جنوری ۲۰۰۲ء

جہادی تحریکات اور ان کا مستقبلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مغربی طاقتیں اور پاکستان کی سلامتیپروفیسر میاں انعام الرحمن 
ملتِ اسلامیہ اور موجودہ عالمی صورتِ حالادارہ 
امریکی صدر ٹرومین اور سعودی فرماں روا شاہ عبد العزیز کی تاریخی خط وکتابتادارہ 
جنوبی ایشیا کے حوالے سے یہودی منصوبہ بندیاسرار عالم 
اسلامی تحریکیں اور مغربی بلاکپروفیسر میاں انعام الرحمن 
عصرِ حاضر میں اسلام کی تعبیر و تشریح ۔ مولانا منصوری کے ارشادات پر ایک نظرعرفان الہی 
مولانا سید مظفر حسین ندویؒپروفیسر محمد یعقوب شاہق 
سیدنا عمرؓ اور قتلِ منافق کا واقعہ ۔ مولانا حافظ مہر محمدکا مکتوبِ گرامیادارہ 
حکومت اور دینی مدارس ۔ دینی مدارس کے بارے میں ایک سرکاری رپورٹادارہ 

جہادی تحریکات اور ان کا مستقبل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(لاہور کے ایک دینی حلقے کی طرف سے ’’الشریعہ‘‘ کے رئیس التحریر کو چند سوالات موصول ہوئے جن کے جوابات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ ادارہ)

 

سوال :۱۱ ستمبر کے حملے کے بعد جو حالات پیش آئے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ 

جواب : ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن میں پنٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرانے کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے بارے میں حتمی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس نے کیے ہیں اور خود مغربی ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں مختلف امکانات کا اظہار کر رہی ہیں لیکن چونکہ امریکہ ایک عرصہ سے معروف عرب مجاہد اسامہ بن لادن اور عالم اسلام کی مسلح جہادی تحریکات کے خلاف کارروائی کا پروگرام بنا رہا تھا اور خود اسامہ بن لادن کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ کی طرف سے امریکی مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اعلانات بھی موجود تھے اس لیے امریکہ نے ان حملوں کا ملزم اسامہ بن لادن کو ٹھہرانے اور افغانستان کی طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فوری مطالبہ کر دیا اور اقوام متحدہ اور ورلڈ میڈیا کے ذریعے سے وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش میں لگ گیا کہ ان حملوں کی ذمہ داری اسامہ بن لادن پر ہی عائد ہوتی ہے۔ 

جہاں تک ان حملوں کا تعلق ہے، دنیا کے ہر باشعور شخص نے ان کی مذمت کی اور ان میں ضائع ہونے والی ہزاروں بے گناہ جانونں کے نقصان پر افسوس اور ہم دردی کا اظہار کیا ہے لیکن امریکہ نے ا س پر جس رد عمل کا اظہار کیا اور اس رد عمل پر اپنے آئندہ اقدامات کی بنیاد رکھی، اس کے بارے میں واضح تاثر یہ تھا کہ اس رد عمل کی بنیاد حوصلہ وتدبر پر نہیں بلکہ غصے اور انتقام پر ہے اور عام طور پر یہ محسوس ہونے لگا کہ امریکہ بہر صورت فوری انتقامی کارروائی کرنے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’جہادی تحریکات‘‘ کو کچل دینے پر تل گیا ہے اور اس کے بعد ہونے والے مسلسل اقدامات نے اس عمومی تاثر واحساس کی تصدیق کر دی ہے۔

جہاں تک الشیخ اسامہ بن لادن اور افغانستان کی طالبان حکومت کے موقف کا تعلق ہے، ان کے طریقہ کار اور ترجیحات سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود اصولی طور پر ان کا موقف درست تھا اور امریکہ کا موقف اس کے مقابلے میں کمزور اور بے وزن تھا اسی لیے امریکہ نے کارروائی میں عجلت سے کام لیا تاکہ ۱۱ ستمبر کے واقعات کے نتیجے میں اسے عالمی سطح پر جو ہم دردی حاصل ہوئی ہے، ا س کے ٹھنڈا پڑ جانے سے قبل وہ سب کچھ کر دیا جائے جس کے لیے امریکی دماغ اور ادارے کئی سال سے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسامہ بن لادن روس کے خلاف ’’جہاد افغانستان‘‘ میں عملاً شریک تھے اور امریکہ بھی اس جہاد کا سب سے بڑا سپورٹر تھا اسی لیے اس دور میں مغربی ذرائع ابلاغ اور خود امریکی ادارے انہیں ایک ’’عظیم مجاہد‘‘ کے طور پر پیش کرتے رہے اور جہاد افغانستان کے خاتمے کے بعد اسامہ بن لادن ایک ہیرو کے طو رپر اپنے وطن واپس جا چکے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ خود ان کے اپنے ملک سعودی عرب اور اس کے ساتھ پورے عرب خطے کو امریکہ کے ہاتھوں وہی صورت حال درپیش ہے جو جہاد افغانستان سے قبل افغانستان کو روس کے ہاتھوں درپیش تھی تو ان کے لیے اس صورتِ حال کو قبول کرنا ممکن نہ رہا۔ انہوں نے دیکھا کہ خلیج عرب میں امریکی فوجیں مسلسل بیٹھی ہیں جس کی وجہ سے عرب ممالک کی آزادی اور خود مختاری ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ عرب ممالک کی دولت اور تیل کا بے دردی کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے، عرب عوام کو انسانی، شہری اور شرعی حقوق حاصل نہیں ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا کوئی موقع بھی میسر نہیں ہے جبکہ فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جارحیت اور تشدد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور فلسطینی عوام پر ان کی اپنی زمین تنگ کر دی گئی ہے تو انہوں نے صدائے احتجاج بلند کی اور مطالبہ کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجیں خلیج عرب سے نکل جائیں لیکن چونکہ ان کے ملک میں اس قسم کی بات کہنے اور کوئی سیاسی مہم چلانے کی کوئی گنجائش نہیں تھی اس لیے انہیں مجبوراً اس رخ پر آنا پڑا کہ وہ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کریں اور خلیج عرب سے امریکی فوجوں کی واپسی کے لیے اسی قسم کی جدوجہد منظم کریں جس طرح کی جدوجہد کا تجربہ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے لیے اس سے قبل ہو چکا تھا اور وہ خود اس میں شریک رہے تھے۔

اسامہ بن لادن کے طریق کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ان کا موقف اور مطالبہ اصولی طور پر درست تھا اور اس بات سے اختلاف کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ سعودی عرب اور خلیج عرب کے دیگر ممالک میں سیاسی جدوجہد کے راستے مکمل طور پر مسدود ہونے کی وجہ سے اسامہ بن لادن اور ان کے رفقا کے لیے اپنے جذبات اور موقف کے اظہار کے لیے صرف ایک راستہ باقی رہ گیا تھا جسے تشدد کا راستہ کہا جاتا ہے اور جس پر اسامہ بن لادن کو مطعون کیا جاتا ہے لیکن طعن وتشنیع کرنے والے اس معروضی تناظر سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ ان حالات میں ان کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ اختیار کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔

اسامہ بن لادن کا خیال تھا کہ وہ جہاد افغانستان میں ٹریننگ لینے والے دنیا بھر کے مجاہدین کو ایک نظم اور پروگرام میں منسلک کریں گے اور اس طرح ایک ایسا مزاحمتی گروپ وجود میں آجائے گا جو عالم اسلام کے مختلف حصوں میں ہونے والے جبر وتشدد کے خلاف ’’پریشر گروپ‘‘ کا کام کرے گا اور شاید وہ اس کے ذریعے سے اسرائیلی جارحیت کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی کرنے اور خلیج عرب میں امریکی فوجوں کے خلاف اس حد تک دباؤ منظم کرنے میں کام یاب ہو جائیں جو امریکہ کو خلیج عرب میں اپنی فوجوں کی موجودگی کے تسلسل پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر سکے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سوڈان کو اپنی سرگرمیوں کامرکز بنایا لیکن امریکی دباؤ کی وجہ سے سوڈان کی حکومت کے لیے اسامہ بن لادن کا وجود برداشت کرنا ممکن نہ رہا چنانچہ وہ سوڈان چھوڑ کر افغانستان آ گئے جہاں طالبان کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور وہ ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے قیام اور امریکہ کے تسلط سے عالم اسلام بالخصوص خلیج عرب کی آزادی کے حوالے سے اسامہ بن لادن کے موقف سے متفق تھی۔ ان کے ساتھ وہ ہزاروں عرب مجاہد بھی افغانستان آ گئے جو جہاد افغانستان میں شریک تھے اور اسلامی جذبات سے سرشار ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے ملکوں میں واپس جانے کی صورت میں حکومتوں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں اور ریاستی جبر کا نشانہ بننے کے خطرات سے دوچار تھے۔

طالبان حکومت نے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ موقف اور جذبات کی ہم آہنگی اور دینی حمیت میں شراکت کی وجہ سے دونوں میں ایسے تعلقات کار بھی قائم ہو گئے کہ انہیں ایک ہی منزل کے مسافر سمجھا جانے لگا۔ اس کے باوجود طالبان حکومت نے ۱۱ ستمبر کے واقعات کے بعد یک طرفہ موقف اختیار نہیں کیا بلکہ ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ثبوت فراہم کر دیے جائیں تو وہ اسامہ بن لادن کو حوالے کر دینے کے مطالبے پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں یا کسی ایسے بین الاقوامی فورم کے حوالے بھی کر سکتے ہیں جو غیر جانب دار ہو مگر امریکہ نے رعونت اور ہٹ دھرمی کے ساتھ ان کے اس جائز موقف کو مسترد کر دیا اور اپنے الزامات کو ہی قطعی ثبوت قرار دیتے ہوئے افغانستان پر حملہ کا اعلان کر دیا جس کے ذریعے سے امریکہ نے وہ دونوں مقاصد حاصل کر لیے جو اس نے پہلے سے طے کر رکھے تھے اور ۱۱ ستمبر کے واقعات ان کے لیے محض بہانہ ثابت ہوئے۔

سوال : افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے۔ اسے آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب : طالبان حکومت قائم ہوتے ہی مجھے یہ خدشہ محسوس ہونے لگا تھا اور میں نے کئی مضامین میں اس کا اظہار بھی کیا کہ اس حکومت کو برداشت کرنا نہ صرف یہ کہ امریکہ کے لیے ممکن نہیں ہے بلکہ وہ مسلمان حکومتیں بھی اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں جو اپنے ملکوں میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریکات کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ طالبان حکومت کی کامیابی کا واضح مطلب یہ ہوتا کہ مسلمان ملکوں میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریکات کو تقویت حاصل ہوتی اور ایک کام یاب حکومت کی صورت میں عملی آئیڈیل بھی مل جاتا۔ اس لیے امریکہ اور کفر کی دیگر طاقتوں کے ساتھ ان مسلم حکومتوں کا اتحاد ایک فطری بات تھی اور ان سب نے مل کر ایک ایسی حکومت کو ختم کر دیا ہے جو اپنی کام یابی کی صورت میں دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔ خطرہ اس معنی میں نہیں کہ وہ کوئی بہت بڑی قوت ہوتی بلکہ اس معنی میں کہ موجودہ عالمی سسٹم سے ہٹ کر اور اس سے بغاوت کر کے ایک الگ نظریہ اور فلسفہ کے تحت بننے والی کسی حکومت کی کام یابی سے ان تمام قوتوں اور عناصر کو بغاوت کا راستہ مل جاتا جو موجودہ عالمی سسٹم سے مطمئن نہیں ہیں اور ا س سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اسی لیے اسے بہت بڑ اخطرہ سمجھا گیا اور اسے ختم کرنے پر دنیا کی سب حکومتیں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود متفق ہو گئیں۔

امریکہ اور اس کی زیر قیادت عالمی استعمار کو عالم اسلام سے کوئی فوجی، سیاسی یا معاشی خطرہ نہیں ہے اور نہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان ہی ہے بلکہ فوجی، سیاسی اور معاشی طور پر پور اعالم اسلام امریکہ کے شکنجے میں پوری طرح جکڑا ہوا ہے مگر مغربی تہذیب وثقافت اور فلسفہ ونظام کے مقابلے میں اگر کسی فلسفہ ونظام اور تہذیب وثقافت میں کھڑا ہونے کی قوت وصلاحیت موجود ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی اسلامی تحریکات کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں اور بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس فلسفہ ونظام اور تہذیب وثقافت کو اگر دنیا کے کسی خطے میں ایک ریاستی سسٹم کے طور پر قدم جمانے کا موقع مل گیا تو وہ موجودہ عالمی نظام اور مغربی فلسفہ وثقافت کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے اسی وجہ سے موجودہ عالمی سسٹم کے ارباب حل وعقد نے قطعی طور پر یہ بات طے کر رکھی ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایسی مسلمان حکومت وجود میں نہ آنے پائے جو موجودہ عالمی سسٹم اور بین الاقوامی نیٹ ورک سے ہٹ کر ہو یا دوسرے لفظوں میں اقوام متحدہ کی بالادستی قبول کرنے کے بجائے وہ اپنا کوئی الگ ایجنڈا رکھتی ہو۔ افغانستان میں طالبان کی اسلامی نظریاتی حکومت کو تسلیم نہ کرنے اور اب اسے فوجی طاقت کے زور پر ختم کر دینے کا بھی یہی پس منظر ہے البتہ طالبان حکومت کے خاتمے پر انتہائی افسوس اور صدمہ کے باوجود کسی حد تک یہ بات اطمینان بخش ہے کہ طالبان حکومت کا خاتمہ فلسفہ ونظام اور تہذیب وثقافت میں مغرب کی بالادستی کے حوالے سے نہیں ہوا بلکہ محض مادی طاقت، جبر وتشدد اور عسکری قوت کے زور پر اسے ہٹایا گیا ہے۔ فکر وفلسفہ اور نظام وثقافت اگر زندہ ہوں تو عسکری ناکامیاں زیادہ دیر تک ان کا راستہ نہیں روک سکتیں اور وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے اظہاراور پیش قدمی کے راستے نکال لیا کرتے ہیں۔

سوال :مستقبل میں افغانستان کی صورت حال کیا ہوگی؟

جواب : میرے خیال میں امریکی اتحاد کی پشت پناہی سے قائم ہونے والی حکومت افغانستان میں امن قائم کرنے میں کام یاب نہیں ہوگی اور افغانستان کے سب قبائل کو مطمئن کرنا اس کے بس میں نہیں ہوگا۔ یہ صرف اسلام اور ایمان کی قوت تھی جس نے قبائلی تعصبات اور علاقائی امتیازات کو دبارکھا تھا۔ اس کا پردہ ہٹ جانے کے بعد اب تمام معاملات قبائل اور علاقائیت کے حوالے سے طے پائیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان عصبیتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ مغربی قوتوں کا مفاد بھی اسی میں ہوگا کہ یہ عصبیتیں بڑھیں اور اختلافات وتفرقہ کا ماحول قائم رہے تاکہ وہ اس کی آڑ میں افغانستان پر اپنا کنٹرول زیادہ دیر تک قائم رکھ سکیں اور وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کر سکیں۔

دوسری طرف طالبان تحریک نے میدان جنگ سے پسپائی اختیار کی ہے، ذہنی طور پر شکست اور دست برداری قبول نہیں کی اور ان کی افرادی قوت بڑی حد تک محفوظ ہے اس لیے وہ کچھ وقت گزرنے کے بعد دوبارہ منظم ہوں گے اور مزاحمت کا راستہ اختیار کریں گے جس کی حمایت وتعاون کرنا اس خطے کی ان تمام قوتوں کی مجبوری بن جائے گا جو امریکہ کی یہاں مستقل موجودگی کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ وقتی لشکر کشی میں امریکی اقدامات کا ساتھ دینا اور بات ہے اور اس خطے میں امریکہ کی مستقل فوجی موجودگی کو قبول کرنا اس سے بالکل مختلف امر ہے اس لیے اس کا فائدہ ہر اس قوت کو ہوگا جو افغانستان میں امریکی اتحاد کی فوجوں کی مستقل یا زیادہ دیر تک موجودگی کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گی۔ میرا اندازہ ہے کہ طالبان کی یہ مزاحمتی تحریک دوبارہ منظم ہونے میں ایک سال اور اپنے ہدف تک پہنچنے میں پانچ چھ سال کا عرصہ لے سکتی ہے اور افغان قوم کے مزاج، روایات اور تاریخی تسلسل کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے اس کی کام یابی میں شک اور تردد کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔

سوال :القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنا کر امت مسلمہ پر جو ظلم کیا گیا ہے، اس میں اسلامی ممالک کی کیا ذمہ داری ہے؟

جواب : میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ موجودہ مسلم حکومتیں عالمی نظام اور اقوام متحدہ کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں، وہ ا س سے بغاوت اور انحراف کا سوچ بھی نہیں سکتیں اس لیے ان سے کسی ذمہ داری کی ادائیگی بلکہ کسی بھی درجے میں کسی خیر کی توقع کرنا ہی فضول ہے۔ اسلامی تحریکات کو مسلم عوام سے اپنا رشتہ استوار کرنا ہوگا اور انہی کے اعتماد اور تعاون سے اپنے کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اس کے سوا ان کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔

سوال :مستقبل میں مجاہدین کو کس طرح کا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے؟ بالخصوص اب جبکہ پاکستان میں بھی مجاہدین کے خلاف عملی کارروائی ہونے کی توقع ہے؟

جواب : میں اصولی طور پر تشدد کے حق میں نہیں ہوں اور پر امن سیاسی جدوجہد کا قائل ہوں، اسی وجہ سے جہاں سیاسی جدوجہد کے راستے کھلے ہوں، وہاں کسی قسم کی پر تشدد تحریک کو جائز نہیں سمجھتا اور پاکستان میں بھی نفاذ اسلام کی جدوجہد کے لیے تشدد اور عسکریت کا راستہ اختیار کرنا میرے نزدیک درست طرز عمل نہیں ہے البتہ جہاں عالمی جبر یا ریاستی تشدد کی فضا موجود ہو اور اس کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے تمام راستے مسدود ہوں، وہاں احتجاج کرنے اورکلمہ حق بلند کرنے والوں کی طرف سے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کو ان کی مجبوری سمجھتا ہوں اور مجبوری ہی کے درجے میں ان کی حمایت کو دینی حمیت کا تقاضا تصور کرتا ہوں۔ اسی طرح جن غیر مسلم ممالک میں مسلم اکثریت کے خطے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ان کی جدوجہد میرے نزدیک جہاد ہے۔ اس پس منظر میں ’’جہادی تحریکات‘‘ کے لیے یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ مل بیٹھ کر اپنی پالیسی اور طریق کار کا ازسر نو جائزہ لیں، اپنی غلطیوں کی نشان دہی کریں، ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور اہل علم ودانش کو اعتماد میں لے کر اپنا آئندہ طرز عمل طے کریں۔

میرے نزدیک جن باتوں نے جہادی تحریکات کو نقصان پہنچایا ہے، ان میں چند اہم امور یہ ہیں:

۱۔ اصل اہداف سے ہٹ کر جذباتی نعرہ بازی مثلاً دہلی کے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے، پاکستان میں طالبان کی طرز پر انقلاب لانے اور مغربی ملکوں کے مراکز کو نشانہ بنانے کی باتیں جنہوں نے ان سب قوتوں کو نہ صرف چوکنا کیا بلکہ متحدبھی کر دیا۔

۲۔ ایجنسیوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ اختلاط اور اس اختلاط میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی درپردہ کوششیں جن کی وجہ سے پالیسی سازی اور فیصلوں کی قوت بتدریج جہادی تحریکات کی لیڈرشپ کے ہاتھوں سے نکلتی چلی گئی۔

۳۔ باہمی مشاورت، تعلقات کار اور انڈر سٹینڈنگ کے ضروری اہتمام سے گریز۔

۴۔ ملک کے داخلی معاملات بالخصوص فرقہ وارانہ امور میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ملوث ہونا۔

۵۔ اور اہل علم ودانش سے صرف تعاون اور سرپرستی کے حصول پر قناعت کرتے ہوئے ان سے راہ نمائی اور مشاورت کی ضرورت محسوس نہ کرنا۔

یہ اور اس قسم کی دیگر کئی باتیں ہیں جنہوں نے جہادی تحریکات کو نقصان پہنچایا اور ان کے مخالف عناصر کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے اس لیے جہادی تحریکات کو اپنی پالیسیوں اور طریق کار کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور اہل علم ودانش کی راہ نمائی میں لائحہ عمل اور ترجیحات کا پھر سے تعین کرنا چاہیے۔

سوال :حال ہی میں انڈین پارلیمنٹ پر فدائی حملہ ہوا ہے، اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب : یہ حملہ جس نے بھی کیا ہے، اس نے انڈیا کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار کرے اور امریکہ کو جہادی تحریکوں کے خلاف دباؤ بڑھانے میں اس سے سہولت حاصل ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں مجھے یہ حملہ کسی بین الاقوامی پلان کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

سوال :مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے میں امریکہ کیا اب سنجیدگی سے غور کرے گا؟ میری مراد اس سے اقوام متحدہ ہے۔

جواب :فلسطین اور کشمیر دونوں جگہ امریکہ کی دل چسپی یا اقوام متحدہ کی تھوڑی بہت حرکت کا بنیادی سبب مزاحمتی تحریک اور مجاہدین کا کسی نہ کسی حد تک دباؤ ہے۔ یہ دباؤ موجود رہا تو شاید اقوام متحدہ اور امریکہ کسی درجے میں ان مسائل کے حل میں دل چسپی لیں اور اگر یہ دباؤ ختم ہو گیا یا جیسا کہ خود امریکہ کا پروگرام ہے کہ مجاہدین کے اس دباؤ کو بزور بازو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد حالات کے نارمل ہو جانے پر امریکہ، اقوام متحدہ یا دیگر مغربی قوتوں کے لیے کوئی درد سر باقی نہیں رہے گا کہ وہ ان مسائل کے حل میں دل چسپی لیں اور پھر عربوں اور پاکستان کو آزادی اور اطمینان کی فضا میں اقتصادی اور معاشی ترقی کا موقع بھی فراہم کریں۔ یہ سب باتیں امریکہ کے اپنے مفادات کے خلاف ہیں اس لیے اس سے یا اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں کسی مثبت کردار کی توقع ایک خوش فہمی اور خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔

مغربی طاقتیں اور پاکستان کی سلامتی

پروفیسر میاں انعام الرحمن

مغربی طاقتوں کے موجودہ رویے کی بنیاد دوسری جنگ عظیم کے دوران میں ایٹم بم کے استعمال میں ٹریس کی جا سکتی ہے۔ بہ نظر غائر معلوم ہو جاتا ہے کہ ان طاقتوں کا مقصد دنیا میں امن کا قیام اور لوگوں کی عمومی خوش حالی نہیں بلکہ طاقت کے بل بوتے پر اپنی برتری قائم کرنا ہے۔ایٹم بم کی تباہی کے پیش نظر چاہیے تو یہ تھا کہ اس کی روک تھام اور خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جاتے لیکن مغربی طاقتوں نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر اس کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر اپنا لیا۔ اس طرح بعد از جنگ کا عہد ایٹمی دوڑ کا عہد بن گیا۔ اس ایٹمی دوڑ کے جنگ جویانہ اثرات فلموں کے ذریعے سے پورے مغربی معاشرے میں سرایت کر گئے۔ اگر تحلیل نفسی کا کوئی سنجیدہ ماہر غیر جانب دارانہ اور معروضی انداز سے مغربی معاشرے کا تجزیہ کرے تو اس پر اس ’’مہذب‘‘ معاشرے کی حقیقت بہت جلد عیاں ہو جائے گی۔

قوت وطاقت کے بل بوتے پر اپنی برتری کے اظہار کی تازہ ترین کاوش وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں کی جا رہی ہے۔ بد امنی اور باہمی منافرت کے گڑھ افغانستان میں طالبان نے کم از کم امن وامان قائم کر لیا تھا۔ مخصوص صورتِ حال میں کسی بھی نوخیز حکومت کے لیے یہ بہت کریڈٹ کی بات تھی۔ ترقی وخوش حالی کے اقدامات امن وامان سے مشروط اور اس کے بعد کی بات تھے۔ اس اعتبار سے ترجیحات کے تعین میں طالبان نے کوئی غلطی نہیں کی تھی۔ لیکن یہی ان کی غلطی بھی ہے۔ بھلا ایٹمی دوڑ کے خالقوں کو امن وامان کیسے راس آ سکتا تھا اور پھر ایسا امن وامان جو وسیع ہوتے ہوئے‘ ان کی قوت وطاقت پر استوار برتری کے لیے چیلنج بھی بن سکتا تھا۔ اپنی مخصوص تخریبی نفسیات کی وجہ سے مغربی طاقتیں افغانستان پر چڑھ دوڑیں اور ان کے معاشرے کی اکثریت نے ان کے اس اقدام کی حمایت وتصدیق کرنے میں دیر نہیں لگائی کیونکہ مخصوص تربیت کی وجہ سے مغربی معاشرہ امن کا خواہاں نہیں ہو سکتا۔ ان کی تہذیب اور شائستگی دوسروں کی لوٹ مار اور حق تلفی سے مشروط ہے۔ مغربی طاقتوں نے طالبان کے افغانستان میں مداخلت کر کے کچھ اس طرح کی گھمبیر صورتِ حال پیدا کی ہے جس سے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں امن وامان اور تحفظ وسلامتی کا مسئلہ سنگین تر ہو گیا ہے۔ اس کا مختصر سا جائزہ درج ذیل ہے:

۱۔ طالبان حکومت کو مغربی طاقتوں نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اگر تسلیم نہ کرنے کی وجہ چار پانچ سال پہلے بھی موجود تھی تو پھر اسی وقت طالبان حکومت کو ختم کرنے کے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ آخر اتنے سال چھوٹ دینے کی کوئی وجہ تو ہوگی۔ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ مغربی طاقتیں چاہتی تھیں کہ طالبان افغانستان پر کنٹرول کر لیں اور کچھ پر پرزے بھی نکال لیں تاکہ ان کی ٹھکائی کے بہانے یہاں آنے کا موقع مل سکے۔ اگر بہت شروع میں طالبان حکومت کے خلاف کارروائی کی جاتی تو اس کا دائرہ کار بہت مختصر ہوتا اور مغربی طاقتوں کے مخصوص مفادات پورے نہ ہوتے۔

۲۔ اب افغانستان کو ’’دوسرا کشمیر‘‘بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے جتنی اہمیت کشمیر کی ہے‘ اتنی ہی اہمیت افغانستان کی بھی ہے:

(i) کشمیر میں بھارتی فوج ہے جبکہ افغانستان میں امریکی وبرطانوی فوج یا کم از کم پسِ پردہ کنٹرول انہی کا ہوگا۔

(ii) کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور وہ پاکستان سے الحاق چاہتے تھے لیکن اس وقت کشمیر میں کم از کم تین گروپ موجود ہیں: ۱۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی‘ ۲۔ بھارت کے ساتھ الحاق کے حامی اور ۳۔ خود مختار کشمیر کے حامی۔ اسی طرح طالبان کا افغانستان پاکستان کا مکمل حامی تھا لیکن اس وقت تین گروہ ابھر رہے ہیں اور جنہیں ابھارنے کی بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں‘ اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بہرحال جس طرح کشمیر میں مصنوعی انداز سے گروہ پیدا کیے گئے ہیں‘ اسی انداز سے افغانستان میں قبائلی عصبیت کو ہوا دی جا رہی ہے۔

۳۔ پاک بھارت جنگوں کے دوران میں شاہِ ایران نے افغانستان کو کسی بھی قسم کی چھیڑ خانی سے باز رکھا تھا۔ اب افغانستان میں طالبان طرز کی دوست حکومت موجود نہیں۔ پھر طالبان حکومت پاکستان اور ایران کے مابین وجہ نزاع بھی رہی ہے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات اونچ نیچ کا شکار ہوئے۔ایران اب بھی سابقہ تجربے کی بنا پر تحفظات کا شکار ہوگا لہذا اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ایران‘ پاک بھارت کشیدگی کے دوران شاہِ ایران کے عہد والا کردار ادا نہ کرے۔ اسی بات سے ایک اور نکتہ سامنے آتا ہے کہ مغربی طاقتوں کا طالبان حکومت کو چار پانچ سال تک ڈھیل دینے میں ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان ایران تعلقات کشیدہ ہوں تاکہ پاک بھارت کشمکش کے دوران میں افغان بارڈر پر دباؤ بڑھاتے ہوئے مشرقی بارڈر پر پاکستان کو کسی کمپرومائز پر مجبور کیا جا سکے۔

۴۔ پھر خارجی محاذ پر ایسے دباؤ سے پاکستان داخلی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا اور واقعتاً ایسا ہی ہے۔ قوم میں شدید قسم کا احساسِ بے چارگی پایا جا رہا ہے۔ صرف چین امید کی ایک کرن ہے اور وہ بھی اس لیے کہ پاکستان اس کی اسٹرٹیجک ضرورت ہے۔

۵۔ کشمیر میں تین موثر گروہوں کی موجودگی اور افغانستان میں کثیر نسلی حکومت کے قیام سے پاکستان بھی معاشرتی گروہ بندیوں کا شکار ہو سکتا ہے جس سے داخلی ٹوٹ پھوٹ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔

۶۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کو درپیش سنگین حالات کے اثرات دونوں خطوں پرمرتب ہوں گے جس سے بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس پھیلے گا۔

ان نکات کے پیش نظر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مغربی طاقتوں کا ٹارگٹ پاکستان کی سلامتی اور وحدت کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ کشمیر پر پاکستان کو کسی مصنوعی حل پر کمپرومائز کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ حل بہت سارے مسائل کو جنم دے گا۔ اس طرح مسئلہ کشمیر حل ہونے کے باوجود سنگین نوعیت کے مسائل بدستور موجود رہیں گے۔ ان کا اظہار معاشرتی گروہ بندیوں کی صورت میں ہوگا۔ افغان بحران کی وجہ سے ہمارا معاشرہ پہلے ہی تقسیم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کشمیر کا کوئی بھی مصنوعی حل مزید تقسیم در تقسیم کا باعث ثابت ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی وجغرافیائی وحدت شاید کسی علاقائی طاقت کے مفاد میں ہو اور وہ اس وحدت کی بقا کے لیے پاکستان کی پشت پر موجود بھی رہے لیکن پاکستان کی سماجی وحدت اس علاقائی طاقت کے لیے بھی ایک خطرہ ہے لہذا سماجی وحدت کا شیرازہ بکھیرنے میں یہ علاقائی طاقت‘ مغربی طاقتوں کی ممد ومعاون ثابت ہوگی۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ مغربی طاقتیں فلسطین کی طرز پر مزید پیچیدگیوں کا حامل کوئی حل مسلط کر سکتی ہیں جس سے مشرقِ وسطیٰ کی طرح‘ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا مستقل غیر یقینی کیفیت کا شکار رہیں گے۔ اب تک اختیار کی گئی پالیسیوں کے تناظر میں‘ مغربی طاقتیں اس غیر یقینی کی کیفیت اور عدم تحفظ کے احساس کے پھیلاؤ کے لیے کام کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ان کے ماضی کے کردار کے پیش نظر یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

ملتِ اسلامیہ اور موجودہ عالمی صورتِ حال

ادارہ

(۲۰۔۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء  کو کراچی میں ’’جنگ گروپ آف نیو زپیپرز‘‘ کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی، عالم اسلام کو درپیش ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار ہوا جس میں عالم اسلام کے ممتاز دانش وروں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے اس سیمینار کے چند اہم خطابات کا خلاصہ اور اعلامیہ روزنامہ جنگ کی رپورٹنگ کی مدد سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر کے علماء کرام، اہل دانش اور دینی وسیاسی راہ نماؤں سے ہماری گزارش ہے کہ ان کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ غور طلب نکات پر کھلے دل ودماغ کے ساتھ بحث وتمحیص کا اہتمام کیا جائے اور تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں امت مسلمہ کی صحیح سمت میں فکری وعلمی راہ نمائی کے خطوط متعین کرنے میں پیش رفت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ادارہ)

 جناب محمود شام کا خطبہ استقبالیہ

خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے جنگ کے گروپ ایڈیٹر محمود شام نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر کو رونما ہونے والے واقعات اور اس کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی تبدیلیوں، بالخصوص افغانستان پر امریکہ کی مسلسل خوف ناک بمباری، طالبان کی طرف سے پہلے آخری دم تک لڑنے کا عزم، پھر مزار شریف، کابل وغیرہ سے اچانک انخلا نے دنیا بھر میں ہر عمر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف سوالات پیدا کیے ہیں۔ پاکستان اس وقت فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے۔ فرنٹ لائن اسٹیٹ ہونا ایک اعزاز بھی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ۱۱ستمبر کے بعد مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ پاکستان کے دورے کر رہے ہیں۔ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بجا طور پر صاحب عصر بھی کہا گیا۔ انہیں امریکی صدر نے خصوصی عشائیہ دیا۔ پاکستان کے اقتصادی مسائل حل کرنے کے لیے امریکا سمیت ہر ملک نے وعدے بھی کیے، عملی اقدامات بھی کیے۔ فرٹ لائن اسٹیٹ ہونا آزمائش بھی ہے۔ جب بھی افغانستان کا یہ بحران گزر گیا تو تمام ممالک اپنے معمول میں مصروف ہو جائیں گے، پاکستان اپنے مسائل کے سامنے پھر تنہا کھڑا ہوگا۔ افغانستان کا بحران پاکستان میں بھی داخل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ہم دیوار ہم سایے ہیں۔ جنگ گروپ نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کے سب سے بڑے اخباری گروپ ہونے کے حوالے سے اپنا فرض سمجھا کہ وہ دنیا بھر میں رابطے کر کے ایسے اسکالرز کو فرنٹ لائن اسٹیٹ میں اظہار خیال کی دعوت دے جو اسلامی تعلیمات اور جدید علوم میں امتزاج کے قائل ہیں، جو دنیائے اسلام اور مغرب کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ 

۱۱ ستمبر کے واقعات کے بعد عالم اسلام کو یقیناًایک نیا چیلنج درپیش ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے امریکا، جرمنی، برطانیہ، جہاں جہاں بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں، صرف مسلمان نوجوانوں کی ہوئی ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہیں؟ مسلمان امریکا سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے؟ کیا یہ اسلام کو بدنام کرنے اور مسخ کرنے کی سازش تو نہیں ہے۔ مسلمان نوجوان خود ہتھیار اٹھانے پر کیوں مجبور ہو رہا ہے؟ مسلمان حکومتیں کیا اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہیں؟ کیا مسلمان ملکوں میں سول سوسائٹی ہے؟ کیا مسلمان ملکوں میں جمہوری آزادیاں ہیں؟ یہ اور بہت سے دوسرے سوالات ہیں جن کا جواب آپ کو یقیناًیہ محترم اورمعزز اسکالرز دیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دو روزہ سیمینار عالم اسلام میں بیداری کی نئی لہر پیدا کرنے کے لیے ایک نقطہ آغاز ہوگا۔ 

میں جنگ گروپ کی طرف سے تمام مسلمان اسکالرز، مسلمان ملکوں کے تعلیمی اداروں، مسلمان ملکوں کی حکومتوں، مسلمان ملکوں کے اخباری اداروں کو یہ پیشکش کرتا ہوں کہ وہ اپنی معلومات، تفصیلات ہمیں بھجوائیں، ہم انہیں محفوظ بھی کریں گے، دنیا تک پہنچائیں گے۔ ہم تمام مسلم اور غیر مسلم اسکالرز کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ حالات حاضرہ پر اپنے خیالات ہمیں بھجوائیں، ہم اسے اردو، انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کریں گے۔ جنگ گروپ عالم اسلام اور مغرب کے درمیان ایک پل، ایک رابطے کا منصب ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ۱۱ ستمبر کے بعد شروع ہونے والی جنگ ایک طویل جنگ ہے جو برسوں نہیں‘ صدیوں جاری رہ سکتی ہے۔ ہم سب کو اس کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے۔ ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ یہ سیمینار ایک نقطہ آغاز ہے۔ اس میں مقالات پیش کرنے والے اس جنگ کا ہراول دستہ ہیں۔

وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر

وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کو ایک معتدل، ترقی پسند اسلامی ریاست بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی اسلام کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہم چند قاعدہ پڑھ لینے والے جاہلوں کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور دے سکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کے بنیادی مسائل کا تدارک کریں اور اقتصادی طور پر ملک کو مستحکم بنائیں۔ خود کو مضبوط بنا کر ہی چیلنجوں کامقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

۱۱ ستمبر کے بعد ایک نئی دنیا نے جنم لیا ہے بالخصوص مسلم ممالک اور مسلمانوں کے لیے نئے چیلنج سامنے آئے ہیں۔ مغربی طاقتوں نے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے۔ ایک خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ مستقبل کا ہدف مسلم ممالک ہو سکتے ہیں۔ ان حالات نے کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے کہ اس صورت حال میں مسلم ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ مغربی طاقتیں کہہ رہی ہیں کہ یہ جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کھلتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اسلامی ممالک کس طرح ان چیلنجوں کا سامنا کریں گے؟اس کے لیے ہمیں اپنی عوام کو تعلیم اور شعور دینا ہوگا، تحقیق کرنا ہوگی، جدید ٹیکنالوجی اور معلومات حاصل کرنا ہوں گی، اسلامی ممالک میں پاپولر حکومتیں بنانا ہوں گی اور جہاں تک ممکن ہو، تنازعات اور جنگوں سے اجتناب کرنا ہوگا اور خود کو مستحکم کرنا ہوگا کیونکہ کمزور ممالک یا قومیں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ پہلے ہمیں اپنے ممالک کے ہاؤسز کو ’’ان آرڈر‘‘ لانا ہوگا۔ جب ہم خود ’’ان آرڈر‘‘ ہوں گے تو چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں گے۔ 

مسلم دنیا کا کوئی ڈائنامک فورم نہیں ہے جہاں مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا تجزیہ کر سکیں، ان کا حل تلاش کر سکیں اور اس پر عمل کر سکیں یا اسلامی ممالک کا مقدمہ موثر اور ٹھوس انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ جبکہ جی ایٹ جیسے ادارے اکثر ملتے ہیں، فیصلہ کرتے ہیں اور پھر دوسرے دن سے ہی ان پر عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ محض ڈی بیٹنگ سوسائٹیز نہیں ہیں۔ 

اسلامی ممالک کے میڈیا کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا احاطہ کرتے ہوئے معین حیدر نے کہا کہ اس کے لیے وسیع سرمایے کی ضرورت ہے تاہم بنیادی بات تعلیم کی ہے۔ اگر ہمارے پاس تعلیم ہوگی تو مختلف سطح پر منفی پروپیگنڈے کا موثر جواب دے سکیں گے۔ 

پاکستان مسلم اور غیر مسلم ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور ہمارا ایسے ممالک کے ساتھ تعاون بھی جاری ہے جس کی بڑی مثال عوامی جمہوریہ چین ہے۔ پاکستان کو ایک معتدل، اسلامی ترقی پسند ملک بننے کے اقدامات موجودہ حکومت نے ۱۱ ستمبر سے قبل ہی شروع کر دیے تھے۔ اگست کے مہینے میں دو جماعتوں کو، جن پر مسلح ہونے کا الزام تھا، ان پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ شہریوں سے اسلحہ واپس لیا جا رہا ہے، مساجد میں جہاد کے نام سے چندہ لیا جاتا ہے اور پتہ نہیں کہاں چلا جاتا ہے۔ اس کو روکا جا رہا ہے۔

ہم مدرسوں کے خلاف نہیں ہیں مگر ہماری کوشش ہے کہ مدرسے اپنا وہ تاریخی کردار ادا کریں جو ماضی میں ہوا کرتا تھا جہاں سے اہل علم ودانش پیدا ہوتے تھے۔ اس مقصد کے لیے ہم مشاورت کے ساتھ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے مدرسے اپنی سابقہ حیثیتوں میں بحال ہو جائیں۔ 

افغانستان میں جو کچھ ہوا، پاکستان نے بہت پہلے انہیں آگاہ کیا تھا، مشورہ دیا تھا۔ پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ پڑوسی ملک کے معاملات میں شریک ہو۔ ہم نے واضح کر دیا تھا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوگا، وہ خود ا سے نمٹیں گے۔ جب بدھا کے بتوں کو توڑا جا رہا تھا، اس وقت بھی مشورہ دیا گیا تھا کہ پوری دنیا کو اپنا دشمن نہ بنائیں، انہیں ناراض نہ کریں۔ اس وقت صرف دو مسلم ممالک ایک چھوٹی سی امداد افغانستان کو دیتے تھے جبکہ افغانستان کو بیشتر امداد غیر مسلم ممالک سے ملتی تھی۔ ملا محمد عمر خود ساختہ امیر المومنین بن گئے، ان کی حمایت کس طرح کی جا سکتی تھی؟ 

پاکستان میں مختلف سطحوں سے اصلاحات کی جا رہی ہیں جن میں پولیس اصلاحات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہی فیصلے کرے گی۔

وزیر مذہبی امور ڈاکٹر محمود احمد غازی

وفاقی وزیر زکوٰۃ وعشر اور مذہبی امور ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالی، عدم مساوات اور ناانصافیوں کے خلاف شدید رد عمل نے دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ان ناانصافیوں اور عدم مساوات کو دور کرنے کی صورت میں ہی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور ہمیں اپنے رویے اور پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ جہاد پر تنقید کی جا رہی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جہاد ہی کے ذریعے سے اسلام کے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے مسلمانوں نے اپنا مقام حاصل کیا ہے۔

دہشت گردی کی مذمت کی جانی چاہیے اور ۱۱ ستمبر کے واقعے کی پوری دنیا اور ہر طبقے نے مذمت کی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کی صحیح طور پر تشریح ہونی چاہیے کیونکہ کشمیر اور فلسطین میں آزادی کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں کو دہشت گردی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کو گزشتہ برسوں میں کئی طرح کی دہشت گردیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کا مقابلہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے لیکن سلامتی کونسل میں ویٹو پاور خود مساوی حقوق کے منافی ہے اور یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ ویٹو پاور اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف ہی استعمال کی گئی۔ 

جدیدیت میں مغرب کی تقلید کرنے کے بجائے مغرب کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی اپنی ضروریات، تقاضوں اور حالات کے مطابق رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے سب سے پہلے حق کی جنگ لڑی گئی۔ جہاد برائیوں کے خلاف برسرپیکار ہونے اور اس کے خلاف جدوجہد کا نام ہے۔ اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے جدوجہد کا نام مجاہدہ، ناخواندگی کے خاتمے کے خلاف جدوجہد کا نام جہاد ہے۔ جہاد کو کسی بھی دور میں اسلام کا نفاذ پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر فاروق حسن

پروفیسر ڈاکٹر فاروق حسن نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر بین الاقوامی اتحاد کی حالیہ مہم کا مقصد ٹون ٹاورز آف اسلام سعودی عرب اور پاکستان کو گرانا ہے اور بھارت بھی اس سازش میں شریک ہے اور اس کی طرف سے سب سے پہلے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر حملہ بھی کر سکتا ہے۔ ہمارے قریب سمندر میں تین طیارہ بردار جہاز، ۵۰۰ جدید ترین جنگی طیارے، ۴۲ ہزار امریکی کمانڈو اور فوجی اور انٹی ٹنل بلاسٹک بم سمیت جدید ترین ہتھیار کیا صرف ایک اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے ہماری سرحدوں کے قریب اور اندر لائے گئے ہیں؟ کیا سبھی ملکوں کی افواج کو انفرادی مجرم پکڑنے کے لیے استعمال کیا گیا؟ انٹی ٹنل بلاسٹک بم تاجکستان میں نیو کلیر ٹنلز کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے نیو کلیئر ٹنلز کو توڑنے کے لیے لائے گئے ہیں۔

امریکا اور مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف مہم کو مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف چلا رہے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عالم اسلام کی سب سے بری تنظیم او آئی سی ہے جس کے رکن ممالک کی تعدد ۵۷ اور مبصرین کی تعداد ۳ ہے۔ اس طرح یہ کل ۶۰ ممالک ہوتے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی بھی کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ امریکا کے نزدیک دنیا میں دہشت گرد صرف مسلمان ممالک ہیں۔ ہمیں اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ المیہ یہ ہے کہ ان ۶۰ ممالک میں سے کسی ایک ملک نے اس پر امریکا سے احتجاج نہیں کیا اور یہ تک پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ان ۶۰ ممالک میں کون سے ملک شامل ہیں؟ او آئی سی کی کارکردگی بھی نہایت مایوس کن رہی ہے۔ اس کے ۱۱ ستمبر کے بعد اب تک صرف دو اجلاس ہوئے۔ ایک اجلا س افغانستان پر بمباری کے دو دن بعد ہوا جس میں نیو یارک اور واشنگٹن پر دہشت گردی کی مذمت کی گئی۔ افغانستان پر بمباری کا کوئی ذکر یا مذمت نہیں کی گئی۔ دوسرا اجلاس وزرائے خارجہ کا ۱۰ دن پہلے ہوا جس میں افغانستان پر حملے یا دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ ان حالات کو دیکھا جائے تو بہت ہول آتا ہے۔

افغانستان پر حملے اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف پورے ۶۰ مسلمان ممالک میں سے صرف سعودی عرب اور ملائشیا نے آواز اٹھائی۔ سعودی عرب نے پرنس عبد اللہ بیس کو دینے سے انکار کیا جو اس علاقے میں جدید ترین بیس تھی۔ اس طرح ولی عہد شہزادہ عبد اللہ نے شاہ فیصل کی یاد تازہ کر دی۔ ملائشیا وہ واحد ملک تھا جس نے بڑے حوصلے کے ساتھ یہ بات کہی کہ اقوام متحدہ نے افغانستان پر حملے کی قرارداد منظور نہیں کی اور یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ میں گزشتہ ۵۰ برس سے دہشت گردی کی تعریف متعین تھی اور استصواب رائے اور حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو دہشت گردی میں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

امریکہ میں دہشت گردی کے بارے میں بیورو آف کاؤنٹر ٹیررازم کے نام سے ایک محکمہ ہے جس کے تحت ۵ اکتوبر کو دہشت گرد تنظیموں کی جو فہرست جاری ہوی، اس میں پاکستان دہشت گرد ممالک میں شامل ہونے سے بال بال بچاجبکہ سالانہ رپورٹ میں ایک اور طرح سے اس کا نام شامل ہے۔اس میں ۲۶ دہشت گرد تنظیموں کے نام تھے جبکہ ایک ماہ بعد نومبر میں دہشت گرد اداروں کی جو فہرست جاری کی گئی، ان کی تعداد بڑھ کر ۳۶ ہو گئی، اس میں ۵ پاکستانی تنظیمیں شامل تھیں۔ ہم نے اس پر نہ صرف احتجاج نہیں کیا بلکہ امریکا کے ایک اشارے پر ان سب کے خلا ف کارروائی بھی کر ڈالی حالانکہ ہم ان کے اتحادی تھے۔ اس طرح امریکا نے اپنی فہرست میں ۵ دہشت گرد تنظیموں کے نام شامل کرکے نشان دہی کر دی ہے کہ یہ لوگ غلط کام کر رہے ہیں۔ وہ جب چاہیں گے، ان کے خلاف کارروائی بھی کر ڈالیں گے۔ 

جنیوا کنونشن ۴۹ اور پروٹوکول ۷۵ اور ۷۷ کے مطابق کسی جنگی قیدی سے ا س کے عہدے اور نام پوچھنے کے سوا کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جا سکتی لیکن افغانستان میں نہ صرف کھلم کھلا پوچھ گچھ ہو رہی ہے بلکہ ۱۴ جنگی قیدیوں کو وہ اپنے بحری جہازوں پر بھی لے گئے ہیں۔ کیا کسی نے کبھی احتجاج کیا؟ 

جنیوا کنونشن کے تحت جو لوگ جنگ میں سرنڈر کریں، ان کو قابض فوجوں کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ افغانستان کے جنگی قیدیوں کو امریکا اور بھارت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ کیا کسی مسلمان ملک یا حکمرانوں نے اس پر احتجاج کیا؟ پاکستانی افغانستان گئے تھے، وہاں شہید ہو گئے یا گرفتار ہو گئے۔ ہماری حکومت نے ان کی لاشیں تک لینے سے انکار کر دیا۔ امریکا اپنے ایک امریکی طالبان کو بچانے کے لیے قانون اور قاعدے بدل رہا ہے۔ ہمارا تو حال یہ ہے کہ ۱۱ ستمبر کے بعد امریکا میں ۴ سو پاکستانی گرفتار ہیں۔ ان کے حق میں حکومت کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ میں نے اپنی خدمات ان پاکستانیوں کے لیے پیش کر دی ہیں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ۷ کے آرٹیکل ۶۰ سے ۶۹ میں کسی ملک میں قیام امن کے لیے فوج کی تعیناتی کے بارے میں قوانین ہیں جن کے تحت غیر جانب دار ممالک سے امن فوج تعینات کی جائے گی لیکن افغانستان میں جو امن فوج لائی جا رہی ہے، ا س کی سربراہی برطانیہ کے جنرل میکال کریں گے جو غیر جانب دار ملک نہیں بلکہ افغانستان پر حملہ آور فوج کا اتحادی ہے۔ 

اسی طرح اس سوال کا بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں مل سکا کہ افغانستان پر مسلط کی جانے والی جنگ کا جواز کیا ہے؟ کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی کسی قرارداد میں افغانستان پر حملہ تجویز کیا تھا؟ انہوں نے اس سلسلے میں وہ قرارداد پڑھ کر سنائی اور کہا کہ اس قراداد میں افغانستان پر حملہ کرنے کا کوئی ذکر تک موجود نہیں ہے۔ شرم کی بات ہے کہ کسی نے بھی سوائے ملائشیا کے امریکا اور اس کے اتحادیوں سے یہ تک نہیں پوچھا کہ تم کس قانون کے تحت یہ حملہ کر رہے ہو؟ افغانستان پر حملہ کرنے والی فوج اقوام متحدہ کی نہیں بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فوج ہے۔ یہ سوال پاکستان بھی اٹھا سکتا تھا۔ مانا کہ پاکستان پر دباؤ بہت تھا مگر وہ اگر قانونی سوال اٹھاتا تو جواب بھی ملتا۔ ہم یہ سارے سوال قانونی طور پر پوچھ سکتے تھے۔

ہماری خارجہ پالیسی کا بھی عجیب عالم ہے کہ ہم ایک ایک اور دو دو دنوں میں اپنی پالیسی بدل دیتے ہیں اور ہمیں طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پالیسیوں کا علم نہیں ہوتا۔ جنرل پرویز مشرف نے ۱۰ نومبر کو اقوام متحدہ سے خطاب کیا اور کہا کہ شمالی اتحاد کو کابل پر قبضہ نہ کرنے دیا جائے۔ بش نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کی توثیق کر دی کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے مگر ۲۴ گھنٹے بعد شمالی اتحاد والے کابل پر قابض ہو گئے۔ لندن میں ہمارے وزیر خارجہ عبد الستار نے بیان دیا کہ شمالی اتحاد والوں کو لگام دی جائے اور جب وہ قابض ہو گئے تو ان کے حق میں بیان دے دیا۔ ایک ملک میں اتنی جلدی خارجہ پالیسی بدلنے کی کوئی دوسری مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ 

حالت یہ کہ بم ہمارے پاکستانی علاقوں تک میں گرتے رہے ہیں لیکن ہم نے اس پر بھی کبھی احتجاج نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پورا عالم اسلام سخت خطرے میں ہے اس لیے اگر ہم آواز اٹھانا نہیں چاہتے، ہمارے سروں پر موجود خطرے کو محسوس نہیں کرتے، اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو نہیں سمجھتے تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے اور ہمیں امریکا کی ۵۳ ویں یا ۵۴ویں ریاست بننے پر کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے اور عملاً امریکا کی قیادت ایسا ہی کر رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ ہم واپس نہیں جائیں گے۔

سیمینار کی طرف سے جاری کردہ ’’کراچی ڈیکلریشن‘‘

جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے زیر اہتمام ہونے والے دو روزہ سیمینار میں اسکالرز، محققین کے پیش کردہ مقالات، پاکستان بھر سے ارسال کردہ عوام کے سوالات، سیمینار کے دوران ہونے والے سوال وجواب کی روشنی میں وقت کا یہ تقاضا سامنے آتا ہے کہ عالم اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ تیزی سے بدلتی دنیا، انسانی سوچ کی پیش رفت، عالمی معاشی نظام میں اتار چڑھاؤ، بین الاقوامی سیاسی علاقائی تعلقات، جدید سائنسی اور فکری معاملات کا آزادانہ اور خود مختارانہ تنقیدی تجزیہ جاری رکھے۔ سیمینار میں ہونے والے مباحثے کے نتیجے میں یہ حقیقت بھی بار بار اپنا وجود منواتی رہی ہے کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) کو پہلے سے زیادہ فعال اور پہلے سے زیادہ منظم ہونا چاہیے اور اس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ باہمی مذاکرات کے نتیجے میں اس کو یورپین یونین کی طرح مسلمان ملکوں کی یونین کہا جانا چاہیے جو حکومتی شراکت، آزادی اور انسانی حقوق کی مظہر ہو۔ 

۱۱ ستمبر کو نیو یارک میں فنانس ٹریڈ سنٹر، واشنگٹن میں پینٹاگون پر طیارے ٹکرانے سے ہونے والی دہشت گردی کو قابل مذمت اقدام قرار دیتے ہوئے سیمینار کے شرکااور سامعین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اسلامی تعلیمات اور تہذیب میں ایسے وحشیانہ اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان کو ایسے عمل میں ملوث نہیں ہونا چاہیے جس سے بے گناہ عام شہریوں کی جان اور مال کو خطرہ لاحق ہو۔ 

سیمینار کے شرکا اور سامعین دو روزہ اظہاریوں اور مباحثوں کے بعد اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں جس طرح جدید ترین جنگی ہتھیار استعمال کیے، شہری ٹھکانوں پر حملے کیے، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا، یہ بھی قابل مذمت ہے۔ دہشت گردی کا جنگی طاقت کے ذریعے سے خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اس سے دہشت گردی کے مزید رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ دنیا میں امن وامان، اقتصادی معاملات، بین الاقوامی تعلقات کے نازک امور کو طے کرتے وقت صرف طاقت کی زبان استعمال نہ کرے بلکہ ہر ملک، ہر قوم کے مسائل اور حالات کے اس کے مذہب، تمدن اور مخصوص حالات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے، پھر ان کے حل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ مغربی ممالک ہر مسئلے کو صرف اپنے تمدن اور ماحول کی روشنی میں حل کرنے کا فیصلہ نہ کریں۔

یہ سیمینار تمام مسلمان ملکوں اور حکومتوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے ہاں نوجوان ذہنوں میں جنم لینے والے تمام سوالات کا جواب دینے کا اہتمام کریں۔ ان کی سوچوں کو طاقت سے نہ دبائیں، ان کی الجھنوں کو دور کرنے کے لیے عام مباحثوں کا ماحول فراہم کریں، تقریر وتحریر اور اجتماع کی آزادی، ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ سیمینار تمام مسلمان ملکوں سے اپیل کرتا ہے کہ و ہ اپنے ہاں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔ ہر شہری بلا امتیاز مذہب اور جنس لازمی طور پر ابتدائی تعلیم ضرور حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات بھی تعلیم کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ یہ سیمینار تمام مسلمان ملکوں سے یہ بھی اپیل کرتا ہے کہ روزگار کے حصول، علاج معالجے کی بنیادی سہولتوں اور زندگی کی بنیادی ضروریات، پینے کا صاف پانی، شفاف ماحولیات کی فراہمی میں اپنا بنیادی کردار ذمہ داری سے ادا کرے۔ اس کے علاوہ ان وجوہ اور اسباب کا بھی جائزہ لیا جائے جن کے نتیجے میں دہشت گردی کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور ان تنازعات کو حل کیا جائے جن کی وجہ سے عالمی امن کو سخت خطرہ ہے۔

یہ سمینار مسلمان ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹیوں کے درمیان ایسے انتظامات کریں کہ طلبہ اور اساتذہ کے باضابطہ تبادلے ہوں۔ اہم واقعات اور موضوعات پر ان یونیورسٹیوں میں سیمینارز، ورک شاپس اور کانفرنسیں منعقد ہونی چاہییں۔ مسلمان اسکالرز اور محققین کی آپس میں ملاقاتیں اور تبادلہ خیال عالم اسلام میں اجتماعی طور پر اتفاق رائے کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ سیمینار مسلمان ملکوں کے اخباری اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ آپس میں خبروں، مضامین، رپورٹوں ، ملاقات اور تصاویر کے تبادلے کا اہتمام کریں تاکہ دنیا بھر میں مسلمان ایک دوسرے کے سیاسی ، سماجی، معاشی اور علمی حالات سے باخبررہیں۔ یہ سیمینار علماء کرام اور دینی مدارس کے مہتمم حضرات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے نصاب میں جدید ترین علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی تازہ ترین تبدیلیوں کو بھی شامل کریں۔ ان مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ اور طالبات کی اگر حالات حاضرہ پر گہری نظر ہو تو وہ یقیناًاپنے اپنے معاشرے میں ایک فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر سکیں گے۔

امریکی صدر ٹرومین اور سعودی فرماں روا شاہ عبد العزیز کی تاریخی خط وکتابت

ادارہ

(مالیر کوٹلہ بھارت کے دینی جریدہ ماہنامہ ’’دار السلام‘‘ نے نومبر ۲۰۰۱ء کے شمارے میں مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز آل سعود کے نام امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین کے ۱۰ فروری ۱۹۴۸ء کے تحریر کردہ ایک خط اور ملک عبد العزیز آل سعود کی طرف سے اس کے جواب کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس سے قارئین بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان، کشمیر، فلسطین کے حوالے سے امریکہ جو کردار اب ادا کر رہا ہے، وہ کسی حادثہ کا نتیجہ نہیں بلکہ بہت پہلے سے طے شدہ پالیسی اور پروگرام کا ایک تسلسل ہے اور اس امر کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ ہمارے مسلم حکمران امریکہ کے ان عزائم اور پروگرام کے بخوبی واقف ہونے کے باوجود ابھی تک زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر پائے اور انہوں نے عالم اسلام کے وسائل اور دولت امریکہ کے قدموں پر ڈھیر کر کے ذاتی، خاندانی اور طبقاتی سطح پر مفادات حاصل کرنے کے سوا عالم اسلام اور ملت اسلامیہ کے مفاد کے لیے کسی مشترکہ منصوبہ بندی اور پیش رفت کی آج تک ضرورت محسوس نہیں کی۔ ادارہ)

 

صدر ٹرومین کی جانب سے شاہ عبد العزیز کے نام خط

حضور جلالت ملک عبد العزیز آل سعود، فرماں روائے مملکت سعودی عرب

قابل قدر بادشاہ!

جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے ملک باہمی طور پر ایسی دیرینہ محبت اور مودت کے تعلقات میں مربوط ہیں جس کی بنیاد عدل وانصاف، آزادی، عالمی سطح پر امن وسلامتی کے قیام کی رغبت اور ساری انسانیت کی بھلائی پر قائم ہے، نیز ہماری باہمی اقتصادی مصلحتوں نے ان تعلقات کو اس وقت مزید مضبوط اور گہرا بنا دیا جب آپ نے اپنے ملک سعودی عرب میں دریافت کیے جانے والے تیل کے کنووں سے تیل نکالنے کا معاہدہ ہمارے ملک کی کمپنیوں سے کیا۔ اس طرح ہمیں وہاں تیل نکالنے والے وسیع وعریض پلانٹ قائم کرنے کے مواقع دست یاب ہوئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اب ہمارے تعلقات اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں کہ دونوں میں کسی ایک ملک میں ہونے والے ہر خوشگوار وناخوشگوار واقعہ کی صدائے بازگشت دوسرے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ ویسے بھی ہمارے نزدیک مشرق وسطیٰ میں امن وسلامتی کا قیام نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس علاقے سے آپ کا ملک دینی، تاریخی اور لسانی بنیادوں پر جڑا ہوا ہے۔ اس علاقے کے تمام ملکوں کو عرب لیگ جیسے ادارے نے باہم مربوط کر رکھا ہے۔ چونکہ عرب لیگ اور ساری عرب قوم کے دلوں میں آپ کے ملک کا ایک اونچا مقام ہے لہذا میں نے یہ مناسب سمجھا کہ عالمی سلامتی اور ایک ستائی ہوئی مظلوم قوم کے نام پر آپ سے مدد طلب کروں تاکہ آپ مقدس سرزمین پر اس کے باشندوں، عرب اور یہود کے درمیان برپا خانہ جنگ کو روکنے میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کر سکیں اور عرب قوم کو اپنے ہم وطن یہودیوں کے ساتھ مصالحت پر آمادہ کر لیں۔ ہٹلر کے دور میں یہودیوں نے جو عذاب جھیلے، کیا وہ ان کے لیے کافی نہیں کہ اب بھی وہ ستائے جاتے ہیں؟ آپ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ یہودی اب بھی عذاب وتکلیف میں گرفتار رہیں چہ جائیکہ آپ ان عربوں کا ساتھ دیں جو اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد (جو ارض مقدس کو دونوں قوموں کے درمیان تقسیم کرنے سے متعلق ہے) کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔ عربوں کا یہ انداز اقوام متحدہ میں شامل تمام ملکوں کے خلاف جس میں سرفہرست آپ کا ملک آتا ہے، سرکشی اور زیادتی کے مترادف ہے۔

جس بات کا مجھے ڈر ہے، وہ یہ کہ کہیں مختلف ممالک متحدہ طور پر ان بغاوت کرنے والوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے پر درست کرنے کے لیے ان پر فوج کشی نہ کر دیں جس سے آپ کی قوم کی ہزاروں جانوں کے تلف ہو جانے کا خدشہ ہے۔ یقیناًیہ امر ہمارے لیے بھی اور آپ کے لیے بھی باعث رنج وتکلیف ہوگا۔ میں اس امر کو بھی آپ سے مخفی رکھنا نہیں چاہتا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو یہ چیز ہمارے خوشگوار تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے جس سے ہمارے مشترکہ مفادات بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکہ قوم مظلوم یہودیوں کے لیے اپنے اندر عطف وکرم کا شدید جذبہ رکھتی ہے۔ ان یہودیوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو جوں کا توں قبول کر لیا ہے جبکہ یہ قرارداد ان کے تمام مطالب کی تکمیل بھی نہیں کر رہی لہذا عرب قوم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کریں اور یہودی قوم سے اس معاملے میں پیچھے رہ جائیں۔

جلالۃ الملک! تاریخ آپ کا انتظار کر رہی ہے تاکہ آپ کا نام اس انداز میں رقم کیاجائے کہ شاہ عبد العزیز وہ بادشاہ ہے جنہوں نے اپنی حکمت اور اثر ورسوخ کے ذریعے سے اراضی مقدسہ میں امن وسلامتی کو قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لہذا اپنی قوم کے لوگوں کو عالمی بائیکاٹ کی تکالیف سے بچا لیجیے اور مجبور ومظلوم اسرائیلی قوم کو سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیجیے۔ 

میری جانب سے سلام، نیک تمنائیں اور پیشگی پرخلوص شکریہ

آپ کا مخلص

ہیری ٹرومین

ملک عبد العزیز آل سعود کی جانب سے جواب

شاہی محل، ریاض

۱۰ ربیع الثانی ۱۳۶۷ھ

عزت مآب جناب ہیری ٹرومین، صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ

معزز صدر!

آپ کا۱۰ فروری کو تحریر کردہ مکتوب موصول ہوا۔ آپ نے میرے متعلق محبت اور الفت کے جو جملے اپنے خط میں تحریر کیے ہیں، ان پر میں آپ کا شکر گزار ہوں مگر اس بات کی صراحت بھی ضروری سمجھتا ہوں (کیونکہ صراحت اور کھری بات کرنا ہمارے آداب میں شامل ہے) کہ جوں جوں میں آپ کے خط کی عبارت سنتا رہا، اسی طرح میری حیرت اور استعجاب میں اضافہ ہوتا رہا کہ آپ نے کس طرح یہودی قوم کے باطل کو حق ثابت کرنے کی کوشش میں مجھ جیسے عربی بادشاہ کے بارے میں یوں بد گمانی کر لی جس کی اسلام اور عرب کے ساتھ وابستگی اور اخلاص کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ نے یہ تصور کر لیا کہ میں اپنی قوم کے حق کے مقابلے میں یہودیوں کے ساتھ ان کے باطل پر تعاون کروں گا۔ ہمارے دلوں میں فلسطین کا ایک مقام ہے۔ اس کی وضاحت میں ایک مثال کے ذریعے سے کروں گا۔

اگر کوئی ملک آپ کی کسی اسٹیٹ پر قبضہ کر لے اور اس کے دروازے دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والوں کے لیے کھول دے تاکہ وہ اس کو اپنا ملک بنا کر اس میں مقیم ہو جائیں اور جب امریکی عوام اس جبری قبضے کو ختم کرنے کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوں اور ہم آپ سے دوستی اور سلامتی کے نام پر اس معاملہ میں مدد کے خواہاں ہو جائیں اور کہیں کہ امریکی قوم کے نزدیک آ پ اپنے مقام اور اثر ورسوخ کو استعمال کر کے امریکی قوم کو غیر ملکیوں کے ساتھ مقابلہ سے روکیں تاکہ یہ اجنبی قوم اپنا ملک قائم کر سکے اس طرح تاریخ بھی آپ صدر ٹرومین کو اپنے روشن صفحات میں امریکہ میں اپنی حکمت اور نفوذ کے ذریعے سے امن قائم کرنے والا کہے، اس وقت آپ کے دل میں ہمارے اس مطالبہ کا کیا رد عمل ہوگا؟

جناب صدر! عرب قوم میں میرے جس مقام ومرتبہ کا ذکر آپ نے کیا ہے، مجھے وہ مقام محض عرب اور اسلام سے شدید دلی وابستگی کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ لہذا آپ مجھ سے ایسی بات کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں جو کسی ذمہ دار عرب کے لیے ناممکن ہے اور پھر فلسطین میں جاری جنگ کوئی داخلی جنگ نہیں جیسا کہ آپ کا خیال ہے بلکہ یہ اس کے اصل حق دار عرب قوم اور ان صہیونی جنگ جوؤں کے درمیان جاری لڑائی ہے جو فلسطینیوں کی چاہت کے علی الرغم عالمی سلامتی کے قیام کا دعویٰ کرنے والے چند ایک ملکوں کی مدد سے اپنا قبضہ جمانے کی کوشش میں ہیں۔ نیز فلسطین کو تقسیم کرنے کی منظور کردہ قرارداد جس کو مختلف ملکوں سے منظور کروانے میں آپ کا رول نمایاں رہا ہے، محض ظلم وناانصافی پر مبنی ایسی قرارداد ہے جس کو ابتدا ہی سے تمام عرب ملکوں نے نیز ان ملکوں نے بھی رد کر دیا جو حق کا ساتھ دے رہے ہیں لہذا حالیہ نتائج کے ذمہ دار عرب نہیں جس پر آپ ہمیں محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

میں اپنے ان مسلمان بھائیوں کے لیے انتہائی محبت اور شفقت کے جذبات رکھتا ہوں جو فلسطین میں صہیونی حملہ آوروں کے خلاف اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے نذرانہ شہادت پیش کر رہے ہیں کیونکہ ہم عرب لوگ اس کو ایسا شرف سمجھتے ہیں جو ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر ان فلسطینی بھائیوں کی تائید سے دست بردار نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ صہیونی حملہ آوروں کے خوابوں کو چکنا چور نہ کر دیں۔ جہاں تک آپ نے باہمی اقتصادی مصلحتوں کا ذکر کیا ہے جن سے میرا اور آپ کا ملک جڑا ہوا ہے، تو یاد رکھیے کہ یہ اقتصادی مفادات میرے نزدیک پرِ کاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ میں ان اقتصادی مفادات کو قربان کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ منظور نہیں کہ اس کے بدلے میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی مجرم یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کر دوں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ میں تیل کے ان کنووں کو بند کر سکتا ہوں۔ تیل کے یہ کنویں اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں ہیں جو اس نے آج ہم پر جاری فرمائی ہیں لہذا ہم ان کو کبھی عذاب الٰہی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ میں نے اس سے قبل کئی دفعہ ساری دنیا پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ میں اپنے تمام بیٹوں سمیت فلسطین کے لیے لڑنے مرنے پر تیار ہوں۔ پھر اس کے باوجود میرے لیے تیل کے یہ کنویں میری اپنی جان اور میری اولاد سے کیسے عزیز تر ہو سکتے ہیں؟ 

قرآن مجید کہ جس پر ہمارا ایمان ہے، جو ہماری زندگی ہے اور جس پر ہم اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں، اس کتاب نے تورات اور انجیل کی طرح یہود قوم پر لعنت کی ہے۔ یہی قرآن مجید ہم پر اس امر کو فرض قرار دیتا ہے کہ ہم اپنی جانوں اور مالوں کے ذریعے سے اس مقدس سرزمین کو یہودی دخل اندازی اور تسلط سے روکیں جس میں کوئی اور راستہ نہیں۔ اگر امریکی عیسائیوں اور ان کے دیگر حواریوں کے دینی عقیدہ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ یہودیوں کو ان کے ناپاک قدموں کے ذریعے سے مقدس سرزمین کو ناپاک کرنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں تو ہمارے دل بھی آج اس ایمان سے معمور ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس سرزمین کو یہودیوں سے پاک وصاف کریں۔ 

جس قسم کے الفت اور محبت اور جانب دارانہ تعلقات آپ کی حکومت نے یہودیوں سے استوار کیے ہیں اور اس کے مقابلے میں عرب کے ساتھ جس طرح آپ نے اپنی دشمنی کا اظہار کیا ہے، یہی ایک بات کافی ہے کہ ہم آ پ کے ساتھ خیر سگالی کے تعلقات کو منقطع کر دیتے، امریکی کمپنیوں کے ہمارے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو منسوخ قرار دے دیتے لیکن ہم نے اس لیے جلد بازی سے کام لینا مناسب نہیں سمجھا کہ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ کا ملک فلسطین کے موقف پر نظر ثانی کرے گا اور واضح باطل کی تائید سے کنارہ کش ہو کر واضح حق کا ساتھ دے گا۔ہم اس معاملہ میں آپ پر کوئی دباؤ ڈالنا نہیں چاہتے، نہ اس کے لیے تجارتی تعلقات کو ذریعہ بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم عربی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حق کو بذریعہ حق غالب کیا جائے نہ کہ ان یہودیوں کی طرح جو رشوت دے کر مختلف ملکوں کو اپنی تائید پر ابھارنے کی کوشش میں ہیں۔ مگر اس کے باوجود جب ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ حق کو کیوں پامال کیا جا رہا ہے تو ہم اس کے تحفظ کے لیے ہر وہ وسیلہ اختیار کریں گے جو اس میں موثر ثابت ہوگا۔ خصوصاً عرب لیگ قومیت اور اس کے حقوق کی حفاظت کے لیے جو تجویز بھی منظور کرے گی، ہم اس کی تائید میں ہوں گے۔

یقیناًیہ بات میرے لیے باعث مسرت ہے کہ جو امریکی ہمارے ملک میں مقیم ہیں، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ جب تک وہ ہماری سرزمین میں ہیں، انہیں ہماری جانب سے کوئی شکایت یا تکلیف نہیں ہوگی۔ آپ اس بات کا اطمینان رکھیں۔ سب سے زیادہ اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچ سکتی ہے تو یہی کہ ہمارے ملک میں ان کے قیام کی مدت کو مختصر کر کے پوری عزت واکرام کے ساتھ ان کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے ان کے ملک امریکہ واپس بھجوا دیں۔

اخیر میں صاحب صدر! میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ جن تجارتی اشیا کی بنیاد پر ہمارے مابین اقتصادی تعلقات قائم ہیں، یہ وہ مال ہے کہ دنیا کی مارکیٹ میں ا س کے فروخت کرنے والے بہت کم ہیں لیکن اس کے خریدنے والے بہت زیادہ۔

صاحب صدر! میری نیک تمنائیں اور آداب قبول فرمائیں۔

مخلص عبد العزیز آل سعود

ملک المملکۃ العربیۃ السعودیۃ

جنوبی ایشیا کے حوالے سے یہودی منصوبہ بندی

اسرار عالم

(بھارت کے ممتاز مسلم دانش ور جناب اسرار عالم نے یہ مضمون دو سال قبل اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورۂ جنوبی ایشیا کے پس منظر میں تحریر کیا تھا۔ ادارہ)

 عالم اسلام کے بہتیرے حکمرانوں کی سالوسی‘ خاموشی یا مجبوری کے ساتھ حاشیہ برداری کے باوجود پوری امت اور بطور خاص عامۃ المسلمین میں بڑھتے ہوئے دینی رجحان‘ شعور‘ جاں سپاری اور مغرب سے نفرت نے یہودیوں کومزید برافروختہ اور انہیں مزید غیر انسانی طور پر کچلنے کی طرف مائل کر دیا ہے۔ یہودی قوت کی یہی حواس باختگی جو مختلف پردوں میں مختلف بہانوں یا تدبیروں سے اور مختلف ہاتھوں کے ذریعے سے تقریباً تمام ہی براعظموں میں مسلمانوں کے قتل عام‘ نسل کشی ‘ دربدری‘ عصمت دری‘ بائیکاٹ‘ اذیت دہی اور بے عزتی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ یہودی ان ساری تدبیروں کے باوجود امت کے عزم میں لچک کے آثا ردور دور تک نہیں پا رہے ہیں۔

اپنے تمام حربوں‘ تدبیروں اور دھمکیوں کے باوجود وہ اس میں ناکام ہو گئے ہیں کہ کسی مسلم ملک کو جوہری طاقت ہرگز بننے نہ دیں گے۔ اس ناکامی نے انہیں یکایک ایک ایسے خطرے کے اندیشے میں مبتلا کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ بھی برآمد ہو سکتا ہے کہ بیسویں صدی میں کی گئی ان کی ساری کوششیں صفر ہو کر رہ جائیں۔ چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ایک خطرناک فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ وہی فیصلہ ہے جس کی تعمیل کے پہلے مرحلے کے لیے صدر امریکہ نے جنوبی ایشیا کا سفر کرنا ضروری سمجھا۔

لیکن جنوب ایشیا کا ہی سفر کیوں؟ اس کے دو اسباب نظر آتے ہیں:

۱۔ یہودیوں کا یہ احساس کہ ساری دنیا میں اسلامی بیداری کا مرکز فی الوقت جنوب ایشیا ہے۔

۲۔ جنوبی ایشیا کی ایک قوم کے ایک طبقے کا یہ باور کرا دینا کہ وہ قوم اور یہودی اینگلو سیکسن انتظام قدرتی حلیف ہیں اور امریکہ کا اس پر شرح صدر ہو جانا۔

ایک جانب امریکہ اور جاپان کے مابین اس پر اتفاق کے باوجود کہ دونوں اپنے اختلافات کو مزید ہوا نہیں دیں گے (مئی ۴‘ ۲۰۰۰ء) یہ بات یقینی ہو چکی ہے کہ اب ان دونوں کے اختلافات یعنی جنگ عظیم دوم کے بعد یہودی قوم کا قائم کردہ امریکہ‘ برطانیہ‘ سلامتی کونسل‘ آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک انتظام کی روشنی میں جاپان امریکہ تعلقات Point of no return تک پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب ۱۹۸۹ء سے جاری ہلمٹ کول طوفان کو ہرچند کہ اس طرح روک دیا گیا ہے کہ خود ہلمٹ کول کو صدارت سے الگ کر دیا گیا اور ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن ان سب کے باوجود یورپ میں ان کا لایا گیا اتحاد کا طوفان اب بھی پوری شدت سے آگے بڑھ رہا ہے جس کا نتیجہ اہل یورپ کا کوسوو آپریشن میں ناٹو کا بے دلی سے ساتھ دینا اور کسی درجے میں امریکی‘ برطانوی فوجوں سے عدم تعاون کرنا ہے۔

باشندگان برصغیر کے لیے بالعموم اور باشندگان ہند کے لیے بالخصوص سن ۲۰۰۰عیسوی کی شروعات بظاہر نہایت روشن اور امید افزا اور بباطن سخت تاریک اور بدترین معلوم ہوتی ہیں۔ اگر صدر کلنٹن کے اس دورے کے مضمرات مخصوص رخ پر گئے اور اس کے عواقب اسی طرح سامنے آئے جو اس طرح کے قدرتی تحالف کا منطقی نتیجہ ہے تو یہ ایک ایسی ہول ناک صورت ہوگی جس کی نظیر اس خطے کی تین ہزار سالہ تاریخ میں کوئی دوسری نہیں ملے گی۔

صدر امریکہ کلنٹن کا دورہ ظاہر ہے طرفین کے اتفاق کا نتیجہ ہوگا یعنی اس بات پر اتفاق کا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ محسوس کرنے لگے کہ ان کے مخصوص مقاصد کی تکمیل اس تحالف میں ممکن ہے۔ ا س صورت میں یہ بالکل جداگانہ بات ہے کہ دونوں کے مقاصد الگ الگ ہوں۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کے مقاصد ایک ہی ہوں یا ایک ہی بات کے دو الگ الگ پہلو۔ ایسی صورت میں طرفین کا یہ تصوراتی اتفاق بلا روک ٹوک عملی اتفاق میں بدل جائے گا اور بہت اہم امور میں گہرائی تک جا سکتا ہے۔کلنٹن نے مارچ ۲۰۰۰ء میں بھارت کا دورہ کیا اور انہوں نے بھارتی جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت کے ساتھ بہت سے میدانوں میں متفقہ اقدامات کے لیے معاہدے اور مفاہمت کیے جن میں سب سے اہم بات امریکہ کی بعض شرائط کے ساتھ ہندوستان کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے آمادگی ہے۔

اس کے معاً بعد اپریل میں برطانوی وزیر خارجہ کک کا دورۂ ہند ہوا اور انہوں نے بھی انہیں شرائط کے ساتھ ہندوستان کی سلامتی کونسل کی رکنیت کے استحقاق کی حمایت کی۔ اپریل کے وسط میں بھارت کے صدر کا دورۂ فرانس اور اس کے معاً بعد فرانس کے دو وفود کی بھارت آمد ہوئی۔ اس میں سب سے ابھری ہوئی بات بعض شرائط کے ساتھ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھارتی استحقاق کی فرانس کے ذریعے حمایت ہے۔ بھارت جیسے ایشیائی ملک کا سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننا اہل ایشیا کے لیے خوشی اور اطمینان کی بات ہے لیکن کل تک مغرب کا بھارت کو رکنیت سے محروم رکھنا اور آج حمایت کرنا تشویش کا باعث ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ کہیں عالمی استعماری قوتیں بھارت کی موجودہ حکومت کے مخصوص رجحانات کا اپنے استعماری مقاصد کے لیے استحصال کرنا تو نہیں چاہتیں؟ اگر ایسا ہے تو لازماً اس کا نقصان صرف اور صرف بھارت کو ہوگا۔ تشویش کی دوسری بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر یہ اتفاق اور تحالف ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت کی اندرونی صورت حال بعض پہلوؤں سے اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ شاید ۱۹۴۶ء اور ۱۹۴۷ء میں بھی صورت حال اتنی سنگین نہیں تھی۔ بابری مسجد کا انہدام‘ ٹاڈا میں ہزاروں مسلمانوں کی گرفتاری اور مہینوں بلکہ سالوں دستور کی موجودگی میں بلا مقدمہ قید وبند اور اذیت‘ قانون اور حکومت کے بعض بے قابو حلقوں کا فاشسٹ عناصر کی کھلی حمایت اور ان کے لیے قانونی چھتری کی فراہمی‘ پورے ملک میں مسلمانوں کو برسرزمین خوف زدہ کرنا‘ مسلم معیشت کے خلاف درپردہ اور علانیہ عملی اقدامات‘ دستور کی ترمیم کی کارروائی کا آغاز‘ مذہبی تعمیرات بل کے ذریعے سے ہر طرح کے مذہبی‘ ثقافتی اور تہذیبی اداروں اور سرگرمیوں اور تشخصات کا خاتمہ کرنے کی کوشش‘ مخصوص علاقوں اور زمینوں سے مسلمانوں کی جبری بے دخلی‘ تمام دینی‘ ثقافتی اور تہذیبی سرگرمیوں کو غیر ذمہ دارانہ طور پر دہشت گردی قرار دینا‘ تمام دینی‘ ثقافتی اور تہذیبی مقامات کو دہشت گردی کے اڈے قرار دینا‘ مسلمانوں کا انتظامیہ‘ مقننہ اور عدلیہ سے اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے دستوری چارہ جوئی کے حق کا صرف کاغذ پر باقی رہ جانا‘ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے معتد بہ حصہ کو فاشی جذبات سے بھر دیا جانا اور فوج کے بعض طبقات کا اس سے اچھوتا نہ رہ جانا‘ بیوروکریسی کے بہت بڑے طبقے کا انہیں سرگرمیوں میں متحرک ہو جانا ایک ایسی صورت حال کو جنم دے رہا ہے جس کے عواقب کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اس مخصوص صورت حال میں مشہور ماہر حکمت عملی اور قومی سلامتی کونسل کے رکن کے سبرمینیم (K. Subrahmanyam) کا یہ اظہار خیال بہت معنی خیز ہے کہ

’’بین الاقوامی دہشت گردی‘ مذہبی انتہا پسندی اور منشیات کے لین دین کو قابو میں لانا اس اتفاق کا بنیادی جزو ہے (جو بھارت اور امریکہ کے مابین ہے)‘‘

ہرچند کہ یہ بات بے حد حیرانی کی ہے کہ ہندوستان کے سب سے بڑے فکری گروہ آر ایس ایس کی ہندوستان کے تعلق سے عالمی پالیسی امریکہ کی عالمی پالیسی کے بالکل علی الرغم اور اس سے متصادم ہے۔ آر ایس ایس ایک نظریاتی گروہ ہے اور سبرا مینیم کی تلقین خالصتاً ابن الوقتی اور موقع پرستی کے اصول پر قائم ہے۔ ہر چند کہ سبرامینیم نے اپنے فلسفے کو عملیت (Pragmatism) کا لبادہ اوڑھایا ہے لیکن وہ اپنی اس عملیت کی پیش کش میں یہ بتانے سے قاصر رہے کہ اگر ایک بار بھارت اس عملیت کا سہارا لے کر اپنی ریاستی اصولیت سے ہٹ جائے اور کچھ دنوں کے بعد اسے یہ اندازہ ہو کہ امریکہ بھارت اور اپنے مفادات کے توازن کے ساتھ تکمیل سے زیادہ صرف اپنے مفادات کی تکمیل چاہتا ہے اور اسے بھارتی مفادات سے کوئی خاص غرض نہیں تو پھر بھارت اس صورت حال سے اپنے کو کیونکر نکال پائے گا اور اس کی عملیت کیا ہوگی؟ اور یہ خطرہ اس صورت میں اور بھی عیاں ہوتا نظر آتا ہے کہ وہ خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ صرف اس کا مسئلہ نہیں جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے:

’’امریکہ بھارت کے بازار میں دلچسپی رکھتا ہے ٹھیک اسی طرح جیسے ہر ملک کسی دوسرے ملک کے بازار میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بھارت کو چاہییے کہ وہ امریکہ کے بازار میں بھارتی سوفٹ ویئر اور ہنر مندی کے امکانات کے دروازے وا کرے‘‘۔

بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ: 

’’اس بنیادی مفروضے میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ دنیا میں اپنے سپر پاور کے مقام کو دوامی بنائے رکھنا‘ اپنے شہریوں کو سب سے زیادہ فی کس آمدنی دینا اور تمام بڑے تدبیری‘ معاشی‘ تکنیکی اور عالمی ماحولیاتی فیصلوں میں غالب فیصلہ کن حیثیت میں رہنا چاہتا ہے۔‘‘

ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھارت کے لیے اس غار میں داخل ہونا جتنا خوش نما اور آسان ہوگا‘ اختلاف کی صورت میں اس غار سے نکلنا اتنا ہی بھیانک اور مشکل۔ لیکن اب جبکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی حکومت نے اس سمت میں جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو سبرامینیم کے الفاظ میں بھارت اور امریکہ کے متفقہ مقاصد اس خطے میں اقلیتوں کے لیے بے حد تشویش ناک ثابت ہوں گے۔ حالات کے اس رخ پر چلے جانے کے بعد وزیر داخلہ ایڈوانی کا بیان مزید تشویش ناک مضمرات کا حامل سمجھا جاتا ہے کہ اب بھارت پر بیرونی خطرے اور اس کے اندرونی خطروں میں فرق باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ خطہ ایک ہزار سال کے اجتماعی امن کے بعد پھر قتل عام اور بڑے پیمانے پر عوامی بے دخلی (Mass exodus) کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کا تلخ تجربہ بھارت کی تاریخ نے بطور خاص دوسری صدی عیسوی اور نویں صدی عیسوی کے مابین کیا تھا۔ لیکن اس سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی اس خطے کے تعلق سے پالیسی میں اچانک تبدیلی اور ان کی جانب سے بھارت کے انتخاب کا اصل سبب کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ

۱۔ یہودی قوت یہ محسوس کر چکی ہے کہ اب اس کی اور عالم اسلام کی کشمکش ناگزیر ہو کر عالمی جنگ کی صورت اختیار کرنے جا رہی ہے۔

۲۔ یا یہ کہ وہ اب اس کا فیصلہ کر چکے ہیں کہ عالم اسلام کو کچل دینے میں مزید تاخیر ان کے عالمی منصوبے کو ہی درہم برہم کر کے رکھ دے گی لہذا ایسا اقدم ناگزیر ہوگیا ہے۔ لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا قدم ایک عالمی جنگ پر منتج ہوگا۔

۳۔ یا یہ ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کو ڈھانے اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو اور پورے جزیرۃ العرب پر قبضہ کر لینے کو مزید ٹالنا خطرناک ہوگا لہذا اس آپریشن کے کرنے کا وقت گزرتا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا آپریشن ایک عالمی جنگ پر منتج ہوگا۔

۴۔ کیا وہ اس نتیجے تک پہنچ گئے ہیں کہ ایک عالمی جنگ کی صورت میں جرمنی اور جاپان نہ صرف یہ کہ ان کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ ممکن ہے کہ مخالفانہ رول ادا کریں اور اس صورت میں سلامتی کونسل میں ان کی رکنیت ہول ناک نتائج پیدا کرے گی؟

۵۔ کیا وہ اس نتیجے تک پہنچ گئے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعد انہوں نے جرمنی اور جاپان کی عزت نفس کو جس طرح پامال کیا ہے‘ اس کے سبب کسی بحرانی صورت میں ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

۶۔ کیا ا س کا سبب عالم اسلام سے ہونے والی عالمی جنگ کی مخصوص حکمت عملی ہے؟ یہ بات واضح ہے کہ ایسی آئندہ جنگ کی تین خصوصیات ہوں گی:

(i) ایک جانب سے اعلیٰ فنی جنگی مشینری کی حرکت (High-tech war machinary mobilisation) اور دوسری جانب سے ادنیٰ اور متوسط جنگی مشینری کی حرکت (Low and medium-tech war machinary mobilisation) 

(ii) بے حد وحساب خام مال کی کھپت (High consumption of raw material)

(iii) غیر معمولی اور بے شمار انسانی جانوں کا تلف ہونا (War of over-kill)

ظاہر ہے اس صورت حال میں کئی باتیں قابل ذکر ہوں گی۔

(i) یہودیوں کا موت سے بے حد ڈرنا جبکہ ایک عام اندازے کے مطابق ایک ایسی عالمی جنگ کے چھڑنے کی صورت میں اب ۳۰ سے ۵۰ کروڑ لوگوں کے مرنے یا زخمی ہونے کا اندیشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ۵۰ کروڑ کے کلی زیاں میں اگر یہودیوں اور مسلمانوں کی اموات کا تناسب ۱۰۰:۱ بھی ہو جب بھی یہودیت ۵۰ لاکھ اموار کو برداشت نہیں کر سکے گی۔

(ii)اس صورت میں اس کے لیے جرمنی اور جاپان بے کار ہیں۔ وہ ان کے لیے اتنی جانوں کی قربانی دینے کی صلاحیت سے قاصر ہیں۔

(iii) یورپ کا کوئی ملک شاید کسی ایسی جنگ کے لیے تیار نہ ہو مثلاً روس اور مشرقی یورپ کے ممالک۔

(iv)جنگ عظیم اول اور دوم کے سابقہ ریکارڈ کی بنیاد پر وہ یہ قیاس کرنے میں حق بجانب ہیں کہ بھارت ان کے لیے اتنی جانوں کی قربانی دے سکتا ہے۔ خود اس ملک کی اندرونی صورت حال میں ایک طبقے کے لیے یہ تاریخی حکمت عملی دور رس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔

(v) انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ کسی ایسی جنگ میں خام مال اور اب اس Globalised دنیا میں Industrial Base بھی ناگزیر ہیں۔ جرمنی تو خر کسی حد تک ورنہ جاپان تو خام مال کے تناظر میں بالکل بے کار ہے۔ بھارت ہر دو اعتبار سے مالا مال ہے۔

(vi) جرمنی اور جاپان دونوں یہودیوں کے علاقہ دشمنی کی باہری سرحدوں پر واقع ہیں اور کسی ایسی جنگ میں ان کا تعاون موثر نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف یہودیوں کے نقطہ نظر سے بھارت باہری سرحدوں (Peripheral) پر ہونے کے بجائے عالم اسلام کے وسط میں واقع ہے جو ہر اعتبار سے Mobility اور Strike کے لیے موزوں ہے۔ یہودیوں اور امریکہ کو اس سے چنداں غرض نہیں کہ اس صورت میں بھارت کو کتنے نقصانات کا سامنا ہوگا اس لیے کہ صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ان کی تاریخ رہی ہے۔

(vii) کسی ایسی متوقع جنگ میں بیلسٹک میزائلوں کا رول سب سے زیادہ ہوگا۔ ایسی صورت میں بین بر اعظمی بیلسٹک میزائل کا رول بہت کم نظر آتا ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ ان کے وار ہیڈز جوہری ہوں اور روایتی ہیڈز کے ساتھ بین بر اعظمی میزائلوں کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں‘ نہ مالی اعتبار سے اور نہ جنگی اعتبار سے۔ لہذا اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ درمیانے اور چھوٹے درجے کے بیلسٹک میزائل ہی زیادہ تر استعمال کیے جائیں۔ اس صورت میں واقعی علاقہ جنگ (Real war theatre) کا معاملہ یہودیوں کے لیے سنگین ہوگا خاص طور پر اس لیے کہ ان کے دماغوں میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی یاد ابھی محو نہیں ہوئی ہے چنانچہ اس تناظر میں بھی بھارت ان کے لیے نہایت موزوں علاقہ ہے جہاں وہ اپنے مفادات کی جنگ بھارتی سرزمین پرلڑنا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر یہودیوں کو بھارت کی آمادگی بھی مل جائے تو یہ ہر صورت سے جرمنی اور جاپان کے مقابلے میں زیادہ مفید ہوگی۔

کیا مسٹر کلنٹن کا دورہ دراصل اس سلسلے کا آغاز ہے جس کا منطقی نتیجہ غزوہ ہند ہو سکتا ہے؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ ظہور دجال سے معاً قبل کسی نزدیکی عہد میں ہوگی۔ یہ جنگ بے حد خوں آشام ہوگی جس میں جان اور اسباب کا بے حد زیاں ہوگا۔ جس کی شروعات مقامی اہل ایمان پر غیر انسانی مظالم‘ ان کی بے بسی اور ان کی داد رسی کے حوالے سے ہوگی۔ عین ممکن ہے کہ حالات کے وقوع پذیر ہونے کا وہ آخری سلسلہ جس کی آخری کڑی ظہور دجال اور پھر قتل دجال ہے‘ اس کا آغاز غزوہ ہند سے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا سبب جنوب ایشیا میں مسلمانوں کا قتل عام اور ان کا کلی صفایا کر دینے کے اقدامات ہوں جس کے آثار بد قسمتی سے پوری طرح نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ کے اس فیصلے کے تناظر میں ان کے مقاصد کو اس طرح ملخص کیا جا سکتا ہے:

۱۔ جنوب ایشیا میں مسلمانوں کو نہتا کرنا

۲۔ یہودیوں کے نقطہ نظر سے جنوب ایشیا میں نام نہاد اسلامی لہر کو روکنے کے لیے اسلامی سرگرمیوں‘ تشخصات اور ثقافت کا خاتمہ کرنا۔ اس صورت میں اس ایجنڈے کی طرف پیش رفت جس کے تحت پورے جنوبی ایشیا کو اسلامی جذبات وعواطف سے پاک کرنا اور بھارت میں مسلمانوں کو بہرصورت de-islamise کرنا یا انہیں Liquidation کی حد تک  Marginaliseکر دینا ناگزیر ہے۔ اگر حکمت عملی کی بنا یہی ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ اس کے سوا کوئی اور بات یہودیوں کو منظور ہوگی تو اس صورت حال میں یہ وہ انقلابی تبدیلی ہے جو لازماً تاریخی رخ اختیار کرے گی اور پھر صورت حال ہر ایک کے قابو سے باہر ہو جائے گی۔

اسلامی تحریکیں اور مغربی بلاک

پروفیسر میاں انعام الرحمن

بیسویں صدی کے آخری دو عشرے اس لحاظ سے بہت اہمیت کے حامل ہیں کہ اس دوران میں عالمی سیاست کے رجحانات میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئیں ۔ کمیونزم کی توسیع اور گرم پانیوں تک رسائی کے لیے سوویت یونین کی افغانستا ن میں مداخلت، سوویت یونین کی شکست وریخت، کشمیر کی تحریک آزادی میں شدت، اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے لیے مغربی طاقتوں کی نام نہاد کوششیں، یوگوسلاویہ کا زوال اور بوسنیا کے مسلمانوں پر شرم ناک ظلم وستم۔ اگر ہم درج بالا امور کو ذہن میں رکھیں تو تبدیلی کی نہج اس طرح ترتیب پاتی ہے:

۱۔ سرد جنگ کا خاتمہ اور امریکہ کا یک قطبی طاقت کے طور پر ابھرنا،

۲۔ نئی مسلم ریاستوں کا ظہور،

۳۔ اسلامی تحریکوں کا اس زعم میں مبتلا ہونا کہ نئی ریاستیں ان کی مجاہدانہ سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں،

۴۔ ا س زعم کی وجہ سے کشمیر کی تحریک آزادی میں تشدد کا در آنا،

۵۔ اسی زعم کا ایک خاص پہلو افغانستان کی ’’مثالی‘‘ امارت اسلامیہ کی صورت میں سامنے آیا اور اسلام کی تعبیر وتشریح اور اظہار میں عصری تقاضوں کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ یہ سمجھا گیا کہ اگر اتنی بڑی ایمپائر کو صرف ’’مجاہدانہ‘‘ سرگرمیوں سے گرایا جا سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ زندگی کے باقی اموربھی پرانے طور طریقوں اور تشریحات سے انجام دیے جا سکتے ہیں۔

۶۔ اسلامی تحریکوں کا اپنی بساط سے بڑ ھ کو خود کو پیش کرنا۔ اس قسم کے دعوے کرنا کہ اکیسویں صدی اسلام کی صدی ہے، ہم نے سوویت یونین کو شکست دی ہے، کمیونزم کو شکست دی ہے، اب ہم مغربی دنیا سے بھی مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، سرمایہ دارانہ نظام کی شکست وریخت ہمارے ہی ہاتھوں ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

۷۔ مغرب کا اسلام کو ایک خطرے کے طور پر بھانپ لینا۔

اگر ہم ان نکات کو سامنے رکھیں تو مسلمانوں کی ’’سادگی‘‘ اس طرح ظاہر ہوگی کہ

۱۔ سوویت یونین کی شکست وریخت صرف ’’مجاہدانہ‘‘ سرگرمیوں کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس جنگ کے دوران میں ایک بہت بڑا اور طاقت ور بلاک ان کی پشت پر تھا۔ اس بلاک کے اپنے مخصوص مقاصد تھے جن کے حصول کے لیے مسلمان اور اسلامی نظریہ کو استعمال کیا گیا۔

۲۔ خیال رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کمیونزم کی توسیع بہت سرعت سے ہوئی جس سے شمالی امریکہ اور برطانیہ شدید خدشات کا شکار ہو گئے۔ اگر ہم دوسری جنگ عظیم کے وقت کی دنیا پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ تقریباً سارا یورپ سوائے برطانیہ کے، آمرانہ نظام کو اپنائے ہوئے تھا۔ جمہوریت صرف برطانیہ اور شمالی امریکہ تک محدود تھی۔ اس طرح جنگ سے پہلے بھی ان دو ملکوں کے لیے چیلنج موجود تھا جو جنگ کے بعد کمیونزم کی توسیع کی صورت میں موجود رہا۔ جنگ سے پہلے ان دونوں ملکوں نے جمہوریت کو بچائے رکھا۔ اب جنگ کے بعد جمہوریت کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کو بچانا بھی مقصود تھا۔ کمیونزم جس تیزی سے پھیل رہا تھا اور جتنا ڈسپلن اور تنظیم کمیونسٹوں میں موجود تھی، اس سے دونوں ممالک ہائی الرٹ ہو گئے اور نتیجے کے طور پر کمیونزم کی توڑ پھوڑ کے لیے زیادہ تیزی، ڈسپلن اور تنظیم سے کام کرنے لگے۔ اس سے ایک نکتہ سامنے آتا ہے کہ کمیونزم کا عروج اور پھیلاؤ اس کے زوال کا سبب بنا کیونکہ اسی بنا پر مقابل بلاک ہائی الرٹ ہو گیا اور Backlash effect (جوابی حملے) کے مصداق کمیونزم کی روک تھام کے لیے انتہائی اقدامات کیے گئے۔ مسلمان اور اسلامی نظریہ بھی انہی اقدامات کا ایک حصہ تھے۔

۳۔ اس Backlash effect کے اثر شمالی امریکہ اور برطانیہ تو اپنے مقاصد میں کام یاب ہو گئے۔ جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کو بچا لیا گیا لیکن بزعم خویش مسلمان بھی اپنے مقاصد میں کام یاب ہو گئے۔ نئی مسلم ریاستوں کا ظہور ہوا۔ یورپ کے قلب میں ایک مسلم ریاست بن گئی۔ جہاد کے ثمرات کی وجہ سے ’’جہاد‘‘ کو مزید تقویت پہنچی۔ کشمیر، فلسطین وغیرہ میں اسلامی تحریکیں شدت اختیار کر گئیں۔ افغانستان کے نوے فی صد حصے پر اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ پاکستان کو موقع مل گیا کہ افغان سرحد سے بے فکر ہو کر کشمیر پر اپنی توجہ مبذول رکھ سکے تاکہ جہاد کا ایک اور ’’ثمر‘‘ سامنے آ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی پلاننگ کرے کہ معاشی قوت بننے کا نادر موقع آپہنچا ہے وغیرہ۔

۴۔ اپنے مقاصد میں کام یابی کے حوالے سے ہم ایک بنیادی بات بھول گئے کہ یہ کام یابی صرف ہماری قربانیوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ غیروں کا تھا۔ اس طرح اپنی استعداد کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے ہم نے اپنا دائرہ کار وسیع کر لیا جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔

۵۔ سوویت یونین اور کمیونزم کی شکست وریخت کو اپنی کام یابی گردانتے ہوئے اسلامی تحریکوں نے اپنی پروجیکشن اور تشہیر شروع کر دی، اپنا دائرہ کار بھی بڑھا لیا حالانکہ پہلے ان کی پشت پر کوئی موجود تھا جو ان میں موجود ’’کمی‘‘ کو پورا کر رہا تھا۔ اب جبکہ وہ پشت پر موجود نہیں رہا، اسلامی تحریکیں خود کو اسی طرح طاقت ور اور فعال خیال کر رہی ہیں۔ اس طاقت اور فعالیت کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

۶۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی تحریکوں کو موجودہ صورتِ حال کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ میرے خیال میں یہ وہی Backlash effect ہے جو شمالی امریکہ اور برطانیہ نے سوویت یونین کی روک تھام کے لیے اختیار کیا تھا۔ اسلامی تحریکوں کی پروجیکشن اور بڑھکیں اس Backlash effect کا سبب بنی ہیں۔ ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسلامی تحریکوں کا پھیلاؤ اور احیا ہی ان کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔ مغربی بلاک ہائی الرٹ ہو گیا ہے کیونکہ ہماری توسیع اور پلاننگ بغیر بنیاد کے تھی یعنی ہم نے دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اپنی استعداد کا غلط اندازہ لگایا لیکن دائرہ کار مغربیوں کے Backlash effect کا سبب بن گیا۔ مغربی بلاک دائرہ کار کی وجہ سے ہماری طاقت اگر پچاس فی صد خیال کرتا ہے تو حقیقتاً ہماری طاقت دس فی صد ہے کیونکہ ہم نے مصنوعی انداز سے اپنا دائرہ کار پھیلا رکھا تھا حالانکہ اس کی استعداد نہیں تھی۔ اسی وجہ سے Backlash effect کے اثرات ہمارے لیے زیادہ شدید ثابت ہوں گے۔ اگر ہم سوویت یونین سے تقابلی جائزہ لیں تو شمالی امریکہ اور برطانیہ پچاس کی دہائی میں ہی ہائی الرٹ ہو چکے تھے۔ اس کی وجہ سینیٹر میکارتھی تھا۔ بہرحال سوویت یونین اتنا سخت جان ثابت ہوا کہ نہ صرف Backlash effect کے باوجود کئی عشرے سہار گیا بلکہ شمالی امریکہ اور برطانیہ کے لیے دردِ سر بنا رہا کیونکہ کمیونزم کا پھیلاؤ اور پروجیکشن اتنی مصنوعی نہیں تھی اور اس میں استعداد بھی موجود تھی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں اور اسلامی تحریکوں میں اتنی استعداد موجود ہے کہ وہ مغربی بلاک کے اس Backlash effect کو عشروں تک سہار سکیں؟ معروضی اور تجزیاتی جائزہ جواب نفی میں دیتا ہے۔

یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مغربی بلاک کے توسیع پسندانہ عزائم کے مقابلے میں بھی Backlash effect ممکن ہے؟ میرا خیال ہے نہیں کیونکہ سوویت یونین کے خلاف شمالی امریکہ اور برطانیہ ایسا اظہار کر سکتے تھے کہ ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجی کے اعتبار سے دونوں ممالک سوویت یونین سے برتر تھے۔ اسی طرح ان کا Backlash effect مسلمانوں اور اسلامی تحریکوں کے حوالے سے بھی موثر ہے لیکن مسلمان اور اسلامی تحریکیں ایسا اظہار کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں ہیں کیونکہ Backlash effect کے موثر ہونے کے تقاضے بھی ہیں اور ان تقاضوں کو پورا کرنے کی استعداد فی الحال ہم میں موجود نہیں۔

عصرِ حاضر میں اسلام کی تعبیر و تشریح ۔ مولانا منصوری کے ارشادات پر ایک نظر

عرفان الہی

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے مضمون ’’عصر حاضر میں اسلام کی تعبیر وتشریح‘‘ نے فکر وخیال کو مہمیز لگا دی۔ مدت سے جاری سست رفتار غور وفکر نے جلد ہی نتائج کو آئینہ خیال میں مشکل کر دیا۔ اس موضوع پر اپنے ناقص مطالعہ وفکر کے نتائج حسب ارشاد پیش خدمت ہیں جن میں کوئی بھی صحیح اضافہ وترمیم دل وجان سے قابل قبول ہوگا۔

جہاں تک مولانا منصوری کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ دعوت دین میں عقائد کی دعوت کو مقدم کیا جائے تو مجھے اس سے اتفاق ہے۔ یہی انبیاء کا نہج ہے۔ ا س میں مسلم مبلغین ومفکرین سے جو کوتاہی ہوئی یا ہو رہی ہے، ظاہر ہے۔ اسلام دلوں پر حکمرانی کرنے آیا ہے نہ کہ محض جسموں پر۔ البتہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیرت میں دعوتِ دین کا کچھ مختلف انداز بھی سامنے آتا ہے ۔

مولانا منصوری کی یہ بات کہ اہل مغرب جو موجودہ اندازِ دعوت دین کی وجہ سے جس میں سیاسی پہلو غالب ہو، پہلے مرحلے پر ہی ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور انداز دعوت کے بدل جانے سے زیادہ کھلے اور ٹھنڈے دل سے اسلام کی دعوت کو سن سکیں گے، اس سے مجھے مکمل اتفاق نہیں۔ انفرادی سطح پر جزوی طور پر یہ بات درست ہو سکتی ہے مگر اجتماعی سطح پر ہرگز نہیں۔

قرآن مجید جو ابدی حقائق کی کتاب اور دعوتِ دین کا اصل ماخذ ومعلم ہے، ہمیں بتاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے پاس تشریف لے گئے تو آپ کے کندھوں پر دہری ذمہ داری تھی:

۱۔ بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دلانے کی جدوجہد

۲۔ فرعون اور اس کی قوم کو دعوتِ دین۔

فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنا اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کا تعارف بطور رسول خدا کرانے کے بعد جو پہلی بات فرمائی، وہ بنی اسرائیل کی رہائی کی بات تھی اور دوسری بات دعوت تھی۔

فَاْتِیَاہُ فَقُوْلاَ اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ وَلاَ تُعَذِّبْہُمْ قَدْ جِءْنَاکَ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ وَالسَّلاَمُ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْہُدیٰ (طٰہٰ)

’’اس (فرعون) کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیے اور انہیں عذاب نہ کیجیے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے، اس پر سلامتی ہو۔‘‘

اس کے بعد ہی موسیٰ علیہ السلام فرعون کو مفصل دعوت دیتے ہیں۔اس دعوت اور فرعون کے رد عمل کو ملاحظہ فرمائیے:

’’فرعون نے کہا کہ تمام جہانوں کا مالک کیا؟

(موسیٰ علیہ السلام نے) کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے، سب کا مالک بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو۔

(فرعون نے اپنے ہالی موالی سے) کہا کہ کیا تم سنتے نہیں؟

موسیٰ بولے، تمہارا اور تمبارے باپ دادا کا مالک۔

فرعون نے کہا، یہ پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، باؤلا ہے۔

موسیٰ نے کہا، مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے، سب کا مالک بشرطیکہ تم سمجھو۔

فرعون نے کہا، اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں مقید کر دوں گا۔

موسیٰ نے کہا، خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز (یعنی معجزہ) لاؤں؟

فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اسے لاؤ۔

پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدہا بن گئی اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم سفید براق نظر آنے لگا۔

فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا، یہ کامل الفن جادوگر ہے۔ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے زور سے تمہارے ملک سے نکال دے۔ تو تمہاری کیا رائے ہے؟ (الشعراء)‘‘

اس ساری گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کا معاملہ کسی اور وقت کے لیے اٹھا نہیں رکھا بلکہ اصل دعوت پر بھی مقدم فرمایا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعوت توحید کو نہایت وضاحت اور سادگی سے پیش کیا جس سے کوئی اور پہلو نکالنا ممکن نہیں تھا مگر فرعون نے ان پر حکومت واقتدار کے حصول کی تہمت لگا دی تاکہ قوم فرعون بدک کر موسیٰ علیہ السلام کی دعوت سے کان لپیٹ لے اور ذہنی تناؤ کی کیفیت میں آجائے۔

موسیٰ علیہ السلام کی خواہش اور دعوت اس لیے تھی کہ

ھَلْ لَّکَ اِلیٰ اَنْ تَزَکیّٰ وَاَھْدِیَکَ اِلیٰ رَبِّکَ فَتَخْشیٰ (النازعات)

’’کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤ ں کہ تجھ کو خوف پیدا ہو؟

مگر فرعون کی حکمرانی کی چھٹی حس اس میں اپنے لیے خطرے کی بو محسوس کرنے لگی اور اس کا خدشہ کچھ غلط بھی نہ تھا۔ قرآن پاک ہی ہمیں بتاتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم جب اپنی نافرمانی کے ہاتھوں غرق ہو گئے تو بنی اسرائیل ہی وارث قرار پائے:

فَاَخْرَجْنَاھُمْ مِّنْ جَنَّاتٍ وَّعُیُوْنٍ وَّکُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ کَذَالِکَ وَاَوْرَثْنَاھَا بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ (الشعراء)

’’تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا اور خزانوں اور باعزت مکانات سے ۔ (ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیا۔‘‘

اہل مغرب اس وقت صرف ہماری دعوت کے مخاطب ہی نہیں، تنقید کے مورد بھی ہیں۔ وہ بالواسطہ اور بلا واسطہ اہل اسلام کے عظیم اور ناقابل تلافی نقصانات کے ذمہ دار ہیں۔ ہم دعوت دین کے وقت بھی اپنی قوم کو موسیٰ علیہ السلام کے اسوہ کی روشنی میں نظر انداز نہیں کر سکتے۔ مظلوم کی حمایت اگر سیاست کا جزو ہے تو اسے دعوت دین سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اہل مغرب اس وقت معنوی طور پر تقریباً پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ہم خواہ کتنی ہی سادگی سے دعوت دیں، اہل مغرب کو اسلام کے روپ میں اپنے اقتدار کے لیے ایک خطرہ لازماً محسوس ہوگا۔ وہ اسی ذہنی تناؤ کا شکار ہوں گا جس کا شکار فرعون ہوا تھا کیونکہ اہل سیاست کی ذہنیت ایک ہی ہوتی ہے۔

دوسری مثال تاریخ رسالت سے ہمیں ملتی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قیصر روم کو دعوتی خط لکھا تو اس نے یہ تبصرہ کیا:

’’اگر یہ نبی سچا ہے تو ایک دن میرا پایہ تخت اس کے قدموں کے نیچے ہوگا۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کا خط ایک دعوتی خط تھا مگر اس حکمران کو بھی اس میں اپنے اقتدار کے لیے خطرہ محسوس ہوا اور یہ خدشہ بھی بے جانہ تھا۔ کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ اسلام خود کو دوسری حکومتوں کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کرتا ہے مگر دوسری حکومتیں اس کو بہرحال اپنے لیے خطرہ گردانتی ہیں۔

مولانا منصوری نے اہل مغرب کے جس ذہنی تناؤ کا ذکر فرمایا ہے، وہ غالباً دعوت دینے والوں کے غلط انداز دعوت کی بنا پر ہوگا مگر صحیح انداز دعوت کے باوجود اس سے مکمل طور پر نجات ممکن ہوگی۔ ہاں صرف اس صورت میں اس ذہنی تناؤ کے رد عمل سے بچنا ممکن ہو سکتا ہے جب ہم اسلام کو محض انفرادی سطح تک ہی متعارف کرائیں اور اس کے نظام اجتماعی کی ہوا بھی نہ لگنے دیں مگر یہ اسلام کے ساتھ نادان دوستی ہوگی جس سے اس کا حقیقی چہرہ مسخ ہو جائے گا۔

آخر میں ایک یورپی نو مسلم محمد اسد کی کتاب Road to Makkah سے ایک اقتباس نقل کرتا ہوں جو معاملہ کی بہترین وضاحت پیش کرتا ہے:

’’جب اہل مغر ب کسی دوسرے مذہب یا تہذیب مثلاً ہندو مت یا بدھ مت کے بار ے میں بات کرتے ہیں تو وہ ان مذاہب اور اپنے تہذیبی نظریات کے بنیادی اختلافات سے ہمیشہ آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے یا ان مذاہب اور تہذیبوں کے نظریات کی تعریف بھی کر دیتے ہیں لیکن یہ بات ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتی کہ وہ ان کو اپنی تہذیب کے نعم البدل کے طور پر اپنا لیں کیونکہ وہ پہلے ہی سے اس کے ناممکن ہونے کا یقین کیے ہوتے ہیں۔ وہ ان اجنبی تہذیبوں کی حوصلہ افزائی متانت اور اکثر ہم دردی سے کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں جو ان کے لیے ہندو مت اور بدھ مت کے فلسفوں جیسا اجنبی نہیں تو مغربی متانت ایک جذباتی قسم کے تعصب میں بدل جاتی ہے۔ بعض اوقات اس پر میں حیران ہوتا ہوں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی اقدار مغرب کے روحانی اور معاشرتی اقدار سے اس قدر قریب ہیں کہ انہوں نے اسلام کو مغربی نظریات کے نعم البدل کے طور پر ایک پوشیدہ چیلنج بنا دیا ہے۔‘‘

(Road to Makkah, page 4-5)


مولانا سید مظفر حسین ندویؒ

پروفیسر محمد یعقوب شاہق

۹ نومبر ۲۰۰۱ء کو آزادی کشمیر کے پہلے امیر المجاہدین اور ممتاز عالم دین مولانا سید مظفر حسین ندوی نے ۷۹ برس کی عمر میں دنیائے فانی کو الوداع کہا۔ مولانا کی وفات سے دور قدیم کے دینی مدارس کے پروردہ اصحاب کی وہ تاب ناک اخلاقی روایت دم توڑ گئی ہے جو اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق، علم وفضل، تقویٰ، حق گوئی، انکسار، تزکیہ نفس، مصلحتوں سے بے نیاز، بے خوفی اور درویشی پر استوار تھی۔ وہ اتحاد امت کے داعی، شرافت کے پیکر اور اپنے احباب اور عزیزوں کے لیے سراپا شفقت ومحبت تھے۔ انہوں نے زندگی بھر اعلائے کلمۃ الحق کا پرچم اٹھائے رکھا۔

مولانا سید مظفر حسین ندویؒ ضلع باغ کے ایک گاؤں سوہاوہ شریف میں ۱۹۲۳ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی کا نام سید محمد ایوب شاہ اور دادا کا نام سید علی شاہ المعروف پیر سوہاوی تھا۔ سادات گردیزیہ کے اس علمی گھرانے کی شہرت قبل از تقسیم ریاست پونچھ کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دراز سے لوگ سفر کر کے یہاں اپنی روحانی پیاس بجھانے آتے تھے۔ سید مظفر حسین کی ابتدائی تعلیم کا آغاز گاؤں کے پرائمری اسکول سے ہوا۔ ان کو اس زمانے کے ایک گریجویٹ استاذ ماسٹر خلیل الرحمن سے پڑھنے کاموقع ملا جو ضلع ہزارہ سے تعلق رکھتے تھے۔ قرآن پاک ناظرہ اور ابتدائی دینی علوم کا آغاز سید لقمان شاہ سے کیا اور پھر دس گیارہ سال کی عمر میں ان کے والد محترم نے شیخ نبی بخش نظامی اور ممتاز مورخ محمد دین فوق جو ان دنوں پونچھ شہر میں تھے، کے مشورہ سے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ برعظیم پاک وہند میں ندوہ میں مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ندوہ کے اساتذہ میں تھے اور ان کے بڑے بھائی سید محمد علی دار العلوم کے ناظم تھے۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر سے آنے والے بچے کو داخلہ دے دیا اور ہاسٹل میں قیام وطعام کا انتظام بھی کر دیا گیا۔ مولانا نے اس ادارہ میں دس برس تک تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۱ء میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد اسی ادارہ میں عربی ادب کے استاذ مقرر ہوئے اور ۱۹۴۶ء تک تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ۱۹۴۶ء میں ان کو ضلع پونچھ ریاست جموں وکشمیر میں تبلیغی مشن پر مامور کیا گیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب تحریک پاکستان برعظیم کے طول وعرض میں چل رہی تھی اور کشمیر میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پرچم تلے تحریک آزادی اپنے شباب پر تھی۔ چنانچہ آپ بھی تحریک آزادی سے وابستہ ہو گئے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو جمعۃ الوداع کے دن سوہاوہ شریف کی مسجد میں آپ نے ایک انقلابی خطاب کیا جس کے نتیجے میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت نے آپ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ ۲۳ اگست ۱۹۴۷ء کو نیلا بٹ کے مقام پر جس عوامی اجتماع سے سردار عبد القیوم خان نے باغیانہ خطاب کیا تھا، ا س کی صدارت مولانا سید مظفر حسین ندوی نے کی تھی۔ اس وقت وہ نوجوان تھے اور عزم وہمت کے حوالے سے کوہ گراں تھے۔ چنانچہ عوامی تنظیم کے بعد ۲۶ اگست ۱۹۴۷ء کو جو جلوس باغ کی طرف روانہ ہوا، اس میں مولانا شامل تھے۔ یہ جلوس ہڈا ہاڑی کے مقام پر پہنچا جہاں ایک بڑے اجتماع میں ڈوگرہ حکومت کے خلاف اعلان جہاد کیا گیا۔ جلسہ کومنتشر کرنے کی غرض سے ڈوگرہ فوج نے گولی چلا دی اور نصف درجن مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔

اسی دوران میں تحریک آزادی کے لیے مسلمانوں کو مسلح کرنے کی ضرورت کے پیش نظر مولانا نے امیر المجاہدین مولانا فضل الٰہی چمر قندی سے رابطہ کیا اور کثیر تعداد میں رائفلیں حاصل کیں۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ء کو مجاہدین کا ایک قافلہ جس کی قیادت سردار محمد عبد القیوم خان کر رہے تھے، کوہالہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ’’باسیاں‘‘ کے مقام پر پہنچا اور وہاں ایک مسجد میں نماز عصر ادا کی۔ بعد از نماز اس بات پر بحث ہوئی کہ شرعی طریقہ پر جہاد کو منظم کرنے کے لیے ایک امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا ضروری ہے چنانچہ مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے مولانا سید مظفر حسین ندوی کو امیر المجاہدین منتخب کیا گیا اور مجاہد رہنماؤں جن میں سردار محمد عبد القیوم خان، سید علی اصغر شاہ، محمد سلیم خان(بعد میں میجر)، راجہ محمد صدیق خان (بعد میں کرنل)، محمد سعید خان (بعد میں میجر)، محمد حیات خان (بعد میں کیپٹن) وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں، نے مولانا کے ہاتھ پر جہاد کے لیے بیعت کی۔ بیعت کے الفاظ کو ندوی صاحب نے لکھا اور آج تک یہ تحریر مولانا کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔ اس تحریر کے متن کا خلاصہ یہ ہے:

’’آج ہم اللہ کی راہ میں جہادشروع کر رہے ہیں۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے اور کشمیر کے مسلمانوں کو ڈوگرہ حکمرانوں سے نجات دلانا ہمارا نصب العین ہے۔ ہم صرف مقابلہ کرنے والوں سے لڑیں گے۔ عورتوں‘ بچوں‘ بوڑھوں‘ معذوروں اور بیماروں پر یا ہتھیار نہ اٹھانے والوں پر ہم ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔ مال غنیمت کو بیت المال میں جمع کروائیں گے۔‘‘

اس بیعت کے بعد جنگی دستوں کی تنظیم کا کام سردار عبد القیوم خان کے سپرد کر دیا گیا۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں باغ شہر فتح ہو گیا اور مفتوحہ علاقوں میں جہادی شوریٰ نے مولانا سید مظفر حسین ندوی کو قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کر دیا۔ آپ کے ساتھ کفل گڑھ کے مولانا امیر عالم خان‘ مولانا سید ثناء اللہ شاہ‘ مولانا محمد عبد الغنی‘ مولانا سید نظیر شاہ سوہاوی‘ مولانا عبد الحمید قاسمی عباس پوری کو مختلف شعبوں میں ان کے نائب کے طور پر کام کرنے کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ مولانا محمد عبد الغنی مرحوم کو باغ بیت المال کا امیر مقرر کیا گیا۔

آزاد حکومت کے قیام کے بعد جب یہ عارضی انتظامیہ ختم ہو گئی تو سردار محمد ابراہیم خان بانی صدر نے مولانا سید مظفر حسین ندوی کو ’’انسپکٹر دینیات سکولز/ کالجز آزاد کشمیر‘‘ مقرر کیا جبکہ دوسرے علماء کرام کو محکمہ افتا میں لگا دیا گیا۔ دو برس کے بعد مولانا کو مظفر آباد ڈگری کالج میں بطور پروفیسر اسلامک اسٹڈیز لگایا گیا اور دو برس کے بعد وہ آزاد کشمیر محکمہ امور دینیہ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ریٹائرمنٹ تک اسی عہدہ پر کام کرتے رہے۔ مزید برآں وہ پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر کے مستقل ممبر اور اسلامی نظریاتی کونسل آزاد کشمیر کے رکن بھی رہے۔ ۱۹۸۳ء میں وہ ساٹھ برس کی عمر پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ ۱۹۵۱ء میں جب مفتی اعظم فلسطین جناب سید امین الحسینی پاکستان اور آزاد کشمیر کے دورہ پر آئے تو آپ نے کوآرڈی نیٹر اور مترجم کے فرائض سرانجام دیے۔ 

مولانا نے اپنی تدریسی زندگی کے دوران میں ابتدا سے میٹرک کی سطح تک ’’نور ایمان‘‘ کے نام سے اسلامیات کے مضمون کے لیے ایک سلسلہ کتب تصنیف کیا اور یہ نصاب کئی برس تک آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں رائج رہا۔ ’’نور ایمان‘‘ کے اس سلسلے کو کینیا (افریقہ) کے نصاب تعلیم میں بھی جگہ دی گئی۔ مولانا کی آخری تحریر راقم الحروف کی کتاب ’’فیض الغنی‘‘ کا پیش لفظ ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کی درخواست کے ساتھ جب میں ان کے گھر مظفر آباد حاضر ہوا تو وہ علالت کی زندگی گزار رہے تھے لیکن انہوں نے کتاب کا مسودہ رکھ لیا اور دوسرے تیسرے دن ’’پیش لفظ‘‘ لکھ کر حوالے کر دیا۔

مولانا نے بھرپور زندگی گزاری۔ سرکاری ملازمت بھی کی او رمنبر ومحراب سے بھی عمر بھر ان کا تعلق رہا۔ آزاد کشمیر میں جتنے سربراہان حکومت برسراقتدار آئے‘ کم وبیش سب نے مولانا کو بے حد احترام دیا اور ان کی تلخ باتوں سے چشم پوشی اختیار کی۔ مولانا منہ پر کبھی حق بات کہنے سے باز نہ آئے۔ وہ کسی اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوتے یا مسجد کے منبر پر‘ ان کی حق گوئی ضرب المثل بن چکی تھی۔ وہ تصنع‘ بناوٹ اور سخن سازی کے فن سے ناآشنا تھے۔ ان کی زبان خوشامد سے کبھی آلودہ نہیں ہوئی۔

۷ اکتوبر کو جب افغانستان پر امریکی بمبار ہوائی جہازوں نے حملہ کیا تو یہ خبر بجلی بن کر ان پر گری۔ دوہا میں او آئی سی کے وزراء خارجہ کے اجلاس کی روداد دیکھ کر ان کے دل پر چوٹ لگی اور اس کے بعد وہ بہت مختصر بات کرتے تھے۔ ان کے اہل خانہ اور فرزندوں کا بیان ہے کہ قوت گویائی کم ہونے کے باوجود ان کے ہوش وحواس قائم تھے۔ ان کو کاغذ اور قلم دیا گیا تاکہ وہ آخری نصیحت لکھ سکیں۔ انہوں نے مضبوطی سے قلم ہاتھ میں لیا اور آخری الفاظ لکھے جو یہ تھے: ’’امریکہ .....مردہ باد‘‘ اور کچھ لمحات کے بعد ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی:

مقام گریہ ہے اہل قفس کہ فصل بہار 
گلوں کو خاک میں خود ہی ملا کے آئی ہے

سیدنا عمرؓ اور قتلِ منافق کا واقعہ ۔ مولانا حافظ مہر محمدکا مکتوبِ گرامی

ادارہ

عزیزم مولانا عمار ناصر صاحب زید لطفکم

اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل اور ریسرچ وتحریر میں اضافہ فرمائے۔ آپ کے کئی مضامین واقعی علمی اور بصیرت افروز ہوتے ہیں۔ اللہم زد فزد۔ 

مگر الشریعہ دسمبر ۲۰۰۱ء کے شمارے میں ’سیدنا عمرؓ اور قتلِ منافق کا واقعہ‘ نفی میں پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ ایسے واقعات کچھ راویوں کی بدولت اگرچہ محدثانہ معیار سے صحت کے اعلیٰ درجہ پر نہ بھی ہوں مگر تواتر وشہرت، اصولِ ایمان اور عقائدِ اسلام کے معیار پر ہوں تو ان پر رد وقدح مناسب نہیں۔ اس کی مثال، جیسے میں نے سنا ہے کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی نے جوانی میں جب ’گلدستہ توحید‘ تصنیف فرمایا تو صحیحین کی روایات کی بنا پر ہادی اعظم ﷺ کے والدین کے ایمان پر بھی بحث کر دی۔ جب حضرت امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا: ’’یہ بات کتاب سے خارج کر دو۔ ہمارے ایمان اور سوال وجواب سے اس کا تعلق نہیں۔ اس سے آپ ﷺ مغموم ہوں گے۔‘‘ او کما قال۔ چنانچہ حضرت استاذیم دامت برکاتہم نے ’گلدستہ توحید‘ سے اسے بالکل نکال دیا ہے۔

آپ بھی اور کبھی برادر محترم مولانا آپ کے عم مکرم ایسے منفرد تحقیقی مضامین سے پرہیز کریں جن کو دوسرے فرقے ہتھیار بنا کر ہمارے خلاف استعمال کریں۔ یہ مضمون کسی اور پرچہ میں آپ کے نام کے بغیر ہو تو رافضی کی تنقید ہی سمجھی جائے گی کیونکہ وہ صحابہ کرامؓ کے تحفظ ودفاع میں ہر آیت وحدیث پر تنقید کرتے ہیں۔

میرے پاس وقت نہیں کہ آپ کے مضمون کا مناقشہ کروں۔ سرِ دست تین تفسیروں کا حوالہ سامنے ہے۔ ابن جریر طبری کا ذکر تو آپ بھی کر چکے ہیں۔ تفسیر فخر الدین رازی ج ۱۰، ص ۱۵۷ بیروت میں ہے:

’’مسئلہ دوم: مفسرین نے اصابتہم مصیبۃ کہ ان منافقوں کو مصیبت پہنچی کی تفسیر میں کئی باتیں لکھی ہیں۔ پہلی یہ کہ حضرت عمرؓ کا ان منافقوں کے اس ساتھی کو قتل کرنا جس نے اقرار کیا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہے۔ پس وہ حضور علیہ السلام کے پاس حضرت عمرؓ کے خلاف مقدمہ لے کر آ گئے اور قسم اٹھائی کہ ہمارا مقصد غیر رسول کے پاس جانے سے اصلاح تھی ۔ یہ زجاج کا پسندیدہ ہے۔‘‘

یہی کچھ اس رکوع کے شان نزول میں سب مفسرین نقل کرتے ہیں۔ علماء دیوبند بھی یہی لکھتے ہیں۔ مثلاً مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ’معارف القرآن‘ میں لکھتے ہیں:

’’چند اہم مسائل: اول یہ کہ وہ شخص مسلمان نہیں جو اپنے ہر جھگڑے اور ہر مقدمے میں رسول کریم ﷺ کے فیصلہ پر مطمئن نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے اس شخص کو قتل کر ڈالا جو آنحضرت ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ ہو اور پھر معاملہ کو حضرت عمر کے پاس لے گیا۔ اس مقتول کے اولیا (منافقین) نے رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں حضرت عمرؓ پر دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے بلاوجہ ایک مسلمان کو قتل کر دیا۔‘‘ الخ (ج ۲، ص ۴۶۱)

تفسیر مدارک نسفی ج ۱، ص ۳۷۲ بر حاشیہ تفسیر خازن مطبوعہ بیروت میں ہے:

فدخل عمر فاخذ سیفہ فضرب بہ عنق المنافق فقال ھکذا اقضی لمن لم یرض بقضاء اللہ ورسولہ فنزل جبریل علیہ السلام ان عمر فرق بین الحق والباطل فقال رسول اللہ ﷺ انت الفاروق۔

تو حضرت عمرؓ اندر گئے، تلوار لے کر اس منافق کی گردن اڑا دی۔ پھر فرمایا، میرا فیصلہ اس شخص کے حق میں یہی ہے جو کہ خدائے پاک اور حضرت رسول اللہ کے فیصلے کو نہ مانے۔ تب جبریل علیہ السلام نے آکر کہا، حضرت عمرؓ نے حق اور باطل میں فرق کر دیا ہے۔ تو حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: آپ ’’فاروق‘‘ ہیں۔

اور لباب التاویل تفسیر خازن ص ۳۷۳ میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ بشر نامی منافق کے بار ے میں اتری جسے حضرت عمرؓ نے قتل کر کے ٹھنڈا کر دیا تھا۔ الخ

آپ اپنی مزید تسلی کے لیے تفسیر عثمانی ص ۱۱۲، تفسیر بیان القرآن تھانویؒ اور معالم العرفان مولانا عبد الحمید سواتی پر مقام ہذا دیکھ لیں۔ پھر اس کا شان نزول -- طاغوت کعب بن اشرف کی طرف جانا، مصیبت کا تعین، آپ ﷺ کے فیصلے سے اعراض -- خود بتا دیں۔

آپ کے تین درایتی اعتراضات کا جواب یہ ہے:

۱۔ منافقوں نے حضرت عمرؓ کے خلاف خوب پراپیگنڈا کیا۔ تفسیر، سیرت اور حدیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ تلاش شرط ہے۔

۲۔ حضرت عمرؓ کو مغلوب الغضب کہنا بھی شان ایمان کا اعتراف ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جذبہ توحید سے مغلوب ہو کر حضرت ہارون علیہ السلام کا سر غصہ سے جھنجھوڑا یا جیسے حضرت علی المرتضیٰ نے رد شرک کے غصے میں اپنے ۷۰ حب داروں کو زندہ آگ میں جلا دیا (مشکوٰۃ)جو آپ کو حاجت روا، مشکل کشا، کارساز، عالم الغیب، مختار کل، رب اور خدائی صفات والا کہتے تھے حالانکہ زندہ کو آگ میں جلانے کی صریح ممانعت ہے کہ اللہ کے سوا آگ کا عذاب کوئی نہ دے۔ اور سبائی مشرکوں نے اسی حدیث سے حضرت علیؓ کی ربوبیت پر استدلال کیا اور آگ میں جل گئے۔ جیسے اب بھی یا علی مدد کہہ کر آگے پر چلتے اور جلتے ہیں۔ یا جیسے اب طالبان نے اپنا سب کچھ قربان کر کے امریکہ طاغوت کے آگے سر نہیں جھکایا۔

۳۔ منافق کا قتل خلافِ شرع نہیں۔ ارشاد خداوندی ہے ’’کفار اور منافقین سے جہاد کریں اور ان پر خوب سختی کریں۔’’ گو یہ آپ ﷺ کے شایانِ شان نہ تھا مگر حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ کے منکروں، مرتدوں، مسیلمہ کذاب اور بنو حنیفہ سے جنگ کر کے اور حضرت علیؓ نے خوارج سے جنگ کر کے خدا ورسول کا یہ حکم پورا کر دکھایا۔

والسلام ۔ آپ کا چچا

مہر محمد میانوالوی

حکومت اور دینی مدارس ۔ دینی مدارس کے بارے میں ایک سرکاری رپورٹ

ادارہ

ملک بھر میں تمام دینی اداروں کا مکمل طور پر کریک ڈاؤن ممکن ہے نہ کسی انتظامی ایکشن سے سو فیصد دینی ادارے بند کیے جا سکتے ہیں۔ اس بارے میں صوبوں کے محکمہ داخلہ کے حکام کی طرف سے وفاقی حکومت کو پچھلے دنوں آگاہ کیا گیا ہے کہ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق ۱۰ لاکھ سے زائد بچے پنجاب‘ سندھ‘ سرحد اور بلوچستان میں قائم مختلف اداروں میں دینی تعلیم وتربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ ان اداروں کی تعداد کئی ہزار ہے جس میں سے ۱۰ فیصد کے قریب ایسے ادارے ہیں جن کے بارے میں مختلف حساس اداروں کے توسط سے حکومت کو یہ اطلاعات مل چکی ہیں کہ ان کے ہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جہاد کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور اس حوالے سے انہیں اس میں بطور نوجوان اور مسلمان کے بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان دس فیصد میں سے ۷‘ ۸ فیصد اداروں کے پاس ہر قسم کا اسلحہ وغیرہ موجود ہے جس کے بارے میں پولیس اور دیگر اداروں کے پاس مکمل معلومات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو بعض ذمہ دار حلقوں کی طرف سے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ حکومت بھی مختلف علماء کرام کی خدمات حاصل کر کے سرکاری سرپرستی میں ’’دار العلوم‘‘ کی طرز پر ایک ادارہ قائم کرے جس میں نوجوان نسل کو جدید ترین نصاب کے ساتھ اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جا سکے۔ اس ادارے کی شاخیں پہلے مرحلے میں چاروں صوبوں اور پھر مختلف اہم مقامات پر قائم کی جائیں۔ ان ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی دباؤ پر دینی اداروں کا کریک ڈاؤن شروع کرنے کے بجائے ان کو جدید ترین نصاب تعلیم رائج کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ان اداروں کے حالات بہتر بنانے کے لیے حکومت خود اپنے وسائل سے ضروری اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ معروف دینی اداروں کو مختلف تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ ان ذرائع کے مطابق اس وقت مختلف دینی اداروں میں ۶۰ فیصد سے ۷۰ فیصد طالب علم وہ ہیں جو کئی وجوہ کی بنا پر بے سہارا ہیں لیکن یہ دینی ادارے ان کی پرورش اور سرپرستی کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں بھی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے بے سہارا اور یتیم بچوں کو تعلیم وتربیت کے بہتر سے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

(نوائے وقت‘ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۱ء)

دینی مدارس کے وفاقوں کا مشترکہ اعلان

ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کی تعلیمی تنظیمات کے اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان اور ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ‘ رابطۃ المدارس الاسلامیۃ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد المالک اور مولانا فتح محمد مہتمم جامعہ مرکز علوم اسلامیہ منصورہ‘ تنظیم المدارس پاکستان کے صدر مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی اور ناظم اعلیٰ مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی‘ وفاق المدارس الشیعہ کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمدعباس نقوی اور مولانا محمد افضل حیدری‘ وفاق المدارس السلفیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد یونس اور جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم نے شرکت کی۔ مرکزی میڈیا سیل کے مطابق اجلاس کی صدارت رابطۃ المدارس الاسلامیۃ پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک نے کی۔ ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان‘‘کے رابطہ سیکرٹری مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے دینی مدارس کے خلاف عالمی سازش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف متحدہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا اور مدارس کے سلسلے میں سرکاری حلقوں کی جانب سے مجوزہ اقدامات پر تنقید کی۔

اجلاس سے مولانا سلیم اللہ خان‘ مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی‘ مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی‘ مولانا عبد المالک‘ مولانا سید عباس نقوی اور مولانا محمد یونس نے بھی خطاب کیا۔ شرکا نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مدارس اپنے عظیم ماضی کی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہمت واستقامت کے ساتھ دین اسلام کی ترویج اور ملک وملت کی تعمیر میں اپنا سفر جاری رکھیں گے اور اس کی راہ میں ہر قسم کی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدارس دینیہ کی آزادی وخود مختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گااور کسی بھی قسم کی حکومتی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ مختلف حلقوں کی جانب سے مدارس دینیہ پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات مخصوص اہداف حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈا کا حصہ ہیں جن کو کلی طور پر رد کیا جاتا ہے اور اس لب ولہجہ کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے گمراہ کن اور بے بنیادی پراپیگنڈے کے جواب میں حقائق کو واضح کرنے‘ رائے عامہ کو دینی مدارس کی عظمت سے آگاہ کرنے اور دینی اداروں کی گراں قدر خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے پورے ملک میں صوبائی دار الحکومتوں میں صوبائی کنونشن اور مرکزی سطح پر اسلام آباد میں تحفظ عظمت مدارس کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ پہلا صوبائی کنونشن جامعہ نعیمیہ لاہور میں ۶ جنوری کو‘ دوسرا صوبائی کنونشن بنوری ٹاؤن کراچی میں ۲۰ جنوری کو‘ تیسرا صوبائی کنونشن جامع مسجد درویش پشاور میں ۳ فروری کو منعقد ہوگا۔ مرکزی کنونشن ۱۰ فروی کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں تمام مکاتب فکر کے ہزاروں مدارس دینیہ کے لاکھوں علماء کرام‘ طلباء اور ملت کے نمائندہ وفود شریک ہوں گے۔ اجلاس میں وہ قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ مظلوم افغان بھائیوں کی حمایت اور عالمی دہشت گرد امریکہ کے مظالم کے خلاف حالیہ احتجاجی تحریک کے تمام قائدین قاضی حسین احمد‘ مولانا فضل الرحمن‘ لیاقت بلوچ‘ مولانا عطاء المومن بخاری‘ مولانا سمیع الحق اور تمام گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ملک کے معروف سکالر اور جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو خطابت کے منصب سے برطرف کرنے کی ناروا کارروائی کو منسوخ کر کے انہیں ان کے عہدے پر فوری طور پر بحال کیا جائے۔ ایک اور متفقہ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر وطن عزیز سے غیر ملکی فوجوں کو نکالے اور قومی امور میں واضح طور پر کی جانے والی بیرونی مداخلت کو ختم کرے۔ (روزنامہ اوصاف‘ ۷ دسمبر ۲۰۰۱ء)

حدود آرڈی نینس‘ لاہور ہائی کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل

لاہور ہائی کورٹ نے اجتماعی بد اخلاقی کے مجرموں کو موت سے کم سزا نہ دینے سے متعلق قانون کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو حدود آرڈی ننس کی دفعہ ۱۰ (۴) میں ترمیم کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس ضمن میں مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف اور مسٹر جسٹس ایم نعیم اللہ شیروانی نے قرار دیا ہے کہ جب قتل جیسے سنگین مقدمات میں مجرم کو عمر قیدکی سزا دی جا سکتی ہے تو اجتماعی بد اخلاقی کے مجرموں کے کم از کم عمر قید کی سزا مقرر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ ہمیں بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اجتماعی بد اخلاقی کے ایسے مقدمات جن کے مجرم عمر قید کے مستحق ہوتے ہیں‘ ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ قانون انہیں موت سے کم سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے کی نقل وفاقی سیکرٹری قانون کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ معاملہ حکومت کے ذمہ داروں کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ ترمیم کے ذریعے اجتماعی بد اخلاقی کے مجرموں کے لیے موت کے ساتھ عمر قید کی سزا بھی مقرر کی جا سکے۔ فاضل بنچ نے کہا کہ زیر نظر کیس میں ہم اپیل کنندگان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا بھی چاہیں تو ایسا نہیں کر سکتے۔ زیر نظر کیس میں بد اخلاقی کا نشانہ بننے والی کنیز بی بی اور اس کے والدین نے مجرموں کو معاف کر دیا ہے لیکن یہ جرم ناقابل راضی نامہ ہونے کی وجہ سے مجرموں کو نہیں چھوڑا جا سکتا تاہم عدالت ان کے لیے اتنا ضرور کر سکتی تھی کہ ان کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیتی لیکن قانون نے عدالت کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ پنڈی بھٹیاں کے ارشاد اور اشرف منظور کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کنیز بی بی سے اجتماعی بد اخلاقی کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف مجرموں نے اپیل دائر کی تھی۔ دوران سماعت اپیل کنندگان کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ ایک مجرم ارشاد کی عمروقوعہ کے وقت اٹھارہ سال سے کم تھی اور مروجہ قانون کے مطابق ۱۸ سال سے کم عمر نابالغ ملزم کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ فاضل بنچ نے یہ اعتراض مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ ۱۸ سال سے کم عمر کے مجرم کو سزائے موت نہ دینے کا اصول حدود کے مقدمات پر لاگو نہیں ہوتا۔ ایسا کم عمر مجرم جو بد اخلاقی کی صلاحیت رکھتا ہو‘ اسے بالغ تصور کیا جائے گا اور اسے پوری سزا ملے گی۔ فاضل بنچ نے اپیل مسترد کر دی تاہم اپنی آبزرویشنز کے ساتھ فیصلہ کی نقل وزارت قانون کو بھجوا دی ہے۔ (روزنامہ پاکستان‘ ۸ دسمبر ۲۰۰۱ء)

اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا ہے کہ شرعی لحاظ سے کسی بھی اتھارٹی کو حدود اللہ معاف کرنے یا ان میں تخفیف کرنے اور ان کو کسی دوسری سزا میں تبدیل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح قصاص معاف کرنے کا اختیار بھی کسی اتھارٹی کو حاصل نہیں ہے البتہ اولیا یا ان میں سے کوئی قصاص معاف کر سکتا ہے جبکہ تعزیری سزاؤں میں صدر‘ گورنر‘ وفاقی یا صوبائی حکومتیں ایسی سزائیں معاف کرنے یا ان میں کوئی تبدیلی وتخفیف کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ کونسل نے یہ ریمارکس اپنے حالیہ اجلاس میں ایک شہری کی جانب سے ’’عدالتوں کی جانب سے دی جانے والی سزائیں۔ معاف کرنے کے اختیار پر شرعی نقطہ نظر‘‘ کے زیر عنوان بھیجے جانے والے خط پر تفصیل بحث کے دوران دیے۔ کونسل نے کہا کہ ۱۹۷۳ء کے آئین کے آرٹیکل ۴۵ کے تحت صدر پاکستان کو کسی بھی عدالت‘ ٹربیونل یا دیگر ہیئت مجاز کی دی ہوئی سزا کو معاف کرنے‘ ملتوی کرنے‘ تخفیف کرنے‘ معطل کرنے یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۰۱‘ ۴۰۲ کے تحت صوبائی حکومتوں کو بھی سزا معاف کرنے‘ مہلت دینے یا اسے تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے البتہ دفعہ ۴۰۱ کی ذیلی شق ۲ میں صوبائی حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سزا کی معطلی یا تخفیف کے لیے درخواست موصول ہونے کے بعد اس جج سے رائے طلب کرے گی جس نے سزا سنائی ہو۔ اسی طرح پرونان رول ۱۹۷۸ء میں سزا کی تخفیف کے جو قواعد بیان کیے گئے ہیں‘ ان کی رو سے کسی قیدی کے اچھے چال چلن یا بعض امتحانات پاس کرنے کی بنا پر اس کی سزا میں تخفیف کی جا سکتی ہے لہذا عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا میں جو تبدیلی یا تخفیف کی جاتی ہے‘ وہ ملک کے قانون کے تحت ہی ہوتی ہے۔ کونسل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۰۱‘ ۴۰۲ اور ۴۰۳ الف کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان دفعات میں حکومت کی جانب سے سزاؤں کے تعطل‘ تخفیف اور معافی کے بارے میں احکام درج ہیں مگر شریعت کے مطابق حدود کے بارے میں حکومت اس قسم کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی اور قصاص کی صورت میں صرف ولی مقتول ہی دیت معاف کر سکتا ہے۔ لیکن جہاں حکومت ولی ہو‘ وہاں صلح کرتے ہوئے دیت بھی منظور کر سکتی ہے البتہ تعزیرات کے دیگر معاملات میں حکومت کو سزا کے تعطل اور معافی کے اختیارات حاصل نہیں بشرطیکہ ان سے حقوق العباد متاثر نہ ہوتے ہوں۔ ایسی معافی ان تعزیرات یعنی جرائم موجب تعزیر میں نہیں ہوگی جو حقوق اللہ سے متعلق ہوں جیسے اجنبی عورت کا بوسہ لینا۔ کونسل نے محسوس کیا ہے کہ یہ دفعات شریعت کے ان متذکرہ اصولوں کے مطابق نہیں لہذا کونسل یہ سفارش کرتی ہے کہ ان دفعات میں شریعت کے احکام متذکرہ بالا کی روشنی میں مناسب ترامیم کی جائیں اور شریعت کی رو سے دفعہ ۴۰۲ ب میں بھی مناسب ترمیم کی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مسئلے پر مزید رائے کے لیے اسے کونسل کی قانونی کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے جو کونسل کے آئندہ اجلاس تک ان دفعات کے حوالے سے شرعی احکام کے مطابق اپنی رپورٹ تیار کر کے پیش کرے گی۔

(روزنامہ نوائے وقت‘ راول پنڈی‘ ۳۰ دسمبر ۲۰۰۱ء)