اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام وقوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں یوبی ایل کی اپیل کی سماعت کے موقع پر دینی وملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے حسب ذیل گزارشات شریعت اپیلٹ بنچ کے معزز ارکان‘ فریقین کے وکلا اور اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم ودانش کی خدمت میں پیش کی گئیں:
★ سود تمام آسمانی شریعتوں میں حرام رہا ہے اور بائبل میں بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں چنانچہ بائبل کی کتاب خروج باب ۲۲ آیت ۲۵ میں ارشاد ہے کہ:
’’اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہے‘ کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔‘‘
استثناء باب ۲۳ آیت ۱۹ میں ہے کہ:
’’تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا ہو یا اناج کا یا کسی اور ایسی چیز کا جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے۔‘‘
جبکہ زبور باب ۱۵ آیت ۵ میں نیک آدمی کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:
’’وہ اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا۔‘‘
قرآن کریم میں سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۷۵ تا ۲۷۹ میں سود کی ممانعت کرتے ہوئے سود اور تجارت کو باہم مثل قرار دینے والوں کے موقف کی نفی کی گئی ہے‘ تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہے‘ سود سے باز نہ آنے والوں کے طرز عمل کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور سود اور تجارت میں فرق نہ کرنے والوں کو مخبوط الحواس بتایا گیا ہے۔
سورۃ النساء کی آیت ۶۱ میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے اسباب بیان کرتے ہوئے ایک سبب یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں سود سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ سود لیتے تھے۔
جناب نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کے تاریخی خطبے میں سود کی کلی ممانعت اور تمام سابقہ سودی معاملات کے خاتمہ کا اعلان فرمایا اور جناب نبی اکرم ﷺ کی بیسیوں احادیث میں سود کی مذمت اور سودکا کاروبار کرنے والوں کے لیے سخت عذاب اور شدید ناراضی کا ذکر موجود ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ’’سیرت النبی‘‘ میں لکھا ہے کہ جب اہل طائف نے جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش ہو کر اسلام قبول کرنے کے لیے چند شرائط پیش کیں تو ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ہم سود کا لین دین نہیں چھوڑ سکتے اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ہمارا بیشتر کاروبار سودپر چلتا ہے لیکن جناب نبی اکرم ﷺ نے یہ شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
’’سیرت النبی‘‘ میں ہی مذکور ہے کہ نجران کے مسیحیوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اسلامی سلطنت میں بطور ذمی رہنے کا معاہدہ کیا تو معاہدہ کی باقاعدہ شرائط میں یہ بات درج تھی کہ ان میں سے کوئی سود کا لین دین نہیں کرے گا۔
★ کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ﷺ نے اس سود کی ممانعت کی ہے جو شخصی قرضوں پر ضرورت مندوں سے لیا جاتا تھا اور تجارتی قرضوں یا لین دین میں سود کی ممانعت نہیں فرمائی۔ یہ بات درست نہیں ہے اور مندرجہ ذیل شواہد اس کی تردید کرتے ہیں:
۱۔ سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ۔
’’اگر مقروض تنگ دست ہو تو کشادہ دست ہونے تک اس کو مہلت دے دو۔‘‘
آیت میں اس صورت کے بیان کے لیے حرف ان استعمال ہوا ہے جو عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ صورت نادر الوقوع ہے کیونکہ عام الوقوع صورت کے ذکر کے لیے عربی زبان میں حرف اذا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مثلاً سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۸۲میں اللہ تعالیٰ نے روزہ مرہ لین دین کے احکام بیان کرنے کے لیے اذا تداینتم بدینکے ‘ جبکہ اگلی آیت میں اسی ضمن کی ایک نادر صورت یعنی سفر میں لین دین کی صورت میں رہن کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم علی سفر کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اسی طرح سورۃ المائدہ کی آیت ۶ میں عام حالات میں نماز سے پہلے وضو کا حکم بیان کرنے کے لیے اذا قمتم الی الصلوۃکے الفاظ آئے ہیں جبکہ غیر معمولی صورت احوال میں تیمم کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم مرضی او علی سفرکے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ یہ تصور کہ نزول قرآن کے زمانے میں صرف تنگ دست اور مفلوک الحال لوگ ہی اپنی روز مرہ ضروریات کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے‘ غلط ہے کیونکہ یہ صورت تو‘ قرآن کے الفاظ کی رو سے‘ نادر اور قلیل الوقوع تھی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر ذاتی اور صرفی ضروریات کے بجائے تجارتی مقاصد کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے اور قرآن نے اسی کو حرام قرار دیا ہے۔
۲۔ سورۃ الروم کی آیت ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے سود پر قرض دینے کا محرک بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
وما آتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند اللہ۔
’’اور تم سود پر جو قرض اس غرض سے دیتے ہو کہ وہ لوگوں کے مال میں بڑھے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتی‘‘۔
یہ محرک‘ ظاہرہے کہ ضرورت مندوں کو دیے جانے والے صرفی قرضوں کے بجائے حقیقتاً تجارتی سود میں پایا جاتا ہے کیونکہ صرفی قرضوں میں تو قرض کے مع سود واپس آنے کے بجائے خود اصل رقم ہی کے ڈوب جانے کا امکان غالب ہوتا ہے۔
۳۔ سنن ابن ماجہ‘ کتاب التجارات‘ باب التغلیظ فی الربا میں حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے‘ سود کھلانے والے‘ سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس کا گواہ بننے والے سب افراد کو اللہ کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس سود سے مراد تجارتی کے بجائے صرف صرفی قرضوں کا سود ہے تو اس میں سود دینے والا کس وجہ سے لعنت کا مستحق ہے؟ کیونکہ وہ بے چارہ تو جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے نہایت اضطرار کی حالت میں سود پر قرض لے رہا ہے۔
۴۔ احادیث میں ’ربا الفضل‘ یعنی ہم جنس اشیا کے مبادلہ میں کمی بیشی کی ممانعت کے احکام ’ربا النسیءۃ‘ ہی کی فرع ہیں اور سود سے بچنے کے لیے سد ذریعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس ضمن میں دو روایتیں درج ذیل ہیں:
صاحب مشکوٰۃ نے باب الربوٰا میں بخاری شریف اور مسلم شریف کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے محاصل وصول کرنے کے لیے ایک نمائندہ بھیجا جو واپس آیا تو اس کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کہ کیا خیبر میں ساری کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں نے عام اور ردی کھجوریں زیادہ مقدار میں دے کر ان کے عوض عمدہ کھجوریں تھوڑی مقدار میں لے لی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور ہدایت کی کہ اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ردی کھجوریں نقد رقم کے عوض بیچ کر اس کے بدلے میں عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔
مشکوٰۃ شریف باب الربوٰا میں ہی بخاری اور مسلم کے حوالے سے یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ حضرت بلالؓ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عمدہ کھجوریں لائے۔ حضور ﷺ نے دریافت کیا کہ کہاں سے آئی ہیں؟ حضرت بلالؓ نے جواب دیا کہ عام کھجوریں زیادہ مقدار میں دے کر ان کے عوض میں عمدہ کھجوریں تھوڑی مقدار میں لے لی ہیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو ’’عین ربا‘‘ ہے‘ اس لیے ایسا مت کرو اور اگر اس طرح کرنا ضروری ہو تو عام کھجوریں کسی اور چیز کے عوض فروخت کر کے اس کے بدلے میں عمدہ کھجوریں لے لیا کرو۔
احادیث سے ظاہر ہے کہ ربا الفضل کے احکام کا اطلاق روزمرہ کے تجارتی لین دین پر ہوتا ہے نہ کہ صرفی قرضوں پر۔ اب یہ ایک بالکل نامعقول بات ہوگی کہ تجارتی لین دین میں سد ذریعہ کے طور پر ربا الفضل تو حرام ہو اور ربا النسیءۃ‘ جس سے بچنے کے لیے ربا الفضل کو احتیاطاً ممنوع قرار دیا گیاہے‘ حلال اور جائز ہو۔
۵۔ یہ بات تاریخی شواہد سے بھی ثابت ہے کہ عہد رسالت اور دور صحابہ میں تجارتی قرضوں کا رواج موجود تھا۔ اس سلسلے میں دو واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
بخاری شریف کتاب الجہاد‘ باب برکۃ الغازی فی مالہ میں مذکور ہے کہ حضرت زبیر بن العوامؓ لوگوں سے قرض لے کر تجارت کیا کرتے تھے اور وفات کے بعد ان کے ذمے مختلف لوگوں کے اس قسم کے قرضوں کی مالیت بائیس لاکھ درہم تھی جو موجودہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے پانچ کروڑ روپے سے زیادہ رقم بنتی ہے۔
طبری مطبوعہ قاہرہ ج ۳‘ ص ۸۷ میں مذکور ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ہند بن عتبہؓ نے بیت المال سے قرض لے کر بلاد کلب میں جا کر اس سے تجارت کی۔
ان شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ دور نبوی اور دور صحابہ میں شخصی قرضوں کے علاوہ تجارت میں سود کی شکلیں موجود تھیں‘ لوگوں سے قرض لے کر سرمایہ کاری ہوتی تھی اور تجارت کے لیے بیت المال سے قرض لینے کی صورت بھی موجود تھی لیکن ان تمام صورتوں کی موجودگی کے باوجود کسی بھی صورت میں سود کا کوئی معمول نہیں تھا اور شخصی ضرورت‘ تجارت اور سرمایہ کاری سمیت کسی بھی غرض کے لیے قرض لینے پر سود کی کلی ممانعت تھی۔
★ جناب نبی اکرم ﷺ نے متعدد احادیث میں امت میں سود کے عام ہونے کو قیامت کی نشانیوں اور امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں میں ذکر فرمایا ہے‘ مثلاً:
۱۔ مشکوٰۃ باب الربوٰا میں ابو داؤد‘ نسائی اور مسند احمد کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ہر شخص سود کھانے لگے لگا اور جو نہیں کھانا چاہے گا‘ اس کے سانس کے ساتھ سود شامل ہوگا۔
۲۔ مسند احمد اور بیہقی میں حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک دور ایسا آئے گا کہ کچھ لوگوں کی شکلیں اس لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ ہو جائیں گی کہ وہ شراب پیتے ہوں گے‘ ریشم پہنتے ہوں گے‘ ناچ گانے کی محفلیں آباد کرتے ہوں گے اور سود کھاتے ہوں گے۔
۳۔ حافظ ابن القیمؒ نے ’’اغاثۃ اللہفانؒ ‘‘ میں جناب نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ
’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ تجارت کے نام پر سود کو حلال قرار دینے لگیں گے۔‘‘
★ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اس غرض سے عمل میں لایا گیا تھا کہ اس ملک میں قرآن وسنت کا نظام نافذ کیا جائے گا اور برطانوی دور کے نوآبادیاتی نظام سے نجات حاصل کر کے اس کی جگہ قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کی طرز پر نیا نظام رائج کیا جائے گا جس کی صراحت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے متعدد ارشادات میں موجود ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کے بارے میں بھی وضاحت کے ساتھ فرمایا تھا کہ پاکستان کے معاشی نظام کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر ہوگی اور مغرب کے معاشی نظام سے نجات حاصل کی جائے گی چنانچہ سنگ میل پبلی کیشنز اردو بازار لاہور کی شائع کردہ کتاب ’’قائد اعظم کے مہ وسال‘‘ (مصنفہ جناب محمد علی چراغ) کے ص ۳۳۰ میں مذکور ہے کہ یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ
’’مغرب کے نظام معاشیات نے متعدد مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ میں اسلامی نظریات کے مطابق آپ کے یہاں نظام معیشت دیکھنے کا متمنی ہوں۔ مغرب کا معاشی نظام ہی دو عظیم جنگوں کا موجب بنا ہے۔ ہمیں اپنے مقاصد اور ضروریات کے لیے کام کرنا ہے‘ ہمیں انسانوں کے لیے معاشرتی اور معاشی انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔‘‘
جبکہ مکتبہ محمود مکان نمبر ۸‘ رسول پورہ سٹریٹ اچھرہ لاہور کے شائع کردہ کتابچہ ’’نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام‘‘ میں قائد اعظم کے مذکورہ خطاب کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے:
’’میں اشتیاق اور دل چسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ’’مجلس تحقیق‘‘ بنکاری کے ایسے طریقے کیونکر وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لاینحل مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ مغربی نظام‘ افراد انسانی کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عظیم جنگوں کی ذمہ داری سراسر مغرب پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی دنیا صنعتی قابلیت اور مشینوں کی دولت کے زبردست فوائد رکھنے کے باوجود انسانی تاریخ کے بدترین باطنی بحران میں مبتلا ہے۔ اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظام اور نظریہ اختیار کیا تو عوام کی پرسکون خوش حالی حاصل کرنے کے اپنے نصب العین میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں منفرد انداز میں بنانی پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نظام پیش کر کے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت سے اپنا قومی فرض سرانجام دیں گے۔ انسانیت کو سچے اور صحیح امن کا پیغام دیں گے کہ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ کی ہول ناکی سے بچا سکتا ہے اور صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوش حالی کا امین ہو سکتا ہے۔‘‘
اس لیے شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے قابل صد احترام سربراہ اور معزز ارکان سے گزارش ہے کہ سودی نظام کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات‘ جناب نبی اکرم ﷺ اور خلفاء راشدین کے تعامل‘ امت کے ہر دور کے جمہور علما وفقہا کے فیصلوں‘ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات وتصریحات کو سامنے رکھیں اور نوآبادیاتی استحصالی نظام کے منحوس شکنجے سے مظلوم پاکستانی قوم کو نجات دلانے والے تاریخی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے جناب سرور کائنات ﷺ کے ارشادات وفرمودات کی تعمیل کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مغرب کے استحصالی معاشی نظام کے جبر کو توڑنے میں پہل اور پیش قدمی کا اعزاز بھی برقرار رکھیں۔
(۱۱ جون ۲۰۰۲ء)
کولہو کے بیل
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سودی نظام کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کر کے اس کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے اور اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں بہت سے سقم باقی رہ گئے ہیں جن کی اصلاح اور فیصلے کو جامع بنانے کے لیے اس کیس کی دوبارہ سماعت ضروری ہے جس کے دوران میں فریقین پہلے سے اٹھائے گئے نکات کے علاوہ نئے نکات بھی اٹھا سکیں گے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد وہ کنفیوژن ختم ہو گیا ہے جو سودی نظام کے مستقبل کے بارے میں ملکی اور بیرونی حلقوں میں پایا جاتا تھا اور وہ خدشات بھی ذہنوں سے نکل گئے ہیں جو سودی نظام کے خاتمے کی صور ت میں ملکی معیشت کے ڈھانچے میں پیدا ہونے والے خلفشار کے حوالے سے مسلسل گردش کر رہے تھے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں سقم کی موجودگی، اس پر نظر ثانی کی ضرورت اور اس کی نئے سرے سے سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت کو ہدایت کے حوالے سے ہے اس لیے اس پہلو پر کچھ عرض کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اب یہ کیس دوبارہ وفاقی شرعی عدالت میں سماعت کے لیے پیش ہوگا۔ فریقین کے وکلا دلائل کے تبادلہ کا ایک نیا سلسلہ شروع کریں گے، بہت سے اعتراضات اٹھائے جائیں گے، باہمی بحث ومباحثہ ہوگا اور اس کے بعد معلوم ہوگا کہ وفاقی شرعی عدالت اپنے پہلے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے یا اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ اس لیے اس بنیادی سوال پر تو ہم کچھ عرض نہیں کریں گے البتہ بعض متعلقہ امور کے بارے میں چند گزارشات ضرور پیش کرنا چاہیں گے جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اگر ان پر متعلقہ حلقے سنجیدہ توجہ دیتے تو شاید اس فیصلہ کی نوبت نہ آتی اور اب بھی یہ اس لیے عرض کرنا ضروری ہے کہ کیس کی ازسرنو سماعت کے موقع پر اگر یہ امور سنجیدہ توجہ کے مستحق نہ ٹھہرے تو ہمارا اندازہ ہے کہ نتیجہ پہلے سے مختلف نہیں ہوگا اور خاص طور پر دینی حلقے اور ان کی قیادت ’’بعد از مرگ واویلا‘‘ کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔
ملک کے معاشی ڈھانچہ کے بارے میں اس بنیادی فیصلے کے لیے ہم نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ صرف کر دیا ہے مگر ابھی تک ’’زیر پوائنٹ‘‘ پر کھڑے ہیں۔ فیصلے میں اس قدر تاخیر کے اسباب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور یہ بنیادی طور پر دینی قیادتوں اور اہل علم ودانش کے ان حلقوں کی ذمہ داری ہے جو سودی معیشت کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اسے ملکی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے متمنی ہیں۔ ہمارے خیال میں ان دونوں حلقوں نے ابھی تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ورنہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت کے دفاع کی طرح اس مسئلے کو بھی دینی حلقے اپنی ترجیحات میں صحیح جگہ دے دیں اور اس کے لیے عوامی ذہن کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام طبقات کو اعتماد میں لینے، کیس کو صحیح طریقے سے لڑنے اور علمی اور عوامی دونوں محاذوں پر دباؤ کو منظم کرنے کے لیے مناسب جدوجہد کریں تونتائج پر ان کی گرفت اس قدر ڈھیلی نہیں رہے گی جیسا کہ اب صاف طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔
ہمیں عدالت عظمیٰ میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے یوبی ایل کی رٹ کی سماعت کے دوران میں ایک فاضل جج کے ان ریمارکس سے مکمل اتفاق ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرنے والے وکلا کی تیاری مکمل نہیں تھی اور خود ہمارا تاثر بھی یہی ہے کہ وہ سرکاری وکلا کے دلائل اور نکات کے جواب دینے کے بجائے روایتی باتیں دہرانے اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتوں پر اکتفا کر رہے تھے۔ یہ بات درست ہے کہ سرکاری وکلا بالخصوص سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے جو نکات اٹھائے اور جس طرح محنت کر کے اپنا کیس پیش کیا، ان دلائل ونکات کا غلط یا صحیح ہونا اپنے مقام پر مگر دلائل کی تلاش میں ان کی محنت اور عوامی ذہن کو متاثر کرنے والے طرز استدلال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر دوسری طرف اس کا فقدان تھا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ سرکاری وکلا کے دلائل اور نکات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ان دلائل کا جواب موجود ہے اور ہم ان کالموں میں سرکاری وکلا کی اس بحث کا جائزہ لینے اور علمی انداز سے اس کے دلائل ونکات کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ہمارے نزدیک اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں:
۱۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرنے والے وکلا نے نئی تیاری کی ضرورت محسوس نہیں کی اور سابقہ دلائل ونکات کے دہرانے کو ہی کافی سمجھا۔
۲۔ سرکاری وکلا کی طرف سے پیش کیے جانے والے دلائل اور نکات کو انہوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا اور عوامی سطح پر ان کے اثرات پر توجہ نہیں دی۔
۳۔ ملک کی بڑی دینی جماعتوں، علمی مراکز اور علمی شخصیات نے اس کیس میں براہ راست دل چسپی لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس میں کوئی رول ادا نہیں کیا۔ پاکستان شریعت کونسل نے رٹ کی سماعت کے دوران میں ایک تفصیلی عرض داشت سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے معزز ارکان اور فریقین کے وکلا کو بھجوائی تھی جس میں ان بہت سے نکات کا جواب موجود تھا جن کی بنیاد پر اس فیصلے کو دوبارہ سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے پاس بھجوایا گیا ہے مگر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرنے والے وکلا تک نے اس پر توجہ دینے کی زحمت نہیں فرمائی۔
۴۔ جتنا وقت سرکاری وکلا کو اپنا موقف اور دلائل پیش کرنے کے لیے دیا گیا، دوسری طرف کے وکلا کو جواب دینے کے لیے اتنا وقت نہیں ملا اور وہ اپنی بات دل جمعی کے ساتھ نہیں کہہ سکے۔
وجوہ کچھ بھی ہوں مگر نتائج سامنے ہیں کہ ہم سودی نظام اور غیر اسلامی ڈھانچے کے حوالے سے ایک بار پھر زیرو پوائنٹ پر واپس چلے گئے ہیں اور اب ہمیں نئے سرے سے اپنے سفر کا آغاز کرنا ہے۔
ایک نظر ان مراحل پر ڈال لیجیے جن سے گزر کر ہم نے ’’کولہو‘‘ کے گرد یہ چکر مکمل کیا ہے:
- پاکستان کا قیام اسلامی نظام، اسلامی معاشرت اور اسلامی معیشت کے نفاذ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا جس پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور دیگر قائدین کی صراحتیں موجود ہیں۔
- یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کے لیے ایک نئے معاشی نظام کی تشکیل کی ضرورت ہے جس کی بنیاد مغرب کے معاشی افکار پر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات پر ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ماہرین معیشت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ملک کے معاشی ڈھانچے کی جلد از جلد تشکیل کی طرف توجہ دیں۔
- قیام پاکستان کے بعد ربع صدی دستوری تجربات اور اکھاڑ پچھاڑ میں صرف ہو گئی۔ اس کے بعد ۷۳ء کا دستور نافذ ہوا تو اس میں ملک کے تمام قوانین کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت دی گئی جن میں سودی نظام اور ملک کا معاشی ڈھانچہ بھی شامل تھا۔
- جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے وفاقی شرعی عدالت قائم کی تو ابتدا میں مالیاتی معاملات کو دس سال تک اس کی دسترس سے باہر رکھنے کی شرط لگائی تھی۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ دس سال کے بعد اسے معاشی نظام کے بارے میں فیصلہ کرنے اور رائے دینے کا اختیار حاصل ہو گیا تھا۔
- اسلامی نظریاتی کونسل نے ۱۹۸۸ء میں سودی نظام کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کی جس میں اس نے سودی نظام کو قرآن وسنت کے منافی قرار دیتے ہوئے اسلامی تعلیمات پر مشتمل متبادل معاشی نظام کا ڈھا نچہ پیش کر دیا تھا۔
- وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹۹۱ء میں سودی نظام کو مکمل طور پر غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایک متعینہ مدت کے اندر ان قوانین کو تبدیل کرے۔
- اس فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوئی تو ۱۹۹۹ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی اور حکومت کو ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک مہلت دی کہ وہ سودی قوانین ختم کر کے ملک میں اسلامی نظام معیشت کی بنیاد رکھے۔
ان مراحل سے گزرنے کے بعد بھی اگر ہم ابھی تک اسی مقام پر کھڑے ہیں کہ ہمیں سود اور استحصال پر مبنی معاشی ڈھانچہ کو ہاتھ بھی لگانا ہے یا نہیں تو یہ ایک ’’قومی المیہ‘‘ ہے اور اس المیے کے رونما ہونے کے اسباب میں ہم سب کسی نہ کسی درجے میں ضرور شریک ہیں اور ہر طبقہ اور شخص کو اس کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔ جہاں تک کسی نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کا تعلق ہے، ہم اس صلاحیت سے محروم نہیں ہیں۔ ہم تو ایک فون کال پر پورے سسٹم اور پراسس میں ’’یوٹرن‘‘ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نفع ونقصان کی پروا کیے بغیر اسے نباہنے اور بھگتنے کا حوصلہ بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ اس لیے بات سسٹم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اور اس تبدیلی کے نقصانات برداشت کرنے کے حوصلے کی نہیں بلکہ اصل بات کچھ اور ہے اور جب تک ہم اس بات کا پوری طرح ادراک کر کے اسے گرفت میں لانے کی کوشش نہیں کریں گے، نوآبادیاتی استحصالی نظام کے ’’کولہو‘‘ کے گرد اسی طرح چکر کاٹتے رہیں گے۔
جذبات سے مغلوبیت
تحریک اسلامی جس طرح کے بگاڑ کا شکار ہو رہی ہے‘ اس کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ عقلی اور علمی پہلو پر جذبات کی دھندچھا رہی ہے۔ تحریک کی راہوں میں بلاشبہ جذبات کا ایک رول ضرور ہے۔ اس حد تک جذبات کی اہمیت سے انکار نہیں۔ جذبات وکیفیات قلبی کی لطیف لہروں کو یکسر مسدود کر دینا مقصود نہیں ہے اور نہ یہ منشاہے کہ عقل کو اتنا غلبہ حاصل ہو جائے کہ تحریک اسلامی عقلیت کے تابع ہو کر رہ جائے۔ یہ چیز نہ صرف تحریک کے مزاج کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے مزاج سے بھی اس کو کوئی مطابقت نہیں۔ اسلام عقل کا احترام سکھاتا ہے اور فکر ونظر کو کام میں لانے کی دعوت دیتا ہے لیکن یہ کوئی مجرد جامد عقلی ومنطقی فلسفہ نہیں ہے جس میں جذبات انسانی کا سرے سے کوئی گزر ہی نہ ہوتا ہو۔ اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے جذبات وواردات کے عمل دخل سے انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ جذبات اپنے مقام پر بڑی قدر وقیمت کے حامل ہیں۔ اللہ کے لیے محبت‘ اللہ کے لیے نفرت‘ خدا کی نعمتوں اور فراغت کو پا کر فرحت وطمانیت‘ نیکی پر مسرت کی کلیوں کاکھلنا‘ معصیت کے ارتکاب پر حزن کی کیفیت پیدا ہونا‘ اللہ کا خوف دلوں میں بیٹھنا اور اس سے امید بھرا ایک تعلق قائم کرنا‘ سب ایسے نفسیاتی احوال ہیں جن کی اہمیت مسلم ہے۔ اہل تصوف نے تو ان جذبات وکیفیات پر اپنی کتابوں میں پورے پورے باب باندھے ہیں۔ اس کی واضح مثالیں ہرویؒ کی ’’منازل السائرین‘‘ اور ابن قیمؒ کی طرف سے اس کی شرح ’’مدارج السالکین‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح کی اور بھی کئی کتب ہیں۔
اس حد تک جذبات کی ہواؤں سے نہ ناپسندیدگی ہے اور نہ ان کے وجود کے حوالے سے کوئی اختلاف اور جھگڑا۔ اسلام انسانی عقل اور قلب کو بیک وقت مخاطب بناتا ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے ان لوگوں کو لائق مذمت ٹھہرایا ہے جو عقل وفہم کو استعمال نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ان لوگوں کی مذمت بھی آئی ہے جن کے دل اللہ کے ذکر اور پیغام سے نرم نہیں پڑتے۔ چنانچہ عقل وجذبات کو بیک وقت کام میں لانا ضروری ہے۔ یہ متفق علیہ حدیث یہی حقیقت ہمیں سمجھاتی ہے: ’’جس شخص میں تین چیزیں پائی جائیں‘ اس نے حقیقت میں ایمان کی حلاوت کا مزا چکھ لیا۔ یہ کہ اللہ اور رسول سے بڑھ کر اس کے لیے کوئی محبوب نہ ہو۔ اس کی محبت اور نفرت خالص اللہ کے لیے ہو۔ اسلام سے دوبارہ کفر کی طرف پلٹ کر جانا اس کے لیے ایسے ہی ناگوار ہو جیسے اسے اپنا آگ میں جلایا جانا ناگوار ہے۔‘‘
تحریک اسلامی کے مزاج میں ایمانی کیفیات‘ شعور ووجدان کا جہاں لحاظ موجود ہے‘ وہیں پر جذبات کے شعلوں کی لپک کے لیے گنجائش بھی ہے۔ تحریک کے لیے ضروری ہے کہ عقل کی روشنی میں جہد وعمل کا اہتمام بھی کرے اور محبت‘ اخوت اور ایثار جیسے جذبوں کے سوتوں کو بھی خشک نہ ہونے دے۔
اسلامی جماعت اسلام کے غلبے کے لیے کوشاں ہے۔ اس میں فہم وفکر کی ہم آہنگی بھی ہونی چاہیے‘ تنظیمی وحدت بھی قائم رہنی چاہیے اور ساتھ ساتھ جذباتی رشتے بھی مستحکم رہنے چاہییں۔ قلوب کی تالیف ہوتی رہے۔ دل اللہ کی محبت کی رسی سے باہم جڑے رہیں۔ وہ کیفیت پیدا ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر بطور احسان بیان فرمایا ہے:
ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین والف بین قلوبہم لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبہم ولکن اللہ الف بینہم انہ عزیز حکیم (الانفال ۶۲‘ ۶۳)
اور وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمہاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے۔ مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑ دیے۔ یقیناًوہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔
امام حسن البناؒ ہر منگل کو اپنے ہفتہ وار خطبوں اور تقریروں میں اس امر کی شدید خواہش اور کوشش کرتے تھے کہ دلوں کو ایمان ومحبت کے ذریعے سے ہمیشہ کی تازگی اور زندگی بخشی جائے۔ اسی بنا پر انہوں نے ارکان بیعت کے لیے ’’اخوت‘‘ کو علامت تعلق بنایا اور جماعت کا نام ’’الاخوان المسلمون‘‘ رکھا۔ امام اپنے پر اثر ارشادات میں بتاتے تھے‘ ’’ہماری دعوت کی تین بنیادیں ہیں: فہم دقیق‘ ایمان عمیق اور حب وثیق۔‘‘
ان ساری گزارشات کی غرض یہ بتانا تھا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تحریک اسلامی کے اندر عواطف وجذبات کا یہ مقام اور اہمیت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ تحریک کے اندر جذبات کی کارفرمائی بڑھ گئی ہے تو درحقیقت ہماری اس سے مراد کیا ہے؟ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ تحریک اسلامی میں جملہ حالات وتعلقات‘ فکر وعمل‘ افعال واقوال‘ آرا وموقف‘ شخصیات اور اجتماعی ہیئت میں انفعالیت اور جذبات سے مغلوبیت کا حصہ عقل کے استعمال سے زیادہ ہے۔ غلبہ جذبات کے رجحان کے سلسلے میں متعدد دلائل ومظاہر موجود ہیں اور ان کے اثر سے منفی نتائج کی بھی مثالیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ہم ان میں سے تین سب سے بڑے مظاہر ونتائج کا ذکر کرتے ہیں:
(الف) ناکافی غور وخوض اور منصوبہ بندی
اسلام عقل وعلم کو پکارتا اور انہیں کام میں لانے کی دعوت دیتا ہے۔ جادۂ حق پر چلتے ہوئے معروف روایات کا لحاظ رکھنے کی تلقین اور بہت سی جگہوں پر احتیاط وپرہیز کی تاکید کرتا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کل کا سامان اور مستقبل کے لیے تیاری کرو لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک اسلامی میں اس نوعیت کا اہتمام کرنے کا رجحان کمزور ہے۔
میں نے ایک مرتبہ ایک بڑے داعی اسلام کے سامنے حالات وواقعات کے مطالعے اور اس کی روشنی میں منصوبہ بندی کی ضرورت کا اظہار کیا۔ جواب میں ان کا ارشاد تھا ’’کیا اللہ کی طرف بلانے اور لوگوں کو اسلام کی تعلیم دینے کے لیے بھی کسی منصوبہ بندی اور نقشہ گری کی ضرورت ہے؟‘‘ اس کے مقابلے میں ذرا نبی ﷺ کا عمل دیکھیں۔ آپ نے مدینہ ہجرت کرکے آنے کے بعد اسلام کے نام لیواؤں کی سرشماری کا حکم دیا تھا۔ بخاری کی روایت ہے کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں مردم شماری ہوئی اور مسلمانوں کی کل تعداد ڈیڑھ ہزار تھی۔ اس عمل سے جس حقیقت پر دلالت ہوتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ آپ افرادی قوت کی اہمیت کا احساس رکھتے تھے۔ آپ نے نام لیوان اسلام کی تعداد کا شمار اس لیے کرایا تاکہ ان کی قوت وقیمت اور احوال وپوزیشن سے ٹھیک ٹھیک واقفیت ہو جائے۔ سچی بات یہ ہے کہ مطالعہ اور غور وفکر کو اسلام میں بھی واقعی اہمیت حاصل ہے اور تحریک اسلامی میں بھی اسی سے اپنی اور مخالفین کی قوت کا اندازہ ہو پاتا ہے۔ متعلقہ بیانات‘ ضروری معلومات اور ٹھوس حقائق کو جمع کر کے ان کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی صحیح نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں اور ایسا لائحہ عمل وضع ہو سکتا ہے جس کو اختیار کر کے نصب العین کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
تحریک سے نسبت رکھنے والے بعض لوگوں کو غور وخوض اور عمل کے لیے نقشہ سازی بڑی گراں گزرتی ہے۔ ہمارے ایک دوست کے نزدیک غور وفکر کے بعد عمل کے لیے راست راہوں کا تعین ایک ایسا فریب ہے جس کا مظاہرہ اکثر ماہرین اقتصادیات معاشی منصوبہ بندی میں نفع کے گوشوارے دکھا کر کرتے رہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اصل اہمیت آغاز کار کی ہے۔ ہمیں کام شروع کر دینے کے بجائے ٹک کر چین سے بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا ناقص عمل پر بھی یقین ہے۔ کام ہونا چاہیے خواہ وہ نقص وخطا کے پہلو اپنے اندر رکھتا ہو۔ آج ہم ناقص عمل کر دکھائیں گے تو کل کوئی اللہ کا بندہ آکر اسے درست کر دے گا۔ نقص رفع اور خطا صحیح ہو جائے گی۔
ممکن ہے اس نقطہ نظر کو بھی کچھ سند جواز حاصل ہو اور کسی سطح پر اندھا دھند اور اضطراری عمل کے مثبت نتائج بھی نکل آتے ہوں لیکن اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ بے سوچے سمجھے اور غلط اعمال کی پیوند کاری اور ٹیڑھے میڑھے اور آنکھیں موند کر بنائے جانے والے منصوبوں کے ذریعے سے منزل تک پہنچنا صحیح اور گہری منصوبہ بندی کے مقابلے میں ہزار گنا دشوار ہے۔ بعد میں بڑے مخلص لوگوں کی تھکا دینے والی مساعی وجہد‘ راہوں کی کجی کو درست کرنے میں ہوتی رہتی ہے اور نتیجہ کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ غلط بنیادوں پر استوار ہونے والی جملہ مساعی غیر مشکور اور حوصلہ شکن ثابت ہوتی ہیں کیونکہ مساعی کی دیوار کی پہلی اینٹ ہی غلط رکھی گئی ہوتی ہے۔
زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے اور امتیاز وخصوصیت پیدا کرنے کے لیے بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ علمی‘ قانونی‘ سیاسی‘ اقتصادی‘ اجتماعی‘ ثقافتی‘ تربیتی‘ نشریاتی اور تنظیمی میدانوں میں ترقی کر کے دکھانا اور مہارت بہم پہنچانا جدید معاشرے میں اس لیے بھی ضروری ہے کہ عوامی ضروریات کی تکمیل اور تحریکی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان میں سے کوئی شعبہ حیات بھی غیر اہم اور نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ چنانچہ ترقی ومہارت اور تخصص وامتیاز کے لیے پلاننگ ناگزیر ہے۔ یہ کمپیوٹر‘ ایٹمی اسلحے‘ فضائی جنگوں‘ طب وریاضی میں زبردست ترقی کا دور ہے۔ دنیا ایجادات کے میدان میں بہت آگے جا چکی ہے۔ یہ گہرے غور وخوض اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔ لکیر کا فقیر بنے رہنا‘ آپس میں غیر مفید چیزوں پر الجھتے رہنا اور بے نتیجہ ورد کرتے رہنا باعث ضیاع ہے۔ مختلف شعبہ ہائے حیات میں مہارت وتخصص شریعت کی نظر میں بھی امت مسلمہ پر واجب ہے۔ ایک میدان میں اپنی ساری قوتیں اور توانائیاں کھپا دینا اور دوسرے شعبوں سے غافل رہنا کسی طور پر بھی روا نہیں ہے۔
اسلام میں جہاد کی منزلت واہمیت کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟ اس کے باوجود نبی ﷺ کے عہد میں تمام مسلمانوں کے یک بارگی جہاد پر نکل جانے کو بھی ایک موقع پر قرآن نے خامی بتایا ہے کیونکہ اس وجہ سے مسلمان ایک دوسرے میدان سے غافل ہو گئے تھے جو اہمیت کے اعتبار سے کچھ کم نہیں۔ یعنی دین کے فہم کے سلسلے میں ان کی توجہ وطلب جہاد میں شرکت کے مقابلے میں کم ہو گئی تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وماکان المومنون لینفروا کافۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ولینذروا قومہم اذا رجعوا (التوبہ ۱۲۲)
اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تا کہ وہ پرہیز کرتے۔
ذرا غور کریں ہمارے کام اٹکل پچو اور ہمارے تیر بے ہدف کے چل رہے ہیں، جبکہ معاندین اسلام اور مخالفین تحریک اسلامی ٹھوس پلاننگ کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری جدوجہد کا پھل ان کی جھولی میں پڑتا ہے۔ پھل پکنے اور توڑنے کے وقت ہم بے خبر ہوتے ہیں کیونکہ منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث ہمیں پھل پکنے کے موسم ہی کی خبر نہیں ہوتی۔
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ استعمار غرب کے خلاف آزادی کی تحریکوں میں یا کسی باطل قوت کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر اٹھتے وقت ان تحریکوں کے لیے قوت محرکہ اسلام ہی بنتا رہاہے، عوامی جذبات کا سرچشمہ وابستگی اسلام ہی ثابت ہوتا رہا لیکن اسلام کے نام پر جو کھیتی بوئی گئی اور جو پودے لگائے گئے، انہیں کاٹا اور ان کی باغ بانی کا کام آگے چل کر سنبھالا تو ان اسلام دشمن، مکار اور کینہ پرور عناصر نے جو چپکے سے ہماری صفوں میں گھس آئے تھے؟ ایسے عناصر ان تحریکوں میں مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو کر اس تاک میں لگ جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو آپس میں پھاڑا اور لڑا دیا جائے ، آگے بڑھ کر جدوجہد کی قیادت سنبھال لی جائے اور عظیم کوششوں کا پکا ہوا پھل اپنے دامن میں سمیٹ لیا جائے۔ یہ ہماری بے تدبیری، معاملہ نافہمی اور بے فکری ولا پروائی ہی کے باعث ہوتا ہے کہ اسلام دشمن اور فریب کار لوگ ہمارے کندھوں پر سوار ہو کر اور ہمارے نعروں کی گونج میں ہیرو بن بیٹھتے ہیں، لوگ اپنا تن من دھن ان کے سپرد کر دیتے ہیں اور وہ نام نہاد ہیرو اطمینان کے ساتھ فتح وکام رانی کا ثمرہ پا لیتے ہیں۔ کتنوں کو دیکھا گیا کہ اسلام کا محض لبادہ اوڑھ لیتے ہیں، ان کی زبانوں پر اسلام، اسلام کا ورد جاری ہو جاتا ہے، دل کے اس خلاف سوچ رہے ہوتے ہیں۔ اسلام عملاً ان کی زندگی سے کوئی میل نہیں کھاتا۔ اپنی لچھے دار تقریروں اور دجالانہ تدبیروں کے باعث وہ مسلم عوام کو دھوکہ دینے میں کام یاب ہو جاتے ہیں۔ جب اقتدار کا منصب اور ہیرو کا مرتبہ پا لیتے ہیں تو اسلام والا نقاب اتار پھینکتے اور اپنے حقیقی روپ میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔
کمال اتاترک کو لیجیے۔ اسلام کے جھنڈے کے تحت، اسلام ہی کے نام پر، اس نے ترک عوام کی قیادت سنبھالی۔ عوام نے اپنی جانیں اور مال بخوشی اس کو سونپ دیے، اس کی عظمت کے نعرے لگائے، خوب خوب تعریف وستائش ہوئی، غازی کہلایا لیکن جب سادہ لوح مسلم عوام کی حمایت اور اسلام کے نام کے استعمال کے ذریعے کام یابی نے اس کے قدم چومے، اسلام کی تلوار اور غازی کا لقب پانے والا یہ شخص خود اسلام اور مسلمانوں کے لیے زہر میں بجھا ہوا خنجر ثابت ہوا۔ اس نے خلافت کی بساط کمال ہوشیاری سے لپیٹی اور اسلام والا پورا باب ہی خود اس نے مقفل کر دیا۔ ترکی عوام کے اسلام سے سارے رشتے کاٹنے کے درپے ہو گیا۔
(ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا شمار عالم اسلام کے نامور اصحاب علم اور ماہرین معاشیات میں ہوتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں انہوں نے نہایت بالغ نظری کے ساتھ ان مباحث کی نشان دہی کی ہے جو دین وشریعت کی تعبیر وتشریح اور امت مسلمہ کو درپیش فکری چیلنجوں کے حوالے سے عالم اسلام کے علمی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ تحریر کی اہمیت کے پیش نظر اسے افادۂ عام کے نقطہ نظر سے ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور کے شکریے کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
دور جدید میں احیاے اسلام کی کوشش، یا زیادہ جامع الفاظ میں اسلامی زندگی کو عقیدہ ومسلک، اجتماعی رویہ، قانون ملکی اور دستور مملکت کی حیثیت سے بہ تمام وکمال برپا کرنے کی کوشش کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تجدید ایمان کا مسئلہ ہے۔
فکری بنیادیں
ایمان کی اہمیت:
اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ آج پوری دنیا میں اللہ پر ایمان زائل یا از حد ضعیف ہو چکا ہے اور اس کی ہدایت کی طرف رجوع مفقود یا محض رسمی ہو کر رہ گیا ہے۔ دور جدید کا انسان رسمی طور پر خدا کا اقرار کرنے کے باوجود اپنا نظام زندگی خود وضع کرنے پر مصر ہے اگرچہ ایسا کرنے کے نتائج اچھے نہیں رہے ہیں۔ انسانی ذہن کی نارسائی، کوتاہ بینی اور عدم استقرار نے جدید انسان کو اضطراب وحیرانی میں مبتلا کر رکھا ہے مگر ابھی وہ خدا کی طرف رجوع پر آمادہ نہیں۔
تحریک اسلامی کو، جو صرف مسلمانوں کی اصلاح کو مقصود نہیں بناتی ہے بلکہ تمام بندگان خدا کو خدا کی ہدایت کی طرف بلاتی ہے، ایک ایسی فکر کو سامنے لانا ہے جو انسانیت کو دوبارہ خدا پر سچا ایمان عطا کرنے اور اس کی ہدایت کی طرف واپس لانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
دنیا میں گزشتہ دو سو سال سے جو تہذیب چھائی ہوئی ہے، اس نے ایمان بالغیب کی جڑیں ہلا دی ہیں اور یقین کو صرف اسی علم تک محدود کر دیا ہے جو حواس کی مدد سے حاصل کیا جا سکے۔ اس تہذیب نے انسان کا منتہائے نظر دنیوی ترقی اور مادی اقتدار تک محدود کر دیا ہے۔ زندگی کے روحانی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا ہے، اور اخلاق کو ان مادی مقاصد کے تابع بنا دیا ہے۔ یہی مرض اس تضاد کی بھی توجیہ کرتا ہے کہ آج جب دنیا میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان ہیں جن کی اکثریت ۵۰ سے زیادہ ملکوں میں رہتی ہے لیکن کسی جگہ بھی اسلامی نظام زندگی قائم نہیں ہے، ان مسلمانوں میں ایمان کی کمزوری خدا کے وجود یا محمد ﷺ کی رسالت سے کھلم کھلا انکار کی صورت شاذ ونادر ہی اختیار کرتی ہے مگر ان کی ۹۹ فی صد اکثریت انسانیت کے مذکورہ بالا مشترکہ مرض میں مبتلا ہونے کے سبب اس پختہ یقین، تعلق باللہ اور محمد ﷺ کی قیادت ورہنمائی پر اس کامل اعتماد سے محروم ہے جو اللہ ہی کو زندگی کے تمام امور میں حکمران بنانے کے لیے درکار ہے۔
مسلم دانش وروں کی فکری جہت:
مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ پریس اور دوسرے ذرائع سے تہذیب حاضر کی مسلسل تربیت میں رہتا ہے اور معاشی اعتبار سے ان قدروں کا زیادہ واضح شعور رکھتا ہے جو تہذیب حاضر نے انسان کو دی ہیں۔ یہی طبقہ مسلمان قوموں میں سیاسی برتری کا مالک ہے۔ یہ آزاد مسلم ممالک میں حکومت کرتا اور نظام تعلیم، پریس، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سینما کے ذریعے عوام کی تربیت کرتا ہے اور دوسرے ممالک میں مسلمان اقلیتوں کا سیاسی اور ثقافتی رہنما ہے۔ یہ طبقہ ایمان کے غیر معمولی ضعف کا شکار ہے۔ مسلمان دانش وروں میں ایک معتد بہ تعداد خدا کے وجود، رسالت اور آخرت پر یقین سے محروم ہے یا کم از کم ایسے شک وریب میں مبتلا ہے جو ان کے ایمان کو بے اثر بنا دینے کے لیے کافی ہے۔
مسلم دانش وروں کی ایک بڑی تعداد ان بنیادی امور پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ سمجھتی ہے کہ اسلام کا دائرہ بھی دوسرے مذاہب کی طرح نجی زندگی میں بندہ وخدا کے تعلق تک محدود ہے۔ ان کا خیال ہے کہ قرآن کی تعلیمات اور رسول کی ہدایات، عبادات واخلاق اور عام انسانی تعلقات میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہیں مگر قرآن وسنت کے احکام وقوانین یعنی ’’شریعت‘‘ اپنے زمانے کے لیے تھی، ہمارے زمانے کے لیے نہیں ہے۔ یہ لوگ عام دنیوی امور میں شریعت کی پابندی کے قائل نہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد ان مسلمانوں کی بھی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ان امور میں ہم اسلامی تعلیمات کی روح کو سامنے رکھیں گے مگر سود کی حرمت، قانون وراثت اور فوجداری قوانین جیسے متعین احکام کی پابندی اس زمانے میں ممکن نہیں۔
موخر الذکر دونوں طبقوں کے رجحانات متعین کرنے میں اگر ایک طرف مغرب کی دی ہوئی فکر اور اس کا نظام اقدار اثر انداز ہوا ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی فیصلہ کن رہی ہے کہ ان دانش وروں کو مذکورہ بالا متعین قوانین اور ان جیسے دوسرے قوانین کو آج کی دنیا میں نافذ کرنا عملاً محال نظر آتا ہے۔ جدید زندگی کے احوال وظروف اور جدید انسان کے مزاج کو، جیسا کچھ انہوں نے سمجھا ہے، اس کی روشنی میں وہ یہ رائے رکھتے ہیں کہ: سود کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی، وراثت، گواہی، طلاق یا زندگی کے کسی مسئلے میں عورت کے ساتھ مرد سے مختلف سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ حدود شرعیہ کا نفاذ دور جدید کے انسان کا مزاج نہیں قبول کر سکتا، ایک جدید مملکت میں قانون سازی اور انتظام ملکی میں غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا، وغیرہ وغیرہ۔
جب تک مسلمان معاشروں میں قیادت اور سربراہی کے مالک دانش وروں کی ایمانی اور فکری حالت یہ ہے، ظاہر ہے کہ ان کے اندر اسلامی انقلاب کی توقع نہیں کی جا سکتی، اگرچہ عام مسلمانوں میں مذہب کا اثر زیادہ ہے۔تعلیم کی کمی اور معلوم معاشی پست حالی کے سبب ابھی تہذیب جدید کی فکر اور نظام اقدار ان پر پوری طرح اثر انداز نہیں ہو سکا ہے۔ معاشی ترقی اور جدید تعلیم کے عام ہونے کے ساتھ مذہب کا اثر بھی گھٹتا جا رہا ہے۔ مذہب کا جو اثر ہے، وہ بھی زیادہ تر عبادات اور متعدد ثقافتی امور تک محدود ہے۔ البتہ زندگی کے مقاصد، منظور نظر قدریں اور دنیوی زندگی میں خوب وناخوب کے پیمانے وہی ہیں جنہیں جدید فکر کے زیر اثر دانش وروں نے اختیار کر رکھا ہے۔ اپنے لیڈروں کی مذہب سے دوری پر افسوس کرنے کے باوجود دنیوی امور سے شریعت کی بے دخلی کے معاملے میں مسلمان عوام کی غالب اکثریت اپنے لیڈروں ہی کے پیچھے چل رہی ہے۔
علما ومشائخ کا عمومی رویہ:
ہر مسلمان معاشرے میں ایک طبقہ علما ومشائخ کا بھی ہے جس سے مسلمان عوام خاصا تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے اندر شعائر اسلام کے احترام اور ثقافتی امور میں اسلامی آداب کی پابندی زیادہ تر انہی علما ومشائخ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ان علما ومشائخ کو مسلمان عوام سیاسی اور عام دنیوی امور میں اپنا رہنما نہیں بناتے اور نہ خود علما ومشائخ میں اتنی خود اعتمادی اور اس بات کا حوصلہ ہے کہ وہ ان کی مکمل رہنمائی کریں۔
وہ جدید تہذیب اور مسلمان دانش وروں پر اس کے گہرے اثرات سے بالعموم ناواقف ہیں۔ اگر وہ مرض کی بعض علامتیں دیکھتے بھی ہیں تو اس کے اسباب تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ تہذیب جدید اور اس کے تمدن کی مادی بلندی سے مرعوب ہیں اور اس کو جڑ، بنیاد سے بدل کر اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کا کوئی داعیہ اپنے اندر نہیں پاتے۔ مسلمان دانش وروں کی بے دینی پر بظاہر تنقید کرنے کے باوجود امور دنیا میں یہ انہی کی قیادت کو مان رہے ہیں۔ وقت پڑنے پر مسلمان عوام کو انہی کی قیادت پر مجتمع کرنے اور انہی کی تائید پر کمربستہ کرنے کی خدمت انجام دیتے رہتے ہیں۔
یہ منظر بڑا عبرت انگیز ہے کہ جہاں بھی احیاے اسلام کی طاقت ور تحریکیں اٹھیں، علما ومشائخ کے ایک بڑے طبقے نے ان کی زبردست مخالفت کی اور بڑی حد تک اپنا وزن اس لادینی قیادت کے حق میں استعمال کیا جو ان تحریکوں کو پامال کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا سبب صرف گروہی عصبیت اور عوام کی قیادت چھن جانے کا خوف نہیں، بلکہ اس مخالفت کی تہہ میں اسلام کے بارے میں ان علما ومشائخ کی فکر کی محدودیت اور احیاے اسلام کی ہمہ گیر جدوجہد کے لیے مطلوبہ حوصلے کا فقدان ہے۔ ان کا یہ تاریخی وجدان ہے کہ جو کام قرون اولیٰ کے بعد پھر ممکن نہ ہو سکا، وہ آج کی دنیا میں یکسر ناممکن ہے۔ انہیں یہ اندیشہ ہے کہ مکمل اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کہیں محدود دائرے میں بھی اسلام کے باقی نہ رہنے کا سبب نہ بن جائے۔
اسلامی تحریکیں اور مسلم معاشرے:
ایمانی حالت کے اس سرسری جائزے کی روشنی میں احیاے اسلام کی ان کوششوں پر نظر ڈالی جائے جو بیسویں صدی سے دنیاے اسلام کے مختلف علاقوں میں کی جاتی رہی ہیں تو یہ معلوم ہوگا کہ بڑی حد تک اصل مرض کو پہچانا گیا ہے اور اس کا علاج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مقالے میں ان کوششوں کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے۔ صرف اس حقیقت پر زور دینا مطلوب ہے کہ ابھی یہ کوششیں ناتمام ہیں۔ اسلامی تحریکوں نے عام انسانوں کو مخاطب بنا کر انہیں کفر وشرک اور حیرانی واضطراب سے ایمان کی طرف لانے کی کوشش بھی کم ہی کی ہے۔ ان کی بیش تر توجہات مسلمان معاشروں پر مرکوز رہی ہیں۔ لیکن اب بھی مسلمان دانش وروں اور ان کے عوام کا حال وہ ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ ابھی دنیا میں کہیں بھی ان کوششوں کی (بظاہر) کامیابی کے آثار نہیں نظر آتے، اگرچہ گزشتہ نصف صدی کی کوششوں کے نتیجے میں صورت حال بہتر ہوئی ہے۔
آج مسلمان دانش وروں میں ایک معتدبہ عنصر موجود ہے جو پورے اسلام کو اختیار کرنے کا عزم رکھتا ہے اور شریعت کو نہ صرف واجب العمل سمجھتا ہے بلکہ قابل عمل سمجھتا ہے اور عصر حاضر میں اسے نافذ کرنے کا عزم بھی رکھتا ہے۔ یہ عنصر، متحرک اور فعال ہے اور متعدد مسلمان معاشروں میں اس نے عوام کے ایک بڑے طبقے کا اعتماد حاصل کر کے ان کی قیادت شک وریب میں مبتلا یا کمزور ایمان رکھنے والے اور دین ودنیا کے درمیان تفریق کرنے والے دانش وروں سے بڑی حد تک چھین بھی لی ہے۔ لیکن ابھی عوام کی غالب اکثریت کی اس نئی اسلامی قیادت کے ساتھ وابستگی زیادہ تر جذباتی ہے جس کے سبب وہ غیر اسلامی قیادت کے تسلط کے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے اور اس راہ میں قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ابھی نہ عوام کا نظام اقدار بدلا ہے، نہ اس بگڑے ہوئے ’’مذہبی مزاج‘‘ کی اصلاح ہوئی ہے جو اسلام کے نام پر لوگوں کو علما اور سیاسی قیادت کے پیچھے لا کھڑا کرتا ہے۔ عام طور پر مسلم عوام معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور امور مملکت کے نظم وانصرام کے سلسلے میں فیصلہ کن طاقت کا حق دار سیکولر قیادت ہی کو سمجھتے ہیں۔
اپنے دانش ور طبقے میں ایمان کی بحالی اور اپنے عوام کو پوری طرح ساتھ لے کر چلنے کے لیے ابھی اسلامی تحریکوں کو بہت کچھ اور کرنا ہے۔ انہیں عوام میں اسلام کا علم پھیلانے، ان کی اصلاحی اور دینی اصلاح اور ایمانی تربیت کے لیے اپنے پروگراموں کو زیادہ جامع بنانا ہے اور ان پر زیادہ مستعدی کے ساتھ عمل کرنا ہے۔ اصلاح صرف قول سے نہیں ہوا کرتی ہے، اس سے زیادہ اہمیت کردار کی ہے۔
تحریک اسلامی کے کارکنوں کو نہ صرف عبادات واخلاق میں بلکہ معاملات دنیا بالخصوص معاشی وسائل اور سیاسی طاقت کے برتنے میں نیز اپنی معاشرتی زندگی میں للہیت، ترجیح آخرت اور اخوت، مواساۃ ومرحمت، شورائیت اور مساوات کی اسلامی قدروں کے مطابق اعلیٰ اسلامی کردار کا نمونہ پیش کرنا ہے تاکہ مسلمان عوام ان قدروں کو جذب کر سکیں اور اسلامی نظام کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہیں اپنے عوام کے اندر وہ بنیادی انسانی صفات اجاگر کرنی ہیں جن کے بغیر کوئی انسانی گروہ زوال سے عروج اور ضعف سے قوت کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ ہماری مراد محنت، نظم وضبط، کسی اعلیٰ مقصد کے لیے ایثار وقربانی کے جذبے اور اس مقصد کے لیے ذریعے کے طور پر علوم وفنون میں مہارت کے ذریعے تسخیر کائنات کے حوصلے سے ہے۔ صرف وعظ وارشاد کے ذریعے مسلمان عوام سے کاہلی اور جہالت، اختلاف اور فرقہ بندی، بخل اور کم ظرفی اور پست حوصلگی کی مہلک بیماریاں نہیں دور کی جا سکتیں۔ ان کے علاج کے لیے وسیع پیمانے پر مسلسل منظم کوششیں درکار ہیں۔
مسلمان دانش وروں کی ایمانی حالت درست کرنے، ان کے نظام اقدار میں تبدیلی اور کتاب وسنت کے ساتھ ان کی وفاداری بحال کرنے میں مذکورہ بالا کوششوں کو بھی دخل ہوگا مگر ان کی نسبت سے تحریک اسلامی کو کچھ علمی اور فکری کام بھی کرنے ہیں۔ یہ علمی اور فکری کام عام انسانوں کو دعوت اسلامی کا مخاطب بنانے کے ضمن میں اہمیت کے حامل ہیں، اور اس تعلیمی اور تربیتی پروگرام کے لیے بھی اہم بنیادیں فراہم کرتے ہیں جس کا ذکر اوپر عوام کی اصلاح کے ضمن میں کیا گیا ہے۔
غور وفکر کی جہتیں:
یہ مقالہ مخصوص طور پر تحریک اسلامی کے ہمہ جہتی کام کے علمی اور فکری پہلو سے بحث کرتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے موضوعات ومسائل کی نشان دہی ہے جن پر کیا جانے والا کام اتنا تشفی بخش نہیں کہ جدید ذہن کو پوری طرح مطمئن کر سکے یا جن کے بارے میں معاصر اسلامی مفکرین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات نے مزید بحث وتحقیق کو ناگزیر بنا دیا ہے یا جن کی طرف گزشتہ کئی عشروں میں بہت کم توجہ کی جا سکی ہے۔
ہمارے نزدیک اس طرح کا فکری کام، جس کے بعض گوشوں کی ذیل میں نشان دہی کی جائے گی، عصر حاضر میں اسلامی نظام کے قیام کی شرط لازم بن چکا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی مفکرین، فکری کام کا حق ادا کر چکے ہیں اور مسلم دانش وروں کو اسلام کے پوری طرح اختیار کرنے سے روکنے والی چیز صرف ان کی دنیا پرستی ہے، یا مسلم عوام اسلامی تحریکوں کی قیادت اور ان کے پروگراموں سے پوری طرح مطمئن ہیں، صرف فوجی آمریتیں ان کے اجتماعی ارادے کے عملی اظہار میں مانع ہیں۔ ان کے تجزیے کو ہم غیر تشفی بخش سمجھتے ہیں اور اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔
ہم اس غلط فہمی کا شکار نہیں کہ جن فکری کاموں کی نشان دہی کی جا رہی ہے، وہ انجام پا جائیں تو دور حاضر کا انسان اسلام کی طرف دوڑ پڑے گا، یا مسلمان دانش ور فوج در فوج تحریک اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے لگیں گے، اور مسلمان عوام کی موجودہ دو رخی اور ان کا تذبذب دور ہو جائے گا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، مسئلے کے دوسرے پہلو بھی اہمیت رکھتے ہیں، مگر ہم یہ رائے ضرور رکھتے ہیں کہ جب تک فکری کام آگے نہیں بڑھتا، دوسرے کاموں کے باوجود اسلامی تحریکیں اپنے مقاصد کے حصول میں کام یاب نہیں ہو سکتیں۔
ہمارے نزدیک انسانی دنیا میں فیصلہ کن طاقت افکار وتصورات کی طاقت ہے اور جو چیز دور حاضر میں اسلام کو اس کا اصل مقام دوبارہ دلوانے والی ہے، وہ اسلامی افکار وتصورات کی صالحیت اور دوسرے تمام افکار وتصورات کے مقابلے میں اسلام کے نظریہ حیات کا زیادہ معقول وبرتر ہونا ہے۔ شرط یہ ہے کہ باطل افکار وتصورات پر گہری تنقید کے ساتھ، اسلامی افکار وتصورات کو ایسے استدلال کے ساتھ پیش کیا جائے جس کو عصر حاضر کا انسان سمجھ سکے۔
کسی صالح تر نظریے کو محض جبر وتشدد سے زیادہ عرصہ نہیں دبایا جا سکتا۔ آج بعض مسلم ممالک میں طاقت ور اسلامی تحریکوں کو جبر کی حکمرانی نے جس طرح دبا رکھا ہے، اس سے بہت سے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ’’ایسے حالات میں نظام کی تبدیلی کے لیے اشاعت افکار، تعمیر کردار اور اصلاح معاشرہ کے پروگرام کس طرح مقصد برآری کر سکتے ہیں؟ طاقت کے جواب میں طاقت کی ضرورت ہے۔‘‘
اس طرح سوچنے والوں کو مذکورہ بالا تاریخی حقیقت پر غور کر کے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انہیں وقت کے چھائے ہوئے نظام کے مقابلے میں جس طرح کی طاقت کی ضرورت ہے، وہ عوام وخواص کے ذہنوں میں صالح فکر کے رسوخ اور ان کے انفرادی اور اجتماعی کردار پر اس کے گہرے اثر کے نتیجے میں ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ انسانی فطرت جبر کی حکمرانی سے نفرت کرتی ہے مگر اس کی بے پناہ قوتوں کو جبر کے خلاف منظم کوشش پر آمادہ کرنے کے لیے صالح نظریہ اور اس پر گہرا یقین درکار ہوتا ہے۔
ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ کسی ملک میں بھی اسلام کی راہ کا روڑا صرف اس ملک کا مغرب زدہ طبقہ یا اس کی حکمران قوتیں نہیں بلکہ پوری لادینی تہذیب، سرمایہ دارانہ مغرب، صلیبیت اور صہیونیت اپنے عالمی پریس، اپنے لٹریچر، اپنے سفارت خانوں اور برآمد کردہ ماہرین، اپنی فوجی اور اقتصادی امداد، غرض اپنے جملہ مادی اور ذہنی وسائل کے ساتھ اسلامی نظام کے احیا کی راہ روکنے پر تلے ہوئے ہیں۔ احیاے اسلام کے لیے اس فکری جہاد کا میدان کوئی ایک ملک نہیں، پوری دنیا ہے۔
آج تحریک اسلامی جس مرحلے میں ہے، اس میں یہ لڑائی محض مادی قوت کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی ہے۔ ہماری اصل قوت ہمارا صالح نظریہ حیات ہے، جس کی صحیح اور موثر ترجمانی اور عصر حاضر کے ذہن ومزاج کو پوری طرح سمجھ کر کی جانے والی تفہیم --- ایسی ترجمانی اور تفہیم جس کے پیچھے داعی گروہ کے اعلیٰ اسلامی کردار کی سند موجود ہو--- جغرافیائی، قومی اور نسلی حدود سے بے نیاز ہو کر انسانوں کے دل ودماغ بدل سکتی ہے۔
یہی کام ہماری اپنی صفوں کو درست کرنے اور مخالف قوتوں کا شیرازہ منتشر کر کے انسانوں کو ان کی قیادت سے اپنی قیادت کی طرف لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اپنی توجہات اسی پر مرکوز کر دینی چاہییں۔
ایمان وعقیدہ
شان الوہیت:
فکری کاموں میں سرفہرست اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی صفات اور شان الوہیت کی تفہیم کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر اب تک ایسا لٹریچر نہیں پیش کیا جا سکا ہے جس میں دور حاضر کے منکرین خدا، متشککین (Skeptics) اور لا ادریین (Agnostics) کے خیالات کو پوری طرح سامنے رکھا گیا ہو۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہمارے مفکرین مغرب کے انسان کو اپنا مخاطب بنانے کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے عوام کے ایمان باللہ کو ایک مسلم حقیقت اور اپنے دانش وروں کے شک وریب کو محض مغرب سے مرعوبیت کا نتیجہ سمجھا۔ افسوس کہ ہمارا مرض زیادہ گہرا ہے۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ عصر حاضر کے ائمہ فکر کے اعتراضات وشبہات کا جائزہ لیتے ہوئے اس موضوع پر کام کیا جائے۔ اس ہمہ پہلو کام میں ایسے مسائل سے بھی تعرض ناگزیر ہوگا جن کا تعلق خدا کے وجود سے نہیں بلکہ اس کی صفات اور ان صفات کے درمیان ہم آہنگی سے ہے۔ مثلاً برٹرینڈ رسل اور ٹائن بی جیسے چوٹی کے لاادریین کائنات میں شر (Evil)کے وجود کے پیش نظر خدا کی صفت رحمت وقدرت کو تسلیم کرنے اور پھر اس بنا پر خود خدا کا وجود تسلیم کرنے کو دشوار پاتے ہیں۔ معاصر اسلامی لٹریچر اس مخصوص مسئلے سے بہت سرسری انداز میں گزر گیا ہے۔
صفات خداوندی کی قرآن کی روشنی میں تفہیم کی اہمیت ایک مثال سے سمجھی جا سکتی ہے۔ خدا علیم وخبیر ہے اور وہی غیب کا علم رکھتا ہے مگر علم کے باب میں دور حاضر کا انسان کسی حد کا قائل نہیں اور وہ اس علم وخبر کا بھی مدعی ہے جو ضابطہ حیات وضع کرنے کے لیے درکار ہے۔ اس انانیت میں اعتدال پیدا کرنا شان الوہیت اور مقام عبودیت کے صحیح فہم اور متعلقہ صفات خداوندی کے قرآنی تصور پر اطمینان حاصل کیے بغیر ممکن نہیں۔
اسی طرح شان الوہیت کی ایسی تفہیم درکار ہے جو انسانوں میں عموماً اور مسلمان دانش وروں اور ان کے عوام میں خصوصاً اللہ کی حاکمیت کا تصور بھی اسی طرح راسخ کر دے جس طرح اس کے مسجود ومعبود ہونے کا تصور راسخ ہے۔ اسلامی تصور توحید کی وضاحت میں وحدت الوجود جیسے تصورات کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے تاکہ یہ صاف اور سلجھا ہوا حرکی (Dynamic) تصور فلسفیانہ الجھاؤں سے پاک ہو کر انسانی زندگی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کر سکے۔
انسان کی روحانی اور نفسیاتی، علمی اور فکری، اخلاقی اور عملی، نیز سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کے لیے عقیدہ توحید کے تقاضوں کی وضاحت ہر دور میں ازسرنو ضروری ہوتی ہے۔ دور حاضر کے احوال وظروف، اس کی ذہنی فضا اور مزاجی کیفیت کی مناسبت سے ایسی وضاحت درکار ہے جو مادی تہذیب کے اثرات سے زندگی کے تمام پہلوؤں کو پاک کر کے انہیں اسلامی اقدار کے مطابق ڈھال سکے۔ عملی زندگی میں توحید کے تقاضوں کی تو وضاحت کی گئی ہے مگر علم وفکر، آرٹ اور ادب، فنون لطیفہ اور جمالیات کی نسبت سے کم ہی سوچا گیا ہے۔
تمام تہذیبی مظاہر کی آب یاری بالآخر کسی ایک سرچشمہ سے ہوتی ہے جو ان کا مزاج متعین کرتا ہے۔ اسلامی تہذیب کا سرچشمہ تصور توحید ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کائنات کے مشاہدے ومطالعے میں، قوانین فطرت کے اکتشاف اور ان کی تشریح میں یا نفس انسانی، سماج اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے تجزیہ وتحلیل میں اس سرچشمہ سے بے نیازی برت کر اسلامی تہذیب کی تشکیل جدید کی امید کی جا سکے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ وہ دائرے ہیں جو علماء دین کی دسترس سے باہر رہے ہیں اور ان کے ماہرین نے شعوری یا لا شعوری طور پر ان دائروں میں خدا کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا ہے جو مغربی تہذیب نے اختیار کیا ہے۔ اس موقف پر نظر ثانی کی اور ان دائروں میں توحیدی بصیرت کے ساتھ نئے کام کی ضرورت ہے تاکہ ایک طرف تو یہ واضح ہو سکے کہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت یعنی خدا کے بغیر حقائق کا صحیح فہم اور ان کی تعبیر وتوجیہ دشوار ہے۔ دوسری طرف یہ ثابت ہو جائے کہ اس حقیقت کی رہنمائی میں مختلف حقائق کے درمیان ربط قائم کرنا اور ان سے متوازن اور ہم آہنگ استفادہ کرنا ممکن ہے۔
منصب رسالت:
الوہیت کے بعد وحی ورسالت کی اہمیت ہے۔ مستشرقین نے وحی کے اسلامی تصور کو مجروح کرنے اور رسالت کے حدود (Scope) کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے جس کا بعض مسلمان دانش وروں نے خاصا اثر لیا ہے۔
وحی ورسالت کے باب میں ہندو ذہن اور عیسائی ذہن، اسلامی ذہن سے یکسر مختلف تصور رکھتا ہے۔ ان مخصوص اجنبی تصورات کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے۔ وحی ورسالت کے قرآنی تصور کی وضاحت میں عقل انسانی، سائنس اور تاریخ کی رہنمائی کی رسائی کو بھی زیر بحث لانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ غیب اور ایمان بالغیب کے موضوع پر سیر حاصل بحث کرنی ہوگی جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے۔ عصر حاضر کا انسان غیب سے کتراتا ہے اور کسی ایسے علم کو جاننے سے پہلو بچاتا ہے جسے عقل وتجربے کی سند نہ حاصل ہو۔ بیسویں صدی کے متعدد سائنس دانوں اور ماہرین نفسیات نے اس سطحیت اور کوتاہ نظری کے خلاف احتجاج کیا ہے اور معلوم کے بالمقابل مجہول کی وسعتوں پر زور دیا ہے مگر مزاج عصر نے اس کا اثر کم قبول کیا ہے۔ ان کی تحریروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلے کی مکمل تنقیح ضروری ہے۔
وحی اور رسالت کی ماہیت اور ان کی وسعتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس ذہن کو بھی سامنے رکھنا ہوگا جو دین وشریعت کے درمیان تفریق کرتا ہے اور سیاست ومعیشت، خاندانی زندگی اور جرم وسزا جیسے دنیوی امور میں قانون سازی کے لیے انسانی عقل وتجربے کو کافی سمجھتا ہے۔ کیا انسان کی نفسیاتی، سماجی اور معاشی وسیاسی زندگی کے جملہ امور ومتعلقات دائرہ غیب سے باہر اور انسانی علم کی مکمل رسائی میں ہیں؟ اس سوال کا واضح جواب قرآن کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔ احکام شریعت کی دائمی حیثیت کی وضاحت اور وکالت کے ضمن میں زمان ومکان کی نسبت سے بعثت محمدی کی حیثیت کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس سلسلے میں ختم نبوت کی بھی مزید تفہیم درکار ہے کیونکہ بعض ذہنوں کے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب عقل وحواس کی نارسائی انسان کی مستقل کمزوری ہے جس کی تلافی کے لیے وحی الٰہی کی رہنمائی درکار ہے تو تاریخ انسانی کے کسی مرحلے پر اس رہنمائی کا سلسلہ کیوں ختم کر دیا گیا؟ اس سوال اور مذکورہ بالا دوسرے مسائل کا تعلق بالآخر فلسفہ، تاریخ، مزاج شریعت اور تجدید واجتہاد کے تاریخی کردار سے جڑ جاتا ہے۔
قرآن اور سائنس:
مقام وحی ورسالت کے ضمن میں مذہب اور سائنس، یا زیادہ صحیح الفاظ میں قرآن اور سائنس کے موضوع پر بھی نئے کام کی ضرورت ہے۔ اس موضوع پر اردو اور عربی میں جو لٹریچر موجود ہے، اس پر زیادہ تر انیسویں صدی کی سائنس کی فکر کی چھاپ پڑی ہے اور وہ الا ماشاء اللہ افراط وتفریط کا شکار ہے۔
اس کی ایک مثال حیاتیاتی ارتقا (Evolution)کا مسئلہ ہے۔ سائنس کا طالب علم اسے حقیقت مانتا ہے مگر قرآن کا مفسر یا تو قرآن کی طرف اس کی قطعی تردید منسوب کرتاہے یا آیات قرآنی سے حیاتیاتی ارتقا کا اثبات کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں ، مطالعہ فطرت میں وحی الٰہی سے بے نیازی برتنے یا قرآن اور سائنس کو دو بالکل علیحدہ خانوں میں رکھنے کا رویہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک دائمی کتاب ہدایت سے تمام سائنٹفک حقائق اخذ کیے جا سکیں یا اس کے بیانات کی تفسیر میں بدلتے رہنے والے نظریات کو فیصلہ کن اہمیت دی جائے۔ مسئلے کے ان نازک پہلوؤں کی پوری رعایت ملحوظ رکھتے ہوئے مسئلہ ارتقا اور اس جیسے دوسرے مسائل کی نسبت سے قرآن کے موقف ومنہاج کی ازسرنو وضاحت ضروری ہے۔
عصر حاضر کے لیے اس کام کی ضرورت بہت زیادہ ہے کیونکہ بعض اوقات ایمان باللہ کے باوجود کسی ایک مسئلے میں شک وریب یا یہ گمان کہ معلوم ومشہود حقیقت وحی ورسالت کے بیان سے ٹکراتی ہے، پوری زندگی کو ایمان کے دور رس اثرات سے محروم کر دیتا ہے اور انسانی ذہن کو مجبور کرتا ہے کہ وہ مذہب کے سلسلے میں ایک غیر عقلی تقلیدی موقف اختیار کرے، جس کا لازمی نتیجہ عام انسانی زندگی سے مذہب کی بے دخلی ہے۔
سنت:
منصب رسالت کی تفہیم کے لیے دوسرا اہم کام سنت کی تنقیح کا ہے۔ سنت اسلامی قانون کا ماخذ اور قرآن کے پہلو بہ پہلو اسلامی تعلیمات کا منبع ہے۔ کسی زیر غور مسئلے میں سنت کی رہنمائی معلوم کرنے کے لیے ہمیں اب جو ذریعہ میسر ہے، وہ احادیث کا ذخیرہ ہے جو صدیوں کی چھان بین اور بحث وتحقیق کے نتائج کے ساتھ ہم تک منتقل ہوا ہے۔ اصولی طور پر اس ذخیرہ سے استفادہ میں ماضی کی بحث وتحقیق کو حرف آخر سمجھنے کے بجائے مزید تحقیق وتدبیر کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہ بات روایت ودرایت یا تاریخی تحقیق اور قرآن کریم کی رہنمائی میں عقلی جانچ پرکھ دونوں کے بارے میں صحیح ہے۔ چند مجموعوں میں درج ہر روایت کو لفظاً ومعناً رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے اور مستشرقین کی اتباع میں احادیث کے پورے ذخیرہ کی صحت کو مشکوک سمجھنے کے دو انتہا پسندانہ رویوں کے درمیان یہی وہ مسلک اعتدال ہے جو تحریک اسلامی کے رہنماؤں نے اختیار کیا ہے۔ اصل مسئلہ زیر غور مسائل میں اس موقف کو عملاً برت کر دکھانے اور انتہا پسندانہ موقفوں پر علمی تنقید کا ہے۔ یہ کام بھی ازحد تشنہ ہے۔
روایت ودرایت کے اعتبار سے احادیث کی ازسرنو تحقیق اور جدید مسائل کی نسبت سے سنت کی تنقیح کی سب سے زیادہ اہمیت ان دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل میں ہے جن میں دور جدید میں اسلامی موقف کی ازسرنو تعیین اس لیے ضروری ہو گئی ہے کہ متعلقہ احوال وظروف یکسر بدل گئے ہیں۔ اس دائرے میں متعدد مسائل کے ضمن میں یہ سوال بہت اہم ہو گیا ہے کہ سنت ان مقاصد ومصالح کے اعتبار سے اور ان کے حصول کے لیے مزاج شریعت سے مناسبت رکھنے والے طریقے اختیار کرنے کا نام ہے جن کا اعتبار نبی ﷺ نے اپنے زمانے کی دستوری، سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کی تطہیر وتنظیم میں کیا تھا، یا خود ان متعین قواعد وضوابط کا نام ہے جو آپ ﷺ نے وضع کیے تھے۔
اسلامی تاریخ
دور جدید میں احیاے اسلام کی جدوجہد کے سیاق میں تاریخ اسلام یا مسلمانوں کی تاریخ کا ازسرنو مطالعہ ضروری ہے۔ اپنی جگہ یہ بہت اہم کام ہے کہ کتاب وسنت کے دیے ہوئے معیار پر اس تاریخ کے مختلف ادوار کی قدروقیمت کا تعین (evaluation) ان مختلف انقلابات اور تبدیلیوں کی تعبیر وتوجیہ کے ساتھ ہونا چاہیے جن سے یہ تاریخ گزری ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس تاریخ کے بعض اہم ادوار کا مطالعہ خاصا اختلافی رہا ہے۔ اس کی ایک مثال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت بھی ہے جس پر گزشتہ چند برسوں میں خاصی بحث رہی ہے۔ اس کام کی ا یک اہمیت یہ بھی ہے کہ جدید سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر بحث ومذاکرے کے دوران وسیع پیمانے پر تاریخی نظائر پیش کیے جاتے ہیں۔ کسی مستند evaluation کا فقدان اس طرح کے نظائر کا وزن مشکوک بنا دیتا ہے۔
فقہ
معاصر اسلامی مفکرین کے درمیان دور جدید کی اسلامی قانون سازی میں حجت ہونے یا رہنما بنانے کے لحاظ سے اس فقہی ذخیرے کے مقام کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں جو شروع کی چند صدیوں میں مرتب ہوا تھا۔ اصولی طور پر اللہ نے ہمیں صرف کتاب وسنت کی پابندی کا مکلف بنایا ہے۔ جدید اسلامی قانون سازی میں ہمیں ماضی کے فقہی ذخیرے سے پورا استفادہ کرنا چاہیے لیکن یہ مخصوص زمان و مکان (time and space) میں انسانی ذہن کی پیداوار ہے جس کی پابندی کی نہ کوئی شرعی اور عقلی دلیل ہے، نہ یہ پابندی عملاً مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر علما کا ایک بڑا طبقہ یہ رجحان رکھتا ہے کہ نئی قانون سازی میں کوئی ایسی راہ نہیں اختیار کی جانی چاہیے جو فقہ کے معروف اسکولوں میں سے کسی اسکول نے نہ اختیار کی ہو۔
اس میدان میں تحریک اسلامی کے رہنما عام طور پر صحیح اصولی موقف کے حامل ہیں مگر جب کسی عملی مسئلے پر بحث چھڑجاتی ہے تو ان کے طرز فکر پر بھی علما کے غالب رجحان کا گہرا اثر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس رجحان کے رد عمل میں احوال وظروف اورمزاج عصر کی بیش از بیش رعایت رکھنے والے دانش وروں میں شبہ پیدا ہوتا ہے کہ علما کتاب وسنت کے ساتھ سلف صالح کے اجتہادات کو بھی شریعت کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ دونوں طبقے ایک دوسرے کو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کریں اور باہمی تبادلہ خیال اور بحث وتمحیص کے بعد کسی اعتدال پر مجتمع ہوں۔ بد قسمتی سے ان دونوں طبقوں کے درمیان خوش مزاجی اور انکسار طبع کے ساتھ تبادلہ آرا کا رواج نہیں پڑ سکا اور جو بحثیں ہوتی ہیں، ان کا مواد اور لہجہ کسی صحت مند نتیجے تک پہنچنے کے لیے سازگار نہیں ہوتا۔
کلامی مسائل
ہمارے ماضی کے ورثے میں مرتب شدہ فقہ کے ساتھ دینی فکر کے دوسرے اہم اجزا بالخصوص تشریح عقائد، علم الکلام اور صوفیانہ لٹریچر اور تصوف کی روایات کی بڑی اہمیت ہے۔ مسلمان معاشرہ آج جیسا ہے، اس کی تشکیل میں اس لٹریچر نے، ان علماومشائخ کے توسط سے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، فیصلہ کن حصہ لیا ہے۔ ہمارے نزدیک دینی فکر کے ان دوسرے عناصر کے سلسلے میں تحریک اسلامی کے رہنماؤں کا موقف زیادہ واضح اور صاف رہا ہے، یعنی انہوں نے اسے بحیثیت مجموعی، مخصوص احوال وظروف اور زمان ومکان کے مخصوص تقاضوں کے تحت قرآن وسنت کے انسانی فہم کا اظہار سمجھا ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اسے دور جدید کے انسان کے لیے حجت نہیں قرار دیتے بلکہ اکثر وبیشتر اسے غیر موزوں اور جدید اسلامی ذہن ومزاج کی تشکیل کے لیے مضر سمجھتے ہوئے تمام متعلقہ مسائل پر کتاب وسنت کی روشنی میں آج کے احوال وظروف اور موجودہ زمان ومکان کے تقاضوں کے پیش نظر ازسرنو فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عام علما اور مشائخ نے ان کے اس موقف کو قبول نہیں کیا ہے اور آج بھی مسلمان عوام کے دینی افکار اور ان کے مجموعی مزاج کی تشکیل انہی غیر موزوں اثرات کے تحت ہوتی ہے۔ یہ چیز ایک طرف تو عوام کی مطلوبہ اصلاح میں زبردست رکاوٹ بنتی ہے۔ دوسری طرف پورے مسلم معاشرے میں اس حرکی اقدامی کیفیت کے پیدا ہونے میں مانع ہے جو دور حاضر میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ضروری ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا واضح ہے: علما ومشائخ کے غلط موقف پر تنقید، نئی دینی فکر کی جامع ترتیب، اور مسلمان عوام کی نئی فکری تربیت جو انہیں قدیم کلام اور تصوف کے غیر اسلامی اثرات سے پاک کر کے مطلوبہ مثبت مزاج عطا کر سکے۔ اس تقاضے کی تکمیل اہم اسباب کی بنا پر ابھی نہیں ہو سکی ہے۔
ہر ملک میں اسلامی تحریکوں کو سیکولر دانش وروں کے مقابلے میں اور مسلمان عوام میں نفوذ کے لیے علما ومشائخ کی اہمیت محسوس کر کے ان پر تنقید کا لہجہ نرم کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات سیکولر قیادتوں سے سیاسی کش مکش میں عوامی تائید کی ضرورت نے ان کو اس فکری اصلاح کو نظر انداز یا کم از کم ملتوی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وقتی طور پر یہ طریقہ اختیار کرنا کتنا ہی ناگزیر کیوں نہ نظر آتا ہو، ہمارے نزدیک اس اہم کام کے بغیر خود اس مقصد کا حصول دشوار ہے جس کی خاطر اس کام کو پس پشت ڈالا گیا ہے۔
فوج داری قوانین کا مسئلہ
اسلام کے فوج داری (criminal) قوانین پر عربی میں اچھا کام ہوا ہے جس میں سے بعض چیزیں اردو میں منتقل بھی کی جا رہی ہیں۔
بعض مخصوص شرعی سزاؤں کے سلسلے میں مختلف پہلوؤں کی مزید تحقیق ووضاحت درکار ہے کیونکہ جرم وسزا کے بارے میں جدید فلسفوں اور جدید انسان کے مزاج نے حدود شرعیہ کی نسبت سے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اس وضاحت کا ایک پہلو خود فلسفوں کے تنقیدی جائزے اور اس بارے میں اسلامی فکر کے بیان اور ان حقائق کی یاد دہانی سے تعلق رکھتا ہے جن کی طرف پہلے دو مسائل کے بیان میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔ دوسرا پہلو ہر شرعی سزا پر علیحدہ تفصیلی بحث کا متقاضی ہے۔ چور، زانی، زنا کی تہمت لگانے والے اور برسرجنگ باغیوں کی سزا قرآن میں مقرر کر دی گئی ہے لیکن معاصر اسلامی مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ سزائیں اسلامی معاشرہ برپا ہو جانے کے بعد ہی نافذ کی جانی چاہییں۔ اس اتفاق رائے کی بنیاد یہ ہے کہ ابتدا میں بھی یہ قوانین اسلامی معاشرے کے برپا ہونے کے بعد نافذ کیے گئے تھے۔ نیز سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ غیر معمولی حالات میں بعض شرعی سزاؤں کا نفاذ روک دیا گیا تھا۔ اس اجمالی موقف کی مزید تشریح کے طور پر اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ دور جدید میں ان سزاؤں کا نفاذ کن شرائط کی تکمیل کے بعد کیا جا سکے گا۔
قرآن کریم میں شراب پینے والے کو سزا دینے کا ذکر نہیں مگر یہ بات سنت سے ثابت ہے کہ یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔ نبی ﷺکا شراب خور کو سزا دینا ثابت ہے مگر سزا کی جو کیفیت اور مقدار فقہ مرتب میں بیان ہوئی ہے، اس کی بنیاد خلفاے راشدینؓ کا عمل اور صحابہ کا فیصلہ ہے۔ مذکورہ بالا مباحث کی روشنی میں یہ امر قابل غور ہے کہ جدید اسلامی قانون سازی میں اس بارے میں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے۔
شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے جن متعین مجرموں کے سلسلے میں یہ طریقہ اختیار کیا، ان کے جرم کی نوعیت کی ازسرنو تحقیق درکار ہے تاکہ یہ بات صاف ہو سکے کہ یہ سزا صرف احصان کے باوجود زنا کے ارتکاب کی تھی یا جرم کی نوعیت زیادہ پیچیدہ تھی۔ پھر یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ اصل سزا سزائے موت ہے یا یہ مخصوص طریقہ سزا بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
قرآن کریم میں مرتد کی سزا نہیں بیان ہوئی ہے۔ مرتد کی جو سزا سنت سے ثابت ہے، اس کے ساتھ ہی حضرت عمرؓ کے ایک مشہور اثر کی بنا پر اکثر فقہا مرتد کو تین دن تک توبہ کی مہلت دینے اور اس طرح اس کے شکوک وشبہات کا ازالہ کر کے اسے اسلام کی طرف واپس لانے کی کوشش کو واجب یا کم از کم مستحب قرار دیتے ہیں۔ آزادی ضمیر کی ضمانت دینے کے باوجود ارتداد کو قابل سزا جرم قرار دینا اور اس جرم کی ایک ایسی سزا دینا جو آئندہ اصلاح کے مواقع ختم کر دے، بہت نازک مسئلہ ہے۔ فساد عقیدہ اور بنیادی امور میں اختلاف نیز اہل قبلہ کی تکفیر کے بارے میں موجودہ علما کا طرز عمل اس مسئلے کی سنگینی میں اور اضافہ کر دیتے ہیں کہ مرتد کی تعریف کیا ہوگی اور اس کو کن شرائط کی تکمیل پر سزا دی جا سکے گی؟ اس صورت میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا جب ملزم کو اس بات پر اصرار ہو کہ وہ مرتد نہیں ہوا ہے؟
ترک اسلام کے ساتھ اسلامی ریاست سے بغاوت اور اسلام دشمنی کا مسئلہ علیحدہ ہے۔ نازک تر مسئلہ مجرد تبدیلی دین اور ترک اسلام کی سزا کا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ قتل اس جرم کی آخری سزا ہے یا واحد سزا۔ کیا وجہ ہے کہ مرتد کے شکوک وشبہات دور کرنے کے لیے تین ہی دن کا موقع دیا جائے، مزید وقت دینے میں کون سی دلیل شرعی مانع ہے؟ اور ایک جدید اسلامی ریاست اس بارے میں کوئی قانون بناتے وقت اس حقیقت کو کتنا وزن دے گی کہ اسلامی نظام عرصہ سے معطل رہا ہے اور عہد جدید کے انسان پر حجت اس طرح نہیں تمام ہوئی ہے جس طرح اہل عرب پر ہوئی؟
اقدار کا موضوع
اسلامی تعلیمات کا مدار اخلاقی قدروں پر ہے، شریعت انہی قدروں کی تحصیل متعین احکام وہدایات کے ذریعے کرتی ہے اور یہی قدریں زندگی کے نت نئے مسائل میں انسان کی صحیح راہنمائی کرسکتی ہیں۔
انفرادی اور اجتماعی کردار کی تعمیر، سماجی اداروں کی تشکیل اور جدید مسائل میں نئی اسلامی قانون سازی میں ان قدروں کی رہنما اہمیت مسلم ہے۔ پھر یہی قدریں نظام تعلیم وتربیت میں مقاصد کا درجہ رکھتی ہیں اور مطالعہ حیات میں اسلامی ادیب کے لیے روشنی کے مینار ہیں۔ اخلاقی قدروں کی اس کلیدی اہمیت کے پیش نظر ان کے مطلق یا اضافی ہونے کی بحث بہت اہم ہے۔
اسلامی مفکرین جب اخلاقی قدروں کے مطلق ہونے پر زور دیتے ہیں تو ان کی مراد کیا ہوتی ہے؟ کیا اخلاقی قدروں کا مفہوم احوال وظروف کی تبدیلی کے ساتھ نہیں بدلتا اور ان قدروں کے عملی اظہار کے طریقوں میں تبدیلی نہیں ہوتی؟ کیا انہی باتوں کی تعبیر اس طرح مناسب نہ ہوگی کہ اخلاقی قدروں کے تصور میں ارتقا ہوتا رہتا ہے اور اس ارتقا کے امکانات لامحددود ہیں؟ دور جدید میں نظام تعلیم، قانون، ادب اور سماجی علوم کی تشکیل جدید کے ضمن میں اس بنیادی بحث کا حق نہیں ادا کیا گیا ہے۔
اسلامی فلسفہ تاریخ
اسلام کے نظام فکر وعمل میں اخلاقی قدروں کی اہمیت کے ضمن میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اسلامی مبصر کی نگاہ میں تاریخ انسانی میں اصل کارفرما قوتیں کیا ہیں جن کے حوالے سے ماضی کی توجیہ وتعبیر اور مستقبل کی تعمیر میں رہنمائی حاصل کی جا سکے؟
اسلامی فلسفہ تاریخ کی ترتیب تاریخ انسانی کو ایک مخصوص رخ پر لے جانے کی کوشش کرنے والی اسلامی تحریک کی ایک ناگزیرضرورت ہے۔ اس ضرورت کی تکمیل ہی اس کے طریق کار میں حقیقت پسندی، خود اعتمادی اور اس کی صفوں میں اپنی بالآخر کامیابی کا یقین پیدا کر سکتی ہے۔ اسلامی فلسفہ تاریخ کی ترتیب اور اس کی روشنی میں پوری انسانی تاریخ کی نئی تدوین اس لیے بھی ضروری ہے کہ معاصر فکری مزاج کی تشکیل میں تاریخ کی مادی تعبیر نے اہم حصہ لیا ہے۔
آج تاریخ کا مطالعہ انسانی تاریخ میں روحانی قوتوں اور اخلاقی مقاصد کے عمل سے غفلت برتتا ہے اور ثانوی درجے کے دوسرے عوامل ہی کو فیصلہ کن اہمیت دیتا ہے۔ تاریخ کے اس مطالعہ کو رد کر کے ایک نیا تاریخی شعور حاصل کیے بغیر انسانوں سے کسی تہذیبی انقلاب کی توقع لاحاصل ہے۔
افسوس کہ اس عظیم کام کے سلسلے میں جو ابتدائی کوششیں کی بھی گئی ہیں، ان کا بہت کم نوٹس لیا گیا ہے اور بظاہر اس کام کے آگے بڑھنے کے کوئی آثار نہیں نظر آتے۔ اسلامی مفکرین کی توجہات زیادہ تر ان مسائل پر مرکوز ہیں جو مخصوص سیاسی یا کلامی فضا کی وجہ سے فوری اہمیت حاصل کر گئے ہیں مگر جب تک اسلامی انقلاب کی اس جیسی بنیادی فکری ضرورتوں کو نہیں پورا کیا جاتا، عصر حاضر کے مزاج کی اصلاح ناممکن ہوگی۔
معاشرتی مسائل
پردہ:
معاشرے میں عورت کے مقام اور اس کے سیاسی اور سماجی حقوق کے سلسلے میں تحریک اسلامی کے صف اول کے مفکرین کے درمیان بھی بنیادی اختلافات موجود ہیں۔ الاخوان المسلمون کے رہنما مصر وشام کے دوسرے علما کی طرح عورت کے لیے اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ کھلا رکھنے کو جائز سمجھتے ہیں اور یہی ان کے نزدیک اصل شرعی حکم ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما صرف ضرورت کی بنا پر ایسا کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور عام حالات میں چہرے کے پردے کے قائل ہیں۔ جو لوگ اس اختلاف سے واقف ہیں، ان کے لیے یہ بڑا دشوار ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے علما کی رائے کو خدا کی شریعت کا درجہ دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص خود کتاب وسنت سے مسئلے کی پوری تحقیق نہیں کر سکتا۔
یہ مسئلہ بہت اہم ہے اور عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعلیمی، سماجی اور بسا اوقات معاشی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں نے اسے اور زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ دونوں رائیں اپنے دلائل کے ساتھ سامنے آئیں۔ اسلامی تحریکیں بالخصوص اور مسلمان معاشرہ بالعموم ایک ایسا مزاج اختیار کرے جو مخلص مسلمانوں کو اختلافی مسائل میں اس بات کی پوری آزادی دے کہ وہ جس رائے کو زیادہ وزنی پائیں، اسے عمل کی بنیاد بنائیں۔ رواج کے قہر یا سماج کے دباؤ کے ذریعے کسی ایک رائے کا نفاذ اسلامی تحریک اور مسلمان معاشرے کے لیے نہ صرف نتیجے کے اعتبار سے مہلک ہوگا بلکہ دینی اعتبار سے بھی غلط ہوگا۔
اس سیاق میں یہ بات قابل افسوس ہے کہ مسلمانوں کی کسی دینی یا اصلاحی تحریک نے اپنی قوتوں کا کوئی قابل لحاظ حصہ اس اہم کام پر صرف نہیں کیا کہ ایسی صاحب علم خواتین تیار کرے جو پوری ذمہ داری کے ساتھ ان جیسے مسائل پر غور وفکر اور تحقیق کا حق ادا کر سکیں اور کسی ایک رائے تک پہنچنے میں مدد کر سکیں۔ جب تک یہ کمی پوری نہیں ہوتی، ان مسائل پر غور وفکر کرنے والوں کی ایک مخصوص ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ دور جدید کی مسلمان عورت کی علمی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی ضروریات اور حوصلوں کی پوری رعایت ملحوظ رکھیں۔
عورت کے سیاسی حقوق:
عورت کے سیاسی حقوق پر غور کرتے وقت ہم اس ضرورت کو زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ مسلم ممالک میں تحریک اسلامی کے مفکرین نے اس مسئلے میں مختلف موقف اختیار کیے ہیں۔
انتخابات میں رائے دہی، مجالس قانون ساز کی رکنیت، مناصب حکومت پر تقرر، ہر مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے اور گزشتہ ۵۰ برسوں میں تبدیلی رائے کی بھی دل چسپ مثالیں ملتی ہیں۔ مسئلے کو سلجھانے کے لیے چند بنیادی امو رپر ازسرنو غور ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ آیت قرآنی: وامرہم شوری بینہم میں ہم کی ضمیر صرف مسلمان مردوں کی طرف راجع ہے یا مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف۔
یہی سوال قرآن وسنت کے بعض دوسرے نصوص کی تعبیر کے سلسلے میں بھی پیدا ہوگا۔ عہد نبوت اور خلافت راشدہ کا تعامل بھی تحقیق طلب ہے اور یہ مسئلہ بھی تنقیح کا محتاج ہے کہ اگر اجتماعی امور پر مشورے میں مردوں کی نسبت عورتوں کی شرکت کم رہی تھی تو اس کے اسباب مقامی اور عارضی تھے یا شارع جل شانہ کے کسی دائمی منشا کی تکمیل کے لیے ایسا کرنا ضروری سمجھا گیا تھا۔
یہی سوال اس دور کے سیاسی، سماجی، معاشی اور زندگی کے بعض دوسر ے مظاہر کی نسبت سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اتنے اہم مسائل جن کا تعلق انسانوں کی نصف تعداد کے اہم حقوق سے ہو، بڑی ذمہ داری اور باریک بینی کے متقاضی ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہمارے فیصلے کا مدار کتاب وسنت پر ہو۔
اگر کوئی مفکر نفسیاتی، حیاتیاتی مطالعے کی روشنی میں اور متعلقہ مصالح کے ذاتی فہم کی بنا پر کوئی رائے رکھتا ہے تو اس رائے کو صرف اس دائرے میں کوئی وزن دیا جا سکتا ہے جس میں کتاب وسنت سے کوئی واضح رہنمائی نہ ملتی ہو۔ ہمارے نزدیک اس مسئلے اور متعلقہ مسائل پر غور وبحث کے دوران میں یہ فرق ملحوظ نہیں رکھا جا سکا ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ مزید بحث وتحقیق کے ذریعے کسی رائے تک پہنچا جائے۔
جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں، اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ اس غور وبحث میں مرد علما اور اصحاب رائے کے ساتھ ہی ساتھ صاحب علم وبصیرت، دین دار خواتین بھی پور احصہ لیں۔ اگر آج ایسی خواتین کی کمی ہے تو ہمیں ان کی ضرورت واہمیت محسوس کر کے ایسے اقدامات کرنے چاہییں کہ یہ کمی جلد از جلد پوری ہو۔
ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر اس ضرورت کی عدم تکمیل کے سبب ہم نے اسلامی معاشرے کو اس انداز پر تشکیل دینا چاہا جسے خود دین دار خواتین بھی دل سے قبول نہ کرتی ہوں تو خطرناک نتائج رونما ہو سکتے ہیں۔ ان خطرات کے سدباب کا واحد محفوظ طریقہ عورتوں میں علم وبصیرت پیدا کرنا اور ان مسائل کی بابت کیے جانے والے فیصلوں میں ان کی شرکت ہے۔
عائلی قوانین میں اصلاح:
اسلام کی عائلی قوانین یا پرسنل لا کی جو دفعات کتاب وسنت سے ماخوذ اور متفق علیہ ہیں، ان کی حکمتوں اور مصالح کے بیان پر نیز ان پر مغرب کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں اردو اور عربی میں خاصا لٹریچر موجود ہے جو کسی حد تک جدید ذہن کو مطمئن بھی کر سکتا ہے مگر جو چیز کھٹکتی ہے، وہ ایسا اختلاف ہے جو جزئی امور میں اصلاح وترمیم، اور ریاست کی مداخلت اور نئی ضابطہ بندی کے ذریعے عدل وانصاف کی ضمانت دینے کے باب میں تحریک اسلامی کے مفکرین کے درمیان پایا جاتا ہے۔ کسی حد تک اختلاف سے تو مفر نہیں مگر جتنا اختلاف اس باب میں نظر آتا ہے، وہ بہت کچھ کم ہو جاتا اگر ایک دوسرے کی رایوں سے واقف ہو کر بحث ومذاکرے کے ذریعے اختلافات میں کمی کی کوشش کی جاتی۔
یہاں تفصیل کا موقع نہیں، صرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً پاکستان میں علما اور جماعت اسلامی نے جو موقف اختیار کیا، وہ اپنی تفصیلات میں اس موقف سے بہت مختلف ہے جو مصر، شام اور مراکش وغیرہ کے بعض علما اور الاخوان المسلمون کے رہنماؤں نے اختیار کیا ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ غیر مسلم ممالک کے مسلمانوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
تعدد ازدواج کے حق کی تحدید اور ضابطہ بندی، طلاق کے اختیار کو بعض آداب کا پابند بنانا، حق خلع کی تجدید، مطلقہ کے حقوق، ایک ساتھ تین طلاقوں کامسئلہ، صغیرہ کے نکاح، ولایت اجبار اور خیاربلوغ کے مسائل، نیز یتیم پوتے کی وراثت کے ضمن میں جبری وصیت کا مسئلہ اس دائرے کے چند ایسے مسائل ہیں جن پر غور وفکر ضروری ہے۔
غیر مسلموں کے سیاسی حقوق
دور جدید میں قائم ہونے والی اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے سیاسی اور مدنی حقوق کا مسئلہ بھی نازک اور اہم ہے۔ اگرچہ تحریک اسلامی کے رہنماؤں نے اس بارے میں خاصاحقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا ہے مگر عام ذہنوں پر مغرب کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا کافی اثر ہے۔
موجودہ موقف یہ ہے کہ رائے دہندگی اور مجالس قانون ساز کی رکنیت نیز دوسرے مدنی حقوق میں ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ برتا جائے گا البتہ یہ مجالس ازروے دستور اس بات کی پابند ہوں گی کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتیں۔ اسلامی ریاست کا صدر مملکت لازماً مسلمان ہوگا اور اس کی شوریٰ صرف مسلمانوں پر مشتمل ہوگی۔ غیر مسلموں سے جزیہ لینا ضروری نہیں اور انہیں فوجی خدمات سے مستثنیٰ رکھنا مناسب ہوگا۔
ان میں سے پہلی بات یعنی صدر ریاست کا مسلمان ہونا متفق علیہ اور ہر ایک کے لیے قابل فہم ہے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ جس دستوری پابندی کے تحت مجالس قانون ساز میں غیر مسلموں کی شرکت روا رکھی گئی ہے، اسی دستوری پابندی کے تحت کابینہ یا شوریٰ کی کسی دوسری شکل میں ان کی شرکت کیوں نہیں روا رکھی جا سکتی ہے؟
فوجی خدمات کو کسی حالت میں بھی غیر مسلمانوں کے لیے لازمی نہ قرار دینا ایک معقول بات ہے لیکن اگر وہ خود کو اس خدمت کے لیے پیش کریں تو ان کے لیے اس کا دروازہ بند کرنا ضروری نہیں معلوم ہوتا۔ یہ بات زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے کہ فوجی خدمت اور دوسرے مناصب پر تقرر کا معیار دستور سے وفاداری کو بنایاجائے اور اس اصولی موقف کے ساتھ عملی طور پر انتخاب یا تقرر میں متعلقہ غیر مسلم افراد کے واقعی رجحانات اور کردار کو بھی نظر میں رکھا جائے۔
اسی طرح مسلمانوں اور اسلام کے کسی اہم مفاد کو مجروح کیے بغیر غیر مسلموں کو ان تمام سیاسی اور مدنی حقوق کی ضمانت دی جا سکتی ہے جو دور جدید کی کسی ریاست کے شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں یا جن کا شمار مجلس اقوام متحدہ نے بنیادی انسانی حقوق میں کیا ہے۔ اپنے موقف کی تعیین اور اس کے بیان میں مزاج عصر کی رعایت رکھنے میں اس حد تک کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا جس حد تک نہ کسی متعین شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم آتی ہو، نہ اسلام اور مسلمانوں کا کوئی اہم مفاد مجروح ہوتا ہو۔
اس بارے میں مسلم ممالک میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کے موقف کی تعیین میں دنیا کی رائے عامہ اور غیر مسلم ممالک میں بسنے والی مسلمان اقلیتوں کے مفاد ومصالح کی رعایت رکھنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلام کے مجموعی مفاد کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو جملہ سیاسی اور مدنی حقوق اور اسلام کی طرف دعوت دینے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوں۔ زیر غور مسئلہ میں، شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے فراخ دلانہ پالیسی اختیار کرنے اور اس کو مزاج عصر سے مناسبت رکھنے والے انداز میں سامنے لانے سے اس مفاد کے تحفظ میں مددملے گی۔
مسلمان اقلیتوں کا سیاسی مسلک
غیر مسلم اکثریت والے آزاد ممالک میں بڑی تعداد میں رہنے والے مسلمانوں کے اپنے ملک کے سیاسی نظام سے تعلق کی نوعیت بھی مذکورہ بالا مسئلے سے کم اہم نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تعلق ان کی سیاسی قوت اور اس کے نتیجے میں ان کی تعلیمی اور معاشی حالت پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے۔ ان مسلمانوں کی سیاسی قوت، تعلیمی اور معاشی حالت کی اس داعیانہ کردار کے لیے بھی اہمیت ہے جو انہیں ان ملکوں میں اختیار کرنا چاہیے ۔ اب تک یہ سمجھا گیا ہے کہ انسانوں کو حاکمیت الٰہ کی طرف دعوت دینا اس بات کو مستلزم ہے کہ جس ملک میں حاکم اعلیٰ جمہور کو قرار دیا گیا ہو، اس کے سیاسی نظام سے کنارہ کش رہا جائے۔ یہ موقف نظر ثانی کا محتاج ہے۔ قانون سازی، تشکیل حکومت اور انتظام ملکی میں فعال حصہ لے کر اپنی سیاسی قوت میں اضافہ اور تعلیمی ومعاشی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ خود ملک کی رائے عامہ پر اثر انداز ہونا زیادہ آسانی سے ممکن ہوگا۔
ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حاکمیت الٰہ کا عقیدہ اور اس کی طرف دعوت، اصولی طور پر ایسا کرنے میں مانع ہے۔ اس مسئلے پر کھل کر بحث ومذاکرہ ہونا چاہیے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ بحث مسلم ممالک کے اسلامی مفکرین کی شرکت سے محروم رہے۔ اگر مستقبل میں اسلامی تحریکوں کا منتہائے نظر صرف مسلم ممالک میں اسلامی نظام کا قیام نہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلامی انقلاب ہے تو اس مسئلے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
معاشی مسائل
اسلام اور معاشی ترقی:
اگرچہ معاصر اسلامی فکر کے بعض توجہ طلب پہلوؤں کی نشان دہی میں ہم معاشی مسائل کا ذکر سب سے آخر میں کر رہے ہیں، مگر یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ دور جدید میں ان مسائل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
بہت سے جدید ذہنوں کی اسلام اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں بے دلی یا مخالفت ان مسائل سے وابستہ ہے۔ بہت سے مسلم دانش ور یہ احسا س رکھتے ہیں کہ بعض اسلامی تعلیمات معاشی ترقی کے لیے ناسازگار ہیں اور اسلام تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے ایجابی طور پر سازگار فضا پیدا نہیں کر سکتا۔ مسلمان ماہرین معاشیات نے اپنے مغربی اساتذہ سے یہ سیکھا ہے کہ صنعتی ترقی کا ایک لازمی نتیجہ اور تیز رفتار ترقی کی ایک شرط روایتی سماج کے شیرازے کا منتشر ہونا ہے۔ ان دانش وروں کا تصور اسلام روایتی مذہب کے تصور سے زیادہ نہیں اور اسلام کے مطالعے کی کمی کے سبب وہ مشرق کے مسلمان ممالک کے روایتی سماج ہی کو اسلامی سماج سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ان کا ذہن یہ بات بھی تقریباً قبول کر چکا ہے کہ اسلام تیز رفتار معاشی ترقی کے صدمات نہ سہہ سکے گا۔
اگر تحریک اسلامی کو نئے اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنے ماہرین معاشیات کا تعاون حاصل کرنا ہے تو ان کی ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے۔ معاشی ترقی کے حقیقی تقاضوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اسلام کے حرکی رجحانات کی مخفی قوتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہیے کہ کس طرح وہ معاشی ترقی کے لیے سازگار فضا بناتے ہیں۔ قدرتی طورپر ہمیں ان امور سے بھی بحث کرنی ہوگی کہ اسلام میں ترقی آخری مقصود کا نہیں بلکہ فلاح انسانی کا درجہ رکھتی ہے۔
اس ذیل میں بیش از بیش سامان حیات پیدا کرنے، معیار زندگی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ چاہنے، انسانی ضروریات میں بے تحاشا وسعت پیدا کرتے چلے جانے اور فرد انسانی کو مزید سامان حیات کی کبھی نہ تشفی پانے والے طلب کے دباؤ کے تحت مصروف محنت رکھنے کے معاصر مقاصد ومناہج پر تنقید بھی ضروری ہوگی۔ زندگی کے روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی پہلوؤں کے اہم تقاضوں پر زور دیتے ہوئے معاشی ترقی کے سلسلے میں ایک ایسا معتدل نقطہ نگاہ سامنے لانا ہوگا جو مقام انسانیت کے شایان شان ہو۔
اسلام کے مجموعی نظام اقدار کے پس منظر میں معاشی قدروں کے صحیح مقام کی تعیین کے بعد یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ اسلام مطلوبہ معاشی ترقی کے لیے قوی محرکات فراہم کرتا ہے اور اس کا اجتماعی نظام اس کے اہتمام کا ذمہ دار ہے۔ اس موضوع پر اب تک بہت کم لکھا گیا ہے۔ موجودہ لٹریچر عام لوگوں کے لیے کچھ مفید ہو سکتا ہے مگر معاشیات کے ماہرین کے لیے تشفی بخش نہیں ہے۔
پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کی بحث:
دور جدید میں معاشی ترقی، معاشی عدل کے قیام اور فی الجملہ زندگی کی تنظیم میں انفرادی اور نجی کوششوں کی اہمیت روز بروز کم ہوتی جاتی ہے اور تعاون باہمی پر مبنی اداروں نیز ریاست کا دائرہ عمل وسیع تر ہوتاجا رہا ہے۔ یہ کسی مخصوص فلسفے کا اثر نہیں بلکہ جدید ٹکنالوجی کا نتیجہ ہے جو اشیا کی پیداوار کے لیے بڑے پیمانے پر اہتمام، طویل عرصہ پیداوار اور اس کے تقاضے کے طور پر پیداواری منصوبہ بندی اور کامیاب منصوبہ بندی کے لیے رسد اور طلب نیز خام اشیا اور تیار شدہ سامانوں کی قیمتوں میں یک گونہ استقرار کی طالب ہے۔ ایک اسلامی معیشت میں پبلک سیکٹر، کوآپریٹو سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کے اضافی مقامات پر اور صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے یا نہ لینے کے مسئلے پر غور کرتے وقت انفرادی حقوق اور شورائی نظام کے تقاضوں کے ساتھ جدید ٹکنالوجی کے ان تقاضوں کو بھی پوری طرح سامنے رکھنا ہوگا۔ متعلقہ عملی مسائل میں فیصلہ کا مدار مصالح کو بنانا چاہیے اور یہ ظاہر ہے کہ اکثر اوقات بالاتر مصالح کے حصول کے لیے کم تر مصالح کی قربانی یا ان کے تحفظ کے لیے دوسری تدابیر اختیار کرنا بھی لازم آئے گا۔
اس مسئلے پر جو لٹریچر ہمارے سامنے ہے، اس کا بیش تر حصہ مستقبل کی اسلامی ریاست کے متوقع مسائل کو سامنے رکھ کر تیار نہیں ہوا ہے، بلکہ غیر اسلامی معاشی نظاموں کے رد میں تیار ہوا ہے۔ اصل ضرورت ایک ترقی پذیر اسلامی ریاست کے لیے موزوں معاشی پالیسی مرتب کرنے کی ہے اور اس مسئلے میں اصل اہمیت اصطلاحوں کے ترک وقبول کی نہیں بلکہ پالیسی کے ایسے رہنما اصول وضع کرنے کی ہے جو قومی ملکیت میں لینے، تحدید ملکیت، مسئلہ ملکیت زمین، آزادی کاروبار کے حدود اور معاشی منصوبہ بندی جیسے امور میں موزوں فیصلوں کی بنیاد بن سکیں۔
بلاشبہ اس کام کا حق تو اس وقت ادا کیا جا سکے گا جب کسی ملک میں اسلامی نظام عملاً قائم ہو جائے مگر خود ایسا ہونا اب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم مسلمان دانش وروں اور ماہرین معاشیات کو خصوصاً اور دور جدید کے انسان کو عموماً اس بات پر مطمئن کر سکیں کہ اس سلسلے میں تحریک اسلامی ایک واضح، حقیقت پسندانہ اور حرکی موقف اختیار کرتی ہے۔
غیر سودی معیشت:
اسلام میں سود کی حرمت اور معاصر معاشی نظاموں میں سود کی کلیدی اہمیت اکثر جدید تعلیم یافتہ افراد کو الجھن میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سود کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کے بعد بنک کاری، نظام زر وکریڈٹ، تجارت خارجہ، بین الاقوامی مالی تعلقات کن بنیادوں پر منظم کیے جا سکیں گے؟ بہت سے مسلمان بھی یہ خیال رکھتے ہیں کہ بنک کا سود ان خرابیوں سے پاک ہے جو قرآن کے حرام کیے ہوئے ربا میں پائی جاتی ہیں۔ اس غلط فہمی کے ازالے، حرمت سود کی حکمتوں کے بیان اور مذکورہ بالا امور کی تنظیم کے لیے متبادل بنیادوں کی وضاحت پر جو کام اب تک کیا گیا ہے، وہ ابتدائی معیار کا ہے۔ مزید تفصیلات پر غور اور متبادل نظام کی فنی وضاحت درکار ہے۔ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ تاریخ انسانی میں بالعموم اور معاصر دنیا میں بالخصوص سودکے کردار اور اس سے پیدا ہونے والی حق تلفیوں، عدم توازن اور فساد پر گہرا تجزیاتی اور معلوماتی کام کیا جائے۔ ساتھ ہی سود کی وضاحت کرنے والے اور اس کا جواز فراہم کرنے والے علمی نظریات پر علمی تنقید کا کام بھی آگے بڑھانا چاہیے۔
انشورنس:
صنعتی دور میں انشورنس ایک اہم کاروباری ضرورت ہے۔ انشورنس کارخانہ دار کے لیے یہ ممکن بنا دیتی ہے کہ وہ ایک متعین سالانہ صرفہ برداشت کر کے ناگہانی خطرات کے مالی عواقب سے بے نیاز ہو جائے۔ اس تحفظ کے بغیر وسیع پیمانے پر صنعتی پیداوار کی تنظیم دشوار ہے۔ یہی ضرورت زندگی کے دوسرے دائروں میں بھی پیش آتی ہے۔ موت کے وقت کے عدم تعین کے سبب افراد زندگی کی انشورنس کے ذریعے موت کے مالی عواقب سے تحفظ چاہتے ہیں۔
ان تمام صورتوں میں تحفظ کی بنیاد یہ فنی حقیقت فراہم کرتی ہے کہ جس خطرے کا وقوع افراد کے لیے مجہول اور غیر متعین ہوتا ہے، اسی خطرے کا افراد کے ایک بہت بڑے مجموعے میں وقوع حسابی طور پر معلوم اور متعین ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر تعاون باہمی کے اصول پر افراد کے مجموعے خطرات کے مالی عواقب برداشت کرنے اور فرد واحد کے لیے ان کی شدت کم کرنے کا اہتمام کر سکتے ہیں اور اسی بنیاد پر تجارتی کمپنیاں بڑی تعداد میں افراد سے انشورنس کے معاہدے کر کے مذکورہ بالامقاصد حاصل کرنے کے ساتھ خود نفع کماتی ہیں اور اسی بنیاد پر اجتماعی نظام سوشل انشورنس کی مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔
ان حقائق کے پیش نظر اسلامی معاشرے کے لیے چند بنیادی سوالات غور طلب ہیں: پہلا سوال یہ ہے کہ وہ اس ضرورت کو زندگی کے تمام دائروں میں اجتماعی نظام کے زیر اہتمام پورا کرے گا یا بعض دائروں میں ایسا کرے گا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہر دائرے میں اس ضرورت کی تکمیل کا اہتمام ریاست کے سپرد نہ کیا جا سکتا ہو تو ایسے دائروں میں صرف تعاون باہمی پر مبنی اداروں کو روا رکھا جائے گا یا تجارتی انشورنس کو بھی بعض دائروں میں گوارا کیا جائے گا؟
انشورنس کا موجودہ نظام سود سے ملوث ہے مگر سود کے بغیر انشورنس کی تنظیم جدید اس سے کہیں زیادہ آسان ہے جتنی بنک کاری کی تنظیم جدید۔ اس حقیقت کو سامنے نہ رکھنے اور بڑی حد تک انشورنس کمپنی کی فنی بنیادوں سے ناواقفیت کی وجہ سے اس موضوع پر ظاہر کی جانے والی آرا میں بہت کم وزن ہے۔ اردو میں اس پر کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں میں عربی میں ا س پر کئی مقالات لکھے گئے ہیں مگر اب تک مسئلہ صاف نہیں ہوا ہے۔ انشورنس کمپنی کی فنی بنیادوں کے پیش نظر بعض علما کی یہ رائے کہ اس میں قمار پایا جاتا ہے، نظر ثانی کی محتاج معلوم ہوتی ہے۔ مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر اس کی مزید تحقیق اور جامع بحث کی ضرورت ہے۔
نظام محاصل:
دور جدید کی اسلامی معیشت کے نظام محاصل پر کسی جامع کام کی ضرورت ہے۔ اگرچہ متعدد معاصر فقہا ومفکرین نے مال کی نئی قسموں مثلاً کمپنیوں کے حصص، مشینوں اور کارخانوں اور کرایہ پر دیے جانے والے مکانات وغیرہ کے سلسلے میں زکوٰۃ کے وجوب پر روشنی ڈالی ہے، مگر ابھی اس سلسلے کے تمام مسائل کا احاطہ نہیں کیا جا سکا اور زیر غور مسائل میں اختلاف رائے کم کرنے کے لیے بحث وفکر کی رفتار بہت سست ہے۔
مثال کے طور پر یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ کاروباری پیمانے پر کی جانے والی زراعت کے سلسلے میں شرعی محصول کیا ہوگا؟ عشر وزکوٰۃ کے مصارف اور جدید حالات میں ان کے مطابق عمل کی صورتیں کیا ہوں گی؟ اس بارے میں بھی مزید غور وبحث کی ضرورت ہے۔ اس سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ شرعی محاصل اور مزید محاصل، مالیاتی پالیسی (fiscal policy) اور سماجی تحفظ پر روشنی ڈالتے ہوئے غیر سودی اسلامی معیشت کے پس منظر میں ایک جامع نظام تجویز کیا جائے۔
تحدید نسل:
آج کل کم ترقی یافتہ ممالک کی معاشی پالیسی میں تحدید نسل نے بھی ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ انفرادی سطح پر ضبط ولادت کا مسئلہ قومی پیمانے پر آبادی کو کنٹرول کرنے کے مسئلے سے بڑی حد تک علیحدہ ہے لیکن اس موضوع پر معاصر بحث ومذاکرہ اول الذکر مسئلے کے زیر سایہ شروع ہوا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض مفکرین اس بارے میں غیر معمولی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ جہاں تک پہلے مسئلے کا سوال ہے، اس پر اس بڑے مسئلے کے پس منظر میں غور کرنا چاہیے جس کا ذکر معاشی ترقی کے تصور اور مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر مزید تحقیقی کام کی اور بحث ومذاکرے کے ذریعے موجودہ اختلاف رائے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور)
این آر بی کی طرف مجوزہ آئینی ترامیم منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان کا پس منظر اور بنیاد صدر پاکستان کا وہ فرمان ہے جس کے مطابق انہوں نے واقعیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’طاقت‘‘ کے تین ستونوں کی نشان دہی کی ہے: صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف۔ صدر محترم کا فرمان ہے کہ ان تینوں کے درمیان ’’توازن‘‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ مجوزہ آئینی ترامیم کا سرسری مطالعہ ہی واضح کر دیتا ہے کہ اصل اہتمام صدر کو ’’فنا فی الدستور‘‘ کرنے کا کیا جا رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ترمیمی پیکج تیار کرنے والے ’’تھنک ٹینک‘‘ نے سردھڑ کی بازی لگاتے ہوئے اکیسویں صدی کے تقاضوں کے پیش نظر صدر کے فنا فی الدستور ہونے کو توازن قرار دے کر دستوری میدان میں ’’اجتہادی قدم‘‘ اٹھایا ہے۔ رہے معترضوں کے اعتراضات تو وہ حرف غلط کی طرح مٹا دیے جائیں گے۔ کسی کی کج فہمی، لا علمی اور رجعت پسندی کو ’’ترقی اور خوش حالی‘‘ کی راہ میں آخر کیوں حائل ہونے دیا جائے؟
مجوزہ ترامیم میں ’’توازن‘‘ دیکھتے ہوئے ایک سوال فوراً ابھرتا ہے کہ آخر اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بہت سیدھا، شفاف اور حقیقت پسندانہ عمل تو یہ ہے کہ ایسی ترمیم لائی جائے جس کے مطابق وہی شخص صدر پاکستان ہوجو آرمی چیف ہو۔ آخر اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ اگر عالمی برادری میں ’’توا‘‘ لگنے کا ڈر ہے تو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کو صدارتی عہدہ بھی سونپ دیا جائے۔ اس سے سیاست دانوں کو بھی فائدہ ہوگا کہ ’’گھر‘‘ میں لڑائی پڑ جائے گی۔ آرمی چیف کی کوشش ہوگی کہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ بھی اس کے پاس رہے لہٰذا مستقبل میں کسی آرمی چیف کو اپنی ایک ’’اضافی ٹوپی‘‘ کسی دوسرے کے سر پر رکھنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی، البتہ ’’اضافیت‘‘ دوسروں کے لیے برقرار رہے گی۔
ترمیمی پیکج کی رونمائی سے پہلے اس بات کا اعادہ بھی کیا جا رہا تھا کہ صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان اختیارات کے حوالے سے ’’روک ٹوک اور توازن‘‘ (Check & Balances) کا نظام قائم کیا جا ئے گا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے سیاسیات کے طالب علم کا ذہن فوراً شمالی امریکہ کی طرف جاتا ہے جہاں حکومت کے تینوں شعبوں یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان روک ٹوک اور توازن قائم کیا گیا ہے تاکہ کوئی شعبہ ’’آمر‘‘ نہ بن سکے۔ مثلاً دیکھیے کہ انتظامیہ کا سربراہ یعنی امریکی صدر امریکی کانگرس پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے:
۱۔ صدر اپنی تجاویز زبانی یا تحریری طور پر کانگرس کو بھیج سکتا ہے۔ صدر جب بھی ضروری سمجھے، دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کر سکتا ہے۔ صدر، کانگرس کے عمومی اجلاس نہیں بلا سکتا لیکن کسی بھی نوعیت کی ہنگامی صورت میں صدر کو خصوصی اجلاس بلانے کی اجازت ہے۔
۲۔ صدر، کانگر س کے منظور کردہ مسودے کی منظوری دیتا ہے۔ وہ چاہے تو حق استرداد (ویٹو) استعمال کرتے ہوئے مسودے کو مسترد کر دے۔ ۱۷۸۹ء سے اب تک امریکی صدور استرداد کا حق سات سو سے زیادہ دفعہ استعمال کر چکے ہیں۔ مسترد شدہ مسودوں میں سے صرف چالیس کانگرس کی دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل کر کے دوبارہ زندگی پا سکے ہیں کیونکہ امریکی سسٹم کے مطابق سادہ اکثریت سے پاس کیے ہوئے مسودے کو اگر امریکی صدر مسترد کر دے تو امریکی کانگرس دو تہائی اکثریت سے ایسے مسودے کو دوبارہ زندگی بخش سکتی ہے۔ اس صورت میں صدارتی منظوری کی ضرورت نہیں رہتی۔
۳۔ امریکی کانگرس میں ’’کمیٹیاں‘‘ بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ انہیں Little Legislatures کہا جاتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ قانون سازی اصل میں یہی کمیٹیاں کرتی ہیں۔ امریکی صدر ان کمیٹیوں کے ارکان سے رابطہ رکھتا ہے جس سے قانون سازی کے معاملات میں صدر کا بھی کچھ نہ کچھ عمل دخل ہو جاتا ہے۔
۴۔ امریکی کانگرس میں صدر کی سیاسی جماعت کے ارکان بھی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے ذریعے سے بھی امریکی صدر، کانگرس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس مختصر جائزے سے معلوم ہوا کہ کانگرس قانون سازی کے معاملات میں ’’آمر‘‘ نہیں بن سکتی۔ امریکی صدر آمرانہ رجحانات کو روکنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ کانگرس، امریکی صدر کو کیسے کنٹرول کرتی ہے؟
۱۔ امریکی صدر اعلیٰ عہدے داروں کا تقرر کرتا ہے۔ ان تمام تقرریوں کی حتمی منظوری امریکی کانگرس کے ایوان بالا یعنی سینٹ کے ارکان کی دو تہائی اکثریت دیتی ہے۔ سینٹ اب تک کئی صدارتی تقرریوں کو مسترد کر چکی ہے۔
۲۔ امریکہ دوسرے ممالک سے جو معاہدے کرتا ہے، ان کی حتمی منظوری امریکی سینٹ دیتی ہے۔ وڈرو ولسن نے ۱۹۱۹ء میں معاہدۂ وارسائے پر دستخط کر دیے تھے لیکن امریکی سینٹ نے توثیق کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے امریکہ لیگ آف نیشنز کا ممبر نہیں بن سکا تھا۔ سینٹ کی منظوری کے بغیر امریکی صدر جنگ یا صلح کا اعلان نہیں کر سکتا اور نہ امریکی فوج کو بیرون ملک بھیج سکتا ہے۔
۳۔ صدارتی ویٹو کو کانگرس دو تہائی اکثریت سے بے اثر کر سکتی ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔
۴۔ صدر کے کسی بھی انتظامی حکم نامے اور پالیسی کو ختم کرنے کے لیے کانگرس ’’قانون‘‘ بنا کر صدر کو بے بس کر سکتی ہے۔
۵۔ صدر کے مواخذے کا اختیار بھی امریکی کانگرس کے پاس ہے۔
۶۔ صدارتی انتخابات میں اگر کوئی امیدوار واضح اکثریت نہ لے سکے تو زیادہ ووٹ لینے والے تین صدارتی امیدواروں کے نام ’’ایوان نمائندگان‘‘ جو کہ کانگرس کا ایوان زیریں ہے، کے رو برو پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ ایوان، صدر کا انتخاب کرتا ہے۔
۷۔ صدر کے ماتحت تمام محکموں اور ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کی منظوری کانگرس دیتی ہے۔
ان طریقوں سے کانگرس، صدر کو خاصی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے۔
جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے، اسے بھی روک ٹوک اور توازن کے نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا اختیار صدر کے پاس ہے، سینٹ اس کی منظوری دیتی ہے اور ججوں کو معزول کرنے کا اختیار کانگرس کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ صدر کے نافذ کردہ احکام اور کانگرس کے بنائے ہوئے قوانین کو ’’آئین سے متصادم‘‘ ہونے کی صورت میں کالعدم قرار دے۔ تقریباً ۸۴ وفاقی اور ریاستی قوانین کو اس طرح ختم کیا گیا ہے۔ ان میں سے اکثر کے بعض پہلوؤں پر گرفت کرتے ہوئے جزوی طور پر ختم کیا گیا۔ اس کے علاوہ تقریباً ۳۵ صدارتی احکام کو آئینی مقام دینے سے انکار کر دیا گیا۔
اس مختصر سے جائزے سے یہ واضح ہوا کہ روک ٹوک اور توازن کسے کہتے ہیں؟ این آر بی کا یہ دعویٰ کہ آئینی ترامیم کے نئے پیکج میں صرف ناگزیر ترامیم کرتے ہوئے وز یر اعظم کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس رکھا گیا ہے، خاصا حیران کن ہے۔ این آر بی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’’کسی کے اختیارات پر اثر انداز ہوئے بغیر‘‘ اچھی حکومت (Good Governance) کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ این آر بی کے کارپردازوں کی قابلیت اور بیانات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ’’تجاہل عارفانہ‘‘ کا فن ان پر ختم ہے۔
اگر صدر محترم ’’فنا فی الدستور‘‘ ہونے سے بچنا چاہتے ہیں تو نہایت مودبانہ گزارش ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے بجائے سوئٹزر لینڈ کی طرز پر ’’وفاقی کونسل‘‘ قائم کی جائے جس کے سات ارکان ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کی وفاقی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی کونسل کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ ارکان کی میعاد چار سال ہے۔ عموماً ایک بار منتخب ہونے والے کونسلرز بار بار منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ بعض ایسے کونسلرز بھی ہوئے ہیں جنہیں بیس سے تیس سال تک وفاقی کونسل میں بار بار منتخب کیا جاتا رہا۔ وفاقی کونسل کے سات ارکان میں سے کسی ایک کو وفاقی اسمبلی ایک سال کے لیے سوئٹزر لینڈ کا صدر اور دوسرے کو نائب صدر منتخب کرتی ہے۔ کوئی فرد مسلسل دو سال صدر یا نائب صدر منتخب نہیں کیا جا سکتا۔ صدر کونسل کی صدارت کرتا ہے۔ تمام فیصلے سات کونسلروں کی مرضی سے طے پاتے ہیں۔ صدر کو فیصلہ کن ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ صدر رسمی موقعوں پر قوم کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اسے غیر معمولی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، البتہ اسے First among equals کہا جاسکتا ہے۔ کیا یہ نظام مجوزہ آئینی پیکج سے بہتر نہیں ہے؟ اگر تو پاکستان عوام کا ہے تو اس نظام سے ملتا جلتا نظام ہی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ پاکستان، صدر پاکستان کا ہے تو مجوزہ آئینی پیکج ہی آئیڈیل ہے۔ ویسے بھی عوام نہ ’’تین‘‘ میں ہیں نہ تیرہ میں۔ لہٰذا ’’تین‘‘ کے مابین توازن کا مجوزہ نظام بہترین ہے۔
پارلیمانی نظام میں سینٹ کے مالیاتی اختیارات
ایک خبر کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینٹ کی نشستوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اسے بجٹ کی منظوری کا اختیار دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ کل نشستیں ۱۳۰ کر دی جائیں گی اور ان میں سے ۳۰ نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ مورخہ ۲۰۰۲ء کو روزنامہ پاکستان کے ’’جلسہ عام‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے جناب مجیب الرحمن شامی نے بجٹ کی منظوری سے متعلق سینٹ کو اختیارات دینے کی بابت چند خدشات کا اظہار کیا ہے۔ شامی صاحب کا موقف یہ ہے کہ پارلیمانی نظام میں ایوان زیریں ہی براہ راست عوام کا منتخب کردہ اور با اختیار ایوان ہوتا ہے۔ ایوان بالا کی اختیارات کے معاملے میں وہی حیثیت ہوتی ہے جو وزیر اعظم کے مقابلے میں صدر کی۔ شامی صاحب کے کالم کا عنوان ہی ان کے موقف کو واضح کر دیتا ہے: ’’پارلیمانی نظام کو قتل کرنے کی تیاریاں‘‘۔
میرا خیال ہے کہ پاکستان میں سینٹ کو مالیاتی اختیارات دینے سے متعلق ایسے تحفظات کا اظہار کہ اس طرح پارلیمانی جمہوریت کی روح قبض کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مناسب نہیں۔ ہم لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دستور کے تحت صرف پارلیمانی نظام ہی نہیں اپنایا گیا بلکہ وفاقی نظام بھی اپنایا گیا ہے۔ جب سینٹ کو مالیاتی اختیارات دینے کی بات چلے گی تو اس کا تعلق حقیقت میں دستور کے وفاقی پہلو سے ہوگا نہ کہ پارلیمانی پہلو سے۔ اگر ہم برطانیہ کی مثال پیش نظر رکھیں تو بات نہیں بنے گی کیونکہ برطانیہ میں پارلیمانی اور وحدانی نظام ہے۔ وہاں پاکستان کی طرز پر ’’دستوری حیثیت‘‘ کے مالک صوبے نہیں ہیں اس لیے آبادی کی بنیاد پر عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب شدہ ایوان یعنی دار العوام ہی بااختیار ادارہ ہے بلکہ حقیقت میں یہی ایوان، پارلیمنٹ ہے۔ دار الامرا کی کوئی حیثیت نہیں۔
شمالی امریکہ میں صدارتی اور وفاقی نظام ہے۔ اسی طرح کینیڈا، آسٹریلیا، سوئٹزر لینڈ وغیرہ میں بھی وفاقی نظام ہے۔ تقسیم اختیارات کی بحث وفاقی نظام میں چلتی ہے نہ کہ پارلیمانی نظام میں۔ وفاقی دستور سازی میں سب سے کٹھن مرحلہ ہی تقسیم اختیارات کا ہوتا ہے، یعنی کون سے اختیارات صوبوں کو دیے جائیں اور کون سے مرکز کو۔ اختیارات کی تعداد سے زیادہ اختیارات کی نوعیت اہم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں مالیاتی اختیارات کلیدی ہوتے ہیں۔ جن ملکوں میں وفاقی نظام صحیح معنوں میں اپنی روح کے مطابق چل رہا ہے، وہاں صوبوں کو مالیاتی خود مختاری بھی دی گئی ہے۔
وفاقی نظام میں دوسری اہم بات مرکزی مقننہ کے دونوں ایوانوں میں صوبوں کی نمائندگی کی نوعیت اور دونوں ایوانوں کے مابین اختیارات کی تقسیم ہے۔ عام طو رپر ایوان بالا میں ہر صوبے کے لیے برابر نشستیں رکھی جاتی ہیں اور ایوان زیریں میں آبادی کی بنیاد پر نمائندگی دی جاتی ہے۔ امریکی سینٹ میں ہر وفاقی اکائی کی دو نشستیں ہیں۔ ۱۹۱۳ء سے پہلے سینٹرز کا انتخاب ریاستی اسمبلیاں کرتی تھیں یعنی بالواسطہ طریقہ انتخاب تھا جیسا کہ آج کل پاکستان میں ہے لیکن ۱۹۱۳ء میں دستور میں سترہویں ترمیم کرکے سینٹرز کے انتخاب کا حق براہ راست عوام کو دے دیا گیا۔ امریکی مقننہ کے ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان میں ہر ریاست کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے ہوتی ہے۔ دلیور، الاسکا اور نوادا سے بمشکل ایک ایک نمائندہ ہی ایوان میں پہنچتا ہے جبکہ کیلی فورنیا، ٹیکساس، نیو یارک جیسی بڑی ریاستوں سے ۴۵، ۲۷، ۳۴ ارکان پہنچتے ہیں۔
صدارتی اور پارلیمانی کی بحث کو چھوڑ کر معروضی انداز میں جائزہ لیں کہ اگر امریکہ میں ایوان زیریں کو طاقت ور بنایا جاتا تو کیا ’’انصاف‘‘ ہوتا؟ کیا بڑی آبادی والی ریاستوں کی اجاری داری قائم نہ ہو جاتی؟ صاف اور سیدھی سی بات ہے کہ اگر شمالی امریکہ میں،جہاں تمام وفاقی اکائیوں کی مساوی نمائندگی ہے، ایوان بالا کو طاقت ور نہ رکھا جاتا تو امریکہ بھی ہمارے جیسے مسائل سے دوچار ہوتا۔ ہمارا تو ریکارڈ ہی عجیب ہے۔ غالباً پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے وفاتی دساتیر کے تحت ’’یک ایوانی مقننہ‘‘ قائم کی گئی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں ابھی تک صوبائی عصبیتوں کا سامنا ہے۔ کالاباغ ڈیم بھی عصبیت کی نذر ہو گیا۔ ہمیں ابھی نجانے کتنے اور ’’نذرانے‘‘ دینے ہوں گے۔
درج بالا سطور میں عرض کیا گیا کہ امریکی سینٹ کا طریقہ انتخاب بھی ۱۹۱۳ء میں براہ راست کر دیا گیا تھا۔ امریکیوں نے واقعی درست سمت میں پیش قدمی کی۔ پاکستان میں بھی اس کی ضرورت ہے کہ سینٹ کے انتخابات براہ راست کر دیے جائیں اور اسے اختیارات کے اعتبار سے قومی اسمبلی کے کم از کم برابر لازماً کر دیا جائے۔ قومی سلامتی کونسل کو دستوری حیثیت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ بہتر یہ ہے کہ سینٹ سے ہی قومی سلامتی کونسل کا کام بھی لیا جائے۔
امریکی وفاق اور پاکستانی وفاق کی نوعیت میں فرق ہے۔ مثلاً شمالی امریکہ میں آزاد، مقتدر او رخود مختار ریاستوں نے باہم مل کر وفاق بنایا یعنی خارجی اقتدار اعلیٰ سے دست برداری اختیار کر لی۔ یہ قدرتی بات تھی کہ ریاستوں نے مرکز کو زیادہ اختیار دینے کے بجائے اپنے پاس زیادہ اختیارات رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان میں مرکز نے صوبوں کو جنم دیا ہے لہٰذا قدرتی بات ہے کہ زیادہ اختیارات مرکز نے اپنے پاس رکھے ہیں لیکن اس عمل میں کچھ ایسی کوتاہیاں ہوئیں کہ معاملات سنگین ہو گئے۔ اگر ہم اپنے سفر کے آغاز سے ہی معروضی انداز میں وفاقی مسائل کو ایڈریس کرتے تو بات اتنی نہ بڑھتی۔اب جبکہ بات بڑھ چکی ہے تو ان کا جرات مندی سے سامنا کرنا ہی واحد حل ہے۔
شامی صاحب نے پارلیمانی روایت کا بھی ذکر کیا ہے کہ اگر وزیر اعظم بجٹ منظور نہ کرا سکے تو اسے اس کے خلاف عدم اعتماد سمجھا جاتا ہے اور اسے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ پارلیمانی ڈھانچے کو وفاقی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں بھی صدارتی اور پارلیمانی نظاموں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ چاروں صوبوں کو مطمئن کرنے اور قومی وحدت کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی ڈھانچے سے چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے۔ خود برطانیہ میں پارلیمانی نظام ارتقائی مراحل سے گزرا ہے اور اپنی قومی ضروریات اور مزاج کے مطابق موجودہ صورت میں متشکل ہو کر بھی ارتقا پذیر ہے۔ برطانیہ میں اس طرح کی بحثیں اٹھتی رہتی ہیں کہ دار الامرا کو ختم کر دیا جائے،وزیر اعظم کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں کیونکہ نظام وزارتی کے بجائے وزیر اعظمی بنتا جا رہا ہے۔ لہذا پارلیمانی نظام کی ’’برطانوی روح‘‘ سے چمٹے رہنا دانش مندی نہیں، بالخصوص اس تناظر میں کہ برطانیہ میں وفاقی کے بجائے وحدانی نظام ہے۔
البتہ شامی صاحب کے اس نکتے سے سو فیصد اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ آئین میں ترامیم کا عمل فوجی حکومت کے بجائے منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے سے انجام پانا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ غیر دستوری سیٹ اپ میں وفاقی نظام عملاً وحدانی نظام بن چکا ہے لہذا ترامیم میں ’’مرکز مائل‘‘ رجحانات ہی دیکھنے کو ملیں گے۔ اس اعتبار سے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ مرکز میں صوبوں کو مطمئن کرنے کا بندوبست کیا جائے تاکہ ’’مرکزیت‘‘ کے باوجود مساوی حیثیت کا احساس ’’لامرکزیت‘‘ کا متبادل بن سکے۔