اگست ۲۰۰۲ء

امریکہ کے باضمیر دانش وروں کا اعلان حقمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
صدر پاکستان کے سہ ملکی دورے کے مضمراتپروفیسر میاں انعام الرحمن 
اسلامی نظام تعلیم کے بنیادی خدوخالحافظ سید عزیز الرحمن 
اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۳)ڈاکٹر یوسف القرضاوی 
دانش کا بحرانخورشید احمد ندیم 
دور جدید میں اسلام کی شرح و وضاحتسید منظور الحسن 
ٹیپو سلطانؒ، اقبالؒ اور عصر حاضرپروفیسر میاں انعام الرحمن 
گلوبلائزیشن اور مذہب کا کردارچندرا مظفر 
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے دروس قرآن کی اشاعت کا آغازمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
محمد بن اسحاق المطلبیؒ ۔ شخصیت اور کردار کا علمی جائزہمولانا مفتی فدا محمد 
تعارف و تبصرہادارہ 
علماء دیوبندمجاہد الحسینی 

امریکہ کے باضمیر دانش وروں کا اعلان حق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(ملک کے معروف صحافی جناب ثروت جمال اصمعی نے روزنامہ جنگ کی ۲۔ اگست ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں مطبوعہ اپنے ایک مضمون میں امریکہ کے ساٹھ ممتاز دانش وروں کے اس مشترکہ اعلامیہ کا خلاصہ پیش کیا ہے جو چند روز قبل سامنے آیا ہے اور لندن سے گارجین نیوز سروس کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں میں لاری اینڈرسن، ایڈورڈ ایسز، رسل بینک، نوم چومسکی، اوسی ڈیوس، موس ڈیف، ایوا نیسلر، مارٹن لوتھر کنگ سوم، بابرا کنگ سالور، ٹونی کشنر، ایڈورڈ سعید، گلوریا سٹینم، الائس واکر، جان ایڈگارر وائڈمین اور ہارورڈزن کے نام شامل ہیں۔اس ’’مشترکہ اعلامیہ‘‘ کو انسانی ضمیر کی آواز قرار دیتے ہوئے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسے اس ماہ کے ’’کلمہ حق‘‘ کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

’’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام اور اقوام بڑی طاقتوں کی فوجی مداخلت اور دباؤ سے آزاد رہتے ہوئے اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سارے لوگ جنہیں امریکی حکومت نے گرفتار کر رکھا ہے یا جن پر اس کی طرف سے مقدمے چلائے جا رہے ہیں، انہیں معروف طریقہ کار کے مطابق وہ تمام حقوق ملنے چاہییں جو دوسروں کو حاصل ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ سوال کرنے، تنقید کرنے اور اختلاف کرنے کے حق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد ضروری ہوتی ہے اور ان کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ باضمیر لوگوں کو ان امور کے معاملے میں بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں جو ان کی اپنی حکومتوں کی غلط روی کا نتیجہ ہوں۔ ہمیں سب سے پہلے اس بے انصافی کی مخالفت کرنی چاہیے جو ہمارے اپنے نام پر کی جا رہی ہے۔ اس لیے ہم تمام امریکیوں سے کہتے ہیں کہ وہ اس جنگ اور اس ظلم وجبر کی مخالفت کریں جسے بش انتظامیہ نے دنیا پر مسلط کر دیا ہے۔ یہ سراسر غیر منصفانہ، غیر اخلاقی اور ناجائز ہے۔ ہم نے دنیا کے لوگوں کے ساتھ مشترکہ مقصد کے لیے جدوجہد کی راہ کا انتخاب کر لیا ہے۔‘‘
’’گیارہ ستمبر کے خوفناک واقعات کو ہم نے بھی انتہائی دکھ اور صدمے کے ساتھ دیکھا۔ ہم نے بھی ہزاروں بے گناہوں کی ہلاکت کا ماتم کیا .....مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم نے بغداد، پانامہ سٹی اور ایک نسل پہلے ویت نام میں جنم لینے والے ایسے ہی مناظر کو بھی یاد رکھا۔ ہم لاکھوں امریکیوں کے ان غصہ بھرے سوالات میں بھی شامل رہے کہ یہ سب کچھ آخر ہو کس طرح گیا؟ تاہم ہمارے نزدیک ماتم کے قابل اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ قیادت نے انتقام کے جذبے کو بھڑکایا۔ اس نے اس پورے معاملے کو بڑی سادگی سے محض اچھائی اور برائی کی جنگ بنا کر پیش کیااور پھر میڈیا نے حکومت کا آلہ کار بن کر یہی ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ پوچھناکہ آخر یہ خوف ناک واقعات کیوں پیش آئے، غداری کے مترادف ہے۔ اس پر کوئی گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔ جو کچھ کیا گیا، اس کی سیاسی اور اخلاقی حیثیت پر کوئی قابل ذکر سوالات نہیں ہوئے جب کہ ہر بات کا عملی جواب یہ تھا کہ گھر کے باہر جنگ اور گھر کے اندر جبر وظلم کے حربے۔ ہمارے نام پر بش انتظامیہ نے کانگریس کی تقریباً مکمل تائید سے نہ صرف افغانستان پر حملہ کیا بلکہ اپنے آپ کو اور اپنے اتحادیوں کو یہ حق بھی دے ڈالا کہ وہ جب اور جہاں چاہیں، اپنی افواج کی بارش کر دیں۔ اس عمل کے بھیانک نتائج فلپائن سے فلسطین تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکومت اب ایک بھرپور جنگ عراق پر تھوپنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ اس ملک کا گیارہ ستمبر کے واقعات سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اگر امریکی حکومت کو اس امر کی کھلی چھوٹ ملی رہی کہ وہ جہاں چاہے اپنے کمانڈو، قاتل دستے اور بم برسا دے تو آخر یہ کس قسم کی دنیا ہوگی؟ 
حکومت نے ہمارے نام پر امریکہ کے اندر لوگوں کی دو قسمیں کر دی ہیں۔ ایک وہ جن سے امریکی قانون کے مطابق بنیادی حقوق کا کم از کم وعدہ برقرار ہے جبکہ دوسرے وہ ہیں جن کے لیے اب سرے سے کوئی حق نہیں ہے۔ حکومت نے ایک ہزار سے زائد تارکین وطن کو گرفتار کر کے لامحدود مدت کے لیے خفیہ تحویل میں ڈال دیا، سینکڑوں کو سمندر پار بھیج دیا جبکہ سینکڑوں آج تک جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ عشروں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امیگریشن کے قوانین کے تحت بعض قوموں کو امتیازی سلوک کے لیے باقاعدہ نامزد کر دیا گیا ہے۔ ہمارے نام پر حکومت نے جبر اور دباؤ کے مہیب سائے پورے ملک پر مسلط کر دیے ہیں ۔ صدر کے ترجمان لوگوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ دیکھ لیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ حکومت سے اختلاف کرنے والے فنکاروں، دانش وروں اور پروفیسروں کے خیالات میڈیا میں حلیہ بگاڑ کر پیش کیے جا رہے ہیں۔ حب الوطنی کے نام نہاد قانون اور ایسے ہی دوسرے حربوں کے ذریعے ریاستی سطح پر پولیس کو تلاشی لینے اور ضبطیاں کرنے کے بے پناہ اختیارات دے دیے گئے ہیں خواہ یہ کارروائیاں خفیہ طور پر اور خفیہ عدالتوں ہی میں کیوں نہ انجام پائیں۔ ہمارے نام پر انتظامیہ نے حکومت کے دوسرے شعبوں کے اختیارات کو رفتہ رفتہ غصب کر لیا ہے۔ انتظامی حکم کے ذریعے ایسے ملٹری ٹربیونل قائم کر دیے گئے ہیں جہاں شہادت اور ثبوت کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں۔ ان کے فیصلوں کے خلاف باقاعدہ عدالتوں میں اپیل کا حق بھی متاثرین کو نہیں دیا گیا ہے۔ صدر کے قلم کی محض ایک جنبش سے مختلف گروپوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت جب ایک نسل تک جاری رہنے والی جنگ اور ایک نئے داخلی نظام کی بات کرے تو ہمیں پوری سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ پوری دنیا کے لیے اختیار کی گئی سامراجی پالیسی اور داخلی سطح پر ایسے اقدامات جن سے لوگوں کے حقوق چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، ہمیں اس کے خلاف مزاحمت کرنی ہے۔ 
گزشتہ مہینوں کے واقعات سے واضح ہے کہ ہم تباہی کے راستے پر چل پڑے ہیں لہٰذا ہمیں اس کی روک تھام کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ لوگ انتظار کرتے رہے حتیٰ کہ بربادی سے بچنے کا وقت گزر گیا۔ بش اعلان کر چکے ہیں کہ ’’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے مخالف‘‘۔ اس پر ہمارا جواب یہ ہے :’’ہم تمہیں تمام امریکیوں کی طرف سے بولنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم اپنے سوال کرنے اور جاننے کے حق سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ ہم تحفظ کے کھوکھلے وعدے پر اپنے ضمیر تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔ ہم تمہیں اپنے نام پر کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ان جنگوں میں پارٹی بننے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم اس بات کو نہیں مانتے کہ یہ جنگیں ہماری فلاح کے لیے شروع کی گئی ہیں۔ ہم ان لوگوں کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہیں جو ان پالیسیوں کی بنا پر دنیا بھر میں مصائب کا شکار ہیں۔ ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنی یک جہتی الفاظ اور عمل دونوں سے ثابت کریں گے۔‘‘ ہم جنہوں نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں، تمام امریکیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ استفسار اور احتجاج کا جو عمل جاری ہے، ہم اسے سراہتے اور اس کی تائید کرتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس بلا کو روکنے کے لیے اس سے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے ان اسرائیلیوں کا طرز عمل حوصلہ افزائی کا سبب ہے جنہوں نے اپنی ذات کے لیے سنگین خطرات مول لے کر اعلان کیا کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور مغربی کنارے اور غزہ کی اسرائیلی مقبوضات میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘
’’مزاحمت اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی امریکہ کے ماضی میں بہت سی مثالیں موجود ہیں جن سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے۔ ہمارے سامنے ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے غلامی کے خاتمے کے لیے جنگ کی، جنہوں نے ویت نام کی جنگ میں احکامات ماننے سے انکار کر کے احتجاج کیا، اس کے لیے بنائے گئے قوانین کی مزاحمت کی اور مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ اس لیے آج ہمیں اپنی خاموشی اور بے عملی کے مظاہرے سے دنیا کو مایوسی کی دلدل میں نہیں دھنسنے دینا چاہیے۔ اس لیے ہم دنیا سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم جنگ اور جبر کی مشینری سے لڑیں گے اور اسے روکنے کے لیے دوسروں کو بھی ہر ممکن اقدام پر تیار کریں گے۔‘‘

صدر پاکستان کے سہ ملکی دورے کے مضمرات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

صدر پاکستان جناب پرویز مشرف کے حالیہ سہ ملکی دورے سے پاکستان نے کیا کھویا، کیا پایا، اس کا تعین عجلت میں نہیں کیا جا سکتا۔ مجموعی طور پر اس دورے کو کام یاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ 
جناب صدر نے بنگلہ دیش پہنچنے پر ۱۹۷۱ء میں ہونے والی زیادتیوں پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے بجا فرمایا کہ اس المیے کے نتیجے میں ایک خاندان جس کا ایک ہی مذہب اور ایک ہی تاریخی ورثہ ہے اور جنہوں نے مل کر آزادی کی جدوجہد کی اور مل کر مستقبل کے خواب بنے تھے، دو حصوں میں بٹ گیا۔ صدر پاکستان کے بیان کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ آرمی چیف بھی ہیں، اس طرح ان کا بیان مسلح افواج کی طرف سے ۷۱ء کے واقعات پر معذرت کی حیثیت رکھتا ہے۔ بنگالیوں کو مسلح افواج سے ’’خاص‘‘ شکایات تھیں۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم محترمہ خالدہ ضیا نے بھی دانش مندانہ طرز عمل اختیار کیا اور پاکستان کی معذرت کا خیر مقدم کرتے ہوئے باہم مل کر آگے بڑھنے کا عندیہ دیا۔ 
مخصوص عالمی اور علاقائی صورت حال کے تناظر میں باہمی خیر سگالی کے یہ جذبات خوش آئند ہی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ۷۱ء کے واقعات کی تباہ کاریوں کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے درمیان خلیج پیدا کرنے میں بھارت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یہ ہاتھ اب بھی مصروف عمل ہے۔ غالباً بنگلہ دیش کو اس امر کا احساس ہے کہ ’’سارک‘‘ میں پاکستان ہی واحد ملک ہے جو بھارت کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے۔ موجودہ علاقائی صورت حال میں، جبکہ سرحدوں پر فوجیں کھڑی ہیں، بنگلہ دیش نے خطے میں توازن قائم کرنے کے لیے اور اپنی سلامتی کے پیش نظر اپنا وزن پاکستان کے پلڑے میں ڈال کر دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔ یقیناًبنگالی قیادت کو احساس ہو گیا ہے کہ بھارت کبھی ان کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو بنگلہ دیش سے تعلقات مزید مضبوط بنانا ہوں گے تاکہ ’’آسیان‘‘ میں کم از کم بالواسطہ ہی اس کا عمل دخل ہو سکے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں ایک دوست بنگلہ دیش پاکستانی مفادات کا تحفظ کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ’’آسیان‘‘ کے حالیہ بیانات خطرناک قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ کو اس محاذ پر توجہ دینی چاہیے۔
بنگالی قیادت کی معاملہ فہمی اس امر سے واضح ہوتی ہے کہ بیگم خالدہ ضیا نے اثاثوں کی تقسیم کا مسئلہ اٹھانے سے گریز کیا۔ پاکستان نے بھی نہ صرف بنگلہ دیش کے ذمے ۸ کروڑ ۴۰ لاکھ روپے کے واجبات معاف کر دیے ہیں بلکہ پٹ سن اور چائے کا کوٹہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی درآمد پر ڈیوٹی بھی ’’ختم‘‘ کر دی ہے۔ دونوں ممالک آزادانہ تجارت کے معاہدے پر مذاکرات جاری رکھنے پر بھی متفق ہیں۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے، بنگلہ دیش نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے۔
بنگالیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بعد صدر پاکستان سری لنکا تشریف لے گئے۔ دونوں ملکوں نے ’’آزادانہ تجارتی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے۔ یہ اقدام نئے عالمی حقائق اور علاقائی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ سری لنکا ایسا ہی معاہدہ بھارت کے ساتھ کر چکا ہے۔ علاقائی اقتصادی تنظیموں کی اہمیت بیسویں صدی کے آخری عشرے سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا میں ’’سارک‘‘ اسی لیے قائم کی گئی تھی لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی نے اسے فعال نہیں ہونے دیا۔ سارک کو بے اثر جانتے ہوئے سری لنکا نے بہترین ’’دو طرفیت‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے اور بتا دیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی سری لنکا اور پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری پیدا نہیں کرسکتی، اگرچہ اس سلسلے میں سری لنکا کے کچھ تزویراتی مقاصد بھی ہیں کیونکہ اپنی دفاعی ضروریات کے لیے سری لنکا پاکستان کی طرف دیکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ خوش آئند بات ہے کہ اس کا اپنا بنایا ہوا اسلحہ سری لنکا میں کھپ سکتا ہے۔
سارک کا اگلا سربراہی اجلاس پاکستان میں ہونے والا ہے۔ اس تناظر میں دو ایسے سارک ممالک کا دورہ جو علاقے میں بھارت اور پاکستان کے بعد کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ہماری وزارت خارجہ کچھ ’’سوجھ بوجھ‘‘ بھی رکھتی ہے۔ بھارت کی کسی متوقع شرارت کے پیش نظر کولمبو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جناب صدر نے صحیح عندیہ دیا کہ کوئی ملک نہ بھی آئے تو بھی سارک کانفرنس ہونی چاہیے۔ صدر محترم کے اس بیان کے مضمرات اپنی جگہ، لیکن اس کے متوازی ایسی کوششیں جاری رہنی چاہییں کہ بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرے کیونکہ سارک کا گزشتہ اجلاس بھی بھارت کے منفی رویے کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر سے شروع ہوا تھا۔
سری لنکا کے دورے کے بعد صدر، پاکستان کے قریبی دوست ہمسایہ ملک چین تشریف لے گئے۔ جناب صدر نے جنوبی ایشیا کے حالات وواقعات کے ضمن میں چینی قیادت سے صلاح مشورے کیے۔ چین نے یقین دلایا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رہے گا۔ چینی قیادت نے زور دیا کہ بھارت کشمیر پر مذاکرات کرے۔ 
چین اس وقت پاکستان میں بہت سے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ریلوے کوچز پاکستان پہنچی ہیں۔ جلد ہی ایسی ریلوے کو چز پاکستان میں بھی تیار کی جائیں گی۔ چین نے پاکستان کی زرعی اجناس کی برآمد بڑھانے میں مدد دینے کی پیش کش بھی کی ہے جن میں چاول، گندم، سبزیاں، پھل، تمباکو اورخام کپاس شامل ہیں۔ چینی ذرائع کے مطابق پاکستانی آم اور کینو چین میں کھپائے جا سکتے ہیں۔ اس وقت چین فرانس اور آسٹریلیا سے پھل درآمد کر رہا ہے۔ چین اور پاکستان نے سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے دو طرفہ تعاون پر بھی اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے پاکستان کو چار ایٹمی پاور پلانٹس لگانے میں تعاون کی پیش کش بھی کی ہے۔ ایک چینی کمپنی نے کراچی میں آئل ریفائنری قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور گوادربندرگاہ کی تعمیر میں تو چین بھرپور تعاون کر ہی رہا ہے۔ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کا ٹھیکہ بھی حکومت پاکستان نے آخر کار چینی کمپنی کو دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے تعاون سے کوئلہ کی تلاش بھی جاری ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں یہ کام مکمل ہو جائے گا۔ کوئلے سے چلنے والی تھرمل یونٹوں کے ذریعے سے کثیر زر مبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے گومل زم ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی دو چینی کمپنیوں کو دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ٹھیکے کے لیے چار ارب اڑتیس کروڑ اسی لاکھ روپے کی بولی اس منصوبے کی تعمیر کی تخمینہ جاتی لاگت سے نصف ہے۔
پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے۔ چین سے ان بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط کے تناظر میں چینی قیادت کا یہ بیان کہ پاکستان سے تعاون جاری رہے گا، نہایت اطمینان بخش قرار دیا جا سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ چین کے ایسے تحفظات جو کہ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ابھرنا شروع ہو گئے تھے، ان کا تدارک ممکنہ حد تک صدر پاکستان کے اس دورے سے ہو گیا ہوگا۔ چین کی قومی عوامی کانگریس کی مجلس قائمہ کے وائس چیئرمین سوجیالو نے زور دیا کہ پاکستانی طالب علم چینی زبان کی طرف بھی توجہ دیں۔ عالمی اقتصادی تنظیمWTO) (میں چین کی شرکت کے بعد اس کے اقتصادی امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ چین ترجیحی بنیادوں پر پاکستانی نوجوانوں کو اعلیٰ ملازمتیں فراہم کرے گا۔ اکیسویں صدی میں چین کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو اس کے ساتھ سماجی تعلقات بھی پروان چڑھانے چاہییں تاکہ ہمارے اثر ورسوخ میں اضافہ ہو سکے۔

اسلامی نظام تعلیم کے بنیادی خدوخال

حافظ سید عزیز الرحمن

اسلامی نظام تعلیم ایک ہمہ جہت تعمیری وانقلابی تعلیم کا خواہاں ہے جس کے جلو میں نہ صرف سیاسی ہنگامہ خیزی اور فکری آزاد روی پروان چڑھتی ہے بلکہ جو ہمہ نوع وہمہ جہت مثبت وتعمیری تبدیلیوں کا سبب وذریعہ بنتی ہے۔ اس کے بنیادی خدوخال پیش کرنا خود ایک طویل مقالے کا موضوع ہے۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ اس کے چند اہم نکات پیش کیے جاتے ہیں:

لازمی و جبری تعلیم

اسلا م میں تعلیم لازمی ہے۔ تعلیم کی ہمہ جہت اہمیت کے پیش نظر اختیاری تعلیم کا اسلام کے ہاں کوئی تصور نہیں۔ تعلیم ہر ایک کے لیے ہے اور لازمی ہے۔ خواندگی ایسی چیز نہیں ہے جسے عوام کی مرضی پر چھوڑا جا سکے کیونکہ ناخواندہ افراد تو علم رکھتے ہی نہیں‘ ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ سب علم کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہوں گے۔ یہ فریضہ تو حکومت کا ہے کہ وہ ان کے سامنے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرے اور انہیں حصول علم پر آمادہ کرے۔ خصوصاً کسی اسلامی معاشرے میں ناخواندہ افراد قطعاً قابل قبول نہیں ہو سکتے (۱) اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’علم کا حصول ہر ایک پر فرض ہے‘‘ (۲) آپ ﷺ کے عہد مبارک میں ہر نومسلم کے لیے مختلف علوم کا جاننا ضروری تھاجس کے لیے مختلف افراد اور تعلیمی ادارے سرگرم تھے۔ (۳) اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاص طور پر خانہ بدوش بدوؤں کے لیے قرآن مجید کی جبری تعلیم کا نظام قائم کیا تھا اور اس کے لیے گشتی ٹیمیں مقرر کی تھیں۔ (۴) نیز ایسے گشتی تعلیمی دستے مقرر تھے جو لوگوں کی تعلیمی صلاحیت کا جائزہ لیتے تھے اور ضرورت کے مطابق ایسے افراد کو اساتذہ کے سپرد کرتے تھے۔ (۵)

مفت تعلیم

اسلام مفت تعلیم کا قائل ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں تعلیم مفت تھی۔ آپ ﷺ نے ہر مسلمان عالم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ دوسروں تک علم پہنچائے۔ (۶) اس لیے کتمان علم پر شدید وعید بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس سے علم کے متعلق کوئی سوال ہوا اور اس نے چھپایا تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت آگ کی لگام پہنائے گا۔‘‘ (۷) بعد کے دور میں بھی تعلیم مفت رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نومسلموں کی تعلیم وتربیت کے لیے مختلف مکاتب قائم کیے جن کے معلمین کی تنخواہیں بیت المال سے ادا کی جاتی تھیں۔ اس دور میں سرکاری انتظام میں قرآن کریم کے علاوہ احادیث‘ سیرت وغزوات‘ فقہ‘ ادب عربی‘ علم الانساب اور کتابت وغیرہ کی تعلیم مفت ہوتی تھی اور قرآن کریم کی تعلیم پانے والے طلبا کے لیے وظائف کا بھی انتظام تھا۔ (۸) حکومتی اہتمام کے علاوہ نجی طور پر اساتذہ بھی تنخواہ لینے سے گریز کرتے تھے اور عام طور پر معاوضے قبول نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؓ نے یزید بن ابی مالک اور حارث بن ابی محمد اشعری کو گشتی معلم مقرر کر کے ان کی تنخواہ مقرر کر دی۔ یزید نے تنخواہ قبول کر لی‘ حارث نے نہ کی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ یزید نے جو کچھ کیا‘ اس میں کوئی خرابی نہیں البتہ اللہ تعالیٰ حارث جیسے افراد کثرت سے پیدا کرے۔ (۹)

بچوں کی تعلیم

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم کا انتظام کرنا درحقیقت خود اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ کا قول ہے: ’’تم علم حاصل کرو۔ اگر تم قوم میں سب سے چھوٹے ہو تو کل دوسرے لوگوں میں (علم کی وجہ سے) تم بزرگ بن جاؤ گے۔‘‘ (۱۰) اس لیے حضور اکرم ﷺ نے اس کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ نیز بچپن میں حافظہ قوی ہوتا ہے اسی لیے حضرت حسن بصریؒ کا قول ہے: ’’بچپن میں تعلیم حاصل کرنا ایسے ہے جیسے پتھر پر نقش اور بڑھاپے میں تعلیم حاصل کرنا ایسے ہے جیسے نقش بر آب۔‘‘ (۱۱) آپ ﷺ نے والدین کو بچوں کی تعلیم کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ’’کوئی والد اپنے بچے کو اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو اچھی تعلیم دے۔ (۱۲)اور فرمایا: ’’آدمی کا اپنے بیٹے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔‘‘ (۱۳)

معذوروں کی تعلیم

اسلام کی نظر میں کسی قسم کی کمی یا کمزوری کسی کے فرائض کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ہاں کسی پر بھی اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ تعلیم کے معاملے میں بھی اسلام کا یہ اختصاص وامتیاز ہے کہ اس نے جسمانی کمزوریوں کو حسن عمل وجہد مسلسل کی دولت سے چھپا دیا اور معذوروں سے وہ کارہائے نمایاں لیے کہ صحت مند افراد رشک کر اٹھے۔ اس کی سب سے اہم مثال حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی ہے جنہیں یہ فخر وشرف حاصل ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی غیر موجودگی میں مدینہ منورہ جیسی اسلامی ریاست کے لیے اپنا قائم مقام مقرر کیا اور انہیں یہ شرف دس بار حاصل ہوا۔ (۱۴) جبکہ دیگر جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو یہ اعزاز نہ مل سکا۔ ایک نابینا صحابی اور حضور اکرم ﷺ کی نیابت کا فریضہ‘ تعلیم وتربیت میں اعلیٰ مدارج طے کیے بغیر یہ مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ اسلام میں معذوروں کی قدر ومنزلت کا یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہر دور میں اور ہر فن میں بڑے بڑے جلیل القدر علما نابینا وغیرہ گزرے ہیں۔ (۱۵) آج بھی معذوروں اور کئی وجہ سے عام جسمانی صلاحیتوں سے محروم افراد کی تعلیم کا خاص اہتمام ناگزیر ہے۔

خواتین کی تعلیم

خواتین کے لیے ایسا انتظام ضروری ہے کہ جس کے تحت وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تعلیم‘ خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی‘ بسہولت حاصل کر سکیں اور ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور خواتین کی تعلیم کا سلسلہ خالص اسلامی ماحول میں اسلامی تعلیمات کی ادنیٰ مخالفت اور ان سے معمولی رو گردانی کے بغیر بھی جاری رہے۔ آپ ﷺ نے انہی مقاصد کے پیش نظر خواتین کی تعلیم کے لیے علیحدہ دن اور علیحدہ مقام متعین فرمایا۔ (۱۶) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس سلسلے کو مزید وسعت ہوئی اور خواتین کے باقاعدہ الگ مدرسے قائم ہوئے۔ (۱۷) ان کے دور میں خواتین کی بھی جبری تعلیم رائج ہو گئی تھی۔ (۱۸)
آج بھی اس سلسلے میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے ہمارے ہاں خواتین کی علیحدہ یونیورسٹی کا مسئلہ اٹھتا رہتا ہے۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ درست ہونے کے باوجود بھی نامکمل ہے۔ اس مطالبے کا اصل جواز اسلام میں مخلوط تعلیم کی ممانعت ہے۔ یہ امر اس کا متقاضی ہے کہ صرف جامعات کی سطح پر نہیں بلکہ پرائمری کے بعد ہر درجے اور مرحلے میں طلبا کے ادارے الگ اور طالبات کے ادارے الگ ہونے چاہییں جن میں صرف طلبا وطالبات ہی الگ الگ نہ ہوں‘ اساتذہ بھی علی الترتیب مرد اور خواتین ہوں۔ اور یہ مطالبہ کوئی نئی چیز نہیں‘ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان نے ایک موقع پر اس مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا:
’’ان واہی باتوں کو مسلمان سننا بھی گوارا نہیں کرتے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی مشترکہ تعلیم ہو۔ آج تک مشترکہ تعلیم کا کوئی ایسا فائدہ کسی نے بیان نہیں کیا ہے جو دل نشین ہو۔ .... ممکن ہے کہ مسلمانوں میں بعض افراد ایسے ہوں جو مخلوط تعلیم کے موید ہوں مگر مسلمانوں کی ساری قوم اس کے خلاف ہے۔‘‘ (۱۹)

تعلیم بالغاں

تعلیم بالغاں کی اہمیت مسلم ہے۔ بڑی عمر کے بہت سے افراد محض اس سبب سے حصول علوم سے رہ جاتے ہیں کہ بچپن میں کسی مجبوری‘ عدم توجہی یا عدم وسائل کے سبب سے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ اسلام تعلیم کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں ایسے صحابہ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں جنہوں نے نہ صرف بڑی عمر میں تحصیل علم کیا بلکہ مرتبہ کمال کو پہنچے۔ یہ سلسلہ بعد کے زمانے میں بھی جاری رہا بلکہ قرآن کریم کو بڑی عمر میں حفظ کرنے کا سلسلہ تو آج بھی جاری ہے اور یہ قرآن کریم کی برکت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’تم لوگ سردار بنائے جانے سے قبل علم حاصل کرو۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے تو بڑی عمر میں علم حاصل کیا ہے۔‘‘ (۲۰) اس لیے ہمارے ہاں بھی تعلیم بالغاں کے حلقے قائم ہونے چاہییں جہاں بڑی عمر کے ناخواندہ افراد دینی معلومات اور دنیاوی ضروریات کا علم اپنی ضرورت کے مطابق بہ سہولت حاصل کر سکیں۔

غیر مسلموں کی تعلیم

ایک اسلامی ریاست میں اسلامی نظام تعلیم کی موجودگی میں کسی غیر مسلم کو یہ اندیشہ لامحالہ ہو سکتا ہے کہ اس کی تعلیمی ضروریات کا کون کفیل ہوگا۔ لیکن یہ اندیشہ بے جا ہے۔ ایک تعلیمی نظام کیا‘اسلامی ریاست کے تو تمام امور ہی اسلامی نظام کے تحت چلتے ہیں مگر خود یہ نظام تمام غیر مسلموں کو ان کے مذہبی وتعلیمی معاملات میں مکمل آزادی دیتا ہے اور اس کی ضمانت خود آنحضرت ﷺ نے اپنے پہلے معاہدے میثاق مدینہ میں غیر مسلموں کو دی ہے۔ (۲۱) اس لیے اسلامی نظام میں ان کے حقوق اور تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔

تخصصات

عام تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم اور خاص موضوعات پر تخصصات (Specialization) کی اہمیت بھی مسلم ہے۔ خود قرآن حکیم نے اس کی اہمیت کی جانب توجہ دلائی ہے۔ مثلاً فرمایا: 
فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین (۲۲) 
’’سو کیوں نہ نکلے ان کے ہرگروہ میں سے کچھ لوگ تاکہ دین کی سمجھ پیدا کریں۔‘‘
اس آیت میں تخصص فی الفقہ کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ایک اور مقام پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی کے لیے متخصصین کی تیاری کی تاکید ہے۔فرمایا:
ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر (۲۳)
’’تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے‘ نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے۔‘‘
اور عہد نبوی علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام میں بھی آپ ﷺ کی زیر تربیت بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مختلف مضامین میں تخصص وامتیاز حاصل کر لیا تھا جن میں سے بعض خوش نصیب ایسے تھے جنہیں اس اختصاص کی سند خود زبان نبوت سے ملی۔ مثال کے طور پر حضرت ابیؓ بن کعب کو قراء ت وتجوید میں اختصاص حاصل تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں۔ (۲۴) حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قضاۃ میں امتیاز حاصل تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہمارے سب سے بڑے قاضی حضرت علیؓ اور سب سے بڑے قاری ابیؓ ہیں۔ (۲۵) اسی طرح علوم قرآنی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما امتیاز کے حامل تھے۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ صحابہ میں سب سے زیادہ علم قرآن رکھتے تھے۔ (۲۶) اور علم تفسیر فقہ میں ابن مسعود کو شہرت ملی۔ خود آپ ﷺ نے یہ فرما کر انہیں سند عطا کی کہ تم تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔ (۲۷) علم الفرائض میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ممتاز ہوئے۔ آپ ﷺ کا قول مبارک ہے کہ ’’میری امت میں علم فرائض سب سے زیادہ زید بن ثابت جانتا ہے۔‘‘ (۲۸) اور حلال وحرام کے علم میں معاذ بن جبلؓ درجہ امتیاز کے حامل تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں حلال وحرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص معاذ بن جبلؓ ہے۔ (۲۹)
عصر حاضر میں بھی ہمیں ان خصوصیات کو زندہ رکھتے ہوئے آج کی ضرورت کے مطابق مختلف علوم وفنون کے ماہر تیار کرنا ہوں گے۔

حوالہ جات

۱۔ سید عزیز الرحمن /استحکام پاکستان، سیرت طیبہ کی روشنی میں/ زوار پبلی کیشنز کراچی، ۹۷ء/ ص ۲۴
۲۔ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم : ابن ماجہ / السنن / دار المعرفۃ، بیروت / ج ۱، ص ۹۷، رقم ۲۲۴۔ 
ہیثمی / مجمع الزوائد/ ج ۱، ص ۳۳۲، رقم ۴۷۲، ۴۷۳، ۴۷۴
۳۔ ملاحظہ کیجیے :مولانا قاضی اطہر مبارک پوری/ خیر القرون کی درس گاہیں/ ادارہ اسلامیات، لاہور، ۲۰۰۰ء ۔ محمد یاسین شیخ/ عہد نبوی ﷺ کا تعلیمی نظام/ غضنفر اکیڈمی پاکستان، کراچی ۸۹ء۔ پروفیسر رب نواز / آنحضور ﷺ کی تعلیمی جدوجہد/ ادارہ تعلیمی تحقیق، لاہور، ۲۰۰۱ء۔ مولانا محمد عبد المعبود/ عہد نبوی ﷺ میں نظام تعلیم/ مکتبہ رحمانیہ، لاہور، ۲۰۰۱ء۔ پروفیسر سید محمد سلیم/ اسلام کا نظام تعلیم/ ادارہ تعلیمی تحقیق، لاہور، ۹۳ء
۴۔ شبلی نعمانی/ الفاروق/ مکتبہ صدیقیہ، ملتان ۱۹۵۲ء/ ج ۲، ص ۴۴۲
۵۔ پروفیسر سید محمد سلیم/ اسلام کا نظام تعلیم/ ص ۸۶
۶۔ احمد، ابو عبد اللہ محمد بن حنبل الشیبانی/ المسند / دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۹۳ء/ ج ۲، ص ۳۴۱، رقم ۶۵۰۔ ترمذی/ ج ۴، ص ۳۰۵، رقم ۲۶۷۸۔ بخاری فی احادیث الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل
۷۔ احمد/ ج ۲، ص ۵۱۷، رقم ۷۵۱۷۔ مجمع الزوائد/ ج ۱، ص ۴۰۱، رقم ۷۴۱۔ طبرانی / المعجم الکبیر/ رقم ۱۱۳۱۰
۸۔ الفاروق / ص ۴۴۲، ۴۵۰
۹۔ مجلہ تعلیم/ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد/ شمارہ ۷، پاکستان میں تعلیم اور نجی شعبہ/ مضمون: پروفیسر سید محمد سلیم/ تعلیم فی سبیل اللہ کا احیا/ ص ۸۸
۱۰۔ ابن قتیبہ / عیون الاخبار/ بیروت/ ج ۲، ص ۱۲۳
۱۱۔ ایضاً/ ص ۱۶۴
۱۲۔ بیہقی/ شعب الایمان/ ج ۲، ص ۲۵۶۔ ترمذی/ ج ۳، ص ۳۸۳، رقم ۱۹۵۹
۱۳۔ ترمذی/ ایضاً/ رقم ۱۹۵۸
۱۴۔ یہ واقعات ذیل کے غزوات واسفار میں آپ ﷺ کی مدینہ منورہ سے غیر موجودگی میں پیش آئے:
ملاحظہ کیجیے ابن سعد/ الطبقات الکبریٰ/ دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۹۷ء/ ج ۲
(۱) غزوہ قرقرۃ الکدر/ ص ۲۳ (۲) غزوہ بنی سلیم/ ص ۲۷ (۳) غزوۂ احد/ ص ۲۹ (۴) غزوہ بنی نضیر/ ص ۲۴ (۵) غزوہ احزاب/ ص ۵۱ (۶) غزوۂ بنی قریظہ/ ص ۵۷ (۷) غزوۂ بنی لحیان/ ص ۶۰ (۸)غزوۂ الغابہ/ ص ۶۲ (۹) صلح حدیبیہ/ ص ۷۳ (۱۰) فتح مکہ/ ص ۱۰۲
اس کے علاوہ آپ ﷺ نے ابن ام مکتومؓ کو غزوۂ بدر میں صرف نمازوں کی امامت کے لیے اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا: دیکھیے طبقات، ص ۸، ج ۲
۱۵۔ دیکھیے مولانا حبیب الرحمن خان شروانی/ نابینا علما/ مجلس نشریات اسلام، کراچی
۱۶۔ بخاری، کتاب العلم وکتاب الاعتصام بالسنۃ، باب تعلیم النبی ﷺ امۃ من الرجال والنساء
۱۷۔ اسلام کا نظام تعلیم/ ص ۹۰
۱۸۔ ایضاً
۱۹۔ سید مصطفی علی بریلوی/ شہید ملت لیاقت علی خان/ آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس، کراچی، ۲۰۰۱ء/ ص ۶۳
۲۰۔ بخاری/ کتاب العلم
۲۱۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ/ الوثائق السیاسیۃ/ دار النفائس، بیروت، ۸۵ء/ ص ۵۹
۲۲۔ القرآن/ سورۂ توبہ/ آیت ۱۲۲
۲۳۔ القرآن/ سورۂ آل عمران/ آیت ۱۰۴
۲۴۔ شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن احمد/ معرفۃ القراء الکبار/ ج ۱، ص ۲۹
۲۵۔ ابن حجر عسقلانی/ تہذیب التہذیب، بیروت/ ج ۷، ص ۳۳۷
۲۶۔ الصابونی، محمد علی/ التبیان فی علوم القرآن/ عالم الکتب، بیروت، ۸۵ء/ ج ۷، ص ۶۸
۲۷۔ احمد/ ج ۱، ص ۶۲۶، رقم ۳۵۵۸
۲۸۔ کنز العمال/ رقم ۳۳۳۰۴
۲۹۔ ڈاکٹر، احمد امین/ فجر الاسلام/ مصر/ ج ۲، ص ۱۷۱

اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۳)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

(ب) عجلت اور بے صبری

عقل ومنطق اور علم وتدبیر پر جذبات کے غالب آجانے کا یہ ایک اور بڑا اور منفی نتیجہ ہوتا ہے۔ عجلت کار شخص میں تحمل وبردباری اور صبر اور ٹھہراؤ کی خوبی نہیں ہوتی۔ وہ چاہتا ہے کہ آج بوئے اور کل صبح ہی کاٹ لے بلکہ صبح پودا لگائے اور شام کو اس کا پھل پا لے۔ یہ چیز نہ تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہے اور نہ دنیا میں ایسا کوئی اصول کارفرما ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ وہ اس بات پر قادر تھا کہ ’’کن‘‘ کہہ دیتا اور ‘‘فیکون‘‘ کی صورت میں نتیجہ سامنے آجاتا لیکن اللہ نے چاہا کہ وہ اس سنت کے ذریعے سے تامل اور تحمل کی تعلیم دے۔ وہ اس بات پر بھی قادر تھا کہ اپنے نبی نوح علیہ السلام اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کی غیب سے مدد کر دیتا اور پہلے روز ہی وہ کام یاب قرار پاتے لیکن اس نے ایسا کرنے کے بجائے نوح علیہ السلام کو ساڑھے نو سو سال تک شب وروز اور چپکے چپکے بھی اور ہانکے پکارے بھی دعوت دینے پر مامور کر دیا۔ پھر انجام میں بھی نوح علیہ السلام کو نجات سے نوازا تو ان کے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی کشتی ہی کے ذریعے۔ آسمان سے اس کے لیے کچھ نہ برسایا۔ وہ حضرت محمد ﷺ کی مدد اور آپ کے دشمنوں کو کسی آسمانی یا ارضی آفت کے ذریعے سے ہلاک کر دینے پر بھی قادر تھا لیکن اس کے بجائے اس نے اپنے پیارے نبی اور ان کے ساتھیوں کو ابتلاؤں اور آزمائشوں سے گزار کر فتح ونصرت سے نوازا۔ یہاں تک کہ ابتدا میں طاغوتی قوتوں کے مقابلے میں جہاد کر کے اپنابچاؤ کرنے کی بھی اجازت نہ دی اور تاکید کر دی کہ:
کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ (النساء ۷۷)
اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو۔
تا آنکہ آپ کا کانٹوں بھری راہوں کا پر عزیمت سفر ختم ہوا ۔ کفار کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت مل گئی اور اللہ کا ارشاد ہوا:
وان اللہ علی نصرہم لقدیر (الحج )
اور اللہ یقیناًان کی مدد پر قادر ہے۔
اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا امر صادر کرنے تک اپنے نبی اور مومنین کو صبر وتحمل کی روش پر قائم رہنے کا حکم دیا:
فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل ولا تستعجل لہم (الاحقاف ۳۵)
’’پس اے نبی، صبر کرو جس طرح اولو العزم رسولوں نے صبر کیا اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔‘‘
فاصبر ان وعد اللہ حق ولا یستخفنک الذین لا یوقنون (الروم ۶۰)
’’پس اے نبی، صبر کرو۔ یقیناًاللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔‘‘
واصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیہم ولا تک فی ضیق مما یمکرون (النحل ۱۲۷)
’’اے نبی، صبر سے کام کیے جاؤ اور تمہارا یہ صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ان لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو۔‘‘
یا ایھا الذین آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون (آل عمران ۲۰۰)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں سے مقابلے میں پامردی دکھاؤ۔ حق کی خدمت کے لیے کمربستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ امید ہے فلاح پاؤ گے۔‘‘
عجلت کاری کے نتیجے میں تحریک اسلامی مکمل تیاری سے قبل ہی سخت معرکوں میں کود پڑی۔ ایسی مشکلات کو بھی اس نے قبل از وقت دعوت دے دی جو اس کی طاقت سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ بیک وقت مشرق ومغرب سے ٹکرا گئی اور اپنے آپ کو ایسی مشکل راہوں پر ڈال لیا جن سے ہٹنا اب اس کے بس میں نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جملہ معاملات میں ہماری قدرت وطاقت کے بقدر ہی مکلف بنایا ہے۔ ہمارے لیے ہرگز یہ روا اور درست نہیں کہ اپنے آپ کو ان امور میں بھی مکلف ٹھہرا لیں جن کی سردست ہمارے پاس طاقت نہیں ہے اور فتنوں میں اپنے آپ کو بغیر تیاری کے مبتلا کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: واتقوا اللہ ما استطعتم۔’’ اور اللہ سے ڈرتے رہو جہاں تک تمہارے لیے ممکن ہو۔‘‘ رسول پاک ﷺ کاارشاد ہے: ’’جب تمہیں کسی بات کا حکم دیا جائے تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے پورا کرو۔‘‘ فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو قوت بازو سے اسے مٹائے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے اس کے خلاف کلمہ حق بلند کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔‘‘
تغیر وانقلاب کی کوششوں کے طاقت وقدرت کی نسبت سے درجے مقرر کر دیے گئے ہیں چنانچہ مسلمان کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس کام میں اپنے آپ کو لگائے جس کی ہمت وطاقت رکھتا ہو اور اس کام کو چھوڑ دے جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے عجلت کی روش کو سخت ناپسند کیا ہے کیونکہ نتائج کے اعتبار سے یہ بہت بری روش ہے۔ قرآن پاک میں ایسے اشارے موجود ہیں جو عجلت وبے صبری کے برے انجام پر دلالت کرتے ہیں:
وما اعجلک عن قومک یا موسیo قال ہم اولاء علی اثری وعجلت الیک رب لترضی o قال فانا قد فتنا قومک من بعدک واضلہم السامری o (طٰہٰ ۸۳۔۸۵)
اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی اے موسیٰ؟ اس نے عرض کیا وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں۔ میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے۔ فرمایا، اچھا تو سنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا ہے۔
جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف پلٹے تو وہ قوم کے گمراہ ہونے کی وجہ سے غضب اور تاسف میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے بھائی کی ڈاڑھی کے بال پکڑ کر غصے سے کہا:
یا ھرون ما منعک اذ رایتہم ضلوا o الا تتبعن افعصیت امری o قال یابنوم لا تاخذ بلحیتی ولا براسی o انی خشیت ان تقول فرقت بینی وبین اسرائیل ولم ترقب قولی o (طٰہٰ ۹۲۔۹۳)
اے ہارون، جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو چکے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟ ہارون نے جواب دیا: اے میری ماں کے بیٹے، میری ڈاڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ۔ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔
بنی اسرائیل میں شرک کے جرم کے پھوٹ پڑنے پر ہارون علیہ السلام نے صبر وتحمل کا شیوہ اختیار کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے بھائی موسیٰ کے آنے تک بنی اسرائیل باہمی پھوٹ اور خلفشار سے بچے رہیں۔ موسیٰ کے آنے پر ان کے مشورے سے نئی صورت حال کا کوئی حل سوچا جائے گا۔
حدیث نبوی میں آیا ہے کہ صبر وتحمل کی روش کی نسبت اللہ سے ہے جبکہ عجلت اور اوچھا پن شیطانی خصلتوں میں سے ہے۔ ایک اور ارشاد نبوی ہے کہ اس بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جو جلدی نہ کرے اور کہے میں نے دعا تو کی تھی، ابھی قبول نہیں ہوئی۔
میری شدید خواہش ہے اور میں نے بارہا اس کا اظہار بھی کیا کہ تحریک اسلامی کو جہد وکاوش کا جتنا موقع ملتا ہے، اسے غنیمت جانتے ہوئے اپنی قوتوں کو مجتمع کرے۔ کسی فریب کا شکار ہو کر محاذ ومعرکہ آرائی میں نہ الجھ جائے۔ نہ تو اپنے اندر کے ناپختہ اور جلد باز عناصر اسے تصادم کی راہ پر ڈال سکیں اور نہ باہر کے مکار اور سازشی گروہ اسے تصادم کے میدان میں کھینچ کر لا سکیں۔ یہ ایک مخصوص عرصے تک حکمت سے اور اچھی اور میٹھی زبان میں اسلامی دعوت کو پھیلانے میں سرگرمی دکھائے۔ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اور اسی کی خدمت کے لیے بلند ہمت نسلوں کی تعمیر وتربیت کا کام کرے۔ نئی نسلوں کو ذہنی، روحانی، جسمانی اور اجتماعی تربیت کے زیور سے آراستہ کرے۔ معاشرے کے اندر جذب ہو کر اس کے مسائل کے حل میں مدد دے، عوام کی مشکلات دور کرنے میں سعی دکھائے اور معاشرے کی غلط سمت درست کرنے اور لوگوں کی ضروریات کی تکمیل میں کوشاں رہے۔ اپنی قوت اور زور بازو کے مظاہرے کی سوچ کچھ عرصہ ترک رکھے، حکومتوں سے کھلی ٹکر لینے کی پالیسی سے باز رہے۔ ۲۰ سال تک اس طرح کا طرز عمل اپنانے سے ایک پرامن انقلاب پورے معاشرے میں برپا ہو سکتا ہے۔ یہ فکر ونظر اور نفس واخلاق کا انقلاب ہوگا جس کے لیے کسی اسلحے کے استعمال یا جہاد کے اعلان کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
اگرچہ یہ امکان موجود ہے اور اس طرح کے خدشات کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ اسلام سے بیزار وخائف طائفے اور ان کے حامی گروہ تحریک اسلامی کے رسوخ، نشوونما اور اس کے اثرات کے پھیلاؤ کو بھی گوارا نہیں کرتے، اس کے اتحاد کو پارہ پارہ اور اس کی منزل کو کھوٹی کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ اس کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لیے سازشوں کا جال پھیلا دیتے ہیں۔ تحریک کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسے اقدامات کو نظر انداز نہ کرے جو تحریک کو براہ راست مقابلے پر لانے کی سازش کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اہل تحریک کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرتے رہیں۔ جب کوئی آزمائش آہی پڑے تو صبر واستقامت سے اس کا مقابلہ کریں۔

(ج) مبالغہ

عواطف وجذبات جب غالب آجاتے ہیں تو ایک تیسری آفت اندر سے رونما ہوتی ہے۔ وہ مبالغے کا حد سے بڑھ کر معاملات ومکالمات میں شامل ہو جانا ہے۔ اس آفت میں تو صرف تحریک اسلامی نہیں، پوری امت ہی گرفتار ہے۔ ظاہری معاملات میں ہم دو انتہاؤں میں سے کسی ایک پر کھڑے ہوتے ہیں، تفریط کا شکار ہوتے ہیں یا افراط کا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی جس صفت سے مدح فرمائی ہے، وہ تو ’’الوسط‘‘ یعنی میانہ روی ہے:
وکذالک جعلناکم امۃ وسطا (البقرہ ۱۴۳)
اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا۔
یہ خوبی تحریک اسلامی سے رخصت ہو گئی ہے۔ تحریک کی صفوں میں بھی مبالغہ اور حد سے بڑھی ہوئی نمائش، فہمائش اور تعریف ومذمت کا رجحان تقویت پکڑ گیا ہے۔ اپنی تعریف آپ کی جاتی ہے۔ خرابیوں کا مجسمہ اپنے مخالفین کو بتایا جاتا ہے۔ ’’تفضیل کل‘‘ کے صیغوں میں ہی بات ہوتی ہے۔ زبان وقلم سے ’’عظیم ترین، مضبوط ترین، اعلیٰ ترین، بے مثال‘‘ اور مقابلے میں ’’گھٹیا ترین، بد ترین، اور کمزور ترین‘‘ جیسی صفات کا اظہار ہوتا ہے۔ ہم خود پسندی میں حد سے زیادہ فراخ دل ثابت ہو رہے ہیں اور دوسروں کی عیب نمائی میں بھی آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ کسی معقول آدمی کو اس سے اختلاف نہیں کہ اپنی تہذیب پر فخر کیا جائے۔ جو قوم سورج کی شعاعوں تلے فروغ وترقی چاہتی ہے، اس میں اپنی ہر چیز سے پسندیدگی فطری امر ہے۔ خاص طور پر جب تہذیب اور ثقافتی یلغاریں اور معرکے بپا ہوں، ایک تہذیب دوسری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے ہو تو ایسی حالت میں اجتماعی خود پسندی روا ہے۔ لیکن یہاں یہ خطرہ بہرحال ہے کہ غرور اور خود پسندی عقل ونظر سے محروم ہو، اس میں اندھا پن پیدا ہو جائے۔ فخر وتکبر ان مہلکات میں سے ہے جو کسی فرد یا قوم کے مقدر ہو جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن یہ اشارہ دیتا ہے:
ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا (التوبہ ۲۵)
ابھی غزوہ حنین کے روز تمہیں اپنے کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہار ے کچھ کام نہ آئی۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں: ’’دو چیزوں میں ہلاکت ہے، غرور اور قنوطیت۔‘‘
ہم غیروں --- خاص طور پر مغربی تہذیب--- کی خرابیاں کثرت سے گنواتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مغربی تہذیب اپنے اندر بعض ایسے فتنے رکھتی ہے جنہیں اس تہذیب کی اساس کی حیثیت مل گئی ہے۔ اس میں ہزار آفتیں پوشیدہ ہیں جنہیں اب اس کے مزاج سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ مادیت، نفعیت اور عنصریت جیسے اجزا اس کے خمیر میں داخل ہیں لیکن بہ نگاہ انصاف دیکھا جائے تو یہ تہذیب بعض ایسے نکات بھی رکھتی ہے جو اس کی قوت کے منابع ہیں۔ قوت کے ان سرچشموں کا علم واعتراف ہمیں اس لیے بھی ہونا چاہیے کہ یہ عدل کا تقاضا ہے اور اس لیے بھی کہ مخالف کی طاقت کے حقیقی راز کا ادراک معقولیت واحتیاط کے لحاظ سے ضروری ہوتا ہے۔
آپ دیکھتے ہیں کہ اس تہذیب کا قیام علم وتجربہ کی بنیاد پر ہوا ہے۔ وہاں اداروں اور تنظیموں کو محکم بنیادیں فراہم ہیں، تعاون کی فضا ہے، جماعتی عمل کو ایک پائیداری وتسلسل حاصل ہے۔ اجتماعی اخلاق کے کچھ اصول موجود ہیں۔ انسان، اس کی جملہ نوع کی آزادی اور ہر طرح کے حقوق کا احترام پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر مغربی ممالک کے اندر ابنائے تہذیب کے لیے حقوق کی فراہمی کا مکمل اہتمام ہے۔ ان کے معاملات اصول مشاورت کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ حکام کے ظلم اور نا انصافی کے مقابلے میں حقوق کی حفاظت کے لیے موثر ادارے موجود ہیں۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے اسلاف کے آثار میں سے ایسی مثالوں کا ذکر کروں جن میں دشمنوں کے لیے بھی انصاف اور ان کی بڑائی اور خوبی کا اعتراف ہے۔ یہ انصاف اور اعتراف ان حالات میں بھی برقرار رہا جب مخالف میدان جنگ میں مقابلے پر اترا ہوتا تھا۔ یہ چیز میں کسی ادبی کتاب کے افسانے یا تاریخ کے واقعات سے ڈھونڈ کر پیش نہیں کر رہا ہوں بلکہ یہ ایک حدیث ہے جسے امام احمدؒ نے اپنی مسند میں اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔ الفاظ مسلم کے ہیں۔ موسیٰ بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن العاصؓ کے سامنے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’قیامت برپا ہوگی تو رومیوں (عیسائیوں) کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔‘‘ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا ’’ذرا غور کرو تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اس شخص نے کہا: ’’میں تو وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔‘‘ عمرو بن العاصؓ نے فرمایا: ’’اگر یہ بات ہے تو پھر ضرور ان میں چار خصائل ہوں گے: ۱۔ آزمائش کے وقت وہ سب سے زیادہ حلم وبردباری کا مظاہرہ کرتے ہوں گے، ۲۔ مصیبت سے گزرنے کے بعد بہت جلدی سنبھلنے کی صلاحیت کے مالک ہوں گے، ۳۔ مسکینوں، یتیموں اور ضعیفوں کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہوں گے اور ۴۔ حاکموں کے ظلم سے بچانے والے ہوں گے۔‘‘
ممکن ہے کسی کے لیے یہ بات باعث تعجب ہو کہ اہل روم کی خوبیوں کی یہ گواہی مسلمانوں کی عسکری اور سیاسی قیادت سنبھالنے والی ہستی عمرو بن العاصؓ دے رہی ہے جس نے رومیوں کے ساتھ مصر، فلسطین اور دیگر کئی مقامات پر رومیوں کے خلاف زبردست معرکے مارے لیکن اس میں تعجب کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اسلام نے ہمارے بزرگوں کو انصاف پر قائم رہنے، اللہ کے لیے سچ کی گواہی دینے کی تعلیم دی تھی خواہ اس کی زد خود ان کے اپنے اوپر پڑتی تھی اور کسی قوم سے ان کی دشمنی انہیں عدل سے نہیں روکتی تھی۔
دور حاضر کی تحریک اسلامی کے تجزیہ کار یہ چیز دیکھتے ہیں کہ اس میں جس طرح اپنی قوت کا مبالغہ آمیز تصور پایا جاتا ہے، اسی طرح مخالفین کی مفروضہ کمزوری کے بارے میں بھی خوش فکری کی شکار ہے۔ متعلقین تحریک جب مدح وتعریف کرتے ہیں تو خواہ وہ اپنے عزائم اور کارگزاری کی ہو یا قائدین کی، تعریف میں حد سے بڑھ جاتے ہیں ۔ اور جب مذمت ونفرت کرنے کھڑے ہوتے ہیں تب بھی آخری انتہا پر پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر کبھی اس طرح کے قول نہیں رہے کہ ’’جب اپنی پسندیدہ اور ممدوح شخصیت سے محبت کرو تو حد سے آگے نہ بڑھو، ہو سکتا ہے وہی شخصیت کسی روز تمہارے لیے سب سے ناپسندیدہ بن جائے۔ اور جب کسی کے خلاف غضب اور غصے کا اظہار کرو تو اس میں بھی اعتدال برتو۔ بعید نہیں کہ آج کی وہی مغضوب شخصیت کل تمہاری محبوب ہستی قرار پائے۔‘‘
قرآن حکیم نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ کسی سے محبت یا نفرت کے معاملے میں ہمیں عدل کو فراموش نہیں کردینا چاہیے۔ محبت ولگاؤ خواہ اپنی ذات کے ساتھ ہو یا اپنی جماعت کے ساتھ، اور نفرت اپنے دشمنوں کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یا ایھا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم او الوالدین والاقربین (النساء ۱۳۵)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری ذات پر یا تمہارے والدین یا رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔‘‘
یا ایھا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط ولا یجرمنکم شنآن قوم علی الا تعدلوا ۔ اعدلوا ھو اقرب للتقوی واتقوا اللہ (المائدہ ۸)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔‘‘
(جاری)

دانش کا بحران

خورشید احمد ندیم

(’الشریعہ‘ کے گزشتہ شمارے میں عہد حاضر میں اسلامی فکر کو درپیش سوالات اور چیلنجوں کے حوالے سے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، ارشاد احمد حقانی اور مدیر ’الشریعہ‘ کی نگارشات شامل اشاعت کی گئی تھیں۔ اس شمارہ میں خورشید احمد صاحب ندیم اور جناب منظور الحسن کی تحریریں یہاں پیش کی جا رہی ہیں جن میں انہوں نے اس موضوع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس اہم بحث کی تنقید وتمحیص کے سلسلے میں ہم اہل علم کو مزید اظہار خیال کی دعوت دیتے ہیں۔ مدیر)

فکری انتشار کا موسم ہم پر کچھ اس طرح سے اترا ہے کہ جانے کا نام نہیں لیتا۔ اس کا بڑا سبب تو یہ ہوا کہ اقبالؒ اور پھر مودودیؒ جیسے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم ان کے جانشین پیدا نہ کر سکے۔ فکری قیادت کا منصب اس وقت سے خالی چلا آ رہا ہے۔ بعض صاحبان نظر نے ان حضرات کی زندگی ہی میں جان لیا تھا کہ ان کے بعد کیا ہوگا۔ روایت ہے کہ مولانا داؤد غزنویؒ ایک مرتبہ مولانا مودودیؒ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ دوران گفتگو کہا: ’’مولانا! آپ بھی کوئی ابن قیمؒ پیدا کرتے جو آنے والے دنوں میں آپ کا جانشین ہوتا۔‘‘ مولانا نے اس کا جو جواب دیا، اس سے حظ اٹھانے کے لیے دو باتیں پیش نظر رکھیے۔ ایک تو یہ کہ ابن قیمؒ امام ابن تیمیہؒ کے جلیل القدر شاگرد تھے جنہوں نے اپنے استاد کے علمی ورثہ کو پوری شان کے ساتھ آگے بڑھایا۔ دوسری یہ کہ جماعت اسلامی میں سیکرٹری جنرل کو قیم کہتے ہیں۔ سید مودودیؒ ، مولانا داؤد غزنویؒ کی بات پر مسکرائے اور فرمایا: ’’آج کل تو میں قیم ہی پیدا کر رہا ہوں۔‘‘ مولانا نے جو بات ازراہ تفنن کہی، وہ بعد میں ایک امر واقعہ ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدینؒ ، برہان احمد فاروقی یا پروفیسر خورشید احمد جیسے لوگ اس فکری تسلسل کو برقرار رکھ سکتے تھے لیکن انہوں نے خود کو بڑی حد تک اقبال اور مودودی کی شرح تک محدود رکھا۔ اس کام کی بہرحال اپنی ایک اہمیت ہے۔
ہمارے ساتھ ایک المیہ یہ ہوا کہ اقبال اور مودودی کے منصب خالی رہ گئے اور اس پر مزید قیامت ٹوٹی کہ عہد حاضر میں دانش وری محض ایک بال پوائنٹ کی مرہون منت ہو گئی۔ اس عالم میں اگر فکری انتشار ہمارا مقدر ہے تو اس کا گلہ کس سے کیا جائے؟
آج بہت سے سوالات ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں، لیکن ان کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ فکری تطہیر کے بغیر عمل کی طرف قدم کیسے اٹھ سکتا ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر خامہ فرسائی کرتے ہیں لیکن بڑے مسائل ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ سیدنا مسیح ؑ کے الفاظ میں ہم مچھر چھانتے ہیں اور اونٹ نگلتے ہیں اور اگر کبھی انہیں موضوع بناتے بھی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم سطح سے نیچے جھانکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر عالمی تناظر میں اٹھنے والے چند سوالات دیکھیے:
۱۔ اس وقت عالمی سطح پر جس قوت کا غلبہ ہے، وہ ہمارے ساتھ زیادہ دوستانہ رویہ نہیں رکھتی۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ہماری دشمن ہے۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اقتصادی اور دفاعی دونوں طرح کے معاملات میں اس کی تائید اور نصرت سے نیاز نہیں ہو سکتے۔ ایسی قوت سے مقابلہ کرنے کا کیا یہی طریقہ ہے کہ ہر روز اس پر تبرا کیا جائے، اس کی مذمت کی جائے اور اسے شیطان کبیر ثابت کیا جائے؟
۲۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس نے ہر مشکل کے ساتھ آسانی رکھ دی ہے۔ کیا ہم نے اس نوعیت کا کوئی فکری کام کیا ہے جو عہد حاضر میں ہمارے لیے ان آسانیوں کی نشان دہی کر سکے جن سے قوم میں امید پیدا ہو؟
۳۔ اگر ہمارا سامنا کسی ایسے دشمن سے ہو جو قوت، اثر ورسوخ ااور وسائل کے اعتبار سے ہم سے ہزار گنا طاقت ور ہو تو کیا اس سے ٹکرانا دانش مندی ہے جبکہ تصادم سے بچنے کی صورت بھی موجود ہو؟
۴۔ جو اقوام ہماری مخالف ہیں یا جنہیں ہم اپنا دشمن شمار کرتے ہیں، انہوں نے ہمارے جغرافیے، تاریخ، علمی ورثے، مسائل ووسائل، تہذیب وتمدن اور حالات کا گہرا تحقیقی مطالعہ کیا ہے جس کی گواہی دنیا کی لائبریریاں دے رہی ہیں۔ مجھے پچھلے دنوں ایک کتاب ’’اسلام کی یہودی دریافت‘‘ (The Jewish discovery of Islam) کی محض ورق گردانی کا موقع ملا۔ صرف یہی کتاب ہمیں حیرت زدہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کے لیے کیا علمی کام کیا ہے۔ کیا ہمارے ہاں دیگر اقوام کے بارے میں اس نوعیت کا کوئی تحقیقی مطالعہ ہوا ہے؟
۵۔ کیا اس طرح کے کسی علمی اور فکری کام کے بغیر محض نعرہ بازی یا بندوق اٹھانے سے اسلام کے کسی غلبے کا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟
۶۔ ایک نظام فکر کے طور پر اسلام کو جو چیلنج درپیش ہیں، کیا ہم نے ان کا سامنا کیا ہے؟ معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا تیس برس قبل لکھا گیا ایک مقالہ حال ہی میں ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ انہوں نے اسلامی تحریکوں کو درپیش علمی اور فکری سوالات کو نمایاں کیا ہے۔ میرا تاثر ہے کہ تیس برس بعد بھی یہ سوالات اسی طرح تشنہ جواب ہیں۔ جو قومیں اس رفتار سے چلتی ہیں، ان کے روشن مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی کی جا سکتی ہے؟
۷۔ اس وقت عالمی حالات کا ایک فکری اور سماجی پس منظر ہے۔ کیا اس کی رعایت ملحوظ رکھے بغیر دنیا میں زندہ رہنے کی کوئی صورت ہے؟
اب آئیے چند ایسے سوالات کی طرف جن کا تعلق ہمارے داخلی حالات سے ہے:
۱۔ جس قوم کے مقتدر طبقات قومی وحدت کی اہمیت سے واقف نہ ہوں ا ور گروہی مفادات کے اسیر ہوں، وہاں تعمیر وطن کی طرف پیش قدمی کیسے ہو سکتی ہے؟
۲۔ اگر ہمارے ملک میں ایسی جماعتوں یا افراد کو سیاسی عصبیت حاصل ہوئی ہے جو بعض لوگوں کے نزدیک اخلاقی کمزوریاں رکھتے ہیں تو کیا اس بنیاد پر انہیں سیاست سے باہر رکھ کر کسی قومی وحدت کا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟
۳۔ جہاں کرپشن کا خاتمہ کرنے سے معاشی عمل رک جائے اور جس جگہ سیاست کو اخلاقی برائیوں سے پاک کرنے سے ملک میں انتشار پیدا ہو، وہاں ترجیحات کا تعین کیسے کیا جائے؟
۴۔ کیچڑ کے تالاب میں کھڑا شخص اگر کنارے پر موجود کسی سفید پوش کے لباس پر پڑی چھینٹوں پر اعتراض کرے اور اس سے دامن کی صفائی کا مطالبہ کرے تو کیا اس مطالبے کی کوئی اخلاقی حیثیت ہوگی؟
۵۔ اگر ایک قوم کے بعض راہنما ایک طرف پورے آئین کی پامالی کو نہ صرف گوارا کریں بلکہ اس کی تائید کریں اور دوسری طرف بعض لوگوں کی قانون شکنی پر انگلی اٹھائیں تو کیا انہیں معاشرے میں اعتبار حاصل ہو سکتا ہے؟
میں نہیں جانتا کہ ہماری قوم کو ان سوالات کے جوابات ملتے ہیں یا نہیں، لیکن مجھے اس بات کی خبر ہے کہ جس معاشرے میں اہل فکر ونظر کی جانشینی کا اہتمام نہ ہو اور جہاں دانش ایک بال پوائنٹ کی کرشمہ سازی کا نام ہو، وہاں ایسے سوالات اکثر جواب طلب ہی رہتے ہیں۔ 
(روزنامہ جنگ، ۲۴ جون، ۲۰۰۲ء)

دور جدید میں اسلام کی شرح و وضاحت

سید منظور الحسن

(’الشریعہ‘ کے گزشتہ شمارے میں عہد حاضر میں اسلامی فکر کو درپیش سوالات اور چیلنجوں کے حوالے سے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، ارشاد احمد حقانی اور مدیر ’الشریعہ‘ کی نگارشات شامل اشاعت کی گئی تھیں۔ اس شمارہ میں خورشید احمد صاحب ندیم اور جناب منظور الحسن کی تحریریں یہاں پیش کی جا رہی ہیں جن میں انہوں نے اس موضوع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس اہم بحث کی تنقید وتمحیص کے سلسلے میں ہم اہل علم کو مزید اظہار خیال کی دعوت دیتے ہیں۔ مدیر)

موقر روزنامہ جنگ کی ۲۱ تا ۲۳ جون ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں ’’مسلمان معاشرے اور تعلیمات اسلام ---- فکری کنفیوژن کیوں؟‘‘ کے زیر عنوان ایک اہم مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کے مولف ممتاز صحافی اور ماہر سیاسیات جناب ارشاد احمد صاحب حقانی ہیں۔ قومی وسیاسی امور کے بارے میں ان کے تجزیے سنجیدہ اور بے لاگ ہونے کے ساتھ نہایت حکمت ودانش پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ رائے عامہ کی تشکیل اور ارباب حل وعقد کی رہنمائی میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ مذکورہ مضمون میں فاضل مولف نے قومی تعمیر کے حوالے سے بعض اہم مباحث اٹھائے ہیں۔ ہمارے فہم کے مطابق ان کے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اہل علم ودانش شریعت کے معاملے میں فکری الجھاؤ کا شکار ہیں۔ اس وقت وہ تین طبقات میں منقسم ہیں۔ ایک طبقہ روایتی علما پر مشتمل ہے جو فرسودہ نظام تعلیم کی پیداوار ہے اور جدید عمرانی علوم سے بے بہرہ ہے۔ یہ اپنے فہم شریعت کے قطعی ہونے پر مصر ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو جدید علوم سے بہرہ مند ہے، مگر اسلامی تعلیمات سے بالکل نابلد ہے۔ یہ نظام زندگی کی اساس اسلام کے فلسفہ وحکمت اور قانون وشریعت کے بجائے بعض غیر اسلامی افکار اور نظام ہائے زندگی پر استوار کرنے کا داعی ہے۔ تیسرے طبقے میں وہ اہل علم شامل ہیں جو اسلامی علوم پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ معاصر عمرانی علوم سے بھی آگاہ ہیں۔ یہ قرآن وسنت کو ماخذ رہنمائی قرار دیتے ہیں مگر ان کی شرح ووضاحت کے حوالے سے علماے سابق کی آرا کو محل نظر سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر یہ اس نقطہ نظر کے حامل ہیں کہ دین وشریعت کا اطلاق کرتے ہوئے عصر حاضر کی ضرورتوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ صاحب مضمون کے نزدیک مسلمانوں کے روشن مستقبل کا انحصار اسی تیسرے طبقہ فکر پر ہے۔ آخر میں انہوں نے اسلام کی عمرانی تعلیمات کو عصری ترقیوں کی روشنی میں سمجھنے کی ترغیب دی ہے اور اس ضمن میں اجتہاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ صاحب مضمون کا اصل مقدمہ نہایت وقیع ہے۔ انہوں نے ایک ماہر نباض کی طرح مسلمانوں کے مرض کی ٹھیک ٹھیک نشان دہی کی ہے اور اصلاح احوال کے لیے بالکل درست لائحہ عمل تجویز کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مسلمان علما کی غالب اکثریت تقلید جامد کو بطور اصول اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ احکام دینیہ کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے قدیم علما کا کام ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ موجودہ زمانے میں ان کے کام کی تفہیم اور شرح ووضاحت تو ہو سکتی ہے، مگر اس پر نظر ثانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دور اول کے فقہا نے جو اصول وقوانین مرتب کیے ہیں، وہ تغیرات زمانہ کے باوجود قابل عمل ہیں۔ اس ضمن میں تحقیق واجتہاد کی نہ ضرورت ہے اور نہ اس بات کا اب کوئی امکان ہے کہ کوئی شخص مجتہد کے منصب جلیلہ پر فائز ہو سکے۔ اس نقطہ نظر اور اس پر اصرار کے باوصف واقعہ یہ ہے کہ یہ اہل علم فکر اسلامی کے بارے میں پیدا ہونے والے متعدد شکوک وشبہات رفع کرنے اور نفاذ شریعت کے حوالے سے بعض سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایک طرف ایسے گروہ پیدا ہو رہے ہیں جو ان علما کے زیر اثر تقلید جامد کے اسیر ہیں اور دوسری طرف وہ نسل پروان چڑھ رہی ہے جو رد عمل کے طور پر اسلام کو ایک قصہ پارینہ قرار دے کر جدید فلاسفہ سے کسب فیض کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ ان کے درمیان میں کچھ ایسے لوگ بھی اگرچہ موجود ہیں جو اسلام کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات سے آگاہ ہیں اور ان کے شافی جوابات کی تلاش میں کوشاں ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ ابھی تک ان کی کاوشیں بہت ابتدائی مراحل میں ہیں۔ اس وجہ سے مجموعی صورت حال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔
غیر مسلم دنیا میں اسلام کے بارے میں سوالات اور شکوک وشبہات تو پہلے بھی موجود تھے مگر ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد یہ بہت نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ ان میں اسلامی شریعت کے حوالے سے بعض سوالات بہت نمایاں ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے؟ کیا دنیا پر حکمرانی کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے؟ کیا اسلام میں رائے کی آزادی نہیں ہے؟ کیا اسلام چھوڑنے کی سزا موت ہے؟ کیا اسلام دہشت وبربریت کی اجازت دیتا ہے؟ کیا انسان صرف اس لیے موت کے حق دار ہو سکتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں؟ ان کے علاوہ جرائم کی سزائیں، معاشرے میں خواتین کا کردار، نظم سیاست، نظم معیشت اور فنون لطیفہ وغیرہ کے بارے میں بھی بے شمار سوالات ہیں جو آج کل دنیا بھر میں اسلام کے حوالے سے زیر بحث ہیں۔ صاحب مضمون نے بالکل ٹھیک توجہ دلائی ہے کہ اگر ان سوالات کا جواب نہیں دیا گیا اور اس کے برعکس وہی رویہ اختیار کیا گیا جو اب تک ہمارے علما کی اکثریت نے ظاہر کیا ہے تو پھر مسلمانوں کی ترقی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
مضمون کے بنیادی مقدمات سے پوری طرح اتفاق کے ساتھ اجتہاد کے مفہوم کے بارے میں ہم فاضل مصنف کی بات میں بعض اضافوں کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارا احساس یہ ہے کہ ان کی تحریر سے کم وبیش اسی تقریر کا تاثر ہوتا ہے جو موجودہ زمانے میں ہمارے اکثر دانش ور کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ تقریر یہ ہے کہ علماے امت صدیوں سے تقلید کے طریقے پر گام زن ہیں۔ وہ ماضی بعید کے اہل علم کی تحقیقات اور آرا ہی کو حرف آخر سمجھتے اور قرآن وسنت پر ازسرنو غور کرنے کے خلاف ہیں مگر موجودہ زمانے میں تمدن کے ارتقا نے جو مسائل پیدا کر دیے ہیں، وہ ان سے صرف نظر کرتے ہوئے قدیم علما ہی کی دینی توضیحات کو اختیار کرنے پر مصر ہیں۔ چنانچہ اس امر کی ضرورت ہے کہ اجتہاد کے بند دروازے کو کھولا جائے اور اہل علم دور جدید کے تقاضوں کے پیش نظر قرآن وسنت کے احکام کی تعبیر وتشریح کریں۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں:
’’جہاں تک اسلام کی عمرانی تعلیمات کا تعلق ہے، ان کے نئے نئے مفہوم اور مطالب اس میدان میں عصری ترقیوں کی روشنی میں واضح ہو سکتے ہیں۔ اب کوئی طبقہ زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق گزشتہ تیرہ چودہ سو سال میں سامنے آنے والی تشریحات اور مفاہیم کی لفظ بہ لفظ پیروی پر اصرار شروع کر دے تو وہ اپنے لیے اور ملت کے لیے لامحالہ طرح طرح کی مشکلات اور کجیاں پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد کی ضرورت کس قدر شدیدہے۔ اس کے بغیر ایک قدم آگے نہیں چلا جا سکتا۔‘‘ (روزنامہ جنگ ۲۳ جون ۲۰۰۲ء)
اس تصور کے تناظر میں یہ سوالات عام طور پر ذہن میں پیدا ہوتے ہیں کہ کیا قرآن وسنت کے احکام میں مرور زمانہ کے ساتھ ترمیم وتغیر ہو سکتا ہے؟ کیا ان معاملات میں بھی اجتہاد ہو سکتا ہے جن میں قرآن وسنت نے نہایت واضح احکام دیے ہیں؟ کیا قرآن وسنت کی شرح ووضاحت کے بارے میں ہم علما کی تحقیقات کو اجتہاد ہی سے تعبیر کریں گے؟ ان سوالات کے حوالے سے یہ مناسب ہے کہ یہاں مختصر طور پر ’اجتہاد‘ کا مفہوم اور اس کا دائرۂ کار بیان کر دیا جائے۔
’اجتہاد‘ کا لغوی مفہوم کسی کام کو پوری سعی وجہد کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اس کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ جس معاملے میں قرآن وسنت خاموش ہیں، اس میں نہایت غورخوض کر کے دین کے منشا کو پانے کی جدوجہد کی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سے منسوب روایات کی روشنی میں اجتہاد کا دائرۂ کار حسب ذیل نکات کی صورت میں متعین کیا جا سکتا ہے:
۱۔ اجتہاد کا تعلق انہی معاملات سے ہے جو کسی نہ کسی پہلو سے دین وشریعت سے متعلق ہیں۔
۲۔ انسانوں کو انفرادی یا اجتماعی حوالے سے جب بھی قانون سازی کی ضرورت پیش آئے تو انہیں چاہیے کہ وہ سب سے پہلے قرآن وسنت کی طرف رجوع کریں۔
۳۔ جن معاملات میں قرآن وسنت کی رہنمائی موجود ہے، ان میں قرآن وسنت کی پیروی لازم ہے۔
۴۔ جن معاملات میں قرآن وسنت خاموش ہیں، ان میں انسانوں کو چاہیے کہ اپنی عقل وبصیرت کو استعمال کرتے ہوئے آرا قائم کریں۔
ان نکات کی بنا پر یہ بات بطور اصول بیان کی جا سکتی ہے کہ شریعت محل اجتہاد نہیں ہے بلکہ محل اتباع ہے۔ محل اجتہاد صرف وہی امور ہیں جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے۔ چنانچہ اجتہادی قانون سازی کرتے ہوئے، مثال کے طور پر عبادات کے باب میں، یہ قانون نہیں بنایا جا سکتا کہ تمدن کی تبدیلی کی وجہ سے اب نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھی جائے گی؛ معیشت کے دائرے میں یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ اب زکوٰۃ ڈھائی فیصد سے زیادہ ہوگی؛ سزاؤں کے ضمن میں یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ قتل کے بدلے میں قتل کے بجائے عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ گویا شریعت کے دائرے میں علما اور محققین کا کام صرف اور صرف یہی ہے کہ احکام کے مفہوم ومدعا کو اپنے علم واستدلال کے ذریعے سے متعین کرنے کی کوشش کریں۔ اس میں ان کے لیے کسی تغیر وتبدیل کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ البتہ جس دائرے میں شریعت خاموش ہے، اس میں وہ دین ومذہب، تہذیب وتمدن اور عرف ورواج کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر طرح کی قانون سازی کر سکتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں جن معاملات کے حوالے سے اجتہاد کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے، ان میں خواتین کا پردہ، فنون لطیفہ اور اسلامی سزائیں بہت نمایاں ہیں۔ یہ اور اس نوعیت کے معاملات میں اصل بات وہی ہے جسے ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ یعنی قرآن وسنت کے احکام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، البتہ جہاں وہ خاموش ہیں، وہاں اپنی رائے سے اجتہاد کیا جا سکے گا۔
خواتین کے حجاب کے بارے میں قرآن وسنت خاموش نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ہم اس باب میں اجتہاد نہیں کریں گے بلکہ قرآن وسنت کے منشا کو جاننے کی کوشش کریں گے۔ اس کوشش کے نتیجے میں کوئی صاحب علم اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ چہرے کا پردہ لازم ہے اور کوئی دوسرا عالم یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ چہرے کا پردہ لازم نہیں ہے۔ ہمیں انفرادی یا اجتماعی سطح پر جس رائے کے دلائل زیادہ قوی معلوم ہوں، اسے اختیار کر لینا چاہیے۔
فنون لطیفہ میں مثلاً تصویر اور موسیقی کے جواز یا عدم جواز کے معاملے میں بھی اجتہاد نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ان معاملات میں دین خاموش نہیں ہے۔ یہ تحقیق کی جائے گی کہ اس بارے میں دین کیا چاہتا ہے۔ اگر دین ہمارے لیے ان چیزوں کو منع کرنا چاہتا ہے تو پھر کسی اجتہاد کے ذریعے سے ان کے جواز کا راستہ نہیں کھولا جا سکتا۔ اور اگر دین نے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی تو ہم اپنے طور پر انہیں ناجائز قرار نہیں دے سکتے۔
اسلامی حدود وتعزیرات میں جرائم کی جو سزائیں اللہ اور اس کے رسول نے عمومی طور پر متعین کر دی ہیں، وہ ہمارے لیے واجب الاتباع ہیں۔ ہم ان میں کوئی ترمیم وتغیر نہیں کر سکتے۔ البتہ اگر کوئی ایسا جرم سامنے آتا ہے جس کی سزا کے بارے میں کوئی ہدایت ہم قرآن وسنت میں تلاش نہیں کر پائے تو اس کے متعلق اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔
اس باب میں جس طرز عمل کی اصلاح کی ضرورت ہے، وہ مخصوص علماے سابقین کی تحقیقات یا اجتہادات پر عمل درآمد کے لیے اصرار ہے۔ اس طرح کی کوئی پابندی اسلام نے عائد نہیں کی۔ اس نے ہر زمانے کے ہر شخص کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ تحقیق واجتہاد کی صلاحیت بہم پہنچانے کے بعد دینی احکام کے حوالے سے اپنی آرا پیش کرے اور ان کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرے۔
(ماہنامہ اشراق، اگست ۲۰۰۲ء)

ٹیپو سلطانؒ، اقبالؒ اور عصر حاضر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

تاریخ کے جدید دور میں یورپی سیاست کو عالمی سیاست کی اہمیت حاصل رہی ہے۔ برطانیہ سے امریکہ کی آزادی، انقلاب فرانس اور نپولین کے عروج نے توازن طاقت انگریزوں کے خلاف کر دیا تھا۔ زار روس سلطنت عثمانیہ پر قبضہ کر کے بحیرۂ روم تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مصر میں نپولین کی کام یابی نے برصغیر کے انگریزوں کو خطرے کا قوی احساس دلا دیا تھا۔ انہی دنوں والی کابل زمان شاہ کے ارادے بھی شمالی ہند کے لیے پریشان کن تھے۔ انگریز افسر ہر اس حکمران سے نفرت کرتے تھے جو ان کے سیاسی مستقبل اور اقتدار کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہو۔ ان کی یہ نفرت ٹیپو سلطانؒ کے بارے میں انتہائی شدید تھی۔
’’تاریخ ٹیپو سلطان‘‘ کا مصنف محب الحسن رقم طراز ہے:
’’لارڈ کارنوالس جب گورنر جنرل بن کر برصغیر آیا تو بین الاقوامی سیاست میں تجربہ کی روشنی میں اس نے انگلینڈ اور فرانس کی رقابت میں برصغیر کی اہمیت کا صحیح اندازہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر برصغیر میں برطانوی اقتدار قائم کرنا ہے تو جلد یا بدیر ’’ٹیپو‘‘ سے ضرور لڑنا ہوگا۔‘‘ (ص ۱۴۸)
کیمبرج ہسٹری آف انڈیا کے مطابق:
’’ٹیپو سلطان کے بارے میں انگریز کمپنی کی پالیسی یکساں وجامد نہیں رہی۔ ابتدا میں یہ کوشش تھی کہ ٹیپو کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ کمپنی کے لیے خطرہ نہ رہے۔ بعد میں یہی پالیسی اس کے مکمل استحصال میں تبدیل کر دی گئی۔‘‘(ج ۵ ص ۳۳۷)
انگریزوں کے ان رجحانات میں ٹیپو سلطان کی بد قسمتی کو صرف یہ دخل تھا کہ اٹھارہویں صدی میں وہ واحد ہندوستانی حکمران تھا جس نے انگریز استعماریت کو چیلنج کیا اور جذبہ آزادی کو اپنی زندگی کا واحد نصب العین بنا لیا۔ سلطان، اسلام اور آزادی کو دو الگ الگ چیزیں نہیں سمجھتا تھا۔ اس کے نزدیک اسلام کو سربلند کرنے یا آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے جہاد بالکفار لازمی شے تھا۔ اس نے ’’فتح المجاہدین‘‘ میں تفصیل سے مسائل جہاد بیان کیے ہیں۔ ۱۷۸۶ء میں اس نے جو اعلان جہاد کیا، ا س سے اس کے جذبہ ایمانی کا پوری طرح اظہار ہوتا ہے۔ یہ اعلان ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:
’’ختم پیغمبران ﷺ کے وقت مسلمانوں کو جو احکام دیے گئے تھے، انہوں نے ان احکام کو بھلا دیا جس کی وجہ سے ان پر زوا ل آ گیا۔ اس وقت خدا کے فضل وکرم سے ہم ان احکام کو اپنے دستخط اور مہر سے مسلمانوں کی آگاہی کے لیے دوبارہ جاری کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے ہدایت پائیں۔‘‘ (بحوالہ ’’صحیفہ ٹیپو سلطان‘‘ حصہ دوم، ص ۱۴۱ از محمود بنگلوری)
سلطان کی اپنی زندگی اسلامی رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ ’’تاریخ سلطنت خداداد‘‘ کا مصنف رقم طراز ہے کہ سلطان اس قدر کامل الحیا تھا کہ سوائے اس کے پیر کے ٹخنوں اور کلائیوں کے اس کے جسم کو کبھی کسی نے برہنہ نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ حمام میں بھی وہ اپنے تما م جسم کو چھپائے رکھتا۔ (ص ۵۰۵) حضرت عثمان غنیؓ کے بعد اس اعتبار سے دنیا میں سلطان کی حیرت انگیز مثال ہے۔
ٹیپو سلطان مجاہد تھا۔ وہ مجاہدکی طرح لڑا۔ اس کی جدتیں مفید تھیں لیکن محمد بن تغلق کی طرح اس کے خلاف پڑیں۔ سرجادوناتھ سرکار نے اگر یہ کہا ہے کہ ’’ٹیپو سلطان اپنے زمانے سے بہت پہلے پیدا ہو چکا تھا‘‘ تو کیا غلط کہا ہے۔ سلطان کے دوستوں اور حامیوں میں جذبہ تو موجود تھا لیکن انگریزوں کی مانند قومی تصور نہیں تھا۔ سلطان کے وکیلوں اور مشیروں کو انفرادی مفادات کا لالچ دے کر خریدا جا سکتا تھا۔ سلطان کی شہادت صرف اسلامی جاہ وجلال کی موت نہ تھی بلکہ یہ ہندوستان کی غیرت اور خود داری کی موت تھی۔ جنرل ہیرس سلطان کی لاش دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھا تھا کہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔‘‘
’’سلطنت خداداد‘‘ کے مطابق ایک امریکی مورخ برڈز اوڈ کلف نے سلطان کی شہادت کے ۲۴ برس بعد مشہد سلطان پر بیٹھ کر کچھ ایسے تاثرات ظاہر کیے تھے:
’’اے آسمانی جہاد کے ستارے! تو غروب ہو گیا لیکن ان ذلیل انسانوں کی طرح نہیں کہ جو مغرور اور سربلند دشمنوں کے سامنے معافی اور جاں بخشی کے لیے خاک مذمت پر سربسجود ہوئے۔ ..... تو شہنشاہی کی زندگی ٹھکرا کر شیر کی طرح میدان میں کود پڑا اور سپاہی کی طرح مر گیا۔ ...... موت بہتر ہے کہ ایسی رسوا کن زندگی سے جو سالہا سال کے اندوہ وانفعال کی سرمایہ دار ہو۔‘‘ (ص ۶۳۰) 
مسلمان حکمرانوں پر یہ الزام عموماً لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کے مندروں کو منہدم کیا اور غیر مسلموں کے ساتھ وحشیانہ سلوک روا رکھا۔ یہ ایک بہتان عظم ہے اور ٹیپو سطان کے بارے میں بالکل بے بنیاد ہے۔ گاندھی کے مضمون سے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے۔ گاندھی نے یہ مضمون اپنے اخبار ’’ینگ انڈیا‘‘ میں شائع کیا تھا۔ ایم عبد اللہ کی مرتب کی ہوئی کتاب ’’ٹیپو سلطان‘‘ کے صفحہ ۴۶ سے یہ اقتباس درج ذیل ہے:
’’میسور کا بادشاہ فتح علی ٹیپو شہید غیر ملکی مورخوں کی نظر میں ایک ایسا مسلمان تھا جس نے اپنے رعایا کو زبردستی مسلمان بنایا لیکن یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں سے اس کے تعلقات نہایت ہی دوستانہ تھے۔ اس کے کارنامہ زندگی کی یاد، دل کے اندر خوشی اور مسرت کی ایک لہر پیدا کر دیتی ہے۔ اس عظیم المرتبت سلطان کا وزیر اعظم ایک ہندو تھا اور ہمیں نہایت ندامت کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس نے فدائے آزادی کو دھوکہ دے کر دشمنوں کے حوالے کر دیا۔‘‘
ڈاکٹر بی اے سالیتور بھی اس سلسلے میں بیان کرتا ہے کہ:
’’ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کوئی شہنشاہ ایسا نہیں گزرا جس نے اپنے اور اپنی رعایا کے مفاد کو ایک جانا ہو جیسے ٹیپو سلطان نے سمجھا تھا اور اس کے سارے خطوط جو سرین گری گرو کے نام بھیجے گئے ہیں، وہ بھی انہی جذبات کے آئینہ دار ہیں۔‘‘ (بحوالہ میڈیول انڈیا کوارٹرلی، علی گڑھ، اکتوبر ۱۹۵۰ء)
ٹیپو سلطان نے اگرچہ مذہب کے معاملے میں اسلامی رواداری کا مظاہرہ کیا تھا لیکن انگریز مورخین نے ان امور کی ایسی توجیہ کی جس سے ان کی بد نیتی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسمتھ لکھتا ہے :
’’ٹیپو سلطان کٹڑ مسلمان ہونے کے باوجود عالم خوف وہراس میں برہمنوں کی دیوی دیوتاؤں سے بغرض استمداد رجوع کیا کرتا تھا اور ان کے مندروں اور عبادت گاہوں کے لیے تحفے تحائف بھیجتا تھا۔‘‘ (بحوالہ ونسنٹ اسمتھ، آکسفرڈ ہسٹری آف انڈیا، ص ۵۸۵)
لیکن جہاں مورخ اپنے فرائض کی انجام دہی سے تھک جاتا ہے، حقائق سے چشم پوشی کو حقیقت بیان قرار دینے لگتا ہے اور واقعات کی درست اور غیر جانب دارانہ ترتیب وتزئین سے عاجز آجاتا ہے، وہاں انسا ن کا ’’شاعرانہ احساس‘‘ جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ اسی دور ظلمت اور اندھیر نگری میں اپنے فکر وتخیل سے حقائق کی ایسی تصویر کھینچتا ہے جس سے ایک طرف تو حق سامنے آجاتا ہے اور دوسری طرف دنیا اور عالم انسانیت جوروستم اور مکروفریب کے مکروہ چہرے سے خوب واقف ہو جاتی ہے۔ ہاں ، اپنے ہی احساس تلے شاعر، مورخ کا کام بھی سرانجام دیتا ہے، قوم کی ہمت بڑھاتا ہے، راہنمائی کرتا ہے،آباؤ اجداد کے کارناموں سے اور کبھی عظمت ماضی کے تذکروں سے غیرت دلاتا ہے۔ اقبال ایسا ہی عظیم انسان تھا۔ وہ محض فلسفی شاعر نہیں تھا اور نہ صرف شاعر فلسفی تھا بلکہ مورخ شاعر بھی تھا۔ اقبال کی شاعری اس ’’تاریخی شعور‘‘ کا شاخسانہ ہے جس کی جڑیں مسلم تاریخ میں پیوست ہیں اور جس کے ڈانڈے اسلام کی ’’تعبیر نو‘‘ سے جا ملتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں ٹیپو شہید کی شمشیر کا نعم البدل اقبال کے قلم کی صورت میں رونما ہوا۔ ڈاکٹر اقبال نے ’’آزادی‘‘ پر نہایت شرح وبسط سے اظہار خیال فرمایا۔ اقبال کے نزدیک آزادی ہی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ آزادی میں زندگی ’’بحر بیکراں‘‘ بن جاتی ہے اور غلامی میں متاع بے بہا سمٹ کر ’’جوئے کم آب‘‘ رہ جاتی ہے۔
برصغیر میں انگریزوں کے خلاف ٹیپو سلطان کی ناکامی کے ضمن میں ذکر ہوا تھا کہ ہندوستان میں انگریز کی مانند ’’قومی تصور‘‘ موجود نہیں تھا جس کی بنا پر ٹیپو کے رفقا کو لالچ دے کر خریدا جا سکتا تھا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد اقبال کے عہد تک ہندوستان میں ’’قومیت‘‘ ابھرنا شروع ہو گئی تھی۔ اقبال نے اپنے ابتدائی سالوں میں ’’وطنی قومیت‘‘ کا ہی پرچار کیا مگر مطالعہ اور دنیا پر تنقیدی نظر ڈالنے کے بعد وہ اس قسم کی قومیت کے خلاف ہو گئے۔ اقبال وطن سے محبت کے خلاف نہیں بلکہ وطن کی ایسی پرستش کے خلاف ہیں جو جذبہ ملت اور انسانیت کے تقاضوں سے ٹکرا جائے۔ انہوں نے وطن سے محبت کو بہت سراہا ہے۔ نہایت مقامی اور ابتدائی وطن کشمیر کو سراہا، پھر پنجاب کے ساتھ محبت کا اظہار کیا اور پھر ہندوستان کی وسیع تر مقامیت سے وابستگی بھی قائم رکھی۔ ’ساقی نامہ‘، ’کشمیر‘، ’محراب گل‘، ’افغان کے افکار‘، ’روح ہندوستان کی فریاد‘ وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ 
اگر ہم فکر اقبال کا بغور مطالعہ کریں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ ٹیپو سلطان اور اکیسویں صدی میں احیاء اسلام کی تحریکات کے مابین ’’بنیادی واسطہ‘‘ ہوں۔ ٹیپو کی شکست کی بنیادی وجہ جذبہ قومیت کی کمی تھی۔ اکیسویں صدی میں اگر مسلم دنیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ ’’جذبہ ملت‘‘ کی کمی ہوگی۔ فکر اقبال وطن سے فطری محبت کو نبھاتی ہوئی ملت کے دھارے میں گم ہوتی نظر آتی ہے۔ جدید عہد کی متوقع عالم گیریت (Globalization) کو بھانپتے ہوئے مقامیت کے اثبات کے ساتھ اقبال نہایت شدومد کے ساتھ اسلام کے تصور ملت کی بات کرتے ہیں:
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
اٹھارہویں صدی کی عالمی سیاست کے تناظر میں برطانیہ اور فرانس کی باہمی کشمکش کو دیکھتے ہوئے ٹیپو سلطان نے بھی نپولین سے رابطہ قائم کیا تھا کیونکہ وطنی قومیت کے سبب یہ دونوں ممالک ’’رقیب‘‘ بنے ہوئے تھے۔ یہ رقابت اکیسویں صدی میں یورپی یونین کی شکل میں ’’رفاقت‘‘ بن چکی ہے۔ اہل مغرب کا وطنی تصور قومیت بے محابا پھیلاؤ (Proliferation) کا شکار ہو چکا ہے۔ ایسے معروضی حالات میں مسلم دنیا کو بھی ’’وحدت‘‘ کا حامل ہونا پڑے گا۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر جب مسلم ممالک اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کے انداز واطوار اس قسم کے ہوتے ہیں جیسے گول دائرے میں پچاس ساٹھ اشخاص کھڑے ہوں اور ان کی پیٹھیں دائرے کے ’’مرکز ‘‘ کی جانب ہوں اور چہرے اپنے اپنے رخ پر۔ 
خیال رہے، ریاست میسور اور طالبان کے افغانستان میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ سلطان فتح علی ٹیپو کی مانند ملاعمر نے ہی’’مزاحمت‘‘کی جرات کی ہے، باقی مسلم دنیا تماشائی بنی رہی۔ ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے اعلان کیا تھا کہ حیدر علی اور ٹیپو غاصب تھے، ان کے ’’ظلم‘‘ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ایسا ہی خاتمہ طالبان کے افغانستان میں کیا گیا ہے۔ ٹیپو اور ملا عمر دونوں کی سفارت کاری ناکام رہی۔
اکیسویں صدی میں ہماری پالیسیاں اور سوچ اٹھارہویں صدی والی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں، تیرہویں چودھویں صدی والی تھیں۔ فکری اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے دو سو سال (۱۷۹۹ء۔۲۰۰۱ء) کے عرصے میں مسلم دنیا کا مزاحمتی گروہ اہل مغرب کو شکست نہیں دے سکا۔ 
اگر آج ہم زمانے کے ساتھ نہ چلے تو عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے۔ ایسے ممکنہ انجام سے بچاؤ کے لیے ہی اقبال نے ’’افکار تازہ‘‘ پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی نظام یا فکر آخر کار Point of saturation پر پہنچ کر بے بس ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی نظام اور فکر اس نقطہ پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو اسلامی نظریہ ناقص، محدود اور وقتی معلوم ہوتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلامی نظریے کی بنیاد الٰہیاتی ہے۔ اس نظریے کا دعویٰ ہے کہ یہ وقتی اور مقامی نہیں ہے بلکہ آفاقی اور ہر زمانے پر محیط ہے۔ اسلامی نظریہ اپنی حقیقی صورت میں کبھی Point of saturation سے دوچار نہیں ہو سکتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کی حقیقی صورت قائم نہیں رہنے دی۔ فکر اقبال ہمیں اسلامی نظریے کی حقیقی صورت سے روشناس کراتی ہے۔ اسلامی نظریے میں موجود ’’اجتہاد‘‘ کا عنصر مسلسل نمو اور تازگی کا باعث بنتا ہے جس سے Point of saturation کبھی قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ اقبال کے اشعار اور ان کا چھٹا خطبہ صراحت سے اجتہاد کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ اس عالم گیریت کے عہد میں بھی اسلام کے آفاقی اور عالمی پروگرام کے باوجود، مسلم دنیا اجتہاد سے محترز ہونے کے باعث ’’مقامیت‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے۔ ہمیں کوئی نیا سوشل آرڈر بنانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف اتنا کرنا ہے کہ عصر حاضر اور اس کے مسائل کو جرات مندی سے address کریں۔ صرف اس عمل سے ہی اجتہاد کے شجر پر نئی کونپلیں پھوٹ نکلیں گی اور اسلامی نظریے کا یہ عنصر اپنے ثمرات سے لدا پھدا پوری دنیا اور عالم انسانیت کو دعوت عیش دے گا۔ بقول اقبال:
مشرق سے ہو بے زار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
آج صورت احوال یہ ہے کہ ہم فطرت کے اشارے سمجھنے سے قاصر ہیں اور سحر کو شب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسلامی نظریے کی آبیاری کے بجائے اس کی ’’جڑوں‘‘ پر ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ مسلم دنیا کا مقتدر طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔ پاکستان کی مثال سامنے ہے۔ آئین کی بالادستی کے نئے طریقے ڈھونڈنے کے بجائے آئین کو گھر کی لونڈی بنا لیا گیا ہے حالانکہ اسلامی نظریے کے بنیادی، اٹل اور قطعی اصولوں میں سے ایک اصول ’’قانون کی بالادستی‘‘ ہے:
تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
’’نظریہ ضرورت‘‘ کا تسلسل سے وارد ہو کر ’’اصول‘‘ بن جانا ظاہر کرتا ہے کہ ناخوب، خوب ہو چکا ہے۔ قوم واقعتا غلام ہے، اس کا ضمیر بدل چکا ہے۔ شیر کی طرح آزاد زندگی گزارنے والا ٹیپو سلطان شہید تھا کہ آزاد ہونے کے ناطے اسلامی نظریے کو اچھی طرح جاننے کے سبب خود کو ’’شہری‘‘ کہلوانے پر فخر محسوس کرتا تھا۔ اس کے نام کے سات ’’سلطان‘‘ کوئی ایسا لقب نہیں تھا جو اس نے بعد میں اختیار کیا ہو، بلکہ یہ اس کے نام کا ایک حصہ تھا۔ محققین کے مطابق ٹیپو سلطان نے بعض دستاویزات پر ’’شہری ٹیپو‘‘ کے نام سے دستخط کیے تھے۔
ٹیپو کی حریت پسندی اور فکر اقبال کی اجتہادی جہت اپنے تسلسل کے ضمن میں ہم سے چند سوالات کرتے ہیں:
۱۔ کیا مسلمان حقیقتاً آزاد ہیں؟
۲۔ کیامسلم حکمران ’’شہری‘‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں اور قانون کے تابع ہیں؟
۳۔ کیا قومی جذبے کے ساتھ ساتھ ملی جذبہ بھی پروان چڑھ رہا ہے؟
۴۔ کیا اجتہاد کا دھارا اسلامی نظریے کی آب یاری کر رہا ہے؟
اگر نہیں تو ہمیں نہایت سرگرمی سے فکری اور عملی دونوں محاذوں پر کام شروع کر دینا چاہیے۔ اگر اب بھی ہم نے سستی، کاہلی دکھائی اور جمود کا شکار رہے تو نشان عبرت بن جائیں گے۔

گلوبلائزیشن اور مذہب کا کردار

چندرا مظفر

متحد انسانیت کا سبق سب سے پہلے مذہب نے ہی سکھایا تھا۔ تاہم جوں جوں گلوبلائزیشن کا رجحان انسانیت کو ایک ایسی دنیا کی طرف دھکیل رہا ہے جس میں (اقوام عالم کا) باہمی انحصار ایک نمایاں خصوصیت ہوگی‘ توں توں (اتحاد انسانیت کا تصور دینے والے) مذہب کی آواز اور نقطہ نگاہ لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔
گلوبلائزیشن کے موجودہ رجحان کے فروغ میں اتحاد انسانیت کے مذہبی تصور کا کوئی کردار نہیں۔ اس کے محرکات اور مقاصد (اصلاً معاشی ہیں ) اور ان کی جڑیں اس تدریجی عمل میں پیوست ہیں جس کے ذریعے سے سرمایہ‘ اشیا‘ خدمات اور بعض اوقات محنت (دنیا کے ممالک کی) قومی سرحدوں کے پابند ہوئے بغیر بین الاقوامی سطح پر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تصورات‘ اذواق اور اقدار کی ایک (نئی) لہر بھی دنیا کی موجودہ شکل کو تبدیل کر کے ایک ایسی دنیا کو وجود میں لانے میں مدد دے رہی ہے جس میں آخر کار ایک ہی عالمی نظام کا رواج اور ایک ہی عالمی وحدت کا وجود ہوگا۔

’گلوبلائزیشن‘ کیا ہے؟

’گلوبلائزیشن‘ کا مطلب ہے مکمل معاشی آزادی یعنی عالمی سطح پر تجارت کے لیے راستے ہموار کرنا ۔ کثیر قومی تجارتی ادارے اس رجحان کے فروغ میں پیش پیش ہیں۔ حکومتیں ایسا ماحول پیدا کررہی ہیں جو ان اداروں کے کاروبار کی ترقی میں ہر ممکن حد تک معاون ہو۔ APEC‘ GATT اور WTOجیسے علاقائی اتحاد بھی اسی مقصد کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بڑے تجارتی اداروں‘ حکومتوں اور علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے مابین گلوبلائزیشن کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنے کے لیے اتحاد کا پیدا ہوجانا کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اس کی تاریخی بنیادیں استعماریت میں پیوست ہیں‘ اسی لیے (گلوبلائزیشن کے عمل میں) غالب قوتوں کے مراکز مغرب میں ہیں۔تاہم گلوبلائزیشن کے موجودہ رجحان کو مغرب کے استعماری تجربے کا اعادہ قرار دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ طاقت کے مراکز میں سے ایک جاپان بھی ہے۔ اسی طرح شمال مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں طاقت کے دوسرے مراکز بھی ابھر رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں گلوبلائزیشن کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس کے تحت سرمایہ‘ اشیا اور اذواق کا منبع (دنیا میں) چند متعین مراکز ہوں گے جہاں سے وہ باقی دنیا کی طرف سفر کریں گے کیونکہ (عالمی صورت حال پر اثر انداز ہونے والے) فیصلوں کے چند مراکز اگر مغرب میں ہیں‘ تو باقی دنیا میں بھی ایسے مراکز موجود ہیں جو خود مغرب کی صورت حال کو نیز مختلف سطحوں پر باقی دنیا کی صورت حال کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گلوبلائزیشن کے مثبت پہلو

۱۔ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI) نے روزگار پیدا کر کے اور آمدنی کو بڑھا کر غربت کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
۲۔ تجارت اور بیرونی سرمایہ کاری کے پھیلاؤ نے سماجی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے عمل کو تیز تر کر دیا اور درمیانے طبقے کو مضبوط کیا ہے۔
۳۔ ذرائع ابلاغ اور نئی انفرمیشن ٹیکنالوجی نے علم وہنر کے مختلف دائروں میں علم پھیلانے میں مدد دی ہے۔
۴۔ ابلاغ سستا اور آسان ہو گیا ہے۔ ٹیلی فون اور سفر کے اخراجات کم سے کم تر ہو رہے ہیں۔
۵۔ اس صورت حال میں (مختلف طبقات اور معاشروں کے لیے) ایک دوسرے کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔ معاشرے اور سماجی طبقات جڑ اور بنیاد کے لحاظ سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں‘ باہمی تفاہم کے وسائل وذرائع میں اضافے کے باعث اب پہلے کی بہ نسبت زیادہ باہمی تعاون کے ماحول میں رہ سکتے ہیں۔
۶۔ گلوبلائزیشن نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان دوسرے انسانوں پر آنے والی قدرتی یا انسان کی پیدا کردہ آفات کے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور ترحم کا عملی اظہار کر سکیں۔
۷۔ انسانی حقوق اور عوامی احتساب کے معاملات اب بنیادی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
۸۔ عورتوں کے حقوق کا مسئلہ نمایاں ہو گیا ہے اور اکثر عورتوں کو درپیش مسائل پر اب توجہ دی جانے لگی ہے۔
۹۔ یہ تمام مظاہر مذہبی تعلیمات کے لیے سازگار اور معاون ہیں۔

گلوبلائزیشن کے منفی پہلو

۱۔ کثیر قومی تجارتی اداروں کی‘ جن کا واحد مقصد منافع کمانا ہے‘ بلا حدود وقیود سرگرمیوں نے ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔
۲۔ اگرچہ غربت کسی حد تک کم ہو گئی ہے‘ لیکن نئی معاشی ناہمواریاں پیدا ہو گئی ہیں۔ غربت کے حوالے سے مختلف خطوں کے مابین پائی جانے والی عدم مساوات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔
۳۔ زیادہ منافع کے حصول کی خاطر زندگی کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ جنوب کے بہت سے ممالک ایسی صنعتوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں فراہم کرنے میں مصروف ہیں جو بیرونی منڈیوں کے لیے تو بہت نفع بخش ہیں لیکن ان میں (مقامی) لوگوں کی نہایت بنیادی ضروریات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
۴۔ گلوبلائزیشن سرمایہ کی بین الممالک منتقلی پر مقامی حکومتوں کا کنٹرول ختم کرنے میں معاون ہے۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سرمایے کی اچانک اور ڈرامائی منتقلی (مقامی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور) بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا کی بعض کرنسیوں کو تو اس نے تباہ کر کے رکھ دیا ۔
۵۔ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی ہو رہی ہے (جس نے آغاز ہی سے انسانوں کے لیے بے روزگاری کا مسئلہ پیدا کیا ہے)۔ اس صورت حال میں مزید قباحت یوں پیدا ہوئی ہے کہ سرمایہ (بہت بڑے پیمانے پر) جنوب کے ان خطوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے جہاں پیداوار پر کم لاگت آتی ہے۔ اس چیز نے شمال کے خطوں میں بے روزگاری کو بڑھا دیا ہے جو کہ انسانی خودداری اور وقار کے خلاف ایک جرم ہے۔
۶۔ گلوبلائزیشن نے دولت کے زیادہ سے زیادہ صرف کے رجحان (Consumer culture)کو بے حد مقبول بنا دیا ہے۔ اس رجحان نے مادیت کو فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی دل چسپی انسانیت کی بنیادی اقدار سے ہٹ کر حب دنیا کی طرف زیادہ مبذول ہو گئی ہے۔
۸۔ صرف دولت کا یہ عالمی رجحان (Global consumerism) اب ایک ایسا عالمی کلچر تشکیل دینے کی طرف مائل ہے جو ایک مخصوص تہذیب اور مخصوص خطے کی پیداوار (homogenous)ہے۔ اس صورت حال میں جنوب کی مقامی ثقافتیں غالب مغربی تہذیب کے بالمقابل اپنی بقا کے سوال سے دوچار ہیں۔
۹۔ عالمی تفریحی صنعت سطحی امریکی پاپ کلچر کو فروغ دے رہی ہے جو ظاہری حواس کے نشے کو تو پورا کر تا لیکن روح کو بالکل مردہ کر دیتا ہے۔
۱۰۔ منظم تعلیمی نظام اب مارکیٹ کی ضروریات کے پیش نظر فنی اور انتظامی مہارتوں پر زیادہ زور دے رہے ہیں اور روایتی علمی مضامین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم محض چند ہنر اور مہارتیں سیکھ لینے کا نام ہے اور اس میں اخلاقی تربیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۱۰۔ اگرچہ انفرمیشن ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے معلومات کے پھیلاؤمیں بے حد تیزی پیدا کردی ہے‘ لیکن ان معلومات کا ایک بڑا حصہ بے فائدہ اور بے کار ہے جو لوگوں کو سطحی اور بے مقصد چیزوں میں مشغول کر رہا ہے۔
۱۱۔ موجودہ دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے دوہرے معیار پائے جاتے ہیں ۔ یہ مسئلہ مغربی حکومتوں کی خارجہ پالیسی کا ایک حصہ ہے لیکن اسی وقت اٹھایا جاتا ہے جب ان کے اپنے مفادات اس سے وابستہ ہوں۔
۱۲۔ گلوبلائزیشن نے ہر قسم کے جرائم کو عالمی سطح پر پھیلا دیا ہے۔
۱۳۔ جرائم کی طرح بیماریاں بھی پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور ان پر قابو پانا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

مقابلے کی حکمت عملی

گلوبلائزیشن کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ اس کی ساری خوبیاں محض اضافی نتائج کی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ اس کا بنیادی محرک یعنی زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول‘ اس کی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ گلوبلائزیشن کو انسانی تہذیب کی بقا اور سالمیت کو درپیش چیلنجوں میں سب سے زیادہ تشویش ناک چیلنج کہا جا سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس چیلنج کا سامنا کیسے کیا جا ئے؟
چونکہ مذہب اور کلچر اپنے اندر مثبت پہلو رکھتے ہیں‘ اس لیے ان کو مکمل طور پر مسترد نہ کرنا بہت اہم ہے۔ قصیر مدتی اور وسط مدتی حکمت عملی کے طور پر بعض معاشی سرگرمیوں میں اخلاقی معیارات کو شامل کرنا چاہیے اور مارکیٹ کو اخلاقی اصولوں کا پابند بنانا چاہیے۔ مسلمان اور دوسرے مذہب کے مفکرین کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ معاشی طور پر قابل عمل ایسی اخلاقی پالیسیاں بنائیں جو مذہبی تعلیمات کے مطابق ہوں اور جنہیں گلوبلائزیشن کے عمل کا حصہ بنایا جا سکے ۔
طویل مدتی حکمت عملی (کے حوالے سے یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ) گلوبلائزیشن کے صرف معاشی پہلو ہی ازسرنو غورکے محتاج نہیں ہیں (بلکہ اس کے لیے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے)۔ ثقافت کے لیے رہنما اصولوں کا کردار ایسی کائناتی اخلاقی قدروں کو کرنا چاہیے جن کے ذریعے سے کسی ثقافت کے اندر موجود پابندئ حدود کی مضبوط اخلاقیات کو رو بہ عمل لاتے ہوئے دوسری ثقافت کے غلبہ کو روکا جا سکے۔ فرد اور سماج کے شعور میں اخلاقی اصولوں کو عالمی سطح پر مستحکم کر دینے میں ہی انسانیت کی واحد امید نجات ہے۔ انٹر نیٹ اور سیٹلائیٹ کے ذریعے سے پھیلنے والی تمام معلومات کو موثر طریقے سے سنسر کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ ایسا فرد جس کے اخلاقی نظام کا ماخذ مذہب ہو، وہی صحیح اور غلط کے صدیوں سے آزمودہ اصولوں کا پابند رہ سکتا ہے۔
الٰہی اخلاقیات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خدا کے ساتھ اپنے تعلق کا گہرا شعور رکھتا ہو۔ ایک خدا شناس معاشرہ نا انصافی کے خلاف لازماً آواز بلند کرتا ہے اور ایسا کرنے میں (افراد معاشرہ کے ذہن میں) اس حقیقت کا گہرا شعور کارفرما ہوتا ہے کہ وہ زمین پر خدا کے نمائندے ہیں۔ اس طرح کے افراد ہی حقیقت میں گلوبلائزیشن کے تمام زہروں کا اصل تریاق ہیں۔
ایسے افراد اور معاشروں کے نمودار ہونے کے لیے ایک عظیم اور سچ مچ کی تبدیلی لازمی ہے۔ یہ ایک طویل مدتی جدوجہد ہوگی تاہم اس کا آغاز ہمارے اپنے مذہب سے ہونا چاہیے۔ (مختلف مذہبی) اشکال‘ رسوم اور علامات کے بجائے انصاف‘ محبت اور ہمدردی کے جذبات کو، جو تمام مذاہب کی تعلیمات کا حصہ ہیں‘ خیر اور اچھائی کا محرک بننا چاہیے۔
مذہب کے لیے یہ ایک بڑی سازگار بات ہے کہ گلوبلائزیشن کے متعدد عناصر نے مذہب کے جامع اور محیط پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کو آسان بنا دیا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم تمام بنی نوع انسان تک اپنے اپنے مذہب کی کائناتی حقیقت کو پہنچا سکیں۔ تو پھر چند تنگ نظر اور تعصب زدہ لوگوں کو ذرائع ابلاغ پر قابض ہونے کا موقع دینے کے بجائے کیوں نہ سب مرد وزن ایک کائناتی زاویہ نگاہ سے عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کریں؟
یک مذہبی معاشروں کی جگہ اب کثیر مذہبی معاشرے نمو پذیر ہیں۔ گویا معاشرتی حقائق ہمیں اس پر مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اپنے محدود رویوں سے نجات حاصل کر کے ایک ایسا کائناتی رخ اختیار کریں جس میں دوسروں کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کیا جائے۔
دنیا کی اقوام کے سامنے غالباً یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ متحد انسانیت پر مبنی ایک عالمی برادری کی تشکیل کی منزل تک پہنچ سکتی ہیں۔ مشہور صوفی جلال الدین رومیؒ نے جب یہ کہا کہ ’’چراغ تو مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کی روشنی ایک جیسی ہوتی ہے‘‘ تو غالباً ان کی مراد یہی تھی۔یہ منزل محض گلوبلائزیشن کے ذریعے سے، (جس کے محرکات سراسر مادی اور اقتصادی ہیں)،حاصل نہیں کی جا سکتی۔
(ترجمہ: عمار ناصر۔ ماخذ: http://www.islamonline.net)

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے دروس قرآن کی اشاعت کا آغاز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز برصغیر پاک وہند وبنگلہ دیش کو فرنگی استعمار سے آزادی دلانے کی جدوجہد میں گرفتار ہو کر مالٹا جزیرے میں تقریباً ساڑھے تین سال نظر بند رہے اور رہائی کے بعد جب دیوبند واپس پہنچے تو انہوں نے اپنے زندگی بھر کے تجربات اور جدوجہد کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے نزدیک مسلمانوں کے ادبار وزوال کے دو بڑے اسباب ہیں۔ ایک قرآن پاک سے دوری اور دوسرا باہمی اختلافات وتنازعات، اس لیے امت مسلمہ کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو عام کیا جائے اور مسلمانوں میں باہمی اتحاد ومفاہمت کو فروغ دینے کے لیے محنت کی جائے۔
حضرت شیخ الہندؒ کا یہ بڑھاپے اور ضعف کا زمانہ تھا اور اس کے بعد جلد ہی وہ دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کے تلامذہ اور خوشہ چینوں نے اس نصیحت کو پلے باندھا اور قرآن کریم کی تعلیمات کو عام مسلمانوں تک پہنچانے کے لیے نئے جذبہ ولگن کے ساتھ مصروف عمل ہو گئے۔ اس سے قبل حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے عظیم المرتبت فرزندوں حضرت شاہ عبد العزیزؒ ، حضرت شاہ عبد القادرؒ اور حضرت شاہ رفیع الدینؒ نے قرآن کریم کے فارسی اور اردو میں تراجم اور تفسیریں لکھ کر اس خطہ کے مسلمانوں کو توجہ دلائی تھی کہ ان کا قرآن کریم کے ساتھ فہم وشعور کا تعلق قائم ہونا ضروری ہے اور اس کے بغیر وہ کفر وضلالت کے حملوں اور گمراہ کن افکار ونظریات کی یلغار سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتے جبکہ حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ اور خوشہ چینوں کی یہ جدوجہد بھی اسی کا تسلسل تھی۔ بالخصوص پنجاب میں بدعات واوہام کے سراب کے پیچھے بھاگتے چلے جانے والے ضعیف العقیدہ مسلمانوں کو خرافات ورسوم کی دلدل سے نکال کر قرآن وسنت کی تعلیمات سے براہ راست روشناس کرانا بڑا کٹھن مرحلہ تھا لیکن اس کے لیے جن ارباب عزیمت نے عزم وہمت سے کام لیا اور کسی مخالفت اور طعن وتشنیع کی پروا کیے بغیر قرآن کریم کو عام لوگوں کی زبان میں ترجمہ وتفسیر کے ساتھ پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا، ان میں امام الموحدین حضرت مولانا حسین علی قدس اللہ سرہ العزیز آف واں بھچراں ضلع میانوالی، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس اللہ سرہ العزیز اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ کے اسماء گرامی سرفہرست ہیں جنہوں نے اس دور میں علاقائی زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر سے عام مسلمانوں کو روشناس کرانے کی مہم شروع کی جب عام سطح پر اس کا تصور بھی موجود نہیں تھا مگر ان ارباب ہمت کے عزم واستقلال کا ثمرہ ہے کہ آج پنجاب کے طول وعرض میں قرآن کریم کے دروس کی محافل کو شمار کرنا بھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔
اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی ذات گرامی بھی ہے جنہوں نے ۱۹۴۳ء میں گکھڑ کی جامع مسجد بوہڑ والی میں صبح نماز کے بعد روزانہ درس قرآن کریم کا آغاز کیا اور جب تک صحت نے اجازت دی، کم وبیش پچپن برس تک اس سلسلہ کو پوری پابندی کے ساتھ جاری رکھا۔ انہیں حدیث میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی سے اور ترجمہ وتفسیر میں امام الموحدین حضرت مولانا حسین علی سے شرف تلمذ واجازت حاصل ہے اور انہی کے اسلوب وطرز پر انہوں نے زندگی بھر اپنے تلامذہ اور خوشہ چینوں کو قرآن وحدیث کے علوم وتعلیمات سے بہرہ ور کرنے کی مسلسل محنت کی ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے درس قرآن کریم کے چار الگ الگ حلقے رہے ہیں۔ ایک درس بالکل عوامی سطح کا تھا جو صبح نماز فجر کے بعد مسجد میں ٹھیٹھ پنجابی زبان میں ہوتا تھا۔ دوسرا حلقہ گورنمنٹ نارمل سکول گکھڑ میں جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے تھا جو سالہا سال جاری رہا۔ تیسرا حلقہ مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں متوسط اور منتہی درجہ کے طلبہ کے لیے ہوتا تھا اور دوسال میں مکمل ہوتا تھا۔ اور چوتھا مدرسہ نصرۃ العلوم میں ۷۶ء کے بعد شعبان اور رمضان کی تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر کی طرز پر تھا جو پچیس برس تک پابندی سے ہوتا رہا اور اس کا دورانیہ تقریباً ڈیڑھ ماہ ہوتا تھا۔ ان چاروں حلقہ ہائے دروس کا اپنا اپنا رنگ تھا اور ہر درس میں مخاطبین کی ذہنی سطح اور فہم کے لحاظ سے قرآنی علوم ومعارف کے موتی ان کے دامن قلب وذہن میں منتقل ہوتے چلے جاتے تھے۔ ان چاروں حلقہ ہائے درس میں جن علماء کرام، طلبہ، جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں اور عام مسلمانوں نے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ سے براہ راست استفادہ کیا ہے، ان کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق چالیس ہزار سے زائد بنتی ہے۔ وذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
ان میں عام لوگوں کے استفادہ کے لیے جامع مسجد گکھڑ والا درس قرآن کریم زیادہ تفصیلی اور عام فہم ہوتا تھا جس کے بارے میں متعدد حضرات نے خواہش کا اظہار کیا اور بعض مرتبہ عملی کوشش کا آغاز بھی ہوا کہ اسے قلم بند کر کے شائع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ درس خالص پنجابی میں ہوتا تھا جو اگرچہ پورے کا پورا ٹیپ ریکارڈر کی مدد سے محفوظ ہو چکا ہے مگر اسے پنجابی سے اردو میں منتقل کرنا سب سے کٹھن مرحلہ ہے اس لیے بہت سی خواہشیں بلکہ کوششیں اس مرحلہ پر آکر دم توڑ گئیں۔
البتہ ہر کام کا قدرت کی طرف سے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس کی سعادت بھی قدرت خداوندی کی طرف سے طے شدہ ہوتی ہے اس لیے تاخیر در تاخیر کے بعد یہ صورت سامنے آئی کہ اب مولانا محمد نواز بلوچ فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم اور برادرم محمد لقمان میر صاحب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود اس کا آغاز بھی کر دیا ہے جس پر دونوں حضرات اور ان کے دیگر سب رفقا نہ صرف حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے تلامذہ اور خوشہ چینوں بلکہ ہمارے پورے خاندان کی طرف سے بھی ہدیہ تشکر وتبریک کے مستحق ہیں۔ خدا کرے کہ وہ اس فرض کفایہ کی سعادت کو تکمیل تک پہنچا سکیں اور ان کی یہ مبارک سعی، قرآنی تعلیمات کے فروغ، حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے افادات کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے اور ان گنت لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور بارگاہ ایزدی میں قبولیت سے سرفراز ہو۔
یہاں ایک امر کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ یہ دروس کی کاپیاں ہیں اور درس وخطاب کا انداز تحریر سے مختلف ہوتا ہے اس لیے بعض جگہ تکرار نظر آئے گا جو درس وبیان کے لوازم میں سے ہے لہٰذا قارئین سے گزارش ہے کہ اس کو ملحوظ رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ان دروس کو ریکارڈنگ کے ذریعے سے محفوظ کرنے میں محمد اقبال آف دبئی اور محمد سرور منہاس آف گکھڑ کی مسلسل محنت کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنہوں نے اس عظیم علمی ذخیرہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے سالہا سال تک پابندی کے ساتھ خدمت سرانجام دی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزاے خیر سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔

محمد بن اسحاق المطلبیؒ ۔ شخصیت اور کردار کا علمی جائزہ

مولانا مفتی فدا محمد

محمد بن اسحاق رحمہ اللہ اسلامی لٹریچر میں اولین سیرت نگار ہونے کے لحاظ سے ایک ممتاز شخصیت کے مالک ہیں، لیکن ان کی ثقاہت کے بارے میں محدثین کے ہاں جتنا اختلاف پایا جاتا ہے، اتنا اختلاف شاید ہی کسی اور کے بارے میں پایا جاتا ہو۔ ذیل کی سطور میں اس اختلاف کے پس منظر اور ان پر کیے جانے والے اعتراضا ت کی مختصر وضاحت پیش کی جا رہی ہے:
ان کا سلسلہ نسب یوں ہے: ابو عبد اللہ محمد بن اسحاق المدنی القرشی مولیٰ قیس بن مخرمہ بن المطلب بن عبد مناف۔ ان کے جد امجد کانام ’یسار‘ ہے جو ’’عین التمر‘‘ کے قیدیوں میں سے تھے جسے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ خلافت میں ۱۲ ہجری میں مسلمانوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی زیر قیادت فتح کیا ۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے عین التمر کے گرجا میں ابن اسحاق کے دادا کو ان بچوں میں پایا جو کسریٰ کے ہاں رہائش پذیر تھے۔ وہاں سے ان کو مدینہ لایا گیا۔
محمد بن اسحاق کی ولادت ۸۵ھ میں مدینہ میں ہوئی۔ کتب تاریخ میں اسی قول کو ترجیح دی گئی ہے، اگرچہ ۱۵۰ھ اور ۱۵۳ھ کے اقوال بھی موجود ہیں۔ ابن اسحاق نے جوانی مدینہ میں گزاری۔ انتہائی حسین وجمیل تھے اور خوبصورت بالوں، چہرے اور شاندار جوانی کے مالک تھے۔
ابن اسحاق نے مدینہ سے دوسرے شہروں کا رخ کیا۔ ان کا پہلے سفر کی آخری منزل اسکندریہ تھی۔ یہ ۱۱۵ھ کی بات ہے۔ وہاں انہوں مصر کے علما کی ایک جماعت سے روایت حدیث کی جن کے نام یہ ہیں: عبید اللہ بن المغیرہ، یزید بن حبیب، ثمامہ بن شفی، عبید اللہ بن ابی جعفر، قاسم بن قزمان، السکن بن ابی کریم۔ پھر ان کا سفر کوفہ، جزیرۃ الری اور الحیرہ بغداد کی طرف ہوا۔ بغداد میں گئے تو وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ یہاں ان کی ملاقات منصور سے ہوئی اور اس کے کہنے پر انہوں نے اس کے بیٹے المہدی کے لیے اپنی مشہور زمانہ سیرت کی کتاب لکھی۔ مدینہ میں صرف ابن سعدؒ ان کے شاگرد تھے جبکہ بغداد میں ان سے بہت سے لوگوں نے روایت حدیث کی۔ یہیں ان کا انتقال ہوا اور حیزران نامی قبرستان میں مدفون ہوئے۔
ابن اسحاق کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کے بارے میں محدثین کے مابین شدید اختلاف ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اور ہشام بن عروہؒ ان کے سخت مخالف ہیں اور ان کا شمار سرے سے محدثین میں ہی نہیں کرتے بلکہ انہیں کذاب اور دجال قرار دیتے ہیں۔ ان پر شیعہ اور قدری ہونے اور تدلیس کرنے کے الزامات بھی موجود ہیں۔ نیز یہ بھی کہ وہ غیر ثقہ راویوں سے روایات لیتے ہیں، انساب میں اکثر غلطی کرتے ہیں اور اپنی کتابوں میں اشعار گھسیڑتے ہیں۔ 
اس کے برخلاف ابن شہاب زہری جیسے محدث ان کی بڑی قدر کرتے تھے۔ علامہ شبلیؒ نے سیرت میں لکھا ہے کہ امام زہری کے دروازے پر دربان مقرر تھا تا کہ کوئی شخص بغیر اطلاع اندر نہ آئے لیکن محمد بن اسحاق کو عام اجازت تھی۔ (۱) اسی طرح شعبہ بن الحجاجؒ ، سفیان ثوریؒ اور زیاد البکائی ؒ ان کی توثیق کرتے ہیں۔ 
کہا جاتا ہے کہ امام مالکؒ اور محمد بن اسحاق کے درمیان ایک ذاتی رنجش تھی کیونکہ ابن اسحاق امام مالک کے نسب اور ان کے علم پر اعتراض کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے: ایتونی ببعض کتبہ حتی ابین عیوبہ انا بیطار کتبہ (۲) ’’میرے پاس ان کی کتابیں لاؤ۔ میں تمہیں ان کے عیوب سے مطلع کروں گا۔ میں ان کی کتابوں کا معالج ہوں۔‘‘ اس وجہ سے امام مالک انہیں دجال کہتے تھے۔ اسی طرح ہشام بن عبد الملک بھی ابن اسحاق سے ناراض تھے کیونکہ ابن اسحاق نے ہشام کی بیوی سے روایت نقل کی تھی اور ہشام کے ذہن میں یہ تھا کہ روایت بغیر رؤیت کے نہیں ہوتی، تو گویا ابن اسحاق نے میری بیوی کو دیکھا ہے اور اس بات کو وہ معیوب خیال کرتے تھے۔ شاید ہشام کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ روایت پردے میں بھی ہو سکتی ہے یا ممکن ہے ابن اسحاق نے ان سے بچپن میں روایت لی ہو۔
ابن اسحاق پر باقی الزامات کی بھی خطیبؒ نے اپنی کتاب ’’تاریخ بغداد‘‘ میں اور ابن سید الناسؒ نے ’’عیون الاثر‘‘ میں تردید کی ہے۔ بہت سے ائمہ حدیث نے ان کی روایت کو قبول کیا ہے جیسا کہ امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ ۔ لہذا حافظ شمس الدین ذہبیؒ کا قول فیصل یہ ہے کہ محمد بن اسحاق رواۃ حسان میں سے ہیں اور مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اس قول کو معتدل ترین قرار دیا ہے۔ (۳)
ابن عدی رحمہ اللہ ابن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں:
لو لم یکن لابن اسحاق من فضل الا انہ صرف الملوک عن الاشتغال بکتب لا یحصل منہا بشئی للاشتغال بمغازی رسول اللہ ﷺ ومبعثہ ومبتدا الخلق لکانت ہذہ فضیلۃ سبق بہا ابن اسحاق وقد فتشت احادیثہ الکثیرۃ فلم اجد ما تہیا ان یقطع علیہ بالضعف وربما اخطا واتہم فی الشئ بعد الشئ کما یخطئ غیرہ (۴)
’’ابن اسحاق کے لیے اگر اس کے سوا کوئی اور باعث فضیلت بات نہ ہو کہ انہوں نے بادشاہوں کی توجہ لا یعنی کتابوں سے ہٹا کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت ومغازی اور آغاز تخلیق کی روایات کی طرف لگا دی تو ان کا یہ کارنامہ ہی ان کی فضیلت کے لیے کافی ہے۔ میں نے ان کی بہت سی روایات کی چھان بین کی ہے لیکن مجھے کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس کی بنیاد پر انہیں قطعی طور پر ضعیف قرار دیا جائے۔ ہاں بعض جگہوں پر ان سے بھی دوسرے راویوں کی طرح چوک ہو جاتی ہے۔‘‘
سیرت النبی تصنیف کر کے ابن اسحاق نے آنے والے مورخین اور سیرت نگاروں کے لیے ایک راستہ ہموار کر دیا چنانچہ ابن ہشام اور سہیلی وغیرہ نے ان کے کام سے علمی استفادہ کر کے سیرت نگاری کو آگے بڑھایا۔ گویا ابن اسحاق سیرت نگاری کے امام ہیں جن کی ہم سری کا دعویٰ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں:
فابن اسحاق فی الحقیقۃ ہو عمدۃ المولفین الذین اشتغلوا بوضع السیرۃ بعدہ حتی یمکننا ان نقول ما من کتاب وضع فی السیرۃ بعد ابن اسحاق الا وہو غرفۃ من بحرہ ہذا اذا استثنینا رجلا او اثنین کالواقدی وابن سعد (۵)
’’سیرت نگاری کے فن میں ابن اسحاق ان تمام سیرت نگاروں کے لیے ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے بعد سیرت نگاری کا کام کیا۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ واقدی اور ابن سعد کے استثنا کے ساتھ ابن اسحاق کے بعد سیرت پر جو بھی کتاب لکھی گئی، وہ انہی کے خوان علم سے ریزہ چینی کر کے لکھی گئی۔‘‘

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’سوانح قائد ملت حضرت مولانا مفتی محمودؒ‘‘

معروف صاحب قلم عالم دین مولانا عبد القیوم حقانی نے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے سوانح و خدمات کا ایک خوبصورت مجموعہ پیش کیا ہے جس میں حضرت مفتی صاحبؒ کی علمی وسیاسی خدمات اور مجاہدانہ کارناموں کا بھی دل نشین انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔
خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین ۳۳۶ صفحات پر مشتمل یہ کتاب القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہؓ، خالق آباد، نوشہرہ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے۔

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ پر ’’القاسم‘‘ کی خصوصی اشاعت

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے ماہنامہ ’’القاسم‘‘ خالق آباد نوشہرہ نے اشاعت خاص کا اہتمام کیا ہے جو برصغیر کے نام ور اہل علم کی نگارشات و تاثرات پر مشتمل ہے۔
۵۶۰ صفحات کا یہ مجموعہ عمدہ طباعت، مضبوط جلد اور خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ مزین ہے اور اس پر قیمت درج نہیں۔

’’قبر کی زندگی‘‘

مولانا نور محمد تونسوی قادری نے قبر کی زندگی اور برزخ کے حالات کے بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ بالخصوص علماء دیوبند کے اس موقف کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ قبر کا عذاب اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں میت کے ساتھ روح کا تعلق ثابت ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی حیات برزخی اس حوالے سے سب سے اعلیٰ و ارفع ہے۔ مناظرانہ انداز کی یہ تحقیقی کتاب اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے گراں قدر تحفہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ساڑھے چھ سو کے لگ بھگ صفحات کی یہ مجلد کتاب انجمن خدام الاسلام باغبانپورہ لاہور نے شائع کی ہے جس کی قیمت ۲۴۰ روپے ہے اور اسے ظفر بک سنٹر، پاکستانی بازار، باغ بان پورہ، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’ذوق بیاں‘‘

مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند و جانشین صاحب زادہ طارق محمود صاحب تحریر و تقریر دونوں میدانوں میں اپنے والد محترم کی خدمات و روایات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی تحریروں اور خطبات کے متعدد مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ذوق بیاں‘‘ ان کے خطبات جمعہ کا دوسرا مجموعہ ہے جو ان کے مخصوص ذوق و اسلوب کا آئینہ دار ہے اور اس میں مختلف عنوانات پر تیس خطبات شامل ہیں۔
۳۸۴ صفحات کی یہ مجلد کتاب مکتبہ لولاک، مرکزی جامع مسجد محمود ، ریلوے اسٹیشن فیصل آباد نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۷۵ روپے ہے۔

’’مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ایک سیاسی مطالعہ‘‘

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی برطانوی استعمار سے آزادی کی جدوجہد میں جن مجاہد علماء نے نمایاں خدمات سرانجام دیں، ان میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ بھی شامل ہیں۔ مجاہد عالم دین اور ممتاز پارلیمنٹیرین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک محقق اور دانش ور بھی تھے۔ ان کی خدمات، سیاسی افکار اور جدوجہد پر محترم ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری نے قلم اٹھایا ہے اور نئی نسل کو ایک حق گو اور مجاہد عالم دین کے کارناموں سے متعارف کرانے کی کام یاب کوشش کی ہے۔
پانچ سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب جمعیۃ پبلیکیشنز، متصل مسجد پائلٹ سکول، وحدت روڈ لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔

’’جہاد اسلامی اور دور حاضر کی جنگ‘‘

برصغیر کے ممتاز عالم دین، محدث اور حق گو سیاسی راہنما حضرت مولانا سید محمد میاں رحمہ اللہ تعالیٰ نے دور حاضر کی جنگوں اور اسلامی جہاد کے فلسفہ پر روشنی ڈالی ہے اور دونوں کے فرق کو واضح کرتے ہوئے امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و تعلیمات کی روشنی میں جہاد کے فلسفہ اور احکام کی وضاحت کی ہے۔
ایک سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب بھی جمعیۃ پبلی کیشنز نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۵۰ روپے ہے۔

’’فتاویٰ مفتی محمودؒ جلد دوم‘‘

جمعیۃ پبلیکیشنز لاہور نے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے فتاویٰ کو مرتب شکل میں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور ’’فتاویٰ مفتی محمود‘‘ کے نام سے ان کی پہلی جلد منظر عام پر آنے کے بعد اہل علم کے استفادہ کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ اب اس کی دوسری جلد سامنے آئی ہے جو امامت کے احکام و مسائل سے عیدین کے احکام تک کے ابواب پر مشتمل ہے اور ارباب علم و فتویٰ کے لیے گراں قدر تحفہ ہے۔
سوا پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے اور اسے مذکورہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب کے رسائل

جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور کے دار الافتا کے سربراہ ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب مختلف دینی موضوعات کے حوالے سے مفید مضامین تحریر کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت ان کے تین رسائل ہمارے پیش نظر ہیں:
یہ رسائل جامعہ مدنیہ کریم پارک، راوی روڈ لاہور کے دارالافتاء سے طلب کیے جا سکتے ہیں۔

مفتی محمد رضوان صاحب کے رسائل

ادارہ غفران چاہ سلطان راولپنڈی کے سربراہ مولانا مفتی محمد رضوان مختلف دینی عنوانات پر مفید عام کتابچے شائع کرتے رہتے ہیں جن میں زیادہ تر رسوم و بدعات اور غلط قسم کی معاشرتی روایات پر تبصرہ ہوتا ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں عوام کی راہ نمائی کی جاتی ہے۔ اس وقت مندرجہ ذیل رسائل ہمارے سامنے ہیں جو مندرجہ بالا پتہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں:
(۱) حج کی غلطیاں (۲) ماہ ربیع الاول کے فضائل و احکام (۳) ماہ ربیع الثانی کے فضائل و احکام (۴) پانی کا بحران اور اس کا حل (۵) زلزلہ اور اس سے حفاظت

بریگیڈیر (ر) قاری ڈاکٹر فیوض الرحمن کی تصانیف

بریگیڈیر (ر) قاری ڈاکٹر فیوض الرحمن مستند اور معروف عالم دین ہیں جنہوں نے شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور شیخ العلماء حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ جیسے بزرگوں سے خوشہ چینی کی ہے۔ وہ ایک عرصہ تک پاک فوج کے ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں شعبہ دینی تعلیمات کے انچارج رہے ہیں اور مختلف موضوعات پر تحریر و تصنیف کا سلسلہ بھی انہوں نے جاری رکھا ہے۔ اس وقت ان کی مندرجہ ذیل تصانیف ہمارے سامنے ہیں:

’’تیسیر المنطق‘‘

علم منطق پر حضرت مولانا عبد اللہ گنگوہیؒ کے معروف رسالہ ’’تیسیر المنطق‘‘ کو مولانا محمد سیف الرحمن قاسم نے تسہیل اور عام فہم مثالوں کے ساتھ مرتب کر کے شائع کیا ہے جو اس فن کی آسان تدریس کے لیے مفید ہے۔
صفحات ۸۸۔ ملنے کا پتہ: جامعۃ الطیبات، گلی نمبر ۴، محلہ کنور گڑھ، کالج روڈ، گوجرانوالہ

علماء دیوبند

مجاہد الحسینی

مرکز علم وہنر ہے سرزمین دیوبند
دین کی تعلیم کا جس پر ہوا جھنڈا بلند

جس جگہ کی تھی بشارت ہادئ عالم نے دی
ہو گیا قائم وہیں پہ مدرسہ دیوبند

گونجتی ہے اس جگہ حق وصداقت کی صدا
ہو رہے ہیں جس سے خوابیدہ مسلماں ہوش مند

وہ نشانی قاسمؒ ومحمودؒ وانور شاہؒ کی
نقش ہے جس کا دلوں پر یاد جس کی خامہ بند

حریت کا درس تھا ان حق پرستوں نے دیا
اس کی پاداش عمل میں تھی سزائے قید وبند

انسداد کفر وباطل جن کا مقصود حیات
وہ نفوس قدسیہ دارین میں ہیں فتح مند

شیخ مدنی، شیخ عثمانی ہیں ایسے پیشوا
جن کی تعلیمات سے ہم آج بھی ہیں بہرہ مند

امت خیر البشر ہو ایک پیکر میں اگر
ڈال سکتی یہ بھی ہے افلاک پر اپنی کمند

زہد وتقویٰ کے تھے پیکر حق پرستوں کے امام
ایسی شخصیات تو ہر دور کی ہیں ارجمند

ہے مجاہد کی دعا یہ رب کعبہ کے حضور
اسوۂ ختم الرسل کی ہو یہ امت کاربند