اپریل ۲۰۰۲ء

پاکستان کے دینی حلقوں کا اصولی موقفادارہ 
بیروت کی علماء کانفرنس کا اعلامیہادارہ 
گجرات کا المیہ اور اس کے اثراتمولانا محمد رابع حسنی ندوی 
دورِ جدید کے چند اجتہاد طلب مسائلڈاکٹر محمود احمد غازی 
یورپ میں چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی۔ ایک جائزہسلطان احمد اصلاحی 
علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ ۔ فکری مماثلتیںپروفیسر محمد یونس میو 
آہ ! مولانا عاشق الٰہی برنی مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہحافظ مہر محمد میانوالوی 
پیٹ معذور ہوتا ہےپروفیسر میاں انعام الرحمن 
مولانا درخواستی کا دورۂ جنوبی افریقہ، فجی وبنگلہ دیشادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
بغاوت کی دستکپروفیسر میاں انعام الرحمن 
قافلہ میعادادارہ 
مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی تاریخ پر ایک نظرادارہ 

پاکستان کے دینی حلقوں کا اصولی موقف

ادارہ

(۲۸ مارچ ۲۰۰۲ء کو ہمدرد کانفرنس سنٹر لٹن روڈ لاہور میں روزنامہ پاکستان ویلغار کے زیر اہتمام ’’خلافت راشدہ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک خان نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے جبکہ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا میاں محمد جمیل، جمعیۃ العلماء پاکستان کے مولانا قاری زوار بہادر، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا خلیل الرحمن حقانی، تحریک خلافت پاکستان کے ڈاکٹر معظم علی علوی ومولانا خورشید احمد گنگوہی، مولانا پیر سیف اللہ خالد، مولانا غلام رسول راشدی اور مولانا عبد الرشید ارشد کے علاوہ روزنامہ پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر عمر مجیب شامی اور ممتاز دانش ور اور کالم نگار جناب عطاء الرحمن شامل تھے۔ کانفرنس میں تمام راہ نماؤں کی توثیق کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ پیش کیا گیا جو متفقہ طور پر منظور ہوا۔ موجودہ معروضی صورت حال میں ملک کی دینی قوتوں کے اصولی موقف کے طور پر یہ اعلامیہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

بیروت کی علماء کانفرنس کا اعلامیہ

ادارہ

القدس اور فلسطین کی مدد، مظلوم فلسطینی عوام کی تائید، زیادتی اور غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے حق اور اپنے دفاع کی خاطر صہیونی غاصب کے بارے میں اسلام اور علماء اسلام کے موقف کو واضح کرنے کے لیے لبنان میں ’’تجمع العلماء المسلمین‘‘کی دعوت پر بیروت میں ۲۵/۲۶ شوال ۱۴۲۲ھ مطابق ۹،۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء کو فلسطینی عوام کے جہاد کی تائید میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’قدس کو بچانا اور فلسطینی عوام کی مدد کرنا شریعت کا حکم ہے اور اس کی خاطر جہاد کرنا واجب ہے‘‘۔ ا س کانفرنس میں ۳۴ ممالک کے ۱۳۰ بڑے بڑے علما اور امت مسلمہ کے قائدین شریک ہوئے جو دنیا کے کونے کونے سے تشریف لائے۔ کانفرنس کے اختتام پر شریک ہونے والوں نے اختتامی اعلامیہ جاری کیا اور سفارشات پیش کیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

اعلامیہ

صہیونی زیادتی اور دہشت گردی کے سائے تلے جس بحران سے فلسطینی عوام گزر رہے ہیں، اس کے بارے میں عالمِ عرب اور عالمِ اسلام خاموش بیٹھے ہیں۔ ان کی خاموشی ہماری سمجھ میں نہیں آتی لیکن الحمد للہ دوسری طرف دنیا بھر کے علماء کرام فلسطینی عوام کی نصرت اور امت مسلمہ کے ہر شعبہ کے افراد کی زبان بن کر اور اپنی دینی ذمہ داری کا احساس اور شریعت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور اخلاقی وانسانی فرض کو سمجھتے ہوئے مندرجہ ذیل اٹل موقف کا اعلان کرتے ہیں:

۱۔ فلسطین سارے کا سارا نہر سے لے کر سمندر تک، شمال سے لے کر جنوب تک اس کے سارے شہر اور گاؤں جس کا دار الخلافت القدس ہے، یہ سب عربی اور اسلامی زمین ہے اور یہ سارے فلسطینیوں کا وطن ہے۔ اس میں وہ بھی شامل ہیں جو مقبوضہ فلسطین میں رہ رہے ہیں اور وہ بھی جن کو زبردستی ملک بدر کیا گیا۔ فلسطین ان سب کا حق ہے، بلا کسی قید یا شرط کے فلسطین ان کا ہے اور وہ فلسطین کے۔

۲۔ القدس جس کی تاریخی حدود معروف ہے، ایک عربی اور اسلامی شہر ہے۔ یہ شہر حصے بخرے اور تقسیم کے قابل نہیں ہے۔ سب مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کو آزاد کرائیں اور اس کا دفاع کریں اور اس کو یہودیوں سے بچائیں اور اس کا اسلامی تشخص قائم رکھیں۔

۳۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کا کسی بھی شکل میں وجود غیر شرعی اور غیر قانونی ہے۔ یہ وجود حملے، غصب اور ناجائز قبضے کا نتیجہ ہے۔ فلسطین کے عوام کو ملک بدر اور بے گھر کر کے حاصل کیا گیا۔ یہ غاصب اپنے وجود کو مستحکم بنانے کے لیے وہاں زندگی کے ہر شعبہ کو یہودیت کا رنگ دے رہے ہیں اور اپنے وجود کو طول دینے کے لیے زیادتیاں اور دہشت گردی کر رہے ہیں اور بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں لیکن یہ وجود کتنا بھی لمبا ہوجائے، مسلمانوں کی نظر میں ہمیشہ اجنبی، زیادتی کی نشانی، زمین اور اس کے باشندوں کے حقوق اور اس کے مقدسات کا غاصب شمار ہوگا اور اس سے ہٹ کر جتنے بھی معاہدے یا بات چیت یہودیوں کے ساتھ ہوئی، سب باطل اور غیر موثر ہیں۔ ان کی شرعی یا قانونی بنیاد نہیں ہے۔

۴۔ فلسطینی عوام کی اسرائیلی سامراج اور اس کی زیادتیوں کے خلاف جدوجہد کی مختلف شکلیں ان کا حق ہے۔ اسلام نے ان کو یہ حق دیا ہے اور اس کی تائید تمام ادیان، فطری قوانین اور انسانی اقدار کرتے ہیں۔

۵۔ ایسے حملے جن کے نتیجے میں شہادت یقینی ہو، جو مجاہدین اسرائیلی دشمن کے خلاف کر رہے ہیں، جائز ہیں جس کی دلیل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں ملتی ہے بلکہ یہ کام شہادت کا بلند ترین درجہ ہے اور اللہ کی خوشنودی اور جنت حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ عقیدہ، ایمان اور اللہ کی خوشنودی کی خاطر سوچ سمجھ کر اور اپنی مرضی سے شہید ہونا دفاعی تحریک کا ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے سے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں پر معنوی برتری حاصل ہوئی ہے جو مادی طاقت کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔

۶۔ ہم بین الاقوامی سوسائٹی پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کو روکے نہ کہ مظلوم فلسطینی عوام سے مطالبہ کرے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں حالانکہ اس نے یہ ہتھیار اپنے دفاع کے لیے اٹھائے ہیں۔ ہم زور دیتے ہیں کہ فلسطینی عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی جان کے دفاع کے معرکے میں ہر ذریعے سے اسلحہ حاصل کر سکتے ہیں۔

۷۔ ہم امریکہ کی تیار کردہ دہشت گردوں کی فہرست کو رد کرتے ہیں جس کے ذریعے سے لبنان ، فلسطین اور کشمیر میں جدوجہد کرنے والی طاقتوں پر داغ لگانے کی کوشش ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں ان ملکوں، اداروں اور افراد کو بھی بدنام کیا جا رہا ہے جو اس مشروع جہاد کی تائید اور پشت پناہی کر رہے ہیں۔

اگر امریکی حکومت میں صہیونیت کے حامیوں کا ہدف فلسطینی جہادی طاقتیں ہیں اس لیے کہ اسرائیل کو اگر کوئی خطرہ ہے تو صرف ان سے ہے تو ہم بھی کھل کر اعلان کرتے ہیں کہ یہ جدوجہد جدید دور میں سب سے زیادہ مقدس اور بلند تحریک ہے۔ یہ پوری امت کی آواز ہے جو صہیونیت کے خلاف اپنے حقوق اور مقدسات کے دفاع میں اٹھائی جا رہی ہے۔ یہ تحریک اور وہ مجاہدین جو اللہ کی خاطر جہاد کر رہے ہیں، سارے مسلمانوں کی عزت اور آبرو ہیں اور ساری دنیا کے مظلوموں کے خوابوں کی تعبیر ہیں، چاہے وہ مسلمان کہیں بھی ہوں۔

۸۔ ’’حزب اللہ‘ ‘، ’’حماس‘‘ اور ’’جہاد اسلامی‘‘ اور دوسری آزادی کی تحریکیں اس امت کی زبان ہیں۔ دوسرے ملکوں اور ان کے عوام کے دفاع کی فرنٹ لائن ہیں جو ان کے حقوق، مسائل اور ان کے مقدسات کا دفاع کرتے ہیں۔ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی عزت اور آبرو ہیں اور سارے دنیا کے مظلوموں کے خوابوں کی تعبیر ہیں۔

۹۔ تمام عرب اور مسلمان حکومتوں، ان کے عوام اور سیاسی پارٹیوں پر واجب ہے کہ فلسطینی عوام کی نصرت، حمایت اور مدد کریں اور ان کا دفاع کریں۔

۱۰۔ ہم عالم عرب اور عالم اسلام کی حکومتوں اور ان کے عوام اور وہاں کی سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر امت کو کمزوری، عاجزی، تفرقہ، قومی ومسلکی اور سیاسی اختلافات سے پاک کریں۔ ہم ان سب کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ گفتگو، مصالحت اور تعاون کے ذریعے سے امت کو مضبوط بنیادوں پر متحد کریں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ القدس اور فلسطین کو امت کا مرکزی مسئلہ سمجھ کر اور اس کو فوقیت دے کر ہم عربوں اور مسلمانوں کو متحد کرنے کے لیے صحیح راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔

۱۱۔ علما یہ سمجھتے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکی حکام کا ظالمانہ حملہ جس کا آغاز افغانستان میں ہوا ہے، جس میں بے گناہ عوام کا قتل عام ہوا ہے اور قلعہ جنگی میں قیدیوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کا خاتمہ کیا گیا، یہ جرم اس دور میں سنگین ترین جرم ہے جس کے ذریعے سے امریکہ پورے عالم اسلام کو اپنے شکنجے میں کسنا چاہتا ہے۔ یہ بات امت مسلمہ سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک ہو کر اس منصوبے کا مقابلہ کرے اور اس کو ناکام بنائے۔

۱۲۔ علما عرب سربراہی کانفرنس سے جو لبنان میں منعقد ہونے والی ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھڑے ہوں اور انتفاضہ کی حمایت کریں اور وہ اس کو اللہ اور اپنے عوام کے سامنے اپنی دینی اور دنیاوی ذمہ داری سمجھیں۔

۱۳۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام علما امیر عبد اللہ بن عبد العزیز کے خطاب کو جو انہوں نے خلیجی مجلس تعاون کے سامنے کیا تھا، سراہتے ہیں۔ شام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کو بھی سراہتے ہیں جس میں انہوں نے فلسطینی عوام کا ساتھ دیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ جو تحریک فلسطین میں ابھری ہے، وہ سارے مسلمانوں کے موقف کی تعبیر ہے۔

۱۴۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور انتفاضہ کی بھرپور حمایت پر لبنان کی حکومت اور عوام کے جرات مندانہ موقف کی قدر کرتے ہیں اور اس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس نے اس کانفرنس کی بیروت میں میزبانی کی اور اس کو کامیاب بنانے کے لیے تمام سہولتیں فراہم کیں۔

فیصلے

۱۔ اس کانفرنس کو دائمی ادارے کی شکل دی جائے گی اور اس سلسلے میں جنرل سیکرٹریٹ، انتظامیہ اور ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس کام کو جاری رکھے۔

۲۔ فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو سپورٹ دینے کے لیے ایک بین الاقوامی فنڈ قائم کیا جائے گا۔

سفارشات

۱۔ دنیا کے کسی ملک پر امریکی جارحیت کی مدد کرنا حرام ہے۔

۲۔ سکولوں کے سلیبس میں فلسطین اور القدس کے نام سے ایک مضمون پڑھایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے ذہن میں یہ مسئلہ اجاگر رہے۔

۳۔ عرب ممالک میں فلسطینی پناہ گزینوں کے مسائل اور مشکلات کا احاطہ کرنا اور اس کے حل پر غور اور تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔

۴۔ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو میڈیا کو استعمال کر کے سیاسی دباؤ ڈال سکے جس میں میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام موثر شعبوں کے ماہرین ہوں۔

۵۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے علما فلسطین میں جدوجہد اور انتفاضہ کو زکوٰۃ، صدقات، خمس، ہدیے اور عطیات یا کسی بھی قسم کی مالی مدد کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کی سفارش کرتے ہیں۔

۶۔ فلسطین کی سرزمین کی ملکیت یہودیوں کو منتقل کرنا حرام ہے۔ یہ بات خرید وفروخت سے ہو یا کسی اور ذریعے سے، سب ناجائز ہے۔

۷۔ کانفرنس میں شریک ہونے والے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ شرکا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خاتمے کو واجب سمجھتے ہیں۔ تعلقات استوار کرنے اور اس کی کسی بھی سیاسی ،ڈپلومیٹک، اقتصادی اور تجارتی شکل کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی سیاسی، معاشی یا تجارتی شکلیں باطل اور ناجائز ہیں۔

۸۔ حج کے دنوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور ان دنوں میں فلسطین کے مسئلے کی وضاحت کی جائے اور اس کی مدد کے لیے لوگوں کو پکارا جائے۔ ملاقاتوں، اجتماعات اور مختلف طریقوں سے یہ مقصد حاصل کیا جائے۔

۹۔ جہاد کے مختلف معانی کی تشریح وتوضیح کے سلسلے میں علما کے کردار پر زور دیا جائے۔ امت کے افراد زندگی کے اجتماعی، اقتصادی، ثقافتی اور ہر میدان میں کام کریں، کسی میدان کو خالی نہ چھوڑیں۔

۱۰۔ امت مسلمہ کا اتحاد اور فلسطین کی آزادی کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد فلسطین میں صہیونیت کے خلاف جدوجہد اور انتفاضہ کی تائید اور مدد کرنا ہے۔

(بہ شکریہ ’’جریدۃ الاتحاد‘‘ لاہور)

گجرات کا المیہ اور اس کے اثرات

مولانا محمد رابع حسنی ندوی

ہندوستا ن کو بدیسی غلامی سے آزادی ملنے پر ملک کی ضرورت کے لائق حکومت قائم کرنے اور چلانے کے لیے اس کے دانش وروں اور قانون دانوں نے جو دستور دیا، وہ اس کے قومی اقدار اور مفادات کا حامل دستور ہے جو ہندوستان میں اس عظیم ملک کے تاریخی مزاج وکردار کی جھلک پیش کرتا تھا۔ اس ملک کا ماضی فرقہ وارانہ مذہبی منافرت کا حامل نہیں رہا ہے۔ یہاں ماضی میں جو بھی ٹکراؤ یا کشمکش رہی ہے، وہ ا س کے حکمرانوں کے سیاسی وفوجی اقتدار کی بقا اور طلب تک محدود رہی ہے، مذہبی فرقہ بندی پر نہیں رہی ہے چنانچہ مسلم حکمرانوں کے ماتحت عہدہ داروں میں ہندو دانش ور اور منتظم اور ہندو حکمرانوں کے ماتحت عہدہ داروں میں مسلمان دانش ور اور منتظمین بھی رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر جیسا مذہبی مسلمان شہنشاہ جس کو ہندوؤں میں سخت ہندو دشمن مسلمان حکمران بتایا جاتا ہے، اس نے بھی متعدد اعلیٰ عہدوں پر ہندو دانش وروں اور منتظمین کو رکھا تھا اور صرف مسجدوں کو ہی نہیں بلکہ متعدد مندروں کو بھی جائیدادیں وقف کیں لیکن ہندوستان پر غیر ملکی انگریز حکومت نے ملک میں اپنے قدم جمائے رکھنے کے لیے یہ سیاست اختیار کی کہ ملک کے مختلف مذہبی فرقوں کے مابین پیش آنے والے واقعات میں نفرت اور ٹکراؤ کے اسباب دکھائے جائیں تاکہ ملک کی عوامی طاقت متحد نہ رہ سکے۔ اس کے لیے ملک کی تاریخ میں مذہبی فرقوں کے مابین واقعات کی ایسی تصویر کشی کی جس سے یہ ثابت ہو کہ ملک میں مذہبی زور دستی اور حق تلفی کا دور دورہ رہا ہے چنانچہ انگریز ی اقتدار میں ایسی کتابیں اور نصاب تعلیم مرتب کیا گیا جن سے انگریزوں کا یہ مقصد پورا ہوتا تھا، خاص طور پر مسلمانوں کو جابر اور ظالم اور غیر مسلموں کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کرنے والا دکھایا گیا۔

اس نصاب اور لٹریچر نے عام ہندوؤں اور سکھوں کے ذہنوں کو مسموم کیا، پھر اس ذہن کی کارفرمائی تقسیم ہند کے موقع پر سخت انداز میں ہوئی اور یہ انگریزی اقتدار اعلیٰ کی سربراہی میں انجام پائی جس سے ہندو مسلم فرقوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے سخت نفرت وعداوت ابھری اور ملک کے دونوں ٹکڑوں کے سرحدی علاقوں میں آگ وخون کا کھیل ہوا اور اس سے متحدہ ہندوستان کے ماضی کی رواداری، میل محبت کی تاریخ ٹوٹ پھوٹ گئی۔

لیکن دونوں فرقوں کے غیر متعصب مزاج کے حامل دانش وروں اور قائدین نے حالات کو سنبھالا اور ملک کے مستقبل کے لیے ملک کے ماضی کی اقدار کو بنیاد بنایا اور اسی کے مطابق دستور ترتیب دیا۔ اس دستور کے بموجب ملک نے اپنے نئے عہد میں قدم بڑھایا اور ترقی کی راہ اختیار کی۔ ملک کے باشندوں کی تعداد اور اپنے رقبہ کی وسعت اور اپنی زمینی دولت پھر اپنے روادارانہ اور انسانیت دوست مزاج کے لحاظ سے پورے مشرق کی قیادت کے منصب کی طرف بڑھنا شروع ہوا اور پورے ایشیا میں اس کی اہمیت اور بڑائی کو تسلیم کیا جانے لگا۔ اس پورے خطے میں ہندوستان کے ارد گرد پچاس سے زیادہ مسلم ممالک ہیں، وہ سب ہندوستان کو اپنے بڑے بھائی کی حیثیت سے دیکھنے لگے لیکن انگریزوں کے بوئے ہوئے علاقائی ونسلی منافرت کے بیج بھی اپنا کام کرتے رہے اور ان کے اثر میں آئے ہوئے فرقہ وارانہ دشمنی اور ٹکراؤ کو پسند کرنے والے اداروں اور افراد نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ مسلمان اقلیت میں تھے اس لیے ان کے فرقہ وارانہ دشمنی کا مزاج رکھنے والے زیادہ کارگر نہ ہو سکے لیکن ہندوؤں میں اس مزاج کے لوگ اور ادارے ملک پر اپنے اثرات بڑھاتے رہے حتیٰ کہ اپنی تدبیروں اور سازشوں سے سیکولر مزاج رکھنے والی حکومتوں میں دخیل بلکہ حاوی ہو گئے۔ وہ ہندو نوجوانوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور عداوت کا خیال پیدا کرتے رہے ۔ وہ یہ کام جو پہلے تعلیم وابلاغ کے ذرائع سے کرتے تھے ،اب سیاست وحکومت کے ذرائع سے کرنے لگے۔

فرقہ وارانہ منافرت کی حامل ان طاقتوں کا اصل مرکز زیادہ تر ہندوستان کا مغربی علاقہ رہا اور مہاراشٹر اور گجرات ان کے اثرات کا بنیادی علاقہ رہا۔ وہاں سے وہ شمالی ہندوستان اور جنوبی علاقوں میں اپنے منصوبوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلے میں ان کو اجودھیا کی قدیم مسجد جس کا انتساب بابر کی طرف کیا جاتا ہے، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان موضوع نزاع بنانے کا اچھا عنوان ملا چنانچہ اس کے نام سے تحریک شروع کی گئی جس کو حکومتوں کے منافرت پسند ذہن کے افراد وعہدہ داروں کی طرف سے سہارا ملتا رہا۔ بالآخر فرقہ پرست ہندو طاقتوں کو مسجد پر قبضہ کر لینے اور اس میں مندر کے مذہبی رسومات ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کے پاس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے سوا کوئی دوسرا معتبر ذریعہ نہ تھا چنانچہ انہوں نے اس سے رجوع کیا جس کی بنا پر برس ہا برس سے یہ مسئلہ عدالت میں زیر بحث ہے اور شاید ابھی اسی طرح چلتا رہے لیکن ایک طرف طاقت ہو اور دوسری طرف عدالت تو طاقت اپنا فوری اثر دکھاتی ہے اور عدالت سے رجوع کرنے والے کو اپنی کمزوری کا مشاہدہ کرتے رہنا پڑتا ہے۔

سالِ رواں میں اس کشمکش کا اثر گجرات کے صوبہ سے زیادہ ظاہر ہوا۔ وہاں ہندو بالادستی بلکہ جارحانہ سیاست کے حامل لوگوں کی حکومت ہے۔ اس کے زیر سایہ یہ خونی ڈرامہ رچایا گیا جس سے پورے ملک کے مسلمانوں کے دل دہل گئے اور ملک کا روادارانہ سیکولر کردار پاش پاش ہو گیا۔ بالآخر بدنامی کے خوف اور سیکولر مزاج کے افرادکے دباؤ کا کسی قدر اثر پڑا اور عدالت عظمیٰ نے خصوصی توجہ کی اور ایودھیا کے نام پر جن جارحانہ مقاصد کی تکمیل کی جانے والی تھی، وہ روک دی گئی اور حالات کے بدترین ہو جانے کا جو سلسلہ شروع ہو گیا تھا، اس میں کچھ ٹھہراؤ پیدا ہوا۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ ٹھہراؤ کتنا قائم رہتا ہے۔

اس ملک کے سربراہان حکومت کو، خواہ وہ ہندو فرقہ پرستی کے رہبر آر ایس ایس کے ہم نوا ہوں اور خواہ ملک کے سیکولر مزاج کے داعی ہوں، اس بات پر غور کرنا اور فیصلہ کرنا ہے کہ فرقہ پرستی کا یہ جارحانہ عمل جو ایودھیا میں اپنی من مانی کرنے کے لیے ساری انسانی قدروں اور ملک کی سا لمیت وترقی کے لیے تباہ کن طوفان کی شکل اختیار کر گیا ہے، ملک وقوم کو کس تباہی اور انتشار تک لے جائے گا اور ملک وقوم کی عزت کو بیرون ملک کیا نقصان پہنچائے گا؟ کارخانوں کو جلانا، صنعتی ٹھکانوں کو تباہ کرنا اور سب مال لوٹ لینا، لوٹنے والوں کو کچھ سستے فائدے تو حاصل کرا دے گا لیکن برباد ہو جانے والی صنعتوں کے ختم ہو جانے سے ملک کی دولت اور صنعتی ذرائع میں کیا کمی واقع ہو جائے گی۔ جبکہ یہ مالی وصنعتی کوششیں خاصی حد تک غیر ملکی کرنسی کے حصول کا اور اندرون ملک میں اضافہ دولت کا ذریعہ بن رہی تھیں، اب ملک کے حصول دولت کے دائرے میں کس قدر خسارہ کا باعث ہوگا اور کتنی صنعتیں ٹھپ ہو کر رہ جائیں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر منظم فساد سے ملک اپنی طاقت ودولت کے مقام سے ایک قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ فرقہ وارانہ جوش وغضب میں ملک کی سا لمیت، عزت اور اقتصادی طاقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور صرف جذباتی مسرت کے حصول کے لیے اس کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ گجرات جو ملک کی صنعتوں کا عظیم گہوارہ ہے، کس قدر اقتصادی توانائی سے محروم ہو گیا اور یہ خود گجرات کے باشندوں کے ہاتھوں انجام پایا۔ یہ لوگ ملک وقوم کے بہی خواہ ہوئے یا بد خواہ؟

اب رہا مسلمانوں کا مسئلہ تویہ تباہی ان کے لیے حوادث کی حیثیت تو رکھتی ہے لیکن ان کے مٹا دینے یا ختم کر دینے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ منظم فسادات کے ذریعے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دینے کی اس ملک میں گزشتہ ۵۵ سالوں میں کئی بار کوششیں کی گئیں لیکن وقتی نقصان سے زیادہ ان کا اثر نہیں پڑا۔ مسلمانوں کی تاریخ نے ان کو بتایا ہے کہ ایسے طوفانوں سے بھی زیادہ سخت طوفان ان پر سے گزرے ہیں اور وہ ان کے اثر سے غیر معمولی خوف ودہشت اور تباہی وخسارہ سے گزرے ہیں لیکن وہ ختم نہیں کیے جا سکے بلکہ اس کے بعد ان میں مزید ہمت وحوصلہ پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے سابقہ مقام کو دوبارہ بحال کر لیا۔ ان کو ان کے مذہب نے مایوسی اور شکست خوردگی کی اجازت نہیں دی ہے بلکہ ان کو تعلیم دی ہے کہ ایسے طوفانوں میں وہ اپنے حوصلہ کو برقرار رکھیں اور انسانی شریفانہ کردار پر قائم رہتے ہوئے اپنے پروردگار سے خیر کی امید رکھیں۔ سارے حالات کے باوجود آخری کام یابی حق وانصاف اور ہمت سے کام لینے والوں کی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ اس کی شاہد ہے۔

بعض لوگ اسپین کا نام لیتے ہیں۔ وہ قدیم زمانے میں ایک چھوٹا ملک تھا اور اس میں مسلمان اقلیت میں ہونے کے تعلق سے کم آبادی رکھتے تھے۔ کئی صدیوں تک ظلم برداشت کرنے کے بعد خود ان کی آبادی کی ایک تعداد نے تبدیلی وطن کو اختیار کرلیا۔ اب موجودہ جمہوری عہد میں پھر وہ وہاں دوبارہ بڑھ رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔ رہا یہ ملک ہندوستان تو یہاں کے بیس کروڑ مسلمانوں کو بے وزن کردینے کی کوشش مسلمانوں کو صرف جزوی نقصان پہنچا سکتی ہے، ان کے وجود کو نقصان نہیں پہنچا سکتی لیکن اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ یہ نقصان رسانی پورے ملک وقوم کے لیے کئی پہلوؤں سے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

ملک وقوم کی سا لمیت وطاقت کے لیے ضروری ہے کہ اس کی آبادی کے مختلف طبقات میں میل جول، تعاون اور ہم آہنگی ہو اور وہ اسی صورت میں ہوگا کہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں اور اپنے فرقہ کے فائدہ کے لیے دوسرے فرقہ کے ساتھ حق تلفی اور نقصان رسانی کا عمل اختیار نہ کریں۔ کئی صدیوں سے قائم وجاری اور حکومت وتاریخ کے ریکارڈوں میں تسلیم کی جانے والی مسجد کو محض خواہش پر ہندو عبادت گاہ بنا دینے کی کوشش صرف تلخی، ٹکراؤ اور ملک کی ہم آہنگی کو تباہ کرنے کے سوا کچھ اور نتیجہ پید انہ کر سکے گی۔

گجرات میں مسلمانوں کو جس بربریت کے ساتھ مارا، لوٹا اور تباہ کیا گیا ہے، اس کو سن کر اور دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ ظلم کی دردناک مثال ہے۔ ظلم ایسا انسانی جرم ہے جس پر اللہ رب العالمین کی گرفت جلد ہوتی ہے۔ اس ظلم کا نتیجہ بھی سخت ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ اس کی گرفت اور سزا سخت ہوتی ہے۔ کوئی تعجب کی بات نہ ہوگی کہ گجرات کے ظالموں کو اپنے ظلم کا نتیجہ سخت دیکھنا پڑے۔

مسلمانوں کو اس سلسلے میں اپنے پروردگار سے رحمت کی دعا اور حالات کا مقابلہ کرنے میں دانش مندی اور دستور وجمہوری قدروں کے ساتھ طریقہ کار کاپابند رہنا ان کے لیے کامیابی کی راہ استوار کرے گا۔ امید ہے کہ ملک کے دونوں فریق اگر جلد نہیں تو بدیر ہی سمجھ داری کی راہ کو اپنائیں گے۔ موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ کے خطرات کے مقابلے کے لیے مناسب حکمت عملی اختیارکریں گے اور موجودہ المیہ میں نقصان اٹھانے والے اپنے بھائیوں کے ساتھ جو ہمدردی قابل عمل ہے، اختیار کریں گے اور گجرات میں جو ریلیف کا کام ہو رہا ہے، ا س میں حسبِ استطاعت پورا حصہ لیں گے۔

(بہ شکریہ تعمیر حیات لکھنؤ)

دورِ جدید کے چند اجتہاد طلب مسائل

ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلامی علوم وفنون کی تدوینِ نو کا کام ایک ہمہ پہلو تعلیمی اور فکری جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس جدوجہد میں بعض نئے مسائل پر اجتہادی نقطہ نظر سے غور وخوض بھی شامل ہے اور بعض اجتہادی آرا پر ازسرنو ناقدانہ نظر ثانی بھی ناگزیر ہے۔ دور جدید نے بعض ایسے مسائل ومعاملات ہمارے سامنے پیش کر دیے ہیں جو سلف کے سامنے نہیں تھے اس لیے ماضی میں مجتہدین امت اور مفکرین اسلام کو ان پر کوئی رائے قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ 

مثال کے طور پر ایک کثیر العناصر (Pluralistic) معاشرے میں اسلام کا کردار کیاہے اور کیا ہونا چاہیے؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بیسویں صدی کے اواخر میں سامنے آیا۔ بالخصوص مجاہدین افغانستان کے ہاتھوں سوویت یونین کی تباہی وبربادی اور بالآخر کمیونزم کے زوال کے نتیجے میں جو یک قطبی دنیا سامنے آئی تو اس مسئلہ کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا۔ اب ایک طرف تو مغرب کے بالادست فاتحین کی کوشش یہ ہے کہ تاریخ کے خاتمے کے اعلانات اور تہذیبوں کے تصادم کے پردوں میں ایک یک عنصری نظام دنیا پر مسلط کر دیں اور دوسری طرف کثیر العناصر نظاموں کی تلاش کے نام پر دوسروں کے معاملات میں مداخلت کا جواز پیدا کریں۔ ان حالات میں مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ قرآن وسنت کی نصوص اور فقہاء اسلام کی تصریحات کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا تعین کریں کہ ایک مسلم معاشرہ میں دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں کی بقا کیونکر اور کن حدود کے اندر رہ کر ہو سکتی ہے اور ایک غیر مسلم معاشرے میں اسلامی ثقافت اور اسلامی تمدن کا تحفظ کیسے کیا جا سکتا ہے؟

آج دنیا کا کوئی بڑا شہر ایسا نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ نہ ہو رہا ہو، جہاں آئے دن مسلم تنظیمیں قائم نہ ہو رہی ہوں، جہاں مسجدیں اور اسلامی مراکز پھل پھول نہ رہے ہوں، جہاں قدیم اور جدید مسلمانوں کے مابین تفاعل نہ ہو رہا ہو۔ ان شہروں میں تیزی سے پھیلنے والی مسلم آبادیاں اپنے آپ کو سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر منظم کر رہی ہیں۔ مشرق ومغرب کے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے یہ لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلم نوجوان اپنے تشخص کا تحفظ اور اپنی شخصیت کا اظہار چاہتے ہیں۔ ان حالات میں ان کو آئے دن نت نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شریعت اسلامی کی رو سے ان مسائل کا حل کیا ہے؟ ان سب سوالات کا شافی جواب آج کے اہل علم کے ذمہ ایک قرض اور فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی میں یہ صورت حال اتنی شدید اور وسیع نہیں تھی جتنی آج ہو چکی ہے۔ اس کی شدت اور وسعت میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر آنے والا دن ایک نیا مسئلہ لے کر طلوع ہوتا ہے۔

ہماری قدیم فقہی کتابیں اسلام کے دور عروج میں مرتب ہوئیں۔ مجتہدین اسلام نے اسلامی ریاست، اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت، اسلامی معاشرہ اور اسلامی زندگی کے ایسے مسائل تو نہایت باریک بینی اور دقت نظر سے مرتب کر دیے جو مسلمانوں کو اپنے دور عروج میں پیش آئے یا جن سے مسلمانوں کو مسلم ماحول میں واسطہ پڑتا ہے۔ رہے وہ مسائل جو ایک مسلم اقلیت کو پیش آ سکتے تھے یا غلامی کی زندگی گزارنے والے مسلمانوں کو پیش آ سکتے تھے، ان سے فقہاء اسلام کو زیادہ اعتنا کرنے کا نہ موقع ملا اور نہ اس کی ضرورت پیش آئی۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب مسلمانوں کو سیاسی زوال کا سامنا کرنا پڑا تو یہ وہ زمانہ تھا جب فقہ اسلامی بھی ایک طرح کے تعطل کا شکار تھی اور دور انحطاط سے گزر رہی تھی۔ اجتہاد کا سلسلہ تقریباً بند ہو چکا تھا اور علماء اسلام بالعموم دور انحطاط میں لکھی ہوئی فقہی کتابوں اور متون کی شرحوں اور حاشیوں کے پڑھنے پڑھانے میں مصروف تھے۔ ان حالات میں مغربی ممالک میں جا کر بسنے والے مسلمانوں کی راہ نمائی کا کوئی خاص سامان فراہم نہ ہوا اور یہ لوگ مختلف مغربی معاشروں میں جا جا کر گم ہوتے رہے۔ آج نئی تحقیقات اور تاریخی اکتشافات سے ان لاتعداد مسلم آبادیوں کا پتہ چل رہا ہے جو امریکہ، آسٹریلیا، برازیل اور ارجنٹائنا جیسے بڑے ممالک کے سمندروں میں گم ہو گئیں۔ اگر اٹھارویں صدی کے اوائل ہی سے کسی فقہ الاقلیات پر غور وخوض کی داغ بیل ڈال دی جاتی اور ایسے غیر موافقانہ ماحول میں مسلم وجود کے احکام پہلے سے مرتب شدہ موجود ہوتے تو شاید یہ مسلمان آبادیاں یوں آسانی اور تیزی سے گم نہ ہوتیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ آج فقہاء اسلام اور علماء امت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ ان بدلتے ہوئے حالات میں پیش آنے والے سوالات اور نت نئی مشکلات کا ایسا قابل عمل حل پیش کریں جو غیر مسلم ماحول میں مسلم وجود کے تحفظ اور بقا کا ضامن ہو۔

اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آج کے حالات کی مناسبت سے مسلم معاشرہ اور مسلم ریاست کی تحدید نو کی جائے اور جدید معروضی حقائق اور فکری مباحث کے پس منظر میں یہ واضح کیا جائے کہ اسلامی معاشرے کی تعریف کیا ہے اور اسلامی ریاست آج کے سیاق وسباق میں کس ریاست کو کہا جائے گا۔ اس بات کی ضرورت اس لیے پیش آ رہی ہے کہ فقہاء اسلام نے آج سے کم وبیش ایک ہزار دو سو سال قبل دار الاسلام، دار الحرب اور دار الصلح وغیرہ کی جو حد بندیاں تجویز کی تھیں، وہ آج کے زمینی حقائق کی روشنی میں اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ خود فقہاء اسلام کو ابتدائی دو تین صدیوں میں ہی ان تقسیمات پر کئی بار ازسرنو غور وخوض کرنا پڑا۔ دوسری صدی ہجری کے نصف اول کے زمینی حقائق کی روشنی میں امام ابو حنیفہؒ (متوفیٰ ۱۵۰ھ) کے فہم اسلام کی رو سے روئے زمین کو صرف دو حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے تھے یعنی دار الحرب اور دار الاسلام۔ لیکن جلد ہی امام شافعیؒ (متوفیٰ ۲۰۴ھ)بلکہ خود امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ کو اس تقسیم پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہوں نے دار الاسلام اور دار الحرب کی دوگانہ تقسیم کے مابین دار العہد اور دار الصلح کی درمیانی تقسیمیں تجویز کرنا ضروری سمجھا۔ کچھ اور بعد کے فقہا نے دار العدل، دار البغی اور ایسی ہی دوسری تقسیموں کی ضرورت محسوس کی۔ آج کے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں جدید زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ان تمام تقسیموں پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کوئی ایک ملک نہ دنیا سے بالکلیہ لاتعلق ہو کر رہ سکتا ہے اور نہ کسی ملک سے تعلق کی وہ نوعیت ہو سکتی ہے جو فقہاء اسلام نے دار الحرب کے حوالے سے سوچی تھی۔ یہاں تک کہ جن ممالک سے مسلمان عملاً برسر جنگ ہیں (مثلاً ہندوستان، اسرائیل، روس اور فلپائن) ان کو بھی کلی طور پر دار الحرب قرار دینا اس لیے مشکل ہے کہ فقہائے اسلام نے اس وقت دار الحرب کی جو شرائط بیان کی تھیں، ان میں سے کئی شرائط ان ممالک میں نہیں پائی جاتیں۔ اسی طرح کئی ایسے ممالک ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، جہاں مسلمانوں کی خود مختار حکومتیں بھی ہیں، جہاں انہیں مذہبی مراسم اور مذہبی تعلیم کی آزادی بھی حاصل ہے لیکن وہ خود کو آئینی طور پر سیکولر یعنی لامذہبی ریاست قرار دیتے ہیں۔ ان کو نہ شاید دار الاسلام کے زمرہ میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ غالباً ان کو دار الحرب قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ اور ا س طرح کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کے پیش نظر ایک نئی تقسیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ قرآن مجید اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام اور نصوص اور فقہاء اسلام کے متفق علیہ اجتہادات کو سامنے رکھتے ہوئے ان حدود کا آسانی سے تعین کیا جا سکتا ہے جن کے ذریعے سے جدید بین الاقوامی تعلقات اور میل جول کے معاملات کو نئے انداز سے منظم کیا جا سکے۔

اسی طرح کا ایک اور مسئلہ گزشتہ چند سالوں کے درمیان ہونے والی بحثوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ یہ بحثیں جو مشہور امریکی فضلا سموئیل ہنٹنگٹن اور فوکویاما کی تحریروں سے شروع ہوئی تھیں، اس وقت دنیا میں بحث ونظر کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اس نے مستقبل میں ممکنہ تہذیبی جنگ یا کم از کم کشمکش کے بارے میں مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھنے والے متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ تہذیبوں کے اس تصادم میں اسلام کا رویہ کیا ہوگا؟ جس چیز کو اسلامی تہذیب کہا جاتا ہے، اس کے تحفظ اور بقا کے لیے مسلمانوں کو کس حد تک جانا چاہیے؟ کیا اسلامی تہذیب کے مادی اور فنی مظاہر (مثلاً تاج محل اور الحمرا) اسی طرح دفاع کے مستحق ہیں جس طرح اسلامی تہذیب کے فکری اور تعلیمی امتیازات (مثلاً اسلامی علوم، کلام اور اصول فقہ وغیرہ)؟ تہذیبوں کے اس ممکنہ تصادم یا کشمکش میں مذاہب کی روایتی تقسیم (مذاہب اہل کتاب، شبہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب) کی حیثیت کیا ہوگی؟ تہذیبوں کے اس تصادم کے دوران مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہوگی؟ اس باب میں کیا مسلم حکومتوں، مسلم عوام اور مسلم اقلیتوں کی ذمہ داریوں کے مابین فرق کیا جائے گا؟ اگر تہذیبوں کا یہ تصادم شروع ہوا تو دنیائے اسلام میں اس وقت قائم قومی ریاستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ قومی ریاستوں اور تصور امت کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ دنیائے اسلام کے وہ علاقے جہاں بہت سے لوگ خود کو مغربی تہذیب کا تسلسل قرار دیتے ہیں، ان کا طرز عمل اس تصادم کے دوران میں کیا ہونا چاہیے؟ یہ اور ایسے بے شمار سوالات ہیں جو ایک اجتہادی بصیرت کے متقاضی ہیں۔ ان سوالات کا جواب نہ محض فقہی اسلوبِ استدلال سے کام لے کر دیا جا سکتا ہے اور نہ محض متکلمین اسلام کی تحریروں سے۔ اس کام کے لیے نہ صرف قرآن مجید پر گہری نظر اور پیغام قرآن میں عمیق بصیرت کی ضرورت ہے بلکہ فکر اسلامی میں مہارت، تصوف اور کلام سے واقفیت اور تاریخ اسلام پر گہری نظر کے ساتھ ساتھ جدید مغربی افکار بالخصوص فلسفہ تاریخ اور معرکہ مذہب وسائنس کی تاریخ اور نشیب وفراز سے ناقدانہ واقفیت بھی ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں اس کی گنجائش ہے کہ ایسے اصحاب بصیرت پیدا ہو سکیں جو اس طرح کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے میں امت مسلمہ کی راہ نمائی کر سکیں؟ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا کم از کم ایک بنیادی ہدف ایسے افراد کار کی تیاری بھی ہونا چاہیے۔

اسلامی علوم وفنون کی تدوین نو کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ جو جدید دینی تحریکات اور تحریکی فکر کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، وہ جہاد اور دعوت کے رشتہ شکستہ کی بازیابی ہے۔ بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائیوں میں جب پہلی جنگ عظیم میں کام یابی کے بعد سلطنت برطانیہ کا آفتاب نصف النہار پر معلوم ہوتا تھا، جب لینن اور اسٹالن کی سربراہی میں کمیونزم کی جبروتی طاقت سامنے آئی، جب ہٹلر اور مسولینی کی قائم کردہ کلیت پسندانہ اور مستبدانہ سلطنتیں وجود میں آئیں تو دنیائے اسلام میں بہت سے حساس اور مخلص خادمین اسلام نے یہ محسوس کیا کہ دنیائے اسلام کی کمزوری اور ادبار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امت مسلمہ کی پشت پناہی کے لیے کوئی ایسی بڑی سلطنت موجود نہیں جو مذکورہ بالا ریاستوں کے مقابلے میں کھڑی ہو سکے اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام کے موقف کو بیان کر سکے۔ اس احساس نے جس کی بنیادیں اخلاص اور دردمندی کے خمیر سے اٹھی تھیں، متعدد طاقت ور اسلامی تحریکات کو جنم دیا۔ ان تحریکوں کی صفوں سے بہت سے ایسے اہل قلم اور ارباب صحافت سامنے آئے جنہوں نے ملت اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ کی لازمی شرط اور خشت اول کے طور پر اسلامی ریاست کے وجود کو لازمی قرار دیا اور یوں بیسویں صدی کے وسط سے لے کر آئندہ کم وبیش پچاس سال کے دوران میں یہ بحث معاصر اسلامی فکر کی شاید سب سے اہم بحث بن گئی جس نے دنیائے اسلام میں مغربی تعلیم یافتہ نوجوانو ں کی ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا اور اس طرح احیاء اسلام اور اقامت دین کی اصطلاحیں تاسیس ریاست کے مترادف بن گئیں۔ ان مباحث میں جہاد اور دعوت کی اصطلاحات کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا لیکن اکثر وبیشتر یہ دونوں اصطلاحات ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئیں حالانکہ یہ دونوں اصطلاحات مسلمانوں کی دینی ذمہ داریوں کے دو مختلف مراحل کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسلامی تعلیم کی بنیادی روح ایمان کامل، تعلق مع اللہ اور اخروی کامیابی کا حصول ہے۔ اسلام کا مزاج داعیانہ ہے، فاتحانہ نہیں۔ وہ سنگ وخشت کو فتح کرنے سے نہیں، قلب وروح کو فتح کرنے سے غرض رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معاصر حکمرانوں کو جتنے بھی تبلیغی والانامے تحریر فرمائے، ان میں بہت سے والا ناموں میں یہ بات قدر مشترک کی حیثیت رکھتی تھی کہ اگر تم اس پیغام کو قبول کر لو تو تمہاری حکومت برقرار رہے گی اور تمہارا اقتدار قائم رہے گا۔ اسلامی دعوت کی تاریخ میں یہ بات انتہائی اہمیت رکھتی ہے کہ آغاز وحی سے لے کر ریاست مدینہ کے قیام اور سنہ ۲ ہجری میں میثاق مدینہ کی تحریر وتدوین تک کا یہ سارا پندرہ سالہ عمل ایک انتہائی پرامن تبدیلی کے عمل سے عبارت تھا۔ بغیر ایک قطرہ خون بہائے اور تلوار ہاتھ میں لیے ایک مسلم معاشرہ اور مسلم ریاست وجود میں آ گئی۔ جہاد بالسیف کی اجازت اس وقت دی گئی جب اس ریاست پر بیرونی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ دعوت اور جہاد کے مابین اس نہایت اہم تاریخی ترتیب کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں اصل دعوت ہے اور جہاد بالسیف اس کا ایک ناگزیر مرحلہ۔ یوں بھی قرآن مجید کی متعلقہ نصوص کی رو سے جہاد کی بہت سی قسموں (جہاد بالمال، جہاد بالقرآن، جہاد بالنفس) کے ساتھ جہاد بالسیف محض ایک مرحلہ ہے، اگرچہ وہ اپنی اہمیت اور فضیلت کے اعتبار سے بقیہ تمام مراحل سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

بیسویں صدی کی اسلامی تحریکات میں جو مزاج تیار ہوا اور جو ادب سامنے آیا، اس میں دعوت اور جہاد کے ان مراحل اور ترتیب کا لحاظ رکھنے کی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شعوری کوشش نہ کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دعوت کا خالص نبوی اسلوب پس منظر میں چلا گیا اور مغربی انداز کے سیاسی عمل اور سیاسی تنظیم نے اس کی جگہ لے لی۔ سیاسی سرگرمیوں کا یہ انداز خالص دعوتی انداز سے چونکہ خاصا مختلف تھا اس لیے جب ان سرگرمیوں کو دینی مکالمہ اور دینی محاورہ میں بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس میں جہاد کی اصطلاح زیادہ موزوں اور قریب الفہم محسوس ہوئی اس لیے اس کو بلاتکلف استعمال کیا جانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاد کے وہ تمام مستلزمات جو جہاد بالسیف کے ساتھ خاص ہیں، روزہ مرہ کے سیاسی عمل کا لازمی حصہ سمجھے جانے لگے اور یوں دینی تحریکات کے پرجوش کارکنوں کے ذہنوں میں معمول کا مغربی انداز کا سیاسی عمل ایک جہادی سرگرمی بن گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب اس میں شدت پیدا ہوتی گئی تو اس کا اظہار شدت پسندانہ اور بعض دفعہ دہشت پسندانہ انداز میں ہونے لگا۔ گزشتہ چوتھائی صدی کے دوران میں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پھیلی ہوئی بہت سی اسلامی تحریکات کے کارکنوں کی شدت پسندی کے اسباب اسی فکری پس منظر میں تلاش کیے جانے چاہییں۔

ان حالات میں مسلمان اہل علم اور مفکرین کی یہ ذمہ داری ہے کہ جہاد اور دعوت کے گرد گھومنے والے اس نئے علم کلام کا ازسرنو جائزہ لیں اور یہ واضح کریں کہ دعوت اور جہاد کا رشتہ کیا ہے اور یہ کہ دور جدید کے مغربی انداز کے عام سیاسی عمل کی اسلام میں کیا حیثیت ہے اور یہ کہ اس عمل کو کب اور کس طرح دعوتی رنگ دیا جانا چاہیے اور کب اور کن حالات میں اس عمل کو جہاد بالسیف میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

جہاد کے سیاق وسباق میں جہاں دعوت وجہاد کے رشتہ شکستہ کی بحالی ضروری ہے اور جہاں اسلام کے داعیانہ (بمقابلہ فاتحانہ) کردار کی اہمیت پر زور دینے کی ضرورت ہے، وہاں جہاد اصغر (جہاد بالسیف) اور جہاد اکبر (جہاد بالنفس) کا تعلق یاد دلانا بھی ضروری ہے۔ عدل، وفاء عہد، احساس ذمہ داری، نظم، سمع وطاعت اور اس طرح کے بہت سے احکام جہاد کے لازمی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان عناصر کے بغیر اگر تلوار اٹھائی جائے گی تو وہ فتنہ اور افراتفری پیدا کرے گی اور اس سے جہاد کے تقاضے پورے نہ ہوں گے۔ تلوار آخری چارہ کار ہے۔ اس سے پہلے دعوت اور اس کے مراحل، تالیف قلب اور اس کے مراحل اور دشمن پر پرامن دباؤ کے مراحل کا گزرنا ضروری ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جدید اسلامی فکر کے نمائندہ بعض انتہائی محترم اسلامی مفکرین کی تحریروں سے جو یک طرفہ رجحان جنم لے رہا ہے، اس میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس عدم توازن کی بڑی وجہ سلف کی احتیاط، توازن اور جامعیت کا نظروں سے اوجھل ہو جانا ہے۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے نئے معاملات ہیں جو سنجیدہ اور گہرے غور وخوض کے متقاضی ہیں۔ اسلامی علوم وفنون کی تدوینِ نو کا عمل ان بنیادی تصورات ومفاہیم کی تصحیح وتوضیح کے بغیر ممکن نہ ہوگا۔

یورپ میں چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی۔ ایک جائزہ

سلطان احمد اصلاحی

عیسائیت کبھی فکر ونظر کا کوئی مکمل نظام نہیں رہی جس کی بنیاد پر سماج کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل کی جا سکے۔ قوم یہود کے اندر جو زرپرستی اور دنیا طلبی پیدا ہو گئی تھی، اس کے علما ورہبان جس طرح روح شریعت کو چھوڑ کر اس کے الفاظ سے کھیلنے لگے تھے اور اپنے دینی منصب کو کلیتاً جلبِ دنیا کا ذریعہ قرار دے رکھا تھا، حضرت مسیح علیہ السلام ایک عارضی وقفے کے لیے انہی کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے تھے جس کی صراحت وہ خود ان لفظوں میں کرتے ہیں:

’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘ (متی باب ۱۵:۲۴)

آں جناب کی ان تعلیمات وہدایت سے بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ کی بعثت خاص قوم یہود کے لیے ہوئی تھی اور آپ کی تمام تر کوششیں ان کے بگاڑ کو دور کرنے اور انہیں راہ راست پر لگانے پر مرکوز تھیں:

’’تم سن چکے ہو کہ تم سے کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی دہنے گال پر طمانچہ مارے‘ دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور جو کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے‘ اس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔ جو کوئی تجھ سے مانگے‘ اسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے‘ اس سے منہ نہ موڑ۔‘‘(متی باب ۵: ۳۸۔۴۲)

’’لیکن میں تم سننے والوں سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو۔ جو تم سے عداوت رکھیں‘ ان کا بھلا کرو۔ جو تم پر لعنت کریں‘ ان کے لیے برکت چاہو۔ جو تمہاری تحقیر کریں‘ ان کے لیے دعا کرو۔ جو تیرے ایک گال پرطمانچہ مارے‘ دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چوغہ لے‘ اس کو کرتا لینے سے بھی منع نہ کر۔ جو کوئی تجھ سے مانگے‘ اسے دے اور جو تیرا مال لے لے‘ اس سے طلب نہ کر۔‘‘ (لوقا باب ۶: ۲۷۔۳۱)

’’مگر تم اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور بھلا کرو اور بغیر ناامید ہوئے قرض دو تو تمہارا اجر بڑا ہوگا اور تم خدا تعالیٰ کے بیٹے ٹھہرو گے کیونکہ وہ ناشکروں اور بدوں پر بھی مہربان ہے۔ جیسا تمہارا باپ رحیم ہے‘ تم بھی رحم دل ہو۔‘‘ (ایضاً آیت ۳۵‘۳۶)

قومِ یہود جسے اللہ تعالیٰ نے ایک خا ص وقت تک کے لیے امامت عالم کے منصب پر فائز کیاتھا اور اسے اپنے بے پایاں احسانات سے نوازا تھا‘ اس کی ہدایت وراہنمائی کے لیے تورات کی صورت میں ایک جامع مجموعہ قوانین عطا کیا تھا۔ بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اندر خرابی اور بگاڑ کی جو صورتیں پیدا ہوئیں‘ اس کا نمایاں ترین مظہر اس قوم کا فقہی جمود تھا۔چنانچہ اس نے روح شریعت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کے ظاہر کو سب کچھ سمجھ لیا۔ بے جا لفظی موشگافیاں کر کے خدائی شریعت کو کچھ کا کچھ بنا دیا اور احکام کے حقیقی منشا کے علی الرغم ان کا ہیولیٰ ہی بالکل بدل کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں وہ ان بے شمار جکڑ بندیوں میں پھنس گئے جن کا خدائی مرضی سے کوئی واسطہ نہ تھا اور بہت سی ان بندشوں سے وہ آزاد ہو گئے جن کا الٰہی شریعت انہیں پابند دیکھنا چاہتی تھی۔ قوم یہود کے سلسلہ انبیا کی آخری کڑی حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت توراتی شریعت میں پیدا ہوجانے والے اسی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ہوئی تھی اور آپ کو ملنے والے مجموعہ احکام انجیل کی امتیازی حیثیت ہی یہ تھی کہ وہ اس قوم اور خاص کر اس کے علما ورہبان کی ظاہر پرستی کو ختم کر کے ان کے اندر روح شریعت کی پیروی کے جذبہ کو بیدار کرے۔ عہد نامہ جدید کا درج ذیل بیان اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اپنی قوم کے فقیہوں اورفریسیوں کی حالت زار پر ماتم کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’اے ریا کار فقیہو اور فریسیو!تم پر افسوس کہ تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھتے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔‘‘ (متی باب ۲۳:۱۴)

’’اے ریاکار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر دہ یکی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔ اے اندھے راہ بتانے والو‘ جو مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔

اے ریاکار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ پیالے اور رکابی کو اوپر سے صاف کرتے ہو مگر وہ اندر لوٹ اور ناپرہیزگاری سے بھرے ہیں۔ اے اندھے فریسی! پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف کر تاکہ اوپر سے بھی صاف ہو جائیں۔

اے ریاکار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کے مانند ہو جو اوپر سے تو خوب صورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہو۔‘‘

(ایضاً‘ آیات ۲۳ تا ۲۸)

’’پھر اس نے اپنی تعلیم میں کہا کہ فقیہوں سے خبردار رہو جو لمبے لمبے جامے پہن کر پھرنا اور بازاروں میں سلام اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجے کی کرسیاں اور ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں اور وہ بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھتے ہیں اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہیں۔ ان ہی کو زیادہ سزا ملے گی۔‘‘ (مرقس باب ۱۲: ۳۸۔ ۴۰)

لیکن سانحہ یہ پیش آیا کہ قوم یہود کی عظیم اکثریت نے حضرت مسیح علیہ السلام کا انکار کیا اور اپنے کو انجیل سے بالکل بے تعلق کر لیا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے آں جناب کی پیروی اختیار کی‘ وہ آپ کے حکم اور مرضی کے علی الرغم دوسری انتہا پر جا پہنچے کہ انہوں نے انجیل ہی کو سب کچھ سمجھ لیا اور توراۃ کے منکر ہو گئے جبکہ اصل صورت یہ تھی کہ تورات اور انجیل دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی تھیں۔ اس دوگونہ مجموعہ شریعت کی پیروی ہی میں اہل کتاب کی نجات مضمر تھی اور اسی کے ذریعے سے وہ زندگی میں جادۂ اعتدال پر قائم رہ سکتے تھے۔ اہل تورات جس فقہی جمود اور لفظی جکڑبندیوں کے گرداب میں پھنس گئے تھے‘ انجیل کے بغیر وہ اس سے نکلنے میں کام یاب نہیں ہو سکتے تھے۔ اس طرح انجیل میں حکمت وموعظت اور روح شریعت کی بھرپور تشریح وتفصیل تو تھی لیکن توراتی مجموعہ قانون کے بغیر اس کے لیے زندگی کی گاڑی کو زیادہ دور تک اعتدال وتوازن کے ساتھ چلانا بہت مشکل تھا۔ لیکن تفصیلات سے قطع نظر ہوا یہی کہ انجیل تورات سے کٹ گئی اور جس طرح اہل کتاب کے لیے انجیل سے روگردانی کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ وہ روح شریعت سے عاری ہو کر نری ظاہر پرستی اور دنیا طلبی اور جلب منفعت میں لگ گئے‘ پیروان مسیح کے لیے توراۃ کے انکار کا انجام یہ ہوا کہ ان کے پاس ایک بالکل کٹی پھٹی شریعت باقی رہ گئی جو واقعہ یہ ہے کہ سماج کی تعمیر اور انسانی آبادی کے مسائل کے حل کی عظیم ذمہ داری سے کسی بھی صورت عہدہ برآ نہیں ہو سکتی تھی۔ اس سے بھی بڑا سانحہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح کی وفات پر زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ ۳۲۵ء کی نیسیا کی کونسل میں مسیحیت پر پال کی اجارہ داری قائم ہو گئی جس کے نتیجے میں اس کی صورت ہی مسخ ہو گئی۔ توراۃ سے کٹ جانے کے سبب اس کے اندر پیدا ہوجانے والی مذکورہ خامی اور کمی سے قطع نظر اس کی ہم آہنگی بالکل خاک میں مل گئی اور وہ تضادات کا ایک مجموعہ بن کر رہ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ عہد نامہ جدید میں اگر حضرت مسیح علیہ السلام ایک طرف اپنے پیرووں کو اس دعا کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں کہ آسمان کی طرح زمین پر بھی خدا کی بادشاہت قائم ہو:

’’پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ ‘ تو جو آسمان پر ہے‘ تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے‘ زمین پر بھی ہو۔‘‘ (متی باب ۶: ۹۔۱۰)

تو دوسرے مقام پر ہمیں ان کا یہ اعلان پڑھنے کو ملتا ہے:

’’میری بادشاہی اس دنیا کی نہیں۔‘‘ (یوحنا باب ۱۸:۳۶)

اس سے بھی آگے دوسری جگہ وہ صاف طور پر دین ودنیا کی تقسیم کا درس دیتے دکھائی دیتے ہیں:

’’پس جو قیصر کا ہے‘ قیصر کو اور جو خدا کا ہے‘ خدا کو ادا کرو۔‘‘ (متی باب ۲۲:۲۱)

اس کے علاوہ عہد نامہ جدید حکومت وقت کی پیروی کو بلالحاظ اس کے کہ وہ کس روش پر عمل پیرا ہے اور اس کا انداز کیا ہے‘ پیروان مسیح کے لیے لازم قرار دیتا ہے :

’’ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابع دار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں‘ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔ پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے‘ وہ خدا کے انتظام کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں‘ سزا پائیں گے۔‘‘ (رومیوں کے نام پولس رسول کا خط باب ۱۳: ۱۔۲)

اس تاکید کے ساتھ کہ:

’’سب کا حق ادا کرو۔ جس کو خراج چاہیے‘ خراج دو۔ جس کو محصول چاہیے‘ محصول‘ جس سے ڈرنا چاہیے‘ اس سے ڈرو۔ جس کی عزت کرنا چاہیے‘ اس کی عزت کرو۔‘‘ (ایضاً آیت ۷)

رومن ایمپائر کو پال (Paul) کی قائم کردہ اسی مسیحیت کا تجربہ ہوا اور چوتھی صدی عیسوی میں وہ ا س کا سرکاری مذہب قرار پا گئی۔ پانچویں صدی عیسوی میں حالات کی گردش سے رومن ایمپائر کے زوال کے بعد فطری طور پر اس کی وراثت اس کے حصے میں آئی۔ اپنی ان محدودیتوں اور کمیوں کے پیش نظر جن کا ابھی ذکر ہوا‘ مسیحیت کے لیے مناسب تو یہ تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ چھوٹے اور مختصر دائروں میں انسانی زندگی کے مسائل کے حل میں اپنے کو لگاتی اور حکومت وسلطنت کے جھمیلوں سے اپنے کو بالکل دور رکھتی لیکن مسیحیت کے علم برداروں کے لیے‘ جن کی نگاہیں رومن ایمپائر کی زبردست شان وشوکت کے سامنے خیرہ ہو چکی تھیں‘ اس کا سہارنا اور کمتر دائرے پر اپنے کو قانع بنانا ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ اس کے بعد ذرا تاخیر کیے بغیر کلیسا نے اپنے کو رومی شاہنشاہی کے ڈھنگ پر منظم کرنا شروع کر دیا اور آٹھویں اور نویں صدی تک وہ پوری طرح کھل کر میدان میں آ گیا لیکن جیسا کہ اشارہ کیا گیا‘ پال کی مسیحیت اپنی محدودیت اور اپنے داخلی تضادات کے ساتھ حکومت وسلطنت کے لیے کوئی کامل اور ہم آہنگ نظام عمل عطا کرنے سے قاصر تھی‘ چنانچہ قطع نظر ان بے شمار ادارہ جاتی اور شعبہ جاتی امور ومسائل کے جن میں اس کا نمائندہ کلیسائے روم بری طرح رومن ایمپائر سے متاثر رہا اور بے چون وچرا اور بلا تامل انہیں اپنے ہاں اپناتا گیا، اس صورت حال نے سرزمین یورپ میں اسی وقت سے چرچ اور اسٹیٹ بالفاظ دیگر مذہب اور ریاست کا جھگڑا کھڑا کر دیا کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ کون ہے؟ اپائے روم یا وقت کے سیکولر حکمران؟ جس کا سلسلہ آگے ہزار سال یعنی سترہویں اور اٹھارویں صدی تک جاری رہا جبکہ مختلف انقلابات کے نتیجے میں کلیسائی اور شاہی بساط الٹ کر دستوری حکومتیں وجود میں آتی ہیں جن کے اندر کھلے لفظوں میں مذہب کی معاملات دنیا سے بے دخلی کا اعلان کیا جاتا ہے اور یورپ اطمینان کا سانس لیتا دکھائی دیتا ہے کہ اب آئندہ اسے مذہب کے نام پر ظلم واستبداد کے شکنجے میں نہ کسا جا سکے گا۔ زمانہ مابعد میں اسی کی تقلید میں دنیا کے مختلف حصوں سے مذہب کی معاملات دنیا سے بے دخلی کی بات ہمارے سننے میں آتی ہے۔

چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی

آج یورپ نے اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ مذہب کا معاملاتِ دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسی کے اثر سے دنیا کے بیشتر خطوں میں بھی اسے ایک مقبول عام تصور کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے لیکن آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ زیادہ دور نہیں‘ ابھی اٹھارویں صدی کے اختتام تک صورت یہ تھی کہ وہاں ’’بادشاہ بمرضی خدا‘‘ (King by the grace of God)کے لقب کے بغیر بادشاہوں کا نام لینے کی بھی کسی کی ہمت نہ تھی۔ اگلے زمانوں کی بات اپنی جگہ‘ اسی اٹھارویں صدی میں فرانس کے لوئیس چہاردہم (Louis XIV) اور انگلینڈ کے جیمز دوم (James II) نے ’’مرضی خدا‘‘ (The grace of God)کو ایک سیاسی عقیدے کے طور پر اپنایا اور اس کی بدولت اپنی کلیت پسندی (Absolutism) کے لیے وجہ جواز پیدا کی جس کی رو سے دیگر تمام انسانی حقوق مثلاً دولت‘ خاندان‘ پارلیمنٹ وغیرہ کی طرح بادشاہ کا یہ حق بھی ابدی اور من جانب اللہ تھا جسے کسی صورت چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح بادشاہ کی شخصیت عام انسانی قانون کے دائرے سے بلند قرار پا گئی تھی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ فرانس کی عمل داریوں (Estates) نے اس تصور کو قبول کرنے سے انکار کیا اور برطانوی پارلیمنٹ نے نسبتاً اور سختی سے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ بالآخر انگلینڈ کے ۱۶۸۸ء اور فرانس کے ۱۷۸۹ء کے انقلابات کے نتیجے میں بادشاہوں کے اس تقدس اور ان کے من جانب اللہ ہونے کے تصور کو آخری طور پر مسترد کر دیا گیا۔

سرزمین یورپ میں عیسائیت کے قدم جمانے سے لے کر اٹھارویں صدی کے اختتام تک یہ مسئلہ کبھی زیر بحث آیا ہی نہیں کہ مذہب کا معاملات دنیا سے کوئی تعلق ہے‘ نہ ہونا چاہیے بلکہ سچ یہ ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کے لیے جو اپنے ہوش وحواس بالکل کھو نہ چکا ہو‘ اس طرح کی بات اپنی زبان پر بھی لانے کی ہمت نہ تھی۔ اس وقت تک مذہب سے تعلق نہیں‘ مذہب سے لاتعلقی‘ بے دینی سب سے بڑا جرم تھی جس کا ارتکاب کرنے والا نہایت بد انجام سے دوچار ہوتا تھا ۔ وہاں اگر جھگڑا رہا ہے تو اس کا کہ دنیا پرمذہب عیسائیت کی حکومت کس ادارے کے ذریعے سے انجام پائے۔ چرچ اور پاپائیت کے ذریعے سے یہ کام انجام پائے یا یہ ذمہ داری سیکولر حکمرانوں کے سپرد ہونی چاہیے۔ اور کہنا چاہیے کہ عہد جدید کی پو پھٹنے تک یورپ بری طرح سے اس کشمکش کا شکار اور اس اختلاف ونزاع کی آماجگاہ رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا کہ یہی آویزش وچپقلش ہمیں یورپ کی تاریخ کا سب سے نمایاں باب نظر آتی ہے۔ خاص طور پر قرونِ وسطیٰ کے زمانے میں تو ایسا لگتا ہے کہ وہاں اس ایک کام کے سوا دوسرا کوئی کام ہی نہ تھا جس میں باشندگان یورپ کی قوتیں اور صلاحیتیں صرف ہوتیں جس کے لیے ان میں سے ہر فریق ’’کتاب مقدس‘‘ سے غذا حاصل کرتا تھا جو اس کے لیے‘ جیسا کہ ابھی اوپر تفصیل گزری‘ اس مقصد کی خاطر بھرپور مواد فراہم کرتی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپ میں بارہویں صدی سے لے کر سولہویں صدی تک ’’سیاسی تصور‘‘ کی کل دوڑ اس نشانے تک محدود تھی کہ پاپائیت کا یہ دعویٰ کہ شہنشاہیت پر اسے بالادستی حاصل رہے‘ درست ہے یا نہیں۔ خاص طور پر نویں صدی سے لے کر گیارہویں اور بارہویں صدی تک یہ لڑائی اپنے شباب پر تھی جس میں دونوں فریق اپنے اپنے حق میں الگ الگ دلائل فراہم کر رہے تھے۔ کلیسا جس بنیاد پر اپنے لیے اس حق کا مدعی تھا‘ اس میں خاص بات یہ تھی کہ:

۱۔ چونکہ پوری بنی نوع انسانی ایک ہے اس لیے چرچ جس کی بنیاد براہ راست خدا نے رکھی ہے‘ ریاست کی ذمہ داری بھی صحیح معنوں میں اسی کی ہو سکتی ہے۔ خدائی فرمان کے ذریعے سے اسے یہ چیز حاصل ہوئی ہے۔ خدا جس کی ذات میں تمام دنیوی وروحانی اختیارات مرکوز ہیں‘ چونکہ یہ چیز قادر مطلق ذات کا اٹوٹ حصہ ہے اس لیے کسی صورت میں اس کے حصے بخرے نہیں کیے جا سکتے۔ اس ریاست کے سربراہ اصلاً تو حضرت مسیح علیہ السلام ہیں لیکن چونکہ وہ بنفس نفیس اس دنیا میں موجود نہیں اس لیے ضروری ہے کہ زمین پر ان کا ایک نمائندہ ہو جو عام انسانوں پر ان کے اقتدار کو بحال رکھ سکے۔ جناب مسیح کا یہ نمائندہ پوپ (Pope) ہے جو بیک وقت لوگوں کا پادری (Priest) بھی ہے اور ان کا بادشاہ (King) بھی۔ بادشاہ یعنی ان کا دنیوی اور روحانی شہنشاہ‘ ان کا قانون ساز (Law-giver) ان کا منصف (Judge) غرض یہ کہ وہ ہر پہلو سے سب سے بڑا اور زبردست ہے۔

۲۔ دونوں ہی تلواریں جن میں سے ایک روحانی اقتدار کی نمائندگی کرتی ہے‘ دوسری سیکولر اقتدار ہے‘ انہیں پہلے تو خدا نے پطرس (Peter)کو عطا کیا اور اس سے منتقل ہو کر یہ خیر پوپ تک پہنچی جو روئے زمین پر خدا کا نائب (Vicegerent of God) ہے۔ روحانی تلوار کو تو پوپ نے اپنے پاس باقی رکھا البتہ دنیوی تلوار کو اس نے سیکولر حکمرانوں تک منتقل کر دیا لیکن اس منتقلی کا مطلب یہ نہیں کہ یہ لوگ آزادانہ طور پر اس کے مالک ہو گئے۔ ان کی زیادہ سے زیادہ حیثیت یہ ہے کہ یہ کلیسا کے وکیل اور اس کے معتمد علیہ (Agent) ہیں۔ پوپ مالک تو دراصل بیک وقت روحانی اور سیکولر اختیارات دونوں کا ہے‘ البتہ عملاً استعمال وہ اپنے روحانی اختیار ہی کا کرتا ہے۔ بادشاہ اور سیکولر حکمران اپنے مناصب اور اپنے اختیارات بالواسطہ طور پر خدا سے اور بلاواسطہ پوپ سے حاصل کرتے ہیں اور اس بنا پر وہ اس کی رعایا (Vassals) ہیں ۔ بس اتنا ہے کہ پاپا کی رعایا میں شہنشاہ کو سب سے اونچا مقام حاصل ہے۔ اس کی تاج پوشی کی حلف برداری دراصل پوپ کو ایک طرح کا خراج عقیدت ہے۔ دنیوی اقتدار چونکہ چرچ کا عطا کردہ ہے اس لیے اس کا استعمال بھی چرچ کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ پوپ کو اس کا اختیار حاصل ہے بلکہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ سیکولر حکمرانوں کو براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھے۔ کسی تکلف کے بغیر وہ شہنشاہی اقتدار کو ایک شخص سے ہٹا کر دوسرے شخص تک منتقل کر سکتا ہے۔ اپنی اس حیثیت میں دراصل وہ بادشاہ گر یابادشاہ کا انتخاب کنندہ (Imperial elector) ہے۔ شہنشاہیت میں جب کبھی کہیں خلا پیدا ہوگا‘ ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر اس کی نگرانی پوپ تک منتقل ہو جائے گی۔ پوپ کو اس کا بھی اختیار ہے کہ وہ عام حکمرانوں کے خلاف لوگوں کی شکایات کی سماعت کر سکے‘ انہیں معزول کر دے اور ان کی رعایا کو ان کی وفاداری سے الگ قرار دے دے۔

۳۔ مادہ کے بالمقابل روح کا درجہ بڑھا ہوا ہے اس لیے فطری طور پر عوامی اقتدار کے مقابلے میں روحانی اقتدار زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور بجا طور پر اسے زیادہ عزت واحترام کا مقام حاصل ہونا چاہیے۔ چرچ روح کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ ریاست کو صرف اس کے قالب کی نمائندگی حاصل ہے۔ چرچ سورج کے مانند ہے‘ ریاست کی حیثیت اس کے مقابلے میں چاند کی ہے۔ اس بنا پر عوامی اقتدار (Lay authority) روحانی اقتدار سے مستعار ہے‘ اسی کے ذریعے سے اسے قوت نافذہ ملتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس کا تمام تر دارومدار اسی پر ہے۔

اس کے برعکس سیکولر حکمران اپنے لیے جس دلیل کی بنیاد پر اس حق کے دعوے دار تھے‘ اس میں نمایاں بات یہ تھی کہ:

۱۔ سیکولر اقتدار چرچ کا تفویض کردہ نہیں بلکہ یہ چیز براہ راست خدا کی عطا کردہ ہے۔ بادشاہ روئے زمین پر خدا کے نائب اور خلیفہ ہیں اور اس بنا پر وہ صرف اسی کے روبرو جواب دہ ہیں۔ ریاست کو اسی طرح من جانب اللہ (Divine) ہونے کی سند حاصل ہے جیسی کہ چرچ کو ہے اور اس بنا پر وہ چرچ کی تابع فرمان نہیں ہو سکتی ہے۔

۲۔ شہنشاہیت کے علم بردار (Imperialists) پاپائیت کی بالادستی سے اپنے کو آزاد رکھنے کے لیے خاص طور پر کتاب مقدس کو بنیاد بناتے تھے اور عہد نامہ قدیم وجدید ہر ایک سے اس سلسلے میں دلائل فراہم کرتے تھے۔ عہدنامہ جدید سے بالخصوص وہ پال کے اس قول کا حوالہ دیتے تھے جس کا اس سے پہلے ذکر آ چکا ہے کہ :

’’کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں‘ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔ پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے‘ وہ خدا کے انتظام کا مخالف ہے۔‘‘

کتاب مقدس کے اسی طرح کے فرامین کی بنیاد پر سیکولر حکمرانوں کا رعایا سے مطالبہ تھا کہ وہ ان کی غیر مشروط وفادار رہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خدا کی طرف سے مقرر ہونے کے سبب سے وہ صرف خدا کے حضور جواب دہ ہیں اور اس بنا پر پاپائیت کے اختیار سے بالکل آزاد ہیں اور ان کے اوپر اسے کسی قسم کا اثر واقتدار دکھانے کا حق نہیں ہے۔

اس مرحلے پر جن لوگوں نے مختلف تشریحات کے ساتھ کلیسا کی حمایت کی‘ ان میں سے چند خاص نام یہ ہیں: ہیلڈی برانڈ یا گریگوری ہفتم (Hildebrand or Gregory VII, 1073-1080)‘ سینٹ برنارڈ (St, Bernard, 1091-1153)‘ مین گولڈ (Mane Gold)‘ جان آف سیلس بری (John of Salisbury, 1115-1180)‘ سینٹ ٹامس ایکوناس (St. Thomas Aquinas, 1227-1274‘ اور آگسٹس ٹرائمفس (Augustus Triumphus)۔

اس کے بالمقابل سیکولر حکمرانوں کی تائید میں جو لوگ پیش پیش تھے‘ ان میں قابل ذکر یہ لوگ تھے: مارسگلو آف پاڈوا (Marsiglo of Padua, 1270-1340)‘ ولیم آف اوک ہام (William of Ockham, 1290-1347‘ اطالوی فلسفی دانتے (Dante)اور پیرے ڈیوبیس (Pierre Dubois) جن کے استدلال میں علاوہ اور چیزوں کے حضرت مسیح کا یہ قول بھی شامل تھا کہ ’’میری بادشاہی اس دنیا کی نہیں‘‘۔

پاپائیت کے علم برداروں اور سیکولر حکمرانوں کے ہم نواؤں کی یہ لڑائی کیسی شدید تھی‘ اس کا اندازہ آپ صرف اس سے کر سکتے ہیں کہ صرف گیارہویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یعنی ۱۰۵۲ء سے ۱۱۱۲ء کے عرصے میں اپنے اپنے موقف کی حمایت میں فریقین کی طرف سے ایک سو پندرہ کتابچے منظر عام پر آئے تھے۔

چرچ اور اسٹیٹ کی اس لڑائی میں فتح مندی کا سہرا کلیسا کے ہاتھ رہا اور واقعہ یہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی تک پاپائیت کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہ تھی۔ چودھویں صدی کے آتے آتے یورپ میں قومی بادشاہتوں نے زور پکڑنا شروع کریا اور نظام جاگیرداری‘ جبکہ بڑی حد تک یہی ادارہ کلیسا کے زور اور قوت کا ذریعہ تھا‘ دن بدن کمزور پڑتا گیا۔ اسی عرصے میں مختلف اسباب کے تحت یورپ میں روشن خیالی (Enlightenment) اور نشأۃ ثانیۃ (Renaissance)کی تحریکات نے اپنے اثرات دکھانے شروع کیے۔ عوام الناس کے ذہن وفکر میں بیداری آئی‘ سماج میں فرد کی اہمیت کا احساس فزوں تر ہونے لگا اور لوگ بے چون وچرا کلیسا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ نتیجے کے طور پر وہاں میکاولی (Machiavelli, 1409-1527) جیسے مفکرین منظر عام پر آئے جنہوں نے براہ راست مذہب واخلاق سے سیاست کی علیحدگی کا علم بلند کیا۔ اس کے بعد اگرچہ لوتھر (Luther) کی سولہویں صدی کی اصلاح (Reformation) کی تحریک نے ایک بار پھر مذہب اور اسٹیٹ کو ایک ساتھ جوڑنا چاہا جس کے لیے اس نے موجود الوقت پاپائیت کو مسترد کرتے ہوئے بادشاہوں کے ابدی حق (Divine Right of Kings)کا نعرہ لگایا اور خدا کے مقرر کردہ شہزادوں کی خاموش اطاعت (Passive obedience of the godly princes) کی تلقین شروع کی لیکن مسیحی اقتدار سے یورپ اس قدر عاجز آ چکا تھا کہ ’قومی بادشاہتوں‘ کے ذریعے سے مسیحیت کے بالواسطہ اقتدار کے بوجھ کو بھی وہ اب زیادہ دن تک اٹھانے کے لیے آمادہ نہ تھا۔ اس نے صاف لفظوں میں دعویٰ کیا کہ اقتدار کا سرچشمہ بادشاہ نہیں‘ ملک کے عوام ہیں۔ حکومت وقت کو ان کی مرضیات کا آئینہ دار ہونا چاہیے اور معاملات زندگی کی تنظیم اس ڈھنگ سے ہونی چاہیے جیسا کہ کسی ملک کے عوام کی خواہش ہو۔ چنانچہ مذکورہ تحریک اصلاح کے خلاف خود محاذ اٹھ کھڑا ہوا اور آگے اٹھارویں صدی تک خاص طور پر ہابس‘ لاک اور روسو جیسے مفکرین منظر عام پر آئے جنہوں نے میکاولی سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر مذہب واخلاق کو ریاست کے تابع قرار دیا اور بادشاہوں کے ابدی حق کے برخلاف سماجی معاہدہ (Social Contract)‘ عوام کے اقتدار اعلیٰ (Sovereignty of people)اور خواہش عام (General will) کا تصور پیش کیا جس کا خلاصہ تھا کہ حکومت کا ادارہ بذات خود اقتدارکا مالک نہیں۔ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔ حکمران اور عوام کے درمیان ایک طرح کا سماجی معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت کوئی حکومت وجود میں آتی ہے اس لیے اسے عوام کی مرضیات کا آئینہ دار ہونا چاہیے جس سے خلاف ورزی کی صورت میں وہ اپنے حق بقا سے محروم ہو جاتی ہے۔ نیز یہ کہ مسیحیت کسی صورت میں حکومت وسیاست کے لیے موزوں نہیں۔ یہ خاص طور پر انہی لوگوں کے افکار کا نتیجہ تھا کہ ۱۶۸۸ء میں انگلینڈ اور ۱۷۷۶ء میں امریکہ اور ۱۷۸۹ء میں فرانس کے انقلابات وجود میں آئے جن میں آخری طور پر بادشاہتوں کے خاتمہ کے ذریعے سے بالواسطہ طور پر سرزمین یورپ سے مسیحیت کے اقتدار کا خاتمہ عمل میں آیا اور معاملات دنیا سے بے دخل کرتے ہوئے مذہب کو فرد کی نجی زندگی پر قانع ہونے کے لیے مجبور کر دیا گیا اور انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ دستوری سطح پر یہ بات منظر عام پر آئی کہ مذہب کا معاملات دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسے اگر جینا ہے تو اس دائرے کے باہر ہی وہ زندہ رہ سکتا ہے۔ چنانچہ ان انقلابات کے نتیجے میں جو تحریری دستاویزات سامنے آئیں‘ ان میں اگرچہ خالق کائنات (Creator)‘ خدا تعالیٰ (Prudence)اور اعلیٰ تر ہستی (Supreme Being) کے الفاظ موجود ہیں لیکن اس بات کی صراحت بھی موجود ہے کہ معاملات دنیا کے سلسلے میں اب مذہب کے لیے کوئی احترام نہیں رہے گا نیز یہ کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ دراصل قوم ہوا کرتی ہے۔

بلنچلی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’تھیوری آف اسٹیٹ‘ میں ریاست سے تعلق رکھنے والے بعض اہم مسائل کے سلسلے میں قرون وسطیٰ اور عہد جدید میں ان کے مابین پائے جانے والے فاصلے کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے جس کے ذریعے سے موجودہ دور میں ’مذہب کی معاملات دنیا سے بے دخلی‘ کے رائج الوقت تصور کے پس منظر کو کافی بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ہم ذیل میں اس کے بعض اہم عنوانات کو اسی نقشہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں:

قرون وسطیٰ

۱۔ ریاست کا تصور

قرون وسطیٰ میں ریاست اور ریاست کے اختیار کو براہ راست خدا سے حاصل کردہ تصور کیا جاتا تھا۔ ریاست کی حیثیت ایک ایسی تنظیم کی تھی جو خدا کی مرضی کی آئینہ دار اور اس کے اپنے ہاتھوں کی پیدا کردہ تھی۔

عہد جدید

جدید دور میں ریاست کا وجودانسانی ذرائع کا رہین منت ہے اور اس کی بنیاد تمام انسانی فطرت پر ہے۔ ریاست ایک مشترک زندگی کی تنظیم سے عبارت ہے جس کی تشکیل انسانی ہاتھوں کے ذریعے سے انجام پاتی ہے اور اس کا انتظام بھی انہی کے ذریعے سے چلتا ہے اور یہ چیز تمام تر انسانی مقاصد کے گرد گھومتی ہے۔

۲۔ دینیات اور سائنس

ریاست کے تصور کی بنیاد مذہبی اصولوں پر تھی اور اس کی طاقت سے اس کی پوری مشینری حرکت کرتی تھی۔ قرون وسطیٰ میں اگرچہ مسیحیت چرچ اور اسٹیٹ کی ثنویت کی قائل تھی لیکن اس کا اعتقاد تھا کہ یہ دونوں ہی تلواریں یعنی روحانی اور دنیوی‘ خدا کی تفویض کردہ ہیں۔ ایک کو اس نے پوپ کے حوالے کیا ہے اور دوسرے کی ذمہ داری شہنشاہ کو سونپی ہے۔ پروٹسٹنٹ اسکول دینیات نے روحانی تلوار کے تصور کو مسترد ضرور کیا اور صرف ایک تلوار یعنی ریاست کو قابل قبول ٹھہرایا لیکن اس مذہبی خیال کو وہ مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے تھا کہ اقتدار اعلیٰ خدا کی طرف سے آتا ہے۔

ریاست کے بنیادی اصولوں کی راہ انسانی علوم یعنی فلسفہ اور تاریخ متعین کرتے ہیں۔ موجودہ علم سیاسیات ریاست کی تعبیر وتشریح میں اصلاً انسان کا اعتبار کرتا ہے۔ وہ اپنے سفر کا آغاز ہی اسی نقطہ سے کرتا ہے۔ چنانچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ریاست افراد کے اس اجتماع سے عبارت ہے جو آپس میں اس لیے متحد ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنا تحفظ اور اپنی آزادی کا دفاع کر سکیں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو بحیثیت مجموعی اسے پوری قوم کی امنگوں کا مظہر خیال کرتے ہیں۔ ریاست کا جدید نظریہ مذہبی نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ بالکل لامذہبی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست کا دار ومدار مذہبی عقیدے پر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اس کا انکار نہیں کرتا کہ خدا نے انسانی فطرت کو بنایا ہے اور یہ جو دنیا کا نظام چل رہا ہے‘ اس میں اس کی قدرت کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ موجودہ علم سیاسیات کا وظیفہ یہ نہیں کہ خدائی طور طریقوں کو سمجھنے میں اپنی قوت صرف کرے۔ وہ ریاست کو ایک انسانی ادارے کی حیثیت سے سمجھنا چاہتا ہے۔

۳۔ تھیا کریسی (مذہبی مستبدانہ حکومت)

عہد وسطیٰ میں ریاست کا تصور بالکل پرانے دور کے انسانوں کی طرح براہ راست تھیاکریسی کا تو نہ تھا البتہ وہ بالواسطہ تھیا کریسی کا قائل تھا۔ بیچ کی کڑی یعنی حکمران خدا کا نائب اور اس کا خلیفہ ہوتا تھا۔

جدید اقوام کے سیاسی شعور کے لیے تھیاکریسی اپنی جملہ صورتوں کے ساتھ حد درجہ ناگوار ہے۔ عہد جدید کی ریاست ایک انسانی اور دستوری انتظام سے عبارت ہے۔ ریاست کااختیار عوامی قانون کے ہاتھوں بندھا ہوا ہے اور سیاست کا منتہائے مقصود قوم کی فلاح ہے۔ البتہ یہ تمام چیزیں انسانی فہم سے اخذ کردہ ہیں اور انہیں انسانی ذرائع ہی سے رو بہ عمل لایا جائے گا۔

۴۔ مذہب

قرون وسطیٰ میں ریاست کا تمام تر انحصار ہم مذہب جماعات وافرادپر تھا اور اس کا مطالبہ تھا کہ ہر جگہ عقیدے کی یکسانی رہے۔ کافروں اوربے دینوں کے لیے اس زمانے میں کوئی سیاسی حقوق حاصل نہ تھے۔ ان پر مختلف طرح کے مظالم توڑے جاتے تھے اور انہیں طرح طرح سے ستایا جاتا تھا بلکہ اکثر وبیشتر انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ بہتر سے بہتر سلوک جس کی ان کے ساتھ توقع رکھی جا سکتی تھی‘ وہ یہ کہ ان کے وجود کو انگیز کر لیا جائے۔

موجودہ دور میں کسی شخص کو قانونی طور پر کوئی مقام ومرتبہ عطا کرنے کے لیے ریاست مذہب کو ایک شرط لازم تصور نہیں کرتی۔ فرد اور سماج ان دونوں سے تعلق رکھنے والے قوانین مذہب اور عقیدے کی گرفت سے بالکل آزاد ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ عہد جدید کی ریاست عقیدے کی آزادی کا تحفظ کرتی اور مختلف چرچوں اور مذہبی سوسائٹیوں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھتی ہے۔البتہ مذہب سے بیزار یا کسی بھی بے عقیدہ شخص کے سلسلے میں وہ کسی قسم کی ظلم وزیادتی اور اس کی ایذا رسانی کو کسی بھی انداز سے جائز تصورنہیں کرتی۔

اس موازنے کی روشنی میں عہد جدید کے انسان کی نظر میں مذہب کی حیثیت‘ اس کے مرتبہ ومقام نیز زندگی کی دوڑ میں اس کی واقعی جگہ کے سلسلے میں اس کے نقطہ نظر کو باحسن وجوہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح قرون وسطیٰ میں چرچ اور اسٹیٹ کی کشمکش کے نتیجے میں وہاں مذہب کے سلسلے میں ایک خاص نقطہ نظر پروان چڑھا اور بعد میں آہستہ آہستہ اس نے مسیحیت سے آگے فی الجملہ مذہب ہی کے سلسلے میں ایک عام تصور کی حیثیت اختیار کر لی جس کا انتہائی مقام یہ ہے کہ وہ زندگی میں ایک عضو معطل کی حیثیت سے تو باقی رہ سکتا ہے البتہ اس کے لیے سماج میں کسی موثر کردار کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یورپ کی تاریخ میں ایک طویل عرصے تک مذہب اور چرچ لازم وملزوم کی حیثیت اختیار کیے رہے۔ بعد میں چرچ کا نظام کمزور ہونے کے بعد یہ مقام وہاں کے بادشاہوں کو حاصل ہو گیا اور وہ روئے زمین پر مذہب کا عملی مظہر قرار پائے۔ بادشاہوں نے چرچ کو بے دخل کر کے زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی تو معاملہ پھر بھی غنیمت رہا اس لیے کہ اول الذکر کی طرح یہ بھی اپنے تئیں مذہب کی نمائندگی کے مدعی تھے لیکن اٹھارویں صدی میں جب مذہب سے بیزار بلکہ اس سے عاجز عوام نے ان بادشاہتوں کی بساط الٹی تو بادشاہوں کے خاتمے کا بھی موجب بنی جو اپنے کو اٹوٹ طور پر ان بادشاہتوں سے جوڑے ہوئے تھا۔

یورپ کا ستم یہ ہے کہ پہلے تو اس نے ایک نامکمل مذہب سے جس کے چہرے کو انسانی تحریفات سے بری طرح داغ دار کر رکھا تھا‘ اپنے کو جوڑے رکھا لیکن اس سے بڑی ستم ظریفی اس کی یہ ہے کہ مختلف اسباب کے تحت جب وہ اس مذہب سے عاجز آ گیا تو اسے مسترد کرنے کے ساتھ ہی اس نے نفس مذہب کے سلسلے میں ایسا دھواں دار پراپیگنڈا شروع کیا کہ کہنا چاہیے کہ دنیا کے بیشتر مذاہب کے ماننے والے اس کی لپیٹ میں آ گئے اور اپنے اپنے مذہب کو بھی انہوں نے اسی چوکھٹے کا پابند بنا لیا جس کی وکالت سرزمین یورپ کے فرزانوں کی طرف سے کی جا رہی تھی یعنی یہ کہ مذہب انسان کی پرائیویٹ زندگی کا معاملہ ہے‘ معاملات دنیا سے اس کا کوئی تعلق ہے نہ ہونا چاہیے‘ یہاں تک کہ اہل یورپ کے نزدیک مذہب کی تعریف ہی اس دائرے میں محصور ہو کر رہ گئی کہ ’’مذہب نام ہے اس محسوس عملی تعلق کا جو کسی ایک یا متعدد مافوق الفطری وجود یا وجودوں پر اعتقاد کی صورت میں کسی فرد کا اس سے یا ان سے قائم ہوتا ہے۔‘‘

ہم مبارک بار دیتے ہیں یورپ کو اس کی اس ہوشیاری اور چالاکی پر کہ اس نے جب اپنی ناک کاٹی تو اس کے فضائل اس زور وقوت کے ساتھ بیان کیے کہ دنیا کی عظیم آبادی نے اپنے لیے ’نکٹا‘ ہونے ہی کو باعث افتخار سمجھا اور ہر اس شخص کو الٹا عار دلانے لگی جو کسی بھی صورت اپنے لیے ’ناک والا‘ رہنے کا قائل اور اس کی وکالت کرنے والا اور اس کا موید نظر آتا ہو۔ لیکن خاص طور پر آج کے روشن خیال اور آزادئ فکر ونظر کے مدعیوں سے ہمارا یہ سوال اب بھی قائم ہے کہ کیا یورپ کے اپنے اس محدود تلخ تجربے کے نتیجے میں نفس مذہب کے سلسلے میں اس کا مذکورہ بالا اعلان واظہار کسی بھی درجے میں حق وصداقت کا آئینہ دار ہے؟ اور کیا اس کی پیروی میں کسی بھی دوسری سمت سے اس طرح کے کسی اظہار واعلان کو مبنی بر حقیقت اور حق وانصاف کاتقاضا قرار دیا جا سکتا ہے؟

(بہ شکریہ ’’تحقیقات اسلامی‘‘ اعظم گڑھ۔ انڈیا)

علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ ۔ فکری مماثلتیں

پروفیسر محمد یونس میو

کلام اقبال میں ملا‘ ملائے حرم‘ پیر حرم‘ فقیہان حرم‘ جناب شیخ‘ شیخ مکتب‘ فقیہ شہر‘ صوفی‘ ذکر نیم شبی‘ مراقبے‘ سرور‘ خانقہی اور کرامات جیسی اصطلاحات اور تراکیب سے ایک عامی اس بدگمانی میں بجا طور پر مبتلا ہوتا ہے کہ اقبال طبقہ علماء ومشائخ پر طنز کر رہے ہیں۔ یہ صرف بدگمانی نہیں‘ کچھ حقیقت بھی ہے لیکن اس تنقید کا مصداق جید اور مستند علماء کرام نہیں بلکہ علم وہنر سے بے نیاز اور فکر وعمل سے تہی دامن حضرات ہیں۔ قدیم وجدید میں رشتہ قائم کرنا وقت کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے اور بدقسمتی سے علما کی اکثریت اس امرخاص سے بے نیاز رہی ہے۔ دراصل اقبال مستقبل کے چیلنجوں سے بے خبر انہی روایت پسند رویوں پر اعتراض کرتے ہیں اور اپنی اس تنقید میں وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ تقلیدِ محض اسلام کے اصول حرکت کے منافی ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے اقبالؒ علما کے محسن تصور کیے جا سکتے ہیں۔ رشید احمد جالندھری اپنے ایک مضمون ’’اقبال اور علما‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وہ تو علما کو ان کی معنوی بیماریوں، جمود، تنگ نظری، بے کیف رسوم پرستی اور حقائق حیات سے تغافل وغیرہ سے صحت یاب کر کے ان کو ان کا صحیح مقام دلانا چاہتے ہیں۔‘‘

یہاں اقبال علما تعلقات پر تفصیلی بحث مطلوب نہیں۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ اقبال کے علماء ومشائخ سے گہرے روابط کے باوجود آج ان کو علما کا نقاد خیال کیا جاتا ہے تو اس کی کئی ایک ظاہری وجوہ ہیں۔ ایک وجہ تو اقبال کی علما پر وہ تنقید ہے جو انہوں نے عصری تقاضوں سے غفلت کی وجہ سے ان پر کی ہے۔ دوسری وجہ بعض قدامت پسند حضرات کے وہ فتوے ہیں جو انہوں نے علامہ پر لگائے ہیں۔ ایک اور وجہ علما کا سیاسی کردار بھی ہو سکتا ہے جس کی آڑ میں خاص وعام نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ 

تاہم یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عصری تقاضوں سے علما کی اس علمی بے نیازی کے باوجود اقبال علما سے بے نیاز نہیں ہوئے بلکہ وقتاً فوقتاً ان حضرات سے مقدور بھر استفادہ کرتے رہے چنانچہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی تنقیدات کو علما سے بعد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ علماء ومشائخ سے غایت درجہ کی عقیدت رکھتے تھے۔ مولانا شبلی نعمانی، سید سلمان ندوی اور مولانا انور شاہ کشمیری وغیرہ سے آپ کو خصوصی علمی ودینی تعلق رہا ہے۔ سید سلمان ندوی کے نام علامہ کے بیسیوں خطوط ملتے ہیں۔ ان خطوط سے شبلی، ندوی اور اقبال کی ایک خوبصورت علمی تکون بنتی نظر آتی ہے۔ ’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ کی تیاری کے سلسلے میں اقبالؒ نے مولانا ندوی کو ایک طویل سوال نامہ ارسال فرمایا۔ اس سے ان حضرات کے علمی تعلقات پر روشنی پڑتی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے ’’زندہ رود‘‘ جلد ۳ میں ان سوالات کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ سفر افغانستان بھی ندوی اقبال دوستی پر دال ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری سے اقبال کی متعدد ملاقاتیں اور مسئلہ زمان ومکان، مسئلہ ختم نبوت، فقہ حنفی اور مسئلہ حدوث عالم وغیرہ پر علمی استفادہ بھی ثابت ہے۔ علامہ کشمیری کی وفات پر شاعر مشرق نے لاہور میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کرایا اور اپنی صدارتی تقریر میں شاہ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ’’اسلام کی ادھر کی پانچ سو سالہ تاریخ شاہ صاحب کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔‘‘ مولانا کشمیری کا یہ قول بھی قابل غور ہے کہ ’’مجھ سے جس قدر استفادہ اقبال نے کیا، کسی مولوی نے نہیں کیا۔‘‘

علما کے ساتھ ذاتی روابط کے علاوہ بہت سے معاصر علما اور مشائخ کے ساتھ اقبال کاعلمی، دینی اور فکری اشتراک بھی پایا جاتا ہے جس پر ہمارے سکالرز اور محققین پوری طرح سے توجہ نہیں دے سکے۔ زیر نظر سطور میں، میں مولانا تھانویؒ اور علامہ اقبالؒ کے مابین پائی جانے والی فکری مماثلتوں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ 

ڈاکٹر محمد اجمل نے اپنے مقالہ ’’علم اور مذہبی واردات‘‘ میں ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی کے لیے ’’دو حکیم الامت‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں:

’’بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے مسلمانوں نے دو ممتاز ہستیوں کو ’’حکیم الامت‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔ ایک تھے مولانا اشرف علی تھانوی اور دوسرے علامہ اقبال۔حقیقت میں یہ دونوں ہستیاں حکیم الامت تھیں۔‘‘

پروفیسر انور صادق کے نزدیک اقبال کی بنیادی حیثیت ایک مصلح کی ہے۔ اپنے مضمون ’’اقبال کی بنیادی حیثیت‘‘ میں فرماتے ہیں: 

’’واقعہ یہ ہے کہ اقبال بنیادی طور پر شاعر ہیں اور نہ فلسفی بلکہ وہ کچھ اور ہی ہیں۔ شاعری اور تفلسف ان کی ذات کے اضافی پہلو ہیں۔ درحقیقت وہ مصلحِ قوم ہیں۔‘‘

عالم اسلام کی موجودہ حالت پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ سوچ ایک سوال بن کر ابھرتی ہے کہ جب اسلام ایک ابدی دین ہے جس کو اللہ تمام ادیان پر غالب کرنا چاہتے ہیں تو آخر اس دین حق کی موجودگی میں مسلمان اپنی سیاسی بے چارگی‘ معاشی پس ماندگی‘ معاشرتی بد حالی اور اخلاقی بے راہ روی سے کیوں دوچار ہیں؟ علامہ محمد اقبال نے ’’علم الاقتصاد‘‘ ، ’’قومی زندگی‘‘، ’’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘ اور ’’خطبات‘‘ خاص طور پر خطبہ اجتہاد میں انہی وجوہ کا جائزہ لیا ہے۔ ’’شکوہ‘‘، ’’جواب شکوہ‘‘، ’’طلوع اسلام‘‘ اور ’’خضر راہ‘‘ میں بھی ان سوالات کا جواب ملتا ہے۔ غالباً برصغیر میں ڈاکٹر محمد اقبال پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لیے ’’اسلام کی تشکیل جدید‘‘ کی ضرورت محسوس کی۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی ’’خطبات اقبال پر ایک نظر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’اس کی داد دینی چاہیے کہ ایک ایسے دور جمود وتعطل ذہنی میں جبکہ اجتہاد کا لفظ زبان سے نکالتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں ان پر آزاد خیالی کا لیبل نہ لگ جائے، علامہ نے اپنی چشم بصیرت سے آنے والے زمانے کو دیکھ لیا۔‘‘

آپ اسلامی فقہ کی تدوین نو کو کتنا ضروری خیال کرتے تھے؟ صوفی غلام مصطفی کے نام خط میں لکھتے ہیں:

’’میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت ثابت کرے گا، وہی اسلام کا مجدد ہوگا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم بھی وہی شخص ہوگا۔‘‘

یہی بات قدرے زیادہ شہرت کے پس منظر میں مولانا تھانویؒ کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ اصلاحِ احوال امت کے موضوع پر آپ نے مستقل کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ ’’اصلاح انقلاب امت‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں ایک ضخیم تصنیف جسٹس تقی عثمانی صاحب نے مرتب کی ہے۔ جناب شیخ محمد اکرام نے حضرت تھانویؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’دیوبند سے متعدد بلند پایہ ہستیوں نے فیض حاصل کیا۔ ان میں سے بعض مثلاً انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی اس لائق ہیں کہ ان کے کارنامے علیحدہ عنوانات کے تحت بیان کروں لیکن اکابرین دیوبند میں ایک بزرگ ایسے تھے کہ ان کے ذکر کے بغیر گزشتہ پچاس برس کی مذہبی تاریخ کسی طرح مکمل نہیں ہو سکتی۔‘‘

گردوپیش کے احوال کے لحاظ سے اصلاح امت کے لیے ان دونوں بزرگوں نے جو افکار پیش کیے، ان میں اشتراک اور ہم آہنگی کے متعدد دل چسپ پہلو پائے جاتے ہیں۔ آئیے ان پر ایک نظر ڈالیں:

سیاسی افکار

۱۔ دو قومی نظریہ تحریک پاکستان کا سنگ بنیاد ہے اور مولانا تھانوی روز اول ہی سے دو قومی نظریہ کے حامی اور ہندو مسلم اتحاد کے مخالف رہے تھے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اقبال اور قائد اعظم ایک عرصہ تک ہندو مسلم اتحاد کے داعی رہے۔ میثاق لکھنو وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘، ’’نیا شوالہ‘‘ اور ’’ترانہ ہندی‘‘ ایسی نظمیں اقبال کی اسی فکر کی مظہر ہیں لیکن مولانا تھانوی نے اپنی سیاسی بصیرت سے کام لے کر بہت پہلے ہندوؤں کی ذہنیت سے آگاہ کر دیا تھا۔ اپنے ایک وعظ میں فرمایا:

’’یہ ہندو مسلمانوں کی جان، مال اور ایمان سب کے دشمن ہیں اور انہیں کو اپنا ہم درد اور خیر خواہ سمجھ رکھا ہے۔ یہی ان کی بڑی زبردست ناکامی کا راز ہے۔ جو شخص دوست دشمن میں امتیاز نہ کر سکے، وہ کیا خاک کام کرے گا۔‘‘

گاندھی جسے کانگرس کا دماغ کہنا چاہیے، اس نے نہایت مہارت کے ساتھ مسلمانوں کی قوت اور جذبہ کا استعمال اپنی جماعت کے حق میں کیا۔ عام مسلمان کا تو ذکر ہی کیا، بڑے بڑے اس کے سیاسی فریب کاشکار ہو کر کانگرس کا دم بھرنے لگے۔ مولانا تھانویؒ نے کانگرس کی اسلام دشمنی کو بے نقاب کر کے اس میں عدم شرکت پر فتویٰ دیا: 

’’مسلمانوں کا کانگریس میں شرکت کرنا، ہندوؤں کے ساتھ مل کر یا ان کو ساتھ ملا کر کام کرنا یہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے نہایت خطرناک بات ہے۔‘‘ 

آپ نے اپنے ایک ملفوظ میں مزید فرمایا:

’’کانگرس خالص مذہبی اور سیاسی ہندوؤں کی تحریک ہے جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنا ہے۔‘‘ 

آپ نے ایک اور سلسلہ گفتگو میں فرمایا:

’’ہم کانگرس کی امداد نہیں کر سکتے۔‘‘ 

مولانا تھانوی کے ملفوظات میں بڑے حقیقت پسندانہ تبصرے موجود ہیں۔ ایک خاص مجلس میں گاندھی کے بارے میں فرمایا:

’’یہ توحید اور رسالت کا منکر ہے، اسلام اور مسلمانوں کا دشمن اور رئیس المشرکین والکافرین ہے۔‘‘ 

ایک جگہ گاندھی کو ’طاغوت‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ایک ملفوظ میں اسے چالاک، مکار، اسلام اور مسلمانوں کا دشمن کہا ہے۔ تحریک شدھی، ہجرت، قربانی گاؤ،موہلا بغاوت وغیرہ کے پیچھے گاندھی کا ذہن کام کر رہا تھا۔ ان تحاریک کے نتائج مسلمانوں کے حق میں نہایت مضر اور ہندوؤں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوئے۔ مولانا نے ان امور پر یوں گرفت فرمائی:

’’بعض کفار پر مجھے بہت ہی غیظ ہے۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ ہجرت کا سبق پڑھایا، شدھی کا مسئلہ اٹھایا، مسلمانوں کے عرب جانے کی آواز اٹھائی، قربانی گاؤ پر انہوں نے اشتعال دیا۔ یہ لوگ مسلمانوں کی جان کے دشمن ہیں بلکہ ایمان، جان ومال اور ماہ وجاہ، مسلمانوں کی سب چیزوں کے دشمن ہیں۔‘‘

اس قدر سخت تنقید کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ آپ ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں سوچ بھی سکتے تھے۔ وہ تو اتحاد کو مسلمانوں کی شان کے خلاف سمجھتے تھے نیز ہندوؤں اور انگریز کے بجائے خدا پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ 

علامہ اقبال بھی مسلمان علما کے کانگریسی کردار کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک گفتگو کے دوران میں فرمایا: 

’’کانگرسی خیال کے علما ہندوؤں کا ساتھ دے کر بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اگر قوم نے ان کا ساتھ دیا تو اس کا نتیجہ بہت مہلک ہوگا۔‘‘

مسئلہ وطنیت وقومیت پر مولانا حسین احمد مدنی سے آپ کا اختلاف ایک مشہور بات ہے۔ ’’ارمغان حجاز‘‘ میں ’’حسین احمد‘‘ کے زیر عنوان نظم بھی اس بحث کی یاد دلاتی ہے۔ علامہ نے اپنے موقف کی حمایت میں ’’جغرافیائی حدود اور مسلمان‘‘ کے نام سے مضمون قلم بند کروایا جو ۹ مارچ ۱۹۳۸ء کے روزنامہ ’’احسان‘‘ میں شائع ہوا۔ اس تحریر کے ۴۳ روز بعد آپ راہئ ملک عدم ہوئے۔ مذکورہ مضمون ’’مقالات اقبال‘‘ (مرتبہ سید عبد الواحد) میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

۲۔ علامہ اقبال ترکِ موالات کے مخالف تھے بلکہ اس کے رہنماؤں سے بھی نالاں تھے۔ مولانا تھانویؒ بھی اس تحریک میں مستور نقصانات کو دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ اس کے اثرات پر یوں تبصرہ کیا کہ ایک صاحب جو ترک موالات کا شکار ہوئے اور ملازمت کھو بیٹھے، اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

’’یہ صاحب سرکاری ملازم تھے۔ اس تحریک کے سبب مستعفی ہو گئے۔ ملازمت تلاش کرتے ہیں مگر ملتی نہیں۔ پریشان ہیں۔ دین ودنیا دونوں خراب ہوئے۔ اس کانگریس کی وجہ سے ہر شخص پریشان ہے۔‘‘

۳۔ آپ نے تحریکِ ہجرت کی بھی مخالفت کی اور فتویٰ دیا کہ شریعت نے وجوبِ ہجرت کے لیے جو شرائط عائد کی ہیں وہ شرائط ابھی موجود نہیں۔ آپ ہجرت کو گاندھی کا سبق کہتے تھے اور اس کے فتاویٰ جاری کرنے والے علما پر سخت ناراضی اور غصے کا اظہار کرتے تھے۔ 

علامہ اقبال کے خطوط میں ہجرت کے متعلق اشارات ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اس تحریک کی حمایت بالکل نہیں کی بلکہ اس کو مولانا تھانوی کی طرح ناپسند فرمایا۔ پروفیسر محمد اکبر منیر کو اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: 

’’ہندوستان اور بالخصوص پنجاب سے بے شمار لوگ افغانستان کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ اس وقت تک پندرہ بیس ہزار آدمی جا چکا ہوگا۔‘‘ 

اس تحریک کے نتائج کے بارے میں جسٹس جاوید اقبال رئیس بروک ولیمز کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’کابل سے پشاور تک شاہراہ پر دونوں طرف زمین ان بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کی قبروں سے بھر گئی جو اس سفر کی مصیبتیں برداشت نہ کر سکے۔ جب مہاجرین اپنے اپنے دیہات واپس پہنچے تو بالکل قلاش اور گھربار سے محروم تھے اور سرچھپانے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔‘‘

سید ریاض حسین نے اس تحریک کے بارے میں اپنا خیال ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’بس یہی قدم تھا جو مسلمانوں نے بغیر سوچے سمجھے کیا۔‘‘

۴۔ اقبال اور مولانا تھانوی تحریک خلافت کے بارے میں بھی ہم خیال تھے۔ اقبال صوبائی خلافت کمیٹی کے رکن تھے، بعد ازاں مستعفی ہو گئے۔ وہ وفد خلافت کو انگلستان بھیجنے کے بھی خلاف تھے چنانچہ سید سلمان ندوی کے نام ایک خط میں اس وفد پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ مولانا تھانوی نے تحریک خلافت سے علیحدگی اختیار کی۔ اس پر مولانا کو قتل کی دھمکی بھی موصول ہوئی۔ آپ نے ایک مجلس میں فرمایا:

’’تحریک خلافت کا زمانہ نہایت ہی پرفتن زمانہ تھے۔ بڑے بڑے پھسل گئے۔ عجب ایک ہڑبونگ مچا ہوا تھا۔ حق وباطل میں بھی امتیاز نہ رہا تھا۔‘‘

طریقت وتصوف

تصوف اور مسائل تصوف مسلمانوں کا ایک قدیمی مسئلہ ہے۔ تصوف کے بارے میں عام طور پر تین مکاتب فکر موجود ہیں۔ ایک افراط کا شکار ہے اور دوسرا تفریط کا اور تیسرا ان کے بین بین ہے اور یہی مسلک ہر دو حکیم الامت کا تھا۔ علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ کا عقیدہ یہ تھا کہ شریعت وطریقت دو چیزیں نہیں ہیں بلکہ طریقت شریعت کا ایک جز ہے اور شریعت کے تابع ہے جس کا مقصد تزکیہ نفس ہے۔ اقبال اپنے ایک خط میں شاہ سلمان پھلواری کو لکھتے ہیں:

’’حقیقی اسلامی تصوف کا میں کیونکر مخالف ہو سکتا ہوں کہ خود سلسلہ عالیہ قادریہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ بعض لوگوں نے ضرورغیر اسلامی عناصر اس میں داخل کر دیے ہیں۔ جو شخص غیر اسلامی عناصر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، وہ تصوف کا خیر خواہ ہے نہ کہ مخالف۔‘‘

آج بھی نام نہاد صوفیوں نے سادہ لوح عوام کو ظاہر وباطن کی بحث میں الجھا رکھا ہے حالانکہ شریعت ظاہر وباطن دونوں پر حاوی ہے اور ان میں تفریق کی قائل نہیں۔ اقبال نے ’نیو ایرا‘ کی ۲۸ جولائی ۱۹۱۷ء کی اشاعت میں اپنے ایک مضمون ’’تصوف اور اسلام‘‘ میں شیخ احمد رفاعی کے حوالے سے لکھا ہے:

’’شیخ وہ ہے جس کا ظاہر وباطن مشروع ہو۔ طریقت عین شریعت ہے۔ جھوٹا اس فرقے کو نجاست آلود کرتا ہے اور کہتا ہے باطن اور ہے ظاہر اور ہے۔‘‘

علامہ نے تصوف پر کئی اور مضامین بھی لکھے۔ یہ مضامین خواجہ حسن نظامی کے مثنوی اسرار خودی پر اعتراضات کے جواب میں تحریر کیے جن میں ’اسرار خودی اور تصوف‘ (۱۹۱۶ء)، ’سرِاسرار خودی‘ (۱۹۱۶ء)، ’تصوفِ وجودیہ‘ (۱۹۱۶ء) اور ’علم ظاہر وباطن‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مسئلہ تصوف کی تفہیم میں اقبال کی یہ تحریریں بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ مذکورہ بالا مضامین ’مقالاتِ اقبال‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ۱۹۱۶ء سے ۱۹۱۸ء کے عرصے میں لکھے گئے مکتوبات میں یہ بحث مل سکتی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ حقیقی اسلامی تصوف کے قائل ہیں اور طریقت کو شریعت کا ہی ایک حصہ اور جز خیال کرتے ہیں۔

تصوف پر مولانا تھانوی کا گراں قدر سرمایہ موجود ہے۔ ’انفاس عیسیٰ‘، ’الرفیق فی سواء الطریق‘، اور ’شریعت وطریقت‘ خالص تصوف کی کتابیں ہیں۔ تیرہ سو صفحات پر مشتمل ’تربیت السالک‘ مولانا کی مایہ ناز تصنیف ہے۔ ’التکشف عن مہمات التصوف‘ نہایت مستند اور ادبی مزاج کی کتاب ہے جو ۷۵۰ صفحات پر مشتمل آٹھ رسائل کا مجموعہ ہے۔ اس میں ’عرفان حافظ‘ کے نام سے حافظ شیرازی کے کلام کی متصوفانہ شرح کے علاوہ ’حقیقت الطریقۃ من السنۃ الانیقۃ‘ کے عنوان سے ۳۵۰ احادیث کی روشنی میں تصوف اور متعلقات تصوف کو ثابت کیا ہے۔ علاوہ ازیں ’مسائل السلوک من کلام ملک الملوک‘ کے نام سے قرآن کی متصوفانہ تفسیر فرمائی ہے۔ ’بیان القرآن‘کے حاشیے میں جابجا مسائل تصوف کی نشان دہی کی گئی ہے۔ آپ کے ملفوظات وفرمودات میں بھی موقع ومحل کی مناسبت سے تصوف وسلوک پر عمدہ بحثیں موجود ہیں۔ پھر آپ کے خلفا اور مریدین اور سوانح نگاروں نے آپ کی زیر نگرانی جو کام کیا ہے، وہ اس پر مستزاد ہے۔ 

مولانا تھانوی تصوف کی کیا تفسیر فرماتے ہیں، ’شریعت وطریقت‘ سے چند سطور قارئین کی نذر ہیں:

’’شریعت کے پانچ اجزا ہیں۔ پانچواں جز تصوف ہے جسے شریعت میں اصلاح نفس کہتے ہیں۔ آج کل لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تصوف کے لیے بیوی، بچوں اور دوسرے دنیاوی امور کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ یہ جاہل صوفیوں کا مسئلہ ہے جو تصوف کی حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘

اسی چیز کو اقبال نے بار بار غیر اسلامی اور عجمی تصوف کہا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ دونوں حضرات ایسے غیر اسلامی رہبانی تصوف کے مخالف ہیں جو زندگی کے تقاضوں سے فرار کی راہ دکھاتا ہے۔

مثنوی مولانا رومؒ 

علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ میں ایک اور فکری ہم آہنگی مولانا رومؒ اور ان کی مثنوی ہے۔ شاعر مشرق کی مولانا جلال الدین رومیؒ سے عقیدت محتاج بیان نہیں جبکہ مولانا تھانویؒ کے مولانا رومیؒ سے استفادہ سے ایک عام آدمی بھی باخبر ہے۔ جو حضرات مولانا تھانویؒ کے علمی افادات سے شغف رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کے ملفوظات اور تصانیف میں جابجا مولانا رومی کے اشعار ملتے ہیں۔ ’’عرفان حافظ‘‘ کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں یہ سن لیجیے کہ آپ نے مثنوی مولوی معنوی کی شرح کی ہے جس کو کلید مثنوی کے نام سے ۲۴ جلدوں میں ادارۂ تالیفات اشرفیہ ملتان نے شائع کیا ہے۔ فارسی اور اردو کا ذوق رکھنے والے احباب کے لیے یہ ایک خاصے کی چیز ہے۔ اس شرح کا تذکرہ علامہ کے خطوط میں ملتا ہے۔ خان محمد نیاز الدین خان کو ایک مکتوب محررہ ۳ فروری ۱۹۱۷ء میں لکھتے ہیں:

’’مولوی اشرف علی تھانوی، جہاں تک مجھے معلوم ہے، وحدۃ الوجود کے مسئلے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے ان کی کتاب عمدہ ہوگی۔‘‘

اپنے مضمون ’’سر اسرار خودی‘‘ میں حضرت خواجہ حسن نظامی کو مخاطب کر کے لکھا ہے:

’’حضرت، میں نے مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی کو بیداری میں پڑھا ہے اور بار بار پڑھا ہے۔ آپ نے شاید اسے سکر کی حالت میں پڑھا ہے کہ اس میں آپ کو وحدۃ الوجود نظر آتا ہے۔ مولوی اشرف علی تھانوی سے پوچھیے، وہ اس کی تفسیر کس طرح کرتے ہیں۔ میں اس بارے میں انہی کا مقلد ہوں۔‘‘

تعلیم وتربیت

شعبہ تعلیم وتربیت میں بھی مشترک اقدار موجود ہیں۔ خاص طور پر تعلیم وتربیت نسواں کے بارے میں ان حضرات نے بہت زیادہ لکھا ہے۔ اقبالؒ عورت کو تمدن کی جڑ قرار دیتے ہیں چنانچہ آپ نے ضرب کلیم میں عورت پر متعددقطعات رقم فرمائے ہیں۔ مدراس میں انجمن خواتین کے سپاس نامہ کے جواب میں آپ نے تقریر فرمائی جو ’’شریعت اسلام میں مرد وعورت کا مرتبہ‘‘ کے عنوان سے مقالاتِ اقبال کی زینت بن چکی ہے۔

اقبالؒ عورت کو کیسی تعلیم دینا چاہتے تھے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے ’’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’قومی ہستی کی مسلسل بقا کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو ابتدا میں ٹھیٹھ مذہبی تعلیم دیں۔ جب وہ مذہبی تعلیم سے فارغ ہو چکیں تو ان کو اسلامی تاریخ، علم تدبیر، خانہ داری اور علم اصول حفظ صحت پڑھایا جائے۔ اس سے ان کی دماغی قابلیت اس حد تک نشوو نما پا جائے گی کہ وہ اپنے شوہروں سے تبادلہ خیال کر سکیں گی اور امومت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں گی۔‘‘

علامہ اقبالؒ نے یہاں عورتوں کی تعلیم کا نصاب مقرر کر دیا ہے۔ اس نصاب کی عملی شکل ہم کو مولانا تھانویؒ کی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ کی صورت میں ملتی ہے۔ حضرت تھانوی ؒ کتاب کے دیباچے میں اس کی غرض تصنیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’حقیر ناچیز اشرف علی تھانوی مظہر مدعا ہے کہ ایک مدت سے ہندوستان کی عورتوں کے دین کی تباہی دیکھ کر قلب دکھتا ہے اور اس کے علاج کی فکر میں رہتا ہے اور زیادہ وجہ فکر کی یہ تھی کہ یہ تباہی صرف ان کے دین تک محدود نہ تھی بلکہ دین سے گزر کر ان کی دنیا تک پہنچ گئی تھی اور ان کی ذات سے گزر کر ان کے بچوں بلکہ بہت سے آثار ان کے شوہروں تک اثر کر گئی تھی اور جس رفتار سے یہ تباہی بڑھتی جاتی تھی، اس کے اندازہ سے معلوم ہوتا تھا کہ اگر چندے اور اصلاح نہ کی جائے تو شاید یہ مرض قریب قریب لاعلاج ہو جائے اس لیے علاج کی فکر زیادہ ہوئی اور سبب اس تباہی کا بالقاء الٰہی اور تجربہ اور دلائل اور خود علم ضروری سے محض یہ ثابت ہوا کہ عورتوں کا علوم دینیہ سے ناواقف ہونا ہے جس سے ان کے عقائد، ان کے اعمال، ان کے معاملات، ان کے اخلاق، ان کا طرز معاشرت سب برباد ہو رہا ہے۔‘‘

اس کے بعد مولانا عورت کے جذبہ امومت کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’چونکہ بچے ان کی گود میں پلتے ہیں، زبان کے ساتھ ان کا طرز عمل، ان کے خیالات بھی ساتھ ساتھ دل میں جمے جاتے ہیں جس سے دین تو ان کا تباہ ہونا ہی ہے مگر دنیا بھی بے لطف بد مزہ ہو جاتی ہے، اس وجہ سے کہ بد اعتقادی سے بد اخلاقی پیدا ہوتی ہے اور بد اخلاقی سے بد اعمالی اور بد اعمالی سے بد معاملگی جو جڑ ہے تکدر معیشت کی۔‘‘

یہی وہ چیزیں ہیں جن کو اقبالؒ نے ’اسرار ورموز‘ کے ان اشعار میں بیان کیا ہے:

از امومت پختہ تر تعمیر ما
در خطِ سیمائے او تقدیر ما
از امومت گرم رفتار حیات
از امومت کشف اسرارِ حیات
مال او فرزند ہائے تندرست
تر دماغ وسخت کوش وچاق چست
حافظِ رمزِ اخوت مادراں
قوتِ قرآن وملت مادراں
ضرب کلیم کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگِ امومت
ہے حضرتِ انساں کے لیے اس کا ثمر موت

مختصر یہ کہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ میں ایک معنوی اتحاد موجود ہے خاص طور پر ان کی سیاسی و تعلیمی اصلاح وفلاح کے ابواب میں حد درجہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان سطور کا مقصد یہ ہے کہ اس علمی ربط کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ اس سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ امت کے دو بڑے گروہ جنہیں عرف عام میں قدیم وجدید کہا جاتا ہے، ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، بد گمانیوں کے بادل چھٹ جائیں گے، علمی بعد اور معاشرتی نفرتیں کم ہوں گی اور فکر وعمل کی نئی نئی راہیں سامنے آئیں گی۔ ان شاء اللہ۔

آہ ! مولانا عاشق الٰہی برنی مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ

حافظ مہر محمد میانوالوی

۱۳ رمضان المبارک ۱۴۲۲ء کو مدینہ طیبہ میں ولی کامل، مفسر قرآن حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری اپنے محبوب مولیٰ سے جا ملے اور جنت البقیع میں سب سے افضل مدفون ذو النورین خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مزار کے پاس تدفین کی سعادت نصیب ہوئی۔ اللہم زدہ رحمۃ واکراما واجعل الجنۃ مثواہ

مولانا عاشق الٰہی ۱۳۴۳ھ میں بسی ضلع بلند شہر انڈیا میں پیدا ہوئے۔ تبلیغی جماعت کے عظیم پیشوا شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ سے سہارنپور میں ۱۳۶۳ھ میں دورۂ حدیث شریف پڑھا۔ پھر دہلی، کلکتہ کے علاوہ اپنے استاذ محترم مولانا محمد حیات سنبھلی کے مدرسہ جامعہ حیات العلوم مراد آباد میں پڑھایا حتیٰ کہ مفتی اعظم مولانا محمد شفیع ؒ نے دار العلوم کورنگی کراچی میں بلا لیا جہاں ۱۳۸۴ھ سے ۱۳۹۶ھ تک فقہ وحدیث کی تدریس کی خدمات انجام دیتے رہے۔ اپنے اکابر مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ، مولانا عبد الغفور نقش بندیؒ ، مولانا قاری فتح محمد نقش بندیؒ کی طرح مدینہ طیبہ میں رہنے اور وہیں فوت ہو جانے کا عشق محمدی دامن گیر تھا۔ آپ کے شیخ مولانا محمد زکریاؒ صاحب بھی پہلے پہنچے ہوئے تھے اس لیے کراچی سے حرمین شریفین جاگزیں ہوئے اور تالیفی کام میں ان کو امداد دی اور تدریس کرتے رہے حتیٰ کہ ۲۶ سال بعد دل کی حسرت وتمنا پوری ہوگئی۔ رحمت للعالمین ﷺ کا قرب نصیب ہوا اور ارشاد نبوی کے مطابق شفاعت کے حق دار ہو گئے۔

تدریسی خدمات میں انہماک کے باوجود تصنیف وتالیف کی لائن میں اللہ تعالیٰ نے بہترین دماغ اور وافر صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ اردو اور عربی میں سو کے لگ بھگ بڑی چھوٹی کتب تصنیف فرمائیں جن کو خدا نے مقبولیت عامہ سے نوازا۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں طبع ہوئیں۔ ناشرین کا کاروبار چمکا مگر مولانا نے خود ان سے ذاتی فائدہ یا رائلٹی نہیں لی نہ کسی کتاب کے حقوق طبع محفوظ رکھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے عبد اللہ کا بیان ہے کہ اپنے لیے یا اولاد کے لیے ذاتی مکان تک نہیں بنایا۔ اگر کسی نے آپ کی کتاب پر اپنا نام لکھ کر چھاپ دیا تو برا نہیں منایا بلکہ کہا کہ چلو دین کی بات تو دوسرے تک پہنچ گئی، ہمیں نام کی شہرت درکار نہیں۔ ایسی مثال آج کل کم ہی ملے گی۔

اگر کثیر التصانیف ہونے میں حضرت تھانویؒ کے بعد آپ کا نام شمار کیا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا، اگرچہ حضرت شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنیؒ کے علمی وارث اور سلف صالحین کے مطابق مسلک اہل سنت علماء دیوبند کے حقیقی ترجمان اور پچاس سے زائد کتب کے مصنف استاذی المکرم شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ دونوں بزرگوں کی تصانیف میں موازنہ سے راقم کو فرق یہ محسوس ہوتا ہے کہ مولاناعاشق الٰہی کی اردو تصانیف عام فہم، اصلاح حال واعمال پر ابھارنے والی تبلیغی طرز کی ہیں جبکہ استاذ مکرم کی فرق باطلہ کے رد میں عقائد حقہ اہل سنت وعلماء دیوبند کی حفاظت کا حصن حصین ہیں۔ حضرت برنی کی عربی تصانیف بہت وسیع عالمانہ، تحقیقی، بلند پایہ اور حنفی مسلک کی ترجمان ہیں۔ دیار عرب میں رہ کر فقہ حنفی کی وکالت اور حفاظت کا حق ادا کیا ہے۔ فرحمہ اللہ رحمۃً واسعۃً

آپ کی عربی تصانیف میں سے چند یہ ہیں: 

(۱) جدید تفسیر انوار القرآن (۹ جلدیں) جس کے انگریزی، فرانسیسی، ہندی اور بنگالی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ 

(۲) مجانی الاثمار من شرح معانی الآثار للطحاوی 

(۳) بہیج الراوی بتخریج احادیث الطحاوی

(۴) انعام الباری فی شرح اشعار البخاری

(۵) التسہیل الضروری فی مسائل القدوری

(۶) زاد الطالبین

(۷) المواہب الشریفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفۃؒ 

(۸) القادیانیۃ ماہی؟

(۹) حاشیہ الخیرات الحسان فی مناقب ابی حنیفۃ النعمان

(۱۰) التحفۃ المرضیۃ فی شرح المقدمۃ الجزریۃ

(۱۱) روضۃ الاحباب

اردو میں درج ذیل کتابیں کافی مقبول ہیں:

(۱۲) سیرت سرور کونین (۳ جلدیں)

(۱۳) شرح اربعین نووی

(۱۴) امت مسلمہ کی مائیں

(۱۵) مسلم خواتین کے لیے بیس سبق

(۱۶) مسنون دعائیں

(۱۷) تحفہ خواتین

(۱۸) چھ باتیں

(۱۹) اسلامی نام

(۲۰) ذکر اللہ کی کثرت کیجیے

(۲۱) شرعی حدود وقصاص

راقم کو حضرت ممدوح ومرحوم سے کوئی خاص ذاتی تعلق یا شرفِ تلمذ نہیں البتہ ۸۷ء میں جب راقم جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن کراچی میں تخصص فی علوم الحدیث کا طالب علم تھا، آپ دار العلوم میں مدرس تھے۔ تراویح سنانے والے حفاظ کو منتخب کرنے کی ڈیوٹی آپ کے ذمے لگا دی گئی۔ حفاظ کی ایک جماعت کے ساتھ احقر کو بھی پہلی مرتبہ آپ کی زیارت نصیب ہوئی۔ کشادہ پیشانی، گول چہرہ، میانہ قد، سرمگیں آنکھیں، چمکیلے دانت، سانولا رنگ اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ٹیسٹ صاف گوئی کے ساتھ اور اغلاط کی نشان دہی کرتے ہوئے لیا۔ کسی کی اصلاح کے لیے بروقت تنقید اور حق گوئی آپ کی فطرت معلوم ہوئی کہ لگی لپٹی رکھنے کے بجائے بلا خوف لومۃ لائم صحیح وسدید اور حق بات بڑے بڑے لوگوں کو صاف کہہ دیتے تھے۔ امتحان دینے کے شرف کے علاوہ اس وجہ سے بھی عقیدت ہے کہ آپ کی اردو تصانیف اپنے کتب خانہ اور مکتبہ عثمانیہ کے لیے سرمایہ اور باعث زینت بنائی تھیں۔ حضرت استاذیم مدظلہ کی کتب کی طرح ان سے بھی ہر قسم کا فائدہ اٹھایا۔

قلبی تعلق کا تازہ سبب ابھی رمضان ۱۴۲۲ھ میں عمرہ کرنا ہے۔ مدینہ طیبہ جا کر آپ کا پتہ کرنے مسجد قبا گیا۔ عصر کے بعد امام صاحب نے فرمایا ’’عاشق الٰہی شیخ معروف ابنہ عبد الرحمن مدرس فی الحرم النبوی‘‘ خوشی سے واپس آکر ان کو تلاش کر لیا۔ پتہ چلا کہ حضرت عارضہ قلب کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہیں۔ جمعرات کے دن واپس آ گئے تو جمعہ ۸ رمضان کی شب کو ملاقات کاپروگرام بنایا۔ دفاع صحابہ اور تائید اہل سنت میں اپنی چند کتابیں تو مولانا عبد الحفیظ مکی کے صاحب زادوں کو دی تھیں۔ وہ خود افریقہ گئے ہوئے تھے اور بقیہ مولانا کے صاحبزادے قاری عبد الرحمن کوثر کو دے دی تھیں کہ وہ حضرت کو دکھا کر دعا کی درخواست کر دیں۔

میری محرومی اور قدرے غفلت کا نتیجہ کہیے کہ تراویح کے بعد مولانا عبد الرحمن تجوید پڑھانے بیٹھ گئے۔ میں کچھ دیر انتظار میں بیٹھا دیکھتا رہا۔ ان کے اٹھتے وقت لمحہ بھر کو نگاہ دوسری طرف ہو گئی اور وہ بھی مجھے دیکھے یاد کیے بغیر گھر چلے گئے۔ پھر جدید مسجد کے وسیع صحرا یا سمندر میں ایک دوسرے سے نہ مل سکے۔ جمعہ کے وقت اور پھر تراویح کے بعد بھی ان سے ملاقات اور حضرت کا شرفِ زیارت نہ پا سکا۔ دوسرے دن پھر عمرہ کر کے پاکستان آ گیا۔ ۳ دن بعد خبر سنی کہ حضرت مولانا عاشق الٰہی انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ۳دن زیارت کی مشقت کا اجر اور اہل اللہ سے محبت خدا کے حوالے کرتا ہوں کہ وہ اپنی مہربانی سے بخش دے۔ 

احب الصالحین ولست منہم لعل اللہ یرزقنی الصلاحا

اللہ تعالیٰ اکابر دیوبند کی طرح مولانا عاشق الٰہی کی خدمات دینیہ کو قبول فرما کر خطایا سے درگزر فرمائے۔ آمین

پیٹ معذور ہوتا ہے

پروفیسر میاں انعام الرحمن

وہ بے چینی سے ہاتھ پر ہاتھ مسل رہا تھا۔ بھاری بھرکم کھردرے ہاتھوں پر جمی ہوئی پتلی سی سیاہی صاف چغلی کھا رہی تھی کہ یہ ’’دستِ محنت‘‘ ہیں۔ اپنا خون پسینہ ایک کرکے روزی کمانے والا پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے سوالی بننے پر مجبور ہو گیا تھا۔ .......’’یقین کریں باؤ صاحب، میں مانگنے والا نہیں ہوں۔ ........ بڑا عجیب سا لگ رہا ہے۔ ...... شرم آ رہی ہے۔ میں تو ..... میں تو جی کاری گر ہوں۔ لوہے کی الماریاں مرمت کرتا ہوں۔ ہفتہ ہو گیا ہے کام نہیں ملا۔ ...... میرے پاس ڈیڑھ سو روپے تھے، وہ ختم ہو گئے ہیں۔ ..... اگر ..... اگر آپ ......‘‘ اس سے آگے کچھ کہنے سے وہ ہچکچا رہا تھا۔ میرا خیال تھا وہ کرایے وغیرہ کے لیے پچاس، سو روپے کا تقاضا کرے گا لیکن جب بات ’’اگر آپ......‘‘ سے آگے بڑھی تو میں حقیقتاً چونک اٹھا۔ وہ صرف ’’روٹی‘‘ کھانے کے لیے پیسے مانگ رہا تھا۔ اس کے کھردرے ہاتھوں کی سختی اس کی ’’انا‘‘ کی حفاظت نہ کر پائی تھی۔ میں نے پریشان سے انداز میں جیب میں ہاتھ ڈالا اور حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے دس روپے کی ’’خطیر رقم‘‘ اس کے حوالے کر دی۔ اگر اس وقت اس سے ذرا بڑھ کر مدد کرنے کی کوشش کرتا تو بجٹ درہم برہم ہونے سے ’’پروفیسری‘‘ تہی دامن ہو جاتی۔ اس کے ہاتھوں کا کھردرا پن، ان پر جمی ہوئی ہلکی سی سیاہی، بھرائی ہوئی آواز اور لہجے سے امڈتی سچائی ، یہ سب چیزیں اسے پیشہ ور بھکاری سمجھنے میں مانع ہو رہی تھیں۔ پھر اس نے پوچھا، ’’باؤ جی آپ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘ ’’کالج میں پڑھاتا ہوں۔‘‘ میرے جواب پر اس نے خالصتاً ’’کامی‘‘ لوگوں کی طرح مشتاق ہو کر کہا، ’’کالج میں بھی الماریوں کی مرمت کا بہت سا کام ہوتا ہے، بنچ وغیرہ بھی ہوتے ہیں، امتحانی کرسیاں بھی ہوتی ہیں۔ ..... میں کالج میں حاضر ہو جاؤں؟‘‘ اس کے سوالیہ انداز کو میں نے سیاست دانوں کی طرح ٹالتے ہوئے کہا کہ کالج میں ایسے کام عموماً گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ہر کام ایک Process سے ہوتا ہے۔ کالج میں ایک مخصوص کمیٹی ہی یہ کام کروا سکتی ہے۔ اگر تم دل چسپی رکھتے ہو تو کالج کی اس کمیٹی سے رابطہ کر لو۔ یوں میں نے اسے ٹال دیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ میں اس کی مدد کرنے سے قاصر تھا۔ بحیثیت پروفیسر میں خود ’’سرخ فیتے‘‘ کا شکار رہا ہوں، بھلا اس کے لیے کیا کر سکتا تھا؟ آخر Process بھی کوئی چیز ہے، اگر معاملہ میرے اور اس جیسے لوگوں کا ہو۔ اور اگر ’’ہاتھ پڑتا‘‘ ہو تو دستور بھی کوئی چیز نہیں۔

اس شخص کے لہجے کی سچائی اور شکستگی نے دل میں غبار بھر دیا۔ ذہن کی یہ حالت تھی جیسے کسی نے جامد پانی میں لگاتار پتھر پھینک کر ہلچل مچا دی ہو۔ ایک نہ تھمنے والے اضطراب نے ذہن کے ایک گوشے میں مستقل پڑا ڈال لیا۔ کیا پیٹ کی ’’انا‘‘ نہیں ہوتی؟ یہ اور اس جیسے کئی سوالات تھے جو کم از کم ایک لمحے کے لیے سہی، کسی کو بھی جھنجھوڑ سکتے ہیں۔ 

یہ واقعہ مجھے اس واقعے کی بازگشت معلوم ہوا جب ایک مرتبہ ایک اچھے خاصے سفید پوش قسم کے صاحب ملے اور کہا کہ آپ سے بات کرنی ہے۔ میں نے کہا، فرمائیے۔ انہوں نے اصرار سے گھر لے جانے کو کہا۔ میں گھر لے آیا، چائے سے تواضع کی۔ اس کے بعد ان صاحب نے جو حرکت کی، میں لرز کر رہ گیا۔ میرے خواب وخیال میں بھی نہ تھا کہ وہ ایسا کر گزریں گے۔

خواب بھی خواب ہوئے اب تو یہاں پر یارو

وہ اچانک اٹھے اور میرے گھٹنے پکڑ کر تھکے تھکے لہجے میں انتہائی لجاجت اور بے چارگی سے کہا، ’’میں بہت مجبور ہوں۔ اگر آپ ایک سو روپے عنایت فرمائیں تو زندگی بھر احسان مند رہوں گا۔ چند ہی روز میں آپ کو واپس کر دوں گا۔‘‘ میں تو اپنے گھٹنے پکڑے جانے پر ششدر تھا، تقریباً سکتے کی حالت میں تھا۔ ہوش میں آنے پر شرمندگی سے گھڑوں نہیں سمندروں پانی میں نہا گیا۔ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ہو سکتا ہے یہ معمول کی حرکت ہو لیکن میرے لیے گھٹنے پکڑے جانا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ شاید یہ اس سمندروں پانی میں نہانے کا نتیجہ ہے کہ اس کی چھوڑی ہوئی ’’تری‘‘ لفظوں میں ڈھل کر تحریر کی صورت میں ’’خشک ‘‘ہو رہی ہے۔ میرا خیال ہے یہ تری کبھی ختم نہیں ہوگی۔ خیر! میں نے ان صاحب کو سو روپے دیے اور ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کہ آپ ذہن پر بوجھ نہ ڈالیں، یہ آپ کی اپنی رقم ہے۔ ہم اجنبی سہی، لیکن آپ کا مجھ پر کوئی حق بھی ہے۔

ذہن پر ان واقعات کے نقوش ابھی دھندلے نہیں ہوئے تھے کہ خبر آئی، جنرل پرویز مشرف نے ’’صدر‘‘ کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر نواب وقار الملک کے وہ الفاظ یاد آ گئے جو انہوں نے تقسیمِ بنگال کی تنسیخ پر کہے تھے:

’’حکومت کا یہ اقدام مسلمانوں کی لاشوں پر سے توپ خانہ گزارنے کے مترادف ہے جو اس امر کا احساس کیے بغیر گزارا گیا ہو کہ شاید ان میں سے کچھ لاشیں نیم جان ہوں۔‘‘

صدر محترم! معاشی بے انصافی اور معاشرتی بے یقینی کے تھپیڑوں سے یہ قوم نیم جان ضرور ہوئی ہے، ابھی مری نہیں۔ خدارا صدارتی مراعات جیسے توپ خانے اس پر سے مت گزاریے۔ اپنی ’’انا‘‘ کی تسکین کے لیے لاکھوں اناؤں کو قربان مت کیجیے۔ ایک طرف ایڈہاک لیکچررز کو چھٹی کرا دی گئی ہے اور دوسری طرف ......۔

صدر محترم! دستِ محنت کو سوالی بنانے کے بجائے میدانِ محنت کی کشادگی کا بندوبست کیجیے۔ ہمارے وطن میں دستِ محنت کی کمی نہیں، بس میدانِ محنت نایاب ہے۔ قاضی صاحب نے رہائی کے بعد جو بیانات دیے ہیں، ان کا لفظ لفظ سچ پر مبنی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے الفاظ نہیں، کیل ہیں جو ایک ایک کر کے دماغ میں ٹھونکے جا رہے ہیں۔ لیکن قاضی صاحب! کیا کریں، پیٹ کا دماغ نہیں ہوتا اس لیے قوم پر آپ کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ جذباتی نعرے لگانے والے اور فصیح وبلیغ تقریریں کرنے والے بھی یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پیٹ کے کان نہیں ہوتے۔ پیٹ کی آنکھیں بھی نہیں ہوتیں۔ پیٹ تو بس پیٹ ہوتا ہے۔ ہاں، پیٹ معذور ہوتا ہے۔

مولانا درخواستی کا دورۂ جنوبی افریقہ، فجی وبنگلہ دیش

ادارہ

دنیا بھر کے مسلمانوں میں عقائد واعمال کی پختگی اور دینی اقدار وروایات کے ساتھ وابستگی کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور وہ اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھتے ہوئے اس میں مزید رنگ بھر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ساؤتھ افریقہ، فجی آئی لینڈ اور بنگلہ دیش کے تبلیغی دورے سے واپسی پر اسلام آباد میں علما کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں احیاء اسلام کا جذبہ موج زن ہے اور دین داری کی لہریں اٹھ رہی ہیں جس کا زندہ اور واضح ثبوت روز افزوں دینی اداروں کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ کے دورے میں بیانات کے لیے جوہانس برگ، ڈربن، لیڈیز منٹ، آزاد ولڈ اور اسپرنس جانے کا اتفاق ہوا۔ ان تمام شہروں میں خوبصورت ایئر کنڈیشنڈ مساجد، وسیع وعریض مدارس اور بڑی بڑی خانقاہیں وجود میں آ چکی ہیں جہاں دین کی تبلیغ واشاعت اور تعلیم وتربیت کا کام وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے۔ خاص طور پر آزاد ولڈ اور اسپرنس کے مدارس قابل دید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ کے مسلمان، علماء ومشائخ کے ساتھ بے پایاں عقیدت اور وارفتگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی اجتماعات میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔

مولانا درخواستی نے اپنے دورۂ بنگلہ دیش کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ پاکستانیوں سے بے حد محبت کرتے ہیں خاص طور پر علما کا بہت زیادہ احترام واکرام کرتے ہیں اور دین داری میں بہت پختہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کا سب سے بڑا تبلیغی اجتماع بنگلہ دیش میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ مدنیہ قاضی بازار سلہٹ کے جلسہ دستار بندی کے عظیم اجتماع سے فضیلت علم کے موضوع پر خطاب ہوا۔ اس کے علاوہ مولوی بازار، سنام گنج اوردیگر شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات میں بیانات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سلہٹ اور ڈھاکہ مسجدوں کے شہر مشہور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کی موجودہ حکومت سابقہ حکومت سے بہتر ہے۔ وہاں کی اسمبلی کے انتخابات میں علما نے شریعت گروپ کے نام سے حصہ لیا اور تین علما اسمبلی کے ممبر قرار پائے اور اب اسمبلی کے اندر اور باہر حق کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے اپنے دورۂ فجی آئی لینڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اگرچہ مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کی تعداد آٹھ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنا دینی تشخص برقرار رکھے ہوئے ہیں اور علما کی بڑی قدر کرتے ہیں اور وہاں ایک سو بیس مساجد موجود ہیں۔ فجی آئی لینڈ مختلف جزائر پر مشتمل ہے۔ مشہور جزیروں میں دار الحکومت صوبہ، لمباسا اور طاویونی، جہاں سے دن کی ابتدا ہوتی ہے، شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے تمام جزیروں میں مختلف عنوانات پر بیانات ہوئے۔ (رپورٹ: مولانا محمد ادریس ڈیروی)

علماء کرام نئی نسل کی ذہن سازی پر توجہ دیں

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ۳۰ مارچ کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں علماء کرام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہندو تہذیب کے اثرات کی روک تھام کے لیے نئی نسل کی صحیح دینی واخلاقی تربیت کی ضرورت ہے اور یہ کام علماء کرام ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں علماء کرام اور دینی اداروں کو تعلیم وتربیت اور رفاہی خدمات کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے اور ان این جی اوز کا عملی میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے جو غیر ملکی سرمایہ سے پاکستان میں تعلیم، صحت اور رفاہی خدمات کی آڑ میں عیسائیت اور مغربی تہذیب کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان این جی اوز کو ہمارے معاشرے میں آنے کا اس لیے موقع ملا ہے کہ ہمارے ہاں ان کاموں کا خلا ہے۔ اگر ہم خود ان کاموں میں پیش پیش ہوں تو کسی اور کو یہاں آکر اس خلا سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم، نوجوانوں کی روحانی واخلاقی تربیت اور سوسائٹی کے نادار لوگوں کی کفالت مذہبی طور پر بھی ہماری ذمہ داری ہے اور علماء کرام ودینی مراکز کو اس کے لیے منظم طور پر کام کرنا چاہیے۔

مولانا درخواستی الشریعۃ اکادمی بھی تھوڑی دیر کے لیے تشریف لائے اور منصوبہ کی کام یابی کے لیے دعا کی۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’معجزات پیغمبر ﷺ‘‘

معروف محقق اور مناظر حضرت مولانا عبد اللطیف مسعود نے جناب نبی اکرم ﷺ کے معجزات پر قلم اٹھایا ہے اور معجزہ کی نوعیت و مقصد کی وضاحت کے ساتھ ساتھ معجزہ اور سحر کے فرق کو واضح کرنے کے علاوہ جناب نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے بارے میں کتب سماویہ کی پیش گوئیوں نیز مہاتما بدھ اور ویدکی پیش گوئیوں کا بھی باحوالہ تذکرہ کیا ہے۔ مولانا عبد اللطیف مسعود مسیحیت کے محققین میں شمار ہوتے ہیں اور جناب نبی اکرم ﷺ کے بارے میں انجیل کی پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مسیحی علماء نے جو حربے اختیار کیے ہیں، اس کتاب میں ان کا بھی پردہ چاک کیا گیا ہے۔

۳۰۰ سے زائد صفحات کی یہ خوب صورت اور مجلد کتاب دار العلوم مدنیہ ڈسکہ کلاں ضلع سیالکوٹ نے شائع کی ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان سے بھی طلب کی جا سکتی ہے۔ کتاب کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔

’’دلیل قصص النبیین‘‘

دار العلم آب پارہ اسلام آباد کے مدیر مولانا محمد بشیر ایک عرصہ سے عربی زبان کی ترویج اور تعلیمی اداروں میں عصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں عربی کی تعلیم کے لیے نصاب ونظام کی تدوین میں سرگرم عمل ہیں اور اس سلسلے میں ان کی مختلف علمی کاوشیں سامنے آ چکی ہیں۔

مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی قدس اللہ سرہ العزیز نے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت اور ان میں عربی کا ذوق پیدا کرنے کے لیے ’’قصص النبیین‘‘ پانچ حصوں میں تصنیف فرمائی تھی جو بہت سے تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہے۔ مولانا محمد بشیر نے اساتذہ کے لیے ’’قصص النبیین‘‘ کی گائیڈ کے طور پر اس کے ہر حصے کے بارے میں الگ کتابچہ شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور پہلے دو حصوں سے متعلقہ کتابچے اس وقت ہمارے سامنے ہیں جو بالترتیب ۵۶ اور ۶۴ صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان میں مصنف نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ ’’قصص النبیین‘‘ کے اصل اسباق کے ساتھ ضروری مشقیں مرتب کی ہیں اور اساتذہ کی راہ نمائی کے لیے طریق کار کی وضاحت بھی کر دی ہے۔

ہمارے ہاں دینی تعلیم کے نظام میں ایک بڑی کمی یہ ہے کہ اساتذہ کی تربیت اور راہ نمائی کا کوئی مناسب نظام اور ماحول موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے عربی و دینی مدارس کے تعلیمی نظام میں محنت، خلوص اور لگن کے باوجود مطلوبہ مقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہو رہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا محمد بشیر کی یہ کوشش اس خلا کو کسی حد تک پر کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ دینی مدارس میں عربی کی تعلیم دینے والے اساتذہ کے لیے ان کتابچوں کا مطالعہ اور ان سے استفادہ بے حد افادیت کا حامل ہوگا۔ ان کی قیمت بالترتیب ۲۰ روپے اور ۲۵ روپے ہے اور یہ دار العلم ۶۹۹ آب پارہ مارکیٹ اسلام آباد نے شائع کیے ہیں۔

’’انسان نے لکھنا کیسے سیکھا؟‘‘

ندوۃ العلماء لکھنو کے حلقہ کے علماء کرام میں مولانا ابو الجلال ندویؒ ایک معروف محقق عالم گزرے ہیں جن کے تحقیقی و علمی مضامین ایک عرصہ تک دینی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں اور وہ کچھ عرصہ حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ کے ہمراہ دارالمصنفین اعظم گڑھ کے علمی جریدہ ’’معارف‘‘ کی ادارت کی خدمات بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ 

’’ابو الجلال ندوی اکیڈمی‘‘ ۲۴۳ النور چیمبرز، پریڈی اسٹریٹ کراچی نے مولانا مرحوم کے مضامین و مقالات کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے جو بلاشبہ ایک بڑی علمی خدمت ہے۔ اس سلسلے میں فن تحریر کی تاریخ کے حوالے سے مولانا ابو الجلال ندویؒ کا مضمون ’’انسان نے لکھنا کیسے سیکھا؟‘‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے اور بیس صفحے کا یہ مضمون اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے گراں قدر تحفہ ہے جس کا ہدیہ ۱۰ روپے ہے۔

’’ادارہ اشاعت الاسلام مانچسٹر کے چند رسائل‘‘

ماہنامہ ’’الاسلام‘‘ گلاسٹر یوکے کے مدیر الحاج ابراہیم یوسف باوا اور ان کے لائق فرزند حافظ محمد اقبال رنگونی علمی و دینی حلقوں میں تعارف کے محتاج نہیں ہیں اور ایک عرصہ سے دینی جرائد میں مختلف موضوعات پر ان کی نگارشات عام لوگوں کی راہ نمائی کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے مانچسٹر میں ’’ادارہ اشاعت الاسلام‘‘ قائم کر کے مختلف دینی عنوانات پر لٹریچر کی اشاعت کا آغاز کیا ہے اور خوبصورت معیاری انداز میں چند کتابچے شائع کیے ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل کتابچے اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں:

۱۔ ’’بیماری اور اس کا علاج‘‘ از الحاج ابراہیم یوسف باوا۔ صفحات ۳۲

اس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بیماری اور اس کے علاج کے سلسلے میں راہنمائی کی گئی ہے۔ 

۲۔ ’’معارف الہام‘‘ از حافظ محمد اقبال رنگونی۔ صفحات ۳۲

اس میں الہام کی حقیقت اور اس کی مختلف صورتوں اور احکام کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔

۳۔ ’’معارف کشف‘‘ از حافظ محمد اقبال رنگونی۔ صفحات ۴۸

یہ رسالہ کشف کی نوعیت اور اس کے شرعی احکام کے حوالے سے ترتیب دیا گیا ہے۔

۴۔ ’’حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ از حافظ محمد اقبال رنگونی۔ صفحات ۷۲

اس میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ، آپ کے ارشادات و تعلیمات اور رفع و نزول کے بارے میں مستند معلومات یکجا کی گئی ہیں۔

پاکستان میں یہ کتابچے مکتبہ الفاروق ، ۱۹ سلطان پورہ روڈ، لاہور ۳۹ سے طلب کیے جا سکتے ہیں۔

بغاوت کی دستک

پروفیسر میاں انعام الرحمن

افغانستان سے متعلق حکومتی پالیسی سے لے کر جہادی تنظیموں پر پابندی کے حکم نامے سمیت بعض ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن پر ہر ذی شعور فرد تحفظات کا اظہار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر عدلیہ کے حوالے سے جو آرڈی ننس جاری کیا گیا ہے، اس کے مضمرات کے پیش نظر جنرل پرویز مشرف ہٹلر کی ہم سری کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ برطانویوں کی طرح انگریزی بولنے پر فخر کرنے والوں کو یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ برطانوی لوگ کرامویل کے عہد کو اپنی تاریخ کا حصہ نہیں مانتے لیکن جنرل موصوف نے دستور کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عوام پر آمریت مسلط کر رکھی ہے۔ نتائج وعواقب سے بے پروا ہو کر مخصوص ومحدود مشاورت کے ساتھ اختیار کی گئی موجودہ نہج انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جنرل صاحب کے آقاؤں نے ہی ایسی خطرناک نہج کے نتائج وعواقب سے بچنے کے لیے بعض فیصلے کروا رکھے ہیں جو بین الاقوامی قانون کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔ ۱۹۴۵ء کے نورم برگ ٹربیونل (Nuremberg Tribunal) اور ۱۹۶۱ء، ۱۹۶۲ء میں ایچ مین (Eichman) کے ٹرائل اور اپیل کے مندرجات آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ ہٹلر کے عہد میں قائم ڈیتھ کیمپوں کے منتظمین کے حق میں bawality of evilکے عنوان سے دلائل پیش کیے گئے کہ انہوں نے صرف حکومتی احکامات کی پیروی کی تھی۔ وہ عام سے معمولی لوگ تھے اور غیر معمولی حالات کا شکار ہو گئے۔ ان کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی سوائے اس کے کہ اپنے سے برتر لوگوں کے احکام پر عمل درآمد کریں لہذا ان لوگوں نے کوئی جرم نہیں کیا لیکن ۱۹۴۵ء اور ۱۹۶۱ء، ۱۹۶۲ء میں ان کے موقف کو رد کر دیا گیا۔ ان فیصلوں کے مطابق طے پایا کہ :

۱۔ کسی بھی تنظیم سے ،چاہے وہ حکومتی ہو، وابستہ افراد یہ جاننے کے ذمہ دار ہیں کہ ان کے اعمال سے کون سے رسمی مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں لہذا مقصد سے دانستہ چشم پوشی کسی بھی اعتبار سے اخلاقی یا قانونی دفاع کا سبب نہیں بنے گی۔

۲۔ تنظیموں کے افراد جن سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ معقول انداز سے کام کرتے ہوئے غیر معقول مقاصد حاصل کریں، ان کا یہ قانونی حق اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ ایسے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔

۳۔ تنظیموں کے ارکان اور اس معاشرے کے ارکان جن میں یہ تنظیمیں کام کرتی ہیں، ان تنظیموں کے ’’حتمی مقاصد‘‘ کی بابت جاننے کے ذمہ دارہیں۔ اگر یہ مقاصد غیر معقول ہیں تو ان میں تبدل وتغیر کے بھی ذمہ دار ہیں۔

اگر ان تین نکات کے بین السطور کو مد نظر رکھاجائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بین الاقوامی اور انسانی قدروں کی پاس داری کے لیے جنرل موصوف کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا جائے؟ میرا خیال ہے معاشرے کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کے لیے دستور سے بالاتر De facto سیٹ اپ ہی کافی ہے۔ اس سے بڑھ کر غیر انسانی اور بین الاقوامی قدروں سے متصادم آرڈی نینسوں کا اجرا بغاوت کو ہوا دے سکتا ہے۔ مذکورہ بین الاقوامی ضابطے میں یہ بغاوت حق ہی نہیں، فرض بھی قرار دی گئی ہے۔

قافلہ میعاد

ادارہ

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی تاریخ پر ایک نظر

ادارہ

 اس تاریخی جامع مسجد کے مین ہال کی توسیع، تعمیر نو، مرمت اور تزئین کا کام شروع ہے۔ ازراہ کرم خود تشریف لا کر کام کا معائنہ کیجیے اور اس کارخیر میں زیادہ سے زیادہ تعاون فرما کر اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کیجیے
 
مزید معلومات اور متعلقہ امور کے لیے 
جامع مسجد کی انتظامیہ کے سیکرٹری شیخ محمد نسیم (گلی شیرانوالہ باغ) سے رابطہ قائم کریں۔