تحریک ختم نبوت کے مطالبات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے جداگانہ طرز انتخاب کے خاتمہ اور ووٹر کے اندراج کے فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدۂ ختم نبوت کا حلف ختم کرنے کے فیصلوں کو مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فیصلے فی الفور واپس لے کردستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ یہ فیصلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر ۴ مئی ۲۰۰۲ء کو لاہور میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں طے پایا کہ اس سلسلے میں تمام مذہبی جماعتوں کا سربراہی اجلاس طلب کیا جائے گا جس کے لیے جمعیۃ علماء اسلام (ف) نے میزبانی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس سربراہی اجلاس میں تحریک ختم نبوت کو ازسرنو منظم کرنے اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو ہر سطح پر متحرک کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اجلاس میں ملک بھر کے علماء کرام اور خطبا سے اپیل کی گئی ہے کہ جمعۃ المبارک کے خطبات میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت واضح کی جائے، قادیانی سرگرمیوں کے بارے میں عوام کو باخبر کیا جائے اور رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے ضلعی اور مقامی سطح پر ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔
اجلاس میں مشترکہ طور پر اس موقف کا اعلان کیا گیا کہ جداگانہ طرز انتخاب ختم کرنے کا فیصلہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد اور تحریک پاکستان کے تاریخی پس منظر بالخصوص دو قومی نظریہ کی نفی کے مترادف ہے اور ملک کے دستور کے بھی منافی ہے جس کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا پی سی او میں واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ نے ظفر علی شاہ کیس میں حکومت کو پابند کیاہے کہ وہ دستور کی اسلامی دفعات سے کوئی تعرض نہیں کرے گی لیکن اس کے باوجود اس خالص اسلامی اور نظریاتی مسئلہ کو ازسرنو متنازعہ بنا کر دستور کی اسلامی حیثیت کو مجروح کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا کہ امریکی کانگریس کی طرف سے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے مطالبہ کے فوراً بعد مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے الگ الگ اندراج اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو عملاً قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق ختم کر دینے کے مترادف ہے جو اسلامیان پاکستان کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے جبکہ یہ حلف نامہ اور مذہب کا خانہ نیز مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کا الگ الگ اندراج بھٹو حکومت کے دور سے چلا آ رہا ہے جب مخلوط الیکشن کا طریقہ رائج تھا اس لیے اس مسئلہ کا تعلق جداگانہ الیکشن سے نہیں بلکہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے دستوری فیصلے پر عمل درآمد سے ہے اور اسے ختم کر کے دستور پاکستان کے اس فیصلے کو غیر موثر بنانے کی سازش کی گئی ہے اس لیے یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ جداگانہ طرز انتخاب اور ووٹر فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کے فیصلے فی الفور واپس لے کر اسلامیان پاکستان کو دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے حوالے سے مطمئن کیا جائے۔
اجلاس نے پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی اقدام سے بے زاری کا اعلان کیا ہے اور حکومت پر واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ کی طرف لے جانے والے ہر اقدام کی پوری قوت سے مزاحمت کی جائے گی اور ملک کی دینی قوتیں اور غیور عوام ایسے کسی بھی عمل کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے۔
اجلاس میں جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا محمد عبد اللہ، مولانا محب النبی، مولانا عبد الرؤف فاروقی اور مولانا خلیل الرحمن حقانی، پاکستان شریعت کونسل کے مولانا زاہد الراشدی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختراور مولانا ذکاء الرحمن اختر، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا بشیر احمد، مجلس احرار اسلام کے چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، پیر سید کفیل شاہ بخاری، عبد اللطیف خالد چیمہ اور مولانا اللہ یار ارشد، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مولانا منظور احمد چنیوٹی، جمعیۃ علماء پاکستان کے مولانا قاری زوار بہادراور انجینئر سلیم اللہ خان، پاکستان عوامی تحریک کے علامہ علی غضنفر کراروی اور مولانا محمد حسین آزاد، عالمی انجمن خدام الدین کے مولانا میاں محمد اجمل قادری اور جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے مولانا ریاض الرحمن یزدانی کے علاوہ ممتاز قانون دان جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور صوبائی وزیر مذہبی امور مولانا مفتی غلام سرور قادری نے بھی شرکت کی۔
قافلہ معاد
ادارہ
- عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت اور بھارت کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق صوبہ بہار سے تھا۔ دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلا اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کے مایہ ناز تلامذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ اور ترویج کے لیے مسلسل محنت کی اور صوبہ بہار کے امیر شریعت کے منصب پر بھی فائز رہے۔ انہوں نے دہلی میں فقہ اکیڈیمی قائم کر کے جدید مسائل پر علمی اور تحقیقی کام کا آغاز کیا اور ممتاز فقہا کے ساتھ مختلف شعبوں کے ماہرین کی مشترکہ مشاورت وتحقیق کا اہتمام کر کے جدید اور اجتہاد طلب مسائل پر علمی آرا اور فیصلوں کا قابل قدر ذخیرہ ’’جدید فقہی مباحث‘‘ کے عنوان سے کئی جلدوں میں پیش کیا جو ان کا عظیم علمی کارنامہ ہے۔ وہ جدہ کی ’’مجمع الفقہ الاسلامی‘‘ کے رکن تھے اور انہیں بھارت میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی وفات کے بعد آل پارٹیز مسلم پرسنل لا بورڈ کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔
- افغانستان کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد نبی محمدیؒ گزشتہ روز پشاور میں ۸۲ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق صوبہ لوگر سے تھا اور وہ ظاہر شاہ کے دور میں افغان پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ انہوں نے افغانستان میں روسی تسلط کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا اور ’’حرکت انقلاب اسلامی‘‘ قائم کر کے روسی استعمار سے آزادی کی جدوجہد کی قیادت کی۔ وہ طالبان حکومت کے سرپرستوں اور پشت پناہوں میں سے تھے اور افغانستان کے بزرگ، مدبر اور معاملہ فہم علماء کرام میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
ان دونوں بزرگوں کی وفات اس خطے کے علماء کرام اور دینی حلقوں کے لیے بہت بڑے صدمے کی بات ہے اور قحط الرجال کے اس دور میں بلاشبہ ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان بزرگوں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے متوسلین کو ان کی علمی ودینی خدمات کا سلسلہ تادیر جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
جی ہاں! پاکستان کو آئیڈیل ازم کی ضرورت ہے
پروفیسر میاں انعام الرحمن
جنرل پرویز مشرف آج کل جہاں اپنی حکومت کے ’’انقلابی اقدامات‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں‘ وہاں یہ بھی فرما رہے ہیں کہ مثالیت (Idealism) کے بجائے عملیت اور نتائجیت (Pragmatism) کو قومی شعار بنانا چاہیے۔ جنرل صاحب مجوزہ آئینی ترامیم اور ریفرنڈم کے سیاق وسباق میں قوم کو یہی ’’درس‘‘ دے رہے ہیں۔
اگر ہم ذرا گہری نظر سے معروضی واقعیت کا جائزہ لیں تو دنیا میں اس وقت موجود قومی وعالمی تشتت وانتشار‘ بے حسی اور خود غرضی کے اسباب مثالیت پسندی کے زوال میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد اگر مثالیت پسندی کا مظاہرہ کریں تو انہیں مادی مفادات سے بالاتر ہو کر (یعنی ٹیوشن وغیرہ سے بچتے ہوئے) محنت ودیانت داری کے ساتھ طلبا کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔ ایک وقت تھا جب اس شعبے کے افراد کی اکثریت مثالیت کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے تھی اس لیے معاشرے میں کرپشن کا گراف بھی اتنا بلند نہیں تھا۔ لیکن شعبہ تعلیم میں نتائجیت پسندی کے راہ پانے سے مثالیت کو چپ سادھنی پڑی ہے۔ مثالیت پسند گوشہ نشین ہو چکے ہیں اور احباب کی نظروں میں ’’احمق‘‘ گردانے جاتے ہیں جبکہ نتائجیت پسند ’’عاقل‘‘ اپنے معیار زندگی کو بلند سے بلندتر کرتے ہوئے زمانے کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔
نتائجیت پسندی زندگی کے ہر شعبے میں ’’شارٹ کٹ اپروچ‘‘ کو فروغ دیتی ہے۔ شعبہ تعلیم میں اسی اپروچ کے مطابق Selected study کرائی جاتی ہے جس سے طلبا کو معلومات (Information)کا طومار تو مل جاتا ہے لیکن شعور (Awareness) ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔ اس اپروچ کے سنگین نتائج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح بیوروکریسی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں مثالیت کے زوال اور نتائجیت کے در آنے سے معاشرہ جس ٹوٹ پھوٹ اور بے حسی کا شکار ہے‘ قلم اسے بیان کرنے سے قاصر ہے۔
۱۲؍ اکتوبر کو اقتدار کی مسند پر قابض ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے سات نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا۔ ان نکات میں سے ایک نکتہ قومی اداروں کو سیاسی اثرات اور رجحانات سے پاک کرنا (Depoliticizing State Institutions)تھا۔ جب جنرل صاحب یہ نکتہ بیان فرما رہے تھے تو ساتھ ہی عملاً اس کی نفی بھی کر رہے تھے۔ ایک جمہوریہ میں فوجی جرنیل کا اقتدار سنبھالنا چہ معنی دارد؟ ریفرنڈم کے سلسلے میں حالیہ جلسوں میں وردی پہن کر سیاسی انداز میں ’’عوامی‘‘ تقاریر سے یہ تضاد اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ جلسوں میں سرکاری ملازمین کی جبری حاضری سرکاری اداروں کی Politicization کو ہی منعکس کرتی ہے۔ یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلح افواج نے ملکی سلامتی اور قومی مفاد کے نام پر مملکت کے دستور کو ’’یرغمال‘‘ بنایا ہوا ہے۔ جناب صدر کو واضح کرنا چاہیے کہ ان کی دانش کے مطابق Depoliticization کے حدود اربعہ کیا ہیں اور State Institutionsکس بلا کا نام ہے؟پاکستان کے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا آرمی ایک پرائیویٹ ادارہ ہے؟ ہماری قومی تاریخ گواہ ہے کہ آرمی کے ڈسپلن کو ہمیشہ ہائی جیک کر کے اسے پرائیویٹ ادارہ ہی ثابت کیا گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ مقتدر گروہ کی نتائجیت پسندی نے Depoliticization کے معقول اور مثالی نکتے کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دیا۔
صدر محترم کے فرمان کے مطابق اگر ہم نتائجی نقطہ نظر سے بھی معروضی واقعیت کا جائزہ لیں تو یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ کسی بھی قسم کی ’’اصلاحات‘‘ اگر نظام کے بجائے شخصی بنیادوں پر استوار کی جائیں تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتیں اور ان کے اثرات بھی خواہشات کے مطابق مرتب نہیں ہوتے۔ ویسے بھی قوم کو اصلاحات کے انبار کے بجائے کمٹ منٹ اور قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ تاریخی استشہاد بھی اسی موقف کو تقویت دیتا ہے لیکن برسراقتدار گروہ نتائجیت کے بجائے ’’موضوعی نتائجیت‘‘ کو اپنائے ہوئے ہے جس سے اصلاحات کی شخصی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ جناب صدر کا یہ جملہ کہ ’’میں‘ میں ہوں‘‘ اس کا زندہ ثبوت ہے۔ ماہرین نفسیات اس ’’میں‘‘ کو نرگسیت کے زمرے میں شمار کرتے ہیں اور ان کے مطابق اس کا کوئی علاج نہیں۔
ریفرنڈم میں لوگوں کو ہاں یا نہیں کا آپشن بھی دیا گیا ہے اور عوام کی جہالت کا تدارک سبز اور سفید رنگ کے خانوں سے کیا گیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کلر بلائنڈ ہے۔ انہیں مختلف رنگوں میں فرق نظر نہیں آتا۔ اس طرح دو خانوں کے درمیان کھینچی گئی لائن بے معنی ہو جاتی ہے حالانکہ حکومتی دعووں کے مطابق یہ لائن ہی ریفرنڈم کی بنیاد اور جواز ہے۔ بہتر ہوتا اگر ہاں اور نہیں کے لیے تصویروں سے مدد لی جاتی مثلاً ’’ہاں‘‘ والے خانے میں گدھ کی اور ’’نہیں‘‘ والے خانے میں فاختہ کی تصویر شائع کی جاتی بلکہ زیادہ بہتر یہ تھا کہ ’’ہاں‘‘ والے خانے میں بوٹوں کی اور ’’نہیں‘‘ والے خانے میں کتاب کی تصویر شائع کی جاتی۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ کتاب پر ’’دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ بھی لکھا جاتا۔
صدر محترم! ریفرنڈم پر میرا اور میرے ’’ہم خیالوں‘‘ کا جواب حاضر خدمت ہے جو ہاں میں ہے۔ ہاں! پاکستان کو آئیڈیل ازم کی ضرورت ہے۔ ہاں جی ہاں‘ پاکستان کو آئیڈیل ازم کی ضرورت ہے۔
مقاصد تشریع کا ایک مختصر جائزہ
مولانا منتخب الحق
تشریع کے معنی ہیں قانون سازی اور ہر قانون کے بنانے کے تین مقاصد ہوتے ہیں: مقاصد ضروریہ، مقاصد حاجیہ اور مقاصد تحسینیہ۔
مقاصد ضروریہ
یہ وہ مقاصد ہیں جو خود مطلوب ہوتے ہیں اور ان کے بغیر کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ مقاصد ضروریہ کی پانچ قسمیں ہیں: حفاظت دین، حفاظت نفس، حفاظت آبرو، حفاظت نسل اور حفاظت مال۔ قرآن کے احکام بھی انہی پانچ مقاصد کی ترتیب سے ہیں اور بتدریج ان کے متعلق احکامات ہیں۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دوسری تمام عبادتیں حفاظت دین کے لیے ہیں۔ یہ مقصد یعنی حفاظت دین دوسری تمام شریعتوں یعنی شریعت نوحی، شریعت موسوی اور شریعت عیسوی سب میں یکساں رہا ہے اور یہ مقصد کبھی بدلا نہیں کرتا۔
حفاظت دین کے بعد حفاظت نفس آتی ہے۔ اس ضمن میں قصاص اور دیت کے احکام آتے ہیں اور قرآن میں نماز، روزہ اور دوسری عبادتوں کے بعد حفاظت جان کے سلسلے میں قصاص اور دیت کے احکام آتے ہیں۔
حفاظت نفس کے بعد حفاظت آبرو کے سلسلے میں نکاح وطلاق وغیرہ کے احکام آتے ہیں۔
حفاظت آبرو کے بعد حفاظت نسل کے ضمن میں تجارت، زراعت اور حفاظت مال کے سلسلے میں بیع وغیرہ کے احکام آئے ہیں۔ یہ ہوئی ان مقاصد کے لحاظ سے قرآن کی ترتیب۔
مقاصد حاجیہ
یہ مقاصد خود مطلوب ومقصود نہیں ہوتے لیکن ان کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان کے بغیر مقصد ضروری حاصل نہیں ہو سکتا۔ ان مقاصد کی حیثیت اگرچہ مقاصد ضروری جیسی نہیں ہے لیکن ان کی اہمیت ان سے کچھ کم بھی نہیں۔ مثلاً اگر نماز اور وضو کو لیں تو نماز کی حیثیت اصل کی ہے اور نماز کی تکمیل کے لیے وضو لازمی شرط ہے گویا وضو کی حیثیت مقاصد حاجیہ کی ہوئی لیکن وضو کے بغیر نماز نہیں ہو سکتی اس طرح وضو نماز کے لیے لازمی ہو گیا۔
مقاصد تحسینیہ
یہ مقاصد نہ تو خود مطلوب ہوتے ہیں اور نہ مقصد اصلی کے لیے موقوف علیہ کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان کے ذریعے سے مقاصد حاجی اور ضروری میں ایک طرح کا حسن پیدا ہو جاتا ہے جیسے حفاظت جان کے سلسلے میں کھانا پینا مقصد حاجی ہوا لیکن اب اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کیا ضروری ہے کہ دستر خوان بچھا کر، ہاتھ دھو کر، بسم اللہ کہہ کر کھانا کھایا جائے؟ اس کے بغیر بھی مقصد حاصل ہو سکتاہے لیکن صرف حسن پیدا کرنے کے لیے اور اس مقصد کو مزید تحسینی بنانے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ اس لیے مقاصد تحسینی اصل کے لیے تکملہ اور تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مقاصد ضروریہ اصل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی حیثیت بنیاد کی ہے۔ جس طرح بغیر جڑ کے درخت کا قائم رہنا ناممکن ہے، اسی طرح مقاصد ضروریہ کے بغیر دوسرے مقاصد یعنی مقاصد حاجیہ اور مقاصد تحسینیہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ ایمان کی حیثیت اصل کی ہے۔ اب اگر کوئی شخص مومن نہیں ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے اور روزے رکھتا ہے تو اس کی ان عبادتوں کی حیثیت جسم بغیر روح سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ ایمان اعمال انسانی کے لیے روح کی حیثیت رکھتا ہے اور روح کے بغیر تمام اعمال بے کار ہیں یعنی مقصد اصلی کو اگر ختم کر دیا جائے تو دوسرے مقاصد کے پائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس کے برخلاف اگر مقاصد حاجیہ یا مقاصد تحسینیہ ختم ہو جائیں تو مقاصد ضروریہ کا ختم ہو جانا کوئی ضروری نہیں۔
مقاصد ضروریہ اور تحسینیہ ان سب میں ایک ترتیب موجود ہے اور ہر مابعد مرتبے کا مقصد اپنے سے مقدم مقصد کے لیے تکملہ اور تتمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی، مقاصد ضروری کے لیے تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ تکملہ اور تتمہ کے فقدان سے اصل شے کا فقدان لازم ہی آئے مگر تکملہ یا تتمہ مفقود ہو جائے تو اصل پھر بھی باقی رہ سکتا ہے لیکن اس کے برخلاف اگر اصل شے مفقود ہو تو تکملہ اور تتمہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جب جڑ ہی نہ موجود ہوگی تو تنوں اور شاخوں کا سوال کہاں سے پیدا ہوگا۔
مثال کے طور پر حفاظت جان کے سلسلے میں قصاص کا حکم ہے۔ قصاص میں مثلیت یعنی برابری کے فقدان سے مقصد اصلی یعنی حفاظت جان کے لیے قصاص کے حکم میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا اور اس مثلیت کے فقدان کے باوجود عورت ومرد، مومن وکافر، بوڑھے وجوان کا کوئی امتیاز نہیں ہے لیکن سب کے لیے یکساں حکم ہے۔ گویا اس تکملہ یا تتمہ یعنی مثلیت کے فقدان کی وجہ سے مقصد ضروری میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اسی طرح حفاظت آبرو اور حفاظت نسل کے لیے نکاح کا حکم ہے۔ اب نکاح کے تکمیلی وتحسینی مقاصد میں نفقۃ المثل اور مہر مثل آتا ہے۔ اگر اب نفقۃ المثل یا مہر مثل میں کوئی کمی بیشی ہو یا مطلقاً ختم کر دیا جائے تو اس سے نکاح کے مقصد اصلی یعنی حفاظت آبرو میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح کفاء ت نفقۃ المثل کے لیے تحسینی مقاصد کی حیثیت رکھتی ہے۔ کفاء ت نہ ہونے کی وجہ سے نفقۃ المثل ختم نہیں کیا جائے گا۔
ان مقاصد کے درمیان رابطہ کے سلسلے میں ایک اور بات یہ عرض ہے کہ چونکہ مقاصد حاجیہ اور مقاصد تحسینیہ مقاصد اصلی کے لیے اصل کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے کسی ایسے مقصد حاجی یا تحسینی کو اختیار کرنا جو مقصد حاجی کو باطل کر دے، خود باطل ہے۔ ہم مقصد حاجی وتحسینی کا اعتبار کرتے ہیں لیکن جہاں کہیں یہ صورت پیدا ہوتی ہے کہ ان تکمیلی مقاصد کو اختیار کرنے سے اصلی مقصد میں کوئی فرق پڑتا ہے تو ان مقاصد کو چھوڑنا لازمی ہو جاتا ہے کیونکہ ان کو اختیار کرنا مقصد اصلی کو باطل کرنا ہے اور جب مقصد اصلی کو باطل کر دیا جائے تو اس کے مابعد مرتبے کی حیثیت تکمیلی کس طرح ہو سکتی ہے۔ اس لیے راس مصلحت کے پیش نظر مقصد اصلی کا اعتبار کیا جائے گا اور ان مقاصد تکمیلی وتحسینی کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی میں مطلقاً اختلال کی وجہ سے مقصد ضروری میں بھی فی الجملہ اختلال پیدا ہو جاتا ہے۔ شاہ عبد العزیز تفسیر ’فتح العزیز‘ پارہ الم میں لکھتے ہیں کہ آدمی پہلے آداب کو چھوڑتا ہے، پھر مستحبات کو چھوڑتا ہے، پھر سنن کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد فرائض سے روگردانی کرتے کرتے آہستہ آہستہ دین سے بے بہرہ ہو جاتا ہے۔ یہ تو ہوا ترک کے معاملے میں۔ یہی حال اختیار کے معاملے میں بھی ہے کہ آدمی اگر کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنا چاہتا ہے کہ تو ایک دم ہی اختیار نہیں کر لیتا بلکہ پہلے آہستہ آہستہ ان کے آداب کواختیار کرتا ہے، پھر ان کے عادات واطوار کو اختیار کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ان کے نظریات کو اختیار کرتے کرتے ان کے دین کو اختیار کر لیتا ہے۔ یہ انسان کے ترک واختیار کے تدریجی منازل ہیں۔ اس تدریج کی ابتدا نہایت معمولی ہوتی ہے لیکن اس کا اختتام شدت کو پہنچ جاتا ہے۔
اگر ایک شخص مکمل طور پر حفاظت دین کرتا ہے اور ساری عبادتیں اور ان کے تقاضے پورے کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ ان سے لا پروائی برتنا شروع کر دے تو نتیجتاً وہ ان سے بالکل بے بہرہ ہو جاتا ہے اسی لیے ان مقاصد کو مطلقاً مختل کر دینے سے مقصد ضروری اور مقصد حاجی فی الجملہ خلل پذیر ہوتے ہیں اسی لیے اگر مقاصد ضروری کی پوری پوری طرح حفاظت مقصود ہو تو مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی کی بھی پوری پوری حفاظت کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو پوری طرح حفاظت دین مقصود ہو تو وہ ان عبادات کو اچھی طرح انجام دیتا ہے۔ مثلاً نماز اس طرح بھی پڑھی جا سکتی ہے کہ وضو کر لیا جائے اور نماز پڑھ رہے ہیں لیکن دھیان کہیں اور لگا ہوا ہے۔ دل میں مختلف قسم کے خیالات آ رہے ہیں لیکن بظاہر اس کی نماز صحیح مانی جائے گی کیونکہ اس کی نیت اور اس کے خلوص کو تو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جان سکتا۔ اب اس کی نماز بارگاہ الٰہی میں مقبول ہو یا نہ ہو لیکن ایک بظاہر دیکھنے والا اس کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہے گا۔ یا اگر ایک شخص نماز نہیں پڑھتا تو اس کو اسلام سے خارج نہیں سمجھا جائے گا لیکن جس شخص کو پوری طرح حفاظت مقصود ہوگی، وہ نماز کے لیے وضو کرے گا تو بسم اللہ کہہ کر شروع کرے گا۔ جب نمازکی نیت کرے گا تو اپنے طور سے پوری پوری کوشش کرے گا کہ وہ اپنے خیالات کو منتشر نہ ہونے دے اور سارے ارکان صلوٰۃ کی پابندی کرنے کی پوری طرح کوشش کرے گا۔ اس کا قلب بھی خدا کی جانب راغب ہوگا۔ جسمانی وروحانی دونوں طور سے وہ اپنے کو خدا کے حضور میں سمجھے گا اور جو الفاظ ادا کرے گا، اس کی مطابقت سے تصور قائم کرے گا تو یہ ہوئی مکمل طور سے نماز لیکن اس مقصد ضروری کو مکمل طور سے حاصل کرنے کے لیے مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی کو بھی پورا کیا۔
اس طرح ان مقاصد کے درمیان جو علاقے اور رابطے موجود ہیں، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مقصد ضروری کی مکمل طور سے حفاظت مطلوب ہو تو ذیلی مقاصد کی بھی حفاظت کی جانی چاہیے۔
یہ جان لینے کے بعد پانچ باتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں:
۱۔ مقاصد ضروری اصل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
۲۔ مقاصد حاجی اور تحسینی کے اختلال سے مقاصد ضروری میں اختلال ضروری نہیں۔
۳۔ مقاصد ضروری کے مختل ہو جانے سے مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی بھی مختل ہو جاتے ہیں۔
۴۔ حاجی اور تحسینی کے مطلقاً اختلال سے بالترتیب مقصد ضروری اور مقصد حاجی میں فی الجملہ اختلال پیدا ہوجائے گا۔
۵۔ مقصد ضروری کی مکمل طور پر حفاظت کرنے کے لیے مقصد حاجی اور مقصد تحسینی کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔
(بشکریہ ’’تجلیات‘‘ کراچی)
دینی قوتیں: نئی حکمت عملی کی ضرورت
ڈاکٹر محمد امین
افغانستان میں جو کچھ ہوا‘ وہ ایک عظیم المیہ تھا۔ پاکستان میں اب جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ بھی ایک المیے سے کم نہیں لیکن اگر پاکستان کی دینی قوتوں نے ہوش مندی سے کام نہ لیا تو خدا نخواستہ ایک عظیم تر المیہ ہم سے بہت دور نہیں۔ غلطی کسی فردسے بھی ہو سکتی ہے اور کسی جماعت سے بھی اور یہ کوئی قابل طعن بات نہیں کیونکہ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ لیکن شکست کے بعد اختیار کی گئی حکمت عملی کا تجزیہ نہ کرنا‘ اگر غلطی نظر آئے تو اسے غلطی تسلیم نہ کرنا یا غلطی سے پہنچنے والے نقصان کی تاویلیں کرنے لگ جانا گویا دوسرے لفظوں میں احساس زیاں کھو دینا ہے۔ یہ غلطی نہیں‘ بلنڈر (Blunder) ہے جسے نہ قدرت معاف کرتی ہے اور نہ اس کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے لہذا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہماری دینی قوتیں پوری معروضیت اور بے رحمی سے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیں اور زمینی حقائق کے مطابق اپنی پالیسیوں کی تشکیل نو کریں۔ اس کے لیے ایک سنجیدہ مباحثے اور مکالمے کی ضرورت ہے اور اسی ضمن میں یہ معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کی دینی قوتوں کو جس ہزیمت کا سامنا ہے‘ اگر اس کی وجہ پر ہم غور کریں تو اس کے چار بڑے سبب نظر آتے ہیں۔ ایک، دینی قوتوں کا آپس میں عدم اعتماد۔ دوم، عوامی حمایت سے ان کی محروم۔ سوم، عوام کی دینی تعلیم وتربیت کا عدم اہتمام اور چہارم، ملی اور بین الاقوامی سطح پر دوستوں اور دشمنوں کے بارے میں ان کی غیر حقیقت پسندانہ اپروچ۔ ہم انہی نکات کا تجزیہ کرتے ہوئے نئی اور مطلوب حکمت عملی کے خدوخال بھی واضح کرتے جائیں گے۔
۱۔ ہمارے دینی عناصر کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ آپس میں متحد نہیں ہیں۔ وہ آج تک انفرادی مصالح اور ملکی مفادات سے اوپر اٹھ کر دین اور ملت کے لیے سوچ ہی نہیں سکے۔ وہ آج تک اس امر کا ادراک بھی نہیں کر سکے کہ ان کو لڑانے والی قوتیں کون ہیں؟ وہ نہ بین الاقوامی اسلام دشمن قوتوں کی چالوں کو سمجھ سکے اور نہ ان کے مقامی ایجنٹوں کے حربوں کو۔ وہ اپنے حقیر مفادات کے لیے نہایت آسانی سے ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔ انہیں بڑی حکمت اور منصوبہ بندی سے ایک دوسرے کے خلاف لڑایا گیا۔ ان کے مابین مسلکی اختلافات کو ہوا دی گئی۔ ان کو سیاسی طور پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ مختلف سیاسی دھڑوں کے ساتھ ان کے الگ الگ الحاق کر کے ان کی قوت کو تقسیم کیا گیا۔ ایک دین کے اندر مختلف مسلک‘ ہر مسلک پر مبنی جماعت‘ ہر جماعت کے اندر کئی دھڑے‘ ہر دھڑے کی الگ سیاسی جماعت‘ گویا تقسیم در تقسیم کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو جاری ہے اور ہمارے دینی رہبر یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ اس کے پیچھے کون سا شیطان اور اس کی ذریت ہے جو ان علم برداران دین متین کو آپس میں لڑا کر کمزور اور رسوا کر رہی ہے۔ حدیث ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ نور الٰہی سے دیکھتا ہے اور یہ کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا لیکن یہ کیسے مومن (بلکہ مومنوں کے سردار) ہیں کہ سامنے کے حقائق نہیں دیکھ سکتے؟ بار بار کی ہزیمت بھی انہیں سوچنے اور جاگنے پر آمادہ نہیں کرتی۔ وہ اپنے انتشار اور افتراق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اپنی انانیت اور اپنے تحزب پر قائم ہیں یہاں تک کہ جب وہ افغانستان کے مسئلے پر پٹ رہے تھے‘ اس وقت بھی اکٹھے نہیں ہوئے اور ہرلیڈر کو اپنی لیڈری چمکانے اور ہر جماعت کو اپنی کامیابی کی فکر پڑی ہوئی تھی اور آج بھی ان کا یہی حال ہے۔ اگر اتنا بڑا سانحہ بھی انہیں متحد نہیں کر سکا تو کب ان سے توقع کی جائے کہ وہ متحد ہوں گے؟ کیا وہ اس سے بڑے کسی سانحے کے منتظر ہیں؟ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان سے جبہ ودستار واپس لے کر انہیں صوف پہنا دیا جائے اور انہیں کسی دور افتادہ خانقاہ کے کسی حجرے میں بند کر دیا جائے جہاں کوئی حقیقی مربی ان کے دلوں کی کدورتیں دور کرے‘ ان کے اندر سے دنیا اور مال وجاہ کی محبت نکالے اور ان کے قلوب کو صیقل کرے؟
۲۔ یہ دل فریب اور جھوٹے نعرے لگانا آسان ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں لیکن ہماری دینی قوتیں اس تلخ حقیقت کو کب تسلیم کریں گی کہ درحقیقت عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں؟ عوام چونکہ دین سے محبت کرتے ہیں لہذا اس حوالے سے وہ دینی رہنماؤں کی توقیر بھی کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب کب ہے کہ وہ سیاسی اور اجتماعی امور میں بھی ان کے ساتھ ہیں؟ ہمارے نزدیک اس مظہر کے ذمہ دار بھی عوام سے زیادہ یہ دینی عناصر خود ہی ہیں کیونکہ دین ودنیا میں قائم کردہ تفریق (یعنی سیکولرازم) انہی کی اختیار کردہ ہے۔ انہوں نے صدیوں سے اپنے آپ کو مسجد ومدرسہ تک محدود کر رکھا ہے اور عوامی زندگی سے دور ہیں۔ دوسری طرف سیاست واقتدار کے باسی ہیں جنہوں نے اپنی الگ دنیابسائی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس تفریق کو کون پاٹے گا؟ عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اے اہل لاہور‘ تقریر میری ساری رات سنتے ہو اور واہ واہ کرتے ہیں اور صبح کے وقت ووٹ جا کر کسی اور کو دیتے ہو؟ یہ ایک تلخ حقیقت تھی جس کا اقرار شاہ صاحب نے کیا لیکن کیا ہمارے دینی عناصر نے اس سے عبرت پکڑی؟ اس سے کچھ سبق سیکھا؟ اس کے اسباب وعلل پر غور کیا؟ اس کا کوئی حل سوچا کہ عوام کیوں دینی امور میں ان کی متابعت کرتے ہیں لیکن سیاسی اور اجتماعی امور میں ان کی پیروی نہیں کرتے؟ کیا انہوں نے اپنے آپ کو بدلا؟ کیا پھر عوام کے اس رویے کو بدلنے کے انہوں نے کچھ کیا؟ سید محمد قطب صاحبؒ سے ایک دفعہ ایک صحافی نے انٹرویو لیا اور پوچھا کہ پھانسی پانے سے پہلے سید قطب شہید کی آخری دنوں میں سوچ کیا تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا وہ سوچتے تھے کہ مصری عوام نے اخوان کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ پاکستان میں دینی جماعتوں کو ہر انتخاب میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ اب ان کو پارلیمنٹ میں اقلیتوں جتنی نشستیں بھی نہیں ملتیں لیکن کیا انہوں نے کبھی سنجیدگی سے اس کے اسباب وعلل پر غور کیا اور اپنی حکمت عملی کو بدلا؟ ان کا کام تو یہ تھا کہ وہ لوگوں کو سرمایہ دار اور جاگیردار سیاست دانوں کے چنگل سے نکالتے لیکن وہ الٹا ان کے نخچیر بن گئے۔
۳۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دینی قیادت عوام کو دین کی تعلیم دینے‘ ان کی دینی تربیت کرنے اور انہیں اپنے ساتھ ملانے میں عظیم ناکامی سے دوچار ہوئی ہے لیکن اسے اس کا احساس ہی نہیں۔ مسجدیں فرقہ وارانہ تقریروں کا گڑھ بنی ہوئی ہیں۔ خطیب جو تقریریں جمعہ کو کرتے ہیں‘ ان کا زندگی کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کو قرآن ناظرہ پڑھا کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ معرکہ سر کر لیا حالانکہ طوطے کی طرح بے سمجھے بوجھے قرآن کی عربی عبارت پڑھ لینے سے نہ ان کی زندگی میں کوئی انقلاب آتا ہے نہ آ سکتا ہے۔ علما سے کون پوچھے کہ مسجد کا وہ کردار کیوں بحال نہیں کیا جا سکتا جو عہد رسالت مآب میں تھا؟ کیا آج مسجد میں اہل محلہ کے معزز اور دین دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نہیں بنائی جا سکتی جو یہ دیکھے کہ محلے میں کوئی بھوکا تو نہیں سوتا؟ جو محلے کی بیواؤں اور مساکین کی مدد کرے؟ کیا ایک اور کمیٹی نہیں بنائی جا سکتی جو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا کام کرے‘ جو لوگوں کے اخلاق کو سنوارے‘ جو انہیں اچھی باتوں کی ترغیب دے۔ کیا ایک کمیٹی ایسی نہیں ہو سکتی جو نوجوانوں کے لیے پاکیزہ اور تعمیری سرگرمیوں کا انتظام کرے‘ جو لوگوں کے مسائل کو حل کرے مثلاً گلیوں کی صفائی او رروشنی کا انتظام اور سکولوں میں داخلے کا اہتمام۔ مسجد کو تعلیم کا مرکز کیوں نہیں بنایا جا سکتا اور سو فیصد خواندگی کا ہدف کیوں نہیں حاصل کیا جا سکتا؟ سوال یہ نہیں کہ حکومت یہ کام کیوں نہیں کرتی؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ علما یہ کام کیوں نہیں کرتے؟ وہ دو رکعت کے امام بنے رہنے پر کیوں مصر ہیں؟ وہ سارے محلے کے ہرکام کے سچ مچ کے امام کیوں نہیں بنتے؟ جب کہ وہ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آخر کس نے ان کے ہاتھ پکڑ رکھے ہیں؟
ان کے مدرسوں میں چند ہزار یا چند لاکھ بچے پڑھتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ان کا بڑا کارنامہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس ملک کے سکولوں میں جو کروڑوں بچے پڑھتے ہیں‘ ان کی دینی تعلیم اور ان کی اخلاقی تربیت کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اس سلسلے میں دینی قوتیں کیا کر رہی ہیں؟ علما کو یا تو سیاست سے ہی فراغت نہیں ہوتی اور ان کی ساری محنتیں اور وسائل ادھر صرف ہو جاتے ہیں اور جو کچھ باقی بچتے ہیں‘ انہوں نے اپنا دائرۂ کار مدرسے کو بنایا ہوا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ملت پاکستان کے کروڑوں بچے ایسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس میں دینی تعلیم کا مناسب انتظام نہیں‘ جہاں بچوں کی دینی تربیت کا کوئی انتظام نہیں۔ اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو دینی قوتوں کے ہاتھ کس نے پکڑ رکھے ہیں کہ وہ یہ کام نہ کریں؟ یہ محض عذر لنگ ہے کہ اس کے لیے درکار اربوں روپے کہاں سے آئیں گے۔ دینی قیادت کمیونٹی کو متحرک کر کے یہ کام بآسانی کر سکتی ہے اور خود کفالتی بنیادوں پر یہ نظام بخوبی چل سکتا ہے اور مسجد اور اس کے امام کو بھی اس کا مرکز بنایا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے کبھی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ بلکہ اب تو دینی لوگوں نے بھی بطور کاروبار انگلش میڈیم اسکول کھول رکھے ہیں جہاں انگریزی کتابیں اور انگریزی نصاب پڑھا کر مغربی تہذیب کے غلام تیار کیے جاتے ہیں اور توقع یہ کی جاتی ہے بلکہ نعرے یہ لگائے جاتے ہیں کہ ہم اس معاشرے میں اسلامی انقلاب لائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے جتنے پست ہم اب ہیں‘ اتنے پہلے کبھی نہ تھے۔ وہ دینی اصول اور دینی اقدار جو کبھی ہمارے معاشرے کا جزو لاینفک تھیں‘ وہ اب مغربی تہذیب کے ریلے میں بہہ گئی ہیں اور دینی قوتوں کا یہ عالم ہے کہ انہیں کف افسوس ملنے کا بھی ہوش نہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ان حالات میں علم وعمل میں یکسو مسلم کہاں سے پیدا ہوں؟ صاحب کردار افراد کہاں سے آئیں؟ جس معاشرے میں انسان سازی کا عمل رک جائے‘ وہاں دو ٹانگوں کے جانور نہ پیدا ہوں تو اور کیا ہو؟ دینی تعلیم وتربیت سے محروم یہ لوگ اگر دینی جماعتوں کو ووٹ نہ دیں تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟ اگر وہ افغانستان میں بہتے خون پر مضطرب نہ ہوں تو آخر اس میں ان کا دوش کیاہے؟ آخر انہوں نے کردار کے نمونے دیکھے کہاں ہیں؟ عزیمت کا سبق انہیں پڑھایا کس نے ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر اہل دین اپنے گریبان میں جھانگیں تو خود انہیں شرم ساری محسوس ہوگی۔ انہیں اپنے سوا کسی کی خامیاں نظر نہ آئیں گی۔ شاید اسی لیے وہ یہ کام کرتے نہیں ہیں۔
۴۔ مغربی تہذیب کا طوطی جس طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے اور مغربی طاقتیں سرمایے اور سائنس وٹیکنالوجی کی قوت سے مسلح ہو کر جس طرح انا ولاغیری کے نعرے بلند کرتی چہارسو پھنکار رہی ہیں‘ کیا وہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت ہے؟ کیا پاکستان کی دینی قوتوں کے پاس ایک بھی اچھا تھنک ٹینک ہے جہاں مغرب کے بارے میں ضروری معلومات جمع ہوتی ہوں‘ اس کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا جاتا ہو کہ مغرب کیا سوچتا ہے؟ اس کی پالیسیاں کیا ہیں؟ وہ کیا کرنے والا ہے؟ اس کی منصوبہ بندی کا توڑ کیا ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو ہم کسی کو دوش کیوں دیتے ہیں؟ ہمیں اپنے آپ ہی کو دوش دینا چاہیے۔ یہ سادگی بلکہ سادہ لوحی کی کون سی قسم ہے کہ ہم دشمن کو دوست سمجھتے رہے اور خود ہی اس کی گود میں جا کر بیٹھے ہیں کہ آؤ اور ہمیں ختم کرو۔ کیا عراق وکویت میں جو کچھ ہوا‘ وہ محض اتفاق تھا؟ افغانستان میں جو کچھ کیا گیا‘ وہ پلاننگ کیا چند دن کے اندر کی گئی؟ کیا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ محض حسن اتفاق ہے؟ یا ایران‘ عراق اور سعودی عرب کے ساتھ جو ہوتا نظر آتا ہے‘ وہ محض گیدڑ بھبھکیاں ہیں؟ کیا بی 52 طیاروں کا مقابلہ کلاشنکوف سے کیا جا سکتا ہے؟ کیاآئی ایم ایف کا مقابلہ نیشنل بینک آف پاکستان کر سکتا ہے؟ کیا سی این این کے پروپیگنڈے کا توڑ پی ٹی وی سے ہو سکتا ہے؟ کیا علم وتحقیق میں پیش رفت کوئی جرم ہے؟ کیا مدارس میں انگریزی پڑھانا گناہ کبیرہ ہے؟
کیا ہم برسوں سے نہیں دیکھ رہے تھے کہ اسلامی کانفرنس تنظیم مٹی کا مادھو ہے‘ امت انتشار وافتراق کا شکار ہے‘ اسے متحد ہونے نہیں دیا جاتا بلکہ آپس میں لڑایا جاتا ہے۔ اکثر مسلم حکومتیں مغرب کی ایجنٹ ہیں یا ان کے دباؤ میں ہیں۔ کیا ہماری دینی قوتوں نے کبھی نہیں سوچا کہ اس صورت حال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہودی اسکالروں نے صدیوں سے پروٹوکولز بنا رکھے ہیں اور وہ ایک منظم طریقے سے دنیا پر چھاتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا ہمارے دانش وروں کے بھیجے خالی ہو گئے ہیں کہ چند سال بعد کی پلاننگ بھی نہیں کر سکتے؟ دینی قوتوں کو اس کا احساس ہونا چاہیے تھا کہ جس طرح داخلی محاذ پر ان کو اتحاد کی ضرورت ہے‘ اسی طرح ملی سطح پر بھی ان کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ آخر یہ امت اتنی بانجھ بھی نہیں ہوئی‘ یقیناً ہر مسلم ملک اور قوم میں ایسے افراد اور ادارے موجود ہیں جو اس صورت حال پر مضطرب ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کو پہچانا جاتا اور ان کو متحرک کیا جاتا اور امت کے اتحاد کو ایک مضبوط صورت دی جاتی اور اسے موثر بنایا جاتا۔
اول تو وسائل کی کمی نہیں اور اگر ہو بھی تو مل کر اسے پورا کیا جا سکتا ہے۔ مسلم ممالک مل کر طاقت ور میڈیا کو جنم دے سکتے ہیں۔ حربی تحقیق کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ سائنس وٹیکنالوجی میں ترقی کر سکتے ہیں۔ اپنے معاشی مسائل حل کر سکتے ہیں لیکن یہ سب اسی وقت ہو سکتا ہے جب ذہن بیدار ہوں۔ ان کے پیچھے نظریے کی قوت ہو اور آگے بڑھنے کا جوش وولولہ ہو اور اگر یہ نہ ہو تو جنگل کے بادشاہ شیر کا وزن تو بے چاری ایک گائے سے بھی کم ہوتا ہے۔
باتیں اور نکات تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن ہم نے پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے چند اصولی باتوں پر اکتفا کیا ہے اور دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دینی قوتیں ان چار نکات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی بدل لیں تو آج بھی بچنے کی امید کی جا سکتی ہے یعنی وہ سچ مچ متحد ہو جائیں اور انفرادی‘ مسلکی اور جماعتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اعلیٰ تر مقاصد کے لیے جمع ہو جائیں۔ اس کا اظہار نہ صرف سیاست میں ہو بلکہ دینی کاموں میں بھی ہو۔ عوام تک پہنچنے کا عزم کیا جائے‘ ان کی تعلیم وتربیت کی جائے اور اس طرح داخلی محاذ کو مضبوط بنا کر ملی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے آپ کو منوایا جائے تو ہماری ڈولتی کشتی آج بھی سنبھل سکتی ہے لیکن اگر ہم نے یہ سب کچھ نہ کیا تو پھر شاید‘ نہیں یقیناًہمیں ایک بڑے المیے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ الا من رحم ربی۔
دستور سے کمٹمنٹ کی ضرورت
پروفیسر میاں انعام الرحمن
۱۹۴۷ء سے لے کر اب تک وطن عزیز کو کئی مسائل سے سابقہ رہا ہے۔ ان میں سے سرفہرست تین کی ترتیب یوں بیان کی جاتی ہے:
۱۔ ملکی سلامتی کا تحفظ
۲۔ معیشت کی بحالی اور مضبوطی
۳۔ عوامی امنگوں کے مطابق دستوری نظام
حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں آپس میں باہم مربوط ہیں لیکن ان کی ترتیب ٹھیک نہیں رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسائل کے انبار تلے دبتے چلے جارہے ہیں کیونکہ مسائل کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ ان کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے دی گئی ترتیب بھی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ترتیب اس طرح ہونی چاہیے تھی:
۱۔ عوامی امنگوں کے مطابق دستوری نظام
۲۔ معیشت کی بحالی اور مضبوطی دستور کے احترام سے مشروط ہے۔
۳۔ درج بالا دو امور پورے ہونے سے ملکی سلامتی خود بخود محفوظ ہو جاتی کیونکہ ملکی سلامتی کو بیرونی سے زیادہ اندرونی خطرات لاحق رہے ہیں۔
ہماری تاریخ شاہد ہے کہ ملکی سلامتی کو مرکزی اہمیت دینے سے بھی ملک سلامت نہیں رہا۔ اگر دستور کو مرکزی اہمیت دی جاتی تو بہتری کی خاصی گنجائش موجود تھی۔
ہمارے بنیادی دستوری مسائل تین ہیں:
۱۔ طالع آزماؤں سے دستور کا بچاؤ
۲۔ دستور کی اسلامائزیشن
۳۔ وفاق اور صوبوں میں تقسیم اختیارات بشمول مرکزی مقننہ کے دونوں ایوانوں کے مابین اختیارات کا توازن
جہاں تک دستور کی اسلامائزیشن کا تعلق ہے تو پاکستان کی تاریخ میں ہم نے سب سے پہلا دستوری قدم ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی صورت میں اٹھایا جس میں ملک کا سپریم لا قرآن وسنت کو قرار دیا گیا۔ اس قرارداد کو ۵۶ء‘ ۶۲ء اور ۷۳ء کے دساتیر کے دیباچے کی زینت بنایا گیا۔ صدر ضیاء الحق نے جو چند اچھے کام کیے‘ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آٹھویں ترمیم کے ذریعے سے قرارداد مقاصد کو دستور کا قابل نفاذ حصہ بنا دیا۔ ہمارا پہلا دستوری قدم نفاذ کے اعتبار سے ابھی تشنہ تکمیل ہے۔
اس کے سب سے بنیادی مسئلہ تقسیم اختیارات کا ہے ، وفاق اور صوبوں کے مابین اور مرکزی مقننہ کے دونوں ایوانوں کے مابین۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں آٹھویں ترمیم کے بعد بھی ایوان بالا یعنی سینٹ خاصا کمزور ایوان ہے۔ اس ایوان کے پاس مالیاتی اختیار نہیں۔ کہتے ہیں جس کے پاس مالیاتی کنٹرول ہو‘ وہی طاقت کا حامل ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایوان بالا اور ایوان زیریں میں اختیارات کے حوالے سے توازن رکھا جائے کیونکہ یہی وہ ایوان ہے جس میں ہر صوبے کی مساوی نشستیں ہیں۔ امریکی سینٹ کی طرح ایوان بالا کو بہت زیادہ طاقت ور بنانے کی بھی ضرورت نہیں۔ بہرحال انفارمیشن کے موجودہ سیلاب میں چھوٹے صوبے ’’محدود اختیارات‘‘ پر قانع نہیں ہو سکتے۔ باخبری کے اعتبار سے وہ ’’بڑے‘‘ ہو گئے ہیں۔
ملک کی داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے کہ دستور کی کلی اسلامائزیشن کے ساتھ ساتھ صوبوں کو مالیاتی اختیارات سے نوازا جائے۔ جہاں تک مرکزیت اور قومی وحدت کا تعلق ہے‘ اسلامائزیشن بہت موثر اور مثبت کردار ادا کرے گی۔ میرا خیال ہے کہ دستوری اعتبار سے مضبوط مرکز کے بجائے سماجی وحدت کا حامل مرکز زیادہ مفید ثابت ہوگا۔ شعبہ تعلیم کی مرکزیت سے سماجی وحدت حاصل کی جا سکتی ہے۔ پورے ملک کے لیے یکساں نظام تعلیم ہونا چاہیے جو مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہو اور اس کے اخراجات کی مد میں مرکزی حکومت کو ٹیکس لگانے کا بھی اختیار ملنا چاہیے۔ یہ کام وہی حکومت کر سکتی ہے جو قومی وحدت اور ملکی سلامتی کے لیے واقعی سنجیدہ ہو۔
اور اب آئیے دیکھیں کہ دستور سے کمٹ منٹ کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ کیا ہے؟
۱۔ سب سے پہلے تو یہ نکتہ وضاحت طلب ہے کہ ۱۹۴۰ء میں قرارداد لاہور میں یہ طے پا جانے کے بعد کہ ہماری منزل پاکستان ہے‘ متوقع پاکستان کے متوقع دستور کے خدوخال ابھارنے کے لیے سات سال کے عبوری دور میں ہوم ورک کیوں نہیں کیا گیا؟ قائد اعظم کی جدوجہد ’’دستوریت‘‘ سے عبارت تھی۔ اس مخصوص نوعیت کی جدوجہد کے تناظر میں ۱۹۴۷ء میں پاکستان کے ظہور کے وقت مملکت خداداد کا اپنے دستور سے تہی دامن ہونا خاصا حیران کن ہے۔ شاید ہم مسلمان دور اندیش نہیں ہیں۔ عین وقت پر ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ قسم کے کام کرتے ہیں۔ ۴۷ء میں بھی ہم نے ۳۵ء کے ایکٹ کو عجلت میں نافذ کر دیا۔
۲۔ ’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے، خواجہ صاحب! نہ آپ لیاقت علی خاں ہیں نہ میں ناظم الدین ہوں۔‘‘ گورنر جنرل غلام محمد نے یہ جواب اسمبلی کی اکثریتی جماعت کے لیڈر وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو دیا تھا جن کی حکومت کو گورنر جنرل نے ۳۵ء کے آئین کی دفعہ ۱۰ کے تحت برطرف کر دیا تھا حالانکہ آزادی کے بعد قانون آزادی ہند کی رو سے گورنر جنرل ایسا اقدام اٹھانے کا مجاز نہیں تھا۔ گورنر جنرل کا مذکورہ جواب اس نفسی کیفیت اور رجحان کو نمایاں کرتا ہے جس کے مطابق ان دنوں ریاست کا نظم ونسق چلایا جا رہا تھا۔ اس کو ہم ’’شخصی بنیاد‘‘ کہہ سکتے ہیں یعنی جیسی شخصیت ہو، دستوری تقاضوں سے قطع نظر عہدے کی اہمیت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ بے اصولی بنیادی اصول تھا۔ پاکستان کی سیاسی اور دستوری تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ ایک طرف شخصی انتہا پسندی ہے اور دوسری ’’سمجھوتے‘‘ کی انتہا۔
گورنر جنرل غلام محمد نے بے اصولی کو راہ پاتے دیکھ کر، اپنے پہلے ’’کمانڈو ایکشن‘‘ سے شہ پا کر شخصی انتہا پسندی کا وہ قدم اٹھایا جس کی تاریکیاں اور پرچھائیاں آج بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۵۴ء کا اعلان آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس میں اسمبلی کی ’’تنسیخ‘‘ کا لفظ شامل نہیں تھا۔ ۲۸؍ اکتوبر کو دفعہ ۱۴۴ لگا کر کسی بھی قسم کے عوامی اجلاس پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر کے صورت حال کو کنٹرول کر لیا گیا۔ اس طرح اسمبلی عملاً تحلیل ہو گئی۔ اسمبلی کا اجلاس ۲۱ ستمبر کو ختم ہو چکا تھا تاہم مولوی تمیز الدین نے، جو اسمبلی کے صدر تھے، گورنر جنرل کے اس اقدام کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کا اجلاس جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن وزیر داخلہ سکندر مرزا نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے کمانڈو ایکشن کو بھی کام یابی سے ہمکنار کر دیا۔
مولوی تمیز الدین اور سندھ چیف کورٹ نے جرات سے کام لے کر گورنر جنرل کی ’’میں‘‘ کو ذلیل ورسوا کر دیا۔جواب آں غزل کے مصداق گورنر جنرل نے سندھ کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیڈرل کورٹ میں نہ صرف اپیل دائر کر دی بلکہ ’’پرچی سسٹم‘‘ بھی متعارف کروایا۔ برطانوی دستوری ماہر سر آئیور کی خدمات حکومت نے حاصل کر رکھی تھیں۔ انہوں نے دستوری اصولیت سے قطع نظر، خالصتاً پیشہ ورانہ انداز میں اپنے کلائنٹ کی جیت کے لیے ایسی ایسی نکتہ سنجیوں کا مظاہرہ کیا جنہیں اب بذلہ سنجیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ سر آئیور اور جسٹس منیر کی مشترکہ کوششوں سے جو فیصلہ سامنے آیا، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کو کتنی تگ ودو اور جتن کر کے کھینچ تان کر ’’پرچی‘‘ کے مطابق فیصلہ دینے کے لیے کوئی نکتہ گھڑنا پڑا۔ اس فیصلے میں اسمبلی کی تنسیخ کے حوالے سے گورنر جنرل کے اختیار کی بابت ذکر تک نہیں کیا گیا بلکہ حکومت وقت کی خوشنودی کے لیے فیصلہ یوں دیا گیا کہ ’’اسمبلی کی تنسیخ کو کالعدم کرنے کے حوالے سے سندھ چیف کورٹ کا رٹ کی اجازت دینے کا حکم منسوخ کر دیا گیا۔‘‘ فیڈرل کورٹ کا یہ فیصلہ ۲۴ اکتوبر کے اعلان سے بھی زیادہ عجیب وغریب تھا جس میں اصل سوال کو گول کر دیا گیا۔
ایوب خان کے نقش قدم پر
جنرل پرویز مشرف کی طرح ایوب خان نے بھی کہا تھا کہ ہمارا اصل مسئلہ ’’اندرونی‘‘ ہے‘ پاکستان کو کوئی بیرونی خطرہ لاحق نہیں۔ بلاشبہ دونوں کی بات میں بہت وزن ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایوب خان نے مسئلے کے ادراک کے بعد درست سمت میں پیش رفت کی تھی؟ کیا ہمارے موجودہ De facto صدر بھی درست اقدامات کر رہے ہیں؟ آئیے ہلکے پھلکے انداز میں موازنہ اور تجزیہ کریں۔
کسے معلوم نہیں کہ صدر ایوب کی کوشش تھی کہ پاکستان کا سرکاری نام ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ ہی رائج کیا جائے اور ’’بنیادی حقوق‘‘ کو دستور میں جگہ نہ دی جائے لیکن عوامی احتجاج اور اسلام پسند حلقوں کے رد عمل سے خائف ہو کر نہ صرف بنیادی حقوق کو دستوری ضمانت دی گئی بلکہ پاکستان کا سرکاری نام بھی ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار پایا۔ ہمارے موجودہ صدر بھی دستور کی اسلامی شقوں سے چھیڑ خانی کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی سب مانتے ہیں کہ ۱۹۶۲ء کے دستور کو صدر ایوب کی خواہشات کے مطابق ترتیب دیا گیا تھا۔ دستور میں صدر کے اختیارات کو دیکھتے ہوئے جسٹس کیانی نے اسے فیصل آباد کا گھنٹہ گھر قرار دیا تھا کہ سبھی بازار اس چوک میں آکر مل جاتے ہیں یعنی صدر نہ ہوا‘ اختیارات کا چوک ہو گیا۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ان اختیارات سے بھی ایوب خان کی تسلی وتشفی نہ ہو سکی اور مختلف حیلوں بہانوں سے اختیارات کے ارتکاز کا سلسلہ جاری رہا۔ جس طرح دستور کی چوتھی اور چھٹی ترامیم معرض وجود میں آئیں‘ ان کا مطالعہ دل چسپی سے خالی نہیں ہے۔ دسمبر ۱۹۶۲ء میں وزارت خزانہ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سے سرکاری ملازموں کی ریٹائرمنٹ کے لیے عمر کی حد ۶۰ سال کر دی لیکن دو سال اور دس ماہ بعد حکومت کو احساس ہوا کہ ایسا کر کے غلطی کی گئی ہے لہذا ۱۱؍ اگست ۱۹۶۵ء کو باقاعدہ دستوری ترمیم کے ذریعے سے (جو کہ چوتھی ترمیم تھی) مرکزی اور صوبائی ملازمین کی عمر ریٹائرمنٹ کے لیے ساٹھ سال سے کم کر کے ۵۵ سال کر دی گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چوتھی ترمیم کے صرف سات ماہ بعد یعنی ۲۱ مارچ ۱۹۶۶ء کو چھٹی ترمیم کی گئی کیونکہ چوتھی ترمیم صدر ایوب کی طالع آزمائی کے لیے درکار تحفظات فراہم کرنے میں موثر ثابت نہیں ہوئی تھی۔ چھٹی ترمیم کے ذریعے سے واضح کیا گیا کہ نہ صرف صدر یا گورنر ۵۵ سال کی عمر ہونے پر کسی کو ریٹائر کر سکتے ہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کی عمر پوری ہونے پر اپنی مرضی سے اپنی مرضی کی شرائط پر کسی بھی ملازم کی سروس میں توسیع بھی کر سکتے ہیں۔
ظاہر ہے دل میں چور تھا۔ اس ترمیم سے سرکاری ملازموں کو مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینا مقصود تھا لہذا محنت‘ دیانت اور فرض شناسی کے بجائے کاسہ لیسی معیار بن گئی۔ قوم اور ملک کی خدمت کے بجائے چند افراد کو خوش رکھنے سے کوئی بھی ملازم زندگی انجوائے کر سکتا تھا۔ ان ترامیم کے مضمرات امریکی سپائل سسٹم (Spoil System) کی یاد تازہ کر دیتے ہیں جس کے مطابق امریکی صدر من پسند افراد کو اہم پوسٹوں پر تعینات کر سکتا تھا۔ نیا آنے والا صدر ان افراد کو ہٹاکر اپنی مرضی کے افراد بھرتی کرتا تھا۔ اس سسٹم کے نقائص کے پیش نظر امریکیوں نے بیسویں صدی میں اس کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ قواعد کے مطابق اور میرٹ پر ہر کام سرانجام پانے لگا۔ پاکستان میں ایک معکوس عمل ہوا ہے۔ قواعد پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے بجائے ان کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ جس ملک کے طالع آزما دستور کو بھی نہ بخشیں‘ وہاں لاقانونیت ہی فروغ پا سکتی ہے۔
ہمارے موجودہ صدر ’’رٹ آف گورنمنٹ‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ کیا وہ خود اس کا لحاظ کرتے ہوئے اقتدار میں آئے ہیں؟ سرکاری ملازموں کی جو اکھاڑ پچھاڑ وسیع تر قومی مفاد اور معیشت کی بحالی کے نام پر کی جا رہی ہے‘ کیا وہ ایوبی اقدامات سے مماثل نہیں؟ ایڈہاک لیکچرز کی چھٹی کروا کر صدر کی تنخواہ اور مراعات میں جو اضافہ کیا گیا ہے‘ اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ہمارے صدر محترم صرف اختیارات کے ارتکاز پر قانع نہیں ہو سکتے۔ ظاہر ہے سٹیٹس (Status) کا دور ہے۔ صدر کو ہر حیثیت سے‘ ہر اعتبار سے سوا سیر ہی ہونا چاہیے۔
اپنے آمرانہ اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لیے اور عوام میں Good willبنانے کے لیے ایوب خان نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں میں اضافہ کر دیا۔ خواتین کی نشستیں بھی بڑھا دی گئیں۔ ہمارے صدر محترم نے بھی عوام کو اس لولی پوپ سے نوازا ہے۔
صدر ایوب نے جو دستوری کمیشن تشکیل دیا تھا‘ اس نے Basic democrats کو بطور ’’انتخابی ادارہ‘‘ دستور کا حصہ بنانے کی مخالفت کی تھی لیکن صدر موصوف کو ان بی ڈی ممبرز پر بہت مان تھا۔ ہمارے موجودہ صدر نے بھی اپنا ضلعی نظام متعارف کرایا ہے۔ اگر اس کے اختیارات کی توسیع بھی بی ڈی کی طرز پر کی گئی تو لامحالہ ناکامی سے دوچار ہوگا۔
صدر ایوب نے پریس کو کنٹرول کرنے کے لیے آرڈی ننس جاری کیا تھا۔ ہمارے موجودہ صدر نہ صرف اس حوالے سے پر تول رہے ہیں بلکہ عدلیہ کے حوالے سے آرڈی ننس جاری کر کے جناب نے ایوب خان سے مسابقت کرنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔
جب ۱۹۶۲ء کا دستور تشکیل کے مراحل میں تھا تو دستوری کمیشن نے دستور میں ترمیم کرنے کا اختیار مرکزی مقننہ کو دیا کہ وہ صدارتی منظوری کے ساتھ دو تہائی اکثریت سے اور صدارتی منظوری کے بغیر تین چوتھائی اکثریت سے ترمیم کی مجاز تھی۔ صوبائی اسمبلیوں کو ترمیم کے حوالے سے کوئی اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ صدر ایوب نے دستوری کمیشن کی سفارشات جانچنے کے لیے جو دو کمیٹیاں تشکیل دی تھیں‘ ان میں اگرچہ بعض مواقع پر اختلاف رہا لیکن دونوں کمیٹیوں نے ترمیم کے طریقہ کار پر اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کمیشن کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے بلکہ کمیشن سے بھی بڑھ کر صدر کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کامیاب کوشش کی کہ صدر تین چوتھائی ووٹ آنے پر معاملہ انتخابی ادارے یعنی بی ڈی ممبرز کے حوالے کر سکتا تھا جو ظاہر ہے ایوب خان کے بغل بچے تھے۔
موجودہ صدارتی احکامات کے تناظر میں بدیہی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے صدر محترم بھی اپنی ذات کے مطابق دستوری ڈھانچہ تشکیل دینے کے بعد ترمیم کے حوالے سے ایوبی نظائر سے استفادہ کریں گے۔
موجودہ حکومت نے اصل مسائل سے چشم پوشی کرتے ہوئے عوام کی ’’دل پشوری‘‘ کے لیے طرز انتخاب کا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ میر اخیال ہے کہ جداگانہ یا مخلوط طرز انتخاب ہمارا اصل مسئلہ نہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے جداگانہ انتخاب کو متحدہ ہندوستان میں مسلم مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ذریعے کے طور پر اپنایا تھا۔ اگر اس کے بغیر مسلم مفادات کا تحفظ ممکن ہوتا تو قائد اس سے دست بردار ہونے کو تیار تھے۔ اس سلسلے میں ’’تجاویز دہلی‘‘ کی مثال دی جا سکتی ہے۔جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو جداگانہ انتخاب کا مسئلہ منصوص نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کی صورت حال کے مطابق شاید اس کی ضرورت نہیں تھی البتہ دستور کی اسلامائزیشن کے ضمن میں قادیانی فتنہ کی روک تھام کے لیے اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر قادیانی فتنہ کا تدارک کسی اور طریقے سے ہو سکتا ہو تو جداگانہ طرز انتخاب کو ترک کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے طرز انتخاب‘ دستوری مسائل میں سے ایک یعنی دستور کی اسلامائزیشن کا محض ایک ثانوی پہلو ہے۔ حکومت نے کمال ہوشیاری سے اسلام پسندوں کی توجہ دستور کی ’’کلی اسلامائزیشن‘‘ سے ہٹانے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔ اب تک یہ شوشہ کامیاب جا رہا ہے۔
اب تک کی حکومتی پالیسی کے تناظر میں جس قسم کا سیٹ اپ بننے کی توقع کی جا سکتی ہے‘ اسے Centralized de-centralization سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ محدود، وقتی اور ڈنگ ٹپاؤ اقدامات ہیں۔ ان سے نہ صرف یہ کہ بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی بلکہ یہ دستوری تسلسل میں مخل ہو کر متوقع بہتری کا راستہ مسدود کر دیتے ہیں۔
ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ ضیاء الحق اورجنرل پرویز کا اقتدار کی مسند پر فائز ہونا اور اپنی ’’اعلیٰ دانش‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو ’’ترقی‘‘ کی راہ پر ڈالنے کے نام پر شخصی تحفظات کا بندوبست کرنا قابل تعریف نہیں گردانا جا سکتا۔ اعلیٰ سطح پر دستور کی دھجیاں اڑانے سے عوامی سطح پر قانون شکنی کی نفسیات جنم لیتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ طالع آزمائی اور قانون شکنی سے عبارت ہے۔ گورنر جنرل غلام محمد‘ فیڈرل کورٹ کے ججز اور سر آئیور نے جو گل کھلایا‘ اس کے نتیجے میں ہماری دستوری اور قانونی گاڑی اسی پٹڑی پر چل نکلی جس میں ہر قدم پر ’’سپیڈ بریکر‘‘ ہیں۔ اگر ۱۹۴۰ء سے ہی ہم دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دستور تشکیل دینے کا آغاز کر دیتے تو ۱۹۴۷ء میں اپنا بنایا ہوا دستور سر آئیور کی نکتہ سنجیوں کا شکار نہ ہوتا۔ ہو سکتا ہے ہمارا مشرقی بازو بھی ہم سے نتھی رہتا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کو صرف ایک کمٹ منٹ کی ضرورت ہے‘ دستور سے کمٹ منٹ کی۔ ملکی سلامتی اور معیشت کی بحالی کو فرنٹ پر رکھنے کے بجائے دستور سے کمٹ منٹ کو فرنٹ پر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ملکی سلامتی اور معیشت کی بحالی کے دھارے دستوری سرچشمے سے پھوٹیں گے۔ ماضی کی غلطیاں دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ہمارے صدر اور ان کے رفقاء کار بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ اور انقلابی اقدامات کے تحفظ کے لیے درکار ہر اقدام اٹھایا جائے گا۔ پاکستان کی دستوری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اصل مسائل سے ہٹ کر مصنوعی انداز میں صرف اپنی ذات کے تحفظ کے لیے نام نہاد نعروں کی آڑ لے کر کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس قدم کے مندرجات نعرے میں مضمر صداقتوں کے متوازی نہیں ہوتے۔ وقتی طور پر موثر ہونے کے باوجود ایسے اقدام اپنے پیچھے مسائل کا انبار چھوڑ کر بطور ’’بڑی یادگار‘‘ تاریخ کے صفحات میں نقش ہو جاتے ہیں۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ہمارے صدر محترم ’’تاریخی یادگاریں‘‘ قائم نہ کریں۔ میری تو خواہش ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے معروضی انداز میں ایسے قدم اٹھائیں کہ قوم کسی اچھی یادگار کو بھی اپنے حافظے میں جگہ دے سکے۔ بہرحال دستور سازی اور رٹ آف گورنمنٹ کے حوالے سے صدر محترم کے بیانات پڑھ کر مجھے اس نوجوان کی کہانی یاد آجاتی ہے جس نے اپنے ماں باپ کو قتل کر دیا تھا اور پھر یتیم ہونے کی بنیاد پر رحم کا طلب گار تھا۔
سر سید کے مذہبی افکار پر ایک نظر
گل محمد خان بخمل احمد زئی
(مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے طالب علم جناب گل محمد خان بخمل احمد زئی نے زیر نظر مضمون میں مولانا سید تصدق بخاری کی کتاب ’’محرف قرآن‘‘ کے بعض مباحث کا ملخص پیش کیا ہے۔ ادارہ)
سرسید احمد خان کے آباؤ اجداد کشمیر کے رہنے والے تھے۔ شاہ عالم ثانی (۱۱۷۳ھ۔۱۱۵۹ھ) کے دور میں جب دہلی میں کلیدی آسامیوں اور مناصب پر فائز علما اور فضلا شاہ وقت سے اختلاف کی بنا پر اپنے اپنے عہدوں سے الگ کر دیے گئے تو ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت قحط سالی کا دور دورہ تھا۔ چنانچہ یہاں کے تین معروف و معزز خاندانوں یعنی سید‘ میر اور خان خاندانوں کے افراد نے اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی کا رخ کیا اور پھر دہلی کے ہو کر رہ گئے۔ دہلی کے خالی مناصب پر انہی افراد کو سرفراز کیا گیا۔ان میں سے سید متقی بن سید ہادی (وفات ۱۸۲۸ء)کے گھرانے میں ۵؍ ذی الحجہ ۱۲۳۳ھ بمطابق ۱۷ ؍اکتوبر ۱۸۱۷ء کو سرسید احمد خان کی ولادت ہوئی۔
سرسید عالم شباب میں قدم رکھنے سے پہلے سن بلوغت ہی میں مروجہ ابتدائی علوم میں‘ جن میں اس وقت کی سرکاری زبان فارسی شامل ہے‘ شد بد حاصل کر چکے تھے۔ شاہ ولی اللہؒ کے پوتے مولانا مخصوص اللہؒ سے انہوں نے کچھ ابتدائی مذہبی علوم کی تحصیل کی اور کچھ اسباق مولانا مملوک علی نانوتویؒ سے بھی پڑھے۔
سریانی وعبرانی زبانوں سے مناسب واقفیت حاصل کر کے پہلے انہوں نے میدان مناظرہ میں پادریوں سے ناکام زور آزمائی کی اور اس کے بعد ’’تبیین الکلام‘‘ لکھ کر مسلمانوں اور عیسائیوں کو متحد ومتفق کرنا چاہا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر پیری مریدی کا سلسلہ شروع کیا لیکن اس میدان کے بنیادی لوازم کے فقدان کی وجہ سے یہاں بھی ناکام رہے۔ سرسید نے محکمہ مال میں ملازمت اختیار کی اور کچھ عرصے کے بعد مختاری کا امتحان پاس کر کے منصف کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں منصفی کی آڑ میں انہوں نے انگریزوں کی خوب دل کھول کر امداد کی۔ان کو اپنے اور اپنے اعوان وانصار کے گھروں میں پناہ دی اور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچانے میں خوب شہرت حاصل کی۔ نیز انہوں نے انگریزوں کو خوش کرنے کے لیے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو ’’بغاوت ہند‘‘ کے نام سے موسوم کیا اور اس کے اسباب وواقعات پر ایک کتاب لکھی جس میں مسلمانوں کے موقف کو غلط ٹھہرایا گیا۔ یہ کتاب انگریزوں کو اتنی پسند آئی کہ کرنل گراہم نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس تعاون اور خدمات کے پیش نظر انگریز حکومت کی طرف سے سید احمد خان کو ’’سر‘ خان بہادر‘ شاہی مشیر‘ انڈیا کا امن جج‘ اور قانون کا ڈاکٹر‘‘ جیسے خطابات نوازے گئے اور دو پشتوں تک ان کے لیے دو سو روپے کی پنشن بھی مقرر کر دی گئی۔ اکبر الٰہ آبادی نے غالباً اسی تناظرمیں کہا تھا
جب سے ہم میں آنریبل اور سر پیدا ہوئے
سوتے فتنے جاگ اٹھے اور شر پیدا ہوئے
قادیانیوں کی ’’تاریخ احمدیت‘‘ میں مرقوم ہے کہ سرسید نے مرزا غلام احمد قادیانی کی بڑی معاونت کی ہے اور ان کی کتابوں کو بہت سراہا ہے۔
خود مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان ہے کہ سرسید تین باتوں میں مجھ سے متفق ہیں: ایک یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے۔ دوسرے یہ کہ ان کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ رافعک الی سے مراد ان کے درجات کو بلند کرنا ہے۔ تیسرے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج روح مع الجسد کے ساتھ نہیں تھا بلکہ صرف روحانی تھا۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان دونوں نے مذہب اسلام کے مسلمات میں شگاف ڈال کر انہیں نئی نئی ذہنی اور مذہبی بحثوں میں الجھایا اور اس طرح انگریزوں کی بہت بڑی خدمت انجام دی۔ان کی کوششوں کے نتیجے میں انگریز کو اطمینان کے ساتھ برصغیر پر حکومت کرنے کا موقع ملا‘ مسلمانوں کی طاقت تقسیم ہو کر رہ گئی اور علماء اسلام کو بیک وقت تین محاذوں پر لڑنا پڑا یعنی انگریزی اقتدار سے آزادی کا محاذ‘ مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت کا محاذ اور سرسید احمد خان کی ایمان سوز نیچیریت اور تحریف قرآن کا محاذ۔
سرسید کے بعض مذہبی افکار
سرسید یورپ کے ملحد اور مذہب بیزار مفکرین سے شدید متاثر تھے اور اس تاثر کے تحت انہوں نے اسلام کے بیشتر بنیادی عقائد اور مسلم حقائق کو توجیہ وتاویل کے ذریعے سے ایسی شکل دینے کی سعی کی جو مغربی ملحدین کے تصورات کے مطابق قابل قبول ہو سکے۔ چنانچہ وحی، جنت ودوزخ، آخرت ، ملائکہ وجنات کی ایسی ایسی فاسد تاویلات کیں جن سے دین کا پورا نظام ڈھے جاتا ہے۔ معجزات کو تسلیم کرنے سے ان کا ذہن باغی ہے اور مافوق الفطرت اور خارق عادت کسی امر کو تسلیم کرنے پر وہ تیار نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے امت کے اہل علم کی اجماعی آرا کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ خود لکھتے ہیں کہ
’’میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہیے۔‘‘
(تفسیر القرآن ج ۱ ص ۲)
ان کی ایسی آرا کے چند نمونے ذیل میں درج کیے جارہے ہیں:
۱۔ سورہ بقرہ میں ارشاد باری ہے:
واذ ااخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور
ترجمہ :’’اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور پہاڑ کو بلند کیا۔‘‘
اس کے تحت سرسید لکھتے ہیں کہ
’’پہاڑ کو اٹھا کر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا بلکہ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے سروں پر گر پڑے گا۔‘‘
۲۔ دین میں کعبہ کی حیثیت سے متعلق سرسید لکھتے ہیں کہ
’’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چوکھونٹے گھر میں ایک ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے، یہ ان کی خام خیالی ہے۔‘‘ (تفسیر القرآن ج ۱ ص ۲۱۱)
نیز لکھتے ہیں:
’’اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھرنے سے کیا ہوتا ہے؟ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۲۵۱)
مزید گوہر افشانی کرتے ہیں کہ
’’کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۱۵۷)
’’نماز میں سمت قبلہ کوئی اصل حکم مذہب اسلام کا نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۱۴۱)
۳۔ سرسید وحی کی حقیقت کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’یہ بھی مسلم ہے کہ قرآن مجید بلفظہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل ہوا ہے یا وحی کیا گیا ہے، خواہ یہ تسلیم کیا جاوے کہ جبریل فرشتہ نے آنحضرت تک پہنچایا جیسا کہ مذہب عام علماء اسلام کا ہے، یا ملکہ نبوت نے جو روح الامین سے تعبیر کیا گیا ہے، آنحضرت کے قلب پر القا کیا ہے، جیسا کہ میرا خاص مذہب ہے۔‘‘
(ایضاً ج ۱ ص ۳)
نیز لکھتے ہیں کہ:
’’جس طرح ایک بڑھئی وغیرہ ہر آئے دن اپنے دماغ سے نئی نئی اشیا ایجاد کر کے بناتا رہتا ہے، اسی طرح نبی میں جو ملکہ نبوت ہوتا ہے، اس کے ذریعے سے وہ بھی نیکی کی راہیں بتاتا رہتا ہے اسی لیے ملکہ نبوت کے سوا کوئی اور مخلوق وحی لانے والی نہیں۔‘‘
جبریل کی حقیقت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پس وحی وہ چیز ہے جس کو قلب نبوت پر بسبب اسی فطری نبوت کے مبدا فیاض نے نقش کیاہے۔ وہی انتقاش قلبی کبھی مثل ایک بولنے والی آواز کے انہیں ظاہری کانوں سے سنائی دیتا ہے اور کبھی وہی نقش قلبی دوسرے بولنے والے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے مگر اپنے آپ کے سوا نہ وہاں کوئی آواز ہے نہ بولنے والا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسی ملکہ نبوت کا جو خدا نے انبیا میں پیدا کیا ہے، جبریل نام ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۲ ص ۲۰)
ًً’’خدا اور رسول میں بجز اس ملکہ نبوت کے جس کو ناموس اکبر اور زبان شرع میں جبریل کہتے ہیں، اور کوئی ایلچی پیغام پہنچانے والا نہیں ہوتا۔‘‘ (ایضاً ص ۲۴)
’’نبوت ایک فطری چیز ہے جو انبیا میں بمقتضائے ان کی فطرت کے مثل دیگر قواے انسانی کے ہوتی ہے۔ جس انسان میں وہ قوت ہوتی ہے، وہ نبی ہوتا ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۲۳)
۴۔ سورۂ بقرہ کی آیت ربا کے تحت سرسید لکھتے ہیں :
’’اس آیت میں انہیں لوگوں کا ذکر ہے جو غریب، مسکین لوگوں سے سود لیتے تھے اور اسی سود کو جو ایسے لوگوں سے لیا جاتا تھا جو قابل رحم اور ہمدردی اور سلوک کرنے کے تھے، خدا نے حرام کیا۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۲۴۲)
مزید لکھتے ہیں:
’’ان کے سوا وہ لوگ ہیں جو ذی مقدار صاحب دولت وجاہ وحشمت ہیں اور اپنے عیش وآرام کے لیے روپیہ قرض لیتے ہیں، جائیدادیں مول لیتے ہیں، مکان بناتے ہیں اور قرض روپیہ لے کر چین اڑاتے ہیں۔ گو ان کو قرض دینا بعض حالتوں میں خلاف اخلاق ہو مگر ان سے سود لینے کی حرمت کی کوئی وجہ قرآن مجید کی رو سے مجھ کو نہیں معلوم ہوتی۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۱۴۳)
۵۔ واقعہ معراج کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ہماری تحقیق میں واقعہ معراج کا ایک خواب تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا۔ اسی خواب میں یہ بھی دیکھا کہ جبریل نے آپ کا سینہ چیرا اور اس کو آب زمزم سے دھویا۔‘‘ (تفسیر القرآن ج ۲ ص ۱۳۰)
نیز لکھتے ہیں
’’ہمارا اور صاحب عقل کا بلکہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس کو ایک واقعہ خواب کا تسلیم کرے۔‘‘
(ایضاً ج ۴ ص ۸۶ و ص ۱۲۲)
۶۔ سرسید کا خیال ہے کہ جنات کا ایک مستقل اور خاص مخلوق ہونا قرآن کی کسی آیت سے ثابت نہیں۔
۷۔ فرماتے ہیں کہ جس جنت کو علماء اسلام اور تمام مسلمان مانتے ہیں، وہ قرآن سے ثابت نہیں۔
اس کے علاوہ جدید سائنسی خیالات کی قرآن سے تائید مہیا کرنے کے لیے انہوں نے متعدد تحریریں لکھیں۔ مثلاً ’’خلق الانسان‘‘ لکھ کر رابرٹ چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقا اور سرچارلس لائل کی کتاب ’’انسان کا عہد پارینہ‘‘ کی تصدیق کر کے قرآنی حقائق کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ ’’الجن والجان علیٰ ما قال فی الفرقان‘‘ میں جنات کی مخلوق کے موجود ہونے کا انکار کر کے قرآن حکیم کی سینکڑوں آیات کے مفہوم میں تحریف کر دی۔
علماء اسلام کا رد عمل
قرآن حکیم کی تفسیر کے نام پر اس کی تحریف پر مبنی یہ عقائد جب سرسید نے پیش کیے تو جلیل القدر اہل علم نے ان کی ضلالت کو بدلائل واضح کیا:
۱۔ مولانا عبد الحق حقانی ؒ نے ان عقائد کے رد میں ’’فتح المنان‘‘ المعروف تفسیر حقانی لکھ کر قرآن کریم کی ان آیات کا اصل مطلب واضح فرمایا اور تفسیر کے مقدمے میں سرسید کی تحریفات وہزلیات کے عقلی ونقلی، مدلل، ناقابل تردید اور مسکت جوابات دیے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ
’’سید صاحب قرآن کے معنی متعارف چھوڑ کر برخلاف سلف وخلف کے الگ راہ پر چلے ہیں اور دل کھول کر اپنے آزادانہ خیالات کو دخل دیا ہے۔‘‘ (مقدمہ ص ۲۳)
۲۔ مولانا ناصر الدین محمودؒ نے ’’تنقیح البیان‘‘ میں سرسید کے گمراہ کن افکار پر سخت تنقید کی ہے۔
۳۔ حضرت مولانا محمد علیؒ نے ’’البرہان علی تجہیل من قال بغیر علم فی القرآن‘‘ میں ان افکار کی تردید کی ہے۔
۴۔ زہدی حسن جار اللہ لکھتے ہیں کہ سرسید احمد خان اور ان کے رکن رکین سید امیر علی معتزلی تھے۔
۵۔ شیعہ مفسر ابو عمار علی رئیس نے سرسید کے خیالات کے رد میں تفسیر ’’عمدۃ البیان‘‘ لکھی جس نے بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔
۶۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی سرسید کی تفسیر کے متعلق لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے لفظی ترجمہ اور تشریح کے حوالے سے اس کتاب کے مندرجات کو علما کی تائید حاصل نہیں ہے۔
۷۔ مولانا وحید الزمان وقار جنگ نے لکھا کہ
’’ایک شخص علی گڑھ میں ظاہر ہوا جس نے بہشت، دوزخ، فرشتوں سب کا انکارکیا ہے۔ پیغمبروں کے معجزوں کو شعبدہ اور طلسم قرار دیا ہے۔ قرآن کی آیتوں کی ایسی تفسیر کی جو صحابہؓ اور تابعین کے خلاف اور اہل الحاد اور باطنیوں کے طور پر ہے۔‘‘
۸۔ شیخ محمد اکرام مرحوم لکھتے ہیں:
’’سرسید احمد خان، مولوی چراغ علی اور سید امیر علی مسلمانوں کے خلاف تھے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۷۷)
’’سرسید احمد خان اور مرزا غلام احمد قادیانی ہم عقیدہ تھے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۷۹)
’’مولوی چراغ علی (متوفی ۱۸۹۵ء) سرسید کے ہم عقیدہ تھے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۶۶)
’’سرسید نے معراج وشق صدر کو رؤیا (خواب وخیال) کا فعل مانا ہے۔ حساب کتاب، میزان، جنت ودوزخ کے متعلق تمام قرآنی ارشادات کو بہ طریق استعارہ وتمثیل قرار دیا ہے۔ ابلیس وملائکہ سے کوئی خارج وجود مراد نہیں کہا۔ حضرت عیسیٰ کے متعلق کہا ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے یا زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۵۹)
۹۔ خود سرسید کے پیروکار ومعتقد مولانا الطاف حسین حالیؒ لکھتے ہیں کہ سرسید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور بعض مقامات پر ان سے رکیک لغزشیں ہوئی ہیں۔ (حیات جاوید ص ۱۸۴)
غزوۂ بدر کی سیاسی واقتصادی اہمیت
پروفیسر محمد یونس میو
مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں مشرکین نے جو دردناک اور ہوش ربا مظالم مٹھی بھر مسلمانوں پر روا رکھے اور مظلوم مسلمانوں نے جس صبر واستقلال اور معجز نما استقامت وللہیت سے مسلسل تیرہ برس تک ان ہول ناک مصائب ونوائب کا تحمل کیاٗ وہ دنیا کی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔ قریش اور ان کے حامیوں نے کوئی صورت ظلم وستم کی اٹھا نہ رکھی تاہم مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے ان وحشی ظالموں کے مقابلے میں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہ دی۔ صبر وتحمل کے امتحان کی آخری حد یہ تھی کہ مسلمان مقدس وطن، اعزہ واقارب، اہل وعیال، مال ودولت سب چیزوں کو خیر باد کہہ کر خالص خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کا راستہ طے کرنے کے لیے گھروں سے نکل پڑے۔ جب مشرکین کے ظلم وتکبر اور مسلمانوں کی مظلومیت اور بے کسی حد سے گزر گئی یہاں تک کہ کوئی دن خالی نہ جاتا تھا کہ کوئی مسلمان ان کے دست ستم سے زخمی اور چوٹ کھایا ہوا نہ ہوتا اور پھر اہل ایمان کے قلوب وطن وقوم، زن وفرزند، مال ودولت غرض ہر ایک ماسوی اللہ کے تعلق سے خالی اور پاک ہو کر محض خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور دولت توحید واخلاص سے ایسے بھرپور ہو گئے کہ گویا غیر اللہ کی گنجائش ہی نہ رہی، تب ان مظلوموں کو جو تیرہ برس سے برابر کفار کے ہر قسم کے حملے سہہ رہے تھے او روطن چھوڑنے پر بھی امن حاصل نہ کر سکے تھے، ظالموں سے لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت دی گئی:
’’اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ جاری ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ اور اللہ یقیناًان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جاتیں۔‘‘ (الحج آیت ۶۱)
مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے اپنی تفسیر ’معارف القرآن‘ میں لکھا ہے کہ
’’یہ پہلی آیت ہے جو قتال کفار کے معاملے میں نازل ہوئی۔ اس سے پہلے ستر سے زائد آیتوں میں اس قتال کوممنوع قرار دیا گیا تھا۔‘‘
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے بھی اپنی تفاسیر میں ایسا ہی لکھا ہے۔
اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان دیگر اقوام اور مذاہب کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ سیاسی غلبہ کی صورت میں ان کے جان ومال، عزت وآبرو اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے ذمہ دار بھی ہوتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے پہلے سال ہی اوس وخزرج اور قبائل یہود وغیرہ سے ایک معاہدہ ’’میثاق مدینہ‘‘ ترتیب دیا۔ یہ دستور مسجد نبوی کی تعمیر سے بھی پہلے مرتب ہوا۔ مستشرقین نے اس دستور کا ناقدانہ مطالعہ کیا ہے۔ ویل ہاؤزن اور کستانی وغیرہ نے بہت سی شہادتیں اور دلائل پیش کرنے کے بعد اس دستاویز کو غزوۂ بدر سے پہلے کا تسلیم کیا ہے۔ اس دستورکی پچاس دفعات ہیں۔ دفعہ نمبر ۲۴، ۳۷ اور ۴۴ کے مطابق آپ ریاست مدینہ کے چیف جسٹس، سپہ سالار اور سربراہ قرار دیے گئے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ مدینہ کے یہودی قبائل اور مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’رسول اللہ‘‘ مانے بغیر آپ کی متذکرہ بالا آئینی وقانونی حیثیت کو تسلیم کر لیا۔ اس دستور کے نفاذ سے اسلامی ریاست اور اس کے حلیف قبائل ایک ایسے سماجی اور سیاسی نظم کا حصہ بن گئے جس میں قبائلی امتیاز، معاشی تفوق اور سیاسی طوائف الملوکی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ معاہدہ نہ صرف سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی بہت بڑی کام یابی تھی بلکہ معاشی اعتبار سے ان کی حکمت عملی کے دور رس نتائج مرتب ہوئے۔ اس ضمن میں دستور کی دفعات ۲۵، ۳۹ اور ۴۰ قابل ملاحظہ ہیں:
’’حالت امن میں یہود اپنے اخراجات برداشت کریں اور مسلمان اپنے اخراجات جبکہ حالت جنگ میں یہود اور مومنین مل کر اخراجات جنگ اٹھائیں گے جب تک دونوں دشمن کے خلاف حالت جنگ میں رہیں۔‘‘
یہاں یہ بات بڑی دل چسپ ہے کہ یہود مسلمانوں سے پہلے مدینے میں نہ صرف محفوظ تھے بلکہ اوس وخزرج کے بے تاج بادشاہ اب ریاست مدینہ کے تاج دار بننے والے تھے۔ مسلمانوں کی آمد سے ان کا یہ دیرینہ خواب نہ صرف ہمیشہ کے لیے پریشان ہو گیا بلکہ یہ لوگ اسلامی ریاست کے ماتحت ایک حلیف کی حیثیت میں چلے گئے۔
جدید اصطلاح میں آپ نے کسی بیرونی سیاسی پیش رفت سے پہلے اس وقت کی رائے عامہ کو، جو ’جوف مدینہ‘ پر مشتمل تھی، اپنے حق میں ہموار کر لیا۔ یہ داخلی سیاسی استحکام کا تقاضا تھا کہ آپ اپنے دینی اور سیاسی حریفوں اور دشمنوں پر اپنی قوت کی دھاک بٹھا دیتے۔ نیز یہ بات بھی آپ کے علم میں تھی کہ اگر مسلمان مدینہ میں محصور ہو کر بیٹھ بھی جائیں تب بھی ان کے دشمن ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ علاوہ ازیں آپ کا عالم گیر اور آفاقی مشن اب سیاسی ودفاعی مہم جوئی کی رہنمائی کر رہا تھا۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ ربیع الاول ۲ھ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے جنگ کا ارادہ فرما لیا تھا۔ غالباً اس پس منظر میں آپ نے قریش کے جنگی اور تجارتی قافلوں کی نگرانی شروع کر دی تھی۔ ربیع الاول ۲ھ بمطابق ستمبر ۶۲۳ء میں آپ نے دو سو سپاہیوں کی معیت میں ’ابواء‘ کا قصد کیا جو مدینہ سے اڑتالیس میل دور ایک وادی ہے۔ طبقات ابن سعد کے مطابق آپ کے پیش نظر امیۃ بن خلف الجمعی کا قافلہ تھا جس کے ساتھ سو قریشی اور دو ہزار اونٹ تھے۔ آپ نے اس قافلے سے کوئی تعرض نہ کیا اور مدینہ لوٹ آئے۔ اسی نوع کی کچھ اور مہمات بھی مرتب ہوئیں لیکن ان مہمات کا مقصد کوئی فوجی تصادم نہ تھا بلکہ ’جوف مدینہ‘ کے قبائل سے معاہدات کرنا اور ان پر یہ ثابت کرنا تھا کہ مسلمان ایک متحرک اور بیدار قوت ہیں۔ ابواء کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن فحشی ضمری سے معاہدہ کیا اور ذو العشیرکے مقام پر، جو مکہ اور مدینہ کے مابین ایک مقام ہے، بنی مدلج اور بن ضمرہ سے معاہدہ کیا۔ یہ جمادی الاولیٰ ۲ھ بمطابق نومبر، دسمبر ۶۲۳ء کا واقعہ ہے۔ معروف دانش ور اور سیرت نگار جناب نعیم صدیقی صاحب نے ان کارروائیوں کے حسب ذیل مقاصد بیان کیے ہیں: ریاست مدینہ کی حفاظت، مسلمان سپاہیوں کی جنگی تربیت اور قریش کو یہ باور کرانا کہ اب ان کی معاشی شاہ رگ مدینہ کے پنجے میں آ چکی ہے اور وہ ان کی تجارتی شاہراہ کو روک کر ان کے کاروانوں کا گزر جب چاہیں، بند کر سکتے ہیں۔
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے سورۂ انفال کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ
’’اہل مکہ کی وہ تجارت جو اس شاہراہ کے بل پر چل رہی تھی، ڈھائی لاکھ اشرفی تک پہنچتی تھی۔ طائف اور دوسرے مقامات کی تجارت اس کے ماسوا تھی۔‘‘
گویا آپ نے اس شاہراہ کو کنٹرول کر کے قریش پر معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھا دیا۔
غزوۂ بدر کے حوالے سے ’غزوہ بہ تلاش کرز بن جابر الفہری‘، ’سریہ عبد اللہ بن جحش الاسدی‘ (نخلہ) اور قریش کا مشہور تجارتی قافلہ غور طلب چیزیں ہیں۔ پھر ان کی سیاسی اور معاشی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے۔ مصنف ’’محسن انسانیت‘‘ نے اول الذکر دونوں واقعات کو غزوۂ بدر کے محرکات میں شمار کیا ہے جبکہ تجارتی قافلے کو جنگ کا دیباچہ قرار دیا ہے۔ مناسب ہوگا کہ موضوع کی مناسبت سے ان مہمات کا بحیثیت سیاسی اور معاشی اہمیت کے جائزہ لیا جائے۔
کرز بن جابر نے مدینے کی چراگاہ کو لوٹا اور مسلمانوں کے جانوروں کو بھگا کر لے گیا جس کے نتیجے میں غزوہ سفوان (ربیع الاول ۲ھ بمطابق ستمبر ۶۲۳ء) کی نوبت آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر صحابہ کے ہمراہ الفہری کا تعاقب کیا لیکن وہ بچ نکلا۔ یہ ڈاکہ زنی قطعی طور پر ایک جنگی چیلنج تھی کیونکہ کوئی زندہ اور بیدار حکومت اپنی حدود میں غیروں کی ایسی مجرمانہ مداخلت کو جنگ کے ہم معنی سمجھے بغیر نہیں رہ سکتی۔ گویا غزوہ بدر کے سیاسی اسباب میں اس واقعہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیز یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اس واقعہ کو اپنے ذہن میں رکھا ہو اور سریہ عبد اللہ بن جحش میں جو کچھ ہوا، وہ اس کا رد عمل ہو لیکن سریہ مذکورہ کا مقصد ہرگز یہ نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تحریر میں فرمایا تھا کہ دو دون کے سفر کے بعد میری تحریر پڑھنا اور مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر اترنا ۔ تحریر میں یہ حکم درج تھا کہ ’’قریش کے ایک قافلہ کی گھات میں لگ جاؤ اور ہمارے لیے اس کی خبروں کا پتہ لگاؤ۔‘‘ یہ روایت طبقات ابن سعد کی ہے۔ سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ ’’نخلہ میں رہ کر قریش کی کارروائیوں سے آگاہی حاصل کرتے رہو اور ان کی خبروں سے ہمیں آگاہ کرو۔‘‘ بہرحال عمرو بن حضرمی قتل ہوا اور اس کے دو ساتھی قید ہوئے۔
سریہ نخلہ (رجب ۲ھ بمطابق جنوری ۶۲۴ء) پہلی مہم ہے جس میں مسلمانان مدینہ کی ایک چھوٹی سی جماعت کو کچھ مال غنیمت حاصل کرنے میں کام یابی ہوئی۔ ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی کی تحقیق کے مطابق یہ مال غنیمت کچھ شراب ناب (خمر)، سوکھی کھجوروں (زبیب) اور کھالوں (ادم) کی غیر معینہ مقدار کے علاوہ قریش مکہ کے کچھ روایتی سامان تجارت (تجارۃ من تجارات قریش) پر مشتمل تھا۔ اس مال کے علاوہ دو قیدی بھی مسلم غازیوں کے ہاتھ لگے جن میں سے ایک نے چالیس اوقیہ چاندی یعنی ۱۶۰۰ دراہم بطور زرفدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کی جبکہ دوسرے قیدی نے اسلام قبول کر لیا۔ ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں کہ نخلہ کی حاصل شدہ غنیمت کی صحیح مالیت کا تخمینہ لگانا مشکل ہے تاہم یہ مالیت بیس ہزار درہم کی رقم ہو سکتی ہے جس کی بدولت نخلہ کی مہم میں حصہ لینے والے مسلمان جن کی تعداد ۶، ۸، ۱۲ اور ۱۳ روایت کی گئی ہے، کسی حد تک مال دار ہو گئے تھے۔ اس غنیمت کا خمس مدینہ کی ریاست کاحصہ تھا۔ ابن ہشام اور ابن سعد فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن جحش نے یہ خمس پہلے ہی نکال دیا تھا۔
یہاں یہ بات لائق توجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلہ کے مال غنیمت کو بدر کی واپسی تک موخر کیوں کیا؟ اس استفسار کا تعلق اس بحث سے ہو سکتا ہے جو بعض مستشرقین، مسلم مورخین اور مغازی نگاروں نے اٹھائی ہے اور جس میں یہ کہا گیا ہے کہ مسلمانان مدینہ نے اپنے روز افزوں اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لیے اور دن بدن گھٹتے ہوئے مالی ومسائل کو بڑھانے کے لیے لوٹ مار کا سہارا لیا اور بلا استثنا تمام غزوات وسرایا کا منشا ومقصد اقتصادی وسائل کی فراہمی قرار دیا ہے۔ یہاں کسی بحث میں الجھنے کے بجائے صرف غزوہ بدر اور اس سے متعلق مہمات کے بارے میں ہی بات ہوگی لیکن سیرت کے حوالے اور حالات حاضرہ کے تناظر میں کسی ممکنہ غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ایک آدھ مستند حوالہ کی نشان دہی اپنی اخلاقی اور علمی ذمہ داری خیال کرتا ہوں چنانچہ جو صاحب غزوات وسرایانبوی کی اقتصادی اہمیت کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیں، وہ ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی کا وقیع مقالہ ’’غزوات وسرایا کی اقتصادی اہمیت‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ تحریر نقوش کی جلد ۱۱، شمارہ ۱۳، جنوری ۱۹۸۵ء مطبوعہ ادارہ فروغ اردو لاہور کے صفحات ۳۹۸ تا ۴۶۰ پر موجود ہے۔
آئیے اب یہ دیکھا جائے کہ نخلہ کی مہم کی نوعیت اور حیثیت کیا تھی؟ نعیم صدیقی صاحب نے ’’محسن انسانیت‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’اس واقعہ کی نوعیت ویسی ہی سرحدی جھڑپوں کی تھی جیسی حکومتوں اور جنگی کمانڈروں کی مرضی کے بغیر سپاہیوں کے درمیان ہر دو ملکوں کی سرحدوں پر واقع ہوتی رہتی ہیں۔‘‘
دوسری وضاحت اس سلسلے میں یہ ہے کہ جب فاتحین نخلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا، ’’میں نے تمہیں ماہ حرام میں کسی جنگ کا حکم نہیں دیا تھا‘‘ آپ نے اس واقعہ پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار یوں بھی فرمایا کہ آپ نے قافلے کے اونٹوں اور دونوں قیدیوں کے معاملے کو ملتوی رکھا اور اس میں سے کچھ لینے سے انکار فرما دیا تھا۔
جب قریش اور یہود کی چہ میگوئیاں بڑھیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں نے ماہ حرام کو بھی حلال کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی یہ آیات نازل فرمائیں:
’’لوگ تم سے حرام مہینے میں قتال کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا یہ سب اللہ کے نزدیک اور زیادہ جرم ہے اور فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے۔‘‘ (۲/۲۱۷)
ابن ہشام نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ اگر تم نے انہیں ماہ حرام میں قتل کیا ہے تو انہوں نے تمہیں اللہ کے انکار کے ساتھ اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے روکا ہے۔ تمہیں نکالنا جو وہاں کے رہنے والے تھے، اللہ کے ہاں اس قتل سے بڑا گناہ ہے جو تم نے ان کے کسی شخص کو کیا ہے۔ جب قرآن میں یہ حکم نازل ہوا تو اللہ نے مسلمانوں کا وہ خوف وہراس دور کر دیا جس میں وہ مبتلاتھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے کے اونٹوں اور قیدیوں کی طرف توجہ دی۔ ابن ہشام نے مزید لکھا ہے کہ ان آیات کے بعد عبد اللہ بن جحشؓ اور ان کے ساتھیوں کو اطمینان حاصل ہو گیا تو انہیں اجر کی امید ہوئی اور انہوں نے عرض کی ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا ہم اس بات کی امید رکھیں کہ جو کچھ ہوا، یہ غزوہ تھا اور ہمیں اس کے متعلق مجاہدوں کا سا ثواب دیا جائے گا؟‘‘ تو ان کے متعلق پھر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
’’بے شبہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
ابن سعد کے ایک بیان سے بھی سریہ نخلہ کی حیثیت کے تعین میں مدد ملتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس سریہ میں عبد اللہ بن جحش کا نام امیر المومنین رکھا گیا۔
غزوہ بدر کے حوالے سے نخلہ اور قریش کے تجارتی قافلہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا بھی بہت ضروری معلوم ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قریش کے مذموم جنگی عزائم کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔وہ جانتے تھے کہ قریش مناسب تیاری اور وقت کے منتظر ہیں اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ قریش کو سیاسی طور پر اس قدر مرعوب کر دیا جائے کہ وہ مدینہ پر حملے کا ارادہ ترک کر دیں اور معاشی طور پر اس قدر مفلوج کر دیا جائے کہ وہ اس اقدام کے قابل ہی نہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نخلہ کے بعد اس تجارتی قافلہ کا قصد فرمایا جو جنگی تیاریوں کے سلسلے میں ابو سفیان کی قیادت میں شام سے واپس آ رہا تھا۔ علامہ شبلی نعمانی فرماتے ہیں کہ اہل مکہ نے اس تجارت میں اپنا زیادہ سے زیادہ مال لگایا یہاں تک کہ غیر تاجر عورتوں تک نے اپنے زیورات اور اندوختے لا لا کر دیے۔ ابن سعد نے بھی ابو سفیان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’مرد وزن میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جس نے اس موقع پر حصہ نہ لیا ہو۔ مدعا یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگا کر زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جائے اور اس کی آمدنی سے ریاست مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔‘‘
قریش اس قافلے سے بڑی امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ اس میں ایک ہزار اونٹ تھے جن پر کم از کم چالیس ہزار دینار (دو سو ساڑھے باسٹھ کلو سونا) کی مالیت کا ساز وسامان بار کیا ہوا تھا۔ قریش کا یہ قافلہ تجارت کے بجائے خود جنگی کارروائی کا دیباچہ تھا۔ یوں کہیے کہ اسلامی تحریک کا گلا کاٹنے کے لیے یہ قافلہ سونے کا خنجر لینے نکلا تھا اس لیے اہل مدینہ کے لیے بڑا زریں موقع تھا جبکہ اہل مکہ کے لیے اس مال فراواں سے محرومی بڑی زبردست فوجی، سیاسی اور اقتصادی مار کی حیثیت رکھتی تھی اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس قافلہ کی طرف جانے کی ترغیب دی: ’’یہ قریش کا قافلہ مال ودولت سے لدا چلا آ رہا ہے۔ اس کے لیے نکل پڑو۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بطور غنیمت تمہارے حوالے کر دے۔‘‘ اس روایت کو ابن ہشام اور ابن سعد کے علاوہ دیگر مورخین نے بھی روایت کیا ہے۔ آپ نے طلحہ بن عبید اور سعید بن زید کو اس قافلہ کی کھوج میں بھیجا تھا۔ مسلمانوں کے لیے یہ اقدامات بتاتے ہیں کہ جنگوں میں اقتصادی حرج اختیار کرنا اور اقتصادی طور پر اپنے دشمن کو کمزور کرنا غیر شرعی نہیں ہے۔ آج کل دور جدید کی ساری جنگیں اقتصادی بنیادوں پر ہی لڑی جا رہی ہیں۔ پھرکیا وجہ ہے کہ مدینہ میں اس قافلہ پر چھاپہ مارنے کا جو رجحان پایا جاتا تھا، اس کے سلسلے میں کچھ بھی معذرت کی جائے اور کسی بھی درجے میں اس کو سیاسی یا دفاعی گناہ تصور کیا جائے۔ ’’اس قافلہ پر ہاتھ ڈالنے کے لیے اگر مسلم طاقت میں کچھ داعیہ موجود تھا تو وہ اپنی جگہ بالکل بجا تھا۔‘‘ (محسن انسانیت ص ۳۷۵)
بہرحال یہ قافلہ سالم وثابت مکہ پہنچ گیا اور جیش مکہ جس کی تعداد ایک ہزار تھی، ابو جہل کی قیادت میں بدر پہنچ گیا۔ قریشی سپاہ میں چھ سو زرہ پوش، سو سوار، بے شمار اونٹ ، اسلحہ کی فراوانی اور شراب وشباب کے سامان موجود تھے۔ قریش کے اس کبر واعجاب کا ذکر سورۂ انفال میں بھی ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں لشکر اسلامی کی تعداد مشہور روایت کے مطابق ۳۱۳ تھی۔ پوری فوج میں دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مدد مانگی جس کا ذکر سورۃ الانفال کی آیت ۶ میں ہوا ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں جنگی حکمت عملی کے بارے میں جو بے چینی اور اضطراب تھا، وہ اللہ نے بارش اور نیند کے ذریعے سے زائل فرما دیا۔ اس واقعہ کا ذکر سورۂ انفال کی آیت ۱۱ میں ہوا ہے۔ جنگ شروع ہوئی، گھمسان کا رن پڑا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مشہور ومعروف دعا فرمائی: ’’اے اللہ اگر آج ترے یہ بندے ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک تری پرستش نہ ہوگی۔ پس اے اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے، اسے پورا فرما۔‘‘ آپ نے اس قدر تضرع کے ساتھ دعا فرمائی کہ آپ کے دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے چادر درست کی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول، بس کیجیے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ نے فرشتوں کو وحی کی: ’’میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کے قدم جماؤ، میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔‘‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا ’’میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کر رہا ہوں‘‘ (الانفال ۹) آپ نے اللہ کی طرف سے مدد کی خوش خبری سیدنا ابوبکرؓ کو سنائی۔
آپ عریشہ سے باہر تشریف لائے۔ آپ نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ آپ آگے بڑھتے جا رہے تھے اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے ’’عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔‘‘ (سورہ قمر ۴۵) اس کے بعد آپ نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھائیں اور یہ فرماتے ہیں کفار کی طرف پھینک دیں : شاہت الوجوہ (چہرے بگڑ جائیں) اور مسلمان کو حکم دیا کہ بھرپور حملہ کریں۔ کافروں کے قدم اکھڑ گئے اور ان کے بڑے بڑے سرداروں سمیت ۷۲ کافر مارے گئے۔ بدر میں کل ۱۴ مسلمان شہید ہوئے جن میں سے چھ انصار اور آٹھ مہاجر تھے۔
غزوہ بدر پہلا غزوہ تھا جس میں مسلمانوں کو مال غنیمت ملا جو ہتھیاروں، مویشیوں، گھوڑوں اور سامان رسد کے علاوہ قریشی تجارتی مال پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر محمد یٰسین صدیقی کی تحقیق یہ ہے کہ غنیمت میں کل ایک ہزار ہتھیار ہاتھ آئے۔ اونٹوں کی کل تعداد ایک سو پچاس تھی اور گھوڑے دس تھے۔ اس کے علاوہ دوسرا سامان کپڑا، چٹائیاں وغیرہ تھی جن کی تعداد اور مقدار کا صحیح علم نہ ہو سکا۔ اگرچہ بدر کی غنیمت کا صحیح تعین مشکل ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق تمام اموال غنیمت کی مالیت اکتیس ہزار پانچ سو دراہم ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں نسبتاً قابل ذکر غنیمت وہ زر فدیہ تھا جو قیدیوں سے ان کی رہائی حاصل کرنے کے لیے حاصل ہوا۔ تمام اسیران بدر سے وصول ہونے والے فدیہ کی رقم ایک لاکھ پندرہ دراہم لکھی ہے۔ نعیم صدیقی صاحب نے یہ رقم ڈھائی لاکھ درہم بیان کی ہے۔ اگرچہ یہ جنگ قریش کے لیے ایک بہت بڑا معاشی سانحہ تھی اور مسلمانان مدینہ کو بھی اس سے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ ہوا لیکن اس غنیمت سے تمام غازیان بدر اس وقت اتنے مال دار نہیں ہوئے تھے کہ اسے کسی معاشی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیا جائے۔ تاہم خلفاء راشدین کے زمانے میں جب روم وایران فتح ہوئے تو یہ مال غنیمت ہی تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو کچھ معاشی آسودگی حاصل ہوئی۔
بہرحال اس غزوہ کی معاشی اہمیت کے علاوہ سیاسی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مکہ کے علاوہ قبائل عرب میں ریاست مدینہ کی حیثیت مستحکم ہو گئی۔ بعض قبائل اور یہود مدینہ جنگ بدر کے بعد ہی میثاق مدینہ میں شامل ہوئے۔ بکثرت باشندگان مدینہ ایمان لائے اور بقول جناب نعیم صدیقی ’’صحیح معنوں میں اسلام معرکہ بدر کے بعد ہی ایک مسلمہ عام ریاست بنا کیونکہ اس نے اپنا سیاسی قوت ہونا بیچ کھیت منوا لیا۔‘‘
قرآن حکیم نے اس کے سیاسی اور معاشی اثرات کا جائزہ ان الفاظ میں لیا ہے:
’’اور یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے اور تم کمزور خیال کیے جاتے تھے۔ تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تم کو مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا۔‘‘ (الانفال ۲۶)
تیل کی طاقت
کرسٹوفر ڈکی
تیل کے بادشاہ اب بھی سعودی ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک تیل کے چشمے خشک نہیں ہو جاتے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عرب سرمایہ داروں کی تصویر یوں پیش کی جا رہی ہے جیسے وہ تیل فروخت کرنے والی ایک زوال پذیر تنظیم کے ڈانواں ڈول مالک ہوں، جس کی طاقت دو خطروں کے باعث کمزور پڑ رہی ہے: ایک روس کی بڑھتی ہوئی تیل کی طاقت اور دوسرا عراق جو اس انتظار میں ہے کہ خلیج عرب میں سعودیہ کی جگہ لے سکے۔
زوال پذیر صحرائی بادشاہت کے اس خیال میں کچھ صداقت ضرور ہے۔ تیل کے حوالے سے سعودیوں کا اثر ورسوخ اب پہلے کی طرح عام اور وسیع نہیں ہے اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی اب پہلے کی نسبت کم مال دار ہے۔ تاہم کچھ ایسے زمینی حقائق موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں جا سکتا۔ سعودی عرب نہ صرف دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر کا مالک ہے بلکہ یہ وہ واحد ملک ہے جس کے پاس تیل کی اضافی مقدار مہیا کرنے کی اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی بھی وقت تیل کی مارکیٹ میں ’’سیلاب‘‘ لا سکتا ہے۔ ایک سعودی افسر فخریہ کہتا ہے کہ ’’ہم کسی بھی وقت تیل کی پائپ لائنوں کو چلا کر تیل فراہم کرنے والوں دوسرے ملکوں کا ستیاناس سکتے ہیں۔‘‘
تیل کے ہتھیار کا استعمال ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ تاہم ان دنوں سعودی عرب کا رجحان اپنے صارفین‘ خصوصاً امریکہ‘ کے بجائے اپنے ساتھیوں یعنی تیل مہیا کرنے والے ملکوں(خصوصاً روس ) کا ستیاناس کرنے کی طرف زیادہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بیشتر اوقات یوں لگتا ہے جیسے سعودی عرب اور امریکہ نے توانائی فراہم کرنے والے دوسرے ملکوں کو نقصان پہنچانے کے لیے آپس میں خفیہ اتحاد کر رکھا ہو اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ۱۹۹۱ء میں خلیجی جنگ کے اختتام کے بعد سے ریاض اور واشنگٹن تیل فروخت کرنے اور خریدنے کے حوالے سے ایک غیر اعلان شدہ عالمی اتحاد کے مشترک لیڈر بن چکے ہیں جن کا مقصد تیل کی قیمتوں کو اس ممکن حد تک متوازن رکھنا ہے جس سے فریقین میں سے کسی کو بھی زیادہ خسارہ نہ اٹھانا پڑے۔ عالمی معیشت کو سہارا دینے میں اس حقیقت کا ایک نہایت اہم کردار ہے۔ تاہم بیشتر امریکیوں کے لیے یہ ایک حیران کن بات ہوگی جو ابھی تک سعودی عرب کو ۷۰ء میں تیل کی فراہمی بند کر دینے والے ایک دشمن کی نظر سے اور (۱۱ ؍ ستمبر کے) حالیہ ہول ناک واقعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
تیل کی منڈی کے علاوہ دنیا میں کوئی حقیقی عالمی منڈی موجود نہیں ہے۔ یہ ایک مائع شے ہے جس کی نقل وحمل پورے کرہ ارضی پر پھیلے ہوئے برآمد کنندگان اور صارفین کے مابین بہت آسان ہے۔ طلب اور رسد میں معمولی سا عدم توازن بھی پوری دنیا کو مضطرب کر دیتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس اب تک دریافت شدہ تیل کے ذخائر کا چوتھا حصہ ہے اور اس وقت وہ تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔جبکہ امریکہ تیل صرف کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو کل تیل کا تقریباً تیسرا حصہ روزانہ صرف کرتا ہے۔ چنانچہ دونوں ملکوں کے درمیان مفادات کا ایک واضح اشتراک پایا جاتا ہے جس کا ادراک اس وقت سے کر لیا گیا تھا جب صدر فرینکلین روزویلٹ اور سعودی عرب کے فرمانروا عبد العزیز بن سعود‘ جنہوں نے ملک کا نام سعودیہ رکھا‘ کے مابین ۱۹۴۵ء میں Great Bitter Lake میں ملاقات ہوئی اور ایک تزویراتی اتحاد کی بنیاد رکھی گئی۔ روزویلٹ نے کانگریس کو بتایا کہ ’’میں نے ابن سعود کے ساتھ پانچ منٹ کی ملاقات میں اس سے کہیں زیادہ حقائق معلوم کر لیے ہیں جو دو یا تین درجن خطوط کے تبادلے کے بعد میرے علم میں آتے۔‘‘ اس وقت سے اب تک امریکی صدور اور سعودی فرماں رواؤں کے مابین غیر تحریری معاہدے دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے کلید کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔ ایک سعودی افسر کا کہنا ہے کہ ’’ہم دونوں اپنے اپنے مفادات سے آگاہ ہیں۔ ہمارے مابین مخصوص اختلافات بھی ہیں اور اتفاق کے مخصوص نکات بھی۔‘‘
پچھلے دس سال میں اس غیر اعلان شدہ اتحاد میں کافی گرم جوشی پیدا ہو گئی تھی تاہم ۱۱ ؍ستمبر کے واقعات کے بعد اس کا مستقبل غیر امید افزا دکھائی دینے لگا تھا۔ ہر نقطہ نظر کے امریکی سیاست دانوں نے ’’بیرونی تیل سے چھٹکارا‘‘ حاصل کرنے کی دہائی دینا شروع کر دی جس کا مطلب عمومی طور پر عرب اور خاص طور پر سعودی تیل سے چھٹکارا حاصل کرنا لیا گیا۔ امریکی اس پر بے حد ناراض تھے کہ اسامہ بن لادن اور ہائی جیکروں میں سے اکثر کی پیدائش اور پرورش سعودی عرب میں ہوئی تھی۔ اور سعودی بھی خوف ودہشت کی حالت میں دیکھتے رہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں ایریل شیرون کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ایک بااثر سعودی کا کہنا ہے کہ ’’ایک ایسی مارکیٹ کے ساتھ معاملہ کرنا جو مسلسل عرب دنیا کے بارے میں نفرت کا رویہ اپنائے ہوئے ہے‘ ہمارے لیے آسان نہیں ہے۔‘‘
اس کے باوجود واشنگٹن اور ریاض ایک دوسرے پر اتنا ہی انحصار رکھتے ہیں جتنا کہ ایک ’جوڑے‘ کا ایک دوسرے پر ہو سکتا ہے۔ ان کے تعلقات کو مجبوری‘ اتحاد یا باہمی مفاد میں سے کوئی بھی نام دے لیجیے‘ واقعہ یہی ہے کہ سعودی اور امریکی ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ امریکی مارکیٹ کے لیے سعودی عرب بیرونی تیل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے تاہم باہمی انحصار کی یہ صرف ایک وجہ ہے۔ دوسرے بہت سے ملک بھی‘ جن کی تعداد مجموعی طور پر ۶۰ ہے‘ روزانہ ۷۶ ملین بیرل سے زیادہ تیل نکالتے ہیں لیکن تقریباً سب کے سب بے حد تیزی کے ساتھ زمین سے نکالے ہوئے تیل کے ہر قطرے کو یا تو استعمال کر لیتے ہیں یا درآمد کر دیتے ہیں۔ سعودی عرب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ مختصر عرصے میں تیل کی روزانہ سپلائی کی موجودہ مقدار (سات اعشاریہ دو ملین بیرل) کو بڑھا کر دس اعشاریہ پانچ ملین بیرل تک لے جا سکتے ہیں تاکہ بحران کے زمانے میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو ۔ مڈل ایسٹ اکنامک سروے کے ایڈیٹر ولید خدوری کا کہنا ہے کہ ’’ بنیادی طور پر یہی بات عالمی معیشت کی حفاظت کی ضامن ہے۔‘‘
چنانچہ امریکہ کو عرب کے تیل کی احتیاج سے نکالنے سے متعلق امریکی صدر اور پریس کی باتوں کو بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں لینا چاہیے۔ اس سے امریکہ کی تیل کی سپلائی کا معاملہ غیر محفوظ ہی ہوگا نہ کہ محفوظ اور امریکی انتظامیہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے۔ ذرا سوچیں کہ گیارہ ستمبر کے فوراً کی صورت حال میں سعودی عرب نے کیا کردار ادا کیا؟ میڈیا میں کسی قسم کی تشہیر کے بغیر لیکن گہرے اثرات مرتب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھی ملکوں کے ساتھ معاہدے میں طے شدہ کوٹے کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دو ہفتے تک وہ امریکہ کو اضافی پانچ لاکھ بیرل تیل روزانہ سپلائی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ مشرق وسطیٰ کے عظیم بحران کے عین وسط میں، جو کہ تیل کی قیمتوں میں بے حد اضافے کا موجب ہو سکتا تھا، تیل کی قیمت حملے کے کچھ ہفتے بعد ۲۸ ڈالر فی بیرل کی سابقہ قیمت سے گر کر ۲۰ ڈالر فی بیرل تک آچکی تھی۔ سعودی عرب کے علاوہ اور کون ایسا کر سکتا تھا؟ واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں۔
اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس بہت زیادہ تیل ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے لیے اسے زمین سے نکالنا بے حد آسان اور سستا ہے۔ سعودیہ کا خام تیل نکالنے کا خرچ فی بیرل ۲ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ امریکہ کے کنووں سے اتنا تیل نکالنے پر اس سے دو گنا اور روس میں تین گنا خرچ آتا ہے۔ یقیناًانگولا سے لے کر الاسکا تک نئے نئے ذخائر مسلسل دریافت ہو رہے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے سمندر کی تہہ، زمین کی تہہ اور کینیڈا اور وینزویلا کے صحراؤں میں پائے جانے والے مشکل الحصول تیل کو نکالنے کا خرچ بھی کم ہوتا چلا جائے گا، لیکن یہ ذرائع سعودی تیل کے مقابلے میں ہمیشہ مہنگے رہیں گے اور منافع کی اسی شرح میں سعودیہ کے موجودہ اور مستقبل کے اثر ورسوخ کا راز مخفی ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ امریکی سعودی تعلقات ہمیشہ دوستانہ نہیں رہے۔ ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران میں شاہ فیصل نے اسرائیل کی حمایت کی پاداش میں امریکہ کو تیل کی سپلائی بند کر دینے کا فیصلہ کیا۔ اوپیک ممالک نے بھی اس فیصلے کی تائید کی اور تمام تیل فراہم کرنے والے ممالک نے بھاری منافع کمایا۔ تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ توڑ اضافے سے پوری دنیا کی معیشت کو شدید جھٹکے لگے۔ امریکیوں نے بڑی کاریں چھوڑ کر چھوٹی کاریں خرید لیں جو کم تیل خرچ کرتی تھیں۔ تاہم ۱۹۷۹ء کے آتے آتے، جب ایران میں خمینی انقلاب کی وجہ سے تیل کی قیمتوں کو دوسرا جھٹکا لگا، سعودی عرب کے لیے اس بحران کو حل کرنے میں ایک اور دل چسپی پیدا ہو چکی تھی۔ وہ یہ کہ ۱۹۷۰ء کی صورت حال سے حاصل ہونے والے غیر معمولی اور غیر متوقع منافع کا بیشتر حصہ انہوں نے مغرب میں اور خصوصاً امریکہ میں سرمایہ کاری میں لگا رکھا تھا۔ چنانچہ امریکی معیشت کے نقصان میں اب خود ان کا اپنا نقصان تھا۔(۱۹۷۳ء کے بائیکاٹ کے سخت ترین زمانے میں بھی سعودی، خفیہ طریقے سے Mediterranean میں امریکی بحرے بیڑے کو تیل مہیا کرتے رہے)
۱۹۸۰ء تک اوپیک کی طاقت کمزور پڑنا شروع ہو چکی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی تنظیم کا قیام تھا جس نے امریکہ اور تیل کے دوسرے صارفین کو خریداروں کے مشترکہ مقاصد کے حوالے سے اکٹھا کر دیا تھا۔ نیز ۷۰ء کے جھٹکوں نے پٹرول کے علاوہ توانائی کے دوسرے ذرائع میں دل چسپی کو بڑھا دیا تھا مثلاً North Sea میں گہرے سمندر میں تیل کی تلاش، نیوکلیئر توانائی، حتیٰ کہ پن چکیوں کے ذریعے سے توانائی کے حصول پر بھی ازسر نو غور کیا جانے لگا۔ اسی اثنا میں سوویت یونین کے زوال سے Caspian Sea میں موجود تیل کے بہت بڑے ذخیرے کے مغرب کی دسترس میں آنے کا امکان پیدا ہو گیا جس سے اوپیک کی طاقت مزید کمزور ہوگئی۔
سعودی عرب اور اس کے ہم سایے کویت کے ساتھ، جو مشرق وسطیٰ میں سعودیہ کے بعد تیل کا سب بڑا ایکسپورٹر ہے، امریکہ کے تعلقات ۸۰ء کی دہائی کے اواخر اور ۹۰ء کی دہائی کے آغاز میں اور مضبوط ہو گئے۔ (حسب سابق یہ بھی کسی تحریری معاہدے کے بجائے باہمی مفاہمت پر مبنی تھے) ۸۷ء اور ۸۸ء میں امریکہ نے کویت کو اپنے ٹینکرز پر امریکی جھنڈے لگانے کی اجازت دے دی اور پھر ان ٹینکروں نیز ایران سے سعودی عرب تک تیل کے نقل وحمل کی حفاظت کے لیے ایک بحری بیڑا بھیج دیا۔۱۹۹۰ء میں جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا اور سعودی عرب کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دیں تو امریکہ نے ایک عظیم اتحاد قائم کر کے عراق پر حملہ کر دیا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکی فوجی دستے دونوں ملکوں میں متعین کر دیے گئے جو آج بھی وہاں موجود ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی جدہ گئے جہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کے ساتھ تازہ ترین علاقائی اکھاڑ پچھاڑ پر تبادلہ خیال کیا۔
تعلقات کی اس بنیاد کے ساتھ تیل کے باثروت صارف ملکوں، جن کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے، اور اوپیک کے مابین، جن کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے، ایک تزویراتی مفاہمت پیدا ہو چکی ہے۔ ان کے مابین وقتاً فوقتاً مشاورت ہوتی رہتی ہے بلکہ سعودی عرب اس بات کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے کہ صارف تنظیموں کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کیے جائیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ممتاز تجزیہ نگار کلاس ری ہاگ (Klaus Rehaag) کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ کو اپنی تیل کی رسد کی فکر ہے اور اوپیک کو طلب کے متوازن رہنے کی۔‘‘
قیمتوں میں اب بھی اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے جو کبھی کبھی کافی شدید ہوتا ہے۔ عین وقت پر حساب کتاب کے اس زمانے میں تیل کی سپلائی میں تاخیر اچھا خاصا دھچکا پہنچا سکتی ہے۔ یہی صورت حال طلب میں اچانک کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ ۱۹۹۷ء میں ایشیا کے معاشی بحران سے تیل کی قیمتیں گر کر ۱۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ سعودی عرب اور دوسرے اوپیک ممالک نے تیل کی سپلائی میں کمی کر دی اور ۲۰۰۰ ء کے آغاز میں ایک مختصر عرصے کے لیے قیمتیں ۳۵ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ تاہم سعودیوں کے مطابق ۱۸ سے ۲۰ ڈالر فی بیرل کی قیمت بہترین ہے اور وہ تیل کی قیمت کو اسی کے قریب قریب رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال، اگر افراط زر کے لحاظ سے تیل کی قیمت کا موازنہ کیا جائے تو امریکی آج بھی گیس پمپ پر اتنی ہی ادائیگی کرتے ہیں جتنی وہ ۷۳ء کے تیل کے بحران سے پہلے کیا کرتے تھے۔ اور قیمتوں میں غیر متوقع اتارچڑھاؤ کا امکان بھی آج پہلے کی نسبت کہیں کم ہے۔
دوسرے صارفین کے مقابلے میں امریکہ سے فی بیرل ایک ڈالر کم قیمت وصول کر کے سعودی اپنے امریکی دوستوں کو خوش ( اور محتاج) رکھنے کی خصوصی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی بڑی شرح منافع کے پیش نظر وہ سمجھتے ہیں کہ آمدنی میں ایک ڈالر کا نقصان وہ خیر سگالی کے جذبات کی صورت میں پورا کر لیتے ہیں۔ صدام اور دوسرے حملہ آوروں سے حفاظت کی یہ ایک معقول قیمت ہے۔ اور اگر ایک طرف امریکہ نیوکلیئر، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کو صدام کی دسترس سے باہر رکھنے کے متعلق فکر مند ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ تیل کا ہتھیار بھی صدام کے ہاتھ میں نہ آنے پائے۔ ۲۰۰۰ء میں صدام نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے اپنی تیل کی سپلائی منقطع کر دی تو سعودی عرب نے فوراً پائپ لائن کو چلا کر اس کمی کو پورا کر دیا۔
کیا سعودی عرب ناقابل تسخیر ہے؟ بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ سعودی ایسا سمجھتے ہیں۔ سعودی وزارت تیل کے ایک سابق آفیسر نے نیوز ویک سے کہا کہ ’’تم لوگ تیل کا متبادل ڈھونڈ رہے ہو؟ یہ محض خوش کن باتیں ہیں۔ فرض کرو کہ تم توانائی کے کسی متبادل ذریعے کی قیمت کا ایک ہدف مقرر کرتے ہو (جو تیل کی موجودہ قیمت سے کم ہو) اور ہم تیل کی قیمت کو اس سے بھی کم کر دیتے ہیں تو تمہاری ساری سرمایہ کاری بالکل برباد ہو کر رہ جائے گی۔‘‘
یہ بات خارج از امکان نہیں کہ روس سعودی عرب کی جگہ تیل کا سب سے بڑے فراہم کنندہ بن جائے۔ تاہم انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اپنی انڈسٹری کو جدید بنانے کے لیے درکار کئی بلین ڈالر کی سرمایہ کاری میں کشش پیدا کرنے کے لیے روس کو بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا خاتمہ کرنا پڑے گا۔ اگر وہ ایسا کر لے، نیز تیل نکالنے کے لیے نئی پائپ لائنیں اور بندرگاہیں تعمیر کر لے،اپنی سیاسی صورت حال کو مستحکم بنا لے اور پھر اس کا نکالا ہوا تیل اس کی اپنی ملکی معیشت کی ترقی کی وجہ سے اندرون ملک میں ہی صرف نہ ہو جائے تو صرف اس صورت میں وہ سعودی عرب پر برتری حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا امکان اتنا ہی ہے جتنا اس بات کا کہ امریکی قناعت پسندی کا رویہ دوبارہ اختیار کر لیں اور چھوٹی کاریں چلانا شروع کر دیں۔ اس وقت تک ان کے لیے ’’بیرونی تیل سے نجات‘‘ حاصل کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
(نیوز ویک، ۸ اپریل ۲۰۰۲ء)
مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کا حادثہ وفات
امین الدین شجاع الدین
دو تین برسوں سے جس سانحہ کا کھٹکا لگا ہوا تھا، وہ بالآخر پیش آ کر رہا۔ دنیا ہی فانی ہے اور اک دن جان سب کی جانی ہے۔ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (۱۹۳۶ء ۔ ۲۰۰۲ء) بھی وہاں چلے گئے جہاں ایک نہ ایک روز سب کو جانا ہے اور زمین اوڑھ کر سو جانا ہے۔ ع
لیکن قاضی صاحب کی موت ایک فرد کی نہیں، ایک فرد فرید کی موت ہے، ایک فقیہ کی موت ہے۔ ایسا فقیہ جو صرف لغوی اعتبار سے ہی فقیہ نہیں تھا بلکہ معنوی لحاظ سے بھی واقعتا فقیہ تھا۔ قسام ازل نے جس کو بیدار مغز ہی نہیں بخشا تھا بلکہ اس کے سینے میں دل دردمند بھی رکھا تھا اور جسے تڑپنے پھڑکنے کی توفیق بھی بخشی تھی۔
قاضی صاحب بنیادی طور سے ایک عالم دین تھے۔ مدرسہ کی چٹائی پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ خدا کی دین اور عطا ہے، وہ جسے چاہے بخش دے۔ قاضی صاحب کے نصیبے میں دین کی سوجھ بوجھ آئی۔ وہ تفقہ کہ جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین۔ اللہ رب العزت جس کے بارے میں خیر کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتے ہیں۔ تو یہ نعمت قاضی صاحب کے حصے میں آئی گویا خیر کے سرچشمے سے اکتساب فیض کا فیصلہ ہوا۔ یہ شریعت اسلامی کا سرچشمہ ہے اور شریعت اسلامی کا سرچشمہ ایسا سرچشمہ ہے جہاں پہنچنے والا محض پیتا نہیں، پلاتا بھی ہے اور لٹاتا بھی ہے۔ قاضی صاحب شریعت مطہرہ کے اس سرچشمہ سے نہ صرف خود سیراب ہوئے بلکہ ساقی بن گئے اور فصل گل کی تمنا میں مے دل فروز پلاتے چلے گئے۔
کسی بھی شخصیت کا مطالعہ کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی شخصیت سازی کے عناصر ترکیبی کیا تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا عبد الاحد قاسمی حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے شاگرد رشید تھے۔ عالم ربانی شیخ الہند کے شاگرد نے رات کی تنہائیوں میں بھی اپنے لخت جگر کے لیے یقیناًخدا کے حضور ہاتھ پھیلائے ہوں گے۔ قاضی صاحب کے دامن میں فقہی فراست وبصیرت اور ملی درد وکرب کے کھلے ہوئے گل ولالہ ایسی مناجاتوں کا اشارہ دیتے ہیں۔ ان کی تعلیم دار العلوم دیوبند میں بھی ہوئی جو محض ایک دار العلوم کا نہیں، ایک مشن اور تحریک کا نام تھا اور جس کی بنیاد ان خدا ترس ہاتھوں نے ان ارادوں سے رکھی تھی کہ سرزمین ہند میں اسلام کے چراغ کی لو مدھم نہ پڑنے پائے بلکہ تیز سے تیز تر ہوتی چلی جائے۔ قاضی صاحب کو امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی جیسے شخصیت ساز بزرگ کا سایہ نصیب ہوا۔ ماضی قریب کی وہ شخصیتیں جنہوں نے افراد سازی جیسے پتہ ماری اور جگر کاوی کا کام کیا، ان میں ایک نمایاں نام حضرت امیر شریعت کا بھی ہے۔ وہ جوہری تھے چنانچہ ان کی جوہر شناس نگاہ نے دیکھا کہ مجاہد الاسلام میں اسلام کا واقعی ایک مجاہد چھپا ہوا ہے۔
اہل نظر جانتے ہیں کہ صلاحیتوں کے پروان چڑھنے اور ان کے برگ وبار لانے کے لیے فضا درکار ہوتی ہے، میدان درکار ہوتا ہے۔ قدرت کو قاضی صاحب سے کام لینا مقصود تھا چنانچہ یہ مواقع بھی انہیں ودیعت کیے جاتے رہے۔ وہ مسند درس پر بھی بیٹھے اور امارت شرعیہ پھلواری شریف میں قاضی کے منصب پر بھی فائز ہوئے مگر قاضی کا یہ منصب پھولوں کی نہیں، کانٹوں کی سیج ہوا کرتا ہے۔ یہاں زندگی کے حقائق بے لباس ہو کر آتے ہیں۔ ہمہ وقت مسائل کا سامنا ہوتا ہے، تلخیوں سے واسطہ پڑتا ہے اور پھر مسائل بھی بہار جیسے پس ماندہ صوبے کے۔ قاضی صاحب چاہتے تو مدرسہ کی چہار دیواری میں اپنے لیے گوشہ عافیت ڈھونڈ لیتے۔ مدارس بھی انہیں سرآنکھوں پر بٹھاتے۔ تدریس میں شاہانہ مزاج کی تسکین کا پورا سامان بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ جہاں کو جب نظر بند کر دیا گیا تو اس نے بھی چند شاگردوں کے جلو میں رہنے کی تمنا ظاہر کی تھی مگر قاضی صاحب نے سہولت پسند طبیعت نہیں پائی تھی بلکہ موج حوادث سے گزرنے میں ہی انہیں لذت ملتی تھی چنانچہ کئی دہائیوں تک وہ قاضی کے فرائض انجام دیتے رہے اور اس وجہ سے انہیں ملت کی دینی ومعاشرتی حقیقی صورت حال کا اندازہ ہوتا رہا۔ قاضی کے منصب کے سرد وگرم کو جھیل کر انہوں نے نہ صرف قضا کے اس عہدہ کے ساتھ انصاف کیا بلکہ زیادہ سچی بات یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے ساتھ اور ملت کے ساتھ بھی انصاف سے کام لیا۔ امارت شرعیہ میں قاضی کا یہ منصب ان کے لیے ایک ایسی بھٹی ثابت ہوا جہاں سے تپ کر وہ کندن بن کر نکلے، مسائل کی آنچ نے ان میں وہ پختگی پیدا کر دی جو ایک مجاہد کی شان اور اس کا نشان ہوا کرتی ہے۔
پھر ملت پر وہ وقت آیا جب اس کے پرسنل لا پر نظریں اٹھیں اور یکساں سول کوڈ کے نام پر اس کے ملی تشخص کو پامال کر دینے کی کوششیں ہوئیں۔ دین کا حق تھا کہ اس کے علما اس موقع پر بے قرار ہو اٹھیں اور اس سرمایہ کی پاسبانی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں چنانچہ علما عالمانہ شان اور مجاہدانہ آن بان کے ساتھ اٹھے اور آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ بلا تفریق مسلک ومشرب ملت علما ودانش ور تحفظ شریعت کے لیے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ بیدار مغز علما کے اس کارواں کے ایک فرد فرید مولانا مجاہد الاسلام قاسمی بھی تھے۔
امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانیؒ ، مفکر اسلام مولانا علی میاں ندویؒ اور حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ اور دوسرے اکابر کا انہیں اعتماد حاصل رہا۔ قاضی صاحب کو خدا کی عطا کردہ فقہی فراست وبصیرت ملت کے کام آئی اور فقہ اسلامی بلکہ اسلامی تعلیم کی عظمت وبرتری کا سکہ ماہرین قانون اور عصری تعلیم یافتہ طبقہ کے دلوں پر بھی ثبت اور نقش ہوتا چلا گیا۔
ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اتحاد ملت کے اپنے اسی درس کو پوری قوت سے دہرایا جس درس کو انہوں نے امارت شرعیہ سے سیکھا تھا اور جس کو مولانا ابو المحاسن سجادؒ کی کتاب زندگی سے سیکھا تھا۔ انہوں نے چاہا کہ بحیثیت خیر امت اس ملک میں مسلمانوں کو کلمہ کی بنیاد پر کھڑا کرنا ہے اور جوڑنا ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ ’’ملت کا سب سے بڑا مسئلہ شعور ذات کا مسئلہ ہے۔ یہ امت اپنے کو پہچانے، اپنے منصب کو پہچانے اور اس کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ جس وقت یہ امت اپنے کو پہچان لے گی اور دنیا کو یہ باور کرا دے گی کہ اس کا سودا محال ہے، اس وقت امت کا مسئلہ قابو میں آئے گا۔‘‘
قاضی صاحب کا موضوع فقہ تھا۔ ان کی فقاہت کو دنیا نے تسلیم کیا۔ اس لحاظ سے وہ جس مقام ومرتبہ کے حامل تھے، اس کاحق تھا کہ جدید شرعی اور فقہی مسائل میں امت کی رہبری ورہنمائی کے لیے وہ کوئی قدم اٹھاتے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا قیام قاضی صاحب کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس پلیٹ فارم کی ندرت یہ ہے کہ جدید مسائل کا شرعی حل تلاش کرنے کے لیے علما اور اصحاب افتا کے شانہ بشانہ علوم عصریہ کے ماہرین بھی دکھائی پڑتے ہیں۔ فقہ اکیڈمی نے علما اور طلبا میں بحث وتحقیق کامزاج پیدا کیا اور اس کے سیمیناروں میں مسائل پر جس طرح بحثیں ہوئیں، اس نے مدارس میں تبدیلی پیدا کی، فقہ کی طرف ذہن راغب ہوا اور نئی نسل میں بھی یہ احساس جاگا کہ کس طرح ہمارے قدیم علما واصحاب افتا کس قدر محنت، جگر کاوی اور اخلاص ولگن سے جدید پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرتے تھے۔ فقہ اکیڈمی کی صدا نے اس سناٹے پر ضرب لگائی۔ مورخ جب علمی وفقہی تاریخ لکھنے بیٹھے گا تو وہ فقہ اکیڈمی کو فراموش نہیں کر سکے گا۔ ان کی ادارت میں نکلنے والے مجلہ ’بحث ونظر‘ نے علمی وفقہی دنیا میں اپنی ایک شناخت قائم کر لی۔
بات ادارت کی آئی ہے تو قاضی صاحب کی تالیفات وتصنیفات کا بھی تذکرہ ضروری ہو گیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع اہل علم اور اصحاب افتا کا ہے لیکن دیکھنے اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ قاضی صاحب مرد میدان تھے، ان کے مشاغل کی نوعیت تحریکی بھی تھی، وہ اپنی تالیفات وتصنیفات اور تحقیقی کاموں کا ایک خزینہ چھوڑ گئے۔ فقہ اسلامی کے علاوہ انہوں نے مولانا ابو المحاسن سجادؒ کے علوم وافکار پر بھی اپنی تصنیفات چھوڑیں۔
قاضی صاحب مولانا بو المحاسن سجادؒ کو اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے۔ ان کی آئیڈیل شخصیتوں میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کا بھی ہے۔ حضرت مولانا کی ذات والا صفات سے انہیں شروع ہی سے والہانہ لگاؤ اور شیفتگی رہی یہاں تک کہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں سجاد لائبریری کے ذمہ دار کی حیثیت سے انہوں نے حضرت مولانا کو دیوبند مدعو کیا۔ ’’طالبان علوم نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین‘‘ حضرت مولانا کی وہ تقریر ہے جو اسی موقع کی یادگار ہے۔ قاضی صاحب کو ندوہ اور اس کی فکر سے بھی گہری مناسبت تھی جس کا ایک عملی ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کاموں کے لیے ندوی فضلا کو منتخب کیا اور ان پر اعتماد کیا۔ حضرت مولانا کی فکر کا انہوں نے نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ عملی سطح پر اسے برت کر دکھایا بھی۔ حضرت مولانا کے افکار قاضی صاحب کے فکر وعمل پر مرتب ہوئے بغیر نہیں رہے۔
وہ قدرت کی طرف سے دل دردمند، ذہن ارجمند اور زبان ہوش مند لے کر آئے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توانائیوں کو دین وملت کے لیے وقف کر دیا۔ وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر بھی ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی علالت شدت اختیار کر چکی تھی اور ان کی زندگی کی طرف سے مایوسی ہونے لگی تھی لیکن قاضی صاحب کی لغت میں مایوسی کا لفظ نہیں تھا۔ ایک طرف ملت سخت آزمائشوں سے دوچار تھی تو دوسری طرف قاضی صاحب بیماریوں اور آزاروں سے نڈھال لیکن ان کے سینے میں ایک مجاہد کا جگر تھا اور وہ مجاہد ہی کیا جو زندگی کے آخری سانس تک لڑنے کا فیصلہ نہ کرے۔ ان کے دور میں مجموعہ قوانین اسلامی کے مسودہ کی اشاعت عمل میں آئی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی منظر عام پر آیا جسے ان کے دور صدارت کا ایک عظیم تحفہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
افسوس کہ قاضی صاحب کی وہ ذات جو ملت کے حق میں نعمت اور تحفہ تھی، اب نہیں رہی۔
فاضل جفاکشان محبت کی موت کیا
جب تھک گئے تو سو گئے آرام کے لیے
البتہ ان کی خوبیاں باقی اور نیکیاں زندہ رہیں گی۔ غیر معمولی ذہانت کے ساتھ اخلاص وبے نفسی ان کا سرمایہ تھا۔ خوئے دل نوازی کی ادا نے ان سے افراد سازی کا بڑاکام لے لیا۔ وہ تیز وتند ہواؤں میں بھی چراغ جلائے رکھنے کے ہنر سے واقف تھے۔ اللہ پر توکل ان کا زاد سفر تھا۔ تفہیم کی غیر معمولی صلاحیت پائی تھی۔ رسوخ فی العلم اور تفقہ فی الدین کی دولت ان کو نصیب ہوئی تھی جس سے ان کے لیے نئے زمانے میں نئے حالات کے مطابق دین کی ترجمانی کا مشکل کام آسان ہو گیا۔ اجتماعیت ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ وہ اختلاف رائے کو نہ صرف انگیز کرتے تھے بلکہ اسے پسند بھی فرماتے تھے۔ ع
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
بہرحال ایک نعمت تھی جو اٹھا لی گئی اور ایک تحفہ تھا جسے ہم نے کھو دیا مگر قاضی صاحب دنیا کی آلائشوں اور غم وآلام سے آزاد ہو کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ اللہ کی کریم ذات سے دعا بھی ہے اور امید بھی کہ ربانی دسترخوان پر ان کے لیے نعمتیں چنی گئی ہوں گی اور ملت کی کشتی کا کھیوان ہار اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوگا یعنی ان کا رب ان سے راضی ہو گیا ہوگا۔
ملت کو ایک بار پھر آزمائش کی گھڑی کا سامنا ہے اور قاضی صاحب کی روح علما سے پوچھ رہی ہے:
کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
(بہ شکریہ ’تعمیر حیات‘ لکھنو)
آہ! حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ
حافظ مہر محمد میانوالوی
ابھی حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری مہاجر مدنی ؒ کا صدمہ وفات قلب حسرت ناک سے جدا نہیں ہوا تھا کہ شہید امارت اسلامیہ افغانستان اور انقلاب طالبان کے عظیم مربی اور محسن حضرت مولانا مفتی رشید احمد بھی داغ مفارقت دے کر مولائے حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
دنیا مسافر خانہ اور موت کی گاڑی کا پلیٹ فارم ہے۔ یہاں لاکھوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے مگر کچھ ہستیاں اس سرائے کو نیکیوں کو چمنستان بنا کر یادگار چھوڑ جاتی ہیں۔ بلاشبہ حضرت مفتی صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن باطل شکن تھے۔ بیک وقت مدرس، مفتی، محدث، مصلح، مجاہد، مدبر حق گو، بدعات شکن، شیخ ومرشد، قائد جہادی تنظیمات، حاتم غربا ومساکین اور انقلاب افغانستان کے سب سے بڑے سرپرست ، محافظ ومعاون تھے۔ ضرب مومن کے اجرا سے آپ نے دینی صحافت اور اصلاح عوام کی بے نظیر مثال پیش کی اور لاکھوں گم گشتگان کو راہ راست پر لائے۔ حجرۂ تنہائی میں بیٹھ کر نشتر پارک جیسے جلسوں میں لاکھوں کو زیارت کرائے بغیر ایسا جامع عقیدت پلایا اور شریعت محمدیہ کا پابند بنایا کہ بڑے بڑے اولیاء کرام کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ۵۰ ہزار فتوے جاری کرنے اور ۶۰ کتابیں تصنیف فرمانے کے ساتھ آپ یقیناًولی کامل بھی تھے کہ ناظم آباد کی ایک چھوٹی سی قدیم مسجد اور معمولی مکان میں پوشیدہ رہ کر، مختلف شہروں اور ملکوں کے دورے کیے بغیرکروڑوں افراد سے اپنی عقیدت کا لوہا منوا لیا۔ لاکھوں گنہ گاروں کو تائب، نیکیوں کا متلاشی، شریعت وسنت اور ڈاڑھی اور پردے کا پابند بنایا۔ آپ کے اشاروں پر ہی نہیں، دعاؤں سے بھی مخیر حضرات کروڑوں کا سامان افغانستان کے یتامیٰ، مجاہدین اور طالبان کے لیے ٹرکوں اور ٹرالوں پر لے جاتے رہے۔
مدرسہ قاسم العلوم اکوال تلہ گنگ کے مفتی مولانا الطاف الرحمن فاضل مدینہ یونیورسٹی کے والد محمد قاسم صاحب نے آپ کی کرامت کے طور پر مجھے بتایا کہ میں ۷۸ء میں اپنے بیٹے کو دار الافتا میں داخل کرانا چاہتا تھا مگر شرائط پوری نہ تھیں۔ یہ ورد پڑھتے ہوئے کراچی گیا کہ یا الٰہی کرم کر، سخت دل نرم کر۔ مفتی صاحب نے مولانا کو داخل کر کے فرمایا کہ آپ کے والد کی وجہ سے کر رہا ہوں۔ پھر والد صاحب سے فرمایا کہ مسلمان سخت دل نہیں ہوتا، مضبوط دل والا ہوتا ہے۔ یعنی ان کی قلبی کیفیت بطور کشف وکرامت اللہ نے معلوم کرا دی۔
احقر کا مفتی صاحب سے تلمذ برائے ہے۔ ۱۳۸۶ھ میں دورۂ حدیث شریف پڑھ کر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے فارغ ہوا تو روحانی اصلاح کے لیے حضرت مولانا تھانوی رحمہ اللہ اور مولانا فضل الٰہی قریشی مسکین پوریؒ کے خلیفہ یادگار سلف حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی شجاع آبادی نور اللہ مرقدہ (وفات ۱۳۹۷ھ)سے بیعت کا تعلق قائم کیا اور رمضان وشعبان میں دورۂ تفسیر بھی پڑھا۔ وہاں ایک طالب علم نے مفتی صاحب کے دار الافتا کا تعارف کرایا تو احقر نے بذریعہ خط آپ سے رابطہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ۷ شوال تک پہنچ جاؤ۔ میں خوش ہو کر گھر عید کے لیے تھمے والی ضلع میانوالی آیا۔ کراچی کا پہلا سفر تھا۔ والد مرحوم کی علالت اور کچھ اپنی سستی کی وجہ سے تین دن کی تاخیر سے ۱۰ شوال کی شام کو کراچی پہنچا۔ عشا کی نماز حضرت مفتی صاحب کے پیچھے اداکی۔ حضرت مفتی صاحب اصول کے بڑے پابند تھے۔ فرمایا تین دن لیٹ آئے ہو، داخلہ بند ہے۔ ہاں اگر کوئی ۷۵ روپے ماہانہ کے لحاظ سے تمہارا سال کا وظیفہ ادا کرنے پر راضی ہو تو گنجائش نکل آئے گی ورنہ بنوری ٹاؤن میں تخصص فی علوم الحدیث میں داخلہ لے لو۔ میرے مقدر میں آپ کی صحبت سے محرومی اور وارثان علامہ انور شاہ کشمیری حضرت علامہ محمد یوسف بنوری اور مولانا محمد ادریس بھٹی مدیر مسؤل بینات سے تلمذ کی سعادت لکھی تھی۔ انہی دنوں میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے ہر ماہ پڑھانے آیا کرتے تھے۔ وہاں داخلہ مل گیا۔ کبھی کبھی مفتی صاحب کی زیارت بھی ہو جاتی۔ پھر احقر کا سلسلہ تدریس وملازمت پنجاب میں ہی رہا۔
رمضان ۱۴۲۱ھ میں کراچی کے سفر کے موقع پر مفتی رشید احمد صاحبؒ کی زیارت کے لیے ناظم آباد گیا۔ عشا کی نماز میں آپ سے ملاقات ہوئی۔ انتہائی بارعب لباس اور بزرگانہ شان وشوکت حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ کی وضع قطع معلوم ہوئی۔ بالاخانہ پر بلایا۔ میں نے دل لگی سے اپنا تاثر سنا دیا۔ مسکرائے۔ میں نے ناکام طالب علمی کا حوالہ دیا تو اور خوش ہوئے اور فرمایا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ آپ کے مدح صحابہؓ اور رد رفض کے موضوع پر تصانیف سے واقف ہوں۔ دعا بھی دی۔ اپنی علمی وروحانی ضوفشانی سے احقر کو منور وسیراب فرماتے رہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امارت اسلامیہ افغانستان کی شہادت کا غم لے کر جانے والے مفتی صاحب کو غریق رحمت فرمائے اور ان کی تمام دینی خدمات کو قبول فرمائے۔
جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کا مکتوب گرامی
ڈاکٹر محمود احمد غازی
برادر مکرم ومحترم جناب مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپریل ۲۰۰۲ء کا ماہنامہ ’الشریعہ‘ آپ کے دیرینہ لطف وکرم سے موصول ہوا۔ میں روز اول ہی سے اس رسالے کا باقاعدہ قاری ہوں۔ آپ کی تحریروں اور مضامین میں جو اعتدال اور توازن ہوتا ہے، وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کی تحریریں ملک میں ایک متوازن اور معتدل مذہبی رویے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔
زیر نظر شمارے میں اپنی ایک تحریر دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ حیرت اس لیے کہ اس عنوان سے کوئی مضمون لکھنا یاد نہیں تھا اس لیے ابتداءً خیال ہوا کہ شاید یا تو غلطی سے میرا نام چھپ گیا ہے یا یہ میرے کسی ہم نام کی تحریر ہے لیکن جب اصل مضمون پڑھا تو اندازہ ہوا کہ عنوان آپ کا اور معنون اس ناچیز کا ۔ غالباً آپ نے میرا وہ لیکچر ملاحظہ فرمایا ہوگا جس سے یہ اقتباس لے کر شائع کیا گیا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ آپ اور آپ جیسے دوسرے علماء کرام اس پورے لیکچر کو بالاستیعاب مطالعہ فرمائیں۔ آپ کے عطا کردہ اس عنوان سے خیال ہوتا ہے کہ شاید میری کتاب ’خطبات بہاول پور‘ آپ کے لیے دل چسپی کا موضوع ہوگی۔ پتہ نہیں آپ کویہ کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا یا نہیں۔
علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ کے مابین فکری مماثلتوں کے موضوع پر پروفیسر محمد یونس میو کا مضمون اچھا ہے لیکن بہت مختصر۔ شاید ان کو یہ تجویز کرنا موزوں ہو کہ مولانا رومیؒ کے افکار اور پیغام کے بارے میں علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ کے نظریات وخیالات کا تقابلی مطالعہ نہ صرف دل چسپ ہوگا بلکہ دونوں اکابر کے نقطہ نظر میں حیرت انگیز مماثلتیں بھی اس کے ذریعے سامنے آئیں گی۔ میری طرف سے پروفیسر محمد یونس صاحب کو مبارک باد پیش کر دیں۔
والسلام
نیاز مند
ڈاکٹر محمود احمد غازی