جون ۲۰۰۲ء

دینی حلقوں کی آزمائش اور ذمہ داریادارہ 
حقیقی جمہوریت یا رجعت قہقریٰ؟پروفیسر میاں انعام الرحمن 
سرحدی کشیدگی اور مغربی عزائمپروفیسر میاں انعام الرحمن 
سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
انصاف یا جنگل کا قانون؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سیرت النبی ﷺ کے خلاقی پہلو اور فکر اقبالؒپروفیسر میاں انعام الرحمن 
اسلامی تحریکات کا ایک تنقیدی جائزہ (۱)ڈاکٹر یوسف القرضاوی 
علماء دیوبند اور سرسید احمد خان - مولانا عیسیٰ منصوری کے ارشادات پر ایک نظرضیاء الدین لاہوری 
اسلامی نظریاتی کونسل کے نام مدیر ’الشریعہ‘ کا مکتوبمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خوشی کی تلاشاختر حمید خان 
جرسِ کارواںادارہ 

دینی حلقوں کی آزمائش اور ذمہ داری

ادارہ

پاکستان شریعت کونسل نے حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ پاکستان میں فوج اور دینی حلقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر کے ترکی اور الجزائر جیسے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اس لیے دونوں طرف کے محب وطن اور اسلام دوست عناصر کو سنجیدگی کے ساتھ اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ بات پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کی ایک قرارداد میں کہی گئی ہے جو ۹؍ مئی ۲۰۰۲ء کو جامع مسجد سلمان فارسیؓ اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں منظور کی گئی۔ یہ اجلاس کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا زاہد الراشدی‘ مولانا حامد علی رحمانی‘ حاجی جاوید ابراہیم پراچہ‘ احمد یعقوب چودھری‘ مولانا محمد ادریس ڈیروی‘ مولانا صلاح الدین فاروقی‘ مولانا حافظ مہر محمد‘ مولانا عبد الحلیم قاسمی‘ مولانا محمد رمضان علوی‘ مولانا قاری جمیل الرحمن اختر‘ مخدوم منظور احمد تونسوی‘ مولانا مفتی انعام اللہ‘ ملک محمد شاہد اور دیگر راہ نماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر میں دینی جماعتوں کے کارکنوں اور علماء کرام کی بلا امتیاز گرفتاریوں‘ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی تلاش کی آڑ میں دینی مدارس ومراکز کے خلاف امریکی اتحاد کی عسکری کارروائیوں‘ خوف وہراس کی کیفیت اور ووٹر فہرستوں کے فارم میں عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کو ختم کرنے سمیت بہت سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے قانون کے دائرے کے اندر رہ کر ان مقاصد کے لیے دینی جدوجہد کو منظم کیا جائے گا اور متعلقہ حلقوں کے ذمہ دار حضرات سے رابطہ کر کے دینی مفادات کے تحفظ اور فوج کے ساتھ دینی حلقوں کے تصادم کو روکنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ بین الاقوامی دباؤ اور این جی اوز کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ دستور کی اسلامی دفعات کو غیر موثر بنانے‘ قادیانیت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے بارے میں دستوری فیصلوں کو ختم کرانے اور ملک میں فحاشی اور بے حیائی کے فروغ کے لیے ایک منظم پروگرام کے تحت کام جاری ہے اور ہر سطح پر منصوبہ بندی کے ساتھ پیش رفت ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف کوئی خفیہ ہاتھ ملک کے دینی حلقوں کو فوج کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت میں لاکر الجزائر اور ترکی کی طرح پاکستان کی دینی قوتوں کو طاقت کے بل پر کچل دینے کے لیے سرگرم عمل ہے اس لیے ملک کی دینی قیادت اس وقت شدید آزمائش سے دوچار ہے۔ کیونکہ جس طرح ہمارے لیے یہ بات ممکن نہیں ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص سے دست بردار ہو جائیں اور نفاذ اسلام کے لیے نصف صدی کی دستوری جدوجہد کے نتائج سے ہاتھ دھو بیٹھیں‘ اسی طرح ہم اس بات کے متحمل بھی نہیں کہ فوج کے ساتھ دینی حلقوں کی محاذ آرائی کی صورت حال پیدا کر کے ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈال دیں۔ ہم اس وقت پل صراط پر چل رہے ہیں اور ہماری چھوٹی سی غلطی بھی ملک وقوم کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دینی قیادت کو مل بیٹھ کر اس صورت حال کا حل تلاش کرنا چاہیے اور ملک کے عوام کو متوازن دینی راہ نمائی مہیا کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کے سائے میں عافیت کی جگہ تلاش کرنا دینی روایات اور ملی مقاصد کے ساتھ بے وفائی کی بات ہوگی اور اسی طرح محاذ آرائی کی فضا پیدا کر کے فوج اور دینی حلقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ بھی قومی مفادات کے منافی ہوگا۔ ہمیں اس کے درمیان متوازن راہ تلاش کرنی ہوگی اور ملک بھر کے دینی کارکنوں اور دین دار عوام کو مایوسی اور بے دلی کی فضا سے نکالنے کے لیے عملی جدوجہد کرنی ہوگی۔
پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ملک کے دینی حلقوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا چاہیے اور ہر ایسی بات سے گریز کرنا چاہیے جو دینی جماعتوں‘ حلقوں اور مراکز کے درمیان بعد پیدا کرتی ہو۔ انہوں نے علماء کرام سے کہا کہ وہ تین باتوں کی طرف سب سے زیادہ توجہ دیں۔ ایک یہ کہ مثبت انداز میں عوام تک قرآن وسنت کی تعلیمات کو پہنچائیں اور اپنے خطبات جمعہ‘ دروس اور بیانات میں عام مسلمانوں کو قرآن وسنت کی تعلیمات اور اسلامی احکام وقوانین سے واقف کرانے کی کوشش کریں۔ دوسری بات یہ کہ نئی نسل کی دینی تعلیم وتربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں اور دینی مدارس اور سکول ہر سطح پر قائم کر کے نئی پود کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ضروری عصری تعلیم سے بھی آراستہ کرنے کا اہتمام کریں اور تیسری بات یہ کہ رفاہ عامہ اور خدمت خلق کے کاموں کی طرف توجہ دیں۔ 
انہوں نے کہا کہ معاشرے کے نادار لوگوں کی خدمت اور رفاہ عامہ کی جدوجہد ہمارے دینی فرائض میں سے ہے جس کی بجا آوری ہم نے بالکل چھوڑ دی ہے اور اسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ملک میں ہزاروں این جی اوز متحرک ہو گئی ہیں جو تعلیم‘ صحت اور خدمت عامہ کے دیگر کاموں کی آڑ میں اپنے نظریات اور ثقافت کو فروغ دے رہی ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم قومی زندگی کے اتنے بڑے شعبے کو این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کے حوالے نہ کر دیں بلکہ خود آگے بڑھ کر رفاہ عامہ کے کاموں میں دل چسپی لیں اور ہر علاقہ میں اسلامی این جی اوز قائم کر کے تعلیم‘ صحت اور دیگر شعبوں میں عوام کی خدمت کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دینی مدارس بھی این جی اوز کی حیثیت رکھتے ہیں جو تعلیم کے میدان میں شان دار خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ لاکھوں نادار افراد کو خوراک اور رہائش کی سہولتیں بھی فراہم کر رہے ہیں لیکن اس کام کو دوسرے شعبوں میں بھی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے دینی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ سے کام کرنے والی این جی اوز کے غلط کاموں کا راستہ بھی روک سکیں۔
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ایک قرارداد میں قبائلی علاقوں میں دینی مدارس کے خلاف فوجی ایکشن‘ عرب مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی اندھا دھند گرفتاریوں اور مجاہدین کو امریکہ کے سپرد کرنے کی کارروائیوں پر شدید احتجاج کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے کسی جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن مقرر کیا جائے جو ۱۱؍ ستمبر کے بعد ہونے والے حالات اور دہشت گردی کے عنوان سے حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان کشیدگی کے فروغ کے اسباب وعوامل کی نشان دہی کرے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات تجویز کرے۔ قرارداد میں ملک کی سیاسی اور دینی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کے قیام کے مطالبہ کی تائید کریں تاکہ ہم خدا نخواستہ کسی بڑے سانحہ کے رونما ہونے سے پہلے ان اسباب وعوامل کو کنٹرول کر سکیں جو ملک وقوم کے لیے کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔
ایک قرارداد میں کشمیر‘ فلسطین‘ چیچنیا‘ مورو اور دیگر مسلم خطوں کے مجاہدین کی جدوجہد کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد قرار دینے کی روش کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ امریکہ اور اس کے حواری محض اپنے یک طرفہ مفادات کی خاطر مجاہدین آزادی کو دہشت گرد قرار دے کر قوموں کی آزادی کی مسلمہ روایات کی نفی کر رہے ہیں اور اگر اس حوالے سے امریکی موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو خود امریکہ کی جنگ آزادی بھی دہشت گردی قرار پا کر بلاجواز ہو جاتی ہے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکی کانگریس کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنا ’’اقوام متحدہ‘‘ کا کردار بحال کرے اور مسلم دنیا کے خلاف معاندانہ اور جانب دارانہ طرز عمل پر نظر ثانی کرے نیز فلسطین اور کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر سنجیدگی سے عمل کرائے۔ 
ایک اور قراداد میں افغانستان کے بزرگ عالم دین مولانا محمد نبی محمدیؒ ‘ بھارت کے بزرگ عالم دین مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور مولانا شہاب الدین ندویؒ ‘ اور پاکستان کے بزرگ عالم دین مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ملی وقومی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
(رپورٹ: ادارہ)

حقیقی جمہوریت یا رجعت قہقریٰ؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ڈوری کا ایک سرا طاقت ور شخص کے ہاتھ میں ہے اور دوسرے سرے سے ایک بظاہر آزاد شخص کی ٹانگ بندھی ہوئی ہے۔ اس ٹانگ بندھے شخص کی آزادی‘ ڈوری کی لمبائی کے برابر ہے۔ جب بھی یہ شخص ذرا زیادہ آزادی پانے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرے سرے پر موجود شخص خائف ہو کر ڈوری کو کھینچنا شروع کر دیتا ہے اور وہ ’’آزاد‘‘ شخص الٹے پاؤں گھسٹتا چلا جاتا ہے۔ مزاحمت تو دور کی بات ہے‘ صرف بچاؤ کرنے میں ہی وہ منہ کے بل گر جاتا ہے‘ کہنیاں چھل جاتی ہیں اور ہاتھ خاک آلود ہوجاتے ہیں۔ رہا دل‘ تو اس کی بات ہی چھوڑیے۔
یہ مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ سے زیادہ کہیں اور صادق نہیں آ سکتی۔ ملک کے عسکری ادارے نے ڈوری کا سرا مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔ ’’ملکی سلامتی اور قومی مفاد‘‘ ڈوری کی لمبائی کے متوازی ہیں۔ ڈوری کے دوسرے سرے پر دستوری ڈھانچہ ہے جسے فی الواقع ’’ڈھانچہ‘‘ ثابت کر دیا گیا ہے۔ 
وطن عزیز کی تاریخ کے معروضی جائزے سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دستوری اداروں کو کام کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا؟ اس کا ایک ہی جواب نہایت شد ومد سے دیا جاتا ہے کہ دستوری ادارے‘ غیر دستوری انداز سے چلائے جاتے ہیں۔ کوئی بھی ہوش مند اور غیر جانب دار شخص اس جواب کی صحت سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کا حل یہی ہے کہ ’’ڈوری‘‘ برقرار رکھی جائے‘ وقتاً فوقتاً کھینچ ماری جائے اور دستوری اداروں کو ذلیل ورسوا کیا جائے؟ آخر ایک بار کھینچ مارنے کے بعد‘ بلکہ فوراً بعد‘ دستوری اداروں کے قیام کی کوششیں کیوں کی جاتی ہیں؟ عسکری ادارہ مستقل طور پر خود ملک کی باگ ڈور کیوں نہیں سنبھال لیتا؟ بہت صاف اور سیدھی بات ہے کہ اصول وضوابط کے بغیر‘ ’’جٹکے‘‘ انداز سے کوئی بھی ادارہ نہیں چلایا جا سکتا۔ پھر ریاست تو ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ جب یہ بات طے شدہ ہے کہ آخر دستور ہی کی طرف لوٹنا ہوگا تو پھر اس کی دھجیاں اڑانے کا فائدہ؟
جہاں تک دستوری اداروں کے غیر دستوری انداز سے چلانے کا تعلق ہے تو اس کا تعلق شخصیات سے ہے۔ کسی کی شخصی خامیوں کی بنا پر اداروں کو نہیں لپیٹنا چاہیے بلکہ ایسے طریقے اختیار کرنے چاہییں جن سے ’’شخصی غلبے‘‘ کا تدارک ہو سکے۔ جہاں تک پارلیمانی نظام کا تعلق ہے تو برطانیہ کے اندر بھی پچھلے چند سالوں سے اس پر تنقید سامنے آ رہی ہے کہ اب یہ وزارتی نظام کے بجائے وزیر اعظمی نظام (Prime Ministerial System) بن چکا ہے۔ ویسے بھی کوئی بھی نظام مختلف مراحل طے کرتا ہوا‘ اپنے ثمرات سے مستفید کرتا ہوا‘ آخر کار Point of Saturation تک پہنچ جاتا ہے جہاں اسے پیوند کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ برطانیہ کی حد تک تو شاید یہ بات درست ہو کہ وزارتی نظام کو پیوند کاری کی ضرورت ہے لیکن پاکستان پر اس اصول کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ یہاں پارلیمانی جمہوریت کی کسی کونپل کو پھوٹتے ہی مسل دیا جاتا ہے‘ Point of saturation تو بہت دور کی بات ہے۔
حقیقی پارلیمانی جمہوریت ایک طویل ارتقا کی متقاضی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں محدود شرح خواندگی اور مخصوص معاشرتی حالات کے تناظر میں یہ ارتقا کچھ اس طرح سے ہوگا:
۱۔ پہلے الیکشن کے بعد سے پندرہ سال تک کے دور کو ہم ماقبل جمہوریت کا مرحلہ (Pre-Democratic Phase) کہہ سکتے ہیں۔
۲۔ دوسرے مرحلے پر مزید پندرہ سال کے عرصے کو جمہوریت کی جانب پیش قدمی (Initiative to Democarcy) کہہ سکتے ہیں۔
۳۔ اس کے مزید تیس سال بعد کے عرصے میں ہم جمہوریت اور اس کی متعلقہ قدروں سے معاشرتی سطح پر آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل پیرا ہونے کی توقع کر سکتے ہیں۔
یہ ارتقا اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ کسی انقطاع کے بغیر انتخابات مسلسل ہوتے رہیں۔
پاکستان میں عملی صورت حال کچھ اس طرح سے ہے کہ ابھی ہم پہلے مرحلے سے نہیں نکل پاتے کہ قوم کے ’’رکھوالے‘‘ اپنی اہمیت جتانے آ دھمکتے ہیں۔ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو ’’محفوظ‘‘ کر کے دوبارہ جمہوری عمل شروع کروا دیتے ہیں۔ اگر جمہوریت پاکستان میں قدم نہیں جما سکتی تو اس کی وجہ نظام کی ناکامی نہیں بلکہ ہماری عجلت پسندی ہے۔ قوم پچپن سال سے پہلے مرحلے میں ہے اور تقاضے تیسرے مرحلے کے کرتی ہے۔ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ادوار کو ہم ’’جمہوری‘‘ قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ان ادوار کا شمار Pre-Democratic Phase میں ہوتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ مسلسل جمہوری عمل سے تبدیلی اور بہتری کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ کثیر جماعتی کی جگہ دو جماعتی نظام جڑ پکڑ چکا تھا۔ عوام اپنی طاقت سے آگاہ ہو رہے تھے۔ امکان غالب تھا کہ دوسرے مرحلے میں شخصی غلبے کا تدارک بھی ہو جاتا‘ لیکن ملک وقوم کے ’’خیر خواہوں‘‘ نے ’’ذمہ داری‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’بروقت ‘‘ مداخلت کرکے کثیر جماعتی نظام کی راہ دوبارہ ہموار کر دی ہے۔ امید ہے قوم لوٹوں کی منڈی سے مزید دس بارہ سال تک محظوظ ہوتی رہے گی۔ پھر بہتری کے آثار نظر آنے پر دوبارہ ڈوری کھینچ لی جائے گی کیونکہ کوئی نہ کوئی بانکا آزادی کی ’’حدود‘‘ کو پھلانگنے کی کوشش کرے گا۔

سرحدی کشیدگی اور مغربی عزائم

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت ساری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں۔ اس خطے کی سات بڑی ریاستوں میں سے دو ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔ جنگ کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان‘ بھارتی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ورنہ باقی پانچ ریاستوں میں سے کسی میں اتنا دم خم نہیں کہ انڈیا سے برابری کی سطح پر تعلقات قائم رکھ سکے۔ انڈیا کا بارڈر بھی تقریباً تمام ریاستوں سے متصل ہے جس سے انڈیا کو در اندازی کے تمام مواقع میسر ہیں۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خطہ نااتفاقی کے سبب ایک اصول پر متفق ہے: باہمی عدم اتحاد۔ بالخصوص انڈیا اور پاکستان کے مابین انتہائی باہمی بد اعتمادی پائی جاتی ہے۔ انڈیا میں رونما ہونے والے کسی بھی ناخوش گوار واقعے کی ذمہ داری پاکستان کے سر تھوپ دی جاتی ہے۔ یہی صورت حال دوسری جانب ہے۔ اس سے تعلقات کی نوعیت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس خطے کے باقی ممالک کے باہمی تعلقات کا تعین بھی انڈیا اور پاکستان کی پالیسیوں سے ہوتا ہے جس سے یہ خطہ مزید بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ باہمی عدم اعتماد کی اس فضا نے بیرونی طاقتوں (Extra-regional powers) کو جنوبی ایشیا میں اپنا اثر ورسوخ قائم کرنے اور اس میں شدت پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جس سے علاقائی طاقتوں کے باہمی تعلقات (Intra-regional relations)مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح جنوبی ایشیا داخلی اور خارجی دونوں اعتبار سے خطرے میں (Vulnerable) ہے۔ 
جنوبی ایشیا کے مسائل سے کماحقہ واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو درجہ بدرجہ تین مختلف سطحوں پر دیکھا جائے: مقامی (Domestic)‘ علاقائی (Regional) اور عالمی (Global)۔
مقامی سطح پر ہر ملک کو مذہبی‘ لسانی اور نسلی عصبیتوں کا سامنا ہے۔ انڈیا میں ہندو انتہا پسندی سے ’’سیکولر ازم‘‘ خطرے میں ہے۔ فرقہ وارانہ اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ کشمیر کے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکات انڈین یونین کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ صاف اور سیدھی سی بات ہے کہ کثیر نسلی‘ کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ملک کو زیادہ عرصے تک مصنوعی انداز میں یکجا نہیں رکھا جا سکتا۔ حالیہ ہندو انتہا پسندی سے موجودہ یکجائی بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوئی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ ڈوبنے والا تنکے کو بھی شہتیر سمجھتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے داخلی ٹوٹ پھوٹ سے ڈوبتے ملک کو خارجی محاذ کی صورت میں ’’تنکے‘‘ سے نواز ہے اور تنکا بہرحال تنکا ہوتا ہے۔ بھارت کو اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی علاقائی پالیسی مقامی محرکات کے پیش نظر تشکیل دی گئی ہے۔ افغانستان کے خلاف مغرب کی یلغار میں انڈیا کی انتہائی کوشش تھی کہ اسے بھی فعال رول سونپا جائے۔ کیونکہ مسلم احیا کی تحریکات پر کاری ضرب لگانے سے جہاں ایک طرف کشمیر میں آزادی کی تحریک تعطل کا شکار ہوتی‘ وہاں ہندوستانی مسلمانوں کو بھی باور کرا دیا جاتا کہ زیادہ اچھلنے کودنے کی ضرورت نہیں۔ بہت بڑی آبادی اور زرعی ملک ہونے کے ناتے انڈیا کو یہ موقع مل گیا کہ افغان جنگ کے دوسرے مرحلے میں امریکی آنکھ کا تارا بن جائے کیونکہ اہل مغرب انڈیا کو بہت بڑی منڈی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں جہاں ان کا مال کھپ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی کوشش ہوگی کہ انڈیا ترقی پذیر زرعی ممالک کی صف سے نکل کر صنعتی ممالک کی برادری میں شامل نہ ہونے پائے۔ اس کے لیے ظاہر ہے کہ انڈین معیشت کو تہ وبالا کرنا ہوگا۔ بارڈر پر انڈین فوج کی مستقل موجودگی آنے والے دنوں کی ہیبت ناکی کو ظاہر کرتی ہے۔ انڈین معاشی ترقی کا گراف بہت پیچھے چلا جائے گا جس سے مغربی طاقتوں کو موقع مل جائے گا کہ انڈیا کے ساتھ وہ کھیل شروع کر سکیں جو وہ نہرو کے دور میں نہیں کر سکیں۔ موجودہ ہندو انتہا پسندی کے تناظر میں معیشت پر کاری ضرب سے انڈیا داخلی محاذ پر ایک بڑے بحران سے دوچار ہوگا۔ اس بحران کے اثرات جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔
انڈیا سے تعلقات بڑھانے میں اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مغربی طاقتوں کو ایک سہولت حاصل ہے کہ انڈین عزائم عالمی سطح پر توسیعی (Extra Regional) نہیں ہیں۔ ہندومت کے مطابق سمندر پار جانا گناہ ہے۔ ہندوؤں کی سوچ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ تک محدود ہے اس لیے مغربی ممالک کو انڈیا سے ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ بھارت کی توڑ پھوڑ کر کے جہاں اپنا مال کھپایا جا سکتا ہے‘ وہاں جنونی ہندوؤں کو ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے لایعنی نصب العین کے حصول پر بھی ابھارا جا سکتا ہے۔ اس طرح ترقی کے اعتبار سے انڈیا Status quo کا شکار رہے گا۔
پاکستان کا معاملہ بھارت سے بہت مختلف ہے۔ اکثریت کے مسلمان ہونے کے ناتے لسانی اور نسلی اختلافات اتنے شدید نہیں ہیں جتنے کہ بنا دیے گئے ہیں۔ عوام کی بہت بڑی اکثریت اسلام کے رشتہ وحدت میں پروئی ہوئی ہے۔ جہاں تک جنوبی ایشیا کا تعلق ہے‘ پاکستان ا س خطے میں مسلمانوں کے حق حکمرانی کا تسلسل ہے۔ انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے ہمارے اسلاف نے اسپین کی مثال کو مد نظر رکھا کہ اگر کسی خطے سے مسلمانوں کے اقتدار کا کلی خاتمہ ہو گیا تو وہاں سے مسلمان بھی ناپید ہو جائیں گے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی صورت حال کے تناظر میں‘ بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ حق حکمرانی کی حفاظت میں تساہل نہ برتتے ہوئے ہمارے اسلاف نے بہت جرات اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ اس خطے میں آزاد اور خود مختار پاکستان کی موجودگی علاقائی وابستگی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ نظریاتی بنیاد پر ہے۔ مسلمان کسی بھی نسل اور زبان سے تعلق رکھتا ہو‘ اس کی اسلام سے وابستگی علاقے سے ماورا ہوتی ہے یعنی عملاً اس کی اپروچ Extra Regional ہوتی ہے۔ اسی اپروچ کے سبب سے ساری دنیاپر مسلمانوں کا ہوا سوار ہے۔ 
امریکی سعودی تعلقات کو ہی دیکھ لیجیے۔ امریکہ کو اپنی تیل کی رسد کی فکر ہے اور سعودی عرب کو طلب کے متوازن رہنے کی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تیل کی منڈی کے علاوہ دنیا میں کوئی حقیقی عالمی منڈی موجود نہیں۔ تیل کی طلب اور رسد میں معمولی سا عدم توازن بھی پوری دنیا کا مضطرب کر دیتا ہے۔ سعودی عرب تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ امریکہ تیل صرف کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے چنانچہ دونوں ملکوں کے درمیان مفادات کا واضح اشتراک پایا جاتا ہے لیکن ۱۱؍ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکی پالیسیوں کے تناظر میں یہ مفاداتی اشتراک قصہ پارینہ بنتا نظر آتا ہے۔ سعودی عوام کی Extra Regional اپروچ کسی وقت بھی حالات کو پلٹا دے سکتی ہے۔
اسی طرح چین میں مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت سے سرفراز کرنا عجیب بات نہیں ہے کیونکہ مقامی مسلمانوں کے مطابق بیجنگ اور واشنگٹن کے ’’کافروں‘‘ میں کوئی فرق نہیں۔ اسی طرح چین اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں میں بھی کوئی فرق نہیں۔
قارئین کرام! آپ پر واضح ہو گیا ہوگا کہ دنیا بھر کے مسلمان خود کو اسلام کے رشتہ وحدت میں منسلک تصور کرتے ہیں۔ یہ وحدت سیاسی‘ حکومتی اور معاشی اعتبار سے تو موجود نہیں لیکن مستقبل میں اس کی امید کی جا سکتی ہے۔ اگر مسلم ممالک سیاسی ومعاشی وحدت کے حامل ہو جائیں تو مغرب کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اسلام کا قلعہ ہونے کے ناتے پاکستان ہی وہ ملک ہے جو مسلم وحدت کے لیے فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ مغربی طاقتوں نے اس ممکنہ فعالیت کی روک تھام کے لیے قلعے میں دراڑیں ڈال کر اسے اپنی بقا کے لیے لڑنے تک محدود کر دیا ہے۔
حالیہ افغان جنگ میں امریکہ کی عجلت پسندی کہ جنرل پرویز مشرف فوراً ہاں یا نہ میں جواب دیں‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی تاکہ جنرل مشرف بلامشاورت قدم اٹھانے پر ہدف تنقید ٹھہریں اور ان کے حامیوں اور مخالفین کی گروہ بندی جڑپکڑ سکے۔ جنرل مشرف کو اتنا زیادہ اعتماد دلایا گیا کہ انہوں نے اپنے بیانات سے گروہ بندی کے عمل کو تیز تر کر دیا۔ اس کے بعد جنرل مشرف کو ریفرنڈم کروانے کی طرف راغب کیا گیا۔ جنرل صاحب نے ضرورت سے زیادہ سمارٹ بنتے ہوئے ’ہاں‘ اور ’نہیں‘ کے درمیان قطعی لائن کھینچ دی۔ ریفرنڈم کے بجائے یہ وہ قطعی لائن ہے جس نے اپوزیشن جماعتوں کو اے پی سی میں شرکت سے روکے رکھا۔ 
سرحدی صورت حال پر عوام کی لاتعلقی بھی سنگین صورت حال کی غمازی کرتی ہے۔ فیصلہ سازی میں جنرل مشرف کی ’’سولو فلائٹ‘‘ نے ملک کو داخلی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ خارجی محاذ پر ہمارے پاس ایک آپشن ایٹمی قوت کی صورت میں موجود ہے لیکن داخلی محاذ پر قومی وحدت پارہ پارہ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں ہماری اپروچ Extra Regionalہونے سے تو رہی‘ ہم تو بمشکل اپنی علاقائی سرحدوں کی حفاظت اور بقا کے لیے متحد ہو سکتے ہیں۔ اس طرح مغربی طاقتوں نے اپنی مخصوص حکمت عملی کے تحت ہماری اپروچ Intra Regional کر دی ہے۔
اگر ہم بنظر غائر اسلامی دنیا کی بابت مغربی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا بنیادی نکتہ اسلامی ممالک میں علاقائی رجحانات کو فروغ دینا ہے۔ افغانستان میں کرزئی حکومت کے قیام کے بعد غیر افغان مجاہدین کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔ پاکستان اور عرب مجاہدین کی خوب تذلیل کی گئی۔ اسی طرح کشمیر میں بھی کہا جا رہا ہے کہ غیر کشمیری اس علاقے سے نکل جائیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھی کسی عرب اتحاد اور غیر عرب مسلمانوں کے نفوذ کے تدارک کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ 
یہ بات بہت واضح ہے کہ اسلامی تحریکات کی Extra Regional اپروچ اور عزائم نے مغربی دنیا کو خبردار کر دیا ہے کیونکہ اگر باقاعدہ عالمی اسلامی حکومت نہ بھی قائم ہو تو ان تحریکات کے زیر اثر اسلامی ممالک کے عوام اور ان کی حکومتیں بھی مغربی ممالک کے مقابل یکساں پالیسی اپنا سکتے تھے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پچاس ساٹھ ممالک کا یکساں موقف آسانی سے نظر انداز نہیں ہو سکتا۔ سلامتی کونسل کے ویٹو پاور ممبران پر شدید تنقید سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید مستقبل میں ویٹو پاور کا خاتمہ کر دیاجائے۔ دنیا کو اجتماعی سلامتی (Collective Security) کے لیے آخر کار ایسا کرنا پڑے گا۔ ایسی صورت میں جنرل اسمبلی کے اندر مسلم ممالک کی Extra Territorial اور Extra Regional اپروچ عملاً ویٹو پاور بن کر ابھر سکتی تھی۔ غالباً مستقبل کے ایسے ہی منظر سے خائف ہو کر پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں داخلی گروہ بندیاں پیدا کر کے ان ممالک کو صرف اپنے اپنے مخصوص علاقے کی سلامتی اور بقا تک محدود کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے تاکہ علاقائی قومیت جڑ پکڑ سکے اور عالمی مسلم معاشرہ ظہور میں نہ آئے۔

سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۶ مئی ۲۰۰۲ء کو شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ’’سیرت النبی ﷺ کانفرنس‘‘ میں مدیر ’الشریعہ‘ کا خطاب)
نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ وازواجہ واتباعہ اجمعین۔
میں شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کا شکر گزار ہوں کہ جناب رسالت مآب ﷺ کی سیرت طیبہ کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت اور گفتگو کے اعزاز سے نوازا اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمارے مل بیٹھنے کو قبول فرماتے ہوئے کچھ مقصد کی باتیں کہنے‘ سننے اور پھر ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین
مجھے گفتگو کے لیے ’’سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے جس کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ حتیٰ کہ تذکرہ بھی اس مختصر وقت میں ممکن نہیں ہے اس لیے بہت سے امور کو نظر انداز کرتے ہوئے چند ایک ایسے سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا جو جہاد کے حوالے سے آج کے دور میں عالمی سطح پر موضوع بحث ہیں اور ان کے بارے میں مثبت اور منفی طور پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے۔
’’جہاد‘‘ کا لفظ لغوی مفہوم کے حوالے سے کوشش‘ محنت ومشقت اور تگ ودو کی مختلف شکلوں کا احاطہ کرتا ہے اور اسے دینی پس منظر میں لیا جائے تو اسلام کی سربلندی‘ دعوت وتبلیغ‘ ترویج وتنفیذ اور تحفظ ودفاع کے لیے کی جانے والی مختلف النوع عملی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنی خواہشات پر کنٹرول اور نفس کی اصلاح کی مساعی پر بھی جہاد کا لفظ بولا گیا ہے جس کی قرآن وسنت میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ 
لیکن جہاد کا ایک خصوصی مفہوم ’جنگ‘ اور ’محاربہ‘ بھی ہے جسے قرآن کریم میں ’جہاد فی سبیل اللہ‘ اور ’قتال‘ کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے اور سینکڑوں آیات قرآنی اور ہزاروں احادیث نبویہ میں اس کا تذکرہ موجود ہے اور اس ’جہاد‘ کے فضائل‘ احکام‘ مسائل اور مقصدیت پر قرآن وسنت میں پورے اہتمام کے ساتھ جابجا روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ ہے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کافروں کے خلاف میدان جنگ میں صف آرا ہو کر ہتھیاروں کے ساتھ ان سے معرکہ آرائی کرنا اور قتل وقتال کے ذریعے سے کفر پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا جس کی اہمیت وفضیلت پر قرآن کریم اور سنت نبویؐ کی سینکڑوں تصریحات گواہ ہیں اور اس کو آج کے دور میں اس وجہ سے سب سے زیادہ تنقید واعتراض کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ جدید عقل ودانش کے نزدیک عقیدہ ومذہب کے فروغ اور غلبہ کے لیے ہتھیار اٹھانا تہذیب وتمدن کے تقاضوں کے خلاف ہے اور ایسا کرنا بنیاد پرستی‘ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے دائرے میں آتا ہے۔ 
اس سلسلے میں آگے بڑھنے سے قبل ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ عقیدہ ومذہب کے لیے ہتھیار اٹھانے اور باطل مذاہب پر حق مذہب کی بالادستی کے لیے عسکری جنگ لڑنے کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا بلکہ جہاد کا یہ عمل آسمانی ادیان میں پہلے سے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے اور جناب نبی اکرم ﷺ نے اس حوالے سے تاریخ میں کسی نئے عمل اور اسلوب کا اضافہ کرنے کے بجائے آسمانی مذاہب کی ایک مسلسل روایت کو برقرار رکھا ہے چنانچہ جس طرح قرآن کریم میں جہاد اور مجاہدین کا تذکرہ پایا جاتا ہے‘ اسی طرح بائبل میں بھی ان مجاہدین اور مذہبی جنگوں کا ذکر موجود ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے مذہب کے دفاع اور اپنی آزادی اور تشخص کے تحفظ کے لیے لڑیں۔ مثال کے طور پر قرآن کریم نے فلسطین کی سرزمین پر لڑی جانے والی ایک مقدس جنگ کا سورۃ البقرۃ میں تذکرہ کیا ہے جو جالوت جیسے ظالم حکمران کے خلاف حضرت طالوت کی قیادت میں لڑی گئی اور اس میں حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں جالوت بادشاہ کا معجزانہ طور پر خاتمہ ہوا۔ اس جنگ کا تذکرہ بائبل میں بھی موجود ہے اور اس میں حضرت طالوت کو’ساؤل بادشاہ‘ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔
اس لیے آگر آج کی جدید دانش کو مذہب کے نام پر ہتھیار اٹھانے پر اعتراض ہے تو اس کا ہدف صرف قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی نہیں بلکہ اصولی طور پر بائبل اور بنی اسرائیل یعنی یہود ونصاریٰ کی پوری تاریخ اس کی زد میں ہے‘ صرف اتنے فرق کے ساتھ کہ بائبل کے ماننے والوں نے بائبل پر ایمان کے دعوے کے باوجود اس کے عملی احکام اور ماضی سے دست برداری کا اعلان کر دیا ہے جبکہ قرآن کریم پر ایمان رکھنے والے تمام تر عملی کم زوریوں کے باوجود اپنے ماضی اور قرآنی احکام وتعلیمات سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اس وضاحت کے بعد جہاد کی مقصدیت کے حوالے سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جہاد کا مقصد جناب نبی اکرم ﷺ نے ’’اعلاء کلمۃ اللہ‘‘ قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو جس کا مطلب عملی طو رپر یہ ہے کہ انسانی سوسائٹی میں حکم اور قانون کا درجہ انسانی خواہشات اور ظن وگمان کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور آسمانی تعلیمات کو حاصل ہونا چاہیے اور کلمۃ اللہ کی اسی سربلندی کے لیے قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ نے آسمانی مذاہب کی ان دینی معرکہ آرائیوں کے تسلسل کو باقی رکھا ہے تاکہ کسی دور میں بھی انسانی خواہشات اور عقل وگمان کو وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر غلبہ حاصل نہ ہونے پائے اور انسانی سوسائٹی پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی عمل داری کے جس مشن کے لیے حضرت انبیاء کرام مبعوث ہوتے رہے ہیں‘ اس میں تعطل واقع نہ ہو چنانچہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک ارشاد مبارک میں یہ کہہ کر اس جدوجہد کے قیامت تک جاری رہنے کا اعلان فرما دیا ہے کہ: الجہاد ماض الی یوم القیامۃ۔ 
یہ فکر وفلسفہ کی جنگ ہے‘ اسلوب زندگی کی معرکہ آرائی ہے اور تہذیب وثقافت کا محاذ ہے جس میں شروع سے آسمانی مذاہب کا یہ موقف رہا ہے اور اب آسمانی مذاہب وادیان کے حقیقی وارث کی حیثیت سے اسلام کا موقف بھی یہی ہے کہ انسانی سوسائٹی کی راہ نمائی اور اس کے مسائل کے حل کے لیے انسانی خواہشات اور عقل ودانش تنہا کفایت نہیں کرتیں بلکہ ان پر آسمانی تعلیمات کی نگرانی ضروری ہے کیونکہ اس ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ (Check & Balance)کے بغیر انسانی خواہشات اور انسانی عقل کے لیے پوری نسل انسانی کی ضروریات ومفادات میں توازن قائم رکھنا ممکن نہیں ہے لیکن آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ تہذیب جدید نے آسمانی تعلیمات سے دست برداری کا اعلان کر کے خواہشات اور عقل ہی کو تمام امور کی فائنل اتھارٹی قرار دے رکھا ہے جس سے توازن بگڑ گیا ہے‘ اجتماعی اخلاقیات دم توڑ گئی ہیں‘ طاقت کا بے لگام گھوڑا وحی الٰہی کی لگام سے آزاد ہو گیا ہے اور پوری دنیا میں ہر طرف ’’جنگل کے قانون‘‘ (Might is Right)کا دور دورہ ہے۔
آج کی جدید دانش نے چونکہ مذاہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے شخصی زندگی کے دائروں میں محدود کر دیا ہے اس لیے عقل جدید کے نزدیک مذہب کو وہ مقام حاصل نہیں رہا کہ اس کے لیے ہتھیار اٹھائے جائیں اور اس کے فروغ وتنفیذ کے لیے عسکری قوت کو استعمال میں لایا جائے ورنہ ہتھیار تو آج بھی موجود ہیں اور جتنے ہتھیار آج پائے جاتے ہیں اور تیار ہو رہے ہیں‘ انسانی تاریخ میں ا سے قبل کبھی نہیں دیکھے گئے۔ یہ ہتھیار استعمال بھی ہوتے ہیں اور وہ تباہی لاتے ہیں کہ اس سے قبل کی انسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے مگر ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے والوں کے مقاصد اور عنوانات مختلف ہیں:
سوال یہ ہے کہ اگر نسلی برتری‘ طبقاتی بالادستی اور تہذیب وثقافت کے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھانا اور صرف اٹھانا نہیں بلکہ اسے وحشیانہ انداز میں اندھا دھند استعمال کر کے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دینا دہشت گردی نہیں ہے تو آسمانی تعلیمات کے فروغ اور وحی الٰہی کی بالادستی کے لیے ہتھیار اٹھانے کو کون سے قانون اور اخلاقیات کے تحت دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے؟
باقی تمام پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے آج کی معروضی صورت حال (Scenario) میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے طرز عمل کا جائزہ لے لیں کہ افغانستان اور دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں اسلام کے اجتماعی نظام کے نفاذ کا نام لینے والوں کے خلاف ’’عالمی اتحاد‘‘ کے پرچم تلے جو وحشیانہ فوج کشی جاری ہے‘ اس کے جواز میں اس کے علاوہ اب تک کوئی دلیل پیش نہیں کی جا سکی کہ اسلام کا نام لینے والے ان مبینہ انتہاپسندوں سے آج کی عالمی تہذیب کو خطرہ ہے‘ بالادست (Dominant) ثقافت کو خطرہ ہے اور بین الاقوامی نظام کو خطرہ ہے‘ اس لیے ان انتہا پسندوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ عقیدہ ومذہب کے لیے ہتھیار اٹھانے کو دہشت گردی کہنے والے خود ایک مذہب اور عقیدہ کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے میدان جنگ میں مسلسل صف آرا ہیں۔
میری اس گزارش کا مقصد یہ ہے کہ اگر ایک عقیدہ‘ فلسفہ اور تہذیب کے تحفظ کے لیے ہتھیا ر اٹھانے اور اسے بے دریغ استعمال کرنے کا ایک فریق کو حق حاصل ہے تو اس کے خلاف دوسرے عقیدہ‘ فلسفہ اور تہذیب کے علم برداروں کو ہتھیار اٹھانے کے حق سے کسی طرح محروم نہیں کیا جا سکتا اور ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کے لیے یہ کوئی وجہ جواز (Excuse)نہیں ہے کہ چونکہ ایک فریق کے پاس ہتھیار بنانے کی صلاحیت زیادہ ہے اور اسے ان ہتھیاروں کے استعمال کے مواقع زیادہ میسر ہیں‘ اس لیے اسے تو ہتھیار بنانے اور چلانے کا حق حاصل ہے اور دوسرا فریق اس صلاحیت میں کمزور اور ان مواقع کی فراوانی سے محروم ہے اس لیے اسے اس کا سرے سے کوئی حق نہیں ہے۔
آج امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات پر مطمئن ہیں کہ جو جنگ وہ لڑ رہے ہیں‘ وہ اعلیٰ مقاصد کی خاطر لڑی جا رہی ہے‘ انسانیت کی بھلائی کی جنگ ہے اور ان کے بقول اعلیٰ ترین تہذیبی اقدار کے تحفظ کی جنگ ہے۔ جنگ کی اسی مقصدیت کی وجہ سے انہیں اس عظیم جانی ومالی نقصان کی کوئی پروا نہیں ہے جو دنیا بھر میں ان کے ہاتھوں مسلسل جاری ہے۔ انسان مر رہے ہیں‘ عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں‘ بچے یتیم ہو رہے ہیں‘ عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو رہی ہیں‘ ملکوں اور قوموں کی معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں اور امن وامان کا توازن مسلسل بگڑتا چلا جا رہا ہے لیکن ایسا کرنے والے چو نکہ اپنے زعم کے مطابق یہ سب کچھ اعلیٰ مقاصد کے لیے کر رہے ہیں اور ان اقدامات کے ذریعے سے اعلیٰ تہذیب وثقافت کا تحفظ کر رہے ہیں‘ اس لیے ان کے خیال میں یہ سب کچھ جائز ہے اور جنگ کا حصہ ہے جسے کسی چون وچرا کے بغیر پوری نسل انسانی کو برداشت کرنا چاہیے۔ یہی بات اسلام کہتا ہے اور جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ نسل انسانی کے لیے نجات کا راستہ انسانی خواہشات اور صرف انسانی عقل نہیں ہے بلکہ وحی الٰہی کی نگرانی اور آسمانی تعلیمات کی برتری انسانی سوسائٹی کے لیے ضروری ہے اور اسلام کے نزدیک انسانیت کی اعلیٰ اقدار اور تہذیبی روایات کا سرچشمہ انسانی خواہشات اور عقل محض نہیں بلکہ وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات ہیں اس لیے ایک مسلمان اگر ان مقاصد کے لیے ہتھیار اٹھاتا ہے تو دنیا کی مسلمہ روایات اور تاریخی عمل کی روشنی میں اسے یہ کہہ کر اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ مخالف فریق کے نزدیک اس کا یہ عمل دہشت گردی قرار پا گیا ہے۔
اس اصولی وضاحت کے بعد قرآن وسنت کی رو سے جہاد کی چند عملی صورتوں کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے حوالے سے جہاد کے ایک حکم کا تذکرہ سورۃ المائدہ میں کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے چنگل سے بنی اسرائیل کو نکال کر صحرائے سینا میں خیمہ زن ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو حکم ملا کہ وہ ’’بیت المقدس‘‘ کو عمالقہ سے آزاد کرنے کے لیے جہاد کریں اور آگے بڑھ کر حملہ آور ہوں مگر غلامی کے دائرے سے تازہ تازہ نکلنے والی مرعوب قوم کو اس کا حوصلہ نہ ہوا اور پھر اس کے چالیس سال بعد بنی اسرائیل کی نئی نسل نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں جنگ لڑ کر بیت المقدس کو آزاد کرایا۔
قرآن کریم نے بنی اسرائیل ہی کے حوالے سے ایک اور جہاد کا تذکرہ کیا ہے جس کا حوالہ ہم پہلے بھی دے چکے ہیں کہ جالوت نامی ظالم بادشاہ نے فلسطین کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر کے بنی اسرائیل کو مظالم کا شکار بنانا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت سموئیل علیہ السلام کے حکم پر طالوت بادشاہ کی قیادت میں بنی اسرائیل کی مٹھی بھر (Handful) جماعت نے جالوت کا مقابلہ کیا اور اسے میدان جنگ میں شکست دے کر فلسطین کے علاقے آزاد کرائے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں کفار مکہ کے خلاف پہلے بڑے معرکے کی قیادت بدر کے میدان میں کی اور قریش کو شکست دے کر شاندار کام یابی حاصل کی۔ یہ جنگ قریش مکہ کے ان عزائم پر ضرب لگانے کے لیے بپا ہوئی تھی جو وہ اسلام کو ختم کرنے اور جناب نبی اکرم ﷺ اور ان کی جماعت کو ناکام بنانے کے لیے اختیار کیے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ’احد‘ اور ’احزاب‘ کی جنگیں بھی اسی پس منظر میں تھیں اور اس کشمکش کا خاتمہ اس وقت ہوا جب نبی اکرم ﷺ نے ۸ھ میں خود پیش قدمی کر کے مکہ مکرمہ پر قبضہ کر لیا۔
یہود مدینہ کے ساتھ جناب نبی اکرم ﷺ نے امن وامان کے ماحول میں وقت بسر کرنے کی کوشش کی لیکن یہودیوں کی سازشوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہ رہا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کے سب سے بڑے مرکز (Stronghold)خیبر پر حملہ آور ہو کر اسے فتح کر لیا اور یہود کا زور توڑ دیا۔
قیصر روم کے باج گزاروں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور یہ خبر ملی کہ خود قیصر روم مدینہ منورہ پر حملہ کی تیاری کر رہا ہے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں اس کا انتظار کرنے کے بجائے شام کی سرحد کی طرف پیش قدمی کی اور تبوک میں ایک ماہ قیام کر کے رومی فوجوں کا انتظار کرنے کے بعد وہاں سے واپس تشریف لائے۔
یہ تو چند کھلی جنگیں ہیں جو علانیہ لڑی گئیں لیکن ان سے ہٹ کر ایسی متعدد کارروائیاں بھی سیرت النبی کے ریکارڈ میں ملتی ہیں جنہیں چھاپہ مار کارروائیوں (Ambush)سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ 
جناب نبی اکرم ﷺ نے میدان جنگ میں دشمن کے مقابلے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے محاذ پر بھی کفار کے خلاف صف آرائی کی چنانچہ غزوۂ احزاب کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کے ایک اجتماع میں باقاعدہ طور پر اس کا اعلان کیا کہ اب قریش مکہ کو مدینہ منورہ پر حملہ آور ہونے کی جرات نہیں ہوگی لیکن اب وہ زبان کی جنگ لڑیں گے اور مسلمانوں کے خلاف پورے عرب میں پراپیگنڈے اور منافرت انگیزی کا بازار گرم کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس موقع پر شعر وخطابت سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرامؓ کو میدان میں آنے کی ترغیب دی چنانچہ حضرت حسان بن ثابتؓ‘ حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن مالکؓ نے کھلے بندوں اعلان کر کے یہ محاذ سنبھالا اور شعر وشاعری کے محاذ پر کفار کے حملوں کا پوری جرات کے ساتھ مقابلہ کیا۔
زیادہ تفصیلات کا موقع نہیں ہے لیکن ان گزارشات سے اتنی بات ضرور سامنے آ گئی ہوگی کہ نبی اکرم ﷺ نے اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کے تحفظ واستحکام کے لیے موقع ومحل کی مناسبت سے جنگ کی ہرممکنہ صورت اختیار کی اور محاذ آرائی کے جس اسلوب نے بھی جناب نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپناچیلنج رکھا‘ اسے جواب میں مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
آج کے حالات میں جہاد کے حوالے سے دو سوال عام طو رپر کیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان مجاہدین کی چھاپہ مار کارروائیوں کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیاکسی علاقے میں جہاد کے لیے ایک اسلامی حکومت کا وجود اور اس کی اجازت ضروری نہیں ہے؟
اس کے جواب میں عرض کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں حضرت ابوبصیرؓ کا کیمپ اور حضرت فیروز دیلمیؓ کی چھاپہ مار کارروائی میں ہمارے سامنے واضح مثال کے طورپر موجود ہے۔ حضرت ابوبصیرؓ نے اپنا کیمپ جناب نبی اکرم ﷺ کی اجازت سے قائم نہیں کیا تھا لیکن جب یہ کیمپ اپنے مقاصد میں کام یاب ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف اس کے نتائج کو قبول کیا بلکہ قریش کی طرف سے یک طرفہ شرائط سے دست برداری کے بعد اس کیمپ کے مجاہدین کو باعزت طور پر واپس بلا لیا۔
اسی طرح یمن پر اسود عنسی کا غیر اسلامی اقتدار قائم ہونے کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ سے فوج بھیج کر لشکر کشی نہیں کی بلکہ یمن کے اندر مسلمانوں کو بغاوت کرنے کا حکم دیا اور اسی بغاوت کی عملی شکل وہ چھاپہ مار کارروائی تھی جس کے نتیجے میں اسود عنسی قتل ہوا۔
دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر جہاد شرعی فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے تو جو مسلمان غیر مسلم اکثریت کے ملکوں میں اقلیت (Minority)کے طورپر رہتے ہیں‘ ان کی ذمہ داری کیا ہے اور کیا ان کے لیے جہاد میں شمولیت ضروری نہیں ہے؟ 
اس کے جواب میں دو واقعات کاحوالہ دینا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور ان کے والد محترم جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کی خدمت میں جہاد میں شمولیت کے لیے حاضر ہو رہے تھے کہ راستے میں کفار کے ایک گروہ نے گرفتار کر لیا اور اس شرط پر انہوں نے ہمیں رہا کیا ہے کہ ہم ان کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر حصہ نہیں لیں گے۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے یہ فرما کر انہیں بدر کے معرکے میں شریک ہونے سے روک دیا کہ اگر تم نے اس بات کا وعدہ کر لیا ہے تو اس وعدہ کی پاس داری تم پر لازم ہے چنانچہ حضرت حذیفہؓ اور ان کے والد محترم موجود ہوتے ہوئے بھی بدر کے معرکے میں مسلمانوں کا ساتھ نہیں دے سکے تھے۔
اسی طرح حضرت سلمان فارسیؓ نے اس وقت اسلام قبول کیا تھا جب رسول اکرم ﷺ قبا میں قیام فرما تھے اور ابھی مدینہ منورہ نہیں پہنچے تھے لیکن حضرت سلمان فارسیؓ کا ذکر نہ بدر کے مجاہدین میں ملتا ہے اور نہ وہ احد ہی میں شریک ہو سکے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس وقت آزاد نہیں تھے بلکہ ایک یہودی کے غلام تھے چنانچہ غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ان کی شمولیت جس پہلے غزوے میں ہوئی‘ وہ احزاب کا معرکہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے جہاد کے حوالے سے مسلمانوں کے معروضی حالات اور ان کی مجبوریوں کا لحاظ رکھا ہے اس لیے جو مسلمان غیرمسلم اکثریت کے ملکوں میں رہتے ہیں اور ان کے ان ریاستوں کے ساتھ وفاداری کے معاہدات موجود ہیں‘ ان کے لیے ان معاہدات کی پاس داری لازمی ہے البتہ اپنے ملکوں کے قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد‘ ہم دردی اور خیر خواہی کے لیے وہ جو کچھ بھی کر سکتے ہیں‘ وہ ان کی دینی ذمہ داری ہے اور اس میں انہیں کسی درجے میں بھی کوتاہی روا نہیں رکھنی چاہیے۔
گزشتہ سال افغانستان پر امریکی حملے کے موقع پر میں برطانیہ میں تھا۔ مجھ سے وہاں کے بہت سے مسلمانوں نے دریافت کیا کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کو یہودیوں کی پیروی کرنا چاہیے اور ان سے کام کا طریقہ سیکھنا چاہیے کیونکہ یہودی ان ممالک میں رہتے ہوئے جو کچھ یہودیت کے عالمی غلبہ اور اسرائیل کے تحفظ ودفاع کے لیے کر رہے ہیں‘ اسلام کے غلبہ اور مظلوم مسلمانوں کے دفاع کے لیے وہ سب کچھ کرنا مسلمانوں کا بھی حق ہے مگر یہ کام طریقہ اور ترتیب کے ساتھ ہونا چاہیے اور جن ملکوں میں مسلمان رہ رہے ہیں‘ ان کے ساتھ اپنے معاہدات اور کمٹ منٹ کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنا چاہیے۔
آج دنیا کی عمومی صورت حال پھر اس سطح پر آ گئی ہے کہ خواہشات اور محدود عقل پرستی نے ہر طرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور آسمانی تعلیمات کا نام لینے کو جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ آج کی اجتماعی عقل نے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت سے انکار کر کے حاکمیت مطلقہ کا منصب خود سنبھال لیا ہے اور وحی الٰہی سے راہ نمائی حاصل کرنے کے بجائے اس کے نشانات واثرات کو ختم کرنے کی ہر سطح پر کوشش ہو رہی ہے۔ اس فضا میں ’’اعلاء کلمۃ اللہ‘‘ کا پرچم پھر سے بلند کرنا اگرچہ مشکل بلکہ مشکل تر دکھائی دیتا ہے لیکن جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت وسیرت کا تقاضا یہی ہے کہ نسل انسانی کو خواہشات کی غلامی اور عقل محض کی پیروی کے فریب سے نکالا جائے اور اسے آسمانی تعلیمات کی ضرورت واہمیت کا احساس دلاتے ہوئے وحی الٰہی کے ہدایات کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان جس مظلومیت اور کس مپرسی کے عالم میں ظالم اور متسلط قوتوں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں اور انہیں جس بے رحمی اور سنگ دلی کے ساتھ ان کے مذہبی تشخص کے ساتھ ساتھ قومی آزادی اور علاقائی خود مختاری (Territorial Independence)سے محروم کیا جا رہا ہے‘ اس کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا اور ان مظلوم مسلمانوں کو ظلم وجبر کے ماحول سے نجات دلانے کے لیے جو کچھ ممکن ہو‘ کر گزرنا یہ بھی جناب نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات وارشادات کا ایک اہم حصہ ہے جس سے صرف نظر کر کے ہم نبی اکرم ﷺ کی اتباع اور پیروی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
ان دو عظیم تر ملی مقاصد کے لیے جدوجہد کے مختلف شعبے ہیں۔ فکر وفلسفہ کا میدان ہے‘ میڈیا اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کی جولان گاہ ہے‘ تہذیب وثقافت کا محاذ ہے‘ تعلیم وتربیت کا دائرہ ہے‘ لابنگ اور سفارت کاری کا شعبہ ہے اور عسکری صلاحیت کے ساتھ ہتھیاروں کی معرکہ آرائی ہے۔ یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کے شعبے اور اعلاء کلمۃ اللہ کے ناگزیر تقاضے ہیں۔
اس لیے آج کے دور میں ’سنت نبوی کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘ یہ ہے کہ:
یہ کام دراصل مسلم حکومتوں کے کرنے کے ہیں اور انہیں او آئی سی کے عملی ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہیے لیکن اگر دینی مراکز اور اسلامی تحریکات بھی باہمی ربط ومشاورت کے ساتھ ان مقاصد کے لیے مشترکہ پیش رفت کا اہتمام کر سکیں تو حالات کو خاصا بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انصاف یا جنگل کا قانون؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سالانہ سیرت کانفرنس میں ’’سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی گزارشات قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ اس کانفرنس سے مولانا حافظ صلاح الدین یوسف‘ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا جبکہ مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان تھے جنہوں نے اپنے اختتامی خطاب میں راقم الحروف کی معروضات کو سیرت النبی ﷺ کے صحیح رخ پر مطالعہ کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ آج کے عالمی حالات اور مشکلات ومسائل کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت نبوی ﷺ کے اسی طرز کے مطالعہ کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری گزارشات کے حوالے سے دو پہلوؤں پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار فرمایا جن کے بارے میں خود میرا بھی خیال ہے کہ ان کی وضاحت ضروری تھی اور یہ وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کے خطاب کے بعد اس سیرت کانفرنس میں مزید کچھ گزارش کرنے کی گنجائش نہیں تھی اس لیے ان امور کی طرف توجہ دلانے پر ڈاکٹر ایس ایم زمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’’نوائے قلم‘‘ کے ذریعے سے ان کے بارے میں ضروری معروضات پیش کر رہا ہوں۔
ایک بات تو یہ ہے کہ مذہب کے لیے ہتھیار اٹھانے سے کیا مراد ہے؟ ڈاکٹر صاحب کا ارشاد ہے کہ اگر تو اس سے مراد مذہب کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانا ہے تو اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے اور اگر اس کا مطلب مذہب کی تبلیغ کے لیے ہتھیار اٹھانا ہے تو یہ بات محل نظر ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی کافر کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور قرآن کریم نے سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۵ میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔‘‘
مجھے ڈاکٹر صاحب موصوف کی دونوں باتوں سے اتفاق ہے لیکن یہ معاملہ ان دو صورتوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ ایک اور صورت بھی درمیان میں ہے جس کو سامنے نہ رکھنے کی وجہ سے عام طور پر یہ الجھن پیش آجایا کرتی ہے۔ وہ ہے اسلام کی دعوت وتبلیغ اور نسل انسانی تک اسلام کا پیغام پہنچانے میں رکاوٹ بننا ۔اور اسلام نے کافر قوتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا حکم اسی صورت میں دیا ہے جبکہ وہ لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچنے میں رکاوٹ بن جائیں کیونکہ اسلام یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس جو پیغام ہے‘ صرف وہی نسل انسانی کی نجات کا ضامن ہے اور انسانی معاشرہ اس کے بغیر نجات وفلاح اور امن وخوش حالی کی منزل سے ہم کنار نہیں ہو سکتا اس لیے جو لوگ شخصی اور مقامی دائروں میں اسلام قبول نہیں کرتے لیکن اسلام کی دعوت میں بھی رکاوٹ نہیں بنتے‘ اسلام ان سے کوئی تعرض نہیں کرتا اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا لیکن جو کافر اسلام قبول نہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف اس قدر معاندانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں کہ اس کی دعوت میں رکاوٹ بن جائیں تو اسلام ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بات کرتا ہے۔ یہ ہتھیار اٹھانا کسی کو قبول اسلام پر مجبور کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی دعوت میں رکاوٹ بننے سے روکنے کے لیے ہے چنانچہ جناب نبی کریم ﷺ نے جہاد کے حوالے سے اپنے کمانڈروں کو یہی ہدایات دی ہیں کہ سب سے پہلے اسلام کی دعوت پیش کرو۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے اور کوئی تنازع باقی نہیں رہتا لیکن اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو دوسرے نمبر پر کافروں کے سامنے یہ پیش کش رکھنے کی ہدایت جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دی گئی ہے کہ اپنے کفر پر قائم رہتے ہوئے اسلام کی بالادستی (عالمی کردار) کو قبول کر لو۔ اگر وہ یہ درجہ قبول کر لیں تو بھی ان کی جان ومال سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا بلکہ اسلامی ریاست ان کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اسے نبھاتی ہے۔ اس کے بعد تیسرے درجے میں یہ بات ہے کہ اگر وہ اسلام قبول نہ کریں اور اسلام کی بالادستی (عالمی کردار) کو قبول نہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام کی دعوت وتبلیغ کی راہ میں مزاحم ہیں اور رکاوٹ بن رہے ہیں چنانچہ اس صورت میں جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا ہے اور اسے جہاد فی سبیل اللہ قرار دیتے ہوئے اس کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ بتایا ہے۔
یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے امریکہ اور اس کے اتحادی یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو عالمی نظام اور بین الاقوامی سسٹم موجود ہے اور جس تہذیب وثقافت نے اس وقت پوری دنیا کو گھیرے میں لے رکھا ہے‘ وہی نظام اور وہی ثقافت نسل انسانی کے لیے سب سے بہتر ہے اور اس سے بہتر کسی سسٹم اور تہذیب کا کوئی امکان نہیں ہے اس لیے دنیا کا جو ملک اور قوم ان کے نزدیک اس نظام وثقافت کے عالمی کردار کے لیے خطرہ قرار پاتا ہے‘ وہ اس کے خلاف چڑھ دوڑتے ہیں‘ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں اور پھر ہزاروں انسانوں کی ہلاکتوں کے باوجود بڑے فخرکے ساتھ اس اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے عالمی تہذیب کو بچا لیا ہے اور ورلڈ سسٹم کو درپیش خطرات کو ختم کر دیا ہے۔
میں اس مرحلے میں اپنے اس موقف کا پھر اعادہ کرنا چاہوں گا کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک تہذیب اور سسٹم کو نسل انسانی کے لیے سب سے بہتر سمجھتے ہوئے اس کے عالمی غلبہ کے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھائیں تو وہ کسی دوسری تہذیب اور نظام کے علم برداروں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتے کہ وہ اگر اپنے نظام وتہذیب کو نسل انسانی کے لیے دیانت داری کے ساتھ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں تو اس کے عالمی کردار کے قیام اور تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھائیں اور اگر وہ (امریکی) اپنے لیے یہ حق محفوظ رکھتے ہوئے دوسرے ہر فریق کو اس حق سے محروم کر دینا چاہتے ہیں تو اس کا نام انصاف نہیں بلکہ یہ جنگل کا قانون اور طاقت کی حکمرانی ہے جو طاقت اور اسلحہ کے زور پر قائم تو کی جا سکتی ہے لیکن اخلاقی جواز اور انصاف کی بنیاد سے محروم ہونے کی وجہ سے اسے قائم رکھنا بھی ممکن نہیں رہا اور نہ آئندہ ہی ایسا کوئی امکان ہے۔
ڈاکٹر ایس ایم زمان نے دوسرا سوال یہ اٹھایا کہ میں نے جن چھاپہ مار کارروائیوں کا حوالہ دیا ہے‘ ان کے حوالے سے دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی حمایت نہیں کی جا سکتی جن میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور نہ ایسی کسی کارروائی کو ہی جائز قرار دیا جا سکتا ہے جس میں کسی بستی ‘ چوک یا ریڑھی میں بم رکھ کر بے گناہ شہریوں کے جسموں کے پرخچے اڑا دیے جاتے ہیں۔
مجھے ڈاکٹر صاحب محترم کے اس ارشاد سے بھی اتفاق ہے لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ ہر چھاپہ مار کارروائی دہشت گردی نہیں ہوتی اور ہمیں چھاپہ مار کارروائی اور دہشت گردی میں فرق کرتے ہوئے ان کے درمیان کوئی حد فاصل قائم کرنا ہوگی۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے کعب بن اشرف‘ ابو رافع اور اسود عنسی کے قتل کے لیے جن کارروائیوں کا حکم دیا ‘ وہ چھاپہ مار کارروائیاں ہیں اور حضرت ابوبصیرؓ نے سمندر کے کنارے عسکری کیمپ قائم کر کے قریش مکہ کے خلاف جو کارروائیاں کیں‘ وہ بھی چھاپہ مار کارروائیاں ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی دہشت گردی قرار نہیں دیاجا سکتا۔ یہ کارروائیاں متعین اہداف کے خلاف تھیں اور ان کارروائیوں کا دائرہ بھی اہداف تک محدود رہا جبکہ بدر کی جنگ سے قبل ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کو روکنے کے لیے جناب نبی اکرم ﷺ کی تیاری اور قریش کے تجارتی راستے میں چھاپہ مار کیمپ قائم کر کے حضرت ابوبصیرؓ کا قریش کی شام کی تجارت میں رکاوٹ ڈالنا یہ دشمن کی معیشت پر ضرب لگانے کی کارروائیاں تھیں اور یہ بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی نہیں ہیں۔ البتہ اس سے ہٹ کر جناب نبی اکرم ﷺ نے سول آبادی اور بے گناہ اور غیر متعلق شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بارے میں جناب نبی اکرم ﷺ کی واضح ہدایات موجود ہیں اور اسی وجہ سے غیر متعلقہ‘ بے گناہ اور اور نہتے شہریوں کو کسی قسم کی عسکری کارروائی کا نشانہ بنانا‘ اسی طرح کسی بس یا چوک میں بم رکھ کر یا کسی مسجد یا امام بارگاہ میں بم پھینک کر بے گناہ لوگوں کی جانوں سے کھیلنا یقیناًدہشت گردی ہے جس کی کوئی بھی ذی شعور شخص حمایت نہیں کر سکتا۔ مگر ایک سوال باقی ہے کہ کسی ضروری ہدف کو نشانہ بناتے ہوئے اگر ناگزیر درجے میں کچھ بے گناہ بھی زد میں آ رہے ہوں تو پھر کیا کیا جائے؟ تو اس کے بارے میں ابو داؤد شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم ﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے کہ ایک غزوہ میں جناب نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ دشمن کی قوت توڑنے کے لیے فلاں جگہ شب خون مارنا ضروری ہو گیا ہے مگر وہاں کچھ غیر متعلقہ لوگ بھی موجود ہیں جو حملہ کی صورت میں زد میں آ سکتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’وہ بھی انہی میں سے ہیں‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے اگر کہیں کارروائی ناگزیر ہو جائے اور اس کارروائی کی زد میں غیر متعلقہ لوگ آ رہے ہوں تو مجبوری کے درجے میں اسے گوارا کیا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکی اتحاد نے اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ہزاروں بے گناہ افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور اس کا جواز صرف یہی پیش کیا جاتا ہے کہ جنگی کارروائی کے لیے ایسا ناگزیر تھا اور اس سے کوئی مفر نہیں تھا ۔
امید ہے کہ ڈاکٹر ایس ایم زمان کے اٹھائے ہوئے دو سوالوں کی مناسب وضاحت قارئین کے سامنے آ گئی ہوگی۔ ا س سلسلے میں اگر مزید کوئی بات وضاحت طلب ہو تو اس کے لیے بھی حاضر ہوں۔ ان شاء اللہ۔
(بشکریہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد)

سیرت النبی ﷺ کے خلاقی پہلو اور فکر اقبالؒ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں‘ یہ بچے دیتی ہیں۔ اگر ہم مسلم تاریخ اور مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی کا مطالعہ اس تناظر میں کریں تو نہ صرف اس فقرے کی صداقت کو تسلیم کر لیں گے بلکہ معروضی انداز سے تجزیہ کرتے ہوئے بنیادی غلطی تک پہنچنے کے قابل بھی ہو سکیں گے۔ جو بنیادی غلطی ہم سے سرزد ہوئی‘ جس نے ہمیں راہ حق سے بھٹکا دیا اور بوجوہ قدروں کے بگاڑ کا سبب بنتے ہوئے دین کی حقیقی صورت ہماری نظروں سے اوجھل کر دی‘ وہ ’’عمل‘‘ سے فرار ہے:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
پہلے سے طے شدہ اور خود ساختہ موقف کو اپنانے کے بجائے اگر کوئی سلیم الفطرت شخص دین اسلام کا مطالعہ کرے تو اس پر نہایت سہولت سے واضح ہو جائے گا کہ دین اسلام کا مخاطب انسان ہے اور اس کا غالب رجحان نظری کے بجائے عملی ہے۔ اس طرح پورے دین کی تصویر ’’عملی انسان‘‘ کے الفاظ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ دین اسلام کا امتیازی وصف یہ ہے کہ ’’عملی انسان‘‘ کا تصور بھی محض نظری طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اس کی نظری تصویر کے متوازی ایک عملی شخصیت بطور ’’نمونہ کامل‘‘ موجود ہے۔ یہ نمونہ کامل وقت کے دھارے میں گم نہیں ہوا بلکہ دین اسلام کے ’’عملی انسان‘‘ کے اظہار اور تسلسل کے لیے نظری پہلو کا حصہ بن چکا ہے۔ بقول اقبال:
وہی قرآں‘ وہی فرقاں‘ وہی یاسیں‘ وہی طٰہٰ
رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی مبارک زندگی قرآن مجسم تھی۔ آپ کے اقوال واعمال حق وباطل کے درمیان فرقان تھے۔ چونکہ قرآن مجید کی روش اختیاری ہے اور رسول پاک ﷺ کی حیات مبارکہ مجسم قرآن ہے‘ لہذا نبی کی زندگی لازماً عملی اور اختباری روش کی حامل ہوگی۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ اپنی کتاب ’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ کے پہلے خطبے میں رقم طراز ہیں:
’’صحیح بخاری اور دوسری کتب حدیث میں حضور کے اس مشاہدے کی پوری تفصیل درج ہے جس کا تعلق ابن صیاد ایسے وارفتہ نفس یہودی نوجوان سے تھا اور جس کی وجدانی کیفیتوں نے حضور رسالت مآب ﷺ کی توجہ اپنی طرف منعطف کر لی تھی۔ حضور نے اس کی آزمائش کی‘ طرح طرح کے سوالات پوچھے اور مختلف حالتوں میں اس کا معائنہ کیا۔ ایک مرتبہ آپ ایک درخت کے پیچھے کھڑے ہو گئے تاکہ وہ الفاظ سن سکیں جو ابن صیاد آپ ہی آپ بڑبڑا رہا تھا لیکن اس کی ماں نے اسے حضور کی موجودگی سے متنبہ کر دیا جس پر اس کی وہ حالت کافور ہو گئی اور حضور نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کر دیتی تو ساری حقیقت کھل جاتی۔‘‘
ڈاکٹر اقبال سلسلہ گفتگو کو بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بہرحال یہ ابن خلدون تھا جس نے عالم اسلام میں سب سے پہلے یہ سمجھا کہ حضور کے اس طرز عمل کے معنی فی الحقیقت کیا ہیں اور پھر اس کی قدروقیمت کا اندازہ کرتے ہوئے بڑی حد تک وہ مفروضہ قائم کر لیا جس کو آج کل نفوس تحت الشعور سے منسوب کیا جاتا ہے۔‘‘
ابن خلدون کی اس توصیف سے پہلے اقبال لکھتے ہیں کہ:
’’بایں ہمہ اصحاب رسول ﷺ جو اس واقعہ پر‘ جسے گویا تاریخ اسلام میں نفسیاتی تحقیقات کا پہلا واقعہ تصور کرنا چاہیے‘ موجود تھے، علی ٰ ہذا حضرات محدثین بھی‘ جنہوں نے آگے چل کر یہ ساری روایت باحتیاط نقل کی‘ حضور ﷺ کے اس طرز عمل کی صحیح اہمیت سمجھنے سے قاصر رہے اور اس کی تشریح اپنے معصومانہ انداز میں کی۔‘‘
ڈاکٹر اقبال نے محدثین کے طرز عمل کی بابت یہاں بہت محتاط الفاظ (’’معصومانہ انداز‘‘) استعمال کیے ہیں لیکن ضرب کلیم میں کہتے ہیں:
حلقہ شوق میں وہ جرات اندیشہ کہاں
آہ محکومی وتقلید وزوال تحقیق
علماء کرام اور حضرات محدثین کا طرز عمل اس امر کا غماز ہے کہ انہوں نے اپنے مخصوص ذہنی سانچے سے باہر نکل کر ماحول اور حالات پر واقعیت پسندانہ نظر نہیں دوڑائی۔ اس کے برعکس رسالت مآب ﷺ کی حیات مبارکہ میں ماحول اور حالات کو بھانپ لینے کی قوت اور واقعیت پسندی بدرجہ اتم موجود ہے۔ دعوت اسلام کا آغاز‘ کوہ صفا کا واقعہ‘ ہجرت مدینہ‘ میثاق مدینہ‘ صلح حدیبیہ‘ غزوات میں ٹھوس حکمت عملی‘ فتح مکہ پر مخصوص طرز عمل‘ بین الاقوامی سفارت کاری وغیرہ اس سلسلے میں چند مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہوا‘ رسول اکرم ﷺ کی زندگی مجسم قرآن تھی لہذا یہ واقعیت پسندی قرآنی آئیڈیلز کی متشکل صورت تھی۔
پاکستان میں سیرت النبی ﷺ پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ بازار میں بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ وزارت مذہبی امور ہر سال سیرت کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے لیکن افسوس کامقام ہے کہ مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو رہے۔ معاشرے کی صورت پذیری قرآنی آئیڈیلز اور نبی ﷺ کی سنت کے مطابق نہیں ہو رہی۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ بنیادی وجہ وہی ہے: بے عملی۔ چونکہ ہمارا عمومی رویہ بے عملی کا بن چکا ہے‘ اس لیے نظری مباحث‘ مثلاً کانفرنسوں میں تقاریر‘ مقالے‘ کتابیں وغیرہ‘ مخصوص‘ متعین اور لگی بندھی نوعیت کی چیزیں ہیں۔ سیرت کانفرنس کے مقالہ جات کے عنوانات دیکھیے۔ اگر اتفاق سے عنوانات میں کہیں واقعیت پسندی نظر آئے گی تو مواد‘ اسلوب اور صاحب مقالہ کی اپروچ عنوان کا ستیاناس کر دے گی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر قومی سطح کی کانفرنسوں کے مقالہ جات کا جب یہ معیار ہے تو صورت حال کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ دین سے رغبت رکھنے والے طبقے کی اکثریت اس مخصوص بے عملی کے سبب سے گرفتار خرافات ہے۔ بقول اقبال ایک باعمل مرد حر‘ جو واقعیت پسندی سے محترز نہیں ہوتا‘ وقت کی لگام ہاتھ میں لے لیتا ہے:
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات
لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتنے باعمل مرد حر موجود ہیں؟ کیونکہ ایسے افراد کی کاوشوں سے ہی ’’حقیقت‘‘ منور ہو کر سب کو اپنی طرف کھینچے گی۔ نبی ﷺ کو حقیقت کی کتنی جستجو رہتی تھی‘ یہ ان دعائیہ کلمات سے واضح ہے جو اکثر وبیشتر آپ کی زبان پر جاری ہوتے تھے: اے اللہ‘ مجھ کو اشیا کی اصل حقیقت سے آگاہ فرما۔‘‘ ڈاکٹر اقبال کی رائے میں اشیا کی اصل حقیقت تک رسائی‘ قرآن مجید کی رو سے‘ انسان کی اختباری روش میں پنہاں ہے۔ اقبال کے مطابق قرآن مجید نے انسان کے ایسے طرز عمل کو اس کی روحانی زندگی کا ایک ناگزیر مرحلہ ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ تعلیمات قرآن کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے حقیقت کے اس پہلو کو جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے‘ بے حد اہمیت دی۔ ڈاکٹر اقبال رقم طراز ہیں کہ:
’’یہ فطرت ہی کے پیہم انقلابات ہیں جن کے پیش نظر ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنے آپ کو نئے نئے سانچوں میں ڈھال دیں۔ پھر جوں جوں ہم اپنی ذہنی کاوشوں سے علائق فطرت پر غلبہ حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں‘ ہماری زندگی میں وسعت اور تنوع پیدا ہوتا اور ہماری بصیرت تیز تر ہو جاتی ہے۔ یونہی ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ محسوسات ومدرکات کے زیادہ نازک پہلو اپنی گرفت میں لے آئیں اور یونہی اشیا کے مرور زمانی پر غور وفکر کرتے کرتے ہم اپنے اندر یہ استعداد پیدا کر لیتے ہیں کہ لازمانی کا تعقل کر سکیں۔‘‘
قارئین کرام! اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں وسعت اور تنوع پیدا نہیں ہونے دیا۔ بوجوہ ہماری بصیرت کہنگی کا طواف کر رہی ہے۔ قرآن مجید کی اختباری روش اور سیرت النبی ﷺ کے خلاقی پہلو سے محترز ہونے کے باعث ہم فطری انقلابات کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔ اسی گھبراہٹ سے وہ بے عملی پھوٹ رہی ہے جس کا اوپر کی سطروں میں ذکر ہوا حالانکہ انسان تو انسان بنتا ہی باعمل اور تخلیق کار ہونے سے ہے۔ اقبالؒ وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جب انسان کے گرد وپیش کی قوتیں اسے اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں تو وہ ان کے جیسی چاہے شکل دے سکتا اور جس طرف چاہے موڑ سکتا ہے لیکن اگر اس کا راستہ روک لیں تو اسے یہ قدرت حاصل ہے کہ اپنے اعماق وجود میں اس سے بھی ایک وسیع تر عالم تیار کر لے جہاں اس کو لا انتہا مسرت اور فیضان خاطر کے نئے نئے سرچشمے مل جاتے ہیں۔ اس کی زندگی میں آلام ہی آلام ہیں اور اس کا وجود برگ گل سے بھی نازک۔ بایں ہمہ حقیقت کی کوئی شکل ایسی طاقت ور‘ ایسی ولولہ خیز اور حسین وجمیل نہیں جیسی روح انسانی۔ لہذا باعتبار اپنی کنہ کے‘ جیسا کہ قرآن پاک کا ارشاد ہے‘ انسان ایک تخلیقی فعالیت ہے‘ ایک صعودی روح جو اپنے عروج وارتقا میں ایک مرتبہ وجود سے دوسرے میں قدم رکھتا ہے ...... انسان ہی کے حصے میں یہ سعادت آئی ہے کہ اس عالم کی گہری سے گہری آرزوؤں میں شریک ہو جو اس کے گرد وپیش میں موجود ہے اورعلیٰ ہذا اپنی کائنات کی تقدیر خود متشکل کرے‘ کبھی اس کی قوتوں سے توافق پیدا کرتے ہوئے اور کبھی پوری طاقت سے کام لیتے ہوئے اسے اپنی غرض وغایت کے مطابق ڈھال کر۔‘‘
اس پیرا گراف کا آخری فقرہ توجہ طلب ہے۔ اقبال لکھتے ہیں کہ:
’’اس لحظہ بلحظہ پیش رس اور تغیر زا عمل میں خدا بھی اس کا ساتھ دیتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پہل انسان کی طرف سے ہو۔‘‘
قارئین کرام! تسخیر فطرت‘ واقعیت پسندی اور تخلیقی اپج کے اعتبار سے ہماری عصری تاریخ سے مترشح ہوتا ہے کہ ہم یہ شرط پوری کرنے پر تیار نہیں۔ حکومتی بے حسی پر بات کرنے کا فائدہ ہی نہیں کہ حکومتوں کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں۔ ملال کی بات تو یہ ہے کہ دینی مدارس جمود کی انتہاؤں کو چھو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کا جو حشر ہو رہا ہے اور پاکستان میں خود ان مدارس کی جو درگت بنتی نظر آرہی ہے‘ ا س سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان مدارس کے کرتا دھرتا لوگ ’’تخلیقی فعالیت‘‘ کے منصب پر، غالباً، کبھی فائز نہیں ہو سکتے۔ اپنی طرف سے پہلے کرنے کے بجائے وہ معاملہ خدا کے سپرد کیے ہوئے ہیں‘ حالانکہ:خدائے زندہ‘ زندوں کا خدا ہے۔
قرآن مجید اور سیرت خاتم النبیین ﷺ ہماری زندگیوں میں تبھی انقلاب لا سکتے ہیں اگر ہم سب سے پہلے اپنے گرد وپیش کے حالات اور ماحول پر شعوری گرفت قائم کر لیں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ عصر حاضر اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی حقیقی روح کو بھی تحقیق وجستجو کے زور پر خرافات‘ توہمات اور وہم وگمان کے چنگل سے چھڑانا ہے:
شیر مردوں سے ہوا بیشہ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی وملا کے غلام اے ساقی
ہمیں تقلید محض کے بجائے بیشہ تحقیق سے ’’جدت کردار‘‘ بھی تراشنا ہے:
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
لفظ گری اور اصطلاحوں کی طوطا مینا میں الجھنے کے بجائے عصری تفہیم کی جیکٹ پہن کر‘ قرآن میں غوطہ زن ہو کر‘ چن چن کر ایسے قرآنی آئیڈیلز معاشرتی سطح پر لانے ہیں جو جدت کردار کی تشکیل میں رہنمائی کر سکیں:
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں
گویا اقبال عصر حاضر کے تقاضاؤں سے پر امید ہیں کہ انہی کے بطن سے جدت کردار کی راہیں ہویدا ہوں گی لیکن ’’ابلیسی خوف‘‘ بنیادی رکاوٹ ہے لہذا دین اسلام کو معاشرتی سطح پر زندگی میں سمونے کے لیے ضروری ہے کہ:
۱۔ عصر حاضر کو سمجھا جائے اور ابلیسی خوف کو دور کیا جائے۔
۲۔ عصر حاضر کے تقاضوں اور مسائل کی بابت بھی کماحقہ آگاہی حاصل کی جائے۔
ان دو تقاضوں کو پورا کیے بغیر عصر حاضر کے چیلنج کا سامنا نہیں کیا جا سکتا:
جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر
تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ
مثلاً ہم سب جانتے ہیں کہ آج کا دور تخصیص (Specialization) کا دور ہے۔ فرد کی زندگی کے نظری اور عملی پہلوؤں میں یک رخی اپروچ ہے۔ تخصیص کی بربریت جلد ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے چنانچہ اب مغربی ممالک میں Working Father (کمائی میں مصروف باپ) جیسے معاشرتی موضوعات پر کام ہو رہا ہے۔ زندگی کی تیز رفتاری اور تخصیص نے دو آتشی تلوار کا روپ دھار لیا ہے۔ ایک آدمی اپنی زندگی کی مختلف حیثیتوں میں توازن ملحوظ نہیں رکھ پاتا جس سے بے پناہ معاشرتی‘ نفسیاتی اور جذباتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اہل مغرب اپنے انداز سے ان مسائل کا حل ڈھونڈ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ کی حیات طیبہ ہماری بہتر راہنمائی کر سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آج کے عہد کے تناظر میں رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کریں اور یہ دکھائیں کہ آپ باپ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی میں بہت فعال تھے۔ آپ نے معاشرتی فعالیت اور پدرانہ ذمہ داریوں میں بہترین توازن کا مظاہرہ کیا اور تخصیص کے بجائے شخصی جامعیت کی راہ اختیار کی۔ شخصی جامعیت کے فوائد وثمرات اور اہمیت کے ضمن میں‘ اہل مغرب کا تخصیص کی بربریت پر کیا ہوا تحقیقی کام نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
’’...... جب ۱۸۹۰ء میں تیسری نسل نے یورپ کے عقلی افق پر خود کو نمایاں کیا تو ایسے سائنس دان سامنے آئے جن کا موازنہ تاریخ میں کسی اور سے نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ وہی شخص ہے جس کو تمام لوگوں میں سے صائب الرائے قرار دیا جاتا ہے لیکن وہ تو صرف ایک سائنس سے آشنائی رکھتا ہے بلکہ اس سائنس کے بھی کسی ایک کونے کھدرے کو جانتا ہے جس کا وہ ایک فعال تفتیش کار ہے۔ وہ تو اس کو بھی ایک خوبی قرار دیتا ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اس چھوٹے سے دائرۂ کار کے باہر کیا موجود ہے جس کی اس نے خاص طور پر آب یاری کی ہے اور وہ علم کے عمومی شعبوں کے تجسس کو Dilettantism قرار دیتا ہے۔‘‘
’’...... سوال یہ ہے کہ ہر آئندہ نسل کا سائنس دان جو اپنی کارکردگی کے دائرہ عمل کو سکیڑتا چلا گیا ہے‘ سائنس کے دوسرے شعبوں کے ساتھ اس کا رشتہ بھی کمزور پڑ رہا ہے کیونکہ اس کی کائنات کی یہی روابطی توجیہ ہو سکتی ہے اور شاید اسی کا نام سائنس‘ کلچر اور یورپی تہذیب ہے۔‘‘
’’اور پھر انسان خود کو ان شعبوں میں سے کسی کے اندر مقید کر لیتا ہے اور باقی سب کچھ فراموش کر دیتا ہے۔ اس طریق کار کا ٹھوس اور درست ہونا عارضی طور پر اس کے حق میں چلا جاتا ہے مگر حقیقی طور پر یہ علم کا بکھراؤ (Disarticulation) ہے۔‘‘
’’تخصیص کار عالم نہیں ہے کیونکہ وہ ہر اس شے سے لاعلم ہے جو اس کے مخصوص دائرہ کار میں نہیں آتی۔ مگر وہ لاعلم بھی نہیں کیونکہ وہ بہرحال ایک سائنس دان تو ہے اور وہ اپنے حصے کی کائنات کو تو اچھی طرح جانتا ہے۔ چنانچہ ہمیں کہنا پڑے گا کہ وہ علم رکھنے والا لا علم ہے اور یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے کیونکہ اس بیان میں یہ بات مضمر ہے کہ وہ لاعلم آدمی ہے۔ ...... اور حقیقت میں تخصیص کار کا رویہ یہی کچھ ہے‘ سیاست میں‘ آرٹ میں‘ سماجی اعتبار سے اور دوسرے علوم کے متعلق بھی‘ کیونکہ وہ ان معاملات میں ایک قدیم اور لاعلم انسان کا رویہ اپناتا ہے۔‘‘
’’اس غیر متوازن تخصیص کاری کا‘ جو آج کل مروج ہے‘ یہ نتیجہ فکر نکلا ہے کہ اب دنیا میں جس قدر سائنس دان موجود ہیں‘ اتنے کبھی نہیں تھے مگر جہاں تک ثقہ (Cultured)لوگوں کا تعلق ہے‘ وہ تو اتنے بھی نہیں ہیں جتنے مثال کے طور پر ۱۷۵۰ء میں تھے۔‘‘ (بحوالہ ’’سائنس کے عظیم مضامین‘‘، ترجمہ : شہزاد احمد)
قارئین محترم! ان اقتباسات سے میرے موقف کی تصویر پوری طرح آپ پر واضح ہو گئی ہوگی۔ سیرت النبی ﷺ کے ضمن میں جامعیت اور توازن کے موضوعات پر اگرچہ کافی لکھا جا چکا ہے لیکن اس زاویے اور عصر حاضر کے تناظر میں نہیں لکھا گیا۔ اگر ہم عصر حاضر اور اس کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی ﷺ کی حیات مبارکہ کے خلاقی پہلو منظر عام پر لا سکیں تو نہ صرف اپنی بے عملیت کا خاتمہ کر سکیں گے بلکہ مغرب کو درپیش معاشرتی مسائل کا حل بھی فراہم کر سکیں گے اور یہی آدمیت ہے جس کا تقاضا دین اسلام ہم سے کرتا ہے۔ جامعیت اور توازن سے ہی آدمیت اپنائی جا سکتی ہے۔ آج بھی انہی کے فقدان سے ایک معاشرتی بحران منہ کھولے کھڑا ہے:
آدمیت زاحترام آدمی 
باخبر شو از مقام آدمی
کسی معاشرے کے اندر اور اقوام کے مابین احترام ومقام آدمی کا نفوذ صرف شخصی جامعیت کا متقاضی ہے۔

اسلامی تحریکات کا ایک تنقیدی جائزہ (۱)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

اسلامی تحریک نہ کمزوریوں سے مبرا ہے نہ تنقید ونصیحت سے بالا وبے نیاز‘ جیسا کہ اسلامی تحریکوں کے بعض مخلص پیروکاروں نے تصور کر لیا ہے۔ اس تصور کے حاملین تحریک اسلامی اور اسلام کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحریک پر ناقدانہ نگاہ ڈالنے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسلام پر تنقید ہو رہی ہے۔ یہی کچھ بعض لادین عناصر بانداز دیگر کرتے ہیں۔ وہ تحریک کی خطائیں گنواتے ہیں تو انہیں براہ راست اسلام سے منسوب کر دیتے ہیں اور اسلام اور اس کے احکام میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں۔
یہ تحریک بہرحال انسانوں کی تحریک ہے جو اسلام کے غلبے اور اس کے پیغام کو پھیلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ تحریک کے افراد اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے تمام ممکنہ اسباب وتدابیر اختیار کرتے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ نہیں اور نہ ہونا چاہیے کہ ان کا اجتہاد وحی ہے اور یہ کسی بحث وتنقید سے بلند ہے۔ ان میں سے کوئی یہ زعم نہیں رکھتا کہ وہ مواخذہ ومحاسبہ سے بری ہے اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات ایسے ہیں جنہیں جواب وصفائی کے درخور نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
اسی بنا پر ہمارا خیال ہے کہ تحریک کے جسد وڈھانچہ اور داخلی اسباب پر بحث کی جانی چاہیے کہ یہ اب تک مطلوبہ اسلامی معاشرے کی تعمیر میں کیوں کام یاب نہیں ہو رہی ہے اور اسلامی شریعت اور عقیدے کی روشنی میں زندگی استوار کرنے میں اس کی ناکامی کی علت کیا ہو سکتی ہے۔ یہاں ہم اختیار سے چند اہم اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔

خود احتسابی کا فقدان

سب سے پہلی چیز جس کی لوگ شکایت کرتے ہیں‘ وہ یہ ہے کہ تحریک کے اندر نقد واحتساب کا عمل اگر یکسر مفقود نہیں تو ضعیف ضرور ہے۔ خود احتسابی یا نقد ذاتی سے ہماری مراد یہ ہے کہ اپنی ذات کا محاسبہ کیا جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ’’دانا وہ ہے جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا‘‘ یعنی اس کا محاسبہ کرتا رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’اپنا محاسبہ خود کرو قبل اس کے کہ کوئی تمہارا محاسبہ کرے‘ اپنے عملوں کا وزن اپنے طور پر کر لیا کرو قبل اس کے کہ کوئی تمہارے اعمال کا وزن کرے۔‘‘ بعض بزرگ کہا کرتے تھے: ’’مومن اپنے نفس کا محاسبہ کرنے میں جابر سلطان سے بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔‘‘
یہ تو ہوا انفرادی محاسبہ نفس۔ جس طرح ایک فرد پر لازم ہے کہ وہ دیکھتا رہے کہ وہ اللہ کے معاملے میں کسی تفریط کا شکار نہ ہو اور بندوں کے حقوق میں کوئی کمی نہ چھوڑتا ہو‘ تاکہ اس کا آج ہر کل سے بہتر بنے اور آنے والا کل آج سے بہتر ثابت ہو، اسی طرح جماعت پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اندر اجتماعی محاسبے کے عمل کو جاری کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو گمراہی پر اکٹھے ہونے سے تو محفوظ رکھا ہے لیکن جہاں تک جماعت کا تعلق ہے‘ وہ خطا اور گم راہی سے محفوظ نہیں سمجھی جا سکتی۔ خاص طور پر اجتہادی امور میں، جہاں ایک معاملے کے متعدد پہلو ہو سکتے ہیں۔ جتنا صحت کا امکان ہوتا ہے‘ اتنا ہی غلطی اور لغزش کا بھی۔ خطا کا امکان بشری کمزوریوں کے ما تحت ہو سکتا ہے۔ یہ ایمان وتقویٰ کے منافی نہیں بلکہ لوازم بشریت میں سے ہے۔ خطا کے رخ پر ان کے قدم بھی پھسل سکتے ہیں جو ہم سب سے کامل ایمان والے ہیں اور میزان میں جن کے عمل قابل ترجیح ہیں۔ صحابہ کرامؓ ہی کو لے لیں۔ غزوۂ احد کے بعد اللہ تعالیٰ کا ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟
اولما اصابتکم مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا قل ھو من عند انفسکم ان اللہ علی کل شی قدیر (آل عمران ۱۶۵)
یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آ پڑی تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آئی؟ حالانکہ (جنگ بدر میں) دگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (فریق مخالف پر) پڑ چکی ہے۔ اے نبی‘ ان سے کہو کہ یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
قرآن نے صحابہؓ کے بعض اقوال واعمال کا تعلق مظاہر ضعف وخطا ہی سے دکھایا ہے:
ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذ تحسونہم باذنہ حتی اذا فشلتم وتنازعتم فی الامر وعصیتم من بعد ما اراکم ما تحبون منکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید الآخرۃ (آل عمران ۱۵۲)
اللہ تعالیٰ نے (تائید ونصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا‘ وہ تو اس نے پورا کر دیا۔ ابتدا میں اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کر رہے تھے مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا اور جونہی وہ چیز اللہ نے تم کو دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مال غنیمت) تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے۔
تحریک اسلامی اپنی مالک آپ ہی نہیں ہے‘ یہ پوری امت اسلامیہ کی متاع ہے۔ یہی نہیں بلکہ آنے والی مسلمان نسلوں کو منتقل ہونے والا ورثہ ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اس کے اثر وقوت کے سرچشموں سے آگاہی بھی حاصل کی جائے اور اس کے ضعف واضمحلال سے سبق بھی سیکھا جائے۔
تحریک اسلامی کے بعض مخلص متبعین تحریک میں تنقید کا دروازہ کھلنے سے اس لیے خوف زدہ رہتے ہیں کہ اس طرح بعض لوگ اس کی اچھائیوں کو بھی برائیاں ظاہر کرنے لگ جائیں گے۔ ایسی تنقید اگر اصلاح کا باعث نہ بن سکے تو فساد ثابت ہوتی ہے۔ اسی نوعیت کا عذر بعض قدیم علما نے اختیار کیا جنہوں نے امت کو اجتہاد کے دروازے بند کر رکھنے کی نصیحت وتاکید کی۔ ان کا خیال تھا کہ ایسے لوگ بھی اجتہاد کے نام پر اللہ کے دین کو تختہ مشق بنا لیں گے جو اس کے اہل نہیں ہیں۔ دین میں بے حقیقت باتوں کو داخل کریں گے‘ علم وبصیرت کے بغیر اجتہادی فیصلے کریں گے‘ خود بھی گمراہی کا شکار ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ لیکن ہمارے خیال میں ایسے لوگوں کے لیے یہ دروازے بند نہیں ہونے چاہییں جو علم وتقویٰ کے لحاظ سے معاملے پر قادر ہوں۔
اسی طرح تحریک اسلامی کے بعض عظیم قائدین پر تنقید کو بھی گوارا نہیں کیا جاتا‘ مبادا تہمت اور خصومت کے تیر ان پر چلنا شروع ہو جائیں۔ حسن البناؒ ‘ ابو الاعلیٰ مودودیؒ ‘ سید قطبؒ اور مصطفیٰ السباعیؒ یا ایسی ہی دیگر فکری اور تحریکی قیادت پر جب تنقیدی رائے زنی کی گئی تو اسے اتہام گردانتے ہوئے یہ سمجھا گیا کہ ان شخصیات کی امامت وعظمت کو طعن کا نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ تنقید علمی سطح پر ہو یا عملی اور تحریکی سطح پر‘ کسی شخص کو علمی‘ دینی اور اخلاقی مرتبے سے نیچے نہیں لا سکتی۔ ان رجال عظیم کی فکر صرف وابستگان تحریک ہی کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ تو مسلمان نسلوں کی ملک ہے۔ چنانچہ نہایت ہی ضروری ہے کہ سب ان کی فکر پر تنقیدی جائزے کے ذریعے سے یہ جان سکیں کہ کہاں مکمل اتفاق ہو سکتا ہے اور کہاں اختلاف کی گنجائش ہے۔ یہ فکر صحت وصواب کے کس قدر قریب ہے اور کس حد تک اس سے بعید ہے۔
خود ان مفکرین نے کبھی اپنے آپ کو معصوم نہیں سمجھا‘ نہ اپنی آرا واجتہاد وفکر کو کبھی ’’تقدس‘‘ کا رنگ چڑھایا۔ حسن البناؒ نے تو اپنے ’’دس اصولوں‘‘ میں یہ بات بہ تاکید کہی ہے کہ نبی ﷺ کے سوا ہر شخص کی بات کو اختیار واخذ بھی کیا جا سکتا ہے اور چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔
ان حضرات نے خوب تر کے سفر میں اپنے موقف علمی کو بدلنے میں کبھی عار نہیں سمجھا۔ سید قطبؒ ’’التصویر الفنی ومشاہد القیامۃ فی القرآن‘‘ میں قرآنی بلاغت کے منفرد عظیم نقاد کی حیثیت میں سامنے آئے۔ جب انہوں نے ’’عدالۃ الاسلام ونظامۃ الحیاۃ‘‘ لکھی تو اسلامی نظام معاشرت کی خوبیوں کے پرچارک بنے۔ اس سے آگے فکر بلند نے پرواز کی تو ’’المعالم‘‘ اور ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں ایک زبردست تحریکی داعی کے قالب میں ڈھل کر معاشرے میں اسلامی انقلاب کے علم بردار بن گئے۔ ان کے ایک شاگرد نے ان نظریات وآرا میں ان زبردست تبدیلیوں کے ضمن میں ان سے ایک مرتبہ کہا، ’’معاف کیجیے گا‘ آپ کے بھی امام شافعیؒ کی طرح دو مذہب ہیں‘ ایک قدیم اور ایک جدید‘‘۔ سید قطبؒ نے اپنی فکر کے اجتہادی سفر میں ترقی وانقلاب کا اعتراف کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہ کی اور کہا، ’’ہاں‘ شافعی نے صرف فروع میں رائے بدلی‘ میں نے تو اصول میں بھی ایسا کیا ہے۔‘‘ سید مودودیؒ نے اپنی بعض تحریروں پر ابو الحسن علی ندویؒ کی تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کیا‘ اس کا ذرہ برابر برا نہ منایا جبکہ ان کے پیروکار اس معاملے میں دوسری روش اپناتے ہیں۔ وہ کسی ایسی تنقید سے ناراض ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ تحریک کے مخالفین اس تنقید کے نام پر تحریک اور اس کے زعما کے خلاف ناشائستہ مہم شروع کر دیں گے‘ قابل اعتراض نکات جمع کر کے انہیں اپنے نقطہ نظر سے پرکھیں گے۔ چھوٹی بات کو بڑی بنا کر پیش کریں گے۔ تحریک اور شخصیات سے ایسی باتیں منسوب کریں گے جن کا ان سے قطعاً کوئی تعلق نہ ہوگا۔ 
خود میرے ساتھ ایسا ہوچکا ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’الحل الاسلامی‘‘ میں تحریک اسلامی کی بعض داخلی مشکلات وموانع کا جائزہ لیا تھا۔ کچھ لوگوں نے اس میں سے کچھ لیا‘ کچھ کاٹا‘ کچھ بڑھایا‘ کچھ گھٹایا اور اسے اس شاعر کے طریقے سے پیش کیا جس نے کہا تھا:
ما قال ربک ویل للاولی سکروا
بل قال ربک ویل للمصلینا
’’تیرے رب نے شراب پینے والوں کے لیے ہلاکت نہیں بتائی بلکہ نماز پڑھنے والوں کے لیے تباہی کی وعید سنائی ہے۔‘‘
اس طرح کی تحریف وخرافات سے قطع نظر خالص علمی تنقید جو اخلاق سے کی جائے‘ اسے محض اس ڈر سے نہیں روکنا چاہیے۔

انقسام واختلاف

معاصر اسلامی تحریک میں ایک دوسرا فتنہ یہ ہے کہ تمام جماعتیں اور صفیں انتشار واختلاف اور تقسیم وشکستگی کا شکار ہیں۔ ہر جماعت صرف اپنے آپ ہی کو ’’جماعت المسلمین‘‘ تصور کرتی ہے‘ یہ نہیں مانتی کہ وہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت ہے۔ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے‘ باقی سب گمراہی کے راستے پر گام زن ہیں۔ صرف اسی جماعت میں شامل ہونے والے جنت کے‘ اور آگ سے نجات کے مستحق ہوں گے۔ وہ واحد ’’فرقہ ناجیہ‘‘ ہے، باقی سب ہلاکت اور دوزخ میں پڑیں گے۔ یہ بات ان میں سے ہر جماعت اگر زبان قال سے نہیں کہتی تو زبان حال سے اسی کا اظہار کرتی ہے۔ امت جس انتشار اور عدم وحدت کا شکار تھی‘ اسی میں تحریکیں ڈوبتی جا رہی ہیں۔ تحریک کا اصل ہدف غلبہ اسلام تک نہ پہنچ پانے اور اس میں استقامت نہ دکھا سکنے میں اسی افتراق وانشقاق کا دخل ہے جس کا احساس بعض مخلص اور غیرت مند افراد کو ہے اور وہ اسی چیز کے شاکی ہیں۔ فکر وعمل کا سفر اسی رخ پر اگر جاری رہا تو اتفاق وتقارب کے رستے منقطع ہو جائیں گے اور جڑنا اور ملنا مشکل ہو جائے گا۔
میں اسلامی جماعتوں کی تعداد کے خلاف نہیں ہوں اسی لیے میں نے موجودہ دراڑوں کو بھرنے کے لیے لفظ ’’وحدت‘‘ کے بجائے ’’تقارب‘‘ استعمال کیا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب اپنے اپنے وجود کو تحلیل کر کے ایک قیادت کے تحت ایک جماعت کی شکل اختیار کرلیں کیونکہ یہ ایک میٹھے اور خوش گوار خواب کے سوا کچھ نہیں۔ عملاً سب کے لیے اتنا بڑا ایثار اور عجز آسان نہیں ہے الا یہ کہ انسان فرشتوں کا روپ دھار لیں۔ پھر جماعتوں کی تعداد اگر محض تنوع اور تخصص کے لیے ہو تو ایسی قبیح بات بھی نہیں ہے بشرطیکہ یہ تصادم وتضاد کی حدود سے محفوظ رہے۔
ہو سکتا ہے ایک جماعت جاہلانہ خرافات اور شرک سے عقیدے کو پاک رکھنے میں خصوصیت رکھتی ہے‘ اس کا مقصود یہ ہو کہ مسلمانوں کے عقیدے درست کر کے قرآن وسنت کے مطابق بنایا جائے۔ کوئی دوسری جماعت عبادات کو بدعات اور دیگر آمیزشوں سے پاک رکھنے کے لیے کوشاں ہو اور چاہتی ہو کہ لوگ دین کی تعلیمات کو سمجھ لیں۔ ممکن ہے کوئی تیسری جماعت مسلم خاندان کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتی ہو۔ اس کی دعوت ہو کہ عورتیں شرعی پردے کو اپنائیں اور بن ٹھن کر نمائش زینت نہ کرتی پھریں۔اسی طرح بعض جماعتوں کے پیش نظر سیاسی انقلاب کا نصب العین ہو سکتا ہے۔ وہ انتخاب کے میدان میں کود کر لادینی گروہوں کی سیاسی پیش قدمی کو روکنے کا لائحہ عمل رکھتی ہوں۔ پانچویں قسم ان جماعتوں کی بھی ہو سکتی ہے جو تزکیہ وتربیت اور اجتماعی عمل کو اپنا ٹارگٹ سمجھتی ہیں اور اپنی جملہ کاوشیں اور وقت اسی مقصد کے لیے صرف کرتی ہیں۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ بعض جماعتیں عام لوگوں میں اپنا کام کرتی ہوں‘ اس کے مقابلے میں کچھ دوسری جماعتیں صرف تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے لوگوں کو اپنا مخاطب بناتی ہوں۔ بعض کی دعوت جذبات پر مضراب کا کام کرتی ہے‘ بعض کیفیات ایمان کو متاثر کرتی ہیں‘ کچھ کا پیغام عقل وفکر کو اپیل کرتا ہے‘ خاص طور پر ایسے لبرل اور اشتراکی ذہنوں کو اپیل کرتا ہے جو مغرب زدگی کے باعث عقل ہی کو تمام معیار خطا وصواب سمجھے بیٹھے ہیں۔ جماعتوں میں اسی نوعیت کے فرق ہیں۔ اس فرق کی بنا پر ہر جماعت اسی میدان میں اپنی خدمات کام میں لا رہی ہے جس میدان کی وہ نمائندہ ہے اور جسے وہ کسی دوسرے میدان کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھتی ہے۔
یہ چیز اچھی بھی ہے اور مفید بھی ہے بشرطیکہ سب ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن کا مظاہرہ کریں اور اختلاف کے مقامات پر ایک دوسرے کی برداشت سے باہر نہ ہو جائیں۔ معروف کے معاملے میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور سمجھائیں اور جب کبھی وجود وشعائر دین کی حفاظت جیسے بڑے مسائل درپیش ہوں تو سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں اور قدم سے قدم ملا کر منزل مقصود تک پہنچیں۔ یہودیوں‘ عیسائیوں‘ اشتراکیوں اور ملحدوں کے خلاف ایک محاذ بنا کر لڑیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو یاد رکھیں:
ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص (الصف ۴)
بلاشک اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر لڑتے ہیں۔
آج اسلامی تحریک کی قیادت کا فرض ہے کہ اسلام کے لیے سرگرم اسلامی جماعتوں کے مابین قربت واتفاق کی ایسی فضا پیدا کرے جس میں سلجھے ہوئے اور تعلیم یافتہ نوجوان ایک تازہ جوش وولولہ کے ساتھ عازم سفر ہو جائیں۔ عالم عرب میں خصوصیت سے جن جماعتوں کا ذکر مقصود ہے‘ وہ یہ ہیں: ۱۔ جماعت اخوان المسلمین‘ ۲۔ سلفی جماعت‘ ۳۔ جماعت الجہاد‘ ۴۔ حزب تحریر اسلامی‘ ۵۔ تبلیغی جماعت (اور عالم عرب سے باہر جماعت اسلامی پاکستان وانڈیا‘ حزب السلامۃ اور نوری جماعت ترکی‘ جماعت شباب مسلم اور حزب اسلامی ملائشیا وغیرہ)
ان اسلامی جماعتوں کو چاہیے کہ سب کے مفکرین اور قائدین کو ایک دوسرے کے اجتماعات اور دروس کے حلقوں میں بلائیں‘ تعاون کے مواقع تلاش کرنے اور اختلافات کی دراڑوں کو بھرنے کی کوشش کریں۔ جزئیات میں اختلاف کی آگ ٹھندی ہو۔ دوسروں کے بارے میں‘ وہ وہ رائے یا عمل میں مکمل اتفاق نہ بھی رکھتے ہوں‘ حسن ظن کو فروغ دیا جائے۔ کوئی ایسا لائحہ عمل تیار ہونا چاہیے جس پر سب کا جمع ہونا ممکن ہو تاکہ اسلام کے دشمنوں کے خلاف مقابلے میں سب صف واحد میں کھڑے ہو سکیں خواہ دشمن کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو‘ تیاری کتنے ہی پہلوؤں سے ہو اور مکر کا جال کتنا ہی مضبوط ہو۔
ان جماعتوں میں فرق کا بڑھا چڑھا ہوا ہونا اور اختلافات کے شگاف کا وسیع ہونا ایک عذر ہے۔ آخر کام تو سب اسلام ہی کا کر رہی ہیں پھر کیوں نہ قطع تعلق کی روش ختم ہو اور کشیدگی ورنجش کا ازالہ ہو؟
میرا خیال ہے کہ امام حسن البنا رحمہ اللہ کے وضع کردہ ’’دس اصول‘‘ مذکورہ جماعتوں میں فکری وعملی اشتراک کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ یہ اصول امامؒ نے مصر کی دینی جماعتوں کو اتحاد کی کم از کم بنیاد کے طور پر پیش کیے تھے تاکہ اسلام کے لیے کام کرنے والے جملہ عناصر میں فہم وفکر کی وحدت پیدا کی جا سکے اور ان میں پائے جانے والے اختلافات اور الزام تراشی کو ختم کیا جا سکے۔ نیتوں میں اخلاص ہو تو یہ ’’دس اصول‘‘ آج بھی روشن مینار بن سکتے ہیں۔ ایک اہم اصول یہ ہے کہ ’’جس چیز پر ہمارا اتفاق ہو جائے گا‘ ہم ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ اگر کسی چیز میں اختلاف باقی رہے گا تو (الزام تراشی اور اتہام بازی کے بجائے) ایک دوسرے سے معذرت کر لیں گے۔‘‘
میں نے حسن البناؒ سے بڑھ کر اسلام کے کاز کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کی دل داری اور احترام جذبات کی خواہش کسی میں نہیں پائی۔ وہ اتفاق ورفاقت پر زور دیتے ہیں اور دلوں کے تقارب کے لیے نرم اور میٹھا اسلوب اپناتے تھے۔
اخوان المسلمین کے چھٹے اجتماع کے موقع پر اپنے پیغام میں جو کچھ کہا تھا‘ یہ ہے کہ ’’جو مختلف گروہ اسلام کے لیے کام کر رہے ہیں‘ ان کے مابین نزاعات کے سلسلے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ محبت‘ اخوت‘ تعاون اور دوستی کے جذبات کام میں لائے جائیں‘ نقطہ نظر میں تقرب اور اتفاق کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ فقہی اور مسلکی اختلاف بعد ونفرت کا باعث نہ بنے۔ دین کو پیش کیا جائے یا دین کا کام کیا جائے تو انتہائی نرم لہجے میں تاکہ بات دلوں میں اتر جائے اور عقل کو اپیل کرتی جائے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب نام‘ القاب اور تنظیموں کی ہیئت کے فرق ختم ہو جائیں گے۔ دین اسلام کے ماننے والے ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے۔ مومنانہ اخوت قائم ہوگی اور دین کے لیے کام کرنے والے تمام لوگ اسی جذبے سے سرشار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہوں گے۔‘‘
تحریک اسلامی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ وہ ان شخصیات کی دینی خدمات یا خود ان شخصیات کا وزن کم کرے جو دعوت دین کے میدان میں سرگرم ہیں۔ یہ شخصیات اگرچہ انفرادی طور پر کام کر رہی ہیں لیکن پھر بھی ان کا وسیع حلقہ اثر وتلامذہ ہے‘ ان کے مدارس اور مرید ہیں۔ بلاشبہ ان میں سے بعض راست اور مخلص تو ایسے ہیں جو رائے عامہ میں ایک زبردست حرکت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہماری منظم جماعتی اور ایک لگے بندھے پروگرام کے مطابق جدوجہد کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان لوگوں کو اعتبار سے ساقط کر دیں جو جماعت کی حدود کے اندر آکر کام نہیں کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس اس کا معقول جواز اور بعض مادی ومعنوی موانع ہوں جو انہیں منظم اور جماعتی اسلوب کار سے دور رکھتے ہوں۔ اگر وہ فکری‘ قلبی اور عملی طور پر جماعتی کام سے تعاون بھی کرتے ہوں تو پھر ان کے باضابطہ اور رسمی طور پر رکن جماعت نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح بعض بڑی صاف ستھری‘ دعوت دین میں مخلص شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو سرکاری محکموں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ یہ خواہ کسی درس گاہ میں کام کر رہی ہوں یا وزارت اوقاف وغیرہ میں ملازم ہوں۔ محض سرکاری ملازم ہونے کے ’’جرم‘‘ میں ان سے تجاہل ولا تعلقی برتنا بھی کسی طور پر روا نہیں ہے۔ بعض اوقات سرکاری مشینری اور اداروں میں رہ کر یہ بڑے بڑے علمی اور عملی کام کر جانے کے قابل ہوتی ہیں۔ (باقی)

علماء دیوبند اور سرسید احمد خان - مولانا عیسیٰ منصوری کے ارشادات پر ایک نظر

ضیاء الدین لاہوری

موقر جریدہ ’’الشریعہ‘‘ میں جناب مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا ایک مضمون بعنوان ’’علماء دیوبند اور سرسید احمد خان‘‘ مطالعہ میں آیا جو روزنامہ جنگ لندن میں مطبوعہ غلام ربانی صاحب کے ایک مضمون کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ’’دیوبند فرقہ والوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے عین مقابل ایک مدرسہ کھول کر سرسید احمد خان کی مخالفت کرنا شروع کر دی اور اس کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کر کے اس کو نیچری کہنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کے لیے انگریزی تعلیم حاصل کرنا ناجائز قرار دے دیا۔‘‘ اگرچہ مولانا موصوف نے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ بیان کیا ہے کہ ’’غلام ربانی صاحب کے یہ تینوں دعوے بالکل بے بنیاد‘ گمراہ کن اور سراسر غلط ہیں‘‘ مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ انہوں نے پہلی دو باتوں کی وضاحت میں علیگ پارٹی کے پراپیگنڈا سے مرعوب ہو کر ایسا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا‘ البتہ وہ انگریزی تعلیم کے حصول کو ناجائز قرار دینے کے الزام کا مناسب رد کرتے ہیں۔
مولانا موصوف نے الزام کنندہ کے الفاظ ’’عین مقابل‘‘ کے الفاظ کا غلط مفہوم لیا اور فرمایا کہ ’’مدرسہ دیوبند علی گڑھ یونیورسٹی کے عین مقابل نہیں بلکہ تین سو میل دور ایک چھوٹے سے قصبے میں قائم کیا گیا‘‘ حالانکہ اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ یہ مدرسہ علی گڑھ یونیورسٹی کے مقابلے میں رد عمل کے طو رپر قائم کیا گیا۔ الزام کنندہ شعوری یا غیر شعوری طور پر غلام احمد پرویز سے متاثر دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان حضرت نے بھی اپنی ایک تحریر میں یہی غلط بات کہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ دیوبند علی گڑھ کالج کے قیام (۱۸۷۵ء) سے نو سال قبل ۱۸۶۶ء میں وجود میں آیا تھا۔ (۱) اس وقت اس کالج کا منصوبہ سرسید کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ اس کا چرچا ان کے دورۂ انگلستان ۷۰۔۱۹۶۹ء کے بعد ہوا۔ سرسید نے ۱۸۶۷ء کے اخبار سائنٹفک سوسائٹی میں مدرسہ دیوبند کی پہلی سالانہ رپورٹ پر اپنا تبصرہ تحریر کیا۔ (۲) پھر جولائی ۱۸۷۳ء کے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں سرسید نے اس مدرسہ کی ساتویں سالانہ رپورٹ پر ایک طویل تبصرہ شائع کیا جس میں انہوں نے علما کو جی بھر کر لتاڑا اور اسلامی مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم پر کڑے الفاظ میں نکتہ چینی کی۔ (۳) اس وقت سرسید کا تعلیمی منصوبہ زیر تکمیل تھا اور وہ اپنے نیچری عقائد کی بڑے زور وشور سے تشہیر کر رہے تھے۔ رد عمل کے طور پر علما کی طرف سے ایک استفتا شائع ہوا جس کی متعلقہ عبارت درج ذیل ہے:
’’کیا فرماتے ہیں علماء دین اس امر میں کہ ان دنوں ایک شخص ان مدرسوں کو جن میں علوم دینی اور ان علوم کی جو دین کی تائید میں ہیں‘ تعلیم ہوتے ہیں‘ جیسے مدرسہ اسلامیہ دیوبند اور مدرسہ اسلامیہ علی گڑھ اور مدرسہ اسلامیہ کان پور‘ ان کو برا کہتا ہے اور ان کی ضد میں ایک مدرسہ اپنے طور پر تجویز کرنا چاہتا ہے ..... مسلمانوں کو ایسے مدرسے میں چندہ دینا درست ہے یا نہیں؟‘‘ (۴)
اس استفتا سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مدرسہ دیوبند علی گڑھ یونیورسٹی کے مقابلے میں قائم نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس علی گڑھ کالج مدرسہ دیوبند کے ’’عین مقابل‘‘ جاری کیا گیا۔ کالج کی تاریخ اجرا کے بارے میں سرسید فرماتے ہیں:
’’۲۴ مئی ۱۸۷۵ء روز سالگرہ ملکہ معظمہ ..... مدرسہ کھولا گیا۔‘‘ (۵)
روز سالگرہ ملکہ معظمہ کا خاص موقع یونہی منتخب نہیں کیا گیا تھا بلکہ سرسید کی تمام تر تعلیمی کاوشیں اسی نکتے کے گرد گھومتی ہیں۔ علی گڑھ کالج کی بنیاد میں جو جذبہ کارفرما تھا‘ اسے سرسید کے ان الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:
’’ہمارے ملک کو‘ ہماری قوم کو اگر درحقیقت ترقی کرنی اور فی الواقع ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند کا سچا خیر خواہ اور وفادار رعیت بننا ہے تو اس کے لیے بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ علوم مغربی وزبان مغربی میں اعلیٰ درجہ کی ترقی حاصل کرے۔‘‘ (۶)
’’اصلی مقصد اس کالج کا یہ ہے کہ مسلمانوں میں عموماً اور بالتخصیص اعلیٰ درجے کے مسلمان خاندانوں میں یورپین سائنسز اور لٹریچر کو رواج دے اور ایک ایسا فرقہ پیدا کرے جو ازروئے مذہب کے مسلمان اور ازروئے خون اور رنگ کے ہندوستانی ہوں مگر باعتبار مذاق اور رائے وفہم کے انگریز ہوں۔‘‘ (۷)
کالج کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر وائسرائے کو پیش کردہ سپاس نامے میں اس کا مقصد یوں بیان کیا گیا:
’’ہندوستان کے مسلمانوں کو سلطنت انگریزی کی لائق وکارآمد رعایا بنانا اور ان کی طبیعتوں میں اس قسم کی خیر خواہی پیدا کرنا جو ایک غیر سلطنت کی غلامانہ اطاعت سے نہیں بلکہ عمدہ گورنمنٹ کی برکتوں کی اصل قدر شناسی سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (۸)
کالج کے ٹرسٹیوں نے ایک موقع پر یہ اعلان کیا:
’’من جملہ کالج کے مقاصد اہم کے یہ مقصد نہایت اہم ہے کہ یہاں کے طلبہ کے دلوں میں حکومت برطانیہ کی برکات کا سچا اعتراف اور انگلش کیریکٹر کا نقش پیدا ہو اور اس سے خفیف سا انحراف بھی حق امانت سے انحراف کے مترادف ہے۔‘‘ (۹)
سرسید کے دست راست نواب محسن الملک کا بیان ہے:
’’یہاں کی مذہبی تعلیم تعصب سے پاک ہے‘ تفرقہ کو دور کرنے والی ہے‘ غیر مذہب والوں سے اتحاد اور دوستی رکھنے کی تعلیم دیتی ہے‘ گورنمنٹ کی اطاعت اور سچی خیر خواہی کو جزو اسلام بتاتی ہے۔‘‘ (۱۰)
ایک اور موقع پر انہوں نے فرمایا:
’’اس کا بیج تو بویا سرسید نے‘ اب جب کہ یہ پھلے پھولے گا اور اس میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تہذیب‘ شائستگی‘ علمی قابلیت اور گورنمنٹ کی وفادار رعایا ہونے کی حیثیت سے آپ اپنی مثال ہوں گے تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی کی برکتوں اور آزادی کی بشارت دیتے پھریں گے۔‘‘ (۱۱)
سرسید کے بہت بڑے مداح الطاف حسین حالی بیان کرتے ہیں:
’’سب سے زیادہ وفاداری اور لائلٹی کی مستحکم بنیاد جو سرسید کی مذہبی تحریروں نے مسلمانوں میں قائم کی ہے‘ وہ انگریزی تعلیم کی مزاحمتوں کو دور کر کے ان کو عام طور پر اس کی طرف متوجہ کرنا اور خاص کر ان کی تعلیم کے لیے محمڈن کالج کا قائم کرنا ہے جس کی رو سے نہایت وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جس قدر اعلیٰ تعلیم مسلمانوں میں زیادہ پھیلتی جائے گی‘ اسی قدر وہ تاج برطانیہ کے زیادہ وفادار اور گورنمنٹ کے زیادہ معتمد علیہ بنتے جائیں گے۔‘‘ (۱۲)
یہ ہے بانیان کالج کے اپنے الفاظ میں علی گڑھ کالج میں دی جانے والی تعلیم کے اغراض ومقاصد کا ایک خاکہ جسے سرسید کی تعلیمی جدوجہد کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے ایک نعمت قرار دیا جاتا ہے‘ وہ تعلیم جو صرف اور صرف انگریزوں کی خیر خواہی‘ وفاداری‘ لائلٹی اور انگریزی برکات کے سچے اعتراف وغیرہ وغیرہ جذبات سے معمور ہو۔ غلامانہ ذہنیت کو تقویت پہنچانے والی اس کیفیت کو مسلمانوں کی ترقی سے موسوم کیا جاتا ہے۔
جہاں تک فتووں کی بات ہے‘ مولانا موصوف کا یہ بیان محل نظر ہے کہ ’’علماء دیوبند نے کبھی سرسید پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا‘‘۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا درست نہیں۔ جو بات واقعی ہوئی‘ اس سے انکار کیوں؟ دراصل سرسید کے پیروکاروں نے ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نصاب میں پراپیگنڈا کے اصولوں سے کام لے کر مسلمانوں کی ترقی اور بھلائی کے نام پر سرسید کی شخصیت کو اس قدر صاف وشفاف بنا دیا ہے کہ اس کے زیر اثر اچھے بھلے دانش ور بھی مرعوب ہو کر بات کرتے ہیں۔ صرف صاف وشفاف ہی نہیں‘ انہوں نے سرسید کو علما کے مقابلے میں مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کے حق میں ہم دردی کے جذبات ابھارے جائیں۔ اگر سرسید کے موجودہ پیروکار ان کے مذہبی عقائد کو دانستہ چھپاتے ہیں یا ان سے اغماض برتتے ہیں یا ان پر عمل نہیں کرتے تو اس سے نہ تو اس دور کی صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے جس میں یہ فتوے جاری ہوئے اور نہ سرسید اپنے عقائد سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
علماء دیوبند کے سرسید کے خلاف کفر کے فتووں کے ذکر میں صرف ایک رسالہ ’’نصرۃ الابرار‘‘ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ رسالہ ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا۔ اس میں متعدد شہروں کے علما کے فتاویٰ درج ہیں۔ اگرچہ اس رسالے کا بنیادی مقصد سرسید کی انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں کے خلاف رد عمل ظاہر کرنا تھا مگر استفتا اور ان کے جوابات میں ان کے نیچری عقائد بھی زیر بحث آ گئے۔ اگر مولانا موصوف برطانوی ہند کے مختلف علاقوں کے علما کو‘ گو وہ مسلک دیوبند سے منسلک ہوں‘ علماء دیوبند قرار نہیں دیتے تو مدرسہ اسلامیہ دیوبند کے مدرسین کو تو بہرحال ایسا تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس رسالے میں ضلع سہارن پور کے ذیل میں مولانا محمود حسن مدرس مدرسہ اسلامیہ دیوبند کے حوالے سے یہ تحریر ملتی ہے:
’’فرقہ نیچریہ کے بارے میں جو کہ منکر نصوص قرآنی واحادیث نبوی واجماع امت ہے‘ جو کچھ علماء معتبرین نے ارشاد فرمایا ہے‘ وہ امر حق موافق کتاب وسنت ہے۔‘‘ (ص ۲۳)
اس مدرسے کے جن مدرسین نے اس تحریر کی تائید کی ہے‘ ان کے نام: احمد حسن‘ محمد حسن اور عبد اللہ خان ہیں۔ دیوبند کے علماء معتبرین نے فرقہ نیچریہ کے بارے میں جو ارشاد فرمایا‘ وہ احمد حسن ولد مولوی محمد قاسم کے حوالے سے اس تحریر میں ملاحظہ فرمائیں:
’’فرقہ نیچری جو کہ اپنے آپ کو تابع سید احمد خان بتلاتے ہیں‘ ہرگز ہرگز کوئی معاملہ ان سے جائز نہیں۔ بوجہ دعوائے اسلام ان کے دھوکا میں کوئی مسلمان نہ آوے۔ سید احمدخان کے کفر کی بابت علماء گزشتہ نے پہلے بھی تحریر فرمایا ہے اور اب بھی جو کچھ علماء مذکورہ نے تحریر فرمایا‘ موافق قواعد شرع درست ہے۔ لاریب یہ شخص کافر ہے‘ اس کے کفر میں کوئی شک وشبہ نہیں۔‘‘ (ص ۲۴)
اس کی تائید میں ’’الجوابات المذکورۃ کلہا صحیحۃ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ محمد فضل عظیم خطیب دیوبند کا نام تحریر ہے۔
سرسید کے انتقال کو ایک صدی گزر چکی ہے۔ اس دوران میں مخصوص حلقے ان کی شخصیت کو جاذب نظر بنانے کے لیے ان کے چہرے پر نیا خول چڑھانے میں مصروف رہے۔ اس مقصد کے لیے خوب خوب جھوٹ بولے گئے اور ان کے عقائد پر دبیز پردوں کی تہیں ڈال دی گئیں۔ آج یہ عالم ہے کہ علما کے فتووں پر تو بڑی لعن طعن کی جاتی ہے‘ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ فتوے ان کے کن کن عقائد کی ترویج کے رد عمل میں جاری ہوئے۔حقائق کو بد نیتی سے دوسروں کی نظروں سے اوجھل رکھنا بھی جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ بہت کچھ سرسید کے نئے تراشیدہ بت کے پیچھے چھپ چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کے اصلی چہرے کو اجاگر کیا جائے۔ جو لاعلم ہیں‘ انہیں آگاہ کیا جائے کہ ان کے عقائد کیا تھے۔ پھر فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ فتوے جائز تھے یا ناجائز۔ سرسید کے چند عقائد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ انصاف سے بیان کیجیے کہ اگر آج کوئی شخص ان عقائد کی تبلیغ کرنے لگے تو مسلمانوں کا کیا رد عمل ہوگا؟
’’اگر وحی والہام نہ تھا تو اور کیا تھا جس نے کال ون اور لوتھر کے دل کو اس پرانے راستے سے پھیرا اور ہمارے ہی زمانے کے اس قابل تعظیم وادب شخص بابو کشیب چندرسین کے دل کو خدائے واحد کی طرف موڑا اور سوامی دیانند سرسوتی کے دل کو مورتی پوجن سے پھیرا؟‘‘ 
واضح ہو کہ موخر الذکر اس اسلام دشمن جماعت آریہ سماج کے بانی تھے جس نے برصغیر میں شدھی تحریک چلائی اور جس نے بعد میں ’’ہندو مہاسبھا‘‘ اور ’’راشٹریہ سیوک سنگھ‘‘ کی صورت میں جنم لیا۔
’’بے شک ان کے لیے آگ دہکائی گئی تھی اور ڈرایا گیا تھا کہ ان کو آگ میں ڈال کر جلا دیں گے مگر یہ بات کہ درحقیقت وہ آگ میں ڈالے گئے‘ قرآن مجید سے ثابت نہیں ہے۔‘‘ 
’’خدا نے ہم کو قانون فطرت یہ بتایا کہ آگ جلانے والی ہے۔ پس جب تک یہ قانون فطرت قائم ہے‘ اس کے برخلاف ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے کہ قولی وعدہ کے برخلاف ہونا ناممکن ہے۔‘‘

حوالہ جات

۱۔ تاریخ دار العلوم دیوبند (سید محبوب رضوی) جید پریس دہلی (۱۹۷۷ء) ص ۱۵۵
۲۔ تحریک علی گڑھ تا قیام پاکستان (ڈاکٹر ایچ بی خان) الحمد اکادمی کراچی(۱۹۹۸ء) ص ۶۸
۳۔ مقالات سرسید‘ جلد ہفتم‘ مجلس ترقی ادب لاہور (۱۹۶۲ء) ص ۲۷۸
۴۔ سرسید احمد خان‘ ایک سیاسی مطالعہ (عتیق صدیقی) مکتبہ جامعہ نئی دہلی (۱۹۷۷ء) ص ۱۳۴
۵۔ مکمل مجموعہ لکچرز سرسید‘ مصطفائی پریس لاہور (۱۹۰۰ء) ص ۴۰۵
۶۔ مقالات سرسید‘ جلد ہشتم‘ ص ۴۸
۷۔ ایڈریس اور اسپیچیں (مرتبہ‘ نواب محسن الملک) انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ (۱۸۹۸ء) دیباچہ ص ۲
۸۔ ایضاً‘ ص ۳۲
۹۔ تذکرہ وقار (محمد امین زبیری) عزیزی پریس آگرہ (۱۹۳۸ء) ص ۲۱۲
۱۰۔ مجموعہ لکچرز نواب محسن الملک‘ نول کشور پرنٹنگ پریس لاہور (۱۹۰۴ء) ص ۴۷۰
۱۱۔ ایضاً‘ ص ۴۸۶
۱۲۔ مقالات حالی‘ حصہ اول‘ انجمن ترقی اردو کراچی (۱۹۵۵ء) ص ۲۱۶

اسلامی نظریاتی کونسل کے نام مدیر ’الشریعہ‘ کا مکتوب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترمی ڈاکٹر امین اللہ وثیرصاحب
سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل‘ حکومت پاکستان اسلام آباد
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
’’کمیٹی برائے جائزہ قوانین حدود و قصاص‘‘ کے دوسرے اجلاس منعقدہ ۲۶ مئی ۲۰۰۲ء میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ یادفرمائی کا تہہ دل سے شکریہ ! دعوت نامہ ایسے وقت میں موصول ہوا ہے کہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات اور مختلف دوستوں کے ساتھ مواعید کو اچانک تبدیل کرنا مشکل ہے اور متعلقہ مواد کے ضروری مطالعہ کا وقت بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس اجلاس میں حاضری نہیں ہو سکے گی جس کے لیے بے حد معذرت خواہ ہوں۔ آئندہ کسی اجلاس کے لیے قبل از وقت دعوت نامہ موصول ہوا تو حاضری کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے تعمیل حکم کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
دعوت نامہ کے ہمراہ آپ کے ارسال کردہ مسودات پر میں نے ایک نظر ڈالی ہے اور پہلی فرصت میں انہیں تفصیل کے ساتھ دیکھوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اسلامی قانون کے ایک طالب علم اور اسلامائزیشن کی جدوجہد کے ایک کارکن کے طور پر اس حوالہ سے اپنے چند احساسات و تاثرات کو اس موقع پر کمیٹی کے اجلاس کے شرکا کی خدمت میں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ امید ہے کہ ان طالب علمانہ معروضات کو بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے گا۔ 
اس وقت ’’حدود آرڈیننس‘‘ سمیت متعدد اسلامی قوانین‘ دستوری دفعات اور عدالتی فیصلوں پر نظر ثانی کے تقاضے مختلف حلقوں کی طرف سے سامنے آرہے ہیں اور دھیرے دھیرے ایسی فضا قائم ہو رہی ہے کہ اگر ان تقاضوں کے حوالہ سے اصولی ترجیحات کا ابھی سے تعین نہ کیا گیا تو اسلامائزیشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان ‘ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کا اب تک کا پورے کا پورا عمل نظر ثانی کی زد میں آجائے گا۔ یہ ادارے اس سلسلہ میں مزید کسی پیش رفت کے بجائے اپنے سابقہ کام کی صفائیاں پیش کرنے اور ان میں رد و بدل کرنے میں ہی مصروف رہیں گے۔ اور یہ ’’ ریورس گیئر‘‘ پاکستان میں اسلامائزیشن کے عمل کو ایک بار پھر ’’زیرو پوائنٹ‘‘ تک واپس لے جائے گا۔ مجھے اسلام کے نام پر نافذ ہونے والے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت سے انکار نہیں ہے اور اگر کسی مسودہ قانون میں کوئی فنی سقم رہ گیا ہے یا اس پر عمل درآمد کی راہ میں کوئی رکاوٹ موجود ہے تو قرآن و سنت کے اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس پر نظر ثانی سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن یہ عمل ہمارے داخلی تقاضوں اور ضروریات کے حوالہ سے ہونا چاہیے اور اس سلسلہ میں بیرونی عوامل اور دباؤ کو قبول کرنے کا کسی سطح پر بھی تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے ورنہ ضروری اور جائز نظر ثانی بھی شکوک و شبہات کا شکار ہو کر اس عمل پر عوام اور دینی حلقوں کے اعتماد کو مجروح کرنے کا باعث بن جائے گی۔ 
اس لیے میں اسلامائزیشن کی راہ میں حائل داخلی مشکلات اور اسلامی قوانین پر نظر ثانی کے دونوں حوالوں سے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے سامنے مندرجہ ذیل تجاویز رکھنا چاہوں گا۔
ہم اس وقت اس معاملہ میں قومی سطح پر ’’تذبذب‘‘ کا شکار ہیں اور اسلامی قوانین کے بارے میں عالمی تقاضوں اور دباؤ کو نہ پوری طرح قبول کر رہے ہیں اور نہ مسترد ہی کر رہے ہیں۔ یہ طرز عمل درست نہیں ہے اور اس سے پاکستان میں اسلامائزیشن کے بارے میں ابہام اور کنفیوژن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں علمی انداز میں ان سوالات کا سامنا کرنا چاہیے اور علم و دانش کی اعلیٰ ترین سطح پر ان سوالات کا جائزہ لیتے ہوئے شکوک و شبہات کا علمی جواب دینا چاہیے۔ میرے نزدیک اس کام کے لیے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ سب سے بہتر فورم ہے اور کونسل اس کام کے لیے حسب معمول دوسرے اہل علم کا تعاون بھی حاصل کر سکتی ہے۔ 
مجھے امید ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان اور بالخصوص ’’کمیٹی برائے جائزہ قوانین حدود و قصاص‘‘ کے اجلاس کے شرکاء ان گزارشات پر توجہ فرمائیں گے۔ بے حد شکریہ !
والسلام 
ابو عمار زاہد الراشدی

خوشی کی تلاش

اختر حمید خان

جب میں کالج میں پڑھتا تھا، میرے یورپی تاریخ کے پروفیسر نے یہ حکایت بیان کی: ایک بوڑھی عورت بحر اوقیانوس کے کنارے ایک جھونپڑی میں رہتی تھی۔ روزانہ طغیانی کے سبب سمندر کا پانی جھونپڑی میں آجاتا اور وہ جھاڑو سے اسے نکالنے کی کوشش کرتی۔ ہمارے پروفیسر اس حکایت کو انیسویں صدی میں یورپ کے شاہوں کی جمہوری قوتوں کے خلاف سعی ناکام کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ 
اب مجھے اس حکایت کا دوسرا استعمال سمجھ میں آ رہا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے دوست اور میں بھی اس بوڑھی عورت کی طرح سمندر کی طغیانی کو جھاڑو سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ناموزوں ہیں۔ ہماری ناموزونی محض اس لیے نہیں کہ ہم بوڑھے ہو گئے ہیں بلکہ اس وجہ سے بھی کہ ہم وقت کی غالب روش کو خوشی سے قبول نہیں کرتے۔
ہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں قدیم دانش مند ---- چینی، ہندی یا مسلم ---- صحیح کہتے ہیں۔ انسانی روحانی اقدار اور دائمی فلسفے کی تشریح کرتے ہوئے یہ بزرگ تعلیم دیتے ہیں کہ اگر ہم خوش رہنا چاہتے ہیں تو ہم کو نفس کی جبلی خواہشات کو سختی سے قابو میں رکھنا ہوگا اور اپنے لالچ، شہوت، زیادہ کھانے کی خواہش اور ضروریات کو کم کرنا ہوگا اور سادگی، توکل اور بے غرضی اپنانی ہوگی۔
اس کے برخلاف زمانے کی غالب روش کا اعلان عام ہے کہ خوشی کے حصول کے لیے جبلی خواہشات کی تسکین کرنا، اپنی ضروریات میں بے حد اضافہ کرنا اور زیادہ سے زیادہ دولت اور قوت حاصل کرنا ضروری ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی یا حال کسی زمانے میں بھی ان روحانی بزرگوں کا مشورہ اکثریت نے قبول نہیں کیا لیکن ہمارے اسلاف، خواہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں، گو اس مشورے پر پوری طرح عمل پیرا نہیں تھے، پھر بھی وہ اس کی سچائی سے انکار نہیں کرتے تھے۔
ہمارے دور کی غالب روش اس دائمی فلسفے کو بے جوڑ اور محض فراریت سمجھ کر رد کرتی ہے۔ آر ایس ٹانی (R.S Tawney) اپنی کلاسیکی کتاب ’’مذہب اور سرمایہ داری کا عروج‘‘ میں بیان کرتا ہے کہ یورپ میں عقائد میں تبدیلی کیسے آئی اور کس طرح ایک ظالم سماج وجود میں آیا جس کی بنیاد صنعت اور عسکریت پر تھی اور جس نے بڑی تیزی سے تمام دنیا کو فتح کر لیا۔
مالکوم مگریج (Malcolm Muggeridge)نے ۱۹۵۸ء میں لکھا:
’’دنیا کی یہ بڑھتی ہوئی یکسانی، جو خواہش کی ہم آہنگی سے وجود میں آئی ہے، بظاہر اس کے متضاد رجحانوں میں چھپی رہتی ہے۔ چنانچہ ایسا لگتا ہے گویا روس، اس کے حلقہ بگوش ملکوں اور چین کے باشندے اشتراکیت چاہتے ہیں، امریکہ اور ان کے حلقہ بگوش آزادی کے خواہش مند ہیں۔ ہم مغربی یورپ والوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ ہم اپنی عیسائی تہذیب کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ .... پنڈت نہرو اور ان کے ساتھی بمشکل اپنے آپ کو اس پر یقین دلا رہے ہیں کہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں، وہ دراصل انگریزی طرز کی فلاحی اور پارلیمانی جمہوریت ہے ..... (لیکن حقیقت یہ ہے کہ) بہت کم روسی، چینی اور ان کے حلقہ بگوش اشتراکیت چاہتے ہیں۔ بہت کم امریکی آزادی اور بہت تھوڑے یورپی عیسائی یا کسی اور تہذیب کے خواہش مند ہیں اور بہت کم ہندوستانی جمہوریت یا فلاحی ریاست چاہتے ہیں۔ یہ سب، اور ان کے علاوہ تمام دنیا کے لوگ جس شے کے خواہش مند ہیں، وہ وہی ہے جو امریکہ میں لوگوں کو حاصل ہو چکی ہے: جگمگاتے ہوئے شہروں میں چھ رویہ سڑک پر آتی جاتی چمک دار کاریں، جلتی بجھتی اشتہاری روشنیاں، شور مچاتے ہوئے موسیقی کے بکس، بلند وبالا عمارتیں، منزل بہ منزل آسمان کی طرف بڑھتی ہوئی ..... میں جب رات کے وقت امریکی ریاست اوہایو کے ایتھنز شہر (کل آبادی ۳۴۵۰) میں داخل ہوا تو اندھیرے میں مجھے چار روشن، رنگین، چمک دار نشان نظر آئے۔ ان پر تحریر تھا: گیس، ڈرگز، بیوٹی اور فوڈ۔ میں نے اس وقت سوچا کہ یہ ہمارے دور کا کلام ہے جو نہایت آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے ......‘‘
’’اس دنیا میں اب حقیقت میں نہ کوئی اشتراکی ہے اور نہ سرمایہ پرست، نہ کیتھولک، نہ پروٹسٹنٹ، نہ کالا، نہ ایشیائی، یہ یوروپی، نہ داہنے بازو والا نہ بائیں والا، نہ درمیانی، یہاں صرف ہمیشہ قائم رہنے والی خواہش ہے: گیس، نشے، خوب صورت عورت اور کھانے کی۔‘‘
یہ بات تیس سال پہلے لکھی گئی تھی۔ پھر ہر گزرنے والے عشرے کے ساتھ اشیا کے حصول کی خواہش میں برابر ترقی ہوتی گئی۔ امریکی بلاشبہ اس چمک دار سڑک پر بہت آگے نکل گئے، لیکن ہر بڑا چھوٹا ملک تن دہی سے ان کے نقش قدم پر رواں دواں ہے۔
ماہر اشتہار نویس اشیا کے حصول کے مسلک کے بڑے پادری ہیں۔ ان لوگوں نے بڑی ہوشیاری سے نفسیات کے سائنسی اصول اپنا کر، مغالطہ آمیز لطیف انداز میں ہمارے ذہنوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے ہمارے شعوری مصلحت پسند ذہن کو نظر انداز کر کے ہمارے تحت الشعور تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ہم سگریٹ خریدیں تو وہ اپنا وقت اس بات پر ضائع نہیں کرتے کہ سگریٹ نوشی اچھی ہے یا بری۔ اس بحث میں پڑنے کے بجائے وہ خوب صورت تصاویر اور مناظر کے ذریعے سے سگریٹ نوشی کو دوسرے ممالک کی سیر اور امیر لوگوں کی صحبت سے وابستہ کرتے ہیں۔ سگریٹ ہاتھ میں لے کر ہم اٹلی میں پیسا کے مینار کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں یا مصر میں گیزہ کے ہرم کے آگے، یا سگریٹ منہ میں دبا کر ہم تیز دوڑنے والی موٹر کار میں سفر کرتے یا پرکشش عورتوں کو دیکھ کر مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے تحت الشعور کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ایک خاص قسم کے جوتے پہن لینے سے ہم جاوید میاں داد بن جائیں گے اور ایک خاص برانڈ کی چائے پینے سے عمران خان، اور ایک برانڈ کی چائے کوئی بے حد حسین خاتون ہمارے لیے پیالی میں ڈال کر بصد انداز پیش کرے گی۔ ہماری بسیار خوری کی خواہش کو یوں تقویت دی جاتی ہے کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ اگر ہم ایک خاص نام کی ہاضمے کی ٹکیا استعمال کریں تو ہر قسم کے مرغن کھانے زیادہ مقدار میں کھا سکیں گے۔ نفسیات کے علم سے فائدہ اٹھا کر یہ عیار اشتہار نویس ہمارے بچوں کو ببل گم، ٹافی، سپاری اور مشروبات کا عادی بنا رہے ہیں۔
اشتہار بازی کے ان ماہروں کی مدد سے، جو گاہکوں کے لالچ کے جذبے اور یکایک مال دار ہو جانے کے خواب کو تقویت دینا جانتے ہیں، بہت سے ٹھگ حال ہی میں ہزاروں بیواؤں اور پنشن پانے والوں کی بچت ہڑپ کر کے روپوش ہو گئے۔ اشیا کے حصول کی خواہش اس وقت پنپتی ہے جب لالچ، شہوت، اور بسیار خوری کی طلب کو ترغیب دی جائے۔ اشتہار کے ماہر اس کالے جادو کے سوداگر ہیں۔ اس معاملے میں وہ شیطان پر برتری کا نہ سہی، اس کی ہم سری کا دعویٰ ضرور کر سکتے ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خواہش، شہوت اور بسیار خوری کے مخالف دانش مند بزرگوں کو شکست ہو گئی۔ لیکن حقیقت یہ نہیں۔ ان کی بات آج بھی درست ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ شہوت، لالچ اور بہت کھانے کی خواہش ہم کو خوشی یا سکون نہیں دے سکتی کیونکہ ان نفسانی جذبوں کو تقویت ہمارے اندر بے اطمینانی، نفرت، بد دیانتی اور تضاد کو جنم دیتی ہے جس کا لازمی نتیجہ انسانی معاشرے میں فساد اور دکھ میں اضافے کی شکل میں نکلتا ہے۔ سوائے جادوگروں کے یا بوجھ بجھکڑوں کے کون یہ کہہ سکتا ہے کہ زیادہ خرچ کرنے کی خواہش، گیس، نشے، حسن اور کھانے کے مسلک نے امریکیوں کو واقعی خوشی بخشی ہے یا ہم جیسے نقالوں کو خوشی دے گا؟
میں اس گفتگو کو ایک حکایت پر ختم کرنا چاہتا ہوں۔ اگلے وقتوں میں ایک بوڑھا صوفی تھا، حقیقی مرشد، سادہ اور مطمئن۔ ایک دن اس کے دنیا دار مرید گوشت کی زیادہ قیمت کی شکایت کرنے لگے۔
’’ہم نے اس کو سستا کر لیا ہے‘‘، مرشد نے کہا۔
’’حضور، یہ کیسے ممکن ہوا؟’’، مرید بولے۔
مرشد نے جواب دیا، ’’اس طرح کہ ہم اس کو نہ کھائیں گے اور نہ خریدیں گے۔‘‘
شاید صارف معاشرے کے بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ اسی طرح ممکن ہے:
’’کوئی بھی تمہاری اشیا کے حصول کی خواہش کا علاج نہیں کر سکتا، سوائے دانش مندوں کے۔ جاؤ، ان کو تلاش کرو۔‘‘ (المعری)
(ماخوذ از مجموعہ مضامین:’’کومیلا سے اورنگی تک‘‘)

جرسِ کارواں

ادارہ

حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کی یاد میں نشست

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ۲۳ مئی ۲۰۰۲ء کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کی یاد میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا جس میں متعدد سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا فداء الرحمن درخواستی اور مولانا زاہد الراشدی نے حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کی دینی وملی خدمات کا تذکرہ کیا اور ان کی جدوجہد کے متعدد واقعات بیان کیے۔ مولانا درخواستی نے کہا کہ حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ ایک صاحب دل اور صاحب کردار عالم دین تھے جنہوں نے حضرت درخواستی اور دیگر اکابر کے ساتھ دینی جدوجہد میں سرگرم حصہ لیا۔ مولانا راشدی نے کہا کہ مولانا محمد اجمل خانؒ خود دار‘ حق گو اور باحمیت بزرگ تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے متعدد واقعات بیان کیے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی اور ان کی دینی وملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

گوجرانوالہ میں ’’رابطہ ادب اسلامی‘‘ کے حلقہ کا قیام

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ’ ’دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے سربراہ اور رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود الحسن عارف ۱۲؍مئی کو ایچی سن کالج لاہور کے پروفیسر حافظ محمد ظفر اللہ شفیق کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور بعد نماز عصر الشریعہ اکادمی میں ایک علمی وادبی نشست میں شرکت کی۔ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اس موقع پر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب موصوف ان کی خصوصی دعوت پر تشریف لائے ہیں اور اس نشست کا مقصد یہ ہے کہ گوجرانوالہ میں علمی وادبی سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوان اصحاب فکر ودانش کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنے کے لیے ادبی حلقہ کا قیام عمل میں لایا جائے اور اس کے لیے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے قائم کردہ عالمی ادبی فورم ’’رابطہ ادب اسلامی‘‘ کا حلقہ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمود الحسن عارف اور پروفیسر ظفر اللہ شفیق نے ’’رابطہ ادب اسلامی‘‘ کے اغراض ومقاصد اور مختلف ملکوں میں رابطہ کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور گوجرانوالہ میں اس کی شاخ کے قیام کی تجویز پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس میں سید احمد حسین زید‘ حافظ محمد عمار خان ناصر‘ پروفیسر میاں انعام الرحمن‘ مولانا محمد یوسف‘ قاری حماد الزہراوی‘ پروفیسر حافظ منیر احمد اور قاری محمد داؤد خان نوید نے شرکت کی اور ’’رابطہ ادب اسلامی‘‘ کے حلقہ کے قیام کے سلسلے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جو مختلف ارباب علم ودانش سے رابطہ کر کے حلقہ کی عملی تشکیل کا اہتمام کرے گی۔