہ آمنے سامنے نہ ہونے کے باعث دوسرے کی بات پر منفی قسم کی چیخ پکار ممکن نہیں رہے گی اور سمجھنے سمجھانے کے لیے کثیر امکانات موجود رہیں گے۔ متنازعہ تاریخی واقعات پر رواداری اور مروت کے ماحول میں بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے چیٹ رومز کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے، مثلاً محمود غزنوی، اورنگ زیب، اکبر وغیرہ کی پالیسیوں کے متعلق بھارتی معاشرے میں بہت انتہا پسندانہ رویہ پایا جاتا ہے۔ یہ رویہ مذکورہ عمل سے کافی حد تک معتدل ہو سکتا ہے۔دیگر تاریخی واقعات بھی جو ناگفتنی کے زمرے میں آتے ہیں، چیٹ رومز کے پلیٹ فارم سے ’گفتنی‘ کا رتبہ پا سکتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ فی الحال چیٹ رومز کا زیادہ استعمال منفی اور سوقیانہ ہو رہا ہے، راقم الحروف پر امید ہونے کے ناتے تجرباتی طور پر ایک معتبر چیٹ روم منظم کرنے کی کوشش میں ہے۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات اپنی تجاویز سمیت inaam1970@yahoo.com پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
حاصلِ بحث
اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جدید عہد کی تشکیلِ نو کے لیے درکار سماجی تبدیلی کے لیے پیش رفت جاری و ساری ہے۔ جذباتیت سے ہٹ کر دیکھنے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یورپ ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے ، کیونکہ وہاں کا مجموعی سماجی رویہ زندگی کے فطری ارتقا کے شانہ بشانہ پروان چڑھ رہا ہے۔ اگر بات کو غلط انداز سے نہ لیا جائے تو ’’اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘‘ کے مقبولِ عام جملے کے حوالے سے راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ’حیات‘ آگے نکل گئی ہے جبکہ ’ضابطہ‘ پیچھے رہ گیا ہے۔ ماتھے پر بل ڈالنے کی ضرورت نہیں ، اس فقرے کا مطلب یہی ہے کہ اسلام کو پیش کرنے والوں نے عصری تقاضوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے اسلام کے اجتہادی پہلو کو طاقِ نسیاں میں رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک ابھی تک داخلی اعتبار سے قومیت کے بحران سے گزر رہے ہیں۔ (مشرقی پاکستان آخر کیوں علیحدہ ہوا؟) منظم گروہ بندی (قومیت)کے بعد ہی یہ مرحلہ آتا ہے کہ ’ماوراے قومیت اتحاد‘ میں بلا خوف شمولیت اختیار کی جائے کہ منظم گروہ ہی ماوراے قومیت اتحاد میں شامل کسی دوسرے گروہ کو ’آمر‘ بننے سے روک سکتا ہے۔ چونکہ اسلامی ممالک میں ایسی داخلی تنظیم کے فقدان کے باعث ہی یورپی اقوام نے ان پر تسلط و غلبہ کی راہ پائی تھی، اس لیے اب یہ ممالک حقیقت میں ’’تحفظات‘ ‘ کا شکار ہیں کہ کسی ایسے ماوراے قومیت اتحاد میں شمولیت سے، جو خاصا فعال ہو، ان کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے او آئی سی، ایکو، عرب لیگ وغیرہ میں ’’اتھارٹی‘‘ نظر نہیں آتی۔ لہٰذا اب یہ انتہائی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے قومی سطح پر لا مرکزیت کو،جیسا کہ بنگالیوں کا مطالبہ تھا، فروغ دے کر جزوی عنصر کو ہدف بنایا جائے۔ اس کے بعد ہی علاقائی اتحادات اور گلوبلائزیشن (کلی عنصر)کی طرف فعال انداز میں بڑھا جا سکتا ہے۔ لا مرکزیت کا حقیقی فروغ سماجی رویے میں تبدیلی کا متقاضی ہے اور اس کے لیے ہمیں لا محالہ دین کے معاشرتی کردار کی طرف رجوع کرنا ہو گا کہ ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی ہے۔ اگر ہمارے ہاں دین کا معاشرتی کردار موجود ہوتا تو مشرقی پاکستان بھی شاید ہم سے جدا نہ ہوتاکہ ہر نوعیت کے (سیاسی، فوجی، معاشرتی) فرقہ وارانہ رویے نے ہی دونوں یونٹوں کو ایک دوسرے سے خوف میں مبتلا کررکھا تھا۔
کشمیر کی سیاسی بیداری میں علمائے دیوبند کا کردار
پروفیسر محمد یونس میو
برصغیر پاک وہند میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جو فکری، علمی، اصلاحی، عملی اور سیاسی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں، ان کے پس منظر میں کسی نہ کسی طرح حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، سرسید احمد خان، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا احمد رضا خان، سید ابو الاعلیٰ مودودی اور علامہ محمد اقبال کی فکر کارفرما رہی۔ ہر مذہب کے پیروکار اپنا اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن جو جامعیت دیوبند کے اہل علم میں ہے، وہ کسی دوسری جگہ نہیں۔ قرآن وحدیث، فقہ وتصوف، سیرت وتاریخ، تقلید واجتہاد، فکر ونظر، نقل واقتباس، معرفت وحکمت، درس وتدریس، تعلیم وتعلم، دعوت وجہاد، جاں بازی وسر فروشی، حسن خلق اور ایک خاص نقش حریت اور آزادی کی جو تڑپ علماے دیوبند میں نظر آتی ہے، اس پر گزشتہ صدی کی تاریخ شہادت دے رہی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر بھی اس تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔
کشمیر میں مسلمانوں نے پانچ سو سال حکومت کی جن میں مقامی حکمرانوں سلطان صدر الدین (رنچن)، سلطان شمس الدین (شاہ میر)، سلطان زین العابدین (بڈ شاہ)، مرزا حیدر کے علاوہ مغلوں کا ۱۶۷ سالہ دور (۱۵۸۶۔۱۷۵۲) اور افغانوں کا ۶۷ سالہ دور (۱۷۵۲۔۱۸۱۹) بھی شامل ہے۔ ۱۸۱۹ء میں رنجیت سنگھ نے کشمیر پر قبضہ کیا۔ سکھوں نے کشمیر میں تقریباً تیس سال حکومت کی۔ یہ دور ظلم وتشدد اور جبر واستبداد کا تاریک ترین دور تھا۔ سکھوں نے مغلوں کے ہاتھوں جو شکستیں کھائی تھیں، ان کا بدلہ انہوں نے بے بس اور مجبور مسلمان کشمیریوں سے لیا۔ ان کی نظر میں مسلمانوں کی اہمیت جانوروں سے زیادہ نہ تھی حتیٰ کہ ایک مسلمان کو قتل کرنے کی سزا کسی سکھ کو صرف ۲۰ روپے جرمانہ تھی۔ معاشی استحصال عام تھا، مذہبی آزادی سلب کر لی گئی تھی اور مسلمان نماز باجماعت بھی ادا نہیں کر سکتے تھے۔ رنجیت سنگھ کے زمانے میں جموں کے ایک ڈوگرا خاندان کے تین بھائیوں دھیان سنگھ، گلاب سنگھ اور سچیت سنگھ نے خالصہ دربار کی ملازمت حاصل کی۔ یاد رہے یہ ڈوگرے سکھ نہیں بلکہ سخت متعصب ہندو تھے۔ یہ وادی کشمیر کے باشندے بھی نہیں بلکہ کشمیر کی ملحقہ پہاڑیوں کی ایک راجپوت قوم ہیں۔ ان تینوں بھائیوں نے بڑی وفاداری سے خدمات سرانجام دیں جس پر گلاب سنگھ کو جموں، دھیان سنگھ کو بھمبر اور پونچھ اور سچیت سنگھ کو رام نگر کی سرداری عطا ہوئی۔ بعد ازاں گلاب سنگھ کو ’راجہ‘ کا خطاب دے کر جموں کا صوبیدار بنا دیا گیا۔ رنجیت سنگھ کی موت (۱۸۳۹ء) کے بعد گلاب سنگھ نے انگریزوں سے سازباز کی جس کی وجہ سے سبراؤں کی لڑائی میں سکھوں کو شکست فاش ہوئی اور فروری ۱۸۴۶ء میں لاہور پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ ۹ مارچ ۱۸۴۶ء کو معاہدۂ لاہور پر دستخط ہوئے جس کی رو سے سکھوں پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ تاوان جنگ عائد کیا گیا۔ پچاس لاکھ نقد ادا کیے گئے اور بقیہ ایک کروڑ کے عوض انگریزوں نے بیاس، سندھ، ہزارہ اور کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ ۱۶ مارچ ۱۸۴۶ء کو انگریزوں اور گلاب سنگھ کے درمیان معاہدۂ امرتسر طے پایا جس کے نتیجے میں گلاب سنگھ اور اس کی نرینہ اولاد پچھتر لاکھ روپیہ نانک شاہی (موجودہ پچاس لاکھ روپے) کے عوض کشمیر جنت نظیر کے مالک بن گئے۔ اسی بدنام زمانہ بیع نامہ کے بارے میں علامہ محمد اقبال نے کہا تھا:
دہقاں وکشت وجوے وخیاباں فروختند
قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند
ڈوگروں نے کشمیر میں ۱۰۱ سال (۱۸۴۶۔۱۹۴۷ء) حکومت کی۔ گلاب سنگھ کے بعد اس کے بیٹے اور پوتوں رنبیر سنگھ، پرتاب سنگھ، امر سنگھ اور ہری سنگھ وغیرہ نے حکومت کی۔ اس دور کے بارے میں معروف صحافی، دانش ور پنڈت پریم ناتھ ہزاز کہتے ہیں کہ’’کشمیر میں ڈوگرا حکومت سے مراد ہے ہندوؤں کا راج۔ مسلمانوں سے ہمیشہ نا انصافی ہوئی۔ ان کو ذبیحہ کی اجازت نہ تھی۔یہ کسی قسم کا اسلحہ نہیں رکھ سکتے تھے۔ یہ باغی تھے اور ان کے سروں کی قیمت پانچ روپے مقرر تھی۔ ان کی کھالیں کھینچ کر ان میں بھوسہ بھر دیا جاتا۔ سینکڑوں دیہاتیوں میں کوئی مسلمان ایسا نہیں تھا جو اپنا نام لکھ سکے یا ایک درجن بھیڑوں کو گن سکے۔ مسلمان کاشت کار ایک بھوکا ننگا فقیر نظر آتا تھا نہ کہ وہ شخص جس کی محنت سے حکمرانوں کا خزانہ بھرا رہتا ہے۔‘‘ آخر برسوں کی غلامی کے بعد گراں خواب کشمیری مسلمانوں نے انگڑائی لی اور جنگ عظیم اول کے بعد ظلم وستم کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔ ۱۸۷۵ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان میں دار العلوم دیوبند جیسی ہمہ جہت درس گاہیں قائم ہوئیں تو کشمیر کے بہت سے نوجوان دیوبند آئے۔ یہاں انہوں نے تعلیم کے ساتھ تحریک خلافت، تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت جیسی تحریکوں سے سیاسی شعور اور تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں انہی لوگوں نے کشمیر میں تعلیمی اور سیاسی تحریکیں برپا کیں۔
میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ پہلے قابل ذکر دینی وسیاسی رہنما تھے جو مولانا سید میرک شاہ اندرابی کے ہمراہ ۱۹۱۳ء میں دیوبند آئے۔ یہاں آپ کو مولانا محمود الحسن بانی تحریک ریشمی رومال، مولانا سید انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا اعزاز علی جیسے اکابرین سے استفادہ کا موقع ملا۔ دار العلوم سے فراغت (۱۹۲۱ء) اور واپسی پر آپ میر واعظ مقرر ہوئے۔ اسی حیثیت سے آپ ’’انجمن نصرت الاسلام سری نگر‘‘ کے صدر بھی بنے۔ آپ کو سرسید کشمیر بھی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے سری نگر میں اورئنٹل کالج کے نام سے ایک دینی درس گاہ قائم کی۔ کشمیر کے پس ماندہ مسلمانوں کی آواز کو موثر بنانے کے لیے ’’الاسلام‘‘ اور ’’رہنما‘‘ نامی اخبار نکالے۔ ۱۹۲۵ء میں خلافت کمیٹی قائم کی۔ یہ تحریک آزادی کشمیر کی پہلی باقاعدہ سیاسی تنظیم تھی۔ جولائی ۱۹۳۱ء کے ہنگاموں میں آپ نے رہنما کردار ادا کیا۔ ۱۹۴۴ء میں جب قائد اعظم محمد علی جناح کشمیر تشریف لائے تو آپ نے درگجن کے مقام پر ان کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا اور ان کے اعزاز میں اپنی قیام گاہ پر دعوت دی جو تحریک آزادی کشمیر کا ایک باب ہے۔ آپ ہی کی صدارت میں آزاد کشمیر کا ابتدائی خاکہ مرتب کیا گیا جو ۲۷ جون ۱۹۴۶ء کو باقاعدہ منظور کر لیا گیا۔ آپ نے ۱۵۔ اگست ۱۹۴۷ء کو مسلم پارک سری نگر میں ایک لاکھ کشمیریوں کی موجودگی میں اپنے صدارتی خطبہ میں پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا اور مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کا الحاق کشمیری مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق پاکستان کے ساتھ کرے۔
آپ کے بعد آپ کے ساتھیوں نے تحریک کو جاری رکھا جن میں ایک بڑا نام مولانا محمد عبد اللہ کفل گڑھی کا ہے۔ آپ نے مولانا عالم دین فاضل دیوبند سے تعلیم حاصل کی۔ کشمیر میں سیاسی بیداری کے لیے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ آپ نے ڈوگرا حکومت کے ظلم واستبداد کے خلاف ایک رضا کار تنظیم بنائی اور اس کو مسلح تربیت دی جس کی وجہ سے کشمیر کے حریت پسند عوام جہاد بالسیف کی طرف مائل ہوئے۔ دسمبر ۱۹۳۵ء میں جب ہاڑی گہل (باغ) میں سکھوں نے ایک مسجد کو شہید کیا تو آپ نے زبردست احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ مسجد دوبارہ تعمیر کی جائے اور حکومت اس بے حرمتی کے لیے معافی مانگے۔ مولانا کے دونوں مطالبے منظور کیے گئے۔ ۱۹۳۷ء میں ڈوگروں نے خالصہ اراضیات کی حد بندی کے بہانے مسلمانوں کی اراضی پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو آپ نے باغ سے ایک عظیم الشان جلوس کی قیادت کی۔ آخر کار حکومت کو یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا۔
۱۹۳۷ء میں ڈاکٹر رام سنگھ نے پونچھ میں قرآن کی بے حرمتی کی تو مولانا عبد اللہ کفل گڑھی بیس ہزار کا جلوس لے کر پیدل پونچھ پہنچے۔ پلندری سے آپ کے چھوٹے بھائی مفتی امیر عالم بھی ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے پونچھ آئے۔ آخر کار حکومت نے شیخ عبد اللہ، بخشی غلام محمد وغیرہ کے ذریعے مولانا سے مذاکرات کیے اور ڈاکٹر رام سنگھ کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ آپ کی سیاسی سرگرمیوں سے پریشان ہو گیا اور اس نے آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ آپ کو گرفتار کر لیا گیا لیکن عوامی دباؤ کے پیش نظر رہا کر دیا گیا۔
آپ کے بعد آپ کے بھائی مفتی امیر عالم نے تحریک کو آگے بڑھایا۔ آپ نے اکابر علماے دیوبند سے تعلیم حاصل کی۔ آپ ۱۹۳۵ء میں وطن واپس آئے اور آتے ہی دار العلوم پلندری کا اہتمام سنبھال لیا۔ ڈاکٹر رام سنگھ کے خلاف تحریک میں آپ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ کشمیری حقوق کے لیے آپ نے خان عبد القیوم خان اور وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ملاقاتیں کیں۔ آپ نے جہاد پر بہت زور دیا اور مجاہدین کے اسلحہ جمع کرنے کے لیے پورے کشمیر کا دورہ کیا۔ اگست ۱۹۴۷ء کے جہاد میں حصہ لیا۔ معرکہ ہاڑی گہل میں آپ کے بھائی نور عالم خان اور آپ کے قریبی عزیز محمد عظیم خان شہید ہوئے۔ جب جمعیۃ علماے اسلام کشمیر قائم ہوئی تو آپ کو اس کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
تحریک آزادی کشمیر کے بانیوں میں ایک نام مولانا محمد یوسف خان کا بھی ہے۔ آپ ۱۹۲۰ء میں قصبہ منگ (پلندری) میں پیدا ہوئے۔ یہ قصبہ اپنی مجاہدانہ روایات اور دینی امتیازات کے لیے ریاست جموں وکشمیر میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے جموں وکشمیر میں دار العلوم دیوبند کی علمی، دینی اور تحریکی روایت کو آگے بڑھایا۔ دیوبند میں آپ نے مولانا محمود الحسن دیوبندی، مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی کا زمانہ پایا۔ آپ کے ساتھیوں میں مفتی عبد المتین، مفتی عبد المجید قاسمی اور مولانا سرفراز خان صفدر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مولانا یوسف خان ۱۹۴۳ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ ہوئے اور آپ نے قصبہ منگ سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ آپ نے قصبہ کے نمبردار زمان علی کی شہادت کے خلاف عدالت کے فیصلے کے خلاف تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
’’چشم فلک نے اس ظلم کی کبھی مثال نہ دیکھی ہوگی کہ گائے ذبح کرنے پر سات سال قید با مشقت کی سزا دی جائے اور ایک انسان کو دن دہاڑے قتل کرنے پر صرف تین سال سزا دی جائے۔ ہمیں اس ڈوگرا راج سے عدل وانصاف کی قطعاً کوئی توقع نہیں ہو سکتی جو گائے کا پیشاب پی کر جوان ہوا ہے لہٰذا آپ لوگ سر پر کفن باندھ کر اٹھ کھڑے ہوں۔ اب ہم اس غلامی کا جوا اتار کر ہی دم لیں گے۔ اس کے سوا اب ہمارے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘
اس تقریر کے جرم میں آپ کو تین ماہ قید بامشقت سنا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ ۱۹۴۷ء کی جنگ آزادی میں آپ نے بھرپور حصہ لیا اور منگ سے چڑی کوٹ تک کے محاذوں پر داد شجاعت دیتے رہے۔ جنگ کے بعد متاثرین کے لیے بیت المال قائم کیا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لا کمیشن کے ممبر رہے۔ کشمیر میں قانون سازی میں مرکزی کردار ادا کیا اور آپ کا تیار کردہ مسودہ قانون من وعن تسلیم کر لیا گیا۔ آپ پلندری کے مقبول ترین رہنما اور عوامی لیڈر تھے۔ آپ نے ۱۹۷۵ء کے انتخاب میں سندھن قوم کے معروف رہنما اور باباے پونچھ کرنل محمد خان کے فرزند کرنل نقی خان کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ آپ جمعیۃ العلما آزاد کشمیر کے ناظم اعلیٰ اور صدر بھی رہے۔ آپ دار العلوم پلندری کے مہتمم اور شیخ الحدیث بھی ہیں۔ آپ کو ستمبر ۱۹۸۲ء میں ایک ہزار علما کی موجودگی میں ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا گیا۔
یہاں صرف چار علماے کشمیر کا ذکر ممکن ہو سکا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ موضوع ایک ضخیم کتاب کا متقاضی ہے۔ تاہم یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آخر میں ان علماکے اسماے گرامی بیان کر دیے جائیں جنہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی میں فکری اور عملی حصہ لیا اور اب بھی لے رہے ہیں۔ ان میں سے چند ایک نام یہ ہیں:
- مولانا محمد امیر الزمان خان کشمیری (بانڈیاں، باغ)
- مفتی عبد الحمید قاسمی (پونچھ)
- مولانا سید ثناء اللہ شاہ صاحب (سرسیداں، باغ)
- مولانا عبد الغنی (گاؤں جھڑ، تحصیل باغ)
- مولانا غلام مصطفی شاہ مسعودی (لوات، اٹھمقام) آپ مولانا سید انور شاہ کشمیری کے خواہر زاد تھے۔ آپ نے دار العلوم دیوبند کے بعد قاہرہ یونیورسٹی مصر سے بھی سند فراغت حاصل کی۔
- مولانا خاقان صاحب مظفر آبادی (کیاں شریف، اٹھمقام) اور محمد شریف کشمیری پاکستان کے معروف دار العلوم خیر المدارس ملتان میں صدر مدرس بھی رہے۔
- مولانا محمد اسماعیل مسعودی۔ آپ نے مولانا سید انور شاہ کشمیری، مولانا قاری محمد طیب قاسمی، مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی محمد شفیع اور مولانا شمس الحق افغانی جیسے اکابر علما سے استفادہ کیا۔
- مولانا حافظ عبد اللہ (پنیالی، باغ) آپ مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا عبد اللہ درخواستی سے متعلق رہے۔
- مفتی عبد الکریم (کوٹ قندو خان، باغ) تحریک ختم نبوت میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کشمیر آئے تو آپ نے بھی ان کے ساتھ تقریریں کیں۔ آپ نے مہاراجہ کے ظلم وستم کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کیا۔
- مولانا محمد قاسم خان (راولا کوٹ) نے مسلمانان پونچھ کی سیاسی بیداری، سماجی بہبود اور دینی قدروں کی ترویج میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ آپ مولانا اشرف علی تھانوی کے عقیدت مندوں میں سے تھے۔ ان کی معروف کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ کو ہر گھر کا زیور قرار دیتے تھے۔
- مولانا غلام حیدر (پھلیاں، پلندری) شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد اور علامہ شبیر احمد عثمانی کے ہم جماعت تھے۔ پونچھ کی سیاسی بیداری کے علاوہ آپ کی دینی، سماجی خدمات بے مثال ہیں۔
- مولانا عبد الرحمن (ٹاٹ، تحصیل حویلی) آپ نے علامہ انور شاہ کشمیری سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ ریاضی کے ماہر تصور کیے جاتے تھے۔ مولانا غلام اللہ خان کی تحریک سے متاثر تھے۔ مولانا مرزائیوں کے خلاف ایک خاص مزاج رکھتے تھے۔
- مولانا عبد الحمید خان (نیپالی، باغ) آپ نے دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارن پور سے تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۴۷ء کی جنگ آزادی میں اوڑی محاذ پر مجاہدین کے ساتھ جہاد کیا۔ رفاہی اسکیموں اور مفاد عامہ کے منصوبوں میں آپ خاص طور پر دلچسپی لیتے تھے۔
- مولانا محمد زمان خان صاحب نیپالی باغ میں پیدا ہوئے۔ آپ کو علم وعمل اور زہد واتقا کی بنا پر علمی قیادت کی فضیلت اور روحانی سیادت کی عظمت حاصل رہی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر میں مولانا محمد عبد اللہ کفل گڑھی کے قریبی معاون رہے۔
- مولانا قاضی عبد الرحمن (ڈھل قاضیاں، باغ) آپ نے برصغیر کی عظیم درس گاہ مظاہر العلوم سہارنپور میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا (مصنف فضائل اعمال وصدقات وغیرہ) اور مولانا عبد الرحمن سے فیض حاصل کیا۔ قرآن کی تفسیر مولانا غلام اللہ خان صاحب سے پڑھی۔ تحریک آزادی میں دیگر رفقا کی طرح فکری وعملی کام کیا۔ اپنے دور کی ملی، دینی اور سیاسی تحریک میں بھی حصہ لیتے تھے۔
- مولانا عبد العزیز تھوراڑوی ۱۹۴۱ء میں دیوبند گئے اور ۱۹۴۴ء میں سند فراغت حاصل کی۔ دینی، تبلیغی اور اصلاحی کاموں سے آغاز کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پونچھ کی جامع مسجد میں وزیر اعظم پونچھ ’’بھیم سین‘‘ کی موجودگی میں سیرت النبی کے موضوع پر تقریر کی۔ بھیم سین نے آپ کو دفتر میں بلا کر کہا کہ ’’مولانا آپ کا اسٹیج اس قدر آزاد ہے جس قدر کسی کمیونسٹ ملک میں بھی نہیں ہوتا۔‘‘ اس پر مولانا نے جواب دیا: ’’ہماری ماؤں نے ہمیں آزاد جنا ہے، غلام نہیں۔‘‘ قصبہ منگ میں جولائی ۱۹۴۷ء میں آپ نے ہزاروں لوگوں کو قرآن کے نیچے سے گزار کر جہاد کی بیعت لی۔ آپ کا شمار تحریک آزادی کشمیر کے بانیوں میں ہوتا ہے۔
- مولانا محمد بخش ۱۹۰۵ء موضع جولی چیڑ تحصیل باغ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنے قصبہ میں ایک مسجد اور مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ آپ قرآن کی تعلیم دیتے اور رسوم وبدعات سے بچنے کی تلقین کرتے۔ یہ مولانا محمد بخش ہی تھے جنہوں نے اگست ۱۹۴۷ء کے معرکہ میں دشمن پر پہلی گولی چلائی اور ’مجاہد اول‘ کا خطاب پایا۔
- مولانا عالم دین کشمیری کفل گڑھی تحصیل باغ میں پیدا ہوئے۔ شیخ الہند سے دورۂ حدیث کی سند لی۔ مولانا سید انور شاہ کشمیری نے آپ کے بارے میں کہا تھا کہ ’’عالم دین میرا علمی ساتھی تھا۔ وہ علم کا پہاڑ تھا۔ شاید لوگوں نے ان کی قدر ومنزلت کو نہ پہچانا ہو۔‘‘
- مولانا میر عالم کا تعلق راولا کوٹ سے تھا۔ آپ سردار محمد ابراہیم خان کے برادر اکبر تھے۔ راولا کوٹ کے کالج میں پروفیسر رہے۔ تحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں میں دینی اور سیاسی شعور پیدا کیا۔ آپ نے ’’تاریخ آزادی کشمیر‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جو تحریک آزادی کشمیر کے بارے میں ایک جامع دستاویز تصور کی جاتی ہے۔
- مولانا محمد اسماعیل ۱۹۰۴ء میں کفل گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ مولانا عبد اللہ اور مفتی امیر عالم کے بھائی تھے۔ مظاہر العلوم سہارنپور سے ۱۹۲۷ء میں سند فراغت حاصل کی۔ آپ نے ایک خطیب کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ اردو اور پنجابی کے شاعر بھی تھے۔
- مولانا عبد العزیز کا شمار دیوبند کے قدیم فضلا میں ہوتا ہے۔ آپ مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا غلام غوث ہزاروی سے متاثر تھے۔ آپ کچھ عرصہ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب بھی رہے۔ تحریک آزادی میں آپ نے بھی حصہ لیا اور لوگوں کو جذبہ جہاد سے سرشار کرتے رہے۔
- مولانا مفتی عبد المتین ۲۰ اپریل ۱۹۲۰ء کو تھب باغ میں پیدا ہوئے۔ دیوبند اور گوجرانوالہ میں اکابر علماے دیوبند سے تعلیم حاصل کی۔ لا کمیشن آزاد کشمیر کے ممبر رہے اور تحصیل باغ کے مفتی بھی۔ آپ نے تحریک آزادی کشمیر کے علاوہ مذہبی معاملات میں بھی رہنمائی کی۔ آپ نے وطن کی آزادی اور لوگوں میں جذبہ جہاد پیدا کرنے کے سلسلے میں جو اقدامات کیے، ان پر پوری قوم ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔
- مولانا فضل کریم مظفر آبادی نے خیر المدارس ملتان سے تعلیم حاصل کی۔ آپ نے تحریر وتقریر کے ذریعے تحریک آزادی میں بھرپور کردار ادا کیا۔
- مولانا نور حسین (تھب، باغ) نے ۱۹۴۴ء میں دار العلوم دیوبند سے سند فراغ حاصل کی۔ آپ مولانا سید حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی سے متاثر ہیں۔ آپ نے دعوت وتبلیغ کے ذریعے لوگوں میں جذبہ جہاد پیدا کیا۔
- مولانا محمد الیاس موضع سنیاں (ہٹیاں) میں ۱۹۲۹ء میں پیدا ہوئے۔ دورۂ حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور سے کیا۔ ۱۹۴۷ء کی جنگ آزادی میں آپ کی عمر ۱۷ سال تھی۔ آپ نے مکمل فوجی ٹریننگ حاصل کی۔ اس کے بعد باضابطہ طور پر اوڑی کے محاذ پر جہاد میں چودہ رفقا کی قیادت کرتے ہوئے شریک جہاد ہوئے۔
- مولانا محمد اسحاق مدنی تاریخ ساز خطہ منگ سے متعلق ہیں۔ دار العلوم پلندری، خیر المدارس ملتان، جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی اور بعد ازاں مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ آپ نے درس قرآن کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ آپ نے آل جموں وکشمیر جمعیۃ العلماء اسلام کے مرکزی رہنما کی حیثیت سے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونک دی۔ مولانا محمد طیب ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’مولانا محمد اسحاق خان سے جو واقف ہیں، وہ شہادت دیں گے کہ مولانا عزم واستقلال، اخلاص وایثار، تقویٰ وطہارت، عبادت وریاضت، سخاوت ومروت، خدا پرستی ومردم شناسی، خود داری اور علم دوستی کے پیکر متحرک تھے۔‘‘
- مولانا حیات علی حسینی ۱۸۸۸ء میں رٹہ ڈڈیال میں پیدا ہوئے۔ سہارنپور اور پھر دیوبند میں مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن جیسے علما کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا۔ تحریک آزادی میں آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ آپ کے ولولہ انگیز خطبات نے جذبہ آزادی کو مہمیز دی۔ پوٹھ کے مقام پر ساٹھ ہزار کے مجمع میں تاریخ ساز تقریر کی۔ حالات خراب ہوئے تو گرفتار کر لیے گئے۔ تحریر وتقریر کے علاوہ طب میں مہارت حاصل کی۔
- مولانا عبد الرحمن کوٹ قندو خان سے متعلق تھے۔ فاضل دیوبند تھے۔ تحریک آزادی میں اپنے علاقہ میر پور اور کھوئی رٹہ میں ڈوگرا سامراج کے خلاف بڑا کام کیا جس سے لوگ جہاد پر آمادہ ہوئے۔
- مولانا غلام حیدر جنڈالوی موضع جنڈالی، راولاکوٹ کے رہنے والے تھے اور سدھن قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ڈوگرا حکومت کے خلاف عمر بھر نبرد آزما رہے۔ مولانا عبد اللہ کفل گڑھی کی رفاقت میں پونچھ میں توہین قرآن مجید کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں خدمات سرانجام دیں۔ گرفتار ہوئے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا گیا۔ ۱۹۴۰ء میں عدالت راولا کوٹ سے ڈھائی سال قید بامشقت پائی۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی اور قرارداد پاکستان کی حمایت اور تائید میں تقریر کی۔ تحریک آزادی کشمیر میں فکری وعملی ہر دو طرح سے حصہ لیا۔ راولا کوٹ کے محاذ پر شرکت، پونچھ محاذ پر آپ نے راشن ذخیرہ کرنے اور آزاد فوج کی رسدی امداد کرنے میں بڑا کام کیا۔ آپ کی کارکردگی سے متاثر ہو کر آزاد کشمیر حکومت نے آپ کو کیپٹن کے عہدے پر تعینات کیا اور آپ باضابطہ کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
- مولانا عبد الرحمن مظفر آبادی کا شمار آزاد کشمیر کے ممتاز اور مجاہد علما میں ہوتا ہے۔ آپ نے درس نظامی کی کتب مولانا عبد المتین سے پڑھیں اور ۱۹۳۱ء کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔
- مولانا محمد سعید مظفر آبادی امروٹی لیپہ (کرناہ، ضلع مظفر آباد) سے تعلق رکھتے تھے۔ ہزارہ اور دیوبند کے مدارس سے تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۴۷ء کی جنگ آزادی میں اپنے علاقہ کے لوگوں کی قیادت کی۔ عوام میں جذبہ جہاد پیدا کرنے کے لیے موثر انداز میں تبلیغ کی جس کی وجہ سے علاقے میں آپ کا احترام پایا جاتا ہے۔
- مفتی محمد اسرائیل کابل سے مظفر آباد آئے۔ ہزارہ اور دیوبند کے مدارس سے تعلیم حاصل کی۔ مولانا انور شاہ کشمیری سے ملاقات رہی۔ آپ کے رفقا میں مولانا محمد یوسف بنوری بہت بڑا نام ہے۔ سند فراغت کے بعد وطن واپس آئے اور عمر بھر تبلیغ دین کا سلسلہ جاری رکھا۔
علاوہ ازیں مولانا شمس الدین، مولانا محمد رفیق، مولانا غلام ربانی، مولانا حافظ عبد الرؤف، مولانا عطاء اللہ، مولانا سرفراز خان، مولانا مفتی نذیر حسین، مولانا خلیل الرحمن، مولانا ہدایت اللہ مظفر آبادی، مولانا محمد عالم، مولانا محمد حسین، مولانا خیر محمد، مولانا محمد یاسین، مولانا عزیز الرحمن، مولانا رحمت اللہ، مولانا عبد الغفور، مولانا محمد دین، مولانا محمد یوسف، مولانا بدر الدین ایسے علماے کرام ہیں جنہوں نے دار العلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور، جامعہ اشرفیہ لاہور، خیر المدارس ملتان، انوار الاسلام مظفر آباد، دار العلوم پلندری اور ضلع ہزارہ کے مدارس سے تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے وطن پہنچ کر کشمیر کی سیاسی بیداری، سکھ اور ڈوگرا حکومتوں کے ظلم واستبداد کے خلاف آواز بلند کرنے، عوام کو ان کے مقابل منظم کرنے، ان میں جذبہ جہاد بیدار کرنے کے علاوہ کشمیر کے لوگوں کی علمی ودینی اور مذہبی معاملات میں راہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ تحریک آزادی کشمیر میں ان علماے کرام کو بنیاد کے پتھر کی حیثیت بھی حاصل ہے۔
عقیدۂ حیاۃ النبی اور شرک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
کراچی
۵۔۷۔۲۰۰۳ء
محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
ماہنامہ الشریعہ بابت مئی/جون ۲۰۰۳ء میں آپ کے مضمون کا اقتباس جو عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے کالم میں دیا اور اس پر مخالفت اور موافقت میں مضامین نظر سے گزرے۔ میں آپ کے زور استدلال سے متاثر ہوں۔
میں ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے آپ کے علم سے استفادہ کرنا چاہتا ہوں۔ دار العلوم کراچی،جس کے مہتمم جناب محمد رفیع عثمانی صاحب ہیں، نے مجھے لکھا:
’’آپ ﷺ کے روضہ اطہر پر درود وسلام پڑھنے والے کے لیے جو آداب ذکر کیے گئے ہیں، وہ درست ہیں۔ چنانچہ اہل السنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کو دنیا کی طرح حیات حاصل ہے اور جو شخص آپ کے روضہ اطہر پر حاضر ہو کر درود وسلام پڑھتا ہے، آپ ﷺ اس کو خود سنتے ہیں۔‘‘
گویا حیات النبی کے معاملہ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، تبلیغی جماعت والے سب متفق ہیں کہ نبی زندہ ہیں۔ لیکن قرآن کی یہ آیت ہے کہ:
۱۔ ’’ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اللہ کی ذات کے۔‘‘ (القصص ۸۵)
۲۔ ’’پھر اس زندگی کے بعد تمہیں موت آ کر رہے گی اور اس کے بعد قیامت کے دن تم پھر اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ (المومنون ۱۵۔۱۶)
کوئی یہ نہ سمجھے کہ رسول اس سے مستثنیٰ ہیں۔ فرمایا:
۱۔ ’’آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔‘‘ (الزمر ۳۰)
۲۔ ’’ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے۔ اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟ ہر جاندار کوموت کا مزا چکھنا ہے۔‘‘ (الانبیاء ۳۴۔۳۵)
کیا حیات النبی کا عقیدہ رکھنے والے منکر قرآن اور مشرک نہیں ہیں؟
والسلام
احمد اشرف
جواب
باسمہ سبحانہ
محترمی احمد اشرف صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟
آپ کا خط موصول ہوا۔ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کا خط آپ کی طرف سے موصول ہوا تھا جو ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع کر دیا گیا۔ اس کا شمارہ آپ کو ارسال کیا جا رہا ہے۔ آپ نے چونکہ مسئلہ کو سمجھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اس لیے چند سطور تحریر کر رہا ہوں، ورنہ میں اس نوعیت کے مسائل میں بحث ومباحثہ کا عادی نہیں ہوں اور نہ ہی بحث برائے بحث کا کوئی فائدہ مرتب ہوتا ہے۔
آپ نے قرآن کریم کی چند آیات کریمہ کا حوالہ دیا ہے اور سوال کیا ہے کہ کیا ان آیات کے اس مفہوم کی روشنی میں جو آپ بیان کر رہے ہیں، حیات النبی ﷺ کا عقیدہ شرک نہیں ہے؟ اس سلسلے میں ایک اصولی گزارش یہ ہے کہ اگر تو قرآن کریم ہم نے براہ راست اپنے فہم اور معلومات کی بنیاد پر سمجھنا ہے تو پھر آپ کے تجزیہ اور استدلال کی کسی حد تک گنجائش نکل سکتی ہے لیکن اگر فہم قرآن کریم کے لیے جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشادات اور تشریحات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے تو پھر ہمیں قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے کا مطلب ومفہوم طے کرتے ہوئے جناب نبی اکرم ﷺ کے فرمودات اور توضیحات کے دائرے میں رہنا ہوگا اور وہی مفہوم صحیح قرار پائے گا جو نبی اکرم ﷺ کے ارشادات سے مطابقت رکھتا ہوگا۔
یہاں ایک خوب صورت سا مغالطہ ہمارے ذہنوں سے الجھنے لگتا ہے کہ قرآن کریم کے مفہوم ا ور ارشاد سے ٹکرانے والی کسی حدیث کو ہم قبول کرنے کے پابند نہیں ہیں اور جہاں قرآن کریم اور حدیث مبارکہ میں تعارض ہوگا، وہاں ہم قرآن کریم کو ترجیح دیں گے۔ یہ بات بظاہر بہت خوب صورت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ فلاں آیت اور فلاں حدیث میں تعارض ہے؟ ظاہر بات ہے کہ یہ فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے اور اس طرح ایک بار پھر ہم یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں کہ چونکہ ہمیں فلاں آیت اور فلاں حدیث میں تعارض نظر آ رہا ہے، اس لیے ہم اس حدیث کو قبول نہیں کرتے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ اتھارٹی حاصل نہیں ہے کہ ہم قرآن کریم اور حدیث نبوی کے درمیان ’’حکم‘‘ کی حیثیت اختیار کر لیں اور اپنے فہم اور علم کو حتمی قرار دیتے ہوئے فیصلے کرنے لگ جائیں بلکہ فہم قرآن کریم کی صحیح ترتیب یہی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے قرآن کریم کی کسی آیت کا جو مفہوم بیان کیا ہے یا جس مسئلہ میں جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کی روشنی میں قرآن پاک کو سمجھا جائے اور صحیح سند کے ساتھ جو ارشاد نبوی سامنے آ جائے، اسے ہی فائنل اتھارٹی قرار دیا جائے۔ اس سے ہٹ کر قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ’’بازیچہ اطفال‘‘ بن کر رہ جائے گا اور فکری انتشار کے سوا کچھ بھی ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا۔
اس اصولی گزارش کے بعد متعلقہ مسئلہ کے حوالہ سے یہ عرض ہے کہ میں یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ حضرات انبیاے کرام علیہم السلام کو قبروں میں زندہ ماننے سے کون سا شرک لازم آتا ہے؟ شرک تو اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات واختیارات میں کسی اور کو شریک سمجھنے کا نام ہے۔ اگر کوئی شخص قبر میں زندہ ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی کون سی صفت یا اختیار میں اس کی شرکت ہو جاتی ہے؟ اگر نفس حیات ماننے سے شرک لازم آتا ہے تو اس حیات کا اطلاق ہم سب پر ہوتا ہے، پھر ہم بھی معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کے شریک قرار پاتے ہیں اور اگر موت کے بعد کی زندگی سے یہ مفہوم اخذ کیا جاتا ہے تو شہدا کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ وہ قتل ہو جانے کے بعد نہ صرف زندہ ہیں بلکہ رزق بھی دیے جاتے ہیں تو کیا موت کے بعد انہیں زندہ ماننے سے شرک لازم آ جاتا ہے؟ یا مثلاً بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ عام مردہ بھی قبرستان میں آنے جانے والوں کے قدموں کی چاپ سنتا ہے۔ اسی طرح مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق حضرت عمرو بن العاصؓنے وفات سے قبل اپنی وصیت میں تلقین کی کہ انہیں قبر میں دفن کرنے کے بعد احباب اتنی دیر تک ان کی قبر کے پاس رہیں جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان فرمائی کہ قبر میں سوال وجواب کا مرحلہ یہی ہوتا ہے اور ارد گرد احباب کی موجودگی سے وہ انس اور حوصلہ محسوس کریں گے۔
میں فی الواقع یہ بات نہیں سمجھ پایا کہ ایسا کہنے یا ماننے سے شرک کی کون سی صورت وقوع پذیر ہو جاتی ہے؟
باقی رہی بات اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب کے فنا ہو جانے کی تو میرے بھائی، اسے بھی جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں سمجھیں گے تو مسئلہ حل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب قیامت کا صور پھونکا جائے گا تو ہر چیز فنا ہو جائے گی اور ایک اللہ تعالیٰ کی ذات باقی رہ جائے گی۔ اس کیفیت پر ایک زمانہ گزرے گا۔ اس کے بعد پھر کائنات اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوبارہ وجود میں آئے گی۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے، اسے قرآن کریم نے فنا کے معنی میں ذکر نہیں کیا بلکہ اس کی تردید کی ہے۔ یہ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ موت فنا کا نام ہے اور فنا کے گھاٹ اتر جانے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی امکان نہیں ہے جس کا قرآن کریم نے جابجا رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ موت فنا کا نام نہیں بلکہ اس کے بعد بھی زندگی ہے، قبروں سے دوبارہ اٹھنا ہے، حساب کتاب ہے، اور سزا جزا کے مراحل سے گزرنا ہے بلکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اصل زندگی وہی ہے جو دائمی ہے اور نہ ختم ہونے والی ہے، اس لیے اگر انسان کے لیے اس ابدی زندگی کو ماننے سے شرک لازم نہیں آتا تو میرے بھائی! قبر کی عارضی زندگی اس کے لیے تسلیم کر لینے میں بھی شرک کا کوئی پہلو موجود نہیں ہے۔
اس کے بعد یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ جو حضرات قبروں میں انبیاے کرام علیہم السلام کی زندگی کے قائل ہیں، اور یہ جمہور امت ہے جو چودہ سو برس سے اس کی قائل چلی آ رہی ہے، وہ اس بات کے ایک لمحہ کے لیے بھی قائل نہیں ہیں کہ حضرات انبیاے کرام علیہم السلام موت سے مستثنیٰ ہیں یا ان پر موت نہیں آئی۔ وہ حضرات انبیاے کرام علیہم السلام پر موت کا ورود اسی طرح مانتے ہیں جیسے شہدا کے لیے مانتے ہیں اور پھر موت کے بعد عالم برزخ میں ان کی اسی طرح کی زندگی کے قائل ہیں جیسے شہدا کے لیے قرآن کریم نے زندگی اور رزق دیے جانے کا ذکر فرمایا ہے۔
یہ زندگی عالم برزخ کی زندگی ہے ، اس دنیا کی زندگی نہیں ہے اور اسے اگر حیات دنیوی کہا جاتا ہے تو صرف اس معنی میں کہ یہ برزخی حیات اس جسم مبارک کے ساتھ قائم ہے جو اس دنیا میں تھا کیونکہ جناب نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاے کرام علیہم السلام کے اجسام مبارکہ کو حرام کر دیا ہے اور انبیاے کرام علیہم السلام کے اجسام دنیویہ فنا نہیں ہوتے بلکہ اسی طرح قائم رہتے ہیں، حتیٰ کہ یہ مسئلہ خود قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کے حوالہ سے ذکر فرمایا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے جسم مبارک کو تو باقی رہنا ہی تھا، ان کی وجہ سے مچھلی کو بھی قیامت تک حیات مل جاتی۔ اس لیے قرآن کریم کی منشا بھی یہی ہے کہ حضرات انبیاے کرام علیہم السلام کے اجسام مبارکہ قیامت تک محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں قیامت کی اجتماعی فنا میں دوسروں کے ساتھ وہ بھی شریک ہوں گے۔
اس لیے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے آپ کو جو جواب دیا ہے اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے جس ارشاد گرامی کا آپ نے ذکر فرمایا ہے، مجھے میں اس اشکال کی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی، اس لیے کہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بالکل درست ہے اور امت مسلمہ کے جمہور اہل علم چودہ سو برس سے اسی کے قائل چلے آ رہے ہیں۔
امید ہے کہ بات کو سمجھنے کے لیے اتنی گزارشات کافی ہوں گی۔
شکریہ! والسلام
ابو عمار زاہد الراشدی
قارئین کے تنقیدی خطوط
ادارہ
(۱)
الشریعہ جون ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ’’برصغیر کی مذہبی فکر کا ایک تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے جناب الطاف احمد اعظمی کی ایک تحریر شائع کی گئی جس میں دور حاضر کی تین بڑی جماعتوں یعنی تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی اور جمعیۃ العلماء ہند میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض خامیاں اس قدر واضح ہیں کہ ہر ذی شعور فرد کے مشاہدے کا حصہ ہیں اور ان کی کوئی وکالت نہیں کی جا سکتی، البتہ جمعیۃ علماے ہند پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف نے مولانا ابو الکلامؒ کے تذکرہ میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کیا اور ان کی طرف ایسی باتوں کا انتساب کیا ہے جن کا حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں۔
مولانا آزادؒ کی فکر اور ان کے اسلوب نگارش کے بارے میں الطاف اعظمی صاحب کا کہنا ہے کہ اس سے ملت اسلامیہ کو بے حد نقصان پہنچا ہے جبکہ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ مولانا آزادؒ کی فکر اور اسلوب نگارش پر اس دور کے اکابر علماے کرام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ خصوصاً شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمن رحمہم اللہ جیسے صاحب نظر اور معاملہ فہم علما جس شخص پر اعتماد کریں، اس کے بارے میں الطاف اعظمی صاحب کی یک طرفہ رائے کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا کے ہفتہ وار اخبار ’الہلال‘ کے بارے میں الطاف صاحب کا کہنا ہے کہ اس نے ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ اسی ’الہلال‘ کے بارے میں اسیر مالٹا شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کا قول ہے کہ ’’ہم اپنا سبق بھولے ہوئے تھے، الہلال نے یاد دلایا ہے۔‘‘ اسی طرح حکومت برطانیہ کی طرف سے ’الہلال‘ کی جبری بندش بھی اس بات کی دلیل ہے کہ جناب الطاف صاحب کی رائے جانبدارانہ ہے۔
الطاف اعظمی صاحب نے مولانا پر ایک اور الزام یہ لگایا ہے کہ انہوں نے ادنیٰ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال کیا جبکہ اس کے مقابلے میں چند ایک ہندو سیاسی لیڈروں کا نام لے کر انہوں نے کہا ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی سیاسی مقاصد کے لیے اپنا مذہبی لٹریچر استعمال نہیں کیا۔ شاید الطاف صاحب اس بات کو بھول گئے کہ مولانا جس مذہب کو ماننے والے ہیں، اس کے نزدیک دین و دنیا اور مذہب وسیاست کے الگ الگ خانے نہیں ہیں بلکہ وہ زندگی کے تمام دائروں میں کلی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مولانا آزاد کی سیاست بھی مذہب ہی کی راہ سے آئی تھی۔ وہ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اس لیے لگے تھے کہ ان کے نزدیک یہ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا تھا۔ وہ حکومت وسیاست کا کام ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے تھے۔
جہاں تک مولانا کے سیاسی مقاصد کا تعلق ہے، وہ ادنیٰ تھے یا اعلیٰ؟ اس بات کا فیصلہ وقت کے قاضی نے بہت جلد کر دیا ہے۔ جن لوگوں نے مولانا کی رائے سے اختلاف کر کے ’’اعلیٰ‘ ‘ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال کیا تھا، وہ آج آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بن گئے ہیں اور انہوں نے مذہب کا نام لے کر سیدھے سادے مسلمانوں کو غلامی کے گڑھوں میں کچھ اس طرح سے دھکیل دیا ہے کہ اب ان کا اپنے پاؤں پر ازسرنو کھڑا ہونا ناممکن نظر آنے لگا ہے۔
جناب الطاف احمد صاحب نے مولانا کی تفسیر ’ترجمان القرآن‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان کی تفسیر میں خود نمائی کے اثرات پورے طور پر موجود ہیں اور تفسیری جدت طرازی کے شوق میں مولانا نے بعض فکری اعتزالات (وحدت ادیان وغیرہ) کی داغ بیل ڈالی ہے۔‘‘
وحدت ادیان کے بارے میں مولانا آزاد کی رائے کو سمجھنے سے الطاف صاحب قاصر رہے۔ مولانا کے نزدیک وحدت ادیان سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ موجودہ مذاہب عالم کی تعلیمات میں کوئی تضاد نہیں اور یہ موجودہ شکل میں سب کے سب برحق ہیں۔ مولانا تو یہ تصور دینا چاہتے ہیں کہ تمام آسمانی مذاہب کی اصل اور بنیادی تعلیم ایک ہی ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے خدا پرستی اور انسان دوستی کی دعوت نہ دی ہو۔ مدعیان مذہب کی ظاہر پرستیوں اور خام کاریوں کو مذہب خیال کر کے تضاد پیدا کرنا کج فہمی کی علامت ہے۔ اس تصور کے پیش کرنے میں مولانا آزاد منفرد نہیں ہیں بلکہ فیلسوف اسلام امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بھی اپنی تعلیمات میں سارے ادیان ومذاہب اور شریعتوں کا اصلاً ایک ہونا ثابت کیا ہے اور ان بنیادی اصولوں کا تعین بھی کیا ہے جو ہر دین کا مقصود حقیقی تھے۔
باقی رہی مولانا کے دیگر علمی تفردات پر نکتہ چینی تو یہ ہمارا اجتماعی مزاج بن گیا ہے کہ خوبیوں کو نظر انداز کر کے خامیوں کو عقاب کی نظر سے چنتے اور صبا کی رفتار سے پکڑتے ہیں۔ شاید الطاف صاحب اس بات کو بھول گئے ہیں کہ افکار ونظریات کا شذوذ ہر محقق اور مجتہد میں پایا جاتا ہے۔ قرون اولیٰ سے لے کر اب تک بے شمار محققین ومجتہدین گزرے ہیں۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہے جس کے افکار میں کہیں نہ کہیں تفرد نہ ہو لیکن کسی کے اجتماعی کارناموں کو نظر انداز کر کے اس کے تفردات کو اچھالنا غیر دانش مندانہ اور جانبدارانہ رویہ ہی کہلا سکتا ہے۔
محمد عمر کشمیری
شریک دورۂ حدیث
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
(۲)
۴۔۷۔۲۰۰۳
جناب محترم رئیس التحریر صاحب
آداب
’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں آپ کا ’’کلمہ حق‘‘ پڑھا۔ مجھے آپ کے اس خیال سے اتفاق ہے کہ مغربی ومشرقی تہذیب جو رخ اختیار کر چکی ہے یا اختیار کر رہی ہے، مسیحی اور اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ بد قسمتی سے یہ سب کچھ انسانی حقوق اور اس حوالے سے کیڑے مکوڑوں کی طرح روزانہ بننے والی ’’این جی اوز‘‘ (NGOs) کا کیا دھرا ہے۔
مجھے آپ کے اس خیال سے اتفاق نہیں کہ پاکستان کے تمام پادری صاحبان این جی اوز کے جال میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے خود کو انسانی حقوق اور این جی اوز کے فتنے سے نہ صرف آزاد رکھا ہوا ہے بلکہ ہماری تو ان کے ساتھ باقاعدہ ’’جنگ‘‘ ہو رہی ہے۔ ہم مسیحیت کی تعلیمات کو ہی نسل انسانی کے لیے بہترین طرز زندگی سمجھتے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دیگر مذاہب کی اخلاقی تعلیمات کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
امید ہے کہ آپ ہمارا نقطہ نظر سمجھ گئے ہوں گے۔ ہم پاکستانی مسیحی ہیں اور ہر قسم کے غیر اخلاقی کام کے خلاف مصروف جنگ رہتے ہیں اور یہ جنگ جاری رکھیں گے۔ آپ کا تعاون یقیناًہمارے لیے بہت مددگار ثابت ہوگا۔
زیادہ سلام
مخلص
میجر (ریٹائرڈ) ٹی ناصر
پریسبٹیرین بشپ آف پاکستان
پی او بکس ۶۷۰۔ گوجرانوالہ
تخصص تدریب المعلمین برائے مدارس دینیہ
ادارہ
(’تحریک اصلاح تعلیم‘ لاہور نے دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا ایک پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ تحریک کی طرف سے ارسال کردہ اس پروگرام کا تعارف اہل علم خصوصاً ملک بھر کے دینی مدارس کے مہتممین اور مدرسین کی اطلاع کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام پر تبصرے، تنقید اور بہتری کی تجاویز کے لیے تحریک اصلاح تعلیم، آسٹریلیا مسجد، نزد ریلوے اسٹیشن، لاہور سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ادارہ)
ضرورت
جدید تعلیم کے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کی تربیت کے لیے حکومت نے سیکڑوں تربیتی ادارے قائم کر رکھے ہیں بلکہ دفاع، بیوروکریسی، انکم ٹیکس، آڈٹ اور حکومت کے ہر محکمے نے اپنے اپنے تربیتی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بڑے تعلیمی ادارے اور سکول سسٹم بھی تربیت اساتذہ کا اہتمام کرتے ہیں لیکن ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس ہونے کے باوجود ان کے اساتذہ کی تربیت کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے، انہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل نہیں اور پھر یہ مدارس آپس میں متحد اور منظم بھی نہیں کیونکہ ہر وفاق اپنے اپنے مسلک کی بنیاد پر قائم ہوا ہے اس لیے آج تک کوئی تربیتی ادارہ وجود میں نہیں آ سکا۔ تاہم بعض وفاق اور بڑے مدارس تھوڑی بہت توجہ اب اس طرف مبذول کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد بھی مساجد کے خطبا کی تربیت کا ایک سالانہ پروگرام چلا رہی ہے۔
اہداف
تحریک اصلاح تعلیم نے دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا جو پروگرام بنایا ہے، اس کے مندرجہ ذیل اہداف طے کیے ہیں:
۱۔ دینی مدارس کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی
۲۔ دینی مدارس کے موجودہ اساتذہ کی تربیت
۳۔ جدید تعلیمی اداروں کے لیے تربیت یافتہ دینی معلمین کی فراہمی
۴۔ دینی مدارس میں کام کے دوران تربیت مہیا کرنا
۵۔ دینی تعلیم کے دوران باقی رہ گئی تعلیمی خامیوں کو دور کرنا
۶۔ دینی مدارس کے اساتذہ کو جدید علوم سے آگاہ کرنا
ایڈوائزری کونسل
تحریک اصلاح تعلیم پچھلے ڈھائی تین سال سے اہل سنت کے چاروں وفاقوں کے عمائدین کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح خصوصاً نصاب کے حوالے سے ایک متفقہ پیکج کی تیاری کے لیے کام کر رہی تھی۔ الحمد للہ اس میں تحریک کو کامیابی ہوئی اور چاروں وفاقوں کے ذمہ دار وثقہ علما نے اس سلسلے میں متفقہ نصابی تجاویز کی منظوری دے دی۔ پھر ان متفقہ تجاویز کی بنیاد پر نیا نصاب بھی تحریک نے تیار کر لیا۔ ]جن اصحاب کو اس موضوع سے دلچسپی ہو، وہ خط لکھ کر تحریک سے متفقہ نصابی تجاویز یا نئے مجوزہ نصاب کی کاپی منگوا سکتے ہیں[ چنانچہ انہی عمائدین سے درخواست کی گئی کہ وہ تحریک کے زیر انتظام دینی مدارس کے لیے تربیت اساتذہ کے اس پروگرام کی بھی سرپرستی فرمائیں چنانچہ مشاورت سے مندرجہ ذیل عمائدین پر مشتمل ایک ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی:
۱۔ جناب مولانا فضل الرحیم صاحب، نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور ورکن وفاق المدارس العربیہ۔
۲۔ جناب مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب، مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور وناظم اعلیٰ تنظیم المدارس۔
۳۔ جناب مولانا عبد المالک صاحب، شیخ الحدیث مرکز علوم اسلامیہ منصورہ وناظم اعلیٰ رابطۃ المدارس ۔
۴۔ جناب مولانا محمد یونس بٹ صاحب، استاذ جامعہ سلفیہ فیصل آباد وناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ۔
چنانچہ اس پروگرام کی ساری تفصیلات اس ایڈوائزری کمیٹی کے مشورے سے طے کی گئی ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ان سے مشاورت کی بنیاد پر ہی کام کیا جائے گا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ پروگرام چاروں وفاقوں کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے اور اس وقت جو پروگرام عملاً چل رہا ہے، اس میں بھی الحمد للہ سب مسالک کے اساتذہ وطلبہ موجود ہیں اور شیر وشکر ہو کرتحصیل علم میں مصروف ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تدریب المعلمین کے پروگرام سے قطع نظر مختلف مسالک کے حامل اساتذہ وطلبہ کا اس طرح ایک جگہ مل بیٹھ کر مشترکہ پروگرام میں شریک ہونا بجاے خود ایک مبارک ومطلوب عمل ہے اور اس کے مفید اور تعمیری اثرات ان شاء اللہ مستقبل میں ظاہر ہوں گے۔
اس پروگرام میں داخلے کے لیے ضروری ہوگا کہ طالب علم نے:
۱۔ مندرج ذیل وفاقوں میں سے کسی ایک سے الشہادۃ العالمیۃ کا امتحان کم از کم ۶۰ فیصد نمبر لے کر پاس کیا ہو:
-وفاق المدارس العربیہ - تنظیم المدارس - رابطۃ المدارس الاسلامیۃ - وفاق المدارس السلفیۃ
۲۔ وہ کم از کم میٹرک سیکنڈ ڈویژن پاس ہو۔ جدید تعلیم کی اعلیٰ ڈگری جیسے ایف اے، بی اے، ایم اے قابل ترجیح ہوگی۔
۳۔ وہ جس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوا ہو، اس کے سربراہ یا ایڈوائزری کونسل کے کسی رکن سے حاصل کردہ حسن السیرۃ والسلوک کا سرٹیفکیٹ (تزکیہ) پیش کرے گا۔
۴۔ تحریک کی طرف سے منعقدہ ٹیسٹ اور انٹرویو میں کام یابی۔
متفرق امور
نوعیت:
یہ درس نظامی سے فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے تخصص کا پروگرام ہے جس کے نتیجے میں وہ ان شاء اللہ دینی مدارس کے لیے بہتر معلم ثابت ہوں گے۔ جو اساتذہ اس وقت دینی مدارس میں پڑھا رہے ہیں، ان کے لیے مختصر دورانیے کے کورسوں کا الگ سے انتظام کیا جائے گا۔
دورانیہ:
اس کورس کا دورانیہ ایک سال ہوگا۔
ڈگری:
اس کورس کے شرکا چونکہ الشہادۃ العالمیۃ کے حامل ہوں گے جسے حکومت پاکستان ایم اے اسلامیات وعربی کے برابر تسلیم کرتی ہے لہٰذا اس کورس کو بطور ایک پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے حکومت کی کسی منظور شدہ یونیورسٹی سے الحاق کے ذریعے حکومت سے منظور کروایا جائے گا تاکہ دینی مدارس کے علاوہ محکمہ تعلیم، محکمہ اوقاف اور پرائیویٹ سکولوں میں ان تربیت یافتہ اساتذہ کو ملازمت ملنے میں آسانی ہو۔
فیس:
یہ پروگرام بلا معاوضہ ہے۔
ہوسٹل:
فی الحال ادارے کے پاس ہوسٹل کی سہولت موجود نہیں ہے تاہم لاہور میں چاروں وفاقوں کے بڑے دینی مدارس کے سربراہان سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ عارضی طور پر اپنے وفاقوں کے طلبہ کی رہائش میں مدد دیں۔
تعلیمی سال:
ہر سال شوال میں شروع ہو کر رجب میں ختم ہوا کرے گا۔
اساتذہ:
تدریس کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسرز تشریف لاتے ہیں نیز دینی مدارس کے تجربہ کار ومعتدل مزاج علما سے بھی مدد لی جاتی ہے۔
تعداد:
ادارے کے پاس فی الحال صرف ۳۰ طلبہ کی تدریس کا انتظام ہے۔
طریق تدریس وامتحان:
سالانہ کے بجائے سمسٹر سسٹم، ۱۲ ہفتوں کے تین سمسٹر۔ سمسٹر سسٹم اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ مضامین پڑھائے جا سکیں۔ تدریس کی بنیاد لیکچرز، منتخب مطالعہ اور اسائنمنٹ۔
تربیت:
تدریس کے علاوہ طلبہ کی تربیت وتزکیہ کا خصوصی اہتمام۔
نصاب:
یہ تخصص اگرچہ تربیت اساتذہ کے حوالے سے ہے اور اسی پر ادارہ زیادہ ترکیز کرتا ہے لیکن مستقبل کے ان اساتذہ کو بحیثیت داعی، عالم دین اور خطیب کے مسلم معاشرے کے لیے زیادہ موثر بنانے کے لیے کچھ ان مضامین کی تدریس کا بھی اضافہ کیا گیا ہے جنہیں پڑھنے کا انہیں دینی مدارس میں یا تو موقع نہیں ملا یا وہ بوجوہ ان پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے۔ یوں اس کورس کا نصاب تین طرح کے مضامین پر مشتمل ہے: اساسی مضامین، جدید مضامین اور ضمنی مضامین۔
اساسی مضامین
(الف) لازمی مضامین (۷۰۰ نمبر)
۱۔ طرق تدریس، ۲۔ تعلیمی نفسیات، ۳۔ فلسفہ وتاریخ تعلیم، ۴۔ تربیت طلبہ، ۵۔ تعلیم کی اسلامی تشکیل نو، ۶۔ تعلیمی انتظامیات، ۷۔ تدریس کی عملی تربیت
(ب) اختیاری مضامین (۳۰۰ نمبر)
یہاں دو گروپ بنائے گئے ہیں۔ طلبہ کو ان میں سے کسی ایک کے مضامین پڑھنے ہوں گے:
-i دینی مدارس گروپ۔ مضامین: ۱۔ تدریس عربی، ۲۔ تدریس قرآن وحدیث، ۳۔ تدریس فقہ واصول فقہ
-ii جدید سکول گروپ۔ مضامین: ۱۔ تدریس عربی، ۲۔ تدریس اسلامیات، ۳۔ تدریس اردو
جدید مضامین
۱۔ انگریزی زبان ۲۔ مغرب کے سماجی علوم (جیسے معاشیات، سیاسیات، تعلیم، نفسیات وغیرہ) کا تعارفی مطالعہ، ۳۔ مغرب کے سائنسی علوم (جیسے طبعیات، کیمیا، حیاتیات، فلکیات وغیرہ) کا تعارفی مطالعہ ۴۔ کمپیوٹر ۵۔ اسلام اور عصر حاضر (۲۰۰ نمبر)
ضمنی مضامین
۱۔ عربی (محادثۃ وانشاء) ۲۔ طرق تحقیق ۳۔ دعوت واصلاح (بشمول تقریر وتحریر کی مشق) ۴۔ مطالعہ امت (مختصر تاریخ، جغرافیہ، مسائل وغیرہ بشمول مطالعہ پاکستان) ۵۔ سیرت النبی وتقابل ادیان (۲۰۰ نمبر)
تحریک اصلاح تعلیم
تحریک اصلاح تعلیم ڈاکٹر محمد امین صاحب (سینئر ایڈیٹر ارد و دائرہ معارف اسلامیہ، جامعہ پنجاب) اور ان کے احباب نے لاہور میں ۱۹۸۹ء میں قائم کی۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اس کے پیش نظر پاکستان کے نظام تعلیم کی اصلاح ہے۔ اول تو ہمارے ہاں تعلیم بہت کم ہے اور جو ہے، اس کا کوئی معیار نہیں۔ اس کی ایک بنیادی خرابی ثنویت ہے یعنی دنیوی (جدید) تعلیم الگ اور دینی تعلیم الگ حالانکہ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔ پھر جدید تعلیم ہمارے ہاں مغربی فکر وتہذیب کا بھونڈا چربہ ہے اور مغرب کی غلامی سکھاتی ہے۔ دینی تعلیم اس میں برائے نام ہے اور اسلامی تربیت کا یہاں گزر ہی نہیں۔ اسی طرح دینی تعلیم ہمارے ہاں مسلک پرستی پر مبنی ہے، یہاں جدید علوم سے اعتنا نہیں کیا جاتا اور تربیت کی طرف توجہ کم ہے۔ لہٰذا دونوں جگہ نصاب کی تبدیلی، اساتذہ کی تربیت، تربیت طلبہ اور معیار کی بہتری کی سخت ضرورت ہے۔ تحریک پہلے دن سے حسب استطاعت اصلاحی پروگرام پر کاربند ہے اور اخبارات وجرائد میں مضامین، ورکشاپس، سیمینارز، ملاقاتوں اور پمفلٹوں کے ذریعے اپنی سوچ لوگوں تک پہنچاتی رہی ہے۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۳ء کے دوران پہلی سے بارہویں جماعت تک جدید تعلیم کے سارے مضامین کا نصاب اسلامی تناظر میں ازسرنو مدون کیا گیا اور ا س کے مطابق بعض کتب شائع کی گئیں۔ پھر ۲۰۰۰ء تا ۲۰۰۲ء دینی تعلیم کے چاروں وفاقوں کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے نصاب کی تبدیلی کے لیے متفقہ تجاویز تیار کی گئیں اور متبادل نصاب تیار کیا گیا اور اب اپریل ۲۰۰۳ء سے دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا ایک سالہ پروگرام شروع ہے۔ موجودہ نظام تعلیم کی اصلاح کے ساتھ ساتھ تحریک کے پیش نظر جدید اور دینی تعلیم دونوں کے ہر سطح کے ماڈل تعلیمی اداروں کا قیام بھی ہے تاکہ اصلاحی عمل کو مثبت شکل اختیار کرنے میں آسانی رہے۔
تحریک اصلاح تعلیم ایک آزاد علمی اور اصلاحی تحریک ہے اور حکومت پاکستان یا دوسرے کسی ادارے کی حمایت اور مدد کے بغیر مشکل حالات میں علما کے مشورے اور تعاون سے کام کر رہی ہے۔
الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے عطیہ کتب
ادارہ
گوجرانوالہ کی معروف مذہبی وسماجی شخصیت جناب علامہ محمد احمد لدھیانوی نے اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کے گراں قدر ذخیرۂ کتب میں سے درج ذیل کتابیں الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے عنایت کی ہیں:
۱۔ التفسیر المظہری ( ۱۰ جلدیں)
۲۔ الاتقان فی علوم القرآن
۳۔ مجمع الانہر(۲ جلدیں)
۴۔ زجاجۃ المصابیح (۵ جلدیں)
۵۔ کتاب الحجج للامام محمدؒ
۶۔ مسند الامام الاعظمؒ مع شرح الملا علی القاریؒ
۷۔ الموطا للامام محمدؒ
۸۔ کتاب الآثار للامام ابی یوسفؒ
۹۔ آثار السنن
۱۰۔ نبراس الساری فی اطراف البخاری
۱۱۔ المسوی شرح الموطا (۲ جلدیں)
۱۲۔ معارف السنن شرح جامع الترمذی (۶ جلدیں)
۱۳۔ نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ (۴ جلدیں)
۱۴۔ فیض الباری شرح البخاری (۴ جلدیں)
الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اس موقع پر ا ن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لائبریری کے ذخیرے میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے یہ بات مزید فخر ومسرت کا باعث ہے کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ جیسے فاضل بزرگ کے زیر تصرف رہنے والی کتب ایک یادگار کے طور پر اکادمی کی لائبریری میں محفوظ رہیں گی اور طلبہ واساتذہ کو ان سے استفادہ کا موقع ملے گا۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’کمالات سیرت النبی ﷺ‘‘
پروفیسر عبد الجبار شیخ باذوق اور باہمت اصحاب دانش میں سے ہیں اور سیالکوٹ چھاؤنی میں ’’سیرت سٹڈی سنٹر‘‘ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے جناب نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ کے فیضان کو عام کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ زیر نظر کتاب سیرت نبوی کے مختلف عنوانات پر ان کے مقالات کا مجموعہ ہے جن میں انہوں نے آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبہ کے حوالہ سے مفید اور معلوماتی گفتگو کی ہے۔
پونے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مکتبہ سید احمد شہید، اردو بازار لاہور سے طلب کی جا سکتی ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔
’’نجم الفتاویٰ‘‘ (جلد دوم)
حضرت مولانا قاضی عبد الکریم مدظلہ آف کلاچی ہمارے ملک کے بزرگ علمائے کرام میں سے ہیں جو ایک علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا اوڑھنا بچھونا ہی علمی، تدریسی اور اصلاحی خدمات رہا ہے۔ مدرسہ نجم المدارس کلاچی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے فتاویٰ کے شعبہ میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں اور ہزاروں مسائل میں عامۃ المسلمین کی علمی و دینی راہ نمائی کی ہے۔ ان کے فتاویٰ کو ان کے فرزند مولانا قاضی عبد الحلیم حقانی نے مرتب صورت میں پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے جو ایک قابل قدر علمی خدمت ہے۔
نجم الفتاویٰ کی جلد اول کی زیارت کا موقع تو ابھی تک نہیں مل سکا البتہ اس کی دوسری جلد اس وقت ہمارے سامنے ہے جس میں عقائد اور احکام کے حوالہ سے سینکڑوں مسائل کا تذکرہ موجود ہے۔
۵۳۶ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے اور اسے شعبہ تصنیف و تالیف نجم المدارس کلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’تاریخ و تذکرہ خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ‘‘
نقشبندی سلسلہ کی معروف روحانی تربیت گاہ خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی ہمارے ملک کے ممتاز روحانی مراکز میں سے ہے جہاں بڑے بڑے مشائخ اور علمائے کرام حضرت مولانا احمد خانؒ ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ ، اور حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی راہ نمائی میں اصلاح وتزکیہ اور سلوک کی منازل طے کرتے آ رہے ہیں۔ محترم محمد نذیر رانجھا نے خانقاہ سراجیہ شریف کی تاریخ اور خدمات کو خوب صورت انداز میں مرتب کیا ہے اور اسے عمدہ کتابت وطباعت کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
ساڑھے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب جمعیۃ پبلیکیشنز، مسجد پائلٹ سکول، وحدت روڈ، لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے۔
’’حیات ترمذیؒ ‘‘
حضرت مولانا مفتی سید عبد الشکور ترمذیؒ کا شمار ہمارے ملک کے سرکردہ اہل علم اور ممتاز مفتیان کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے تھانہ بھون کے بابرکت ماحول میں تعلیم و تربیت حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد ضلع سرگودھا میں ساہیوال کے مقام پر دینی درسگاہ قائم کر کے ساری زندگی ملک بھر کے علمائے کرام اور عوام کی علمی و دینی راہ نمائی کرتے رہے۔ ان کے لائق فرزند مولانا سید عبد القدوس ترمذی نے ’’حیات ترمذی‘‘ کے نام سے ان کی سوانح و سیرت اور علمی و دینی خدمات کو زیر نظر ضخیم کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے جس میں حضرت مرحوم کے حالات و خدمات کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں ممتاز ارباب علم و دین کے تاثرات بھی شامل ہیں۔
ایک ہزار کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب پر قیمت درج نہیں اور اسے جامعہ حقانیہ، ساہیوال، ضلع سرگودھا سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
ماہنامہ ’’بیداری‘‘ حیدر آباد
سندھ کے معروف دانش ور جناب محمد موسیٰ بھٹو علمی و فکری محاذ پر ایک عرصہ سے امت مسلمہ کی بیداری اور دور حاضر کے مسائل کی طرف علمائے کرام اور دینی حلقوں کو توجہ دلانے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ ان کی ادارت میں ماہنامہ ’’بیداری‘‘ اہتمام سے شائع ہوتا ہے جس میں ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شامل ہوتی ہیں اور عصر حاضر کے ضروری مسائل پر امت کی راہ نمائی اس جریدہ کا خاص موضوع ہے۔
سالانہ زر خریداری ۱۵۰ روپے۔ ملنے کا پتہ : سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، ۴۰۰/ بی، لطیف آباد ۴، حیدر آباد، سندھ
’’صحیح اسلامی عقیدہ‘‘
مبین ٹرسٹ پوسٹ بکس ۴۷۰ اسلام آباد ۴۴۰۰۰ نے عقائد کے بارے میں سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم حضرت الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک کتابچہ کا اردو ترجمہ معیاری انداز میں شائع کیا ہے جس میں اہل سنت کے عقائد کی وضاحت کی گئی ہے۔
۵۶ صفحات کا یہ خوب صورت کتابچہ ایصال ثواب کی نیت سے مفت تقسیم کیا جا رہا ہے۔
سیاسی کے بجائے معاشرتی انقلاب کی ضرورت
محمد موسی بھٹو
تعلیمی اداروں، سماجی اداروں اور اسلام کے نظریاتی اداروں سے وابستہ وہ باصلاحیت افراد جو سیاست میں دینی جدوجہد کے ذریعہ بہت بڑی تبدیلی کی توقع پر معاشرہ کی سطح پر اپنے حصہ کے کام کو معطل کیے ہوئے ہیں یا اس کام کی افادیت کے قائل نہیں، انہیں اس نکتہ پر ضرور غور وفکر کرنا چاہیے کہ اول تو معاشرہ کی سطح پر تبدیلی کے لیے اپنی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال کے بغیر صحت مند سیاسی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اگر اس طرح کی تبدیلی واقع بھی ہو جائے تو اس تبدیلی میں ان کا کردار نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود تو اس عظیم کام کی سعادت سے محروم ہی رہیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ قوموں کے لیے اصل اور فیصلہ کن چیز ثقافتی انقلاب ہوتا ہے۔ ثقافتی انقلاب ذہن، فکر ونظر، دل، وجدان اور شخصیت میں تبدیلی کا نام ہوتا ہے۔ جب قومیں ثقافتی تبدیلی سے گزرتی ہیں تو ملک کے ہر شعبہ زندگی میں انہیں ایسی قیادت میسر ہو جاتی ہے جو قومی اور ملی مقاصد سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور جو سراپا ملی جذبات واحساسات کی حامل ہوتی ہے۔ اس طرح کی قیادت قوم وملت کے مفادات کے منافی اقدامات کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہیں ہوتی۔ نیز ثقافتی عمل قوموں میں احتساب کے عمل کو اتنا سخت اور ہمہ جہتی بنا دیتا ہے کہ سیاسی، انتظامی اور تعلیمی قیادت بے ایمانی، ملت فروشی اور دشمن کے مفادات کی سرانجامی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ مغرب میں ڈیڑھ دو سو برس پہلے جو ثقافتی انقلاب برپا ہوا، اس نے معاشرہ کو قومی مفادات سے ہم آہنگ قیادت فراہم کی جس کی وجہ سے مغربی معاشرے اخلاقی نصب العین اور ثقافتی تبدیلی کے ناقص تصورات کے باوجود اب بھی مسلم معاشروں سے زیادہ مستحکم ہیں۔
معاشرے میں ثقافتی انقلاب برپا کرنے میں تعلیمی، سماجی، تہذیبی اور تربیتی ادارے ہی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سیاست سے معجزہ نما انقلاب کی توقع رکھ کر جو وقت ضائع ہوا ہے، کاش ملک کے دردمند دینی عناصر میں اس کا شعور اور احساس پیدا ہو جائے اور معاشرہ کی سطح پر صحیح سمت میں بڑے پیمانہ پر کام کی صورت پیدا ہو جائے۔ اسی کام سے ہی معاشرے میں بڑھتے ہوئے اخلاقی زوال، بے ایمانی، غیر ذمہ داری وغیرہ کو روکا جا سکتا ہے۔