اپریل ۲۰۰۱ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سؤر کے گوشت کے نقصاناتحکیم محمود احمد ظفر 
فہم قرآن کے ذرائع ووسائلمحمد عمار خان ناصر 
مغربی تہذیب کی یلغارمحمد شمیم اختر قاسمی 
پاکستان شریعت کونسل کے راہ نماؤں کا دورۂ قندھارادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس میں مروج نصاب تعلیم کو درس نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے۔ ملا نظام الدین سہالویؒ المتوفی (۱۱۶۱ھ)حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں تھے۔ ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان)کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبد اللہ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہا۔ اکبر بادشاہ نے اپنے دور میں اس خاندان کو سہالی میں معقول جاگیر دے دی تھی جس کی وجہ سے خاندانی اور تدریسی نظام کسی رکاوٹ اور دقت کے بغیر چلتا رہا حتی کہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے دور میں سہالی کے شیخ زادوں نے کسی تنازع کی بنیاد پر اس خاندان کے بزرگ ملا قطب الدینؒ کو شہید کر کے ان کا گھر، سامان اور کتب خانہ جلا دیا اور اس خاندان کو سہالی کا قصبہ چھوڑنا پڑا۔ سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ نے ۱۱۰۵ھ میں لکھنؤ میں’’فرنگی محل‘‘ کے نام کی ایک کوٹھی انہیں الاٹ کی جو ان کی تدریسی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی اور علماء فرنگی محل کا وہ عظیم علمی خاندان پورے برصغیر میں متعارف ہوا جس میں ملا نظام الدین سہالویؒ ، مولانا عبد الحلیم فرنگی محلیؒ اور مولانا عبد الحئی فرنگی محلیؒ جیسے اکابر ومشاہیر کے نام بھی شامل ہیں۔

اس دور میں برصغیر میں فقہ اور معقولات کی تعلیم کا دور دورہ تھا اور فرنگی محل کے علما ان دونوں علوم میں نمایاں ا ور امتیازی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا اپنا ایک انداز تعلیم تھا اور تعلیمی نصاب بھی خود ان کا اپنا طے کردہ تھا۔ یہ نصاب تعلیم دراصل اس خاندان کے مسلسل تجربات کا نچوڑ اور حاصل تھا جسے ملا نظام الدین سہالویؒ نے مرتب شکل میں پیش کیا اور اسی وجہ سے ان سے منسوب ہو کر ’’درس نظامی‘‘ کہلایا۔ اس نصاب میں درج ذیل گیارہ علوم وفنون میں اس دور کی بہترین کتابیں شامل کی گئیں : ۱۔صرف، ۲۔ نحو، ۳۔ منطق، ۴۔ حکمت وفلسفہ، ۵۔ ریاضی، ۶۔ بلاغت، ۷۔ فقہ، ۸۔ اصول فقہ، ۹۔ علم کلام، ۱۰۔ تفسیر قرآن اور ۱۱۔ حدیث ۔

اس نصاب کے ساتھ اس خاندان کا طرز تدریس روایتی اور کتابی تھا جس میں کتاب کا متن، حاشیہ اور حاشیہ در حاشیہ سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا جاتا تھا اور کتاب کے نفس مضمون کی بہ نسبت اس کے دیگر متعلقات وتفصیلات کی طرف استاذ اور شاگرد کی توجہ زیادہ ہوتی تھی۔ اس طرز تدریس کی افادیت یہ تھی کہ اس سے ذہن وفکر کو تعمق اور گہرائی حاصل ہوتی تھی اور مطالعہ واستنباط کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا تھا۔ چنانچہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی اور پورے جنوبی ایشیا میں صدیوں سے چلے آنے والے ہزاروں دینی مدارس کی یک لخت بندش وخاتمہ کے بعد جب حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت حاجی عابد حسینؒ جیسے بزرگوں نے ضلع سہارنپور کے قصبہ دیوبند میں رضاکارانہ چندہ اور امداد باہمی کی بنیاد پر ۱۸۶۵ء میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ایک نئی درس گاہ قائم کی تو اس میں درس نظامی کے اسی نصاب کو تعلیم وتدریس کے نئے سلسلہ کی بنیاد بنایا اور یہی سلسلہ آگے چل کر پورے جنوبی ایشیا میں آزاد دینی مدارس کے ایک وسیع نظام کا نقطہ آغاز قرار پا گیا۔ مگر دیوبند کے حضرات نے درس نظامی کے نصاب کو من وعن قبول نہیں کیا بلکہ اس میں اس وقت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ترمیم واضافہ بھی کیا۔ ان حضرات کا علمی وفکری تعلق حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے تھا اور جہاد بالاکوٹ کی ناکامی کے باعث ولی اللہی خاندان کے مسند نشین حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ کی حجاز مقدس کی طرف ہجرت کے بعد اس خاندان کے علمی ورثہ اور فکری مشن کے یہی حضرات وارث تھے اس لیے انہوں نے دونوں علمی سرچشموں کے درمیان سنگم اور پل کی حیثیت اختیار کر لی اور درس نظامی کے مذکورہ نصاب کے ساتھ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم وفلسفہ کا جوڑ لگا کر ایک ایسا نصاب تعلیم رائج کیا جو تھوڑے بہت رد ودبدل کے ساتھ جنوبی ایشیا کے اکثر دینی مدارس میں اس وقت بھی رائج ہے اور اب تک مختلف ادوار اور مختلف حلقوں کی ترامیم اور اضافہ کے باوجود ’’درس نظامی‘‘ ہی کہلاتا ہے۔

دار العلوم دیوبند نے جب اس نصاب کو اپنایا تو اس وقت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس میں دو بنیادی تبدیلیاں کیں۔ ایک یہ کہ درس نظامی کے پرانے نصاب میں حدیث کی صرف ایک کتاب، مشکوۃ شریف تھی لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات وارشادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیوبند کے نصاب میں صحاح ستہ یعنی بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور نسائی کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یہ اس وقت کی اہم ضرورت تھی جسے دیوبند کے اکابر نے محسوس کرتے ہوئے نصاب کے اندر سمودیا۔ اسی طرح جہاد بالاکوٹ کے بعد جب حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ ہجرت کر کے حجاز مقدس چلے گئے تو ان کی جگہ دہلی کی مسند حدیث پر حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ متمکن ہوئے جن کا رجحان حنفیت سے گریزاں اس مکتب فکر کی طرف تھا جو بعد میں اہل حدیث کے نام سے موسوم ہوا۔ ظاہر ہے کہ حدیث کی تعلیم میں ان کے ہاں انہی احادیث وروایات کی ترجیح کا پہلو غالب ہونا تھا جو ان کے رجحانات سے مطابقت رکھتا تھا اس لیے یہ تاثر عام ہونے لگا کہ حدیث نبویؐ اور فقہ حنفی الگ الگ بلکہ ایک دوسرے کے مقابل علوم کا نام ہے۔ اس تاثر کو دور کرنے کے لیے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے حدیث کی تعلیم وتدریس کے دوران فقہ حنفی کے مسائل واحکام کے احادیث نبویہؐ سے اثبات اور ان کی ترجیح کے طرز کو اپنایا جسے بعد میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے کمال تک پہنچا دیا۔

ان دو تبدیلیوں میں سے ایک کا تعلق نصاب میں اضافہ سے ہے اور دوسری تبدیلی طرز تدریس سے تعلق رکھتی ہے جو ظاہر ہے اس وقت کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے عمل میں لائی گئیں لیکن اس کے بعد نصاب اورطرز تعلیم پر جمود کی ایسی مہر ثبت کر دی گئی کہ زمانے کی ضروریات اور تقاضوں سے آنکھیں بند کر لینے کوہی عافیت کا واحد ذریعہ سمجھ لیا گیا حتی کہ بڑے بڑے اکابر چیختے چلاتے رہ گئے مگر مدارس دینیہ کے ارباب حل وعقد کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس سلسلہ میں ارباب مدارس کے بھی کچھ تحفظات اور مجبوریاں ہیں جو ہمارے پیش نظر ہیں اور ہم نے اپنے مضامین میں ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے لیکن ان تحفظات اور مجبوریوں کے دائرے قائم رکھتے ہوئے بھی جو ضروری ترامیم اور اضافے آسانی کے ساتھ ہو سکتے تھے، بدقسمتی سے انہیں بھی نظر انداز کر دیا گیا اور ابھی تک مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ تعالی ہمارے دور کے اکابر علما میں سے تھے اور ان کا شمار حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالی کے ابتدائی دور کے مایہ ناز شاگردوں میں ہوتا ہے جب حضرت شاہ صاحبؒ دار العلوم دیوبند میں پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا نعمانی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ جس سال وہ دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے تو حضرت شاہ صاحبؒ نے دورۂ حدیث کے طلبہ کو رخصت کرنے سے قبل ایک خصوصی نشست میں ہدایات اور نصائح سے نوازا جن میں سب سے اہم نصیحت یہ تھی کہ اگر اسلام کی دعوت وتبلیغ کا کام صحیح طریقے سے کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے انگریزی زبان سیکھنا ضروری ہے۔ اس واقعہ کو پون صدی گزر چکی ہے مگر ہمارے مدارس اب بھی انگریزی زبان کے بارے میں تردد کا شکار ہیں کہ سرے سے اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز نے بھی اس مسئلے پر بہت کچھ فرمایا مگر ان کی آواز بھی صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ میں اس موقع پر ان کے دو تین ارشادات نقل کرنا چاہوں گا جس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام میں تبدیلی کی ضرورت پر اکابر علما کے احساسات اور اس کے ارباب اختیار کے ذہنی وفکری جمود کے درمیان کتنا فاصلہ تھا۔

حضرت تھانویؒ قرآن کریم کی تدریس کے مروجہ طرز پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قرآن شریف کا طرز عام مصنفین کے طرز پر نہیں ہے بلکہ محاورہ بول چال کا طرز ہے۔ نہ اس میں اصطلاحی الفاظ کی پابندی۔ ناواقف لوگ اس کو عام تصانیف کے طریقہ پر منطبق کرنا چاہتے ہیں اس لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس مضمون کو صاحب کشاف نے بھی لکھا ہے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں کہ ضروری صرف ونحو اور کسی قدر ادب پڑھا کر قرآن شریف کا سادہ پڑھا دینا مناسب ہے کیونکہ کتب درسیہ کی تحصیل کے بعد دماغ میں اصطلاحات رچ جاتی ہیں پھر طالب علم قرآن شریف کو اسی طرز پر منطبق کرنے لگتا ہے۔ اس طرح قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ کر پھر فنون ضرور پڑھے کیونکہ بعض مقامات قرآنیہ بغیر فنون کے حل نہیں ہوتے‘‘ (کلام الحسن ص ۳۲)

اسی مسئلہ کو ایک اور انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں کہ

’’اہل مدارس طرز تعلیم میں کچھ ترمیم کریں۔ جیسے بعض متون بغیر شرح کے پڑھائی جاتی ہیں، اسی طرح جلالین سے پہلے قرآن مجید بھی بغیر کسی خاص تفسیر کے زبانی حل کے ساتھ پڑھایا جایا کرے۔ یا تو پورا قرآن پہلے پڑھا دیا جائے یا ایسا کریں کہ مثلا ربع پارہ اول خالی قرآن کریم میں پڑھا دیا جائے پھر اسی قدر جلالین پڑھا دی جائے اور مدرس اپنی سہولت کے لیے خواہ جلالین اپنے پاس رکھے یا اور کوئی مبسوط تفسیر۔ تو طلبہ کو پڑھنے میں، اسی طرح یاد کرنے کی اور مطالعہ کر کے حل کرنے کی عادت پڑ جائے گی‘‘ (اصلاح انقلاب ص ۴۷)

جبکہ نصاب میں ضروری اضافوں کے حوالے سے حضرت تھانویؒ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ:

’’یہ میری بہت پرانی رائے ہے اور اب تو رائے دینے سے بھی طبیعت افسردہ ہو گئی اس لیے کہ کوئی عمل نہیں کرتا۔ وہ رائے یہ ہے کہ تعزیرات ہند کے قوانین اور ڈاک خانہ اور ریلوے کے قواعد بھی مدارس اسلامیہ کے درس میں داخل ہونے چاہییں۔ یہ بہت پرانی رائے ہے مگر کوئی مانتا اور سنتا ہی نہیں۔‘‘ (الافاضات الیومیہ، جلد ششم، ص ۴۳۵)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیزکے ان ارشادات کو نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام اور طرز تدریس دونوں میں تبدیلی اور وقت کی ضروریات کو ان میں سمونے کی ضرورت کا احساس بہت پرانا ہے اور اس کا اظہار بڑے بڑے اکابر نے کیا ہے لیکن دوسری طرف مدارس کے ارباب حل وعقد کے جمود کی بھی داد دیجیے کہ حضرت تھانویؒ جیسے بزرگ کو بھی اس حسرت کے ساتھ سپر انداز ہونا پڑا ہے کہ ’’کوئی مانتا اور سنتا ہی نہیں‘‘۔

ہمارے دور میں اس مسئلہ پر سب سے زیادہ بحث حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز نے کی ہے اور درجنوں مضامین ومقالات میں انہوں نے نصاب تعلیم اور طرز تدریس میں وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ نصاب میں تین طرح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے:

(۱) تخفیف، یعنی بھاری بھرکم نصاب کو کچھ ہلکا کیا جائے اور ایک ہی فن میں درجنوں کتابیں الگ الگ پڑھانے کے بجائے تین چار اہم اور زیادہ مفید کتابوں کی تعلیم دی جائے۔

(۲) تیسیر، یعنی مشکل پسندی کا طریقہ ترک کر کے غیر متعلقہ مباحث میں طلبہ کے ذہنوں کو الجھانے کے بجائے نفس کتاب اور نفس مضمون کی تفہیم کو ترجیح دی جائے۔

(۳) اثبات وترمیم، یعنی غیر ضروری فنون کو حذف کر کے جدید اور مفید علوم کو شامل کیا جائے۔ حضرت بنوریؒ نے اس سلسلہ میں جن نئے علوم کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، ان میں ۱۔ تاریخ اسلام، ۲۔ سیرت النبیؐ، ۳۔ جدید عربی ادب وانشا، ۴۔ جدید علم کلام، ۵۔ ریاضی اور ۶۔ معاشیات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

اس مسئلہ پر حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ نے بھی بحث کی ہے اور انہوں نے ۲۲ فروری ۱۹۴۷ء کو لکھنؤ میں عربی مدارس کے نصاب کے بارے میں ایک کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے جو خطبہ ارشاد فرمایا، وہ ہمارے نصاب ونظام پر ایک جامع اور مکمل تبصرہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والے ہر شخص کو اس کا بار بار مطالعہ کرنا چاہئے۔ یہ خطبہ صدارت ادارہ نشریات اسلام اردو بازار لاہورکے طبع کردہ ’’خطبات آزادؒ ‘‘ میں موجود ہے اور ہم نے بھی ماہنامہ الشریعہ کے نومبر ۱۹۹۳ء کے شمارے میں اسے شائع کیا ہے۔ اس مختصر مضمون میں اس کے تمام ضروری مباحث اور پہلوؤں کا تذکرہ تو ممکن نہیں ہے مگر دو اقتباسات ضرور پیش کرنا چاہوں گا تاکہ وقت کی ضروریات اور تقاضوں سے ہماری بے خبری بلکہ بے پروائی کا کچھ اندازہ ہو سکے۔

’’حضرات ! مجھے معاف کیا جائے۔ ۱۴ تا ۱۵ برس تک لڑکے پڑھتے ہیں اور دس سطریں عربی کی صلاحیت کے ساتھ نہیں لکھ سکتے۔ اگر لکھیں گے تو ایسی عربی ہوگی جس کو ایک عرب نہ پہچان سکے گا۔ تو یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جو ہندوستان میں پیدا ہوا۔ ضرورت ہے کہ عربی کی تعلیم کی نیو نئے سرے سے قائم کریں۔ بہترین کتابیں موجود ہیں، بہترین مواد موجود ہے، ایسی کتابیں موجود ہیں کہ عربی ادب کے معجزات میں جن کا شمار ہو سکے۔‘‘

اسی خطبہ میں مولانا آزادؒ فرماتے ہیں

’’میں نے بھی پھٹی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھ کر انہی کتابوں کو پڑھا ہے اور میری ابتدائی تعلیم کا وہ سرمایہ ہیں۔ ایک منٹ کے لیے بھی میرے اندر مخالفت کا خیال نہیں پیدا ہو سکتا مگر میرا دل اس بارے میں زخمی ہے۔ یہ معاملہ تو ایسا تھا کہ آج سے ایک سو برس پہلے ہم نے اس چیز کو محسوس کیا ہوتا اور اس حقیقت کو تسلیم کیا ہوتا کہ اب دنیا کہاں سے کہاں آ گئی ہے اور اس کے بارے میں کیا تبدیلی ہمیں کرنا ہے لیکن اگر سو برس پہلے ہم نے تبدیلی نہیں کی تو کم از کم یہ تبدیلی ہم کو پچاس برس پہلے کرنا چاہئے تھی۔ لیکن آج ۱۹۴۷ء میں اپنے مدرسوں میں جن چیزوں کو ہم معقولات کے نام پر پڑھا رہے ہیں، وہ وہی چیزیں ہیں جن سے دنیا کا دماغی کارواں دو سو برس پہلے گزر چکا۔ آج ان کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

الغرض دینی مدارس کی تمام تر خدمات، قربانیوں، ایثار اور تاریخی کردار کے باوجود آج کے دور کے تقاضوں اور ضروریات کے حوالے سے ان کے نصاب ونظام میں ضروری رد وبدل اور مناسب ترمیم واضافہ وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے جس کی طرف اکابر علماء حق ہر دور میں توجہ دلاتے چلے آ رہے ہیں اور ہماری گزارش بھی یہی ہے کہ وقت کے تقاضوں کو محسوس کیا جائے، دینی ضروریات کو سامنے رکھا جائے اور مستقبل کے امکانات وخطرات کا ادراک کرتے ہوئے باہمی مشاورت کے ساتھ جو تبدیلی بھی ناگزیر ہو ،اسے اختیار کرنے میں تامل سے کام نہ لیا جائے۔ اس سلسلہ میں دینی مدارس کے سینئر اساتذہ اور دور حاضر کے مسائل وضروریات پر نظر رکھنے والے ارباب علم ودانش کے درمیان وسیع پیمانے پر مذاکروں اور مباحثوں کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سنجیدگی کے ساتھ سننے اور اس کی روشنی میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے ارباب مدارس اس ضرورت کا جلد احساس کریں اور اسے پورا کرنے کے لیے حوصلہ اور جرات کے ساتھ پیش رفت کر سکیں۔ آمین یا رب العالمین

انتہائی افسوس ناک پولیس ایکشن

مارچ ۲۰۰۱ء کے تیسرے ہفتے کے دوران میں لاہور میں ملک کے معروف روحانی پیشو ااور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس شاہ صاحب الحسینی مدظلہ کی رہائش گاہ پر ندوۃ العلماء لکھنؤ سے آئے ہوئے حضرت مولانا سید سلمان ندوی اور ان کے رفقا قیام پذیر تھے کہ نصف شب کو پولیس اہل کاروں نے وہاں دھاوا بول دیا، چند معزز مہمانوں سمیت مکان میں موجود متعدد حضرات کو گرفتار کر کے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر پولیس ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا اور رات بھر انہیں پریشان و ذلیل کیا گیا۔ یہ پولیس ایکشن نہایت افسوس ناک بلکہ شرمناک ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہو گی۔ اس پولیس ایکشن کی جس قدر مذمت کی جائے، کم ہے۔ ہم گورنر پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہ وہ ذاتی طور پر اس واقعہ کا نوٹس لیں اور اس کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کے علاوہ ندوۃ العلما لکھنؤ سے آنے والے معزز مہمانوں کی توہین پر سرکاری سطح پر معذرت کی جائے۔

سؤر کے گوشت کے نقصانات

حکیم محمود احمد ظفر

قرآن حکیم نے سؤر کے گوشت کے بارے میں یہ حکم دیا

انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ ان اللہ غفور رحیم۔ (البقرہ ۱۷۳)

بے شک اللہ تعالی نے حرام کر دیا ہے تم پر مردار، خون اور سؤر کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ ہاں جو شخص مجبوری اور اضطرار کی حالت میں ان میں سے کوئی چیز کھالے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی یا حد سے تجاوز کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

قرآن حکیم خنزیر کے گوشت کو چار مختلف آیات میں منع کرتا ہے۔ اس کے حرام ہونے کا حکم سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۷۳، سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۳، سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۱۴۵ اور سورۃ النحل کی آیت نمبر ۱۱۵ میں صریحا دیا گیا ہے۔ اس حکم کو چار مختلف سورتوں میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس حقیقت کو پرزور طریقے سے لوگوں کو بتایا جائے اور یہ کہ ہر شخص اس مسئلہ پر پوری توجہ کرے۔

روز مرہ زندگی میں سؤر سے دور رہنے کے لیے یہی وجہ کافی ہے کہ یہ بے حد غلیظ جانور ہے اور ان میں مشہور قسم کے نقصان دہ طفیلی جراثیموں کی تھیلی Trichina Cyst پائی جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے ان معاشروں میں جہاں کئی سالوں تک سؤر کے گوشت پر پابندی رہی ہے، کچھ لوگوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جانور کے ڈاکٹری معائنے کے بعد اس کو کھایا جا سکتا ہے۔

سؤر کے گوشت کی ممانعت کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ گزشتہ ۲۵ سالوں میں قرآن حکیم کے اس حکم کی تائید میں سائنس نے متعدد وجوہ ڈھونڈلی ہیں اور خود سائنس دان بھی اللہ تعالی کے اس حکم پر حیرت زدہ رہ گئے ہیں جو اس نے قرآن حکیم کی اس آیت میں دیا ہے۔ اب میں سؤر کے جسم کے ان حصوں پر سائنسی تحقیقات کا خلاصہ پیش کروں گا جو انسانی صحت کے لیے مضرت رساں ہیں۔

مشہور جرمن میڈیکل سائنس دان ہینز ہائنرک ریکویگ (Hans Heinrich Rechweg) نے سؤر کے گوشت میں ایک عجیب قسم کی زہریلی پروٹین سٹوکسن (Sutoxin)کی نشان دہی کی ہے جس سے کئی قسم کی الرجی والی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ زہر اس قسم کی الرجی والی بیماریوں مثلا ایگزیما اور دمہ کے دورے (Asthamatic Rash) کا باعث بنتی ہے۔ اگر سٹوکسن کی مقدار یا خوراک کم ہو تو بھی اس سے تھکاوٹ اور جوڑوں کے درد کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے اگر کچھ لوگوں کی اس بات کو تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ سؤر کا گوشت سستا ہوتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والی بیماریاں بہت مہنگی ہوتی ہیں لہذا ان بیماریوں کے علاج میں وقت کے ضیاع اور دواؤں کے اخراجات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ تب اس گوشت کی کوئی خوبی نظر نہیں آئے گی۔

جانوروں پر تجربات کے سلسلے میں سؤر کا اثر ہمیشہ نظر آجاتا ہے۔ اس جانور کے رطوبت چھوڑنے والے غدودوں کے نظام (Lymphatic System) میں تیزی سے ہونے والی فرسودگی سے ایسی خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں جو اس وجہ سے ہے کہ یہ جانور نقصان دہ بیکٹیریا سے بھری ہوئی خوراک متواتر بغیر وقفہ کے کھاتا رہتا ہے۔

خنزیر کے گوشت میں ایک عنصر میوکو پولائزک چرائڈ (Muco Polysac Charides) کافی تعداد میں پایا جاتا ہے اور چونکہ اس میں گندھک (Sulphur) ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی وجہ سے جوڑوں کی بہت سی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ سؤر میں بڑھنے کے عمل میں تیزی پیدا کرنے والے ہارمونز ایک بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے گوشت کے عادی لوگوں کے جسم بھی بدنما اور عیب زدہ ہو جاتے ہیں۔

ایک اور پریشان کن بیماری جو سؤر کے گوشت کے ذریعے سے پیدا ہوتی ہے، اسے شیپ وائرس (Sheep virus) کہتے ہیں۔ یہ وائرس انسانی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے کہ خود سؤر کے پھیپھڑوں میں بھی یہ کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

سؤر کا گوشت خون میں چربی والے اجزا کے تناسب کا ضرورت سے زیادہ مقدار میں اضافہ کر دیتا ہے۔ آج کل ایسی خوراک یعنی قیمہ بھری آنتوں (Sausages) اور سلامی (Salami) وغیرہ بہت مرغوب سمجھی جاتی ہیں۔ سؤر کھانے والوں کے جسم رفتہ رفتہ ایک انگیٹھی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یورپ کے کئی شہروں میں یہ حقیقت بآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ پروفیسر لیٹرے (Prof. Lettre) نے تابکاری طریقے (Radioactive Tagging)استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ خوراک جسم کے اسی حصے میں مرکوز ہو جاتی ہے جس حصہ کی وہ خوراک ہے۔ چنانچہ اس نظریہ کا ثبوت مل جاتا ہے کہ سؤر کھانے والوں کے چوتڑوں میں چربی اکٹھی ہو جاتی ہے۔

سؤر کھانے والوں کو لاحق ہونے والی ایک اور مہلک بیماری چنونے یا کیڑوں والی بیماری ہوتی ہے جسے Trichinaکہتے ہیں۔سٹاہل (Stahl) نے اس موضوع پر اپنی کتاب This Wormy World میں یہ بتایا ہے کہ اس وقت دنیا میں قریبا تین کروڑ کی تعداد میں لوگ اس بیماری کے شکار ہیں۔ لاعلمی پر مبنی خیالات کے برخلاف اوپر بیان کردہ بیماری ٹرائی کینا دماغ میں صرف نقصان دہ گلٹی یا تھیلی ہی نہیں بناتی بلکہ چونکہ سور سے پھیلائی گئی یہ وبا خون میں رکاوٹ یا منجمد کرنے کا عمل بھی پیدا کرتی ہے، اس لیے اس سے ٹائیفائڈ جیسا موذی مرض بھی پیدا ہوتا ہے اور اس سے اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ سور کا گوشت جسم کے پٹھوں میں مرکوز ہو کر پٹھوں کی خطرناک بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

سور سے متعلق مخصوص چوڑے خنزیری کیڑے (Tape Worm)والی ایک اور بیماری بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ بہت سے یورپی ممالک میں سور کے پھیپھڑوں کا کھانا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ مگر سور کے عام گوشت کے ذریعہ بھی یہ بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔ انسانی صحت کو سب سے زیادہ نقصان اس بیماری سے ہوتا ہے جس سے اس جانور کے گردوں کی سخت چربی کے ذریعے آنتوں میں خاص قسم کے طفیلی کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ جانوروں کے گوشت میں دو قسم کی چربی ہوتی ہے۔ ان میں سے پہلی تو وہ ہے جو صاف نظر آتی ہے اور گوشت کے اوپر لپٹی ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم کی چربی وہ ہوتی ہے جو خود گوشت کے پٹھوں کے ریشوں کے اندر ہی پائی جاتی ہے۔ جہاں تک چربی کا گوشت میں مرکوز ہو جانے کا معاملہہے، دوسری قسم کی چربی سے بطور خاص ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں عام قسم کے گوشت کی چیزوں میں چربی کا مرکوز ہو جانا درج ذیل ہے۔

بچھڑے کا گوشت    (۱۰ فیصد)

بھیڑ کاگوشت    (۲۰ فیصد)

بھیڑکے بچے کا گوشت    (۲۳ فیصد)

سؤر کا گوشت    (۳۵ فیصد)

جانوروں سے حاصل کردہ چربی جو ہمارے جسم میں جاتی ہے، اس کے متعلق یہ تحقیق ہو چکی ہے کہ انسانی خون میں یہ سب سے کم مقدار میں تحلیل ہوتی یا گلتی ہے۔ چنانچہ اس کے کھانے سے خون میں چربی (Lipid) اور کولیسٹرول (Cholesterol) کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر یہ اجزا خون کے بہاؤ میں زیادہ عرصہ تک موجود رہیں تو یہ چپکنے سے رکاوٹ بناتے ہیں اور خون کی شریانوں کو سخت کر دیتے ہیں۔ آج کل تو پوری طرح سے تسلیم کر لیا گیا ہے کہ خوراک میں چربی کا زیادہ مقدار میں ہونا ہی دل کی شریانوں کی بیماریوں کا سب سے بڑا سبب ہے۔ خون میں چربی کی مقدار کا ضرورت سے زیادہ ہونا وقت سے قبل بڑھاپے، ضعف، فالج اور دل کے دورے کی بلا شبہ ایک عام وجہ ہے۔

آج کل قصاب کی دوکان میں داخل ہونے والا ہر گاہک بغیر چربی کے گوشت کا طلب گار ہوتا ہے لیکن دراصل اس چربی کی زیادہ اہمیت نہیں ہے جو گوشت کے باہر ظاہری طور پر نظر آتی ہے بلکہ اس چربی سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو ظاہری طور پر نظر نہیں آتی مگر گوشت کے اندر پٹھوں کے ریشوں میں چھپی ہوتی ہے۔

سور کے گوشت میں بہت زیادہ چربی سے ایک اور نقصان یہ ہے کہ انسانی جسم میں وٹامن ای ضرورت سے کم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایسا گوشت کھانے والوں میں وٹامن ای فورا تحلیل ہونے کے عمل سے اس وٹامن میں اندرونی مخفی کمی پید اہو جاتی ہے۔ اب یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ وٹامن ای بہت سے دل چسپ کام انجام دیتا ہے۔ ان میں سے ایک کام وہ ہے جس کا جنسیاتی غدود (Sex Glands) پر اہم اثر ہے۔ موٹے لوگ، خاص طور پر سور کا گوشت کھانے والے لوگ وٹامن ای کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور نتیجتا جنسی طور پر سست او رنامرد ہو جاتے ہیں۔ وٹامن ای کی کمی رفتہ رفتہ مختلف قسم کی جلدی اور آنکھوں کی بیماریاں پیدا کر دیتی ہے۔

جیسا کہ ہم نے ابتدا میں بتایا کہ مستقل اور متواتر گندی اور غلیظ خوراک اور فضلہ کھانے سے سور کے جسم کا لمفی نظام متواتر حرکت میں رہتا ہے اور ان حفاظت دینے والے اجزا سے بھرا رہتا ہے جن میں مخصوص سفید چربی البومن (Albumin) پائی جاتی ہے۔ یہ اجزا جو جسم کے محفوظ رکھنے والے نظام(Immune System) میں پیدا ہوتے ہیں اور جن پر متعدی امراض سے متعلق تحقیقات ہو رہی ہیں، دوسرے جسیموں یا مخلوق کے لیے انتہائی زہریلے اور مہلک اثرات رکھتے ہیں۔ اس لیے ایک جسیمہ یا مخلوق اپنے جسم کے خلیوں کی حفاظت کے لیے جو مخصوص قسم کے پروٹین پیدا کرتا ہے، وہی پروٹین دوسرے جسیمے یا اس کے کھانے والے کے خلیوں کے لیے زہر کا اثر رکھتا ہے۔ اس حقیقت کی بنا پر سؤر کے گوشت کے مسلسل استعمال سے مختلف الرجی قسم کی بیماریاں اور پٹھوں کی سوجن کی بیماری بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہو سکا لیکن یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہی اجزا ہماری نسوں اور رطوبت پیدا کرنے والے لمفی نظام کے عمل میں انتشار کا باعث بھی بنتے ہیں۔

چونکہ خنزیر ایک ایسا جانور ہے جو بہت سی بیماریوں کا شکار رہتا ہے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ اس کے گوشت کو کھانے اور ہضم کے ذریعے نقصان دہ سفید چربی والی البومنز، جنہیں اینٹی باڈی کہتے ہیں، انسانی جسم کے اندر داخل نہ ہو جائے۔

الغرض سور کا گوشت ایک ایسی خوراک ہے جسے نشوونما کے لیے نہیں بلکہ خود کو زہریلا مواد کھلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام قسم کے حقائق سامنے آ چکے ہیں اور وہ لوگ جو اس کو محض شوق اور دکھاوے کے لیے کھاتے ہیں، ان کا مسئلہ تو اور بھی زیادہ خراب ہے۔

قرآن حکیم کی اس آیت کے ذریعے ایک اور اہم سبق جو ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ سور کے گوشت کو خون اور مردار کے ساتھ حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس کی مثال اس طرح ہے کہ نقصان دہ جراثیم اور جانوروں سے پیدا ہونے والے زہر (ٹاکسن) ا س نکمے گوشت یعنی جگر یا دل کے گوشت میں ایک ساتھ جمع ہو جائیں، اسی قدر نقصان دہ اجزا سور کا گوشت مہیا کرتا ہے۔ ہماری توجہ بطور خاص خون میں پائی جانے والی رطوبت کے البومنز کا سور کے لمفی نظام سے پیدا ہونے والی البومنز کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہے۔ چنانچہ آیت کریمہ میں سور کے گوشت کو مردار کے گوشت سے اس لیے ملا دیا گیا ہے کہ ان دونوں میں جراثیم سے آلودہ گندگی پائی جاتی ہے اور خون سے اس لیے ملایا گیا ہے کہ دونوں کے البومنز میں نقصان دہ رطوبت پائی جاتی ہے۔

ہم صاف صاف دیکھ سکتے ہیں کہ قرآن حکیم اس فرمان کے ذریعے سے ایک بلا وجہ قسم کی نکتہ چینی نہیں کر رہا بلکہ انسانی صحت وتندرستی کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ پیش کر رہا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ سور کے گوشت کے ان نقصانات کا وسیع طو رپر علم ہو جانے کے بعد بھی اس کو متواتر کھایا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں معاشی عوامل کا خاصا دخل ہے۔ مگر بہت جلد یہ چیز صحت کے لیے ایک خطرناک مسئلہ بن جائے گی۔ آج کل تو یہ بالکل عیاں بات ہے کہ دل اور خون کی شریانوں کی بیماریاں ان معاشروں میں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں جہاں سور کا گوشت عام طور پر کھایا جاتا ہے۔ پھر بھی تاحال سور کے گوشت میں ضرورت سے زیادہ چربی کا وجود عوام میں تشویش یا بحث مباحثے کا موضوع نہیں بنا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ اب ایجنڈے پر آ چکا ہے اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دنیا مستقبل قریب میں قرآن حکیم کے حکم کے مطابق سؤر کے گوشت سے اجتناب کر لے گی۔

آخر میں ہم اس سائنسی نقطہ نظر کو پیش کریں گے جس میں سور کے گوشت سے متعلق ایک اور اہم بات کی جاتی ہے۔ بہت سے مسلمان دانش وروں نے دعوی کیا ہے کہ صرف سور ہی ایک ایسا جانور ہے جس میں اپنی مادہ کے سلسلے میں کسی قسم کے حسد یا غیرت کا جذبہ نہیں پایا جاتا۔ اور اس لیے وہ اس کے لیے لڑائی بھی نہیں کرتا۔ اسی نسبت سے سور کھانے والے لوگ اور قومیں بھی جنسی طور پر بے غیرت ہوتی ہیں۔

فہم قرآن کے ذرائع ووسائل

محمد عمار خان ناصر

قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا، اس لیے اس کے فہم کی اولین شرط عربی زبان کا مناسب علم ہے۔ لیکن محض عربی زبان کا علم فہم قرآن کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ قرآن کے نظم، اس کے زمانہ نزول کے حالات، کتب سابقہ اور حدیث وسنت کا علم بھی فہم قرآن کے لیے لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ ذیل میں ہم فہم قرآن کے ان ذرائع کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔

قرآن کا نظم

کسی بھی کلام کے صحیح مفہوم کی تعیین میں اس کے نظم اور سیاق وسباق کی رعایت ایک بنیادی شرط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی متکلم جب کلام کرتا ہے تو وہ بات کے تمام اجزا کو الفاظ میں بیان نہیں کرتا بلکہ ایسی بیشتر باتوں کو حذف کر دیتا ہے جن کو اس کا مخاطب اپنے سابق علم، متکلم کے ساتھ اپنے تعلقات ، اس کے لہجے، کلام کی ترتیب اور اس ماحول کی روشنی میں سمجھ سکتا ہے جس میں کلام کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام لواحق کلام کے صحیح فہم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی بھی کلام کو اگر اس کے ان لواحق سے ہٹا کر پیش کیا جائے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ نہ صرف متکلم کی منشا کا درست ابلاغ نہ ہو پائے گا بلکہ بعض صورتوں میں کلام کا مفہوم متکلم کی مراد کے بالکل الٹ لے لیا جائے گا۔

اس عام عقلی اصول کا اطلاق کتاب اللہ پر بھی ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھئے:

صحیح مفہوم کی تعیین

قرآن مجید میں بہت سے مقامات ایسے ہیں کہ جن میں اگر سیاق وسباق کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو آیات کا انفرادی مفہوم خبط ہو کر رہ جاتا ہے۔ گمراہ فرقوں نے بیشتر اسی طریقے سے اپنی گمراہیوں کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

مثلا سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے :

ان الذین آمنوا والذین ھادوا والنصاری والصابئین من آمن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور یہود ونصاری اور صابئین، ان میں جو بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ان کو ان کے رب کے ہاں اپنا اجر ملے گا اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (۱)

ملحدین نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ نجات کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری نہیں بلکہ اس کا مدار ایمان باللہ ، ایمان بالآخرۃ اور اعمال صالحہ پر ہے ۔ لیکن اگر اس آیت کے سیاق کو دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ ان عقائد کی تفصیل بیان کرنے کے لیے نہیں آئی جو نجات کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہود کے اس عقیدہ کی تردید کے لیے آئی ہے کہ وہ نسلی اعتبار سے خدا کی منتخب قوم ہیں اور محض اس بنا پر آخرت میں خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کے مستحق ہوں گے۔ اس کا جواب اللہ نے یہ دیا ہے کہ اللہ کے ہاں کسی خاص گروہ یا قوم سے متعلق ہونا نجات کے لیے معتبر نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایمان اور عمل صالح کی شرط ہے۔ چونکہ یہ بات ایک عام قاعدہ کی حیثیت سے بیان کی گئی ہے اور اس کا اطلاق رسول اللہ ﷺ سے پہلے گزر جانے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے، اس لیے اس میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا ذکر ناموزوں تھا۔ چنانچہ صرف وہ باتیں ذکر کی گئی ہیں جو آیت میں مذکور تمام گروہوں میں قدر مشترک کی حیثیت رکھتی تھیں۔

اسی طرح سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے :

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ وہ تو اللہ کے رسول اور سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں۔(۲)

منکرین ختم نبوت نے اس آیت میں خاتم النبیین کے لفظ کے قطعی مفہوم میں تحریف کرتے ہوئے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے :’’نبیوں پر مہر لگانے والا یعنی ان کی تصدیق کرنے والا‘‘ اور اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگرچہ حسی لحاظ سے آپ کی کو ئی نرینہ اولاد نہیں ہے لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کی تصدیق سے آپ کی امت میں اور بھی نبی ہوں گے جو آپ کی روحانی اولاد ہوں گے۔

آیت کے مفہوم میں یہ تحریف اس کے سیاق کو نظر انداز کیے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے متبنی حضرت زید بن حارثہؓ اور آپ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ کے نکاح اور پھر جدائی کے واقعہ کے ضمن میں آئی ہے۔ عرب کے معاشرے میں متبنی کو حقیقی بیٹے ہی کا مقام دیا جاتا تھا۔ چنانچہ جب اللہ تعالی کے حکم سے حضرت زیدؓ کے طلاق دینے کے بعد رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت زینبؓ سے خود نکاح کر لیا تو منافقین نے اس کو غوغا آرائی اور فتنہ انگیزی کا سامان بنا لیا۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں کہ یہ نکاح اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور اس کی حکمت ہی یہ ہے کہ عرب معاشرہ کی اس غلط رسم کو ختم کر دیا جائے۔ اس کے بعد مذکورہ آیت ہے جس کا مقصد، ا س تناظر میں، اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتاکہ چونکہ محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ آپ ان تمام بد رسوم کا خاتمہ اپنی زندگی ہی میں کر جائیں۔

اس کی ایک اور مثال سورۃ الجن میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے :

عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا ۔ الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا۔

اللہ غیب کا جاننے والا ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ رہے وہ جن کو وہ رسول کی حیثیت سے منتخب فرماتا ہے تو وہ ان کے آگے اور پیچھے پہرہ رکھتا ہے۔(۳)


اس آیت میں مفسرین نے بالعموم الا کو استثنا کے مفہوم میں لیا ہے جس سے بعض گمراہ فرقوں کو یہ استدلال کرنے کا موقع مل گیا کہ اللہ تعالی انبیاء کو بھی علم غیب عطا کرتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ علم الغیب اور اطلاع علی الغیب میں کیا فرق ہے، اگر ان آیات کے سیاق کو ملحوظ رکھا جائے تو اس استدلال کی بالکل نفی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس آیت سے متصل پچھلی آیت یہ ہے :

قل ان ادری اقریب ما توعدون ام یجعل لہ ربی امدا۔ عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا۔

اعلان کر دیں کہ مجھے کچھ پتا نہیں کہ جس عذاب کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے، وہ قریب ہی ہے یا ابھی اللہ اس کو کچھ دیر اور ٹالے گا۔

یہ آیات دراصل مشرکین کے مطالبہ عذاب کے جواب میں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ عذاب کے وقت کا مجھے کوئی علم نہیں کیونکہ عالم الغیب صرف اللہ ہے اور وہ اپنے غیب کی اطلاع کسی کو نہیں دیتا۔ اب اگر اگلی آیت میں الا کو استثنا کے معنی میں لے کر انبیاء کے لیے علم غیب کا اثبات کیا جائے تو پچھلے استدلال کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا، کیونکہ اس کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ پیغمبر کو عذاب کے وقت کا علم نہیں اس لیے کہ اس کا تعلق غیب کے ان معاملات سے ہے جن کی اطلاع اللہ تعالی کسی کو نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ محقق مفسرین نے یہاں الا کو استثنا کے بجائے لکن کے معنی میں لیاہے۔ (۴)

حکمت قرآن

معرفت نظم کی دوسری اہمیت حکمت قرآن کے استنباط کے حوالے سے ہے۔ قرآن کی حکمت ، فی الواقع، اس کے نظم میں پوشیدہ ہے اور نظم کی معرفت ہی وہ کنجی ہے جس کے ذریعے سے اس لازوال خزانے تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں :

’’نظم کے متعلق یہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ محض علمی لطائف کے قسم کی ایک چیز ہے جس کی قرآن کے اصل مقصد کے نقطہ نظر سے کوئی خاص قدر وقیمت نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک تو اس کی اصل قدر وقیمت یہی ہے کہ قرآن کے علوم اور اس کی حکمت تک رسائی اگر ہو سکتی ہے تو اسی کے واسطے سے ہو سکتی ہے۔ جو شخص نظم کی رہنمائی کے بغیر قرآن کو پڑھے گا، وہ زیادہ سے زیادہ جو حاصل کر سکے گا وہ کچھ منفرد احکام اور مفرد قسم کی ہدایات ہیں۔

اگرچہ ایک اعلی کتاب کے منفرد احکام اور اس کی مفرد ہدایات کی بھی بڑی قدر وقیمت ہے لیکن آسمان وزمین کا فرق ہے اس بات میں کہ آپ طب کی کسی کتاب المفردات سے چند جڑی بوٹیوں کے کچھ اثرات وخواص معلوم کر لیں اور اس بات میں کہ ایک حاذق طبیب ان اجزا سے کوئی کیمیا اثر نسخہ ترتیب دے دے۔ تاج محل کی تعمیر میں جو مسالا استعمال ہوا ہے، وہ الگ الگ دنیا کی بہت سی عمارتوں میں استعمال ہوا ہوگا لیکن اس کے باوجود تاج محل دنیا میں ایک ہی ہے۔ میں بلا تشبیہ یہ بات عرض کرتا ہوں کہ قرآن حکیم بھی جن الفاظ اور فقروں سے ترکیب پایا ہے، وہ بہرحال عربی لغت اور عربی زبان ہی سے تعلق رکھنے والے ہیں لیکن قرآن کی لاہوتی ترتیب نے ان کو وہ جمال وکمال بخش دیا ہے کہ اس زمین کی کوئی چیز بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

جس طرح خاندانوں کے شجرے ہوتے ہیں، اسی طرح نیکیوں اور بدیوں کے بھی شجرے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک نیکی کو ہم معمولی نیکی سمجھتے ہیں حالانکہ اس نیکی کا تعلق نیکیوں کے اس خاندان سے ہوتا ہے جس سے تمام بڑی نیکیوں کی شاخیں پھوٹی ہیں۔ اسی طرح بسا اوقات ایک برائی کو ہم معمولی برائی سمجھتے ہیں لیکن وہ برائیوں کے اس کنبے سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہے جو تمام مہلک بیماریوں کو جنم دینے والا کنبہ ہے۔ جو شخص دین کی حکمت سمجھنا چاہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خیر وشر کے ان تمام مراحل ومراتب سے اچھی طرح واقف ہو۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ دق کا پتہ دینے والی بیماری کو نزلے کا پیش خیمہ سمجھ بیٹھے اور نزلے کی آمد آمد کو دق کا مقدمۃ الجیش قرار دے دے۔ قرآن کی یہ حکمت اجزائے کلام سے نہیں بلکہ تمام تر نظم کلام سے واضح ہوتی ہے۔ اگر ایک شخص ایک سورہ کی الگ الگ آیتوں سے تو واقف ہو لیکن سورہ کے اندر ان آیتوں کے باہمی حکیمانہ نظم سے واقف نہ ہو تو اس حکمت سے وہ کبھی آشنا نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح قرآن نے مختلف سورتوں میں مختلف اصولی باتوں پر آفاقی وانفسی یا تاریخی دلائل بیان کیے ہیں۔ یہ دلائل نہایت حکیمانہ ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ جس شخص پر یہ ترتیب واضح ہو، وہ جب اس سورہ کی تدبر کے ساتھ تلاوت کرتا ہے تو وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ زیر بحث موضوع پر اس نے ایک نہایت جامع، مدلل اور شرح صدر بخشنے والا خطبہ پڑھا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اس ترتیب سے بے خبر ہو، وہ اجزا سے اگرچہ واقف ہوتا ہے لیکن اس حکمت سے وہ بالکل ہی محروم رہتا ہے جو اس سورہ میں بیان ہوئی ہوتی ہے۔‘‘ (۵)

اس کی ایک مثال سورہ بقرہ کے اس حصے میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں شریعت کے احکام وقوانین بیان ہوئے ہیں۔ اس باب کے مضامین کی ترتیب یہ ہے :

توحید اور اس کے متعلقات (آیات ۱۶۳ تا ۱۷۶)

توحید کے ثمرات مثلا ایمان، انفاق، اقامت صلوۃ، ادائے زکوۃ، ایفائے عہد اور حق پر استقامت (۱۷۷)

قصاص کے احکام (۱۷۸، ۱۷۹)

وصیت اور اس میں تبدیلی کے احکام (۱۸۰، ۱۸۲)

روزے کے احکام (۱۸۳ تا ۱۸۷)

رشوت خوری کی ممانعت (۱۸۸)

جہا،د حج اور انفاق کے متعلق ہدایات (۱۸۹ تا ۲۲۱)

حیض، طلاق اور رضاعت کے مسائل (۲۲۲ تا ۲۳۷)

نماز پر محافظت کی تاکید (۲۳۸)

اس حصے کا آغاز توحید کے بیان سے ہوا ہے کیونکہ تمام دین کی بنیاد اسی پر ہے۔ اس کے بعد توحید کے ثمرات بیان ہوئے ہیں اور مختلف معاملات میں شریعت کے احکام بیان کرنے سے پہلے مسلمانوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دین محض چند رسوم وظواہر کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی سے نہایت گہرا تعلق رکھنے والے اعمال واخلاق کا مجموعہ ہے، لہذا وہ اگلی امتوں کی طرح صرف رسوم کے بندے بن کر نہ رہ جائیں بلکہ دین کی اصلی حقیقتوں کو اپنائیں۔ نیکی اور تقوی کی اصل حقیقت واضح کرنے کے بعد ان معاملات کی طرف توجہ فرمائی جو تقوی پر مبنی ہیں اور جن پر معاشرہ کے امن اور بقا کا مدار ہے۔ اس ضمن میں حرمت جان کے حوالے سے قصاص اور حرمت مال کے حوالے سے وصیت کے احکام بیان فرمائے ہیں۔ اس کے بعد روزے کے احکام کا ذکر ہے جن کے متصل بعد رشوت اور حرام خوری کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ جان ومال کے احترام اور حرمت رشوت کے احکام کے درمیان میں روزے کے احکام کے ذکر سے مقصد روزے کے اغراض ومقاصد اور اس کے فوائد کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ گویا روزہ جس طرح دوسروں کی جان ومال کے احترام کے حوالے سے نفس کی تربیت کرتا ہے، اسی طرح رشوت اور حرام خوری سے بچنے کے لیے بھی صبر کی اساس فراہم کرتا ہے۔ اسی صبر واستقامت کی اساس پر دین کی دو بڑی عبادتیں حج اور جہاد قائم ہیں، چنانچہ اس کے بعد ان کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جہاد کے ساتھ انفاق کی خاص مناسبت ہے، اس لیے اس کے متعلق بھی بعض ہدایات ذکر کی گئی ہیں۔ اسی انفاق کے ضمن میں یتیم عورتوں کے ساتھ نکاح کا مسئلہ بیان ہوا جس سے نکاح وطلاق اور رضاعت کے متعلق شریعت کی عمومی ہدایات بیان کرنے کے لیے بھی ایک مناسب موقع پیدا ہو گیا۔ اس باب کا اختتام نماز پر محافظت کی تاکید سے ہوا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس باب کے آغاز پرنظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اس کے آغاز میں توحید کے ذکر کے بعد احکام شریعت کے سلسلہ میں سب سے پہلے آیت ۱۷۷ میں نماز اور ساتھ ہی زکوۃ کا ذکر آتا ہے۔ یہاں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اس باب کا خاتمہ بھی نماز ہی کے ذکر پر ہوا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دین میں جو اہمیت نماز کی ہے وہ دوسری کسی چیز کی بھی نہیں ہے۔ ساری شریعت کا قیام وبقا اسی کے قیام وبقا پر منحصر ہے۔ اللہ تعالی نے اس کو شریعت کی اقامت اور اس کی محافظت کے لیے ایک حصار اور ایک باڑھ کی حیثیت دی ہے۔ جو شخص اس کی حفاظت کرتا ہے وہ گویا پوری شریعت کی حفاظت کرتا ہے اور جو شخص اس میں رخنے پیدا کرتا ہے وہ ، جیسا کہ حضرت عمرؓ سے منقول ہے، باقی دین کو بدرجہ اولی ضائع کر دیتا ہے۔‘‘ (۶)

مولانا ؒ نے ربط کلام کی اس وجہ کی تائید میں سورۂ مومنون اور سورۂ معارج کی آیات بطور نظیر نقل کی ہیں جن میں اسی اسلوب پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ نماز دین کے لیے بمنزلہ حصار کے ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے :

قد افلح المومنون ۔ الذین ھم فی صلاتھم خاشعون۔

ایمان لانے والے یقیناًکامیاب ہیں، وہ جو اپنی نمازیں عاجزی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

اس کے بعد دین واخلاق کی چند بنیادی باتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد آخر میں پھر فرمایا ہے :

والذین ھم علی صلواتھم یحافظون۔

اور وہ جو اپنی نمازوں کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ (۷)

بعینہ یہی اسلوب سورۂ معارج کی آیات ۱۹۔۳۴ میں پایا جاتا ہے۔

زمانہ نزول کے حالات

قرآن مجید اپنے پیغام اور تعلیمات کے لحاظ سے اگرچہ ایک آفاقی کلام ہے لیکن اپنے نزول کے لحاظ سے ایک خاص پس منظر رکھتا ہے۔ اس کے مخاطب ایک خاص سرزمین اور خاص زمانہ میں رہنے والے لوگ تھے جن کے عقائد واعمال اور معاشرت کی اصلاح کو اس نے اپنا موضوع بنایا۔ اس کا نزول رسول اللہ ﷺ کی تیئیس سالہ مدت دعوت میں مکمل ہوا اور اس کی ہدایات کا اس عرصہ میں پیش آنے والے مختلف حالات اور مراحل کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ چنانچہ قرآن مجید، اصلا، رسول اللہ ﷺ کی اس دعوت کی تاریخ ہے ۔ اس لحاظ سے اس کے مندرجات کو سمجھنے کے لیے ان خاص حالات سے عمومی طور پر واقفیت ضروری ہے جو اس کے تدریجی نزول کے پس منظر میں موجود تھے، اس لیے کہ قرآن اس خاص زمانہ کے مختلف گروہوں اور ان کے حالات کے متعلق جو اشارات کرتا ہے، اس کے مخاطبین کے لیے تو ان کو سمجھنا آسان تھا لیکن ہمارے لیے یہ اشارات بالعموم اس قدر مجمل اور مبہم ہیں کہ ان کا صحیح تصور ذہن میں قائم ہونا اس وقت تک مشکل ہے جب تک اس زمانے کی تاریخ سے واقفیت نہ ہو۔

اس واقفیت کے دو پہلو ہیں : ایک تو قرآن کے زمانہ نزول کے حالات اور اس کے مخاطب گروہوں کے معتقدات وخیالات اور ان کے معاشرتی حالات کا عمومی علم، اور دوسرا ان خاص جزوی واقعات سے آگاہی جو قرآن مجید کی بعض آیات کے نزول کا سبب بنیں۔

عمومی پس منظر

عمومی حالات سے آگاہی میں، مولانا حمید الدین فراہیؒ کے الفاظ میں، مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں:

(۱) ہم کو اس وقت کے یہود ونصاری ومشرکین وصابئین وغیرہ کے مذاہب ومعتقدات سے واقف ہونا چاہئے۔

(۲) ہم کو عرب کے عام توہمات کو دریافت کرنا چاہئے۔

(۳) ہم کو جاننا چاہئے کہ نزول قرآن کی مدت میں کیا کیا واقعات نئے پیدا ہوئے اور ان سے عرب کی مختلف جماعتوں میں کیا کیا مختلف باتیں زیر بحث آ گئیں، کیا کیا ملکی وتمدنی جھگڑے چھڑ گئے اور تمام عرب میں کیا شور ش پیدا ہو گئی؟

(۴) ہم کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ عرب کس قدر وحشی اور تند مزاج تھے اور اس لیے کس قسم کے کلام سے متاثر ہو سکتے تھے۔

(۵) ہم کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ عرب کا مذاق سخن کیا تھا، کس قسم کے کلام کے سننے اور بولنے کے وہ عادی تھے، رزم وبزم میں ان کا خطیب کس روش پر چلتا تھا، ایجاز واطناب، ترصیع وترکیب اور دیگر اسالیب خطابت وہ کیوں کر استعمال کرتے تھے۔

(۶) اور بالاخر ہم کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ عرب کے ذہن میں اخلاق کے مدارج نیک وبد کیا تھے۔ (۸)

مشرکین عرب

۱۔ سورۃ البقرۃ میں جوئے اور شراب کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے : فیھما اثم کبیر ومنافع للناس۔ ’’ان میں گناہ بہت بڑا ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں‘‘ ۔ (۹)

اس آیت کے متعلق بالعموم یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے جوئے او رشراب کی طبی اور ذاتی منفعت کا اعتراف کیا ہے جس کی بنیاد پر بعض ملحدین نے اس آیت سے شراب اور جوئے کا جواز کشید کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اگر عرب کے تمدنی حالات پر نظر ہو تو معلوم ہوگا کہ اس سے مراد ان کی تمدنی اور معاشرتی منفعت ہے۔ عرب کے فیاض او رسخی طبیعت کے لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ قحط کے موسم میں اکٹھے ہو کر شراب نوشی کی مجلسیں بپا کرتے تھے اور نشے میں مست ہو کر اپنے اونٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے ۔ پھر ان کے گوشت کی ڈھیریاں لگا کر ان پر جوا کھیلتے اور جو گوشت جیتتے، اس کو غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دیتے تھے۔ جوئے اور شراب سے حاصل ہونے والی یہی وہ معاشرتی منفعت تھی جس کی بنا پر جب قرآن مجید نے ان کی حرمت کا اعلان کیا تو بعض لوگوں کو اشکال ہوا کہ یہ مفید چیزیں کیوں حرام کر دی گئی ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالی نے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگرچہ ان میں بعض تمدنی فوائد ضرور ہیں لیکن ان کے نقصانات کا پہلو ان فوائد کے مقابلے میں غالب ہے، اس لیے ان کو حرام ٹھہرایا گیا ہے۔ (۱۰)

۲۔ سورۃ النساء میں محرمات کے بیان میں ارشاد ہے : وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم ’’تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں‘‘ (۱۱)

صلبی کی قید سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رضاعی بیٹوں کی بیویاں حرام نہیں ہیں لیکن اگر اس کے پس منظر میں موجود حالات کو پیش نظر رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس قید سے مقصود، درحقیقت، لے پالک بیٹوں کو خارج کرنا ہے کیونکہ اہل عرب کے ہاں ان کو حقیقی بیٹوں کا مقام حاصل تھا جس کی اللہ تعالی نے سورۃ الاحزاب میں مفصل تردید کی ہے۔ چنانچہ مفسرین نے بالاتفاق اس آیت کا یہی مفہوم مراد لیا ہے۔

۳۔ اسی طرح سورۃ الانعام کی آیات ۱۳۶ تا ۱۴۰ میں چوپایوں کی حلت وحرمت کے متعلق عرب کے بہت سے توہمات کا ذکر ہوا اور انداز بیان اجمالی اشارات کا ہے۔ مخاطبین چونکہ ان رسوم سے پوری طرح باخبر تھے ، اس لیے ان کے لیے تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جب آج ان آیات کو ہم پڑھتے ہیں تو ان رسوم کے متعلق بہت سے سوال ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب ظاہر ہے کہ اس دور کی عرب معاشرت کے مطالعہ ہی سے مل سکتا ہے۔

اہل کتاب

قرآن کے مخاطب گروہوں میں مشرکین مکہ کے بعد دوسرا بڑا گروہ یہود کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے انکار اور مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کے لیے انہوں نے جو جو جتن کیے اور کتمان حق کے لیے جو جو حیلے اختیار کیے، قرآن اسی اجمالی انداز میں ان کا ذکر کرتا اور ان کی چالاکیوں کا پردہ چاک کرتا ہے۔ ان اشارات کی تفصیل اور یہودیوں کی خباثتوں سے پوری طرح آگاہی حاصل کرنے کے لیے بھی دور نبوت کے حالات کا مطالعہ ضروری ہے۔

حکمت قرآن

آیات کے نفس مفہوم کی تعیین کے علاوہ ، زمانہ نزول کے حالات سے واقفیت کا نہایت گہرا تعلق قرآن مجید کی بعض ہدایات واحکامات کی حکمت سمجھنے سے بھی ہے۔مدینہ منورہ میں کچھ عرصہ کے لیے مسلمانوں کو بیت الحرام کے بجائے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا گیا، رسول اللہ ﷺ کو چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت کیوں دی گئی، حضرت زید کے ساتھ حضرت زینب کے نکاح اور پھر ان سے جدائی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے کیوں نکاح کیا، قرآن مجید نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کیوں قرار دیا، یہ اور اس طرح کے دوسرے سوالوں کا جواب پانے اور اس باب میں قرآن کی ہدایات کی معنویت اور مناسبت سمجھنے کے لیے دور نبوت کی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ ازبس ضروری ہے۔

خاص آیات کا شان نزول

قرآن مجید میںآیات کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کے نزول کا سبب کوئی خاص واقعہ یا حالت تھی جو اگر پیش نظر نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ متعلقہ آیتوں کے اشارات صحیح طور پر سمجھے نہیں جا سکتے بلکہ بعض صورتوں میں نفس مفہوم کے اخذ کرنے میں بھی غلطی کا امکان غالب ہے۔ ایسے مواقع پر شان نزول سے واقفیت اس قدر اہم ہے کہ بعض صحابہ بھی عربی زبان سے براہ راست واقفیت اور زمانہ نزول کے عمومی حالات سے باخبر ہونے کے باوجود بعض آیات کا مفہوم نہ سمجھ سکے۔

۱۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ عروہ بن زبیرؓ نے عرض کیا کہ اللہ تعالی نے صفا ومروہ کی سعی کے بارے میں فرمایا ہے:

فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔

جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس پر کوئی گناہ کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر کوئی سعی نہ بھی کرے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : بھتیجے، تم غلط کہتے ہو۔ اگر یہ بات ہوتی تو اللہ تعالی یوں فرماتے : لا جناح علیہ ان لا یطوف بھما۔ (اس پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ان کے درمیان سعی نہ کرے) یہ آیت درحقیقت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ اسلام لانے سے پہلے مشلل کے مقام پر منات کا طواف کیا کرتے تھے اور صفا ومروہ کے مابین سعی کرنے سے گریز کرتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (۱۲)

۲۔ سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہے :

نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم۔

تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں آؤ جیسے چاہو۔ (۱۳)

اس آیت کی بنیاد پر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فتوی دے دیا کہ آدمی اپنی بیوی سے اس کی دبر میں بھی مجامعت کر سکتا ہے۔ (۱۴) سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کو علم ہوا تو انہوں نے فرمایا: اللہ ابن عمر کو معاف کرے، بخدا ان سے غلطی ہوئی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مدینہ میں انصار کے ساتھ یہود بھی رہتے تھے اور انصار ان کو علمی لحاظ سے برتر سمجھتے اور بہت سی باتوں میں ان کے طریقے پر چلتے تھے۔ یہود کے ہاں عورتوں سے صرف ایک ہی طریقے پر (یعنی سیدھا لٹا کر) مجامعت کرنا جائز تھا اور انصار نے بھی ان کی پیروی میں یہی طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ اس کے برخلاف قریش کے لوگوں میں عورتوں سے مختلف طریقوں سے (مثلا لٹا کر، آگے کی طرف سے، پیچھے کی طرف سے ) جماع کرنے کا طریقہ رائج تھا۔ جب مہاجرین مدینہ آئے تو ان میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا اور اس کے ساتھ قریش کے طریقے پر جماع کرنا چاہا لیکن اس عورت نے انکار کر دیا۔ ان کے درمیان بات بڑھ گئی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئی۔ اس پر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یہ آیت نازل کی جس کا مطلب یہ ہے کہ جماع کا محل تو ایک ہی ہے لیکن اس کے لیے تم طریقہ کوئی بھی اختیار کر سکتے ہو۔ (۱۵)

اس باب میں یہ بات، البتہ، ملحوظ رہنی چاہئے کہ اگرچہ کسی واقعہ کی بنیادی تصویر معلوم کرنے کے لیے شان نزول کی روایات کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے لیکن اس کی تفصیلات بہرحال قرآن کی داخلی شہادت کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی قبول کی جائیں گی۔ روایات کو کسی بھی صورت میں قرآن پر حکم نہیں بنایا جا سکتا۔ درج ذیل دو مثالوں سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔

۱۔ غزوۂ بدر کی تفصیلات میں وارد روایات میں بالعموم یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے لشکر کو لے کر مدینے سے نکلے تو مسلمانوں کے سامنے اصل ہدف قریش کے تجارتی قافلے کو لوٹنا تھا، مکے سے آنے والے لشکر کے ساتھ جنگ کا ان کو گمان بھی نہیں تھا۔ لیکن علامہ شبلی نعمانی ؒ نے ان روایات کو قرآن مجید کی حسب ذیل آیات کی روشنی میں رد کر دیا ہے :

کما اخرجک ربک من بیتک بالحق وان فریقا من المومنین لکارھون۔

جیسا کہ تمہارے رب نے تمہیں تمہارے گھر سے نکالا حق کے ساتھ جبکہ مومنوں کا ایک گروہ اس کو ناپسند کرتا تھا۔ (۱۶)

شبلیؒ کہتے ہیں کہ وان میں واؤ حالیہ ہے جس کی رو سے مدینہ سے نکلنے اور ایک گروہ کے لڑائی سے جی چرانے کا زمانہ ایک ہونا چاہئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ موقع عین وہ موقع تھا جب آپ مدینہ سے نکل رہے تھے، نہ کہ مدینہ سے نکل کر جب آپ آگے بڑھے۔ (۱۷)

۲۔ غزوۂ بدر ہی کے حوالے سے ایک اور غلط فہمی جو شان نزول کی روایات سے پیدا ہوتی ہے، یہ ہے کہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں رسول اللہ ﷺاور مسلمانوں کو مشرکین کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے پر عتاب کیا گیا ہے :

ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ واللہ عزیز حکیم ۔ لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فی ما اخذتم عذاب عظیم۔

کوئی نبی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ اس کو قید ی ہاتھ آئیں یہاں تک کہ وہ اس کے لیے ملک میں خونریزی برپا کر دے۔ یہ تم ہو جو دنیا کے سروسامان کے طالب ہو۔ اللہ تو آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو روش تم نے اختیار کی ہے‘ اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آ پڑتا۔(۱۸)

مولانا امین احسن اصلا حیؒ اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فدیہ لے کر چھوڑنا سرے سے کوئی غلطی ہی نہ تھی کیونکہ اس کی اجازت اس سے پہلے سورہ محمد میں دی جا چکی تھی اوریہاں بھی اللہ تعالی نے اس کے معا بعد اس عمل کی تصدیق فرمائی ہے :

فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا۔

تو وہ حلال وطیب مال کھاؤ جو تمہیں غنیمت میں ملا ہے (۱۹)

اور اگر بالفرض یہ غلطی بھی تھی تو اس کی نوعیت کسی سابق ممانعت کی خلاف ورزی کی نہیں تھی جس پر ایسی سخت وعید وارد ہو، کیونکہ اس قدر سخت الفاظ میں قرآن مجید نے کٹر کفار اور منافقین کے سوا اور کسی کو عتاب نہیں کیا۔ ان وجوہ کی بنا پر مولانا فرماتے ہیں کہ اس وعید کے مخاطب کفار ہیں جنہوں نے بدر میں شکست کے بعد یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا تھا کہ یہ نبی معاذ اللہ ہوس اقتدار میں مبتلا ہیں، انہوں نے اپنی ہی قوم میں خونریزی کرائی ، اپنے بھائیوں کو قید کیا ، ان کا مال لوٹااور ان سے فدیہ وصول کیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس کا جواب دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی تنزیہ کی ہے اور کفار کو عتاب کیا ہے کہ یہ تو تمہیں صرف ایک چرکا لگا ہے جس پر تم اس قدر واویلا کر رہے ہو، اگر اللہ نے ہر بات کے لیے ایک وقت مقرر نہ کر رکھا ہوتا تو تمہیں اسی موقع پرا یک عذاب عظیم آپکڑتا۔ (۲۰)

سابقہ آسمانی کتب

قرآن مجید کے مطالعہ میں کتب سابقہ کا علم مختلف پہلوؤں سے مددگارہے۔

اہل کتاب پر اتمام حجت

قرآن مجید نے سورہ بقرہ اور سورۃ المائدہ میں یہود کی سابقہ تاریخ کے حوالے سے ان کے مذہبی جرائم کا تذکرہ بالتفصیل کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہود نے کس کس طرح اللہ کے رسولوں کو ستایا اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں ہٹ دھرمی اور ضد کا رویہ اختیار کیا۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ان کے جرائم کی پاداش میں ان پر بحیثیت قوم جو ذلت مسلط کی، اس کا بھی جگہ جگہ ذکر کیا گیا ہے۔ کتب سابقہ کے مطالعہ سے یہود کے اس رویے کی تائید وتفصیل بھی مہیا ہو سکتی ہے اور اہل کتاب پر خود انہی کی کتاب کی روشنی میں اتمام حجت بھی کی جا سکتی ہے۔

اہل کتاب کی تحریفات کی اصلاح

قرآن مجید نے سوۃ المائدہ میں خود کو سابقہ کتابوں کا مہیمن یعنی نگران قرار دیا ہے۔ اسی سورہ میں دوسری جگہ ارشاد ہے :

یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتاب۔

یہ رسول تمہارے سامنے تورات کی بہت سی وہ باتیں بیان کرتے ہیں جن کو تم چھپاتے رہے۔ (۲۱)

گویا قرآن کے نزول کا ایک بنیادی مقصد اہل کتاب کی تحریفات کی اصلاح ہے۔ انبیاء سابقین نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں جو بشارتیں دی تھیں، یہود نے ان میں تحریف کر کے ان کو چھپانے کی کوشش کی ۔ خود انبیاء سابقین کے متعلق انہوں نے بے بنیاد قصے گھڑ کر ان کی شخصیات پر کیچڑ اچھالا۔ اسی طرح نصاری حضرت عیسی علیہ السلام کی ذات کے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا تھے اور رسول اللہ ﷺ کے حق میں حضرت مسیح علیہ السلام کی واضح بشارت میں تحریف کر چکے تھے۔ قرآن مجید نے اس طرح کی تمام تحریفات کا پردہ چاک کیا اور تمام غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ سورۃ الاعراف میں فرمایا:

یجدونہ عندھم مکتوبا فی التوراۃ والانجیل۔

یہ اس پیغمبر کو اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (۲۲)

سورۃ البقرۃ میں فرمایا:

وما کفر سلیمان ولکن الشیاطین کفروا۔

سلیمان نے بالکل کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا۔ (۲۳)

سورۃ النساء میں فرمایا:

وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم۔

وہ مسیح کو نہ قتل کر سکے اور نہ سولی دے سکے بلکہ ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ (۲۴)

سورۃ الصف میں فرمایا:

ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔

(عیسی علیہ السلام نے کہا ) اور میں ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ (۲۵)

ہمارے اہل علم میں سے جن لوگوں نے کتب سابقہ اور ان سے متعلق لٹریچر کاگہرا مطالعہ کیا ہے، انہوں نے ان امور کی تحقیق میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ برصغیر میں مولانا حمید الدین فراہیؒ کا رسالہ ’’ذبیح کون ہے؟‘‘ ، سورۃ الصف میں بشارت عیسی علیہ السلام کے تحت مولانا سید ابو الاعلی مودددیؒ کی اور ولکن شبہ لہم کی تفسیر میں مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کی تحقیقات اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

اسی طرح یہود کی تاریخ کے بہت سے واقعات کے بارے میں قرآن کا بیان بائبل کے بیان سے مختلف ہے۔ اس حوالے سے بھی قرآن کے بیانات کی معنویت اس کے بغیر واضح نہیں ہو سکتی کہ ان کا موازنہ کتب سابقہ کے بیانات سے کر کے دیکھا جائے۔

انبیاء کی تاریخ اور دین کی حکمت

قرآن مجید نے بعض مقامات پر کتب سابقہ کا ذکر اس انداز میں کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید اپنے قارئین سے یہ چاہتا ہے کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرے۔ سورۃ الاعلی کے آخر میں فرمایا:

ان ھذا لفی الصحف الاولی۔ صحف ابراھیم وموسی۔

یہی تعلیم اگلے صحیفوں میں بھی ہے، موسی اور ابراہیم کے صحیفوں میں۔ (۲۶)

واقعہ یہ ہے کہ بے شمار تحریفات کے باوجود آج بھی ان صحائف میں اصل آسمانی تعلیمات کے اجزاء موجود ہیں اور دین کی حکمت سمجھنے میں ان سے بیش بہا مدد مل سکتی ہے۔

سنت اور امت کا تواترعملی

سنت سے مراد دین کے وہ عملی احکام ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے اس امت میں جاری فرمایا اور جنہیں امت مسلمہ کی ہر نسل اپنے تواتر عملی کے ذریعے سے اگلی نسل تک منتقل کرتی چلی آ رہی ہے۔

قرآن کی بنیادی اصطلاحات

رسول اللہ ﷺ درحقیقت کوئی نیا دین نہیں لے کر آئے تھے بلکہ آپ نے ملت ابراہیمی ہی کی ان تعلیمات وشعائر کا احیا کیا جو مرور زمانہ اور اہل عرب کی تحریفات کے نتیجے میں مسخ ہو چکی تھیں۔ اس دین میں صلوۃ، صوم، حج، نسک، نذراور اس طرح کے دوسرے احکام ایک معروف حقیقت کی حیثیت رکھتے تھے اور، تحریفات کے باوجود، ان کا بنیادی تصور بالکل مٹ نہیں گیا تھا۔ قرآن ان کا ذکر کسی نئے حکم کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کے طور پر کرتا ہے جو اس کے مخاطبین کے نزدیک ثابت شدہ اور مانی ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ملت ابراہیمی کے انہی ثابت شدہ شعائر کو لے کر ان میں در آنے والی تحریفات کو دور کیا اور مناسب ترمیم واضافہ کے ساتھ انہیں امت مسلمہ میں ایک سنت کی حیثیت سے جاری کر دیا۔ یہ ملت ابراہیمی کی اصطلاحات ہیں جن کا مفہوم نسل در نسل تواتر کے ساتھ نقل ہوا ہے اور ان کے ثبوت یا ان کی بنیادی شکل وصورت کی تعیین میں ذرہ برابر بھی شبہے کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور امت مسلمہ کا تواتر عملی، قرآن کے ان بنیادی حقائق کی تفصیل کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حدیث

حدیث رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات واقوال کا نام ہے جو آپ کے صحابہ نے انفرادی طور پر آپ سے سنے اور اسی طرح ان کو آگے نقل کر دیا۔ فہم قرآن میں حدیث کی اہمیت مختلف پہلوؤں سے ہے:

حکمت قرآن

رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر قرآن کا رمز شناس اور اس کے اسرا ر ومعانی سے آگاہ کون ہو سکتا ہے؟ قرآن کے بعض احکام کی ظاہری تشریح وتعبیر میں بھی بلا شبہ رسول اللہ ﷺ کا ہمسر کوئی نہیں ہو سکتا لیکن واقعہ یہ ہے کہ آپ کے خداداد علم وفہم اور پیغمبرانہ نکتہ شناسی کا اصل مظہر آپ کے ارشادات کا وہ حصہ ہے جس میں آپ نے قرآنی تعلیمات کے مغز کو پا کران کی توسیع بے شمار فروع کی طرف کی ہے اور اس طرح دین کو ایک مفصل ومرتب ضابطہ کی صورت میں مشکل کر دیا ہے ۔ آپ کے یہ ارشادات واقوال دین کے تمام شعبوں کو محیط ہیں اور حکمت دین کے سمجھنے میں جو رہنمائی ان سے ملتی ہے، اور کسی ذریعہ سے میسر نہیں ہو سکتی۔

قرآن کے مجمل کی تفصیل

قرآن مجید بالعموم کسی مسئلے کے بارے میں ایک حکم اصولی طور پر بیان فرما دیتا ہے لیکن اس سے متعلقہ جزوی امورکو مجمل چھوڑ دیتا ہے جن کی تفصیل رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں ملتی ہے۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیے :

۱۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالی نے محرمات کے ضمن میں ایسی عورت کو بھی شامل کیا ہے جس نے کسی بچے کو جنم تو نہیں دیا لیکن اس کو دودھ پلایا ہے۔ لیکن اس دودھ پلانے کی مقدار کیا ہو ؟ نیز کیا عمر کے کسی بھی حصے میں کسی عورت کا دودھ پینے سے وہ ماں بن جاتی ہے؟ اس معاملے میں قرآن خاموش ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

لا تحرم المصۃ ولا المصتان۔

ایک یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی (۲۷)

انما الرضاعۃ من المجاعۃ۔

رضاعت کا اعتبار بچے کی دودھ پینے کی عمر میں ہے۔ (۲۸)

۲۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ وہ سفر کی حالت میں ہوں تو نماز کو قصر کر کے پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن قصر نماز میں کتنی رکعتیں کم پڑھی جائیں، اس کی کوئی تفصیل قرآن میں نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو واضح فرمایا ہے۔

۳۔ اسی کے متصل بعد اللہ تعالی نے یہ اجازت دی ہے کہ اگر مسلمان حالت جنگ میں ہوں اور نماز کا وقت آ جائے تو ان کو اجازت ہے کہ ان میں سے ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز کا کچھ حصہ پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا جائے اور اس کی جگہ دوسرا گروہ آ جائے اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرے۔

یہ محض ایک اصولی حکم ہے جس کی عملی صورت قرآن میں بیان نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کی اس کی تفصیل فرمائی ہے اور آپ سے صلاۃ الخوف پڑھنے کے مختلف طریقے کتب احادیث میں نقل ہوئے ہیں ۔ (۲۹)

قرآن کے محتمل کی تعیین

قرآن مجید میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالی نے کسی مسئلے میں ایک حکم بیان فرمایا ہے جس کا اطلاق بعض صورتوں میں تو واضح ہے لیکن بعض صورتوں میں واضح نہیں بلکہ احتمال کے پہلو رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں حدیث دو یا زیادہ محتمل معنوں میں سے ایک کو متعین کر دیتی ہے۔ اس کی مثالیں حسب ذیل ہیں:

۱۔ سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی نے مردار جانور کو حرام اور ذبح کیے ہوئے جانور کو حلال قرار دیا ہے۔ لیکن اگر ذبح کیے ہوئے جانور کے پیٹ میں سے مردہ بچہ نکل آئے تو آیا وہ ایک مستقل وجود ہونے کے لحاظ سے مردار شمار ہوگا یا ماں کا جز ہونے کے اعتبار سے مذبوح؟ قرآن کی منشا اس معاملے میں غیر واضح ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

ذکاتہ ذکاۃ امہ۔

اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی اس کے لیے کافی ہے۔ (۳۰)

۲۔ سورہ مائدہ ہی میں اللہ تعالی نے سدھائے ہوئے شکاری کتوں کے شکار کے بارے میں فرمایا ہے : فکلوا مما امسکن علیکم واذکروا اسم اللہ علیہ ’’جس جانور کو وہ تمہارے لیے شکار کریں، اس کو تم کھا سکتے ہو اور ان کو (شکار پر چھوڑتے ہوئے) اللہ کا نام لیا کرو‘‘ اس حکم کا اطلاق بعض صورتوں میں غیر واضح ہے۔ مثلااگر سدھایا ہوا کتا جانور کو شکار کر کے اس کا کچھ گوشت خود بھی کھالے یا اس کتے کے ساتھ کوئی اور کتا بھی شکار کرنے میں شامل ہو گیا ہو تو کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

اذا ارسلت کلبک فاذکر اسم اللہ علیہ، فان امسک علیک فادرکتہ حیا فاذبحہ، وان ادرکتہ قد قتل ولم یاکل منہ فکلہ، وان وجدت مع کلبک کلبا غیرہ وقد قتل فلا تاکل فانک لا تدری ایھما قتلہ۔

اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا کرو۔ اگر وہ تمہارے لیے شکار کو پکڑے اور تم اس کو زندہ پا لو تو اس کو ذبح کر لو۔ اگر تمہارے پہنچنے سے قبل مر جائے اور تمہارے کتے نے اس کا گوشت نہ کھایا ہو تو تم اس کو کھا سکتے ہو۔ اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا بھی شامل ہو گیا ہو اور شکار مر چکا ہو تو اسے مت کھاؤ، کیونکہ معلوم نہیں ان میں سے کس کتے نے اسے شکار کیا ہے۔ (۳۱)

۳۔ سورۃ البقرہ میں ایسی عورتوں کوجن کے خاوند فوت ہو گئے ہوں، چار ماہ دس دن تک عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ سورۃ الطلاق میں حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بتائی گئی ہے۔ لیکن اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ کون سی عدت گزارے گی؟ اس میں عقلی لحاظ سے دونوں احتمال ہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعیین کرتے ہوئے ایسی صورت میں وضع حمل کو عدت قرار دیا ہے۔ (۳۲)

بعض اشکالات کا حل

فہم قرآن سے متعلق بعض اشکالات کا حل بھی رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں ملتا ہے۔

۱۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون (جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے شائبے سے بھی پاک رکھا، انہی کو امن حاصل ہوگا اور وہی ہدایت یافتہ ہیں) تو صحابہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اشکال پیش کیا کہ ہم میں سے کون آدمی ہے جس نے کچھ نہ کچھ ظلم نہ کیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد شرک ہے: ان الشرک لظلم عظیم (۳۳)

۲۔ جامع ترمذی میں روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ قرآن میں تو نماز قصر کر کے پڑھنے کی اجازت حالت خوف میں دی گئی ہے، جبکہ اب لوگ امن میں ہیں (پھر یہ رخصت کیوں ہے؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے رخصت ہے، سو اللہ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرو۔ (۳۴) گویا آپ نے واضح فرمایا کہ قرآن میں حالت خوف کا ذکر بطور ایک لازمی شرط کے نہیں ہے۔

۳۔ جامع ترمذی میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری : من یعمل سوءًا یجز بہ (جو شخص جو بھی برائی کرے گا، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا) توصحابہؓ نے اشکال پیش کیا کہ یا رسول اللہ ہم سب سے گناہ سرزد ہو تے ہیں تو کیا ہمیں ان سب کی سزا ملے گی؟ آپ نے فرمایا: مومن کو دنیا میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتا ہے۔ (۳۵)


حوالہ جات

(۱) البقرہ، آیت ۶۲

(۲) الاحزاب، آیت ۴۰

(۳) الجن، آیت ۲۶، ۲۷

(۴) الآلوسی، سید محمود: روح المعانی،

(۵) اصلاحی، امین احسن: تدبر قرآن، دہلی: تاج کمپنی، ۱۹۹۹ء، جلد اول، ص ۲۰، ۲۱

(۶) المرجع السابق: ج ۱، ص ۵۴۹

(۷) المومنون، آیت ۱، ۲

(۸) فراہی، حمید الدین: ترتیب ونظام قرآن، مشمولہ قرآنی مقالات، لاہور: دار التذکیر، ۱۹۹۳ء، ص ۱۳

(۹) البقرہ، آیت ۲۱۹

(۱۰) تدبر قرآن، جلد اول، ص ۵۰۵

(۱۱) النساء، آیت ۲۳

(۱۲) البخاری، محمد بن اسماعیل: الجامع الصحیح، المملکۃ العربیۃ السعودیہ: دار السلام، ۲۰۰۰، کتاب الحج، باب وجوب الصفا والمروۃ، حدیث نمبر ۱۶۴۳

(۱۳) البقرہ، آیت ۲۲۳

(۱۴) صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ البقرۃ ، حدیث نمبر ۴۵۲۷

(۱۵) ابو داؤد ، سلیمان بن اشعث السجستانی: سنن ابی داؤد، المملکۃ العربیۃ السعودیہ: دار السلام، ۲۰۰۰، کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح، حدیث نمبر ۲۱۶۴

(۱۶) الانفال، آیت ۵

(۱۷) شبلی نعمانی: سیرت النبی، لاہور : مکتبہ تعمیر انسانیت، ۱۹۷۵ء، ج ۱، ص ۳۲۵

(۱۸) الانفال، آیت ۶۷

(۱۹) الانفال، آیت ۶۹

(۲۰) تدبر قرآن، ج ۳، ص ۵۱۲، ۵۱۳

(۲۱) المائدہ، آیت ۱۵

(۲۲) الاعراف، آیت ۱۵۷

(۲۳) البقرہ، آیت ۱۰۲

(۲۴) النساء، آیت ۱۵۷

(۲۵) الصف، آیت ۶

(۲۶) الاعلی، آیت ۱۹، ۲۰

(۲۷) مسلم بن الحجاج: صحیح مسلم، المملکۃ العربیۃ السعودیہ: دار السلام، ۲۰۰۰، کتاب الرضاع، باب فی المصۃ والمصتان، حدیث ۳۵۹۰

(۲۸) صحیح البخاری : کتاب النکاح، باب من قال لا رضاع بعد الحولین، حدیث نمبر ۵۱۰۲

(۲۹) سنن ابی داؤد: دار السلام، ۲۰۰۰، کتاب الصلاۃ، باب صلوۃ الخوف، احادیث ۱۲۳۶ تا ۱۲۴۸

(۳۰) المرجع السابق، کتاب الضحایا، باب ما جاء فی ذکاۃ الجنین، حدیث نمبر ۲۸۲۷

(۳۱) صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح، باب الصید بالکلاب المعلمۃ والرمی، حدیث نمبر ۴۹۸۱

(۳۲) سنن ابی داؤد، کتاب الطلاق، باب فی عدۃ الحامل، حدیث نمبر ۲۳۰۶

(۳۳) صحیح البخاری : کتاب التفسیر، سورۃ الانعام، حدیث ۴۶۲۹

(۳۴) الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی: جامع الترمذی، المملکۃ العربیۃ السعودیہ: دار السلام، ۲۰۰۰، کتاب التفسیر، سورۃ النساء، حدیث ۳۰۳۴

(۳۵) جامع الترمذی، کتاب التفسیر، سورۃ النساء، حدیث نمبر ۳۰۳۸

مغربی تہذیب کی یلغار

محمد شمیم اختر قاسمی

مسلمانوں کے ساتھ میڈیا کا معاندانہ رویہ

عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ اور وسائل نے اتنی ترقی کی ہے کہ اور اس کا دائرۂ عمل اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ دنیا کا ہر گوشہ اس پر عیاں اور ہر جگہ اس کی پہنچ ہے۔ وہ جس واقعے کو جب اور جس وقت چاہے، اس کا واقعی یا خیالی پس منظر پیش کر سکتا ہے اور جس پر چاہے، پردہ ڈال سکتا ہے اگرچہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ بالخصوص امریکیوں کے پاس مسلمانوں کے خلاف میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو چالاکی کے ساتھ پیش کرنے کے ایسے تمام نسخے موجود ہیں جس سے وہ مثلا اسامہ بن لادن کا سر کسی اور کے سر پر دکھا سکتے ہیں اور یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ اسامہ کسی عورت وغیرہ کو قتل کر رہا ہے۔ ان ذرائع کے اجارہ داروں کا یہ دعوی ہے کہ یہ سیکولرازم، آزادی رائے اور زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے علم بردار ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ ان کا یہ دعوی واقعہ کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ ان کے علمی اور تہذیبی کردار سے وہی قدیم صلیبی ذہنیت اور اسلام دشمنی اور مغربیت کی برتری کے تصور کی جھلک نظر آتی ہے۔ ایسا ہی رویہ مسلمانوں کے ساتھ ملکی میڈیا کا بھی ہے اگرچہ اس کا تعلق صلیبی ذہنیت سے نہیں بلکہ سیاسی وسماجی اقدار سے ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور ان کے مابین انتشار پیدا کرنے کی جتنی بھی ترکیبیں ہو سکتی ہیں، وہ مغربی اور دیسی میڈیا استعمال کرتا ہے اور حقیقت واقعہ کو اس طرح سے توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے جس سے عوام بلکہ اسلامی ذہن رکھنے والے افراد بھی بلا چوں چرا اسے تسلیم کر لیتے ہیں اور بلا اختیار سر ہلاتے ہوئے ان کی زبان سے یہ جملہ نکل جاتا ہے کہ ’’ایسا ہی ہوگا’’۔ ایسی صورت میں اسلام اور مسلمانوں سے بد ظن ہونے میں کیا چیز مانع ہو سکتی ہے؟ درج ذیل واقعات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ میڈیا مسلمانوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے:

’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے ایسے اڑتالیس مقامات کی نشان دہی کی جن میں ۱۹۹۳ء میں انسٹھ نسلی تصادم ہوئے اور یہ بتایا کہ ان میں سے آدھے تصادم وہ ہیں جو مسلمانوں نے غیر مسلموں کے ساتھ کیے۔ (۱) یعنی مسلمانوں پر جو مظالم ہوئے، وہ بھی مسلمانوں ہی کے نامہ اعمال میں شمار کیے گئے۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ ایک رات ٹیلی وژن پر اسلامی حکومت یمن کے حالات، وہاں کی مساجد، طرز تعلیم، نماز ودیگر عبادات اسلامی کے طریقے دکھا ئے جا رہے تھے۔ ٹیلی وژن سرزمین یمن کے باشندوں کی محرومیت کا تفصیل سے ذکر کرتے کرتے اسلام کی طرف متوجہ ہوا اور بڑی چالاکی سے اسلام پر رقیق حملے شروع کر دیے کہ اس ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑا روڑا اسلام ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کے قافلہ تمدن کو دو سو سال پیچھے کر دیا۔ ابتدائی مراحل میں توقف ، عقب نشینی یہ اسلام کا پروگرام ہے۔ آج کی دنیا میں پیدا ہونے والے مختلف انقلابات سے محرومی اسلام کی پیروی اور اس کے دستور کی پابندی کی وجہ سے ہے۔ (۲) ابھی چند دن قبل کی بات ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو پولیس نے راستے میں اٹھا لیا اور اس پر وہ تمام الزامات لگائے جو حال میں قرب وجوار میں بم بلاسٹ ہوئے جس کو ملکی میڈیا نے خوب اچھالا اور بڑھا چڑھا کر بیان کیا یہاں تک کہ یونیورسٹی کو دہشت گردی کا سب سے بڑا اڈہ قرار دیا۔ ایک سرکاری افسر نے اپنے تحریری بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مبین نامی طالب علم بے گناہ ہے، ایک سوچھی سمجھی پالیسی کے تحت طالب علم کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس طرح یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سرکاری افسر نے ان تمام ارکان کے اوپر سے نیچے تک نام گنوائے ہیں جو یہ سازش کر رہے ہیں۔ مگر میڈیا اس تمام تحریری بیان کو ہضم کر گیا۔

بی بی سی ورلڈ سروس واحد نشریاتی ادارہ ہے جو ۲۴ گھنٹے مختلف زبانوں اور موضوعات پر خبریں اور معلوماتی پروگرام نشر کرتا رہتا ہے۔ شائقین قبل از وقت ہاتھ میں ریڈیو لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور ا س کی گوشمالی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس وقت تک نہیں چھوڑتے جب تک اس کی کان لال نہ ہو جائے کیونکہ وہاں سے نشر ہونے والی زیادہ تر چیزیں مبنی بر حقائق ہوتی ہیں۔ مگر وہ بھی جب اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے تو غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتا ہے اور جہاں کہیں بھی کوئی واقعی یا محض خیالی کوئی ایسی بات نظر آتی ہے جس پر اعتراض کیا جا سکے، وہاں ان کے دل میں بد نیتی کی پر مسرت گدگدی ہونے لگتی ہے۔

قرآن وسنت، تاریخ اسلامی اور مسلمانوں کو ہدف بنا کر بے سروپا الزام عائد کیے جاتے ہیں۔ اسی دوران دوسرے سماج میں عورتوں اور نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر کتنا ہی ظلم ہو، وہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں کھلے عام عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے اور ہزاروں ناقابل رحم واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ بھارت میں ہر روز تین دلت عورتوں کی روزانہ عصمت دری کی جا تی ہے۔ اس پر کسی میڈیا کی انگلی نہیں اٹھتی۔ مگر جہاں کہیں مسلمان زوجین اور مسلم معاشرہ میں کوئی ناخوشگواری کی باتیں پیش آجاتی ہیں تو میڈیا لے اڑتا ہے اور غیر اسلامی افکار کے حامل اہل قلم حضرات اس پر اپنی قلمی توانائیاں صرف کرنے لگتے ہیں اور بغیر کسی رعایت اور پاسداری کے مسلمانوں کے مقدسات پر ان کے قلموں کی نوک کھل جاتی ہے۔ مشرق ومغرب کی ساری زیادتیاں خوبیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، عورتوں کے استحصال کے واقعات اور زوجین کی کش مکش کی داستانیں خیالی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ اس طرح کے جارحانہ ویک طرفہ معاندانہ اقدامات سے مسلمانوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ اگر مسلمان ان کے خلا ف آواز بلند اور جہدوجہد کرتے ہیں تو ان پر سختی کی جاتی ہے اور انہیں دہشت گرد کے القاب سے نوازا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے اور طرح طرح کی دردناک سزائیں تجویز کی جاتی ہیں۔ ان کی آزائ رائے پر قدغن لگایا جاتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ مغربی میڈیا اور مغربی حکومتیں اپنی تابع دار حکومتوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ مسلم عوام کو سختی سے کچل دیا جائے۔

جب کوئی بے ضمیر شخص اپنی شہرت یا مادی مفاد کی بنا پر کوئی ایسی بات کہتا ہے جو دشمنان اسلام کے فکر وخیال سے ہم آہنگ ہوتی ہے تو اسے غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ (اس کی بہترین مثال سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات ہے) اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو خاموش رہنے بلکہ اس کے پراگندہ خیالات کو قبول کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے خیالات کو اکتشافات کا درجہ دے کر ان کی عالمگیر تشہیر کی جاتی ہے اور اس کو دنیا کا اتنا بڑا ہیرو قرار دیا جاتا ہے کہ اس کے آگے عالمی فٹ بال اور کرکٹ کپ کا ہیرو بے وزن معلوم ہونے لگتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے دروازے ان کی حفاظت اور دفاع کے لیے کھل جاتے ہیں۔ (۳)

مشہور امریکی نقاد ایڈورڈ ڈبلو ساد اپنی کتاب ’’ذرائع ابلاغ اور اسلام‘‘ میں مغربی میڈیا کے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ رویہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’آج کل امریکہ اور یورپ میں عام لوگوں کے لیے اسلام کا مطلب ایسی چیزیں ہیں جو خاص طور پر ناگوار خاطر ہیں۔ ذرائع ابلاغ، کومتیں اور دانش ور سب اس پر متفق ہیں کہ اسلام مغربی تمدن کے لیے خطرہ ہے۔ اسلام کی منفی باتیں دوسری باتوں کے مقابلے میں زیادہ رائج ہیں۔ اس لیے نہیں کہ اسلام سے ان کا کوئی واسطہ ہے بلکہ اس لیے کہ سوسائٹی کا ایک مقتدر طبقہ ان کو ایسا ہی گردانتا ہے۔ یہ طبقہ بڑا بااثر ہے اور اس نے اسلام کے اس منفی تصور کو پھیلانے کا ارادہ کر رکھا ہے۔‘‘ (۴)

’’میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ امریکہ میں ٹیلی وژن پر مقبول ترین اوقات میں شاید ہی کوئی پروگرام ہو جس میں نسلی عداوت شامل نہ ہو اور جہاں مسلمانوں کا مذاق نہ اڑایا گیا ہو اور جہاں مسلمانوں کو ’’جزک‘‘ کا نام دے کر برا بھلا نہ کہا گیا ہو۔ اسلام کے مقابلے میں امریکہ کی رائے عام یہ ہے کہ جو چیزیں انہیں ناپسند ہیں، وہ اسلامی ہیں۔‘‘ (۵)

ذرائع ابلاغ کی تباہ کاریاں

مغربی ذرائع ابلاغ نے انسانی دنیا کو کیا دیا، کیا سکھایا اور کن امور کے بجا لانے پر زور دیا؟ اس کی گہرائی میں ہم پہنچتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے دنیا کو جو کچھ ملا، ان میں سب سے زیادہ نقصان دہ چیز بے حیائی، عریانیت اور فحاشی ہے جس کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا دوچار ہے، یہاں تک کہ مغرب کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اسٹار، زی، سونی اور دیگر ٹی وی چینل ۲۴ گھنٹے دلربا منظر پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ایجاد نے ہر گھر کو وہ سینما ہال بنا دیا ہے جہاں زیادہ تر گندی اور عریاں فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ اس کے دیکھنے میں بڑے اور بچے ، مرد اورعورتیں ، یہاں تک کہ باپ بیٹی، بھائی بہن سب برابر کے شریک اور ایک ساتھ بیٹھ کر مزے لے لے کر دیکھتے ہیں جس کے گندے مناظر سے روح کانپ جاتی ہے۔خوبصورت عورت کو منظر عام پر لاکر دعوت نظارہ دی جاتی ہے۔ اشتہار کے نام پر بڑی بے ہودگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ سیریل ایسے کہ عشق کی داستان اور تشدد کے واقعات سے اخلاقی حس مردہ ہو جائے۔ غرض کہ اخلاق سوز اور مجرمانہ ذہنیت پیدا کرنے والی چیزیں پیش کر کے بڑے پیمانے پر بگاڑ کا سامان کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے ٹی وی، ریڈیو کانوں اور آنکھوں دونوں کے لیے لذت کا سامان بن گیا ہے۔ شوق کا یہ عالم کہ گھر میں بیوی سے پہلے ٹی وی آ جاتا ہے۔ مغرب کی بات تو چھوڑ دیجیے کیونکہ وہ اخلاقی جذام میں مبتلا ہے۔ اس وقت مسلم معاشرہ اور اسلامی مملکتیں بھی اس بیماری کا پوری طرح شکار ہو گئی ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ وہاں یہ وبا پھیل رہی ہے جس کی بنا پر نوجوانوں پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو محتاج بیان نہیں۔ کیا اس برائی کے ذمہ دار ہم خود نہیں ہیں؟ کم از کم مسلمانوں کو اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ ایسے گندے وسائل کو اپنے گھروں اور معاشرے میں داخل نہ ہونے دیں۔ اگر مسلمانوں کو اپنا تشخص برقرار رکھنا ہے تو چاہئے کہ وہ مغرب کی تقلید کرنا ترک کر دیں۔

تفریح کے لیے ہم سرحد پار کی اخلاق دشمن فلموں، گانوں اور عریاں ویڈیو پروگراموں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں اور خود ہمارا ٹی وی احساس کمتری کا شکار ہونے کے سبب سرحد پار کے پروگراموں کی نقل کو اپنی فن کاری سمجھتا ہے۔ اس صورت حال میں ایک حل تو یہ ہے کہ اگر آپ کے گھر میں ٹی وی یا ویڈیو ہے تو آپ دونوں کو زمین میں دفن کر دیں اور خود کو یہ سمجھا لیں کہ آپ نے میڈیا کے شیطان کے خلاف جہاد کا ثبوت پیش کر دیا ہے۔ لیکن ایسا کرنے کے باوجود آپ کے پڑوس میں ڈش پروہ سب کچھ آتا رہے گا جس سے بچنے کے لیے آپ نے اپنا ٹی وی اور ریڈیو زمین میں دفن کیا ہے اور خود آپ کے اپنے بچے اور پڑوس کے بچے شیطانی میڈیا سے متاثر ہوتے رہیں گے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ آپ فنی کمال کے ساتھ متبادل پروگرام بنائیں جس میں ڈرامے بھی ہوں ،نغمے بھی ہوں، دستاویزی پروگرام بھی ہوں، گویا تعلیم وتفریح اور معلومات کو تعمیری اور اخلاقی نقطہ نظر سے ٹی وی اور ریڈیو پرنشر کیا جائے ، اور ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے ناممکن نہیں ہے۔ یہ وہ طریقہ وہ ہوگا جسے قرآن کریم نے یوں کہا ہے کہ ’’بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں‘‘ (۶)

جنسی بے راہ روی کی تباہ کاریاں

عفت وپاک دامنی کسی بھی قوم اور معاشرے کا طرۂ امتیاز ہے۔ ہر شخص کا اس بات پر یقین ہے کہ عصمت ایک انمول موتی ہے جسے کبھی ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دفعتا اس حقیقت کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ یا پھر آزادئ نسواں کے علم بردار کارل مارکس اور اینجلز (۷) جیسے گمراہ کرنے والے انسانی درندے اسے رفتہ رفتہ ختم کر دیتے ہیں۔ اس دور میں عفت وپاک دامنی اپنی قدر وقیمت کھو چکی ہے۔ ہر جگہ اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بالخصوص مغرب اس حریم سے بہت زیادہ تجاوز کر گیا ہے۔ ان میں سے اکثر اس نظریہ کے حامی ہو گئے ہیں کہ عورت اور مرد آخر حیوان ہی تو ہیں۔ کیا حیوانوں کے جوڑوں میں نکاح اور وہ بھی دائمی نکاح کا کوئی سوال پیدا ہو سکتا ہے؟ (۸) سڑکیں رنڈیوں سے خالی دکھائی دینے لگیں، اس خوف سے نہیں کہ پولیس کے ڈنڈے سے دوچار ہونا پڑے گا بلکہ آزاد خیال بے پردہ گھومنے والی لڑکیوں نے ان کے بازار کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ نشریاتی نظام ہر ملک کا ترجمان ہوتا ہے لیکن جب یورپ میں ایک ستم رسیدہ خاتون اپنے شوہر کی زیادتیوں سے تنگ آ کر وہاں سے حل تلاش کرنے کے لیے مشورہ طلب کرتی ہے تو اس سے یہ کہا جاتا ہے کہ ۲۸ سال سے قبل تم ایک یا کئی مردوں سے تعلقات قائم کر سکتی ہو۔ کیا اس طرح کے مشورے سے پریشانیوں کا حل نکل سکتا ہے؟

یوں تو عریانیت کے پھیلنے اور زناکاری کے عام ہونے کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان سب کا احصا طوالت سے خالی نہیں۔ مگر ان میں گندے فوٹو گراف، مخلوط تعلیم، فلم، تھیٹر اور ٹی وی کا اہم رول ہے۔ تعلیمی مراکز جہاں انسانیت کی ذہن سازی کی جاتی ہے، وہیں اس قسم کے جرائم روز افزوں ہیں اور اس کام کے لیے مستقل ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس قسم کی تعلیم گاہوں، کالجوں، فرموں کے ٹریننگ اسکول اور مذہبی مدرسوں میں ہمیشہ اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں ایک ہی صنف کے دو افراد آپس میں شہوانی تعلق رکھتے ہیں۔ (۹) اور جہاں مخلوط تعلیم کا انتظام ہے، وہاں اشتعال اور تسکین قلب دونوں کے اسباب موجود ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ مغربی ممالک کے اسکولوں اور دفاتر کے باتھ رومز میں مانع حمل آلات پہلے سے موجود ہوتے ہیں تاکہ تعلیم حاصل کرتے وقت یا کام کرنے کے دوران جنسی جذبات پیدا ہو جائیں تو خواتین وحضرات اور طلبہ وطالبات محفوظ طریقے سے اپنی سفلی خواہشات کی تکمیل کر سکیں۔

جج بن لنڈسے (Ben Lindsey) جنہیں ڈنور کی عدالت جرائم اطفال (Juvenile Court)کے صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، انہیں امریکہ کے نوجوانوں کے اخلاقی حالات سے واقف ہونے کا بہت زیادہ موقع ملا۔ انہوں نے اپنی کتاب Revolt of Modern Youth (نوجوان نسل کی بغاوت) میں ایسی بہت ساری چیزوں کا ذکر کیا ہے جس سے مغربی نوجوانوں کے اندر سے اخلاقی حس مردہ ہو جانے کا ثبوتملتا ہے۔

امریکہ میں بچے قبل از وقت بالغ ہونے لگے ہیں اور بہت کچی عمر میں ان کے اندر منفی احساسات پیدا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے نمونہ کے طور پر ۳۱۲ لڑکیوں کے حالات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان میں ۲۵۵ ایسی تھیں جو گیارہ اور تیرہ برس کے درمیان میں بالغ ہو چکی تھیں اور ان کے اندر ایسی منفی خواہشات اور ایسے جسمانی مطالبات کے آثار پائے جاتے تھے جو ایک ۱۸ برس اور اس سے بھی زیادہ عمر کی لڑکیوں میں ہونے چاہئیں۔ (۱۰) وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہائی اسکول کی کم عمر لڑکیاں جنہوں نے خود مجھ سے اقرار کیا کہ ان کو لڑکوں سے صنفی تعلقات کا تجربہ ہو چکا ہے، ان میں صرف ۲۵ ایسی تھیں جن کو حمل ٹھہر گیا تھا۔ باقی میں سے بعض تو اتفاقا بچ گئی تھیں لیکن اکثر کو منع حمل کی موثر تدابیر کا کافی علم تھا۔ یہ واقفیت ان میں اتنی عام ہو چکی ہے کہ لوگوں کو اس کا صحیح اندازہ نہیں۔ (۱۱) اس کے بعد فاضل مصنف لڑکے اور لڑکیوں کے مابین جنسی خواہشات کا تقابل کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہائی اسکول کا لڑکا بمقابلہ ہائی اسکول کی لڑکی کے جذبات کی شدت میں بہت پیچھے ہے۔ عموما لڑکی ہی کسی نہ کسی طرح پیش قدمی کرتی ہے اور لڑکا اس کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ (۱۲)

۱۹۹۳ء میں امریکی حکومت کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ایک سال کے اندر ۱۴ لاکھ بارہ ہزار شادیاں قانونی طور پر منعقد ہوئیں۔ ۳ ماہ بعد ہی ان میں سے ۲ لاکھ ۹۲ ہزار کا انجام طلاق پر ہوا۔ تقریبا ۷۵ فی صد شادی شدہ مرد اور خواتین اپنے شریک حیات کے ساتھ بے وفائی کے مرتکب ہوتے ہیں جو ان شادیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ امریکہ کی آبادی میں تقریبا دو کروڑ افراد ہم جنس پرستی کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ ۱۶ برس سے لے کر ۱۹ برس تک کی لڑکیاں جنسی حملوں کا نشانہ بنتی ہیں جن میں اکثر اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں یعنی باپ، بھائی وغیرہ کی ہوس کا شکار بنتی ہیں۔ امریکی ہفت روزہ انکوائرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۹۹ء میں تقریبا ۹ لاکھ خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں جبکہ ان وارداتوں کے ۶۰ فی صد ملزمان گرفتار بھی نہ ہو سکے۔ (۱۳) روزنامہ جنگ کی اطلاع کے مطابق ہر ۲۷ ویں سیکنڈ میں ایک کم عمر لڑکی ماں بن جاتی ہے۔ ہر ۴۷ویں سیکنڈ میں ایک بچی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ (۱۴) مسز بل کلنٹن نے ۱۹۹۵ء میں اسلام آباد میں ایک کالج کی طالبات سے گفتگو کے دوران بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی نوجوان لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ قانونی طور پر منعقد شادی سے قبل ہی ماں بن جانا ہے۔ (۱۵)

امریکہ کے علاوہ دیگر مغربی ممالک کا بھی یہی حال ہے۔ مثلا برطانیہ میں دس فیصد خاندان بغیر باپ کے پائے جاتے ہیں۔ ۷۰ فی صدلڑکے اور لڑکیاں ایسے ہیں جن کو ان کے محبوب یا منگیتر نے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ یہاں میاں بیوی کے تعلقات کچے دھاگوں میں بندھے ہوتے ہیں جو ذرا سی بات پر طلاق پر منتج ہوتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ۷۶ فی صد طلبہ وطالبات شادی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہیں۔ ۲۴ فی صد طالبات نے تسلیم کیا ہے کہ وہ یہاں آنے کے بعد کنواری نہیں رہتیں اور اب بھی ان کے باقاعدہ جنسی تعلقات ہیں۔ ۲۵ فی صد طالبات مانع حمل گولیاں استعمال کرتی ہیں۔ ۲۱ فی صد طلبہ وطالبات فحش وعریاں جرائد خریدتے ہیں۔ ۳۸ فی صد طلبہ وطالبات ہم جنسی کے قائل ہیں۔ (۱۶)

ایک جامعہ کی سروے رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں ۶ ہزار سے زائد بچے جن کی عمر ۱۸ برس سے کم ہے، اپنے علاج، خوراک، رہائش، شراب اور سگریٹ کے حصول کے لیے اپنا جسم فروخت کرتے ہیں جبکہ وہاں کی حکومت ان کو اس حالت زار سے نکالنے کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ (۱۷)

ایک امریکی جریدہ مغربی ممالک میں اخلاقی حس کے مردہ ہو جانے اور بے حیائی وزنا کاری کے عام ہونے کی وجوہات پر ماتم کرتے ہوئے لکھتا ہے

’’تین شیطانی قوتیں ہیں جن کی تثلیث آج ہماری دنیاپر چھا گئی ہے اور یہ تینوں ایک جہنم تیار کرنے میں مشغول ہیں۔ فحش لٹریچر جو جنگ عظیم کے بعد سے حیرت انگیز رفتار کے ساتھ اپنی بے شرمی اور کثرت اشاعت میں بڑھتا جا رہا ہے۔ متحرک تصویریں جو شہوانی محبت کے جذبات کو نہ صرف بھڑکاتی ہیں بلکہ عملی سبق دیتی ہیں۔ عورتوں کا گرا ہو ااخلاقی معیار جو ان کے لباس اور بسا اوقات ان کی برہنگی اور سگریٹ کے روز افزوں استعمال اور مردوں کے ساتھ ان کے ہر قید وامتیاز سے ناآشنا اختلاط کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تین چیزیں ہمارے یہاں بڑھتی جا رہی ہیں اور ان کا نتیجہ مسیحی تہذیب ومعاشرت کا زوال اور آخر کار تباہی ہے۔‘‘ (۱۸)

اسی اخلاقی بگاڑ کو دیکھ کر سیوا سماجی رہنما پاول کہتا ہے: اگر یورپ صرف زنا سے بچ جائے تو اس کے سارے مسائل میں حل کر دوں گا۔ اس سلسلے میں یورپ کے عوام اقدام بھی کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس اخلاقی بگاڑ کا سد باب ہو سکے مگر اب تک خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔ مثلا فرانس کی راج دھانی پیرس کے دی پوائنٹ نے ایک سروے کیا تھا جس کی رو سے ۶۸ فی صد شہریوں نے امریکی کلچر کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش ظاہر کی تھی اور اسے روکنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ چائنا نے جو امریکہ کی نگاہ میں اسلام کے بعد دوسرا بڑا دشمن ہے، ۱۹۹۷ء میں اپنے مشرقی صوبہ گوانگ ڈونگ میں مغربی فحاشی کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چلائی۔ بیس ہزار فحش رسائل اور ۵۶ ہزار گندے کیسٹ ضبط کیے۔ (۱۹)

بے حیائی کی یہ دنیا ہے جہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں اور مغرب سے بے حیائی کی ہوا جب چلتی ہے تو سیدھے اسلامی معاشرہ پر آکر تھمتی ہے۔ ان کے اصول زندگی اور عادات واطوار کو قبول کر لینا مسلم معاشرہ میں امتیاز سمجھا جاتا ہے۔ عمومالڑکیوں کی آخری خواہش اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ فلم، تھیٹر اور فلم کی زندگی اختیار کر لیں۔ ا س امنگ کی تکمیل کے لیے وہ ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہیں۔ ان کی ایک خا ص تعداد اپنے آپ کو فلم پروڈیوسرز اور ڈائریکٹروں کی ہوس رانیوں کے حوالے کر کے بے نیل مرام ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ ابتدائی مرحلہ ہے۔ اس کے بعد وہ کیا کچھ نہیں کرتیں ،آپ سوچ سکتے ہیں۔ جبکہ قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولا معروفا (الاحزاب ۳۲) (نرمی سے بات نہ کرو، کہیں وہ لوگ کسی توقع میں مبتلا نہ ہو جائیں جن کے دلوں میں بیماری ہے۔ بھلے طریقے سے بات کیا کرو) کیا اسلام اس بات کو پسند کر سکتا ہے کہ لڑکیاں بینکوں کی کلرک، فضائی میزبان، ریستوران میں خدمت گار، مغنیات، رقاصائیں ،فلم، ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر اداکار بنی ہوئی نظر آئیں؟ ہرگز نہیں۔

لڑکیوں کے سر سے پردہ غائب ہوئے عرصہ ہو گیا۔ اگر کسی کے سر پر دوپٹہ نظر آتا ہے تو بس گلے کی ٹائی کی حد تک۔ جسم پر کپڑے اتنے باریک اور چست ہوتے ہیں کہ جیسے کسی نے تھرمامیٹر سیٹ کر دیا ہو جو جسم کے ہر ظاہری ومخفی حصے کی حرکات وسکنات کا پتہ دیتا ہو۔ یہ اس لیے ہو رہا ہے کہ مغربی ڈرامے کا سین ہمارے سامنے ہے۔ نئے کلچر کے نام پر وحشت کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ گھروں کے خیمے اکھڑ رہے ہیں، بازاروں کی رونق بڑھ رہی ہے، پارک آباد ہو رہے ہیں، ہوٹل گھر بن رہے ہیں۔ اکبر کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ اپ ٹو ڈیٹ اور ماڈرن شرفا کی عمریں ترقی یافتہ ممالک اور ہوٹلوں میں کٹ رہی ہیں۔ وہ مرتے ہیں ہسپتالوں کے بستروں پر، دریا کے کنارے صحت افزا جھونپڑیوں میں اور ریٹ کے بستروں پر بحر محبت موجیں مار رہا ہے اور ساحلوں سے انسانیت کے بکھرے ہوئے اور بچے ہوئے خس وخاشاک بہائے لیے جا رہا ہے۔ یہ صرف آزادئ نسواں کا کرشمہ ہے۔ اب Women's Empowerment کا ہائیڈروجن بم پھٹے گا تو انسانیت کے ذرات فضاؤں میں اڑیں گے جیسا کہ مغربی تہذیب کے تنکے مشرق کے سمعی وبصری ذرائع (Audio Visual Media) پر ٹیلی ویژن اور بھیانک وی سی آر کے ہاتھوں گھر گھر میں اڑ رہے ہیں اور گویا پورا گھر خواب گاہ (Bed Room) بنا ہوا ہے۔ (۲۰)

اجتماع ومعاشرت اور سوشل زندگی میں مغربی طریقوں کی پیروی اور ان کے اصول زندگی اور طرز معاشرت کو قبول کر لینا اسلامی معاشرے میں بڑے دور رس نتائج رکھتا ہے۔ اس وقت مغرب ایک اخلاقی جذام میں مبتلا ہے جس سے اس کا جسم برابر کٹتا اور جلتا چلا جا رہا ہے اور اب اس کا تعفن پورے ماحول میں پھیل چکا ہے۔ اس مرض جذام کا سبب اس کی جنسی بے راہ روی اور اخلاقی انارکی ہے جو بہیمیت وحیوانیت کے حدود تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن اس کیفیت کا بھی حقیقی اور اولین سبب عورتوں کی حد سے بڑھی ہوئی آزادی، مکمل بے پردگی، مرد وزن کا غیر محدود اختلاط اور شراب نوشی ہے۔ کسی اسلامی ملک میں اگر عورتوں کو ویسی ہی آزادی دی گئی، پردہ یکسر اٹھایا گیا، دونوں صنفوں کے اختلاط کے آزادانہ مواقع فراہم کیے گئے، مخلوط تعلیم جاری کی گئی تو اس کا نتیجہ اخلاقی انتشار اور جنسی انارکی، سول میرج، تمام اخلاقی ودینی حدود واصول سے بغاوت اور بالآخر اس اخلاقی جذام کے سوا کچھ نہیں جو مغرب کو ٹھیک انہی اسباب کی بنا پر لاحق ہو چکا ہے۔ ان اسلامی ملکوں میں جہاں مغربی تہذیب کی پرجوش نقل کی جا رہی ہے اور جہاں پردہ بالکل اٹھ گیا ہے اور مرد وزن کے اختلاط کے آزادانہ مواقع حاصل ہیں، پھر صحافت، سینما، ٹیلی ویژن، لٹریچر اور حکمران طبقہ کی زندگی اس کی ہمت افزائی بلکہ رہنمائی کر رہی ہے، وہاں اس جذام کے آثار وعلامات پوری طرح ظاہر ہونے لگے ہیں اور یہ قانون قدرت ہے جس سے کہیں مفر نہیں۔ (۲۱)

جس معاشرے میں اخلاقی اور سماجی برائیاں ہوں گی، وہ خواہ کتنا ہی دولت مند اور با اثر ہو، اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے۔ اس میں پائیداری نہیں ہوتی کیونکہ معاشرتی اصول ناپید ہوتے ہیں۔ آج کل کے مغربی معاشرے اور سوسائٹی میں اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے اور معاشرتی وسماجی اصول جو روندے جا رہے ہیں، اس کی وجہ سے اس قوم کا اخلاق بہت بگڑ چکا ہے۔ اسلام نے چند بنیادی اصول مقرر کر دیے ہیں جن کے اندر رہ کر معاشرہ ترقی پذیر ہو سکتا ہے۔ ان سے باہر نکلنا اخلاق وانسانیت کی موت کے مترادف ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، زناکار مرد اور زناکار عورتوں کے لیے پتھر ہے۔ عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو، تمہارے حق عورتوں پر ہے اور عورتوں کے تم پر ۔ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح خدا کی بندیاں ہیں۔ لڑکا اس کا جس کے بستر پر پیدا ہو۔ جو لڑکا اپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے نسبت کرے، اس پر خدا اور رسول اور فرشتوں کی لعنت ہے۔

مغربی علوم و فنون اور مسلمان

صلیبی جنگوں میں شکست کھانے کے بعد انگریزوں نے اسلامی مصادر کی جڑوں کو متزلزل کرنے کا منصوبہ بنایا اور مسلمانوں کو دین حنیف سے گمراہ کرنے کی بڑے پیمانے پر سازش کی۔ حصول تعلیم کے سلسلے میں ضرورت سے زیادہ سہولت فراہم کر کے مسلم طلبہ کو غلط کیریکٹر اور غیر اسلامی افکار کے حامل بنانے پر زور دیا۔ چنانچہ جو مسلم طلبہ انگریزی جامعات سے تعلیم حاصل کر کے نکلے، ان کے اندر ایمانی بصیرت اور خوف آخرت کا فقدان ہوتا ہے۔ مغربی جامعات میں حصول تعلیم کے بعد جو طلبہ اپنے دین پر اسی طرح قائم رہے جیسا کہ اس دین کا تقاضا ہے تو ان کی تعداد بہت ہی کم ہوتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صورت حال ایسی ہو تو اس ترقی کے دور میں جہاں ہر جگہ مغربی طرز تعلیم اور سائنسی اکتشافات کا استقبال کیا جا رہا ہے، ہر جگہ اس کا جال پھیلا ہوا ہے، ہر میدان میں انہی علوم وفنون کو برتری حاصل ہے، اس کی سائنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ گھنٹوں کے مشکل کام کو منٹوں میں آسان بنا دیا ہے۔ تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ ان علوم وفنون اور سہولیات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانا چاہئے کہ نہیں؟ ایک صورت تو یہ ہے کہ مسلمان ابھی مغربی تعلیم ونظریات کو جوں کا توں قبول کر لے، اس صورت میں اس تعلیم کے جو نتائج اذہان وقلوب اور معاشرے پر منتج ہوں گے، وہ محتاج بیان نہیں۔ سابقہ بیان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مغربی طرز تعلیم اور سائنسی اکتشافات وایجادات کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے۔ اس صورت میں مسلمان اپنے منصب پر قائم نہیں رہ سکتے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے خیر امت کے نام سے خطاب کیا ہے اور پھر مسلمان ایسی صورت میں اپنی ضرورت کو حل کیسے کریں گے؟ جبکہ ہمارے دینی جامعات میں ان علوم وفنون کے حصول کا انتظام کالعدم ہے۔ وہاں جن علوم پر زور دیاجاتا ہے، معاصرزمانہ کے تحت ہمارے ضرورت کے حل کے لیے ناکافی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک پیچیدگی کا حل مفتی محمد ظفیر الدین صاحب مفتی دار العلوم دیوبند کے اس بیان سے نکالا جا سکتا ہے۔

’’اگر مدارس دینیہ میں نئے اکتشافات اور جدید ایجادات کی تعلیم نہیں دی جاتی، اگر سائنس نہیں پڑھائی جاتی، یا سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اس طرح کے دوسرے کام نہیں ہو سکتے تو اتنا تو ہو سکتا ہے کہ یہاں جو مضامین پڑھائے جاتے ہیں، ان میں ہمارے نوجوان علما باکمال ہوں۔ اسی کے ساتھ مدارس کو جس حد تک حالات وزمانہ کے مطابق آگے لے جایا جا سکتا ہے، لے جانا چاہئے۔ نئے زمانہ کی اچھی چیزوں کو خوش آمدید کہنا اور اپنانا گناہ نہیں، کار ثواب ہے۔ یہ مسلمانوں کی گم شدہ متاع ہے، جہاں بھی مل جائے لے لینی چاہئے۔ ا س پر بدعت کا حکم لگا کر کنارہ کش ہونا دانش مندی نہیں۔ خوب یاد رکھا جائے اچھی چیزوں کو اپنانا ترکہ ہے، سرقہ نہیں۔‘‘ (۲۲)

یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ سائنسی علوم وفنون اور ایجادات کو مغربی اثاثہ قرار دیتے ہیں جب کہ یہ مسلم دانش وروں اور سائنس دانوں کی میراث ہے جس سے مسلمانوں نے مدت العمر تک لاپروائی برتی، خالی میدان دیکھ کر اہل مغرب آ دھمکے اور اسے اچک لیا اور مسلمانوں کو اپنا دست نگر بنا دیا۔ اگر ہم اسلام کے اصول پر قائم رہ کر حصول علم اور تحقیق کا فریضہ ادا کرتے تو آج ہمیں جدید علوم وفنون کے لیے یورپ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہ پڑتی حالانکہ قرآن نے لعکم تعقلون، لعلکم تتفکرون، لعلکم تشعرونکے الفاظ استعمال کر کے مسلمانوں کو سائنسی علوم کے حصول کی طرف ابھارا ہے، جیسا کہ علامہ اسد لکھتے ہیں

’’تاریخ سے بلا کسی اشتباہ کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے سائنسی ترقی کو جتنا ابھارا ہے، اتنا کبھی کسی اور مذہب نے نہیں کیا۔ اسلامی دینیات سے علوم وفنون اور سائنسی تحقیق کی جو ہمت افزائی ہوئی، اس کا نتیجہ بنو امیہ اور بنو عباس اور ہسپانیہ کی عرب حکومت کے دور کی شاندار تہذیبی ترقیوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔‘‘ (۲۳)

دوسری شق کا جواب ہمیں حضور ﷺ کے اس حکم سے مل جاتا ہے کہ آپ نے کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو کسی خاص مقصد کے تحت یہودیوں کی زبان سیکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ دینی جامعات میں بھی دیگر فنون کی طرح ایک شعبہ انگریزی زبان وادب کی افہام وتفہیم کے لیے قائم کر کے مسلم طلبا کو انگریزی زبان وادب کا ماہر بنایا جائے۔ اس طرح ضرورت کی تکمیل ہو سکتی ہے اور خیر امت کا فریضہ بھی انجام پا سکتا ہے۔ بقول سرسید

’’مسلمانوں کی تعلیم کا طریقہ دو قسم کا ہونا چاہئے۔ ایک وہ جس کو مسلمان خود قائم کریں جس سے ان کے تمام دینی ودنیاوی مقاصد انجام پائیں۔ دوسرے وہ جس سے مسلمان ان اصول سے جو گورنمنٹ نے قائم کیے ، فائدہ اٹھائیں‘‘ (۲۴)

اب رہا مسئلہ عام اسکولوں کی تعلیم کا جو مسلمانوں کی نگرانی میں چلتے ہیں، جہاں دینیات کی تعلیم کا فقدان اور تربیت اسلامی کا معقول انتظام نہیں ہے اور سارا زور معاصر زمانہ علوم پر ہی دیا جاتا ہے تو یہ ہماری کمزوری ہے نہ کہ معاصر زمانہ تعلیم کی خرابی۔ اس سلسلے میں یہ حدیث پیش کرنے کے علاوہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ وینصرانہ ویمجسانہ (۲۵) (ہر بچہ خالص فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ اس کے والدین ہوتے ہیں جو اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں) اس حدیث کو ذہن میں رکھ کر انگریزی تعلیم کے فوائد ونقصانات سے متعلق مزید باتیں سوچی جا سکتی ہیں۔


حواشی

(۱) اسلام اکیسویں صدی میں‘ ص ۳۳

(۲) مغربی تمدن کی جھلک‘ ص ۴۴

(۳) ماہنامہ الحق‘ اکوڑہ خٹک

(۴ و۵) ذرائع ابلاغ اور اسلام‘ بحوالہ معرکہ اسلام اور جاہلیت‘ مولانا صدر الدین اصلاحی‘ ص ۲۰۳

(۶) ماہنامہ ترجمان القرآن‘ لاہور‘ اگست ۲۰۰۰‘ ص ۶۸

(۷) اسلام ایک نظریہ ایک تحریک‘ مریم جمیلہ۔ مترجم‘ آماد شاہ پوری‘ ص ۳۰۷

(۸ و۹) پردہ‘ سید ابو الاعلی مودودی‘ ص ۴۷

(۱۰) سنت نبوی اور جدید سائنس‘ حکیم طارق محمود چغتائی‘ ج ۱‘ ص ۳۰۷

(۱۱) پردہ ‘ سید مودودی

(۱۲) سنت نبوی اور جدید سائنس‘ ج ۱ ‘ ص ۳۰۱

(۱۳) ہفت روزہ اکانومسٹ‘ اکتوبر ۱۹۹۴ء‘ بحوالہ ترجمان القرآن‘ مئی ۲۰۰۰ء

(۱۴) رو زنامہ جنگ لندن‘ ۲۸ اپریل ۱۹۸۷ء۔ بحوالہ سنت نبوی اور جدید سائنس ج ۲‘ ص ۶۵

(۱۵)ایضا‘ ۲۵ مارچ ۱۹۹۵ء‘ بحوالہ ترجمان القرآن لاہور‘ مئی ۲۰۰۰ء

(۱۶) ایضا‘ ۵ مارچ ۱۹۹۰ء‘ بحوالہ سنت نبوی اور جدید سائنس‘ ج ۲‘ ص ۶۴

(۱۷) روزنامہ نوائے وقت‘ ۴ جنوری ۲۰۰۰ء

(۱۸) پردہ‘ سید مودودی

(۱۹) اسلام اکیسویں صدی میں‘ ص ۳۷‘ ۳۸

(۲۰) ترجمان القرآن‘ اپریل ۲۰۰۰‘ ص ۴۹

(۲۱) مسلم ممالک میں اسلام اور مغربیت کی کشمکش‘ ابو الحسن علی ندوی‘ ص ۲۳۹

(۲۲) ماہنامہ ارمغان‘ دعوت اسلام نمبر‘ جنوری فروری مارچ ۱۹۹۸ء‘ ص ۱۱۹

(۲۳) اسلام دوراہے پر‘ ص ۶۳

(۲۴) حیات جاوید‘ الطاف حسین حالی

(۲۵) بخاری شریف‘ باب ما قیل فی اولاد المسلمین‘ ص ۱۸۵‘ کتب خانہ رشیدیہ دہلی

(بشکریہ ماہنامہ دار العلوم دیوبند، انڈیا)

پاکستان شریعت کونسل کے راہ نماؤں کا دورۂ قندھار

ادارہ

پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی اور سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے عید الاضحی کے بعد مولانا رشید احمد درخواستی کے ہمراہ قندھار کا تین روزہ دورہ کیا اور امیر المومنین ملا محمد عمر حفظہ اللہ تعالی سے ملاقات کر کے انہیں نفاذ اسلام کے اقدامات اور بت شکنی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی اور پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے کا عطیہ بھی طالبان حکومت کی امداد کے لیے پیش کیا۔ پاکستان شریعت کونسل کے راہ نماؤں نے افغانستان کے قاضی القضاۃ مولوی نور محمد ثاقب اور قندھار کے کور کمانڈر ملا اختر محمد عثمانی سے ملاقات کی اور ان سے افغانستان کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیالات کیا۔ کراچی میں امارت اسلامی افغانستان کے قونصل جنرل ملا رحمت اللہ کاکا زادہ قندھار سے واپسی پر ان کے رفیق سفر تھے اور ان سے افغانستان پر اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے اثرات اور طالبان حکومت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان پر اقوام متحدہ کی پابندیاں سراسر ظالمانہ اور جانبدارانہ ہیں جن کے خلاف تمام مسلم ممالک کو صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ملی غیرت کا تقاضا ہے کہ تمام مسلم حکومتیں طالبان حکومت کو تسلیم کر کے اقوام متحدہ کی پابندیوں کو مسترد کریں اور افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اس سے بھرپور تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ بے جان مجسموں کو مسمار کرنے پر دنیا بھر کے واویلا سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ آج کے عالمی نظام اور بین الاقوامی رائے عامہ کو زندہ انسانوں اور ان کی مشکلات وتکالیف سے کوئی دل چسپی نہیں ہے اور بے جان بتوں کو بچانے کے لیے سب لوگ چیخ پکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے اس اقدام نے عالمی برادری کے منافقانہ طرز عمل اور ورلڈ سسٹم کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مولانا راشدی کا دورۂ پشاور

پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ ہفتے پشاور کا مختصر دورہ کیا اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیل کو دورۂ قندھار کے تاثرات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد میں کونسل کی رابطہ مہم کے سلسلے میں ان سے تبادلہ خیال کیا۔

مرکزی راہ نماؤں کا دورۂ کوئٹہ

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی اور سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے قندھار سے واپسی پر کوئٹہ میں ایک روز قیام کیا اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ بلوچستان کے کنوینر مولانا محمد حسن کاکڑ اور دیگر راہ نماؤں سے ملاقات کر کے انہیں دورۂ قندھا رکے تاثرات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان سے مختلف امور پر گفتگو کی۔

صوبہ سندھ کے نئے عہدے دار

پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے صوبہ سندھ کے لیے کونسل کے مندرجہ ذیل نئے عہدے داروں کا اعلان کیا ہے اور انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ باہمی مشورے سے باقی عہدے داروں کا انتخاب کر لیں

امیر    مولانا عبد الرشید انصاری    کراچی

سیکرٹری جنرل    مولانا سیف الرحمن ارائیں    حیدر آباد

رابطہ سیکرٹری    مولانا قطب الدین انصاری    حیدر آباد

سیکرٹری اطلاعات    مولانا رشید احمد درخواستی    کراچی

خدمات دار العلوم دیوبند کی حمایت

پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ۹، ۱۰، ۱۱ اپریل ۲۰۰۱ء کو پشاور میں منعقد ہونے والی ’’عالمی خدمات دار العلوم دیوبند کانفرنس‘‘ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے تمام عہدہ داروں اور ارکان سے کہا ہے کہ وہ کانفرنس میں شریک ہوں اور اسے کامیاب بنانے کے لیے مکمل تعاون کریں۔ دریں اثنا کانفرنس کے داعی اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی سے ملاقات کر کے انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی ہے اور وہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا صلاح الدین فاروقی اور صوبہ سرحد کے امیر مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیل کے ہمراہ کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

علما کی اندھا دھند گرفتاریوں پر احتجاج

پاکستان شریعت کونسل صوبہ پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اختر نے محرم الحرام کے موقع پر ملک بھر میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کی اندھا دھند گرفتاریوں پر شدید احتجاج کیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت فرقہ وارانہ بد امنی کے اصل اسباب وعوامل کو دور کرنے کے بجائے ہر سال محرم الحرام کے موقع پر بلا جواز گرفتاریوں اور پابندیوں کے ذریعے سے وقت گزارنے کی کوشش کرتی ہے جس کی وجہ سے صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علما کی گرفتاری، ضلع بندی اور زبان بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، ان میں سے بہت سے حضرات کئی سال پہلے وفات پا چکے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان گرفتاریوں اور پابندیوں کا مقصد صرف کارروائی ڈالنا اور رسم پوری کرنا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرز عمل پر نظر ثانی کی جائے اور گرفتاریوں اور پابندیوں کے احکام واپس لے کرفرقہ وارانہ کشیدگی اور بد امنی کے اسباب وعوامل کی نشان دہی کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔

مرکزی مجلس شوری کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوری کا ایک اہم اجلاس ۲۹ اپریل ۲۰۰۱ء بروز اتوار صبح دس بجے الشریعہ اکادمی کنگنی والا گوجرانوالہ میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے حوالے سے رابطہ مہم کو تیز کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس کے بعد ۳ بجے دن الشریعہ اکادمی میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے ایک خصوصی نشست بھی ہوگی جس سے حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی اور حضرت مولانا زاہد الراشدی موجودہ عالمی اور ملکی صورت حال کے تناظر میں علماء کرام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داریوں کے موضوع پر تفصیلی خطاب کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’آدابِ حاملینِ قرآن‘‘

قرآن کریم کے آداب و فضائل اور حفاظ و قراء کے لیے ضروری ہدایات کے حوالے سے معروف محدث امام شرف الدین نوویؒ شارح مسلم کی کتاب التبیان فی آداب حملۃ القرآن کا اردو ترجمہ حضرت مولانا نجم الدین اصلاحیؒ نے کیا تھا جو بھارت میں شائع ہو چکا ہے اور اب اسے مکہ کتاب گھر، الکریم مارکیٹ، اردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔ صفحات ۱۲۰، کتابت و طباعت مناسب، مضبوط جلد، قیمت ۶۳ روپے۔

’’محمد ﷺ اور قرآن‘‘

سلمان رشدی کی رسوائے زمانہ تصنیف ’’شیطانی آیات‘‘ میں جناب نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی اور حضرت صحابہ کرام و ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم کے بارے میں اہانت آمیز اور گستاخانہ طرز بیان اور مواد پر ایک عرصہ سے دنیا بھر میں احتجاج ہو رہا ہے۔ بھارت کے معروف دانش ور ڈاکٹر رفیق زکریا نے سلمان رشدی کی اس خرافات کا قرآن و حدیث اور تاریخ کی روشنی میں محققانہ جائزہ لیا ہے اور ۴۳۲ صفحات پر مشتمل اس ضخیم تصنیف میں ان تمام واقعات کا احاطہ کیا ہے جن کے بارے میں سلمان رشدی نے ہرزہ سرائی کی ہے۔

یہ کتاب فکشن ہاؤس، ۱۸ مزنگ روڈ، لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔

’’ردِ قادیانیت کے زریں اصول‘‘

حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ایک عرصہ سے علماء اور طلبہ کو قادیانیت کے موضوع پر لیکچر دے رہے ہیں اور عقیدۂ ختم نبوت، حیات عیسی علیہ السلام، امام مہدی کی علامات، اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کی حقیقت پر قادیانیوں کے پرفریب دلائل کی اصلیت کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ ۱۹۹۰ء میں انہوں نے دار العلوم دیوبند میں علماء اور طلبہ کو ان موضوعات پر جو لیکچر دیے، انہیں کتابی شکل میں مرتب کیا گیا ہے اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود کے وقیع مقدمہ نے اس کی افادیت کو دوچند کر دیا ہے۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے علماء، طلبہ اور دینی کارکنوں کے لیے یہ بیش بہا تحفہ ہے۔

۴۴۰ صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے اور اسے ادارہ مرکز دعوت و ارشاد چنیوٹ ضلع جھنگ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’قافلہ ادبِ اسلامی‘‘

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے علمی آثار اور صدقات جاریہ میں ادب اسلامی کے حوالے سے قائم ہونے والا عالمی فورم ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ بھی ہے جو ان کی سرپرستی میں وجود میں آیا اور پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں اس کی شاخیں کام کر رہی ہیں۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی کی پاکستان شاخ نے ادب اسلامی کے فروغ کے لیے ’’قافلہ ادب اسلامی‘‘ کے نام سے ایک سہ ماہی مجلہ کی اشاعت کا آغاز کیا ہے جو عربی، اردو اور انگلش تین زبانوں میں ہے اور معروف دانش ور ڈاکٹر ظہور احمد اظہر اس کے مدیر ہیں۔

زیر نظر شمارہ پہلی جلد کا شمارہ نمبر ۳، ۴ ہے جو دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے۔ ملنے کا پتہ:۷ حق باہو ہاؤسز، لالہ زار کالونی، رائے ونڈ، لاہور

’’برکاتِ وضو‘‘

عارف باللہ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی رحمہ اللہ تعالی نے اس مضمون میں وضو کی برکات و فضائل جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں تحریر فرمائے ہیں ۔

۲۸ صفحات پر مشتمل یہ مضمون دار الارشاد، خانقاہ مدنی، اٹک شہر نے شائع کیا ہے جس کا ہدیہ ۱۰ روپے ہے۔