جنوری ۲۰۰۱ء

حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نعمتوں کی ناشکری پر عذاب الٰہی کا ضابطہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلام میں عورت کا مقامحکیم محمود احمد ظفر 
تحریک ریشمی رومال پر ایک نظرمولانا شمس الحق مشتاق 
غیر ملکی قرضوں کا جال اور پاکستان کی آزادیلیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل 
کشمیر کی آزادی کا واحد راستہ - جہادالشیخ عمر بکری محمد 
اسلام میں انسانی حقوق کی اہمیت اور دائرہ کارمولانا عصمت اللہ 
سرکاری حج پالیسی اور حجاج کو درپیش مشکلات ۔ چیف ایگزیکٹو کے نام ایک مکتوبمولانا محمد عبد العزیز محمدی 
کراچی میں حافظ الحدیث کانفرنس کا انعقادادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حکومت نے آخر کار "حمود الرحمن کمیشن" کی رپورٹ کا ایک اہم حصہ عوام کی معلومات کے لیے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں رکھ دیا ہے اور اس کے اقتباسات قومی اخبارات میں شائع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں ملک سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان کے باقی ماندہ حصے میں قائم ہونے والی بھٹو حکومت نے عوامی مطالبہ پر اس وقت کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سربراہ جسٹس حمود الرحمن مرحوم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا تھا جس میں پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس انوا ر الحق مرحوم اور سندھ بلوچستان ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس طفیل علی عبد الرحمن مرحوم بھی شامل تھے۔ کمیشن کے ذمہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب و عوامل کی نشاندہی اور اس کے ذمہ دار افراد کے تعین کے ساتھ ساتھ اس سلسلہ میں ضروری کارروائی کے لیے سفارشات اور تجاویز پیش کرنا تھا۔

کمیشن نے دو سو سے زیادہ افراد کے بیانات اور ستر کے لگ بھگ شہادتیں قلمبند کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر دی تھی جو "ٹاپ سیکرٹ" قرار دے دی گئی اور ملک کے عوام کو اس کی تفصیلات کا علم نہ ہو سکا۔ مختلف حلقوں کی طرف سے اس رپورٹ کی اشاعت کا مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا۔ مگر اس رپورٹ کے بعد ملک میں قائم ہونے والی کسی حکومت نے بھی اس مطالبہ پر توجہ نہ دی حتی کہ اس رپورٹ کے کچھ حصے مبینہ طور پر چوری ہوئے اور بھارت کے بعض اخبارات نے گزشتہ دنوں انہیں شائع کر دیا جس پر اس رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ ایک بار پھر منظر عام پر آیا اور وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے رپورٹ کا از سر نو جائزہ لے کر اس کے ایک حصے کی اشاعت کی سفارش کر دی جس پر اسے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں عوام کے مطالعہ کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق رپورٹ کے آٹھ حصوں میں سے صرف دو حصے "اوپن" کیے گئے ہیں جبکہ باقی چھ حصے بدستور " صیغہ راز" میں ہیں اور اس کے مندرجات کو خارجہ تعلقات کے "حساس امور" قرار دے کر حسب سابق ناقابل اشاعت کے زمرے میں رکھا گیا ہے تاہم جو حصہ شائع ہوا ہے وہ بھی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے اور اس نے ان تمام شبہات ‘ خدشات اور الزامات کی تصدیق کر دی ہے جو اس عظیم سانحہ کے حوالہ سے اس وقت کی فوجی و سیاسی قیادت اور نوکر شاہی کے بارے میں عوامی حلقوں میں وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔

روزنامہ جنگ لاہور ‘ نوائے وقت لاہور اور اوصاف اسلام آباد نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۰ء کے شماروں میں حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کی جو تفصیلات شائع کی ہیں ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔

یہ ہے وہ ایک ہلکا سا خاکہ اس پس منظر کا جو مملکت خداداد پاکستان کے دو حصوں میں بٹ جانے اور سقوط ڈھاکہ جیسے عظیم ملی سانحہ کا باعث بنا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سے کیا سبق حاصل کیا؟ اور ۷۱ء کے بعد ربع صدی سے زائد عرصہ میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے‘ اس طرح کے اسباب و عوامل کو روکنے اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ کیا ایسا تو نہیں کہ ہم نے "جرم" اور "مجرم" دونوں پر پردہ ڈال کر خود کو اندرونی و بیرونی سازشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور حالات کی اصلاح کے لیے سقوط ڈھاکہ جیسے کسی اور سانحہ کا انتظار کر رہے ہیں؟

نعمتوں کی ناشکری پر عذاب الٰہی کا ضابطہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عید الفطر کے موقع پر مرکزی عید گاہ اہل سنت گوجرانوالہ میں مدیر "الشریعۃ" کا خطاب ۔

بعد الحمد والصلوٰۃ آج عید کا دن ہے‘ عید خوشی کو کہتے ہیں اور آج دنیا بھر کے مسلمان اس بات پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خوشی اور تشکر کا اظہار کر رہے ہیں کہ رمضان المبارک کا رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ نصیب ہوا اور اس میں ہر مسلمان کو اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نیک اعمال کا موقع ملا۔ روزہ‘ قرآن کریم کا سننا سنانا ‘ صدقہ خیرات اور نوافل کی توفیق ہوئی‘ اس خوشی میں مسلمان بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہیں اور تشکر و امتنان کا اظہار کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ وہ شکر گزاری پر نعمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں ۔ قرآن کریم میں سور ۃ ابراھیم کی آیت ۷ میں ارشاد خداوندی ہے کہ

"اگر تم میری نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور اگر نا شکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔"

یعنی جس طرح شکر گزاری پر نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح نا شکری پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب اور سزا بھی دی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک اور ضابطہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جونعمتیں خود انسانوں کی فرمائش پر انہیں دی جاتی ہیں‘ ان کی ناشکری پر عذاب بھی سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ میں نے آج خطبہ کے بعد سورۃ المائدۃ کی جو آیات کریمہ (۱۱۲ تا ۱۱۵) آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ رب العزت نے اسی ضابطہ اور قانون کی وضاحت کی ہے اور ایک تاریخی واقعہ کا تذکرہ کیا ہے‘ سورۃ المائدۃ اسی واقعہ سے منسوب ہے۔ مائدۃ دستر خوان کو کہتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل کے لیے آسمان سے تیار کھانوں کا خوان اترنے کا واقعہ اس سورہ میں بیان ہوا ہے جس کی وجہ سے اس سورۃ کو "المائدۃ" کہا جاتا ہے‘ وہ واقعہ انہی آیات میں ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہیں اور ان کا مفہوم یہ ہے کہ

" اور جب حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کا رب اس کی طاقت رکھتا ہے کہ ہم پر آسمان سے خوان اتارے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ حواریوں نے کہا کہ ہم یہ ارادہ کرتے ہیں کہ ہم اس میں سے کھائیں گے جس سے ہمارے دلوں کو اطمینان نصیب ہوگا اور ہم یہ جان لیں گے کہ آپ نے ہم سے سچ کہا اور ہم اس پر گواہ ہو جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ یا اللہ ہم پر خوان اتار دے۔ وہ ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہوگی اور آپ کی قدرت کی نشانی ہوگی‘ آپ ہمیں رزق عطا فرمادیں کیونکہ آپ بہترین رزق دینے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر خوان اتار دوں گا مگر اس کے بعد تم میں سے جس نے نا شکری کی تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا کہ وہ عذاب اس کائنات میں اور کسی کو نہیں دوں گا۔"
یعنی جس نعمت کی فرمائش کی جا رہی ہے اس کے ملنے کے بعد بھی اگر نا شکری کی گئی تو اس پر خدا کا عذاب بہت زیادہ سخت اور بے مثال ہوگا اور اس کی سنگینی اور شدت دوسرے عذابوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔
ان آیات کے ضمن میں امام ابن جریر طبریؒ نے "تفسیر طبری" میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے " تفسیر مظہری" میں حکیم ترمذیؒ کی "نوادر الاصول " کے حوالہ سے حضرت سلمان فارسیؓ کی تفصیلی روایات نقل کی ہیں‘ ان دونوں کو سامنے رکھ کر واقعہ کی تھوڑی سی تفصیل آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
ان روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو جب روزہ رکھنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ اگر تم ایک ماہ کے روزے رکھو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا کو قبول کریں گے۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے ایک ماہ مسلسل روزے رکھے اور جب تیس روزے مکمل ہوگئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے حواریوں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ جب ہم ایک ماہ تک کسی کے ہاں مزدوری اور کام کرتے ہیں تو وہ ہمیں اپنی طرف سے کھانا کھلاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں کہ وہ ہمارے لیے آسمان سے تیار کھانوں کا خوان اتارے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو انہیں تنبیہ کی کہ خدا سے ڈرو ‘ اس قسم کے سوالات مناسب نہیں لیکن جب وہ اپنے سوال پر قائم رہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے خوان اتارنے کی درخواست کر دی جس پر اللہ رب العزت نے خوان اتارنے کا وعدہ کرلیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ اگر اس کے بعد بھی نا شکری کی تو پھر میرا عذاب ایسا ہوگا کہ اس کی مثال پوری کائنات میں نہیں ہوگی۔ چنانچہ آسمان سے تیار کھانوں کا دستر خوان اترا بلکہ مسلسل چالیس دن تک اترتا رہا اور بنی اسرائیل سب کے سب روزانہ اس سے کھاتے رہے۔ چالیس دن کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش شروع ہوئی اور حکم ہو اکہ آج کے بعد یہ خوان غریب اور مستحق لوگوں کے لیے ہوگا اور امیر اور صاحب استطاعت افراد کو اس سے کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل یہ شرط بھی لگائی گئی تھی کہ دستر خوان پر بیٹھ کر جتنا کھا سکتے ہو کھاؤ مگر ساتھ لے جانے اور ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے اور دستر خوان سے کوئی چیز اٹھا کر لے جانے کو خیانت شمار کیا جائے گا۔ مگر امیر لوگ اور صاحب استطاعت افراد ان شرائط کی پابندی نہ کر سکے اور طرح طرح کے حیلے نکال کر خلاف ورزی شروع کر دی جس کی وجہ سے یہ خوان اترنا بند ہوگیا اور خلاف ورزی کرنے والے سینکڑوں افراد کو یہ عذاب ہوا کہ رات کو بے فکری کے ساتھ اپنے بستروں پر محو خواب تھے کہ ان کی شکلیں بدل گئیں اور انہیں خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیا گیا۔ صبح اٹھے تو عجیب صورت حال تھی ۔ دھڑ اور جسم انسانوں کے تھے مگر چہرے اور شکلیں خنزیروں کی بن چکی تھیں۔ بنی اسرائیل میں کہرام مچ گیا‘ سب لوگ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے گرد جمع ہو کر آہ و زاری کرنے لگے۔ وہ سینکڑوں خنزیر نما انسان بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گرد گھومتے اور روتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان میں سے کسی کا نام لے کر پکارتے تو وہ سر ہلا کر ہاں کرتا مگر گفتگو کی طاقت سلب ہو چکی تھی۔ ان کا رونا دھونا بعد از وقت تھا اس لیے کسی کام نہ آیا اور وہ خنزیر نما سینکڑوں انسان تین دن اس حال میں رہنے کے بعد موت کا شکار ہوگئے ۔ ان میں سے کوئی زندہ نہ رہا اور نہ ہی کسی کی نسل آگے چلی۔
گویا اس واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قانون کا عملی اظہار فرما دیا کہ وہ عام نعمتوں کی ناشکری پر بھی سزا دیتے ہیں لیکن جو نعمت فرمائش اور درخواست کر کے لی جائے اس کی ناشکری پر ان کا عذاب بہت زیادہ سخت ہوتا ہے۔
اس حوالہ سے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا ایک ارشاد گرامی بھی آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے یہ واقعہ بیان کر کے عربوں سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔ "تفسیر ابن کثیرؒ " میں انہی آیات کریمہ کے ضمن میں منقول ہے کہ حضرت عمار بن یاسرؐ نے ایک مجلس میں "مائدہ" والا یہ واقعہ بیان فرمایا اور پھر کہا کہ اے اہل عرب ! تم پر اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا احسان کیا کہ حضرت محمد ﷺ جیسے عظیم پیغمبر تمہیں عطا فرمائے۔ حالانکہ ان سے پہلے تم صرف اونٹ اور بکریاں چرانے والے چرواہے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی برکت سے تمہیں عرب و عجم کی بادشاہت مل گئی اور نبی اکرم ﷺ نے تمہیں ہدایت کی کہ سونا چاندی ذخیرہ نہ کرنا یعنی دولت کو جمع کرنے کے بجائے اسے مستحقین پر خرچ کرتے رہنا مگر تم نے دولت کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس لیے یاد رکھو کہ تم بھی اسی طرح خدا کے عذاب کا شکار ہوگے جس طرح مائدہ والے بنی اسرائیل خدا کے عذاب میں مبتلا ہوئے تھے۔
حضرت عمار بن یاسرؓ نے یہ بات اپنے دورکے پس منظر اور حالات میں کہی تھی لیکن آج کے حالات اور تناظر میں ان کے اس ارشاد گرامی کو دیکھ لیجئے کہ کس طرح حرف بہ حرف صادق آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ پون صدی میں عربوں کو تیل اور سونے کی صورت میں جس دولت سے مالا مال کیا‘ اس کی مثال نہیں ملتی لیکن یہ دولت کہاں خرچ ہوئی؟ یہ دولت ملت اسلامیہ کے اجتماعی اور ملی مفاد میں خرچ ہوتی تو اس کا میدان سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ دفاع اور معیشت تھا مگر عربوں کی دولت ان معاملات میں مسلمانوں کے کسی کام نہ آئی اور نہ ہی غریب مسلمانوں اور نادار لوگوں کی ضروریات پر یہ دولت صرف کی گئی البتہ عیاشی پر‘ اللّوں تللّوں پر‘ بیکار بلڈنگوں پر اور شاہانہ اخراجات پر تیل کی دولت برباد ہوگئی اور جو دولت ان کاموں پر صرف نہ ہو سکی وہ مغربی ملکوں کے بینکوں میں ذخیرہ کر دی گئی ہے جو مسلمانوں کے بجائے ان کے دشمنوں کے تصرف میں ہے اور ان کے کام آرہی ہے۔
اللہ نے چھپر پھاڑ کر عربوں کو دولت دی تھی‘ زمین کا سینہ ان کے لیے چاک کر دیا تھا مگر انہوں نے اس عظیم نعمت کی جو ناشکری کی‘ اس کی سزا آج ہم سب بھگت رہے ہیں اور اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک کے سامنے تمام عرب ممالک بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ یہ خدا کا عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ نعمتیں بھی بے حساب دیتا ہے مگر ان کی ناشکری پر اس کی گرفت بھی بڑی سخت اور عبرتناک ہوتی ہے۔ عربوں کو ایک طرف رکھئے خود ہمارا حال کیا ہے؟ ہم نے یعنی جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے " پاکستان" جیسی عظیم نعمت اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لی تھی اور یہ کہا تھاکہ یا اللہ ! اس خطہ کے مسلمانوں کو الگ ملک عطا فرما دے‘ ہم اس میں تیرے احکام کی پابندی کا اہتمام کریں گے‘ ہمارے ایک ہاتھ میں قرآن شریف اور دوسرے ہاتھ میں بخاری شریف تھی اور ہم نے لاکھوں کے اجتماع میں عہد کیا تھا کہ پاکستان بن گیا تو ان دو کتابوں کی حکمرانی قائم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں الگ ملک دے دیا اور پاکستان بن گیا مگر ہم نے کیا کیا؟ اور نصف صدی سے مسلسل کیا کر رہے ہیں؟ ہم نے مملکت خداداد پاکستان کو لوٹ کھسوٹ اور مار دھاڑ کا مرکز بنا لیا۔ ہم میں سے جس کا جتنا داؤ چلا اس نے ملک کو لوٹنے اور اس کے وسائل کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
ہم نے خدا کے قانون کو‘ اسلام کے نظام کو اور قرآن و سنت کی ہدایات کو نظر انداز کردیا اور خواہشات کی غلامی میں لگ گئے۔ آج غریب آدمی کے پاس تن ڈھانپنے کو کپڑا نہیں ہے‘ بجلی کا بل دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں‘کھانے کو روٹی نہیں ہے اور سر چھپانے کو مکان نہیں ہے مگر چند افراد نے اپنی تجوریوں اور بیرون ملکوں بینکوں میں دولت کے انبار لگا رکھے ہیں۔ آج مجھے اور آپ سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے اور اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم تو عید کے روز نئے کپڑے پہنے‘ خوشبو لگائے اور بنے سنورے بیٹھے ہیں مگر ہمارے اردگرد کتنے لوگ ہیں جو آج کے دن بھی اپنے بچوں کے لیے ایک دن کی عارضی خوشیوں کا اہتمام نہیں کر سکے۔ ان کی تعداد تھوڑی نہیں بہت زیادہ ہے او ردن بدن بڑھتی جا رہی ہے‘ ان لوگوں کا بھی وہی خدا ہے جو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ان لوگوں کے دلوں سے بھی آہیں نکلتی ہیں جو سیدھی عرش پر جاتی ہیں۔ اس لیے ہمیں بنی اسرائیل کے اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے‘ سبق لینا چاہیے اور نصیحت پکڑنی چاہیے۔ ابھی وقت ہے اگر ہم ندامت اور توبہ کے ساتھ اپنی اصلاح کا راستہ اختیار کر لیں تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے لیکن اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو عذاب کا قانون سب کے لیے یکساں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اصلاح اور توبہ کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین

اسلام میں عورت کا مقام

حکیم محمود احمد ظفر

اللہ تعالیٰ کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اس نے لاکھوں اور کروڑوں قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور اس کائنات میں اس کا دائرہ کار Function الگ الگ رکھا۔ اس دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورت کو بھی پیدا فرمایا اور مرد کو بھی اور دونوں کے عضوی اور احساساتی اختلافات کی وجہ سے ان دونوں کا دائرہ کار بھی الگ الگ رکھا اور عملی زندگی میں مرد کو عورت پر فوقیت دی اور فضیلت عطا فرمائی۔ چنانچہ قرآن حکیم میں فرمایا: الرجال قوامون علی النساء "مرد عورتوں پر قوام ہیں"۔ عربی زبان میں قوام‘ قیام اور قیم اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی کام یا نظام کا ذمہ دار اور چلانے والا ہو۔ اس آیت میں قوام کا ترجمہ عموماً "حاکم" کیا جاتا ہے یعنی مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ہر اجتماعی نظام کے لیے عقلاً اور عرفاً یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کوئی سربراہ یا امیر یا حاکم ہو تاکہ اختلاف کے وقت اس کے فیصلے سے کام چل سکے۔ جس طرح ملک و سلطنت اور ریاست کے لیے اس کی ضرورت سب کے لیے مسلم ہے‘ اسی طرح اس قبائلی نظام میں جس کو "خانہ داری " کہا جاتا ہے‘ اس میں بھی ایک امیر اور سربراہ کی ضرورت ہے۔ عورتوں اور بچوں کے مقابلہ میں اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو منتخب فرمایا کیونکہ ان کی علمی اور عملی قوتیں بہ نسبت عورتوں اور بچوں کے زیادہ ہیں۔ اور یہ ایسا بدیہی معاملہ ہے کہ سمجھدار عورت یا مرد اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ (معارف القرآن ج ۲ ص ۳۹۶)

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے اس بارہ میں فرمایا کہ

"خلاصہ یہ کہ مردوں کو عورتوں پر حاکم اور نگران حال بنایا ہے دو وجہ سے : اول بڑی اور وہبی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصل سے بعضوں کو بعضوں پر یعنی مردوں کوعورتوں پر علم و عمل میں کہ جن دونوں پر تمام کمالات کا دارومدار ہے‘ فضیلت اور بڑائی عطا فرمائی جس کی تشریح احادیث میں موجود ہے۔ " (فوائد عثمانی)

مردوں کو عورتوں پر فکری اور ذہنی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے‘ اسی وجہ سے انہیں عورتوں پر قوام بنایا گیا۔ یہ کون سی فکری اور ذہنی صلاحیتیں ہیں‘ ان پر بحث کرتے ہوئے اکمل الدین الباہری قدس سرہ نے عنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا کہ :

"نفس انسانی کی قوتوں کو چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا درجہ کہ مطلقاً سوچنے سمجھنے کی استعداد موجود ہو۔ یہ استعداد فطرتاً ہر شخص میں پائی جاتی ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ جزئیات میں حواس کے استعمال سے بدیہی باتیں دریافت ہونے لگیں (جیسا کہ دیکھ کر رنگ کا پتہ چل جانا اور چکھ کر ذائقہ کا علم ہوجانا وغیرہ وغیرہ) اور عقل اس قابل ہو کہ اس میں غور و فکر کے ذریعہ خاص حقائق کا اکتساب کرنے لگے۔ اس کو اصطلاح میں "عقل بالملکہ" کہتے ہیں۔ اس صلاحیت کے بعد آدمی پر شریعت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ بدیہی حقیقتوں سے جو نظریات مستنبط ہو رہے ہیں ان کے ادراک میں کسی قسم کی دقت اور محنت پیش نہ آئے ‘ اسکا نام "عقل بالفعل" ہے۔چوتھا درجہ یہ ہے کہ نظریات ہمیشہ ذہن میں اسطرح مستحضر رہیں گویا آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اسکو "عقل" مستفاد کہا جاتا ہے ۔"

اس کے بعد علامہ اکمل الدینؒ فرماتے ہیں :

"شریعت کی ذمہ داریوں کا دارومدار جس صلاحیت عقل پر ہے یعنی "عقل بالملکہ" عورتوں میں اس کی کمی نہیں‘ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جزئیات میں حواس کو استعمال کر کے بدیہات کو پا لیتی ہیں۔ اور اگر کسی بات کو بھول جائیں تو یاد دہانی کے بعد ذہن میں حاضر بھی کر لیتی ہیں۔ اگر ان کی صلاحیت میں کسی قسم کا نقص ہوتا تو دین کے جن ارکان کی ذمہ داریاں مردوں پر ڈالی گئی گئی ہیں‘ عورتوں کو اس سے مختلف ارکان کی تکلیف دی جاتی‘ حالانکہ صورت واقعہ یہ نہیں ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو ان کے بارہ میں "ناقصات عقل" فرمایا ہے تو اس سے "عقل بالفعل" مراد ہے۔" (عنایہ علیٰ فتح القدیر ج ۶ ص ۸)    

معلوم ہوا کہ وہ عقل جس سے بدیہی حقیقتوں سے جو نظریات مستنبط ہو رہے ہیں ان کے ادراک میں کسی قسم کی دقت اور محنت پیش نہ آئے‘ اس عقل میں عورت کمزور اور ناقص ہے۔ یہ علامہ اکمل الدین کی تحقیق ہے جو قرآنی اصول کو ثابت کرتی ہے کہ مرد عورتوں پر قوام ہیں۔

"مرد عورتوں پر قوام ہیں" قرآن حکیم کی اس بات کو وضعی قانون نے غلط قرار دیا‘ لیکن گزشتہ سو سالہ تجربہ اور تحقیق نے بتایا کہ الٰہی قانون ہی اس معاملہ میں حقیقت سے قریب تر ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود آج بھی نام نہاد "مہذب دنیا" میں مرد ہی جنس برتر Dominant Sex کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آزادی نسواں کی تحریک کے علم برداروں کی سب سے بڑی دلیل اس سلسلہ میں یہ تھی کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی فطری فرق نہیں بلکہ سماجی فرق ہے۔ اگر عورت پر سماجی دباؤ ختم کر دیا جائے تو وہ ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے اور عورت کسی لحاظ سے مرد سے پیچھے نہیں رہے گی۔

اس تحریک کو دو سو سال سے اوپر ہوگئے ہیں اور ان ملکوں میں یہ تحریک پوری طرح کامیاب بھی ہو چکی ہے جو صنعتی لحاظ سے ترقی یافتہ ہیں۔ ان ملکوں میں عورت اور مرد کی برابری کے قوانین بھی بنائے جا چکے ہیں مگر قانون یا رواج اور سماج کے لحاظ سے آج کی عورت اب بھی وہاں کے مرد سے بہت پیچھے ہے‘ اور زندگی کے ہر شعبہ میں مرد کی برابری نہیں کر سکی ہے۔

یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہا بلکہ یورپ اور امریکہ کا ہر مفکر‘ دانشور اور مبصر اس کا اعتراف کرتا ہے۔ چنانچہ علمی دنیا کی نہایت معتبر کتاب انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے :

"اقتصادی میدان میں گھر سے باہر کام کرنے والی عورتیں بہت زیادہ تعداد میں کم تنخواہ پانے والے کاموں میں ہیں۔ اور ان کا درجہ (status) سب سے کم اور نیچا ہے ۔ حتی کہ عورتیں ہر اس کام میں جو عورتیں اور مرد دونوں کرتے ہیں‘ کم تنخواہ پاتی ہیں۔ ۱۹۸۲ء میں ایک عام عورت کی تنخواہ امریکہ میں مرد کی تنخواہ کے ۶۰ فیصد کے برابر تھی۔ اور جاپان میں اوسطاً ۵۵ فیصد ۔ سیاسی لحاظ سے بھی سیاسی جماعتوں اور لوکل اور مرکزی حکومتوں میں زیادہ عورتیں مردوں سے نیچی ہیں"

اس سے معلوم ہوا کہ حکماء مغرب نے آزادی نسواں کی تشخیص غلط کی تھی۔ ان کی تشخیص یہ تھی کہ ان دونوں صنفوں میں یہ فرق سماجی حالات کی بنا پر ہے۔ حالانکہ یہ فرق اسلام کی نشاندہی کے مطابق پیدائشی بناوٹ کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی مفکرین نے اس مسئلہ پر بڑی تحقیق کی اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ جب تک ان دونوں صنفوں میں یہ عضوی اور احساساتی فرق رہے گا‘ دونوں کی سماجی حیثیت میں بھی فرق رہے گا۔

"اسلام میں عورت مرد سے کم تر ہے" یہ یورپ کا معاندانہ پراپیگنڈہ ہے جو وہ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ آج سے نہیں بلکہ دو تین سو سال سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ چنانچہ مشہور مستشرق ایڈورڈ ولیم لین نے اپنی کتاب Selection from Quran کے دیباچہ میں لکھا ہے :

The fatal point in Islam is the degradation of women

"اسلام میں تباہ کن پہلو عورت کو حقیر درجہ دینا ہے۔"

اسی طرح ایک اور مفکر جے ایم رابرٹس J.M. Roberts نے لکھا :

Its coming was in many ways revolutionary. It kept women, for example, in an inferior position .... (The Pelican History of the World, P.334)

"دنیا میں اسلام کی آمد کئی لحاظ سے انقلابی تھی‘ مثال کے طور پر اس نے عورت کو کم درجہ دیا۔"

اسلام میں عورت کو کم درجہ دیا گیا ہے‘ یہ در اصل اسلام کی بات کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ اسلام یہ ہرگز نہیں کہتا کہ عورت مرد سے کم تر ہے بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ "عورت مرد سے مختلف ہے" یہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں فرق کا معاملہ ہے نہ کہ ایک کے مقابلے میں دوسرے کے بہتر (Better) ہونے کا۔ مرد اور عورت کے بارہ میں اسلام کے سارے قوانین اسی اصول پر مبنی ہیں کہ عورت اور مرد دو الگ الگ صنفیں ہیں‘ لہذا خاندانی اور سماجی زندگی میں ان کا دائرہ عمل بھی ایک نہیں بلکہ مختلف ہے۔ اور ایک ہو بھی نہیں سکتا ۔ کیونکہ جب دونوں صنفوں کے مابین حیاتیاتی بناوٹ کے لحاظ سے فرق ہے تو ان کے درمیان عمل کے لحاظ سے بھی لازمی طور پر فرق ہونا چاہیے۔

مرد اور عورت کے درمیان جو فرق اسلام نے بتایا ہے اس کو موجودہ دور میں علم انسانی کے ماہرین نے بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے ایک پروفیسر اسٹیون گولڈ برگ نے لکھا ہے :

"اس فرق کی زیادہ حقیقت پسندانہ توجیہ یہ ہے کہ اس کو مردانہ ہارمون Male Harmone کا نتیجہ قرار دیا جائے جو کہ ابتدائی جرثومہ حیات پر اس وقت غالب آجاتے ہیں جب کہ ابھی وہ رحم مادر میں ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ چھوٹے بچے چھوٹی بچیوں سے ہمیشہ جارح ہوتے ہیں۔"

آگے چل کر پروفیسر گولڈ برگ لکھتا ہے :

"اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد عورتوں سے بہتر ہوتے ہیں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مرد عورتوں سے مختلف Different ہوتے ہیں۔ مرد کا دماغ اس سے مختلف کام کرتا ہے جس طرح عورت کا دماغ کام کرتا ہے۔ یہ فرق چوہوں وغیرہ کے نر اور مادہ میں بہت زیادہ واضح طور پر تجربہ کیا جا سکتا ہے۔" (ڈیلی ایکسپریس مورخہ ۴ جولائی ۱۹۷۷ء)

یورپ کے مشہور مفکر‘ دانشور اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر الیکسیش کیرل نے بھی اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسلام کے نظریہ مرد و زن کی تائید کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس معاملہ کی حیاتیاتی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

"مرد اور عورت کے درمیان جو فرق پائے جاتے ہیں وہ محض جنسی اعضاء کی خاص شکل‘ رحم کی موجودگی‘ حمل یا طریقہ تعلیم کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے زیادہ بنیادی نوعیت کے ہیں جو خود نسیجوں کی بناوٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور پورے نظام میں خصوصی کیمیاوی مادے کے سرایت کرنے سے ہوتے ہیں جو کہ خصیۃ الرحم سے نکلتے ہیں۔ ان بنیادی حقیقتوں سے بے خبری اور نا واقفیت نے ترقی نسواں کے حامیوں کو اس عقیدے پر پہنچایا ہے کہ دونوں صنفوں کے لیے ایک قسم کی تعلیم‘ ایک طرح کے اختیارات اور ایک طرح کی ذمہ داریاں ہونی چاہئیں۔"

ڈاکٹرصاحب اس سلسلہ میں مزید لکھتے ہیں :

" حقیقت کے اعتبار سے عورت نہایت گہرے طور پر مرد سے مختلف ہے۔ عورت کے جسم کے ہر خلیہ میں زنانہ پن کا اثر موجود ہوتا ہے۔ یہی بات اس کے اعضا کے بارہ میں صحیح اور درست ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس کے اعصابی نظام کے بارہ میں عضویاتی قوانین بھی اتنے ہی اٹل ہیں جتنا فلکیاتی قوانین قطعی اور اٹل ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ انہیں اسی طرح مانیں جیسے وہ ہیں۔ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو خود اپنی فطرت کے مطابق ترقی دیں۔ وہ مردوں کی نقل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ تہذیب کی ترقی میں ان کا حصہ اس سے زیادہ ہے جتنا کہ مردوں کا ہے۔ انہیں اپنے مخصوص عمل کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔"

(Dr. Alexis Carel : Man the unknown, New Yrok. P. 91)

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کی 19 ویں جلد میں خواتین کا درجہ Status of Women پر ایک مفصل مقالہ لکھا گیا ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان پیدائشی بناوٹ کے لحاظ سے فرق پایا جاتا ہے۔ مقالہ نگار لکھتا ہے:

"اوصاف شخصیت کے لحاظ سے مردوں کے اندر جارحیت اور غلبہ کی خصوصیات پائی جاتی ہے۔ ان میں حاصل کرنے کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عورتیں کوئی سہارا چاہتی ہیں۔ ان کے اندر معاشرہ پسندی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اور ناکامی کی صورت میں مردوں کے مقابلے وہ زیادہ آسانی سے بے ہمت ہو جاتی ہیں۔"

آزادی نسواں کے علم بردار یہ کہتے ہیں کہ عورت اور مرد کا فرق محض سماجی حالات کی پیداوار ہے مگر موجودہ زمانہ میں مختلف متعلقہ شعبوں میں اس مسئلہ کا جو گہرا مطالعہ کیا گیا ہے‘ اس سے ثابت ہوا ہے کہ صنفی فرق کے پیچھے حیاتیاتی عوامل Biological Factors کار فرما ہیں۔ ایک امریکی سرجن Edgar Berman کا فیصلہ ہے کہ عورتیں اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے اقتدار کے منصب کے لیے جذباتی ثابت ہو سکتی ہیں۔

Because of their hormonal chemistry, women might be too emotional for position of power. (Time Magazine, March 20 , 1972, P 28)

امریکہ میں آزادی نسواں کی تحریک کافی طاقت ور ہے‘ لیکن اب اس کے حامی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کی راہ کی اصل رکاوٹ سماج یا قانون نہیں بلکہ خود فطرت ہے۔ فطری طور پر ہی ایسا ہے کہ عورت بعض حیاتیاتی محدودیت Limitations of Biology کا شکار ہے۔ میل ہارمون اور فی میل ہارمون Male & Female Harmone کا فرق دونوں میں زندگی کے آغاز ہی سے موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ تحریک آزادی نسواں کے پرجوش حامی کہنے لگے ہیں کہ فطرت ظالم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ پیدائشی سائنس Science of Exergies کے ذریعے نئے قسم کے مرد اور نئی قسم کی عورتیں پیدا کریں۔

یورپ ‘ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی عورت مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور مردوں کی طرح کمانے اور خود کفیل ہونے کے لیے باہر نکلی تو اس کو معلوم ہوگیا کہ بعض حیاتیاتی اور فطری کمزوریوں کی وجہ سے کسی شعبہ زندگی میں بھی وہ مردوں کے برابر کام نہیں کر سکتی تو اس نے اپنے نسوانی جسم کا سودا کرنے کے لیے اس کو سربازار لٹکا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو مرد کی برابری کا درجہ تو نہ ملا البتہ معاشرہ طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہوگیا جن میں عریانیت ‘ جنسی جرائم‘ بے نکاحی زندگی اور بغیر والد کے بچے سرفہرست ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ آزادی نسواں کی جس تحریک سے اب تنگ آچکے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ عورت کسی میدان میں بھی مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘ اس تحریک کو اب پاکستان میں بعض مخصوص نہج کی عورتیں اپنی لیڈری چمکانے کے لیے شروع کیے ہوئے ہیں۔ اور وہ پاکستان کی پاک باز اور با عصمت عورت کو چراغ خانہ کے بجائے شمع انجمن بنانا چاہتی ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے سچ کہا تھا ؂

حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمع انجمن‘ پہلے چراغ خانہ تھی

جو غلطی یورپ اور امریکہ نے دو سو برس قبل کی تھی کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی فطری فرق نہیں بلکہ سماجی فرق ہے‘ وہی غلطی آج پاکستان میں کی جا رہی ہے۔ یاد رکھئے عورت مرد سے مختلف ہے‘ لہذا اس کا دائرہ کار بھی مختلف ہے۔ یہی اسلام کا فیصلہ ہے اور یہی فیصلہ یورپ اور امریکہ کے دانشوروں اور مفکرین کا ہے۔

تحریک ریشمی رومال پر ایک نظر

مولانا شمس الحق مشتاق

یہ بیسویں صدی کا حیدر آباد سندھ ہے۔ قدیم طرز کے مکان میں ایک شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس سوئی دھاگا لیے ایک زرد رنگ کا رومال جس کی لمبائی ایک گز ہے اور عرض بھی اتنا ہی ہے گدڑی میں سی رہا ہے۔ وضع قطع اور صورت شکل سے درویش نظر آتا ہے۔ اچانک ایک دھماکہ سا ہوتا ہے وہ سر اٹھا کر دیکھتا ہے چند گورے اور سکھ فوجی صحن کی دیواریں پھاند کر اس کی طرف لپکے آرہے ہیں۔ وہ گدڑی اٹھا کر کمرے کے پچھلے دروازے کی طرف بھاگنے لگتا ہے لیکن فوجی سر پر پہنچ جاتے ہیں اور اس سے گدڑی چھین لیتے ہیں۔ وہ شخص ان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور صحن میں پہنچ کر دیوار پھاند لیتا ہے۔ چند فوجی اس کے پیچھے جاتے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد ہاتھ ملتے لوٹ آتے ہیں۔

یہ درویش آزادی ہند کی انقلابی پارٹی کے سرگرم اور سرفروش رکن اور پارٹی کے قائد شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے قابل اعتماد پیروکار شیخ عبد الرحیم تھے۔ اچاریہ کرپلانی کے حقیقی بھائی جو مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ہاتھ پر حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تھے۔

پارٹی کا مرکزی دفتر پہلے دیوبند میں تھا بعد میں دہلی منتقل ہوگیا۔ تحریک کا نام جس کی بنا پر پارٹی تشکیل دی گئی تھی پہلے ثمرۃ التربیہ اور پھر جمعیۃ الانصار رکھا گیا تھا۔ اس کا پروگرام یہ تھا کہ ہندوستان پر قابض انگریز حکومت کے خلاف ملک بھر میں عام بغاوت کرائی جائے اس طرح ملک کو فرنگی استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ منصوبے کے مطابق ترکی کی فوج کو افغانستان کے راستے حملہ آور ہونا تھا اس لیے افغانستان کی حکومت کو بھی جس کا سربراہ حبیب اللہ خان تھا ہموار کرنا تھا ۔ ترکی سے یہ طے کیا جا رہا تھا کہ اس کی فوج ہندوستان کو آزاد کراکے لوٹ جائے گی ۔ اس مدد کے عوض آزاد ہندوستان اس کی اخلاقی اور مالی امداد کرتا رہے گا۔ ترکی فوج کے کماندار غازی انور پاشا تھے۔

اس طریقہ کار پر عمل کرنے کے لیے دس جامع منصوبے ۱۹۰۵ء میں بنائے گئے تھے۔ ان کی تکمیل ۱۹۱۴ء میں ہوئی۔ منصوبے یہ تھے : ہندو مسلم مکمل اتحاد‘ علماء فکر قدیم اور جدید تعلیم یافتہ طبقے میں اشتراک فکر و عمل‘ اقوام عالم سے اخلاقی مدد کا حصول‘ جنگی نقشوں کی تیاری‘ انقلاب کے بعد عبوری حکومت کے خاکے کی ترتیب‘ بغاوت کے خفیہ مراکز کا قیام‘ بیرون ملک امدادی مراکز کا تعین‘ ترکی کی حمایت کے لیے دوسرے ملکوں سے رابطہ ‘ باہر سے حملے کے لیے راستوں کی نشاندہی‘ بیک وقت بغاوت اور حملے کے لیے تاریخ کا تعین۔

تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے معرکہ بالا کوٹ ۱۸۳۱ء اور انقلاب ۱۸۵۷ء کی خونچکاں اقدامات کے بعد یہ تیسری سرفروشانہ تحریک تھی جو تحریک ریشمی رومال کے نام سے تاریخ کے صفحوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گئی۔ پہلی تحریک مسلمانوں کے جاہلانہ تغافل سے ناکام ہوئی۔ لیکن دوسری اور تیسری تحریکیں بعض لوگوں کے مجرمانہ عدم تعاون اور کھلے بندوں غداری سے ملیا میٹ ہوئیں۔ یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ تینوں تحریکوں میں بنیادی اور مرکزی کردار علمائے حق نے ادا کیا ۔ انقلاب ۱۸۵۷ء میں عام مسلمانوں کا زیادہ حصہ ہے لیکن دوسری دونوں تحریکوں کا سہرا تمام تر علماء حق کے سر ہے۔ تحریک ریشمی رومال کی کامیابی اپنوں کی غداری اور انگریزوں کے طے شدہ حفظ ما تقدم کے باوجود یقینی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ بیرونی امداد کے امکانات دسترس میں تھے۔ ۱۸۵۸ء میں سامراجیت کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ سے براہ راست حکومت برطانیہ کے ہاتھ میں منتقلی کے بعد انگریز دشمنی کے دور کا آغاز ہو چلا تھا ۔ بعید نہ تھا کہ یہ خارجی نیک فال داخلی جدوجہد کے لیے ممد و معاون ثابت ہوتی۔ برطانیہ کی توسیع پسندی کے پیش نظر ۱۸۵۰ء میں دوار آف بھوٹان پر قبضہ کیا گیا اور برما کے شمالی حصہ کو فتح کر کے سلطنت میں شامل کیا گیا۔ ۱۸۶۸ء میں تبت اور چین پر حملہ کیا گیا اور سرحد کے مجاہدین پر فوج کشی ہوئی۔ ۱۸۸۵ء میں کابل پر حملہ کیا گیا۔ ۱۸۹۰ء میں حکومت منی پور پر تسلط کیا گیا۔ ۱۸۹۵ء میں چترال پر قبضہ ہوا۔ ۱۸۹۶ء میں تیراہ پر حملہ کیا گیا۔ ۱۸۹۷ء میں دوبارہ سرحدی مجاہدین کے خلاف چھ مہمیں بھیجی گئیں۔ بیرونی امداد کے سلسلے میں حکومت ترکی سے توقع کسی خوش فہمی اور جذباتیت کی بنا پر نہیں تھی اس کے پس منظر میں ٹھوس حقائق اور دلائل تھے ۔ترکی برطانیہ کا زخم خوردہ تھا۔ اگر مذہب اور حریت پسندی ہندوستان اور ترکی میں قدر مشترک نہ ہوتی تب بھی سیاسی طور پر ترکی کی طرف سے مدد لازمی تھی۔ ۱۸۳۹ء میں انگریزوں نے سلطان عبد المجید خان کو محمد علی پاشا کی بغاوت کے خلاف مدد دی اور اس کے عوض میں پہلے عدن کی بندرگاہ اور پھر سارے عدن پر قبضہ کر لیا۔ اس قبضے کی وجہ سے آنے والے برسوں میں جو نتائج نکلے وہ تصور میں لائے جا سکتے ہیں۔ اس مدد کا سارا خرچ (بیس لاکھ پونڈ) ہندوستان کے ذمہ قرض کے طور پر ڈالا گیا۔ ۱۸۷۸ء میں باب عالی سلطان عبد المجید خان سے خفیہ معاہدہ کر کے جزیرہ قبرص قبضے میں کیا گیا اس کے بھی دور رس نتائج نکلے۔ اسی سال برلن میں یورپی ملکوں کی کانفرنس ہوئی جس میں ترکی کے حصے بخرے کر کے آپس میں بانٹ لیے گئے۔ برطانیہ بھی حصے دار بنا۔ ۱۸۵۸ء میں رومانیہ‘ بلغاریہ‘ کریٹ‘ سرویا‘ مولڈویا‘ ولاچیا‘ ابوسینا‘ مونٹی ‘ نیگرو اور ارضی گونیا کو ترکی کے قبضے سے نکلوا دیا۔ ۱۹۰۴ء میں برطانیہ کی شہ پر فرانس نے مراکش پر قبضہ کر لیا۔

۱۹۰۸ء میں ترکی میں فوجی انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب فوجیوں کی تنظیم " اتحاد المسلمین" نے برپا کیا تھا جس کے قائد غازی انور پاشا تھے۔ بعد میں یہی حکومت کے سربراہ بنے۔ ۱۹۱۲ء کی جنگ بلقان میں ہندوستان کی حریت پسند تحریکوں نے ترکی کی جو اخلاقی اور مالی مدد کی تھی اسے انور پاشا بھولے نہیں تھے۔ اس لیے تحریک ریشمی رومال کو ترک کے سربراہ کی حیثیت سے اس کی مدد غیر متوقع نہیں تھی۔ تحریک کے پہلے دو منصوبوں کے لیے فضا پہلے ہی سازگار تھی۔ ہندوستان کے تمام حریت پسندوں میں ذہنی ہم آہنگی اور اشتراک عمل کا جذبہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے وقت ہی سے پیدا ہو چکا تھا اور اس کا مظاہرہ بار بار خصوصاً ۱۸۵۷ء میں اور اس کے بعد ہو چکا تھا۔ تحریک کے عملی قائد شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن تھے لیکن اس کے قیام اور ساری منصوبہ بندی میں جن شخصیتوں کا ہاتھ تھا ان میں رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا شوکت علی‘ مولانا ابوالکلام آزاد‘ مولانا عبید اللہ سندھی‘ ڈاکٹر انصاری‘ موتی لال نہرو‘ لاجپت رائے اور راجندر پرشاد شامل تھے۔ اس کے علاوہ ۱۸۵۷ء کے انقلاب نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک کھیپ مہیا کر دی تھی جن کے دلوں میں حریت کی چنگاریاں سلگ رہی تھیں اور ذہن جدید طبیعاتی تقاضوں سے روشن تھے۔ ان نوجوانوں میں جن لوگوں کو اہم فرائض سونپے گئے ان میں پروفیسر برکت اللہ ایم اے تھے جنہیں ترکی‘ جرمنی اور جاپانی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ چوہدری رحمت علی گریجویٹ‘ لالہ ہرویال ایم اے‘ کامریڈ ستھرا سنگھ گریجویٹ‘ مولوی محمد علی قصوری گریجویٹ‘ میاں عبد الباری ایم اے‘ رام چندر گریجویٹ‘ بمبئی کے شیخ محمد ابراہیم ایم اے اور چینی زبان میں ماہر بنگال کے شوکت علی گریجویٹ وغیرہ شامل تھے۔ تیسرے منصوبے کے تحت چین‘ جاپان‘ فرانس‘ برما اور امریکہ میں کام شروع کیا گیا۔ اس کے لیے مشنری طریقہ کار اپنایا گیا۔ پہلا مشن دیوبند سے فارغ التحصیل مولانا مقبول الرحمن مانسہرہ ہزارہ اور شوکت علی کی سرکردگی میں چین بھیجا گیا جس میں چھ اور افراد بھی شامل تھے لیکن چین میں ایک مرکزی سیرت کمیٹی قائم کر کے ملک بھر میں اس کی شاخیں کھول دی گئیں۔ اردو اور چینی زبانوں میں ایک رسالہ "الیقین" جاری کیا گیا۔ ان کاموں میں مشن کو بڑی کامیابی ہوئی۔ چینی مسلمانوں کی خاصی تعداد ہندوستان کی صورت حال سے متاثر ہوئی اور انگریز سامراجیت سے چھٹکارا دلانے میں ہر ممکن اخلاقی مدد کا وعدہ کیا۔ ہر چند کہ چینی عوام خودظلم و استبداد کی چکی میں پس رہے تھے ۔ حکومت کی سطح پر کوئی نمایاں کام نہ ہو سکا کیونکہ ملک پر سامراجیت کے دوسرے روپ شہنشاہیت اور جاگیر داری کا تسلط تھا۔ مشن نے اپنے اخراجات اس طرح پورے کیے کہ ایک شفاخانہ کھول لیا۔ مولانا مقبول الرحمن طبابت اور شوکت علی ڈاکٹری کرتے تھے۔

۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۹ء تک چین میں کام کرنے کے بعد دونوں صاحبان کو برما جانے کا حکم ملا۔ مشن کے تین ارکان کو چین میں کام کی نگرانی کے لیے چھوڑا گیا۔ شفاخانے کو فروخت کر کے ان کے گزارے کے لیے رقم دی گئی اور سفر کا خرچ بھی نکالا گیا۔ ایک آدمی کو واپس ہندوستان بھیجا گیا اور چار آدمی برما پہنچے۔ وہاں کپڑے کا کاروبار شروع کیا گیا جس میں کافی منافع ہوا۔ برما میں مذہبی طریقہ کار اپنانے سے کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ لہذا انسانی رشتے کو مقصد کے حصول کے ذریعہ بنایا گیا اور انسانی برادری کے نام سے ایک انجمن بنائی گئی جس کا نصب العین انسانی فلاح و بہبود بتایا گیا۔ مولانا مقبول الرحمن نے عربی زبان میں ایک کتاب "الانسان" لکھی ۔ اس کا انگریزی اور برمی زبانوں میں شوکت علی نے ترجمہ کیا۔ مشن ۱۹۱۲ء تک بڑی کامیابی سے اپنا کام کرتا رہا ۔ اس نے ہزاروں افراد کو ہندوستان کی اخلاقی مدد کے لیے تیار کیا جس سے ایک مخلص حلقہ پیدا ہوگیا شومئی قسمت کہ ۱۹۱۲ء میں تحریک ناکام ہوگئی ۔ شوکت علی اور دونوں ہندو اراکین ہندوستان چلے گئے اور مولانا مقبول الرحمن رنگون جا پہنچے ۔ شوکت علی ہندوستان سے فرار ہو کر برلن چلے گئے اور مولانا مقبول الرحمن ۱۹۲۳ء میں وطن لوٹے۔

دوسرا مشن جاپان بھیجا گیا ۔ اس میں پانچ آدمی تھے اور قائد پروفیسر برکت اللہ تھے۔ انگریزی‘ ترکی‘ جرمنی زبانوں کے علاوہ جاپانی زبان میں بھی مہارت رکھنے کی وجہ سے انہیں ٹوکیو کے ایک کالج میں پروفیسری مل گئی۔ مشن نے اسلامک فریٹرنٹی کے نام سے ایک انجمن بنائی اور اسی نام سے انگریزی اور جاپانی زبانوں میں رسالہ نکالا جس کے مدیر پروفیسر صاحب تھے۔ ترکی کی طرح جاپان سے بھی بھرپور مدد کی توقع تھی کیونکہ جاپان برطانیہ کا سخت مخالف تھا۔ اسی مخالفت کی بنا پر اس نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ پر حملہ کیا تھا۔ مشن کو یہاں کامیابی سے ہمکنار ہوتا دیکھ کر ۱۹۱۰ء میں پروفیسر برکت اللہ کو چوہدری رحمت علی کی مدد کے لیے فرانس جانے کا حکم ملا۔ جہاں چوہدری صاحب کی سرکردگی میں تیسرا مشن کام کر رہا تھا۔ پروفیسر صاحب نے ملازمت چھوڑ دی ‘ اخبار بند کر دیا اور ساتھی کو لے کر فرانس کی طرف روانہ ہوگئے۔

فرانس کے مشن میں چوہدری رحمت علی کے ساتھ دو آدمی تھے‘ ان میں ایک گریجویٹ رام چندر نہایت قابل نوجوان تھا۔ پروفیسر برکت اللہ نے انگریزی زبان میں ایک اخبار "انقلاب" جاری کیا اور تندہی سے کام کرنے لگے۔ یہ اخبار مشن کی تشکیل کردہ غدر پارٹی کا ترجمان تھا۔ رولٹ کمیٹی کی رپورٹ میں اخبار کا نام بھی غدار لکھا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔ فرانس میں چھ سال تک کام ہوتا رہا۔ عوامی سطح پر "غدر پارٹی" کی بہت حوصلہ افزائی کی گئی۔ اخلاقی مدد کے بھی روشن امکانات تھے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی امید نہیں تھی۔ جو کچھ حاصل ہوا اسی پر اکتفا کر کے پروفیسر برکت اللہ اور چوہدری رحمت علی کو امریکہ جانے کا حکم ملا۔

امریکہ میں لال ہر دیال کی سربراہی میں چھ آدمیوں پر مشتمل مشن کام کر رہا تھا۔ پروفیسر صاحب اور چوہدری صاحب کی شمولیت سے تعداد آٹھ ہوگئی۔ یہاں بھی "غدر پارٹی" کام کر رہی تھی۔ ان دونوں حضرات کے آنے کے بعد پروفیسر صاحب کی ادارت میں "غدر" نام سے ایک اخبار نکالا گیا۔ در اصل واشنگٹن کے اسی اخبار کا مغالطہ رولٹ کمیٹی کو ہوا تھا۔ چوہدری رحمت علی کی سکونت تو پیرس میں تھی لیکن وہ واشنگٹن آتے جاتے رہتے تھے اور وہاں کچھ زمین بھی خرید لی تھی۔ انہوں نے اسے بیچ کر ایک ہوٹل کھول لیا۔ اس کے ایک کمرے میں پارٹی کا اور دوسرے کمرے میں اخبار کا دفتر قائم کیا گیا۔ ہوٹل کی آمدنی سے اخراجات پورے ہوتے رہے اور یہ پہلے ہردیال اور چوہدری صاحب کی نگرانی میں چلتا رہا اس کے علاوہ پارٹی والوں نے رنگوں کا کاروبار شروع کر رکھا تھا۔ اس میں سے آمدنی بھی تھی اور دہلی کے مرکز سے رابطہ بھی قائم تھا۔ دہلی کے چار مسلمان اور تین ہندو‘ پشاور کے دو مسلمان ‘ ایک ہندو ‘ لاہور کے دو مسلمان اور پانچ ہندو‘ بمبئی کا ایک مسلمان اور چار ہندو‘ کلکتہ کے چار ہندو اور ایک مسلمان‘ ڈھاکہ کے دو ہندو ایک مسلمان اور کراچی کا ایک ہندو ان لوگوں سے مال منگواتے تھے اور کاروبار کی آڑ میں مرکز کی رپورٹیں بھیجی اور ہدایات حاصل کی جاتی تھیں۔ ہندوستان میں تحریک کے ناکام ہونے کی خبر ملی تو ہوٹل فروخت کر دیا گیا اور اخبار بھی بند کر دیا گیا۔ مشن کے اراکین پیرس چلے گئے‘ وہاں سے جنیوا اور برلن ہوتے ہوئے افغانستان پہنچے اور وطن آ گئے۔

انقلابیوں کا چوتھا منصوبہ جنگی نقشوں کی تیاری تھا۔ اس منصوبے کو تین شکلیں دی گئیں۔ پہلی شکل تھی بیرونی حملے کے لیے راستوں اور محاذوں کی تفصیلی نشاندہی کرنا۔ حملہ آور فوج کے لیے رسد رسانی اور اس کے اپنے ہیڈ کوارٹر سے رابطے اور انقلابی رضا کاروں سے رابطے کے لیے پیغام رسانی کا انتظام کرنا اور حملہ آور فوج کی نقل و حرکت کے لیے سہولت فراہم کرنا۔ دوسری شکل یہ تھی کہ سی آئی ڈی کے آدمیوں سے تعاون حاصل کیا جائے اور اس محکمے میں اپنے آدمی داخل کیے جائیں تا کہ حکومت کی پالیسیوں اور اداروں کی خبر ملتی رہے ۔ تیسری شکل تھی فوج میں اپنے ہم خیال بنانا اور انقلابی کارکنوں کو فوج میں بھرتی کرانا تا کہ جب حملہ ہو تو دشمن کو سبو تاژ کیا جا سکے۔

پہلا کام مولانا عبید اللہ سندھی کو سونپا گیا اور بمبئی کے شیخ محمد ابراہیم ایم اے کو ان کا مددگار بنایا گیا۔ مولانا نے شمال مغربی سرحد کے کئی دورے کیے۔ جغرافیائی پوزیشن کا بغور نظر معائنہ کیا۔ فنون حرب سے آگاہی کے لیے انگریزی‘ جرمنی‘ ترکی‘ فرانسیسی اور عربی زبانوں کی کتابیں منگوا کر ان کا مطالعہ کیا۔ قدیم اور جدید طریقوں کو پرکھا اور متواتر سات سال تک کام کرنے کے بعد جنگ اور اس کے محاذوں کا ایک فقید المثال نقشہ تیار کیا۔ ان کے مطالعے سے بعد میں ترکی‘ جرمنی اور افغان فوجی افسروں نے بھی استفادہ کیا۔ مولانا کے تربیت یافتہ نوجوانوں نے والئی افغانستان امیر امان اللہ اور انگریزوں کے مابین جنگ میں افغان فوج کی ناقابل فراموش رہنمائی کی۔ دوسرے کام کی سربراہی ڈاکٹر انصاری نے انجام دی ۔ بہت سے ہندو اور مسلم نوجوان سی آئی ڈی میں گھس گئے اور حکومت کے راز قائدین تحریک تک پہنچاتے رہے۔ تحریک کی ناکامی کے بعد کئی نوجوان پکڑے گئے اور پھانسی پر لٹکائے گئے۔ تیسری شکل کے تحت منتخب نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرایا گیا۔ انہوں نے حب الوطن فوجیوں کو اپنا ہم خیال بنایا۔ بعض پکڑے بھی گئے اور کچھ لوگ تحریک کی ناکامی کے بعد بھی رہے اور پہلی جنگ عظیم کے بعد فوج سے نکل گئے۔ بعض ایسے بھی جو مستقل طور پر فوج میں رہے اور دوسری جنگ عظیم میں دوسرے افراد کو اپنے ساتھ ملا کر آزاد ہند فوج کے روپ میں سامنے آئے۔

پانچویں منصوبے کے تحت انقلاب کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کا خاکہ یہ بنایا گیا کہ ایک ہندو اور ایک مسلمان پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیارات کی کونسل ہوگی۔ مسلمان رکن کے لیے شیخ الہند مولانا محمود حسن کا نام تھا۔ ہندو رکن کا نام تحقیق طلب ہے۔ کونسل کے تحت صدر‘ وزیر اعظم‘ وزیر مملکت اور ان کے ماتحت کابینہ ہوگی۔ ان عہدے داروں کے لیے مجوزہ افراد علی الترتیب راجہ مہندر پرتاب‘ پروفیسر برکت اللہ او رمولانا عبید اللہ سندھی تھے۔ انہی لوگوں نے کابینہ بنانا تھی۔ فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے حضرت شیخ الہند کا نام تھا جرنیلوں کی تعداد بارہ رکھی گئی تھی۔

چھٹا منصوبہ بغاوت کے خفیہ مراکز کے قیام کا تھا۔ ہیڈ کوارٹر دہلی میں بنایا گیا ۔ اس میں شیخ الہند‘ مولانا محمد علی‘ مولانا شوکت علی‘ مولانا ابوالکلام آزاد‘ مولانا عبید اللہ سندھی‘ ڈاکٹر انصاری‘ گاندھی جی‘ پنڈت موتی لال نہرو‘ لالہ لاجپت رائے اور بابو راجندر پرشاد وغیرہ صف اول کے لوگ تھے ہیڈکوارٹر کے تحت آٹھ شاخیں پانی پت (یوپی کے اضلاع) لاہور (پنجاب) راندیر (بمبئی) گجرات کاٹھیاواڑ (مہاراشٹر) کراچی (قلات) لسبیلہ وغیرہ‘ اتمان زئی (شمالی سرحد) دین پور (بہاول پور) اور ترنگ زئی (آزاد قبائل) ‘ امروٹ (سندھ) میں کام کرتی تھیں۔ ان شاخوں کے امیر علیٰ الترتیب مولانا احمد اللہ‘ مولانا محمد احمد‘ مولانا محمد ابراہیم‘ مولانا محمد صادق‘ خان عبد الغفار خان‘ مولانا غلام محمد‘ مولانا فضل واحد اور مولانا تاج محمود تھے۔ مرکز میں ہندو اراکین کی موجودگی کے باوجود کسی شاخ کا سربراہ ہندو نہیں تھا۔ بعض ذرائع کے مطابق بنگال میں بھی شاخیں تھیں۔ بنگال میں مولانا ریاض احمد اور شمال مغربی سرحد میں تین علماء کی مشترکہ کمان تھی۔ کہا جاتا ہے کہ چند سال بعد جب آزاد قبائل اور انگریزوں کی خونریز جھڑپیں ہوئیں اور انگریز فوج کو پے در پے ہزیمت اٹھانی پڑی تو یہ اسی کام کا کارنامہ تھا۔

ساتویں منصوبے یعنی بیرون ملک امدادی مراکز کے قیام کی سمت میں ہیڈ کوارٹر کابل میں تھا۔ یہاں کے سربراہ مہندر پرتاب تھے۔ بعد میں مولانا سندھی ان سے جا ملے اور دونوں نے مل کر کام کیا۔ اس ہیڈ کوارٹر کی شاخیں مدینہ منورہ‘ برلن‘ استنبول‘ انقرہ اور قسطنطنیہ میں تھیں۔ برلن میں لالہ ہردیال نے نمایاں کام کیا۔ ان کی کوشش سے جرمنی اور ترکی کا پیکٹ ہوا اور جرمنی ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے آمادہ ہوگیا۔ کابل کے ہیڈ کوارٹر نے فقید المثال کارنامہ انجام دیا۔ امیر حبیب اللہ اور اس کے لڑکے عنایت اللہ کے دوغلے پن (جو بعد میں غداری پر منتج ہوا) کے باوجود تحریک کے آدمیوں کو افغانستان کی سیاست میں اتنا عمل دخل حاصل ہوگیا کہ تحریک کی ناکامی کے بعد قائدین کے دوست اور ہمدرد افسروں نے امیر حبیب اللہ خان کو قتل کروا کر اس کے بیٹے خان امان اللہ کو تخت پر بٹھایا جنہوں نے شروع سے تحریک کی اخلاقی اور مالی مدد کی تھی۔ انہوں نے تخت پر بیٹھتے ہی تحریک کے نظر بند قائدین کو رہا کر کے اپنا مشیر بنا لیا۔ قائدین تحریک ہی کے مشورے سے امان اللہ خان نے انگریزوں سے دو دو ہاتھ کیے اور ۲۳ اگست ۱۹۱۹ء کو افغانستان کو مکمل آزاد کروا لیا۔ مولانا سندھی افغانستان میں چوری چھپے داخل ہوئے تھے تو فوج کے سپہ سالار نادر شاہ نے قندھار میں ان کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ جب قائدین تحریک کے ایماء پر انگریزوں سے لڑنے کے بارے میں رائے معلوم کرنے کے لیے جرگہ بلایا گیا تو حبیب اللہ خان کے سوا سب لوگوں نے لڑائی کے حق میں رائے دی۔ ان میں امان اللہ خان اور عنایت اللہ خان اور ان کا بھائی نصر اللہ خان پیش پیش تھے۔

آٹھواں منصوبہ یہ تھا کہ برطانیہ اور ترکی کی آویزش میں (وسیع تر مقصد یہ تھا کہ ترکی کے ہندوستان پر حملے کے لیے) بعض ملکوں مثلاً روس‘ جرمنی‘ فرانس اور امریکہ کو ترکی کی حمایت پر آمادہ کیا جائے۔ اس ضمن میں کراچی میں اکابرین تحریک کی ایک مجلس مشاورت ہوئی۔ مولانا محمد علی کا خیال تھا کہ امریکہ ترکی کا ساتھ دے گا کیونکہ وہ خود بھی برطانیہ کا غلام رہ چکا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا خیال تھا کہ امریکہ غیر جانبدار رہے گا لیکن شیخ الہند کا موقف تھا کہ امریکہ برطانیہ کی کھلے بندوں مدد کرے گا۔ چنانچہ یہی ہوا تاہم امریکہ اور فرانس کے انصاف پسند لوگوں نے برطانیہ کے خلاف احتجاج کیا اور تحریک کا مشن کسی حد تک کامیاب رہا۔

روس میں بھی تحریک کا مشن حکومت کی سطح پر ناکام رہا۔ زار نے مشن کے قائدین ڈاکٹر مرزا احمد علی اور ستھرا سنگھ کی گرفتاری کا حکم دیا لیکن تاشقند کے گورنر نے جو تحریک کے کارکن بن گئے تھے انہیں گرفتاری سے بچا لیا۔ اس مشن کا تذکرہ روس کے انقلابیوں نے اپنے ایک پمفلٹ میں بھی کیا تھا اور اسے موثر قرار دیا تھا۔ عوامی سطح پر مشن اپنے مقصد میں کامیاب رہا اور روس برطانیہ دوستی خطرے میں پڑ گئی جس کے لیے لارڈ کچز خود روس پہنچا۔ البتہ ایک دوسرا مشن جو روس کے راستے جاپان جا رہا تھا زار کے ہتھے چڑھ گیا۔ بد قسمتی سے ستھرا سنگھ جو اس مشن میں شامل تھے اپنے ساتھی عبد القادر سمیت انگریزوں کے حوالے کر دیے گئے۔ انگریزوں نے ستھرا سنگھ کو پھانسی دے دی اور عبد القادر کو لمبی قید کی سزا دی۔

بیرون ملک تحریک کو صرف جرمنی میں کامیابی حاصل ہوئی۔ راجہ مہندر پرتاب نے وہاں تین سال رہ کر یہ کارنامہ انجام دیا۔ پروفیسر برکت اللہ اور لالہ ہردیال نے بھی ان کی اعانت کی۔ اس سلسلہ میں جرمنی کے کیپٹن ہنٹس نے بڑی مدد کی وہ محاذ کے معائنے کے لیے کابل بھی گیا۔ یہ کوششیں بار آور ہوئیں اور جرمنی ترکی کی مدد کرنے اور ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے آمادہ ہوگیا۔ مطمئن ہو کر راجہ مہندر پرتاب کابل چلے گئے جہاں مولانا سندھی بھی پہنچ گئے۔

نویں منصوبے میں حملے کے لیے راستوں کا تعین کرنا تھا۔ ایران‘ برطانیہ کا حلیف اور ترکی کا دشمن تھا۔ اس لیے وہ راستہ ترک کرنا پڑا‘ دوسرا راستہ افغانستان تھا۔ امان اللہ خان اور سول اور فوجی افسروں اور قبائل کے اٹل فیصلے سے ڈر کر حبیب اللہ خان راستہ دینے پر آمادہ ہوگیا۔ لیکن انگریز دوستی کا حق ادا کرنے کے لیے تجویز پیش کی کہ ترکی فوج بعض مخصوص دروں سے گزرے‘ ہم انگریزوں سے کہہ دیں گے کہ وہاں کے قبائلی باغی ہوگئے ہیں اور ہم مجبور ہیں اس کے علاوہ سرکاری فوج جنگ میں حصہ نہ لے البتہ رعایا رضا کارانہ طور پر حصہ لے سکتی ہے۔ در اصل اس کا مقصد یہ تھا کہ فریقین میں جس کا پلہ بھاری دیکھوں گا۔ اس کے ساتھ ہو جاؤں گا۔

امان اللہ خان اور نصر اللہ خان نے قائدین تحریک کو سمجھایا کہ اسی پر اکتفا کر لیں جب ترکی کی فوج ملک میں داخل ہو جائے گی تو ہم اپنے باپ کو انگریزوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر لیں گے ورنہ اسے راستہ سے ہٹا دیں گے۔ حملہ کے لیے چار محاذ بنائے گئے۔ ہر محاذ پر ایک انقلابی کو نگران مقرر کیا گیا۔ مولانا محمد صادق کی نگرانی میں قلات اور مکران کے قبائل کا ترک فوج کی قیادت میں کراچی پر حملہ‘ حافظ مولانا تاج محمود سندھی کی نگرانی میں ترک فوج کی سربراہی میں غزنی اور قندھار کے قبائل کا کوئٹہ پر حملہ‘ درہ خیبر کے راستہ پشاور پر مہمند اور مسعود قبائل کا ترک فوج کی قیادت میں حملہ‘ نگران حاجی صاحب ترنگ زئی تھے‘ اوگی ہزارہ کے محاذ پر ترکی کی فوج کا کوہستانی قبائل کو لے کر حملہ‘ نگرانی مولانا محمد اسحاق مانسہروی کی تھی۔

دسویں منصوبے کا مقصد حملے اور بغاوت کی ایک تاریخ مقرر کرنا تھا۔ ۱۹۰۵ء سے ۱۹۱۴ء تک نو منصوبوں کو کامیابی سے عملی جامہ پہنایا گیا اور دسویں پر عمل باقی تھا کہ جنگ عظیم چھڑ گئی۔ یہ انقلابیوں کے لیے سنہری موقع تھا فوراً دیوبند میں مجلس مشاورت منعقد ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بیرونی حملہ اور اندرونی بغاوت ۱۹ فروری ۱۹۱۷ء کو ہو مجلس شوریٰ نے اس کی اطلاع تمام شاخوں کو دے دی اور کہا کہ بغاوت کے لیے تیار رہیں لیکن حملے کی تاریخ کے حتمی فیصلے کے لیے دوسری اطلاع کا انتظار کریں۔ شیخ الہند کو ایک وثیقہ لکھ کر دیا گیا جس پر مجلس شوریٰ کے اراکین نے دستخط کیے۔ طے کیا گیا کہ شیخ الہند غازی انور پاشا سے بالمشافہ مل کر مجوزہ تاریخ کی منظوری لیں اور تحریک اور حکومت کے مابین نیز حکومت ترکی اور حکومت افغانستان کے درمیان تحریری معاہدہ کرائیں ۔ اس دوسرے معاہدہ کے سلسلہ میں انہیں انور پاشا کی تحریر لے کر افغانستان جانا تھا اور اس پر حبیب اللہ خان سے دستخط لے کر واپس انور پاشا کو پہنچانا تھا۔

شیخ الہند نے اپنی جائیداد شرعی قانون وراثت کے مطابق تقسیم کردی اور حج کا ارادہ ظاہر کر کے روانہ ہوگئے۔ حکومت نے انہیں دہلی میں گرفتار کرنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے معتقدین کا ہجوم دیکھ کر بمبئی میں گرفتار کرنے کی ٹھانی۔ ڈاکٹر انصاری نے خفیہ پولیس میں اپنے آدمیوں کی مدد سے اس تار کو ہوم سیکرٹری کے دفتر میں رکوا دیا جو اس مقصد سے گورنر جنرل کی طرف سے بمبئی کے گورنر کو بھیجا جا رہا تھا۔ یہ تار اس وقت ملا جب آپ جہاز میں سوار ہو چکے تھے۔ چنانچہ عدن کے گورنر کو روانہ کر دیا گیا لیکن وہاں بھی انقلابیوں نے بروقت پہنچنے نہ دیا اور آپ بخیر و عافیت مکہ معظمہ پہنچ گئے۔ اس وقت حجاز ترکی کے زیر حکومت تھا۔ وہاں کے گورنر غالب پاشا جو انور پاشا کی جنگی کمیٹی کے سیکرٹری بھی تھے‘ انقلابی تحریک کے ہمنوا تھے۔ شیخ الہند نے ان سے دو تحریریں لیں۔ ایک میں جہاد کی ترغیب تھی اسے چھپوا کر ہندوستان اور افغانستان کے نام تھی کہ شیخ الہند جو کچھ بھی کہیں اسے ہماری تائید حاصل ہے۔ انگریزوں نے اس پہلی تحریک کو غالب نامہ کہا اور اسی کی بنا پر بعد میں غالب پاشا کو گرفتار کر کے جنگی قیدی رکھا۔ انہوں نے بھی اپنی اس تحریر کا اقرار کیا‘ دوسری کا نام تک نہ لیا۔

شیخ الہند نے "غالب نامہ" مولانا محمد میاں کے حوالے کیا کہ اسے ہندوستان اور افغانستان لے جائیں۔ وہ ہندوستان پہنچے تو سی آئی ڈی پیچھے لگ گئی۔ چنانچہ افغانستان چلے گئے اور اس کی اشاعت کی۔ اسی اثنا میں ریشمی رومال کے پکڑے جانے کے بعد افغانستان پہنچی۔ البتہ اس سے افسروں اور قبائلی سرداروں میں نیا عزم پیدا ہوا اور امان اللہ خان انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے۔

شیخ الہند اور انور پاشا کی ملاقات مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ جمال پاشا ان کے ساتھ تھے۔ انور پاشا نے پہلے ان سے تحریر کردہ دونوں معاہدے لے لیے اور واپس چلے گئے۔ ایک ماہ بعد یہ معاہدے شیخ الہند کو مدینہ منورہ کے گورنر نے بلا کر دیے۔ ان پر انور پاشا کے دستخط ثبت تھے اور حملے اور بغاوت کی منظوری بھی تھی۔ دونوں معاہدوں کا مجموعی نام "انور نامہ" رکھا گیا۔ شیخ الہند نے تحریر اور حکومت ترکی کے معاہدے کو اپنے پاس رکھ لیا اور افغانستان ترکی معاہدہ مولانا ہادی حسن کو دے کر انہیں بھیج دیاکہ اسے افغانستان پہنچا دیا جائے۔ اس دستاویز کو بھجوانے میں شیخ الہند نے غیر معمولی حسن تدبیر سے کام لیا۔ خاص طور پر سے لکڑی کا ایک صندوق بنوایا۔ اس کے تختوں کے درمیان اس طرح چھپوایا کہ نظر نہ آتا تھا۔ ساتھ ہی بمبئی کے ایک رکن کو پیغام بھجوایا کہ وہ عرشہ جہاز پر ہی مولانا ہادی حسن سے صندوق لے لیں اور اسے فلاں پتے پر پارسل کر دیں۔ جوں ہی جہاز بمبئی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ وہ رکن عرشہ جہاز پر گئے اور اسے قلیوں سے اٹھوا کر باہر لے گئے۔ اسی وقت اسے مظفر نگر میں حاجی محمد نبی کے پتے پر پارسل کروا دیا۔ سی آئی ڈی نے مولانا ہادی حسن کی تلاشی لی اور انہیں مشتبہ قرار دے کر نینی تال بھجوا دیا جہاں انہیں حوالات میں بند کر دیا گیا۔

حاجی محمد نبی کو شیخ الہند نے ساری بات کہلوا بھیجی تھی۔ انہوں نے معاہدے کو اپنے پاس رکھا۔ کچھ عرصہ بعد مولانا ہادی حسن رہا ہو کر آئے۔ انہوں نے حلیہ بدل کر اپنا نام ظفر احمد رکھا اور معاہدے کو افغانستان پہنچا دیا ۔حبیب اللہ خان نے اپنے دونوں بیٹوں امان اللہ خان اور نصر اللہ خان اور سول فوجی افسروں اور قبائلی سرداروں کو آتش زیرپا دیکھا تو طوعاً و کرھاً اس کی منظوری دے دی۔ مولانا عبید اللہ سندھی اور نصرت اللہ خان نے ایک ماہر کاریگر سے معاہدے کی ساری عبارت جو عربی زبان میں تھی‘ ایک ریشمی رومال پر کڑھوائی اس میں حبیب اللہ خان اور اس کے تینوں بیٹوں کے دستخط بھی آگئے۔ رومال کا رنگ زرد تھا۔ اس کی لمبائی چوڑائی ایک مربع گز تھی۔ اس پر زرد رنگ سے چاروں کے دستخط دوبارہ کروا لیے گئے۔ اس کے بعد رومال کو پشاور بھجوایا گیا۔ یہ فرض شیخ عبد الحق نے انجام دیا جو بنارس کے نو مسلم گریجویٹ تھے اور افغانستان ہندوستان کے درمیان کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ اسی تجارت کی آڑ میں پیغام رسانی کرتے تھے۔ انہوں نے اسی قسم کے پانچ رومال لیے اور ریشمی رومال کو ان میں ملا دیا۔ پروگرام یہ تھا کہ رومال حیدر آباد میں شیخ عبد الرحیم کو پہنچایا جائے گا جو اسے لے کر حج کو جائیں گے اور شیخ الہند کے حوالے کریں گے۔ موصوف اسے انور پاشا کو لے جا کر دیں گے اور پروگرام کے مطابق ترکی‘ افغانستان کے راستے ۱۹ فروری ۱۹۱۸ء کو ہندوستان پر حملہ کر دے گا۔

شیخ عبد الحق نے یہ امانت پشاور میں حق نواز خان کو رات نو بجے پہنچائی انہوں نے صبح چار بجے اسے ایک خاص آدمی کے ہاتھ بہاول پور کے مقام دین پور میں سجادہ نشین خواجہ غلام محمد کو بھجوا دیا۔ نماز صبح سے پہلے فوج نے حق نواز کے گھر پر چھاپا مارا اور انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کی رہائی ایک ماہ بعد ہوئی۔ خواجہ غلام محمد کو رومال اگلے دن دس بجے صبح ملا۔ انہوں نے اسی وقت اسے ایک آدمی کے ہاتھ حیدر آباد چلتا کیا۔ ان کے گھر پر بھی فوج نے شام کے چار بجے چھاپہ مارا اور انہیں گرفتار کر لیا ۔چار ماہ تک قید رہے۔ ریشمی رومال دوسرے دن دوپہر کو حیدر آباد میں شیخ عبد الرحیم کو ملا اور عشاء کے وقت جب وہ اسے گدڑی میں سی رہے تھے‘ فوج کے ہتھے چڑھ گیا۔ اس دستاویز کے ہاتھ آجانے سے انگریزوں کو مجاہدین اور حکومت ترکی کے تفصیلی عزائم کا ثبوت مل گیا۔ انہوں نے داخلی طور پر یہ فوری قدم اٹھایا کہ ہر اس مقام پر فوج بھیج دی جہاں بغاوت کا خطرہ تھا اور شمال مغربی سرحد پر فوج دگنی کر دی۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں انقلابیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ جس شخص پر ذرا سا شبہ گزرا اسے گرفتار کر لیا ‘ گرفتار شدگان پر طرح طرح کی سختیاں کیں۔ دو چار کے سوا سب ہی ثابت قدم رہے تاہم تحریک دفن ہوگئی۔

خاص طور پر سب سے پہلے ترکی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور ترکی کی ہر سرحد پر محاذ کھول دیے۔ ایران میں فوج داخل کر کے ترکی اور افغانستان کے درمیان حد بندی کر دی۔ سب سے بڑا انتقام یہ لیا کہ شریف مکہ کو آلہ کار بنا کر اس سے ترکی کے خلاف بغاوت کرا دی۔ اس کے علاوہ عرب اور ہندوستان کے زر خرید ایجنٹوں سے ترکوں کے خلاف فتوے دلوائے۔ جنگ ختم ہو چکی تھی اور انگریزوں کو موقع مل گیا تھا کہ افغانستان کو دبائیں لیکن تحریک کے جو کارکن وہاں گرفتاری سے بچ رہے تھے انہوں نے قبائلیوں کی بڑی رہنمائی کی۔ حاجی ترنگ زئی نے قبائلیوں کو جمع کر کے تین سال تک انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ قلات اور لسبیلہ کے قبائل نے دو سال تک مقابلہ کیا۔ امان اللہ خان نے کوہاٹ تک قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن انگریزوں سے صلح ہوگئی اور افغانستان کی مکمل آزادی اور خود مختاری تسلیم کر لی گئی۔ شیخ الہند کو مکہ معظمہ میں گرفتار کرلیا گیا۔ ان پر مصر کی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور پھر جنگی قیدی بنا کر مالٹا بھیج دیا گیا۔ جنگ ختم ہوئی تو ہندوستان آئے کچھ عرصہ خلافت تحریک میں کام کیا اور رحلت فرمائی۔

اس ضمن میں ریشمی رومال پکڑا کیسے گیا؟ کچھ مصدقہ اور کچھ غیر تصدیق شدہ باتیں ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی کا خیال تھا کہ پشاور کے نواز خان نے مخبری کی لیکن مولانا حسین احمد مدنی کو اس سے اختلاف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حبیب اللہ خان اور اس کا لڑکا عنایت اللہ خان مجاہدوں کے ہر منصوبے کی انگریزوں کو باقاعدہ رپورٹ پہنچاتے تھے۔ ان لوگوں کی غدار فطرت کے سبب یہ بات خارج از امکان نہیں ہے۔ غداری کے سلسلے میں تحریک کے اکثر ارکان متفق ہیں کہ انگریزوں کے جاسوس مجاہدین کے روپ میں تحریک میں گھس گئے تھے اور کچھ لوگوں نے جان بچانے کے لیے بھی راز اگل دیے۔

من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم
کہ بامن ہرچہ کرد آں آشنا کرد

غیر ملکی قرضوں کا جال اور پاکستان کی آزادی

لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل

عالمی سود خوروں نے قرضے کا قطرہ ایک بار پھر ہمارے خشک منہ میں ٹپکا دیا۔ ۱۹۷ ملین ڈالر کی حقیر رقم ہماری آزادی‘ معیشت اور مستقبل کی قیمت ٹھہرائی گئی ہے۔ ایک بار پھر ہماری تمام اقتصادی ‘ معاشی اور سیاسی پالیسی پر آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی اداروں کے ذریعے امریکہ کو تسلط کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے بعد آزادی کے حصول کے جو امکانات روشن ہوگئے تھے ختم ہو کر رہ گئے ہیں چنانچہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو جس طرح بیرونی قوتوں کے حکم پر قانون و آئین کے منافی جیل سے نکال کر سعودی عرب پہنچایا گیا اس سے ثابت ہوگیاکہ پاکستان کی حکومت اور عوام اپنی مرضی اور اپنے آئین کے بجائے امریکہ کی مرضی اور حکم کے پابند ہیں۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ ہم قرضوں کے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔

غیر ملکی قرضوں کا مسئلہ بہت پرانا ہے ایوب خان کے زمانہ میں بھی ہم مقروض تھے لیکن تب ہر پاکستانی صرف ساٹھ روپے کا مقروض تھا۔ آج ہمارا ہر شہری یہاں تک کہ نوزائیدہ بچہ بھی ۲۵۰۰۰ روپے کا مقروض ہے۔ موجودہ ۳۷ بلین ڈالر (۲۳ کھرب پاکستانی روپے) کا غیر ملکی قرضہ اگر عوام کو ادا کرنا پڑے تو ہر خاندان پر دو لاکھ روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا جس میں صدر مملکت سے لے کر ایک غریب مزدور اور ہاری سب ہی شامل ہوں گے۔ قیام پاکستان کے وقت ایک ڈالر ہمارے ایک روپے کے برابر تھا جو ایوب دور میں بڑھ کر نو روپے کا ہوگیا اور آج ساٹھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اب ہماری پوزیشن یہ ہے کہ ہمیں اس سال پانچ ارب ڈالر (تین سو ارب روپے) ادا کرنے ہوں گے جب کہ ہماری مجموعی برآمدات کا حجم بے پناہ کوششوں کے باوجود آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف پوری کوشش کے باوجود ٹیکسوں کی مد میں ایک سو ارب روپے سے زیادہ اضافے کی امید نہیں۔ ماضی کے تجربات ‘ معروضی حالات اور مستقبل کے امکانات کو نگاہ میں رکھیں تو اس بات کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا کہ پاکستان یہ قرضے ادا کر سکتا ہے ۔ ہمارے موجودہ حکمران اب تک دعوے کر رہے ہیں کہ ہم یہ قرضے ادا کریں گے لیکن عملی صورت یہ ہے کہ یہ بھی پرانے قرضے ادا کرنے کے بجائے نئے قرضے لے رہے ہیں۔ ہم اپنے بل بوتے پر اغیار کا بچھایا ہوا غلامی کا یہ جال توڑ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے جس درویش صفت اور بے لوث قیادت کی ضرورت ہے ہم اس سے محروم ہیں۔ ہمیں وہ لیڈر شپ میسر نہیں جس کی آواز پر ساری قوم لبیک کہے اور شعب ابی طالب میں محصور ہونے کا آپشن قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ لہذا موجودہ صورت حال کے تناظر میں دو ہی آپشن رہ جاتے ہیں۔

پہلا آپشن یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف اور امریکہ کے سامنے مکمل سرنڈر کی راہ اپنا لیں۔ ایٹمی صلاحیت ختم کرنے پر رضامند ہو جائیں۔ اپنی خارجہ پالیسی امریکہ کے تابع کر لیں‘ کشمیر سے دستبردار ہو جائیں اور جہاد کشمیر ختم کرنے میں امریکہ اور بھارت کا ہاتھ بٹائیں۔ لیکن یہ سب کچھ کر کے ہماری اقتصادی حالت بہتر ہو سکے گی یا قرضے معاف کر دیے جائیں گے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں اور یہ راستہ اختیار کرنے کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے عقیدے‘ نظریے اور آزادی سے محروم ہونا قبول کرلیں۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم قرضے ادا کرنے سے انکار کر دیں جب تک ادا کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔ ہمارے پاس انکار کی معقول وجوہ ہیں:

۱۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ یہ Odious Loans ظالمانہ اور غلیظ قرضے لیتے وقت ہماری حکومتوں نے قوم سے نہیں پوچھا۔ چاہے وہ مارشل لا کی غیر جمہوری حکومتیں ہوں یا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومتیں‘ عوام سے کسی نے پوچھنے کی تکلیف گوارا نہیں کی۔ لہذا ان جبری قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنا آئین‘ قانون اور اخلاق کے کسی قرینے سے جائز نہیں۔

۲۔ ان کی دیدہ دانستہ غلط پلاننگ mis management قرضے دینے والے ملکوں اور اداروں نے کی۔ اس دانستہ بد انتظامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اتنے بھاری قرضوں سے ملک اور قوم کو فائدہ نہ پہنچا سوائے ایوب دور کے جب تربیلا اور منگلا وغیرہ تعمیر ہوئے۔ گزشتہ بارہ سال کے دوران ۲۳ ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے۔ ان سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا۔ سوائے موٹر وے کے جو ان قرضوں میں شامل نہیں۔ کوئی چھوٹا بنک بھی غیر معینہ یا ناقص منصوبے کے لیے قرض نہیں دیتا تو آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے قرضے کیوں دیے۔ در اصل یہ رقم قرض دینے والوں کے ایما پر لوٹ لی گئی اور لوٹ مار کا یہ مال ان ہی بینکوں میں چلا گیا جہاں سے آیا تھا۔ اب لوٹ کے مال کے پیچھے لوٹنے والے بھی وہاں جا پہنچے ہیں لہذا قانون‘ اخلاق اور عقل و منطق کے کسی اصول کے تحت پاکستان کے عوام پر یہ بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ بد انتظامی کی ذمہ داری سے قرض دینے والے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

قرض دینے والے بنک اور ملک دیکھ رہے تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ قرضے قوم کے بجائے چند افراد کے مفادات پر خرچ ہو رہے ہیں۔ ان عالمی اداروں کو معلوم تھا کہ ان قرضوں کا ثمر عوام کو نہیں ملے گا لیکن چونکہ قرض لینے والے ان کے سیاسی اور معاشی ایجنڈے پر عمل پیرا تھے اس لیے وہ کسی اصول اور ضابطے کے بغیر ہماری رقوم جاری کرتے رہے‘ مقروض ملکوں میں ان قرضوں کی مدد سے من پسند حکومتیں بھی لاتے رہے اور ان قرضوں کے عوض ایسی اقتصادی پالیسیاں بناتے اور چلاتے رہے جن سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ عوام کے نام پر لیا قرضہ چند افراد کے بنک اکاؤنٹس میں پہنچ رہا ہے۔ کون بتا سکتا ہے کہ گزشتہ بارہ برس میں لیا گیا ۲۳ ارب ڈالر (ساڑھے تیرہ کھرب روپے) کا قرضہ کہاں گیا۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ یہ قرض کہاں خرچ ہوا؟ اس کے علاوہ نواز شریف کے دور میں عوام کے منجمد گیارہ ارب ڈالر (چھ سو ساٹھ ارب روپے) کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ موجودہ حکومت نے احتساب کا وعدہ کیا تھا لیکن اس نے سابق وزیر اعظم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی‘ ایسا لگتا ہے کہ اسے بھی احتساب کے پورے سلسلے کو فراموش کرنے میں ہی عافیت نظر آئی ہے۔

۳۔ قوم کو ان ظالمانہ قرضوں میں جکڑ کر نہ صرف یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہمارے قرضے مع سود واپس کرو بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تمہاری روٹی‘ روزگار اور روشنی کا فیصلہ بھی ہم کریں گے۔ چنانچہ آئی ایم ایف کے کہنے پر گیس‘ بجلی اور آٹے پر غریبوں کے لیے رعایت Subsidy بھی ختم کر دو‘ کرنسی کی قیمت کم کرو‘ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اپنے تمام ذرائع اور وسائل کثیر ملکی (Multi National) کمپنیوں کے حوالے کر دو۔ ایٹمی صلاحیت ختم کرنے کے لیے سی ٹی بی ٹی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں پسپائی پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ان سارے معاملات کے لیے قرضوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہمارے اقتصادی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل رہی ہے۔ یہ ایک سفید جھوٹ ہے‘ عوام معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خودکشی کر رہے ہیں۔ مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ بجلی‘ پٹرول اور گیس کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں‘ یہ کیسی معاشی ترقی ہے؟ ہم پانچ ارب ڈالر سالانہ ادا کر کے کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟ یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند برسوں کے اندر قرضے کی قسطیں ہمارے مجموعی بجٹ سے بھی بڑھ جائیں گی۔ معیشت کا احیا تو کجا الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ ہمارے اقتصادی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے قرضے دینے سے انکار کیا تو ہمیں ڈیفالٹ قرار دے کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا‘ برآمدات نہیں ہوں گی‘ ایل سی نہیں کھلے گی‘ یہ دانش بھی مغرب سے ہمارے ہاں آئی ہے۔ یہ مفروضہ ہی غلط ہے کہ ہماری برآمدات ختم ہو جائیں گی۔ برآمدات کا سلسلہ چین‘ افغانستان‘ ایران اور دیگر اسلامی ممالک سے جاری رہ سکتا ہے‘ جن پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اس طرح ایک نیا تجارتی بلاک وجود میں آسکتا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ خرچ تیل پر ہوتا ہے جس کے بدلے ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چاول‘ گندم اور کپاس برآمد کر سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ڈیفالٹ کرنے والا پاکستان پہلا ملک نہیں ہوگا۔ لاطینی امریکہ کے سولہ ملک ڈیفالٹ کر چکے ہیں جس کے بعد ان کی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ جہاں تک تنہائی کا معاملہ ہے تو چین اور روس نے سیاسی طور پر تنہا ہو کر ہی ترقی کی۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام‘ کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں:

میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سامنے عزت اور آبرو کا راستہ کھلا ہے۔ ہمیں پوری قوت سے اعلان کر دینا چاہیے کہ ہم غیر ملکی قرضے ادا نہیں کر سکتے اور نہ قرضوں کی خاطر اپنے ملک کی آزادی کو امریکہ کے پاس گروی رکھ سکتے ہیں۔ ہماری قوم اس پر متفق ہے ۔ میں اس مقصد کے لیے تحریک شروع کر چکا ہوں ۔ اب تک سرگودھا اور سیالکوٹ کی بار کونسلوں سے خطاب کر چکا ہوں جہاں وکلا برادری نے مکمل اتفاق رائے سے قراردادیں منظور کی ہیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ استعماری قرضے ادا کرنے سے انکار کر دے۔ میری درخواست ہے کہ قومی پریس اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے اور عوامی رائے کو منظم شکل میں ابھارے ۔میں ان شاء اللہ گھر گھر جا کر لوگوں سے کہوں گا کہ اگر ہم سسک سسک کر اور ذلت سے جینا نہیں چاہتے ‘ اگر ہم نہیں چاہتے کہ مٹھی بھر غیر ملکی ایجنٹ قوم کا مال لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں لے جائیں اور ہمارے قومی مجرموں کو امریکہ ہمارے آئین و قانون کے ہاتھوں چھڑا کر لے جائے تو ہمیں مزاحمت کرنا ہوگی۔ ہمیں قرضوں کی سازش کا شکار بننے سے صاف انکار کرنا ہوگا۔ ہم اپنے ایمان‘ نظریے اور آزادی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ ہمیں عزت سے جینا ہے تو عزت سے مرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ سرنڈر کی پالیسی سے موت نہیں ٹلتی۔ اس لیے ہمیں اعلان کر دینا چاہیے کہ ہم ذلت سے جینا اور مرنا نہیں چاہتے۔ ہمارے حکمرانوں کے سامنے دو ہی راستے ہیں ‘ امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں یا اپنی مظلوم مگر غیرت مند قوم کے ساتھ‘ درمیان کا کوئی راستہ نہیں۔

کشمیر کی آزادی کا واحد راستہ - جہاد

الشیخ عمر بکری محمد

اسلام کو کشمیر میں سن ۵۰۰ ہجری (۱۲۰۰ عیسوی) میں نافذ کیا گیا۔ برطانیہ کے مداخلت کرنے اور سکھوں کے کشمیر پر (۱۸۱۹) میں قبضہ کرلینے سے پہلے تک اسلام وہاں غالب رہا۔ ۱۸۴۶ء سے یہ ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہے جب گلاب سنگھ نے اسے برطانیہ کو صرف ساڑھے سات ملین روپے میں بیچ دیا۔ یہ برطانیہ ہی تھا جو انڈین برصغیر کو تین واضح خطوں میں تقسیم کرنے کا ذمہ دار تھا جبکہ انہوں نے عرب جزیرہ نما کو کئی مزید حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اسلام کی غیر موجودگی سے قتل و غارت اور تشدد آئے ہیں کیونکہ ہندوؤں کے مذہب میں ایسا کوئی ہمدردی اور رحم کا عنصر نہیں ہے۔ یہ برطانیہ تھا جس کی راہنمائی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کی‘ جس نے ہندوؤں کے ساتھ نرمی برتتے ہوئے کشمیر کو ان کی عمل داری میں دینا یقینی بنا دیا اور نتیجے کے طور پر کشمیر پر کفار کا قبضہ ہوگیا۔

اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:

"اے ایمان والو ! ان مشرکین سے لڑو جو تمہیں گھیرے میں لے لیں اور ان کو تمہاری اندر کی سختی دیکھ لینے دو اور جان لو کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔" (۱۲۳ : ۹emq )

اللہ حکم دیتا ہے کہ جہاد ہی ظالم ہندوؤں کے خلاف واحد حل ہے۔ مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مشرکین سے جنگ کریں اور وہاں پر پھر سے اسلامی حکومت لے آئیں۔ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ افغانستان کی مسلم افواج افواج کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ جنگ کریں۔ اسلام میں ایسی کوئی گفت و شنید کے ساتھ تصفیہ کی صورت نہیں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا۔ مشرکین نہیں چاہیں گے کہ اسلام کسی صورت پھلے پھولے۔ یہ مشرکین ہی ہیں جنہوں نے پہلے ۱۹۲۴ء میں اسلامی خلافت کو تباہ کر کے مسئلہ پیدا کیا۔

مسلمانوں کو صرف روزے اور نماز ہی میں نہیں بلکہ ہر معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔

"اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اللہ کے سوا کسی دوسرے آقا کی پیروی نہ کرو‘ تم تھوڑا یاد رکھتے ہو۔" (۳:۴ tmq)

قوم پرستی نے مسلمانوں کو ان کی جمہوریت کی طرف مطالبے کا جواز دیا ہے۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کب مسلمان کفار کے غلبے سے نجات حاصل کرنے کے لیے الگ مملکت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کشمیر میں ظلم کے وجود کی وجہ اسلامی نظام کی عملداری نہ ہونا ہے۔

"وہ لوگ جو اللہ کی دی ہوئی نشانیوں کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں۔" (۴۵:۵ tmq)

مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم جو قتل و غارت کشمیر‘ فلسطین‘ افغانستان‘ بوسنیا اور چیچنیا میں دیکھتے ہیں اس کا احساس ہونا چاہیے۔ یہ صرف وہاں کے مسائل نہیں ہیں بلکہ مسلم دنیا سے اسلام کے عملی طور پر غائب ہونے کا بلاواسطہ نتیجہ ہیں۔ اس مسئلہ کی طرف توجہ دی جانی ضروری ہے کیونکہ اس مسئلہ کو حل کیے بغیر ہم مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ڈھونڈنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ مسلمانو ! یاد رکھو صرف ۳۱۳ مسلمان غزوہ بدر میں ۱۰۰۰ کی تعداد میں دشمن فوج سے لڑے تھے اور کامیاب ہوئے تھے کیونکہ وہ ایمان رکھتے تھے کہ فتح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اس عقیدے کی بنیاد پر تمام کفار کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کہ فتح اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ کشمیر کے لیے وہی حل ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ باقی تمام کو آزما لیا گیا ہے۔ پچاس سالوں تک ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ تمام ناکام ہو چکے ہیں۔

"اے جو ایمان لائے ہو ! کیا میں تمہیں ایک ایسا راستہ نہ دکھاؤں جو تمہیں المناک انجام سے بچائے گا۔ تمہیں چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور اللہ کے راستے پر اپنی جانوں اور اپنے مال کے ساتھ جدوجہد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جان سکو۔" (۱۱‘۱۰ :۶۱ tmq)

اے مسلمانو ! کشمیر یا بوسنیا یا کسی بھی اسلامی ملک میں اپنی بہنوں اور بھائیوں کو مت فراموش کرنا‘ ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا‘ مساجد میں خطبات کے دوران ظلم و جبر کی نشاندہی کرو اور اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر جہاد کے لیے تیار کریں اور ان مسائل کے درست حل (نظام خلافت) کے لیے اسلام کا مطالعہ کریں۔

اسلام میں انسانی حقوق کی اہمیت اور دائرہ کار

مولانا عصمت اللہ

عصر حاضر میں ہر طرف انسانی حقوق (Human Rights) کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ یورپی اقوام اس معاملہ میں زیادہ ہی فکر مندی ظاہر کر رہی ہیں۔ ان کے اس طرز عمل سے لگتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں زیادہ فکر‘ غم‘ پریشانی انہیں کو لاحق ہے۔ اگرچہ دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ان لوگوں نے کچھ تنظیمیں بھی قائم کر رکھی ہیں۔ ان کی مختلف شاخیں مختلف ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ بھی اپنی فکرمندی ظاہر کرتا رہتا ہے اور اقوام متحدہ نے اپنے زیر اہتمام کئی شعبے ترتیب دے رکھے ہیں اور ہر سال کچھ دن منانے کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ کہیں خواتین کے حقوق کا عالمی دن منانے کی صدا بلند کی جاتی ہے‘ کہیں مزدوروں ‘یتییموں‘ بچوں‘ معذوروں کے عالمی دن منانے کا شور مچایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس انداز میں کیا جاتا ہے کہ گویا انسانی حقوق‘ انسانیت کا احترام‘ خواتین کی فلاح و بہبود اور آدمیت کے مقام و مرتبہ کا تصور اور خیال ایک نئی ایجاد ہے۔

یورپی اقوام کے اس طرز عمل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ اور این جی اوز اقوام عالم کو یہ باور کرانے کی کوشش اور فکر میں مبتلا ہیں کہ انسانیت کی جو عظمت‘ مقام کی بلندی اور حقوق کی ادائیگی کی فکر ان کے اندر ہے‘ وہ کسی اور قوم کے اندر نہیں۔ وہ یوں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات کے پاس تو اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کا دین و مذہب‘ تعلیمات اسلامیہ‘ تہذیب و تمدن‘ اسلامی معاشرہ اور قرآن و سنت انسانیت کے حقوق اور عظمت سے غافل و بے خبر ہیں۔ ان کے پاس تو اس سلسلے میں کوئی آئینی‘ دستوری‘ تعلیمی‘ تہذیبی‘ فکری‘ نظری‘ علمی و عملی سرمایہ نہیں ہے اور آدمیت کے احترام حقوق کا تصور نیا پیدا ہوا ہے۔

آئیے مختصراً اسلامی تہذیب کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیں کہ اسلام کی تعلیمات انسانی حقوق اور عظمت کو کس نظر سے دیکھتی ہیں اور اسلامی تعلیمات اس بارے میں کیا کہتی ہیں اور اسلام انسانی حقوق کے بارے میں کیا تصور پیش کرتا ہے۔ اس سے قبل کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس اہم مسئلے پر تبصرہ کریں‘ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ حقائق دوسرے مذاہب اور تہذیبوں مثلاً ہندو مت‘ بدھ مت‘ یہودیت‘ نصرانیت کے بھی پیش کر دیے جائیں تاکہ مسابقت کے اس دور میں اسلام میں انسانی حقوق کے معاملہ کو مقابلہ کی صورت میں سمجھنا آسان ہو سکے۔ اس طرح اسلام کی عظمت و وقار دلوں میں خوب راسخ ہو سکے گی اور تقابلی مطالعہ سے اچھائی‘ برائی‘ اعلیٰ و ادنیٰ‘ بہتر‘ بدتر‘ صدق و کذب اور حق و باطل باسانی سمجھا جا سکے۔

چنانچہ جب ہم دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان مذاہب اور تہذیبوں میں انسان اور حیوان کے درمیان حد فاصل قائم نہیں کی گئی۔ بدھ مت کی تعلیمات میں انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔

اسی طرح ہندو قانون میں ایک جانور اور ایک انسان کا قتل برابر کا درجہ رکھتا ہے اور ایک جانور بھی اپنی کسی نفع رسانی کے باعث انسان کی ماں کا درجہ پا سکتا ہے ۔

یہودیت‘ نصرانیت میں قرابت داروں کو چھوڑ کر صرف ماں باپ کا ذکر کیا گیا ہے لیکن دوسرے قرابت داروں اور رشتہ داروں کو کوئی مرتبہ نہیں دیا گیا۔

دنیا کے ایک بڑے جمہوری نظام کے دعوے دار ملک ہندوستان میں حال ہی میں پیش آنے والے ان واقعات سے ہندو نظام میں انسانی حقوق کی پاسداری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ جنگ میں ہندوستانی انگریزی ہفت روزہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ آزادی کے ۵۳ سال بعد بھی کسی نچلی ذات میں پیدا ہونا ہندوستان میں ایک عذاب ‘ ایک لعنت سے کم نہیں۔ اس کا تازہ ترین ثبوت اس وقت ملا جب ایک کانگریسی رکن پارلیمنٹ ویلدروی نے اپنے بیٹے کی شادی کی رسم اپنے علاقے کے مندر میں ادا کی۔ رسم کے بعد مندر کے پرومہت نے حکم دیا کہ ساری عبادت گاہ کو نجاست سے پاک کیا جائے۔ اس کے لیے ایک عظیم عمل کیا گیا۔ مندر نجس کس طرح ہوا؟ صرف اس وجہ سے کہ رکن پارلیمنٹ کی بیوی ایک عیسائی عورت ہے اور وہ بھی اپنے بیٹے کی شادی کی رسم میں شرکت کے لیے مندر میں آئی تھی۔ حالانکہ مسٹر روی ایک زمانے میں صوبائی وزیر داخلہ بھی رہے ہیں۔

ایک اور مثال سنئے ‘ گزشتہ اگست میں ایک عدالتی افسر بھرھتری پرشاد نے سپریم کورٹ میں درخواست دی کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یو پی حکومت کی طرف سے جبری طور پر ریٹائر کرنے کے خلاف اس کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اسے جبری طور پر اس لیے ریٹائر کیا گیا تھا کہ اس نے حکومت کا ایک حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ حکم کیا تھا؟ جب مذکورہ افسر کا ایک عدالت سے دوسری عدالت میں تبادلہ ہوا تو ان کا جو جانشین جج مقرر ہوا جس کا نام اے کے سری وستوا تھا۔ اس نے عدالت میں بیٹھنا شروع کرنے سے پہلے گنگا جل منگوایا۔ پوری عدالت کو دہلوایا اس لیے کہ میرا پیش رو جو یہاں بیٹھتا رہا ہے وہ ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا۔ دیکھئے آج بھی بھارت میں لوگ ذات پات کی تقسیم کے عذاب میں مبتلا ہیں۔

اس وقت امریکہ جو انسانی حقوق کا بڑا چیمپئن بنا ہوا ہے اس کا اپنا یہ حال ہے کہ اس نے جاپان کے دو بڑے شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے جس میں لاکھوں جانیں آن واحد میں لقمہ اجل بن گئیں۔ ہزاروں مکان زمیں بوس ہوگئے اور دونوں شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ اسی طرح جب مشرقی تیمور کے عیسائیوں کامسئلہ پیش آتا ہے تو اس کی حمایت میں امریکہ‘ اقوام متحدہ اور پورا یورپ کھڑا ہو جاتا ہے اور انسانی حقوق کا اس قدر شور و غل بپا کیا جاتا ہے کہ اس کو آزادی دلا کر ہی چین لیتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں دیکھیں یہ کشمیر ہے۔ ۵۳ برس سے آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے‘ اس کی قراردادیں امریکہ‘ یورپ اور سلامتی کونسل کے دروازے پر مسلسل دستک دے رہی ہیں۔ وادی کشمیر مسلسل آگ میں جل رہی ہے۔ خون میں نہا رہی ہے‘ عزتیں لٹ رہی ہیں‘ نہ صرف نوجوان بلکہ بچے‘ بوڑھے اور صنف نازک تک کو عقل و فکر سے بالا اذیتیں اور تکلیفیں دی جا رہی ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے دعوے داروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بوسنیا‘ کسووا اور چیچنیا کے ہاں جس قدر انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے اس کی مثال چشم فلک نے بھی شاید نہ دیکھی ہو۔ آج تک اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں۔ بایں ہمہ پوری دنیا پر سکوت و جمود طاری ہے۔

اور یہ فلسطین ہے ۱۹۴۲ء کو انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ پھر عالم عرب کے قلب میں اسرائیل ریاست قائم کر دی گئی جس کی درندگی ‘ بربریت کی خبریں آتی رہی ہیں۔ لیکن اب اکتوبر کے آغاز سے ٹینکوں‘ توپوں اور راکٹوں سے فلسطین کا ناطقہ بند کر دیا گیا۔ وہاں مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ آئے دن مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے لیکن افسوس بالائے افسوس کہ کسی کو بھی یہاں انسانی حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی بلکہ روس ‘ امریکہ ‘ بھارت جب ذرا محسوس کرتے ہیں کہ عالم عرب خواب غفلت سے بیدار ہوا چاہتا ہے تو فوراً مذاکرات کا بگل بجا دیا جاتا ہے۔

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

تاکہ مسلمان سویا رہے اور ہم انسانی حقوق کے شور و ہنگامے میں اپنوں کے حقوق کا تحفظ اور مسلمانوں کے جان و مال اور عزت و آبرو سر عام نیلام کرتے رہیں۔ ان واقعات میں خاص طور پر یہ نقطہ قابل غور ہے کہ جو لڑائی میں مقابلہ کر رہے ہیں ان کا قتل تو سمجھ میں آتا ہے لیکن تہی دست (خالی ہاتھ) غیر مسلح لوگوں کا خون بہانا‘ خواتین کی عزت کو تار تار کرنا‘ بچوں کو گولیاں کا نشانہ بنانا اور بوڑھوں تک کو ٹینکوں تلے روند دینا انتہائی بدبختی ‘ شقاوت قلبی اور حیوانیت و درندگی ہے۔

آئیے ذرا اسلامی تعلیمات‘ اسلامی نظام حیات‘ واقعات اور تاریخ اسلامی کے حوالے سے حقوق انسانی کا جائزہ لیں کہ اسلامی تعلیمات میں انسانیت و آدمیت کا کیا مقام ہے؟ اور حقوق انسانی کی کیا اہمیت و عظمت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حقوق انسانی کا دائرہ بڑا وسیع ہے اسلام میں انسانی حقوق کا آغاز ایک فرد کی ذات سے ہوتا ہے اور پھر اس کا دائرہ پھیلنا شروع ہوتا ہے تو پھیلتا چلا جاتا ہے۔ یوں یہ دائرہ وسعت اختیار کرتے کرتے گھر‘ قرابت دار‘ پڑوس‘ محلہ ‘ شہر ‘ ملک اور پوری دنیا کے افراد انسانی تک وسیع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح تمام آفاق سے سمٹتا سمٹتا ایک فرد کی ذات میں جمع ہو جاتا ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کو صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ حیوانات‘ چرند پرند‘ درند‘ جمادات‘ نباتات تک کے حقوق بیان کر دیے ہیں۔

امام الانبیاء ﷺ کی تعلیمات مین اونٹ‘ ہرن اور چڑیا کے لیے بھی فلاح و بہبود اور حسن سلوک کرنے کی ہدایات موجود ہیں۔ انسانوں کے لیے درجہ وار حقوق کی ایسی ترتیب قائم کر دی ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ حقوق سے خالی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ مرد و عورت‘ اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے‘ بیمار تندرست‘ امیر غریب‘ حاکم رعایا‘ بہن بھائی‘ ماں باپ‘ شوہر بیوی‘ قریبی‘ اجنبی‘ مسلم غیر مسلم‘ شہری دیہاتی‘ غلام آقا‘ مہمان میزبان اور یتیم ‘ بیوہ غرض معاشرے کے ہر فردکے حقوق کی ایسی تفصیلات بیان کر دی ہیں کہ ایسی حد بندی کسی دوسرے مذہب و ملت میں نہیں پائی جاتی۔ مذہبی درجہ وار حقوق کی ایسی تفصیل موجود ہے جبکہ اسلام نے نے تو انسان کو من حیث الانسان بڑی تکریم اور فضیلت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے :

"اور ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سواری دی۔ اور ہم نے ان کو صاف ستھری چیزوں کا رزق دیا اور ہم نے ان کو اپنی بہت ساری مخلوق پر فضیلت دی۔" (بنی اسرائیل)

صرف اسی پر اکتفا نہیں ہے بلکہ اسلام میں انسانی خون کو انتہائی قیمتی قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی فرد کسی دوسرے انسان کو ناحق موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے تو مذہب اسلام میں مناسب سزا مقرر کر دی گئی ہے۔ قتل و خون بہانے کو مختلف صورتوں میں تقسیم کر دیا ہے جس قسم کا قتل ہوگا اسی طرح کی سزا کا تعین ہوگا۔ اس کے بارے میں قصاص و دیت کے تفصیلی احکام قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ عذاب آخرت اس کے علاوہ ہے۔

اس سلسلے میں چند قرآنی ارشادات ملاحظہ فرمائیں:

"اے ایمان والو ! تم پر مقتولوں کے بارے میں برابری کرنا فرض کر دیا گیا ہے۔" (البقرہ)

"جس نے کسی جان کو بلا عوض یا زمین میں فساد کرنے کے بغیر مار ڈالا۔ تو گویا اس نے سب لوگوں کو مار دیا اور جس نے ایک جان کو زندہ رکھا گویا اس نے سب لوگوں کو زندہ رکھا۔" (المائدہ)

"اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا‘ مگر جائز صورت میں" (الانعام)

اس سلسلے میں امام الانبیاء ﷺ کے فرموادت کا مطالعہ کریں کہ آپ نے کس قدر اہمیت سے انسانی جان کے تحفظ کو بیان کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا :

"مومن کا قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کے تہہ و بالا ہونے سے بڑھ کر ہے۔"

اگر کوئی شخص کسی مسلمان کے قتل میں ایک لفظ سے مدد کرے گا تو قیامت کے دن اس کی پیشانی پر رحمت سے مایوس لکھا ہوگا۔

اسلام کی نظر میں کوئی جان بے وقعت اور بے قیمت نہیں ہے اور کسی کو رائیگاں اور فضول قرار نہیں دیا جاتا۔ چنانچہ اگر کوئی لاش آبادی میں یا آبادی سے باہر اتنی دور پائی جائے کہ اگر کوئی شخص زور سے آواز لگائے تو وہاں تک اس کی آواز پہنچ سکے تو اس مقتول کے آس پاس قریبی آبادی پر اس کی ذمہ داری ڈالی جائے گی تا کہ اسلامی معاشرے کا ہر فرد بیدار مغز‘ حالات سے با خبر اور محلہ میں ہر کوئی ایک دوسرے کا خیر خواہ‘ خیر اندیش‘ بھلائی کا خواہاں بن کر رہے۔ کسی کو اپنے علاقے میں شر و فساد‘ دہشت گردی اور امن و امان برباد نہ کرنے دے اور رات کی تاریکی میں بھی معاشرہ دن کی روشنی کی طرح ہی بیدار محسوس ہو۔ چنانچہ اس لاش کے ورثہ مقتول کے مطالبے پر فقہی کاروائی پوری کر کے دیت دلائی جاتی ہے۔ اس سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ یہ قوانین تو مسلمانوں کے لیے ہیں۔ ایسا نہیں اسلامی قوانین بین الاقوامی امن و سلامتی کے ضامن ہیں۔

آئیے ذرا ایک ہلکی سی جھلک آپ کو اقلیتوں کے حقوق کی دکھلائے جائیں۔ اسلامی معاشرہ میں جس طرح ایک مسلمان کی جان و مال‘ عزت و آبرو کی حفاظت کو ضروری قرار دیا گیا ہے اسی طرح اقلیتوں اور غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت و نگرانی بھی اسلامی حکومت اور معاشرے پر ڈالی گئی ہے۔ چنانچہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا۔

"جو کوئی غیر مسلم پر ظلم کرے گا یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا یا طاقت سے زیادہ تکلیف دے گا اس کی کوئی چیز اس کی مرضی کے بغیر لے گا تو قیامت کے دن اس کی طرف سے میں دعوے دار ہوں گا۔"

جنگ بدر میں جو مشرکین قید ہوئے تھے سرکار دو عالم ﷺ نے ان قیدیوں کو صحابہ میں تقسیم کر دیا تھا اور آپؐ نے فرمایا تھا : "قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔"

خود قید ہونے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ پر آپؐ کے اس ارشاد کا یہ اثر تھا کہ صحابہ کرامؓ پہلے ہمیں کھانا کھلاتے تھے اگر کھانا بچ جاتا تو کھاتے ورنہ صرف کھجور پر ہی اکتفا کر لیتے تھے۔

یہ وہ قیدی تھے جنہوں نے مکہ میں حضور پاک ؐ اور صحابہؓ کو اذیت و تکلیف دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تھا۔ اب موقع تھا کہ صحابہ کرام ان سے اپنی مرضی کے مطابق بدلہ لے سکتے تھے لیکن یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ ان کو تشدد کا نشانہ بنانا تو درکنار بلکہ ہر ممکن آرام کا خیال رکھا جاتا ہے۔

آج کے مہذب و متمدن اور ترقی یافتہ ہونے کے دعوے دار ملکوں سے ذرا پوچھیں کہ کیا وہ اپنے اسیروں کے ساتھ ایسے سلوک کی مثال پیش کر سکتے ہیں۔ ان ملکوں میں تو حال یہ ہے کہ آئے دن جیلوں میں قیدیوں کو اذیتیں دے کر ہلاک کرنے کی خبریں پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ‘ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے معلوم ہوتی رہتی ہیں۔ کتنے قیدی ہیں جن کو روزانہ انڈین جیلوں میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

امریکہ اسامہ بن لادن کے بہانے افغانستان اور سوڈان میں میزائل پھینک کر کتنا جانی و مالی نقصان کر چکا ہے۔ اور مزید موقع کی تلاش میں ہے۔ اہل عراق کے لیے پابندیاں لگا کر معصوم عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ امریکہ فلسطین میں جو کھیل کھیل رہا ہے اب تو پوری دنیا اس سے واقف ہو چکی ہے۔ بایں ہمہ ایک ہی سانس میں مسلسل انسانی حقوق کے راگ بھی الاپ رہا ہے۔ جبکہ اسلام میں جنگی ہدایات‘ تعلیمات میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ لڑائی کے دوران کسی بچے‘ بوڑھے‘ عورت‘ راہب ‘ معذور اور بیمار کو قتل نہ کیا جائے۔ درختوں اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ غیر مسلموں کو ان کی زمینوں‘ گھروں اور عبادت گاہوں سے الگ نہ کیا جائے۔

دور فاروقی میں جب بیت المقدس فتح ہوا تو ایک موقع ایسا آیا کہ سیدنا فاروق اعظمؓ کو نماز کا وقت ہوگیا۔ جب آپ عیسائیوں کے مشہور گرجا گھر (قمامہ) کی سیر کر رہے تھے۔ عیسائی پادری نے کہا کہ یہیں نماز ادا فرما لیں۔ آپؓ نے یہ کہہ کر نماز ادا کرنے سے انکار کر دیا کہ کہیں کل کو مسلمان میرے نماز پڑھنے کو بہانہ بنا کر اس پر قبضہ نہ کر لیں۔ لہذا میں اس میں نماز ادا نہیں کروں گا۔

حضرت ابو عبیدہؓ نے ملک شام کو فتح کیا تو غیر مسلم ابو عبیدہؓ کے سلوک اور اسلامی تعلیمات میں اپنے حقوق کی حفاظت کی ہدایات کو دیکھ کر مسلمانوں کے حامی و مددگار بن گئے۔

محمد بن قاسم فاتحانہ سندھ میں داخل ہوئے اور راجہ داہر قتل ہوگیا تو لوگ مارے ڈر اور خوف کے اپنے گھروں کو چھوڑکر بھاگ رہے تھے۔ اسی وقت محمد بن قاسم کی طرف سے اعلان کر دیا گیا کہ جو کوئی اپنی جان بچانے کے لیے جانا چاہتا ہے اسے جانے دیا جائے اور اس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے۔ محمد بن قاسم کے اس اعلان سے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور لوگ بدستور اپنے ہی گھروں میں ٹھہر گئے اور جو بھاگ گئے تھے واپس آگئے۔

ولید بن عبد الملک نے اپنے دور خلافت میں جامع مسجد دمشق کا کچھ حصہ جبراً عیسائیوں کی جگہ پر تعمیر کر دیا تھا۔ جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ مقرر ہوئے تو مسجد کے اس حصہ کو گرانے اور عیسائیوں کے حوالے کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ بالاخر عیسائیوں کی مرضی سے معاملہ طے پا گیا تو مسجد کے اس حصہ کو باقی رہنے دیا گیا۔

بیت المقدس سیدنا فاروق اعظمؓ کے دور خلافت سے مسلمانوں کے قبضہ میں چلا آرہا تھا۔ ۴۹۲ھ میں جب عیسائیوں نے دوبارہ بیت المقدس کو فتح کر لیا تو چند سال میں فلسطین کا بڑا حصہ ان کے تصرف میں آگیا۔

انگریز مورخ لین پول لکھتا ہے :

"بیت المقدس میں فاتحانہ داخلہ پر صلیبی عیسائیوں نے ایسا قتل عام مچایا کہ ان صلیبوں کے گھرڑے جو مسجد عمر سوار ہوگئے گھٹنوں گھٹنوں خون کے چشمے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ بچوں کی ٹانگیں پکڑ کر ان کو دیواروں سے دے مارا یا ان کو دیواروں سے پھینک دیا گیا۔

اس کے بالمقابل جب ۵۸۳ء کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے دوبارہ بیت المقدس کو حاصل کیا اور ۹۰ سال بعد بیت المقدس کو فتح کرنے کی آرزو پوری ہوئی۔

ابن شداد لکھتے ہیں کہ ہر طرف دعا و تہلیل و تکبیر کا شور بلند تھا۔ ۹۰ برس بعد جمعہ کی نماز ہوئی۔ صلیب اتار دی گئی۔ اسلام کی فتح مندی اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا عجیب منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔

بہرحال اسلام میں انسانی حقوق کو جو اہمیت حاصل ہے اس کی مثال کسی مذہب و ملت ‘ تہذیب و تمدن‘ اور نظام و دستور میں نہیں ملتی۔ اسلامی تاریخ ایسے حقائق و مشاہد سے بھری پڑی ہے۔

انہیں چشم روشن اور دل زندہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

سرکاری حج پالیسی اور حجاج کو درپیش مشکلات ۔ چیف ایگزیکٹو کے نام ایک مکتوب

مولانا محمد عبد العزیز محمدی

- بخدمت جناب عزت مآب جنرل پرویز مشرف ‘ چیف ایگزیکٹو پاکستان (اسلام آباد)

- بخدمت جناب وزیر حج و امور مذہبیہ پاکستان(اسلام آباد)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی ؟ ۔ امید ہے طبیعت بعافیت ہوگی۔

چند ایک معروضات پیش خدمت ہیں۔ حجاج کرام کو ہر سال پیش آمدہ مشکلات و مسائل وقتاً فوقتاً اخبارات اور قومی جرائد میں آتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں روزنامہ جنگ کی طرف سے جنگ فورم میں منعقدہ مذاکرہ کے مطالعہ کے بعد میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جناب کی توجہ چند ایک تجاویز کی طرف خصوصیت سے مبذول کرائی جائے جن پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں قابل عمل بنا دیا جائے تو ان شاء اللہ امید ہے کہ کافی حد تک حجاج کرام کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہوگا کہ جناب ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ان تجاویز کو بیوروکریسی کی روایتی سازش اور دست برد سے بچا کر عملاً نافذ کرنے کے لیے ذاتی و سرکاری ذرائع بروئے کار لائیں۔

۱۔ جناب والا ‘ حجاج کرام کے لیے رہائش ‘ معلم کا انتخاب اور مکہ سے منیٰ ‘ عرفات‘ مزدلفہ آمد و رفت ٹرانسپورٹ کا انتظام حجاج کرام کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے اور ان کے لیے لازمی کٹوتی کو ختم کر دیا جائے۔

۲۔ بھارت غیر مسلم حکومت ہونے کے باوجود اپنے حجاج کرام سے درخواست کے ساتھ صرف پانچ ہزار روپے لیتی ہے۔ اور باقی رقم بعد میں جمع کرائی جاتی ہے جبکہ پاکستانی حکومت ہر سال حجاج کرام سے پوری رقم ۸ ماہ قبل جمع کراتی ہے جو حجاج کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ (یہ بہانہ کہ ہمیں سعودی حکومت کو بلڈنگ کے لیے ۲۳ فیصد ایڈوانس دینا پڑتا ہے‘ اسے آڑ بنا کر حجاج کرام سے پوری رقم اتنا عرصہ قبل لے لینے کا کوئی جواز نہیں) نیز بھارت اپنے حجاج کو سب سڈی دیتا ہے۔ جبکہ پاکستان ہر سال رقم میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ حجاج کرام سے پہلے کی طرح ایک صد روپے کے فارم یا ایک چوتھائی رقم ایڈوانس لے لی جائے اور بقایا رقم حج سے دو تین ماہ قبل جمع کرائیجائے اس جائز اور مبنی بر حقیقت مطالبے کو مذہبی امور کے ناخدا سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ آئندہ حج قومی کانفرنس کے موقع پر سب سے پہلے یہی مسئلہ زیر بحث لایا جائے اور رائے عامہ کا احترام کیاجائے۔

۳۔ جناب والا حج پالیسی پہلے سے تیار ہوتی ہے جسے حج بیورو کریسی دفتروں میں بیٹھ کر تیار کرتی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ کانفرنس کے موقع پر کئی باتوں کا جواب وہاں کے ذمہ دار یہ دیتے ہیں کہ یہ حج پالیسی میں نہیں ہے‘ کانفرنس تو اب ہو رہی ہے‘ پالیسی پہلے کس طرح طے ہوگئی؟ حج قومی کانفرنس رسمی‘ روایتی اور مہمانوں کو شرمندہ کرنے کے لیے محض ایک دھوکہ ہے۔ عوامی تجاویز کو در خور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ کانفرنس کے موقع پر مختلف کمیٹیوں کی تشکیل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ہوتی ہے۔ طے شدہ ٹارگٹ کے حصول کے علاوہ عوامی تجاویز کو ضیاع وقت سمجھ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ اس دھوکہ دہی سے نجات دلا کر عوامی تجاویز کو قابل عمل بنایا جائے۔ وزارت مذہبی امور کے عملہ کی کارکردگی یہ ہے۔ ہماری ایک جوائنٹ درخواست (اپنے انتظام اور اپنی گاڑی سے چند احباب کا ایک گروپ حج پر لے جانے کے سلسلے میں) ڈائریکٹر مذہبی امور صوبہ سرحد نے اپنے مکتوب No 2(11)/94-DH(G)/962-63 Peshawar مورخہ ۲ دسمبر ۱۹۹۸ء سیکشن آفیسر (p.w) وزارت مذہبی امور کو بھیجی تھی۔ آج عرصہ دو سال کے بعد ہم ابھی تک جواب کے انتظار میں ہیں۔ متعلقہ افسران کو جواب دینے کی فرصت نہیں ملی یا جواب کی زحمت گوارا نہیں کر رہے یا ریکارڈ اتنا صاف ہے کہ درخواست ہی گم ہوگئی ۔

۴۔ حج و عمرہ کے لیے (Land Route) خشکی کے راستے ٹرانسپورٹ کارواں بھیجے جائیں۔ اس سے نوجوانوں میں شوق بڑھے گا۔ راستے میں مقدس مقامات کی زیارت ہوگی۔ P.I.A کا بوجھ کم ہوگا اور گزشتہ سال کی طرح P.I.A کی طرف سے پیدا شدہ مشکل صورت حال کا اعادہ نہیں ہوگا۔ وزارت مذہبی امور کا یہ عذر لنگ کب تک چلے گا کہ (Land Route) حج پالیسی میں نہیں ہے۔ آخر پالیسی میں کب آئے گا۔ کون پالیسی بنائے گا اور کب تک من مانی چلے گی۔ اگر حکومت سرکاری طور پر حج کارواں نہیں بھیج سکتی تو کم از کم اپنے طور پر پرائیویٹ قافلے By Road جانا چاہیں تو انہیں سہولیات‘ ویزہ کے حصول کے لیے سرکاری طور پر تعاون اور ضروری کارروائی کے ساتھ ساتھ N.O.C دے دی جائے۔

۵۔ حج و عمرہ کے لیے بحری راستے نامعلوم وجوہ کی بنا پر بند کر دیے گئے۔ صرف یہ بہانہ کہ بحری جہاز ناکارہ ہوگئے ہیں‘ بیک وقت سب کیسے ناکارہ ہوگئے۔ اس سلسلے میں تو ہم کچھ نہیں کہتے۔ اگر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن والے بیک وقت بحری جہازوں کے ناکارہ ہونے میں اپنی غفلت و کوتاہی کی سزا غریب لوگوں کو دینے اور پاکستانی بندرگاہوں کی افادیت و اہمیت ختم کرنے کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو پرائیویٹ جہاز رانی کی حوصلہ افزائی کے لیے پرائیویٹ کمپنیوں کو رائیلٹی اور خصوصی رعایات دی جائیں تا کہ سمندری صنعت کو فروغ ہو اور حج و عمرہ کے لیے پہلے کی طرح بحری راستوں کو بھی اختیار کیا جا سکے۔

۶۔ حج بدل در حقیقت حج فرض ہی کی طرح ہے اس لیے حج بدل والوں کو مخصوص کوٹہ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

۷۔ حاجیوں کو بلڈنگ مافیا کی رشوت‘ ناواقف اور سفارشی عملہ سے نجات دلائی جائے۔ حج کے نام پرناجائز منافع خوری کا سد باب کیا جائے۔ جو رہائش ۶۰۰ ریال پر ملتی ہے اس کا کرایہ حاجیوں سے ۱۴۵۰ ریال لے لیا جاتا ہے۔یہ کتنی بڑی زیادتی ہے۔ ویسے بھی حج فارموں میں حجاج کے لیے رہائش کی درجہ بندی کچھ اس طرح سے ہوتی ہے کہ کم سے کم ۸۰۰ ریال اور زیادہ سے زیادہ ۱۶۰۰ ریال لیے جانے کا کالم ہوتا ہے۔ مگر کسی حاجی کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس درجہ کی رہائش میں ہے۔ ہر حاجی سے زیادہ سے زیادہ (maximum) کٹوتی کر لی جاتی ہے۔ وہاں حاجی کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ خدام الحجاج صرف فوجی اور سکاؤٹس بھیجے جاتے ہیں ۔ اگر پرائیویٹ طور پر حجاج کرام کی خدمت کرنے والی تنظیموں سے بھی خدام بھیجنے کے لیے ایک کوٹہ مقرر کیا جائے تو وہ اپنی ساکھ باقی رکھنے کی خاطر صحیح معنوں میں خدام فراہم کرتے ہوئے دیندار‘ محنتی اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد مہیا کر سکیں گے ۔

۸۔ حاجی کیمپوں میں مستورات کے لیے پردے کا صحیح انتظام کیاجائے۔ پردے کے ریک (rack) اور کیبن بنائے جائیں تا کہ کوئی حاجی اپنے محرم‘ مستورات کو ملنا چاہیں تو بے پردگی کا احتمال نہ ہو‘ موجودہ صورت حال غیر تسلی بخش ہے۔ نیز حج و عمرہ کی پروازوں میں لیڈیز ایئر ہوسٹس کو ممنوع قرار دے کر سٹیورڈ مقرر کیے جائیں۔

۹۔ سرکاری سطح پر سعودی عرب کو آگاہ کیا جائے کہ بعض معلمین حجاج کے وقوف منیٰ و مزدلفہ کے حدود کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس سال وقوف منیٰ کے خیمے منیٰ کے علاوہ مزدلفہ کی حدود میں بھی نصب کرائے گئے تھے۔ حجاج کو حدود کا علم نہیں ہوتا اس لیے معلمین کو پابند کیا جائے کہ وقوف منیٰ ‘ مزدلفہ اپنی اپنی حدود میں کرائیں۔

۱۰۔ رمضان المبارک کے احترام میں عمرہ کے لیے P.I.A کی ٹکٹ میں دس ہزار روپے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ عام حالات میں واپسی ٹکٹ اسلام آباد سے 28-27 ہزار ہوتی ہے جبکہ رمضان شریف میں 38-35 ہزار روپے کر دی جاتی ہے۔ نیز ایک اور مشکل درپیش ہے کہ ٹریول ایجنسیز اور P.I.A سٹاف والے ملی بھگت سے عمرہ والوں کے لیے جعلی سیٹ (O.K.) کرا لیتے ہیں‘ جب ویزہ لگ کر آجاتا ہے تو سیٹ کی تصدیق (confirmation ) سے انکاری ہو جاتے ہیں کہ وہ تو صرف ویزہ کے حصول کے لیے O.K کرائی تھی۔ عازمین مجبور ہوتے ہیں۔ آخر تک پریشان رہتے ہیں ۔ بالاخر P.I.A اور ٹریول ایجنسیز کی بلیک میلنگ اور اضافی اخراجات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کھلے فراڈ سے نجات دلائی جائے۔

۱۱۔ حاجی کیمپوں میں کسٹم سٹاف حجاج کی بعض استعمال کی چیزوں مثلاً ٹوتھ پیسٹ‘ تیل‘ صابن‘ ادویات وغیرہ کو ممنوع قرار دے کر حاجیوں کے ورثا کو واپس دینے کی بجائے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور بعد میں آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں جو شرعاً ناجائز ہے۔ اگر وہ اشیاء واقعی ممنوع ہیں تو حجاج کے ورثا کو واپس کر دی جائیں۔

یہ چند ایک گزارشات میں نے عرض کر دی ہیں جو وزارت مذہبی امور کی دانستہ یا غیر دانستہ غلط حکمت عملی کی وجہ سے حجاج کے لیے پریشان کن ہیں۔ اللہ پاک نے آپ کو اختیارات دیے ہیں‘ اللہ پاک کے مہمانوں کو ان مشکلات سے نجات دلا کر اپنے لیے ذخیرہ آخرت بنائیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو شریعت مطہرہ کی بالادستی قائم کرنے اور ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

خادم العلماء والحجاج : (مولانا) محمد عبد العزیز محمدی ‘خطیب جامع مسجد (امان) اسلامیہ کالونی ‘ ڈیرہ اسماعیل خان

کراچی میں حافظ الحدیث کانفرنس کا انعقاد

ادارہ

شیخ الاسلام حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ساری زندگی اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت ‘ اسلامی نظام کے نفاذ‘ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور باطل نظریات و افکار کے تعاقب کے لیے جدوجہد میں گزار دی اور ان کی بھرپور زندگی علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز علماء کرام نے گزشتہ دنوں جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ علیہ کی یاد میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی "حافظ الحدیث کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس کی پہلی نشست حضرت مولانا مطیع الرحمن درخواستی اور دوسری نشست کی صدارت پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے کی۔ جبکہ کانفرنس سے سپاہ صحابہؓ کی سپریم کونسل کے چیئرمین مولانا ضیاء القاسمی‘ جمعیت علماء اسلام (س) کے قائم مقام مرکزی امیر مولانا قاضی عبد اللطیف‘ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی‘ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر فضل احمد‘ مولانا اسعد تھانوی‘ مولانا بشیر احمد شاد‘ مولانا سیف الرحمن ارائیں‘ مولانا عبد الرشید انصاری‘ شیخ الحدیث مولانا زرولی خان‘ مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی‘ مولانا قاری اللہ داد‘ شاعر اسلام سید سلمان گیلانی‘ قاری عبد الکریم اور قاری محمد اکبر مالکی نے خطاب کیا۔ کانفرنس صبح ساڑھے دس بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی اور اس میں کراچی اور دیگر شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام‘ دینی کارکنوں او رطلبہ نے شرکت کی۔

مولانا ضیاء القاسمی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت درخواستی رحمہ اللہ علیہ نے زندگی بھر محنت اور جدوجہد کے ساتھ دین کا جو گلشن آباد کیا وہ ہم سب کی امیدوں کا مرکز ہے اور ہم اس کی ہمیشہ آبادی کے لیے دعا گو ہیں۔ وہ اہل حق کے قافلہ سالار تھے اور انہوں نے حق پرست علما اور کارکنوں کی ہر دور میں سرپرستی کی۔

مولانا قاضی عبد اللطیف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نے ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کی قیادت کی اور ان کی سربراہی میں اہل حق کے قافلہ نے ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک نفاذ شریعت کی تحریک کو آگے بڑھایا۔ اس لیے آج ان کا سب سے بڑا ورثہ یہی جدوجہد ہے اور ہم سب کو اس جدوجہد میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج فوجی حکومت کو این جی اوز اور لا دین عناصر نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور یہ این جی اوز پاکستان کی اسلامی حیثیت کے خاتمہ کے لیے بین الاقوامی ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے وجود اور اس کے نظریاتی تشخص کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اس لیے علماء کرام اور دینی حلقوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر اس خطرے کا مقابلہ کریں اور ملک کی اسلامی حیثیت اور قومی وحدت کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے گریز نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے اسلامی دستور کے مخالف قوم پرست سیاست دان لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے دستور کے خلاف باتیں کر رہے ہیں اور اس کے خاتمہ کے لیے مطالبات کر رہے ہیں جو خطرے کا الارم ہیں کیونکہ اگر خدانخواستہ ۷۳ کا دستور ختم ہوگیا تو اس ملک میں پھر کسی آئین پر قومی اتفاق رائے حاصل نہیں کیا جا سکے گا اور قومی وحدت خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی ایجنڈے کے سب سے بڑے اہداف تین ہیں۔ ایک یہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کیا جائے‘ دوسرا یہ کہ پاکستان کو معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا جائے اور تیسرا یہ کہ فوج سے عوام کو متنفر کر کے ملک کے دفاع کی قوت کو غیر موثر بنا دیا جائے۔ اس ایجنڈے پر تیزی سے عمل ہو رہا ہے اور مختلف شعبوں میں فوج کو براہ راست ملوث کرنے سے لے کر اشیاء صرف کے نرخوں میں اضافے اور ضلعی حکومتوں کے نام سے نیم خود مختار ریاستوں کے قیام اور عورتوں کی آزادی کے بہانے خاندانی نظام کی تباہی کی مہم تک منصوبوں پر تسلسل کے ساتھ عمل ہو رہا ہے۔ اس لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی حلقوں اور جماعتوں کی قیادتیں سرجوڑ کر بیٹھیں اورملکی وحدت اور اسلامی دستور کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔

مولانا زاہد الراشدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اہل حق کی روایات کے امین تھے۔ انہوں نے اپنے عظیم اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین کے تحفظ و ترویج کے لیے ہر مورچہ پر جنگ لڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا درخواستی کی پون صدی سے زیادہ عرصے پر محیط جدوجہد کے سات اہداف سب سے نمایاں تھے جن کے لیے وہ ہر وقت سرگرم عمل رہتے تھے اور اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کو سرگرم عمل رہنے کی تلقین کرتے تھے۔

پہلے نمبر پر وہ ملک میں نفاذ شریعت کے نفاذ کے خواہاں تھے اور انہوں نے مسلسل پینتیس برس تک جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر کی حیثیت سے اس جدوجہد کی راہنمائی کی۔ وہ اپنے ہر عقیدت مند اور شاگرد سے عام اجتماعات میں اس بات کا حلف لیا کرتے تھے کہ وہ زندگی بھر نفاذ شریعت کے لیے جدوجہد کرتا رہے گا۔

دوسرے نمبر پر وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے تھے۔ منکرین ختم نبوت کا تعاقب‘ عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت و تشریح اور علماء کرام کو اس محنت کے لیے تیار کرنا ان کا خصوصی موضوع تھا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی مہمات کی عملی طور پر بھی قیادت کی۔

تیسرے نمبر پر وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و عقیدت کا بطور خاص درس دیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے واقعات بیان کرتے‘ ان کی محبت اور عقیدت کو ابھارتے‘ ان پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے اور ان کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے علماء کرام اور کارکنوں کو جدوجہد پر آمادہ کرتے تھے۔

چوتھے نمبر پر جہاد حضرت درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے بیانات کا خاص موضوع ہوا کرتا تھا۔ جب افغانستان کے جہاد کا آغاز نہیں ہوا تھا وہ اس دور میں بھی جہاد کے فضائل بیان کرتے‘ قرون اولیٰ کے واقعات سناتے اور اپنے شاگردوں اور سامعین کو جہاد کے لیے تیار کرتے تھے اور جب جہاد افغانستان عملاً شروع ہوا تو انہوں نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقے کا طوفانی دورہ کر کے علماء کرام اور دیندار عوام کو افغان مجاہدین کی پشت پناہی کے لیے تیار کیا اور آخر دم تک افغان جہاد کی حمایت اور پشت پناہی کرتے رہے۔

پانچویں نمبر پر وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی تلقین کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے رابطہ اور تعلق کا سبق دیتے اور باطنی تزکیہ اور اصلاح کی طرف توجہ دلاتے تھے۔

چھٹے نمبر پر حضرت درخواستی کا خاص مشن ملک کے ہر حصے میں دینی مدارس کا قیام تھا‘ وہ جہاں جاتے دینی مدارس قائم کرنے کی تلقین کرتے‘ مدارس کے لیے چندہ اکٹھا کر کے دیتے اور ان مدارس کی عملی اور مالیاتی سرپرستی کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور انہی کے ذریعہ معاشرہ میں دین کی حفاظت ہوگی۔

ساتویں نمبر پر انہوں نے اہل حق کی مختلف جماعتوں کے درمیان مفاہمت و ارتباط کے لیے ہر دور میں کوشش کی‘ وہ علماء دیوبند سے تعلق رکھنے والی ہر جماعت کو اپنی جماعت کہتے تھے اور سب جماعتوں کی سرپرستی کرتے ہوئے ان میں اتحاد و اشتراک کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دین کی جدوجہد کے یہ ساتوں محاذآج بھی موجود ہیں اور حضرت درخواستی ؒ کے ساتھ ہماری محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ ہم ان محاذوں پر اسی طرح سرگرم عمل رہیں جس طرح ہمارے مرحوم اور مربی ہمیں سرگرم عمل رہنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

مولانا بشیر احمد شاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت جن مدارس کے ذریعہ قائم ہوئی ہے‘ ان مدارس کا جال حضرت درخواستی ؒ نے ہی بچھایا تھا اور ان کی جدوجہد کے نتیجے میں ہی دنیا میں ایک بار پھر اسلامی نظام کے نفاذ کا مبارک سلسلہ شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت درخواستی ؒ کی جدوجہد جاری رہے گی اور ہم ان کے خدام کی حیثیت سے ان کے مشن کی تکمیل کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

مقررین نے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی خدمات‘ دینی جدوجہد اور ملی کارناموں کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی اوصاف ‘ کرامات اور نیکی و تقویٰ کے بیسیوں واقعات بیان کیے اور کہا کہ وہ اس صدی میں پرانے بزرگوں کی روایات اور اخلاق و عادات کا نمونہ تھے۔ جبکہ کانفرنس کے اختتام پر حضرت درخواستی ؒ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کی گئی۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’دارالعلم کی مطبوعات‘‘

معہد اللغۃ العربیۃ اور دارالعلم ۶۹۹ آب پارہ مارکیٹ اسلام آباد کے سربراہ مولانا محمد بشیر سیالکوٹی باذوق اہل حدیث عالم دین ہیں جو قادیانیت جیسے گمراہ گروہوں کے علمی و فکری تعاقب کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کے مختلف مکاتب فکر میں باہمی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ اور عربی زبان کی ترویج کے لیے مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی خدمات کو تمام دینی حلقوں میں احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

وہ ایک عرصہ سے اس مقصد کے لیے کوشاں ہیں کہ دینی مدارس میں عربی زبان اور لغت اور ادب و انشاء کی تعلیم و تدریس کے لیے جدید اسلوب کو اپنایا جائے تا کہ سالہا سال تک ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور تدریسی خدمات سر انجام دینے والے اساتذہ میں عربی زبان میں تحریر و گفتگو کی صلاحیت کا جو خلا رہ جاتا ہے اور بری طرح محسوس ہوتا ہے اسے پر کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو طویل مدت سے مصروف کار ہے جس کے مثبت نتائج سب کے سامنے ہیں لیکن تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں اس رخ پر کوئی موثر کام نہیں ہو سکا اور ہمارے خیال میں مولانا محمد بشیر سیالکوٹی اسی مہم کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں جس کے لیے انہوں نے اسلام آباد میں مختلف طبقات کے لیے عربی کلاسوں کے اجرا کے علاوہ نصابی ضروریات کے لیے کتابوں کی تدوین و اشاعت کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے جن میں سے دو کتابیں اس وقت ہمارے سامنے ہیں۔

(۱) مفتاح الانشاء حصہ اول میں اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ کو عربی ترجمہ اور تحریر و انشاء سکھانے کے لیے جدید اسلوب کے مطابق خاصا مفید مواد جمع کر دیا گیا ہے۔

(۲) اساس الصرف میں علم صرف کے ضروری قواعد کو نئے اسلوب سے مرتب کر کے ضروری تمرینات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

(۳) اقرأ کے نام سے عربی ریڈر چار حصوں میں ہے جس میں کثیر الاستعمال عربی الفاظ و محاورات کا اچھا ذخیرہ جمع کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مولانا محمد بشیر سیالکوٹی کی کوشش ہے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے عربی نہ بولنے والوں کے لیے دروس اللغۃ العربیۃ کے نام سے تین حصوں میں جو نصابی کتاب شائع کی ہے دینی مدارس اسے بھی اپنے نصاب میں شامل کریں تا کہ طلبہ میں جدید عربی کو سمجھنے اور اس میں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہو اور ہماری معلومات کے مطابق اہل حدیث مکتب فکر کے وفاق المدارس السلفیہ پاکستان نے ان کی تجاویز کو منظور کرتے ہوئے عربی زبان کی تعلیم و تدریس کے نصاب و اسلوب میں ضروری تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ہے جو ہمارے خیال میں اس سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ہم اصولی طور پر مولانا موصوف کے اس موقف سے متفق ہیں کہ علما اور طلبہ میں جدید عربی کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے تعلیم و تدریس کے جدید اسلوب کو اختیار کرنا ضروری ہے ۔اس لیے دینی مدارس اور ان کے وفاقوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس اہم ضرورت کا احساس کریں اور اس بری طرح محسوس ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو کے نصاب‘ مولانا محمد بشیر سیالکوٹی کی تجاویز اور دیگر متعلقہ ماہرین کی آرا کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری اقدامات سے گریز نہ کریں۔

’’قرآن پاک کے نئے سائنسی معجزات‘‘

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود صاحب اور میجر (ر) امیر افضل خان صاحب نے اپنی اس مشترکہ کاوش میں مختلف سائنسی اصولوں اور ضابطوں کے حوالہ سے قرآن کریم کے متعدد مضامین اور معارف کو نئے رنگ میں پیش کیا ہے اور قرآن کریم کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات اور مغالطوں کا جواب دیا ہے۔ دو سو سے زائد صفحات کی یہ کتاب خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ القرآن الحکیم ریسرچ فاؤنڈیشن 60/B ناظم الدین روڈ F-8/4 اسلام آباد نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو روپے ہے۔

’’قیامت اور حیات بعد الموت‘‘

یہ کتاب ڈاکٹر سلطان بشیر محمود صاحب کی تصنیف ہے جسے اردو میں میجر (ر) امیر افضل خان صاحب نے پیش کیا ہے۔ اس میں قیامت اور حیات بعد الموت کے بارے میں اسلامی عقائد اور قرآن وسنت کی تشریحات کی سائنسی انداز میں وضاحت کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ساڑھے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس ضخیم اور مجلد کتاب کی قیمت تین سو روپے ہے اور اسے مندرجہ بالا ایڈریس سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’اسماء اللہ عز و جل‘‘

جناب رشید اللہ یعقوب نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء گرامی کے بارے میں قرآن کریم‘ احادیث نبویہ اور بزرگان دین کے اقوال و فرمودات کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے جو ان کے حسن ذوق کا آئینہ دار ہے اور اصحاب ذوق کے لیے بیش بہا تحفہ ہے۔

عمدہ کتابت و طباعت‘ خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ آرٹ پیپر پر شائع ہونے والی یہ کتاب اڑھائی سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جسے صدقہ جاریہ کے طور پر شائع کیا گیا ہے اور اسے رحمۃ للعالمین ریسرچ سنٹر مکان نمبر 8 زمزمہ سٹریٹ نمبر 3 زمزمہ کلفٹن کراچی 75600 سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’نسخہ سکون‘‘

ماہنامہ الہلال مانچسٹر کے مدیر مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے بیماریوں اور ان کے جسمانی و روحانی علاج کے بارے میں ضروری دینی معلومات اور احکام و مسائل کے ساتھ ساتھ ماثور دعاؤں کا ایک انتخاب اس کتابچہ میں پیش کیا ہے جو مختلف بیماریوں کے بارے میں جناب نبی اکرم ﷺ حضرات صحابہ کرامؓ اور سلف صالحینؒ سے منقول ہیں۔ یہ کتابچہ ادارہ اشاعت الاسلام برطانیہ نے شائع کیا ہے اور اسے مندرجہ ذیل ایڈریس سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ P.O. Box 36 Manchester M16 7AN (UK)

’’صمصام الاسلام‘‘

میانمار (برما) کے مسلم اکثریت کے صوبہ اراکان کے مسلمان ایک عرصہ سے برمی حکومت کے مظالم کا شکار اور دینی آزادی اور تشخص کے تحفظ کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں‘ حضرت مولانا حافظ محمد صدیق اراکانی اس جدوجہد کے اہم راہ نماؤں میں سے ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا عنوان کے تحت اس کتابچہ میں جہاد کی اہمیت اور اس کے احکام و مسائل کی وضاحت کے ساتھ ساتھ جہادی تحریکات کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے اور جہاد سے متعلقہ امور پر علمی انداز سے بحث کی ہے۔

سوا سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ حرکۃ الجہاد الاسلامی اراکان نے شائع کیا ہے اور اسے مصنف سے جامع احتشامیہ جیکب آباد کراچی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔