ستمبر ۲۰۰۲ء

دینی مدارس اور آج کے سوالاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ہندوستان اور پاکستان کے مشترکہ دشمنپروفیسر میاں انعام الرحمن 
موجودہ نظام تعلیم کا ایک جائزہحافظ سید عزیز الرحمن 
مطالعہ تاریخ کی اہمیت اور تقاضےڈاکٹر لائٹز 
اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۴)ڈاکٹر یوسف القرضاوی 
دینی جماعتیں اور انتخابی سیاستمولانا عبد الغفار حسن 
وفاقی شرعی عدالت کے قیام کا پس منظر اور ضروریاتجسٹس (ر) تنزیل الرحمن 
احیائے امت کے چند بنیادی تقاضےپروفیسر میاں انعام الرحمن 
دار العلوم دیوبند اور دہشت گردیمولانا حبیب الرحمن قاسمی 
الشریعہ اکادمی میں چالیس روزہ کورس کی اختتامی تقریبادارہ 

دینی مدارس اور آج کے سوالات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۰۔ اگست ۲۰۰۲ء کو جامعہ اسلامیہ محمودیہ گلشن رحمان سرگودھا کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد سے مولانا زاہد الراشدی کا خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔یہ جلسہ ایک دینی درس گاہ کا سالانہ جلسہ ہے، دینی درس گاہ کی چار دیواری میں ہو رہا ہے اور اس کا موضوع بھی ’’عظمت مدارس دینیہ‘‘ تجویز کیا گیا ہے۔ اصل خطاب تو ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم کا ہوگا۔ ان سے قبل برادر محترم مولانا اشرف علی کے حکم پر آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں اور دینی مدارس کی عظمت اور ان کی ضرورت واہمیت کے حوالے سے کچھ گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں اور دین حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر عمل کی توفیق سے بھی نوازیں۔ آمین یا رب العالمین
کسی تمہید کے بغیر دینی مدارس کے حوالے سے عام طور پر ذہنوں میں پائے جانے والے تین سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا جو آج کی دنیا میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور یقیناًآپ حضرات کے ذہنوں میں بھی یہ سوال کسی نہ کسی گوشے میں ضرور گھوم رہے ہوں گے۔
  1. پہلا سوال یہ ہے کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں جدید علوم کو کیوں شامل نہیں کر رہے؟ انگریزی زبان، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم کو اپنے نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنا رہے؟ انہیں کیا شکایت ہے؟ کیا تکلیف ہے اور اس معاملے میں کیا رکاوٹ ہے؟
  2. دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر دینی مدارس سرکاری انتظامات کے تحت آجائیں اور حکومت ان کو چلانے کی ذمہ داری قبول کر لے تو انہیں کیا اشکال ہے؟ اور وہ اسے قبول کرنے کو کیوں تیار نہیں ہیں؟
  3. تیسرا سوال ہے کہ جس طرح آج کا عالمی نظام اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اس بات پر تل گئی ہے کہ دینی مدارس کو کنٹرول کیا جائے، ان کے جداگانہ تشخص کو ختم کیا جائے اور معاشرہ میں ان کے آزادانہ کردار کو باقی نہ رہنے دیا جائے تو اگر خدانخواستہ یہ حملہ کام یاب ہو جاتا ہے اور یہ قوتیں دینی مدارس کو ختم کر دیتی ہیں تو دینی تعلیم کا مستقبل کیا ہوگا اور دینی مدارس کے ارباب حل وعقد کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا؟
یہ دینی مدارس کے بارے میں آج کی دنیا کے بڑے سوالات ہیں جو یقیناًاہم ہیں اور یقیناًآپ کے ذہنوں میں بھی ہوں گے اس لیے میں تھوڑے سے وقت میں ان کا جائزہ لینا چاہوں گا۔

(۱) دینی نصاب میں جدید علوم کی شمولیت

پہلا سوال یہ ہے کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں جدید علوم کو، سائنس کو، ٹیکنالوجی کو اور دیگر ضروریات کو کیوں شامل نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں تین باتیں عرض کروں گا۔
پہلی بات یہ کہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی تشریف فرما ہیں جو اس امر کے گواہ ہیں کہ دینی مدارس کے تمام مکاتب فکر کے وفاقوں کے قائدین وفاقی وزرا کے ساتھ متعدد ملاقاتوں میں یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ انگریزی، سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ کو بنیادی تعلیم کی جائز حد تک دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ میٹرک تک ان مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے نہ صرف تیار ہیں بلکہ اس سلسلے میں بہت سے عملی اقدامات ہو چکے ہیں اور ان مضامین کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کیا جا چکا ہے لیکن اس کی جائز حد میٹرک تک ہے۔
دوسری بات یہ کہ میٹرک کے بعد اگلے مرحلے کی تعلیم میں ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ غلط تصور کرتے ہیں اس لیے اس کے لیے ہم تیار نہیں ہیں اس لیے کہ اس کے بعد تعلیم کے دائرے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ میں آپ حضرات سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا میڈیکل کالج کے نصاب میں قانون پڑھایا جاتا ہے؟ کسی لا کالج میں میڈیکل کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں؟ انجینئرنگ کالج میں طب کی تعلیم دی جاتی ہے؟ سرگودھا بڑا شہر ہے۔ یہاں میڈیکل کالج بھی ہوگا، لا کالج بھی ہوگا اور ٹیکنیکل کالج بھی ہوگا۔ آپ خود معلوم کر لیں اور جا کر دیکھیں کہ ان کالجوں میں دوسرے مضامین پڑھائے جاتے ہیں؟ یقیناًنہیں پڑھائے جاتے اور نہیں پڑھائے جا سکتے بلکہ میں یہ عرض کروں گا کہ یہ مطالبہ کرنا کہ میڈیکل کالج میں لا پڑھایا جائے، لا کالج میں انجینئرنگ پڑھائی جائے اور انجینئرنگ کالج میں میڈیسن کی تعلیم دی جائے، فطرت کے خلاف بات ہوگی اور حماقت کی بات ہوگی۔ اسی طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے نصاب میں میٹرک کے بعد اگلے درجات میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مضامین شامل کرنے کا مطالبہ بھی حماقت ہے اور کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔
تیسری بات ذرا تلخ سی ہے لیکن عرض کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ایک اور حوالے سے اس مسئلے کا جائزہ لے لیں۔ کچھ عرصہ قبل پنجاب کی مقتدر ترین شخصیت لاہور کے ایک بڑے دینی مدرسے میں تشریف لے گئی۔ گورنر پنجاب جامعہ اشرفیہ میں تشریف لے گئے، طلبہ اور اساتذہ کے سامنے وعظ فرمایا اور وہاں یہ کہا کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو کیوں شامل نہیں کرتے؟ ہم اس میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور دینی مدارس کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ میں نے ایک مضمون میں اس کے جواب میں گورنر صاحب سے عرض کیا کہ مجھے آپ کی اس بات سے سو فی صد اتفاق ہے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم آج کی سائنس اور آج کی ٹیکنالوجی میں دنیا کی دوسری قوموں سے کم از کم سو برس پیچھے ہیں اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہم آج اسی بات کی مار کھا رہے ہیں۔
میں اس سے اگلی بات عرض کروں گا کہ اس محرومی کا احساس ہمیں زیادہ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے آج ہم دنیا میں اپنے جائز مقام سے محروم ہیں اور ہمارے مصائب وآلام کی ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ صرف ایک مثال سے بات سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے پون صدی یا ایک صدی قبل ہم مسلمانوں کو بہت بڑی دولت سے نوازا۔ خلیج میں تیل کی دولت دی۔ یہ ہمارا ادبار کا دور تھا، زوال کا دور تھا مگر اس دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے وقت کی سب سے بڑی دولت عطا فرمائی لیکن ہماری حالت یہ تھی کہ ہم تیل زمین سے نکالنے کی صلاحیت سے محروم تھے، چشمے کھودنے کی تکنیک سے بے بہرہ تھے، تیل نکال کر اسے ریفائن کرنے کی صلاحیت سے ہم کورے تھے اور تیل کو ریفائن کرنے کے بعد دنیا کی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے مارکیٹنگ کی صلاحیت بھی ہم میں موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم مغربی ماہرین کو بلانے پر مجبور ہوئے۔ مغربی ماہرین آئے، پھر مغربی کمپنیاں آئیں، ان کے بعد بینک آئے، پھر سیاست کار آئے اور ان کے ساتھ مغرب کی فوجیں بھی آ گئیں جو آج تیل کے چشموں کا گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں۔
ذرا خیال کیجیے کہ تیل ہمارا، چشمے ہمارے، کنویں ہمارے، زمین ہماری لیکن ان پر قبضہ کس کا ہے؟ اور کس وجہ سے ہے؟ یہ ہماری نااہلی تھی کہ ہم تیل نکالنے، صاف کرنے اور عالمی مارکیٹ میں اسے بیچنے کی صلاحیت سے محروم تھے جس کی وجہ سے مغرب سے ماہرین آئے اور آج ماہرین، کمپنیاں، بینک اور پھر فوجیں خلیج میں تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ تیل نکالنے، صاف کرنے اور مارکیٹنگ کی صلاحیت آج بھی ہم میں موجود نہیں ہے اور مغرب کے ارادے یہ ہیں کہ ابھی امریکی وزارت دفاع پینٹاگون میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر سعودی عرب نے امریکی احکامات کی من وعن تابع داری نہ کی تو اس کے تیل کے چشموں پر قبضہ کر لیا جائے گا اور مغربی ملکوں میں اس کے اثاثے اور مغربی بینکوں میں اس کے اکاؤنٹس ضبط کر لیے جائیں گے۔
اس لیے ہمیں اس کی تکلیف زیادہ ہے اور ہم اس کا درد زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے اور میں ہر اس شخص کو جس کے دل میں انصاف کی ایک رتی بھی موجود ہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز وہ اپنے پاس رکھتا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے کہ امت کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟
میں تاریخ کے حوالے سے بات کروں گا۔ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی تب دو طبقے سامنے آئے تھے اور انہوں نے ملت کو سہارا دیا تھا۔ دونوں نے الگ الگ شعبوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عوام سے تعاون کے لیے رجوع کیا، چندے مانگے، گھر گھر دستک دے کر روٹیاں مانگیں، زکوٰۃ وصدقہ کے لیے دست سوال دراز کیا اور سرکاری تعاون سے بے نیاز ہو کر عوامی تعاون کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے اور اسلامی تہذیب وثقافت کے آثار کو بچانے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک ایک دروازے پر دستک دی، سر پر چنگیر رکھ کر گھر گھر سے روٹیاں مانگیں، ہاں ہاں میں نے خود روٹیاں مانگی ہیں، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں نے اپنی طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے کئی محلوں میں سر پر چھابہ رکھ کر روٹیاں مانگی ہیں۔ ہم نے اپنی عزت نفس کی پروا نہیں کی، طعنے سنے ہیں، بے عزتی برداشت کی ہے لیکن قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھا ہے جس کی گواہی آج دشمن بھی دے رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور طبقہ سامنے آیا جس نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی، سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھانے کا وعدہ کیا، انگریزی اور جدید زبانوں کی تعلیم اپنے ذمے لی۔ انہیں اس کام کے لیے ریاستی مشینری کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور انہوں نے قومی خزانے کے کھربوں روپے خرچ کر ڈالے۔ انہیں سرکاری وسائل میسر تھے، ریاستی پشت پناہی حاصل تھی لیکن وہ قوم کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں آج کی قوموں کے برابر نہ لا سکے اور آج اپنی ناکامی کی ذمہ داری مولوی کے سرتھوپ کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آج کی اجتماعی دانش سے سوال کرتا ہوں کہ وہ انصاف سے کام لے اور یہ فیصلہ کرے کہ نااہل کون ثابت ہوا اور اپنی ذمہ داری کس نے پوری نہیں کی؟ آج اگر ملک کے کسی گوشے میں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہے، قرآن وسنت کی راہ نمائی لوگوں کو میسر نہیں ہے اور اسلام کی آواز نہیں لگ رہی تو ہم مجرم ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں سے پیچھے رہنے کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالیے۔ یہ نا انصافی ہے، اس کے بارے میں ان سے پوچھیے جنہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس کے لیے سرکاری خزانے کے کھربوں روپے اب تک انہوں نے خرچ کر ڈالے ہیں۔ 
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو مساجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام میسر ہیں؟ قرآن کریم کی تعلیم کے لیے قاری مل رہے ہیں؟ رمضان میں قرآن سنانے کے لیے حافظ مل جاتے ہیں؟ جمعہ پڑھانے کے لیے خطیب موجود ہیں؟ مسئلہ بتانے والے مفتی صاحبان کی کمی تو نہیں؟ دینی راہ نمائی دینے کے لیے علماء کرام سے ملک کا کوئی گوشہ خالی تو نہیں؟ اس سے اگلی بات کہ میدان جنگ میں کفر کے خلاف صف آرا ہونے والے مجاہدین بھی ان مدارس سے آپ کو مل رہے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو دینی مدارس پر اعتراض کس بات کا ہے؟
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی آج ہی ایک محفل میں فرما رہے تھے کہ انہوں نے وفاقی وزرا سے کہا کہ سرکاری نصاب تعلیم اور نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قومی کمیشن قائم کیجیے اور ہمیں اور سرکاری تعلیم کے ذمہ داروں کو اس کے سامنے پیش کیجیے۔ ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس لیے میں نے اپنے مضمون میں گورنر پنجاب سے عرض کیا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے مجھے آپ کے ارشادات سے سوفی صد اتفاق ہے لیکن اس سلسلے میں باز پرس اور تلقین کی جگہ جامعہ اشرفیہ نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی ہے۔ وہاں یہ وعظ کیجیے اور ان سے پوچھیے کہ قوم سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کی دوسری قوموں سے پیچھے کیوں رہ گئی ہے؟

(۲) دینی مدارس پر سرکاری کنٹرول

دوسرا سوال یہ تھا کہ دینی مدراس کو سرکاری انتظام قبول کرنے اور حکومت کے کنٹرول میں آنے پر کیا اعتراض ہے؟ اور وہ دینی مدارس کو حکومتی کنٹرول کے تحت چلانے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں؟
اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ کسی فلسفیانہ بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف واقعات کے حوالے سے یہ عرض کرنا کافی ہوگا کہ ہم اس کا تجربہ کر چکے ہیں اور بہت پہلے کر چکے ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں ریاست بہاول پور پاکستان میں ضم ہوئی تو بہاول پور کا سب سے بڑا دینی مدرسہ جامعہ عباسیہ تھا جس کے بارے میں محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں نے منصوبہ بنایا کہ اسے ’’ماڈل اسلامی یونیورسٹی‘‘ بنایا جائے گا۔ دینی علوم اور جدید تعلیم کے مضامین کو یکجا کر کے مشترکہ کورس تشکیل دیا گیا، جامعہ عباسیہ کو اسلامی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا اور اس کا نظام محکمہ تعلیم نے سنبھال لیا۔اس کے لیے علامہ شمس الحق افغانی، علامہ سید احمد سعید کاظمی، مولانا عبد الرشید نعمانی اور دیگر سرکردہ علماء کرام کو ملک کے مختلف حصوں سے اٹھا کر بہاول پور یونیورسٹی میں بٹھایا گیا اور دنیا کو نوید دی گئی کہ ہم نے اسلامی اور جدید علوم کے امتزاج سے ایک آئیڈیل درس گاہ قائم کر دی ہے، ایک ’’ماڈل دار العلوم‘‘ بنا دیا ہے لیکن بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اس کا حشر کیا ہوا؟ یہ ایک تلخ داستان ہے اور آج آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ آج بھی اس کا نام ’’اسلامی یونیورسٹی‘‘ ہے مگر دینی تعلیم اس کے نصاب سے خارج ہو چکی ہے۔ وہاں وہی سرکاری نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں رائج ہے اور اس کے تعلیمی معیار کا حال یہ ہے کہ جس طالب علم کو ملک کے دوسرے کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا، اس کے لیے بہاول پور اسلامی یونیورسٹی کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
دوسرا تجربہ محکمہ اوقاف نے کیا کہ اس نے ملک کے بیسیوں مدارس اپنی تحویل میں لیے اور کہا کہ ہم تم سے بہتر نظام چلائیں گے۔ تمہارے ہاں تعلیم کی درجہ بندی نہیں ہے، مدارس میں صفائی نہیں ہے، رہائش اور خوراک کا نظام بہتر نہیں ہے اور نظم ونسق کی صورت حال ٹھیک نہیں اس لیے محکمہ اوقاف ان مدارس کا تم سے بہتر انتظام کرے گا۔ ان میں سے صرف ایک مدرسہ کا حوالہ دینا چاہوں گا جسے آپ خود بھی کسی وقت جاکر دیکھ سکتے ہیں۔ اوکاڑہ کے گول چوک میں جامعہ عثمانیہ محکمہ اوقاف کی تحویل میں آنے سے قبل ملک کے بڑے دینی مدارس میں شمار ہوتا تھا۔ سینکڑوں طالب علم ہاسٹل میں رہتے تھے اور معیاری تعلیم ہوتی تھی مگر آج اس مدرسہ کے کمرے محکمہ اوقاف نے تجارتی کمپنیوں اور وکلا کو کرایے پر دے رکھے ہیں اور وقف کمروں کا کرایہ محکمہ اوقاف کھا رہا ہے۔
ایک مدرسہ کا حشر محکمہ تعلیم نے کیا، دوسرے کا محکمہ اوقاف نے اور آج یہ دونوں محکمے تقاضا کر رہے ہیں کہ ملک کے باقی مدارس بھی ان کے کنٹرول میں دے دیے جائیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جناب! مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا اس لیے دوسرا تجربہ کرنے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔ میرا سوال وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال صاحبہ سے ہے کہ وہ جامعہ اسلامیہ بہاول پور کی فائل کا مطالعہ کریں۔ اس فائل کی گرد جھاڑیں اور قوم کو بتائیں کہ اس اچھی خاصی دینی درس گاہ کا محکمہ تعلیم نے کیا حشر کیا ہے اور کیوں کیا ہے؟ اس کے بعد باقی مدارس کے حوالے سے بات کریں۔

(۳) دینی مدارس اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ

تیسرا سوال میں نے گفتگو کے آغاز میں اٹھایا تھا کہ آج کی اسٹیبلشمنٹ دینی مدارس کو کنٹرول میں لینے پر تلی بیٹھی ہے۔ میں ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی بات نہیں کر رہا کہ وہ تو ایک چھوٹا سا یونٹ ہے بلکہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی بات کر رہا ہوں جو آج عملاً دنیا کے نظام کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اگر خدا نخواستہ وہ اپنے مقصد میں کام یاب ہو جاتی ہے اور دینی مدارس کے نظام کو تہہ وبالا کر دیتی ہے تو دینی تعلیم کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور دینی مدارس والے پھر کیا کریں گے؟
اس کے جواب میں ایک تو سادہ سی بات ہے کہ جناب! منہ دھو رکھو۔ یہ کام آپ سے نہیں ہوگا۔ یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج کے ورلڈ سسٹم کا لیڈر امریکہ بم بر سا سکتا ہے‘ ہزاروں انسانوں کو بے گناہ قتل کر سکتا ہے اور ڈیزی کٹر کی بارش کر سکتا ہے لیکن دینی تعلیم کو ختم کرنا اس کے بس میں نہیں ہے لیکن میں تاریخی حقائق کے حوالے سے بات کروں گا کہ اس سے پہلے بھی ایسا نہیں ہو سکا اور اب بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔
ابھی حال ہی میں امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول پاکستان آئے اور دورہ سے قبل وہیں سے یہ اعلان کر کے آئے کہ میں پاکستان کے معاشرے کو سیکولر بنانے کے ایجنڈے پر بات کرنے پاکستان جا رہا ہوں۔ میں نے ایک مضمون میں ان سے گزارش کی کہ جناب اس پر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ اب سے دو سو برس پہلے برطانیہ بھی اس ایجنڈے پر جنوبی ایشیا میں آیا تھا۔ اس نے بھی مدارس کو بند کر دیا تھا‘ مدارس کی جائیدادیں ضبط کر لی تھیں‘ بلڈنگوں پر قبضہ کر لیا تھا‘ علماء کرام کی بڑی تعداد کو شہید کر دیا تھا‘ ہزاروں کو جیلوں میں ڈال دیا تھا‘ بہت سے علما کو کالا پانی بھیج دیا تھا‘ توپ کے منہ پر باندھ کر علما کے پرخچے اڑا دیے تھے‘ زندہ انسانوں کو درختوں سے لٹکا کر زندہ حالت میں ان کی کھالیں کھینچ لی تھیں۔ وہ تم سے بڑا درندہ تھا‘ تم سے بڑا بھیڑیا تھا‘ اس نے دو صدیوں تک اپنا پورا زور صرف کیا کہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرے کو سیکولر بنا دے۔ ہاں‘ دو صدیاں‘ پوری دو صدیاں۔ ۱۷۵۷ء میں سراج الدولہ شہیدؒ کی شکست کے بعد سے ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان تک ایک سو نوے سال بنتے ہیں جن میں برطانوی حکومت نے پورا زور لگا دیا‘ جیلیں آباد کیں‘ پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا اور ظلم وجبر کا ہر حربہ آزمایا مگر میں سوال کرتا ہوں کہ کیا ان کارروائیوں سے ہم ختم ہو گئے؟ نہیں‘ ہم آج بھی موجود ہیں‘ زندہ ہیں اور نہ صرف زندہ ہیں بلکہ تمہارے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ مدارس کل بھی زندہ تھے‘ آج بھی زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔ تم جو چاہو کر لو‘ ان مدارس کے آزادانہ کردار کو ختم نہیں کر سکتے اس لیے کہ ان مدارس میں قرآن وسنت کی تعلیم ہوتی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اٹھائی ہے اس لیے ہمارا ایمان ہے اور تاریخ وتجربہ اس پر گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت بھی قیامت تک فرمائیں گے اور اس کی حفاظت کے ذرائع واسباب کی بھی حفاظت فرمائیں گے۔ اس لیے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ آزمائش آئے گی‘ مشکل حالات پیدا ہوں گے اور جس طرح پہلے وقت گزر گیا ہے‘ اب بھی گزر جائے گا۔ قرآن وسنت کی تعلیم کا یہ نظام کل بھی تمام تر جبر وتشدد کے باوجود زندہ رہا ہے اور اب بھی ظلم وجبر کا کوئی وار دینی تعلیم کے اس تسلسل کو ختم کرنے میں کام یاب نہیں ہوگا۔
میں نے وقت زیادہ لے لیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے ابھی خطاب کرنا ہے اس لیے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

ہندوستان اور پاکستان کے مشترکہ دشمن

پروفیسر میاں انعام الرحمن

کہتے ہیں جب بہت بڑا خطرہ سامنے ہو تو دو شدید دشمن بھی، باہمی دشمنی بھلا کر اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً سیلاب کے بہت بڑے ریلے میں بہتا ہوا درخت، سانپ، نیولے اور بندر وغیرہ کے لیے یکساں حفاظت کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک دوسرے کے جانی دشمن مختلف جانور سیلاب تھمنے تک ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ برصغیر پاکستان وہند میں ایک نہیں کئی بڑے مشترکہ خطرات موجود ہیں مثلاً غربت، افلاس، پس ماندگی، مغربی ممالک کی اجارہ داری وغیرہ لیکن یہ دونوں ممالک مشترکہ مہیب خطرات کے باوجود ایک دوسرے پر غرا رہے ہیں۔ بھارت کا طرز عمل دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہم پر پھنکار رہا ہے۔ دونوں ممالک اگر ’’حیوانی جبلت‘‘ کی سطح پر ہوتے تو شاید مشترکہ خطرات کے پیش نظر پر امن رہتے لیکن شعور کی ’’انسانی‘‘ سطح نے باہمی عدم اعتماد کو فروغ دیتے ہوئے بہت سے خود ساختہ مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے بڑا عجیب سا لگ رہا ہے کہ برصغیر پاکستان وہند کے عوام کو جنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے دونوں ممالک کے حکمرانوں کو کم از کم ’’حیوانی جبلت‘‘ کا ہی مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ جب سرد جنگ کے دوران میں شمالی امریکہ اور سابق سوویت یونین ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں اور لاطینی امریکہ میں دو بنیادی حریف ممالک برازیل اور ارجنٹائن اس حد تک متفق ہو سکتے ہیں کہ دونوں ایٹمی دوڑ شروع نہیں کریں گے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ برازیل شمالی امریکہ سے بڑا رقبہ رکھتا ہے اور قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ اس ملک کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان دونوں سے بہت زیادہ ہے ۔ یہ ملک ایٹمی مہم جوئی کا آغاز کر سکتا تھا اور جواباً ارجنٹائن کو بھی لازماً ایسا ہی کرنا پڑتا لیکن دونوں ممالک نے مذاکرات کے ذریعے سے اس امر پر اتفاق کیا کہ عوام کی خوش حالی کے لیے ملکی وسائل معاشی ترقی کے لیے وقف کر دینے چاہییں۔ اسی طرح بھارت پاکستان کی نسبت ایک بڑا ملک ہے، اسے بھی برازیل کی طرح ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے لیکن دن بدن بھارتی رویہ غیر معقول ہوتا جا رہا ہے جس سے جنوبی ایشیا غیر یقینی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔
توازن طاقت کی گیم میں بھارت پاکستان کو اپنے برابر نہیں سمجھتا۔ اس خطے کے اندر اس کی نظریں چین پر مرکوز ہیں۔ مغربی ممالک کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے تجارتی اور ٹیکنالوجیکل تبادلوں کو فروغ دیا ہے جس سے دنیا کے معاملات میں چین کو Visible اور assertive A رول ملتا معلوم ہوتا ہے۔ اندریں صورت بھارت ہاتھ پاؤں ما ررہا ہے۔ گاندھی اور نہرو کے آئیڈیل ازم کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مغربی ممالک کے حاشیہ بردار بن کر بھارتی عزائم عالمی نوعیت کے ہوتے جا رہے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے جاری بھارتی رویے کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تو اندرونی تحفظات کی خاطر اور کچھ استعماری مقاصد کی خاطر بھارت علاقائی کے بجائے گلوبل لیڈر شپ چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی ایٹمی آبدوز تقریباً تیار کر لی گئی ہے جس کے لیے روس نے بھرپور تعاون کیا۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اس آبدوز کو ایس ایل بی ایم (Sagarika Sea-launched ballistic missile)سے مسلح کیا جائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق sagarika کی تیاری میں بھی روس بھارت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ اس میزائل کی رینج تقریباً تین سو کلو میٹر بتائی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت اس ایٹمی آبدوز کے بل بوتے پر تجارتی راستوں کا ’’جگا‘‘ بن سکتا ہے کیونکہ یورپ، مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستے اس کے نشانے پر ہوں گے جن پرجاپان اور آسیان ممالک کی معیشتوں کا انحصار ہے۔ بھارتی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ امریکہ سے جنگی مشقوں کے باوجود کیا وہ امریکی مفادات کے خلاف کام کر سکیں گے؟ مشرق وسطیٰ اور جاپان میں کسی بھی قسم کی معاشی مہم جوئی سے امریکی مفادات براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ آسیان میں بے حد اہم سمندری راستوں کی موجودگی کے سبب کیا چین سکوت حکیمانہ ہی اختیار کرے گا؟ آنے والے دنوں میں برتری کا دعویٰ geo-economic بنیاد پر ہوگا نہ کہ geo-political بنیاد پر۔
ایٹمی قوت کو طاقت کی کرنسی قرار دینے والے ملک کو اس امر کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں ہے ورنہ سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوتا۔ بھارت کے اندر شدت سے اٹھتا ہوا ہندو انتہا پسندی کا ریلا ایٹمی قوت کو پاتال میں دھکیل سکتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بڑھتا ہوا ظلم وستم اور ہندو انتہا پسند تحریکات کا احیا بھارت کے مستقبل کی بابت منفی تصویر پیش کرتا ہے۔ مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ان کے مذہبی مقامات کا تقدس مجروح کیا جارہا ہے۔ 
آج کا بھارت بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کی بازگشت ہے اور ہندو انتہا پسندوں کے بیانات صدائے بازگشت۔ اگر ہندوؤں کا یہی رویہ جاری رہا تو ۱۹۴۷ء کی طرح ۲۰۴۷ء سے پہلے ہی ایک اورپاکستان بھارت کی کوکھ سے جنم لے گا۔ بھارتیوں کے عالمی قوت بننے کے خواب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کے بعد ہمیشہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بھی بھارت کی وجہ سے بننا پڑا۔ بھارت نے برازیل جیسا طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ ہندوؤں کا وہ ہندوستان جو کبھی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا اور تہذیبی اور اخلاقی پس ماندگی کا شکار تھا، مسلمانوں کے آنے سے نہ صرف وحدت آشنا ہوا بلکہ انسانیت سے بھی متعارف ہوا۔ وہ آج روس اور مغربی ممالک سے قربت کی پینگیں بڑھانے کی بدولت طاقت کی کرنسی رکھتا ہے لیکن اس کی قدیم نفسیات لوٹ آئی ہے۔ بھارت کا ایٹمی قوت بن کر خود کشی پرمبنی پالیسیاں اختیار کرنا اس محاورے کی صداقت کو مزید روشن کر دیتا ہے کہ ’’خدا گنجے کو ناخن نہ دے‘‘ بہتر یہی ہے کہ بھارت عالمی طاقت بننے کے بجائے خطے کے دوسرے ممالک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اپنے عوام کی خوش حالی کے لیے معاشی پروگرام تشکیل دے۔

موجودہ نظام تعلیم کا ایک جائزہ

حافظ سید عزیز الرحمن

ہمارا موجودہ نظام تعلیم مختلف جہتیں رکھتا ہے لیکن اس کے دو پہلو نمایاں ہیں: ۱۔ دینی تعلیم ، ۲۔ عصری تعلیم جس میں عصری علوم وفنون کے تمام ادارے شامل ہیں۔ ذیل میں ان کی خصوصیات ونقائص کا مختصر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دینی تعلیم

۱۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی دینی مدارس میں اسلامیات کا جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، یونیورسٹی میں ایم اے کی سطح پر پڑھایا جانے والا نصاب اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ 
۲۔ دینی مدارس میں آج کے گئے گزرے دور میں بھی استاد وشاگرد کے باہمی تعلق واحترام کی روایت موجود ہے۔
۳۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسکول وکالج کے مقابلے میں ان مدارس کے اخراجات بہت کم ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے ان کا خرچ دس فی صد بھی نہیں جبکہ خواندگی میں اضافے کے ضمن میں ان کی خدمات مثالی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد ۳ ہزار سے زائد ہے جن میں کئی لاکھ طلباتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ( روزنامہ جنگ، کراچی/ ۲۳۔ اگست ۲۰۰۱ء)
۴۔ وسائل کی عدم فراہمی کے سبب یہ مدارس جدید سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان کے طلبا کو جدید وسیع لائبریری اور کمپیوٹر جیسی بنیادی سہولتیں حاصل نہیں۔
۵۔ دینی جامعات کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے دینی روایات وخصوصیات کو غیر اسلامی تہذیبی وفکری روایات واثرات سے محفوظ رکھا ہے اور اصلاح احوال کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
۶۔ ملک وبیرون ملک میں دینی ضرورتوں کو ایک حد تک پورا کر رہے ہیں۔
۷۔ نصاب میں چند تبدیلیاں ناگزیر ہیں جو آئندہ سطور میں تجاویز کے ضمن میں درج ہیں۔ ان کی وجہ سے ان کی فعالیت متاثر ہو رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دینی جامعات کے اکثر طلبا کا مطمح نظر روزگار نہیں ہے بلکہ تعلیم سے رضائے الٰہی وخدمت دین مقصود ہے جو مادیت پرستی کے اس طوفان میں اہم بات ہے۔

عصری تعلیم

۱۔ اساتذہ وطلبا دونوں میں بعد وفاصلہ بڑھ رہا ہے جس کا اہم سبب اساتذہ کی قابلیت میں کمی اور ٹیوشن کی روایت ہے۔
۲۔ انگریزی کو وجہ فضیلت سمجھ لیا گیا ہے جس کی وجہ سے نہ انگریزی صحیح طرح آ پاتی ہے نہ علم پر ہی قدرت ہوتی ہے۔
۳۔ بعض علوم وفنون میں کچھ اداروں نے اپنا وجود بیرون ملک بھی منوا لیا ہے۔ یہ بڑی کام یابی ہے۔
۴۔ بہت سے شعبوں میں پاکستانی ماہرین بیرونی دنیا میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں۔
۵۔ پرائیویٹ اسکول وکالج طبقاتی تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔
۶۔ ابتدائی تعلیم سے میٹرک تک پرائیویٹ اسکولوں میں نصاب درآمد شدہ ہے جو ہماری مذہبی، تہذیبی واخلاقی روایات سے یکسر مختلف بلکہ ان سے متضاد ہے۔ فکری اعتبار سے یہ ایک خطرناک صورت حال ہے۔
۷۔ مشنری تعلیمی اداروں میں ہمارے ہاں خوب داخلوں کا رجحان ہے جس کا سبب ان کی انتظامی خصوصیات ہیں مگر ان میں عیسائیت وغیرہ کی تعلیم ہو رہی ہے۔
۸۔ عربی وفارسی زبانوں سے بے توجہی برتی جا رہی ہے حالانکہ ہمارے زبان وادب کا ایک بہت وقیع سرمایہ ان میں موجود ہے۔
۹۔ امتحانات کا نظام مکمل طور پر اصلاح طلب ہے۔ اس میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور معیار جانچنے میں بھی خطا کا امکان بہت ہے۔
ان امور کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ صورت حال خوش کن نہیں ہے اور ہمیں زیادہ توجہ سے اپنے تعلیمی امور کا جائزہ لینا ہوگا۔

عمومی تجاویز برائے نصاب و نظام تعلیم

ذیل میں نئے اسلامی نظام کی تشکیل کے لیے تجاویز تحریر کی جاتی ہیں۔ یہ تجاویز دو طرح کی ہیں۔ بعض کا تعلق تو اس صورت سے ہے جب کہ ایک مشترکہ نظام قائم ہوگا جبکہ باقی تجاویز اس صورت کے لیے ہیں جبکہ اس موجودہ صورت حال کو برقرار رکھ کر ان میں اصلاح احوال کی کوشش کی جائے۔ ان تجاویز کا مطالعہ اسی تناظر میں کیا جائے۔
۱۔ آج کی ضرورت کے تمام مضامین مثلاً جدید فلسفہ، سائنس کے اہم اصول ومبادیات وغیرہ اردو زبان میں منتقل کر کے پڑھائے جائیں تاکہ وقت کم صرف ہو۔
۲۔ دینی مدارس میں مختلف مضامین میں تخصص کے شعبے قائم کیے جائیں مثلاً ۱۔ دعوت، ۲۔ سیرت، ۳۔ تقابل ادیان، ۴۔ علوم حدیث، ۵۔ فلسفہ جدید، ۶۔ اسلامی معاشیات وغیرہ۔
۳۔ ہر سطح پر تعلیمی نظام مکمل طور پر غیر مخلوط ہو، طلبا وطالبات کے لیے ہر دو کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے الگ نصاب اور الگ تعلیمی اداروں کا انتظام کیا جائے۔
۴۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے طلبا کو باہر جانا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ایک طرف اہم افرادی قوت اور اچھے ذہن باہر منتقل ہو رہے ہیں، دوسری طرف غیر مسلم معاشرے کے برے اور غلط مذہبی واخلاقی اثرات سے نئے ذہن متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کا سدباب بہت ضروری ہے۔
۵۔ تمام تعلیمی اداروں اور درجات ومراحل کا ایک نصاب اور ایک ذریعہ ہی تعلیم ’اردو‘ ہو۔ اردو کو خاص اہمیت دی جائے اور اس کے بارے میں احساس کمتری کو ترک کیا جائے۔
۶۔ تمام عصری علوم بشمول سائنس، معاشیات، سیاسیات، فلسفہ وغیرہ کی تشکیل نو کی جائے، ان کے غیر اسلامی تصورات وافکار کو رد کیاجائے اور اسلامی تصور وموقف کو نمایاں مقام دیا جائے تاکہ ان علوم میں دانستہ شامل کیے جانے والے لادینیت کے اثرات زائل کیے جا سکیں۔
۷۔ جب تک مشترکہ نظام تعلیم قائم نہیں ہوگا، اس وقت تک دینی مدارس کو ان مضامین کا اضافہ کرنا ہوگا: 
(۱) جدید علم کلام ، جس میں بدھ مت، ہندو مت، سکھ مت نیز عیسائیت ویہودیت اور جدید غیر مسلم تحریکوں مثلاً سائنٹزم ولا دینیت وغیرہ پر بنیادی معلومات ہوں۔ (۲) اسلامی معاشیات (۳) تاریخ وسیرت (۴) انگلش کم از کم بی اے کی سطح کی۔ نیز ائمہ، خطبااور اساتذہ کے لیے خصوصی تربیتی کورسز کا انعقاد کیا جائے۔
۸۔ درس نظامی کی تکمیل کی سند شہادۃ العالمیۃ کو غیر مشروط طور پر ایم اے کے مساوی عملی طور پر تسلیم کیا جائے اور اسے وہی حیثیت دی جائے جو ایم اے کو حاصل ہے۔
۹۔ مشنری تعلیمی اداروں میں صرف غیر مسلم طلبا کو داخل ہونے کی اجازت ہو۔ مسلمان طلبا کے لیے پابندی عائد کی جائے۔

مثالی اسلامی نظام تعلیم کے لیے عملی خاکہ

یہ مختصر خاکہ ہے۔ اس کے مطابق نصاب تیار کرنے کے لیے ماہرین کی کمیٹی کا قیام ضروری ہوگا۔ یہ نظام چھ مرحلوں میں تقسیم ہوگا:
ا۔ پہلا مرحلہ پرائمری تک ہوگا۔ اس میں اردو تحریر، ناظرہ قرآن، نماز، مختصر عقائد، ابتدائی ریاضی، اور چوتھی وپانچویں جماعت میں انگریزی کے ابتدائی اسباق ہوں گے۔ نرسری، کے جی، انگلش میڈیم اسکولوں کا نصاب سب ختم ہوگا۔ ناظرہ قرآن کریم کے لیے الگ وقت مقرر ہوگا۔
ب۔ یہ مڈل کا مرحلہ ہوگا۔ اس میں چھٹی تا آٹھویں جماعت شامل ہوگی۔ اس درجے میں انگریزی، اسلامیات، معاشرتی علوم، ابتدائی سائنس، ریاضی کے ساتھ ساتھ عربی صرف ونحو اور فارسی کے ابتدائی اسباق بھی شامل ہوں گے۔ نیز آخری پارے کا صرف ترجمہ تینوں سالوں میں مکمل کرایا جائے گا۔
ج۔ یہ میٹرک پر مشتمل ہوگا۔ اس مرحلے میں چار گروپ قائم ہوں گے: ۱۔ درس نظامی، ۲۔ آرٹس، ۳۔ کامرس، ۴۔ سائنس۔ اس میں اسلامیات، عربی وانگلش، تاریخ کے اسباق لازمی ہوں گے۔ صرف سائنس اور کامرس والوں کے لیے ان کے اپنے اسباق پر زیادہ توجہ ہوگی۔ اس کے مقابلے میں درس نظامی والوں کے ہاں ان سالوں میں تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ پر زیادہ وقت صرف ہوگا۔ (ثانویہ عالیہ کا عمومی نصاب ہوگا) اسی طرح آرٹس والے اپنے شعبے کے چند ضروری اسباق پر توجہ دیں گے۔ زیادہ تر نصاب لازمی اور سب کے لیے مساوی ہوگا۔
د۔ یہ انٹرمیڈیٹ کا مرحلہ ہوگا۔ اس سطح پر بھی وہی چار گروپ قائم رہیں گے اور وہی بنیادی نظریہ پیش نظر رہے گا جو میٹرک کی سطح پر تھا۔
ہ۔ یہ اعلیٰ تعلیم کا مرحلہ ہوگا۔ اب اسلامیات واردو کے لازمی مضمون کے علاوہ چاروں گروپوں کے اسباق علیحدہ ہو جائیں گے۔ نیز قانون وزراعت وغیرہ کی اعلیٰ تعلیم کا آغاز بھی یہیں سے ہوگا۔ اس کے تحت: ۱۔ میڈیکل کی پانچ سالہ تعلیم ہوگی، ۲۔ انجینئرنگ وقانون کی چار سالہ تعلیم ہوگی اور ان میں سائنس کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر خصوصیت کے ساتھ پڑھایا جائے گا اور قانون کے لیے عربی اور اسلامی فقہ لازمی مضمون ہوں گے، ۳۔ درس نظامی مزید پانچ سالہ ہوگا جن میں دورۂ حدیث ۲ سالہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈگری اور بی اے کے امتحانات ختم ہوں گے۔ منشی فاضل اور عربی فاضل وغیرہ بھی سب ختم ہوں گے۔
و۔ آخری مرحلہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کا ہوگا، اس میں تمام متخصصین تیار ہوں گے۔
عام تعلیمی اداروں کے تعلیمی نظام کی جب تک انقلابی تبدیلیوں کے بعد قلب ماہیت نہیں ہو جاتی اور ان کا نظام مکمل طور پر تبدیل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک عالمی تعلیمی کانفرنس منعقدہ مکہ مکرمہ (۳۱ مارچ ۱۹۷۷ء) کی سفارش کے مطابق دینی تعلیم کے مراکز کو علیٰ حالہا قائم رکھ کر ان کی مکمل حفاظت کا انتظام کیاجائے اور ان کی آزادی کی ضمانت فراہم کی جائے۔ (محمد تقی عثمانی/ ہمارا تعلیمی نظام/ مکتبہ دار العلوم، کراچی، ۱۴۱۵ھ/ ص ۱۴۸) 
امید ہے کہ ان تجاویز پر ان کی روح کے مطابق اگر عمل کر لیا جائے تو ان شاء اللہ ہمارا نظام تعلیم مثالی بھی ثابت ہوگا اور اسلامی بھی اور ہمارے متعین کردہ اہداف پورے کرنے میں معین ومددگار ہوگا۔ 

مطالعہ تاریخ کی اہمیت اور تقاضے

ڈاکٹر لائٹز

(کچھ عرصہ قبل ایک دینی مدرسہ میں طلبہ کا امتحان لیتے ہوئے ایک منتہی طالب علم سے میں نے سوال کیا کہ خلافت راشدہ کے جس تیس سالہ دور کا حدیث نبوی میں تذکرہ کیا گیا ہے‘ اس کی واقعاتی تفصیل کیا ہے اور حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے کتنا کتنا عرصہ حکومت کی ہے؟ وہ طالب علم اس سوال کا جواب نہ دے سکا جس کا مجھے بے حد دکھ ہوا اور ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ عالم، تاریخ اسلام حتیٰ کہ سیرت نبوی اور سیرت خلفائے راشدین تک کے بارے میں پائی جانے والی بے اعتنائی اور عدم توجہ کا احساس مزید گہرا اور کرب انگیز ہوتا گیا۔گزشتہ روز ایک دوست کے پاس انجمن حمایت اسلام لاہور کی شائع کردہ ’’سنین الاسلام‘‘ دیکھنے کا موقع ملا جو مشہور انگریز مستشرق ڈاکٹر لائٹنر نے اب سے کوئی سوا سو برس قبل لکھی تھی تو اس کے دیباچے نے اس کرب اور احساس کو پھر سے تازہ کر دیا۔ ڈاکٹر لائٹنر ۱۸۵۷ء کے بعد برصغیر پاک وہند میں تعلیمی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب اردو میں لکھی ہے۔ اس میں تاریخ اسلام کا مرحلہ وار خلاصہ ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے اور دیباچے میں یہی شکایت کی ہے کہ ہمارے علماء کرام تاریخ بالخصوص عرب دنیا اور خلفائے اسلام کی تاریخ سے عام طور پر بے بہرہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے فائدہ کی خاطر یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ ان کا لہجہ اور انداز بیان یقیناًبہت سے دوستوں کو نامانوس محسوس ہوگا مگر اس کے باوجود صرف یہ احساس دلانے کے لیے یہ مضمون شائع کیا جا رہا ہے کہ آج کے دور میں تاریخ کے مطالعہ کی اہمیت کیا ہے اور اردو زبان میں اس کے مواد کی فراہمی کے ضروری تقاضے کیا ہیں؟ رئیس التحریر)

گزشتہ جولائی میں، میں نے کچھ مولویوں کا عربی میں امتحان لیا تھا جو پنجاب یونیورسٹی کالج میں وظائف کے امیدوار تھے۔ میں نے دیکھا کہ دوسرے علاقوں کی طرح پنجاب میں بھی بعض مولوی جہاں لفظی ترجمہ اور قواعد کی تفصیلات میں اتنی گہرائی تک پہنچتے ہیں کہ جسے یورپ کے مستشرق بہت کم وقعت دیتے ہیں، وہاں سب کے سب عرب کی تاریخ وادب کے اہم حقائق سے کم وبیش بے خبر ہیں۔ ان کی تعلیم میں اس خامی کو دور کرنے کے لیے میں نے پہلے تواریخ عرب کا ایک سن وار نقشہ مرتب کیا اور پھر ایک اور خاکہ عربی ادب کے متعلق تیار کیا لیکن میرا یہ طریق عمل تاریخ عالم کی ایک اہم شاخ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور غیر فلسفیانہ طریقے پر پیش کرنے کے مترادف تھا۔ حقیقت میں مولویوں کو یہ بتانا ضروری تھا کہ عرب کی تاریخ بہ قید سنین اور اس کے واقعات پورے تطابق زمانی کے ساتھ قلم بند موجود ہیں، جسے وہ کسی طرح بھی زمانہ افسانہ واساطیر کے سپرد نہیں کر سکتے، چاہے یہ من گھڑت افسانے اور اساطیر زمانہ عتیق ونامعلوم کے لیے جذبات عزت واحترام کو تحریک دینے میں کتنے ہی ممد ومعاون ہوں۔ انہیں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ عربی ادب صرف قرآن کی تفاسیر، چند رسائل قانون، مناظرانہ نظموں یا صرف ونحو کی کتابوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں علوم ریاضی، تواریخ اور طب وغیرہ پر تصانیف کی ایک کثیر تعداد بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود میرے ان خاکوں کا اصل مقصد پورا نہیں ہو سکتا اگر مولوی کو یہ یقین نہ دلایا جائے کہ اس کے ملک، مذہب اور ادب کی تاریخ نوع انسان کے فکر وعمل کی عالمگیر تاریخ کا صرف ایک جزو ہے۔ چنانچہ میں یہ بیان کرنے کے لیے مضطرب تھا کہ عرب کی تاریخ اسلام کی صورت میں کیونکر جلوہ گر ہوئی اور اس کے ادب نے مختلف ممالک کے باشندوں کو جو اس مسلک کے پیرو تھے، کس حد تک متاثرکیا۔ میں نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ تہذیب وتمدن کی عالمگیر تاریخ میں تاریخ اسلام کو کیا مقام حاصل ہے۔ موجودہ رسالہ میری اس سعی وکوشش کا نتیجہ ہے۔
مجھے اس امر کا پورا احساس ہے کہ اس کتاب کو کوئی خاص ادبی حیثیت حاصل نہیں لیکن اگر اسے پڑھ کر کسی مولوی کے دل میں اپنے یا دوسرے ممالک کی تاریخ وادب کے اہم واقعات کا مطالعہ کرنے کا شوق پیدا ہو جائے، جنہیں میں نے نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، یا ان کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہے اور ان کا مطالعہ ناقدانہ نظر سے کرے تو میرا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ شاید یہ کتاب دیکھ کر قابل تر مصنفین کو اسی قسم کے مفید موضوعات پر اردو میں کتابیں لکھنے کی ترغیب بھی ہو۔ .......
اس موقع پر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سائنس اور ادب پر ایسی مستند کتابوں کا جو کسی یورپی زبان میں لکھی ہوئی ہوں، ترجمہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں اردو میں ڈھال لینا چاہیے۔ یورپی مصنفین خصوصاً ہمارے ہم عصر بڑے عمومیت پسند ہیں اور ان کی تحریریں غیر شخصی اور تجریدی انداز کی ہیں حالانکہ قریباً تمام مشرقی زبانوں کا طبعی رجحان ذاتی، مخصوص، ٹھوس اور ڈرامائی ہے۔ ترجمے کی عام مشکلات بھی کافی حد تک کٹھن ہیں، چاہے ہم ایک یورپی زبان کا دوسری یورپی زبان میں ہی ترجمہ کیوں نہ کریں۔ مثلاً اس میں شک ہے کہ شیکسپیئر کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں، بیرنگر (Beronger) کا انگریزی میں یا ڈکنز کا اطالوی زبان میں کما حقہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ لیکن مشرقی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لیے مشکلات اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ ان میں ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہاں ان کے خیالات کو دوبارہ لکھا جا سکتا ہے۔ انجیل مقدس، جس کی زبان اور روح میں اتنی مشرقیت موجود ہے، جب عربی، ترکی یا اردو میں ترجمہ کی جاتی ہے تو اصل کے پورے معانی (یا جو مفہوم ہم اصل عبارت سے لیتے ہیں یا خیالی رشتے جو اس سے وابستہ ہیں) پوری طرح ادا نہیں کیے جا سکتے۔ مثال کے طور پر سینٹ میتھیو کے چوبیسویں باب کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کے ترابی کے ترکی ترجمے میں قواعد اور مفہوم کی ۱۰۸ غلطیاں موجود ہیں۔
ہمیں اردو میں ترجموں کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر زبانوں کے مفہوم کو اردو میں ادا کیا جائے۔ مثال کے طور پر ہم مل کی ’معاشیات‘ کا ترجمہ نہیں چاہتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ ’معاشیات‘ کے نفس مضمون کو عام فہم اردو میں بیان کیا جائے۔ یہی اصول تواریخ، مابعد الطبیعیات اور ادب کی کتابوں پر بھی منطبق ہوتا ہے جن کے نفس مضمون کو ہم سلیس اور بامحاورہ زبان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تصنیف شدہ کتابوں کے تراجم نہیں چاہتے۔
میں جو تجویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، میرا خیال ہے کہ وہ محض ترجمہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ مفید ہے۔ اب تک جو تراجم شائع ہوئے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے ایک لغات اور ایک اطاعت شعار منشی کی ضرورت ضرور پڑتی ہے لیکن ایسے قابل فہم بیان کے لیے جسے ایک چودہ سالہ بچہ بھی بآسانی سمجھ سکے، یہ ضروری ہے کہ مصنف اپنے مضمون پر پوری طرح حاوی ہو اور اس زبان میں ماہر ہو جس میں وہ کتاب لکھ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی خیالات کی نمائندگی کے لیے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، جیسا کہ ادب میں، تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ پہلے ان خیالی رشتوں کا موازنہ کر لیا جائے جو ایک یا دوسرے لفظ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور اگر غیر زبان میں اس کا بالکل ہم معنی لفظ نہ ملے تو پھر مترجم کو خود وہ خیالی رشتے بیان کرنے چاہییں اور اپنے ترجمے میں ان الفاظ کی تشریح کر دینی چاہیے اور پھر اپنے انتخاب کردہ لفظ کی موزونیت کے متعلق تسلی کرنے کے لیے یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ کیا اس ملک کا کوئی باشندہ جو اس مضمون پر حاوی ہو، ان ہم زبانوں کو آسان اور سادہ طریق پر اس مضمون کی تعلیم دینے کے لیے جو اس سے ناواقف محض ہیں، یہی اسلوب اختیار کرے گا؟ جب تک مترجم اس پر عمل نہ کرے گا، وہ خیالات کی نہیں بلکہ صرف اصوات کی تعلیم دے گا۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس کی مصطلحات کے لیے، جن کے الفاظ حقائق یا اشیا کی نمائندگی کرتے ہیں، اس بات کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت نہیں کہ کس ترکیب صوتی سے حقائق یا اشیا کا مفہوم ظاہر کیا جاتا ہے لیکن جب تک کسی میں فکر وتخیل اور قوت جذب وتفہیم نہ ہو، اس کی لسانی قابلیت چاہے کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہندوستان کے باشندوں کے لیے کوئی ایسی کتاب جسے وہ سمجھ سکیں، نہ سائنس پر لکھ سکتا ہے اور نہ ادب پر۔

اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۴)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

تجدید و اجتہاد سے گریز

یہ نکتہ بھی تحریک اسلامی کی اہم کمزوریوں میں سے ایک ہے کہ اجتہاد سے ڈرتی ہے، حالات اور وقت کی مناسبت سے دین کے دائرے کے اندر تجدیدی عمل کو پسند نہیں کرتی اور عمل وفکر کے اعتبار سے انقلابی راہیں اختیار کرنے پر مائل نہیں ہوتی۔ فقہی معاملات میں کسی قدر اجتہاد کی قائل ہوتے ہوئے بھی یہ تحریک فکر وحرکت وعمل میں تقلیدی رجحان ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ہر قدم کو بحالہ قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ اس نے بعض وسائل واشکال کو گلے سے لگا رکھا ہے، خواہ یہ وسائل واشکال اس کی دعوت کے فروغ ووسعت کی راہ میں ایسا پتھر ثابت ہوں جن سے مسلسل ٹھوکر لگ رہی ہو، نیز ان کے باعث تحریک کی صفوں میں تھکن، تساہل اور بے دلی کی کیفیات ہی جنم لے رہی ہوں۔یہ ان تمام منفی نتائج سے بے نیاز چلی جا رہی ہے۔
تحریک نے فکر وعمل کے میدان میں ’’مقبول‘‘ اور ’’باکمال‘‘ کی کچھ ایسی تخصیصات قائم کر رکھی ہیں جو حریت فکر اور تجدید عمل وتعین جادۂ نو کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس نے بعض مفکرین کے ساتھ ایسی سخت وابستگیاں استوار کر دی ہیں جن کے باعث علم وتفکر کے سرچشمے پتھر کے قالب سے پھوٹنے والے ننھے سے چاہ کم آب کا روپ دھار لیں گے، جس کے نتیجے میں ذہنی اور فکری گھٹن اور نظر کی تنگی پروان چڑھتی رہے گی اور شاید نوبت یہاں تک پہنچے کہ کسی دوسرے کی کتابیں پڑھنے اور دوسروں کے حلقوں میں شامل ہونے پر ہی پابندیاں عائد ہو جائیں۔ گھٹن کے ماحول میں تعلق وعقیدت کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں، دل چسپیاں کم ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں حرکت وعمل کی روح سے سرشار افراد آہستہ آہستہ کھسکنے لگیں گے، جیسے انگلیوں کے اندر سے پانی بہہ جاتا ہے۔ اپنے ہدف سے انکار نہ ہونے اور نصب العین کی لگن موجود ہوتے ہوئے بھی عقلیں جامد ہو کر رہ جائیں گی۔ ان دو متوازی بلکہ مخالف رجحانات کے آگے بڑھنے پر تحریک ان کھسک کر جانے والوں کی علیحدگی پر خود خوشی واطمینان محسوس کرے گی کیونکہ ساکن کو متحرک کرنے کی گستاخی کرنے والے اور تبدیلی وانقلاب کے بلبلے اٹھانے والے یہ عناصر تحریک کی صفوں میں ناپسندیدہ قرار پائیں گے۔
میں نے بعض اسلامی جماعتیں دیکھی ہیں جو اپنے پیروکاروں پر مخصوص قسم کی تعلیمات اور محدود قسم کا رنگ ثقافت اختیار کرنے کی پابندی لگا دیتی ہیں۔ یہ بے چارے جماعتوں کی قیادت کی پڑھائی ہوئی پٹی کو اس طرح دہراتے ہیں جیسے قرآن پڑھا جاتا ہے۔ مقرر کردہ وظائف کو ٹیپ ریکارڈر کی ریل کی طرح بار بار گھماتے اور اعادہ کرتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ پڑھائی ہوئی پٹی اور رٹائے ہوئے وظیفوں کے بارے میں اپنی سوچ کو کام میں لائے یا ان پر تبادلہ خیال کے لیے زبان کھولے۔ یہاں اختیار کی گنجائش ہے، امتیاز وتمیز کی نہیں۔ ان کے امیر یا رئیس جماعت کا ہر فرمودہ، ہر موقف صحیح ترین کا درجہ رکھتا ہے جس میں خطا کا خفیف سا بھی امکان نہیں بلکہ ایسا حق ہے جس میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہو سکتا۔
تحریک اسلامی میں صوفیا کے طریق تربیت سے نظریاتی اختلاف وبراء ت کا نقطہ نظر غالب ہے۔ اس کے باوجود سمع مطلق اور اندھی تقلید وطاعت کے اسی تصور کو اختیار کیا جا تا ہے جو صوفیا سے خاص ہے، جس میں یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ جس نے اپنے شیخ سے ’’کیوں‘‘ کا سوال کر دیا، وہ کبھی نجات نہیں پائے گا۔ مرید اپنے مرشد کے ہاتھ میں ایسا ہی ہے جیسے مردہ، غسال کے ہاتھ میں۔ ہم صوفیا کو اپنے مریدوں کی تربیت اس نہج پر کرتے دیکھتے ہیں کہ شیخ کے کہے ہوئے سے ہٹنا محال ہے، ’’کیوں‘‘ کا سوال بغاوت ہے۔ صوفیا کے حلقوں میں اس نہج تربیت سے مریدوں کی فوج میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ علما ومفکرین کی بھی اسی طرح روایتی تقلید ہونے لگتی ہے، اس محدود فکر سے نکلنا محال ہو جاتا ہے، فکر اور اس کی تعبیر میں کھینچی ہوئی لکیروں سے باہر نکلا نہیں جا سکتا۔ اگر کوئی ایسا کر گزرے تو اسے مخالفت کے شدید حملوں کا نشانہ بننا پڑتاہے۔
آپ کو تعجب ہوگا کہ دعوت اسلامی کے ایک زعیم علامہ ڈاکٹر مصطفی السباعیؒ کو بھی ایک مرتبہ ایسی ہی منفی اور شدید صورت حال سے دوچار ہونا پڑا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے اجتہاد کے مطابق اسلامی نظام عدل کو ’’الاشتراکیۃ الاسلامیۃ‘‘ کا نام دے دیا تھا۔ بہت سے لوگوں کو لفظ اشتراکیت میں کشش محسوس ہوتی ہے اور بہت سے اس سے الرجک ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اسلام اپنے اندر سرمایہ داری کا رنگ رکھتا ہے۔
اسی طرح ایک اور مسلمان مصنف نے ایک رسالے کے پہلے شمارے کے لیے فرمائشی مضمون لکھا، اس میں اس نے ’’بائیں بازو کے مسلمانوں‘‘ کی اصطلاح استعمال کر دی۔ ایسا اس نے اس رجحان کے رد میں کیا تھا کہ لوگ عام طور پر دعوت اسلامی کو ’’دائیں بازو‘‘ کی صف میں گنتے ہیں اور اس کا تعلق سرمایہ دارانہ نظام اور مغربی افکار کے تتبع سے قائم کرتے ہیں چنانچہ ہوا یہ کہ اس صاحب قلم کی تحریر پر شدید رد عمل ظاہر کیا گیا۔
میں ذاتی طور پر نہ دائیں بازو کی اصطلاح سے اتفاق کرتا ہوں نہ بائیں بازو کی لیکن میراموقف یہ ہے کہ اہل فکر ونظر اور صاحبان علم سے اجتہاد کا حق نہ چھینا جائے۔ محض اختلاف رائے کے نتیجے میں انہیں اتہامات اور برے بھلے کلمات کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ آج ان کی رائے مسترد کر دی جائے لیکن آنے والے دور میں وہی رائے مقبول قرار پائے۔ میرے خیال میں مجتہد اللہ تعالیٰ کے ہاں مستحق اجر ہوتا ہے خواہ اس کی اجتہادی رائے صحیح ہو یا غلط۔ خلوص نیت شرط ہے۔
ایک رسالے نے ایک بڑے مسلم مصنف سے کچھ مقالات لکھنے کی درخواست کی۔ انہوں نے ایک مقالہ لکھ کر بھیجا جس میں یہ رائے درج تھی کہ اسلامی نظام کے تحت ایک سے زیادہ اسلامی جماعتوں کا قیام جائز ہے۔ ادارے کی رائے اس سے مختلف تھی چنانچہ ان کا وہ مقالہ شائع نہ ہو سکا کیونکہ وہ لا حزبیۃ فی الاسلاموالے روایتی فلسفے کے علی الرغم رائے کا حامل تھا۔ 
دعوتی عمل سے منسلک ایک بزرگ کو ایک مرتبہ دعوت کے لیے پانچ سالہ خاکہ تیار کرنے پر لگایا گیا۔ انہوں نے اس کی تیاری میں یہ اہتمام کیا کہ مختلف اطراف سے تبادلہ خیال کیا۔ دعوت اسلامی سے خائف مخالف دھڑوں سے، مغرب کے اہل فکر مستشرقین سے، اہل کتاب کے مذہبی رہنماؤں سے، سیاسی مدبروں، سفیروں وغیرہ سے مختلف مواقع پر تبادلہ خیال کر کے کام کا نقشہ وضع کیا۔ اس تبادلہ خیال سے ان کی غایت اسلام کے بارے میں معاندین کی پرانی سوچ کو بدلنا تھا کہ مسلمان وحشی انسانوں کے غول ہیں اور تحریک اسلامی دہشت گردی اور تشدد کی علامت ہے۔ وہ سوچتے تھے کہ دوسرے آسمانی ادیان کے ساتھ پرامن طور پر زندگی گزارنے کے لیے مفاہمت کی فضا پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے اپنے وطن میں اپنی شریعت اور عقیدے کے مطابق خود مختارانہ انداز میں رہیں بسیں اور مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے معاملات میں مزاحم نہ ہوں۔ لیکن ہوا یہ کہ بزرگ کی جملہ آرا وتجاویز کو نہ صرف رد کر دیا گیا بلکہ تضحیک وتمسخر کا نشانہ بنایا گیا اور کہنے والے نے کہا کہ شیخ بڑے ’’ترقی پسند‘‘ بن گئے ہیں۔
موجودہ فضا میں دین دار عوام کی سخت رائے اور سنگین لب ولہجہ مروجہ سکہ بن گیا ہے جس کا معاملات کی مارکیٹ میں خوب چلن ہے۔ سخت موقف ہی کے ذریعے سے اس منڈی میں سودے طے پاتے ہیں۔ سختی، تیزی، تندی اور تشدد کو قبولیت عامہ حاصل ہو گئی ہے۔
اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ امت میں بگاڑ اور انحراف علم کے اقتدار کی تنخواہ داری میں چلے جانے اور عالموں کے مقتدرین کے اتباع کے باعث پیدا ہوا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ عوامی خواہشات کا اتباع، سلاطین کی مرضی کا پابند ہونے سے بھی زیادہ خطرناک نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ سلاطین کی پیروی واطاعت کرنے والے کبھی بے نقاب ہو کر رد کر دیے جاتے ہیں جبکہ عوام کی خواہشات میں تنکے بن کر چلنے والے وہ باطل ہوتے ہیں جو رائے عامہ کے زور سے سچ اور حق ٹھہرا دیے جاتے ہیں۔
بیسیویں صدی کے چھٹے عشرے میں ایسی متشدد فکر غالب رہی۔ ان حالات کا نتیجہ تجزیہ نگاروں سے مخفی نہیں۔ دعوت اور سوسائٹی میں ایک دیوار کھڑی ہو گئی۔ جاہلیت مطلقہ نے اسی تشدد کو جواز بنا کر اسے نیچا دکھانے میں اپنا پورا زور صرف کیا۔ اس عرصے میں اسی پرتشدد اور سخت رجحان کے تحت کفر کے فتوے جاری کرنے میں بڑی فراخ دلی کا ثبوت سامنے آیا۔ مسلم عوام کو لا الٰہ الا اللہ کا مطلب نہ جاننے اور حاکمیت الٰہ کا تصور نہ رکھنے کے باعث کافر ٹھہرایا گیا۔ وقت کے اہم مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے فقہی اجتہاد پر پابندی رہی، اسلامی فقہ کی تجدید کے تصور کا مذاق اڑایا گیا۔ پہلا قدم عقیدے کو ٹھہرا کر عوام کے لیے اسلامی نظام کا مکمل نقشہ تیار کرنے کو غیر ضروری خیال کیا گیا۔ کہا گیا کہ پہلے عقیدے کو قبول کیا جائے، نظام کی بات بعد میں ہوگی۔ اقتصادی، سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی کے حقائق پیش کرنا ثانوی امر ہے۔
جدید تحریک اسلامی کے ضعف کے یہ چند نکات تھے جو میں نے اللہ کی پکڑ کے احساس کے تحت پیش کیے ہیں۔ مقصد اصلاح وتعمیر ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تحریک کے بعض متعلقین اس تنقیدی جائزے پر سخت چیں بچیں ہوں گے۔ اسی طرح تحریک کے مخالفین بھی اسے غنیمت سمجھ کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے اور تحریک اسلامی اور اس کے مقاصد کے ہی نہیں، خود اسلام کے بارے میں بھی غلط فہمیوں کا غبار اٹھانے کی سعی کریں گے۔
(ترجمہ: منیر احمد خلیلی)

دینی جماعتیں اور انتخابی سیاست

مولانا عبد الغفار حسن

(بزرگ عالم دین مولانا عبد الغفار حسن کی یہ تحریر ’الشریعہ‘ کے ستمبر ۱۹۹۳ء کے شمارے میں اس وقت کے حالات کے تناظر میں شائع ہوئی تھی لیکن اس میں مولانا نے جن اصولی نکات کی طرف توجہ دلائی ہے‘ ان کی اہمیت موجودہ حالات میں بھی برقرار ہے چنانچہ یہ تحریر قارئین کی خدمت میں دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔ مدیر)

اس وقت ملک شدید سیاسی واخلاقی بحران کا شکار ہے۔ ان حالات میں یہ ایک اہم سوال ذہنوں میں ابھر رہا ہے کہ دینی جماعتوں کا مستقبل کیا ہے؟ وہ کس طرح قرآن وسنت کی روشنی میں قوم کی رہنمائی کر سکتی ہیں؟ کیا ان کا انتخابی سیاست میں براہ راست حصہ لینا ملک وملت کے لیے مفید ہو سکتا ہے؟ اور کیا اس طرح نفاذ شریعت کی تحریک کام یابی سے ہم کنار ہو سکتی ہے؟
یہ بات عیاں ہے کہ دینی جماعتوں کے رہنما پچھلے انتخابی تجربات سے کوئی خا ص سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور ایک دفعہ پھر انتخابی دنگل میں کودنے کے لیے بے تاب ہیں۔ دینی جماعتوں میں سب سے زیادہ فعال اور منظم جماعت اسلامی ہے لیکن انتخابی سیاست کے کارزار میں دشت پیمائی کا حاصل اب تک یہ رہا ہے کہ ۱۹۵۱ء میں جماعت اسلامی نے پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا‘ جماعت صرف ایک سیٹ لے سکی اور وہ بھی ضلع قصور کی‘ جہاں مولانا محی الدین لکھوی اہل حدیث حلقہ اثر کی بنا پر کامیاب ہوئے تھے۔ بعد کے انتخابات میں جماعت نے چار، اور زیادہ سے زیادہ آٹھ سیٹوں پر اپنے آدمی کام یاب کرائے۔ دوسری دینی جماعتوں میں مفتی محمود صاحب مرحوم کی جمعیت علماے اسلام دو صوبائی وزارتیں تک بنانے میں کام یاب ہو گئی‘ لیکن وہ بھی مغربی سیاست کی شاطرانہ چالوں کے سامنے جلد ہی ناکام ہو گئے۔
کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہمارے دینی رہنما اور علما وصلحا اس پامال شدہ جدوجہد کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں اور مستقبل کے لیے ایسا لائحہ عمل وضع کریں جو ملک وملت کے لیے مفید ہو؟
ہمارے خیال میں دینی جماعتوں کو اپنی عملی ونظریاتی سیاست پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ چند ناصحانہ مشورے پیش خدمت ہیں :
۱۔ چالیس سال سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی انتخابی سیاست اسلام کو ایک تنفیذی قوت کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکیمانہ قول پیش نظر رہنا چاہیے:
لا یلدغ المومن من جحر مرتین۔
’’ایک مومن ایک ہی بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی جماعتوں کا اصل فریضہ داعیانہ ہے اور وہ اپنے فریضہ میں اسی وقت کام یاب ہو سکتی ہیں جبکہ ان کی دعوت یکساں طریق پر اپنے مخاطبین تک پہنچ سکے اور یہ تبھی ہے جبکہ داعیان حق اقتدار کے نہ حلیف ہوں اور نہ حریف۔ الدین النصیحۃ کے تحت وہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو اللہ کا پیغام پہنچا سکیں‘ لیکن اقتدار کی دوڑ میں خود شریک ہو کر وہ مخالف پارٹی کے لیے ایک مقابل کی حیثیت سے ابھرتے ہیں اور پھر ان کی حق بات مخالف کے لیے صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے۔ انتخابی سیاست کی تلخیاں ایک دوسرے کی بات سننے کے راستے بند کر دیتی ہیں۔
۲۔ عملی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ان کے لیے نشان راہ ہو کہ: 
وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی البر والاثم والعدوان
’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ وزیادتی کے کاموں پر تعاون نہ کرو۔‘‘
سیاسی جماعتوں کے وہ امیدوار جو دیانت‘ تقویٰ اور راست بازی میں مشہور ہوں‘ تعاون کے مستحق ہیں‘ برخلاف ان امیدواروں کے جنہوں نے منافقت کا نام ہی سیاست گردانا ہوا ہے۔
۳۔ مجدد الف ثانی ؒ کے طرز پرناصحانہ رویہ کو اپنانا چاہیے۔ مجدد الف ثانی‘ جہانگیر کے وزرا اور امرا کو برابر خطوط لکھتے رہے جن میں انہیں شریعت کی پاس داری اور منکرات سے اجتناب کی دعوت دی جاتی تھی۔ ان کی یہ روش بالآخر عالمگیرؒ جیسے انصاف پسند اور پابند شریعت حکمران کے دور حکومت کو برپا کرنے کا باعث ہوئی جو کہ مسلم ہندوستان کی تاریخ کا ایک زریں باب ہے۔
۴۔ دینی دعوت کا خاصہ ہے کہ وہ اہل تقویٰ اور اہل دانش کے طبقہ خواص سے شروع ہو کر عوام الناس تک پھیلتی ہے اور امت کے ذہین طبقہ میں اس کی جڑیں مضبوط اور توانا ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اس دعوت کو پختگی اور پائیداری نصیب ہوتی ہے۔ اس کی مثال اس شجرہ طیبہ کی سی ہوتی ہے جس کی جڑیں گہری اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچ رہی ہوتی ہیں‘ برخلاف ان عوامی تحریکات کے جن میں چند خوش نما نعروں کی بنا پر عوام کو بھڑکایا جاتا ہے اور ان کی ایک بھیڑ اکٹھی کر لی جاتی ہے لیکن ٹھوس بنیادوں کے فقدان کی بنا پر یہ تحریکات جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ ماضی قریب میں ذو الفقار علی بھٹو کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعروں پر چلائی گئی عوامی تحریک اور پھر الطاف حسین کی مہاجروں کے حقوق کی تحریک اور ان کا انجام ہر کسی کے سامنے ہے۔ ایسی تحریکات میں منفی اور جذباتی پہلو ہمیشہ غالب رہتا ہے جو وقتی طور پر ہیجان تو پیدا کر سکتا ہے‘ لیکن دائمی اثرات کا حامل نہیں ہوتا۔
پاکستان بننے سے قبل مسلم لیگ اپنی مقبولیت کی معراج پر تھی۔ غالباً ۴۶ء یا ۴۷ء میں مولانا مودودی مرحوم سے مدراس کے ایک جلسہ عام میں مسلم لیگ کی اس مقبولیت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے جنگ میں سیلاب آجائے۔ ایسی صورت میں جنگل کے تمام جانور‘ چاہے وہ شکاری ہوں یا شکاریوں کے تر نوالے‘ سب کے سب ٹیلے کی طرف دوڑتے ہیں۔ سب سیلاب سے بچنا چاہتے ہیں اس لیے ایک دوسرے سے تعرض نہیں کرتے لیکن جیسے ہی وہ ٹیلے پر پہنچ جاتے ہیں‘ ہر شکاری اپنے شکار پر وار کرنے کے لیے بے قرار ہو جاتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ اب بھی یہی صورت حال ہے۔ ہندو سامراج کے سیلاب کا اندیشہ ہے‘ اس سے بچنے کے لیے پاکستان کا ٹیلہ سامنے رکھا گیا ہے لیکن وہاں پہنچنے کے بعد یہ ساری جمعیت منتشر ہو جائے گی اور خود غرض افراد کی اکثریت بندر بانٹ کرے گی۔
۵۔ اس سے قبل تذکرہ ہو چکا ہے کہ داعیانہ تحریکات پہلے خواص کو اپیل کرتی ہیں۔ اس ضمن میں قرآن کی یہ آیات پیش نظر رہیں:
نبی ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے: 
وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء)
’’اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ۔‘‘
ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کے قبیلے کے لوگ قریش کے گل سرسبد تھے اور مکہ میں رہنمائی کے مقام پرفائز تھے۔ ان لوگوں کا حلقہ بگوش اسلام ہونا تمام اہل عرب کے لیے باعث کشش ہوتا۔
اور ایسے ہی یہ آیت ہے: 
ولتنذر ام القری ومن حولہا (الانعام)
’’تاکہ آپ ام القریٰ (یعنی مکہ مکرمہ) اور جو لوگ اس کے چاروں طرف ہیں‘ ان کو ڈرائیں۔‘ ‘
یہاں نہ صرف قریش بلکہ دوسرے قبائل کی طرف بھی اشارہ ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں انتہائی بااثر تھے۔
نبی ﷺ ایک موقع پر اللہ کے حضور یہ دعا کرتے ہیں:
اللہم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب و بعمرو بن ہشام۔
’’اے اللہ اس اسلام کو غالب کر عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابو جہل) کے ذریعے سے۔‘‘
نبی ﷺ کی خواہش اس بات کی آئینہ دار تھی کہ قریش کے بہترین دماغ اس دعوت کو قبول کر لیں تو بہت بڑی قوت فراہم ہو جائے گی۔
آنحضور ﷺ کی یہ حدیث ہے:
خیارکم فی الجاہلیۃ خیارکم فی الاسلام اذا فقہوا (بخاری)
’’تم میں سے جو دور جاہلیت میں بہتر تھے‘ وہ حالت اسلام میں بھی تم میں سب سے بہتر ہیں‘ بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں۔‘‘
ظاہر ہے کہ جاہلیت میں بہترین لوگ وہی سمجھے جاتے تھے جو کردار‘ شجاعت‘ سخاوت اور دوسرے اعلیٰ اوصاف کے حامل تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کے حسن میں اور اضافہ ہو گیا اس لیے وہ حالت اسلام میں بھی معزز قرار پائے۔
۶۔ اصلاح احوال کے لیے اگر متذکرہ بالا صورت اختیار نہ کی جائے بلکہ مصنوعی سہاروں کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی جائے تو نتیجہ صفر رہتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس امر پر خلیفہ عمر بن عبد العزیزؒ کے مختصر دور حکومت کو شاہد ٹھہرایا ہے۔ عمر بن عبد العزیزؒ ایک موروثی طریقہ خلافت میں اپنے مورث کی وصیت کی بنا پر حسن اتفاق سے مسند خلافت پر مامور کر دیے گئے تھے۔ جب انہوں نے حکومت کے ذریعہ اصلاح احوال کی کوشش کی اور مظلوموں کی داد رسی کا سلسلہ شروع کیا تو وقت کی بیورو کریسی نے ان کا ساتھ نہ دیا اور انہیں دو سال کی قلیل مدت میں زہر کھلا کر حکومت سے ہٹا دیا گیا۔
ہندوستان کی تاریخ میں سید احمد شہیدؒ اور اسماعیل شہیدؒ کی تحریک کی ناکامی کے اسباب میں اس بات کا بڑا دخل تھا کہ ایک غیر صالح معاشرے نے ان کے انتہائی مفید اور کارآمد اقدامات کو بے اثر کرنے میں پورا کردار ادا کیا۔ پشاور کی فتح کے بعد شہیدین نے سرحد کے علاقے میں قاضی مقرر کیے جو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے مجاز تھے۔ جب ان قاضیوں نے خوانین کے خلاف فیصلے کیے تو راتوں رات کئی قاضیوں کو شہید کر دیا گیا۔ خود معاشرہ اس حد تک خوانین کے زیر اثر تھا کہ اس حادثہ فاجعہ پر عوام میں کوئی ہلچل نہ مچی اور نہ ہی کوئی احتجاج کی آواز بلند ہوئی۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مولانا مودودیؒ کامقالہ بعنوان ’’اسلامی حکومت کیسے قائم ہوتی ہے؟‘‘ اس مقالے میں مندرجہ بالا موضوع کی وضاحت اس عنوان کے تحت کی گئی ہے: ’’اسلامی انقلاب کی واحد سبیل‘‘ (کتاب کے موجودہ نسخوں میں ’واحد‘ کا لفظ اڑا دیا گیا ہے جو کہ مولانا مرحوم کی زندگی تک محو نہیں کیا گیا تھا) مولانا نے اپنی دو اورتصنیفات ’’اسلام کا نظریہ سیاسی‘‘ اور ’’تجدید واحیاے دین‘‘ میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے اور جویان حق کے لیے وہاں اچھا خاصا مواد مل سکتا ہے۔
مولانا کے ا س نظریے کی تائید میں نہ صرف پاکستان کے حالات بلکہ الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی الیکشن میں کام یابی اور پھر فوج کی طرف سے انہیں زمام حکومت سے دور رکھنا بلکہ عملی سیاست میں ان کے نفوذ کے تمام راستے بند کرنا پیش کیے جا سکتے ہیں۔ الجزائر کی سی ملتی جلتی صورت مصر اور دیگر عرب ممالک کی ہے جہاں فوج پر لادین عناصر کا غلبہ ہے اور وہ دینی جماعتوں کی الیکشن میں کام یابی کو بھی ناکامی میں بدل دینے پر قادر ہیں۔
۷۔ یہاں پر ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر دینی جماعتوں کا کام صرف دعوت وتبلیغ ہی ہے تو یہ کام تو تبلیغی جماعت بڑے احسن طریقے سے کر رہی ہے۔ جواباً عرض ہے کہ تبلیغی جماعت نے اپنے دائرۂ عمل کو چھ اصولوں تک محدود کیا ہوا ہے۔ دعوت دین کا ہمہ گیر کام ’’بلاغ مبین‘‘ چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
قل اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول فان تولوا فانما علیہ ما حمل وعلیکم ماحملتم وان تطیعوہ تہتدوا وما علی الرسول الا البلاغ المبین (النور)
’’ان سے کہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ پھر اگر تم اطاعت سے رو گردانی کرو گے تو (خوب سمجھ لو کہ تبلیغ رسالت کی) جو ذمہ داری رسول پر ہے‘ اس کا جواب دہ وہ ہے اور (اطاعت کی) جو ذمہ داری تم پر ہے‘ اس کے جواب دہ تم ہو اور اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمے تو صرف (خدا کا حکم) صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس۔‘‘
ایک صحیح اسلامی دعوت کے لیے جہاں امر بالمعروف کا حکم ہے‘ وہاں نہی عن المنکر کا بار گراں بھی ہے۔ جہاں کلمہ اور نماز روزہ کی تلقین ہے‘ وہاں رزق حلال کمانے اور کاروبار کو سود کی لعنت سے پاک کرنے کی مہم بھی شامل ہے۔ صحیح اسلامی دعوت گروہی اور مذہبی تعصبات سے مبرا ہوتی ہے۔ عقلی اور فکری محاذ پر اسلام کے خلاف جو بھی حملے کیے جائیں‘ وہ اس کا بھرپور جواب دیتی ہے۔ میدان سیاست میں وہ رہنمائی دینے کے قابل ہے‘ مگر سیاست پر منافقت کی چھاپ لگنے کی بنا پر وہ اس کا ایک حصہ نہیں بنتی ہے۔ صحافت اور ذرائع ابلاغ اس کے لیے شجر ممنوعہ نہیں۔ وہ نہ صرف مساجد بلکہ عوامی اجتماعات‘ مدارس‘ کالجوں‘یونیورسٹیوں اور تمام اعلیٰ Forums کے ذریعے دعوت حق کا پرچار کرتی ہے۔
۸۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نفاذ شریعت ایک اہم اور پاک مقصد ہے کہ جس کا ذریعہ بھی پاک ہونا چاہیے:
ان اللہ طیب لا یقبل الا طیبا۔
’’اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک چیزوں ہی کو پسند کرتے ہیں۔‘‘
سودی طرز معیشت کی اصلاح خود سودی کاروبار سے نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت جو کہ خود ایک غیر اسلامی تصور ہے‘ اسلام لانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ جمہوریت عوام کی اکثریت پر بنا رکھتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ محض کثرت کو کسی درجے میں مستند نہیں روا رکھتے۔ فرمایا: 
قل لا یستوی الخبیث والطیب ولو اعجبک کثرۃ الخبیث فاتقوا اللہ یا اولی الالباب لعلکم تفلحون (المائدہ)
’ ’کہہ دیجیے کہ خبیث وطیب برابر نہیں ہو سکتے‘ چاہے تمہیں ناپاک کی بہتات بھلی ہی کیوں نہ لگے۔ پس اے عقل والو‘ اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
اس آیت سے چند راہنما اصول متعین ہوتے ہیں:
(الف) محض عوام کے غلبے کے سہارے سیاسی انقلاب نہیں آ سکتا اور نہ فلاح کی صورت پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ عوام کی اکثریت غیر طیب ہے لہٰذا ان کا سہارا بھی کمزور ہے۔
(ب) اے عقل والو! اللہ کی نافرمانی سے ڈرو۔ اس حکم میں تمام غیر اسلامی طریقوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں حاکمیت جمہور کے نعرے پر استوار ہونے والی جمہوریت بھی شامل ہے۔
۹۔ نفاذ شریعت کے سلسلے میں سورہ شوریٰ کی آیت : ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو) سے اکثر استناد کیا گیا ہے۔ یہاں قرآن فہمی کی ایک بنیادی غلطی کی گئی ہے۔ ’’الدین‘‘ سے مراد عقائد دین کہ جن کا سرتاج عقیدہ توحید ہے‘ مراد ہیں اور تفرقہ بازی سے مشرکین کے وہ عقائد مراد ہیں جو مسلمانوں کو جادۂ توحید سے ہٹانے کے لیے ہر زمانے میں وضع کیے جاتے رہے ہیں۔ گو دین عقائد‘ عبادات اور معاملات سب پر حاوی ہے لیکن اس آیت میں ’’الدین‘‘ سے تمام انبیا کی وہ مشترکہ دعوت مقصود ہے جو سوائے عقیدہ توحید کے اور کچھ نہ تھی۔ آیت کا سیاق وسباق ملاحظہ ہو:
شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم وموسی وعیسی ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ کبر علی المشرکین ما تدعوہم الیہ 
’’(لوگو) اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کو (اے پیغمبر) ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کیا اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی دیا تھا (اس تاکید کے ساتھ) کہ اس دین کو قائم کرنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا ۔ یہی بات مشرکین پر شاق گزرتی ہے‘ جس کی طرف (اے پیغمبر) تم انہیں بلاتے ہو۔‘‘
’’نفاذ شریعت‘‘ کا نعرہ بلند کر کے دین کی ہمہ گیر دعوت کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا شرک جلی کی روک تھام حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر رکھی جا رہی ہے۔ بفحوائے آیت سورۃ النور : وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم حکومت ایک وعدہ الٰہی ہے جو بطور انعام ملتی ہے۔ کار خاص وہی ’’البلاغ المبین‘‘ ہے کہ جس کا تذکرہ اس آیت سے قبل کیا گیا ہے یعنی فکری اور عقائد کے لحاظ سے جب تک ’’البلاغ المبین‘‘ نہ ہو جائے‘ وعدہ الٰہی متحقق نہ ہوگا۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ یہ وعدہ امت مسلمہ سے بحیثیت ’’الجماعۃ‘‘ کیا گیا ہے اور بقول امام ابن تیمیہؒ ’’الجماعت‘‘ سے ساری امت مسلمہ مراد ہے‘ اسی لیے اجماع امت کی خلاف ورزی جائز نہیں۔
تنظیمی اعتبار سے جماعت سازی ایک تدبیر کا حکم رکھتی ہے اور ایسی کسی جماعت کو یہ زعم نہ ہونا چاہیے کہ وہی ’’الجماعۃ‘‘ ہے۔ وہ اس لیے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ید اللہ علی الجماعۃ نہ کہ علی الجماعات (اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے‘ یہ نہیں فرمایا کہ مختلف جماعتوں پر ہے)
آخر میں اسلامی انقلاب کے حصول کے لیے پچھلے مباحث کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے:
۱۔ قرآن نے لفظ انقلاب کے بجائے اصلاح کا لفظ استعمال کیا ہے:
ان ارید الا الاصلاح ما استطعت۔
’’میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں۔‘‘
اس لیے دینی جماعتوں کا محور بھی یہی اصلاح ہو۔ انقلاب ایک اشتراکی اصطلاح ہے اور مراد ہے ایک نظام کو پلٹ کر اس کی جگہ دوسرا نظام کھڑاکرنا۔ اسلام نے اسی اصلاح کے تصور سے جاہلی معاشرے کی تطہیر کی‘ اچھی خصال کو باقی رہنے دیا اور بری خصال پر پابندیاں لگائیں۔
۲۔ دینی جماعتوں کے لیے فکری اور عقائدی محاذ پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک قوم کے ذہین طبقہ کی ذہنی تبدیلی یا اصلاح نہ ہوگی‘ اسلامی نظام کا نفاذ ناقابل تصور رہے گا۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف خارجی محاذ پر تمام فتنوں کا مقابلہ کیا جائے بلکہ داخلی محاذ پر بھی نوجوانوں کی صحیح تعلیم وتربیت پر زور دیا جائے تاکہ وہ اصلاح کے عمل کو آگے بڑھا سکیں۔
۳۔ موجودہ حالات میں براہ راست الیکشن میں حصہ نہ لیا جائے بلکہ جو لوگ اس میدان کے شاہ سوار ہیں‘ انہیں اپنی دعوت کا نشانہ بنایا جائے اور جو کام آپ خود کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ انہیں ان کی مقتدرانہ حیثیت کا احساس دلاتے ہوئے وہی کام کروانے پر آمادہ کیا جائے یعنی ایسے مصلحانہ اقدامات جو اسلام کی ترویج کا باعث ہوں۔
۴۔ عملی طور پر بھی دینی جماعتوں کا انتخابی سیاست میں ملوث ہونا مفید نہ ہوگا بلکہ مضر ہوگا۔ اسباب یہ ہیں:
(الف) اس وقت اکثر دینی جماعتیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاست میں حصہ لے رہی ہیں اور ہر جماعت کے کئی کئی دھڑے ہیں۔
(ب) سیاسی طور پر ان میں آپس میں رسہ کشی پائی جاتی ہے۔ کوئی صدر پاکستان کی حامی ہے اور کوئی معزول وزیر اعظم کی طرف دار ہے۔ کسی کے نزدیک دونوں سے بے زاری ضروری ہے اور کہیں خاندانی‘ لسانی یا علاقائی عصبیت کار فرما ہے۔
ظاہر ہے کہ اس طرح دینی جماعتوں کے ووٹ تقسیم ہو جائیں گے اور لا دین عناصر کو تقویت حاصل ہوگی اور اگر بالفرض تمام دینی جماعتیں متحد ہو جائیں تو دس پندرہ سیٹوں سے زیادہ کام یابی مشکل ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ موجودہ انتخابی نظام کے ماتحت زیادہ تر وہی لوگ کام یاب ہوتے ہیں جن کے پاس دھن‘ دھونس‘ دھاندلی کی تین دالیں ہوتی ہیں ورنہ دال نہیں گلتی بلکہ جوتیوں میں دال بٹتی رہتی ہے۔
جمہوریت سے متعلق علامہ اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا ہے:
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

وفاقی شرعی عدالت کے قیام کا پس منظر اور ضروریات

جسٹس (ر) تنزیل الرحمن

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳۔ اگست ۲۰۰۲ کی خبر کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے لاہور میں اقلیتوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بتایا ہے کہ انہوں نے وفاقی وزارت قانون کو لکھ کر بھیج دیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت تعصب کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے اس لیے اسے باقی رکھنا ضروری نہیں ہے۔
وفاقی شرعی عدالت کے بارے میں ایک عرصے سے بین الاقوامی حلقوں اور پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ یہ چونکہ مذہب کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے، اس لیے اس کا عمل اور رول تعصب پر مبنی ہے جو آج کے دور میں جمہوری اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے اس لیے وفاقی شرعی عدالت بلکہ اس کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کے وجود پر بھی نظر ثانی کی جائے اور انہیں باقی رکھنے کی ضرورت کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے بھی اسی موقف کو دہرایا ہے اور بتایا ہے کہ اس موقف کو صوبائی وزارت قانون کی طرف سے باقاعدہ سفارش کا درجہ دے کر وفاقی وزارت قانون کو بھجوا دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون سے تو شاید اتنا عرض کر دینا ہی کافی ہو کہ جس پاکستان میں وہ قیام پذیر ہیں، خود اس ملک کا وجود اسی ’’تعصب‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور جس دستور کے تحت وہ صوبائی وزارت قانون کے منصب پر براجمان ہیں، اس دستور میں اس ’’تعصب‘‘ کو قومی پالیسیوں کا سرچشمہ قرار دے کر ملک کو مذہبی تعلیمات وقوانین کے دائرے میں چلانے کی ضمانت دی گئی ہے اس لیے وہ اگر اس ’’تعصب‘‘ سے پیچھا چھڑانے میں سنجیدہ اور مخلص ہیں تو انہیں سب سے پہلے ’’تعصب‘‘ کی بنیاد پر بننے والے ملک میں اپنے قیام اور ’’تعصب‘‘ کو ملک کی پالیسیوں کی بنیاد قرار دینے والے دستور کے تحت وزارت کا منصب قبول کرنے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
اس سلسلے میں وفاقی شرعی عدالت ہی کے سابق سربراہ جسٹس (ر) ڈاکٹر تنزیل الرحمن کا ایک مضمون روزنامہ ’’اسلام‘‘ کراچی نے شائع کیا ہے جس میں انہوں نے وفاقی شرعی عدالت کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے اور اسے موثر بنانے کے لیے ضروری تجاویز پیش کی ہیں۔ قارئین کے استفادہ کے لیے یہ مضمون ’’اسلام‘‘ کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔
(ادارہ)

جنرل محمد ضیاء الحق نے عنان حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد وعدہ کیا کہ وہ ملک کے نظام کو اسلامی خدوخال سے مزین کریں گے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے اس مقصد سے ایک عام اعلان کیا جس میں کہا گیا کہ یکم جنوری ۱۹۷۸ء سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں کسی بھی ایسے قانون کو کالعدم قرار دینے کی مجاز ہوں گی جو قرآن وسنت سے متصادم ہوگا۔
اپنے قانونی مشیروں سے مشورہ کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اس اعلان کا اطلاق ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ پر براہ راست کرنے کے بجائے تما م ہائی کورٹس میں چار شریعت بینچیں تشکیل دیں اور سپریم کورٹ میں ایک شریعت اپیلٹ بنچ قائم کی۔ یہ بنچیں فروری ۱۹۷۹ء کو ایک حکم کے ذریعے قائم کی گئیں جن کا مقصد ملکی قوانین سے ان احکامات کا خاتمہ کرنا تھا جو قرآن وسنت سے متصادم تھے۔ صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۹۷۳ء کے آئین میں ترمیم کر کے وفاقی شرعی عدالت قائم کی۔ یہ نئی وفاقی شرعی عدالت قانون عامہ (Common Law) کے پانچ ماہر جج صاحبان پر مشتمل تھی۔ اس میں شامل چار ججز ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ایک ریٹائرڈ سپریم کورٹ کے جج کو اس کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق بلاشبہ مقصد سے مخلص نہیں تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ چند مستثنیات کے علاوہ عدلیہ کے ارکان شریعت کی مطلوبہ اہلیت اور تربیت نہیں رکھتے۔ ان کا اصل مقصد کچھ ججوں کو ان کی متعلقہ ہائی کورٹس سے فوراً علیحدہ کرنا تھا کیونکہ مارشل لا کے نقطہ نگاہ سے یہ جج ناپسندیدہ قرار پائے تھے۔ اس مقصد کا مکمل اظہار ۱۹۸۱ء کے عبوری آئینی حکم سے ہوا جو شرعی عدالت کے نو ماہ بعد سامنے آیا۔ اس حکم کے تحت چیف جسٹس سمیت ہماری اعلیٰ عدلیہ کے دو درجن ارکان کو ان کے عہدوں سے جبری ریٹائر کر دیا گیا۔
جیسا کہ کہا گیا، عدالت کے قیام کا اصل مقصد قوانین کو اسلامی شکل دینا نہیں تھا کیونکہ عدالت میں علما جج شامل نہیں تھے اور اس کے اختیارات بھی محدود تھے۔ عدالت کو اختیار نہیں تھا کہ وہ:
۱۔ آئین کی کسی دفعہ کا جائزہ لے جو ہمارے قانون اور سماجی زندگی کی اساس ہے۔
۲۔ مسلم پرسنل لا کا جائزہ لے جو خاندانی زندگی کا بنیادی قانون ہے۔
۳۔ مالی اور ٹیکس سے متعلق قوانین کا جائزہ لے جو ہمارے معاشرے کے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔
۴۔ ان قواعد وقوانین کا جائزہ لے جو ہماری عدالتوں اور ٹربیونلز میں انصاف کی فراہمی کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔
یہی سبب تھا کہ عوام، علما اور قانون دانوں نے عدالت پر کسی اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ عدالت ان کی مشکل کا ازالہ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کو اختیارات ہی نہیں دیے گئے۔ بعد ازاں جب وفاقی شرعی عدالت نے اپنے ایک فیصلے کے تحت رجم کو حد قرار دینے سے انکار کیا تو اس فیصلے کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے اور جنرل ضیاء الحق مجبور ہو گئے کہ شرعی عدالت میں اسلامی قوانین سے واقف تین علما بھی شامل کریں۔ اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑی۔
کچھ عرصے بعد آئین میں پھر ترمیم کی گئی اور سپریم کورٹ میں دو علما کو شامل کیا گیا کیونکہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ اپیلٹ بنچ کے عام جج شرعی معاملات میں عوامی اعتماد پر پورا اترنے سے قاصر تھے تاہم وفاقی شرعی عدالت میں علما ججز کی تقرری سے متعلق آئینی دفعہ میں ایک بڑا سقم ہے۔ اس دفعہ میں عالم جج کی مطلوبہ اہلیت کو واضح نہیں کیا گیا بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ اسے اسلامی قوانین سے اچھی طرح آگاہ ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مطلوبہ جج کو یہ واقفیت ہے یا نہیں؟ آئین اس بارے میں بالکل خاموش ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی شرعی عدالت میں جج کی حیثیت سے تقرری کے لیے عالم کی اہلیت کو آئین میں واضح کر دیا جائے۔
میری ناچیز رائے میں یہ ایک ایسا فرد ہونا چاہیے جو درس نظامی سے فراغت کے بعد تخصص فی الفقہ شرعی کورس کسی مستند دار العلوم سے مکمل کر چکا ہو، اس نے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے ایل ایل ایم شریعت کی ڈگری حاصل کی ہو یا وہ عربی، اسلامک اسٹڈی یا اسلامی اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حامل ہو اور ساتھ ساتھ ہی اسلامی تحقیقی ادارے میں کم از کم پندرہ برس خدمات انجام دے چکا ہو، ایسے فرد کو شرعی عدالت میں عالم جج کی حیثیت سے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ رہا ہے کہ شریعت کا مطلوبہ علم رکھنے والے ججز کا قحط رہا ہے۔ اس کا سبب ہماری قانونی تعلیم کا نظام ہے۔ بینچ اور بار دونوں کے ارکان دیوانی قوانین میں تحصیل یافتہ وتربیت یافتہ ہوتے ہیں جو اصل میں ’’اینگلو سیکسن‘‘ قوانین ہیں۔ چند مستثنیات وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی محنت سے اسلامی قوانین کا علم حاصل کیا ہے۔ اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی کے قیام کے بعد صورت حال ذرا بہتر ہوئی ہے اور ۱۹۸۹ء کے بعد سے شرعی قوانین اور اسلامی اقتصادیات میں پی ایچ ڈی اور ماسٹر ڈگری کے حامل افراد کی قابل ذکر تعداد فارغ التحصیل ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں دیوانی قوانین کے ججز کی تعداد کو رفتہ رفتہ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بدلے اہل علم علما، شریعت لا کے پروفیسر اور پوسٹ گریجویٹ افراد کو وفاقی شرعی عدالت میں جج مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس تقرر کے لیے آئین کی دفعہ 203C(BA) میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔
۹۸۳اء میں جب میں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین تھا، مجھ سے وفاقی سیکرٹری قانون نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے بارے میں غیر رسمی صلاح مشورہ کیا تھا۔ میں نے بس اتنا کہا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے اعتبار سے ہی ہونی چاہیے یعنی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور جج صاحبان (بشمول علما جج) اور شرعی اپیلٹ بنچ (سپریم کورٹ) کی ریٹائرمنٹ کی عمر ۶۵ برس مقرر کی جائے۔ یہ مشورہ جنرل ضیا کے لیے سود مند نہیں تھا کیونکہ وہ چیف جسٹس اور کورٹ کے ججوں کو اپنی مرضی کا پابند رکھنا چاہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ شرعی عدالت کے ججوں کی تقرری اور معزولی مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں رہے۔
ججوں کی ریٹائرمنٹ کا معاملہ ایگزیکٹو کی صواب دید پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ اس طرح چیف جسٹس، جج صاحبان اور علما جج صاحبان کو اس مسلسل خطرے سے نجات مل جائے گی کہ ان کی ملازمتوں کو صدر یا وزیر اعظم کسی فیصلے سے ناراض ہو کر ختم کر سکتے ہیں۔
وفاقی شرعی عدالت کے قیام کے ساتھ ہائی کورٹس میں شرعی بنچوں کے قیام کے قبل ازیں کیے گئے قانونی فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا۔ ان بنچوں میں التوا میں پڑی مختلف شرعی پیشیوں کو شرعی عدالت میں بھیج دیا گیا۔ مئی میں ختم ہونے والے ایک سال کے دوران شرعی عدالت نے ایک سو چودہ ایسی پیشیوں کو نمٹا دیا۔ ان میں سے اکثر کا تعلق ایسے معاملات سے تھا جن سے درخواست دہندگان کا ذاتی مفاد وابستہ تھا۔ مثال کے طور پر ۶۷ درخواستوں کا تعلق پنجاب میں زرعی مزارعت سے تھا جبکہ درجن بھر درخواستیں قتل سے متعلق دفعہ تین سو دو کے بارے میں تھیں۔ عدالت نے ان دونوں قوانین پر فیصلہ ۸۱۔۱۹۸۰ میں صادر کر دیا لیکن فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ شرعی اپیلٹ بنچ میں دائر کی گئی جس کے باعث حتمی فیصلہ آنے میں مزید آٹھ برس لگ گئے۔
پنجاب میں قصاص ودیت کے قوانین ۹۰۔۱۹۸۹ء میں بنائے گئے تقریباً نصف درجن درخواستوں کا تعلق نماز کے اوقات، اذان اور پردے وغیرہ سے تھا جن کوخارج کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ مزید درخواستیں بھی تھیں جن کا فیصلہ کرنے کا اختیار شرعی عدالت کے پاس نہ تھا لہٰذا ان کو برخاست کر دیا گیا۔
عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسی تمام کوششوں سے قوانین کو اسلامی شکل دینے کی مد میں کوئی خاطر خواہ کام یابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس لیے ۱۹۸۲ء کے لگ بھگ صدر نے آئین میں مزید ترمیم کی اور شرعی عدالت کو اختیار دیا گیا کہ وہ ازخود جائزہ لے اور مذکورہ پابندیوں کے دائرے میں قوانین کو قرآن وسنت سے متصادم پائے تو ان کو کالعدم قرار دے۔ لہٰذا شرعی عدالت نے قومی روزناموں میں اشتہارات جاری کیے کہ فلاں فلاں تاریخوں کو فلاں فلاں قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔ عوام اور علما کو بتا دیا گیا کہ دونوں قوانین کے حوالے سے اپنی رائے دیں اور معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالت کی مدد کریں۔ بعد ازاں شرعی عدالت نے بتایا کہ اس کو کسی ضلع سے کوئی رہنمائی یا معاونت نہیں مل سکی کیونکہ عوام نے اس معاملے میں دل چسپی نہیں لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عدالت کو اپنے طور پر نئے قوانین کا جائزہ خود لینا پڑا اور یوں وہ عملی طور پر محض ایک کمیشن میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔
عوامی حلقوں کا کوئی فرد کسی قانون کی دفعہ کو شریعت سے متصادم قرار دینے کے لیے اعتراض اٹھانے کی غرض سے شرعی عدالت نہیں آیا۔ یہاں مجھے ہائی کورٹ کے اپنے ایک فاضل دوست کے الفاظ یاد آ رہے ہیں جس کو تبادلے پر وفاقی شرعی عدالت میں خدمات انجام دینی پڑی تھیں۔ ۲۰ جنوری ۱۹۸۳ء کو جنرل ضیاء الحق کی سرکردگی میں نفاذ اسلام کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نے کہا تھا: ’’ہم شرعی عدالت کے جج دیوانی قوانین کے جج ہیں۔ قوانین کا تجزیہ کرنے کے لیے ہم کو شریعت کے ماہرین کی معاونت درکار ہے۔‘‘
شرعی عدالت کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت سے متصادم قانونی دفعات کی نشان دہی کرے، اس کے بعد حکومت کا فرض ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کر کے مذکورہ دفعہ کو شریعت کے مطابق بنا دے، لیکن حکومت عام طور پر پالیسی کے تحت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرتی ہے جس کی سماعت میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ حکومت ان اپیلوں کے جلد فیصلے کروانے کے لیے کوئی دل چسپی ظاہر نہیں کرتی۔ اس کے برخلاف وہ تاخیری حربے استعمال کرتی ہے جبکہ خود سپریم کورٹ بھی ایسی اپیلوں کی سماعت کو ترجیح نہیں دیتی۔ وہ عام دیوانی اور فوج داری درخواستیں نمٹانے میں مصروف رہتی ہے۔ سیاسی امور کے تصفیے میں بھی کافی وقت صرف ہوتا ہے۔
میں نے حال ہی میں اخبارات میں پڑھا ہے کہ چیف جسٹس نے لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں پانچ بنچوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ میری خواہش تھی کہ اس موقع پر شریعت اپیلٹ بنچ بھی قائم کر دی جاتی تاکہ ان شرعی اپیلوں کی سماعت ممکن ہو جاتی ہے جو عرصہ چھ سات برس سے التوا کا شکار ہیں۔
یہاں میں ایک اور اہم بات کی نشان دہی کرتا چلوں۔ ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیا نے آئین کی دفعہ 203(1) میں ایک اضافہ کر دیا تھا جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ اپیلٹ بنچ میں محض اپیل دائر کرتے ہی خود بخود حکم امتناعی حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ حکم امتناعی اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک سپریم کورٹ کی متعلقہ بنچ اپیل پر فیصلہ نہیں سنا دیتی۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دیگر تمام کارروائیوں میں ہائی کورٹ کے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کا حکم امتناعی اس وقت تک حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک سپریم کورٹ اس کے لیے خصوصی احکامات صادر نہ کرے لیکن شرعی امور کے لیے جنرل ضیاء الحق نے یہ بے مثل دفعہ بنائی ہے تاکہ ان کے مقاصد پر پوری اتر سکے۔ یہ دفعہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اگر اس کو جاری رہنے دیا گیا تو اس کی حیثیت اپیل کنندہ (جو عموماً حکومت ہوتی ہے) کے ہاتھ میں آلہ استبداد کی سی رہے گی۔

احیائے امت کے چند بنیادی تقاضے

پروفیسر میاں انعام الرحمن

معاصر اسلامی دنیا بیدار ہو چکی ہے۔ اپنے حقوق اور تشخص کی بازیافت کے لیے ہر مسلمان کسی نہ کسی محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ اس صورت حال میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے موجودہ سفر کے راستے کا تعین کریں اور اس سفر کے تقاضوں سے کماحقہ واقف ہوں۔ ذیل میں اس حوالے سے ایک طالب علمانہ کاوش کی گئی ہے۔
اگر ہم کائناتی تناظر میں زندگی پر غور وفکر کریں تو اس کی بے ثباتی عیاں ہو جاتی ہے۔ فانی دنیا ہے اور فانی انسان۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری تگ ودو اور دوڑ دھوپ کس لیے ہے کیونکہ ہماری اپنی زندگی تو نہایت محدود ہے کہ سانس کا کیا بھروسہ! ہماری محدود زندگی کی ’’تحدید‘‘ میں پہلی دراڑ اس وقت پڑتی ہے جب ہم ’’تاریخی شعور‘‘ کے حامل ہو جاتے ہیں، یہ شعور کہ ہم اپنے اجداد کے اجساد اور خیالات کا تسلسل ہیں، ان کی چھوڑی ہوئی میراث کے پاسبان اور امین ہیں۔ اسی تاریخی شعور سے زندگی کی ایسی معنویت جنم لیتی ہے جو ہمیں مستقبل کے ادراک کے قابل بناتی ہے، امیدوں کا مسکن، امنگوں کی آماج گاہ شاندار مستقبل۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس شاندار مستقبل کا تانا بانا تاریخی شعور سے ہی بنا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم شان دار مستقبل کی امید باندھتے ہیں تو ہمیں لازماً تاریخی شعور کو اپنے افکارواعمال میں رچانا ہوگا۔ ایک دوسرے زاویے سے ہم مذکورہ بات کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ ہر موجود نسل حقیقت میں ذمہ دار نسل ہوتی ہے جس کے ایک کندھے پر تاریخی شعور کی میراث ہوتی ہے اور دوسرے کندھے پر شان دار مستقبل کی منصوبہ بندی۔ اس اعتبار سے یہ ذمہ داری زندگی کی تحدید کی نفی کر دیتی ہے کیونکہ اس ذمہ داری کے سبب ہمارا رابطہ ماضی، حال اور مستقبل تینوں سے بیک وقت ہوتا ہے کہ یہ رابطہ اور ذمہ داری انسان اور زندگی کو مسلسل وسعت پذیر رکھتے ہیں۔ 
اس گفتگو کے پیش نظر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ :
۱۔ انسان کا بنیادی حوالہ حیاتیاتی حوالہ ہے۔
۲۔ اسی حیاتیاتی حوالے کے طفیل انسان اپنے اجداد کے خیالات وافکار کے تحفظ سے نہ صرف میراث کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ اپنے عصری ماحول کے ساتھ ان خیالات وافکار کے تطابق سے فکری وحیاتیاتی تسلسل کے فروغ کی امید بھی باندھتا ہے۔ اس طرح ضروری ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی فکر یا نظریہ اگر اپنے دوام کا خواہش مند ہے تو اس کا زندگی سے رشتہ بہت مضبوط اور گہرا ہونا چاہیے کیونکہ فقط اسی صورت میں مستقبل کا انسان ایسی فکر کو اپنے عصری ماحول میں جگہ دے پائے گا۔
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ انسان کے حیاتیاتی تحفظ کے لیے ایک جامع پروگرام دیتا ہے۔ ’’انسان جیسا کہ وہ ہے‘‘ کی حفاظت کا اہتمام مسواک سے شروع ہوتا ہے اور درجہ بدرجہ مختلف مراحل طے کرتا ہوا حفظ قرآن کی روایت پر ختم ہو جاتا ہے۔ اسلام کے حیاتیاتی پروگرام کی اہمیت وافادیت جس قدر آج کے دور میں اجاگر ہو سکتی ہے، اس سے پہلے اس کا عشر عشیر بھی ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ آج انسان اربوں کی تعداد میں ہیں لیکن ان کا حیاتیاتی اثبات (Biological Assertion)بحیثیت انسان بری طرح مجروح ہوا ہے جس کی چند مثالیں ایٹمی وماحولیاتی منفی اثرات اور کلوننگ ہیں۔ جدید عہد اور اس میں رائج رجحانات جراحت کا سامان پیدا کرنے میں تاحال ناکامی سے دوچار ہیں۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ خارجی (Extrovert) اپروچ ہے۔ کسی تبدیلی اور بہتری کے آثار کے لیے اس اپروچ پر کاری ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔ یہ اطمینان کی بات ہے کہ عالمی مسلم معاشرے کا عمومی رجحان داخلی (Introvert) ہے لہٰذا دنیا کے سامنے ایک ’’مثالی حیاتیاتی انسانی گروہ‘‘ پیش کرنے میں ہماری راہ میں زیادہ مشکلات حائل نہیں ہیں۔ ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ اسلام کے حیاتیاتی پروگرام کی معنویت کی تہیں کھولنا شروع کر دیں۔ خیال رہے کہ ہر عہد اپنے حصے کی تہیں کھول سکتا ہے اس لیے اجداد کی تشریحات کو ہوبہو اپنانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔
حیاتیاتی سطح کے بعد انسان کی معاشرتی سطح کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس سطح پر انسان کو Extrovert ہونا پڑتا ہے لیکن چونکہ مسلم معاشرے کا عمومی رجحان Introvert ہے لہٰذا اچھی خاصی گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہم رہتے اکیسویں صدی میں ہیں لیکن ہماری معاشرتی سطح یعنی افراد کا باہمی تعامل (Interaction) مخصوص رجحان کی وجہ سے چھٹی ساتویں صدی کی سطح پر ہوتا ہے۔ معاشرتی سطح پر اسی خود بینی کے سبب ہر کوئی لیڈر بنا ہوا ہے، ہر ایک کی اپنی اپنی سوچ ہے، کوئی بھی اپنے دائرے کو پھلانگ کر معاشرتی دھارے میں شامل ہونے کو تیار نہیں کہ اس سے اس کی اپنی انفرادیت اور لیڈری ختم ہونے کا احتمال رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مذہب ایک جذباتی قدر بن کر رہ گیا ہے اور اس کا زندگی سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔ خیال رہے کہ یہاں ہم نے ’دین‘ کے بجائے ’مذہب‘ کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ ’دین‘ کا تقاضا تو معاشرتی سطح پر Extrovert اپروچ اختیار کرنا ہے جس سے مسلم معاشرہ محترز ہے۔ مذہب اور زندگی کی باہمی دوری سے معاشرت کے ساتھ ساتھ انسان کی حیاتیاتی سطح بھی مجروح ہونے کا امکان ہے۔ بہرحال یہ نہایت ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ زندگی کی معاشرتی سطح پر Extrovert اپر وچ اپنائے تاکہ مذہب اور زندگی کے باہمی رشتے سے ’دین‘ کی تفہیم ہو سکے۔
دین کو معاشرتی دھارے میں سمونے کے ساتھ ساتھ عصری ماحول کی تفہیم بھی بہت ضروری ہے۔ اپنے عہد کی نبض پر ہاتھ رکھے بغیر ہم ابھر کر سامنے نہیں آ سکتے اور نہ خارجی واقعیت پر فتح پا سکتے ہیں۔ مثلاً برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک میں علما کا کردار بہت اہم تھا لیکن اس کا کریڈٹ قائد اعظم محمد علی جناح لے گئے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ ہماری رائے میں جناح نے اپنے عہد کی نبض کو سمجھ لیا تھا، علما ایسا کرنے سے قاصر رہے۔ جناح نے باقی سب امور کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی جدوجہد کو ’’دستوریت‘‘ سے عبارت کر لیا کیونکہ انگریزوں کی آمد کے بعد حکمرانی کے انداز وآداب، دستوریت اور جمہوریت سے عبارت تھے۔ جناح نے اسی چیز کو بھانپتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور شناخت کے لیے دستوری اقدامات کا مطالبہ کیا اور کانگریس کے انکار اور ہٹ دھرمی پر خود مختار پاکستان کا مطالبہ کر دیا۔ جناح کے خطبات میں وہ ’’تاریخی شعور‘‘ پوری طرح جھلکتا ہے جس کا ابتدائی سطروں میں ذکر ہوا۔ اس تاریخی شعور کی زمین سے ہی مستقبل کا خاکہ یعنی پاکستان تعمیر ہوا۔ اکیسویں صدی کی مسلم لیڈر شپ کو طے کرنا ہوگا کہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے تشخص کی سلامتی دستوری، عسکری، تبلیغی اور معاشرتی میدانوں میں کس قسم کے اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں ۔ان میں سے کسی ایک پر زور دینا ہوگا یا سبھی سمتوں میں متوازی انداز میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان کی Presentation کیسے ہوگی؟ مثلاً برصغیر میں دستوری اقدامات کے حوالے سے مسلم مفادات کو جداگانہ انتخابات کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اسی طرح مطالبہ پاکستان کی Presentation دو قومی نظریہ اور ’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ‘ کی صورت میں ہوئی۔ لہٰذا نہایت ضروری امر ہے کہ اپنے عہد کی نبض سمجھنے کے ساتھ ساتھ اقدامات کی Presentation خاصے ڈھنگ سے ہو۔
موجودہ عہد کی تفہیم کے ضمن میں ایک نکتہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہماری کاوشیں جغرافیائی اور مقامی ہونی چاہییں نہ کہ غیر جغرافیائی اور عالمی۔ یہ حقیقت ہے کہ گلوبلائزیشن سے غیر جغرافیائی عوامل تقویت پکڑ رہے ہیں لیکن دوسری طرف گلوبلائزیشن کے دباؤ سے علاقائیت اور مقامیت بھی رد عمل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ہمیں اسلامی عالم گیریت میں موجود مقامی عناصر کو منصہ شہود پر لانا ہوگا تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہو سکیں۔
مسلم احیا کے لیے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے ہمیں ایسے افراد اور انجمنیں تلاش کرنی ہوں گی جن کا تعلق ہمارے مخالفین سے ہو لیکن غیر جانب دار اور سلیم الفطرت ہونے کے ناتے وہ ہمارے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوں۔ ایسا گروہ نہ صرف ہماری حمایت کرے گا بلکہ ایک خاص پہلو سے راہنمائی بھی کرے گا۔ مخالفین میں سے ہونے کے ناتے اس گروہ کی رسائی ہمارے مخالفوں کے افکار واعمال کے داخلی ڈھانچے تک بھی ہوگی جس سے ہماری منصوبہ بندی کافی حد تک ممکنہ نقائص سے پاک رہے گی۔ دنیا میں جتنی بھی تحریکات کام یاب ہوئیں، جتنے بھی انقلابات برپا ہوئے، ان میں اس مخصوص گروہ کا کردار نہایت اہم رہا۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ صرف ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کو ہی دیکھ لیجیے۔ اس میں Narodniks نے بہت فعال کردار ادا کیا۔ (Narodnikism ایک روسی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے:کسانوں کے ساتھ مواخات)انڈیا، مشرقی یورپ اور دیگر یورپی کالونیوں میں بھی اعلیٰ طبقے کے مقامی لوگوں اور ہم دردی رکھنے والے صاحب اقتدار غیر ملکیوں نے عوام کو انقلاب کی راہ رکھائی۔ 
مسلم احیا کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا خو دتنقیدی ہے یعنی اس سفر پر روانہ ہونے کے بعد ہر وقت الرٹ رہنا کہ کیا ہم سچ مچ صحیح سمت میں جا رہے ہیں؟ کیا ہم حقیقی معنوں میں تاریخی شعور کے حامل ہیں؟ کیا ہم نے ماضی قریب کی اسلامی تحریکات کی ناکامی کا تجزیاتی جائزہ لیتے ہوئے درست نتائج اخذ کیے ہیں؟ ہمیں جوش وجذبے کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن کام یابی پانے کے لیے تشکیک اور خود تنقیدی بہت ضروری ہے۔ امریکی انقلاب پر تحقیق کرنے والے محققین کی رائے ہے کہ اس انقلاب کا نہایت اہم پہلو دوران انقلاب اپنے اقدامات پر انتہائی سختی سے ’’سوالات‘‘ کرنا تھا۔ اگر اٹکل پچو انداز اپنایا جاتا تو یقیناًانقلابیوں کے سارے تیر بے ہدف ثابت ہوتے۔
مذکورہ بالا بحث کے ذیلی پہلوؤں پر مشتمل تفصیلی بساط بچھائی جا سکتی ہے لیکن طوالت کے خوف سے اس سے اغماض برتا گیا ہے: تو خود حدیث مفصل بخواں ازیں مجمل۔

دار العلوم دیوبند اور دہشت گردی

مولانا حبیب الرحمن قاسمی

دار العلوم دیوبند محض ایک دینی مدرسہ اور تعلیمی وتربیتی ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک عظیم دینی‘ علمی اور اصلاحی تحریک کا عنوان ہے جس نے ملت اسلامیہ کو فکر ونظر کی طہارت وپاکیزگی‘ قلب وجگر کو عزم واستقامت اور جسم وجان کو تازگی وتوانائی بخشنے میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اقامت دین اور حریت فکر کی یہی ہمہ گیر تحریک آج ’’دیوبندیت‘‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔یہ دیوبندیت کوئی جدید مذہب یا فرقہ نہیں بلکہ سلف صالحین سے متوارث قدیم مسلک اہل سنت والجماعت کا ایک متوازن وجامع مرقع ہے جس میں اہل سنت والجماعت کی تمام شاخیں مربوط اور ہم آہنگ ہو گئی ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال لاہوریؒ سے کسی نے ایک موقع پر پوچھا تھا کہ یہ دیوبندیت کیا چیز ہے؟ یہ کوئی مذہب وفرقہ ہے؟ تو انہوں نے نہایت مختصر مگر جامع الفاظ میں فرمایا کہ ’’یہ مذہب ہے نہ فرقہ بلکہ ہر معقول پسند آدمی کا نام دیوبندی ہے۔‘‘ ایک جملے میں دیوبندیت کی یہ حقیقت نما تعریف انہیں کے کمال فکر وادب کا حصہ ہے۔
ہندوستان کی سیاسی وثقافتی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے دوران ہر قسم کا بگاڑ پیدا ہو گیا تھا۔ شریعت کی جگہ رسوم نے‘ عقیدہ کی جگہ توہمات نے اور سیاست کی جگہ سازشوں نے لے لی تھی۔ علماء دین اور مشائخ ارشاد بھی‘ جن کا معاشرہ کی اصلاح میں اہم کردار رہا ہے‘ اس عمومی زبوں حالی سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکے تھے اور مسلکی وطبقاتی تشتت وانتشار کا شکار ہو کر ایک دوسرے سے دست وگریباں تھے۔ فقہا صوفیوں کو ذہنی اوہام کا اسیر‘ باطل تخیلات میں گرفتار اور گم کردہ راہ بتاتے تھے اور صوفیا فقیہوں کو محروم باطن‘ ظاہر پرست اور ذوق شریعت سے عاری ٹھہراتے تھے۔ علماء حدیث متکلمین کو عقل کا غلام اور نصوص کتاب وسنت سے بے گانہ کہتے تھے اور علماء کلام محدثین کو لفظی تعبیرات میں گم بندۂ ظواہر کا طعنہ دیتے تھے اور اس طبقاتی آویزش میں اس قدر شدت پیدا ہو گئی تھی کہ اس نے باہمی نزاع کی صورت اختیار کر لی تھی اور ہر طبقہ دوسرے کے ابطال بلکہ تکفیر پر آمادہ نظر آتا تھا۔ تحریک دار العلوم دیوبند نے اپنے مبنی بر اعتدال اور جامع مسلک میں‘ جو در حقیقت حکیم الامت امام کبیر شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی دعوت اصلاح وانقلاب کا نقش ثانی اور عکس جمیل ہے‘ حدیث‘ تفسیر‘ فقہ‘ اصول فقہ‘ کلام‘ تصوف‘ حقیقت ومعرفت وغیرہ جملہ اسلامی علوم وفنون اور احوال ومقامات کو مناسب ترتیب سے جمع کر دیا کہ تمام اسلامی علوم وفنون اپنی بھرپور افادیت کے ساتھ ہار کے موتیوں کی طرح ایک سررشتہ میں منسلک ہو گئے جس سے مسلکی اور علمی طبقات کے ایک نقطہ پر جمع ہونے کی صورت پیدا ہو گئی۔ بالفاظ دیگر یوں سمجھئے کہ تحریک دار العلوم دیوبند یا دیوبندیت کے دو بنیادی عنصر ہیں: ایک علمی اور دوسرا اخلاقی، اور یہ دونوں عنصر اپنے دامن اعتدال وجامعیت میں تمام اسلامی طبقوں اور مسلکوں کے مغز اور روح کو سمیٹے ہوئے ہیں، اس لیے دیوبندیت صحیح معنوں میں سارے علمی واخلاقی طبقات کا مرکز اجتماع ہے۔ 
دار العلوم دیوبند کے فضلا اور ان فضلا کے تلامذہ نے دیوبندیت کے اسی مذکورہ علمی وفکری منہاج پر اپنے اپنے علاقوں اور دائرۂ اثر ورسوخ میں اسلامی مدرسے اور تعلیمی درس گاہیں قائم کیں۔ یہ سارے ادارے اپنی مستقل حیثیت رکھنے کے باوجود اصولاً اسی نظام شمسی (دار العلوم دیوبند) کے ستارے ہیں جن کی ضیا پاش کرنوں سے نہ صرف برصغیر کا علمی ودینی گوشہ گوشہ تاب ناک ہے بلکہ پورے بر اعظم ایشیا اور اس سے بھی گزر کر افریقہ اور یورپ کے دور دراز بر اعظموں کو بھی علم وہدایت کے اجالے پہنچا رہے ہیں۔ اس طرح دار العلوم دیوبند کی یہ دینی‘ علمی اور اصلاحی تحریک جس کا آغاز ہندوستان کے ایک غیر معروف‘ گم نام قصبے سے ہوا تھا‘ آج ایک عظیم عالم گیر تحریک کی حیثیت سے بین الاقوامی برادری میں اپنی خاص پہچان رکھتی ہے۔ دیوبندی فکر کے حامل دنیا میں پھیلے سارے دینی مدارس دراصل اسی شجرۂ طوبیٰ کی شاخیں ہیں۔ اصل وفرع کا یہ ایسا اٹوٹ رشتہ ہے جو رد وقبول کے رسمی ضابطوں سے بالاتر اور قرب وبعد کی حدوں سے بے نیاز اور معنوی تقسیم وتجزیہ سے ماورا ہے۔
دار العلوم دیوبند اور اس کے فکر وعمل سے ہم آہنگ ان مدارس اسلامیہ میں ایک معقول تعداد ایسے مدرسوں کی بھی ہے جو ہندوستان کی آزادی سے بہت پہلے سے قائم ہیں اور بغیر کسی انقطاع کے مسلسل علم وتہذیب کی روشنی پھیلانے میں مصروف کار ہیں جنہیں سامراجی حکومت بھی اچھی نظر سے دیکھتی تھی اور ان کی علم پروری‘ انسانیت نوازی اور وطن دوستی کی کھلے دل سے معترف تھی۔
غرضیکہ ہندوستان میں موجود ان مدرسوں نے اپنی تعلیم وتربیت کے ذریعے سے جہاں اسلامی علوم وفنون کے ماہرین پیدا کیے‘ جن کی علمی خدمات کی بدولت دنیا میں ہندوستان کا نام سربلند اور روشن ہوا‘ وہیں زندگی کے ہر شعبے کے لیے فرض شناس‘ دیانت دار رجال کار بھی فراہم کیے جن سے براہ راست ملک کے استحکام وترقی میں غیر معمولی تعاون ملا ہے۔ اعلیٰ انسانی قدروں کے فروغ‘ تہذیب وتمدن اور حسن معاشرت کو رواج دینے میں ان مدرسوں نے جو قابل قدر خدمات انجام دی ہیں‘ ان کے پیش نظر بغیر کسی تردد کے کہا جا سکتا ہے کہ ایک منصف مزاج‘ حقیقت شناس‘ تعصب وتنگ نظری سے بری تجزیہ نگار جب حکومتوں کے مصارف اور امداد وتعاون سے چلنے والے تعلیمی اداروں اور ان مدرسوں کی علمی‘ سماجی خدمات کا تفصیلی جائزہ لے گا تو سرکاری تعلیمی اداروں کے مقابلے میں مدارس کی وسیع تر انسانیت نواز خدمات کی تحسین کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
مگر آج کے آزاد بھارت میں، جو دستوری اعتبار سے جمہوریت اور سیکولرازم کا پابند ہے‘ آئین وقانون کی رو سے جہاں ہر مذہبی ولسانی اکائیوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا مکمل حق حاصل ہے‘ ایک خاص فکر وذہن اور سیاسی نقطہ نظر کے تحت سرزمین ہند سے اسلامی مدرسوں کو مٹا دینے یا کم از کم انہیں تہذیبی طور پر بے جان بنا دینے کی ملک گیر پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے اور عصری سیاست کے ماہر میکاولی کی اس تھیوری کے مطابق کہ ’’اپنے دشمن کو مارنے سے پہلے ضروری ہے کہ اسے خوب بدنام کیا جائے‘‘ انسانی قدروں کے محافظ ان مدرسوں کو بغیر کسی معقول بنیاد اور قانونی ثبوت کے دہشت گرد بتایا جا رہا ہے اور حیرت تو اس پر ہے کہ دہشت گردی جن لوگوں کی سرشت میں پیوست ہے‘ جن کا دامن حیات دہشت گردی کے سیاہ داغوں سے تیرہ وتاریک ہے‘ جن کی دہشت گردیوں سے ملک کی سب سے زرخیز اور ہر اعتبار سے شاد وآباد ریاست کھنڈر میں تبدیل ہو گئی ہے‘ جن کے دہشت گردانہ حملوں سے زندوں کے مکانات‘ مردوں کے مزارات‘ اقلیتوں کی عبادت گاہیں ہی نہیں بلکہ ریاست کی اسمبلیاں تک محفوظ نہیں ہیں، جن کی دہشت گردیوں کی شہادت مظلوم اقلیتوں کے خون سے لت پت ارض وطن کا چپہ چپہ دے رہا ہے‘ آج یہی لوگ ان مدارس کو دہشت گرد بتاتے ہیں جن کی سلامت روی‘ امن پروری اور وطن دوستی کے اپنے ہی نہیں‘ پرائے تک معترف ہیں۔ اسی جون‘ جولائی کے مہینوں میں فرانس اور جرمنی کے سفرا برائے ہند نے دیوبندی مکتب فکر سے متعلق براہ راست معلومات فراہم کرنے اور صحیح حقائق کو جاننے کی غرض سے دار العلوم دیوبند آکر یہاں کے نظام تعلیم وتربیت کا بغور مطالعہ کرنے‘ طلبہ واساتذہ اور انتظامیہ سے براہ راست گفتگو کرنے کے بعد اپنے تحریری معائنے میں صاف لفظوں میں اس کا اعتراف کیا کہ دار العلوم دیوبند اور دیوبندی مکتبہ فکر کے بارے میں آج کل جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں‘ ان کا حقائق وواقعات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ بالخصوص جرمنی کے نائب سفیر نے تو دار العلوم دیوبند میں چوبیس گھنٹے سے زائد گزارے اور درس گاہوں میں جا کر اساتذہ کی درسی تقریریں سنیں‘ طلبہ کے حجروں میں پہنچ کر ان کے رہن سہن اور طرز زندگی کو سمجھنے اور ان سے طویل گفتگو کر کے ان کے عندیہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اس تفصیلی تحقیق وتفتیش کے بعد وہ اس درجہ متاثر ہوئے کہ حضرت مہتمم صاحب مدظلہ سے عرض کیاکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں کے اساتذہ کا ایک وفد ہمارے یہاں جرمن آئے اور وہاں آباد مسلمانوں کو اپنے خیالات اور طرز معاشرت سے آگاہ کرے اور مزید برآں دہلی واپس جا کر دار العلوم دیوبند کے بارے میں انگریزی اخبارات میں ایک مضمون بھی شائع کرایا جس میں اس کے بارے میں نہایت اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
یہ ہے دار العلوم دیوبند اور دیوبندیت کی غیروں کی نظر میں سچی تصویر جسے خود دیش باشی اپنے سیاسی مقاصد اور تنظیمی مفاد کے تحت دہشت گرد بتا رہے ہیں اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے اہل کاروں سے جھوٹی رپورٹیں اور آرٹیکل تحریر کرا کے عالم گیر پیمانے پر انہیں نشر کیا جا رہا ہے:
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
لیکن یہ اغراض پسند اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ جب تک ہندوستان میں آئین وانصاف کی عمل داری باقی ہے‘ حق وباطل میں امتیاز کرنے کی صلاحیت زندہ ہے‘ تہذیب وشرافت کا بول بالا ہے اور انسانی قدروں کا احترام جاری ہے‘ یہ لوگ اپنے مذموم سیاسی مقاصد میں کام یاب نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان جھوٹے‘ من گھڑت پروپیگنڈوں سے علم وتہذیب کے ان سرچشموں کو گدلا کر سکتے ہیں کیونکہ سچائی اور صداقت بہرحال زندہ وپائندہ رہتی ہے اور جھوٹ وفریب کی قسمت میں تباہی وبربادی ہی ہے۔ جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’دار العلوم‘‘ دیوبند)

الشریعہ اکادمی میں چالیس روزہ کورس کی اختتامی تقریب

ادارہ

۲۴۔ اگست ۲۰۰۲ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں چالیس روزہ ’’خصوصی مطالعاتی کورس‘‘ کی اختتامی تقریب اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں ناظم سٹی تحصیل گوجرانوالہ الحاج بابو جاوید احمد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ’’تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے چند ضروری تقاضے‘‘ کے موضوع پر کورس کے شرکا کو لیکچر دیا۔ تقریب میں شہر کے سرکردہ علماء کرام اور معززین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مولانا چنیوٹی کی دعا پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
الحاج بابو جاوید احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مسائل اور مشکلات کی اصل وجہ دینی تعلیمات سے دوری ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ دین کی دعوت اور تبلیغ کے عمل کو وسیع کیا جائے اور نئی نسل کو قرآن کریم اور سنت نبوی کی تعلیمات وہدایات سے روشناس کرانے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت کی جائے۔
مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ ’’عقیدۂ ختم نبوت‘‘ اسلام کی بنیاد ہے اس لیے کہ نیا نبی قبول کرنے سے دین کی ہر بات کی تبدیلی کا امکان پیدا ہو جاتا ہے لہٰذا عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ پر ہی دین اسلام کے تحفظ کا دار ومدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ منکرین ختم نبوت بالخصوص قادیانیوں کی سرگرمیاں دنیا بھر میں پھیلتی جا رہی ہیں اور زیادہ تر سادہ لوح مسلمان ان کے دام ہم رنگ زمیں کا شکار ہوتے ہیں اس لیے علماء کرام اور دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ عام مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کو اس فریب سے بچانے کے لیے محنت کریں۔
مولانا زاہد الراشدی نے الشریعہ اکادمی کی سالانہ تعلیمی رپورٹ تقریب کے شرکا کی خدمت میں پیش کی اور اس موقع پر بتایا کہ درس نظامی کے فضلا کے لیے ایک سالہ خصوصی کورس ترتیب دیا جا رہا ہے جس میں تاریخ اسلام‘ تقابل ادیان‘ سیاسیات‘ صحافت‘ معاشیات‘ نفسیات‘ بین الاقوامی قوانین ونظام کا تقابلی مطالعہ‘ کمپیوٹر ٹریننگ اور انگریزی زبان کے کورس کے ساتھ ساتھ امام ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ وافکار پر مشتمل ضروری مضامین شامل ہوں گے اور تحقیق ومطالعہ اور مضمون نویسی کی مشق بھی کرائی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
چالیس روزہ کورس کے ایک شریک طالب علم مولوی فضل رحیم صاحب آف مانسہرہ نے تقریب میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان چالیس دنوں میں بہت کچھ سیکھا ہے اور ہمیں پہلی بار اس بات کا صحیح طور پر اندازہ ہوا ہے کہ آج کی دنیا کے تقاضے کیا ہیں اور ہمیں آج کے ماحول میں اسلام کی دعوت وتبلیغ اور دین کی خدمت کے لیے کیا کچھ سیکھنے اور کرنے کی ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز ہے کہ اس قسم کے کورسز کا دائرہ اور دورانیہ وسیع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ علما اور طلبہ اس سے استفادہ کریں۔

۲۰۰۱/ء۲۰۰۲ء کی تعلیمی رپورٹ

الشریعہ اکادمی میں ۲۰۰۱/۲۰۰۲ء کے تعلیمی سال میں مندرجہ ذیل کورسز پڑھائے گئے:

انگلش لینگویج کورس:

دینی مدارس کے طلبہ کے لیے تین ماہ کا انگلش لینگویج کورس جو اپریل تا جون جاری رہا اور اس میں ۳۲طلبہ نے شرکت کی۔

کمپیوٹر ٹریننگ کورس:

دینی مدارس کے طلبہ کے لیے کمپیوٹر ٹریننگ کا تین ماہ کا کورس جو اپریل تا جون جاری رہا اور اس سے ۶۰ طلبہ نے استفادہ کیا۔

چالیس روزہ خصوصی مطالعاتی کورس:

موسم گرما کی تعطیلات کے دوران چالیس روزہ خصوصی مطالعاتی کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی:
۱۔ مولوی خرم شہزاد آف نواب شاہ ۲۔ مولوی محمد نعیم آف وہاڑی ۳۔ مولوی خلیل احمد فاروقی آف کرک 
۴۔ مولوی کلیم اللہ طاہر آف کرک ۵۔ حافظ نثار احمد آف حافظ آباد ۶۔ مولوی اشرف علی آف راول پنڈی ۷۔ مولوی محمد ابراہیم خٹک آف کرک ۸۔ مولوی فضل رحیم آف مانسہرہ ۹۔ مولوی محمد ذکر اللہ آف فاریاب ۱۰۔ مولوی عابد رضا آف ملتان ۱۱۔ قاری محمد داؤد خان نوید آف گوجرانوالہ 
ان طلبہ کے لیے ۱۔ حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب کے علاوہ ۲۔ بین الاقوامی قوانین کے ساتھ اسلامی قوانین کے تقابل‘ ۳۔ یہودیت ومسیحیت کی تاریخ‘ ۴۔ مرحلہ وار تاریخ اسلام‘ ۵۔ ابتدائی معاشیات‘ ۶۔ ابتدائی سیاسیات‘ ۷۔ انگلش لینگویج‘ ۸۔ کمپیوٹر ٹریننگ اور ۹۔ مضمون نویسی کی مشق کے حوالے سے لیکچرز‘ مطالعہ اور بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اساتذہ میں مولانا زاہد الراشدی‘ حافظ محمد عمار ناصر‘ پروفیسر میاں انعام الرحمن‘ یحییٰ خرم اور مولانا محمد یوسف شامل تھے۔

درجہ اولیٰ (صرف ونحو):

اس کے علاوہ درجہ اولیٰ میں صرف ونحو کی ایک کلاس بھی چل رہی ہے جس میں چار طالب علم شریک ہیں۔

عربی گریمر وترجمہ قرآن مجید:

عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن کریم کی کلاس ڈیڑھ سال سے جاری ہے۔ اس میں آٹھ طلبہ شریک ہیں اور دس پاروں کا ترجمہ وتفسیر مکمل ہو چکا ہے۔