فروری ۲۰۰۲ء

جمہوریت‘ مسلم ممالک اور امریکہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟مولانا حافظ صلاح الدین یوسف 
مسلمانان عالم کے لیے لائحہ عملمولانا محمد عیسی منصوری 
عصری تقاضے اور اسلام کی تعبیر وتشریحپروفیسر میاں انعام الرحمن 
مدارس دینیہ کے مالیاتی نظام کے بارے میں دار العلوم کراچی کا ایک اہم فتویٰادارہ 
پاکستان شریعت کونسل کی صوبائی شوریٰ کا اجلاسادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
صدر پاکستان کی خدمت میں ایک ضروری عرض داشتادارہ 

جمہوریت‘ مسلم ممالک اور امریکہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکہ کے سابق صدر کلنٹن ان دنوں فکری ونظریاتی محاذ پر سرگرم عمل ہیں اور امریکی پالیسیوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور مختلف اجتماعات سے خطاب کرنے کے علاوہ عالم اسلام کی محترم مذہبی شخصیات جامعہ ازہر کے امام اکبر اور حرمین شریفین کے امام محترم سے بھی ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے سعودی عرب اور دیگر مسلمان ملکوں کے تعلیمی نظام کو ہدف تنقید بناتے ہوئے تلقین کی کہ وہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کریں اور خا ص طور پر اس میں عقیدہ پر زور دینے کے عنصر پر نظر ثانی کریں۔ جناب کلنٹن نے گزشتہ دنوں نیو یارک میں ایک سیمینار کا اہتمام بھی کیا جس کے انتظامات خود ان کی قائم کردہ ’’کلنٹن پریسڈ نیشنل فاؤنڈیشن‘‘ نے کیے اور ان کے ساتھ اس سلسلے میں نیو یارک یونیورسٹی آف لا اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے مسلم کرسچین سنٹر نے بھی میزبانی کے فرائض میں شرکت کی۔ اس سیمینار میں دو سو کے لگ بھگ اہم مدعوین شریک تھے اور متعدد مسلم دانش وروں نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امت مسلمہ اور عالم اسلام کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی۔ 

سیمینار کے حوالے سے نہ تو ساری تفصیلات اس خبر کا حصہ ہیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہے اور نہ سب باتوں پر اس کالم میں تبصرہ ہی کیا جا سکتا ہے البتہ ایک پہلو جو زیادہ قابل توجہ ہے‘ اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں مسلم دانش وروں نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کی یک طرفہ طور پر حمایت کر رہا ہے۔ ان دانش وروں نے امریکہ کو مسلم دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔ تاہم کلنٹن نے مشرق وسطیٰ کے تعلق سے اپنے نظم ونسق کی پالیسیوں کی مدافعت کی اور مسلم مفکرین کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ گیارہ ستمبر سے قبل مسلم شدت پسندی کے لیے کلنٹن اور ان کے جانشین کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ساتھ ہی انہوں نے مباحثہ کے دوران ایڈریل کالج کے پروفیسر مقتدر خان کی اس بات سے اتفاق کیا کہ امریکہ نے مسلم دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینے میں کوئی خاص کام نہیں کیا۔‘‘

ہمیں جس نکتہ پر اظہار خیال کرنا ہے‘ وہ یہ ہے کہ ’’مسلم دانش وروں نے امریکہ کو مسلم دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا‘‘ جس کے جواب میں کلنٹن صاحب نے کسی حد تک اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ کہا کہ ’’امریکہ نے مسلم دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینے میں کوئی خاص کام نہیں کیا‘‘ مگر ہمارا موقف ان دونوں سے مختلف ہے اور پورے شرح صدر کے ساتھ ہماری گزارش یہ ہے کہ امریکہ نے صرف یہ نہیں کہ مسلم دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا اور وہ مسلم ممالک میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار ہے بلکہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں امریکہ خود سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور اس کی حتی الوسع یہ کوشش ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں جہاں کے عام مسلمان اسلام کے ساتھ کمٹ منٹ رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کے واضح رجحان سے بہرہ ور ہیں‘ وہاں جمہوریت کا راستہ روکا جائے‘ عوام کو حکومتوں اور ان کی پالیسیوں کی تشکیل سے دور رکھا جائے اور دینی رجحانات کی نمائندگی کرنے والے طبقات وعناصر کو رائے عامہ اور پالیسی سازی کے مراکز کے قریب نہ آنے دیا جائے۔

امریکہ کے نزدیک جمہوریت کوئی اصول اور فلسفہ نہیں ہے کہ وہ اسے دنیا کے ہر خطہ میں اور ہر حال میں کارفرما دیکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ محض ایک ہتھیار ہے جسے امریکہ اور مغربی ممالک اپنے فلسفہ وثقافت کے فروغ اور مفادات کے حصول وتحفظ کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور جمہوریت کے اولین دعوے داروں کے اسی طرز عمل اور رویے نے خود جمہوریت کی افادیت کو مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں دیکھ لیجیے۔ خلیج عرب کے ممالک میں رائے عامہ‘ شہری آزادیاں‘ جمہوری حکومتیں اور حکومت وپالیسی سازی میں عوام کی نمائندگی شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے اور خاندانی آمریتیں ان ملکوں کے عوام پر مسلط ہیں مگر امریکہ اور اس کے حواری مغربی ممالک خلیج کے ممالک میں شہری حقوق اور جمہوری اقدار کی حمایت کرنے کے بجائے آمرانہ حکومتوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور نہ صرف ان آمریتوں کو سیاسی واخلاقی سپورٹ مہیا کر رہے ہیں بلکہ فوجی قوت کے بل پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی امریکی کیمپ نے سنبھال رکھی ہے صرف اس وجہ سے کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ ان ممالک میں جس روز عوام کی نمائندہ حکومتیں قائم ہو گئیں‘ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تحفظ سے ہاتھ اٹھا لیں گی اور ان کی پالیسیوں میں اسلامی تعلیمات واحکام کے اثرات موجودہ آمرانہ حکومتوں سے کہیں زیادہ ہوں گے اس لیے امریکہ کو وہ جمہوریت قبول نہیں ہے جو اسلامی اقدار کے فروغ کا ذریعہ ہو اور جس سے امریکہ کے معاشی مفادات خطرے میں پڑتے ہوں۔

آج سے دس برس قبل سعودی عرب میں شرعی اور جمہوری اصلاحات کے لیے یادداشت پیش کرنے والے علما اور دانش وروں کو جس ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا‘ وہ سب کے سامنے ہے۔ ان میں سے جو علما جلا وطن ہو کر لندن پہنچے‘ ان میں ڈاکٹر محمد مسعری اور ڈاکٹر سعد الفقیہ کو ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ یہ حضرات جب لندن پہنچے تو انہیں مغربی میڈیا نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور چند دنوں میں انہیں عربوں کے ہیرو کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ میڈیا کاروں کا خیال تھا کہ یہ چونکہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر ہیں اور سیاسی حقوق کی بات کر رہے ہیں اس لیے انہیں شاید سعودی عرب میں مغربی فلسفہ وثقافت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور انہیں آگے کر کے سعودی عرب میں عوامی سطح پر دینی وثقافتی اقدار کی مضبوط گرفت کو ڈھیلا کیا جا سکتا ہے اس لیے ان حضرات کی خوب آؤ بھگت ہوئی لیکن جونہی ان دانش وروں نے واضح طور پر کہا کہ وہ سیاسی آزادیوں اور شہری حقوق کا مطالبہ اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہتے ہوئے کر رہے ہیں اور ان کا مقصد مشرق وسطیٰ میں مغربی مفادات کی پاسداری نہیں بلکہ وہاں کے عوام کی خواہشات اور رائے کے مطابق حکومت اور پالیسیوں کی تشکیل ہے تو ان کے آگے پیچھے پھرنے والے میڈیا کاروں نے انہیں ایسے نظر انداز کر دیا جیسے ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو اور جن لوگوں کے لیے وہ شہری حقوق اور سیاسی آزادیوں کی بات کر رہے ہیں‘ ان کا سرے سے کوئی استحقاق ہی نہ ہو۔

مشرق وسطیٰ ہمارے سامنے اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ امریکہ کو جمہوریت یا سیاسی حقوق سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ اس کی دل چسپی صرف دو باتوں سے ہے۔ ایک یہ کہ کہیں اسلامی رجحانات اجتماعی سطح پر نہ ابھرنے پائیں اور دوسری یہ کہ امریکہ نے اپنے لیے جو مفادات یک طرفہ طور پر خود طے کر رکھے ہیں‘ ان کی ہر حالت میں حفاظت ہوتی رہے۔ اس کے لیے اگر کسی جگہ جمہوری اقدار اور سیاسی آزادیوں کی حمایت کام دیتی ہے تو امریکہ اس کے لیے تیار ہے اور اگر سیاسی حقوق کو دبانے اور جمہوری اقدار کا سرے سے جھٹکا کر دینے سے امریکہ کا کام بنتا ہے تو اسے اس سے بھی کوئی حجاب نہیں ہے۔

خلیج عرب سے ہٹ کر الجزائر اور ترکی میں بھی ہم امریکہ کا کردار کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جہاں عوام کی منتخب جماعتوں کو فوجی قوت کے بل پر پیچھے دھکیل دیا گیا۔ رائے عامہ کے فیصلوں اور انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا گیا اور عوامی رجحانات کو فوج کشی کے ذریعے سے دبا دیا گیا صرف اس لیے کہ ان رجحانات اور عوامی فیصلوں میں اسلامی اقدار کے احیا اور دینی روایات کی عمل داری کے امکانات نظر آ رہے تھے اور ساری دنیا مشاہدہ کر رہی ہے کہ ترکی اور الجزائر میں رائے عامہ کی نمائندگی کرنے والی جمہوری جماعتوں اور انہیں فوجی قوت کے زور سے کچل دینے والی آمریتوں میں سے امریکہ کی پشت پناہی کسے حاصل ہے اور امریکہ کے حواری دیگر مغربی ممالک کس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

خود ہم پاکستان میں بار بار اس کا تجربہ کر چکے ہیں اور صرف ایک تجربہ سے ہی مجموعی صورت حال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن وسنت کو ملک کا سپریم لا قرار دینے کا بل عوام کی منتخب قومی اسمبلی اور سینٹ نے باری باری منظور کیا تھا لیکن قومی اسمبلی میں اس کی منظوری کے آخری مراحل میں امریکی سفارت خانہ نے مداخلت کر کے قرآن سنت کی بالادستی سے حکومتی نظام اور سیاسی ڈھانچے کو مستثنیٰ کرنے کی شق زبردستی شامل کرائی جس سے یہ بات طے ہو گئی کہ امریکہ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے کیا فیصلہ کر رہے ہیں بلکہ اس کا ٹارگٹ صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلم ممالک میں امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں نے جو نوآبادیاتی اور استحصالی نظام مسلط کر رکھا ہے‘ وہ ہر حال میں محفوظ رہے اور اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس لیے ہم امریکہ سے کوئی شکایت کرنے کے بجائے مسلم دانش وروں سے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ سے جمہوریت کے حوالے سے کوئی توقع وابستہ کرنے کے فریب سے جتنی جلدی ہو سکے‘ باہر نکل آئیں کیونکہ جمہوریت امریکہ کے لیے اصول کی نہیں بلکہ صرف ایک ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔

مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

درج ذیل مقالہ جنگ گروپ پاکستان کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی:دنیائے اسلام کے لیے ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں ۲۰‘ ۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء کو ہونے والے عالمی سیمینار میں پڑھاگیا۔

میری گفتگو یا موضوع کے دو حصے ہیں:

۱۔ مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے؟

۲۔ اور کیا ہونا چاہیے؟

(۱) مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے؟

پہلے حصے یا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس وقت مسلمانان عالم کا سرے سے کوئی عالمی کردار نہیں ہے۔ یعنی کہنے کو تو مسلمانوں کی ۶۰ مملکتیں ہیں اور ان میں اور دیگر ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ایک ارب سے متجاوز ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان افرادی قوت اور متعدد قدرتی وسائل سے بھی مالامال ہیں‘ ان کا جغرافیائی محل وقوع بھی نہایت اہمیت کا حامل اور تقریباً باہم پیوست ہے جو ایک نہایت عظیم اکائی اور زبردست قوت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسلمان ممالک کی حیثیت صفر سے زیادہ نہیں۔ وہ ایک تودۂ خاک ہیں جو کسی طوفان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا‘ وہ ایک چراغ رہ گزر ہیں جو باد تند تو کیا باد نسیم کا جھونکا بھی برداشت نہیں کر سکتا‘ وہ گرداب بلا میں پھنسی ایک ڈولتی کشتی ہیں جس سے طوفان بلا خیز کی خوف ناک موجیں اٹھکیلیاں کر رہی ہیں‘ وہ ایک ایسا تنکا ہیں جو سیلابی ریلے کے ساتھ بہنے پر مجبور ہے‘ وہ انسانوں کا ایک ایسا ریوڑ ہیں جس کی کوئی سمت ہے نہ کوئی رکھوالا‘ وہ گم گشتہ راہی ہیں جسے اپنی منزل کا پتہ ہے نہ اس کا کوئی شعور ہی انہیں حاصل ہے‘ وہ بیوہ کا آنچل ہیں جسے کوئی بھی نوچ کر پھینک سکتا ہے‘ وہ یتیم کا آنسو ہیں جس کی کوئی اہمیت نہیں‘ وہ ایک گدائے بے نوا ہیں جس کی کوئی عزت وآبرو نہیں اور وہ ایک شہر خموشاں کی مانند ہیں جس میں زندگی کی کوئی حرارت وتوانائی نہیں۔ بالفاظ دیگر ان کے پاس عصا ہے لیکن کوئی کلیمی کردار ادا کرنے والا نہیں‘ دعوائے ایمان ہے لیکن ضرب ید اللٰہی نہیں‘ حسین سے نسبت پر فخر ہے لیکن رسم شبیری ادا کرنے کی ہمت نہیں‘ نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے جذباتی تعلق ووابستگی ضرور ہے لیکن اسوۂ رسول اپنانے کے لیے تیار نہیں اور قرآن کریم جیسا نسخہ کیمیا اور نسخہ شفا ان کے پاس موجود ہے لیکن شدت مرض سے جاں بلب ہونے کے باوجود اسے استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں۔

حضرات محترم! یہ مفروضات نہیں‘ الفاظ کے طوطا مینا نہیں‘ پراپیگنڈا کی شعبدہ گری نہیں۔ یہ حقائق ہیں‘ گو تلخ ہیں۔ واقعات ہیں جو ہر شخص کے تجربہ ومشاہدہ کا حصہ ہیں۔ یہ ہمارا وہ کردار ہے جو ’عیاں را چہ بیاں‘ کے مصداق محتاج وضاحت نہیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اسلامیان عالم کا یہ حال ان کے اپنے اخلاق وکردار کا نتیجہ اور ان کے اپنے اعمال کا برگ وبار ہیں ؂

میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ 
خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے

ورنہ یہی مسلمان تھے جنہوں نے بدر واحد کے معرکے سر کیے‘ قیصر وکسریٰ کی عظیم الشان سلطنتوں کو روند ڈالا تھا‘ ساری دنیا پر اپنی عظمت ورفعت کے پرچم لہرائے تھے اور اپنے تمدن وتہذیب کا سکہ رواں کیا تھا۔ آج اس کے برعکس ایسا کیوں ہے کہ ان کا خون مانند آب‘ ارزاں ہے؟ انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے‘ ایک مسلمان ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی لیکن سارا عالم ’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘ کا مصداق بنا رہا بلکہ ہم نے تو اپنے کندھے اور اڈے بھی یہ کہہ کر پیش کر دیے کہ ؂ تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر

ہماری گزشتہ روشن تاریخ کے مقابلے میں عالم اسلام کا حالیہ کردار جس میں پاکستان سرفہرست ہے‘ نہایت حیرت واستعجاب کا باعث ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ جب سندھ میں راجہ داہر کے زیر نگیں علاقے میں بحری قزاقوں نے مسلمانوں پر جبر وظلم کیا تو ایک مسلمان عورت نے ہزاروں میل دور حجاج بن یوسف کو مدد کے لیے پکارا اور یہ پکار اور فریاد جب حجاج کے علم میں آئی تو اسی وقت ا س نے لبیک کہا اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے ایک لشکر جرار روانہ کر دیا جس نے آکر سندھ اور ہند میں اسلامی فتوحات کا دروازہ کھولا۔ آج دنیا نے دوسرا منظر دیکھا کہ وہ طالبان جن کو ان کے اسلامی تشخص کی بنا پر پاکستان نے بھی سپورٹ کیا‘ اور بھی بعض ممالک نے ان سے تعاون کیا اور اس تعاون سے انہوں نے افغانستان کے نوے فی صد حصے پر اسلام کا نفاذ کر دیا‘ شرعی حدود جاری کیں‘ اسلحے اور منشیات‘ بد امنی اور قتل وغارت گری کی وارداتوں سے ملک کو محفوظ کیا‘ عورتوں کی بابت اسلامی تعلیمات کی پابندی کی‘ مخلوط تعلیم‘ مخلوط ملازمت ختم کی اور ان کے لیے مردوں سے الگ بعض شعبوں میں تعلیم اور ملازمت کا انتظام کیا (جو اسلامی تعلیمات کا اور وقت کا اہم تقاضا تھا) اور امن وسکون کا ایک نہایت قابل رشک ریکارڈ قائم کر کے وہ تباہ حال افغانستان کی تعمیر نو کا کام نہایت اخلاص‘ بے لوثی اور برق رفتاری سے کر رہے تھے کہ امریکہ میں ۱۱ ستمبر کو ہونے والی دہشت گردی کی واردات کو بہانہ بنا کر اور بلا ثبوت اسامہ بن لادن کو اس کا ذمے دارٹھہرا کر افغانستان کو اور اس میں قائم اسلامی حکومت کو تہس نہس کر دیا حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ میں ہونے والی دہشت گردی جس میں سرعت‘ ماہرانہ چابک دستی اور سازش کی گہرائی اور گیرائی نے دنیا کو حیرت زدہ اور امریکیوں کو مبہوت کر دیا‘ اسامہ یا اس کی تنظیم القاعدہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ یہ یقیناًایک ایسے گروہ کی کارروائی ہے جو امریکی ہی ہے اور اسے امریکہ کے خصوصی اداروں تک رسائی بھی حاصل ہے لیکن امریکہ طالبان کو صرف اس لیے ختم کرنا چاہتا تھاکہ مفلس وقلاش ہونے کے باوجود انہوں نے امریکہ کی دریوزہ گری کرنی پسند نہیں کی۔ دوسرے‘ صدیوں سے امن سے محروم علاقے میں اسلام کی حکمرانی کے ذریعے سے انہوں نے عملاً امن قائم کر کے دکھا دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کیا دہشت گردوں کے ہاتھوں بھی کبھی امن قائم ہوا ہے؟ کیا دہشت گردوں کے ذریعے سے بھی لوگوں کی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ ہوا ہے؟ کیا دہشت گردوں کے اقدامات سے بھی کبھی تعمیر وطن کا کام ہوا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناًنفی میں ہے تو کیا اس سے یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ طالبان دہشت گرد تھے نہ دہشت گردوں کے پشتی بان؟ وہ تو اسلام کے محافظ تھے‘ وطن کے معمار تھے‘ ناقہ ملت کے حدی خواں تھے‘ اسلامی اقدار وروایات کے پاسبان تھے‘ اسلامی تہذیب کے علم بردار اور قرون اولیٰ کے اخلاق وکردار کے حامل تھے۔ اسی لیے وہ عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز تھے ‘ الحاد وزندقہ کی تاریکیوں میں قندیل ربانی تھے‘ ظلمت شب میں صبح درخشاں کی نوید جاں فزا تھے‘ وہ مقاصد فطرت کی نگہبانی کرنے والے بندگان صحرائی اور مردان کہستانی تھے۔ وہ عجم کا حسن طبیعت اور عرب کا سوز دروں تھے اور اس دور میں جب کہ سوائے سعودی عرب کے کوئی بھی اسلامی ملک اسلامی عقیدہ وایمان کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے تیار نہیں‘ وہ سرمایہ ملت کے نگہبان اور علامہ اقبال کے ان اشعار کے مصداق تھے ؂ 

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا ودریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن
نہ مال غنیمت‘ نہ کشور کشائی

افسوس:

وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ڈھونڈا تھا آسماں نے جنہیں خاک چھان کر

مرورِ ایام کی دبیز تہوں اور لیل ونہار کی ہزاروں گردشوں کے بعد چشم فلک نے ایسے حکمران دیکھے تھے جن کا رہن سہن‘ طور اطوار اور طرز بود وباش اسی طرح عام انسانوں کا سا تھا جس کی مثالیں خلفاء راشدین نے قائم کی تھیں۔ شاہانہ کروفر سے دور‘ امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ سے پاک اور مسرفانہ وعیاشانہ طرز زندگی سے نفور۔ سارے وسائل عوام کی فلاح وبہبودکی نذر اور شب وروز کا ہر لمحہ ملک وملت کی خدمت کے لیے وقف۔ انہوں نے فقیری میں بادشاہی کی‘ غریبی میں خود داری کا مظاہرہ کیا‘ تباہ حالی کے باوجود گدائی کا کاسہ اور کشکول نہیں اٹھایا‘ کسی کے سامنے جھولی نہیں پھیلائی‘ غیروں کی دریوزہ گری نہیں کی‘ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے حسین جالوں میں نہیں پھنسے بلکہ فاقہ کشی‘ بھوک‘ قحط اور بے سروسامانی کے باوصف خود انحصاری کی پالیسی اپنائی۔ لیکن افسوس‘ قلب ونظر کی کجی اور نگہ کی نامسلمانی نے ان کی خوبیوں کو برائی سمجھا‘ ان کی غیرت وخود داری کو نادانشی باور کرایا‘ ان کے عزم وایمان کو ایک ناقابل معافی جرم قرار دیا کہ 

؂ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

اور اپنے دین پر استقلال وثابت قدمی کو انتہا پسندی کا عنوان دیا اور ان کی سادگی کو فریب خوردگی سے اور مغرب کی حیا باختہ تہذیب سے نفرت کو بے خبری سے تعبیر کیا اور جب ان طعنوں سے بھی کام نہ بنا اور افغانستان پر ان کی گرفت کمزور ہونے کے بجائے مضبوط تر ہوتی چلی گئی تو بھیڑیے اور میمنے کے مشہور واقعے کی طرح ۱۱ ستمبر کے واقعے کو بہانہ بنا کر ان پر آتش وآہن کی بارش کر دی۔ انہوں نے اگرچہ مردانہ وار مقابلہ کیا اور اپنے خون سے شجاعت ومردانگی کی ایک لازوال تاریخ رقم کر دی لیکن وہ چونکہ نہتے تھے‘ جدید اسلحی وسائل سے محروم تھے اور ان تابڑ توڑ فضائی حملوں کا جواب دینے سے قاصر تھے جو دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد نے ان پر کیے‘ اس وحشیانہ بمباری اور خوں خوارانہ دہشت گردی نے انہیں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یوں ان کی خوبیاں ان کے لیے بلائے جان بن گئیں ؂ اے روشنئی طبع تو بر من بلا شدی

اور یہ ظلم‘ وحشت وبربریت کا یہ مظاہرہ اور درندگی وخوں آشامی کی یہ حرکت صرف دشمنوں ہی نے نہیں کی بلکہ اپنے بھی اس میں شریک ہو گئے۔ بے گانوں ہی نے وار نہیں کیے‘ دوستوں نے بھی خنجر گھونپنے سے گریز نہیں کیا۔ اعدائے دین ہی نے انہیں کشتنی قرار نہیں دیا بلکہ نام نہاد مسلمان حکمرانوں نے بھی انہیں گردن زدنی ہی سمجھا۔ یہ مظلوم طالبان بزبان حال کہہ رہے ہیں ؂

من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم
کہ بامن ہرچہ کرد آں آشنا کرد 
اور بقول حفیظ جالندھری ؂ 
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

دوستوں نے اپنوں پر ناوک افگنی کے لیے دلیل یہ پیش کی کہ ہم نے انہیں بہت سمجھایا‘ صورت حال کی نزاکت کا احساس دلایا‘ لیکن وہ سمجھے نہیں اور حالات کی خطرناکی کے ادراک سے قاصر رہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ بات ایسی نہیں ہے جو باور کرائی جا رہی ہے۔ طالبان کا رویہ ہرگز عدم مفاہمت کا نہیں تھا۔ وہ ۱۹۹۸ء سے یہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ کے پاس اگر اسامہ کے دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے تو وہ کسی غیر جانب دار عدالت میں پیش کرے‘ ہم اس کے لیے اسامہ کو کسی تیسرے ملک کی تحویل میں دینے کے لیے تیار ہیں لیکن چونکہ اس کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا اور نہ ہے اس لیے مذاکرات کی یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اس کے پاس صرف اتہامات ومفروضات ہیں جنہیں وہ دھونس اور دھاندلی سے ثبوت باور کرانا چاہتا تھا۔ اس کا اصل مقصد تو افغانستان سے ایسی حکومت کا خاتمہ تھا جو دنیا میں اسلامی عدل وانصاف کی مظہر اور اسلامی اخوت ومساوات کا نمونہ تھی۔ بلاشبہ امریکہ کے کچھ اور سیاسی ومعاشی مقاصد بھی ہیں لیکن بڑا مقصد احیائے اسلام اور جہاد کے بڑھتے ہوئے اس جذبے کا خاتمہ تھا جو طالبان کے طرز حکومت اور ان کی منصفانہ پالیسیوں سے پیدا ہو رہا تھا جس کا علاج بقول علامہ اقبال انہوں نے یہی سوچا کہ ؂

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز ویمن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ ودمن سے نکال دو
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو
اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

اقبال مرحوم کا یہ کلام ضرب کلیم میں ہے اور اس نظم کا عنوان ہی یہ ہے: ’’ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام‘‘چنانچہ ابلیس کے سارے سیاسی فرزندوں نے مل کر‘ جس کا نام عالمی اتحاد ہے‘ افغانستان کے چمن سے اس کے اس غزل سرا کو نکال دیا ہے جس نے افغانستان کو امن واستحکام عطا کیا تھا جو کسی ملک کی تعمیر نو کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اب افغانستان میں پھر قتل وغارت گری کا بازار گرم اور لوٹ کھسوٹ اور خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہے اور امن واستحکام ایک خواب وخیال بن کر رہ گیا ہے۔ اگر ان عالمی دہشت گردوں کا مقصد افغانستان میں امن واستحکام قائم کر کے اس کی تعمیر نو ہوتا تو یہ کام طالبان سے مفاہمت کر کے ہی ممکن تھا۔ اب یہ مقصد سالہا سال تک حاصل ہوتا نظر نہیں آتا ؂

جنہیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

طالبان کے مخالفین ذرا گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام سے جو کارروائی ہوئی ہے‘ اس سے دہشت گری کا خاتمہ ہوا ہے یا دہشت گردی کا دیو اور زیادہ قوی ہو گیا ہے؟ امن واستحکام قائم ہوا ہے یا اس کے برعکس بد امنی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو گیا ہے؟ اگر یہ تسلیم ہے اور ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے اور آئندہ بھی کم ہونے کا نہیں بلکہ بڑھنے ہی کا امکان ہے تو پھر اس کارروائی کا کیا جواز ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کی ہے؟

دنیائے اسلام کے عام مسلمان بلاشبہ اس المیہ افغانستان پر خون کے آنسو رو رہے ہیں ؂

آسماں را حق بود گرخوں ببارد بر زمیں
بر زوال تو مجاہد اے امیر المومنیں

وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے اور کرنا چاہتے ہیں لیکن بے بس ہیں اور احتجاج واضطراب کی صدا بلند کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ الحمد للہ عوام نے اپنا یہ فرض ادا کیا‘ وہ تڑپتے رہے اور تڑپ رہے ہیں‘ مضطرب وپریشان رہے اور مضطرب وپریشان ہیں۔ بلاشبہ ان کا یہ اضطراب اور پریشان ہونا ان کے ایمان کی علامت اور ان کے جذبہ اخوت اسلامی کا مظہر ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان گرامی ہے:

تری المومنین فی تراحمہم وتوادہم وتعاطفہم کمثل الجسد اذا اشتکی عضو تداعی لہ سائر جسدہ بالسہر والحمی (صحیح بخاری‘ کتاب الادب‘ باب رحمۃ الناس والبہائم‘ حدیث نمبر ۶۰۱۱)

’’تم مومنوں کو ایک دوسرے پر رحم کرنے‘ باہم نرمی اور محبت کرنے میں ایسا دیکھو گے جیسے ایک جسم ہوتا ہے ۔ جسم کا جب کوئی ایک حصہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم ہی تکلیف محسوس کرتا اور اس کی وجہ سے بیدا ر رہتا اور بعض دفعہ بخار تک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

المومن للمومن کالبنیان یشد بعضہ بعضا (صحیح بخاری‘ کتاب المظالم‘ باب نصر المظلوم‘ حدیث ۲۴۴۶)

’’مومن‘ مومن کے لیے ایسے ہے جیسے ایک دیوار یا عمارت ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کے ساتھ پیوست اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔‘‘

قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفت یہ بیان فرمائی ہے:

والمومنون والمومنات بعضہم اولیاء بعض (التوبہ ۹/۷۱)

’’مومن مرد اورمومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔‘‘

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفت بیان فرمائی:

لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الآخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ ولو کانوا آباء ہم او ابناء ہم او اخوانہم او عشیرتہم اولئک کتب فی قلوبہم الایمان وایدہم بروح منہ ویدخلہم جنات تجری من تحتہا الانہار خالدین فیہا رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ہم المفلحون (المجادلۃ ۵۸/۲۲)

’’تم ایسے لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں‘ ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں‘ چاہے ان وہ کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی خاص رحمت سے ان کی مدد کی ہے اور وہ ان کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے‘ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔ یہی اللہ کا گروہ ہے اور اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے۔‘‘

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاریٰ کو دوست بنانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور ساتھ ہی یہ فرمایا:

انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین آمنوا فان حزب اللہ ہم الغالبون (المائدہ ۵/۵۶)

’’تمہارا دوست تو صرف اللہ‘ اس کا رسول اور اہل ایمان ہیں ( یاد رکھو) اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔‘‘

ان آیات واحادیث سے واضح ہے کہ:

۱۔ اہل ایمان ایک جسم کی مانند ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں‘ کسی بھی نسل سے ان کا تعلق ہو‘ کوئی بھی زبان وہ بولتے ہوں‘ مشرق میں رہتے ہوں یا مغرب میں۔ ایمان کے رشتے نے ان کو ایک لڑی میں پرودیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے مونس وغم خوار‘ ایک دوسرے کے دست وبازو اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ؂

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

۲۔ یہ اللہ کا گروہ ہیں۔

۳۔ ان کے مقابلے میں کافر شیطان کا گروہ ہیں۔

۴۔ اہل ایمان کی محبت اور دوستی صرف اہل ایمان کے ساتھ ہوتی ہے (جیسے کافر ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں) اور کافروں کے ساتھ ان کی دوستی نہیں ہوتی‘ چاہے وہ ان کے باپ‘ ان کے بیٹے‘ ان کے بھائی یا ان کے خاندان اور قبیلے کے فرد ہوں۔

۵۔ فلاح وغلبہ ایسے ہی مومنوں کا حق ہے۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر (الانفال ۸/۷۳)

’’کافر ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے (یعنی تم مسلمان بھی اگر ایک دوسرے کے دوست نہیں بنو گے) تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہوگا۔‘‘

اور وہ فتنہ وفساد یہی ہے کہ اس صورت میں کافروں کے حوصلے بڑھ جائیں گے‘ مسلمان مغلوب ہو جائیں گے اور اللہ کا کلمہ بلند ہونے کے بجائے پست ہو جائے گا۔ اس اعتبار سے اہل ایمان کی یہ صفت کہ وہ ایک دوسرے کے دوست اور ایک دوسرے کے معاون اور انصار ہیں‘ مسلمانوں کی ایک پالیسی اور مقصد زندگی ہے اور ہونا چاہیے‘ اس لیے کہ اسی پالیسی میں اللہ کے دین کی بلندی کا راز مضمر ہے۔

عوام کی حد تک تو اہل ایمان نے اس پالیسی کا بلاشبہ اظہار کیا لیکن مسلم حکمرانوں نے اس کے برعکس پالیسی اختیار کر کے ایک جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان میں سے کچھ نے تو امریکہ کو سب کچھ پیش کر دیا۔ ان کو معلومات فراہم کیں جن کی اس دور میں بہت زیادہ اہمیت ہے‘ اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی‘ فوجی نقل وحرکت اور دیگر جنگی ضروریات ومقاصد کے لیے اپنے اڈے تک انہیں دے دیے‘ اور بھی انہوں نے جس چیز کا مطالبہ کیا‘ انہوں نے پیش کرنے میں تامل نہیں کیا اور یوں چند ڈالروں کے وعدۂ فردا پر اپنے لیے ایمان کش اور غلامانہ کردار پسند کیا۔ آہ ؂ قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند۔

انہوں نے ملت فروشوں میں اپنا نام لکھوا کر ذلت ورسوائی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ؂

جعفر از بنگال وصادق از دکن
ننگ آدم‘ ننگ دیں‘ ننگ وطن

اور کچھ مسلمان ملکوں نے اپنے اڈے تو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اپنے بعض ذہنی تحفظات کی وجہ سے امریکی کارروائی کو خاموشی سے دیکھنے پر قناعت کی اور بعض مسلمان ملکوں نے دبے لفظوں میں اسے صرف جلد بازی سے تعبیر کیا لیکن کسی مسلمان ملک کو اس جرات رندانہ کی توفیق نہ ہوئی کہ وہ امریکہ سے یہ مطالبہ کرتا کہ پہلے ہمیں اسامہ کی دہشت گردی کا واضح ثبوت دکھلاؤ‘ اس کے بغیر تمہاری کارروائی بجائے خود دہشت گردی ہوگی حتیٰ کہ اس نازک موقعے پر اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس تک بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ صرف وزرائے خارجہ کی حد تک‘ وہ بھی جب چڑیاں سارا کھیت چگ گئیں‘ ایک اجلاس ہوا اور اس میں بھی نشستند وگفتند وبرخاستند سے زیادہ کچھ نہیں ہوا کیونکہ اس میں ایک قرارداد مذمت تک پاس نہیں ہوئی۔ گویا سارے مسلمان ممالک اس وقت امریکہ کے غلام ہیں اور ان سب کا آقائے ولی نعمت امریکہ ہے۔ وہ جو چاہے کرے‘ اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اقوام متحدہ سے کچھ لوگ امیدیں وابستہ کرتے ہیں لیکن اس کا کردار بھی ایک امریکی لونڈی سے زیادہ نہیں۔ امریکہ اسے بھی صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور یوں اس کا کردار بھی اپنی پیش رو لیگ آف نیشنز سے مختلف نہیں رہا جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ؂

من ازیں بیش نہ دانم کہ کفن دزدے چند 
بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند

یہ سارے مسلمان ممالک اقوام متحدہ سمیت اس شعر کا مصداق ہیں ؂ 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں سو آپ کرے ہیں‘ ہم کو عبث بدنام کیا

یہ ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے لیے ڈوب مرنے کے مقام ہے۔ ہمارا وجود ایک مجسم عبرت ہے‘ ذلت ورسوائی کا عجیب وغریب نمونہ ہے۔ بقول حالی مرحوم ؂

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

یا بقول اقبال مرحوم ؂

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

ایک اور شعر میں اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں:

تو اے مولائے یثرب آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی‘ مرا ایماں ہے زناری

(۲) مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہونا چاہیے؟

بہرحال اس وقت مسلمانوں کا عالمی کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب اس موضوع کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ان کا عالمی کردار کیا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب بھی واضح ہے کہ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے‘ مغلوب ہونے کے لیے نہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: الاسلام یعلو ولا یعلی۔ اس لیے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ ہم اس کے برعکس غالب ہونے کے بجائے مغلوب کیوں ہیں؟ فاتح کے بجائے مفتوح کیوں ہیں؟ سربلند وسرخ رو ہونے کے بجائے ذلیل ورسوا کیوں ہیں؟ دنیا کے قائد ہونے کے بجائے مقتدی کیوں ہیں؟ 

اس کے اسباب ووجوہ مخفی نہیں‘ ڈھکے چھپے نہیں‘ کوئی سربستہ راز نہیں‘ بلکہ ہر شخص پر واضح اور آشکار ہیں۔اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا سبب ایمان ویقین کی کمی‘ اپنے نظریے اور عقیدے سے انحراف‘ اپنے اسلامی تشخص کے تحفظ وبقا کے جذبے سے مجرمانہ حد تک غفلت واعراض اور غیروں کی تہذیب کو اپنانے کا شوق فراواں اور ان کی نقالی پر فخر کرنا ہے۔ اسے علامہ اقبال علیہ الرحمۃ نے ایک شعر میں یوں سمو دیا ہے ؂

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

ٹی وی پر اسی مغرب کی حیاباختہ تہذیب کی یلغار ہے‘ ہمارے قومی اخبارات اسی تہذیب کو پھیلانے میں نہایت موثر کردار ادا کر رہے ہیں اور یوں بڑی تیزی سے ہم اسلامی تہذیب اور اس کے حیا وعفت کے تصور اور ایمان ویقین کی دولت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اقبال نے اس بات کو ظریفانہ انداز سے اس طرح بیان کیا تھا ؂

لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مد نظر
وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین؟
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

اقبال نے یہ اشعار اس وقت کہے تھے جب بے پردگی اور غیروں کی نقالی کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا۔ اسی دور میں اکبر الٰہ آبادی نے بھی کہا تھا ؂

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے پردہ تمہارا‘ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

اب اس ڈرامے کے سارے سین سامنے آگئے ہیں‘ پردہ اٹھ گیا ہے اور بقول اقبال بے حجابی کا وہ زمانہ آ گیا ہے جس میں دیدارِ یار عام ہے۔

حضرات محترم! مسئلہ انگریزی زبان کے پڑھنے یا نہ پڑھنے کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ تہذیبی شناخت اور نظریاتی تشخص کا ہے۔ انگریزی زبان اس وقت بین الاقوامی نیز سائنسی علوم کی زبان ہے۔ اس لیے اس کی اہمیت وضرورت اور افادیت وناگزیریت سے مجال انکار نہیں۔ بنا بریں بحیثیت زبان کے اور بطور علم وفن کے اس کے سیکھنے کو کوئی ناجائز نہیں کہتا لیکن کیا اسے پڑھنے اور سیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم انگریزی زبان کواپنا اوڑھنا بچھونا ہی بنا لیں‘ ہماری کوئی گفتگو بلا ضرورت انگریزی الفاظ کی بھرمار کے بغیر نہ ہو‘ ہماری دکانوں کے سائن بورڈ انگریزی ہی میں ہوں‘ ہمارے گھروں کے باہر ناموں کی تختیاں انگریزی ہی میں ہوں‘ ہماری تقریبات کے دعوت نامے انگریزی ہی میں ہوں حتیٰ کہ ہمیں اب اپنی زبان کے امی جان‘ ابو جان‘ چچا جان‘ ماموں جان اور خالہ جان وغیرہ الفاظ بھی پسند نہ ہوں اور ان کی جگہ ڈیڈی‘ پاپا‘ ماما‘ ممی‘ انکل اور آنٹی وغیرہ محبوب ہوں؟ عام لوگ شاید ان باتوں پر چیں بہ چیں ہوں گے یا اسے بے وقت کی راگنی قرار دیں گے یا غیر اہم سمجھتے ہوں لیکن میں عرض کروں گا کہ ان باتوں پر چیں بہ چیں ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ بے وقت کی راگنی بھی نہیں ہے اور اسے غیر اہم بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تہذیبی شناخت کا مسئلہ ہے‘ نظریاتی تشخص کا مسئلہ ہے‘ قومی غیرت اور حمیت کا مسئلہ ہے۔ اگر آپ دنیا میں اپنا وجود منوانا چاہتے ہیں‘ اقوام دنیا میں عزت ووقار کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ اپنی عظمت رفتہ کے حصول کی کوئی تمنا اور آرزو رکھتے ہیں تو آپ بلاشبہ انگریزی زبان میں خوب مہارت حاصل کریں لیکن آپ کو اپنی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنا ہوگا‘ اپنے اسلامی تشخص کی حفاظت کرنی ہوگی اور ملی غیرت وحمیت کا ثبوت دینا ہوگا۔ اس کے لیے اپنی قومی زبان‘ اپنا قومی لباس اور اپنا مسلم تمدن اپنانا ہوگا۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو یاد رکھیے‘ تہذیبوں کے موجودہ تصادم اور نظریات کے ٹکراؤ میں آپ کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی اور آپ حرفِ غلط کی طرح مٹا دیے جائیں گے۔ بقول اکبر الٰہ آبادی

تم شوق سے کالج میں پڑھو‘ پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو
لیکن یہ سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

بہرحال دنیا میں عزت ووقار کا مقام حاصل کرنے کے لیے پہلی بات اپنے ایمان وعقیدے کی حفاظت اور اپنے نظریاتی تشخص کا احساس اور دینی وملی غیرت کی بقا اور اس کا اظہار ہے۔ اس کے لیے نصاب تعلیم کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا ضروری ہے‘ ٹی وی کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے اور قومی اخبارات کے مالکان ومدیران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا رویہ بدلیں اور قوم کے اسلامی تشخص کے تحفظ وبقا کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ہماری پستی اور زبوں حالی کا دوسرا سبب خود انحصاری کے بجائے آئی ایم ایف وغیرہ کے قرضوں پر معیشت کا ڈھانچہ استوار کرنا ہے۔ جو حکومت بھی آتی ہے‘ وہ خود انحصاری کا ڈھنڈورا تو خوب پیٹتی ہے اور کشکول توڑنے کااعلان کرتی ہے لیکن ساری دنیا میں کشکول لیے پھرتی ہے اور جب وہ حکومت رخصت ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ قرضوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ بوجھ اور بڑھ گیا ہے۔ غلامی کی زنجیریں اور بوجھل ہو گئی ہیں اور قرض کی مے پی پی کر ہماری فاقہ مستی خوب رنگ لا رہی ہے۔ جب تک ہماری حکومتیں بیرونی قرضوں پر اپنا انحصار ختم نہیں کریں گی‘ ہم دنیا میں سر اٹھا کر چلنے اور ان کے ناجائز دباؤ کو نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔

تیسرا سبب مسلمان ملکوں کا باہمی اختلاف اور ان کے مابین اتحاد کا فقدان ہے۔ اسی اختلاف اور عدم اتفاق نے ان کی قوت کو منتشر اور پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ اگر یہ سارے ملک اسلام کی بنیاد پر متحد ہو جائیں‘ ان سب کی آواز ایک ہو جائے تو اقوام متحدہ من مانی کر سکتی ہے نہ امریکہ وبرطانیہ کو مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی ہمت ہو سکتی ہے۔ ۱۱ ستمبر کے بعد جیسے ساری دنیائے اسلام نے امریکہ میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی تھی‘ اسی طرح اگر وہ اسامہ بن لادن کے بارے میں بھی متحدہ موقف اختیار کرتی اور امریکہ سے ثبوت مانگتی یا ہمارے صدر محترم امریکی صدر سے مہلت لے کر تمام اسلامی سربراہوں سے رابطہ کر کے انہیں صورت حال اور معاملے کی سنگینی اور نزاکت سے آگاہ کرتے تو یقیناًاس المیے سے بچا جا سکتا تھا جو عالم اسلام کی بے حسی‘ مجرمانہ سکوت اور ہمارے بزدلانہ اور غیر دانش مندانہ فیصلے کی وجہ سے رونما ہوا۔ آئندہ ایسے المیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام میں باہم اتحاد واتفاق ہو‘ اسلامی سربراہی کانفرنس موثر اور فعال ہو اور آپس کی تلخیاں اور کشیدگیاں دور ہوں۔ پورا عالم اسلام ایک جسدِ واحد کی طرح اور ایک بنیان مرصوص ہو۔ عالمی مسائل بالخصوص مسلمانوں سے متعلق پالیسیوں میں ان کا موقف ایک اور اسلامی تعلیمات کا مظہر ہو۔

ہماری پستی اور کمزوری کا چوتھا سبب منصوبہ بندی کا فقدان اور اپنے مسائل ووسائل کا عدم شعور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی ملکوں کو ایک تو افرادی قوت سے نوازا ہے۔ دوسرے ہر قسم کے قدرتی وسائل انہیں وافر مقدار میں عطا کیے ہیں لیکن منصوبہ بندی کے فقدان اور خداداد وسائل کی قدروقیمت کے عدم احساس کی وجہ سے ہم پستی کا شکار اور غیروں کے محتاج ہیں۔ ہمارے اہل علم وہنر دیار غیر میں کام کر رہے ہیں اور ان کی ترقی میں ان کے ساتھ خوب تعاون کر رہے ہیں۔ ہم انہیں معقول تنخواہ اور مراعات دے کر ان کو ملکی ترقی میں حصہ دار بنانے کے لیے تیار نہیں حتیٰ کہ اگر کوئی خود ملی اور قومی جذبے کے پیش نظر اپنے ملک میں رہ کر اپنے ملک کو سائنسی وایٹمی ٹیکنالوجی یا دیگر اہم شعبوں کو رفعت بہ کنار کرنا چاہتا ہو تو ہمیں اس کی خدمات قبول نہیں یا اس کی قدر ومنزلت کا اہتمام کر کے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرنا اور اس کی تذلیل وتوہین کرنا ہمارا شعار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بالآخر وہ پھر دیار غیر ہی کو اپنا مسکن اور غیروں ہی کی خدمت کو اپنا مقصد زندگی بنا لیتا ہے یاخاموشی اور گم نامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ہمارے دو ایٹمی سائنس دانوں کے ساتھ موجودہ حکومت کا رویہ ہے جو اس نے اپنے آقائے ولی نعمت امریکہ کے کہنے پر ان کے ساتھ کیا ہے ؂ شرم تم کو مگر نہیں آتی

اسی طرح خداداد وسائل کا معاملہ ہے۔ ہمیں ان کی قدر وقیمت کا اورانہیں ترقی دے کر ان سے استفادہ کرنے کا صحیح شعور واحساس ہی نہیں ہے ورنہ اگر عالم اسلام مل کر اپنے وسائل ومسائل کے بارے میں اجتماعی سوچ اور فکر کو بروئے کار لائے اور ایک دوسرے سے اخذ واستفادہ کر کے انہیں ترقی دے اور انہیں صحیح طریقے سے استعمال کرے تو اس سے ان کے مسائل بھی بہت حد تک حل ہو سکتے ہیں اور بہت جلد ترقی سے بھی ہم کنار ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ہماری جو صورت حال ہے‘ ا س کا نقشہ علامہ اقبال نے اس طرح کھینچا ہے ؂

جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن‘تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن‘ تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن‘ تم ہو

ہماری کمزوری وزبوں حالی کا پانچواں سبب ہمارا اپنے دفاع سے غفلت برتنا ہے۔ عالم اسلام کی دفاعی حالت یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ مال دار ملک کویت اور سعودی عرب اور عرب امارات اپنے دفاع کے لیے مغربی ممالک کے محتاج ہیں۔ آج سے چند سال قبل صدام حسین نے کویت پر جارحانہ قبضہ کر لیا اور سعودی عرب پر بھی جارحیت کے ارتکاب کا اظہار کیا تو ان دونوں ممالک نے امریکہ وبرطانیہ وغیرہ سے امداد طلب کی اور انہوں نے آکر صدام کی جارحیت سے ان دونوں کو بچایا جس کی بہت بھاری قیمت ان کو چکانی پڑی بلکہ ابھی تک چکا رہے ہیں جس نے ان کی معیشت کو نیم جان کردیا ہے۔ اسی طرح ۵۴ سال سے اسرائیل نے عربوں کی ناک میں دام کر رکھا ہے حالانکہ عربوں کے مقابلے میں وہ ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کے باشندگان کی تعداد بھی ۳۰ لاکھ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ عرب ۱۱ کروڑ کی تعداد میں ہیں اور دنیاوی وسائل سے مالامال بھی ہیں لیکن چونکہ وہ اپنا موثر دفاع کرنے کے قابل نہیں اس لیے اسرائیل سے مسلسل مار کھا رہے ہیں بالخصوص فلسطینی مسلمانوں پر اس نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے لیکن کوئی اسلامی ملک اس کا ہاتھ پکڑنے اور اسے سبق سکھانے کے قابل نہیں۔ تیسری مثال اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی ہے۔ مسلم حکمران امریکہ کے دباؤ پر یا اپنے ذہنی تحفظات کی وجہ سے انہیں جو چاہیں کہیں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو دہشت گرد کہنا ایک بہت بڑا جھوٹ اور دہشت گرد سمجھنا بہت بڑا ظلم ہے۔ یہ دونوں اسلام کے مجاہد اور ملت اسلامیہ کے عظیم ہیرو ہیں۔ اسامہ اسلامی جہاد کی علامت ہے۔ اس نے عالم اسلام میں جہاد کی ایک لہر پیدا کی ہے جس سے عالم کفر لرزاں ہے۔ اس نے مسلم نوجوانوں کو ایک ولولۂ تازہ دیاہے۔ ان کے اندر چٹانوں کا سا عزم اور حوصلہ پیدا کیا ہے۔ اسلام کی خاطر مر مٹنے کا جذبہ اور شعور بیدار کیا ہے جس کی وجہ سے ممولے کے اندر شہباز سے لڑنے کی اور کنجشک فرومایہ کے اندر ہم پایہ سلیمان جیسے لوگوں سے ٹکرانے کی قوت وتوانائی پیدا ہوئی ہے۔ ملا عمر حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے بعد تاریخ اسلام کا وہ تیسرا عمر ہے جس نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں وسائل کی قلت اور مسائل کی بھرمار کے باوجود اسلامی حکومت اور اس کے عدل وانصاف اور مساوات کا وہ نمونہ عملی طور پر پیش کر کے دکھا دیا جس نے خلافت راشدہ کے دور کی یاد تازہ کر دی جس کے قیام کی ہر مسلمان اپنے دل میں آرزو رکھتا ہے۔ ان دونوں دانائے راز شخصیتوں کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں شہید یا گرفتار ہو جانا عند اللہ تو یقیناًان کے لیے اعزاز واکرام کا باعث ہوگا لیکن ہم مسلمانوں کے لیے وہ دن ایک نہایت الم ناک دن اور ڈوب مرنے کا مقام ہوگا۔ عالم اسلام کی یہ بے بسی کہ وہ ملت اسلامیہ کے ان بے گناہ عظیم سپوتوں کو اس وقت پناہ مہیا کرنے سے قاصر ہے‘ قابل عبرت تو ضرور ہے لیکن ناقابل فہم ہرگز نہیں۔ اور ہماری غلامی کی انتہا یہ ہے کہ حکومت نے اوقاف کی مسجدوں میں ائمہ کرام کو امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت کے خلاف قنوت نازلہ پڑھنے یعنی ان کے لیے بددعا کرنے سے حکماً روک دیا ہے۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ اقبال نے سچ ہی کہا تھا ؂ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔ بلکہ شاید ضمیر نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہتی اور صرف یس سر کہنا ہی یاد رہ جاتا ہے۔

وجہ اس بے بسی کی یہی ہے کہ کوئی بھی اسلامی ملک اپنا دفاع کرنے کے قابل نہیں ہے حتیٰ کہ سارا عالم اسلام مل کر ان کا مقدمہ بھی اقوام متحدہ میں پیش کرنے کی ہمت نہیں رکھتا چہ جائیکہ وہ انہیں پناہ دے سکے جب کہ ان مغربی ممالک کا اپنا کردار یہ ہے کہ انہوں نے بڑے بڑے دہشت گردوں اور بڑے بڑے اخلاقی مجرموں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔

ان مثالوں سے مقصد اس نکتے کی وضاحت ہے کہ عالم اسلام اپنے دفاع سے یکسر غافل ہے حالانکہ قرآن کریم میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے:

واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم وآخرین من دونہم (التوبہ ۱۸/۶۰)

’’جتنی طاقت تم تیار کر سکتے ہو‘ تیار کرواور گھوڑے بھی باندھے ہوئے تیار رکھو ۔ تم اس کے ذریعے سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو ڈراؤ۔‘‘

حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

الا ان القوۃ الرمی الا ان القوۃ الرمی الا ان القوۃ الرمی (صحیح مسلم ‘ الامارۃ‘ باب فضل الرمی والحث علیہ‘ حدیث نمبر ۱۹۱۷)

’’سن لو‘قوت سے مرا دتیر اندازی ہے۔قوت سے مرا دتیر اندازی ہے۔ ‘قوت سے مرا دتیر اندازی ہے۔ ‘‘

یعنی نبی کریم ﷺ نے قوت سے مراد تیر اندازی لی ہے۔ گویا اس طرح تیز اندازی کے سیکھنے کی اہمیت کو واضح فرمایا کیونکہ اس وقت جنگ میں تیر اندازی ہی سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں قوت تیار کرنے اور قوت مہیا رکھنے کا جو حکم ہے تو اس سے مراد اپنے وقت کے وہ ہتھیار اور اسلحی وسائل ہیں جو جنگ میں زیادہ سے زیادہ موثر اور دشمن کو زیر کرنے میں کارگر ہو سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے آج کل بری‘ بحری اور فضائی تینوں شعبوں میں جو نئے نئے ہتھیار تیار ہوئے ہیں‘ بے آواز جہاز سے لے کر میزائل اور ایٹم بم اور ہائیڈروجن بموں تک تمام ہتھیاروں کی تیاری اور انہیں مہیا کر کے اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔ یہ قرآن اور پیغمبر اسلام کا فرمان ہے اس لیے علماء اسلام کا متفقہ موقف ہے کہ سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں کیونکہ ایٹمی قوت کے حصول اور اس میں پیش رفت حکم قرآنی کا تقاضا ہے اور اس سے انحراف قرآن وحدیث کی تصریحات کے خلاف ہے۔

لیکن افسوس مسلمان ممالک اس حکم قرآنی سے غافل رہے اور غافل ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج امریکہ اور اس کے اتحادی جو چاہیں کریں‘ مسلمان ممالک ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں‘ وہ ان کے حکم سے سرتابی کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ وہ ملت اسلامیہ کے عظیم مجاہد اور ہیرو کو دہشت گرد کہیں‘ وہ اسلام کے ایک بے داغ اور مثالی حکمران کو دہشت گردوں کا پشتی بان قرار دیں تو ہمارے اندر ان سے اختلاف کرنے کی ہمت نہیں۔ وہ ان دونوں پر چڑھ دوڑیں اور ان کے ساتھ دیگر بہت سے معصوم اور بے گناہوں پر تابڑ توڑ حملے کریں تو ہم اس مسلم کشی میں ان کے دست وبازو بن جائیں اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیں جیسا کہ المیہ افغانستان کے پس منظر میں بے گانوں کی ستم رانی کے ساتھ اپنوں کی کرم فرمائی واضح ہے ؂

قریب یارو ہے رو زمحشر‘چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر؟
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

اس لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام اپنے وسائل جمع کرے۔ جس کے پاس مال ودولت ہے‘ وہ مال دے۔ جس کے پاس علم وہنر ہے‘ وہ اپنا علم وہنر پیش کرے۔ جس کے پاس جذبہ وتوانائی ہے‘ وہ اسے بروئے کار لائے۔ یوں وہ اپنے وسائل اور صلاحیتیں جمع کر کے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنائے تاکہ اس المیے کا اعادہ نہ ہو سکے اور اس تہذیبی تصادم میں مسلمان ممالک بھی اپنی تہذیب کو بچانے میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔

چھٹا سبب مغرب کے مقابلے میں ہمارے اخلاق وکردار کی پستی ہے۔ مغرب بے دین ہونے اور بے حیائی کو تہذیب کے طور پر اپنانے کے باوجود عمومی زندگی میں اخلاقی قدروں کا پاسبان ہے‘ امانت ودیانت اس کا شعار ہے۔ اس نے زندگی گزارنے کے لیے جو معاشرتی اصول اور ضابطے وضع کیے ہیں‘ ان کی پابندی کرنے والا ہے۔ محنت‘ لگن اور جدوجہد کرنے والا ہے۔ علم وہنر کا حامل اور اہل علم وہنر کا قدر دان ہے۔ اپنی ان خوبیوں کا وہ صلہ پا رہا ہے‘ دنیا میں اس کی تجارتی ساکھ قائم ہے‘ پوری دنیا اس کی مصنوعات کی منڈی ہے اور گراں سے گراں تر ہونے کے باوجود لوگ انہیں آنکھیں بند کر کے لے لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ و ہ خوبیاں ہیں جن کی تلقین ہمارے مذہب نے کی ہے۔ ان خوبیوں میں ہمیں ممتاز ہونا چاہیے تھا۔ اخلاق وکردار کی یہ بلندی ہمارا شعار ہونا چاہیے تھی لیکن بد قسمتی سے معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہم مذکورہ خوبیوں سے محروم اور اخلاقی پستیوں میں مبتلا ہیں اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ہم آج کل مغرب کی تقلید اور اس کی نقالی کرنے میں فخر تو محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی مذکورہ خوبیاں اپنانے کے لیے پھر بھی تیار نہیں۔ گویا ہم نے اس کی تقلید بھی کی ہے تو ایسی باتوں میں جو ہمارے مذہب کے خلاف ہیں اور ان کا کوئی تعلق مادی وسائنسی علوم اور ترقی سے نہیں ہے۔ ہم شوق سے کتے پالتے ہیں‘ ڈاگ شو اور فیشن شو منعقد کرواتے ہیں۔ کس لیے؟ کہ فرنگی اس کا شوق رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنی عورتوں کو بے پردہ کر دیا‘ محض اس لیے کہ ان کی عورتیں بے پردہ ہیں۔ ہم نے ان کا سا لباس اختیار کر لیا‘ تاکہ ہم بھی ماڈرن اور مہذب لگیں یا کہلوائیں لیکن کوئی بتلائے کہ ان چیزوں کا کوئی تعلق ان کی ترقی اور ان کے علوم وفنون کی مہارت سے ہے؟ کیا ان کی ترقی کتوں سے پیار کرنے کی مرہون منت ہے؟ یا کوٹ پتلون اور ٹائی کا اس میں دخل ہے؟ کیا عورتوں کی عریانی ان کی ترقی کی بنیاد ہے؟ نہیں‘ ہرگز نہیں۔ پھر ان چیزوں میں ان کی تقلید کا کیا فائدہ؟ اور اپنے تہذیبی تشخص اور مذہبی انفرادیت کو ختم کرنے کا کیا مطلب؟ ان کی ترقی کا راز تو علم وہنر‘ ان کی محنت اور لگن‘ امانت ودیانت اور ان تھک جدوجہد میں مضمر ہے۔

علامہ اقبال رحمہ اللہ نے‘ جنہوں نے خود مغرب میں رہ کر ہر چیز کا مشاہدہ کیا تھا‘ وہ یورپ کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں ؂

قوت مغرب نہ از چنگ ورباب
نے زرقص دختران بے حجاب
نے زسحرِ ساحران لالہ رو است
نے زعریاں ساق نے از قطع مو است
محکمی او نہ از لا دینی است
نے فروغش از خط لاطینی است
قوت افرنگ از علم وفن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قطع وبرید جامہ نیست
مانع علم وہنر عمامہ نیست

حضرات محترم! ہماری پستی اور کمزوری کے یہ چند اسباب ہیں۔ جب تک ہم اپنی مذکورہ کمزوریوں کا ازالہ نہیں کریں گے اور مذکورہ خطوط پر اپنی پالیسیوں کو استوار نہیں کریں گے‘ ہم موجودہ تہذیبی تصادم میں اپنا وہ عالمی کردار ادا نہیں کر سکیں گے جو ہماری عظمت رفتہ کا بھی آئینہ دار ہو اور روشن مستقبل کا مظہر بھی۔ بقول علامہ اقبال:

سبق پھر پڑھ صداقت کا‘ عدالت کا‘ شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو‘ زمانہ چال قیامت کی چل گیا
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ’’اے اسلام والو تم‘‘
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل‘ عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
جو کرے گا امتیاز رنگ وخوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر
تا خلافت بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر

علامہ اقبال مزید فرماتے ہیں:

ناموس ازل را تو امینی تو امینی
دارائے جہاں را تو یساری تو یمینی
اے بندہ خاکی تو زمانی تو زمینی
صہبائے یقیں در کش واز دیر گماں خیز
از خواب گراں‘ خواب گراں‘ خواب گراں خیز
از خواب گراں خیز
فریاد زافرنگ ودل آویزی افرنگ
فریاد زشیرینی وپرویزی افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ زچنگیزی افرنگ
معمار حرم! باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں‘ خواب گراں‘ خواب گراں خیز
از خواب گراں خیز

مسلمانان عالم کے لیے لائحہ عمل

مولانا محمد عیسی منصوری

جب سے اس دھرتی پر انسان کا وجود ہوا ہے‘ یہاں خیر اور شر کی رزم آرائی اور جنگ مسلسل جاری ہے۔ ہر دور میں خیر کا راستہ آسمانی وحی کی اتباع کا اور شر کا راستہ خواہشات وشہوات کے پیچھے دوڑنے کا رہا ہے۔ خدا کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے دنیا میں خیر کو شر پر غالب کر دیا تھا اور پوری انسانیت کو اس کے خالق کا آخری پیغام پہنچا دیا تھا جو پوری انسانیت کی بقا اور خوش حالی‘ امن وسلامتی‘ ہمہ گیر یک جہتی اور ہر نوع کی دنیوی ودینی ترقیات وفلاح کا ضامن تھا۔ اس پیغام کی بنیاد ایک خالق کی عظمت واطاعت اور تمام انسانوں کی مساوات اور حقوق کی ادائیگی پر تھی۔ ربع صدی کے نہایت مختصر عرصے میں اس دورکی معمور دنیا (ایشیا‘ افریقہ‘ یورپ) کے بڑے حصے پر اس آخری پیغام کی حامل قوم غالب وحاوی ہو کر سترہویں صدی عیسوی تک دنیا میں عالمی قوت بن کر فائق وسربلند رہی۔ اس پورے عرصے میں وہ مخصوص نسل جو اپنے کرتوتوں کے سبب سے خدا کی بارگاہ سے مردود ہوئی تھی‘ جسے تمام آسمانی کتابوں نے مسلسل جرائم ونافرمانی‘ خدا ورسول سے مقابلہ اور خدا کے ہزارہا پیغمبروں کو ستانے اور قتل کرنے کی وجہ سے حزب الشیطان یعنی شیطان کی پارٹی قرار دیا ہے‘ جن کی بنیادی خصلت قرآن کی زبان میں حرام خوری (سود خوری)‘ اقوام عالم کے مابین شر وفتنہ انگیزی اور جاسوسی رہی ہے‘ جن کو تمام آسمانی کتب نے ملعون ومغضوب علیہم یعنی خدا کی رحمت سے دوری اور خدا کے قہر وغضب کے مستحق ہونے کی مہر ثبت کر دی۔ ہزارہا سال سے یہ مخصوص نسل پرست ٹولہ برابر اپنی سازشوں میں مصروف رہا تاکہ پوری انسانیت کو اپنا ہمہ جہتی غلام بنا کر ان پر اپنے خونی پنجے گاڑ دے۔ قرون وسطیٰ میں اس ٹولے کی سازش اور اکسانے پر ہی صلیبی جنگیں برپا ہوئیں۔ اس ٹولے نے انیسویں صدی عیسوی تک مغرب کی مسیحی اقوام کو رام کر لیا اور مذہب کو ختم کر کے مغربی اقوام کو نیشنلزم کے نام پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں کے مختلف طبقات کو باہم ٹکرا کر اپنے شکنجہ میں جکڑ لیا۔ مغربی اقوام پر اس طرح تسلط حاصل کر لیا کہ مغرب کے سیاستدان‘ صنعت کار‘ تاجر‘ کاشت کار‘ مزدور‘ اہل قلم‘ اسکالر‘ دانش ور سب صہیونی مقاصد کے لیے کام کرنے والے مزدور اور چاکر بن کر رہ گئے۔ پھر مغربی اقوام کے کندھوں پر سوار ہو کر بیسویں صدی میں اقوام عالم کو نظریاتی وفکری‘ اقتصادی ومعاشی‘ تمدنی ومعاشرتی طور پر اپنا اسیر بنا لیا۔ اس وقت پوری دنیا کی اقوام مغربی اقوام کے واسطے سے درحقیقت نسل پرست صہیونیوں کے منحوس جال میں پھنس چکی ہیں اور بے بسی کے ساتھ ان کی اطاعت پر مجبور ہیں۔

ملت اسلامیہ جن کا باہمی تعلق ورشتہ خون کے رشتے سے زیادہ مضبوط تھا‘ جن کے نزدیک رنگ ونسل‘ وطنی وطبقاتی فرق وامتیاز کی کوئی حیثیت نہیں تھی‘ گزشتہ صدیوں میں انہیں مغرب نے نظریاتی وفکری انتشار میں مبتلا کرکے خدا کی آخری وحی سے دور کر دیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ تین صدیوں میں مغرب میں جتنی فکری ونظریاتی تحریکیں اٹھیں‘ وہ سب صہیونی نسل پرستوں کی منصوبہ بندی کے تحت اٹھیں اور مغرب کے اکثر مفکر نسلاً یہودی تھے۔ ان سب کا مشترکہ مقصد آسمانی وحی (مذہب) سے کاٹ کر خواہشات وشہوات کی راہ پر ڈالنا تھا۔ پہلے نیشنلزم (وطنیت) کے نام پر ملت اسلامیہ کے پچاسوں ٹکڑے کیے۔ پھر ان میں نظریاتی وطبقاتی جنگ تیز کر کے ایک ہی ملک کے مختلف طبقات کو باہم لڑایا اور ہر طبقہ میں اپنے فکری‘ تمدنی وسیاسی غلبہ کے ہم نوا افراد کومسلط کیا پھر ان کے ذریعے سے پورے عالم اسلام کو ایک ایسی مردہ لاش میں تبدیل کر دیا کہ جس طرح چاہیں‘ یہودی اور ان کے غلام (مغربی اقوام) نوچ کھسوٹ کریں اور وہ اف نہ کر سکیں۔ اس شیطانی پارٹی نے پوری منصوبہ بندی کر لی ہے کہ مستقبل میں کبھی مسلمان اور مسیحی ان کی ہمہ گیر غلامی کے چنگل سے نہ نکلنے پائیں۔ خاص طور پر ملت اسلامیہ باہم متحد ومتفق نہ ہونا پائے۔ اس وقت ملت اسلامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی حزب الشیطان (یہودیوں) کا ہمہ جہتی غلبہ وتسلط ہے جو ملت اسلامیہ کے تمام مسائل ومشکلات‘ ذلت وخواری کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اگر اب بھی اس شیطانی جال سے نکلنے کی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں ان کی بدترین غلامی کی دلدل میں مزید دھنستی چلی جائیں گی اور دنیا سے خیر اور آسمانی وحی کی برکات معدوم ہو کر مکمل طور پر خواہشات کی شیطانی حکمرانی قائم ہو جائے گی۔ ملت اسلامیہ گزشتہ دو صدیوں میں اپنی ناسمجھی اور بے دانشی کے سبب سے مغرب کی ذہنی‘ تمدنی‘ تعلیمی اور معاشرتی اقتدا کر کے جانکنی کی حالت کو پہنچ گئی ہے۔ 

اس انسانیت ومذہب دشمن ٹولے نے پوری دنیا کو باکسنگ کا گراؤنڈ بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس طرح باکسنگ کے کھیل میں غالب آنے والا باکسر پچھڑ جانے والے باکسر کو دوبارہ اٹھنے نہیں دیتا‘ جب بھی وہ ہوش میں آنے یا اٹھنے کی کوشش کرتا ہے‘ تو غالب باکسر اس کے سر پر گھونسہ رسید کر کے دوبارہ سلا دیتا ہے۔ اب ہارنے والے باکسر کی سمجھ داری ہے کہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے یا مزید ہڈیاں تڑوانے کے بجائے وقتی طور پر اپنی شکست تسلیم کر کے اگلے راؤنڈ کے لیے تیاری کرے۔ اس وقت دنیا کے گراؤنڈ پر کوئی مسلم ملک اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے اسی طرح ٹھکانے لگا دیا جائے گا جیسے شاہ فیصل شہید‘ جنرل ضیاء الحق یا ماضی قریب میں صدام حسین اور مہاتیر محمد کا حشر کیا جا چکا ہے۔ اس لیے ملت اسلامیہ کے لیے اپنی تقدیر بدلنے یا دنیا پر غالب شیطانی ٹولے سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ وہ ہے خاموشی وصبر اور حکمت ودانش مندی کے ساتھ طویل جدوجہد جس کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:

۱۔ مسلم ممالک آپس میں میل جول‘ تبادلہ خیالات کے ذریعے سے باہمی مفاہمت‘ ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے قریب آنے کی طرح ڈالیں۔ تمام ممالک اپنی سائنسی‘ صنعتی‘ علمی اور تکنیکی پسماندگی دور کرنے کے لیے مل جل کر تعلیمی‘ ٹیکنیکل اور سائنسی ادارے اور ریسرچ مراکز قائم کریں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے جگر گوشوں اور بہترین صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو مغربی یونیورسٹیوں اور اداروں میں اسلام دشمن نظریات ‘ معاشرت اور کلچر کے حوالے کرنے کے بجائے مسلم ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے سائنسی وٹیکنیکل ادارے قائم کیے جائیں۔ ہر مسلم ملک کسی ایک شعبہ میں اعلیٰ ترین تعلیم وتربیت کی ذمہ داری قبول کرے۔ اس میں تمام مسلم ممالک کے علاوہ افریقہ وایشیا کی تیسری دنیا کی پس ماندہ اقوام وممالک کو اپنے ساتھ شریک کر کے ان کی بھی مدد وکفالت کی جائے۔

۲۔ مسلم ملکوں کو غذائی اجناس میں خود کفیل بنانے کے لیے زراعت پر خصوصی توجہ دی جائے جس طرح اسرائیل نے جدید سائنسی ٹیکنالوجی استعمال کر کے اپنے صحراؤں کو گلشن بنا کر یورپ کے ممالک کو سبزیوں‘ فروٹ اور فروٹ جوس سے بھر دیا ہے۔ بہت سے مسلم ممالک کے پاس وسیع زمینیں ہیں مگر وسائل نہیں اور بہت سے مسلم ممالک وسائل سے مالامال ہیں۔ زراعت میں باہمی تعاون واعانت کے تمام ممکن طریقے اختیار کیے جائیں۔ 

۳۔ مسلم ممالک زیادہ سے زیادہ باہمی تجارت کو فروغ دیں۔ اس وقت مسلم ملکوں کی نوے فی صد سے زیادہ تجارت ان ملکوں کے ساتھ ہے جو اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمن ہیں۔ جو چیز کسی مسلم ملک سے مل سکتی ہو‘ اسے ہر قیمت پر مسلم ملک ہی سے خریدیں۔ تجارت میں مسلم ممالک باہمی ترجیحی بنیادوں پر رعایت دیں۔

۴۔ تمام مسلم ممالک مل کر اپنے ڈیفنس اور اسلحہ سازی کے لیے مربوط پروگرام وضع کریں۔ مثلاً ہر مسلم ملک کسی ایک چیز میں اعلیٰ سے اعلیٰ فنی مہارت حاصل کرے اور اس کی صنعت ڈالنے پر پوری توجہ منعطف کرے۔ کوئی مسلم ملک ٹینک سازی‘ کوئی توپ سازی‘ کوئی لڑاکا طیاروں کی تیاری‘ کوئی میزائل سازی‘ کوئی خلائی سیاروں کی تیاری‘ کوئی نیوی اور میزائل بردار کشتیوں کی تیاری اور کوئی اسلحہ اور کوئی چھوٹے اسلحہ سازی کی فنی مہارت حاصل کرنے اور صنعت ڈالنے پر اپنی توانائی صرف کرے۔ یہ اسلحہ سازی اور فنی مہارت کا حصول نہ صرف ۵۶ مسلم ممالک کے لیے ہو بلکہ افریقہ وایشیا کے پس ماندہ ملکوں اور قوموں کو سہارا دے کر انہیں مغرب کے ظالم شکنجے سے نکلنے میں مدد دی جائے۔

۵۔ آج کا دور ذرائع ابلاغ کا دور ہے۔ روس کو شکست امریکی اسلحہ نے نہیں دی بلکہ سیٹلائیٹ نے دی ہے۔ جدید کمیونی کیشن ورابطہ کے لیے کمپیوٹر‘ انٹرنیٹ اور سیٹلائیٹ کی اعلیٰ فنی تعلیم ان چیزوں کی تیاری میں مل جل کر منصوبہ بندی کی جائے۔ مسلم ممالک میں نہ ٹیلنٹ کی کمی ہے نہ وسائل کی۔

۶۔ دنیا میں معدنیات‘ پٹرول‘ ربر‘ سونا‘ پیٹل‘ تانبہ‘ لوہا حتیٰ کہ یورینیم کے ستر فیصد سے زیادہ ذخائر عالم اسلام کے پاس ہیں۔ ا س وقت دنیا کی ترقی یافتہ اقوام ہم سے کچا مال کوڑیوں کے دام خرید کر پھر انہیں سونے کے دام لوٹا رہی ہیں۔ معدنیات کے نکالنے اور ان کی تیاری کا انتظام اپنے ہی ملکوں میں ہونا چاہیے۔

۷۔ مسلم دنیا کے مختلف طبقات سائنس دان‘ جدید علوم وٹیکنالوجی کے ماہرین‘ اسکالر‘ صحافی ودانش ور‘ صنعت کار‘ سیاست دان‘ مذہبی علماء ومفکرین کے میل جول اور تبادلہ خیالات کے لیے زیادہ سے زیادہ مجالس‘ کانفرنسیں‘ سیمینار اور پروگرام رکھے جائیں تاکہ ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات باہمی علمی وفکری استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ دلی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔

۸۔ یہود اور ان کے آلہ کار مغرب کے اسلام دشمن ممالک کی فکری یلغار‘ الحادی فلسفوں‘ تزویراتی حربوں اور سازشوں کے توڑ کے لیے دنیوی اور دینی علوم کے ماہرین پر مشتمل ایک علمی کونسل ہر مسلم ملک میں قائم کی جائے اور سال میں کم از کم دو مرتبہ مسلم ممالک کے علماء ومفکرین اور دانش وروں کو اعدائے اسلام کی علمی وفکری یلغار وسازشوں پر غور وخوض کے لیے مجتمع کیا جائے۔ ہر مسلم ملک میں جدید ترین ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے دشمن کی طرف سے آنے والے گمراہ کن علمی وفکری سیلاب ونشراتی اداروں (پرنٹ والیکٹرانک میڈیا) کے نام نہاد دانش وروں اور اسکالرز پر کڑی نظر رکھی جائے۔ ان کی پھیلائی ہوئی گم راہیوں اور زہریلے افکار وکلچر کا موثرجواب فراہم کیا جائے۔

۹۔ نئی نسل کو ذہنی وفکری گم راہیوں‘ بے راہ روی‘ خواہشات وشہوت پرستی اور تخریبی امور سے بچانے کے لیے اسلام کی بنیادی اعلیٰ‘ آفاقی وتعمیری تعلیمات سے واقفیت کے لیے عصری درس گاہوں میں ابتدا ہی سے انتظامات کیے جائیں تاکہ نئی نسل بے راہ رو نہ ہونے پائے اور اسلام دشمن تحریکیں اور عناصر انہیں شکار نہ کر سکیں۔

۱۰۔ قرآن نے پوری انسانیت کی بہبود وبھلائی اور دنیا وآخرت کی فلاح کے لیے جو تعلیمات‘ پیغام‘ ہدایات اور پروگرام دیا ہے‘ جدید ترین ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے انہیں دنیا کے ہر انسان تک پہنچانے کی سعی کی جائے۔

۱۱۔ دشمنان اسلام کا اصل ہتھیار اور طاقت لذات وشہوت پرستی‘ فحش وبے حیائی کی گندی معاشرت‘ فیشن وتعیش پسندی کا مغربی کلچر ہے جو خدا فراموشی اورآخرت سے غفلت کا کلچر ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو سادگی‘ جفا کشی کی مجاہدانہ زندگی کا عادی بنایا جائے۔

اس حقیقت پر کڑی نظر رکھنی ہوگی کہ ہر مسلم ملک میں این جی اوز کے نام سے دشمنان اسلام کے بے شمار افراد وتنظیمیں کام کر رہی ہیں جو فلاحی کاموں اور رفاہ عامہ وخدمت خلق کے کاموں کے پردے میں درحقیقت مغربی آقاؤں کے ایجنٹ اور جاسوس ہیں اور ان کے ناپاک مقاصد کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ناسور وکینسر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ تمام مسلم ممالک اور ان کے سربراہوں کو یہ بات خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہود ونصاریٰ اور کافر کبھی کسی مسلمان کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ اس پر پوری تاریخ شاہد ہے۔ اس وقت بھی فلسطین‘ بوسنیا‘ چیچنیا اور کشمیر میں پورا عالم کفر مسلمانوں کے مقابلے پر جس طرح ملت واحدہ بنا ہوا ہے‘ یہ منظر حقائق سمجھانے کے لیے کافی ہے۔

عصری تقاضے اور اسلام کی تعبیر وتشریح

پروفیسر میاں انعام الرحمن

کسی قوم کی کمزور تاریخ یا پھر اپنی عظیم تاریخ کا کمزور شعور تخلیقی صلاحیتوں کو مردہ اور سارے نظامِ اقدار وخیال کو تتر بتر کر دیتا ہے۔ عالمی مسلم معاشرہ اسی المیے کا شکار ہے۔ اسلام کی عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعبیر وتشریح بیک وقت دو محاذوں پر کام کرنے سے ممکن ہے‘ داخلی اور خارجی۔ درج بالا پہلے فقرے کے تناظر میں داخلی محاذ پر زیادہ سنجیدگی اور مشقت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کتاب اور سنت‘ احادیث نبوی اور اسلام کے ابتدائی عہد میں دعوت کے اسلوب پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو اسلامی اسپرٹ بہت زیادہ سوشل معلوم ہوگی۔ اسلام کی دعوتی اور توسیعی سرگرمیاں‘ چاہے ان کا رخ خود مسلم معاشرہ کے داخل کی طرف ہو یا خارج میں کوئی غیر مسلم مخاطب ہو‘ ہمیشہ سوشل منہاج کی حامل رہی ہیں۔ سیاست‘ معیشت‘ تمدن‘ ثقافت‘ علوم وفنون وغیرہ ان سب کا خمیر سوشل رویے سے ہی اٹھا تھا۔ سوشل رویے کی تہذیب اور اٹھان میں دو طرح کی نفسیات کام کرتی ہے‘ انفرادی اور گروہی۔ نظری اعتبار سے ممکن ہے کہ ہم اپنی سہولت کے پیش نظر اور نت نئے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے ان کو علیحدہ علیحدہ ڈسکس کریں لیکن عملی اعتبار سے علیحدگی کی حتمی لائن کھینچنا ناممکن ہے۔ ابن خلدون شاید واحد مسلم مفکر ہے جس نے تاریخ کی ’’سماجی طرح‘‘ کی بنیاد ڈالی اور مسلم تاریخ کو معتبر کرنے کے ساتھ ساتھ نقد وانتقاد کے کئی پہلو متعارف کرائے۔ اپنے عہد میںیہ بہت بڑا کارنامہ تھا۔ ہماری نااہلی کی وجہ سے اب بھی یہ ایک کارنامہ ہے۔ اگر ہم ابن خلدون کے بعد تفہیم تاریخ کے تسلسل کو قائم نہیں رکھ سکے تو کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اس کے اصول تاریخ کو اپنے عہد کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ہو سکے تو عصر حاضر میں اسلام کی تعبیر وتشریح کے لیے درکار تاریخی شعور کچھ نہ کچھ حاصل ہو جائے گا۔ تاریخی شعور کے بغیر کوئی بھی تخلیقی سرگرمی سطحی اور عارضی ثابت ہوگی کیونکہ اس کی عدم موجودگی سے معاشرے سے معیار غائب ہو جاتے ہیں‘ اوٹ پٹانگ تُک بندیاں راہ پا جاتی ہیں‘ زمینی حقائق نظر انداز کر دیے جاتے ہیں‘ عقائد ’’جذبات نما‘‘ بن جاتے ہیں‘ انفرادی اور گروہی زندگی نصب العین اور راہ عمل سے یکسر خالی ہو جاتی ہے۔ تاریخی شعور سے عاری کوئی بھی معاشرہ زندہ معاشرہ نہیں کہلا سکتا کہ آرزوؤں کی شکست کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور شکستِ آرزو شکستِ زیست کا باب ثابت ہوتی ہے۔

عصر حاضر میں اسلام کی تعبیر وتشریح کے داخلی منہاج کے لیے پہلا قدم ’’صحیح سوال‘‘ کرنا ہے۔ اکثر سننے اور پڑھنے میں آتا ہے کہ کتاب وسنت سے دوری کی وجہ سے مسلمان زوال کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ بیانیہ اور واقعاتی انداز ہے۔ درحقیقت یہی انداز ہمارے زوال کا سبب ہے۔ سوال اس طرح ہونا چاہیے کہ ’’ہم کتاب وسنت سے کیوں دور ہو گئے ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں کوئی سنجیدہ‘ جامع‘ تجزیاتی کتاب شاید ہی ملے۔ اگر کچھ کتب مل بھی جائیں تو ان کا جواب بیانیہ اور واجبی سا ہوگا کہ ہم نے مغرب کی اندھا دھند پیروی شروع کر دی ہے‘ مغربی ثقافت کی یلغار سے ہم منتشر ہو گئے ہیں‘ علوم وفنون میں غیر مسلموں کی ترقی سے ہم بہت مرعوب ہو گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے واقعات میں محض نشان دہی کی گئی ہے جیسا کہ سوال میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ہم کتاب وسنت سے دوری کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں۔ اگر پڑھنے والا ہوش مند قاری ہے تو ایسے جوابات سے اس کا رد عمل زیادہ سے زیادہ ایک لمحے کی زیر لب مسکراہٹ ہوگا۔ مجھے مسکراہٹ کی اہمیت سے انکار نہیں ہے لیکن اسلام کی تعبیر وتشریح کے لیے درکار جوابات کے لیے یہ ناکافی ہیں۔ ایسے سوالات اور ان کے تسلی بخش جوابات بنیاد فراہم کرنے کے باوجود تعمیم کے زمرے میں آئیں گے۔ مشقت تو ہوگی لیکن کچھ درکار (Required) سوالات بھی تلاش کرنا ہوں گے۔ یہ تلاش تبھی موثر ثابت ہوگی اگر ہم اپنے زمانے کے حدود اربعہ‘ ساخت اور رجحانات کی بابت کماحقہ آگاہ ہوں گے۔ محدود با خبری ہمیں راستے سے ہٹا (Detract)سکتی ہے۔ ایسے سوالات کی نوعیت بھی اگرچہ تعمیمیت کی حامل ہوگی لیکن ا سکی جڑیں عصر حاضر سے مخصوص ہوں گی۔ مثلاً:

۱۔ کیا کسی الہامی مذہب کا زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہونا ممکن ہے؟

۲۔ اگر ممکن ہے تو کیا عصر حاضر میں اس کی ضرورت ہے؟

۳۔ اگر ضرورت بھی ہے تو اس کے ادعائی ثمرات کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟

۴۔ آئیے مل کر کسی ایسے مذہب کی دریافت کا سفر شروع کریں‘ اس عہد کے ساتھ کہ سفر کی صعوبتوں سے بھاگیں گے نہیں۔ دورانِ سفر میں باہمی اختلاف کا امکان موجود رہے گا۔ آئیے یہ بھی طے کر لیں کہ کسی اختلاف کو اس طرح پیش نہیں کریں گے جس سے سفر متاثر ہو اور قافلے کی ٹوٹ پھوٹ کا امکان ہو۔

داخلی منہاج پر کیے گئے ایسے سوالات عصری تقاضوں کو Address کریں گے۔ نتیجے میں پیدا ہونے والے ثمرات محض داخلی نوعیت کے نہیں ہوں گے بلکہ خارجی محاذ پر مسلمانوں کے لیے موثر ہتھیار ثابت ہوں گے۔

بعض اصحاب کی رائے ہے کہ اسلامی دعوت کی ’’کلیت‘‘ کا اظہار مناسب نہیں کہ حکمت عملی کا تقاضا یہی ہے۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری ماہنامہ الشریعہ کے نومبر ۲۰۰۱ء کے شمارے میں رقم طراز ہیں کہ

’’۱۹۹۴ء میں امریکہ میں عالمی مذاہب کانفرنس ہوئی جو ہر سو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا کے ہر چھوٹے بڑے مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہب کا تعارف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والی ایک علمی شخصیت نے اس کانفرنس کا ایک نہایت قابل غور نکتہ تحریر کیا ہے۔ وہ یہ کہ کانفرنس میں دوسرے مذاہب پر گفتگو کے دوران لوگ سنجیدہ رہتے اور بغور سنتے مگر جونہی اسلام کے تعارف کا موقع آجاتا‘ وہ جارحانہ انداز اختیار کر لیتے۔ لوگوں کے اس رویے کا سبب بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے نمائندے اپنے مذہب کو فرد کی تعمیر کی حیثیت سے پیش کرتے یعنی ان کا مذہب فرد کے اعمال وعقائد میں کیا تبدیلی چاہتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام کانمائندہ اپنی بات یہاں سے شروع کرتا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ....... تو سامع پر فوری اثر یہ مرتب ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مسلمان ہم پر سیاسی بالادستی واقتدار کے خواہاں ہیں۔‘‘

جہاں تک دیگر مذاہب کے جارحانہ رویے کا تعلق ہے تو اس پر اکتفاکروں گا کہ کفار ملت واحدہ ہیں۔ جہاں تک پیغام کی اجتماعیت کا تعلق ہے تو میراخیال ہے کہ اسلام اور دیگر مذاہب میں بنیادی فرق ہی یہی ہے ورنہ بعض دوسرے مذاہب کے لوگ بھی موحد ہیں‘ ان کا کوئی نہ کوئی نبی بھی ہے اور آسمانی صحیفہ بھی‘ اگرچہ تحریف شدہ۔ چونکہ دیگر مذاہب میں سیاست واجتماعیت کے حوالے سے کلیدی راہنمائی موجود نہیں اس لیے ناواقفیت کی فضا میں ان کا رویہ جارحانہ ہو جاتا ہے۔ ان کا مذہبی شعور یہ ماننے پر ہی تیار نہیں ہوتا کہ مذہب ضابطہ حیات بھی ہو سکتا ہے۔ ضرورت ان کے مذہبی شعور کو Address کرنے کی ہے نہ کہ اپنے پیغام کی آفاقیت پر کمپرومائز (Compromise)کرنے کی۔ اگر وہ محدود مذہبی شعور کے سبب سے نہیں تو خوف کی فضا میں جارحیت کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کا خوف دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ان کا خوف کس نوعیت کا ہے۔ میرے نقطہ نظر سے پیغام کی آفاقیت کو برقرار رکھتے ہوئے پیرایہ اظہار اور اسلوب میں تبدیلی سے ان کا خوف کم ہو سکتا ہے۔ کمپرومائز اسلوب کی حد تک ہو سکتا ہے۔ جہاں تک خوف کے مکمل خاتمے کا تعلق ہے تو آپ کمپرومائز کی انتہا پر بھی چلے جائیں تو وہ ختم نہیں ہوگا۔ یہ ایک عام سا نفسیاتی نکتہ ہے۔

موصوف مقالہ نگار اجتماعی ہیئت اور سیاست وریاست کی نفی کرتے ہوئے فرد پر بہت زور دیتے ہیں‘ اگرچہ حکمت عملی کے تحت۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ’’فرد‘‘ ہوتا بھی ہے؟ جیسا کہ میں نے بہت ابتدائی سطور میں اشارہ کیا ہے۔ پھر اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ عصر حاضر تو عالمی گاؤں (Global Village) جیسے رجحانات سے عبارت ہے۔ ضرورت اسلام کے اجتماعی نظام کے مکاشفے کی ہے نہ کہ فردیت کی۔ آئیے مغرب کے سماجی نظام کی روشنی میں اس ’’ضرورت‘‘ کا مختصراً جائزہ لیں:

کسی طرز معاشرت سے ہی زندگی کے دیگر پہلوؤں کی ہیئت کا تعین ہوتا ہے لہذا کسی ملک کے سیاسی‘ معاشی اور دیگر نظاموں کے مطالعہ سے اس ملک کے سماجی نظام کی مخصوص نہج کا تقریباً کلی ادراک بآسانی ہوجاتا ہے۔ دیگر نظام ہائے زندگی اپنے خالق یعنی طرز معاشرت کے عکاس ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کسی ملک کی معیشت کا رخ منفی ہے تو لامحالہ قصور وار متعلقہ ملک کا مخصوص سماجی نظام ہی ہوگا۔

اگر ہم مغرب کے اقتصادی وسیاسی نظام ہائے زندگی کا جائزہ لیں تو ان میں مضمر منفیت چھپی نہیں رہتی۔ ان نظاموں کے استحصالی پہلو سے دنیا آگاہ ہے۔ اس منفیت کو دور کرنے کی اصلاحی کوششیں اگر صرف متعلقہ نظاموں تک محدود رہیں تو نہ صرف سطحی شمار ہوں گی بلکہ بے سود ثابت ہوں گی کیونکہ ان نظاموں کی منفیت مخصوص سماجی نظام کی مرہون منت ہے۔ اس سماجی نظام کو ایڈریس کر کے ہی اصلاح احوال کی امید کی جا سکتی ہے۔

معاشی منفیت کچھ ا س طرح سے ہے کہ 

۱۔ سودی نظام

۲۔ دولت کا ارتکاز

۳۔ اور اخلاقیات اور معاشی سرگرمیوں میں بعداس نظام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

سیاسی منفیت اس طرح سے ہے کہ

۱۔ جمہوریت ہی آئیڈیل نظام ہے۔

۲۔ جب ریاست اور حکومت میں فرق روا نہیں رکھا جاتا تھا تو حکمران طبقہ کہتا تھا ’’میں ریاست ہوں‘‘۔ آج ریاست اور حکومت میں فرق ہونے سے حکمران طبقہ کہتا ہے ’’میں عوام ہوں‘‘۔ اگر عمیق نظر سے جائزہ لیں تو دونوں باتوں میں صرف لفظی ہیر پھیر ہے کیونکہ مقتدر طبقہ دونوں جگہ مخصوص ہے۔

۳۔ قومی مفاد ہر چیز پر مقدم اور زیادہ عزیز ہے۔

سماجی منفیت کچھ اس طرح سے ہے کہ

۱۔ انفرادیت پسندی کی انتہا ہے۔

۲۔ یہی انفرادیت پسندی جب اجتماعی سطح پر ظاہر ہوتی ہے تو ایک قوم بھی قوموں کی برادری میں صرف اپنا انفرادی مفاد ہی عزیز رکھتی ہے۔ قومی مفاد کی عفریتی اصطلاح کسی قوم کے انفرادیت پسندانہ رجحانات کو مرتکز کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔

۳۔ یہی انفرادیت پسندی فرد کی سطح پر دولت کے ارتکاز کا باعث بنتی ہے کہ محروم اور کمزور طبقے میں خوف کی ایک عجیب سی فضا قائم کر دیتی ہے۔

۴۔ انفرادیت پسندی کی وجہ سے مقابلے کا رجحان ضروری ہو جاتا ہے کہ اس مقابلے میں اخلاقیات منہ لپیٹ کر ایک طرف پڑی رہتی ہے۔

مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ مغرب کے سماجی نظام میں موجود انفرادیت پسندی کی انتہا سے اقتصادی وسیاسی شعبہ ہائے زندگی میں جملہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انفرادیت پسندی کے زہر اور اس کے مضمرات کی منفیت نے ہی مغرب کے سماجی نظام کو ایک مخصوص نہج پر ڈال رکھا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ مغرب کا تدریسی وتربیتی نظام بنیادی مرکز کی حیثیت سے اس مخصوص سماجی نظام کو پروان چڑھا رہا ہے۔ طلبا کو زندگی کی دوڑ میں آگے نکلنے کے داؤ پیچ سکھائے جاتے ہیں۔ تربیتی لیپا پوتی کے ذریعے سے ان کا مخصوص ذہن بنایا جاتا ہے۔ یہ مخصوص ذہن معاشرے کے اندر سب سے آگے نکلنے کے لیے کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اجتماعی سطح پر کسی دوسری قوم کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دیتا۔ اگر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ذہن Accommodating (دوسروں کا لحاظ کرنے والا) نہیں ہے۔ اجتماعی سطح پر دوسری اقوام کو Accommodate کرنے پر تیار نہیں اور فرد کی سطح پر معاشرے کے دیگر افراد کو Accommodateکرنے پر تیار نہیں۔ لہذا اس مخصوص ذہن کا اخلاقیات یا زندگی کے آئیڈیلز سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ یہی مخصوص ذہن زندگی کے ہر شعبے میں اپنے مخصوص انداز سے کوئی نہ کوئی گل کھلاتا رہتا ہے۔ محروم طبقوں کی بغاوت کے پیش نظر اپنی مخصوص تربیت کی وجہ سے گل کھلانے کا عمل ’’تہذیبی دائرے‘‘ میں کیا جاتا ہے۔ یہ تہذیبی دائرہ وہی ہوتا ہے جو یہ لوگ پراپیگنڈے کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں ڈال دیتے ہیں اور اسے قبول کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ صورت احوال میں کیسے تبدیلی کی جا سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسی طرز معاشرت کی بنیاد رکھنا ہوگی جس میں انفرادیت پسندانہ رجحانات شدید نہ ہوں۔ اس کے لیے اس مخصوص ذہن کو بدلنا ہوگا اور اس مخصوص ذہن کو تدریسی وتربیتی نہج میں تبدیلی پیدا کر کے ہی بدلا جا سکتا ہے کیونکہ وہ اسی مخصوص تدریسی وتربیتی نہج کی پیداوار ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ درست نہج کون سی ہے؟ اس کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟ انسانی زندگی کے وہ کون سے آئیڈیلز ہیں جنہیں سماج میں رائج کیا جانا چاہیے؟ ان کی تلاش کے لیے ہمیں انسانی شخصیت سے ہی کچھ نہ کچھ اخذ کرنا ہوگا۔

کہتے ہیں بچے کی معصومیت لاشعوری ہوتی ہے۔ بچہ دانستہ یا کسی باقاعدہ پلان کے تحت معصومانہ گفتگو وحرکات نہیں کرتا۔ یہ اس سے خود بخود ہو جاتا ہے کیونکہ بچے پر شعور کی لیپا پوتی نہیں ہوتی۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی فطرت کی اپج فقط بچے میں جھلکتی ہے۔ معاشرت کی درستگی اسی اپج کو بچے کی بعد کی زندگی میں سمونے پر منحصر ہے۔ 

مغربی معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا کہ اس لاشعور کو ہی شعور میں ڈھالا جائے کیونکہ انسانی فطرت کی اپج کو اپنے بنائے ہوئے مصنوعی تربیتی نظام سے دبانے کی بھرپور اور خاصی کامیاب کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک مخصوص شعوری لیبل شخصیت پر چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ جب تک یہ شعوری لیبل موجود رہتا ہے‘ فرد اس کے مطابق ہی زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ بڑھاپے میں قویٰ کمزور ہوجانے سے اس شعوری تربیت کا اثر قدرے مدہم پڑ جاتا ہے اور دوبارہ بچپن والا لاشعور جھانکنے لگتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بوڑھے بچوں کی مانند ہوتے ہیں۔ بہرحال بچپن کے بعد اور بڑھاپے سے پہلے کے عہد کا طویل دورانیہ جو مخصوص منفی تربیتی نہج کے زیر اثر گزرتا ہے‘ ا س کی باقیات کسی بھی بوڑھے میں بچے جیسی اپج نہیں رہنے دیتیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ جوانی کے ایام کی مانند لاشعور مکمل دبا بھی نہیں رہتا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدید عہد میں انسانی شخصیت کے دو ادوار یعنی بچپن اور بڑھاپا ہی اس کے ’’اپنے‘‘ ادوار ہیں۔ اور سب سے فعال اور سرگرم دور بد ترین سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ مخصوص تربیتی نظام کی منفیت کی وجہ سے لاشعور کو بڑھاوا دینے کا بندوبست نہیں کیا جاتا۔ اس کے بجائے زندگی کو مسائل کا شکار کرنے والے خود ساختہ ‘ مصنوعی اور انتہائی سطحی نوعیت کے مقاصد کے تحت شعور کی مخصوص تربیت کی جاتی ہے کیونکہ ان مسلط کردہ شعوری محرکات ومقاصد کا ’’لاشعور‘‘ سے تطابق نہیں ہوتا اس لیے انسانی شخصیت ایک مستقل اضطرابی کیفیت سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اس عدم مطابقت کا نتیجہ یہ ہے کہ مغرب میں نفسیاتی مسائل کی نئی جہتیں منظر عام پر آ رہی ہیں۔

میرے خیال میں انسان اور جانور میں بنیادی فرق شاید یہی ہے کہ انسان لاشعوری آئیڈیلز کو باقاعدہ شعور میں ڈھالنے پر قادر ہے۔ یوں سمجھیے کہ جو سادگی اور خلوص کسی بچے میں خود بخود موجود ہوتے ہیں‘ جوان ہونے پر بچہ اس سادگی اور خلوص کو اپنے پورے شعور کے ساتھ قبول کرے اور مثبت معاشرتی عمل کی بنیادرکھے‘ تب بات بنتی ہے۔ جس انسان کا شعور‘ لاشعور سے جتنی زیادہ مطابقت رکھے گا‘ وہ انسان اتنا ہی زیادہ انسان ہوگا۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر طرز معاشرت کو نفسیاتی اعتبار سے ڈسکس کیا جائے اور فردکی میکانکی اور Calculated تربیت کے بجائے لاشعور کے آئیڈیلز کو ہی شعور کی سطح پر پھیلا دیا جائے تو نتیجتاً پیدا ہونے والے معاشرے کے خمیر سے جو دیگر نظام ہائے زندگی اٹھیں گے‘ وہ افراد میں اخوت اور بھائی چارے کے جذبات پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ قوموں کے درمیان امن اور رواداری کی ایک نئی نہج کی بشارت ثابت ہوں گے۔

کتاب اللہ اور اسوۂ رسول اس سلسلے میں ہماری رہنمائی شرح وبسط سے کرتے ہیں۔ بچے کی معصومیت‘ سادگی‘ خلوص‘ سچائی‘ دیانت داری‘ محبت اور ایثار وغیرہ کا ایک طرز معاشرت کے طور پر بھرپور شعوری اظہار رسول پاک ﷺ کے دست مبارک سے تشکیل پانے والے معاشرے میں ملتا ہے۔ بلاشبہ اس نہج سے صحابہ کرامؓ کی اجتماعی زندگی کا مطالعہ بہت دل چسپ اور نتیجہ خیز ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے عمل کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتے کا بیان بے محل نہ ہوگا۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے لیے موقع تھا کہ اسلام کی آفاقیت اور بین الاقوامیت کا عملی نمونہ پیش کرتے۔ کٹا پھٹا پاکستان Blessing in disguise کے مصداق مشرقی اور مغربی وحدتوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے عالمگیریت اور آفاقیت کی نہج کا آغاز کر سکتا تھا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان الگ الگ جغرافیے کے باوجود اسلام کے نقطہ اتصال پر غیر جغرافیائی ہوتے۔ آنے والے دنوں میں او آئی سی اسی غیر جغرافیائی اتصال کی توسیع ہوتی۔ اس اعتبار سے پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہوتا جہاں بین الاقوامی طرز حکومت کا تجربہ کیا جاتا۔ لیکن ہوا کیا؟ اس کے بالکل الٹ۔ کیونکہ بیسیویں صدی میں اسلام کی Orientation مجہولی رہی ہے یا رد عملی۔ (اگرچہ اسے اسلام کے بجائے مسلمانوں کی Orientation کہنا زیادہ بہتر ہوگا لیکن چونکہ مسلمان اسے بطور اسلام پیش کرتے رہے ہیں اس لیے ایسا لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں) اب مجہولی رویہ قوم پرستی کے جذبے اور نظریے سے سرشار تھا اور رد عملی رویہ دونوں جغرافیوں کو ایک جغرافیہ بنانے پر مصر تھا۔ دونوں کی اپروچ اسلام سے میل نہ کھاتی تھی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس وقت سے پہلے فکری سطح پر اسلام کی اجتماعی ہیئت پر کام ہو چکا ہوتا تو کیا پاکستان اور مسلم ورلڈ کا مستقبل روشن نہ ہوتا؟ ہو سکتا ہے کہ عالمی گاؤں کے سیاسی ومعاشرتی سیٹ اپ کے لیے ہم نظیر کا کام بھی دیتے۔ میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عصر حاضر میں اسلام کی تعبیر وتشریح کرتے وقت ہمیں زمینی حقائق مد نظر رکھنے چاہییں۔ موضوع کا انتخاب کرتے وقت ہماری اپروچ موضوعی (Subjective) کے بجائے معروضی (Objective) ہونی چاہیے۔ فرد کی اہمیت اپنی جگہ مسلم لیکن عصر حاضر کا تقاضا ہے کہ ہم اسلام کی ہیئت اجتماعی کی نوک پلک سنوارتے ہوئے تعبیر وتشریح کے نئے افق ظہور میں لائیں۔

درج بالا سطور میں‘ میں نے پیرایہ اظہار اور اسلوب کی تبدیلی کی بھی بات کی ہے۔ اسلوب کی تبدیلی فقط کمپرومائز کے لیے نہیں بلکہ عصری تقاضوں کے مطابق اسلام کی تفہیم کے لیے بھی ضروری ہے۔ اسلام کی تعبیر وتشریح عصری اسلوب کی متقاضی ہے۔ عصری اسلوب سے میری کیا مراد ہے؟ ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں۔ میرے دوست پروفیسر محمد اکرام شعبہ اسلامیات سے منسلک ہیں۔ ان کا ایم اے کا مقالہ ’’منکرین حدیث کے اعتراضات کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے تھا۔ انہوں نے پڑھنے کے لیے عنایت کیا۔ میں نے ’’بزور ناتوانی زندہ ام‘‘ کے عنوان سے اپنے تاثرات لکھ کر پیش کیے۔ درج ذیل عبارت انہی تاثرات سے لی گئی ہے:

’’چھاپے خانے کی ایجاد سے انسان کا حافظہ بتدریج کمزور ہونا شروع ہوا۔ انسان نے ’’یاد‘‘ رکھنے کی اپنی خصوصیت چھاپے خانے کو منتقل کر دی۔ پھر کمپیوٹر آیا جو حافظے کو معدوم کرنے کی کوشش میں ہے۔ ترقی کی کئی دوسری اقسام بھی انسان کی بعض خصوصیات کے خاتمے کا باعث بن رہی ہیں۔ اس سے انسان کی اندرونی شخصیت کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے۔ مغربی انسان زیادہ کھوکھلا ہے۔ اس کا داخلی وجود آہستہ آہستہ تقریباً معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ مغرب کے مشہور نقاد ٹی ایس ایلیٹ نے غیر شعوری طور پر شاعرانہ اظہار کو جذبات یا شخصیت کے اظہار کے بجائے ’فرار‘‘ قرار دیتے وقت اس کھوکھلے پن کو بیان کیا ہے۔ اس طرح مغربی ادب بھی معدومیت کو فروغ دے رہا ہے۔

مسلمانوں کے ہاں اس سے مختلف صورت دیکھنے میں آتی ہے۔ چھاپہ خانے اور کمپیوٹر کی ایجاد کے باوجود مسلمانوں نے حفظ قرآن کی روایت ترک نہیں کی۔ اگر حفظِ قرآن کا مقصد حفاظت قرآن تھا تو آج وہ مقصد دوسرے ذرائع سے پورا ہو ہی رہا ہے۔ مذہبیت سے قطع نظر حفظ قرآن کی روایت برقرار رکھنا درحقیقت اپنی ایک انسانی خصوصیت سے دست برداری کے خلاف انکار اور بغاوت ہے۔ حفظ قرآن کی روایت ایک انسانی خصوصیت یعنی یاد اور حافظے کا تسلسل ہے اور اس تسلسل کا امین ’’مسلم اجتماعی لاشعور‘‘ ہے۔ ...... علم حدیث ایک وسیع علم ہے۔ اس کی تفہیم کے ضمن میں مختلف نقطہ ہائے نظر ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک تاریخ سے وابستگی بھی ہے۔ بڑی بوڑھیوں کے قصے کہانیوں والی تاریخ نہیں اور نہ آنکھیں بند کر کے کی جانے والی وابستگی بلکہ تجزیے پر مبنی شعوری وابستگی۔ اس وابستگی کا منطقی نتیجہ مقدمہ ابن خلدون ہے۔ ’’مقدمہ‘‘ کوئی مسلمان ہی تخلیق کر سکتا تھا کیونکہ غیر مسلم معاشرے میں علم حدیث کی طرز کا کوئی علم موجود نہیں۔ اگر علم حدیث کی نوعیت پر غیر جانب داری سے غور کریں تو یہ علم بھی ’’مسلم اجتماعی لاشعور‘‘ کا تراشیدہ معلوم ہوتا ہے۔ بلاشبہ علم حدیث داخلی مضبوطی کا خارجی اظہار ہے۔‘‘

میرا ذاتی نقطہ نظر یہی تھا کہ اب حفظ قرآن کی شاید ضرورت نہیں ۔لیکن حیران تھا کہ یہ روایت نہ صرف جاری ہے بلکہ کسی حلقے کی طرف سے کوئی تنقید بھی سننے میں نہیں آ رہی۔ جب میں نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہے تو درج بالا نکات ذہن میں آئے۔ اس طرح اپنی ہی کی ہوئی عصری تعبیر وتشریح سے حفظ قرآن کی روایت کے چند نئے امکان ظاہر ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ تعبیر وتشریح کیسے ممکن ہوسکی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ’’دانتوں کی کمزوری تہذیب کی علامتوں میں سے ہے۔‘‘ کیونکہ جب انسان نے آگ دریافت نہیں کی تھی تو کچا گوشت کھاتا تھا جس کی وجہ سے اس کے دانت بہت مضبوط تھے لیکن آگ کی دریافت کے ساتھ ہی اس کے دانتوں کی مضبوطی میں کمی آنی شروع ہو گئی کیونکہ اب دانتوں کو زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اس بات سے میں نے اخذ کیا کہ چھاپہ خانہ حافظے کی کمزوری کا سبب ہے کیونکہ اب حافظے کو زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا۔ پھر سوال یہ تھا کہ کیا مسلمانوں نے دانستہ اس بات کو محسوس کرتے ہوئے حفظ قرآن کی روایت برقرار رکھی ہے؟ میرا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ اس کا جواب مجھے ژونگ کی وضع کردہ ایک اصطلاح ’’اجتماعی لا شعور‘‘ سے مل گیا جس کا موجودہ سیاق وسباق میں ورژن ’’مسلم اجتماعی لاشعور‘‘ کر دیا۔ تعبیر وتشریح کی یہی اپروچ عصری اسلوب ہے۔

عصری تقاضوں کے مطابق اسلام کی تعبیر وتشریح کے پیش نظر حافظے کی بابت بحیثیت بنیادی انسانی ضرورت بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر انسان کا حافظہ معدوم ہو جائے تو وہ قرآن مجید کا بھی مخاطب نہیں رہتا۔

اب بحث کے آخری نکتے کی طرف آتا ہوں۔ اگر آپ حافظے والی عبارت پر نظر دوڑائیں تو ٹی ایس ایلیٹ کا نام نظر آئے گا۔ ژونگ کا بھی ذکر ہوا۔ دانتوں کی کمزوری والا فقرہ غالباً ول ڈیورنٹ کا ہے۔ اب آپ اندازہ کریں کہ ایک پیراگراف لکھنے کے دوران میں ان تین افراد کی فکر شامل حال رہی۔ ظاہر ہے کہ ان کے علاوہ بھی بہت سی تحریریں جو میں پڑھ چکا ہوں‘ غیر شعوری طور پر ممد ومعاون رہیں۔ یہاں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمان‘ بالخصوص راسخ العقیدہ مسلمان‘ ڈارون‘ ژونگ‘ فرائیڈ‘ آئن سٹائن وغیرہ سے گھبراتے کیوں ہیں؟ ہم گوناگونی‘ تنوع کو اپنے مطالعے کا حصہ کیوں نہیں بناتے؟ دینی مدرسوں کے سلیبس سے لے کر ان کے رسائل تک ہر جگہ یک رنگی پائی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسلام کی تفہیم عصری اسلوب کے بغیر ناممکن ہے اور عصری اسلوب وسیع المشربی کا تقاضا کرتا ہے۔ رومی‘ عطار‘ سنائی اور حافظ‘ سعدی اور بے شمار ایسے ادیب اور مفکر ہیں جو ان افکار‘ خیالات اور میلانات کی بدولت پیدا ہوئے جو حجاز میں نہ تب موجود ہو سکتے تھے اور نہ اب پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہمیں بھی اسلام کی تعبیر وتشریح کے لیے روایتی خول سے نکلنا ہوگا تاکہ مسلم معاشرہ زندہ معاشرہ بن کر ارتقا پذیر رہے اور اپنے اظہار کی نت نئی جولانیوں سے حیات کو جاوداں رکھے۔

مدارس دینیہ کے مالیاتی نظام کے بارے میں دار العلوم کراچی کا ایک اہم فتویٰ

ادارہ

محترم ومکرم حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟

بندہ ایک دینی مدرسہ کامسؤل ہے۔ چند مسائل کے سلسلے میں رہنمائی چاہتا ہے تاکہ تام امور شریعت مطہرہ کے مطابق سرانجام دیے جا سکیں۔

۱۔ مہتمم زکوٰۃ کی رقم کا وکیل ہوتا ہے اور اس کے لیے مستحق افراد کو فوراً مالک بنانا ضروری ہے تاکہ زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہو جائے ۔ اس کے لیے حیلہ تملیک اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر مہتمم خود مالی طور پر کمزور ہے تو کیا وہ اس قسم کا اپنے آپ کو مالک بنا سکتا ہے تاکہ تملیک بھی ہو جائے اور فوراً رقم مدرسہ کی مالیات میں شامل ہو جائے؟

۲۔ زکوٰۃ کی رقم مدرسہ کے کن کن معاملات میں استعمال کی جا سکتی ہے؟

۳۔ مدرسہ کا چندہ خصوصاً زکوٰۃ کی رقم کا کسی بینک میں رکھنا کیسا ہے؟

۴۔ مدرسہ میں ایک مسجد بھی ہے جبکہ ایک ہی رسید بک پر مدرسہ کے نام پر چندہ لیا جاتا ہے تاکہ مسجد کا انتظام بھی مدرسہ کے تابع رہے تو مالی اعتبار سے ان دونوں کو چلانے کی شرعی راہ کیا ہے؟

۵۔ حیلہ تملیک کا طریق کار کیا ہے جو آسان بھی ہو اور شریعت کے تمام تقاضوں کے مطابق بھی؟ تملیک کے بعد یہ رقم اساتذہ کی تنخواہوں‘ مدرسہ ومسجد کی تعمبیر اور مدرسہ کے دیگر امور پر خرچ کی جا سکتی ہیں؟

والسلام

عبد الرؤف فاروقی‘ لاہور


الجواب حامداً ومصلیاً

۱و۲۔ موجودہ زمانہ کے مہتمم یا ان کے مقرر کردہ حضرات جو چندہ یا زکوٰۃ وغیرہ وصول کرتے ہیں‘ وہ بحیثیت وکیلِ فقرا کے وصول کرتے ہیں نہ کہ اصحاب اموال کے وکیل کے طور پر کیونکہ مہتمم صاحب اور ان کے مقرر کردہ حضرات کو مدرسہ کے جملہ طلبہ پر اس طرح کی ولایت عامہ حاصل ہے جس طرح سلطان کو اپنی رعایا پر ولایت عامہ حاصل ہوتی ہے۔ لہذا مہتمم صاحب یا ان کے مقرر کردہ حضرات کے قبضے میں پہنچتے ہی زکوٰۃ وعشر دینے والوں کی زکوٰۃ وعشر اور دیگر صدقاتِ واجبہ ادا ہو جاتے ہیں بشرطیکہ مدرسہ میں عاقل بالغ مستحقِ زکوٰۃ طلبہ زیر تعلیم ہوں۔ اور اگر مہتممین حضرات مدرسہ کے مصرفِ زکوٰۃ طلباء (بالغ‘ فقیر‘ غیر سید) سے اپنے لیے صراحتاً بھی وکالت نامہ لکھوا لیں اور ہر سال آنے والے طلباء سے اس کی تجدید کراتے رہیں تو اور بھی اچھا اور قرینِ احتیاط ہے۔ وکالت نامہ کے الفاظ یہ ہیں:

’’میں مہتمم مدرسہ اور ان کے نائب کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ میری طرف سے بطورِ وکیل زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ وصول کریں اور وہ انہیں طلباء کے مصارف‘ طعام وقیام اور تعلیم وغیرہ پر خرچ کریں یا حسبِ صواب دید مدرسہ کو ان اموال کا مالک بنائیں یا مدرسہ پر وقف کر دیں۔‘‘

اس کے بعد جب مہتمم صاحب یا ان کا مقرر کردہ آدمی صدقات واجبہ بطور وکیل وصول کرے گا تو معطین کی زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی اور حاصل شدہ رقم کو مصالح طلباء ومدرسہ پر خرچ کیا جا سکے گا۔ اسی میں احتیاط ہے۔ لہذا مہتمم صاحب کے خود حیلہ تملیک کرنے یا کسی سے حیلہ تملیک کرانے کے مقابلے میں توکیل کی مذکورہ صورت زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ مدرسہ میں عاقل‘ بالغ مستحقِ زکوٰۃ طلباء موجود ہوں اور رقم پوری احتیاط اور امانت ودیانت کے ساتھ محض طلباء اور مدرسہ کی مصلحت ہی میں خرچ کی جائے۔ (ماخذہ امداد المفتین ص ۱۰۸۵ وتبویب ۷/۱۲۳)

ضروری تنبیہ: اس تحقیق میں مہتممین مدارس کے لیے ایک تو آسانی ہوگئی کہ ان کو ہر شخص کا مال زکوٰۃ اور اس کا حساب الگ الگ لکھنے کی ضرورت نہیں رہی اور قبل از خرچ معطی چندہ کا انتقال ہو جائے تو اس کے وارثوں کو واپس کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ معطین چندہ کو بھی یہ فائدہ پہنچا کہ ان کی زکوٰۃ فوری طور پر ادا ہو گئی لیکن مہتممین مدارس کی گردن پر آخرت کا ایک بڑا بوجھ آپڑا کہ وہ ہزاروں فقرا کے وکیل ہیں جن کے نام اور پتے محفوظ اور یاد رکھنا بھی آسان نہیں کہ خدا نخواستہ اگر اس مال کے خرچ کرنے میں کوئی غلطی ہو جائے تو معافی مانگی جا سکے۔ اس لیے اگر مہتممین مدارس نے فقرا طلباء کی ضروریات کے علاوہ کسی کام میں خرچ کیا تو وہ ایسا ناقابل معافی جرم ہوگا جس کی تلافی ان کے قبضے میں نہیں اس لیے ان سب حضرات پر لازم ہے کہ مدارس کے چندہ کی رقم کو بڑی احتیاط کے ساتھ صرف ان ضروریات پر خرچ کیا جائے جن کا تعلق طلباء سے ہے مثلاً ان کا طعام ولباس‘ دواء وعلاج‘ ان کی رہائشی ضرورتیں‘ ان کے لیے کتابوں کی خریداری وغیرہ۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم (ماخوذ از امداد المفتین ص ۱۰۸۶)

۳۔ توکیل یا حیلہ تملیک کے بعد مذکورہ رقم بوقتِ ضرورت بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوائی جا سکتی ہے۔

۴۔ بہتر تو یہ ہے کہ مسجد کا فنڈ الگ ہو اور مدرسہ کا الگ ہو۔ تاہم اگر مسجد مدرسہ کے تابع ہو اور دونوں کی انتظامیہ بھی ایک ہو اور ایسی صورت میں صراحتاً یا دلالتاً یہ بات معلوم ہو کہ چندہ اور عطیات دینے والے حضرات اپنے دیے ہوئے عطیات کو مسجد اور مدرسہ دونوں کی ضروریات میں خرچ کرنے پر راضی ہیں تو ایسی صورت میں مسجد اور مدرسہ کا مشترکہ فنڈ رکھنا درست ہے۔ (ماخذہ تبویب ۳۸/۳۴۷)

۵۔ تملیک شرعی کا بے غبار طریقہ یہ ہے کہ جس قدر رقم تملیک کرانی ہو‘ اتنی رقم کے لیے کسی فقیر مصرفِ زکوٰۃ (بالغ غیر سید) سے کہا جائے کہ آپ اتنی رقم اپنے کسی سے قرضہ لے کر مدرسہ یامسجد کے لیے اپنی طرف سے بطور چندہ دے دیں‘ آپ کو ثواب ملے گا اور ہم یہ قرضہ ادا کروا دیں گے۔ جب وہ قرضہ لے کر ادارے میں بطور چندہ دے دے تو ادارہ اس قدر رقم زکوٰۃ اس کو مالک وقابض بنا کر دے دے تاکہ وہ اپنا قرضہ ادا کر سکے۔ تملیک کے مذکورہ طریقہ کے بعد زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم اساتذہ کی تنخواہوں‘ مدرسہ ومسجد کی تعمیر اور ان کے دیگر امور میں خرچ کی جا سکتی ہیں۔ (ماخذہ تبویب ۴۷/۳۱۶)

وفی الدر المختار: ویشترط ان یکون الصرف تملیکا لا اباحۃ کما مر۔ لا یصرف الی بنا نحو مسجد ولا الی کفن میت وقضاء دینہ ....وقدمنا ان الحیلۃ ان یتصدق علی الفقیر ثم یامر بفعل ہذہ الاشیاء (۲/۳۴۴)
وفی رد المحتار: وحیلۃ التکفین بہا التصدق علی فقیر ثم ہوا یکفن فیکون الثواب لہما وکذا فی تعمیر المسجد (۲/۲۷۱) واللہ اعلم بالصواب

محمد وسیم

دار الافتاء دار العلوم کراچی

پاکستان شریعت کونسل کی صوبائی شوریٰ کا اجلاس

ادارہ

پاکستان شریعت کونسل صوبہ سندھ کی مجلس شوریٰ کا اجلاس ۴ فروری ۲۰۰۲ء کو جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں امیر مرکزی حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں شیخ الحدیث مولانا زر ولی خان‘ مولانا زاہد الراشدی‘ مولانا سیف الرحمن ارائیں‘ مولانا احسان اللہ ہزاروی‘ مولانا عبد الرشید انصاری‘ مولانا قاری حضرت ولی‘ مولانا اقبال اللہ ہزاروی‘ مولانا حافظ محمد اکبرراشد‘ مولانا عبد الرحمن خطیب اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دینی جماعتوں اور مراکز کے درمیان باہمی مشاورت اور رابطہ کو فروغ دینے کے لیے جدوجہد کا مربوط طریق کار طے کیا جائے گا اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ موجودہ حالات میں دینی اقدار کے تحفظ اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے دینی جماعتوں اور مراکز کو زیادہ سے زیادہ متحرک اور فعال بنایا جائے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر اجلاس مولانا فداء الرحمن درخواستی نے کہا کہ مغرب کی ثقافتی یلغار اور علمی وفکری مہم جوئی کے مقابلے کے لیے دینی جماعتوں کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں فکری ونظریاتی تربیت اور بریفنگ کی نشستوں کا انعقاد ضروری ہے جن میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کو درپیش خطرات اور خدشات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں ان کے مقابلے کے لیے تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ علمی‘ نظریاتی اور فکری جدوجہد کی حد تک پاکستان شریعت کونسل ملک کے بڑے شہروں میں اس قسم کی محافل کے اہتمام کا پروگرام بنا رہی ہے اور دوسری دینی جماعتوں سے بھی ہماری گزارش یہ ہے کہ وہ نئی نسل کی ذہن سازی اور علماء کرام کی بریفنگ کے لیے فکری نشستوں کا ہر سطح پر اہتمام کریں۔ اس موقع پر طے ہوا کہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی ۱۹‘ ۲۰‘ ۲۱ فروری کو حیدرآباد اور کراچی کا دورہ کر کے سرکردہ علماء کرام سے ملاقات کریں گے اور اس موقع پر باہمی مشاورت سے اگلا پروگرام طے کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 

دینی تعلیم کے فروغ کے لیے خصوصی توجہ دی جائے۔ مولانا فداء الرحمن درخواستی

جامعہ عثمانیہ معین آباد لانڈھی کراچی میں ۴ فروری ۲۰۰۲ء کو بعد نماز عصر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمن درخواستی نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ دینی تعلیم کے فروغ اور نئی نسل کی ذہنی وفکری تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت معاشرے میں جو خرابیاں ہیں‘ ان کی ذمہ داری میں ہماری کوتاہیوں کو بھی دخل ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے طرز عمل کا جائزہ لیں اور اپنے عظیم اسلاف اور اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینی تعلیم کو عام کرنے اور اپنی اور عام مسلمانوں کی دینی واخلاقی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ دیں اور خلوص کے ساتھ محنت کریں۔

پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمہیں معاشرے میں جو مشکلات اور مصیبتیں پیش آتی ہیں‘ وہ تمہاری اپنی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں اس لیے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ اپنے موجودہ ملی وقومی مصائب وآلام کے اسباب وعوامل کا تجزیہ کرنا چاہیے اور ان کے تدارک کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری نسل انسانی مجموعی طور پر مصائب ومشکلات سے دوچار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آسمانی تعلیمات سے انحراف اور خواہشات کی پیروی ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ نسل انسانی کو آسمانی تعلیمات کی طرف واپس لانے کی محنت کی جائے اور دنیا کو دینی اقدار کی ضرورت کا احساس دلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ ذمہ داری اہل اسلام اور مسلم علما پر عائد ہوتی ہے کیونکہ آسمانی تعلیمات صرف انہی کے پاس محفوظ حالت میں موجود ہیں اور وہی صحیح طور پر نسل انسانی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں۔

مولانا فداء الرحمن درخواستی کا دورۂ بنگلہ دیش

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی بنگلہ دیش کے دو ہفتہ کے دورہ پر روانہ ہو گئے ہیں۔ شاعر اسلام سید سلمان گیلانی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ وہ مختلف شہروں میں دینی اجتماعات اور دینی مدارس کی تقریبات سے خطاب کریں گے اور ۱۸ فروری کو کراچی واپس پہنچ جائیں گے۔

حافظ محمد حذیفہ خان سواتی کی دستار بندی

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کے پوتے‘ مولانا زاہد الراشدی کے نواسے اور مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کے فرزند حافظ محمد حذیفہ خان سواتی نے بحمد اللہ تعالیٰ دس سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ مکمل کر لیاہے۔ اس سلسلے میں ۱۲ جنوری ۲۰۰۲ء کو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے آخری سبق سن کر حافظ محمد حذیفہ خان سواتی کی دستار بندی کی اور دعا فرمائی۔ اس موقع پر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی‘ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا حافظ محمد ریاض خان سواتی نے تقریب سے خطاب کیا جبکہ شہر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مدیر ’الشریعہ‘ کی شادی خانہ آبادی

ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے مدیر حافظ محمد عمار خان ناصر کی شادی خانہ آبادی ۶ جنوری ۲۰۰۲ء کو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری خبیب احمد عمر کی دختر حافظہ حفصہ ناہید کے ساتھ انجام پائی جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی نواسی اور مولانا زاہد الراشدی کی بھانجی ہیں۔ اس موقع پر ۷ جنوری کو دعوت ولیمہ کی تقریب میں علماء کرام‘ دینی کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور خیر وبرکت کی دعا کی۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’مضاربت اور بلاسود بینکاری‘‘

دار العلوم کورنگی کراچی کے سابق استاذ حدیث حضرت مولانا عبد الحق (زیارت گل) زید مجدہم کا گراں قدر مقالہ جس پر انہیں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی ہے‘ مولانا حافظ لیاقت علی شاہ کی مساعی سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب زیر بحث موضوع کے کم و بیش تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔

قیمت درج نہیں ہے جبکہ مندرجہ ذیل پتہ سے طلب کی جا سکتی ہے:

مکتبہ غفوریہ، نزد جامعہ اسلامیہ درویشیہ، بلاک بی، سندھی مسلم سوسائٹی‘ کراچی

’’المتون المعتبرۃ فی عقائد اہل السنۃ والجماعۃ‘‘

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے سابق خطیب محدث پنجاب حضرت مولانا عبد العزیز سہالوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے پوتے مولانا رشید احمد علوی صاحب نے اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد پر معروف اور متداول متون کو کتابی شکل میں جمع کر دیا ہے جن میں الفقہ الاکبر، العقیدۃ الطحاویۃ، العقائد العضدیۃ، العقائد النسفیۃ اور العقائد البزدویۃ سمیت دس اہم متون شامل ہیں اور اہل علم کے لیے بہت زیادہ افادیت کے حامل ہیں۔

ڈیڑھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب پر قیمت درج نہیں اور اسے مولانا رشید احمد علوی صاحب سے مندرجہ ذیل پتہ پر طلب کیا جا سکتا ہے: دفتر ختم نبوت، اندرونی سیالکوٹی گیٹ، گوجرانوالہ

اکیسویں صدی کے چیلنجز پر ’’الحق‘‘ کی خصوصی اشاعت

عالم اسلام کے لیے اکیسویں صدی عیسوی کے چیلنجز کے حوالے سے معروف دینی جریدہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک نے ایک خصوصی اشاعت (اگست تا نومبر ۲۰۰۱ء) کا اہتمام کیا ہے جو پونے تین سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں عالم اسلام کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش نے اپنے مقالات میں اکیسویں صدی میں پیش آنے والی صورت حال اور اس کے حوالے سے علماء کرام اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس خصوصی شمارہ کی قیمت ۸۰ روپے ہے اور اسے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک صوبہ سرحد سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’استحباب الدعاء بعد الفرائض ورفع الیدین فیہ‘‘

فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگنے کا مسئلہ ایک عرصہ سے علمی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ مکہ مکرمہ کے معروف حنفی عالم دین فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الحفیظ ملک نے اس پر عربی زبان میں رسالہ تصنیف کیا ہے جس میں انہوں نے علمی انداز میں اپنے اس موقف کی وضاحت کی ہے کہ فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگنا مسنون ہے اور اسے بدعت قرار دینا درست نہیں ہے۔

بڑے سائز کے ۱۴۰ صفحات پر مشتمل اس کتابچہ پر قیمت درج نہیں ہے اور اسے موسسۃ الخلیل الاسلامیۃ، چنیوٹ بازار، فیصل آباد کے مالک ملک شاہد رسول صاحب سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’میرے حضرت میرے شیخؒ‘‘

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالیٰ کے تلمیذ خاص مولانا عبد القیوم حقانی نے اپنے محبوب استاذ کے حالات زندگی اور خدمات و مجاہدات پر اپنے مخصوص انداز میں قلم اٹھایا ہے اور متعدد سبق آموز واقعات اور ارشادات کا ایک گل دستہ پیش کیا ہے جو حضرت شیخ الحدیثؒ کے عقیدت مندوں کے لیے گراں قدر تحفہ اور عام علماء اور اہلِ دین کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اڑھائی سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۹۰ روپے ہے اور اسے مندرجہ ذیل پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد‘ نوشہرہ، صوبہ سرحد

’’ازدواجی حقوق نسواں‘‘

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خادم خاص حضرت مولانا محمد صابرؒ کی دختر نے جو مولانا محمد انور کی اہلیہ محترمہ ہیں اور ایک عرصہ سے دینی و تدریسی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، اس اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور خواتین کے ازدواجی حقوق کے حوالے سے متعدد امور پر تحقیقی انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کی بیان کردہ تمام باتوں سے اتفاق ضروری نہیں تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ دینی و تدریسی ماحول سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے آج کے دور کے ایک اہم مسئلہ پر علمی و تحقیقی کاوش پیش کی ہے جس کا رجحان ہمارے حلقوں میں بہت کم ہو گیا ہے۔

اڑھائی سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے اور مکتبہ دار العلوم عثمانیہ‘ کوٹ عبد المالک‘ شیخوپورہ روڈ لاہور سے طلب کی جا سکتی ہے۔

’’عالمِ اسلام پر مغربی قزاقوں کی دہشت گردی‘‘

معروف عالم دین اور جامعہ عثمان بن عفانؓ رحیم یار خان کے شیخ الحدیث حضرت مولانا بشیر احمد حامد حصاروی نے عالم اسلام کے خلاف مغربی حکمرانوں کی سیاسی‘ عسکری‘ معاشی اور ثقافتی یلغار پر قلم اٹھایا ہے اور معروضی حالات کے ساتھ ساتھ جناب نبی اکرم ﷺ کے متعدد ارشادات کے حوالے سے مغربی استعمار کے ظلم و جبر اور وحشت و بربریت کو آشکار کرنے کے علاوہ مسلمانوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔

۱۰۰ صفحات پر مشتمل اس کتابچہ پر قیمت درج نہیں ہے اور اسے حامد اکیڈمی‘ میاں ٹاؤن ‘رحیم یار خان سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’بین الاقوامی شخصیات کی کہانی‘‘

بادشاہی مسجد لاہور کے سابق خطیب مولانا سید عبد القادر آزاد کو اس حیثیت سے دنیا کے مختلف ممالک کے دوروں اور بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں کا موقع ملتا رہا ہے۔ انہوں نے ان ملاقاتوں کے حوالے سے اپنی یادداشتیں اور تاثرات بیان کیے ہیں جنہیں معروف صحافی وقار ملک صاحب نے قلم بند کیا ہے اور الفیصل ناشران و تاجران کتب اردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔ پچاس سے زائد جن شخصیات کی ملاقاتوں اور ان کے بارے میں تاثرات کا اس کتاب میں تذکرہ کیا گیا ہے‘ ان میں شاہ فیصل شہید‘ کرنل قذافی‘ حسنی مبارک‘ پوپ جان پال دوم‘ ملک ایلزبتھ، جارج بش، الیکسی کوسیجن، جمی کارٹر، مسز بندرانائیکے، لیڈیا ڈیانا اور گوربا چوف بھی شامل ہیں۔

ساڑھے چار سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ساڑھے تین سو روپے ہے۔

’’ابو عبیدہؓ ٹرسٹ کے رسائل‘‘

حاجی محمد اقبال خان صاحب ایک عرصہ تک متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان میں مقیم رہے ہیں اور مختلف دینی شخصیات کی کتابیں شائع کر کے تقسیم کرنے ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ اب کچھ عرصہ سے گوجرانوالہ میں مقیم ہیں اور ابو عبیدہؓ ٹرسٹ قائم کر کے اپنے اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت ان کے شائع کردہ چار رسالے ہمارے سامنے ہیں:

’’گناہ بے لذت‘‘ — از مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ

’’آئینہ محمدی‘‘ — از شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر

’’چراغ کی روشنی‘‘ — از شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر

’’تبلیغ اسلام‘‘ — از شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر

ان میں سے ہر رسالہ دس روپے کے ڈاک ٹکٹ بھیج کر پوسٹ بکس ۲۵۰ جی پی او گوجرانوالہ کے پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’چند مفید رسائل‘‘

جامع مسجد درویشیہ، بلاک بی، سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی کے خطیب مولانا لیاقت علی شاہ نقشبندی کے چند مفید اور معلوماتی رسائل اس وقت ہمارے سامنے ہیں:

۱۔ کھانا پینا قرآن وسنت کی روشنی میں — صفحات ۶۸

۲۔ وظائف قرآنی مع چہل احادیث — صفحات ۱۳۲

۳۔ مسنون دعائیں — صفحات ۳۱۲

ان میں عام مسلمانوں کے لیے کھانے پینے کے آداب و مسائل اور روزمرہ کی مسنون دعائیں اور وظائف عمدہ ترتیب کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اور مصنف سے مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیے جا سکتے ہیں۔

’’حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے مواعظ‘‘

جامعہ دار العلوم اسلامیہ ۲۹۱ کامران بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے مہتمم حضرت مولانا مشرف علی تھانوی کی زیر ادارت ماہنامہ ’’الامداد‘‘ نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے مواعظ کو سال کی ضروریات کے مطابق ترتیب وار پیش کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو عام مسلمانوں بلکہ اہل علم کے لیے بھی بہت زیادہ افادیت کا حامل ہے۔

’’الامداد‘‘ کا سالانہ زر خریداری ۱۰۰ روپے ہے اور مندرجہ بالا پتہ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

’’قیامِ پاکستان اور مولانا ابو الکلام آزادؒ ‘‘

صقارین میڈیا نیٹ ورک گوجرانوالہ کے جریدہ ’’اذان‘‘ نے اگست ۲۰۰۱ء کی اشاعت کو حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ کی حیات و خدمات کے تذکرہ اور خاص طور پر قیام پاکستان کے حوالے سے ان کے موقف کی وضاحت کے لیے مخصوص کیا ہے جو بعض اہم معلوماتی مضامین پر مشتمل ہے۔

صفحات ۱۱۲ اور قیمت ۲۵ روپے ہے اور آزاد بک ہاؤس اردو بازار گوجرانوالہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

صدر پاکستان کی خدمت میں ایک ضروری عرض داشت

ادارہ

۱۸۔۱۹ جنوری ۲۰۰۲ء کو وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ علماء ومشائخ کانفرنس کے موقع پر مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر کے انہیں اہم معاملات میں دینی حلقوں کے جذبات سے آگاہ کیا اور مندرجہ ذیل تحریری عرض داشت پیش کی۔

 

بخدمت محترم جناب جنرل پرویز مشرف صاحب چیف ایگزیکٹو وصدر پاکستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

۱۶ جنوری ۲۰۰۲ء کو حکومت کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا کہ آئندہ ہونے والے قومی‘ صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے انتخابات مخلوط بنیادوں پر ہوں گے۔ اس اعلان سے پاکستان کے مسلمانوں میں عموماً اور علماء اسلام کے حلقوں میں خصوصاً تشویش واضطراب کی ایک بہت بڑی لہر دوڑ گئی ہے۔ اگر اس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو یہ بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو آج کے خطاب میں واپس لینے کا اعلان کیا جائے اس لیے کہ یہ اعلان قیام پاکستان کی اساس‘ دو قومی نظریہ اور ’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کے خلاف ہے۔

آئین پاکستان کی قائم اسلامی دفعات‘ قرارداد مقاصد جو آئین کی دفعہ ۲۔ الف کی رو سے دستور کا موثر حصہ ہے‘ جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو اختیار واقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا‘ وہ ایک مقدس امانت ہے جس کا معنی یہ ہے کہ قرآن پاک اور پیغمبر پاک کی سنت پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہے‘ کے بھی خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود اور قرآن وسنت کی رو سے مسلمان الگ امت ہیں اور کفار الگ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون (الانبیاء ۹۲)

’’یقیناًیہ تمہاری امت ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘

وکذالک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا (البقرہ ۱۴۳)

’’اور اس طرح ہم نے تمہیں ایک امت معتدل بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر تم پر گواہ بنے۔‘‘

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتومنون باللہ 

’’تم تمام امتوں سے بہتر امت ہو جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے ۔ تم معروف کا حکم کرتے ہو اور منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

یا ایہا النبی اتق اللہ ولا تطع الکافرین والمنافقین (الاحزاب ۱)

’’اے نبی‘ اللہ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘

ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ہواہ وکان امرہ فرطا (الکہف ۲۸)

’’اور نہ اطاعت کرنا اس شخص کی جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے۔‘‘

یا ایہا الذین آمنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لا یالونکم خبالا (آل عمران ۱۱۸)

’’اے ایمان والو‘ کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنا رازدان نہ بنانا۔ یہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانے اور فتنہ انگیزی میں کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘

یا ایہا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النساء ۵۹)

’’ایمان والو‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے صاحب امر لوگوں کی۔‘‘

ان آیات میں اس بات کی تصریح ہے کہ مسلمانوں کے معاملات چلانے کے ذمہ دار مسلمان ہوں گے۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کسی نظام کو چلانے والے وہی لوگ ہوں جو اس نظام کو مانتے ہوں‘ اس نظام کو جانتے ہوں اور اس کے مطابق معاشرے کو استوار کرنا چاہتے ہوں۔ آئین پاکستان کی رو سے پاکستان کا نظام قرآن وسنت ہے لہذا پاکستان میں حکومتی عہدوں پر‘ جن میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کی رکنیت بھی شامل ہے‘ صرف مسلمانوں کو فائز کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح احادیث رسول ﷺ میں مسلمانوں کو ایک جسد اور ایک عمارت کی طرح قرار دیا گیا ہے کہ غیر مسلم اس عمارت کا حصہ نہیں ہیں۔ فقہاء اسلام کا بھی اس پر اجماع ہے کہ کافر مسلمانوں کے حکام اور اولی الامر نہیں ہو سکتے۔

اسلامی نظریاتی کونسل جو ایک آئینی ادارہ ہے‘ اس نے بھی جداگانہ طریق انتخاب کو ہی اسلام کے مطابق قرار دیا ہے اور قرارداد مقاصد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو قرآن وسنت کی تعلیم کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ تاریخ اسلام میں مخلوط بنیادوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ مخلوط انتخاب کے نتیجے میں تو پاکستان بھی دو ٹکڑے ہوا۔ البتہ غیر مسلموں کو اپنے معاملات اپنے مذہب کے مطابق چلانے کی آزادی اسلام نے دی ہے۔ اس لیے وہ اپنی کمیونٹی کی فلاح وبہبود کی خاطر اپنے نمائندے الگ سے منتخب کر سکتے ہیں تاکہ مسلمان ان کے معاملات کو ان کے نمائندوں کی وساطت سے چلا کر ان کے حقوق کو ٹھیک طرح سے ادا کر سکیں۔ انہی وجوہ سے اب تک پاکستان میں جداگانہ طرز انتخاب رائج تھا اس لیے پاکستان کی جو عمارت اسلامی بنیادوں پر اب تک استوار ہے‘ ان میں سے کسی بنیاد کو گرانے کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ اگر آپ نے بقول خود اسلام اور آئین پاکستان کے مطابق حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا فریضہ سرانجام دیا تو علما آپ کے ساتھ تعاون کریں گے۔ بصورت دیگر ایک لاحاصل کشمکش کا شدید خطرہ ہے جس سے ملک کی سلامتی اور استحکام کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ اللہ کرے کہ پاکستان اسلامی معاشرہ کا نمونہ اور قائم ودائم رہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین