مارچ ۲۰۰۱ء

امریکہ کا خدا بیزار سسٹممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علم کا مقام اور اہل علم کی ذمہ داریاںحضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی 
شراب ۔ انسان کی بد ترین دشمنحکیم محمود احمد ظفر 
فقہ اسلامی کے مآخذ قرآن مجید کی روشنی میںمحمد عمار خان ناصر 
افغانستان کے داخلی حالات پر ایک نظرڈاکٹر سلطان بشیر محمود 
اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے علما کا خاموش مظاہرہادارہ 
پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیاںادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

امریکہ کا خدا بیزار سسٹم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ فروری ۲۰۰۱ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا میں سینٹ کے ریاستی ارکان نے ایک یادگاری سکہ پر ’’ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘ کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں امریکہ کے قدیم باشندوں ’’ریڈ انڈین‘‘ کے اعزاز اور توقیر کے لیے ایک سلور ڈالر جاری کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس پر جنگلی بھینس کی تصویر کے ساتھ IN GOD WE TRUST (ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں) کے الفاظ کندہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ چاندی کا یہ یادگاری سکہ سکولوں میں بھی آویزاں کرنے کی تجویز ہے مگر ریاستی سینٹ کے ارکان نے سرکاری سکولوں میں یہ ماٹو آویزاں کرنے کے مسودہ قانون کو رد کر دیا ہے۔ خبرنگار کے تبصرہ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح امریکہ میں ریاست اور کلیسا کی علیحدگی کے آئینی تصور نے خدا کی ذات کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔

امریکہ کے آئین میں خدا، بائبل، کلیسا اور مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دے کر ریاستی معاملات میں ان کے کسی قسم کے تعلق یا مداخلت کی نفی کی گئی ہے اور اسی بنیاد پر کسی بھی ریاستی، قانونی یا اجتماعی معاملہ کے حوالے سے مذاہب کے ذکر کو وہاں پسند نہیں کیا جاتا بلکہ قانونی طور پر اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ اجتماعی معاملات میں خدا، بائبل، کلیسا اور مذہب کی دخل اندازی سے شہریوں کی آزادی رائے، خود مختاری اور اپنے فیصلے خود کرنے کا حق مجروح ہوتا ہے اس لیے مذہب اور اس کے متعلقات کو فرد کے ذاتی معاملات تک محدود رکھا جائے، ریاستی اور اجتماعی امور کے تعین پر صرف اور صرف سوسائٹی کا اختیار باقی رہنے دیاجائے اور سوسائٹی کی اکثریت کسی بھی معاملہ میں جو فیصلہ کر دے، اسے حرف آخر تصور کیا جائے۔ اسی فلسفہ اور تصور کا نام سیکولر ازم ہے اور یہ فلسفہ نہ صرف دنیا کی اکثر حکومتوں کے دساتیر کی بنیاد ہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے قواعد وضوابط اور فیصلوں کی پشت پر بھی اسی فلسفہ اور تصور کی کارفرمائی ہے۔

ہمارے ہاں عام طور پر ’’سیکولر ازم‘‘ کو ’’غیر فرقہ وارانہ حکومت‘‘ کے معنی میں پیش کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سیکولر ازم کی بنیاد مذہب کی نفی پر نہیں بلکہ اس سے مراد کسی ایک فرقہ پر دوسرے فرقہ کی بالادستی کو روکنا ہے اس لیے اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ محض ایک فریب کاری ہے اور اس کا اصل حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے کہ جس فلسفہ اور نظام میں خدا کے نام اور اس پر بھروسہ کے الفاظ کو محض علامتی طور پر کسی ماٹو میں بھی قبول کرنے کی گنجائش نہ ہو ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ مذہب یا اس کی کسی بنیاد کی نفی نہیں کرتا، بلکہ صرف رواداری کی تلقین کرتا ہے، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اس مسئلہ کو ایک اور زاویہ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ، سیکولر ممالک اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی طرف سے اجتماعی نظام اور دستور وقانون کے حوالے سے مسلم ممالک سے جو تقاضے کیے جا رہے ہیں اور ان کے سامنے جو ایجنڈا اب تک پیش کیا گیا ہے، اس میں صرف فرقہ وارانہ رواداری کے معاملات شامل نہیں ہیں بلکہ ریاستی نظام کو مذہب اور مذہبی اقدار سے کلیتا لا تعلق کردینے کے مطالبات بھی اس ایجنڈے کا حصہ ہیں اور پارلیمنٹ کے غیر مشروط اختیارات اور قانون سازی میں عوامی نمائندوں کو فائنل اتھارٹی قرار دینے کا تصور ریاستی نظم سے مذہب کو بے دخل کر دینے ہی کا دوسرا رخ ہے۔

مذکورہ خبر میں ’’ریڈ انڈین‘‘ کا بھی تذکرہ ہے جن کی توقیر اور اعزاز کے لیے یہ یادگاری سکہ جاری کیا جا رہا ہے۔ ’’ریڈ انڈین‘‘ امریکہ کے اصل اور قدیمی باشندے ہیں۔ جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تو امریکہ بالکل غیر آباد براعظم نہیں تھا بلکہ وہاں پہلے سے انسان آباد تھے حتی کہ اب یہ بات تحقیقی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ عرب اور مسلمان کولمبس سے بہت پہلے امریکہ پہنچ چکے تھے لیکن اسی دور میں اندلس کی اسلامی ریاست کے خاتمہ اور صلیبی قوتوں کے تسلط کے باعث امریکہ میں بھی مسلمانوں کے بجائے عیسائی یورپیوں نے قبضہ جما لیا اور پھر امریکہ یورپی آباد کاروں ہی کا ملک بن کر رہ گیا حتی کہ امریکہ کی اصل آبادی کو بھی ان یورپیوں نے ’’ریڈ انڈین‘‘ کا نام دے کر اچھوت بنا دیا اور رفتہ رفتہ پورے نظام سے بے دخل کر دیا۔ ’’ریڈ انڈین’’ آج بھی امریکہ میں موجود ہیں لیکن امریکی نظام میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں اور انہیں ان کے جائز حقوق دینے کے بجائے ان کے اعزاز وتوقیر کے لیے ’’یادگاری سکے‘‘ جاری کر کے انہیں بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بہرحال یہ امریکہ کے ’’خدا بیزار سسٹم‘‘ کی ایک جھلک ہے جسے بین الاقوامی فلسفہ اور ورلڈ سسٹم کے نام پر پوری دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن قرآن وسنت کی ابدی اور آفاقی تعلیمات پر یقین رکھنے والے مسلمانوں اور اہل دین کے ہوتے ہوئے یہ خواب کبھی تعبیر کی منزل حاصل نہیں کر سکے گا۔

علم کا مقام اور اہل علم کی ذمہ داریاں

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

(اکتوبر ۱۹۸۱ء میں کشمیر یونیورسٹی سری نگر نے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی قدس اللہ سر ہ العزیز کو ’’ڈاکٹر آف لٹریسی‘‘ کی اعزازی ڈگری پیش کی۔ اس موقع پر منعقد ہونے والے کانووکیشن سے حضرت مولانا ندوی رحمہ اللہ تعالی نے جو فکر انگیز خطاب فرمایا، وہ اہل علم کے استفادہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)


جناب چانسلر صاحب (بی کے نہرو، گورنر کشمیر)، پرو چانسلر صاحب (شیخ محمد عبد اللہ، چیف منسٹر کشمیر)، وائس چانسلر صاحب (ڈاکٹر وحید الدین ملک) ،اساتذۂ جامعہ، فضلاء کرام اور معزز حاضرین!

میرا عقیدہ ہے کہ علم ایک اکائی ہے جو بٹ نہیں سکتی۔ اس کو قدیم وجدید، مشرقی ومغربی، نظری وعملی میں تقسیم کرنا صحیح نہیں اور جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا ہے

دلیل کم نظری قصہء جدید وقدیم

میں علم کو ایک صداقت مانتا ہوں جو خدا کی وہ دین ہے جو کسی ملک وقوم کی ملک نہیں اور نہ ہونی چاہئے۔ مجھے علم کی کثرت میں بھی وحدت نظر آتی ہے۔ وہ وحدت سچائی ہے، سچ کی تلاش ہے، علمی ذوق ہے، اور اس کو پانے کی خوشی ہے۔ اس کے باوجود میں جناب چانسلر صاحب، وائس چانسلر صاحب اور اس جامعہ کے ذمہ داروں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے ایک علمی اعزاز کے لیے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جس کا انتساب اور تعلق قدیم طرز تعلیم سے ہے۔

میں علم، ادب، شاعری، فلسفہ ،حکمت کسی میں اس اصول کا قائل نہیں ہوں کہ جو اس کی وردی پہن کر آئے، وہی عالم اور دانش ور ہے اور یہ مان لیا گیا ہے کہ جس کے جسم پر وردی نہ ہو، وہ نہ مستحق خطاب ہے نہ لائق سماعت۔ بد قسمتی سے ادب وشاعری میں بھی یہی حال ہے۔ جو ادب کی دکان نہ لگائے، اور اس پر ادب کا سائن بورڈ آویزاں نہ کرے، اور ادب کی وردی پہن کر ادبی محفل میں نہ آئے، وہ ’’بے ادب‘‘ ہے۔ لوگوں نے ان پیدائشی ادیبوں اور شاعروں کا قصور کبھی معاف نہیں کیا جن کے جسم پر وہ وردی دکھائی نہ دیتی ہو یا جن کو بد قسمتی سے ان وردیوں میں سے کوئی وردی نہ مل سکی ہو۔ میں علم کی آفاقیت اور علم کی تازگی کا قائل ہوں، جس میں خدا کی رہنمائی ہر دور میں شامل رہی ہے۔ اگر خلوص ہے اور سچی طلب ہے تو خدا کی طرف سے کسی وقت فیضان میں کمی نہیں۔

حضرات !

اس موقر دانش گاہ کے جلسہ تقسیم اسناد میں جو فلک بوس ہمالیہ کی ایک سرسبز وحسین وادی میں منعقد ہو رہا ہے، مجھے بے اختیار وہ واقعہ یاد آتا ہے جو عرب کے ایک خشک علاقہ میں ایک پہاڑ پر جو نہ بلند تھا اور نہ سرسبز،تقریبا چودہ سو سال پہلے پیش آیا تھا اور جس نے تاریخ انسانی ہی نہیں بلکہ تقدیر انسانی پر ایسا گہرا اور لازوال اثر ڈالا ہے جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی اور جس کا اس ’’لوح وقلم‘‘ سے خاص تعلق ہے جس پر علم وتہذیب اور تحقیق وتصنیف کی اساس ہے اور جس کے بغیر نہ یہ عظیم دانش گاہیں وجود میں آتیں اور نہ یہ وسیع کتب خانے جن سے دنیا کی زینت اور زندگی کی قدر وقیمت ہے۔میری مراد پہلی وحی کے واقعہ سے ہے جو ۱۲ فروری ۶۱۱ء کے لگ بھگ نبی عربی محمد ﷺ پر مکہ کے قریب غار حرا میں نازل ہوئی۔ اس کے الفاظ یہ تھے:

اقرا باسم ربک الذی خلق ۔ خلق الانسان من خلق ۔ اقرا وربک الاکرم ۔ الذی علم بالقلم ۔ علم الانسان ما لم یعلم(سورہ علق، ۱ تا ۵)

(اے محمد) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا ۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔

خالق کائنات نے اپنی وحی کی اس پہلی قسط اور باران رحمت کے اس پہلے چھینٹے میں بھی اس حقیقت کے اعلان کو موخر وملتوی نہیں فرمایا کہ علم کی قسمت سے وابستہ ہے غار حرا کی اس تنہائی میں جہاں ایک نبی امی اللہ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لیے پیغام لینے گیا تھا اور جس کا یہ حال تھا کہ اس نے قلم کو حرکت دینا خود بھی نہیں سیکھا تھا، جو قلم کے فن سے یکسر واقف نہ تھا۔ کیا دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر کہیں مل سکتی ہے؟ اور اس بلندی کا تصور بھی ہو سکتا ہے کہ اس نبی امی پر ایک امت امی اور ایک ناخواندہ ملک کے درمیان (جہاں جامعات اور دانش گاہیں تو بڑی چیز ہیں، حرف شناسی بھی عام نہیں تھی) پہلی بار وحی نازل ہوتی ہے اور آسمان وزمین کا رابطہ صدیوں بعد قائم ہوتا ہے تو اس کی ابتدا ہوتی ہے اقرا سے۔ جو خود پڑھا ہوا نہیں تھا، اس پر جو وحی نازل ہوتی ہے، اس میں اس کو خطاب کیا جاتا ہے کہ پڑھو۔ یہ اشارہ تھا اس طرف کہ آپ کو جو امت دی جانے والی ہے، وہ امت صرف طالب علم ہی نہ ہوگی بلکہ معلم عالم اور علم آموز ہوگی۔ وہ علم کی اس دنیا میں اشاعت کرنے والی ہوگی۔ جو دور آپ کے حصے میں آیا ہے، وہ دور امیت کا نہیں ہوگا، وہ دور وحشت کا دور نہیں ہوگا، وہ دور جہالت کا دور نہیں ہوگا، وہ دور علم دشمنی کا دور نہیں ہوگا ،وہ دور علم کا دور ہوگا، عقل کا دور ہوگا، حکمت کا دور ہوگا، تعمیر کا دور ہوگا، انسان دوستی کا دور ہوگا، وہ دور ترقی کا دور ہوگا۔

باسم ربک الذی خلق (اس پروردگار کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا) بڑی غلطی یہ تھی کہ علم کا رشتہ رب سے ٹوٹ گیا تھا اس لیے علم سیدھے راستے سے ہٹ گیا تھا۔ اس ٹوٹے ہوئے رشتہ کو یہاں جوڑا گیا۔ جب علم کو یاد کیا گیا، اس کو یہ عزت بخشی گئی تو اس کے ساتھ ساتھ اس کی بھی آگاہی دی گئی کہ اس علم کی ابتدا اسم رب سے ہونی چاہئے اس لیے کہ علم اسی کا دیا ہوا ہے، اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اسکی رہنمائی میں یہ متوازن ترقی کر سکتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی انقلاب آفریں، انقلاب انگیز اور صاعقہ آسا آواز تھی جو ہماری دنیا کے کانوں نے سنی تھی، جس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ اگر دنیا کے ادیبوں اور دانش وروں کو دعوت دی جاتی کہ آپ لوگ قیاس کیجئے کہ جو وحی نازل ہونے والی ہے، اس کی ابتدا کس چیز سے ہوگی؟ اس میں کس چیز کو اولیت دی جائے گی تو میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے ایک آدمی بھی جو اس امی قوم اور اس کے مزاج اور دماغ سے واقف تھا، یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اقرا کے لفظ سے شروع ہوگی۔

یہ ایک انقلاب انگیز دعوت تھی کہ علم کا سفر خدائے حکیم وعلیم کی رہنمائی میں شروع کیا جا نا چاہئے اس لیے کہ یہ سفر بہت طویل، پر پیچ اور بہت پر خطر ہے ۔ یہاں دن دہاڑے قافلے لٹتے ہیں، قدم قدم پر مہیب وعمیق گھاٹیاں ہیں، گہرے دریا ہیں، قدم قدم پر سانپ اور بچھو ہیں، اس لیے اس میں ایک رہبر کامل کی رفاقت ہونی چاہئے اور وہ رہبر کامل حقیقتا خدا کی ذات ہے۔ مجرد علم وادب نہیں، وہ علم مقصود نہیں جو بیل بوٹے بنانے کا نام ہے، جو محض کھلنوں سے کھیلنے کا نام ہے۔وہ علم نہیں جو محض دل بہلانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جو ایک کو دوسرے سے لڑانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جو قوموں کو قوموں سے ٹکرانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جو اپنے معدہ کی خندق کو بھرنے کا ذریعہ سکھانے کا نام ہے، وہ علم نہیں جوزبان کو صرف استعمال کرنا سکھاتا ہے، بلکہ اقرا باسم ربک الذی خلق ۔ خلق الانسان من علق ۔ اقرا وربک الاکرم ۔ الذی علم بالقلم ۔ علم الانسان ما لم یعلم ’’پڑھو، تمہارا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ وہ تمہاری ضرورتوں سے، تمہاری کمزوریوں ے کیسے ناآشنا ہو سکتا ہے؟ اقرا وربک الاکرم ۔ الذی علم بالقلم آپ خیال کیجئے کہ قلم کا رتبہ اس سے زیادہ کس نے بڑھایا ہوگا کہ اس غار حرا کی پہلی وحی نے بھی قلم کو فراموش نہیں کیا۔ وہ قلم جو شاید ڈھونڈنے سے بھی مکہ کیکسی گھر میں نہ ملتا۔ اگر آپ اسے تلاش کرنے کے لیے نکلتے تو شاید معلوم نہیں کسی ورقہ بن نوفل کے یا کسی کاتب کے جو دیار عجم سے کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ کر آیا ہو، گھر میں ملتا۔

اور پھر ایک بہت بڑی انقلاب انگیز اور لافانی حقیقت بیان کی کہ علم کی کوئی انتہا نہیں۔ علم الانسان ما لم یعلم ۔انسان کو سکھایا جس کا اس کو پہلے سے علم نہ تھا۔ سائنس کیا ہے؟ ٹیکنالوجی کیا ہے؟ انسان چاند پر جا رہا ہے، خلا کو ہم نے طے کر لیا ہے، دنیا کی طنابیں کھینچ لی ہیں، یہ سب علم الانسان ما لم یعلم کا کرشمہ نہیں تو کیا ہے؟

حضرات !

اجازت دیجئے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر وادئ علم کے ایک مسافر کی حیثیت سے کچھ مشورے، کچھ تجربے پیش کروں۔

جامعات کا پہلا کام سیرت سازی ہے۔ یونیورسٹی ایسا کیرکٹر بنائے جو اپنے ضمیر کو بقول اقبال ایک کف جو کے بدلے میں بیچنے کے لیے تیار نہ ہو۔ آج کل کے فلسفے اور نظام یہ سمجھتے ہیں کہ اس بازار میں سب کی قیمت مقرر ہے ، کوئی اگر کم قیمت پر نہیں خریدا جا سکتا تو زیادہ قیمت پر خرید لیا جائے گا۔ ایک جامعہ کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ وہ سیرت سازی کا کام کرے۔ وہ ایسے صاحب علم افراد پیدا کرے جو اپنے ضمیر کا سودا نہ کر سکیں، جن کو دنیا کی کوئی طاقت، کوئی تخریبی فلسفہ، کوئی غلط دعوت وتحریک کسی دام خرید نہ سکے، جو اقبال کے الفاظ میں پورے اعتماد وافتخار کے ساتھ کہہ سکیں

کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں
غلام طغرل وسنجر نہیں میں
جہاں بینی مری فطرت ہے لیکن
کسی جمشید کا ساغر نہیں میں

دوسرا فرض یہ ہے کہ ہماری جامعات سے ایسے نوجوان نکلیں جو اپنی زندگیاں حق وصداقت اور علم وہدایت کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، جن کو کسی کے لیے بھوکا رہنے میں وہ لذت آئے جو کسی کو پیٹ بھر کر کھانے اور نائے ونوش میں آتی ہے، جن کو کھونے میں وہ مسرت حاصل ہو جو بعض اوقات کسی کو پانے میں نہیں ہوتی، جو اپنی جوانی کی بہترین توانائیاں، ذہن کی بہترین صلاحیتیں اور اپنے جامعہ کا بہترین عطیہ جس سے ان کی جھولی بھر دی گئی ہے، انسانیت کو تباہی سے بچانے کے لیے صرف کریں۔

دانش گاہوں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ اعلی صلاحیت کے لوگ کتنی تعداد میں پیدا کر رہی ہیں؟ میں صفائی سے کہتا ہوں کہ اب کسی ملک کی یہ تعریف نہیں کہ وہاں بڑی تعداد میں یونیورسٹیاں ہیں، یہ کوتاہ نظری اب بہت پرانی ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ علم کے شوق میں، جستجو کی راہ میں، علم واخلاق کے پھیلانے اور برائیوں، بد اخلاقیوں، سفاکی ودرندگی، دولت وقوت کی پرستش کو روکنے کے لیے کتنے آدمی اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں، اپنی قوم کو صاحب شعور، مہذب اور باضمیر قوم بنانے کے لیے کتنی تعداد میں نوجوان موجود ہیں جو اپنی ذاتی سربلندی اور ترقی سے آنکھیں بند کر کے اس مقصد کے لیے اپنے کو وقف کرتے ہیں۔ اصل معیار یہ ہے کہ کتنے نوجوان ایسے ہیں جو دنیا کی تمام آسائشوں اور ترقیوں سے آنکھیں بند کر کے کسی گوشے میں ٹھوس علمی وتعمیری کام کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ادب، شاعری، فنون لطیفہ، حکمت وفلسفہ، تصنیف وتالیف سب کا مقصد یہ ہے کہ ملک وملت میں ایک نئی زندگی اور روح پیدا ہو اور وہ سراب کی نمود اور شعلہ کی بھڑک نہ ہو۔ میں اس وقت ترجمان حقیقت ڈاکٹر محمد اقبال کے یہ شعر پڑھوں گا جو انہوں نے اگرچہ کسی ادیب یا شاعر سے مخاطب ہو کر کہے تھے لیکن یہ علم وادب، فلسفہ وحکمت سب پر صادق آتے ہیں:

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا
مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا
شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا

حضرات!

اب آخر میں مجھے اپنے ان قابل مبارک باد بھائیوں سے جو یہاں سے سند لے کے جا رہے ہیں، یا ان خوش نصیب عزیزوں سے جو ابھی اس چمن علم کی خوشہ چینی میں مصروف ہیں، کچھ کہنے کی اجازت دیجئے۔ میں اپنی بات کہنے میں (جو شاید کسی قدر خشک اور سنجیدہ ہو) ایک دلچسپ کہانی کا سہارا لوں گا، جو شاید آپ کے کانوں کا ذائقہ تبدیل کرنے میں مدد کرے۔

راوی صادق البیان کہتا ہے کہ ایک بار چند طلبا تفریح کے لیے ایک کشتی پر سوار ہوئے۔ طبیعت موج پر تھی، وقت سہانا تھا، ہوا نشاط انگیز اور کیف آور تھی اور کام کچھ نہ تھا۔ یہ نوعمر طلبا خاموش کیسے بیٹھ سکتے تھے۔ جاہل ملاح دلچسپی کا اچھا ذریعہ اور فقرہ بازی، مذاق وتفریح طبع کے لیے بے حد موزوں تھا۔ چنانچہ ایک تیز طرار صاحبزادے نے اس سے مخاطب ہو کر کہا ’’چچا میاں آپ نے کون سے علوم پڑھے ہیں؟‘‘

ملاح نے جواب دیا ’’میاں میں نے کچھ پڑھا لکھا نہیں‘‘

صاحبزادہ نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا ’’ارے آپ نے سائنس نہیں پڑھی؟‘‘

ملاح نے کہا ’’میں نے تو اس کا نام بھی نہیں سنا‘‘

دوسرے صاحبزادہ بولے ’’جیومیٹری اور الجبرا تو آپ ضرور جانتے ہوں گے؟’’

ملاح نے کہا ’’حضور یہ نام میرے لیے بالکل نئے ہیں‘‘

اب تیسرے صاحبزادے نے شوشہ چھوڑا ’’مگر آپ نے جیوگرافی اور ہسٹری تو پڑھی ہی ہوگی؟’’

ملاح نے جواب دیا ’’سرکار یہ شہر کے نام ہیں یا آدمی کے؟‘‘

ملاح کے اس جواب پر لڑکے اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکے اور انہوں نے قہقہہ لگایا۔ پھر انہوں نے پوچھا ’’چچا میاں تمہاری عمر کیا ہوگی؟’’ ملاح نے بتایا ’’یہی کوئی چالیس سال‘‘ لڑکوں نے کہا ’’آپ نے اپنی آدھی عمر برباد کی اور کچھ پڑھا لکھا نہیں‘‘

ملاح بے چارہ خفیف سا ہو کر رہ گیا اور چپ سادھ لی۔

قدرت کا تماشا دیکھئے کہ کشتی کچھ ہی دور گئی تھی کہ دریا میں طوفان آ گیا، موجیں منہ پھیلائے ہوئے بڑھ رہی تھیں اور کشتی ہچکولے لے رہی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اب ڈوبی تب ڈوبی۔ دریا کے سفر کا لڑکوں کا پہلا تجربہ تھا، ان کے اوسان خطا ہو گئے، چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ اب جاہل ملاح کی باری آئی۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے منہ بنا کر پوچھا، بھیا تم نے کون کون سے علم پڑھے ہیں؟

لڑکے اس بھولے بھالے جاہل ملاح کا مقصد نہیں سمجھ سکے اور کالج یا مدرسہ میں پڑھے ہوئے علوم کی لمبی فہرست گنانی شروع کر دی اور جب وہ یہ بھاری بھرکم اور مرعوب کن نام گنا چکے تو اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا ’’ٹھیک ہے، یہ سب تو پڑھا لیکن کیا پیراکی بھی سیکھی ہے؟ اگر خدا نخواستہ کشتی الٹ جائے تو کنارے کیسے پہنچ سکو گے؟ ‘‘ لڑکوں میں کوئی پیرنا نہیں جانتا تھا، انہوں نے بہت افسوس کے ساتھ جواب دیا ’’چچا جان یہی ایک علم ہم سے رہ گیا تھا، ہم اسے نہیں سیکھ سکے‘‘

لڑکوں کا جواب سن کر ملاح زور سے ہنسا اور کہا ’’میاں میں نے تو اپنی آدھی عمر کھوئی مگر تم نے تو پوری عمر ڈبوئی اس لیے کہ اس طوفان میں تمہارا پڑھا لکھا کام نہ آئے گا، آج پیراکی ہی تمہاری جان بچا سکتی ہے اور وہ تم جانتے ہی نہیں۔‘‘

آج بھی دنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں جو بظاہر دنیا کی قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں، صورت حال یہی ہے کہ زندگی کا سفینہ گرداب میں ہے، دریا کی موجیں خونخوار نہنگوں کی طرح منہ پھیلائے ہوئے بڑھ رہی ہیں، ساحل دور ہے او رخطرہ قریب، لیکن کشتی کے معزز ولائق سواریوں کو سب کچھ آتا ہے مگر ملاحی کا فن اور پیراکی کا علم نہیں آتا۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے سب کچھ سیکھا ہے، لیکن بھلے مانسوں، شریف، خدا شناس اور انسانیت دوست انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کا فن نہیں سیکھا۔ اقبال نے اپنے ان اشعار میں اسی نازک صورت حال اور اس عجیب وغریب تضاد کی تصویر کھینچی ہے جس کا اس بیسویں صدی کا مہذب اور تعلیم یافتہ فرد بلکہ معاشرہ کا معاشرہ شکار ہے:

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم وپیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع وضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

شریفانہ انسانی زندگی گزارنے کا بنیادی فن خدا ترسی، انسان دوستی، ضبط نفس کی ہمت وصلاحیت، ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے کی عادت، انسانیت کا احترام، انسانی جان ومال، عزت وآبرو کے تحفظ کا جذبہ، حقوق کے مطالبہ پر ادائے فرض کو ترجیح، مظلوموں اور کمزوروں کی حمایت وحفاظت اور ظالموں اور طاقت وروں سے پنجہ آزمائی کا حوصلہ، ان انسانوں سے جو دولت وجاہت کے سوا کوئی جوہر نہیں رکھتے، عدم مرعوبیت وبے خوفی، ہر موقع پر اور خود اپنی قوم ،اپنی جماعت کے مقابلے میں کلمہ حق کہنے کی جرات، اپنے اور پرائے کے معاملہ میں انصاف کی ترازو کی تول، کسی دانا وبینا طاقت کی نگرانی کا یقین اور اس کے سامنے جواب دہی اور حساب کا کھٹکا، یہی صحیح ،خوشگواروبے خطر اور کامیاب زندگی گزارنے کی بنیادی شرطیں اور ایک اچھے وخوش اسلوب معاشرہ اور ایک طاقتور ومحفوظ وباعزت ملک کی حقیقی ضرورتیں اور اس کے تحفظ کی ضمانتیں ہیں۔ اس کی تعلیم اور اس کے لیے مناسب ماحول مہیا کرنا دانش گاہوں کا اولین فرض اور اس کا حصول تعلیم یافتہ نسل اور ملک کے دانش وروں کی پہلی ذمہ داری ہے، اور ہم کو اس جیسے تمام مواقع پر دیکھنا چاہئے کہ اس کام کی تکمیل میں ہماری دانش گاہیں کتنی کامیاب اور ان کے سند یافتہ افراد وفضلا کتنے قابل مبارک باد ہیں اور آئندہ ان مقاصد کے حصول اور تکمیل کے لیے ہم کیا عزائم رکھتے ہیں، اور ہم نے کیا انتظامات سوچے ہیں۔

آخر میں، میں پھر آپ کی عزت افزائی، اعتماد اور جذبہ محبت واحترام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس کا آپ نے اپنے اس اقدام کی شکل میں اظہار فرمایا ہے۔

شراب ۔ انسان کی بد ترین دشمن

حکیم محمود احمد ظفر

شراب انسان کی بد ترین دشمن ہے۔اسی وجہ سے قرآن حکیم نے اس کو حرام قرار دیا اور لوگوں کو اس سے اجتناب کا حکم فرمایا۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ہے:

یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما۔ (البقرہ ۲۲۰)

لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بڑا گناہ ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدہ بھی ہے لیکن ان کا گناہ ان کے فائدہ سے بہت زیادہ ہے۔

دنیا میں صحت کے مشہور ماہر پروفیسرہرش(HIRSCH) نے اس موضوع پر لکھی گئی اپنی کتاب میں کہا ہے:

’’شراب پر پابندی جو مہذب دنیا کا سب سے بڑا ملک امریکہ پندرہ سال تک لاگو نہ کر سکا، وہ اسلام نے گزشتہ چودہ صدیوں میں لاگو کر رکھی ہے اور اس طریقہ سے اس نے تہذیب وتمدن اور انسانیت کو بہت پہلے سے بچا رکھا ہے‘‘

قرآن حکیم میں شراب پر پابندی تین مقامات پر آئی ہے۔ ان میں سے ایک سورہ بقرہ ہے جس میں سے اوپر کی آیت نقل کی گئی ہے۔ دوسرا مقام جو شراب کی پابندی سے متعلق ہے، وہ سورۃ النساء کی آیت ۴۳ ہے اور تیسری جگہ یہ پابندی سورۃ المائدہ آیت ۹۰، ۹۱ میں بیان کی گئی ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک شراب پر پابندی قرآن حکیم میں بتدریج نافذ ہوئی جب کہ بعض علما کاخیال ہے کہ یہ تینوں مقامات بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔ اگرچہ بظاہر ان کے بیانات الگ الگ محسوس ہوتے ہیں، لیکن دراصل معنی کے نقطہ نظر سے ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان تینوں سورتوں میں اپنے اپنے انداز میں شراب پر پابندی ہی لگائی گئی ہے البتہ شراب سے پیدا ہونے والے خطرات اور نقصانات کو الگ الگ انداز اور طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ المائدہ میں دس دلیلوں سے شراب کو حرام کیا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی نفرت جم جائے۔ چنانچہ فرمایا:

یا ایھا الذین آمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون ۔ انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون۔ (المائدہ : ۹۰، ۹۱)

اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے چڑھاوں کی جگہ اور فال نکالنے والے تیر ناپاک اور شیطانی کاموں میں سے ہیں، ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ شراب اور جوئے کی وجہ سے تمہارے مابین بغض وعداوت پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے۔ پس کیا تم بازآنے والے ہو؟

اس آیت میں درج ذیل دس دلائل سے شراب کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے:

۱۔ شراب کا ذکر جوئے، انصاب اور ازلام کے ساتھ کیا۔ یہ تینوں چیزیں چونکہ حرام ہیں لہذا شراب بھی حرام ہے۔

۲۔ شر اب نوشی کو رجس (ناپاک) کہا گیا اور ہر ناپاک شے حرام ہے۔

۳۔ شراب نوشی کو شیطانی کام فرمایا اور ہر شیطانی کام حرام ہے۔

۴۔ شراب نوشی سے اجتناب کا حکم فرمایا لہذا اجتناب فرض وواجب اور اس کا ارتکاب حرام ہوا۔

۵۔ آخرت ودنیا کی کامیابی اور فلاح کو شراب سے اجتناب پر منحصر کیا لہذا ارتکاب حرام ہوا۔

۶۔ شراب کو شیطان کی طرف سے عداوت کا سبب قرار دیا اور حرام کا سبب بھی حرام ہوتا ہے۔

۷۔ شراب کی وجہ سے شیطان بغض پیدا کرتا ہے اور بغض حرام ہے۔

۸۔ شراب اللہ کے ذکر سے روکنے کا سبب بنتی ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنا حرام ہے۔

۹۔ شراب نماز سے روکتی ہے اور نماز سے روکنا حرام ہے۔

۱۰۔ اللہ تعالی نے انتہائی بلیغ ممانعت فرماتے ہوئے استفہاماً فرمایا ہے: ’’تو کیا تم شراب نوشی سے باز آنے والے ہو؟‘‘

سیدہ بریدہؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ اس وقت شراب پینا حلال تھا۔ اچانک میں اٹھا اور سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام عرض کیا۔ اس وقت شراب کی حرمت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے آخر میں تھا کہ ’’کیا تم باز آنے والے ہو؟‘‘ میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان کو یہ دو آیات سنائیں۔ بعض کے ہاتھ میں شراب کا پیالہ تھا جس سے انہوں نے شراب پی لی تھی اور بعض کی شراب ابھی برتن میں موجود تھی۔ انہوں نے پیالے میں شراب زمین پر انڈیل دی اور کہنے لگے : ’’اے ہمارے رب ! ہم باز آ گئے۔ اے ہمارے رب ! ہم باز آ گئے‘‘ (تفسیر طبری ج ۷ ،ص ۴۷۔ السنن الکبری للبیہقی ج ۸، ص ۲۸۵۔ المستدرک للحاکم ج ۱، ص ۱۴۱)

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن حکیم میں ان تینوں سورتوں میں مختلف انداز سے شراب نوشی سے روکا گیا اور اس کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ اسلام میں ہر ناپاک اور حرام شے سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے۔

احادیث نبویہ میں شراب کی مذمت اور وعید

اسی طرح سرکار دو عالم ﷺ نے بھی شراب کے بارے میں بڑی وعیدیں سنائی ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

۱۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’زنا کرتے وقت زانی میں ایمان کامل نہیں ہوتا اور شراب پیتے وقت شرابی میں ایمان کامل نہیں ہوتا اور چوری کرتے وقت چور میں ایمان کامل نہیں ہوتا‘‘ (بخاری ج ۲، ص ۸۳۶۔ نسائی، حدیث نمبر ۵۶۷۵۔ مسلم، حدیث نمبر ۱۰۱)

۲۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس نے دنیا میں شراب پی، وہ آخرت میں (جنت کی شراب طہور) سے محروم رہے گا‘‘ (بخاری ج ۲، ص ۸۳۶)

۳۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمرو ابن العاصؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جس شخص نے شراب پی، چالیس روز تک اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ پھر اگر وہ دبارہ شراب پیے تو اللہ تعالی پھر چالیس روز تک اس کی توبہ قبول نہیں فرماتے۔ پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں۔ پھر اگر وہ شراب پیے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کو دوزخیوں کی پیپ پلائے۔‘‘ (نسائی، حدیث نمبر ۵۶۸۶۔ ابن ماجہ ، حدیث نمبر ۳۳۷۷)

۴۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمرو بن العاصؓ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا، نہ والدین کا نافرمان اور نہ شراب کا پینے والا‘‘ (نسائی ، حدیث نمبر ۵۶۸۸)

۵۔ سیدنا ابو مالک اشعریؓ فرماتے ہیں کہ سید دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلات موسیقی کو حلال کہیں گے۔ اور عنقریب کچھ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہیں گے۔ جب را ت کو وہ اپنے جانوروں کا ریوڑ لے کر واپس لوٹیں گے اور ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت لے کر آئے گا تو وہ اس سے کہیں گے، کل آنا۔ اللہ تعالی پہاڑ گرا کر ان کو ہلاک کر دے گا۔ اور دوسرے لوگوں یعنی زنا، شراب اور آلات موسیقی کو حلال کہنے والوں کو مسخ کر کے قیامت کے روز بندر اور سور بنا دے گا‘‘ (بخاری، ج ۲، ص ۸۳۷)

۶۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی نے شراب پر لعنت فرمائی ہے، اور شراب پینے والے پر، شراب پلانے والے پر، شراب فروخت کرنے والے پر، شراب خریدنے والے پر، شراب کو انگوروں سے نچوڑنے والے پر، اس کو بنانے والے پر، اس کو لادنے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس لاد کر لے جائی جائے‘‘ (سنن ابی داؤد، ج ۲، ص ۱۶۱)

۷۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ہر وہ شے جو عقل کو ڈھانپ لے، وہ شراب ہے اور ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ اور جس شخص نے کسی نشہ آور شے کو پیا، اس کی چالیس روز کی نمازیں ناقص ہو جائیں گی اور اگر توبہ کی تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرما لے گا اور اگر اس نے چوتھی بار شراب پی تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اس کو طینۃ الخیال سے پلائے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ طینۃ الخیال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دوزخیوں کی پیپ۔‘‘ (ابو داؤد ج ۲، ص ۱۶۲)

۸۔ عروہ بن رویم بیان کرتے ہیں کہ ابن الدیلمی سوار ہو کر سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کی تلاش میں گئے۔ جب ان کے پاس پہنچے تو کہا : ’’اے عبد اللہ بن عمرو، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے شراب کے بارے میں کچھ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا : ہاں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جو شخص شراب پیے گا، اللہ تعالی اس کی چالیس روز کی نمازیں قبول نہیں فرمائے گا‘‘ (سنن نسائی، حدیث نمبر ۵۶۸۰۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر ۳۳۷۷)

۹۔ سیدنا معاویہؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص شراب پیے، اس کو کوڑے مارو۔ اگر وہ چوتھی دفعہ پیے تو اس کو قتل کر دو‘‘ (ترمذی ص ۲۲۸)

۱۰۔ سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ شراب سے اجتناب کرو۔ یہ تمام گناہوں کی اصل ہے۔ تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص جو نہایت عبادت گزار تھا، اس پر ایک بدکار عورت فریفتہ ہو گئی۔ اس نے اپنی لونڈی بھیج کر اس کو کسی بہانے سے بلایا۔ جب وہ عبادت گزار شخص اس کے پاس پہنچا تو اس نے دروازہ بند کر دیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں ایک حسین وجمیل عورت ہے، ایک لڑکاہے اور ایک شراب کا برتن ہے۔ اس بدکار عورت نے اس سے کہا : ’’خدا کی قسم ! میں نے تم کو گواہی کے لیے نہیں بلایا بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم میری خواہش نفس پوری کر و یا اس شراب کو پیو یا اس لڑکے کو قتل کر دو۔‘‘ اس عابدنے (شراب کو کم تر گناہ سمجھتے ہوئے) کہا : مجھے اس شراب سے ایک پیالہ پلا دو۔ اس عورت نے اس کو ایک پیالہ شراب پلائی۔ اس نے کہا، اور پلاؤ۔ (اسی شراب کی مدہوشی میں) پھر اس نے ا س عورت سے بد کاری کی اور اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ سو تم شراب سے اجتناب کرو کیونکہ خدا کی قسم ! شراب نوشی کے ساتھ ایمان باقی نہیں رہتا ‘‘ (سنن نسائی، حدیث نمبر ۵۶۸۲)

ان احادیث کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن میں شراب نوشی پر وعید بیان کی گئی ہے، لیکن طوالت کے خوف سے ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

شراب کے نقصانات

سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱۹ میں بطور خاص شراب کی خرابیاں مادی اور روحانی پہلو سے بھی بیان کی گئی ہیں کیونکہ قرآن حکیم نے نفع کے مقابلہ میں نقصان کا لفظ استعمال نہیں فرمایا بلکہ اثم کا لفظ استعمال کیا جس سے بتانا یہ مقصود تھا کہ اگرچہ دنیوی طور پر تم لوگوں کو اس کے کچھ فوائد نظر آئیں لیکن یاد رکھو اللہ تعالی کے ہاں شراب نوشی کا گناہ اس قدر زیادہ ہے کہ یہ دنیوی فوائد اس کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔لیکن اگر شراب نوشی کا سائنسی علم کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں جن میں سے چند ایک کو یہاں بیان کیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے کہ انسانی صحت پر شراب کے زہریلے اثرات کا پوری طرح سے جائزہ لیا جائے، ہمیں اس کے کیمیاوی اجزا کے متعلق تھوڑا سا ادراک حاصل کرنا چاہئے۔

علم کیمیا (Chemistry) کی رو سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ الکحل اشیا، خاص طور پر چربی کو، گلانے یا حل کرنے کے لیے ایک طاقتور محلول ہے۔ غذائی اصطلاحات میں یہ حل کرنے والی چیز نہیں بلکہ توڑ پھوڑ کے عمل پر منتج ہے۔ دوسرے لفظوں میں بنیادی خوراک یعنی شکر کو بیکٹیریا یا جراثیم کے ذریعے سے ہضم کرنے کے سلسلہ میں پیدا ہونے والی یہ ایک کیمیاوی ذیلی خوراک (Biproduct) ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر شراب انسانی جسم کے لیے ایک نقصان دہ کیمیکل تسلیم کیا گیا ہے اور انسانی جگراس کو فورا توڑ دیتا ہے یعنی اس کی زہرناکی کو ختم کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس عمل کو Deoxified کہتے ہیں۔ چنانچہ شراب یا الکحل کی یقیناًکوئی غذائی اہمیت نہیں ہے جس کا دعوی اس کے رسیا اکثر وبیشتر کرتے ہیں۔ جب یہ جسم کے اندر پہنچتی ہے تو دوسری ہر قسم کی خوراک کے برعکس کنٹرول سے باہر خامروں کی تبدیلیMetabolized یا ہضم ہو جاتی ہے۔ صرف یہی ایک ظاہری فائدہ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے۔ شراب یا الکحل کیا اثرات ڈالتی ہے، اس کو ذیل میں ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

نظام ہضم پر شرا ب کے اثرات

شراب کا سب سے پہلا برا اثر منہ سے شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر منہ کے اندر ایک خاص قسم کا زندہ ماحول (Flora) ہوتا ہے جو ایک لعاب کی صورت میں ہے۔ نقصان دہ جراثیم کے لیے اس ماحول میں زندہ رہ جانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر چونکہ شراب کی وجہ سے اس ماحول کی شدت اور قوت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے، اس لیے اس کا نتیجہ مسوڑھوں میں زخم (Inflection) اور سوجن کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ شراب کے عادی لوگوں کے دانت نہایت تیزی سے خراب اور فرسودہ ہو جاتے ہیں۔

منہ کے بعد گلے اور خوراک کی نالی (Esophagus) کی باری آتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے ملحق ہوتے ہیں۔ یہ نہایت مشکل کام سرانجام دیتے ہیں اور ان پر نہایت حساس استر (Mucous Membrane) کی تہہ ہوتی ہے۔ شراب کے اثر سے اس حساس تہہ پر برا اثر پڑتا ہے اور جلن کا باعث بنتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں اعضا کے اندر ضعف پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات یہ اعضا سرطان (Cancer) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دراصل وہ ادارے جو سرطان جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، ۱۹۸۰ء کے بعد سے شراب کے خلاف دور رس اقدامات کر رہے ہیں۔

یہ بات تو ہر شخص کے علم میں ہے کہ شراب کی وجہ سے معدے کی خطرناک بیماریاں مثلا Gastritis پیدا ہوتی ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ یہ خون میں موجود لائپیڈ (Lipid) جو ایک خاص قسم کی چربی ہوتی ہے، اس کے استعمال سے تحلیل ہو جاتی ہے۔ یہ لائیپڈ ایک طرح کی حفاظتی تہہ مہیا کرتا ہے جس پر تیزابیت یعنی ہائیڈرو کلورک ایسڈ کا نقصان دہ اثر نہیں ہوتا۔ اسی تہہ کی وجہ سے معدہ خود اپنے آپ کو ہضم نہیں کر سکتا۔ اگرچہ فی الحال یہ پوری طرح ثابت نہیں ہوا کہ جس طرح شراب گلے اورپینے کی نالی میں سرطان کا باعث بنتی ہے، معدے کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے، لیکن اس خیال کو تقویت حاصل ہوتی جا رہی ہے کہ معدے کے کینسر میں بھی شراب کی کارستانی ہوتی ہے۔

شراب کا سب سے زیادہ نقصان دہ اثر بارہ انگشتی آنت (Dudenum) پر ہوتا ہے۔ اس جگہ نہایت نازک کیمیائی اثرات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ شراب اس کی اس خاصیت کو متاثر کرتی ہے جو مخصوص ہاضم لعاب خارج کرنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی کیمیائی حساسیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہاضمہ کے لیے اس اہم راستے کی تباہی کے بعد شراب جگر سے پیدا ہونے والے ہاضم لعاب (Bile) کے اخراج پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ تمام شرابیوں کی بارہ انگشتی آنت اور پتہ کی جھلی ہمیشہ بیماری کا شکار ہوتی ہیں یا ان کا کام اکثر صحیح نہیں ہوتا۔ یہ حالت ہر شرابی کو گیس اور بد ہضمی کے ذریعہ مصیبت میں ڈالے رکھتی ہے۔ معدے کی یہ تکالیف آنتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ چنانچہ نظام ہضم کے کمپیوٹر کی طرح کام کرنے والے نظام کی حسن ترتیب اور ہم آہنگی بھی تباہ وبرباد ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ایک صحت مند انسانی جسم ہر اس شے کو ہضم کر لیتا ہے جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے، یہ نظام ہضم کو خاص قسم کی ہدایات جاری کرنے سے ہوتا ہے، مگر زیادہ اور مستقل طور پر شراب پینے والوں کے معاملہ میں یہ کنٹرول یک قلم ختم ہو جاتا ہے اور ہضم کرنے کا عمل بلا روک ٹوک اور بغیر کسی تمیز کے جاری رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اس لیے کہ بے تحاشا ہضم اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتا کہ خلیوں کی درمیانی جگہ (Interstices) میں چربی کا ذخیرہ کرنا شروع کر دے۔ درحقیقت چربی کی یہ کثیر مقدار دل کے پٹھوں کے نظام پر مایو کارڈک ٹیشو (Myo Cardic Tissue) پر چھا جاتی ہے اور اس طرح دل کی خطرناک قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

شراب کا سب سے زیادہ خراب اثر جگر (Liver) پر ہوتا ہے۔ انسانی جگر وہ حساس لیبارٹری ہے جو شراب کے ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے سالمے کو زہر کی طرح محسوس کرتا ہے۔ جگر پر شراب کا اثر دو طرح سے ہوتا ہے:

۱۔ شراب خوری کی صورت میں جگر کے خلیے (Cells) الکحل ختم کرنے کی ذمہ داری میں پوری طرح مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے دوسرے کاموں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

۲۔ جگر کے کیمیاوی عمل جو ایک سے ایک بڑھ کر حساس ہوتے ہیں، شراب کے بلا روک ٹوک اثر کے تحت درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جگر کو ایک ہی عمل بار بار دہرانا پڑتا ہے اور اس طرح بے پناہ مسلسل اور بلا ضرورت محنت اور مشقت سے جگر کو کمزوری اور ضعف واقع ہو جاتا ہے۔

یہ اثرات جگر کے لیے خطرناک نتائج پیدا کرتے ہیں۔ ان اثرات میں زیادہ مشہور جگر کا سکڑنا (Cyrrhosis) ہوتا ہے جو اس کا زندہ ثبوت ہوتا ہے کہ جگر کی بربادی مکمل ہو چکی ہے۔ زیادہ خطرناک ممکنات میں سے یہ بھی ہے کہ شراب کا استعمال ایک ایک کر کے جگر کے تمام فعلوں کو تباہ کر دے۔

ان فعلوں میں سے پہلا فعل وہ ہے جس میں جگر ان اجزا کو پیدا کرتا ہے جس سے خون کا عمل ظہور پذیر ہوتا ہے۔ چونکہ جگر ان اجزا کو پیدا نہیں کر سکتا یا اس کی پیداوار بہت زیادہ کم ہو جاتی ہے، اس وجہ سے تمام عادی شرابی اندر سے کمزور (Anaemic) ہوتے ہیں یعنی ان میں خون کی کمی ہوتی ہے۔ اگرچہ ان کے چہرے خون کی نالیوں کے بڑھنے یا کھلنے کی وجہ سے تندرست اور تنومند نظر آتے ہیں لیکن ان کی ہڈیوں کے گودے (Bone Marrow) تباہ ہو چکے ہوتے ہیں یعنی درحقیقت خون کی پیداوار کا عمل ختم یا بے حد کم ہو چکا ہوتا ہے۔

مزید برآں جگر کی وہ طاقت جس کی وجہ سے جسمانی تحفظ کے اعضا جیسے مختلف قسم کے گلوبلین بالخصوص امیونو گلوبلین (Immuno Globulin) بنتے ہیں، شرابیوں میں خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں بیماریوں کے خلا ف مدافعت کم سے کم ہو جاتی ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ گلوبلین لحمیات کے وہ گروہ ہوتے ہیں جو معدنی نمکیات کے ہلکے محلولوں میں حل پذیر ہوتے ہیں۔ یہ خون کے سرخ خلیوں میں پائے جاتے ہیں اور حدت کو جذب کرتے ہیں۔

شراب بعض اوقات جگر کے فعل کے اچانک رک جانے کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔ اس صورت میں ایک شرابی بے ہوشی کے عالم ہی میں مر جاتا ہے۔ اسے جگر کا دیوالیہ پن (Liver Bankruptcy) کہتے ہیں۔ جگر کے سلسلے میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس میں اس پر شراب کے نقصان دہ اثرات کا ثبوت نہ ملتا ہو۔ اس نکتہ کو میں اس سے زیادہ شدت سے بیان نہیں کر سکتا۔

شراب کا دوران خون پر اثر

دوران خون پر شراب کا اثر دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک تو جگر پر اثر کے ذریعے بالواسطہ ہوتا ہے۔ دوسرا دل کی بافتوں پر، جنہیں میو کارڈک ٹیشو (Myo Cardic Tissue) کہتے ہیں، بلا واسطہ اثر کے ذریعے۔ جگر جو خون میں چربی کی مقدار کو تحلیل کرنے میں سب سے اہم رول ادا کرتا ہے، اس میں ضعف اور خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں خون لے جانے والی نسیں سخت ہوجاتی ہیں جسے Arteriosclerosis کہتے ہیں۔ اس سے فشار خون یعنی بلڈ پریشر (Hypertension) کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف الکوحل کے تیزی سے جل جانے کے عمل سے خون کے بہاؤ کے مخصوص طریق میں، جسے ہم خون کے بہاؤ کی رفتار کہتے ہیں، گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے دل کی تھکان واقع ہو جاتی ہے۔ مزید برآں شراب کی وجہ سے دل میں چربی کے ذرات جمع ہو جاتے ہیں اور اعصابی نظام پر نقصان دہ اثرات کے ذریعہ دل کے عمل میں خلل اندازی واقع ہو جاتی ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عادی شرابی بالآخر یا تو جگر کے فعل میں خلل (Cyrrhosis) کی وجہ سے یا ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے اپنے خاتمے کو پہنچتے ہیں۔

وہ شخص جو دل کے عارضہ میں مبتلا ہو، اس کے لیے شراب کا ایک قطرہ لینا بھی ایسے ہے جیسے اسے اپنی زندگی کی کوئی پروا نہیں اور نہ اسے اپنے جسم کے کسی عضو کے نقصان کی پروا ہے۔ شراب کے رسیا کچھ لوگوں کے یہ بھی خیالات ہیں کہ تھوڑی اور مناسب مقدار میں شراب پینے سے دل کے تشنج یا دورے میں افاقہ ہوتا ہے۔ یہ بادی النظر میں شراب کے فوائد میں سے ایک نظر آتا ہے لیکن سائنسی طور پر اس خیال کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ اگرچہ طبی تحریروں اور کتابوں میں اس قسم کی کوئی تجویز موجود نہیں ہے لیکن بد قسمتی سے بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس کے برعکس سوچتے یا محسوس کرتے ہیں۔

انسانی گردے جنہیں دوران خون کے نظام کا آخری مقام سمجھا جاتا ہے، ان کو بھی شراب کے استعمال سے سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے کہ گردے انتہائی حساس کیمیاوی جوہر کے ملاپ (Valence) کے مقام پر چھلنی کا کام دیتے ہیں لیکن شراب (الکحل) اس نازک عمل کو بھی تہ وبالا کر دیتی ہے۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ وہ شرابیں جن میں الکحل کی مقدار کم ہوتی ہے، گردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں چنانچہ زیادہ مقدار میں Beer پینے والوں کے گردے اکثر خراب ہوتے ہیں۔

لمف والے (Lymphatic) نظام کی انسانی جسم میں بے حد اہمیت ہے۔ ا س نظام کی خون والی نالیاں شراب کے ہاتھوں ناقابل علاج نقصان اٹھاتی ہیں اس لیے کہ چربی والے نامیاتی مرکب لائیپڈ(Lipid) کا اس نظام میں ایک بہت اہم مقام ہوتا ہے۔ شراب کا نقصان دہ اثر ا حیران کن حد تک اس حفاظت بہم پہنچانے والے نظام کو برباد کر دیتا ہے۔ اگر اللہ تعالی نے، جیسا کہ مختلف آیات میں فرمایا گیا ہے، اپنی خصوصی عنایات کے ذریعہ انسانی زندگی کو حفاظت کے دیگر طریقوں سے گھیرا ہوا نہ ہوتا تو ہمیں مزید صراحت سے نظر آتا کہ شراب کس قدر نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اعصابی نظام پر شراب کا اثر

شراب عصبی خلیوں کی اس باریک جھلی میں داخل ہو جاتی ہے جو نامیاتی چربی جیسے مرکب یعنی لائیپڈ کی حفاظت میں ہوتی ہے۔ اس طرح اس نظام کے برقی رابطہ (Electrical Communication) میں خلل اندازی کرتی ہے۔ یہ خراب اثر دو مختلف ذریعوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کا پہلا اثر نشے کے اچانک حملے کی صورت میں ہوتا ہے لیکن اس کا دیرپا اثر بہت ہی خطرناک ہوتا ہے۔ شراب اعصابی نظام کو روز بروز نقصان پہنچاتی ہے جس سے کئی اقسام کی بیماریاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مزید برآں اگرچہ شروع شروع میں شراب کا خراب اثر معمولی یا غیر واضح بھی ہو ، تب بھی اس کے دیرپا خراب اثرات شروع ہی سے مرتب ہوتے رہتے ہیں چنانچہ کچھ لوگوں کے یہ دعوے کہ ’’مجھے تو شراب سے نشہ نہیں ہوتا یا مجھ پر شراب کا اثر نہیں ہوتا‘‘ محض طفل تسلی اور خود فریبی ہے۔

شراب کے برے اثرات جوانی میں اور بطور خاص بچپن میں بے حد زیادہ ہوتے ہیں۔ عام طو رپر یہ نظام لعاب پیدا کر کے فاسد مادوں کو جسم سے ایک بدرد جیسے عمل سے نکالنے کا کام کرتا ہے۔ معلوم بیماریوں جیسے ہذیان (Delirium) ، کپکپی (Tremen) ، پلائینورٹس (Plyneuritis)اور کورساکوف کے مجموعہ علامات (Korsakof Syndrome) شراب کے اثرات بد کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس کا نہایت برا اثر اعصابی نظام کے مراکز پر ناقابل علاج حد تک ہوتا ہے۔ الفاظ کا بھولنا (Amnesia) اور ہاتھوں کا رعشہ اس اعصابی نقصان کی علامات ہوتی ہیں۔

شراب جس میں چربی پگھلانے کی صلاحیت ہوتی ہے، تخلیقی خلیوں (Reproductive Cells) میں داخل ہو کر ان کو بے حد نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کی عام فہم مثالوں میں نئی نسل کی ذہانت میں کمی اور ناقص بالیدگی (Dystrophy) شامل ہیں۔ بہت سے مطالعہ جات اور سروے یہ حقیقت منکشف کرتے جا رہے ہیں کہ ذہنی طور پر غبی بچوں کے والدین اکثر وبیشتر شدید قسم کی شراب نوشی کرتے تھے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شراب عورت کے تخم (Ovum) اور بیضۂ حیات (Egg-cell) کے خلیے کو بہت آسانی سے نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شرابی ماؤں کے بچے اکثر موروثی طور پر دماغی یا قلبی صدمے (Shock) یا جھٹکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شرابی باپ کی طرف سے ایسے واقعات کی تعداد تیس فی صد سے زیادہ تک ہوتی ہے۔

شراب کے معاشرے پر اثرات

یہ حقیقت بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ شراب کس طرح معاشرتی تعلقات اور استحکام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ شراب سے معاشرے پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ شرابیوں میں زود رنجی یا غصے کے فوری حملے ان کو معاشرے میں لا تعداد تنازعات میں الجھائے رکھتے ہیں۔

۲۔ لا تعداد متواتر طلاقیں معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں اور نتیجتا" مجرمانہ ذہنیت کے حامل بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے تمام معاشرہ خطرناک حد تک متاثر ہوتا ہے۔

۳۔ مختلف قسم کے کام کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں پر شراب کی وجہ سے بے دلی اور کاہلی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح ان کی کارکردگی اور مہارت پر برا اثر پڑتا ہے جس کا آخری نقصان معاشرے کو پہنچتا ہے۔

۴۔ شراب کی وجہ سے انسانوں میں ایک دوسرے کی طرف غیر ہمدردی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قومی تفکر، معاشرتی اتحاد اور معاشرتی مسائل کے خلاف جہاد کا جذبہ مکمل طورپر ختم ہو جاتا ہے۔

اوپر بیان کیے گئے چار قسم کے مسائل نے مغربی معاشرت والوں کو اس قدر فکر مند کر رکھا ہے کہ انہوں نے بارہا اپنی اپنی حکومتوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ اگر شراب کا استعمال اسی طرح بڑھتا رہا تو ان ملکوں میں قومی جذبہ بالکل ختم ہو جائے گا۔

قرآن حکیم نے اس مسئلہ کی بیخ کنی کر دی ہے جس کے لیے کسی معاشرے اور کسی دانش ور میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اس مسئلے کو اس طرح دو ٹوک طریقہ سے حل کرتا یعنی شراب نوشی کا یہ مسئلہ ان معاشروں کی بنیادوں کو آہستہ آہستہ گھن کی طرح چاٹ رہا ہے جب کہ اللہ کے حکم نے ہمارے معاشرے کو صدیوں سے اس مصیبت سے دور رکھا ہے۔

فقہ اسلامی کے مآخذ قرآن مجید کی روشنی میں

محمد عمار خان ناصر

قرآن مجید دین کا بنیادی ماخذ ہے۔ چنانچہ وہ جہاں دین کے بنیادی احکام بیان کرتا ہے، وہاں ان دوسرے مآخذ کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے جن کی مدد سے عملی زندگی کے مختلف مسائل کے حل کے لیے ایک مفصل ضابطہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ فقہ اسلامی کے تمام بنیادی مآخذ کا ثبوت خود قرآن مجید سے ملتا ہے۔

فقہ اسلامی کے مآخذ دو طرح کے ہیں: نقلی اور عقلی۔ نقلی مآخذ میں قرآن کے علاوہ سنت، اجماع اور سابقہ شریعتیں شامل ہیں، جبکہ عقلی مآخذ کے تحت قیاس، مصالح مرسلہ، سد ذرائع، عرف اور استصحاب حال زیر بحث آتے ہیں۔

سنت

قرآن مجید نہایت واضح طور پر سنت کو دین کا ماخذ قرار دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری محض یہ نہیں تھی کہ آپ کتاب اللہ کو پہنچا دیں بلکہ اس کی تبیین اور اس کے احکام کی تشریح بھی آپ کے فرائض منصبی میں شامل تھی۔چنانچہ ارشاد ہے:

لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ۔

یقیناًاللہ نے مومنوں پر انہی میں ایک رسول بھیج کر بڑا احسان کیا جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا، اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا اور ان کا تزکیہ کرتا ہے۔ (۱)

سورۂ نحل میں ہے:

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم۔

اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی جو ایک یاددہانی ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس کی تبیین کریں۔ (۲)

قرآن مجید واشگاف انداز میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کوایمان کی بنیاد قرار دیتا اور آپ کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہے۔ سورۂ نساء میں ارشاد ہے:

یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر۔

اے ایمان والو، اللہ کی، اس کے رسول کی اور اپنے اہل حل وعقد کی اطاعت کرو۔ اگر کسی بات میں تمہارا باہم اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ (۳)

سورۃ النساء ہی میں ہے:

فلا وربک لایومنون حتی یحکموک فی ما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما۔

آپ کے رب کی قسم، یہ ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ کو اپنے باہمی تنازعات میں حکم تسلیم نہ کر لیں اور پھر آپ جو بھی فیصلہ کریں، اس سے دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کو پوری طرح تسلیم کر لیں۔ (۴)

سورۃ النور میں ہے:

فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ او یصیبھم عذاب الیم۔

تو وہ لوگ جو رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی آزمائش آن پڑے یا ایک دردناک عذاب ان کو اپنی گرفت میں لے لے۔ (۵)

سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے :

وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالا مبینا۔

کسی مومن مرد یا عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کو طے کر دیں تو وہ اپنا اختیار استعمال کریں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، وہ کھلی گمراہی میں جا پڑے گا۔ (۶)

سورۃ الحشر میں فرمایا:

وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا۔

اور رسول تمہیں جو حکم دیں، اس کو لے لو اور جس کام سے منع کریں، اس سے رک جاؤ۔ (۷)

اجماع

قرآن وسنت کے بعد اجماع فقہ اسلامی کاتیسرا ماخذ تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے لیے قرآن مجید کی درج ذیل آیات سے استدلال کیا گیا ہے:

سورۃ آل عمران میں فرمایا:

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ۔

تم بہترین امت ہو جسے لوگوں (پر حق کی شہادت دینے) کے لیے مامور کیا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (۸)

سورۃ النساء میں ارشاد ہے:

ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المومنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وساء ت مصیرا۔

اور جس نے ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کی اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر چلا، تو ہم اس کو اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرا اور اس کو جہنم میں جلائیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ (۹)

سابقہ شریعتوں کے احکام

پچھلی شریعتوں کے جن احکام کا ذکر قرآن نے کیا ہے اور ان کے منسوخ ہونے پر کوئی قرینہ نہیں، وہ بھی فقہ اسلامی میں حجت تسلیم کیے گئے ہیں۔ مثلا سورۃ النساء میں فرمایا:

وکتبنا علیہم فیھا ان النفس بالنفس والعین بالعین والانف بالانف والاذن بالاذن والجروح قصاص۔

اور ہم نے تورات میں ان پر لازم کیا کہ جان کے بدلے جان ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور زخموں کا بھی بدلہ ہے۔ (۱۰)

بعض اہل علم نے مرتد کے لیے قتل کی سزا پر سورۂ بقرہ میں بنو اسرائیل کے واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ جب انہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تو اللہ تعالی نے سزا کے طور پر حکم دیا:

فاقتلوا انفسکم۔

تم اپنے ساتھیوں کو قتل کرو۔ (۱۱)

قیاس

فقہ اسلامی کے عقلی مآخذ میں پہلا ماخذ قیاس ہے اور اس کی حجیت بھی قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورۃ الحشر میں اللہ تعالی نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا حال بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے:

فاعتبروا یا اولی الابصار۔

اے اہل نظر، ان کے حال سے عبرت حاصل کرو۔ (۱۲)

عبرت حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حال پر اپنے حال کو قیاس کرو اور ان کاموں سے بچو جن کی پاداش میں یہود کو یہ سزا دی گئی۔

اس کے علاوہ قرآن مجید نے بعض نظائر کے ذریعے سے بھی اہل علم کو قیا س کی تعلیم دی ہے۔ سورۃ الانعام میں حرام اشیا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ او دما مسفوحا او لحم خنزیر فانہ رجس او فسقا اھل لغیر اللہ بہ۔

تم کہہ دو کہ مجھ پر جو وحی بھیجی گئی ہے، اس میں میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا دم مسفوح ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے، یا کوئی ایسا جانورہو جسے گناہ کرتے ہوئے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ (۱۳)

اس آیت میں حصر کے ساتھ چار چیزوں کی حرمت بیان کی گئی ہے، لیکن ساتھ ساتھ خنزیر کو ناپاک اور ما اہل لغیر اللہ کو فسق قرار دیتے ہوئے ان کی حرمت کی علت بھی بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح مردار اور دم مسفوح کی حرمت بھی علت پر مبنی ہے۔ چنانچہ خود قرآن نے سورہ مائدہ میں انہی علتوں کی بنیاد پر چند اور چیزیں بھی محرمات کی فہرست میں شامل کی ہیں:

حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ۔

 تم پر یہ چیزیں حرام کی گئی ہیں :مردار، خون، خنزیر کا گوشت ، غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور، ایسا جانور جو گلا گھٹنے سے، چوٹ لگنے سے،

والنطیحۃ وما اکل السبع الا ما ذکیتم وما ذبح علی النصب وان تستقسموا بالازلام ذلکم فسق۔

اوپر سے نیچے گر کر یا سینگ لگنے سے مر جائے، ایسا جانور جس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو، (یہ سب حرام ہیں) صرف وہ جانور حلال ہے جسے تم نے ذبح کیا ہو۔ ایسا جانور بھی حرام ہے جسے کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ تم تیروں کے ذریعے سے گوشت تقسیم کرو۔ یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ (۱۴)

یہاں علت کی بنا پر پانچ چیزوں کا الحاق میتہ کے ساتھ اور دو چیزوں کا الحاق ما اہل لغیر اللہ کے ساتھ کیا گیا ہے اور آگے علت بھی بیان کی گئی ہے کہ ذلکم فسق۔ یعنی جیسے طبعی موت مرنے والا جانور شرعی طریقے سے ذبح نہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اسی طرح گلا گھٹنے کی وجہ سے، گر کر، اور سینگ لگنے کی وجہ سے مرنے والے جانور بھی حرام ہیں۔ اور جیسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور اعتقادی فسق کی وجہ سے حرام ہے، اسی طرح وہ جانور بھی حرام ہے جسے استھانوں پر ذبح کیا گیا ہو یا مشرکانہ طریقے سے اس پر جوئے کے تیر چلائے گئے ہوں۔

مصالح مرسلہ

قرآن مجید جگہ جگہ یہ بات واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی جو شریعت انسانوں کے لیے نازل کی ہے، اس کا مقصد انسانوں کی صلاح وفلاح اور ان کی دنیاوی واخروی بہبود ہے۔ شریعت کے تمام احکام میں عقل وفطرت پر مبنی انسانی مصالح کی رعایت کی گئی ہے۔ مصالح کا مفہوم دو لفظوں میں جلب منفعت اور دفع حرج یعنی فائدے کا حصول اور نقصان کو دور کرناہے اور قرآن مجید ان کو دین کے بنیادی اصولوں کی حیثیت سے بیان کرتا ہے۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ہے:

یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۔

اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا۔ (۱۵)

سورۃ النساء میں فرمایا:

یرید اللہ ان یخفف عنکم۔

اللہ چاہتا ہے کہ تم سے سختی کو ہٹا دے۔ (۱۶)

سورۃ الحج میں فرمایا:

ما جعل علیکم فی الدین من حرج۔

اللہ نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (۱۷)

بہت سے جزوی احکام کے ذکر کے تحت بھی قرآن مجید نے ان اصولوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ لے پالک بیٹے کے حکم کے ضمن میں فرمایا:

لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیاءھم اذا قضوا منھن وطرا۔

تاکہ مسلمانوں کو اپنے لے پالک بیتوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ ہو جب وہ ان سے قطع تعلق کر لیں۔ (۱۸)

تیمم کا حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا :

ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج۔

اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے۔ (۱۹)

وراثت کی تقسیم کے ضمن میں فرمایا:

لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا۔

تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے پہلو سے تمہارے زیادہ قریب ہے (اس لیے اللہ نے یہ حصے خود متعین کر دیے ہیں) (۲۰)

کھانے پینے میں حرام اشیا کے ذکر کے بعد فرمایا:

فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ۔

تو جو مجبور ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ خواہش نفس کے تحت اور ضرورت سے زیادہ نہ کھائے۔ (۲۱)

بچے کی رضاعت کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا:

لا تضار والدۃ بولدھا ولا مولود لہ بولدہ۔

نہ ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور نہ باپ کو (۲۲)

کفار کے ظلم کا شکار مسلمانوں کی مدد کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر۔

اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد پھیل جائے گا۔ (۲۳)

قصاص کے قانون کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

ولکم فی القصاص حیوۃ یا اولی الالباب۔

اے ارباب عقل، تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ (۲۴)

دس گنا دشمن کے مقابلے میں میدان جنگ میں ٹھہرنے کے حکم کو منسوخ کرکے فرمایا:

الآن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا۔

اب اللہ نے تمہارے لیے تخفیف کر دی اور جان لیا کہ تمہارے اندر کمزوری ہے۔ (۲۵)

مال فے کی تقسیم کے بارے میں ہدایات دینے کے بعد فرمایا:

کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم۔

تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ مال تمہارے مال داروں کے مابین ہی گردش کرتا رہے۔ (۲۶)

سورۃ البقرۃ میں دیت کا حکم دے کر فرمایا:

ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ۔

یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے۔ (۲۷)

سورۃ البقرۃ میں یتیموں کے مال کو سرپرستوں کے مال میں ملا لینے کی اجازت دینے کے بعد فرمایا:

ولو شاء اللہ لاعنتکم۔

اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا (لیکن اللہ آسانی چاہتا ہے) (۲۸)

اس سے واضح ہے کہ جب شریعت کے منصوص احکام میں تمام تر انسانی مصالح ملحوظ ہیں تو غیر منصوص احکام میں بھی ان مصالح کی رعایت ملحوظ رہنی چاہئے، چنانچہ جمہور فقہا نے، جزوی اختلافات سے قطع نظر،اصولی طور پرمصالح کو فقہ اسلامی کا ایک اہم ماخذ تسلیم کیا ہے۔

سد ذرائع

سد ذرائع کا اصول درحقیقت ان مصالح ہی کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہے جن کی شریعت میں رعایت کی گئی ہے۔ ا س کا مطلب ہے ان چیزوں سے بچنا جو کسی پہلو سے شریعت کے معین کردہ مصالح کو نقصان پہنچا سکتی یااس کی حرام کردہ چیزوں کے ارتکاب کا باعث بن سکتی ہیں۔قرآن مجید نے اس اصول کی بھی وضاحت کی ہے اور اسے بہت سے شرعی احکام کی بنیاد کے طور پر بیان کیا ہے:

سورۂ نور میں دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے کے متعلق بعض ہدایات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

ذلکم خیر لکم لعلکم تذکرون۔

یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو (۲۹)

اسی سلسلہ بیان میں آگے لباس کے بارے میں بعض ہدایات دے کر فرمایا:

ذلک ازکی لھم۔

یہ ان کیلیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (۳۰)

اسی طرح سورۃ الاحزاب میں رسول اللہ ﷺ کی ازواج کو مخاطب کر کے فرمایا:

فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولا معروفا۔

تم نرم لہجے میں بات نہ کرو، تاکہ وہ آدمی جس کے دل میں بیماری ہے، کسی توقع میں مبتلا نہ ہو، اور بھلے طریقے سے بات کرو۔ (۳۱)

آگے ازواج مطہرات کے حوالے سے امت کو بعض آداب کی تعلیم دینے کے بعد فرمایا:

ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن۔

یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ (۳۲)

اسی ضمن میں آگے چل کر مسلمان عورتوں کے لیے حجاب کا حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا:

ذلک ادنی ان یعرفن فلا یؤذین۔

یہ اس بات کے زیادہ قرین ہے کہ ان کا (آوارہ عورتوں سے) امتیاز ہو جائے اور ان کو ایذا نہ پہنچائی جائے۔ (۳۳)

اس سے واضح ہے کہ مذکورہ تمام ہدایات کا مقصد معاشرتی شرم وحیا اور خانگی پردہ داری کی حفاظت ہے جو ظاہر ہے کہ ان ہدایات کی پامالی کی صورت میں قائم نہیں رہ سکتی۔

قرآن مجید میں بعض ایسے معاملات میں بھی سد ذرائع کے تحت بعض ہدایات دی گئی ہیں جن کا تعلق بنیادی طور پر دین وشریعت سے نہیں بلکہ دیگرانفرادی یا اجتماعی مصلحتوں سے ہے :

سورۃ البقرۃمیں گواہی سے متعلق ہدایات کے ضمن میں ارشاد ہے:

فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتین ممن ترضون من الشھداء ان تضل احداھما فتذکر احداھما الاخری۔

اگر گواہی کے لیے دو مرد نہ مل سکیں تو پھر اپنے پسندیدہ گواہوں میں سے ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لو تاکہ اگر ایک بھولے تو دوسری اس کو یاد کرا دے۔ (۳۴)

مزید فرمایا:

ولا تسئموا ان تکتبوہ صغیرا او کبیرا الی اجلہ ذلکم اقسط عند اللہ واقوم للشھادۃ وادنی الا ترتابوا ۔

معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی باہم طے ہونے والی مدت کو لکھ لینے سے مت اکتاؤ۔ یہ طریقہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والاہے، گواہی کے لحاظ سے بھی بہتر ہے اور اس کے بھی زیادہ قرین ہے کہ تم کسی شک وشبہے میں مت پڑو۔ (۳۵)

سورۂ آل عمران میں کفار کے ساتھ دوستی کی حدود بیان کرتے ہوئے ارشاد ہے:

یایھا الذین آمنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یالونکم خبالا ودوا ما عنتم۔

اے ایمان والو، کفار کو اپنا بھیدی نہ بناؤ۔ وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور تمہارے مشقت میں پڑنے کو پسند کرتے ہیں۔ (۳۶)

سورۃ النسائمیں اہم معاملات سے متعلق اطلاعات اور خبروں کے حوالے سے درج ذیل ہدایت دی:

واذا جاء ھم امر من الامن او الخوف اذاعوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم۔

اور جب امن یا جنگ کی کوئی بات ان تک پہنچتی ہے تو یہ فورا اس کو نشر کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ اسے رسول یا اپنے اہل حل وعقد کے پاس لے جاتے تو ان میں سے معاملے کی گہرائی تک پہنچنے والے لوگ اس کی حقیقت معلوم کر لیتے۔ (۳۷)

اسی طرح قرآن مجید کے درج ذیل احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ سد ذرائع کے تحت بعض مباح چیزوں کو واجب کیا جا سکتا اور بعض پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے:

رسول اللہ ﷺ کی مجالس میں مسلمانوں کو اگر کسی بات کی وضاحت دریافت کرنا ہوتی تو وہ آپ ﷺ کو راعنا (یعنی ہمارا لحاظ کیجئے) کے لفظ سے مخاطب کرتے۔ یہود مدینہ شرارت اور گستاخی کے لیے اسی لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر یوں ادا کرتے راعینا (ہمارا چرواہا) چنانچہ اللہ تعالی نے یہ ہدایت نازل فرمائی کہ مسلمان راعنا کا لفظ ہی استعمال نہ کریں تاکہ یہود کو یہ خباثت کرنے کا موقع نہ مل سکے:

یا ایھا الذین آمنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا۔

اے اہل ایمان، تم راعنا مت کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو۔ (۳۸)

رسول اللہ ﷺ کو تنگ کرنے کے لیے منافقین نے یہ روش اپنائی تھی کہ وقت بوقت رسول اللہ ﷺ کے پاس آ جاتے اور محض آپ کا وقت ضائع کرنے کے لیے بے مقصد باتیں کرتے رہتے۔ قرآن مجید نے ان کی اس شرارت کا سد باب کرنے کے لیے حکم دیا کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺسے مشورہ کرنا چاہیں، وہ اس سے پہلے صدقہ کر کے آئیں:

اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدیکم نجواکم صدقۃ۔

جب تم رسول سے کوئی مشورہ کرنا چاہو تو مشورے سے پہلے صدقہ کر کے آیا کرو۔ (۳۹)

عرف

کسی معاشرے کا عرف ورواج اگر شریعت کے منصوص احکام یا اس کے مزاج کے خلاف نہ ہو تو فقہ اسلامی میں وہ قانون سازی کے ایک مستقل ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے جن احکام کے ضمن میں معاشرے کے رواج کی پیروی کی ہدایت کیہے، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

۱۔ دیت:

فمن عفی لہ من اخیہ شئی فاتباع بالمعروف واداء الیہ باحسان۔

پس جس کو اپنے بھائی کی طرف سے معافی مل جائے تو وہ دستور کی پیروی کرے اور اچھے طریقے سے اس کو دیت ادا کر دے۔ (۴۰)

۲۔ عورتوں کی خانگی ذمہ داریاں اور حقوق:

ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف۔

دستور کے مطابق ان کے حقوق بھی ہیں اور ذمہ داریاں بھی۔ (۴۱)

۳۔ عورتوں کا نفقہ:

وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف۔

بچے کی ماں کا نفقہ اور اس کا کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہے۔ (۴۲)

۴۔ اجرت رضاعت:

لا جناح علیکم اذا سلمتم ما آتیتم بالمعروف۔

تم پر کوئی حرج نہیں (کہ بچے کو کوئی دوسری عورت دودھ پلائے) اگر تم وہ اجرت ان کو دو جو تم نے دستور کے مطابق دینا طے کی ہے۔ (۴۳)

۵۔ بیوہ عورتوں کا حق نکاح :

فلا جناح علیکم فی ما فعلن فی انفسھن بالمعروف۔

تو دستور کے مطابق وہ اپنے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں، اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (۴۴)

۶۔ مطلقہ عورتوں کے لیے متاع:

وللمطلقات متاع بالمعروف۔

اور مطلقہ عورتوں کو دستور کے مطابق کچھ سامان دے دو۔ (۴۵)

۷۔ یتیم کے سرپرست کااس کے مال میں سے اپنے اوپر خرچ کرنا:

ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف۔

جو محتاج ہے تو وہ دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔ (۴۶)

۸۔ عورتو ں کا مہر:

وآتوھن اجورھن بالمعروف۔

دستور کے مطابق ان کو ان کے مہر دو۔ (۴۷)

استصحاب حال

استصحاب حال کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی چیز بوقت نزاع کسی خاص حالت میں موجود ہے تو اس کی اسی حالت کو درست سمجھا اور اسے اسی پر برقرار رکھا جائے گا جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو جائے۔ قرآن مجید میں اس اصول کا اطلاق قذف کے مسئلے میں ملتا ہے۔ سورۂ نور میں ارشاد ہے:

والذین یرمون المحصنت ثم لم یاتوا باربعۃ شھداء فاجلدوھم ثمانین جلدۃ۔

اورجو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں پھر اس پر چار گواہ نہیں لاتے تو تم ان کو اسی (۸۰) درے لگاؤ۔ (۴۸)

یعنی چونکہ ان عورتوں کی عام شہرت پاک دامن ہونے کی ہے اور ان کے چال چلن کے بارے میں معاشرے میں کوئی شکوک وشبہات نہیں پائے جاتے، اس لیے قانون کی نظر میں وہ پاک دامن ہی شمار ہوں گی اور اگر کوئی ان پر بدکاری کا الزام لگاتا ہے تو اس کا ثبوت اس کے ذمے ہے اور اس کے لیے اسے چار عینی گواہ پیش کرنا ہوں گے، ورنہ اسے جھوٹا قرار دے کر اس پر قذف کی حد جاری کی جائے گی۔


حوالہ جات

(۱) آل عمرا ن : ۱۶۴

(۲) النحل : ۴۴

(۳) النساء : ۵۹

(۴) النساء : ۶۵

(۵) النور : ۶۳

(۶) الاحزاب : ۳۶

(۷) الحشر : ۷

(۸) آل عمران : ۱۱۰

(۹) النساء : ۱۱۵

(۱۰) المائدہ : ۴۵

(۱۱) البقرہ : ۵۴

(۱۲) الحشر : ۲

(۱۳) الانعام : ۱۴۶

(۱۴) المائدہ : ۳

(۱۵) البقرہ : ۱۸۵

(۱۶) النساء : ۲۸

(۱۷) الحج : ۷۸

(۱۸) الاحزاب : ۳۷

(۱۹) المائدہ : ۶

(۲۰) النساء : ۱۱

(۲۱) البقرہ :۱۷۳

(۲۲) البقرہ :۲۳۳

(۲۳) الانفال : ۷۳

(۲۴) البقرہ : ۱۷۹    

(۲۵) الانفال : ۶۶

(۲۶) الحشر : ۷

(۲۷) البقرہ : ۱۷۸

(۲۸) البقرہ :۲۲۰

(۲۹) النور : ۲۷

(۳۰) النور :۳۰

(۳۱) الاحزاب : ۳۲

(۳۲) الاحزاب : ۵۳

(۳۳) الاحزاب : ۵۹

(۳۴) البقرہ : ۲۸۲

(۳۵) البقرہ : ۲۸۲

(۳۶) آل عمران : ۱۱۸

(۳۷) النساء : ۸۳

(۳۸) البقرہ : ۱۰۴

(۳۹) المجادلہ : ۱۲

(۴۰) البقرہ : ۱۷۸

(۴۱) البقرہ : ۲۲۸

(۴۲) البقرہ : ۲۳۳

(۴۳) البقرہ : ۲۳۳

(۴۴) البقرہ : ۲۳۴

(۴۵) البقرہ : ۲۴۱

(۴۶) النساء : ۶

(۴۷) النساء : ۲۵

(۴۸) النور : ۴

افغانستان کے داخلی حالات پر ایک نظر

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود

(ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دانوں میں سے ہیں اور سائنس کے حوالے سے قرآنی علوم ومعارف کی اشاعت کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں۔ ان دنوں افغانستان کی تعمیر نو اور وہاں سرمایہ کاری کے لیے مسلم صنعت کاروں اور تاجروں کو توجہ دلانے کی مہم میں سرگرم عمل ہیں اور اس مقصد کے لیے ’’امہ تعمیر نو برائے افغانستان‘‘ کے نام سے باقاعدہ گروپ قائم کر کے مساعی کو منظم کر رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے حالیہ دورۂ افغانستان کے تاثرات ایک مضمون میں بیان کیے ہیں جو قارئین کی دلچسپی اور استفادہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں مزید معلومات اور راہ نمائی کے لیے ڈاکٹر صاحب موصوف سے مندرجہ ذیل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ 60/B ناظم الدین روڈ، F - 8/4، اسلام آباد ۔ ادارہ)


میں افغانستان جانے کے لیے پہلی بار طورخم پہنچا تو سرحد کے ہماری طرف خوف وڈر اور افراتفری کا عالم تھا۔ پولیس کے ہاتھوں شریف لوگ ذلیل وخوار ہو رہے تھے۔ جیسے تیسے ہم سرحد کی دوسری جانب پہنچے تو یک لخت وہاں کا منظر بدل گیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کھلی فضا میں آ گئے ہوں، وہاں خوف تھا نہ ڈر، پکڑ دھکڑ تھی نہ دھول دھونس۔ لوگ اپنے اپنے کاروبار میں لگے ہوئے تھے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور ملحقہ افغان علاقے کی تہذیب وثقافت ایک ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ ہماری طرف بجلی کا بل نہیں دیتے لیکن دوسری طرف بجلی استعمال کرنے والا ہر شخص پوری ایمان داری کے ساتھ بل دیتا ہے؟ جلال آباد سے کابل جاتے ہوئے میں نے ٹریفک کے نظام کا مطالعہ کیا۔ ہر گاڑی اصول وضابطے کے مطابق چلتی ہے، اس کے باوجود کہ وہاں کی سڑکوں کی حالت بہت خراب ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہاں کے مکانات ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں لیکن ان کے دل نہیں ٹوٹے ہیں۔

آپ اسلام آباد کے کسی مقام پر گاڑی پارک کریں تو بھکاریوں کا ایک غول آپ پر جھپٹے گا۔ کابل شہر میں بھی میں نے بھکاری دیکھے لیکن ان کا انداز بڑا باوقار تھا۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ ضرورت مند ہیں۔ وہاں مفلس اور ضرورت مند شخص سڑک سے ہٹ کر ایک کمبل بچھا کر بیٹھا ہوگا، اس کی زبان خاموش ہوگی۔ جو کچھ کوئی خوشی سے چاہے، دے دے، وہ آپ کا دامن نہیں پکڑے گا۔

ہمارے ہاں جس قدر سگریٹ پیا جاتا ہے، اس پر ہر سال اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ افغانستان میں بھی موجودہ حکومت کے آنے سے قبل سگریٹ کا دھواں خوب اڑایا جاتا تھا لیکن امیر المومنین نے آتے ہی اعلان کیا کہ سگریٹ مکروہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اس کے پینے پر پابندی عائد ہو گئی۔ اب یہ حالت ہے کہ آپ کابل یا قندھار شہر کے گلی کوچوں میں پھر کر دیکھ لیں، آپ کو کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہوا نہیں دکھائی دے گا۔ حالانکہ بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے تناؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور تناؤ ختم کرنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن انہوں نے سگریٹ کے بجائے اللہ کا سہارا لیا ہے اور اللہ کی یاد کے ذریعے اپنی پریشانی دور کرتے ہیں۔

افغانستان کی حالت زار دیکھ کر میں دل ہی دل میں کڑھتا تھا لیکن وہ مطمئن تھے۔ ایک روز میں نے اپنے افغان دوستوں سے کہا، آپ پہلے ہی کس قدر مصیبت میں تھے، اب اقوام متحدہ نے مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ایک افغان نے جواب دیا اسی میں اللہ کی بہتری شامل ہوگی۔ ہم مایوس نہیں بلکہ ہمیں توقع ہے کہ ہمارا کل آج سے بہتر ہوگا۔ اللہ تعالی نے ہمیں زرخیز ملک دیا ہے، اس کی آب وہوا اچھی ہے۔ اللہ تعالی نے بارش برسا دی تو اس قدر فصل پیدا ہوگی جس سے ہر افغانی دو وقت کی روٹی کھالے۔ اور کیا چاہئے؟ حقیقت یہ ہے کہ افغانیوں نے اپنا طرز معاشرت اس قدر سادہ کر لیا ہے کہ انہیں اپنی زندگی مشکل محسوس ہی نہیں ہوتی۔

افغان معاشرے میں مثالی اسلامی مساوات کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں۔ ایک روز میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کابل میں محکمہ منصوبہ بندی کے دفتر میں گیا۔ متعلقہ رئیس (Director) موجود نہیں تھا۔ دفتر کے چپڑاسی نے ہمیں بٹھایا اور چائے بنا کر لایا، وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے لگا۔ اتنے میں ڈائریکٹر صاحب آ گئے، چپڑاسی نے انہیں ہمارے بارے میں بتایا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ ان کا چپڑاسی بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتا رہا۔

افغانستان کا ایک اہم مسئلہ غیر قانونی ہتھیاروں کی بہتات تھی۔ افغانستان کا کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس میں چند ہتھیار غیر قانونی طور پر نہ ہوں۔ یہ افغان حکومت کا کارنامہ ہے جس نے ایسے لوگوں سے ہتھیار لے لیے جو ان کو اپنا زیور اور عزت خیال کرتے ہیں۔ یہ کام اس قدر مہارت اور محبت سے کیا گیا کہ کوئی معمولی سی سختی بھی نہیں کرنی پڑی۔ میں نے سہیل فاروقی سے کابل میں پوچھا کہ یہ حیرت انگیز کارنامہ کیسے انجام دیا گیا؟ وہ ملک کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کی مہم کے انچارج تھے۔ انہوں نے کہا جیسے ہی امیر المومنین نے حکم دیا کہ تمام افراد اپنا اپنا اسلحہ جمع کرا دیں، لوگوں نے بلا توقف حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ تاہم افغان دن کی روشنی میں ہتھیار دینے پر شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے ہم نے راتوں کو مختلف آبادیوں میں ٹرک کھڑے کر دیے۔ لوگ اپنے اپنے ہتھیار اس میں لاکر پھینک دیتے اور علی الصبح حکومت کے اہل کار اس ٹرک کو لے جاتے تھے۔ اس طرح حکومت نے یہ مشکل کام بغیر کسی جبر اور سختی کے، حکمت اور دانائی سے مکمل کر لیا۔

غربت اور بے روزگاری نے افغانوں میں بے حسی اور بخل پیدا نہیں کیا جو بے خدا معاشروں کاطرۂ امتیاز ہے۔ ایک مرتبہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جلال آباد سے کابل جا رہا تھا۔ راستے میں نماز ظہر کے لیے ہم نے سڑک کے کنارے ایک جگہ گاڑی کھڑی کی۔ ہم وضو کے لیے پانی کی تلاش میں تھے کہ دور سے ایک نوجوان نے ہمیں دیکھا اور بھاگم بھاگ ہمارے پاس پہنچا، بڑی محبت سے سلام کیا پھر پوچھا، کیا آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے؟ ہم نے بتایا کہ نماز کے لیے رکے ہیں۔ وہ دوبارہ گھر کی طرف بھاگا اور چند لمحے بعد ایک کمبل لے کر واپس آ گیا۔ اس کے ساتھ چھوٹا بھائی تھا جس نے جگ اور گلاس اٹھا رکھے تھے۔ اس نے ہمیں پانی پلایا اور ہمارے لیے وضو کا اہتمام کیا۔ پھر کمبل بچھایا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد ہمیں کھانے کی پرخلوص دعوت دی جو وقت کی کمی کی وجہ سے ہم قبول نہیں کرسکے۔ تاہم یہ پہلا موقع تھا جب میں نے افغانوں کی محبت کا ذائقہ چکھا۔ میں نے سوچا افغان معاشرے میں غربت کے باوجود کچھ لوگ مسافروں کے لیے دیدہ ودل فرش راہ کرتے ہیں۔ لیکن سفر کے دوران یہ تجربہ ہر مقام پر ہوا۔ میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو گیا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ افغانوں سے ان کی دولت بے شک چھن گئی ہے لیکن اسلام کا رشتہ اور مضبوط ہو گیا ہے اور مسلمانوں کے لیے ان کے دلوں میں محبت اور عقیدت بڑھ گئی ہے۔

ایک مرتبہ ہمیں ایک ضروری کام کے لیے گورنر قندھار ملا حسن خان سے ملنے کی ضرورت پڑی۔ بظاہر تو گورنر سے ملاقات جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ میرے ذہن میں پاکستانی گورنروں کا کروفر اور پروٹوکول چھایا ہوا تھا جن سے آپ ہفتوں کوشش کے باوجود نہیں مل سکتے۔ ہم اللہ پر بھروسہ کر کے سیدھے گورنر کے دفتر پہنچے۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ گورنر صاحب نماز ظہر کے وقت مسجد میں ملیں گے۔ ہم مسجد میں گئے، نماز کے بعد لوگ مختلف ٹولیوں میں جمع ہو گئے۔ میں نے ایک شخص سے پوچھاکہ گورنر صاحب کہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ وہ سامنے والی ٹولی میں جو شخص کھڑا ہے، وہی گورنر قندھار ہے۔ میں نے غور سے دیکھا ، اس کی ایک ٹانگ نہیں تھی، اس کی جگہ لکڑی کی ٹانگ تھی۔ وہ باریش اور خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ باری باری لوگوں کے پاس جاتا، ان کے مسائل سنتا، احکامات جاری کرتا اور آگے بڑھ جاتا۔ مجھے خدشہ ہوا کہ شاید ہمارے پاس آتے آتے وقت ختم ہو جائے گااور ہم ملاقات سے محروم رہ جائیں گے۔ میں نے اس خدشے کا اظہار اپنے مترجم سے کیا۔ اس نے پورے یقین سے کہا، وہ ضرور ہمارے پاس آئیں گے۔ جب گورنر حسن خان ہمارے پاس پہنچے تو تاخیر پر معذرت کی اور کہا کہ سب سے آخر میں آپ سے ملاقات کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ ہمارے بیرونی مہمان ہیں اور میں آپ کو خاصا وقت دینا چاہتا ہوں۔ بتائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ ہم نے کہا ہم قندھار میں آٹے کی مل لگانا چاہتے ہیں، اس کے لیے ہمیں جگہ چاہئے۔ انہوں نے کہا، اچھی بات ہے۔ اس وقت دفاتر بند ہو گئے ہیں، آپ کل صبح آٹھ بجے مجھ سے ملیں۔ اگلے روز آٹھ بجے ہم وہاں پہنچے تو گورنر صاحب پہلے سے ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہم نے اپنی درخواست پیش کی۔ انہوں نے دوسرے دفاتر کو ٹیلی فون کیے اور جب تک انہیں یقین نہیں ہو گیا کہ ہماری ضرورت پوری ہو گئی ہے، اس وقت تک وہ ہم پر ہی توجہ مبذول کیے رہے۔

ایک اور دفعہ ہم قندھار کے سرکاری مہمان خانے میں تھے۔ وہاں کے سرکاری مہمان خانے میں جس کا جی چاہے، قیام کر سکتا ہے۔ گورنر صاحب کا دفتر بھی مہمان خانے کے ساتھ ہی تھا۔ سردی کے دن تھے۔ جس کمرے میں ہم مقیم تھے، وہاں ہیٹر نہیں تھا۔ شام کے وقت میں نے دیکھا، گورنر ایک شخص کے ساتھ ہیٹر اٹھائے آرہے ہیں۔ انہوں نے خود کھڑے ہو کر ہیٹر لگوایا اور کہا اس وقت ہیٹر کی تنصیب اس لیے ضروری تھی کہ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ اس ہیٹر کو ایک دوسری جگہ سے آپ کے لیے لایا ہوں تاکہ آپ کو سردی نہ لگے۔ میں نے دل میں سوچا، بے شک اسلامی حکومت کا طرۂ امتیاز یہی ہوتا ہے کہ حکمران قوم کے خادم ہوتے ہیں۔ اسلامی حکومت صرف سزاؤں کا نام نہیں بلکہ خدمت خلق کا نام ہے۔

افغانستان کے وزیر اعظم ملا ربانی سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ بڑے منکسر المزاج شخص ہیں۔ دوران گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ہم سے بہت توقعات ہیں، ہم ان کی توقعات پوری نہیں کر رہے جس پر ہم شرمندہ ہیں، اس لیے ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف کریں۔ ہم آپ کی بھی خاطر تواضع پوری طرح نہیں کر سکتے۔ اسی دوران دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ ہماری خواہش تھی کہ ا ن سے اجازت لیں کیونکہ ہم پہلے ہی ان کا خاصا وقت لے چکے تھے۔ لیکن انہوں نے کھانا کھائے بغیر جانے کی اجازت نہ دی۔ کچھ ہی دیر بعد دستر خوان بچھ گیا۔ ہم چھ سات مہمان تھے۔ دس بارہ افراد اور تھے۔ سب دستر خوان کے گرد بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد افغانی روٹی اور بینگن کے سالن کی ایک ایک پلیٹ سب کے سامنے رکھ دی گئی لیکن وزیر اعظم صاحب کے سامنے پلیٹ میں تربوز کی ایک قاش رکھ دی گئی۔ کھانے کے بعد دعا وغیرہ ہوئی اور ہم اجازت لے کر واپس آ گئے۔ میں نے راستے میں مترجم سے پوچھا کہ وزیر اعظم صاحب نے کھانا کیوں نہیں کھایا، صرف تربوز کے ایک ٹکڑے پر اکتفا کیا؟ اس نے کہا، آپ تو سرکاری مہمان تھے اس لیے آپ کو کھانا حکومت نے فراہم کیا۔ وزیر اعظم صاحب کا کھانا گھر سے آتا ہے۔ ان کے گھر میں سالن نہیں پکا ہوگا، ا س لیے تربوز بھیج دیا۔ یہ باتیں کتابوں میں پڑھتے تھے، میں نے افغانستان میں اس کے عملی مظاہرے دیکھے۔

ہم نے افغانستان میں آٹے کی ایک مل لگانے کا پروگرام بنایا جس کے لیے افغانستان کی وزارت صنعت سے اجازت نامہ لینا تھا۔ ہم ان خدشات اور تفکرات میں ڈوبے ہوئے متعلقہ وزیر سے ملنے گئے کہ نہ معلوم وزیر صاحب سے ملنے کی راہ میں کتنی مشکلات حائل ہوں گی لیکن جب ہم وہاں پہنچے اور مدعا بیان کیا تو ہمیں سیدھا وزیر صاحب کے پاس پہنچا دیا گیا جو شکل وصورت اور طور طریقوں سے فقیر لگتے تھے، فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے دائیں بائیں اور آمنے سامنے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد ہماری باری آئی تو پوچھا، کیسے تشریف لائے ہیں؟ ہم نے درخواست آگے بڑھا دی اور وزیر صاحب نے ہماری درخواست پڑھ کر اس پر کچھ لکھ کر ایک اور سرکاری عہدیدار کو دے دی۔ اس طرح دس منٹ تک یہ درخواست وزارت کے مختلف افسروں کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی دوبارہ وزیر صاحب کے پاس آئی تو انہوں نے اس پر لکھا ’’متفق بمطابق اصول وقانون‘‘ اس طرح دس منٹ کے اندر اندر ہمیں مل کی تعمیر کا اجازت نامہ مل گیا۔

ایک مرتبہ میں نے آب وبرق کے وزیر مولانا احمد جان صاحب سے تباہ شدہ بجلی کے نظام کو اتنی مشکل صورت حال کے باوجود تیزی سے قابل استعمال بنانے کا راز پوچھا۔ میں نے کہا کہ آپ نے مختصر مدت میں کس طرح کابل کے دو تہائی حصے اور قندھار کو بجلی فراہم کر دی اور دیگر علاقوں کو بھی بجلی کی فراہمی ہو رہی ہے۔ تباہ وبرباد گرڈ اسٹیشنوں کو آپ بڑی سرعت اور مہارت سے قابل استعمال بنا رہے ہیں، آخر آپ نے یہ نسخہ کہاں سے سیکھا ہے؟ انہوں نے کہا، ہمارے نظام حکومت میں وزرا کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ متعلقہ وزیر کو اپنی وزارت کے اسرار اور رموز اور اہم تکنیکی امور سکھائے جاتے ہیں۔ ہمارے عوام میں تعمیر وطن کا بے پناہ جوش وجذبہ ہے۔ ہم انہیں سازگا رماحول اورموقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ مجھے کابل کے نواح میں سولہ کلو میٹر دور ایک تباہ حال پاور اسٹیشن دکھانے لے گئے جس کی تعمیر ومرمت کا کام ہو رہا تھا۔ چونکہ وہاں ٹیلی فون کی سہولت نہیں تھی اس لیے اس پاور اسٹیشن پر کام کرنے والوں کو معلوم نہ تھا کہ ان کے وزیر صاحب آ رہے ہیں لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو مجھے یہ خوش گوار حیرت ہوئی کہ وہاں ہر شخص اپنے کام میں ڈوبا ہوا ہے۔ کوئی بے کار بیٹھا ہوا نہ تھا۔ ان کے چیف انجینئر ایک دراز ریش افغانی تھے جن کے لباس سے دھوکا ہوتا تھا کہ شاید وہ بھی مزدور ہیں۔ ان سے گفتگو ہوئی، ان کا جذبہ اور اخلاص دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔

حکومت نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام سے ایک خصوصی وزارت تشکیل دی ہے جو لوگوں کی دینی تربیت اور اخلاقی حالت سدھارنے کا اہتمام اور کام کرتی ہے۔ طالبان کا خیال ہے کہ مادی ترقی کے لیے اخلاقی ترقی ضروری ہے۔ دل بدلیں گے تو مالی حالت بدل جائے گی۔ اس سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا تو اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی، اسے ایک انفرادی مسئلہ خیال کیا جاتا تھا حالانکہ شریعت اسے اجتماعی فرض قرار دیتی ہے۔ اب یہاں ہر شخص فرض سمجھ کر نماز پڑھتا ہے، اللہ کے حکم سے سرتابی کی کسی کو اجازت نہیں۔ نماز کے وقت لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر مسجد کی طرف جا رہے ہوتے ہیں۔ ریڑھی والا اپنی ریڑھی کو جوں کا توں چھوڑ کر نماز کے لیے چلا جاتا ہے۔ مجال ہے ایک پیسے کا بھی نقصان ہو۔

طالبان حکومت کے آنے سے پہلے افغانستان میں عورتوں کی جان اور عزت کس قدر خطرے میں تھی، اہل مغرب اس کا احساس رکھتے تو وہ کبھی ان پر بے بنیاد الزامات نہ لگاتے۔ بادشاہت کے دور میں مغربی تہذیب وثقافت کو عام کرنے کے لیے باقاعدہ ایک قانون منظور کیا گیا اور عورتوں کو اسکرٹ پہننے پر مجبور کیا گیا۔ داؤد کی حکومت آئی تو عورت کی تذلیل کے لیے سرعام قحبہ خانے اور شراب خانے کھول دیے گئے۔ روسی آ گئے تو شراب اور بے حیائی کا سیلاب بھی ساتھ آیا۔ روسیوں کے جانے کے بعد افغانستان طوائف الملوکی کی زد میں آ گیا۔ کابل میں مختلف نسب ونسل کے ملیشیا دندناتے پھرتے تھے۔ معصوم ومظلوم عورتوں کو جبرا گھروں سے اٹھایا جانے لگا۔ لٹیروں کی دست برد سے بچنے کے لیے ہزاروں لوگوں نے بھاگ کر جانیں اور عزتیں بچائیں۔ طالبان کے دور میں اب پہلی بار عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کا مرتبہ ملا ہے۔ آج اس ملک میں خواتین کو اس قدر تحفظ حاصل ہے کہ کوئی بری نظر سے ان کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

طالبان کے دور حکومت پر ایک اعتراض جبری ڈاڑھی رکھوانے کا ہے لیکن اہل مغرب اس وقت خاموش تھے جب داؤد کے دور میں ڈاڑھی والوں کو بغیر کسی قصور کے جیلوں میں ڈال دیا جاتا تھا۔ انہوں نے ایک قانون کے تحت باریش مسلمان پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند کر دیے تھے۔ کمیونسٹ دور میں ڈاڑھی والے گردن زدنی رہے۔ اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں کو تکلیف نہیں ہوئی لیکن آج وہ چلا رہی ہیں۔ طالبان ڈاڑھی رکھوا رہے ہیں۔ ڈاڑھی منڈوانا ویسے بھی غیر فطری ہے اور افغان کلچر کی تو یہ پہچان ہے۔ میرے ساتھ صنعت کاروں کا ایک گروپ افغانستان میں گیا تھا، ان میں سے اکثر ڈاڑھی کے بغیر تھے لیکن ماحول سے متاثر ہو کر سب نے ڈاڑھی رکھ لی حالانکہ غیر ملکیوں پر ڈاڑھی رکھنے کی کوئی پابندی نہیں۔

دراصل مغرب نہیں چاہتا کہ دنیا کی توجہ طالبان کے اصل مسائل کی طرف مبذول ہو۔ افغانستان ایک تباہ حال ملک ہے۔ وہ دو عشروں تک جنگ کی آگ میں جلتا رہا ہے۔ اس جنگ نے افغانستان کا ہر گھر تباہ کیا ہے۔ کوئی بھی حساس شخص وہاں جا کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ شور اس لیے مچایا جا رہا ہے کہ لوگ اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ طالبان سے وحشت ودہشت منسوب کی جا رہی ہے تاکہ لوگ ان سے خوف زدہ ہو جائیں۔ افغانستان دو کروڑ آبادی کا ملک ہے۔ اس میں سے بیس لاکھ افراد شہید ہوئے یعنی ہر دسواں فرد راہ حق میں کام آیا۔ پچاس لاکھ زخمی ہوئے، اس طرح مجموعی طور پر ہر تیسرا شخص روسی بربریت کا براہ راست نشانہ بنا اور باقی بالواسطہ متاثر ہوئے۔ لاکھوں ایسے یتیم اور بیوائیں ہیں جن کا کوئی کمانے والا نہیں۔ ان کی بحالی کے لیے طالبان نے ایک مستقل وزارت قائم کی ہے جو معذور بوڑھوں، بے آسرا عورتوں اور بے خانماں بچوں کے آنسو پونچھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پچاس لاکھ سے زیادہ افغان بے روزگار ہیں۔ میں نے کابل اور قندھار کے صنعتی علاقوں کو دیکھا، روسی جہازوں، توپوں اور ٹینکوں نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا د ی ہے۔ جب صنعتیں نہیں ہوں گی تو پھر روزگار کہاں سے آئے گا؟ا ہل مغرب کی خیانت دیکھئے، ان بے روزگار لوگوں کو روزگار میں مدد دینے کے بجائے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے علما کا خاموش مظاہرہ

ادارہ

جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ اسلام آباد اور راول پنڈی کے زیر اہتمام اسلام آباد اور راول پنڈی کے سینکڑوں علماء کرام نے ۶ فروری ۲۰۰۱ء کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے خاموش مظاہرہ کیا اور اقوام متحدہ کے سفارتی افسران کو مندرجہ ذیل یادداشت پیش کی۔ مظاہرہ کی قیادت پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا قاری سعید الرحمن کے ہمراہ جمعیۃ اہل السنۃ کے راہ نماؤں مولانا قاری محمد نذیر فاروقی، مولانا قاضی عبد الرشید، مولانا قاری محمد زرین، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا عبد الخالق، مولانا گوہر رحمان، مولانا حافظ محمد صدیق اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے کی۔


جناب سیکرٹری جنرل صاحب اقوام متحدہ

جناب عالی!

پاکستان میں دینی رہنماؤں کے خلاف جاری دہشت گردی کے حوالے سے چند معروضات گوش گزار کرنے کے لیے یہ عریضہ پیش خدمت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق آپ اس سلسلہ میں ذاتی دلچسپی لے کر متاثرین کی داد رسی کریں گے۔

۱۔ دین اسلام ایک فطری دین ہے اوراس میں ہر انسان کو مکمل تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ اس کی دینی، مذہبی، سیاسی اور معاشی آزادی کا حق تسلیم کیا گیا اور اس کی مکمل ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ اللہ کریم کا یہ واضح حکم جو مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم میں موجود ہے، یہ ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جب مدینے کی طرف ہجرت فرمائی تو مدینہ میں یہودی آباد تھے۔ حضرت محمد ﷺ نے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو چودہ نکات پر مشتمل تھا اور میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدے میں یہودیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ دنیا کا یہ عظیم الشان اور اعلی ترین معاہدہ آنحضرت ﷺکی سیرت کی کتابوں میں اصل الفاظ کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔

ہمارے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں انسانی حقوق کی رعایت اس حد تک کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی تیز دھار آلہ مثلا چھری وغیرہ کسی کو پکڑائے تو اس کی دھار دوسرے شخص کی طرف نہ کرے بلکہ اس کا دستہ اس کو دے، کہیں ایسا نہ ہو کہ معمولی سی لا پروائی سے اس شخص کا ہاتھ زخمی ہو جائے۔ یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی شخص نیزہ یا تیز دھار والی کوئی چیز ہاتھ میں لے کرہجوم کی جگہ مثلا بازار وغیرہ میں چلے تو اس کی دھار کی نوک اپنے ہاتھ میں پکڑے تاکہ اس سے کسی شخص کے زخمی ہونے کا اندیشہ نہ رہے۔ اور صرف انسانوں کی بات نہیں، ہمارے دین اور ہمارے آقا ﷺ نے ہمیں جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ حقوق کے حوالے سے ہمارے نبی کریم ﷺ کی یہ تعلیمات اور ارشادات آپ کی احادیث میں واضح طور پر موجود ہیں اور ہر فرد بشر ان کا مطالعہ کر کے ان سے آگاہی حاصل کر سکتاہے۔

صرف پاکستان میں نہیں، بلکہ پوری دنیا میں علماء کرام ،دینی مدارس کے فضلا اور مدارس سے متعلق افراد اسی تعلیم کی ترویج واشاعت میں مصروف عمل ہیں۔ یہ صرف زبانی کلامی دعوے کی بات نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی بات ہے جس کو ہر ذی شعور تسلیم کرتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آج تقریبا" دنیا کے اکثر ممالک میں پاکستانی دینی مدارس کے فارغ التحصیل علما، حفاظ اور قرا موجود ہیں۔ ان کی نگرانی کر کے، ان کی باتیں سن کر، ان کے خیالات وافکار سے آگاہی حاصل کر کے ہی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کو کس قسم کی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ اگر بیرون دنیا میں ان کا کردار، ان کی تعلیم اورطرز تعلیم صحیح اور انسانیت کے مطابق ہے تو یہ اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ ان کا نظام تعلیم انہی مثبت خطوط کے مطابق ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ چودہ پندرہ سال دہشت گردی، تخریب کاری، لڑائی بھڑائی، مارو جلاؤ اور گھیراؤ کی تعلیم حاصل کریں اور فارغ ہونے کے بعد یہ ساری تربیت بھول کر ایک شریف، امن پسند مصلح معاشرہ اور عابد وزاہد کا روپ دھار لیں اور ان کی پوری زندگی میں اس تعلیم کی جھلک تک نظر نہ آئے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دینی مدارس میں کسی منفی پہلو کی تعلیم نہیں دی جاتی۔

۲۔ پاکستان، ہندوستان اور دنیا کے بعض دوسرے ممالک میں دو طرز ہائے تعلیم موجود ہیں: ایک انگریزی یا عصری طرز تعلیم اور دوسرا دینی ومذہبی طرز تعلیم۔ ان دونوں طریقوں کی ہزاروں درس گاہیں موجود ہیں لیکن دونوں میں ایک واضح فرق ہے۔ عصری تعلیم کی درسگاہوں میں طلبہ کے آپس کے اختلافات، اساتذہ کے خلاف ہڑتالیں، ہم درس افراد کا قتل، سڑکیں بلاک کرنا، جلاؤ گھیراؤ، پتھراؤ، سرکاری وغیر سرکاری املاک کی تباہی، یونین سازی، افراتفری روزمرہ کا معمول ہیں لیکن دینی مدارس میں آج تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا لیکن منفی پروپیگنڈا دینی مدارس اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف ہی کیا جاتا ہے۔

دینی مدارس پر دہشت گردی، مذہبی منافرت، قتل وغارت گری کا الزام تو بڑے زور وشور سے عائد کیا جاتا ہے لیکن آج تک کوئی ادارہ، تنظیم اس الزام کو ایک فیصد بھی ثابت نہیں کر سکی۔ حکومت پاکستان نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رپورٹ مرتب کرائی۔ مرتب کنندگان نے جب رپورٹ پیش کی تو سات جگہوں کی نشان دہی کی کہ یہاں دہشت گردی ہوئی ہے۔ جب اراکین نے دریافت کیا کہ ان سات جگہوں نے دہشت گردی کی ہے یا یہ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو بتایا گیا کہ یہ جگہیں دہشت گردی کا نشانہ بنی ہیں، انہوں نے کہیں دہشت گردی نہیں کی۔

دینی مدارس اور دینی رہنما اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہر مظلوم کے حامی اور ظالم کے مخالف اور انصاف کے علمبردار ہیں اور حق وصداقت کی بات کرتے ہیں۔

۳۔ پاکستان میں ایک عرصہ سے دینی مدارس، مساجد،امام بارگاہوں اور خانقاہوں کے خلاف ایک منظم سازش شروع ہے۔ مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں پر حملے کیے جاتے ہیں، گولیاں چلائی جاتی ہیں، نمازیوں کو شہید کیا جاتا ہے، علماء کرام کو قتل کیا جاتا ہے اور بد امنی پھیلائی جاتی ہے۔ اب تک سینکڑوں علما اور ذاکرین کو شہید کیا جا چکا ہے۔ ان میں مولانا حق نواز جھنگوی، مولانا ایثار القاسمی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، صادق حسین، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، مولانا مفتی عبد السمیع، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا محمد عبد اللہ، علامہ عارف الحسینی، علامہ مرید عباس یزدانی، مولانا حبیب الرحمن یزدانی، مولانا احسان اللہ فاروقی، مولانا احسان الہی ظہیر، جناب سید صلاح الدین، جناب حکیم سعید جیسے حضرات شامل ہیں۔ جب دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو برسراقتدار افراد کے لگے بندھے بیانات چھپنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ہم مجرموں کو نہیں چھوڑیں گے، ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ، یہ بزدلانہ حرکت ہے، اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے، مجرموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے بیانات داغ دیے جاتے ہیں اور چند دنوں کے لیے مساجد اور امام بارگاہوں کے پہرے کا نظام شروع کر دیا جاتا ہے جوآہستہ آہستہ نرم کر دیا جاتا ہے اور مجرموں کو پھر کارروائی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔بعض دفعہ شہید کے لواحقین کچھ لوگوں کی نشان دہی بھی کرتے ہیں، تفتیش میں مدد دیتے ہیں، دلچسپی ظاہر کرتے ہیں لیکن ایک خاص مرحلے پر پہنچ کر حکومت کی طرف سے مقرر تفتیشی ٹیم متوفی کے پس ماندگان کو صاف صاف کہہ دیتی ہے کہ اب آپ خاموش ہو جائیں، اس سے آگے تفتیش نہیں بڑھائی جا سکتی۔ اگر لواحقین اصرار کریں تو ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس مسئلہ کو چھوڑ دیں ورنہ آپ کا نقصان بھی ہو سکتا ہے، آپ کے بچے اغوا ہو سکتے ہیں، آپ کو قتل کیا جا سکتا ہے وغیرہ۔ اس طرح کی دھمکیاں دے کر ان کو چپ کرا دیا جاتا ہے۔ مولانا محمد عبد اللہ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار وغیرہ حضرات کے کیسوں میں اسی طرح لواحقین کی زبان بند کرائی گئی ہے۔

پاکستان میں شیعہ سنی علمی اختلاف تو ضرور موجود ہے لیکن قتل وغارت گری کا اختلاف اتنے وسیع پیمانے پر موجود نہیں ہے، تاہم ہمیں اس بات کا ضرور اقرار کرنا چاہئے کہ شیعہ سنی اختلافات کی وجہ سے کہیں کہیں کچھ واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن ان فرقوں کے مابین باقاعدہ جنگ کی کوئی کیفیت نہیں ہے۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ جب شیعہ یا سنی کسی بھی فریق کے افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے ہیں تو دوسرے فریق کی طرف سے اس کی مذمت کی جاتی ہے اور متاثرہ فریق کو انصاف مہیا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ اس لیے شیعہ سنی اختلاف تو موجود ہے، شیعہ سنی جنگ نہیں۔ اس کا دوسراثبوت یہ ہے کہ ایک ہی آبادی میں، اڑوس پڑوس میں شیعہ سنی اکٹھے رہتے اور کاروبار اور لین دین کرتے ہیں۔

۴۔ موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کے علماء کرام آپ سے التماس کرتے ہیں کہ آپ بین الاقوامی انسانی حقوق کے سٹیج پر اس بات کی رپورٹ طلب کریں اور حکومت پاکستان سے اس قتل وغارت گری، دہشت گردی، لوٹ مار، افراتفری کی وجہ دریافت کریں کہ بلا وجہ علماء کرام، دینی مدارس، مساجد، امام بارگاہوں کو تخریب کاری کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے اور ان مسلسل واقعات کا کوئی بھی مجرم آج تک کیوں کیفر کردار تک نہ پہنچایا جا سکا؟ اگر حکومت تحفظ فراہم کرنے میں ناکام یا معذور ہے تو پھر ان اداروں کو مطلع کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔

ہمیں امید ہے کہ آپ ہماری ان معروضات پر ہمدردی سے غور کریں گے اور مناسب اقدام کریں گے۔ اگر آپ کوئی اقدام نہیں کرسکتے تو یہی سمجھا جائے گا کہ اقوام متحدہ علما کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات سے باخبر ہونے کے باوجود مجرمانہ غفلت کا شکار ہے۔

پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیاں

ادارہ

مجلس عاملہ کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ۱۸ فروری ۲۰۰۱ء کو جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈراولپنڈی صدر میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں امارت اسلامی افغانستان پر سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں سے پیدا شدہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ملک کے تمام بڑے مکاتب فکر کی جماعتوں پر مشتمل ’’افغان ڈیفنس کونسل‘‘ کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کے ساتھ مکمل تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔

مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ)، مولانا قاری سعید الرحمن (راولپنڈی)، مولانا حامد علی رحمانی (حسن ابدال)، مولانا عبد الرشید انصاری (کراچی)، مخدوم منظور احمد تونسوی (لاہور)، مولانا میاں عصمت شاہ کا کاخیل (پشاور)، مولانا عبد العزیز محمدی (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا حافظ مہر محمد (میانوالی)، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر (لاہور)، مولانا حسین احمد قریشی (اٹک)، مولانا صلاح الدین فاروقی (ٹیکسلا)، مولانا محمد ادریس (ڈیرہ غازی خان)، مولانا اللہ وسایا قاسم (اسلام آباد) ،مولانا عبد الخالق (اسلام آباد)، ڈاکٹر حافظ احمد خان (اسلام آباد)

لاہور میں سیمینار

پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام ۲۱ فروری ۲۰۰۱ء کو بعد نماز ظہر فلیٹیز ہوٹل لاہور میں سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے کی جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے راہ نماؤں مولانا زاہد الراشدی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبد الرشید انصاری ،مولانا محمد نواز بلوچ اور مولانا حافظ ذکاء الرحمن اختر کے علاوہ جمعیۃ العلماء پاکستان کے راہ نماؤں علامہ شبیر احمد ہاشمی اور قاری زوار بہادر، جمعیۃ علماء اسلام کے راہ نماؤں مولانا محمد امجد خان اور مولانا سیف الدین سیف، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہ نماؤں مولانا عزیز الرحمن ثانی، مجلس احرار اسلام کے راہ نما چودھری ظفر اقبال ایڈووکیٹ، جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے سربراہ مولانا عبد المالک خان، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے راہ نما مولانا عبد الرؤف فاروقی اور اور جیش محمدکے راہ نما ڈاکٹر نذیر احمد نے خطاب کیااور علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مقررین نے افغانستان کی اسلامی حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ طالبان حکومت کی حمایت اور پورے ملک میں ان کی معاونت وامداد کی مہم چلائی جائے گی۔

مقررین نے وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے جہادی تحریکوں کے خلاف بیانات پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ وزیر داخلہ پاکستانی عوام کی ترجمانی کرنے کے بجائے مغرب کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سیمینار میں دنیا بھر کی تمام مسلمان حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کیا جائے اور افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اسے بھرپور امداد فراہم کی جائے۔

صوبہ سرحد کے امیر اور سیکرٹری جنرل

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے پشاور کے مولانا عصمت شاہ کاکاخیل کو پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کا امیر اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مولانا عبد العزیز محمدی کو صوبائی سیکرٹری جنرل مقرر کیا ہے۔ امیرمرکزیہ نے دونوں راہ نماؤں کو اختیار دیا ہے کہ وہ باہمی مشورہ سے دیگر صوبائی عہدہ داروں اور مجلس شوری کے ارکان کا تقرر کر لیں۔ صوبہ سرحد کے امیر اور سیکرٹری جنرل سے ۵۸ نشتر آباد پشاور اور مسجد امان اسلامیہ کالونی ڈیرہ اسماعیل خان کے پتہ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

سیکرٹری جنرل کی پریس کانفرنس

پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے ۱۷ فروری کو ٹیکسلا میں ایک اجتماع سے خطاب کرنے کے علاوہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا صلاح الدین فاروقی کی رہائش گاہ پر اخبار نویسوں سے بھی پاکستان شریعت کونسل کے موقف اور پروگرام کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شریعت کونسل اقتدار کی سیاست اور انتخابی کشمکش سے الگ تھلگ رہتے ہوئے ملک میں علمی وفکری بنیاد پر نفاذ اسلام کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس سلسلہ میں دینی حلقوں اور علمی مراکز کے درمیان باہمی رابطہ ومفاہمت کو زیادہ سے زیادہ فروغ حاصل ہو تاکہ مشترکہ جدوجہد کی فضا قائم ہو سکے۔ مولانا زاہد الراشدی نے ملک بھر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشن میں پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ شریک ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی سیاسی یا دینی جماعت کے کارکن اپنی جماعتوں میں رہتے ہوئے بھی پاکستان شریعت کونسل میں شامل ہو سکتے ہیں۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

ماہنامہ ’’القاسم‘‘ کا مفتی کفایت اللہؒ نمبر

مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ جنوبی ایشیا کے دینی، سیاسی اور علمی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کی خدمات اس خطہ کی ملی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی علمی ودینی راہ نمائی کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کی جرات مندانہ قیادت کی اور علماء حق کی قیادت میں ممتاز اور نمایاں مقام پر سرفراز ہوئے۔ انہیں اپنے دور میں جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے مفتی کی حیثیت سے یاد کیا جاتا تھا اور ان کے فتاوی ایک عرصہ تک اہل علم کی راہ نمائی کے لیے مشعل راہ کا کام دیتے رہیں گے۔

حضرت مفتی صاحبؒ کی وفات پر ہفت روزہ ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی نے ان کی خدمات اور حالات زندگی پر ایک ضخیم نمبر شائع کیا تھا جس میں ممتاز اصحاب قلم اور ارباب دانش نے ان کی علمی، سیاسی اور دینی جدوجہد کے مختلف گوشوں کو آشکار کیا ہے اور نئی نسل کو ان کے حوالے سے تاریخ کے ایک پورے دور سے متعارف کرایا ہے۔ جامعہ ابو ہریرہ خالق آباد نوشہرہ صوبہ سرحد کے ترجمان ماہنامہ ’’القاسم‘‘ کے سرپرست اعلی مولانا عبد القیوم حقانی نے الجمعیۃ کے اس ’’مفتی اعظم نمبر‘‘ کو جدید اضافوں اور ترتیب کے ساتھ ’’القاسم‘‘ کی خصوصی اشاعت کی شکل میں پیش کیا ہے جو آج کے نوجوان علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے گراں قدر تحفہ ہے اور قافلہ حق کے ہر کارکن کے لیے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔

عمدہ کتابت وطباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ بڑے سائز کے سوا دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ ضخیم نمبر مذکورہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’پاکستان میں اسلام کا نظام کیسے قائم ہو؟‘‘

ہمارے محترم اور فاضل دوست مولانا حافظ مہر محمد میانوالوی کا خصوصی ذوق یہ ہے کہ وہ اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد وافکار کی وضاحت اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے جوابات کے ساتھ اصلاح معاشرہ اور ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے حوالہ سے بھی کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں۔ زیر نظر کتابچہ اس سلسلہ میں ان کے دو مضامین پر مشتمل ہے جن میں انہوں نے اسلامی نظام کی اہمیت اور خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے اس کے عملی نفاذ کے سلسلہ میں حکومت کے سامنے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔ چھوٹے سائز کے ۶۴ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ پاکستان شریعت کونسل ضلع میانوالی نے شائع کیا ہے اور اسے جامعہ توحید وسنت ‘ بن حافظ جی تحصیل وضلع میانوالی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’ڈاڑھی ہماری‘‘

ڈاڑھی جناب نبی اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور ہمارا دینی شعار ہے جس کی اہمیت وافادیت پر بہت سے علماء کرام نے قلم اٹھایا ہے۔ مبین ٹرسٹ پوسٹ بکس ۴۷۰ اسلام آباد ۴۴۰۰۰ نے اس سلسلہ میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے چند مضامین کا ایک جامع انتخاب مذکورہ بالا عنوان کے تحت شائع کیا ہے۔ آرٹ پیپر پر ۴۴ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتابچہ صدقہ جاریہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اسے مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔