خبر کی اہمیت
انسانی علم کے عام ذرائع میں خبر بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا دائرۂ کار وہ امور ہیں جن تک انسان کے حواس اور عقل کی رسائی نہیں ہے۔ ہم اپنے حواس کی مدد سے صرف ان چیزوں کے بارے میں جان سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہوں اور ہم ان پر دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہوں۔ اسی طرح ہماری عقل صرف ان معلومات کو ترتیب دے کر مختلف نتائج اخذ کر سکتی ہے جو ہمارے حواس اس تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن باقی امور کے علم کے لیے ہمیں دوسرے انسانوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جو ہمیں ان تجربات کے بارے میں بتا سکیں جو انہیں حاصل ہوئے یا ان واقعات کی خبر دے سکیں جن کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہے۔
انسانی تمدن کی تشکیل اور ارتقا میں خبر نہایت اہم کردار کرتی ہے۔ اسی کے ذریعے سے ہم ان افراد اور گروہوں کے بارے میں جانتے اور ان کے حوالے سے مختلف علمی وعملی رویے اختیار کرتے ہیں جن سے ہمارا براہ راست واسطہ نہیں یا جو زمانی لحاظ سے ہم سے پہلے ہو گزرے ہیں اور اسی کے ذریعے سے نسل انسانی مختلف میدانوں میں اپنے تجربات واکتشافات کو محفوظ کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہے۔
تاہم انسان کو حاصل ہونے والی دوسری تمام صلاحیتوں کی طرح، خبر کی صلاحیت بھی نقائص اور خامیوں سے پاک نہیں۔ خبر کی افادیت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اس میں حقیقت واقعہ کو بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہو جیسی کہ وہ ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ہر خبر اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر کو روایت کرنے والے،جیسا کہ واضح ہے، انسانوں میں سے ہی کچھ افراد ہوتے ہیں اور اس کے مضمون کی ترتیب میں ان کی طبعی صلاحیتوں، مشاہدہ واستنباط کے طریقوں، ان کے گرد وپیش کے حالات اور ان کے کردار کا نہایت گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل بالعموم واقعہ کی حقیقی تصویر کو خراب کرنے اور اس میں سے حقیقت کے عنصر کو کمزور کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
نقد خبر کا معیار
اس نقص کے ازالہ کے لیے نسل انسانی کے عقلا نے صدیوں کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں روایت کی جانچ پرکھ کے مختلف اصول وضع کیے ہیں جن کا اطلاق کر کے کسی بھی روایت کی تصدیق یا تکذیب کی جا سکتی اور ماخذ علم کے طور پر اس کا مقام متعین کیاجا سکتا ہے۔ یہ اصول وضوابط کیا ہیں؟ مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ کے حسب ذیل اقتباس میں نقد روایت کے بنیادی پہلو بیان کیے گئے ہیں:
’’ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کسی خبر کی تحقیق کا سخت سے سخت قابل عمل معیار کیا ہو سکتا ہے۔ فرض کیجئے زید نام کا ایک شخص اب سے سو برس پہلے گزرا ہے جس کے متعلق عمرو ایک روایت آپ تک پہنچاتا ہے۔ آپ کو تحقیق کرنا ہے کہ زید کے متعلق یہ روایت درست ہے یا نہیں؟ اس غرض کے لیے آپ حسب ذیل تنقیحات قائم کر سکتے ہیں :
(۱) یہ روایت عمرو تک کس طریقے سے پہنچی؟ درمیان میں جو واسطے ہیں، ان کا سلسلہ زید تک پہنچتا ہے یا نہیں؟ درمیانی راویوں سے ہر راوی نے جس شخص سے روایت کی ہے، اس سے وہ ملا بھی تھا یا نہیں۔ ہر راوی نے روایت کس عمر اور کس حالت میں سنی؟ روایت کو اس نے لفظ بلفظ نقل کیا یا اس کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کیا؟
(۲) کیا یہی روایت دوسرے طریقوں سے بھی منقول ہے؟ اگر منقول ہے تو سب بیانات متفق ہیں یا مختلف؟ اور اختلاف ہے تو کس حد تک؟ اگر کھلا ہوا اختلاف ہے تو مختلف طریقوں میں سے کون سا طریق زیادہ معتبر ہے؟
(۳) جن لوگوں کے واسطے سے یہ خبر پہنچی ہے، وہ خود کیسے ہیں؟ جھوٹے یا بد دیانت تو نہیں؟ اس روایت میں ان کی کوئی ذاتی یا جماعتی غرض تو مخفی نہیں؟ ان میں صحیح یاد رکھنے اور صحیح نقل کرنے کی قابلیتتھی یا نہیں؟
(۴) زید کی افتاد طبع، اس کی سیرت، اس کے خیالات اور اس کے ماحول کے متعلق جو مشہور ومتواتر روایات یا ثابت شدہ معلومات ہمارے پاس موجود ہیں، یہ روایت ان کے خلاف تو نہیں ہے؟
(۵) روایت کسی غیر معمولی اور بعید از قیاس امر کے متعلق ہے یا معمولی اور قرین قیاس امر کے متعلق؟ اگر پہلی صورت ہے تو کیا طرق روایت اتنے کثیر، مسلسل اور معتبر ہیں کہ ایسے امر کو تسلیم کیا جا سکے؟ اور اگر دوسری صورت ہے تو کیا روایت اپنی موجودہ شکل میں اس امر کی صحت کا اطمینان کرنے کے لیے کافی ہے؟
یہی پانچ پہلو ہیں جن سے کسی خبر کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔‘‘ (۱)
اس اقتباس کا تجزیہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں روایت کی تنقید کے دو مستقل اور جداگانہ معیاروں کا ذکر کیا گیا ہے :
پہلا معیار ’’روایتی معیار‘‘ ہے جس میں اصل بحث راوی کی شخصیت، سند کے اتصال، روایت کے طریقوں اور اس کی مختلف سندوں سے ہوتی ہے۔ اقتباس میں مذکورپہلے تین امور اسی معیار سے متعلق ہیں۔
دوسرا معیار ’’درایتی معیار‘‘ ہے جس میں مذکورہ امورہ سے ہٹ کر دیگرعقلی قرائن کی روشنی میں روایت کے صحت واستناد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اقتباس میں مذکور آخر ی دونوں امور اسی معیار کی وضاحت کرتے ہیں۔
درایت کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
درایت کا لغوی معنی جاننا ہے۔ المعجم الوسیط میں ہے: دری الشئی : علمہ بضرب من الحیلۃ ’’کسی چیز کی درایت کا مطلب ہے تگ ودو اور کوشش کر کے اس کو معلوم کرنا۔‘ ‘ (۲)
اصطلاحی مفہوم کے لحاظ سے ’’درایت‘‘ دو مختلف معنوں میں مستعمل ہے۔ پہلا مفہوم وہ ہے جو امام سیوطیؒ نے علامہ ابن الاکفانی ؒ سے نقل کیا ہے۔ ان کی تقسیم کے مطابق علم حدیث کی دو قسمیں ہیں : علم الروایہ اور علم الدرایہ۔ علم الروایہ کے تحت انہوں نے درج ذیل امور کا ذکر کیا ہے : نبی ﷺ کے اقوال وافعال، ان کی روایت، ان کا ضبط کرنا اور ان کے الفاظ کو تحریر میں لانا۔ جبکہ علم الدرایہ میں درج ذیل امور شامل ہیں : روایت کی حقیقت ، اس کی شرائط، انواع اور احکام، راویوں کے حالات اور ان کی شرائط، روایت کی مختلف اقسام اور ان سے متعلقہ امور۔ (۳)
دوسرے معنی کے لحاظ سے درایت کا لفظ ، مذکورہ بالا وسیع مفہوم کے بجائے، نقد روایت کے محدود تناظر میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد ایسے قرائن کا علم اور اطلاق ہوتاہے جن کا لحاظ رکھنا ، عقل عام اور روز مرہ انسانی تجربات ومشاہدات کی روشنی میں، کسی بھی خبر کا مقام متعین کرنے میں ضروری ہے۔
زیر نظر مقالہ میں ہمارا مقصود مسلمانوں کی علمی روایت میں نقد خبرکے درایتی معیار اور اس کے عملی اطلاق کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرنا ہے۔
درایتی نقد کے مختلف پہلو
سب سے پہلے تو اس بات پر غور کیجئے کہ کسی روایت کو بلحاظ درایت پرکھتے ہوئے کون کون سے امور زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے سابق الذکر اقتباس میں دو پہلو بیان کیے گئے ہیں :
۱۔ کسی شخص کے متعلق وارد روایت کے بارے میں یہ دیکھاجائے کہ وہ اس کی افتاد طبع، سیرت، خیالات اور اس کے ماحول کے متعلق ثابت شدہ معلومات کے خلاف تو نہیں ؟
۲۔ یہ دیکھا جائے کہ اگر روایت کسی غیر معمولی اور بعید از قیاس امر کے متعلق ہے تو کیا اس کے راوی اتنے زیادہ اور معتبر ہیں کہ محض ان کی شہادت پر ایسے امر کو تسلیم کیا جا سکے؟
سیرت النبی کے مقدمہ میں علامہ شبلیؒ نے جو بحث کی ہے، اس کی روشنی میں اس پر درج ذیل امور کااضافہ کیا جا سکتا ہے :
۳۔ رواۃ کے مختلف مدارج کو ملحوظ رکھا جائے۔ نہایت ضابط، نہایت معنی فہم اور نہایت دقیقہ رس راویوں کی روایات کو عام راویوں کی روایات پر ترجیح ہونی چاہئے۔ بالخصوص ان روایتوں میں یہ فرق ضرور ملحوظ رکھنا چاہئے جو فقہی مسائل یا دقیق مطالب سے تعلق رکھتی ہیں۔
۴۔ یہ دیکھا جائے کہ راوی جو واقعہ بیان کرتا ہے، اس میں کس قدر حصہ اصل واقعہ ہے اور کس قدر راوی کا قیاس ہے۔ (۴)
مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ نے اس ضمن میں مزید چند امور کی نشان دہی کی ہے :
۶۔ واقعہ کے اصل راوی کے تعلقات صاحب واقعہ کے ساتھ کس قسم کے تھے؟
۷۔ نفس واقعہ کی نوعیت کیا ہے؟ کیا وہ واقعہ اس ماحول میں پیش آ سکتا ہے؟
۸۔ اگر واقعہ کو صحیح مان لیا جائے تو طبعا جو نتائج اس پر مرتب ہونے چاہئیں، وہ ہوئے ہیں یا نہیں؟ (۵)
درایتی نقد کے یہ پہلوعام ہیں اور ان کا اطلاق ہر قسم کی روایات پر ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر زیر بحث روایت دینی لحاظ سے بھی اہمیت رکھنے والی ہویعنی اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہو تو مزید دو پہلو پیش نظر رہنے چاہئیں جن کی تائید عقل عام سے بھی ہوتی ہے اور جن کی تصریح جلیل القدر محدثین اور فقہاء نے بھی کی ہے :
۹۔ روایت قرآن مجید کی نصوص یا رسول اللہ ﷺ کی سنت مشہورہ کے خلاف تو نہیں؟
۱۰۔ اس روایت کو تسلیم کرنے سے دین کے کسی مسلمہ اصول پر زد تو نہیں پڑتی؟
دین میں نقد درایت کی بنیاد
روایت کی تحقیق کرتے ہوئے حالات وقرائن کی روشنی میں اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی تعلیم خود قرآن مجید نے دی ہے۔ سورۂ نور میں واقعہ افک کے ضمن میں ارشاد ہے :
لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنات بانفسھم خیرا وقالوا ھذا افک مبین
ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس بات کو سنا تو مومن مردوں اور عورتوں نے ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کیا اور کہا کہ یہ تو صریح بہتان ہے۔ (۶)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بعض خبریں ایسی ہوتی ہیں جن کے بطلان کے قرائن اس قدر واضح ہوتے ہیں کہ ان کو سنتے ہی ان کی تردید کر دینی چاہئے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں روایت ہے کہ جب حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے یہ بات سنی تو اپنی اہلیہ سے فرمایا: ’’یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب، کیا تم ایسا کر سکتی ہو؟‘‘ انہوں نے کہا :بخدا نہیں۔ تو فرمایا : ’’اللہ کی قسم، عائشہؓ تم سے بہتر ہیں‘‘ (۷)
مسند احمد میں حضرت ابو اسید الساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اذا سمعتم الحدیث تعرفہ قلوبکم وتلین لہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم قریب فانا اولاکم بہ واذا سمعتم الحدیث عنی تنکرہ قلوبکم وتنفر منہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم بعید فانا ابعدکم منہ
جب تم کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمہارے دل مانوس ہوں اور تمہارے بال وکھال اس سیمتاثر ہوں اور تم اس کو اپنے سے قریب سمجھوتو میں اس کا تم سے زیادہ حق دار ہوں اور جب کوئی ایسی حدیث سنو جس کو تمہارے دل قبول نہ کریں اور تمہارے بال وکھال اس سے متوحش ہوں اور تم اس کو اپنے سے دور سمجھو تو میں تم سے بڑھ کر اس سے دور ہوں ۔ (۸)
صحا بہ کرامؓ
درایت کی بنیاد پر روایت کو پرکھنے کے طریقے کا آغاز حضرات صحابہ کرامؓ ہی کے زمانے میں ہو چکا تھا اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی آرا میں اس کے استعمال کے متعدد شواہد موجود ہیں :
حضرت عائشہؓ:
ام المومنین حضرت عائشہؓ کے ہاں قبول روایت کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور اصول شرع کے خلاف نہ ہو چنانچہ انہوں نے متعدد مواقع پر بعضصحابہ کرامؒ کی بیان کردہ روایتوں کو محض اس بنا پر رد کر دیا کہ وہ، ان کے نزدیک، اس معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔ امام سیوطیؒ نے یہ روایات اپنے رسالہ عین الاصابہ فی ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ میں درج کردی ہیں۔ (۹) یہاں ہم ان میں سے چند مثالیں نقل کرتے ہیں:
۱۔ حضرت ابن عمرؓ کی بیان کردہ یہ روایت جب حضرت عائشہؓ کے سامنے پیش کی گئی کہ ان المیت لیعذب ببکاء اھلہ علیہ (بے شک مرنے والے کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے) تو فرمایا : ’’ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات مومن کے بارے میں نہیں بلکہ کافر کے بارے میں فرمائی ہوگی۔ پھر فرمایا، تمہیں قرآن کافی ہے : لا تزر وازرۃ وزر اخری (کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)
۲۔ حضرت عمرؓ نے یہ روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین کی لاشوں سے، جو ایک کنویں میں پھینک دی گئی تھیں، مخاطب ہو کر کہا : فھل وجدتم ما وعد ربکم حقا (تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، کیا تمہیں اس کا حق ہونا معلوم ہو گیا ہے؟) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، کیا آپ مردوں سے مخاطب ہو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ما انتم باسمع منھم ولکن لا یجیبون (ان کی سننے کی صلاحیت تم سے کم نہیں ہے۔ بس اتنی بات ہے کہ یہ جواب نہیں دے سکتے) حضرت عائشہؓ نے یہ روایت سن کر کہا : آپ نے ایسا نہیں بلکہ یہ کہا ہوگا کہ اس وقت یہ لوگ جان چکے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا، وہ حق ہے۔ پھر آپؓ نے یہ آیات پڑھیں : انک لا تسمع الموتی (بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) وما انت بمسمع من فی القبور (آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں)
۳۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : الطیرۃ فی المراۃ والدابۃ والدار (نحوست عورت میں، سواری کے جانور میں اور گھر میں ہے) تو حضرت عائشہؓ نے کہا: اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ ایسا نہیں کہتے تھے۔ آپ تو اہل جاہلیت کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی : ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا۔ (تمہیں زمین میں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ ایک کتا ب میں لکھی ہوئی یعنی طے شدہ ہے، اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں)
۴۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں داخل کر دیا کیونکہ وہ نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ حضرت عائشہؓ نے یہ حدیث سن کر کہا : ’’اللہ کے ہاں مومن کا مرتبہ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ وہ اس کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دے۔ یہ عورت ،درحقیقت، کافر تھی۔‘‘
۵۔ جب حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ روایت بیان کی کہ ’’جو آدمی وتر کی نماز نہ پڑھے، اس کی کوئی نماز قبول نہیں ‘‘ تو حضرت عائشہؓ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا : ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو آدمی پانچ فرض نمازوں کی ، تمام شرائط کے ساتھ، پابندی کرے گا ، اللہ تعالی کے ہاں اس کا یہ حق ہے کہ وہ اس کو عذاب نہ دے۔‘‘
حضرت عمرؓ :
سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس نے یہ روایت بیان کی کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عدت کے دوران میں ان کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ لیکن حضرت عمرؓ نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا : ما کنا لندع کتاب ربنا وسنۃ نبینا لقول امراۃ لا ندری احفظت ام لا۔ ’’ہم کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کو پتہ نہیں بات یاد بھی رہی یا نہیں‘‘ (۱۰)
حضرت ابن عباسؓ:
۱۔ جامع ترمذی میں ہے کہ ابو ہریرہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو عبد اللہ ابن عباسؓ نے اس کو خلاف عقل ہونے کی بنا پر قبول نہ کیا اور فرمایا : ’’کیا ہم چکناہٹ سے وضو کریں؟ کیا ہم گرم پانی کے استعمال سے وضو کریں؟ ‘‘ اس پر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا : ’’جب تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کی جائے تو باتیں نہ بنایا کرو۔‘‘ (۱۱)
۲۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ عمرو نے جابر بن زید سے پوچھا ، لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا ، حکم بن عمرو الغفاری تو یہی بات کہتے تھے لیکن عبد اللہ ابن عباسؓ اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور قرآن کی یہ آیت پڑھتے تھے : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما (کہہ دو کہ مجھ پر جو وحی بھیجی گئی ہے، اس میں ان چار چیزوں یعنی مردار، خون، خنزیر کے گوشت یا غیر اللہ کے نام پر منت مانے ہوئے جانورکے سوا میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا) (۱۲)
حضرت ابو ایوب انصاریؓ:
صحیح بخاری میں ہے کہ محمود بن الربیع نے یہ حدیث بیان کی کہ : ان اللہ قد حرم علی النار من قال لا الہ الا اللہ یبتغی بذلک وجہ اللہ (جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر لا الہ الا اللہ پڑھ لیا اس پر اللہ نے جنت کو حرام کر دیا) حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے یہ سنا تو فرمایا: واللہ ما اظن رسول اللہ ﷺ قال ما قلت قط (بخدا میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایسی بات فرمائی ہوگی)
حافظ ابن حجرؓ ان کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کا ظاہرمفہوم یہ ہے کہ گناہ گار موحدین جہنم میں نہیں جائیں گے حالانکہ یہ بات بہت سی آیات اور مشہور احادیث کے خلاف ہے۔ (۱۳)
حضرت معاویہؓ:
موطا امام مالک میں روایت ہے کہ حضرت معاویہؓ نے سونے یا چاندی کے کچھ برتن فروخت کیے اور بدلے میں ان کے وزن سے زیادہ سونا یا چاندی وصول کی۔ جب حضرت ابو الدرداءؓ نے انہیں بتایا کہ اس بیع سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے تو جواب دیا : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ (۱۴) گویا انہوں نے عقل وقیاس کی بنا پر روایت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
محدثین کرام
محدثین نے جہاں روایت کی سند کی تحقیق کے سلسلے میں گراں قدر اصول وضع کیے ہیں، وہاں روایت کے متن کی تنقید کے سلسلے میں درایت کی اہمیت بھی تسلیم کی ہے۔ چنانچہ محدث عمر بن بدر الموصلی لکھتے ہیں:
لم یقف العلماء عند نقد الحدیث من حیث سندہ بل تعدوا الی النظر فی متنہ فقضوا علی کثیر من الاحادیث بالوضع وان کان سندا سالما اذا وجدوا فی متونھا عللا تقضی بعدم قبولھا
علما نے نقد حدیث کے معاملہ میں صرف سند پر اکتفا نہیں کی بلکہ اس دائرے میں متن کو بھی شامل کیا ہے چنانچہ انہوں نے بہت سی ایسی حدیثوں کے موضوع ہونے کا فیصلہ کیا ہیجن کی سندیں اگرچہ درست تھیں لیکن ان کے متن میں ایسی خرابیاں پائی جاتی تھیں جو ان کو قبول کرنے سے مانع تھیں (۱۵)
درایت کے اصولو ں کی وضاحت کرتے ہوئے خطیب بغدادیؒ اپنی کتاب الفقیہ والمتفقہ میں لکھتے ہیں:
واذا روی الثقۃ المامون خبرا متصل الاسناد رد بامور: احدھا ان یخالف موجبات العقول فیعلم بطلانہ لان الشرع انما یرد بمجوزات العقول واما بخلاف العقول فلا۔ والثانی ان یخالف نص الکتاب او السنۃ المتواترۃ فیعلم انہ لا اصل لہ اومنسوخ۔ والثالث ان یخالف الاجماع فیستدل علی انہ منسوخ او لا اصل لہ لانہ لا یجوز ان یکون صحیحا غیر منسوخ وتجمع الامۃ علی خلافہ۔ ۔۔۔۔۔ والرابع ان ینفرد الواحد بروایۃ ما یجب علی کافۃ الخلق علمہ فیدل ذلک علی انہ لا اصل لہ لانہ لا یجوز ان یکون لہ اصل وینفرد ہو بعلمہ من بین الخلق العظیم۔ والخامس ان ینفرد بروایۃ ما جرت العادۃ بان ینقلہ اھل التواتر فلا یقبل لانہ لا یجوز ان ینفرد فی مثل ھذا بالروایۃ
جب کوئی ثقہ اور مامون راوی ایسی روایت بیان کرے جس کی سند بھی متصل ہے تو اس کو ان امور کے پیش نظر رد کر دیا جائے گا : ایک یہ کہ وہ تقاضائے عقل کے خلاف ہو ۔ اس سے اس کا بطلان معلوم ہوگا کیونکہ شرع کا ورود عقل کے مقتضیات کے مطابق ہوتاہے نہ کہ عقل کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ وہ کتاب اللہ کی نص یا سنت متواترہ کے خلاف ہو۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں یا یہ منسوخ ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ اجماع کے خلاف ہو۔ اس سے یہ استدلال کیا جائے گا کہ وہ منسوخ ہے یا اس کی کوئی اصل نہیں کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ صحیح اور غیر منسوخ ہو اور امت کا اس کے خلاف اجماع ہو جائے۔ چوتھے یہ کہ ایسے واقعہ کو صرف ایک راوی بیان کرے جس کا جاننا تمام لوگوں پر واجب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایسی بات کی کوئی اصل ہو اور تمام لوگوں میں سے صرف ایک راوی اس کو نقل کرے۔ پانچویں یہ کہ ایسی بات کو صرف ایک آدمی نقل کرے جس کو عادتا لوگ تواتر کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ یہ بھی قبول نہیں ہوگی کیونکہ جائز نہیں کہ ایسے واقعہ کو نقل کرنے والا صرف ایک آدمی ہو (۱۶)
امام ابن الجوزیؒ فرماتے ہیں:
ما احسن قول القائل : اذا رایت الحدیث یباین المعقول او یخالف المنقول او یناقض الاصول فاعلم انہ موضوع
کسی کہنے والے نے کتنی اچھی بات کہی ہے کہ جب تم دیکھو کہ ایک حدیث عقل کے خلاف ہے یا ثابت شدہ نص کے مناقض ہے یا کسی اصول سے ٹکراتی ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔ (۱۷)
ذیل میں ہم وہ مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں جلیل القدر محدثین نے ان اصولوں کو برتتے ہوئے درایتی معیار پر پورا نہ اترنے والی روایات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اگرچہ ان کے راوی نہایت ثقہ اور اسانید بالکل متصل ہیں۔
۱۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ ایک جھگڑے کے سلسلے میں حضرت عمرؓ کے پاس آئے۔ حضرت عباسؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا:
اقض بینی وبین ھذا الکاذب الآثم الغادر الخائن
میرے اور اس جھوٹے، گناہ گار، بد عہد اور خائن کے درمیان فیصلہ کیجئے۔
امام نوویؒ ، علامہ مازریؒ سے نقل کرتے ہیں:
ھذا اللفظ الذی وقع لا یلیق ظاہرہ بالعباس وحاش لعلی ان یکون فیہ بعض ھذہ الاوصاف فضلا عن کلھا ولسنا نقطع بالعصمۃ الا للنبی ﷺ ولمن شھد لہ بہا لکنا مامورون بحسن الظن بالصحابۃ رضی اللہ عنھم اجمعین ونفی کل رذیلۃ عنھم واذا انسدت طرق تاویلھا نسبنا الکذب الی رواتھا
اس روایت میں واقع یہ الفاظ بظاہر حضرت عباس سے صادر نہیں ہو سکتے اور یہ ناممکن ہے کہ سیدنا علیؓ کی ذات میں ان میں سے کوئی ایک وصف بھی ہو۔ اور ہمارا رسول اللہ ﷺ اور ان لوگوں کے علاوہ جن کے بارے میں آپ نے شہادت دی، کسی کے بارے میں بھی معصوم ہونے کا عقیدہ نہیں ہے۔ ہمیں حکم ہے کہ صحابہؓ کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور ہر بری بات کی ان سے نفی کریں۔ جب تاویل کے تمام راستے بند ہو جائیں تو پھر ہم جھوٹ کی نسبت روایت کے راویوں کی طرف کریں گے۔ (۱۸)
۲۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو دیکھیں گے کہ ان پر ذلت اور سیاہی چچھائی ہوئی ہے تو اللہ تعالی سے عرض کریں گے کہ یا اللہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ قیامت کے دن تمہیں رسوا نہیں کروں گا۔ اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے کہ میں جنت کو کافروں پر حرام کر رکھا ہے۔
امام اسماعیلیؒ فرماتے ہیں:
ھذا خبر فی صحتہ نظر من جھۃ ان ابراھیم علم ان اللہ لا یخلف المیعاد فکیف یجعل ما صار لابیہ خزیا مع علمہ بذالک
س روایت کی صحت میں اشکال ہے۔ کیونکہ ابراہیم علیہ السلام جانتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا تو ان کے والد کا جو انجام ہوا، اس کو وہ کیسے اپنی رسوائی قرار دے سکتے ہیں؟ (۱۹)
۳۔ صحیح بخاری میں عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر کو دیکھا جس نے زنا کیا تھا۔ اس پر دوسرے بندروں نے جمع ہو کر اس کو سنگ سار کیا۔
حافظ ابن عبد البرؒ اس حدیث پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فیھا اضافۃ الزنا الی غیرمکلف واقامۃ الحد علی البھائم وھذا منکر عند اھل العلم
اس میں زنا کی نسبت غیر مکلف کی طرف کی گئی ہے اور جانوروں پر حد لگانے کا ذکر ہے ۔ اہل علم کے نزدیک یہ بات بعید از قیاس ہے۔ (۲۰)
۴۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عبد اللہ بن ابی کے حامیوں اور آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ کے مابین جھگڑا ہو گیا جس پر یہ آیت اتری: وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما
محدث ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس واقعہ کے متعلق نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں دو مومن گروہوں میں صلح کرانے کا ذکر ہے جبکہ روایات کے مطابق عبد اللہ بن ابی اور اس کا گروہ اس وقت تک علانیہ کافر تھا۔ (۲۱)
۵۔ سن ابی داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے اعضا کو تین تین مرتبہ دھویا اور پھر فرمایا : من زاد علی ھذا او نقص فقد اساء وظلم (جس نے اس تعداد میں کمی بیشی کی، اس نے برا کیا اور ظلم کیا)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
اسنادہ جید لکن عدہ مسلم فی جملۃ ما انکر علی عمرو بن شعیب لان ظاھرہ ذم النقص من الثلاث
اس کی سند عمدہ ہے لیکن امام مسلم نے اس کو عمرو بن شعیب کے منکرات میں شمار کیا ہے کیونکہ ظاہرکے لحاظ سے یہ روایت تین مرتبہ سے کم دھونے والے کی مذمت کرتی ہے (حالانکہ صحیح روایات میں رسول اللہ ﷺ سے ایسا کرنا ثابت ہے) (۲۲)
۶۔ صحیح بخاری میں واقعہ معراج کی ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہوا۔
امام ابن حزمؒ اس پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ واقعہ معراج رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد ہوا تھا اس لیے روایت میں مذکور بات درست نہیں ہو سکتی۔ (۲۳)
۷۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابو سفیانؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اپنی دختر حضرت ام حبیبہؓ کے ساتھ نکاح کی پیش کش کی۔
ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حضرت ام حبیبہؓ کے ساتھ نکاح فتح مکہ سے بہت عرصہ پہلے ہو چکا تھا جبکہ ابو سفیانؓ ابھی ایمان نہیں لائے تھے، لہذا اس روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ (۲۴)
۸۔ صحیح بخاری میں واقعہ معراج کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ موسی علیہ السلام کے کہنے پر نمازوں میں تخفیف کے لیے بار بار اللہ تعالی کے پاس جاتے رہے ۔ آخری مرتبہ جب آپ واپس آئے اور موسی علیہ السلام نے پھرواپس جانے کو کہا تو آپ نے انہیں اللہ تعالی کا ارشاد سنایا کہ : ما یبدل القول لدی (اس حکم میں مزید کوئی تبدیلی نہیں ہوگی) لیکن موسی علیہ السلام نے پھر بھی آپ سے دوبارہ جانے کے لیے کہا۔
محدث داؤدی فرماتے ہیں کہ یہ با ت درست نہیں کیونکہ باقی تمام روایات اس کے برخلاف بات بیان کرتی ہیں نیز موسی علیہ السلام، اللہ تعالی کا ارشاد سننے کے بعد آپ ﷺ کو دوبارہ جانے کا نہیں کہہ سکتے۔ (۲۵)
۹۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺنے اپنی قمیص اس کے بیٹے کو دی اور حکم دیا کہ اس میں اس کو کفن دیا جائے۔ پھر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے اٹھے تو حضرت عمرؓ نے کہا: کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ وہ منافق ہے اور اللہ تعالی نے آپ کو ان کے لیے استغفار کرنے سے منع بھی کیاہے؟ آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ اگر میں ستر مرتبہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کروں تو اللہ معاف نہیں کرے گا، اس لیے میں ستر سے زیادہ مرتبہ دعا کروں گا۔ اس کے بعد آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
اس روایت کو متعدد محدثین نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں :
واستشکل فھم التخییر من الایۃ حتی اقدم جماعۃ من الاکابر علی الطعن فی صحۃ ھذا الحدیث مع کثرۃ طرقہ واتفاق الشیخین وسائر الذین خرجوا الصحیح علی تصحیحہ ۔۔۔۔۔ انکر القاضی ابوبکر صحۃ ھذا الحدیث وقال : لا یجوز ان یقبل ھذا ولا یصح ان الرسول قالہ انتھی۔ ولفظ القاضی ابی بکر الباقلانی فی التقریب : ھذا الحدیث من اخبار الاحاد التی لا یعلم ثبوتھا۔ وقال امام الحرمین فی مختصرہ : ھذا الحدیث غیر مخرج فی الصحیح۔ وقال فی البرھان : لا یصححہ اھل الحدیث۔ وقال الغزالی فی المستصفی : الاظھر ان ھذا الخبر غیر صحیح۔ وقال الداودی الشارح : ھذا الحدیث غیر محفوظ
رسول اللہ ﷺ کا آیت سے اختیار کا مفہوم اخذ کرنا محل اشکال سمجھا گیا ہے اسی لیے اکابر اہل علم کی ایک جماعت نے ، باوجودیکہ اس حدیث کی سندیں بہت سی ہیں اور شیخین اور صحیح احادیث جمع کرنے والے دوسرے محدثین اس کے صحیح ہونے پر متفق ہیں، اس حدیث کی صحت پر اعتراض کیا ہے۔ قاضی ابوبکر نے اس حدیث کو صحیح ماننے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو قبول کرنا جائز نہیں اور نہ رسول اللہ ﷺ ایسا فرما سکتے ہیں۔ تقریب میں قاضی ابوبکر الباقلانی کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ حدیث ان اخبار آحاد میں سے جن کا ثبوت مشکوک ہے۔ امام الحرمین کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح احادیث کے زمرے میں نہیں ہے۔ برہان میں کہتے ہیں کہ اس کو علماء حدیث صحیح تسلیم نہیں کرتے۔ غزالی مستصفی میں لکھتے ہیں کہ اس کا غیر صحیح ہونا بالکل واضح ہے۔ شارح داؤدی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محفوظ نہیں ہے۔ (۲۶)
فقہاء حنفیہ
فقہاء حنفیہ کے ہاں روایت کے درایتی نقد کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے نہایت مضبوط اصول وضع کیے ہیں۔ امام سرخسیؒ ان اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فاما القسم الاول وھو ثبوت الانقطاع بدلیل معارض فعلی اربعۃ اوجہ :اما ان یکون مخالفا لکتاب اللہ تعالی او السنۃ المشھورۃ عن رسول اللہ او یکون حدیثا شاذا لم یشتھر فی ما تعم بہ البلوی ویحتاج الخاص والعام الی معرفتہ او یکون حدیثا قد اعرض عنہ الائمۃ من الصدر الاول بان ظھر منھم الاختلاف فی تلک الحادثۃ ولم تجر بینھم المحاجۃ بذلک الحدیث
دوسری دلیل کے ساتھ تعارض کے اعتبار سے روایت کے منقطع ہونے کی چار صورتیں ہیں : یا تو روایت کتاب اللہ کے خلاف یا رسول اللہ ﷺ کی مشہور سنت کے خلاف ہو۔ یا عموم بلوی میں کوئی شاذ اور غیر مشہور حدیث وارد ہو جبکہ اس کی معرفت ہر خاص وعام کو ہونی چاہئے۔ یا کوئی ایسی حدیث ہو جس سے صدر اول کے ائمہ نے اعراض کیا ہو ۔ یعنی ان کے مابین اس مسئلے کے بارے میں بحث ہوئی ہو لیکن اس حدیث سے انہوں نے استدلال نہ کیا ہو۔ (۲۷)
ایک دوسری بحث میں لکھتے ہیں :
اذا انسد باب الرای فی ما روی وتحققت الضرورۃ بکونہ مخالفا للقیاس الصحیح فلا بد من ترکہ
جب کسی روایت کے ماننے سے رائے کا باب بالکل بند ہوتا ہو اور اور ہر پہلو سے واضح ہو جائے کہ وہ قیاس صحیح کے مخالف ہے تو اس کو چھوڑنا لازم ہے (۲۸)
فقہاء احناف نے ان اصولوں کی بنیا دپر جن روایتوں کو رد کیا ہے، وہ حسب ذیل ہیں:
مخالف قرآن روایات
۱۔ ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، اسے چاہئے کہ وہ وضو کر ے‘‘
سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن مجید میں مسجد قبا کے نمازیوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے : فیہ رجال یحبون ان یتطھروا (اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ خوب طہارت حاصل کریں) یعنی پانی سے استنجا کریں۔ ظاہر ہے کہ پانی سے استنجا شرمگاہ کو ہاتھ لگائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ چونکہ اللہ تعالی نے اس عمل کو طہارت حاصل کرنے سے تعبیر کیا ہے جبکہ مذکورہ حدیث میں،اس کے برخلاف، مس ذکر کو نقض طہارت کو سبب قرار دیا گیا ہے ،اس لیے یہ حدیث قابل قبول نہیں ۔
(۲) فاطمہ بنت قیس رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ ایسی عورت کا نفقہ خاوند کے ذمہ واجب نہیں جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں۔
سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے : اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ’’تم انکو ٹھہراؤ جہاں تم خود ٹھہرے ہو، اپنی طاقت کے مطابق‘‘ آیت میں اسکنوھن سے مراد انفقوھن ہے، جس سے معلوم ہوا کہ نفقہ خاوند کے ذمہ ہے، لہذا مذکورہ حدیث کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
(۳) صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض مقدمات میں ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔
سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت کتاب اللہ کے اس حکم کے منافی ہے: واستشھدوا شھیدین من رجالکم ’’اور تم گواہ بناؤ اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو‘‘ اس لیے ناقابل قبول ہے۔
سنت مشہورہ کے خلاف روایت
(۱) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تر کھجور کے عوض میں خشک کھجور کی بیع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : کیا تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم ہو جاتی ہے؟ سائل نے کہا، ہاں۔ آپ نے فرمایا : تو پھر یہ بیع جائز نہیں۔
سرخسی کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؓ نے اس روایت پر عمل نہیں کیا کیونکہ یہ سنت مشہورہ کے خلاف ہے جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد میں ہے : التمر بالتمر مثل بمثل (کھجور کے بدلے میں کھجور لی جائے تو مقدار ایک جیسی ہونی چاہئے) اس حدیث میں ہم جنس اشیا کے باہمی مبادلہ کے لیے مطلق مماثلت کی (یعنی بوقت بیع) شرط لگائی گئی ہے، جبکہ سعدؓ کی مذکورہ روایت میں، اس کے برخلاف، یہ کہا گیا ہے کہ مماثلت اس حالت کے اعتبار سے ہونی چاہئے جبکہ تر کھجور خشک ہو جائے۔
عموم بلوی میں وارد خبر واحد
سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ اس اصول کی بنا پر ہمارے علما نے درج ذیل روایات کو قبول نہیں کیا
(۱) وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۲) وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنازہ کی چارپائی اٹھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۳) وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ کی تلاوت کی۔
(۴) وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کیا کرتے تھے۔
وہ روایات جن سے صحابہؓ نے استدلال نہیں کیا
سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ درج ذیل روایات سے صحابہؓ نے، باوجودیکہ ان مسائل کے متعلق ان کے مابین مباحثہ واستدلال ہوا، استدلال نہیں کیا، اس لیے قابل قبول نہیں :
(۱) الطلاق بالرجال والعدۃ بالنساء (طلاق مردوں کے اعتبار سے ہے اور عدت عورتوں کے اعتبار سے)
(۲) ابتغوا فی اموال الیتامی خیرا کی لا تاکلھا الصدقۃ (زیر پرورش یتیموں کے مال کو کاروبار میں لگاؤ ، ایسا نہ ہو کہ مسلسل زکاۃ دینے سے وہ ختم ہو جائیں) (۲۹)
قیاس کے خلاف روایات
اگر غیر فقیہ راوی ایسی روایت بیان کرے جو قیاس صحیح کے مخالف ہے، تو قیاس کو روایت پر ترجیح ہوگی۔ اس اصول پر حسب ذیل روایات سرخسیؒ کے ہاں ناقابل قبول قرار پاتی ہیں :
(۱) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی شخص ایسا جانور خریدے جس کا دودھ گاہک کو دھوکا دینے کے لیے کئی دنوں سے نہیں دوہا گیا تھا، تو اگر وہ اس کو رکھنے پر راضی ہو تو درست، ورنہ جانور کو واپس کر دے اور استعمال شدہ دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجوریں دے۔
سرخسیؒ کہتے ہیں کہ یہ روایت ہر لحاظ سے قیاس صحیح کے مخالف ہے کیونکہ استعمال شدہ دودھ کے تاوان کے طور پر یا تو اتنی ہی مقدار میں دودھ دینا چاہئے اور یا اس کی قیمت۔ ہر حالت میں ایک صاع کھجوروں کا تاوان دینے کی کوئی تک نہیں ہے۔
(۲) سلمہ بن المحبقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مباشرت کر لی تو اگر اس میں لونڈی کی رضامندی شامل تھی تو اب وہ لونڈی خاوند کی ملکیت میں آگئی اور اس کے عوض میں وہ یبوی کو اس جیسی کوئی اور لونڈی دے دے۔ اور اگر خاوند نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو اب وہ آزاد ہے اور اس کے عوض میں خاوند اپنی بیوی کو اس جیسی کوئی اور لونڈی دے۔
سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ ازروئے قیاس یہ حدیث ناقابل فہم ہے، لہذا قابل قبول نہیں۔ (۳۰)
مسلمات کے خلاف روایات
۱۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ قرآن مجید میںیہ حکم نازل ہوا تھا کہ حرمت رضاعت تب ثابت ہوگی جب بچے نے دس مرتبہ کسی عورت کا دودھ پیا ہو۔ اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ یہ حکم نازل ہوا کہ پانچ مرتبہ دودھ پینے سے وہ عورت بچے کی ماں بن جائے گی۔ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی قرآن مجید میں تلاوت کی جاتی تھی۔
امام ابوبکر الجصاصؒ اس پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اما حدیث عائشۃ فغیر جائز اعتقاد صحتہ علی ما ورد ۔۔۔۔ ولیس احد من المسلمین یجیز نسخ القرآن بعد موت النبی ﷺ فلو کان ثابتا لوجب ان تکون التلاوۃ موجودۃ
اس حدیث کی صحت کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد قرآن میں نسخ کو جائز نہیں مانتا تو اگر یہ روایت درست ہوتی تو یہ آیت قرآن میں موجود ہوتی۔ (۳۱)
اس روایت کے بارے میں یہی رائے امام سرخسیؒ نے بھی ظاہر کی ہے۔ (۳۲)
۲۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے آگے بڑھے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے آپ کو روکنے کی کوشش کی اور کہا : کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالی نے آپ کو اس سے منع کیا ہے؟ لیکن رسول اللہ ﷺ نے پھر بھی اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
امام طحاوی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لان محالا ان یکون اللہ تعالی ینھی نبیہ عن شئی ثم یفعل ذلک الشئی ولا نری ھذا الا وھما من بعض رواۃ الحدیث
یہ بات ناممکن ہے کہ اللہ تعالی اپنے نبی کو کسی کام سے منع کرے اور پھر نبی وہی کام کرے۔ ہمارے خیال میں یہ کسی راوی کا وہم ہے۔
اس کے بعد انہوں نے متعدد روایات سے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔ (۳۳)
۳۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ لبید بن اعصم یہودی نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا جس کا اثرآپ پر اس طرح ظاہر ہوا کہ آپ کام کرنے کے بعد بھول جاتے کہ آپ نے اسے کیا ہے۔
امام جصاصؒ اس روایت کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہیں:
ومثل ھذہ الاخبار من وضع الملحدین ۔۔۔۔۔ والعجب ممن یجمع بین تصدیق الانبیاء علیہم السلام واثبات معجزاتھم وبین التصدیق بمثل ھذا من فعل السحرۃ
اس طرح کی روایات ملحدین کی وضع کردہ ہیں۔ اور ان لوگوں پر تعجب ہے جو انبیا کی تصدیق کرتے اور ان کے معجزات کو مانتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ جادوگر انبیا پریہ عمل کر سکتے ہیں۔ (۳۴)
فقہاء مالکیہ
فقہاء مالکیہ کے ہاں بھی درایتی نقد کا استعمال نمایاں طور پر ملتا ہے۔ امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:
ھذا القسم علی ضربین : احدھما ان تکون مخالفتہ للاصل قطعیۃ فلا بد من ردہ۔ والآخر ان تکون ظنیۃ اما بان یتطرق الظن من جھۃ الدلیل الظنی واما من جھۃ کون الاصل لم یتحقق کونہ قطعیا وفی ھذا الموضع مجال للمجتھدین ولکن الثابت فی الجملۃ ان مخالفۃ الظنی لاصل قطعی یسقط اعتبار الظنی علی الاطلاق وھو مما لا یختلف فیہ
ظنی دلیل اگر قطعی دلیل کے مخالف ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ اس کا اصل کے مخالف ہونا قطعی ہو ، اس صورت میں اس کو رد کرنا لازم ہے۔ دوسری یہ کہ ا س کا اصل کے خلاف ہونا ظنی ہو، یاتو اس لیے کہ اصل کے ساتھ اس کی مخالفتظنی ہے اور یا اس لیے کہ اصل کا قطعی ہونا متحقق نہیں ہوا۔ اس دوسری صورت میں مجتہدین کے لیے اختلاف کی گنجائش ہے۔ لیکن اصولی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ظنی کا قطعی کے مخالف ہونا ظنی کو ساقط الاعتبار کر دیتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (۳۵)
چنانچہ امام مالکؒ کا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی روایت ظاہر قرآن، عمل اہل مدینہ اور قیاس قوی کے معارض ہو تو اس کو رد کر دیتے ہیں۔ اس اصول پر انہوں نے متعدد روایات کو قبول نہیں کیا ۔
مخالف قرآن روایات
۱۔ حدیث : من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ (جو آدمی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی ا سی طرف سے روزے رکھے) شاطبیؒ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
لمنافاتہ للاصل القرآنی الکلی نحو قولہ تعالی : الا تزر وازرۃ وزر اخری وان لیس للانسان الا ما سعی
کیونکہ یہ قرآن کے بیان کردہ اس ضابطہ کے خلاف ہے کہ کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور یہ کہ انسان کے لیے وہی عمل کارآمد ہیں جو اس نے خود کیے ہوں (۳۶)
۲۔ ایسی احادیث جن میں یہ کہا گیا ہے کہ جب تک بچہ پانچ یا دس مرتبہ کسی عورت کا دودھ نہ پی لے، حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ شاطبی فرماتے ہیں :
ولم یعتبر فی الرضاع خمسا ولا عشرا للاصل القرآنی فی قولہ : وامھاتکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ وفی مذھبہ من ھذا کثیر
امام مالک نے رضاع میں پانچ یا دس مرتبہ کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ قرآن کی اس آیت کے (عموم کے) خلاف ہے : وامہاتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ ۔ اور اس کی مثالیں ان کے مذہب میں بہت زیادہ ہیں۔ (۳۷)
مخالف عمل اہل مدینہ
ابن عبد البرؒ لکھتے ہیں :
فجملۃ مذھب مالک فی ذلک ایجاب العمل بمسندہ ومرسلہ ما لم یعترضہ العمل بظاہر بلدہ
امام مالک کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ خبر واحد پر، چاہے وہ مسند یا ہو مرسل، عمل کرتے ہیں جب تک کہ وہ اہل مدینہ کے عمل کے خلاف نہ ہو۔ (۳۸)
اس اصول پر انہوں نے حسب ذیل روایات رد کی ہیں:
۱۔ خیار مجلس کی احادیث ۔ ابن عبد البر لکھتے ہیں:
ولا یری العمل بحدیث خیار المتبایعین ۔۔۔۔ لما اعترضھما عندہ من العمل
امام مالکؒ خیار مجلس کی حدیث پر عمل نہیں کرتے کیونکہ یہ عمل اہل مدینہ کے معارض ہے۔ (۳۹)
۲۔ حضر کی حالت میں موزوں پر مسح کرنے کی روایات۔ ابو الولید ابن رشدؒ الجد لکھتے ہیں:
وسئل عن المسح علی الخفین فی الحضر ایمسح علیہما؟ فقال لا، ما افعل ذلک ۔۔۔۔ وانما ھی ھذہ الاحادیث ۔ قال : ولم یروا یفعلون ذلک وکتاب اللہ احق ان یتبع ویعمل بہ
امام مالکؒ سے حضر میں مسح علی الخفین کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا، میں ایسا نہیں کرتا۔ اس کے حق میں تو بس یہ حدیثیں ہی ہیں۔ جبکہ خلفاء راشدین (اور اہل مدینہ) کا عمل اس پر نہیں ہے۔ (اس صورت میں) کتاب اللہ کے حکم (غسل) پرہی عمل کرنا درست ہے (۴۰)
مخالف قیاس
۱۔ وہ روایات جن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو برتن کو سات مرتبہ دھویا جائے۔ شاطبیؒ امام مالکؒ سے نقل کرتے ہیں:
جاء الحدیث ولا ادری ما حقیقتہ؟ وکان یضعفہ ویقول : یؤکل صیدہ فکیف یکرہ لعابہ؟
حدیث تو آئی ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی کمزوری بتاتے ہوئے امام مالکؒ فرماتے تھے کہ اگر کتے کا شکار کیا ہوا جانور کھایا جا سکتا ہے تو اس کا لعاب کیسے مکروہ ہو سکتا ہے؟ (۴۱)
۲۔ سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے یا اونٹ کی قربانی کی روایات۔ چونکہ قیاس یہ ہے کہ ہر آدمی کی طرف سے ایک ہی جانور قربان کیا جائے، اس لیے امام مالکؒ ان روایات پر عمل نہیں کرتے۔ ابن رشد الحفیدؒ لکھتے ہیں۔
رد الحدیث لمکان مخالفتہ للاصل فی ذلک
اصل کی مخالفت کی وجہ سے امام مالکؒ نے اس حدیث کو رد کر دیا ہے۔ (۴۲)
۳۔ وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ان ہانڈیوں کو الٹنے کا حکم دیا جن میں مال غنیمت کے اونٹوں اور بکریوں کا گوشت، غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ہی پکایا جا رہا تھا۔ شاطبیؒ لکھتے ہیں:
تعویلا علی اصل رفع الحرج الذی یعبر عنہ بالمصالح المرسلۃ فاجاز اکل الطعام قبل القسم لمن احتاج الیہ
ان روایتوں کو امام مالکؒ نے رفع حرج یعنی مصالح مرسلہ کے اصول کے منافی ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا۔ اس لیے وہ ضرورت مند کے لیے مال غنیمت کی تقسیم سے قبل بھی اس میں سے کھانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (۴۳)
اس تمام تفصیل سے واضح ہے کہ اسلام کی علمی روایت میں درایت ایک نہایت شاندار تاریخ رکھتی ہے۔ مختلف طریقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علما، محدثین اور فقہا نے اپنے اپنے زوق کے مطابق روایتوں کو پرکھنے کے مختلف عقلی اصول وضع کیے اور ان کو اپنی تحقیقات میں برتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ ہم ان کی انفرادی تحقیقات سے اختلاف کریں اور کسی معقول تاویل سے یہ واضح کردیں کہ زیر بحث روایت، درحقیقت، خلاف اصول نہیں ہے لیکن ، اہل علم کی مجموعی تحقیقات کی روشنی میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ درایت کی روشنی میں روایات کو پرکھنا ایک مسلمہ علمی اصول ہے اور جب کسی روایت کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہ قرآن کی کسی نص، رسول اللہ ﷺ کی سنت ثابتہ، دین کے مسلمات یا عقل عام کے تقاضوں کے خلاف ہے تو اس کو یکسر رد کر دینا چاہئے، چاہے اس کی سند کتنی ہی صحیح اور اس کے طرق کتنے ہی کثیر ہوں۔ واللہ اعلم
حوالہ جات
(۱) مودودی، ابو الاعلی، سید : تفہیمات، لاہور : اسلامک پبلی کیشنز، ۲۰۰۰ء، حصہ اول، ص ۳۴۵
(۲) المعجم الوسیط، ایران : دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۴۰۸ھ، ص ۲۸۲
(۳) السیوطی، جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر: تدریب الراوی، ج ۱، ص ۴۰
(۴) شبلی نعمانی :سیرت النبی، لاہور : مکتبہ تعمیر انسانیت، ۱۹۷۵ء، ج ۱، ص ۱۰۱
(۵) سعید احمد اکبر آبادی : صدیق اکبرؓ،
(۶) سورۃ النور ، آیت ۱۶
(۷) ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل: تفسیر القرآن العظیم، لاہور : امجد اکیڈیمی، ۱۹۸۲ء، ج ۳، ص ۲۷۳
(۸) الامام احمد: المسند ، گوجرانوالہ: ادارہ احیاء السنۃ، سن ندارد، ج ۴، ص ۵
(۹) عین الاصابہ فی ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابہ، مشمولہ سیرت عائشہ: سید سلیمان ندوی، لاہور : اسلامی کتب خانہ، سن ندارد، ص ۲۶۶ تا ۲۸۱
(۱۰) ابو داؤد، سلیمان بن اشعث السجستانی: سنن ابی داؤد، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ : دار السلام، ۲۰۰۰ء، کتاب الطلاق، باب فی نفقۃ المبتوتۃ، حدیث نمبر ۲۲۹۱
(۱۱) الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی : جامع الترمذی، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ : دار السلام، ۲۰۰۰ء، کتاب الطہارۃ، باب الوضوء مما غیرت النار، حدیث نمبر ۷۹
(۱۲) البخاری، محمد بن اسماعیل : الجامع الصحیح مع شرحہ فتح الباری، دمشق : مکتبۃ الغزالی ، سن ندارد، حدیث نمبر ۵۵۲۹، ج ۹، ص ۶۵۴
(۱۳) ابن حجر، احمد بن علی العسقلانی : فتح الباری، دمشق : مکتبۃ الغزالی، سن ندارد، ج ۳، ص ۲۶
(۱۴) الامام مالک : الموطا، کراچی : میر محمد کتب خانہ، سن ندارد، باب بیع الذھب بالورق عینا وتبرا ، ص ۶۸۲
(۱۵) تقی امینی : حدیث کا درایتی معیار،کراچی :قدیمی کتب خانہ، ۱۹۸۶ء، ص ۱۷۹، ۱۸۰
(۱۶) الخطیب، ابوبکر احمد بن علی البغدادی : الفقیہ والمتفقہ، بیروت : دار الکتب العلمیہ، ۱۹۸۰، ج ۱، ص ۱۳۲، ۱۳۳
(۱۷) تدریب الراوی، ج ۱ ، ص ۲۷۷
(۱۸) النووی، ابو زکریا یحی بن شرف : شرح صحیح مسلم، دمشق : مکتبۃ الغزالی، سن ندارد، ج ۱۲، ص ۷۲
(۱۹) فتح الباری : ج ۸، ص ۵۰۰
(۲۰) فتح الباری : ج ۷، ص ۱۶۰
(۲۱) فتح الباری : ج ۵، ص ۲۹۹
(۲۲) فتح الباری : ج ۱، ص ۲۳۳
(۲۳) الامیر الیمانی، محمد بن اسماعیل : توضیح الافکار، بیروت : دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۶ھ، ج ۱، ص ۱۲۸، ۱۲۹
(۲۴) المرجع السابق
(۲۵) فتح الباری : ج ۱۳، ص ۴۸۶
(۲۶) فتح الباری، ج ۸، ص ۳۳۸
(۲۷) السرخسی، ابوبکر محمد بن احمد : اصول السرخسی، لاہور : دار المعارف النعمانیہ، ۱۹۸۱ء، ج ۱، ص ۳۶۴
(۲۸) اصول السرخسی : ج ۱، ص ۳۴۱
(۲۹) اصول السرخسی، ج ۱، ص ۳۶۴ تا ۳۷۰
(۳۰) اصول السرخسی : ج ۱، ص ۳۴۱
(۳۱) الجصاص، ابوبکر احمد بن علی الرازی، احکام القرآن، لاہور : سہیل اکیڈیمی، ۱۹۸۰، ج ۳، ص ۱۲۵
(۳۲) اصول السرخسی : ج ۲، ص ۷۹، ۸۰۔
(۳۳) الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد : مشکل الآثار
(۳۴) احکام القرآن : ج ۱، ص ۴۶
(۳۵) الموافقات : ج ۳، ص ۱۸
(۳۶) الموافقات : ج ۳، ص ۲۲
(۳۷) الموافقات : ج ۳، ص ۲۳
(۳۸) ابن عبد البر: التمہید ، لاہور : المکتبۃ القدوسیۃ، ۱۹۸۳ء، :ج ۱، ص ۳
(۳۹) المرجع السابق
(۴۰) ابن رشد، ابو الولید القرطبی : البیان والتحصیل، بیروت : دار الغرب الاسلامی ، ۱۹۸۸ء، ج ۱، ص ۸۲
(۴۱) الموافقات : ج ۳، ص ۲۱
(۴۲) بدایۃ المجتہد: ج ۱، ص ۳۱۸
(۴۳) الموافقات : ج ۳، ص ۲۲
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کا متن درج ذیل ہے:
اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم پر عمل کرتے ہوئے :
۱۔ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ طالبان قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کی تعمیل کریں جو بالخصوص بین الاقوامی دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو پناہ دینے اور تربیت دینے سے روکتی ہے ۔ اس قرارداد کے تحت طالبان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں کہ ان کے زیر کنٹرول علاقے کو دہشت گردی کی تنصیبات اور کیمپوں کے لیے یا دوسرے ملکوں یا ان کے شہریوں کے دہشت گردوں کی کارروائی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ طالبان مقدمات میں ماخوذ بین الاقوامی دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بین الاقوامی کوششوں میں تعاون کریں۔
۲۔ یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ طالبان بلاتاخیر قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے پیراگراف نمبر کی پابندی کریں جو انہیں پابند کرتی ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو اس ملک کے حکام کے حوالے کریں جہاں وہ مقدمے میں ماخوذ ہیں یا ایسے ملک کے حکام کے حوالے کریں جہاں سے اسامہ کو ایسے ملک میں پہنچایا جا سکے یا ایسے ملک کے حکام کے حوالے کریں جہاں انہیں گرفتار کر کے موثر طو رپر مقدمہ چلایا جا سکے۔
۳۔ مزید مطالبہ کیا جاتا ہے کہ طالبان اپنے زیر کنٹرو ل علاقے میں دہشت گردوں کو تربیت دینے والے کیمپوں کو بند کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ ان کیمپوں کو بند کرنے کی تصدیق اقوام متحدہ سے کرائی جائے۔ یہ تصدیق اقوام متحدہ کو ذیل کے پیراگراف ۱۹ کے تحت رکن ممالک سے حاصل ہونے والی معلومات اور ایسے دیگر ذرائع سے کی جائے جو اس قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
۴۔ تمام رکن ممالک کو ان کی اس ذمہ داری سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے پیراگراف ۴ کے تحت اقدامات کو یقینی بنائیں۔
۵۔ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ تما م ممالک:
(اے) قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے تحت قائم کردہ کمیٹی (جسے آئندہ ’’کمیٹی‘‘ کہا جائے گا) کے نشان زدہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں بشمول اپنے شہریوں، وفاقوں، اپنے جھنڈے والی گاڑیوں، طیاروں کے ذریعے ہتھیاروں اور ہر قسم کی متعلقہ اشیاء بشمول اسلحہ، گولہ بارود، فوجی گاڑیوں، فوجی آلات، پیرا ملٹری سامان اور ان کے سپیئر پارٹس کی براہ راست یا بالواسطہ فراہمی، فروخت ، منتقلی کو روکیں گے۔
(بی) کمیٹی طالبان کے جن علاقوں کی نشاندہی کرے گی ان میں اپنے شہریوں، اپنے علاقوں سے طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کے مسلح افراد کی فوجی سرگرمیوں سے متعلق معاملات میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر فنی مشوروں، معاونت یا تربیت فراہم، منتقل یا فروخت کرنے سے روکیں گے۔
(سی ) طالبان کو ملٹری یا متعلقہ سیکورٹی معاملات میں مشورہ دینے کے لیے افغانستان میں کنٹریکٹ یا کسی دوسرے انتظام کے تحت موجود اپنے افسران، ایجنٹوں، مشیروں اور فوجیوں کو واپس بلالیں گے اور اس معاملے سے متعلق دوسرے ملکوں کے شہریوں سے بھی ملک سے چلے جانے کے لیے کہیں گے۔
۶۔ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ پیراگراف ۵ کے تحت عائد اقدامات کا اطلاق ا س غیر مہلک فوجی سامان پر مبنی امداد یا تربیت پر نہیں ہوگا جس کا مقصد صرف انسانیت کی بھلائی اور حفاظت ہوگا اور جس کے لیے کمیٹی پیشگی طو پر منظوری دے چکی ہوگی اور اس بات کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیراگراف نمبر ۵ کے تحت عائد پابندیوں کا اطلاق اقوام متحدہ کے اہلکاروں، میڈیا کے نمائندوں اور انسانی بنیاد پر کام کرنے والے رضا کاروں کی جانب سے صرف ذاتی استعمال کے لیے افغانستان کو بھیجے جانے والے حفاظتی کپڑوں، بشمول فلیگ جیکٹوں اور فوجی ہیلمٹوں پر نہیں ہوتا۔
۷۔ تمام ممالک نے طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے پر زور دیا تاکہ طالبان مشنوں میں عملے کی تعداد اور سطح اور عہدوں کو کم سے کم حد تک رکھا جائے اور عملے کے جو ارکان باقی رہ جائیں ان کی اپنے علاقے میں نقل وحرکت کو کنٹرول یا پابند کیا جائے۔ بین الاقوامی تنظیموں میں طالبان مشنوں کے سلسلے میں میزبان ملک اگر ضروری سمجھتے ہوں تو ا س پیراگراف پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ تنظیموں سے مشورہ کریں۔
۸۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ممالک مزید اقدامات کریں گے:
(اے) اپنے ممالک میں طالبان کے تمام دفاتر مکمل اور فوری طور پر بند کر دیں گے۔
(بی) اپنے ممالک میں آریانہ افغان ایئر لائنز کے تمام دفاتر فوری طور پر بند کر دیں گے۔
(سی ) اسامہ بن لادن اور ان سے متعلق افراد اور ان کے فنڈز اور دیگر مالیاتی اثاثے بلاتاخیر منجمد کر دیں گے جن کا تعین کمیٹی نے کیا ہے۔ ان میں القاعدہ تنظیم اور اس کے فنڈز جو اسامہ بن لادن یا ان سے متعلق افراد کی ملکیت یا زیر کنٹرول سے بالواسطہ یا بلا واسطہ حاصل ہوتے ہیں اور اسامہ یا ان سے متعلق ادارے بشمول القاعدہ تنظیم شامل ہیں۔ کمیٹی سے درخواست کی گئی کہ وہ رکن ممالک اور علاقائی تنظیموں کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر ایسے افراد اور اداروں کی جن کا تعین اسامہ بن لادن کے ساتھیوں کی حیثیت سے کیا گیا ہے اور جو القاعدہ تنظیم میں ہیں، ایک تازہ ترین فہرست تیار کرے۔
۹۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ طالبان افیون اور دیگر غیر قانونی منشیات کی تمام سرگرمیاں بند کر دیں اور افیون کی غیر قانونی کاشت کے حقیقی خاتمے کے لیے کام کریں جن کی رقم دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے۔
۱۰۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ممالک اپنے شہریوں اور اپنے علاقوں سے افغانستان کے زیر کنٹرول علاقے میں کسی بھی شخص کو جس کا تعین کمیٹی نے کیا ہے، کیمیکل ایسیٹیک اینہائیڈ رائیڈ کی فراہمی، منتقلی اور فروخت کی روک تھام کریں گے۔
۱۱۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ممالک کسی بھی طیارے کو کمیٹی کے تعین کردہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے کے لیے پرواز کرنے، اپنی علاقائی حدود پر سے گزرنے یا وہاں سے آنے والے طیارے کو اپنے ملک میں لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جب تک ایسی کسی مخصوص پرواز کے لیے کمیٹی نے انسانی ضرورت کی بنیاد پر منظوری نہ دے دی ہو۔ ان میں مذہبی فرائض مثلا ادائیگی حج یا ایسی وجوہ کے لیے چلنے والی پروازیں جو تنازع افغانستان کے پرامن حل کو تقویت دیتی ہوں یا طالبان کی جانب سے اس قرارداد یا قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کی تعمیل میں مدد دیتی ہوں، شامل ہیں۔
۱۲۔ کمیٹی افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والی تنظیموں اور سرکاری ریلیف ایجنسیوں کی فہرست رکھے گی۔ ان میں اقوام متحدہ اور ا س کی ایجنسیاں اور بین الاقوامی ریڈ کراس وغیرہ شامل ہوں گی۔ پیراگراف ۱۱ کے ذریعے سے لگائی گئی پابندیوں کا طلاق متذکرہ بالا فہرست میں شامل تنظیموں اور سرکاری ریلیف ایجنسیوں کی طرف سے یا ان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پروازوں پر نہیں ہوگا۔ کمیٹی فہرست پر باقاعدگی سے نظر ثانی کرتی رہے گی۔ جن نئی تنظیموں اور ریلیف ایجنسیوں کا نام شامل کرنا مناسب ہوگا وہ شامل کرے گی اور ان کے نام خارج کر دے گی جن کے بارے میں وہ فیصلہ کرے گی کہ وہ انسانی مقاصد کے بجائے کسی اور مقصد کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں یا چلا سکتی ہیں۔ ان تنظیموں اور سرکاری ایجنسیوں کو فوری طور پر مطلع کر دیا جائے گا کہ ان کی یا ان کی طرف سے پروازوں پر پیراگراف ۱۱ کا اطلاق ہوگا۔
۱۳۔ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی اداروں کے افراد اور امداد کی ان کے زیر کنٹرول علاقے میں ضرورت مند افراد تک رسائی محفوظ اور بلا رکاوٹ ہو۔ طالبان اقوام متحدہ اور اس سے ملحق انسانی امدادی تنظیموں کے ارکان کی حفاظت، سلامتی اور آزادانہ نقل وحرکت یقینی بنانے کی ضمانت دیں۔
۱۴۔ تمام ریاستوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے نائب وزیر اور اس سے اوپر کے عہدے داروں ، اس کے برابر عہدے کے مسلح افراد اور طالبان کے دوسرے سینئر مشیروں اور اہم شخصیات کو اپنے علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے گزر کر کہیں جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ماسوائے اس کے کہ وہ انسانی ہمدردی کے کسی مقصد سے، حج جیسے مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے یا افغان تنازع کے پرامن تصفیے کی خاطر مذاکرات کے لیے یا قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) پر عمل درآمد کے سلسلے میں کہیں جا رہے ہوں۔
۱۵۔ کمیٹی کے مشورے سے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی جاتی ہے کہ
(اے) ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کی جائے جو قرارداد کی منظوری کے ساٹھ دن کے اندر کونسل کو سفارشات پیش کرے کہ رکن ملکوں کی اپنے قومی ذرائع سے حاصل کردہ اور سیکرٹری جنرل کو فراہم کردہ معلومات کے علاوہ اور کس کس طرح پیراگرافس ۳ اور ۵ کے مطابق ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی اور دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کے بند کرنے کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔
(بی) متعلقہ رکن ملکوں سے رابطہ کر کے اس قرارداد اور قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے ذریعے لگائی گئی پابندیوں پر عمل کرائیں اور بات چیت کے نتائج سے کونسل کو مطلع کریں۔
(سی) موجودہ اقدامات پر عملدرآمد اور عملدرآمد میں مشکلات کے بارے میں رپورٹ دیں۔ انہیں مستحکم کرنے کے لیے سفارشات اور اس سلسلے میں رکاوٹ بننے والے طالبان کے اقدامات کا جائزہ پیش کریں۔
(ڈی) وہ اس قرارداد اور قراراداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے تحت اقدامات سے پیدا ہونے والی انسانی سطح کی پیچیدگیوں کا جائزہ لیں اور اس قرارداد کی منظوری کے نوے دن کے اندر سفارشات پیش کریں اور اس کے بعد ان اقدامات کی مدت ختم ہونے سے ۳۰ دن پہلے تک باقاعدگی کے ساتھ جامع رپورٹس دیتے رہیں۔
۱۶۔ کمیٹی سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) میں بیان کردہ ٹاسک کے علاوہ مندرجہ ذیل کام سنبھال کر اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
(اے) رکن ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر وہ طیاروں کے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں داخل ہونے اور اترنے کے مقامات کی فہرست مرتب کرے، اسے اپ ڈیٹ کرتی رہے اور فہرست کے مشمولات سے رکن ممالک کو مطلع کرے۔
(بی) رکن ممالک اور علاقائی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر پیراگراف ۸ (سی) کے مطابق ایسے افراد اور ہستیوں کی فہرست مرتب کرے اور اسے اپ ڈیٹ کرتی رہے جن کااسامہ بن لادن سے تعلق ہے۔
(سی ) پیراگرافس ۶ اور ۱۱ میں بیان کردہ استثنایات کے لیے درخواستوں پر غور کر کے ان پر فیصلہ کرے۔
(ڈی) اس قرارداد کی منظوری کے ایک ماہ کے اندر پیراگراف ۱۲ کے مطابق افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والی منظور شدہ تنظیموں اور سرکاری امدادی ایجنسیوں کی فہرست تیار کرے اور اسے اپ ڈیٹ کرتی رہے۔
(ای) ان اقدامات پر عملدرآمد سے متعلق اطلاعات کو عام ذرائع ابلاغ اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عام کرے۔
(ایف) اس بات پر غور کرے کہ ا س قرارداد اور قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے ذریعے عائد کردہ اقدامات پر مکمل اور موثر عملدرآمد پر زور دینے کے لیے کمیٹی کے چیئرمین اور دوسرے ارکان کا علاقے کے رکن ملکوں کا ایک دورہ مناسب ہے۔
(جی) کمیٹی وقتا "فوقتا "اس قرارداد اور قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے بارے میں ملنے والی اطلاعات اور ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹیں اور اقدامات کو موثر اور مضبوط کرنے کے لیے سفارشات بھیجتی رہے۔
۱۷۔ تمام رکن ممالک اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی اداروں سمیت تمام علاقائی اور بین الاقوامی ادارے قرارداد کی شقوں پر سختی سے عملدرآمد کریں اگرچہ پیرا گراف نمبر پانچ، آٹھ، دس اور گیارہ میں مذکورہ اقدامات کے نفاذ کی تاریخ سے قبل ان اداروں اور افغانستان کے درمیان کوئی بین الاقوامی معاہدہ یا مفاہمت ہی موجود کیوں نہ ہو ،انہیں کوئی اجازت نامہ اور لائسنس ہی کیوں نہ جاری کیا گیا ہویا ان پر کسی طرح کے فرائض کی بجا آوری لازم ہی قرار کیوں نہ دی گئی ہو۔
۱۸۔ تمام ممالک ایسے افراد اور اداروں کے خلاف اپنے دائرۂ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کی جانے والی کارروائی سے آگاہ کریں جو پیراگراف پانچ، آٹھ، دس اور گیارہ میں مذکور اقدامات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں اور ان پر مناسب جرمانے عائد کریں۔
۱۹۔ رکن ممالک کمیٹی کے اہداف کے حصول کے لیے اس سے مکمل تعاون کریں اور کمیٹی کو قرارداد کے نفاذ کے لیے جو اطلاعات درکار ہوں، وہ فراہم کریں۔
۲۰۔ تمام ممالک قرارداد کے نفاذ کے ۳۰ یوم کے اندر کمیٹی کو آگاہ کریں کہ انہوں نے قرارداد کے موثر نفاذ کی خاطر کیا اقدامات کیے ہیں۔
۲۱۔ سیکرٹریٹ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ حکومتی اور عوامی ذرائع سے قرارداد کی ممکنہ خلاف ورزی کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات کمیٹی کو جائزہ لینے کے لیے بھیجیں۔
۲۲۔ پیراگراف پانچ، آٹھ، دس اور گیارہ میں مذکور اقدامات قرارداد کی منظوری کے ایک ماہ بعد ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات ایک بجے نافذ ہو جائیں گے۔
۲۳۔ پابندیوں کا نفاذ ایک سال کے لیے ہے۔ اس کے بعد کونسل فیصلہ کرے گی کہ آیا طالبان نے پیراگرف ایک، دو، تین پر عملدرآمد کیا ہے یا نہیں اور یہ کہ مزید اتنی ہی مدت کے لیے پابندیوں میں انہی شرائط کے ساتھ توسیع کی جائے یا نہیں۔
۲۴۔ اگر طالبان ایک سال سے کم عرصہ میں ہی شرائط پوری کر دیتے ہیں تو سیکورٹی کونسل نافذ کیے گئے اقدامات واپس لے لے گی۔
۲۵۔ کونسل اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے موجودہ قرارداد اور ۹۹ء میں منظور ہونے والی قرارداد نمبر ۱۲۶۷ کے اہداف حاصل کرنے کی خاطر مزید پابندیوں کے نفاذ پر بھی غور کرے گی۔
(بشکریہ جنگ لاہور، ۲۱ دسمبر ۲۰۰۰ء)
دینی موضوعات پر لکھنا اور تحقیق وتفحص سے لکھنا کنج کاوی بھی چاہتا ہے اور تلوار کی دھار پر چلنے کے فن کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ تاہم اس پژوہش کاری اور احقاق حق کے لیے جان مارنے والے کو جب تخلیقی راہیں سوجھنے لگتی ہیں تو اس کی تحریر میں بلا کا بانکپن اور غضب کی دلکشی آجاتی ہے۔ اس کشش وانجذاب میں قاری بسا اوقات بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ از خود گرفتہ ہو کر محقق کے سامنے خود انداز وخود سپر ہو جاتا ہے اس لیے کہ اس کے سوا اس کے پاس چارۂ کار ہی نہیں رہ جاتا۔
بلاشبہ منقولات کا استحکام اپنی جگہ کوہستانی سلسلوں کی صلابتیں رکھتا ہے مگر کبھی معقولاتی ہپناٹزم سے منقولات کی ساری دیواریں گرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں (اگرچہ اصلا " وہ گر نہ رہی ہوں مگر معلوم ضرور ہوتی ہیں) جب سحرکار محقق اپنے سارے بارود سے خطرناک بارودی سرنگیں (mines) بچھا دیتا ہے تو قاری بے چارے کی کبھی ٹانگ بھک سے اڑتی ہوئی نظر آتی ہے تو کبھی بازو۔ کبھی اس کا دماغ پھٹ جاتا ہے تو کبھی سارا جسم متاثر ہو کر ہمیشہ کے لیے اسے اپاہج کر دیتا ہے اور کبھی محقق کی تعقلاتی واستدلالی برنائیاں انسانی ذہنوں کو وہ اچھوتے خیالات اور ان ہونے افکار (جو ناموجود ہی رہتے تو بہتر تھا) دے جاتی ہیں کہ منقولات اپنی صلابتوں کے باوجود ریزہ ریزہ اور اپنی اعماق کے باوجود اتھلی اتھلی سی نظر آنے لگتی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل زیر نظر کتاب ’’دجال‘‘ واجب الاحترام مولانا زاہد الراشدی نے بڑی محبت سے عنایت کی اور اس پر لکھنے کا حکم بھی دیا۔ عنوان دیکھا، سرسری طور پر کتاب کو دیکھا، ذیلی عنوانات نے چونکا یا تو ضرور مگر سنبھال کر رکھ دی کہ اس موضوع پر پڑھنے یا لکھنے کا موقع آیا تو دیکھا جائے گا۔ اسی اثنا میں مولانا عازم یورپ ہو گئے، راقم بھی سمجھا کہ حکم ٹل گیا۔ اب بشرط فرصت مطالعہ ہو جائے گا مگر ان کی واپسی پر وہی تقاضا دہرایا گیا تو اب جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ تھا۔ وعدہ کر لیا۔ والکریم اذا وعد وفیکتاب نکالی، مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا کہ طائرانہ نگاہ سے کام نہ چلے گا، غواصانہ طرز عمل اپنانا ہوگا۔ آگے پیچھے وقت نکال نکال کا استیعابا " ومستوعبا " مطالعہ شروع کر دیا۔ دوران مطالعہ پتہ چلا کہ مصنف کی گیارہ کتابیں مطبوع ہیں۔ پس ورق پر دی فہرست دیکھ کر جی میں آئی کہ کاش یہ کتابیں بھی کسی طرح ہاتھ آئیں تو ان کا بھی مطالعہ کیا جائے۔ پھر خیال آتا کہ مولانا موصوف ہی سے اس ضمن میں درخواست کی جائے گی۔
بہر صورت کتاب ’’دجال‘‘ کے مصنف سے متعلق نادیدہ تاثر وتعارف تو کچھ یوں ہے کہ جناب اسرار عالم کا علمی تبحر مسلم اور وسعت نظر قابل رشک ہے۔ قدیم وجدید پر ان کی علمی وفکری گرفت قابل دید بھی ہے اور قابل داد بھی۔ ان کی علمیت کی گہرائی اور معلومات کا وفور کتاب کے صفحے صفحے بلکہ لفظ لفظ سے جھلک رہا ہے۔ انداز بیان، مفہوم المراد اور اسلوب کی دل آویزی قاری کو مسحور کیے دیتی ہے۔ تاہم انجام کار تک پہنچتے پہنچتے تحقیق وپژوہش کی ریزہ کاریاں خود رائی اور خود آرائی کی حدوں کو چھوتی ہوئی دکھائی دینے لگتی ہیں۔
کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جن کو پھر مختلف حصوں اور مراحل میں بانٹا گیا ہے۔پہلے باب میں عالم موجود میں دجال کی نمایاں ترین اشکال پیش کی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی فکری اور سیاسی ساخت وبافت اور ا س کے ہیئتیانسجام کو مدلل انداز میں پیش کر کے ا س کے پیچھے یہودی قوتوں کی کارفرمائی کو بجا طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔
جدید اصطلاحات پیش کر کے پوری قوت استدلال کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق، معاشی بحران، عالمی مالیاتی اداروں اور قانون کی حکمرانی وغیرہ کے اصل رائج الوقت مفہومات کیا ہیں۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے انہیں کس دجل اور دسیسہ کاری کے ساتھ ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ عصر حاضر کا سب سے بڑا دجال ہے جو Global Civic Ethics او ر Total demilitarization of States کے ذریعے پورے روئے ارض کی ہر دجال حکومت کا ممد ومعاون ہے۔ اس خیال کو تقویت دینے کے لیے مصنف نے جو تاثیر وتاثر میں ڈوبا ہوا توضیحی وترغیبی اسلوب بیان اختیار کیا ہے، اس میں شعور وآگہی کے جملہ وسائل استعمال کیے ہیں۔ تاریخ عالم سے استناد اور عصر حاضر کے جدید ترین فکری رویوں کے نیچے یہودی عزائم کے مضمرات، امریکی بھارتی باہمی دلچسپیاں بلکہ مسلم دشمنی کے لیے گہری چسپیدگیاں، کلنٹن سبرامینیم کی فکری زہر چکانیاں بڑے ہی تلخ حقائق کے طور پر پیش کی ہیں۔
’’اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے یہ خطہ ایک ہزار سال کے اجتماعی امن کے بعد پھر قتل عام اور بڑے پیمانے پر عوامی بیدخلی Mass Exodus کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کا تلخ تجربہ بھارت نے بطور خاص دوسری صدی عیسوی اور نویں صدی عیسوی کے مابین کیا تھا۔‘‘ (ص ۳۴)
عیسائی یہودیوں یا یہودی عیسائیوں کے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے، ختم کرنے یا کم از کم زاویہ نشین کر دینے کے فری میسنری منصوبوں کو غیر مبہم اعداد وشمار سے واضح کیا ہے۔
اس دوران میں مصنف نے سطر سطر میں معلومات عامہ کے دھارے بہا دیے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ان کی سوچ اپنی اور مآخذ اصلی ہیں۔ قاری کی آسانی کے لیے وہ دوسری زبانوں کے واضح اقتباس دے کر بڑا ہی رواں ترجمہ بھی کر دیتے ہیں۔ ان کے یہ تبصرے ۲۰۰۰ء تک کے یہودی عزائم کے جاندار تجزیے ہیں۔ عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو جس سنگین حصار میں محصور کیا جا رہا ہے، اسے اور اکیسویں صدی، ترقی ومسابقت وغیرہ کے خوشنما ناموں کے پردے میں کی جانے والی منظم کوششوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ باقاعدہ جریدی اقتباسات سے اپنے موقف کی بھرپور تائید لائی گئی ہے۔ اس باب کے آخر میں ائمۃ المضلین کے عنوان سے حضرت مجدد الف ثانی ؒ ، حضرت شاہ ولی اللہؒ او ر علامہ اقبال ؒ کی دینی وملی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان علما کی سخت مذمت کی ہے جو ’’اہل حکومت، اہل ثروت، اہل سیاست اور جہلا کے بواب‘‘ بننے پر قانع ہو گئے۔
باب دوم میں ستارہ وصلیب کے عنوان سے یہود ونصاری اور مسلمانوں کے ایک محوری نقطے یعنی آمد مسیح، ظہور دجال اور حکومت عدل کے قیام کو موضوع بنایا ہے۔ان تینوں عقائد کو اپنی تحقیق کے مطابق متعلقہ مذاہب کے نوشتوں سے استنباط کر کے واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہودیوں کے عقیدے کو مرحلہ وار پیش کیا ہے۔ آمد مسیح کے تصور کو جس طرح انہوں نے مسخ کر کے رکھ دیا ہے ، ان اجزا کی ترتیب کچھ یوں ہے:
’’اللہ اور اللہ کے ملائکہ سے مایوسی، ساری دنیا سے غصہ اور نفرت، اپنی طاقت اور ابلیس اور ا س کے دجالوں کی مدد سے کھوئی ہوئی چیزوں اور آئندہ کی بشارتوں کو حاصل کرنے کی کوشش‘‘
’’ساری دنیا کے یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے لیے راہیں ہموار کر رہے ہیں، وہ دراصل دجال اکبر یعنی مسیح الدجال ہے‘‘
مصنف نے یہ بات بھی علی الاعلان کہی ہے کہ یہودی دینی ادب دجال کے ذکر سے خالی ہے۔ اگر کہیں کوئی شائبہ ہے بھی تو اسے تاویلات سے رد کر دیا گیا ہے۔
روئے ارض پر نظام عدل کے قیام کے سلسلے میں ’’ہایوم‘‘ کی کم از کم ۹ جدا جدا تاویلات کا ذکر کیا گیا ہے جن کی رو سے مسیح یعنی دجال اکبر کی آمد پر خوشحالی کے دن آئیں گے۔ مسیح کے دن کو دجال اکبر پر منطبق کر کے قیام اسرائیل اور دجالی تہذیب کو یسعیاہ نبی کے قول سے جوڑ دیا ہے۔
جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے، ان میں پروٹسٹنٹوں کی عیسائیت تو یہودی امتزاج مسیحیت ہے البتہ رومن کیتھولک Second coming of Jesus کو مانتے ہیں۔ اس کے لیے مصنف نے اناجیل اربعہ سے اقتباسات دے کر اپنے موقف کو خاصا وزنی بنایا ہے۔ اس بات کو کھل کر بیان کیا ہے کہ دجال کے ظہور کے بارے میں متناسب اناجیل متی ،مرقس اور لوقا خاموش ہیں حالانکہ آمد مسیح کے بارے میں ان میں خاصا مواد موجود ہے۔ یوحنا میں واضح اشارات کاذکر کیا ہے۔ Anti Christ (مخالف مسیح) Man of lawlessness (لاقانونیت کاآدمی) Son of perdiction (تباہی کا بیٹا) مسیحیت میں اس کی صفات جھوٹا، فریبی، خدائی کا دعویدار، حیرت ناک کرشمے دکھانے والا، دین مخالف، تباہی لانے والا اور مخالف خدا وغیرہ ہیں۔ یہ صفات بہت حد تک دجال سے ملتی جلتی ہیں۔
قیام عدل Kingdom of God (حکومت الہیہ) کے سلسلے میں مسیحی نوشتوں سے اخذ واستفادہ کے بعد مصنف نے ’’موجودہ عیسائیت‘‘ کو اس قافلے سے تشبیہ دی ہے جو اپنے قافلہ سالار سے بچھڑ گیا ، راہزنوں (یہودیوں) کے چنگل میں آ گیا اور لوٹا گیا، پھر دوسرا جتھہ آیا اس نے معصوم بنتے ہوئے غلط راستوں پر لگا دیا۔ ا س راستے پر ڈال دیا جو اس ملک کو جاتا تھا جہاں غلاموں کی خرید وفروخت ہوتی۔ راہزن جانتے تھے کہ انہیں وہاں لے جا کر بیچ دیا جائے گا۔ مصنف کے بقول اب سیدنا مسیح آئیں گے تو موجودہ مسیحی دنیاپال کے دین کے بجائے ان کے دین پر ہوگی۔ یہی معنی ہے فیکسر الصلیب کا۔
تیسرے باب میں حقیقت دجال کے عنوان سے اسلام کا نقطہ نگاہ دجال سے متعلق پیش کیا ہے۔ یہی وہ مرکزی باب ہے جہاں مصنف کی طبیعت کے تحقیقی بلکہ تخلیقی جوہر کھلے ہیں۔ اللہ تعالی اور اس کی کائنات کے بارے میں قرآنی سند کے ساتھ چار مدارج سے بحث کی ہے جو خاصی دلچسپ ہے۔
عالم اصل جس کے بارے میں مصنف متردد ہیں کہ وہ ہے بھی یا نہیں، پہلا عالم قرار دیا گیا ہے۔ دوسرا عالم عالم بریہ، تیسرا عالم عصر اور چوتھا عالم اشیاء ہے۔ آخری عالم ہی محل تکلیف ٹھہرا کر مجرائے دین اللہ قرار دیا ہے۔ ان عوالم کی تشریح میں آیات قرآنی سے استخراجا " بڑا زور دیا ہے۔
حقیقت دوم میں ابلیس، شیاطین وغیرہم کی حقیقت پر بحث کی ہے۔ ملائکہ، جنات اور آدم کی تخلیق کو ابنائے نور، ابنائے نار اور ابنائے ارض کے عنوانات کے تحت پیش کیا ہے۔ قرآن مجید میں ملائکہ کی صفات کے مطابق انہیں Categorize کر دیا ہے ۔ انواع نار کی تقسیم کر کے فرماتے ہیں ’’عالم اشیاء سے انواع نار کی بڑی آبادی کا تقریبا خاتمہ ہو گیا‘‘ (ص ۲۰۴) پھر ا س کلی تباہی کے خود ساختہ اسباب بھی گنوائے ہیں جو ایجاد بندہ قسم کی چیز ہے۔ (ص ۲۰۵) شیاطین کی انواع گنوائی گئی ہیں۔ ملائکہ کی طرح قرآن مجید یا احادیث نبوی سے ان کی صفات چن چن کر ان کو انواع بنا دیا ہے۔
حقیقت سوم کے عنوان سے معرکہ خیر وشر کو موضوع بنا کر مصنف نے طبیعت کی خوب خوب جولانیاں دکھائی ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’کائنات میں معرکہ خیر وشر کے آخری مرحلے کا باضابطہ آغاز اسی لمحے ہو گیا جب اللہ تعالی نے ابلیس کو یوم وقت معلوم تک کی اجازت دی۔ اللہ تعالی نے فرمایا : قال فانک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم (الحجر ۳۷، ۳۸۔ ص ۸۰، ۸۱) جواب میں اللہ نے فرمایا : لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین ‘‘ (ص ۸۰)
اس سارے مضمون کو پوری شرح وبسط کے ساتھ بڑے ہی پرزور استدلال سے پیش کیا ہے۔ انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کو خوبصورتی سے justify کیا ہے۔ فی الارض خلیفۃ سے مراد لیاہے ’’اہل زمین میں سے‘‘ ابنائے نور اپنی امیدیں لگائی بیٹھے تھے اور ابنائے نار اپنی ۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آدم کو صرف اسما سکھائے اور اشیاء نہیں دکھائیں اور ملائکہ کو اشیاء دکھائیں اور نام پوچھا‘‘ (ص ۴۴۸) یہ تاویل بھی خاصی انوکھی ہے۔
باب چہارم میں معرکہ خیر وشر کی تاریخ مرحلہ وار بیان کی ہے۔ مرحلہ اول میں آدم قدیم، مرحلہ دوم میں الجنۃ کا وہ دور جب اللہ نے آدم کے جسم سے حوا کو الگ کر دیا۔ عام ڈگر سے ہٹ کر لا تقربا ہذہ الشجرۃ (البقرہ ۳۵) کا ترجمہ کیا ہے ’’اور پاس مت کرنا اس شجر کو‘‘ (ص ۲۶۲) ’’آدم وحوا اس الشجرۃ کو قریب کر بیٹھے اور انہیں اس کا مزہ مل گیا‘‘ (ص ۲۶۴)
مفسرین سے اختلافی آواز بلند کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’’قرآن کی ا س عبارت سے مراد لینا جیسا کہ بیشتر مفسرین نے لیا ہے کہ وہاں کوئی پھل یا اناج کھانے کی کوئی چیز تھی، قرآن کی زبان اور بیان کے خلاف ہے‘‘ (ص ۲۶۷)
’’انہوں نے وہ عمل کر لیا جسے ’’جماع‘‘ کہتے ہیں۔ ان کی زندگی میاں بیوی کی تھی، ایسا قطعا نہیں تھا‘‘ (ص ۲۶۸)
ان سطور پر تبصرہ تحصیل حاصل ہے۔ معلوم نہیں مصنف میاں بیوی نہ ہونے کے باوجود آدم وحوا کو جماع کے عمل میں ملوث کر کے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان سنگین الفاظ کے لیے ان کے پاس کیا جواز ہے:
’’ممکن ہے دونوں کی صورت یہ ہو کہ دونوں کے جسم ہوں اور ان دونوں کے دو جانب یعنی اوپر اور نیچے دو دو سوراخ ہوں یا یہ کہ اوپر کے دو سوراخ کھلے ہوں اور دونوں کے نیچے کے دو سوراخ
تو ہوں مگر ا س پر کوئی بندش، پنبہ یا پردہ لگا ہو‘‘ (ص ۲۶۹)
کھل نہیں سکا کہ مصنف کو ایسے لاطائل مفروضات کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ ان امکانات میں آخر پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
’’چنانچہ حضرت آدم اور حضرت حوا کا یہ عمل نہ صرف ایک عمل تھا بلکہ ایک ایسا عمل تھا جس نے الجنۃ کے پورے نظام کو blast کر دیا‘‘ (ص ۲۶۹)
پھر بجلی کے تاروں کی مثال دی ہے کہ خلاف قاعدہ ملیں تو شارٹ سرکٹ ہو جانے پر دھماکہ ہو جاتا ہے۔
’’ایسا لگتا ہے حضرت حوا اس یا ان مقاربت سے حاملہ ہو گئیں اور استنساخ Cloning پر بنائی گئی الجنۃ میں ابذار Insensation کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اب اس کا نتیجہ یہی برآمد ہوتا کہ وہاں استنساخ سے تولید کی سنت تو تھی لیکن ابذار سے ہونے والی تولید کا نظم کرنا الجنۃ کی سنت کےخلاف تھا اور نتیجتا " وہاں فساد برپا ہوتا‘‘
’’الجنۃ سے نکلنے کا بنیادی سبب یہی غیر صالح حمل کے سوا کچھ نہ تھا‘‘ (ص ۲۷۲)
یہ ہے تحقیق جس سے معرکہ خیر وشر میں ’’آدم وحوا سخت تباہ کن حالات سے دوچار ہوئے‘‘ (ص ۲۷۹)
مرحلہ سوم میں آدم وحوا زمین پر دکھائے گئے ہیں۔ ولادت قابیل کو جنت کا ناجائز حمل قرار دیا گیا ہے۔ ولادت زمین پر ہی ہوئی مگر وہ ’’نہ جنتی مخلوق آدمی تھا نہ ارضی مخلوق آدمی‘‘ ہابل البتہ ارضی جائز اولاد تھا۔’’قابیل وہابیل کی لڑائی اور اس کے لیے بہن پر جھگڑا سب افسانے ہیں‘‘
حضرت شیث اور دیگر اولاد آدم وحوا کے بارے میں رقم طراز ہیں:
’’اسی طرح یہ لوگ اگرچہ آدمی تھے مگر زمینی ہونے کے اعتبار سے آدھے تھے اور ابھی تک پوری طرح زمینی نہیں ہوئے تھے‘‘
رانش بن شیث پہلے مکمل زمینی انسان تھے۔ پھر پورے یقین کے ساتھ ان کی عمریں گنوائی ہیں۔توضیحات میں حضرت ادریس ہی کو الیسع کہا گیا ہے۔ پھر ذو الکفل کو نصرت کفل کے تانے بانے میں لاکر عجیب طرح سے صفت ادریس قرار دیا ہے۔ پھر ادریس، الیسع اور ذو الکفل کو ایک ہی شخصیت قرار دیا ہے۔ ایسی ہی تحقیق انیق ذو القرنین سے متعلق ہے۔ انہیں بھی صفت مان کر ادریس قرار دیا ہے۔
’’ایسا لگتا ہے کہ دو ہزار سالوں کے اندر اندر ہی اللہ تعالی نے ایک بار پھر حضرت ادریس کو جنہیں پہلے مرحلے میں ذو الکفل بنایا گیا تھا، ذو القرنین کے اعتبار سے مبعوث فرمایا‘‘ (ص ۳۱۷)
ع جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
’’غور کرنے سے ایسا لگتا ہے‘‘ ، ’’اس عاجز کی رائے یہ ہے‘‘ ، ’’اس عاجز کا رجحان اسی جانب ہے‘‘، ’’اس عاجز کی رائے میں‘‘ ، ’’اس عاجز کا احساس ہے‘‘، ’’اس عاجز کا خیال ہے‘‘، ’’ اس عاجز کی تحقیق کے مطابق‘‘ یہ ہیں وہ الفاط جن کے بعد پوری علمی وجاہت اور زور تحقیق سے موصوف وہ وہ کیفیات وواقعات تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں کہ ہم جیسے عاجز تو ان کے سمجھنے سے عاجز ہی رہ جاتے ہیں۔ فساد عقیدہ میں شرک اور فساد طبع کے تحت انسانی آبادی کو تباہ کرنے کے لیے زنا بین المخلوقات اور زنا بین الانسان کے ضمن میں تحریر فرمایا ہے:
’’ملک شیاطین اور جن شیاطین ابلیس کے ساتھ برابر کے شریک تھے چنانچہ وہ بطور خاص آدمی خواتین پر حملہ آور ہوئے اور ان سے زبردستی یا انہیں قابو میں لاکر یا ان سے روابط بڑھا کر ان کے ساتھ طبعی ازدواجی تعلقات پیدا کر لیے اور اس اختلاط اور زنا کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین پر بین المخلوقاتی نیم انسانی ملکی یا نیم جنیاتی خلاف طبعی حرام نسل کی پیدائش کا آغاز ہوا‘‘
شیاطین کی اقسام کے طور پر جبار نفل الیو، نفر اور عفریت کی خود ساختہ تقسیم کر کے من مانی توضیحات کی ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ابلیس کی غضب ناکی کا اظہار کرتے ہوئے جوموصوف کے خلاق ذہن اور طبع رسا نے واقعہ گھڑا ہے، قابل دید ہے:
’’وہ اپنی کوششوں سے ملائکہ کے ایک گروہ کو گمراہ کرنے اور اپنے ساتھ ملانے اور انہیں آدم کے خلاف اپنی جنگ میں آلہ کار بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ کہا جاتا ہے (معلوم نہیں کو ن کہتا ہے اور موصوف نے کس سے سنا ہے، اس قول کا پایہ استناد کیا ہے) کہ یہ دو سو سے زائد ملائکہ تھے جن میں انیس اعلی درجے کے ملائکہ تھے۔ ابلیس نے ان کے اندر فساد جنس پیدا کیا اور انہیں زمین پر لے آیا۔ ابلیس کی کوششوں سے ان ملائکہ نے انسانی عورتوں سے صحبت کی اور بے قابو ہو گئے‘‘ (ص ۳۲۷)
ناطقہ سر بگریباں ہے، اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے
اقوام عالم میں قرآن مجید نے بغرض عبرت آموزی جن اقوام کی تاریخ سے اعتنا کیا ہے، ان میں عرب بائدہ کی دو معروف قومیں عاد اور ثمود بھی ہیں۔ مفسرین ومورخین نے تاریخ، کتبات اور آثار حفریات سے ان قوموں کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں، ہمارے محقق نے ان سب کو مسترد کر کے اس سارے علمی خزانے کو بیک جنبش قلم دفن کر کے رکھ دیا ہے۔ اب تک قوم عاد کا مسکن جنوبی عرب میں احقاف کے ریگزار رہے ہیں جن کی طرف ہود علیہ السلام مبعوث ہوئے اور ثمود کا مسکن شمالی عرب میں الحجر کا علاقہ مانا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس تحقیق کے مطابق :
’’قوم عاد کا مسکن بابل کے شمالی ضلع کے دار السلطنت عاد کے نام سے مشہور ہوئی‘‘
جس کے حدود سلطنت کا تعین یوں کیا گیا ہے
’’مصر، شمال میں آرمینیا اور ایشیا کوچک تک ،جنوب میں یمن اور مشرق میں سندھ تک۔ وادی سندھ کی تہذیب دراصل عاد کی تہذیب یا اس کی توسیع تھی‘‘ (ص ۳۵۰)
’’اس عاجز کی تحقیق کے مطابق یہ تہذیب ثمودی تہذیب ہے جسے تاریخ میں مصر کی تہذیب یا وادئ نیل کی تہذیب The Nile valley civilization بلکہ مخصوص طور پر عہد ابرام The Pyramid Age کہتے ہیں‘‘ (ص ۳۵۵)
’’بات اہم یہ نہیں کہ وہ اونٹنی تھی؟ کہاں سے اور کیسے پیدا ہوئی، کہاں سے آئی؟ کتنا پانی پیتی تھی؟ یہ سب افسانے بھی ہو سکتے ہیں‘‘ (ص ۳۶۰)
ع بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بو العجبی است
مصنف کے علمی شکوہ، طرفگئ خیالات، دانش وبینش کی نادرہ کاریوں کو تسلیم کرلینے کے باوجود یہ ہیں وہ تحقیق وجستجو اور فکری پژوہش اور ذہنی قلابازیوں کے نادر نمونے جو اس کتاب کے مطالعہ سے سامنے آتے ہیں۔ اس میں کلام نہیں کہ مصنف کی علمی وتحقیقی کاوشیں غیر معمولی ہیں۔ وہ ژرف نگاہی کے اسلحہ سے لیس ہو کر نکتہ بنکتہ ومرحلہ بمرحلہ اس گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ایک محقق کا طرۂ امتیاز ہوتی ہے۔ لیکن اس فکری اڑان میں وہ کبھی کبھی حقیقت حال سے دور جا نکلتے ہیں۔کہیں اپنی وسعت علم کی اساس پر اور کہیں اپنی رائے کی خود رائی کے زور پر رائی کو پربت اور ذرے کوکوہ گراں بنا دیتے ہیں۔ اس طرح ان کی تحقیقی مساعی سے ماضی کے ایوانوں میں تزلزل اور مسلمات میں دراڑیں پڑتی نظر آتی ہیں۔ یوں احقاق حق کے بجائے اتلا ف حق کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے۔ مفروضے پر عظیم الشان عمارت بنا دینے کا فن خوب جانتے ہیں اور لطف کی بات یہ کہ استناد قرآن وحدیث سے کر کے ایسی تاویلات پیش کرتے ہیں کہ قاری کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ معرکہ خیر وشر کے حصے میں تو موصوف نے ایسے اچھوتے خیالات اور من مانے انہونے تصورات دیے ہیں کہ اچھے بھلے صاحب ایمان کا بھی سر چکرا جاتا ہے، پاؤں ڈگمگانے لگتے ہیں اور ایمان وایقان میں بے نام سے کسمساہٹیں پیدا ہونے لگتی ہیں۔