امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بعد الحمد والصلوٰۃ- محترم بزرگو اور دوستو! اس وقت پوری دنیا میں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حادثات اور ان میں ہزاروں جانوں کے ضائع ہو جانے کے بعد اس پر امریکہ کے ردِ عمل اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کا سلسلہ جاری ہے اور میں بھی اسی حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون سے اغوا شدہ طیاروں کے ٹکرانے سے جو عظیم جانی و مالی نقصان ہوا، اس سے سب لوگوں کو دکھ ہوا ہے لیکن امریکہ نے اس کی ذمہ داری عرب مجاہد اسامہ بن لادن پر ڈال کر اس کی آڑ میں افغانستان پر حملہ کرنے کا جو اعلان کیا ہے، اس سے صورتحال میں اور کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت سے امریکہ کا مطالبہ ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے مگر طالبان حکومت کا موقف یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے، اس کے مطالبہ پر غور کیا جائے گا۔ محض شک یا الزام پر وہ ایک مجاہد کو، جو ان کا مہمان ہے، امریکہ کے سپرد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی افغان علماء کی مجلس شوریٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اپنے طور پر افغانستان چھوڑ دیں مگر انہیں امریکہ یا کسی اور ملک کے سپرد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ طالبان حکومت کا یہ موقف بہت پرانا ہے اور اس سے پہلے بھی امارتِ اسلامی افغانستان کی حکومت کی طرف سے کہا جا چکا ہے کہ اسامہ بن لادن رضاکارانہ طور پر افغانستان سے چلے جائیں تو ان کی مرضی ہے مگر انہیں بطور ملزم کسی ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ افغان علماء کی مجلسِ شوریٰ نے یہی بات اب ذرا مختلف انداز میں کہی ہے اور اسی سے وقتی طور پر کشیدگی میں کسی حد تک کمی کے آثار پیدا ہوئے ہیں مگر امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے آج امریکی ایوان نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ مسئلہ صرف اسامہ کا نہیں بلکہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا چاہتے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردوں کے تمام مراکز کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
امریکہ کے نزدیک عالمِ اسلام کی جہادی تحریکات دہشت گرد ہیں اور جب وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد یہی جہادی تحریکات ہوتی ہیں جو مراکش سے انڈونیشیا تک اور چیچنیا سے صومالیہ تک پھیلی ہوئی ہیں اور کشمیر، فلسطین، چیچنیا اور مورو سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو غاصب اور مسلط قوتوں سے نجات دلانے کے لیے عسکری جدوجہد کر رہی ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کا کہنا ہے کہ ان سب دہشت گردوں نے افغانستان میں ٹریننگ حاصل کی ہے، اس لیے افغانستان کو تباہ کرنا امریکہ کے لیے ضروری ہو گیا ہے اور اسی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے امریکہ بھرپور جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ہم پہلے ہی عرض کیا کرتے تھے کہ اسامہ بن لادن کا نام صرف بہانہ ہے، اصل مسئلہ جہادی تحریکات ہیں جو امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں اور اب صدر بش نے صاف طور پر تمام جہادی تحریکات کے خاتمہ کو اپنا سب سے بڑا ہدف قرار دے کر ہمارے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔
مگر اس میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے ہمارے کندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی زمین اور فضا سے حملہ آور ہو کر امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے اور مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار امریکہ کو افغانستان پر حملہ کے لیے زمینی اور فضائی سہولتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں اور اسے اسلام اور پاکستان کے مفاد کا تقاضا بتا رہے ہیں۔ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف صاحب نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے جس طرح افغانستان پر حملہ کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کی پالیسی کا دفاع کیا ہے، وہ انتہائی حیران کن ہے اور میں اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہ رہا ہوں۔
صدر محترم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا حوالہ دیا کہ آنحضرتؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ کر کے کفار مکہ کے خلاف احد اور خندق کی جنگیں لڑی تھیں جبکہ اس کے بعد حدیبیہ میں کفارِ مکہ سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر کے خیبر میں یہودیوں سے جنگ جیتی تھی اس لیے یہ عین حکمت اور دانش کا تقاضا ہے اور سنتِ نبوی کی پیروی ہے۔ لیکن جنرل صاحب کا یہ استدلال درست نہیں ہے اس لیے کہ نبی اکرمؐ کے سامنے دونوں قومیں کافر تھیں اور دونوں دشمن تھے۔ ان سے بیک وقت لڑنے کے بجائے حضورؐ نے ایک وقت میں ایک دشمن سے صلح کرنے اور دوسرے دشمن کے خلاف جنگ لڑنے کی حکمتِ عملی اختیار فرمائی جو فی الواقع دانش مندی کی بات تھی لیکن یہاں ایک طرف امریکہ ہے جس کی مہربانیاں نصف صدی سے ہم بھگت رہے ہیں اور دوسری طرف طالبان کی اسلامی حکومت ہے جس کی باقی تمام باتوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بھی یہ حقیقت ہے کہ کابل میں طالبان حکومت کا وجود ہی پاکستان کی شمال مغربی سرحد کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اس لیے اس صورتحال پر جناب نبی اکرمؐ کی مذکورہ حکمت عملی کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا اور اسے غلط فہمی یا دھوکہ کے عنوان سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں اسلام کی تعلیم کا تاریخ کے اس عظیم واقعہ سے پتہ چلتا ہے جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھیں اور دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کے درپے تھے۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مسیحی سلطنت روم کے بادشاہ قیصر نے حضرت معاویہؓ کو پیش کش کی تھی کہ حضرت علیؓ کے خلاف جنگ میں وہ ان کی مدد کر سکتا ہے مگر حضرت معاویہؓ نے اسے انتہائی سختی کے ساتھ رد کر دیا اور وہ جواب دیا جو اسلامی تاریخ کا روشن باب اور قیامت تک آنے والے مسلم حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے قیصر روم کے نام اپنے خط میں لکھا تھا کہ:
’’میری حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ دو بھائیوں کی لڑائی ہے جس سے تمہیں فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا جائے گا اور اگر تم نے حضرت علیؓ کے خلاف فوج کشی کی تو تمہارے مقابلے میں حضرت علیؓ کے پرچم تلے سامنے آنے والا سب سے پہلا سپاہی معاویہؓ ہوگا‘‘
یہ اس کیفیت کی بات ہے جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں تھے جبکہ ہماری طالبان کے ساتھ کوئی جنگ بھی نہیں ہے اس لیے ہمارے لیے اسلام کی تعلیم یہی ہے جو حضرت معاویہؓ نے قیصرِ روم کے نام اپنے خط میں بیان فرمائی ہے۔
جنرل صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ہم نے امریکہ کو حملے کی سہولتیں فراہم نہ کیں تو بھارت ایسا کر دے گا اور پھر امریکہ بھارت کے ساتھ ہو جائے گا جس سے ہمارے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔ میرے نزدیک یہ انتہائی بھولپن ہے اور یہ بات وہی شخص کر سکتا ہے جو امریکہ کو جانتا نہیں ہے۔ امریکہ کے بارے میں یہ توقع رکھنا خود فریبی ہے جس کا شکار ہم سے پہلے ہمارے عرب بھائی ہو چکے ہیں۔ ہمارے برادر عرب ملکوں نے اسی توقع اور امید پر امریکہ دوستی کا پرچم اٹھایا تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں امریکہ ان کا لحاظ کرے گا اور ان کے امریکہ کا ساتھی بننے سے اسرائیل اور عربوں کے حوالے سے امریکہ کی پالیسیوں میں توازن قائم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور ساری دنیا یہ منظر دیکھ رہی ہے کہ امریکہ نے اپنی فوجیں سعودی عرب اور کویت میں بٹھا رکھی ہیں اور پشت پناہی اسرائیل کی کر رہا ہے۔ وسائل عربوں کے استعمال کر رہا ہے اور تحفظ اسرائیل کو فراہم کر رہا ہے اس لیے ہمارے مہربانوں کو یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ امریکہ پاکستان میں بیٹھ جائے گا تو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت بھی کرے گا اور پاکستان میں اس کی موجودگی سے پاکستان کے کشمیر کاز کو کوئی فائدہ بھی پہنچے گا۔ پھر یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب امریکہ کے بقول وہ جہادی تحریکات کا خاتمہ کر دے گا، پاکستان کو افغانستان سے لڑا دے گا اور چین کے سر پر فوجیں بٹھا کر پاک چین تعلقات میں رخنہ پیدا کر دے گا تو پھر کون سا کشمیر کاز باقی رہ جائے گا جسے بچانے کی ہمارے حکمران فکر کر رہے ہیں؟ ’’کشمیر کاز‘‘ اگر ہے تو وہ مجاہدین کی قربانیوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے ہزاروں شہداء کا خون دے کر اسے زندہ رکھا ہوا ہے ۔جب یہ مجاہدین اور ان کے گروپ ہی دہشت گرد قرار پا کر پاکستان کے ہاتھوں امریکی انتقام کا نشانہ بن جائیں گے تو ’’کشمیر کاز‘‘ کا وجود ہی کہاں باقی رہ جائے گا؟
صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ہم امریکہ کو افغانستان کے خلاف سہولتیں فراہم کر کے اپنی ایٹمی تنصیبات اور میزائل پروگرام کا تحفظ کر سکیں گے مگر یہ بات بھی خود فریبی ہے اس لیے کہ ہماری عسکری صلاحیت میں اضافے اور ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ اب تک جو کچھ کہتا آ رہا ہے، اس کے پیش نظر ہم اس قدر فاصلے سے اپنی ایٹمی تنصیبات کو امریکی مداخلت سے محفوظ تصور نہیں کر رہے تو جب وہ گوادر، کوئٹہ اور پشاور میں آ بیٹھے گا تو پھر ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کی گارنٹی کون دے سکتا ہے؟ اس لیے ہم دیانت داری کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ ہماری ایٹمی تنصیبات اور میزائل پروگرام کا تحفظ امریکہ کے ساتھ فاصلہ قائم رکھنے میں ہے، اسے اپنی داخلی حدود میں براجمان ہونے کا موقع دینے میں نہیں۔
جنرل پرویز مشرف صاحب نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ امریکہ کو سہولتیں دینے کی پالیسی سے ہمیں معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملے گی اور ہمارے معاشی حالات سدھر جائیں گے۔ میں اس کے جواب میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بات ان عرب ممالک سے دریافت کر لیجئے جن کے کندھے پر دس سال سے امریکہ سوار ہے اور اس نے وہاں اپنی فوجیں بٹھا رکھی ہیں کہ امریکہ بہادر کی تشریف آوری اور اس کی فوجوں کی آمد سے ان کی معیشت کو کتنا سہارا ملا ہے؟ ان میں سے سعودی عرب کی حالت آج یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کو اپنا بجٹ کا خسارا پورا کرنے کے لیے عمرہ جیسی عبادت کو بزنس کے حساب سے ڈیل کرنا پڑ رہا ہے اور قرضے لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے اس لیے ہمارے نزدیک یہ بات بھی خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کہ امریکہ کو افغانستان کے خلاف فوجی سہولتیں دینے سے پاکستان کی معیشت سدھرنے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔
حضراتِ محترم ! میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کے اصل مقصد کو پہچانیں اور اس کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ میرے نزدیک امریکہ کے موجودہ عالمی کردار اور بھاگ دوڑ کے بنیادی مقاصد تین ہیں:
- ایک یہ کہ دنیا بھر کی جہادی تحریکات کو دہشت گردی کا نام دے کر سختی کے ساتھ کچل دیا جائے اور افغانستان کو اس تمام تر دہشت گردی کا سرچشمہ قرار دے کر طالبان حکومت کو ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ اپنی مرضی کی حکومت بٹھائی جائے۔
- دوسرا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں فکری ہم آہنگی اور نظریاتی یگانگت کے فروغ کو وسطی ایشیا تک پھیلنے سے روکا جائے۔ ان اثرات کے وسیع ہونے کے امکانات کو سامنے رکھ کر یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ خطہ اگر دوبارہ اکٹھا ہو گیا تو بہت بڑی قوت بنے گا اور اسے بھارتی حلقوں میں ’’مغل امپائر‘‘ کے زندہ ہونے سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے روکنے پر امریکہ اور بھارت دونوں متفق ہیں جس کی واحد صورت پاکستان اور افغانستان کی دوستی کو توڑنا ہے اور امریکہ اسے توڑنے کے لیے پاکستان کو افغانستان کے خلاف حملوں میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔
- امریکہ کا تیسرا مقصد چین کے خلاف حصار قائم کرنا اور پاکستان میں بیٹھ کر پاک چین دوستی میں رخنے ڈالنا ہے تاکہ چین اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے قابل نہ رہیں اور امریکہ ان کے حوالے سے آسانی کے ساتھ من مانی کر سکے۔
ان حالات میں آپ خود سوچ لیں کہ جب خدانخواستہ پاکستان کے تعلقات چین اور افغانستان دونوں کے ساتھ خراب ہو جائیں گے اور مجاہدین کے گروپوں کو بھی دہشت گرد قرار دے کر خود پاکستان کے ہاتھوں گراؤنڈ کر دیا جائے گا تو خطے میں خود پاکستان کی حیثیت کیا رہ جائے گی اور کیا کل کوئی صاحب یہ کہنے کے لیے کھڑے نہیں ہو جائیں گے کہ کشمیریوں کے ساتھ ہمیں بہت ہمدردی ہے اور ہمیں ان کی فکر بہت زیادہ ہے لیکن خود پاکستان کی سالمیت ہمارے لیے سب سے مقدس ہے اس لیے کشمیریوں کو بھول جائیے اور پاکستان کے وجود کا تحفظ کیجئے۔
محترم بزرگو اور دوستو! میں نے حالات کا نقشہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے اور میری آپ سے گزارش ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں۔ یہ اسلام کے مفاد کی بات ہے، پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے اور طالبان کی اسلامی حکومت کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کی دینی جماعتوں نے اس سلسلے میں جو موقف اختیار کیا ہے، وہ بالکل درست اور ملک و ملت کے مفاد کا تقاضا ہے اس لیے سب دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس موقف کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور دینی قوتوں کو مضبوط کریں کیونکہ اس وقت دین، ملک اور قوم کے تحفظ کا یہی ناگزیر تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
اختلافِ رائے کے آداب
مولانا قاری محمد طیبؒ
کسی عالم سے فرض کیجئے کہ آپ کسی مسئلے میں مختلف ہو جائیں، یا دوسرا عالم آپ سے مختلف ہو جائے، تو مسئلے میں اختلاف کرنا تو جائز ہے جب اپنے کو دیانتًا علی التحقیق سمجھے، لیکن بے ادبی اور تمسخر کرنا کسی حالت میں جائز نہیں ہے کیونکہ بے ادبی اور تمسخر کرنا دین کا نقصان ہے۔ اور اختلاف کرنا محبت ہے، یہ عین دین ہے۔ دین جائز ہے اور خلافِ دین جائز نہیں۔ اختلافِ رائے کا حق حاصل ہے حتٰی کہ اگر ذاتی رائے اور مشورہ ہو تو انبیاء علیہم السلام سے بھی آدمی رائے میں مختلف ہو سکتا ہے۔ احکام اور اوامر کا جہاں تک تعلق ہے، اختلاف اور رائے زنی جائز نہیں۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’کسی مومن اور مومنہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ جب حکم آجائے اللہ اور رسولؐ کا تو پھر اس کے سامنے چوں چرا کی جائے۔‘‘
تو جہاں تک احکامِ دین کا تعلق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ فرما دیں تو تامل بھی جائز نہیں، چہ جائیکہ قبول نہ کرے۔ لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمائیں کہ میری ذاتی رائے یہ ہے، تو آدمی نہ مانے تو اس پر کوئی الزام و ملامت نہیں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اختلافِ رائے اگر اہل اللہ اور علماء میں ہو جائے تو مضائقہ نہیں۔ لیکن بے ادبی یا تذلیل کسی حالت میں جائز نہ ہو گی، اس لیے کہ وہ بہرحال عالمِ دین ہے جس سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس کا مقام و منصب بطور نائبِ رسول کے ہے، اس کی عظمت واجب ہو گی۔ ہم امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ پر عمل کرتے ہیں، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پچاسوں مسئلوں میں ان سے اختلاف کرتے ہیں، مگر ادنٰی درجے کی بے ادبی قلب میں امام شافعیؒ کی نہیں آتی۔ اور جیسا کہ امام ابوحنیفہؒ واجب التعظیم ہیں ویسے ہی امام شافعیؒ بھی۔ دونوں آفتاب و ماہتاب ہیں، دونوں سے نور اور برکت حاصل ہو رہی ہے، کسی طرح جائز نہیں کہ ادنٰی درجے کی گستاخی دل میں آجائے۔
گستاخی جہالت کی علامت ہے
گستاخی اور استہزا کرنا جہالت کی بھی علامت ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے جب قوم کو نصیحت کی اور فرمایا کہ فلاں مقتول زندہ ہو جائے گا اگر بقرہ (گائے) ذبح کر کے اس کا گوشت اس سے چھو دیا جائے۔ تو اس پر بنی اسرائیل کہتے ہیںٖ کہ ’’اتتخذنا ھزوا؟‘‘ کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں؟ اس بات میں کیا تعلق ہے کہ گوشت سے مردے کو جلا دیا جائے۔ موسٰی علیہ السلام نے فرمایا ’’اعوذ باللہ ان اکون من الجاھلین‘‘ اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں شامل ہو جاؤں۔ یعنی دل لگی اور تمسخر کرنا جاہلوں کا کام ہے، عالموں کو مناسب نہیں کہ تمسخر کریں اس لیے کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ تو ایک ہے رائے کا اختلاف اور کسی عالم سے مسلک کا اختلاف، اور ایک ہے بے ادبی، بے ادبی کسی حالت میں جائز نہیں، اختلاف جائز ہے۔
حضرت مولانا تھانویؒ اور مولانا احمد رضا خانؒ
میں نے مولانا تھانویؒ کو دیکھا کہ مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم سے بہت سی چیزوں میں اختلاف رکھتے تھے۔ قیام، عرس، میلاد وغیرہ مسائل میں اختلاف رہا۔ مگر جب مجلس میں ذکر آتا تو فرماتے ’’مولانا احمد رضا خان صاحب‘‘۔ ایک دفعہ مجلس میں بیٹھنے والے شخص نے کہیں بغیر ’’مولانا‘‘ کے ’’احمد رضا خان‘‘ کہہ دیا۔ حضرت نے ڈانٹا اور خفا ہو کر فرمایا: عالم تو ہیں، اگرچہ اختلافِ رائے ہے، تم منصب کی بے حرمتی کرتے ہو، یہ کس طرح جائز ہے؟ رائے کا اختلاف اور چیز ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان کو ہم خطا پر سمجھتے ہیں اور صحیح نہیں سمجھتے مگر ان کی توہین اور بے ادبی کرنے کا کیا مطلب؟ مولانا تھانویؒ نے ’’مولانا‘‘ نہ کہنے پر برا مانا۔ مولانا تھانویؒ اہلِ علم میں سے تھے، وہ تو نام بھی کسی کا آتا تو ادب ضروری سمجھتے تھے، چاہے بالکل معاند ہی کیوں نہ ہو، مگر ادب کا رشتہ ہاتھ سے نہ چھوٹنا چاہیے۔
کفر کا فتوٰی لگانے والوں سے مولانا نانوتویؒ کا سلوک
میں نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ سنا کہ دہلی میں قیام تھا۔ حضرت کے خدام میں سے چند مخصوص تلامذہ ساتھ تھے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ دوسرے شاگرد مولانا احمد حسن امروہیؒ، حاجی امیر شاہ خان صاحب مرحوم، یہ بھی وہاں موجود تھے۔ مولانا احمد حسن صاحبؒ نے اپنے ہم جولیوں میں بیٹھ کر فرمایا کہ بھئی لال کنویں کی مسجد کے جو امام ہیں ان کی قراءت بہت اچھی ہے، کل صبح کی نماز ان کے پیچھے پڑھ لیں۔ تو شیخ الہندؒ نے غصے میں آکر فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی بے غیرت، وہ ہمارے حضرت کی تکفیر کرتا ہے، ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے؟ اور بڑا سخت لہجہ اختیار کیا۔ یہ جملے حضرت نانوتویؒ کے کان میں پہنچے، اگلے دن حضرت نانوتویؒ ان سب شاگردوں کو لے کر اسی مسجد میں صبح کی نماز پڑھنے کی خاطر پہنچے۔ اس امام صاحب کے پیچھے جا کر نماز پڑھی، سلام پھیرا، چونکہ یہ اجنبی تھے، نمازیوں نے دیکھا کہ ہیں تو علماء صورت۔ تو پوچھا کون ہیں؟ معلوم ہوا کہ مولانا محمد قاسمؒ ہیں اور وہ ان کے شاگرد شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ، اور یہ مولانا احمد حسن محدث امروہیؒ ان کے شاگرد ہیں۔ امام کو سخت حیرت ہوئی کہ میں رات دن ان کو کافر کہتا ہوں اور یہ نماز کے لیے میرے پاس آگئے۔ امام نے خود بڑھ کر مصافحہ کیا اور کہا کہ حضرت، میں آپ کی تکفیر کرتا تھا، میں آج شرمندہ ہوں، آپ نے میرے پیچھے نماز پڑھی حالانکہ میں آپ کو کافر کہتا رہا۔
حضرت نے فرمایا، کوئی بات نہیں، میرے دل میں آپ کے اس جذبے کی قدر ہے اور زیادہ عزت دل میں بڑھ گئی ہے۔ کیوں؟ اس واسطے کہ آپ کو جو روایت پہنچی کہ میں توہینِ رسول کرتا ہوں تو آپ کی غیرتِ ایمانی کا یہی تقاضا تھا۔ ہاں البتہ شکایت اس کی ہے کہ روایت کی تحقیق کرنی چاہیے تھی۔ فرمایا کہ میرے دل میں آپ کی غیرتِ ایمانی کی قدر ہے، ہاں شکایت اس لیے ہے کہ ایک بار تحقیق کر لیتے کہ خبر صحیح ہے یا غلط۔ تو میں یہ عرض کرنے آیا ہوں کہ یہ خبر غلط ہے اور میں خود اس شخص کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں جو ادنٰی درجے میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے۔ اور اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ کے ہاتھ پر ابھی اسلام قبول کرتا ہوں، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اب امام بے چارہ قدموں میں گر پڑا، بچھا جاتا ہے۔
تو بات صرف یہ تھی کہ ان حضرات کے دلوں میں تواضع للہ اور ادب مع اللہ اس درجہ رچا ہوا تھا کہ نفسانیت کا شائبہ نہ رہا تھا۔ استہزا اور تمسخر بجائے خود غلط ہے۔ اپنے معاندوں کی بھی بے قدری نہیں کرتے تھے بلکہ صحیح محمل پر اتار کر یہ کہتے کہ جو ہمیں کافر کہتے ہیں یہ ان کی قوتِ ایمانی کی دلیل ہے، البتہ یہ تحقیق کر لینی چاہیے کہ واقعہ میں ہم توہینِ رسول کرتے ہیں؟ ہم معاذ اللہ دشمنانِ رسول ہیں یا دوستانِ رسول؟ اس کی تحقیق ان کو واجب تھی، بلا تحقیق حکم نہیں لگانا چاہیے۔
تو میرے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ادب اور تادّب دین کی بنیاد ہے جس کو عارف رومی نے کہا ہے:
از خدا خواہیم توفیقِ ادب
بے ادب محروم گشت از فضلِ رب
حق تعالٰی شانہ کے ہاں اس کا کوئی مقام نہیں جو گستاخ اور بے ادب ہے۔ اس زمانے میں چونکہ بے ادبی اور گستاخی کے جذبات پیدا ہو چکے ہیں، فرقہ بندی زیادہ ہو گئی ہے، ایک دوسرے کے حق میں زبانِ طعن و ملامت اور زبانِ تضحیک کھولنا بہت معمولی بات بن گئی ہے، اس واسطے میں نے یہ سمع خراشی آپ لوگوں کی کی کہ اگر کسی عالم سے اختلاف آ بھی جائے تو اگر آپ خود عالم ہیں تب آپ پر فرض ہے کہ دوسرے کا احترام کریں۔ اور اگر آپ متّبع ہیں اور وہ اقتدا کر رہا ہے دوسرے عالم کی، تو عمل تو اپنے مقتدا و متبوع کی تحقیق پر کریں مگر دوسرے کے ساتھ تمسخر کرنا آپ کے حق میں بالکل جائز نہیں۔ بلکہ آپ یہ تاویل کریں کہ اس کے ہاتھ میں بھی حجت ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آتی، جو وہ کہتا ہے، عند اللہ وہ بھی مقبول ہے۔ ہر مجتہد خطا بھی کرتا ہے، اس پر عتاب اور عذاب بھیجنے لگیں تو یہ خدا کا مقابلہ ہو گا۔ حق تعالیٰ کے ہاں اجتہاد کی خطا پر بھی ملامت نہیں۔ آج کل فروعی اختلافات کی وجہ سے تمسخر بڑھ گیا ہے، یہ دین کے منافی ہے۔ بے شک آدمی عمل اپنی تحقیق پر کرے اور دوسرے کو معذور رکھے، ادب اور احترام میں کمی نہ آنے دے، یہ دانائی کی بات ہے۔
ائمہ مجتہدین کا باہمی طرزِ عمل
ائمہ مجتہدین کا بھی یہی طریقہ ہے کہ ایک دوسرے سے ظاہری اختلاف رکھتے تھے لیکن ادب اور عظمت میں کمی نہیں کرتے۔ جب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بغداد تشریف لائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے تو امام (ابوحنیفہ) صاحبؒ کا مسلک ہے کہ نماز میں فاتحہ کے بعد آمین آہستہ کہنا، اور امام شافعیؒ کے ہاں زور سے کہنا افضل و اولٰی ہے۔ مگر جب امام شافعیؒ نے مزار والی مسجد میں نماز پڑھی تو آمین کو آہستہ سے پڑھا اور فرمایا، مجھے حیا آتی ہے اس صاحبِ مزار سے کہ اس کے قریب آ کر اس کے اجتہاد کے خلاف کروں۔ یہ ادب اور تادّب ہے یعنی جس حد تک گنجائش ہو۔ ایک تو حرام و حلال اور جائز و ناجائز کا فرق ہے کہ ایک کے ہاں جائز دوسرے کے ہاں حرام، اس میں تو دوسرے کے مسلک پر عمل نہیں کر سکتے، مگر جہاں اولٰی و غیر اولٰی کا فرق ہے وہاں ادب ملحوظ رکھا جا سکتا ہے۔ امام شافعیؒ نے افضل پر عمل ترک اور غیر افضل پر عمل کیا امام صاحبؒ کی رعایت سے، حالانکہ امام ابوحنیفہؒ اس وقت مزار میں ہیں، سامنے نہیں ہیں مگر یہ ادب کا عالم تھا اور یہ ادب اور تادّب کی بات تھی۔
مسائل اور جذباتِ نفسانی
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان بھی اختلافات تھے۔ ائمہ مجتہدین میں اجتہادی مسائل پر جو اختلافات ہیں وہ صحابہ میں بھی تھے، لیکن باوجود اس کے اس ادب و احترام اور عظمت و تعظیم میں ذرہ برابر کمی نہ کی۔ اس لیے ہمارے ہاں جھگڑوں کی وجہ مسائل کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ ہمارے نفسانی جذبات ہیں۔ ہم نے اپنے جذبات کو نکالنے میں مسائل کو آڑ بنا رکھا ہے۔ اگر یہ مسائل کی خاصیت ہوتی تو سب سے پہلے صحابہؓ لڑتے کیونکہ ان کے ہاں بھی اختلاف تھا۔ اس کے بعد ائمہ مجتہدین کے ہاں لاٹھی چلتی، پھر علماء ربانیین آپس میں لڑتے۔ مگر اختلاف بھی ہے اور ادب بھی۔ یہ دراصل اختلافِ رائے کے نام سے ہم اپنے جذبات نکالتے ہیں۔ اور میں تو کہا کرتا ہوں کہ لڑنے کی چیز اصل میں جائیداد ہے، مکان ہے، جاگیر ہے۔ جب مسلمان کے پاس یہ چیزیں نہ رہیں، نہ جائیداد، نہ مکان، نہ سلطنت تو سوچا کہ بھئی دین کو لڑنے کا ذریعہ بناؤ اور مسائل کو آڑ بناؤ۔ تو یہ مسائل کی خاصیت نہیں۔ اختلاف کرنے کی گنجائش ہے مگر لڑنے جھگڑنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
مسلمانوں کے فروعی اختلاف پر عیسائی جج کا طنز
ایک عرصہ پہلے ایک یورپین عیسائی کلکٹر تھا۔ اس کے زمانے میں احناف اور اہلِ حدیث میں لڑائی ہوئی ’’آمین‘‘ کہنے پر۔ حنفیوں نے آہستہ پڑھی، اہلِ حدیث نے زور سے کہی تو لاٹھی چل گئی، بہت سے لوگوں کا سر ٹوٹ گیا۔ مقدمہ کلکڑ کے ہاں گیا۔ فریقین کے وکلاء نے کلکٹر کو مقدمہ سمجھایا تو اس نے کہا کہ بھئی ’’آمین‘‘ کوئی جائیداد ہے یا بلڈنگ ہے کہ اس پر لڑتے ہیں؟ وکلاء نے کہا نہیں ’’آمین‘‘ ایک قول ہے جو زبان سے نکالتے ہیں۔ یہ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث آئی ہے کہ ’’آمین‘‘ زور سے کہو، دوسرے کہتے ہیں کہ حدیث آئی ہے کہ آہستہ پڑھو۔ اس نے کہا جس کو جو حدیث معلوم ہے اس پر عمل کرے، لڑتے کیوں ہو؟ اور اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور سمجھ میں آنے والی بات بھی نہ تھی۔
بہرحال اس نے بڑا دانشمندانہ فیصلہ لکھا کہ میں مقدمہ کی مثل دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاں ’’آمین‘‘ کی تین قسمیں ہیں۔ ایک ’’آمین بالجہر‘‘ یعنی زور سے پڑھنا، ایک ’’آمین بالسّر‘‘ یعنی آہستہ پڑھنا، اور ایک ’’آمین بالشّر‘‘ یعنی جھگڑنے لڑنے کے لیے پڑھنا۔ لہٰذا میں دونوں کو سزا دیتا ہوں۔
گویا اس نے بتایا کہ اختلافی مسائل نہ لڑائی کے لیے ہوتے ہیں نہ باہمی نزاع کے لیے، وہ دیانتاً حجت سے رائے قائم کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ تو یہ ہمارے قلوب کا فساد ہے کہ ہم نے مسائل کو اپنے دل کے جذبات نکالنے کی آڑ بنا لیا ہے اور ہر دین کا مسئلہ جھگڑا ڈالنے اور گروہ بندی کے لیے رہ گیا ہے۔
اختلافی مسائل میں راہِ صواب
اگر اجتہادی مسئلہ ہے تو اسے بیان کرو مگر لڑنا کیوں ہے؟ وہ اپنی قبر میں جائے گا اور تم اپنی قبر میں جاؤ گے۔ کیونکر اس سے مسخرگی کرو؟ اور اسے کیا حق ہے کہ تمہارا استہزا کرے؟ آپ نے بیان کیا، امر بالمعروف کا حق ادا ہو گیا، اب اگر کوئی بات نہیں مانتا تو نہ مانے۔ اگر اس کے پاس کوئی حجت ہے تو وہ عند اللہ جواب دے گا، تم ذمہ دار نہیں ہو، نہ تم سے آخرت میں پوچھا جائے گا۔ اور پھر دین منوانا (یعنی اصولِ دین پر کسی کو مجبور کرنا) بھی ضروری نہیں، چہ جائیکہ فروعی اور اجتہادی مسائل کا منوانا ضروری ہو۔ بہرحال آج کل ذرا ذرا سے اختلافی مسائل پر لوگ نزاع کا دروازہ کھول دیتے ہیں، اس سے مسلمانوں میں جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی قوت زائل ہو رہی ہے۔
ایک شخص اجتہادی رائے کے بارے میں اتنا جمود کرے کہ کسی کو معذور بھی نہ سمجھ سکے، یہ درحقیقت عوام کی اصلاح نہیں، فساد ہے۔ تو ایک چیز، چلّانے کی ضرورت نہیں کہ بار بار کہے۔ بس ہو گیا ایک مسئلہ کا اعلان، ماننے والے مانیں گے، تم ذمہ دار اور خدائی ٹھیکیدار نہیں ہو۔ ایک مسئلہ کا ضد اور اصرار کے ساتھ پیش کرتے رہنا اور چباتے رہنا، اس سے خواہ مخواہ عوام میں نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ کہنے والا تو بچ گیا اور مصیبت عوام پر آ گئی۔ ہاں ایک ہیں دین کے اصول، نماز فرض ہے، روزہ فرض ہے، زکوٰۃ دینا فرض ہے، آپ زور سے کہہ سکتے ہیں۔ لیکن فروعی اور اجتہادی چیزوں میں آپ زور دیں تو یہ تبلیغی چیزیں ہی نہیں، آپ زور کہاں سے دیتے ہیں؟ مثلاً حنفی مسائل ہیں جو تبلیغی مذہب ہی نہیں۔ آپ اسٹیج پر کھڑے ہو کر کہیں کہ لوگو، تم شافعی بن جاؤ، حنفی مت بنو۔ یہ ترجیحی مذاہب ہیں تبلیغی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلاں عمل واجب یا افضل ہے اور فلاں عمل نہیں۔ تو ترجیحی مذاہب کو تبلیغی مذہب مت بناؤ کہ اگر کسی عالم کی کوئی جزئی تحقیق ہو، خواہ مخواہ اس کی تبلیغ پر ضد اور اصرار کیا جائے۔
بہرحال آج کل یہ چیز پیدا ہو گئی ہے، بہت گستاخی، جسارت اور جرأت ہو رہی ہے۔ اس واسطے یہ چند باتیں عرض کر دیں، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے عمل کی۔ اللھم افتح لنا بالخیر واختم لنا بالخیر۔
امریکہ میں دہشت گردی: محرکات، مقاصد اور اثرات
پروفیسر میاں انعام الرحمن
امریکہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں کون ملوث ہے؟ یہ واقعات کس کے ایما پر ہوئے؟ ان کے محرکات اور مقاصد کیا ہیں؟ اور ان واقعات سے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں؟ یہ چند سوالات ہیں جو آج کل تقریباً ہر ذہن میں پیدا ہو رہے ہیں، آئیے اس ضمن میں چند امکانات پر غور کریں۔ کیا یہ دہشت گردی اسامہ بن لادن اور مسلمانوں کی طرف سے کی گئی ہے؟ لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی وجوہات یہ ہیں:
- امریکی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات میں سے حملے کے لیے ایک ہی ممکن راستے کو تلاش کر لینا مسلمانوں کے بس کی بات نہیں۔
- مسلم تاریخ سے تھوڑی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ مسلمانوں نے کبھی سول آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ مسلم تاریخ کے مطالعہ سے مسلمانوں کی جو نفسیات (Psyche) ابھر کر سامنے آتی ہے، اس میں جنگ و جدل اور عسکریت کی موجودگی کے باوجود ایسے کسی رجحان کی علامت نہیں ملتی۔ ہمیں اعتراف ہے کہ اسلام میں جہاد اور عسکریت غالب عنصر کے طور پر موجود ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی حدود و قیود بھی متعین ہیں۔ ایسے لوگ جو مغربی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر معذرت خواہانہ انداز سے اسلام میں عدمِ عسکریت تلاش کرتے ہیں اور دلائل و براہین کے ڈھیر لگاتے ہیں وہ اپنی فکری اپروچ میں ’’قادیانیت‘‘ کی سرحدوں کو چھو رہے ہیں۔
کیا حالیہ دہشت گردی میں جاپان ملوث ہو سکتا ہے کہ اس نے دوسری عالمی جنگ کا بدلہ لینے کی کوشش کی ہو؟
عوامی سطح پر امریکہ مخالف جذبات کے باوجود جاپانی حکومت کی امریکہ نوازی سے ایسی کسی حرکت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ حملے کا خودکش انداز جاپانی انداز سے ملتا جلتا ہے لیکن ایک تو امریکہ اور جاپان میں مفادات کے حوالے سے کوئی تصادم نہیں، دوسرے جاپان کو اب بھی چین کو روکنے کے لیے امریکی مدد کی ضرورت ہے، اور پھر جاپانی دوسری جنگ عظیم کے بعد عملاً فوجی برتری کی جانب راغب نہیں ہوئے۔
تو کیا حالیہ دہشت گردی میں چین ملوث ہے کیونکہ اس کے امریکہ سے تعلقات خاصے معاندانہ ہیں؟ نیز دہشت گردی جتنے منظم اور گہرے انداز سے کی گئی ہے وہ چینیوں کا خاصہ ہے۔
لیکن اس واقعہ کے بعد امریکہ نے جس تیزی سے ایشیا میں آنے کی کوشش کی ہے وہ اس مفروضے کے خلاف ایک ثبوت ہے کیونکہ یہ تصور کرنا درست نہ ہو گا کہ چینی قیادت امریکی ردعمل کا اندازہ نہ کر سکی ہو اور امریکہ کو اتحادیوں سمیت ’’چینی اثرات‘‘ کے علاقے میں اس طرح آنے اور قدم جمانے کا موقع دے۔ ویسے بھی ۱۹۴۹ء کے بعد چین کبھی ایسے واقعات میں ملوث نظر نہیں آیا۔ اس کے برخلاف امریکہ نے کئی بار چین کو جنگوں میں الجھانے کی کوشش کی لیکن چین کی مدبرانہ قیادت نے عسکری دوڑ اور جنگوں میں الجھنے کے بجائے معاشی ترقی کی طرف توجہ مبذول رکھی۔ مخصوص معروضی حالات میں چین کا یوں پینترا بدلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ویسے بھی چینی قوت کا اظہار و اثرات عالمگیر نہیں بلکہ علاقے تک محدود ہے۔
تو پھر اس واقعے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اگر ہم واقعی بات کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ
- دہشت گردی کے اس واقعہ سے کس نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا؟
- اگر یہ واقعہ رونما نہ ہوتا تو کسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا؟
اگر ہم ان دو باتوں کو ذہن میں رکھیں تو مجرم تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ اس واقعہ کے مقاصد و محرکات کے ڈانڈے بہت دور رس اور عالمی سیاست سے علاقائی سیاست تک پھیلے ہوئے ہیں۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے حضرات بخوبی واقف ہیں کہ اکیسویں صدی فوجی برتری کے بجائے معاشی برتری کی صدی ہے۔ جو قوم یا ریاست اقتصادی امور پر چھائی رہے گی دنیا کی قیادت کرتی رہے گی۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ دنیا کے معاملات اگر اسی رفتار سے اور اسی نہج پر چلتے رہے تو کس قوم کو نقصان کا اندیشہ تھا؟
ماہرینِ معاشیات بتاتے ہیں کہ اگر دنیا کے حالات میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہ آئے تو اکیسویں صدی میں معاشی حوالے سے چین سب سے بڑی قوت ہو گا۔ ماہرین کے مطابق ۲۰۲۵ء تک دنیا کی Output کا ۲۵ فیصد چین سے ہو گا، جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ تقریباً موجودہ شرح ہی برقرار رکھ سکے گا جو تقریباً ۲۰ فیصد ہے۔ یورپی یونین کے ۱۵ ممالک جن کی موجودہ آبادی ۳۷۵ ملین ہے اور جن کا مشترکہ جی ڈی پی امریکہ سے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کم یعنی آٹھ ٹریلین ڈالر ہے، یہ اگلے پچیس سالوں میں تقریباً ۱.۵ کی اوسط سے بڑھے گا۔ اس طرح ۲۰۲۵ء تک یورپی یونین کا جی ڈی پی ۱۱.۴ ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اور انڈیا کا جی ڈی پی بھی یورپی یونین کے جی ڈی پی کے لگ بھگ ہو گا۔ یورپی یونین میں متوقع توسیع کے پیشِ نظر ان کا جی ڈی پی ۲۰۲۵ء تک ۱۳ ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، اس طرح یورپی یونین واضح طور پر تیسری بڑی معاشی قوت کے طور پر ابھرے گا اور بھارت کا نمبر چوتھا ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے جی ڈی پی کا ۸۵ فیصد سروس سیکٹر سے آئے گا جبکہ چین اور بھارت کے جی ڈی پی کا نصف زراعت اور مینوفیکچرنگ سے ہو گا۔
یہ تو تھی معاشی صورتحال، اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں چین سب سے بڑی معاشی طاقت ہو گا لہٰذا چین کا دائرہ کار بھی ’’علاقے‘‘ سے بڑھ کر عالمگیر ہو سکتا ہے، جس سے امریکہ کے مفادات بری طرح متاثر ہوں گے۔ نیز چین کی یہ برتری حادثاتی اور وقتی نہیں ہو گی بلکہ اس میں زراعت اور مینوفیکچرنگ کے پچاس فیصد کردار کی بدولت اس کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ جبکہ امریکہ کا سروس سیکٹر کسی بھی وقت بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔ چین اور امریکہ میں معاشی تفاوت ۲۰۲۵ء تک پانچ فیصد ہو گا جو کافی زیادہ ہے اور مزید بڑھ بھی سکتا ہے۔ امریکہ مختلف نسلوں، زبانوں اور مذاہب کے لوگوں کی سرزمین ہے، ان میں باہمی رنجشیں بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ سرمایے کے ارتکاز بہت بڑھ جانے سے عوام کی اکثریت عدمِ تحفظ کے خوف کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کو دی گئی سہولتوں میں کمی ہو سکتی ہے جس سے امریکہ کو اندرونی طور پر سنگین مسائل پیش آ سکتے ہیں جس سے اس کی معاشی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکہ کا ہمسایہ وفاقی ملک کینیڈا اپنی اکائیوں کو مطمئن کرنے میں مصروف ہے، کینیڈین اثرات امریکہ کو مزید مسائل سے دوچار کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی رائے عامہ بھی امریکہ مخالف ہو چکی ہے۔ قوموں کے معاملات میں امریکہ کی بے اصولی نے تقریباً ہر ملک میں، کم از کم عوامی سطح پر، شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔ مسلم ورلڈ، چین اور اب عیسائی بھی امریکی برتری سے خائف ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر مساوات اور برابری کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نسلی امتیاز کے خلاف ڈربن میں منعقد ہونے والی حالیہ کانفرنس میں امریکہ نے شرکت تک نہیں کی، لیکن بدلتا ہوا عالمی رویہ اکیسویں صدی میں نئے نظام کی نوید سنا رہا ہے جس سے امریکہ بجا طور پر خائف ہے۔
ابھی تک میں نے ہر جگہ لفظ ’’امریکہ‘‘ ہی استعمال کیا ہے اور چونکہ وہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے اس لیے تاثر عیسائی حکومت کا بنتا ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ امریکہ کے سیاسی و معاشی نظام میں یہودی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکی پالیسیاں انہی کی مرضی سے بنتی ہیں۔ اگر امریکہ نے نسلی امتیاز کے خلاف کانفرنس میں شرکت نہیں کی تو یہ ’’برتر یہودی نسل‘‘ کے نظریے کا عملی اظہار ہے۔ ابھی تک امریکی پالیسی سازی میں بے پناہ اثرات رکھنے کے باوجود یہودی اب اس امر سے آشنا ہو چکے ہیں کہ امریکی عوام با خبر ہو چکے ہیں۔ اب امریکیوں کی اکثریت امریکہ سے یہودی اثرات ختم کرنا چاہتی ہے کیونکہ دنیا کے سمٹنے اور معلومات کی بھرمار کی وجہ سے تقریباً ہر قوم ذی شعور ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے امریکہ تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اس کی وجہ امریکی عوام کی رائے نہیں بلکہ یہودیوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہیں۔ یہ بات یہودی جان چکے ہیں کہ مستقبل میں ان کے اثرات امریکہ میں کم سے کم ہوتے جائیں گے۔
پھر بین الاقوامی سطح پر مساوات اور برابری کی باتیں ہونے کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کو بھی چند مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے اہم سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں کی ’’ویٹو پاور‘‘ ہے۔ اب دنیا کی قومیں اور عوام چاہتے ہیں کہ یہ چودھراہٹ ختم کی جائے۔ اس کے خاتمے کی ایک صورت اس کے ویٹو پاور رکھنے والے ممبروں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ صورت کوئی بھی ہو، چاہے ویٹو پاور کا مکمل خاتمہ ہو یا ویٹو پاور رکھنے والے ممبروں کی تعداد میں اضافہ، دونوں صورتوں میں امریکہ صرف ایک ریاست ہو گا جس کا صرف ایک ووٹ ہو گا۔ جبکہ بعض ایسے خطے جہاں یہودی اثرات موجود ہیں اور مزید جڑ پکڑ سکتے ہیں، وہاں ریاستوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لہٰذا اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے بجائے کوئی ایسا خطہ ہی یہودی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے تاکہ اقوامِ عالم ایک ریاست کی برتری کے غیر جمہوری رویے پر تنقید کرتے ہوئے یہودی مفادات کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔
ان حقائق کے ساتھ ساتھ حسبِ ذیل امور پیشِ نظر رکھیے:
- چونکہ ۲۰۲۵ء تک چین سپرپاور ہو گا اور امریکہ دو نمبر ہو گا، اندریں صورت یہودی سپرپاور چین کو استعمال نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان کے اثرات چین میں مفقود ہیں۔ جبکہ نمبر دو طاقت یہودی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکے گی۔
- چین میں یہودی اثرات نہ ہونے کی وجہ اسرائیل بھارت تعلقات بھی ہیں۔ پچھلے دس سالوں میں ان تعلقات میں بہت تیزی آئی ہے۔ اور خطے میں بھارت چین کشمکش سے کون واقف نہیں؟
- نئے عالمی نظام میں چین کے سپرپاور بننے سے ’’بے اصولی‘‘ کو خاصا دھچکا لگے گا۔ سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں کی ویٹوپاور تنقید کا نشانہ بنے گی۔ ہو سکتا ہے کہ اس تنقید کو کم کرنے کے لیے پہلے مرحلے پر یہ اصول اپنایا جائے کہ ویٹوپاور رکھنے والے پانچ رکن ممالک کی اکثریت سے ویٹو کیا جا سکے گا، یا پھر ویٹو کرنے کے لیے کم از کم دو ویٹو پاورز متفق ہوں۔ بہرحال موجودہ قواعد میں تبدیلی لانی پڑے گی۔
- اس طرح عالمی منظرنامے میں معاشی پہلو کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار سے بھی امریکہ کمزور ہو جائے گا کیونکہ اس کا ایک ووٹ ہو گا جبکہ یورپی یونین کے دو ،اور اگر روس کو بھی شامل کر لیں تو تین۔
- اگر ویٹو پاور رکھنے والے ممبروں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو بھارت کو لازما شامل کیا جائے گا، بھارت کے اسرائیل سے دیرینہ مراسم ہیں۔
اس کے علاوہ ممبروں میں اکثریت یورپ سے لی جائے گی کیونکہ یورپ کے ممالک ہی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔
اگر ہم درجِ بالا نکات کے بین السطور کو ذہن میں رکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اب یہودی ’’شفٹ‘‘ کریں گے یعنی امریکہ کے بجائے یورپی یونین کو اپنے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں گے کیونکہ یورپی یونین کی سیاسی افادیت امریکہ کی نسبت بہت مؤثر ثابت ہو گی۔
اب سوال یہ ہے کہ اس اسکیم کے مطابق اکیسویں صدی کے لیے سیاسی طور پر تو یہودیوں کو ایک بڑا مضبوط پلیٹ فارم یورپی یونین کی صورت میں مل جائے گا لیکن یہودی معاشی امور پر کیسے کنٹرول حاصل کریں گے؟ کیونکہ ماہرینِ معاشیات کے مطابق معاشی میدان میں چین نمبر ایک، امریکہ نمبر دو، یورپی یونین نمبر تین، اور بھارت نمبر چار طاقتیں ہوں گی۔ امریکہ سے شفٹ ہونے کی صورت میں یہودیوں کے مفادات امریکہ سے وابستہ نہیں رہیں گے بلکہ امریکی عوام کی باخبری کی وجہ سے یہودی امریکہ مخالف ہو جائیں گے۔ اب یہودیوں کی کوشش ہو گی کہ ان کا نیا پلیٹ فارم یعنی یورپی یونین معاشی حوالے سے بھی ایک مؤثر اور نمبر ون پوزیشن اختیار کرے۔ یہودی ذہن کے مطابق اکیسویں صدی میں یورپی یونین کے لیے بھارت زرعی بنیاد کا کام دے گا۔ بھارت، اسرائیل اور یورپی یونین کے باہمی اتحاد سے نیا عالمی نظام قائم ہو گا جس کی ہیئت یہودی ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔
اب سوال یہ تھا کہ تیسرے اور چوتھے نمبر والی طاقتوں کو اوپر کیسے لایا جائے؟ اگر عالمی حالات اسی نہج پر چلتے رہتے تو چین نمبر ایک اور امریکہ نمبر دو ہوتے۔ اس طرح موجودہ حالات یہودیوں، ہندوؤں اور یورپی یونین کے مفادات کے خلاف تھے، اور موجودہ حالات میں کوئی تغیر برپا کر کے ہی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتے تھے۔ امریکہ میں دہشت گردی کر کے اس ٹرائیکا نے درج ذیل مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے:
- امریکی معیشت پر ضرب اور امریکیوں میں عدم تحفظ کا احساس۔ اس واقعے کے بعد امریکہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، اور امریکیوں میں باہمی عدم اعتماد جنم لے رہا ہے، پہلے سے موجود اندرونی اختلافات کو مزید ہوا دی جا سکتی ہے۔
- اس واقعے کے بعد امریکہ کا ایشیا کی طرف رخ کرنا۔ یہودیوں نے امریکی کارپردازوں کو مختلف آپشنز پر سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا کیونکہ تاحال یہودی امریکہ فیصلہ سازی میں بہت مؤثر ہیں۔ ایشیا میں امریکی آمد سے ٹرائیکا کے بہت سے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ ایک تو اسلامی بنیاد پرستی کو روکنا، دوسرا سنٹرل ایشیا کی چھ مسلم ریاستوں اور افغانستان اور پاکستان کی ممکنہ ترقی کو لگام دینا، کیونکہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کر لینے سے ’’ایکو‘‘ کے پلیٹ فارم سے یہ ممالک حیرت انگیز تیزی سے اقتصادی ترقی کر سکتے تھے اور عالمی امور میں اجارہ داری کے خواہشمندوں کو سیاسی اور معاشی اعتبار سے چیلنج کر سکتے تھے۔ ایکو ممالک کی گہری قربت اور ترقی انڈیا کے مفاد کے بھی خلاف تھی۔
- امریکہ چین کو بھی کسی ملٹری ایڈونچر میں الجھانے کی کوشش کرے گا تاکہ چین اپنی معاشی پالیسی میں تسلسل قائم نہ رکھ سکے۔ ایسی صورت میں چین اور امریکہ دونوں کی معیشتیں موجودہ روش برقرار نہیں رکھ سکیں گی۔ علاقے میں انڈیا اور عالمی سطح پر یہودی اور یورپی یونین اس کے خواہشمند ہیں۔
- دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد حسب توقع امریکہ سے غیر ملکیوں بالخصوص اسلامی ممالک کے باشندوں کا انخلا شروع ہو گیا ہے۔ یہ لوگ واپس اپنے ممالک میں جا کر پہلے سے کمزور ممالک کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ کریں گے۔
- اس کے علاوہ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں عوامی سطح پر باہمی عدم اعتماد کا اظہار ہو گا۔ بین الاقوامی سطح پر اس ابتری سے یہودی سرمایہ کار بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
- حالیہ امریکی بیانات سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ امریکی عزائم جز وقتی نہیں ہیں، امریکہ کا پروگرام طویل المیعاد ہے۔ امریکہ جتنا زیادہ عرصہ یہاں ٹھہرے گا اس کے چین سے تصادم کے امکانات اتنے ہی روشن ہیں، کوئی بھی واقعہ وجہ بن سکتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے دہشت گردی کرنے والوں نے اس حوالے سے کوئی منصوبہ تیار کر رکھا ہو۔ اگر امریکہ اور چین میں باقاعدہ تصادم نہیں بھی ہوتا پھر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر نظر رکھنے میں مصروف ہوں گے اور اسی عمل کے دوران میں ان کے معاشی پروگرام ٹریک سے ہٹ جائیں گے۔
- زیادہ امکان یہی ہے کہ ایشیا بھی یورپی یونین کا ساتھ دے گا جس طرح اس نے دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کے خلاف برطانیہ کا ساتھ دیا تھا۔
اس سارے طویل المیعاد عمل کے دوران میں سب مغربی ممالک امریکہ کا ساتھ دیں گے اور امریکی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اپنے مخصوص مقاصد حاصل کریں گے بلکہ امریکہ کو بھی اس کے موجودہ مقام سے بہت پیچھے دھکیل دیں گے کیونکہ ان کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے۔
اگر ہم صورتحال کا ایک دوسرے زاویے سے جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ اگر عالمی حالات موجودہ روش کے مطابق چلتے رہتے تو مسلمانوں کو نقصان کا سامنا نہیں تھا، مسلم ممالک موجودہ ماحول ہی میں آہستہ آہستہ مؤثر اہمیت حاصل کرتے جا رہے تھے۔ لیکن دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد مسلم ممالک بالعموم اور پاکستان اور افغانستان بالخصوص سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔ تو اس تغیر سے فائدہ اٹھانے والے مسلم ممالک نہیں ہیں اور افغانستان اور پاکستان تو بہت عجیب حالات کا شکار ہیں۔
اب اگر اس واقعہ سے فائدہ کے بجائے الٹا نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجود ہے تو افغانستان، مسلم ممالک اور مسلمان ایسی دہشت گردی کیسے کر سکتے تھے؟ مسلمان اگرچہ زوال کا شکار ہیں لیکن ان کی سوجھ بوجھ اتنی بھی کم نہیں ہوئی کہ وہ ایسے کسی واقعے کے ردعمل کا اندازہ نہ کر سکتے، اور اپنا نقصان کرنے کے لیے ایسی دہشت گردی کے مرتکب ہوتے جو ان کے دین کے بھی منافی ہے۔
اب موجودہ صورتحال میں پاکستان کا موقف بہت ٹھیک ہے۔ اس ٹرائیکا نے یہ صورتحال پیدا کر کے پاکستان کے لیے بہت مشکلات پیدا کر دی تھیں لیکن حکومتِ پاکستان مدبرانہ انداز سے اس کا جواب دے رہی ہے۔ دینی طبقوں کو چاہیے کہ حکومتِ پاکستان پر اندر سے دباؤ ڈالتے رہیں تاکہ حکومت اندرونی دباؤ کا اظہار کرتے ہوئے بہتر سودے بازی کی پوزیشن میں آ سکے اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ لیکن ان حکومت مخالف جلسوں اور جلوسوں کے دوران بھارتی اور اسرائیلی ایجنسیوں کے ممکنہ اقدامات کو پیشِ نظر رکھا جائے، وہ علماء اور حکومت کے درمیان ’’حقیقی فاصلہ‘‘ قائم کر سکتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا مدبرانہ انداز اختیار کرے، حکومتی موقف کے ساتھ ساتھ عوامی جذبات کو بھرپور کوریج دے تاکہ ہم ’’اندرونی پریشر‘‘ کو بھرپور انداز سے دکھا سکیں۔ سرمایہ دار، تاجر، صنعتکار اور زراعت سے وابستہ افراد اپنے کام میں لگے رہیں، کسی نام نہاد واقعے کو بنیاد بنا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے سے خود کو محفوظ رکھیں، اس سے ملک بھی محفوظ اور مضبوط رہے گا۔ دانشور حضرات، اساتذہ اور طلبہ بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے فکری پراگندگی کو پاس نہ پھٹکنے دیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ ٹرائیکا اپنے مقصد میں کامیاب جا رہا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے لیکن پاکستان نے کمالِ تدبر سے ان کے منصوبے میں ایک دراڑ ڈال دی ہے۔ پاکستان کا موقف ان کی امیدوں کے خلاف ہے۔ اگرچہ اس معمولی دراڑ سے ان کے منصوبے کی کلیت کو بہت زیادہ خطرات لاحق نہیں لیکن بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی رکھنے والے ملٹری اسٹریٹجی میں سرپرائز سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ بین الاقوامی سیاست کے مؤثر کردار اس ٹرائیکا کو ’’سرپرائز‘‘ دیں گے۔
پاکستانی معاشرے کی نئی دو قطبی تقسیم
ڈاکٹر اسرار احمد
امریکہ میں دہشت گردی سے پیدا شدہ تشویشناک ہی نہیں خوفناک عالمی صورتحال کے نتیجے میں جہاں افغانستان اور طالبان کے لیے شدید خطرات اور اندیشے پیدا ہو گئے ہیں، وہاں پاکستان بھی اپنی تاریخ کے مشکل ترین امتحان اور کٹھن آزمائش سے دوچار ہو گیا ہے، جس کے ضمن میں اختلافِ رائے میں شدت پیدا ہونے سے ملک کی سلامتی اور سالمیت تک کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
افغانستان کے لیے تو دشمن یہ تک کہہ رہا ہے کہ ہم اسے دھات کے زمانے سے بھی پہلے کے دور یعنی پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے، اور اگرچہ بائیس سالہ جنگ کے نتیجے میں افغانستان میں جس قدر تباہی و بربادی پہلے ہی آ چکی ہے، اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بے پناہ عسکری قوت کے پیشِ نظر بظاہرِ احوال بالفعل ایسا ہو جانا بعید از قیاس بھی نہیں ہے، تاہم یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ فی الواقع کیا ہو گا اور مشیتِ ایزدی کس طور سے ظاہر ہو گی، اور کیا عجب کہ اصحابِ فیل کا واقعہ دنیا میں ایک بار پھر ظاہر ہو جائے، واللہ اعلم۔ بقول علامہ اقبالؒ ؎
آج بھی جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
ادھر پاکستان میں ایک جانب حکومت اور اس کے ہم خیالوں اور دوسری جانب دینی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے مابین اختلاف کی جو خلیج نمایاں طور پر سامنے آ چکی ہے، اس کے ضمن میں جہاں یہ اندیشہ ہے کہ ملک میں محاذ آرائی بڑھ کر تصادم کی صورت اختیار کر لے اور امن و امان کے درہم برہم ہونے کے نتیجے میں قومی سطح پر عدمِ استحکام کی صورت پیدا ہو جائے، وہاں اس اعتبار سے ایک بہت بڑا خیر بھی برآمد ہو رہا ہے کہ ملک میں ایک جانب سیکولر اور مغرب زدہ عناصر، اور دوسری جانب دین و مذہب کے ساتھ عملی و جذباتی تعلق رکھنے والے لوگوں کے مابین واضح امتیاز اور جداگانہ تشخص کا احساس و ادراک نمایاں طور پر پیدا ہو گیا ہے۔ گویا پاکستانی معاشرے میں ایک نئی دو قطبی تقسیم (Polarization) پیدا ہو رہی ہے جو پاکستان میں اسلامی انقلاب کے اعتبار سے نہایت مفید ہے۔
چنانچہ اس مرحلے پر حکومتِ پاکستان نے جو طرزِ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر جو احتجاجی جلسے منعقد ہو رہے ہیں یا جلوس نکل رہے ہیں ان سے وہ سیکولر اور مغرب پرست حلقے بالکل غائب ہیں جن کا فکر اور فلسفہ خالص مادیت کے گرد گھومتا ہے۔ لہٰذا ان کی ساری دلچسپی صرف حیاتِ دنیوی اور اس کے مادی اسباب و وسائل تک محدود، اور ساری تگ و دو اور بھاگ دوڑ دنیاوی سہولتوں اور آسائشوں اور بن پڑے تو تعیّشات کے حصول کے چکر میں رہتی ہے۔ اور احتجاج کُل کا کُل ان حلقوں کی جانب سے ہو رہا ہے جن کے نزدیک، خواہ عملاً اور خواہ صرف جذباتی طور پر، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر شے پر مقدم ہے۔ جن کا تعلق، خواہ فہم و شعور کے ساتھ، خواہ صرف عقیدے اور جذبے کی حد تک، دین و مذہب کے ساتھ اس قدر مضبوط ہے کہ وہ ان کے لیے تن من دھن قربان کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ اور جن کے نزدیک، خواہ شعوری یا بے شعوری طور پر، یہ حقیقت مسلّم ہے کہ ؎
دیں ہاتھ سے دے کر گر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
اب ظاہر ہے کہ صورتحال جیسے جیسے آگے بڑھے گی اور افغانستان اور طالبان کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بالفعل اقدام میں حکومتِ پاکستان کے تعاون کے مظاہر منصۂ شہود پر آئیں گے، اس کے نتیجے میں پولرائزیشن میں مزید گہرائی و گیرائی اور سختی و پختگی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔
پاکستانی معاشرے کا یہ امتیاز و انقسام جہاں فی نفسہٖ مستقبل کے اسلامی انقلاب کے لیے نہایت مفید ہے، وہاں فوری طور پر ایک اور اعتبار سے بھی بہت مبارک ثابت ہو رہا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس کے ذریعے مختلف ہی نہیں متضاد قسم کے مذہبی عناصر کے مابین ازخود اور فطری طور پر اتحاد پیدا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ چنانچہ اس مسئلے میں اظہارِ اختلاف اور احتجاج کسی ایک خاص حلقے کی جانب سے نہیں بلکہ جملہ دینی حلقوں کی جانب سے ہو رہا ہے۔ گویا جملہ دینی عناصر اس معاملے میں رائے اور موقف کے اعتبار سے متحد اور یک زبان ہیں۔ خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنی، بریلوی ہوں یا دیوبندی، اہل سنت والجماعت ہوں خواہ اہل حدیث، اور خواہ قدیم طرز کے دینی مدارس سے فارغ التحصیل علماء ہوں یا جدید احیائی تحریکوں سے وابستہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ لوگ۔ اگرچہ ان جملہ عناصر پر مشتمل کوئی ’’گرینڈ الائنس‘‘ باضابطہ طور پر تاحال وجود میں نہیں آیا ہے اور اس وقت تک ’’دفاعِ افغانستان کونسل‘‘ میں، جو ۱۰ جنوری ۲۰۰۱ء کو وجود میں آئی تھی اور جس کا نام اب ’’دفاعِ پاکستان و افغانستان کونسل‘‘ ہے، ابھی تک عامۃ المسلمین کے سواد اعظم کے ان نامور اور نمایاں علماء و زعماء کی فعال شمولیت نظر نہیں آ رہی ہے جنہیں عرف عام میں بریلوی مکتب فکر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم اپنے طور پر جداگانہ انداز میں احتجاج میں وہ بھی بھرپور طور پر شریک ہیں بلکہ بعض مقامات پر تو انہوں نے اولیت کا شرف حاصل کیا ہے۔ گویا یہ بات بالکل قرینِ قیاس ہے کہ جیسے جیسے یہ معاملہ آگے بڑھا، وقت کے تقاضے کے طور پر پاکستان کے جملہ دینی و مذہبی عناصر کا یہ گرینڈ الائنس وجود میں آجائے گا۔
اس پولرائزیشن کے دوسرے ’’قطب‘‘ (Pole) پر ’’قطب الاقطاب‘‘ کی حیثیت تو سربراہِ حکومت، سپہ سالارِ افواجِ پاکستان، پرستارِ اتاترک جنرل پرویز مشرف صاحب کو حاصل ہے۔ اور ان کے گرد رفتہ رفتہ پاکستانی معاشرے کے جملہ سیکولر عناصر جمع ہوتے جا رہے ہیں، خواہ پہلے ان کا تعلق دائیں بازو سے رہا ہو خواہ بائیں سے، اور خواہ وہ میدانِ سیاست کے کھلاڑی ہوں یا اربابِ دانش و اصحابِ قلم، اور خواہ سول اور ملٹری بیوروکریسی کے حاضر یا ریٹائرڈ اکابر ہوں یا وہ جنہیں عرفِ عام میں تعلیم یافتہ سربرآوردہ طبقہ (Educated Elite) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پھر ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کھلم کھلا ملحد اور دہریے ہیں، اور وہ بھی جو اسلام کو صرف ایک ’’مذہب‘‘ کے طور پر تو مانتے ہیں جو چند عقائد، چند عبادات اور چند معاشرتی رسوم تک محدود ہے، لیکن اس سے بڑھ کر اسلام کے ’’دینِ حق‘‘ یعنی نظامِ عدلِ اجتماعی کی حیثیت سے مکمل سیاسی، اقتصادی اور سماجی نظامِ حیات ہونے کے شعور سے عاری ہیں۔ گویا اس وقت پاکستان میں یہ دو نقطہ ہائے نظر بھرپور طور پر ممتاز و ممیز ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور اگر ایک جانب حکومتِ پاکستان ’’خاموش اکثریت‘‘ کی اپنی پسندیدہ جہت میں یکجہتی کے لیے کوشاں ہے تو دوسری جانب فعال دینی و مذہبی حلقے چاہتے ہیں کہ عوام ان کی جہت میں یکسو ہو جائیں۔
پاکستان میں تاحال دینی و مذہبی جماعتوں اور تحریکوں کی پیش قدمی میں ایک اہم رکاوٹ یہ بھی رہی ہے کہ اب تک ہمارے معاشرے میں یہ دونوں طبقے گڈمڈ رہے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ اکثر و بیشتر سیاسی تحریکیں اسی ’’اجتماعِ ضدین‘‘ کی اساس پر چلتی رہی ہیں بلکہ سماجی تقریبات میں بھی یہ دونوں عناصر ’’من تو شدم تو من شدی‘‘ کا نقشہ پیش کرتے رہے ہیں۔ جبکہ اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام اور قوانینِ شریعت کے نفاذ، یا بالفاظِ دیگر اسلامی انقلاب کے لیے لازم ہے کہ پاکستانی معاشرے میں سورۂ آل عمران میں وارد شدہ الفاظِ مبارکہ ’’حتٰی یمیز الخبیث من الطیّب‘‘ کی کیفیت بالفعل رونما ہو جائے جس کے آثار اب بحمد اللہ نظر آ رہے ہیں۔
چنانچہ جمعہ ۲۱ ستمبر کی سہ پہر کو لاہور میں منعقد ہونے والا عظیم الشان جلسۂ عام اس حقیقت کا بہت بڑا مظہر تھا۔ اس لیے کہ اس کے سٹیج پر جہاں جملہ دینی عناصر کی نمائندگی اظہر من الشمس تھی وہاں معروف اربابِ سیاست کی غیر حاضری بھی بہت نمایاں تھی۔ حتٰی کہ اپوزیشن کے رہنما بھی کہیں نظر نہیں آئے جو عام حالات میں ہر وقت ایسے مواقع کی تلاش میں رہا کرتے ہیں کہ کسی بھی موضوع یا مسئلے پر حکومتِ وقت کے موقف کے خلاف جلسہ ہو رہا ہو تو اس میں شریک ہو کر خود اپنے لیے تقویت حاصل کریں۔ چنانچہ اس وقت کی احزابِ مخالف میں سے صرف ایک مسلم لیگ (ن) کے نوجوان رہنما سعد رفیق صاحب جلسے میں شریک ہوئے اور وہ بھی غالباً صرف اپنی ذاتی حیثیت میں شرکت کر رہے تھے۔ جماعتِ اسلامی کی مرکزی قیادت کی بھرپور موجودگی، جو کچھ عرصہ قبل طالبان کی زیادہ پرجوش حامی نہیں رہی تھی، بہت ہی نیک شگون ہے۔ چنانچہ میں قاضی حسین احمد صاحب کو اس پر تہِ دل سے مبارکباد دیتا ہوں کہ اگرچہ دو سوا دو سال قبل انہوں نے مجوزہ ’’متحدہ اسلامی انقلابی محاذ‘‘ میں شرکت سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارا پختہ فیصلہ ہے کہ ہم آئندہ کسی بھی محاذ میں شامل نہیں ہوں گے‘‘ لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے ’’دفاعِ افغانستان کونسل‘‘ میں نہ صرف یہ کہ اول روز سے شرکت اختیار کی بلکہ اس میں مسلسل فعال رول ادا کر رہے ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان میں دینی جماعتوں اور تنظیموں کا ایک وسیع تر اور منظم متحدہ محاذ قائم ہو جو نہ صرف امریکی جارحیت کی مخالفت کے منفی ہدف بلکہ پاکستان میں مکمل اسلامی انقلاب کے مثبت ہدف کے لیے مؤثر طور پر سرگرمِ عمل ہو، آمین یا رب العالمین۔
متعۃ الطلاق کے احکام و مسائل
محمد عمار خان ناصر
متعۃ یا متاع عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی بھی قسم کا فائدہ یا منفعت حاصل کی جا سکے، کل ما ینتفع بہ علی وجہ ما فھو متاع و متعۃ۔ اسلامی شریعت میں متعۃ الطلاق سے مراد وہ مالی فائدہ ہے جو طلاق یافتہ عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے تحفے کی صورت میں ملتا ہے۔ ذیل میں اس مسئلے کے بعض اہم پہلوؤں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔
متعۃ الطلاق کی حکمت
حسنِ معاشرت کی بنیاد عقلِ عام اور دین کی رو سے ایثار و قربانی، اعلیٰ اخلاق اور تعاونِ باہمی کے جذبے پر ہے۔ دین کی تعلیم یہ ہے کہ انسان زندگی کے تمام معاملات میں حسنِ اخلاق، مروت، رواداری اور شائستگی کا مظاہرہ کرے۔ حتٰی کہ معاملہ اگر تعلق توڑنے کا بھی ہو تو اسے بھی اس طرح عمدگی اور خوش اسلوبی سے انجام دیا جائے کہ ناگزیر طور پر پیدا ہونے والی رنجشوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ یہی صورت نکاح کے معاملات میں ہے۔
قرآن مجید مرد کو اس کی فطری صلاحیتوں اور معاشی ذمہ داریوں کی بنا پر خاندان کا قوم اور سربراہ قرار دیتا ہے:
الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علیٰ بعض وبما انفقوا من اموالھم۔ (النساء ۳۴)
’’مرد اپنی بیویوں کے سربراہ ہیں کیونکہ اللہ نے انہیں ان کی بیویوں پر فضیلت دی ہے اور وہ اپنے مال بھی (ان پر) خرچ کرتے ہیں۔‘‘
اس فضیلت کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ قرآن مجید خانگی امور میں مرد کی رائے کو فیصلہ کن قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس پہلو سے اس کو عورت پر ایک درجے کی فضیلت حاصل ہے۔
وللرجال علیھن درجۃ (البقرہ ۲۲۸)
’’اور مردوں کو اپنی بیویوں پر ایک درجے کی فضیلت حاصل ہے۔‘‘
لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ مرد عورت کے ساتھ اپنے برتاؤ اور رویے میں بھی مردانگی اور بلند اخلاقی کا مظاہرہ کرے۔ اور فتوت اور بلند کرداری کا یہ مظاہرہ قیامِ نکاح کی حالت میں ہی نہیں بلکہ اس صورت میں بھی ہونا چاہیے جب کسی وجہ سے رشتہ نکاح کا قائم رکھنا ممکن نہ رہے اور اسے توڑنے کی نوبت آجائے۔ چنانچہ قرآن مجید اس حالت میں تسریح باحسان اور مفارقۃ بالمعروف کی خاص طور سے تاکید کرتا ہے:
الطلاق مرتان فامساک بمعروف اور تسریح باحسان (البقرہ ۲۲۹)
’’(رجعی) طلاق دینے کا حق دو دفعہ ہے۔ اس کے بعد یا تو دستور کے موافق بیوی کو رکھ لیا جائے یا خوش اسلوبی سے اسے چھوڑ دیا جائے۔‘‘
فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف (اطلاق ۲)
’’اپنی بیویوں کو دستور کے موافق نکاح میں رکھو یا دستور ہی کے موافق ان کو جدا کرو۔‘‘
ہمارے نزدیک طلاق کی صورت میں عورت کو متعۃ دینے کا حکم بھی اس تسریح باحسان کی فرع ہے۔ قرآن مجید نے تسریح باحسان کے حکم کی جو تفصیل کی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:
(۱) طلاق دینے کے بعد عورت کی عدت کو طویل تر کرنے اور اس کو تنگ کرنے کی غرض سے رجوع نہ کیا جائے:
ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا ومن یفعل ذالک فقد ظلم نفسہ (البقرہ ۲۳۱)
’’(طلاق کے بعد) اپنی بیویوں کو تنگ کرنے اور حد سے تجاوز کرنے کے لیے ان کو مت روکو، جو ایسا کرتا ہے یقیناً وہ اپنی جان پر بڑا ظلم ڈھاتا ہے۔‘‘
(۲) مرد نے نکاح کے وقت یا اس کے بعد جو بھی مال عورت کو دیا ہے وہ واپس نہ لیا جائے چاہے وہ کتنا ہی زیادہ ہو:
وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واٰتیتم احداھن قنطارًا فلا تاخذوا منہ شیئا اتأخذونہ بہتانا واثما مبینا وکیف تاخذونہ وقد افضٰی بعضکم الیٰ بعض واخذن منکم میثاقًا غلیظا (النساء ۲۰ و ۲۱)
’’اگر تم ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور پہلے بیوی کو تم نے ڈھیروں مال دے رکھا ہے تو اب اس سے کچھ بھی واپس مت لو۔ کیا تم بہتان لگا کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کر کے مال واپس لیتے ہو؟ اور تم کیسے یہ مال واپس لے سکتے ہو جبکہ تمہارے ایک دوسرے سے ازدواجی تعلقات رہے ہیں، اور (نکاح کے وقت) تمہاری بیویوں نے تم سے (وفاداری کا) نہایت مضبوط پیمان لیا تھا۔‘‘
(۳) مہر کی ادائیگی میں مرد وسعتِ قلبی اور ایثار کا مظاہرہ کرے:
وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم الّا ان یعفون او یعفوا الذی بیدہ عقدۃ النکاح وان تعفوا اقرب لتقوٰی ولا تنسوا الفضل بینکم (البقرہ ۲۳۷)
’’اور اگر تم اپنی بیویوں کو ہمبستری سے پہلے طلاق دے دو اور ان کے مہر کی مقدار تم نے طے کر رکھی ہو تو اب (طلاق کی صورت میں) انہیں طے شدہ مہر کا نصف ادا کرو۔ ہاں اگر وہ معاف کر دیں (تو تم سارا مہر رکھ سکتے ہو) یا اگر (خاوند) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرے (تو عورت سارا مہر بھی لے سکتی ہے) اور تم شوہروں کا ایثار کرنا ہی تقوٰی کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ نے تمہیں جو فضیلت دی ہے اس کو فراموش نہ کرو۔‘‘
مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں:
’’قرآن نے مرد کو اکسایا ہے کہ اس کی فتوت اور مردانہ بلند حوصلگی اور اس کے درجے مرتبے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عورت سے اپنے حق کی دستبرداری کا خواہشمند نہ ہو بلکہ اس میدانِ ایثار میں خود آگے بڑھے۔ اس ایثار کے لیے قرآن نے یہاں مرد کو تین پہلوؤں سے ابھارا ہے۔ ایک تو یہ کہ مرد کو خدا نے یہ فضیلت بخشی ہے کہ وہ نکاح کی گرہ کو جس طرح باندھنے کا اختیار رکھتا ہے اسی طرح اس کو کھولنے کا بھی مجاز ہے۔ دوسرا یہ کہ ایثار و قربانی، جو تقوٰی کے اعلیٰ ترین اوصاف میں سے ہے، وہ جنسِ ضعیف کے مقابل میں جنسِ قوی کے شایانِ شان زیادہ ہے۔ تیسرا یہ کہ مرد کو خدا نے اس کی صلاحیتوں کے اعتبار سے عورت پر جو ایک درجہ ترجیح کا بخشا ہے اور جس کے سبب سے اس کو عورت کا قوام اور سربراہ بنایا ہے، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کو عورت کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے وقت مرد کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اس فضیلت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت سے لینے والا نہیں بلکہ اس کو دینے والا بنے۔‘‘(۲)
(۴) بیوہ عورت کی عدت اگرچہ چار ماہ دس دن ہے لیکن خاوند اگر قریب الوفاۃ ہو تو وہ اپنے اہلِ خانہ کو وصیت کر جائے کہ وہ اس کی وفات کے بعد ایک سال تک بیوہ کو اسی گھر میں رہنے دیں:
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجًا وصیۃ لازواجھم متاعًا الی الحول غیر اخراج (البقرہ ۲۴۰)
’’اور تم میں سے جو مرد قریب الوفات ہوں اور اپنے پیچھے بیوہ چھوڑ کر جا رہے ہوں تو وہ ان کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نکالے بغیر اسی گھر میں رہنے کی سہولت دی جائے۔‘‘
(۵) طلاق کی صورت میں عورت کی دلجوئی اور اس کے غم کو کم سے کم کرنے کے لیے خاوند مہر اور نفقہ کی لازمی ادائیگیوں کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی چیز بطور تحفہ عورت کو دے۔
وللمطلقات متاع بالمعروف حقًا علی المتقین (البقرہ ۲۴۱)
’’اور اپنی مطلقہ عورتوں کو دستور کے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کرو، یہ اہلِ تقوٰی پر لازم ہے۔‘‘
یا ایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیاۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن واسرحکن سراحًا جمیلا (الاحزاب ۲۸)
’’اے نبی، آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیں کہ اگر تم دنیا کی آسائشیں اور اس کی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور اچھے طریقے سے تمہیں جدا کر دوں۔‘‘
متعۃ الطلاق کی قانونی حیثیت
طلاق یافتہ عورتوں کی چار حالتیں ہو سکتی ہیں:
ایک یہ کہ بوقتِ نکاح ان کا مہر مقرر کیا گیا ہو اور ہمبستری کے بعد ان کو طلاق دے دی جائے۔
دوسری یہ کہ مہر تو مقرر کیا گیا ہو لیکن ہمبستری سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے۔
تیسری یہ کہ مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور ہمبستری سے پہلے طلاق دے دی جائے۔
چوتھی یہ کہ مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور ہمبستری کے بعد طلاق دی جائے۔
ان مختلف صورتوں میں متعہ کی قانونی حیثیت کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلافِ رائے ہے:
پہلی رائے امام حسن بصریؒ کی ہے جن کے نزدیک متعہ ان تمام مطلقات کے لیے واجب ہے۔ ان کا استدلال وللمطلقات متاع بالمعروف سے ہے جو تمام مطلقات کے لیے عام ہے۔
دوسری رائے احناف اور شوافع کی ہے جن کے نزدیک اس عورت کے لیے تو متعہ واجب ہے جسے دخول سے قبل طلاق دی گئی ہو اور اس کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو، لیکن باقی تمام مطلقات کے لیے محض مستحب ہے۔ ان کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:
ایک یہ کہ قرآن مجید نے متعہ کا حکم خاص طور پر صرف اس مطلقہ کے لیے دیا ہے جس کا مہر طے نہ کیا گیا ہو اور دخول سے قبل اسے طلاق دے دی گئی ہو۔ ایسی عورتوں کے لیے یہ حکم قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ صیغہ امر متعوھن استعمال کیا گیا ہے جو کہ وجوب کی دلیل ہے۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ہے:
لا جناح علیکم ان طلقتم النساء ما لم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضۃ ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ متاعا بالمعروف حقا علی المحسنین (البقرہ ۲۳۶)
’’تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنی ان بیویوں کو طلاق دو جن سے تم نے تعلقات قائم کیے ہیں نہ ان کا مہر مقرر کیا ہے، انہیں (رخصت کرتے ہوئے) کچھ دے دلا دو، خوشحال اپنی گنجائش کے مطابق اور تنگدست اپنی گنجائش کے مطابق، دستور کے مطابق کوئی تحفہ ہونا چاہیے جو احسان کرنے والوں پر لازم ہے۔‘‘
سورۃ الاحزاب میں فرمایا:
یا ایھا الذین امنوا اذا نکحتم المومنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن وسرحوھن سراحا جمیلا (الاحزاب ۴۹)
’’اے ایمان والو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر تعلقات قائم کیے بغیر انہیں طلاق دے دو تو ایسی صورت میں ان کے ذمے کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرو، سو ان کو کچھ دے دلا دو اور شائستگی کے ساتھ ان کو رخصت کرو۔‘‘
دوسرے یہ کہ علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ میں علی کا لفظ بھی الزام اور وجوب کے لیے ہے۔
تیسرے یہ کہ اس حکم کے آخر میں حقًا علی المحسنین کے الفاظ بھی وجوب کی دلیل ہیں۔
چوتھے یہ کہ عقل و قیاس بھی اس کی تائید کرتے ہیں کیونکہ شریعت کی ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقدِ نکاح میں عورت کو کوئی نہ کوئی مالی عوض ضرور ملنا چاہیے۔ چنانچہ نکاح کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
واحل لکم ما وراء ذالکم ان تبتغوا باموالکم (النساء ۲۴)
’’ان عورتوں کے سوا باقی سب عورتوں سے مال دے کر نکاح کرنا تمہارے لیے حلال ہے۔‘‘
چونکہ عقدِ نکاح کو قبول کر کے عورت خاوند کو استمتاع کا حق سونپ دیتی ہے اس لیے نفسِ نکاح کے ساتھ ہی عوض لازم ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگرچہ عملاً خاوند نے استمتاع نہ کیا ہو، عوض کی ادائیگی اس پر لازم ہو جاتی ہے۔
مطلقات کی باقی تین صورتوں میں یہ عوض مہر کی صورت میں حسبِ ذیل تفصیل کے مطابق عورت کو ادا کیا جاتا ہے:
اگر عورت کو مہر مقرر ہونے اور دخول کے بعد طلاق دی گئی ہو تو اسے پورا مہر ملے گا۔
اگر مہر مقررہونے کے بعد اور دخول سے پہلے طلاق دی جائے تو اسے نصف مہر ملے گا۔
اگر مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور دخول کے بعد طلاق دی جائے تو ازروئے حدیث عورت کو مہرِ مثل ملے گا۔
اس اصول کی رو سے ضروری ہے کہ وہ عورت جس کو مہر مقرر کیے بغیر دخول سے پہلے طلاق دی گئی ہو اسے بھی کوئی نہ کوئی عوض دیا جائے۔ چنانچہ قرآن مجید نے ایسی عورت کو متعہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ چونکہ ایسی عورت کے لیے دوسرا کوئی عوض نہیں ہے اس لیے اس کے لیے متعہ واجب ہے، جبکہ باقی مطلقات کو چونکہ مہر کا پورا یا کچھ حصہ مل جاتا ہے اس لیے ان کے حق میں متعہ صرف مستحب ہے۔(۳)
وللمطلقات متاع بالمعروف سے امام حسن بصریؒ کے استدلال کا جواب دیتے ہوئے امام ابوبکر ابن العربیؒ اور امام جصاصؒ فرماتے ہیں کہ متاع کا لفظ عربی زبان میں ہر اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جس سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ چنانچہ جن عورتوں کو پورا یا نصف مہر مل جاتا ہے ان کے لیے وہی متاع ہے اور جن عورتوں کو مہر نہیں ملتا ان کے لیے متاع کی صورت یہ ہے کہ خاوند اس کی دلجوئی کے لیے اس کو کوئی تحفہ پیش کرے۔(۴)
تیسری رائے امام مالکؒ کی ہے جو کہتے ہیں کہ متعہ کسی بھی مطلقہ کے لیے واجب نہیں بلکہ سب کے لیے مستحب ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں ومتعوھن کا حکم استحباب کے لیے ہے اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ حقًا علی المحسنین کا جملہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ متعہ کا یہ حکم قانونی طور پر نہیں بلکہ احسان اور تقوٰی کے لحاظ سے لازم ہے۔(۵)
مذکورہ قانونی بحث سے قطع نظر اتنی بات واضح ہے کہ قرآن مجید نے متعہ کا حکم نہایت تاکید اور اہتمام سے بیان فرمایا ہے، اور قانونی لحاظ سے نہ سہی لیکن اخلاقی لحاظ سے اس کا درجہ وجوب ہی کا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ حقًا علی المتقین کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’اوپر آیت ۲۳۶ میں مطلقہ عورتوں کو دے دلا کر رخصت کرنے کی جو ہدایت فرمائی تھی، آخر میں یہ پھر اس کی یاددہانی کر دی اور اس کو اہلِ تقوٰی پر ایک حق قرار دیا۔ جو حقوق صفات و کردار پر مبنی ہوتے ہیں بعض حالات میں وہ اس دنیوی زندگی میں تو قانون کی گرفت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں لیکن خدا کے ہاں ان صفات کے لیے وہ حقوق ہی معیار ٹھہریں گے۔ اگر ایک چیز مومنین یا محسنین یا متقین پر حق قرار دی گئی ہے تو یہ تو ہو سکتا ہے کہ اسلام کا قانون اس دنیا میں اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کوئی گرفت نہ کرے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آخرت میں بھی ان کی خلاف ورزی پر کوئی اثر مرتب نہیں ہو گا، آخرت میں آدمی کا ایمان یا احسان یا تقوٰی انہی حقوق کی ادائیگی یا عدمِ ادائیگی کے اعتبار سے وزن دار یا بے وزن ٹھہرے گا۔‘‘(۶)
متعہ کی مقدار
متعہ کی مقدار کی تعیین میں اہلِ علم کے مختلف اقوال ہیں:
ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ متعہ کی مالیت کم از کم تیس درہم ہونی چاہیے۔
ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ متعہ کی اعلیٰ ترین صورت خادم ہے، اس کے بعد کپڑے اور اس کے بعد نفقہ۔
عطاءؒ فرماتے ہیں کہ درمیانے درجے کے متعہ میں قمیص، دوپٹہ اور چادر شامل ہونے چاہئیں۔
حسن بن علیؒ نے متعہ کے طور پر بیس ہزار اور شہد کے کچھ تھیلے اپنی مطلقہ کو دیے۔
قاضی شریحؒ نے متعہ کے طور پر پانچ سو درہم دیے۔(۷)
یہ تمام تعیینات اپنے اپنے محل میں درست ہیں کیونکہ قرآن مجید نے صراحت کی ہے کہ متعہ کی نوعیت اور مقدار کے باب میں کوئی چیز ازروئے شریعت متعین نہیں ہے بلکہ اس کا تعین مقامی رواج اور خاوند کے مالی حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا۔
ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ متاعا بالمعروف حقا علی المحسنین (البقرہ ۲۳۶)
’’انہیں (رخصت کرتے ہوئے) کچھ دے دلا دو، خوشحال اپنی گنجائش کے مطابق اور
تنگدست اپنی گنجائش کے مطابق، دستور کے مطابق کوئی تحفہ ہونا چاہیے جو
احسان کرنے والوں پر لازم ہے۔‘‘
امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
وقال الحسن: یمتع کل بقدرہ، ھذا بخادم و ھذا با ثواب و ھذا بثوب وھذا بنفقۃ۔ وکذلک یقول مالک بن انس، وھو مقتضی القرآن فان اللہ سبحانہ و تعالیٰ لم یقدرھا ولا حدودھا وانما قال ’’علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ‘‘۔
’’حسن کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنی گنجائش کے مطابق متعہ دے، کوئی خادم کی صورت میں، کوئی زیادہ کپڑوں کی صورت میں، کوئی ایک کپڑے کی صورت میں، اور کوئی نفقے کی صورت میں۔ امام مالک بھی یہی فرماتے ہیں اور قرآن کا مدعا بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مقدار اور نوعیت متعین نہیں کی بلکہ فرمایا ہے کہ فراخ دست اور تنگ دست اپنی اپنی گنجائش کے مطابق دیں۔‘‘(۸)
حواشی
- راغب: المفردات فی غریب القرآن ص ۴۶۱ ۔ ابن الاثیر: النہایہ فی غریب الحدیث والاثر ج ۴ ص ۲۹۳
- تدبرِ قرآن ج ۱ ص ۵۴۸
- ابن قدامہ: المغنی ج ۷ ص ۱۸۳ و ۱۸۴
- ابن العربی: احکام القرآن ج ۱ ص ۲۹۱ ۔ الجصاص: احکام القرآن ج ۱ ص ۵۸۳
- ابن رشد: بدایۃ المجتہد ج ۲ ص ۷۴
- تدبر قرآن ج ۱ ص ۵۵۶
- القرطبی: الجامع لاحکام القرآن ج ۳ ص ۲۰۱ و ۲۰۲ ۔ ابن کثیر: تفسیر القرآن العظیم ج ۱ ص ۲۸۷ و ۲۸۸
- نفس المصدر ج ۳ ص ۲۰۱
پاکستان کے نظامِ حکومت میں خرابی کی چند وجوہات
ڈاکٹر زاہد عطا
یوں تو قیامِ پاکستان سے ہی اس مملکتِ خداداد کے نظامِ حکومت کے بارے میں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے۔ بڑے بڑے علماء اور فضلاء اس موضوع پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی ایک کمیشن نظامِ حکومت کے خدوخال طے کرنے کے لیے بنایا تھا لیکن بدقسمتی سے اس کمیشن کی اکثر سفارشات پر تو عمل نہ کیا گیا، صرف ایک سفارش یعنی غیر جماعتی انتخابات کو ۱۹۸۵ء میں اختیار کیا گیا، اور اسی غیر جماعتی اسمبلی نے فورًا جماعت سازی کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلم لیگ (جونیجو) کے تحت منظم کر لیا جس سے اس سفارش کی بھی نفی ہو گئی۔
جنرل ضیاء کی وفات کے بعد چار انتخابات جماعتی بنیادوں پر منعقد ہو چکے ہیں لیکن ملکی حالات خواہ وہ معاشی ہوں، معاشرتی ہوں یا سیاسی، پہلے سے بھی ابتر ہو چکے ہیں۔ عوام و خواص پریشان بلکہ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو عوامی اکثریت کی حمایت حاصل رہی لیکن اکثر باشعور مسلم لیگی بھی یہ کہتے تھے کہ نواز شریف صاحب اور ان کے ساتھی ملکی حالات کو فورًا سدھارنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور فی الواقع وہ اپنے کسی بھی دورِ حکومت میں ملکی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ لا سکے۔
فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر قائم مذہبی سیاسی پارٹیوں اور رہنماؤں میں بھی کوئی شخصیت نظر نہیں آتی جو اس کرپٹ معاشرے اور نظام کو سیدھی راہ پر ڈال سکے۔ پاکستان میں اس وقت کچھ جماعتیں موجودہ نظام کے تحت ہی ملکی نظام کو چلانا چاہتی ہیں جن میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سرفہرست ہیں۔ کچھ چھوٹی علاقائی اور شخصی پارٹیاں مثلاً اے این پی، جمہوری پارٹی، ایم کیو ایم وغیرہ بھی جمہوری پارلیمانی نظام کے تحت ہی رہنا چاہتی ہیں۔
جماعت اسلامی جو پاکستان کی سب سے منظم جماعت ہے اور تربیت یافتہ کارکنوں کی ایک کثیر تعداد رکھتی ہے، ایک طرف مکمل اسلامی نظام کی داعی بھی ہے اور دوسری جانب موجودہ سسٹم کے تحت ہونے والے ہر الیکشن (سوائے ۱۹۹۷ء) میں حصہ بھی لیتی رہی ہے لیکن اپنی تنظیم، قربانیوں اور پاکستان اور اسلام کے ساتھ والہانہ لگن کے باوجود بادی النظر میں عوام کی اکثریت کو قائل نہیں کر سکی۔ ۲۴ جون ۱۹۹۶ء کو بے نظیر حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف ہونے والے مظاہرے اور پھر ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۶ء کے اسلام آباد دھرنے کے پروگرام سے لے کر اب تک جماعتِ اسلامی مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ موجودہ نظام کو بدلے بغیر اصلاح ناممکن ہے۔ قاضی حسین احمد کا یہ تجزیہ درست معلوم ہوتا ہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی موجودہ لیڈرشپ میں نہ صلاحیت ہے اور نہ ان کی یہ سوچ ہے کہ پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی مملکت بنایا جائے۔
پاکستان میں آج کل لوگوں کی ایک خاصی بڑی تعداد یہ سوچنے پر مجبور ہو رہی ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت اصلاح کے فوری امکانات نہیں ہیں۔ جبکہ کچھ تنظیمیں اور ان کے سربراہ مثلاً دعوت و ارشاد کے حافظ محمد سعید، تنظیمِ اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد، تنظیم الاخوان کے رہنما مولانا محمد اکرم اعوان، عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری جمہوریت اور جمہوری نظام کو بالکل غیر اسلامی قرار دیتے ہیں اور ان کی باتوں میں خاصا وزن بھی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچاس سال گزرنے کے بعد بھی اب تک ہم بحیثیت قوم کسی ایسے نظامِ حکومت کو اختیار کیوں نہیں کر سکے جو تسلسل سے جاری رہے؟ شاید پاکستانی عوام کے سماجی، معاشرتی، معاشی و مذہبی حالات و رجحانات کا پوری یکسوئی سے مطالعہ اور تجزیہ ہی نہ کیا گیا ہو۔
یوں تو یہ پولیٹیکل سائنس کے ماہرین کا کام ہے کہ وہ پاکستانی قوم کو موجودہ کنفیوژن سے نکالنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تجویز کریں، لیکن حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر باشعور پاکستانی اپنی استطاعت کے مطابق پاکستانی قوم کے مزاج، رویوں اور رجحانات کا بے لاگ تجزیہ کرے اور پھر اس کی روشنی میں پاکستان کے لیے موزوں ترین نظامِ حکومت کا خاکہ تجویز کرے۔
میرے خیال میں مندرجہ ذیل وجوہ ابھی تک موزوں نظامِ حکومت کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں:
- قراردادِ مقاصد منظور ہو جانے کے بعد پاکستانی نظامِ حکومت کی بنیاد تو طے ہو گئی تھی یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی حاکمِ مطلق ہے اور منتخب نمائندوں کو ایک مقدس امانت کے طور پر حکومت کرنے کا اختیار حاصل ہو گا جو اللہ کی مقرر کردہ حدود کے دائرے میں رہ کر ہی استعمال کیا جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے کسی پاکستانی حکمران نے اس کو عملی صورت دینے کی مخلصانہ کوشش نہیں کی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ابھی تک بے شمار ایسے کام ہو رہے ہیں جو صریحاً اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے خلاف ہیں، مثلاً سود اور سودی کاروبار۔
- دستورِ پاکستان میں پارلیمانی طرزِ جمہوریت کو اختیار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن عملاً یہ ثابت ہوا ہے کہ پارلیمانی طرزِ جمہوریت پاکستانی عوام کے مزاج اور رجحانات کے مطابق نہیں۔ صدارتی جمہوریت جس میں صدر براہِ راست عوام کا منتخب کردہ ہو، پاکستانی عوام کے مزاج اور رویوں کے زیادہ قریب تر ہو سکتا ہے۔ ایسے تو قراردادِ مقاصد اور اسلام کے حوالے سے ’’جمہوری خلافت‘‘ کی اصطلاح زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔
- ایک اور چیز جو بہت ہی اہم ہے، یہ ہے کہ اکثر پاکستانی (عوام و خواص) دوسروں کی خامیوں اور کوتاہیوں پر تو فورًا سیخ پا ہو جاتے ہیں لیکن اپنی خامی کسی کو نظر نہیں آتی، یعنی ساری قوم دوہرے معیارات چاہتی ہے۔ اپنے لیے کچھ اور دوسروں کے لیے کچھ۔ بڑے سے بڑا دانشور، صوفی و پیر، مولوی و عالم، فوجی و سیاسی راہنما سبھی اس خرابی میں مبتلا ہیں۔ شاید ہی کوئی شخصیت ہو جس کا ظاہر و باطن ایک ہو۔ ظاہر و باطن کا یہی تضاد ہمارے اکثر مسائل اور مشکلات کی وجہ ہے اور یہی رویہ اسلام، دستور اور قرارداد مقاصد کے نفاذ میں بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
- ایک اور اہم رویہ جو کئی مسائل کو جنم دیتا ہے وہ ہے پاکستانی قوم کا جذباتی پن۔ جذبات میں آ کر ایسے ایسے مطالبے اور نعرے لگائے جاتے ہیں جن پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی آئیڈیلزم کا بھی شکار ہیں اور حقائق کا سامنا نہیں کر سکتے۔ اسی آئیڈیلزم کا نتیجہ ہے کہ ایک جانب ہماری گفتگو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافتِ راشدہ کی مثالیں دی جاتی ہیں لیکن دوسری جانب ہم اپنی ذرہ بھر اصلاح کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔
- زیادہ تر پاکستانی بے صبری کا بھی شکار ہیں، اس وجہ سے وہ تین سالوں میں ہی حکمرانوں اور نظام سے اکتا جاتے ہیں۔ اور یہ رویہ بھی نظام کے تسلسل میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ دستور میں ترمیم کر کے حکومت کا دورانیہ چار سال کر دیا جائے تو امید ہے کہ لوگ چار سال تک صبر کر لیں گے۔
- جو طبقے قوم کی راہنمائی اور تعمیر کر سکتے ہیں مثلاً اساتذہ، صحافی، ججز، مذہبی پیشوا (مولوی، پیر، مشائخ وغیرہ) اور سیاستدان، وہ خود بھلائی اور برائی میں تمیز کرنے سے قاصر ہیں، کجا کہ وہ افرادِ قوم کی تعمیر و اصلاح کا فریضہ انجام دیں۔ استاد، صحافی اور جج اپنے مقام سے ہی آگاہ نہیں ہیں۔ علماء اور پیر صاحبان اپنے مسلک اور فرقہ سے ہٹ کر کسی دوسرے کی بات سننے کے روادار نہیں ہیں۔ سیاستدان اپنے اقتدار کے لیے ملک و قوم کی ہر شے کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، کجا کہ وہ ملک اور قوم کو صحیح نظامِ حکومت تجویز کرنے کا سوچ سکیں۔
- پاکستانی عوام کی اکثریت ناخواندہ ہے، اور جو خواندہ ہیں وہ بھی اپنے حقوق اور فرائض سے ناواقف ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی عوام کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے لیکن بہت ہی قلیل لوگ ہوں گے جن کو اسلام کا صحیح شعور اور فہم ہے، اور اکثر لوگ اسلام کو سمجھنے کے لیے تھوڑی سی کوشش بھی نہیں کرنا چاہتے۔ مگر اپنی گفتگو میں زیادہ تر افراد یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان سے زیادہ اسلام کا فہم کسی اور کو نہیں ہے۔ اسلام ایک فرد کو جو حقوق دیتا ہے، ہم میں سے کوئی بھی دوسروں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اسی طرح اسلام جس طرح ہم سے مالی و جانی ایثار کا تقاضا کرتا ہے، بہت کم لوگ ہیں جو اس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اسلام کے مطابق ہمارا الٰہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے، لیکن ہمارے عوام و خواص نے چھوٹے چھوٹے الٰہ بنا رکھے ہیں۔ کسی کا الٰہ اس کا افسر ہے تو کسی کا الٰہ اس کا جاگیردار ہے اور کسی کا الٰہ مولوی و پیر ہے۔ کسی کا الٰہ مال و دولت ہے تو کسی کا الٰہ حاکمِ وقت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت جرأت اور بہادری کا اظہار نہیں کرتی بلکہ معمولی چیزوں پر اپنا ایمان اور عزتِ نفس کا سودا کر لیتی ہے اور اعلیٰ کردار کا مظاہرہ نہیں کرتی، جس کی وجہ سے ہر سطح پر مقتدر طبقوں کو من مانی اور ناانصافی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
عام حالات میں بھی سچی اور کھری بات کم ہی لوگ کرتے ہیں بلکہ زیادہ تر لوگوں کا وطیرہ یہ ہو گیا ہے کہ برے سے برے آدمی اور بری سے بری بات کو ٹوکتے بھی نہیں۔ اور جو سچی اور کھری بات کرتا ہے اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس سے پاکستانی اکثریت کے عمومی رویے میں خود غرضی کا اظہار ہوتا ہے جو اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ - پاکستان میں جاگیرداری نظام کی موجودگی بھی بے شمار خرابیوں کا باعث ہے۔ اکثر جاگیردار مذہبی خانقاہوں کے متولی بھی ہیں اور اب تو یہ لوگ سرمایہ دار بھی بن گئے ہیں۔ اسی طرح سرمایہ دار طبقہ زمینیں خرید کر جاگیر دار بن گیا ہے۔ بیوروکریسی اور فوج کے اہم عہدوں پر انہی کے قریبی عزیز فائز ہوتے ہیں جو ہر حکومت میں ان کا تحفظ کرتے ہیں۔ غیر ملکی آقاؤں (امریکہ و برطانیہ) کی پالیسیوں پر بھی انہی لوگوں کے ذریعے سے عمل کروایا جاتا ہے۔
میرے خیال میں یہی رویے اور وجوہات ہیں جو ایک قابلِ عمل نظامِ حکومت کو اپنانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اب ہماری یہ حالت ہے کہ ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘۔ ملک اور قوم کو اس پیچیدہ اور نازک صورتحال سے نکالنے کے لیے ایسا نظامِ حکومت اختیار کیا جانا چاہیے جو
- ایک جانب ہمارے عوام کی اخلاقی، تعلیمی، معاشی حالت کو پیشِ نظر رکھے اور ان کے نفسیاتی، معاشرتی اور مذہبی رویوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اختیار کیا جائے۔
- دوسری جانب یہ نظام تعطل کا شکار نہ ہو بلکہ تسلسل سے چلتا رہے تاکہ پاکستان کو استحکام نصیب ہو اور قیامِ پاکستان کے مقاصد بھی پورے ہو سکیں۔
مولانا سعید احمد خانؒ ۔ چند یادیں
مولانا محمد عیسٰی منصوری
حضرت مولانا الیاسؒ کا طریقۂ دعوت
مولانا سعید احمد خانؒ کو مولانا الیاسؒ سے اس درجے کا تعلقِ خاطر اور محبت تھی کہ جب مولانا الیاسؒ کی تربیت، دعوت، حکمت کے واقعات سنانے لگتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ طوفان کا بند کھل گیا ہے جو اب بند نہیں ہو گا۔ اپنے خاص انداز میں گھنٹوں واقعات سناتے۔ اسی طرح حضرت مولانا الیاسؒ کے خاص الخاص خادم و رفیق میاں جی عبد الرحمٰن میواتی، جو نو مسلم اور مستجاب الدعوات تھے، کی دعوت و حکمت کے عجیب و غریب واقعات گھنٹوں تک سناتے۔ فرماتے اللہ تعالیٰ نے میاں جی عبد الرحمٰن کو خاص حکمت عطا فرمائی تھی، ان کی روحانیت اور زبان کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی غیر مسلم جامع مسجد دہلی سے بستی نظام الدین تک یکے (گھوڑا گاڑی) میں ساتھ بیٹھتا تو نظام الدین پہنچنے تک وہ مسلمان ہو چکا ہوتا، ان کے ہاتھ پر ہزارہا غیر مسلم دولتِ ایمان سے سرفراز ہوئے۔
فرمایا ایک بار ہم لوگ (مولانا الیاسؒ، میاں جی عبد الرحمٰنؒ اور مولانا سعید احمد خانؒ) میوات میں پیدل سفر کر کے کسی بستی میں جا رہے تھے، راستے میں کچھ میواتی بھی سفر کر رہے تھے، میاں جی نے ان میواتیوں کو آواز دی اور کہا، اے میوؤ، تم فاتحہ دلواؤ۔ اس دور کا میوات شرک و بدعات کی رسوم میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، ہاں کیوں نہیں۔ پوچھا، فاتحہ کون پڑھے؟ کہنے لگے ہمارا میاں (یعنی مکتبی مولوی) پڑھے۔ فرمایا، باپ دادا تو اس کے بھی مرے ہیں، کیا پتہ وہ چپکے سے اپنوں کو بخش دیتا ہو۔ پھر کہا گنجی (گڑ چاول کا خاص میواتی کھانا) تمہاری گئی اور ثواب اس نے اپنے باپ دادا کو بخش دیا۔ اس طرح پہلے انہیں شبہے میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا، یہ بتاؤ کھیر اس کا، دودھ گڑ چاول تمہارے یا میاں جی کے؟ کہنے لگے وہ تو سب ہمارے ہیں۔ فرمایا، جب دستر خوان پر میاں جی کا کچھ ہے ہی نہیں تو وہ کیا بخشتا ہے؟ وہ تو تم بخشو (یعنی نیت کرو) جن کا ہے۔ سادہ دل میواتی کہنے لگے، سمجھ میں آگیا۔ اب ہم رسمی فاتحہ نہیں دلوائیں گے۔ پھر میاں جی عبد الرحمٰن نے مولانا سعید احمد خانؒ سے مخاطب ہو کر فرمایا، تم مولوی اگر ان سے بات کرتے تو کہتے بدعت ہے۔ اور وہ کہتا وہابی ہے، اور وہیں جھگڑا اور مناظرہ شروع ہو جاتا۔
مناظروں سے وحشت و تنفر
مولانا سعید احمد خان رحمۃ اللہ علیہ بار بار فرماتے، بھائی ہمیں حکمت اور لوگوں کو اپنا بنانا نہیں آتا۔ حضرت مولانا الیاسؒ کو اللہ تعالیٰ نے خاص حکمت دی تھی۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے اخلاقِ عالیہ عطا فرمائے تھے جن کی بدولت وہ لوگوں کو اپنا بنا لیا کرتے تھے۔ مولانا الیاسؒ رسمی مناظروں کے سخت خلاف تھے، فرمایا کرتے تھے کہ ان مناظروں سے اصلاح نہیں ہوتی، عناد بڑھتا ہے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ دعوت سے دل جڑتے ہیں اور مناظرے سے دل پھٹتے ہیں۔ فرمایا، مولانا الیاسؒ ایک بار کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک شخص کو دعوت دینی شروع کر دی۔ کسی نے آپ سے کان میں کہا یہ شخص تو شیعہ ہے۔ فرمایا کلمہ تو پڑھتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو مانتا ہے، یہ کہہ کر اس سے لپٹ گئے کہ میرا مسلمان بھائی ہے۔ وہ شخص شیعوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ مولانا الیاسؒ کے طرز عمل سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ساری زندگی جب کوئی مولانا الیاسؒ کے متعلق پوچھتا تو وہ کہتے، وہ خدا کے خاص الخاص مقرب بندے ہیں، ہو سکے تو ان کی خدمت میں ضرور جاؤ۔ یہی حال مولانا سعید احمد خانؒ کا تھا، جو ایک بار آپ کی مجلس میں بیٹھ جاتا، ہمیشہ کے لیے آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔
حضرت مولانا سعید احمد خانؒ فرمایا کرتے تھے حق کے دلائل غیب کے ہیں جو ہر ایک کے جلدی سمجھ میں نہیں آنے کے، اور باطل کے دلائل مشاہدے کے ہیں جو عوام کو فورًا سمجھ میں آجاتے ہیں۔ اگر بات مناظروں تک ہی رہے تو عوام کے دلوں پر اہلِ باطل (اہلِ بدعات) کی بات ہی حاوی رہے گی۔ وہ تو حق کی محنت ہے جو باطل کو مٹا دے گی۔ غرض مولانا سعید احمد خانؒ نے برس ہا برس تک اس صدی کے سب سے بڑے داعی الی اللہ حضرت مولانا الیاسؒ کی صحبت اٹھائی۔ ان سے دعوت کی حکمت سیکھی اور ان کے فیضِ تربیت سے کندن بن کر نکلے۔ آپ پر دعوت کا ایسا رنگ چڑھا کہ زندگی کا مقصدِ وحید ہی امت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت و طریقہ (دعوت و اتباعِ سنت) پر لانا بن گیا۔ اور آپ مولانا الیاسؒ کے دامن سے اس طرح وابستہ ہوئے کہ ’’من تو شدم تو من شدی‘‘ کے مصداق بن گئے۔
سادگی اور جفاکشی
حضرت مولانا سعید احمد خانؒ کو عیش و آسائش سے وحشت اور فقر و زہد سے رغبت تھی۔ سادگی اور زہد مولانا کی طبیعتِ ثانیہ بن گئی تھی۔ شروع زندگی میں اپنے گاؤں میں جو لباس، کھانا اور معاشرت تھی وہی آخر وقت تک برقرار رہی۔ وہی موٹا چھوٹا لباس، وہی سخت جوتا جو آپ کے گاؤں سے بن کر آتا تھا۔ مدینہ منورہ میں چند سال پہلے تک مولانا کی رہائش کچی مٹی کی بنی دیواروں کے سادہ سے مکان میں تھی۔ فرمایا کرتے تھے جسم کی بہت ساری بیماریاں جدید فیشن کی پختہ عمارتوں میں رہنے کی وجہ سے ہیں، مدینہ منورہ میں ہمارے گھر کی دیواریں مٹی کی ہیں اور تین چار فٹ چوڑی ہیں جو خودبخود سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں سرد رہتی ہیں۔ کھانا انتہائی سادہ تناول فرماتے، تنعم و آسائش کے نقشوں سے بہت ڈرتے اور اسے بڑا فتنہ سمجھتے۔ فرماتے دشمنانِ اسلام نے سازش کے تحت ہمیں سادگی اور جفاکشی سے ہٹا کر آرام طلب زندگی کا عادی بنا دیا ہے تاکہ ہم جہاد اور دین کی محنت کے قابل نہ رہیں۔
خوبصورت و عالی شان اور مزین مساجد میں جاتے تو ملول اور رنجیدہ رہتے۔ یہاں (انگلینڈ میں) لوٹن اور برمنگھم میں مرکز کی مساجد بننے سے پہلے عارضی طور پر نماز کے لیے سادہ سا ہال بنا دیا گیا تھا۔ مولانا ان سادہ سی مساجد کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ فرمایا، یہاں نماز میں خوب دل لگا ہے، کاش یہ مسجد ہمیشہ اسی طرح رہے، مگر تم لوگ ہماری بات کہاں مانو گے۔ بھارت کی ایک بستی میں لوگ دینی جامعہ کی شاندار عمارتیں دکھانے لے گئے، فرمایا تم میرے پاس مکہ مکرمہ آؤ، میں تمہیں اس سے بڑھ کر عالی شان عمارتیں دکھاؤں گا۔ مجھے تو یہ بتاؤ کہ طلبا میں تقوٰی کتنا بنا ہے؟ اگر ایک وقت کا کھانا نہ ملے تو کتنے طلبا مدرسے میں رہیں گے؟ مولوی فاروق صاحب کراچی والوں کے یہاں دینی اجتماع اور پیٹ کے آپریشن کے سلسلے میں چند ہفتے رکنا پڑا تو خط لکھا جلدی سے بھاگ آؤ، جتنا کھا پی لیا وہی بہت ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہاں کی آسائش و راحت کے نقشے ہمارے آدمی کو بگاڑ نہ دیں۔
ایک بار ایک عرب ملک میں ایک ساتھی کا نرم و عمدہ بستر دیکھ کر فرمایا، آدھی بات امریکہ کی صحیح ہے، آدھی بات روس کی صحیح ہے۔ بندہ نے عرض کیا کہ سمجھ میں نہیں آیا، تو فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو مال دیا ہے وہ عیش کرنے کے لیے نہیں دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس مال و دولت کے خرچ کے لیے آٹھ مصارف بنا دیے کہ یہاں خرچ کرو۔ جب مسلمان نے مال و دولت کو اپنے کھانے، کپڑے، سواری اور رہائش کے اعلیٰ سے اعلیٰ بنانے پر لگا دیا تو اس نے آٹھ لوگوں کا حق مارا۔ ان آٹھ کا ساتھی روس ہے کہ مال دار کا مال صرف اس کے عیش و راحت کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے۔ روس کی یہی آدھی بات صحیح ہے۔ آگے جو روس کہتا ہے کہ مال دار کا پیٹ پھاڑ کر سر پھوڑ کر زبردستی چھین لو، اس کی یہ آدھی بات غلط ہے۔ امریکہ کی یہی آدھی بات صحیح ہے کہ زبردستی مال چھین کر لینے کا حق نہیں ہے۔ امریکہ کی دوسری آدھی بات غلط ہے کہ انسان کو جتنا مال ملے سب کو اپنے عیش و عشرت پر خرچ کرو۔ فرمایا، مسلمان کے مال کے خرچ کے غلط ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اس پر دو عذاب مسلط کر دیے یعنی ایک کمیونزم اور دوسرے سرمایہ داری۔
علماء کی قدردانی و اکرام
آپ اہلِ علم اور طلبا کی بڑی قدر اور ان سے محبت فرماتے۔ ان سے ایسے گھل مل جاتے گویا گھر کے اصل لوگ یہی ہوں۔ مولانا کی خدمت میں تبلیغی کام کی نسبت سے جو علما پہنچتے ان سے بہت جلد بے تکلف ہو جاتے۔ اس کی کوشش فرماتے کہ ان کی علمی ترقی بھی ہو، مطالعہ و تحقیق کی عادت پڑے۔ جن علما کرام کو مطالعے کا عادی پاتے، ان کی خصوصی رعایت فرماتے، اور بسا اوقات ان سے علمی تحقیق کا کام بھی لیتے۔ عام طور پر سفر و حضر میں مولانا کے ساتھ کوئی ایسے عالم ضرور ہوتے جن کے ذمے مختلف احادیث و واقعات کی تخریج و جستجو و تلاش لگاتے، ان کی محنت پر خوب ہمت افزائی فرماتے، بعض اوقات خوش ہو کر انعام بھی دیتے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ قیام کے دوران حج و عمرہ کے لیے آئے ہوئے علما کی خصوصی دعوتیں کرتے۔ حج کے دنوں میں دعوت کا اہتمام عموماً جمعہ کے دن ہوتا۔ علما کے لیے کھانے اہتمام سے تیار کرواتے، کھانے کی مجلس علمی مذاکرے کی مجلس بن جاتی۔ صحابہ کرامؓ اور اکابر کے واقعات سناتے اور کوشش فرماتے کہ ان میں عوام پر دین کی محنت کا جذبہ پیدا ہو۔ فرماتے کہ امام کا اپنے نمازیوں سے ایسا دلی تعلق ہونا چاہیے جیسا خاندان کے سربراہ کا اپنی آل و اولاد سے ہوتا ہے۔ صرف نماز پڑھا کر امام کی ذمہ داری پوری نہیں ہو جاتی بلکہ نمازیوں کی خبر گیری، بیمار ہو جائیں تو عیادت کرنا، ان کی تعلیم و تربیت کی فکر کرنا، ان کے اپنی دنیاوی و معاشرتی مسائل کی فکر کرنا بھی امام کی ذمہ داری ہے۔ ان مجالس میں علما بے تکلفی سے اشکالات پیش کرتے اور مولانا دلائل سے جواب مرحمت فرماتے۔
تواضع اور کسرِ نفسی
حضرت مولانا کی تواضع اور کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی تنقید بھی قبول فرماتے۔ اس دور میں یہ چیز بالکل نایاب ہو گئی ہے۔ چند سال پہلے کی بات ہے، لندن تبلیغی مرکز کے خصوصی کمرے میں بندہ ملاقات کے لیے پہنچا۔ دیکھا مولانا کی پاکستانی جماعت کے رفقا اور انگلینڈ کے متعدد اہلِ شورٰی تشریف فرما ہیں اور کوئی چیز پڑھی جا رہی ہے۔ سنا تو پتہ چلا کہ کسی بیاض (کاپی) میں سے مبشرات پڑھے جا رہے ہیں۔ یعنی کسی جماعت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی، خواب میں حضرت مولاناؒ کو حضورؐ کے ہمراہ دیکھا وغیرہ وغیرہ۔ چند منٹ بعد بندہ نے عرض کیا، حضرت! آپ کی مجلس میں اس طرح مبشرات سننا سنانا مناسب نہیں۔ آپ یہ مبشرات بعض بزرگوں کے لیے، خلفاء کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ بزرگ الٹے سیدھے خواب دیکھتے ہیں اور انہیں چھاپ کر یہاں ہمیں ابتلا میں ڈالتے ہیں۔ سنا ہے حضرت مولانا الیاسؒ نے دعا مانگی تھی ’’اے اللہ! ہمارے اس کام کو مبشرات اور کرامات پر مت چلانا‘‘۔
یہ سننا تھا کہ اسی وقت حضرت مولانا نے بیاض بند کر دی۔ فرمایا، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان مبشرات سے دل کو تقویت پہنچتی ہے، مگر یہ پہلو بھی قابلِ لحاظ ہے بلکہ زیادہ اہم ہے، اس سے کئی فتنے پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے عمومی طور پر مبشرات کے سننے سنانے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
اسی طرح ایک بار انگلینڈ کے سالانہ اجتماع کے اختتام پر ڈیوزبری میں مختلف شہروں کی مساجد والی جماعتوں کے (روزانہ ڈھائی گھنٹے فارغ کرنے والے) احباب جمع تھے، ان میں حضرت مولاناؒ نے بیان شروع فرمایا۔ کچھ دیر کے بعد فرمایا، ہمیں اپنی قربانی کی مقدار کو بڑھانا چاہیے، روزانہ اڑھائی گھنٹے سے بڑھا کر آٹھ گھنٹے فارغ کرنے چاہئیں۔ بندہ بیان کے درمیان بول پڑا، حضرت! یہ آپ رہبانیت کی دعوت دے رہے ہیں، اگر ایک شخص روزانہ آٹھ گھنٹے فارغ کر لے، اس کے بعد عصر سے اشراق تک، جمعرات کا اجتماع، مہینے کے تین دن، سال کا چلہ، جماعتوں کی نصرت، یہ سب ملا کر نصف سے زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ رہبانیت ہے۔
ہم میں سے ہر شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچے اگر یہ واقعہ ہمارے ساتھ بھرے مجمع میں پیش آتا تو ہمارا کیا ردعمل ہوتا؟ بندہ کم از کم اپنی بابت کہہ سکتا ہے کہ میرا نفس تو اسے برداشت نہ کرتا، نہ جانے کیا کہہ دیتا۔ مگر حضرت مولانا نے مجھ جیسے معمولی طالب علم کی بات توجہ سے سنی اور قبول فرمائی۔ بعد میں مجھے اپنی اس حماقت پر سخت ندامت و افسوس ہوا کہ مجھے یہ اشکال تنہائی میں عرض کرنا چاہیے تھا۔ مگر واہ مولانا سعید احمد خانؒ، کیا بے نفسی کی انتہا ہے کہ پورے سکون و بشاشت سے اشکال سن رہے ہیں اور قبول فرما رہے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ کیا مولانا کے بعد اس کی مثال مل سکے گی؟
؏ اس کوہ کن کی بات گئی کوہ کن کے ساتھ
آپ کی مجلس کے علمی منافع
آپ کی مجلس نہایت باوقار، نصیحت آموز اور علمی منافع کی حامل ہوتی۔ آپ اکثر سکوت و تفکر کی حالت میں ہوتے۔ مجلس لایعنی باتوں، سیاست، حالاتِ حاضرہ پر تبصروں، کسی فرد یا جماعت پر حرف گیری، ابتذال اور استہزا سے بالکل منزہ ہوتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ ایک روحانی مجلس ہے جس پر فرشتوں نے نورانی چادر تانی ہوئی ہے۔ رفقا کی علمی تربیت و ترقی کے لیے مولانا کا ایک خاص طرز یہ تھا کہ کبھی کبھی مجلس میں موجود علما و طلبا سے سوالات فرماتے۔ اس طرح ان میں مطالعہ و تحقیق کا ذوق ابھارتے۔ اکابرین خصوصاً حضرت مولانا الیاسؒ کے بے شمار واقعات سناتے لیکن استشہاد قرآن و سنت اور حضرات صحابہؓ کے واقعات سے کرتے۔ آپ کی مجلس میں لوگ سوالات کرتے اور آپ نہایت بشاشت سے ہر قسم کے سوالات کے جواب مرحمت فرماتے۔
تبلیغی جماعت میں حضرت مولانا ایسی شخصیت تھے کہ جن سے تبلیغ کے متعلق بھی آزادی سے سوالات کیے جا سکتے تھے۔ آپ نہایت بشاشت سے جواب مرحمت فرماتے۔ بندہ نے عرض کیا بعض تبلیغ والے بیان کرتے ہیں کہ ہر پیر اور جمعرات کو امت کے اعمال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں، احادیث سے اس کا ثبوت ہے؟ فرمایا، میری نظر سے نہیں گزرا البتہ جمعہ کے بارے میں ایک روایت نظر سے گزری ہے کہ اللہ کے حضور میں اعمال پیش ہوتے ہیں۔
پھر بندہ نے عرض کیا کہ جماعت کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع میں حضورؐ کے ارشاد فلیبلغ الشاھد الغائب کے بعد صحابہ کرامؓ وہیں سے دنیا بھر میں پھیل گئے اور لاکھوں صحابہ کرامؓ میں سے صرف دس ہزار کی قبریں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں ہیں۔ فرمایا، وہاں سے تو ایک بھی نہیں گیا تھا، رہا قبروں کا معاملہ تو اول تو سارے صحابہؓ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے رہنے والے نہیں تھے اور مقبروں کی تعداد کس نے گنی ہے؟ البتہ یہ صحیح ہے کہ بہت سے صحابہ کرامؓ جہاد اور تجارت وغیرہ کے سفروں میں گئے اور دنیا بھر میں مدفون ہیں۔
شبِ عید ہے، مولانا رفقا کو ہدایات دے رہے ہیں کہ یہاں (مدینہ منورہ) کی عید کی نماز بالکل اول وقت میں ہوتی ہے، تمہیں تو شبہ ہو گا کہ ابھی تو اشراق کا وقت بھی ہوا کہ نہیں، اور نمازِ عید ہو جائے گی۔ اس لیے تہجد کی نماز مسجد نبویؐ میں پڑھ کر اپنی اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہنا اور جتنی بار امام تکبیر کہے تم بھی کہتے رہنا۔ (مدینہ منورہ میں تکبیرات زوائد کی تعداد نو یا تیرہ ہوتی ہے)۔ ایک مولوی صاحب نے دریافت کیا، حضرت! عید کا مصافحہ تو ثابت نہیں ہے۔ فرمایا، میاں یہ مسئلے تم اپنے ملکوں میں رکھو، یہاں تو مصافحہ و معانقہ سے بھی آگے بہت کچھ ہو گا (یعنی پیشانی اور شانوں کا بوسہ)۔ وہ عجیب دن تھے، محفلِ پیر مے خانے کے دم سے پر رونق رہتی۔ ساتھ ہی ایسا علمی و عملی دعوتی ماحول بنتا کہ چند دنوں میں انسان کو آخرت کی فکر پیدا ہو جاتی اور بقدرِ استعداد ہر شخص پر دین کی محنت و دعوت کا رنگ چڑھ جاتا۔
اعتدال و جامعیت
آپ دین کے دوسرے شعبوں میں مشغول علما کی پوری قدر و منزلت فرماتے۔ ہر طبقے اور ہر شعبے سے متعلق علما و مشائخ کثرت سے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ ہندوپاک کے کتنے ہی علما و مشائخ ہیں جن سے بندہ پہلی بار حضرت مولانا کی مجلس میں متعارف ہوا۔ اسی طرح بندہ بہت سے ایسے علما و مشائخ کو جانتے ہے جو بوجوہ تبلیغی جماعت اور کام سے دور اور وحشت زدہ ہیں، مگر وہ حضرت مولانا سعید احمد خانؒ کو اللہ کا خصوصی مقرب بندہ اور ولیٔ کامل سمجھتے ہیں، حضرت مولانا کے اخلاقِ عالیہ و صفاتِ جلیلہ کے آگے سر جھکا دیتے ہیں، فرماتے ہیں بھائی! مولانا سعید احمد خانؒ کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں، وہ اللہ کے مخصوص بندے اور کامل ولی ہیں، ان کی ہستی خدا کا خصوصی انعام ہے۔ حضرت مولانا مرحوم کی وسعتِ قلبی کا یہ عالم تھا کہ لندن تشریف آوری کے موقع پر متعدد بار بندہ سے فرمایا، اہلِ حدیث، جماعتِ اسلامی اور بریلوی اکابر کے پاس ملاقات کے لیے لے چلو۔ پاکستان میں تبلیغی جماعت کی نقل بلکہ مقابلے پر مولوی الیاس قادری نے کچھ عرصے سے ایک سنی تبلیغی جماعت شروع کر رکھی ہے، حضرت مولانا نے کئی بار ان سے ملاقات کا واقعہ سنایا۔ حضرت مولانا، مولوی الیاس قادری صاحب سے ملنے خود تشریف لے گئے۔
حضرت مولانا کے مزاج میں عجیب جامعیت تھی۔ آپ کسی بھی دینی شعبے کی ناقدری یا اس کی اہمیت کم کرنے کو برداشت نہیں فرماتے تھے۔ فرماتے، اگر اخلاص ہو تو دین کا کوئی کام بھی چھوٹا نہیں ہے۔ ساتھیوں کے بیان میں اگر کوئی ایسی بات محسوس فرماتے تو فورًا تنبیہ فرماتے۔ ایک بار ایک مولوی صاحب نے دعوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے غیر شعوری طور پر علم یا ذکر کے شعبے کا اس طرح ذکر کر دیا جس سے ان کے دعوت سے کم تر ہونے کا پہلو نکل سکتا تھا۔ فورًا بلا کر فرمایا کہ بعض مقررین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ آپ کے فضائل میں حضرات انبیاء علیہم السلام سے تقابل کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر حضورؐ کی سیرت و فضیلت کے بیان میں کسی بھی نبی میں نقص کا شائبہ بھی پیدا ہوا تو اس کے یہ معنٰی ہوا کہ نعوذ باللہ ہمارے نبیؐ ناقص نبیوں کے سربراہ و امام تھے۔ چاہیے کہ ہر نبی کا کمال و فضیلت ثابت کر کے پھر یہ ثابت کریں کہ ہمارے نبی ایسے کاملین اور فضیلت مآب گروہ کے سردار اور امام ہیں۔ اسی طرح بعض مقررین دعوت کی اہمیت اس طرح بیان کرتے ہیں جس سے علم یا ذکر کی تنقیص مترشح ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ علم و ذکر کی پوری اہمیت و فضیلت بیان کریں، پھر کہیں کہ ایسے اوصاف والے لوگ دعوت میں لگیں تو نور علیٰ نور ہو جائے گا، دعوت کے کام کے اصل حقدار تو یہی لوگ ہیں۔
حضرت مولانا جیسی جامع الصفات ہستی کا اٹھ جانا امت کے لیے سخت ابتلا و آزمائش ہے، خصوصاً تبلیغی جماعت کے لیے۔ اب آہستہ آہستہ محسوس ہونے لگا ہے کہ تبلیغی جماعت کے بعض ذمہ داروں میں دین کے دوسرے شعبوں کی بے وقعتی پیدا ہو رہی ہے اور کسی قدر کام میں غلو بڑھ رہا ہے اور علما کی ناقدری روزافزوں ہے۔ ایسے وقت میں مولانا جیسی دین کے ہر شعبے کی قدردان اور معتدل مزاج ہستی کا دنیا سے اٹھ جانا تبلیغی جماعت کا سخت نقصان ہے۔ یوں تو اس قحط الرجال کے دور میں جو بھی شخصیت اٹھتی ہے اپنی جگہ خالی چھوڑ جاتی ہے، حضرت مولانا کی وفات سے تبلیغی جماعت کا ایک زریں دور ختم ہو گیا ہے۔
پروفیسر خالد ہمایوں کا مکتوب
پروفیسر خالد ہمایوں
لاہور
۱۵ اگست ۲۰۰۱ء
مدیر محترم ’’الشریعہ‘‘
السلام علیکم
’’الشریعہ‘‘ باقاعدگی سے مل رہا ہے، بہت شکریہ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے فہم دین میں مزید اضافہ فرمائے۔ ’’الشریعہ‘‘ مواد اور پیش کش کے اعتبار سے بہت بلند ہو گیا ہے۔ سنجیدہ فکری جریدے کے یہی نین نقش ہونے چاہئیں۔ یہ جو آپ نے دوسرے حلقہ ہائے فکر کے بارے میں کافی صلح پسندانہ رویہ رکھا ہوا ہے تو یہ امر قابلِ تحسین ہے، اس کی آج بہت ضرورت ہے۔ اگست کے شمارے میں امریکی نائب وزیر خارجہ کے دورۂ پاکستان پر آپ نے فکر انگیز اداریہ تحریر کیا ہے۔ عمار خان ناصر کا مضمون ’’غیر منصوص مسائل کا حل‘‘ اس حوالے سے پسندِ خاطر ہوا کہ اس میں جدید ترین مسائل کا نہایت سلاست کے ساتھ دینی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے۔
مدیر محترم! یوں تو ہمارا معاشرہ مسائلستان بنا ہوا ہے اور سب مسائل کا احاطہ کرنا ناممکن ہے، لیکن میرے خیال میں اگر آپ دو مسئلوں پر علما اور دانشور حضرات سے مسلسل کچھ لکھواتے رہیں تو بہت مفید ہو گا۔
ایک تو یہ کہ ہمارے ہاں جادو ٹونے کے اڈے گلی گلی میں کھل گئے ہیں، ان کی وجہ سے بے شمار گھر تباہ اور برباد ہو گئے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے میں نے ٹی وی پر ایک نابینا بچے کی گفتگو سنی، وہ قرآن کا حافظ تھا، اس سے پوچھا گیا کہ کیا تم پیدائشی طور پر نابینا ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ میری نظر بالکل ٹھیک تھی، محلے کی کسی عورت نے اپنے بچے کی صحت یابی کے لیے جادو ٹونہ کروایا اس کا اثر مجھ پر یوں پڑا کہ میری بینائی جاتی رہی لیکن اس کا بچہ صحت یاب ہو گیا۔ کئی سال سے میں خود بھی ایسے اثرات کا سامنا کر رہا ہوں۔ اس حوالے سے جو کچھ میں نے دیکھا اور سنا، اس پر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہمارے معاشرے کو یہ کتنا اذیت ناک روگ لگا ہوا ہے لیکن کسی طرف سے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی۔ ہم کس قدر بے حس اور سنگ دل ہو گئے ہیں۔ ہم تیزی سے زوال کی نشانیاں قبول کر رہے ہیں لیکن احساس تک نہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ پاکستان کے امیر طبقے کا ہے۔ میرا خیال ہے اسلام اجازت تو نہیں دیتا کہ طبقاتی منافرت پیدا کی جائے لیکن عملاً یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہی ہے کہ چند نہایت با اختیار اور نہایت امیر طبقے ساری قوم کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے چلے جا رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ امیر طبقے میں کچھ خدا ترس لوگ بھی ہیں لیکن کثیر تعداد ایسے لوگوں ہی کی ہے جن کے دلوں اور دماغوں پر زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرنے اور اپنے رہن سہن کو زیادہ سے زیادہ پرتعیش بنانے کا بھوت بری طرح سوار ہے۔ اس معاملے میں وہابی، سنی، مقلد، غیر مقلد، شیعہ، سیکولر یا اسلام پسند کی کوئی تخصیص نہیں، الا ما شاء اللہ۔ تمام تاجر اور صنعت کار لوگ تقریباً ایک جیسی ذہنیت اور طرزعمل رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے حقوق اور مفادات کے لیے اکٹھے بیٹھتے، کھاتے پیتے اور منصوبے بناتے ہیں۔ یہ دیکھ رہے ہیں کہ نوجوان نسل کے لیے آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہو رہے ہیں، خودکشیاں بڑھتی جا رہی ہیں، ڈکیتیوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں، کئی کئی کنالوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیوں سے ڈاکو کئی کئی سو تولے زیور، بانڈز اور قیمتی پارچہ جات لے کر راہِ فرار پکڑتے ہیں۔
مدیر محترم! مجھے تو فرقہ واریت کی بھڑکتی ہوئی آگ کے پیچھے سراسر اقتصادی محرکات ہی نظر آتے ہیں۔ بالائی طبقوں کو پھیلتے ہوئے اسلحہ پر بہت تشویش ہے، انہیں خطرہ رہتا ہے کہ کہیں یہ اسلحہ بردار لوگ سیدھے سیدھے ان کی کوٹھیوں کے اندر نہ آجائیں اور حضرت ابوذرغفاریؓ کا وہ سوال ان کی زبانوں پر نہ ہو کہ تم نے یہ اتنی دولت کہاں سے لی ہے؟
مدیر محترم! آپ جانتے ہی ہوں گے کہ قرنِ اول کے مسلم معاشرے میں جب اونچے اونچے مکانات بننے لگے تھے اور لوگ ذرا با سہولت زندگی بسر کرنے لگے تھے تو حضرت ابوذرغفاریؓ نے کتنا احتجاج کیا تھا۔ میں نے ابھی جادو ٹونے کا ذکر کیا ہے، دیکھا جائے تو اس کاروبار کو بھی مستحکم کروانے والے یہی دولت مند لوگ ہیں، انہی کی پالیسیوں کے نتیجے میں دولت چند ہزار گھرانوں میں مرکوز ہو گئی ہے اور باقی معاشرہ تنگ نظری، کمینگی، حسد اور کڑھن کی آگ میں جل رہا ہے۔
میری تجویز ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ میں ایسی تحریریں زیادہ سے زیادہ شائع کریں جن میں ان طبقوں کو سمجھایا جائے کہ وہ دولت کے حصول کے ذرائع بھی ٹھیک کریں اور دولت کی نمائش سے بھی گریز کریں۔ حضرت مولانا سرفراز صاحب نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی خواب میں زیارت کا واقعہ لکھا ہے، میری ان سے التماس ہے کہ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ اگر وہ حضرت مسیح علیہ السلام پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو اس پر لکھیں کہ اس وقت جناب مسیح کو یہ کیوں کہنا پڑا تھا کہ میں بتاتا ہوں کہ تمہارے پیٹوں میں کیا ہے اور گھروں میں کیا بچا کے آئے ہو۔ بعض علما اس واقعہ سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی غیب دانی ثابت کرتے ہیں حالانکہ حضرت عیسٰی کا مطلب یہ تھا کہ میں جانتا ہوں کہ جو حرام تمہارے پیٹوں میں ہے اور جو کچھ تم گھروں میں ذخیرہ کر کے آئے ہو۔ یہی بات اس طبقے کے لیے تکلیف دہ تھی اور اسی وجہ سے وہ حضرت عیسٰی کے درپے آزار ہو گئے تھے۔
دراز نفسی کی معافی چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو دین کی خدمت کے لیے اور زیادہ توفیق اور ہمت سے نوازے۔
والسلام، خیر اندیش
خالد ہمایوں
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ پنجابی
یونیورسٹی اورینٹل کالج، لاہور
ملک بھر کے علماء کرام و ائمہ مساجد سے اپیل
نمازِ فجر میں قنوتِ نازلہ کا اہتمام کیجئے
مولانا فداء الرحمٰن درخواستی
محترمی علماء کرام و ائمہ مساجد، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امارتِ اسلامی افغانستان سمیت پورے عالمِ اسلام بالخصوص دینی حلقوں کو عالمی کفر و استعمار بالخصوص امریکہ اور اس کے حواریوں کے معاندانہ طرزعمل کی وجہ سے درپیش سنگین صورتحال کے پیش نظر جناب رسآلتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نمازِ فجر میں قنوتِ نازلہ پڑھنے کا اہتمام فرمائیں اور عام دعاؤں میں بھی اپنے مظلوم بھائیوں اور مجاہدین کو مسلسل شریک رکھیں۔
قنوتِ نازلہ
نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد قومہ کی حالت میں امام صاحب یہ دعا بلند آواز سے پڑھیں اور مقتدی ہر جملہ پر آہستہ آمین کہیں۔
اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ وَ عَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ وَ تَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیْتَ وَ بَارِکْ لَنَا فِیْ مَا اَعْطَیْتَ وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَ لَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ وَ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَیْتَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نَتُوْبُ اِلَیْکَ اَللّٰھُمَّ انْصُرِ الْاِسْلَامَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اَیِّدِ الْاِسْلَامَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ انْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَاجْعَلْنَا مِنْھُمْ وَاخْذُلْ مَنَ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ لَا تَجْعَلْنَا مِنْھُمْ اَللّٰھُمَّ اَنْجِ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنْ اَھْلِ اَفْغَانِسْتَانَ وَ کَشْمِیْرَ وَ فَلَسْطِیْنَ وَ الشِّیْشَانِ وَ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ اَللّٰھُمَّ اخْذُلِ الْکَفَرَۃَ وَالْھُنُوْدَ وَ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْاَمْرِیْکِیِّیْنَ وَ مَنْ وَّالَاھُمْ مِنَ الْکَافِرِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ اَللّٰھُمَّ اشْدُدْ وَطْاَتَکَ عَلَیْھِمْ اَللّٰھُمَّ شَتِّتْ شَمْلَھُمْ اَللّٰھُمَّ فَرِّقْ جَمْعَھُمْ اَللّٰھُمَّ دَمَّرْ دِیَارَھُمْ اَللّٰھُمَّ زَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ اَللّٰھُمَّ فُلَّ حَدَّھُمْ اَللّٰھُمَّ خُذْھُمْ اَخْذَ عَزِیَزٍ مُّقْتَدِرٍ وَاَنْزِلْ بِھِمْ بَاْسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔
ترجمہ: ’’اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کو تو نے ہدایت دی، جن کو تو نے عافیت بخشی اور جن کو تو نے اپنا دوست بنایا۔ جو کچھ تو نے ہمیں دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور اپنی قضا کے شر سے ہمیں محفوظ فرما۔ کیونکہ تیرا ہی فیصلہ چلتا ہے اور تیرے خلاف کسی کا فیصلہ نہیں چل سکتا۔ یا اللہ! جس کا تو دشمن ہو جائے وہ عزت نہیں پا سکتا اور جس کا تو دوست بن جائے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا۔ تیری ذات نہایت بلند اور بابرکات ہے۔ ہم تیری مغفرت چاہتے اور تیری طرف توبہ کرتے ہیں۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کی نصرت فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کی تائید فرما۔ اے اللہ! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی نصرت کرتے ہیں ان کی نصرت فرما اور ہمیں بھی ان میں شامل فرما۔ اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی نصرت نہیں کرتے ان کی نصرت نہ فرما اور نہ ہمیں ان میں شامل فرما۔ اے اللہ! افغانستان، کشمیر، فلسطین، چیچنیا اور ہر جگہ کے کمزور مسلمانوں کو نجات عطا فرما۔ اے اللہ! کفار، ہنود، یہود، نصارٰی، مشرکین اور امریکیوں اور ان کا ساتھ دینے والے تمام کفار اور منافقین کو رسوا فرما دے۔ اے اللہ! ان کو سختی سے کچل دے۔ یا اللہ! ان کی جمعیت کو منتشر اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے۔ یا اللہ! ان کے گھروں کو برباد کر دے۔ یا اللہ! ان کے پاؤں اکھاڑ دے۔ یا اللہ! ان کی دھار کو کند کر دے۔ یا اللہ! قدرت اور غلبے کے ساتھ ان کی گرفت فرما اور ان پر اپنا وہ عذاب نازل فرما جس کو تو مجرم قوم سے ہٹاتا نہیں۔ اور اللہ کی رحمتیں ہوں اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تمام آل اور اصحاب پر۔‘‘
والسلام، منجانب
(مولانا) فداء الرحمٰن درخواستی
امیر پاکستان شریعت کونسل
جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن، 1۔C۔11 نارتھ کراچی
ذکرِ الٰہی کی برکات
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
قرآن مجید میں ہے:
ولذکر اللّٰہ اکبر۔
’’اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔‘‘
نماز اللہ کے ذکر ہی کی ایک صورت ہے جس کے قیام کا حکم دیا گیا ہے۔ انسان کے اعمال کو اگر درجے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے بڑا درجہ ذکر کا ہے۔ حضور علیہ السلام کا فرمان ہے:
ما من شئی انجٰی من عذاب اللّٰہ من ذکر اللّٰہ۔
’’اللہ کے عذاب سے بچانے والی ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔‘‘
سورۃ الاحزاب میں اللہ کا فرمان ہے:
یا ایھا الذین امنوا اذکروا اللّٰہ ذکرًا کثیرًا (آیت ۴۱)
’’اے ایمان والو! اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو۔‘‘
سورۃ الانفال میں فرمایا:
واذکروا اللّٰہ کثیرًا لعلکم تفلحون (آیت ۴۵)
’’لوگو! اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔‘‘
یہ لسانی ذکر ہے جس میں قرآن کی تلاوت، تسبیحات، استغفار اور حمد و ثنا وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ ذکر کی عام صورت ہے۔ اس کے علاوہ قلبی ذکر بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کر کے اس کا شکر ادا کرنا قلبی ذکر ہے۔ حصن حصین کی ایک روایت میں ہے کہ
کل مطیع للّٰہ فھو ذاکر۔
’’ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگا ہوا ہے وہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہے۔‘‘
یعنی ہر نیکی کا کام انجام دینے والا آدمی ذاکر ہے۔ تاہم آسان ذکر زبان سے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنا ہے۔ ایک شخص نے حضور علیہ السلام سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:
ان تفارق الدنیا ولسانک ربط من ذکر اللّٰہ۔
’’تو ایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔‘‘
ایک موقع پر آپ علیہ السلام سفر میں جا رہے تھے کہ سامنے جمدان نامی پہاڑ آیا، آپ نے فرمایا:
سیروا ھذا جمدان سبق المفرّدون۔
’’یہ جمدان پہاڑ ہے اور مفرد لوگ سبقت لے گئے۔‘‘
پہاڑ کا ذکر آپ نے اس لیے کیا کہ پہاڑ اور شجر و حجر ہر چیز اللہ کا ذکر کرتی ہے۔ پھر صحابہؓ نے عرض کی حضرت! مفردون کون لوگ ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:
الذاکرون اللّٰہ کثیرًا والذاکرات۔
’’یعنی اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں۔‘‘