دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء کو شیخ زاید اسلامک سنٹر، پنجاب یونیورسٹی، لاہور میں ’’اجتہاد‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینار میں پڑھا گیا۔)
نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔ اما بعد۔
شیخ زاید اسلامک سنٹر جامعہ پنجاب کی ڈائریکٹر محترمہ ڈاکٹر شوکت جمیلہ صاحبہ کا شکر گزار ہوں کہ آج کی اس محفل میں حاضری اور اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ہمیں مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین
اجتہاد کا مفہوم اور اس کی ضرورت
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کہ جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں اور ان کے ساتھ ہی آسمان سے نازل ہونے والی وحی کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے، اب قیامت تک کوئی نبی نہیں پیدا ہوگا اور نہ ہی کوئی وحی نازل ہوگی اور اس کے ساتھ اس عقیدہ کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ قیامت تک نسل انسانی کی ہدایت، راہ نمائی، فلاح اور نجات قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات میں منحصر ہے تو منطقی طور پر یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ زمانہ اور وقت تو ایک جگہ اور ایک کیفیت پر ٹھہرنے والی چیز نہیں ہے، اس میں مسلسل تغیر رونما ہوتا رہتا ہے، انسانی سوسائٹی تغیر اور ارتقا کے مراحل سے پیہم گزر رہی ہے اور دنیا کے احوال وظروف میں تبدیلیاں انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، پھر اس مسلسل اور پیہم تغیر پذیر دنیا اور سوسائٹی میں نئے احوال وظروف سے عہدہ برآ ہونے کے لیے انسانی معاشرہ کی راہ نمائی کا نظام کیا ہے؟ اور سلسلہ وحی مکمل ہو جانے کے بعد قیامت تک آنے والے انسانوں کا آسمانی تعلیمات کے ساتھ رشتہ کیسے قائم رہے گا؟ مغرب نے تو یہ کہہ کر اس سارے قضیے سے پیچھا چھڑا لیا ہے کہ انسانی سوسائٹی اب بالغ ہو گئی ہے اور اپنا برا بھلا خود سمجھنے لگی ہے اس لیے اسے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی ڈکٹیشن کی سرے سے ضرورت ہی نہیں رہی، اب اس کے فیصلے خود اس کے ہاتھ میں ہیں۔ انسانی سوسائٹی کی اکثریت جو چاہے اور انسان کی اجتماعی عقل وخرد جو سمجھے، وہی حرف آخر ہے اور اسے مزید کسی نگرانی اور چیک کی حاجت نہیں ہے لیکن مسلمانوں کے لیے یہ بات کہنا اور اسے قبول کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ انسانی سوسائٹی کسی مرحلہ میں بھی آسمانی تعلیمات سے بے نیاز نہیں رہ سکتی اور انسانی معاشرہ کو شخصی، طبقاتی یا اجتماعی طور پر کبھی بھی یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ وحی الٰہی سے لا تعلق ہو کر اپنے فیصلوں میں غیر مشروط طور پر آزاد ہو اس لیے قیامت تک انسانی سوسائٹی کی راہ نمائی کے لیے آسمانی تعلیمات کا تسلسل ضروری ہے۔
قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت وتعلیمات دونوں تاریخ کے ریکارڈ پر محفوظ حالت میں موجود ہیں اور دنیا بھر میں شب وروز ان کی تعلیم وتدریس اور تبلیغ واشاعت کا سلسلہ جاری ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان میں انسانی زندگی کو قیامت تک پیش آنے والے حالات ومسائل کی تفصیلات موجود نہیں ہیں اور نہ ہی موجود ہو سکتی ہیں اس لیے اسلام نے بعد میں رونما ہونے والے حالات وواقعات اور مشکلات ومسائل کے حوالہ سے انسانی معاشرہ کو قرآن وسنت کے دائرہ کا پابند رکھتے ہوئے جزئیات وفروعات میں حالات ومواقع کی مناسبت سے قرآن وسنت کی اصولی راہ نمائی کی روشنی میں عقل وقیاس کے ساتھ فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا ہے اور اسی اختیار کو شریعت کی اصطلاح میں ’’اجتہاد‘‘ کہتے ہیں۔
جن مسائل میں قرآن وسنت کی واضح راہ نمائی موجود نہیں ہے، ان میں قرآن وسنت کی روشنی میں رائے اور اجتہاد کے ساتھ فیصلہ کرنے کا یہ عمل صحابہ کرامؓ میں خود جناب نبی اکرم ﷺ کے دور میں بھی جاری تھا۔ احادیث کے ذخیرے میں بیسیوں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو کوئی معاملہ درپیش ہوا، قرآن کریم کا کوئی واضح حکم سامنے نہیں تھا، جناب نبی اکرم ﷺ تک فوری رسائی بھی ممکن نہیں تھی تو متعلقہ حضرات نے اپنی رائے سے ایک فیصلہ کر لیا اور اس پر عمل کر گزرے۔ بعد میں جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بات پیش کی گئی تو آنحضرت ﷺ نے یہ تو کیا کہ کسی کے عمل کی توثیق کر کے اسے سند جواز عطا فرما دی اور کسی کے عمل کو خطا قرار دے دیا لیکن کبھی بھی نبی اکرم ﷺ نے اس ’’اختیار‘‘ کی نفی نہیں فرمائی کہ قرآن وسنت کی واضح راہ نمائی موجود نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنی رائے اور اجتہاد سے فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔
اس حوالے سے حضرت معاذ بن جبلؓ کی مشہور روایت کی ترتیب بھی یہی ہے کہ انہیں یمن کا عامل وقاضی بناتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کہ کسی مسئلہ میں قرآن کریم اور سنت نبوی سے راہ نمائی نہ ملی تو وہ کیا کریں گے؟ انہوں نے فرمایا کہ اجتہد برایی، میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کے اس جواب پر خوشی کا اظہار کر کے اس بات کی توثیق وتصدیق فرما دی۔
عمل اجتہاد کا تاریخی ارتقا
جناب نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ کے پورے دور میں اسی اصول کے مطابق نئے پیش آمدہ مسائل کے فیصلے ہوتے رہے اور اس کے لیے باقاعدہ اصول وضوابط طے کرنے کا کام بھی انہی کے دور میں شروع ہو گیا جیسا کہ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور بعض دیگر اکابر صحابہ کرامؓ کے متعدد ارشادات سے اس کی نشان دہی ہوتی ہے۔ صحابہ کرامؓ چونکہ براہ راست چشمہ نبوت سے فیض یاب تھے اور جناب نبی اکرم ﷺ کے مزاج اور سنت کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لیے اجتہاد کے حوالہ سے کسی واضح درجہ بندی، اصول وضوابط اور دائرہ کار کے تعین کی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کی گئی البتہ بعد کے ادوار میں ’’اجتہاد‘‘ کے اس عمل کو ہرکس وناکس کی جولان گاہ بننے سے بچانے کے لیے یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کے اصول وقوانین طے کیے جائیں، دائرہ کار کی وضاحت کی جائے، درجہ بندی اور ترجیحات کا تعین کیا جائے اور اہلیت وصلاحیت کا معیار بھی طے کر لیا جائے تاکہ قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح اور نئے پیش آمدہ مسائل کے شرعی حل کا یہ مقدس عمل بازیچہ اطفال بننے کے بجائے صحیح رخ پر منظم ہو اور امت کی فکری وعملی راہ نمائی کا موثر ذریعہ ثابت ہو، چنانچہ بیسیوں مجتہدین اور ائمہ کرامؒ نے اس کے لیے انفرادی واجتماعی محنت کی اور کم وبیش تین سو برس تک عالم اسلام کے مختلف حصوں اور امت کے مختلف گروہوں میں جاری رہنے والے متنوع علمی مباحث کے نتیجے میں وہ منظم فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے جنہیں آج حنفی، مالکی، شافعی ، حنبلی اور دوسرے عنوانات کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے اور جو بعد کی صدیوں میں کم وبیش ساری امت کو اپنے دائروں میں سمیٹتے چلے آ رہے ہیں۔
البتہ یہ فرق ضرور سامنے آیا کہ ابتدائی صدیوں میں اجتہاد کا عمل ان فقہی مکاتب فکر کی طرز کے متعین اصول وضوابط کے دائروں کا پابند نہیں تھا اور آزادانہ اجتہاد کے ذریعہ مجتہدین اپنے اپنے علاقوں میں امت کی راہ نمائی کا فریضہ سرانجام دیتے تھے مگر ان فقہی مکاتب فکر کے منظم ہونے کے بعد اجتہاد کے اصول وضوابط طے کرنے کا کام جاری نہ رہا اور انہی کے واضح کردہ اصول وقوانین کی پابندی کرتے ہوئے عملی دائروں میں اجتہاد کا سلسلہ بدستور چلتا رہا۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ کسی بھی علم کے بنیادی اصول وضوابط کے تعین کا ایک خاص وقت ہوتا ہے، یہ وہی وقت ہوتا ہے جب وہ تشکیل وتدوین کے مراحل سے گزر رہا ہو۔ اور جب وہ تشکیل وتدوین کے ایک خاص مرحلہ تک پہنچتا ہے تو بنیادی اصول وضوابط کے وضع کرنے کا عمل ضرورت پوری ہو جانے کی وجہ سے خود بخود رک جاتا ہے اور اس کے بعد اس علم نے ہمیشہ انہی بنیادی اصولوں کے دائرے میں آگے بڑھنا ہوتا ہے جو اس کے لیے ابتدا میں طے کر دیے جاتے ہیں۔ ان اصول کے دائرہ میں اس علم کا ارتقا جاری رہتا ہے لیکن اس کے بنیادی اصولوں کو نہ کبھی چیلنج کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں جامد قرار دے کر تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر علم صرف کو سامنے رکھا جا سکتا ہے کہ اس کے اصول اور بنیادی قوانین انسانوں نے ہی وضع کیے ہیں اور ماضی، مضارع، فاعل، امر، نہی اور ظرف وغیرہ کے صیغوں کی تشکیل اور دیگر ضوابط ایک دور میں صرف کے اماموں نے طے کیے ہیں، ان میں جزوی ترمیمات وتوضیحات ہر دور میں ہوتی رہی ہیں لیکن بنیادی قواعد کا ڈھانچہ وہی چلا آ رہا ہے جو اس کے ابتدائی ائمہ نے طے کر دیا تھا۔ اسے نہ تو کسی بھی دور میں چیلنج کرنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی یہ سوال اٹھانا عقل مندی کی بات ہوگی کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل کے لوگوں کو قواعد وضوابط بنانے کا حق تھا تو آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ حق ہمیں کیوں حاصل نہیں ہے؟ ہم ان قواعد وضوابط میں اضافہ کر سکتے ہیں، ان کی ضرورت کے مطابق نئی تشریحات کر سکتے ہیں لیکن اس کے بنیادی ڈھانچہ کی نفی نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کی نسبت تبدیل کر سکتے ہیں کہ یہ اعزاز تقدیر وتاریخ میں جن کے لیے طے تھا، ان کو مل چکا ہے اور اب قیامت تک ان سے یہ کریڈٹ چھینا نہیں جا سکتا۔
علماء، دور جدید اور اجتہاد
آج کل عام طور پر ایک بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ علماء کرام نے ’’اجتہاد‘‘ کا دروازہ بند کر دیا ہے اور جمود کو امت پر مسلسل مسلط کر رکھا ہے جس کی وجہ سے امت پر ترقی کے دروازے مسدود ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس مرحلہ پر اس سوال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے لیا جائے تو مناسب بات ہوگی۔
جہاں تک اجتہاد کے بنیادی اصول وضوابط کے تعین کی بات ہے، اس کا دروازہ تو ابتدائی تین صدیوں کے بعد سے اس لحاظ سے بند ہے کہ اس کے بعد اجتہاد کا عمل انہی دائروں میں ہوتا آ رہا ہے جو مسلمہ فقہی مکاتب فکر نے طے کر دیے تھے اور یہ دروازہ کسی کے بند کرنے سے بند نہیں ہوا بلکہ ضرورت پوری ہو جانے کے بعد فطری طور پر خود بخود بند ہو گیا ہے جیسا کہ کسی بھی علم کا فطری پراسیس ہوتا ہے، البتہ مسلمہ فقہی مکاتب فکر کے متعین کردہ اصولوں کے دائرہ میں اجتہاد کا معاملہ قدرے تفصیل طلب ہے۔ ہمارے خیال میں جو فقہ جس دور میں بھی کسی اسلامی مملکت کا قانون رہی ہے، اس میں وقت کی رفتار اور ضرورت کے مطابق اجتہاد کا عمل بھی جاری رہا ہے۔ اس اجتہاد میں نئے پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ پرانے فقہی فتاویٰ پر نظر ثانی کا عمل بھی شامل ہے۔ خلافت عثمانیہ اور جنوبی ایشیا کی مغل حکومت دونوں کا قانون فقہ حنفی پر مبنی تھا۔ خلافت عثمانیہ میں ’’مجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ کی تدوین اور مغل حکومت میں ’’فتاویٰ عالم گیری‘‘ کی ترتیب کے کام پر نظر ڈال لیجیے، آپ کو سابقہ فقہی فتاویٰ پر نظر ثانی اور نئے مسائل کے حل کی اجتہادی کاوشیں دونوں جگہ یکساں دکھائی دیں گی۔ موجودہ دور میں سعودی عرب میں حنبلی فقہ کی عمل داری ہے، آپ اس کا جائزہ لیں گے تو سعودی قضاۃ کے فیصلوں میں آپ کو حنبلی فقہ اب سے دو سو برس قبل کی جزئیات کی شکل میں نہیں بلکہ آج کی ضروریات اور تقاضوں کے حوالے سے جدید اجتہادات کی روشنی میں آگے بڑھتی نظر آئے گی۔ اسی طرح اہل تشیع نے ایران میں فقہ جعفری کو ملکی قانون کا درجہ دیا ہے تو یقیناًانہوں نے صدیوں پہلی کتابیں اٹھا کر انہیں عدالتی قانون کی حیثیت نہیں دے دی بلکہ آج کے حالات اور تقاضوں کے مطابق انہیں جدید اجتہادات کے ساتھ جدید قانونی زبان اور اصطلاحات کے ذریعہ نافذ العمل بنایا ہے۔
یہ فقہی مذاہب کے اس کردار کی بات ہے جو انہوں نے مختلف ممالک میں سرکاری مذاہب کے طور پر ادا کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ اس سے ہٹ کر پرائیویٹ سیکٹر میں دیکھ لیجیے۔ ہمارے ہاں جنوبی ایشیا میں مغل اقتدار کے خاتمہ کے بعد اجتہاد اور افتا کا یہ عمل عدالت اور سرکار کے دائرہ سے نکل کر عوامی حلقوں میں آ گیا تھا۔ اس خطے میں گزشتہ دو صدیوں کے دوران سینکڑوں دار الافتا قائم ہوئے ہیں جو اب بھی کام کر رہے ہیں اور ان میں سے بیسیوں کو علمی وعوامی حلقوں میں اس درجہ کا اعتماد حاصل ہے کہ دینی معاملات میں ان کی بات کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بلا مبالغہ لاکھوں فتاویٰ جاری کیے ہیں جو کئی ضخیم کتابوں کی صورت میں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ اگر اہل علم کی کوئی ٹیم اس کام کے لیے مقرر کی جائے کہ وہ ان فتاویٰ کا جائزہ لے کر یہ تجزیہ کرے کہ ان میں کتنے فتوے ایسے ہیں جن میں ان مفتیان کرام نے اجتہادی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں جدید مسائل کے نئے حل پیش کیے ہیں تو ہمارے محتاط اندازے کے مطابق ان کا تناسب مجموعی فتاویٰ کے بیس فی صد سے کسی طرح کم نہیں ہوگا۔ آپ ان کے فتاویٰ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ انہوں نے نئے مسائل کا سامنا کیا، ان کے حل کے لیے اجتہاد کا عمل اختیار کیا اور جدید مسائل میں مسلمانوں کی راہ نمائی کی ہے۔
ہم تھوڑا سا اور آگے بڑھ کر ایک دو حوالے اور دینا چاہیں گے۔ ایک یہ کہ پاکستان بننے کے بعد جب یہ سوال اٹھا کہ اسلامی نظام کا نفاذ کس مذہبی فرقہ کی تشریحات کے مطابق ہوگا تو تمام مذہبی مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام جمع ہوئے۔ علامہ سید سلیما ن ندویؒ کی سربراہی میں انہوں نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات طے کر کے واضح کر دیا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالہ سے مذہبی مکاتب فکر میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان دستوری نکات کو مذہبی مکاتب فکر کے اتحاد اور اتفاق کے مظہر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ بات درست ہے، لیکن ہمارے نزدیک تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات اتحاد امت کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم اور حساس ملی معاملات میں اجتہادی عمل کے آئینہ دار بھی ہیں۔ ان میں سے ایک ایک نکتہ اجتہادی عمل کی عکاسی کرتا ہے اور ان سرکردہ علماء کرام کی اجتہادی صلاحیتوں کی علامت ہے۔ مثال کے طور پر ان علماء کرام نے متفقہ طور پر طے کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں حکومت کی تشکیل عوام کے ووٹوں سے ہوگی اور منتخب قیادت ہی ملک پر حکمرانی کی اہل ہوگی۔ ہمارے خیال میں یہ اتنا بڑا اجتہادی فیصلہ ہے جسے خلافت عثمانیہ اور مغل حکومت کے صدیوں سے چلے آنے والے خاندانی سیاسی ڈھانچوں کے تناظر میں گزشتہ صدی کے دوران علماء کرام کا سب سے بڑا اجتہادی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اور بات پر غور کر لیا جائے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد علماء کرام نے ۲۲ دستوری نکات میں وحدانی طرز حکومت کو ملک کے لیے موزوں قرار دیا تھا لیکن جب ۷۳ء کے دستور کی تشکیل کے دوران انہوں نے حالات کا تقاضا دیکھا تو وحدانی طرز حکومت کے بجائے وفاقی پارلیمانی نظام کی طرف منتقل ہوتے ہوئے کوئی سوال اور اشکال کھڑا نہیں کیا بلکہ اسلام کو ملک کا ریاستی مذہب قرار دلواتے ہوئے وفاقی پارلیمانی نظام کو اس کے سسٹم کے طور پر قبول کر لیا۔ اسے اگر اجتہادی عمل تسلیم نہ کیا جائے تو یہ نہ صرف ان علماء کرام کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ خود اجتہاد کے مفہوم ومعنی سے بھی ناواقفیت کا اظہار ہوگا۔
تھوڑا سا اور آگے بڑھیں تو ایک اور منظر آپ کے سامنے آپ کی توجہ کا طلب گار ہے اور وہ ۷۳ء کے دستور کے تحت قائم ہونے والی اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ ہے جو اس نے ملکی قوانین کا جائزہ لے کر قرآن وسنت کی روشنی میں ان میں ضروری ترامیم کے لیے مرتب کی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملکی قوانین کا جائزہ لیا ہے، ان پر نظر ثانی کی ہے، قرآن وسنت کے اصولوں کو دیکھا ہے، حالات کے تقاضوں اور ضروریات کو جانچا ہے اور ملکی اور عالمی سطح پر سرکردہ ارباب دانش کی مشاورت سے تمام مروجہ قوانین کے حوالے سے اپنی سفارشات ترتیب دی ہیں۔ میرا ملک بھر کے اہل دانش سے سوال ہے کہ کیا یہ اجتہادی عمل نہیں ہے؟ اس اجتہادی عمل کو تو علماء کرام نے صرف اپنے دائرہ تک محدود رکھنے پر بھی اصرار نہیں کیا۔ اس میں نہ صرف جدید قانون اور دیگر مختلف شعبوں کے ماہرین شامل چلے آ رہے ہیں بلکہ اس کی سربراہی بھی کبھی روایتی حلقہ کے کسی عالم دین کے پاس نہیں رہی۔ اس میں ہر مکتب فکر کے سرکردہ اور معتمد علماء کرام مختلف اوقات میں شریک رہے ہیں۔ علماء کرام نے پوری دل جمعی اور شرح صدر کے ساتھ اس اجتہادی عمل کو آگے بڑھایا ہے اور آج اس کونسل کی سفارشات کو ملک میں بطور قانون نافذ کرانے کے لیے بھی سب سے زیادہ علماء کرام کی جماعتیں سرگرم عمل ہیں اس لیے یہ کہنا کہ عملی اجتہاد کا دروازہ صدیوں سے مکمل طور پر بند چلا آ رہا ہے اور علماء کرام نے کسی دور میں بھی کسی درجہ کے اجتہاد سے کام نہیں لیا، تاریخی حقائق اور تسلسل کے منافی ہے۔
ہماری ان معروضات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہونا چاہیے تھا اور بدلتے ہوئے حالات جن امور کا تقاضا کرتے ہیں، وہ سب کچھ ہو رہا ہے اور علماء کرام اور دینی حلقے ہر قسم کے اعتراض اور سوال سے بری الذمہ ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے اور خود ہمیں اس سلسلے میں بہت سے اشکالات ہیں جن کا تذکرہ ہم اس کے بعد کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل اتنی بات ضرور عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی طبقہ کے کردار کی کلی نفی کرتے ہوئے اگر آپ اس سے اپنی شکایات پر بات کرنا چاہیں گے تو آپ کی جائز شکایات بھی قابل توجہ نہیں سمجھی جائیں گی۔ اس لیے صحیح طریق کار یہ ہے کہ جتنا کام ہو رہا ہے، اس کا اعتراف کیا جائے اور کام کرنے والوں کو اس کا کریڈٹ دیا جائے۔ اس کے بعد جو کام نہیں ہو رہا، اس کی نشان دہی کرتے ہوئے اس کی طرف توجہ دلائی جائے اور اسے رو بہ عمل لانے کے لیے قابل قبول تجاویز دی جائیں۔
دینی حلقوں کے لیے چند توجہ طلب پہلو
اس کے بعد ہم ان ضروریات اور تقاضوں کی طرف آتے ہیں جو آج کے روز افزوں تغیر پذیر حالات میں اجتہاد کے حوالے سے علماء کرام اور دینی حلقوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہمارے علمی مراکز اور دینی ادارے اپنی ترجیحات اور دائرہ کار سے ہٹ کر کوئی بات سننے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔
- پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی مراکز اور علمی اداروں نے اپنی علمی سرگرمیوں کو روز مرہ ضروریات کے دائرے میں محدود کر رکھا ہے اور وہ بھی اپنے الگ الگ ماحول میں جس سے ان کے کام کی افادیت اور تاثیر یقیناًمجروح ہو رہی ہے۔ انہیں جس بات کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور جس کے لیے ان پر دباؤ ہوتا ہے، اس کے لیے وہ کچھ نہ کچھ کر گزرتے ہیں لیکن خود اپنی ذمہ داری پر ملی ضروریات کا جائزہ لینے اور امکانات کی بنیاد پر مسائل کے تعین اور ان کے حل کا کوئی نظام کسی مکتب فکر کے کسی علمی ادارے کے پاس موجود نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ’’فقہ تقدیری‘‘کا وہ عظیم الشان علمی کام جو کسی دور میں ہمارے فقہا اور ائمہ کا طرۂ امتیاز ہوتا تھا، وہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
- ملی ضروریات کے حوالے سے اجتماعی علمی کاوش پرائیویٹ سیکٹر میں ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات کے بعد اب تک تعطل کا شکار ہے اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پارلیمنٹ، وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سرکاری فورم پر دینی وملی مقاصد کے لیے مشترکہ علمی خدمات سرانجام دینے والے علماء کرام کو غیر سرکاری سطح پر انہی مقاصد کے لیے مل بیٹھنے اور دینی وعلمی مسائل مشترکہ طور پر طے کرنے میں حجاب کیوں ہے؟
- قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور جدید فقہ اسلامی کی تدوین کے نعرہ سے تو ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ اس سے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل سے کٹ جانے کا تصور اجاگر ہوتا ہے مگر فقہ اسلامی پر اجتماعی نظر ثانی کو ہم وقت کی ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں۔ اسی طرح کی ضرورت جس طرح سلطان اورنگ زیب عالم گیرؒ کے دور میں محسوس کی گئی تھی اور جس کے نتیجے میں فتاویٰ عالم گیری وجود میں آیا تھا۔ اگر گیارہویں صدی ہجری میں فقہ کے سابقہ ذخیرہ پر نظر ثانی اور اس وقت کے جدید مسائل کے حل کے لیے مشترکہ علمی کاوش فقہی تسلسل کے منافی نہیں تھی تو آج بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ آج کوئی اورنگ زیب عالم گیرؒ طرز کا مسلم حکمران موجود نہیں جو نظام شریعت کے نفاذ کو اپنی ذمہ داری محسوس کرے، اس لیے یہ دینی اداروں اور علمی مراکز کے ذمہ امت کا قرض ہے کہ وہ کوئی ایسا اجتماعی نظام وضع کریں کہ قدیم فقہی ذخیرہ پر موجودہ حالات کی روشنی میں نظر ثانی کر کے عرف وعادات، تعامل اور دیگر احوال وظروف کے تغیر کی وجہ سے جن مسائل کی ازسرنو وضاحت ضروری ہے، اسے سرانجام دینے کی کوئی معقول اور قابل قبول صورت نکل آئے۔
- اجتہاد کے لیے علمی ماخذ یعنی قرآن وسنت اور ان سے متعلقہ علوم کی مہارت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جن حالات اور محل پر اس کا اطلاق کیا جانا ہے، اس سے بھی کماحقہ واقفیت حاصل کی جائے یعنی اجتہاد کے ماخذ اور محل دونوں سے یکساں آگاہی اجتہاد کے عمل کے صحیح ہونے کا ناگزیر تقاضا ہے مگر ہمارے دینی اداروں میں دوسرے پہلو کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال عرض کروں گا کہ ایک دینی مدرسہ کے دار الافتا میں مفتی صاحب ایک استفتا پر غور کر رہے تھے جو بینک کے کسی معاملہ کے حوالے سے تھا۔ میں بھی اتفاق سے وہاں موجود تھا۔ انہوں نے اس پر مجھ سے رائے چاہی۔ میں نے استفتا دیکھ کر کہا کہ میں بینکنگ کے سسٹم سے واقف نہیں ہوں اور اس کے جس شعبہ کے بارے میں یہ مسئلہ پوچھا گیا ہے، مجھے اس کے مبادیات کا علم بھی نہیں ہے اس لیے میں اس کے بارے میں کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ باتیں تو میں بھی نہیں جانتا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر آپ فتویٰ کیسے دیں گے؟ وہ میرے اس سوال پر پریشان تو ہوئے لیکن میرا خیال ہے کہ فتویٰ انہوں نے کوئی نہ کوئی ضرور صادر کر دیا ہوگا۔
- بد قسمتی سے ہم نے ایک بات کم وبیش حتمی سمجھ رکھی ہے کہ ہمارے روایتی حلقوں سے ہٹ کر کوئی بھی شخص یا ادارہ کوئی علمی یا دینی بات کرتا ہے تو وہ یقیناًگمراہی پھیلاتا ہے اور ہم نے اسے بہرحال مخالف کیمپ میں ہی دھکیلنا ہے۔ اگر تو ہم نئے پیش آمدہ مسائل پر غور وخوض اور ان کے حل کے لیے کوئی مربوط نظام رکھتے ہیں اور کوئی بھی مسئلہ پیش آنے پر خود کار نظام کی طرح ہمارا کوئی نہ کوئی حلقہ یا مرکز اس پر غور وفکر اور بحث وتمحیص کے لیے سرگرم عمل ہو جاتا ہے تو پھر کسی حد تک یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس سسٹم سے ہٹ کر بات کرنے والے کی حوصلہ شکنی کی جائے لیکن کسی بھی مسئلہ پر ہمارے ہاں اس وقت تحریک ہوتی ہے جب دو چار حلقوں سے بات آ چکتی ہے اور ہم کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں تو دفاعی ضروریات کے تحت متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارا سارا عمل دفاع اور تحفظات کے گرد گھومنے لگتا ہے اور اصل کرنے کا کام اسی میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن صورت حال ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے، غیر روایتی علمی حلقوں کے حوالے سے ترجیحات قائم کرنی چاہییں اور جہاں افہام وتفہیم سے کام لینا ممکن ہو، اسے موہوم گمراہی کی نذر کر دینے کے بجائے قابل قبول غیر روایتی حلقوں سے استفادہ کی صورتیں نکالنی چاہییں۔
- میں ایک متصلب اور شعوری حنفی ہوں اور اپنے دائرۂ کار میں اپنے فقہی اصولوں کی پابندی ضروری سمجھتا ہوں لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کرنا بھی میرے لیے مشکل ہے کہ جس طرح گلوبلائزیشن کے بڑھتے ہوئے عمل نے مختلف ادیان کے حوالے سے مشترکہ عالمی سوسائٹی کی تشکیل کی راہ ہموار کر دی ہے، اسی طرح مسلم ممالک کے درمیان آبادی کے روز افزوں تبادلہ نے فقہی مذاہب کے حوالے سے بھی مشترکہ سوسائٹیاں قائم کر دی ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں سینکڑوں جگہ ایسا ماحول موجود ہے جہاں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور ظاہری مکاتب فکر کے حضرات مشترکہ طور پر رہتے ہیں، اکٹھے نمازیں پڑھتے ہیں اور مل جل کر دینی تقاضے پورے کرتے ہیں۔ انہیں فقہی اختلافات کے حوالہ سے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے چلنا ہے؟ اس کی وضاحت آج کی ایک مستقل ضرورت ہے۔ ہمارے فقہا نے اس کی حدود بیان کی ہیں لیکن ہماری اس طرف توجہ نہیں ہے جس سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ دینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ بالا دونوں حوالوں یعنی مختلف ادیان ومذاہب اور داخلی فقہی مکاتب فکر کے پس منظر میں اس ضرورت کا احساس کریں اور اس کو پورا کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔
- اجتہاد کے حوالے سے جو کام اس وقت ہمارے خیال میں سب سے زیادہ ضروری ہے، بد قسمتی سے وہی سب سے زیادہ نظر انداز ہو رہا ہے اور وہ ہے اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے وہ فیصلے اور ضوابط جنہیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ حاصل ہے اور جن کی بنیاد پر متعدد اسلامی احکام وقوانین کی عالمی سطح پر نہ صرف مخالفت ہو رہی ہے بلکہ عالمی ادارے مسلم حکومتوں پر ان اسلامی احکام قوانین کی مخالفت میں مسلسل دباؤ ڈالتے رہتے ہیں مگر ان بین الاقوامی قوانین کے بارے میں ہمارے علمی حلقوں اور دینی اداروں کا کوئی مشترکہ موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح ہمارے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ دستوری نکات طے کیے تھے، اسی طرز پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر بین الاقوامی قوانین کا جائزہ لے کر قابل اعتراض حصوں کی نشان دہی کی جائے اور دلائل کے ساتھ قانونی زبان میں اس سلسلہ میں اسلامی موقف کی وضاحت کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا متبادل چارٹر بھی پیش کیا جائے۔
- ہمارے ہاں دینی مراکز اور علمی اداروں میں مقامی ضروریات کے حوالے سے محدود مقاصد کے لیے رجال کار کی تیاری تو ہو رہی ہے مثلا امام، خطیب، مدرس، مفتی، قاری وغیرہ۔ اگرچہ اس میں بھی بہت سے امور قابل توجہ ہیں لیکن پھر بھی بنیادی کام بحمد اللہ تعالیٰ ہو رہا ہے مگر اجتماعی نظام کو سمجھنے اور اس کے مسائل پر رائے دینے نیز عالمی ماحول کے ادراک اور فلسفہ وتہذیب کی بین الاقوامی کشمکش سے واقفیت اور اس پر منطق واستدلال کے جدید اسلوب میں اظہار خیال کے لیے رجال کار کی تیاری کا کام سرے سے مفقود ہے اور بین الاقوامی مسائل پر علمی ودینی نقطہ نظر سے موقف کے اظہار کے لیے بھی کوئی فورم موجود نہیں ہے۔
- ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ ہمارے علمی ودینی حلقوں کا موجودہ اور مروجہ طرز گفتگو اور استدلال کا اسلوب خود ہمارے داخلی ماحول کے لیے تو کسی حد تک قابل اطمینان ہو سکتا ہے لیکن جدید علمی حلقوں خاص طور پر مغربی فکر وفلسفہ کے حاملین اور ان کے متاثرین سے مکالمہ کے لیے وہ قطعی طور پر اجنبی ہے جس کی وجہ سے ہم علمی ودینی مسائل پر ایک معقول اور جائز موقف کا بھی صحیح طور پر اظہار نہیں کر پاتے۔ اس کے ساتھ ابلاغ کے جدید ذرائع تک رسائی اور ان کے استعمال کی صورت حال کو بھی شامل کر لیا جائے تو معاملہ اور زیادہ پریشان کن ہو جاتا ہے۔
ان گزارشات کے بعد ہم آخر میں خلاصہ کلام کے طور پر یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ہمارے نزدیک اصل ضرورت ا س حوالے سے اس امر کی ہے کہ ۲۲ دستوری نکات والے ۳۱ علماء کرام کی طرز اورسطح پر غیر سرکاری طور پر ایک فورم وجود میں آئے جو متعلقہ ضروری امور کا جائزہ لے اور آج کی ضروریات اور تقاضوں کی تکمیل کے لیے کوئی قابل عمل نظام کار طے کرے۔ ہمارے خیال میں دینی مدارس کے پانچوں وفاق جو تمام دینی مکاتب فکر کی نمائندگی کرتے ہیں اور جن کا ایک مشترکہ رابطہ بورڈ بھی موجود ہے، اس کام کے آغاز کے لیے بہترین فورم ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ ان وفاقوں کے ذمہ دار بزرگ ان ضروریات کو محسوس کریں اور ان کی تکمیل کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
مجھے احساس ہے کہ میں نے موضوع کی مناسبت سے کوئی مربوط علمی گفتگو کرنے کے بجائے ا س کے حوالے سے اپنے جذبات واحساسات کو ہی آپ حضرات کے سامنے پیش کر دیا ہے جن میں بہت سی باتیں شاید غیر متعلق محسوس ہوں مگر امید ہے کہ آپ سب بزرگ میری اس فروگزاشت سے درگزر کرتے ہوئے ایک کارکن کے جذبات واحساسات پر مناسب توجہ دیں گے اور دعا بھی فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سلسلہ میں صحیح سمت میں پیش رفت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
مذہبی القابات کا شرعی اور اخلاقی جواز
پروفیسر محمد اکرم ورک
دین اسلام سادگی،خلوص نیت اور للہیت کوبڑی اہمیت دیتاہے ،جبکہ نمودو نمائش کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اعمال کی بنیاد خلوص نیت پر رکھی ہے جو یقینی طور پر باطنی کیفیت کا نام ہے۔ اس لیے اسلام کی نظر میں ظاہر اور باطن میں تضاد ناقابل قبول ہے ورنہ سارے اعمال ضائع چلے جائیں گے۔ دینی اور مذہبی خدمات کی انجام دہی میں خلوص نیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دینی خدمات کا صلہ اللہ تعالی کے سواکسی سے طلب نہیں کیاجاسکتا۔حضرات انبیاء کرام کی سیرت کا یہ مشترکہ پہلو قرآن مجید جگہ جگہ بیان کرتاہے کہ:
وما اسالکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العالمین۔ (الشعراء )
’’اور میں تم سے اس انذار کے بدلے میں کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں۔ میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
اگر مخاطب کو یقین ہو کہ داعی سچاہے ،اس کی دعوت حق ہے اور دعوت کو پیش کر نے میں اس کے پیش نظر کسی دنیوی مفاد یا مذہبی تقدس کا حصول نہیں تو اس کی دعوت کااثر بڑھ جاتاہے۔ نہ صرف لوگ کھچے چلے آتے ہیں بلکہ اس کی دعوت کے سحرمیں پوری طرح مبتلا ہوجاتے ہیں اور داعی کے لیے دعوت کے بیج کی تخم ریزی آسان ہو جاتی ہے۔
بدقسمتی سے دور حاضر میں دعوت وتبلیغ کا فر یضہ انجام دینے والے اکثر حضرات کے قول وفعل میں للہیت اور خلوص نیت کا وہ رنگ نظر نہیں آتا جو حضرات انبیاء کر ام اور رسول اللہ کے صحابہ کی سیرت کا نمایاں پہلو ہے۔ داعیان اسلام کی اکثریت اپنی دعوتی کا وشوں پر اسی دنیا میں ا جر و ثواب کی طلب گار ہے اور ان کی ادنیٰ ترین طلب نمودونمائش اور مذ ہبی تقد س کے حصول کی خواہش ہے۔ چنانچہ علماء کرام کا اپنے لیے ایسے اسما والقاب کو پسند کرنا جن سے مذ ہبی تقدس کی جھلک نظرآتی ہے، اس حقیقت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اب علماء کرام کی مجالس اس قسم کے القابات سے گونجتی ہو ئی نظر آتی ہیں: محی الدین، محی السنہ، نجم الاسلام، شمس الاسلام، ذکی الدین، شمس العلماء، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، واقف اشارات صوفیہ ،شمس الہدایت وغیرہ۔ یہ اور اس نوع کے دیگر القاب اس کثرت سے معروف ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ مولوی، مولانا، صوفی، حاجی کے الفاظ بھی کچھ اسی نوعیت کے ہیں کیونکہ ان کے استعمال میں بھی کسی نہ کسی حدتک مذ ہبی تقدس کی جھلک پائی جاتی ہے ،یہ ایک الگ بات ہے کہ کثرت استعمال سے ان کے اصلی معانی بڑی حدتک گھس چکے ہیں اور ان کا چلن اب طبقا تی تعارف کی علامت سے زیادہ نہیں رہا۔
مذہبی القابات کی اس بدعت نے جس دور میں رواج پکڑناشروع کیا، علماء حق نے اس کے خلاف بھرپور آوازبلند کی۔ انہیں میں سے ایک مقتدر ہستی علامہ ابن الحاجؒ ہیں جنہوں نے اپنی مشہور کتاب المدخلکی پہلی جلد میں اس موضوع پربڑی تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس بحث میں انہوں نے تقدس، پاکیزگی اور نمودونمائش کے حامل اسماء والقاب کی شرعی حیثیت کا بڑا عمد ہ تنقیدی جائزہ لیاہے۔ راقم الحروف نے ذیل کی سطور میں زیادہ تر انہیں کے خیالات سے خوشہ چینی کی ہے۔
القابات کا تاریخی آغاز و ارتقا
علامہ ابن الحاج ان القاب واسماء کے مروج ہو نے کے اسباب بیان کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ترک خلافت عباسیہ پر چھا گئے توانہوں نے خلیفہ کو تو عباسی خاندان ہی سے رہنے دیا لیکن حکومت کی باگ ڈور مختلف ترک سرداروں نے خود سنبھال لی۔ خلیفہ کی طرف سے ان سرداروں کو ان کے مقام ومرتبے کے لحاظ سے مختلف قسم کے القاب مثلاً شمس الدولہ ،ناصر الدولہ ،نجم الدولہ وغیرہ سے نواز ا گیا۔حکمران طبقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہ اسماء و القاب عظمت و فخر کا نشان سمجھے جا نے لگے جس کی وجہ سے عامۃ الناس بھی ان القاب میں کشش محسوس کرنے لگے لیکن حکومت میں عمل دخل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے ان القاب کا حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔ اس کی تلافی انہوں نے مذ ہب کے راستے سے کی یعنی شمس الدولہ نہ سہی تو شمس الدین سہی، چنانچہ اکثر لوگوں نے اپنی اولاد کے لیے اس قسم کے نام رکھنے شروع کر دیے لیکن اس زمانے میں چونکہ ان اسماء والقاب کی خاصی و قعت تھی، اس لیے حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی چنانچہ جو کوئی اپنی اولاد کو ان ناموں سے موسوم کرناچاہتا، اس کے لیے مقررہ فیس کی ادائیگی کے بعد سرکاری اجازت حاصل کرنا ضروری تھا۔ لیکن بعد کے دور میں جب ترک خلافت عباسیہ کے تمام سیاہ وسفید کے مالک بن گئے تو ان کے لیے ان القابات میں کوئی کشش باقی نہ رہی کیونکہ حکومت اب ان کے گھر کی لونڈی بن چکی تھی۔ اس لیے اب وہ بھی اسلام کے نام کی عظمت کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں اب شمس الدولہ کی بجائے شمس الدین وغیرہ جیسے القابات میں زیادہ وقار اور عزت محسوس ہونے لگی۔ پھر ان القاب نے اس قدر رواج پایا کہ جہلا تک اپنے بچوں کو انہی ناموں سے موسوم کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ علماء دین بھی ا ن اسماء والقاب سے پوری طرح مانوس ہو گئے اور انہیں اس بدعت پر عمل کر نے میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوئی۔
علماء ربانیین کا ردعمل
تاہم علماء حق سلف صالحین نے تقدس اور پاکیزگی کا تاثردینے والے ان اسماء والقاب کی شدید مخالفت کی۔ اس حوالے سے امام نووی کا ردعمل خاص طور پر قابل ذکرہے۔ اہل علم امام نووی کے علمی مقام ومرتبہ سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ خدمت دین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ کی انہیں دینی خدمات کی وجہ سے جب آپ کے معاصرین نے آپ کو ’’محی الدین‘‘ کے لقب سے پکاراتو آپ نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
انی لا اجعل احدا فی حل ممن یسمینی بمحی الدین۔ (المدخل لابن الحاج)
’’جوکوئی مجھے محی الدین کے لقب سے پکارے گا، میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔‘‘
ٖٖظاہر ہے کہ آپ کا یہ اظہار ناراضی فقط اس وجہ سے تھا کہ اس سے شرعی تقدس کی جھلک نظر آتی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے بعد کے دور میں علماء کی مجالس اسی قسم کے مختلف اسماء والقاب سے گونجنے لگیں۔ علماء کرام اور مذہبی راہنماؤں میں اس رسم بد کے بدعت ہونے کا احساس تک باقی نہ رہا چنانچہ متاخرین نے بزرگان دین اور علماء کرام کو اسے زایداسماء والقاب سے یاد کرنا شروع کردیا جن کی انہوں نے اپنی زندگی میں سخت مخالفت کی تھی جبکہ ہمارے دور میں تویہ بد عت اپنے پورے عروج پر ہے۔ شاید ہی کو ئی عالم ،پیر اور چھوٹا بڑا اہل نا اہل اس کی زد سے محفوظ رہا ہو ، بلکہ اب تو معاملہ اس حد تک پہنچ چکاہے کہ اگر ان مذہبی راہنماؤں کو ان اسماء والقاب کے بغیر پکاراجائے تو وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں اوربعض اوقات ایسا ’’گستاخ‘‘ اور ’’بے ادب‘‘ ان کی شد ید نفرت کا شکار بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے مذہبی راہنماؤں کے ’’قہروغضب‘‘ سے محفوظ رہنے کے لیے عام طور پر ان کا تعارف انہی اسماء والقاب سے کروایا جاتاہے جن کو وہ پسند کرتے ہیں اور ان سے مانوس ہیں۔
مسئلہ کی شرعی اور اخلاقی حیثیت
قرآن وسنت کے مطالعہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کسی انسان کے لیے جائزنہیں کہ وہ اپنی پاکیزگی کا اعلان کرے ،اس کا تصوردے یا ایسے اسماء والقاب کو، جن سے مذ ہبی تقدس کا رنگ جھلکتا ہو، اپنے حق میں بیان کر نے والے کی حوصلہ افزائی کر ے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی۔ (النجم)
’’پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو ،وہ پر ہیزگاروں کو خوب جا نتاہے ۔‘‘
الم تر الی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشاء۔ ( النساء)
’’کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھاجو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کر تے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاکیزہ کرتاہے ۔‘‘
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
لا تزکوا علی اللہ احدا ولکن قولوا اخالہ کذا واظنہ کذا۔
’’کسی کو اس پاکیزگی کا مستحق قرارنہ دو جواسے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاہوسکتی ہے بلکہ ایسے شخص کے بارے صرف یہ کہو کہ میرا خیال ہے کہ وہ ایسا ہے اور میرا گمان ہے کہ وہ ایسا ہے ۔‘‘
ان مذہبی اسماء والقاب کی دو صورتیں ہیں: ایک حقیقی اور دوسری غیر حقیقی ۔حقیقی صورت تو یہ ہے کہ ملقب بہ میں واقعتا وہ صفات موجود ہوں جیسے ’’محی الدین‘‘ کہ وہ واقعی دین اسلام کو زندہ کر نے والاہو ۔اور غیرحقیقی صورت یہ ہے کہ ملقب بہ میں ان صفات کاشائبہ تک نہ ہو جن صفات سے اس کو موسوم کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالابحث کا تعلق حقیقی القاب سے ہے یعنی ان اسماء و القاب سے وابستہ صفات ،کسی حد تک ملقب بہ شخصیت میں پائی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود شر یعت اسے سخت نا پسند کرتی ہے ۔لیکن ہمارے ہاں تو معاملہ اس حد سے گزر کر غیر حقیقی اسماء والقاب تک جا پہنچا ہے لہٰذا عام طور پر جس شخص کے نام کے ساتھ ایسے اسماء والقاب کا اضافہ کیا جا تا ہے، اس میں ان صفا ت کا پا یا جا نا تو کجا، ان کی جھلک تک موجود نہیں ہو تی۔ ایسا طرز عمل یقینی طور پر دوہرا جرم ہے ،ایک القاب کی بد عت کی برائی اور دواسرجھوٹ کا ارتکاب ،کیونکہ قرآن وسنت میں جھوٹے پر لعنت کی گئی ہے۔
بدقسمتی سے دور حاضر میں اسماء والقاب کا غیر حقیقی استعمال عام ہو چکا ہے، حالا نکہ شریعت اسلامیہ نے اس معاملہ کو ناپسند کیا ہے۔ نیز کثرت استعمال سے یہ اسماء والقاب بھی اب اپنی حقیقی قدر وقیمت کھوچکے ہیں ۔اگر ان اسماء والقاب کا استعمال جائزاور ضروری ہوتا تو امت محمد یہ میں اس کے سب سے زیادہ حقدار صحابہ کرام تھے کیونکہ ان کے شمس الہدایہ، انصار الدین ،ظلمت میں روشنی ہو نے اور اللہ تعالیٰ کے ان سے راضی ہونے کی شہادت خود قرآن نے دی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بد عت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس سلسلہ میں چند تجاویزقابل توجہ ہو سکتی ہیں:
- علماء دین کو اگر کو ئی درس کی مجلس کے علاوہ ایسے اسماء والقاب سے پکارے تو وہ اس کا بالکل جواب نہ دیں۔ اس طرح وہ حقیقی نام سے پکارنے پر مجبور ہوں گے۔
- اگر کوئی شخص ایسے اسماء و القاب سے پکارے تو اس کو نرمی سے سمجھایاجائے کہ یہ بدعت ہے اور شریعت کی نظرمیں یہ امرناپسندیدہ ہے۔
- دینی مدارس میں طلبہ کی اس نہج پر تربیت کی جائے کہ وہ عوامی سطح پراس بدعت کے قلع قمع کی مہم چلائیں جس سے یہ بدعت یقینی طور پرختم ہوجائے گی۔
- عوامی سطح پر لوگوں میں بامعنی اور بامقصد نام کی اہمیت اجاگر کی جائے اورلوگوں میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ وہ بچوں کے ایسے نام رکھیں جو ان کے خاندانی اور نسلی اوصاف سے مطابقت رکھتے ہوں کیو نکہ اچھے نام کے بھی بچے کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
- لوگوں میں شرعی اور غیر شرعی ناموں کا شعور پیداکیا جائے اور اسلامی تاریخ میں اہمیت رکھنے والے ناموں سے آگاہ کیا جائے تاکہ ابتدا سے ہی لوگ اپنے بچوں کے ایسے نام رکھنے سے اجتناب کریں جن سے خواہ مخواہ تقدس کا اظہار ہوتا ہو۔
اسلامی حکومت سرحد: پس چہ باید کرد
کے ایم اعظم
(درج ذیل مقالہ ۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں مجلس فکر ونظر کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پڑھا گیا۔ مقالے کا ابتدائی حصہ موضوع سے براہ راست متعلق نہ ہونے کی بنا پر شامل اشاعت نہیں کیا جا رہا۔ مدیر)
ملک کے پژمردہ پس منظر میں حالیہ انتخابات میں اسلامی جماعتوں کی غیر معمولی کام یابی امید کی ایک کرن لے کر آئی ہے مگر کئی ایک زعمانے اس شک کا بھی اظہار کیاہے کہ یہ کا میابی اسلامی نقطہ نگاہ سے شاید خاطر خواہ نتائج پر منتج نہ ہوگی۔ معاشرتی طور پر پاکستان کے مسائل نہایت گھمبیرہیں۔ان کا کوئی حل بنیادی اور سٹرکچرل تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بہرحال اس یاد داشت کا مقصد ایک ایسے قابل عمل پروگرام کی تشکیل ہے جس پر فوری طور پر عمل پذیر ہوکر اسلامی حکومت سرحد سرخرو ہوسکتی ہے۔ مجھے تو اس میں بھی مشیت الٰہی نظر آرہی ہے کہ ایک مکمل اسلامی حکومت صرف صوبہ سرحد میں ہی تشکیل پذیر ہوئی ہے ،کیونکہ صوبہ سرحد میں اسلامی نظام کے قیام میں دوسرے صوبوں کی نسبت کم مشکلات پیش آئیں گی۔ اس کی بڑی وجہ وہاں کا قبائلی نظام اخلاق ومعاشرت ہے۔ حکومت سرحد کو میرامشورہ یہ ہے کہ فی الحال صرف چارمحاذوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور وہ ہیں: عدل وانصاف ،تعلیم، احتساب اور معیشت۔
۱۔ نظام تعلیم
ہمارامرکزی مسئلہ انسان سازی کا ہے اور یہ دقت طلب اور صبرآزما کام ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی منزل کا غیر مبہم شعور ہونا چاہیے تاکہ اس کے حصول کے لیے جس قسم کے انسان ہمیں درکارہوں ،اسی قسم کا نظام تعلیم ہم تشکیل دے سکیں۔ پاکستان کو اس وقت ایسے کارکنوں کی ضرورت ہے جو توحیداور اتباع رسولﷺمیں اولوالعزم ہوں اور جن کا جذبہ ایمانی اقداراورافکار کی حدودسے گزرکر کر دارکا حصہ بن گیاہو۔ وہ ایسے رجال ہوں جو دنیاکی دونو ں بڑی طاقتوں، خوف اور طمع پر توحید الٰہی کی ضرب کا ری لگاچکے ہوں اوران کی تیغ برہنہ کے پیچھے جذبہ ایمانی، فراست دینی، تعلق باللہ، حب رسولﷺ، بلندی فکراور جوش عمل کا ایک حسین امتزاج ہو۔ مزید براں ان کے دلوں میں یہ یقین کامل گھر کر چکا ہوکہ سب سے بڑی حکمت اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس سے سچی محبت ہے۔ ہر پاکستانی کو بھی اس کا شعور ہوناچاہیے کہ پاکستان کواسلام کا مضبوط قلعہ تبھی بنایاجاسکتاہے جبکہ ہم میں سے ہر ایک بجائے خود اس کا ایک چھوٹا ساقلعہ بن جائے۔جب تک ہمارانظام تعلیم باکردار ،حق گو اور انسان دوست افراد پیدا نہیں کرے گا،جمہوریت کی روایت ہمارے معاشر ہ میں جڑنہ پکڑسکے گی۔ہمارابنیادی مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی، معاشرتی اور دینی ادارے ایسے روشن ضمیر،درخشاں جبیں اور دلکش مسلما ن پیدانہیں کر پارہے جن کو دیکھنے کی آرزواور تمناہم میں سے ہر کو ئی اپنے دل میں لیے ہوئے ہے۔ مدارس ،مساجد اور خانقاہیں تو موجود ہیں مگران میں فکر ودانش اور وجدان کی شمعیں گل ہوچکی ہیں۔انسان سازی میں ہماراالمیہ یہ ہے کہ جو منکسر مزاج ہے ، وہ کمزور ہے اور جو طاقتور ہے، وہ ظالم ہے ۔ جو صاحب علم ہے، وہ صاحب کردار نہیں اورجو صاحب کردار ہے، وہ صاحب حکمت نہیں۔جو صاحب ایمان ہے ،وہ صاحب عمل نہیں اور جو صاحب عمل ہے ،وہ بے ایمان ہے۔موجودہ نا قص نظام تعلیم کے تحت سوفیصد خواندگی سے بھی ہمارے ہاں جمہوری روایت قائم نہ ہوگی بلکہ وہ ایسے لوگ ہی پیداکر ے گاجن کا مطمح حیات دولت کمانے کے لیے سیاسی قوت حاصل کر نا ہوگایاپھر سیاسی قوت حاصل کر کے دولت کمانا۔
ہمارے نظام تعلیم کا مقصد ایسے انسان پیدا کر نا ہوناچاہیے جو ماضی سے پر جو ش تعلق کو قائم رکھتے ہوئے معاشر ہ کو مستقبل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔یقیناًوہ ایسے افراد نہیں ہونے چاہییں جن کا مستقبل ان کے ماضی میں ہو۔ مزید وہ ایسے انسان ہوں جن میں اپنے زمینی حالات کا صحیح ادراک کرکے کارگرحکمت عملی بنانے کی صلاحیت ہو۔ ہماری دینی تعلیم کا مقصد ان مذہبی رسم ورواج سے آزادی ہوناچاہیے جنہوں نے انسان کے فکروعمل کو اپناقیدی بنایا ہوا ہے۔ مسلمانوں کے نظام تعلیم کے خدوخال کی نشاندہی اللہ جل جلالہ نے رسول اکرم ﷺکو تفویض کیے گئے چار فرائض کے ذریعے کر دی ہے اور یہ ہیں: تلاوت، تزکیہ نفس، کتاب کی تعلیم اور حکمت کا سکھانا۔ (البقرہ)
ہمارے نظام تعلیم کا ہدف کر دار سازی کے علاوہ اپنے تلامذہ میں صلاحیت اور حوصلہ پیداکر کے استعماری تہذیب اور اس کی عریاں ثقافت کے سامنے بند باندھنا ہونا چاہیے۔ ہمارے موجو دہ تعلیمی ادارے انسان سازی میں ناکا م رہ گئے ہیں۔ تاریخ عالم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تاریخ سازی میں صرف صاحب کردارلوگوں ہی نے رول اداکیاہے ۔منافقوں کا اس میں کوئی رول نہیں ہے ۔اگر پاکستان کو اس کے انحطاط سے نکالناچاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ایک مثبت پروگرام (تعلیم وتربیت اور میڈیا)کے تحت پاکستانیوں کو منافقت کی دلدل سے نکالیں ۔ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ منافقت سے نجات حاصل کیے بغیر ہماری کوئی بھی جدوجہد کا میابی سے ہمکنارنہ ہوگی ۔
منافقت کانصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا
بڑاکٹھن ہے خزاں کے ماتھے پر داستان گلاب لکھنا
۲۔ عدل وانصاف
اقتصادی اورمعاشرتی سرگرمیاں صرف قانونی، اقتصادی اور معاشرتی عدل وانصاف کے ڈھانچے میں جاری وساری رہ سکتی ہیں۔ جب تک کسی معاشرے میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی، اس وقت تک معاشر ے کے ارکا ن کو یہ اطمینان نصیب نہیں ہوتاکہ ان کی محنت اور مشقت کا صلہ انہیں کسی رکا ٹ اوردشواری کے بغیرملتارہے گا۔ایسی یقین دہانی اور اطمینان کے بغیر معاشرے کا کو ئی شخص بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کارلانے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ تاریخ عالم اس امرکی واضح طور پر شہادت دیتی ہے کہ دو نظام دنیامیں کبھی نہیں چل سکتے ۔ایک وہ اقتصادی نظام جس میں سرمایہ کا ری کی صلاحیت اور گنجائش موجودنہ ہو اور دوسرا وہ سیاسی نظام جس میں جبر وتشد اور ظلم وستم کا رفرما ہو، اور جس کا رخ عوام کی فلاح وبہود اور مسرت وخوش حالی کی طرف نہ ہو۔
۳۔ احتساب
ہر وہ معاشر ہ اور سیاسی نظام جو انقلابی خصوصیات کا حامل ہواور جامدنہ ہو، اس میں اصلاح اور تنزل کے ہر دو رجحانات بیک وقت موجود ہوتے ہیں ۔ ان رجحانات کی اصلی وجہ اندرونی اور بیرونی یاباطنی اور خارجی دونوں ہوسکتی ہیں ۔ایک کمزور نظام ،جیساکہ ہماراموجودہ نظام ہے ،اورجس کی بنیاد نوآبادیاتی ورثے پررکھی گئی ہے گزشتہ نصف صدی سے تنزل اور تباہی وبربادی کے اثرات تیزی سے قبول کررہاہے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلاہے کہ یہ نظام فرسودہ ہونے کی وجہ سے جان کنی کے عالم میں ہے ۔
انقلابی اورحر کی نظام ہر آنے والے چیلنج کاموثرمقابلہ کرتاہے اوراس احتساب کی بدولت مزید طاقت حاصل کر کے زندہ وقائم رہتا ہے لیکن اس کے برعکس پیش آنے والے ہر چیلنج کا متحد ،منظم اور مستحکم ہوکرمقابلہ کر نے کی بجائے ہماری قوم کا ردعمل ہمیشہ منقسم ،منتشر اور کمزور رہا ہے۔ ہماری قوم کا امتیازی وصف یہ ہے کہ ہم مشکل اور خرابی کی ذمہ داری ایک دوسرے پرڈال کر خود بچ نکلنے کی کوشش کر تے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ہم میں دوسری قوموں کے مقابلے میں برے افراد کی تعداد زیادہ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اچھے لوگ،اتنے اچھے نہیں جتنا انہیں ہوناچاہیے تھا اور درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو بحران اور پیش آنے والے چیلنج کے موقع پر کھڑے ہوکر اور ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر تے۔ حکومت سرحد کو چاہیے کہ مثبت اورقومی نظام احتساب قائم کر کے لوگوں پر یہ عیاں کر دے کہ اب ظلم اور برائی کر کے ان کے لیے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ ہوگی ۔ نیز حکومت سرحد کو چاہیے کہ تمام اموال فاضلہ بحق سرکارضبط کر کے اپنی مالی پوزیشن مضبوط کر لے ۔
۴۔ معیشت
پاکستان میں اب تک اسلامی نظام معیشت پر اتناکام ہوچکاہے کہ اسلامی اقتصادی ماڈل کے خدوخال پوری طرح عیاں ہوگئے ہیں۔حکومت سرحدکو چاہیے کہ وفاقی حکومت (وزارت مالیات اور وزارت مذہبی امور)اور اسٹیٹ بنک کی ساری رپورٹیں اور یادد اشتیں حاصل کر لے۔بہر حال ان کو میرا مشورہ یہ ہے کہ چونکہ موجودہ معاشی اور معاشرتی حالات میں اسلامی اقتصادی ماڈل کی تمام شرائط پوری نہ ہوسکیں گی، اس لیے وہ ابھی غیر سودی نظام کے قیام کی دلدل میں نہ پھنسے بلکہ اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے اقدام کرے تاکہ عوام کو ان کی اصلاحات سے براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔
کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی
اس اسلامی فلاحی نظام کے قیام کے سلسلہ میں میری تدابیر اور تجویزات یہ ہیں:
۱۔ ماضی اور مستقبل کے ان تمام قرضوں پر جو غریب طبقات نے بنیادی ضروریات زندگی کے لیے حاصل کیے ہوں یا لیے جائیں مثلاً مکان ،صحت اور تعلیم ،سودمعاف کر دیاجائے۔
۲۔ دیانت داری پر مبنی کا روبار کی تشہیر کی جائے اور سٹہ بازی کی روک تھام کے ذریعے سرمایہ کا ری مارکیٹ کو مستحکم کیاجائے ۔
۳۔ سادہ زندگی بسر کر نے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ٹھاٹھ باٹھ پر مبنی شاہانہ اخراجات کا خاتمہ کیاجائے ۔
۴۔ رشوت ستانی اور بدعنوانی کا خاتمہ کر کے ہمارے تعلیمی نظام کو بین الاقومی معیار کے مطابق لایاجائے۔
۵۔ مسکین اور بے کس لوگوں کے لیے انصاف کو یقینی بنایاجائے کیونکہ عدل وانصاف کے بغیر کوئی معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔
۶۔ اعلیٰ سطح پر جاری کر پشن، رشوت اور بدعنوانی کا فوری طور پر خاتمہ کیاجائے ۔ہمیں یہ جان لیناچاہیے کہ کرپشن کا مطلب صرف رشوت نہیں ہوتابلکہ سرکا ری عہدہ پر فائزہوتے ہوئے اپنے عہدہ کا ناجائزاستعمال نیز خود غر ضی پر مبنی طاقت کا استعمال اور ہر قسم کے نامناسب اور ناموزوں طریقے کرپشن کی ذیل میں آتے ہیں ۔
۷۔ تمام سرکا ری اداروں سے سیاست کااثر ورسوخ اور عمل دخل یکسر ختم کیاجائے اور انہیں اس قابل بنایاجائے کہ وہ تمام بھرتیاں، تبادلے اور تعیناتیاں صرف قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر کر یں ۔
۸ ۔ تمام افرادکے لیے روزگار کا انتظام کیاجا ئے اور اس سلسلے میں روزگار کے لیے دس لاکھ تک مالیت کے قرضے بغیر سود ائمہ مساجد کی اخلاقی ضمانت پر دیے جائیں ۔
۹۔ سب لوگوں کو رہائش فراہم کی جا ئے،کم آمدنی والے لوگوں کو رہائش دی جائے جبکہ درمیانے درجہ کی آمدنی والے لوگوں کو آسان قسطوں پرمکانات خرید نے کی سہولیات دی جائیں ۔
۱۰۔ سب لوگوں کو صاف، تازہ اور مصفا پانی پینے کے لیے فراہم کیا جائے۔ نیز نکاسی آب کا بہترین بندوبست کیاجائے۔
۱۱۔ تمام افراد کے لیے مناسب اور موزوں لیکن مفت صحت کی خدمات مہیاکی جائیں۔
۱۲ ۔ میٹرک کی سطح تک مفت لازمی تعلیم فراہم کی جائے اورمیٹرک سے اوپرکے درجوں میں قابلیت کی بنیاد پر مفت اور رضاکا رانہ تعلیم کا انتظام کیاجائے ۔
۱۳۔ تمام غریبوں اور مفلسوں کے لیے سوشل سکیورٹی کی خدمات کا اجرا کیا جائے۔ مزید براں بے روزگاروں اور معذور افراد کو بھی یہ سہولتیں مہیاکی جا ئیں۔
۱۴۔ مناسب مزدوری، معاوضوں ،تنخواہوں اور پنشن کا بندوبست کیاجا ئے ۔
۱۵۔ دولت کے غیر قانونی ارتکا زاور پیداواری وسائل پر ناجائز ملکیتوں کا بالکل خاتمہ کر دیاجائے ۔اس طرح پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے اللہ تعالی کی جانب سے عطا کیے گئے رزق پر تمام غیر قانونی قبضے ختم ہو جا ئیں گے۔
۱۶۔ معاشر ے سے ہر قسم کے ظلم وجبر ،جو رواستبداد اور زیادتی واستحصال کا خاتمہ کر دیاجائے اور اسلام کے عطاکیے گئے اصولوں یعنی عدل واحسان کے ذریعے معاشرتی توازن قائم کیاجائے ۔
نفاذ اسلام ۔کیوں اور کیسے؟
ڈاکٹر محمود الحسن عارف
(۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں مجلس فکر ونظر کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے لیے لکھا گیا۔)
اس وقت جب کہ دنیا میں ایک طرف تو اسلام کے مخالفین ہیں جو یہ پرو پیگنڈا کر رہے ہیں کہ اسلام سے دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے او ر ودسری طرف اسلام کے وہ نادان دوست ہیں جوکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام دنیا کے جدید چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے نفاذ اسلام کے متعلق بڑے حزم واحتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک بھی غلط اٹھاہواقدم منزل کو کوسوں دور کر سکتاہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسے دور میں جب زندگی کا ہر ایک شعبہ ہی تو جہ اور اصلاح کا طالب ہے ،نفاذ اسلام کی ابتدا کیسے اور کہاں سے کی جا ئے ؟ اس سلسلے میں مناسب ہوگاکہ ہم سیرت طیبہ کے ان پاکیزہ اصولوں سے رہنمائی حاصل کریں ،جن سے ہر دور میں لوگو ں کو رہنمائی ملتی ر ہی ہے۔
نبی اکرم ﷺ جب بھی اپنے مبلغ کو کسی علاقے میں دین کی تبلیغ کے لیے بھیجتے تو دوباتوں کی خصوصی طور پر تاکید فرماتے جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
۱۔ تدریج کا اصول
نبی اکرم ﷺ نے جب حضرت معاذبن جبل کو یمن کے علاقے میں مبلغ اور حاکم بناکر بھیجا تو خصوصی طور پر اس بات کی تاکید فرمائی کہ وہ وہاں جاکر تدریج کے اصول کا خیال رکھیں۔ خود نبی اکرمﷺ کا اپنااصول مبارک بھی یہی تھا،جیساکہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے بیان فرمایاہے۔ تدریج کے اصول کا مطلب یہ ہے کہ احکام اسلام کو پہنچانے یا ان کے نفاذ میں حکمت کا خیال رکھاجائے ،جو قرآن مجید کی حکمت آمیز تعلیمات کا نتیجہ ہے ۔
۲۔ اصول تبشیر
قرآن مجید نے احکام اسلام کی خصوصیت بیان کر تے ہوئے یہ وضاحت کی ہے کہ : یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (اللہ تعالی تمہارے لیے آسانی چاہتاہے ،تنگی نہیں چاہتا )علاوہ ازیں نبی اکرمﷺایسے موقعوں پر صحابہ کرام کو بطور خاص یہ نصیحت فرماتے کہ تم لوگوں کو بشارتیں دینا، انہیں دین سے برگشتہ نہ کرنا ،ان کے لیے آسانی پیدا کرنا، تنگی پیدا نہ کرنا جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اس کے دین رحمت ہونے کا تصور لوگوں کے سامنے کچھ اس طرح واضح کیاجا ئے کہ لوگ برضاورغبت اس کا سایہ قبول کر یں اوراس کے لیے کوئی سختی یاتشد د اختیار نہ کیا جائے۔
دوسری طرف جب ہم اپنے ملک اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو یوں محسوس ہوتاہے کہ آج کا انسان سر سے پاؤں تک مختلف قسم کی زیادیتوں، مظالم اور جبرواستحصال کا شکار ہے اور اسے کورٹ کچہری سے لے کر ہسپتال اور زمینوں کی دیکھ بھال تک ہر ایک سطح پر طرح طرح کی زیادتی اور ظلم کا نشانہ بنایاجارہا ہے ،لہٰذا اگر نفاذ اسلام کی ابتدا اسی چھوٹی سطح سے کی جا ئے تواس سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا اورنفاذ اسلام کی بنیادیں بھی مستحکم ہوں گی۔
اس نکتے کی مزید تشریح اور وضاحت اس طرح ہے کہ اسلامی نظام لوگوں کو دوطرح کی سہولیات عطاکرتاہے:
۱۔ظلم اور جبر کے نظام کا کاتمہ
۲۔لوگوں کی ضروریات کی کفالت
ہم جانتے ہیں کہ اگرچہ یہ اسلام کا مرکزی ہدف ہے، موجودہ حالا ت میں لوگوں کی ضروریات اور کفالت کے پروگرام پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے ابتدا نکتہ اول یعنی ظلم اور جبر کے نظام کے خاتمہ سے کی جائے ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلامی نظام کی سوفیصد کا میابی اوراس کی برکات سے مکمل طور پر استفادہ کے لیے ضروری ہے کہ نفاذ اسلام کر نے والی چھوٹی اور بڑی تمام بیوروکریسی اسلامی نظام کے متعلق پوری طرح آگہی رکھتی اور اس کے تحت مکمل طور پر تربیت یافتہ ہو،جیساکہ ایک سینئر بیوروکر یٹ نے گفتگوکے دوارن میں واضح کیاکہ اس کے بغیر کوئی نظام بھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتا۔ بہرحال موجودہ سیٹ اپ میں رہتے ہوئے اس پر حسب ذیل طریقے سے عمل درآمدکیاجاسکتاہے ۔ ابتدائی اقدام کے طور پر نفاذ اسلام کی ابتدا رفع الظلم یعنی لوگوں سے ظلم اور زیادتی کے نظام کے ازالہ سے کی جائے اور اس کے لیے بیوروکر یسی کی اصلاح یاان پر نقد ومعائنے کا نظام سخت کر نا ہوگا۔موجودہ حکومت کا ہدف گڈگو رننس ہے جس کا مطلب ایک اچھی حکومت ہے جبکہ اسلامی نظام کا ہدف بھی گڈگورننس ہی ہے اور ذیل میں جوتجاویزدی جاری ہیں، ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک اچھانظام حکومت تشکیل دیاجائے۔
۱۔ تھانے سے متعلقہ مسائل
عوام کا ایک بہت بڑاطبقہ تھانے اورکورٹ کچہری کے مسائل سے سخت پریشان ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ لوگو ں کی پوری پوری زندگیاں اپنے حقوق کے حصول کے لیے گزرجاتی ہیں مگر انہیں ان کا حق نہیں ملتا، اس لیے نفاذ اسلام کی ابتدا تھانے کی اصلاح سے کی جائے تو بہت مناسب ہوگا۔
اس وقت حکومت پاکستان نے بھی تھانے کی اصلاح کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن ان سے عوام کوکوئی ریلیف نہیں ملا بلکہ عوام کو پریشان کرنے کے لیے زیادہ محاذ کھل گئے ہیں اس لیے تھانے کی اصلاح بنیادی نقطہ آغازہے اس لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں ۔
۱۔ حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے پولیس کی تنخواہ پر نظر ثانی کر ے اورانہیں تنخواہ اور مراعات کی مدمیں اتنی رقم دی جائے کہ وہ اوسط درجہ سے اپنا گزارہ کر سکیں اور وقتاً فوقتاً اس پر نظر ثانی کی جاتی رہے ۔
۲۔ہر ایک تھانے میں (یازون کی سطح پر )اگرممکن ہوتو کسی مفتی یاعالم دین کا تقر رکیا جا ئے جو روزانہ تھانے میں کچھ گھنٹے گزارے اور تھانے /تھانوں کے تمام معاملات پر نظر رکھے اور جہاں ضروری ہو، مداخلت کر ے اور بلاتفریق ہر شخص کو امن وانصاف مہیا کر نے کو یقینی بنائے اور تھانے کی سطح سے رشوت کلچر کا خاتمہ کر ے۔
۳۔ بروقت ایف آئی آر کے اندراج کو ممکن بنایاجائے۔ اس وقت بڑے سے بڑا نقصان ہوجانے کے باوجود تھانے میں ایف آئی آر کا اندراج کوئی آسان کام نہیں ہے ،اس کے لیے رشوت،چھوٹی بڑی سفارشیں ،حتیٰ کہ بعض اوقات ہائی کورٹ تک کی طرف بھی رجوع کرنا پڑتاہے ۔ اس مسئلے میں عوام کو سہولت مہیا کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔
۴۔تھانے میں تفتیش کے طریقے اور اندازکو بدلنے کی ضرورت ہے۔ تھانیدار بہت مشکوک لوگوں کو پکڑاکر لے آتاہے، ان کی چھترول کی جاتی ہے اور ان میں سے کسی ایک کو منوالیاجا تاہے۔ اس کے بجائے خالص سائنسی اور فنی بنیادوں پر مقدمات کی تفتیش کی جائے اور بے گناہوں کو تھانے کے ظلم اور زیادتی سے بچایا جائے ۔
۵۔خواتین سے متعلقہ معاملات کی تفتیش کے لیے مکمل طور پر خواتین کے باپردہ سنٹر قائم کیے جائیں ،جن کے اندراج مقدمہ اور تفتیش کا اپنانظام ہواور خواتین ونگ مکمل طور پر مردوں کے ونگ سے الگ ہواور یہ براہ راست آئی جی کے واسطے سے وزیراعلیٰ کے ماتحت ہو۔اس وقت ہماری چھوٹی اور بڑی عدالتیں جرائم کا سدباب کر نے کے بجائے جرائم کی پرورش اور نرسنگ کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ اگر کو ئی شخص محض شبے میںیا کسی چھوٹے سے چھوٹے جرم میں پکڑاجاتاہے تو وہ ان کورٹ کچہریوں کے چکر میں مکمل طور پر ایک عادی مجرم بن کرنکلتاہے، لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ عدالتی نظام کی اصلاح کا ایک جامع اور مربوط نظام اختیار کیاجائے۔ اس سلسلے میں چندتجاویزحسب ذیل ہیں :
۲۔ کورٹ اور کچہری سے متعلقہ مسائل
(الف)چھوٹی اور بڑی عدالتوں میں منصفف کی کرسی پر تقر ر کے لیے اچھے خاندانوں سے اہل اور موزوں افرادکا تقرر کیاجائے اوران کی اخلاقی شہرت کوبھی پیش نظر رکھاجائے۔
(ب)اگر کسی جج یامجسٹریت کے متعلق پتہ چلے کہ وہ رشوت لیتاہے تو اسے فوری پر معزول کردیاجائے بشرطیکہ الزام درست ثابت ہو۔
(ج)چونکہ انصاف مہیا کر نا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور انگریزہمیں جو نظام دے گیاہے، اس میں انصاف خریدا جاتاہے،انصاف ملتانہیں ہے اس لیے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل امور پر توجہ کی جائے:
۱۔عدالتوں میں مقدمہ دائر کر نے کے لیے فیس وغیر ہ کے نظام کو مکمل طور پر ختم کردیاجائے۔ انصاف کے حصول کے لیے فیس لینا، خواہ وہ کورٹ فیس ہی کے ضمن میں ہو، ناانصافی کے زمرے میں آتاہے ۔
۲۔البتہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کسی شخص نے مدعی علیہ پر نا جائزمقدمہ کیا تھا تو عدالت اس سے جرمانہ کے طور پر رقم وصول کر سکتی ہے ۔
(د)مقدمات کا بروقت فیصلہ کر نے کے لیے مرکزی حکومت سے مل کر کوئی نظام وضع کیا جائے اور مقدمے کے مطابق فیصلہ صادر کر نے کا ایک ٹائم ٹیبل مقر ر کر دیاجائے۔ اس وقت عام طور پر مقد مات کے تصفیہ کے لیے کوئی ٹائم ٹیبل مقرر نہیں ہے۔ عدالت دونوں فریقوں کوپیشیاں ڈال ڈال کر تھکادیتی ہے اور فیصلہ اس وقت صادر کر تی ہے جب ان میں سے کوئی ایک تھک ہار جاتاہے۔ اس نظام کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے ۔
(ھ)جو غریب اورمفلس لوگ مقدمات کی پیروی کر نے لیے وکلا کی خدمات حاصل نہیں کرسکتے، اگر ان کا مسئلہ صحیح ہے تو حکومت انہیں مفت وکلا کی خدمات فراہم کر ے۔ اس سلسلے میں وکلا سے فی مقدمہ کے حساب سے فیس طے کی جاسکتی ہے ۔
(و)عدالتی نظام کو درست بنیادوں پر چلانے کے لیے ایسے دینی اور جدید قانون کے ماہرین پر مشتمل ایک شکایات سیل یا دیوان المظالم قائم کیاجائے جہاں تمام مقدمات اور ان کی قانونی کارروائی کی اگر ممکن ہوتو روزانہ ،ورنہ ہفتہ وار یاماہانہ بنیادوں پر رپورٹ وصول کی جائے تاکہ مقدمات کی پیش رفت سے حکومت آگاہ رہے اور اس سلسلے میں مناسب اقدامات اٹھاسکے۔
(ز) جو غریب اور بے کس لوگ قبضہ گروپوں سے اپنی جائداد کا قبضہ نہیں لے سکتے ،انہیں ان کی جائیدادوں کا قبضہ دلانے اور ان کی حفاظت کا مناسب بندوبست کیا جائے۔
(ح)عدالت میں آنے والے گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ،جس کے لیے ماہرین کے مشورے سے کوئی بھی نظام وضع کیا جاسکتاہے ۔
علاوہ ازیں مختلف علاقوں میں جرگہ کی طرزپر ’’پنچ‘‘ یا ’’حکم‘‘ عدالتوں کا عوامی سطح پر تقرر کیاجائے اور چھوٹے چھوٹے مقدمات کے تصفیہ کے لیے ان عدالتوں کو اختیار دیاجائے۔ اس سلسلے میں صوبہ سرحد اور بلوچستان کی جرگے سے متعلق مقامی روایات سے استفادہ ضروری ہے۔
۳۔ صیغہ مال
تیسراصیغہ یاشعبہ جہاں لوگوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں، صیغہ مال ہے۔ عوام پٹواری اور تحصیلدار وغیر ہ کے ہاتھوں سخت پریشان رہتے ہیں۔ اس صیغے کی مکمل اصلاح کے لیے بھی دینی تعلیم یافتہ اورصاحب اخلاق افراد پر مشتمل اچھی بیورو کر یسی کی تقرری بے حد ضروری ہے ۔ مناسب ہوگا کہ حکومت ان کی تنخواہوں پر بھی نظرثانی کر ے اور انہیں ان کی ضرویات کے مطابق اتنی تنخواہیں اداکرے کہ وہ اوسط درجے کی زندگی گزارسکیں۔
اس صیغے کی اصلاح کے لیے حسب ذیل اقدامات کی ضرورت ہے :
۱۔پٹواری /تحصیلدار کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور اس سلسلے میں لوگوں سے دھونس اوردھاندلی سے جو رقوم ،جنس اور غلہ وغیرہ وصول کیاجاتاہے، اس کاسدباب کیا جائے۔
۲۔لوگوں کی اپنی جائیدادوں کی خرید وفروخت کے وقت محکمہ کی طرف سے جو ناجائز طور پر تنگ کیا جاتا ہے، اس کا مداواکیا جائے ۔
۳۔ آبیانے، عشر اور زرعی ٹیکس کے تعین اور اس کی وصولی کے نظام کی اصلاح کی جائے اور اس سلسلے میں جوافراط وتفریط دیکھنے میں آرہا ہے، اس کا خاتمہ کیا جا ئے۔
۴۔دیہا تی آبادی کے لیے نہروں، چشموں اور دوسر ے ذرائع آب رسانی سے لوگوں کے نفع کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں ہونے والی زیادیتوں کا خاتمہ کیا جا ئے ۔
۵۔حکومت شہری آبادی سے جائید اد ٹیکس کے نام پر جو ٹیکس وصول کر رہی ہے، اس پر نظرثانی کی جائے اور جائیداد کے حجم کی مناسبت سے ٹیکس لا گو کیا جائے۔
۶۔حکومت کا شت کاروں کو زرعی ادویات، بیج اور ٹریکٹر وغیر ہ کی خریداری کے لیے بلاسود قرضے جاری کرے اور جن لوگوں نے اس سے پہلے قرضے لے رکھے ہیں، ان پر بھی سود معاف کیا جائے ۔
۷۔بے گھر لوگوں کے لیے بلاسود قرضے دیے جائیں اور ان کی واپسی کے لیے آسان اقساط کی رعایت دی جائے ۔
۸۔بے روزگار نواجونوں کو ذاتی کا روبار کے لیے شراکت کے اصول پر یاقرض حسنہ کے طور پر قرضے دیے جائیں اور چھوٹے کاروبار چلانے کے لیے حکومت ہر طرح کی فنی اور تکنیکی سہولتیں مہیا کر ے ۔
۴۔ دوسرے شعبہ جات
۱۔ان کے علاوہ دوسر ے محکمہ جات مثلا واپڈا،سوئی گیس اور پانی وغیر ہ کے دفاتر میں عوام کے ساتھ جوزیادتیاں روارکھی جاتی ہیں، ان کے ازالے کے لیے ہر محکمہ میں ایک موثر شکایات سیل قائم کیا جائے اوروہاں جوشکایات موصول ہوں، ان کا موثر طور پر ازالہ کیا جائے ۔بجلی، پانی اور گیس کے کنکشن کے حصول کوآسان بنایاجائے اور یہ محکمے عوام کو جو ناجائزطور پر تنگ کر نے کے لیے تاخیری حر بے اختیار کر تے ہیں ،ان کا ازالہ کیا جائے اوران کو صحیح معنوں میں عوام کا خادم بنایا جائے ۔
۲۔بنکوں میں بل جمع کرانے کے لیے کوئی ایسانظام وضع کیا جائے کہ دفتری اوقات میں تمام بنک اور دفتری اوقات کے بعد منتخب بنک تمام یوٹیلٹی بل وصول کر نے کے پابند ہوں تاکہ عوام کو کچھ ریلیف ملے اوروہ بنکوں میں آسانی سے ااپنے بل جمع کراسکیں ۔
۵۔ بلدیاتی شعبہ جات
بلدیاتی شعبہ جات کا بھی عوام کے ساتھ بڑاگہراتعلق ہے۔ الجزائر اور ترکی میں اسلام پسند جماعتوں نے سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور لوگوں کی بلدیاتی سطح پر اس طرح خدمت کی کہ انتخابات میں انہیں ملکی سطح پر واضح کامیابی ملی ،اس لیے اس سطح پر عوا م کی خدمت کو موثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کی ضرورت ہے :
۱۔تمام بلدیاتی اداروں کو اس بات کا پا بند کیا جا ئے کہ وہ علاقے میں ترقیاتی اور صفائی کے کا م کروانے کے لیے میرٹ پر کام کر یں گے۔ الاحق فالاحق کے اصول پر کام کو موثر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کوئی موزوں اور مخصوص نظام وضع کر سکتی ہے جس میں انسپکشن (معائنے )اور نگرانی وغیر ہ کے طریقوں کا عمل وغیر ہ شامل ہے ۔
۲۔بلدیاتی سطح پر ہونے والے تر قیاتی کاموں سے رشوت خوری کا مکمل طور خاتمہ کردیاجائے ۔
۳۔عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے ہر ایک سطح پر شکایات سیل یا دارالمظالم کا قیام عمل میں لایاجائے ۔
۶۔ تعلیمی شعبہ
۱۔ دوسرے شعبوں کی طرح تعلیمی شعبے کی اصلا ح کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ملک میں جاری دوعملی کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔پرائیویٹ سیکٹر میں چلنے والے غیر ملکی سکولوں کو ملکی نصاب تعلیم کا پابند بنایا جائے اور سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کے نظام کو بہتر بنایاجائے ۔
۲۔ملک میں رائج العمل دو عملی کا ہر سطح پر خاتمہ کیا جائے۔ حکومت دینی اداروں کی بھی سرپر ستی کر ے ،اور ان کے نظام تعلیم میں موجوہ دورکے لیے ضروری مضامین کو شامل کر ے اوران ڈگریوں کوہر سطح پر تسلیم کیا جائے ۔
۳۔سکولوں اور کالجو ں میں نصاب تعلیم پر بھی نظرثانی کی جائے اوردینی تعلیم کا خاطرخواہ حصہ اس میں شامل کیا جائے۔
۴۔میٹرک تک حکومت تعلیم مفت دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ بالائی سطح پر بھی حکومت طالب علموں کو وظائف دے تاکہ غربا کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حا صل کر سکیں ۔
۷۔ ہسپتال اور دوسرے رفاہی ادارے
۱۔ اسی طرح ہسپتالوں کے نظام پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر ہسپتالوں میں اول توعملہ ہی موجود نہیں ہوتااور اگر عملہ موجود ہوتو ادویات دستیاب نہیں ہوتیں، اور غریب اورنادارلوگ ہروقت علاج معالجہ کی سہولت مہیانہ ہونے کی بناپر زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ اگر کسی غریب شخص کاعلاج مہنگاہو تو حکومت زکوٰۃ فنڈسے اس کے علاج معالجے کی سہولیات مہیاکر سکتی ہے ۔
۲۔دیہی علاقوں میں موجود ہسپتالوں میں موزوں عملہ متعین کیا جا ئے اور اگر ایم بی بی ایس ڈاکٹر دستیاب نہ ہوں تو طب یونانی کے کسی ماہر کی تقرری کر دی جائے تاکہ علاقے کے لوگ علاج معالجے کی سہولتوں سے فائدہ اٹھاسکیں ۔
۸۔ احتساب کا موثر نظام
۱۔گڈ گورننس کو موثر بنانے کے لیے ہرسطح پر انسپکشن (معائنے )اور احتساب کا نظام قائم کیا جائے۔ یہ نظام اس نوع کا ہوکہ لوگوں کو واقعی یہ نظر آئے کہ ملک میں یاصوبے میں انصاف ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں سخت ترین سزاؤں کا نفاذ موثر بنایا جائے ۔
۲۔ احتساب کے ادارے میں اچھی شہرت اور اچھے اخلاق کے حامل لوگوں کا تقر ر کیا جائے ،جو بلاتفریق سب کے لیے ایک ہی موثر نظام جاری کریں ۔
اختتام
یہ صرف چندایک شعبوں کی نشان دہی ہے۔ اسلامی نظام دنیاکے لیے باعث رحمت ہے۔ اگر حکومت ابتدائی مرحلے میں لوگوں کوظلم وزیادتی سے چھٹکارا دلاسکے اورانہیں ان کے مسائل میں کوئی ریلیف دلاسکے تو یہ بہت بڑاکا رنامہ ہوگااور نفاذ اسلام کے اگلے مرحلے کے لیے راہ ہموار ہوگی ۔
دعوت و تربیت اور تعمیر سیرت کی اہمیت
حکیم سید محمود احمد سرور سہارنپوری
(۲۱ جنوری ۲۰۰۳ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں مجلس فکر ونظر کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں خطاب۔)
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وخاتم النبیین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
محترم صدر! میرے بزرگو اور بھائیو!
میں اسے اپنے لیے بڑی سعادت سمجھتا ہوں کہ اہل علم اور اہل فکر ودانش کے اس اجتماع میں مجھے ’’دعوت اور تربیت‘‘ کے عنوان سے آپ کے سامنے خیالات کے اظہار کا موقع نصیب ہو رہا ہے۔ بات شروع کرنے سے پہلے میں محترم حافظ حسین احمد اور محترم پروفیسر محمد ابراہیم کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اللہ نے جنہیں نصف صدی کے بعد یہ توفیق بخشی کہ وہ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے متحدہ مجلس عمل کو یہ توفیق نصیب فرمائی کہ آج ایک صوبے میں بغیر کسی کے تعاون کے اسے مکمل حکومت بنانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
اس برصغیر میں تقریباً ڈیڑھ پونے دو سو سال سے اسلام کے نفاذ کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ آپ ان پر نظر ڈالیں گے تو آپ کو ان کوششوں کے اخلاص، ان کے ایثار، ان کے زہد وتقویٰ اور ان کی کوششوں میں کوئی کمی اور کجی دکھائی نہیں دے گی لیکن یہ کوششیں کام یابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکیں۔ سچی بات یہ ہے کہ مقصود اسلام کے نظام کا نفاذ ہے، وہ کسی اور کے ہاتھوں سے ہو یا آپ کے ہاتھوں سے۔ ہمارا محبوب اسلام ہے۔ اس سلسلے میں ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے بھی اسلام نافذ کرنے کا موقع مہیا کر دے، ہم اس کے دست وبازو بن جائیں۔ ہم اس کو قوت فراہم کریں۔ ہم اس کی حمایت کریں اور جو کچھ بھی اس کے لیے کر سکتے ہوں، کریں۔ بغیر اس لالچ وخواہش کے کہ اس میں ہمیں کچھ حصہ ملے، ہمارا نام آئے، ہمیں کوئی اعزاز ملے، کوئی عہدہ نصیب ہو۔ ہمیں اپنے اس کام کو چونکہ خدا کو راضی کرنے کے لیے کرنا ہے اور جو اجر بھی لینا ہے، وہ اللہ ہی سے لینا ہے لہٰذا جب تک اس جذبے کے تحت ملت اسلامیہ پاکستان اپنے فرائض کو ادا کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہوگی، یہ کوشش کام یابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔
جو لوگ اسلامی نظام کے نفا ذ کے اس اعزاز کے حامل ہیں، انہیں تعجیل اور افتراق سے بھی بچنا ہوگا اور اپنے اندر کی انانیت کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا۔ پاکستان اسلام کے نفاذ کے لیے ہی بنا تھا۔ لوگ جتنے چاہے مغالطے دیں کہ مذہبی قوتوں نے اس کی مخالفت کی تھی مگر درحقیقت راس کماری سے لے کر پشاور تک سارے علمائے حق پاکستان کے حق میں تھے۔ چاہے کسی نے جلسے جلوسوں میں حصہ لیا یا نہیں لیا۔ میں آپ کو یاد دلا دوں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا عبد الحامد بدایونی، مولانا داؤد غزنوی، مولانا خیر محمد ملتانی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد انصاری، یہ سارے کون تھے؟ یہ سارے علما تھے، یہ سب تحریک پاکستان کے موید تھے۔ یہ سب علما بغیر کسی وزارت کے لالچ کے پاکستان کے لیے کام کرنے والے تھے۔ یہ ایک ٹیم تھی۔ آپ نے دیکھا کہ ایک ایسی انہونی ہو گئی جس کے لیے مخالفین پاکستان یہ کہتے تھے کہ یہ دیوانے کا خواب ہے، پاکستان نہیں بنے گا۔ لیکن پاکستان بن گیا۔ بن گیا تو مخالفین کہنے لگے کہ پاکستان نہیں چلے گا اور یہ چل گیا، چل رہا ہے، الحمد للہ۔ ان شاء اللہ یہ چلتا رہے گا۔
یہ بات میں نے اس لیے عرض کی کہ وہ ایک اتحاد تھا ساری ملت اسلامیہ برصغیر کا جس نے پاکستان اس لیے بنایا کہ وہ یہاں اسلام نافذ کرے گی، اسلامی نظام زندگی کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے گی۔ آپ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ اچھی طرح جانتے ہیں لیکن پاکستان بن جانے کے بعد اسے بنانے والوں نے سمجھا کہ اب ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ چند بزرگوں کے اس دنیا سے پردہ کر جانے کے بعد ہم کمر کھول کر بیٹھ گئے۔ ہم نے اس کی نگرانی نہیں کی۔ بیج ڈالنے کے بعد، کھیت پوری طرح تیار کر لینے کے بعد اسے تیار کرنے والے، بنانے والے اگر اس کی نگرانی نہیں کرتے تو پھر وہ پھل حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ وہ ٹیم اس لیے ناکام ہو گئی کہ اس نے اگلے مرحلے کے لیے کام نہیں کیا تھا۔ پھر دوبارہ ہمارا اتحاد ہوا۔ کہایہ جاتا تھا کہ کون سا اسلام؟ شیعہ کا اسلام، سنی کا اسلام، بریلوی کا اسلام، دیوبندی کا اسلام، کس کا اسلام؟ تو علما نے متحد ہو کر یہ ۳۱ نکات مقرر کر کے اس بات کا اظہار کر دیا کہ یہ اسلام ہے۔ ان علما میں تمام مکاتب فکر کے نمائندے تھے۔ ان علما نے یہ طے کر دیا کہ یہ اسلام ہے یعنی حاکمیت اللہ کی، قانون کتاب وسنت کا۔ اگر کوئی قانون کتاب وسنت کے خلاف ہے تو وہ تبدیل کر دیا جائے گا اور آئندہ قوانین کتاب وسنت کے مطابق بنائے جائیں گے، ان کے خلاف نہیں بنائے جائیں گے۔
قرارداد مقاصد کی صورت میں یہ اسلام کا بنیادی کام ہوا تھا اور یہ علما کے اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ مجھے ایک بات یہ بھی کہنی ہے کہ اسلامی تحریکوں نے گزشتہ عرصے میں جو کچھ بھی کام یابی حاصل کی، اس کا کیا ہوا؟ ایران میں اسلام کے نام پر انقلاب آیا تو ہم نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ اس انقلاب کے خلاف کتابیں لکھی جانے لگیں۔ اس موقع پر ایک غلطی انقلاب لانے والوں نے بھی کی۔ ایک جگہ اسے مستحکم کیے بغیر انہوں نے کہا کہ ہم اس انقلاب کو برآمد کریں گے۔ پھر کہیں انقلاب آیا تو کہا گیا کہ یہ دیوبندیوں کا انقلاب ہے۔ اگر اسلام کو اس طرح تقسیم کیا جاتا رہا تو پھر اسلام کبھی نہیں آئے گا اس لیے کہ کہیں یہ حنبلیوں کا ہوگا، کہیں شافعیوں کا ہوگا، کہیں مالکیوں کا ہوگا، کہیں حنفیوں کا ہوگا، کہیں اہل حدیثوں کا ہوگا اور کہیں شیعوں کا ہوگا۔ پھر کہا جائے گا کہ یہ کوئی اسلام نہیں ہے۔ اسلام اللہ کی کتاب کا نام ہے۔ اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت کا نام ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک چھوٹے چھوٹے اختلافات سے گریز نہ کیا جائے، اس وقت تک اتحاد کی فضا قائم نہیں ہوگی۔ ہمارا دشمن اسی دروازے سے داخل ہوتا ہے۔
یہ بات یاد رکھیے کہ سب سے پہلا کام اس اتحاد کو قائم رکھنا ہے اور تمام قسم کی سازشوں سے اسے بچانا ہے جن کے نتیجے میں ہمارے سابقہ ادوار کے اتحاد ناکام ہوتے رہے۔ آپ کو فرقہ واریت سے بھی بچنا ہے۔ ذاتی انا اور لیڈر شپ کے اس جنون کو اپنے اندر سے نکالنا ہے جس نے ماضی میں ہمیں ناکام کیا۔ آپ جب تاریخ کا تجزیہ کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ لوگوں نے صرف اور صرف اپنی ذات، اپنی لیڈر شپ، اپنی خواہش، اپنی نسل، اپنی جماعت، اپنی برادری اور اپنی لسانیت کے لیے سارے کا سارا نظام داؤ پر لگا دیا۔ اللہ نے آپ کو یہ اعزاز عطا کیا ہے کہ آپ تاریخ کا سنہری باب رقم کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اب یہ جواب آپ کے ذمے ہے کہ اسلام لوگوں کو کیا دیتا ہے؟ اسلام لوگوں کے مسائل کس طرح حل کرتا ہے؟ اس کام کا آغاز نفاذ تعزیر سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا آغاز فلاحی مملکت کے قیام سے ہونا چاہیے۔ فلاحی مملکت کا تصور اسلام ہی نے دیا ہے۔ نبی ﷺ کا یہ کہنا کہ جو تم میں سے قرضہ چھوڑ کر مرے، وہ میں دوں گا اور جو مال چھوڑ کر مرے، وہ اس کے بچوں کا ہے، یہ وہ فلاحی مملکت کا تصور ہے کہ جو کچھ تم نے چھوڑا، وہ تمہارا۔ جو تم پر باقی ہے، وہ ہم دیں گے۔ تمہاری ضرورتیں ہم پوری کریں گے۔ ظاہر ہے آپ آج اس پوزیشن میں تو نہیں ہیں کہ لوگوں کو بے روزگاری الاؤنس دیں۔ آپ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ہر آدمی کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں لیکن بہتری کا آغاز بہرحال ہونا چاہیے۔ اور اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ جو لوگ ذمہ دار بنا دیے گئے ہیں، وہ اپنے معیار زندگی کو سابقہ معیار زندگی سے بڑھنے نہ دیں۔ اگر ان کے پاس اپنی ذاتی گاڑی ہے تو وہ سرکاری گاڑی استعمال نہ کریں۔ اگر ان کے پاس اپنی ذاتی رہائش گاہ موجود ہے تو وہ سرکاری رہائش گاہ نہ لیں۔ آپ غیر پیداواری اخراجات کم کر سکتے ہیں۔ اس راستے میں آپ کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہوگا جس سے آپ عوامی فائدے کے کام کر سکتے ہیں۔ یہاں انصاف بکتا ہے، چاہے وہ کسی بھی صورت میں بکتا ہو۔ اس خرابی کے خاتمے کے لیے آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ اسلام آیا تو ہمیں یہ یہ فائدہ ملا۔ عدلیہ کے نظام میں ایسی دور رس تبدیلیاں کریں کہ جن کے ذریعے فوری اور سستا انصاف ملے۔ قانون ہر شخص کے لیے ایک ہو۔ ٹریفک کے اشارے کی خلاف ورزی پر میری گاڑی کا چالان ہوتا ہے تو اشارے کی خلاف ورزی پر وزیر صاحب کی گاڑی کا بھی چالان ہونا چاہیے۔ اس کام میں کوئی لمبا چوڑا سرمایہ خرچ نہیں ہوتا۔ اس میں صرف انتظامیہ پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اگر کسی شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جائے کہ اسلام آنے کے نتیجے میں اسے، اس کے بچوں کو، اس کی نسلوں کو یہ یہ فوائدملیں گے تو وہ اپنی ضرورتیں کاٹ کر بھی آپ کا ساتھ دے گا، جس طرح آپ کو ووٹ دینے والوں نے ووٹ دیے ہیں۔ ورنہ یہاں الیکشن لڑتے ہوئے آپ کو پچاس برس ہو گئے۔ آپ کا ووٹ بینک نہیں بڑھا۔ جے یو آئی نے ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں تیرہ لاکھ ووٹ لیے، جے یوپی نے تیرہ لاکھ آٹھ ہزار اور جماعت اسلامی نے نو لاکھ آٹھ سو ووٹ لیے۔ مجموعی طور پر یہ سارے ووٹ پینتیس لاکھ بنتے ہیں۔ اب آپ کو تینتیس لاکھ ووٹ ملے ہیں لیکن قوم نے تینتیس لاکھ ووٹ دے کر آپ کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ ایک صوبے میں آپ نے مکمل حکومت بنا لی۔ یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ وہاں کے لوگوں کو یقین آ گیا کہ آپ اکٹھے ہو گئے ہیں اور آپ ہی ان کے مسائل حل کریں گے کیونکہ دوسرے ان کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔
تعمیر سیرت کے مرحلے میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ رہنما آدمی کو نمونے کا آدمی بننا پڑے گا۔ جو لوگ یہ علم لے کر اٹھے ہیں کہ ہم اسلامی نظام لائیں گے، ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ اسمبلی کو اٹھا کر مسجد میں لے آیا جائے۔ یہ کام آپ وہیں کیجیے۔ وہاں آپ اس بات کا انتظام کیجیے کہ جو لوگ آپ کے ماتحت کام کرنے والے ہیں، انہیں نظر آئے کہ آپ خود غلط کام نہیں کرتے اس لیے نیچے بھی کسی کو غلط کام نہیں کر نے دیں گے۔ مجھ سے پہلے ایک محترم بھائی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر چیف جسٹس انصاف کرنا چاہے تو اس کے ماتحت جج اس بات پر مجبور ہیں کہ انصاف کریں۔ اوپر کے درجے پر فائز لوگوں کو سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی پڑے گی تاکہ نیچے والوں کی اصلاح ہو سکے۔
نظا م تعلیم کی طرف توجہ دیجیے کیونکہ آپ صوبہ سرحد میں مرکزی حکومت کی امداد اور تائید کے بغیر اسے چلا سکتے ہیں۔ نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کیجیے۔ درمیان کی جو دیوار ہے، اسے دور کر دیجیے کہ جو دین کا علم جانتا ہے، اس کے پاس دنیا کے علم کی کمی ہے اور جو دنیا کا علم جانتا ہے، اسے دین کا پتہ ہی نہیں۔ یہ آپ صوبہ سرحد میں کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔
اسلام نافذ کرنے کے سلسلے میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس ملک کے رہنے والے بے عمل تو ہو سکتے ہیں لیکن یہ اسلام سے جو قلبی وابستگی رکھتے ہیں، اس میں کوئی کمی نہیں۔ آپ دیکھیں کہ جب تحریک ختم نبوت چلتی ہے تو اس میں جان دینے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو بے عمل ہیں۔ سیرت سازی کے لیے آدمی کو خود نمونہ بننا پڑتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ اپنے نظام کا خود نمونہ ہیں۔ وہ نعرہ ہیں نہ دعویٰ بلکہ نمونہ ہیں۔ پھر ایک بات اور میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کو مسلمان سمجھ کر آپ اپنے ساتھ لے کر چلیں گے تو یہ آپ کے دست وبازو بنیں گے۔ آپ کی قوت بڑھے گی۔ اللہ نے آپ کو سرحد اور بلوچستان میں طاقت دی۔ یہ طاقت وہاں سے آگے بڑھے گی۔ اگر آپ نے لوگوں کو مسلمان سمجھ کر ساتھ ملانے کی کوشش نہ کی تو یہ یاد رکھیے کہ آپ کا مخالف بہت چالاک ہے۔
آپ محاذ آرائی کے ہر عمل سے گریز کیجیے۔ کسی کو برانگیختہ کرنے یا اشتعال دلانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو کوئی چار باتیں کہہ دیتا ہے تو آپ خاموشی سے سن لیجیے اور اس لیے سن لیجیے کہ آپ مثبت طور پر اسلامی نظام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، محاذ آرائی کر کے اپنے راستے کو تنگ کرنا نہیں چاہتے۔ جو قوتیں اسلام کو ناکام کرنا چاہتی ہیں، وہ آپ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گی اس لیے اشتعال دلانے سے بھی بچیے اور اشتعال میں آنے سے بھی بچیے۔ یہ ہماری دردمندانہ اور مخلصانہ گزارش ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس طریقے سے ان بد نتائج سے بچا جا سکتا ہے جن میں آپ کو آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ برصغیر سے اور سارے عالم اسلام سے جو سامراجی نظام گیا اور نوآبادیاتی سسٹم ختم ہوا، وہ دوسری جنگ عظیم کے حالات کا جبر تھا کہ فرانس، پرتگال، برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک اپنی نوآبادیات کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اب نوآبادیاتی نظام کا دوسرا منصوبہ شروع ہوا ہے۔ دوسرے انداز سے، دوسرے نام سے، اور یاد رکھیے کہ ان کے منصوبے ہمارے منصوبوں کی طرح دو سالہ، چار سالہ اور پانچ سالہ منصوبے نہیں ہوتے۔ اب نوآبادیاتی نظام کا جو منصوبہ ہے، وہ سارے ترقی پذیر ممالک پر لاگو کر کے ان کے سارے ذرائع کو، سارے وسائل کو اس طرح قبضے میں لے لینے کا ہے کہ تیل مسلمانوں کا ہو، فائدہ ان کو پہنچے۔ گیس مسلمانوں کاہو، فائدہ ان کو پہنچے۔ کانیں مسلمانوں کی ہوں، فائدہ وہ اٹھائیں۔ اسی غرض کے لیے یہ سارے کا سارا جال بچھایا گیا ہے۔ کیسی عجیب وغریب صورت حال ہے کہ مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا گیا ہے اور ۵۹ اسلامی ممالک ایسے خاموش ہیں کہ کسی طرف سے یہ آواز تک نہیں آتی کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ ۵۹ ممالک اس طرح متحد ہیں کہ ان کی کوئی پوزیشن نہیں۔ تاریخ میں آج تک ایسا مرحلہ نہیں آیا تھا کہ کسی اتحاد کی کوئی پوزیشن ہی نہ ہو۔
میں ایک بار پھر یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جذباتیت سے اس ساری صورت حال کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مرحلہ آتا ہے جب جذباتی فضا آدمی کو اس حال تک پہنچا دیتی ہے کہ اسے اپنے ہی موقف سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ ابھی ہم اس مرحلے پر نہیں ہیں کہ ہمیں اپنے ہی موقف سے دست بردار ہونا پڑے۔
ذرائع ابلاغ کو اس حد تک کنٹرول کیا جائے کہ وہ اسلامی معاملات کو اسلام ہی کے نقطہ نظر سے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ صوبہ سرحد میں ریڈیو اور ٹی وی کے جو اوقات خاص آپ کے لیے ہیں، ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیے اور اسلامی کلچر کو فروغ دیجیے۔ ہم ہر حال میں ان شاء اللہ آپ کا دست وبازو بننے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارا آپ سے کسی قسم کا کوئی مطالبہ ہے نہ ہم آپ سے کسی ستائش کی تمنا رکھتے ہیں۔ ہم نے انتخابات میں بھی آپ کے کہے بغیر آپ کا ساتھ دیا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی آپ کا ساتھ دیں گے۔ اس کا اجر ہم نے اللہ سے لینا ہے۔ جب ہم سے سوال ہوگا کہ تم نے اللہ کے دین کے لیے کیا کیا تھا تو ہم کہہ دیں گے کہ اے اللہ! آپ نے ان لوگوں کو دین کے نفاذ کا اختیار دیا تھا، ہم ان کے جوتوں کی گرد جھاڑنے کے لیے ان کے ساتھ تھے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ دل سے آپ کے ساتھ ہیں۔ اپنی قوتوں سے آپ کے ساتھ ہیں۔ جن کے پاس کچھ نہیں، ان کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو درست طور پر کام کرنے کی توفیق نصیب فرمائیے۔ آمین
امریکہ ۔ ہمارا دوست یا دشمن؟
ڈاکٹر محمد فاروق خان
(جذباتیت اور سطح بینی کی جس کیفیت نے اس وقت امت مسلمہ کی پوری ذہانت کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، اس کے مظاہر میں سے ایک بہت نمایاں مظہر یہ ہے کہ ہمارے ہاں مخالف رائے، بالخصوص فریق مخالف کے موقف کو اس کے حقیقی تناظر میں سمجھنے اور معروضی انداز میں اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہو چکی ہے ۔ یہ طرز فکر ہمارے بیشتر مسائل کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی اصلاح اس وقت امت مسلمہ کی سب سے بڑی فکری ضرورت بن چکی ہے۔ ذیل میں دانش سرا پاکستان کے صدر ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب کی ایک تحریر شائع کی جا رہی ہے جس میں انہوں نے عالم اسلام کے حوالے سے امریکہ کے کردار کا معروضی انداز میں جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے تجزیے سے یقیناًاختلاف کیا جا سکتا ہے اور ہم اس اہم موضوع پر اہل دانش کی سنجیدہ تحریروں کو خوش آمدید کہیں گے۔ مدیر)
عالم اسلام کے اندر اس وقت اس سوال پر بڑی بحث ہو رہی ہے کہ آیا امریکہ پورے عالم اسلام اور بذات خود مذہب اسلام کو دشمن کی نظر سے دیکھتا ہے یا وہ درحقیقت عالم اسلام کا دوست ہے ۔یا پھر یہ کہ وہ عالم اسلام کا نہ دوست ہے نہ دشمن ، بلکہ وہ عالم اسلام کے ہر ملک سے علیحدہ علیحدہ محض تعلقات کار رکھنا چاہتا ہے ۔
جو مکتب فکر یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ پورے عالم اسلام اور بذات خود مذہب اسلام کا دشمن ہے ،ا س کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ دراصل اسی استعماری اور سامراجی قو ت کا تسلسل ہے جس نے مسلمانوں کے ساتھ صلیبی جنگیں چھیڑیں اور جو بعد میں یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کی شکل میں ایشیا اور پھر افریقہ پر قابض ہوئی ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ پچھلے پچاس برس سے اسرائیل کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت کر رہا ہے ۔امریکہ نے ۱۹۹۰ء میں خلیجی جنگ کے بعد تمام خلیجی ملکوں اور سعودی عر ب میں اپنے فوجی اڈے قائم کرلیے ۔ ’’القاعدہ‘‘ کے بہانے سے اس نے طالبان کی حکومت ختم کر دی اور اب عراق کے درپے ہے۔ اس کے بعد اغلباً ایران اور پھر پاکستان کی باری ہے ۔
دوستی کی بات کرنے والا مکتب فکر درج بالا دلائل کو غلط سمجھتا ہے ۔ اس کے خیال میں صلیبی جنگوں سے پہلے او ر صلیبی جنگوں کے بعد ایک لمبے عرصے تک مسلم ملکوں اور یورپی طاقتوں میں دوستی بھی رہی ہے ۔اس دوران میں خود عیسائی یورپی ملکوں میں بھی آپس میں بڑی خون ریز لڑائیاں ہوئی ہیں ۔اس کے بعد افریقہ اور ایشیا پر یورپی قبضہ دراصل ٹیکنالوجی کی قوت کا مظہر تھا ۔اس میں بھی عیسائی یورپی طاقتیں آپس میں کبھی متحد نہیں رہیں ،بلکہ انگریزوں، فرانسیسیوں، پرتگیزیوں اور ولندیزیوں کے درمیان اس دوران میں بڑی جنگیں ہوئی ہیں ۔پہلی اور دوسری جنگ عظیم بھی اصلاً یورپی عیسائی طاقتوں کی آپس کی لڑائی تھی جس میں دونوں طرف سے کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے ۔آج امریکہ عالم اسلام کے غریب ممالک کو سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک ہے ،خصوصاً پاکستان کی ترقی کی ایک ایک اینٹ امریکی امداد کی مرہون منت ہے ۔امر یکہ نے مسلمان ممالک کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا ، سوائے ان مواقع کے کہ جب کسی نے خود آگے بڑھ کر امریکی مفادات یا امریکہ پر براہ راست حملہ کر دیا ہو ۔دو یورپی مسلمان ملکوں یعنی بوسنیا اور کوسووو کی آزادی دراصل امریکہ ہی کی مرہون منت ہے ۔
ورکنگ ریلیشن شپ یا تعلقاتِ کار والے مکتب فکر کے خیال میں بین الاقوامی تعلقات میں نہ مستقل دوستی چلتی ہے ،نہ مستقل دشمنی ، بلکہ ہر ملک اپنے وقتی مفادات کی خاطر دوسروں سے تعلقات کار رکھتا ہے ۔امریکہ کی اصل دلچسپی اس خواہش سے ہے کہ اس کے سپر پاور ہونے کی حیثیت برقرار رہے اور اس کے مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔اس کی پچھلی تمام تاریخ اس امر کی گواہ رہی ہے کہ اس نے دوسرے ملکوں سے تعلقات ہمیشہ اسی وجہ سے اور یا پھر اپنی اندرونی سیاست کی وجہ سے رکھے ہیں اور اس میں ا س نے مذہب ،رنگ اور نسل کا خیال کم ہی رکھا ہے۔ پچھلے پچاس برس میں اس کا سب سے بڑا دشمن کمیونزم رہا ہے جس کا علم بردار سفید فام عیسائی روس اور مشرقی یورپ تھا۔ تیس چالیس برس پہلے عراق، شام ،لیبیا ،ایران اور کئی دوسرے ممالک میں امریکہ مخالف انقلاب آئے ، مگر امریکہ نے ان پر حملہ نہیں کیا ، اس لیے کہ یہ حملے اس کو بہت مہنگے پڑتے ۔ کئی بدھسٹ ممالک مثلاً جاپان ،جنوبی کوریا ،تائیوان اور تھائی لینڈ سے اس کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔زمبابوے اور جنوبی افریقہ میں اس نے سفید فام نسلی امتیاز پر مبنی حکومتوں کو ختم کرنے اور افریقی اکثریت کی حکومت کو قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ایسے جھگڑے جن میں ایک فریق عیسائیوں پر مشتمل تھا ، مثلاً اریٹریا اور صومالیہ کی آویزش ،جنوبی سوڈان کی لڑائی اور بیافرا کے مسئلے پر اس نے عیسائیوں کا ساتھ نہیں دیا ۔افریقہ کے غریب ترین عیسائی ممالک کی امداد میں امریکہ نے کوئی خاص گرم جوشی نہیں دکھائی ۔اس کے برعکس اس نے کئی مسلمان ممالک مثلاً انڈونیشیا ،بنگلہ دیش ،سعودی عرب ،کویت ،ترکی اور مراکش وغیرہ سے قریبی تعلق رکھا ہے ۔
درج بالا تینوں نقطہ ہاے نظر کے دلائل میں وزن موجود ہے۔مناسب ہے کہ ان میں سے بعض امور پر خصوصی توجہ دی جائے خصوصاً ان مسائل پر جن کا تعلق موجودہ حالات سے ہے ،تفصیل سے روشنی ڈالی جائے ۔
مسلمانوں اور عیسائیوں کی تاریخی کشمکش
امریکی اقدامات کے تجزیے میں یہ نکتہ بھی باربار آتا ہے کہ یہ دراصل عالم اسلام اور عیسائی دنیا کے درمیان تاریخی کشمکش کی ایک کڑی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ چودہ سو سال کی تاریخ پر ہماری نظر رہے۔
مسلمانوں نے اپنے ابتدائی چھ سو برس میں جتنا علاقہ فتح کیا ،سوائے اندلس ،بھارت اورفلسطین کے ،کم و بیش باقی تمام علاقہ اب بھی عالم اسلام میں شامل ہے ۔اندلس کی حکومت کے خاتمے کی اصل وجہ آپس کی خانہ جنگی تھی۔ اس کے برعکس برصغیر پر جن مسلمان حکمرانوں نے قبضہ کیا ، انھیں یہاں اسلام کی دعوت پھیلانے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔البتہ ارض فلسطین خصوصاً یروشلم ہمیشہ سے کشمکش کا مرکز رہا ہے ۔یروشلم پر مسلمانوں نے ۶۴۰ء میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد ۱۰۹۶ء یعنی اگلے ساڑھے چار سو بر س سے بھی زیادہ عرصہ اس پر مسلمانوں کا قبضہ رہا ۔اس کے بعد ایک سوبرس تک اس علاقے پر عیسائی طاقتوں کا قبضہ رہا۔ ۱۰۹۶ء سے لے کر ۱۲۷۱ء تک یعنی کم و بیش دوسو برس میں مسلم طاقتوں اور عیسائی طاقتوں کے درمیان آٹھ بڑی لڑائیاں لڑی گئیں جن میں پہلے عیسائی طاقتوں اور بعد میں مسلم طاقتوں کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اگلے سات سو برس مزید اس پر مسلمانوں کا قبضہ رہا ۔حتیٰ کہ جب عثمانی سلطنت نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا تو برطانیہ نے جرمنی کے ساتھ ساتھ عثمانی مملکت کو بھی شکست دیتے ہوئے اس کے زیر قبضہ تمام عرب علاقوں بشمول فلسطین و یروشلم پر قبضہ کر لیا ۔اگلے تیس برس تک یہاں انگریزوں کا قبضہ رہا ۔ان کے جانے پر فلسطین کا آدھا حصہ اسرائیل اور آدھا حصہ اردن کے قبضے میں آگیا ۔بیت المقدس اردن کے قبضے میں رہا حتیٰ کہ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کر لیا پچھلے پینتیس برس سے یروشلم اسرائیل کے قبضے میں ہے۔
گویا ارض فلسطین کے متعلق تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں پچھلی ایک صدی سے ہلال و صلیب اور ہلال و ڈیو ڈسٹار کی کشمکش جاری ہے ۔تاہم باقی عالم اسلام پر یہ بات صادق نہیں آتی۔اس بحث کے بعد یہ ضروری ہے کہ ان حالیہ اہم ترین مسائل کا تجزیہ کیا جائے جہاں امریکہ کے مقابل مسلمان قوتیں صف آرا ہیں ۔
ا۔ طالبان اور القاعدہ
اس ضمن میں امریکہ مخا لف نقطۂ نظر کے دلائل درج ذیل ہیں:
- ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ القاعدہ کا کام نہیں ہے ۔اس حملے کی منصوبہ بندی ،فنی مہارت اور اس پر عمل درآمد کے لیے جو ٹیکنالوجی چاہیے وہ القاعدہ کے بس کی بات نہیں ہے ۔اس لیے امریکہ کا یہ الزام بے بنیاد ہے
- اس حملے سے سب سے زیادہ فائدہ یہودیوں کو پہنچا ہے ۔نیز ۱۱ ستمبر کے دن ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں کام کرنے والے چار ہزار یہودی غیر حاضر تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حملہ یہودیوں نے کیا ہے اور یہودیوں کو اس کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا ۔
- ملاعمر نے یہ پیش کش کی تھی کہ بن لادن پر افغانستان میں مقدمہ چلایا جائے ، مگر اسے یک سر نظر انداز کر دیا گیا۔
- افغانستان پر امریکی بم باری کے نتیجے میں تقریباً تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے اور سیکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ یہ بڑا ظلم اور سفاکی تھی ۔
- امریکہ کی نظر وسط ایشیا کے تیل پر ہے جس کے لیے اس نے افغانستا ن کو فتح کیا ۔باقی تو محض بہانے ہیں۔
ان دلائل کے جواب میں امریکیوں کا نقطۂ نظریہ ہے:- پوری دنیا میں القاعدہ ہی واحد ایسی آرگنائزیشن ہے جس نے امریکہ کے خلاف باقاعدہ تحریری طورپر پہلے ۱۹۹۶ء میں اور پھر ۲۳ فروری ۱۹۹۸ کو اعلان جنگ کیا تھا ۔کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کے مجرم گرفتار ہو کر اعتراف جرم بھی کرچکے ہیں اور ان کو سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ ان سب نے القاعدہ سے تعلق کا اعتراف کیا ہے۔ ۱۱ ستمبر کے تمام ۱۹ ہائی جیکروں کی شناخت ہو چکی ہے۔وہ سب عرب تھے اور القاعدہ کے کارکن تھے ۔اس کام کی تربیت انھوں نے امریکہ ہی میں امریکہ کی اندرونی آزادیوں کی بدولت حاصل کی تھی ۔بن لادن اور القاعدہ کے دوسرے ذمہ داروں نے کئی وڈیو اور آڈیوٹیپس میں اس حملے کا اعتراف کیا ہے ۔اس کے بعد بھی دنیا میں کئی حملے ہوئے ہیں مثلاً بالی انڈونیشیا والا دھماکا ۔ان سب میں القاعدہ ہی کے کار کنوں کو پکڑ ا گیا ہے ۔ہم یہ چاہتے تھے کہ بن لادن اور اس کے ساتھیوں پر امریکہ یا اقوام متحدہ کے کسی ادارے کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔
- یہودیوں کے ملوث ہونے والی بات محض افسانہ تھا جس کا کوئی ثبوت ہی نہیں ۔ممکن ہے کہ اس دن کچھ یہودی غیر حاضر ہوں ، مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان کے ایک اہم مذہبی تہوار یوم کپور کا دن تھا ، اس حملے میں اسرائیل کے ۴۹ شہری بھی ہلاک ہوئے تھے جو سب کے سب یہودی تھے ۔ یہودیوں کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا ۔ویسے بھی احمقانہ ایکشن کا فائدہ مخالف کو پہنچتا ہے ۔اس لیے یہ کوئی دلیل نہیں بنتی ۔امریکہ پہلے بھی اسرائیل کا حامی تھا اور اب بھی ہے ۔
- طالبان انتظامیہ کے تحت بن لادن پر مقدمہ چلانا محض ایک مذاق ہوتا، اس لیے کہ کئی برس سے بن لادن ان کا فنانسر اور طالبان اس کے پشتی بان تھے ۔
- ہمارے اندازے کے مطابق امریکی بم باری سے پانچ ہزار کے لگ بھگ عام افراد ہلاک ہوئے ۔اگرچہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا تاہم اس طرح کا نقصان کسی بھی جنگ کا ناگزیر حصہ ہو تا ہے ۔
- اگر وسط ایشیا کی تیل کی پائپ لائنوں پر قبضہ ہمارا بنیادی مقصد ہو تا تو ہم ۱۹۸۸ ء میں افغانستان میں اپنی دلچسپی کیوں ختم کرتے ؟ دوبارہ افغانستان کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی جیسا ڈرامہ کرنے کی کیاضرورت تھی؟یہ سب کچھ تو اس کے بغیر بھی ہم کر سکتے تھے ۔
تبصرہ
کئی سوال ایسے ہیں جن کا جواب کسی بھی فریق کے پاس نہیں ہے ۔یہ بات معلوم ہے کہ بن لادن کو اصل غصہ سعودی سرزمین میں امریکی افواج کی موجودگی پر تھا ۔امریکیوں کے لیے یہاں سے اپنی افواج نکال کر کہیں اور تعینات کرنے میں کیا مشکل تھی اور انھوں نے ایسا کیوں نہیں کیا ؟اسی طرح امریکہ کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں کہ اس نے دہشت گردی کی بنیادی وجوہات ختم کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟دوسری طرف طالبان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کے باوجود انھوں نے مسلسل بن لادن کو کیوں پناہ دی ۔اور پھر یہ کہ انھوں نے اپنے ملک اور حکومت کو امریکہ سے بچانے کی خاطر بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر نے سے انکار کیوں کیا ۔امریکہ مجبور ہوتا کہ بن لادن پر بہترین منصفانہ طریقے سے مقدمہ چلائے ۔بن لادن اسی مقدمے کو اپنے موقف کے لیے بڑی خوب صورتی سے استعمال کر سکتا تھا ۔اور اگر اسے اس مقدمے میں بڑی سے بڑی سزا بھی ہو جاتی تو کم از کم امریکہ کو افغانستان پر حملے کا بہانہ تو نہ ملتا ۔
اس معاملے میں پاکستان کے کردار پر تبصرہ بھی ناگزیر ہے ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ تک پاکستان پوری طرح طالبا ن کا حامی تھا ۔اس کی پالیسی میں اچانک تبدیلی کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے ،مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اس وقت کی فوجی حکومت نے امریکہ کو لاجسٹک مدد کیوں فراہم کی اور کئی ہوائی اڈے کیوں ان کے حوالے کیے؟ وہ اس معاملے میں بآسانی معذرت کر سکتا تھا ۔اگرچہ اس سے امریکہ کا طالبان انتظامیہ پر حملہ زیادہ سے زیادہ کچھ مشکلات کاشکار ہو جاتا ، مگر پاکستان ایک غلط اقدام سے تو بچ جاتا ۔
ب۔ مسئلۂ فلسطین
اگر یہ کہا جائے کہ عالم اسلا م میں امریکہ کی منفی تصویر کا اصل سبب یہی مسئلہ ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔ اس مسئلے میں امریکی مخالف نقطۂ نظر کے دلائل حسب ذیل ہیں:
- اسرائیلی ریاست کی تخلیق برطانیہ کا ایک بڑا ظلم تھا اور اس ریاست کی مسلسل تعمیر اور حمایت امریکہ کی ایک بڑی بے انصافی ہے ۔مشرق وسطیٰ کی اب تک تمام خوں ریزی کی اصلاً ذمہ داری ان دونوں پر عائد ہو تی ہے ۔
- امریکہ نے ہر معاملے میں اسرئیل کی اندھا دھند حمایت کی ہے ۔اسرائیل کے صر یحاً ناجائز اقدامات پر بھی امریکہ نے کچھ نہیں کیا ۔کئی دفعہ ایسا بھی ہو ا ہے کہ اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فورموں پر امریکہ اور اسرائیل ایک طرف تھے اور باقی سار ی دنیا دوسری طرف ۔
- اسرائیل امریکی امداد کے سہارے زندہ ہے ۔اس کے باوجود امریکہ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کبھی اسرائیل پر حقیقی دباؤ نہیں ڈالا۔ اگر امریکہ چاہے تو مختصر عرصے میں مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔
دوسری طرف امریکیوں کے دلائل درج ذیل ہیں:- اسرائیل کے قیام میں برطانیہ کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ سلطنت عثمانیہ کی غلطیوں اور خود عربوں کی عملی مدد کا بھی بڑا کردار ہے ۔اگر سلطنت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ نہ دیتی تو برطانیہ اس پر کبھی حملہ نہ کرتا اور اگر سرزمین عرب کا ہاشمی خاندان انگریزوں کی مدد نہ کرتا تو وہ کبھی فلسطین پر قابض نہیں ہو سکتے تھے ۔اور اگر مصر و مراکش اپنے ہاں کے یہودیوں کو اسرائیل جانے کی اجازت نہ دیتے تو اسرائیل کی آبادی نہیں بڑھ سکتی تھی۔
- اسرائیل کی مسلسل عملی حمایت امریکہ کے علاوہ روس،چین ،بھارت اور بہت سے دوسرے ملکوں نے بھی کی ہے۔
- امریکہ کی یہودی کمیونٹی (تعداد:۵۲ لاکھ )انتہائی منظم ،مال دار اور باصلاحیت ہے ۔اسرائیل کی حمایت میں یہ کمیونٹی مکمل متحد ہے ۔کوئی امریکی حکومت اس کمیونٹی کی مخالفت مول لینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی ۔اس لیے یہ ہر امریکی حکومت کی سیاسی مجبوری ہے کہ وہ اسرائیل کی حمایت کرے۔اس کے برعکس امریکی مسلمان اور امریکی عرب بالکل غیر منظم اور بیسیوں متحارب تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ان کے درمیان اتحاد عمل اور فکری ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ اس لیے امریکی سیاست پر ان کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔
- خود عالم عرب بھی فلسطین کے معاملے میں بالکل غیر متحد اور تضادات کا شکار ہے ۔۱۹۶۷ء تک آدھا فلسطین اردن اور آدھا مصر کے قبضے میں تھا۔ مگر ان دونوں ممالک نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں فلسطینی ریاست نہیں بننے دی ۔ اگر یہ دونوں ممالک اپنے ہاں فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لے آتے تو ہم فوراً اس کو تسلیم کر لیتے۔
- عالم عرب نے اقوام متحدہ کی متعدد قرار دادیں تسلیم نہ کرکے بے بصیرتی کا ثبوت دیا ۔اگر ۱۹۴۸ء کی قرار دادمان لی جاتی تو اسرائیل آج کی نسبت ایک تہائی ہو تا اور اسی وقت فلسطینی ریاست بھی بن جاتی۔
- فلسطینیوں نے ۲۰۰۰ء کے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات میں صدر کلنٹن کا پیش کردہ حل نہ مان کر بڑی غلطی کی جس کے مطابق مغربی کنارے کا دو تہائی حصہ، آدھا یروشلم بشمول مسجد اقصیٰ اور پورا غزہ فلسطینی ریاست میں شامل ہو جاتا۔ اسرائیل نے اس کو مان لیا تھا ۔
- مشرق وسطیٰ میں اسرائیل واحد جمہوری ریاست ہے ۔یہ آمریت کے سمندر میں جمہوریت کا جزیرہ ہے، اس لیے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔
تبصرہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل امریکی امداد کے سہارے زندہ ہے ۔اس کے بجٹ کا دس پندرہ فی صد حصہ امریکی حکومت کی امداد اوردس پندرہ فی صد حصہ امریکی یہودی تنظیموں کی امداد پر مشتمل ہو تا ہے۔ اگر ۱۹۷۳ء میں امریکہ اسرائیل کی مدد کو نہ پہنچتا تو مصر اس کو شکست دے چکا تھا۔ دراصل امریکہ اپنی اندرونی سیاست کی مجبوری کی وجہ سے فلسطین کے معاملے میں دہرے معیا ر سے کام لے رہا ہے ۔فلسطین کے معاملے میں عالم عرب کی غلطیاں اور تضادات اپنی جگہ پر ،مگر ان کو وجہ جواز بنا کر امریکہ اپنی غلطیوں سے مبرا نہیں ہو سکتا۔
اسرائیل اپنے عرب شہریوں سے جو سلوک کرتا ہے ،وہ عملاً دوسرے درجے کے شہریوں والا سلوک ہے ۔ یہ واحد ملک ہے جہاں مذہب ،کلچر اور نسل ایک ہے اور اسے ایک ہی رکھنے پر اصرار کیا جاتا ہے تاکہ یہ ملک ہمیشہ ایک خالص یہودی ملک رہے ۔ایسا ملک دکھاوے کے لیے تو جمہوریت کا ڈراما رچا سکتا ہے ، مگر حقیقت میں کبھی جمہوری ملک نہیں بن سکتا ۔اگر ساری دنیا کے یہودی اسرائیل چلے جائیں (جو کہ ناممکن ہے ، اس لیے کہ خود اس ریاست کی بقا اور اس کو مسلسل مدد دینے کی خاطر آدھے سے زیادہ یہودیوں کا اس ملک سے باہر رہنا ضروری ہے)تب بھی یہ ایک چھوٹا سا ملک ہی رہے گا اور اس کی توسیع پسندانہ پالیسیاں بالآخر اسے نقصان پہنچا کر رہیں گی ۔
امریکہ جس طرح اسرائیل کی اندھا دھند حمایت کر رہا ہے ، یہ اس کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے ۔امریکہ کو علم ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری اسلحہ موجود ہے اور وہ اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھی واقف ہے ۔اس کے باوجود اسرائیل کے ہر نقصان اور اس کے بجٹ کے ہر خسارے کوامریکہ پورا کر تا ہے ۔امریکی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکہ میں اسرائیلی نواز یہودی لابی کے دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔تاہم یہ سب کچھ سراسر نا انصافی ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اس کا ردعمل بھی یقیناًجاری رہے گا ۔
فلسطینیوں کی طرف سے ا نتفادہ کی دوسری پر تشدد تحریک اور خود کش حملے ،جو ستمبر ۲۰۰۰ سے جاری ہیں ،یقیناًدرست حکمت عملی کے آئینہ دار نہیں ہیں ۔ صبر کے ساتھ حل کا انتظار خود فلسطینیوں کے مفاد میں ہے،خواہ اس میں جتنی بھی مدت لگے۔ تاہم اس دنیا میں زیادہ تر حکمت و دانش کا اصول نہیں ، بلکہ عمل اور رد عمل کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے جس کی زد ہر ایک پر پڑتی ہے۔
ج۔ مسئلۂ عراق
طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بش انتظامیہ نے صدام حسین کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا ہے ۔امریکہ کی انتہائی خواہش ہے کہ وہ جلد از جلد عراق پر حملہ کرکے صدام انتظامیہ کی حکومت ختم کرکے وہاں اپنی پسند کی حکومت بنالے ۔ اس مسئلے پر امریکی نقطۂ نظر در ج ذیل ہے:
- عراق کے پاس کیمیائی ، حیاتیاتی اور وسیع تباہی پھیلانے والے دوسرے ہتھیار موجود ہیں جنھیں اس نے اپنے باشندوں کے خلاف بھی استعمال کیا ہے اور ایران کے ساتھ جنگ میں بھی استعمال کیا ہے ۔صدام ایک غیر ذمہ دار آمر ہے ۔ماضی میں اس نے کویت پر بھی قبضہ کر لیا تھا ۔یہ خدشہ ہے کہ وہ مزید ہتھیا رتیا ر کر کے انھیں عالمی امن کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے ۔چنانچہ اس مقصد کے لیے اس پر گرفت کرنی چاہیے اور اس کی حکومت ختم کرنی چاہیے۔
اس مسئلے پر امریکی مخالف نقطۂ نظر درج ذیل ہے:
- دراصل امریکہ عراقی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ بہانے تراش رہا ہے ۔ورنہ عراق نے کردوں کا قتل عام ۱۹۸۸ء میں کیا تھا۔ اب اس کا بدلہ لینے کا کیا موقع ہے ۔اسی طرح عراق نے کویت پر قبضہ ۱۹۹۰ء میں کیا تھا ۔اگر صدام برائی کی جڑ ہے تو اسے حکمرانی سے اتارنے کا صحیح وقت وہ تھا نہ کہ اب۔
- امر یکہ کا عراق پر حملہ مسلمانوں کے اندر ایک بڑے رد عمل کو جنم دے گا ۔کون نہیں جانتا کہ اسرائیل کے پاس کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیا ر تو کیا ایٹمی ہتھیار بھی موجود ہیں۔امریکہ نے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا ۔خود امریکہ کے پاس بھی یہ ہتھیا ر موجود ہیں ۔پہلے وہ اپنے ہتھیاروں کو کیوں تلف نہیں کر لیتا؟
- طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد عراق پر امریکی حملے سے پوری دنیا میں یہ تاثر پختہ ہو جائے گا کہ امریکہ کے پاس ہر مسئلے کا علاج جنگ ہے۔ یوں امریکہ کو دنیا ایک عالمی دہشت گرد کے روپ میں دیکھنے لگے گی۔یہ خوف و دہشت کی فضا سارے عالم اور بدر جہ آخر خود امریکہ کے لیے نقصان دہ ہے۔
تبصرہ
یہ بات واضح ہے کہ امریکہ ہر قیمت پر صدام کی حکمرانی کو ختم کر نا چاہتا ہے، مگر اس کے لیے وہ اقوام متحدہ سے اخلاقی جواز ملنے کی خواہش رکھتا ہے ۔ابھی تک صدام نے (طالبان کے برعکس )اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے سامنے سر تسلیم خم کرکے امریکی حملے سے اپنے آپ کو بچایا ہو ا ہے ۔راقم الحروف کے نزدیک تیل والی تھیوری کمزور ہے اور اس میں کئی جھول ہیں۔ امریکہ کو تیل کی کمی کا مسئلہ نہ آج درپیش ہے ،نہ مستقبل میں ایسا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ دراصل امریکہ کا خیال ہے کہ دہشت گردی انھی مسلمان ملکوں میں پروان چڑھتی ہے جہاں آمریت ہے ۔چونکہ تمام عرب ملکوں میں آمریت ہے ، اس لیے اس کو ختم کرکے یہاں جمہوریت آنی چاہیے۔جمہوری عمل کی ابتدا اگر عراق سے ہو جائے تو بہت جلد تمام عالم عرب اپنے آپ کو جمہوریت قبول کرنے پر مجبور پائے گا ۔امریکہ کا یہ نقطۂ نظر نہایت کمزور ہے ، بلکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایسے حملے کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ عراق ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ، بلکہ عالم عرب کے اندرمزید ردعمل جنم لے گا اور بعید نہیں کہ وہا ں کے آمر مزید مضبوط ہو جائیں ۔
یہ قوی امکان موجود ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی قرار داد کا انتظار کیے بغیر عراق پر کسی بہانے سے حملہ کر دے ۔ اگر اس نے ایسا کیا تو عالم اسلام کے اندر امریکی مخالف جذبات جائز طور پراپنی انتہا کو پہنچ جائیں گے ۔ممکن ہے کہ اس حملے میں بھی امریکہ کو وقتی کامیابی مل جائے ، لیکن بدرجۂ آخر یہ اس کے لیے بہت گھاٹے کا سودا ثابت ہو گا ۔البتہ اگر اس ضمن میں اقوام متحدہ کی طرف سے عراق کے خلاف متفقہ قرارداد آجاتی ہے تو پھر صورت حال مختلف ہوگی ۔
د۔ پاکستان کی امر یکہ سے شکایت
اہل پاکستان امریکہ سے بڑی شکا یات رکھتے ہیں ۔اس ضمن میں پاکستانی دانش وروں کا نقطۂ نظر در ج ذیل ہے:
- پاکستان نے بالکل ابتدا ہی سے اپنے آپ کو امریکی کیمپ کا حصہ بنا لیا تھا ۔اس کے باوجود امریکہ نے کبھی پاکستا ن کی حقیقی مدد نہیں کی ۔کشمیر کے مسئلے پر اس نے پاکستا ن کی کوئی مدد نہیں کی ۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں اس نے بھار ت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی فاضل پرزوں پر پابندی لگا کر ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ، اس لیے کہ امریکی اسلحہ تو صرف پاکستا ن کے پاس تھا ۔۱۹۷۱ء کی جنگ میں امریکہ نے بنگلہ دیش کی تخلیق رکوانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔اسی طرح جب افغانستان سے روسی افواج چلی گئیں تو امریکہ نے بعد کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں تنہا چھوڑ کر اس خطے میں اپنی دلچسپی ختم کر دی۔
اس کے مقابلے میں امریکی نقطۂ نظر د رج ذیل ہے:
- پاکستان برضا ورغبت اور اپنے فیصلے سے مغربی کیمپ کے قریب آیا تھا ۔ہم نے اسے خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اسے یہ بتایا ہے کہ بھارت بھی بہت بڑا اور اہم ملک ہے ۔ہمارے اور اس کے درمیان بہت سی اقدار و روا یات مشترک ہیں۔اس لیے ہم بھارت سے بھی لازماً قریبی تعلقات رکھیں گے ۔
- مسئلۂ کشمیر کے ضمن میں ہم نے اقوام متحدہ میں ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے ۔ہمارے نزدیک یہ ایک متنازع علاقہ ہے جس کا آخری فیصلہ باہمی گفت وشنید اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت ہی کے ذریعے سے ممکن ہے۔ تاہم یہ مسئلہ پر امن طریقہ سے حل ہو نا چاہیے۔ہم نے ہمیشہ پاکستان سے کہا ہے کہ اس مسئلے پر پاک بھارت جنگ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گی ۔
- پاکستان کو ہم نے تمام اسلحہ اس شرط کے ساتھ دیا تھا کہ اسے صرف کمیونسٹ خطرے کے خلاف دفاعی طور پر استعمال کیا جائے گا ۔جب ہمیں معلوم ہوا کہ ۱۹۶۵ء میں یہ اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے تو ہم نے اس کے فاضل پرزوں کی فراہمی پر پابندی لگا دی ۔پاکستان نے یہ جنگ ہمارے مشورے سے شروع نہیں کی تھی
- بنگلہ دیش کا قیام پاکستان کی اپنی غلطیوں ،کوتاہیوں اور سیاسی عدم توا زن کا نتیجہ تھا ۔وہاں کے ۹۴ فی صد عوام اپنے لیے علیحدہ ملک چاہتے تھے۔ بحیثیت ایک جمہوری ملک کے ہم اس سے کیسے نظریں چراسکتے تھے۔ البتہ جب ہمیں معلوم ہوا کہ بنگلہ دیش کے بعد اندر اگاندھی اب مغربی پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا فیصلہ کر چکی ہیں تو ہمارے ہی دباؤ پر وہ اس ارادے سے باز آئیں ۔
- ہم نے کبھی اس بات کو نہیں چھپایا کہ افغانستان میں ہماری دلچسپی صرف روسی افواج کے نکلنے تک محدود ہے۔افغان مجاہد تنظیمیں پاکستان کے زیر اثر تھیں اور پاکستان نے ہی انہیں تخلیق کیا تھا ۔اگر یہ سب تنظیمیں آپس میں لڑنے لگیں اور پاکستا ن ان کی خانہ جنگی پر قابو نہ پاسکا یا اس میں فریق بن گیا تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔
- مثبت طور پر ہم نے پاکستان کی دوستی کی پوری قدر کی ہے ۔پاکستان ان چار ممالک میں شامل ہے جنھیں پچھلے پچاس برس میں سب سے زیادہ امریکی امداد ملی ہے۔ پاکستان کا ہر اہم پروجیکٹ براہ راست یا بلواسطہ امریکی امداد یا قرضے ہی کا مرہون منت ہے ۔پاکستان کو امریکہ کی طرف سے مہیا کردہ قرضے اکثر و بیشتر صرف ایک فیصد برائے نام سود پر دیے گئے ہیں۔ اربوں ڈالر کی ناقابل واپسی امداد اس کے علاوہ ہے۔
تبصرہ
ہم پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں ’’کاروبار ‘‘پر نہیں ، بلکہ لوافیئرپر یقین رکھتے ہیں، اس لیے ہم ہمیشہ امریکہ سے وہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جن کے پورا کرنے کا امریکہ نے کبھی کہا نہیں ہو تا ۔ہمار ا خیال ہوتا ہے کہ شاید امریکی انتظامیہ ہر وقت پاکستان ہی کے بارے میں سوچتی رہتی ہے اور امریکی صدر صبح سویرے اٹھ کر سب سے پہلے پاکستان کے اردو اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔اسی لیے تو ہر اردو اخبار میں روزانہ امریکہ پر لعن طعن کے دو تین جذباتی مضامین لازماً موجود ہوتے ہیں جن میں امریکی انتظامیہ کو ’’زریں اور قیمتی ‘‘مشوروں سے بھی نوازا گیا ہو تا ہے تاکہ وہ ان پر عمل کر کے بھارت سے لڑ کر کشمیر کو آزاد ی دلوا کر پاکستا ن کو پلیٹ میں پیش کر کے اپنی عاقبت سنوار لے۔ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب ہر وقت ہمارے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہر صدر ،وزیر اعظم ،چیف آ ف اسٹاف حتیٰ کہ وزیر خارجہ کا نام بھی وائٹ ہاؤس سے منظور ہو کر آتا ہے۔ ہر تبدیلی اور انقلاب کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہوتا ہے ۔اور وہ فرد جس دن امریکہ کی نظر ا لتفات سے محروم ہو جائے ،اسی دن وہ اقتدار سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
جب تک ہم’’ محبت‘‘، ’’ردعمل‘‘ اور’’ سازش کی تھیوری‘‘والی نفسیات سے چھٹکارا پا کر بین الاقوامی تعلقات کو ایک کاروبار کی شکل میں نہیں دیکھیں گے تب تک امریکہ سے ہمارے گلے شکوے جاری رہیں گے ۔جس دن ہم یہ عزم کر لیں کہ ہم اپنے مسائل خود حل کریں گے، امریکہ سے تعلقات کار یقیناًرکھیں گے ، مگر اس پر کلی انحصار نہیں کریں گے ، وہی ہماری فریادی و احتجاجی ذہنیت کا آخری دن اور قومی وقار کا پہلا دن ہو گا ۔
ر۔ دہشت گردی کے متعلق مختلف موقف
اگرچہ دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف ابھی تک متعین نہیں کی جا سکی، تاہم امریکہ کی نظر میں ہر وہ مسلح عمل دہشت گردی ہے جو کسی غیر حکومتی مسلح تنظیم کی طرف سے عام لوگوں کے خلا ف ہو ۔گویا اگر کوئی مقامی پرائیویٹ مسلح تنظیم اپنے کسی مقصد کے لیے خا لصتاً فوجی تنصیبات پر حملے کرتی ہے تو وہ دہشت گردی نہیں ۔اسی لیے اس کے نزدیک کشمیر میں بر سر پیکار ’’حزب المجاہدین‘‘ دہشت گرد تنظیم نہیں ، اس لیے کہ وہ صرف مسلح افواج پر حملے کرتی ہے اور اس میں غیر مقامی لوگ نہیں ۔اس کے برعکس اس کے خیال میں ’’لشکر طیبہ‘‘ دہشت گرد تنظیم ہے ، اس لیے کہ اس میں سرحد پار سے لوگ بھرتی ہو تے ہیں اور وہ غیر مسلح لوگوں کو بھی ٹارگٹ بناتی ہے۔چنانچہ اسی معیار کے تحت امریکہ نے بہت سی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا ہو ا ہے ۔ان میں کچھ غیر مسلم عیسائی اور نسلی تنظیمیں بھی شامل ہیں، تاہم ان کی بڑی اکثریت القاعدہ جیسی مسلمان تنظیموں پر مشتمل ہے ۔خود یہ تنظیمیں اپنے آپ کو دہشت گرد کہلانے سے انکار کرتی ہیں۔ان کے خیال میں وہ بہت اچھے مقاصد کے لیے مسلح جدو جہد کر رہی ہیں اور اس جدوجہد کا ایک راستہ غاصب ملک کے بظاہر عام باشندوں کا قتل بھی ہے تاکہ اس ملک کو جھنجھوڑا جا سکے ۔یہ تنظیمیں اپنے بہت سے کارکنوں کو خود کش حملوں کے لیے بھی تیار کرتی ہیں تا کہ دشمن کے ٹارگٹ پر زیادہ سے زیادہ تباہی کا مقصد حاصل کیا جاسکے ۔اس خود کشی کو وہ اعلیٰ ترین قربانی گر دانتی ہیں۔ کئی ممالک ان تنظیموں کے موقف سے جزوی طور پر اتفاق کرتے ہیں۔ مثلاً پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اندر مسلح تنظیموں کو اصلاً آزادی کی تحریکیں سمجھتا ہے ۔اسی طرح اکثر عرب ممالک ’’حماس‘‘ جیسی مسلح تنظیموں اور ان کے خود کش حملوں کو صحیح سمجھتے ہیں ۔اگرچہ ان کے خیال میں حکمت عملی کے طور پر غیر فوجی مقامات پر حملے آج کے حالا ت میں مناسب نہیں ہیں۔
امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ان تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑ کر رہیں گے اور ان کے کسی مطالبے کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے ۔دوسری طرف ان تنظیموں کا فیصلہ ہے کہ وہ آخر دم تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی ۔اس صورت حال میں ہمار ے سامنے تین سوالات آتے ہیں ۔ایک یہ کہ کیا مسلح تنظیموں سے مقابلہ کرنے کا امریکی طریقہ صحیح ہے ؟دوسرا یہ کہ کیا ان تنظیموں کے غیر مسلح لوگوں پر حملے اور خود کش جتھوں کی تیاری ایک صحیح طرز عمل ہے ؟تیسرا یہ کہ اگر امریکہ اور ان تنظیموں ، دونوں کی رائے صحیح نہیں ہے تو پھر صحیح طرز عمل کیا ہے ؟
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب تک ان تنظیموں کے قیام کے پیچھے اصل وجوہات و محرکات کا تجزیہ کرکے ان کا حل نہیں لایا جائے گا ، تب تک ان کی سرگرمیاں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہیں گی ۔ممکن ہے امریکہ موجودہ لہر پر قابو پالے ، مگر ان تنظیموں کی راکھ سے نئی نئی کونپلیں پھوٹیں گی ۔عالم اسلام کے اندر ان تنظیموں کے نمو پانے کی اصل وجوہات غربت، غیرجمہوری حکومتیں اور اسرائیل کا ظلم و ستم ہیں۔امریکہ کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ مسئلۂ فلسطین کے ایک معقول اور قابل عمل حل (جو آج کے حالات میں پورے غزہ ،اور عرب اردن بشمول مشرقی یروشلم و بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے) کو پیش کر کے پہلے اس پر امریکی یہودیوں سے اتفاق رائے حاصل کرے اور پھر اپنی سفارت کاری سے کام لے کر اس پر اسرائیل کو قائل کرے۔اگر امریکہ عالم اسلام کے اندر اپنے انتہائی منفی امیج کو کچھ بھی بہتر کر ناچاہتا ہے تو اسے ایسا کرنا پڑ ے گا۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ مسلح تنظیمیں خواہ کتنے ہی اعلیٰ مقاصد اور خلوص کے ساتھ اپنی جدوجہد کررہی ہو ں ، تاہم تاریخ کا بھی یہ فیصلہ ہے اور انسانی ضمیر بھی اس پر شا ہد ہے کہ غیر مسلح لوگوں کو مارنے کا فعل غلط ہے ۔اس سے دوسری قوم میں انتقام اور رد عمل پیدا ہو تا ہے ۔جذباتیت پروان چڑھتی ہے۔گفتگو اور مکالمہ ممکن نہیں رہتا ۔تاریخ اس پر شا ہد ہے کہ پر امن ،مظلومانہ ،عدم تشدد اورقومی اتحاد پر مبنی جد و جہد ہمیشہ کامیاب رہی ہے ۔جب کہ متشدد اور متفرق جد وجہد اکثر و بیشتر ناکامی سے دوچار ہوئی ہے ۔آج اہل فلسطین اور اہل کشمیر ، دونوں بیسیوں سیاسی اور مسلح تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں ۔بھلا ایسی جدوجہد کیسے کامیاب ہو سکتی ہے ؟آج اگر اہل فلسطین اور اہل کشمیر ایک سیاسی تنظیم کے تحت منظم ہو جائیں۔اپنی علیحدہ علیحدہ بیسیوں شناختیں ختم کر د یں او رخالصتاً پر امن جد و جہد شروع کر دیں توچند سال کے اندر اندر بغیر کسی بیرونی مدد کے کامیاب ہو سکتے ہیں ۔مسلح تنظیموں کی حرکت ان کی آزادی کو دور تو کر سکتی ہے ،قریب نہیں لا سکتی ۔
اسی طرح خود کش جتھے تر تیب دینے کا نقصان بھی اسی قوم کو ہو تا ہے ۔خود کشی کے لیے وہی فرد تیار ہو تا ہے جو انتہائی پرعزم، باصلاحیت اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو ، جب کہ ان حملوں میں مرنے والے مخالف قوم کے لوگ تو بس عام افراد ہوتے ہیں جو اتفاق سے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ جب قوم کے باصلاحیت اور پر عزم نوجوان ان حملوں میں کام آجائیں تو اوسط درجے کے لوگ ہی پیچھے بچتے ہیں ۔جاپان نے بھی دوسر ی جنگ عظیم میں اپنے پائلٹوں کو دشمن کے بحری جہازوں سے ٹکر ا کر ایسا ہی غلط فیصلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اس کے پاس پائلٹوں کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ چنانچہ یہ بھی کوئی صحیح حکمت عملی نہیں ہے۔
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ امریکہ سے مطلوب رویے کی بات تو ہم نے محض بر سبیل تذکرہ کی۔ امریکہ بھلا ہماری بات کیوں مانے گا ۔ہمار ا اصلی مقصد تو اپنی قوم اور اپنی امت کو حکمت و تدبیر کا راستہ سمجھا نا ہے ۔ایسا راستہ جس پر چل کر وہ حالیہ مصیبت سے نکل جائیں اور ایک بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہو جائیں۔
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے مکاتیب گرامی
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
(۱)
بسم اللہ
لندن / ۹ جنوری ۲۰۰۳ء
مولانائے محترم زید مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
الشریعہ کے دو شمارے کل موصول ہوئے ہیں۔ آپ نے خصوصی ترسیل سے بڑی عنایت کی۔ کوئی حرج نہ تھا عام ذریعہ ترسیل سے آ جاتے۔ بہرحال آپ کی عنایت ہے۔ ان مضامین کی اشاعت (خاص طور سے ’’خواب‘‘ کی) یوں تو آپ نے اصلاً افادیت اور ضرورت ہی محسوس کر کے کی ہوگی مگر میں اولاً تو معاملے کے اس پہلو کی بنا پر ممنون ہوں کہ میری اپنی خواہش تھی کہ پاکستان میں اس کی اشاعت ہو۔ ثانیاً یہ کہ آپ کی ایک طرح سے تائید کا وزن بھی اس ’’خطرناک‘‘ مضمون کو مل گیا جس کی وجہ سے اخوان پاکستان اس پر زیادہ توازن کے ساتھ غور کر سکیں گے۔
مجھے اب تک نہیں معلوم ہو سکا کہ الفرقان اور الشریعہ میں تبادلہ کا رشتہ قائم ہوا کہ نہیں۔ میں نے بہرحال کوئی دو ہفتہ قبل لکھ دیا ہے کہ اگر تبادلہ نہیں ہے تو شروع ہو جانا چاہیے۔ اگر تبادلہ ہے تو آپ نے دسمبر کے الفرقان میں ہمارے مولانا برہان الدین سنبھلی کا نہایت سخت مضمون اس ’’بکھرے خواب‘‘ کے بارے میں پڑھ لیا ہوگا، ورنہ میں بھجواؤں۔
مولوی عیسیٰ صاحب کو میں نے کل ہی فون پر اطلاع دی تھی۔ وہ ان شماروں کے لیے آنا بھی چاہتے تھے مگر ایسی برف باری ان کے نکلنے سے ایک گھنٹہ پیشتر شروع ہوئی کہ راستے سے لوٹے۔ مولانا جہانگیری صاحب کا رقعہ آج ان کی خدمت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
میں نے ابھی تک دونوں شماروں کی صرف زیارت کی ہے۔ پڑھ کچھ نہیں سکا ہوں۔ اپنی ’’محفل قرآن‘‘ کی قسط میں لگا ہوا تھا۔ سب اخبار بھی مشکل سے پڑھ پا رہا ہوں۔ اب دماغ زیادہ دیر کام کا تحمل نہیں کرتا اس لیے مضمون کی تکمیل کا عرصہ بڑھتا رہتا ہے۔ سست نگار میں ہمیشہ سے تھا۔
والسلام
عتیق الرحمن
(۲)
بسم اللہ
لندن / ۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء
مولانائے محترم زیدت معالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آج الشریعہ فروری ومارچ کے شمارے ملے ہیں۔ میں گزشتہ ہفتہ ایک آپریشن کرا کے فارغ بیٹھا ہوا ہوں، اس لیے ڈاک خصوصی دلچسپی کا باعث ہے۔ پھر یہ دونوں شمارے تو یوں بھی کئی ایسے مضامین لیے ہوئے ہیں کہ دلچسپی سے پڑھے جائیں۔ یہ ڈاکٹر محمد امین صاحب کون ہیں؟ ان کا تعارف آپ نے نہیں کرایا۔ اس سے پہلے ان کو پڑھنا یاد نہیں۔ ذہن اور قلم دونوں بہت زور دار نظر آئے۔ اور چیمہ صاحب کے مضمون نے صوبہ سرحد کے بالکل نئے پہلوؤں سے آشنا کرایا۔ ایسے میں نفاذ اسلام کے ارادوں کی اللہ ہی مدد کرے۔ وہو علیٰ کل شئی قدیر
کیسا قدیر ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صدر امریکہ کی ناک رگڑوا دی۔ اور وہ کہ کل تک یو این او جس کی لونڈی کہلا رہی تھی،یہاں دھونس، دھمکی، رشوت ولالچ وخوشامد کسی بھی طریقہ سے اس قابل نہوا کہ روس اور فرانس کے مقابلے میں کھڑا رہ جائے۔ اور اب وہ عراق پر تمام تر برہنگی کی حالت ہی میں حملہ کر سکے گا۔ سیکورٹی کونسل کی چادر چھن گئی ہے۔
یہ سطریں بے ساختہ آج کی خبروں کا نتیجہ ہیں، ورنہ الشریعہ کی رسید کے بعد یہ عرض کرنا تھا کہ آخر جنوری میں ایک مضمون ڈاکٹر حمید اللہ صاحب پر بھیجا تھا۔ معلوم ہوتا ہے پہنچانہیں۔ آپ نے حمید اللہ نمبر کا اعلان کیا ہے، اس کے لیے دوبارہ بھیج دیتا مگر آخری تاریخ ۱۰ مارچ دی گئی ہے جبکہ آج ۱۷ ہے۔ بہرحال اس کا انتظار رہے گا۔ وقت کا اعلان آپ نے نہیں فرمایا۔
والسلام
نیاز مند
عتیق الرحمن
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’انوار القرآن‘‘ ۔ (قرآن کریم کی تفسیری لغات)
مولانا عبد الرحمن فاضل دیوبند نے قرآن کریم کے بیشتر الفاظ کی لغوی تشریح اور لفظی ماہیت کی بڑی محنت کے ساتھ وضاحت کی ہے اور زیادہ تر استفادہ امام راغبؒ اصبہانی اور قاضی بیضاویؒ سے کیا ہے جو مدرسین اور طلبہ کے لیے بطور خاص بہت مفید ہے۔
صفحات چھ سو سے زائد، مضبوط جلد، خوب صورت ٹائٹل، قیمت تین سو پچاس روپے، ملنے کا پتہ: سنگت پبلیکیشنز، ۲۵ سی، لوئر مال، لاہور
’’تصویر بڑی صاف ہے سبھی جان گئے‘‘
معروف اہل حدیث عالم مولانا ارشاد الحق اثری نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی تصنیفات پر نقد کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا جواب حضرت شیخ مدظلہ کے فرزند مولانا حافظ عبد القدوس قارن نے دیا۔ مولانا اثری نے اس کا جواب شائع کیا اور مولانا حافظ عبد القدوس قارن نے اب اس کے جواب میں قلم اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ پر مولانا اثری کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات بے وزن ہیں۔
صفحات ۲۹۶، مجلد، قیمت ۷۵ روپے، ملنے کا پتہ: عمر اکادمی، نزد گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ
’’خطبات جمیل‘‘
تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے معروف مبلغ و داعی مولانا طارق جمیل کے خطبات و مواعظ کو بحمد اللہ تعالیٰ قبولیت عامہ حاصل ہے اور بہت سے لوگوں نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ ہمارے عزیز ساتھی حافظ نعمان شمس سلمہ نے ان خطبات کو مرتب کر کے شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اب تک اس کی دو جلدیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ پہلی جلد مختلف عنوانات پر دس مواعظ پر مشتمل ہے جبکہ دوسری جلد میں خواتین کے بارے میں دس خطبات کو یکجا کیا گیا ہے۔
کتابت و طباعت معیاری ہے اور کتاب مضبوط جلد اور خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ مزین ہے۔ قیمت درج نہیں اور یہ خطبات نعمان اکیڈیمی، مکی مسجد، ڈیوڑھا پھاٹک، گوجرانوالہ سے طلب کیے جا سکتے ہیں۔
’’فتنہ دجال اکبر‘‘
بھارت کے معروف دانش ور جناب اسرار عالم دور جدید کے فتنوں بالخصوص دجال اور دجالیت کے بارے میں ایک عرصہ سے مسلسل لکھ رہے ہیں اور ان کے مقالات و مضامین ان کے بعض تفردات و اجتہادات کے باوجود معلومات و مواد سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور ان میں فتنوں سے بچاؤ کے لیے دعوت فکر ہوتی ہے۔ زیر نظر مقالہ میں دجال اکبر کے فتنہ کے خدوخال واضح کرتے ہوئے اس سے بچاؤ کی تدابیر پر بحث کی گئی ہے۔ مقالہ کے تمام امور سے اتفاق ضروری نہیں لیکن اہل علم کے لیے بہرحال یہ ایک معلوماتی اور مفید مقالہ ہے۔
صفحات ۸۰، قیمت ۲۰ روپے، ناشر: دار العلم، نئی دہلی
’’نور الابصار مجموعہ چہل حدیث‘‘
مانسہرہ ہزارہ کے نوجوان عالم دین مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی نے حضرت ملا عبد الرحمن جامیؒ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ، حضرت مولانا قطب الدینؒ، حضرت مولانا عنایت احمد کاکورویؒ اور حضرت مولانا محمد حسین مقبرؒ جیسے اکابر کی مرتب کردہ چہل احادیث کو اس مجموعہ میں یکجا کر کے شائع کیا ہے جو اس حوالے سے ایک بڑا علمی ذخیرہ ہے مگر کتاب و طباعت کا معیار اس علمی مواد سے مطابقت نہیں رکھتا۔
صفحات ۱۱۲، قیمت ۴۰ روپے، ملنے کا پتہ: مکتبہ انوار مدینہ، مسجد صدیق اکبر، محلہ صدیق آباد، اپر چنئی، مانسہرہ
’’سیدنا امیر معاویہؓ‘‘
قاضی محمد اسرائیل صاحب گڑنگی نے سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت و مناقب پر مختلف بزرگوں کے اقوال و ارشادات کو مرتب کیا ہے اور ان کی بارگاہ میں اپنے جذبات عقیدت پیش کیے ہیں۔
صفحات ۴۰، قیمت پندرہ روپے، یہ کتابچہ بھی مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
ماہنامہ ’’خیر البشر‘‘ لاہور
خواجہ حفیظ اللہ ایڈووکیٹ یہ جریدہ شائع کر رہے ہیں جو امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل کے حوالے سے مفید مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔
سالانہ زر خریداری ایک سو بیس روپے، رابطہ دفتر: مکان ۱۳، گلی ۱۳۴، شاہ دین سکیم، اچھرہ، لاہور
’’الحطۃ فی تراجم الصحاح الستۃ‘‘
مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے جناب نبی اکرم ﷺ کے چھ جلیل القدر صحابہ کرام حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ، حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراحؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت سعید بن زیدؓ، حضرت زبیر بن العوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کے حالات زندگی اور فضائل و مناقب کو خوب صورت پیرایے میں مرتب کیا ہے۔
صفحات ۹۶، کتابت وطباعت عمدہ، پاکستان میں ملنے کا پتہ: مکتبہ الفاروق، ۱۹ سلطان پورہ روڈ، لاہور ۳۹
’’امام اعظم ابو حنیفہ‘‘
امام اعظم حضرت امام ابو حنیفہؒ کی شان و منقبت میں امت کے جن بیسیوں جلیل القدر علماء کرام نے قلم اٹھایا ہے، ان میں حضرت امام عبد الوہاب شعرانیؒ بھی ہیں۔ مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے امام شعرانی کے ارشادات میں سے ایک مجموعہ مرتب کر کے پیش کیا ہے اور اس میں مزید تحقیقات کا بھی اضافہ کیا ہے۔
۱۰۰ سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ بھی مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’تذکرہ و سوانح الحاج مولانا محمد احمدؒ‘‘
ماضی قریب کے بزرگوں میں کراچی کے ایک بزرگ مولانا محمد احمدؒ گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ قرآنی معارف کی اشاعت اور لوگوں کی اصلاح وتربیت میں بسر کیا ہے اور بے شمار لوگوں نے ان سے استفادہ کیا ہے۔ ہمارے فاضل دوست مولانا عبد القیوم حقانی نے ان کے حالات زندگی اور دینی خدمات کو اس مجموعہ میں پیش کیا ہے۔
پونے دو سو صفحات کی یہ مجلد کتاب القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہؓ، خالق آباد ضلع نوشہرہ سے طلب کی جا سکتی ہے۔
’’منزل آوارگاں‘‘
معروف شاعر سید افضل حسین شاہ صاحب مرحوم کا مجموعہ کلام ان کے فرزند سید وقار افضل صاحب نے مرتب کر کے شائع کیا ہے جس میں اردو و فارسی غزلیات اور اردو منظومات کے علاوہ حمد باری تعالیٰ اور جناب نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں نعتیہ خراج عقیدت بھی شامل ہے۔
صفحات ۱۹۲، مجلد، قیمت دو سو روپے، ناشر: اظہار سنز، ۱۹/ اردو بازار، لاہور۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
ادارہ
- کرک صوبہ سرحد کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا شہید احمدؒ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے اور قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں جبکہ حالیہ الیکشن میں ان کی سیٹ پر ان کے فرزند مولانا شاہ عبد العزیز قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
- پسرور ضلع سیالکوٹ کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا رشید احمد قادریؒ گزشتہ روز اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مرشد العلما حضرت مولانا مفتی شبیر احمد پسروری قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند وجانشین اور حق گو عالم دین تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر متعدد دینی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کیا اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
- مردان کے بزرگ عالم دین مولانا گوہر رحمانؒ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق جمعیۃ اشاعت التوحید والسنۃ سے تھا اور دینی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
- ’’الشریعہ‘‘ کی مجلس ادارت کے رکن جناب شبیر احمد خان میواتی اور مولانا محمد داؤد خان مدرس مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے بڑے بھائی حافظ محمد صدیق خان گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم نہایت صالح انسان تھے۔
- جمعیۃ شبان اہل سنت گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل حافظ عبد الرشید قادری کی والدہ محترمہ گزشتہ روز انتقال کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ انتہائی خدا ترس اور طہارت گزار خاتون تھیں۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ دیں، حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین (ادارہ)
عراق پر امریکی حملہ اور عرب لیگ کا موقف
ادارہ
عرب لیگ نے عراق پر امریکی اتحادی فوجوں کے حملے کو جارحیت سے تعبیر کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جنگ سے لا تعلقی کا اعلان کرے۔ گزشتہ روز قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے وزراے خارجہ کے اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی جس میں تمام عرب وزراے خارجہ نے متفقہ طور پر عراق پر امریکی حملے کو جارحیت سے تعبیر کیا اور مطالبہ کیا کہ امریکی اتحادی فوجیں فوراً عراق سے نکل جائیں۔ قرارداد میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔
عرب وزراے خارجہ کے اجلاس کے بعد عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمر موسیٰ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے اقوام متحدہ کے حکام سے غیر رسمی تبادلہ خیال ہو چکا ہے اور شام سے بھی بات ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک عرب ملک پر حملہ کیا اور یہ حملہ تمام عرب ممالک کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں کیے گئے پہلے عرب لیگ کے اجلاس میں ہر قسم کی جنگ کی مذمت کی گئی تھی۔ عرب لیگ کی پالیسی ہے کہ افسر سے لے کر صدر تک سب مل کر امریکہ کی طرف سے جنگ کے خلاف ڈٹ گئے ہیں۔ عرب لیگ نے کہا کہ عراق پر حملہ کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس حملے سے معصوم عراقیوں کو نقصان پہنچے گا۔ شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیگ افغان جنگ کے خلاف بھی تھی اور عراق جنگ کے خلاف بھی ہے۔
عرب لیگ نے عراق کے خلاف امریکی واتحادی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ پیر کو عرب لیگ کے وزراے خارجہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مصر، شام اور اردن کے وزراے خارجہ نے کھل کر امریکی واتحادی کارروائی کی مخالفت کی اور کہا کہ عراق کے خلاف امریکی کارروائی سے علاقے میں نفرت کے ابھار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے عرب عوام کو تشویش لاحق ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں عراق کے خلاف کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکا نے ہر اس کوشش کی مخالفت کا عزم ظاہر کیا جس سے عراق کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔ اجلاس میں ۲۲ ممالک کے وزراے خارجہ نے شرکت کی۔ عراقی وزیر خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے شام کے راستے قاہرہ پہنچے تھے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد/ ۲۵ مارچ ۲۰۰۳ء)