اکتوبر ۲۰۰۲ء

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوبپروفیسر محمد اکرم ورک 
امریکی جارحیت کے محرکاتپروفیسر میاں انعام الرحمن 
اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائلراشد الغنوشی 
علما اور عملی سیاستخورشید احمد ندیم 
ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟پروفیسر میاں انعام الرحمن 
مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘جاوید چودھری 
تعارف و تبصرہادارہ 

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی نظریاتی کونسل کا سوال نامہ

اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے، نیز نجی زندگی سے متعلق معاملات میں انہیں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اس نے نہ صرف ظلم وتعدی سے روکا ہے بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انصاف سے متجاوز ہو جانے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لیے بھی مہذب اور عادلانہ اصول وقواعد مقرر کیے ہیں۔
لیکن بد قسمتی سے زیادہ تر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کی نیت سے اور کسی قدر غلط فہمیوں کی بنا پر اس وقت عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا ہے اور اس جھوٹ کو اس قدر دہرایا گیا ہے کہ اب ایک طبقہ اسلام اور دہشت گردی کو مترادف سمجھنے لگا ہے۔ ان حالات میں علما، فقہا اور ارباب افتا کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کو واضح کریں اور اسلام نے امن، صلح، عدل، مذہبی رواداری اور غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کی جو ہدایات دی ہیں، ان کو واضح کریں تاکہ لوگوں کے سامنے اسلام کی حقیقی اور سچی تصویر آ سکے۔
اس پس منظر میں درج ذیل سوالات آپ کی خدمت میں پیش ہیں:
۱۔ اسلامی نقطہ نظر سے ’دہشت گردی‘ کی تعریف اور حقیقت کیا ہے؟
۲۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات حکومتیں اپنے ملک میں بسنے والے تمام طبقات کے ساتھ عدل ومساوات کا سلوک نہیں کرتیں بلکہ بعض طبقات کے ساتھ سیاسی ومعاشی نا انصافی روا رکھی جاتی ہے اور کبھی تو ان کے جان ومال کے تحفظ میں بھی دانستہ کوتاہی سے کام لیا جاتا ہے یا سرکاری سطح پر ایسی تدبیریں کی جاتی ہیں کہ وہ طبقہ جانی ومالی نقصان سے دوچار ہو ۔ تو کیا حکومتوں کے اس غیر منصفانہ اور ظالمانہ رویے پر بھی ’دہشت گردی‘ کا اطلاق ہوگا؟
۳۔ اگر کسی گروہ یا طبقہ کے ساتھ نا انصافی روا رکھی جاتی ہے تو اس پر احتجاج اور رد عمل کا اظہار جائز ہے یا واجب؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کو بھی ملحوظ رکھا جائے کہ کیا مظلوم کا ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا بھی ’دہشت گردی‘ کے دائرے میں آتا ہے؟
۴۔ اگر ایک طبقہ کی طرف سے ظلم وزیادتی ہو جس میں اس طبقہ کے کچھ افراد شریک ہوں تو کیا مظلوموں کو ظلم کرنے والے گروہ کے ان لوگوں سے بدلہ لینا جائز ہے جو بے قصور ہوں اور جو خود اس ظلم میں شامل نہ ہوں؟
۵۔ مسلمان ملکوں میں جو غیر مسلم شہری آباد ہیں، ان کو اپنے مذہبی معاملات یعنی عقیدہ، عبادت، شخصی قوانین وغیرہ میں کس حد تک آزادی حاصل ہے؟
۶۔ جہاں بھی دہشت گردی پیدا ہوتی ہے، وہاں اس کے کچھ بنیادی اسباب ومحرکات ہوتے ہیں، جیسے کسی گروہ کے ساتھ معاشی یا سیاسی ناانصافی، یا کسی گروہ کے اندر طاقت وقوت کے ذریعہ حکومت اور معاشی وسائل پر تسلط حاصل کر لینے کی خواہش۔ ان اسباب کے تدارک کے لیے اسلام کیا ہدایات دیتا ہے؟
۷۔ اگر کسی گروہ یا فرد کی جان ومال یا عزت وآبرو پر حملہ کیا جائے تو اس کے دفاع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ حتی المقدور مدافعت واجب ہے، مباح ہے یا مستحب؟ نیز حق مدافعت کے حدود کیا ہیں؟

مولانا زاہد الراشدی کا جواب

نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین
اسلام بلاشبہ صلح وآشتی اور امن وسلامتی کا دین ہے اور جناب نبی اکرم ﷺ نے اسلام اور ایمان کا ایک معنی یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے لوگ محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جسے دوسرے لوگ اپنی جان ومال پر امین سمجھیں اور انہیں اپنی جان ومال اور آبرو کے حوالے سے اس سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہو لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام اعتدال وتوازن کا دین بھی ہے جو دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کے تحفظ اور حصول کا راستہ بھی بتاتا ہے اور اس کی تلقین کرتا ہے۔
ظلم وتعدی اور جبر ونا انصافی انسانی سوسائٹی کے لوازم میں سے ہے جو نسل انسانی کے آغاز سے جاری ہے اور اس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا اس لیے ایک جامع اور مکمل ضابطہ حیات اور نظام زندگی کی حیثیت سے اسلام ظلم وتعدی کو روکنے اور جبر ونا انصافی کے سدباب کے لیے بھی ایک مستقل فلسفہ ونظام رکھتا ہے جس کی تفصیلات قرآن وحدیث اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں اور ہر دور میں اس زمانے کے مقتضیات اور احوال کی روشنی میں فقہاء امت اس فلسفہ ونظام کی احکام وقواعد کی شکل میں وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔
خلافت راشدہ سے لے کر خلافت عثمانیہ کے خاتمہ (۱۹۲۴ء) تک چونکہ اسلامی احکام وقوانین کا نفاذ کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی سطح پر تسلسل کے ساتھ موجود رہا ہے اس لیے ہر دور میں نئے پیش آمدہ مسائل ومشکلات کا حل بھی ساتھ ساتھ سامنے آتا رہا ہے جس میں قضاۃ کے اجتہادی فیصلوں کے علاوہ ارباب علم اور اصحاب استنباط کی آزادانہ اجتہادی کاوشیں بھی شامل ہیں اور انسانی سوسائٹی کے حالات میں تغیر کے ساتھ ساتھ اجتہادی دائرہ میں ضرورت کے مطابق شرعی احکام وقوانین میں تغیر وتبدل کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے البتہ خلافت کے زوال وادبار کے دور میں بد قسمتی سے اجتماعی زندگی کے مسائل وضروریات کی طرف اہل علم ودانش کی توجہ کم ہوتی گئی اور بیرونی افکار ونظریات اور فلسفہ وتہذیب کے مسلم معاشرے میں فروغ کے باعث اور اس سے پیدا ہونے والی آزاد روی کی وجہ سے ارباب فقہ واستنباط تحفظات کا شکار ہو کر ’’جمود‘‘ پر قناعت میں عافیت محسوس کرنے لگے تو جدید پیش آمدہ مسائل اور فکری وعلمی چیلنجز کے حوالے سے استنباط اور اجتہاد کا وہ تسلسل قائم نہ رہ سکا جو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے زمانے کی رفتار کا ساتھ دے سکتا اور اگرچہ علمی اداروں اور شخصیات نے اس خلا کو پر کرنے کی اپنے اپنے طور پر کوشش کی لیکن تنفیذی اور اجتماعی اجتہاد واستنباط کے فقدان اور شخصیات ومراکز کے انفرادی اجتہاد واستنباط میں فطری اختلاف کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جو اس اجتہاد واستنباط کا اصل مقصد وہدف تھے اور باہمی ربط ومفاہمت کا کوئی سسٹم موجود نہ ہونے کی وجہ سے نظری وفکری خلفشار کا عنوان بن گئے۔
خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور اقوام متحدہ کے تحت اس کے منشور کے حوالے سے ایک نئے عالمی نظام کے آغاز کے بعد دنیا کی صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی تھی اور بین الاقوامی تعلقات کے ساتھ ساتھ ہمارے داخلی اجتماعی نظام کے احکام وقوانین کا بھی ایک بڑا حصہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد واستنباط کے ایک نئے اور ہمہ گیر عمل سے گزارے جانے کا متقاضی تھا لیکن عالمی سطح پر ملت اسلامیہ کے پاس اس کا کوئی فورم موجود نہیں تھا، مسلم حکومتوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور انفرادی طور پر اس عمل کا اہتمام کرنے والے مراکز وشخصیات پر علاقائی، گروہی اور طبقاتی رجحانات کا غلبہ ایک فطری امر ہے اس لیے یہ خلا نہ صرف باقی چلا آ رہا ہے بلکہ فطری طور پر پر نہ ہونے کی وجہ سے فکری خلفشار اور انتشار کی کیفیت نمایاں نظر آ رہی ہے اور اس وقت ہماری صورت حال یہ ہے کہ:
اس وسیع تناظر میں دہشت گردی کا اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لینا یقیناًایک اہم بات ہے اور اس کی ضرورت واہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس جزوی مسئلہ سے پہلے بہت سے اصولی معاملات اہل علم کی توجہات کے مستحق ہیں اور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل یہ مسئلہ ہے کہ عالم اسلام کو اس مخمصہ سے نکالنے اور اس کی آزادی وخود مختاری بحال کرنے کے لیے ہمارے ارباب علم ودانش جہد وعمل کا کون سا خاکہ تجویز کرتے ہیں؟ اور وہ ملت اسلامیہ کو موجودہ صورت حال پر قناعت کرنے یا اس سے جان چھڑانے کے لیے کچھ کر گزرنے میں سے کون سا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں؟ پھر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ دہشت گردی کی اسلامی حیثیت اور اس کے بارے میں شرعی احکام وقوانین کی وضاحت کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ اور اس کی اصل غرض کیا ہے؟ اگر تو اس کا مقصد عالم اسلام کی دینی تحریکات کی راہ نمائی کرنا ہے اور ان کو یہ بتلانا ہے کہ ملت اسلامیہ کی خود مختاری کی بحالی، خلافت اسلامیہ کے احیا، عالم اسلام کے وسائل کی بازیابی اور مسلم اقوام وممالک کے گرد عالمی استعمار کے حصار کو توڑنے کے لیے ان کی جدوجہد کو ان شرعی حدود کا پابند رہنا چاہیے اور انہیں ارباب علم ودانش کی راہ نمائی کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تو یہ ایک مفید اور مثبت عمل ہے جس کی ضرورت مسلم ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر اس سارے عمل کی غرض دہشت گردی کے حوالے سے عالمی استعمار کو مطمئن کرنا اور قاعدین ومتخلفین کو ان کے قعود وتخلف کے لیے جواز اور اس کے دلائل فراہم کرنا ہے تو اس سے زیادہ قابل نفرین عمل کا موجودہ حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک عالم اسلام کی بعض عسکری تحریکات پر ’’دہشت گردی‘‘ کا لیبل چسپاں کرنے کا تعلق ہے، اس کے بارے میں ایک اصولی بات ہر شخص کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ عمل کے احکام سے رد عمل کے احکام مختلف ہوتے ہیں اور کسی ایکشن پر جن قواعد وضوابط کا اطلاق ہوتا ہے، اس کے ری ایکشن پر انہی قواعد وضوابط کا کلیتاً اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول دنیا کے ہر قانونی نظام میں تسلیم شدہ ہے اور قرآن کریم نے بھی سورۃ النساء آیت ۱۴۸ میں اس اصول کو اس حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ کسی شخص کی بری بات کو ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے مگر مظلوم کو اجازت ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم وزیادتی کو روا رکھنے والے ظالم کی برائی کو ظاہر کرے۔ گویا جس بات کی ایکشن اور عمل میں شرعاً اجازت نہیں ہے، ری ایکشن اور رد عمل میں قرآن کریم اس کی اجازت دے رہا ہے۔ اس سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ کوئی مظلوم رد عمل میں کوئی ایسی بات کر گزرتا ہے جس کی عام حالات میں اجازت نہیں ہے تو اس کی مظلومیت کا لحاظ رکھتے ہوئے اس معاملے میں اس سے درگزر کر دینا ہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔
اس لیے واقعاتی پس منظر کی تفصیل میں جائے بغیر اصولی طور پر یہ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عالم اسلام کی جن تحریکات اور گروپوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، ان کے بارے میں اس بات کا جائزہ لے لینا چاہیے کہ اگر وہ غلبہ اور اقتدار کے شوق میں ایسا کر رہے ہیں اور حکمرانی کی حرص نے انہیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا ہے تو ان کے ’’دہشت گرد‘‘ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اگر انہیں کسی طرف سے ہونے والے مظالم اور جبر نے رد عمل کے طور پر اس راستے پر ڈالا ہے اور جبر واستبداد کے حصار کو توڑنے میں دیگر کسی متبادل حربہ اور کوشش میں کام یابی کا کوئی امکان نہ دیکھتے ہوئے ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق وہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں تو انہیں اس رعایت سے محروم کر دینے کا کوئی جواز نہیں ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی آیت ۱۴۸ میں مظلوموں کے لیے بیان فرمائی ہے۔
ان تمہیدی گزارشات کے بعد ہم ان سوالات کی طرف آتے ہیں جو مذکورہ بالا سوال نامہ میں اٹھائے گئے ہیں۔
ان میں سے پہلا سوال یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ قرآن کریم نے سورۃ المائدہ کی آیت ۳۳ میں ’’محاربہ‘‘ کا جو حکم بیان فرمایا ہے، ہمیں اس پر غور کر لینا چاہیے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو سزا کا مستحق بتایا ہے، ان کے دو وصف بیان فرمائے ہیں:
ایک : یحاربون اللہ ورسولہ کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ لڑتے ہیں جس سے مراد ہمارے خیال میں یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے قائم کردہ نظام سے بغاوت کرتے ہیں۔
دوسرا : ویسعون فی الارض فساداکہ وہ زمین میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں جس کا معنی آج کی معروف زبان میں یہ ہوگا کہ وہ امن عامہ کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہمارے ناقص فہم کے مطابق جو لوگ کسی جائز اور قانونی سسٹم کے خلاف ناجائز طور پر بغاوت کرتے ہیں اور عام شہریوں کی جان ومال کے لیے بلاوجہ خطرہ بن جاتے ہیں، وہ ’’دہشت گرد‘‘ کہلائیں گے۔ 
کسی حکومت کے جائز اور قانونی ہونے کے لیے اس دور کے عرف کو دیکھا جائے گا کہ اس وقت بین الاقوامی تعامل اور عرف کی رو سے کون سی حکومت کو جائز اور قانونی سمجھا جاتا ہے جبکہ بغاوت کے جائز یا ناجائز ہونے میں بھی اسی بین الاقوامی عرف کا اعتبار ہوگا لیکن اس میں ایک بات کو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ عرف اور تعامل اور چیز ہے اور کسی مخصوص مسئلہ پر عالمی برادری کا طرز عمل اس سے بالکل مختلف معاملہ ہے جس کا تجربہ ہمیں حال ہی میں افغانستان کے حوالے سے ہوا ہے کہ وہاں طالبان کی حکومت نے ملک کے ۹۰ فیصد علاقہ کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا، دار الحکومت کابل بھی ان کے کنٹرول میں تھا اور ان کے زیر اثر علاقہ میں امن کا قیام اور ان کے احکام کی عمل داری بھی تسلیم شدہ ہے۔ آج کے بین الاقوامی عرف میں کسی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے یہ باتیں کافی سمجھی جاتی ہیں بلکہ اس سے کم تر اہداف حاصل کرنے والی حکومتیں بھی تسلیم کر لی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی برادری نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اس پر فوج کشی کر کے اسے جبراً ختم کر دیا۔ اس لیے ہمیں عرف وتعامل اور وقتی طرز عمل میں فرق کو ملحوظ رکھنا ہوگا اور اب تو یہ فرق اس قدر واضح ہو گیا ہے اور بڑھتا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین وضوابط، اخلاقیات اور عالمی سیاسیات کی بیشتر اقدار وروایات کا مفہوم ومعیار تک بدل کر رہ گیا ہے۔
دوسرا سوال اس حوالے سے ہے کہ کوئی حکومت اپنے ملک کے کسی طبقہ کے ساتھ انصاف نہیں کرتی اور ان کے سیاسی حقوق اور جان ومال تک کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے تو کیا اس حکومت کے ایسے طرز عمل کو بھی ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں گزارش ہے کہ کوئی حکومت اپنی رعیت کے کسی طبقے کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھتی ہے اور اس محروم رکھنے میں ریاستی جبر کا ایسا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے جس سے اس طبقہ کے وجود اور اس کے افراد کی جان ومال کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں تو یہ بات یقیناً’’ریاستی دہشت گردی‘‘ کہلائے گی۔ 
تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی گروہ یا طبقہ کے ساتھ نا انصافی روا رکھی جاتی ہو تو اس پر احتجاج اور رد عمل کی کیا حیثیت ہے؟ اور کیا مظلوم کا ظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا بھی ’’دہشت گردی‘‘ کہلائے گا؟
اس سلسلے میں گزارش ہے کہ مظلوم کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا دنیا کے ہر قانون میں حق حاصل ہے اور اسلام بھی اسے یہ حق دیتا ہے۔ اب اس حق کی درجہ بندی کہ یہ جائز ہے یا واجب، اس کا انحصار اس وقت کے حالات پر اور مظلوم کی صواب دید پر ہے۔ اسلام نے اس میں دو درجے رکھے ہیں: عزیمت اور رخصت۔ اگر وہ عزیمت پر عمل کرتا ہے اور اپنے حق کے لیے ظالم کے خلاف جدوجہد کرتا ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے اور اگر صبر وتحمل کے ساتھ رخصت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے اس کا جواز بھی ہے چنانچہ جناب نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص اپنی جان کی حفاظت میں مارا گیا ، وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا، وہ شہید ہے اور جو شخص اپنی عزت کی حفاظت میں مارا گیا، وہ بھی شہید ہے۔ اس ارشاد نبویؐ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رخصت پر عمل کی اجازت ہے، لیکن ترجیح بہرحال عزیمت ہی کو حاصل ہے۔
باقی رہی بات ہتھیار اٹھانے کی تو فقہائے کرام کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ شخصی اور انفرادی معاملات میں تو قانون کو ہاتھ میں لینے اور ہتھیار اٹھانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے اور ایسا کرنا بغاوت کے زمرے میں آئے گا البتہ اجتماعی معاملات میں (۱) مسلم حکمران کی طرف سے کفر بواح کے ارتکاب اور (۲) مسلم اکثریت پر غیر مسلم اقلیت کا جبری اقتدار قائم ہو جانے کی صورت میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت ہے جو بسا اوقات فرض کا درجہ بھی اختیار کر جاتا ہے جیسا کہ دہلی پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار قائم ہو جانے کے بعد حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ اور دیگر اکابر علماء کرام نے جہاد کا فتویٰ صادر کیا تھا۔
حملہ آور قوت کے خلاف اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے ہتھیار اٹھانے کے حق کو دنیا کے ہر قانون میں تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے حریت اور آزادی کی جنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسے ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینا ایسا ہے جیسے یہ کہہ دیا جائے کہ برطانوی استعمار سے آزادی کے لیے جن امریکی حریت پسندوں نے ہتھیار اٹھائے تھے اور اس جنگ میں انہوں نے متعلقہ اور غیر متعلقہ ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، وہ حریت پسند نہیں بلکہ ’’دہشت گرد‘‘ تھے اور اسی طرح دنیا بھر کی وہ تمام اقوام وممالک دہشت گرد قرار پائیں گے جنہوں نے غیر ملکی قابضین اور نوآبادیاتی حکمرانوں کے خلاف جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی ہے۔
چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر کسی طبقہ کے کچھ افراد نے ظلم کیا ہے تو کیا مظلوموں کو یہ حق حاصل ہے کہ اس طبقے کے دوسرے افراد کو انتقام کا نشانہ بنائیں جو اس عمل میں شریک نہیں تھے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ جہاں تک غیر متعلقہ لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کا تعلق ہے، اسلام اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیتا۔ یہ بھی اسی طرح کا ظلم ہوگا جس کا وہ مظلوم خود نشانہ بن چکے ہیں۔ البتہ ظالموں کے خلاف کارروائی کے دوران کچھ لوگ ناگزیر طور پر زد میں آتے ہوں تو ان کا معاملہ مختلف ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے جہاد میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور غیر متعلقہ افراد کو قتل کرنے سے صراحتاً منع کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مسلم شریف کتاب الجہاد میں حضرت صعب بن جثامہؓ کی یہ روایت بھی موجود ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! ہم ایک جگہ شب خون مارنا چاہتے ہیں مگر وہاں عورتیں اور بچے بھی ہیں تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: ہم منہم ’’وہ انہی میں سے ہیں‘‘ یعنی اگر وہ شب خون (چھاپہ مار کارروائی) کی زد میں ناگزیر طور پر آتے ہیں تو وہ انہی میں شمار ہوں گے اور ان کی وجہ سے کارروائی روکی نہیں جائے گی۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں جو غیر مسلم شہری آباد ہیں، ان کو اپنے مذہبی معاملات یعنی عقیدہ، عبادت، شخصی قوانین وغیرہ میں کس حد تک آزادی حاصل ہے؟ اس کے جواب میں ہمارا طالب علمانہ نقطہ نظر یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی مسلم حکومت ایسی نہیں ہے جس پر ’اسلامی حکومت‘ کا اطلاق کیا جا سکے یا جسے خلافت کا قائم مقام قرار دیا جائے اور اس کے دائرے میں رہنے والے غیر مسلموں کو ذمیوں کا درجہ دینا شرعاً ضروری ہو جبکہ کم وبیش تمام مسلم ممالک اقوام متحدہ کے منشور پر دستخط کرنے کے علاوہ اس حوالے سے دیگر بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی بھی قبول کر چکے ہیں اس لیے جب تک خلافت کا احیا نہیں ہوتا اور خالصتاً اسلامی شرعی حکومت قائم نہیں ہو جاتی، ہم ’’میثاق مدینہ‘‘ کی طرز پر بین الاقوامی معاہدات کے پابند ہیں اور ہمیں ان پر عمل درآمد کرنا چاہیے الا یہ کہ ان میں سے کوئی بات کسی مسلمان ملک کی خود مختاری وسالمیت اور مسلمانوں کے ملی مفاد کے لیے صریحاً خطرے کا باعث ہو تو اس میں وہ ملک ضروری تحفظات اختیار کر سکتا ہے۔
چھٹا سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے ہر جگہ کچھ نہ کچھ اسباب ہوتے ہیں۔ اسلام ان اسباب کے تدارک کے لیے کیا ہدایات دیتا ہے؟
اس سلسلے میں عرض ہے کہ دہشت گردی فی الواقع بہت بڑا جرم ہے۔ اسلام تو عام معاشرتی جرائم میں بھی مجرم کے لیے سخت سزائیں تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ جرم کے اسباب وعوامل کے تدارک کا حکم دیتا ہے اور ان دواعی کا راستہ روکتا ہے جو کسی شخص کو جرم تک لے جاتے ہیں۔ اسلام کا یہی اصول دہشت گردی کے بارے میں بھی ہے۔ اس پس منظر میں ہمارے نزدیک دہشت گردی کے حوالے سے دو محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک محاذ یہ ہے کہ جو عالمی قوتیں ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا عنوان اختیار کرکے دنیا بھر کی دینی تحریکات کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں، انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ جس کو تم دہشت گردی قرار دے رہے ہو، یہ دراصل رد عمل ہے ان مظالم اور جبر ونا انصافی کا جو ان اقوام وممالک اور طبقات پر مسلسل روا رکھے جا رہے ہیں اور اس رد عمل کو جبر اور تشدد کے ذریعے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کی صورت حال میں جبر وتشدد سے مزید منافرت بڑھتی ہے اور جذبات میں مزید شدت پیدا ہوتی ہے اس لیے اگر تم دہشت گردی کو ختم کرنے میں سنجیدہ اور مخلص ہو تو تمہیں جبر وتشدد اور عسکری جنگ کا راستہ ترک کر کے مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ظالم اور مظلوم کے فرق کو محسوس کرو، مظلوم کی مظلومیت کو تسلیم کرو، ظالم کو ظالم قرار دو اور مسلمہ اصولوں کی روشنی میں مظلوم اقوام وطبقات کو ظلم واستحصال سے نجات دلانے کے لیے سنجیدہ پیش قدمی کرو ورنہ تمہاری یہ جنگ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے متصور ہوگی اور دہشت گردی کاجواب ا س سے بڑی دہشت گردی کے ذریعہ دے کر تم خود سب سے بڑے دہشت گرد قرار پاؤ گے۔
دوسری طرف عالم اسلام کی ان عسکری تحریکات سے بھی گفتگو کی ضرورت ہے جو مختلف محاذوں پر مصروف کار ہیں اور جنہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کو کچلنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ان تحریکات کی قیادتوں کو دو باتیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ ہر مسئلے کا حل ہتھیار نہیں ہے اور نہ ہی ہر جگہ ہتھیار اٹھانا ضروری ہے۔ جہاں کسی مسئلہ کے حل کا کوئی متبادل راستہ موجود ہے، اگرچہ وہ لمبا اور صبر آزما ہی کیوں نہ ہو، وہاں ہتھیار سے کام لینا ضروری نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں شاید شرعاً جائز بھی نہ ہو۔ ہتھیار تو آخری حربہ ہے۔ جہاں اور کوئی ذریعہ کام نہ دیتا ہو اور کسی جگہ مسلمانوں کا وجود اور دینی تشخص حقیقی خطرات سے دوچار ہو گیا ہو تو آخری اور اضطراری حالت میں ہتھیار اٹھانے کی گنجائش نکل سکتی ہے اس لیے اضطرار بلکہ ناگزیر اضطرار کے بغیر ہتھیار کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔
دوسری بات ان سے یہ عرض کرنے کی ہے کہ آزادی، تشخص اور خود مختاری کے لیے اضطرار کی حالت میں قومیں ہتھیار اٹھایا کرتی ہیں۔ یہ زندہ قوموں کا شعار ہے اور آزادی کی عسکری تحریکات سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے لیکن غیر متعلقہ لوگوں کو نشانہ بنانا اور بے گناہ لوگوں کا خون بہانا نہ شرعاً جائز ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی اور قانون وضابطہ اس کی اجازت دیتا ہے۔ ان تحریکات کو اس حوالے سے شرعی احکام وقوانین کی پابندی کا ایک بار پھر عہد کرنا چاہیے اور شرعی احکام بھی وہ نہیں جو خود ان کے ذہن میں آ جائیں بلکہ وہ قوانین وضوابط جو امت کے اجماعی تعامل وتوارث کے ساتھ تسلیم شدہ چلے آ رہے ہیں اور جنہیں وقت کے اکابر علما وفقہا کی طرف سے ضروری قرار دیا جا رہا ہو۔ اس کے بغیر کوئی بھی تحریک اور جدوجہد تمام تر خلوص وجذبہ اور ایثار وقربانی کے باوجود خلفشار پیدا کرنے کا باعث بنے گی اور اس سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی ہوگی اس لیے ایسی تحریکات کو کسی بھی ایسی بات سے قطعی طور پر گریز کرنا چاہیے جو :
ساتواں سوال یہ ہے کہ کسی گروہ یا فرد کی جان ومال اور عزت وآبرو پر حملہ کیا جائے تو اس کے دفاع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ دفاع واجب ہے یا مستحب؟
ا س سلسلے میں اصولی طور پر یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی جان، مال، اور آبرو کی حفاظت میں مارے جانے والے مسلمان کو شہید قرار دیا ہے تو ان تینوں حوالوں سے دفاع کا حق اور اس کی فضیلت میں کسی کلام کی گنجائش نہیں رہ جاتی البتہ ایک اور بات عرض کرنا بھی شاید نامناسب نہ ہو کہ جان بچانے کو فقہاء کرام نے فرض قرار دیا ہے اور جہاں جان کے تحفظ کا مسئلہ آ جائے، وہاں اضطرار کی حالت میں خنزیر کا گوشت بقدر ضرورت کھانے کو بھی بعض فقہا نے فرض بتایا ہے تو اس اصول کی رو سے کسی فرد یا گروہ کے لیے یہ بات بھی فرض ہی کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ اگر اسے اپنے وجود اور جان کا خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ اسے بچانے کے لیے جو صورت دفاع کی ناگزیر ہو، وہ اسے اختیار کرے اور اس دفاع کی حد بھی وہی ہے جو حالت اضطرار کی دیگر صورتوں میں ہے کہ جتنی کارروائی سے جان بچ سکتی ہو، اسی حد تک اجازت ہے، اس سے زیادہ کی نہیں۔

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب

پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں: ایک داعی اور دوسرا مدعو۔تاہم دعوت کی کامیابی کامکمل انحصار داعی کی ذات پر ہے کیونکہ دعوت کے مضامین خواہ کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں، اگر داعی کا طریقِ دعوت ڈھنگ کانہیں ہے اور وہ مخالف کو حالات کے مطابق مختلف اسالیب اختیار کرکے بات سمجھانے کی قدرت نہیں رکھتا تواس کی کامیابی کاکوئی امکان نہیں ہے۔جو بات ایک پہلو سے سمجھ میں نہیں آتی، وہی بات جب دوسرے انداز سے سامنے آتی ہے تو دل میں اتر جاتی ہے۔مبلغ کی کامیابی صرف اس بات میں ہے کہ دوست دشمن سبھی پکار اٹھیں کہ اس نے ابلاغ کا حق ادا کردیا ہے۔قرآن مجید کی اصطلاح میں تصریف آیات اسی چیز کانام ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَکَذَالِکَ نُصَرِّفُ الْاٰٰیَاتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَیِّنَہ‘ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (الانعام،۶:۱۰۵)
’’اور اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسالیب سے پیش کرتے ہیں،تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے اور وہ بول اٹھیں کہ تم نے اچھی طرح پڑھ کر سنادیا اور تاکہ ہم جاننے والوں کے لیے اچھی طرح واضح کردیں‘‘۔
قرآن مجید کے اولین مخاطب رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ ہیں،اس لیے قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے صحابہ کرام ؓ کو دعوت کے طریقِ کار اور اسالیب کی تعلیم دی۔یہ ایک ایسی انفرادیت ہے جو اسلام کے علاوہ کسی بھی الہامی وغیر الہامی مذہب کوحاصل نہیں کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو باقاعدہ دعوت وتبلیغ کے اصول پوری شرح وبسط سے بتائے ہوں۔سید سلیمان ندویؒ رقمطراز ہیں:
’’یہ نکتہ کہ کس طرح لوگوں کو سچائی کے قبول کرنے کی دعوت دینی چاہیے،دنیا میں پہلی دفعہ محمد رسول اللہ ﷺکی زبان وحی ترجمان سے ادا ہوا۔وہ مذہب بھی جو الہامی اور تبلیغی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں،یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے صحیفوں نے ان کے لیے تبلیغ کے اہم اصول کی تشریح کی ہے لیکن صحیفہ محمدی ﷺنے نہایت اختصار لیکن پوری تشریح کے ساتھ اپنے پیروؤں کو یہ بتایا کہ پیغامِ الٰہی کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا جائے اور ان کو قبولِ حق کی دعوت کس طرح دی جائے‘‘ (سیرت النبی ﷺ ،۴/۹۱)
قرآنِ مجید نے اپنے مخصوص معجزانہ اسلوب کے مطابق دعوت کے اصول ان الفاظ میں بیان فرمائے ہیں:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (النحل، ۱۶:۱۲۵)
’’(اے پیغمبر)لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤاور بہت ہی اچھے طریقے سے ان سے مناظرہ کرو‘‘
اس آیت مقدسہ میں دعوتِ دین کے تین بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں:حکمت،موعظہ حسنہ اور مجادلہ بطریقِ احسن۔اگر رسول اللہ ﷺ کی زندگی کامطالعہ داعی اسلام کی حیثیت سے کیا جائے تو یہ بات بڑی واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے کہ آپ ﷺنے دعوت وتبلیغ کے فریضہ کو ادا کرتے وقت ان اصولوں سے سرِمو انحراف نہیں کیااورآپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ کے دعوتی کردار میں بھی انہی اصولوں کا غلبہ نظر آتا ہے۔ایک غیر تربیت یافتہ داعی دعوتِ دین کے لیے کس قدرغیر موزوں ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ فرماتے ہیں:
’’ایک نادان اور غیر تربیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کے لیے اس دعوت کے دشمنوں سے بھی زیادہ ضرر رساں ہوسکتا ہے۔ اگر اس کے پیش کیے ہوئے دلائل بودے اور کمزور ہوں گے، اگر اس کا اندازِ خطابت درشت اور معاندانہ ہوگا،اگر اس کی تبلیغ اخلاص وللہیت کے نور سے محروم ہوگی تو وہ اپنے سامعین کو اپنی دعوت سے متنفر کردے گاکیونکہ اسلام کی نشرواشاعت کاانحصار تبلیغ اور فقط تبلیغ پر ہے ۔اس کو قبول کرنے کے لیے نہ کوئی رشوت پیش کی جاتی ہے اور نہ جبر واکراہ سے کام لیا جاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ایمان،ایمان ہی نہیں جس کے پسِ پردہ کوئی دنیوی لالچ یا خوف وہراس ہو۔ا س لیے اللہ تعالیٰ نے خو د اپنے محبوب مکرم کودعوتِ اسلامی کے آداب کی تعلیم دی‘‘۔ (’’ضیاء القرآن‘‘،۲/۶۱۷)
گویا دعوت کی کامیابی میں مرکزی کردار داعی کا ہے۔ داعی جس قدر تربیت یافتہ اور انسانی نفسیات کاعالم ہوگا، اسی قدر اس کی دعوت مؤثر ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مؤثر ہونے کی ایک اہم وجہ آپ ﷺ کا ذاتی کردار تھا تو دوسری بنیادی وجہ آپ ﷺ کا اسلوبِ دعوت تھا۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ مخاطبین کی ذہنی استعداد ،میلانات،رجحانات اور ان کے خاندانی وعلاقائی پسِ منظر کو سامنے رکھ کر دعوت کاکام کیا۔سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا کوئی متعین طریقِ دعوت نہ تھابلکہ مخاطبینِ دعوت کے تبدیل ہونے کے ساتھ ہی آپ ﷺ کا اسلوبِ دعوت بھی تبدیل ہوجاتا تھا۔ایک جاہل،ان پڑھ اور اجڈ مخاطب کو دعوت دینے کا انداز پڑھے لکھے اور شہر کے رہنے والے فرد سے مختلف ہوتا تھا۔رسول اللہ ﷺ کی دعوتی زندگی کا مطالعہ ہر داعی اسلام کے لیے اس حوالے سے دلچسپ بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ مخاطب کی صلاحیت کو پیشِ نظر رکھ کر اس کودعوت پیش کی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ سے ملنے کے بعد لوگ مطمئن ہوکر واپس جاتے تھے۔
دعوتِ دین کا یہ وہ اسلوب ہے جو اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے حبیب مکرم ﷺ کو سکھایااور آپ ﷺنے صحابہ کرام ؓ کو دعوتِ دین کے ان ہی مختلف اسالیب کی تعلیم دی اور پھر صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایات اور طرزِ عمل کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا۔ابو وائلؓ سے روایت ہے:
’’عبداللہؓ بن مسعود لوگوں کو ہر جمعرات کو وعظ سنایاکرتے تھے۔ ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمنؓ! میری خواہش ہے کہ آپؓ روزانہ وعظ کیا کریں،تو انہوں نے فرمایا میں ایسا اس وجہ سے نہیں کرتا کہ کہیں تم پر بوجھ نہ بن جاؤں۔میں بھی اسی طرح ناغہ کرکے تمہیں نصیحت سناتا ہوں جس طرح رسول اللہ ﷺ ہم کو وقفہ کرکے نصیحت سنایا کرتے تھے تاکہ ہم بیزار نہ ہوجائیں‘‘۔
اس روایت سے بہر حال یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صحابہ کرامؓ دعوت وتبلیغ میں ہمیشہ رسول اللہﷺ کی ہدایت اور طرزِ عمل کو پیشِ نظر رکھتے تھے۔دعوت وتبلیغ میں دعوت کے پیش کرنے کا ڈھنگ اور اسلوب کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جب بھی کسی داعی کو کسی قوم ،قبیلے یا علاقے کی طرف روانہ فرمایا تو وہاں کے لوگوں کے حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کو دعوت کے کسی نہ کسی اسلوب کی بھی تعلیم ارشاد فرمائی ۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

اصول تدریج کی تلقین

رسول اللہ ﷺنے ہمیشہ دعوت وتبلیغ میں تدریج کا لحاظ رکھااور دوسرے مبلغین اسلام کو بھی اصولِ تدریج کی تلقین فرمائی۔حکمتِ تبلیغ کے ضمن میں داعی کا فرض ہے کہ تدریج کے پہلو کو نظر انداز نہ کرے۔ تدریج کا مطلب یہ ہے کہ داعی یک بارگی شریعت کے تمام احکامات کا بوجھ مخاطب کی گردن پر نہ لاد دے بلکہ آہستہ آہستہ اس کے سامنے سارے احکام پیش کرے۔ تدریج کا یہ اصول فرد اور قوم دونوں کے لیے ضروری ہے۔ دین ایک نظام ہے اور اس نظام کو اگر حکیمانہ ترتیب سے پیش نہ کیا جائے تو مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔اسی حقیقت کی طرف ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’قرآن میں سب سے پہلے جو چیز نازل کی گئی، وہ مفصل کی سورتوں میں سے ایک سورۃ ہے،جس میں جنت اور جہنم کا ذکرہے۔یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کے دائرے میں آگئے تب حلال وحرام کے احکام نازل ہوئے۔اگر بالکل شروع ہی میں حکم آجاتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ حکم دیاجاتا کہ زنا نہ کرو تولوگ کہتے ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے‘‘ (بخاری، کتاب فضائل القرآن ،باب تالیف القرآن،ح:۴۹۹۳،ص:۸۹۶)
اصول تدریج میں داعی احکام کی ترتیب کیارکھے گا ؟اس کی وضاحت بھی خود زبانِ رسالتﷺ نے فرمادی کہ سب سے پہلے توحیدو رسالت کی دعوت دی جائے، اس کے بعد عبادات۔ عبادات میں بھی اہم پھر اہم کے اصول کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔چنانچہ رسول اللہﷺنے حضرت معاذؓ بن جبل کو جب یمن دعوت وتبلیغ کے لیے بھیجا تو ان الفاظ میں تلقین فرمائی:
’’تم عنقریب اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس پہنچوگے۔جب تو ان کے پاس پہنچے تو سب سے پہلے انہیں یہ دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں۔جب وہ اس میں تیری اطاعت کرلیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان پر دن رات کی پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور جب وہ تیری یہ بات مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے صدقہ فرض کیا ہے۔یہ صدقہ ان کے دولت مندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دیا جائے گااور جب وہ اس کو تسلیم کر لیں تو دیکھو چن چن کر ان کا عمدہ مال نہ لے لینا اور ہاں مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں‘‘(صحیح البخاری ،کتاب المغازی ،باب بعث ابی موسیٰ ؓ ومعاذ ؓ الی الیمن،ح :۴۳۴۷، ص:۷۳۶۔ ایضاً ح : ۱۴۹۶،۱۳۹۵،۱۴۵۸،۷۳۷۲۔ مسند احمد،مسند عبداللہ بن عباس ،ح:۲۰۷۲،۱/۳۸۶)

رفق ونرمی کی تلقین

داعی دعوت کا کوئی بھی اسلوب اختیار کرے، جب تک وہ مخاطب سے نرمی اور خیر خواہی کے جذبہ سے بات نہیں کرے گا، اس کی دعوت مؤثر نہیں ہوگی۔ سختی اور شدت مخاطب کے دل میں نفرت اور عداوت کے جذبات پیدا کرتی ہے جس سے مخاطب اپنی ضد پر اڑ جاتا ہے۔نتیجتاًدعوت کاسارا فائدہ اور نصیحت کا سارا اثر زائل ہوجاتاہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو اپنے بدترین مخالفین سے بھی نرم انداز میں گفتگو کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے باغی کے سامنے پیغامِ ربانی لے کرجانے کاحکم دیا تو یہ ہدایت بھی فرمائی:
اِذْھَبَآاِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہ‘ طَغیٰ Oفَقُوْلَا لَہ‘ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہ‘ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشی (طٰہٰ ،۲۰:۴۳،۴۴)
’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ ،اس نے سرکشی کی ہے تو اس سے نرم گفتگو کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا(اللہ سے) ڈرے‘‘۔ 
دعوت وتبلیغ میں رفق ونرمی کی اس سے بہتر مثال نہیں ہوسکتی کہ نہ انبیاء سے بہتر کوئی داعی ہوسکتاہے اور نہ فرعون سے بڑھ کر کوئی سرکش اور باغی ہوسکتا ہے۔اگر ایسے مجرم کے سامنے وعظ ونصیحت کرتے وقت نرمی اختیار کرنے کاحکم ہے تو عام مجرم اور گمراہ لوگوں سے تو کہیں بڑھ کر نرمی اختیار کرنی چاہئے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مبلغ صحابہ کرامؓ کو ہمیشہ نرمی اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔حضرت طفیلؓ بن عمرونے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ ﷺنے ان کو اپنی ہی قوم کی طرف مبلغ بنا کر بھیجا۔چنانچہ وہ لوگوں کو مسلسل دعوت دیتے رہے لیکن قوم انکار کرتی رہی۔بالآخروہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ قبیلہ دوس نے مجھے ہرا دیا۔ میں نے ان کو بہت دعوت دی لیکن وہ ایمان نہیں لائے۔ آپ ﷺ ان کے لیے بددعا کریں۔رسول اللہ ﷺنے بددعا کرنے کے بجائے قبیلۂ دوس کے لیے یہ دعا فرمائی:
اللّٰھم اھد دوسا،ارجع الی قومک فادعھم وارفق بھم (ابن ہشام، ’’السیرۃ النبویۃ‘‘، ۴۲۲۱۔ ابنِ اثیر،’’اسد الغابہ‘‘،تذکرہ طفیلؓ بن عمرو،۳/۵۵)
’’اے اللہ دوس کو ہدایت عطا فرما(طفیلؓ بن عمرو سے فرمایا)تم اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ ان کو دعوت دیتے رہو لیکن ان کے ساتھ نرمی اختیار کرو‘‘۔
چنانچہ مآخذ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تعلیم کردہ اسلوب کو اختیار کرنے کا نتیجہ انتہائی شاندار نکلا۔ کثیر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ۷ ھ میں جب حضرت طفیلؓ بن عمرو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے ساتھ قبیلہ دوس کے ستر یا اسی گھرانوں کے لوگ تھے۔ (ابنِ ہشام،قصۃ اسلام الطفیلؓبن عمرو الدوسی ،۱/۴۲۳۔ اسد الغابہ، تذکرہ طفیلؓ بن عمرو،۳/۵۵)
رسول اللہ ﷺنے عمروؓ بن مرہ الجہنی کو اپنے قبیلہ کی طرف دعوت دینے کے لیے بھیجا تو ان کو دعوت وتبلیغ کا یہ اسلوب تعلیم فرمایا:
علیک بالرفق والقول السدید،ولا تکن فظا ولا متکبرا ولا حسودا (ابن کثیر، ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘، ۲/۳۵۱)
’’نرمی سے پیش آنا،صحیح اور سچی بات کرنا،سخت کلامی اور بدخلقی سے پیش نہ آنا،تکبر اور حسد نہ کرنا‘‘
دعوت وتبلیغ میں حسنِ اخلاق اور نرمی کا اسلوب کس قدر مؤثر ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالدؓ بن ولیدکو دعوت وتبلیغ کے لیے یمن روانہ فرمایا،حضرت خالدؓ بن ولیدنے بعض لوگوں کے ساتھ سختی کی جس کی وجہ سے چھ ماہ مسلسل کو شش کے باوجود بھی لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو واپس بلالیااور حضرت علیؓکوبطور مبلغ روانہ فرمایا۔ابنِ اثیرکا بیان ہے:
’’رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن بھیجا اور ان سے قبل آپ ﷺ خالدؓ بن ولیدکو یمن دعوت وتبلیغ کے لیے بھیج چکے تھے لیکن ان لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا۔لہذا رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو روانہ کرتے وقت نصیحت کی کہ وہ خالدؓ اور ان کے اصحاب کی وجہ سے (اہلِ یمن کے ساتھ)ہونے والی بدسلوکی اور نقصان کاتاوان ادا کریں (ان لوگوں سے نرمی کریں)چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیااور لوگوں کو رسول اللہﷺ کا خط پڑھ کر سنایاتو قبیلۂ ہمدان سارے کاسارا ایک ہی دن میں مسلمان ہوگیا‘‘۔ (الکامل فی التاریخ، ۲/۲۰۵)
وہ لوگ جو چھ ماہ سے قبولِ اسلام سے انکاری تھے، جب ان کے ساتھ نرمی کا اسلوب اختیار کیاگیا تو انہوں نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔ان چند روایات سے نرمی کے اسلوب کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔

ترغیب وترہیب کی تلقین

حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓسے مروی ہے کہ بنی حارث بن کعب کے وفد کی واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عمروؓ بن حزم الانصاری کو ان کا والی مقررکیا تاکہ ان سے زکوٰۃ وصدقات کی وصولی کے ساتھ ساتھ ان کو اسلامی تعلیمات سے بھی روشناس کرائیں۔ آپ ﷺ نے عمروؓ بن حزم کو بنی حارث کی طرف ایک طویل مکتوب دے کر روانہ فرمایا جس میں ان کو اسلامی احکام کی تبلیغ کا حکم فرمایا اور اس کے ساتھ ان کو دعوت میں ترغیب وترہیب کا انداز اختیار کرنے کا بھی حکم دیا:
ویبشر الناس بالجنۃ وبعملھا، وینذر الناس النار وعملھا ویستألف الناس حتی یفقھوا فی الدین (ابنِ ہشام،اسلام بنی الحارث بن کعب ۴/۲۵۰۔ تاریخ الامم والملوک، ۳/۱۵۷(واقعات ۱۰ھ) ابنِ ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب،۴/۲۴۹)
’’لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اس کے اعمال سے آگاہ کریں، دوزخ سے ڈرائیں اور اس کے اعمال سے متنبہ کریں۔لوگوں کے ساتھ نہایت اخلاق سے پیش آئیں تاکہ وہ ارکانِ دین کو اچھی طرح سمجھ لیں‘‘
حضرت خالدؓ بن ولید نے،جن کو بنی حارث کی طرف تبلیغی مہم پر بھیجا گیا تھا، بذریعہ خط اپنی کامیابی کی اطلاع بھیجی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو مزید تبلیغ جاری رکھنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ تلقین بھی فرمائی:
فبشّرھم وانذر ھم (ابنِ ہشام،اسلام بنی الحارث بن کعب، ۴/۲۴۹)
’’تم ان کو جنت کی خوشخبری دو اور ان کو دوزخ سے ڈراؤ‘‘

موقع ومحل کا لحاظ رکھنے کی تلقین

ہر داعی اسلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیکھے کہ کیا دعوت وتبلیغ کے لیے یہ وقت اور موقع مناسب ہے کیونکہ اگر مخاطب اعتراض اور نکتہ چینی کی طرف مائل ہو تو جذبے کی سچائی اور اندرونی لگن کے باوجود داعی کی دعوت غیر مؤثر ہوگی۔ اس وقت مناسب یہ ہوگا کہ داعی بحث کو بڑھانے کے بجائے وہیں ختم کرکے وہا ں سے ہٹ جائے اور کسی مناسب موقع کا انتظار کرے۔ جب کسی دوسرے موقع پر مخاطب کا ذہن نکتہ چینی کی طرف مائل نہ ہوتو پھر اس کے سامنے حق کو پیش کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ (الانعام،۶:۶۸)
’’جب تم ان لوگوں کو دیکھو جوہماری آیات میں نکتہ چینی کررہے ہیں تو ان سے اعراض کرویہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں‘‘
اسی لیے رسول اللہﷺ نے موقع بے موقع دعوت وتبلیغ جیسے نازک کام سے منع کیاہے جب مخاطب کسی کاروبار یا ایسی دلچسپی میں منہمک ہو جس کو چھوڑ کر دعوت حق کی طرف متوجہ ہونا اس کی طبیعت پر گراں گزرے۔ ظاہر ہے کہ اس صور ت میں مخاطب داعی کی بات کو کبھی بھی دل کی گہرائیوں اور حقیقی جذبے سے نہیں سنے گاجودعوت کی کامیابی کاسب سے لازمی عنصر ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺنے صحابہ کرامؓ کو تلقین فرمائی کہ وہ دعوت وتبلیغ کے جوش میں ہر مجلس میں نہ گھس جایاکریں بلکہ پہلے حالات کاجائزہ لیں۔ اگر دعوت کے لیے ماحول سازگار ہوتو دعوت دیں ورنہ مناسب وقت کاانتظار کریں۔

آسانی اور سہولت کی تلقین

دین کی جائز آسانی اور سہولت کوپیشِ نظر رکھنا، دین کو درشت اور مشکل نہ بنانا اس کی قبولیت کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے عام مسلمانوں کے لیے ہمیشہ آسانی اور سہولت کے پہلو کو پیش نظر رکھا۔حضرت عائشہؓ رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل کے متعلق ارشاد فرماتی ہیں:
ما خیّر رسول اللّٰہ ﷺ بین امرین الا أخذ ایسرھما مالم یکن اثما، فان کان اثما کان ابعد الناس منہ، وما انتقم رسول اللّٰہ ﷺ لنفسہ الا ان تنتھک حرمۃ اللّٰہ فینتقم للّٰہ بھا (الموطّأ، کتاب حسن الخلق، باب ماجاء فی حسن الخلق، ح:۶۹۰، ص: ۵۵۵۔ صحیح مسلم، ح:۶۰۴۵۔ صحیح البخاری، ح:۶۱۲۶)
’’رسول اللہ ﷺ کو کبھی دوامور میں اختیار نہیں دیا گیا مگریہ کہ آپ ﷺنے ان میں سے آسان کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو۔ اگر گناہ ہوتو اس سے تمام انسانوں سے زیادہ دور ہوتے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا مگر جبکہ اللہ کی حرمت مجروح ہوتو پھر آپ ﷺ اللہ کے لیے انتقام لیتے‘‘
انسان طبعاً سہولت پسند ہے اس لیے داعی کافرض ہے کہ وہ دین کو مشکلات کا مجموعہ نہ بنائے بلکہ جہاں تک ممکن ہو، دینی زندگی کو لوگوں کے لیے آسان بناکر پیش کرے۔ دینی معاملات میں تشدد پسندی اور سختی سے حتی الوسع پرہیزکرے اور اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو جو حل سب سے آسان ہو، اس کی طرف رجوع کرناچاہیے۔ رسول اللہﷺ کے طرزِ عمل سے اس کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے :
’’ایک دیہاتی مسجد میں آیا، اس نے دورکعتیں اداکیں پھر کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرمااور ہمارے ساتھ کسی اور پر نہ فرما۔ رسول اللہ ﷺ نے توجہ فرمائی اور فرمایا: تونے وسیع چیز کو تنگ کردیا۔ پھر اس نے جلدی سے مسجد میں پیشاب کردیا۔ لوگ اس کی طرف (مارنے کی خاطر)دوڑے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیںآسانی کرنے والا بنایا گیا ہے،مشکل پسند نہیں۔ اس پر پانی کا ایک ڈول بہادو‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب یصیب الماء علی البول فی المسجد ،ح:۲۲۰،ص:۴۱۔ ایضاً، کتاب الادب،باب قول النبی ﷺ یسروا ولا تعسروا، ح:۶۱۲۸، ص:۱۰۶۸۔ صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ،باب وجوب غسل البول وغیرہ :۶۶۱،ص:۱۳۳۔ جامع الترمذی ،کتاب الطہارۃ،باب ماجاء فی البول یصیب الارض،ح:۱۴۷،ص:۴۱۔ سننِ ابی داؤد،کتاب الطہارۃ،باب الارض یصیب البول،ح:۳۸۰،ص:۶۶۔ سننِ نسائی ،کتاب الطہارۃ،باب ترک التوقیت فی الماء،ح:۵۶،ص:۷)
جہالت یا عدم واقفیت ایک مرض ہے۔ اسے ایک قسم کی معذوری سمجھ کر ازالے کی کوشش کرنا ہی انسانیت کی خدمت ہے لیکن اس سے اظہارِ نفرت وانتقام گویا اس کی اصلاح کے تمام راستے بند کرنے والی بات ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے:
عن انسؓ قال رسول اللہﷺ:خیر دینکم ایسرہ،وخیر العبادۃ الفقہ (ابنِ عبدالبر،جامع بیان العلم وفضلہ،باب تفضیل العلم علی العبادۃ، ۱/۲۱)
’’حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:تمہارا دین آسان ہے اور اچھی عبادت دینی بصیرت حاصل کرنا ہے‘‘
چنانچہ رسول اللہﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ کویمن میں دعوتی مہم پر روانہ فرمایا تو ان کو اسی اسلوبِ دعوت کی تلقین ان الفاظ میں فرمائی:
یسّرا ولا تعسّرا ،وبشّرا ولا تنفّرا (ابنِ ہشام،وصیۃ الرسول معاذا حین بعثہ الی الیمن،۴/۲۴۶)
’’دین کو آسان بناکر پیش کرنا سخت بنا کر پیش نہ کرنا،لوگوں کو خوشخبری سنانا نفرت نہ دلانا‘‘
صحابہ کرامؓ نے اگر کبھی دینی معاملات میں اعتدال سے ہٹ کر تشدد کی راہ اپنائی تو آپﷺ نے انتہائی سختی سے منع فرمایا۔حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذؓبن جبل نے ایک مرتبہ انصار کو نمازِ مغرب پڑھائی اور قرأ ت کو خوب طول دیا۔حضرت حازم انصاریؓ نہ ٹھہر سکے اور اپنی علیحدہ نماز پڑھ کر چل دیے۔حضرت معاذؓبن جبل ان سے سخت ناراض ہوئے ۔ حضرت حازمؓ بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ معاذ ؓ ہمیں بہت طویل نماز پڑھاتے ہیں جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ رسول اللہﷺ نے حضرت معا ذؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا:
یا معاذؓ! أفتّان أنت ؟ أفتّان أنت؟ اقرأ بکذا،اقرأ بکذا (سننِ ابی داؤد،کتاب الصلوٰۃ،باب تخفیف الصلوٰۃ،ح:۷۹۰،ص:۱۲۳۔ اسد الغابہ،تذکرہ حازمؓ انصاری،۱/۳۶۰)
’’اے معاذؓ! کیا تم فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟اے معاذ لوگوں پر تخفیف کرو‘‘
رسول اللہﷺ نے ثقیف پر حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کو امیر مقرر کرکے روانہ فرمایا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے مجھ سے جو آخری عہد لیا، وہ یہ تھا:
یاعثمانؓ! تجاوز فی الصلٰوۃ، واقدر الناس باضعفھم، فان فیھم الکبیر والصغیر والضعیف وذا الحاجۃ (ابنِ ہشام،امر وفد ثقیف واسلامھا ،۴/۱۹۵۔اسد الغابہ،تذکرہ عثمانؓ بن ابی العاص،۳/۳۷۲)
’’اے عثمانؓ!نماز ہلکی رکھنا اور لوگوں میں ان کے سب سے زیادہ ضعیف آدمی کو معیار بنانا،کیونکہ (نماز پڑھنے والے) لوگوں میں بڑے بھی ہوتے ہیں اور چھوٹے بھی،ضعیف بھی ہوتے ہیں اور صاحبِ ضرورت بھی‘‘
شاہانِ حمیر نے قاصدکے ذریعہ رسول اللہﷺ کو اپنے اسلام لانے کی اطلاع بھیجی تو رسول اللہﷺ نے ان کی طرف چند صحابہ کومحاصل جمع کرنے اور دعوت وتبلیغ کے لیے روانہ فرمایا،ان لوگوں میں حضرت معاذؓبن جبل بھی تھے۔ ابن اسحاق کابیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے روانگی کے وقت ان سے عہد لیا اور سہولت اور آسانی کا اسلوب اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
یسّر ولا تعسّر، وبشّر ولا تنفّر، وانک ستقدم علی قوم من اہل الکتاب، یئلونک مامفتاح الجنۃ؟ فقل شہادۃ ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ (ابنِ ہشام، وصیۃ الرسول ﷺ معاذا حین بعثہ الی الیمن ،۴/۲۴۶)
’’آسانی پیدا کرنا ،دشواری پیدا نہ کرنا، خوش رکھنے والی باتیں کرنا ، نفرت دلانے والی باتیں نہ کرنا،تم اہلِ کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جارہے ہو،وہ تم سے پوچھیں گے جنت کی کنجی کیا ہے؟ تو تم کہنا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا ئے واحد کے سوا اور کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘‘۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے مروی ہے:
’’ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!میں تو فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز سے پیچھے رہ جاتا ہوں (باجماعت ادا نہیں کرسکتا)،کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے‘‘۔
راوی کا بیان ہے :میں نے رسو ل اللہ ﷺ کووعظ کے دوران کبھی اس قدر غصے میں نہیں دیکھا جتنا اس دن ہوئے۔ پھر فرمایا:
یا ایھاالناس! ان منکم منفرین، فایکم ما صلی بالناس فلیوجز، فان فیھم الکبیر والضعیف وذا الحاجۃ (صحیح البخاری ،کتاب الاحکا م ،باب ہل یقضی القاضی او یفتی وہو غضبان؟ ح:۷۱۵۹، ص:۱۲۳۲۔ ایضاً،کتاب الاذان، باب تخفیف الامام فی القیام، ح:۷۰۲،۷۰۴،۹۰،۶۱۱۰)
اے لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت پھیلانے والے ہیں،جو شخض لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر (قرأت وغیرہ) کرے،ان میں بوڑھے ،کمزور اور کام والے بھی ہوتے ہیں‘‘۔

مخاطب کی ذہنی استعداد کا لحاظ رکھنے کی تلقین

دعوت وتبلیغ میں حکمت کا تقاضایہ ہے کہ داعی مخاطب کی ذہنی استعداد کالحاظ رکھتے ہوئے اپنی دعوت پیش کرے۔ اگر داعی عام مخاطب کی ذہنی استعداد کو نظر انداز کرتے ہوئے منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثیں شروع کردے یاکسی صاحبِ علم اور دانشور شخص کو دعوت دیتے وقت گفتگو کا غیر علمی اور غیر عقلی اسلوب اختیار کرے،تو اس صورت میں دعوت کے مؤثر ہونے کی توقع رکھنا فضول ہے۔اس لیے داعی کا فرض ہے کہ وہ مخاطب کی ذہنی استعداد اورنفسی کیفیات کا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کا فریضہ ادا کرے۔داعی درحقیقت ایک بے مثال استاد اور مربی کی طرح ہے جو سامع کانفسیاتی جائزہ لیتے ہوئے اس کے ذہنی پس منظر ،اس کی استعداداور اس کے مزاج کو سامنے رکھ کر بات کرتاہے۔وہ ایک بدوی اور شہری ،پڑھے لکھے اور ان پڑھ،اور عقل وتجربہ کے مختلف مدارج رکھنے والے انسانوں سے مختلف طریقوں اور اسالیب سے گفتگو کرتاہے۔خود داعی اعظمﷺ نے ہمیشہ مخاطب کے ذہنی معیار کی رعایت فرمائی۔ اسی لیے ہر شخص آپ ﷺ سے مطمئن ہوتا تھا ۔صرف یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ مخاطب کی ذہنی استعداد کالحاظ رکھتے ہوئے عمدہ مثالوں اور روزمرہ کے مشاہدات سے اس انداز میں استدلال فرماتے کہ بات سامع کے دل ودماغ میں اترتی چلی جاتی۔ حضرت ابوہریرۃؓسے روایت ہے:
’’ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!میری بیوی نے سیاہ بچے کو جنم دیا ہے اور میں اس کو پسند نہیں کرتا۔رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟اس نے کہا:ہاں، آپ ﷺنے فرمایا :ان کے رنگ کیا ہیں؟اس نے کہا:سرخ ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا:کیا ان میں سے کوئی سیاہی مائل بھی ہے؟اس نے کہا:ہاں سیاہی مائل بھی ہے۔آپ ﷺنے فرمایا:وہ کہاں سے آگیا؟ کہنے لگا :اے اللہ کے رسول !شاید ان کی کہیں اصل نسب میں ہوگا۔آپ ﷺنے فرمایا:شاید یہ بھی کہیں اصل نسب میں ہوگا‘‘۔ (صحیحَ البخاری،کتاب الطلاق،باب اذا عرض بنفی الولد، ح:۵۳۰۵، ص:۹۴۸۔ ایضاً،کتاب الحدود،باب ماجاء فی التعریض، ح:۶۸۴۷، ص:۱۱۸۰۔ ایضاً،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب من شبہ أصلاًمعلوماً ح:۷۳۱۴، ص:۱۲۵۹۔ صحیح مسلم،کتاب اللعان،ح:۳۷۶۸،ص:۶۵۲)
چنانچہ وہ بدو بالکل مطمئن ہوگیا۔رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کو بھی یہی تلقین فرمائی کہ وہ لوگوں کی عقل اور ذہنی استعداد کے مطابق دعوت دیں ۔صحابہ کرامؓکہتے ہیں:
أمرنا ان نکلّم الناس علی قدر عقولھم (منتخب کنزالعمال،کتاب الاخلاق،باب فی الاخلاق المحمودۃ ،ح:۸۵۰۳،۴/۷۰)
’’آپﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لوگوں کی ذہنی استعداد کے مطابق بات کریں‘‘

مخاطب کے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھنے کی تلقین

داعی کا فرض ہے کہ وہ ممکن حد تک مخاطب کے معاشرتی وسیاسی مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھے۔کیونکہ ایسے لوگ عزت افزائی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔اگر داعی ان کے مقام ومرتبہ کو نظر انداز کرے گا تو ممکن ہے کہ شیطان اسے گمراہ کردے اور اسے حق بات سننے سے روک دے۔اس لیے داعئ حق کو چاہئے کہ وہ ایک خاص حد تک ان کی اس کمزوری کا لحاظ رکھے تاکہ قبولِ حق میں ان کے اپنے نفس کی مزاحمتوں کے سوا داعی کی طرف سے کوئی جدید مانع پیدا نہ ہوجائے۔
خود رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل تھا کہ آپ ﷺ وفود عرب،جو عام طو رپر قبائلی رؤسااور سرداروں پر مشتمل ہوتے تھے،کی پیشوائی فرماتے،ان کے احترام کے لیے کھڑے ہوتے اور ان کی عزت افزائی فرماتے،چنانچہ کئی وفود جو محض معاہدہ صلح کے لیے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تھے ،آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق اور عزت افزائی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کرلیا۔ مثلاً وفدِاشجع معاہدہ صلح وامن کے لیے آیا تھالیکن آپﷺکے حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ (ابن سعد، ’’الطبقات الکبریٰ ‘‘،وفدِ اشجع،۱/۳۰۶) اس لیے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓکی بھی اسی نہج پرتربیت فرمائی اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سے ان کے مقام ومرتبہ کے مطا بق سلوک کریں ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے :
انزلوا الناس منازلھم (سننِ ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی تنزیل الناس منازلھم ح:۴۸۴۲،ص:۶۸۴)
’’لوگوں سے ان کی قدر ومنزلت کے مطابق پیش آؤ‘‘۔
مخاطب کے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھنے اور دعوت کو نرم انداز میں پیش کرنے کاجو حکم ہے اس کا جواز فقط اسی حد تک ہے جہاں تک حق کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچے ،اگر اس اسلوب کو اختیار کرنے سے دعوتِ حق کا وقار مجروح ہونے کا اندیشہ ہوتو داعی کو ایسے تمام طریقوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اعجاز و اختصار کی تلقین

داعی کے لیے اس امر کالحاظ رکھنا بھی ضر وری ہے کہ دعوت کی فضول تکراراور بے فائدہ طولِ بیان کہیں لوگوں کودعوت کے مضامین ہی سے متنفر نہ کردے۔رسول اللہﷺ کے خطبے نہایت مختصر ہواکرتے تھے اور بعض روایات میں رسول اللہﷺ نے خطبہ کے اختصار کو خطیب کی دانش مندی کی علامت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
ان من البیان سحرًا (سنن ابی داؤد، کتاب الاد ب، باب ماجاء فی الشعر،ح:۵۰۱۱،ص:۷۰۵)
’’بعض خطبے جادو ہوتے ہیں‘‘
اس حدیث میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ اگر داعی کاخطبہ مختصر ،جامع اور بلیغ ہوگا تو وہ جادو کی طرح اثر کرے گا۔جبکہ طویل خطبہ نہ صرف سامع کی طبیعت کوکند کردے گابلکہ دعوت کوقبول کرنے کی حس اور صلاحیت کوبھی ختم کردے گا۔اس لیے رسول اللہ ﷺ نے دعوت وتبلیغ میں ہمیشہ اختصار سے کام لیانیز آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کی بھی اسی نہج پر تربیت فرمائی ۔حضرت عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں:
أمرنا رسول اللّٰہ باقصار الخطب (سننِ ابی داؤد،کتاب الصلوٰۃ، باب اقصار 
’’رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ میں اختصار کاحکم فرمایا ہے‘‘۔الخطب، ح:۱۱۰۶، ص:۱۶۶) 
حضرت عمار بن یاسرؓنے ایک دفعہ خطبہ دیا تو آپؓنے اپنے خطبہ میں اختصار سے کام لیا۔ قبیلۂ قریش کے ایک شخص نے کہا اگر آپؓ کچھ مزید فرماتے تو بہتر تھا،آپؓنے جواب دیا:
ان رسول اللّٰہ ﷺ نھی ان نطیل الخطبۃ (المسند، حدیث عمار بن یاسرؓ، ح:۱۸۴۱۰،۵/۴۱۹)
’’رسو ل اللہﷺ نے ہمیں طویل خطبے سے منع فرمایا ہے‘‘

جبر واکراہ سے اجتناب کی تلقین

اسلام کو جملہ الہامی وغیر الہامی مذاہب میں اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس نے اپنی ترویج واشاعت کے باقاعدہ اصول بیان کیے ہیں اور کھل کر اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ دین ایسی چیز نہیں جس کو زبردستی کسی پرٹھونساجائے کیونکہ دینِ اسلام کا اولین جزو ایمان ہے اور ایمان نام ہے یقین کا۔دنیاکی کوئی طاقت کسی کے دل میں یقین کا ایک ذرہ بھی زبردستی پیدا نہیں کر سکتی۔ اس لیے قرآن کا واضح حکم ہے:
لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِ (البقرہ،۲:۲۵۶)
’’دین میں زبردستی نہیں ہے،تحقیق ہدایت گمراہی سے الگ ہوچکی ہے‘‘۔
دعوتِ دین کا یہ وہ اسلوب ہے جس کو نہ صرف رسول اللہﷺ نے خود اختیار فرمایابلکہ صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین فرمائی چنانچہ رسول اللہﷺ نے جب عمروؓ بن حزم کوبنو حارث بن کعب کی طرف دعوت وتبلیغ اور صدقات کی وصولی کے لیے روانہ فرمایا تو ان کو ایک تحریر لکھ کردی جس میں یہ ہدایت واضح طور پر درج تھی:
.........وأنہ من اسلم من یھودی اونصرانی اسلاما خالصا من نفسہ، ودان بدین الاسلام، فانہ من المومنین، لہ مثل ما لھم، وعلیہ مثل ما علیھم، ومن کان علی نصرانیتہ أویھودیتہ فانہ لایردعنھا (ابن ہشام،اسلام بنی الحارث بن کعب،۴/۲۵۱)
’’..........اور جو یہودی یانصرانی اپنی طرف سے مخلصانہ اسلام لے آئے اور دین اسلام کو اپنا دین بنالے، وہ مومنوں میں شمار ہوگا،اس کے وہی حقوق ہوں گے جو مومنوں پرہوں گے اور جو اپنی یہودیت یانصرانیت پر قائم رہے گا اسے اس یہودیت یا نصرایت سے پھیرا نہ جائے گا‘‘

خلاصۂ بحث 

مخاطبینِ دعوت دوچیزوں سے فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں: ایک داعی کاذاتی کردار اور دوسرا اس کابات کرنے کا اندازکہ وہ کس انداز میں اپنی دعوت کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے ۔اس لیے ایک داعی کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو بیان کردے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ مضامین دعوت کو لوگوں کے سامنے اس طریقے سے پیش کرے اور بات اس پیرائے میں کرے کہ ان پر حق پوری طرح آشکاراہوجائے اور بات ہر خاص و عام کی سمجھ میں آجائے اور جن لوگوں کے دلوں میں قبولِ حق کی کچھ بھی صلاحیت اور تڑپ ہے، وہ اس کو قبول کرلیں ۔اس مقصد کے حصول کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ دعوت کی زبان انتہائی مؤثر ،داعی کا طرزِ کلام فطری اور اس کا اسلوب د ل نشین ہو۔
ایک داعی کاکام یہ نہیں کہ وہ ایک مؤرخ کی طرح واقعات کو بیان کردے بلکہ اس کا کردار ایک صحافی،فلسفی اور مقنّن سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طرف تو اس کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ زندگی کے تمام معاملات اس کے تحت آجاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے مخاطبین میں مزاج اور طبیعت کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے اور ان کی ذہنی استعداد بھی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مخاطب کی صلاحیتوں کے اس اختلاف کو پیشِ نظر رکھ کر بات کرے،اورمخاطبین کے مذاق اور رجحانِ طبع کا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کے مختلف اسالیب اختیار کرے اور اس کی طرف مختلف سمتوں سے آئے کہ نہ صرف اس پر حق واضح ہوجائے بلکہ اس پر اتمامِ حجت بھی ہوجائے۔اگر داعی دعوت کا ایک ہی متعین اسلوب اختیار کرے گا تو اس کی ناکامی نوشتۂ دیوارہے۔کیونکہ اس کی یہ یک رنگی اس فطرت کے بالکل خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر فرد میں طبیعتوں اور صلاحیتوں کے اختلاف کے ساتھ رکھی ہے۔رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کی دعوتی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دعوتِ دین کاکوئی متعین اسلوب اختیار نہیں کیابلکہ مخاطب کے حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو مناسب جانا، اس اسلوب اور انداز کو اختیار کیا۔ آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو اسلوبِ دعوت کی جو تلقین کی، اس میں بھی جوتنوع ہے، وہ مخاطبینِ دعوت کے اعتبار ہی سے ہے۔
داعی کاکام مدعو کے ذہن کو بالکل تبدیل کرکے رکھ دینا ہے، اس لیے یہ کام اس قدر آسان نہیں۔ اس کے لیے داعی کا صاحبِ علم ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم ہونا بھی ضروری ہے۔،دعوتِ حق میں حکیمانہ اندازِ تخاطب کامیابی کی ضمانت بن سکتاہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکمت کے سارے اصول پیغمبرِ اسلامﷺ کو سکھائے اور آپﷺ نے اپنی دعوتی زندگی میں ان اسالیب کو اختیار کرکے ایک مثال قائم کی اورپھر آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی بھی اسی نہج پر تربیت فرمائی۔ دعوت کے اصول اور اسلوب کو اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردینا امتِ محمدیہ ﷺکی ایسی خصوصیت ہے جس میں دنیا کا کوئی مذہب ،چاہے وہ الہامی ہویا غیر الہامی،اسلام کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا ۔ قرآن نے خود دعوت کے اصول اور اسلوب کو بیان کیا اور پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اس پر عمل کرکے ایک عملی مثال قائم فرمائی اور پھر آپﷺ نے اپنے ماننے والوں کو بھی ان کی تلقین اور ہدایت فرمائی جیسا کہ گذشتہ سطور میں اس کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 

امریکی جارحیت کے محرکات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

عالمی سیاست کے حقیقت پسند مکتبہ فکر کے مطابق کسی بھی قسم کی ’’قدریں‘‘ قومی مفاد کا جزو لا ینفک نہیں ہوتیں۔ مغربی ممالک کی عمومی نفسیات اسی مکتبہ فکر سے متاثر ہے لہٰذا ان ممالک میں قومی مفاد کو قدروں سے وابستہ کرنے کے بجائے تزویراتی مفاد سے وابستہ کیا جاتا ہے، اگرچہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ڈھنڈورا اعلیٰ انسانی قدروں کا ہی پیٹا جاتا ہے۔ افغانستان اور عراق کے خلاف حالیہ امریکی اقدامات میں بھی ’’انسانی تہذیب کی سلامتی‘‘ جیسے جوازات گھڑے گئے ہیں حالانکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکی پالیسی ساز قدریاتی تعیش پر مبنی ترجیحات اپنا کر تزویراتی نقصانات کے متحمل کبھی نہیں ہو سکتے اس لیے بفرض محال امریکی اقدامات میں قدری پہلوؤں کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ لازماً تزویراتی مفادات سے ہم آہنگ ہوں گے۔ تبھی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ان اقدامات کا پشتیبان بنا ہوگا۔
سپر طاقت ہونے کے باوجود امریکیوں کے لیے دنیا میں ابھرتے ہوئے باہمی انحصار (Rising Interdependence) کا رجحان درد سر بنا ہوا ہے۔ امریکی حکومت دنیا کے کسی بھی کونے کھدرے میں کسی انقلابی پیش رفت سے انتہائی خوف زدہ ہے کہ اس سے بالواسطہ امریکی مفادات پر زد پڑ سکتی ہے۔ اکیسویں صدی میں ریاست کے اندرون وبیرونی کا فرق ختم ہو چکا ہے۔ یہی پس منظر ہے جس کے باعث امریکہ عالمی کردار (Globalized role) اپنانا چاہتا ہے تاکہ اس کا موجودہ سٹیٹس برقرار رہے۔
بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی انرجی کا چالیس فی صد حصہ تیل سے پورا ہوتا ہے اور تیل کا پینتالیس فی صد حصہ درآمد کیا جاتا ہے اور کل درآمد کا ایک چوتھائی خلیج سے لیا جاتا ہے یعنی امریکی انرجی کا تقریباً پانچ فی صد سے بھی کم انحصار خلیج کے تیل پر ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ صرف پانچ فی صد انرجی کے تحفظ کے لیے اتنا ’’کھڑاک‘‘ کر رہا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ جاپان کی انرجی کا سینتیس فی صد انحصار خلیج کے تیل پر ہے، اس طرح کچھ اور ممالک بھی اپنی تیل کی ضروریات کا وافرحصہ خلیج کے ذخائر سے پورا کرتے ہیں۔ عالمی منڈی کے اپنے تیل کا تقریباً ایک تہائی خلیج پر منحصر ہے لہٰذا وہاں کسی قسم کی گڑبڑ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھا دے گی اور نتیجے کے طور پر امریکہ کو بھی پینتالیس فی صد درآمدی تیل کی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر باہمی انحصار کے سبب امریکی معیشت پر بالواسطہ بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اثرات شدید نوعیت کے نہ بھی ہوں تو بھی امریکی عزائم کی راہ میں حائل ہونے کی کافی سکت رکھیں گے کہ امریکہ کا مسئلہ ’’روٹی کا مسئلہ‘‘ نہیں ہے بلکہ قومی تفاخر، انداز زندگی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی ٹھیکے داری بھی اس کے لیے نفسیاتی مسائل بن چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ امور کی بابت دنیا بھر میں کام کرنے کے لیے مضبوط معیشت کی ضرورت ہے۔ 
خیال رہے کہ ۱۹۷۰ء کے عشرے میں تیل کے بحران کے بعد امریکی حکومت نے بیس بلین ڈالرز خرچ کر کے Strategic Petroleum Reserve تعمیر کیا تھا تاکہ عربوں کے ’’ہتھیار‘‘ سے بچا جا سکے لیکن اس وقت دنیا میں رائج مخصوص معاشی رجحانات نے اس ریزور کی سابقہ اہمیت میں کافی کمی کر دی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ درحقیقت عالمی معیشت پر ’’ٹیکس‘‘ تصور کیا جاتا ہے کہ اس سے افراط زر میں اضافہ ہوگا اور طلب میں کمی واقع ہوگی۔ قیمتوں میں اضافے سے امریکی معیشت یوں متاثر ہوگی کہ اسے ایک بڑے درآمدی بل کا سامنا کرنا پڑے گا اور بڑے درآمدی بل سے معیشت کو دھچکا لگے گا اور نتیجتاً پیداواری عمل متاثر ہونے سے پوری معیشت بیٹھ جائے گی۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اگر امریکی حکومت، رچرڈ نکسن کا مقصد ’’توانائی کے میدان میں خو دمختاری‘‘ حاصل بھی کر لے تو بھی وہ میکرو اکنامک اثرات سے بچ نہیں سکے گی کہ باقی دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی منڈی کو شدید دھچکا لگے گا۔ 
اگر ہم مذکورہ پہلوؤں کے مضمرات پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ تیل کی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا دفاعی بجٹ متاثر نہ ہو کیونکہ امریکی معیشت کو دھچکا لگنے کی صورت میں دفاعی بجٹ میں کٹوتی ضروری ہو جائے گی اور امریکہ ٹھیکے داری نہیں کر سکے گا۔
اگر ہم ایک اور زاویے سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی انشورنس پالیسی کی طرز پر تشکیل دی گئی ہے۔ سابقہ سوویت یونین سے کسی خوف ناک تصادم کے امکان کے پیش نظر دفاع پر ٹریلین ڈالرز جھونک دیے گئے تھے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں Margin of Safety کلیدی عنصر بن چکا تھا۔ جس طرح عام زندگی میں بہت کم لوگ امید رکھتے ہیں کہ ان کا گھر جل سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اکثرلوگ وافر انشورنس کی سکیورٹی ترجیحی بنیادوں پر اپناتے ہیں۔ سابقہ سوویت یونین سے کسی امکانی ٹکراؤ کے پیش نظر امریکی پالیسی ساز بھی وافر انشورنس کی سکیورٹی کو اپنائے ہوئے تھے اور اسلحہ کے انبار لگا رہے تھے۔ ہماری رائے میں اصل بات یہ ہے کہ کسی امکانی مسئلے کی ’’نوعیت‘‘ کیا ہے؟ یعنی امکان کے وجود میں ڈھلنے سے نقصان کس حد تک ہو سکتا ہے، اگرچہ مخصوص واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کا امکان انتہائی کم ہو۔ سابقہ سوویت یونین سے براہ راست ٹکراؤ کا امکان اگرچہ بہت کم تھا لیکن اگر یہ ٹکراؤ ہو جاتا تو نقصان کا شمار ہی نہیں کیا جا سکتا تھا لہٰذا امریکی پالیسی ساز ایسے نقصان سے بچاؤ کے لیے Margin of Safety پر مبنی پالیسی بنانے میں حق بجانب تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ امریکہ پالیسی کی یہی نفسیات افغانستان اور عراق میں نظر آتی ہے۔ وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر سے اگرچہ امریکی مفادات براہ راست وابستہ نہیں ہیں لیکن امریکہ باہمی انحصار کے عالمی رجحان کے باعث Margin of Safety کا خواہاں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ امریکی پالیسی ساز سرد جنگ کی نفسیات سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔ ہمارے موقف کو اس امر سے مزید تقویت ملتی ہے کہ امریکی صدر کے ارد گرد موجود افراد، سرد جنگ کے دوران بھی کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان کی سوچ اور رویہ اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔
سیاسی مدبرین کہتے ہیں کہ جنگ کا آپشن اختیار کرتے وقت بزرجمہروں کو اچھی طرح جانچ لینا چاہیے کہ کیا جنگ کے بعد مناقشت میں کمی واقع ہوگی یا مزید اضافہ ہو جائے گا۔ بش سنیئر کے عہد میں عراق پر حملوں کے بعد کی صورت حال امریکی فیصلہ سازی میں غلطی کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس کے بعد امریکہ عراق کشمکش میں اضافہ ہوا ہے۔ آخر یہ کیسی جیت تھی کہ امریکہ نے جنگ جیتنے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ کیا؟ اسی طرح افغانستان پر حالیہ حملوں کے بعد امریکی دفاعی بجٹ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ بن کر سامنے آیا۔ سوویت یونین کی شکست وریخت، پہلی خلیجی جنگ میں امریکی فتح اور حالیہ افغان جنگ میں بھی امریکی فتوحات کے باوجود یورپ، جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن، لاطینی امریکہ اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی ذمہ داریاں (Military Commitments) وہی ہیں جو سرد جنگ کے دوران تھیں۔ ماضی کی نسبت اس وقت امریکہ کو زیادہ خطرات لاحق ہیں مثلاً منشیات، دہشت گردی، تیسری دنیا میں امریکہ مخالف لہر وغیرہ۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے Soft Power Strategic Measures کی ضرورت ہے جیسا کہ:
۱۔ عالمی معاملات میں بین الاقوامی برادری کی رائے کا احترام کرنا۔
۲۔ امتیازی پالیسیوں کے بجائے اصولی موقف اختیار کرنا۔
۳۔ غربت وافلاس کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کرنا۔
۴۔ دنیا کے ہر خطے کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا۔
۵۔ مقامی وعلاقائی تقاضوں اور نظریات کا احترام کرنا۔
لیکن اس وقت امریکی پالیسیوں کا محور Hard Power Strategic Measures ہیں۔ جناب واکر بش کی بڑھکیں کہ ’’کوئی ہمارا ساتھ دے یا نہ دے، ہم عراق پر حملہ ضرور کریں گے‘‘ امریکی حکمت عملی کے اسی پہلو کو اجاگر کرتی ہیں۔ ہو سکتا ہے امریکیوں کا حکمت عملی کے سخت پہلو پر زور دینا اپنے تئیں ٹھیک ہی ہو لیکن سیاسی مدبر میکس ویبر (Max Weber)کی بات بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پالیسیوں کو ان کے نتائج کے اعتبار سے جانچا جانا چاہیے نہ کہ ان کے محرکات کے حوالے سے۔ دنیامیں امریکہ مخالف بڑھتی ہوئی لہر امریکی پالیسیوں کی بابت نتائج کے اعتبار سے منفی تصویر پیش کرتی ہے۔
خلیجی جنگ، افغانستان میں امریکی مداخلت اور عراق پر امریکہ کے حالیہ حملوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ امریکہ حقیقتاً عالمی لیڈر ہے، اس کے مقابلے میں کوئی نہیں۔ اگر ہم امریکہ کی موجودہ پوزیشن کا جنگ بوئر (۱۹۰۲۔۱۸۹۹ء) کے بعد کے برطانیہ سے موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح برطانیہ بھی اپنے تئیں عالمی لیڈر بنا ہوا تھا حالانکہ درحقیقت یہ برطانیہ کے زوال کا آغاز تھا کیونکہ اس وقت:
۱۔ نئی عظیم طاقتیں ابھر رہی تھیں جس طرح آج جاپان، جرمنی اور چین ابھر رہے ہیں۔
۲۔ اس وقت برطانیہ کی سٹرٹیجک کمٹ منٹس اور ان پر پورا اترنے کی اہلیت کے درمیان ’’خلیج‘‘ حائل ہو رہی تھی اور اس کی معاشی قوت امریکہ اور جرمنی کے مقابلے میں کمزور پڑ رہی تھی۔ اسی طرح آج کا امریکہ بھی سٹرٹیجک کمٹ منٹس کا دائرہ بے محابا پھیلا چکا ہے۔ پال کینیڈی نے اپنی مشہور کتاب Rise and Fall of Great Powers میں اسی چیز کو Imperial Overstretch کا نام دیا ہے کہ امریکہ ماضی کی عظیم سلطنتوں کی مانند بے محابا پھیلاؤ کا شکار ہے اور اسی کے ہاتھوں اسے زوال آئے گا کیونکہ عالمی کردار ادا کرنے کے لیے نمو پذیر معیشت ہی پشتی بان ثابت ہو سکتی ہے لیکن عالمی غلبے کے لیے جس قدر اخراجات بڑھتے جاتے ہیں، اسی قدر قومی وسائل کا زیادہ تر حصہ ایسے اخراجات کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے نہ کہ معاشی پیداواری عمل کے لیے۔ اس طرح ایک تضاد (Paradox) سامنے آتا ہے کہ عالمی برتری کے تعاقب سے معاشی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں جن پر برتری کا انحصار ہوتا ہے۔
جنگ بوئر کے بعد برطانوی بھی آج کے امریکیوں کی مانند نعرے لگا رہے تھے کہ بین الاقوامی قانون کی پاس داری اور علم برداری کو یقینی بنانے کے لیے اور دنیا میں ’’دائمی امن‘‘ کے قیام کے لیے برطانوی کردار ناگزیر ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ، آج کے نوم چومسکی وغیرہ کی طرح، اس وقت بھی کچھ انگریز مدبروں نے برطانیہ کے عالمی کردار کی Restructuring کی کوشش کی تھی لیکن ناکام ہوئے تھے کیونکہ جنگ بوئر جیت لی گئی تھی اس لیے برطانوی بے محابا پھیلاؤ میں مضمر سٹرٹیجک اور معاشی کمزوریاں فتح کے نشے کے باعث پالیسی سازوں کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ آج کے امریکی پالیسی ساز بھی ایسے ہی اندھے پن کا شکار ہیں۔ ہماری رائے میں آنے والے وقت میں امریکہ کی فوجی طاقت ’’اضافی‘‘ شمار ہوگی۔ امریکہ اپنی جارحیت کے محرکات تلے ہی دم توڑ دے گا۔

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل

راشد الغنوشی

(راشد الغنوشی، تیونس کی اسلامی تحریک النہضۃ کے صف اول کے قائد ہیں اور اسلامی تحریکات کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ کا حامل ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ذیل میں بعض اہم امور پر ان کے خیالات ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ لاہور کے شکریے کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ مدیر)

اسلام اور مغرب

کسی بھی معاشرے کے مسائل کا حل معاشرے کے اپنے پاس موجود ہوتا ہے تاہم دیگر عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ اس وقت مغرب کا کردار منفی ہے اور اس کی وجہ ان کا یہ خیال ہے کہ اگر ]احیاے اسلام کے نتیجے میں مسلم ممالک میں[ تبدیلی آئی تو متبادل، اسلام ہوگا اور یہ کتنا ہی معتدل کیوں نہ ہو، ان کو پسند نہیں ہے۔ لیکن تبدیلی ناگزیر ہے۔ یہ اللہ کی مرضی سے واقع ہوگی۔ یہ اللہ ہے، نہ کہ مغرب، جو، جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔
دنیا میں کئی سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں اور وہ سب مغرب کو پسند نہ تھیں لیکن مغرب کو انہیں حقیقت تسلیم کرنا پڑا۔ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو تسلیم کرنے میں امریکہ کو طویل زمانہ لگ گیا لیکن آخر کار امریکہ کو چین کی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ یہی معاملہ اب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس وقت اسلام کو ہوا سمجھنے والوں کی آواز میں بظاہر زور ہے اور معاملات ان کے ہاتھ میں ہیں، تاہم مغرب میں ایسی تحریک موجود ہے جو اسلام کے ساتھ تعمیری رابطے میں یقین رکھتی ہے۔
اگر اسلام اور مسلمان کی قسمت اپنے وقت کے عالمی نظام کے تابع ہوا کرتی تو دونوں میں سے کوئی بھی مغرب کے نوآبادیاتی تسلط اور عالمی غلبے کے صدیوں کے اثرات سے باقی نہ بچتا۔ اس کے برعکس ان داخلی اور خارجی عوامل کے باوجود، جو ترقی کو روکتے رہے، اسلام آج اس رفتار سے پھیل رہا ہے جو اس کے اقتدار کے ہزار سال میں بھی نہیں تھی۔ مستقبل اسلام کا ہے اور یہی اللہ کی مرضی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دیر سے نہیں، جلد ہی یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے گی کہ اسلام اور مسلمان ہماری دنیا کا ایک حصہ ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص اسلام سے اتفاق کرے، نہ ہی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ غیر اسلام سے اتفاق کریں لیکن متفق نہ ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ دشمن بن جائیں۔ تہذیبیں ایک دوسرے سے مکالمہ کرتی ہیں، لڑا نہیں کرتیں۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کا مغرب، تیونس میں یا کہیں بھی اسلامی تبدیلی کے حق میں نہیں ہے۔ تاہم اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ایسا کیوں ہے، تو ہم اس منفیت (negativism) کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ منفی رویہ تاریخی ہے اور دراصل ناواقفیت پر مبنی ہے۔ (اجنبی اور نامعلوم کا خوف) لہٰذا یہ مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، چاہے وہ مقامی ہوں یا باہر سے آئے ہوں، کہ وہ ناواقفیت اور تعصب کی ان خلیجوں کو پاٹنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
دیانت داری کا تقاضا ہے کہ میں اس بیرونی عامل کے مثبت پہلوؤں کو تسلیم کروں۔ تیونس کی ایک اسلامی تحریک کے افراد ایمنسٹی انٹر نیشنل، ہیومن رائٹس واچ، لائرز کمیٹی، انٹر نیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس جیسی تنظیموں کے ان اقدامات کے لیے ممنون ہیں جو انہوں نے تیونس میں آزادی اور ظلم وستم کا نشانہ بننے والوں کے حق میں کیے اور اب بھی کر رہے ہیں۔
مغرب نے ہزاروں مسلمان مہاجرین کا استقبال کیا ہے، انہیں پناہ فراہم کی ہے اور موقع فراہم کیا ہے کہ اپنی زندگی کو ازسرنو شروع کریں۔ انہیں اظہار رائے کی آزادی دی ہے۔ اس سے اس دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے کہ جب قرون وسطیٰ میں عیسائی، چرچ کی تفتیش اور ظلم سے فرار حاصل کر کے انہی ساحلوں سے اس وقت کی اسلامی دنیا کا رخ کرتے تھے جو اس زمانے میں آزادی اور امن کی جنت تھی۔
انتہا پسندی اور منفی رجحانات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، میں مسلمانوں اور مغرب کے درمیان نئی مفاہمت کو، خصوصاً وہ جو غیر حکومتی سطح پر استوار ہوئی ہے، امید کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ بلاشبہ اس سمت میں طویل سفر باقی ہے۔ مسلمان اور مغرب دونوں کو اپنے اپنے لگے بندھے تصورات (Stereotypes) سے آگے جانا ہے اور حقیقت کی اصل تک پہنچنا ہے اور وہ ہے:انسانیت کی خدمت۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے:
’’اے بنی نوع انسان، ہم نے تم کو مرد اور عورت ایک جوڑے سے پیدا کیا اور پھر تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے کوجان سکو، بے شک اللہ کی نگاہ میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات ۴۹: ۱۳۔۱۴)

اسلام اور جمہوریت

میرے خیال میں اسلامی تحریکوں اور جمہوریت کو سمجھنے میں غلطی کی گئی ہے۔
اول، یہ غلط ہے کہ تقریباً تمام اسلامی تحریکوں نے اپنے مقاصد کو جمہوریت کے ساتھ منسلک کر دیا ہے اس لیے کہ بہت سے تو لفظ جمہوریت کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک یہ مغرب کی بدنام نوآبادیاتی تاریخ کا تسلسل ہے اور ان کے اسلامی تصورات کی بنیاد سے ٹکراتا ہے۔ بہت سے اسلامی اہل قلم ابھی تک اس اصطلاح کے استعمال کے جواز پر بحث کر رہے ہیں۔ اس بحث کا آغاز مولانا مودودیؒ نے کیا تھا اور بعد میں سید قطب شہیدؒ کی فکر نے اسے آگے بڑھایا۔ علاوہ ازیں کچھ نئی اسلامی تحریکیں ہیں جو اس کی شدید مخالف ہیں۔ لگن کے ساتھ جمہوریت کا دفاع کرنے والے درحقیقت بہت کم ہیں۔
اسلام پسندوں کے بار بار کے اور بڑھتے ہوئے مطالبات کے باوجود کہ انہیں جمہوری عمل میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، مسلمان حکومتیں عموماً انہیں اس عمل میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ چند ایک ہی عرب یا مسلمان ممالک ایسے ہیں جو جمہوریت پر عمل پیرا ہیں، اس لیے اسلام پسند عام طور پر جمہوریت کے دائرے سے باہر وجود رکھتے ہیں۔ ان کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے یا پھر انہیں تصادم پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ بہت کم ہیں جنہیں سیاسی عمل کا حصہ بننے دیا گیا۔ اس طرح بد قسمتی سے انہیں مجبور کر دیا جاتا ہے کہ دیگر متبادل راستے اختیار کریں۔
دوم، تبدیلی کا عمل بیشتر صورتوں میں ایک گروہ کا آزادانہ انتخاب نہیں ہوتا بلکہ معروضی حقائق کی ضروریات اور امکانات کے تحت مجبوراً اختیار کرنا پڑتا ہے۔ نہیں تو ایسا کیوں ہوا کہ الجزائر کا اسلامی گروپ جمہوری فضا میں وجود میں آیا اور بعد ازاں جہادی گروپ میں تبدیل ہو گیا لیکن ہمسایہ ملک کی اسلامی تحریک کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ اسی طرح ایران میں شاہ ایران کے ظلم واستبداد کے خلاف اسلامی تحریک کا رد عمل مختلف تھا۔ نہ تو اس نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی یہ تبدیلی جمہوریت کے راستے آئی۔ سوڈان کی تحریک نے عوام کی حمایت سے فوج کے ادارے کے ذریعے تبدیلی لانے پر انحصار کیا۔
اس تنوع کی وجہ کیا ہے جب کہ اسلام ایک اور یکساں ہے؟ معروضی حالت، جغرافیائی وتاریخی عوامل اور افراد کی صورت حال، یہ سب اس کی وجہ ہیں۔ اس لیے تبدیلی کا طریقہ کسی بھی اسلامی تحریک کے لیے ایک قطعی واضح راستہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مخصوص معروضی حقیقت کی تشکیل کردہ مساوات (equation) کا آخری نتیجہ ہوتا ہے۔
سوم، یہ فرض کر لینا غلط ہے کہ جمہوریت کا تصور مکمل طور پر مغرب کا تصور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی ورثے کا حصہ ہے۔
چہارم، اسلامی تحریک کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ جس طرح اسلام کا تصور، جمہوریت کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ایران میں شاید خاتمی کے صدر بننے تک کے دور میں ہوا، اور بیشتر اسلامی تاریخ میں جمہوریت یعنی امت کا اپنے حکمرانوں (شوریٰ) کو منتخب کرنے کی روایت موجود نہیں رہی ہے، اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت کو اسلام کے بغیر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ایک غیر عادلانہ اسلامی ریاست اور ایک عادلانہ غیر اسلامی ریاست کا تصور ممکن ہے۔ اس صورت میں اسلامی بصیرت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عادلانہ ریاست کی خوش حالی اور ترقی کی امید کی جائے، چاہے وہ غیر اسلامی کیوں نہ ہو، اور غیر عادلانہ ریاست سے کرپشن اور انحطاط کی توقع کی جائے، چاہے وہ اسلامی ہی کیوں نہ ہو۔
جمہوریت اور انسانی حقوق کی موجودگی وہ مثالی صورت ہے جس میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جا سکتی ہے اور اسلامی ریاست قائم کی جا سکتی ہے لیکن اسلام ان کے لیے ناگزیر نہیں۔ البتہ اسلام ہی میں ان اقدار کا مثالی تصور اور عمل کے لیے مثالی ماحول ملتا ہے۔ اگر اسلام پسند جمہوریت کے حق میں کلمہ خیر کہتے ہیں تو اس کی وجہ ان کے مذہب کی تعلیمات ہیں جو شورائیت، عدل اور حکمت ودانش کی بات کو کسی بھی جگہ سے حاصل کر لینے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے کہا ہے کہ دو متبادل ہوں تو زیادہ آسان کا انتخاب کیاجائے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جمہوریت آسان تر ہے اور اسلامی کی روح کے قریب تر بھی۔
اس کا ایک واضح ثبوت مسلمانوں کا غیر عادلانہ مسلم ممالک سے عادلانہ غیر مسلم ممالک کی طرف اس وجہ سے ترک وطن کر کے آنا ہے کہ اسلام عدل کے ماحول میں خوب پھلتا پھولتا ہے اس لیے جب اللہ کے رسول ﷺ مکۃ المکرمۃ میں تھے تو آپ نے لوگوں تک دعوت پہنچانے کی آزادی چاہی۔ دوسری صورت میں مسلمانوں کا ترک وطن اور مغرب میں لاتعداد اسلامی کانفرنسوں کا انعقاد اور مطبوعات کی بڑھی ہوئی تعداد کی آپ کیا توجیہ کریں گے؟ آپ اور آپ کے رفقا کسی مسلم ملک مثلاً تیونس میں رہنے کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ یہاں جمہوری فضا میں رہنا پسند کرتے ہیں، چاہے یہاں اسلامی ریاست نہ ہو۔

اسلامی تبدیلی کی حکمت عملی

یہ حقیقت ہے کہ معاصر اسلامی معاشرے کے نمونے کی وضاحت اور دیگر نمونوں کے ساتھ اس کی مشابہت اور اختلاف کے تعین کے لیے بڑی کوششیں کی گئی ہیں لیکن ابھی اس میدان میں بڑے کام کی ضرورت ہے تاکہ اسلامی ریاست کے اندر اور باہر مسلموں اور غیر مسلموں کے انفرادی واجتماعی حقوق کی یکساں حفاظت سے اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی وابستگی کے بارے میں کوئی ابہام نہ رہے۔ اسی طرح خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی تشدد پسندی، دہشت گردی، تکفیر اور محض رائے یا عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے انسانی زندگی، عزت اور مال پر حملوں کو اسلام سے جوڑنے کی روش ترک کی جائے۔ ان واقعات کو الگ کر کے دیکھنا چاہیے تاکہ اسلام کی جو خوف ناک تصویر بنا دی گئی ہے، وہ درست ہو جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی انقلاب کی حکمت عملی پر اس وجہ سے بھی بڑی بحث باقی ہے کہ حقوق آزادی کی خاطر، مسلم یا غیر مسلم استبداد کے مقابلے کے لیے ہتھیار اٹھانے کے جواز کے بارے میں غیر یقینی کیفیت ہے۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان اور الجزائر میں خون بہنے کے بعد، جس سے خوارج کے فتنے کی یاد آ جاتی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اس امر پر متفق ہو جائیں کہ اپنے اندرونی اختلافات کے حل کرنے کے لیے تشدد کا راستہ ترک کر دیں گے۔ طاقت کا استعمال اسی وقت درست ہے کہ جب اسلام کی سرزمین پر غیر ملکی حملہ آور ہو جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ برعظیم پاک وہند میں سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی اسلامی فکر کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ باقاعدہ اعلان شدہ جہاد کے علاوہ تشدد کے استعمال کے ناقابل قبول ہونے کا مسئلہ طے ہو گیا ہے۔ اس سے علاقہ (افغانستان میں جو کچھ ہوا، اس سے قطع نظر) باہمی جنگ وجدل سے محفوظ ہو گیا جبکہ عالم عرب میں یہ بات طے نہ ہونے کی وجہ سے کئی تباہ کن واقعات رونما ہوئے۔
تبدیلی کا طریقہ یقیناًحرکی (dynamic) ہے لیکن تحدیدات (limits) کے بغیر نہیں۔ حدیث ہے: ’’تم میں سے جو منکر کو ہوتا دیکھے، اسے ہاتھ سے مٹا دے، اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے برا کہے اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو پھر دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔‘‘ (مسلم) اس حدیث سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ تبدیلی کی حکمت عملی جامد نہیں ہے اور حقیقت اس قدر پیچیدہ ہے کہ صرف ایک سادہ حل کافی نہیں ہے۔ اسلامی فکر میں تبدیلی کے ایسے نظریے کی گنجایش ہے جو حقیقت کی تمام پیچیدگیوں کو سلجھا سکتا ہے۔
اس طرح تبدیلی کے ایک کے بجائے کئی راستے سامنے آتے ہیں۔ کسی ایک طریق کار کو نظری طور پر بیان کیا جا سکتا ہے لیکن جو صورت حال تبدیل کرنا ہے، اس کاطریق کار معروضی حقیقت ہی متعین کرے گی۔ یہی مذکورہ بالا حدیث میں لفظ ’’استطاعت‘‘ کا مفہوم ہے۔ یہ استطاعت فقہ کی کتابوں کے مطالعے سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ حقیقت حال کے علم سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی ہم عصر اسلامی فکر کی سب سے بڑی خامی ہے کہ اس میں نظریاتی اور تصوراتی حل زیادہ غالب اور نمایاں ہیں۔ اس میں کسی زیر غور صورت حال کے اقتصادی اور معاشرتی پہلوؤں اور اس پر اثر انداز ہونے والے اندرونی بیرونی عناصر کے ایسے مطالعے کو نظر انداز کیا گیا ہے جس سے تبدیلی کے لیے کوئی مخصوص حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ قرآن کا ہم سے مطالبہ ہے: فاتقوا اللہ ما استطعتم (التغابن ۶۴: ۱۶) ’’لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہے، اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ آخر ہم اپنی استطاعت کی حد کو کس طرح معلوم کریں گے جب تک حقیقت کے مطالعے کا اہتمام نہ کریں؟ ہمارے پاس بہت سے مسلم قانون ساز، ڈاکٹر اور انجینئر ہیں لیکن تاریخ، اقتصادیات، نفسیات، سماجیات اور معاشریات کے ماہرین مقابلتاً بہت کم ہیں۔ اس صورت میں ہم اس استطاعت کا تعین کیسے کریں جسے تبدیلی لانے کے مختلف طریقہ ہائے کار میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے شرط قرار دیا گیا ہے؟
یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے روایتی اور معاصر اسلامی فکر کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں اور ان میں خامی رہی ہے۔ یہ دراصل شریعت کے علوم کے مقابلے میں معروضی حقائق کے علوم سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہے۔ جب تک ہم اس خامی کو دور نہ کریں گے، علاقائی اور عالمی صورت حال اور ان کے آگے بڑھنے کی سمت کے بارے میں ہمارے اندازے درست نہ ہوں گے۔ ان غلط اندازوں پر تبدیلی کی جو حکمت عملی تشکیل دی جائے گی، وہ تباہ کن ہوگی۔ عظیم مفکر فتحی یکن کے الفاظ میں اس طرح اسلامی سرگرمیاں پہلے تعمیر، پھر تخریب اور پھر تعمیر کا عمل ہوں گی یعنی ایسا عمل جس میں پیش رفت (dynamic of action) نہ ہو۔
اسلامی تحریکوں میں خود احتسابی کا شاذ ہونا اور تخلیقی اختراع کے مقابلے میں اندھی تقلید کو ترجیح دینا، اس کی وجہ ہے۔ روایتی علما کے حوالے مسلسل دیے جاتے ہیں اور ان کے کیے ہوئے کاموں کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ان میں حق وباطل اور حرام وحلال کے مجرد اصول ہماری موجودہ حقیقت سے قطع نظر بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی تنقیح سماجی علوم کے غیر ماہرین کے لیے ممکن نہیں، نہ وہ اس کے ارتقا کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہم ان کے مطالعے سے ہی اسلامی تبدیلی کی حکمت عملی کا تعین کر سکتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ ہم اس خاص پہلو کے حوالے سے آگے بڑھیں، پیچھے نہ آئیں۔ ’’سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اسی پر میں نے بھروسا کیا اور ہر معاملے میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔‘‘ (ہود ۱۱: ۸۸)

تیونس کی اسلامی تحریک ’النہضۃ‘

اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس تحریک نے جس کی نشوونما مسلم دنیا کے سب سے زیادہ مغرب زدہ ماحول میں ہوئی، اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے، مقاصد کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینے اور مستقبل کے سفر کے لیے مناسب سبق حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ وقت نکالا ہے۔
ہماری تحریک کی نشوونما میں ایسے دو جائزے غیر معمولی قدروقیمت کے حامل ہیں۔ پہلا، بنیاد رکھے جانے اور ۸۶۔۱۹۷۰ء میں ابتدائی نشوونما کے دور سے متعلق ہے، دوسرا ۹۵۔۱۹۸۶ء کے دور کا جائزہ ہے۔
تحریک کی مثبت خصوصیات میں تحریک کی علمی اور تخلیقی سوچ ہے۔ اس سوچ کی بدولت تحریک نے اندھی تقلید کا راستہ ترک کر کے نئے تصورات کو اپنی سیاسی فکر میں جذب کیا جیسے جمہوریت، حقوق انسانی، مہذب معاشرہ اور خواتین کی شرکت، اور ان تصورات کو اسلامی اقدار کے قالب میں ڈھالا۔ اس کی بدولت تحریک کے لیے ممکن ہو گیا کہ تشدد اور نام نہاد ریڈیکل ازم کے راستے سے احتراز کرے، جس سے کئی چھوٹے گروہوں نے نقصان اٹھایا ہے۔ تحریک اس قابل ہو گئی کہ نظریاتی مشکلات کے بغیر مغرب کے ساتھ مکالمہ کرے۔ ہماری تحریک جدیدیت کے دور میں اسلامی دروازے سے داخل ہوئی ہے۔ وہ ایک ایسے اسلامی نظریے سے مسلح ہے جو ظلم کو مسترد کرتا ہے، اور ریاست کا قانونی جواز عوام الناس کی رضامندی سے مشروط کرتا ہے۔
اسلامی تحریک کے علم برداروں کی حکومت کے جواز کی بنیاد وہی ہے جو کسی اور سیاسی گروہ کی ہو سکتی ہے۔ وہ اپنا پروگرام عوام کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ صرف عوام کو حق حاصل ہے کہ اسے قبول کر لیں یا اسے مسترد کر دیں۔ یہ مسئلہ پریشانی کا باعث بنتا ہے کہ اگر عوام نے اسلام پسند پارٹی کو رد کر دیا اور سیکولر پارٹی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا، تب کیا ہوگا؟ جس مسلم معاشرے میں اپنی اقدارکا شعور موجود ہو، اس میں یہ امکان بڑی حد تک نہیں ہے۔ تاہم کھیل کے قوانین کو تسلیم کرتے ہوئے، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ عوام کی مرضی کے مطابق حکومت میں تبدیلی آتی رہے، اسلامی تحریک دوسری جماعتوں کے ساتھ اپنے معاہدوں کی پاس داری کرے گی۔ اسی طرح، امید ہے کہ دوسرے گروہ بھی اپنے معاہدے کے پابند رہیں گے اور اسلامی تحریک کے افراد کو ان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد قید، جلا وطنی یا موت کی سزا دینے سے باز رہیں گے۔ ایوان اقتدار سے باہر رہنے کا وقفہ اسلامی تحریک کو یہ موقع دے گا کہ وہ اپنا جائزہ لے، مسلمانوں کو اپنے پروگرام پر مطمئن کرنے میں ناکامی کی وجوہات معلوم کرے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے۔ اگر وہ سوال کا صحیح جواب فراہم کر سکیں گے تو یقینی طور پر دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے۔ ہمیں مسلمانوں کی راست روی پر اعتماد رکھنا چاہیے کیونکہ رسالت مآب ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت ضلالت پر کبھی مجتمع نہ ہوگی اور جب تم میں اختلاف ہو تو اکثریت کا راستہ اختیار کرو۔ (ابن ماجہ)
ہمارے جائزے میں جو منفی نکتہ ابھر کر سامنے آیا، وہ یہ تھا کہ اپنی قوت اور اپنے مخالفین کی قوت کا اندازہ لگانے میں ہم سے غلطی ہوئی۔ نیز قومی حالات کی تشکیل میں علاقائی اور عالمی عناصر کی اہمیت کا ہم کماحقہ ادراک نہ کر سکے۔
ہماری خامیوں میں سے ایک خامی یہ بھی رہی کہ ہم کچھ افراد کے اقدامات کے بارے میں، جو تحریک کی پالیسیوں کے خلاف تھے، انضباطی کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے تحریک پر بحیثیت مجموعی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ 
(ترجمہ: مسلم سجاد)

علما اور عملی سیاست

خورشید احمد ندیم

کیا علما کو عملی سیاست میں حصہ لینا چاہیے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے وقت دو باتیں پیش نظر رہنا چاہییں۔ ایک تو یہ ہے کہ یہ شریعت کا نہیں، حکمت وتدبر کا معاملہ ہے۔ یہ جائز اور ناجائز کی بحث نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ شریعت نے علما کو سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا ہے یا انہیں اس کے لیے حکم دیا ہے۔ جب ہم اس سوال کو موضوع بناتے ہیں تو ہمارے پیش نظر محض یہ ہے کہ اس سے دین اور علما کو کوئی فائدہ پہنچا ہے یا نقصان؟ دوسری بات یہ کہ عملی سیاست سے ہماری مراد اقتدار کی سیاست (Power Politics) ہے یعنی اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا یا کسی کے عزل ونصب کے لیے کوئی عملی کردار ادا کرنا۔
قرآن مجید کی راہنمائی یہ ہے کہ ایک عالم دین کا اصل کام انذار کرنا ہے۔ (توبہ :۱۲۲) انذار یہ ہے کہ لوگوں کو خبردار کیا جائے کہ انہیں ایک روز اپنے پروردگار کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور ان اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے جو وہ اس دنیا میں سرانجام دیں گے۔ اس جواب دہی کا تعلق اس کردار کے ساتھ ہے جو وہ اس دنیا میں ادا کریں گے۔ اگر کوئی حکمران ہے تو اس کی جواب دہی کی نوعیت اور ہے، اور اگر ایک عامی ہے تو اس کے لیے اور۔ اسی انذار کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ علما دین کو اس طرح بیان کریں جیسے کہ وہ ہے۔ اگر دین کو کوئی فکری چیلنج درپیش ہے تو وہ دین کا مقدمہ لڑیں۔ اگر مسلمان معاشرے میں کوئی علمی یا عملی خرابی در آئی ہے تو وہ اسے اصل دین کی طرف بلائیں۔ اس معاملے میں ان کی حیثیت ایک داروغہ کی نہیں ہے۔ انہیں دین کا ابلاغ کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچا دینا ہے۔ اس کی ایک صورت ایسے مبلغین کی تیاری ہے جو اس کام کو لے کر معاشرے میں پھیل جائیں اور ایسے ادارے اور دار العلوم آباد کرنا ہے جہاں دین کے جید عالم تیار ہوں۔ اس انذار کی ایک شکل عامۃ الناس کا تزکیہ بھی ہے۔ یہ تزکیہ علم کا بھی ہوگا اور عمل کا بھی۔ یہ وہ کام ہے جو ہمارے صوفیا کرتے رہے ہیں۔ اس وقت تصوف ایک فلسفہ حیات کے طور پر زیر بحث نہیں ہے۔ میں جس پہلو کی تحسین کر رہا ہوں، وہ صوفیانہ حکمت عملی ہے جو خانقاہوں اور صوفیا کے حلقوں میں اختیار کی گئی ہے۔
تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ علما نے جب یہ کام کیا، معاشرے پر اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے۔ ان اثرات کا دائرہ اقتدار کے ایوانوں سے لے کر عامۃ الناس کے حجروں تک پھیلا ہوا ہے۔ مختلف تذکروں میں ہمیں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جب حکمران، علما کے حجروں میں حاضر ہیں یا علما ارباب اقتدار سے بے نیازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ علما کو اگر معاشرے میں یہ مقام حاصل تھا تو اس کا سبب یہ تھا کہ وہ انذار کے منصب پر فائز تھے۔ انہوں نے خود کو اس کام کے لیے مخصوص کر لیا تھا کہ وہ دین بیان کریں گے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو ان کی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں گے۔ یہ لوگ کبھی اقتدار کی کشمکش میں فریق نہیں بنے۔ معاشرے پر ان کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ حکمران ان کی رائے کے احترام پر مجبور تھے۔ پھر یہ وقت بھی آ گیا کہ ایسے لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے جن پر کسی صاحب علم کا خاص اثر تھا۔ اس نے برسر اقتدار آ کر ان کی رائے کو ریاست کا قانون بنا دیا۔ ہارون الرشید نے قاضی ابو یوسف کو قاضی القضاۃ بنا دیا۔ محکمہ قضا جب ان کے ہاتھ آیا تو اسلامی ریاست میں اسی کو قضا کے عہدے پر فائز کیا جاتا جس کی سفارش قاضی ابو یوسف کرتے تھے۔ افریقہ میں معز بن باولیس کو والی بنایا گیا تو امام مالک کی فقہ کو وہاں غلبہ حاصل ہو گیا۔ اندلس میں حکم بن ہشام کے دور میں فقہ مالکی کو سرکاری حیثیت مل گئی۔ مصر میں صلاح الدین یوسف بن ایوب جب عبید کو شکست دے کر حکمران بنے تو فقہ شافعی کو غلبہ ملا کیونکہ بنو ایوب شوافع تھے۔ اب کسی جگہ ایسا نہیں ہوا کہ وہاں فقہ حنفی کے لیے مہم چلائی گئی ہو یا حنبلی مسلک کے نفاذ کا مطالبہ لے کر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہوں۔
ہم جن صاحبان عزیمت کا ذکر کرتے ہیں، اور اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ تذکرہ ہمارے ایمان کی تقویت کا باعث بنتا ہے، ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ اقتدار کی کشمکش میں کبھی فریق نہیں تھے۔ انہوں نے حکمرانوں سے اگر اختلاف کیا تو اس موقع پر جب انہوں نے دین میں مداخلت کی یا شریعت کے کسی حکم کو تبدیل کرنا چاہا۔ عباسی حکمرانوں نے جب یہ حکم جاری کیا کہ جو ان کی بیعت سے نکلے تو اس کی بیوی خود بخود اس پر حرام ہو جائے گی تو یہ فرمان دین میں مداخلت تھا چنانچہ امام مالکؒ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی کہ اس جبری طلاق کی کوئی حقیقت نہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اگر حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھائی تو اس بات پر کہ وہ ریاست کی قوت کو بروئے کارلا کر یہ چاہتے تھے کہ قرآن مجید کو مخلوق مانا جائے۔ علما اور فقہاے امت کا یہ کام اپنی حقیقت میں انذار ہے۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں دین کے کسی حکم کو تبدیل کیا جا رہا ہے تو وہ لوگوں کے سامنے دین کا صحیح تصور پیش کریں۔ یہ کوئی سیاسی کردار نہیں ہے۔ ان لوگو ں نے حکمرانوں کے ناپسندیدہ کاموں پر انہیں ٹوکا لیکن نہ خود کو ان کی اطاعت سے آزاد کیا نہ دوسرے لوگوں کو اس کے لیے کہا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان جلیل القدر لوگوں کو اس راہ میں بہت سی مشکلات برداشت کرنا پڑیں لیکن اس کے بعد ارباب اقتدار کے لیے یہ آسان نہیں رہا کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کریں۔
آج بھی اگر کوئی ایسی صورت حال پیش آتی ہے تو یہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کا دفاع کریں اور اس راہ میں کوئی مشقت اٹھانا پڑتی ہے تو اسے خندہ پیشانی سے برداشت کریں۔ صبر واستقامت ایسی چیزیں نہیں ہیں جو رائیگاں چلی جائیں۔ جو لوگ ان خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، معاشرے پر ان کے بے پناہ اثرات ہوتے ہیں۔ آج کے جمہوری دور میں تو حکمرانوں کے لیے مزید مشکل ہو جائے اگر وہ ایسے لوگوں کی مخالفت کریں۔
اسی بنیاد پر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ علما کے شایان شان یہی ہے کہ وہ اقتدار کی حریصانہ کشمکش سے دور رہ کر منصب اعلیٰ کو آباد کریں اور دین کی حفاظت کے ساتھ لوگوں کا تزکیہ نفس کریں۔ اس سے دین کو فائدہ پہنچے گا اور ان کے احترام میں بھی اضافہ ہوگا۔ میں تو یہ عرض کرتا ہوں کہ اس سے ان کا سیاسی اثر ورسوخ بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔ میں پاکستان کے کئی ایسے علما وصوفیا کے نام گنوا سکتا ہوں جو اپنی خانقاہوں سے کبھی نہیں نکلے لیکن ان کے معاشرتی اثرات کا یہ عالم ہے کہ ہر عام انتخابات کے موقع پر اہل سیاست ان کے دروازے پر حاضر ہوتے ہیں اور ان سے تائید کی بھیک مانگتے ہیں۔ وہ جس کے حق میں فیصلہ دے دیں، ان کے حلقہ اثر میں اس کی کام یابی یقینی ہو جاتی ہے۔
یہ صحیح ہے کہ تاریخ میں ہمیں بعض ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو اقتدار کی کشمکش میں فریق تھے۔ پرانے دور میں اس کی نوعیت خروج کی تھی۔ امام ابن تیمیہؒ نے ’’منہاج السنۃ‘‘ میں ان تمام بغاوتوں کا جائزہ لے کر یہ بتایا ہے کہ ایسی کوئی کوشش نہ صرف یہ کہ کامیاب نہیں ہوئی بلکہ اس سے امت میں انتشار اور افتراق کا ایسا دروازہ کھلا کہ پھر کبھی بند نہیں ہو سکا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اگرچہ صاحبان اقتدار کی تبدیلی کے انداز بدل گئے ہیں لیکن علما کی عملی سیاست میں شرکت کے نتائج پر کوئی فرق نہیں آیا۔ پاکستان کو اگر ہم اپنی توجہ کا مرکز بنائیں تو علما کی سیاست کا دین کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچا۔
پاکستان میں علما عملی سیاست میں بالعموم دو طرح سے شریک رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے بعض مذہبی ودینی مسائل پر تحریکیں اٹھائیں اور مطالبات منوانے کے لیے اپنی سیاسی قوت کو بروئے کار لائے۔ دوسری صورت میں یہ دھماکہ انہوں نے خود کو قوم کے سامنے متبادل قیادت کے طور پر پیش کر کے کیا اور مروجہ نظام کے تحت اقتدار تک پہنچنے کی سعی کی۔ ان دونوں صورتوں کے جو نتائج نکلے، میں انہیں قدرے تفصیل کے ساتھ زیر بحث لا رہا ہوں۔
تحریکیں اٹھا کر علما نے بعض مذہبی معاملات میں حکومت وقت سے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ مثال کے طور پر ۱۹۴۸ء میں دستور اسلامی کے لیے تحریک اٹھی، ۱۹۵۳ء اور پھر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ۱۹۷۳ء کے آئین کو اسلامی بنانے کے لیے آواز اٹھائی گئی۔ ان مخصوص مسائل کے علاوہ بھی ہمارے علما ہر حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کرے۔ گزشتہ دنوں میں ان کی طرف سے اسلام آباد پر یلغار کا اعلان تھا۔ یہ اقدام بھی اس مطالبہ پر مبنی تھا کہ حکومت فوری طور پر نفاذ اسلام کا اعلان کرے۔ علما کی یہ مہم بڑی حد تک کام یاب رہی۔ قانون سازی کے باب میں ان کے مطالبات بالعموم تسلیم کر لیے گئے۔ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ قانون کی سطح پر پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں اب کوئی امر مانع نہیں ہے۔ یہ البتہ ایک دوسری بحث ہے کہ محض قانون سازی سے کیا کوئی ریاست اسلامی بن سکتی ہے؟
اب ہم دوسری صورت کی طرف آتے ہیں۔ اس ملک میں اقتدار تک پہنچنے کے دو راستے ہیں: ایک آئینی، دوسرا غیر آئینی۔ آئینی طور پر برسراقتدار آنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔ ہماری مذہبی جماعتوں نے انتخابات میں دو طرح سے حصہ لیا۔ انفرادی حیثیت میں اور سیاسی اتحادوں میں شامل ہو کر۔ انفرادی سطح پر انتخابات میں حصہ لے کر علما نہ صرف کوئی قابل ذکر کام یابی حاصل نہ کر سکے بلکہ ان کی حمایت میں بتدریج کمی آئی۔ ۱۹۷۰ء میں انہیں پندرہ فیصد رائے دہندگان کا اعتماد حاصل تھا تو ۱۹۹۷ء تک پہنچتے پہنچتے اس میں بہت کمی آگئی۔ تاہم اتحادوں میں شامل ہو کر وہ پارلیمنٹ تک پہنچے اور بعض اوقات صوبائی اور قومی سطح پر شریک اقتدار بھی ہوئے۔ ظاہر ہے کہ یہ شرکت اسی وقت ممکن ہوئی جب انہوں نے کسی بڑی سیاسی جماعت کا ہاتھ تھاما۔
یہ تو علما کی سیاست کے براہ راست نتائج ہیں۔ اب ہم ان نتائج کی طرف آتے ہیں جو بالواسطہ سامنے آئے۔
پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار کی حریصانہ کشمکش میں شریک ہو کر وہ منصب دعوت سے معزول ہو گئے۔ اب وہ معاشرے میں دین کے داعی کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ دعوت بے غرض بناتی ہے اور سیاست غرض مند۔ جب آپ کسی کو دین کی دعوت دیتے ہیں تو جواباً کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے۔ اس سے آپ کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ اس بات سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ آپ کی دعوت کے کیا اثرات مدعو پر پڑیں گے، اس کو آپ کی بات پسند آئے گی یا نہیں۔ اس کے بالمقابل جب آپ سیاست میں ہیں تو لوگوں سے ووٹ کے لیے درخواست کرتے ہیں۔ یہ ایک ضرورت مند کا کردار ہے۔ آپ کو حق بات کہنے سے زیادہ دلچسپی اس امر میں ہے کہ عوام کے مطالبات کیا ہیں؟ چنانچہ کسی سیاسی ضرورت کے تحت آپ یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ موزوں ترین شخص ہیں جو ان کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ جو یہ بات باور کرانے میں کام یاب ہو جاتا ہے، وہ جیت جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاست کی حریصانہ کشمکش میں جب آپ فریق بنتے ہیں تو پھر وہ گروہ آپ کا مخاطب نہیں رہتا جو آپ کا مخالف ہے۔ اس طرح آپ کی دعوت اس طبقے تک نہیں پہنچ سکتی اور یہ بات حکمت تبلیغ کے خلاف ہے لہٰذا علما کی سیاست کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ مسند دعوت خالی ہو گیا۔
دوسرے نتیجے کا تعلق مذہبی جماعتوں کی ہیئت ترکیبی سے ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی جماعتیں، جماعت اسلامی کے استثنا کے ساتھ، فرقہ وارانہ بنیاد پر قائم ہیں۔ ہر مسلک کے علما نے اپنی سیاسی جماعت بنا رکھی ہے۔ سیاست کے مبادیات سے واقف ایک شخص بھی یہ جانتا ہے کہ جو جماعت کسی خاص مذہبی فکر پر قائم ہو، وہ کبھی قومی جماعت نہیں بن سکتی۔ اس کے ساتھ ان مذہبی عناصر کے مفاد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ یہ تقسیم باقی رہے کیونکہ اس صورت میں انہیں ایک پریشر گروپ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور پھر وہ کسی بڑی سیاسی جماعت سے معاملہ کر کے سینٹ یا اسمبلی تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح سیاسی منظر پر اپنی موجودگی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس سے کسی فرد واحد یا چند افراد کو تو دنیاوی اعتبار سے فائدہ پہنچتا ہے لیکن قوم میں مسلکی تقسیم مزید پختہ ہو جاتی ہے۔ چونکہ ان عناصر کے پیش نظر شخصی مفاد ہوتا ہے اس لیے ایک لازمی نتیجے کے طور پر شخصیات کا تصادم (Personality clash) جنم لیتا ہے اور یہ جماعتیں مزید تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتی ہیں۔ آج اس ملک میں کوئی مذہبی جماعت ایسی نہیں جو دو یا دو سے زیادہ حصوں میں منقسم نہ ہو۔ گویا اس مذہبی سیاست کا دوسرا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ فرقہ وارانہ گروہ بندی مضبوط تر ہو گئی۔
تیسرا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاست میں مسلسل ناکامیوں نے ان لوگوں کو مایوسی (Frustration) کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا۔ چنانچہ اب وہ برملا یہ کہنے لگے ہیں کہ انتخابی سیاست سے کام یابی کا کوئی امکان نہیں اس لیے ہمیں اب کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ آئین کے تحت تبدیلی کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو تبدیلی کے لیے مسلح جدوجہد کے قائل ہیں۔
چوتھا نتیجہ یہ نکلا کہ عملی سیاست میں شریک بعض علما کے دامن پر جب دنیاوی آلودگیوں کے نشانات کا تاثر ابھرا تو اس سے علما کی شہرت کو بالعموم بہت نقصان پہنچا۔ میرے لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس تاثر میں صداقت کا تناسب کیا ہے لیکن اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تاثر پیدا ہی تب ہوا جب علما عملی سیاست میں الجھے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ دور جدید میں علما کا وقار جتنا مجروح ہوا ہے، شاید ہی کسی دوسرے طبقے کا ہوا ہو۔ دنیا داروں کے ساتھ جب انہوں نے معاملات کیے تو علما کو ان کی سطح پر اترنا پڑا۔
میرے نزدیک ان نتائج کی فہرست طویل ہو سکتی ہے لیکن اگر محض ان ہی کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی رائے بنتی ہے کہ عملی سیاست دین اور علما دونوں کے لیے مفید ثابت نہیں ہوئی۔ علما کی عملی سیاست میں شرکت کا واحد فائدہ یہ ہوا کہ یہ ملک آئینی اور دستوری طور پر اسلامی بن گیا۔ اس کے علاوہ اس شرکت کے تمام نتائج منفی رہے۔ اب جہاں تک اس واحد فائدے کا تعلق ہے تو علما اگر اپنے منصب انذار پر جلوہ افروز رہتے اور حکمرانوں کو اس جانب متوجہ کرتے کہ اگر کسی خطے میں مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہو جائے تو وہ شرعاً اس کے پابند ہیں کہ وہاں اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو تو بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا۔ یہ قوم مزاجاً بھی ریاست کے سیکولر تشخص کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے اور اس کے ساتھ اگر علما کا یہ دباؤ بھی ہوتا تو کوئی حکومت یہ جرات نہ کر سکتی کہ وہ پاکستان کو دستوری طور پر سیکولر بنائے۔ پھر اس بات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ دستور کو اسلامی بنانے اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے میں بنیادی کردار ایک ایسے عالم دین، مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم کا تھا جو عملی سیاست سے دور رہنے والے تھے۔
اس تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں ہوگا کہ اس سے مقصود دین وسیاست کی علیحدگی کی وکالت ہے۔ یہاں محض یہ بات کہی جا رہی ہے کہ علما کا کام سیاست نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کا کام ہے جو اپنی افتاد طبع کے اعتبار سے سیاست کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے اور اس میں بھی دو آرا نہیں کہ اس کے لیے جدوجہد ہونی چاہیے لیکن ہمارے نزدیک یہ کام وہ لوگ کریں جن کے اندر اس کے لیے فطری داعیہ موجود ہو۔ علما کا منصب یہ نہیں کہ وہ سیاست دان بنیں۔ ان کاکام یہ ہے کہ وہ سیاست دانوں کو مسلمان بنائیں۔ اس ملک میں تنہا مولانا مودودیؒ کے عالمانہ کام کا یہ اثر ہے کہ اہل صحافت کی ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی جس کی تمام صحافیانہ سرگرمیوں کا محور ومرکز یہ ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے۔ اگر مولانا سیاست کی حریفانہ کشمکش کو بھی اسی طرح متاثر کرتے، ذرا غور کیجیے اگر ہمارے درمیان ایسے علما موجود ہوتے جن کی علمی وجاہت سے اس ملک کا رجحان ساز طبقہ یعنی اہل سیاست، فوجی قیادت، بیورو کریسی مرعوب ہوتے تو اس ملک کا نقشہ کیا ہوتا؟ میرا کہنا یہ ہے کہ اگر علما اپنی ذمہ داری بطریق احسن ادا کرتے تو آج ہمیں حکمرانوں سے نفاذ اسلام کی بھیک نہ مانگنا پڑتی۔
(جنوری ۲۰۰۱ء)

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملکی سیاست میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتیں اس وقت عجیب مخمصے میں ہیں اور ریگستان میں راستہ بھول جانے والے قافلے کی طرح منزل کی تلاش بلکہ تعین میں سرگرداں ہیں۔ مروجہ سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے وقت مذہبی جماعتیں یقیناًاپنے اس اقدام پر پوری طرح مطمئن نہ تھیں اور وہ خدشات وخطرات اس وقت بھی ان کے ذہن میں اجمالی طور پر ضرور موجود تھے جن سے انہیں آج سابقہ درپیش ہے لیکن ان کا خیال یہ تھا کہ مروجہ سیاست میں شریک کار بنے بغیر ملکی نظام میں تبدیلی کی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی اور مروجہ سیاست کی خرابیوں پر وہ مذہبی قوت اور عوامی دباؤ کے ذریعے سے قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لیے مذہبی جماعتوں نے مروجہ سیاست کی دلدل میں کود پڑنے کا رسک لے لیا لیکن آج ووٹ، الیکشن اور دباؤ کی مروجہ سیاست ان کے گلے کا ہار بن گئی ہے کہ نہ تو انہیں اس کے ذریعے سے دینی مقاصدکے حصول کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے، نہ وہ اس سے کنارہ کش ہونے کا حوصلہ رکھتی ہیں، نہ اس مروجہ سیاست کے ناگزیر تقاضوں کا پورا کرنا ان کے بس کی بات ہے اور نہ ہی وہ قومی سیاست میں اپنے موجودہ مقام اور بھرم کو باقی رکھنے میں کام یاب ہو رہی ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ قومی سیاست کی ریت دینی رہنماؤں کی مٹھی سے مسلسل پھسلتی جا رہی ہے اور قومی سیاست میں بے وقعت ہونے کے اثرات معاشرے میں ان کے دینی وقار ومقام کو بھی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورت حال کا ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ سنجیدہ تجزیہ کیا جائے اور ان اسباب وعوامل کا سراغ لگایا جائے جو ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا باعث بنے ہیں تاکہ ان کی روشنی میں دینی سیاسی جماعتیں اپنے مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ 
جہاں تک قومی سیاست میں حصہ لینے او رمروجہ سیاسی عمل کے ذریعے سے ملکی نظام کی تبدیلی اور نفاذ اسلامی کی جدوجہد کا تعلق ہے، اس میں کلام نہیں ہے کہ تمام تر خدشات وخطرات کے باوجود آج بھی دینی جماعتوں کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ دینی حلقوں کا واحد ہدف نظام کی تبدیلی ہے۔ وہ موجودہ اجتماعی نظام کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں جو یقیناًغیر اسلامی ہے اور دینی حلقے اس نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہربات ہے کہ نظام کی تبدیلی کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ طاقت کے بل پر موجودہ نظام کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیا جائے اور دوسرا یہ کہ رائے عامہ کو ساتھ ملا کر اس کے ذریعے سے نظام کی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
طاقت اگر موجود ہو اور کافرانہ نظام کا تحفظ کرنے والی طاقتوں سے نظام کی باگ ڈور چھین لینے کی سکت رکھتی ہو تو نظام کی تبدیلی کا یہ راستہ سب سے زیادہ موثر اور محفوظ ہے بلکہ شرعی اصولوں کی روشنی میں ایسی صورت حال میں طاقت کا استعمال دینی فریضہ کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ ہماری دلی دعا اور خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی دینی قوتوں کو ایسی طاقت فراہم کرنے کا شعور، حوصلہ اور مواقع نصیب فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔ لیکن موجودہ حالات میں ایسی طاقت دینی قوتوں کے پاس موجود ہے نہ مستقبل قریب میں فراہم ہونے کے امکانات ہیں اس لیے متبادل اور محفوظ راستہ میسر آنے تک پاکستان کے دینی حلقوں کے پاس صرف یہی ایک طریقہ باقی رہ جاتا ہے کہ وہ مروجہ سیاسی عمل کے ذریعے سے ملکی نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کرتی رہیں۔ البتہ قومی سیاست میں حصہ لینے والی دینی جماعتوں کو ان عوامل کا ضرور تجزیہ کرنا چاہیے جو اب تک سیاست میں ان کی ناکامی یا کمزوری کا باعث بنے ہوئے ہیں اور اسی ضمن میں بحث وتمحیص کے آغاز کے لیے چند گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔
ہمارے خیال میں دینی سیاسی جماعتوں کی ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ نفاذ اسلام کے لیے ان کا ہوم ورک نہیں ہے۔ ان کے بیشتر کارکنوں بلکہ رہنماؤں کو بھی نفاذ اسلام کے فکری اور عملی تقاضوں کا ادراک نہیں ہے اور نہ ہی ان نظریاتی اور واقعاتی رکاوٹوں سے آگاہی ہے جو نفاذ اسلام کی راہ روکے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے سوا کسی اور جماعت کے پاس رہنماؤں اور کارکنوں کی فکری، علمی اور عملی تربیت کا سرے سے کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے اور جماعت اسلامی کے تربیتی نظام کی بنیادی بھی اجتماعی فکر کے بجائے شخصی فکر پر ہے جس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو رہے اور نہ ہی وہ شخصی فکر دینی حلقوں کا اعتماد حاصل کر سکا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملک کی دو بڑی سیاسی قوتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نفاذ اسلام کے معاملہ میں یکساں سوچ اور طرز عمل کی حامل ہیں، صرف سیٹوں کے حصول، اخبارات میں کوریج اور سیاسی اہمیت میں وقتی اضافے کی خاطر انہی میں سے کسی کے ساتھ سیاسی وابستگی کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ کوئی مذہبی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ تمام تر طعنوں کو سہتے ہوئے بھی وقتی مفاد کی خاطر جا بیٹھتی ہے اور کوئی جماعت مسلم لیگ سے بارہا ڈسے جانے کے باوجود اسی بل میں پھر گھس جانے میں عافیت سمجھتی ہے۔ اس طرز عمل نے دینی سیاسی جماعتوں کے تشخص اور وقار کو جس بری طرح پامال کیا ہے، اس کے تصور سے بھی باشعور دینی کارکنوں کو جھرجھری آ جاتی ہے لیکن راہ نمایان گرامی منزلت اس قدر احساس پروف واقع ہوئے ہیں کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ 
تیسری وجہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں نے ابھی تک آپس میں مل بیٹھنے اور دینی حلقوں کے باہمی اتحاد کی ضرورت وافادیت کو محسوس نہیں کیا۔ کبھی کبھار عوامی دباؤ سے بے بس ہو کر وقتی طور پر مل بیٹھتے ہیں تو الیکشن میں بڑے سیاسی اتحادوں کی طرف سے سیٹوں کی سبز جھنڈی بلند ہوتے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ادھر کو لپک پڑتے ہیں جبکہ ملتا وہاں سے بھی کچھ نہیں ہے۔ دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین آج تک اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کر سکے کہ ان کی اصل قوت ان کے باہمی اتحاد میں ہے اور ان کے متحد ہونے کی صورت میں عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد ملک کی دینی جماعتوں نے حقیقی سیاسی اتحاد کا مظاہرہ صرف ایک مرتبہ ۷۷ء میں کیا ہے اور اس کے ثمرات آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ انہی ثمرات کی وجہ سے ملک کی حقیقی حکمران قوتوں نے ہمیشہ کے لیے یہ حکمت عملی طے کر لی ہے کہ پاکستان کے دینی حلقوں اور جماعتوں کو کبھی کسی عملی اور حقیقی سیاسی اتحاد کی منزل تک پہنچنے نہ دیا جائے۔
دینی سیاسی جماعتوں کی قومی سیاست میں ناکامی کی ایک وجہ ان کا فرقہ وارانہ تشخص اور ترجیحات بھی ہیں۔ ملک کی کوئی دینی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو صرف ایک ہی مذہبی مکتب فکر کی نمائندگی نہ کرتی ہو۔ جماعت اسلامی نے اس دائرے سے نکل کر ہمہ گیر ہونے کا تصور دیا لیکن طریق کار ایسا اختیار کیا کہ عملاً ملک میں پہلے سے موجود مذہبی مکاتب فکر میں ایک نئے نیم مکتب فکر کا عنوان بن گئی۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ ہماری دینی سیاسی جماعتوں کی تشکیل مذہبی مکاتب فکر کی بنیاد پر ہے اور ان کے ہاں کارکنوں کی تربیت، قیادت کے چناؤ اور پالیسیوں کے تعین کا دارومدار بھی فرقہ وارانہ ترجیحات پر ہے۔ پھر بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی تعلیمی اداروں میں کارکنوں کی تربیت کے لیے دوسرے مذہبی مکاتب فکر کے خلاف ان کی ذہن سازی کا جو معیار قائم کر دیا گیا ہے، لادین اور سیکولر لابیوں کے خلاف ان کی ذہن سازی اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں کے کارکن سیکولر اور منافق سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنا تو اس قدر معیوب نہیں سمجھتے لیکن آپس میں دوسرے مذہبی مکاتب فکر کے کارکنوں کے ساتھ مل بیٹھنے میں ان کا حجاب بدستور قائم رہتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان، جمعیت علماء پاکستان ، جمعیت اہل حدیث پاکستان، جماعت اسلامی اور دوسری دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو انفرادی طور پر اور باہم مل بیٹھ کر ان اسباب وعوامل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے اور ان منفی عوامل سے گلو خلاصی کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ہماری رائے آج بھی یہی ہے کہ ملک کی دینی سیاسی جماعتوں کے سامنے ملکی نظام کو تبدیل کرنے اور نفاذ اسلام کے لیے مروجہ سیاسی عمل کے ذریعے سے جدوجہد ہی موجودہ حالات میں واحد راستہ ہے اور اگر وہ باہمی منافرت، بے اعتمادی اور فرقہ وارانہ ترجیحات پر قابو پاکر آپس میں حقیقی سیاسی اتحاد کی کوئی مستحکم بنیاد قائم کر سکیں تو نہ صرف مروجہ سیاست کی خرابیوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اسے دینی تقاضوں کے سانچے میں ڈھالنے کی سکت بھی ان میں موجود ہے۔
(جنوری ۱۹۹۲ء)

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اکثر اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہمارے مذہبی معاشرے کے عوام سیاست میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ اس کے جواب میں دو نقطہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں: مذہبی جماعتوں کا موقف یہ ہوتا ہے کہ انگریز کے ٹوڈی ان کی راہ میں حائل ہیں ورنہ عوام تو دل وجان سے مذہبی جماعتوں کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ خود عوام ہی کو منافقت پسند اور دوغلا قرار دیتے ہیں جو عام زندگی میں تو دین پر عمل کے حوالے سے علما کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن سیاست میں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ علما کے مخالف طبقے کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ علما جدید عہد کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اس لیے اگر وہ خود کو نماز روزے تک ہی محدود رکھیں تو یہ نہ صرف عوام کے لیے بلکہ خود ان کے لیے بھی بہتر ہے۔
ہمارے خیال میں ان دونوں نقطہ ہائے نظر میں جزوی صداقت موجود ہے۔ آئیے غیر جانب دارانہ اور معروضی انداز میں جائزہ لیں کہ آخر انتخابات میں مذہبی جماعتوں کوووٹ کیوں نہیں ملتے؟
ہماری رائے میں سیاست میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کے بنیادی اسباب حسب ذیل ہیں:

محدود فکری اپروچ 

۱۔ مذہبی جماعتوں کا ذہنی وفکری سانچہ اصلاً دینی مدارس میں تیار ہوتا ہے چنانچہ ان مدارس کے نظام میں موجود خامیوں کا پورا پورا عکس سیاست کے میدان میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ دینی مدارس پر عام طور پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ ان میں سائنسی علوم کی تعلیم نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے علما کا طبقہ معاشرے کے عمومی دھارے (Main Stream) میں شامل نہیں ہو سکا اور ’’وقت‘‘ سے پیچھے رہ گیا ہے۔ ہمارے خیال میں سائنسی علوم کی تعلیم نہ دینے کا تو کسی حد تک جواز تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن عصری سماجی علوم سے صرف نظر ناقابل اعتذار ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سیاست ومعیشت، ثقافت وسماجیات اور دیگر شعبوں میں ہونے والی ترقیوں اور ارتقا سے ہمارے علماء کرام نابلد رہتے ہیں۔ ان امور کو ڈیل کرنے سے متعلق ان کا طریقہ فرسودہ اور متروک ہے اسی لیے بعض حلقے یہ مشورہ دینے لگے ہیں کہ علماء کرام اپنے آپ کو قوم کی صرف اخلاقی تربیت کے لیے وقف کر دیں کہ اس سے زیادہ کچھ کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ اخلاقی تربیت کے لیے بھی جدید عہد اور سماجی علوم کے ارتقا کا مطالعہ ضروری ہے کیونکہ آج کے انسان کی اجتماعی نفسیات بہرحال زرعی دور کے انسان کی نفسیات جیسی نہیں ہے۔ اسی طرح آج کے مسائل کی نوعیت اور انسان پر ان کے اثرات بھی ہمارے ’’شاندار ماضی‘‘ سے بہرحال مختلف ہیں۔
۲۔ ہمارا طبقہ علما اگرچہ اپنے آپ کو ’’دین‘‘ کے نمائندے کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ ’’مذہب‘‘ کا نمائندہ ہے۔ یہ طبقہ بالعموم دین کے کسی جامع اور ہمہ گیر تصور کا داعی نہیں ہے اور اس کی عملی خدمات کا دائرہ کار بھی مخصوص اور لگا بندھا ہے یعنی تعلیم کے ایک خاص شعبے کو اس طبقے نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس طبقے کی اپروچ نظری ہے، عملی نہیں اور نظری اپروچ بھی ’’دین‘ ‘پر محیط نہیں بلکہ زیادہ توجہ ’’مذہب‘‘ پر مبذول ہوتی ہے۔ اس حوالے سے یہ یقیناًایک خطرناک بات ہوگی کہ دین کی نمائندگی کا دعویٰ لے کر یہ طبقہ مسند اقتدار پر رونق افروز ہو اور ’’مذہب‘‘ کو نافذ کرنا شروع کر دے۔ ہم معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ اس طرح خود دین اسلام کی بابت خدشات جنم لیں گے کہ شاید یہ دین جدید عہد کے تقاضوں سے عہد برآ نہیں ہو سکتا حالانکہ درحقیقت دین تو نافذ ہی نہیں کیا گیا ہوگا۔ اس ضمن میں طالبان کا تجربہ پیش نظر رہنا چاہیے جنہوں نے اپنے مذہبی تصورات کے تحت بعض ایسے اقدامات کیے جن کو پاکستان کے راسخ العقیدہ اور طالبان کے حامی مذہبی حلقے بھی ہضم نہ کر سکے۔ 
۳۔ مذہب کے حوالے سے سیاسی ایجنڈا رکھنے والی ان جماعتوں کے خود کو ’’مذہبی‘‘ یا ’’دینی‘‘ جماعتیں قرار دینے سے تھیا کریسی کا تاثر ابھرتا ہے۔ مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن جماعتوں نے اپنے نام کے ساتھ ’’دینی‘‘ کا سابقہ نہیں لگایا، کیا وہ غیر دینی ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کیا وہ غیر اسلامی ہیں؟ کیا ان جماعتوں کے کارکن دین سے باہر ہیں؟ ممکن ہے مذہبی جماعتیں ان سوالوں کا جواب واضح طور اثبات میں نہ دیں لیکن اپنے طرز عمل سے وہ نفسیاتی طور پر قوم کو مذہبی اور غیر مذہبی میں تقسیم کرنے کا سبب بن رہی ہیں اس لیے ہماری رائے میں ’’مذہبی جماعت‘‘ کی اصطلاح بالکل ترک کر دینی چاہیے اور دینی جماعت اور غیر دینی جماعت کی بابت پیدا ہونے والے سوالات اور تاثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

سیاسی تقاضوں سے بے اعتنائی

۱۔ مذہبی جماعتوں کا رویہ سیاسی نہیں ہے اور نہ ہمارے محترم علماء کرام ووٹ حاصل کرنے کے لیے وہ ’’پاپڑ‘‘ بیلنے کے لیے تیار ہیں جو اس میدان میں بہرحال بیلنے پڑتے ہیں۔ عام سیاسی جماعتوں کے بر خلاف، جو اپنی کارکردگی اور عملی وعدوں کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہیں، مذہبی جماعتیں اس لہجے میں بات کرتی ہیں جیسے مذہب کا نمائندہ ہونے کی بنا پر عوام کا ووٹ ان کا استحقاق ہو۔ وہ عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کو ووٹ دینا ان کا ’’دینی فریضہ‘‘ ہے اور اس سلسلے میں دوسری جماعتوں پر تنقید کے لیے ’’فتووں‘‘ کا سہارا لینا ایک عام بات ہے۔ یہ رویہ کسی بھی درجے میں ووٹر کو اپیل نہیں کرتا بلکہ الٹا اس کے ذہنی فاصلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
۲۔ علما کے نام نہاد ’’اتحاد‘‘ میں ٹکٹوں کی تقسیم کرتے وقت زمینی حقائق کے بجائے فرقہ وارانہ ایڈجسٹمنٹ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹکٹوں کی تقسیم کی جا سکتی ہے تو برادری کی بنیاد پر کیوں نہیں؟ پاکستان کی سیاست میں برادری کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر ٹکٹوں کی تقسیم میں اس پہلو کو بھی مد نظر رکھا جائے تو نام نہاد اتحاد زیادہ سیٹیں جیت سکتا تھا کیونکہ برادری کے لوگوں نے تو بہرحال اپنے امیدوار کو ووٹ دینا تھا لیکن ایک فرقے کاووٹر دوسرے فرقے کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا۔
۳۔ سیاست میں سیاست دان کی شخصیت کا کردار بنیادی ہے۔ ایک کام یاب سیاست دان اپنے وقت کو عوام کے لیے وقف رکھتا، ہر وقت ان سے رابطہ رکھتا اور اپنے حلقہ اثر کو مسلسل بڑھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی جز وقتی کام نہیں۔ انگریزی محاورے کے مطابق سیاست ایک Jealous Mistress (حاسد بیوی) ہے جو اپنی سوکن کو برداشت نہیں کرتی لیکن مذہبی جماعتوں نے اس سامنے کی حقیقت کو کبھی قابل اعتنا ہی نہیں گردانا۔ بجائے اس کے کہ وہ مذہبی رجحان رکھنے والے پیشہ ور سیاسی قائدین کی کوئی کھیپ الگ سے تیارکریں، انتخابات کے موقع پر وہ مدارس کے اساتذہ اورمساجد کے ائمہ کو امیدوار بنا کر میدان میں لے آتی ہیں جن کی انتخابی مہم کی ساری توانائیاں اپنا تعارف کرانے میں ہی صرف ہو جاتی ہیں۔
۴۔ معروضی سیاست میں پیسے کی بھی بہت اہمیت ہے۔ جس کی جیب بھاری ہو، وہ بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ طبقہ علما کی اپنی کوئی جیب ہی نہیں بلکہ، معاف کیجیے، وہ خود کسی کی جیب میں ہوتا ہے۔

معاشرتی مسائل سے لا تعلقی

۱۔ سوشل سیکٹر بہت وسیع میدان ہے لیکن افسوس ہے کہ جتنا یہ میدان وسیع ہے، مذہبی طبقے کی خدمات اس سلسلے میں اتنی ہی کم ہیں۔ ہرکس وناکس آگاہ ہے کہ دین اسلام کا غالب رجحان عملی ہے اور اس میں حقوق العباد پر بے حد زور دیا گیا ہے لیکن علماء کرام کی نظروں سے دین کا یہ غالب پہلو ابھی تک اوجھل ہے۔ گلی محلوں میں اس طبقے کے قائم کردہ بے شمار چھوٹے بڑے مدرسے دکھائی دیتے ہیں لیکن سلائی سنٹر، ہسپتال، سکول، بلڈ بینک اور اس طرح کے دیگر رفاہی ادارے بنانے کا ان کے ہاں کوئی تصور موجود نہیں۔ اسی بنا پر ایک عمومی تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ طبقہ ’’طفیلی‘‘ (Parasite) ہے ، اسے کیا معلوم کہ ورکنگ کلاس کے مسائل اور مشکلات کیا ہیں؟ 
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طبقہ علما میں بھی ’’طبقاتی درجہ بندی‘‘ راہ پا چکی ہے اور علما اے، بی، سی کی مختلف کلاسوں میں تقسیم ہیں۔ سی کلاس کے علما کو اے کلاس کے علما کے ہاں وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہیں۔ اس طرح مساوات اور سادگی کے اسلامی تصورات عملاً ایک طرف رکھ دیے گئے ہیں۔ گویا اے کلاس کے علما کے اقتدار میں آنے سے سماجی سطح پر اس تبدیلی کے پیدا ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے جس کا پرچار کیا جاتا ہے۔

باہمی برداشت کا فقدان

علماء کرام کے ’’اتحاد‘‘ کی بابت بھی عوام بجا طور پر تحفظات رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اتحاد صرف کاغذی ہے اور الیکشن میں ووٹوں کی شرح سے اس اتحاد کی ’’مضبوطی‘‘ سامنے آ جائے گی۔ ایک ہی حلقے میں دو مختلف فرقوں کے امیدوار، جو اتحاد کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، ان کی ووٹوں کی شرح مختلف ہوگی کیونکہ کوئی بھی فرقہ دوسرے فرقے کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ہمارے خیال میں مذہبی طبقہ اگر صرف ’’اپنے‘‘ ووٹوں کو ’’اکٹھا‘‘ کر لے تو بڑی بات ہے، اسے فی الحال ’’عوامی ووٹ‘‘ لینے کی ضرورت نہیں۔
یہ وہ حقائق ہیں جن کی بنا پر ہماری زبان میں ’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘، ’’بسم اللہ کے گنبد میں رہنا‘‘ اور ’’دو ملاؤں میں مرغی حرام‘‘ قسم کے محاورے رائج ہو گئے ہیں۔ ان محاوروں کے طفیل علما کی بابت یہ نفسیاتی تاثر عام ہو گیا ہے کہ ان کا وژن بہت محدود ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ محاورے انگریز کے عہد میں وجود میں آئے اور انگریز نے علما کی بابت ان تاثرات کو تقویت دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ بات بھی ناقابل انکار ہے کہ طبقہ علما کی مخصوص روش نے ان محاوروں پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ طبقہ علما اپنے فکر وعمل کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کرے گا کہ لوگ انہیں اپنی ’’آخرت کا محافظ‘‘ سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ’’دنیا کا نگہبان‘‘ بھی سمجھنے لگیں اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ انتخابات میں انہیں ووٹ بھی دینے لگیں۔

مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘

جاوید چودھری

جنوری ۱۹۷۷ء میں الیکشن کا اعلان ہوا تو تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بھٹو کے خلاف جمع ہو گئیں۔ اس اجتماع کو پاکستان عوامی اتحاد یا پی این اے کا نام دیا ہے۔ اس اتحاد میں مذہبی جماعتوں کی اکثریت تھی لہٰذا بھٹو اسے ’’ملاؤں کا اتحاد‘‘ کہتے تھے۔ آنے والے دنوں میں پی این اے نے اپنی جدوجہد کو ’’تحریک نظام مصطفی‘‘ کا نام دے کر بھٹوکے خدشات سچ ثابت کر دیے۔ اس اتحاد نے ۱۰ جنوری کو اپنی مہم شروع کی۔ پورے پاکستان میں آگ لگ گئی۔ ایک ایک شہر میں ایک ایک دن میں نو نو جلوس نکلے، عوام کے اس رد عمل نے بھٹو کی مضبوط کرسی کے پائے ہلا دیے۔ صاف نظر آرہا تھا، بھٹو اور اس کی قیادت اب ماضی کا قصہ پارینہ بن جائے گی۔ بھٹو نے علماء کرام کی اس یلغار کو روکنے کی ذمہ داری مولانا کوثرنیازی کو سونپ دی۔ مولانا، بھٹو کی کابینہ میں اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر اور بلا کے مقرر تھے۔ ان کی زندگی کا زیادہ حصہ علما کی قربت میں گزرا تھا لہٰذا وہ گھر کے بھیدی تھے۔
مولانا خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلانا شروع کر دیا کہ علماء کرام میں ملکی قیادت کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔ ایک عوامی اجتماع میں مولانا کوثر نیازی نے عوامی اتحاد کو چیلنج دیا ’’اگر مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود کے پیچھے نماز پڑھ لیں اور بعد ازاں اس کی قضا ادا نہ کریں تو پیپلز پارٹی، پی این اے کے مقابلے میں اپنے تمام امیدوار بٹھا دے گی۔‘‘ چیلنج تہلکہ خیز تھا، بھٹو نے سنا تو پریشان ہو کر مولانا کو ٹیلی فون کیا ’’یہ تم نے کیا کر دیا، یہ لوگ تو ایسا کر گزریں گے‘‘ مولانا نے جواب دیا ’’سر، میں ان لوگوں کو جانتا ہوں، نورانی کی گردن پر تلوار بھی رکھ دی جائے تو بھی وہ مفتی محمود کی امامت میں نماز ادا نہیں کریں گے‘‘ چیلنج کی تشہیر ہوئی تو عوام نے پی این اے کے راہنماؤں پردباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ عوامی رد عمل سے مجبور ہو کر پی این اے کے لیڈر ملتان میں جمع ہوئے، مشترکہ جلسہ کیا اور بعد ازاں مغرب کے وقت قاسم باغ میں نورانی صاحب نے امامت کرائی اور مفتی محمود سمیت تمام راہنماؤں نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کر دی۔ اگلے روز کے اخبارات نے نماز کی تصاویر اور خبریں نمایاں کرکے شائع کیں۔ اسی شام مولانا کوثر نیازی نے ایک جلسے میں اعلان کیا ’’میں نے یہ چیلنج دیا تھا، مولانا نورانی مفتی محمود کی امامت میں نماز پڑھ کر دکھائیں، یہ نہیں کہا تھا کہ مفتی محمود، نورانی کے پیچھے نماز پڑھ لیں‘‘ چند روز بعد لاہور ایئر پورٹ پر مولانا کوثر نیازی کی شاہ احمد نورانی سے اتفاقاً ملاقات ہوئی، نورانی صاحب نے مولانا سے شکوہ کیا ’’تم نے تو ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا‘‘
یہ واقعی علماء کرام کی دکھتی رگ ہے۔ شاید اسی باعث آج تک پاکستان میں اسلام کا نفاذ نہیں ہو سکا۔ شاید اسی کی وجہ سے مذہبی جماعتیں اپنے پورے اثر ورسوخ کے باوجود کبھی ووٹ نہیں لے پائیں۔ لوگ انہیں چندہ دے دیتے ہیں، پوری پوری رات ان کی تقریریں سنتے ہیں، ان کے لیے جلوس بھی نکالتے ہیں، ان کے کہنے پر اپنے بچے تک جہاد پر روانہ کر دیتے ہیں لیکن نہیں دیتے تو ووٹ نہیں دیتے۔ شاید اس کی وجہ ان کی یہی دکھتی رگ ہے۔ لوگ سوچتے ہیں جو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، وہ مل کر ملک کیسے چلائیں گے؟ علماء کرام کے یہی اختلافات تھے جن کے باعث جنرل ضیاء الحق کہنے پر مجبور ہو گئے، ’’لوگ مجھ سے نفاذ اسلام کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن میں پریشان ہو جاتا ہوں، میں کون سا اسلام نافذ کروں؟ یہاں تو ہر فرقے، ہر عالم کا اسلام الگ ہے‘‘۔
۲۵ برس بعد ایک بار پھر ۸ ستمبر کو کراچی میں شاہ احمد نورانی نے امامت کرائی اور منور حسن، ساجد نقوی، قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن نے ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ گویا ۲۵ برس بعد بھی معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔ ہماری مذہبی قیادت کو ان برسوں میں جو کچھ سیکھنا چاہیے تھا، انہوں نے وہ نہیں سیکھا لیکن اس کے باوجود ان کا یہ اقدام قابل ستائش ہے۔ ایک نظریاتی، ثقافتی، اخلاقی اور سیاسی طور پر منتشر قوم کے لیے واقعتا یہ ایک خوش خبری ہے۔ جس ملک میں لوگ جان کے خطرے سے نام بدلنے پر مجبور ہوں، وہاں نظریاتی اور فقہی اختلافات بھلا کر علماء کرام کا ایک ’’امام‘‘ پر متفق ہو جانا ٹھیک ٹھاک انقلاب ہے۔ مجھے یقین ہے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو کبھی نہ کبھی مولانا شاہ احمد نورانی بھی مولانا فضل الرحمن کے پیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش نکال لیں گے کیونکہ اتحاد اختلافات سے بہرحال زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ ان علماء کرام کی دیکھا دیکھی اب ۱۲۹ پارٹیوں میں منقسم سیاست دانوں کو بھی سیاسی اور جمہوری ’’جماعت‘‘ کے لیے صفیں درست کر لینی چاہییں، کندھے سے کندھا ملا لینا چاہیے اور اپنا کوئی ’’امام‘‘ چن کر اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دینا چاہیے کیونکہ یہ بات طے ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، ق، پ، ج، ایم کیو ایم، تحریک انصاف، ملت پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل موومنٹ، سندھ نیشنل فرنٹ، سندھ ڈیمو کریٹک الائنس اور تحریک استقلال مل کر جدوجہد نہیں کرتیں، ہوس اقتدار سے بالاتر ہو کر نہیں سوچتیں، ملکی ترقی، سیاسی استحکام اور جمہوری مستقبل کے ایک پلیٹ فارم سے الیکشن نہیں لڑتیں، اس ملک سے ۱۲۔ اکتوبر اور ۵ جولائی ختم نہیں ہو سکتے۔ اس ملک سے نظریہ ضرورت، گریٹ نیشنل انٹرسٹ اور ۵۸ ۔ ۲ بی رخصت نہیں ہو سکتی۔ آج ہو یا کل، بہرحال اس ملک کے تمام سیاست دانوں کو کندھے سے کندھا ملانا ہی پڑے گا۔ اپنی دکھتی رگ کا دکھ بھلانا ہی ہوگا۔
(روزنامہ جنگ ، ۱۹ ستمبر ۲۰۰۲ء)

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’ذکر اہل بیت مصطفیٰ ﷺ‘‘

اس کتابچہ میں علامہ حافظ شفقات احمد مجددی نے اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب پر اپنے مخصوص ذوق کے مطابق معلومات جمع کی ہیں۔ 
صفحات ۱۹۲۔ ناشر: دار التبلیغ، آستانہ عالیہ حضرت کیلیانوالہ شریف، ضلع گوجرانوالہ

’’حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں اہل بیت رسول کا فیصلہ‘‘

جناب محمد رفیق کیلانی نے اس کتابچہ میں امیر المومنین حضرت معاویہؓ کے بارے میں حضرات اہل بیت کرامؓ کے تاثرات بیان کیے ہیں اور مستند حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں۔
یہ رسالہ بھی دار التبلیغ، آستانہ عالیہ حضرت کیلیانوالہ شریف، ضلع گوجرانوالہ نے شائع کیا ہے۔

ماہنامہ ’’آب حیات‘‘ لاہور

مولانا محمود الرشید حدوٹی کی زیر ادارت ’’آب حیات‘‘ کے نام سے ایک دینی جریدہ شائع ہوتا ہے جس کا جولائی ۲۰۰۲ء کا شمارہ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ اس میں دینی عنوانات کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے مسائل اور ملت اسلامیہ کو درپیش مشکلات کے حوالے سے بھی مفید مضامین شامل ہیں۔
قیمت فی پرچہ ۱۰ روپے اور سالانہ زر خریداری ۱۰۰ روپے ہے جبکہ خط و کتابت مدیر محترم سے جامعہ اشرفیہ، مسلم ٹاؤن، فیروز پور لاہور کے پتہ پر کی جا سکتی ہے۔

’’ہیرے اور کنکر‘‘

محمد یاسین خان قائم خانی صاحب نے ’’قائم خانی راجپوت‘‘ خاندان کے تعارف اور جہاد آزادی میں اس خاندان کی خدمات پر قلم اٹھایا ہے اور اس میں جنگ آزادی کے حوالے سے بہت سی مفید معلومات پیش کی ہیں۔ 
پونے تین سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب ادارہ تحقیق و تصنیف ترگڑھ براستہ ملوک، تحصیل وضلع ملتان نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔