
| اہلِ علم سے ایک گزارش | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| حدیثِ رسولؐ پڑھنے اور پڑھانے کے آداب | شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر | |
| قرآنِ کریم اور عربی زبان | شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ | |
| دینی مدارس اور موجودہ حکومت | ڈاکٹر محمد امجد تھانوی | |
| غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| توضیحات | خورشید احمد ندیم | |
| غامدی صاحب اور خبرِ واحد | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| علماء اور سیاست | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں | معز امجد | |
| علماء کے سیاسی کردار پر جناب غامدی کا موقف | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| مجھے ان باتوں سے اتفاق نہیں | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| مولانا زاہد الراشدی کے فرمودات کا جائزہ | معز امجد | |
| امام ابن تیمیہ، الجزائر کی جنگِ آزادی، اور جہادِ افغانستان | ڈاکٹر محمد فاروق خان | |
| معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق کے جواب میں | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| پاکستان شریعت کونسل کی مجلسِ شورٰی کے فیصلے | مولانا ابوعمار زاہد الراشدی | |
| تعارف و تبصرہ | ادارہ | |
| مسلمہ شخصیتوں کی آراء | مولانا محمد تقی امینی |
جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانشور ہیں، اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دنوں قومی اخبارات میں غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم کے بعض مضامین اور بیانات کے حوالے سے ان کے کچھ تفردات سامنے آرہے ہیں جن سے مختلف حلقوں میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ اور بعض دوستوں نے اس سلسلہ میں ہم سے اظہار رائے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے۔ آج بھی ایک قومی اخبار کے لاہور ایڈیشن میں پشاور پریس کلب میں غامدی صاحب کے ایک خطاب کے حوالہ سے ان کے بعض ارشادات سامنے آئے ہیں اور انہی کے بارے میں ہم کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ مگر پہلے غامدی صاحب کے علمی پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ ان کی بات صحیح طور پر سمجھ میں آ سکتی ہے اور نہ ہی ہم اپنی بات وضاحت کے ساتھ کہہ پائیں گے۔
حضرت مولانا حمید الدین فراہیؒ برصغیر پاک و ہند کے سرکردہ علماء کرام میں سے تھے اور مولانا شبلی نعمانیؒ کے ماموں زاد تھے۔ ان کے اساتذہ میں مولانا شبلیؒ کے علاوہ مولانا عبد الحئی فرنگی محلیؒ، مولانا فیض الحسن سہارنپوریؒ اور پروفیسر آرنلڈ شامل ہیں۔ دینی درسیات کی تکمیل کے بعد انہوں نے جدید تعلیم بھی حاصل کی اور وہ بیک وقت عربی، اردو، فارسی، انگلش اور عبرانی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ حیدر آباد دکن کے دارالعلوم کے پرنسپل رہے جسے بعد میں جامعہ عثمانیہ کے نام سے یونیورسٹی کی شکل دے دی گئی۔ اور کہا جاتا ہے کہ دارالعلوم کو ’’جامعہ‘‘ کی شکل دینے میں مولانا فراہیؒ کی سوچ اور تحریک بھی کار فرما تھی۔ بعد میں حیدرآباد کو چھوڑ کر انہوں نے لکھنو کے قریب سرائے میر میں مدرسۃ الاصلاح کے نام سے درسگاہ کی بنیاد رکھی اور قرآن فہمی کا ایک نیا حلقہ قائم کیا جو اپنے مخصوص ذوق اور اسلوب کے حوالہ سے انہی کے نام سے منسوب ہوگیا۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں مولانا فراہیؒ کے نزدیک قرآن فہمی میں عربی ادب، نزول قرآن کے دور کے عربی لٹریچر اور روایات، اور اس کے ساتھ تعرف و تعامل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ حدیث و سنت کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں مگر ’’خبر واحد‘‘ کو ان کے ہاں وہ مقام حاصل نہیں ہے جو محدثین کے ہاں تسلیم شدہ ہے، اور وہ احکام میں خبر واحد کو حجت تسلیم نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے بعض علمی معاملات میں ان کی اور ان کے تلامذہ کی رائے جمہور علماء سے مختلف ہو جاتی ہے۔ مولانا فراہیؒ کے بعد ان کے فکر اور فلسفہ کے سب سے بڑے وارث اور نمائندہ حضرت مولانا امین احسن اصلاحیؒ تھے جنہوں نے کچھ عرصہ قبل وفاقی شرعی عدالت میں شادی شدہ مرد و عورت کے لیے زنا کی سزا کے طور پر ’’رجم‘‘ کی شرعی حد نہ ہونے پر دلائل فراہم کیے تھے اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ رجم اور سنگسار کرنا شرعی حد نہیں ہے۔ اس کے پیچھے بھی خبر واحد کے احکام میں حجت نہ ہونے کا تصور کارفرما تھا۔
یہ ایک مستقل علمی بحث ہے کہ احکام و قوانین کی بنیاد شہادت پر ہے یا خبر پر۔ پھر خبر اور شہادت کے نصاب و معیار میں کیا فرق ہے۔ اس میں فقہاء کے اصولی گروہ میں سے بعض ذمہ دار بزرگ ایک مستقل موقف رکھتے ہیں، جبکہ جمہور محدثین اور عملی فقہاء کا موقف ان سے مختلف ہے۔ ہمارے خیال میں مولانا حمید الدین فراہیؒ کا موقف جمہور فقہاء اور محدثین کی بجائے بعض اصولی فقہاء سے زیادہ قریب ہے، اسی وجہ سے ہم اسے ان کے تفردات میں شمار کرتے ہیں۔ اور تفردات کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ ہر صاحب علم کا حق ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے بشرطیکہ وہ ان کی ذات یا حلقہ تک محدود رہے۔ البتہ اگر کسی تفرد کو جمہور اہل علم کی رائے کے علی الرغم سوسائٹی پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ فکری انتشار اور ایک نئے مکتب فکر کے قیام کا سبب بنتا ہے۔ اور یہی وہ نکتہ اور مقام ہے جہاں ہمارے بہت سے قابل قدر اور لائق احترام مفکرین نے ٹھوکر کھائی ہے اور امت کے اجتماعی علمی دھارے سے کٹ کر جداگانہ فکری حلقوں کے قیام کا باعث بنے ہیں۔ بہرحال محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید خورشید احمد ندیم صاحب کا تعلق اسی علمی حلقہ سے ہے اور مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے بعد اس حلقہ علم و فکر کی قیادت غامدی صاحب فرما رہے ہیں۔
پس منظر کی وضاحت کے طور پر ان تمہیدی گزارشات کے بعد ہم غامدی صاحب محترم کے ان ارشادات کی طرف آرہے ہیں جو انہوں نے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے فرمائے ہیں اور جنہیں مذکورہ اخبار نے اس طرح رپورٹ کیا ہے کہ:
جہاں تک پہلی بات علماء اور سیاست کا تعلق ہے کہ علماء کرام خود سیاسی فریق بننے کی بجائے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی اصلاح کریں تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ یہ موقع محل اور حالات کی مناسبت کی بات ہے اور دونوں طرف اہل علم اور اہل دین کا اسوہ موجود ہے۔ امت میں اکابر اہل علم کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جس نے حکمرانوں کے خلاف سیاسی فریق بننے کی بجائے ان کی اصلاح اور راہ نمائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ لیکن ایسے اہل علم بھی امت میں رہے ہیں جنہوں نے اصلاح کے دوسرے طریقوں کو کامیاب نہ ہوتا دیکھ کر خود فریق بننے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑی مثال حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ ہیں جن کا شمار صغار صحابہؓ میں ہوتا ہے اور وہ بنیادی طور پر اہل علم میں سے تھے۔ لیکن حضرت معاویہؓ کے بعد انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور نہ صرف انکار بلکہ اس کے خلاف فریق بن گئے اور متوازی حکمران کے طور پر کئی برس تک حجاز اور دوسرے علاقوں پر حکومت کرتے رہے۔ اس لیے اگر کسی دور میں علماء کرام یہ سمجھیں کہ خود فریق بنے بغیر معاملات کی درستگی کا امکان کم ہے تو اس کا راستہ بھی موجود ہے اور اس کی مطلقاً نفی کر دینا دین کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔
زکوٰۃ کے بارے میں غامدی صاحب کا ارشاد گرامی ہم سمجھ نہیں پائے۔ اگر تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کے نظام کو مکمل طور پر اپنانے کی صورت میں اسلامی حکومت کو کسی اور ٹیکس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی تو یہ بات سو فیصد درست ہے۔ اور ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ ایک نظریاتی اسلامی ریاست قرآن و سنت کی بنیاد پر زکوٰۃ و عشر کے نظام کو من و عن اپنا لے اور اس کو دیانتداری کے ساتھ چلایا جائے تو اسے اور کوئی ٹیکس لوگوں پر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور ملک بہت جلد ایک خوشحال رفاہی سلطنت کی شکل اختیار کر لے گا۔ لیکن کیا کسی ضرورت کے موقع پر اس کے علاوہ کوئی ٹیکس لگانے کی شرعاً ممانعت ہے؟ اس میں ہمیں اشکال ہے۔ اگر غامدی صاحب محترم اللہ تعالیٰ کی طرف سے زکوٰۃ کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی ممانعت پر کوئی دلیل پیش فرما دیں تو ان کی مہربانی ہوگی اور اس باب میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدانخواستہ ہم ٹیکسیشن کے موجودہ نظام کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ نظام تو سراسر ظالمانہ ہے اور شریعت اسلامیہ کسی پہلو سے بھی اس کی روادار نہیں ہے۔ مگر اسلامی نظام میں زکوٰۃ کے نظام کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت کی کوئی دلیل ہمارے سامنے نہیں ہے اور اسی کے لیے ہم غامدی صاحب سے علمی راہ نمائی کے طلب گار ہیں۔
محترم جاوید احمد غامدی صاحب کو مختلف جہادی گروپوں کی طرف سے جہاد کے نام پر مسلح سرگرمیوں پر اشکال ہے اور وہ ان کے اس عمل کو جہاد تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا ارشاد ہے کہ جہاد کا اعلان صرف ایک مسلم حکومت ہی کر سکتی ہے اس کے سوا کسی اور کو جہاد کا اعلان کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مگر ہمیں ان کے اس ارشاد سے اتفاق نہیں ہے، اس لیے کہ جہاد کی مختلف عملی صورتیں اور درجات ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی ملک یا قوم کے خلاف جہاد کا اعلان اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ایک اسلامی یا کم از کم مسلمان حکومت اس کا اعلان کرے۔ لیکن جب کسی مسلم آبادی پر کفار کی یلغار ہو جائے اور کفار کے غلبہ کی وجہ سے مسلمان حکومت کا وجود ختم ہو جائے یا وہ بالکل بے بس دکھائی دینے لگے تو غاصب اور حملہ آور قوت کے خلاف جہاد کے اعلان کے لیے پہلے حکومت کا قیام ضروری نہیں ہوگا اور نہ ہی عملاً ایسا ممکن ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے مرحلہ میں مسلمانوں کی اپنی حکومت کا قیام قابل عمل ہو تو کافروں کی یلغار اور تسلط ہی بے مقصد ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ صورت پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب مسلمانوں کی حکومت کفار کے غلبہ اور تسلط کی وجہ سے ختم ہو جائے، بے بس ہو جائے، یا اسی کافر قوت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ جائے۔
سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں کیا کیا جائے؟ اگر جاوید غامدی صاحب محترم کا فلسفہ تسلیم کر لیا جائے تو یہ ضروری ہوگا کہ مسلمان پہلے اپنی حکومت قائم کریں اور اس کے بعد اس حکومت کے اعلان پر جہاد شروع کیا جائے۔ لیکن پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوگا کہ جب مسلمانوں نے اپنی حکومت بحال کر لی ہے تو اب جہاد کے اعلان کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی ہے؟ کیونکہ جہاد کا مقصد تو کافروں کا تسلط ختم کر کے مسلمانوں کا اقتدار بحال کرنا ہے اور جب وہ کام جہاد کے بغیر ہی ہوگیا ہے تو جہاد کے اعلان کا کون سا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
اس کی ایک عملی مثال سامنے رکھ لیجیے کہ فلسطینی عوام نے تنظیم آزادی فلسطین کے عنوان سے غیر سرکاری سطح پر اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ سالہا سال کی مسلح جدوجہد کے نتیجہ میں مذاکرات کی نوبت آئی اور ان مذاکرات کے بعد ایک ڈھیلی ڈھالی یا لولی لنگڑی حکومت جناب یاسر عرفات کی سربراہی میں قائم ہوئی جو اس وقت بین الاقوامی فورم پر فلسطینیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ اگر مسلح جدوجہد نہ ہوتی تو مذاکرات اور حکومت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ مسلح جدوجہد کسی حکومت کے اعلان پر نہیں بلکہ غیر سرکاری فورم کی طرف سے شروع ہوئی اور اسی عنوان سے مذاکرات کی میز بچھنے تک جاری رہی۔ یہاں عملی طور پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت مسلح جدوجہد کے نتیجہ میں قائم ہوئی ہے نہ کہ حکومت نے قائم ہونے کے بعد مسلح جدوجہد یا جہاد کا اعلان کیا۔ لیکن اگر غامدی صاحب کے فلسفہ کو قبول کر لیا جائے تو یہ ساری جدوجہد غلط قرار پاتی ہے۔ اور ان کے خیال میں فلسطینیوں کو یہ چاہیے تھا یا شرعاً ان کے لیے جائز راستہ یہ تھا کہ وہ پہلے ایک حکومت قائم کرتے اور پھر وہ حکومت جہاد کا اعلان کرتی، تب ان کی مسلح جدوجہد غامدی صاحب کے نزدیک شرعی جہاد قرار پا سکتی تھی۔
خود ہمارے ہاں برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط کے بعد مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی نے کٹھ پتلی کی حیثیت اختیار کر لی اور عملاً انگریزوں کا اقتدار قائم ہوگیا تو اس وقت کے علماء کے سرخیل حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے جہاد کا فتویٰ دیا۔ اور پھر بالا کوٹ کے معرکے تک اور اس کے بعد ۱۸۵۷ء میں مسلح جہاد آزادی کے مختلف مراحل تاریخ کا حصہ بنے۔ جہاد کا یہ اعلان بھی غیر سرکاری فورم کی طرف سے تھا اور شاہ عبد العزیز دہلویؒ یا انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے والے دیگر علماء کو کوئی سرکاری اتھارٹی حاصل نہیں تھی۔ اس لیے غامدی صاحب کے فلسفہ کی رو سے یہ سارا عمل غیر شرعی قرار پاتا ہے۔ محترم غامدی صاحب یا ان کا کوئی شاگرد رشید اس دور میں موجود ہوتا تو وہ شاہ عبد العزیز دہلویؒ کو یہی مشورہ دیتا کہ حضور! آپ کو جہاد کے اعلان کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور نہ ہی حکومتی معاملات میں فریق بننے کا آپ کے لیے کوئی جواز ہے۔ آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ حکومت کی راہ نمائی کریں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ میں آلۂ کار کی حیثیت اختیار کر جانے والے مغل بادشاہ کو مشورہ دیتے رہیں اور اس سے کہیں کہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف جہاد کا اعلان کرے، کیونکہ اس کے سوا جہاد کا اعلان کرنے کا شرعی اختیار اور کسی کے پاس نہیں ہے۔
جہاد افغانستان کی صورتحال بھی کم و بیش اسی طرح کی ہے کہ جب کابل میں روسی فوجیں اتریں، مسلح غاصبانہ قبضہ کے بعد افغانستان کے معاملات پر روس کا کنٹرول قائم ہوگیا اور ببرک کارمل کی صورت میں ایک کٹھ پتلی حکمران کو کابل میں بٹھا دیا گیا تو افغانستان کے مختلف حصوں میں علماء کرام نے اس تسلط کو مسترد کرتے ہوئے حملہ آور قوت کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ بعد میں ان کے باہمی روابط قائم ہوئے تو رفتہ رفتہ وہ چند گروپوں کی صورت میں یکجا ہوگئے۔ پھر انہیں روسی فوجوں کے خلاف مسلح جدوجہد میں ثابت قدم دیکھ کر باہر کی قوتیں متوجہ ہوئیں اور روس کی شکست کی خواہاں قوتوں نے ان مجاہدین کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں روس کو افغانستان سے نکلنا پڑا اور سوویت یونین کا شیرازہ منتشر ہوگیا۔ غامدی صاحب کے اس ارشاد کی رو سے یہ سارا عمل غیر شرعی اور ناجائز ٹھہرتا ہے اور ان کے خیال میں افغان علماء کو از خود جہاد کا اعلان کرنے کی بجائے ببرک کارمل کی رہنمائی کرنے تک محدود رہنا چاہیے تھا، اور اس سے درخواست کرنی چاہیے تھی کہ چونکہ شرعاً جہاد کے اعلان کا اختیار صرف اس کے پاس ہے اس لیے وہ روسی حملہ آوروں کے خلاف جہاد کا اعلان کرے، تاکہ اس کی قیادت میں علماء کرام جہاد میں حصہ لے سکیں۔
فرانسیسی استعمار کے تسلط کے خلاف الجزائر کے علماء کو بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہاں کے قوم پرست لیڈروں بن باللہ، بومدین اور بو نسیاف کے ساتھ ساتھ الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ اور الشیخ بشیر الابراہیمیؒ جیسے اکابر علماء نے بھی مسلح جدوجہد کی قیادت کی۔ انہوں نے فرانسیسی استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد کو جہاد قرار دیا، اس کے لیے علماء کی باقاعدہ جماعت بنائی، اور جمعیۃ علماء الجزائر کے پلیٹ فارم سے سالہا سال تک غاصب حکومت کے خلاف مسلح جنگ لڑ کر الجزائر کی آزادی کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ بلکہ الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ کو یہ مشورہ ہی ان کے استاد محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی نے دیا تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب مولانا مدنیؒ ہندوستان سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں مقیم تھے اور مسجد نبوی میں حدیث نبویؐ پڑھایا کرتے تھے۔ الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ نے ان سے حدیث پڑھی اور وہیں مدینہ منورہ میں کسی جگہ بیٹھ کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کرنے کی اجازت طلب کی تو شیخ مدنیؒ نے ان سے کہا کہ ان کا ملک غلام ہے اس لیے وہ واپس جائیں اور علماء کرام کو منظم کر کے اپنے وطن کی آزادی کے لیے جہاد کریں۔ اگر اس وقت شیخ بن بادیسؒ کے ذہن میں کوئی ’’دانشور‘‘ یہ بات ڈال دیتا کہ آپ لوگوں کو از خود مسلح جدوجہد شروع کرنے کا شرعاً کوئی حق حاصل نہیں ہے اور جہاد کے لیے کسی مسلم حکومت کی طرف سے اعلان ضروری ہے تو وہ بھی مدینہ منورہ میں کوئی علمی مرکز قائم کر کے بیٹھ جاتے اور الجزائر کی جنگ آزادی کا جو حشر ہوتا وہ ان کی بلا سے ہوتا رہتا۔
غامدی صاحب محترم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ساتویں صدی ہجری کے آخر میں عالم اسلام کے خلاف تاتاریوں کی خوفناک یلغار کے موقع پر جب دمشق کے حکمران سراسیمگی اور تذبذب کے عالم میں تھے اور عوام تاتاریوں کے خوف سے شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے تو اس موقع پر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے از خود جہاد کی فرضیت کا اعلان کر کے عوام کو اس کے لیے منظم کرنا شروع کر دیا تھا جس کے نتیجے میں حکمرانوں کو حوصلہ ہوا اور عوام نے شہر چھوڑنا ترک کیا۔ ورنہ اگر ابن تیمیہؒ بھی غامدی صاحب کے فلسفہ پر عمل کرتے تو بغداد کی طرح دمشق کی بھی اینٹ سے اینٹ بج جاتی۔
محترم جاوید احمد غامدی نے مولوی کے فتویٰ کے خلاف بنگلہ دیش کی کسی عدالت کے فیصلے پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور اسے صدی کا بہترین عدالتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ فتوؤں کا بعض اوقات انتہائی غلط استعمال کیا جاتا ہے اس لیے فتویٰ بازی کو اسلام کی روشنی میں ریاستی قوانین کے تابع بنانا چاہیے۔
بنگلہ دیش کی کون سی عدالت نے مولوی حضرات کے کون سے فتوے کے خلاف فیصلہ دیا ہے، ہمیں اس کا علم نہیں ہے اور نہ ہی مذکورہ فیصلہ ہماری نظر سے گزرا ہے۔ لیکن غامدی صاحب کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عدالت نے کسی مولوی صاحب کو فتویٰ دینے سے روک دیا ہوگا یا ان کے فتویٰ دینے کے استحقاق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہوگا جس کی بنا پر غامدی صاحب اس کی تحسین فرما رہے ہیں اور پاکستان کے لیے بھی یہ پسند کر رہے ہیں کہ مولویوں کو فتویٰ دینے کی آزادی نہیں ہونی چاہیے اور فتویٰ بازی کو ریاستی قوانین کے تابع کر دینا چاہیے۔
جہاں تک اس شکایت کا تعلق ہے کہ ہمارے ہاں بعض فتوؤں کا انتہائی غلط استعمال ہوتا ہے، ہمیں اس سے اتفاق ہے۔ ان فتوؤں کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔ اور ان خرابیوں کی اصلاح کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی قابل عمل فارمولا سامنے آتا ہے تو ہمیں اس سے بھی اختلاف نہیں ہوگا۔ مگر کسی چیز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سرے سے اس کے وجود کو ختم کر دینے کی تجویز ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ چونکہ ہماری عدالتوں میں رشوت اور سفارش اس قدر عام ہوگئی ہے کہ اکثر فیصلے غلط ہونے لگے ہیں اور عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اس لیے ان عدالتوں میں بیٹھنے والے ججوں سے فیصلے دینے کا اختیار ہی واپس لے لیا جائے۔ یہ بات نظری طور پر تو کسی بحث و مباحثہ کا خوبصورت عنوان بن سکتی ہے مگر عملی میدان میں اسے بروئے کار لانا کس طرح ممکن ہے؟ اس کے بارے میں غامدی صاحب محترم ہی زیادہ بہتر طور پر رہنمائی فرما سکتے ہیں۔
اور ’’فتویٰ‘‘ تو کہتے ہی کسی مسئلہ پر غیر سرکاری رائے کو ہیں۔ کیونکہ کسی مسئلہ پر حکومت کا کوئی انتظامی افسر جو فیصلہ دے گا وہ ’’حکم‘‘ کہلائے گا اور عدالت جو فیصلہ صادر کرے گی اسے ’’قضا‘‘ کہا جائے گا۔ جبکہ ان دونوں سے ہٹ کر اگر کوئی صاحب علم کسی مسئلہ کے بارے میں شرعی طور پر حتمی رائے دے گا تو وہ ’’فتویٰ‘‘ کہلائے گا۔ امت کا تعامل شروع سے اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حکام حکم دیتے ہیں، قاضی حضرات عدالتی فیصلے دیتے ہیں، اور علماء کرام فتویٰ صادر کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ صحابہ کرامؓ کے دور سے چلا آرہا ہے۔ خود صحابہ کرامؓ میں خلافت راشدہ کے دور میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرت ابوہریرہؓ جیسے مفتیان کرام موجود تھے جو کسی مسئلہ پر فتویٰ صادر کرنے میں کسی سرکاری نظم کے پابند نہیں تھے بلکہ آزادانہ طور پر مسائل پر رائے دیتے تھے اور ان کی رائے کو تسلیم کیا جاتا تھا۔ اور تابعین کے دور سے تو فتویٰ کا یہ ادارہ اس قدر آزاد اور خودمختار ہوا کہ بڑے بڑے مفتیان کرام وقت کی حکومتوں کے خلاف فتوے دیتے تھے اور ان فتوؤں پر مصائب و آلام بھی برداشت کرتے تھے مگر انہوں نے اپنے اس آزادانہ حق میں حکومت کی کسی مداخلت کو قبول نہیں کیا۔
طبقات ابن سعدؒ کی روایت کے مطابق رئیس التابعین حضرت حسن بصریؒ نے خلیفہ یزید بن عبد المالک کے طرز عمل پر برسرعام تنقید کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ وہ اس کے مظالم میں اس کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ کامل ابن اثیرؒ کی روایت کے مطابق حضرت امام مالکؒ نے خلیفہ منصورؒ کے خلاف محمد نفس زکیہؒ کی بغاوت کی حمایت کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ وہ منصورؒ کی بیعت توڑ کر محمد نفس زکیہؒ کا ساتھ دیں۔ہزارہ کی مناقب ابی حنیفہؒ میں ہے کہ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ نے محمد نفس زکیہؒ اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبد اللہؒ کی مذکورہ بغاوت کی کھلم کھلا حمایت کی اور منصور خلیفہؒ کے کمانڈر حسن بن قحطبہ نے امام ابو حنیفہؒ کے کہنے پر ابراہیم بن عبد اللہؒ کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل اموی خلیفہ ہشام بن عبد المالکؒ کے دور میں اس کے خلاف امام زید بن علیؒ کی بغاوت میں بھی امام ابو حنیفہؒ نے امام زیدؒ کا ساتھ دیا اور انہیں دس ہزار درہم کا چندہ بھی بھجوایا۔
خلیفہ ہارون الرشیدؒ کے دور میں حضرت امام شافعیؒ کو بھی اس الزام میں گرفتار کیا گیا کہ وہ خلیفہ وقت کے خلاف یحییٰ بن عبد اللہؒ کی بغاوت کی درپردہ حمایت کر رہے ہیں مگر الزام ثابت نہ ہونے پر بعد میں رہا کر دیا گیا۔ امام مالکؒ نے ’’جبری طلاق‘‘ کے بارے میں حکومت وقت کی منشا و مفاد کے خلاف فتویٰ دیا جس پر سرعام ان پر کوڑے برسائے گئے حتیٰ کہ ان کے شانے اتر گئے۔ مگر وہ اس شان سے اپنے فتوے پر قائم رہے کہ جب انہیں گھوڑے پر سوار کر کے بازار میں پھرایا جا رہا تھا تو وہ لوگوں سے بلند آواز میں کہتے جاتے تھے کہ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں، اور جو نہیں جانتے وہ جان لیں کہ میں مالک بن انس ہوں اور میں نے فتویٰ دیا ہے کہ جبر کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ حکمرانوں کو امام مالکؒ کے اس فتویٰ سے خوف لاحق ہوگیا تھا کہ اگر مجبوری کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی تو جن لوگوں کو مجبور کر کے انہوں نے اپنے حق میں بیعت لے رکھی تھی کہیں وہ یہ نہ سمجھنے لگ جائیں کہ ہماری بیعت بھی واقع نہیں ہوئی اور ہم اس بیعت کے ساتھ حکمرانوں کی وفاداری کے پابند نہیں رہے۔
حکمرانوں کی مرضی اور منشا کے خلاف دیے جانے والے ان فتوؤں سے قطع نظر امت مسلمہ کے چار بڑے اماموں امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، اور امام احمد بن حنبلؒ نے جو لاکھوں فتاویٰ صادر کیے وہ کسی سرکاری نظم اور ریاستی قوانین کا نتیجہ نہیں بلکہ شرعی مسائل پر اہل علم کی طرف سے اظہار رائے کا ایک آزادانہ نظام کا ثمرہ تھے۔ ورنہ اگر یہ ائمہ کرامؒ فتویٰ صادر کرنے میں سرکاری نظم اور ریاستی قوانین کے تابع ہونے کو قبول کر لیتے تو نہ امام ابوحنیفہؒ کا جنازہ جیل سے نکلتا، نہ امام مالکؒ سر عام کوڑے کھاتے، نہ امام شافعیؒ کی گرفتاری کی نوبت آتی، اور نہ امام احمد بن حنبلؒ کو خلق قرآن کے مسئلہ پر قید و بند اور کوڑوں کی صبر آزما سزا کے مراحل سے گزرنا پڑتا۔ ان چاروں اماموں اور ان کے علاوہ دیگر بیسیوں فقہاء اور ائمہ نے جو لاکھوں فتوے دیے اور امت کے بے شمار مسائل کا جو مفتی حل پیش کیا وہ ایک آزادانہ عمل تھا۔ اسی وجہ سے انہیں امت میں اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ آج تیرہ سو برس گزر جانے کے بعد بھی امت کی غالب اکثریت ان ائمہ کے فتاویٰ پر عمل کرتی ہے اور ان کے فقہی مذاہب کی پیروکار ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہؒ نے تو اپنی ایک مستقل ’’مجلس علمی‘‘ قائم کر رکھی تھی جس میں علماء، فقہاء، محدثین، اہل لغت اور مختلف علوم و فنون کے ماہرین کا جمگھٹا رہتا تھا۔ یہ غیر سرکاری کونسل تھی جو مسائل پر بحث کرتی تھی، اس کے شرکاء آزادانہ رائے دیتے تھے، ان کے درمیان مباحثہ ہوتا تھا، اور جو بات طے ہوتی اسے فیصلہ کے طور پر قلمبند کیا جاتا تھا۔ اس کونسل کے فیصلے نہ صرف اس دور میں تسلیم کیے جاتے تھے بلکہ اب تک امت کا ایک بڑا حصہ ان فیصلوں پر کاربند ہے۔ امام صاحبؒ کی اس مجلس علمی یعنی غیر سرکاری کونسل کے بارے میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ علوم عربی و اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی مستقل کتاب ہے جس میں انہوں نے اس کونسل کے خدوخال اور طریق کار کی وضاحت کی ہے۔
اس لیے فتویٰ کے آزادانہ عمل کو ریاستی قوانین کے تابع کرنے کی یہ تجویز یا خواہش امت کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل کے منافی ہے جس کی کسی صورت میں حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اور ہمارے محترم اور بزرگ دوست جاوید احمد غامدی صاحب ناراض نہ ہوں تو ڈرتے ڈرتے ان سے ایک سوال پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ انہوں نے مختلف گروپوں کی مسلح جدوجہد کے جہاد نہ ہونے، زکوٰۃ کے علاوہ ٹیکس کی ممانعت، اور ریاستی نظم سے ہٹ کر فتویٰ کا استحقاق نہ ہونے کے بارے میں جو ارشادات فرمائے ہیں وہ بھی تو معروف معنوں میں ’’فتویٰ‘‘ ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہیں یہ فتوے جاری کرنے کی اتھارٹی کس ریاستی قانون نے دی ہے؟
’’سنت سے مراد دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے‘‘۔یہ سنت چالیس امور پر مشتمل ہے۔ ’’اس کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں۔ وہ جس طرح صحابہؓ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے، یہ اسی طرح ان کے اجماعی اور عملی تواتر سے ملی ہے، اور ہر دور میں امت کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے‘‘۔ (اشراق ۱۹۹۸ء، ۱۹۹۹ء)
کیا علما کو عملی سیاست میں حصہ لینا چاہیے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے وقت دو باتیں پیش نظر رہنا چاہییں۔ ایک تو یہ ہے کہ یہ شریعت کا نہیں، حکمت وتدبر کا معاملہ ہے۔ یہ جائز اور ناجائز کی بحث نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ شریعت نے علما کو سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا ہے یا انہیں اس کے لیے حکم دیا ہے۔ جب ہم اس سوال کو موضوع بناتے ہیں تو ہمارے پیش نظر محض یہ ہے کہ اس سے دین اور علما کو کوئی فائدہ پہنچا ہے یا نقصان؟ دوسری بات یہ کہ عملی سیاست سے ہماری مراد اقتدار کی سیاست (Power Politics) ہے یعنی اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا یا کسی کے عزل ونصب کے لیے کوئی عملی کردار ادا کرنا۔
قرآن مجید کی راہنمائی یہ ہے کہ ایک عالم دین کا اصل کام انذار کرنا ہے۔ (توبہ :۱۲۲) انذار یہ ہے کہ لوگوں کو خبردار کیا جائے کہ انہیں ایک روز اپنے پروردگار کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور ان اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے جو وہ اس دنیا میں سرانجام دیں گے۔ اس جواب دہی کا تعلق اس کردار کے ساتھ ہے جو وہ اس دنیا میں ادا کریں گے۔ اگر کوئی حکمران ہے تو اس کی جواب دہی کی نوعیت اور ہے، اور اگر ایک عامی ہے تو اس کے لیے اور۔ اسی انذار کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ علما دین کو اس طرح بیان کریں جیسے کہ وہ ہے۔ اگر دین کو کوئی فکری چیلنج درپیش ہے تو وہ دین کا مقدمہ لڑیں۔ اگر مسلمان معاشرے میں کوئی علمی یا عملی خرابی در آئی ہے تو وہ اسے اصل دین کی طرف بلائیں۔ اس معاملے میں ان کی حیثیت ایک داروغہ کی نہیں ہے۔ انہیں دین کا ابلاغ کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچا دینا ہے۔ اس کی ایک صورت ایسے مبلغین کی تیاری ہے جو اس کام کو لے کر معاشرے میں پھیل جائیں اور ایسے ادارے اور دار العلوم آباد کرنا ہے جہاں دین کے جید عالم تیار ہوں۔ اس انذار کی ایک شکل عامۃ الناس کا تزکیہ بھی ہے۔ یہ تزکیہ علم کا بھی ہوگا اور عمل کا بھی۔ یہ وہ کام ہے جو ہمارے صوفیا کرتے رہے ہیں۔ اس وقت تصوف ایک فلسفہ حیات کے طور پر زیر بحث نہیں ہے۔ میں جس پہلو کی تحسین کر رہا ہوں، وہ صوفیانہ حکمت عملی ہے جو خانقاہوں اور صوفیا کے حلقوں میں اختیار کی گئی ہے۔
تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ علما نے جب یہ کام کیا، معاشرے پر اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے۔ ان اثرات کا دائرہ اقتدار کے ایوانوں سے لے کر عامۃ الناس کے حجروں تک پھیلا ہوا ہے۔ مختلف تذکروں میں ہمیں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جب حکمران، علما کے حجروں میں حاضر ہیں یا علما ارباب اقتدار سے بے نیازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ علما کو اگر معاشرے میں یہ مقام حاصل تھا تو اس کا سبب یہ تھا کہ وہ انذار کے منصب پر فائز تھے۔ انہوں نے خود کو اس کام کے لیے مخصوص کر لیا تھا کہ وہ دین بیان کریں گے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو ان کی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں گے۔ یہ لوگ کبھی اقتدار کی کشمکش میں فریق نہیں بنے۔ معاشرے پر ان کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ حکمران ان کی رائے کے احترام پر مجبور تھے۔ پھر یہ وقت بھی آ گیا کہ ایسے لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے جن پر کسی صاحب علم کا خاص اثر تھا۔ اس نے برسر اقتدار آ کر ان کی رائے کو ریاست کا قانون بنا دیا۔ ہارون الرشید نے قاضی ابو یوسف کو قاضی القضاۃ بنا دیا۔ محکمہ قضا جب ان کے ہاتھ آیا تو اسلامی ریاست میں اسی کو قضا کے عہدے پر فائز کیا جاتا جس کی سفارش قاضی ابو یوسف کرتے تھے۔ افریقہ میں معز بن باولیس کو والی بنایا گیا تو امام مالک کی فقہ کو وہاں غلبہ حاصل ہو گیا۔ اندلس میں حکم بن ہشام کے دور میں فقہ مالکی کو سرکاری حیثیت مل گئی۔ مصر میں صلاح الدین یوسف بن ایوب جب عبید کو شکست دے کر حکمران بنے تو فقہ شافعی کو غلبہ ملا کیونکہ بنو ایوب شوافع تھے۔ اب کسی جگہ ایسا نہیں ہوا کہ وہاں فقہ حنفی کے لیے مہم چلائی گئی ہو یا حنبلی مسلک کے نفاذ کا مطالبہ لے کر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہوں۔
ہم جن صاحبان عزیمت کا ذکر کرتے ہیں، اور اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ تذکرہ ہمارے ایمان کی تقویت کا باعث بنتا ہے، ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ اقتدار کی کشمکش میں کبھی فریق نہیں تھے۔ انہوں نے حکمرانوں سے اگر اختلاف کیا تو اس موقع پر جب انہوں نے دین میں مداخلت کی یا شریعت کے کسی حکم کو تبدیل کرنا چاہا۔ عباسی حکمرانوں نے جب یہ حکم جاری کیا کہ جو ان کی بیعت سے نکلے تو اس کی بیوی خود بخود اس پر حرام ہو جائے گی تو یہ فرمان دین میں مداخلت تھا چنانچہ امام مالکؒ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی کہ اس جبری طلاق کی کوئی حقیقت نہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اگر حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھائی تو اس بات پر کہ وہ ریاست کی قوت کو بروئے کارلا کر یہ چاہتے تھے کہ قرآن مجید کو مخلوق مانا جائے۔ علما اور فقہاے امت کا یہ کام اپنی حقیقت میں انذار ہے۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں دین کے کسی حکم کو تبدیل کیا جا رہا ہے تو وہ لوگوں کے سامنے دین کا صحیح تصور پیش کریں۔ یہ کوئی سیاسی کردار نہیں ہے۔ ان لوگو ں نے حکمرانوں کے ناپسندیدہ کاموں پر انہیں ٹوکا لیکن نہ خود کو ان کی اطاعت سے آزاد کیا نہ دوسرے لوگوں کو اس کے لیے کہا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان جلیل القدر لوگوں کو اس راہ میں بہت سی مشکلات برداشت کرنا پڑیں لیکن اس کے بعد ارباب اقتدار کے لیے یہ آسان نہیں رہا کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کریں۔
آج بھی اگر کوئی ایسی صورت حال پیش آتی ہے تو یہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کا دفاع کریں اور اس راہ میں کوئی مشقت اٹھانا پڑتی ہے تو اسے خندہ پیشانی سے برداشت کریں۔ صبر واستقامت ایسی چیزیں نہیں ہیں جو رائیگاں چلی جائیں۔ جو لوگ ان خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، معاشرے پر ان کے بے پناہ اثرات ہوتے ہیں۔ آج کے جمہوری دور میں تو حکمرانوں کے لیے مزید مشکل ہو جائے اگر وہ ایسے لوگوں کی مخالفت کریں۔
اسی بنیاد پر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ علما کے شایان شان یہی ہے کہ وہ اقتدار کی حریصانہ کشمکش سے دور رہ کر منصب اعلیٰ کو آباد کریں اور دین کی حفاظت کے ساتھ لوگوں کا تزکیہ نفس کریں۔ اس سے دین کو فائدہ پہنچے گا اور ان کے احترام میں بھی اضافہ ہوگا۔ میں تو یہ عرض کرتا ہوں کہ اس سے ان کا سیاسی اثر ورسوخ بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔ میں پاکستان کے کئی ایسے علما وصوفیا کے نام گنوا سکتا ہوں جو اپنی خانقاہوں سے کبھی نہیں نکلے لیکن ان کے معاشرتی اثرات کا یہ عالم ہے کہ ہر عام انتخابات کے موقع پر اہل سیاست ان کے دروازے پر حاضر ہوتے ہیں اور ان سے تائید کی بھیک مانگتے ہیں۔ وہ جس کے حق میں فیصلہ دے دیں، ان کے حلقہ اثر میں اس کی کام یابی یقینی ہو جاتی ہے۔
یہ صحیح ہے کہ تاریخ میں ہمیں بعض ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو اقتدار کی کشمکش میں فریق تھے۔ پرانے دور میں اس کی نوعیت خروج کی تھی۔ امام ابن تیمیہؒ نے ’’منہاج السنۃ‘‘ میں ان تمام بغاوتوں کا جائزہ لے کر یہ بتایا ہے کہ ایسی کوئی کوشش نہ صرف یہ کہ کامیاب نہیں ہوئی بلکہ اس سے امت میں انتشار اور افتراق کا ایسا دروازہ کھلا کہ پھر کبھی بند نہیں ہو سکا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اگرچہ صاحبان اقتدار کی تبدیلی کے انداز بدل گئے ہیں لیکن علما کی عملی سیاست میں شرکت کے نتائج پر کوئی فرق نہیں آیا۔ پاکستان کو اگر ہم اپنی توجہ کا مرکز بنائیں تو علما کی سیاست کا دین کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچا۔
پاکستان میں علما عملی سیاست میں بالعموم دو طرح سے شریک رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے بعض مذہبی ودینی مسائل پر تحریکیں اٹھائیں اور مطالبات منوانے کے لیے اپنی سیاسی قوت کو بروئے کار لائے۔ دوسری صورت میں یہ دھماکہ انہوں نے خود کو قوم کے سامنے متبادل قیادت کے طور پر پیش کر کے کیا اور مروجہ نظام کے تحت اقتدار تک پہنچنے کی سعی کی۔ ان دونوں صورتوں کے جو نتائج نکلے، میں انہیں قدرے تفصیل کے ساتھ زیر بحث لا رہا ہوں۔
تحریکیں اٹھا کر علما نے بعض مذہبی معاملات میں حکومت وقت سے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ مثال کے طور پر ۱۹۴۸ء میں دستور اسلامی کے لیے تحریک اٹھی، ۱۹۵۳ء اور پھر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ۱۹۷۳ء کے آئین کو اسلامی بنانے کے لیے آواز اٹھائی گئی۔ ان مخصوص مسائل کے علاوہ بھی ہمارے علما ہر حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کرے۔ گزشتہ دنوں میں ان کی طرف سے اسلام آباد پر یلغار کا اعلان تھا۔ یہ اقدام بھی اس مطالبہ پر مبنی تھا کہ حکومت فوری طور پر نفاذ اسلام کا اعلان کرے۔ علما کی یہ مہم بڑی حد تک کام یاب رہی۔ قانون سازی کے باب میں ان کے مطالبات بالعموم تسلیم کر لیے گئے۔ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ قانون کی سطح پر پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں اب کوئی امر مانع نہیں ہے۔ یہ البتہ ایک دوسری بحث ہے کہ محض قانون سازی سے کیا کوئی ریاست اسلامی بن سکتی ہے؟
اب ہم دوسری صورت کی طرف آتے ہیں۔ اس ملک میں اقتدار تک پہنچنے کے دو راستے ہیں: ایک آئینی، دوسرا غیر آئینی۔ آئینی طور پر برسراقتدار آنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔ ہماری مذہبی جماعتوں نے انتخابات میں دو طرح سے حصہ لیا۔ انفرادی حیثیت میں اور سیاسی اتحادوں میں شامل ہو کر۔ انفرادی سطح پر انتخابات میں حصہ لے کر علما نہ صرف کوئی قابل ذکر کام یابی حاصل نہ کر سکے بلکہ ان کی حمایت میں بتدریج کمی آئی۔ ۱۹۷۰ء میں انہیں پندرہ فیصد رائے دہندگان کا اعتماد حاصل تھا تو ۱۹۹۷ء تک پہنچتے پہنچتے اس میں بہت کمی آگئی۔ تاہم اتحادوں میں شامل ہو کر وہ پارلیمنٹ تک پہنچے اور بعض اوقات صوبائی اور قومی سطح پر شریک اقتدار بھی ہوئے۔ ظاہر ہے کہ یہ شرکت اسی وقت ممکن ہوئی جب انہوں نے کسی بڑی سیاسی جماعت کا ہاتھ تھاما۔
یہ تو علما کی سیاست کے براہ راست نتائج ہیں۔ اب ہم ان نتائج کی طرف آتے ہیں جو بالواسطہ سامنے آئے۔
پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار کی حریصانہ کشمکش میں شریک ہو کر وہ منصب دعوت سے معزول ہو گئے۔ اب وہ معاشرے میں دین کے داعی کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ دعوت بے غرض بناتی ہے اور سیاست غرض مند۔ جب آپ کسی کو دین کی دعوت دیتے ہیں تو جواباً کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے۔ اس سے آپ کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ اس بات سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ آپ کی دعوت کے کیا اثرات مدعو پر پڑیں گے، اس کو آپ کی بات پسند آئے گی یا نہیں۔ اس کے بالمقابل جب آپ سیاست میں ہیں تو لوگوں سے ووٹ کے لیے درخواست کرتے ہیں۔ یہ ایک ضرورت مند کا کردار ہے۔ آپ کو حق بات کہنے سے زیادہ دلچسپی اس امر میں ہے کہ عوام کے مطالبات کیا ہیں؟ چنانچہ کسی سیاسی ضرورت کے تحت آپ یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ موزوں ترین شخص ہیں جو ان کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ جو یہ بات باور کرانے میں کام یاب ہو جاتا ہے، وہ جیت جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاست کی حریصانہ کشمکش میں جب آپ فریق بنتے ہیں تو پھر وہ گروہ آپ کا مخاطب نہیں رہتا جو آپ کا مخالف ہے۔ اس طرح آپ کی دعوت اس طبقے تک نہیں پہنچ سکتی اور یہ بات حکمت تبلیغ کے خلاف ہے لہٰذا علما کی سیاست کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ مسند دعوت خالی ہو گیا۔
دوسرے نتیجے کا تعلق مذہبی جماعتوں کی ہیئت ترکیبی سے ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی جماعتیں، جماعت اسلامی کے استثنا کے ساتھ، فرقہ وارانہ بنیاد پر قائم ہیں۔ ہر مسلک کے علما نے اپنی سیاسی جماعت بنا رکھی ہے۔ سیاست کے مبادیات سے واقف ایک شخص بھی یہ جانتا ہے کہ جو جماعت کسی خاص مذہبی فکر پر قائم ہو، وہ کبھی قومی جماعت نہیں بن سکتی۔ اس کے ساتھ ان مذہبی عناصر کے مفاد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ یہ تقسیم باقی رہے کیونکہ اس صورت میں انہیں ایک پریشر گروپ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور پھر وہ کسی بڑی سیاسی جماعت سے معاملہ کر کے سینٹ یا اسمبلی تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح سیاسی منظر پر اپنی موجودگی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس سے کسی فرد واحد یا چند افراد کو تو دنیاوی اعتبار سے فائدہ پہنچتا ہے لیکن قوم میں مسلکی تقسیم مزید پختہ ہو جاتی ہے۔ چونکہ ان عناصر کے پیش نظر شخصی مفاد ہوتا ہے اس لیے ایک لازمی نتیجے کے طور پر شخصیات کا تصادم (Personality clash) جنم لیتا ہے اور یہ جماعتیں مزید تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتی ہیں۔ آج اس ملک میں کوئی مذہبی جماعت ایسی نہیں جو دو یا دو سے زیادہ حصوں میں منقسم نہ ہو۔ گویا اس مذہبی سیاست کا دوسرا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ فرقہ وارانہ گروہ بندی مضبوط تر ہو گئی۔
تیسرا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاست میں مسلسل ناکامیوں نے ان لوگوں کو مایوسی (Frustration) کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا۔ چنانچہ اب وہ برملا یہ کہنے لگے ہیں کہ انتخابی سیاست سے کام یابی کا کوئی امکان نہیں اس لیے ہمیں اب کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ آئین کے تحت تبدیلی کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو تبدیلی کے لیے مسلح جدوجہد کے قائل ہیں۔
چوتھا نتیجہ یہ نکلا کہ عملی سیاست میں شریک بعض علما کے دامن پر جب دنیاوی آلودگیوں کے نشانات کا تاثر ابھرا تو اس سے علما کی شہرت کو بالعموم بہت نقصان پہنچا۔ میرے لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس تاثر میں صداقت کا تناسب کیا ہے لیکن اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تاثر پیدا ہی تب ہوا جب علما عملی سیاست میں الجھے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ دور جدید میں علما کا وقار جتنا مجروح ہوا ہے، شاید ہی کسی دوسرے طبقے کا ہوا ہو۔ دنیا داروں کے ساتھ جب انہوں نے معاملات کیے تو علما کو ان کی سطح پر اترنا پڑا۔
میرے نزدیک ان نتائج کی فہرست طویل ہو سکتی ہے لیکن اگر محض ان ہی کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی رائے بنتی ہے کہ عملی سیاست دین اور علما دونوں کے لیے مفید ثابت نہیں ہوئی۔ علما کی عملی سیاست میں شرکت کا واحد فائدہ یہ ہوا کہ یہ ملک آئینی اور دستوری طور پر اسلامی بن گیا۔ اس کے علاوہ اس شرکت کے تمام نتائج منفی رہے۔ اب جہاں تک اس واحد فائدے کا تعلق ہے تو علما اگر اپنے منصب انذار پر جلوہ افروز رہتے اور حکمرانوں کو اس جانب متوجہ کرتے کہ اگر کسی خطے میں مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہو جائے تو وہ شرعاً اس کے پابند ہیں کہ وہاں اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو تو بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا۔ یہ قوم مزاجاً بھی ریاست کے سیکولر تشخص کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے اور اس کے ساتھ اگر علما کا یہ دباؤ بھی ہوتا تو کوئی حکومت یہ جرات نہ کر سکتی کہ وہ پاکستان کو دستوری طور پر سیکولر بنائے۔ پھر اس بات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ دستور کو اسلامی بنانے اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے میں بنیادی کردار ایک ایسے عالم دین، مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم کا تھا جو عملی سیاست سے دور رہنے والے تھے۔
اس تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں ہوگا کہ اس سے مقصود دین وسیاست کی علیحدگی کی وکالت ہے۔ یہاں محض یہ بات کہی جا رہی ہے کہ علما کا کام سیاست نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کا کام ہے جو اپنی افتاد طبع کے اعتبار سے سیاست کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے اور اس میں بھی دو آرا نہیں کہ اس کے لیے جدوجہد ہونی چاہیے لیکن ہمارے نزدیک یہ کام وہ لوگ کریں جن کے اندر اس کے لیے فطری داعیہ موجود ہو۔ علما کا منصب یہ نہیں کہ وہ سیاست دان بنیں۔ ان کاکام یہ ہے کہ وہ سیاست دانوں کو مسلمان بنائیں۔ اس ملک میں تنہا مولانا مودودیؒ کے عالمانہ کام کا یہ اثر ہے کہ اہل صحافت کی ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی جس کی تمام صحافیانہ سرگرمیوں کا محور ومرکز یہ ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے۔ اگر مولانا سیاست کی حریفانہ کشمکش کو بھی اسی طرح متاثر کرتے، ذرا غور کیجیے اگر ہمارے درمیان ایسے علما موجود ہوتے جن کی علمی وجاہت سے اس ملک کا رجحان ساز طبقہ یعنی اہل سیاست، فوجی قیادت، بیورو کریسی مرعوب ہوتے تو اس ملک کا نقشہ کیا ہوتا؟ میرا کہنا یہ ہے کہ اگر علما اپنی ذمہ داری بطریق احسن ادا کرتے تو آج ہمیں حکمرانوں سے نفاذ اسلام کی بھیک نہ مانگنا پڑتی۔
علماء کے سیاسی کردار، کسی غیر سرکاری فورم کی طرف سے جہاد کے اعلان کی شرعی حیثیت، علماء کرام کے فتویٰ جاری کرنے کے آزادانہ استحقاق، اور زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی شرعی ممانعت کے حوالہ سے محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے بعض حالیہ ارشادات کے بارے میں ان کالموں میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں۔ ہمارا خیال تھا کہ غامدی صاحب محترم ان مسائل پر قلم اٹھائیں گے اور ہمیں ان کے علم و مطالعہ سے استفادہ کا موقع ملے گا۔ لیکن شاید ’’پروٹوکول‘‘ کے تقاضے آڑے آگئے جس کی وجہ سے غامدی صاحب کی بجائے ان کے شاگرد رشید خورشید احمد ندیم صاحب نے ہماری ان گزارشات پر قلم اٹھایا اور معاصر روزنامہ جنگ میں ’’تکبیر مسلسل‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے مضامین میں انہوں نے ان مسائل پر اظہار خیال کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
اس سلسلہ میں قارئین کی یہ الجھن ہمارے پیش نظر ہے کہ ہماری گزارشات اور خورشید احمد ندیم صاحب کی جوابی توضیحات الگ الگ اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں اور بہت سے قارئین کے لیے دونوں کا مطالعہ کرنا مشکل ہے۔ اس لیے اگر دونوں اخبارات اپنے صفحات میں شائع ہونے والے ان مضامین کے جواب میں سامنے آنے والے مضامین کو بھی اپنے صفحات میں جگہ دے دیں تو اس سے دونوں روزناموں کے قارئین کو پوری بحث سے استفادہ کا موقع مل جائے گا۔ لیکن یہ اخبارات کے منتظمین کا مسئلہ ہے اور وہ اپنی مصلحتوں اور ضرریات کو زیادہ بہتر طو رپر سمجھتے ہیں کہ
بہرحال اب تک خورشید احمد ندیم نے دو نکات پر گفتگو کی ہے۔ پہلے مرحلہ میں انہوں نے توضیحات کے عنوان سے خبر واحد کے حجت ہونے کے بارے میں ہماری گزارش پر تبصرہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کے ہاں سنت کا جو مفہوم سمجھا جاتا ہے اسے پیش نظر رکھا جائے تو خبر واحد کے حجت ہونے یا نہ ہونے کی بحث کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ مگر ہمیں خورشید صاحب کے اس ارشاد سے اختلاف ہے جس کا آئندہ سطور میں ہم ذکر کریں گے لیکن اس سے قبل ہم خبر واحد کے بارے میں عام قارئین کے لیے تھوڑی سی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں تاکہ وہ صحیح طور پر اس بحث کو سمجھ سکیں۔
’’خبر واحد‘‘ کا لفظی معنٰی ایک آدمی کی روایت ہے۔ اور محدثین کی اصطلاح میں خبر واحد اسے کہتے ہیں کہ قرون اولیٰ یعنی صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے دور میں کسی حدیث نبویؐ کو روایت کرنے میں ایک ہی بزرگ متفرد ہوں اور دوسرا کوئی ان کے ساتھ اس بات کو بیان کرنے میں شریک نہ ہو۔ ایسی خبر کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف چلا آرہا ہے کہ شرعی احکام کے ثبوت میں یہ خبر اور حدیث حجت ہے یا نہیں۔ جمہور محدثین اور فقہاء کا موقف یہ ہے کہ کسی بھی ثقہ راوی کی روایت کردہ خبر واحد اگر قرآن کریم کی کسی نص صریح کے خلاف نہیں اور کوئی خبر متواتر یا اجماعی تعامل بھی اس کی نفی نہیں کر رہا تو وہ شرعاً حجت ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔ مگر بعض اصولی فقہاء کا موقف یہ ہے کہ خبر واحد کسی شرعی حکم کے وجوب کا فائدہ نہیں دیتی۔
ہم نے ایک سابقہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور جناب جاوید احمد غامدی کے مکتب فکر کا موقف ان اصولی فقہاء کے قریب ہے۔ اسی وجہ سے انہیں شادی شدہ مرد اور عورت کے زنا کا مرتکب قرار پانے پر اس کے لیے سنگسار کرنے کی سزا کو ’’شرعی حد‘‘ کے طور پر قبول کرنے میں تامل ہے۔ اس کے جواب میں خورشید ندیم صاحب کا ارشاد ہے کہ سنت رسولؐ کے بارے میں غامدی صاحب کی وضاحت کو سامنے رکھنے کے بعد خبر واحد کی حجت کا سوال باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ وہ اس ضمن میں غامدی صاحب کے دو ارشادات نقل کر رہے ہیں کہ
(۱) ’’سنت سے مراد دین ابراہیمی ؑ کی وہ روایت ہے جسے نبی اکرمؐ نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔‘‘
(۲) ’’اس بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں وہ جس طرح صحابہؓ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے یہ اسی طرح ان کے اجتماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور ہر دور میں امت کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے۔‘‘
ہم ان دو اقتباسات کا جو مطلب سمجھ پائے ہیں وہ یہ ہے کہ سنت صرف وہی ہے جو دین ابراہیمیؑ کے سابقہ تسلسل کے ساتھ نقل ہوتی چلی آرہی ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے تجدید و اصلاح کے ساتھ اسے باقی رکھا ہے۔ اس کا لازمی مطلب اگر سامنے رکھا جائے تو جناب نبی اکرمؐ کا ہر وہ عمل اور قول سنت کے دائرہ سے نکل جاتا ہے جس کا دین ابراہیمیؑ کے سابقہ تسلسل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور رسول اکرمؐ نے اپنی طرف سے نئی سنت کے طور پر اس کا اجراء فرمایا ہے۔ اسی طرح کسی سنت کے ثبوت کے لیے غامدی صاحب کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد امت کے اجماع اور قولی تواتر سے ثابت ہو۔ اور جو سنت نبویؐ یا حدیث رسولؐ اجماع اور تواتر کے ذریعہ ہم تک نہیں پہنچی وہ غامدی صاحب کے نزدیک ثابت شدہ نہیں ہے۔
لہٰذا اگر حدیث و سنت کے تعین اور ثبوت کے لیے اس معیار کو قبول کر لیا جائے تو چوہدری غلام احمد پرویز اور ان کے رفقاء کی طرح حدیث و سنت کے انکار کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ بلکہ اس وقت حدیث و سنت کے نام سے روایات کا جو ذخیرہ امت کے پاس موجود ہے اور جس کی چھان پھٹک کے لیے محدثین تیرہ سو برس سے صبر آزما اور جاں گسل علمی جدوجہد میں مصروف چلے آرہے ہیں اس کا کم و بیش نوے فیصد حصہ خود بخود سنت کے دائرے سے نکل کر کالعدم قرار پا جاتا ہے۔ ہمیں تعجب اس بات پر ہے کہ خورشید احمد ندیم صاحب ان اقتباسات کے ذریعہ خبر واحد کے حجت ہونے بلکہ سرے سے اس کے بیشتر کو سنت تسلیم کرنے سے انکار فرما رہے ہیں، مگر انہیں اس بات پر بھی اصرار ہے کہ سنت کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو سامنے رکھنے کے بعد خبر واحد کے حجت ہونے یا نہ ہونے کے اختلاف کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک خبر واحد بلکہ اجماع اور تواتر کے ذریعہ ثابت نہ ہونے والی کسی بھی سنت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، مگر امت کے جمہور محدثین اور فقہاء کے نزدیک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر وہ ارشاد اور عمل پوری اہمیت رکھتا ہے جو اہل علم کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ثقہ اور مستند راویوں کے ذریعہ امت تک پہنچا ہے اور جسے محدثین صحیح روایت کے طور پر امت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ غامدی صاحب اور خورشید ندیم صاحب کے نزدیک کسی ایک سنت کے ثبوت کے لیے تو صحابہ کرامؓ اور امت کا اجتماعی تعامل ضروری ہے، لیکن اسی سنت کے مفہوم کے تعین، روایت کے طریق کار، قبولیت کے معیار، اور صحت و ضعف کے قواعد و اصول کے بارے میں امت کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل اور جمہور محدثین و فقہاء کا طرز عمل ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ وہ امت کے جمہور اہل علم کے طے کردہ اس معیار کو قبول کرنے کی بجائے اپنے ’’جداگانہ اصولوں‘‘ کو حتمی معیار کے طور پر پیش کرنے پر مصر ہیں۔ اور اس معاملہ میں اجتماع و تواتر اور تفرد و توحد کا فرق ان کے ذہن تک رسائی کا راستہ پانے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔
خورشید احمد ندیم صاحب نے علماء کے سیاسی کردار پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے کہ علماء کرام کو عملی سیاست میں براہ راست رفیق بننے کی بجائے اصولی سیاست اور رہنمائی کی سطح تک اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھنا چاہیے۔ اور ساتھ ہی پاکستان کی پچاس سالہ سیاست کا تجزیہ کیا ہے کہ علماء کا عملی سیاست میں حصہ لینا علماء اور دین دونوں کے لیے فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث بنا ہے۔
جہاں تک علماء کے عملی سیاست میں فریق بننے یا نہ بننے کی بات ہے خورشید ندیم صاحب نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یہ جائز و ناجائز کی بات نہیں بلکہ حکمت و تدبیر کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس حوالہ سے ان کے موقف اور ہمارے موقف میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہا کیونکہ ہم نے بھی ’’موقع محل کی مناسبت‘‘ کے عنوان سے ضرورت کے وقت عملی سیاست میں علماء کے فریق بننے کا دفاع کیا تھا۔ جبکہ انہوں نے اسے ’’حکمت و تدبیر‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ حکمت و تدبیر نہ تو ایسی جامد شے ہے کہ ہر وقت ایک ہی حالت اور کیفیت میں رہے اور نہ ہی اس کی سطح ہر طبقہ، زمانہ اور علاقہ کے لیے یکساں رہتی ہے کہ ہر طرح کے حالات میں اس سے ایک ہی طرح کا نتیجہ برآمد ہو۔ اس لیے ہم بھی اس بحث کو آگے نہیں بڑھا رہے کیونکہ بے مقصد بحث اور لفظی نزاع کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
البتہ ہم اپنی اس گزارش کا اعادہ ضروری سمجھتے ہیں کہ قومی زندگی میں علماء کا اصل مقام علمی رہنمائی اور فکری قیادت ہے، اور عملی سیاست میں براہ راست فریق نہ بننے کی صورت میں وہ زیادہ بہتر طور پر اپنی ذمہ داری کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی وقت حکمت و تدبیر کے تقاضے یا موقع محل کی مناسبت سے وہ شرح صدر کے ساتھ عملی سیاست میں خود سامنے آنے کو ضروری سمجھتے ہوں تو ان کے لیے شرعاً یہ دروازہ بند نہیں ہے۔ اور اسلامی تاریخ میں ان کے لیے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرت امام ابو حنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ، اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ جیسے زعمائے امت کا واضح اسوہ اور شاندار روایات موجود ہیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں عملی سیاست میں نہ صرف دخل دیا بلکہ اس کے لیے گروہ بندی کی، محاذ آرائی کے دور سے گزرے، اور تاریخ میں قربانی و ایثار اور استقلال و استقامت کے روشن باب قائم کیے۔
مگر خورشید ندیم صاحب کے تجزیہ کے دوسرے حصے یعنی پاکستان میں علماء کے سیاسی کردار کے حوالے سے ان کی رائے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے۔ انہوں نے عملی سیاست میں علماء کرام کے فریق بننے کے جو نقصانات گنوائے ہیں وہ ہمارے سامنے بھی ہیں اور ان میں سے بعض باتوں سے ہمیں اتفاق ہے۔ لیکن ان کا یہ کہنا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ عملی سیاست میں حصہ لے کر علماء کرام ’’دعوت کے منصب‘‘ سے معزول ہوگئے ہیں۔ کیونکہ ہماری نصف صدی کی تاریخ میں بھی ماضی کی طرح یہ دونوں دائرے الگ الگ رہے ہیں اور آج بھی الگ الگ ہیں۔
دینی جدوجہد کی یہ فطری تقسیم کار چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے کہ علمی کام کرنے والے خاموشی سے اپنے کام میں مگن ہیں، دعوت و اصلاح کے مرد میدان اپنے محاذ پر مصروف کار ہیں، اور تحریکی مزاج کے اہل علم و دین کا اپنا میدان کار ہے۔ پاکستان کی باون سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو یہ تمام شعبے یہاں بھی اپنے دائرہ کار میں مصروف دکھائی دیں گے اور ان میں باہمی تعاون کی ایک خاموش روش بھی نظر آئے گی۔ ملک میں ایسے اصحاب علم کی ایک بڑی تعداد آج بھی موجود ہے جو عملی سیاست کے جھمیلوں میں پڑے بغیر اپنا کام کر رہے ہیں۔ اور عوامی سطح پر دین کی طرف بنیادی دعوت کا عمل بھی موجود ہے جو عملی سیاست سے الگ تھلگ رہ کر دین کی چند بنیادی باتوں کو ہر مسلمان کے ذہن میں ڈالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا خورشید ندیم صاحب کی ’’حکمت و تدبیر‘‘ اس تقسیم کار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے؟ اور کیا ان کے نزدیک ’’حکمت و تدبیر‘‘ اسی کا نام ہے کہ علم و دانش سے تعلق رکھنے والے تمام حضرات کو ایک ہی طرح کے کام میں لگا دیا جائے اور تمام اذہان و افکار کو ایک ہی سطح، ایک ہی دائرہ اور ایک ہی رخ کا پابند بنا کر باقی ہر کام کی نفی کر دی جائے؟ ہم خورشید ندیم صاحب محترم سے یہ سمجھنا چاہیں گے کہ عملی سیاست میں فریق بننے والے علماء کی محدود تعداد کو سامنے رکھ کر وہ ملک بھر کے تمام اہل علم و دانش کو دعوت کے منصب سے معزول کرنے کا حکم کس بنیاد پر صادر کر رہے ہیں؟
پھر خورشید ندیم صاحب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ علماء کی سیاسی جدوجہد کی وجہ سے ملک دستوری لحاظ سے اسلامی ہے اور قانون سازی میں یہ ضمانت موجود ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا۔ ہمارے خیال میں اس معاملے کو ایک اور رخ سے دیکھا جائے تو بات زیادہ واضح ہو جائے گی کہ عملی سیاست میں علماء کے فریق بننے کی وجہ سے پاکستان اب تک سیکولر ریاست بننے سے بچا ہے۔ ورنہ اگر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ موجود نہ ہوتے تو قرارداد مقاصد کبھی منظور نہ ہوتی۔ ۱۹۷۱ء کی دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد المصطفیٰ ازہری، پروفیسر غفور احمد، اور مولانا ظفر احمد انصاری موجود نہ ہوتے تو اسلام کے سرکاری مذہب ہونے اور قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کی ضمانت جیسی بنیادی دفعات دستور کا حصہ نہیں بن سکتی تھیں۔ اور ۱۹۷۴ء میں یہی حضرات قومی اسمبلی کے رکن نہ ہوتے تو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا تھا۔
لطف کی بات یہ ہے کہ خورشید احمد ندیم اس سارے کام کو مولانا ظفر احمد انصاری کے کھاتے میں ڈال کر انہیں عملی سیاست سے دور رہنے والا بزرگ قرار دے رہے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس دور کے دستور سازی کے عمل سے ہی سرے سے بے خبر ہیں۔ مولانا ظفر احمد انصاری کی خدمات اور کردار سے انکار نہیں، لیکن وہ دستور ساز اسمبلی اور قومی اسمبلی میں اس ٹیم کا ایک حصہ تھے جس میں مذکورہ بالا اکثر بزرگ شامل تھے اور ان کی قیادت مولانا مفتی محمودؒ کر رہے تھے۔ جبکہ عملی سیاست سے مولانا ظفر احمد انصاری کے دور رہنے کی کیفیت یہ تھی کہ وہ ۱۹۷۱ء کے الیکشن میں کراچی سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ کر دستور ساز اسمبلی اور پھر قومی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ اس لیے اگر وہ اس سارے انتخابی عمل سے گزر کر بھی عملی سیاست سے دور رہنے والے بزرگ قرار پا سکتے ہیں تو مذکورہ بالا دیگر بزرگوں کو یہ سہولت دینے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
ہمارے خیال میں موجودہ عالمی حالات اور شدید بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں علماء کا پاکستان کو سیکولر ریاست بننے سے روکے رکھنا ہی ایک ایسی بنیادی کامیابی ہے جس کی خاطر عملی سیاست کے تمام مبینہ نقصانات برداشت کیے جا سکتے ہیں۔
پچھلے دنوں مولانا زاہد الراشدی صاحب کا ایک مضمون ”غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر‘‘ تین قسطوں میں روزنامہ ”اوصاف‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں مولانا محترم نے استاذِ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کی بعض آرا پر اظہارِ خیال فرمایا ہے۔ مذکورہ مضمون میں مولانا محترم کے ارشادات سے اگرچہ ہمیں اتفاق نہیں ہے، تاہم ان کی یہ تحریر علمی اختلافات کے بیان اور مخالف نقطہء نظر کی علمی آرا پر تنقید کے حوالے سے ایک بہترین تحریر ہے۔ مولانا محترم نے اپنی بات کو جس سلیقے سے بیان فرمایا اور ہمارے نقطہء نظر پر جس علمی اندازسے تنقید کی ہے، وہ یقیناًموجودہ دور کے علما اور مفتیوں کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ مولانا محترم کے اندازِ بیان اور ان کی تنقید کے اسلوب سے جہاں ہمارے دل میں ان کے احترام میں اضافہ ہوا ہے، وہیں اس سے ہمیں اپنی بات کی وضاحت اور مولانا محترم کے فرمودات کا جائزہ لینے کا حوصلہ بھی ملا ہے۔ اس مضمون میں ہم مولانا محترم کے اٹھائے ہوئے نکات کا بالترتیب جائزہ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ صحیح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔
سب سے پہلی بات، جس پر مولانا محترم نے تنقید کی ہے، وہ علماے دین کے کام کے حوالے سے استاذِ گرامی کی رائے ہے۔ مولانا محترم کے اپنے الفاظ میں، وہ اس طرح سے ہے:
’’علماے کرام خود سیاسی فریق بننے کی بجائے، حکمرانوں اور سیاست دانوں کی اصلاح کریں تو بہتر ہو گا، مولوی کو سیاست دان بنانے کے بجائے، سیاست دان کو مولوی بنانے کی کوشش کی جائے۔‘‘
مولانا محترم استاذِ گرامی کی اس رائے کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ علماے کرام خود سیاسی فریق بننے کی بجائے، حکمرانوں اور سیاست دانوں کی اصلاح کریں، تو اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ یہ موقع ومحل اور حالات کی مناسبت کی بات ہے اور دونوں طرف اہلِ علم اور اہلِ دین کا اسوہ موجود ہے۔ امت میں اکابر اہلِ علم کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جس نے حکمرانوں کے خلاف سیاسی فریق بننے کی بجائے ان کی اصلاح اور رہنمائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ لیکن ایسے اہلِ علم بھی امت میں رہے ہیں، جنھوں نے اصلاح کے دوسرے طریقوں کو کامیاب نہ ہوتا دیکھ کرخود فریق بننے کا راستہ اختیار کیا ہے ... اس لیے اگر کسی دور میں علماے کرام یہ سمجھیں کہ خود فریق بنے بغیر معاملات کی درستی کا امکان کم ہے تو اس کا راستہ بھی موجود ہے اور اس کی مطلقاً نفی کر دینا دین کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔‘‘
ہمیں مولانا محترم کی محولہ عبارت سے بہت حد تک اتفاق ہے۔ علماے دین کا سیاسی اکھاڑوں میں اترنے کا مسئلہ، جیسا کہ استاذِ گرامی کے رپورٹ کیے گئے بیان سے بھی واضح ہے، حرمت و حلت کا مسئلہ نہیں ہے۔ استاذِ گرامی کا نقطہء نظر یہ نہیں ہے کہ علما کا سیاست کے میدان میں اترنا حرام ہے، اس کے برعکس، ان کی رائے یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں اترنے کے بجائے، یہ ’بہتر ہوگا‘ کہ علماسیاست دانوں کی اصلاح کریں۔ ظاہر ہے کہ مسئلہ بہتر اور کہتر تدبیر کا ہے، نہ کہ حلال و حرام یا مطلقاً نفی کا۔
یہاں ہم البتہ، یہ بات ضرور واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں علماے دین کی جو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، وہ اپنی قوم میں آخرت کی منادی کرنا اور اس کے بارے میں اپنی قوم کو انذار کرنا ہے۔ چنانچہ، اپنے کام کے حوالے سے وہ جو رائے بھی قائم کریں اور جس میدان میں اترنے کا بھی وہ فیصلہ کریں، انھیں یہ بات کسی حال میں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ سب سے پہلے اسی ذمہ داری کے حوالے سے مسؤل ٹھیریں گے جو کتابِ عزیز نے ان پر عائد کی ہے۔ اس وجہ سے انھیں اپنی زندگی اور اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ کہیں ان کا یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داری کو ادا کرنے میں رکاوٹ تو نہیں بن جائے گا۔
ہم یہاں اتنی بات کا اضافہ ضروری سمجھتے ہیں کہ علماے کرام پر قرآنِ مجید نے اصلاحِ احوال کی نہیں، بلکہ اصلاحِ احوال کی جدوجہد کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ مولانا محترم اگر غور فرمائیں، تو ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ پہلی صورت میں منزلِ مقصود اصلاحِ احوال، جبکہ دوسری صورت میں اصلاح کی جدوجہد ہی راستہ اور اس راستے کا سفر ہی اصل منزل ہے۔ چنانچہ، ہمارے نزدیک، معاملات کی درستی کے امکانات خواہ بظاہر ناپید ہی کیوں نہ ہوں، علماے دین کا کام کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک اس کی ڈالی ہوئی ذمہ داری کو بہتر سے بہتر طریقے پر ادا کرتے چلے جانا ہے۔ اس معاملے میں قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا بطورِ مثال، خاص طور پر ذکر کیا ہے، جو یہود کی ایک بستی میں آخرت کی منادی کرتے تھے۔ یہ یہود کی اخلاقی پستی کا وہ دور تھا کہ اصلاح کی اس جدوجہد کی کامیابی کا سرے سے کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ چنانچہ، جب بستی والوں نے ان مصلحین سے یہ پوچھا کہ ناامیدی کی اس تاریکی میں وہ یہ کام آخر کس لیے کر تے چلے جا رہے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا:
مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ۔ (الاعراف ۷: ۱۶۴) ’’اس لیے کہ تمھارے رب کے حضور یہ ہمارے لیے عذر بن سکے(کہ ہم نے اپنے کام میں کوئی کمی نہیں کی)۔‘‘
قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و انذار کے معاملے میں انبیاے کرام کا اسوہ بھی یہی رہا ہے۔ حالات کی نامساعدت اور کامیابی کی امید کے فقدان کو انھوں نے اپنے لیے کبھی رکاوٹ نہیں سمجھا۔ وہ اللہ کی طرف سے فیصلہ آنے تک اسی کام پر لگے رہے جس کا پروردگارِ عالم نے انھیں حکم دیا تھا۔ اس میدانِ عمل کا اسوۂ حسنہ یہی ہے۔ اس کی راہ پر چل نکلنا ہی منزل اور اس راہ میں اٹھایا ہوا ہر قدم ہی اصل کامیابی ہے۔
اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِگرامی نے کہا ہے:
’’زکوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ٹیکسیشن کو ممنوع قرار دے کر حکمرانوں سے ظلم کا ہتھیار چھین لیا ہے۔‘‘
مولانا محترم اس بیان کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’... لیکن کیا کسی ضرورت کے موقع پر (زکوٰۃ کے علاوہ) اور کوئی ٹیکس لگانے کی شرعاً ممانعت ہے؟ اس میں ہمیں اشکال ہے۔ اگر غامدی صاحب محترم اللہ تعالیٰ کی طرف سے زکوٰۃ کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی ممانعت پر کوئی دلیل پیش فرما دیں، تو ان کی مہربانی ہو گی اور اس باب میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔‘‘
استاذِ گرامی اپنی بہت سی تحریروں میں اپنی رائے کی بنیاد واضح کر چکے ہیں۔ اپنے مضمون ’قانونِ معیشت‘ میں وہ لکھتے ہیں:
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلوٰۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ۔ (التوبۃ ۹: ۵) ’’پھر اگر وہ توبہ کر لیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔‘‘
سورۂ توبہ میں یہ آیت مشرکینِ عرب کے سامنے ان شرائط کی وضاحت کے لیے آئی ہے جنھیں پورا کر دینے کے بعد وہ مسلمانوں کی حیثیت سے اسلامی ریاست کے شہری بن سکتے ہیں۔ اس میں ’فخلوا سبیلہم‘ (ان کی راہ چھوڑ دو) کے الفاظ اگر غور کیجیے تو پوری صراحت کے ساتھ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آیت میں بیان کی گئی شرائط پوری کرنے کے بعد جو لوگ بھی اسلامی ریاست کی شہریت اختیار کریں، اس ریاست کا نظام جس طرح ان کی جان، آبرو اور عقل و رائے کے خلاف کوئی تعدی نہیں کر سکتا، اسی طرح ان کی املاک، جائدادوں اور اموال کے خلاف بھی کسی تعدی کا حق اس کو حاصل نہیں ہے۔ وہ اگر اسلام کے ماننے والے ہیں، نماز پر قائم ہیں اور زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں تو عالم کے پروردگار کا حکم یہی ہے کہ اس کے بعد ان کی راہ چھوڑ دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ واجب الاذعان کی رو سے ایک مٹھی بھر گندم، ایک بالشت زمین، ایک پیسا، ایک حبہ بھی کوئی ریاست اگر چاہے تو ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لے لینے کے بعد بالجبر ان سے نہیں لے سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت میں فرمایا ہے:
امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویقیموا الصلوٰۃ ویؤتوا الزکوٰۃ فاذا فعلوا عصموا منی وماء ہم واموالہم الا بحقہا وحسابہم علی اللہ۔ (مسلم، کتاب الایمان) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروںیہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط پوری کر لیں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الا یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔‘‘
یہی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نہایت بلیغ اسلوب میں اس طرح بیان فرمائی ہے:
ان دماء کم واموالکم حرام علیکم لحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا فی بلدکم ھذا۔ (مسلم، کتاب الحج) ’’بے شک، تمھارے خون اور تمھارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں،(۱) جس طرح تمھارا یہ دن (یوم النحر) تمھارے اس مہینے (ذوالحجہ) اور تمھارے اس شہر (ام القری مکہ) میں۔‘‘
اس سے واضح ہے کہ اس آیت کی رو سے اسلامی ریاست زکوٰۃ کے علاوہ جس کی شرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے مختلف اموال میں مقرر کر دی ہے، اپنے مسلمان شہریوں پر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کر سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
اذا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت ما علیک۔ (ترمذی، کتاب الزکوٰۃ) ’’جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو، تو وہ ذمہ داری پوری کر دیتے ہو جو (ریاست کی طرف سے) تم پر عائد ہوتی ہے۔‘‘
اسی طرح آپ نے فرمایا ہے:
لیس فی المال حق سوی الزکوٰۃ۔ (ابنِ ماجہ، کتاب الزکوٰۃ) ’’لوگوں کے مال میں زکوٰۃ کے سوا (حکومت کا) کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔‘‘
اربابِ اقتدار اگر اپنی قوت کے بل بوتے پر اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ ایک بد ترین معصیت ہے جس کا ارتکاب کوئی ریاست اپنے شہریوں کے خلاف کر سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا یدخل الجنۃ صاحب مکس۔ (ابو داؤد، کتاب الخراج والامارۃ والفء) ’’کوئی ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘
اسلام کا یہی حکم ہے جس کے ذریعے سے وہ نہ صرف یہ کہ عوام اور حکومت کے مابین مالی معاملات سے متعلق ہر کشمکش کا خاتمہ کرتا، بلکہ حکومتوں کے لیے اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا کر قومی معیشت میں عدمِ توازن پیدا کردینے کا ہر امکان بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے۔
تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ مال سے متعلق اللہ پروردگارِ عالم کے مطالبات بھی اس پر ختم ہو جاتے ہیں۔ قرآن میں تصریح ہے کہ اس معاملے میں اصل مطالبہ انفاق کا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح یہ فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ ادا کر دینے کے بعد حکومت کا کوئی حق باقی نہیں رہتا، اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے:
ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ۔ (ترمذی، کتاب الزکوٰۃ) ’’بے شک، مال میں زکوٰۃ کے بعد بھی (اللہ کا) ایک حق قائم رہتا ہے۔‘‘
(ماہنامہ ”اشراق“، اکتوبر ۱۹۹۸، ص۲۹۔ ۳۲)
امید ہے کہ دیے گئے اقتباس سے مولانا محترم پر استاذِ گرامی کا استدلال پوری طرح سے واضح ہو جائے گا۔ مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس استدلال میں اگر کوئی خامی دیکھیں، تو ہمیں اس سے ضرور آگاہ فرمائیں۔
اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِ محترم نے کہا ہے:
’’جہاد تبھی جہاد ہوتا ہے، جب مسلمانوں کی حکومت اس کا اعلان کرے۔ مختلف مذہبی گروہوں اور جتھوں کے جہاد کو جہاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘
مولانا محترم، استاذِگرامی کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’... جہاد کی مختلف عملی صورتیں اور درجات ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی ملک یا قوم کے خلاف جہاد کا اعلان اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ایک اسلامی یا کم از کم مسلمان حکومت اس کا اعلان کرے، لیکن جب کسی مسلم آبادی پر کفار کی یلغار ہو جائے اور کفار کے غلبے کی وجہ سے مسلمان حکومت کا وجود ختم ہو جائے یا وہ بالکل بے بس دکھائی دینے لگے، تو غاصب اور حملہ آور حکومت کے خلاف جہاد کے اعلان کے لیے پہلے حکومت کا قیام ضروری نہیں ہو گا اور نہ ہی عملاً ایسا ممکن ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسے مرحلہ میں مسلمانوں کی اپنی حکومت کا قیام قابلِ عمل ہو تو کافروں کی یلغار اور تسلط ہی بے مقصد ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ صورت پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب مسلمانوں کی حکومت کفار کے غلبہ اور تسلط کی وجہ سے ختم ہو جائے، بے بس ہو جائے یا اسی کافر حکومت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ جائے۔
سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں کیا کیا جائے گا؟ اگر جاوید غامدی صاحب محترم کا فلسفہ تسلیم کر لیا جائے تو یہ ضروری ہو گا کہ مسلمان پہلے اپنی حکومت قائم کریں اور اس کے بعد اس حکومت کے اعلان پر جہاد شروع کیا جائے۔ لیکن پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہو گا کہ جب مسلمانوں نے اپنی حکومت بحال کر لی ہے تو اب جہاد کے اعلان کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی ہے؟ کیونکہ جہاد کا مقصد تو کافروں کا تسلط ختم کر کے مسلمانوں کا اقتدار بحال کرنا ہے اور جب وہ کام جہاد کے بغیر ہی ہو گیا ہے تو جہاد کے اعلان کا کون سا جواز باقی رہ جاتا ہے؟‘‘
مولانا محترم کی یہ بات کہ کسی قوم یا ملک کے خلاف جہاد تو بہرحال مسلمان حکومت ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے، ہمارے لیے باعثِ صد مسرت ہے۔ ہم اسے بھی غنیمت سمجھتے ہیں کہ موحودہ حالات میں مولانا نے اس حد تک تو تسلیم کیا کہ کسی ملک وقوم کے خلاف جہاد مسلمان حکومت ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اسی مسئلے میں ہے کہ اگر کبھی مسلمانوں پر کوئی بیرونی قوت اس طرح سے تسلط حاصل کر لے کہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اس کے آگے بالکل بے بس ہو جائے تو اس صورت میں عام مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ واضح رہے کہ ایسے حالات میں مولانا ہی کی بات سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ بیرونی طاقت کے خلاف اگر مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اپنی سلطنت کے دفاع کا انتظام کرنے کو آمادہ ہو تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی ہی کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد ہی اس بات کی مستحق ہو گی کہ اسے جہاد قرار دیا جائے۔ مزید برآں ایسے حالات میں نظمِ اجتماعی سے ہٹ کر، جتھہ بندی کی صورت میں کی جانے والی ہر جدوجہد، غلط قرار پائے گی۔ اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ مولانا کو ہماری اس بات سے اتفاق ہو گا، تاہم پھر بھی ہم یہ چاہیں گے کہ مولانا ہمارے اس خیال کی تصدیق یا تردید ضرور فرما دیں، تاکہ اس معاملے میں قارئین کے ذہن میں بھی کوئی شک باقی نہ رہے۔ چنانچہ ہمارے فہم کی حد تک، اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اس صورت سے متعلق ہے جب مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی، کسی بھی وجہ سے، بیرونی طاقت کے تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے سے قاصر ہو۔ مولانا کے نزدیک اس صورت میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنی سلطنت کے دفاع کی جدوجہد کرنی چاہیے، خواہ یہ جدوجہد غیر منظم جتھہ بندی ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ اس ضمن میں جو منظم یا غیر منظم جدوجہد بھی مسلمانوں کی طرف سے کی جائے گی، وہ مولانا محترم کے نزدیک ’جہاد ‘ہی قرار پائے گی۔
مولانا محترم نے اپنی بات کی وضاحت میں فلسطین، برِ صغیر پاک وہند، افغانستان اور الجزائرکی کامیاب جدوجہدِ آزادی اور دمشق کے عوام میں تاتاریوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ جہاد کی روح پھونکنے کے معاملے میں ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہم اپنا نقطہء نظر بیان کرنے سے پہلے، تین باتوں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں: اول یہ کہ مولانا محترم نے جتنے واقعات کا حوالہ دیا ہے، ان سب کی مولانا محترم کی رائے سے مختلف توجیہ نہ صرف یہ کہ کی جا سکتی بلکہ کی گئی ہے۔ دوم یہ کہ کسی جدوجہد کی اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی، اس جدوجہد کے شریعتِ اسلامی کے مطابق ہونے کی دلیل نہیں ہوتی اور نہ کسی جدوجہد کی اپنے مقصد کے حصول میں ناکامی اس کے خلافِ شریعت ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ اور سوم یہ کہ عام انسانوں کی بات بے شک مختلف ہو گی، مگر مولانا محترم جیسے اہلِ علم سے ہماری توقع یہی ہے کہ وہ اہلِ علم کے عمل سے شریعت اخذ کرنے کے بجائے، شریعت کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیں۔ اگر شریعتِ اسلامی کے بنیادی ماخذوں، یعنی قرآن و سنت، میں اس عمل کی بنیاد موجود ہے تو اسے شریعت کے مطابق اور اگر ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو بغیر کسی تردد کے اسے شریعت سے ہٹا ہوا قرار دیں۔ ’جہاد‘ یا ’قتال‘ شریعتِ اسلامی کی اصطلاحات ہیں۔ ان اصطلاحات کی تعریف یا ان کے بارے میں تفصیلی قانون سازی کا ماخذ اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبروں کا اسوہ اور ان کی جاری کردہ سنت ہی ہو سکتی ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی جدوجہد ہو یا برِ صغیر پاک و ہند، افغانستان، الجزائریا دمشق کے مسلمانوں کی، یہ جدوجہد جہاد و قتال کی تعریف اور قانون سازی کا ماخذ نہیں، بلکہ خود اس بات کی محتاج ہے کہ شریعت کے بنیادی ماخذوں کی روشنی میں اس کی صحت یا عدمِ صحت کا فیصلہ کیا جائے۔ مولانا یقیناًاس بات سے اتفاق کریں گے کہ شریعتِ اسلامی مسلمانوں کے عمل سے نہیں، بلکہ مسلمانوں کا عمل شریعتِ اسلامی سے ماخوذ ہوناچاہیے۔ وہ یقیناًاس بات کو تسلیم کریں گے کہ شریعتِ اسلامی کے فہم کی اہمیت اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے ہر قسم کے جذبات و تعصبات سے بالا ہو کر پوری دیانت داری کے ساتھ پہلے سمجھ لیا جائے اور پھر پورے جذبے کے ساتھ اس پر عمل کیا جائے۔ جذبات و تعصبات سے الگ ہو کر غور کرنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بات کو اصولی سطح پر سمجھ لیا جائے۔ اس کے بعد بھی اگر ضروری محسوس ہو تو فلسطین، برصغیر پاک و ہند، افغانستان، الجزائر اور دمشق کے مسلمانوں کی جدوجہد کو شریعت سے مستنبط اصولی رہنمائی کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
اس وضاحت کے بعد، اب آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کی کتاب قرآنِ مجید اور اس کے پیغمبروں کا اسوہ اور ان کی جاری کردہ سنت زیرِ غور مسئلے میں ہمیں کیا رہنمائی دیتے ہیں:
سب سے پہلی صورت جو ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان متفق علیہ ہے، یہ ہے کہ کسی قوم و ملک کے خلاف جارحانہ اقدام اسی صورت میں ’جہاد‘ کہلانے کا مستحق ہو گا، جب یہ مسلمانوں کی کسی حکومت کی طرف سے ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھی منظم حکومت کی طرف سے ہونا، اس اقدام کے جواز کی شرائط میں سے ایک شرط ہی ہے۔ بات یوں نہیں ہے کہ مسلمانوں کی منظم حکومت کی طرف سے کیا گیا ہر اقدام ’جہاد‘ ہی ہوتا ہے، بلکہ یوں ہے کہ ’جہاد‘ صرف مسلمانوں کی منظم حکومت ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔
دوسری صورت، جس کا اگرچہ مولانا محترم نے اپنی تحریر میں ذکر تو نہیں کیا، تاہم ان کی باتوں سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ اس میں بھی ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ جب کسی مسلمان ریاست کے خلاف جارحانہ اقدام کیا جائے اور اس کا نظمِ اجتماعی اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہو اور اس مقصد کے لیے جارح قوم کے خلاف میدانِ جنگ میں اترے، تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کی منظم حکومت ہی کی طرف سے کیا گیا اقدام ’جہاد‘ کہلانے کا مستحق ہو گا۔ اس صورت میں تمام مسلمانوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنے نظمِ اجتماعی ہی کے تحت منظم طریقے سے اپنے ملک و قوم کا دفاع کریں اور اس سے الگ ہو کر کسی خلفشار کا باعث نہ بنیں۔ یہ صورت، اگر غور کیجیے، تو پہلی صورت ہی کی ایک فرع ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ معاملہ خواہ قوم کے دفاع کا ہویا کسی جائز مقصد سے کسی دوسری قوم کے خلاف جارحانہ اقدام کا، دونوں ہی صورتوں میں یہ چونکہ مسلمانوں کی اجتماعیت سے متعلق ہے، لہٰذا اس کے انتظام کی ذمہ داری اصلاً ان کی اجتماعیت ہی پر ہے۔ اس طرح کے موقعوں پر عام مسلمانوں کو دین و شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ملک و قوم کی خدمت کے لیے پیش کر دیں، اپنے حکمرانوں (اولوالامر) کی اطاعت کریں اور ہر حال میں اپنے نظمِ اجتماعی (الجماعۃ) کے ساتھ منسلک رہیں۔ ان کا نظمِ اجتماعی انھیں جس محاذ پر فائز کرے، وہ وہیں سینہ سپر ہوں، ان کا نظمِ اجتماعی جب انھیں پیش قدمی کا حکم دے تو اسی موقع پر وہ پیش قدمی کریں اور اگر کبھی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا اجتماعی نظم انھیں دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دینے کا حکم دے، تو وہ اپنے ملک و قوم ہی کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے، اس ذلت کو بھی برداشت کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔
منظم اجتماعی دفاع و اقدام کی ان دو واضح صورتوں کے علاوہ اندرونی یا بیرونی قوتوں کے جبر و استبداد کی بہت سی دوسری صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان اختلاف اصلاً انھی دوسری صورتوں سے متعلق ہے۔ مولانا محترم کے نزدیک، اوپر دی ہوئی دونوں صورتوں کو چھوڑ کر، جبر و استبداد کی باقی صورتوں میں مسلمانوں کو گروہوں، جتھوں اور ٹولوں کی صورت میں اپنا دفاع اور آزادی کی جدوجہد کرنی چاہیے اور اس صورتِ حال میں یہی جدوجہد ’جہاد‘ قرار پائے گی۔ ہمارے نزدیک، مولانا محترم کی یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک، ایسی صورتِ حال میں بھی دین و شریعت کی ہدایت وہی ہے، جو پہلی دو صورتوں میں ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان متفق علیہ ہے۔ شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ دین و شریعت کی رو سے جہاد و قتال کی غیر منظم جدوجہد، بالعموم، جن ہمہ گیر اخلاقی و اجتماعی خرابیوں کو جنم دیتی ہے، شریعتِ اسلامی انھیں کسی بڑی سے بڑی منفعت کے عوض بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ قرآنِ مجید اور انبیاے کرام کی معلوم تاریخ سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جبر و استبداد کی قوتوں کے خلاف، خواہ یہ قوتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، اسی صورت میں تلوار اٹھانے کا حکم اور اس کی اجازت دی، جب مسلمان اپنی ایک خودمختار ریاست قائم کر چکے تھے۔ اس سے پہلے کسی صورت میں بھی انبیاے کرام کو کسی جابرانہ تسلط کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جابرانہ تسلط میں حالات کی رعایت سے جو صورتیں پیدا ہوتی ہیں، وہ درجِ ذیل ہیں:
۱۔ جہاں محکوم قوم کو اپنے مذہب و عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی حاصل ہو۔
۲۔ جہاں محکوم قوم کو اپنے مذہب و عقیدے پر عمل کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو۔
پہلی صورت میں جابرانہ تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا ہر محکوم قوم کا حق تو بے شک ہے، مگر یہ دین کا تقاضا نہیں ہے۔ چنانچہ اسی اصول پر حضرتِ مسیح علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت کے موقع پر اگرچہ بنی اسرائیل رومی سلطنت کے محکوم ہو چکے تھے، تاہم اللہ کے اس پیغمبر نے انھیں نہ کبھی رومی تسلط کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے کا مشورہ دیا اور نہ خود ہی ایسی کسی جدوجہد کی بنا ڈالی۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسے حالات میں آزادی کی جدوجہد کو دین میں مطلوب و مقصود کی حیثیت حاصل ہوتی، تو حضرتِ مسیح جیسے اولو العزم پیغمبر سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ دین کے اس مطلوب و مقصود سے گریز کی راہ اختیار کرتے۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسی صورتِ حال میں آزادی کی جدوجہد دین و شریعت کا تقاضا نہیں ہے۔ اس بات سے بہرحال اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ایسی صورتِ حال میں بھی آزادی کی جدوجہد ہر قوم کا فطری حق ہے۔ وہ یقیناًیہ حق رکھتی ہے کہ اس جابرانہ تسلط سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد کرے۔ مگر چونکہ یہ جدوجہد دین کا تقاضا نہیں ہے، اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ اسے نہ صرف پرامن بنیادوں ہی پر استوار کیا جائے، بلکہ اس بات کا بھی پوری طرح سے اہتمام کیا جائے کہ مسلمانوں کے کسی اقدام کی وجہ سے کسی مسلم یا غیر مسلم کا خون نہ بہنے پائے۔ اس جدوجہد میں مسلمانوں کے رہنماؤں کو یہ بات بہرحال فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دین و شریعت میں جان و مال کی حرمت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ انھیں ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے کسی اقدام کے نتیجے میں جان و مال کی یہ حرمت اگر ناحق پامال ہوئی، تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنے اس اقدام کے لیے اللہ کے حضور میں مسؤل قرار پا جائیں۔ جان و مال کی یہ حرمت اگر کسی فرد یا قوم کے معاملے میں ختم ہو سکتی ہے تو شریعت ہی کی دی ہوئی رہنمائی میں ختم ہو سکتی ہے۔ چنانچہ، ظاہر ہے کہ جبر و تسلط کی اس پہلی صورت میں اگر آزادی کی جدوجہد دین و شریعت کا تقاضا نہیں ہے تو پھر اس کے لیے کیے گئے کسی جارحانہ اقدام کو نہ ’جہاد‘ قرار دیا جا سکتا اور نہ اس راہ میں لی گئی کسی جان کو جائز ہی ٹھیرایا جا سکتا ہے۔
دوسری صورت وہ ہے کہ جب کسی دوسری قوم پر جابرانہ تسلط ایسی صورت اختیار کر لے کہ محکوم قوم کے باشندوں کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو۔ اس صورت میں محکوم قوم کے امکانات کے لحاظ سے دو ضمنی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں:
۱۔ جہاں محکوم قوم کے لیے جابرانہ تسلط کے علاقے سے ہجرت کر جانے کی راہ موجود ہو۔
۲۔ جہاں محکوم قوم کے لیے ہجرت کی راہ مسدود ہو۔
اگر مذہبی جبر اور استبداد کے دور میں لوگوں کے لیے اپنے علاقے سے ہجرت کر جانے اور کسی دوسرے علاقے میں اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی راہ کھلی ہو، تو اس صورت میں دین کا حکم یہ ہے کہ لوگ اللہ کے دین پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کی خاطر، اپنے ملک اور اپنی قوم کو اللہ کے لیے چھوڑ دیں۔ قرآنِ مجید کے مطابق ایسے حالات میں ہجرت نہ کرنا اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو مذہبی جبر اور استبداد کا نشانہ بنے رہنے دینا جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْ فِیْمَ کُنْتُمْ، قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْآ اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَا جِرُوْا فِیْھَا فَاُولٰٓءِکَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا۔ (النساء ۴: ۹۷) ’’بے شک، جن لوگوں کو فرشتے اس حال میں موت دیں گے کہ وہ (ظلم و جبر کے باوجود یہیں بیٹھے) اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہوں گے، تو وہ ان سے پوچھیں گے: ’تم کہاں پڑے رہے؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم اپنی زمین میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تھے‘۔ فرشتے ان سے پوچھیں گے: ’کیا اللہ کی زمین اتنی وسیع نہ تھی کی تم اس میں (کہیں اور) ہجرت کر جاتے؟‘ چنانچہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔‘‘
ہجرت کی یہی صورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگیوں میں پیش آئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ ہجرت مصر سے صحراے سینا کی طرف تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت نے یثرب کو مدینۃ النبی بننے کا شرف بخشا۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس ہجرت سے پہلے نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثار ساتھیوں کو جبر وا ستبداد کے خلاف کسی جہاد کے لیے منظم کیا اور نہ حضرت موسیٰ ہی نے اس طرح کی کسی جہادی کارروائی کی روح اپنی قوم میں پھونکی۔ اللہ تعالیٰ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا اسوہ یہی ہے کہ ظلم و استبداد کی بدترین تاریکیوں میں بھی انھوں نے فدائین کے جتھے، گروہ اور ٹولے تشکیل دینے کے بجائے، صبر واستقامت سے دار الہجرت کے میسر آنے کا انتظار کیا اور اس وقت تک ظلم و جبر کے خاتمے کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی جب تک اللہ کی زمین پر انھیں ایک خود مختار ریاست کا اقتدار نہیں مل گیا۔
اس کے برعکس، اگر ایسے حالات میں دارالہجرت میسر نہ ہو یا کسی اور وجہ سے ہجرت کرنے کی راہیں مسدود ہوں، تو اس صورت میں بھی قرآنِ مجید میں دو امکانات بیان ہوئے ہیں: اولاًیہ کہ ان حالات میں ظلم و استبداد کا نشانہ بنے ہوئے یہ لوگ کسی منظم اسلامی ریاست کو اپنی مدد کے لیے پکاریں۔ ایسے حالات میں قرآنِ مجید نے اس اسلامی ریاست کو، جسے لوگ مدد کے لیے پکاریں، یہ حکم دیا ہے کہ اگر اس کے لیے اس جابرانہ اور استبدادی حکومت کے خلاف ان مسلمانوں کی مدد کرنی ممکن ہو تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ یہ مدد کرے، الا یہ کہ جس قوم کے خلاف اسے مدد کرنے کے لیے پکارا جا رہا ہے، اس کے اور مسلمانوں کی اس ریاست کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِہِمْ مِّنْ شَیْ ءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلاَّ عَلٰی قوَمٍْ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (الانفال ۸: ۷۲) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، مگر جنھوں نے ہجرت نہیں کی، تم پر ان کی اس وقت تک کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے جب تک وہ ہجرت کر کے تمھارے پاس نہ آ جائیں۔ البتہ، وہ اگر تمھیں دین کے نام پر مدد کے لیے پکاریں، تو تم پر ان کی مدد کرنے کی ذمہ داری ہے، الا یہ کہ جس قوم کے خلاف وہ تمھیں مدد کے لیے پکاریں، اس کے اور تمھارے درمیان کوئی معاہدہ موجود ہو۔ اور یاد رکھو، جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
پھر ایک اور مقام پر وقت کی اسلامی ریاست کو ان مجبور مسلمانوں کی مدد پر ابھارتے ہوئے فرمایا:
وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیّاً وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا۔ (النساء ۴: ۷۵) ’’اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار، ہمیں اس ظالم باشندوں کی بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہمدرد پیدا کر اور ہمارے لیے اپنے پاس سے مددگار کھڑے کر۔‘‘
ثانیاً یہ کہ ظلم و استبداد کے ان حالات میں ان کے لیے مسلمانوں کی کسی منظم ریاست سے مدد طلب کرنے یا کسی ریاست کے ان کی مدد کو آنے کا امکان موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ لوگ صبر و استقامت کے ساتھ ان حالات کو برداشت کریں، یہاں تک کہ آں سوے افلاک سے ان کی آزمایش کے خاتمے کا فیصلہ صادر ہو جائے۔ قرآنِ مجید میں حضرت شعیب علیہ الصلاۃ والسلام کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے ان کے حوالے سے فرمایا ہے:
وَاِنْ کَانَ طَآءِفَۃٌ مِّنْکُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَطَآءِفَۃٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَ ھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ۔ (الاعراف ۷: ۸۷) ’’اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس بات پر ایمان لے آئے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ اسے ماننے سے انکار کرے، تو (ایمان لانے والوں کو چاہیے کہ) وہ صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اور یقیناً اللہ بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔‘‘
مولانا حمید الدین فراہی اسی صورتِ حال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’... اپنے ملک کے اندر بغیر ہجرت کے جہاد جائز نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت اور ہجرت سے متعلق دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد اگر صاحبِ جمیعت اور صاحبِ اقتدار امیر کی طرف سے نہ ہو تو وہ محض شورش و بد امنی اور فتنہ و فساد ہے۔‘‘ (مجموعہء تفاسیرِ فراہی، ص۵۶)
قرآنِ مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاے کرام کے حوالے سے، ظلم و استبداد کی مذکورہ صورتیں اور ان صورتوں کا مقابلہ کرنے میں اللہ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا اسوہ بیان ہوا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا محترم پیغمبروں کے اس اسوہ سے جہاد و قتال کے احکام کا استنباط کرنے کے بجائے، مسلمان قوموں کی تحریک ہاے آزادی ہی سے جہاد کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام اخذ کرنے پر کیوں مصر ہیں۔ ہم البتہ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جب کبھی غیر مقتدر گروہوں کی طرف سے تلوار اٹھائی گئی ہے، تو اس اقدام نے آزادی کی تحریک کو کوئی فائدہ پہنچایا ہو یا نہ پہنچایا ہو، ظلم و جبر کی قوتوں کو بے گناہ شہریوں، عورتوں اور بچوں پر ظلم و جبر کے مزید پہاڑ گرانے کا جواز ضرور فراہم کیا ہے۔ لوگ خواہ اس قسم کی قتل و غارت کو جبر و استبداد کی بڑھتی ہوئی لہریں قرار دے کر اپنے دلوں کو کتنی ہی تسلی دیتے رہیں، ہمیں یہ بات بہرحال فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دین و شریعت سے اعراض کر کے، اپنی بے تدبیری اور بے حکمتی کے ساتھ امن و امان کی فضا خراب کر کے ظلم و جبر کو اخلاقی جواز فراہم کرنا، کسی حال میں بھی ظلم و جبر کا ساتھ دینے سے کم نہیں ہے۔
اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِگرامی نے کہا ہے:
’’فتووں کا بعض اوقات انتہائی غلط استعمال کیاجاتا ہے۔ اس لیے فتویٰ بازی کو اسلام کی روشنی میں ریاستی قوانین کے تابع بنانا چاہیے اور مولویوں اور فتووں کے خلاف بنگلہ دیش میں (عدالت کا) فیصلہ صدی کا بہترین فیصلہ ہے۔‘‘
مولانا محترم استاذِ گرامی کی اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جہاں تک اس شکایت کا تعلق ہے کہ ہمارے ہاں بعض فتووں کا انتہائی غلط استعمال ہوتا ہے ہمیں اس سے اتفاق ہے۔ ان فتووں کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، وہ بھی ہمارے سامنے ہیں اور ان خرابیوں کی اصلاح کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی قابلِ عمل فارمولا سامنے آتا ہے تو ہمیں اس سے بھی اختلاف نہیں ہو گا۔ مگر کسی چیز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سرے سے اس کے وجود کو ختم کر دینے کی تجویز ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ چونکہ ہماری عدالتوں میں رشوت اور سفارش اس قدر عام ہو گئی ہے کہ اکثر فیصلے غلط ہونے لگے ہیں اور عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اس لیے ان عدالتوں میں بیٹھنے والے ججوں سے فیصلے دینے کا اختیار ہی واپس لے لیا جائے۔ یہ بات نظری طور پر تو کسی بحث و مباحثے کا خوب صورت عنوان بن سکتی ہے، مگر عملی میدان میں اسے بروے کار لانا کس طرح ممکن ہے؟...
اور ”فتویٰ“ تو کہتے ہی کسی مسئلے پر غیر سرکاری ”رائے“ کو ہیں کیونکہ کسی مسئلہ پر حکومت کا کوئی انتظامی افسر جو فیصلہ دے گا، وہ ”حکم“ کہلائے گااور عدالت فیصلہ صادر کرے گی تو اسے ”قضا“ کہا جائے گا اور ان دونوں سے ہٹ کر اگر کوئی صاحبِ علم کسی مسئلے کے بارے میں شرعی طور پر حتمی رائے دے گاتو وہ ”فتویٰ“ کہلائے گا۔ امت کا تعامل شروع سے اسی پر چلا آ رہا ہے کہ حکام حکم دیتے ہیں، قاضی حضرات عدالتی فیصلے دیتے ہیں اور علماے کرام فتوی صادر کرتے ہیں۔‘‘
ہم مولانا محترم کو یقین دلاتے ہیں کہ استاذِگرامی کی مذکورہ رائے بھی اسی قسم کے فتووں سے متعلق ہے، جسے مولانا محترم نے بھی ’فتووں کا انتہائی غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا محترم کسی نامعلوم وجہ سے اس ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے بھی کسی ’غیر سرکاری‘ فارمولے ہی کے قائل ہیں. جبکہ ہمارے استاذ کے نزدیک فتووں کا یہ ’انتہائی غلط استعمال‘ بالعموم، جن مزید ’انتہائی غلط‘ نتائج و عواقب کا باعث بنتا اور بن سکتا ہے، اس کے پیشِ نظراس کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح پرسخت قانون سازی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
ہم یہاں یہ ضروری محسوس کرتے ہیں کہ قارئین پر صحیح اور غلط قسم کے فتووں کا فرق واضح کر دیں۔ اس کے بعد قارئین خود یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ موجودہ دور کے علما میں فتووں کا صحیح اور ’انتہائی غلط‘ استعمال کس تناسب سے ہوتا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ علماے کرام کی سب سے بڑی اور اہم ترین ذمہ داری، عوام و خواص کے سامنے دینِ متین کی شرح و وضاحت کرنا اور مختلف صورتوں اور احوال کے لیے دین و شریعت کا فیصلہ ان کے سامنے بیان کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ علما ہی کا کام ہے کہ وہ نکاح و طلاق کے بارے میں شریعت کے احکام کی وضاحت کریں، یہ انھی کا مقام ہے کہ وہ قتل و سرقہ، قذف و زنا اور ارتداد وغیرہ کے حوالے سے شریعت کے احکام بیان کریں۔ اس میں شبہ نہیں کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اس طرح کے تمام احکام کی شرح و وضاحت کا کام علما ہی کو زیب دیتا ہے اور وہی اس کے کرنے کے اہل ہیں۔ علما کے اس کام پر پابندی لگانا تو درکنار، اس کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنا بھی بالکل ممنوع قرار پانا چاہیے۔ تاہم، ریاستی سطح پر قانون سازی اور اس قانون سازی کے مطابق مقدمات کے فیصلے کرنے کا معاملہ محض مختلف علما کے رائے دے دینے ہی سے پورا نہیں ہو جاتا۔ اس کے آگے بھی کچھ اہم مراحل ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں، سب سے پہلے ملک کی پارلیمان کو مختلف علما کی رائے سامنے رکھتے اور ان کے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے، ملکی سطح پر قانون سازی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، ملکی سطح پر قانون سازی کرتے ہوئے تمام مکاتبِ فکر اور علما کی رائے کو سامنے تو رکھا جا سکتا ہے، مگر ان سب کی رائے کو مانا نہیں جاسکتا۔ رائے بہرحال وہی نافذالعمل ہوگی اور ملکی اور ریاستی قانون کا حصہ بنے گی، جو پارلیمان کے نمائندوں کے نزدیک زیادہ صائب اور قابلِ عمل سمجھی جائے گی۔ قانون سازی کے اس عمل کے بعد بھی علما کا یہ حق تو بے شک برقرار رہتا ہے کہ وہ قانون و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے، اپنی بات کو مزید واضح کرنے، اس کے حق میں مزید دلائل فراہم کرنے اور پارلیمان کے نمائندوں کو اس پر قائل کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں۔ لیکن ریاست کا نظم یہ تقاضا بہرحال کرتا ہے کہ اس میں جس رائے کے مطابق بھی قانون سازی کر دی گئی ہو، اس میں بسنے والے تمام لوگ عوام خواص اور علما اس قانون کا پوری طرح سے احترام کریں اور اس کے خلاف انارکی اور قانون شکنی کی فضا پیدا کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ پارلیمان کے اختیار کردہ قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش ہونے والے مقدمات کے فیصلے کرنے کا ہے۔ یہ مرحلہ، دراصل، قانون کے اطلاق کا مرحلہ ہے۔ اس میں عدالت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ فریقین کی رائے سن کر، ملکی پارلیمان کی قانون سازی کی روشنی میں حق و انصاف پر مبنی فیصلہ صادر کرے۔
جن فتووں کو ہم ’انتہائی غلط‘ سمجھتے اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو جن کے شر و فساد سے بچانے کے لیے قانون سازی کو نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں ضروری سمجھتے ہیں، ان کا تعلق دراصل قانون سازی اور اس کے بعد کے مراحل سے ہے۔
چنانچہ، مثال کے طور پر، یہ بے شک علماے دین کا کام ہے کہ وہ دین و شریعت کے اپنے اپنے فہم کے مطابق لوگوں کو یہ بتائیں کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے، اور اس میں غلطی کی صورت میں کون کون سے احکام مترتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی علما ہی کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ ان کے فہم کے مطابق کن کن صورتوں میں طلاق واقع ہو جاتی اور کن کن صورتوں میں اس کے وقوع کے خلاف فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ریاستی سطح پر طلاق کے بارے میں قانون سازی، ہما شما کی رائے پر نہیں بلکہ پارلیمان کے نمائندوں کی اکثریت کے کسی ایک رائے کے قائل ہو جانے پر منحصر ہو گی۔ پارلیمان میں طے پا جانے والی یہ رائے بعض علما کی رائے کے خلاف تو ہو سکتی ہے، مگر ریاست میں واجب الاطاعت قانون کی حیثیت سے اسی کو نافذ کیا جائے گا اور، علما سمیت، تمام لوگوں پر اس کی پابندی کرنی لازم ہو گی۔ مزید برآں، یہ فیصلہ کہ زید یا بکر کے کسی خاص اقدام سے اس کی طلاق واقع ہو گئی یا اس کا نکاح فسخ ہو گیا ہے، ایک عدالتی فیصلہ ہے، جس کا دین کی شرح و وضاحت اور علماے کرام کے دائرہء کار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر یہ فیصلے بھی علماے کرام ہی کو کرنے ہیں، تو پھر مولانا محترم ہی ہمیں سمجھا دیں کہ عدالتوں کے قیام اور ان میں مقدمات کو لانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔
اسی طرح، یہ علماے دین ہی کا کام ہے کہ وہ اپنے نقطہء نظر کے مطابق ارتداد کی صورتوں اور ان کی مجوزہ سزاؤں کو پارلیمان سے منوانے کی کوشش کریں۔ تاہم یہ ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کے خلاف، پارلیمان کے نمائندوں کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیں۔ مزید برآں، کسی خاص شخص کو مرتد قرار دینا بھی، چونکہ قانون کے اطلاق ہی کا مسئلہ ہے، اس لیے یہ بھی علما کے نہیں بلکہ عدالت کے دائرے کی بات ہے، جو اسے مقدمے کے گواہوں کے بیانات، ان پر جرح اور ملزم کو صفائی کا پورا پورا موقع دے دینے کے بعد انصاف کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی کرنا چاہیے۔ یہی معاملہ کسی فرد یا گروہ کو کافر یا واجب القتل قرار دینے اور اس سے ملتے جلتے معاملات کا ہے۔ چنانچہ، فتووں کے ’انتہائی غلط استعمال‘ ہی کی ایک مثال بنگلہ دیشی عدالت کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد اگلے ہی روز سامنے آئی، جب بنگلہ دیشی علما کے ایک گروہ نے فیصلہ کرنے والے جج کو ’مرتد‘ اور، ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں، واجب القتل قرار دے دیا۔ مولانا محترم ہی ہمیں یہ بتائیں کہ اگر اس قسم کے فتوے کو سن کر کوئی مذہبی انتہا پسند فیصلہ کرنے والے جج کو، صفائی کا موقع دیے یا اس کی بات کو سمجھے بغیراپنے طور پر خدا نخواستہ، قتل کر دے تو کیا ریاست کو ایسے انتہا پسندوں کے ساتھ ساتھ فتووں کا یہ ’انتہائی غلط استعمال‘ کرنے والے علما کو کوئی سزا نہیں دینی چاہیے؟ مولانا محترم کا جواب یقیناًنفی ہی میں ہو گا، کیونکہ اس معاملے میں ان کا ’فتویٰ‘ تو یہی ہے کہ فتووں کے اس ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے بھی اگر کوئی اقدام ہونا چاہیے، تو وہ ’غیر سرکاری سطح‘ ہی پر ہونا چاہیے۔
مولانا کی مذکورہ رائے کے برعکس، ہمارے نزدیک، فتووں کے اس طرح کے ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے ’سرکاری سطح پر‘ مناسب قانون سازی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
اس ضمن میں علما صحابہ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ انھیں تقسیمِ میراث کے معاملے میں عول و رد کے قانون سے اتفاق نہیں تھا۔ تاہم ان کا یہ اختلاف ہمیشہ جائز حدود کے اندر ہی رہا۔ وہ اپنے اس اختلاف کا ذکر اپنے شاگردوں میں تو کرتے تھے اور بے شک یہ ان کا فطری حق بھی تھا، مگر انھوں نے نہ اپنے اس اختلاف کی وجہ سے قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی، نہ اس کی بنیاد پر حکومت کے خلاف پراپگینڈہ کیا اور نہ ریاست میں تقسیمِ وراثت کے معاملے میں اپنے فتوے جاری کیے۔
علماے کرام کے فتوے بھی جب تک ان اخلاقی اور قانونی حدود کے اندر رہیں، اس وقت تک وہ یقیناًخیر و برکت ہی کا باعث بنیں گے۔ مگر ان حدود سے باہرپارلیمان اور عدالتوں کے کام میں مداخلت کرنے والے فتووں پر پابندی نہ صرف مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت کے لیے ضروری ہے، بلکہ منظم اجتماعی زندگی کی تشکیل کے لیے ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو دنیا اور آخرت میں محفوظ و مامون رکھے۔
غالباً عید الفطر کے ایام کی بات ہے کہ محترم جاوید احمد غامدی نے پشاور پریس کلب میں جہاد، فتویٰ، زکوٰۃ، ٹیکس اور علماء کے سیاسی کردار کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جو ملک کے جمہور علماء کے موقف اور طرز عمل سے مختلف تھے۔ اس لیے میں نے روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں مسلسل شائع ہونے والے اپنے کالم ’’نوائے قلم‘‘ میں ان کا ناقدانہ جائزہ لیا۔ اس پر غامدی صاحب محترم کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم نے روزنامہ جنگ میں غامدی صاحب کے موقف کی مزید وضاحت کی جن پر میں نے ان کی چند باتوں پر روزنامہ اوصاف میں دوبارہ تبصرہ کر دیا۔
اس کے بعد غامدی صاحب کے ایک اور شاگرد معز امجد نے روزنامہ پاکستان میں انہی امور پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا اور اسے جاوید احمد غامدی کی زیرادارت شائع ہونے والے ماہنامہ اشراق لاہور میں بھی میرے مذکورہ بالا مضمون کے ساتھ شائع کر دیا گیا۔ زیر نظر مضمون میں معز امجد کے اس مضمون کی بعض باتوں پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں لیکن چونکہ سابقہ مضامین مختلف اخبارات میں شائع ہونے کی وجہ سے بیشتر قارئین کے سامنے پوری بحث نہیں ہوگی اس لیے اس کا مختصر خلاصہ ساتھ پیش کر رہا ہوں تاکہ بحث کا کوئی پہلو قارئین کے سامنے تشنہ نہ رہے۔
غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ علماء کو سیاست میں فریق بننے کی بجائے اپنا کردار علمی و فکری راہنمائی تک محدود رکھنا چاہیے اور بہتر ہے کہ مولوی کو سیاستدان بنانے کی بجائے سیاستدان کو مولوی بنانے کی کوشش کی جائے۔ راقم الحروف نے اس پر عرض کیا کہ یہ موقع محل کی مناسبت کی بات ہے کہ علماء کرام علمی و فکری راہنمائی اور قیادت کریں یا ضرورت ہو تو حالات کی اصلاح کے لیے خود سیاست میں فریق بننے کا راستہ اختیار کریں۔ دونوں طرف امت کے اہل علم کا اسوہ موجود ہے اور ضرورت کے مطابق کوئی سا راستہ اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ خورشید احمد ندیم نے جواب میں اس سے اتفاق کیا کہ یہ حلال و حرام کا مسئلہ نہیں بلکہ حکمت و تدبیر کی بات ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ پاکستان میں علماء کرام کے قومی سیاست میں خود فریق بننے سے دین اور علماء کو فائدہ کی بجائے نقصان ہوا ہے۔ راقم الحروف نے ان کی اس بات سے اختلاف کیا اور عرض کیا کہ ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد کی منظوری صرف اس لیے ہو سکی کہ اسمبلی میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ بطور رکن موجود تھے۔ اور ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے، قران و سنت کے مطابق قانون سازی کی دستوری ضمانت اور دیگر اسلامی دفعات کی شمولیت کی واحد وجہ یہ تھی کہ دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، اور مولانا عبد المصطفیٰ ازہریؒ جیسے سرکردہ علماء نے اس کے لیے مشترکہ طور پر جنگ لڑی۔ اس لیے اگر آج کے شدید بین الاقوامی دباؤ اور عالمی سطح کی مسلسل مخالفت کے باوجود پاکستان دستوری طور پر ایک اسلامی ریاست کے طور پر قائم ہے اور کفر و استعمار کی آنکھوں میں مسلسل کھٹک رہا ہے تو یہ قومی سیاست میں علماء کرام کے فریق بننے کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اس ایک بنیادی اور اصولی فائدہ کے لیے ان نقصانات کو برداشت کیا جا سکتا ہے جو اس سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں۔ اور ہمارے خیال میں یہ فائدہ نقصانات پر بھاری ہے۔
غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ جہاد کا حق صرف اسلامی حکومت کو ہے، اس کی طرف سے اعلان کے بغیر کوئی جنگ جہاد نہیں کہلا سکتی، اس لیے مختلف جہادی گروپوں کی طرف سے کی جانے والی جنگ شرعاً جہاد نہیں ہے۔ راقم الحروف نے اس پر عرض کیا کہ بلاشبہ کسی ملک یا قوم کے خلاف اعلان جنگ مسلمان حکومت ہی کا حق ہے لیکن جب کسی مسلمان آبادی پر کافروں کا جابرانہ تسلط قائم ہو جائے اور مسلمانوں کی حکومت اس تسلط کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار نہ ہو یا اس میں مزاحمت کی سکت نہ رہے تو پھر آزادی کے حصول کے لیے جہاد کا آغاز کسی حکومت کے اعلان یا اجازت پر موقوف نہیں رہے گا۔ اور ایسے موقع پر اگر علماء مسلمان معاشرہ کی قیادت کرتے ہوئے کافر قوت کے تسلط کے خلاف مزاحمت کا اعلان کریں گے تو وہ شرعاً جہاد کہلائے گا۔ اس سلسلہ میں راقم الحروف نے برصغیر پاک و ہند کے جہاد آزادی، الجزائر کے جہاد آزادی، اور افغانستان کے جہاد کے ساتھ ساتھ تاتاریوں کی یورش کے خلاف شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے اعلان جہاد کا بھی حوالہ دیا کہ ماضی میں علماء کرام نے ایسے مراحل میں جہاد کا اعلان کیا ہے اور ان کی جدوجہد کو شرعی جہاد ہی کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
اس کے جواب میں معز امجد نے طویل بحث کی ہے اور میں اس کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے اصولی طور پر میرے طرز استدلال سے اختلاف کیا ہے کہ میں نے امت کے اہل علم کے تعامل سے استدلال کر کے غلطی کی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ
’’عام انسانوں کی بات بے شک مختلف ہوگی مگر مولانا محترم جیسے اہل علم سے ہماری توقع یہی ہے کہ وہ اہل علم کے عمل سے شریعت اخذ کرنے کی بجائے شریعت کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیں۔ اگر شریعت اسلامی کے بنیادی ماخذوں یعنی قرآن و سنت میں اس عمل کی بنیاد موجود ہے تو اسے شریعت کے مطابق اور اگر ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو بغیر کسی تردد کے اسے شریعت سے ہٹا ہوا قرار دیں۔‘‘
میرے نزدیک ہمارے درمیان نقطۂ نظر کے اختلاف کا بنیادی نکتہ اور اصل موڑ یہی ہے۔ اگر یہ واضح ہو جائے تو باقی معاملات کا سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہے گا۔ اس لیے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ شریعت کے اصول دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو قرآن کریم اور سنت نبویؐ سے دلالت صریحہ اور قطعی ثبوت کے ساتھ ہمارے پاس موجود ہیں۔ یعنی ان کے مفہوم کے تعین کے لیے کسی استدلال اور استنباط کی ضرورت نہیں اور ثبوت میں بھی کوئی ابہام نہیں ہے۔ اور جو فقہاء کی اصطلاح میں صریح الدلالہ اور قطعی الثبوت کہلاتے ہیں ان کے بارے میں تو کسی درجہ میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ انہیں ہر بات پر فوقیت حاصل ہے اور کسی بھی شخصیت کے موقف یا طرز عمل کو اس پر ترجیح حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ قرآن کریم کی سورۃ التحریم کے مطابق خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حلال و حرام کی واضح اشیاء میں اپنی رائے اور مرضی اختیار کرنے کا حق حاصل نہیں دیا گیا۔ لیکن شریعت کے جن اصول و احکام کے ثبوت اور استدلال و استنباط کا مدار شخصیات پر ہے اور وہ شخصیات کے استدلال و استنباط ہی کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں ان کے بارے میں بنیادی حیثیت اور ترجیح شخصیات کو حاصل ہے۔ اور شخصیات کے علم و فضل اور درجات میں تفاوت کا اثر ان کے استنباط کردہ اصول و احکام پر لازماً پڑے گا۔ یہ ایک بدیہی بات ہے جس سے محترم غامدی اور ان کے لائق احترام شاگردان گرامی کو بھی شاید اختلاف نہیں ہوگا۔
سادہ سی بات ہے کہ اگر اصول نے شخصیات کو جنم دیا ہے تو اصول کو ان پر بالادستی ہوگی، اور اگر شخصیات نے اصول قائم کیے ہیں اور اصول کا اپنا وجود ان شخصیات کے استدلال و استنباط کا رہین منت ہے تو ان اصول کو شخصیات پر بالاتر قرار دینے اور ان کے مقابلہ میں شخصیات کی قطعی طور پر نفی کردینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بلکہ خود قرآن کریم کی منشا کو سامنے رکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اتباع کے بارے میں شخصیات کی پیروی کی ترغیب دی ہے۔ سورۃ الفاتحہ قرآن کریم کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ تلاوت کی جانے والی سورت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی توفیق مانگنے کا سلیقہ سکھایا ہے اور ’’صراط مستقیم‘‘ کی وضاحت میں صراط الذین انعمت علیہم فرما کر شخصیات ہی کو آئیڈیل بنانے کا راستہ دکھایا ہے۔ اسی طرح سورۃ البقرہ کی ایک آیت میں صحابہ کرامؓ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ اگر باقی لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسا ایمان تم لائے ہو تو وہ ہدایت پائیں گے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ایمان کے معاملہ میں صحابہ کرامؓ کی شخصیات کو معیار اور آئیڈیل قرار دیا گیاہے۔ اس لیے اہل علم اور شخصیات سے شریعت اخذ کرنے کی بات نہ تو قرآن کریم کی منشا کے خلاف ہے اور نہ ہی عقل و منطق اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اس سلسلہ میں دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ شریعت کے جو احکام و اصول اہل علم اور شخصیات کے استدلال و استنباط کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں، ان احکام و اصول کی ترجیحات بھی اہل علم اور شخصیات کے درمیان موجود ترجیحات کے ساتھ ساتھ اپنی ترتیب قائم کریں گی۔ اور اسی ترتیب و ترجیح کے فہم و ادراک اور تشکیل و اطلاق کا نام فقہی تدبر ہے جس نے فقہائے امت کو اہل علم کے دیگر تمام طبقات پر فوقیت اور امتیاز عطا کیا ہے۔ شریعت کے ہر حکم کو اس کی صحیح جگہ پر رکھنے اور اس سے صحیح طور پر استفادہ کے لیے ان ترجیحات کا لحاظ ناگزیر ہے ورنہ شریعت پر عمل کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
اسی ضمن میں یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ ہر دور میں اس دور کی ضروریات کے مطابق اصول وضع کیے گئے ہیں اور انہی ضروریات کے تحت ان کا اطلاق بھی ہوا ہے۔ اس لیے قطعی اور صریح اصولوں کو بالاتر رکھتے ہوئے ظنی اور استدلالی اصولوں کو ان کی ضروریات کے دائرہ تک محدود رکھنا اور انہیں وضع کرنے والے اہل علم اور شخصیات کی ترجیحات کے معیار پر ان کی ترتیب قائم کرنا بھی شریعت کا تقاضا ہے۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں بعض اصولی حضرات ٹھوکر کھاتے ہیں کیونکہ جب وہ خود اپنے وضع کردہ اصولوں کا اطلاق پوری امت پر کرنے لگتے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ امت کا بیشتر حصہ انہیں اپنے اصولوں پر عمل کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ اور ان کی اصول پرستی انہیں اس بات پر ابھارنے لگتی ہے کہ وہ اپنے قائم کردہ اصولوں کی لاٹھی اٹھا کر اس کے ساتھ پوری امت کے اہل علم کو ہانکنے لگ جائیں۔
اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ایک عملی مثال دینا چاہوں گا۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دوست میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ نے حضرت امام بخاریؒ کی طرح احادیث نبویؐ کے جمع کرنے اور ان کی صحت کے اصول قائم کرنے پر کوئی کام کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں اور انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ میرا یہ جواب ان کے لیے حیرت کا باعث بنا اور انہوں نے قدرے غصے سے فرمایا کہ کیا امام ابوحنیفہؒ کو احادیث کی ضرورت نہیں تھی؟ میں نے جواب دیا کہ احادیث کی ضرورت تھی لیکن ان پر امام بخاریؒ کی طرز کے کام کی انہیں کوئی ضرورت نہیں تھی۔ پھر میں نے اس کی وضاحت کی کہ امام ابوحنیفہؒ ۸۰ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ یہ صحابہ کرامؓ کا آخری دور تھا اور کوفہ صحابہ کرامؓ کا مرکز تھا۔ اس لیے امام صاحبؒ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے صغار صحابہؓ اور کبار تابعینؒ کو دیکھا اور ان سے استفادہ کیا ہے۔ ان کی وفات ۱۵۶ھ میں ہوئی اور ان کے دور میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث و سنن کی روایت میں اتنے واسطے نہیں ہوتے تھے کہ ان کی چھان بین کی زیادہ ضرورت پڑتی۔ اس لیے انہوں نے ایک دو قابل اعتماد واسطوں سے جو روایات ملیں انہی کی بنیاد پر اپنی فقہ کی عمارت کھڑی کر دی۔ جبکہ امام بخاریؒ کی ولادت ۱۹۴ھ اور وفات ۲۵۶ھ میں ہوئی۔ اس وقت احادیث کی روایت میں چار پانچ واسطے آچکے تھے اور ان کی صحت و ضعف کے لیے سخت اصول قائم کرنے کی ضرورت پیش آگئی تھی۔ اس لیے امام بخاریؒ نے اس ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اصول قائم کیے اور ان کی بنیاد پر صحیح احادیث کا ایک منتخب ذخیرہ امت کے سامنے پیش کر دیا۔ اس لیے امام بخاریؒ کے وضع کردہ اصول کی اہمیت اپنی جگہ پوری طرح مسلم ہے لیکن ان اصولوں کا پون صدی پہلے پر موثربہ ماضی اطلاق کر کے امام ابوحنیفہؒ کو ان کا پابند بنانا نہ شریعت کا تقاضا ہے اور نہ عقل و دانش اس کی متحمل ہے۔
اس پس منظر میں محترم جاوید غامدی صاحب اور ان کے رفقاء سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ حضرت مولانا حمید الدین فراہیؒ کے استدلال و استنباط اور ان کے قائم کردہ اصولوں کی اہمیت سے انکار نہیں اور اہل علم کے درمیان مسلمہ حدود کے دائرہ میں ان سے استفادہ کی ضرورت سے بھی ہم صرف نظر نہیں کر رہے۔ مگر ان اصولوں کا اطلاق ماضی کے ہر دور کے اہل علم پر کر کے پوری امت کے اہل علم کے تعامل اور مسلسل طرز عمل کی نفی کر دینا بھی دانش مندی کا تقاضا نہیں۔
اس سلسلہ میں تیسری گزارش ہے کہ جس کی طرف ہم اپنے سابقہ مضامین میں اصولی فقہاء اور عملی فقہاء کی اصطلاح کے ساتھ اشارہ کر چکے ہیں کہ اصول وضع کرنا ایک مختلف عمل ہے اور سوسائٹی کے عملی مسائل پر ان کا اطلاق کر کے قواعد و احکام مستنبط کرنا اس سے مختلف عمل کا نام ہے۔ آج کی اصطلاح میں اسے دستور سازی اور قانون سازی کے اصولی کام اور سوسائٹی میں عملی طور پر اس کے نفاذ کے عدالتی عمل کے درمیان فرق سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے سے بسا اوقات مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور عملی مشکلات کا لحاظ نہ کر کے صرف اصول کی بنیاد پر فیصلے کرتے چلے جانے سے ایسی الجھنیں جنم لیتی ہیں جن کا حل بظاہر مشکل نظر آنے لگتا ہے۔ اس اصولیت محضہ کا اظہار سب سے پہلے خوارج نے کیا تھا جنہوں نے اپنے ذوق کے مطابق کچھ اصول وضع کیے اور ان اصولوں پر اس قدر سختی دکھائی کہ بعض حضرات نے صحابہ کرامؓ تک کی تکفیر کر ڈالی۔ مثلاً انہوں نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان بپا ہونے والی صفین کی جنگ مین حضرت علیؓ کی طرف سے تحکیم پر راضی ہونے سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے لشکر سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کی بغاوت اور علیحدگی کے بعد حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ان کے پاس حضرت علیؓ کے نمائندہ کے طور پر گفتگو کے لیے گئے تو امام نسائی کی ’’سنن کبریٰ‘‘ کی روایت کے مطابق ان خوارج نے حضرت علیؓ پر جو اعتراضات کیے ان میں ایک یہ تھا کہ اگر حضرت معاویہؓ اور ان کے رفقاء مسلمان ہیں تو ان کے خلاف جنگ لڑنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر وہ مسلمان نہیں ہیں تو جنگ میں ان کے قیدیوں کو غلام کیوں نہیں بنایا گیا؟ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ جنگ تو ام المومنین حضرت عائشہؓ کے ساتھ بھی ہوئی تھی، کیا تم (نعوذ باللہ) انہیں لونڈی بنانا پسند کرو گے؟ اس کا جواب خوارج کے پاس کوئی نہیں تھا چنانچہ چھ ہزار خوارج میں سے دو ہزار افراد اس بات پر ان کا ساتھ چھوڑ کر حضرت علیؓ کے کیمپ میں واپس آگئے تھے۔
اس لیے اصول، اہل علم اور شخصیات میں توازن کے حوالہ سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ
اس اصولی بحث کے بعد میں جہاد کے مسئلہ کی طرف آتا ہوں جس میں ہمارے درمیان اختلاف کا نکتہ یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ملک یا آبادی پر کفار کا تسلط قائم ہو جائے تو کیا مسلمان آبادی یا ان کے علماء کسی باضابطہ حکومت کے قیام کے بغیر اس تسلط کے خلاف جہاد کر سکتے ہیں؟ میں نے عرض کیا تھا کہ ایسی صورت میں علماء کرام کو جہاد کے اعلان کا حق حاصل ہے اور ان کے اعلان کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگ شرعاً جہاد کہلائے گی۔ جیسے جنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف، الجزائر میں فرانسیسی استعمار کے تسلط کے خلاف، اور افغانستان میں روسی استعمار کے تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ علماء کے فتویٰ پر جہاد کے عنوان سے لڑی گئی ہے۔ مگر معز امجد ان میں سے کسی جنگ کو جہاد قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور انہوں نے جواب میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم نے ان کے بقول مسلمانوں کی آبادی پر کافروں کے تسلط کی صورت میں دو ہی راستے بتائے ہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ اگر ہجرت کا راستہ اور مقام موجود ہو تو وہ وہاں سے ہجرت کر جائیں۔ اور دوسرا یہ کہ اگر ہجرت قابل عمل نہ ہو تو صبر و شکر کر کے بیٹھے رہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات کی تبدیلی کا انتظار کریں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں سورۃ النساء، سورۃ الانفال اور سورۃ الاعراف کی بعض آیات کریمہ کا حوالہ بھی دیا ہے۔
مگر افسوس ہے کہ وہ مسئلہ کی نوعیت ہی کو سرے سے نہیں سمجھ سکے۔ کیونکہ ان آیات کریمہ میں ان مسلمانوں کے لیے احکام بیان کیے گئے ہیں جو کافروں کی سوسائٹی میں مسلمان ہوگئے ہیں اور ان کے زیر اثر رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ وہاں سے ہجرت کر سکتے ہیں تو نکل جائیں ورنہ صبر و حوصلہ کے کے ساتھ حالات کی تبدیلی کا انتظار کریں۔ جبکہ ہم جس صورت پر بحث کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی پر باہر سے آکر کافروں نے تسلط جما لیا ہے اور مسلمان اکثریت پر کافر اقلیت کا جبر و اقتدار قائم ہوگیا ہے اس صورت میں محترم غامدی اور ان کے تلامذہ ہی مسلم اکثریت کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ اپنا علاقہ کافر غالبین کے حوالہ کر کے وہاں سے چلے جائیں یا ان کے جبر و ظلم کو خاموشی کے ساتھ برداشت کرتے جائیں۔ ورنہ ہمیں تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس سے برعکس رہنمائی ملتی ہے۔
یمن کا علاقہ جناب نبی اکرمؐ کے دور میں مسلم مملکت میں شامل ہوگیا تھا اور شہر بن باذانؓ کو رسول اللہؐ نے اپنی طرف سے وہاں کا گورنر مقرر کر دیا تھا۔ ان کے علاوہ یمن کے مختلف علاقوں میں حضرت علیؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، اور دوسرے عمال کا تقرر کیا تھا۔ مگر اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کر کے صنعا پر چڑھائی کی اور شہر بن باذانؓ کو قتل کر کے یمن کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔ مقتول گورنر کی بیوی کو زبردست اپنے حرم میں داخل کیا، یمن کے مختلف علاقوں سے جناب نبی اکرمؐ کے مقرر کردہ عاملوں کو نکال دیا، اور اس طرح یمن کا صوبہ اسلامی حکومت سے نکل کر کافروں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس پر تین حضرات حضرت فیروز ویلمیؓ، حضرت قیس بن مکشوحؓ، اور حضرت دادویہؓ نے باہمی مشورہ کر کے گوریلا طرز جنگ پر شبخون مارنے کا پروگرام بنایا۔ مقتول مسلمان گورنر شہر بن باذانؓ کی بیوی سے جو اسود عنسی نے زبردستی اپنے حرم میں داخل کر رکھی تھی، ان تینوں حضرات نے رابطہ کر کے ساز باز کی جس کے تحت اس نے رات کو اسود عنسی کو بہت زیادہ شراب پلا دی، ان حضرات نے محل کی دیوار میں نقب لگا کر اندر داخل ہونے کا راستہ نکالا اور رات کی تاریکی میں اسود عنسی اور اس کے پہرہ داروں کو قتل کر کے اس کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ یہ گوریلا کاروائی تھی اور مسلح کاروائی تھی۔ اس میں معز امجد صاحب کو یقیناًکچھ اخلاقی خرابیاں نظر آرہی ہوں گی اور بلا ضرورت قتل و غارت بھی دکھائی دیتی ہوگی۔ لیکن عملاً یہ سب کچھ ہوا جس کے نتیجہ میں یمن پر مسلمانوں کا اقتدار دوبارہ بحال ہوا ۔ اور جناب نبی اکرمؐ کو جب ان کے وصال سے صرف دو روز قبل وحی کے ذریعہ اس کارروائی کی خبر ملی تو آپؐ نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو یہ خوشخبری سنائی فاز فیروز کہ فیروز اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس کے بعد حضرت فیروز ویلمیؓ جب اس کامیابی کی خبر لے کر یمن سے مدینہ منورہ پہنچے تو جناب نبی اکرمؐ کا انتقال ہو چکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رپورٹ خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبرؓ کو پیش کی اور انہوں نے اس پر اطمینان اور مسرت کا اظہار فرمایا۔
اس لیے محترم معز امجد صاحب سے عرض ہے کہ جن آیات کریمہ سے انہوں نے استدلال کیا ہے ان کا مصداق یہ نہیں ہے بلکہ اس کی عملی شکل وہی یمن والی ہے کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافروں کا تسلط قائم ہو تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو صورت بھی اس وقت کے حالات کی روشنی میں اختیار کر سکیں اس سے گریز نہ کریں۔ اور وہ کافر و ظالم قوت کے جابرانہ تسلط کے خلاف مزاحمت کی جو صورت بھی اختیار کریں گے وہ حضرت فیروز ویلمیؓ کی اس گوریلا کاروائی اور شبخون کی طرح جہاد ہی کہلائے گی۔
زکوٰۃ کے بارے میں جناب جاوید غامدی نے فرمایا تھا کہ اسلامی مملکت میں اجتماعی معیشت کے نظام کو چلانے کے لیے زکوٰۃ ہی کا نظام کافی ہے اس کے علاوہ اسلام نے حکومت کو اور کوئی ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر میں نے عرض کیا تھا کہ یہ درست ہے کہ اگر زکوٰۃ اور دیگر شرعی واجبات کا نظام صحیح طور پر قائم ہو جائے تو معاشرہ کی اجتماعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اور کوئی ٹیکس لگانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ٹیکسوں کا مروجہ نظام سراسر ظالمانہ ہے جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی وقت قومی ضروریات زکوٰۃ اور بیت المال کی دیگر شرعی مدات سے پوری نہ ہوں تو کیا حکومت وقتی ضرورت کے لیے کوئی اور ٹیکس جائز حد تک لگانے کی مجاز ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں ممانعت کی کوئی دلیل ہمارے سامنے نہیں ہے۔ اگر کوئی دلیل غامدی صاحب کے پاس موجود ہو تو وہ رہنمائی فرمائیں۔
اس کے جواب میں معز امجد صاحب نے قرآن کریم کی بعض آیات اور جناب نبی اکرمؐ کے بعض ارشادات سے استدلال کیا ہے مگر یہ استدلال ان کے موقف کی تائید نہیں کرتا۔ مثلاً انہوں نے سورۃ التوبہ کی آیت ۵ کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں، نماز کا اہتمام کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں تو فخلوا سبیلہم ان کی راہ چھوڑ دو۔ یہاں ان کی راہ چھوڑ دو سے انہوں نے استدلال کیا ہے کہ ان سے اور کوئی مالی تقاضہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ مگر اس کی وضاحت میں مسلم شریف کی جو روایت انہوں نے پیش کی ہے اس میں جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور میری رسالت کی شہادت دے دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ اور جب وہ ایسا کریں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے۔ یہاں اموال کے محفوظ ہوجانے کا مفہوم معز امجد صاحب نے یہ بیان کیا ہے کہ ان سے مزید کوئی مالی تقاضہ نہیں ہو سکے گا۔ اگر ان کے بیان کردہ مفہوم کو صحیح سمجھ لیا جائے تو بھی اس روایت میں الا بحقھا کی استثناء موجود ہے جو خود انہوں نے بھی نقل کی ہے۔ جس سے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ اسلام کے حقوق کے حوالہ سے زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال کا تقاضہ مسلمانوں سے کیا جا سکتا ہے۔ پھر انہوں نے ابن ماجہ کی یہ روایت پیش کی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی ترمذی کے حوالہ سے جناب نبی اکرمؐ کا یہ ارشاد بھی نقل کر دیا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق موجود ہے۔
اس لیے میرے خیال میں یہ آیات اور روایات غامدی صاحب کے موقف کی بجائے ہمارے موقف کی تائید کرتی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر زکوٰۃ کے علاوہ مزید ٹیکس بھی اسلامی حکومت کی طرف سے عائد کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی ’’اسلامی معاشیات‘‘ اور مولانا حفظ الرحمان کی ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ کا حوالہ دوں گا جس میں انہوں نے ’’ضرائب‘‘ اور ’’نوائب‘‘ کے عنوان سے اس مسئلہ پر بحث کی ہے اور حضرت علیؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، ۔۔۔۔۔۔ امام ابن حزم اندلسیؒ اور فقہائے احناف میں سے صاحب ہدایہؒ اور علامہ ابن حاثمؒ صاحب فتح القدیر کے ارشادات و تصریحات کے ساتھ یہ بات واضح کی ہے کہ اجتماعی ضروریات مثلاً نہر کھودنے، دفاعی تیاریوں، فوج کی تنخواہ، اور قیدیوں کی رہائی وغیرہ کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ مزید ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں۔ البتہ ہنر مندوں اور کاروباری لوگوں پر ان کے ہنر یا کاروبار کے حوالہ سے جو ٹیکس لگائے جاتے ہیں وہ ظالمانہ ہیں اور شریعت میں ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی علامہ ابن ہمام حنفیؒ لکھتے ہیں کہ
’’ہمارے زمانے میں یہ عموماً جو محصول وصول کیے جاتے ہیں چونکہ یہ ظلماً وصول کیے جاتے ہیں اس لیے ظلم کے ازالہ کا جتنا کسی کو موقع مل سکے اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘
چنانچہ ٹیکسوں کے باب میں یہ بحث تو موجود ہے کہ کون سا ٹیکس جائز ہے اور کونسا ناجائز۔ اور یہ مسئلہ بھی بحث طلب ہے کہ وصولی کا کون سا طریقہ صحیح ہے اور کون سا غلط ہے۔ لیکن اصولی طور پر قومی ضروریات کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ اسلامی حکومت جائز حد تک دیگر ٹیکس بھی لگا سکتی ہے اور اس کی کوئی واضح شرعی ممانعت موجود نہیں ہے۔
فتویٰ کے بارے میں غامدی صاحب نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ علماء کرام کے آزادانہ فتوے خرابیاں پیدا کر رہے ہیں اس لیے فتویٰ دینے کے حق کو ریاستی قوانین کے تابع ہونا چاہیے۔ اسی پس منظر میں انہوں نے بنگلہ دیش ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کو صدی کا بہترین فیصلہ قرار دیا ہے جس میں علماء کرام کے آزادانہ طور پر فتویٰ دینے کے حق کو سلب کر لینے کی بات کی گئی ہے۔ اس پر میں نے عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب کا یہ ارشاد فتویٰ کے مفہوم اور اس حوالہ سے امت کے اجتماعی تعامل کے منافی ہے جس پر ہر دور میں جمہور علماء کا عمل رہا ہے۔ میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ بعض غیر ذمہ دار حضرات کے فتوے خرابیوں کا باعث ضرور بن رہے ہین جس طرح عدالتوں میں ہر سطح پر رشوت اور بدعنوانی عام ہو جانے پر سب ججوں سے فیصلہ کرنے کا حق واپس لینے کی بات قرین انصاف نہیں ہے اسی طرح فتوؤں میں غیر ذمہ دارانہ رجحان بڑھنے پر تمام علماء کرام سے فتویٰ کا حق سلب کر لینا بھی قرین قیاس نہیں ہے۔
اس کے جواب میں معز امجد صاحب نے طویل بحث کی ہے جس کا خلاصہ ہمارے خیال میں یہ ہے کہ علماء کرام کے جو فتاویٰ پارلیمان اور عدالت کے معاملات میں رخنہ ڈالتے ہیں وہ اجتماعی نظم میں خرابی پیدا کرتے ہیں ان پر ضرور پابندی عائد ہونی چاہیے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات فتویٰ کے مفہوم اور اس کے دائرہ کار دونوں کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ فتویٰ کہتے ہی کسی مسئلہ پر آزادانہ شرعی رائے کو ہیں۔ اگر کسی مسئلہ پر کوئی حاکم انتظامی فیصلہ دے گا تو وہ شرعی اصطلاح میں ’’امر‘‘ کہلائے گا۔ اور کوئی عدالت فیصلہ صادر کرے گی تو اسے ’’قضا‘‘ کہا جائے گا۔ جبکہ اگر کسی سوال پر کوئی عالم دین اپنے علم و تجربہ کی روشنی میں شرعی رائے دے گا تو وہ ’’فتویٰ‘‘ قرار پائے گا، اس میں سے اگر آزادانہ رائے کا عنصر نکال دیا جائے تو وہ سرے سے فتویٰ ہی نہیں رہتا۔ وہ یا تو حکم بن جائے گا یا قضا کے زمرہ میں شامل ہو جائے گا۔ اس لیے فتویٰ کے طور پر باقی رکھنے کا ناگزیر تقاضہ ہے کہ اس کی آزادی بھی قائم رہے۔
اسی طرح فتویٰ کا دائرہ کار صرف شرعی رائے کا اظہار ہے، کسی انتظامی حکم کو منسوخ کرنے یا کسی عدالت کے فیصلے کو نامعلوم قرار دینے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے وہ کسی صورت میں بھی انتظامیہ اور عدلیہ کے لیے چیلنج نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس سے اجتماعی نظام میں کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اجتماعی نظم میں خرابی وہاں پیدا ہوگی جہاں انتظامیہ اور عدلیہ لوگوں کی شرعی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہیں گی اور لوگ ان سے مایوس ہو کر علماء کرام کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے جیسا کہ آج کل اکثر مسلم ممالک میں ہو رہا ہے۔ مگر اس کی ذمہ داری فتویٰ کے نظام پر نہیں بلکہ عدالتی اور انتظامی سسٹم پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے کہ کسی مسلم معاشرہ کا اجتماعی نظم اگر اپنے افراد کو شریعت کے مطابق عدالتی اور انتظامی احکامات فراہم نہیں کر رہا اور مسلمان اپنے دین پر عملدرآمد کے خواہش مند ہیں تو عام مسلمانوں کو شرعی مسئلہ پوچھنے اور علماء کو اس کا جواب دینے کے حق سے محروم کرنا اس سسٹم کو مستحکم کرنے کے مترادف ہوگا جو ایک مسلمان معاشرہ کو غیر اسلامی نظام کے تابع رکھنا چاہتا ہے۔ جس کی کم از کم جاوید احمد غامدی صاحب جیسے صاحب علم سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً بنگلہ دیش کا معاملہ لے لیجیے جہاں دستوری طور پر سیکولر نظام نافذ ہے اور عدالتی سسٹم بھی اسی نظام کے تابع ہے۔ اس لیے اس سسٹم میں علماء کو پابند کرنا کہ وہ کسی معاملہ میں شرعی رائے کا اظہار بھی ریاستی قوانین کے دائرہ سے ہٹ کر نہ کریں، ایک سیکولر نظام کو تقویت دینے اور دینی اقدار کو مزید کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اکثر مسلم ممالک میں اس وقت عملاً سیکولر نظام نافذ ہے۔ خود ہمارے ہاں پاکستان میں بھی دستوری طور پر اسلامی ریاست ہونے کے باوجود عملی نظام کی بنیادی سیکولر ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری عدالتوں میں بھی برطانوی دور کا نو آبادیاتی نظام بدستور چلا آرہا ہے۔ بلکہ ترکی کی مثال اس سے زیادہ واضح ہے کہ وہاں شرعی احکام پر عمل کرنے کی ہی سرے سے ممانعت ہے۔ ان ممالک میں اگر کوئی مسلمان شہری قرآن و سنت کے احکام اور شرعی ضوابط کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ علماء کرام سے دریافت کر کے اس کے مطابق عمل کرے۔ اور اکثر مسلم ممالک میں شرعی احکام و قوانین کی وضاحت اور کسی حد تک ان پر عملدرآمد کا یہی ایک آخری ادارہ باقی رہ گیا ہے۔ کیا محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے شاگردان گرامی مولوی کی مخالفت اور اسے نیچا دکھانے کے شوق میں سیکولر سسٹم کے مقابل اس آخری مورچے کو بھی گرا دینا چاہتے ہیں؟
پشاور کے سید وقار حسین صاحب نے ایک خط میں منیر احمد چغتائی صاحب آف کراچی کے اس مراسلہ کی طرف توجہ دلائی ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کے بعض افکار کے بارے میں میرے مضامین کے حوالہ سے گزشتہ دنوں روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا ہے۔ یہ مراسلہ میری نظر سے گزر چکا ہے اور میں نے اپنے ذہن میں رکھ لیا تھا کہ اس کی بعض باتوں پر کسی کالم میں تبصرہ کر دوں گا۔ مگر وقار حسین کے توجہ دلانے پر اپنی ترتیب میں رد و بدل کر کے اس مراسلہ کے بارے میں ابھی کچھ عرض کر رہا ہوں۔
چغتائی صاحب کے مراسلہ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ غامدی صاحب میدان سے بھاگ گئے ہیں، اور اس کے بعد دوسری قابل توجہ بات انہوں نے یہ کہی ہے کہ غامدی صاحب جہاد کے بارے میں قادیانیوں کے موقف کے موید ہیں۔ مجھے چغتائی صاحب کی ان دونوں باتوں سے اتفاق نہیں ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ میں نے اس گفتگو کا آغاز غامدی صاحب کو میدان سے بھگانے کے لیے نہیں کیا تھا اور نہ انہیں بھاگنے کی کوئی ضرورت ہے۔ یہ خالص مناظرانہ اسلوب کی باتیں ہیں جو نہ میرے مزاج کا حصہ ہیں اور نہ ہی غامدی صاحب اس اسلوب کے دانشور ہیں۔ میں نے ان کے بعض افکار پر برادرانہ انداز میں افہام و تفہیم کے جذبہ کے تحت اظہار خیال کیا تھا جس کے جواب میں ان کے دو شاگردوں خورشید احمد ندیم اور معز امجد نے طبع آزمائی کی مگر ان کے جوابات سے مجھے اطمینان حاصل نہیں ہوا جس کا اظہار میں نے بے تکلفی کے ساتھ بعد کے مضامین میں کر دیا۔ اب دونوں طرف کے مضامین اہل علم کے سامنے ہیں اور وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس کے موقف اور دلائل میں کتنا وزن ہے۔ اس میں ہار جیت یا میدان میں ٹھہرنے اور بھاگنے کا کوئی سوال نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کا نتیجہ اخذ کرنا اس قسم کے علمی مباحث سے مناسبت رکھتا ہے۔
جہاں تک غامدی صاحب کو جہاد کے بارے میں قادیانیوں کے موقف کا موید ظاہر کرنا ہے، یہ سراسر زیادتی ہے۔ اس لیے کہ ان کا موقف قطعاً وہ نہیں ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے جہاد کے سرے سے منسوخ ہونے کا اعلان کیا تھا بلکہ اس کی جھوٹی نبوت کا ڈھونگ ہی جہاد کی منسوخی کے پرچار کے لیے رچایا گیا تھا۔ جبکہ غامدی صاحب جہاد کی فرضیت اور اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں، البتہ جہاد کے اعلان کی مجاز اتھارٹی کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں اور اس بارے میں ان کی رائے امت کے جمہور اہل علم سے مختلف ہے جس پر ہم تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کر چکے ہیں۔
اپنے سابقہ مضامین میں عرض کر چکا ہوں کہ میں غامدی صاحب کو حضرت مولانا حمید الدین فراہیؒ کے علمی مکتب فکر کا نمائندہ سمجھتا ہوں۔ اور مولانا فراہیؒ کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ کی ہے، البتہ امت کے جمہور اہل علم کے علی الرغم ان کے تفردات کو میں قبول نہیں کرتا۔ اور غامدی صاحب سے میں نے یہی عرض کیا ہے کہ علمی تفردات کو اس انداز سے پیش کرنا کہ وہ امت کے اجتماعی علمی دھارے سے الگ کسی نئے مکتب فکر کا عنوان نظر آنے لگیں، امت میں فکری انتشار کا باعث بنتا ہے۔ اور اگر اس پر اصرار کیا جائے تو اسے عالمی فکری استعمار کی ان کوششوں سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جو ملت اسلامیہ کو ذہنی انتشار اور فکری انارکی سے دوچار کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہیں۔
اپنی بات کی مزید وضاحت کے لیے عرض کرنا چاہوں گا کہ کچھ عرصہ قبل ایک صاحب علم دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ علمی تفردات میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے تفردات علماء کے حلقہ میں اس شدت کے ساتھ موضوع بحث نہیں بنے جس شدت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کے افکار کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا سندھیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انہیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی جو خود مولانا مودودیؒ اور ان کے رفقاء نے ان کی تحریروں پر علماء کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات پر اپنا لی تھی۔ چنانچہ اس روش کے نتیجہ میں وہ جمہور علماء کے مد مقابل ایک فریق کی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے اور بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہوگیا۔
اس حوالہ سے قریبی زمانہ میں سب سے بہتر طرز عمل اور اسوہ میرے نزدیک حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہے جنہیں جب بھی ان کی کسی رائے کے غلط ہونے کے بارے میں دلیل کے ساتھ بتایا گیا تو انہوں نے اس سے رجوع میں کبھی کوئی عار محسوس نہیں کی۔ بلکہ ایک روایت کے مطابق آخر عمر میں انہوں نے علماء کے ایک گروپ کے ذمہ لگا دیا تھا کہ وہ ان کی تصانیف کا مطالعہ کر کے ایسی باتوں کی نشاندہی کریں جو ان کے نزدیک سلف صالحینؒ اور جمہور اہل علم کے موقف سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تاکہ وہ ان پر نظر ثانی کر سکیں۔
یہ بات عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ’’اصول پرستی‘‘ کی کچھ حدود ہیں اور اصول قائم کرتے وقت ان کے عملی اطلاق کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے ورنہ مسائل سلجھنے کی بجائے مزید الجھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اصول کی درجہ بندی بھی ہے۔ وہ اصول جو قرآن و سنت میں قطعیت اور صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں وہ تو قطعی ہیں اور ان کی پابندی سے کوئی بھی شخصیت مستثنیٰ نہیں ہے۔ مگر جو اصول اہل علم نے استنباط اور استدلال کے ذریعہ خود وضع کیے ہیں ان کو قطعیت کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ اس لیے کسی بھی شخصیت یا حلقہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے وضع کردہ اصولوں کو پوری امت کے لیے حتمی قرار دے کر امت کے تمام طبقات کو ان پر پرکھنا شروع کر دے۔ البتہ ان میں سے جس اصول کو امت میں اجماع کا درجہ حاصل ہو جائے یا کم از کم جمہور علماء اس سے اتفاق کا اظہار کر دیں تو اس کی بات مستثنیٰ ہے۔
ماہنامہ ’’اشراق‘‘ مارچ ۲۰۰۱ء میں استاذِ گرامی کی بعض آرا سے متعلق مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ العالی کے فرمودات اور ان کے حوالے سے ہماری معروضات شائع ہوئی ہیں۔ مولانا محترم نے استاذِ گرامی کی جن آرا پر اظہارِ خیال فرمایا ہے ان میں سے ایک جہاد کے متعلق ہمارے استاذ کی رائے ہے۔ یہ بات مولانا محترم کے فرمودات ہی سے واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ’’کسی قوم یا ملک کے خلاف جہاد تو بہرحال مسلمان حکومت ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے۔‘‘ اپنی معروضات میں ہم نے مولانا محترم کے ساتھ اپنے اختلاف کو واضح کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اسی مسئلے میں ہے کہ اگر کبھی مسلمانوں پر کوئی بیرونی قوت اس طرح سے تسلط حاصل کر لے کہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اس کے آگے بالکل بے بس ہو جائے تو اس صورت میں عام مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ واضح رہے کہ ایسے حالات میں مولانا ہی کی بات سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ بیرونی طاقت کے خلاف اگر مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اپنی سلطنت کے دفاع کا انتظام کرنے کو آمادہ ہو تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی ہی کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد ہی اس بات کی مستحق ہو گی کہ اسے جہاد قرار دیا جائے۔ مزید برآں ایسے حالات میں نظمِ اجتماعی سے ہٹ کر، جتھہ بندی کی صورت میں کی جانے والی ہر جدوجہد، غلط قرار پائے گی۔ اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ مولانا کو ہماری اس بات سے اتفاق ہو گا، تاہم پھر بھی ہم یہ چاہیں گے کہ مولانا ہمارے اس خیال کی تصدیق یا تردید ضرور فرما دیں، تاکہ اس معاملے میں قارئین کے ذہن میں بھی کوئی شک باقی نہ رہے۔ چنانچہ ہمارے فہم کی حد تک، اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اس صورت سے متعلق ہے جب مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی، کسی بھی وجہ سے، بیرونی طاقت کے تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے سے قاصر ہو۔ مولانا کے نزدیک اس صورت میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنی سلطنت کے دفاع کی جدوجہد کرنی چاہیے، خواہ یہ جدوجہد غیر منظم جتھہ بندی ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ اس ضمن میں جو منظم یا غیر منظم جدوجہد بھی مسلمانوں کی طرف سے کی جائے گی، وہ مولانا محترم کے نزدیک ’جہاد ‘ہی قرار پائے گی۔‘‘
’’دین و شریعت کی رو سے جہاد و قتال کی غیر منظم جدوجہد، بالعموم، جن ہمہ گیر اخلاقی و اجتماعی خرابیوں کو جنم دیتی ہے، شریعتِ اسلامی انہیں کسی بڑی سے بڑی منفعت کے عوض بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ قرآنِ مجید اور انبیاے کرام کی معلوم تاریخ سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جبر و استبداد کی قوتوں کے خلاف، خواہ یہ قوتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، اسی صورت میں تلوار اٹھانے کا حکم اور اس کی اجازت دی، جب مسلمان اپنی ایک خودمختار ریاست قائم کر چکے تھے۔ اس سے پہلے کسی صورت میں بھی انبیاے کرام کو کسی جابرانہ تسلط کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘
’’عام انسانوں کی بات بے شک مختلف ہو گی، مگر مولانا محترم جیسے اہلِ علم سے ہماری توقع یہی ہے کہ وہ اہلِ علم کے عمل سے شریعت اخذ کرنے کے بجائے، شریعت کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیں۔ اگر شریعتِ اسلامی کے بنیادی ماخذوں، یعنی قرآن و سنت، میں اس عمل کی بنیاد موجود ہے تو اسے شریعت کے مطابق اور اگر ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو بغیر کسی تردد کے اسے شریعت سے ہٹا ہوا قرار دیں۔‘‘
’’میرے نزدیک ہمارے درمیان نقطۂ نظر کے اختلاف کا نکتہ اور اصل موڑ یہی ہے۔ یہ اگر واضح ہو جائے تو باقی معاملات کا سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہے گا۔‘‘ (روزنامہ اوصاف ، ۱۵ مارچ ۲۰۰۱ء)
- ’’قرآن و سنت کے بیان کردہ قطعی اور صریح اصولوں کو ہر چیز پر فوقیت اور بالاتری حاصل ہے۔
- جو اصول اہلِ علم نے قرآن و سنت کی روشنی میں خود مستنبط کیے ہیں ان میں اصل مدار شخصیات پر ہے اور شخصیات کی باہمی ترجیحات ان کے وضع کردہ اصولوں میں بھی کارفرما ہوں گی۔
- ظنی اور استنباطی اصولوں اور سوسائٹی میں ان کے اطلاق و تطبیق کی عملی مشکلات، دونوں کو سامنے رکھ کر احکام و ضوابط طے کیے جائیں گے۔
- بعد میں پیش آنے والی ضروریات کے لیے وضع کیے جانے والے اصولوں کا مؤثر بہ ماضی اطلاق ضروری نہیں ہو گا، اور نہ ہی ماضی کے معاملات کا ان کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا دور چونکہ ان سب استنباطات، استدلالات اور اجتہادات سے مقدم ہے اور وہ چشمۂ نبوت سے براہِ راست فیضیاب ہوتے ہیں، اس لیے قرآن و سنت کے مفہوم و مصداق کے تعین اور بعد میں آنے والے اصولوں کے تعارض و تضاد کے حل کے لیے ان کا تعامل حتمی حجت ہے۔‘‘ (روزنامہ اوصاف، ۱۶ مارچ ۲۰۰۱ء)
’’انہوں نے جواب میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم نے ان کے بقول مسلمانوں کی آبادی پر کافروں کے تسلط کی صورت میں دو ہی راستے بتائے ہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ اگر ہجرت کا راستہ اور مقام موجود ہو تو وہ وہاں سے ہجرت کر جائیں۔ اور دوسرا یہ کہ اگر ہجرت قابل عمل نہ ہو تو صبر و شکر کر کے بیٹھے رہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات کی تبدیلی کا انتظار کریں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں سورۃ النساء، سورۃ الانفال اور سورۃ الاعراف کی بعض آیات کریمہ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ وہ مسئلہ کی نوعیت ہی کو سرے سے نہیں سمجھ سکے۔ کیونکہ ان آیات کریمہ میں ان مسلمانوں کے لیے احکام بیان کیے گئے ہیں جو کافروں کی سوسائٹی میں مسلمان ہوگئے ہیں اور ان کے زیر اثر رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ وہاں سے ہجرت کر سکتے ہیں تو نکل جائیں ورنہ صبر و حوصلہ کے کے ساتھ حالات کی تبدیلی کا انتظار کریں۔ جبکہ ہم جس صورت پر بحث کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی پر باہر سے آکر کافروں نے تسلط جما لیا ہے اور مسلمان اکثریت پر کافر اقلیت کا جبر و اقتدار قائم ہوگیا ہے اس صورت میں محترم غامدی اور ان کے تلامذہ ہی مسلم اکثریت کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ اپنا علاقہ کافر غالبین کے حوالہ کر کے وہاں سے چلے جائیں یا ان کے جبر و ظلم کو خاموشی کے ساتھ برداشت کرتے جائیں۔‘‘ (روزنامہ اوصاف، ۱۶ مارچ ۲۰۰۱)
’’اس وقت فریسیوں نے جا کر مشورہ کیا کہ اسے (یعنی مسیح علیہ السلام کو) کیونکر باتوں میں پھنسائیں۔ پس انہوں نے اپنے شاگردوں کو ہیرودیوں (یعنی حکمران کے لوگوں) کے ساتھ اس کے پاس بھیجا اور انہوں نے کہا کہ اے استاد ہم جانتے ہیں کہ تو سچا ہے اور سچائی سے خدا کی راہ کی تعلیم دیتا ہے اور کسی کی پروا نہیں کرتا کیونکہ تو کسی آدمی کا طرف دار نہیں۔ پس ہمیں بتا تو کیا سمجھتا ہے کہ قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں؟ یسوع نے ان کی شرارت جان کر کہا اے ریاکارو، مجھے کیوں آزماتے ہو؟ جزیہ کا سکہ مجھے دکھاؤ۔ وہ ایک دینار اس کے پاس لائے۔ اس نے ان سے کہا یہ صورت اور نام کس کا ہے؟ انہوں نے اس سے کہا قیصر کا۔ اس پر اس نے ان سے کہا پس جو قیصر کا ہے، قیصر کو اور جو خدا کا ہے، خدا کو ادا کرو۔‘‘ (متی باب ۲۲ ، ۱۵ ۔ ۲۲)
یمن کا علاقہ جناب نبی اکرمؐ کے دور میں مسلم مملکت میں شامل ہوگیا تھا اور شہر بن باذانؓ کو رسول اللہؐ نے اپنی طرف سے وہاں کا گورنر مقرر کر دیا تھا۔ ان کے علاوہ یمن کے مختلف علاقوں میں حضرت علیؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، اور دوسرے عمال کا تقرر کیا تھا۔ مگر اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کر کے صنعا پر چڑھائی کی اور شہر بن باذانؓ کو قتل کر کے یمن کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔ مقتول گورنر کی بیوی کو زبردست اپنے حرم میں داخل کیا، یمن کے مختلف علاقوں سے جناب نبی اکرمؐ کے مقرر کردہ عاملوں کو نکال دیا، اور اس طرح یمن کا صوبہ اسلامی حکومت سے نکل کر کافروں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس پر تین حضرات حضرت فیروز دیلمیؓ، حضرت قیس بن مکشوحؓ، اور حضرت دادویہؓ نے باہمی مشورہ کر کے گوریلا طرز جنگ پر شبخون مارنے کا پروگرام بنایا۔ مقتول مسلمان گورنر شہر بن باذانؓ کی بیوی سے جو اسود عنسی نے زبردستی اپنے حرم میں داخل کر رکھی تھی، ان تینوں حضرات نے رابطہ کر کے ساز باز کی جس کے تحت اس نے رات کو اسود عنسی کو بہت زیادہ شراب پلا دی، ان حضرات نے محل کی دیوار میں نقب لگا کر اندر داخل ہونے کا راستہ نکالا اور رات کی تاریکی میں اسود عنسی اور اس کے پہرہ داروں کو قتل کر کے اس کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ یہ گوریلا کاروائی تھی اور مسلح کاروائی تھی۔ اس میں معز امجد صاحب کو یقیناً کچھ اخلاقی خرابیاں نظر آرہی ہوں گی اور بلا ضرورت قتل و غارت بھی دکھائی دیتی ہوگی۔ لیکن عملاً یہ سب کچھ ہوا جس کے نتیجہ میں یمن پر مسلمانوں کا اقتدار دوبارہ بحال ہوا ۔ اور جناب نبی اکرمؐ کو جب ان کے وصال سے صرف دو روز قبل وحی کے ذریعہ اس کارروائی کی خبر ملی تو آپؐ نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو یہ خوشخبری سنائی فاز فیروز کہ فیروز اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس کے بعد حضرت فیروز دیلمیؓ جب اس کامیابی کی خبر لے کر یمن سے مدینہ منورہ پہنچے تو جناب نبی اکرمؐ کا انتقال ہو چکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رپورٹ خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبرؓ کو پیش کی اور انہوں نے اس پر اطمینان اور مسرت کا اظہار فرمایا۔ اس لیے محترم معز امجد صاحب سے عرض ہے کہ جن آیات کریمہ سے انہوں نے استدلال کیا ہے ان کا مصداق یہ نہیں ہے بلکہ اس کی عملی شکل وہی یمن والی ہے کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافروں کا تسلط قائم ہو تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو صورت بھی اس وقت کے حالات کی روشنی میں اختیار کر سکیں اس سے گریز نہ کریں۔ اور وہ کافر و ظالم قوت کے جابرانہ تسلط کے خلاف مزاحمت کی جو صورت بھی اختیار کریں گے وہ حضرت فیروز دیلمیؓ کی اس گوریلا کاروائی اور شبخون کی طرح جہاد ہی کہلائے گی۔ (روزنامہ اوصاف، ۱۶ مارچ ۲۰۰۲)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جشیش، دادویہ اور فیروز دیلمی کو ایک پیغام بھیجا جس میں آپ نے انہیں اسود عنسی کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا۔‘‘
’’زکوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ٹیکسیشن کو ممنوع قرار دے کر حکمرانوں سے ظلم کا ہتھیار چھین لیا ہے۔‘‘
’’لیکن کیا کسی ضرورت کے موقع پر (زکوٰۃ کے علاوہ) اور کوئی ٹیکس لگانے کی شرعاً ممانعت ہے؟ اس میں ہمیں اشکال ہے۔ اگر غامدی صاحب محترم اللہ تعالیٰ کی طرف سے زکوٰۃ کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی ممانعت پر کوئی دلیل پیش فرما دیں تو ان کی مہربانی ہو گی اور اس باب میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔‘‘
اس کے جواب میں معز امجد صاحب نے قرآن کریم کی بعض آیات اور جناب نبی اکرمؐ کے بعض ارشادات سے استدلال کیا ہے مگر یہ استدلال ان کے موقف کی تائید نہیں کرتا۔ مثلاً انہوں نے سورۃ التوبہ کی آیت ۵ کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں، نماز کا اہتمام کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں تو ’فخلوا سبیلہم‘ ان کی راہ چھوڑ دو۔ یہاں ان کی راہ چھوڑ دو سے انہوں نے استدلال کیا ہے کہ ان سے اور کوئی مالی تقاضہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ مگر اس کی وضاحت میں مسلم شریف کی جو روایت انہوں نے پیش کی ہے اس میں جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور میری رسالت کی شہادت دے دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ اور جب وہ ایسا کریں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے۔ یہاں اموال کے محفوظ ہو جانے کا مفہوم معز امجد صاحب نے یہ بیان کیا ہے کہ ان سے مزید کوئی مالی تقاضہ نہیں ہو سکے گا۔ اگر ان کے بیان کردہ مفہوم کو صحیح سمجھ لیا جائے تو بھی اس روایت میں ’الا بحقھا‘ کی استثناء موجود ہے جو خود انہوں نے بھی نقل کی ہے۔ جس سے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ اسلام کے حقوق کے حوالہ سے زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال کا تقاضہ مسلمانوں سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (اوصاف ، ۱۷ مارچ ۲۰۰۱ء)
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط پوری کر دیں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الا یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔‘‘
’’’الابحقھا‘ سے مراد جان اور مال پر حق کا قائم ہونا ہے۔ یہاں ’باء‘ ، ’عن‘ کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ دونوں مامون ہیں سوائے اس کے کہ ان پر اللہ ہی کا (بیان کردہ) کوئی حق قائم ہو جائے۔‘‘
’’اسلام میں داخل ہو جانے اور نماز کے قائم اور زکوٰۃ ادا کر دینے کے بعد لوگوں کا خون بہانا اور ان کے اموال کو کسی بھی سبب سے مباح کرنا ناجائز ہے، سوائے اس کے اسلام ہی کا کوئی حق ان کے جان و مال پر قائم ہو جائے۔ مثال کے طور پر، قصاص کے قانون کے تحت کسی کی جان لینا یا کسی سے غصب شدہ مال واپس لینا۔‘‘
’’اور وہ حقوق جو ان پر قائم ہوتے ہیں، ان میں اسلام لانے کے بعد نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار ہے، جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم سے واضح ہے۔‘‘
’’پھر انہوں نے ابن ماجہ کی یہ روایت پیش کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی حق عائد نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی ترمذی کے حوالے سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی نقل کر دیا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق موجود ہے۔ اس لیے میرے خیال میں یہ آیات اور روایات غامدی صاحب کے موقف کے بجائے ہمارے موقف کی تائید کرتی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر زکوٰۃ کے علاوہ مزید ٹیکس بھی اسلامی حکومت کی طرف سے عائد کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (اوصاف، ۱۷ مارچ ۲۰۰۱ء)
’’اور اس میں یہ بھی ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق قائم ہوتا ہے۔ علما نے اس (باہمی تناقض) کے دو طرح سے جواب دیے ہیں: ایک یہ کہ یہ بات زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے فرمائی گئی ہو گی۔ کنز کے بارے میں ابن عمر کی روایت جس کا ہم آگے چل کر ذکر کریں گے، اس توجیہ کی تائید کرتی ہے، مگر اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت حضرت ابوہریرہ کے اسلام لانے سے پہلے ہو چکی تھی، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں ’حق‘ سے مراد وہ اضافی مقدار ہے جو زکوٰۃ واجب کے ادا کر دینے کے بعد دی جائے جس کے نہ ادا کرنے پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔ اس کا ذکر اس معاملے میں درجۂ کمال کی تعلیم کے حوالے سے کیا گیا ہے، اگرچہ وہ ادائیگی جس کے بعد حقِ واجب مکمل طور پر پورا ہو جاتا ہے، وہ زکوٰۃ ہی ہے۔‘‘
’’اجتماعی ضروریات مثلاً نہر کھودنے، دفاعی تیاریوں، فوج کی تنخواہ، اور قید کی رہائی وغیرہ کے لیے مزید ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں۔ البتہ، ہنرمندوں اور کاروباری لوگوں پر ان کے ہنر یا کاروبار کے حوالے سے جو ٹیکس لگائے جاتے ہیں وہ ظالمانہ ہیں اور شریعت میں ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ (اوصاف، ۱۷ مارچ ۲۰۰۱ء)
’’۔۔۔ اصولی طور پر قومی ضروریات کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ اسلامی حکومت جائز حد تک اور ٹیکس بھی لگا سکتی ہے اور اس کی کوئی واضح شرعی ممانعت موجود نہیں ہے۔‘‘ (اوصاف، ۱۶ مارچ ۲۰۰۱ء)
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، صدقات کے معاملے میں یہ وہ فریضہ ہے جسے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر لازم ٹھہرایا اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا۔ چنانچہ مسلمانوں سے جب اس کے مطابق مانگا جائے تو انہیں چاہیے کہ وہ اسے ادا کر دیں اور جب ان سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو پھر وہ نہ دیں۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کے بعد اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو، (اس لیے) خدا کی قسم، میں ان شرطوں پر کسی اضافے کا مطالبہ کروں گا اور نہ ان میں کوئی کمی برداشت کروں گا۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر کی طرف پکارنے والا بنا کر بھیجا تھا، لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا تھا۔ چنانچہ اس خط کے پہنچتے ہی، اسلام قبول کرنے والوں پر سے جزیہ ختم کر دو۔‘‘
’’پھر ضرورت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ مختلف صورتوں کے لیے زکوٰۃ کی مقدار متعین کر دی جائے۔ اگر یہ تعیین نہ کی جاتی تو زیادتی کرنے والوں کی زیادتی کی راہ کھلی رہتی۔ یہ ضروری تھا کہ یہ مقدار نہ اتنی کم ہو کہ لوگ اسے کوئی اہمیت نہ دیں اور نہ اتنی زیادہ ہو کہ اس کی ادائیگی لوگوں کے لیے بہت مشکل ہو جائے۔‘‘
محترم جاوید احمد غامدی کے بعض ارشادات کے حوالے سے جو گفتگو کچھ عرصے سے چل رہی ہے اس کے ضمن میں ان کے دو شاگردوں جناب معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق خان نے ماہنامہ اشراق لاہور کے مئی ۲۰۰۱ء کے شمارے میں کچھ مزید خیالات کا اظہار کیا ہے جن کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
معز امجد صاحب نے حسب سابق (۱) کسی مسلم ریاست پر کافروں کے تسلط کے خلاف علماء کے اعلان جہاد کے استحقاق (۲) زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی ممانعت (۳) اور علماء کے فتویٰ کے آزادانہ حق کے بارے میں اپنے موقف کی مزید وضاحت کی ہے۔ جبکہ ڈاکٹر محمد فاروق خان نے (۱) شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے فتوائے جہاد (۲) الجزائر کی جنگ آزادی (۳) اور جہاد افغانستان کے تاریخی تناظر کو اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ اور اسی ترتیب سے ہم ان کے خیالات و ارشادات پر تبصرہ کریں گے۔
جناب غامدی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ جہاد کے اعلان کا حق اسلامی ریاست کے سوا کسی کو نہیں ہے جس کے جواب میں ہم نے عرض کیا کہ اگر کسی مسلم علاقہ پر کافروں کا تسلط قائم ہو جائے اور اسلامی ریاست کا وجود ہی ختم ہو جائے تو علماء کرام اور دینی قیادت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کافرانہ تسلط کے خلاف جہاد کا اعلان کر کے مزاحمت کریں اور اسلامی اقتدار بحال کرنے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ یمن پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اسود عنسی نے قبضہ کر لیا تھا اور حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء نے گوریلا طرز پر شب خون مار کر اسود عنسی کو قتل کر دیا تھا جس سے اس کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مسلمانوں کا اقتدار بحال ہوگیا۔ اس لیے اب بھی ایسی صورت میں کافروں کے تسلط کا شکار ہونے والے مسلمانوں کے لیے شرعی مسئلہ یہی ہے کہ وہ اس تسلط کو قبول نہ کریں، اس کے خاتمہ کے لیے جو ان کے بس میں ہو کر گزریں اور اس سلسلے میں ان کی جدوجہد کو شرعی جہاد کا درجہ حاصل ہوگا۔
معز امجد صاحب نے ہمارے استدلال کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’یہ واقعہ اس طرح رونما ہوا ہی نہیں جیسا کہ مولانا نے بیان فرمایا ہے‘‘۔ لیکن خود انہوں نے واقعہ کی جو تفصیلات بیان کی ہیں ان میں اس بات کو من و عن تسلیم کیا گیا ہے کہ اسود عنسی کو حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء نے قتل کیا تھا جس سے اس کی حکومت ختم ہو کر مسلمانوں کا اقتدار بحال ہوگئی تھا البتہ اتنے واقعہ کو بعینہ تسلیم کرتے ہوئے معز امجد صاحب نے اس میں دو اضافے فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء کو اس کارروائی کا حکم خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بعد اس مسئلہ پر یمن کے مسلمانوں کا اجتماع ہوا جس میں اسود عنسی کے خلاف کاروائی کے لیے اجتماعی مشاورت ہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تفصیل سے ہمارے بیان کردہ واقعہ کی تردید کس طرح ہوگئی جسے موصوف اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ واقعہ اس طرح رونما ہوا ہی نہیں جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ کیونکہ واقعہ تو وہ بھی وہی بیان کر رہے ہیں جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ یہ کارروائی حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء نے از خود نہیں کی تھی بلکہ جناب نبی اکرمؐ کی ہدایت اور دوسرے مسلمانوں کے مشورہ سے کی تھی تو اس سے ہمارے موقف کی مزید تائید ہوتی ہے۔ مگر اس کی وضاحت سے قبل اس امر کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فیروز دیلمیؒ کے لیے جناب نبی اکرمؐ کی اس ہدایت کا ہمیں بھی علم تھا لیکن چونکہ وہ روایت جناب غامدی صاحب کے اصولوں کے مطابق ’’خبریت‘‘ کے قابل قبول معیار پر پوری نہیں اترتی تھی اس لیے ہم نے اس کا حوالہ نہیں دیا اور نفس واقعہ کا ذکر کر دیا۔ البتہ مسلمانوں کی مشاورت کا واقعہ ہماری نظر سے نہیں گزرا تھا جس کا معز امجد صاحب نے ذکر کیا ہے، معلومات میں اس اضافے پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔
ویسے استنباط و استدلال، تعبیر و تشریح اور اصول سازی کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کا یہ فائدہ تو ہوتا ہی ہے کہ جس بات پر جی چاہا اسے قبول کر لیا اور جسے ذہن نے قبول نہ کیا اس سے انکار کر دیا۔ جی نہ چاہا تو رجم کے بارے میں بخاری اور مسلم کی روایات قابل قبول قرار نہ پائیں اور کہیں ’’گیئر‘‘ پھنس گیا تو ’’اصابہ‘‘ کی روایت کا سہارا لینے میں بھی کوئی تامل نہ ہوا۔
واقعات کی ان تفصیلات کو تسلیم کرتے ہوئے جو جناب معز امجد صاحب نے بیان کی ہیں ہماری گزارش ہے کہ اس سے ہمارا یہ موقف مزید پختہ ہوگیا ہے کہ کسی مسلم علاقہ پر کافروں کے تسلط کی صورت میں وہاں کے مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اس تسلط کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کریں اور اس سلسلہ میں جناب نبی اکرمؐ کی ہدایت یہی ہے جو حافظ ابن حجرؒ کی اصابہ کے حوالہ سے معز امجد صاحب نے نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء کو اسود عنسی کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ معز امجد صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بحیثیت حاکم دیا تھا اور ہمارے نزدیک اس میں ان کی پیغمبرانہ حیثیت بھی شامل ہے۔ اس لیے اب بھی اگر دنیا کے کسی حصے میں کسی مسلم علاقہ پر کافروں کا تسلط ہو جائے تو وہاں کے مسلمانوں کے لیے جناب نبی اکرمؐ کی ہدایت اور حکم وہی ہے جو یمن کو اسود عنسی کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء کو دیا گیا تھا۔
پھر یہ نکتہ بھی یہاں قابل غور ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر صوبہ میں بغاوت کو کچلنے کے لیے صرف ریاستی کاروائی کرنا ہوتی تو اس کے لیے فوج کشی مدینہ منورہ سے ہوتی مگر نبی اکرمؐ ریاست کی طرف سے یہ فوج کشی کرنے کی بجائے یمن کی مقامی آبادی کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسود عنسی کے تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ چنانچہ ’’اصابہ‘‘ کی جس روایت کا معز امجد صاحب نے حوالہ دیا ہے اس کے مطابق نبی اکرمؐ نے حضرت فیروز دیلیؒ اور ان کے رفقاء کو اسود عنسیؒ کے خلاف ’’محاربہ‘‘ کا حکم دیا ہے۔ اب محاربہ کے معنی و مفہوم کے بارے میں اور کسی کو تردد ہو تو ہو مگر غامدی صاحب کے شاگردوں سے یہ توقع نہیں کی ہو سکتی کہ وہ اس کے مفہوم سے آگاہ نہیں ہوں گے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ معز امجد صاحب اس واقعہ کو تسلیم کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد و ہدایت کا تذکرہ بھی کرتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود اس واقعہ کو جہاد کی حیثیت دینے میں تامل انہیں ہے جیسا کہ ان کا ارشاد گرامی ہے کہ:
’’یہ جابر و غاصب قوم کے خلاف گروہ بندی اور جتھابندی کر کے جہاد کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ ایک غاصب حکمران کے قتل کا واقعہ ہے۔ گروہ بندی اور جتھا بندی کر کے جہاد کرنا اور کسی (اچھے یا برے) حکمران کے قتل کی سازش کرنا دو بالکل الگ معاملات ہیں۔‘‘
واقعہ کی ان تفصیلات کو ایک بار پھر ترتیب وار دیکھ لیں جو خود معز امجد صاحب نے بیان کی ہیں کہ یمن میں اسود عنسی کے تسلط کے بعد جناب نبی اکرمؐ نے یمن کے لوگوں کو اس کے خلاف محاربہ کا حکم دیا۔ اس حکم کے بعد یمن کے مسلمانوں کا مشاورتی اجتماع ہوا جس میں اسود عنسی کے خلاف کارروائی کے فریقوں کا جائزہ لیا گیا، اس کے بعد حضرت فیروز دیلمیؓ، حضرت قیس بن مکثوحؓ اور حضرت دادویہؓ نے گروپ بنایا اور اسود عنسی کے حرم میں زبردست شامل کی جانے والی خاتون آزادؓ کے ساتھ ساز باز کر کے اسود عنسی کو قتل کر دیا۔ اور پھر معز امجد صاحب کے حوصلہ کی داد دیجئے کہ اس سب کچھ کے باوجود ان کے نزدیک اس کاروائی کو شرعی جہاد کی حیثیت حاصل نہیں ہے اور وہ اسے ’’محض ایک غاصب حکمران کے قتل کی سازش‘‘ ہی تصور کر رہے ہیں۔ اور مزید لطف کی بات یہ ہے کہ واقعہ کی یہ ساری تفصیلات خود بیان کرنے کے بعد معز امجد صاحب اس سے نتیجہ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ:
’’اس ساری کارروائی کا عملی ظہور اسود عنسی کے اپنے گروہ میں پھوٹ پڑنے اور اس کے اپنے ہی عمال کی طرف سے اس کے قتل کو کامیاب بنانے کی صورت میں ہوا۔‘‘
اس ’’ذہنی گورکھ دھندے‘‘ پر اس کے سوا کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ:
جاوید احمد غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ اسلام میں زکوٰۃ کے سوا اور کوئی ٹیکس لگانے کا جواز نہیں ہے۔ ہم نے اس پر عرض کیا کہ زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی شرعی ممانعت پر کوئی صریح دلیل موجود نہیں ہے۔ اس پر معز امجد صاحب اور خورشید ندیم صاحب نے قرآن کریم اور سنت نبویؐ سے اپنے موقف کے حق میں کچھ دلائل پیش کیے ہیں اور اپنے استدلال و استنباط کو مستحکم کرنے کے لیے خاصی تگ و دو کی ہے جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔ ان دلائل سے ان کا موقف ثابت ہوا یا نہیں مگر اتنی بات ضرور واضح ہوگئی ہے کہ قرآن و سنت کی راہنمائی کے حوالے سے یہ مسئلہ صراحت او رقطعیت کے دائرہ کا نہیں بلکہ استدلال اور استنباط کی سطح کا ہے۔ ورنہ انہیں اتنی لمبی چوڑی محنت کی ضرورت نہ پڑتی۔ اب ظاہر ہے کہ جہاں بات استدلال و استنباط کی ہوگی وہاں سب اہل علم کے لیے گنجائش ہوگی کہ وہ استدلال و استنباط کا حق استعمال کریں۔ اور کسی شخص یا گروہ کا یہ حق تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ وہ اپنے استدلال و استنباط کے نتیجے کو حتمی اور قطعی قرار دے کر دوسرے کی سرے سے نفی کر دے۔
اس سلسلہ میں بات کو آگے بڑھانے سے پہلے معز امجد صاحب کی ایک ذہنی الجھن کو دور کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ فقہاء اسلام نے ’’نوائب‘‘ اور ’’ضرائب‘‘ کے عنوان سے ان ٹیکسوں کے احکام بیان فرمائے ہیں جو ایک اسلامی حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کے علاوہ بھی مسلمان رعیت پر عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے معز امجد صاحب نے لکھا ہے:
’’ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کے بعد کسی شخص کی بات یہ حیثیت نہیں رکھتی کہ اسے ان آیات و ارشادات سے نکلنے والے حکم پر ترجیح دی جائے۔‘‘
اسی طرح وہ یہ فرماتے ہیں کہ:
’’لوگوں کی آرا کا حوالہ دینے کی بجائے ہمارے استدلال کی غلطی واضح کریں۔‘‘
اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ فقہاء اسلام کی آرا کو قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر ترجیح دینے کا تاثر سراسر مغالطہ نوازی ہے کیونکہ یہ ترجیح آیات و ارشادات پر نہیں بلکہ ان سے بعض لوگوں کے استدلال پر ہے۔ اب ایک طرف انہی آیات و احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے علامہ ابن الہمامؒ اور دوسرے فقہاء کرام ’’نوائب و ضرائب‘‘ کے عنوان سے اسلامی حکومت کو زکوٰۃ کے علاوہ بھی ضرورت کے وقت ٹیکس لگانے کی اجازت دے رہے ہیں اور دوسری طرف ان آیات و احادیث سے جناب جاوید احمد غامدی ان ٹیکسوں کے عدم جواز کا استدلال کر رہے ہیں۔ اس بحث میں اگر میرے جیسا کوئی طالب علم یہ کہہ دے کہ علامہ ابن الہمامؒ اور دوسرے فقہاء کا استدلال غامدی صاحب کے استدلال پر فائق ہے تو اسے کسی شخص کی بات کو قرآن و سنت کے ارشاد پر ترجیح دینے سے تعبیر کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اور جناب غامدی کے استدلال و استنباط کو قرآن و سنت کے ارشادات اور ان سے نکلے ہوئے احکام کا درجہ کب سے حاصل ہوگیا ہے؟ پھر ’’لوگوں کی آرا‘‘ کی پھبتی بھی خوب رہی۔ حالانکہ ہم نے ’’لوگوں کی آرا‘‘ کا حوالہ نہیں دیا بلکہ فقہاء اسلام کے فیصلوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ فقہاء اسلام جن کے فقہ و اجتہاد پر امت کے بڑے حصے کو اعتماد ہے اور جن کے فتاویٰ کی بنیاد پر صدیوں تک اسلامی عدالتوں میں فیصلے صادر ہوتے رہے ہیں۔
ہمارے ایک بزرگ تھے جن کا انتقال ہوگیا ہے، انہیں اپنے بعض تفردات کے حوالے سے حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کا یہ ارشاد دہرانے کا بڑا شوق تھا اور وہ عام جلسوں میں بڑے ترنم کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ھم رجال و نحن رجال‘‘ (وہ بھی مرد ہیں اور ہم بھی مرد ہیں)۔ اس سے ان کا مطلب و مقصد یہ ہوتا تھا کہ کسی مسئلہ میں امت کے اکابر اہل علم سے انہیں اختلاف ہے تو وہ اس کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی آدمی تھے اور ہم بھی آدمی ہیں۔ ایک مجلس میں اس کا تذکرہ ہوا تو میں نے عرض کیا کہ یہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے قول کا بہت غلط استعمال ہے اور امام صاحبؒ پر ظلم ہے کیونکہ امام صاحبؒ کا اس قول سے ہرگز یہ مطلب نہیں تھا جو یہ بزرگ بیان کر رہے ہیں۔ امام صاحبؒ کا پورا ارشاد اس طرح ہے کہ:
’’اگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد سامنے آجائے تو سر آنکھوں پر۔ اگر وہ نہ ہو اور صحابہ کرامؓ کا کوئی اجماعی فیصلہ مل جائے تو ہم اس سے انحراف نہیں کرتے۔ اور اگر صحابہ کرامؓ کے اقوال کسی مسئلہ میں مختلف ہوں تو ہم انہی میں سے کوئی قول لے لیتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کے اقوال کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے۔ البتہ ان کے بعد کے کسی بزرگ کی رائے ہو تو ’’ھم رجال ونحن رجال‘‘ وہ بھی آدمی ہیں اور ہم بھی آدمی ہیں‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ چونکہ تابعی تھے اور باقی تابعین ان کے معاصرین کی حیثیت رکھتے تھے اس لیے یہ بات انہوں نے اپنے معاصرین کے بارے میں فرمائی ہے کہ جس طرح انہیں استدلال و استنباط کا حق ہے اسی طرح ہمیں بھی اس کا حق حاصل ہے اور ہمارے درمیان دلائل کے علاوہ اور کسی بات کو ترجیح نہیں ہوگی۔ جبکہ اپنے متقدمین کے بارے میں وہ یہ حق تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی بات صرف اس حوالے سے بھی قابل ترجیح ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ یا کسی صحابیؓ کی رائے ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی دلیل ہو یا نہ ہو۔ اس لیے کوئی شخص ’’ھم رجال ونحن رجال‘‘ کا نعرہ اپنے معاصرین کے حوالے سے لگاتا ہے تو ہم اس کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں مگر اس نعرہ کی آڑ میں کسی کو ائمہ کرامؒ، فقہاء عظامؒ او رمحدثین کرامؒ کی صف میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس کے بعد استدلال کے حوالے سے بھی ایک بار پر غور کر لیا جائے تو مناسب ہوگا۔ معز امجد صاحب نے مسلم شریف کی روایت پیش کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ وہ یہ شرائط پوری کر دیں تو ان کی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے الا یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔‘‘
ہم نے اس سلسلہ میں عرض کیا تھا کہ ’’الا بحقھا‘‘ کی جو استثنا ہے وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد ہے۔ اس لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد بھی مال میں ایسا حق باقی ہے جو ’’عصموا‘‘ کی ضمانت میں شامل نہیں ہے۔ اس پر معز امجد صاحب کو دو اشکال ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اس استثنا کو مان لیا جائے تو جناب نبی اکرمؐ نے جس امان کی ضمانت دی ہے وہ بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ اور دوسرا یہ کہ یہ استثنا صرف زکوٰۃ سے نہیں بلکہ جان کے حوالے سے بھی ہے۔ ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کہ ’’الا بحقھا‘‘ کی استثنا جان اور مال دونوں کے حوالے سے ہے اور دونوں صورتوں میں یہ استثنا موجود ہے کہ کلمہ طیبہ پڑھنے، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کے باوجود اگر کسی مسلمان کی جان و مال سے کسی حق کے عوض تعرض ضروری ہوا تو ’’عصموا منی‘‘ کی ضمانت کے تحت اسے تحفظ حاصل نہیں ہوگا اور اس کی جان و مال سے تعرض روا ہوگا۔ مثلاً جان کے حوالے سے یہ کہ کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کر دیا تو قصاص میں اس کا قتل جائز ہوگا۔ کوئی شادی شدہ مسلمان زنا کا مرتکب ہے تو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق اسے سنگسار کیا جائے گا ۔ اور اگر کوئی مسلمان (نعوذ باللہ) مرتد ہوگیا ہے تو اسے بھی شرعی قانون کے مطابق توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر اس کے مال میں ریاست یا سوسائٹی کا کوئی حق متعلق ہوگیا ہے تو اس سے ضرورت کے مطابق مال لیا جا سکے گا۔
سوال یہ ہے کہ اگر جان کی ضمانت سے استثنا کی صورتیں موجود ہیں تو مال کی حفاظت کی ضمانت سے استثنا کا امکان کیوں تسلیم نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر کسی بھی درجہ کی شرعی دلیل سے اس کی ضرورت اور جواز مل جاتا ہے تو اسے ’’عصموا منی‘‘ کی ضمانت کے منافی قرار دینے کا آخر کیا جواز ہے؟ اس لیے ان دونوں صورتوں میں تمام تر موجود اور ممکنہ استثناؤں کے باوجود ’’عصموا منی‘‘ کی ضمانت بدستور موجود و قائم ہے اور اسے (نعوذ باللہ) بے معنی سمجھنا محض خام خالی ہے۔
اگر معز امجد صاحب کو یاد ہو تو ہمارا پہلا اور اصولی سوال یہ تھا کہ اگر زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی ممانعت کی کوئی صریح دلیل موجود ہے تو ہماری راہنمائی کی جائے مگر ان کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی واضح اور صریح دلیل موجود نہیں ہے اور وہ بھی اپنا موقف استدلال و استنباط کے ذریعے ہی واضح کرنا چاہ رہے ہیں۔ تو ہمیں اس تکلف میں پڑنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے کہ امت کے اجماعی تعامل اور فقہاء امت کے استدلالات کو محض اس شوق پر دریا برد کر دیں کہ ہمارے ایک محترم دوست جاوید احمد غامدی صاحب نے نئے سرے سے قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد و استنباط کا پرچم بلند کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی معز امجد صاحب سے گزارش ہے کہ ہمارے نزدیک ان کے استدلال کی دیگر کئی باتوں کے علاوہ ایک اصولی اور بنیادی غلطی یہ بھی ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد و استنباط میں امت کے اجماعی تعامل اور جمہور اہل علم کے موقف کو بہت سے معاملات میں نظر انداز کر رہے ہیں جس کی ہمارے ہاں کسی درجہ میں بھی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ اگر جمہور اہل علم اور امت کے اجماعی تعامل کو کراس کر کے قرآن و سنت سے براہ راست استنباط و استدلال کا دروازہ کھول دیا جائے تو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں امت مسلمہ میں ہزاروں مکاتب فکر وجود میں آئیں گے جو فکر و استدلال کے محاذ پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں گے اور وہ دھماچوکڑی مچے گی کہ الامان والحفیظ۔
کچھ عرصہ قبل محترم ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال صاحب نے یہ مہم شروع کر دی تھی کہ قرآن و سنت کی ازسرنو تعبیر و تشریح کی جائے اور اجتہاد و استنباط کا حق علماء کی بجائے پارلیمنٹ کو دیا جائے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان فرمائی تھی کہ امت میں اس وقت جو فرقہ بندی ہے اس سے نجات کی صورت اس کے سوا ممکن نہیں ہے۔ ہم نے ایک مضمون میں ان سے گزارش کی تھی کہ ان کا یہ فارمولا تو ’’بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوگیا‘‘ کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ اس وقت امت کا بڑا حصہ اعتقادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہے: اہل سنت اور اہل تشیع۔ جبکہ اہل سنت فقہی طور پر پانچ حصوں میں بٹے ہوئے ہیں: حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور ظاہری۔ یہ سب مل کر زیادہ سے زیادہ آٹھ دس گروہ بنتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک میں عالمگیریت کا عنصر موجود ہے۔ جبکہ انہیں ختم کر کے مسلم ممالک کی اسمبلیوں کے ذریعے اجتہاد و استنباط کا دروازہ کھولا جائے گا تو دیگر کئی قباحتوں کے علاوہ ایک بڑی قباحت یہ ہوگی کہ مسلم ممالک اور ان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کی تعداد کے حساب سے سینکڑوں نئے فقہی مذاہب وجود میں آجائیں گے جو سب کے سب علاقائی ہوں گے اور ملت اسلامیہ کی رہی سہی وحدت بھی پارہ پارہ ہو کر رہ جائے گی۔
جناب جاوید غامدی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ فتویٰ کے نظام کو ریاستی نظام کے تابع ہونا چاہیے اور علماء کو آزادانہ فتویٰ کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ فتویٰ کا معنی ہی کسی عالم دین کی آزادانہ رائے ہے، اسے اگر آزادی سے محروم کر دیا جائے تو وہ سرے سے فتویٰ ہی نہیں رہتا بلکہ قضا یا حکم کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے جواب میں معز امجد صاحب نے اپنے حالیہ مضمون میں ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں صرف اس فتویٰ پر اعتراض ہے جس میں فتویٰ کو قضا کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس لیے میرے خیال میں اس سلسلہ میں بحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اتنی وضاحت ضروری ہے کہ جہاں اسلامی حکومت قائم ہو اور شرعی قوانین کی عملداری کا نظام موجود ہو وہاں قضا کا متوازی نظام قطعی طور پر غلط اور خروج کے حکم میں ہوگا، لیکن جہاں مسلمانوں پر کافروں کا اقتدار ہو وہاں مسلمانوں کو قابل عمل حدود میں قضا کا داخلی نظام قائم کرنے کا حق حاصل ہے جیسا کہ اندلس کے شہر قرطبہ پر کفار کے تسلط کے بعد علامہ ابن الہمامؒ نے فتویٰ دیا تھا کہ:
’’قرطبہ جیسے شہر جہاں کافر والی بن جائیں تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے میں سے کسی پر متفق ہو کر اسے والی بنائیں جو ان کے لیے قاضی متعین کرے یا خود فیصلے کرے۔‘‘ (فتح القدیر)
اس طرح کا فتویٰ ’’فتاویٰ عالمگیریہ‘‘ میں بھی موجود ہے اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے جب ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا تو اس کے ساتھ مسلمانوں کو یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ جمعہ و عیدین اور دیگر شرعی احکام کی بجا آوری کے لیے اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر کریں۔
ہم نے عرض کیا تھا کہ دمشق پر تاتاریوں کی یلغار کے موقع پر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے جہاد کا فتویٰ دیا تھا جو کسی ریاستی نظام کے تحت نہیں بلکہ آزادانہ حیثیت سے تھا۔ اس لیے ہمارے ہاں یہ روایت موجود ہے کہ اگر حالات ایسی صورت اختیار کر لیں تو علماء کو حق حاصل ہے بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاد کا اعلان کریں اور امت کی عملی قیادت کریں۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب نے اس واقعہ کی کچھ تفصیلات بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ ابن تیمیہؒ نے یہ فتویٰ دے کر ریاستی نظام کو سہارا دیا تھا۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ اور نہ ہی اس سے ہمارے موقف میں کوئی فرق ہی پڑتا ہے۔ اصل بات اپنی جگہ قائم ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے یہ فتویٰ کسی ریاستی نظم کے تحت دیا تھا یا آزادانہ حیثیت سے اپنی دینی و علمی ذمہ داری سمجھتے ہوئے جہاد کا فتویٰ صادر کیا تھا؟ اس بات کی کوئی وضاحت ڈاکٹر صاحب نہیں کر سکے۔
ڈاکٹر محمد فاروق خان نے الجزائر کی جنگ آزادی کی تاریخ یوں بیان کی ہے کہ ۱۹۵۴ء میں محاذ حریت وطنی قائم ہوا۔ ۱۹۵۸ء میں قاہرہ میں فرحت عباس کی سربراہ میں الجزائر کی جلاوطن حکومت قائم ہوئی اور ۱۹۶۲ء میں الجزائر آزاد ہو گیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ ۱۹۴۰ء میں پاکستان کی قرارداد منظور کی گئی اور ۱۹۴۷ء میں پاکستان وجود میں آگیا اور اس کی پشت پر علماء کے مسلسل جہاد آزادی، بالاکوٹ اور شاملی کے معرکوں، قبائلی عوام کی جنگ، حاجی شریعت اللہؒ، سردار احمد خان کھرلؒ، حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور تیتومیرؒ کے معرکہ ہائے حریت اور لاکھوں علماء کرام اور عوام کی جانوں کی قربانیوں کو یوں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے ان واقعات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو۔ ڈاکٹر صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ الجزائر کی جنگ آزادی ۱۹۵۴ء میں شروع ہو کر صرف آٹھ سال میں منزل تک نہیں پہنچ گئی تھی بلکہ اس کے پیچھے لاکھوں مجاہدین آزای کا خون ہے اور ان میں وہ غریب مولوی بھی شامل ہیں جن کا نام لیتے ہوئے محترم غامدی صاحب کے شاگردوں کو نہ جانے کیوں حجاب محسوس ہوتا ہے۔ الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ اور الشیخ ابراہیمیؒ تو جہاد آزادی کے صف اول کے لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے باقاعدہ جہاد کا فتویٰ دے کر اور جمعیۃ العلماء الجزائر قائم کر کے جہاد میں حصہ لیا تھا۔ انہی علماء کی وجہ سے لاہور میں الجزائر کے جہاد آزادی کی حمایت میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قیادت میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی مہم چلائی گئی تھی۔ الجزائر کی آزادی کے بعد الشیخ ابراہیمیؒ لاہور تشریف لائے تھے جن کا شاندار استقبال کیا گیا تھا اور الشیخ بن بادیسؒ کی انہی خدمات کے اعتراف میں لاہور میونسپل کارپوریشن نے ایک سڑک کو بن بادیس روڈ کے نام سے موسوم کیا تھا۔
ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب نے جہاد افغانستان کے مختلف مراحل کا تذکرہ کیا ہے مگر کیا مجال کہ کسی غریب مولوی کا نام ان کی نوک قلم پر آنے پائے سوائے مولوی محمد یونس خالص کے کہ ان کا تذکرہ انجینئر گلبدین حکمت یار کی جماعت میں تفریق بیان کرنے کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔ حالانکہ مولوی محمد نبی محمدی، مولوی جلال الدین حقانی، مولوی نصر اللہ منصور اور مولوی ارسلان رحمانی جہاد آزادی کے عملی قائدین میں سے ہیں ۔جبکہ مولوی جلال الدین حقانی نے خوست چھاؤنی کی فتح میں اور مولوی ارسلان رحمانی نے ارگون چھاؤنی کی فتح میں مجاہدین کی خود کمان کی تھی۔ لیکن چونکہ مولویوں کے تذکرے سے جہاد کی شرعی حیثیت کا تاثر ابھرتا ہے اور ڈاکٹر صاحب اسے صرف جنگ آزادی کی حد تک دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے مولویوں کا تذکرہ ہی سرے سے غائب کر دیا ہے۔
ہمارا خیال ہے کہ اس بحث کو یہیں سمیٹ لیا جائے، اسی لیے اب تک دونوں طرف سے شائع ہونے والے کم و بیش سبھی مضامین یکجا شائع کیے جا رہے ہیں تاکہ اہل علم کو مطالعہ اور تجزیہ میں آسانی رہے۔ دونوں طرف کے دلائل سامنے آچکے ہیں، مزید تکرار کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے ہم بحث کو ختم کرتے ہوئے آخر میں محترم جاوید احمد غامدی اور ان کے شاگردان گرامی کی خدمت میں برادرانہ طور پر چند معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں:
’’میرے صحابی مثل ستاروں کے ہیں، ان میں سے جس کی اقتدا کر لو گے، ہدایت مل جائے گی۔‘‘
’’جن صحابہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اپنی عمریں گزاری تھیں اور آپؐ کے پاکیزہ اخلاق کے رنگ میں رنگ گئے تھے، جیسے خلفاء راشدینؓ، ازواجِ مطہراتؓ، عبادلہ (عبد اللہ بن مسعودؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن زبیرؓ، عبد اللہ بن عباسؓ)، حضرت انس ؓ، حضرت حذیفہؓ اور جو اُن کے طبقہ میں ہیں۔‘‘