نومبر ۲۰۰۱ء

دنیا میں معاشی توازن قائم کرنے کا واحد راستہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نفاذِ شریعت کی ضرورت و اہمیتشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
عصرِ حاضر میں اسلام کی تعبیر و تشریحمولانا محمد عیسٰی منصوری 
فریاد نہیں ۔۔۔ دین کی دعوتڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری 
تفسیرِ کبیر اور اس کی خصوصیاتمحمد عمار خان ناصر 
امریکی اِکسپوژر کی نئی جہتیںپروفیسر میاں انعام الرحمن 
امریکی معاشرہ۔ سوچ میں تبدیلی کی جانب گامزنہَک گَٹمین 
ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا المیہ ۔۔ اصل گیمعبد الرشید ارشد 
امتِ محمدیہ کا امتیازحضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ 
شہید کا درجہشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 

دنیا میں معاشی توازن قائم کرنے کا واحد راستہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۶ اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ خوراک‘‘ منایا گیا اور اس سال اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’غربت کی کمی کے لیے بھوک سے لڑیں‘‘ کے عنوان سے اس موضوع پر مختلف تقریبات، مقالات، رپورٹوں اور خبروں کا اہتمام کیا گیا۔ عالمی سطح پر خوراک اور غربت کی صورت حال کے بارے میں ایک رپورٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں دنیا کی غریب اقوام اور غربت و ناداری کی زندگی گزارنے والے کروڑوں انسانوں کی حالتِ زار کے بارے میں اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ، افغانستان اور برونڈی اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ نیم فاقہ کش ملک شمار ہوتے ہیں اور دنیا میں کم و بیش نوے کروڑ انسان ایسے ہیں جنہیں صرف اس قدر خوراک میسر آتی ہے کہ وہ جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ ان میں سے ۸۰ کروڑ کے لگ بھگ لوگوں کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ عالمی ادارہ خوراک و زراعت کی اس رپورٹ میں جسے ’’سٹیٹ آف فوڈ ان سکیورٹی ان دی ورلڈ ۲۰۰۰ء‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ سخت قسم کی غذائی مشکلات کے حامل ممالک میں افغانستان، بنگلہ دیش، ہیٹی، عوامی جمہوریہ کوریا، صومالیہ اور برونڈی سمیت صحارا اور افریقہ کے ۱۶ دوسرے ممالک شامل ہیں جبکہ کم نوعیت کی غذائی محرومی کے شکار ممالک میں پاکستان اور بھارت بھی شمار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں خشک سالی اور جنگوں سے پیدا شدہ صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور غربت، خوراک کی کمی اور ناداری کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح کی کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کی تفصیلات و جزئیات کا احاطہ اس موقع پر ضروری نہیں ہے البتہ اس حوالے سے غربت، ناداری اور بھوک کے عالمی تناظر میں اصولی طور پر اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس غربت و ناداری اور بھوک و افلاس کے اسباب کیا ہیں اور ان اسباب کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح پر آج کے دور میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس کے بارے میں ایک نقطہ نظر یہ ہے اور آج کی بین الاقوامی قوتوں اور اداروں کی پالیسیوں کی بنیاد اسی نقطہ نظر پر ہے کہ آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے اور دنیا کے موجود اور میسر وسائل آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کا ساتھ نہیں دے رہے جس سے عدمِ توازن پیدا ہو گیا ہے اور بھوک اور غربت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آبادی میں اضافے کو روکا جائے اور انسانی آبادی میں شرحِ پیدائش کو خوراک اور دیگر وسائل میں اضافہ کی رفتار کے ساتھ منسلک کر کے کنٹرول میں لایا جائے۔

آبادی میں اضافے پر کنٹرول کی اس عالمی پالیسی سے جو معاشرتی خرابیاں جنم لے رہی ہیں اور پریشان کن مسائل پیدا ہو رہے ہیں، وہ اپنی جگہ پر مگر ان سے قطع نظر اسلامی نقطہ نظر سے اور معروضی حقائق کے حوالے سے سرے سے یہ بنیاد ہی غلط ہے اور محض ایک مفروضہ ہے جسے بہت سے جائز اور ناجائز مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ پوری کائنات کا خالق و مالک اور اسے چلانے والا اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت اور مصلحت کے ساتھ اس پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ سب انسان اسی نے پیدا کیے ہیں اور زمین میں ان کے لیے خوراک بھی اسی نے مہیا کی ہے۔ اسے انسانوں کی ضروریات اور زمین میں خوراک کے خزانوں کی مقدار کا علم ہے ۔ وہ انسانوں کی ضروریات سے غافل نہیں ہے اور نہ آبادی اور خوراک کے ذخائر میں توازن قائم رکھنا اس کے بس سے باہر ہے۔ اس نے ہر جاندار کی خوراک کا وعدہ کر رکھا ہے اور اس وعدہ کے مطابق وہ صرف انسانی آبادی نہیں بلکہ ہر جاندار مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق خوراک اور دیگر ضروریات مہیا کر رہا ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اس نے کسی کو پیدا کیا، اس میں روح ڈالی اور دنیا میں اس کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق خوراک مہیا نہیں کی کیونکہ یہ ظلم ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی سے ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو تین کا تذکرہ مناسب خیال کرتا ہوں۔

سورہ ہود کی آیت ۶ میں اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:

’’زمین میں رینگنے والا کوئی جانور ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو۔ وہ ہر جاندار کے عارضی اور مستقل ٹھکانے کو جانتا ہے اور یہ سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہے۔‘‘

سورۂ ابراہیم کی آیت ۳۴ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر وہ چیز دی جس کا تم نے اس سے سوال کیا‘‘

یہاں یہ اشکال سامنے آیا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انسانوں نے ان نعمتوں کا کوئی سوال تو نہیں کیا اور نہ اپنی ضروریات کی کوئی فہرست پیش کی تو مفسرینِ کرام نے کہا کہ یہاں سوال سے مراد زبانِ حال کا سوال ہے اور مشہور مفسر قاضی بیضاویؒ نے اس کا ترجمہ یوں کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر وہ چیز دی جو سوال کے قابل تھی‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے سوال کی ضرورت پیش آ سکتی تھی، وہ بغیر سوال کے مہیا فرما دی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسانی ضروریات کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دی ہیں اور کسی ضرورت کو ادھورا نہیں چھوڑا البتہ ان تک رسائی اور ان کے حصول کے لیے اسباب کا واسطہ بنا دیا اور حکم دیا کہ اسباب کے درجے میں محنت کر کے اپنی ضروریات کی چیزیں حاصل کر لو۔

سورہ حٰم السجدۃ آیت ۱۰ میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں بنایا اور پھر دو دن میں اس میں خوراک کے ذخیرے ودیعت کیے۔ اس سے آگے ایک جملہ ہے: سواء للسائلین۔حضرت حسن بصریؒ ، امام ابن جریر طبریؒ اور بعض دیگر مفسرین کرام اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھے گئے خوراک کے ذخیرے ’’ضرورت مندوں کی ضرورت کے مطابق ہیں‘‘ یعنی زمین کی پشت پر جتنی آبادی ہوگی، زمین کے پیٹ میں اس کی ضرورت کے مطابق خوراک موجود رہے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے نہ صرف جانداروں کی خوراک کی ذمہ داری اٹھائی ہے بلکہ خوراک کے ضرورت مندوں کی تعداد اور خوراک کے ذخائر کی مقدار کے درمیان توازن قائم رکھنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے اور یہ بات ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بات کا وعدہ کریں اور اسے اپنی ذمہ داری ٹھہرا لیں اور پھر نعوذ باللہ اس سے غافل ہو جائیں۔

اس لیے مسئلہ انسانی آبادی میں اضافے کی رفتار اور زمین میں خوراک کے ذخائر کی مقدار میں توازن کا نہیں ہے کیونکہ اس توازن کو قائم رکھنے اور ہر ضرورت مند کی ضرورت کے مطابق خوراک اور دیگر ضروریات مہیا کرنے کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے۔ مسئلہ اس سے آگے ہے جو اسباب سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں دو پہلو قابلِ توجہ ہیں: ایک یہ کہ زمین میں موجود خوراک کے ذخائر تک رسائی کس طرح ہو اور دوسرا یہ کہ ان کی تقسیم کا کیا نظام ہو؟ کیونکہ یہ دو باتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذمے کی ہیں اور انہیں انسان کی عقل اور دیانت کی آزمائش ٹھہرایا ہے۔ گڑبڑ اسی مقام پر ہے اور ہمیں اس گڑبڑ کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے تاکہ خرابی کے اصل مقام کا تعین ہو اور اسے دور کرنے کے لیے صحیح سمت میں کوشش کی جا سکے۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی فلاحی مملکت میں ہر کنبے کو اس کی ضرورت کے مطابق وظیفہ دیا جاتا ہو اور پندرہ بیس افراد کے ایک کنبے کے سربراہ کو اتھارٹی دی جائے کہ وہ اپنے کنبے کے افراد کی ضروریات کے لیے اتنی رقم سرکاری خزانے سے لے سکتا ہے مگر وہ اپنے کنبے کی ضرورت کی رقم سرکاری خزانے سے وصول کرنے میں بے پروائی کرتا ہے یا وہاں سے وصول کر لیتا ہے اور متعلقہ لوگوں پر خرچ کرنے کے بجائے ذاتی عیش و عشرت پر ضائع کر دیتا ہے تو اس کنبے کے افراد کو خوراک و لباس اور دیگر ضروریات نہ ملنے کی ذمہ داری اس فلاحی ریاست پر نہیں ہوگی بلکہ کنبے کا سربراہ اس بات کا مجرم ہوگا کہ اس نے رقم وصول نہ کر کے یا وصولی کی صورت میں بے جا تعیش پر صرف کر کے اپنے کنبے کے افراد کو بھوک، ناداری اور غربت سے دوچار کر دیا ہے۔

اسی طرح آج اگر دنیا میں کروڑوں انسان بھوک اور فاقہ کا شکار ہیں اور بہت سے ممالک اپنے عوام کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے سے قاصر ہیں تو اس کا قصور وار وہ نظام اور سسٹم ہے جس نے انسانی برادری کی عالمی سطح پر چودھراہٹ سنبھال رکھی ہے اور جس نے خوراک کے ذخائر اور دنیا کے مالی وسائل پر اجارہ داری قائم کر کے ان کی تقسیم کے تمام اختیارات پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ دنیا کے مالی وسائل اور خوراک کے ذخائر پر چند ممالک کی اجارہ داری اور ان کی تقسیم کے ترجیحی نظام کا کرشمہ ہے کہ ایک طرف امریکہ اپنی پیدا کردہ گندم کا ایک بہت بڑا حصہ زائد از ضرورت قرار دے کر سمندر میں پھینک دیتا ہے اور برطانیہ میں مارکیٹ کی قیمتوں میں توازن رکھنے کے لیے کچھ زمینداروں کو گندم کاشت کرنے سے سرکاری طور پر روکا جاتا ہے اور دوسری طرف غریب ممالک میں لاکھوں انسان بھوک سے مر جاتے ہیں۔ ایک طرف امیروں کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف غریبوں کی غربت اس سے دگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ خود ہمارے ملک میں ایک طرف چند افراد اور خاندان ہیں جن کے کتے مکھن اور پنیر کھاتے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں غریب عوام ہیں جن کے بچوں کو دو وقت سادہ روٹی بھی میسر نہیں ہوتی۔ غربت کا مسئلہ قومی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر، دونوں جگہ خرابی کا باعث تقسیم کا نظام ہے اور وہ خود غرض طبقات و اقوام اس کے ذمہ دار ہیں جو اپنی عیاشی اور لگژری کے لیے غریب عوام و طبقات کا استحصال کر رہی ہیں اور کروڑوں بھوکے اور فاقہ کش انسانوں کے منہ سے نوالے چھین کر اپنی تجوریاں بھر رہی ہیں۔ تقسیم کے اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ زمین کے وسائل پر تمام انسانوں کا یکساں حق تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ تعیش و لگژری اور غربت و فاقہ کی دونوں انتہاؤں کی نفی کرتے ہوئے ضروریات کی باوقار فراہمی کے معتدل اور متوازن اصول کو اپنانے کی ضرورت ہے اور ایک عدد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ضرورت ہے جو خلیفہ کی حیثیت سے وظائف تقسیم کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ازواج مطہرات اور اصحابِ بدر کو زیادہ وظیفہ دینے اور باقیوں کو کم دینے کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیں کہ ’’یہ معیشت کا شعبہ ہے۔ اس میں برابری کا اصول ترجیح کے اصول سے بہتر ہے۔‘‘

غربت و ناداری پر قابو پانے اور فاقہ و افلاس کو ختم کر کے تمام انسانوں کو ضروریات زندگی سے بہرہ ور کرنے کے لیے دنیا کو اسی اصول پر واپس آنا ہوگا۔ اس کے بغیر دنیا میں معاشی توازن قائم کرنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

نفاذِ شریعت کی ضرورت و اہمیت

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

جب تک برصغیر پر انگریز حکمران رہا اہلِ ایمان اس کے قانون کی پابندی پر مجبور تھے۔ سیاسی، اقتصادی، معاشرتی، تجارتی قوانین سب انگریز کے وضع کردہ تھے۔ البتہ اس نے مسلمانوں کو بعض رعایات دے رکھی تھیں جن کو پرسنل لاء کہا جاتا تھا اور مسلمان اپنے عقیدہ کے مطابق ان کو اختیار کر سکتے تھے۔ مگر آزادی کے بعد تو انگریزی قانون کے نفاذ کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان کے قیام کے فورًا بعد تمام قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کر لیا جاتا مگر افسوس کہ آج تک ایسا نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں کارپردازانِ حکومت خاص طور پر اور عام مسلمان عام طور پر گنہگار ہیں کہ وہ شریعتِ اسلامیہ کو نافذ نہیں کر پائے۔ آج تک وہی ملعون قوانین چل رہے ہیں۔ مثلاً حادثاتی موت کی صورت میں لاش کا پوسٹ مارٹم ضروری ہے حالانکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ سودی کاروبار بالکل اسی طرح چل رہا ہے جیسے انگریزوں کے زمانے میں تھا۔ عدالتی نظام میں کوئی اصلاح نہیں ہوئی بلکہ وہی غلامانہ تعزیراتی قانون رائج ہے۔
دیکھیں، ترکی میں شریعت کا قانون ختم ہوا تو ملکی قانون بھی بدل دیے گئے اور پھر کوئی قانون جرمنی کا، کوئی برطانیہ کا، اور کوئی فرانس کا لے لیا گیا۔ اور اس طرح آدھا تیتر آدھا بٹیر والی مثال صادق آئی۔ خود ہمارے ملک میں شریعت کا نفاذ اس بہانے سے نہیں کیا جا رہا کہ اس پر تمام مذاہب متفق نہیں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کسی طرح چور دروازے سے حکومت پر قابض رہیں۔ اگر خدا کا قانون جاری ہوتا ہے تو ان کا اپنا اقتدار خطرے میں پڑ جاتا ہے لہٰذا خیریت اسی میں ہے کہ جس طرح کا نظام چل رہا ہے اسے چلنے دیا جائے۔ تعزیراتی قوانین میں شرع کے مطابق کچھ ردوبدل کیا گیا ہے مگر اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
سعودی عرب میں حدود کا نفاذ ہے تو وہاں جرائم بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ وہ بدو تھے جو کبھی مسافر کے پاؤں سے جوتا بھی اتروا لیا کرتے تھے، مگر آج اسلامی تعزیرات کے نفاذ کا یہ اثر ہے کہ سڑک پر سونے کی ڈلی بھی پڑی ہو تو کوئی ہاتھ لگانے کی جرأت نہیں کر سکتا بلکہ پولیس کو دور سے ہی بتا دیتا ہے کہ وہاں کسی کا مال پڑا ہے۔ آج لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کے لیے چلے جاتے ہیں مگر کسی کی کیا مجال ہے کہ چوری تصور بھی کر سکے۔ اب تک زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ آدمیوں کے ہاتھ کٹے ہوں گے مگر چوری بالکل ختم ہو گئی ہے۔ اور ہمارے ہاں شرعی قوانین سے انحراف کی وجہ سے لوگ مسجد سے جوتے تک چوری کر لیتے ہیں۔
باقی رہا یہ اعتراض کہ کون سا فقہی قانون نافذ کیا جائے تو یہ بھی کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک مسلّمہ اصول ہے کہ جس ملک میں جس فقہ کے ماننے والوں کی اکثریت ہو وہاں اسی فقہ کا قانون نافذ کیا جائے۔ اسپین میں مالکی فقہ کی اکثریت تھی تو وہاں مالکی فقہ رائج رہی۔ برصغیر، افغانستان، ترکی، خراسان وغیرہ میں حنفی لوگوں کی اکثریت ہے تو یہاں حنفی فقہ کے مطابق قانون جاری ہونا چاہیے۔ افسوس ہے کہ بعض لوگ حنفی قانون کے نام سے بدکتے ہیں حالانکہ یہ بھی قرآن و سنت سے ہی ماخوذ ہے اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی چیز قابل قبول نہیں۔ فتاوٰی اور دیگر کتب کی تمام باتیں قابلِ عمل نہیں ہوتیں بلکہ یہ محض معلومات ہوتی ہیں جن پر قانون کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ’’عالمگیری‘‘ سے لوگوں کو خواہ مخواہ چڑ ہے۔ یہ تو پانچ سو علماء کا تدوین کردہ قانون ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، اس کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اگر لوگوں کی اکثریت کا قانون جاری کر دیا جائے تو دوسرے لوگ بھی محروم نہیں رہتے۔ حنفی فقہ ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک دنیا میں رائج رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی نے اپنے آپ کو شافعی ظاہر کیا ہے تو اس کا فیصلہ شافعی مسلک کے مطابق کر دیا گیا اور اس میں کسی مسلک والے کو دقت پیش نہیں آئی۔ مختلف فقہی مسالک میں مکمل اتفاق تو شاید کبھی ممکن نہ ہو۔ انگریزی قانون میں بھی کبھی جج کسی فیصلہ پر متفق نہیں ہوئے۔ بھٹو کی پھانسی کے مسئلے پر سارے جج متفق نہیں ہوئے تھے بلکہ ان میں بھی اختلافِ رائے تھا۔ بڑی عجیب بات ہے کہ دنیاوی قوانین میں تو اس قسم کے اختلافات برداشت کر لیے جاتے ہیں مگر فقہی جزئیات میں ایسے اختلافات کو برداشت نہیں کیا جاتا اور مکمل اتفاقِ رائے تک نفاذِ شریعت کے عمل کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا جاتا۔ بہرحال شریعت کا قانون من جانب اللہ ہے جس میں تمام کلیات اور جزئیات آ گئے ہیں اور پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں اس کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

عصرِ حاضر میں اسلام کی تعبیر و تشریح

مولانا محمد عیسٰی منصوری

(زیرِنظر تحریر میں مولانا محمد عیسٰی منصوری نے دورِ حاضر میں دعوتِ اسلام کے بعض نہایت اہم پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس موضوع پر ہم دیگر اہلِ علم کی سنجیدہ فکری تحریروں کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔ مدیر)

مغرب میں مسلمانوں کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اسلام کے پیش کرنے میں کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ ایک طبقہ اسلام کو محض نظامِ اقتدار بنا کر پیش کر رہا ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں اسلام سے وحشت پیدا ہو رہی ہے۔ وہ سمجھ رہا ہے کہ مسلمان یہاں اقتدارِ اعلٰی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ اسلام کے نظامِ عقائد کو پیش کیا جاتا یعنی اسلام کے  نظریہ و فکر کو، جو آج کے نظریاتی دور اور اہلِ مغرب کی نفسیات کے عین مطابق ہوتا اور مغربی اقوام کو سنجیدگی اور کھلے دل سے اس پر غور کرنے کا موقع ملتا۔ چنانچہ مدیر ’’الرسالہ‘‘ جناب وحید الدین خان ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’ہر انسانی گروہ کا ایک نظامِ عقائد ہوتا ہے اور اس کا نظامِ اقتدار۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان نظامِ اقتدار کے اعتبار سے دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں لیکن نظامِ عقائد (فکر و نظریہ) کے اعتبار سے آج بھی وہ تمام قوموں سے زیادہ طاقتور ہیں، مگر مسلمانوں کے قائدین ساری دنیا میں یہ کر رہے ہیں کہ وہ نظامِ اقتدار کے میدان میں دوسری قوموں سے ٹکرا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کے حصے میں شکست و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں آ رہا ہے۔ اگر وہ اس بے فائدہ ٹکراؤ کو ختم کر دیں اور نظامِ عقائد کے میدان میں دوسری قوموں کو اپنا مخاطب بنائیں تو بہت جلد وہ دیکھیں گے کہ ان کی شکست کی تاریخ فتح کی تاریخ میں تبدیل ہو گئی ہے۔‘‘
۱۹۹۴ء میں امریکہ میں عالمی مذاہب کانفرنس ہوئی جو ہر سو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا کے ہر چھوٹے بڑے مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہب کا تعارف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والی ایک علمی شخصیت نے اس کانفرنس کا ایک نہایت قابلِ غور نکتہ تحریر کیا ہے۔ وہ یہ کہ کانفرنس میں دوسرے مذاہب پر گفتگو کے دوران لوگ سنجیدہ رہتے اور بغور سنتے، مگر جونہی اسلام کے تعارف کا موقع آجاتا وہ جارحانہ انداز اختیار کر لیتے۔ لوگوں کے اس رویہ کا سبب بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے نمائندے اپنے مذہب کو فرد کی تعمیر کی حیثیت سے پیش کرتے یعنی ان کا مذہب فرد کے اعمال و عقائد میں کیا تبدیلی چاہتا ہے- اس کے برعکس اسلام کا نمائندہ اپنی بات یہاں سے شروع کرتا کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، وہ پورے اجتماعی نظام میں انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے۔ غرض وہ اسلام کو ایک کامل ریاستی نظام کی حیثیت سے پیش کرتا یعنی فرد کے بجائے ریاست کے حوالہ سے۔ یہ بدیہی بات ہے کہ جب سیاست و سسٹم کی بات آئے گی تو سامع پر فوری اثر یہ مرتب ہو گا کہ وہ سمجھے گا کہ مسلمان ہم پر سیاسی بالادستی و اقتدار کے خواہاں ہیں۔ اس طرح خودبخود اسلام کے متعلق ان کا انداز جارحانہ ہو جائے گا اور وہ ذہنی طور پر تناؤ (Tension) کی حالت میں آجائیں گے۔
موجودہ دور کے مسلمانوں میں اسلام کے حوالے سے اس طرزِ فکر کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ صدیوں میں عالمِ اسلام کے بڑے حصے پر مغرب کی سیاسی حکمرانی رہی ہے۔ اس کے ردعمل کے طور پر بیسیوں صدی کے دورِ غلامی میں نشوونما پانے والے متعدد اسلامی مفکرین کے ذہنوں پر اسلام کا سیاسی پہلو حاوی ہو گیا۔ اس فکر سے مغلوب ہو کر انہوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کرنی شروع کی، کیونکہ اسلام کو ایک ریاستی نظام کے طور پر پیش کرنے میں ان کی غلامی کی مجروح انا کو ایک طرح کی تسکین حاصل ہوتی تھی۔ حالات کے جبر نے ان کے فہمِ اسلام میں یہ انحراف پیدا کر دیا کہ ان کے نزدیک اسلام کا بنیادی ہدف و مقصد فرد کی تعمیر کی بجائے ریاست و اقتدار کا قیام ہے۔ جبکہ فی الواقع اسلام کی یہ تعبیر انتہائی مغالطہ انگیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ بھی فرد ہے نہ کہ اجتماع۔ اجتماعی تبدیلی اس کا بالواسطہ جز ہے نہ کہ براہِ راست۔ انسانی شخصیت کی تعمیر ہی اسلام کا اصل مقصد ہے جس طرح یہ دوسرے مذاہب کا مقصد بیان کیا جاتا ہے۔ اسلام کو سیاسی نظام کے انداز میں پیش کرنے کا فوری نقصان یہ ہوتا ہے کہ مخاطب شروع ہی سے تناؤ اور ٹینشن کی کیفیت میں آجاتا ہے اور وہ کھلے دل سے اسلام کی بات سننے اور اس پر غور کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا۔ اس موضوع پر جناب خورشید احمد ندیم صاحب لکھتے ہیں:
’’دین کے ماخذوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا اصل منتہا ایک اسلامی ریاست کا قیام نہیں ہے، مگر مسلمان چونکہ اللہ تعالٰی کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کے پابند ہیں اس لیے جب یہ کہیں مل کر کوئی معاشرت یا ریاست قائم کریں گے تو ان کے اجتماعی نظام میں ایک ناگزیر تقاضے کے طور پر دین ہی کو غلبہ حاصل ہو گا۔ اس اعتبار سے یہ اجتماعیت کے متعلق ایک تقاضہ ہے نہ کہ دین کا نصب العین۔ اس کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھئے۔ اس امت پر شہادتِ حق کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ اگر انہیں کہیں اقتدار ملے تو وہاں وہ اللہ کے دین کو غالب کریں۔ اب نصب العین اور تقاضے کے اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کی موجودہ صورتِ حال پر نظر ڈالیے تو جناب وحید الدین خان صاحب کی اس بات سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ مسلمان اس وقت اس کیفیت میں نہیں کہ کوئی پولیٹیکل ایمپائر کھڑی کریں۔ البتہ وہ ایک ’’دعوہ ایمپائر‘‘ ضرور قائم کر سکتے ہیں۔ یعنی اس وقت مواصلات کی ترقی اور آزادیٔ ابلاغ کی اس فضا کو استعمال کرتے ہوئے وہ ایک عالمی دعوت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا مغرب کے ساتھ کسی مکالمہ میں شریک ہوتے وقت مسلمانوں کو اس پہلو سے بھی غور کرنا ہو گا کہ وہ داعی ہیں اور مغرب ان کا مدعو۔ اس لیے داعی اور مدعو کے مابین تعلق کی صحیح نوعیت ان کے پیشِ نظر رہنی چاہیے۔‘‘
نیز انسانی فطرت کا یہ پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ آدمی ہمیشہ نظریہ کی تصدیق خارج میں چاہتا ہے۔ جب آپ اسلام کو ایک سیاسی نظام کے طور پر پیش کریں گے تو قدرتی طور پر مخاطب اس کی تصدیق کے لیے مسلم ممالک (سعودی عرب، پاکستان، ایران، عراق) کی طرف دیکھے گا۔ جب وہاں کوئی بہتر سسٹم و نظام نہیں پائے گا تو شروع ہی سے اسلام کی صداقت کے متعلق شک و شبہ کا شکار ہو جائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت مغرب میں ٹھنڈے دل سے اسلام پر غور کرنے اور اس کے سمجھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ افراد و جماعتیں ہیں جنہیں اسلام کی سیاسی تعبیر پر اصرار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا ذہن بیسویں صدی کے اوائل میں یورپ کی مسلم دنیا پر سیاسی بالادستی کے ردعمل کے طور پر پیدا ہوا۔ بیسویں صدی دنیا میں مختلف ازموں کے عروج و غلغلہ کا دور ہے، کمیونزم، سوشلزم، سیکولرازم، کیپٹل ازم وغیرہ۔ اس سے متاثر ہو کر بعض اسلامی مفکرین نے اسلام کو ایک ازم کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح اسلام کو بطور تحریک پیش کرنا بھی اسی کا حصہ ہے۔ اگرچہ تحریک عربی لفظ ہے مگر قرآن و حدیث، سیر و مغازی حتٰی کہ بیسویں صدی سے پہلے فقہ و ادب میں تحریک کا لفظ شاذ و نادر ہی استعمال ہوا ہے۔ اس کے لیے عام طور پر دعوت کا لفظ مستعمل تھا۔
اس کے برعکس اگر اسلام کو فطری انداز میں پیش کیا جائے تو اس کی تصدیق کے لیے مخاطب انسانی فطرت کی طرف رجوع کرے گا۔ اور یہاں وہ فورًا اس کی تصدیق پا لے گا کیونکہ اسلام کو وہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق پائے گا۔ کیونکہ خالقِ کائنات نے اسلام کو فطرت کے عین مطابق اور حق کی بنیاد پر بنایا اس لیے فطری انداز میں پیش کیے جانے والے اسلام کی تصدیق مخاطب بلاتاخیر خود اپنی فطرت اور قلب کی سطح پر پا جاتا ہے، اسے اس کی تصدیق کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جبکہ غیر فطری (سیاسی) انداز میں پیش کیے جانے والے اسلام کی خارج میں تصدیق نہ پا کر مخاطب ابتدا ہی سے اسلام کی حقانیت کے متعلق شبہات کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ موجودہ صدی کے بعض اسلامی مفکرین و داعیوں نے اسلام کو ایک سیاسی نظام کے طور پر پیش کر کے نہ صرف دنیا کی اقوام کو اسلام سے دور کیا ہے بلکہ خود اسلام پر بھی بڑا ظلم کیا ہے۔
اس وقت یہ مسئلہ بہت اہم اور قابلِ غور ہے کہ مغرب میں اسلام کی دعوت کے لیے حکمتِ عملی کیا ہو؟ اسلام کے پیش کرنے کا فطری طریقہ یہی ہے کہ مسلمان یہاں اپنے عمل سے اسلام کو پیش کریں۔ اور معتدل انداز میں اسلام کے ان افادی پہلوؤں کو پیش کریں جو ساری دنیائے انسانیت کی بہبود و بھلائی کے لیے ہیں۔ یا علمی طور پر اسلام کے فطرتِ انسانی، جدید سائنس اور دیگر انسانی علوم کے عین مطابق ہونے کو پیش کیا جائے۔ دنیا کے مذاہب میں یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ جدید سائنس اور دیگر انسانی علوم اپنی ترقی کے ہر ہر مرحلہ میں اس کی تصدیق کرتے جا رہے ہیں۔ وہ آج تک قرآن کی ایک بات کو بھی خلافِ واقعہ ثابت نہیں کر پائے۔ جبکہ دیگر مذاہب کی ڈھیروں باتیں سائنس اور جدید علمی تحقیقات سے ٹکراتی ہیں۔ چنانچہ وحید الدین خان صاحب لکھتے ہیں:
’’ان (مسلمانوں) کے پاس وہ سچائی ہے جو کسی دوسرے کے پاس نہیں۔ تجارتی اصطلاح میں انہیں مذہب کے میدان میں ایک قسم کی اجارہ داری (Monopoly) حاصل ہے۔ تمام اہلِ مذاہب میں وہ تنہا گروہ ہیں جن کے پاس بے آمیز مذہبی صداقت موجود ہے، جن کا مذہب پورے معنوں میں تاریخی مذہب ہے۔ جبکہ دوسرے تمام مذاہب غیر معتبر روایات کا مجموعہ ہیں۔ اسلام کے سوا کسی بھی دوسرے مذہب کو تاریخ کی بنیاد حاصل نہیں ہے۔‘‘
اس وقت مسلمانوں کو سیاسی نظام کے حوالے سے مغرب میں مخاصمت بڑھانے کے بجائے اسلام کے فکر و عقیدہ کو پیش کرتے ہوئے مغرب میں درپیش معاشرتی و اخلاقی بحران پر گفتگو کا آغاز کرنا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسلام کی دعوت کا جذبہ رکھنے والے اپنے خول سے باہر نکلیں اور مغرب کے سنجیدہ دانشوروں اور مذہبی طبقہ سے ڈائیلاگ شروع کریں۔ مذہب، آخرت، تمدنی و معاشرتی مسائل، خاندانی نظامِ استحکام، نئی نسل کی بے راہ روی، انسانیت کی اپنے پیدا کرنے والے سے دوری، اور مذہبی گرفت کے کمزور پڑنے کے اسباب جیسے بے شمار عنوانات پر اسلام اور مغرب کے درمیان مکالمے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اس لیے کہ اسلام دعوت کا مذہب ہے۔ وہ پوری انسانیت کی بہبود کے لیے مستقل نظریۂ فکر رکھتا ہے۔ ہر مسلمان کو اس موقع کی تلاش میں رہنا چاہیے جہاں بھی وہ اپنی بات پہنچا سکے۔ تھامس مین نے درست کہا ہے:
’’گفتگو فی نفسہٖ تہذیب ہے۔ لفظ چاہے کتنا ہی اختلافی ہو واسطہ کا ذریعہ بنتا ہے۔‘‘
اس موضوع پر خورشید ندیم صاحب لکھتے ہیں:
’’مغرب سے مکالمے میں جو بات بطور اصول ملحوظ رہنی چاہیے وہ نظریے و سیاست کا تفاوت ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کیا ہیں؟ مشرقِ وسطٰی میں امریکہ نے کیا طرزِ عمل اختیار کر رکھا ہے؟ مسلم اور غیر مسلم ممالک میں تجارت کن بنیادوں پر ہونی چاہیے؟ یہ سوالات عملی سیاست کا موضوع تو ہو سکتے ہیں لیکن کسی نظری بحث کا نہیں۔ اسلام میں ایک ریاست کا قیام کیا فی نفسہٖ مطلوب ہے؟ اسلام میں انسان کے معاشرتی مسائل کا حل کیا ہے؟ سرمایہ داری اور اسلام کی معاشی تعلیمات میں کہاں کہاں ہم آہنگی اور کہاں کہاں فرق ہے؟ یہ سب سوالات ایک نظری بحث کا موضوع ہونے چاہئیں۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ جب بھی اسلام اور مغرب کے درمیان کسی مکالمے کا آغاز ہوتا ہے تو روزمرہ کے سیاسی مسائل کچھ اس طرح غلبہ پا لیتے ہیں کہ نظری مسائل دب کر رہ جاتے ہیں۔ میڈیا کو چونکہ سیاسی مسائل سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے اس لیے وہ اس سارے عمل کو اپنے طور پر متاثر کرتا ہے۔ اس طرح اسلام کا موقف پوری طرح واضح نہیں ہو پاتا۔ عرب مصنفین کی یونین کے سیکرٹری جنرل علی اکلارسان نے درست کہا ہے کہ ’’ہم اس صداقت کے دور میں زندہ ہیں جسے میڈیا سچ کہتا ہے نہ کہ حقیقی سچ‘‘۔ ہوتا یہ ہے کہ اہلِ دانش کی تمام مساعی لاحاصل رہتی ہیں کیونکہ میڈیا کی ساری دلچسپی سیاسی مفادات سے وابستہ ہے اور سیاسی مفادات کا حق و انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘‘
سب جانتے ہیں کہ عرصہ سے مغربی میڈیا پر صہیونیت کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ وہ کمال عیاری سے اسلام کی تصویر مسخ کرنے کا کام خود اسلام کے داعیوں سے لے رہا ہے۔ مغرب میں دعوت و فکر کے بجائے خلافت و جہاد کو مقصد قرار دینا مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ یہاں پرجوش مسلم رہنماؤں کے بیانات سنیں تو ان میں عموماً دو باتیں پائیں گے:
  1. مسلم حکمرانوں پر غیظ و غضب، اور
  2. مغرب کے اسلام دشمن رول کو پیش کرنا۔
اس طرزعمل سے  مشتعل ہو کر مسلم نوجوان ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چونکہ مغربی میڈیا مسلمانوں کو مشتعل دکھانا چاہتا ہے اس لیے وہ ان مسلم رہنماؤں کو زیادہ سے زیادہ کوریج دیتا ہے۔ اس کے دو مقاصد ہیں:
  1. دنیا میں مغرب کے کھلے پن اور آزادیٔ رائے کا پروپیگنڈا کرنا۔
  2. ذرائع ابلاغ میں مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کرنا تاکہ مقامی لوگوں میں اسلام اور مسلمانوں سے تنفر بڑھتا رہے۔
مسلمانوں کے بعض پرجوش رہنما اپنے طرزعمل سے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسلام اور مسلمانوں کی منفی اور انتہاپسندانہ تصویر پیش کرنے میں مغربی میڈیا کی معاونت کر رہے ہیں۔
موجودہ دور میں مغرب میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں ان کی منفی تصویر (Negative image) بن گئی ہے۔ اس صورتحال کو بدلنا اور مسلمانوں کی مثبت تصویر (Positive image) پیش کرنا وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور یہ کام مسلمانوں کو خود کرنا ہو گا۔ اور یہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مسلمان مغربی میڈیا کے اشتعال دلانے پر بھی مشتعل نہ ہوں۔
الغرض ہمیں مغرب سے مکالمہ کا ایجنڈا ترتیب دیتے وقت اس امر کا بطور خاص خیال رکھنا ہو گا کہ مکالمہ فکری و نظری مسائل پر ہو نہ کہ سیاسی و تہذیبی مسائل پر۔ بصورتِ دیگر جہاں اسلام کی بے شمار تعبیریں سامنے آئیں گی وہاں مسلمانوں اور اہلِ مغرب کے مختلف رویے اس کو پیچیدہ بنا دیں گے، اور باہمی مکالمے کی ساری تگ و دو بحث برائے بحث سے آگے ہی نہیں بڑھ سکے گی، بلکہ اندیشہ ہے کہ مزید منافرت و دوری کا ذریعہ بن جائے۔ اس لیے کہ سیاست و اقتدار وہ شے ہے جس کی بنیاد مفادات پر ہے، اور مفادات بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیتے ہیں۔ اس لیے اگر مسلمانوں نے اسلام کو نظریۂ فکر کے بجائے نظامِ ریاست کے طور پر پیش کیا تو ایک طرف سیاسی مفادات اور دوسری طرف صہیونی میڈیا مغرب میں اسلام کے کیس کو تلپٹ کر کے رکھ دیں گے۔
دورِ نبوت سے لے کر عصرِ حاضر تک اسلام کے فکر و نظریہ اور قرآن کے آفاقی و انفسی دلائل کا کفر کے پاس ہمیشہ ایک ہی جواب رہا ہے، جسے قرآن نے ان معجز نما الفاظ میں بیان کیا ہے ’’لا تسمعوا لھٰذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون‘‘ کہ قرآن کو سنو ہی نہیں اور اگر کوئی سنائے تو مخالفانہ شور و شغب برپا کرو شاید اس طرح تم غالب ہو سکو۔ جس طرح دورِ نبوت میں اسلام کی روشنی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پیغمبر اسلام کے ساحر، کاہن، شاعر و مجنون ہونے کا پروپیگنڈا کیا گیا، آج مغرب کی مہذب اقوام نے اسلام کے لیے نئی گالیاں ایجاد کر لی ہیں اور نئے بہتان اور اتہامات تراش لیے ہیں۔ انتہا پسند، بنیاد پرست، انسانی حقوق کے خلاف ہونے کا شور مچا کر مغرب کے ذرائع ابلاغ نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ مسلمان مغربی میڈیا کے اکسانے پر مشتعل نہ ہوں اور صبر و تحمل سے اسلام کے فکر و نظریہ کو پیش کریں تو توقع کی جا سکتی ہے کہ بہت جلد حالات ان کے حق میں ہو جائیں گے کیونکہ مغرب میں مذہبی عصبیت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔
گزشتہ کئی صدیوں سے مغرب کے ذہن و فکر کو تشکیل دینے والے بیشتر فلسفی و مفکر یہودی رہے ہیں۔ جیسے ہیگل، کارل مارکس، ڈارون وغیرہ۔ انہوں نے صدیوں کی تگ و دو کے بعد مغرب میں سیاسی، معاشی اور تعلیمی طور پر ایسا نظام قائم کر دیا ہے جس  میں ایک اقلیت (یہودی) بآسانی اکثریت پر اثرانداز ہو سکتی ہے اور ان پر کنٹرول کر سکتی ہے۔ یہودیوں کی خفیہ دستاویز (پروٹوکول) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ دنیا پر ایک خاص نسل کے تسلط قائم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں دوسری کسی بھی اقلیت کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں۔ مسلمان اگر سیاسی محاذ آرائی سے بچتے ہوئے اسلام کو فکری و عملی طور پر پیش کر سکیں تو اس وقت مغرب میں اسلام کے لیے حالات نہایت سازگار ہیں۔ مسلمان مغرب میں وہ حکمتِ عملی اختیار کریں جو حضرت جعفر طیارؓ نے حبشہ میں مسیحی بادشاہ نجاشی کے ملک میں اختیار کی تھی۔ حضرت جعفر طیارؓ کے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق عقیدہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر کہا تھا ’’خدا کی قسم جو تم نے بیان کیا عیسٰی اس سے اس تنکے کے برابر زیادہ نہیں۔‘‘
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وقت نے خود مخالفِ اسلام مغربی پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ وہ اس طرح کہ صدیوں تک مغرب میں مسلمانوں کو ایک خونخوار وحشی کے روپ میں پیش کیا جاتا رہا کہ مسلمان بات بات میں مغلوب الغضب ہو جاتا ہے، فورًا تلوار اٹھا کر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اب قدرت نے کروڑوں مسلمانوں کو مغرب میں پہنچا دیا اور یہاں کے عام آدمی کو روزمرہ کی زندگی میں اس ’’خونخوار‘‘ مسلمان سے سابقہ پڑنے لگا۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ کوئی مسلمان اس پر حملہ نہیں کرتا بلکہ وہ بہ نسبت گوروں اور کالوں کے زیادہ پرامن طور پر رہتا ہے، اس کا خاندانی نظام خوشگوار حد تک مستحکم ہے، تو وہ اسلام کے متعلق اپنے بڑوں کی غلط بیانی پر سوچنے لگتا ہے، اس طرح بالواسطہ طور پر اسلام کے متعلق بھی غور کرنے لگتا ہے۔ اس موقع پر اگر اسلام کی صحیح اور مثبت فکر پیش کی جائے تو اس کی کامیابی کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔
مغرب میں اسلام کو بطور نظریہ و فکر کے پیش کرنے کا یہی سب سے بہترین وقت ہے کہ مغرب میں ایک نظریاتی خلا پیدا ہو گیا ہے۔ سوویت یونین کا خاتمہ محض ایک فیڈریشن کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نظریہ کی ناکامی کا اعلان تھا۔ کمیونزم ایک نظریہ تھا جس نے بنی آدم کے اجتماعی مسائل کا ایک حل تجویز کیا۔ ستر برس کے تجربہ کے بعد یہ معلوم ہوا کہ انسان کے مسائل نہ صرف برقرار ہیں بلکہ ان میں اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ اشتراکیت و سرمایہ داری کے اس تصادم میں سرمایہ داری کو ہر طور پر کامیابی ہوئی۔ اس وقت عالمی سطح پر سرمایہ داری کو کوئی نظری چیلنج درپیش نہیں۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے، کسی نظریہ کی بقا کے لیے اس کی ضد کا ہونا ضروری ہے۔ اس بنا پر ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سرمایہ داری کو اگر کسی نظری چیلنج کا سامنا ہوا تو اس کی اپنی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی، اس صورت میں اس کے داخلی تضادات سامنے آئیں گے، اور یہ نظریہ خود اپنے ہی وجود میں شکست و ریخت کے عمل سے گزرے گا جو بالآخر اس کی موت پر منتج ہو گا۔ ان کے نزدیک جو نظریہ سرمایہ داری کو چیلنج کر سکتا ہے وہ اسلام ہے، اس لیے کمیونزم کے بعد اسلام کو متوقع خطرہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
مغرب کی ایک اسلام دشمن طاقتور لابی، جو اسلام کے نظریہ کی طاقت سے خوفزدہ ہے، اس کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ اسلام کو تہذیبی و سیاسی طور پر مغرب کا حریف بنا کر پیش کیا جائے، تاکہ اسلام کے خلاف اس حد تک نفرت بڑھ جائے کہ اہلِ مغرب کھلے دل سے اسلام کے نظریہ و فکر پر غور نہ کر سکیں۔ بدقسمتی سے بعض نادان مسلم رہنما جنہوں نے مسلم ممالک میں بھی اسلام کو اپنے حکمرانوں سے ٹکراؤ کا عنوان بنا کر مسلم حکمرانوں کو غیر ضروری طور پر اسلامی تحریکوں کا دشمن بنا دیا ہے، وہ سیاسی طور پر ٹکرا کر مسلم ملکوں میں اسلامی دعوت کے مواقع برباد کر چکے ہیں، یہ لوگ عملاً یہاں مغرب میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے خلافت و جہاد کے نام پر ہنگامے کھڑے کر کے محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے۔ غرض دونوں جگہ ان پرجوش مسلم رہنماؤں نے ایک بے فائدہ لڑائی چھیڑی ہوئی ہے۔ ان لڑائیوں نے اسلام کی دعوت و فکر پیش کرنے کے مواقع برباد کر کے رکھ دیے ہیں۔
دنیا کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے کرنے کا اہم ترین کام صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھیں، علمی و عملی طور پر اس کے نظریہ و فکر کو پیش کریں، اس طرح وہ خدا کی رحمتوں کا سب سے زیادہ حصہ پانے کے حقدار ٹھہریں گے۔ یہی وہ کام ہے جس پر ان کی دنیا کی کامیابی اور آخرت کی نجات وابستہ ہے۔

فریاد نہیں ۔۔۔ دین کی دعوت

ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

اسلام ایک عالم گیر دین ہے اور اس کی تعلیمات کو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچنا چاہیے۔ امتِ مسلمہ کا فرض ہے کہ حکمت، دل سوزی اور ہم دردی سے لوگوں کو دعوتِ دین دے۔ جب تک مسلمان دعوت کا کام کرتے رہے، دین کو فروغ حاصل ہوتا رہا اور مسلمانوں کا وقار بڑھتا رہا۔ مگر یہ اسلام کے صدرِ اول کی بات ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ دعوتی کام میں کمی آئی اور لوگ دین سے زیادہ دنیا کے کاموں میں لگ گئے۔ انہوں نے دین کو مدرسے والوں کے لیے چھوڑ دیا اور مدرسے والوں کی مالی سرپرستی کو خدمتِ دین کے طور پر کافی سمجھ لیا۔ نتیجتاً دین کی حیثیت ثانوی ہوتی گئی۔ آسودہ حال خاندانوں کے طلباء میڈیکل، انجینئرنگ اور سائنس میں آگے بڑھتے گئے۔ ان حالات نے دین کو بقولِ حالی غریب الغرباء بنا دیا۔
حالات یہاں تک پہنچے کہ موجودہ دور کے مسلمان ایک طرح کے فکری فاقے کا شکار ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ وہ حالات کا واقعاتی تجزیہ تک نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج کل مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ صرف احتجاج کی قسم کی ایک چیز ہے، یا فریاد ہے۔ ہم حالات کا صحیح تجزیہ کر کے کوئی قابلِ عمل اور مفید فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ اپنے لیڈروں کے بیانات سنیے، سربراہ کانفرنس کا حال پڑھیے، ان کی سیاسی کوششوں کا تجزیہ کیجیے، تو ایک بات مشترک نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری ساری پریشانیوں کا سبب دوسرے ہیں، ہم نہیں۔ استعماری قوتوں کی سازشیں، غیر قوموں کے مظالم، سرحدوں کے پار والوں کا طرزعمل، بس یہی سب کچھ ہے جو آج ہم جانتے ہیں۔ ہم کبھی خود اپنا احتساب نہیں کرتے۔ میری حقیر رائے میں یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ہم خود اپنے دشمن بن گئے ہیں۔ حالات سے معقولیت کے ساتھ، مومنانہ فراست کی روشنی میں نمٹنے کی صلاحیت ہم میں باقی نہیں رہی، اور یہی ہمارا المیہ ہے۔ 
آدھی صدی پہلے کی بات ہے، امیر شکیب ارسلان مسلمانوں کے ایک رہنما تھے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے ’’لماذا تاخر المسلمون و تقدم غیرھم‘‘ یعنی  مسلمانوں کو کس چیز نے پس ماندہ کر دیا اور دوسرے کیسے آگے بڑھ گئے۔ اس میں صرف باہری ہاتھوں سے شکوہ تھا، یہ کہیں نہیں تھا کہ اب کرنا کیا چاہیے۔ سچ یہ ہے کہ ہمارا اندازِ فکر ہی یہ بن گیا ہے کہ ہم حالات سے پریشان تو ہیں مگر ان سے نمٹنے کے امکانات پر غور نہیں کرتے۔ ہم میں مومنانہ فراست کی کمی ہے، ہمارے پاس اللہ کا وہ نور نہیں ہے جس سے ہم  حالات سے نمٹنے کی ترکیب دیکھتے۔ ہم معاملے میں عسر اور مشکل کا ادراک تو رکھتے ہیں مگر یسر اور آسانی کو نہیں سمجھ پاتے۔ حالانکہ اللہ تعالٰی کی سنت یہ ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ ساتھ اس کا حل بھی پیدا فرماتے ہیں۔ ضرورت مومنانہ فراست اور مسلمانانہ نظر کی ہوتی ہے۔
اس بات کو ایک مثال سے سمجھیے۔ حضرت موسٰی اور حضرت ہارون علیہما السلام فرعون کو دعوتِ دین دیتے ہیں، وہ معجزہ طلب کرتا ہے، حضرت موسٰی علیہ السلام اپنا عصا پھینکتے ہیں اور اژدھا بن کر وہ دوڑنے لگتا ہے، فرعون اور اس کے مشیر اسے جادو کا کارنامہ سمجھتے ہیں، حضرت موسٰی علیہ السلام کو چیلنج کرتے ہیں، حضرت موسٰی علیہ السلام چیلنج قبول کرتے ہیں اور ایک یوم الزینہ (Public holiday) مقابلے کے لیے مقرر ہو جاتا ہے۔ فرعون مصر کے سارے جادوگر جمع کر لیتا ہے، یہ لوگ ڈنڈے اور رسیاں ڈال کر انہیں نظربندی کے ذریعے سے سانپ بنا دیتے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام کے دل میں خوف پیدا ہوا۔ ارشاد ربانی ہوا کہ ڈرو نہیں، غالب تم ہی رہو گے، اپنے ہاتھ کا عصا تو میدان میں ڈالو، یہ عصا ان کے سارے کھیل کو ختم کر دے گا۔ اور یہی ہوا، حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا کو زمین پر ڈالنا تھا کہ وہ اژدھا بن کر سارے سانپوں کو کھا گیا۔ (سورہ طہ ۶۶۔۶۹)
آج مسلمان بھی اسی طرح ڈر رہے ہیں۔ سازشوں کے سنپو لیے، غیر ملکی ہاتھوں کے بچھو اور استعماری حکمتِ عملی کے اژدھے انہیں مبہوت کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے بغل کے عصائے کلیمی کو بھول گئے ہیں اور ڈر کے مارے کانپ رہے ہیں۔ آج اسلام کی تعلیمات علم و سائنس کی روشنی میں اپنی صداقت کا لوہا منوا رہی ہیں، غیر مسلم بھی اب اسلام کے بارے میں حقیقت پسند ہوتے جا رہے ہیں۔ نئے مؤرخ اسلام کی صحیح تاریخ لکھ رہے ہیں۔ اہلِ کتاب اسلام کو سمجھ کر اسلام کے قریب آنے کی کوشش میں بین المذاہب مکالمات کی ہمت افزائی کر رہے ہیں۔ پوپ نے نئے منشور میں مسلمان کو نجات کا مستحق مان لیا ہے، وہ اب مسلمانوں کو خارج از دین نہیں سمجھتے۔ کمیونزم اپنی موت مر گیا، روس میں مسلمانوں کو تحفظ ملا ہے۔ دنیا کی ساری مشہور تعلیم گاہوں نے اسلامیات کے شعبے کھولے ہیں جہاں تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ قدیم عربی و اسلامی لٹریچر شائع ہو رہا ہے۔
غرض الحمد للہ مختلف عالمی دباؤ کے تحت اسلام کے حق میں ایک اعتدال کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ مناظرہ بازی کا دور ختم ہوا، اب ڈائیلاگ کا دور آ گیا ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ اپنی تعلیمات پیش کرتے ہیں اور دوسرے کی بات غور سے سن کر تعاون کے امکانات پر غور کرتے ہیں۔ خود یہ فقیر ایسے بہت سے ڈائیلاگز میں شریک رہا ہے۔ ’’نیشنل کانفرنس آف جیوز اینڈ کرسچینز‘‘ پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے خاص تھی، اب حالات کے اثر اور ہم فقیروں کی کوششوں سے صرف ’’نیشنل کانفرنس‘‘ بن گئی ہے، اب اس میں ہر مذہب کے لوگ حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ ساری باتیں اسلام کے حق میں ہیں۔
اب ہم کلیساؤں (Churches)، صومعوں (Synagogues) تک میں جا کر اسلام کا عالمی پیغامِ امن دے سکتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پھیلائی ہوئی افواہوں اور الزامات کا معقول علمی جواب دے سکتے ہیں۔ پہلے جو کام دشمنی کے ماحول میں مناظرانہ انداز میں ہوتا تھا، اب دوستی کے ماحول میں افہام و تفہیم کے انداز میں ہو رہا ہے۔ اب یہ خیال نہیں ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں اسلامی دعوت کے زبردست امکانات کھل گئے ہیں۔ یہ اللہ تعالٰی کے منصوبہ کمال کا فضل ہے کہ اب مخالفت، دشمنی اور اذیت رسانی کے خوف کے بغیر ہم تبلیغِ دین کا کام کر سکتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالٰی کا مخصوص انعام ہے کہ آج بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ مختلف ممالک میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ خود ہمارے ہندوستان میں تامل ناڈو اور دوسری ریاستوں میں لوگ کثرت سے مسلمان ہو رہے ہیں اور بی جے پی کی سازشیں انہیں روک نہیں پا رہی ہیں۔ افریقی ممالک میں دین تیزی سے پھیل رہا ہے۔ فرانس میں دین تیزی سے پھیل رہا ہے، فرانس میں کیتھولک عیسائیوں کے بعد مسلمان سب سے بڑی تعداد میں ہیں۔ یورپ کے اندر ایک مسلمان ریاست بوسنیا وجود میں آ گئی ہے۔ جرمنی میں لاکھوں افراد مسلمان ہو گئے ہیں۔ برطانیہ، جاپان اور امریکہ میں ہر جگہ سے لوگوں کے قبولِ اسلام کی خبریں  آ رہی ہیں۔ روم میں، جو اسلام دشمنی کا مرکز تھا، ایک عظیم الشان مسجد اور سنٹر کھل گیا ہے۔ اسپین میں مسلمان بڑھ رہے ہیں، غرناطہ میں بہت بڑا اسلامی مرکز بن گیا ہے، اب اسپین کے ہر شہر میں مسلمان نظر آتے ہیں۔
غرض آج اسلام ہر جگہ پھیل رہا ہے۔ ہم ایک داعی امت ہیں، ہمیں اپنا منصب پہچاننا چاہیے اور اندرونی اختلافات کو بھلا کر دعوتِ دین کے کام میں لگ جانا چاہیے۔
(بشکریہ: ماہنامہ بزمِ قاسمی، کراچی)

تفسیرِ کبیر اور اس کی خصوصیات

محمد عمار خان ناصر

’’مفاتیح الغیب‘‘ یعنی تفسیر کبیر کا شمار تفسیر بالرائے کے طریقہ پر لکھی گئی اہم ترین تفاسیر میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیف چھٹی صدی ہجری کے نامور عالم اور متکلم امام محمد فخر الدین رازیؒ (۵۴۳ھ ۔ ۶۰۶ھ) نے شروع کی لیکن اس کی تکمیل سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں اس کی تکمیل حاجی خلیفہؒ کی رائے کے مطابق قاضی شہاب الدین بن خلیل الخولی الدمشقیؒ نے، اور ابن حجرؒ کی رائے کے مطابق شیخ نجم الدین احمد بن محمد القمولیؒ نے کی۔ یہ بات بھی معیّن طور پر معلوم نہیں کہ تفسیر کا کتنا حصہ خود امام صاحبؒ لکھ پائے تھے۔ ایک قول کے مطابق سورۃ الانبیاء تک جبکہ دوسرے قول کے مطابق سورۃ الفتح تک تفسیر امام صاحبؒ کی اپنی لکھی ہوئی ہے(۱)۔ تاہم اس معاملے میں سب سے زیادہ تشفی بخش اور مدلل نقطۂ نظر الاستاذ عبد الرحمٰن المعلی نے اپنے مضمون ’’حول تفسیر الفخر الرازی‘‘ میں اختیار کیا ہے۔ انہوں نے مضبوط داخلی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ تفسیر کے درج ذیل حصے خود امام صاحبؒ نے لکھے ہیں جبکہ باقی اجزاء الخولیؒ یا القمولیؒ کے لکھے ہوئے ہیں:
۱۔ سورۂ فاتحہ سے سورۂ قصص تک
۲۔ سورۂ صافات سے سورۂ احقاف تک
۳۔ سورۂ حشر، مجادلہ اور حدید
۴۔ سورۂ ملک سے آخر قرآن تک (۲)

تفسیر کی خوبیاں

(۱) جامعیت

تفسیر کبیر کی نمایاں ترین خصوصیت، جس کا اعتراف اکابر اہلِ علم نے کیا ہے، اس کی جامعیت ہے۔ وہ جس مسئلہ پر لکھتے ہیں، اس کے متعلق جس قدر مباحث ان سے پہلے پیدا ہو چکے ہیں، ان سب کا استقصا کر دیتے ہیں۔ محمد حسین ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’رازی کی تفسیر کو علما کے ہاں عام شہرت حاصل ہے کیونکہ دوسری کتبِ تفسیر کے مقابلے میں اس کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مختلف علوم سے متعلق وسیع اور بھرپور بحثیں ملتی ہیں۔‘‘ (۳)
علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ فرماتے ہیں:
’’قرآن کریم کے مشکلات میں مجھے کوئی مشکل ایسی نہیں ملی جس سے امام رازیؒ نے تعرض نہ کیا ہو، یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات مشکلات کا حل ایسا پیش نہیں کر سکے جس پر دل مطمئن ہو جائے۔‘‘(۴)
ہر آیت کی تفسیر میں امام صاحبؒ کا طریقہ حسبِ ذیل ہے:
(۱) آیت  کی تفسیر، نحوی ترکیب، وجوہِ بلاغت اور شانِ نزول سے متعلق سلف کے تمام اقوال نہایت مرتب اور منضبط انداز میں پوری شرح و وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔
(۲) آیت سے متعلق فقہی احکام کا ذکر تفصیلی دلائل سے کرتے ہیں اور امام شافعیؒ کے مذہب کو ترجیح دیتے ہیں۔
(۳) متعلقہ آیات کے تحت مختلف باطل فرقوں مثلاً جہمیہ، معتزلہ، مجسمہ وغیرہ کا استدلال تفصیل سے ذکر کر کے اس کی تردید کرتے ہیں۔
ان میں سے پہلے دو امور کا ذکر اگرچہ دوسرے اہلِ تفسیر بھی کرتے ہیں لیکن یہ ذخیرہ ان میں منتشر اور بکھرا ہوا ہے، جبکہ تفسیر کبیر میں یہ تمام مباحث یکجا مل جاتے ہیں۔ البتہ تیسرے امر کے اعتبار سے تفسیر کبیر اپنی نوعیت کی منفرد تفسیر ہے۔

(۲) ترجیح و محاکمہ

امام صاحبؒ نے اپنی تفسیر میں جمع اقوال پر اکتفا نہیں کی بلکہ دلائل کے ساتھ بعض اقوال کو ترجیح دینے کا طریقہ اختیار کیا ہے، جس سے تفسیر کے متعلقہ علوم و فنون میں ان کی دسترس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ تفسیر گویا سابقہ تفسیری ذخیرے پر ایک محاکمہ کا درجہ رکھتی ہے۔
مختلف تفسیری اقوال میں ترجیح قائم کرتے ہوئے امام صاحبؒ بالعموم حسبِ ذیل اصول پیشِ نظر رکھتے ہیں:
(۱) اگر کسی قول کی تائید میں صحیح حدیث موجود ہو تو اس کو ترجیح دیتے ہیں۔
وَنُفِخَ فیِ الصُّوْرِ کی تفسیر میں تین اقوال نقل کرتے ہیں: ایک یہ کہ صور ایک آلہ ہے، جب اس کو پھونکا جائے گا تو ایک بلند آواز پیدا ہو گی جس  کو خداوند تعالٰی نے دنیا کی بربادی اور اعادۂ اموات کی علامت قرار دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ لفظ بفتح الواو ہے اور صورۃ کی جمع ہے۔ مراد یہ ہے کہ ’’جب صورتوں میں روح پھونکی جائے گی‘‘۔ تیسرا یہ کہ یہ ایک استعارہ ہے جس کا مقصد مُردوں کا اٹھانا اور ان کو جمع کرنا ہے۔ امام رازیؒ نے ان اقوال میں سے پہلے قول کو اس بنا پر ترجیح دی ہے کہ اس کی تائید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود ہے(۵)۔
(۲) جو مفہوم عقل کے مطابق ہو، اس کو راجح قرار دیتے ہیں۔
سورۂ نساء کی آیت خَلَقُکْم مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا کی تفسیر میں عام مفسرین کا خیال یہ ہے کہ حضرت حوا علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور اس کی تائید میں حدیث بھی موجود ہے۔ لیکن امام رازیؒ ابو مسلمؒ کی تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں جن کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کی جنس سے ان کی بیوی کو پیدا کیا۔ امام صاحبؒ کہتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالٰی حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کر سکتے تھے، اسی طرح حضرت حوا علیہا السلام کو بھی کر سکتے تھے، پھر ان کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کرنے میں کا فائدہ؟(۶)
اسی طرح سورۂ کہف میں ذوالقرنین کے قصہ میں ارشاد باری ہے:
حَتّٰی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ۔
’’یہاں تک کہ جب وہ آفتاب کے غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو سورج کو کیچڑ کی ایک نہر میں ڈوبتے دیکھا‘‘(۷)۔
اس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ سورج درحقیقت کیچڑ میں ڈوبتا ہے۔ لیکن امام رازیؒ کے نزدیک یہ تفسیر بالکل خلافِ عقل ہے کیونکہ سورج زمین سے کئی گنا بڑا ہے اس لیے وہ زمین کی کسی نہر میں کیسے ڈوب سکتا ہے؟(۸)
(۳) جب تک کسی لفظ کا حقیقی اور معروف معنی مراد لینا ممکن ہو، اس وقت تک اس کا مجازی یا غیر معروف معنی مراد نہیں لیتے۔
مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ میں وَفَارَ التَّنُّوْر کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ لفظ تنور کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں: ایک یہ کہ اس سے مراد وہی تنور ہے جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد سطح زمین ہے۔ تیسرا یہ کہ اس سے مراد زمین کا بلند حصہ ہے۔ چوتھا یہ کہ اس سے مراد طلوعِ صبح ہے۔ پانچواں یہ کہ یہ محاورتاً واقعہ کی شدت کی تعبیر ہے۔ ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد امام رازیؒ لکھتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ کلام کو حقیقی معنی پر محمول کرنا چاہیے اور حقیقی معنی کے لحاظ سے تنور اسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں روٹی پکائی جاتی ہے۔(۹)
اسی طرح وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (جس نے مال غنیمت میں خیانت کی وہ اس مال کے ساتھ قیامت کے دن حاضر ہوگا) کی تفسیر میں دو قول نقل کرتے ہیں: ایک یہ کہ حقیقتاً ایسا ہی ہو گا۔ دوسرا یہ کہ اس تعبیر سے محض عذاب کی سختی بیان کرنا مقصود ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ علمِ قرآن میں جو اصول معتبر ہے، وہ یہ ہے کہ لفظ کو اس کے حقیقی معنی پر قائم رکھنا چاہیے اِلّا یہ کہ کوئی اور دلیل اس سے مانع ہو۔ یہاں چونکہ ظاہری معنی مراد لینے میں کوئی مانع نہیں اس لیے اسی کو قائم رکھنا چاہیے۔(۱۰)
(۴) اس قول کو مختار قرار دیتے ہیں جو کلام کی نحوی ترکیب کی وجوہ میں سے بہتر وجہ کے مطابق ہو۔
سورہ بقرہ کی آیت وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السَِّحْرَ وَمَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ مَا اُنْزِلَ میں مَا نافیہ ہے یا موصولہ۔ نیز اس کا عطف السِّحْر پر ہے یا مَا تَتْلُوا الشَّیَاطِیْنُ پر۔ امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ مَا کو موصولہ قرار دینا اور اس کا عطف السِّحْر پر کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ جو لفظ قریب ہے اس پر عطف کرنا بعید لفظ پر عطف کرنے سے زیادہ مستحسن ہے۔(۱۱)

(۳) آیات و سور میں باہمی ربط

امام رازیؒ قرآن مجید میں نظم کے قائل ہیں اور اپنی تفسیر میں آیات اور سورتوں کا باہمی ربط نہایت اہتمام سے بیان کرتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے جو کوششیں کی ہیں ان کی اہمیت کے بارے میں دو رائیں ہیں۔ مولانا تقی عثمانی کا خیال یہ ہے کہ
’’آیتوں کے درمیان ربط و مناسبت کی جو وجہ وہ بیان فرماتے ہیں وہ عموماً اتنی بے تکلف، دل نشین اور معقول ہوتی ہے کہ اس پر دل نہ صرف مطمئن ہو جاتا ہے بلکہ اس سے قرآن کریم کی عظمت کا غیر معمولی تاثر پیدا ہوتا ہے۔‘‘(۱۲)
جبکہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ فرماتے ہیں کہ
’’اس سلسلے میں ان کی کوششیں کچھ زیادہ مفید ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ نظمِ قرآن کھولنے کے لیے جو محنت درکار تھی اس کے لیے ان کے جیسے مصروف مصنف کے پاس فرصت مفقود تھی۔‘‘(۱۳)
تاہم اصولی طور پر امام رازیؒ نظم کی رعایت پر نہایت شدت سے اصرار کرتے ہیں۔ چنانچہ سورۃ حم السجدہ کی آیت وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰیَاتُہٗ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
نقلوا فی سبب نزول ھذہ الایۃ ان الکفار لاحل التعنت قالوا لو نزل القرآن بلغۃ العجم فنزلت ھذہ الآیۃ و عندی ان امثال ھذہ الکلمات فیھا حیف عظیم علی القرآن لانہ یقتضی ورود آیات لا تعلق للبعض فیھا بالبعض۔ وانہ یوجب اعظم انواع الطعن فکیف یتم مع التزام مثل ھذا الطعن ادعاء کونہ کتابا منتظما فضلا عن ادعاء کونہ معجزا؟ بل الحق عندی ان ھذہ السورۃ من اولھا الی آخرھا کلام واحد۔
’’لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے جواب میں اتری ہے جو ازراہِ شرارت یہ کہتے تھے کہ اگر قرآن مجید کسی عجمی زبان میں اتارا جاتا تو بہتر ہوتا، لیکن اس طرح کی باتیں کہنا میرے نزدیک کتابِ الٰہی پر سخت ظلم ہے۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ قرآن کی آیتوں میں باہم دگر کوئی ربط و تعلق نہیں ہے، حالانکہ یہ کہنا قرآن حکیم پر بہت بڑا اعتراض کرنا ہے۔ ایسی صورت میں قرآن کو معجزہ ماننا تو الگ رہا، اس کو ایک مرتب کتاب کہنا بھی مشکل ہے۔ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ یہ سورہ شروع سے لے کر آخر تک ایک مربوط کلام ہے۔‘‘
اس کے بعد اس آیت کی تفسیر لکھ کر فرماتے ہیں:
وکل من انصف ولم یتعسف علم انا اذا فسرنا ھذہ الآیۃ علی الوجہ الذی ذکرنا صارت ھذہ السورۃ من اولھا الٰی آخرھا کلاما واحد منتظما مسوقا نحو غرض واحد۔
’’ہر منصف جو انکارِ حق کا عادی نہیں ہے، تسلیم کرے گا کہ اگر سورہ کی تفسیر اس طرح کی جائے جس طرح ہم نے کی ہے تو پوری سورہ ایک ہی مضمون کی حامل نظر آئے گی اور اس کی تمام آیتیں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کریں گی۔‘‘(۱۴)

(۴) عقلی انداز

امام رازیؒ اپنے زمانے کے عقلی اور فلسفیانہ علوم کے بلند پایہ عالم تھے۔ مسلمانوں کے مابین پیدا ہونے والے کلامی اختلافات اور ان کی مذہبی و عقلی بنیادوں پر ان کی گہری نظر تھی، اور اسلام کے مختلف مسائل پر یونانی فلسفہ کے زیراثر پیدا ہونے والے اعتراضات سے بھی وہ پوری طرح آگاہ تھے۔ چنانچہ قدرتی طور پر ان کی تفسیر پر عقلی رنگ غالب ہے اور ان کی بحثوں میں ان تمام علوم کی بھرپور جھلک دکھائی دیتی ہے جن کے مطالعہ کا موقع امام صاحبؒ کو میسر آیا تھا۔ تفسیر کبیر میں اس عقلی ذوق کا اظہار حسبِ ذیل صورتوں میں ہوا ہے:

اسلامی عقائد کی براہین و دلائل سے تائید

امام صاحبؒ نہ صرف اسلامی عقائد کا دفاع بڑی حمیت اور جوش سے کرتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں معذرت خواہانہ رویہ کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ سورہ سبا کی آیت ۱۲ میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا اور جنّات کو مسخر کر دیا۔ بعض لوگوں نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ ہوا سے مراد تیز رفتار گھوڑے اور جنّات سے مراد طاقتور انسان ہیں۔ امام رازیؒ یہ قول نقل کر کے لکھتے ہیں:
وھذا کلہ فاسد حملہ علٰی ھذا ضعف اعتقادہ و عدم اعتمادہ علٰی قدرۃ اللّٰہ واللّٰہ قادر علٰی کل ممکن وھذہ اشیاء ممکنۃ۔
’’یہ بات بالکل غلط ہے، کہنے والے نے اس لیے کہی ہے کہ اس کا اعتقاد کمزور ہے اور اسے اللہ کی قدرت پر اعتماد نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی ہر ممکن پر قادر ہیں اور یہ باتیں بھی ممکنات میں سے ہیں۔‘‘(۱۵)

اسلامی فرقوں کے کلامی جھگڑے

کلامی اختلافات امام صاحبؒ کی دلچسپی کا خاص موضوع ہیں اور وہ موقع بموقع معتزلہ اور اشاعرہ کے مابین نزاعی مسائل پر بحثیں کرتے ہیں۔ امام صاحبؒ اشاعرہ کے گرم جوش ترجمان ہیں اور، جیسا کہ ہم آگے عرض کریں گے، ان کی حمایت میں حدود سے تجاوز بھی کر جاتے ہیں۔

دینی حقائق کی عقلی تعبیر

امام صاحبؒ کا طریقہ یہ ہے کہ ایسی آیات جن میں ماوراء العقل حقائق کا اظہار کیا گیا ہو، عام طریقے سے ان کی تفسیر کرنے کے بعد ان کی فلسفیانہ تعبیر بھی پیش کرتے ہیں۔

ملحدین کے اعتراضات کے جوابات

تفسیر کبیر میں قرآنی مضامین پر ملحدین کے اعتراضات سے بکثرت تعرض کیا گیا ہے۔ ان کے جواب میں امام صاحبؒ یا تو مناظرانہ انداز میں ان کی تردید کرتے ہیں، یا آیات کی توجیہ و تاویل کر کے ان کا صحیح مفہوم واضح کرتے ہیں۔

احکامِ شریعت کے اسرار

تفسیرِ کبیر میں بہت سے مقامات پر شرعی احکام کے اسرار اور ان کی حکمتیں بھی زیربحث آئی ہیں۔ کتاب کے عمومی مزاج کے تحت ان کی توضیح میں بھی فلسفیانہ ذوق غالب ہے۔

(۵) اسرائیلیات سے متعلق محتاط رویہ

تفسیر بالروایت کے طریقے پر لکھی گئی کتبِ تفسیر میں ایک بڑا حصہ اسرائیلی روایات کا ہے۔ قرآن مجید میں اممِ سابقہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے جن واقعات و احوال کا اجمالاً تذکرہ ہوا ہے، ان کی تفصیلات مہیا کرنے کے شوق میں غیر محتاط مفسرین نے بے سروپا روایات کا ایک انبار لگا دیا ہے۔ یہ روایات بالعموم روایت کے معیار کے لحاظ سے ناقابلِ استناد اور عقل و درایت کے اعتبار سے بالکل بے تکی ہیں۔ اسی لیے محقق مفسرین نے ان کو اپنی تفسیروں میں جگہ دینے سے گریز کیا ہے۔ امام رازیؒ کا طریقہ بھی اس سلسلے میں احتیاط پر مبنی ہے۔
اسرائیلی روایات درحقیقت دو طرح کی ہیں:
(۱) بعض ایسی ہیں کہ ان میں وارد تفصیلات قرآن و سنت کے مسلّمات سے تو نہیں ٹکراتیں لیکن فہمِ قرآن کے حوالے سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں امام رازیؒ ان کو نقل تو کرتے ہیں لیکن ان کی تردید یا تائید کیے بغیر یہ کہہ کر گزر جاتے ہیں کہ ان سے اعتنا کرنا ایک بے کار کام ہے کیونکہ یہ تفسیر کے اصل مقصد کے لحاظ سے کارآمد نہیں ہیں۔
مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں جس درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا اس کی تعیین میں تفسیری روایات مختلف ہیں۔ بعض کے مطابق یہ گیہوں کا درخت تھا، بعض کے نزدیک انگور اور بعض کے ہاں انجیر کا۔ امام رازیؒ ان روایات کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ظاہری الفاظ سے اس درخت کی تعیین نہیں ہوتی اس لیے ہم کو بھی اس تعیین کی ضرورت نہیں کیونکہ اس قصہ کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم کو متعین طور پر اس درخت کا علم ہو۔ جو چیز کلام کا اصل مقصود نہیں ہوتی اس کی توضیح بعض اوقات غیر ضروری ہوتی ہے۔(۱۶)
قرآن مجید میں مذکور قیامت کی علامات میں ایک علامت ’’دابۃ الارض‘‘ کا نکلنا بھی ہے۔ مفسرین نے اس جانور کے حجم، اس کی خلقت اور اس کے نکلنے کے طریقے کے متعلق بے شمار روایات اکٹھی کی ہیں، لیکن امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید سے ان میں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی، اس لیے اگر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث مروی ہو تو وہ قبول کر لی جائے گی ورنہ وہ ناقابلِ التفات قرار پائے گی۔(۱۷)
اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی ساخت اور اس کی لمبائی چوڑائی کے متعلق مختلف تفسیری اقوال نقل کر کے لکھتے ہیں:
’’اس قسم کی بحثیں مجھے اچھی نہیں لگتیں کیونکہ ان کا علم غیر ضروری ہے اور اس سے کوئی فائدہ نہیں اور ان میں غور و فکر کرنا فضول ہے، بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ ہم کو یقین ہے کہ اس جگہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو صحیح جانب پر دلالت کرے۔‘‘(۱۸)
(۲) دوسری قسم ان روایات کی ہے جو قرآن و سنت کے مسلّمات کے صریح معارض اور ان کی بنیاد کو ڈھا دینے والی ہیں۔ ایسی روایات بالعموم بعض انبیاء سابقین کے واقعات کے تحت نقل کی ہوئی ہیں۔ تمام محقق مفسرین نے ان کی تردید کی ہے، چنانچہ امام رازیؒ نے بھی حسبِ ذیل روایات کو بے اصل قرار دیا ہے:
۱۔ واقعہ ہاروت و ماروت کے ضمن میں مروی روایات، جن کے مطابق یہ دونوں فرشتے تھے جو زمین پر بھیجے گئے اور ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی خواہش میں بت پرستی، شراب نوشی اور قتل کے مرتکب ہوئے۔(۱۹)
۲۔ سورہ اعراف کی آیت ۲۴ کے الفاظ فَلَمَّا اٰتَاھُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرْکَآءَ فِیْ مَآ اٰتَاھُمَا کے تحت مروی آیت جس میں ذکر ہے کہ اس آیت میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کا ذکر ہے جنہوں نے ابلیس کے ورغلانے میں آ کر اپنے بیٹے کا نام عبد الحارث رکھ دیا۔(۲۰)
۳۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے ضمن میں مروی روایت جس کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام آمادۂ گناہ ہو گئے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا جنہوں نے ان کو دھکیل کر ہٹایا اور وہ بالکل ناکارہ ہو گئے۔(۲۱)
۴۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے واقعہ کے تحت مروی روایات جن کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام اوریا کی بیوی پر فریفتہ ہو گئے اور اس کے خاوند کو قتل کرا کے اس سے نکاح کر لیا۔(۲۲)

تفسیر کبیر پر اعتراضات

اپنی تمام تر افادیت اور خوبیوں کے باوجود تفسیر کبیر خامیوں سے پاک نہیں۔ ہم ذیل میں ان چند امور کا ذکر کرتے ہیں جن پر اہلِ علم نے اعتراض کیا ہے۔

(۱) غیر  متعلق مباحث کی کثرت

تفسیر کبیر کے ایسے عقلی مباحث جن سے منصوصات کی تائید یا ان کی تفہیم میں مدد ملتی ہے، ان کی تمام منصف مزاج اہلِ علم نے قدر کی ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ اس تفسیر میں ایک بڑا ذخیرہ ایسے فنی مباحث کا بھی ہے جن کا قرآن کی تاویل و تشریح سے کوئی تعلق نہیں، اور جنہیں امام صاحبؒ نے محض اپنے عقلی ذوق کی تشفی کے لیے تفسیر کا حصہ بنا دیا ہے۔ محمد حسین ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’تفسیر دیکھنے سے ظاہر ہے کہ امام رازی کو زیادہ سے زیادہ نکتے استنباط کرنے اور دائرۂ گفتگو کو وسیع سے وسیع تر کرنے کا ازحد شوق ہے۔ قرآن کے الفاظ سے کسی موضوع کا ذرا بھی تعلق نظر آئے تو وہ اس کو دائرۂ بحث میں لے آتے اور اس سے متعلق نکات استنباط کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘‘(۲۳)
تفسیر کے مقدمہ میں خود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کی زبان سے یہ بات نکلی کہ سورہ فاتحہ سے دس ہزار فوائد اور نکات استنباط کیے جا سکتے ہیں، لیکن بعض لوگوں نے اس کو ناممکن قرار دیا۔ چنانچہ میں نے اس بات کو ممکن الحصول ثابت کرنے کے لیے فاتحہ کی تفسیر میں اس قدر تطویل سے کام لیا ہے(۲۴)۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں سورۂ فاتحہ کی تفسیر ۲۹۰ صفحات کو محیط ہے۔ اس ذوق کا نتیجہ یہ ہے کہ کتاب کا ایک بہت بڑا حصہ ریاضی، طبیعیات، ہیئت، فلکیات، فلسفہ اور علمِ کلام کے طویل مباحث کی نذر کر دیا گیا ہے۔ تفسیر کبیر کا یہ پہلو غالباً تمام اہلِ علم کی نظر میں کھٹکا ہے اور اس حوالے سے اس پر تنقید کی گئی ہے۔ سیوطیؒ لکھتے ہیں:
’’صاحبِ علومِ عقلیہ بالخصوص امام رازی نے اپنی تفسیر کو حکما، فلاسفہ اور ان جیسے لوگوں کے اقوال سے بھر دیا اور ایک چیز کو چھوڑ کر دوسری چیز کی طرف اس طرح نکل گئے کہ دیکھنے والا تعجب کرتا ہے کہ آیت کے موقع و محل سے اس کو کیا مطابقت ہے؟ ابو حیان بحر میں لکھتے ہیں کہ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بہت سی طویل چیزوں کو جمع کر دیا ہے جن کی ضرورت علمِ تفسیر میں نہیں، اسی لیے بعض علماء نے کہا ہے کہ تفسیر کبیر میں ہر چیز ہے، صرف ایک تفسیر نہیں ہے‘‘۔(۲۵)
الدکتور محمد حسین ذہبیؒ بھی اس کی تائید کرتے ہیں:
’’خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس کتاب کو علمِ کلام اور طبیعی و کائناتی علوم کا انسائیکلو پیڈیا کہنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ پہلو اس پر اس قدر غالب ہے کہ اس کی تفسیر ہونے کی حیثیت دب کر رہ گئی ہے‘‘۔(۲۶)

(۲) متکلمانہ جانبداری

تفسیر کبیر پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس میں امام صاحبؒ نے کلامی جھگڑوں کے حوالے سے ایک خاص نقطۂ نظر کی وکالت کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی رائے حسبِ ذیل ہے:
’’مسلمانوں کا تعلق جب عجمی قوموں سے ہوا اور ان کے علوم اور ان کے فلاسفہ سے ان کو سابقہ پڑا تو دینی مسائل پر سوچنے کا وہ اندازِ فکر وجود میں آیا جس کا ہم علمِ کلام کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اس علمِ کلام نے بھی ہمارے اندر مختلف مکتبِ خیال پیدا کیے اور ان میں سے ہر مکتبِ خیال کے لوگوں نے اپنے مخصوص افکار و نظریات کو مسلمانوں میں مقبول بنانے کے لیے قرآن مجید کی تفسیریں لکھیں۔ ان تفسیروں کا مقصد درحقیقت قرآن مجید کی تفسیر لکھنے سے زیادہ ان افکار و نظریات کے دلائل فراہم کرنا تھا جو ان تفسیروں کے لکھنے والوں نے اپنے متکلمانہ طرزِ فکر سے پیدا کیے تھے۔ اس طرز پر ہمارے ہاں جو تفسیریں لکھی گئیں ان میں سب سے زیادہ مشہور اور اہمیت رکھنے والی تفسیریں دو ہیں: ایک علامہ زمحشری رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کشاف، اور دوسری امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کبیر۔ ان میں سے مقدم الذکر معتزلہ کے مکتبِ خیال کے ترجمان ہیں اور مؤخر الذکر اپنی تفسیر میں ہر جگہ اشاعرہ کے نظریات کی وکالت کرتے ہیں‘‘۔(۲۷)
اشعریت کی حمایت میں امام رازیؒ کے اس غلو کی شکایت علامہ شبلی نعمانیؒ نے بھی کی ہے:
’’امام صاحب نے علمِ کلام کی بنیاد اشاعرہ کے عقائد پر قائم کی اور اس سینہ زوری سے اس کی حمایت کی کہ اشاعرہ کے جو مسائل تاویل کے محتاج تھے ان میں تاویل کا سہارا بھی نہ رکھا اور پھر ان کی صحت پر سینکڑوں دلیلیں قائم کیں۔ مثلاً اشاعرہ اس بات کے قائل تھے کہ انسان اپنے افعال پر قدرتِ موثرہ نہیں رکھتا تاہم جبر سے بچنے کے لیے انہوں نے کسب کا پردہ لگا رکھا تھا۔ امام صاحب نے یہ پردہ بھی اٹھا دیا اور صاف صاف جبر کا دعوٰی کیا، چنانچہ تفسیر کبیر میں جابجا اس دعوے کی تصریح کی ہے اور اس پر دلیلیں قائم کی ہیں۔ اسی طرح خدا کے افعال کا بغیر کسی مصلحت و حکمت کے ہونا، حسن و قبح کا عقلی نہ ہونا، زندگی کے لیے جسم کا مشروط نہ ہونا، دیکھنے کے لیے لون و جسم و جہت کا مشروط نہ ہونا، کسی شے میں کسی خاصیت کا نہ ہونا، اشیاء میں سبب و مسبب کا سلسلہ نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام مسائل پر سینکڑوں دلیلیں قائم کیں اور انہی مسائل کو اعتزال اور سنیت کا معیار قرار دیا۔ چنانچہ ان کی تمام کتبِ کلامیہ اور تفسیر کبیر انہی مباحث سے بھری پڑی ہیں‘‘۔(۲۸)
ایک مثال سے امام رازیؒ کے اس طرزِ فکر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے:
امام رازیؒ اور تمام اشاعرہ اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالٰی بندوں کو تکلیف مالایطاق دیتا ہے یعنی ان پر ایسا بوجھ ڈالتا ہے جس کو اٹھانے کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔ اس پر انہوں نے اپنی تفسیر میں مختلف آیات کے ذیل میں متعدد دلیلیں بیان کی ہیں۔ لیکن سورہ بقرہ کی  آخری آیت واضح طور پر ان کے اس مسلک کی تردید کرتی ہے۔ ارشاد باری ہے:
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا۔
’’اللہ تعالٰی کسی انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں انہوں نے متعدد تاویلات سے آیت کے واضح مفہوم کو پلٹنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے دوسری جگہ ایک عجیب دلیل دیتے ہوئے آیت کے ظاہری مفہوم کو رد کر دیا ہے۔ لکھتے ہیں:
واذا کنت المسئلہ قطعیۃ یقینیۃ کان القول فیھا بالدلائل الظنیۃ الضعیفۃ غیر جائز۔ مثالہ قال اللّٰہ تعالٰی ’’لا یکلف اللّٰہ نفسا الّا وسعھا‘‘ قام الدلیل القاطع علی ان مثل ھذا التکلیف قد وجد علی ما بینا بالبراھین الخمسۃ فی تفسیر ھذہ الآیۃ فعلمنا ان المراد اللّٰہ تعالٰی لیس ما یدل علیہ ظاھر الآیۃ۔
’’جب ایک مسئلہ اپنی جگہ پر قطعی یقینی ہو تو اس کے بارے میں ظنی اور کمزور دلائل کی بنا پر کچھ کہنا ناجائز ہے۔ مثلاً لا یکلف اللّٰہ نفسا الا وسعھا کے متعلق قطعی دلائل سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس قسم کی تکلیف مالایطاق اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ ہم اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں اس کی تائید میں پانچ نہایت محکم دلیلیں لکھ چکے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ اس سے اللہ تعالٰی کی مراد وہ نہیں ہو سکتی جو ظاہر آیت سے معلوم ہوتی ہے‘‘۔(۲۹)

(۳) اہل السنۃ کی کمزور ترجمانی

بعض علما کی رائے یہ ہے کہ تفسیر کبیر میں باطل فرقوں کا استدلال تو نہایت بھرپور طریقے سے پیش کیا گیا ہے لیکن اس کے مقابلے میں اہلِ سنت کی ترجمانی کمزور طریقے سے کی گئی ہے۔ ابن حجرؒ لکھتے ہیں:
’’ان پر یہ اعتراض ہے کہ قوی شبہات پیش کرتے ہیں لیکن ان کا تسلی بخش جواب دینے سے عاجز رہ جاتے ہیں، چنانچہ مغرب کے بعض علما نے کہا کہ ان کے اعتراضات نقد ہوتے ہیں اور جواب ادھار۔ شیخ سراج الدین ان پر سخت اعتراض کرتے اور کہتے تھے کہ دین کے مخالفین کے اعتراضات تو نہایت قوت اور زور سے بیان کرتے ہیں لیکن اہلِ سنت کی ترجمانی نہایت کمزور طریقے سے کرتے ہیں‘‘۔(۳۰)
مخالف کے استدلال کو پوری قوت سے پیش کرنے کی عادت کا خود امام رازیؒ نے بھی اعتراف کیا ہے۔ ’’نہایۃ العقول‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ وہ مخالف کے استدلال کو اس عمدگی سے پیش کریں گے کہ اگر مخالف خود بھی چاہے تو اس سے اچھے طریقے سے پیش نہ کر سکے گا۔(۳۱)


حواشی

  1. محمد حسین الذہبی: التفسیر والمفسرون ج ۱ ص ۲۹۱۔ محمد تقی عثمانی: علوم القرآن ص ۵۰۴
  2. ضیاء الدین اصلاحی: ’تفسیر کبیر اور اس کا تکملہ‘، مشمولہ ’ایضاح القرآن‘ ص ۲۰۶ تا ۲۴۸
  3. التفسیر والمفسرون: ج ۱ ص ۲۹۳
  4. محمد یوسف بنوری: یتیمۃ البیان مقدمہ مشکلات القرآن ص ۲۳
  5. فخر الدین الرازی: التفسیر الکبیر ج ۲۴ ص ۲۲۰
  6. المرجع السابق: ج ۹ ص ۱۶۱
  7. سورۃ النساء آیت ۱
  8. التفسیر الکبیر: ج ۲۱ ص ۱۶۷
  9. المرجع السابق: ج ۱۷ ص ۲۲۶
  10. المرجع السابق: ج ۹ ص ۷۳
  11. المرجع السابق: ج ۳ ص ۲۱۸
  12. علوم القرآن: ص ۵۰۴
  13. امین احسن اصلاحی: مبادی تدبر قرآن: ص ۱۹۷
  14. التفسیر الکبیر: ج ۲۷ ص ۱۳۳
  15. نفس المصدر: ج ۲۵ ص ۲۴۷
  16. نفس المصدر: ج ۳ ص ۵
  17. نفس المصدر: ج ۲۴ ص ۲۱۸
  18. نفس المصدر: ج ۱۷ ص ۲۲۴
  19. نفس المصدر: ج ۳ ص ۲۱۹
  20. نفس المصدر:ج ۱۴ ص ۸۶
  21. نفس المصدر:ج ۱۸ ص ۱۳۰
  22. نفس المصدر:ج ۲۶ ص ۱۹۲
  23. التفسیر والمفسرون: ج ۱ ص ۲۹۶
  24. التفسیر الکبیر: ج ۱ ص ۳
  25. جلال الدین السیوطی: الاتقان: ج ۲ ص ۱۹۰
  26. التفسیر والمفسرون: ج ۱ ص ۲۹۵
  27. مبادی تدبر قرآن: ص ۱۸۵
  28. شبلی نعمانی: الکلام: ص ۶۳
  29. التفسیر الکبیر: ج ص
  30. التفسیر والمفسرون: ج ۱ ص ۲۹۵
  31. المرجع السابق

امریکی اِکسپوژر کی نئی جہتیں

پروفیسر میاں انعام الرحمن

جمہوریت کے مسلّمہ اصولوں کے مطابق حقیقی جمہوریت اپوزیشن کی موجودگی سے مشروط ہے۔ کمیونسٹ ممالک پر اسی حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے کہ ان کے ہاں اپوزیشن مفقود ہے کیونکہ ان کے ہاں کمیونسٹ پارٹی کے علاوہ کسی دوسری پارٹی کو سیاسی عمل میں شریک نہیں کیا جاتا، لہٰذا حقیقی جمہوریت کے لیے کم از کم دو جماعتی نظام نہایت ضروری ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ کے دوران اور تاحال امریکہ جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کا سرخیل ہے اور وہاں دو جماعتی نظام رائج ہے۔ برطانیہ میں بھی دو جماعتی نظام رائج ہے لیکن ایسا نہیں کہ دوسری جماعت تقریباً برائے نام یا غیر مؤثر ہو کیونکہ اس طرح بھی  جمہوری سپرٹ پیدا نہیں ہوتی۔ دونوں جماعتیں، جو حزب انتشار اور حزب اختلاف کے طور پر ابھریں، متوازی طور پر مؤثر اور مضبوط ہونی چاہئیں، امریکہ اور برطانیہ میں یہی صورتحال ہے۔
سرد جنگ کے دوران میں کمیونسٹ رائٹرز یک جماعتی نظام کے دفاع میں اور اپنے نظام میں جمہوری قدروں کی موجودگی کے حوالے سے یہ دلیلیں دیتے رہے ہیں کہ ان کی جماعت میں جمہوریت ہے۔ اگرچہ مرکزیت ہے لیکن اسے بھی جمہوری بنایا گیا ہے۔ اس کے لیے ایک اصطلاح ’’جمہوری مرکزیت‘‘ (Democratic centralization) بہت معروف رہی ہے۔ کمیونزم کے علمبردار دوسری جماعت کی موجودگی کو اپنے نظام کے لیے نقصان دہ گردانتے تھے اور جمہوری مرکزیت اور ذاتی املاک کی عدم موجودگی کو پوری دنیا میں پھیلانے کے خواہشمند تھے۔ سابقہ سوویت بلاک کی امریکہ کے خلاف محاذ آرائی، کمیونسٹ نظریے سے میچ کرتی تھی کیونکہ وہ اپنے نظام کے پھیلاؤ کے دوران میں اور پھیلاؤ کے بعد عالمی سطح پر کسی دوسری جماعت کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اگر سرد جنگ کا فیصلہ کمیونسٹ ممالک کے حق میں ہوتا تو نتیجتاً پیدا ہونے والا یک قطبی نظام (Uni-polar system)  ان کے نظریے کا عین ہوتا۔ لیکن سرد جنگ میں جیت امریکہ کی ہوئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ امریکہ اپنے جمہوری اصولوں کے مطابق عالمی سطح پر بھی ایک دوسری جماعت کو برداشت کرتا اور خیال کرتا کہ عالمی سطح پر جمہوری عمل جاری رہے، کیونکہ دو مؤثر جماعتیں عالمی سطح پر موجود ہیں لیکن امریکہ نے سابق سوویت یونین بلاک کے خلاف کام کرتے ہوئے ایک طرح سے غیر جمہوری عمل اختیار کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمل کے دوران میں امریکہ جمہوریت اور آزادیوں کے پھیلاؤ کا پراپیگنڈا کرتا رہا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اپنے ملک کے اندر جمہوریت کے قیام اور کامیابی کے لیے تو اپوزیشن کو ضروری خیال کرتا ہے لیکن یہی امریکہ جب اپنی جغرافیائی حدود سے باہر آتا ہے اور اپنے اسی نظام کو پوری دنیا  میں پھیلانے کے لیے جتن کرتا ہے تو اس کی اپروچ عملاً کمیونسٹ ہو جاتی ہے، وہی کمیونزم جس کے پھیلاؤ سے امریکہ اس لیے خوفزدہ تھا کہ وہ جمہوری قدروں کا حامل نہیں۔ (امریکہ کی طرف سے اب بھی چین پر تنقید ہوتی رہتی ہے) امریکی سیاسی فکر کے مطابق تو سابق سوویت یونین کا وجود بھی بطور اپوزیشن رہنا چاہیے تھا لیکن امریکیوں نے اسے ختم کر کے دم لیا۔
اب صورتحال اس طرح سے ہے کہ اپنے ملک سے باہر امریکی اپروچ کمیونسٹ ڈھب پر ہے۔ وہ کسی بھی اپوزیشن کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں کیونکہ ان کا ’’نظام‘‘ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ جس طرح کمیونسٹ ممالک اپنی جغرافیائی حدود میں معاشی وسائل کو ’’مرتکز‘‘ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے، عالمی سطح پر یہی طرز امریکہ نے اختیار کی ہے۔ امریکہ نے پوری دنیا کے معاشی وسائل صرف اپنے ہاں مرتکز کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ عالمی سطح پر ’’کمیونسٹ‘‘ بن کر ابھرا ہے۔ دنیا کو جو خوف کمیونسٹ ممالک سے تھا اور جس میں بہت زیادہ تخفیف سابقہ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے ہوئی تھی، وہ اب امریکہ کی صورت میں پوری دنیا کا منہ چڑا رہا ہے۔
امریکہ نے کمیونسٹ پارٹی کی طرز پر ہی تو اپنی آمریت کو چھپانے کے لیے ایک طرح سے ’’جمہوری مرکزیت‘‘ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے تاکہ جمہوریت پسندوں کو مطمئن کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی داروں میں دنیا کی بے چارگی سے کون واقف نہیں؟ اسی طرح کمیونسٹ ممالک میں عوام اور پارٹی کارکنوں کی بے چارگی سے کون واقف نہیں تھا، اگرچہ ڈھنڈورا جمہوری مرکزیت کا پیٹا جاتا تھا۔ ایک جگہ اگر یک جماعتی نظام کی خامیاں تھیں تو دوسری جگہ یک قطبی نظام کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے۔ آج دنیا کو کسی ’’سپر گورباچوف‘‘ کی ضرورت ہے۔ ایک اور نکتہ قابل غور ہے، اگر امریکی رویہ اپنے ملک سے باہر اپنے نظریے کا معکوس ثابت ہوا ہے تو اس کا بھی امکان تھا کہ سابق سوویت یونین کا اپنے ملک سے باہر، عالمی سطح پر رویہ کمیونسٹ نظریے کا معکوس ہوتا اور دنیا یک قطبی نظام کا شکار نہ ہوتی، لیکن اس حوالے سے پورے تیقن سے بات کرنا بہرحال مشکل ہے۔
تاہم صورتحال میں آنے والی حالیہ تبدیلیوں کے نتیجے میں خود امریکہ کے اندر سے امریکی عوام کی آواز کی صورت میں ایک ’’سپر گورباچوف‘‘ کا ظہور شروع ہو گیا ہے۔ اب امریکہ کے لیے ممکن نہیں رہے گا کہ وہ اپنی موجودہ روش کو برقرار رکھ سکے۔ امریکہ کو اپنے آمرانہ رجحانات کو Politicize کرنا ہو گا تاکہ یک قطبی نظام کا تاثر کم ہو سکے اور بظاہر اپوزیشن کی موجودگی کا احساس قائم ہو سکے۔ عالمی سطح پر امریکی آمریت کی سیاسی ہیئت (Politicization) امریکہ کے داخلی نظام میں تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہو گی۔ امریکی تبدیلیوں کی نہج کا تعین کرنے میں درج ذیل امور کلیدی کردار ادا کریں گے:
  1. صدارتی الیکشن کے دوران میں بش اور الگور کے مابین جو کچھ ہوا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ امریکہ کی عالمی سطح پر سبکی ہوئی۔ امریکی صدارتی انتخابات کو براہ راست اور زیادہ شفاف کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کیونکہ جمہوریت کے حامی کہتے ہیں کہ اگر جمہوریت میں کوئی نقص ظاہر ہو تو اس کا حل مزید جمہوریت ہے۔ مزید جمہوریت کے اس اصول کو امریکہ کے داخلی معاملات کی حد تک صدارتی الیکشن سے لے کر کسی بھی دستوری ادارے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
  2. اس اصول کے اپنائے جانے کے بعد بھرپور پراپیگنڈا کیا جائے گا کہ دیکھیے ہم نے عوام کی آزادیوں کو وسعت بخشی ہے۔ اسی طرح صرف لفظوں کی حد تک اعادہ کیا جائے گا کہ ہم یہی آزادیاں پوری دنیا کے انسانوں تک پھیلانا چاہتے ہیں۔
  3. زیادہ آزادیوں (More liberties) کے اسی نعرے کے تحت امریکی وفاق میں  چند ایسی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں جن سے امریکہ کی وحدت اندرونی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو لیکن اس کی خارجی ہیئت یورپی یونین کی طرز پر استوار ہو۔
  4. حالیہ جنگ کے دوران میں اور جنگ کے بعد امریکہ پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ نیا دور علاقائی اتحاد (Regional integration) کا دور ہے۔ یورپی یونین اس جنگ سے جو ثمرات سمیٹے گی وہ امریکہ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہو گا۔ اس علاقائی اتحاد کی چھتری تلے یورپی ممالک جنگ میں شامل ہونے یا  نہ ہونے کا آپشن رکھیں گے کیونکہ ان میں سے چند ممالک ان کی نمائندگی کرنے کے لیے کسی نہ کسی حوالے سے جنگ میں موجود رہیں گے۔ امریکہ ’’دہشت گردی‘‘ کے نام پر تمام یورپ کو ہائی جیک نہیں کر سکے گا۔ اس طرح جنگ کے زیادہ منفی اثرات یورپ پر نہیں پڑ سکیں گے۔ اگر بالفرض جنگ کے اخراجات کی بابت بات چلے گی تو ہو سکتا ہے کہ یورپی یونین تقاضا کرے کہ اسے ایک ’’وحدت‘‘ کے طور پر ڈیل کیا جائے یعنی جو حصہ کسی ریاست کے حصے میں آتا ہے اتنا حصہ ہی سارا یورپ ادا کرے گا۔ بہرحال علاقائی اتحاد کا پلیٹ فارم یورپی ممالک کو بہتر سودے بازی کی پوزیشن میں رکھے گا۔
    یورپی یونین کے نظام کی اسی نوع کی افادیت کے پیش نظر امریکہ کے لیے ناگزیر ہو جائے گا کہ آنے والے دنوں کے تقاضوں کے مطابق اپنے نظام مین ہیئتی (Structural) تبدیلیاں کرے۔ یہ تبدیلیاں سیاسی اور دستوری نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ وفاق کو اس حد تک Decentralize یا مرکز گریز کیا جا سکتا ہے جیسے امریکی دستور کے ڈرافٹ کے مطابق تھا کیونکہ آغاز میں امریکی وفاق کا مرکز بہت مضبوط نہیں تھا۔ حالات کے تقاضوں اور امریکی سپریم کورٹ کے فیصلوں سے مرکز بتدریج مضبوط ہوتا گیا۔ اسی طرح اب ایک معکوس عمل شروع ہو سکتا ہے۔ اس عمل میں مضمر خرابیوں کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو زیادہ منظم اور مضبوط کیا جائے گا تاکہ دستور میں مرکز گریز رجحان کے باوجود سیاسی اعتبار سے امریکہ ایک وحدت رہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو۔ یہ کام منظم سیاسی جماعتیں ہی کر سکتی ہیں۔
    ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ مستقبل کی امریکی وحدت سیاسی و سماجی نوعیت کی ہو گی۔ اس سے یہ تاثر پھیلایا جائے گا کہ ہم نے اندرونی اختلافات کو جمہوری طریقے سے ایڈریس کیا ہے۔ اس سے لا محالہ عوام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی قوم کی وحدت کا ایک نیا تفکیری عمل شروع ہو جائے گا جو طویل المیعاد اور پائیدار ہو گا۔ عالمی سطح پر امریکہ کو اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ کسی واقع کے حوالے سے USA کو ٹارگٹ نہیں کیا جا سکے کیونکہ پچاس ریاستوں کے مرکز گریز رجحان کے باعث ٹارگٹ کا تعین مشکل ہو جائے گا۔ اس وقت یورپی یونین کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ اسے ٹارگٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے یورپی کی سکیورٹی سیاسی اعتبار سے زیادہ پائیدار ہوئی ہے۔ یورپی یونین شاید یہ غلطی کبھی نہ کرے کہ Unity in diversity (تنوع میں وحدت) کو پھیلاتے ہوئے وفاق کی سطح پر لے جائے کیونکہ اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو گا۔
بات کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کے اندر یعنی داخلی اعتبار سے چند بنیادی تبدیلیاں متوقع ہیں جس سے عالمی سطح پر اقوام کے مابین راہ و رسم کے نئے باب وا ہو سکتے ہیں اور امریکہ کے یک قطبی نظام کو طوالت بھی مل سکتی ہے۔

امریکی معاشرہ۔ سوچ میں تبدیلی کی جانب گامزن

ہَک گَٹمین

(مضمون نگار امریکہ کی ورمونٹ یونیورسٹی میں انگریزی کے استاذ ہیں۔ تحریر کا ترجمہ جناب نذیر حق نے کیا ہے۔)

گیارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردی کے حملے، اس پر عالمی ردعمل، اور افغانستان پر (امریکی) بمباری کے بارے میں بہت سے تبصرے شائع ہو رہے ہیں۔ ان تبصروں میں سب سے زیادہ واضح اور تیز تبصرہ کسی کالم نگار نے نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی شخصیت کیوبا کے صدر فیڈرل کاسترو نے کیا ہے۔ انہوں نے ۲۲ ستمبر کو (کیوبا کے دارالحکومت) ہوانا میں تقریر کرتے ہوئے جو ابتدائی جملے کہے ہیں وہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ بہت سے دوسرے لوگوں کے برعکس، جو فیشنی انقلاب پسند ہیں، کاسترو نے واضح اور فیصلہ کن انداز میں دہشت گردی کے جواز سے انکار کیا ہے:
’’اس امر سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج دہشت گردی ایک خطرناک اور اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع صورتحال ہے جس کا، اس کے منبع، اقتصادی اور سیاسی عناصر سے قطع نظر، جو اس کو روبہ عمل لانے کا موجب بنتے ہیں، مکمل انسداد کیا جانا بے حد ضروری ہے۔‘‘
مسٹر کاسترو نے دہشت گردوں کے حملہ کے امکانی نتائج کا بھی اندازہ لگایا ہے۔ ان کے الفاظ میں وزن ہے کیونکہ وہ سچے انقلابی ہیں:
’’اس دہشت گردی سے فائدہ کسے پہنچا ہے؟ انتہائی دائیں بازو والوں کو، نہایت پسماندہ فکر دائیں بازو کی قوتوں کو، ان لوگوں کو جو دنیا میں فروغ پذیر بغاوت کو کچلنا چاہتے ہیں، اور اس کرۂ ارض پر اگر کوئی ترقی پسند عنصر موجود ہے یا باقی بچ گیا ہے، اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی، ایک بڑی نا انصافی تھی، یہ بہت بڑا جرم تھا جس کا ارتکاب، جس کی منصوبہ بندی اور جسے روبہ عمل لانے والے سبھی انسانیت کے مجرم ہیں۔‘‘
وہ شخص جو گزشتہ چالیس سال سے امریکی بالادستی کی مزاحمت کر رہا ہے، بخوبی جانتا بوجھتا ہے کہ ایک منصفانہ دنیا کا قیام ہی دراصل انسانی ترقی و تعمیر کا منصوبہ ہے۔ ایک زیادہ منصفانہ اور جمہوری دنیا کا قیام اور آزادی کی جدوجہد کا طویل کام ڈرامائی انداز میں ٹی وی پر ویڈیو ٹیپ چلا کر تو مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ خوف و ہراس سے کوئی تعمیری کام تو نہیں ہو سکتا، اس سے تو عدمِ استحکام ہی پیدا ہوتا ہے، اور عدمِ استحکام خلا پیدا کرتا ہے۔ جو اکثر و بیشتر فاشزم پر مبنی ایجنڈا رکھنے والی قوتوں کو ہی، خواہ یہ فاشزم مذہبی بنیاد پرست قوتیں روبہ کار لائیں یا کثیر القومی سرمایہ دار قوتوں کے جلو میں آئے، آگے آنے اور خلا کو پر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مسٹر کاسترو کی بقیہ تقریر افغانستان میں امریکہ کی فوجی مداخلت کی مخالفت اور سرزنش پر مشتمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ترقی یافتہ غریب دنیا میں رہنے والے کروڑوں عوام اور قوموں کی معیشت پر ہی اس دہشت گردی کے نہایت خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے صدر جارج بش کی طرف سے بنیاد پرستانہ انداز میں نعرہ بازی پر بھی شدید نکتہ چینی کی ہے۔ (یہ صدر بش کی طرف سے ’’صلیبی جنگ کے آغاز‘‘ کی باتوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے قوم سے خطاب کے دوران کی تھیں)۔ آخر مسٹر کاسترو امریکی ایمپائر کی غارت گر اور تند خوانا سے تو واقف ہیں نا!
صدر کاسترو کی طرف سے دہشت گردی کو مسترد کرنا، اور اس امر کی تفہیم کہ دہشت گرد انقلاب کی حمایت نہیں کرتے بلکہ رجعت پسندی کے فروغ کا سبب بنتے ہیں، دنیا میں ہر جگہ ایسے مرد و خواتین کو پسند آئیں گے جو باہمی محبت اور مفاہمت چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس بنا پر ان کے خیالات کے مطابق امریکہ میں جو کچھ ہوا اس کے اثرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ امریکہ میں مقیم کسی بھی مبصر پر افغانستان میں امریکہ کی فوجی مداخلت کے علاوہ متعدد حقائق آشکارا ہوئے ہیں۔ یہ تسلیم کہ گیارہ ستمبر کے حادثات کے فوری اثرات خوف، عدمِ تحفظ اور فوجی جواب ہیں، لیکن جیسا کہ امریکہ کے عظیم ترین فلاسفر ریلف والڈو ایمرسن نے ۱۸۳۶ء میں لکھا تھا:
’’اگر کوئی ایسا زمانہ ہے جس میں پیدا ہونے کی کسی میں خواہش پیدا ہو تو کیا یہ انقلابات کا دور نہیں جب پرانے اور نئے ساتھ ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے درمیان موازنہ ہو رہا ہے، جب تمام افراد کے صبر کا امتحان خوف اور امید لے رہے ہوتے ہیں، جب پرانوں کی تاریخی شان و شوکت کی جگہ نئے دور کے شاندار امکانات کو دی جا سکتی ہو؟‘‘
ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بڑے ہی حیران کن نتائج پیدا ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ بش انتظامیہ کے بعض بنیادی مفروضے حالیہ دنوں کے دوران بالکل الٹ پڑ گئے ہیں۔ میں نے اس اخبار کے لیے تین ماہ قبل ایک مضمون سپردِ قلم کیا تھا جس میں، میں نے خارجہ امور میں امریکہ کی تنہائی پر سخت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ نے کیوٹو معاہدے کو مسترد کر دیا تھا جو کیمیائی اور حیاتیاتی جنگی تزویرات کی تحدید اور چھوٹے ہتھیاروں کی اسمگلنگ پر بین الاقوامی کنٹرول کے بارے میں تھا۔ دہشت گردوں کے حملے کے بعد صدر بش، نائب صدر ڈک چینی اور وزیر دفاع رمزفیلڈ نے، جو سبھی تنہائی پسندی کا شکار ہیں، اپنی ساری توجہ ’’بین الاقوامی کولیشن‘‘ قائم کرنے پر مرکوز کر دی۔ وہ اس خطرے کا تدارک کرنا چاہتے تھے کہ امریکہ اپنی فوجی قوت دوسروں سے صلاح مشورہ کیے بغیر استعمال کرے گا۔ وہ مسلمانوں کو بھی یہ یقین دلانے لگے کہ امریکہ تو مذہبی تنوع کو پسند کرتا ہے۔ اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کو دیا جانے والا جواب خاص طور پر قابلِ غور ہے۔
چالیس سال سے زائد عرصے کے دوران میں ریپبلکن (پارٹی کے قائدین) اقوامِ متحدہ کو امریکہ کی خودمختاری پر تحدید قرار دیتے اور ادارے پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ وہ اس بین الاقوامی ادارے کے فنڈز روکتے رہے اور اسے فنڈز کی کمی کا شکار بناتے رہے، حالانکہ امریکہ کے ذمے، جو دنیا کی امیر ترین ریاست ہے، یہ فنڈ بجا طور پر واجب الادا تھے۔ امریکی حکام اقوامِ متحدہ کی ہر اس کوشش کا مذاق اڑاتے رہے جو وہ دنیا بھر میں کسی بھی خطے میں عوام کو خطرات سے بچانے کے لیے کرتی رہی ہے۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میں ریپبلکن صدر (جارج بش) نے اقوام متحدہ کو گویا گلے لگا رکھا ہے، وہ اسے ضروری قرار دے رہے ہیں تاکہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قرارداد منظور کرا سکیں۔ اور وہ دنیا بھر کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کی تصدیق و توثیق کرتے پھرتے ہیں۔ 
۔۔۔۔ لیکن اب بھی دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی یک طرفہ کے بجائے اجتماعیت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ پہلے شمالی امریکہ اور یورپ کی سرحدوں سے آگے کسی اور دنیا کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے مگر اب وہ اس احساس کا اظہار کر رہے ہیں کہ ترقی پذیر دنیا ایک غیر  معمولی پیچیدہ دنیا ہے۔ مگر امریکہ کی برسراقتدار قوتیں ابھی پوری طرح اس بات پر تیار نہیں کہ موجودہ عالمی نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے جس میں دولت مند قومیں عالمی معیشت پر چھائی ہوئی ہیں اور یہ بات دنیا بھر کے شہریوں کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ اس امر کا کوئی امکان بھی نہیں کہ واشنگٹن کی سیاست یا معیشت کاری دنیا میں دولت یا آمدنی کی غیر مساوی تقسیم کو تبدیل کرنے میں کوئی کردار ادا کرے گی، لیکن دولت کی منصفانہ تقسیم کے بغیر ترقی پذیر دنیا اپنے معاشرتی (ترقی کے) اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔ دولت کی تقسیم میں اہم اور واضح تبدیلی کے بغیر اربوں انسان غربت کی بھٹی میں جلتے رہیں گے، بیماریوں کے تنور میں جھلستے رہیں گے اور ان کی توقعات کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ دہشت گردی کے اسباب خواہ کچھ بھی ہوں، اس کی نرسری تو مایوسی اور غصہ ہی ہیں، جو ایک ایسی دنیا میں مقیم انسانوں میں جنم لیتے ہیں جہاں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں لیکن وہاں دولت وافر مقدار میں موجود ہو البتہ اس کی منصفانہ تقسیم ناپید ہو۔
دہشت گردی کا ایک اور نتیجہ امریکی عوام کی آگاہی میں تبدیلی بھی ہے۔ اگرچہ امریکی عوام بھی دنیا کے دوسرے عوام سے مختلف نہیں ہیں، جن کی ایک خاصی بڑی تعداد یا تو اس نوع کی خبروں کو نظرانداز کر دیتی ہے یا پھر اپنے سابقہ نظریات میں تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتی، لیکن اب امریکیوں کی ایک بڑی تعداد ۱۰ ستمبر کی نسبت آج دنیا کی صورتحال کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ رہی ہے۔ صرف یہی نہیں، وہ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ اکیسویں صدی میں زندگی زیادہ غیر محفوظ اور خطرات سے پُر ہو سکتی ہے۔ اس وقت بہت سے امریکیوں کے دل میں تین انواع کی بصیرت نے جنم لیا ہے:
  1. دنیا امریکہ کی سرحدوں کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو جاتی۔
  2. امریکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد میں یہ احساس اور ادراک بھی پیدا ہوا ہے کہ دنیا میں بہت سی اقوام اور معاشرے ہیں جو آزاد ہیں، خودمختار ہیں، اور وہ امریکی امداد، ثقافت اور اثرورسوخ کے بغیر بھی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران میں امریکیوں کو کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ اقوام کا معاملہ بڑا پیچیدہ ہوتا ہے اور اقوام کے درمیان تعلقات بھی اسی طرح پیچیدہ اور تہ در تہ ہوتے ہیں۔ لیکن آج ان میں ان باتوں کا ادراک اور احساس پوری طرح بیدار ہو چکا ہے۔ صرف وہی لوگ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں جو امریکہ میں سالوں سے رہ رہے ہیں، یا وہ جو امریکہ یاترا پر اکثر و بیشتر آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ بے حد حیران کن امر ہے کہ امریکی فوج کے لیے یہ حکم نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ملک پر چڑھ دوڑیں بلکہ اب یہ ہو رہا ہے کہ فوجی کارروائی سے قبل اس کے بین الاقوامی نتائج کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ امریکیوں کے بارے میں یہ تصور کہ وہ چرواہے ہیں، جیسا کہ پرانی فلموں میں دکھایا جاتا ہے، یا پھر وہ پولیس والے ہیں جیسا کہ کئی فلموں میں انہیں پیش کیا جا رہا ہے جو اپنا پستول نکال کر ہر مسئلے کو حل کر سکتے ہیں اور ہر سامنے آنے والے مخالف کو گولی کا نشانہ بناتے چلے جاتے ہیں، اب مدھم پڑتا جا رہا ہے۔ افغانستان پر فضائی بمباری کے جواز یا انصاف کے بارے میں کوئی کچھ بھی سوچے، لیکن یہ (اقدام) سوچا سمجھا ہے اور کسی ناراض گن مین کا فوری ردعمل نہیں کہ وہ ہر اس چیز کو گولی کا نشانہ بناتا چلا جائے جو اسے حرکت کرتی ہوئی نظر آئے۔
  3. مغربی دنیا میں عموماً اور امریکہ میں خصوصاً یہ آگاہی بڑھ رہی ہے کہ دنیا کی آبادی کے تیسرے حصے سے زیادہ افراد قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ دو ماہ قبل غالباً ۵ فیصد کے قریب امریکی یہ جانتے تھے کہ اسلام دنیا میں کتنی دور دور تک پھیل چکا ہے۔ مگر آج امریکیوں کی اکثریت اسلام کی وسعت کے بارے میں آگاہ ہو چکی ہے۔ اب بہت سے امریکی ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ عیسائیت کی طرح اسلام میں بھی کئی مکاتبِ فکر ہیں، کئی فرقے ہیں اور ان سب کی اندرونی روایات بھی ہیں۔ نیویارک میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد کے دنوں میں اگرچہ امریکہ کے گلی بازاروں میں مسلمانوں پر حملوں، ان سے گالی گلوچ کرنے اور تنگ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ پہلے سے بہت زیادہ حد تک صبر و تحمل، برداشت، باہمی تصورات اور عقائد کے اختلاف کو قبول کرنے، خصوصاً اسلام کی مذہبی رسوم پر عمل اور اسلامی اقدار سے تعرض نہ کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اگر امریکہ کا کوئی مخصوص دعوٰی ہے جس پر امریکی عوام بھی فخر کرتے ہیں، تو وہ یہ ہے کہ امریکی شہری اختلافات کو برداشت کرنے اور معاشرتی گوناگونی کو قبول کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ اس امر کی تردید ناممکن ہے کہ امریکی معاشرہ اپنی امنگوں اور خواہشات کے مطابق عمل پیرا رہتا ہے، لیکن بسا اوقات، خصوصاً گزشتہ ہفتوں کے دوران میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی معاشرہ زیادہ تحمل و برداشت اور نوعِ انسانی کی گوناگونی کی تفہیم کا ثبوت دے رہا ہے۔

امریکی معاشرے کے ضمیر میں تبدیلی شاید سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ پورے امریکہ میں مرد اور خواتین یہ سوال پوچھتے رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، وہ کیسے ہوا؟ کیونکر ہوا؟ ایک سطح پر تو، جیسا کہ صدر فیڈرل کاسترو نے بھی ذکر کیا ہے، اس سوال کا جواب یہی ہے کہ کسی بھی اخلاقی نظم یا انقلابی حکمتِ عملی میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایک اور سطح پر، امریکی معاشرے میں اس امر کا احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ دنیا کے بہت سے انسانوں اور لاتعداد معاشروں کو امریکی قوم سے بالکل صحیح شکایات اور گلے شکوے ہیں۔ آج امریکہ کے شہری انتہائی سنجیدگی کے ساتھ یہ سمجھ رہے ہیں، جو قبل ازیں کبھی محسوس نہیں کی گئی، کہ ان کی قوم کا عالمی نظم یا دنیا کے ڈھانچے میں نہایت بنیادی کردار ہے جو معاشروں کو غریب اور پس ماندہ معاشروں سے جدا کرتا ہے، اور امریکہ ایک بین الاقوامی پولیس مین ہونے کی حیثیت میں امیر اور غریب معاشروں کے درمیان اس فرق کو قائم رکھتا ہے۔

میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اقتصادی انصاف کے لیے جدوجہد میں گزارا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ان دنوں امریکہ میں ہر طرف امریکیوں کی ان پالیسیوں کی مذمت ہو رہی ہے جن کے باعث اس کرۂ ارض پر آباد نصف سے زائد انسانوں پر مسلسل ظلم و جبر ہو رہا ہے۔ اس مذمت میں امریکی نوجوان، بوڑھے، پڑھے لکھے اور مراعات یافتہ طبقہ کے لوگ اور عام مزدور، عام شہری تک بیک زبان شامل ہیں۔ امریکہ میں جہاں بھی چار افراد مل بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں تو وہ کھیلوں، فلموں یا موسم پر نہیں ہوتی بلکہ وہ امریکہ کی سیاسی پالیسیوں پر بحث کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ قبل ازیں ایسا نہیں تھا۔ یہ بات چیت واقعی بعض مرکزی اور بنیادی مسائل پر ہی ہوتی ہے۔ مثلاً امریکہ نے دنیا میں غربت کو قائم رکھنے کے لیے کتنا زیادہ کردار ادا کیا ہے؟ لوگ اس بات پر امریکہ کا محاسبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ دنیا میں جمہوری اور منتخب حکومتوں کے بجائے اپنی پسند کے چند افراد پر مشتمل حکومتوں کو لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور امریکہ مختلف خطوں اور ممالک میں عدمِ استحکام پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ باتیں امریکی عوام کو مسلسل پریشان رکھ رہی ہیں۔

امریکیوں کی بڑی تعداد ان باتوں کے بارے میں اظہار خیال کرتی نظر آتی ہے اور وہ امریکہ کی ان خامیوں کو خوب سمجھ رہے ہیں۔ مگر بش انتظامیہ کے بڑے، فوجی جرنیل اور مالیاتی اداروں میں بیٹھے ہوئے جغادریوں کو ان کا کوئی خیال نہیں ہے۔ جب تک برسراقتدار قوتیں، ان میں سیاسی اور معاشی دونوں شامل ہیں، ان باتوں کا ادراک نہیں کریں گی اور امریکی شہریوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے خدشات اور خطرات کا احساس نہیں کریں گی، ترقی پذیر دنیا اور امریکہ کے درمیان بنیادی اقتصادی تعلقات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو گی۔ لیکن اس امر کی امید کی جا سکتی ہے کہ سوچ میں تبدیلی ضرور آ رہی ہے اور یہ بڑی اچھی بات ہے۔ شاعر شیلے نے لکھا تھا ’’اگر موسمِ سرما آتا ہے تو کیا موسمِ بہار بہت دور ہو سکتا ہے؟‘‘ اگرچہ ان سب باتوں کا مثبت جواب یقینی ہرگز نہیں ہے لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’اگر عوام بدل جائیں تو کیا ان کی حکومت ان سے دور پیچھے رہ سکتی ہے؟‘‘

(بشکریہ روزنامہ پاکستان)


ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا المیہ ۔۔ اصل گیم

عبد الرشید ارشد

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے المیے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے بلکہ اس سے پیدا شدہ صورتحال پربھی بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ اس المیے کی تہہ میں چھپے طوفان پر شایدبہت ہی کم لوگوں کی نگاہ ہو گی۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کوئی جذباتی کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ لمبی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ اس منصوبہ بندی کی کڑیاں بہت دور تک جاتی ہیں۔ وثائقِ یہودیت (Protocols) پر گہری نظر رکھنے والوں کے لیے اس قضیے کو، اس کی تہہ میں چھپے طوفانوں کو سمجھنا سہل ہے۔
یہود کے منصوبہ میں سرفہرست عالمی سطح پر اقتدارِ اعلٰی کی منزل ہے جس کا پایۂ تخت ’القدس‘ ہو گا جو عظیم تر اسرائیل کا بھی پایۂ تخت ہو گا۔عظیم اسرائیل کا حصول ان کا خفیہ منصوبہ نہیں ہے۔ اس لیے پہلے ’القدس‘ کے ساتھ اسرائیلی مملکت کا قیام تھا جس میں وہ ۱۹۴۸ء میں برطانیہ کی سرپرستی سے کامیاب ہو گئے۔ نصف صدی کے بعد اب انہوں نے دوسرے مرحلے پر کام شروع کر دیا ہے۔ عظیم اسرائیل میں ارضِ فلسطین کے علاوہ ترکی، شام، عراق، اردن، کویت، بحرین، عرب امارات، سعودیہ کا بیشتر حصہ بشمول مدینہ منورہ، سوڈان، مصر وغیرہ شامل کرنے کی آرزو اور عملی کوشش ہے۔
اس آرزو کی تکمیل اکیلے اسرائیل کے بس میں نہیں ہے لہٰذا اس نے مداری کا رول امریکہ اور برطانیہ کے سپرد کر دیا ہے اور امریکہ و یورپ پر اپنے سونے کے زور پر حاوی ہونے کے بعد اور انہیں یہ یقین دلا کر کہ ہمارا تمہارا دشمن نمبر ایک اسلام اور مسلمان ہیں، اپنا ہم نوا بنا لیا ہے۔ یہودی مسلمان ممالک کو کمزور کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے خود پسِ پردہ رہ کر وقتاً فوقتاً اپنی منصوبہ بندی کو آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے خود یہود کی زبانی:
’’وہ کون ہے اور کیا ہے جو نادیدہ قوت پر قابض ہو سکتا ہے؟ بالیقین یہی ہماری قوت ہے۔ صہیونیت کے کارندے ہمارے لیے پردے کا کام دیتے ہیں جس کے پیچھے رہ کر ہم  مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ منصوبۂ عمل ہمارا تیار کردہ ہوتا ہے مگر اس کے اسرار و رموز ہمیشہ عوام کی آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں‘‘۔ (پروٹوکولز ۴ : ۲)
منصوبۂ عمل ایران عراق جنگ کا ہو، عراق کویت کا ہو، عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی یلغار کا ہو، یا افغانستان پر امریکی دہشت گردی کا ہو، اس کے حقیقی منصوبہ ساز مذکورہ اقتباس کی روشنی میں یہود ہیں، اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کی منصوبہ بندی کے خالق بھی وہی ہیں۔ مذکورہ اور موجودہ جنگوں کے منصوبہ کو ذیل کے اقتباس میں ملاحظہ فرمائیے:
’’جہاں تک ممکن ہو ہمیں غیر یہود کو ایسی جنگوں میں الجھانا ہے جس سے انہیں کسی علاقے پر قبضہ نصیب نہ ہو بلکہ جو جنگ کے نتیجے میں تباہی سے دوچار ہو کر بدحال ہوں‘‘۔ (پروٹوکولز ۲ : ۱)
اس مختصر اقتباس میں ایران عراق جنگ، روس چیچنیا جنگ، عراق کویت جنگ، اور اب آخر میں امریکہ اور افغانستان جنگ کا جائزہ لے کر یہود کی منصوبہ بندی کی صداقت کو پرکھ لیجئے۔ بات سمجھنے میں کچھ بھی تو مشکل نہیں ہے۔ اسرائیل کو مذہبی ایران اور مضبوط ایٹمی قوت کے قریب عراق سے خطرہ تھا۔ ایٹمی پلانٹ خود تباہ کر دیا اور پھر ایران عراق کے سینگ پھنسا دیے کہ ان کا اسلحہ، ان کے وسائل، ان کی افرادی قوت جو اسرائیل کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے، بھسم ہو جائے، اور عرب عجم کا تعصب ہوا پکڑے۔ اسرائیل اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب ہوا اور مسلمان کی بصیرت بازی ہار گئی جس پر مذکورہ ہر محاذ گواہی دے رہا ہے۔
جب طویل جنگ کے باوجود عربوں کی مالی مدد کے سبب عراق کو مضبوط دیکھا تو اسے کمزور بلکہ برباد کرنے اور عظیم اسرائیل کے منصوبے کو ایک قدم آگے بڑھانے کی خاطر پہلے عراق کو کویت پر حملے کے لیے اکسایا، اور پھر کویت کے ساتھ سعودی عرب پر بھی عراقی دہشت کے سائے دکھا کر سعودی عرب کی سرزمین پر باقاعدہ چھاؤنی بنا کر مستقل ڈیرے ڈال دیے۔ کویت اور سعودیہ کے ’’محسن‘‘ نے عربوں سے اپنا برسوں کا بجٹ وصول کیا، پرانا اسلحہ منہ مانگے داموں عراق پر گرایا، نیا اسلحہ عربوں کے خرچ پر انہی کی سرزمین پر ٹیسٹ کر لیا، اور جنگ کے نام پر ہنگامے میں عربوں کے خرچ پر جدید اسلحہ اسرائیل پہنچایا، عربوں کے سیال سونے پر قبضہ جمانے کے ساتھ عظیم اسرائیل کی تکمیل کے لیے مدینہ سے قریب تر پہنچ گئے۔
عظیم اسرائیل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر ہوتے دیکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام اور اس کی فوج ہے کہ یہ عربوں سے بڑھ کر ان کے خیرخواہ ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو کمزور کرنا اس کو بے بس بنانا اسرائیل کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ یہ کام بھارت سے ہو سکتا ہے یا امریکہ کے ذریعے سے، مگر انتہائی قرینے سے۔ پاکستان دشمنی دیکھئے:
’’عالمی یہودی تحریک کو اپنے لیے پاکستان کے خطرے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور پاکستان اس کا پہلا ہدف ہونا چاہیے کیونکہ یہ نظریاتی ریاست یہودیوں کی بقا کے لیے سخت خطرہ ہے اور یہ کہ سارا پاکستان عربوں سے محبت اور یہودیوں سے نفرت کرتا ہے۔ اس طرح عربوں سے ان کی محبت ہمارے لیے عربوں کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔ لہٰذا عالمی یہودی تنظیم کو پاکستان کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ بھارت پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کی ہندو آبادی مسلمانوں کی ازلی دشمن ہے جس پر تاریخ گواہ ہے۔ بھارت کے ہندو کی اس مسلم دشمنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں بھارت کو استعمال کر کے پاکستان کے خلاف کام کا آغاز کرنا چاہیے۔ ہمیں اس دشمنی کی خلیج کو وسیع سے وسیع تر کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہودیوں کے یہ دشمن ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہو جائیں۔‘‘ (اسرائیل وزیراعظم بن گویان کی تقریر، بحوالہ جیوش کرانیکل، ۹ اگست ۱۹۶۷ء)
’’پاکستان کی فوج اپنے پیغمبر کے لیے بے پناہ محبت رکھتی ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو عربوں کے ساتھ ان کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ یہی محبت، وسعت طلب عالمی صہیونیت اور مضبوط اسرائیل کے لیے شدید خطرہ ہے، لہٰذا یہودیوں کے لیے یہ انتہائی اہم مشن ہے کہ ہر صورت اور ہر حال میں پاکستانی فوج کے دلوں سے ان کے پیغمبر کی محبت کو کھرچ دے۔‘‘ (امریکی ملٹری ایکسپرٹ پروفیسر ہرنز کی رپورٹ)
سعودیہ اور کویت میں قدم جما لینے کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بے بس کرنا ضروری تھا اور یہ بے بسی مکمل صرف اس صورت میں ممکن تھی کہ اس کے شمال میں اسلامی ریاست افغانستان کو بے بس کر دیا جائے اور وہاں لا دینی حکومت قائم ہو جو امریکہ اور بھارت یا بالفاظ دیگر یہود کے اشارۂ ابرو پر کام کرے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان سینڈوچ بنا رہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مشکل لمحات کے دوست چین کو پاکستان سے بدظن کر کے پیچھے ہٹا کر پاکستان کو تنہا کر دیا جائے۔
یہ بہت بڑا کام تھا اور اس کی تکمیل کے لیے منصوبہ بندی کا تقاضا یہ تھا کہ کوئی بڑا کام کیا جائے جس سے امریکہ کی دہشت اور وحشت کو مسلمان حکمرانوں کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ چنانچہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر جو امریکی وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا اور پینٹاگون پر جو امریکی عظمت اور عالمی غنڈہ گردی کی علامت ہے، کاری ضرب لگا کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا رخ پاکستان اور افغانستان کی طرف پھیرنا ضروری سمجھا گیا۔
’’ہماری شناخت ’قوت‘ اور ’اعتماد بناؤ‘ میں ہے۔ سیاسی فتح کا راز قوت میں مضمر ہے بشرطیکہ اسے سیاستدانوں کی بنیادی مطلوبہ ضرورت اور صلاحیت کے پردے میں چھپا کر استعمال کیا گیا ہو۔ تشدد راہنما اصول ہونا چاہیے۔ اور ان حکمرانوں کے لیے، جو حکمرانی کو کسی نئی قوت کے گماشتوں کے ہاتھ میں نہ دینا چاہتے ہوں، ان کے لیے یہ مکر میں لپٹا ہوا ’اعتماد بناؤ‘ اصول ہے۔ یہ برائی ہی ہمیں ’’مطلوبہ خیر‘‘ تک لے جانے کا آخری ذریعہ ہے۔‘‘ (پروٹوکولز ۱ : ۲۳)
ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے المناک تشدد کو آنکھوں کے سامنے رکھ کر ایک بار پھر مذکورہ اقتباس پڑھیے بلکہ ان الفاظ پر ذرا رکیے کہ ’’یہ برائی ہمیں مطلوبہ خیر تک لے جانے کا آخری ذریعہ ہے‘‘ اور سوچیے کہ ٹریڈ سنٹر کی تباہی والی برائی عظیم تر اسرائیل کی منزل تک لے جانے کا آخری ذریعہ ہے، اس ذریعہ تک رسائی کے لیے ان کا مؤثر ہتھیار میڈیا ہے۔
اب آئیے اقتباس میں ’’قوت اور اعتماد بناؤ‘‘ پر توجہ دیں۔ امریکہ میں یہود کی قوت اور یہود پر اعتماد کس کی نظر سے اوجھل ہے؟ امریکہ کے آج تک ۱۷ صدور یہودی خفیہ تنظیم فری میسنز کے باضابطہ رکن رہے۔ آج صدارتی الیکشن یہود کی مدد کے بغیر جیتنا ناممکن ہے۔ کوئی بش کی طرح جیت لے تو صدر رہنا مشکل۔ بش جن حالات سے دوچار رہے وہ ہر کسی کے سامنے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے لیے اس المیے سے ’’خیر‘‘ نکالنے کا کام میڈیا کے ذمے تھا جو اس نے بڑی خوبی سے نبھایا کہ امریکی حکومت کی طرح مغربی میڈیا بھی یہود کا زرخرید غلام ہے۔ ادھر اغوا شدہ جہاد ’’قوت اور اعتماد بناؤ‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے، امریکی ایجنسیوں کی کارکردگی کا مذاق اڑاتے، پینٹاگون اور ٹریڈ سنٹر ٹاور سے ٹکرائے، ادھر میڈیا نے اس کا رشتہ اسامہ بن لادن اور طالبان سے جوڑنا شروع کر دیا۔ یوں گوبلز کی اولاد غصے میں پاگل بش اور اس کی حکومت کو اتنا آگے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئی کہ بش آخری صلیبی جنگ لڑنے نکل کھڑے ہوئے۔
میڈیا کے ضمن میں یہود کا نقطۂ نظر ملاحظہ فرمائیے:
’’چند مستثنیات کو چھوڑ کر پہلے ہی عالمی سطح پر پریس ہمارے مقاصد کی تکمیل کر رہا ہے۔‘‘ (پروٹوکولز ۷ : ۵)
’’پریس کا کردار یہ ہے کہ وہ ہماری ناگزیر ترجیحات کو مؤثر انداز میں پھیلائے، عوامی شکایات کو اجاگر کر کے عوام میں بے چینی پھیلائے۔‘‘ (پروٹوکولز ۲ : ۵)
ان اقتباسات کی روشنی میں آپ ۱۱ ستمبر اور اس کے بعد آج تک امریکہ کے اندر اور باہر پریس کا کردار دیکھ کر خود فیصلہ کر لیں کہ میڈیا کس طرح یہود کی ’’ناگزیر ترجیحات‘‘ کی تکمیل کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ معمولی غوروفکر سے یہ اندازہ کرنا بھی کچھ مشکل نہیں کہ پاکستانی میڈیا بھی یہود کے عالمی میڈیا کی سُر سے سُر ملا کر حقِ نمک ادا کر رہا ہے۔
مذکورہ تفصیل سے جو بات سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ عظیم تر اسرائیل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے یہود کی منصوبہ بندی ایک تدریج کے ساتھ بڑے مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ پہلے روس کے سپر پاور ہونے کے خناس کو افغانستان میں پھنسا کر رسوا کیا۔ اب دنیا میں امریکہ سپر پاور ہونے کا دعوے دار ہے۔ اسے بڑے سلیقے سے افغانستان میں لا کر عسکری اور معاشرتی میدان میں بانجھ کرنے کا فیصلہ کیا کہ اندرونی طور پر اسے کمزور کر کے عالمی اقتدار کے راستے کا یہ روڑا ہٹا دیا جائے۔ برطانیہ ہو یا فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک پہلے ہی یہود کے باج گزار ہیں۔ 
امریکہ، روس اور دیگر یورپی ممالک کے بعد لے دے کے اسلام یہود کے مدِ مقابل رہ جاتا ہے۔ اسلامی بلاک کو امریکہ اور یورپی بلاک کے ذریعے سے نیست و نابود کر دیا جائے تو یہود کے لیے میدان خالی ہو گا۔ اسلامی بلاک میں صرف پاکستان ہے جو ایٹمی قوت بھی ہے لہٰذا اس کو دوست بن کر ڈالروں کا زہر پلا کر ختم کیا جائے۔ دوستی کی انتہا یہ کہ روزنامہ خبریں ۱۷ اکتوبر کے مطابق اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے کرتا دھرتا امریکی مہمانوں کو اپنے ایٹمی مقامات تک لے گئے۔ بقول اخبار انہیں ایٹمی اسلحہ کا اسٹور بھی دکھایا جس پر وفد نے اسٹوریج کے لیے تجاویز دینے کا وعدہ کیا کہ موجودہ سکیورٹی نظام ان کے نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے۔
خالق اپنی مخلوق کی خوبیوں اور خامیوں سے پوری طرح باخبر ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنی مخلوق کو حکم دے، نصیحت کرے کہ فلاں سے دوستی کرو اور فلاں سے بچتے رہو، فلاں دوست ہے اور فلاں دشمن ہے تو حقیقی نصیحت یہی ہے۔ مسلمان کے خالق نے اپنی کتاب میں بار بار تاکید فرمائی کہ یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ۔ مگر ہم ہیں کہ بش کو عقلِ کل سمجھ کر اس کی دوستی پر نازاں ہیں اور اس بے یقین کی بات پر یقین کر کے اپنی فضا، اپنے اڈے اس کے سپرد کر دیے جو دس روز کا کہہ کر خیمے میں اونٹ کی طرح داخل ہوا اور اب دس سالہ قیام کی نویدِ مسرت سنا رہا ہے۔
افغان مجاہدین اور اسامہ بن لادن نے گزرے کل افغانستان (میں روس) کے خلاف پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑی تھی کہ بھارت کا یار اور (امریکی U2 جاسوس پروازوں کے سبب) پاکستان کا دشمن روس افغانستان کے راستے بلوچستان کو تاراج کر کے خلیج کے گرم پانیوں پر ڈیرا ڈالنے پر مصر تھا تاکہ روس بھارت کے درمیان پاکستان کا وجود ہر لمحہ خطرہ میں رہے، پاکستان لمحہ بہ لمحہ روس اور بھارت سے آزادی کی بھیک مانگتا پھرے۔ ہماری بدنصیبی کہ ہم نے افغان مجاہدین اور اسامہ بن لادن کی قربانیوں کو فراموش ہی نہیں کیا، نمک حرامی پر بھی اتر آئے۔ گزرے کل کی طرح آج پھر وہی افغانستان اور وہی اسامہ بن لادن کفر کے دوسرے روپ عالمی دہشت گرد کے خلاف بے یارومددگار، بے ساز و سامان، محض اپنے رب کی رحمت کے سہارے سینہ سپر ہیں۔ جس دہشت گرد کی ایک ٹیلی فون کال پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تین جنگیں لڑنے کے دعوے دار فوجی صدر کا پتہ پانی ہو گیا، اس کے مقابل اللہ کے سپاہی ملا محمد عمر مجاہد اور اسامہ بن لادن ڈٹ گئے۔ فرق صرف ایک سجدہ کا ہے جو شاید صدر مشرف بھی کرتے ہوں گے اور ملا محمد عمر، طالبان اور اسامہ بن کرتے ہیں۔ اور یہ سجدہ
؎ ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
کاش ملا محمد عمر، اسامہ بن لادن اور طالبان کی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قیادت نے بھی ویسا ہی ایک سجدہ کر لیا ہوتا اور مسلّمہ عالمی دہشت گرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے کہ مسلمان جسدِ واحد ہیں، افغانستان کی طرف اٹھنے والی آنکھ پھوڑ دی جائے گی اور ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ میدانِ حرب میں آمنے سامنے تھے کہ حضرت امیر معاویہؓ کو کافر دشمن نے حضرت علیؓ کے مقابلے میں مدد اور تعاون کی پیشکش کی۔ حضرت امیر معاویہؓ کا جواب تھا کہ ہمارا معاملہ دو بھائیوں کا ہے، اگر تم نے ایسی جرأت کی تو علیؓ کی طرف سے تمہارے خلاف لڑنے والا پہلا شخص معاویہؓ ہو گا۔ آج یہ بات مشرف صاحب کے کہنے کی تھی، شمالی اتحاد کے کہنے کی تھی، ایران و عرب کے کہنے کی تھی، مگر
بت صنم خانے میں کہتے ہیں مسلمان گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے
افغانستان کو برباد کر کے اپنی پسند کی حکومت بنوانے والے اور ان کے دوسرے ہم نوا حکمران بصیرت سے عاری یہ بھول گئے کہ یہود و نصارٰی کا ٹارگٹ اسلام اور مسلمان ہیں۔ یہود و نصارٰی مسلم حکمرانوں سے زیادہ چالاک، عیار و مکار اور عقل مند ہیں۔ جسے آج وہ عالمی دہشت گرد کہہ کر ان سے معاونت لے رہے ہیں وہ اسلام کا فلسفۂ جہاد ہے جسے مٹانے کا عزم لے کر بش امریکہ سے نکلا ہے۔ بش کا ٹارگٹ اسامہ یا ملا محمد عمر نہیں ہے، اس کا ہدف اسلام، مسلمان اور مسلمان کا جہاد ہے جس پر کاری ضرب لگا کر وہ گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ اور کس قدر بدنصیبی کی بات ہے اس نیک مقصد میں مسلمان کہلوانے والے حکمران اس کے معاون و مددگار ہیں۔
بہ مشیتِ اللہ تعالٰی افغان مجاہدین اور اسامہ بن لادن سرخرو ہوں گے۔ فتح و نصرت ان کا مقدر ہو گی کہ ان کی سپر پاور جبار و قہار و عزیز بھی ہے سریع الحساب بھی، اور ان کے ہتھیار کلمہ طیبہ کے مقابلے میں آج تک کسی فیکٹری میں بہتر ہتھیار نہیں بنا۔ دنیا میں ان کا انعام سکینت ہے جو کسی مسلمان حکمران کا مقدر نہیں اور محشر میں دیدارِ باری تعالٰی انہیں نصیب ہو گا۔ دنیا میں کفر کے ساتھی محشر میں ان کے ساتھی ہوں گے اگر توبہ کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔

امتِ محمدیہ کا امتیاز

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

امتِ اسلامیہ آخری دینی پیغام کی حامل ہے اور یہ پیغام اس کے تمام اعمال اور حرکات و سکنات پر حاوی ہے۔ اس کا منصب قیادت و رہنمائی اور دنیا کی نگرانی و احتساب کا منصب ہے۔ قرآن مجید نے بہت قوت اور صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے:
کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ۔ (آل عمران ۱۱۰)
’’(اے پیروانِ دعوتِ ایمان) تم تمام امتوں میں بہتر امت ہو جو لوگوں (کی رہنمائی و اصلاح) کے لیے ظہور میں آئی ہے، تم نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے، اور اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے ہو‘‘۔
دوسری جگہ کہا گیا ہے:
وکذالک جعلناکم امۃ وسطًا لتکونوا شھدآء علی الناس۔ (البقرہ ۱۴۳)
’’اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امتِ وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو‘‘۔
اس لیے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس امت کی جگہ قافلہ کے پیچھے اور شاگردوں اور حاشیہ برداروں کی صف میں ہو، اور وہ دوسری اقوام کے سہارے زندہ رہے۔ اور قیادت و رہنمائی، امر و نہی اور ذہنی و فکری آزادی کے بجائے تقلید اور نقل، اطاعت و سپراندازی پر راضی اور مطمئن ہو۔ اس کے صحیح موقف کی مثال اس شریف، قوی الارادہ اور آزاد ضمیر شخص سے دی جا سکتی ہے جو ضرورت و احتیاج کے وقت دوسروں سے اپنے ارادہ و اختیار سے وہ چیزیں قبول کرتا ہے جو اس کے حالات کے مطابق ہوں اور اس کی شخصیت اور خود اعتمادی کو مجروح نہ کرتی ہوں، اور ان چیزوں کو مسترد کر دیتا ہے جو اس کی شخصیت اور حیثیت کے مطابق نہ ہوں یا اس کو کمزور کرتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس قوم کو کسی دوسری قوم کے شعائر اور امتیازات اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
(مسلم ممالک میں اسلام اور مغربیت کی کشمکش)

شہید کا درجہ

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

نبوت اور رسالت کے بعد شہادت کا رتبہ ایک بہت اونچا رتبہ ہے اور دنیا کی ناپائیدار زندگی کے انقطاع کے باوجود شہیدوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک عمدہ اور باعزت زندگی حاصل ہوتی ہے اور ان کی شان کے لائق ان کو پروردگار کے ہاں سے رزق نصیب ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون۔ (آل عمران ۱۶۹)
’’اور تم ہرگز نہ خیال کرنا ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے گئے کہ وہ مردہ ہیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس انہیں رزق دیا جاتا ہے‘‘۔
ساری مخلوق میں جو رتبہ، درجہ اور شان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے وہ اور کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اور خصوصیت سے ختمِ نبوت کا جو بلند مقام آپ کو مرحمت ہوا ہے وہ صرف آپ سے مختص ہے۔ بایں ہمہ آپ نے مقامِ شہادت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک موقع پر فرمایا کہ
’’میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں‘‘۔ (بخاری)
جس امر کے حاصل کرنے کے لیے آپ بار بار آرزو کریں، اس کے بہتر اور افضل ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے؟
حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
’’شہید کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں چھ خصوصیتیں ہیں:
  1. عین شہادت کے موقع پر اس کو مغفرت کی سند حاصل ہو جاتی ہے۔
  2. قبر کے عذاب سے اس کو پناہ مل جاتی ہے۔
  3. قیامت کے دن سخت گھبراہٹ کے موقع پر اس کو امن نصیب ہوگا۔
  4. اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا کہ اس تاج کے ایک موتی کے مقابلے میں دنیا و ما فیہا کے خزانے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
  5. اس کو بَہتر حوریں عنایت ہوں گی۔
  6. اور اس کو اپنی برادری کے ستر آدمیوں کی شفاعت کرنے کا حق دیا جائے گا۔‘‘
(ترمذی و قال صحیح)