افغانستان اور موجودہ عالمی صورت حال
ادارہ
(افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے خیالات آئندہ شمارے میں ان شاء اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔ سردست موقر قومی روزنامہ نوائے وقت کا ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء کا اداریہ اور ادارتی شذرات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جن میں موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے خدشات وتوقعات کی بہت بہتر انداز میں عکاسی کی گئی ہے اور ہمیں بھی ’’نوائے وقت‘‘ کے اس حقیقت پسندانہ تجزیے سے اتفاق ہے۔ رئیس التحریر)
افغان بحران میں حکومت پاکستان نے امریکہ سے جو توقعات وابستہ کی تھیں، وہ نقش بر آب ثابت ہو رہی ہیں اور آہستہ آہستہ حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں، وہ نہ صرف کشمیری عوام کی جدوجہد کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں بلکہ ہمارے ایٹمی سائنس دانوں کے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے علاوہ ایران سے رابطوں کا ہوّا کھڑا کر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان نے امریکہ سے تعاون کا فیصلہ کرتے وقت واضح کیا تھا کہ وہ نہ تو شمالی اتحاد کا کابل پر قبضہ برداشت کرے گا اور نہ جنگ کی طوالت کے حق میں ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی اور جہاد میں فرق ملحوظ رکھنے کی بات بھی کی اور سٹرٹیجک اثاثوں کے تحفظ کے لیے قوم کو امریکی حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی مگر کابل پر شمالی اتحاد کے قبضے، جنگ کو مقاصد کے حصول تک جاری رکھنے بلکہ اس کا دائرہ دوسرے ممالک تک وسیع کرنے کے اعلانات سے واضح ہو گیا ہے کہ ہماری کوئی بات نہیں مانی گئی اور ۱۱ ستمبر سے پہلے کی طرح ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتے۔
اپنے ہی دوست طالبان کے خلاف جنگ میں ثبوت حاصل کیے بغیر امریکہ کا ساتھ دے کر ہم نہ صرف اقتصادی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں بلکہ سیاسی، عسکری اور معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری خارجہ پالیسی کسی واضح جہت سے محروم ہو گئی ہے اور ہم دوستوں کے حلقے سے نکل کر دشمنوں کے محاصرے میں آ گئے ہیں۔ ہماری مشرقی سرحدیں ہمیشہ سے غیر محفوظ چلی آ رہی ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں ایک بڑی، طاقتور، جدید ہتھیاروں سے مسلح اور تربیت یافتہ فوج کی ضرورت لاحق ہے۔ اس کے علاوہ وسائل کا بڑا حصہ اپنے دفاع اور سلامتی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے۔ امریکی دباؤ اور اپنی نااہلی کی وجہ سے اب ہم نے شمال مشرقی سرحد بھی غیر محفوظ کر لی ہے اور فوج کا اچھا خاصا حصہ حکومت کو افغان سرحد پر متعین کرنا پڑ رہا ہے۔ جغرافیائی گہرائی کا جو تصور قوم کو دیا گیا تھا، وہ پاش پاش ہو گیا ہے اور امریکہ کے اس اعلان کے بعد کہ وہ نہ صرف افغانستان میں اڈے قائم کرے گا بلکہ علاقے میں طویل عرصے تک موجود رہ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، علاقائی صورت حال میں بھی تبدیلی آ رہی ہے جو ہمارے قومی مفادات سے سراسر متصادم ہے۔
امریکہ کی ترجیح اول بھارت ہے جو ایک بڑی تجارتی منڈی، دفاعی پارٹنر اور مادر پدر آزاد مغربی تہذیب سے ہم آہنگی کی بنا پر امریکہ ومغرب کے لیے زیادہ قابل قبول ہے۔ بھارت کے مشورے پر امریکہ نے شمالی اتحاد کی سرپرستی کی اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی۔ بھارت اسرائیل گہرے روابط بھی امریکہ کے جھکاؤ میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور اب شمالی اتحاد کے سرپرست کے طور پر بھارت کابل میں اپنی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ ہمارا ایٹمی پروگرام اور عالم اسلام سے تعلقات بھی امریکہ کی نظروں میں کھٹکتے ہیں اور وہ یہ کبھی نہیں بھول سکتا کہ ۱۱ ستمبر تک ہم طالبان کے قریبی ساتھی اور سرپرست تھے۔ چینی وزیر اعظم کی پاکستان آمد کے موقع پر دونوں ممالک میں گوادر کی بندرگاہ اور مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر کا جو معاہدہ ہوا، وہ ہر لحاظ سے سنگ میل تھا اور یہ امریکہ وروس کی دیرینہ خواہشوں کے علی الرغم تھا جو گوادر اور بلوچستان کے وسیع ساحل تک رسائی کے لیے ایک عرصہ سے خواہاں تھے۔ ہم نے اسی وقت لکھا تھا کہ امریکہ کو یہ معاہدہ مشکل سے ہی ہضم ہوگا۔
اس سمجھوتے سے ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امریکہ پر مزید انحصار نہیں کیا جا سکتا اسی لیے ہم نے چین سے تعلقات کے نئے دور کا آغاز کیا ہے لیکن ۱۱ ستمبر کے بعد اچانک یوٹرن لے کر ہم ایک بار پھر امریکہ کے کیمپ میں چلے گئے ہیں اور اگر ہماری اس حماقت کی وجہ سے امریکہ علاقے میں مستقل اڈے قائم کر لیتا ہے تو ہمارے علاوہ چین اور ایران کے مفادات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور یہ چیز ہمارے علاوہ چین کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ماضی میں چین ہمیں دفاع اور سلامتی کے معاہدے کی پیشکش کر چکا ہے جس سے ہم امریکی خوف کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اب یہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم پاک چین تعلقات کو مزید نقصان سے بچانے اور اپنے مستقبل کے علاوہ مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے چین کی موجودہ ناراضگی دور کریں اور وہ رشتے مضبوط بنائیں جن کا ماضی میں دونوں طرف سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔
ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اس دوستی میں امریکہ کی ریشہ دوانیوں سے پڑنے والی دراڑوں کو بھرنے اور قد آور درخت سے مرجھاتے ہوئے اس پودے کو تازہ آب وہوا فراہم کرنے کے لیے ہمیں پیش رفت کرنی چاہیے اور یہ طے کر لینا چاہیے کہ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم عنصر امریکہ کے بجائے چین ہے اور دونوں ممالک کا مفاد مشترک ہے کیونکہ امریکہ بھارت اور ایک لحاظ سے روس کے ذریعے سے دونوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام اور امریکہ وروس اور ان کے مشترکہ دوست بھارت کی مداخلت یا باہمی مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں کشمکش کے اثرات پاکستان اور چین پر یکساں مرتب ہوں گے اور جس جہاد کے خاتمے کے لیے امریکہ اتنی دور سے وارد ہوا ہے، وہ بھی جلدی ختم ہونے والا نہیں کیونکہ جس طرح ڈینگ سیاؤپنگ کی اصلاحی اور اعتدال پسندانہ پالیسیوں کے باوجود چین کمیونزم اور سوشلزم کو ترک کرنے پر تیار نہیں اور وقتاً فوقتاً اس نظریے سے وابستگی کی یاد دہانی کراتا رہتا ہے، اسی طرح کوئی مسلمان بھی جہاد سے دامن چھڑا کر اپنے خدا اور رسول کے سامنے شرمندہ ہونا پسند نہیں کرتا اور پاکستان فوج کا تو ماٹو ہی جہاد فی سبیل اللہ ہے یا تبدیل ہو چکا ہے؟
اہل پاکستان اور مسلمانوں نے چین کا کمیونزم برداشت کیا ہے تو چین کو بھی جہاد سے الرجک نہیں ہونا چاہیے البتہ سنکیانگ اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ امریکہ کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسنے سے گریز کریں جو چین کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے انہیں اکساتا رہتا ہے اور الزام پاکستان یا افغانستان پردھر دیا جاتا ہے۔ ہم ان کے معاملات میں دخل نہ دیں اور کوشش کریں کہ چینی حکومت اور مسلمانوں میں افہام وتفہیم ہو تاکہ کسی غلط فہمی کا امکان باقی نہ رہے۔ اس طرح ہم چین کے ساتھ مل کر کوئی طویل المیعاد منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور دفاع وسلامتی کو درپیش نئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ گوادر بندرگاہ، مکران ساحلی ہائی وے کے علاوہ شاہراہ ریشم کے ذریعے سے نہ صرف رشتوں کو مضبوط بلکہ معیشت کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ عوام تو پہلے سے جانتے ہیں لیکن حکمرانوں پر بھی جلد واضح ہو جائے گا کہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں اس لیے مزید اس کے جال میں پھنسے رہنا دانش مندی نہیں۔ جب بحران کے دوران میں وہ ہماری کوئی بات ماننے پر تیار نہیں اور ہمارے مفادات کے منافی اقدامات میں مصروف ہے تو بعد از جنگ حکمت عملی سے کسی قسم کی توقع وابستہ کرنا خوش فہمی ہے جس کا شکار نہیں رہنا چاہیے۔
مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز بلوچستان سے منتخب ہونے والے ضلعی ناظمین سے بات چیت کے دوران میں کہا ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن کا اعلان چند روز تک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چند مذہبی انتہا پسندوں کو ۱۴ کروڑ عوام کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہا پسندی جس معاشرے میں جڑ پکڑ لے، وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ کون تنگ نظر ہے اور کون نہیں، آسان نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی تنگ نظر کے نقطہ نظر کو دوسرا شخص تسلیم نہ کرے تو وہ اس پر انتہا پسندی کی تہمت لگا کر اسے قومی مجرم قرار دے دیتا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف اس وقت حکمران وقت ہیں اور ایسے حکمران ہیں جو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، اختیارات کے سرچشمے ان کی ذات گرامی سے پھوٹتے ہیں۔ اس سب کے باوجود ان کا ایک عوامی چہرہ بھی ہے جسے ایک سیاست دان کا چہرہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اپنے اس روپ میں انہیں سیاست دانوں اور بالخصو ص مذہبی راہنماؤں کے بارے میں رائے دیتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ ہمارے معاشرے میں مذہبی راہنماؤں کا اپنا ایک مخصوص کردار ہے اور عوام انہیں عقیدت واحترام سے دیکھتے ہیں۔ عقیدت کے ان آبگینوں کی شکستگی ان کے لیے سوہانِ روح ہوتی ہے خصوصاً اس صورت میں جب ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کی نظر بندی سیاسی وجوہ کی بنا پر ہے۔ ان کے سیاسی بیانات ان کی اپنی جماعت اور سیاسی نظریات کے نقیب ہیں اور انہیں انتہا پسندی شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ افغانستان پر امریکہ کی بے تحاشا بمباری اور معصوم مردوں، عورتوں ، بوڑھوں اور بچوں کے قتل عام نے پاکستان کے مسلمانوں میں انسانی ہمدردی کے جذبات پیدا کیے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ آرا جنرل مشرف کی حکمت خارجہ اور امریکہ دوستی کے مطابق نہ ہوں لیکن اس اختلاف رائے کے تحت معاشرے کے کسی طبقے پر کریک ڈاؤن کرنا قرین مصلحت نہیں۔ پاکستان کو اس وقت انتشار کے بجائے قومی یک جہتی، تنگ نظری کے بجائے کشادہ نظری اور انتہا پسندی کے بجائے عالی ظرفی کی ضرورت ہے لیکن اس کا مظاہرہ بالائی سطح سے حکومت کی طرف سے ہونا چاہیے۔ حکومت نے جس طرح کریک ڈاؤن کا ارادہ ظاہر کیا ہے، وہ موجودہ حالات میں ہمارے داخلی مفادات کے مطابق نہیں ہے۔ بنیادی جمہوریتوں کے تحت جو ضلعی ناظمین منتخب ہو کر برسر اقتدار آئے ہیں، انہوں نے ابھی تک کسی قسم کے سیاسی شعور اور سماجی آگہی کا ثبوت نہیں دیا۔ انہیں اس مشکل میں الجھانا ہرگز مناسب نظر نہیں آتا۔
عرب دنیا میں اسلامی حمیت کی تازہ لہر
سعودی عرب نے دہشت گردی سے مبینہ طور پر منسلک گروپوں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے امریکی درخواست کو رد کر دیا ہے۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ بغیرثبوت کے کارروائی نہیں کر سکتے، امریکی ثبوت ناکافی ہیں۔جبکہ شہزادہ سلطان نے خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان جنگ کسی بھی کروٹ بیٹھے، ہمارا موقف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہوگا۔ ثبوت کے بغیر کسی عرب یا مسلمان کو مورد الزام ٹھہرانا حق وانصاف کے خلاف ہے۔ عرب لیگ نے بھی اپنی دو روزہ کانفرنس میں کہہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو وہ مخالفت کرے گی۔یوں لگتا ہے کہ افغانستان پر حملے کی آڑ میں جس مختلف النوع انداز سے امریکہ پوری دنیا میں اسلام اورمسلمانوں پر حملہ آور ہوا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ بتدریج مسلم امہ میں بیداری اور اسلامی حمیت کی ایک لہر سی اٹھی ہے۔
سعودی عرب وہ واحد عرب ملک ہے جس کے باشندوں کی تذلیل وتوہین مغربی میڈیا پر سب سے بڑھ کر کی جا رہی ہے، اگرچہ سعودی عرب عسکری لحاظ سے اتنا مضبوط نہیں اور نہ اس کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس نے دہشت گردی سے مبینہ طور پر منسلک گروپوں کے اثاثے منجمد کرنے سے صاف انکار کر کے جرات مندانہ اقدام کیا ہے۔ شاید سعودی حکمرانوں نے بالآخر امریکی تیور بھانپ کر ہی یہ فیصلہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ بش انتظامیہ فوری طور پر بات چیت کے لیے وزارت دفاع، خزانہ اور قومی سلامتی کونسل کے حکام پر مشتمل ایک وفد سعودی عرب روانہ کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ سعودی حکمرانوں پر اس وفد کے ذریعے سے عملی تعاون کے لیے دباؤ ڈالے گا لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ شاید اب سعودی حکومت اس سلسلے میں امریکہ کی تابع داری کے اثر سے نکل آئے گی۔ جس طرح عرب لیگ نے بھی اپنی کانفرنس میں ٹی وی چینل اور عرب رابطہ قائم کرنے کے ساتھ عراق پر ممکنہ حملے کی صورت میں اپنی مخالفت کا عندیہ ظاہر کر دیا ہے، وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عرب ملت اجتماعی لحاظ سے اب اس دام ہم رنگ زمین سے آگاہ ہو گئی ہے جو جگہ جگہ عالم عرب میں امریکہ نے پھیلا رکھا ہے۔ بہرصورت اب عراق جو ایک عرب ملک ہے تو عرب لیگ کی رگ حمیت پھڑکی ہے۔ خدا کرے کہ عرب خود کو بھی امریکہ کے حصار سے نکال لیں، غنیمت ہوگا۔ ابھی تو شاید یہ ممکن نہ ہو لیکن جلد ہی آنے والا وقت بتائے گا کہ اگر مسلم امہ طالبان کو اپنے ایک پیشگی دفاع کے طور پر مضبوط کرتی اور انہیں تنہا امریکی بموں کا ایندھن نہ بننے دیتی تومسلمان دشمنی کی صلیبی آگ افغانستان میں ہی بھسم ہو جاتی اور اس کے شعلے یہاں سے ہو کر ملت بیضا کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ملکوں تک پہنچنے کا خطرہ پیدا نہ ہوتا۔ ہم پر امید ہیں کہ شاید طالبان کی قربانیاں قبول ہو جائیں اور عالم اسلام صلیبیوں کے ہاتھوں اپنی اجتماعی بربادی سے بچ جائے۔
بیعت کی حقیقت اور آداب
مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے ایک بیعت اسلام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ یہی بیعت کر کے اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ دوسری بیعت ہجرت کے لیے ہوتی تھی۔ لوگ اللہ کے نبی کے ہاتھ پر اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت کر جانے کی بیعت یا عہد کرتے تھے۔ تیسری بیعتِ جہاد تھی۔ جب جنگ کا موقع آتا تھا تو لوگ اس بات کی بیعت کرتے تھے کہ ہم اللہ کے راستے میں جان ومال کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بعض صحابہؓ نے ارکان اسلام پر پابندی کی بیعت کی۔ حضرت جریرؓ کی بیعت اسی سلسلے میں تھی کہ میں ارکان اسلام نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ وغیرہ کی پابندی کروں گا اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کروں گا۔ بعض لوگوں نے حضور علیہ السلام کے دست مبارک پر اس بات کی بیعت بھی کی کہ وہ سنت پر قائم رہیں گے اور بدعات سے بچتے رہیں گے۔ پھر عورتوں نے بھی اس بات کی بیعت کی کہ وہ شرک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھیں گی (یعنی غیر کی اولاد کو خاوند کی طرف منسوب نہیں کریں گی) اور نہ نیک کاموں میں آپ کی نافرمانی کریں گی۔ اس بیعت کا ذکر سورۃ الممتحنہ میں موجود ہے۔ بیعت کی ایک قسم بیعتِ تبرک بھی ہے۔ حضرت زبیرؓ اپنے آٹھ سال کے بیٹے حضرت عبد اللہؓ کو حضور علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرایا۔ یہ یہی بیعت تھی ورنہ بچے کے لیے بیعت کی ضرورت نہ تھی۔
ایک بیعتِ خلافت بھی ہوتی ہے جو خلیفہ کے انتخاب کے لیے ہوتی ہے۔ حضور علیہ السلام کے بعد لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی اور اسی طرح دیگر خلفائے راشدینؓ کی بیعت بھی ہوئی۔
بعض اوقات بزرگان دین کے کسی سلسلے میں داخل ہونے کے لیے بیعتِ سلوک بھی کی جاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ اقرار کرنا ہوتا ہے کہ ہم ارکانِ دین کی پابندی کریں گے، عبادت وریاضت اور ذکر واذکار باقاعدگی سے انجام دیں گے تاکہ درجاتِ عالیہ نصیب ہوں اور اللہ کا تقرب حاصل ہو سکے۔ بیعت کی یہ تمام قسمیں حضور علیہ السلام سے ثابت ہیں۔
شاہ رفیع الدینؒ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ کسی بزرگ کے ہاتھ پر محض دنیاوی فوائد حاصل کرنے کی بیعت کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ ہمارا کوئی معاملہ سلجھا دیں گے یا ہماری سفارش کر دیں گے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ یہ رسمی بیعت ہے جس کا کچھ فائدہ نہیں۔ البتہ بیعت کی باقی جتنی اقسام بیان کی گئیں، وہ درست ہیں۔
پیر کے اوصاف
حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ کسی ایسے پیر یا بزرگ سے بیعت ہونا درست ہے جس میں حسبِ ذیل اوصاف پائے جائیں:
۱۔ پیر کتاب وسنت کا علم رکھتا ہو، خود پڑھ کرعلم حاصل کیا ہو یا کسی بزرگ کی صحبت حاصل کی ہو۔ بہرحال اس کے پاس کتاب وسنت کا علم ہونا چاہیے۔
۲۔ کبائر سے مجتنب ہو اور صغائر پر اصرار نہ کرے۔ کبائر کا مرتکب بیعت کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ وہ فساق میں شمار ہوتا ہے۔
۳۔ بیعت لینے والا دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف رغبت رکھتا ہو۔
۴۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا عامل ہو۔ اپنے متعلقین کو اچھی بات کا حکم دے اور اگر ان میں کوئی بری بات دیکھے تو فوراً روک دے۔
۵۔ پیر خود رَو نہ ہو بلکہ یہ طریقہ اس نے بزرگوں سے سیکھا ہو یا ان کی صحبت اختیار کی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ باپ کی وفات کے بعد بیٹا جیسا کیسا بھی ہو، گدی نشین ہو گیا۔ نہ کسی سے سیکھا نہ کسی کی صحبت اختیار کی اور نہ علم حاصل کیا۔ یہ سلسلہ جو آج کل رائج ہے ،تباہ کن ہے ۔
اگر ان شرائط کو پورا کرنے والا کوئی بزرگ مل جائے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہیے تاکہ انسان شیطان کے پھندے سے محفوظ رہ سکے۔ ویسے یہ بیعت نہ فرض ہے اور نہ واجب البتہ سنت ہے۔ بزرگان دین میں سے حضرت دقاقؒ اور شیخ عبد القادر جیلانی ؒ سے منقول ہے کہ اگر کوئی کامل آدمی مل جائے تو بیعت کر لینی چاہیے البتہ کسی غلط کار، فاسق، شرکیہ اور بدعتی اعمال کرنے والے پیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہرگز جائز نہیں۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست
اس قسم کے لوگ انسانی شکل میں شیطان ہیں اس لیے ہر ہاتھ پر ہاتھ نہیں رکھ دینا چاہیے ورنہ وہ شرک اور بدعت میں مبتلا کر دیں گے اور انسان کو گمراہ کر کے رکھ دیں گے۔
افغانستان میں امریکی پالیسی کا ایک جائزہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے اپنی نوعیت کے لحاظ سے حیران کر دینے والے تھے۔ عالمی سطح پر رائج رجحانات کے پس منظر میں یہ واقعہ ’’اپ سیٹ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے امریکہ کو فوجی، اقتصادی اور نفسیاتی حوالے سے شدید دھچکا لگا۔ نفسیاتی بازیابی تو شاید فوری ممکن نہیں ہوگی تاہم کچھ نہ کچھ مداوا کرنے کے لیے امریکہ نے کسی ثبوت اور تصدیق کے بغیر اس واقعہ کی ذمہ داری اسامہ بن لادن اور اس کے نیٹ ورک القاعدہ پر ڈال کر ان کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کیا اور پھر عالمی تعاون حاصل کر کے افغانستان پر حملہ کر دیا۔
امریکی پالیسی وسیع تر تناظر میں
اگرچہ ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف امریکی مہم کئی قدم آگے بڑھ چکی ہے اور اب نظری سے زیادہ عملی نوعیت کے سوالات درپیش ہیں، لیکن یہ بنیادی سوال اب بھی غور وفکر کا محتاج ہے کہ کیا دہشت گردی کے مبینہ ملزموں کے خلاف امریکہ کے پاس ملٹری آپریشن کی صورت میں ایک ہی آپشن تھا؟
میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ۱۱ ستمبر کے بعد امریکی موقف بہت غیر ذمہ دارانہ رہا۔ ثبوت فراہم کیے بغیر اسامہ کو ان کے حوالے کرنے کا امریکی مطالبہ اخلاقی اور قانونی حوالے سے قابل مذمت تھا۔ کوئی بھی آزاد اور خود مختار ریاست ایسے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کر سکتی لہذا افغانوں کا فیصلہ حیران کن نہیں تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کا یہ بے جواز مطالبہ افغانستان میں مداخلت کے لیے محض ایک بہانہ تھا۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی سے اس کا جو نقصان ہوا، سو ہوا لیکن اب وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راکھ کے اس ڈھیر سے مفادات کی نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ امریکی پالیسی سازوں نے حقیقتاً وقت سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
اس سلسلے میں ایک فرضیے پر غور کیجیے تو امریکی عزائم کی نوعیت اور ان کی پالیسی کے تزویراتی مضمرات (Strategic implications)کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ افغانستان پر امریکی حملہ اصل ہدف سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہو؟ یعنی امریکہ کا اصل ہدف تو کہیں اور ہو اور دنیا اور عالم اسلام کی توجہ افغانستان پر مبذول کرا کے وہ اپنے اصل ہدف پر خفیہ کام کر رہا ہو؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو پھر موجودہ جنگ محض ایک ریہرسل ہے جبکہ اصل اور باقاعدہ جنگ بعد میں ہوگی۔
اب یہ دیکھیے کہ اس ریہرسل سے امریکہ کون سے فوجی، سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی فوائد حاصل کر سکتا ہے؟
۱۔ اب تک کی صورتِ حال کے مطابق امریکی حکمت عملی مختلف مرحلوں (Phases)میں تقسیم ہے۔ پہلے مرحلے میں صرف ہوائی حملے ہوئے اور وہ بھی اس طرح کہ خوب شور مچایا گیا کہ ’’میں آ رہا ہوں‘‘۔ ہتھیاروں کی بابت بھی بتایا گیا کہ ان کی یہ قیمت اور اہلیت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغانوں نے سب کچھ جانتے ہوئے اپنے تحفظ کے اقدامات نہیں کیے ہوں گے؟ کیا انہوں نے اپنا مخصوص اسلحہ جو ان کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا تھا، امریکی حملوں کے لیے وہیں پڑا رہنے دیا ہوگا؟ یقیناًافغان ایسی غلطی نہیں کرسکتے تھے اور نہ امریکہ یہ چاہتا تھا کہ افغان ایسی غلطی کریں، ورنہ پہلے شور مچانے کا کیا فائدہ؟
پہلے مرحلے میں امریکیوں نے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ افغانی، حملے کی صورت میں اپنا اسلحہ کیسے، کتنی مدت میں اور کہاں شفٹ کرتے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس اس حوالے سے کام کر رہی ہوگی۔ پھر سب نے پڑھا اور سنا کہ امریکہ کے بقول فضائی حملے پچاسی فیصد کام یاب رہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ تھا۔ اس پراپیگنڈے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ افغانی کیسا رد عمل ظاہر کرتے ہیں؟ اس پچاسی فیصد کامیابی کے اثر کو کم بلکہ ختم کرنے کے لیے افغانوں کا طرز عمل کیا ہوتاہے؟ اس میں ’’سرپرائز‘‘ اور ’’منفیت‘‘ کس حد تک ہوگی؟
پہلے مرحلے کی یہ معلومات امریکہ کو ’’فائنل فیز‘‘ میں بہت کام دیں گی۔ جنگ کا فائنل فیز بہت جلد متوقع نہیں ہے، ہو سکتا ہے وہ چند سال بعد شروع ہو۔ کوریا جنگ میں چین نے تین مختلف مرحلوں میں مداخلت کر کے امریکہ کوحیران کر دیا تھا اور امریکی ملٹری کمانڈ ان مرحلوں کی پیش بینی نہیں کر سکی تھی۔ امریکی کوریا، ویت نام اور کیوبا میں اپنے سابقہ تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
اس جنگ کا دوسرا مرحلہ زمینی حملوں کا ہے۔ اس کا مقصد بھی فائنل فیز کے لیے امریکی فوج کی تربیت اور امریکی جرنیلوں کو افغانستان سے متعلق ’’عملی سہولت‘‘ بہم پہنچانا ہے تاکہ وہ افغان خطرے کو گہرے انداز سے اسٹڈی کر سکیں اور اس علاقے کی مناسبت اور افغانوں کی نفسیات کے مطابق کوئی نیا طریقہ کار (Mode of action) آزما سکیں۔ نیز نئے ہتھیاروں کی افادیت کا بھی پتہ چل سکے تاکہ فائنل فیز میں امریکہ کو سبکی نہ اٹھانی پڑے۔
۲۔ فوجی مہم کے علاوہ سیاسی میدان میں بین الاقوامی برادری بالخصوص مسلم ممالک کے رویوں کوجانچا جارہا ہے کہ ان میں ڈپلومیسی کی کتنی اہلیت ہے اور وہ اپنے مفادات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مسلم ممالک کے عوام کو خاص کوریج دی جائے گی تاکہ فائنل فیز میں ان کی قوت کو امریکی مفادات میں چینلائز کیا جا سکے۔ مسلم ممالک کے انٹیلی جنس کے نیٹ ورک پر امریکیوں کی خاص نظر ہوگی۔ ان کی معلومات تک رسائی، تجزیہ اور بھانپ لینے کی قوت کو سٹڈی کیا جائے گا۔ امریکہ کے لیے یہ معلومات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں کہ یہ ایجنسیاں سفارت کاری، حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور رائے عامہ کو ہموار کرنے میں کتنی موثر ہیں۔
۳۔ پچھلے چند سالوں میں مسلم دنیا کی جہادی تنظیمیں تیزی سے فعال ہوئی ہیں اور عوام میں ان کو پذیرائی ملی ہے۔ موجودہ امریکی حملے میں، ظاہر ہے کہ ان تنظیموں کی ہمدردیاں افغانستان کے ساتھ ہیں اور تقریباً تمام بڑی تنظیمیں افغانستان کی مدد کرنا چاہتی ہیں اور غالباً کر رہی ہیں۔ اس طرح امریکہ نے تمام جہادی تنظیموں کو افغانستان پر فوکس (Focus)کر دیا ہے اور یہ تنظیمیں فرنٹ پر آگئی ہیں۔ موجودہ جنگ سے ان تنظیموں کی سطح، صلاحیت، ان کے باہمی روابط اور مسلم عوام میں ان کی مقبولیت کھل کر سامنے آئے گی اور ان تنظیموں سے متعلق ایسی معلومات فائنل فیز میں امریکہ کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گی۔ موجودہ جنگ کے دوران میں ہی امریکہ کو ان تنظیموں میں سے اپنے مطلب کے لیڈر بھی مل جائیں گے جو فائنل فیز کے آنے تک ان تنظیموں کی نئی نہج متعین کر کے امریکی مفادات کو تقویت بخش سکیں گے۔
۴۔ امریکہ اس جنگ سے اقتصادی لحاظ سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ اپنے زنگ آلود اسلحے کو استعمال میں لانے کے ساتھ ساتھ نئے ہتھیاروں کی افادیت کا بھی پتہ چل سکے گا اور خرچ دوسرے ملکوں پر ڈال دیا جائے گا۔ ملک کے اندر عوام سے اپیل کی جائے گی کہ جنگ کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں لہذا حکومت کی مدد کی جائے۔ یہ جنگی فنڈ اقتصادی وفوجی مہم جوئی کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔
۵۔ افغانستان میں سابق سوویت یونین کی ناکامی کو امریکہ نے بہت باریک بینی سے اسٹڈی کیا ہے۔ اس ناکامی میں ظاہر ہے کہ امریکہ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ اس جنگ میں چین نے بھی افغانوں کی مدد کی تھی۔ اسی طرح کچھ دوسرے ممالک بھی تھے اور امداد کی نوعیت میں بھی فرق تھا۔ امریکہ موجودہ جنگ میں کسی ایسے ہاتھ کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گا جو افغانستان میں امریکی ناکامی کا سبب بننے کی سکت رکھتا ہو۔ امریکہ کی کوشش ہوگی کہ موجودہ جنگ کے دوران میں اس ہاتھ کی نشان دہی ہو سکے تاکہ اس سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جا سکے اور فائنل فیز میں اس کا حشر سوویت یونین جیسا نہ ہو۔ اس عمل کے دوران میں امریکی انٹیلی جنس کی کارکردگی کو تنقیدی نظر سے دیکھا جائے گا اور امریکی فیصلہ سازی کے عمل میں موجود خامیوں کی نشان دہی کر کے ان کا سدباب کیا جائے گا۔
اگر امریکی صدر کی ٹیم پر ناقدانہ نظر ڈالی جائے تو بیشتر سرد جنگ کے تجربہ کار چہرے نظر آئیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ افغان جنگ کو Anticipate کر رہا تھا۔ چونکہ افغان روسیوں کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں اس لیے ان کا طریقہ جنگ روسی اثرات کا حامل ہوگا۔ زیادہ تر اسلحہ بھی روسی نوعیت کا ہوگا اور ان کی امداد کرنے والے متوقع ممالک بھی سابق کمیونسٹ ہوں گے۔ لہذا کمیونسٹ نفسیات (Psyche) سے واقف لوگوں کی ٹیم ہی ایسی ’’پر پیچ‘‘ جنگ لڑ سکتی ہے جس کے کئی مرحلے ہیں ور فائنل فیز میں جیت سے ہی امریکہ اپنی بالادستی قائم رکھ سکتا ہے۔
اس ساری گفتگو سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکہ نے افغانستان کو ہی کیوں اپنے ٹارگٹ کے طور پر منتخب کیا؟ اس کی وجوہ یہ ہیں:
(i) تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ دنیا میں جغرافیائی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ تاریخ جغرافیے کو بدلتی رہتی ہے لیکن افغانستا ن کا جغرافیہ ایسا ہے جو خود تاریخ بنا سکتا ہے۔ افغانستان کا جغرافیہ امریکہ کے لیے ایک سیاسی خطرے (Political threat) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ سائنسی وتکنیکی ترقی سے جغرافیے کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن افغانوں نے اپنے مخصوص جغرافیے کی اہمیت کو برقرار رکھا ہے۔
(ii) افغانی جنگ آزمودہ لوگ ہیں۔ اس وقت دنیا میں اتنے تربیت یافتہ جنگ جو شایدکہیں بھی موجود نہیں۔
(iii) باقی تمام مسلم ممالک امریکہ کے نشانے کی زد میں (Vulnerable) ہیں۔ صرف افغانستان ایک استثنائی مثال ہے، لہذا امریکی اس خطرے سے نمٹنا چاہتے ہیں۔
(iv) مسلم جہادی تنظیموں کی تربیت گاہ افغانستان کی پہاڑیاں ہیں۔ اگر عالم اسلام اور امریکہ کی تکنیکی صلاحیتوں کا تقابل کیا جائے تو توازن کا نشان تک نہیں ملتا۔ صرف ایک پاکستان ایٹمی قوت ہے لیکن وہ بھی سائنسی وتکنیکی اعتبار سے امریکہ سے بہت پیچھے ہے۔ نظر آ رہا تھا کہ مغرب اسلام کشمکش میں Nuclear Deterrent موثر ثابت نہیں ہوگا، البتہ جہادی تنظیمیں ایک موثر Deterrentکے طور پر ابھر رہی تھیں۔ امریکہ اس Deterrent کو ختم کر کے اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں امریکیوں نے اعلیٰ Threat perception کا ثبوت دیا ہے۔
۶۔ اس جنگ سے امریکہ کو حاصل ہونے والے تہذیبی فوائد کا اندازہ اس امیج سے کیا جا سکتا ہے جوکابل میں شمالی اتحاد کے داخلے کے بعد تعمیر کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ سمیت انٹرنیشنل میڈیا جو خبریں اور تصاویر پیش کر رہا ہے، ان سے اس تصور کو تقویت ملتی ہے کہ:
۱۔ طالبان کے زیر حکومت عوام جبر کا شکار تھے، اب انہیں معاشرتی آزادیوں سے ہم کنار کیا گیا ہے۔
۲۔ شعائر اسلام فرسودگی کی علامت ہیں اور ان سے اجتناب جدیدیت ہے۔
گویا مغربی رویے کے بین السطور ان کی تہذیبی برتری جھلکنا شروع ہو گئی ہے۔ ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ سے خائف مغربی قوتیں جارحیت سے اپنا دفاع کرنا چاہتی ہیں۔ اگرچہ طالبان کی بے جا سختی اور بے لچک رویہ قابل تعریف نہیں ہے اور اسلام کی تعبیر وتشریح میں عصری تقاضے ان کے پیش نظر نہیں رہے، تاہم اگر ہم مذکورہ امور کو مد نظر رکھیں تو افغانستان پر حملے کی امریکی پالیسی کے پوشیدہ (Invisible) پہلو کی بعض نئی جہتیں آشکارا ہوں گی۔ امریکی پالیسی کے خدوخال جیسے جیسے بھرپور صورت اختیار کریں گے، مسلم عوام کے ذہنی تحفظات (Mental reservations) میں اضافہ ہوتا جائے گا اور ناگزیر طور پر ہر مسلم ریاست میں معاشرتی سطح پر ’’دوئی‘‘ کو فروغ ملے گا۔ قدامت پسند ردِ عمل میں مزید قدامت پسند ہو جائیں گے اور ان کی قدامت پسندی کے مضمرات اور منفیت جدت پسندوں کو ان سے مزید دور کرنے کا باعث بنیں گے۔ اس طرح ہر ریاست میں دو معاشرتی گروہ آمنے سامنے ہوں گے۔ عالمی اسلامی معاشرہ بھی واضح دوئی کا حامل ہوگا۔ مغربی طاقتوں نے کمالِ تدبر سے متوقع مغرب اسلام کشمکش کو خود اسلامی معاشروں میں محدود کر دیا ہے جہاں جدت پسند ان کے نمائندے ہوں گے اور قدامت پسند مخالف۔ اس پر طرہ یہ کہ مغربی طاقتوں کے مخالف قدامت پسند بھی اسلام کے حقیقی نمائندے نہیں ہوں گے کیونکہ ان کا پیش کردہ اسلام اور اس کی تعبیر وتشریح رد عمل پر مبنی ہوگی لہذا اصل اسلام سے دور ہوگی۔ اس طرح اسلام کی حقیقی Orientation سامنے نہ آنے سے مغرب کی تہذیبی برتری کے لیے تمام راستے ہموار ہوتے جائیں گے۔
موجودہ صورتِ حال میں چین کی پالیسی بھی معنی خیز ہے۔ اسلامی تہذیب کی خلقی استعداد سے چین بھی خوف زدہ تھا۔ افغانستان میں امن کا قیام اور اس کے ساتھ اسلامائزیشن کے اقدامات چین کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے تھے۔ اگرچہ طالبان کا اسلام خاصا یک رخا تھا لیکن بہتری کے امکانات، بہرحال، موجود تھے۔ پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی مسلم ریاستوں میں اسلام کی تعبیر وتشریح اور نفاذ کے حوالے سے دانش ورانہ مکالمہ شروع ہو سکتا تھا۔ یہ مکالمہ ان ریاستوں کو کوئی معاشرتی نقطہ اتصال بھی فراہم کر سکتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ چین کی پالیسی اسی تناظر میں تشکیل دی گئی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ چین میں اسلامی دعوتی سرگرمیاں قبل از وقت تھیں یا کم از کم ان کا پھیلاؤ اور طریقہ کار ایسا تھا کہ چین تحفظات کا شکار ہو گیا۔ ماضی میں چین کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ عام قیاس آرائیاں یہی تھیں کہ مغرب اور اسلام کی تہذیبی کشمکش میں چین کا وزن اسلام کے پلڑے میں پڑے گا لیکن تازہ ترین صورت حال سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مغربی طاقتوں نے چین کو کم از کم خاموش رہنے پر رضامند کر لیا ہے۔
اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان میں جاری موجودہ جنگ صرف ایک ریہرسل ہے جس سے متنوع وقتی اور مستقل فوائد کے ساتھ ساتھ ایسی معلومات کا حصول مقصود ہے جو جنگ کے فائنل فیز کے لیے کارآمد ثابت ہوں گی۔ امکان ہے کہ روس اور چین جہادی تنظیموں کے خاتمے کی حد تک امریکہ کا ساتھ دیں گے لیکن جہاں تک افغانستان کے جغرافیے کا سوال ہے، وہ کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ امریکہ اسے فتح کرے لہذا اس جنگ کے دوران میں دوستیاں دشمنیاں بھی بدلتی رہیں گی۔
موجودہ صورت حال ۔ چند امکانات
مذکورہ بالا بحث کا تعلق امریکی پالیسی کے وسیع تر تناظر سے تھا۔ جہاں تک موجودہ جنگ کے ظاہری (Visible) پہلو کا تعلق ہے تو اس کو Discussکرنا اور جانچنا بظاہر جتنا آسان نظر تا ہے، اتنا ہی یہ مشکل بھی ہے۔ طالبان کی پسپائی کے بعد صورت حال کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟ اس سلسلے میں قطعیت سے کچھ کہنا فی الحال خاصا مشکل ہے۔ پاکستان اور عالم اسلام میں حکومتی رویے سے قطع نظر عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ طالبان کی پسپائی ایسا دھچکا نہیں جس کے لیے لوگ ذہنی طور پر تیار نہ تھے۔ ایسا ہونا ممکنات میں سے تھا۔
اس حوالے سے آئندہ امریکی حکمت عملی کچھ اس قسم کی ہو سکتی ہے:
۱۔ کابل سلگتا رہے تاکہ افغان داخلی معاملات میں الجھے رہیں اور بقول امریکہ خارجی دنیا کے لیے دہشت گردی کا باعث نہ بنیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایکو (Echo)ممالک کی باہمی تجارت فروغ نہ پا سکے۔ یہ چیز چین اور بھارت کے مفاد میں بھی ہے۔ ایکو کی مضبوطی سے بھارت اور چین اقتصادی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بھارت ،چین اور ایکو کی اقتصادی مسابقت مزید پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اس طرح افغانستان میں پائیدار امن اور مضبوط مرکزی حکومت کا قیام بعض ریاستوں کے مفادات سے متصادم ہے۔
۲۔ افغانستان کے کم از کم دو حصے کر دیے جائیں، شمالی افغانستان اور جنوبی افغانستان۔ ان میں اگر کوئی تعلق قائم بھی رکھا جائے تو وہ برائے نام اور معمولی نوعیت کا ہو۔ البتہ اس قسم کے پلان کی پاکستان شدید مخالفت کرے گا کیونکہ اس کے سرحدی صوبہ کو جنوبی افغانستان میں ضم کرنے کی داخلی کوششیں شروع ہو سکتی ہیں اور ایسے عناصر موجود ہیں جو مہروں کا کام دے سکتے ہیں۔ اس سے پاکستان کی سلامتی اور وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی۔ پاکستان کی ٹوٹ پھوٹ کے اثرات سے بھارت بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ بھارت افغانستان کی تقسیم کے کسی پلان کو تحفظات کے بغیر قبول نہیں کرے گا۔
۳۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ حالت (Stuatus quo) کو برقرار رکھا جائے تاکہ وار لارڈز کو بوقتِ ضرورت ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ اگر یہ صورت اپنائی جاتی ہے تو امریکہ کو مستقل طور پر عملاً ملوث رہنا پڑے گا جو ایک تھکا دینے والا اور اعصاب شکن عمل ہوگا۔
۴۔ ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی امن فوج متعین کر دی جائے۔ اگر امریکی اور یورپی طاقتوں کی فوج بھیجی جاتی ہے تو امریکہ کو سٹرٹیجک فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اگر مسلم ممالک کی افواج کو وہاں تعینات کیا گیا تو غلط فہمیوں کو ہوا دی جا سکتی ہے۔ ترکی، ایران اور پاکستان کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ طالبان کی حکومت اور افغانستان پر ان کے کنٹرول سے پاکستان مستقبل کے حوالے سے بہت پرامید جبکہ ایران اور ترکی تحفظات کے شکار تھے۔ موجودہ صورت حال سے ایران اور ترکی کو ایک Edge ملا ہے جس سے دونوں ممالک فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ ترکی کی فوج ویسے بھی پروفیشنل نہیں۔ اس کے سیاسی مزاج اور دل چسپیوں (Political Orientaion)سے کون واقف نہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ ایکو کا پلیٹ فارم ان ممالک کو کوئی بہتر راہ دکھا سکے۔
یہ امکانات امریکی نقطہ نظر سے تھے۔ اگر طالبان کے حوالے سے دیکھیں تو یہ باتیں سامنے آتی ہیں:
۱۔ ان کی پسپائی حکمت عملی کے ماتحت ہے۔ اب وہ اپنی کچھار یعنی اصل علاقے میں واپس آ گئے ہیں۔
۲۔ شمالی اتحاد کو کابل پر قابض ہونے کا موقع دیا گیا تاکہ ان کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو، کیونکہ طالبان کو امریکی افواج اور امریکی ٹیکنالوجی سے زیادہ خطرہ شمالی اتحاد سے ہے۔
۳۔ پسپائی اختیار کر کے طالبان امریکی ترکش کے تیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے امریکی عزائم کی نوعیت اور طریقہ کار ان پر مزید واضح ہوگا۔
۴۔ امریکی حملے کے پہلے مرحلے کے دوران میں طالبان کا استقلال شاید یہ ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ وہ حکومت پاکستان کے زیر اثر نہیں بلکہ خود مختار ہیں۔ طالبان نے جس قسم کی مدافعت کی ہے، اس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے۔ اگر وہ بہت جلد پسپائی اختیار کر لیتے تو ان کے متعلق یہی تاثر پھیلتا کہ پاکستان کی سپورٹ کے بغیر وہ زیرو ہیں۔ اپنا کم سے کم نقصان کرواتے ہوئے انہوں نے ایک مہینے سے زیادہ مدافعت کی ہے جس سے یہ تاثر پھیلا ہے کہ ان میں لڑنے کی قوت موجود ہے۔ اب اگر پسپائی کے بعد وہ فوراً گوریلا کارروائیاں شروع کرتے ہیں اور کوئی خفیہ ہاتھ ان کی مدد پر آمادہ ہو جاتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں کے تسلسل کو ان کی سابقہ مدافعتی سرگرمیوں کے متوازی سمجھا جائے گا کہ ان میں ابھی قوت باقی ہے۔ یہ باقی قوت خاصی طویل مدت پر محیط ہو کر دشمن کو ناکوں چنے بھی چبوا سکتی ہے۔
بہرحال صورتِ حال چاہے امریکی عزائم کے مطابق ہو یا ان کے برعکس، پاکستان کو اپنی پالیسی اس نوعیت کی رکھنا ہوگی کہ حالات کا تغیر اس کے لیے مشکلات کا باعث نہ بن سکے۔ جہاں تک پاکستان کے مفادات کا تعلق ہے تو اسے بھی طالبان کی طرح عارضی پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ وقتی اور عارضی نقصان سے قطع نظر ہمیں اپنے مستقل اور پائیدار مفاد پر نظر رکھنا ہوگی۔ عالمی طاقتیں طویل عرصے تک افغانستان میں اکھاڑ پچھاڑ نہیں کر سکیں گی۔ پاکستان کو اپنے ٹارگٹ پر نظر رکھتے ہوئے اپنے کارڈز استعمال کرنا ہوں گے۔ افغانستان کی اہمیت پاکستان کے لیے ہمیشہ قائم رہے گی اور افغانستان کا مستقبل ہمیشہ پاکستان سے وابستہ رہے گا۔
چین میں مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت
اولیور آگسٹ
مسلمان دہشت گردوں کا واسطہ کل سزائے موت دینے والے عملے (Death squad)سے تھا۔ شراب کے اثر سے ان کے حواس بجا نہیں تھے اور قہقہے لگاتے ہجوم کے درمیان میں سے انہیں ایک کھلی گاڑی پر سزائے موت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ چین کے شمال مغربی علاقے کاشغر میں سہ پہر کی روشن دھوپ میں کئی درجن مسلمان قیدی نیلی گاڑیوں پر قطار میں کھڑے تھے۔ ان کے حواس بجا نہیں تھے اور وہ اپنے ارد گرد سے تقریباً بے خبر تھے۔ ماؤزے تنگ کے ۱۰۰ فٹ اونچے مضبوط مجسمے کے نیچے کھڑے یہ قیدی، جن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں، آہستہ آہستہ لڑکھڑا رہے تھے اور سفید دستانوں والے سپاہی انہیں سہارا دے رہے تھے۔ ان کی آنکھیں بے حد سرخ تھیں اور ان کی گھورتی ہوئی لیکن خالی نظریں ان کی پریشان فکری پر دلالت کر رہی تھیں۔ انہیں احساس نہیں تھا کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر ان کا سامنا جلاد سے ہونے والا ہے۔ ان کے عقیدے کی انتہائی تذلیل کرتے ہوئے انہیں ان کے آخری کھانے کے ساتھ شراب پلائی گئی تھی۔بظاہر ان لوگوں کو ترکی اکثریت کے صوبے سنکیانگ میں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کے لیے لڑتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند کئی سالوں سے مسلم اکثریت کے اس علاقے کو چین کے قبضے سے چھڑا کر یہاں ’’مشرقی ترکستان‘‘ کے نام سے ایک نیا ملک قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغانستان اور مغرب کے مابین حالیہ تصادم نے اسلامی جوش وجذبے کو اور ہوا دی ہے۔ بہت سے مقامی لوگ طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک بیجنگ اور واشنگٹن کے ’’کافروں‘‘ میں کوئی فرق نہیں۔
افغانستان کی صورت حال کے ممکنہ اثرات کے خدشے کے پیش نظر بیجنگ کی وفادار ایلیٹ فوج گزشتہ ہفتے سے یہاں تعینات ہے۔ اس بحران نے چینی حکمرانوں کو مزید سختی کے ساتھ علیحدگی پسندوں کو کچلنے کا موقع فراہم کیا ہے اور گزشتہ روز بیجنگ حکومت کے سرکاری عہدیداروں نے سزائے موت سے کچھ پہلے کے ان غم ناک لمحات کو ایک سیاسی اجتماع میں تبدیل کر دیا۔مسلمان قیدیوں کی گاڑیوں کی قطار کے سامنے کمیونسٹ پارٹی کے سینکڑوں ارکان ترتیب سے بنی ہوئی قطاروں میں بیٹھے تھے اور صدر ژیانگ زیمن (Jiang Zemin)کے (آہنی عزم کا) حوالہ دیتی ہوئی خون جما دینے والی تقریروں کی داد دے رہے تھے۔ بینروں، جھنڈوں اور پراپیگنڈا کا مقصد پورا کرتی ہوئی تصویروں میں گھرے ہوئے مسلمان قیدی خاموشی کے ساتھ (اپنے ذہنوں پر چھائی ہوئی) شراب کی دھند کے پار دیکھنے کی کوشش رہے تھے۔ یہ دل دہلا دینے والا منظر جس نے شہر کے مین روڈ کو بلاک کررکھا تھا، ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ پھر ایک پولیس کا سائرن بجنے کے بعد گاڑیوں کے قافلے نے اپنا سفر شروع کر دیا۔ لبریشن سٹریٹ کے دونوں طرف موجود ہزاروں تماشائی گزرتی گاڑیوں کو دیکھنے کے لیے آگے بڑھنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ سزائے موت کے میدان کو جاتے ہوئے قیدیوں کوآمنے سامنے دیکھ کر کئی لوگ بے چین لیکن بظاہر ہنس رہے تھے۔ صرف چند بچے، جنہوں نے اپنی باپردہ ماؤں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، ہجوم سے پیچھے ہٹ گئے۔ قیدی کچھ بھی نہیں بول رہے تھے۔ سب کی گردن میں ایک بڑا سا اشتہار لٹکا ہوا تھا جو چینی زبان کے بجائے مقامی ترکی زبان میں لکھا گیا تھا۔ ان پر ان قیدیوں کے جرائم لکھے ہوئے تھے جن میں عوامی امن وامان کو خراب کرنا اور دوسرے عام قسم کے جرائم شامل ہیں۔ ایک آدمی نے بتایا کہ ان میں سے دو قیدیوں کو تو ابھی سزائے موت دے دی جائے گی جبکہ باقی واپس جیل میں چلے جائیں گے۔
پیپلز سکوائر کے نزدیک جہاں سڑک تقسیم ہو جاتی ہے، قافلہ بھی تقسیم ہو گیا اور زیادہ تر گاڑیاں مقامی پولیس اسٹیشن کی جانب روانہ ہو گئیں جو شہرکی خستہ حال دیوار کے ساتھ واقع ہے۔ میں نے ایک ٹیکسی میں دوسری طرف جانے والے قافلے کا تعاقب کیا جو پولیس کی کچھ کاروں اور صرف ایک گاڑی پر مشتمل رہ گیا تھا جس پر دونوں بد نصیب قیدی سوار تھے۔ ہجوم اب بھی میلوں تک سڑک کے دونوں جانب کھڑا تھا۔ غالباً بہت سے تماشائیوں کو ان کے افسروں کی طرف سے حکم تھا کہ وہ اس خاص موقع پر موجود رہیں جس کا انتظام پارٹی عہدیداروں نے سوچے سمجھے پروگرام کے تحت لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے کیا تھا۔ صحرا میں واقع اس سرسبز اور قدیم شہر میں سلک روڈ پر ہم کئی مسجدوں کے سامنے سے گزرے۔ پٹرول اسٹیشن پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ قیدیوں سے بھری ہوئی ایسی گاڑیاں وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ دیکھ چکا ہے۔ ہموار سڑک جس کے دونوں جانب درخت اور مٹی کے جھونپڑے بنے ہوئے تھے، صحرا کے کنارے تک جا رہی تھی۔ شہر کے اختتام پر گاڑی اچانک ایک ملٹری ٹریننگ گراؤنڈ میں داخل ہو گئی۔دونوں بد قسمت قیدی صحرائے کاشغر کے پار چین اور افغانستان کے درمیان حائل پہاڑی سلسلے پر آخری نظر ڈال سکتے تھے۔ جب انہیں گاڑی سے اتارا گیا تب بھی ان کے ہاتھ ان کی کمر کے پیچھے بندھے ہوئے تھے ۔ میں نے سزائے موت کا منظر نہیں دیکھا البتہ اس کے فوراً بعد پہنچ کر میں نے ایک عینی شاہد سے گفتگو کی۔ اس نے بتایا کہ ان کی گردن کے پچھلی حصے میں گولی ماری گئی اور سارا کام صرف تین منٹ میں مکمل ہو گیا۔ مقامی رواج کے مطابق یہ گولی مجرم کے خاندان کو بھیج دی جائے گی تاکہ وہ آئندہ نسلوں کے لیے وارننگ بن سکے۔
(ڈیلی ’’دی ٹائمز‘‘، ۲۶ ستمبر ۲۰۰۱)
(ترجمہ: ادارہ)
سیدنا عمرؓ اور قتلِ منافق کا واقعہ
محمد عمار خان ناصر
ہمارے معاشرے میں پیشہ ور اور غیر محتاط واعظین نے جن بے اصل کہانیوں کو مسلسل بیان کر کر کے زبان زدِ عام کر دیا ہے، ان میں سے ایک سیدنا عمرؓ کے ایک منافق کو قتل کرنے کا واقعہ بھی ہے۔ زیر نظر سطور میں محدثانہ نقطہ نظر سے اس واقعہ کی پوزیشن کو واضح کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے کی تفصیل میں حافظ ابن کثیرؒ نے سورۃ النساء کی آیت ۶۵ کے تحت دو روایتیں نقل کی ہیں:
پہلی روایت ابن مردویہؒ اور ابن ابی حاتم ؒ کے حوالے سے ہے جس کی سند حسب ذیل ہے: یونس بن عبد الاعلی اخبرنا ابن وھب اخبرنا عبد اللہ بن لہیعۃ عن ابی الاسود
دوسری روایت حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن عبد الرحمن کی تفسیر کے حوالے سے نقل کی گئی ہے جس کی سند یہ ہے : حدثنا شعیب بن شعیب حدثنا ابو المغیرۃ حدثنا عتبۃ بن ضمرۃ حدثنی ابی
حکیم ترمذی نے ’نوادر الاصول‘ میں یہی واقعہ کسی سند کے بغیر مکحولؒ سے نقل کیا ہے اور ’نوادر‘ کے حوالے سے حافظ سیوطیؒ نے بھی اس واقعے کو ’الدر المنثور‘ میں درج کیا ہے۔ (۱)
حافظ ابو اسحاقؒ کی تفسیر میں منقول روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے‘ آپ نے حق دار کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ مقدمہ ہارنے والا کہنے لگا کہ میں اس فیصلے پر راضی نہیں ہوں۔ دوسرے فریق نے کہا کہ اب کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا‘ ابو بکرؓ صدیق کے پاس چلو۔ دونوں ان کے پاس گئے اور مقدمہ جیتنے والے نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ کیا ہے۔ ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میرا فیصلہ بھی یہی ہے۔ لیکن دوسرا فریق اس پر بھی راضی نہ ہوا اور کہنے لگا کہ اب ہم حضرت عمرؓ کے پاس جاتے ہیں۔ (ان کی خدمت میں حاضر ہو کر) مقدمہ جیتنے والے نے ان سے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ کیا ہے‘ لیکن یہ ماننے سے انکار کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس شخص سے اس بات کی تصدیق کی۔ پھر اندر گئے‘ تلوار ہاتھ میں لے کر باہر آئے اور اس شخص کی گردن اڑا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فی ما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما‘‘ (آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم مان لیں اور پھر آپ جو فیصلہ فرمائیں، اس سے دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کو پوری طرح سے تسلیم کر لیں)(۲)
ابن مردویہؒ سے منقول روایت کے آخر میں اس پر حسبِ ذیل اضافہ ہے:
’’دوسرا شخص بھاگا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ‘ عمر نے تو میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے اور اگر میں بھاگ نہ آتا تو مجھے بھی قتل کر دیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر سے مجھے یہ توقع نہ تھی کہ وہ ایک مومن کو قتل کر ڈالے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اپنے جھگڑوں میں فیصل تسلیم نہ کر لیں اور پھر آپ کے فیصلے کے خلاف دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کریں۔ چنانچہ آپ نے اس آدمی کے خون کو رائیگاں قرار دیا اور عمرؓ سے قصاص نہ لیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں دوسرے لوگ بھی اس طریقے پر عمل نہ کرنے لگیں‘ اگلی آیت میں فرمایاکہ اگر ہم ان پرلازم کر دیں کہ اپنی جانوں کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے چند ہی لوگ اس حکم کی تعمیل کریں گے۔ ‘‘ (۳)
نوادر الاصول میں مکحولؒ کی روایت کے مطابق اس واقعے کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا :
’’یا رسول اللہ! عمرؓ نے اس آدمی کو قتل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق اور باطل کے مابین فرق کو واضح کر دیا ہے۔ چنانچہ عمرؓ کو فاروق کا لقب دیا گیا۔‘‘ (۴)
یہ واقعہ روایت واسناد کے لحاظ سے نہایت کمزور اور ناقابل استدلال جبکہ درایت کے لحاظ سے بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔
پہلے سند کو لیجیے:
۱۔ نوادر الاصول کی روایت تو، جیسا کہ عرض کیا گیا، کسی سند کے بغیر صرف مکحولؒ سے منقول ہے جو تابعی ہیں اور کسی صحابی کے واسطے کے بغیر روایت نقل کر رہے ہیں۔ان کے بارے میں محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ اکثر تدلیس کرتے ہوئے صحابہؓ سے روایات نقل کر دیتے ہیں حالانکہ وہ روایات خود ان سے نہیں سنی ہوتیں۔ (۵)
۲۔ ابن مردویہؒ اور ابن ابی حاتمؒ کی نقل کردہ روایت بھی منقطع ہے کیونکہ اس کے آخری راوی ابو الاسود محمد بن عبد الرحمن نوفل ہیں جو تابعی ہیں۔ محدث ابن البوقی فرماتے ہیں کہ اگرچہ زمانی لحاظ سے امکان موجود ہے لیکن عملاً کسی صحابی سے ان کی کوئی روایت ہمارے علم میں نہیں۔ (۶)
علاوہ ازیں ا س سند میں عبد اللہ بن لہیعۃجیسا بدنام ضعیف راوی موجود ہے۔ اس کے بارے میں علماء حدیث کے اقوال درج ذیل ہیں:
’’امام نسائی فرماتے ہیں‘ ثقہ نہیں ہے۔ ابن معین کہتے ہیں‘ کمزور ہے اور اس کی حدیثیں ناقابل اعتبار ہیں۔ خطیب کہتے ہیں‘ اس کے متساہل ہونے کی وجہ سے اس کے ہاں منکر روایات کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ امام مسلم فرماتے ہیں کہ ابن مہدی‘ یحییٰ بن سعید اور وکیع نے اس کی روایت لینے سے انکار کیا ہے۔ حاکم کہتے ہیں‘ بے کار احادیث بیان کرتا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں‘ میں نے اس کی روایات کو جانچ پرکھ کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تدلیس کرتے ہوئے درمیان کے کمزور راویوں کو حذف کر کے براہ راست ثقہ راویوں سے روایت نقل کر دیتا ہے۔‘‘ (۷)
۳۔ حافظ ابو اسحاق کی نقل کردہ روایت بھی منقطع ہے کیونکہ آخری راوی ضمر ۃ بن حبیب تابعی ہیں اور صحابی کا واسطہ موجود نہیں ۔ نیز سند کے ایک راوی ابو المغیرہ عبد القدوس بن الحجاج الخولانی کے بارے میں ابن حبانؒ کی رائے یہ ہے کہ وہ حدیثیں گھڑ کر ثقہ راویوں کے ذمے لگا دیتا ہے۔ (۸)
ازروئے درایت ان روایتوں پر حسب ذیل اعتراض وارد ہوتے ہیں:
ایک یہ کہ اگر مذکورہ واقعہ درست ہوتا تو سیدنا عمرؓ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کا ایک سنہری موقع مدینہ منورہ کے منافقین کے ہاتھ آ جاتا اور وہ بھرپور طریقے سے اس کی اشاعت او ر تشہیر کرتے۔ چنانچہ ایسے واقعے کو‘ منطقی طور پر‘ کتب تاریخ وسیرت میں نمایاں طور پر مذکور ہونا چاہئے۔ جبکہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ تاریخ اور تفسیر کی معرو ف اور قدیم کتابوں میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں ۔ امام ابن جریر طبریؒ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر آیت کے شان نزول سے متعلق تمام اقوال وروایات کا احاطہ کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس واقعہ کی طرف ادنیٰ اشارہ تک نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن کثیرؒ نے اس کو غریب جدا کہا ہے ۔ اصول حدیث کی رو سے ایسے معروف واقعات کی روایت میں خبر واحد معتبر نہیں ہوتی۔
دوسرے یہ کہ اس میں سیدنا عمرؒ جیسی محتاط‘ سمجھ دار اور حدود اللہ کی پابند شخصیت کو ایک مغلوب الغضب (Rash) انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ سیدنا عمرؓ دین کے معاملے میں نہایت باحمیت اور غیرت مند تھے‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے ایسے کسی موقعے پر حد سے تجاوز نہیں کیا بلکہ کسی بھی اقدام کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی۔ چنانچہ یہ روایت واضح طور پر ان دین دشمن عناصر کی وضع کردہ معلوم ہوتی ہے جن کا مقصد اکابر صحابہ کرامؓ کی شخصیات کو مسخ کرنا اور انہیں داغ دار شکل میں پیش کرنا ہے۔
تیسرے یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف عدل وانصاف کے تقاضوں کے برخلاف جانب داری کی نسبت لازم آتی ہے۔ اگر سیدنا عمرؓ نے اس شخص کو قتل کیا تو یہ واقعتا ایک خلاف شرع اقدام تھا کیونکہ اس شخص نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا جس پر وہ قتل کا مستحق ہوتا۔ اس کا لازمی نتیجہ قصاص تھا لیکن روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ جرم واقعتا سزائے موت کا مستحق تھا تو پھر اس کو ایک واضح ضابطے کی شکل میں بیان کر کے آئندہ کے لیے بھی اجازت (Sanction) دے دینی چاہیے تھی۔ اور اگر یہ قتل درست نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ کسی ایک شخص کی رعایت کرتے ہوئے، چاہے وہ کتنا ہی عظیم المرتبت ہو، عدل وانصاف کے تقاضوں کو معطل کر دے۔
حوالہ جات
(۱) نوادر الاصول، ۱/۲۳۲۔ الدر المنثور، ۲/۱۸۱
(۲) تفسیر القرآن العظیم‘ ۱/ ۵۲۱
(۳) نفس المصدر،
(۴) نوادر الاصول، ۱/۲۳۲
(۵) تہذیب التہذیب، ۱۰/۲۹۲
(۶) نفس المصدر، ۹/ ۳۰۸
(۷) نفس المصدر، ۵/ ۳۷۸‘ ۳۷۹
(۸) الکشف الحثیث، ۱/۱۷۱
لندن میں ’’قرآنی موضوعات‘‘ کی تعارفی تقریب
مولانا محمد عیسی منصوری
(برطانیہ کے معروف مسلم دانش ور اور ماہر اقبالیات پروفیسر محمد شریف بقا صاحب نے قرآن کریم کی آیات کو موضوعات اور عنوانات کے حوالے سے ایک ہزار کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب ’’قرآنی موضوعات‘‘ میں ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے جو ایک اچھی پیش کش ہے اور علم وعرفان پبلشرز، ۷۔سی ماتھر سٹریٹ، ۹۔ لوئر مال لاہور نے اسے شائع کیا ہے۔ ۱۲ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو رابطہ عالم اسلامی لندن کے دفتر میں اس کتاب کی تعارفی تقریب سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ ادارہ)
صدر محترم ومعزز سامعین!
لندن کے ادبی وعلمی حلقوں میں پروفیسر محمد شریف بقا صاحب کی ہستی پاکستان کی تاریخی تہذیب، علم وآگہی، تصوف وکلام اور فلسفیانہ انداز لیے ہوئے ایک منفرد وممتاز مقام کی حامل ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کی فکر اور کلام سے بقا صاحب کی ارادت وعقیدت عشق کے درجے کو پہنچی ہوئی ہے۔ آپ نے علامہ اقبال کے کلام اور فکر کو اپنی تحقیق اور غور وخوض کا مرکز ومحور بنایا ہے ۔ یورپ اور امریکہ کی حد تک یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہاں کے علمی وادبی حلقوں میں آپ کا فکر وفن اور علمی، ادبی اور تحقیقی مقام مسلم ہے۔ آپ کی ہستی ادب وشاعری، فکری وتحقیقی اور علمی ودینی تمام حلقوں میں معروف ومحترم مانی جاتی ہے۔ آپ اپنے جذبِ دروں کے ساتھ طویل عرصہ سے برطانیہ میں فکر وتحقیق اور علامہ اقبال کے کلام کی تفہیم وتشریح میں سنجیدگی ویکسوئی سے منہمک ہیں۔ مغرب خصوصاً برطانیہ میں نئی نسل کے لیے شاعر مشرق علامہ اقبال کے کلام اور فکر کی تفہیم وتشریح کا قابل قدر کام آپ کے قلم سے وجود میں آیا۔ آپ اپنے مرشد علامہ اقبال کی طرح فروعی نزاعات سے اجتناب برتتے ہوئے اسلام کی اساسی تعلیمات کو اشاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ آپ کی دو درجن کے قریب تصانیف علم دوست حلقوں سے دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ بندہ تقریباً تین دہائیوں سے روزنامہ جنگ میں بقا صاحب کے بصیرت افروز اور فکر انگیز مقالات ومضامین کا قاری ہے اور تقریباًدو دہائیوں سے آپ سے تعارف وشناسائی حاصل ہے۔ آپ کی بیشتر تصانیف نظر سے گزری ہیں۔ آپ کی بے نظیر تصنیف ’’اقبال اور تصوف‘‘ پر مجھے تبصرہ اور اظہار خیال کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ جب بقا صاحب کے متعلق غور کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ حضرات صوفیاء کرام کا خلوص وبے لوثی، سادگی ووقار، درد مندی وسنجیدگی بقا صاحب کی شخصیت میں رچ بس گئے ہیں۔
اسلام کی ۱۴ سو سالہ تاریخ میں عربی کے بعد فارسی صدیوں سے اسلامی فکر وفلسفہ، علوم وآگہی، ادب وشاعری کے اظہار کا ذریعہ رہی ہے اور برصغیر میں تقریباً گزشتہ ہزار سالہ علمی وفکری خزانوں کی امین ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری کا بھی بڑا حصہ جو آپ کے فکر وفلسفہ کا نقطہ عروج ہے، فارسی ہی میں ہے۔ پروفیسر محمد شریف بقا صاحب کا فارسی مطالعہ خصوصاً فارسی زبان کے مفکرین، فلاسفہ، ادبا اور شعرا کا مطالعہ نہایت عمیق ووسیع ہے۔ اب تو طبقہ علما میں بھی فارسی میں گہری بصیرت رکھنے والے نایاب ہو چکے ہیں۔ اس جہت سے برطانیہ ویورپ میں شاید ہی بقا صاحب کی نظیر ملے۔ بقا صاحب اردو وفارسی دونوں زبانوں کے قادر الکلام شاعر ہیں۔ حمد ونعت میں بھی ان کا جداگانہ رنگ ہے۔
اقبال کے متعلق مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندویؒ نے شہادت دی ہے کہ اس سو سال میں جدید طبقہ نے اقبال سے بڑا دیدہ ور پیدا نہیں کیا۔ وہ عصر حاضر کے مشرق کے سب سے بڑے مفکر وفلسفی ہیں۔ رشید احمد صدیقی مرحوم نے بالکل صحیح کہا ہے کہ اقبال کا کلام اس صدی کا علم کلام ہے۔ اقبال کے فکر وکلام کی خصوصیات میں عشق رسول، قرآن سے شغف اور حضرات صوفیاء کرام کا سوز وساز شامل ہیں۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی نے بہت صحیح کہا ہے کہ اقبال پر دنیا کے بڑے مذہب کی گرفت اتنی نہیں جتنی ایک بڑی شخصیت کی ہے۔ وہ با خدا دیوانہ باش وبا محمد ہوشیار کا مصداق ہے اور اس کی شاعری وکلام کا خلاصہ ہے: ’’قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں‘‘ اور صوفیاء کا جذب دروں، سوز ومعنی اس کے شعر شعر سے ٹپکتا ہے۔ یہی خصوصیات برطانیہ ومغرب میں اقبال کے سب سے بڑے شارح وترجمان پروفیسر محمد شریف بقا صاحب کی ہیں۔ آپ کی دو درجن کے قریب تصانیف میں سب سے نمایاں اور بے مثال انہی تین موضوعات پر ہیں۔ سب سے طویل ’’قرآنی موضوعات‘‘ جو تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے، دوسری ’’رسول اکرم ﷺ مغربی اہل دانش کی نظر میں‘‘ اور تیسری ’’اقبال اور تصوف‘‘۔
مولانا ندویؒ لکھتے ہیں: ’’اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب قرآن مجید اس قدر اثر انداز ہوئی ہے کہ اتنا وہ کسی شخصیت سے متاثر ہوئے نہ کسی کتاب سے لیکن اقبال کا قرآن پڑھنا عام لوگوں کے قرآن پڑھنے سے بالکل مختلف رہا ہے۔ آپ کے والد گرامی نے (جو ایک باصفا درویش تھے) اقبال کو بچپن میں جب وہ صبح روزانہ قرآن پڑھنے بیٹھے، تلقین کی تھی کہ قرآن اس طرح پڑھا کرو جیسے قرآن اس وقت تم پر نازل ہو رہا ہے۔ اس کے بعد اقبال نے قرآن کو اس طرح پڑھنا شروع کیا گویا وہ واقعی اس وقت نازل ہو رہا ہے۔ ایک شعر میں وہ اس کا اظہار یوں فرماتے ہیں:
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
اقبال نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور وفکر اور تدبر وتفکر کرنے میں گزاری۔ وہ ان کی محبوب ترین کتاب تھی جس سے انہیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا۔ اس سے انہیں ایک نیا یقین، نئی قوت وتوانائی حاصل ہوتی۔ جوں جوں ان کا مطالعہ قرآن بڑھتا گیا، ان کی فکر میں بلندی پیدا ہوتی گئی۔ موجودہ دور کی ظلمتوں میں اس نے قرآن کے بعد مولانا روم کو اپنا رہنما ومرشد بنایا۔ جس طرح مولانا روم کے دور میں فلسفہ یونان عقلوں پر چھا گیا تھا، حتیٰ کہ علما بھی اس سے ہٹ کر سوچ نہیں سکتے ہیں۔ مولانا روم نے اپنی مثنوی کے ذریعے سے ایمان وایقان، عشق وسرور، سوز وساز کا پیغام دیا۔ اسی طرح اقبال کو بھی مغرب کے مادی وعقلی اور بے روح وبے خدا افکار ونظریات سے سابقہ پڑا۔ مادہ وروح کی کشمکش پورے عروج کے ساتھ سامنے آئی۔ اس قلبی اضطراب وذہنی انتشار کے موقع پر اقبال کومولانا روم نے بہت کچھ سہارا دیا۔ انہوں نے مولانا روم کو اپنا کامل رہنما تسلیم کیا اور صاف اعلان کیا کہ عقل وخرد کی ساری گتھیاں جسے یورپ کی مادیت نے الجھا رکھا ہے، اس کا حل صرف آتش رومی کے سوز ساز میں پنہاں ہے:
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
اقبال کو عصر حاضر کے علما ودانش وروں، مفکرین وفلاسفہ سے سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ کر فلسفہ یونان اور روح کو چھوڑ کر الفاظ کی پرستش شروع کر دی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلمان براہ راست کتاب اللہ کا مطالعہ کریں اور اس کے علوم وحکمت سے مستفید ہوں۔
قرآن دنیا کی واحد کتاب ہے جس نے نوع انسانی کے افکار، اخلاق وتہذیب اور طرز زندگی پر اتنی وسعت، اتنی گہرائی اور اتنی ہمہ گیری کے ساتھ اثر ڈالا ہے جس کی کوئی نظر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ پہلے اس کی تاثیر نے ایک قوم کو بدلا اور پھر اس قوم نے اٹھ کر دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کو بدل ڈالا۔ یہ کتاب صرف کاغذ کے صفحات پر لکھی نہیں رہ گئی بلکہ عمل کی دنیا میں اس کے ایک ایک لفظ نے خیالات کی تشکیل کی اور مستقل تہذیب کی تعمیر کی۔ ۱۴۰۰ برس سے اس کے ان اثرات کا سلسلہ جاری ہے اور روز بروز اس کے یہ اثرات پھیلتے جا رہے ہیں۔ یہ پورے نظام زندگی کانقشہ پیش کرتی ہے جس میں عقائد، اخلاق، تزکیہ نفس، عبادات، معاشرت، تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، عدالت، قانون غرض حیات انسانی کے ہر پہلو سے متعلق ایک نہایت مربوط ضابطہ بیان کرتی ہے۔ یہی نہیں، قرآن جو تصور کائنات وانسان پیش کرتا ہے، وہ تمام مظاہر اور واقعات کی مکمل توجیہ کرتا ہے۔ وہ ہر شعبہ علم میں تحقیق کی بنیاد بن سکتا ہے۔ جن حقائق کو علم کی حیثیت سے وہ پیش کرتا ہے، ان میں سے کسی ایک کو بھی آج تک غلط ثابت نہیں کیا جا سکا۔ فلسفہ وسائنس اور علوم عمران کے تمام آخری مسائل کے جوابات اس کے کلام میں موجود ہیں اور سب کے درمیان ایسا منطقی ربط ہے کہ ان پر ایک مکمل، مربوط اور جامع نظام فکر قائم ہوتا ہے۔ جو وسیع وجامع نظام اس کتاب میں پایا جاتا ہے، وہ اس زمانہ کے اہل عرب، اہل روم ویونان وایران تو درکنار، اس بیسیویں اور اکیسویں صدی کے علم سائنس کے دعوے داروں میں بھی کسی کے پاس نہیں ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ فلسفہ وسائنس اور علم عمران کی کسی ایک شاخ کے مطالعہ میں اپنی عمر کھپا دینے کے بعد آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ اس شعبہ علم کے آخری مسائل کیا ہیں اور پھر جب غائر نگاہ سے قرآن کو دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں ان تمام مسائل کا واضح جواب موجود ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک علم تک محدود نہیں ہے بلکہ ان تمام علوم کے باب میں صحیح ہے جو کائنات اور انسان سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔
چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی عربی زبان کا معیار فصاحت وہی ہے جو اس کتاب نے قائم کر دیا تھا حالانکہ اتنی مدت میں زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جو اتنی طویل مدت تک املا، انشاء ومحاورہ، قواعد زبان اور استعمال الفاظ میں ایک ہی شان پر باقی رہ گئی ہو لیکن یہ صرف قرآن کی طاقت ہے جس نے عربی زبان کو اپنے مقام سے ہٹنے نہ دیا۔ اس کا ایک لفظ بھی آج تک متروک نہیں ہوا۔ اس کا ہر محاورہ آج تک عربی ادب میں مستعمل ہے۔ اس کا ادب آج بھی عربی کا معیاری ادب ہے اور تقریر وتحریر میں آج بھی فصیح زبان وہی مانی جاتی ہے جو چودہ سو سال پہلے قرآن میں استعمال ہوئی۔
صدیوں سے ہمارے زوال ونکبت اور تنزل وپستی کی سب سے بڑی وجہ اقبال کے الفاظ میں یہ ہے:
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
یہ دراصل قرآن مجید کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے: وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ہذا القرآن مہجورا۔ ’’جب رسول شکایت کریں گے کہ اے میرے رب، میری قوم نے قرآن کو پس پشت ڈال رکھا تھا۔‘‘
دیکھا جائے تو قرآن پاک کی یہ آیت ایک معجزہ ہے اور ایک پیش گوئی بھی۔ اس میں ہمارے اس دور کی ہوبہو تصویر پیش کی گئی ہے۔ دورِ نبوت میں قرآن ہر مسلمان کا حرزِ جاں بنا ہوا تھا۔ ہر کلمہ گو کا شغف وانہماک دنیا میں کسی کتاب سے تھا تو وہ صرف قرآن تھی۔ بد قسمتی سے جوں جوں دورِ نبوت سے دوری ہوتی گئی، مسلمانوں کا انہماک ومشغولیت کتاب اللہ کے بجائے انسانی علوم وفنون اور کتابوں سے بڑھتی گئی۔ خاص طور پر برصغیر میں چونکہ اسلام براہ راست حجاز کے بجائے ایران وترکستان کی راہ سے پہنچا، اس لیے وہاں شروع ہی سے قرآن وسنت کے بجائے عجمی وایرانی علوم وافکار، فلسفوں اور نظریات کا غلبہ رہا۔ اس کے بعد مغل دور میں ہمایوں کے شاہ ایران کے زیر بار احسان ہونے کے بعد تو فلسفہ ومنطق انسانی افکار ونظریات، اسرائیلی داستانوں اور کہانیوں کا بند کھل گیا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے نصاب تعلیم کا نوے فی صد حصہ انہی انسانی علوم وفنون، فلسفوں اور نظریات کا مرقع رہا ہے۔ قرآن کے حق میں سب سے موثر آوازحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بلند کی مگر اس وقت سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد علمی مرکز ثقل دہلی سے لکھنو منتقل ہو چکا تھا جہاں مکمل طور پر ایرانی فکر کے حامل شیعی حکمرانی قائم ہو چکی تھی اس لیے ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ بد قسمتی سے اب تک ہمارے دینی مدارس میں وہ نصاب تعلیم کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے جس کی اصل بنیاد مشہور ایرانی حکیم وفلسفی فتح اللہ شیرازی نے رکھی تھی جس کا بیشتر حصہ علوم قرآن کے بجائے عجمی فلسفوں، منطق، حکمت وعلم کلام پر قائم ہے جن کا تعلق انسان کے عمل وکردار کے بجائے ذہنی ودماغی ورزش پر ہے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کی تفسیروں کا تعلق زیادہ تر انہی آیات سے تھا جو امر ونہی پر مشتمل ہیں ۔ اور وہ آیات جن کا براہ راست تعلق انسانی عمل وکردار سے نہیں، ان کی تفصیل میں جانے اور ان کی تعبیر وتفسیر کرنے میں وہ بہت احتیاط سے کام لیتے۔ تفسیر ابن عباسؓ اور تفسیر ابن کعبؓ کا بیشتر حصہ قرآن کے مفرد وغریب الفاظ کی تشریح سے تعلق رکھتا ہے یا آیاتِ احکام کے تعلق سے کوئی حدیث انہیں معلوم ہوئی تو وہ ان آیات کی تشریح وتوضیح میں بیان کر دی جاتی۔ رہے اعتقادی مسائل یا اسرار کائنات تو اس باب میں صحابہ کرامؓ سے بہت کم چیزیں منقول ہیں۔ دور تابعین میں پہلی بار ایرانیوں اور رومیوں کے ساتھ اختلاط کے بعد عجمی افکار کی دخل اندازی اور باطل افکار ونظریات کے سبب سے انتشار ذہنی پیدا ہونا شروع ہوا۔ دوسری طرف یونانی فلسفہ سے لوگ روشناس ہونے لگے۔ تیسری طرف مختلف معاشرتی، معاشی وسیاسی نوعیت کے پیچیدہ مسائل سامنے آئے۔ اس وقت ان کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ لوگوں کو ذہنی کشمکش اور کج بحثی سے بچا کر براہ راست قرآن وسنت کی اتباع پر ڈالا جائے جس کی بکثرت مثالیں قاضی شریحؒ ، ابراہیم نخعیؒ ، مجاہدؒ ، عطاؒ ، ابن سیرینؒ اور مکحولؒ کے تفسیری نکات میں ملتی ہے۔ اس دور میں نئے مسائل میں اجتہاد کثرت سے ہوا مگر تضاد یا مناظرانہ رنگ پیدا نہیں ہوا۔ اس کے بعد تبع تابعینؒ کے دور میں سارے باطل افکار کھل کر سامنے آئے جو اس سے پہلے جھجھکتے ہوئے سامنے آئے تھے۔ ایک طرف سبائیت وخارجیت، رفض واعتزال اپنے اپنے مقاصد کے لیے قرآن وسنت کو استعمال کرنے میں تیز گام ہوئے۔ دوسری طرف یونانی افکار سے متاثر لوگ عوام کے ذہنوں کو مسموم کر رہے تھے اور قرآن کی تفسیر یونانی فلسفہ کے ماتحت کر رہے تھے۔ ان فکری ونظری فلسفوں کے مقابلے پر ابو عمر بن العلاءؒ ، شعبہ بن الحجاجؒ ، سفیان ثوریؒ ، امام مالکؒ ، یونس بن حبیبؒ ، وکیع بن الجراحؒ وغیرہ نے تفسیر بالماثور یا تفسیر بالاحادیث والآثار کر کے لوگوں کو راہ حق پر قائم رکھنے کی کوشش کی لیکن جو لوگ عجمی ایرانی ویونانی افکار سے پوری طرح متاثر ہو چکے تھے، انہوں نے عقلیت، اعتزال اور یونانی فلسفہ واشراق کے رنگ میں تفسیریں کیں۔
غرض تفسیر قرآن میں اصل خرابی اس وقت ہوئی جب اسلامی تہذیب غیر اسلامی تہذیبوں اور افکار وفلسفوں سے دوچار ہوئی تو قرآن کی تفسیر مفسرین کے عقلی شعبدوں کی مینا کاری ہو گئی۔ اس کا آغاز یونانی فلسفہ کی اساس پر ہوا۔ اموی وعباسی خلفا کے دور میں درباروں میں یونان کے حکما سقراط،افلاطون اور ارسطو وغیرہ کی تعلیمات ترجمہ ہو کر پہنچنے لگیں۔ ادھر مسلمان حکما وفلاسفہ نے قرآن پاک کی تعلیمات کو ان یونانی فلاسفہ کے افکار سے مناسبتیں دینی شروع کیں۔ مزید برآں ایران کی زرتشتی تعلیمات اور ہندوستان سے اپنشدوں کے تصورات بعض مسلمان حکما وفلاسفہ کے دماغوں میں جگہ پا گئے۔ تفسیر قرآن میں ان کے تراجم عجمی علم وفن کا نقطہ آغاز تھے۔ اس سے پہلے عرب صرف شاعری سے آشنا تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن پاک کی تفسیر میں یونانی وایرانی اور ہندوستانی الٰہیات کا تصور اور اس تصور کے تحت کائنات اور انسان کے متعلق عقلی استدلال راہ پا گیا اور وہ تمام بحثیں قرآن پاک کی تفسیر کا جز ہو گئیں جو قرآن کے مقصد اور دعوت سے خارج تھیں۔ امام رازیؒ اشعری نے جو کچھ لکھا، امام غزالیؒ نے اس باب میں جن خیالات کا اظہار کیا، الجصاصؒ اور زمخشریؒ معتزلی نے تفسیر بالرائے کی جو بنیاد قائم کی، وہ قرآن پاک کی فطرہ وسادہ دعوت وتعلیمات کو اٹھا کر دقیق فلسفیانہ مباحث کے طلسم خانے میں لے گئے جس سے ایک پیچیدہ علم کلام پیدا ہو گیا۔ امام رازی کی معرکہ آرا تفسیر کبیر کے متعلق مولانا آزادؒ لکھتے ہیں:
’’اس میں منطق وفلسفہ، حکمت وعلم کلام وغیرہ سب کچھ ہے مگر قرآن نہیں ہے‘‘
امام رازی خود دنیا کے سارے علوم وفنون کی سیر کے بعد اپنی آخری تصنیف میں قم طراز ہیں:
’’میں نے علم کلام اور فلسفہ کے تمام طریقوں کو خوب دیکھا بھالا لیکن بالآخر معلوم ہوا کہ نہ تو ان میں کسی بیمار کے لیے شفا ہے نہ کسی پیاسے کے لیے سیرابی۔ سب سے بہتر اور حقیقت سے نزدیک راہ وہی ہے جو قرآن کی اپنی راہ ہے۔‘‘
غرض فہم قرآن میں تمام تر الجھاؤ اسرائیلیات اور عقلیات کی بدولت پیدا ہوئے جس کا تصنیفی شاہکار امام فخر الدین رازیؒ کی تفسیر کبیر ہے کہ اس کی بدولت قرآن میں شکوک وایرادات کے دروازے اس طرح کھلے کہ ان کا بند ہونا مشکل ہو گیا۔ اس حقیقت کو علامہ اقبالؒ نے ان الفاظ میں واشگاف کیا ہے۔
چوں سرمہ رازی من از دیدہ فروئشتیم
تقدیر امم دیدم پنہاں بہ کتاب اندر
علاجِ ضعفِ یقیں ان سے ہو نہیں سکتا
غریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق
غرض قرآن محض عقل نہیں کہ اس کو عقل سے حل کیا جائے۔ قرآن ایک عشق ہے جو اپنی جوت خود جگا لیتا ہے اور قاری وسامع کو مسحور کرتا ہے۔ عقل دلیل دیتی ہے، اعتقاد نہیں دیتی۔ اعتقاد شخصیت سے پیدا ہوتا ہے جو سیرت کو جلا دینی اور عشق کو لطافت بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ کی زندگی کو عملی قرآن کہا گیا ہے۔ مولانا ابو الکلامؒ ’’تذکرہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’قرآن کی حقیقت سے آشنا ہونے کے لیے بیضاوی وبغوی کی ورق گردانی نہیں بلکہ دل دردمند کے الہام اور جبرئیلِ عشق کے فیضان کی ضرورت ہے۔‘‘
اور دل دردمند کا الہام اور جبرئیلِ عشق کا فیضان اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم قرآن کو نظر وفکر کی اس زبان میں سمجھیں جو احادیث نبوی اور آثار صحابہؓ اور اقوال تابعین کے سانچے میں ڈھلی ہے اور قرآن ہی کے الفاظ ومطالب کی زبان ہے۔ مولانا آزاد اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’قرآن جب نازل ہوا تو اس کے مخاطبوں کا پہلا گروہ ہی ایسا تھا کہ تمدن کے وضعی وصناعی سانچوں میں ابھی اس کا دماغ نہیں ڈھلا تھا۔ فطرت کی سیدھی سادھی فکری حالت پر قانع تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن اپنی شکل ومعنی میں جیسا کہ واقع میں تھا، ٹھیک ٹھیک ویسا ہی ان کے دلوں میں اترتا گیا اور اسے قرآن کے فہم ومعرفت میں کسی طرح کی دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ صحابہ کرامؓ جب پہلی مرتبہ قرآن کی کوئی آیت یا سورت سنتے تھے تو سنتے ہی اس کی حقیقت کو پالیتے تھے لیکن صدر اول کا دور ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ روم وایرن کے تمدن کی ہوائیں چلنے لگیں اور پھر یونانی علوم کے تراجم نے انسانی علوم، فنون وضعیہ کا دور شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جوں جوں وضعیت کا دور بڑھتا گیا، قرآن کے فطری اسلوب سے طبیعتیں ناآشنا ہوتی گئیں۔ رفتہ رفتہ وہ وقت آ گیا کہ قرآن کی ہر بات وضعی وصناعی طریقوں کے سانچوں میں ڈھالی جانے لگی۔ چونکہ ان سانچوں میں وہ ڈھل ہی نہیں سکتی تھی اس لیے طرح طرح کے الجھاؤ پیدا ہونے لگے اور جس قدر کوششیں سلجھانے کی کی گئیں، الجھاؤ اور زیادہ بڑھنے لگا۔‘‘
آگے مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور سے قرون آخر تک جس قدر مفسر پیدا ہوئے، ان کا طریق تفسیر ایک روبہ تنزل معیارِ فکر کی مسلسل زنجیر ہے جس کی ہر پچھلی کڑی پہلی کڑی سے پست تر ہے اور ہر سابق لاحق سے بلند تر واقع ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں جس قدر اوپر کی طرف بڑھتے جاتے ہیں، حقیقت زیادہ واضح، زیادہ بلند اور اپنی قدرتی شکل میں نمایاں ہوتی جاتی ہے اور جس قدر نیچے اترتے ہیں، حالت برعکس ہو جاتی ہے۔ یہ صورت حال فی الحقیقت مسلمانوں کے عام دماغی تنزل کا قدرتی نتیجہ تھی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ قرآن کی بلندیوں کا ساتھ نہیں دے سکتے تو کوشش کی کہ قرآن کو اس کی بلندیوں سے نیچے اتار لیں کہ ان کی پستیوں کا ساتھ دے سکے۔‘‘
بقول اقبال:
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
اس اعتبار سے قرآن دنیا کی مظلوم ترین کتاب ہے۔ چنانچہ علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
’’علما روایت پسند ہوئے تو اسرائیلیات کا شکار ہوئے اور علما عقلیت پسند ہوئے تو یونانیوں کے مزعومات کے اسیر وپابند۔ تمام علماء اسلام میں علامہ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم ہی دو بزرگ ہیں جو ایک طرف روایات کے ناقد ومبصر ہیں تو دوسری طرف یونانی فلسفیات کے نقاد اور ان کے حق وباطل کے واقف کار اور ان کے دل ان سب سے ماورا حکمت محمدی کے ذوق چشیدہ اور ان کے سینے معارف نبوی ﷺ کے گنجینہ ہیں۔ ان کی تفسیر تمام تر حکمت ومصلحت اور حقیقت ومغز پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ حکمت نہیں جو یونان کے صنم کدہ سے اچھلی ہے بلکہ وہ جو حجاز کی نہر کوثر سے بہہ کر نکلی ہو یا جو فطرت انسانی کے ربانی چشموں سے ابلی ہو۔‘‘
جس طرح گزشتہ دور میں مسلمانوں کی علمی تباہی کا راز قرآن کو چھوڑ کر فلسفہ یونان کی دماغی پیروی میں تھا، اسی طرح آج مغربی فکر وتمدن کی اندھی تقلید میں ہے۔ انسان قرآن کی روح تک اس وقت پہنچ سکتا ہے جب اسرائیلیات وعقلیات اور موجودہ مغربی فکر وفلسفہ کی ذہنی آلودگیوں سے دور رہ کر قرآن کو اس کے اپنے ماحول، زبان اور احادیث وآثار کی روشنی میں دیکھے۔ آج قرآن کا مقابلہ بائبل یا تورات سے نہیں اور نہ اس کی ٹکر ہندومت یا بدھ مت ومجوسیت وغیرہ سے ہے بلکہ اسلام کا مقابلہ آج یورپ کے سائنسی وعلمی نظریات وافکار سے ہے جن میں نئی نسل کے لیے ایسا سحر ہے کہ جب تک ان کو مطمئن نہ کیا جائے ہم نئی نسل کو اس سحر سے نہیں نکال سکتے۔ آج یورپ کا ضمیر پھر اصل فطرت اور مذہب کی طرف لوٹنا چاہتا ہے مگر قرآن کے حامل صدیوں سے فلاسفہ یونان کی بھول بھلیاں کے اسیر بن چکے ہیں۔
قرآن کا مخاطب صرف مسلمان نہیں بلکہ نوع انسانی ہے۔ وہ خدا، انسان اور کائنات کے باہمی رشتہ کی گرہ کشائی کرتا ہے۔ وہ انسان کو ایسے اصول اور دستور حیات عطا کرتا ہے جس سے انسانی فکر وعمل میں کوئی کجی نہ رہے۔ قرآن انسانیت کے لیے فلاح وسعادت کی راہ کھولتا ہے اور وہ اپنے خالق کے متعلق انسان کی ابدی جستجو اور اس سارے سفر کی آخری منزل کا سنگِ میل ہے۔ انسان قرآن کی رہنمائی کے بغیر نہ تو اپنے خالق کا صحیح تصور کر سکتا ہے، نہ اپنی ذات کی معرفت۔ دنیا کے اکثر مذاہب اور قوموں نے اللہ کے تصور کو اپنے حصار میں بند کر لیا ہے اور خدا کو صرف اپنا ہی معبود گردانا ہے لیکن قرآن نے خدا کے رب العالمین ہونے کا اعلان کیا ہے۔ قرآن سے پہلے تک دنیا کی قوموں میں خدا کا تصور خوف ودہشت کا تصور تھا، قرآن نے رحمت وعدالت کا تصور پیش کیا ہے۔ قرآن پوری انسانیت کے لیے ایک عالمی منشور ہے۔ یہ ان لوگوں کی جستجو اور اضطراب کا فطری جواب ہے جو اپنے خالق ورب کی تلاش میں عقل وفکر کے صحراؤں اور بیابانوں میں بھٹک رہے ہیں۔ قرآن سے پہلے جو کتب سماوی تھیں وہ انسانیت کے لیے بمنزلہ ابتدائی نصاب کے تھیں اور قرآن ایک بالغ، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ کے لیے مکمل اور جامع نظام حیات ہے۔ قرآن ایک بے مثل سچائی ہے جو کائنات، انسان اور خدا کے باہمی رشتہ کو حرف آخر کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ خدا اور اس کی صفات کیا ہیں؟ اس کائنات کی تکوین کیونکر ہوئی؟ انسان ربوبیت کاملہ کا مظہر ہے۔ قرآن تمام سچائیوں کی جامع آخری آسمانی دستاویز ہے۔ وہ ایک ضابطہ ہے جس پر چل کر انسان رشد وہدایت اور سعادت حاصل کرتا ہے۔ اس کا مطالعہ خالق کی حقیقت، کائنات کی غایت، انسان کی تخلیق کے مقصد، نبوتوں کے مشن، جزا وسزا کے قانون اور حق وباطل کے امتیازات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس کی تعلیم ٹھیک ٹھیک دلوں میں اتر جاتی ہے اور انسان یقین کی اس دولت کو پا لیتا ہے جو فلسفہ کے سفر میں شک کے کانٹوں سے تلووں کو زخمی کرتی اور اضطراب کے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔ سائنس کی خانہ ویرانی کا بھی یہی عالم ہے۔ وہ ثبوت دیتی ہے مگر یقین نہیں دیتی۔ انسانی روح کی منزل مقصود یقین ہے۔ جب تک اس کو یقین حاصل نہ ہو وہ کائنات کے توے پر اسپند کے دانے کے مانند تڑپتا رہتا ہے۔ انسانی زندگی یقین کے بغیر جان کنی کی زندگی ہے اور یقین کی دولت صرف قرآن عطا کرتا ہے۔
قرآن سے لطف اندوز ہونے اور استفادہ کرنے اور فہم قرآن کے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ طویل طویل تفاسیر کے بجائے محض ترجمہ سمجھنے پر اکتفا کیا جائے اس لیے کہ ہر دور میں قرآن کی جو تفسیریں کی گئی ہیں، ان میں مفسر کے ذہن وفکر پر جس پہلو کا غلبہ تھا، اس کا عکس آ گیا یا دور کے رجحانات وتقاضوں کا۔ اس لیے قرآن کی زیادہ ضخیم وبسیط تفاسیر کے بجائے صرف قرآن کے ترجمہ یا مختصر ترین توضیح کو ترجیح دی جائے جیسے حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ کے حواشی ہیں کیونکہ زیادہ طویل وعریض تفاسیر سے انسان خالق کے بجائے اپنی ہی جیسے دوسرے انسانی کلام میں مشغول ہو کر قرآن اور اللہ کے بجائے انسانی ذہن وفکر سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ اس لیے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے دینی نصاب تعلیم کے متعلق اپنے وصیت نامہ میں یہ لکھا کہ قرآن کا ترجمہ بغیر تفسیر کے ختم کرنا چاہئے۔ پھر اس کے بعد تفسیر جلالین بقدر درس پڑھائی جائے۔ جلالین قرآن کی مختصر ترین تفسیر ہے جس کے الفاظ تقریباً قرآن کے الفاظ کے برابر ہیں۔ لمبی لمبی تفاسیر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے کلام کو کسی مخصوص شخص کے فکر ونظر کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔ گویا کلام اللہ کو سمجھنے کے لیے پہلے کسی انسان کے ذہن وفکر پر ایمان لایا جائے۔ انسان قرآن کا صحیح لطف، اس سے استفادہ اور برکات اسی وقت حاصل کر سکتا ہے جب وہ قرآن کے الفاظ یا زیادہ سے زیادہ اس کے ترجمہ تک محدود رہے۔ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ فرماتے ہیں کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام شجر کے ذریعے سے خدا سے ہم کلام ہوئے تھے، انسان قرآن پڑھتے وقت اپنے کو شجر تصور کرے پھر اپنے میں سے نکلے ہوئے الفاظ کو یوں سمجھے کہ خدائے پاک ہم کلام ہیں اور میں براہ راست سن رہا ہوں۔ مولانا محمد علی مونگیریؒ بانی ندوۃ العلما فرماتے ہیں کہ میں نے ابتداء اً حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی سے عرض کیا، حضرت مجھ کو جو مزہ شعر میں آتا ہے قرآن شریف میں نہیں آتا۔ فرمایا ابھی بُعد ہے۔ قُرب میں جو مزہ قرآن شریف میں ہے کسی چیز میں نہیں۔ کثرت سے قرآن شریف پڑھا کرو۔ اللہ میاں دل پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔
قرآن کی تفہیم اور اسے بآسانی سمجھنے اور کسی موضوع پر حکم خداوندی معلوم کرنے کے لیے ہمارے مکرم پروفیسر محمد شریف بقا صاحب نے تقریباً ۱۶۵ عنوانات یا موضوعات مقرر کر کے ہر ہر موضوع پر آیات قرآنی مع ترجمہ کے درج کر دی ہیں۔ اب معمولی اردو پڑھا لکھا شخص بھی کسی موضوع پر بآسانی حکم خداوندی معلوم کر سکتا ہے۔ ’’قرآنی موضوعات‘‘ نہ صرف عام مسلمان کے لیے بلکہ سکالرز، علما اور علمی کام کرنے والوں کے لیے بھی بیش قیمت تحفہ ہے۔ اب کسی درپیش موضوع پر چند لمحات میں ہر شخص قرآن پاک میں موجود تمام آیات کا احصا کر سکتا ہے اور کسی موضوع پر قرآن پاک میں بکھری ہوئی آیات پر یکجا نظر ڈال کر قرآن حکم اور منشاے خداوندی معلوم کر سکتا ہے۔ اگرچہ عربی میں اس موضوع پر متعدد حضرات نے کام کیا ہے مگر اردو میں اپنے انداز کا منفرد اور قابل صد ستائش کام ہے جس پر پروفیسر محمد شریف بقا صاحب بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کتاب باطنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ عمدہ کمپوزنگ، خوبصورت طباعت، مضبوط جلد اور حسین سرورق کے ساتھ ظاہری طور پر بھی نہایت دیدہ زیب بن گئی ہے۔ یہ کتاب اس لائق ہے کہ ہر لائبریری، ہر مسجد اور ہر گھر کی زینت بنے اور گھر کے افراد جمع ہر کر سبقاً سبقاً پڑھیں تاکہ ہمارا قرآن سے ربط وتعلق قائم ہو۔ اس کی برکات سے ہماری زندگیاں منور ہوں اور حشر کے روز قرآن ہمارا مضبوط سفارشی بنے۔ وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
تعلیمی نصاب کی ضروریات ۔ سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ کی نظر میں
پروفیسر عشرت جاوید
جب اورنگ زیب (۱۶۵۸ء۔۱۷۰۷ء) ہندوستان کی گدی پر بیٹھے تو ایک دن ان کے استاد ملا محمد صالح ان کی مدح میں ایک قصیدہ لکھ کر لائے تاکہ کچھ انعام واکرام پائیں لیکن عالمگیر جیسے متقی اور پرہیز گار شخص اپنی مدح وستائش سے خوش ہونے والے نہیں تھے۔
استا دنے کہا :’’جہاں پناہ، میں کچھ لکھ کر لایا ہوں۔‘‘
’’غالباً کوئی قصیدہ لکھ کر لائے ہوں گے‘‘، عالمگیرؒ نے قیاس سے کہا۔
’’جی ہاں، میں ایک قصیدے پر آ پ سے دادِ تحسین کا طلب گار ہوں۔‘‘
’’اس قصید ے میں میری تعریف ہوگی؟‘‘، اورنگ زیب نے پوچھا۔
ملا صالح نے مسکرا کر کہا: ’’آپ کی تعریف کون بیان کر سکتا ہے۔ ہاں کچھ کہنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
عالمگیرؒ نے کہا: ’’استاذ محترم، شاید آپ کو یہ معلوم نہیں کہ ہم اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے۔ آپ ہمارے استاد ہیں۔ آپ کا ہم پر حق ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آ پ کی مدد کریں۔ آپ کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ ہماری جھوٹی سچی تعریف کر کے کچھ حاصل کریں۔‘‘
یہ کہہ کر بادشاہ نے حکم دیا کہ ان کو اتنا اتنا دے دیا جائے۔
جو کچھ دیا گیا، وہ ان کی توقعات سے بہت کم تھا۔ اپنی سلطنت کو عمر فاروق، علی مرتضٰی، عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہم اور ناصر الدینؒ کے انداز پر چلانے کی کوشش کرنے والے عالمگیر سے یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ بیت المال کی آمدنی کو بے دریغ خرچ کریں۔ جو شخص دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک ہو کر خود قرآن لکھ کر اور ٹوپیاں کاڑھ کر روزی کماتا ہو، وہ بیت المال کا سرمایہ کسی کی خوشنودی کے لیے کس طرح لٹا سکتا تھا۔
ملا محمد صالح نے یہ انعام واکرام اپنی توقعات سے کم دیکھا تو کہا، ’’جب آپ میرا حق اپنے اوپر تسلیم کرتے ہیں تو میں یہ عرض کروں گا کہ جو کچھ مجھے عطا کیا جا رہا ہے، وہ میرے حق سے بہت تھوڑا ہے۔‘‘
عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات سنی تو چہرہ سرخ ہو گیا لیکن انہوں نے استاد کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت متانت وسنجیدگی سے کہا:
’’استاد محترم! اگر حق کا سوال ہے کہ تو ہم بھی ذرا زیادہ وضاحت اور صاف گوئی سے کام لیں گے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ نے ہمیں تعلیم دی لیکن اس بات میں کلام ہے کہ آپ نے جو تعلیم ہمیں دی تھی، وہ صحیح تھی۔ شاید آپ دربار میں کوئی عہدہ چاہتے ہوں گے یا جاگیر کے متمنی ہوں گے۔ ہم ضرور عہدہ بھی دیتے اور جاگیر بھی بشرطیکہ آپ ہمارے قلب کو شائستہ تعلیم سے منور ومعمور کرتے۔ آپ نے ہماری قیمتی عمر عربی صرف ونحو سکھانے میں برباد کی یا فلسفہ کے لایعنی اور لغو مسائل سے ہمارا دماغ پریشان کیا۔ آپ نے ہمیں ایسی تعلیم دی جس سے دین کا فائدہ ہوا نہ دنیا کا۔ آپ نے ہماری نوعمری کا وہ بیش قیمت وقت لغو باتوں اور بے سود اور بے لطف الفاظ سیکھنے سکھانے میں تلف کر دیا جو نہایت کارآمد باتیں سیکھنے میں صرف ہو سکتا تھا۔ آپ نے یہ نہ سمجھا کہ بچپن کا زمانہ ایسا ہوتا ہے جب حافظہ قوی ہوتا ہے۔ ہزاروں مذہبی اور عقلی احکام آسانی سے ذہن نشین ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ایسی تعلیم ہو سکتی ہے کہ دل ودماغ میں اعلیٰ درجہ کے خیالات پیدا ہوں، حوصلے بڑھیں، بڑے بڑے کام کرنے کی قابلیت آئے۔
آپ نے سالہا سال تک عربی صرف ونحو کی تعلیم دی، حالانکہ اس کے لیے صرف ایک سال کافی تھا۔ پھر آپ نے فلسفہ پڑھایا جس کے مسائل توہمات بڑھاتے ہیں۔ ایسے مشکل اور ادق ہوتے ہیں کہ بڑی مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں اور آسانی سے دماغ سے محو ہو جاتے ہیں۔ جن کا نتیجہ کچھ نہیں، اگر ہے بھی تو صرف اتنا کہ دماغ پراگندہ ہو جائے اور عقل چکرا جائے۔ آدمی منہ پھٹ، زبان دراز، ہٹ دھرم اور بد اعتقاد بن جائے۔ ایسی لا یعنی گفتگو کرنے لگے کہ لوگ تنگ آ جائیں۔ بتائیے کیا آپ نے ہمیں فلسفی نہیں بنایا؟ ....... کیا میرے لیے اتنا کافی نہیں تھا کہ میں نماز پڑھنے کے لیے قرآن شریف حفظ کر لیتا، ایک سال میں اتنی عربی پڑھ لیتا کہ اس میں گفتگو کر سکتا۔ پھر آپ نے کیوں میری عمر کا بہترین زمانہ برباد کیا؟
آپ نے مجھے بتایا کہ سارا افرنگستان (Europe) ایک جزیرے سے بڑا نہیں ہے جس میں سب سے زیادہ طاقتور کسی زمانے میں پرتگال کا بادشاہ تھا، اس کے بعد ہالینڈکا بادشاہ ہوا اور اب انگلینڈ کا بادشاہ ہے۔ آپ نے بتایا کہ فرانس کا بادشاہ اور انڈونیشیا کا بادشاہ ہمارے باج گزار کسی راجہ کے برابر ہیں۔ آپ نے بتایا کہ ہمارے باپ دادا---- اکبر، جہانگیر اور شاہ جہاں----کشور ہندوستان اور سارے جہاں کے بادشاہ ہیں۔ کیا آپ کی تاریخ وجغرافیہ دانی اسی قدر تھی کہ جن باتوں کو آپ نہیں جانتے تھے، انہیں غلط طریقہ پر مجھے بتائیں؟
استاذ محترم! آپ کا یہ فرض تھا کہ مجھے دنیا کے ہر حصے کے جغرافیہ سے آگاہ کرتے، یہ بتاتے کہ کون سا ملک کہاں واقع ہے، ان کی قدرتی حفاظت کے کیا ذرائع ہیں، کہاں کیا پیدا ہوتا ہے، کس چیز کی کانیں کس ملک میں ہیں، کس ملک میں کتنا بڑا دن ہوتا ہے اور کتنی بڑی رات، کس ملک میں بارش کب اور کیوں ہوتی ہے، کس قوم کے آئین جنگ کیا ہیں، سمندر کی وسعت کیا ہے، اس میں جزیرے کہاں کہاں ہیں اور کتنے، پہاڑوں کی تخلیق کیسے ہوتی ہے اور ان کے کیا فائدے ہیں، موسم کے بدلنے کی کیا وجوہ ہیں، کس بات کی احتیاط لازم ہے۔ آپ مجھے تاریخ پڑھاتے اور بتاتے کہ کس قوم نے کیسے ترقی کی اور اس کی تنزلی کے کیا اسباب ہوئے، کس بادشاہ نے فتوحات کیسے اور کتنی حاصل کیں، اور کن حادثوں سے اس کی سلطنت تباہ ہوئی، اس کا آئین حکمرانی کیا تھا اور آمدنی کے وسائل کیا تھے۔ آپ ان حادثات اور انقلابات سے ہم کو واقف کرتے جن سے قومیں یا سلطنتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ افسوس آپ نے ہم کوبنی آدم کی وسیع اور کامل تاریخ سے آگاہ نہ کیا ۔ اور تو اور، ہمارے نامور بزرگوں کے نام تک بھی نہ بتائے۔ ان کے حالات سے آگاہ نہ کیاجو سلطنت کے بانی تھے۔ آپ نے ان کی سوانح عمریوں کا کوئی تذکرہ نہ کیا جنہوں نے اپنی خداداد ذہانت اور شجاعت سے عظیم الشان فتوحات حاصل کیں حالانکہ ایک شاہزادے کے لیے ان باتوں کا جاننا ضروری تھا۔ تاریخ ہی ایک ایسا علم ہے جس سے عقل بڑھتی ہے اور دل ودماغ میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ بتائیے آپ نے مجھے کیا سکھایا، مجھے آپ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہیے؟
کاش، آپ مجھے ایسا سبق پڑھاتے جس سے انسان کے نفس کو ایسا شرف وعلو حاصل ہو جاتا کہ دنیا کے انقلابات سے متاثر نہ ہوتا۔ ترقی اور تنزلی کی حالت میں ایک سا ہی رہتا۔ نہ ترقی کی خوشی ہوتی نہ تنزلی کا غم۔ آپ مجھے ایسے استدلال کا عادی بناتے کہ تصورات او ر تخیلات کو چھوڑ کر ہمیشہ اصول صادقہ کی جانب رجوع کیا کرتا اور علم دین کے حقائق سے مجھے مطلع کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ کا ایسا احسان مانتے جیسا سکندر نے ارسطو کا مانا تھا۔ ہم ارسطو سے زیادہ آپ کی عزت کرتے اور سکندر سے زیادہ آپ کو انعام دیتے۔
ملا جی ! آپ نے تو ہم کو یہ بھی نہ بتایا کہ ایک بادشاہ کو رعایا کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے۔ ہم ایک شہنشاہ کے فرزند تھے۔ ضرورت تھی کہ آپ ہم کو جہاں بانی کے آئین سکھاتے، فنون حرب کی تعلیم دیتے، صف آرائی کا طریقہ سکھاتے، لشکر کو ترتیب دینے اور قلعوں کو توڑنے کی تعلیم دیتے۔ آپ نے تو ہمیں سب باتوں سے ناواقف رکھا۔ اگر خدا کی مدد شامل حال نہ ہوتی اور ہم اپنے فہم وذکا سے خود ہی کچھ نہ سیکھ لیتے تو آج بالکل کورے ہوتے اور کچھ بھی نہ کرسکتے۔ ہم کو جو کچھ بھی ملا ہے وہ ہمارے رب کا احسان ہے۔ اس پاداش میں کہ تم نے ہماری نوعمری کا بہترین زمانہ فضول باتوں میں ضائع کیا، تم سے سختی سے بازپرس کی جائے تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔‘‘
عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے یہ خیالات سن کر جتنے بھی علما اور امرا حاضر تھے، سب دنگ رہ گئے۔ استاد کے فرائض، اس کی تعلیم، معیار، فلسفہ کے متعلق عالمگیرؒ کا نظریہ اصلی اور حقیقی تعلیم کی تحصیل کا خیال کتنا وسیع تھا، اس سے نہ صرف سب لوگ حیران ہوئے بلکہ شرمندہ بھی ہوئے۔ عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں اساتذہ کی اس کمی کا بڑا درد تھا
شکایت ہے مجھے یا رب ! خداوندان مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
(ماخوذ از ’’پراسرار بندے‘‘، مطبوعہ طیب اکیڈمی، ملتان)
مسیحیوں اور مسلمانوں کے خلاف یہودی سازش
عطأ الحق قاسمی
پاکستان میں ایک عرصے سے ’’را‘‘ اور ’’موساد‘‘ مل کر جو تخریبی کارروائیاں کرتے چلے آ رہے ہیں، ان میں سے بہاول پور کے چرچ میں اپنی عبادت میں مصروف مسیحیوں پر فائرنگ کی واردات پہلی واردات ہے جو ان کے مذموم مقاصد کے نقطہ نظر سے بھرپور ہے۔ اس سے پہلے اہل سنت اور اہل تشیع کی مساجد میں نمازیوں پر فائرنگ ہوتی رہی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے ان دو بڑے فرقوں میں فسادات کرانا تھا مگر ان وارداتوں کا الٹا اثر ہوا۔ ان دونوں فرقوں کے عوام مشتعل ہو کر گلی کوچوں میں باہم دست وگریباں ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ وہ سمجھ گئے کہ باری باری ایک دوسرے کی مساجد پر فائرنگ کرنے والا گروہ ایک ہی ہے اور وہ دونوں کا مشترکہ دشمن ہے۔ اگر دشمن کا یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو پورے ملک میں شیعہ سنی فسادات کی آگ بھڑک اٹھتی مگر خدا کا شکر ہے کہ ہر بار فائرنگ کے بعد دشمن فسادات کا انتظار کرتا رہا اور اسے کہیں سے کبھی کوئی ’’اچھی‘‘ خبر نہ مل سکی۔
اس محاذ سے مایوس ہو کر اب دشمن ہمارے مسیحی بھائیوں کی طرف متوجہ ہوا ہے اور اس نے سولہ مسیحیوں کو چرچ میں سروس کے دوران اندھا دھند فائرنگ سے بھون کر رکھ دیا۔ اس نے انتہائی خطرناک موقع پر انتہائی خطرناک کھیل کھیلا۔ وہ اس سے بیک وقت کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا ایک مقصد مسیحی اور مسلمان بھائیوں کے درمیان منافرت کی دیوار کھڑی کرنا ہے تاکہ ان میں موجود باہمی دوستی اور محبت کی فضا کو باہمی نفاق میں تبدیلی کیا جا سکے اور یوں پاکستان کے ان سپاہیوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر کے پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ یہودی آغاز اسلام سے ہی مسلمانوں اور مسیحیوں کو ایک دوسرے سے بھڑانے کے لیے کوشاں رہے ہیں چنانچہ قرآن مجید میں بار بار یہودیوں کو سازشیں کرنے پر متنبہ کیا گیا ہے مگر یہ گروہ اپنی حرکتوں سے کبھی باز نہیں آیا۔ اس کے اسی سازشی کردار کی بنا پر دنیا کے مختلف ملکوں میں انہیں مار پڑی اور ان کی موجودہ مضبوط پوزیشن کے باوجود مستقبل میں بھی ان کی درگت یقینی نظر آتی ہے۔
افغانستان پر امریکی حملوں کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے جو ’’کردار‘‘ اپنایا ہے، اس پر اسے ڈالروں میں ’’ویلیں‘‘ مل رہی ہیں اور ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف ’’عالمی اتحاد‘‘ میں شامل ہونے پر مغربی ممالک ’’شاباش‘‘ الگ دے رہے ہیں جب کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کو بہرصورت ایک ایسا دہشت گرد ملک ثابت کرنا چاہتے ہیں جہاں ’’جنونی مسلمان‘‘ رہتے ہیں۔ چرچ میں بے گناہ مسیحیوں پر فائرنگ کر کے را اور موساد نے مغربی مسیحی ممالک کو یہی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ اس گھٹیا اور غلیظ حرکت کا ایک مقصد امریکی بمباری سے ہلاک اور زخمی ہونے والے معصوم بچوں کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹانا بھی ہے اور شاید ایک مقصد پاکستانی حکومت پر دباؤ بڑھانا بھی ہے تاکہ اگر وہ کسی پوائنٹ پر کمپرومائز کے لیے تیار نہ ہو تو اسے اس کے لیے بھی تیار کیا جا سکے۔
ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کو اپنی اسٹریٹجی تیار کرنی چاہیے اور متوقع پراپیگنڈے کا توڑ کرنا چاہیے۔ اندرون ملک علما نے بروقت اس دہشت گردی کی پرزور مذمت کی ہے اور مسیحی رہنماؤں نے بھی تدبر اور بردباری کا ثبوت دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دشمن کی چالوں کو سمجھتے ہیں۔ وزیر مذہبی امور اور وزیر اقلیتی امور نے بہاول پور جا کر پس ماندگان سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ بہت ہی اچھا ہو اگر قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا نورانی اور مولانا سمیع الحق کے علاوہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی لواحقین سے اپنی دلی ہم دردی کا اظہار لواحقین کو اپنے سینے سے لگا کر کریں۔ مسیحی ہمارے بھائی ہیں اور بھائیوں کے دکھ درد میں شامل ہونا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ لاہور)
ارباب علم ودانش کے لیے لمحہ فکریہ
ابو سلمٰی
۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں پاک فوج کی شجاعت کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیل گئی جس سے عالم اسلام میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور کفر کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد صہیونی حکومت نے پاکستان کو دشمن نمبر ایک کہا اور اس کے خلاف خفیہ سازش شروع کر دی جو سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نمودار ہوئی۔
۱۹۷۱ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان میں اور عوامی لیگ نے مغربی پاکستان میں کوئی امیدوار نامزد نہیں کیے۔ دونوں جماعتوں نے سیاسی حقوق کی پامالی اور مالی بحران کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے تو صوبائی تعصب اسلامی رشتے پر غالب آ گیا۔ دونوں جماعتیں بھاری اکثریت سے اپنے اپنے صوبوں میں کامیاب ہوئیں۔ خفیہ ہاتھوں نے اقتدار کی خاطر دونوں کو ہٹ دھرمی کا لقمہ دیا۔ اقتدار کی جنگ جس دور میں شروع ہوئی، اس وقت وطن عزیز میں فوجی حکومت تھی۔ طاغوتی عناصر نے وطن عزیز کی فوجی قیادت سے انتقام بھی لے لیا اور اس کے کردار کو پاکستان کے عوام اور عالم اسلام میں رسوا بھی کر دیا۔
اس کے بعد مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں صوبائی تعصب ابھارنے کے لیے علاقائی پارٹیاں معرض وجود میں آ گئیں تو صوبائی خود مختاری کے مطالبے منظر عام پر آ گئے۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں سندھو دیش، کراچی کو الگ صوبہ، سرحد میں پختونستان، بلوچستان میں مرکز کے خلاف آہ وپکار، جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبے کا مطالبہ اور پنجاب بھر میں ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ کے نعرے لیڈروں کی زبان سے نکل کر عوام میں پھیل گئے۔
وطن عزیز کے محب وطن عناصر کی مساعی جمیلہ سے مغربی پاکستان کے صوبوں میں مشرقی پاکستان کی طرح خانہ جنگی کے حالات پیدا نہ ہو سکے۔ البتہ پاکستان نے جس کے نادیدہ اشارے پر روسی فوج کو افغانستان سے بھگانے میں اہم کردار ادا کیا، اسی صہیونی قوت کی ہٹ لسٹ پر سرفہرست آ گیا اور پاکستان کو نامور فوجی جرنیلوں کی قیادت سے محروم کر دیا گیا۔
پھر وطن عزیز میں جمہوری حکومتوں کے یکے بعد دیگرے شارٹ ٹرم سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران میں اسلام نافذ ہوا اور نہ عوام کے روزہ مرہ زندگی کے مسائل حل ہوئے بلکہ مسلسل مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی تو لوگ جمہوری نظام سے بھی مایوس ہو گئے۔
معاہدۂ واشنگٹن کی وجہ سے پاک فوج کی کارگل کی چوٹیوں سے پسپائی اور پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے افغانستان پر امریکی حملے سے عوام میں حکومت کے خلاف نفرت کے جذبات ابھر آئے تو اسلامی انقلاب کے داعی جولائی ۹۹۹ء۱ میں منظر عام پر آ گئے۔ آب پارہ چوک اور مسجد شہدا میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس کا بین ثبوت ہے۔
جب اس قسم کے حالات پیدا ہو جائیں تو مذہبی قیادت کو برسراقتدار آنے سے روکنے کے لیے صہیونی قوت کون سالائحہ عمل اختیار کرتی ہے؟ امریکی سی آئی اے کے تجزیہ نگار گراہم ای فلر کی رپورٹ کی آخری شق پیش خدمت ہے:
’’فوج کو اسلامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جائے اور جب یہ دیکھا جائے کہ ان ممالک میں اسلامی اور مسلم تشخص رکھنے والی کوئی سیاسی جماعت اور اس کا قائد عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ان کے دل کی دھڑکن اور آنکھوں کا تارا بن چکا ہے اور عوامی حمایت اور تعاون کا سیلاب بلا خیز اسلامی تشخص اور پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعت کے قائد کے اشاروں کا منتظر ہے اور وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ اسلام پسند عوامی قوت کا سیلاب سیکولر اور مغربیت زدہ حکمرانوں کی حکومتوں کو تنکوں کی طرح بہا لے جائے گا تو فوجی انقلاب کے ذریعے سے حکومت کا دھڑن تختہ کروا دیا جائے اور اسلام پسند قوتوں کا راستہ روک دیا جائے۔‘‘ (ہفت روزہ چٹان، لاہور ۔ ۳۱ اگست ۱۹۹۴ء۔ بحوالہ رواداری اور مغرب ص ۲۸۰)
اسلامی انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے فلر کی ترکیب پر عمل کیا گیا۔ ایک کو سبک دوش کرنے اور دوسرے کو قبضہ کرنے کا اشارہ دے کر عراق، کویت کا ڈرامہ دہرایا گیا۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اسماعیلی اسٹیٹ بنانے کی سرگرمیاں پہلے ہی سے جاری تھیں کہ اچانک گوجرانوالہ کو عیسائی اسٹیٹ اور سیالکوٹ شکر گڑھ کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی خبروں کا ایک دن اخبار میں شائع ہونا اور دوسرے دن تردید اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ فکر دامن گیر ہوئی کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ مگر ضلعی حکومتیں قائم کرنے کی پالیسی نے یہ معما حل کر دیا۔ مسلم پاکستانی کے بجائے سندھی، پنجابی کی صوبائی پہچان معروف تھی۔ اب اس کا گراف سیالکوٹی، ملتانی ضلعی سطح پر آ جائے گا۔ پھر یہ خبریں منظر عام پر آئیں گی کہ ہمارا ضلع معدنیات سے مالا مال ہے، کوئی کہے گا کہ ہمارا ضلع زرعی پیداوار میں خود کفیل ہے۔ پھر یہی کہیں گے کہ ہمیں مرکز سے کچھ نہیں ملتا۔ یہی نفرت کے جذبات ضلعی خود مختاری کے مطالبے تک پہنچ جائیں گے۔ خدا نخواستہ ضلعی حکومتوں کو غیر مسلم این جی اوز سے براہ راست قرضے لینے کے معاہدے کرنے کا اختیار مل گیا تو تعمیر وترقی کی آڑ میں ضلعی حکومتیں قرضوں کی دلدل میں پھنس جائیں گی۔ پھر وہی ہوگا جو این جی اوز آرڈر دیں گی۔
پھر کیا ہوگا؟ گوجرانوالہ میں عیسائیوں اور سیالکوٹ میں مرزائیوں کو آباد کرنے کی مہم شروع ہو جائے گی۔ پھر ضلعی خود مختاری کا مطالبہ شدت اختیار کر جائے گا تو یہ معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچے گا اور این جی اوز کو اقوام متحدہ سے استصواب رائے کی قرارداد پر عمل کرنے میں دقت پیش نہیں آئے گی۔ اس دوران میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مقبوضہ کشمیر یا کسی ایک حصے میں استصواب رائے کی قرارداد پر عمل ہوا تو مستقبل میں اقوام متحدہ کو اپنی نگرانی میں پاکستان کے اندر ضلعی خود مختاری کی قرارداد پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا۔ یہی عالم اسلام کی ایٹمی قوت کو ریزہ ریزہ کرنے کی سازش ہے اور مرزائیوں کا اکھنڈ بھارت قائم کرنے کا خواب ہے اور ۲۰۲۵ء تک اسلام کو مغلوب کرنے کے صہیونی منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ کس دور میں شروع ہوا؟ طریقہ واردات کیا ہے۔ ارباب علم ودانش کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
(بشکریہ ہفت روزہ الاعتصام لاہور)
ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس
ادارہ
ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل نے افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ کو مغربی تہذیب وثقافت کی بالادستی قائم کرنے اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کرنے کی جنگ قرار دیتے ہوئے جنگ کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ لیگ آف نیشنز کی طرح اقوام متحدہ بھی عالمی امن کے قیام میں ناکام ہو گئی ہے اس لیے اسے ختم کر کے موجودہ معروضی عالمی حقائق کی بنیا دپر اقوام عالم کے درمیان ایک نئے معاہدے اور اشتراک کی راہ ہموار کی جائے۔
مرکزی کونسل کا سالانہ اجلاس ۴ نومبر کو جامع مسجد سٹینلی روش آکسفورڈ میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا زاہد الراشدی، مفتی برکت اللہ، طٰہٰ قریشی، مولانا رضاء الحق سیاکھوی ، مولانا قاری عمران جہانگیری، مولانا محمد اکرم ندوی، مولانا محبوب الٰہی، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد ریاض اور جناب مسرور احمد نے شرکت کی۔
فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا رضاء الحق سیاکھوی نے اجلاس میں فورم کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ اسلامک فورم کا بنیادی مقصد عالم اسلام کے مسائل کی طرف اصحاب علم وفکر اور علمی ودینی مراکز کو توجہ دلانا اور ان کے حل کے لیے علمی وفکری جدوجہد کرنا ہے جس کے لیے مختلف جماعتوں اور راہ نماؤں کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں کے علاوہ خصوصی اجتماعات اور مجالس کا انعقاد کیا گیا اور بعض کتابچے اور مضامین بھی شائع کیے گئے تاہم جو کچھ ہونا چاہئے تھا، اس کا اہتمام نہیں ہو سکا اور آئندہ اس کی تلافی کی جائے گی۔
اجلاس میں افغانستان کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا اور ایک اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکہ اس جنگ کے ذریعے سے افغانستان کی اسلامی نظریاتی حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے، پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کی اسلامی تحریکات کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے اور وسطی ایشیا میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پر قبضہ کرنے کا عرصہ سے خواہش مند ہے لیکن وہ اپنی جنگ کے اصل مقاصد کے اظہار کی اخلاقی جرات سے محروم ہے اور اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عنوان دے کر دنیا کو دھوکا دے رہا ہے اس لیے یہ جنگ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا پر مغربی تہذیب وثقافت کی بالادستی قائم کرنے اور معاشی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے اور اسے فی الفور بند ہونا چاہیے۔
اعلامیہ میں اقوام متحدہ کے کردار کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی امن کے قیام میں لیگ آف نیشنز کی ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کا قیام اس مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ دنیا بھر کی اقوام کے درمیان انصاف اور مساوات کا اہتمام کر کے جارحیت کے ارتکاب کو روکا جائے اور عالمی امن کو تحفظ فراہم کیا جائے لیکن اقوام متحدہ اپنے نصف صدی کے کردار کے حوالے سے لیگ آف نیشنز سے بھی زیادہ ناکام ادارہ ثابت ہوا ہے اور وہ دنیا پر جارحانہ قبضے کے خواہش مند امریکی کیمپ کے ذیلی ادارے کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور اس نے مظلوم اقوام کے خلاف جارحیت کا راستہ روکنے کے بجائے حملہ آور ملکوں کو جارحیت کے ارتکاب کے لیے این او سی جاری کرنے کا کاروبار سنبھال لیا ہے اس لیے اس ادارے کے باقی رہنے کا کوئی جواز موجود نہیں رہا اور اسے ختم کر کے اس کی جگہ موجودہ عالمی صورت حال اور معروضی حقائق کی بنیاد پر اقوام عالم کے درمیان ایک نئے معاہدے اور ایک نئے عالمی فورم کی تشکیل ناگزیر ہو گئی ہے جس کی بنیاد کسی ایک گروہ کی اجارہ داری اور اس کے مفادات کی بالادستی کے بجائے دنیا کی تمام اقوام کے درمیان انصاف کے قیام اور تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے یکساں احترام وتحفظ پر ہو کیونکہ اس کے بغیر دنیا کو اس عالم گیر تباہی سے نہیں بچایا جا سکتا جسے نسل انسانی پر مسلط کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی چھتری تلے امریکی کیمپ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
اعلامیہ میں جی ایٹ (G8) کی طرف سے عالمگیریت اور گلوبلائزیشن کے پروگرام کو عالمی نوآبادیات کا ایک نیا ایڈیشن قرار دیا گیا جس کا مقصد پوری دنیا کے وسائل اور ذخائر پر آٹھ ملکوں کے قبضہ اور کنٹرول کی راہ ہموار کرنا ہے اور غریب اقوام وممالک کو غلامی کے ایک نئے شکنجے میں جکڑنا ہے ا س لیے اس کے خلاف دنیا کی مظلوم اقوام کو متحدہو جانا چاہیے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ بات بھی محض فریب ہے کہ عالمگیریت اور بین الاقوامیت کا آغاز اب کیا جا رہا ہے اور مغربی ممالک اس کا آغاز کر رہے ہیں اس لیے کہ انسانی معاشرے کو رنگ ونسل اور علاقہ اور دیگر محدود امتیازات سے نجات دلاتے ہوئے پوری نسل انسانی کے لیے ایک دین، ایک فلسفہ اور ایک نظام حیات کا اعلان اب سے ڈیڑھ ہزار سال قبل خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اور وہی انسانی سوسائٹی میں عالمگیریت اور گلوبلائزیشن کا نقطہ آغاز تھا جس کے بعد صدیوں تک دنیا کی مختلف اقوام اور ممالک نے خلافت کے تحت ایک نظام اور فلسفہ کے مطابق باہمی احترام کے ساتھ زندگی بسر کی ہے لیکن مغرب صرف طاقت اور پراپیگنڈے کے زور پر اسلام کے اس اعزاز اور کریڈٹ کو ہائی جیک کرنا چاہتا ہے جس کا عالم اسلام کے علمی وفکری حلقوں کو سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکی کیمپ نے اپنے سیاسی، تہذیبی اور معاشی مقاصد کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے ایک نئی عالمگیر جنگ شروع کر دی ہے اور اقوام متحدہ نے اسے این او سی بھی جاری کر دیا ہے لیکن دہشت گردی کا کوئی متعین مفہوم طے کرنے کے بجائے اسے مبہم چھوڑ دیا گیا ہے جو ایک خطرناک سازش ہے جس کے ذریعے سے دہشت گردی اور تحریکات آزادی کو آپس میں خلط ملط کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کی کسی بھی تحریک اور جدوجہد کو دہشت گرد قرار دینے کا اختیار حملہ آور مغربی قوتوں کے اپنے ہاتھ میں رہے اور وہ دنیا کے جس گروہ اور تحریک کو چاہیں، دہشت گرد قرار دے کر اسے جارحیت کا نشانہ بنا ڈالیں۔ اس سے دنیا بھر کی تحریکات آزادی کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے اور مظلوم اقوام وممالک کی آزادی اورخود مختاری سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کی واضح تعریف کی جائے اور دہشت گردی اور جہاد وآزادی کے درمیان فرق متعین کیا جائے ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ امریکی کیمپ آزادی کی تحریکات کو دہشت گردی کا نام دے کر جارحیت کا نشانہ بنانا چاہتا ہے اور ظالم وغاصب قوموں کے جبر واستحصال میں ان کا کھلم کھلا سرپرست ومعاون بن گیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ نے فلسطین، کشمیر، چیچنیا اور عراق اور افغانستان وغیرہ میں نہتے شہریوں کے قتل عام اور ان پر ظالم وغاصب قوتوں کی وحشیانہ جارحیت پر جو مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اقتصادی ناکہ بندی اور بمباری کے ذریعے سے لاکھوں انسانوں کے قتل اور عورتوں اور بچوں کی ہلاکت پر جس طرح آنکھیں بند کر لی ہیں، اس کے بعد انصاف ، امن اور داد رسی کے حوالے سے اقوام متحدہ سے کوئی امید باقی نہیں رہی اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ سینٹ اور کانگریس کی طرح اقوام متحدہ بھی امریکہ ہی کا کوئی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت اور بالادستی کی راہ ہموار کرنے کے لیے مصروف کار ہے۔
اعلامیہ میں مسلم سربراہ کانفرنس کی تنظیم کے کردار کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ دو تین کو چھوڑ کر باقی تمام مسلم حکمران ملت اسلامیہ اور اپنے ملکوں کے عوام کی نمائندگی کرنے کے بجائے امریکی کیمپ کی نمائندگی کر رہے ہیں اور مغربی ملکوں کو عالم اسلام اور اپنے ملکوں کے جذبات واحساسات سے باخبر کرنے اور ان کے احترام پر آمادہ کرنے کے بجائے مغربی حکمرانوں کے خواہشات اور ایجنڈے کے مطابق اپنے عوام بالخصوص دینی حلقوں کو دبانے اور ریاستی جبر کا نشانہ بنانے میں مصروف ہے اور مسلم سربراہ کانفرنس کی تنظیم کو بھی انہوں نے اقوام متحدہ کی طرح بالادست اور جارح قوتوں کے مفادات کا محافظ بنا دیا ہے۔ اس لیے وقت آ گیا ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی افادیت کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور مسلم سربراہوں کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے اس میں دوٹوک فیصلہ کیا جائے اور اگر یہ ادارہ عالم اسلام کے مفادات اورمسلمانوں کی مشکلات میں کوئی موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو اسے فوری طور پر ختم کر کے ملت اسلامیہ کو اس سنگین مذاق سے نجات دلائی جائے۔
ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل نے اپنے سالانہ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اعلامیہ میں مذکور مقاصد کے حصول اور اس کے لیے عالم اسلام کے دینی، سیاسی اور علمی حلقوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے مہم چلائی جائے گی جس کے لیے ایک سال کا شیڈول طے کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ ، مولانا رضاء الحق سیاکھوی، مولانامحمد اکرم ندوی اور جناب طٰہٰ قریشی پر مشتمل پانچ رکنی ورکنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
اجلاس میں مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے موقف اور جذبات کو دلیل اور منطق کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں اور اپنے اپنے ملکوں کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اپنے جذبات اور موقف کے اظہار کے لیے تمام قانونی ذرائع اختیار کریں نیز اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی حمایت وامداد کے لیے قانون کے اندر رہتے ہوئے جو کچھ بھی وہ کر سکتے ہیں، اس سے گریز نہ کریں۔ میڈیا تک رسائی کی کوشش کی جائے ۔ ہر علاقہ کے مسلمان دینی وسیاسی رہنما ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کریں۔ دینی وسیاسی رہنماؤں سے روابط استوار کریں۔ جنگ کے مخالف عناصر کی آواز کو تقویت پہنچائیں۔ مشترکہ اجتماعات کا اہتمام کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اعتماد میں لیں۔ افغانستان اور دیگر مسلم ممالک کے بے گھر افراد اور خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کریں۔ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یک طرفہ طور پر پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کے ازالہ کے لیے کام کریں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عالم اسلام کی بہتری اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔
قافلہ میعاد
ادارہ
- برصغیر پاک وہند کے معروف عالم دین اور محدث حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری گزشتہ دنوں مدینہ منورہ میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہوں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ حدیث نبوی کی تدریس میں بسر کیا اور متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ کچھ عرصہ قبل ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے تھے اور اپنے مخصوص ذوق کے مطابق مسلمانوں کی علمی ودینی راہ نمائی میں مصروف تھے۔
- مانسہرہ ہزارہ کے سرگرم اور مجاہد عالم دین مولانا سید منظور احدم شاہ آسی گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے فاضل اور مدیر الشریعہ کے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے مانسہرہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر مختلف دینی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کیا اور مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی قدس اللہ سرہ العزیز کی سوانح وخدمات پر دو جلدوں میں ایک ضخیم کتاب بھی لکھی۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس الحسینی مدظلہ کے فرزند حافظ سید انیس الحسن شاہ زیدی گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم ایک اچھے خوش نویس تھے اور حضرت شاہ صاحب مدظلہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔
- مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پرانے استاذ مولانا سید عطاء اللہ شاہ گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے پھوپھی زاد بھائی مولانا سید فتح علی شاہ مرحوم آف لمی (بٹل ہزارہ) کے فرزند تھے ۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے اور مدرسہ کے سکول میں ایک عرصہ سے تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
- کامونکی گوجرانوالہ کے معروف خوش نویس اور دینی کارکن حافظ محمد شوکت گزشتہ روز حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے دفتر میں بیٹھتے تھے اور دینی تحریکات میں سرگرم حصہ لیتے تھے۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ان سب مرحومین کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ نیز پس ماندگان کو صبرجمیل کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’سیرت سلطان ٹیپو شہیدؒ‘‘
سلطان فتح علی ٹیپو شہیدؒ اور ان کے والد محترم سلطان حیدر علیؒ جنوبی ایشیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرنگی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلمانوں کی شاندار تحریک مزاحمت کا وہ روشن کردار ہیں جنہوں نے اس دور میں جنوبی ہند میں ایک اسلامی ریاست ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ کے نام سے قائم کی اور فرنگی استعمار کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک کر اس خطہ کے مسلمانوں کو حوصلہ دیا کہ اگر وہ جذبہ ایمانی کے اظہار کے لیے متحد ہو جائیں تو اپنے وطن کی آزادی اور دینی تشخص کو استعماری حملہ آوروں کی یلغار سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے لیکن یہ مردمجاہد ۴ مئی ۱۷۹۹ء کو اپنوں کی غداری کے باعث سرنگا پٹم کے محاذ پر انگریزی فوجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا اور اس کے ساتھ ہی جنوبی ایشیا میں قائم ہونے والی یہ اسلامی ریاست بھی ختم ہو گئی۔ سلطان ٹیپوؒ کی شہادت پر انگریزی فوج کے کمانڈر جنرل ہارس نے شہید کی لاش پرکھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔‘‘ اور فی الواقع اس کے بعد مسلمانوں کے قدم جنوبی ایشیا میں کسی جگہ بھی انگریزی فوجوں کے آگے جم نہ سکے۔ سلطان ٹیپو شہیدؒ کے حالات زندگی اور خدمات پر یہ کتاب مفکراسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی خواہش پر اور ان کی نگرانی میں مولانا محمد الیاس ندوی نے لکھی ہے جس میں سلطان حیدر علیؒ اور سلطان ٹیپوؒ کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ کے قیام اور پھر سقوط کے اسباب پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور ہمار ے خیال میں امارت اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ واقعات کے پس منظر میں دینی کارکنوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ یہ کتاب مجلس تحقیقات اسلام ونشریات اسلام لکھنو نے شائع کی ہے اور چھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے۔
’’واردات و مشاہدات‘‘
ماہنامہ ’’الرشید‘‘ لاہور کے مدیر مولانا حافظ عبد الرشید ارشد کو قدرت نے واقعہ نگاری اور تذکرہ نویسی کا خصوصی ذوق عطا فرمایا ہے اور انہوں نے اسے اہل حق کے قافلہ علماء دیوبند کی خدمات وحالات کے لیے وقف کر کے اہل حق کی جدوجہد اور تگ وتاز کے اہم شواہد ومناظر کو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ کرنے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ ’’بیس بڑے مسلمان‘‘ اور ’’بیس مردان حق‘‘ کے علاوہ ’’الرشید‘‘ کی متعدد خصوصی اشاعتوں کے ذریعے سے اس شعبہ میں جو کام انہوں نے تنہا سرانجام دیا ہے، وہ قابل رشک ہے اور اس پر ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔
انہوں نے مختلف اوقات میں ’’الرشید‘‘ میں شخصیات کے حوالے سے جو شذرات لکھے ہیں اور متعدد واقعات کے بارے میں اپنے مشاہدات وتاثرات کو وقتاً فوقتاً قلم بند کیا ہے، وہ اس دور کی دینی شخصیات اور تحریکات پر معلومات کا ایک خزانہ ہے جسے انہوں نے مذکورہ بالا عنوان کے تحت یکجا کر کے استفادہ کرنے والوں کے لیے آسانی پیدا کر دی ہے۔
آٹھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ خوب صورت اور مجلد کتاب حافظ صاحب موصوف کے مخصوص ذوق طباعت کی آئینہ دار ہے جس کی قیمت تین سو روپے ہے اور اسے مکتبہ رشیدیہ، ۲۵ لوئر مال، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’مغربی میڈیا اور اس کے اثرات‘‘
دنیا بھر کے مسلمانوں کو شکایت ہے کہ مغربی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو کچھ پیش کر رہا ہے، وہ صحیح تصویر نہیں ہے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی مخصوص معاندانہ ذہنیت کی آئینہ دار ہے۔ مولانا نذر الحفیظ ندوی نے اسی شکایت کا محققانہ جائزہ لیا ہے اور مغربی میڈیا کے اہداف ومقاصد اور طریق کار کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر رونما ہونے والے اس کے اثرات کا تفصیلی نقشہ پیش کیا ہے۔ ہمارے خیال میں دینی جماعتوں کے راہ نماؤں اور کارکنوں بالخصوص ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے حضرات کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ یہ بات صحیح طور پر سمجھ سکیں کہ مغربی میڈیا کون سا کام کر رہا ہے اور کس انداز سے کر رہا ہے تاکہ وہ اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اور طریق کار کا ازسرنو جائزہ لے سکیں۔ یہ کتاب دار العلوم ندوۃ العلما لکھنو نے شائع کی ہے۔ اس کے صفحات چار سو سے زائد ہیں اور قیمت نوے روپے درج ہے۔
’’انسانی حقوق‘‘
جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے فاضل دانش ور مولانا محمد رحیم حقانی نے انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب کی حالیہ مہم کے پس منظر میں جمعیۃ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بعض معلومات خطابات کے ساتھ ساتھ اس موضوع پر بہت سی ضروری معلومات کو یکجا کر دیا ہے اور موجودہ حالات میں ایک اہم ضرورت کو ایک حد تک پورا کر دیا ہے۔
۱۳۶ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت ۵۰روپے ہے اور جمعیۃ پبلی کیشنز جامع مسجد پائلٹ سکول وحدت روڈ لاہور نے اسے شائع کیا ہے۔