امریکی ایوان نمائندگان نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دستور پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی شق اور توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون ختم کیا جائے۔ یہ مطالبہ ایک قرارداد کی صورت میں کیا گیا ہے جو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورۂ امریکہ کے موقع پر امریکی ایوان نمائندگان نے منظور کی اور قرارداد کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کے اہتمام کے لیے اسے متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
امریکہ کا یہ مطالبہ نیا نہیں بلکہ کافی عرصہ سے چلا آ رہا ہے۔ ۱۹۸۷ء میں امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کی امداد کی بحالی کے لیے جو چند شرائط عائد کی تھیں‘ ان میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ایک معاصر میں ۵ مئی ۱۹۸۷ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹ نے یہ طے کیا تھا کہ امریکی صدر ہر سال پاکستان کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کیا کریں گے جس میں توثیق کی جائے گی کہ حکومت پاکستان ان شرائط کی پابندی کر رہی ہے تو اس کے بعد امداد کی سالانہ قسط پاکستان کے سپرد کی جائے گی۔ ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ’’حکومت پاکستان اقلیتی گروہوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں۔‘‘
اس کے بعد سے نہ صرف امریکہ بلکہ دیگر مغربی حکومتیں اور ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت بہت سے عالمی ادارے پاکستان کو مسلسل یاد دہانی کراتے آ رہے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور اسلام کے نام پر سرگرمیاں جاری رکھنے کی ممانعت سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کرے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی حالیہ قرارداد میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ’’بین الاقوامی چارٹر‘‘ کی شق ۱۸ کا بھی حوالہ دیا گیا جس کی رو سے قادیانیوں کے خلاف پاکستان میں نافذ شدہ قوانین بادی النظر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار پاتے ہیں۔ بعد میں جب توہین رسالت کے بعض واقعات پر پاکستان کی مختلف عدالتوں میں مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون بھی بین الاقوامی تنقید کا ہدف بن گیا اور یہ مطالبہ عالمی سطح پر ہونے لگا کہ توہین رسالت کو ان سنگین جرائم میں شامل نہ کیا جائے جن پر موت کی سزا دی جاتی ہے چنانچہ امریکی ایوان نمائندگان کی حالیہ قرارداد بھی اسی پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ جہاں تک امریکہ ودیگر مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے مطالبات کا تعلق ہے تو ان کی بنیاد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر ہے جس کی دفعات ۱۸ اور ۱۹ حسب ذیل ہیں:
’’دفعہ ۱۸: ہر شخص کو آزادی خیال‘ آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں اپنا مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنے اور انفرادی اور اجتماعی طور پر‘ علیحدگی میں یا سب کے سامنے اپنے مذہب یا عقیدے کی تعلیم‘ اس پر عمل‘ اس کے مطابق عبادت کرنے اور اس کی پابندی کرنے کی آزادی شامل ہے۔
دفعہ ۱۹ : ہر شخص کو آزادی رائے اور آزادی اظہار کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں بلا مداخلت رائے رکھنے کی آزادی اور بلالحاظ علاقائی حدود کسی بھی ذریعے سے اطلاعات اور نظریات تلاش کرنے‘ حاصل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کا حق شامل ہے۔‘‘
مغربی ممالک اور اداروں کا موقف یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی یہ شقیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے اس منشور پر دستخط کر کے اس کی پابندی کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین ان شقوں میں بیان کردہ آزادیوں اور حقوق کے منافی ہیں اس لیے پاکستان کو اپنے حلف اور دستخط کے مطابق ان قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور انہیں بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ دوسری طرف پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اس ملک کا قیام اسلامی تشخص کے حوالے سے وجود میں آیا ہے۔ اسلام پاکستان کے لیے صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ریاست کی وجہِ قیام اور دستوری بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی احکام وقوانین کی اساس بین الاقوامی قوانین پر نہیں بلکہ قرآن وسنت پر ہے اور قرآن وسنت اور اجماع امت کی رو سے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے اور انہیں ملت اسلامیہ کے حصے کے طور پر قبول کرنے کی کسی درجہ میں کوئی گنجائش نہیں اس لیے انہیں پاکستان کے دستور اور قانون کی رو سے مسلمان تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح توہین رسالت پر موت کی سزا اسلام کے احکام میں سے ہے جس پر قرآن وسنت کی صریح تعلیمات کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا چودہ سو سالہ اجماعی تعامل موجود ہے اس لیے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے قرآن وسنت اور اجماع امت کے صریح احکام سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور انہیں ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ملک میں قبول کرنے کا موقف دراصل علماء کرام اور دینی حلقوں کا نہیں تھا اور وہ اس سلسلے میں خلیفہ اول حضرت صدیق اکبرؓ کے اسوہ کا حوالہ دیتے رہے ہیں جنہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد نبوت کے تین دعوے داروں مسیلمہ کذاب‘ سجاح اور طلیحہ کے خلاف باقاعدہ فوج کشی کر کے ان کا استیصال کیا تھا لیکن مفکر پاکستان علامہ سر محمد اقبالؒ نے ایک درمیان کی راہ نکالی کہ قادیانیوں کو نئے نبی کے پیروکار کی حیثیت سے مسلمانوں سے الگ نئی امت تسلیم کر لیا جائے اور غیر مسلم اقلیت کے طور پر مسلم معاشرے میں انہیں برداشت کر لیا جائے چنانچہ علماء کرام اور دینی حلقے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ کر علامہ اقبالؒ کے موقف پر آ گئے لیکن قادیانیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور ایک نئے مدعی نبوت کے پیروکار ہونے کے باوجود خود کو مسلمانوں میں شامل رکھنے پر بے جا اصرار کیا جس پر مسلمانوں نے باقاعدہ تحریک چلائی اور ۱۹۷۴ء میں ملک کی منتخب قومی اسمبلی نے ایک دستوری ترمیم کے ذریعے سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جس کے بعد بھی قادیانیوں کا اپنے سابقہ موقف پر اصرار جاری رہا اور انہوں نے پارلیمنٹ کا متفقہ فیصلہ قبول کرنے کے بجائے دستور سے انحراف کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام کے نام پر اپنے نئے مذہب کی تبلیغ اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات وشعائر مثلاً مسجد‘ کلمہ طیبہ‘ نماز وغیرہ کا استعمال مسلسل جاری رکھا۔ اس پر ۱۹۸۴ء میں تمام مکاتب فکر کی مشترکہ دینی تحریک کے نتیجے میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے ایک آرڈی نینس کے ذریعے سے قادیانیوں پر پابندی لگا دی کہ وہ اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات وشعائر استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے اشتباہ پیدا ہوتا اور مسلمانوں کا دینی تشخص مجروح ہوتا ہے۔بعد میں ۱۹۸۵ء میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے بھی اس آرڈی نینس کی توثیق کر دی۔
اسی طرح توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین بھی منتخب پارلیمنٹ نے پاس کیے اور پاکستان کے عوام نے ان کے حق میں ملک گیر کام یاب ہڑتال کر کے یہ فیصلہ دیا کہ یہ قوانین صرف مذہبی حلقوں کا مطالبہ نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کے دل کی آواز ہیں اس لیے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے‘ انہیں اسلام کا نام اور مسلمانوں کے شعائر وعلامات کے استعمال سے روکنے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین پاکستانی باشندوں کے عوامی فیصلے کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اور ادارے ان پر نظر ثانی کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عزیز احمد خان نے ایک بریفنگ میں واضح کر دیا ہے کہ یہ دونوں قوانین منتخب پارلیمنٹ کے طے کردہ ہیں اور حکومت پاکستان ان پر نظر ثانی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی لیکن ہمارے نزدیک صرف اتنی بات کافی نہیں ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اسلامی احکام کے باہمی ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے اس کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ محنت کی ضرورت ہے جس میں ملک کے دینی حلقوں اور حکومت دونوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے خیال میں اس مرحلے پر مندرجہ ذیل نکات کو منطق‘ استدلال اور معقولیت کے ساتھ عالمی رائے عامہ کے سامنے واضح کرنا ضروری ہے:
اپنے اسلامی تشخص سے دست بردار ہونا پاکستان کے لیے ممکن نہیں ہے اور اسلامی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کو من وعن قبول کرنا بھی اس کے لیے ممکن نہیں ہے اور یہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دوسرے مسلم ممالک کا مسئلہ بھی ہے اس لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی متنازع شقوں پر نظر ثانی ناگزیر ہو چکی ہے اور اس کے لیے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان علمی سطح پر سنجیدہ مذاکرات ہونے چاہییں۔
جن قوانین کی تبدیلی کا امریکی ایوان نمائندگان نے مطالبہ کیا ہے‘ وہ مخصوص مذہبی حلقوں کا مطالبہ نہیں بلکہ منتخب پارلیمنٹ کے فیصلے اور عوام کی غالب اکثریت کے دل کی آواز ہیں اس لیے انہیں تبدیل کرنا جمہوری اصولوں کی نفی ہے۔
پاکستان کے لیے اسلام دستوری بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے پاکستان میں اسلام کے خلاف بات کرنا یا اس کے کسی مسلمہ اصول کی نفی کرنا اسی طرح ہے جیسے امریکہ یا کسی اور ملک میں دستور کو چیلنج کرنا۔ اس لیے مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار دینے والے مغربی ممالک پاکستان کو خود پر قیاس نہ کریں اور اسے بھی اپنے دستور اور نظریاتی تشخص کے تحفظ کا اسی طرح حق دیں جس طرح انہوں نے خود اپنے ریاستی ڈھانچوں اور دستور کے تحفظ اور پاسداری کے لیے قوانین بنا رکھے ہیں۔
مفتی اعظم سعودی عرب کا خطبہ حج
ادارہ
(اس سال ۲۰ لاکھ کے لگ بھگ خوش نصیب مسلمانوں نے سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ کی امامت میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور امیر حج موصوف نے اپنے خطبہ حج میں عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ملت اسلامیہ کی راہ نمائی کے لیے انتہائی درد دل کے ساتھ بہت سی مفید باتیں ارشاد فرمائیں۔ ہمارے نزدیک یہ خطبہ مسلم حکمرانوں کی تنظیم او آئی سی کے باقاعدہ ریکارڈ اور ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے اور عالم اسلام کے حکمرانوں اور دیگر تمام طبقات کو ان پر سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔ روزنامہ نوائے وقت کے شکریے کے ساتھ اس خطبے کا اردو خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز آل شیخ نے امریکہ میں ۱۱ ستمبر کے حملوں کے بعد مغرب کی جانب سے اسلام کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کر دینا انتہائی بے انصافی ہے۔ یہاں مسجد نمرہ میں ۲۰ لاکھ سے زائد حجاج کرام کے سامنے خطبہ حج میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی‘ نا انصافی اور ظلم کے برابر ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کو ایسے عظیم مذہب کے ساتھ کیسے منسلک کیا جا سکتا ہے جو انسانی زندگی کابہت زیادہ احترام کرتا ہے اور جنگ کے بجائے امن کو فروغ دیتا ہے۔ اسلام بچوں‘ عورتوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل سے سختی سے روکتا ہے۔ یہ معاہدوں اور سمجھوتوں کا احترام کرتا ہے اور ہر وقت حقوق کی پاس داری کرتا ہے۔ انہوں نے دنیا کے 1.3ارب مسلمانوں سے کہا کہ وہ اپنے مذہب اسلام پر سختی سے کاربند رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان دنوں اسلامی ممالک میں اہم واقعات رونما ہو رہے ہیں جو ہمیں غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مذہب کے دفاع کے لیے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے اسلام کے دشمنوں کی جانب سے پیدا کیے گئے حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تہذیب نے انسانوں میں تفریق پیدا کی ہے اور انسانوں کو تباہی والے ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات نہ کریں جس سے ان پر کوئی الزام آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ ہمارے گناہوں کی شامت کے باعث ہے۔ کمزور عقائد‘ مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑے اس کا سبب ہیں۔ پھر ہم ہر چیز کا الزام اپنے دشمنوں پر کیوں عائد کریں؟ انہوں نے کہا کہ مسلمان غیروں پر بھروسہ نہ کریں۔ اللہ نے ہمیں مادی نعمتیں عطا کی ہیں جن سے ہم معاشی خود کفالت حاصل کر سکتے ہیں اس لیے مسلمان غیروں کے پنجے سے معاشی آزادی حاصل کریں۔
عبد العزیز آل شیخ نے کہا کہ اسلام ایک دوسرے کی خیر خواہی کا دین ہے۔ اسلام عفو ودرگزر کا دین ہے۔ اسلام وہ دین ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ اسلام کا مقصد دنیا سے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ہے۔ اسلام دین عدل ہے۔ دنیا کے اندر عدل کی حکمرانی‘ انصاف کی حکمرانی یہ اس دین کا مرکزی نکتہ ہے اور یہ دین اسی لیے بھیجا گیا ہے کہ دنیا کے اندر عدل وانصاف کوجاری کیا جائے۔ دین اسلام احترام آدمیت کا اور احترام انسانیت کا دین ہے۔ اسلام کے اندر ایک انسانی جان کی اتنی قیمت ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی شخص کو بلاجواز قتل کر دیا تو قرآن حکیم کی رو سے اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔ قران پاک میں آیا ہے کہ ’’جس نے بلا سبب معصوم انسان کو قتل کیا تو اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔‘‘ اسلام دنیا کے ہر خطے میں ہونے والے ظلم کی مذمت کرتا ہے۔ یہ ظلم چاہے بے قصور مسلمانوں کے ساتھ ہو یا ان مسلمانوں کے ساتھ جن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں‘ چاہے یہ ظلم فلسطین کے ان مسلمانوں کے ساتھ ہو جو اس وقت زیادتی اور ظلم کا شکار ہیں۔ تو دین اسلام ظاہر ہے کہ ان سارے مظلوموں کی مدافعت کرتا ہے اور ظلم کرنے والوں کی ہر حال میں مذمت کرتا ہے چاہے کچھ لوگ ان کے مظالم سے کتنی ہی چشم پوشی کریں۔ دین اسلام کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی اختیار کرنے کا سبق دیا جائے اور انسانوں کو انسانوں کے ظلم سے نکال کر اسلام کا سایہ انہیں فراہم کیا جائے۔ اسلام وہ دین ہے کہ جو ہر قسم کے علاقائی‘ نسلی تعصبات اور رنگ کے تعصبات کا قلع قمع کرتا ہے‘ انہیں ختم کرتا ہے اور پوری انسانیت کو مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسلام نے جو کچھ انسانیت کو دیا ہے‘ انسانیت اس پر فخر کر سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ لوگ جنہوں نے انسانیت کو تباہ کرنے والا اسلحہ بنایا ہے اور جنہوں نے ایسے ایسے ہتھیار ایجاد کیے ہیں کہ جو آج انسان کے لیے بہت بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں اور مستقبل میں ان ہتھیاروں کی وجہ سے پوری انسانیت تباہی کی زد پر ہے۔ یہ اسلحہ انسانیت کو تباہ کرنے کے لیے اور ختم کر دینے کے لیے اور انسانیت کو‘ اس کی تکریم اور اس کی عزت کو پامال کرنے اور انسان کے حقوق کو ختم کرنے کے لیے یہ اسلحہ ایک بہت بڑی علامت ہے اور بہت بڑا خطرہ ہے۔
آج مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے۔ دنیا کے اندر جغرافیائی لحاظ سے بہترین خطے میں ہر قسم کی نعمتیں اور طاقت کے ذرائع انہیں عطا کیے ہیں۔ یہ سب ان کے پاس ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان گروہ بندیوں کا شکار ہیں۔ مسلمان آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہیں۔ مسلمانوں کا ایک دوسر ے پر اعتماد نہیں ہے۔ مسلمانوں کے دلوں کے اندر بزدلی گھر کر چکی ہے اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی وجہ سے آج وہ طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں ۔ آج میری اپیل ہر مسلمان سے ہے اور میں ہر مسلمان کو بڑے خیرخواہانہ جذبے سے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے فرض کو پہچانے ۔ اگر ہر مسلمان اپنے فرض کو پہچان لے اور اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو جائے اور اس بات کا عہد کر لے کہ وہ خود اچھا مسلمان بنے گا اور جو لوگ اس کے تحت ہیں‘ ان کی وہ اچھی تربیت کرے گا‘ ان کا وہ خیال کرے گا‘ سرکار رسالت مآب ﷺ کی اس حدیث کے مطابق کہ ’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اپنی رعیت کے بارے میں‘‘ تو اگر مسلمان اپنی ان ذمہ داریوں کو محسوس کر لیں اور ہر مسلمان دوسروں کی فکر کرنے کے بجائے اپنی اپنی فکراور اپنے خاندان ‘ اپنی رعیت جو لوگ اس کے تحت ہیں‘ ان کی فکر کرے تو ا س سے ایک بہت بڑی اصلاح کی صورت اور بہت بڑی تبدیلی ہم اپنے معاشروں میں پیدا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح مسلمانوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے دین کی دعوت کو عصری زبان میں‘ اس زبان میں جو آج انسان سمجھتے ہیں‘ نہایت آسان پیرایے میں اس دین کی دعوت کو پیش کرے ۔ وہ لوگ جو اس دین میں داخل نہیں ہیں یا مسلمان نہیں ہیں‘ ان تک ہمیں اس دین کی دعوت کو اپنے عمل کے ذریعے سے اور آسان زبان کے ساتھ حکمت کے ساتھ جیسا کہ حکم دیا گیا ہے کہ ’’اپنے رب کے راستے کی طرف اچھی نصیحت اور حکمت کے ساتھ دعوت دو‘‘ یہ فریضہ ہمیں ادا کرنا چاہیے۔ مسلمان حکمت کے ساتھ آسان دعوت پیش کریں اور اپنے عمل سے اس کا نمونہ انسانوں کے سامنے رکھیں۔ اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ لوگ اس دین کی طرف متوجہ نہ ہوں۔
آج اس دین کے دشمن یہ چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی نئی نسل کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیں۔ آج غیر مسلم میڈیا اور مسلمانوں کے دشمن ہر طریقے سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی نئی نسل طرح طرح کی برائیوں میں پڑ جائے‘ انہیں شراب کی لت لگ جائے اور وہ رقص وسرود میں مبتلا ہو جائیں اور اس طرح سے ان کی جو تخلیقی صلاحیتیں ہیں اور عملی صلاحیتیں ہیں یا وہ صلاحیتیں کہ جن کے ذریعے سے وہ اس امت کو عروج کی طرف اور ترقی کی طرف لے جا سکتے ہیں‘ ان صلاحیتوں پر وار کیاجائے‘ ان کی ان صلاحیتوں کو ختم کر دیا جائے۔ دشمن کی یہ چال ہے کہ وہ امت مسلمہ کی نئی نسل کو بے عمل بنا دے‘ امت مسلمہ کی نئی نسل کو غفلت کے اندر مبتلا کر دے۔ اس سلسلے میں تمام ذمہ داران کو آگاہ ہونا چاہیے اور اپنی نئی نسل کی تربیت اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔
مسلمان امت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اقتصادی معاملات کے اندر‘ اپنی معیشت میں خود کفیل ہوں۔ اس طرح کے پروگرام اور اس طرح کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان اپنے معاملات کے اندر خود کفیل ہوں‘ بالخصوص اپنی معیشت کے معاملے میں وہ دوسروں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ اس طرح کے اقدامات کیے جائیں کہ مسلمان استعمار اور غیروں سے نجات حاصل کریں‘ خاص طور پر اپنی معیشت کے معاملات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں اور اتنے معیاری مادی وسائل عطا کیے ہیں کہ اس حکمت عملی کو آسانی سے اختیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ معاشی خود کفالت حاصل کریں اور غیروں کے پنجے سے اور ان کے قبضہ سے آزادی حاصل کریں۔ اسی طرح سے مسلمانوں پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ عناصر جو کہ اس امت کے درمیان فرقہ بندی اور اسے گروہوں میں تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں‘ ان کے سلسلے میں بھی انہیں چاہیے کہ وہ چوکنا رہیں۔
علماء دیوبند اور سرسید احمد خان ۔ چند تاریخی غلط فہمیوں کا جائزہ
مولانا محمد عیسی منصوری
روزنامہ جنگ لندن میں مانچسٹر کے جناب غلام ربانی صاحب اپنے ایک مضمون بعنوان ’’ہم نے فرقہ پرستی کا سانڈ پال لیا‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں میں سے اس قوم کے بہی خواہ سرسید احمد خان اٹھے اور انہوں نے اس قوم کو پستی سے نکالنے کی خاطر علی گڑھ یونیورسٹی قائم کی تاکہ مسلمان اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ دل خراش حقیقت ہے کہ دیوبند فرقہ والوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے عین مقابل ایک مدرسہ کھول کر سرسید احمد خان کی مخالفت کرنا شروع کر دی اور اس کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کر کے اس کو نیچری کہنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کے لیے انگریزی تعلیم حاصل کرنا ناجائز قرار دے دیا۔‘‘
اس پیراگراف میں جناب غلام ربانی صاحب نے چند بے بنیاد باتیں علماء دیوبند کی طرف منسوب کر کے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے:
ایک یہ کہ دیوبند والوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے عین مقابل اپنا مدرسہ کھول کر سرسید کی مخالفت کی۔
دوسری یہ کہ انہوں نے سرسید کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کیا۔
تیسری یہ کہ انہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کو ناجائز قرار دیا۔
غلام ربانی صاحب کے یہ تینوں دعوے بالکل بے بنیاد‘ گمراہ کن اور سراسر غلط ہیں۔ یہ غلط فہمیاں عوام تو عوام‘ خواص تک کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ آئیے تاریخی حقائق کی روشنی میں ان تینوں دعووں کا جائزہ لیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مدرسہ دیوبند علی گڑھ یونیورسٹی کے عین مقابل نہیں بلکہ تین سو میل دور ایک چھوٹے سے قصبے میں قائم کیا گیا اور اس کا قیام مسلمانوں کی دینی تعلیم کے پیش نظر عمل میں لایا گیا تھا۔ علی گڑھ یونیورسٹی اور دار العلوم دیوبند کے قیام کا پس منظر یہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کے غدر یا جنگ آزادی کے ناکام ہونے کے بعد ‘ جو اصلاً مسلمانوں کی طرف سے آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں مسلمانوں کا اقتدار بحال کرنے کی کوشش کی تھی‘ پورے ہندوستان پر انگریز کا اقتدار مستحکم ہو گیا۔ چونکہ انگریز نے برصغیر کی حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور مسلمان ہی انگریز کے خلاف برسرپیکار تھے‘ اس لیے اس نے مسلمانوں خصوصاً علما کو مظالم کا نشانہ بنایا۔ غدر میں بے شمار علما قتل کیے گئے یا ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ انگریز نے اپنی پالیسی کی بنیاد ہندوؤں کو نوازنے اور مسلمانوں کو کمزور اور تباہ کرنے پر رکھی۔ تمام اسلامی اوقاف کو ضبط اور دینی تعلیم کے مدارس کو بند کر کے علما کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا۔ دوسری طرف سرکاری ملازمتوں کے دروازے مسلمانوں پر بند کر کے ان کی معاشی حالت بالکل تباہ کر دی۔ فارسی کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان قرار دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ عیسائی مشنریاں برصغیر کو ایک عیسائی ملک بنانے کے لیے کوشاں ہو گئیں۔ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ ہندوستان دوسرا اسپین نہ بن جائے جہاں کوئی نماز پڑھانے والا نہ ملے اور مادی ومعاشی امتیاز سے مسلمان بالکل ختم ہو کر رہ جائیں۔ غرض ۱۸۵۷ء کے غدر کے بعد برصغیر میں مسلمانوں اور اسلام کے وجود کو حقیقی خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔
ان حالات میں ملت کے درد مندوں نے مسلمانوں کے دین ودنیا کے تحفظ وبقا کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار اختیار کیے تاکہ مسلمان مادی ترقی‘ سرکاری ملازمتوں‘ جدید علوم اور قومی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ اس کے لیے سرسید احمد خان نے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی۔ جبکہ دینی علوم اور اسلامی تمدن وکلچر کے تحفظ اور مسلمانوں کا رشتہ اسلام سے باقی رکھنے کے لیے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی زیر سرپرستی دیوبند کا مدرسہ قائم کیا گیا۔ یہ دونوں بزرگ ایک ہی استاد حضرت مولانا مملوک علی صاحب (جو حضرت شاہ ولی اللہؒ کے خاندان کے آخری علمی وارث تھے) کے شاگرد تھے۔ یہ دونوں ادارے ۱۸۵۷ء کے غدر یا جنگ آزادی کے چند سال بعد قائم ہوئے البتہ دونوں کی پالیسی اور طریقہ کار مختلف تھا۔ ایک کا مقصد مسلمانوں کے دنیوی تنزل کو روکنا تھا تو دوسرے کا ان کے دینی علوم وکلچر کا تحفظ کرنا۔ الحمد للہ اب برصغیر میں بہت سے دینی ادارے قائم ہو گئے ہیں مگر شروع میں تقریباً نصف صدی تک مدرسہ دیوبند ہی صحیح معنوں میں ایک اسلامی جامعہ کہلانے کا مستحق تھا۔
ان دونوں اداروں کے بانی بزرگوں میں باہم کوئی دشمنی یا عناد نہ تھااور دونوں کو مسلمانوں ہی کا مفاد عزیز تھا اور اپنے اپنے کام میں دونوں مخلص تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر سرسید احمد خان نے اپنے رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں نہایت غم کے ساتھ طویل مضمون لکھا جو کہ انتہائی درمندانہ تھا۔ اس کی آخری چند سطور ملاحظہ ہوں:
’’اس زمانہ میں سب لوگ تسلیم کرتے ہوں گے کہ مولوی محمد قاسم اس دنیا میں بے مثل تھے۔ ان کا پایہ اس زمانہ میں شاید معلوماتی علم میں شاہ عبد العزیز سے کچھ کم ہو‘ الا اور تمام باتوں میں ان سے بڑھ کر تھا۔ مسکینی‘ نیکی اور سادہ مزاجی میں ان کا پایہ مولوی محمد اسحاق (شاہ عبد العزیز کے نواسے) سے بڑھ کر نہ تھا تو کم بھی نہ تھا۔ وہ درحقیقت فرشتہ سیرت اور ملکوتی خصلت کے شخص تھے اور ایسے آدمی کے وجود سے زمانہ کا خالی ہو جانا ان بزرگوں کے لیے جو ان کے بعد زندہ ہیں‘ نہایت رنج اور افسوس کا باعث ہے۔ دیوبند کا مدرسہ ان کی ایک عمدہ یادگار ہے اور سب لوگوں کا فرض ہے کہ ایسی کوشش کریں کہ وہ مدرسہ ہمیشہ قائم اور مستقل رہے اور اس کے ذریعے سے تمام قوم کے دل پر ان کی یادگاری کا نقش جما رہے۔‘‘ (رود کوثر‘ صفحہ ۳۶۸)
بانی دار العلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے انتقال پر سرسید کی یہ تحریر اس غلط فہمی کی تردید کے لیے کافی ہے کہ دیوبند کا مدرسہ سرسید کی مخالفت کے لیے قائم ہوا تھا۔ یہی نہیں بلکہ سرسید نے علی گڑھ یونیورسٹی کا شعبہ دینیات حضرت مولانا محمد قاسمؒ کے داماد مولانا عبد اللہ صاحب کے سپرد کیا اور اب تک ہر دور میں علی گڑھ یونیورسٹی کا شعبہ دینیات علماء دیوبند ہی کے سپرد رہا ہے۔ دار العلوم دیوبند کے پہلے صدر مدرس مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ جو سرسید کے محبوب استاد مولانا مملوک علیؒ کے صاحب زادے تھے‘ سرسید کو حقیقی بھائی سے زیادہ عزیز تھے۔ ان تاریخی حقائق سے دیوبند اور علی گڑھ کے درمیان مخاصمت یا دشمنی کی داستان سراسر من گھڑت ثابت ہوتی ہے۔
اب آئیے غلام نبی صاحب کے دوسرے دعوے کی طرف کہ سرسید کے خلاف علماء دیوبند نے کفر کا فتویٰ دیاتھا۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو علماء کے خلاف پھیلائی گئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ علماء دیوبند نے کبھی سرسید پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ معروف اسکالر ومحقق شیخ محمد اکرام جو مولانا حالی کے بعد سرسید کے سب سے بڑے طرفدار اور مداح حامی اور وکیل سمجھے جاتے ہیں‘ لکھتے ہیں:
’’اس مخالفت کے متعلق عوام بلکہ خواص میں بھی کئی غلط فہمیاں رائج ہیں۔ اس بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی بہت عام ہے کہ علما نے سرسید کی مخالفت اس وجہ سے کی کہ وہ انگریزی تعلیم رائج کرنا چاہتے تھے۔ یہ خیال انتہائی غلط اور علماء اسلام کے ساتھ صریح بے انصافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرسید کے سب سے بڑے مخالف وہ حضرات تھے جنہوں نے نہ صرف برصغیر میں سرسید کی شدید مخالفت کا ہنگامہ کھڑا کیا بلکہ حرمین شریفین تک سے ان کے خلاف کفر کے فتوے حاصل کیے۔ ان میں ایک کانپور کے ڈپٹی کلکٹر امداد علی صاحب‘ دوسرے گورکھ پور عدالت کے سب جج مولوی علی بخش صاحب تھے۔ یہ دونوں بزرگ انگریز کے نہایت مقرب اور اس قدر وفادار تھے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ہندوستانیوں کے خلاف برملا انگریز کی وفاداری میں سینہ پر گولی تک کھائی۔ چنانچہ خواجہ الطاف حسین حالی نے سرسید کی سوانح حیات ’’حیات جاوید‘‘ میں تفصیل سے اس مسئلے پر بحث کی ہے۔ حالی ان دونوں حضرات کے متعلق لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں سرسید کی جس قدر مخالفتیں اطراف وجوانب سے ہوئیں‘ان کا منبع ان ہی دو صاحبان کی تحریریں ہیں۔ ‘‘
جہاں تک علما کی طرف سے انگریزی زبان سیکھنے کی مخالفت کا تعلق ہے تو یہ بھی ایک بالکل بے بنیاددعویٰ ہے۔ ابتدا میں حضرت شاہ ولی اللہؒ کے جانشین شاہ عبد العزیزؒ سے کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کے متعلق فتویٰ پوچھا گیا تو فرمایا: ’’انگریزی کالجوں میں پڑھو اور سیکھو۔ شرعاً ہر طرح سے جائز ہے۔‘‘ (اسباب بغاوت ہند‘ مصنفہ سرسید احمد خان) یا درہے کہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کو برصغیر کے تمام علماء (دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث) اپنا مقتدا وامام مانتے ہیں۔
دیوبندی جماعت کے سب سے بڑے مفتی اور عالم مولانا رشید احمد گنگوہی ہیں جو سرسید احمد خان کے معاصرین میں سے ہیں۔ ان کا فتویٰ فتاویٰ رشیدیہ میں آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’انگریزی زبان سیکھنا درست ہے بشرطیکہ کوئی معصیت کا مرتکب نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ آئے۔‘‘
اور مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے شاگرد وجانشین اور دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے ۱۹۲۰ء میں خود علی گڑھ میں جامعہ ملیہ کے تاسیسی خطبہ استقبالیہ میں فرمایا تھا:
’’آپ میں جو لوگ محقق اور باخبر ہیں‘ وہ جانتے ہوں گے کہ میرے بزرگوں نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم وفنون حاصل کر نے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔‘‘
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت کی دوسری مسلم یونیورسٹی جامعہ ملیہ کی تاسیس وبنیاد اسی دیوبند کے فرزند شیخ الہند کے ہاتھوں پڑی۔ الغرض علماء دیوبند نے کبھی انگریزی زبان سیکھنے یا مغربی علوم وفنون حاصل کرنے کی مخالفت نہیں کی البتہ انگریز پرستی‘ انگریز کی وفاداری‘ اسلامی احکام وتمدن کی جگہ مغربی افکار ومعاشرت اختیار کرنے کے خلاف ضرور نفرت کا اظہار کیا جس سے آج تک ہمیں مغرب کی ذہنی غلامی نے جکڑ رکھا ہے۔ اگر محترم غلام ربانی صاحب دیوبند کے کسی بزرگ کی طرف سے انگریزی زبان اور جدید سائنسی علوم سیکھنے کی مخالفت کی نشان دہی کر دیں تو ان کی ازحد نوازش ہوگی اور ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جن حضرات نے سرسید اور علی گڑھ کالج کی سخت مخالفت کی تھی‘ انہوں نے اپنے سخت سے سخت مضامین اور درشت سے درشت فتاویٰ میں کبھی یہ نہیں لکھا کہ انگریزی پڑھنا ناجائز یا کفر ہے بلکہ یہی لکھا کہ جس کے عقائد سرسید جیسے ہوں‘ وہ مسلمان نہیں اور جو مدرسہ ایسے عقائد والا قائم کرے‘ ا س کی اعانت جائز نہیں۔ شروع میں سب حضرات کو خطرہ تھا کہ سرسید اپنے کالج میں اپنے ان مخصوص مذہبی خیالات کی تبلیغ کریں گے جن کا اظہار وہ اپنی تفسیر‘ کتابوں‘ رسائل اور مضامین میں کر رہے ہیں مگر بعد میں جب دیکھا کہ سرسید نے ایسا نہیں کیا تو انہوں نے بھی مخالفت ختم کر دی۔
آئیے اس امر پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ ایک طبقہ نے سرسید احمد خان کی مخالفت کیوں کی تھی؟ ہندوستان پر انگریزکا اقتدار قائم ہو جانے کے بعد سرسید نے جو حکمت عملی پیش کی‘ وہ دو امور پر مشتمل تھی: ایک سیاسی اور دوسرے مذہبی۔ سیاسی یہ کہ ۱۸۵۷ء کے غدر یا جنگ آزادی میں سرسید اور علما دونوں نے حصہ لیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سرسید ایک فریق یعنی انگریز کے ساتھ تھے اور علما دوسرے فریق یعنی مجاہدین کے ساتھ۔ اس کے بعد سرسید نے اپنی کتاب ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ اور دوسری تصانیف میں انگریز کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو غدار‘ خساری اور غنڈہ وغیرہ کے القاب سے نوازا اور مسلمانوں کو ہمیشہ انگریز کے وفادار رہنے اور انگریزی تمدن ومعاشرت اختیار کرنے کی تلقین کی۔ سرسید کے سیاسی فلسفہ کی بنیاد انگریز کے ساتھ کامل وفاداری پر تھی۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو نہ صرف انگریزی تمدن ومعاشرت اختیار کر لینی چاہیے بلکہ اس پر فخر بھی کرنا چاہیے۔
سرسید کا مذہبی فلسفہ یہ تھا کہ قرآن وسنت کے احکام اور تعلیمات پر مغربی دانش وروں کے اعتراضات کو قبول کرتے ہوئے اسلام کی ایسی تشریح کی جائے جو مغرب کے لیے قابل قبول قرار پائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن کی جو تفسیر لکھی‘ اس میں حضرات انبیاء کے معجزات ‘ جنت اور جہنم اور جنات کا انکار کرتے ہوئے اسلامی احکام وقوانین کی عجیب وغریب تاویلیں کیں اور اس میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ کوئی مسلمان اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر سرسید احمد خان کے نزدیک وحی کے معنیٰ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل پیغام لے کر پیغمبر کے پاس آتے تھے بلکہ یہ اس طرح ہے کہ جیسے کسی پر جنون یا مرگی کے دورے کی کیفیت ہو اور اس میں وہ نارمل کیفیت سے ہٹ کر خاص قسم کی گفتگو کرے۔ وحی کے اس معنی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کلام الٰہی ہونے کے بجائے نبی اکرم ﷺ کا کلام قرار پاتا ہے اور اس سے اسلام کے بنیادی عقائد نبوت اور قرآن کی پوری عمارت دھڑام سے زمین پر آجاتی ہے۔ مغربی دانش وروں اور مستشرقین کے نزدیک قرآن محمد ﷺ کا کلام ہے اور وحی کے معنی اور کیفیت اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
سرسید نے اپنی تفسیر قرآن‘ دیگر کتب‘ رسالہ اور مضامین میں جن مذہبی خیالات کا اظہار کیا ہے‘ اس سے علی گڑھ تحریک کے تمام قائدین کو سخت اختلاف تھا اور مذہبی خیالات میں کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ سرسید کے جانشین محسن الملک نواب مہدی علی خان نے جب سرسید کی تفسیر دیکھی تو انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ سرسید قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے ہوں گے۔ انہوں نے ایک طویل اور سخت خط لکھا۔ اسی طرح ایک اور نہایت قریبی ساتھی اور معاون نے سرسید کو یہاں تک لکھا کہ قرآن کو منزل من اللہ ماننے سے انکار کر دینا آسان ہے بہ نسبت اس معنی وتفسیر کے جو آپ بیان فرما رہے ہیں۔ غرض سرسید کے مذہبی خیالات وتعبیرات سے مولانا حالی‘ شبلی نعمانی اور نواب محسن الملک جیسے ان کے تمام قریبی رفقا نے سخت اختلاف کرتے ہوئے ان سے اپنی براء ت کا اظہار کیا۔ مذہبی معاملات میں ان کی جو تحریریں تھیں‘ ان سے سرسید کے تعلیمی مشن کو سخت نقصان پہنچا اور غیر ضروری مخالفت کا سامنا ہوا۔چنانچہ حالی کے بعد سرسید کے زبردست مداح وحامی شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں کہ تفسیر کی اشاعت نے سرسید کے دوسرے کاموں کو بہت نقصان پہنچایا اور ا س سے فائدہ بہت کم ہوا۔ ان کا اصل مقصد مسلمانوں میں تعلیم عام کرنا اور ان کی دنیوی ترقی کا انتظام کرنا تھا۔ سرسید نے اپنی مخالفت کا سامان آپ پیدا کر لیا اور بعض لوگوں کو انگریزی تعلیم سے عقائد متزلزل ہو جانے کا جو ڈر تھا‘ اس کا بدیہی ثبوت خود بہم پہنچایا۔
الغرض سرسید کے ان دونوں مذہبی وسیاسی فلسفوں کو خود علی گڑھ کی دوسری نسل نے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خان کی قیادت میں علی گڑھ میں تعلیم پانے والوں نے نہ صرف ان کی اسلامی عقائد واحکام کی تعبیر وتشریح کو مسترد کیا بلکہ انگریزکی کامل وفاداری کے فلسفہ کو رد کرتے ہوئے تحریک آزادی میں شیخ الہند کی قیادت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ لوگ علی گڑھ کے تعلیم یافتہ تھے مگر آزادی کی جدوجہد میں بیشتر مولانا محمد قاسم نانوتوی کے جانشین اور دیوبند کے صدر شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی قیادت میں برطانوی استعمار کے خلاف صف آرا ہو گئے تھے۔
دینی تعلیم کی ترویج کے ساتھ ساتھ استعمار کے خلاف جہاد علماء دیوبند کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ استعمار کے خلاف جہاد دیوبند مدرسہ کے قائم ہونے سے بہت پہلے ۱۸۵۷ء میں شروع ہو چکا تھا جب شاملی کے میدان میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی‘ مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی نے انگریز کے خلاف جنگ لڑی۔ اس میں پیر ضامنؒ کے ساتھ بہت سے علما ومحدثین شہید ہوئے۔ اس کے بعد تحریک آزادی کے تمام ممتاز راہنما ڈاکٹر انصاری‘ حکیم اجمل خان‘ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ابو الکلام آزاد‘ مولانا عبید اللہ سندھی برطانوی استعمار کے خلاف جنگ میں مولانا محمد قاسم نانوتوی کے جانشین شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے ساتھ تھے۔ آج بھی دیوبند کے معنوی فرزند مختلف ممالک میں جہاد کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ طالبان علماء دیوبند ہی کے خوشہ چین ہیں۔ امریکہ اور مغرب نے اب تک پاکستان کی جن تحریکوں اور افراد پر پابندی عائد کی ہے‘ ان میں سے بیشتر کا تعلق علماء دیوبند ہی سے ہے۔
البتہ سرسید کے پروگرام کے دو حصوں کو مسلمانوں میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ ایک یہ کہ مسلمان اپنے حقوق کا تحفظ جداگانہ تشخص کی بنیاد پر کریں۔ دوسرے یہ کہ انگریزی تعلیم حاصل کر کے نئے نظام میں عملاًشریک ہوں۔ ان دونوں کی بنیاد متعصب ہندو اکثریت کے غلبہ کے خوف سے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے جذبہ پر تھی جس میں سرسید احمد خان بلاشبہ مخلص نظر آتے ہیں اسی لیے اسے مسلمانوں میں قبولیت عامہ حاصل ہوئی۔ اس حوالے سے علماء دیوبند سرسید احمد خان کی خدمات‘ جدوجہد‘ قربانیوں اور ایثار کے پوری طرح معترف وقدر دان ہیں اور کبھی ان کے تذکرہ واعتراف میں حجاب محسوس نہیں کرتے۔ وہ اس حوالے سے سرسید کے دل میں مسلمانوں کے لیے درد اور فکر کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کا محسن مانتے ہیں۔
آخر میں ہم جناب غلام ربانی صاحب سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت جب کہ تمام دنیا کی باطل طاقتیں اسلام اورمسلمانوں کی مخالفت میں متحد ہوئی ہیں‘ جس کا مظاہرہ آئے دن فلسطین‘ بوسنیا‘ مقدونیا‘ چیچنیا اور کشمیر میں ہوتا رہتا ہے‘ ایسے نازک وقت میں ماضی کے اختلافات کو ہوا دینے اور قدیم وجدید طبقات میں نفرت بڑھانے کے بجائے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ دنیا بھر کے فقہی مذاہب حنفی‘ شافعی‘ مالکی‘ حنبلی اور برصغیر کے تمام مکاتب فکر دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث اور قدیم وجدید دونوں طبقوں (علما اور جدید تعلیم یافتہ) کے مابین خلیج کو کم کیا جائے۔ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کی روشنی میں ہمارا اصول الحکمۃ ضالۃ المومن ہونا چاہیے یعنی ہر طبقہ اور جگہ سے اچھی باتوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں قدیم صالح اور جدید نافع کے درمیان ایک حسین امتزاج پیدا کر کے ملت کے تمام طبقات کو اسلام کی دعوت ودفاع کے لیے بھائی بھائی بنا کر باطل قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا دینا چاہیے۔ اس میں ہم سب کی اور پوری ملت اسلامیہ کی بھلائی اور سرخ روئی ہے۔
امریکی اور برطانوی جارحیت۔ ایک تجزیاتی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
پہلی جنگ عظیم میں امریکی شمولیت کے حوالے سے جواز پیدا کرتے ہوئے وڈرو ولسن نے کہا تھا کہ اس طرح دنیا جمہوریت کے لیے محفوظ (Safe for democracy) ہو جائے گی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر شمالی امریکہ اور برطانیہ کے سامنے ایک موثر اور طاقت ور کمیونسٹ گروہ آنے سے یہ ’’تحفظ‘‘ قائم نہ رہا۔ اسی لیے سرد جنگ کے دوران میں امریکہ اور برطانیہ کی خارجی پالیسی کا محور کمیونسٹ گروہ کو فوجی طاقت کے اعتبار سے بہت پیچھے رکھنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس مقصد کا حصول اپنی فوجی طاقت میں بے پناہ اضافے سے ہی ہو سکتا تھا۔ سرد جنگ کے دوران میں امریکی وبرطانوی سرگرمیاں جمہوریت کے حوالے سے توسیعی نہیں تھیں بلکہ ان کا مرکزی نکتہ کمیونسٹ پھیلاؤ کو روکنا تھا اسی لیے رونالڈ ریگن نے سوویت یونین کو Evil empire(شر کی سلطنت) سے موسوم کیا۔
موجودہ دور میں امریکی وبرطانوی سرگرمیاں توسیعی اور جارحیت پر مبنی ہیں۔ کمیونسٹ گروہ کے مقابل ہونے کے سبب سے دونوں ممالک نے اسلحے کے ڈھیر جمع کر رکھے تھے۔ طاقت کے اس ڈھیر کا outlet (اظہار)جارحیت میں ڈھونڈا جا رہا ہے۔ اس جارحیت کے ذریعے سے دنیا کو ’’جمہوریت کے لیے محفوظ‘‘ بنایا جا رہا ہے۔ اس گفتگو کے تناظر میں ممتاز برطانوی مفکر برٹرینڈ رسل کی فکر سے استشہاد ضروری ہو جاتا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں:
’’اگرچہ طاقت کی حکمرانی کوئی ایسی چیز نہیں جس کی تعریف وتوصیف کی جائے اور اگر اس کی جگہ کوئی نرم ولطیف اور کم ظالمانہ چیز لے لے تو آدمی کو لازماً خوش ہوناچاہیے ‘ تاہم سماجی اداروں کی ترقی میں اس کا ایک مفید کردار ہے۔ حکومت ایک مشکل فن ہے اور (اسی طرح) حکومت کی اطاعت بھی مشکل ہے ماسوائے اس کے کہ (حکومت کی طاقت) کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے۔ طاقت سے مسلط کی گئی حکومتوں نے گروہوں کی تشکیل میں ایسا کردار ادا کیا ہے جو بہت ضروری معلوم ہوتا ہے۔ انگریزوں کی اکثریت آج اپنی حکومت کی اس لیے اطاعت کرتی ہے کہ اسے معلوم ہے کہ اس کا بدل خوف ناک نراجیت اور انتشار ہے۔ لیکن ایسے طویل ادوار بھی گزرے ہیں جن کے دوران میں لوگوں نے نراجیت اور انتشار کو‘اگر ان کا حصول ان کے بس میں تھا‘ ترجیح دی۔ بادشاہوں اور جاگیرداروں کے درمیان طویل لڑائیاں رہیں جن میں‘ خوش قسمتی سے جاگیرداروں نے ایک دوسرے کو جڑسے اکھاڑ دیا۔ نتیجتاً بادشاہ فاتح کی حیثیت سے نمودار ہوا۔ لوگوں نے اس کی اطاعت کی کیونکہ وہ اطاعت کے لیے مجبور کر سکتا تھا اور ا س طرح سے رعایا نے اتحاد اور قانون کی اطاعت کی عادت حاصل کر لی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بادشاہی طاقت میں کمی آ گئی تو ایسا نراجیت کے احیا کی صورت میں نہیں ہوا بلکہ حکومتوں کی نئی اقسام کے ذریعے سے۔ تاہم اس امر میں شک کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ بادشاہی طاقت کے مرحلے سے گزرے بغیر شاید ہی کوئی ایک واحد مستحکم حکومت سارے ملک پر کبھی قائم ہوئی ہو ۔
بادشاہی طاقت سے جمہوریت کی طرف تبدیلی جو کہ انگلینڈ میں چارلس اول کے عہد سے لے کر ملکہ وکٹوریہ کے عہد تک ہوئی‘ ایک ایسی تبدیلی ہے جس کی دوسری بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جہاں کہیں سماجی اکائی ہے‘ وہاں حکومت ناگزیر ہے اور یہ حکومت کی طاقت وجبر ہے جو متعلقہ گروہ کو ربط واتحاد عطا کرتی ہے۔ لیکن جب ایک دفعہ گروہ تشکیل پا جائے ‘ایسا کسی بھی طریقے سے ہوا ہو‘ تو گروہ کی ساخت میں کسی تبدیلی کے بغیر حکومت کی ہیئت وصورت بدلی جا سکتی ہے۔ اکثر وبیشتر سب سے مشکل مرحلہ ایک واحد حکومتی گروہ کی تشکیل ہے اور مآل کار‘ حکومت کی ہیئت وصورت میں تبدیلیاں بہت آسان ہوتی ہیں۔ نراجیت پسندانہ جذبات کو دبائے بغیر کسی بھی حکومتی گروہ کی تشکیل نہیں ہو سکتی اور جذبات کی تحدید بہت آسانی سے ہو جاتی ہے اگر گروہ کے صرف کمزور ارکان کو دبانا مقصود ہو جبکہ مضبوط ارکان اپنے نراجیت پسندانہ جذبات کا بدل حکومتی طاقت کے استعمال کی صورت میں پا لیتے ہیں ۔ جب پاپا اونگھ رہے ہوں‘ تو وکٹوریہ عہد کے بچے شور نہیں مچاتے تھے لیکن پاپا جب چاہتا‘ شور کر سکتا تھا۔ پاپا کا ان بچوں کو سرزنش کرنے کا جذبہ‘ جو اس کے آرام میں خلل ڈالتے تھے‘ نراجی حملہ ہوتا اگر خاندانی گروہ قائم نہ ہو چکاہوتا لیکن چونکہ یہ قائم ہو چکا تھا ‘ اس لیے اسے نظم وضبط قائم رکھنے کے لیے پدری اختیار کا ایک مناسب استعمال سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح سے سماجی گروہوں کی تشکیل اس کے بغیر ممکن ہو سکی کہ تشکیل پانے سے قبل گروہوں کے جو طریقہ ہائے عمل تھے‘ ان میں بہت زیادہ مداخلت کی جائے۔ البتہ کمزور افراد اس سے مستثنیٰ ہیں۔ مثال کے طور پر قتل کو لیجیے۔ جہاں کہیں کسی خطے میں فاتح اشرافیہ حکومت کرتی ہے تو یہ بات ایک عمومی قاعدے کے طور پر مان لی جاتی ہے کہ سماجی اعتبار سے کمتر لوگوں کو سماجی لحاظ سے اپنے سے برتر لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے یا حتیٰ کہ ایک دوسرے کو بھی لیکن جب سماجی اعتبار سے کوئی برتر آدمی کسی کمتر وادنیٰ کو قتل کرے تو یہ ایک ٹھیک اور صحیح عمل ہوگا۔ حقیقت میں اگر برتر لوگ بہت زیادہ بے صبرے نہ ہوں تو وہ ایسا قانونی ذرائع سے کر سکتے ہیں۔ خالصتاً رضاکارانہ تعاون پر مبنی نئے گروہوں کی تشکیل کی کوششیں عام طور پر ناکام ہو جاتی ہیں کیونکہ ایسے گروہوں کے لیے کوئی بھی حکومت تشکیل دی جائے‘ وہ روایتی احترام کی حامل نہیں ہوتی اور اسے اتنی طاقت نہیں دی جاتی کہ وہ جبری احترام حاصل کر سکے۔
موجودہ عہد میں اس اصول کا سب سے اہم اطلاق عالمی حکومت پر ہوتا ہے۔ جنگ کی روک تھام کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ کرہ ارض پر محیط ایک واحد حکومت قائم ہو لیکن ایک وفاقی حکومت جو باہمی رضامندی سے بنائی گئی ہو جیسا کہ انجمن اقوام اور اقوام متحدہ کی تشکیل کی گئی‘ یقیناً کمزور ہی ہوگی کیونکہ اسے تشکیل دینے والی قومیں محسوس کریں گی‘ جیسا کہ نوابوں نے قرون وسطیٰ میں محسوس کیا تھا کہ نراجیت خود مختاری کے کھونے سے بہتر ہے۔اور جیسا کہ قرون وسطیٰ میں نراجیت کی جگہ منظم حکومت کے آنے کا انحصار شاہی طاقت کی فتح پر تھا‘ اسی طرح سے بین الاقوامی تعلقات میں نراجیت کے بجائے نظم وضبط کا آنا‘ اگر یہ آجاتا ہے‘ ایک قوم یا قوموں کے اتحاد کی برتر قوت کے ذریعے سے ہوگا اور جب ایسی حکومت واحدہ تشکیل پا جائے گی تبھی یہ ممکن ہوگا کہ بین الاقوامی جمہوری حکومت کا ارتقا شروع ہو۔ یہ نظریہ جس پر میں پچھلے تیس برس سے قائم ہوں‘ اس کی تمام آزاد خیال لوگوں اور ہر قوم کے تمام قوم پرستوں نے شدید مخالفت کی ہے۔ بلاشبہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ یہ بہت بہتر ہوگا کہ رضامندی پر مبنی ایک بین الاقوامی حکومت کی تشکیل ہو لیکن مجھے اس بات پر بھی پورا اطمینان ہے کہ قومی خود مختاری کی محبت اتنی مضبوط ہے کہ ایسی کوئی بین الاقوامی حکومت موثر اختیار نہیں رکھ سکے گی۔ جب ایک قوم یا قوموں کے گروہ کی عسکری برتری پر مبنی تمام دنیا کے لیے حکومت واحد ایک صدی یا اس کے لگ بھگ عرصہ تک اقتدار میں رہے گی تو یہ اس درجے کااحترام حاصل کرنا شروع کر دے گی جس سے ممکن ہو جائے گا کہ وہ طاقت کے بجائے قانون اور جذبات پر اپنے اختیار کی بنیاد رکھے اور جب ایسا ہو جائے گا تو بین الاقوامی حکومت جمہوری ہو سکتی ہے۔ میں نہیں کہتا کہ یہ ایک خوش گوار امکان ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ انسان کی نراجی تحاریک (جذبات) اتنی مضبوط ہیں کہ وہ پہلے مرحلے پر سوائے برتر طاقت کے کسی اور چیز کے تابع ہونا کے قابل نہیں ہو سکتیں۔‘‘
معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ رسل کی فکر سے ملتی جلتی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں:
۱۔ کیا امریکہ اور برطانیہ کے مخصوص حالات کی پیدا کردہ فکر کا پھیلاؤ‘ بغیر ترامیم کے‘ ممکن اور سودمند ثابت ہوگا؟
۲۔ کیا امریکہ اور برطانیہ اپنی اپنی جغرافیائی حدود کے اندر عملی اعتبار سے اور عوامی سطح پر وہ ثمرات حاصل کر چکے ہیں جس کا وعدہ ان کی فکر کرتی ہے؟
۳۔ کیا ان کی فکر کے نظری وعملی پہلو یکساں ہیں؟
۴۔ کیا قرون وسطیٰ کے عہد اور اکیسویں صدی میں معاشرت اور مقامیت کے حوالے سے کوئی فرق نہیں ہے؟
۵۔ کیا جمہوریت کی نوعیت اور جمہوریت کا حصول اسی انداز کا متقاضی ہے جو دونوں ممالک میں معروف ہے؟
۶۔ کیا مختلف قوموں کے اختلافات اور شناخت کی خواہش کو ایک قوم کے اندر موجود متخالف گروہوں کے برابر سمجھا جا سکتا ہے؟
۷۔ کیا قوموں کی شناخت کی خواہش کو address کرنے کا واحد طریقہ جبر اور جارحیت ہے؟
۸۔ کیا قرون وسطیٰ سے اکیسویں صدی تک نوع انسانی نے اس معاملے کو نمٹانے کے لیے کوئی نئی راہ تلاش نہیں کی؟
اگر ہم یورپی اور عالمی تاریخ کا سرسری جائزہ لیں تو ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے میں چنداں مشکل نہیں ہوتی۔ مثلاً سب سے پہلے 1648ء کا ویسٹ فالیا ٹریٹی (Treaty of Westphalia) ہی دیکھ لیں۔ اس ٹریٹی سے ریاستوں کا نظام (States system) پیدا ہوا جس سے امید بندھی کہ یورپ میں امن قائم ہو جائے گا کیونکہ ریاستوں کو ان کی حدود کے اندر مقتدر تسلیم کرنے سے اور دوسری ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے سے ہی امن کا قیام ممکن تھا۔ اس سے مذہبی جنگوں سے بچنے کی بھی امید تھی۔ پھر 1871ء میں برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی‘ پرشیا‘ رشیا‘ آسٹریا اور ترکی نے لندن کانفرنس میں درج ذیل اعلامیے (Declaration)پر دستخط کیے:
"That the powers recognise it an essential principle of the Law of Nations that no power can liberate itself from the engagements of a treaty nor modify the stipulations thereof, unless with the consent of the contracting parties by measns of an amiable understanding."
’’(اس اعلامیے میں شریک تمام) طاقتیں اسے قوموں کے قانون کا لازمی اصول تسلیم کرتی ہیں کہ کوئی بھی طاقت اپنے آپ کو کسی معاہدے کے عہد وپیمان سے آزاد نہیں کر سکتی اور نہ ان شرائط کو بدل ہی سکتی ہے جب تک کہ معاہدے میں شامل دوسرے فریق دوستانہ اتفاق رائے سے اس کی منظوری نہ دے دیں۔‘‘
جدید عہد کے حوالے سے 1961ء کا ’’ویانا کنونشن ڈپلومیٹک تعلقات پر‘‘ نہایت اہم ہے۔ اس کے افتتاحیے کے مطابق:
"....that an international convention on diplomatic intercourse, privileges and immunities (will) contribute to the development of friendly relations among nations, irrespective of their differring constitutional and social systems."
’’ڈپلومیٹک میل جول‘ مراعات اور تحفظات کے لیے ایک بین الاقوامی کنونشن اقوام کے مابین‘ ان کے دستوری اور سماجی نظاموں کے تفاوت سے قطع نظر‘ دوستانہ تعلقات کی ترقی کے لیے مدد دے گا ۔‘‘
دوسری ریاستوں کے معاملات میں دخل اندازی اور ڈپلومیٹک ایکشن کی وسعت کے حوالے سے اس کنونشن کا آرٹیکل 41بہت واضح ہے:
"Without prejudice to their privileges and immunities, it is the duty of all persons enjoying such privileges and immunities to respect the laws and regulations of the receiving state. They also have a duty not to interfere in the internal affairs of that state. All official business with the receiving state entrusted to the (diplomatic) missions by the sending state shall be conducted with or through the Ministry for Foreign Affaris of the receiving state of such other ministry as may be agreed."
’’اپنی مراعات اور تحفظات کے تعصب کے بغیر یہ ان تمام افراد کا فرض ہے جو ان مراعات اور تحفظات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کہ وہ اس خیر مقدم کرنے والی ریاست کے قوانین اور ضابطوں کا احترام کریں۔ ان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اس ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ خیر مقدم کرنے والی ریاست سے متعلقہ تمام سرکاری کام جو کہ بھیجنے والی ریاست اپنے مشن کو سونپتی ہے‘ خیر مقدم کرنے والی ریاست کی خارجہ معاملات کی وزارت کے ساتھ یا اس کے ذریعے سے انجام پانے چاہییں یا کوئی ایسی دوسری وزارت جس پر اتفاق ہو۔‘‘
خیال رہے کہ امریکہ نے کنونشن پر دستخط 29جون 1961ء کو کیے اور اس کی توثیق 13 نومبر 1972ء کو کی کیونکہ امریکی صدر یا اس کا نمائندہ دستخط کرنے کا تو مجاز ہے لیکن توثیق (Ratification)کی مجاز امریکی سینٹ ہے۔ امریکہ نے اس کنونشن کی توثیق کے فوراً بعد قلابازی کھائی کیونکہ 1976ء میں امریکی کانگریس نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی کہ وہ امریکی معاشی یا فوجی امداد لینے والے ممالک کی انسانی حقوق کے ریکارڈ کے حوالے سے سالانہ رپورٹ تیار کرے۔ یہیں سے امریکی مداخلت کا آغاز ہو جاتا ہے۔ مداخلت کے حوالے سے صدارتی احکامات کے پیچھے کانگریسی منظوری بھی مستقل موجود ہے۔
اگر آپ اب تک کے مندرجات کو مد نظر رکھیں تو صاف مترشح ہوتا ہے کہ عالم گیریت اور باہمی تعاون کے حوالے سے دنیا آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی لیکن بڑھنے کا یہ انداز یا پیش رفت امریکی اور برطانوی بالادستی کے خلاف تھی کیونکہ قانونی اور برابری کی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے ان دونوں طاقتوں کی ’’بالادستی‘‘ کو خطرہ تھا۔ اب ظاہر ہے کہ اسلحے کے انبار کی موجودگی میں یہ ممالک اپنی بالادستی سے کیسے دست بردار ہو سکتے تھے اس لیے بین الاقوامی ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جمہوریت کو عالمی سطح پر پھیلانے کے نام سے دونوں ممالک بد معاش (Rogue) بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں سماجی وسیاسی نظام میں تبدیلیاں لانے کے لیے مداخلت کی گئی۔ حالیہ دورۂ چین کے دوران میں بش کا بیان کہ امریکہ کو ’’رو ل ماڈل‘‘ کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے‘ چین کے دستوری نظام میں مداخلت ہی گردانا جا سکتا ہے۔ صدر بش نے ایسا بیان دیتے ہوئے ڈپلومیٹک ایکشن کی وسعت کی حدود وقیود کو مد نظر نہیں رکھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ قانونی اور گفت وشنید پر مبنی عالم گیریت کی طرف ارتقا کو اپنانے کے بجائے‘ رسل کے تجزیے سے مماثل اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس مضمون میں اٹھائے گئے چند سوالات کے تناظر میں یہ اقدامات موثر ثابت نہیں ہوں گے۔
جنرل مشرف کا دورۂ امریکہ ۔ اور پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت
پروفیسر شیخ عبد الرشید
جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ حکومتی توقعات کے مطابق اور عوامی توقعات کے برعکس مکمل ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات کو انتہائی مثبت اور تعمیری قرار دیا اور اپنے مقاصد میں کام یابی کی واضح نشان دہی کی اور اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ نئی صدی میں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاک امریکہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک پاکستانی حکمران جب بھی امریکہ یاترا پر گئے تو واپسی پر قوم کو یہی نوید دی کہ اب پاک امریکہ دوستی طویل المیعاد‘ پائیدار اور مستحکم وخوش حال پاکستان کی ضامن ہوگی مگر اوراق تاریخ شاہد ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات نشیب وفراز کا شکار رہے ہیں۔ کسی مخصوص وقت میں ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کیسے ہوں گے‘ اس کا زیادہ تر انحصار امریکی مفادات کے تقاضوں پر ہی رہا۔ تجربات اس بات کے عکاس ہیں کہ امریکہ پاکستانی مفادات کو کسی بھی خاطر میں لانے پر کبھی تیار نہیں ہوا۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ یک طرفہ معاملہ رہا۔ جب بھی امریکہ ہم سے گلے ملنے لگا تو ہمارے گلے پڑ گیا۔ تاہم ۱۱ ستمبر کے بعد اور موجودہ علاقائی صورت حال میں پاک امریکہ تعلقات غیر معمولی نوعیت واہمیت اختیار کر گئے ہیں اور ایک بار پھر پاکستان سے بھی زیادہ امریکہ کے مفادات کو ہمارے خطے میں خاص طور پر نازک اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
۱۱ ستمبر کے بعد پاکستان کے حاکموں نے ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’بنیاد پرستی‘‘ کے خاتمے کی نیک کوششوں میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا جس سے جمہوریت کے محافظوں اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان تعلقات کا نیا باب شروع ہوا جس سے ۶۰ء اور ۸۰ء کی دہائی کی یاد تازہ ہو گئی چنانچہ جنرل پرویز مشرف کے دورۂ امریکہ تک ہمارے چار ہوائی اڈے ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں امریکی افواج کے پاس تھے۔ کراچی میں ہمارے سب سے بڑے ’’قائد اعظم بین الاقوامی ہوائی اڈے‘‘ کا پرانا ٹرمینل مکمل طور پر امریکی فوجیوں کے زیر استعمال ہے۔ کراچی شہر کے وسط میں انہوں نے رابطہ دفتر قائم کر لیا ہے۔ یاد رہے اس سے قبل بھی ہمارے ایک جمہوریت دوست فوجی صدر نے ۶۰ء کی دہائی میں ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں پشاور کے قریب بڈابیر کا اڈہ امریکہ کو دیا تھا جہاں سے U-2 نامی امریکی جاسوسی جہاز سوویت یونین کی فضاؤں میں گیا جہاں اسے مارا گیا تو خروشچیف نے رد عمل میں ہمیں You too کہہ کر گلوب پر واقع پاکستان پر سرخ دائرہ کھینچا اور ۱۶ دسمبر۱۹۷۱ء کو پاکستان دولخت ہو گیا۔
۱۱ ستمبر کے بعد امریکہ سے جو ہمارا نیا رشتہ بنا اورعلاقے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہم نے وطن عزیز کے اندر اور باہر جو ’’جرات مندانہ‘‘ پالیسی اختیار کی اور مغربی دانش وروں کے وژن کے مطابق ’’جدید‘‘ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جو سعی جمیل شروع کی‘ اس پر شاباش لینے کے لیے جنرل پرویز مشرف امریکہ گئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جنرل کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ اس دورکے آغاز سے قبل ۹ فروری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی سمجھوتہ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کو PAK-US ACQUISITION AND CROSS SERVICES AGREEMENT کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان‘ افغانستان اور گرد وپیش کے خطے میں امریکی فوجی اور دوسرے مفادات کی تکمیل کی خاطر ہر نوعیت کا Logisticتعاون فراہم کرے گا۔ امریکہ بھی دہشت گردی کے خلاف اس مہم کی تکمیل میں پاکستان کو مختلف نوعیت کی سہولتیں فراہم کرے گا اور اسے ۳۰۰ سے ۵۰۰ ملین ڈالر کی مدد بھی دے گا۔ اس حوالے سے امریکی ماہرین نے صدربش کی طرف سے پاکستان کے ذمے ایک ارب ڈالر کے قرضے کی معافی کو ایک فیاضانہ اقدام سے تعبیر کیا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت عزیز اور امریکہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے بھی اس پر بڑے تفاخر اور گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن اس معافی کے اعلان کی نوعیت کی وضاحت نہیں ہو سکی کیونکہ یہ تو پہلے سے واجب الادا امریکی قرضوں کی باقی ماندہ رقم ہے اور یہ اصل زر کے بجائے سود کی مد میں واجب الادا ہے اور یہ رقم پوری ایک ارب ڈالر بھی نہیں بلکہ ۸۰ کروڑ ڈالر بنتی تھی اور اب مزید ۲۰ کروڑ ڈالر کی اضافی امداد اس لیے دی گئی ہے کہ پورے ایک ارب ڈالر کے قرضے کی ادائیگی میں سہولت پیدا ہو سکے اور یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ یہ اعلان غیر مشروط نہیں بلکہ اس کی توثیق امریکی کانگرس کے ایوان بالا سینٹ کو کرنا ہوگی جہاں پچھلے چار ماہ سے پاکستان کو دی جانے والی تجارتی مراعات کو دبا کر رکھا گیا ہے۔ ویسے بھی کانگریس میں طاقت ور بھارت نواز لابی پہلے سے سرگرم عمل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس دورہ میں دفاعی سازوسامان کے حوالے سے کوئی قابل ذکر بات نہیں جبکہ ۱۸ فروری کو ہی طے ہوا کہ امریکہ پاکستان کے واحد دشمن ملک بھارت کو ’’فائر فائنڈرز‘‘ نامی جاسوس ریڈار دے گا جو کشمیری مجاہدین کے خلاف استعمال ہوں گے۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل رچرڈ مائر نے بھارت کی فوجی تعلیم وتربیت کے لیے رقم دوگنا کرنے کا بھی اعلان کیا۔ دوسری طرف تجارت کے شعبے میں ٹیکسٹائل کے کوٹے کے حوالے سے امریکی دورہ میں بات چیت ہوئی لیکن امریکی ٹیکسٹائل لابی کے اثر کے تحت واضح کر دیا گیا کہ ٹیرف کی معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جنوبی ایشیا میں امریکہ کی قلیل المیعاد فوجی موجودگی کے ہمارے دعووں کے برعکس صدر بش طویل المیعاد موجودگی کا راگ ببانگ دہل الاپ رہے ہیں جس سے پاک چین مثالی دوستی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ چین اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت بھی اب وہ نہیں رہی جو کہ ماضی میں ہوا کرتی تھی۔
اس تجزیے سے عیاں ہوا کہ موجودہ دورۂ امریکہ عوامی توقعات کے مطابق بڑی اہمیت کا حامل ثابت نہ ہوا تاہم حاکم وقت کی ترجیحات ضروری نہیں کہ عوامی آرزوؤں کے مطابق ہوں۔ امریکہ کا دورہ اس لحاظ سے بھی کام یاب رہا کہ جنرل پرویز مشرف کے اہل خانہ جو مستقل طور پر امریکہ میں آباد ہیں‘ ان کی میزبانی کا لطف بوسٹن میں اٹھایا گیا۔ اس دورے کے دوران میں جنرل پرویز مشرف جو ملک پاکستان کے عوام کو رعب میں رکھنے کے لیے مختلف مواقع پربامعنی فوجی وردیوں کا مسلسل استعمال کرتے ہیں اور گاہے گاہے احکامات ربانی کی روشنی میں صاف صاف بتاتے ہیں کہ یہ اقتدار انہیں اللہ تعالیٰ نے بخشا ہے‘ وردی اتار کر امریکہ یاترا پر گئے اور اپنی حکومت‘ نظام حکومت اور پروگرامِ حکومت کے لیے امریکی سند حاصل کی۔ ایسے حکمران جن کے پاس اپنے ’’بنیاد پرست اور جاہل‘‘ عوام کی دی ہوئی سند حکومت نہ ہو‘ ان کے لیے امریکہ کی سند کلیدی اہمیت اختیار کر جاتی ہے جو کہ صدر بش نے اپنے یونین ایڈریس میں ان کا خصوصی ذکر کر کے اور جنرل پرویز کو ذاتی دوست قرار دے کر فراہم کر دی ہے اور یہ کوئی چھوٹی موٹی کام یابی نہیں‘ عوام اور سیاست دانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کام یابی پر جنرل صاحب کو مبارک باد پیش کریں۔ بے چاری جمہوریت کے لیے اس دورے کا پیغام یہی ہے کہ وہ آئندہ متوقع ’’شفاف اور منصفانہ‘‘ انتخابات کے باوجود مزید کچھ عرصہ آرام وراحت میں بسر کرے۔ سردست امریکہ کو پاکستان میں ملٹری برانڈ ڈیموکریسی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی شہ رگ کشمیر کے حوالے سے امریکی صدر کی وضاحتیں بھی اچانک مثبت ہو گئی ہیں۔ کارگل بحران اور اعلان واشنگٹن میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی بد نیتی کے گناہ ۱۱ ستمبر کے واقعہ نے دھو دیے ہیں۔ اب امریکہ خالصتاً پاکستان کے مفاد میں پاک بھارت مذاکراتی عمل میں فعال کردار ادا کرے گا۔ اس کردار میں ’’معاہدۂ تاشقند سے اعلان واشنگٹن‘‘ تک امریکی کردار اور رویے کی جھلک نظر نہیں آئے گی۔ پاکستان کے حاکموں ومحافظوں کا یہی دانش مندانہ تجزیہ ہے لہذا حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق فوجی حکمرانوں کے ایجنڈے کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا جائے۔ اس سے انکار بنیاد پرستی اور دہشت گردی ہوگا۔
جنرل پرویز مشرف کے تدبر وحکمت‘ جرات مندی وبہادری کا تو اس وقت پورا عالم معترف ہے۔ ان کی امریکہ یاترا پر کئی امریکی کالم نویسوں نے انہیں پاکستان کا کمال اتاترک کہا ہے۔ کچھ نے تو ان کو انور السادات سے مماثل قرار دیا۔ ایک امریکی کالم نویس نے جنرل پرویز مشرف کو جنوبی ایشیا کا گوربا چوف بتایا۔ ان تینوں راہنماؤں کا امریکہ اور مغرب میں بڑا نام ہے کیونکہ اپنے اپنے ممالک میں مغرب کے مفادات کا تحفظ زمینی حقائق کی آڑ میں جس طرح انہوں نے کیا‘ شاید امریکی بصورت دیگر نہ کر پاتے۔ مذکورہ تینوں راہنما ترکی‘ مصر اور سوویت یونین کی تاریخ کے اہم باب ہیں۔ ان کی عظمت سے اس وقت تک انکار ممکن نہیں جب تک کوئی ’’انتہا پسند قنوطی‘‘ تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ کر یہ نہ دیکھ لے کہ سیکولرازم کی بدترین مثال ترکی ہے جہاں جبر سے رسم الخط بدلا گیا‘ بزور قوت لباس تبدیل کروایا گیا اور طاقت سے دینی شعائر کو بند کر کے جدید جمہوریہ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہی کمال اتاترک کا عظیم کارنامہ ہے۔
انور السادات کے نام کے ساتھ ہی بنیاد پرست کا حافظہ اگر انہیں کیمپ ڈیوڈ کی یاد نہ دلا دے اور علاقائی وعالمی صورت حال میں زمینی حقائق سے مطابقت پیدا کر کے سوویت یونین کی گاڑی کو روس تک لے آنے میں گوربا چوف نے جس مہارت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا‘ وہ اتنا پرانا واقعہ نہیں کہ تاریخ کی کتاب کھولنا پڑے۔ ان تینوں عظیم راہ نماؤں میں ایک اور مماثلت بھی ہے کہ تینوں مختلف اوقات میں مغرب کے چہیتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو دورۂ امریکہ پر امریکی کالم نویس جنرل پرویز مشرف میں بیک وقت تینوں کی عظمت دیکھتے رہے اسی لیے دورہ سے پہلے اور بعد میں وہ اعتراف عظمت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اعلان کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے‘ پاک امریکہ دوستی اور خوش حال ومستحکم جدید اسلامی ریاست پاکستان کے قیام وتحفظ کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ صدر کے منصب پر فائز رہیں حالانکہ جب وہ اس منصب پر براجمان ہوئے تھے تو کسی کی پروا کیے بغیر ’’بہادری وجرات مندی‘‘ سے ہو گئے تھے۔ اب بھی کس کی مجال ہے کہ وہ کمانڈو کا راستہ روک سکے۔
اس کام یاب امریکی دورے کے باوجود ضروری ہے کہ یہ امر تسلیم کر لیا جائے کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان اب دنیا کو نئی طرح سے دیکھے۔ یہ طے کرنا اہم ہے کہ پاکستان کے مفادات کیا ہیں؟ یہ طے کرتے وقت ہمیں ریاست اور حکومت میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ پھر دیکھنا ہوگا کہ ریاست کے اپنے مفادات کس طرح بہتر طریق سے تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں۔ یہ امر اب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ ریاست پاکستان اور امریکہ کے مفادات علاقائی صورت حال میں ایک دوسرے سے بڑی حد تک یکسانیت نہیں رکھتے۔ نصف صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ ’’پاکستان آپشن‘‘ کو تبھی استعمال میں لاتا ہے جب ایسا کرنا اس کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس طرح تو یہ مطلقاً یک طرفہ معاملہ کے سوا کچھ نہیں۔ وقت اور ہوش مندی کا تقاضا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکہ کی دیرپا موجودگی کا مدبرانہ تجزیہ کر کے ’’علاقائی دوستوں‘‘ کی قربانی نہ دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ حالات کے کروٹ لینے پر امریکہ آنکھیں ماتھے پر رکھے اور ہم گنگناتے رہیں
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے
دینی مدارس کے نظام ونصاب کی اصلاح کے حوالے سے ’’مجلس فکر ونظر‘‘ کی منظور کردہ سفارشات اور نصاب
ادارہ
(دینی مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح کے حوالے سے ممتاز ماہرین تعلیم اور مدارس کے چاروں وفاقوں کے نمائندگان پر مشتمل ’’مجلس فکر ونظر‘‘ نے متفقہ طور پر درج ذیل سفارشات اور نصاب کی منظوری دی ہے۔ اس ضمن میں مزید تفصیلات کے لیے مجلس کے جنرل سیکرٹری جناب ڈاکٹر محمد امین صاحب سے ۱۳۶ نیلم بلاک‘ علامہ اقبال ٹاؤن‘ لاہور کے پتہ پر رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ ادارہ)
متفقہ سفارشات
مقصود
ان سفارشات کا مقصد یہ ہے کہ
۱۔ دینی مدارس کے طلبہ کے علم میں مزید رسوخ پیدا ہو۔
۲۔ ان کے اخلاق وللہیت میں اضافہ ہو۔
۳۔ مسلکی تعصبات کا خاتمہ ہو۔
۴۔ طلبہ میں عصری تحدیات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہو۔
علما کی تیاری کے مقاصد
۱۔ مساجد میں امامت وخطابت اور قرآن ناظرہ وحفظ کے علاوہ ترجمہ قرآن اور تدریس حدیث۔
۲۔ دینی مدارس میں تدریس۔
۳۔ جدید سکولوں/ کالجوں/ یونیورسٹیوں میں اسلامی وعربی علوم کی تدریس وتحقیق۔
۴۔ عام افراد معاشرہ کی دینی تعلیم اور اصلاح۔
نصاب درس نظامی
مدت تدریس: ۸ سال‘ داخلہ برائے مڈل پاس
اسلامی علوم
۱۔ قرآن حکیم
۱۔ مکمل قرآن حکیم کا لفظی وبامحاورہ ترجمہ مع صرفی ونحوی تراکیب
۲۔ قرآن حکیم کے بعض منتخب حصوں کا تفسیری اور تحقیقی مطالعہ جس میں متنوع مناہج کی تفاسیر(مثلاً
اثری‘ لغوی‘ فقہی‘ کلامی‘ سائنسی اور معاصر تفاسیر) شامل ہوں۔
۳۔ علوم القرآن
۴۔ تجوید کا ایک کورس سب کے لیے
۵۔ باقاعدہ درس قرآن کے ذریعے سے قرآنی مفاہیم ومقاصدکو طلبہ کے ذہن نشین کرانا
۶۔ غیر حافظ طلبہ کے لیے حفظ کانصاب
۷۔ آخری سال دورۂ قرآن یعنی مکمل قرآن حکیم کی تدریس
۸۔ ہر وہ مدرسہ / جامعہ جہاں مکمل درس نظامی اور دورۂ حدیث کا انتظام ہو‘ وہاں شیخ الحدیث کی
طرح شیخ التفسیر کا ہونا ضروری ہو۔
۲۔ حدیث وسیرت
۱۔ آخری دورۂ حدیث سے پہلے بخاری ومسلم کا بالاستیعاب اور فرقہ واریت سے مبرا تحقیقی مطالعہ
۲۔ آخری سال میں باقی کتب صحاح ستہ کا دورہ
۳۔ علوم الحدیث
۴۔ مطالعہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
۳۔ فقہ واصول فقہ
۱۔ فقہ القرآن والسنہ
۲۔ حنفی اصول فقہ
۳۔ حنبلی‘ مالکی‘ شافعی‘ ظاہری اور شیعی اصول فقہ کا مطالعہ
۴۔ ان سب کا تقابلی مطالعہ اور عصر حاضر کے مسائل کے حوالے سے عملی مشق
۵۔ حنفی فقہ کا ایک متن
۶۔ دیگر فقہوں کے منتخب متون کا مطالعہ
۴۔ عقیدہ
۱۔ ماضی کے کلامی مباحث ومذاہب کا منتخب مطالعہ
۲۔ معاصر مذاہب ضالہ (قادیانیت وپرویزیت)
۳۔ تقابل ادیان
۵۔ منطق وفلسفہ
منتخب متون کا تعارفی مطالعہ
۶۔ مطالعہ احوال امت
۱۔ مسلمانوں کی ماضی کی تاریخ کا اجمالی مطالعہ
۲۔ موجودہ مسلم دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ
۷۔ دعوت وتربیت
۱۔ اصول دعوت (دوسروں تک دعوت پہنچانے کے آداب وشروط)
۲۔ گفتگو اور تقریر کی عملی مشق
۳۔ اصول تربیت اور اخلاق (قرآن وسنت اور کتب تزکیہ نفس سے)
۴۔ اس کی عملی مشق
۸۔ تحقیق
۱۔ ہر ہفتے لائبریری پیریڈ
۲۔ ساتویں سال طرق تحقیق کی تدریس وعملی مشق
۳۔ آخری سال تحقیقی مقالہ لکھنا
۹۔ جدید علوم
۱۔ جدید سماجی علوم (معاشیات‘ سیاسیات‘ فلسفہ وغیرہ) کا تعارفی وتنقیدی مطالعہ
۲۔ جدید سائنسی علوم (طبیعیات‘ حیاتیات‘ کیمیا وغیرہ) کا تعارفی وتنقیدی مطالعہ
۳۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا تعارفی پیکج
۱۰۔ زبانیں
عربی:
عربی سمجھنے کے علاوہ عربی بولنے اور لکھنے (انشا) کی عمدہ مہارت
ضروری اقدامات:
۱۔ عربی کے متخصص اساتذہ کا تقرر
۲۔ طریقہ مباشرہ اور طریق قواعد کے امتزاج پر مبنی نیا تدریسی منہج
۳۔ پہلے سال کے بعد عربی زبان کے پیریڈ میں اردو بولنے پر پابندی اور آخری دو سالوں میں
ذریعہ تعلیم بھی عربی ہو۔
۴۔ پندرہ روزہ بزم ادب اور تقریری وتحریری مقابلے
۵۔ ترجمہ
اردو:
اردو بولنے اور لکھنے کی عمدہ صلاحیت
ضروری اقدامات:
۱۔ اردو کے دینی ادب کی تدریس
۲۔ اردو کے متخصص استاد کا تقرر
۳۔ پندرہ روزہ بزم ادب اور تقریری وتحریری مقابلے
انگریزی:
انگریزی پڑھنے‘ سمجھنے اور بولنے کی متوسط درجے کی صلاحیت
ضروری اقدامات:
۱۔ متخصص استاد کا تقرر
۲۔ اندازاً بی اے کی سطح تک کی تدریس
فارسی:
فارسی پڑھنے اور سمجھنے کی معمولی صلاحیت
علاقائی زبانوں میں اظہار مدعا کی حوصلہ افزائی
دراسات علیا
بڑے دینی مدارس اپنے آپ کو آٹھ سالہ درس نظامی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے بعد تخصص اور تحقیق کی تعلیم بھی جاری رکھیں جس کی کچھ تفصیل یوں ہے:
۱۔ درجہ تخصص (درس نظامی کے بعد دو سالہ تحقیقی پروگرام‘ مساوی ایم فل)
پہلے تین ماہ طرق تحقیق واساسی موضوعات کی تدریس وتسجیل موضوع
قرآن وعلوم القرآن‘ حدیث‘ علوم الحدیث‘ فقہ واصول فقہ اور دیگر اسلامی موضوعات پر تحقیق
۲۔ درجہ تحقیق (درجہ تخصص کے بعد ۳ سالہ فل ٹائم اور ۵ سالہ پارٹ ٹائم تحقیقی پروگرام‘ مساوی پی ایچ ڈی)
موضوعات کی تسجیل کے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جائے:
۱۔ تقابلی مطالعے کو ترجیح دی جائے۔
۲۔ رٹے رٹائے موضوعات کے بجائے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جائے جن کی عصر حاضر اور پاکستانی معاشرے کے حوالے سے اہمیت ہو۔
۳۔ تحقیق میں تخلیقیت اور اصالت پر اصرار کیاجائے۔
متفرق امور
داخلہ:
درس نظامی میں داخلہ صرف ایسے مڈل پاس طلبہ کو دیا جائے تو ناظرہ پڑھ سکتے ہوں یا ان حفاظ کو جو مطلوبہ استعداد رکھتے ہوں۔
امتحان:
۱۔ ہر تعلیمی سال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ہر حصے کے آخر میں امتحان نہائی ہو جائے۔
۲۔ امتحان میں معروضی سوالات بھی دیے جائیں۔
۳۔ پاس ہونے کے لیے ۴۰ فی صد نمبر حاصل کرنا ضروری ہو اور مجموعی طورپر ۵۰ فیصد
۴۔ تقریری/ زبانی امتحان بھی ہونا چاہیے۔
تدریس اساتذہ:
۱۔ نئے اساتذہ کی تربیت
۲۔ موجودہ اساتذہ کے لیے ریفریشر کورسز
۳۔ ناظمین ومہتممین مدارس کی تربیت
تربیت طلبہ:
۱۔ ہر مدرسہ میں تربیت طلبہ کے کام کو اہمیت دی جائے اور اس کو منظم کیا جائے۔ مثلاً اساتذہ میں سے ہر کلاس کا ایک مربی ہو‘ طلبہ میں سے بھی ایک مربی ہو۔ ناظم مدرسہ (یا اس کا نامزد کردہ استاذ) بطور مرکزی مربی کام کرے۔ ان لوگوں پر مشتمل ایک تربیتی کمیٹی ہو جس کا اجلاس ہر ماہ باقاعدگی سے ہو۔
۲۔ ہر امتحان میں عملی تربیت کا ایک پرچہ ہو جس کے ۱۰۰ نمبر ہوں اور اس میں پاس ہونا لازمی ہو۔
۳۔ صالح طلبہ کے لیے حوصلہ افزائی کے انعامات رکھے جائیں۔
۴۔ تربیت کے لیے ذکر وفکر کے ایسے حلقوں اور صحبت صالحین کا اہتمام کیا جائے جہاں قرآن وسنت کی تعلیمات کی سختی سے پابندی کی جاتی ہو۔
۵۔ جس طرح جدید تعلیمی اداروں میں ہفتہ صفائی منایا جاتا ہے‘ اسی طرح دینی مدارس میں ہفتہ صفائی کے علاوہ اخلاقی تطہیر (رذائل سے بچنے اور حصول فضائل) کے لیے بھی ہفتے منائے جائیں اور متعلقہ موضوع کے حوالے سے ہفتہ بھر عملی پروگرام رکھے جائیں۔
نصاب
سال اول (نصف اول)
مضمون
مواد تدریس
نصابی کتب
امدادی کتب
قرآن حکیم (حفظ)
پارہ عم
قرآن حکیم
-
تجوید اور مشق
-
جمال القرآن
علم التجوید‘ قاری غلام رسول
عربی
اللغۃ العربیۃ
العربیۃ لغیرالناطقین بہا(۱)
القراء ۃ المیسرۃ
اردو
-
-
-
عربی
القواعد
النحو الواضح (۱)
القواعد العربیۃ الصحیحۃ
سال اول (نصف ثانی)
مضمون
مواد تدریس
نصابی کتب
امدادی کتب
قرآن حکیم حفظ
(منتخب سورتیں)
البقرہ (پہلا اور آخری رکوع) الحشر‘ یاسین‘ الملک‘ المزمل‘ المدثر
۔
۔
تجوید اور مشق
۔
فوائد مکیہ
۔
عربی
اللغۃ العربیۃ
العربیۃ لغیر الناطقین بہا (۲)
القراء ۃ المیسرۃ الکتاب الاساسی
اردو
۔
۔
۔
عربی
القواعد
النحو الواضح (۲)
القواعد العربیۃ الصحیحۃ
انگریزی
۔
۔
۔
سال دوم (نصف اول)
مضمون
مواد تدریس
نصابی کتب
امدادی کتب
قرآن حکیم (ترجمہ)
پارہ ۱ تا ۴ مع تطبیق قواعد
۔
۔
عربی
اللغۃ العربیۃ
العربیۃ لغیر الناطقین بہا (۳)
العربیۃ للناشئین
اردو
۔
۔
۔
عربی
القواعد
اصول الصرف نصف اول النحو الواضح (۳) نصف اول
الکامل فی قواعدالعربیۃ وصرفہا
انگریزی
۔
۔
۔
فارسی
۔
۔
۔
سال دوم (نصف ثانی)
مضمون
مواد تدریس
نصابی کتب
امدادی کتب
قرآن حکیم (ترجمہ)
پارہ ۴ تا ۸ مع تطبیق قواعد
۔
۔
عربی
اللغۃ العربیۃ
العربیۃ لغیر الناطقین بہا (۴)
العربیۃ للناشئین اقرا العربیۃ وتحدث بہا
اردو
۔
۔
۔
عربی
القواعد
اصول الصرف نصف ثانی النحو الواضح (۳) نصف ثانی
الکامل فی القواعد العربیۃ وصرفہا
انگریزی
۔
۔
۔
فارسی
۔
۔
۔
سال سوم (نصف اول)
مضمون
مواد تدریس
نصابی کتب
امدادی کتب
قرآن حکیم (ترجمہ)
پارہ ۹ تا ۱۴ مع تطبیق قواعد
۔
۔
حدیث وسیرت
مطالعہ عمومی
ریاض الصالحین (۱)
۔
عربی
اللغۃ العربیۃ الانشاء والکتابۃ
العربیۃ لغیر الناطقین بہا (۵) معلم الانشاء (۱)
دروس اللغۃ العربیۃ قصص النبیین
اردو
۔
۔
۔
عربی
القواعد (الصرف) النحو
الشافیہ (نصف اول) القواعد العربیۃ المیسرۃ (۱)
سلم اللسان فی النحو والصرف والبیان
انگریزی
۔
۔
۔
سال سوم (نصف ثانی)
مضمون
مواد تدریس
نصابی کتب
امدادی کتب
قرآن حکیم (ترجمہ)
پارہ ۱۵ تا ۲۰ مع تطبیق قواعد
۔
۔
حدیث و سیرت
مطالعہ عمومی
ریاض الصالحین (۲)
۔
عربی
اللغۃالعربیۃ الانشاء والکتابۃ
العربیۃ لغیر الناطقین بہا (۶) معلم الانشاء (۲)
دروس اللغۃ العربیۃ قصص النبیین
اردو
۔
۔
۔
عربی
القواعد (النحو) (الصرف)
القواعد العربیۃ المیسرۃ (۲) الشافیہ (نصف ثانی)
سلم اللسان فی النحو والصرف والبیان
انگریزی
۔
۔
۔
سال چہارم (نصف اول)
مضمون
مواد تدریس
نصابی کتب
امدادی کتب
قرآن حکیم (ترجمہ)
پارہ ۲۱ تا ۲۵ مع تطبیق قواعد
۔
۔
حدیث وسیرت
اصول حدیث تدوین وحجیت حدیث
تیسیر مصطلح الحدیث (اردو) السنۃ ومکانتہا فی التشریع الاسلامی
ڈاکٹر میر ولی الدین‘ قرآن اور تعمیر سیرت۔ محمد قطب‘ قرآن کا طریق دعوت
حدیث وسیرت
دورۂ حدیث
سنن ابن ماجہ
۔
تحقیق
تحقیقی مقالہ لکھنا
۔
۔
جدید سماجی علوم
فلسفہ‘ نفسیات
۔
عبد السلام ندوی‘ تاریخ حکماء اسلام۔ ڈاکٹر اظہر رضوی‘ مسلم نفسیات کے خدوخال
جدید سائنسی علوم
کونیات‘ فلکیات
۔
ڈاکٹر فضل کریم‘ قرآن اور کائنات
کتاب کے ساتھ میرا تدریجی تعارف
ادارہ
(یہ مضمون ’’مطالعہ‘‘ کے عنوان سے مختلف اصحاب قلم کی تحریروں کے ایک کتابی مجموعہ کے لیے لکھا گیا۔)
کتاب کے ساتھ میرا تعارف بحمد اللہ تعالیٰ بہت پرانا ہے اور اس دور سے ہے جبکہ میں کتاب کے مفہوم اور مقصد تک سے آشنا نہیں تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کا گھر میں زیادہ تر وقت لکھنے پڑھنے میں گزرتا تھا اور ان کے ارد گرد الماریوں میں کتابیں ہی کتابیں ہوتی تھیں اس لیے کتاب کے چہرہ سے شناسائی تو تب سے ہے جب میں نے ارد گرد کی چیزوں کو دیکھنا اور ان میں الگ الگ فرق کرنا شروع کر دیا تھا۔
اس کے بعد کتاب سے دوسرے مرحلے کا تعارف اس وقت ہوا جب میں نے دو چار حرف پڑھ لیے اور کم از کم کتاب کا نام پڑھ سکتا تھا۔ والد صاحب ایک چارپائی پر بیٹھ کر لکھا کرتے تھے اور حوالہ کے لیے کوئی کتاب دیکھنے کی ضرورت ہوتی تو خود اٹھ کر متعلقہ الماری سے وہ کتاب لے لیا کرتے تھے مگر جب میں اور میری بڑی ہمشیرہ الفاظ کی شناخت کے قابل ہو گئے تو پھر اس کام میں ہماری شرکت بھی ہو گئی ‘ اس حد تک کہ ہم میں سے کوئی موجود ہوتا تو والد صاحب کو کتاب کے لیے خود الماری تک نہیں جانا پڑتا تھا بلکہ وہ ہمیں آواز دیتے کہ فلاں کتاب کی فلاں جلد نکال لاؤ اور ہم میں سے کوئی یہ خدمت سرانجام دے دیتا۔ ابتدا میں والد صاحب کو ہمیں یہ بتانا پڑتا تھا کہ فلاں الماری کے فلاں خانے میں اس نام کی کتاب سے اس کی اتنے نمبر کی جلد نکال لاؤ۔ بعد میں کتابوں سے ہمارا تعارف گہرا ہو گیا تو وہ صرف کتاب اور جلد نمبر کا کہتے اور ہم کتاب نکال لاتے اور اس کے لیے بسا اوقات ہم دونوں بہن بھائیوں میں مقابلہ بھی ہوتا کہ کون پہلے کتاب نکال کر لاتا ہے۔
اس وقت کی جن کتابوں کے نام ابھی تک ذہن کے نقشے میں محفوظ ہیں‘ ان میں ۱۔ السنن الکبریٰ‘ ۲۔ لسان المیزان‘ ۳۔ تذکرۃ الحفاظ‘ ۴۔ تہذیب التہذیب‘ ۴۔ تاریخ بغداد اور ۶۔ نیل الاوطار بطور خاص قابل ذکر ہیں جو علم حدیث اور اسماءِ رجال کی کتابیں ہیں اور یہ حضرت والد صاحب کے خصوصی ذوق کے علوم ہیں۔ ان کتابوں کے نام‘ ٹائٹل اور جلدیں بچپن میں ہی ذہن پر نقش ہو گئی تھیں اور یہ نقش ابھی تک ا س طرح تازہ ہیں جیسے آج ہی ان کتابوں کو دیکھا ہو۔
پھر ایک قدم اور آگے بڑھا اور کتاب کو خود پڑھنے کی منزل آ گئی۔ اس کے لیے میں گکھڑ کے ایک مرحوم بزرگ ماسٹر بشیر احمد صاحب کشمیری کا ممنون احسان ہوں کہ ان کی بدولت کتاب کے مطالعہ کی حدود میں قدم رکھا۔ ماسٹر بشیر احمد کشمیریؒ پرائمری سکول کے ٹیچر تھے‘ حضرت والد محترم کے قریبی دوستوں میں سے تھے‘ ان کے خاندان سے ہمارا گہرا خاندانی تعلق تھا‘ انہیں ہم چاچا جی کہا کرتے تھے اور وہ بھی ہم سے بھتیجوں جیسا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ محترمہ کو ہم بے جی کہتے تھے اور ان کی ہمشیرگان ہماری پھوپھیاں کہلاتی تھیں۔ انہی میں سے ایک پھوپھی اب میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کی خوش دامن ہیں۔ والد محترم کو جب کسی جلسہ یا دوسرے کام کی وجہ سے رات گھر سے باہر رہنا پڑتا تو بے جی اس روز ہمارے ہاں رات گزارتی تھیں اور ہمیں چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنایا کرتی تھیں جس کی وجہ سے ہم بہت خوش ہوتے تھے اور ہمیں ایسی رات کا انتظار رہتا تھا۔
ماسٹر بشیر احمد صاحب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے شیدائی اور احرار کے سرگرم کارکن تھے۔ وہ حضرت شاہ جیؒ کی گکھڑ تشریف آوری اور جلسہ سے خطاب کا واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے اور میرے بارے میں بتاتے تھے کہ میں بالکل گود کابچہ تھا اور مجھے حضرت شاہ جیؒ نے گود میں اٹھایا تھا اس لیے مجھ سے اگر کوئی دوست پوچھتا ہے کہ کیا تم نے امیر شریعتؒ کی زیارت کی ہے تو میں کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو یاد نہیں ہے البتہ شاہ جیؒ نے مجھے دیکھا ہے۔
ماسٹر صاحب کے ہاں ہفت روزہ خدام الدین‘ ترجمان اسلام‘ ماہنامہ تبصرہ‘ ہفت روزہ پیام اسلام‘ ہفت روزہ چٹان اور دیگر دینی جرائد آیا کرتے تھے۔ میں ان جرائد سے انہی کے ہاں متعارف ہوا اور وہیں سے رسالے پڑھنے کی عادت شروع ہوئی۔ حضرت والد صاحب کے پاس دہلی سے ماہنامہ برہان‘ ملتان سے ماہنامہ الصدیق‘ چوکیرہ (سرگودہا) سے ماہنامہ الفاروق اور فیصل آباد (تب لائل پور) سے ہفتہ روزہ پاکستانی آیا کرتے تھے جو میری نظر سے گزرا کرتے تھے۔ جامع مسجد بوہڑ والی گکھڑ کے حجرہ کی الماری میں ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جس کے انچارج ماسٹر صاحب مرحوم تھے۔ اس میں زیادہ تر احرار راہ نماؤں کی کتابیں تھیں۔ وہیں سے میں نے وہ کتابیں لیں جو میری زندگی میں مطالعہ کی سب سے پہلی کتابیں ہیں۔ چودھری افضل حق مرحوم کی ’’تاریخ احرار‘‘ مولانا مظہر علی اظہر کی ’’دنیا کی بساط سیاست‘‘ اور آغا شورش کاشمیری کی ’’خطبات احرار‘‘ پہلی کتابیں ہیں جن کا میں نے باقاعدہ مطالعہ کیا۔ کچھ سمجھ میں آئیں اور اکثر حصے ذہن کے اوپر سے ہی گزر گئے لیکن بہرحال میں نے اپنی مطالعاتی بلکہ فکری زندگی کا آغاز ان کتابوں سے کیا۔
یہ میری زندگی کا وہ دور ہے جب میں نے قرآن کریم حفظ مکمل کر لیا تھا اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں گھر میں ہی حضرت والد صاحب سے پڑھ رہا تھا یعنی ۱۹۶۱ء اور ۱۹۶۲ء کا دور جب میری عمر تیرہ چودہ برس کے لگ بھگ تھی۔ اس کے بعد جب ۶۳ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں داخل ہوا اور مدرسہ کے دار الاقامہ میں ایک آزاد طالب علم کی حیثیت سے نئی زندگی کا آغاز کیا تو میں نے اس آزادی کا خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ گھومنا پھرنا‘ جلسے سننا‘ لائبریریاں تلاش کرنا‘ رسالے ڈھونڈنا‘ کتابیں مہیا کرنا اور ان کا مطالعہ کرنا میرے روزہ مرہ معمولات میں شامل ہو گیا تھا۔ درسی کتابوں کے ساتھ میرا تعلق اتنا ہی تھا کہ سبق میں حاضر ہوتا تھا اور واجبی سے مطالعہ وتکرار کے ساتھ سبق کو کسی حد تک قابومیں رکھنے کی کوشش بھی بسا اوقات کر لیتا تھا لیکن اس کے علاوہ میری مصروفیات کا دائرہ پھیل چکا تھا اور اس میں شب وروز کی کوئی قید باقی نہیں رہ گئی تھی۔
اس دور میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے کتب خانے کے علاوہ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کی ذاتی لائبریری میری دسترس میں تھی اور چوک نیائیں میں اہل حدیث دوستوں کا ’’اسلامی دار المطالعہ‘‘ میری جولان گاہ میں شامل تھا جہاں میں اکثر عصر کے بعد جاتا‘ دینی جرائد اور رسالوں پر نظر ڈالتا اور مطالعہ کے لیے کوئی نہ کوئی کتاب وہاں سے لے آتا۔ طالب علمی کے دور میں سب سے زیادہ استفادہ میں نے ان تین لائبریریوں سے کیا ہے۔
مطالعہ کے لیے مجھے جس نوعیت کی کوئی کتاب یا رسالہ میسر آجاتا‘ سمجھ میں آتا یا نہ آتا‘ میں اس پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش ضرور کرتا البتہ ترجیحات میں بالترتیب ۱۔ مزاحیہ تحریریں‘ ۲۔ تاریخی ناول اور ۳۔ جاسوسی ادب سرفہرست رہے اور اب بھی اختیاری مطالعہ میں حتی الامکان ترجیحات کی یہ ترتیب قائم رہتی ہے مگر یہ بات تفریحی مطالعہ کی ہے یعنی فارغ وقت گزارنے کے لیے‘ ذہن کو دیگر مصروفیات سے فارغ کرنے کے لیے اور تھوڑی بہت ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لیے ورنہ عملی وفکری ضرورت کے لیے میرے مطالعہ کی ترجیحات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہو چکی ہیں اور اب ۱۔ حدیث نبوی ﷺ اور اس سے متعلقہ علوم وفنون‘ ۲۔ تاریخ اور حقائق وواقعات کا پس منظر اور ۳۔ اقوام وافکار کا تقابلی مطالعہ اسی ترتیب کے ساتھ میری دل چسپی کے موضوعات ہیں۔
شعر وشاعری بھی میرے مطالعہ کا اہم موضوع رہی ہے اور کسی حد تک اب بھی ہے۔ ایک دور میں دیوان حافظؒ اور دیوان غالب میرے سرہانے کے نیچے مستقل پڑے رہتے تھے۔ دیوان حافظؒ کے بہت سے اشعار سمجھ میں نہیں آتے تھے اس لیے میں نے مترجم دیوان رکھا ہوا تھا اور اس کی مدد سے ضروری باتیں سمجھ لیا کرتا تھا۔ عربی ادب میں دیوان حماسہ مطالعہ اور تدریس دونوں کے لیے میری پسندیدہ کتاب ہے اور مصر کے قومی شاعر شوقیؒ کی کوئی چیز مل جائے تو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
اردو ناول کی شاید ہی کوئی صنف میں نے چھوڑی ہو۔ جاسوسی‘ تاریخی اور رومانی ہر قسم کے ناول میں نے پڑھے ہیں اور سینکڑوں ناول پڑھ ڈالے ہیں۔ نسیم حجازی سے لے کر ابن صفی تک کوئی ناول نگار میرے دائرے سے باہر نہیں رہا جبکہ ادبی جرائد میں چٹان‘ اردو دائجسٹ‘ سیارہ ڈائجسٹ‘ حکایت‘ قومی ڈائجسٹ اور علامت سالہا سال تک میرے مطالعہ کا حصہ رہے ہیں اور ماہنامہ الشریعۃ کے تبادلے میں جو بیسیوں جرائد ہر ماہ آتے ہیں‘ ان سب کے مضامین کے عنوانات پرایک نظر ڈالنا اور دل چسپی کے مضامین کو مطالعہ کے لیے الگ کر لینا اب عادت سی بن گئی ہے۔
کتاب کے ساتھ تعارف کا اس سے اگلا مرحلہ میرے طالب علمی کے آخری دور میں شروع ہوا۔ یہ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد کے دور کی بات ہے۔ گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے جہاں آج کل سفینہ مارکیٹ ہے‘ ان دنوں یہاں خیام ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں ہر اتوار کی شام کو ’’مجلس فکر ونظر‘‘ کے زیر اہتمام ایک فکری نشست جمتی تھی۔ ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم اس مجلس کے سیکرٹری تھے۔ ان سے اسی محفل میں تعارف ہوا جو بڑھتے بڑھتے بے تکلفانہ اور برادرانہ دوستی تک جا پہنچا۔ اس ادبی محفل میں کوئی نہ کوئی مقالہ ہوتا اور ایک آدھ نظم یا غزل ہوتی جس پر تنقید کا میدان گرم ہوتا اور ارباب شعر وادب اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے۔ پروفیسر اسرار احمد سہاروی‘ سید سبط الحسن ضیغم‘ ایزد مسعود ایڈووکیٹ‘ پروفیسر عبد اللہ جمال‘ پروفیسر افتخار ملک مرحوم‘ پروفیسر محمد صادق‘ پروفیسر رفیق چودھری‘ اثر لدھیانوی مرحوم اور ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم اس مجلس کے سرکردہ ارکان تھے۔ میں بھی ہفتہ وار ادبی نشست میں جاتا تھا اور ایک خاموش سامع کی حیثیت سے شریک ہوتا تھا۔ ایک روز اگلی محفل کا پروگرام طے ہو رہا تھا لیکن کوئی صاحب مقالہ کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ میں نے جب یہ کیفیت دیکھی تو کہا کہ اگر اجازت ہو تو اگلی محفل میں مضمون میں پڑھ دوں؟ دوستوں نے میری طرف دیکھا تو میری ہیئت کذائی دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گئے اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ تھوڑی خاموشی کے بعد ارشد میر صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس موضوع پر مضمون پڑھیں گے؟ میں نے جواب دیا کہ ’’ فلپ کے ہٹی کی کتاب ’عرب اور اسلام‘ پر ایک تنقیدی نظر‘‘۔ ہٹی کی اس کتاب کا ترجمہ انہی دنوں آیا تھا اور میں نے تازہ تازہ پڑھ کر اس کی بہت سی باتوں کو نشان زد کر رکھا تھا۔ اس لیے میرا خیال تھا کہ میں اگلے اتوار تک کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات کو قلم بند کر لوں گا مگر میرا یہ کہنا ایک دھماکہ ثابت ہوا۔ میری پہلی بات ہی بعض دوستوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ دوسری بات نے تو ان کے چہروں کی کیفیات کو یک لخت تبدیل کر دیا اور مجھے بعض چہروں پر خندۂ استہزا کی جھلک صاف دکھائی دینے لگی مگر میں اپنے موقف پر قائم رہا جس پر ارشد میر صاحب نے اگلی محفل میں میرے مضمون کا اعلان کر دیا۔
میں نے اپنے مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصے میں ان واقعاتی غلطیوں کی نشان دہی کی جو ہٹی سے تاریخی طور پر چند واقعات کو بیان کرنے میں ہو گئی تھیں اور ان کی تعداد دس سے زیادہ تھی۔ دوسرے حصے میں اس اصولی بحث پر کچھ گزارشات پیش کیں کہ ہٹی اور دیگر مستشرقین اسلام کو ایک تحریک (Movement) کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ اسلام تحریک نہیں بلکہ دین ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی تحریک اور دین کے فر ق کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ اس مضمون کا پہلا حصہ ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں اس دور میں شائع ہو گیا تھا مگر دوسرے حصے کے بارے میں ترجمان اسلام کے مدیر محترم ڈاکٹر احمد حسین صاحب کمال مرحوم نے مجھے بتایا کہ وہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ بد قسمتی سے میرے پاس اس کی کاپی نہیں تھی اور مزید بد قسمتی یہ کہ اس کے بعد اس حصے کو لکھنے کی کئی بار کوشش کر چکا ہوں مگر ابھی تک اس معیار پر نہیں لکھ پا رہا۔ کسی کتاب کے پوسٹ مارٹم اور آپریشن کے حوالے سے یہ میرا پہلا مضمون تھا جو میں نے ’’مجلس فکر ونظر‘‘ کی ہفتہ وار ادبی نشست میں پڑھا جسے بے حد پسند کیا گیا اور اس کے بعد مجلس میں میری شمولیت نے خاموش سامع کے بجائے متحرک رکن کی شکل اختیار کر لی۔
کتاب کے ساتھ میرے تعلق کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ زندگی میں اپنے جیب خرچ اور کمائی کا ایک بڑا حصہ میں نے کتاب پر صرف کیا ہے۔ خرچ کے معاملے میں میری تین کمزوریاں شروع سے رہی ہیں: ۱۔ سفر‘ ۲۔ کتاب اور ۳۔ ڈاک اسٹیشنری۔ مجھے جب بھی اپنے اخراجات میں کوئی گنجائش ملی ہے (بسا اوقات اس کے بغیر بھی) تو میری رقم کے مصارف میں یہی تین چیزیں شامل رہی ہیں اور اب بھی یہی صورت حال ہے۔ میں نے زندگی میں جتنی کتابیں خریدی ہیں‘ اگر سب میرے پاس موجود ہوتیں تو انہیں سنبھالنے کے لیے اچھی خاصی لائبریری درکار ہوتی مگر میرے ساتھ المیہ یہ رہا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کتاب خریدنے میں جس قدر ’’فضول خرچ‘‘ تھا‘ اسی طرح کتاب دینے میں بھی فراخ دل رہا ہوں۔ مجھ سے جس دوست نے بھی کسی ضرورت کے لیے کوئی کتاب مانگی ہے‘ میں انکار نہیں کر سکا اور اس طرح دی ہوئی کتابوں میں شاید ہی چند کتابیں مجھے واپس ملی ہوں ورنہ اکثر کتابیں دوستوں ہی کے کام آ رہی ہیں۔ یہ ’’واردات‘‘ میرے ساتھ انفرادی کے علاوہ اجتماعی بھی ہوئی ہے اور کئی بار ہوئی ہے۔ ۶۵ء کی بات ہے کہ گکھڑ میں ’’انجمن نوجوانان اسلام‘‘ قائم ہوئی جس کے بانیوں میں میرا نام بھی شامل ہے۔ اس انجمن نے عوامی خدمت کے لیے ’’دار المطالعہ‘‘قائم کیا تو میں نے اپنی زیادہ تر کتابیں وہاں دے دیں کہ عمومی استفادہ ہوگا اور محفوظ بھی رہیں گی مگر دو چار سال کے بعد انجمن بکھری تو کتابوں کا بھی کچھ پتہ نہ چل سکا کہ کہاں گئیں۔
اس کے بعد گوجرانوالہ میں اسلامیہ کالج روڈ پر کچھ نوجوانوں نے ’’انصار الاسلام لائبریری‘‘ کے نام سے دینی دار المطالعہ قائم کیا تو اس وقت جمع ہونے والی کتابوں کا بڑا حصہ ان کی نذر کر دیا۔ یہ دار المطالعہ آٹھ دس سال چلتا رہا ہے اور اب اس کا بھی کوئی سراغ موجود نہیں ہے۔
اس کے کافی عرصہ بعد شاہ ولی اللہ یونیورسٹی وجود میں آئی اور اس میں لائبریری قائم کی گئی تو میں نے ایک بار پھر کتابوں کی چھانٹی کی اور اچھا خاصا ذخیرہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی لائبریری میں منتقل کر دیا مگر یونیورسٹی کا سلسلہ تعلیم چند سال بعد منقطع ہو گیا تو لائبریری بھی بند ہو گئی۔ خدا جانے کوئی کتاب وہاں اب بھی موجود ہے یا نہیں۔
یہ سلسلہ شاید مزید آگے چلتا مگر اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی کہ میرے بڑے بیٹے حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کو کتاب شناسی کا ذوق عطا فرمایا‘ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ اس نے آہستہ آہستہ کتابوں کا معاملہ اپنے کنٹرول میں لے لیا اور کچھ مجھے بھی تھوڑی ’’عقل‘‘ آ گئی اس لیے اب اگر اس سے کوئی کتاب کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ ’’ابو سے پوچھنا پڑے گا‘‘ اور مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ ’’ناصر کو پتہ ہوگا‘‘۔ اس طرح کچھ کتابیں بچی ہوئی ہیں اور ہم انہیں الشریعۃ اکادمی کی لائبریری کے لیے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔
’’الشریعہ اکادمی‘‘ گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ پر کنگنی والا بائی پاس کے ساتھ مغرب کی جانب ہاشمی کالونی میں ایک کنال رقبہ پر تعلیمی اور تصنیفی مقاصد کے لیے قائم کی گئی ہے جس کی نگرانی میرے پاس اور نظم عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں ایک لائبریری کے لیے بڑا ہال مخصوص کر دیا گیا ہے اور خواہش ہے کہ ایک اچھی سی لائبریری بنائی جائے جو علماء کرام‘ اہل دانش اور طلبہ کے لیے استفادہ کا ذریعہ بنے۔ ارادہ یہ ہے کہ فارغ التحصیل علماء کرام کے لیے ایک ’’خصوصی کورس‘‘ شروع کیا جائے جس میں انہیں تاریخ‘ تقابل ادیان‘ تعلقات عامہ‘ کمپیوٹر اور دیگر ضروری مضامین کی تیاری کے ساتھ ساتھ تحقیق ومطالعہ‘ تحریر وانشا اور ادب وصحافت کے ذوق سے آشنا کیاجائے اور اردو‘ عربی اور انگلش سے حسبِ ضرورت روشناس کرایا جائے۔ اس کے لیے جگہ موجود ہے اور دیگر ضروری وسائل کے لیے بھی اصحاب خیر سے تعاون کی امید ہے لیکن میرے نزدیک اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز ایک معیاری لائبریری ہے ۔ جس روز کام شروع کرنے کی حد تک لائبریری میسر آ گئی‘ اس ’’خصوصی کورس‘‘ کا آغاز کر دیا جائے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’مسئلہ کشمیر: پس منظر، موجودہ صورتحال اور حل‘‘
ڈاکٹر محمد فاروق خان ہمارے ملک کے معروف دانش ور اور کالم نگار ہیں اور جس مسئلے پر قلم اٹھاتے ہیں، اس میں تحقیق، تجزیہ اور استدلال کے خوب صورت امتزاج کو قاری کے لیے باعث کشش بنا دیتے ہیں۔ بعض مسائل پر ان کے استدلال وت جزیہ کے نتائج سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن تحقیق و استدلال میں ان کی محنت اور مسئلے کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے ان کی وسعت نظر سے اختلاف ممکن نہیں۔
زیر نظر مقالہ میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور اس مسئلے میں مختلف فریقوں کے موقف و کردار کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور حقائق و واقعات کو ترتیب اور حوالہ جات کے ساتھ اس انداز سے پیش کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور اس کے بارے میں کشمکش کا ایک مجموعی تناظر قاری کے سامنے آجاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کے پیش کردہ حل اور تجاویز سے بھی ہمیں اتفاق ہو لیکن مسئلہ کشمیر کو ایک تاریخی تسلسل اور تناظر میں پیش کرنے کے لیے ان کی محنت قابل داد ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔
۶۸ صفحات پر مشتمل یہ مقالہ عمدہ کمپوزنگ اور طباعت کے ساتھ دار الاشراق، ۱۲۳/بی ماڈل ٹاؤن لاہور نے شائع کیا ہے۔
’’فتنہ دجال اکبر: خطرات اور تدابیر‘‘
جناب رسالت مآب ﷺ نے امت کو جن فتنوں سے بطور خاص خبردار فرمایا ہے، ان میں دجال کا فتنہ سرفہرست ہے اور متعدد احادیث نبویہ میں دجال اور اس کے فتنے کے بارے میں نشانیاں، تفصیلات اور اس کی تباہ کاریاں وضاحت کے ساتھ موجود ہیں جن کی تعبیر و تشریح ہر دور میں محدثین کرامؒ اپنے اپنے علمی دائرے اور ذوق کے مطابق کرتے آ رہے ہیں۔
بھارت کے معروف مسلم سکالر اور دانش ور ڈاکٹر اسرار عالم نے اس موضوع پر بہت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور ان کی تحقیق و تجزیہ کا ایک منفرد انداز ہے جس میں عالم اسلام کے خلاف مغرب کی فکری اور تہذیبی یلغار کو دجالی فتنہ کے روپ میں پیش کر کے مغرب کے دجل و فریب کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار عالم صاحب کے فکر و تجزیہ کے تمام نتائج سے اتفاق ضروری نہیں لیکن مغربی فلسفہ و تہذیب کی تباہ کاریوں اور اس کے مکر و فریب کو جس تنوع اور وسعت کے ساتھ انہوں نے بے نقاب کیا ہے، اس سے مغرب کے فکر و فلسفہ اور اس کی تہذیبی یلغار کے اہداف کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔
زیر نظر رسالہ میں انہوں نے اس موضوع پر اپنی تحریروں کا خلاصہ ۸۰ صفحات میں پیش کیا ہے جسے دار العلم نئی دہلی نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۲۰ روپے ہے۔
’’درس مثنوی مولانا رومؒ ‘‘
مولانا جلال الدین رومیؒ کی ’’مثنوی‘‘ کو نہ صرف فارسی ادب کی کلاسیکل کتابوں میں نمایاں مقام حاصل ہے بلکہ اہل تصوف کے ہاں بھی معرفت اور اسرار بندگی کے بیان میں اسے اعلیٰ درجہ کی کتاب سمجھا جاتا ہے بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شیخ العلما حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے حلقہ میں تو مثنوی باقاعدہ تربیت و اصلاح کے نصاب میں شامل ہے جس کا درس دیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
حضرت تھانویؒ ہی کے حلقہ کے ایک باذوق بزرگ حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب مدظلہ نے چار سال قبل مثنوی پر اپنے متوسلین اور خوشہ چینوں کو چوبیس درس دیے جنہیں قلم بند کر کے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔
پونے چار سو صفحات کی یہ خوب صورت اور مجلد کتاب کتب خانہ مظہری، پوسٹ بکس ۱۱۱۸۲، گلشن اقبال بلاک ۲، کراچی سے طلب کی جا سکتی ہے۔
’’ماہنامہ ظلال القرآن‘‘
مولانا سید محمد معروف شاہ شیرازی ہزارہ کے معروف عالم اور دانش ور ہیں جن کا فکری تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور علمی میدان میں ان کی خدمات کا سلسلہ خاصا وسیع ہے جس میں سید قطب شہیدؒ کی معرکہ آرا تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ کا اردو ترجمہ بطور خاص قابل ذکر ہے۔ ان دنوں وہ اسلام آباد سے ماہنامہ ’’ظلال القرآن‘‘ کے نام سے ایک معیاری علمی و دینی جریدہ پابندی سے شائع کر رہے ہیں جس میں علمی و فکری مسائل کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی تازہ ترین صورت حال پر تبصرہ بھی شامل ہوتا ہے۔
۵۰ صفحات پر مشتمل اس ماہوار جریدہ کی قیمت فی شمارہ ۱۵ روپے اور سالانہ زر خریداری ۱۵۰ روپے ہے۔ خط وکتابت مندرجہ ذیل پتہ پر کی جا سکتی ہے:
مسجد عمار بن یاسرؓ، گلی ۲۶، F/10-1، اسلام آباد
اخبار و آثار
ادارہ
’’امریکی چرچ کا جنسی بحران‘‘
لاہور (انٹر نیشنل ڈیسک) امریکہ کے ریورنڈجان جے جیوگین کی طرف سے ڈیڑھ سو کے قریب نوعمر لڑکوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات اور پیٹرک میکسوالے کی طرف سے ۱۹۸۶ء میں اس سے ہونے والے جنسی تشدد پر ریورنڈ جیوگین کے خلاف عدالتی کارروائی اور نو سے دس سال تک سزائے قید کے بعد امریکہ بھر کے کیتھولک فرقے کے لوگ خوفزدہ ہیں اور اپنے فادرز کے ہاتھوں بچوں کے جنسی تشدد کے متعدد سکینڈلوں سے پریشان ہو چکے ہیں۔ امریکہ کے ممتاز جریدے نیوز ویک کی حالیہ اشاعت میں شائع ہونے والے مضمون ’’فادرز کے گناہ‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے لوگ اب بوسٹن کے کارڈینل کے مخالف ہو چکے ہیں جس کے ماتحت کام کرنے والے پادری جنسی سکینڈل میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس تازہ سکینڈل کے باعث متعدد پادریوں نے جان جے جیوگین کے خلاف قانونی کارروائی پر تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ ہم اتنی توہین محسوس کر رہے ہیں کہ ہم نے عوام میں اپنے مخصوص کالر پہننا بھی ترک کر دیا ہے۔ بوسٹن کے کیتھولکس کی نصف تعداد کا مطالبہ ہے کہ کارڈینل مستعفی ہو جائیں کیونکہ ان کی وجہ سے کیتھولک چرچ کی بدنامی ہوئی ہے۔ اس سکینڈل کی وجہ سے امریکہ کے ایسے بہت سے اداروں سے متعلق لوگ بھی پریشان ہو گئے ہیں جن سے ان کے بچے منسلک ہیں۔ ان میں سکول سپورٹس کی ٹیمیں، بوائے اسکاؤٹس وغیرہ شامل ہیں۔ آرچ ڈایوسس آف منڈولفیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسے اس بات کی معقول شہادت ملی ہے کہ ۳۵ پادری پانچ عشروں تک بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرتے رہے ہیں اور انہوں نے متعدد بار ایسے پادریوں کو ان کے فرائض سے سبک دوش کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایری زونا ڈیلی سٹار نے بشپ مینویل ڈی مورنیو آف ٹکسون کے استعفا کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ چرچ کے افسران نے خاموشی کے ساتھ نو لڑکوں کو خاموش رہنے کے لیے لاکھوں ڈالر ادا کیے ہیں۔ پلین ٹفس کی اتھارٹیز نے بتایا ہے کہ انہیں روزانہ کالیں وصول ہو رہی ہیں جن میں میری لینڈ، نیویارک، کیلیفورنیا ‘ایریزونا اور ایلونوس میں جنسی تشدد کے شکار بچوں نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کیے ہیں۔ اس مضمون میں متعدد پادریوں کی طرف سے مختلف بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ آئندہ دس سال میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد پر ہونے والے تصفیوں پر چرچ ایک بلین ڈالر خرچ کریں گا جبکہ ۱۹۸۰ء کے بعد سے اب تک کم از کم ۸۸۰ ملین ڈالر ادا کر چکا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۲۸ فروری ۲۰۰۲ء)
’’پاکستان میں پہلا اسلامی بینک‘‘
کراچی (ا پ پ) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں پہلے اسلامی کمرشل بینک کے قیام کے لیے لائسنس جاری کر دیا ہے۔ کراچی میں ہونے والی ایک سادہ تقریب میں گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے میزان بینک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو عرفان صدیقی کو لائسنس دیا۔ میزان بینک کے سپانسرز کا کویت اور بحرین میں بھی ایک بینک قائم ہے جبکہ جدہ میں اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے۔ میزان بینک کے چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز شیخ ابراہیم بن خلیفہ الخلیفہ ہیں جو کہ بحرین کے نائب وزیر خزانہ ہیں۔ میزان بینک لمیٹڈ پہلا اسلامک بینک ہوگا جو پاکستان کے اندر کام شروع کرے گا۔ اس کی پورے ملک میں شاخیں کھولی جائیں گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میزان بینک کو ایک اہم اور بھاری ذمہ داری سونپی گئی ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ دیگر بینک بھی اسلامی اصولوں کے مطابق بینکاری کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کافی مشکل مرحلہ ہے تاہم یہ دیکھنا ہے کہ بینک کس طرح اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ بینکوں کا نظام کیا اسلامی اصولوں کے مطابق کیا جائے گا جس کے بعد سٹیٹ بینک کے کمیشن نے میزان بینک کی درخواست پر غور کیا اور بینک پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں لائسنس جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے اسلامک بینک کے قیام سے لوگوں کو ایک نیا تجربہ ملے گا جس کے بعد دوسرے بینک بھی اس کی تقلید کرنے کے لیے آگے آئیں گے۔
(روزنامہ پاکستان لاہور، یکم فروری ۲۰۰۲ء)
’’امریکہ میں ڈاڑھی کا مقدمہ‘‘
نیو یارک (نمائندہ خصوصی) نیو جرسی اسٹیٹ میں ۱۰ مسلمان پولیس افسران نے دوران ڈیوٹی ڈاڑھی رکھنے کا مقدمہ جیت لیا ہے۔ جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے ایک لاسوٹ میں کہا گیا تھا کہ ۱۰ مسلم افسروں کو ڈاڑھی رکھنے کی وجہ سے ملازمت سے بے دخلی یا پھر ان کی مرضی کے خلاف محکموں میں کھپائے جانے کا امکان تھا۔ جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے محکمہ کو حکم دیا کہ مسلم پولیس افسروں کو دوران ملازمت ڈاڑھی رکھنے کی اجازت دی جائے اور انہیں ہرجانے کے طور پر ۶۰۰,۵۳ ڈالر بھی ادا کیے جائیں۔