ستمبر ۲۰۰۱ء

’’دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا‘‘مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
غیر مستوجب حد جرائم میں مجرم کو تعزیری سزا (۳)قاضی محمد رویس خان ایوبی 
مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒمولانا محمد عیسٰی منصوری 
مولانا مفتی محمودؒ کا فقہی ذوق و اسلوبمفتی محمد جمیل خان 
چند علمی مسائل کی وضاحتمحمد عمار خان ناصر 
ماڈل دینی مدارس کے قیام کا سرکاری منصوبہادارہ 
تعارفِ کتبادارہ 

’’دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملٹی نیشنل کمپنیاں جس طرح پاکستان میں تجارت، صنعت اور زراعت کے شعبہ میں آگے بڑھ رہی ہیں اور ملکی معیشت بتدریج ان کے قبضے میں جا رہی ہے، اس سے ہر باشعور شہری پریشان ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ جیسے ہر قسم کی پریشانی اور اضطراب کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو آگے بڑھنے اور بڑھتے چلے جانے کا گرین سگنل دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت اور محصولات کے نظام میں شرکت کے ذریعہ کنٹرول حاصل کیا تھا اور فلسطین میں یہودیوں نے زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کے ذریعے سے قبضے کی راہ ہموار کی تھی۔ اس پس منظر میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک طرف پاکستان کی صنعت و تجارت پر کنٹرول حاصل کر کے قومی معیشت کو بین القوامیت کے جال میں مکمل طور پر جکڑنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور دوسری طرف ’’کارپوریٹ ایگریکلچرل فارمنگ‘‘ کے نام پر پاکستان کی زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کر کے اس ملک کے باشندوں کو اپنی زمینوں کی ملکیت کے حق سے بھی محروم کر دینا چاہتی ہیں۔

ہم ایک عرصہ سے بین الاقوامی رپورٹوں میں پاکستان کے اندر ’’مسیحی ریاست‘‘ کے قیام کے پروگرام کا تذکرہ دیکھ رہے ہیں لیکن اس کی عملی شکل سمجھ میں نہیں آ رہی تھی البتہ اب فلسطین کے تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے پاکستانی زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کا منصوبہ پڑھ کر ’’مسیحی ریاست‘‘ کے قیام کا طریق واردات کچھ نہ کچھ سمجھ میں آنے لگا ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کی ۲۸ اگست ۲۰۰۱ء کو شائع کردہ ایک خبر ملاحظہ فرمائیے اور اگر آپ اس خوفناک سازش کی روک تھام کے لیے کسی درجے میں کچھ کر سکتے ہوں تو خدا کے لیے اس میں کوتاہی سے کام نہ لیجئے۔

فیڈرل لینڈ کمیشن نے کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے تحت ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لامحدود سرکاری زمین فروخت کرنے کی حکومتی پالیسی کو آئین کے متصادم اور اسلامی احکامات اور سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بنچ کے ایک فیصلے کے منافی قرار دیا ہے جبکہ سنٹرل بورڈ آف ریونیو (سی بی آر) نے کارپوریٹ فارمنگ کرنے والی سرمایہ کار کمپنیوں کو ٹیکس میں رعایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لامحدود زمین فراہم کرنے کے حوالے سے پالیسی کو حتمی شکل نہ دینے کے باوجود سرمایہ کاری بورڈ نے کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے تحت کثیر القومی کمپنیوں کو آئین اور اسلامی احکامات کے منافی لا محدود سرکاری زمین خریدنے کی ایک کتابچے کے ذریعے پیش کش کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ضمن میں وفاقی وزارت زراعت نے آئین میں ترمیم کی سفارش کی ہے جس کے لیے زراعت کی وزارت کی جانب سے کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے لیے تیار کردہ سفارشات کی منظوری چیف ایگزیکٹو ۱۳ مارچ ۲۰۰۱ء کو دے چکے ہیں تاہم لا محدود زمین فراہم کرنے کی پیش کش کا معاملہ آئین اور اسلامی احکامات کے منافی ہونے کے باعث حل نہیں ہو سکا ہے۔ آئین کے ایم ایل آر ۱۱۵ کے سیکشن ۷ اور ایم ایل آر ۶۴ کے سیکشن ۸ میں ترمیم کے متعلق سمری چیف ایگزیکٹو سیکرٹریٹ کو بھجوا دی گئی ہے جبکہ وفاقی وزارت قانون و انصاف کو معاملے پر رائے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ سنٹرل بورڈ آف ریونیو کا اس ضمن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ٹیکس رعایت دینے کے معاملے پر رائے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ سنٹرل بورڈ آف ریونیو کا اس ضمن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ٹیکس رعایت دینے کے معاملے پر موقف ہے کہ کارپوریٹ کمپنیوں سے ۴۵ فیصد تک انکم ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے لہذا کارپوریٹ ایگریکلچرل فارمنگ کے تحت سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں بھی اتنی ہی شرح سے انکم ٹیکس ادا کریں گی۔سی بی آر کا مزید موقف ہے کہ سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے پرانی مشینری کی درآمد پر ٹیکسوں میں رعایت نہیں دی جا سکتی البتہ نئی مشینری کی درآمد پر رعایت دی جا سکتی ہے۔

وزارت زراعت نے سفارش کی تھی کہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پرانی مشینری پر ٹیکس میں رعایت دی جائے اور بارانی علاقوں میں کارپورییٹ فارمنگ کی ابتدا کرنے والی کمپنیوں کو ۷ سال، نہری علاقوں میں فارمنگ کرنے والی کمپنیوں کو ۵ سال اور قابل کاشت ضائع شدہ زمین پر فارمنگ کرنے والی کمپنیوں کو ۱۰ سال کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے۔ ان تمام سفارشات پر وفاقی سیکرٹری خزانہ معین افضل کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے اس ضمن میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل نہیں دی ہے لیکن سرمایہ کاری بورڈ نے جاری کردہ کتابچے میں ٹیکسوں میں چھوٹ کے لیے ترغیبات کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ کتابچے دنیا بھر میں موجودہ پاکستانی سفارت خانوں کو ارسال کر دیے گئے ہیں جس کی بنا پر پاکستانی سفارت خانوں میں کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ میں سرمایہ کرنے کے لیے درخواستیں آنا شروع ہو گئی ہیں لیکن پالیسی کی حتمی منظوری ابھی تک زیر غور ہے۔

غیر مستوجب حد جرائم میں مجرم کو تعزیری سزا (۳)

قاضی محمد رویس خان ایوبی

غیر مستوجب حد جرائم پر تعزیری سزاؤں کے نظائر

 (۱) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے سامنے ایک شخص کو پیش کیا گیا جس کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا اور وہ ایک اجنبیہ کے ساتھ ایک ہی بستر میں لیٹا ہوا پکڑا گیا تھا، تاہم اس کے خلاف بدکاری کی شہادتِ شرعیہ نہ پیش کی جا سکی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس شخص کو چالیس کوڑوں کی سزا دی نیز اسے مجمع عام کے سامنے زجر و توبیخ بھی کی۔ اس پر قبیلہ قریش کے چند معززین کا ایک وفد حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے خلاف حضرت عمرؓ کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ہمارے قبیلے کے ایک معزز شخص کو سربازار رسوا کر دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے عبد اللہ بن مسعودؓ کو طلب فرما کر واقعہ سے متعلق استفسار کیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا، ہاں، اس کے خلاف لوگوں نے دعوٰی کیا کہ وہ ایک اجنبیہ کے لحاف میں گھسا ہوا تھا، لحاف میں گھس کر لیٹنے کے سوا اور کوئی گواہ اس کی بدکاری پر نہیں پیش کیا گیا لہٰذا میں نے اسے تعزیرً‌ا چالیس کوڑے مارے اور لوگوں میں اس کی تشہیر کی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا، آپ کے خیال میں اسے یہی سزا دینی چاہیے تھی؟ ابن مسعودؓ نے فرمایا، ہاں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا، آپ نے بہت اچھا کیا۔ (۳۴)
اس حدیث سے جو فقہی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں:
۱۔ اجنبیہ کے ساتھ لیٹنا قابلِ تعزیر جرم ہے۔ اسی طرح اجنبیہ کو بہلا پھسلا کر اور سبز باغ دکھا کر بھگا لے جانا، نیز ہر وہ طریقہ جس میں اجنبیہ کے ساتھ خلوت اور فحاشی کا ارتکاب پایا جائے، اگرچہ زنا کا فعل وقوع پذیر نہ ہو، سب اعمالِ معصیت ہیں اور ہر معصیت قابلِ تعزیر جرم ہے جبکہ وہ ’’حد‘‘ تک نہ پہنچی ہو۔
۲۔ اگر قاضی یہ سمجھتا ہے کہ مجرم کے لیے بدنی سزا کافی نہیں تو اسے زجر و توبیخ بھی کر سکتا ہے اور یہ بھی سزائے تعزیر کا حصہ ہے۔
۳۔ اگر جج کے فیصلے سے کوئی فریق ناراض ہو تو مجاز اتھارٹی سے شکایت کرنا توہینِ عدالت نہیں۔
۴۔ تعزیری سزا میں یہ جج کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ کتنی سزا دیتا ہے۔ تاہم حکومت کو اس ضمن میں کم از کم اور زیادہ سے زیادہ سزا کی تعیین کا اختیار حاصل ہے۔
سو ایسے تمام جرائم میں جو اس طرح سرزد ہوں، ان میں اگرچہ حد نافذ نہیں ہو گی لیکن سزائے تعزیر واجب ہو گی تاکہ فحاشی کا قلع قمع کیا جا سکے۔ حدود کی سزا نہ صرف بہت کم جرائم میں مقرر ہے بلکہ اس کے اثبات کے لیے نہایت مشکل اور نادر الوجود وسائل درکار ہیں۔ اس لیے شریعت نے باب التعزیر کھلا رکھا ہے تاکہ مجرموں کو شبہات کی چھتری تلے جرائم کے بے دریغ ارتکاب سے روکا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سزائے تعزیر کے اثبات کے لیے اثباتِ حدود سے کم درجے کے وسائل رکھے گئے ہیں تاکہ مجرم بچ کر نہ جا سکے۔ اگر زنا، سرقہ، منشیات کے استعمال، ارتداد اور تہمت کی ایسی صورتوں میں جو غیر مستوجب حد ہوں، مجرم کو بغیر سزا کے چھوڑ دیا جائے تو غور فرمائیے کہ کسی عفیفہ کی عزت اوباشوں کے ہاتھوں کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟ کسی شخص کا مال چوروں سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے؟ منشیات سے کسی معاشرے کو کیونکر پاک رکھا جا سکتا ہے؟ کسی گمراہ کو عقائدِ فاسدہ کے پھیلانے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟
(۲) حضرت عمرؓ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک شخص خون آلود تلوار لیے دربار میں حاضر ہوا، لوگوں کا ہجوم اس کے پیچھے پیچھے تھا، لوگوں نے کہا کہ یہ شخص قاتل ہے، اس نے ہمارے آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے قاتل سے استفسار فرمایا کہ کیا قصہ ہے؟ اس نے کہا، میں نے اپنی بیوی کی برہنہ رانوں کے درمیان تلوار کا وار کیا ہے۔ اگر اس کی رانوں کے درمیان کوئی تھا تو میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ فاروقِ اعظمؓ نے قاتل سے تلوار لے کر اسے ہوا میں لہراتے ہوئے فرمایا ان عاد فعد ’’اگر پھر ایسا کرتے ہوئے دیکھو تو ایسے ہی کرو جیسے اب کیا ہے‘‘ (۳۵)۔
اس روایت سے فقہاء اسلام نے یہ قانونی استنباط کیا ہے کہ:
۱۔ اگر کوئی شخص حالتِ تلویث بالجریمہ میں مندرجہ بالا صورتحال سے دوچار ہو تو وہ مجرم کو قتل کر سکتا ہے، ایسے قاتل سے قصاص نہیں لیا جائے گا، البتہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی وجہ سے اسے مناسب سزا دی جا سکتی ہے۔ بشرطیکہ مجرم کو دھمکی سے، یا ہوائی فائرنگ سے، یا شور مچا کر روکا جا سکتا ہو۔ اور اگر ایسا کرنے کے باوجود مجرم باز نہ آئے تو قاتل پر تعزیر بھی نہیں ہے، اور وہ جب بھی اس طرح کے مجرم کو اس حالت میں پائے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔ یہ تمام امور مقدمہ کے تفصیلی حالات سے تعلق رکھتے ہیں جہاں جج کو نہایت دقتِ نظر سے فیصلہ کرنا ہو گا تاکہ لوگ اس طرح کی روایات کو آڑ بنا کر بیویوں کے قتل کا مشغلہ نہ اپنا لیں۔
۲۔ مجمع میں سے کسی آدمی نے مقتول کے، قاتل کی بیوی کی رانوں میں موجودگی کی تردید نہیں کی۔ ان کا یہ سکوت مقتول کے ملوث بالجریمہ ہونے کا قرینہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے ہجوم کے سکوت کی وجہ سے مزید کوئی شہادت طلب نہیں کی۔ یہ قتل تعزیرً‌ا ہے، حد نہیں۔
(۳) عبد الرزاق حسن روایت کرتے ہیں کہ:
ان رجلا وجد مع امراۃ رجلا قد اغلق علیھا الباب وارحی علیھا الاستار فجلدھا عمر مائۃ جلدۃ۔
’’ایک شخص نے دیکھا کہ ایک مرد اس کے گھر میں اس کی بیوی کے ساتھ موجود ہے، دروازہ بند ہے اور پردے گرے ہوئے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے دونوں کو سو کوڑے لگائے۔‘‘(۳۶)
اس روایت سے حسبِ ذیل باتیں مستنبط ہوتی ہیں:
۱۔ یہ فحاشی غیر موجب حد تھی۔ اجنبیہ کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا، دروازے بند کرنا اور پردے گرانا قابلِ تعزیر جرم ہے۔ گو یہاں صریح زنا کے ارتکاب کا کوئی ثبوت نہیں لیکن سقوطِ حد کی وجہ سے اس شخص کو بری نہیں کیا گیا بلکہ خلوت اختیار کرنے کی بنا پر دونوں کو کوڑے مارے گئے۔
۲۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اندر داخل ہونے والا شخص رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور دربارِ عمرؓ میں پیش ہونے کے بعد اس نے گھر میں داخل ہونے اور پردے گرانے کے اقدام سے انکار نہیں کیا۔ یہاں بھی اس کے سکوت کو تعزیر کے نفاذ کے لیے اقرار کے قائم مقام قرار دیا گیا، جبکہ حد میں سکوتِ مجرم سے اقرار ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ وہ چار مرتبہ اقرار نہ کرے۔

عادی مجرم اور تعزیری سزا

کان عثمان یری الجمع بین الحد والتعزیر اذا کان ما یوجب ھذا الجمع وقد فعل ذالک فی من ادمن علی شرب الخمر فضربہ الربعین سوطا حدا و اربعین تعزیرا الاصرارہ علی شرب الخمر بینھما ھو لم یضرب الذی ولہ فشرب غیر اربعین سوطا۔
’’حضرت عثمانؓ کے خیال میں حد اور تعزیر دونوں کو جمع کیا جا سکتا ہے جبکہ ایسا کرنا ضروری ہو۔ آپ نے ایک عادی شراب نوش کو چالیس کوڑے بطور حد سزا دی اور چالیس بطور تعزیر کیونکہ وہ عادی شراب نوش تھا۔ جبکہ اگر کوئی شخص محض ’’زلت‘‘ کی بنیاد پر ایک آدھ دفعہ شراب نوشی کا ارتکاب کر لیتا تو اسے حضرت عثمانؓ صرف چالیس کوڑوں کی سزا دیتے۔‘‘ (۳۷)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ کے نزدیک شراب نوشی کی سزا صرف چالیس کوڑے ہے اس لیے انہوں نے عادی مجرم کو چالیس کوڑے بطور حد لگائے اور چالیس کوڑے بطور تعزیر۔ یہ حضرت عثمانؓ کا فقہی اجتہاد ہے۔
شربِ خمر کی حد میں فقہاء کا اختلاف حسبِ ذیل ہے: احناف اور مالکیہ کا موقف یہ ہے کہ شربِ خمر کی حد ۸۰ کوڑے ہے، سفیان ثوریؒ بھی اسی کے قائل ہیں کیونکہ اس مقدار پر صحابہؓ کی اکثریت کا اتفاق ہے۔ امام شافعیؒ کا موقف یہ ہے کہ حد ۴۰ کوڑے ہے، اور ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ بھی اسی کے قائل ہیں۔(۳۸)

سزائے تعزیر کا ثبوت

حدود کا ثبوت تو قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ملتا ہے۔ اور وہ سزا ایسی سزا ہے جس کی مقدار خداوندِ قدوس اور رسول کریم ﷺ نے متعین فرما دی ہے۔ تعزیری سزاؤں کی مقدار کی تعیین قرآن و حدیث میں موجود نہیں بلکہ یہ امر حکومتِ وقت کے سپرد کیا گیا ہے کہ جیسے مناسب سمجھے اور جن جرائم کو مناسب سمجھے انہیں تعزیری جرم قرار دے، بشرطیکہ شریعت کے حلال کردہ کاموں کو حرام اور حرام کو حلال قرار نہ دیا گیا ہو۔ باقی امور میں اسلامی ریاست کے مسلمان حکمرانوں کو تعزیرات میں وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ریاست کے دیگر معاملات میں بھی عدل و انصاف اور انسانی حقوق اور مساوات کا بندوبست حتی الامکان کر لیا گیا ہو۔ کیونکہ سزاؤں کا اختیار بھی، چاہے وہ حدود ہوں یا تعزیرات، صرف اس حکومت کو حاصل ہے جو رعیت کے لیے روزگار، تعلیم، علاج، چھت مہیا کرنے کی ذمہ داری نبھائے۔ صرف مارنا پیٹنا، جیلوں میں بند کرنا، پھانسی کے تختے پر لٹکانا اسلامی ریاست کے فرائض کا حصہ نہیں۔ بلکہ عوام کے لیے ہر طرح کی فلاح و بہبود کا بندوبست اور ہر طرح کے استحصال کا قلع قمع کرنا بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
جو حکومت لوگوں سے زکوٰۃ اور ٹیکس وصول کرنے کا حق مانگتی ہے اس کے منصبی فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ جرائم کے اسباب پر غور کرے اور ان اسباب کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا حکومت کا فرض ہے۔ اطاعت اسی صورت میں ہو گی جبکہ اولی الامر مطیع کے حقوق کی ذمہ داری نبھائیں۔ صرف سزاؤں کے نفاذ سے کوئی حکومت اسلامی حکومت نہیں کہلا سکتی، ایسی حکومت مسلمانوں کی حکومت تو ہو سکتی ہے، اسلامی نہیں۔

ثبوتِ تعزیر

قرآن کریم میں ارشاد ہے:
واللاتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن۔
’’اور جو عورتیں نافرمانی اختیار کریں، انہیں نصیحت کرو، ان کے بستر الگ کرو اور انہیں جسمانی سزا دو۔‘‘
یعنی اگر کوئی عورت خاوند کے ساتھ بدمزاجی سے پیش آئے اور نافرمانی کرے، اس کو راہِ راست پر لانے کے تین درجے ہیں: (۱) زبانی فہمائش (۲) ازدواجی تعلقات کا خاتمہ (۳) جسمانی سزا۔
زجر و توبیخ، ازدواجی تعلقات کا خاتمہ یہ سب تعزیری سزائیں ہیں۔ اور اگر ان دو سزاؤں سے باز نہ آئے تو پھر جسمانی سزا دی جائے گی جس سے نہ تو جسم پر کوئی نشان پڑے اور نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ سزائیں تادیباً‌ ہیں، حدً‌ا نہیں۔ ہر جرم پر تادیبی سزا دی جا سکتی ہے کیونکہ قرآن کریم نے خاوند کو تادیباً‌ بیوی کو سزا دینے کا اختیار دیا ہے تو حاکمِ مملکت کو بدرجہ اولٰی یہ حق حاصل ہے کہ وہ رعیت کے ان لوگوں کو تعزیری سزائیں دے جو قانون شکنی کے مرتکب ہوں۔(۴۰)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس لیے سزا دی کہ اس نے دوسرے کو مخنث (ہیجڑا) کہہ دیا تھا۔ ایک شخص کو آپ نے قید بھی فرمایا۔(۴۱)

فقہاء اسلام کی آرا

التعزیر عقوبۃ تجب حقا للہ تعالیٰ او لآدمی فی کل معصیۃ لیس فیھا حد ولا کفارۃ۔
’’تعزیر ایسی سزا ہے جو کسی ایسے جرم میں دی جائے گی کہ حق اللہ یا حق العبد سے تعلق رکھتا ہو، مگر نہ تو اس میں حد مقرر ہو اور نہ کفارہ۔(۴۲)
علامہ ابن عابدینؒ فرماتے ہیں:
ھو تادیب دون الحد۔
’’حد سے کم سزا کو تعزیر کہتے ہیں۔‘‘ (۴۳)
ڈاکٹر صبحی محمصانیؒ فرماتے ہیں:
وھو العقوبۃ التی یفرضھا القاضی علی جنایۃ او معصیۃ لیس لھا حد شرعی ای لیس فیھا عقوبۃ مقدرۃ شرعا۔
’’تعزیر اس سزا کو کہتے ہیں جو قاضی ہر اس جرم یا گناہ میں جزا کے طور پر نافذ کرے جس میں شرعی طور پر کوئی متعین سزا نہ ہو۔‘‘(۴۴)
احناف کے مشہور محقق علامہ کاسانیؒ فرماتے ہیں:
اما سبب وجوبہ فارتکاب جنایۃ لیس فیھا حد مقرر فی الشرع سواء اکالت الجنایۃ علی حق اللہ کترک الصلوۃ والصوم۔
’’تعزیر کے وجوب کا سبب کسی ایسے جرم کا ارتکاب ہے جس کی سزا شریعت میں متعین نہ ہو۔ یہ جرم حقوق اللہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ہو یا کسی اور جرم کا ارتکاب، جیسے نماز یا روزہ کا ترک کرنا۔‘‘
امام مجد الدین ابی البرکاتؒ ’’المحرر فی الفقہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
وھو واجب فی کل معصیۃ لاحد فیھا ولا کفارۃ کاستمتاع لاحد فیہ۔
’’تعزیر ہر اس معصیت میں واجب ہے جس میں نہ حد ہو اور نہ کفارہ۔ مثلاً‌ عورت سے ایسا جنسی تلذذ حاصل کرنا جس پر حد نافذ نہ ہوتی ہو۔‘‘(۴۶)
حنابلہ کے متبحر محقق اور امام علامہ ابن قدامہؒ فرماتے ہیں:
وھو التادیب وھو واجب فی کل معصیۃ لاحد فیھا ولا کفارۃ کالاستمتاع الذی لا یوجب الحد واتیان المراۃ المراۃ سرقۃ ما لا یوجب القطع۔
’’تعزیر تادیب کو کہتے ہیں جو ہر ایسے جرم میں واجب ہے جس میں کفارہ یا حد نہ ہو جیسے ایسا جنسی تلذذ جس میں حد نہ ہو اور عورت کا عورت سے استلذاذ اور ایسی چوری جس میں قطع ید نہ ہو۔‘‘(۴۷)
موسوعۃ فقہ عبد اللہ بن مسعودؓ میں تحریر ہے:
التعزیر ھو العقوبۃ المفروضۃ علی جریمۃ لم یات الشارع بعقوبۃ محددۃ لھا۔
’’تعزیر وہ سزا ہے جو کسی ایسے جرم پر نافذ کی جائے جس پر شریعت میں کوئی متعین سزا بیان نہ کی گئی ہو۔‘‘(۴۸)
الشیخ الامام السید السابق مصریؒ رئیس قسم القضاء ام القرٰی یونیورسٹی مکہ مکرمہ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف فقہ السنۃ میں فرماتے ہیں:
التادیب علی ذنب لاحد فیہ ولا کفارۃ ای انھا عقوبۃ تادیبۃ یفرضھا الحاکم علی جنایۃ او معصیۃ۔

’’تعزیر ایسی تادیب کو کہتے ہیں جو کسی ایسے جرم یا گناہ میں بطور سزا دی جائے جس میں حد یا کفارہ نہ ہو۔ یعنی یہ ایک تادیبی سزا ہے جو حاکم کسی جرم یا گناہ کے ارتکاب پر دیتا ہے۔‘‘(۴۹)

نتیجہ بحث

زنا اگر غیر مستوجب حد ہو، اور دیگر قرائن اور تعزیری نصابِ شہادت، جو کہ دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے پورا ہو جاتا ہے، اگر ارتکابِ جرم پایا جاتا ہو یا ایسا شبہہ جسے شبہہ ضعیفہ شمار کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گا، اور مقدمہ کی تفصیلات اور قرائنِ قویہ ثبوتِ جرم کے لیے موجود ہوں تو سقوطِ حد کے باوجود مجرم کو سزائے تعزیر دی جائے گی۔ البتہ یہ امر جج کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ مجرم کے ذاتی حالات اور معاشرتی پس منظر، حالات و واقعات کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے کے بعد سزا میں کم از کم یا زیادہ سے زیادہ کے ضابطہ پر عمل کرے۔

زیربحث استفسار میں کہا گیا ہے کہ کیا زنا یا زنا بالجبر غیرمستوجب حد میں ملزم کو تعزیری سزا دی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں ملزم کے بجائے مجرم کا لفظ ہونا چاہیے۔ نیز اگر صرف زنا سے متعلق استفسار ہو گا تو زانی اور مزنیہ دونوں پر احکامِ بالا لاگو ہوں گے۔ اور اگر زنا بالجبر کے متعلق ہے تو مزنیہ بری ہو گی اور زانی کو سخت ترین تعزیری سزا دی جائے گی کیونکہ اس نے بیک وقت دو جرموں کا ارتکاب کیا ہے: ایک ارتکابِ فاحشہ اور دوسرے جبر۔ ارتکابِ فاحشہ مستقل جرم ہے اور جبر مستقل جرم ہے۔ لہٰذا ایسے مجرم کی سزا بھی زنا بالرضا غیرمستوجب حد سے زیادہ ہو گی۔


حواشی

(۳۴) اخبار القضاء ج ۲ ص ۱۸۸ ۔ مصنف عبد الرزاق ج ۷ ص ۱۲۷ ۔ المحلیٰ لابن حزم ج ۱۱ ص ۳ و ۴
(۳۵) مصنف عبد الرزاق ج ۷ ص ۴۵۳ ۔ مسند الشافعی ج ۶ ص ۲۶۲
(۳۶) مصنف عبد الرزاق ج ۷ ص ۴۵۱
(۳۷) موسوعۃ فقہ عثمان، رداس قلعہ جی ص ۱۵۴
(۳۸) ج ۲ ص ۳۳۵
(۳۹) النساء ۳۴
(۴۰) تفسیرِ عثمانی، تفسیر ماجدی، تفسیر نعیمی
(۴۱) تبیین الحقائق ج ۳ ص ۲۵۸
(۴۲) الاحکام السلطانیہ ص ۲۳۶ ۔ اعلام الموقعین ج ۲ ص ۸۶ ۔ کشاف القناع ج ۶ ص ۹۸
(۴۳) فتاوٰی شامی ج ۳ ص ۱۹۴
(۴۴) المجتہدون فی القضاء ص ۸۷
(۴۵) بدائع الصنائع ج ۳ ص ۶۳
(۴۶) المحرر فی الفقہ ص ۱۶۳
(۴۷) المغنی مع الشرح الکبیر ج ۱۰ ص ۳۴۷
(۴۸) موسوعۃ فقہ عبد اللہ ابن مسعود، رداس قلعہ جی ۔ ص ۱۶۲
(۴۹) فقہ السنۃ ج ۲ ص ۴۹۷

مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

اکابرِ امت کی نظر میں

مولانا محمد عیسٰی منصوری

حضراتِ گرامی! آج ہم مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی زندگی، شخصیت، سیرت، علوم و افکار اور خدمات کے تذکرے، اور آپ کی زندگی اور کارناموں سے رہنمائی حاصل کرنے، انہیں مشعلِ راہ بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ہمارا یہ اجلاس مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے علوم اور عصرِ حاضر میں آپ کے فکری کام کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہے۔
حضرت مولانا کی حیاتِ مستعار کے ۷۰ سالہ شب و روز اور آپ کی علمی و فکری جدوجہد کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
  1. ایک یہ کہ آپ نے مغربی فکر و فلسفہ کا گہرا تجزیہ کر کے مغربی افکار و نظریات اور تمدن و سیاست کی زہرناکی، اور پوری انسانیت کے لیے اس کی تباہ کاریوں پر مفصل و مدلل بحث فرمائی۔ اس کا سلسلہ ’’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین‘‘ سے شروع ہو کر ’’اسلام اور مغربیت کی کشمکش‘‘، ’’نقوشِ اقبال‘‘ سمیت متعدد تصانیف اور سینکڑوں مضامین و تقاریر پر محیط ہے۔ اور شکر ہے کہ یہ سارا علمی ذخیرہ محفوظ ہے۔
  2. دوسرے آپ نے قرآن و سنت، اکابرینِ ملت اور ملتِ اسلامیہ کی تاریخ کی روشنی و رہنمائی پر نہایت سنجیدہ اور مثبت علمی انداز میں کام کیا۔ اس کا سلسلہ ’’سیرتِ احمد شہید‘‘، ’’تاریخِ دعوت و عزیمت‘‘ اور ’’اسمعیات‘‘ کے سلسلے سے شروع ہو کر ’’منصبِ نبوت‘‘، ’’نبیٔ رحمت‘‘، ’’ارکانِ اربعہ‘‘ اور سینکڑوں مقالات و مضامین کی صورت میں ہزارہا صفحات میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ عظیم ذخیرہ بھی ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام میں عصرِ حاضر کے مسائل، چیلنجز، مغرب کی تمدنی و فکری یلغار، علمی و فکری فتن کو جس شخصیت  نے سب سے زیادہ سمجھا، محسوس کیا، اور اس کا علمی طور پر جواب تیار کیا، ملتِ اسلامیہ کے شعور کو بیدار کیا، نئی نسل کی رہنمائی کی، وہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ہیں۔ اسی مناسبت سے بندہ نے اپنے مقالہ کا عنوان ’’صدی کی شخصیت‘‘ تجویز کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ صدی میں ملتِ اسلامیہ کی علمی و فکری رہنمائی کا بنیادی کام آپ سے لیا۔ لیکن بعض کرم فرماؤں کے اصرار پر اب بندہ کے مقالہ کا عنوان ہے ’’مفکرِ اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ، اکابرِ امت کی نظر میں۔‘‘
حضراتِ گرامی قدر! حضرت مولانا جیسے مشاہیر کی زندگیاں تقویم کے ایام و شہور یا کسی کیلنڈر کے کسی چھوٹے بڑے دن میں پیدائش و وفات کے تعلق و تذکرے کی رہینِ منت نہیں۔ ان کی یاد کے لیے کسی خاص موسم یا فصلِ گل کی بھی ضرورت نہیں۔ ان کا وجود تاریخ کی ایک سچائی اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اس لیے کوئی موسم ہو، بہار و خزاں کا کوئی دور ہو، ان کی یاد ہماری تعلیم و تہذیب کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ ہم ان کے تذکرے سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہ
حضراتِ گرامی قدر! ہم کسی شخصیت کی رسمی طور پر یاد منانے کے قائل نہیں۔ ہم تو اپنے اسلاف کی سیرت اور ان کے افکار کے محاسن کے جویا ہیں۔ ہم ان کے روشن کارناموں اور عظیم الشان خدمات کو مشعلِ راہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اس عہدِ سعادت اور دورِ علم و تہذیب کی بازیافت کے لیے کوشاں ہیں جس کے سانچوں میں علم و عمل کے جامع اور ایثار و قربانی کے مجسمے اور اخلاق و سیرت کے یہ حسین پیکر ڈھلا کرتے تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے علوم و افکار سے ہمارے سینے معمور اور دماغ روشن ہوں۔ ان کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہو۔ ان کے کارنامے اور ایثار ہمارے لیے مشعلِ راہ ہوں، یہاں تک کہ ہمارے نوجوانوں کی زندگیاں اپنے اسلاف کرام کی یادگار اور نمونہ بن جائیں۔ حضرت مولانا اسلام کے خدمتگاروں اور حق پرستوں کے جس قبیلے، ایثار پیشگانِ ملت کے جس قافلے، اور تجدیدِ احیاء اسلام کی تحریک کے جس سلسلۃ الذہب سے تعلق رکھتے تھے، اس کی مختلف کڑیاں صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ کو محیط ہیں۔ اس وقت ہمارا موضوع اور اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے علوم و افکار سے روشنی حاصل کرنا ہے کیونکہ عصرِ حاضر میں نئی نسل کے لیے علمی و فکری رہنمائی کا سب سے زیادہ ساز و سامان حضرت مولانا کی عملی زندگی اور آپ کی تصانیف میں موجود ہے۔
حضرت مولانا کی شخصیت میں فیضانِ الٰہی سے علم و عمل، فکر و سیرت، اخلاق و تہذیب کی بے شمار خوبیاں جمع ہو گئی تھیں۔ آپ کے علم و فکر، تالیف و تدوین اور شرح و تفسیر، علوم و فنون اور خدماتِ ملتِ اسلامیہ کی جو خوبیاں دنیا پر ظاہر ہوئیں اور اصحابِ علم و نظر نے جن کا اعتراف کیا، وہ یہ نہیں کہ آپ ایک بلند پایہ عالمِ دین تھے، قرآن و حدیث اور تاریخِ عالمِ اسلام پر آپ کی گہری نظر تھی، خاص طور پر علومِ قرآن کے بے مثال عالم تھے، حکیم الہند امام ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و معارف کے محقق و شارح تھے۔ آپ اپنی خدمات کی وجہ سے عالمِ اسلام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے تھے۔ آپ کو من جانب اللہ جو عزت و توقیر اور قدر و منزلت عطا ہوئی وہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے اور واضح طور پر ’’سیجعل لہ الرحمٰن وُدّا‘‘ کی عملی تفسیر ہے۔ اس دور کے مختلف الخیال اصحابِ فضل و کمال میں ایسی ہمہ گیر مقبولیت کی کوئی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ کے یہاں علم کے موتیوں اور معرفت کے جواہر پاروں کی ایسی ریل پیل رہتی کہ جن کے لمحوں کو محفوظ کر لیں تو صدیاں فائدہ اٹھاتی رہیں۔ آپ موجودہ دور میں امام غزالیؒ اور حضرت شاہ ولی اللہؒ دہلوی کے علوم و افکار کا زندہ و تابندہ نمونہ تھے، جس کا نہ صرف ہم عصر بلکہ آپ کے اکابر و بزرگوں نے بھی دل کھول کر اعتراف فرمایا۔ یہی اعترافات اختصار کے ساتھ پیشِ خدمت ہیں۔
اس صدی کے سب سے بڑے مصلحِ امت اور شریعت و طریقت کے جامع حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک گرامی نامہ میں اس طرح مخاطب فرماتے ہیں:
’’بخدمت مجمع الکمالات زید لطفکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فرحت نامہ پہنچا۔ ہر ہر لفظ حیات بخش تھا۔ جزاکم اللہ علٰی ہذا المحبۃ۔ آپ کے صدق و خلوص و سلامتِ فہم کے اثر سے میری طبعیت بھی دفعتاً‌ آپ سے بے تکلف ہو گئی۔‘‘
حضرت حکیم الامتؒ کی محتاط و معتدل شخصیت سے ادنٰی واقفیت رکھنے والا آدمی بھی جانتا ہے کہ حضرت کے ہاں محض رسمی طور پر یا تکلفاً‌ القاب اور اعزاز و اعتراف کا رواج نہ تھا۔ ایک ۱۹ سالہ نوجوان عالمِ دین کو مجمع الکمالات لکھنا جہاں بہت بڑا اعزاز اور بڑی باوقار سند ہے وہیں مولانا کے متعلق حکیم الامت کے کمالِ فراست کی دلیل بھی ہے۔
اس صدی کے سب سے بڑے داعی الی اللہ امام التبلیغ حضرت مولانا محمد الیاسؒ کی نظر میں مولانا کا جو مقام و احترام تھا، اس کا کسی قدر اندازہ آپ کے ان مکتوبات سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے مولانا کو تحریر فرمائے۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’مخدومی و مکرمی حضرت سید صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آں محترم کی توجہاتِ عالیہ سے تبلیغ کو جس قدر نفع پہنچا ہے اب تک لگنے والوں میں سے کسی سے نہیں پہنچا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مقدس توجہات کو اس طرف اور زائد سے زائد مبذول فرمائے۔ آپ کی تشریف آوری کا انتظار ہے۔ توجہاتِ عالیہ اور دعواتِ صالحہ کا امیدوار ہوں۔
بندہ محمد الیاس غفرلہ
۲۷ اکتوبر ۱۹۴۳ء‘‘
ایک اورمکتوبِ گرامی کی ابتدا اس طرح فرماتے ہیں:
’’بخدمت عالی عمدۃ الآمال والامانی مکرم محترم جناب سید صاحب دام مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سے پہلے گرامی نامہ عالی شرف صدور لا کر بہت دنوں تک اپنے لیے وسیلۂ آخرت سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتا رہا اور مکرر سہ کرر اپنی آنکھوں اور دل کو تسلی دیتا رہا ۔۔۔۔ میری امیدوں اور تمناؤں کے ودیعت گاہ محترم، سلالہ خاندانِ نبوت، جناب عالی کا مہمانانِ نبوت کو ساتھ لے کر اس کام کے لیے قدم مبارک اٹھانا جس قدر عظیم ہے اسی قدر اس کی وقعت ۔۔۔۔ میرا ضمیرشہادت دے رہا ہے کہ یہ کام دراصل آپ جیسے اہل اور خاندانِ نبوت ہی کے کرنے کا ہے۔ آپ کے قلوب سے جس قدر اس کےلیے شرحِ صدر کے ساتھ استقامت ظہور میں آتی چلی جائے گی اسی قدر گویا اس کے درست ہونے کی امیدیں صحیح ہوتی چلی جائیں گی۔‘‘
ایک بار حضرت مولانا نے اپنے دہلی حاضر ہونے کی اطلاع دی تو رئیس التبلیغ مولانا الیاسؒ نے اس خوش خبری پر تحریر فرمایا:
’’جناب کی تشریف آوری مژدہ روئیں روئیں کو تر و تازہ کر رہا ہے۔ حق تعالیٰ ہمیں آپ کی ذاتِ گرامی سے مشفع فرمائیں۔‘‘
حضرت مولانا محمد الیاسؒ آپ کی خاندانی نسبت خصوصاً‌ حضرت سید احمد شہیدؒ کے کس قدر معترف و معتقد تھے، اس کا اندازہ ایک مکتوب سے لگایا جا سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’از سگِ آستانہ عزیزی و احمدی بندہ محمد الیاس عفی عنہ بسلالہ خاندانِ نبوت، جوہرِ تابانِ معدنِ سیادت، جناب سید صاحب دام مجدکم۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک اپنے خاندان کے ذرۂ بے مقدار خادم سے اپنے ذاتی جوہر اور حسنِ ظن کے سرمایہ کی بدولت کیسی خدمت وابستہ فرما دی۔ یہ بندۂ ناچیز نہ اس کا اہل ہے نہ بندہ کو مضامین پر دست رس ہے۔ لیکن عادۃ اللہ یہ جاری ہے ’’انا عند ظن عبدی بی‘‘۔ آپ جیسے حضرات کے حسنِ ظن کا بھی اثر ہو گا اور نتیجہ ہو گا کہ جو فیاضِ ازلی سے کچھ نصیب ہو جاوے گا۔‘‘
حضرت مولانا محمد الیاسؒ نے وفات سے دو روز پہلے فرمایا:
’’مولانا میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟ آپ کی کیا تعریف کروں؟ تعریف کرنا محبت کا اوچھا پن ہے۔‘‘
پھر اچانک سر اٹھا کر مولانا علی میاںؒ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا:
’’اچھا جائیے، دولتِ قرآن مبارک ہو۔‘‘
دنیا جانتی ہے الشیخ الندویؒ کو قرآنی علوم و معارف، مطالب و مقاصد کے افہام و تفہیم کا ایک خاص نرالا و البیلا ذوق و ملکہ عطا ہوا تھا۔ کیا خبر یہ حضرت مولانا الیاسؒ کی دعاؤں اور توجہ کا اثر ہو۔
ایک بار مولانا شہر کے کسی تبلیغی گشت میں تشریف لے گئے تھے، حضرت مولانا الیاسؒ نے فرمایا:
’’ایک آدمی میری بات سمجھنے والا تھا، تم نے اس کو بھی بھیج دیا، اب میں کس سے بات کروں؟‘‘
حضرت مولانا محمد الیاسؒ کے جانشین داعی الی اللہ امیرِ تبلیغ حضرت مولانا محمد یوسفؒ ایک طویل خط میں لکھتے ہیں:
’’مخدوم و مکرم معظم جناب حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت عالی، مجھے دل سے اعتراف ہے کہ آپ نے حضرت مولانا مرحوم کی اس وقت قدر کی جس وقت یہ ناچیز ناقدری کر رہا تھا، اور آپ نے اس وقت عمل کی طرف قدم بڑھایا جس وقت یہ حقیر اس سے پہلوتہی کر رہا تھا۔ آپ سنتے تھے، تعمیل کرتے تھے، سمجھتے تھے اور محفوظ رکھتے تھے، اور اس کام کے انہماک اور دعوت کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے تھے ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعوت میں تاثیر دی، اضلاعِ متصلہ سے باہر یہ کام آپ ہی کی وساطت سے پھیلا اور علمی حلقوں میں آپ ہی کی وساطت سے یہ چیز پہنچی ۔۔۔۔ اگر حضرتِ عالی اپنے ان کمالات و فیوض سے، جو حضرت مرحوم کے ساتھ محبت و تعلق اور اس کام کی طرف سبقت و دعوت سے آپ کو حاصل ہیں، اور ساداتی جواہرات نے اس کو چار چاند لگائے ہیں۔ ہم خدام کو مستفید فرمائیں تو عین مراحم خسروانہ ہوں ۔۔۔۔ اگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ہفتہ عشرہ کے لیے تشریف لائیں تاکہ بقیہ تبلیغی حالات تفصیل سے سامنے رکھے جا سکیں۔ اس وقت ہم خدام کو آپ کی سخت ضرورت ہے۔‘‘
حضرت مولانا ولیٔ کامل، عارف باللہ، مفسرِ قرآن حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے محبوب ترین اور معتمد ترین خلفا میں سے تھے۔ مولانا لاہوریؒ آپ سے اپنے حقیقی بیٹے کی طرح محبت فرماتے۔ ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’چونکہ آپ میرے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا جو فضل بھی آپ پر ہو، وہ میرے لیے باعث صد فخر ہے۔ مجھے جس طرح مولوی حبیب اللہ سلمہ کی ترقی سے فرحت ہو سکتی ہے اسی طرح، بلکہ بعض وجوہ کی بنا پر اس سے زیادہ خوشی اور سرور آپ کے درجات کی ترقی سے ہوتا ہے۔ اب یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت عطا فرمائے اور موجودہ دورِ فتن میں تمام مصائب و آلام سے محفوظ رکھے، آمین یا الٰہ العالمین۔‘‘
حضرت لاہوریؒ ایک مکتوب میں رقم طراز ہیں:
’’میرے دل میں آپ کی جو عزت ہے، اسے ضبطِ تحریر میں لانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اسی محبت و عزت کا نتیجہ ہے کہ میں نے حج کی رات مسجدِ خیف میں آپ کے درجات کی ترقی کے لیے بارگاہِ الٰہی سے استدعا کی اور الحمد للہ اس نے بارگاہِ الٰہی میں قبولیت پا لی۔‘‘
ایک اور مکتوب میں حضرت لاہوریؒ لکھتے ہیں:
’’(آپ کا خط پڑھا) تو اس میں آپ نے اپنی شرافتِ خداداد اور سعادتِ ازلی کے وہ موتی الفاظ کی لڑیوں میں پروئے ہیں جنہیں پڑھ کر بے ساختہ آپ کی صلاحیت و شرافت اور سعادت کی دل نے داد دی اور دل سے دعا نکلی کہ اے اللہ! مولوی ابوالحسن صاحب کو اپنی رضا میں فنا کر کے دین کی خدمت کا بہت بڑا کام لے اور انہیں تادیر سلامت رکھ کر دین کی تبلیغ اور خلق اللہ کے باطن کی تربیت کی توفیق عطا فرما اور انہیں اخلاص و استقامت کے عطیات سے سرفراز فرما، آمین یا رب العالمین۔‘‘
حضرت لاہوریؒ کی طرح قطبِ وقت حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ سے بھی آپ کو اجازت و خلافت حاصل تھی۔ حضرت رائے پوریؒ کو جو آپ سےمحبت و انسیت اور تعلقِ خاطر تھا، اس کی شہادت حضرت رائے پوریؒ کے دوسرے محبوب خلیفہ حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ سے سنیے۔ حضرت مولانا نعمانیؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’اگرچہ یہ ناچیز ہی مولانا علی میاں کے جانے اور حضرت سے تعلق قائم ہونے کا اول ذریعہ بنا، حضرت سے بیعت کا شرف بھی پہلے ناچیز ہی کو حاصل ہوا، لیکن موصوف کی ان خداداد صفات اور خصوصیات کی وجہ سے، جن کی اللہ کے یہاں اور اس کے مقبول بندوں کے ہاں بھی زیادہ قدر و قیمت ہے، حضرت کے ہاں محبوبیت کا جو مقام ان کو حاصل ہوا وہ اس ناچیز کے لیے موجبِ حسرت ہونے کے باوجود ہمیشہ رشک و غبطہ کا باعث بنا رہا (ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء)‘‘
حضرت رائے پوریؒ نے ۲۸ نومبر ۱۹۵۶ء کے ایک مکتوب میں مولانا علی میاںؒ کو مخاطب فرماتے ہوئے مولانا رومؒ کے وہ اشعار تحریر فرمائے جو انہوں نے حضرت شمس تبریزؒ کے اشتیاق میں تحریر فرمائے تھے، اور تحریر فرمایا کہ
’’آپ کے آنے سے میری کٹھیا (خانقاہ) ایسے روشن ہو گئی جیسے شمس تبریز کے آنے سے مولانا رومؒ کے آستانے میں بہار آ گئی تھی۔‘‘
حضرت رائے پوریؒ کو مولانا کی ذات سے جو محبت و انسیت کے ساتھ ناز و افتخار کا تعلق تھا اس کا اظہار و ظہور زبانی، تحریری اور عملی طور پر ہوتا رہتا تھا۔ چنانچہ جب لاہور کے ایک عالمی اجلاس میں قادیانیت کے تعلق سے ایک عربی کتاب کی ضرورت محسوس کی گئی تو حضرت رائے پوریؒ نے بڑے اعتماد و افتخار کے ساتھ حضرت مولانا کا نام لے کر فرمایا کہ ’’وہ آئیں تو ہم ان سے چمٹ جائیں گے کہ یہ کام کر کے جاؤ‘‘
آپ کے شیخ حضرت رائے پوریؒ اپنے آخری حج ۱۹۵۰ء میں آپ کو خاص اہتمام و اصرار سے اپنے ساتھ لے گئے اور فرمایا کہ ’’یہ سفر میں نے تمہارے لیے کیا ہے۔‘‘
مکہ مکرمہ میں آپ کے شیخ حضرت رائے پوری کی شفقت و محبت کا یہ عالم تھا کہ جب حضرت مولانا دعوتی و تبلیغی مصروفیات سے فارغ ہو کر مستقر پر پہنچتے تو شیخ کو اپنا منتظر پاتے۔ انتظار و اشتیاق کا وہ انداز جیسے ماں اپنے بچے کے لیے سراپا انتظار ہوتی ہے۔ آتے ہی کھانے کے لیے فرماتے، کبھی کبھی خود اپنے ہاتھ سے لقمے بنا کر منہ میں رکھتے۔ حضرت مولانا لکھتے ہیں:
’’جب میں خیمہ میں قدم رکھتا تو دیکھتا کہ حضرت بیٹھے ہوئے ہیں، سامنے رومال میں روٹیاں لپٹی ہوئی رکھی ہیں، مجھ کو دیکھ کر فرماتے، علی میاں! تم کو کھانے کا بھی ہوش نہیں، یہ دیکھو تمہارے لیے چپاتیاں لیے بیٹھا ہوں کہ خمیری روٹی تم کو نقصان کرتی ہے۔‘‘
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، جو آپ کے حدیث شریف کے استاذ بھی تھے، آپ کے بر اور مکرم ڈاکٹر عبد العلی صاحب کو ایک بشارت آمیز مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ سے دعا کہ وہ کریم ساز موصوف (علی میاں) کو مفتاحِ خیر اور مغلاقِ شر بنائے۔ حضرت سید احمد شہیدؒ قدس اللہ سرہ العزیز کی تجدیدِ ملتِ اسلامیہ کی خدمتِ عالیہ کا علمبردار بنا کر نعمائے لدنیہ سے مالامال کرے، آمین۔ ننگِ اسلاف حسین احمد غفرلہ۔ ۱۵ ربیع الاول ۱۳۷۰ھ‘‘
حضرت شیخ الاسلام کی دعا کا اثر دنیا نے دیکھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت مولاناؒ سے اس صدی میں تجدیدِ ملتِ اسلامیہ کا کام لیا۔
اسی طرح ولیٔ کامل حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنیؒ کی حضرت مولانا سے محبت و انسیت کا اندازہ ان بے شمار خطوط سے لگایا جا سکتا ہے جو حضرت شیخ نے تحریر فرمائے۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’بلا تصنع اور بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ آپ کے لیے دعا کرنا اپنا فریضہ اور آپ کا حق سمجھتا ہوں۔‘‘
۲۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۳ھ کو مدینہ منورہ سے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’دعاؤں سے نہ مکہ میں دریغ ہوا نہ مدینہ پاک میں۔ اور یہ بھی یاد نہیں کہ کسی دن آپ کے لیے صلوٰۃ و سلام پہنچانے میں تخلف ہوا ہو۔ اس سے تو آپ کو بھی انکار نہیں ہو گا کہ دل بستگی جتنی آپ سے ہے اتنی کسی سے بھی نہیں رہی۔‘‘
مولانا پر حضرت شیخ کی شفقت کا یہ عالم تھا کہ مدینہ منورہ قیام کے زمانے میں مجلسِ ذکر میں جب صبح کو حاضری ہوتی تو روزانہ کا معمول تھا کہ عین ذکر کی حالت میں ایک چمچہ تلے ہوئے انڈے کا اور ایک خمیرہ کا مولانا کے منہ سے لگا دیا جاتا۔ اسی طرح حضرت شیخ اپنی عربی تصانیف پر باصرار حضرت مولانا سے مقدمہ لکھوایا کرتے تھے۔ مولانا کی اکثر تصانیف اپنی مجلس میں سنتے اور قدر افزائی فرماتے۔
جب امریکہ میں تقریروں کا مجموعہ ’’نئی دنیا امریکہ میں صاف صاف باتیں‘‘ شائع ہوا تو حسبِ معمول حضرت شیخ نے اپنی مجلس میں پوری کتاب سنی اور خط تحریر فرمایا کہ اردو کے ساتھ انگریزی و عربی میں ترجمہ ہونا چاہیے۔ تینوں زبانوں میں ایک لاکھ کے قریب نسخے چھپوا کر خوب تقسیم کرائے جائیں۔ اس کتاب کے دو ہزار نسخے حضرت شیخ نے خود خرید کر تقسیم فرمائے۔
حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے خلیفہ اجل حضرت مولانا شاہ وصی اللہ الٰہ آبادی کو حضرت مولانا سے غایتِ محبت و شفقت رہی۔ جس طرح مائیں اپنے پیارے بچوں کو پاس بٹھلا کر کھلاتی ہیں، حضرت کبھی کبھی لقمہ بنا کر مولانا کے منہ میں رکھ دیتے۔ جب کبھی مولانا کے الٰہ آباد پہنچنے کی اطلاع ہو جاتی تو ناشتہ لے کر اسٹیشن پر منتظر رہتے۔ حضرت شاہ صاحبؒ بڑے صاحبِ کشف بزرگ تھے، ایک بار خاص کیفیت میں فرمایا:
’’سب کے دل دیکھ لیے، سب کے دل دیکھ لیے، لیکن جتنا صاف دل علی میاں کا دیکھا، ایسا کسی کا نہیں دیکھا۔‘‘
حضرت تھانویؒ کے خلیفۂ اجل اور مولانا کے محبوب استاذ حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ ایک جگہ مولانا کے متعلق یوں رقم طراز ہیں:
’’آج وہ سید ابوالحسن علی ندوی کے نام سے مشہورِ روزگار اور تبلیغِ دین کے کام میں پورے انہماک کے ساتھ مصروف ہیں۔ حجاز و مصر کی فضائیں ان کی دعوت کے نغموں سے مسحور ہیں ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے عربی تقریر و تحریر کی دولت ان کو عطا فرمائی ہے جس کو وہ بحمد اللہ دین کی راہ میں لٹا رہے ہیں۔‘‘
مفتی اعظم پاکستان اور حضرت تھانویؒ کے محبوب خلیفہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ حضرت مولانا کو موفق من اللہ فرمایا کرتے تھے۔ اور حضرت مفتی اعظم کے باتوفیق صاحبزادے حضرت مولانا جسٹس تقی عثمانی دامت برکاتہم ایک جگہ حضرت مولانا کے متعلق ان الفاظ میں اپنے احساسات لکھتے ہیں:
’’مفکرِ اسلام کی شخصیت ہمارے دور کی ان معدودے چند شخصیات میں سے ہے جن کے تصور سے نہ صرف اپنے زمانہ کے احساس میں کمی آتی ہے بلکہ ان کے صرف وجود ہی سے اس پُرفِتن دور میں تسلی اور ڈھارس کا احساس ہوتا ہے۔‘‘
جب حضرت مولانا کو ۱۹۵۵ء میں دمشق یونیورسٹی میں بطور استاذ تقرر کی نوید ملی تو اس اعزاز کی خبر پر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کے شعبہ دینیات کے سربراہ اور اردو کے بے مثال ادیب حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے اپنے تاثر کا اظہار ان الفاظ میں کیا:
’’اخبار جمعیۃ کے بعد اخبار مدینہ میں بھی اس تاریخی امتیاز کی خبر پڑھی جو صدیوں بعد ہندوستان کو حاصل ہوا۔ علامہ صفی الدین بدایونی کے بعد شاید آپ دوسرے ہندی عالم ہیں جن کو شام میں پڑھانے اور اپنے علوم سے شامیوں کو فائدہ پہنچانے کا موقع ملا، بلکہ صفی ہندی تو خود گئے تھے اور آپ کو وہاں کی حکومت اور جامعہ نے طلب کیا ہے ’’وشتان بینھما‘‘۔ یہ امتیاز آپ کی شخصیت تک ہی محدود نہیں بلکہ سارے ہندی علما کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۰‘‘
بھوپال کے حضرت شاہ یعقوب مجددیؒ آخری دور میں مجددیہ سلسلہ کے بڑے صاحبِ دل بزرگ ہوئے ہیں، آپ حضرت مولانا کا غایت احترام فرماتے۔ بایں ہمہ کمالات حضرت شاہ صاحب کا معمول تھا کہ مولانا کے لیے اسٹیشن پر تشریف لاتے، یہ صرف حضرت مولانا کا امتیاز تھا۔ بندہ نے آنکھوں سے دیکھا کہ امیر تبلیغ حضرت مولانا محمد یوسفؒ بھوپال کے سالانہ عالمی اجتماع میں شرکت کے موقع پر پابندی سے حضرت کی مجلس میں شرکت فرماتے۔ ایک بار گاڑی لیٹ ہونے کی وجہ سے رات کا بڑا حصہ حضرت کا اسٹیشن پر کٹا۔ حضرت مولانا نے خط میں اس پر ندامت کا اظہار کیا۔ شاہ صاحب نے جواباً‌ مکتوب میں تحریر فرمایا:
’’اس عاجز کو جو روحانی آرام اس شب حاصل ہوا جس رات کو حضرت کے استقبال میں اسٹیشن پر رہا تھا، ایسی خوشی و فرحت کی کوئی رات مجھ کو اپنی زندگی  میں یاد نہیں، جسمانی کوفت بہت قلیل اور روحانی فرحت بہت کثیر۔‘‘
عارف باللہ حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ فرمایا کرتے تھے:
’’چونکہ علی میاں اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو علم کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو ظاہر کر دیں تو دوسرے پیروں کو مرید نہ ملیں۔‘‘
محدثِ شہیر جانشین حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ حضرت مولانا کو آیت من آیات اللہ فرمایا کرتے تھے۔
عارف باللہ صدیقِ زمانہ حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندویؒ اپنے آخری مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’مخدومی حضرت اقدس دامت برکاتہم۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
احقر کو اپنے اکابر سے الحمد للہ ہمیشہ سے عقیدت رہی ہے اور ہے۔ اس وقت حضرت والا کی عقیدت اور عظمت جو اس ناکارہ کے دل میں ہے، اس کو سب پر فوقیت اور اولیت حاصل ہے اور یہی زندگی کا سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اخیر وقت تک اس کو باقی رکھے۔‘‘
حضرت مولانا اشرف سلیمانی، خلیفہ حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
’’علی میاں کا خمیر محبت و نرمی سے عبارت ہے۔ علم و تقوٰی نے ان سے فروغ پایا ہے اور جامعیتِ علوم کی مسند ان سے مزین ہے۔ مشرق و مغرب کے دینی تقاضوں اور جدید طبقہ کے نبض آشنا ہیں۔ ان کی تحریر دلوں کے اندر اتر جاتی ہے اور بیک وقت دل و دماغ دونوں کو تسلی کا سامان مہیا کر دیتی ہے۔‘‘
حضرت مولانا کے دیرینہ رفیقِ محترم حضرت مولانا منظور احمد نعمانی صاحبؒ، جن کی حضرت مولانا سے نصف صدی سے زیادہ رفاقت رہی، عرصہ تک دن رات کا ساتھ رہا۔ معاصرت اور ایسی طویل رفاقت کے ساتھ حضرت نعمانی کی رائے و تاثر جتنا وقیع اور باوزن ہو سکتا ہے، ظاہر ہے۔ تقریباً‌ ۴۰ سال پہلے ۱۹۵۴ء میں دیوبند کے طلبا نے حضرت مولانا کو خطاب کی دعوت دی اور اس کے لیے حضرت مدنی سے سفارشی خط لکھوایا۔ آپ کے اس خطاب کو حضرت مولانا محمد منظور نعمانی نے شعبان ۱۳۷۳ھ کے الفرقان میں شائع فرمایا اور اس خطاب پر اور حضرت مولانا کی شخصیت پر اپنا تاثر ان الفاظ میں قلم بند فرمایا:
’’یہ مقالہ اگرچہ مقالہ ہی ہے، کوئی کتاب نہیں ہے، لیکن اپنا یہ احساس و تاثر بے تکلف ظاہر کر دینے کو جی چاہتا ہے کہ اس عاجز کی نظر میں اس کی قیمت و اہمیت سینکڑوں صفحات والی بہت سی کتابوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس عاجز کا سن تو اگرچہ ابھی پچاس سے بھی کم ہے لیکن زندگی مختلف میدانوں میں ایسی رواں دواں گزری ہے کہ اتنی ہی عمر میں بہت کچھ دیکھ لیا۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرا یہ تجربہ اور میری واقفیت اتنی ہے کہ اپنی اس رائے کے اظہار کا مجھے بجا حق ہے کہ ہماری اس دنیا میں ایسے لوگ بہت ہی کم پیدا ہوئے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذہنِ ثاقب بھی ملا ہو اور دلِ روشن بھی، جو اس دوڑتی ہوئی اور کروٹیں بدلتی ہوئی دنیا کے حالات و مزاج اور اس کے نت نئے تقاضوں سے پوری طرح باخبر بھی ہوں، اور دینی و ایمانی حقائق کے بارے میں وارثینِ انبیاء کرام کی طرح صاحبِ یقین بھی۔ الغرض ہماری اس دنیا میں یہ جنس بہت ہی کم یاب ہے۔ اور اللہ کے ایسے بندے جو ان دونوں صفتوں کے جامع ہوں، اس عاجز نے غالباً‌ اتنے بھی نہیں دیکھے جتنی کہ اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں ہیں۔ لیکن جو دو چار دیکھے ہیں ان میں ایک ذات رفیقِ محترم مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بھی ہے۔ اللہ کی خاص عنایت و توفیق سے وہ صاحبِ نظر و فکر بھی ہیں اور صاحبِ قلب بھی۔ اور اپنے علم و معلومات کے لحاظ سے جدید بھی ہیں اور ایمان و یقین اور رسوخ فی الدین اور طرزِ زندگی کے لحاظ سے قدیم بھی۔ ان کی ذات مدرسہ بھی ہے اور خانقاہ بھی۔‘‘
برصغیر ہی نہیں عالمِ اسلام بالخصوص عرب دنیا کے اساطینِ علم و فضل اور دینی و روحانی شخصیات نے جس فراخ دلی سے مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، عصرِ حاضر ہی نہیں بلکہ شاید برصغیر کی پوری تاریخ میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ مفتیٔ اعظم فلسطین مفتی محمد امین الحسینی جیسی عظیم دینی اور مجاہد ہستی اپنے ایک مکتوب میں رقم طراز ہیں:
’’حضرت صاحب الفضیلۃ الاستاد الجلیل ابی الحسن علی الندوی وکیل ندوۃ العلماء بالھند۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ کو ایک مومنِ مخلص کی شان کے مطابق مرض کی تشخیص اور اس کے لیے دوا تجویز کرنے کی سعادت و توفیق حاصل ہوئی۔‘‘
مفتی اعظم فلسطین کا یہ مکتوب ۲۷ جولائی ۱۹۵۷ء کا ہے جس میں آپ نے حضرت مولانا کے ایک نباضِ ملت ہونے اور آپ کی فکری اصابتِ رائے کا اعتراف فرمایا ہے۔
۱۶ سال کی عمر میں آپ کا مضمون ’’ترجمۃ الامام السید احمد بن عرفان الشھید‘‘ عالمِ اسلام کے جلیل القدر عالم و محقق علامہ سید رشید رضا نے اپنے معروف رسالہ ’’المنار‘‘ میں شائع کیا۔ پھر اجازت لے کر الگ سے کتابچہ کی صورت میں شائع کیا۔ حضرت مولانا کی یہ پہلی تصنیف تھی جو مصر سے عربی میں شائع ہوئی۔
حضرت مولانا کی عظیم و جلیل خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ۱۹ اگست ۱۹۹۶ء کو ترکی میں جلسہ تکریم منعقد ہوا جس میں عالمِ اسلام کے جلیل القدر علماء و مفکرین نے آپ کی علمی و دینی خدمات پر مقالات پیش کیے۔ مصرکے مشہور عالم ڈاکٹر عبد المنعم احمد یونس نے اس سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:
’’مولانا ابوالحسن علی ندوی پوری انسانیت کے مربی و محسن رہنما ہیں۔ عرب و عجم ان کی دعوت و فکر سے نہ صرف آشنا بلکہ ان کا قدردان ہے۔ آج ہمیں دلی مسرت ہے بلکہ ہم فخر و اعزاز محسوس کر رہے ہیں کہ استنبول جیسے تاریخی شہر میں ہم یہ جلسہ ایسی شخصیت کے اعزاز میں منعقد کر رہے ہیں جن کی ذات انجمن ساز ہے، جس نے اسلامی دنیا ہی نہیں مغربی دنیا کو بھی اپنی شخصیت و فن سے متاثر کیا ہے۔ بہت سے علمی و ادبی اور دعوتی مراکز کا سرچشمہ آپ کی ذات ہے۔‘‘
۱۳ نومبر ۱۹۹۷ء کو ندوۃ العلماء لکھنو میں قادیانیوں کے ارتدادی فتنہ کے خلاف عالمی پیمانہ پر اجلاس منعقد ہوا جس میں امام حرم الشیخ محمد عبد اللہ السبیل اور قبلہ اول مسجد اقصٰی کے امام و خطیب الشیخ محمد صیام نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ الشیخ سبیل حرمِ کعبہ کے سب سے بڑے امام اور حرمین شریفین کے تمام انتظامی و دینی امور کے صدرِ اعلٰی ہیں۔ حضرت مولانا کے ایما پر عالمی اجلاس کی صدارت کے لیے الشیخ محمد عبد اللہ السبیل کا نام تجویز ہوا تو شیخ نے فرمایا:’’سماحۃ الشیخ ابوالحسن علی کے ہوتے ہوئے میں صدر نہیں بن سکتا‘‘۔ چنانچہ امامِ حرم کے اصرار و خواہش پر حضرت مولانا ہی نے اجلاس کی صدارت فرمائی۔
عرب دنیا کے ممتاز عالم و خطیب اور مایہ ناز صاحبِ قلم الشیخ علی طنطاویؒ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’سیدی الاخ الحبیب فی اللہ الاستاذ الکبیر ابا الحسن علی الندوی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک دن میں ریڈیو والوں کو اپنی گفتگو براڈ کاسٹ کرا رہا تھا۔ براڈ کاسٹ کرنے والے نے مجھ سے سوال کیا، کون سی جگہ آپ کو زیادہ پسند ہے اور کس جگہ سے آپ کی خوشگوار ترین یادیں وابستہ ہیں۔ اس کا خیال تھا کہ جواب میں، میں اپنے شہر دمشق کا نام لوں گا (جو انبیاء کرامؑ، صحابہ کرامؓ اور کثیر اولیاء عظامؒ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، ابن کثیرؒ، ابن عربیؒ وغیرہ کا مسکن و مدفن ہے اور خود حضرت مولانا کا محبوب ترین شہر ہے) لیکن جب میں نے لکھنو میں ندوۃ العلماء کا نام لیا تو وہ حیران رہ گیا۔ تعجب سے پوچھا، لکھنو کیا ہے؟ میں نے جواب دیا الشیخ ابوالحسن علی کا شہر۔‘‘
اپنے دور کے عظیم محدث، فقہ حنفی و حدیث کے امام، کثیر کتب کے مولف الشخ عبد الفتاح ابو غدہؒ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’یحیٰی بن سعید حدیث بیان فرماتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ موتیوں کی بارش ہو رہی ہو۔ واللہ آپ کی باتیں بھی ہمارے لیے ایسی ہی ہیں۔ شکر اس خدا کا جس نے آپ کو یہ نعمت دی اور اس پر قادر بنایا اور اس کام کے لیے آپ کو منتخب کیا۔ اور آپ کی شخصیت میں ہماری تاریخ کے روشن و شاندار علمی صفحات دکھائے، عالی مرتبت علماء سلف کی یاد تازہ کی۔ آپ کی ذاتِ گرامی الحمد للہ ان اسلاف کو یاد دلانے کا بہترین نمونہ ہے۔‘‘ (ریاض۲۰۔۴۔۱۴۰۲ھ)
عرب دنیا کے مشہور عالم و محقق، قطر یونیورسٹی کی کلیۃ الشریعہ کے سربراہ، فقہ الزکوٰۃ جیسی متعدد علمی کتب کے مصنف، دینی خدمات میں فیصل ایوارڈ یافتہ، عظیم داعی و خطیب الشیخ یوسف القرضاوی ۱۹۹۵ء میں حضرت مولانا کے دوحہ قطر تشریف آوری کے موقع پر اپنی تعارفی تقریر میں فرماتے ہیں:
’’الشیخ ابوالحسن علی ندوی ایک عظیم اسلامی شخصیت ہیں۔ وہ سر تا پا اسلام کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ اسلام ان کے رگ و ریشے میں سرایت کر گیا ہے۔ اسلام ہی ان کی ابتدا و انتہا ہے۔ آپ صحیح معنی میں محمدی ہیں بایں طور کہ آپ نے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، اور پوری زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق ہی کو اپنایا ہے۔ آپ اس دور میں سلف صالحین کا نمونہ اور ان کی سچی یادگار ہیں۔ آپ کو دیکھنے سے حضرت سلمان فارسیؓ اور حضرت ابوالدرداءؓ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ شیخ کے یقینِ کامل، اللہ پر حقیقی توکل اور امت کی فکر میں ان کی تڑپ اور اپنے آپ کو گھلانے نے مجھے ان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔ میں ان کی محبت سے اللہ کے قرب کا امیدوار ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ حشر میں مجھے ان کا ساتھ نصیب ہو۔‘‘
عرب دنیا کے مایہ ناز عالم و محقق شیخ الازہر الشیخ ڈاکٹر عبد الحلیم محمود اس طرح اعتراف فرماتے ہیں:
’’الشیخ ابوالحسن علی ندوی، آپ نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لیے وقف کر دی ہے اور اپنے شب و روز ایک مخلص و متقی مسلمان کی طرح گزار رہے ہیں۔ آپ نے پاکیزہ اسلوب و کردار اور عمدہ اسلامی لٹریچر کے ذریعے سے اسلام کی آواز کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایا ہے۔‘‘
نصف صدی پہلے ۱۹۵۰ء میں سعودی ریڈیو نے حضرت مولانا کی شخصیت پر ایک تفصیلی خاکہ پیش کیا جو تقریباً‌ دس صفحات کو محیط ہے۔ اس کا تھوڑا سا حصہ حسبِ ذیل ہے:
’’ہم سامعین کے سامنے عصرِ حاضر کی ایک ایسی جامع الصفات اور منفرد شخصیت کو پیش کرنے جا رہے ہیں جو پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک بہترین نمونہ و آئیڈیل ہے۔ یہ شخصیت گزشتہ زمانوں کے لحاظ سے بھی قابلِ تقلید ہے اور ہر زمانہ ہر جگہ کے لیے موزوں و مثالی شخصیت ہے۔ یہ وہ عظیم ہستی، جوہرِ نایاب، اور وہ عبقری انسان ہے جن کے دل میں انسانیت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ آپ ایسے پارسا اور دین دار ہیں جنہیں دیکھ کر سلف صالحین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی ایک نابغہ عصر اور نادرۂ روزگار شخصیت ہیں جن کی عبقریت مسلم ہے۔ جس پہلو سے بھی ہم دیکھتے ہیں انہیں عظیم و مثالی پاتے ہیں۔ ان کی عظیم المرتبت شخصیت عصرِ حاضر کے لیے فخرِ قوم و ملت اور فخرِ اسلام ہے۔‘‘
جس وقت سعودی ریڈیو آپ کی زندگی کی جھلکیاں پیش کر رہا تھا اس وقت آپ کی عمر محض ۳۵ سال تھی۔ اس کے بعد نصف صدی تک اللہ تعالیٰ نے آپ سے دین کے مختلف شعبوں میں احیاء دین کا کام لیا حتٰی  کہ آپ کی شخصیت پورے عالم اسلام کے لیے متفقہ طور پر محبوب ترین ہستی بن گئی۔
ہم اس دعا پر اس مقالہ کو ختم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مولانا کے گراں قدر علمی سرمایہ اور تصانیف سے فائدہ اٹھانے اور آپ کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق ارزانی فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

مولانا مفتی محمودؒ کا فقہی ذوق و اسلوب

معاصرین کی نظر میں

مفتی محمد جمیل خان

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز اپنے وقت کے ممتاز سیاسی قائد ہونے کے ساتھ ساتھ صفِ اول کے محدثین اور فقہاء میں شمار ہوتے تھے اور علمی مآخذ کے ساتھ ساتھ دورِ حاضر کی ضروریات اور مسائل پر گہری نظر رکھنے کی وجہ سے ان کے فتاوٰی کو اہلِ علم میں اعتماد کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں دارالافتاء کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے ہزاروں فتوے جاری کیے جن کی اشاعت کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی۔ جمعیۃ پبلیکیشنز جامع مسجد پائلٹ سکول وحدت روڈ لاہور نے حافظ محمد ریاض درانی کی مساعی سے ان فتاوٰی کی اشاعت کا آغاز کیا ہے اور ’’فتاوٰی مفتی محمود‘‘ کے نام سے اس علمی ذخیرہ کی پہلی جلد منظرِ عام پر آ چکی ہے جو عقائد، طہارت، احکامِ مساجد، اذان اور مواقیت الصلوٰۃ کے اہم مسائل پر مشتمل ہے اور سوا چھ سو سے زائد صفحات کو محیط ہے۔ آغاز میں مولانا مفتی محمد جمیل خان کا ایک سو صفحات پر مشتمل طویل مقدمہ ہے جس میں فقہ کی ضرورت و تدوین، فقہ حنفی کی خصوصیات، اور حضرت مفتی صاحبؒ کے مقام و مرتبہ کے حوالے سے ان کے بعض معاصرین کے تاثرات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض تاثرات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

حضرت مولانا خان محمد صاحب

مفتی صاحبؒ میرے مخدوم و مکرم تھے، ان سے تعلق بھی پرانا تھا اور رشتۂ محبت بھی قدیم۔ پہلی ملاقات ۱۹۵۳ء میں ہوئی۔ حضرت والدِ محترمؒ اس وقت بقیدِ حیات تھے۔ مفتی صاحبؒ کو انہوں نے کندیاں شریف بلایا تھا۔ ان کی آمد یہاں ایک فتوے کے سلسلے میں ہوئی تھی۔ ہمارے ہاں دو خاندانوں کا مسئلہ طلاق پر باہمی جھگڑا تھا۔ ایک عورت کو طلاق ہوئی، ایک فریق کہتا تھا طلاق ہو گئی ہے اور دوسرا اس سے مختلف موقف رکھتا تھا۔ علاقے کے علماء کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلے پر اپنی رائے پیش کر چکے تھے لیکن جھگڑا ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ غالباً‌ یہ لوگ حضرتؒ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آئے کہ ان کی نظر میں جو مفتی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ہو اس کا نام پتا بتا دیں۔ حضرتؒ نے مفتی محمودؒ کا نام تجویز کیا اور خود ہی ان کو کندیاں شریف اپنا مہمان بنا کر بلایا۔
مفتی محمود صاحبؒ نے مقامی علماء سے بات چیت کی، فریقین کا موقف معلوم کیا، پھر فریقین کی براہِ راست بات سنی، ان کے موجودہ اور سابقہ موقف کا موازنہ کیا، پھر جب وہ ایک نتیجے پر پہنچ گئے تو اپنا آخری فیصلہ سنا دیا۔ ان کا فیصلہ وہی تھا جو دوسرے علماء پہلے دے چکے تھے لیکن طریقِ معلومات اور طرزِ استدلال انوکھا تھا۔ چونکہ وہ اس وقت نوجوان تھے، زیادہ پختہ عمر نہیں تھے، اس لیے مقامی علماء میں ان کی ذات موضوعِ گفتگو بن گئی۔
اس بحث میں ان کے معاصرین ان کی علمی لیاقت پر اظہارِ حیرت کر رہے تھے۔ بعض حضرات نے ہمارے حضرتؒ سے سوال کیا کہ آپ کی نظر انتخاب ان پر پڑنے کا کیا سبب ہے؟ حضرتؒ نے اس وقت علماء کو جو مختصر سا جواب دیا تھا وہ یہ تھا:
’’یہ گوہرِ قابل ہے، اس کی حفاظت کرو، اس پر نظر رکھو، اللہ تعالیٰ اس سے کوئی بڑا کام لے گا۔‘‘

حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ

حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نور اللہ مرقدہ کی زندگی آئینے کی طرح صاف اور شفاف تھی۔ ایک ایک گوشہ ایسا تھا جو کہ سب کو متاثر کر دیتا تھا۔ ہم نے اپنی زندگی میں ایسا شخص نہیں دیکھا۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے بارے میں سنا تھا کہ آپ جامع شخصیت کے مالک تھے، ایک طرف سیاسی میدان کے شہسوار، دوسری طرف تدریس کے لیے مایہ ناز، اور تیسری طرف طریقت کے بے مثل شیخ۔ یہی جامعیت ہم نے مولانا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ میں دیکھی۔ مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں تو سیاست اتنی گندگی اور جھوٹی نہ تھی جتنی کہ موجودہ دور میں ہو گئی ہے۔ اب عام طور پر یہ تاثر ہے کہ کوئی شخص سیاست میں رہ کر شریف، سچا اور دیانتدار نہیں رہ سکتا، مگر حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ نے ایک ایسا نمونہ چھوڑ دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی امداد شاملِ حال ہو اور انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا مددگار بنا لے تو اس راستے پر بھی وہ اپنا دامن بچا کر چل سکتا ہے۔
حضرت مفتی صاحبؒ نے اس گندے ماحول میں اپنے آپ کو دین پر نہ صرف قائم رکھا بلکہ کسی بھی لمحہ تقوٰی اور پرہیزگاری کو نہیں چھوڑا۔ اس کی وضاحت ایک واقعے سے ہو جائے گی۔ حضرت مفتی صاحبؒ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ تھے، ان دنوں سرحد بینک میں بڑی ملازمت کی جگہ خالی ہوئی جس کے لیے غالباً‌ اخبار میں اشتہار چھپا۔ میں کراچی میں تھا۔ ایک دوسرے میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ اس بینک کی ملازمت کے لیے آپ مفتی محمود صاحب کے پاس سفارش کے لیے چلیے، میں نے اس سے کہا کہ جانے سے پہلے میں مفتی صاحب سے ٹیلیفون پر بات کروں گا، اگر انہوں نے کہا کہ آجاؤ تو چلا جاؤں گا ورنہ میرا ٹیلیفون ہی ہو گا۔ بہرحال میں نے حضرت مفتی صاحبؒ سے فون پر بات کی، انہوں نے فرمایاکہ بینکنگ کا شعبہ تو میرے پاس نہیں ہے، یہ فاروق صاحب کے پاس ہے، میں اس میں زیادہ سے زیادہ سفارش کر سکتا ہوں، مگر ایک بات پہلے تم سے پوچھتا ہوں، اگر تم نے بحیثیت مفتی اثبات میں جواب دیا تو پھر سفارش کروں گا ورنہ نہیں۔ پھر سوال کیا کہ شرعی حکم کے مطابق کیا بینک کی نوکری جائز ہے؟ میں نے جواب دیا کہ آپ خود مفتی ہیں، آپ بہتر فتوٰی دے سکتے ہیں۔ مفتی صاحبؒ نے کہا کہ نہیں، تم فتوٰی دو۔ اگر تم نے فتوٰی دے دیا تو میں اپنے فتوے کو چھوڑ کر تمہارے فتوے پر عمل کروں گا۔ مفتی صاحب نے جواب میں فرمایا کہ میں بینک کی نوکری کو ناجائز سمجھتا ہوں اور جو چیز ناجائز ہو اس کی سفارش کو بھی جائز نہیں سمجھتا۔
بہرحال میں نے اس شخص کو پوری بات بتا دی، اللہ تعالیٰ اس کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے، اس نے اس نوکری کا ارادہ ترک کر دیا۔ دیکھئے اس مرحلے پر بھی آپ نے شریعت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، حالانکہ یہ ایسا مسئلہ تھا جس میں تاویل اور ہیرپھیر کی گنجائش نکل سکتی تھی مگر آپ نے اس موقع پر بھی تقوٰی پر عمل فرمایا۔

حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ

حضرت مولانا بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت پاکستان میں ان سے بڑا کوئی مفتی نہیں۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ میری نظر سے آج تک کوئی ایسا عالم نہیں گزرا جس نے فقہ کی کتاب شامی (جو کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے اور ہر جلد میں سات سو صفحات ہیں) کا بالاستیعاب ایک دفعہ بھی مطالعہ کیا ہو، مگر مفتی صاحب نے اس کتاب کو بالاستیعاب تین دفعہ اول سے آخر تک پڑھا اور ان کو اس کتاب پر مکمل عبور حاصل ہے، کسی مسئلے پر آپ کے فتوے کے بعد کسی دوسرے فتوے کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

ایک مجلس میں جب شاہ جیؒ نے اپنے مخصوص قلندرانہ انداز میں کہا:
’’ہائے! اس قوم کی بدقسمتی اور اس شخص کی بدقسمتی‘‘۔
تو حاضرین حیرانی سے شاہ جیؒ کا منہ دیکھنے لگے۔ ہر شخص کا سوالیہ نشان بن کر سوچنے لگا کہ خدا جانے شاہ جیؒ اس کے بعد کیا فرماتے ہیں۔ پھر شاہ جی کے چہرے پر تفکرات کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ وہ دیر تک خاموش، گم صم اور کھوئے سے رہے۔ پھر حاضرین پر ایک نظر ڈال کر فرمایا:
’’تم نہیں جانتے مولوی محمود کون ہے؟ یہ بڑا قیمتی آدمی ہے۔ یہ شخص ہمارے دور کا انسان تھا، اس دور میں پیدا ہو گیا، یہی اس کی بدقسمتی ہے۔ ہم خوش قسمت تھے کہ اس دور میں پیدا ہوئے جب اچھے لوگوں کی کمی نہیں تھی، ہمیں اچھے ساتھی میسر آ گئے۔ اب جو دور آ رہا ہے اس میں اچھے لوگ مفقود ہیں۔
جو بادہ خوار پرانے تھے، اٹھتے جاتے ہیں
خدا جانے اس شخص کو اچھے رفقا میسر آئیں نہ آئیں۔ قدرت نے اسے کسی بڑے کام کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ اسی سانچے میں ڈھلا ہوا انسان ہے جس میں بڑے لوگ ڈھلا کرتے تھے۔ مگر اب تو وہ سانچہ ہی ٹوٹ گیا، اب بڑے لوگ پیدا نہیں ہوتے۔ نہ جانے اس شخص کے چہرے پر مجھے مستقبل کا نوشتہ کیسے نظر آ رہا ہے؟‘‘
پھر شاہ جی ایک شخص کی طرف دیکھتے ہوئے مخاطب ہوئے:
’’میرے بھائی! یہ اس دور کا انسان نہیں۔ خدا اس کی حفاظت کرے۔ تم لوگ بھی اس شخص کا خیال رکھو۔ یہ محمود بھی یقیناً‌ کوئی سومنات ہی توڑے گا۔‘‘

جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی

حضرت مفتی محمود صاحب کا اسمِ گرامی میں نے سب سے پہلے اپنے ایک استاذ مکرم سے سنا تھا۔ اس وقت حضرت مفتی محمود مدرسہ قاسم العلوم میں استاذِ حدیث اور مفتی کے فرائض انجام دیتے تھے اور عملی سیاست میں داخل نہ ہوئے تھے۔ ہمارے استاذِ مکرم نے ان کی علمی بصیرت اور فقہی نظر کا تذکرہ اس انداز سے فرمایا تھا کہ مفتی صاحب سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہو گیا۔ اس کے بعد احقر کو پہلی مرتبہ آپ سے ملاقات کا شرف وفاق المدارس کے ایک سالانہ اجلاس میں حاصل ہوا جس میں احقر اپنے والد ماجد حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ حاضر ہوا تھا اور پہلی ہی ملاقات میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کی علمی بصیرت، ان کی متانت و سنجیدگی، اور ان کے دل کش اندازِ گفتگو کا ایک گہرا نقش دل پر ثبت ہو گیا۔
اس کے بعد بارہا مفتی صاحب سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا اور ہر مرتبہ اس تاثر کی تائید و تقویت ہی ہوتی چلی گئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ ان کے علمی مقامِ بلند کا احترام دل میں ہمیشہ جاگزیں رہا۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جن نادر صلاحیتوں سے نوازا تھا، ان کی عظمت کا احساس دل سے کبھی محو نہیں ہوا۔ ہم نے انہیں علمی اعتبار سے ہمیشہ اپنے استاد کے برابر سمجھا اور انہوں نے بھی ہمیشہ بزرگانہ شفقت و محبت کا برتاؤ فرمایا۔

حضرت مولانا عبید اللہ صاحب (مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور)

مفتی صاحب نے پہلی ملاقات میں مجھ سے ایسی بہت سی باتیں کیں جن سے میرے دل کو تسلی ہوئی۔ مجھے اس بالمشافہہ گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ مفتی صاحب اپنے دل میں اتحاد بین المسلمین کے لیے بڑی تڑپ رکھتے ہیں اور فرقہ واریت سے انہیں طبعی نفرت ہے۔ چونکہ اس وقت وہ نوجوان تھے اس لیے ایک نوجوان عالم کی زبانی اتنی سنجیدہ اور فکر انگیز گفتگو میرے لیے خوشی کا باعث بنی۔ نوجوان عموماً‌ جذباتی ہوتے ہیں، ان کی سوچ بھی جذباتی ہوتی ہے، ان کے فیصلے بھی جذباتی ہوتے ہیں، مجھے اطمینان ہوا کہ ہمارے ہم عمر علماء میں وہ ایک پختہ فکر، صائب الرائے اور زیرک انسان ہیں۔ ان کی یہی صفت میرے دل کو زیادہ بھائی۔
اس کے بعد ہماری ملاقاتیں ہوتی رہیں، ان ملاقاتوں میں علمی، سیاسی اور ملی مسائل کے علاوہ بین الاقوامی مسائل بھی زیربحث آتے رہے اور ان کی فقہی رائے کو میں نے ہمیشہ قوی پایا۔ بعض مسائل میں وہ اپنی انفرادی رائے بھی رکھتے تھے، ایسی رائے کے حق میں ان کے پاس قوی دلائل ہوتے تھے۔
مثال کے طور پر فقہی مسائل پر عمل کے سلسلے میں ان کی رائے یہ تھی کہ مخصوص حالات میں ایک حنفی کے لیے جائز ہو گا کہ وہ کسی خاص مسئلے میں ائمہ اربعہ میں سے کسی کی پیروی کر لے۔ ایسا آدمی ان کے نزدیک حنفیت سے خارج نہیں ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امام محمدؒ اور امام یوسفؒ نے متعدد مسائل میں امام صاحبؒ سے اختلاف کیا ہے، ان کی اپنی ترجیحات ہیں لیکن ان پر حنفیت سے خروج کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ اپنے اختلافات اور ترجیحات کے باوجود حنفی تھے۔ اسی طرح اگر کسی مسئلے میں امام صاحبؒ کا قول موجود نہ ہو، یا قول تو موجود ہو مگر سمجھ نہ آئے، یا سمجھ بھی آئے لیکن حالات کی خاص نوعیت کے تحت اس پر عمل نہ ہو، تو کسی دوسرے امام کی پیروی درست ہو گی۔
اس سلسلے میں ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ایسی مشکل صورت پیش آ جائے تو صاحبین کے قول پر عمل کیا جائے۔ اگر صاحبین کے قول میں بھی یہی صورت پیش آ جائے تو امام محمدؒ کے قول کو ترجیح دی جائے۔ اس کے بعد درپیش مسئلے میں ائمہ اربعہ میں کسی ایک کے اقرب قول پر عمل کر لیا جائے۔ ان کے نزدیک کسی خاص مسئلے میں خاص حالات میں خروج عن الحنفیت تو جائز ہے لیکن مذاہب اربعہ سے خروج جائز نہیں۔
اس نقطۂ نظر میں مفتی صاحبؒ منفرد تھے تاہم وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ ایسا کرنا ان علماء کا کام ہے جن کی مذاہبِ اربعہ پر وسیع نظر ہے، جو کسی مسئلے کے ترجیحی پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ سنی سنائی باتوں پر عمل کرے، کیونکہ ایسی اجازت دینے سے اس کے عقیدے میں خلل آ سکتا ہے۔ لوگ اپنی مرضی کے مطابق ادھر ادھر بھٹکنے کے عادی بن سکتے ہیں۔ جبکہ ایسی صورت صرف اسی وقت پیش آ سکتی ہے جب ملکی قوانین کی تدوین کے سلسلے میں علماء کسی مشکل سے دوچار ہو جائیں تو اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کیونکہ اصل چیز کسی امام کا قول نہیں، اصل چیز وہ نص ہے جس کی روشنی میں یہ قول متشکل ہوا، یعنی منصوص چیزیں جو ائمہ کرام کی علمی تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوئیں۔ ائمہ اربعہ نے بے پناہ تحقیق و جستجو کے بعد قرآن و حدیث سے مسائل مستنبط کیے ہیں، اس لیے باور کیا جا سکتا ہے کہ کسی مسئلے پر اگر احناف کے ہاں کوئی دلیل یا سند نہیں مل سکتی تو دوسرے مذاہب سے اسے لینا درست ہو گا بشرطیکہ وہ وہاں بہتر صورت میں موجود ہو۔

حضرت مولانا صدر الشہیدؒ

 قاسم العلوم میں ان کے ابتدائی دور میں لوگ ہزاروں مسائل لے کر آئے اور انہوں نے ہزاروں فتوے جاری کیے۔ ان میں بیشتر مسائل مشکل اور الجھے ہوتے تھے لیکن مفتی صاحبؒ کے دستِ گِرہ کُشا کے سامنے یہ الجھاؤ کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ چونکہ اس مدرسے میں مفتی صاحبؒ اس شرط پر آئے تھے کہ انتظامیہ ان کی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں لگائے گی، اس لیے جب مفتی صاحبؒ کی سیاسی مصروفیات بڑھ گئیں تو افتاء کا کام کم ہو گیا۔ اب کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو مفتی صاحبؒ اس پر فتوٰی دیتے، عام مسائل پر نائب مفتی ہی جواب لکھ دیتے تھے۔
میری معلومات کے مطابق ایسا بہت کم ہوا ہے کہ مفتی صاحبؒ کو کسی مسئلے پر پریشانی ہوئی ہو۔ اور ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ ان کے قلم سے کوئی فتوٰی نکلا ہو اور بعد ازاں اس پر انہیں ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ فتوٰی صادر کرنے سے پہلے متعلقہ مسائل کی تمام کلیات و جزئیات کو سمجھتے تھے، اس کے بعد اس موضوع پر جملہ کتب کو سامنے رکھتے تھے، تب جا کر یہ فیصلہ کرتے تھے کہ اس مسئلے پر کیا فتوٰی دینا درست ہو گا۔

حضرت مولانا محمد اجمل خان

مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ عہدِ حاضر کے ان علماء اور محققین کے سرخیل تھے جن کے علمی اور سیاسی وجود پر نہ صرف برصغیر بلکہ تمام عالمِ اسلام فخر کر سکتا ہے۔ وہ ایک ہمہ صفت انسان اور عجیب و غریب خوبیوں کے مالک تھے۔ قدرت نے انہیں اتنی اعلیٰ اور منفرد خصوصیات سے نوازا تھا کہ علم و دانش کے اس بحرِ بے کراں کا علمی استحضار بڑے بڑے علماء کے لیے قابلِ رشک تھا۔ ان کی فاضلانہ بصیرت مُسلّم تھی۔ وہ بیک وقت مفسرِ قرآن، محدثِ زمان، فقیہِ دوران اور عربی کے قادر الکلام مقرر تھے۔ انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں منصبِ افتاء پر فائز ہو کر تقریباً‌ بائیس ہزار فتوے صادر کیے اور کسی ایک فتوے پر بھی کوئی عالم یا مفتی انگشت نمائی نہ کر سکا۔ ترمذی شریف کی عربی شرح ان کا علمی شاہکار ہے۔ مفتی صاحبؒ عالمِ اسلام کے چند بڑے علماء میں سے ایک تھے۔
تفقہ، تدبر، انجام بینی اور دور اندیشی میں آپ کو ممتاز مقام حاصل تھا۔ عالمِ اسلام کے محدثِ اعظم، عارف باللہ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری قدس سرہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ کو ’’فقیہ النفس‘‘ فرمایا کرتے تھے۔ تفقہ اور فہمِ دین آپ کا طبعی و فطری وصف تھا۔ معاملہ فہمی، حقیقت شناسی کا جوہر قَسامِ ازل نے آپ کی طبیعت میں ودیعت کر دیا تھا۔ آپ نے تقریباً‌ تیس سال مدرسہ قاسم العلوم ملتان کے دارالافتاء کو زینت بخشی، قدیم و جدید مسائل پر ہزاروں فتوے آپ کے قلم، آپ کے مشورے یا آپ کی سرپرستی میں لکھے گئے جن کی نقول مدرسہ قاسم العلوم کے دارالافتاء میں محفوظ ہیں۔

چند علمی مسائل کی وضاحت

محمد عمار خان ناصر

’’الشریعہ‘‘ کے جولائی اور اگست ۲۰۰۱ء کے شماروں میں شائع ہونے والی میری تحریروں کے حوالے سے جدِ مکرم استاذِ گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے بعض امور کی طرف توجہ دلائی اور ان کی وضاحت کی ہدایت کی ہے۔ میں استاذِ گرامی کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی پیرانہ سالی، علالت اور ضعف کے باوجود ازراہِ شفقت ایک طالب علم کی آرا پر تنقیدی نظر ڈالنے کی زحمت فرمائی اور اپنی علمی رہنمائی سے بعض آرا پر ازسرِنو غور و فکر اور بعض کی اصلاح کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کو صحت و عافیت اور تندرستی سے نوازے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے، آمین۔
ان امور کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
(۱) ’’الشریعہ‘‘ کے جولائی ۲۰۰۱ء کے شمارے میں ’’اسلام میں عبادت‘‘ کے عنوان سے میری ایک تحریر شائع ہوئی ہے جس میں، میں نے عرض کیا ہے کہ اگرچہ نماز کا بنیادی ڈھانچہ دین میں متعین کر دیا گیا ہے، تاہم اس کے بعض اعمال ایسے ہیں جن کا کرنا یا نہ کرنا لوگوں کے انفرادی ذوق پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جن امور کا میں نے تذکرہ کیا، ان میں رفع الیدین، وضع الیدین، آمین بالجہر اور فاتحہ خلف الامام جیسے مسائل بھی شامل ہیں جو صدیوں سے اہلِ علم کے مابین مختلف فیہ چلے آ رہے ہیں۔ استاذِ گرامی کا ارشاد ہے کہ اہلِ علم کے نزدیک یہ مسائل ذوقی نہیں بلکہ علمی اور تحقیقی ہیں اور ہر فریق اپنے دلائل کی بنیاد پر جس رائے کو درست سمجھتا ہے اس پر عمل کرتا ہے۔ 
مجھے اس سے اتفاق ہے کہ امرِ واقعہ یہی ہے۔ میری مذکورہ رائے محض مخالف روایات کی توجیہ کی ایک کوشش ہے ورنہ خود میرا اطمینان اور عمل ان مسائل میں احناف کے مسلک پر ہے۔(۱)
(۲) ’’الشریعہ‘‘ کے اگست ۲۰۰۱ء کے شمارے میں ’’غیر منصوص مسائل کا حل‘‘ کے زیرعنوان میرا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں فقہِ اسلامی کے اصولوں کی روشنی میں بعض جدید پیش آمدہ مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔ استاذِ گرامی نے اس ضمن میں جن محلِ اشکال امور کی نشان دہی کی ہے، ان کی تفصیل سے پہلے اس بات کی وضاحت مناسب سمجھتا ہوں کہ مذکورہ تحریر میں اختیار کی جانے والی آرا کسی قسم کے ادعا کے بغیر محض طالب علمانہ آرا ہیں۔ ان سے غرض نہ یہ ہے اور نہ ہو سکتی ہے کہ قارئین ان میں سے کسی رائے کو اپنے معتمد اہلِ علم کی رائے کے خلاف پائیں تو اسے چھوڑ کر میری رائے پر عمل کریں۔ حاشا و کلّا۔
مذکورہ مضمون کے آغاز میں، میں نے صراحتاً‌ عرض کیا تھا کہ:
’’فقہی و علمی مسائل میں، جیسا کہ میں نے عرض کیا، اہلِ علم کے مابین اختلافِ رائے کا واقع ہو جانا ایک بالکل فطری امر ہے۔ چنانچہ تمام علمی آرا کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے ان آرا کو ترجیح دی ہے جو میرے ناقص فہم کے مطابق، ازروئے اصول و قواعد، اقرب الی الصواب ہیں۔‘‘
میں نے اپنے امکان کی حد تک غور و فکر کے بعد اس جذبے کے ساتھ بعض آرا قائم کیں کہ اگر کسی بھی وقت ان میں فہم و استدلال کی غلطی واضح ہو جائے تو کسی تامل کے بغیر ان سے رجوع کر لیا جائے۔ چنانچہ استاذِ گرامی کی نشان دہی پر سرِدست جن مسائل کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ان کی تفصیل عرض کر رہا ہوں:
۱۔ جڑواں بہنوں کے نکاح کے ضمن میں، میں نے لکھا تھا:
’’اگر دو عورتیں اس طرح پیدا ہوئی ہوں کہ ان کے اعضا ایک دوسرے کے ساتھ ناقابلِ انفصال طریقے پر جڑے ہوئے ہوں تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟ عقلاً‌ اس میں تین احتمال ہیں: یا تو وہ دونوں مجرّد رہیں، یا دونوں کا نکاح دو الگ الگ مردوں سے کر دیا جائے، اور یا دونوں کو ایک ہی مرد کے نکاح میں دے دیا جائے۔ ان میں سے تیسری صورت میں پہلی دو صورتوں کی بہ نسبت کم قباحت اور ضرر پایا جاتا ہے، اس لیے ہمارے نزدیک اسی کو اختیار کیا جائے گا۔‘‘ (ص ۲۵)
میں نے یہ رائے ’’یختار اھون الشرین‘‘ (کم ضرر والا راستہ اختیار کیا جائے) کے اصول پر قائم کی تھی لیکن دوبارہ غور کرنے کے بعد دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے میں کم ضرر والی صورت تیسری نہیں بلکہ پہلی ہے یعنی یہ کہ دونوں بہنیں مجرّد رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمع بین الاختین کی حرمت قرآن مجید کی نص سے ثابت ہے اور ایسی حرمت میں استثنا صرف ایسے عذر کی صورت میں ماننی چاہیے جو کثیر الوقوع ہو، جبکہ مذکورہ صورت نادر الوقوع بلکہ قریب قریب عدیم الوقوع ہے۔ اس لیے ایسی نادر صورت کے لیے منصوص حرمت میں استثنا پیدا کرنا درست نہیں ہے۔
۲۔ میں نے سر پر لگائی جانے والی جھلی، مصنوعی دانت اور ناخن پالش کے ساتھ وضو اور غسل کو درست قرار دیا ہے (ص ۲۲) جبکہ اہلِ علم کی رائے بالعموم اس کے برعکس ہے۔ میں نے جواز کی رائے اس اصول پر اختیار کی کہ شریعت کے مامورات میں حتی الامکان آسانی اور سہولت کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان چیزوں کو وضو اور غسل سے مانع قرار دینے والے علما کی رائے زیادہ مبنی بر احتیاط ہے۔
۳۔ ٹرین اور ہوائی جہاز میں نماز کے حوالے سے میں نے لکھا تھا کہ اگر قیام کرنے اور قبلہ رخ ہونے کا التزام کرنے میں دِقت ہو تو یہ شرائط ساقط ہو جائیں گی اور بیٹھ کر کسی بھی جانب منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہو گا (ص ۲۴)۔ لیکن استاذِ گرامی فرماتے ہیں کہ قیام اور استقبالِ قبلہ کے حکم میں فرق ہے۔ ایسی صورت میں نماز کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہو تو آدمی بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن قبلہ رخ ہونے کا التزام بہرحال کرنا ہو گا۔ مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے لکھا ہے کہ اگر نماز پڑھتے ہوئے ریل گاڑی پھر گئی اور قبلہ دوسری طرف ہو گیا تو نماز ہی میں گھوم جائے اور قبلہ کی طرف رخ کر لے (بہشتی زیور ج ۲ ص ۵۰)۔
۴۔ بعض مسائل میں پوری تفصیل بیان نہ ہونے کی وجہ سے، فی الواقع، ابہام پیدا ہوا۔ یہ مسائل حسبِ ذیل ہیں:
میں نے لکھا تھا کہ چونکہ حکومتِ سعودیہ کی طرف سے حاجیوں کو مخصوص دنوں کا ویزا جاری کیا جاتا ہے اور ان کی واپسی کی تاریخ کئی دن پہلے مقرر ہو چکی ہوتی ہے، اس لیے فقہا نے اجازت دی ہے کہ اگر ایامِ حج میں عورت کو حیض آجائے تو وہ ناپاکی کی حالت میں ہی طوافِ زیارت کر سکتی ہے۔ البتہ یہ واضح نہیں کر سکا کہ یہ اجازت فقہا کے نزدیک مشروط ہے یعنی اس صورت میں عورت کو کفارے کے طور پر قربانی بھی ادا کرنی پڑے گی (ارشاد الساری، ملا علی قاریؒ ص ۲۳۵)
اسی طرح میں نے عرض کیا تھا کہ اگر کوئی عورت کسی مکتب میں معلّمہ یا طالبہ ہو اور اس کے حیض کے ایام آجائیں تو چونکہ زیادہ دن چھٹی کرنے سے تعلیمی سرگرمیوں میں حرج واقع ہوتا ہے لہٰذا اس کے لیے حالتِ حیض میں قرآن کریم پڑھنا جائز ہو گا۔ فقہا اس میں مزید یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ وہ پوری آیت بیک دفعہ پڑھنے کے بجائے ایک ایک کلمہ کی الگ الگ ادائیگی کرے (عالمگیری ج ۱ ص ۲۴)۔
۵۔ اسلامی فقہ کے قواعد کے تحت میں نے ’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ (اشیا میں اصل اباحت ہے) کے قاعدہ کا بھی تذکرہ کیا اور اس کے تحت متعدد احکام کا استنباط کیا ہے۔ استاذِ گرامی نے اس مسئلے پر اپنی کتابوں ’’راہِ سنت‘‘ اور ’’بابِ جنت‘‘ میں مفصل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قاعدہ اہلِ علم کے نزدیک مسلّم نہیں۔ اس پوری بحث کے مطالعے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ استاذِ گرامی نے یہ بحث اصلاً‌ اہلِ بدعت کے استدلال کے تناظر میں کی ہے جو اس قاعدے کا سہارا لے کر بدعات کا دروازہ چوپٹ کھول دینا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عبادات کے دائرے میں ’’الاصل الاباحۃ‘‘ کا نہیں بلکہ ’’کل محدثۃ ضلالۃ‘‘ کا اصول جاری ہوتا ہے، اس لیے اس تناظر میں ’’الاصل الاباحۃ‘‘ کے قاعدہ کی تردید بالکل درست ہے۔
البتہ اجتہادی امور کے دائرے میں اہلِ علم کے ایک گروہ نے استنباطِ احکام کے حوالے سے اس قاعدے کو معتبر تسلیم کیا ہے(۲)۔ امام رازیؒ نے قائلین و مانعین کے موقف میں یوں تطبیق دی ہے کہ:
ان الاصل فی المنافع الاذن و فی المضار المنع۔
’’جن امور میں منفعت ہو اُن میں اصل اباحت، اور جن میں ضرر ہو اُن میں اصل منع ہے(۲)۔
میں نے اپنی بحث میں جن امور پر اس قاعدے کا اطلاق کیا ہے وہ اسی نوعیت کے ہیں اور ان میں منفعت و مصلحت کا واضح طور پر موجود ہے۔
آخر میں، میں ایک مرتبہ پھر اس گزارش کا اعادہ کروں گا کہ میری تمام آرا کو ایک طالب علم کی آرا کی حیثیت سے دیکھا جائے۔ علمی دنیا میں فہم و استنباط کا اختلاف سب سے بڑی حقیقت ہے اور اس کے بغیر، غالباً‌، نفسِ علم کا تصور بھی مشکل ہے۔ اگر کوئی صاحبِ علم میرے استدلال کی کسی بھی کمزوری پر مجھے متنبہ کریں گے تو میں ان کا تہہِ دل سے شکرگزار ہوں گا اور، غلطی واضح ہو جانے پر‘‘ مجھے اپنی کسی بھی رائے سے رجوع کرنے میں، ان شاء اللہ، ہرگز کوئی تامل نہیں ہو گا۔ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ۔

حواشی

(۱) ائمہ احناف کے نزدیک سری و جہری دونوں طرح کی نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت جائز نہیں ہے، تاہم متاخرین میں سے مولانا عبد الحئی لکھنویؒ، مولانا سید انور شاہ صاحب کشمیریؒ، اور مولانا ظفر احمد صاحب عثمانیؒ کے نزدیک سری نمازوں میں قراءت خلف الامام جائز ہے۔
(۲) الاشباہ والنظائر لابن نجیم ۱ ص ۹۷ و ۹۸۔ الاشباہ والنظائر للسیوطی ج ۱ ص ۶۰ ۔ الموسوعۃ الفقہیہ، وزارۃ الاوقاف والشؤون الاسلامیۃ الکویت ج ۱ ص ۱۳۰
(۲) ارشاد الفحول للشوکانی ج ۱ص ۳۷۴

ماڈل دینی مدارس کے قیام کا سرکاری منصوبہ

ادارہ

حکومتِ پاکستان نے سرکاری سطح پر ’’ماڈل دینی مدارس‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور ’’مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے دینی مدارس کے تمام وفاقوں نے مسترد کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اعلان کی تفصیلات، ملک کے معروف قومی اخبار روزنامہ نوائے وقت کا ادارتی تبصرہ، اور دینی مدارس کے وفاقوں کا مشترکہ اعلان قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

سرکاری اعلان کی تفصیلات

اسلام آباد (این این آئی) حکومت نے دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے، انہیں مربوط و منظم کرنے، اور ملک میں دینی و عصری علوم کے لیے ماڈل مدارس یا دارالعلوم قائم کرنے کے لیے ایک بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اُن دینی مدارس کا سلیبس تیار کرے گا جس کے مطابق ملحقہ مدارس نہ صرف اسلامی تعلیم بلکہ بورڈ کے تجویز کردہ عصری علوم کی تعلیم بھی دیں گے۔ بورڈ ان دینی مدارس کے لیے نصاب اور امتحانی نظام تیار کرنے اور پروگراموں میں مدد دینے کے لیے فنڈ قائم کرے گا۔
ہفتہ کو صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے جسے ’’پاکستان مدرسہ تعلیم (ماڈل دینی مدارس کا قیام اور الحاق) بورڈ آرڈیننس ۲۰۰۱ء) کا نام دیا گیا ہے جس کا اطلاق ملک بھر میں ہو گا اور یہ وفاقی حکومت کی تجویز کردہ تاریخ کو نافذ العمل ہو گا، اور یہ تاریخی مختلف علاقوں میں مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔
اس آرڈیننس کے اجرا کے فورً‌ا بعد وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے ’’پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ بنائے گی جسے اس آرڈیننس کے تقاضوں پر عملدرآمد کے لیے منقولہ و غیر منقولہ جائیداد حاصل کرنے سمیت دیگر اختیارات حاصل ہوں گے۔ بورڈ کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہو گا اور بورڈ ضرورت پڑنے پر علاقائی دفاتر بھی قائم کر سکتا ہے۔
بورڈ کا چیئرمین ایک معروف ماہرِ تعلیم ہو گا جبکہ وائس چیئرمین وفاقی حکومت چیئرمین کے مشورے سے متعین کرے گی جو وفاق یا تنظیم یا رابطہ کا صدر یا ناظم ہو سکتا ہے۔ بورڈ کا سیکرٹری ایک ماہرِ تعلیم ہو گا جسے انتظامی امور کا بھی تجربہ ہو گا۔ اس کے ارکان میں سیکرٹری تعلیم، مذہبی امور اور سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکرٹری یا ان کے نامزد نمائندے شامل ہوں گے۔ دیگر ارکان میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا چیئرمین یا ان کا نامزد نمائندہ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے نامزد دو علماء جو کونسل کے ارکان ہوں یا رہے ہوں، کسی یونیورسٹی میں اسلامی تعلیمات کے محکمے کا سربراہ پروفیسر، چاروں صوبائی سیکرٹری تعلیم، وفاق کا ایک صدر یا ناظم، تنظیم کا ایک صدر یا ناظم، رابطہ کا ایک صدر یا ناظم، چیئرمین انٹر بورڈ کمیٹی، اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے دو نمائندے ارکان شامل ہوں گے۔ سرکاری رکن کے علاوہ بھی وفاقی حکومت کا ایک نمائندہ بورڈ میں شامل ہو گا۔ 
کوئی ایسا شخص بورڈ کا رکن نہیں بن سکے گا جو اخلاقی جرائم میں سزا پا چکا ہو، یا سرکاری ملازمت سے برطرف ہوا ہو، یا اسے سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہو۔ کوئی ایسا شخص جو براہ راست یا بالواسطہ بے ضابطگی کا مرتکب ہوا ہو، یا اس نے کسی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہو، بورڈ کا رکن نہیں بن سکے گا۔ کسی رکن کے خلاف شکایت پر بورڈ اسے صفائی کا موقع دے گا اور بعد ازاں فیصلے کے لیے سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائی جائیں گی اور وفاقی حکومت کا فیصلہ حتمی ہو گا۔
مذکورہ بورڈ اس آرڈیننس کے مقاصد پر عملدرآمد کے لیے مکمل اختیار کا حامل ہو گا۔ وفاق، تنظیم، اور رابطہ کی خودمختاری میں مداخلت کیے بغیر بورڈ کو اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ ماڈل مدرسہ یا ماڈل دارالعلوم قائم کرے، جہاں اسلامی تعلیم سب سے اہم عنصر ہو گی، تاہم عمومی تعلیمی نظام کے نصاب کی بھی تعلیم دی جائے گی۔ بورڈ نظریاتی کونسل کی سفارش پر مدارس کے الحاق کی منظوری دے گا۔ ماڈل دینی مدارس میں تعلیم کے لیے نصاب کی منظوری دے گا۔ ماڈل دینی مدارس اور دارالعلوم میں تعلیم دینے کے لیے اساتذہ کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کرے گا۔ مدارس کے الحاق کے لیے قواعد کی منظوری دے گا۔ عمومی نظامِ تعلیم اور مدارس کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پُر کرنے کے طریقے تجویز کرے گا۔ اور دینی مدارس اور عمومی تعلیمی پروگراموں کو بہتر بنانے کے لیے ان پر نظرثانی کرے گا۔ نظریاتی کونسل کی سفارشات پر دینی مدارس میں امتحانات کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے گا۔ افسران اور سٹاف متعین کرے گا۔ دینی مدارس اور ان کی تنظیموں کے درمیان بہتر رابطے اور تعاون کو فروغ دے گا۔ ڈگریوں، ڈپلوموں، سندوں اور سرٹیفکیٹس کے بارے میں امور کی منظوری دے گا۔ ماڈل دینی مدارس اور ماڈل دارالعلوموں میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کا ذمہ دار ہو گا۔
بورڈ ان مدارس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ان کا معائنہ کرے گا۔ سکالرشپس، میڈلز اور انعامات کے قواعد مرتب کرے گا۔ دینی مدارس کی لائبریریوں کو ترقی دے گا۔ سالانہ بجٹ منظور کے گا۔ دینی مدارس کے امور کے بارے میں حکومت کو سفارشات پیش کر سکے گا۔ امتحانات کے امیدواروں کے داخلہ کے لیے کم از کم شرائط مرتب کرے گا۔ بورڈ کے ماتحت عہدوں کی تخلیق یا تحلیل کا فیصلہ کرے گا۔ اس کے لیے منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور اثاثوں کو منظم اور ان کی خرید و فروخت کرے گا۔
بورڈ کسی بھی رکن یا افسر یا کمیٹی یا سب کمیٹی کو بھی اختیارات تفویض کر سکتا ہے۔ بورڈ اپنی طرف سے قائم کیے گئے یا الحاق شدہ دینی مدارس کی بہتری کے لیے ان کے خلاف شکایات سنے گا اور ان کا ازالہ کرے گا۔ بورڈ ماڈل دینی مدرسہ اور ماڈل دارالعلوموں کے معائنے کے لیے بھی افسر مقرر کر سکتا ہے۔
بورڈ کے اجلاس چیئرمین طلب کرے گا اور ان اجلاسوں میں چھ ماہ سے زائد وقفہ نہیں ہو گا۔ بورڈ کے فیصلے اکثریتی بنیاد پر ہوں گے اور ٹائی کی صورت میں چیئرمین ووٹ استعمال کرے گا۔ چیئرمین بورڈ کا پرنسپل ایگزیکٹو آفیسر ہو گا اور سے تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔
بورڈ کا سیکرٹری کل وقتی وفاقی حکومت کا ملازم ہو گا۔ تعلیمی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر بھی کام کرے گا۔ اجلاسوں کے فیصلے تیار کرے گا اور بورڈ کے رجسٹرار کے طور پر بھی کام کرے گا۔
بورڈ کی ایک اکیڈیمک کونسل ہو گی جس کا چیئرمین بورڈ کا چیئرمین ہو گا۔ اور ارکان میں تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارتوں کے نمائندے، وزارتِ مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل ریسرچ، چیئرمین انٹر بورڈ کوارڈینیشن کمیٹی، دو علماء، ایک سائنس دان اور ایک ماہرِ تعلیم اس کونسل کے رکن ہوں گے۔ یہ کونسل بورڈ کی مشاورتی کمیٹی ہو گی اور سلیبس، تعلیمی و امتحانی نظام بورڈ کی منظوری کے لیے پیش کرے گی۔
کوئی بھی دینی مدرسہ یا دارالعلوم بورڈ سے الحاق کر سکتا ہے جبکہ بورڈ اپنے ماڈل دینی مدارس اور دارالعلوم بھی قائم کرے گا۔ بورڈ کے مجوزہ طریقہ کار کے مطابق کوئی بھی مدرسہ یا دارالعلوم الحاق کی درخواست دے سکتا ہے اور اس سلسلے میں بورڈ کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ بورڈ سے ملحقہ ہر دینی مدرسہ اور دارالعلوم اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دینے کا پابند ہو گا۔ اور اگر کوئی دینی مدرسہ یا دارالعلوم مجوزہ قواعد کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کا الحاق ختم کیا جا سکتا ہے۔
بورڈ ’’پاکستان مدرسہ ایجوکیشن فنڈ‘‘ کے نام سے ایک فنڈ قائم کرے گا جس میں عطیات سے ہونے والی آمدنی کے علاوہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں سے ملنے والی گرانٹس ہوں گی۔ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر یہ فنڈ کسی بین الاقوامی ادارے سے گرانٹ نہیں لے سکے گا۔ بورڈ کے فنڈز ماڈل دارالعلوم اور دینی مدارس یا الحاق شدہ اداروں کے پروگراموں پر خرچ ہوں گے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۱۹ اگست ۲۰۰۱ء)

روزنامہ نوائے وقت کا اداریہ

وفاقی حکومت نے دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے، انہیں مربوط و منظم کرنے، اور ملک میں دینی و عصری علوم کے لیے ماڈل مدارس یا دارالعلوم قائم کرنے کے لیے ایک بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اُن دینی مدارس کا سلیبس تیار کرے گا جس کے مطابق ملحقہ مدارس اسلامی تعلیم کے علاوہ بورڈ کے تجویز کردہ عصری علوم کی تعلیم بھی دیں گے۔
موجودہ حکومت نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد نظام کی تبدیلی کے نام پر کم و بیش ہر شعبے میں مداخلت کی ہے اور ابھی تک یہ اپنے کسی منصوبے کے بارے میں کامیابی کا دعوٰی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اختیارات کی ضلعی سطح پر تقسیم سے پہلے اس نے معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ہر شہری کو ٹیکسوں کے جال میں لانے کا منصوبہ بنایا۔ کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستیں بنانے کا آغاز کیا۔ معاشرے کو اسمگلنگ اور اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ عوام نے حکومت سے تعاون کیا مگر بعض نقائص اور مناسب ہوم ورک نہ ہونے کی وجہ سے یہ اقدامات مثبت برگ و بار نہیں لا سکے جس سے مایوسی میں اضافہ ہوا اور بطور خاص قومی معیشت بحران کا شکار ہوئی۔ اب حکومت نے لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ محمد پر پابندی اور دو فرقہ وارانہ جماعتوں کو وارننگ دینے کے ساتھ دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو بہتر، مربوط اور منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس مقصد کے لیے تعلیمی بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دینی مدارس کی بہتری، دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو عصری علوم سے بہرہ ور کرنے، اور ان مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کو معاشرے میں کھپانے کے لیے کوششیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں:
  • ایوب خان نے اس مقصد کے لیے بعض اقدامات کیے لیکن کامیابی ان کا مقدر نہ بن سکی۔ اوقاف کی تشکیل کی وجہ سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ حکومت دینی مدارس کو مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
  • یحیٰی خان کے دور میں نور خان نے ایک تعلیمی سلسلہ کا اعلان کیا جس میں دینی اداروں کو بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بعض تجاویز پیش کی گئیں مگر یحیٰی حکومت کے خاتمے کے ساتھ اس پالیسی کی بساط لپیٹ دی گئی۔
  • بھٹو سے دینی طبقہ ویسے ہی بدکتا تھا اس لیے بھٹو حکومت نے جب دینی مدارس میں اصلاحات کا اعلان کیا تو اسے ایوب خان کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا گیا۔
  • جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک بھی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے جناب عبد الواحد ہالے پوتہ اور ڈاکٹر ایس ایم زمان کی سربراہی میں سفارشات پیش کیں، ان میں سے بعض پر عملدرآمد بھی ہوا۔ دینی مدارس کو گرانٹس بھی دی گئیں اور زکوٰۃ فنڈز سے بھی بعض دینی مدارس مستفید ہوئے۔ لیکن ہر حکومت کی طرح ضیاء حکومت نے بھی مخصوص مدارس کو نوازنے اور ان سے وابستہ علماء اور دینی شخصیات کا سیاسی تعاون حاصل کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ جس کی وجہ سے زکوٰۃ فنڈ ضائع ہوا، علماء اور دینی مدارس میں سیاست نے زور پکڑا، اور جنرل صاحب کا حلقہ نیابت وجود میں آیا۔ مگر دینی اور دنیوی مدارس میں نہ تو دوئی ختم ہو سکی، نہ دینی مدارس میں عصری علوم کی تدریس کا خاطر خواہ انتظام ہو سکا۔
اب موجودہ حکومت نے ایک بار پھر یہ بیڑا اٹھایا ہے اور دینی مدارس کے تعلیمی بورڈ قائم کرنے کا آرڈیننس اس وقت آیا ہے جب ایک سینئر امریکی افسر تھامس نے واضح کیا ہے کہ بش انتظامیہ پاکستان کو دہشت گرد یا ناکام ریاست قرار دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، اور وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں کہ اسلام آباد مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ چونکہ سیکرٹری خارجہ ان دنوں امریکہ میں ہیں، اس لیے امریکی افسر کے اس بیان کی اہمیت واضح ہے۔ تاہم چونکہ امریکہ بقول قائد اعظمؒ دورِ حاضر میں اسلام کی تجربہ گاہ پاکستان کے دینی مزاج اور عوام کے دل و جان میں بسی روحِ محمد ﷺ سے خائف ہے۔ اور وہ راسخ العقیدہ مسلمانوں کو بنیاد پرست اور ان کے جذبۂ جہاد کو دہشت گردی قرار دے کر ان کے بدن سے روحِ محمد ﷺ نکالنے کے درپے ہے۔
کوئی بھی ذی شعور انسان اور صحیح العقیدہ مسلمان نہ تو دہشت گردی کی حمایت کر سکتا ہے اور نہ مذہبی دہشت گردی کو جہاد کا نام دینے کی حماقت کر سکتا ہے۔ لیکن اسے بنیاد بنا کر دینی مدارس، مذہبی اداروں اور جماعتوں، اور دین کے نام لیوا نوجوانوں کے خلاف کارروائی یا انہیں حکومتی کنٹرول میں لانے کا حق بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ احساس تو ہمیشہ رہا ہے کہ دینی اور دنیوی تعلیم کا دوہرا نظام ختم ہونا چاہیے اور دینی مدارس میں بھی عصری علوم اسی طرح پڑھائے جانے چاہئیں جس طرح عصری علوم کے اداروں میں دینیات اور اسلامی تعلیم لازمی ہے۔ اس مقصد کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ہمیشہ سراہا گیا ہے اور بعض روشن خیال علماء کرام نے اپنے طور پر ایسے دینی ادارے قائم بھی کیے ہیں جہاں درسِ نظامی کے ساتھ عصری علوم کی تدریس بھی ہو رہی ہے۔ ایوب دور میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور ضیاء دور میں اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی اسی مقصد کے لیے قائم ہوئی، اور موجودہ حکومت اگر اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
تاہم اگر امریکی دباؤ اور سیاست دانوں سے فارغ ہونے کے بعد ہر جمہوری تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے دینی مدارس کو بھی محکمہ اوقاف سے وابستہ درباروں، مساجد اور علماء کرام کی طرح حکومتی اثر میں لانا مقصود ہے تو کوئی بھی پاکستانی اس کی حمایت نہیں کرے گا۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کے لیے یکساں نصاب مرتب کر کے نافذ کیا جائے جو ہمارے دینی اور قومی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ قومی نظامِ تعلیم میں جدید اور قدیم، اور دینی اور دنیوی کی تفریق ختم کر کے تمام مدارس کی حیثیت تخصیص کے اداروں کی ہونی چاہیے۔ جہاں قرآن و حدیث، تفسیر و فقہ، علومِ شریعہ وغیرہ میں بین الاقوامی معیار کے کورس کرائے جائیں۔ جبکہ ان مدارس کے طالب علموں میں عہدِ حاضر کے علوم و فنون سے واقفیت کا اہتمام بھی کیا جائے تاکہ یہ ذہین اور دین سے گہری وابستگی رکھنے والے طالب علم کنویں کے مینڈک بن کر تنگ نظری کا شکار نہ ہوں اور عصری علوم کے ذریعے جدید رجحانات اور دنیا جہان میں ہونے والی پیشرفت سے بخوبی آگاہ ہوں۔
یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ دینی مدارس کو تمام سہولتیں فراہم کر کے انہیں آزادی اور خودمختاری کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے اور حکومتِ وقت کو عمل دخل کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔ کیونکہ مختلف حکومتوں کی سیاسی مداخلت نے ہمارے جدید تعلیمی نظام اور اداروں کا بیڑہ غرق کیا ہے، وہ دینی مدارس میں بھی کوئی بہتری نہیں لا سکتی۔ اگر حکومت واقعی دینی مدارس کو جدید تعلیمی اداروں کی سطح پر لا کر نہ صرف معاشرے میں دینی تعلیمات کا فروغ چاہتی ہے بلکہ تعصب و تنگ نظری کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے تو پھر یہ کام دینی جماعتوں، دینی مدارس اور علماء کرام کے مشورے اور خوشدلانہ تعاون سے ہونا چاہیے۔ اور بورڈ کی تدوین و تشکیل میں بھی صاحب بہادر ٹائپ وفاقی و صوبائی سیکرٹریوں کے بجائے ان لوگوں کو شامل کیا جائے جن کی دین اور دینی تعلیمات سے وابستگی اظہر من الشمس ہے، جو دینی مدارس کی ضرورتوں اور نظام سے واقفیت رکھتے ہیں اور کم از کم عملی مسلمان ضرور ہیں۔ پھر حکمرانوں کو بھی اپنے فکر و عمل سے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ واقعی عملی مسلمان ہیں اور واقعتاً‌ ان کے پیشِ نظر دینی مدارس کی اصلاح ہے۔
جہاں تک ان مدارس کے خلاف امریکہ و یورپ کے اس پروپیگنڈے کا تعلق ہے کہ وہ دہشت گردی کی نرسریاں ہیں، یہ محض اسلام کے خلاف خبثِ باطن ہے۔ ان دینی مدارس میں قتل و غارت گری کی تعلیم نہیں دی جاتی اور اسلامی تعلیمات میں اس کی اجازت بھی نہیں ہے۔ یہ امریکہ اور یورپ کا مسلمانوں اور اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ ہے جو مسلمانوں کی نوجوان نسل میں دین سے وابستگی کو راسخ کر رہا ہے، اور امریکہ و یورپ میں اسلام کی روشنی پھیل رہی ہے، اسلامی سنٹر قائم ہو رہے ہیں اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں اسلامی شعائر کی پابندی بڑھ رہی ہے۔
جہاں تک اسلامی عقیدے اور جذبۂ جہاد کا تعلق ہے، اس سے کوئی مسلمان بھی لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتا، خواہ جنرل پرویز مشرف جیسا لبرل مسلمان ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس کے بغیر وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ دین کی نرسریوں، دینی مدارس کا یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے انگریزی اقتدار میں بھی اسلام کو شدھی اور سنگھٹن جیسی تحریکوں کی نذر نہیں ہونے دیا، اور اب بھی وہ اسلامی تعلیمات کے گہوارے ہیں۔ ان کی تعمیر و ترقی اور مثبت معنی میں روشن خیالی کے لیے ہر ممکن اقدام ہونا چاہیے لیکن یہ اس انداز میں نہ ہو کہ ان دینی مدارس کو بھی محکمہ تعلیم کے سکولوں اور کالجوں کی طرح سیاست کا اکھاڑہ بنا کر رکھ دیا جائے اور وہاں جو تھوڑی بہت دینی تعلیم دی جا رہی ہے ہم اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔
اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد جو ماڈل مدارس اور دارالعلوم وجود میں آئیں گے ان سے اندازہ ہو سکے گا کہ حکومت کے پیشِ نظر کیا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی بھی اپنے اصل مقاصد اور حکمتِ عملی کے مطابق تنظیمِ نو ہونی چاہیے، اور ان سے متعلقہ علماء کرام سے مشاورت کے بعد نئے مدارس کا الحاق انہی جامعات سے ہو، جو اسی  مقصد کے لیے قائم کی گئی تھیں۔ عجلت میں کوئی قدم نہ اٹھایا جائے ورنہ ناکامی قدم چومے گی۔
(نوائے وقت، ۲۰ اگست ۲۰۰۱ء)

دینی مدارس کے وفاقوں کا مشترکہ اعلان

لاہور (نامہ نگار + اے این این) پاکستان بھر کے دینی مدارس کے پانچوں بورڈوں نے ’’ماڈل دینی مدارس‘‘ کے قیام اور دینی مدارس بورڈ آرڈیننس کو مسترد کر دیا ہے، اور اسے مدارس کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے پانچوں وفاقوں میں سے کوئی وفاق، مدارس بورڈ یا ماڈل دینی مدارس کی اسکیم میں شریک نہیں ہو گا۔ اور متحدہ وفاق پاکستان سے ملحق ۱۰ ہزار ۸۰۰ سے زائد ملک کے دینی مدرسوں یا بورڈ کو اس اسکیم میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی دارالحکومت میں پانچوں مکاتبِ فکر کے مدارس کے نمائندوں کے اجلاس کے بعد مقامی ہوٹل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ پاکستان‘‘ کے رابطہ سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری نے فیصلوں کا اعلان کیا۔
پانچوں وفاق المدارس کے دینی بورڈ کے فیصلوں کے مطابق حکومتِ پاکستان کی جانب سے ماڈل دینی مدارس کے قیام، دینی بورڈ، یا کسی اور عنوان سے کیے گئے اقدام کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اور نہ کسی اسکیم میں شرکت کی جائے گی، اور نہ مجوزہ نظام میں کسی قسم کا تعاون کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم دینی مدارس اور جامعات کی آزادی و خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ اگر حکومت نے کسی بھی اقدام، قانونی، انتظامی حکم نامے کے اجرا، یا دستوری ترمیم کے ذریعے ان اداروں کو بلاواسطہ یا بالواسطہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو پوری طاقت سے اداروں کا تحفظ کیا جائے گا۔ دینی مدارس کا اصل سرمایہ توکل علی اللہ ہے۔ ہم حکومت کی کسی بھی مالی پیشکش کی وجہ سے اصل سرمایہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
شرکاء نے کہا کہ دینی مدارس سے وابستہ علماء یا فارغ التحصیل طلباء کا مقصد حصولِ روزگار نہیں اس لیے حکومت دینی مدارس و جامعات پر دینی مدارس بورڈ سے وابستہ ہونے کے لیے حصولِ روزگار کا لالچ نہ دے۔ حکومت پہلے میڈیکل کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹیز، کمپیوٹر سائنز اور کامرس کے اعلیٰ اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو روزگار دے، جس میں وہ ناکام ہے۔ حکومت دینی مدارس کے فاضلین کو کہاں سے روزگار مہیا کرے گی؟ اس لیے ملک کے تمام دینی مدارس کے پانچوں بورڈوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ماڈل دینی مدارس اور دینی مدارس آرڈیننس جامعات کے خلاف سازش ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کوئی بھی دینی مدرسہ دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے، اور حکومت محض الزام تراشی بند کرے کیونکہ حکومت ایک بھی دینی مدرسے میں دہشت گردی کے ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔ مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ ملک میں دہشت گردی گزشتہ ۸ سال سے ہو رہی ہے جبکہ دینی مدارس ۱۹۴۷ء سے قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر جدید دینی تعلیم دینا چاہتی ہے تو نیا سسٹم لانے کے بجائے پہلے سے قائم پرائمری، مڈل، ہائی سکولوں اور کالجوں کے نصابِ تعلیم میں تبدیلی لائے۔ دینی مدرسوں نے تو پہلے سے جدید عصری تعلیم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور دینی مدارس میں سائنس، انگلش، ریاضی سمیت کمپیوٹر کلاسز جاری ہیں۔
حکومت کے ماڈل دینی مدارس کے قیام اور دینی مدارس بورڈ کو مسترد کرنے والے پاکستان بھر کے دینی مدارس کے پانچ بورڈوں کے اجلاس میں مفتی عبد القیوم ہزاروی، مولانا سلیم اللہ خان، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا محمد یونس بٹ، سید ریاض حسین نجفی، مولانا فتح محمد، مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا محمد اعظم، مولانا محمد صدیق ہزاروی، محمد افضل حیدری، محمد یاسین ظفر، نصرت علی شاہانی نے شرکت کی۔

تعارفِ کتب

ادارہ

’’مسند الامام ابی حنیفۃؒ‘‘

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ ’’ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی‘‘ نے امامِ اعظم حضرت امام ابوحنیفہ قدس اللہ سرہ العزیز کی روایاتِ حدیث کا مجموعہ ’’مسند الامام ابی حنیفۃ للامام ابی نعیم الاصفہانی‘‘ شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے اور ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی کے ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے اس کا تعارف ان الفاظ کے ساتھ کرایا ہے کہ
’’امام ابوحنیفہؒ (م ۱۵۰ھ) بطور فقیہ بلکہ فقہی مکتبِ فکر کے بانی کی حیثیت سے تو معروف ہیں، ان کی ایک حیثیت محدث کی بھی تھی۔ ان کی مرویات متعدد  محدثین نے مرتب کی ہیں اور کم و بیش پندرہ (مسانید الامام ابی حنیفہؒ‘‘ سے دنیائے علم متعارف ہے۔ ان سب مسانید کو امام خوارزمیؒ نے ’’جامع المسانید‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا تھا۔
ماضی قریب کے ایک بالغ نظر عالم مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ نے اپنی تصنیف ’’امام اعظم اور علم الحدیث‘‘ میں ’’مسانید الامام ابی حنیفہؒ‘‘ کے ذکر کے بعد لکھا تھا ’’افسوس ہے کہ یہ سارا ذخیرہ آج آثارِ قدیمہ کی نذر ہے۔ اللہ کرے کوئی صاحبِ علم بزرگ اس علمی خدمت کے لیے آمادہ ہو جائیں۔‘‘
ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد نے الحمد للہ امام حافظ ابو نعیم اصفہانیؒ (م ۴۳۰ھ) کی مرتبہ ’’مسند امام ابی حنیفہؒ‘‘ پہلی بار (ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی، ڈائریکٹر شیخ زید اسلامک سنٹر کراچی یونیورسٹی کی) تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع کی ہے۔ اس اہم کتاب کا واحد نسخہ مکتبہ احمد ثالث استانبول میں محفوظ ہے۔ ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی نے یہ بلند پایہ علمی کام اپنے والد ماجد اور حدیث کے استاذ مولانا عبد الرشید نعمانی مرحوم کی راہنمائی میں انجام دیا ہے اور اس پر کراچی یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی سند کا مستحق قرار دیا ہے۔‘‘
محترم ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب کے اس تعارفی نوٹ کے بعد ہم اس سلسلے میں مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور ملک بھر کے علمی اداروں، مراکز اور شخصیات سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس عظیم علمی ورثہ اور ذخیرہ سے استفادہ کی طرف توجہ دیں اور اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت و تقسیم کا اہتمام فرمائیں۔
’’مسند الامام ابی حنیفۃ‘‘ عربی زبان میں پونے چھ سو کے قریب صفحات پر مشتمل ہے جس کی قیمت تین سو روپے ہے اور ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی پوسٹ بکس ۱۰۳۵ اسلام آباد سے طلب کی جا سکتی ہے۔

امام محمدؒ کی ’’کتاب الکسب‘‘ کا اردو ترجمہ

امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کے مایہ ناز شاگرد اور حضرت امام شافعیؒ کے استاذ محترم حضرت امام محمد بن حسن شیبانیؒ کی تصانیف میں ’’کتاب الکسب‘‘ صنعت و حرفت اور کسبِ حلال کی اہمیت و ضرورت اور اس کے احکام و مسائل کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس سے اہلِ علم ہمیشہ استفادہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔
ایک عرصہ سے اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ کوئی صاحبِ ذوق اس کا اردو میں ترجمہ کر دیں تاکہ اردو دان طبقہ بھی اس سے مستفید ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازیں حضرت مولانا ولی اللہ مظاہری صدیقی مہاجر مدنی کو کہ انہوں نے اس کا اردو ترجمہ ’’کسبِ حلال اور راہِ اعتدال‘‘ کے عنوان سے پیش کیا ہے اور اس میں حاشیہ اور فوائد کے طور پر بہت سی قیمتی معلومات کا اضافہ بھی کیا ہے۔ البتہ اصل کتاب اور حاشیہ و فوائد میں امتیاز کی کوئی واضح صورت اختیار نہیں فرمائی جس سے عام قاری کو الجھن ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ایک قابلِ قدر کاوش ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔
چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مولانا محمد مدنی نے شائع کی ہے جو پاکستان میں مکتبہ سید احمد شہیدؒ، الکریم مارکیٹ، اردو بازار، لاہور سے طلب کی جا سکتی ہے۔

’’آخری صلیبی جنگ‘‘

محترم جناب عبد الرشید ارشد آف جوہر آباد ہمارے ملک کے باہمت اور باذوق دانشور ہیں جو امتِ مسلمہ کے خلاف صہیونی سازشوں اور سیکولر لابیوں کی معاندانہ سرگرمیوں کی نشاندہی اور ان کے مضمرات و نقصانات سے اہلِ اسلام کو آگاہ کرنے کی مہم میں مسلسل مصروف رہتے ہیں۔ ان کے متعدد کتابچے اور مضامین اس سلسلے میں منظر عام پر آ چکے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ’’آخری صلیبی جنگ ۔ وثائقِ یہودیت کے علمی اور عملی پہلو‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب دو جلدوں میں شائع کی ہے جس میں یہود و نصارٰی، ہنود اور کمیونسٹ حلقوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں اور موجودہ عالمی تناظر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بین الاقوامی سازشوں، بالخصوص سیکولرازم اور مغربی ثقافت کی ہمہ گیر یلغار کا جائزہ لیا ہے اور اہلِ علم کو ان کے تعاقب کی طرف توجہ دلائی ہے۔ پہلا حصہ ۱۹۲ صفحات اور دوسرا حصہ ۳۷۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ جبکہ دونوں کی مجموعی قیمت ۲۲۵ روپے ہے۔
ہمارے خیال میں دینی محاذ پر کام کرنے والے علماء کرام اور کارکنوں کو اسلام اور مغرب کی کشمکش کے موجودہ عالمی تناظر سے آگاہی اور دینی ذمہ داریوں سے باخبر ہونے کے لیے اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ کتاب النور ٹرسٹ، جوہر پریس بلڈنگ، جوہر آباد سے طلب کی جا سکتی ہے۔

ماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ (خطیبِ دین و ملت نمبر)

مولانا عبد الرشید انصاری کی زیرادارت کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ نے خطیبِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیات و خدمات اور دینی مساعی کے تذکرہ کے لیے ’’خطیبِ دین و ملت نمبر‘‘ کے عنوان سے ڈیڑھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل خصوصی نمبر کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے جس میں مختلف اصحابِ علم و دانش نے اپنے اپنے انداز میں حضرت مولانا ضیاء القاسمی کی ملی و دینی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔
اس خصوصی اشاعت کی قیمت ۵۰ روپے ہے اور اسے مسجد عائشہ صدیقہ، سیکٹر ۱۱ بی، نارتھ کراچی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

چند اہم اور مفید رسالے

ہمارے محترم دوست اقبال احمد خان صاحب ایک عرصہ تک عجمان (متحدہ عرب امارات) میں مقیم رہے ہیں اور مختلف دینی موضوعات پر ممتاز اربابِ علم کی نگارشات شائع کر کے تقسیم کرتے رہے ہیں، جن میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کا رسالہ ’’درود شریف پڑھنے کا شرعی طریقہ‘‘، حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے حالات و خدمات پر جناب طالب ہاشمی کا رسالہ ’’حضرت ابو عبیدہؓ‘‘ اور مولانا محمد عبد المعبود کا رسالہ ’’مسواک کی فضیلت‘‘ بھی شامل ہیں۔ حاجی صاحب موصوف آج کل گوجرانوالہ میں مقیم ہیں اور ’’ابوعبیدہ ٹرسٹ‘‘ کے زیر اہتمام مختلف تعلیمی و تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مذکورہ رسائل دس روپے کے ڈاک ٹکٹ بھجوا کر پوسٹ بکس ۲۵۰ گوجرانوالہ کے پتے سے طلب کیے جا سکتے ہیں۔