امریکی نائب وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کی نائب وزیرخارجہ محترمہ کرسٹینا روکا ان دنوں جنوبی ایشیا کے دورے پر ہیں اور جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں وہ اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ جبکہ امارت اسلامی افغانستان کے سفیر محترم ملا عبد السلام ضعیف سے بھی ان کی ملاقات ہونے والی ہے۔ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد کرسٹینا روکا کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق ان کے ایجنڈے میں (۱) پاکستان میں جمہوریت کی بحالی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی روک تھام (۲) افغانستان کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد (۳) عرب مجاہد اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا سوال (۴) اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے مسائل سرفہرست ہیں جن کے بارے میں وہ متعدد بیانات میں اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں۔
جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکہ کا یہ ایجنڈا کوئی نیا نہیں ہے اور نہ امریکہ میں حکومت کی تبدیلی اور کلنٹن کی جگہ جارج ڈبلیو بش کی بطور صدر آمد سے اس ایجنڈے اور اس کے حوالے سے امریکہ کی قومی پالیسی میں کوئی فرق سامنے آیا ہے۔ امریکہ کے ایجنڈے کی بنیاد اس کے اس زعم پر ہے کہ وہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور واحد سپر پاور ہے اس لیے دنیا کے ہر خطے میں سیاست و معیشت اور قانون و عدالت سے لے کر اخلاق و معاشرت تک تمام شعبوں میں اس کی مرضی، خواہش اور پالیسی پر عمل ہونا چاہیے اور دنیا کے ہر ملک اور قوم کو صرف اور صرف امریکی مفادات کے تحفظ اور تکمیل کے حوالے سے اپنی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں۔ امریکہ اپنی اس بالادستی کے لیے انسانی حقوق کے نعرے، جمہوریت کے پرچار اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے لیکن یہ محض فریب کاری ہے جس کا صرف دو عملی مثالوں سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے:
- ایک یہ کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری عمل کی جلد بحالی کا خواہاں ہے اور پاکستان میں آنے والی نئی امریکی سفیر نے صاف طور پر کہا ہے کہ بطور سفیر ان کی پہلی ترجیح پاکستان میں جمہوری عمل کی بحالی ہوگی۔ لیکن مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکہ کو جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور چونکہ وہاں شخصی آمریتیں اور بادشاہتیں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو رہی ہے اس لیے امریکہ کے نزدیک ان ممالک کے عوام کی سیاسی آزادیوں، شہری حقوق اور جمہوری تقاضوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور امریکہ پورے مشرق وسطیٰ میں آمریتوں اور بادشاہتوں کا سب سے بڑا محافظ بنا ہوا ہے۔
- دوسری مثال بھی ہمارے سامنے ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فیصلوں کی کھلے بندوں خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے اور اب بھی اعلانیہ خلاف ورزی کر رہا ہے لیکن اسرائیل کو ان خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں کو مشرق وسطیٰ بھجوانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ جبکہ اس کے برعکس افغانستان کی سرحدوں پر صرف اس لیے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیمیں بھجوانے کے لیے امریکہ سب سے زیادہ متحرک ہے کہ امریکہ کے اندازوں، توقعات اور خواہشات کے علی الرغم افغانستان کے عوام اقوام متحدہ کی اقتصادی پابندیوں کے باوجود اس طرح بھوکے نہیں مر رہے جس طرح امریکہ انہیں بھوکا مار کر اپنے سامنے جھکانا چاہتا تھا، اور وہاں نہ صرف طالبان کی حکومت کاروبار حکومت پورے اعتماد کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ افغان عوام کو طالبان حکومت کے خلاف بھڑکانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہو رہا۔
امریکی پالیسوں میں کھلے تضاد کی یہ دو واضح مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کی بنیاد پر یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ جمہوریت، انسانی حقوق، امن اور معاشرتی ترقی کے حوالے سے امریکہ کے نعرے اور دعوے کسی اصول اور فلسفہ کے فروغ کے لیے نہیں بلکہ محض اپنے مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے ہیں۔ اور ہمارے نزدیک یہی سب سے بڑی وجہ ہے اس امر کی کہ امریکہ کو تمام تگ و دو کے باوجود دنیا پر اپنی پالیسیاں ہر حال میں مسلط کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی اور دنیا کے ہر خطے میں اس کی مخالفت اور اس کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ہم امریکی حکمرانوں سے گزارش کریں گے کہ وہ جنوبی ایشیا کے ممالک پر اپنی یک طرفہ پالیسیاں طاقت کے زور پر مسلط کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کریں اور دوسروں کے خلاف طاقت اور دباؤ کے اندھا دھند استعمال کے بجائے اپنی پالیسیوں کے تضادات اور طرزعمل کے دوغلے پن کا جائزہ لیں۔ محض طاقت کا استعمال نہ پہلے کبھی انسانی تاریخ کے کسی دور میں اپنے مطلوبہ اور مزعومہ مقاصد حاصل کر سکا ہے او رنہ اب کسی کو محض قوت اور طاقت کے سہارے اپنے مزعومہ مقاصد تک پہنچنے کی توقع کرنی چاہیے۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام کی زیارت کے تین مبارک خواب
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
اللہ تعالیٰ نے راقم اثیم پر جو احسانات اور انعامات کیے ہیں، راقم اثیم قطعاً و یقیناً اپنے آپ کو ان کا اہل نہیں سمجھتا۔ یہ صرف اور صرف منعمِ حقیقی کا فضل و کرم ہے کہ حضراتِ علما اور طلبا اور خواص و عوام اس ناچیز سے محبت بھی کرتے ہیں اور قدردانی بھی کرتے ہیں۔ ڈھول اندر سے تو خالی ہوتا ہے مگر اس کی آواز دور دور تک جاتی ہے، یہی حال میرا ہے کہ علم و عمل، تقوٰی اور ورع سے اندر سے خالی ہے اور حقیقت اس کے سوا نہیں کہ من آنم کہ من دانم۔راقم اثیم تحریک ۱۹۵۳ء کی ختم نبوت کے دور میں پہلے گوجرانوالہ جیل میں، پھر نیو سنٹرل جیل ملتان میں کمرہ نمبر ۱۴ میں مقید رہا۔ ہماری بارک نمبر ۶ دو منزلہ تھی اور اس میں چار اضلاع کے قیدی تھے اور سب علما، تاجر اور پڑھے لکھے لوگ تھے جو دین دار تھے۔ اضلاع یہ ہیں: گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا اور کیمبل پور )فی الحال ضلع اٹک(۔ بحمد اللہ تعالیٰ جیل میں بھی پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری تھا۔ راقم اثیم قرآنِ کریم کا ترجمہ، موطا امام مالک، شرح نخبۃ الفکر اور حجۃ اللہ البالغہ وغیرہ کتابیں پڑھاتا رہا۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی اپنے اپنے ذوق کے اسباق پڑھتے پڑھاتے رہے۔ آخر میں راقم اثیم کمرہ میں اکیلا رہتا تھا کیونکہ باقی ساتھی رہا ہو چکے تھے اور میں قدرے بڑا مجرم تھا۔ تقریباً دس ماہ جیل میں رہا اور ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برق کی تردید میں ’’صرف ایک اسلام بجواب دو اسلام‘‘ وہاں ملتان جیل ہی میں راقم اثیم نے لکھی تھی۔
خواب نمبر ۱
۱۳۷۳ھ / ۱۹۵۳ھ میں تقریباً سحری کا وقت تھا کہ خواب میں مجھ سے کسی نے کہا کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام آ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کہاں آ رہے ہیں؟ تو جواب ملا کہ یہاں تمہارے پاس تشریف لائیں گے۔ میں خوش بھی ہوا کہ حضرت کی ملاقات کا شرف حاصل ہو گا اور کچھ پریشانی بھی ہوئی کہ میں تو قیدی ہوں، حضرت کو بٹھاؤں گا کہاں اور کھلاؤں پلاؤں گا کیا؟ پھر خواب ہی میں یہ خیال آیا کہ راقم کے نیچے جو دری، نمدہ اور چادر ہے، یہ پاک ہیں، ان پر بٹھاؤں گا۔ خواب میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے ساتھ ان کا ایک خادم تشریف لائے۔ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سر مبارک ننگا تھا، چہرہ اقدس سرخ، اور ڈاڑھی مبارک سیاہ تھی۔ لمبا سفید عربی طرز کا کرتا زیب تن تھا، اور نظر تو نہیں آتا تھا مگر محسوس یہ ہوتا تھا کہ نیچے حضرت نے جانگیہ اور نیکر پہنی ہوئی ہے۔ آپ کے خادم کا لباس سفید تھا، فٹ کرتا اور قدرے تنگ شلوار اور سر پر سفید اور اوپر کو ابھری ہوئی نوک دار ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔
راقم اثیم نے اپنے بستر پر، جو زمین پر بچھا ہوا تھا، دونوں بزرگوں کو بٹھایا۔ نہایت ہی عقیدت مندانہ طریقے سے علیک سلیک کے بعد راقم اثیم نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مودبانہ طور پر کہا کہ حضرت! میں ایک قیدی ہوں اور کوئی خدمت نہیں کر سکتا، صرف قہوہ پلا سکتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا، لاؤ۔ میں خواب ہی میں فورًا تنور پر پہنچا جہاں روٹیاں پکتی تھیں۔ اس تنور پر گھڑا رکھا اور اس میں پانی، چائے کی پتی اور کھانڈ ڈالی۔ تنور خوب گرم تھا، جلد ہی قہوہ تیار ہو گیا۔ راقم اثیم خوشی خوشی لے کر کمرہ میں پہنچا اور قہوہ دو پیالیوں میں ڈالا اور یوں محسوس ہوا کہ اس میں دودھ بھی پڑا ہوا ہے، بڑی خوشی ہوئی۔ ان دونوں بزرگوں نے چائے پی، پھر جلدی سے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام اٹھ کھڑے ہوئے اور خادم بھی ساتھ اٹھ گیا۔ میں نے التجا کی کہ حضرت ذرا آرام کریں اور ٹھہریں، تو حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا، ہمیں جلدی جانا ہے، پھر ان شاء اللہ العزیز جلدی آجائیں گے، یہ فرما کر رخصت ہو گئے۔
راقم اثیم اس خواب پر بہت خوش ہوا۔ فجر ہوئی اور ہمارے کمرے کھلے تو راقم اثیم استادِ محترم حضرت مولانا عبد القدیر صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، جو تحریکِ ختم نبوت کے سلسلے میں ہمارے ساتھ جیل میں مقید تھے، اور ان کے سامنے خواب بیان کیا۔ حضرت نے فرمایا، میاں! تمہیں معلوم ہے کہ حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام اور فرشتوں علیہم السلام کی شکل و صورت میں شیطان نہیں آ سکتا۔ تم نے واقعی حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا ہے اور میاں! ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگی ہی میں تشریف لے آئیں۔
خواب نمبر ۲
راقم اثیم نے دوسری مرتبہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں دیکھا کہ حضرت شلوار پہنے ہوئے تھے اور گھٹنوں سے ذرا نیچے تک قمیص زیب تن تھی، اور سر مبارک پر سادہ سا کلّہ، اوپر پگڑی باندھے ہوئے تھے، اور کوٹ میں، جو گھٹنوں سے نیچے تھا، ملبوس تھے اور بڑی تیزی سے چل رہے تھے۔ راقم اثیم کو پتہ چلا کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام جا رہے ہیں تو راقم اثیم بھی پیچھے پیچھے چل پڑا اور سلام عرض کی۔ یوں محسوس ہوا کہ بہت آہستہ سے جواب دیا اور رفتار برقرار رکھی۔ راقم بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ کافی دور جانے کے بعد زور زر کی بارش شروع ہو گئی۔ حضرت اس بارش میں بیٹھ گئے اور اوپر ایک سفید رنگ کی چادر تان لی۔ کافی دیر مغموم اور پریشان حالت میں بیٹھے رہے، پھر بارش میں ہی اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے اور پھر نظر نہ آئے۔
اس خواب کے چند دن بعد مہاجرینِ فلسطین کے دو کیمپوں صابرہ اور شتیلہ کا واقعہ پیش آیا کہ یہودیوں نے تقریباً بتیس ہزار مظلوم مسلمان مردوں، عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور مریضوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس واقعہ کے پیش آنے کے بعد راقم اثیم اس خواب کی تعبیر سمجھا کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شدید بارش میں چادر اوڑھ کر بیٹھنا اور پریشان ہونا اس طرف اشارہ تھا کہ تقریباً ستر لاکھ ظالم یہودیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر ظلم ہوا اور تقریباً تیرہ کروڑ کی آبادی پر مشتمل آس پاس کے مسلمان ممالک نے بے غیرتی کا مظاہرہ کیا اور مصلحت کی چادر اوڑھے رکھی۔
خواب نمبر ۳
بحمد اللہ تعالیٰ کارگل کی لڑائی سے چند دن پہلے تیسری مرتبہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں دیکھا۔ آپ سفید لباس میں ملبوس تھے، اوپر واسکٹ تھا، سر مبارک ننگا تھا اور عینک لگائے ہوئے تھے۔ آپ کے اردگرد کچھ مستعد نوجوان تھے اور خاصی تعداد میں میلے اور ڈھیلے لباس والے طالبان قسم کی مخلوق تھی جو آپ کے حکم کی منتظر تھی، ملاقات ہوتے ہوئے آپ فورًا کہیں چلے گئے۔
سقوطِ حد کے بعد مجرم کو تعزیری سزا (۲)
قاضی محمد رویس خان ایوبی
قرائن پر اعتماد کرنے کے فقہی نظائر
(۱) غیر متزوجہ اور متوفی عنہا زوجہا اور مطلقہ کو بعد از انقضاءِ عدت حمل ظاہر ہو جائے تو یہ بدکاری کا قرینہ ہو گا۔ یہ الگ بحث ہے کہ حمل حرام اکراہ سے ہوا ہو یا رضا سے، لیکن حمل قرینہ زنا ضرور ہے۔ سو اگر عورت اقرار نہ بھی کرے اور اکراہ کا ثبوت بھی پیش نہ کرے تو حد تو ساقط ہو جائے گی مگر اسے تعزیری سزا ضرور دی جائے گی۔
(۲) یہی صورتحال قسامہ میں ہے۔ اگر کسی بستی میں کسی مقتول کی لاش ملے مگر قاتل کا پتہ نہ چل سکے تو اہلِ محلہ کے پچاس بالغ مردوں سے قسم لی جائے گی کہ نہ انہیں قاتل کا علم ہے اور نہ ان میں سے کوئی قاتل ہی ہے۔ اگر وہ قسم اٹھا لیں تو مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اور اگر وہ قسم اٹھانے سے انکار کر دیں تو انہیں مقتول کی دیت ادا کرنا ہو گی۔ یعنی قسموں سے انکار اس امر کا قرینہ ہے کہ قاتل اہلِ محلہ میں سے ہی کوئی ہے۔
(۳) شرابی کے منہ سے شراب کی بو بھی شراب نوشی کا قرینہ سمجھا گیا ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے ارتکابِ جرم کیا ہے۔
(۴) مالِ مسروقہ کا چور کے گھر سے برآمد ہونا اس کے ارتکابِ سرقہ کا قرینہ ہے۔
(۵) اسی طرح نشانیاں معلوم کر کے لقطہ واپس کر دینا اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نشانیاں بتا رہا ہے، یہ اسی کی ملکیت ہے۔
مندرجہ بالا قرائین میں سزائے تعزیر ہو گی، حد ساقط ہو جائے گی، لیکن مجرم کو بری نہیں کیا جائے گا۔(۱)
لہٰذا شرعی وسیلہ اثبات یعنی نصابِ شہادت پورا نہ ہونے کی صورت میں دیگر ذرائع معلومات، جن میں مختلف قرائن شامل ہیں، اگر دستیاب ہوں تو حد ساقط ہو گی مگر تعزیری سزا دی جائے گی کیونکہ حد صرف قطعی یقینی عینی شہادت کی بنیاد پر ہی نافذ کی جا سکتی ہے، لیکن تعزیر قرائن کی بنیاد پر بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔
علامہ ابن نجیمؒ فرماتے ہیں:
واجمعت الامۃ علی وجوبہ فی کبیرۃ لا توجب الحد او جنایۃ لا توجب الحد۔
’’امت کا اس پر اجماع ہے کہ تعزیر ہر ایسے کبیرہ گناہ پر ہو گی جہاں حد واجب نہ ہو، یا ایسا ضرر اور تعدی جہاں حد واجب نہ ہو۔‘‘(۲)
علامہ شامیؒ فرماتے ہیں:
فینبغی ان یبلغ غایۃ التعزیر فی الکبیرۃ کما اذا اصاب من الاجنبیہ کل محرم سوی الجماع او جمع السارق المتاع فی الدار ولم یخرجہ۔
’’ہر اس جرم میں سخت ترین تعزیر ہے جو کہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہو، جیسے کوئی شخص کسی عورت سے ہم بستری کے سوا ہر طرح کا جنسی تلذذ حاصل کرے، یا چور مالک کے گھر سے سامان اکٹھا کرے مگر گھر سے باہر نہ نکال سکے۔‘‘(۳)
علامہ ابن نجیمؒ فرماتے ہیں:
کل من ارتکب معصیۃ لیس فیھا حد مقدر ثبت علیہ عند الحاکم فانہ یوجب التعزیر من نظر محرم ومس محرم و خلوۃ محرمۃ۔
’’جو شخص کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرے جس میں حد مقرر نہ ہو اور جرم عدالت میں ثابت ہو جائے تو اس کو سزائے تعزیر دی جائے گی۔ جیسے نظربازی، چھیڑچھاڑ اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت گزینی۔‘‘(۴)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
والاصل فی وجوب التعزیر ان کل من ارتکب منکرا او اذی مسلما بغیر حق بقولہ او بفعلہ وجب علیہ التعزیر۔
’’بنیادی طور پر تعزیر کی سزا ہر اس شخص کے لیے واجب ہے جو کسی بھی منکر کا ارتکاب کرے، یا کسی مسلمان کو بلاوجہ ستائے، خواہ یہ ستانا زبان سے ہو یا عملی طور پر، اسے سزا کے طور پر تعزیر دی جائے گی۔‘‘(۵)
معلوم ہوا کہ ہر وہ کام جسے شریعتِ اسلامیہ نے معصیت قرار دیا ہے، اگر وہ مستوجبِ حد نہ ہو تو اس میں سزائے تعزیر ہے، اور سزائے تعزیر میں اثبات کے لیے قرینہ قویہ کافی ہے۔ قرائن کی چند اور مثالیں پیش کر چکا ہوں۔ عصر حاضر میں آواز کی ریکارڈنگ، ویڈیو فلم، میڈیکل رپورٹ، اغتصاب، لڑکی کو اٹھا کر لے جانا یا بہلا پھسلا کر لے جانا، اور اسے خلوت میں اپنے ساتھ رکھنا، ہوٹل میں کمرہ لے کر رہنا، رجسٹر میں دونوں کا اندراج وغیرہ، یہ سب قرائن ہیں اور ان کی بنیاد پر سزائے تعزیر دی جا سکتی ہے۔
علامہ عبد الرحمٰنؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب میں تحریر فرماتے ہیں:
اتفق الائمۃ علی ان من وطی امراۃ اجنبیۃ فی ما دون الفرج بان اولج ذکرہ فی مغبن بطنھا ونحوہ بعیدا عن القبل والدبر لا یقام علیہ الحد و لکنہ یعزر لانہ اتی منکرا یحرمہ الشرع وقد حکم الامام علی علی من وجد مع امراۃ اجنبیۃ مختلیا بھا ولم یقع علیھا بان یضرب مائۃ جلدۃ تعزیرا لہ۔
’’تمام ائمہ کا اتفاق ہے کہ جس شخص نے اجنبیہ کے ساتھ دخول کے سوا ہر طرح سے جنسی تلذذ حاصل کیا مثلاً پیٹ سے یا کسی اور مقام سے، لیکن قبل اور دبر سے مجتنب رہا، اس پر حد قائم نہ ہو گی۔ تاہم اسے تعزیری سزا دی جائے گی کیونکہ اس نے شریعت کے ممنوع کردہ کام کا ارتکاب کیا ہے۔ حضرت علیؓ نے ایک شخص کو، جو کسی اجنبیہ کے ساتھ خلوت میں تھا لیکن اس نے وطی نہیں کی تھی، تعزیر کے طور پر سو کوڑے مارنے کا حکم صادر فرمایا۔‘‘(۶)
مشہور مصری محقق امام محمد ابو زہرہؒ فرماتے ہیں:
ویتحقق حق اللہ تعالیٰ فی کل حد سقط بالشبہۃ فاذا تزوج شخص مطلقتہ طلقۃ مکملۃ للثلاث و دخل بھا یقع الزواج باطلا ویکون الدخول حراما ولکن یسقط الحد بالشبہۃ ولیس معنی سقوط الحد الا تکون ثمۃ عقوبۃ قط بل یکون بالتعزیر ویکون ذلک حقا للہ تعالیٰ۔
’’ہر اس حد میں حق اللہ ثابت ہوتا ہے جو کسی شبہ کی وجہ سے ساقط ہو گئی ہو۔ پس اگر کسی شخص نے اپنی مطلقہ مغلظہ سے نکاح کر لیا اور اس سے ہم بستری کر ڈالی تو یہ نکاح باطل قرار پائے گا اور ہم بستری حرام، لیکن شبہ کی وجہ سے حد ساقط ہو گی۔ تاہم سقوطِ حد کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بالکل سزا نہیں دی جائے گی بلکہ اسے حق اللہ کی خلاف ورزی میں سزائے تعزیر دی جائے گی۔‘‘(۷)
یعنی یہ سزا حقوق اللہ سے متعلق ہے، حقوق العباد سے نہیں۔ لہٰذا جہاں جہاں تعزیری سزا حقوق اللہ کی خلاف ورزی پر ہو گی وہاں حاکمِ مجاز کو اس سزا میں تخفیف یا معافی کا اختیار ہو گا، جبکہ حقوق العباد میں حاکمِ وقت کو کسی قسم کی معافی کا حق حاصل نہیں ہے۔
درجِ بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ اگر حدِ شرعی کسی معقول وجہ شرعی کے سبب ساقط ہو جائے تو مجرم کو جرم سے براءت کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ دوسرے وسائل اثبات کی بنا پر اسے سزائے تعزیر دی جائے گی۔
سقوطِ حد کے باوجود سزائے تعزیر کے وجوب کی متعدد مثالیں فقہ اسلامی میں موجود ہیں۔
علامہ شہاب الدین شلبی حاشیہ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں رقم طراز ہیں:
ومن تزوج امراۃ لا یحل نکاحھا قال الکمال بان کانت ذوات محارمہ بنسب کامہ و بنتہ فوطیھا لم یجب علیہ الحد عند ابی حنیفۃ و سفیان الثوری و زفر وان قال علمت انھا علی حرام ولکن یجب علیہ المھر ویعاقب عقوبۃ ھی اشد ما یکون من التعزیر سیاسۃ لا حدا مقدرا شرعا اذا کان عالما بذالک وان لم یکن عالما بذلک لا حد علیہ ولا یعقوبۃ تعزیر۔
’’اگر کسی شخص نے کسی ایسی خاتون سے نکاح کیا جس سے نکاح حرام تھا، کمال ابن ہمام فرماتے ہیں مثلاً اپنی محرمات، ماں یا بیٹی سے، اور پھر ہم بستری کی تو اس شخص پر حد واجب نہ ہو گی۔ یہ موقف ابو حنیفہؒ، سفیان ثوری اور زفر کا ہے۔ اگرچہ وہ یہ اعتراف کرے کہ مجھے حرمتِ نکاح کا علم تھا۔ ایسے شخص پر موطوءہ کے لیے مہر واجب ہو گا اور مجرم کو تعزیرًا سخت ترین سزا دی جائے گی۔ یہ سزا حد نہیں ہو گی بلکہ سیاستاً تعزیر شدید ہو گی جبکہ وہ حرمتِ نکاح کا علم رکھتا ہو۔ اور اگر اسے حرمت کا علم نہ ہو تو نہ حد ہو گی اور نہ تعزیر۔‘‘(۸)
اہلِ سنت کے مشہور امام مجاہدِ وقت علامہ ابن تیمیہؒ دمشقی اپنی شہرہ آفاق تصنیف السیاسۃ الشرعیۃ میں فرماتے ہیں:
اما المعاصی التی لیس فیھا حد مقدر ولا کفارۃ کالذی یقبل الصبی والمراۃ الاجنبیۃ او یباشر بلا جماع او یاکل ما لا یحل کالدم والمیتۃ او یقذف الناس بغیر الزنا او یسرق من غیر حرز او شیئا یسیرا او یخون امانۃ کولاۃ اموال بیت المال او الموقوف او یطفف المکیال والمیزان او یشھد بالزور او یلقن بالزور او یرتشی فی حکمہ او یحکم بغیر ما انزل اللہ۔
’’اور ایسے تمام جرائم میں جن میں نہ حدِ شرعی ہے اور نہ کفارہ، جیسے کسی بچے یا اجنبیہ کو (شہوت سے) بوسہ دینا، یا اس سے جماع کے سوا جنسی تلذذ حاصل کرنا، یا خون اور مردار جیسی حرام اشیاء کا کھانا، یا لوگوں پر زنا کے سوا تہمت لگانا، یا حرز کے بغیر چوری کا ارتکاب، یا چھوٹی موٹی چیز کی چوری، یا امانت میں خیانت، جیسے سرکاری فنڈز میں اہل کاروں کا خورد برد کرنا، یا اوقاف میں بددیانتی، یا اوزان و پیمائش میں بے ایمانی، یا جھوٹی گواہی دینا اور گواہوں کو جھوٹ بولنے کی تلقین کرنا، یا حکام کا رشوت لینا، یا شریعت کے سوا کسی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا۔‘‘ (۹)
یہ تمام جرائم قابلِ تعزیر ہیں، مجرم پر حد نافذ نہیں ہو گی کیونکہ ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی سزا متعین نہیں کی گئی۔ ایسے تمام جرائم کی سزا کی تعیین کا اختیار اسلامی حکومت کو ہے جو اپنے مقامی حالات کے مطابق قانون سازی کرے گی اور جس جرم کے لیے جو سزا متعین کرے گی وہ شرعاً درست ہو گی کیونکہ تعزیری سزاؤں کا مکمل اختیار اسلامی حکومت کو دیا گیا ہے۔
فقہ حنبلی کی مشہور کتاب الروض المربع میں موجبات سزائے تعزیر بیان کرتے ہوئے علامہ منصور تحریر فرماتے ہیں:
(والتعزیر) واجب فی کل معصیۃ لا حد فیھا ولا کفارۃ کاستمتاع لا حد فیہ و اتیان المراۃ المراۃ۔
’’تعزیر ہر اس جرم کی سزا ہے جس میں نہ حد ہو نہ کفارہ، جیسے ایسا جنسی تلذذ جس میں حد نہ ہو (یعنی دخول ثابت نہ ہو) اور عورت کا عورت سے استلذاذ۔‘‘(۱۰)
فقہاء اسلام نے جرائم کی بیخ کنی کے لیے صبی ممیّز کو بھی مستحقِ سزا قرار دیا ہے۔ یعنی اگر ایسا بچہ جو نابالغ ہو مگر سمجھ والا ہو، مثلاً دس بارہ سال کا ہو، اگر وہ فاحشہ کا ارتکاب کرے تو اسے سزا دی جائے گی۔ نابالغ ہونے کی وجہ سے اسے صرف یہ رعایت ملے گی کہ اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی، اور سزائے تعزیر بالغ کی نسبت ہلکی ہو گی۔ لیکن بوجوہ عدمِ بلوغ اسے بری نہیں کیا جائے گا۔
فقہ حنبلی کی معروف کتاب منتہی الارادات کے مصنف فرماتے ہیں:
لا نزاع بین العلماء ان غیر المکلف کالصبی الممیز یعاقب علی الفاحشۃ تعزیرا بلیغا۔
’’تمام علماء کا اتفاق ہے کہ نابالغ مگر سمجھدار بچہ اگر بدکاری کا ارتکاب کرے گا تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔‘‘(۱۱)
تاہم یہ سختی اس کی عمر کے مطابق ہو گی، بالغ والی سخت سزا مراد نہیں ہے۔
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
و یجب التعزیر فی کل معصیۃ لا حد فیھا ولا کفارۃ کمباشرۃ دون الفرج وامراہ امراہ و سرقۃ لا قطع فیھا و جنایۃ لا قود فیھا کصفع و وکز ان الدفع و الضرب۔
’’تعزیر ہر اس جرم کے ارتکاب پر واجب ہے جس میں نہ حد ہو نہ کفارہ۔ جیسے شرم گاہ کے سوا جنسی تلذذ کا حصول، عورت کا عورت سے استلذاذ، ایسی چوری کا ارتکاب جس میں حد نہ ہو، ایسی جسمانی زیادتی جس میں قصاص نہ ہو، جیسے تھپڑ مارنا، دھکا دینا، یا مارنا۔‘‘(۱۲)
غور فرمائیے کہ باب التعزیر کتنا وسیع ہے کہ کسی کو دھکا دینا بھی جرم ہے اور تھپڑ مارنا بھی جرم۔ لہٰذا اگر کسی شخص کو جرمِ زنا میں گرفتار کیا گیا، قانونی موشگافیوں اور حدیثِ رسول ’’الدرء والحدود بالشبھات‘‘ پر عمل کرتے ہوئے حد کسی وجہ سے ساقط ہو گئی مگر دیگر قرائن سے اس کا ارتکابِ جرم ثابت ہو گیا، تو باتفاق فقہاء اسلام اسے سقوطِ حج کی وجہ سے بری نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے تعزیری سزا دی جائے گی، کیونکہ سقوطِ حد مجرم کی براءت کی دلیل نہیں اور اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
(۱) گیراج سے باہر سڑک کے کنارے یا کار پارکنگ سے گاڑی لے بھاگنا موجبِ حد نہیں کیونکہ سڑک اور پارک ایریا حرزِ مثل نہیں ہے۔
(۲) مسجد کے قالین، گھڑیاں یا پنکھے چوری کرنا۔
(۳) کسی اسٹیٹ بینک کی تجوری یا لاکرز سے رقم یا زیور اڑا لینا جبکہ زیور بینک کی ملکیت ہو۔
(۴) سکولوں، کالجوں کی لائبریریوں سے کتب کی چوری۔
(۵) فون کالوں اور بجلی کی چوری۔
(۶) سرکاری دفاتر سے ٹائپ رائٹر، فیکس مشینوں، ایئرکنڈیشنر، ریفریجریٹر یا دیگر سرکاری اشیا کی چوری۔
(۷) ریلوے ٹکٹوں کی چوری اور بغیر ٹکٹ سفر کرنا۔
(۸) اجنبیات کے ساتھ ڈانس کرنا۔
(۹) بیوی کی لونڈی سے جماع کرنا۔
(۱۰) باپ کا اپنے بیٹے کی باندی سے وطی کرنا۔
(۱۱) چوپایوں سے بدفعلی کا ارتکاب کرنا۔
غرضیکہ ایسے بے شمار جرائم ہیں جن میں حد کی سزا نہیں۔ اگر سقوطِ حد کا فائدہ مجرم کو یہ دیا جا رہا ہے کہ وہ بری ہے تو پھر مندرجہ بالا جرائم میں سے کسی میں بھی حد نہیں۔ تو کیا مجرم کو صرف اس لیے چھوڑ دیا جائے گا کہ حد نہیں ثابت ہوتی؟ خدانخواستہ اگر اس قاعدے کو اپنا لیا جائے تو پھر اوباش لڑکوں اور فیشن زدہ لڑکیوں، مسجدوں سے چوریاں کرنے والوں، بد دیانت اور چور افسروں کے مزے ہوں گے۔ اس طرح کی سوچ ہی مِلّی تباہی کا باعث ہے چہ جائیکہ اسے قانون کا سہارا دیا جائے۔
یاد رکھئے! سقوطِ حد کا سبب شبہہ ہوتا ہے، چاہے وہ شبہہ فی الاثبات ہو، یا شبہہ فی الفعل، یا شبہ فی المحل، یا شبہ فی العقد۔ ان شبہاتِ ضعیفہ کی وجہ سے صرف حد ساقط ہو گی، تعزیر بہرحال باقی رہے گی۔ کیونکہ سقوطِ حد کے لیے معمولی شبہ بھی کافی ہے اور تعزیر کے لیے شرعی نصابِ شہادت اگر نہ بھی پورا ہو تو قرائن کی بنیاد پر، یا دو گواہوں، دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے بھی تعزیری سزا دی جا سکتی ہے۔
قاعدہ یہ ہے کہ اسقاطِ حد کے لیے شبہہ ضعیفہ کافی ہے، اور اثباتِ تعزیر کے لیے قرینہ قویہ کافی ہے۔ سقوطِ حد سے وصفِ جرم ختم نہیں ہوتا۔ ارتکابِ حرام کا جرم باقی رہتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ سقوطِ حد میں شبہہ ضعیفہ پایا جاتا ہو۔ اگر شبہہ قویہ ہو تو البتہ سقوطِ حد کے ساتھ تعزیر بھی ساقط ہو جائے گی اور مجرم بری ہو جائے گا۔
امام ابو زہرہؓ فرماتے ہیں:
واذا کانت الشبہۃ ضعیفۃ فانھا تسقط الحد و لا تمحو وصف الحریمۃ فالتحریم ثابت واذا کانت عقوبۃ الحد سقطت فوراء ذلک عقوبۃ التعزیر و ینتقل العقاب من عقوبۃ مقدرۃ الی اخری غیر مقدرۃ۔
’’اگر شبہہ ضعیفہ ہو تو اس سے حد تو ساقط ہو گی لیکن وصفِ جرم ختم نہ ہو گا۔ حرمت باقی رہے گی۔ لہٰذا اگر حد ساقط بھی ہو گی تو اس کے بدلے تعزیری سزا باقی ہے، لہٰذا سزا حد سے منتقل ہو کر سزائے تعزیر میں بدل جائے گی۔‘‘(۱۳)
شبہہ ضعیفہ اور شبہہ قویہ اپنے نتائج کے اعتبار سے
ابو زہرہؓ فرماتے ہیں:
الشبھۃ القویۃ تمحو وصف الحریمۃ و یرتب علی ذلک سقوط العقوبۃ حتما والشبہۃ الضعیفۃ لا تمحو وصف الحریمۃ ولکنھا تسقط الحد فقط۔
’’شبہہ قویہ وصفِ جرم کو ختم کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں سزا مکمل طور پر ساقط ہو جاتی ہے۔ شبہہ ضعیفہ وصفِ جرم کو ختم نہیں کرتا، صرف سقوطِ حد کا فائدہ دیتا ہے۔‘‘(۱۴)
شبہہ قویہ کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً بنیادی طور پر اثباتِ دعوٰی میں قانونی سقم موجود ہو، جیسے چوری کا مقدمہ تو قائم کر دیا گیا ہے مگر نہ تو مالِ مسروقہ برآمد ہوا اور نہ شہادتِ شرعیہ ہو۔ صرف ملزم کے مکان کے اندر پائے جانے اور نشاناتِ قدم اور نشاناتِ انگشت کی بنیاد پر چور قرار دیا جائے۔ شہادتوں میں تضاد ہو، کوئی گواہ وقوعہ کا وقت رات بتائے، کوئی صبح اور کوئی بعد ظہر۔ یہ تمام شبہات قویہ ہوں گے جن سے نہ صرف حد ساقط ہو گی بلکہ مجرم صاف بری ہو جائے گا۔
اس کے برعکس شبہہ ضعیفہ کی مثالیں یہ ہیں: مطلقہ ثلاثہ سے نکاح کر کے ہم بستری کرنا، سرکاری ٹائپ رائٹر یا فیکس مشین یا اور کوئی چیز دفتر سے بغرض مستقل قبضہ برائے تملیک اٹھا لے جانا، کسی شخص کا اجنبیہ کے ساتھ ایک بستر میں پایا جانا، یہ تمام جرائم ایسے ہیں کہ ان میں بوجہ شبہ کے حد جاری نہ ہو گی مگر سزائے تعزیر ضرور دی جائے گی، کیونکہ خلوت بالاجنبیہ معصیت ہے، گو زنا کے گواہ دستیاب نہ ہوں۔ ہر معصیت جرم ہے اور ہر معصیت قابلِ تعزیر ہے۔
حواشی
(۱) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الطرق الحکمیۃ لابن قیم، ص ۵۶۔ طرق الاثبات لمحمد ازحیلی ص ۵۱۸۔ التشریع الجنائی الاسلامی لعبد القادر عودہ ۔ ج ۵ ص ۳۳۹
(۲) بحر الرائق شرح کنز الدقائق ۔ ج ۵ ص ۴۶
(۳) رد المختار ج ۳ ص ۱۹۶ ۔ منحۃ الخالق علی بحر الرائق ۔ ج ۵ ص ۴۴
(۴) بحر الرائق ۔ ج ۵ ص ۴۶
(۵) ایضاً
(۶) الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ۔ ج ۵ ص ۱۰۲
(۷) العقوبۃ ۔ ص ۷۸ و ۷۹
(۸) حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق ۔ ج ۳ ص ۱۷۹
(۹) السیاسۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی والرعیۃ لابن تیمیۃ ۔ ص ۱۱۱ و ۱۱۲
(۱۰) الروض المربع لمنصور یونس، ص ۴۹ ۔ انوار المسالک شرح عمدۃ السالک لاحمد نقیب المعری
(۱۱) منتہی الارادات ۔ ج ۳ ص ۳۶۱
(۱۲) ایضاً
(۱۳) العقوبۃ ۔ ص ۲۴۰
(۱۴) ایضاً
(جاری)
غیر منصوص مسائل کا حل ۔ فقہ اسلامی میں تجویز کردہ طریق کار
محمد عمار خان ناصر
مسلمانوں کی علمی میراث میں فقہ اسلامی کے نام سے جو ذخیرہ پایا جاتا ہے وہ اپنے اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے دو چیزوں سے عبارت ہے: ایک ان احکام کی تشریح و تعبیر جو قرآن و سنت میں منصوص ہیں، اور دوسرے ان مسائل کے بارے میں دین کے منشا کی تعیین جن سے نصوص ساکت ہیں، اور جن کے حل کی ذمہ داری قرآن و سنت کے طے کردہ ضوابط کی روشنی میں امت کے علما کے سپرد کی گئی ہے۔ اپنے لغوی مفہوم اور قرآن و سنت کے استعمالات کے لحاظ سے فقہ کا لفظ ان دونوں دائروں کے لیے بولا جاتا ہے۔ تاہم اس کے اصطلاحی و عرفی مفہوم کے پیشِ نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ فقہ کی اصل جولان گاہ غیر منصوص احکام کا دائرہ ہے، اسی لیے فقہی ذخیرے کا بیشتر حصہ انہی مسائل و مباحث کی تحقیق و تنقیح کے لیے خاص ہے۔
دوسرے تمام علوم و فنون کی طرح فقہ اسلامی بھی عہد بعہد ارتقا کے مراحل سے گزری ہے اور اس کے بنیادی و ذیلی اصولوں کی ترتیب و تدوین اور ان سے بے شمار جزئیات کی تفریع سینکڑوں اہلِ علم کی علمی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے۔ اس سارے عمل میں، فطری طور پر، مختلف رجحانات اور فکری خصائص رکھنے والے مکاتبِ فکر بھی وجود میں آئے ہیں جن کے مابین پیدا ہونے والی مختلف النوع علمی بحثیں فی الواقع علم و نظر کی آبیاری کرنے اور ان کو جلا بخشنے والی ہیں۔ فقہا کی ان مسلسل اور گوناگوں کاوشوں کا ثمر یہ ہے کہ اسلامی فقہ نئے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع، مربوط اور منضبط ضابطہ رکھتی ہے۔ مسلم فقہا نے نہایت دقتِ نظر کے ساتھ غیر منصوص احکام کو ان کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف دائروں میں تقسیم کیا اور ان کے حل کے لیے مختلف اطلاقی قواعد وضع کیے ہیں۔
جہاں تک فقہی آرا کے اختلاف کا تعلق ہے تو وہ علم و فکر کی دنیا کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ اس کے بغیر علوم و فنون نہ پھلتے پھولتے ہیں، نہ ان میں نئی نئی راہیں کھلتی ہیں اور نہ مختلف الجھنوں کی تنقیح کا سامان ہی فراہم ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ تمام حلقہ ہائے فکر حیرت انگیز طور پر اپنا انتساب ایک ہی بنیادی سرچشمے کی طرف کرتے ہیں، اور اگر دقتِ نظر سے جائزہ لیا جائے تو ان سب کا استدلال و استنباط چند ایک ایسے کلی قواعد کے تابع ہوتا ہے جو ان کے مابین مابہ الاشتراک کی حیثیت رکھتے اور اس طرح اس غیر متناہی سلسلہ اختلافات میں رشتۂ اتحاد پیدا کرتے ہیں۔ جہاں تک میں غور کر سکا ہوں، فقہی مکاتبِ فکر کے باہمی اختلافات بظاہر کتنے ہی وسیع الاطراف محسوس ہوتے ہوں، وہ بیشتر صرف اطلاق کے اختلافات ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ استنباط کے بنیادی اصول تو ایک ہی ہیں لیکن کسی خاص مسئلے میں ان کا اطلاق کرتے ہوئے اختلاف ہو جاتا ہے۔ ایک فقہیہ اپنے علم و مطالعہ کی روشنی میں ایک اصول کا اطلاق درست سمجھتا ہے جبکہ دوسرے کے نزدیک بعینہ اس مسئلے میں کسی دوسرے اصول کا اطلاق بہتر ہوتا ہے۔
زیرنظر مقالہ میں، میں نے کوشش کی ہے کہ غیر منصوص مسائل کے حل کے لیے اسلامی فقہ میں تجویز کردہ طریق کار اور بنیادی قواعد کا ایک مختصر جائزہ پیش کروں اور ان کی توضیح چند ایسی مثالوں سے کروں جن میں ان قواعد کا اطلاق کیا گیا ہو۔ مثالوں کا انتخاب زیادہ تر جدید پیش آمدہ مسائل سے کیا گیا ہے تاکہ ایک طرف تو یہ بات واضح ہو کہ صدیوں پہلے طے ہونے والے یہ قواعد اپنی ہمہ گیری اور جامعیت کے لحاظ سے آج بھی قابلِ استناد ہیں، اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے آئے کہ ان قواعد کی افادیت کا مدار اس بات پر ہے کہ جزئیات میں اجتہاد کا سلسلہ رکے بغیر جاری رہے اور فقہ اسلامی زمانے کے مسلسل ارتقا کا برابر ساتھ دیتی رہے۔
فقہی و علمی مسائل میں، جیسا کہ میں نے عرض کیا، اہلِ علم کے مابین اختلافِ رائے کا واقع ہو جانا ایک بالکل فطری امر ہے۔ چنانچہ تمام علمی آرا کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے ان آرا کو ترجیح دی ہے جو میرے ناقص فہم کے مطابق، ازروئے اصول و قواعد، اقرب الی الصواب ہیں۔
فقہ اسلامی کے ان قواعد کلیہ کا مطالعہ چار بنیادی عنوانات کے تحت کیا جا سکتا ہے:
۱۔ قیاس،
۲۔ احکام کی حکمت،
۳۔ مصالح، اور
۴۔ عرف
قیاس
شریعت کے احکام اکثر و بیشتر کسی خاص عِلّت پر مبنی ہوتے ہیں۔ قیاس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی منصوص حکم کو علت کی بنا پر ان صورتوں میں بھی ثابت کیا جائے جن میں یہ علت پائی جاتی ہے۔ فقہ اسلامی کے قدیم و جدید ذخیرے میں مسائل کی ایک بہت بڑی تعداد کے احکام اس اصول کے مطابق اخذ کیے گئے ہیں۔
جدید مسائل میں اس کی ایک مثال بندوق کا شکار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر پھینک کر شکار کیے جانے والے جانور کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تیر کا نوک دار حصہ شکار کو لگا ہو اور اس سے جانور کا خون نکلا ہو تو وہ حلال ہے۔ اور اگر تیر چوڑائی والی جانب سے جانور کو لگا ہے اور اس سے اس کی موت واقع ہوئی ہے تو چونکہ وہ ذبح نہیں ہوا بلکہ چوٹ لگنے سے مرا ہے اس لیے حرام ہے۔ تیر پر قیاس کرتے ہوئے علما نے بندوق سے شکار کیے جانے والے جانوروں کو بھی حرام قرار دیا ہے۔
قیاس کا عمل دو پہلو رکھتا ہے:
ایک پہلو کا تعلق فہمِ نص سے ہے، یعنی اس میں کسی منصوص حکم کی علت متعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ علت کی پہچان، اس کی شرائط اور اس کی تعیین کے مختلف طریقوں پر اہلِ اصول نے بحث کی ہے لیکن یہ تفصیل یہاں ہمارے موضوع سے خارج ہے۔
دوسرا پہلو اس حکم کے تعدیہ یعنی غیر منصوص صورتوں میں اس کے اطلاق سے متعلق ہے۔ کسی حکم کی علت کی درست تعیین کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ غیر منصوص مسائل پر اس کا اطلاق بھی درست ہو۔ اس ضمن میں فقہا نے متعدد عقلی قواعد وضع کیے ہیں جن میں سے چند بنیادی قواعد کا ہم اجمالاً یہاں تذکرہ کرتے ہیں۔
(۱) پہلا ضابطہ یہ ہے کہ قیاس کے دائرے میں وہ احکام نہیں آ سکتے جن کے بارے میں مستقل نص موجود ہو۔ چنانچہ سفر کی حالت میں مغرب کی نماز کو ظہر، عصر اور عشا پر قیاس کرتے ہوئے قصر کر کے نہیں پڑھا جا سکتا۔ اسی طرح خاوند اگر اپنی بیوی پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگائے تو اس پر قذف کی حد جاری نہیں کی جا سکتی۔
(۲) دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ ایسے منصوص احکام کو قیاس کا مبنی نہیں بنایا جا سکتا جو شریعت کے عام ضوابط کے تحت نہیں آتے بلکہ ان کی نوعیت مخصوص احکام کی ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں:
ایک یہ کہ وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہو۔ چنانچہ ازواج کی تعداد میں جو رخصت قرآن مجید کی رو سے خاص طور پر آپ کے لیے ثابت ہے، اس میں کسی دوسرے کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ احناف نے اسی اصول پر ایسے شخص کے لیے جو کسی کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کر سکا ہو، اس کی قبر پر نماز پڑھنے کو ناجائز قرار دیا ہے، اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت ہے۔
دوسری یہ کہ اس کی نوعیت ایسی رخصت کی ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنے مخصوص اختیارات کے تحت دی ہو۔ روایات میں ابو بردہؓ کے لیے ایک سال سے کم عمر کی بکری کی قربانی کی اجازت، اور سالم مولٰی حذیفہؓ کے لیے بڑی عمر میں حذیفہؓ کی بیوی کا دودھ پینے سے حرمتِ رضاعت کا ثبوت اسی نوعیت کے احکام ہیں۔ چنانچہ ان پر دوسرے کسی فرد کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
تیسری یہ کہ وہ حکم کسی مخصوص حالت سے متعلق اور کسی قید سے مقید ہو۔ اس صورت میں اس کو عام حکم بنانا درست نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نجاشیؓ کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا انتقال ایک کافر ملک میں ہوا تھا اور اگرچہ مسلمان وہاں موجود تھے لیکن ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ان کی نماز جنازہ پڑھتے اور اسلامی طریقے پر ان کی تدفین کرتے۔ چنانچہ نجاشیؓ پر قیاس کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی غائبانہ نماز جنازہ تو پڑھی جا سکتی ہے جن کی نماز جنازہ نہ پڑھی جا سکی ہو لیکن اس کو ایک عام عمل بنانا درست نہیں ہو گا۔
(۳) تیسرا ضابطہ یہ ہے کہ قیاس کا مدار ظاہری مماثلت پر نہیں بلکہ حقیقی علت پر رکھنا چاہئے۔ جدید فقہی استنباطات نے اس اصول کی اہمیت کو نہایت موکد کر دیا ہے اس لیے کہ بالخصوص معیشت کے مسائل میں کیے جانے والے قیاسات کے نتائج بہت وسیع اور دور رس ہوتے ہیں، لہٰذا بیانِ احکام میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ دو مثالیں ملاحظہ کیجئے۔
کرنسی نوٹ کی قوتِ خرید
قرض دے کر مدت کے عوض میں اصل سے زائد رقم لینا سود ہے جو کہ شریعت میں حرام ہے۔ زمانہ قدیم میں سونا اور چاندی کو Medium of exchange یعنی اشیا کے تبادلہ کے لیے ذریعے کی حیثیت حاصل تھی، اس لیے شریعت میں سونے اور چاندی کے قرض میں اصل سے زائد مقدار لینے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ لیکن جدید معیشت میں سونے اور چاندی کو یہ حیثیت حاصل نہیں رہی بلکہ ان کی جگہ کرنسی نوٹ نے لے لی ہے۔ کرنسی نوٹ کی قیمت چونکہ یکساں نہیں رہتی بلکہ مختلف معاشی عوامل کے تحت کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے، اس لیے یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ نوٹ کی قوتِ خرید میں اس کمی بیشی کا مالی ادائیگیوں پر کیا اثر پڑے گا؟
مثال کے طور پر ایک شخص نے پانچ ہزار روپے کسی کو بطور قرض دیے اور قرض دیتے وقت ان کی قوتِ خرید ایک تولہ سونا تھی۔ کچھ عرصہ بعد جب مقروض نے قرض واپس کیا تو پانچ ہزار روپے کی قوتِ خرید کم ہو کر دس ماشے رہ گئی۔ اب کیا مقروض ہر حالت میں اتنی ہی مقدار میں نوٹ ادا کرے گا جتنے اس نے لیے تھے؟ یا ان کی قیمتِ خرید کا لحاظ کرتے ہوئے اتنے نوٹ دے گا جن سے ایک تولہ سونا خریدا جا سکتا ہو؟
ایک رائے یہ ہے کہ نوٹوں کی مقدار وہی رہنی چاہئے کیونکہ کرنسی نوٹ بھی سونا چاندی کی طرح ثمن ہیں، اس لیے جیسے سونا چاندی کے قرض میں کمی بیشی درست نہیں، اسی طرح نوٹوں کے قرض میں بھی کمی بیشی ناجائز ہے۔ تاہم اس قیاس میں محض ظاہری مماثلت کو دیکھتے ہوئے حقیقی علت سے صرفِ نظر کر لیا گیا ہے۔ اس لیے کہ سونا چاندی کی ایک حیثیت تو بلاشبہ یہی ہے کہ وہ اشیا کے تبادلہ کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ وہ بذاتِ خود اپنی بھی ایک قیمت رکھتے ہیں۔ اور جب مقروض اصل مقدار میں سونا یا چاندی واپس کرتا ہے تو قرض خواہ کو کوئی نقصان برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے برخلاف کرنسی نوٹ کی بذاتِ خود کوئی قیمت نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک فرضی قوتِ خرید کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے جس شخص نے دوسرے کو پانچ ہزار روپے دیے ہیں، اس نے نوٹوں کی شکل میں کوئی ایسی چیز اس کو نہیں دی ہے جو بذاتِ خود قیمت رکھنے والی ہو، بلکہ اس نے، درحقیقت، پانچ ہزار روپے کی قوتِ خرید اس کے حوالے کی ہے۔
لہٰذا عدل و انصاف کی رو سے ضروری ہے کہ قرض دینے والے کو اس کی قوتِ خرید پوری واپس ملے، چاہے نوٹوں کی مقدار میں بظاہر زیادتی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اس صورت میں یہ زیادتی مدت کے عوض میں نہیں ہے، جو کہ حرمتِ سود کی اصل علت ہے، بلکہ اس نقصان کی تلافی کے لیے ہو گی جو اس عرصے میں نوٹ کی قوتِ خرید میں واقع ہو گیا ہے۔
صنعتی پیداوار
شریعت میں مالِ تجارت پر ڈھائی فیصد جبکہ زمین کی پیداوار پر دس فیصد یا پانچ فیصد زکوٰۃ فرض کی گئی ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ تجارت میں سرمایے کے محفوظ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور سارے کا سارا سرمایہ ہر وقت معرض خطر میں ہوتا ہے، جبکہ زمین کی پیداوار میں نقصان اگر ہو سکتا ہے تو پیداوار میں ہو سکتا ہے، زمین، جو کہ پیداوار کا منبع ہے، بذاتِ خود محفوظ رہتی ہے۔ اس اصول پر دیکھئے، جدید معیشت میں کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات اور مکانوں اور جائیدادوں کے کرایوں کو اگرچہ علما نے بالعموم مالِ تجارت شمار کیا ہے، لیکن ایک رائے یہ ہے کہ ان کا الحاق مالِ تجارت کے بجائے مزروعات کے ساتھ کر کے ان پر دس یا پانچ فیصد زکوٰۃ عائد کرنی چاہئے کیونکہ ان میں بھی ذرائع پیداوار یعنی مشینیں اور اوزار وغیرہ بالعموم نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ دوسری رائے عقل و قیاس کے زیادہ قرین ہے۔
(۴) چوتھا ضابطہ یہ ہے کہ بعض دفعہ علت سے قطعہ نظر کر کے محض احتیاطاً ایک چیز کو دوسرے کے قائم مقام قرار دے کر ایک کے احکام دوسری پر جاری کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاً غسل واجب ہونے کی اصل علت تو منی کا خروج ہے، لیکن احتیاطاً شرمگاہوں کے محض ملنے پر غسل واجب کیا گیا ہے۔ جدید مسائل میں اس سے ملتی جلتی صورت ٹسٹ ٹیوب کے استعمال میں پائی جاتی ہے۔ ٹسٹ ٹیوب کے طریقے میں مرد کی منی کو محفوظ کر کے اسے انجکشن کے ذریعے سے یا خود اسی ٹیوب کے ذریعے سے عورت کے رحم میں پہنچایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس صورت میں عورت پر غسل واجب ہو گا یا نہیں؟ ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ غسل کا موجب درحقیقت منی کا ایسا دخول و خروج ہے جس میں جنسی لذت کا حصول بھی شامل ہو، اس لیے مذکورہ صورت میں غسل واجب نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اس صورت میں ازروئے علت نہیں لیکن ازروئے احتیاط غسل واجب ہو گا۔
احکام کی حکمت
شریعت کے تمام احکام خاص حکمتوں پر مبنی ہیں جن کا حصول ان احکام کے پورا کرنے سے مقصود ہوتا ہے۔ غیر منصوص مسائل میں بعض دفعہ عقلی لحاظ سے کئی پہلوؤں کا اختیار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ دیکھنا چاہئے کہ احکام کی حکمت کی رعایت کس پہلو میں زیادہ ہے۔ اس اصول کا اطلاق حسبِ ذیل مسائل میں ہوتا ہے۔
نمازوں کے اوقات
ایسے مقامات جہاں بعض نمازوں کا وقت نہ ملتا ہو، مثلاً آفتاب کے طلوع و غروب کے درمیان گھنٹہ نصف گھنٹہ کا فاصلہ رہتا ہو، یا کئی کئی ماہ تک مسلسل دن یا رات رہتے ہوں، تو وہاں نمازوں کا حکم کیا ہے؟ بعض فقہا نے محض ظاہر کو دیکھتے ہوئے یہ فتوٰی دیا کہ چونکہ وقت نماز کے لیے شرط ہے اس لیے ان علاقوں میں وہ نمازیں فرض نہیں ہوں گی جن کا وقت نہیں ملتا۔ لیکن دوسری رائے، جو زیادہ معقول ہے، یہ ہے کہ شریعت کا اصل مطلوب ایک مخصوص وقت کے اندر پانچ نمازیں ہیں۔ اوقات ان نمازوں کے لیے محض علامت اور ظاہری سبب کی حیثیت رکھتے ہیں نہ کہ حقیقی سبب کی۔ اس لیے مذکورہ علاقوں میں بھی چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازیں ہی فرض ہوں گی اور ان کے اوقات قریبی علاقوں کے اوقات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
ٹیلی ویژن سے نماز
نماز ایک زندہ روحانی عمل ہے اور اس میں قلبی کیفیات کو اصل مقصود کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک امام کے پیچھے باجماعت نماز پڑھنے سے یگانگت اور وحدت کی جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں، وہ ٹیلی ویژن یا ریڈیو کے پیچھے پڑھنے میں نہیں ہو سکتیں، چنانچہ مذکورہ صورت میں نماز درست نہیں ہو گی۔
نس بندی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس میں تبدیلی اور اس کے تقاضوں سے انحراف دین میں حرام ہے۔ مردوں کے عورتوں سے اور عورتوں کے مردوں سے مشابہت اختیار کرنے کو اسی بنیاد پر حدیث میں قابلِ لعنت عمل قرار دیا گیا ہے۔ اسی اصول پر علما نے نس بندی کو حرام کہا ہے کیونکہ مردانہ صلاحیت اور اس کا جائز استعمال اس فطرت کا تقاضا ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس فطرت کو ختم کرنے کا اختیار انسان کو نہیں دیا گیا۔
حسن کے لیے سرجری
سرجری کے طریقوں میں ترقی کے باعث یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان اپنی شکل و شباہت کو سرجری کی مدد سے ایک خاص حد تک اپنی پسند کے مطابق بنوا لے۔ اسلام کے نزدیک انسانوں کی صورت گری مختلف حکمتوں کے تحت اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور اچھی یا بری شکل دینے سے مقصود انسان کی آزمائش کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ کی اس تقسیم کو قبول کرنا ہی بندگی کا تقاضا ہے۔ چنانچہ اگر محض حسن پیدا کرنے کے لیے سرجری کروائی جائے تو یہ حرام ہے۔ البتہ اگر کسی شخص کی خلقت انسانوں کی عام خلقت سے مختلف ہو، یا کسی حادثے کے نتیجے میں اصل شکل میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو سرجری کے ذریعے سے اس کا علاج درست ہو گا۔
حد میں مقطوع الید کی پیوندکاری
شریعت میں حدود کا مقصد محض مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ اسے معاشرے کے لیے عبرت بنا دینا بھی ہے۔ لہٰذا سرجری کے ذریعے سے کسی ایسے شخص کے اعضا کو دوبارہ جوڑنا ناجائز ہو گا جس کا ہاتھ چوری میں یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ قصاص میں کاٹا گیا ہو۔
روزہ میں انجکشن
علما کے مابین انجکشن سے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک انجکشن مطلقاً ناقض ہے اور بعض رگ میں لگائے جانے والے انجکشن کو ناقض اور دوسرے کو غیر ناقض قرار دیتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ انجکشن میں کون سی صورت پائی جاتی ہے، علما نے یہ بات بطورِ اصول تسلیم کی ہے کہ اگر جسم کے اندر داخل کی جانے والی کوئی چیز کسی منفذ کے ذریعے سے دماغ یا معدہ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک روزے کا مقصد دراصل انسان کو اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دینا ہے اور اس مقصد کے لیے شریعت میں اکل و شرب اور جماع کو ممنوع کیا گیا ہے۔ چونکہ علاج کی غرض سے کسی بھی قسم کی بیرونی دوا یا انجکشن استعمال کرنے سے اس مقصد پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے یہ چیزیں ناقضِ صوم نہیں ہو سکتیں۔ البتہ اگر کوئی شخص کوئی دوا یا انجکشن استعمال ہی اس غرض سے کرتا ہے کہ اس کے بدن کو تقویت پہنچے اور کمزوری محسوس نہ ہو، تو یہ روزے کے مقصد کے خلاف ہے، لہٰذا اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا خواہ وہ رگ میں لگایا جائے یا گوشت میں۔
کیسٹ کو بے وضو چھونا
بعض علما کا خیال ہے کہ ایسی کیسٹ کو چھونے کے لیے بھی باوضو ہونا ضروری ہے جس میں قرآن مجید کی تلاوت ریکارڈ کی گئی ہو کیونکہ وضو کے حکم کا مقصد قرآن کا احترام ہے، اور احترام جیسے لکھے ہوئے قرآن کا ہونا چاہئے اسی طرح ریکارڈ کیے ہوئے قرآن کا بھی ہونا چاہئے۔ ہمارے خیال میں ادب اور احترام کا تعلق انسان کی داخلی کیفیات سے ہے، چونکہ کیسٹ پر قرآن ظاہری طور پر لکھا ہوا نہیں ہوتا اس لیے اس کو چھوتے ہوئے آدمی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ اس نے قرآن پکڑا ہوا ہے اور نہ وہ کوئی حجاب محسوس کرتا ہے، چنانچہ اس صورت میں باوضو ہونے کی شرط لگانا درست نہیں۔
ٹیپ ریکارڈر سے قرآن سننے پر سجدۂ تلاوت
علما کا خیال ہے کہ ٹیپ ریکارڈر سے تلاوت سننے پر سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ سننے والا خود پڑھنے والے کی زبان سے قرآن سنے۔ ہمارے نزدیک سجدۂ تلاوت کی حکمت یہ ہے کہ آدمی ایسی آیات کو سن کر، جن میں سجدہ کی ترغیب دی گئی ہے، فورًا ان کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی عاجزی کا اظہار کرے۔ ظاہر ہے کہ اس میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیت کسی کی زبان سے سنی گئی ہے یا ٹیپ ریکارڈر سے، اس لیے ہمارے نزدیک دونوں صورتوں کا حکم ایک ہونا چاہئے۔
مصالح
مصالح کے عنوان کے تحت مختلف ذیلی اصول مندرج ہوتے ہیں:
(۱) الدین یسر
پہلا اصول یہ ہے کہ مامورات میں، یعنی ایسی باتوں میں جن کا کرنا دین میں مطلوب ہے، حتی الوسع یسر اور آسانی کو ملحوظ رکھا جائے۔ ہمارے نزدیک حسبِ ذیل مسائل میں اس اصول کا اطلاق ہونا چاہئے۔
وِگ اور مصنوعی دانتوں کے ساتھ غسل
علما نے ایسے دانتوں میں جو مستقل طور پر لگا دیے گئے ہوں، اور ایسے دانتوں میں جن کو اتارا جا سکے، فرق کرتے ہوئے دوسری صورت میں غسل میں دانتوں کے اتارنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ اسی طرح سرجری کے بعض نئے طریقوں میں گنجے پن کے مریضوں کے سر پر ایک جھلی، جس پر بال لگے ہوتے ہیں، مستقل طور پر لگا دی جاتی ہے جو سر سے جدا نہیں ہو سکتی، علما نے اس طرح کی وگ کو بھی غسل سے مانع قرار دیا ہے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں فتوے یسر کے خلاف ہیں۔
ناخن پالش کے ساتھ وضو اور غسل
ناخن پالش کے بارے میں علما کا موقف یہ ہے کہ اس کے ساتھ وضو درست نہیں کیونکہ اس کی تہہ (layer) ناخنوں تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہے۔ ہمارے نزدیک یسر کے اصول کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ایسی چیز جو جسم کے ساتھ اس طرح چپک جائے کہ اس کو الگ کرنے کے لیے رگڑنے یا کھرچنے کی ضرورت پڑے، اسے اصل جلد ہی کے حکم میں تصور کیا جائے۔ اس طرح ناخن پالش، پینٹ، یا تارکول وغیرہ کے جسم پر لگنے کی صورت میں ان کو اتارے بغیر وضو اور غسل درست ہو گا۔
(۲) الاصل الاباحۃ
دوسرا اصول یہ ہے کہ اشیا میں اصل اباحت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عمل درست ہے، اِلّا یہ کہ اس کے خلاف کوئی ممانعت شریعت میں وارد ہوئی ہو۔ اس اصول پر حسبِ ذیل امور جائز قرار پاتے ہیں:
اعضا کی پیوندکاری
علما کے ایک گروہ کے خیال ہے کہ ایک انسان اپنا کوئی عضو اپنی زندگی میں یا موت کے بعد کسی دوسرے شخص کو نہیں دے سکتا کیونکہ اس کا جسم درحقیقت اللہ کی ملکیت ہے، اس لیے اسے اپنے جسم پر اس نوعیت کا تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ علما کے دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ اعضا کی منتقلی سے انسانوں کا فائدہ متعلق ہے کیونکہ اس طریقے سے کئی مریض مرض سے نجات پا لیتے ہیں اور بعض صورتوں میں ان کی زندگی بھی بچائی جا سکتی ہے، اس لیے یہ طریقہ درست ہے۔ ہمارے نزدیک یہ دوسری رائے درست ہے۔
ٹسٹ ٹیوب
ٹسٹ ٹیوب کی مدد سے بعض بے اولاد جوڑوں کے ہاں اولاد پیدا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اس طریقے سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز ہو گا، بشرطیکہ بچے کی تولید میں مادہ ایسے مرد و عورت ہی کا استعمال کیا جائے جو شرعی طور پر میاں بیوی ہیں۔
چٹ فنڈ یا کمیٹی
ہمارے معاشرے میں عام لوگوں نے سہولت کی غرض سے کمیٹی کے نام سے قرض کا ایک طریقہ رائج کیا ہے جس میں تمام شرکا ہر ماہ رقم کی ایک متعین مقدار ادا کرتے ہیں اور جمع شدہ رقم باری کے مطابق کسی ایک رکن کو دے دی جاتی ہے۔ اس طرح تمام شرکا اپنی اپنی باری پر اپنی رقم پوری کی پوری اکٹھی وصول کر لیتے ہیں۔ بعض اہلِ علم نے اگرچہ اس کو غلط قرار دیا ہے لیکن ہمارے نزدیک اس طریقے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ البتہ اس کا ایک دوسرا طریقہ جس میں شرکا کو اپنی ادا کردہ رقم سے کم یا زیادہ پیسے مل جاتے ہیں، صریحاً ناجائز ہے۔
ممسک حیض ادویہ
حج کے ایام میں تمام افعالِ حج کو اپنے مقرر وقت پر انجام دینے کے لیے اگر خواتین ایسی ادویہ استعمال کریں جو وقتی طور پر حیض کے خون کو روک دیں تو کوئی قباحت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی خاتون محسوس کرے کہ رمضان کا مہینہ گزرنے کے بعد تنہا روزے رکھنا نفسیاتی طور پر مشکل ہو گا تو وہ رمضان ہی میں روزے رکھنے کے لیے ایسی ادویہ استعمال کر سکتی ہے۔
(۳) الضرورات تبیح المحظورات
تیسرا اصول یہ ہے کہ شریعت کے حرام کردہ امور اضطرار کی حالت میں، ضرورت کے مطابق جائز قرار پاتے ہیں۔ اس کا اطلاق حسبِ ذیل صورتوں میں ہوتا ہے:
بینک کی ملازمت
بینک کی بنیاد چونکہ سودی کاروبار پر ہے، اس لیے حدیث کی رو سے اس میں کسی بھی درجے میں شرکت حرام ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا ذریعہ معاش نہ ہو جس سے اس کے روز مردہ اخراجات پورے ہو سکتے ہوں تو وہ متبادل ذریعہ معاش میسر ہونے تک بینک کی ملازمت کر سکتا ہے۔
سودی قرض لینا
سود پر قرض دینا اور لینا، اصولی طور پر، دونوں حرام ہیں۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی روز مرہ ضروریات (خوراک اور لباس) پورا کرنے سے بھی عاجز ہو تو وہ ضرورتاً سود پر قرض لے سکتا ہے۔
ٹیکس اور سود میں سود کی ادائیگی
اگر کسی شخص کے پاس سود کسی طریقے سے آجائے تو وہ اسے اپنے کسی استعمال میں نہیں لا سکتا۔ اس کے لیے اس کو اپنی مِلک سے نکال دینا واجب ہے۔ البتہ اگر اس پر کسی ایسے ٹیکس کی ادائیگی واجب ہو جو حکومت نے ناجائز طور پر عائد کیا ہے، یا اس نے مجبورًا سود پر قرض لیا ہو تو وہ سود کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کو ٹیکس اور سود کی ادائیگی میں استعمال کر سکتا ہے۔
پوسٹ مارٹم
انسانی جسم کی چیر پھاڑ ناجائز ہے، لیکن علاج یا دیگر ضرورتوں کے تحت اس کی اجازت ہے۔ طبِ جدید میں موت کی وجوہ اور اس طرح کے دیگر معاملات کی تفتیش کے لیے مُردے کے جسم کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے، ضرورت کے اصول کے تحت یہ درست ہو گا۔
(۴) المشقۃ تجلب التیسیر
چوتھا اصول یہ ہے کہ شریعت نے بعض احکام میں جو شرائط و قیود لاگو کی ہیں، اگر کسی موقع پر ان کی پابندی کرنے سے حرج لاحق ہوتا ہو تو ان کی رعایت ضروری نہیں رہے گی۔
طویل الاوقات علاقوں میں روزہ
ایسے علاقے جہاں ایک طویل عرصہ تک مسلسل دن اور پھر رات کا سلسلہ رہتا ہے، روزے کے اوقات قریبی علاقوں کے اوقات کے مطابق طے کیے جائیں گے کیونکہ اس قدر طویل عرصہ تک روزہ رکھنا ناممکن ہے۔
ٹرین، ہوائی جہاز وغیرہ میں نماز
نماز میں قیام کرنا اور قبلہ رخ ہونا لازم ہے۔ تاہم ٹرین، ہوائی جہاز یا بحری جہاز میں سفر کرتے ہوئے اگر قیام کرنے یا قبلہ رخ ہونے کا التزام کرنے میں دِقت ہو تو یہ شرائط ساقط ہو جائیں گی اور بیٹھ کر کسی بھی جانب منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہو گا۔
حالتِ حیض میں بیت اللہ کا طواف
بیت اللہ کے طواف کے لیے حیض و نفاس اور جنابت سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اس لیے اگر ایامِ حج میں عورت کو حیض آ جائے تو وہ پاک ہونے کے بعد ہی طوافِ زیارت کر سکتی ہے۔ لیکن آج کل اس پر عمل کرنا ممکن نہیں کیونکہ حکومتِ سعودیہ کی جانب سے حاجیوں کو مخصوص دنوں کا ویزا جاری کیا جاتا ہے اور ان کی واپسی کی تاریخ کئی دن پہلے مقرر ہو چکی ہوتی ہے، اس لیے عورتوں کے لیے حیض سے پاک ہونے کا انتظار کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس صورت میں فقہا نے اجازت دی ہے کہ عورت ناپاکی کی حالت میں ہی طوافِ زیارت کر سکتی ہے۔
حالتِ حیض میں تلاوتِ قرآن
حیض کی حالت میں عورت کے لیے قرآن کا پڑھنا ناجائز ہے، لیکن اگر کوئی عورت کسی مکتب میں معلّمہ یا طالبہ ہو تو ظاہر ہے کہ زیادہ دنوں تک چھٹی کرنے سے تعلیمی سرگرمیوں میں حرج واقع ہوتا ہے، لہٰذا ایسی خواتین کے لیے حالتِ حیض میں قرآن کا پڑھنا پڑھانا جائز ہو گا۔
(۵) ما ادی الی المحظور فھو محظور
اس اصول کا دوسرا نام سدِ ذرائع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے امور جو کسی ممنوع کام کا ذریعہ بنتے ہوں، ناجائز ہیں۔
جدید مسائل میں اس کی نظیر مانع حمل ادویہ اور آلات کی عام فراہمی ہے۔ علما نے بجا طور پر یہ کہا ہے کہ معاشرے کو زنا سے محفوظ رکھنے کے لیے داخلی پاکیزگی کی تربیت کے ساتھ ساتھ خارجی موانع بھی برقرار رہنے چاہئیں اور شریعت نے اسی غرض سے پردہ وغیرہ کے احکام دیے ہیں۔ زنا کے بارے میں انسانی جبلت اور معاشرتی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں اصل مانع کی حیثیت بدنامی کے خوف کو حاصل ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس مانع کو معاشرے میں برقرار رکھا جائے ورنہ زنا پر کنٹرول ناممکن ہو جائے گا۔ مانع حمل ادویہ اور آلات کی سرعام فراہمی نے خود ہمارے معاشرے میں بھی، جہاں اعتقادی طور پر زنا کو حرام سمجھا جاتا ہے، اس خوف کو ختم کر دیا ہے اور زنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ عام ہو گیا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مانع حمل ادویہ اور آلات کی فراہمی کو محدود کیا جائے اور شادی شدہ جوڑوں کے علاوہ دوسروں کو اس کی فراہمی پر پابندی عائد کی جائے۔
(۶) یختار اھون الشرین
اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی صورت حال میں دو غلط راستوں میں سے ایک کو اختیار کرنا پڑے تو کم مفاسد والے راستے کو اختیار کیا جائے۔ اس کی مثالیں حسبِ ذیل ہیں:
ظلم کے نظام میں شرکت
کسی ایسے اسلامی یا غیر اسلامی ملک میں جہاں ظلم کا نظام ہو، کاروبارِ حکومت میں شریک ہونے کی صورت میں، ظاہر ہے آدمی کو بہت سے ناجائز کام کرنے پڑیں گے، چاہے وہ دل سے ان کے کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ یہی صورت ہمارے معاشرے میں تجارت کی ہے۔ لیکن اگر ان میدانوں میں شرکت کو نیک لوگوں کے لیے بالکل ممنوع قرار دیا جائے تو یقیناً زیادہ بڑے مفاسد پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ چنانچہ حکمت کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کو ان میدانوں میں آنے کی نہ صرف اجازت بلکہ ترغیب دی جائے جو طبعاً برائی کو ناپسند کرتے ہوں، اور اس کو مجبوری کے دائرے میں رکھتے ہوئے باقی امور میں ملک و قوم کی خدمت انجام دے سکیں۔
جڑواں بہنوں کا نکاح
اگر دو عورتیں اس طرح پیدا ہوئی ہوں کہ ان کے اعضا ایک دوسرے کے ساتھ ناقابلِ انفصال طریقے پر جڑے ہوئے ہوں تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟ عقلاً اس میں تین احتمال ہیں: یا تو وہ دونوں مجرور رہیں، یا دونوں کا نکاح دو الگ الگ مردوں سے کر دیا جائے، اور یا دونوں کو ایک ہی مرد کے نکاح میں دے دیا جائے۔ ان میں سے تیسری صورت میں پہلی دو صورتوں کی بہ نسبت کم قباحت اور ضرر پایا جاتا ہے، اس لیے ہمارے نزدیک اسی کو اختیار کیا جائے۔
عرف
قانون سازی میں معاشرے کے عرف و رواج کی اہمیت دنیا کے تمام قدیم و جدید قانونوں میں مسلّم ہے اور فقہ اسلامی میں بھی اسے ایک مستقل ماخذِ قانون کی حیثیت دی گئی ہے۔
(۱) عرف کے ضمن میں پہلا ضابطہ یہ ہے کہ اگر وہ نصوصِ شریعت اور اس کے مزاج کے خلاف نہ ہو تو معتبر ہو گا۔ ہر معاشرہ اپنی ضروریات اور حالات کے لحاظ سے افرادِ معاشرہ کے حقوق کی حفاظت اور معاملات کو بسہولت انجام دینے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا رہتا ہے۔ اس نوعیت کے تمام احکام اسلامی فقہ میں حجت مانے جاتے ہیں، اِلّا یہ کہ وہ شریعت کی طے کردہ حدود و مقاصد سے ٹکراتے ہوں۔
اس کی ایک مثال حقوق کی وہ قسم ہے جسے فقہا حقوقِ عرفیہ کا نام دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ایسے حقوق جو نص سے ثابت نہیں لیکن کسی خاص عرف یا ماحول میں تسلیم کیے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کے ثبوت کا مدار عرف پر ہے، اس لیے زمان و مکان کے اختلاف سے یہ مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ حقوقِ عرفیہ کی چند نئی صورتیں جو ہمارے زمانے میں رائج ہیں اور جنہیں اہلِ علم نے تسلیم کیا ہے، حسبِ ذیل ہیں:
پگڑی
کرایہ داری کے مروّج طریقوں میں جائیداد کا مالک کرایہ دار سے کرایہ کی رقم کے علاوہ ایک متعین رقم پگڑی کے نام سے الگ سے وصول کرتا ہے، جس کا مقصد کرایہ دار کی جانب سے جائیداد کی حفاظت اور بروقت جگہ خالی کرنے کی ضمانت حاصل کرنا ہوتا ہے، علماء نے اس صورت کو درست تسلیم کیا ہے۔
حقِ تالیف و ایجاد و حقِ طباعت
جدید قوانین میں کسی کتاب کے مصنف یا ناشر کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ ان سے اجازت لیے یا ان سے معاہدہ کیے بغیر کوئی دوسرا شخص یا ادارہ اس کتاب کو شائع نہیں کر سکتا۔ اسی طرح بعض مخصوص ایجادات کے موجدین کی اجازت کے بغیر ان کی تیاری اور فروخت نہیں کی جا سکتی۔
رجسٹرڈ نام اور ٹریڈ مارک
کمپنیاں مختلف کاروباری فوائد کی خاطر مخصوص نام اور ٹریڈمارک رجسٹرڈ کرا کر اپنی مصنوعات کی تشریح کرتی ہیں اور اس طرح صارفین میں اس نام کی ایک reputation بن جاتی ہے۔ جدید قوانین کی رو سے کسی دوسری کمپنی کو اس نام یا ٹریڈ مارک کے ساتھ مصنوعات بنانے یا بیچنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے اصل کمپنی کو کاروباری لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور لوگوں کے ساتھ بھی دھوکا ہوتا ہے۔
(۲) دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ عرف اگر نصوصِ شریعت یا اس کے مزاج کے خلاف ہو تو معتبر نہیں ہو گا۔ چنانچہ جدید دور میں سود، جوئے اور دیگر شرعی محرمات کی تمام صورتوں کو اہلِ علم نے بالاتفاق حرام قرار دیا ہے، اگرچہ وہ معاشرے بہت عام ہو گئی ہیں۔
(۳) تیسرا ضابطہ یہ ہے کہ عرف اگر قیاسِ خفی کے معارض ہو تو عرف کو ترجیح ہو گی۔
اس کی ایک مثال تعطیلات کی اجرت ہے۔ قیاس کی رو سے تو آدمی کو صرف ان دنوں کی اجرت لینی چاہئے جن میں اس نے خدمت انجام دی ہے، لیکن چونکہ بالعموم اداروں، محکموں اور کمپنیوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ ملازمین کو تعطیلات کی اجرت بھی دی جاتی ہے، اس لیے یہ طریقہ درست مانا گیا ہے۔
اسی طرح ہمارے ملک میں یہ طریقہ رائج ہے کہ پرنٹنگ پریس چند نسخوں سے لے کر ایک ہزار یا گیارہ سو تک نسخوں کی اشاعت کا ایک ہی معاوضہ وصول کرتا ہے۔ بظاہر دس یا بیس نسخوں اور ایک ہزار نسخوں میں بڑا تفاوت ہے اور از روئے قیاس طباعت کے معاوضے میں بھی فرق ہونا چاہئے، لیکن چونکہ یہ طریقہ عام رائج ہے اور عرفاً اس کو تسلیم کیا جاتا ہے، لہٰذا قیاس ناقابلِ التفات ہو گا۔
(۴) چوتھا ضابطہ یہ ہے کہ عرف کے بدلنے سے احکام بھی بدل جاتے ہیں۔
مثلاً کرنسی نوٹ جب نیا نیا متعارف ہوا تو اس وقت عرف کے لحاظ سے اس کی حیثیت ایک وثیقہ اور ضمانت کی تھی، چنانچہ علما نے اس کے لین دین پر وثیقہ کے فقہی احکام جاری کرتے ہوئے فتوٰی دیا تھا کہ ان سے زکوٰۃ یا قرض وغیرہ اس وقت تک ادا نہیں ہوں گے جب تک کہ صاحبِ حق بینک سے اصل زر وصول نہ کر لے۔ لیکن اب نوٹ کی حیثیت عرفی ثمن کی ہے اور کوئی شخص ان کو وثیقہ یا اصل رقم کی ضمانت نہیں سمجھتا، لہٰذا ان پر اس عرفی ثمن کے احکام جاری ہوں گے اور ان کے ادا کرنے سے قرض، زکوٰۃ اور دوسری ادائیگیاں، حقیقی ادائیگیاں سمجھی جائیں گی۔
انسانی علم کے ارتقا نے جو نئی سہولیات مہیا کی ہیں ان سے استفادہ بھی ہمارے نزدیک اسی ضمن میں آتا ہے۔ چنانچہ رؤیتِ ہلال میں جدید سائنسی آلات سے، جرائم کی تفتیش میں تربیت یافتہ کتوں اور انگلیوں کے نشانات سے، اور قتل و زنا کے مقدمات کی تحقیق میں پوسٹ مارٹم، ڈی این اے ٹیسٹ اور طبی معائنے کی دوسری صورتوں سے مدد لینا اور ان پر اعتماد کرنا بالکل درست ہو گا۔
اس جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی فقہ نئے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع، مربوط اور منضبط ضابطہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں فقہا کے وضع کردہ قواعد مضبوط علمی و عقلی اساسات پر مبنی ہیں اور، چند جزوی اختلافات سے قطع نظر، فقہا کے مابین ہمیشہ مسلّم رہے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد خود قرآن مجید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، اور فقہا صحابہؓ کے اجتہادات میں موجود ہے۔ ان قواعد کی جامعیت عقلی استقرا کے لحاظ بھی بالکل قطعی ہے، اور ان چودہ صدیوں میں ان کے عملی استعمال نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ قیامت تک انسانی زندگی کو پیش آنے والے ہر نشیب و فراز کا سامنا کرنے اور ہر قسم کے مسائل کے حوالے سے دین کا منشا متعین کرنے کے لیے کافی و شافی ہیں۔ ھذا ما عندی واللہ علم بالصواب۔
مراجع
(۱) اصول الفقہ: خضری بک
(۲) الوجیز فی اصول الفقہ: عبد الکریم زیدان
(۳) فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر: مولانا محمد تقی امینی
(۴) عرف و عادت اسلامی قانون میں: ساجد الرحمٰن صدیقی
(۵) فقہ اسلامی میں نظریہ سازی: ڈاکٹر جمال الدین عطیہ، مترجم: مولانا عتیق احمد قاسمی
(۶) اسلامی قانون کے کلیات: ڈاکٹر عبد المالک عرفانی
(۷) جدید فقہی مسائل: خالد سیف اللہ رحمانی
(۸) فقہی مقالات: مولانا محمد تقی عثمانی
(۹) جدید فقہی مباحث: مرتب، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی
(۱۰) مقالاتِ سواتی: مولانا صوفی عبد الحمید سواتی
(۱۱) اسلام کیا ہے؟ ڈاکٹر محمد فاروق خان
(۱۲) سیاست و معیشت: جاوید احمد غامدی
محترم نعیم صدیقی صاحب کا مکتوب گرامی
نعیم صدیقی
(نعیم صدیقی صاحب ہمارے ملک کے بزرگ دانش ور ہیں جو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے قریبی ساتھیوں اور جماعتِ اسلامی کے فکری مربیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک مکتوب میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں کے ساتھ گزشتہ دنوں ہونے والی مدیر الشریعہ کی تحریری گفتگو کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کے سارے ارشادات سے ہمیں بھی اتفاق ہو، مگر ایک صاحبِ فکر و نظر اور بزرگ دانش ور کے خیالات و تاثرات سے قارئین کو محروم کرنا مناسب خیال نہ کرتے ہوئے یہ مکتوب شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
’’اشراق‘‘ میں جناب جاوید احمد غامدی جو گل کتر کر گلشنِ اسلام کی شان دکھا رہے ہیں، میں ان سے بلاتعصب مستفید ہوتا ہوں، مگر ان میں اور ان کے تیار کردہ ہم سفرانِ فکر و دانش میں بعض جھول ایسے ہیں کہ دل مسوس کر رہ جاتا ہوں۔
ایک تو ان میں بے شمار حلقہ ہائے فکر و نظرِ اسلامی میں سے ذرا ابھر کر کچھ نئی راہیں نکالنے کا معاملہ ہے، وہ ان کی خاص ضرورت ہے۔ وہ تمام نصوص اور معاملات اور نقطہ ہائے نظر سے خوردبینی نگاہ کے ساتھ ایسے پہلو یا گوشے نکالتے ہیں کہ ایک متوسط قاری یہ تاثر لے سکتا ہے کہ وقت کا کوئی بڑا مجتہد پیدا ہوا ہے جو عام سی باتوں میں سے ایسے ایسے لطیف نکتے نکالتا ہے کہ سر پھر جاتا ہے۔ مگر اہلِ علم و تحقیق اگر بغور تجزیہ کریں تو بس ایک طرح کا ہپناٹزم ہے۔ اسی کو آپ نے تفرد کہا ہے اور اس تفرد کے بغیر کوئی نوخیز آدمی جگہ بنا ہی نہیں سکتا۔ زور ہمیشہ کسی مروّج و معروف مسئلے میں اختلافی دراڑ پیدا کرنے کا ہے۔ مشکل یہ کہ اس تفرد کو کسی طرف سے مسلّمہ علمی شخص یا ادارے کی سند ملنی چاہئے۔ اس سند کے لیے وہ فورًا اصلاحی صاحب کی طرف لپکتے ہیں۔ ایک متعین مرکزِ استفادہ، چند مسائلِ تفرد، یہ وہ سرمایہ ہے جس سے ایک نئے مرکزِ علم و فکر کا قیام عمل میں آتا ہے۔
میں نے آپ کی جرأت مندی کو سراہا کہ اکیلے میدان میں اترے اور دوسری طرف سے تین چار نوجوانوں کا جتھا آپ کے پیچھے لگ گیا، مگر کہیں خم آپ نے بھی نہیں کھایا۔ بے اختیار میرا جی چاہا کہ میں آپ کی مدد کو نکلوں، مگر کم علمی الگ، میری صحت کی کشتی عرصہ سے گرداب میں ہے۔
جہاد کے موضوع پر مجھے بالکل اپنے طرز پر کچھ کہنا ہے مگر بے بس ہوں، اسی طرح دوسرے مسئلے۔ مثلاً اس وقت کہیں بھی اسلامی قانون، اسلامی عدالتیں اور ان پر اسلامی حکومت کا انضباط موجود نہیں ہے۔ کتنے ہی فیصلے شریعت کے خلاف آتے ہیں۔ پبلک کے پاس جوابی دباؤ کا کوئی راستہ نہیں بجز دارالافتا کے۔ آپ نے اسے بھی پابند کر دیا کہ کسی بد راہ قانون و عدالت کی مکھی پر مکھی مارنے کے سوا تم کچھ نہیں کر سکتے۔ پھر کئی علاقوں میں بعض مدتوں میں سرکاری قانون کو فیل کرنے اور شرعی قانون کو نافذ کرنے کے انتظامات کیے گئے اور عجیب عجیب کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
جاوید صاحب میرے لیے بمنزلہ عزیز کے ہیں، میں ان کی صلاحیتوں کا متعرف بھی ہوں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ذہانت و صلاحیت ایسا خزانہ ہوتی ہے کہ شیطان اس کے گرد منڈلاتا رہتا ہے۔ یہ بات اپنے لکھنے پڑھنے کے زمانے میں میرے سامنے رہتی تھی۔ شیطان کی یہ دل چسپی ویسی ہی ہے جیسی حسن و شباب کا خزانہ کہیں پائے تو وہاں شیاطین ہر لحظہ چکر لگائیں گے۔ اسی طرح دولت اور اقتدار کے لیے ان کی دل چسپیاں ہیں۔
اس بارے میں غفلت کی وجہ سے وہ بعض بڑی غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں: ایک یہ کہ دعوت و تبلیغ، تعلیم و تربیت، اور سیاست کاری کے تینوں کام ایک سلسلے میں جمع نہیں ہو سکتے۔ ان کے لیے الگ الگ تنظیمیں ہوں جو ایک دوسرے کے تسلط سے آزاد ہوں۔ دوسری بڑی غلطی یہ کہ اقیمو الدین کی تشریح انہوں نے ایسے انداز سے کی کہ مساعئ اقامتِ دین کے جذبے کو ختم کرنے کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس سلسلے میں دلائل سے مسلح ہوں، مگر وہی نہ وقت، نہ ہمت۔ لہٰذا جو کچھ ہوتا ہے، دیکھتا ہوں۔
’’اشراق‘‘ کے حاشیے پر پنسل سے بہت ہی رف سے اشارات لکھتا ہوں کہ شاید ان کی بنیاد پر کچھ لکھنا ممکن ہو۔ مگر نئے شمارے نئے مباحث لے کے آجاتے ہیں، لہٰذا مسلک یہ بنا کہ ؏
صورتِ آئینہ سب کچھ دیکھ اور خاموش رہ
آپ سے زندگی بھر نہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا، نہ مراسلت کا تعلق، بس آپ جیسے معروف آدمی پر نگاہ ضرور رہی اور کبھی آپ کی تحریریں پڑھیں بھی۔ دعا کرتا ہوں کہ خدا آپ سے دین کی خدمت مزید لے۔
نیاز کش
نعیم صدیقی
۲۹ جون (شب) ۲۰۰۱ء
پسِ نوشت
یہ حضرات بغداد والے ان علاماؤں کی روش پر بحثوں میں پڑے، وقت کی آفات سے ایسے غافل ہیں کہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ تاتاری مسلمانوں اور ان کی حکومتوں کو برباد کرتے ہوئے بغداد کی طرف آ رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ کوئی تدبیر آنے والی تباہی کے تدارک کے لیے کرتے، انہیں اپنی بحثوں سے فرصت نہ تھی، یہاں تک کہ سب صفایا ہو گیا، نہ عِلم باقی رہا نہ عَلم۔
یہ لوگ آیات و روایات کے تجزیے میں محو ہیں اور اس سے بالکل بے خبر کہ بالکل غیر متوقع طور پر کیا حالات پیدا ہو گئے ہیں جن میں جہاد کی نئی شکلوں کی ضرورت ہے۔ اشراقیوں کا اساسی علم تو حضرت عثمانؓ کے دور ہی کے معاشرے پر بڑی مشکل سے لاگو ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ کے دور میں تو شرائطِ جہاد کا معیاری اطلاق ممکن ہی نہیں رہتا۔ اور آج ۔۔۔ آج یہ صورت نہیں کہ ایک مرکزی اسلامی حکومت قائم ہو اور اس کے احکام یا اشاروں سے حملہ آوروں یا اسلام دشمن فاتحین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اور ایسا کوئی مرکز ہوتا بھی تو آج کے دور میں اندر ہی اندر اس کے معدے اور اس کی رگِ جاں کو ہک لگا کر دشمن قوتیں باندھ چکی ہوتیں۔ پھر مسلمان کیا کرتے؟
جب مغربی امپریلسٹ طاقتیں نوآبادیات سازی کے لیے مسلم اور ایشیائی و افریقی حکومتوں کا شکار کرنے نکلیں تو یہ مجنونانہ مسابقتی یورش ہر طرف سے جابجا شروع ہو گئی۔ کون سی قوم کہاں ہجرت کر کے جاتی اور کون سی حکومت کس کی مدد کو پہنچتی؟ بیرونی حملہ، جبر اور اچانک اس کا سامنا، اس میں جاسوسیوں، غداریوں اور ضمیروں کی خریداری کے ایسے ایسے عوامل کا ہونا کہ ایک حکومت کے سالم یا جزوی طور پر بچ نکلنے کی امیدیں ہوتیں؟ اور عوام کے لیے کوئی منظم جدوجہد کی رہنمائی نہ ہونے کی صورت میں ان کی خوں ریزی اور سلب و نہب اور غلام سازی و بیگار کا ایک ایسا سلسلہ چلتا کہ کوئی راہِ فرار نہ تھی۔ ان سے یہ کہنا کہ صبر کرو، گویا کسی جماعتِ نبوی کے پابندِ نظم لوگوں کا سابقہ کسی خلیفہ غیر راشد یا حاکمِ مطلق کے مظالم سے تھا۔
دین کی نئی تعبیریں کرنے والے نوجوانو! تم تو بدلتے ہوئے سوشل، حکومتی اور بین الاقوامی سسٹم اور اس میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھتے۔ اور معیاری جہاد نہ سہی، کسی کم تر درجے کے جہاد کے لیے اجتہاد کرتے۔ میں مثالیں دینے کا نہ وقت رکھتا ہوں نہ قوت، مگر میں توجہ دلاؤں گا کہ جو کام بغداد یا کوئی اور مقام نہ کر سکا، اسے مصر میں سلطان ۔۔۔ نے آغاز کر کے ۔۔۔ تاتاریوں کو ایسی شکست دی کہ وہ پھر دم دبا کر بھاگے اور پیچھے پلٹ کے نہ دیکھا، سارا خطۂ اسلامی ظالموں سے پاک ہو گیا۔
میں کہتا ہوں کہ آپ اسے شبہ جہاد کہہ سکتے ہیں، اضطراری جہاد کہہ سکتے ہیں، مجددانہ جہاد کہہ سکتے ہیں، اس کی نئی تعریفیں وضع کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کو یہ کام نہیں کرنا ہے بلکہ قرونِ اولیٰ کے معاشرے کو برقرار فرض کر کے سارے احکام کا اجرا اسی کے مطابق کرنا ہے تو پھر زیادہ بحثوں کی کیا ضرورت؟ کرتے رہیے۔ دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش نہ کیجئے۔ آپ کا سرچشمۂ علم جب ایک خاص شخصیت ہے، ہر تان اسی پر توڑتے ہیں، تو پھر آپ اسی کنویں میں گھومتے رہیے۔ مولانا زاہد الراشدی یا کسی اور کو کیا پڑی ہے کہ وہ اس نیک کام میں دخل دیں۔
ہماری مشترک دل چسپیوں کا کام تو یہ ہے کہ آج کی حکومت کے اندرونی اور بین الاقوامی اطراف سے ہونے والے مستبدانہ اقدامات کو روکنے کے لیے جو تدبیریں ایجاد ہوئی ہیں، ان کو کچھ ترمیم کر کے یا بلاترمیم اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ ایسی مساعی فساد کی تعریف میں آنے سے بچیں اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جہاد کی کوئی قسم قرار پائیں۔
اب مثلاً کشمیر والے کیا کرتے؟ ان کو جبری سازشی طور پر بھارت سے نتھی کیا گیا۔ اس سازش میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن، نہرو، پٹیل، ریڈکلف، مہاراجا کشمیر سب شامل ہوئے۔ اس پر سخت ردعمل ہوا، کشمیری بھی اٹھ کھڑے ہوئے، مذہبی اور قواعدِ تقسیم کے رشتے سے پاکستانی بھی اٹھ کھڑے ہوئے، مرنے مارنے کا سلسلہ شروع ہو گیا، فوجیں بھی متحرک ہونے والی تھیں، بھارت نے قراردادِ استصواب پاس کرا کے جلتی آگ کو ٹھنڈا تو کر دیا لیکن متواتر ۵۳ سال تک اس کے نفاذ کو ٹالا گیا اور اس ملیامیٹ کرنے کے لیے نت نئے معاہدات کیے گئے۔ کشمیری مقامتی و مزاحمتی جہاد بڑھ گیا، آج جبکہ پاکستان سے جہادی قوتیں جا ملی ہیں، ان میں نظم ہے، ان کی امارت ہے، نوجوان سچے جذبے سے قربانیاں دے رہے ہیں، اس صورتحال نے بھارت کو ہلا دیا ہے۔ ادھر ہمارے علما نوجوان یہ اشغلہ لے کے میدان میں آ گئے ہیں کہ یہ تو جہاد ہی نہیں۔ جہاد کے لیے تو فلاں فلاں شرائط ضروری ہیں۔ یعنی نوجوانوں کے دل بھی توڑ دو، بھارت کو بھی تسلی دلا دو کہ ہم تمہاری گردن چھڑوا دیتے ہیں، اور امریکی کی خوشنودی بھی ہو جائے کہ جہادی رجحانات کا مٹھ مارا گیا۔
میرا ایک اور استدلال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو جان بچانے کے لیے مرے، جو مال کے لیے مرے، جو عزت کے لیے مرے، وہ شہید ہے۔ یعنی شخصی یا خاندانی سطح پر یہ ایک چھوٹا جہاد ہے۔ اس کے مطابق کسی مسلم قوم، یا شہر، یا آبادی کو بھی یہی حدیث اختیار دیتی ہے کہ وہ جانوں، مالوں، عزتوں، آزادی، حقوق، اور مظالم سے تحفظ کے لیے لڑیں اور قربان ہو کر شہید ہوں۔ یعنی یہ Standing فرمانِ رسول ہے، کسی نئے امیر کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
راشدی صاحب! میں کیا بتاؤں کہ کیا طوفان میرے اندر ہیں، مگر مجھ میں نہ کام کرنے کی طاقت ہے نہ معاونین کی ٹیم میرے پاس ہے (بلکہ ایک چپراسی بھی نہیں) گھنٹوں کے لیے بیماری دبا لیتی ہے۔ اس کے خلاف دواؤں اور دعاؤں سے جہاد کرتا ہوں۔ ہوش آتی ہے تو کچھ چیزیں پڑھتا ہوں، جن میں سے پڑھ کر کچھ پر ہنسی آتی ہے، کچھ پر رونا۔
ہزار رحمتیں مولانا مودودی کی تعلیم و تربیت پر، جو نہ تو شریعت کے دائرۂ نصوص و اجماع سے نکلنے دیتی ہے، نہ نئی نئی صورتیں احوال کی نظر انداز کر کے کنویں کا مینڈک بننے دیتی ہے۔ بغاوت سے انہوں نے سختی سے طبائع کو روک دیا، لیکن حالات نے اگر اجتہادی طرزِ فکر سے کام لینے کا مطالبہ کیا تو تفردًا نہیں بلکہ ائمہ و علما کے علوم و اخبار کی روشنی میں نئی راہیں نکالیں، اور نکال سکتے ہیں۔ یہی فرق ہے مولانا مودودیؒ اور مولانا اصلاحیؒ میں۔
نعیم صدیقی
۲ جولائی
ہمارا دینی تعلیمی نظام اور وقت کے تقاضے
ادارہ
تعلیم کی ثنویت
ہمارے ہاں تعلیم کو دو خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک تعلیم ہے دینی، دوسری ہے دنیوی۔ تعلیم کی یہ ثنویت اصل میں انگریزوں کی برصغیر پر قبضے کے بعد کی پیداوار ہے جب انگریز سامراج نے مقامی تعلیم کو نظرانداز کر کے اپنی زبان، اپنے کلچر، اپنی تہذیب کے مطابق تعلیم ہمارے اوپر تھوپ دی اور مقامی تعلیم کی حوصلہ شکنی کی۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مقامی لوگوں کو ان کی تہذیب، ثقافت اور کلچر سے بیگانہ کر کے ان کو ٹکے پیسے کا غلام اور نوکر بنایا جائے۔
انگریز کی سرکاری سرپرستی کے ساتھ ہندوستان کے لوگوں کے اوپر تھوپی گئی اس تعلیم کے مقابلے میں تعلیم کا وہ قدیم نظام تھا جو مقامی مدارس و مکاتب میں پڑھایا جاتا تھا، جس کی سرپرستی خاص طور پر انگریز کے باغی، آزادی پسند ہندوستانی علماء حق کر رہے تھے، جنہوں نے انگریز کی طرف سے شروع کی گئی جدید تعلیم کی سخت مزاحمت کی۔ یہ مخالفت کسی سطحی اور جذباتی خیال کے تحت نہ تھی، جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انگریز دشمنی میں انگریزی تعلیم کی مخالفت کی۔ اصل میں وہ انگریزوں کے ایسے خطرناک وطن دشمن مقاصد کے پیش نظر کی گئی تھی جو انگریزوں نے اپنے نظام میں دانستہ طور پر شامل کیے تھے۔ چنانچہ لارڈ میکالے اور ان کی کمیٹی کی تعلیمی مقاصد اور اسکیم کی رپورٹ میں ہے کہ
’’ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہئے جو ہم میں اور ہماری کروڑوں رعایا کے درمیان مترجم ہو، اور یہ ایسی جماعت ہونی چاہئے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو مگر مذاق اور رائے اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو۔‘‘
یا بقول مسز جان کیتھر:
’’انگریزوں نے ہندوستان میں جو تعلیم یافتہ تیار کیے، وہ معمولی ایجاد اور صنعت کی استعداد بھی نہیں رکھتے، سوائے اس کے کہ وہ دفتروں میں کلرکوں کی خدمات سرانجام دے سکیں۔ حالانکہ سوویت روس نے ایسے تعلیم یافتہ لوگ پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف جرمنی جیسی ترقی یافتہ اور سائنس دان قوم کو شکست دی بلکہ ان کو اپنے ملک سے بھی باہر نکال دیا۔‘‘
اس صورتحال میں ایک طرف جدید تعلیم تھی جس کا مقصد سامراجی تھا، تو دوسری طرف قدیم تعلیم تھی جو جدید ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتی تھی۔ اس دور میں ہندوستان کے اندر اس صورتحال پر بہت سی تحریکیں اٹھیں جن کے متعلق ہر پڑھا لکھا آدمی معلومات رکھتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو جدید ضرورتوں کو پورا کرنے کی تلاش نے انگریزی تعلیم کے شکنجے میں پھنسایا، تو بہت سوں کو قدیم ورثے کی حفاظت کے شوق اور رجعت پسندانہ ذہنیت نے ماضی کے پاتال میں گم کر دیا۔
اصل میں ضرورت اس بات کی تھی کہ اپنے تہذیبی، ثقافتی، علمی اور تاریخی ورثوں اور جدید دور کے تقاضوں کے امتزاج اور میلاپ سے ایک ایسا نیا تعلیمی نظام ترتیب دیا جاتا جو مقامی تہذیبی، علمی اور اخلاقی قدروں سے مالا مال ہوتا، اور جدید تقاضوں کو بھی پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا، اور تعلیم کی دینی اور دنیوی تقسیم کی ’’بدعت‘‘ سے پاک ہوتا۔ لیکن ایسی کوششیں بہت کم ہوئیں، جو کوششیں ہوئیں وہ بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکیں۔ ایسی کوششوں میں سے ایک کوشش یہ بھی تھی کہ مولانا حسین احمد مدنیؒ کے آخری زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے نصاب پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی بنی جس نے نصاب میں ترامیم کیں اور قدیم عقلی علوم کو نکال کر انگریزی اور جدید علوم کو ان میں شامل کرنے کی سفارشات کیں، لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا۔
بہرحال ایسی کوششوں کی ناکامی کے نتیجے میں ایک طرف قدیم تعلیم کا نظام مدارس کی شکل میں جاری رہا، تو دوسری طرف انگریزی تعلیم سرکاری سرپرستی میں جاری رہی۔ جس نے مسلم سماج کو دین دار اور بے دین، مذہبی اور لامذہبی طبقات میں تقسیم کر دیا، اور تعلیم کی دینی اور دنیوی تقسیم ہمارے سروں پر مسلط کر دی، جس کے نقصانات کی تفصیل بڑی طویل ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو قدیم نظام کو مکمل دینی نظام کہا جا سکتا ہے، اور نہ انگریزی تعلیم کو ترقی کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے کی تعلیم کہا جا سکتا ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہےکہ تعلیم کی اس ثنویت کو ختم کیا جائے۔
عربی مدارس کا فرقہ وارانہ بنیادوں پر قیام
تعلیم کی ثنویت کے بعد دوسری سب سے بڑی اور بنیادی خرابی عربی مدارس کے فرقہ وارانہ بنیادوں پر قیام کی ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کی نوآبادیات سےپہلے یہاں کا سارا تعلیمی نظام غیر فرقہ وارانہ تھا، بلکہ مذہبی فرقے تو بالکل نہیں تھے۔ یہ فرقے انگریزوں کی سازش کی پیداوار ہیں۔ لیکن اس مصیبت کی جڑیں تب سے مضبوط ہوئیں جب سے تعلیمی ادارے فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہونے لگے۔ بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ تعلیمی اداروں کو غیر فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں سے فرقہ واریت کو ختم کرنا عین ممکن تھا، لیکن فقرہ وارانہ بنیادوں پر ہزاروں لاکھوں مدارس کا قیام اور نسل در نسل ایسے مدارس سے تیار ہو کر نکلنے والے فرقہ پرستوں کے بعد اب صدیوں تک فرقہ واریت کو ختم کرنے کی کوئی بھی راہ نہیں بچی ہے۔
ہر ایک فرقہ کا یہ دعوٰی ہے کہ وہ حق پر ہے اس لیے اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ حق کی تبلیغ کے لیے مضبوط نیٹ ورک قائم کرے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو جب حق پر چلنے والا ایک فرقہ، فرقہ وارانہ بنیادوں پر مدارس کا جواز مہیا کرے گا تو اس کے مقابلے میں ۷۲، ۷۳ گروہ فرقہ وارانہ تعلیم کے ذریعے سے لاکھوں نوجوانوں کو گروہی چشمہ لگا دیں گے، اور نہ جانے کتنے مسلمان ہمیشہ کے لیے سچائی سے محروم ہو جائیں گے۔ تجربہ بھی اس بات کا شاہد ہے کہ فرقہ وارانہ مدارس سے فارغ ایک بھی طالب علم حق اور سچائی کو اکتسابی طور پر سوچ سمجھ کر قبول نہیں کر سکتا۔ جبکہ اس کے برعکس جب تک کسی طالب علم کا ذہن فرقہ وارانہ تربیت نہیں پاتا تب تک اس میں سچائی کو قبول کرنے کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہےکہ مدارس کا فرقہ وارانہ بنیادوں پر قیام ایک بہت بڑی تباہ کاری ہے۔
درسِ نظامی
درسِ نظامی کا تفصیلی جائزہ اس مختصر مضمون میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ تحقیق کے بعد ہم جو کچھ سمجھ سکے ہیں اس کے مطابق حسبِ ذیل خامیاں سامنے آتی ہیں:
درسِ نظامی میں جو فنون پڑھائے جاتے ہیں وہ شروع ہی سے فارسی اور عربی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں، جب کہ پڑھنے والے طالب علموں کی مادری زبان نہ عربی ہے نہ فارسی۔
پھر یہ مصیبت کہ درسِ نظامی میں شامل مختلف کتابیں اتنی مختصر اور مشکل عبارات میں لکھی گئی ہیں کہ ان کو سمجھنے کے لیے پھر شرحوں کی ضرورت محسوس کی گئی، حاشیے لگانے پڑ گئے، اور پھر ان حاشیوں کے اوپر حاشیے چڑھائے گئے، اور پھر وہ سب طالب علموں کے دماغوں میں بھی بٹھانا ضروری سمجھا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طلبا اجنبی زبان کے اجنبی الفاظ، جملوں اور ان کی ترکیبوں میں ہی پھنسے رہ جاتے ہیں، اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد بھی نہ عبارتیں حل کرنا سیکھ سکتے ہیں، نہ ان علوم میں سے ہی کچھ حاصل کر پاتے ہیں جو درسِ نظامی میں پڑھائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ درسِ نظامی میں شامل منطق و فلسفہ آج کے جدید منطق و فلسفہ کے زمانے میں فرسودہ ہو چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علوم نے جتنی ترقی کی ہے اس کو نظر میں رکھا جائے۔
آج کے دور میں جو جدید فقہی مسائل ہیں، مثلاً جدید معاشیات، بینکنگ سسٹم، اور اس طرح کے دیگر مسائل، وہ بھی نصاب میں شامل نہیں ہیں۔ علمِ حدیث خود علمِ حدیث کے تقاضوں کے مطابق نہیں پڑھایا جاتا۔ اصولِ حدیث، اسماء رجال، تحقیق اور تنقید کی تعلیم کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے۔ علمِ تفسیر میں بھی نہایت غیر ذمہ دارانہ طریقہ استعمال ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے فارغ التحصیل اور دستاربند عالمِ دین ہونے کے باوجود کوئی بھی طالب علم اپنے اندر قرآن فہمی کی صلاحیت پیدا نہیں کر پاتا۔
اسی طرح درسِ نظامی کے فارغ التحصیل طلبا معاشرے کے اندر تعمیری، تخلیقی اور پیداواری عمل میں کوئی بھی حصہ نہیں لے رہے ہیں، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کا تجزیہ کر کے صحت مند راہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔
طریقۂ تعلیم
مدارس میں تعلیم کا جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اس میں طالب علم کے سامنے مخصوص کتاب رکھی جاتی ہے۔ شاگرد کتاب کی عبارتیں حل کرتا ہے، ضمیریں اور ان کے مراجع ڈھونڈھتا ہے، یا پھر دوسری صرفی اور نحوی ترکیبیں اور قاعدے ڈھونڈھتا ہے۔ اس طرح ایک تو اصل موضوع سے توجہ ہٹ جاتی ہے اور دوسرا طالب علم کو کتابوں کی عبارتیں حل کرنے کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جس موضوع سے متعارف کرانے کے لیے کتاب پڑھائی جاتی ہے اس سے تو بالکل واقفیت نہیں ہوتی۔ جبکہ آج کل تعلیم کے بہت سے ایسے طریقے تجویز ہو چکے ہیں جن سے بہت بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
مدارس اور ان کے نصاب و طریقۂ تعلیم کے حوالے سے ہم نے اوپر جو صورت حال بیان کی ہے، اس کی روشنی میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو دینی اور دنیوی خانوں میں تقسیم کیے بغیر اس کو غیر فرقہ وارانہ بنیادوں پر دینے کا بندوبست کیا جائے۔ نیز علومِ اصلیہ یعنی قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا جائے اور تعلیم کے جدید طریقوں کو استعمال کر کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے قدم اٹھایا جائے۔
(سائنٹفک اسلامک ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ، حیدرآباد)
آزادیٔ کشمیر کے لیے اعلانِ جہاد کی ایک تاریخی دستاویز
ادارہ
۱۹۴۷ء میں برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان کے نام سے ایک الگ مسلم ریاست وجود میں آئی تو غالب مسلم اکثریت کے علاقے ریاست جموں و کشمیر کے ہندو مہاراجا ہری سنگھ نے کشمیری عوام کی خواہش کے علی الرغم بھارت کے ساتھ ریاست کے الحاق کا اعلان کر دیا۔ جس کے خلاف کشمیری مسلمانوں نے عَلمِ بغاوت بلند کیا اور قبائلی مسلمانوں اور پاکستانی فوج کی مدد سے مسلح جنگ لڑ کر ہری سنگھ کی فوجوں سے جموں و کشمیر کا وہ خطہ آزاد کرایا جہاں آج آزاد ریاست جموں و کشمیر کے نام سے ایک الگ حکومت قائم ہے۔
اس موقع پر جسہ پیرمنگ، راولاکوٹ، نیلا بٹ اور دیگر مقامات پر علماء کرام اور مجاہدین کے اجتماعات ہوئے جن میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف مسلح بغاوت کا فیصلہ کرتے ہوئے جہاد کا فیصلہ کیا گیا۔ سب سے پہلے ۲۲ جولائی ۱۹۴۷ء کو جسہ پیرمنگ میں حضرت مولانا محمد یوسف مدظلہ فاضل دیوبند، حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑویؒ فاضل دیوبند، اور دیگر علماء کرام نے عوام سے قرآنِ کریم پر جہاد کا حلف لیا۔ اس کے بعد ۱۵ اگست کو راولاکوٹ اور ۲۳ اگست کو نیلا بٹ میں بھی اسی قسم کے اجتماعات ہوئے۔ جبکہ ۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ء کو موضع باسیاں (کوہالہ روڈ، مری) میں اجتماعی حلف کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اعلانِ جہاد بھی تحریر کیا گیا جو کشمیر کے بزرگ عالمِ دین اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ حضرت مولانا سید مظفر حسین ندوی مدظلہ نے تحریر فرمایا۔ اور اس کی بنیاد پر سردار محمد عبد القیوم خان کی قیادت میں باقاعدہ فوجی دستہ جہاد کے لیے روانہ کیا گیا۔
یہ اعلانِ جہاد ہمیں حضرت مولانا سید مظفر حسین ندوی مدظلہ کے چھوٹے بھائی اور ممتاز کشمیری مؤرخ و دانشور جناب سید بشیر حسین جعفری نے مرحمت فرمایا ہے جو اُن کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ اور اس تاریخی دستاویز کی اشاعت کے ساتھ ہم آزادکشمیر کے حالیہ انتخابات میں سردار محمد عبد القیوم خان کی قیادت میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے والی آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو نئی حکومت بنانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے آزادیٔ کشمیر اور نفاذِ اسلام کے لیے ان کے قائد کا حلف یاد دلا رہے ہیں۔ خدا کرے کہ مسلم کانفرنس کی نئی حکومت اس حلف کی صحیح طور پر پاسداری اور تکمیل کا عملی اہتمام کر سکے، آمین یا رب العالمین۔ (ادارہ)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج ۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ء کو باسیاں (کوہالہ روڈ، مری) کی مسجد میں نمازِ ظہر کے بعد ہم یہ عہد نامہ تحریر کرتے ہیں:
(۱) یہ کہ مہاراجا ریاست جموں و کشمیر ہری سنگھ نے ریاست میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کر رکھی ہے، ان کو شہید کیا جا رہا ہے، ان کے بال بچے، خواتین اور مال و متاع خطرے میں ہیں، مسلمانوں کے گاؤں جلائے جا رہے ہیں، اور یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ریاست کے مسلمانوں نے مہاراجا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ریاست کا پاکستان سے الحاق کرے جو ایک نیا اسلامی ملک بنا ہے۔
(۲) یہ کہ ریاست کے پاکستان کو نکلنے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ کوہالہ کے پل پر فوج کا پہرہ ہے، اور دریائے جہلم پر جتنی اور جہاں کشتیاں تھیں ان کو کاٹ کر بہا دیا گیا ہے، تاکہ ریاست کے مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت نہ کر سکیں، نہ ہی پاکستان کے مسلمان ہماری مدد کو ریاست میں داخل ہو سکیں۔ مہاراجا کشمیر نے اپنی ساری فوج پونچھ، میرپور، مظفرآباد میں لگا رکھی ہے، اور مشرقی پنجاب کی سکھ ریاستوں اور آر ایس ایس کی عسکری مدد بھی حاصل کی ہے تاکہ وسیع پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے تاکہ ریاست ہندو اکثریت میں بدل جائے۔
(۳) یہ کہ ان حالات میں ہم کشمیر کے اور پاکستان کے مسلمانوں پر یہ فرض ہو گیا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی روشنی میں کافر مہاراجا کشمیر کی فوجوں کے خلاف جہاد کا آغاز کریں۔ اپنی جانوں، مال و متاع، اپنی اولاد اور اپنی عزت و آبرو، اور دین کو بچانے کے لیے میدان میں نکلیں۔
یہ پہلا مجاہدین کا دستہ جس کی تعداد انتالیس ہے، جو سردار محمد عبد القیوم کی قیادت میں ہیں، جن کو امیر المجاہدین پیر سید علی اصغر شاہ گیلانی کی برابر دینی راہنمائی حاصل ہے، اور وہ اس جہاد میں سردار محمد عبد القیوم خان کے سیکنڈ ان کمانڈ بھی ہیں، ہم سب مولانا سید مظفر حسین ندوی، استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے سامنے یہ عہدنامہ لکھتے ہیں کہ ان سے جہاد کی رسمی اجازت لیتے ہوئے اپنے آپ سے اور سب کے سامنے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے حکم سے جہاد کے لیے آج نکلے ہیں۔
ہم صرف اپنے خلاف لڑنے والوں کا قتال کریں گے۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، بیماروں پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔ اس وقت تک لڑیں گے جب تک کہ ریاست پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتی۔ آزاد کردہ حصوں میں اسلامی حکومت قائم کریں گے۔ اسلامی نظامِ عدل اور نظامِ معیشت نافذ کریں گے۔ بیت المال کا نظام قائم کریں گے۔ اپنے امیر (کمانڈر) کا حکم تسلیم کریں گے۔ کسی جانی اور مالی قربانی کے پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
دستخط مولانا سید مظفر حسین ندوی
دستخط سردار محمد عبد القیوم خان (بعد میں کمانڈر باغ فورسز، دو بریگیڈ)
دستخط پیر سید علی اصغر شاہ
دستخط محمد سلیم خان (بعد میں میجر، بٹالین کمانڈر)
دستخط محمد سعید خان (بعد میں میجر۔ بٹالین کمانڈر)
دستخط محمد صدیق خان (بعد میں لیفٹننٹ کرنل ۔ بٹالین کمانڈر)
علماء کرام اور دینی قائدین کی توجہ کیلئے
طارق محمود اعوان
محترم جناب ابوعمار زاہد الراشدی صاحب (جنرل سیکرٹری پاکستان شریعت کونسل)
السلام علیکم!
امید ہے آپ مع رفقائے کار بخیریت ہوں گے۔ میں کافی عرصہ سے روزنامہ اوصاف میں آپ کے کالم بعنوان ’’نوائے قلم‘‘ کا قاری ہوں۔ یہ ایک جاندار اور موقر کالم ہے جس میں حالاتِ حاضرہ اور دینی مسائل پر معلومات ہوتی ہیں۔ میں اس کو کافی پسند کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ ’’الہلال‘‘ میں بھی آپ کا کالم ہوتا ہے۔ الغرض جہاں آپ ایک عالم فاضل ہیں، وہاں موجودہ دور کے مسائل پر بھی آپ کی نظر ہوتی ہے۔ آپ کے کالم مدلل اور تاریخی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں، آپ کا طرز اسلوب استدلال کا حامل ہوتا ہے۔
پچھلے ایک دو کالموں میں مجھے اس ملک کی حالت اور مستقبل کافی خطرناک نظر آ رہا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ موجودہ حکومت ایسے کام کر رہی ہے جو خطرناک نوعیت کے ہیں۔
ایک تو ٹیکسٹ بک بورڈز کا مسئلہ ہے۔ یہ بورڈز غیر ملکیوں کے حوالے کرنے کا پروگرام ہے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کتابیں چھاپ سکیں اور قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیں۔ غریب لوگ اور تنخواہ دار کس طرح کتابوں کی بھاری قیمت برداشت کر سکیں گے؟ صرف امیر اور جاگیردار لوگ ہی کتابوں کی قیمتیں برداشت کر سکیں گے اور تعلیم صرف ان کے بچوں کے لیے مخصوص ہو جائے گی تاکہ ان کے بچے مخصوص نصاب پڑھ کر ملکی وسائل پر قابض ہو کر ہمارے اوپر حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں اور پھر یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر ہر چیز پر قابض ہو جائیں کیونکہ میرے خیال میں نصاب بھی ان کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔
اسی طرح ایک اور خطرہ کارپوریٹ فارمنگ کا ہے۔ زمین کے مالک باہر کے درآمد شدہ لوگوں کو بنانے کا منصوبہ ہے تاکہ جو فصلیں اور خوراک حاصل ہو وہ اپنی مرضی کے مطابق دوسروں کو اپنی من پسند قیمتوں پر فروخت کریں۔ ان کی قیمتیں اتنی زیادہ ہوں گی کہ اس ملک کا عام آدمی ادا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔
اس خطرے کی طرف اشارہ پچھلے دنوں ’’مشرق‘‘ اخبار کے کالم میں جنرل حمید گل نے کر دیا ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر یہ سارا ملک دوسروں کے پاس گروی رکھ دیا جائے گا۔
مولانا صاحب! یہ ملک کیا ہم نے دوسروں کا پیٹ بھرنے اور ان کو مالامال کرنے کے لیے بنایا تھا؟ غیروں کے منصوبے ہمارے ملک میں نافذ کیے جائیں گے؟ مشرکوں اور یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے ہم اور ہماری اولادیں تکلیف بھری زندگیاں گزاریں گے؟ مجھے بڑی تشویش ہے کہ آخر ہماری نسلوں کا کیا ہو گا؟ عام شخص کی زندگی بڑی تکلیف دہ ہو رہی ہے۔ موجودہ حکومت تو مکمل طور پر غیروں کے احکام کی منتظر رہتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ ملک صرف امیروں اور حکمرانوں کے لیے بنایا گیا ہے؟ ان کی جو مرضی آئے خوشی سے کریں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل پر ان کا قبضہ ہے۔ سارے وسائل اور سہولیات اس ملک کے بڑے بڑے افسروں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے وقف ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس غریب عوام کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، علاج، مکان، تعلیم سے محروم کی جا رہی ہے۔
میرے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سوچیں اور دوسرے علماء کو اکٹھا کریں کہ وہ ذاتی سوچ سے نکل کر مجموعی طور پر اس ملک کے لیے سوچیں اور فکر کریں کہ عوام کش منصوبے بنا کر ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔ جمہوریت اور الیکشن ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے، اب تک اس سے کوئی فائدہ اور خیر برآمد نہیں ہوا بلکہ اس سے مزید نقصان پہنچا ہے۔ ساری دینی جماعتوں کو اکٹھا اور متحد کریں، ذاتی انا اور فائدہ کو نہ دیکھیں، اگر یہ جماعتیں اکٹھی اور ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئیں تو امیدِ واثق ہے کہ ملک بچ جائے گا اور عوام خوشحال ہو جائے گی۔
لادینی اور سیکولر قوتوں کو آگے نہ کریں بلکہ اسلام ہی ہمارے لیے امن و چین کا ضامن ہے جبکہ حکمران طبقہ اس بات سے ناآشنا ہے۔ اس کو اسلام سے آگہی نہیں ہے، ان کو پتہ ہی نہیں ہے کہ اسلام کیا چیز ہے۔ بہرحال آپ علماء لوگ اس ملک کی باگ ڈور جلد ہی سنبھال لیں، قبل اس کے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اس ملک پر مکمل طور پر قابض ہو جائیں۔
میں نے اپنا تعارف تو کرایا ہی نہیں، میں علماء کا قدردان ہوں اور ہر اہلِ علم و فضل کا شیدائی ہوں۔ میں خود ایم اے کرنے کے بعد ایک ہائی اسکول میں بطور معلم کام کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل میری نظروں سے ماہنامہ الشریعہ گزرا، اگر یہ اب شائع ہوتا ہے تو مجھے بھیج دیں تاکہ مزید آپ سے رابطہ استوار ہو۔ میں کوئی باقاعدہ ادیب یا لکھاری نہیں ہوں، میرے دل میں کچھ باتیں تھیں جو میں نے لکھ دی ہیں، اس میں کوئی ربط نہیں ہو گا تو معاف فرمائیں، مزید آپ کا وقت نہیں لینا چاہتا۔
والسلام، آپ کا مخلص
طارق محمود اعوان (ایم اے) ٹانک
مری میں نفاذِ شریعت کنونشن کا انعقاد
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ شورٰی کے فیصلے
ادارہ
پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کو تیز کرنے، سودی نظام کے خاتمہ، بڑھتی ہوئی عریانی و فحاشی کی روک تھام، این جی اوز کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے تعاقب، دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ، افغانستان کی طالبان حکومت کی حمایت، مجاہدینِ کشمیر کی پشت پناہی، اور خلیج عرب سے امریکی افواج کی واپسی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کی دینی جماعتوں سے رابطے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ۹ ستمبر اتوار کو لاہور میں ’’قومی دینی کنونشن‘‘ طلب کر لیا ہے، جس میں مشترکہ جدوجہد کی عملی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا اور مختلف مکاتبِ فکر کی جماعتوں کے راہنما خطاب کریں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان شریعت کونسل کے زیراہتمام دو روزہ ’’نفاذِ شریعت کنونشن‘‘ میں کیا گیا جو ۲۱، ۲۲ جولائی ۲۰۰۱ء کو جامع مسجد مدنی، لنگرکسی، بھوربن، مری میں کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ کنونشن کی مختلف نشستوں میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔
مولانا قاضی عبد اللطیف (کلاچی)، مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ)، مولانا مطیع الرحمٰن درخواستی (خانپور)، مولانا سیف الرحمٰن درخواستی (روجھان)، مولانا عبد الرشید انصاری (کراچی)، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمٰن ارائیں (حیدرآباد)، احمد یعقوب چودھری (راولپنڈی)، قاری محمد اکرم مدنی (سرگودھا)، مولانا معین الدین وٹو (منچن آباد)، طاہر وٹو (عارف والا)، پروفیسر حافظ منیر احمد (وزیرآباد)، پروفیسر ڈاکٹر حافظ احمد خان (اسلام آباد)، مولانا قاری محمد یوسف (ڈیرہ اسماعیل خان)، قاری جمیل الرحمٰن اختر (لاہور)، حافظ ذکاء الرحمٰن اختر (لاہور)، مخدوم منظور احمد تونسوی (لاہور)، مولانا عبد الرؤف فاروقی (لاہور)، مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیل (پشاور)، مولانا عبد العزیز محمدی (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا محمد رمضان ثاقب (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا محمد نواز بلوچ (گوجرانوالہ)، مولانا صلاح الدین فاروقی (ٹیکسلا)، حاجی جاوید ابراہیم پراچہ (کوہاٹ)، مولانا بشیر احمد شاد (چشتیاں)، مولانا حافظ مہر محمد (میانوالی)، مولانا حامد علی رحمانی (حسن ابدال)، مولانا محمد ادریس ڈیروی، (اسلام آباد)، مولانا سخی داد خوستی (ژوب)، مولانا قاری محمد نذیر فاروقی (اسلام آباد)، مولانا حافظ محمد فیاض عباسی (مری)، مولانا قاری سیف اللہ سیفی (مری)، راجہ محمد یونس طاہر ایڈووکیٹ (دھیرکوٹ)، مولانا محمد شعیب (ہری پور)، اور مولانا قاری محمد زرین عباسی (مری)۔
جبکہ کنونشن کی آخری عمومی نشست میں علاقہ کے سینکڑوں مسلمانوں اور علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
کنونشن میں ملک کی عمومی دینی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مختلف مقررین نے اس امر پر شدید تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بتدریج اس کے اسلامی تشخص سے محروم کر کے ایک سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لیے غیر ملکی سرمایہ سے چلنے والی این جی اوز سب سے زیادہ سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور انہیں ان سرگرمیوں میں ریاستی اداروں کی مکمل سرپرستی اور تعاون حاصل ہے۔
کنونشن میں ایک قرارداد کے ذریعے سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ این جی اوز کی سرگرمیوں، حسابات اور ان کے بارے میں عوامی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور پبلک انکوائری کے ذریعے سے ایسی این جی اوز کو بے نقاب کیا جائے جو ملک کے اسلامی تشخص، قومی خودمختاری اور دینی اقدار کے خلاف کام کر رہی ہیں اور ملک میں صحیح کام کرنے والی این جی اوز کے لیے بھی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔
کنونشن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے پاکستان کی قومی تجارت پر بتدریج کنٹرول حاصل کرنے کے اقدامات اور بڑے زرعی فارموں کے نام سے زمینوں کی خریداری کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور مختلف مقررین نے کہا کہ اس طرح ملک کی تجارت اور زراعت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے سے بین الاقوامی کنٹرول میں دیا جا رہا ہے اور ملک کو مکمل غلامی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ کنونشن میں ایک قرارداد کے ذریعے سے ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں اور محب وطن حلقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور غلامی کے اس نئے پروگرام کو روکنے کے لیے مزاحمت کریں۔
نفاذِ شریعت کنونشن میں اس صورتحال کو انتہائی افسوسناک قرار دیا گیا کہ ملک میں دستور مکمل طور پر معطل ہے، عدالتِ عظمٰی کے جج صاحبان نے چیف ایگزیکٹو کی شخصی وفاداری کا حلف اٹھا کر ملک میں شخصی حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے، دستور میں ہر قسم کی ترمیم کا اختیار فردِ واحد کو دے دیا گیا ہے، اور سرکاری کیمپ میں موجود این جی اوز دستور کو مکمل طور پر سیکولر حیثیت دینے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ جس سے نہ صرف وفاقِ پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں بلکہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت اور اب تک کیے جانے والے نفاذِ اسلام کے اقدامات بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
کنونشن میں مقررین نے کہا کہ قادیانی گروہ اور بین الاقوامی سیکولر لابیاں ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ دستورِ پاکستان میں موجود نفاذِ اسلام کی ضمانت، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی شقیں، اور تحفظِ ناموسِ رسالت کا قانون ختم کیا جائے، اور موجودہ صورتحال کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے وہ پوری طرح مستعد و متحرک ہیں، جبکہ دوسری طرف ملک کے دینی حلقے اور خاص طور پر تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے کام کرنے والی جماعتیں اس صورتحال سے لاتعلق اور غیر متحرک نظر آ رہی ہیں جو یقیناً ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔ کنونشن میں طے کیا گیا کہ اس صورتحال کی طرف دینی جماعتوں کو توجہ دلانے کے لیے رابطے کیے جائیں گے۔
کنونشن کے مقررین نے سودی نظام کے خاتمہ میں مزید ایک سال کی توسیع کو بھی افسوسناک قرار دیا اور دینی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے عملی جدوجہد کریں۔
کنونشن میں جہادِ کشمیر کے بارے میں بعض دینی حلقوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے مجاہدینِ کشمیر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ایک قرارداد کے ذریعے سے اس امر کا اعلان کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان شریعت کونسل کا موقف وہی ہے جو کشمیری عوام کا ہے کہ انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے سے خود کرنے کا حق دیا جائے، اور اپنے اس جائز اور مسلّمہ حق کے حصول کے لیے کشمیری عوام کی جدوجہد شرعی جہاد کی حیثیت رکھتی ہے جس کی حمایت پاکستان کے دینی حلقوں اور عوام کی ذمہ داری ہے۔
کنونشن میں ایک قرارداد کے ذریعے سے سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن مقرر کرنے اور مولانا محمد اعظم طارق سمیت تمام گرفتار شدہ راہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
کنونشن میں طے پایا کہ مولانا فداء الرحمٰن درخواستی، مولانا قاضی عبد اللطیف، اور مولانا زاہد الراشدی پر مشتمل وفد دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے ملاقاتیں کرے گا اور ۹ ستمبر کے ’’قومی دینی کنونشن‘‘ سے قبل ۵ ستمبر کو راولپنڈی، ۶ ستمبر کو فیصل آباد، ۷ ستمبر کو چنیوٹ، اور ۸ ستمبر کو گوجرانوالہ میں علاقائی دینی کنونشن منعقد ہوں گے، ان شاء اللہ العزیز۔
مولانا سمیع الحق سے ملاقات
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی اور سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ روز اکوڑہ خٹک میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق اور مرکزی نائب امیر مولانا قاضی عبد اللطیف سے ملاقات کی اور ان سے ملک کی عمومی صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا۔ اس موقع پر مولانا سیف الرحمٰن ارائیں، مولانا سید محمد یوسف شاہ اور مولانا عبد الخالق آف اسلام آباد بھی موجود تھے۔ دونوں جماعتوں کے راہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مشترکہ دینی و قومی مقاصد کے لیے دینی جماعتوں کو مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے، اور دینی جماعتوں کو مشترکہ جدوجہد کے لیے تیار کرنے کی غرض سے دونوں جماعتوں کے راہنما مشترکہ طور پر محنت کریں گے۔
اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے راہنماؤں نے چھ دینی جماعتوں کی ’’متحدہ مجلسِ عمل‘‘ کے قیام کو سراہتے ہوئے اس پر مولانا سمیع الحق کو مبارکباد پیش کی اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نے مولانا سمیع الحق کو ۹ ستمبر کو لاہور میں منعقد ہونے والے ’’قومی دینی کنونشن‘‘ میں شمولیت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔
احمد یعقوب چودھری مرکزی پریس سیکرٹری ہوں گے
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نے راولپنڈی کے جناب احمد یعقوب چودھری کو پاکستان شریعت کونسل کا مرکزی پریس سیکرٹری مقرر کیا ہے، جبکہ خانپور کے مولانا حاجی مطیع الرحمٰن درخواستی کو پاکستان شریعت کونسل صوبہ پنجاب کا نائب امیر اول، اور دھیر کوٹ آزادکشمیر کے راجہ محمد یونس طاہر ایڈووکیٹ کو مرکزی مجلسِ شورٰی کا رکن مقرر کیا ہے۔
دریں اثنا مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نے کہا ہے کہ پاکستان شریعت کونسل ملک میں نفاذِ شریعت کے لیے راہ ہموار کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے جو اقتدار اور الیکشن کی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے علمی و فکری بنیاد پر مصروفِ کار ہے اور کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت کا رکن اپنی جماعت کا رکن ہوتے ہوئے بھی نفاذِ شریعت کی علمی و فکری محنت کے لیے پاکستان شریعت کونسل میں شامل ہو سکتا ہے۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’احکام القرآن‘‘ اور ’’احکام الاسلام‘‘
دارالعلوم عربیہ ایبٹ
آباد کے بانی حضرت مولانا محمد ایوب ہاشمیؒ (فاضل دیوبند) ہزارہ کے بزرگ
علماء میں سے تھے جنہوں نے ایک عرصہ تک اس خطے میں دینی علوم کی ترویج و
اشاعت اور عوام کے عقائد و اعمال اور اخلاق و عادات کی اصلاح کے لیے
مخلصانہ جدوجہد کی ہے اور تقریر و تدریس کے علاوہ تحریر کے میدان میں
نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ مختلف موضوعات پر ان کی نصف درجن سے زائد
معلوماتی اور اصلاحی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے دو اس وقت ہمارے
سامنے ہیں:
ایک ’’احکام القرآن‘‘ کے نام سے ہے جس میں قرآن کریم کے
مختلف مضامین کی آسان زبان میں وضاحت کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کے بارے میں
بہت سی مفید معلومات یکجا کر دی گئی ہیں۔ ۱۹۰ صفحات کی اس مجلد کتاب پر
قیمت درج نہیں ہے۔
دوسری کتاب ’’احکام الاسلام‘‘ ہے جس میں روز مرہ
پیش آنے والے دینی مسائل، ایمانیات، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اور وراثت
وغیرہ سے متعلق اسلامی احکام عام فہم انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس مجلد
کتاب کے صفحات ۱۵۸ ہیں۔
یہ دونوں کتابیں درج ذیل ایڈریس سے طلب کی جا سکتی ہیں:
مولانا قاری عتیق الرحمٰن ہاشمی، دارالعلوم عربیہ سراج العلوم، مدنی مسجد، مری روڈ، دھتوڑ، ایبٹ آباد
’’قبر ۔ ایک شدید غلط فہمی کا ازالہ‘‘
جامعہ
اسلامیہ راولپنڈی صدر کے دارالافتاء کے سربراہ مولانا مفتی محمد اسماعیل
طورو نے عذابِ قبر کے بارے میں ایک فتوٰی جاری کیا کہ عذابِ قبر کا منکر
مسلمان نہیں ہے، جو مختلف دینی و علمی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا اور اس
پر ملک کے متعدد اداروں اور شخصیات کی طرف سے اظہارِ خیال کیا گیا۔
مفتی
صاحب نے اس ساری بحث کو یکجا کر کے اہلِ سنت کے اس موقف کی وضاحت کی ہے کہ
مطلقاً عذابِ قبر کا انکار کفر ہے اور نفسِ عذابِ قبر کو تسلیم کرتے ہوئے
اس کی کیفیات اور تعبیرات میں اختلاف کے مختلف مدارج ہیں، جن میں ایک یہ ہے
کہ اہلِ سنت کی اجماعی تعبیر و تشریح سے ہٹ کر عذابِ قبر کی الگ تعبیر
کرنا گمراہی ہے۔
۱۱۶ صفحات کے اس کتابچہ پر قیمت درج نہیں ہے اور اسے جامعہ اسلامیہ، کشمیر روڈ، راولپنڈی صدر سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
ماہنامہ ’’آبِ حیات‘‘ لاہور
مولانا
محمود الرشید حدوٹی کا تعلق جامعہ اشرفیہ لاہور سے ہے اور دینی حلقوں میں
ایک معروف صاحبِ قلم کے طور پر متعارف ہیں۔ مختلف اخبارات و جرائد میں ان
کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں جو ان کے مخصوص تحقیقی ذوق کا آئینہ دار ہیں۔
اب انہوں نے ماہنامہ ’’آبِ حیات‘‘ کے نام سے ایک ماہوار جریدہ کا آغاز کیا
ہے جو دینی صحافت میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ اس وقت جولائی ۲۰۰۱ء کا شمارہ
ہمارے سامنے ہے جو معلوماتی اور تجزیاتی مضامین پر مشتمل ہے۔
۴۸ صفحات کے اس رسالہ کی قیمت ۱۰ روپے جبکہ سالانہ زرخریداری ۱۰۰ روپے ہے۔ خط و کتابت کا پتہ یہ ہے:
مولانا محمود الرشید حدوٹی، جامعہ اشرفیہ، مسلم ٹاؤن، فیروز پور روڈ، لاہور
سہ ماہی ’’ایقاظ‘‘ لاہور
لاہور
سے شائع ہونے والے نئے سہ ماہی مجلہ ’’ایقاظ‘‘ کی پہلی جلد کے تین شمارے
۲، ۳، ۴ اس وقت ہمارے سامنے ہیں۔ یہ مجلہ جناب حامد محمود کی زیرادارت شائع
ہو رہا ہے اور اس کے مضامین کا زیادہ حصہ مجلہ کے نام کی مناسبت سے فکری و
علمی موضوعات پر بیداری کے رجحانات کا آئینہ دار ہے۔
عالمِ اسلام
میں دینی بیداری کا فروغ، استعماری غلبہ سے نجات، استعمار کے آلہ کار
حکمران طبقوں سے گلوخلاصی، اور عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق اسلامی عقائد
کی تعبیر و تشریح ہر اس فکری و علمی حلقہ کے بنیادی موضوعات ہیں جو اس
میدان میں مصروفِ کار ہے۔
اور ’’ایقاظ‘‘ کا فکری و علمی دائرۂ کار
بھی ان شماروں سے یہی محسوس ہو رہا ہے جس پر عرب ممالک کی اس سلفی تحریک کی
چھاپ نمایاں نظر آ رہی ہے جو مختلف ممالک میں مذکورہ بالا مقاصد کےلیے
اپنے مخصوص ذوق کے تحت کام کر رہی ہے۔
عقائد کی تعبیر و تشریح میں
نقطۂ نظر کا اختلاف ایک طبعی امر ہے اور اگر اسے باہمی برداشت اور احترام
کے ماحول میں ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھایا
جائے تو نظریات و افکار کا یہ تنوع امت کے لیے باعثِ رحمت بھی ہے۔ اس لیے
ہم اس توقع کے ساتھ دینی صحافت میں اس نئے فکری جریدہ کا خیرمقدم کرتے ہیں
کہ یہ جریدہ مذکورہ بالا موضوعات و عنوانات کے حوالے سے بحث و مباحثہ کو
علمی انداز میں مثبت طور پر آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔
۸۰ کے لگ
بھگ صفحات پر مشتمل اس جریدہ کی قیمت ۲۰ روپے اور سالانہ زرخریداری ۸۰ روپے
ہے ۔ اور رابطہ کے لیے پوسٹ بکس ۱۷۱۱ لاہور ک ےپتہ پر خط و کتابت کی جا
سکتی ہے۔
’’غیر مقلدین کے متضاد فتوے‘‘
ائمہ اربعہ رحمہم
اللہ تعالیٰ کے مقلدین پر غیر مقلدین کی طرف سے اکثر اعتراض کیاجاتا ہے کہ
ان کے مسائل اور فتووں میں تضاد ہے۔ حالانکہ مسائل و احکام میں فقہی اختلاف
ایک طبعی اور فطری امر ہے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذِ حدیث
مولانا عبد القدوس خان قارن نے اس کتابچہ میں غیر مقلد علماء کے مسائل اور
فتاوٰی کے باہمی تضاد کو بے نقاب کیا ہے اور باحوالہ نشاندہی کی ہے کہ
مقلدین پر اختلاف کا الزام لگانے والوں کے باہمی اختلافات کی حالت کیا ہے۔
صفحات ۱۰۰ ، قیمت ۲۷ روپے، ملنے کاپتہ، عمر اکادمی: نزد گھنٹہ گھر،
گوجرانوالہ۔
’’فری میسنری ۔ اسلام دشمن خفیہ یہودی تنظیم‘‘
معروف
دانشور جناب بشیر احمد نے، جن کی تصانیف (۱) بہائیت (۲) احمدیہ موومنٹ (۳)
قادیان سے اسرائیل تک، شائع ہو کر اہلِ علم سے دادِ تحقیق وصول کر چکی
ہیں، فری میسنری تحریک اور اس کی سرگرمیوں پر قلم اٹھایا ہے اور ساڑھے تین
سو صفحات کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل زیرنظر کتاب میں فری میسنری کے آغاز،
طریق کار، مختلف ممالک میں اس کی سرگرمیوں، اور خاص طور پر خلافتِ عثمانیہ
کے خاتمہ اور اسرائیل کے قیام میں اس کے کردار کو بے نقاب کیا ہے۔
اس کتاب کی قیمت دو سو روپے ہے اور اسلامک اسٹڈی فورم، پوسٹ بکس ۶۳۹ راولپنڈی سے طلب کی جا سکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو قائد اعظمؒ کی ہدایت
ادارہ
۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کو کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے خطاب میں فرمایا:
’’میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ’’مجلسِ تحقیق‘‘ بینکاری کے ایسے طریقے کیونکر وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔
مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لاینحل مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ مغربی نظام افرادِ انسانی کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے، بلکہ گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عظیم جنگوں کی ذمہ داری سراسر مغرب پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی دنیا صنعتی قابلیت اور مشینوں کی دولت کے زبردست فوائد رکھنے کے باوجود انسانی تاریخ کے بدترین باطنی بحران میں مبتلا ہے۔
اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام اختیار کیا تو عوام کی پرسکون خوشحالی حاصل کرنے کے اپنے نصب العین میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں منفرد انداز میں بنانی پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔
ایسا نظام پیش کر کے گویا ہم مسلمان کی حیثیت میں اپنا فرض سرانجام دیں گے۔ انسانیت کو سچے اور صحیح امن کا پیغام دیں گے۔ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ کی ہولناکی سے بچا سکتا ہے، اور صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا امین ہو سکتا ہے۔‘‘
بحوالہ ’’نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام‘‘
مطبوعہ مکتبہ محمود، مکان نمبر ۱ رسول پور اسٹریٹ، اچھرہ، لاہور
دین کی دعوت و اقامت کا فریضہ
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ضرورت اقامتِ دین کی ہے۔ آج دنیا کی پانچ ارب کی آبادی میں سے چار ارب مخلوق ایمان کی پیاسی ہے مگر ان تک ایمان پہنچانے والا کوئی نہیں۔ نہ کوئی مال خرچ کرتا ہے اور نہ محنت کرتا ہے۔ اگر مسلمان کے مال و دولت کا رخ ایمان کے متلاشیوں کی آبیاری کی طرف ہو جائے تو یہ مال کا بڑا اعلیٰ مصرف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ مال ذاتی عیش و عشرت اور رسومِ باطلہ کے فروغ کے لیے تو نہیں دیا بلکہ اعلائے کلمۃ الحق کے لیے عنایت کیا ہے۔ غیر مسلم اقوام میں تبلیغِ دین کی سخت ضرورت ہے جس کے لیے مال اور وقت درکار ہے۔ تبلیغی جماعت والے جو کچھ کر رہے ہیں یہ تو کُل ضرورت کا ایک فیصد بھی نہیں، اگرچہ یہ بھی غنیمت ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ باقی ۹۹ فیصد کام کون کرے گا؟ آپ ذرا حساب لگا کر دیکھیں کہ کُل دولت کا کتنے فیصد اقامتِ دین کے لیے خرچ ہو رہا ہے۔ جواب صفر آئے گا۔
یہ دین تو بالکل برحق ہے اور اللہ تعالیٰ اسے قائم بھی رکھے گا، مگر ہم اپنی ذمہ داری کس حد تک پوری کر رہے ہیں؟ کچھ غریب غرباء لوگ اور علماء حق ہر دور میں موجود رہے ہیں جو حتی الامکان کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، مگر اس معاملہ میں اجتماعیت بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
پوری دنیا کے مسلمان روبہ زوال ہیں اور ذلت کے کام انجام دے رہے ہیں۔ مسلمان حکمران بھی عیش و عشرت میں پڑے ہوئے ہیں یا جنگ و جدال میں مصروف ہیں۔ دین کی تقویت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے جاہ و مال دونوں چیزیں عطا فرمائیں، ذرا بتاؤ تو سہی ان کو دین کے لیے کس حد تک استعمال کیا جا رہا ہے؟