دینی مدارس کو درپیش چیلنجز کے موضوع پر ایک اہم سیمینار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اسلام آباد نے ۳ اگست ۲۰۰۰ء کو ’’دینی مدارس اور درپیش چیلنجز‘‘ کے عنوان سے ایک مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا جس میں ملک کے منتخب ارباب علم و دانش نے شرکت کی اور دینی مدارس کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ مجلس مذاکرہ کی تین نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان، دوسری نشست کی صدارت قومی اسمبلی کے سابق رکن مولانا گوہر رحمان اور تیسری نشست کی صدارت نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کی۔ مجلس مذاکرہ کی کارروائی مجموعی طور پر تقریباً سات گھنٹے جاری رہی اور اس میں مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کرنے والوں میں پروفیسر خورشید احمد، مولانا عبد المالک خان، ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، پروفیسر افتخار احمد بھٹہ، ڈاکٹر محمد میاں صدیقی، مولانا محمد صدیق ہزاروی، مولانا محمد حنیف جالندھری، سید ریاض حسین نقوی، جناب خالد رحمان، ڈاکٹر ممتاز احمد اور مولانا سید معروف شاہ شیرازی بطور خاص قابل ذکر ہیں جبکہ ڈاکٹر خالد علوی اور پروفیسر یاسین ظفر کے مضامین پڑھ کر سنائے گئے۔ دیگر شرکاء میں ڈربن یونیورسٹی (جنوبی افریقہ) کے شعبہ اسلامیات کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی نمایاں تھے جوتحریک پاکستان کے عظیم راہنما حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ کے فرزند ہیں۔
مجلس مذاکرہ میں راقم الحروف کو بھی اظہار خیال کی دعوت دی گئی اور میں نے ’’دینی نظام تعلیم: اصلاح احوال کی ضرورت اور حکمت عملی‘‘ کے عنوان سے اپنی گزارشات تحریری صورت میں پیش کیں جو قارئین اسی کالم میں ملاحظہ کر چکے ہیں۔ ان معروضات کو کم و بیش سب شرکاء نے پسند کیا اور پروفیسر خورشید احمد نے اعلان کیا کہ ان گزارشات کو مجلس مذاکرہ کی مجموعی سفارشات کی حیثیت دی جا رہی ہے۔
مجلس مذاکرہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین نے جن خیالات کا اظہار کیا ان میں معاشرہ میں دینی تعلیم کو باقی رکھنے اور اسلامی علوم و روایات کے تحفظ میں دینی مدارس کے کردار کا اعتراف نمایاں تھا، اور دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی سب حضرات کے جذبات یکساں تھے۔ البتہ آزادانہ کردار اور خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے دینی مدارس کے نظام و نصاب میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق اصلاح و ترمیم کی ضرورت کی طرف اکثر حضرات نے توجہ دلائی اور دینی مدارس کے وفاقوں پر زور دیا کہ وہ اس ضرورت کا احساس کریں اور دینی مدارس کے معاشرتی کردار کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے بہی خواہ اور مخلص حلقوں کی طرف سے پیش کی جانے والی سفارشات و تجاویز کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں۔
بعض اربابِ دانش نے اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی کہ ملک کے نظام کو چلانے اور صالح رجال کار فراہم کرنے کے لیے دینی مدارس پر جو زور دیا جا رہا ہے اس کی اصل ذمہ داری تو ریاستی نظام تعلیم پر عائد ہوتی ہے۔ جبکہ نصف صدی گزر جانے کے باوجود ریاستی نظام تعلیم میں کوئی بامقصد تبدیلی سامنے نہیں آئی اور ملک کے ریاستی نظام تعلیم کے ارباب حل و عقد سرے سے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کر رہے۔ بلکہ اگر ملک کے مروجہ ریاستی نظام تعلیم میں اسلامی مقاصد اور ضروریات کو شامل کرنے کی طرف کسی جانب سے توجہ دلائی جاتی ہے تو اسے یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر ایس ایم زمان کا یہ انکشاف بطور خاص قابل توجہ ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل لاء گریجویٹس کے لیے ایل ایل بی کے نصاب میں اسلامی قوانین کے اضافہ کے ساتھ نصاب کا دورانیہ دو سال کی بجائے تین سال کر دینے کی تجویز پیش کی، مگر ان سفارشات کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے جس میں متعدد لاء کالجز کے پرنسپل حضرات بھی شامل تھے کورس کا دورانیہ دو سال سے تین سال کرنے کی تجویز تو منظور کر لی مگر اسلامی قوانین کے جس نصاب کو اس میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی اس کا بمشکل پانچ فیصد حصہ کورس میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے مروجہ نظام تعلیم کو اسلامی مقاصد و ضروریات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اس نظام تعلیم کے کار پردازان کی دلچسپی کا عالم کیا ہے۔
چنانچہ اسی بنیاد پر مولانا گوہر رحمان نے زور دے کر یہ بات کہی کہ دینی مدارس کے نصاب میں ضروری اصلاحات سے ہمیں انکار نہیں اور ہم بتدریج ایسا کر بھی رہے ہیں لیکن اس سے بات نہیں بنے گی اور ملک کے سیاسی، انتظامی، عدالتی اور عسکری شعبوں کو دینی لحاظ سے تربیت یافتہ افراد کار مہیا کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے لیے ملک کے ریاستی نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور سرکاری نصاب تعلیم کو مکمل طور پر تبدیل کر کے اسے قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنا ضروری ہے کیونکہ یہ ذمہ داری بنیادی طور پر اسی نظام کی ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس نظام میں تبدیلی کی طرف تو کوئی توجہ نہیں دے رہا اور دینی مدارس کے نظام و نصاب میں تبدیلی کے لیے چاروں طرف سے شور مچایا جا رہا ہے۔
بعض مقررین نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ دینی مدارس کے طلبہ اور عصری کالجز کے طلبہ میں اجنبیت کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اس نوعیت کے پروگراموں کا اہتمام ہونا چاہیے کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ عصری کالجوں میں جا کر جدید علوم کی تعلیم حاصل کر سکیں، اور کالجوں کے فاضل نوجوانوں کو دینی مدارس میں جا کر درس نظامی کا کوئی مختصر کورس کرنے کی سہولت حاصل ہو۔ اس کے علاوہ طلبہ کے وفود کے باہمی تبادلہ، تعلیمی اداروں کے دوروں اور مشترکہ مجالس کے اہتمام کے ذریعے بھی اس سلسلہ میں مؤثر پیش رفت ہو سکتی ہے۔
مجلس مذاکرہ میں دینی مدارس کے دائرہ میں وسعت اور پھیلاؤ کا ذکر کیا گیا کہ مختلف اطراف سے مخالفت کے باوجود دینی مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور طلبہ و طالبات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ ایک مقرر نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ریاستی نظام تعلیم اپنے مقاصد کے حوالہ سے ناکام ہو چکا ہے کیونکہ لاکھوں ڈگری یافتہ افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اس لیے اب نوجوان ادھر سے مایوس ہو کر دینی تعلیم کی طرف آرہے ہیں تاکہ اگر دنیا کا فائدہ نہ ہو تو کم از کم دین تو ہاتھ میں رہے۔ انہوں نے کہا کہ خود ان کی زیرنگرانی ایک ہائی اسکول سے گزشتہ سال بیس طالبات نے میٹرک پاس کیا جن میں سے صرف پانچ طالبات کالج میں گئی ہیں جبکہ باقی پندرہ طالبات نے مزید تعلیم کے لیے دینی مدارس کو ترجیح دی ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی مجلس مذاکرہ میں پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد کے بارے میں ایک سروے رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ وفاقی وزارت تعلیم کی سروے مہم کے نتیجہ میں جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ملک میں دینی مدارس کی تعداد اس وقت چھ ہزار سے زیادہ ہے جن میں مجموعی طور پر ساڑھے دس لاکھ کے قریب طلبہ اور طالبات قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، دینی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے، بیرونی ممالک کے اٹھائیس ہزار کے قریب طلبہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ اساتذہ کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔سروے رپورٹ کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے ان مدارس کی امداد کے لیے جو رقم مختص کی جاتی ہے اس کا آغاز ایک لاکھ روپے سالانہ سے ہوا تھا اور اب یہ پندرہ لاکھ روپے سالانہ تک پہنچی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ دلچسپ واقعہ بھی بتایا گیا کہ جس دور میں سید فخر امام صاحب وزیرتعلیم تھے دینی مدارس کی امداد کے لیے محکمہ تعلیم کی طرف سے دس لاکھ روپے کی منظوری دی گئی اور وزارت کے افسران کے ایک اجلاس میں وفاقی وزیرتعلیم کی طرف سے افسران پر زور دیا گیا کہ رقم کی تقسیم میں مدارس کے معیار اور کوالٹی کا لحاظ رکھا جائے۔ اس پر اجلاس میں موجود وزارت تعلیم کے ایک افسر نے وزیر تعلیم موصوف سے گزارش کی کہ جناب والا اس وقت دینی مدارس میں طلبہ کی جتنی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے اس کے حساب سے محکمہ تعلیم کی عطا کردہ دس لاکھ روپے کی اس رقم کو تقسیم کیا جائے تو فی طالب علم پچیس پیسے سالانہ بنتے ہیں۔ وزیرتعلیم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا مگر ان کا یہ اصرار قائم رہا کہ رقم تقسیم کرتے ہوئے مدارس کے معیار اور کوالٹی کا بہرحال لحاظ رکھا جائے۔
مجلس مذاکرہ میں امریکہ کی ہیمپٹن یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ممتاز احمد بھی شریک تھے جو جنوبی ایشیا کے دینی مدارس کے بارے میں سروے کر رہے ہیں اور حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کر کے واپس آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے بارے میں اپنی سروے رپورٹ کا خلاصہ پیش کر کے شرکائے محفل کو چونکا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں دینی تعلیم دینے والے مدارس کی تعداد اس وقت اٹھارہ ہزار سے زائد ہے جن میں ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں ساڑھے چھ ہزار مدارس وہ ہیں جو عوامی چندہ سے چلتے ہیں، ان مدارس کی تعداد بھی کم و بیش اتنی ہی ہے جنہیں حکومت کی طرف سے امداد دی جاتی ہے جو مختلف مدارج میں اخراجات کے اسی فیصد تک بھی جا پہنچتی ہے، جبکہ کچھ دینی مدارس ایسے ہیں جو صرف حکومت کے خرچہ پر قائم ہیں۔ اور اس سال بنگلہ دیش کی حکومت نے اپنے بجٹ میں دینی مدارس کے لیے جو رقم مخصوص کی ہے اس کی تعداد پانچ ارب ٹکہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد شیخ مجیب الرحمان کی حکومت نے ان دینی مدارس کو بند کرنے کا پروگرام بنایا تھا، ان مدارس پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان کی حمایت کی ہے اور ان سے فارغ ہونے والے علماء بنگلہ قومیت کی بجائے اسلام کی بات کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا جس نے رپورٹ میں یہ سفارش کی کہ ان مدارس کو بند کر دیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مجیب حکومت نے ایک عوامی سروے کا بھی اہتمام کیا جس کی رپورٹ حیران کن تھی کیونکہ اس کے مطابق ملک کے نوے فیصد عوام نے جن میں جدید پڑھے لکھے حضرات کی اکثریت تھی دینی مدارس کو بند کر دینے کی تجویز کی سختی کے ساتھ مخالفت کی تھی اور حکومت سے کہا تھا کہ وہ دینی مدارس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔ ڈاکٹر ممتاز احمد نے بتایا کہ اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کے عوامی حلقوں میں یہ روایت بھی مشہور ہے کہ اسی دوران ایک روز مولانا عبد الحمید بھاشانی نے شیخ مجیب الرحمان کی گاڑی کو ایک سڑک پر جاتے ہوئے راستہ میں رکوا کر ان سے کہا کہ آپ کی بہت سی باتیں برداشت کرتا رہا ہوں اور اب بھی کر رہا ہوں مگر دینی مدارس بند کرنے کی بات برداشت نہیں کروں گا اور اگر اس سلسلہ میں کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس کی مزاحمت کے لیے میں خود میدان میں آؤں گا۔ چنانچہ شیخ مجیب الرحمان نے دینی مدارس پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ ترک کر دیا اور بنگلہ دیش میں دینی مدارس پوری آزادی اور پہلے سے زیادہ وسعت کے ساتھ دینی خدمات میں مصروف ہیں۔
اس موقع پر پروفیسر خورشید احمد نے ترکی کے تجربہ کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ ترکی میں اتاترک کے دور میں دینی مدارس کو بالکل بند کر دیا گیا تھا اور دینی تعلیم ہر سطح پر ممنوع قرار دے دی گئی تھی جو کم و بیش پینتیس سال تک مسلسل ممنوع رہی۔ جبکہ ساٹھ کی دہائی میں وزیر اعظم عدنان میندریس شہیدؒ نے یہ پابندی اٹھا کر ابتدائی اور ثانوی سطح پر دینی تعلیم کی اجازت دے دی جس کے بعد دینی مدارس قائم ہوئے اور ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان سول اور فوج کے مختلف محکموں میں جانے لگے جس کا نتیجہ عظیم فکری اور ذہنی انقلاب کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے کہ ترکی میں اسلامی بیداری کی لہر نے پوری قومی زندگی کا احاطہ کر لیا ہے اور اسی سے پریشان ہو کر سیکولر فوج نے اب پھر ترکی کے مدارس میں قرآن و سنت کی تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔ لیکن دینی تعلیم کا پہلا دور اپنا اثر دکھا چکا ہے اور ترکی میں اب اسلامی بیداری کو دبانا ممکن نہیں رہا۔
مجلس مذاکرہ کے اختتامی خطاب میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن ڈاکٹر محمود احمد غازی نے بتایا کہ حکومت دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری پر یقین رکھتی ہے اور اس کا اس میں کسی قسم کی مداخلت کا پروگرام نہیں ہے۔ البتہ وہ دینی مدارس کے نظام و نصاب میں اس قسم کی ترمیم و اصلاح ضرور چاہتی ہے کہ دینی مدارس کے فضلاء آج کے دور کے تقاضوں کو سمجھیں اور ان سے ہم آہنگ ہو کر آج کے عالمی تناظر میں اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت کا فریضە سرانجام دے سکیں۔ انہوں نے کہ اکہ حکومت دینی مدارس کے نظام میں کسی قسم کا دخل دیے بغیر دینی تعلیم کا ایک مستقل بورڈ قائم کرنے اور تعلیمی کونسل تشکیل دینے کا پروگرام بنا رہی ہے جس کے ساتھ رضاکارانہ طور پر منسلک ہونے کی دینی مدارس کو دعوت دی جائے گی۔ اور اس کے ساتھ ہی حکومت بڑے شہروں میں ماڈل دارالعلوم قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے جس کے لیے نصاب ترتیب دیا جا چکا ہے اور بہت جلد اس سلسلہ میں عملی پیش رفت کی جا رہی ہے۔
دینی نظامِ تعلیم ۔ اصلاحِ احوال کی ضرورت اور حکمتِ عملی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(یہ مقالہ اگست ۲۰۰۰ء کے دوران انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے سیمینار میں پڑھا گیا۔)
محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دینی مدارس کے حوالہ سے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی مجلس مذاکرہ میں منتخب ارباب علم و دانش کے ساتھ ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ہماری اس ملاقات و گفتگو کو دین و ملت کے لیے افادیت کا حامل بنائیں، آمین یا رب العالمین۔
جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جن دینی مدارس کے بارے میں آج ہم بحث و گفتگو کر رہے ہیں وہ اس وقت عالمی سطح کے ان اہم موضوعات میں سے ہیں جن پر علم و دانش اور میڈیا کے اعلیٰ حلقوں میں مسلسل مباحثہ جاری ہے۔ مغرب اور عالم اسلام کے درمیان تیزی سے آگے بڑھنے والی تہذیبی کشمکش میں یہ مدارس اسلامی تہذیب و ثقافت اور علوم و روایات کے ایسے مراکز اور سرچشموں کے طور پر متعارف ہو رہے ہیں جو مغربی تہذیب و ثقافت کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت اور ایڈجسٹمنٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مدارس ملت اسلامیہ کے ایک بڑے اور مؤثر حصے کو اس بے لچک رویہ اور غیر مصالحانہ طرز عمل پر قائم رکھنے کا باعث بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کے مختلف طبقات اور اداروں میں یہی ادارہ مغرب کی تنقید اور کردارکشی کی مہم کا مرکزی ہدف قرار پایا ہے اور گلوبل سولائزیشن وار میں اس ادارہ کو امت مسلمہ کے سپرانداز ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ گردانتے ہوئے اسے راستہ سے ہٹانے کے مختلف منصوبے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ اسی کا ردعمل ہے کہ دینی مدارس خود کو حالت جنگ میں سمجھتے ہوئے اپنی موجودہ صف بندی میں کسی قسم کے رد و بدل پر آمادہ نہیں ہیں اور ان کے نظام و نصاب میں ترمیم و تبدیلی کی کوئی بھی تجویز ان کے ذہنوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دینی مدارس کے نظام و نصاب میں اصلاح احوال کے حوالہ سے بھی کوئی بات کہتے ہوئے ان کی اس مجبوری کو سامنے رکھنا ہوگا اور ان تحفظات کا لحاظ کرنا ہوگا جن کے باعث دینی مدارس کے ارباب حل و عقد خود کو اردگرد کے ماحول سے بیگانہ رکھنے اور منہ کان لپیٹ کر اس فضا سے گزر جانے پر مجبور پا رہے ہیں۔ اس لیے اپنی گزارشات کو آگے بڑھانے سے قبل دینی مدارس کے تحفظات میں سے دو اہم امور کا تذکرہ اس مرحلہ پر ضروری خیال کرتا ہوں۔
- دینی مدارس یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرہ میں عام مسلمان کا تعلق دین کے ساتھ قائم رکھنے، دینی علوم کی ترویج و اشاعت، اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے ان کے مسلمہ کردار کی اثر خیزی کی اصل وجہ ان کا آزادانہ کردار اور انتظامی و مالی خودمختاری ہے جسے وہ عام مسلمانوں کے رضاکارانہ تعاون کے ذریعہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ سرکاری اور ریاستی اداروں کو کسی بھی درجہ میں دینی مدارس کے نظام میں دخل اندازی کا موقع دیا گیا تو وہ اپنے اس کردار یا کم از کم اس کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں گے۔
- دینی مدارس کے ارباب حل و عقد یہ سمجھتے ہیں کہ ان مدارس کے قیام و وجود کا سب سے اہم مقصد معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کے ادارہ کو قائم رکھنا اور اسے رجال کار فراہم کرتے رہنا ہے جو کہیں اور سے فراہم نہیں ہو رہے۔ اس لیے وہ اپنے نصاب کو اسی دائرہ میں محدود رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دینی مدارس سے تیار ہونے والی کھیپ صرف ان کی اپنی ضروریات میں کھپتی رہے اور اس شعبہ سے افرادی قوت کا انخلا اس انداز سے نہ ہو کہ معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کا بنیادی ادارہ ضرورت کے افراد کی کمی کے باعث تعطل کا شکار ہونے لگے۔ ہمارے نزدیک ان دینی مدارس میں جدید سائنسی علوم کے داخلہ کا دروازہ بند رکھنے کی بنیادی وجہ یہی چلی آرہی ہے کہ جدید علوم اور مروجہ فنون سے آراستہ ہونے کے بعد کسی فاضل کو مسجد و مدرسہ کے ماحول میں محدود رکھنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ مسجد و مدرسہ کے نظام کو باقی رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک اچھی خاصی تعداد خود کو دوسرے تمام کاموں سے فارغ کر کے اسی کام کے لیے وقف کر دے۔
چنانچہ اب تک کا تجربہ و مشاہدہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کی یہی حکمت عملی جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں اب تک دینی حمیت و وابستگی کو باقی رکھنے بلکہ اسے پوری دنیائے اسلام میں امتیازی حیثیت پر فائز کرنے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینی مدارس کے نظام و نصاب میں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے اور اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اسے ’’سب اچھا‘‘ کہہ کر ہمیں خاموش ہو جانا چاہیے۔ بلکہ دینی مدارس کے اس نظام و نصاب میں اصلاح کی ضرورت خود ان دینی مدارس کے سنجیدہ اکابر ایک عرصہ سے محسوس کر رہے ہیں اور اس کا اظہار وقتاً فوقتاً ہوتا رہا ہے۔ لیکن عملاً یوں ہوتا ہے کہ اصلاح احوال کے لیے ان کی مخلصانہ آواز کو جب کچھ دوسرے حلقے ’’کیچ‘‘ کر کے اس کی آڑ میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ آواز بھی وقتی طور پر مصلحت کے تحت دب جاتی ہے اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔
اس پس منظر میں دینی مدارس کے نظام تعلیم میں اصلاح احوال کی ضرورت اور حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں دینی مدارس کے تحفظات اور ان کے ارباب حل و عقد کے ذہنوں میں موجود خطرات و خدشات کو پوری طرح ملحوظ رکھنا ہوگا۔ چنانچہ اسی مجموعی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات میں دینی مدارس کے نظام و نصاب میں جن اصلاحات، ترامیم اور اضافوں کی ضرورت عام طور پر محسوس کی جا رہی ہے انہیں اختصار کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
- دینی مدارس میں مروجہ زبانوں پر اس درجہ کے عبور کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی کہ ایک فارغ التحصیل عالم دین کسی مسئلہ پر اپنا مافی الضمیر انگلش، عربی یا کم از کم اردو میں ہی شستہ انداز میں قلم بند کر سکے یا اس کا زبانی طور پر کسی علمی محفل میں سلیقہ کے ساتھ اظہار کر سکے۔ اس لیے دینی مدارس میں ایسا نظام قائم کرنا انتہائی ضروری ہے کہ اردو اور عربی دونوں زبانوں میں تحریری اور تقریری طور پر مافی الضمیر کے اظہار پر فضلاء کو دسترس حاصل ہو اور انگلش بھی کم از کم اس درجہ میں لازمی ہے کہ لکھی ہوئی چیز پڑھ اور سمجھ کر وہ اس کے بارے میں اپنی زبان میں اظہار خیال کر سکیں۔
- درس نظامی کے مروجہ نصاب میں تاریخ بالخصوص عالم اسلام کی تاریخ کے بارے میں قابل ذکر مواد موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک فارغ التحصیل عالم دین عام طور پر تاریخی تسلسل اور اہم واقعات کی ترتیب تک سے بے خبر رہ جاتا ہے اور یہ بات خود دینی رہنمائی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
- دوسرے ادیان و مذاہب، معاصر فلسفہ ہائے حیات اور نظام ہائے زندگی کا تقابلی مطالعہ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اور موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش کے پس منظر اور مرحلہ وار پیش قدمی سے بھی علماء کا باخبر ہونا لازمی ہے۔ ورنہ موجودہ عالمی تناظر میں اسلام کی صحیح ترجمانی کا فریضہ سرانجام دینا ممکن ہی نہیں ہے۔
- ملت اسلامیہ کے اندرونی فقہی مذاہب اور مسالک کی تاریخ اور جدوجہد کے ادوار سے واقفیت بھی ایک عالم دین کے لیے ناگزیر ہے لیکن مناظرانہ انداز میں نہیں بلکہ تعارف اور بریفنگ کے انداز میں۔ تاکہ اصل تقابلی تناظر سامنے رہے اور اپنے فقہی مذہب اور مسلک کی خدمت کرتے ہوئے بھی شعور و ادراک کے ساتھ ایک عالم دین کا رشتہ استوار رہے۔
- دینی مدارس میں اس وقت مختلف علوم و فنون میں جو کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں وہ بہت مفید اور ضروری ہیں۔ لیکن ان کتابوں کے لکھے جانے کے بعد کی صدیوں میں علوم و فنون میں جو نئی تحقیقات ہوئی ہیں اور ہر علم میں نئے نئے شعبوں اور ابواب کا اضافہ ہوا ہے ان سے علماء کرام کو لاتعلق رکھنا ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ انہی علوم و فنون میں نئی لکھی جانے والی مفید کتابوں کا انتخاب کیا جائے اور انہیں بھی شامل نصاب کیا جائے۔
- ہمارے ہاں درس نظامی میں عام طور پر کتاب کی تعلیم دی جاتی ہے جس سے طالب علم میں استعداد تو پیدا ہوتی ہے اور اس کی مطالعہ و استنباط کی صلاحیت میں اضافہ بھی ہوتا ہے لیکن اس کی نظر متعلقہ علم و فن کے وسیع تر تناظر اور افق کی بجائے کتاب کے دائرہ میں محدود ہو کر رہ جاتی ہے جبکہ علم و فن کے تمام پہلوؤں سے اس کی شناسائی نہیں ہوتی۔ اس لیے طریق تدریس میں اتنی تبدیلی ضروری ہے کہ کسی علم یا فن کی ضروری کتابوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس علم و فن کے تعارف، تاریخ، ضروری مباحث اور جدید معلومات پر محاضرات کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ طلبہ اپنے اساتذہ کے علوم و مطالعہ سے زیادہ بہتر انداز میں فیضیاب ہو سکیں اور علوم و فنون کی فطری پیشرفت کے ساتھ ان کا تعلق قائم رہے۔
- ہمارے ہاں نظری، فقہی اور فروعی مباحث میں ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کے احترام اور برداشت کا معاملہ خاصا ناگفتہ بہ ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ خالصتاً فروعی حتیٰ کہ اولیٰ غیر اولیٰ کے جزوی اختلافات بھی بحث و مباحثہ میں اس قدر شدت اختیار کر لیتے ہیں کہ کفر و اسلام میں معرکہ آرائی کا تاثر ابھرنے لگتا ہے۔ یہ صورتحال بہت زیادہ توجہ کی طالب ہے اور دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کو اس سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات کی ضرورت محسوس کرنی چاہیے۔
- ہمارے ہاں درس نظامی میں اساتذہ کی تربیت کا کوئی نظام و نصاب موجود نہیں ہے۔ حالانکہ تمام نظام ہائے تعلیم میں اس کی ضرورت و افادیت مسلم ہے مگر درس نظامی کے مدارس میں عملاً یہ ہوتا ہے کہ اچھی استعداد اور ذوق رکھنے والا فاضل کسی نہ کسی مدرسہ میں تدریس کی جگہ حاصل کر لیتا ہے مگر اس کے بعد طلبہ کی ذہن سازی، تربیت اور ان کی فکری ترجیحات کے تعین میں وہ کسی اصول، ضابطہ و قانون اور متعین اہداف کا پابند نہیں ہوتا بلکہ یہ معاملات خالصتاً اس کے ذاتی ذوق اور رجحانات پر منحصر ہوتے ہیں جس کے اثرات لازماً طلبہ پر بھی پڑتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی سطح پر اساتذہ کی تربیت کے کورس طے کیے جائیں اور بتدریج اس سلسلہ کو اس طرح آگے بڑھایا جائے کہ کسی مدرسہ میں تدریس کا منصب حاصل کرنے کے لیے یہ کورس شرط سمجھا جانے لگے۔
- قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی عمومی تعلیم کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام حیات کو ایک مستقل مضمون اور باضابطہ نصاب کے طور پر پڑھایا جائے اور اسلامی احکام و قوانین پر فکر جدید کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات اور شبہات و شکوک کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ کو شعوری طور پر اسلامی نظام کی ترجمانی اور نفاذ کے لیے تیار کیا جائے۔
- ابلاغ عامہ کے تمام میسر ذرائع مثلاً پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور کمپیوٹر و انٹرنیٹ کے ساتھ دینی مدارس کے طلبہ و فضلاء کی اس درجہ کی شناسائی اور مہارت ضروری ہے کہ وہ ان کے استعمال کی صلاحیت سے بہہرہ ور ہوں اور ان ذرائع سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے کام کی نوعیت اور دائرہ کار کا ادراک کرتے ہوئے اس کے توڑ کے لیے کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کر سکیں۔
- درس نظامی کے نصاب کی اس انداز میں درجہ بندی ہونی چاہیے کہ تمام طلبہ کے لیے قرآن و حدیث فقہ اور عربی گرامر کی یکساں ضرورت کی ایک حد متعین کر کے اس کے بعد طلبہ کی جداگانہ صلاحیتوں اور ذوق کا لحاظ رکھتے ہوئے مختلف علوم و فنون میں گروپ بندی کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہر طالب علم اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکے۔
- دینی مدارس کو اپنے اردگرد رہنے والے عام شہریوں بالخصوص سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے لیے بھی مناسب اوقات میں مختصر کورسز کا اہتمام کرنا چاہیے جن کے ذریعے وہ ضروری عربی گرامر کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ اور ضروریات زندگی کے حوالہ سے حدیث و فقہ کا منتخب نصاب پڑھ سکیں۔
- دینی مدارس کے وفاقوں یا بڑے دینی مدارس کی سطح پر باصلاحیت اور ذہین فضلاء درس نظامی کے لیے تخصص کے ایسے کورسز کا اہتمام ضروری ہے جن کے ذریعہ انہیں مروجہ بین الاقوامی زبانوں مثلاً عربی، انگلش، فرنچ اور فارسی وغیرہ میں تحریر و گفتگو کی مہارت حاصل ہو۔ موجودہ عالمی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں اسلام کی دعوت، ترجمانی اور دفاع کے لیے تیار کیا جائے اور ان میں بریفنگ، لابنگ اور دفتری کام کی جدید ترین تکنیک کو سمجھنے اور اسے استعمال کرنے کی صلاحیت و استعداد پیدا کی جائے۔
- طلبہ میں تحریر و تقریر اور مطالعہ و تحقیق کا ذوق بیدار کرنے کے لیے وفاقوں اور مدارس کی سطح پر خطابت اور مضمون نویسی کے انعامی مقابلوں کا اہتمام کیا جائے۔
یہ تو ان ضروریات اور تقاضوں کی ایک سرسری فہرست ہے جو مروجہ حالات میں دینی مدارس کے روایتی کردار کو زیادہ مؤثر بنانے اور انہیں اپنے پہلے سے طے شدہ اہداف و مقاصد سے قریب تر کرنے کے لیے ضروری سمجھے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کے لیے دینی مدارس اور ان کے وفاقوں کے ارباب حل و عقد کو آمادہ کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے؟ اس ضمن میں چند عملی تجاویز پیش کر رہا ہوں۔
- مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ اصحاب علم و دانش کی ایک کمیٹی قائم کی جائے جو دینی مدارس کے مختلف وفاقوں کے ذمہ دار حضرات سے رابطہ قائم کر کے ان سے اس سلسلہ میں تبادلۂ خیال کرے۔
- مختلف شہروں میں اس مقصد کے لیے خالص علمی اور فکری انداز میں مجالس مذاکرہ کا انعقاد عمل میں لایا جائے جن میں دینی مدارس کے سینیئر اساتذہ کو بھی اظہار خیال کی دعوت دی جائے۔
- مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے الگ الگ وفاقوں کی جداگانہ حیثیت کا احترام کرتے ہوئے ان کے مابین رابطہ کار کے لیے ایک مشترکہ وفاق یا کم از کم مشاورتی بورڈ کے باضابطہ قیام کی کوشش کی جائے۔
- بڑے دینی مدارس اور وفاقوں سے گزارش کی جائے کہ وہ دینی مدارس ہی کے پرانے اور تجربہ کار اساتذہ کے مذاکروں کا اہتمام کریں اور دینی مدارس کے نظام و نصاب کو مزید بہتر بنانے کے لیے ان سے تجاویز لے کر ان کی روشنی میں اپنی ترجیحات اور طریق کار پر نظر ثانی کا اہتمام کریں۔
مجھے امید ہے کہ اگر اس انداز سے سنجیدگی کے ساتھ کام کا آغاز ہو جائے تو ہم دینی مدارس کو ریاستی اداروں کی مداخلت کے خطرات اور بنیادی مقاصد سے انحراف کے خطرات سے محفوظ رکھتے ہوئے انہیں ان ضروری اصلاحات و ترامیم کے لیے تیار کر سکیں گے جو تیزی کے ساتھ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اسلام اور ملت اسلامیہ کے مفاد کے لیے دینی مدارس کے نظام و نصاب کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
میں آپ سب حضرات کی طویل سمع خراشی پر معذرت خواہ ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ان امور پر آپ جیسے ارباب علم و دانش کی گراں قدر آراء و تجاویز دینی مدارس کے مقاصد، مستقبل اور پہلے سے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے یقیناً مفید اور بارآور ثابت ہوں گی۔
اسوۂ نبویؐ کی جامعیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
دیگر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ہر ایک کی زندگی خاص خاص اوصاف میں نمونہ اور اسوہ تھی، مگر سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اعلیٰ و ارفع زندگی تمام اوصاف و اصناف میں ایک جامع زندگی ہے۔ آپؐ کی سیرت مکمل اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور دستور ہے۔ اس کے بعد اصولی طور پر کسی اور چیز کی سرے سے کوئی حاجت ہی باقی نہیں رہ جاتی اور نہ کسی اور نظام اور قانون کی ضرورت ہی محسوس ہو سکتی ہے ؎
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
اگر آپ بادشاہ اور سربراہِ مملکت ہیں تو شاہِ عرب اور فرماں روائے عالم کی زندگی آپ کے لیے نمونہ ہے۔ اگر آپ فقیر و محتاج ہیں تو کمبلی والے کی زندگی آپ کے لیے اسوۂ حسنہ ہے جنہوں نے کبھی دقل (ردی قسم کی کھجوریں) بھی پیٹ بھر کر نہ کھائیں، اور جن کے چولہے میں بسا اوقات دو دو ماہ تک آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔ اگر آپ سپہ سالار اور فاتحِ مُلک ہیں تو بدر و حنین کے سپہ سالار اور فاتحِ مکہ کی زندگی آپ کے لیے بہترین سبق ہے، جس نے عفو و کرم کے دریا بہا دیے تھے اور ’’لا تثریب علیکم الیوم‘‘ کا خوش آئند اعلان فرما کر تمام مجرموں کو آنِ واحد میں معافی کا پروانہ دے کر بخش دیا تھا۔ اگر آپ قیدی ہیں تو شعبِ ابی طالب کے زندانی کی حیات آپ کے لیے درسِ عبرت ہے۔ اگر آپ تارکِ دنیا ہیں تو غارِ حرا کے گوشہ نشین کی خلوت آپ کے لیے قابلِ تقلیدِ عمل ہے۔ اگر آپ چرواہے ہیں تو مقامِ اجیاد میں آپ کو چند قراریط (ٹکوں) پر اہلِ مکہ کی بکریاں چراتے دیکھ کر تسکینِ قلب حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ معمار ہیں تو مسجدِ نبویؐ کے معمار کو دیکھ کر ان کی اقتدا کر کے خوشی محسوس کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مزدور ہیں تو خندق کے موقع پر اس بزرگ ہستی کو پھاوڑا لے کر مزدوروں کی صف میں دیکھ کر، اور مسجد نبویؐ کے لیے بھاری بھر کم وزنی پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے ہوئے دیکھ کر قلبی راحت حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مجرد ہیں تو اس پچیس سالہ نوجوان کی پاکدامن اور عفت مآب زندگی کی پیروی کر کے سرورِ قلب حاصل کر سکتے ہیں جس کو کبھی کسی بدترین دشمن نے بھی داغدار نہیں کیا اور نہ کبھی اس کی جرأت کی ہے۔ اگر عیال دار ہیں تو آپ متعدد ازواجِ مطہرات کے شوہر کو ’’انا خیرکم لاھلی‘‘ فرماتے ہوئے سن کر جذبۂ اتباع پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ یتیم ہیں تو حضرت آمنہؓ کے لعل کو یتیمانہ زندگی بسر کرتے دیکھ کر آپؐ کی پیروی اور تاسی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ماں باپ کے اکیلے بیٹے ہیں اور بہنوں اور بھائیوں کے تعاون و تناصر سے محروم ہیں تو حضرت عبد اللہؒ کے اکلوتے بیٹے کو دیکھ کر اشک شوئی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ باپ ہیں تو حضرت زینبؓ، رقیہؓ، ام کلثومؓ، قاسمؓ اور ابراہیمؓ کے شفیق و مہربان باپ کو ملاحظہ کر کے پدرانہ شفقت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ تاجر ہیں تو حضرت خدیجہؓ کے تجارتی کاروبار میں آپ کو دیانتدارانہ سعی کرتے ہوئے معائنہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ عابد شب خیز ہیں تو اسوۂ حسنہ کے مالک کے متورم قدموں کو دیکھ کر اور ’’افلا یکون عبداً شکورا‘‘ فرماتے ہوئے آپؐ کی اطاعت کا ذریعۂ قُربِ خداوندی اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مسافر ہیں تو خیبر و تبوک وغیرہ کے مسافر کے حالات پڑھ کر طمانیت قلب کا وافر سامان مہیا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ امام اور قاضی ہیں تو مسجدِ نبوی کے بلند رتبہ امام اور فصلِ خصومات کے بے باک اور منصفِ مدنی کو بلا امتیاز قریب و بعید اور بغیر تفریقِ قوی و ضعیف فیصلہ صادر فرماتے ہوئے مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ قوم کے خطیب ہیں تو خطیبِ اعظم کو منبر پر جلوہ افروز ہو کر بلیغ اور مؤثر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے غافل قوم کو ’’انا نذیر العریان‘‘ فرما کر بیدار کرتے ہوئے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
الغرض زندگی کا کوئی قابلِ قدر اور مستحقِ توجہ پہلو اور گوشہ ایسا باقی نہیں رہ جاتا جس میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم اور قابلِ اقتدا زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ، عمدہ ترین اسوہ، اور اعلیٰ ترین معیار نہ بنتی ہو۔
مسجد کا احترام اور اس کے آداب
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ مشرکینِ مکہ نے عبادت کے کئی خودساختہ طریقے ایجاد کر رکھے تھے جو بذاتِ خود آدابِ مسجد کے خلاف تھے۔ مثلاً ان کے دل میں شیطان نے یہ بات ڈال دی تھی کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں، ان کپڑوں کے ساتھ ہم بیت اللہ جیسے پاک مقام کا طواف کیسے کر سکتے ہیں؟ چنانچہ جن لوگوں کو قریشِ مکہ اپنے کپڑے عاریتاً دے دیتے تھے وہ ان کپڑوں کے ساتھ طواف کر لیتے تھے، اور باقی حاجیوں کی غالب اکثریت اپنے کپڑوں میں طواف کرنے کی بجائے بالکل برہنہ طواف کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ چنانچہ مرد دن کے وقت بیت اللہ کا طواف کرتے اور عورتیں رات کے وقت۔ وہ بدبخت اس شنیع فعل کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے کہتے تھے کہ ہم اس کے حکم سے ایسا کرتے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے ان اللہ لا یامر بالفحشاء یعنی اللہ تعالیٰ تو اس بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ ایسے عمل کو اللہ تعالیٰ یا شریعت کی طرف منسوب کرنا تو بہت بڑی زیادتی کی بات ہے۔
آدابِ مسجد
مفسرینِ کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب خود حضور علیہ السلام یا آپ کا کوئی صحابیؓ بیت اللہ شریف کے پاس نماز کے لیے کھڑا ہوتا تو مشرک لوگ دخل اندازی کے لیے سیٹی بجانا شروع کر دیتے تھے جو کہ نہایت ہی بے ادبی اور گستاخی کی بات تھی۔ مسجدوں کے آداب کے متعلق سورۃ نور میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ اللہ تعالیٰ نے تو مساجد کو اللہ کا نام بلند رکھنے اور ان میں اس کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ مگر یہ لوگ وہاں سیٹی بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو وہاں پر عبادت سے روک سکیں۔
جب بیت اللہ شریف کی عمارت حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں تکمیل کو پہنچی تو اللہ نے اپنے دونوں انبیاء سے وعدہ لیا ان طھرا بیتی للطائفین والعاکفین والرکع السجود (البقرہ) وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں، اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں گے۔ اس حکم میں ظاہری طہارت بھی آتی ہے کہ اللہ کا گھر ظاہری نجاست سے بالکل پاک صاف ہو، اور باطنی طہارت بھی کہ وہاں پر کفر، شرک، بے ادبی اور گستاخی کی کوئی بات نہ ہو۔ حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ اپنے گھر میں بھی جو جگہ نماز کے لیے متعین کی جائے وہ بھی مسجد کا حکم رکھتی ہے اور اس کو بھی پاک صاف رکھنا ضروری ہے۔
صحاح ستہ میں یہ حدیث موجود ہے کہ ایک شخص نے مسجد کے صحن میں پیشاب کر دیا، حضور علیہ السلام کے صحابہؓ اسے مارنے کے لیے دوڑے مگر آپ نے اس پر زیادتی کرنے سے منع فرمایا۔ پھر اس شخص کو اپنے پاس بلا کر بات سمجھائی کہ اللہ کے گھر اس لیے نہیں ہوتے کہ یہاں گندگی پھینکی جائے، یہ مقام تو اللہ کی عبادت، نماز اور ذکر کے لیے ہوتے ہیں۔ آپ نے بڑی نرمی سے سمجھایا پھر مسجد کو صاف کرایا۔
غرضیکہ مسجد میں تالیاں بجانا، سیٹی مارنا، دوڑنا، گندگی پھیلانا، سب آداب کے خلاف ہیں۔ اسی طرح پتنگ اڑانا، لڑائی جھگڑا کرنا، سامان بیچنا اور گمشدگی کا اعلان کرنا بھی خلافِ ادب ہے۔ حتٰی کہ مسجد میں ہتھیار برہنہ کرنے اور حدود جاری کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ مسجد کا ادب اور خاص طور پر بیت اللہ شریف کا ادب ہمیشہ ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے۔
اللہ نے فرمایا کہ مشرکین کی نماز یہ ہے کہ بیت اللہ کے نزدیک سیٹی اور تالیاں بجائیں۔ حضرت سعید ابن جبیرؓ فرماتے ہیں کہ تصدیہ سے مراد وہ آواز ہے جو ہاتھ پاؤں مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے تالیاں بجانے سے منع فرمایا ہے۔ اور صد کا معنی روکنا بھی ہوتا ہے۔ ۶ھ میں مشرکینِ مکہ نے عمرہ کے لیے آنے والے مسلمانوں کو مکہ سے باہر ہی روک دیا تھا اور شہر میں داخل نہیں ہونے دیا تھا۔ اسی طرح مکاء کا معنی منہ میں انگلی ڈال کر آواز نکالنا یا بنی بنائی سیٹی بجانا ہے۔ مکاء اس پرندے کو بھی کہتے ہیں جو سیٹی کی سی آواز نکالتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین نے اسباب تو ایسے جمع کر رکھے ہیں کہ یہ فوری سزا کے مستحق ہیں مگر دو وجوہات سے ان پر عذاب رکا ہوا ہے: جب تک حضور علیہ السلام مکے میں موجود رہے اور جب تک مشرکین استغفار کرتے رہے ان کی سزا رکی رہی۔ پھر جب حضور علیہ السلام ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو صرف ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے مقام پر ان پر عذاب نازل فرمایا اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے انہیں ذلیل و خوار کیا۔ کفار کے ستر سرکردہ آدمی قتل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے جنہیں فدیہ لے کر چھوڑا گیا۔ اللہ نے فرمایا فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون اب سزا کا مزا چکھو جو کہ تمہارے کفر کا بدلہ ہے۔
سیکولرازم، عالمِ اسلام اور پاکستان
بریگیڈیر (ر) شمس الحق قاضی
پاکستان کے لیے سیکولرازم کی حمایت کرتے ہوئے ایئرمارشل اصغر خان نے حالیہ اخباری بیان میں فرمایا ہے کہ پاکستان کے نام سے اسلام کو نکال دینا چاہیے تاکہ یہاں پر مکمل سیکولر معاشرہ قائم ہو سکے۔ واضح رہے کہ ماضی میں صدر ایوب خان نے بھی یہی ارادہ کیا تھا لیکن پھر ۱۹۶۵ء کی جنگ شروع کرتے ہوئے آپ کو کلمہ طیبہ کا ہی سہارا لینا پڑا تھا۔ چنانچہ حال ہی میں نوائے وقت کے ایک فاضل کالم نگار نے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر اصغر خان بھی اسلام پسند ہیں اور اسی لیے آپ نے بھٹو کی ترغیب کے باوجود صرف اس لیے پیپلز پارٹی میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا کہ پارٹی کے بنیادی اصولوں میں سوشلزم کو اسلام پر فوقیت دی گئی تھی۔
ہم نے اصغر خان کی استقلال پارٹی میں تقریباً دس سالہ شمولیت کے دوران مشاہدہ کیا ہے کہ جناب اصغر خان بڑی خوبیوں کے مالک ہیں، اور آپ کی بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ دوسرے کا نقطۂ نظر بڑے صبر و تحمل سے سنتے ہیں اور بلکہ بعض اوقات قبول بھی کر لیتے ہیں، اور دوسری طرف اپنا نقطۂ نظر صاف صاف بیان کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ سیاست اقتدار تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے، اس لیے آج کل اکثر سیاستدان مقصد کے حصول کے لیے اپنے نقطۂ نظر میں خاص لچک رکھتے ہیں۔ بہت سارے واقعات میں سے صرف دو مثالیں قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کی جاتی ہیں:
جنرل ضیاء الحق کے کئی ایک فرضی میں سے ایک کی تیاری کے لیے یہاں ہماری ہمسائیگی میں رفیع بٹ کے گجرات ہاؤس میں تحریک استقلال کی انتخابی میٹنگ کے دوران ایئر مارشل کی ہدایت پر محمود علی قصوری نے بھٹو والے آخری الیکشن کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام پسندوں کے مقابلہ میں اسلام مخالف ووٹ بہت زیادہ تھے۔ اس پر اصغر خان نے فرمایا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ الیکشن جیتنے کے لیے ہمیں سیکولرازم سے کام لینا ہو گا۔ بلکہ اس طرح ہمیں سارے اقلیتی ووٹ بھی مل جائیں گے۔ واضح رہے کہ اس زمانہ میں بھٹو نے مخلوط انتخاب رائج کر رکھا تھا۔ بہرحال کچھ مندوبین نے بیان کیا کہ اقلیتی ووٹ تو پیپلز پارٹی کے سکہ بند ووٹ ہیں اس لیے ہمیں ان سے زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اسی دوران سیکولرازم کے حق میں نئی پارٹی لائن سے ناراض ہو کر علامہ احسان الٰہی ظہیر نے استقلال پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا۔ چند دنوں بعد پارٹی کے بانی سیکرٹری جنرل رضوی سے کرنل تصدق کے گھر میں ملاقات ہوئی تو آپ نے تجویز پیش کی کہ نئی پارٹی لائن کے خلاف اسلام پسند فارورڈ بلاک قائم کیا جائے۔ میں نے کہا کہ ہمیں فوجی ڈسپلن نے سکھایا ہے کہ کمانڈر سے اختلاف کی صورت میں بغاوت کی بجائے استعفٰی دے دینا چاہیے، لیکن ہم نے استعفٰی دیا تو پارٹی پر سیکولر گروپ مکمل قبضہ کر لے گا، اس لیے بہتر ہو گا کہ ہم لوگ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے لادینیت کا مقابلہ کریں۔
دوسرا واقعہ یوں ہوا کہ جب روس کو افغانستان میں زبردست ناکامیوں کا سامنا تھا تو پاکستان میں جہادِ افغانستان کی حمایت کم کرنے کے لیے روس کو پاکستانی سیاستدانوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ وہ لوگ اصغر خان کو کابل لے گئے۔ واپس آنے پر آپ نے پریس کانفرنس بلائی۔ راقم اور نوجوان صحافی ظفر حجازی پہلی صف میں بیٹھے تھے۔ اپنے خطاب میں ایئر مارشل نے فرمایا کہ کابل میں بالکل امن و امان ہے، وہاں افغانستان میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ میں نے خود کابل کی جامع مسجد میں نہایت سکون سے نمازِ جمعہ ادا کی ہے، اور یہ صرف حکومتِ پاکستان ہے جس نے یہاں پاکستان کے اخباروں میں جعلی جنگی جنون برپا کر رکھا ہے۔ اس پر ایک یورپی صحافی نے پوچھا کہ ایئرمارشل اگر آپ کا کہنا صحیح ہے تو پھر پچاس لاکھ افغان مہاجرین آپ نے کیوں پاکستانی کیمپوں میں قید کر رکھے ہیں۔ اصغر خان نے اس کا جواب نہیں دیا۔
بہرحال اب ۱۲ اکتوبر کے انقلاب کے بعد کے کچھ حالات و واقعات کی وجہ سے بعض حلقوں کو دوبارہ امید ہو گئی ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں اب وہ سیکولرازم کے راستہ سے امریکہ کو خوش کر کے اقتدار تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہاں پر ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے، اس لیے کہ سیکولرازم کے حامی حلقوں کا خیال ہے کہ اس طرح ہم ملک کو مالی ترقی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔
یہاں پر ہمارا بنیادی اختلاف یہ ہے کہ پاکستان کے مطالبہ میں اسلامی معاشرہ قائم کرنے کی آرزو کی گئی تھی، اور اسلامی معاشرہ میں زندگی کی دوسری آسائشیں بھی حاصل ہو جائیں، جیسا کہ ماضی میں ہوا، تو یہ اللہ کی مزید نعمت ہو گی۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک صحابیؓ نے مکان میں روشندان بناتے ہوئے عرض کیا کہ اس کا مقصد مکان کو روشنی اور ہوا مہیا کرنا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یوں کہتے کہ اذان سننے کے لیے روشندان رکھ رہا ہوں تو اس نیت کا تمہیں ثواب مل جاتا، اور ہوا اور روشنی تو رک نہیں سکتی تھی پھر بھی مہیا رہتی۔
یہاں پر بعض لوگ قائد اعظم کی ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء والی تقریر میں اقلیتوں کو تحفظ دینے والے حصہ سے ثابت کرتے ہیں کہ قائد اعظم بھی سیکولرازم کے حامی تھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض لوگ علامہ اقبال کے سارے کلام کے سیاق و سباق بلکہ علامہ کی ساری زندگی کو ایک طرف رکھ کر ان کے ’’خوشہ گندم‘‘ والے شعر سے ثابت کرتے ہیں کہ علامہ اقبال اصل میں کمیونسٹ تھے۔ راقم نے تحریک پاکستان کے اہم ترین آخری تین سال دلی میں گزارے ہیں۔ مسلم لیگ کے چوٹی کے لیڈروں کو قریب سے دیکھا ہے۔ قائد اعظم سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ہمیں اس میں ذرا برابر بھی شک نہیں کہ تحریکِ پاکستان کا مقصد پاکستان میں دنیا بھر کی رہنمائی کے لیے ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرنا تھا۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ایک مختصر سا واقعہ بیان کرتا ہوں۔
میجر ڈاکٹر محمود احمد دلی میں شیر شاہ روڈ آفیسرز میس میں میرے ہمسایہ تھے۔ آپ علی گڑھ میں فلسفہ پڑھا رہے تھے، وہیں سے فوج کے ایجوکیشن محکمہ میں بھرتی ہو گئے۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی اور بیروت یونیورسٹیوں میں فلسفہ کے پروفیسر رہے۔ آپ اسلام کے شیدائی اور صوفی منش تھے۔ ایک روز فرمایا، قاضی! آپ کے مسلم لیگ ہائی کمان کے ساتھ روابط ہیں، میں یقین کرنا چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ والے واقعی پاکستان میں اسلامی معاشرہ قائم کریں گے۔ میں ان کو سوجان سنگھ پارک میں ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کے پاس لے گیا۔ الطاف حسین نے بتایا کہ قائد اعظم تواتر سے یہی فرما رہے ہیں کہ پاکستان میں قرآن و سنت پر مبنی معاشرہ قائم کیا جائے گا، مگر میجر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر پاکستان نہ بنا تو کیا پنڈت نہرو آپ کے لیے ہندوستان میں شریعت نافذ کر دے گا۔ ارے یار پاکستان بننے تو دو۔ کچھ کمی کاہلی دیکھی تو تم خود وہاں اسلام نافذ کر لینا۔ یعنی پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہو گا کہ وہاں ایسی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے جو پاکستان کے بنیادی مقاصد کی تکمیل میں مخلص ہو۔
سیکولرازم کے حامیوں سے ہمارا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مذہبی وابستگی ترقی کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں بنتی۔ اسرائیل کی مثال ہم ایک سابقہ مضمون میں دے چکے ہیں۔ آج ہم امریکہ کی ایک مثال دیں گے۔
۱۹۵۵ء میں امریکہ قیام کے دوران ہم نے ایک امریکی دوست سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کا امریکہ تو مادی ترقی کی معراج پر ہے جبکہ آپ کی ہمسائیگی میں چند ہی قدم دور گرینڈی دریا کے اس پار میکسیکو پاکستان سے بھی زیادہ پسماندہ ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ جنوبی امریکہ کا کیتھولک مذہب ان کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ میں نے حیرت سے جواب دیا کہ فرانس بھی تو کیتھولک ہے مگر امریکہ کے برابر ترقی یافتہ ہے، جبکہ اس کی ہمسائیگی میں کیتھولک ہسپانیہ میکسیکو ہی کی طرح پسماندہ ہے۔ تو امریکی دوست سوچ میں پڑ گیا اور بولا واقعی یہ مذہبی وابستگی نہیں بلکہ کاہلی اور اخلاقی پستی ہے جو معاشرہ کو پسماندہ رکھتی ہے۔
اب ہم قارئین کی دلچسپی کے لیے نہ صرف برصغیر میں بلکہ عالمِ اسلام میں مادی ترقی کے نام پر سیکولرازم کی دراندازی کا جائزہ لیتے ہیں۔
زمانہ حال میں سب سے پہلے حضرت خواجہ حسن نظامیؒ کا ۱۹۱۱ء کا سفرنامہ شام و حجاز میں سیکولرازم کی دراندازی کا دلچسپ پس منظر بیان کرتا ہے۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ بیت المقدس میں ان کو شیخِ حرم ابراہیم حسن اور دوسرے عرب زعماء نے بڑے دکھ کے ساتھ بتایا کہ ہم عرب لوگ سلطان عبد الحمید ثانی سے بے پناہ محبت کرتے تھے کیونکہ سلطان اتحاد بین المسلمین کا حامی تھا، اور بالخصوص فلسطین میں یورپی اور یہودی اثر و رسوخ کا شدید مخالف تھا، اور اس لیے اسلام دشمنوں نے نوجوان ترک افسروں سے بغاوت کرا کے ۲۸ اپریل ۱۹۰۹ء میں سلطان کو معزول کر کے ملک بدر کرا دیا۔ واضح رہے کہ اس بغاوت کے بعد نوجوان باغی افسروں کے لیے Young Turks کی اصطلاح کو انگریزی زبان میں شامل کر دیا گیا۔
بہرحال شیخِ حرم نے سلطان کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سلطان نے شام و حجاز ریلوے کا منصوبہ بنایا تو بغیر قرضہ لیے محض عالمِ اسلام کی امداد اور حجاز ریلوے اسمپ جاری کر کے منصوبہ مکمل کر لیا۔ اور اس طرح ستمبر ۱۹۰۰ء میں شروع کر کے ۱۹۰۸ء مدینہ منورہ تک ریلوے سروس جاری کر دی۔ اور خود خواجہ حسن نظامی نے ۱۹۱۱ء میں اس ریلوے پر مدینہ منورہ تک سفر کیا۔ بعد میں ینگ ترکس کی پارٹی انجمن اتحاد و ترقی، جو کہ ترک نسل پرستی اور سیکولرازم کی داعی تھی، نے نئی پارلیمنٹ قائم کی جس کو عرب زعماء عربوں کی مخالف سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس دوران ۱۰ جولائی ۱۹۱۱ء کو القدس میں انجمن اتحاد و ترقی کا اجلاس بلایا گیا جس کا مقصد غلط فہمیاں دور کر کے ترکوں اور عربوں کے درمیان صلح کرانا تھا۔ خواجہ حسن نظامی کو بھی خاص آبزرور کے طور پر شامل کیا گیا۔ وہاں استنبول سے ۳۰۰ مندوبین آئے لیکن ان میں سے چند ایک مسلمانوں کو چھوڑ کر سب نصرانی اور یہودی تھے، اس لیے عرب نمائندوں نے شمولیت سے انکار کر دیا۔ جس کی وجہ سے اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا اور اس طرح ترکوں اور عربوں میں مزید ناراضگی پیدا ہوئی۔
بہرحال یہ تو تھے ۱۹۱۱ء کے حالات و واقعات جبکہ ترکی میں سیکولرازم کا پودا نیا نیا کاشت ہوا تھا۔ اسی دوران ۱۹۱۴ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو فرانس اور برطانیہ نے شام و فلسطین پر حملہ کر دیا اور اس طرح سیکولرازم کو برگ و بار نکالنے کا موقع فراہم ہو گیا۔
اس کے بعد ایک دوسری دلچسپ اور عجیب کہانی شروع ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ ۱۹۷۳ء میں میرے پاس ایک کیپٹن ریٹائرڈ الطاف حسین ملازمت کی تلاش میں آئے اور اپنی قابلیت اور تجربہ کے ثبوت میں اپنا کتابچہ ’’اسلام اور جاسوسی نظام‘‘ پیش کیا۔ یہ کتابچہ اس وقت میرے سامنے ہے، پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نام ’’اسلام کے خلاف جاسوسی نظام‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ مؤلف نے بتایا کہ پہلی جنگِ عظیم میں وہ ۶ النسر رسالہ میں سپاہی بھرتی تھا، وہیں سے انٹیلی جنس ٹریننگ کے بعد جاسوسی کے کام پر مامور ہوا، اور اس کا دعوٰی ہے کہ فرانس کے گاؤں Fritville میں اس نے مشہورِ عالم جاسوس عورت ماتاہری کو گرفتار کرایا۔ بعد میں ان کی یونٹ کے کپتان بارلے اور کپتان لارنس جو کہ عربی زبان اور کلچر کے ماہر تھے، شام و حجاز میں جاسوسی اور تخریب کاری پر مامور ہوئے، تو پنجابی مسلمانوں کا جو فوجی دستہ ان کو دیا گیا اس میں مؤلف بھی شامل تھا اور اس طرح اس نے لارنس کے سارے آپریشنز میں حصہ لیا۔ واضح رہے کہ یہ کیپٹن لارنس بعد میں کرنل لارنس آف عریبیا مشہور ہوا۔
مؤلف کا بیان ہے کہ لارنس نے اپنے فوجی دستہ اور ینگ ترکس کی انجمن اتحاد و ترقی کے ستائے ہوئے عربوں کو ساتھ ملا کر حجاز ریلوے کو تخریب کاری کے ذریعے سے جگہ جگہ سے ناکارہ بنا دیا تھا۔ اسی دوران دیہات میں بدوؤں کے درمیان لارنس کو کئی اسلامی ناموں سے شیخ المشائخ اور ایک بڑی روحانی ہستی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ بہرحال لارنس نے حجاز ریلوے کو تباہ کر کے سلطان عبد الحمید ثانی کی دس سالہ محنتِ شاقہ کو خاک میں ملا دیا اور پھر آج تک یہ ریلوے سروس بحال نہیں کی جا سکی۔
مؤلف کا بیان ہے کہ کیپٹن بارلے کو سفارتکاری کے ذریعے عرب زعماء کو ترکوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا کام دیا گیا تھا۔ چنانچہ جب ۱۹۱۴ء میں حکومتِ برطانیہ کے دباؤ کے باوجود شریفِ مکہ نے انگریزوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تو یہ کام کیپٹن بارلے کے سپرد ہوا۔ ۱۹۱۶ء میں کیپٹن بارلے کی قیادت میں لارنس کے دستہ کے دو مسلمان صوبیداروں کے وفد نے بھاری رقم اور عراق سے شام تک سارے عرب علاقہ کی بادشاہی کی تحریری ضمانت پر شریفِ مکہ سے ترکوں کے خلاف بغاوت کرا دی۔ چنانچہ لارنس کے دستوں نے شریفِ مکہ کے بدوؤں کو لے کر مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا لیکن ترک گریژن کمانڈر سے منہ کی کھائی اور اس طرح اختتامِ جنگ تک مدینہ منورہ کفار کے ناپاک قدموں سے محفوظ رہا۔ دوسری طرف مدینہ منورہ میں ناکامی کے بعد شریف کے بدوؤں اور کرنل لارنس کے ۳۲ عدد پنجابی مسلمان مشین گن دستہ نے، جن میں مؤلف بھی شامل تھا، مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے شہر پر قبضہ کر لیا۔
یہاں پر راقم نے مؤلف سے پوچھا کہ یہ کہاں تک سچ ہے کہ اس آپریشن میں پنجابی مسلمان فوجیوں نے کعبۃ اللہ پر گولیاں چلائی تھیں؟ تو مؤلف نے بتایا کہ یہ غلط ہے، البتہ کعبۃ اللہ کے اطراف شہر میں فائرنگ ہوتی رہی۔ مجھے اس بیان پر شک نہیں ہوا کیونکہ مؤلف تو میرے سامنے تندرست و توانا بیٹھا تھا جبکہ شریف مکہ کے خاندان کو اس بے حرمتی پر اللہ تعالیٰ نے عبرتناک سزا دی۔ وہ خود تو سعودیوں سے شکست کھا کر جلاوطنی کی موت قبرص میں مرا، ایک بیٹا عراق میں حادثہ کا شکار ہوا، دوسرے کو بغداد ہی میں عبد الکریم قاسم نے خاندان سمیت قتل کیا، اور تیسرا اردن کا شاہ عبد اللہ بیت المقدس میں قتل ہوا۔ اب اس شریفِ مکہ کی باقیات میں صرف نوجوان عبد اللہ بچا ہے جو آج کل اردن کا بادشاہ ہے۔
بہرحال مؤلف کا بیان ہے کہ اس کے بعد کرنل لارنس نے پیر کرم شاہ کے نام سے افغانستان میں شاہ امان اللہ کے خلاف بغاوت کرائی۔ جبکہ آفیشل ریکارڈ کے مطابق جنگ کے بعد شہرت سے تنگ آ کر کرنل لارنس کی درخواست پر اسے کراچی میں ایئرفورس میں Ross کے نام سے سپاہی بھرتی کر لیا گیا۔ بعد میں وہ Shaw کے ذومعنی نام سے کراچی ہی میں آرمی میں شامل ہو گیا جس کی وجہ سے آج کل پاکستان کے اخباروں میں آیا ہے کہ نیلام گھر والے طارق عزیز کے مطابق کرنل لارنس نے شاہ کے نام سے نیڈوز ہوٹل لاہور کے مالک کی بیٹی مس نیڈو سے شادی کی تھی جس سے فاروق عبد اللہ پیدا ہوا۔ مس نیڈو بعد میں سری نگر میں اکبر جہاں کے نام سے شیخ عبد اللہ کی بیوی بنی، اور حال ہی میں سری نگر میں ۸۴ سال کی عمر میں فوت ہوئی۔ تاریخی لحاظ سے نیڈو عرف اکبر جہاں کی شادی کرنل لارنس سے ممکن ہے، کیونکہ کرنل ایڈورڈ تھامس لارنس عرف Shaw یا شاہ ۱۹۳۵ء میں کراچی موٹر سائیکل حادثہ میں مرا۔ اس وقت اس کی عمر ۴۷ سال اور مس نیڈو کی عمر ۱۹ سال تھی۔ دوسری طرف علم الانساب کے ماہرین کی رائے میں فاروق عبد اللہ کی شکل شیخ عبد اللہ سے بالکل نہیں ملتی، جبکہ وہ کرنل لارنس کی صحیح کاربن کاپی یا ماڈرن اصطلاح میں ہوبہو ’’کلون‘‘ لگتا ہے۔
اب ہم ترکی میں سیکولر راج کی ’’برکتوں‘‘ کی طرف آتے ہیں۔ جنگِ عظیم میں ترکوں کی شکست کی وجہ سے خلافتِ اسلامیہ خطرہ میں پڑ گئی تو برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کو بچانے کے لیے ایک ہمہ گیر تحریک شروع کی جس کی عام مقبولیت کو دیکھ کر اسلام دشمن ہندو لیڈر مسٹر گاندھی، پنڈت مدن موہن مالویہ، اور بدنام زمانہ سوامی شردھانند بھی خلافت موومنٹ میں شامل ہو گئے۔ دوسری طرف جب تحریک اپنے عروج پر پہنچی تو اچانک ہی مصطفٰی کمال نے خلیفہ عبد المجید کو معزول کرتے ہوئے خلافتِ اسلامیہ کو ختم کر دیا اور اس کی جگہ سیکولر حکومت قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ہم ان ’’اصلاحات‘‘ کا مختصر سا ذکر کریں گے جن کو مصطفٰی کمال نے سیکولرازم کے نام سے ترکی میں نافذ کیا اور جن کو یہاں پاکستان میں ایوب خان، بھٹو اور اب اصغر خان نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ سیکولرازم نافذ کرنے کے لیے مصطفٰی کمال نے جو سیاسی پارٹی قائم کی تھی اس کا نام بھی پیپلز پارٹی (خلق فرقہ سی) ہی رکھا تھا۔ اب ہم ان ’’اصلاحات کو نمبروار بیان کرتے ہیں:
- ترکی قوم کی ترقی کے لیے یورپی تہذیب اپنائی جائے۔
- نئے جمہوری آئین میں جہاں اسلام کو ترکی کا سرکاری مذہب قرار دیا ہے اس سے یہ شق اب خارج کر دی گئی۔
- دینی مدرسے بند کر دیے گئے۔
- عام سکولوں میں مذہبی تعلیم کی ممانعت کر دی۔
- اسلامی قوانین منسوخ کر کے نئے رومن طرز کے قوانین نافذ کر دیے۔
- عورتوں کے لیے اسلامی پردہ کی ممانعت کر دی گئی۔
- حکومت کے لیے لازمی کر دیا کہ عورتوں مردوں کے مشترکہ کلبوں اور اجتماعات کی ترغیب دے۔
- سب لوگوں کو یورپی لباس پہننے اور سر ننگا رکھنے کی ہدایت کر دی گئی۔
- فیض ٹوپی (نوابزادہ نصر اللہ والی) پہننا ممنوع قرار دیا۔
- بزرگوں کے مزاروں پر حاضری ممنوع قرار دی۔
- تکیوں اور صوفیانہ حلقوں کو بند کر کے پیری مریدی کو ممنوع قرار دیا۔
- کسی نماز، تہوار، عید وغیرہ قومی رسم پر مخصوص لباس پہننا ممنوع قرار دیا۔
- ہجری کیلنڈر منسوخ کر کے اکیلے عیسوی کیلنڈر کو نافذ کیا۔
- جمعہ کی بجائے اتوار کی چھٹی رائج کی۔
- قرآن مجید، اذان، نماز صرف ترکی زبان میں پڑھنے کا حکم دیا۔
- تاریخِ اسلام میں ترکوں کے مقام کو کم کرنے کے لیے ترکی قوم کی نئی تاریخ لکھنے کا حکم دیا، اور ہدایت دی کہ سلطان عثمان سے شروع کرنے کی بجائے قدیم زمانہ سے شروع کر کے عثمانی دور کی اہمیت کو کم کیا جائے۔
- قومی ترقی کے لیے بیرونی قرضہ کو لازمی اور بے ضرر قرار دیا۔
- رسم الخط کو عربی سے رومن حروف میں نافذ کر دیا۔
تمام بین الاقوامی مبصرین متفق ہیں کہ مصطفٰی کمال کی نام نہاد اصلاحات میں سب سے زیادہ نقصان رسم الخط کی تبدیلی نے دیا کیونکہ اس طرح ساری قوم کو اپنے تاریخی اور کلچرل ورثہ سے محروم کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ ایوب خان بھی رسم الخط کو رومن حروف میں تبدیل کرنے کے لیے بڑی سنجیدگی سے سوچ رہے تھے لیکن ان کی حکومت زیادہ دیر وفا نہ کر سکی۔ قارئین کو علم ہو گا کہ ان نام نہاد اصلاحات کے نتیجہ میں مصطفٰی کمال نے حج پر پابندی لگا دی تھی جو کہ بعد میں عدنان میندرس کی حکومت کے دوران اٹھائی گئی۔ استنبول میں چند ایک مسجدوں کو چھوڑ کر باقی سب پر تالہ بندی کر دی تھی۔ اور سب سے بڑی جامعہ آیا صوفیہ کو اور بزرگوں کے اہم مزاروں کو، جن میں قونیہ شریف میں حضرت مولانا رومؒ اور ان کے مرشد شمس تبریزؒ کے مزار بھی شامل تھے، ان کو عجائب گھر بنا دیا تھا۔ اور یہ تمام نام نہاد سیکولرازم کی اصلاحات قومی ترقی کے نام پر نافذ کی گئی تھیں۔
آج کل بے نظیر اور اصغر خان بھی قومی ترقی ہی کے نام پر پاکستان میں سیکولرازم نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ جاپان اور چین کے علاوہ مشرقی ایشیا کے بہت سارے ممالک نے اپنی زبان، کلچر اور تاریخ کو سینے سے لگائے ہوئے بھی ترقی کے میدان میں یورپ کو جا لیا ہے۔ تو پھر ہم ذرا غور سے دیکھتے ہیں کہ ۱۹۲۴ء میں خلافتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے بعد مصطفٰی کمال کے سیکولرازم نے ترکی کو کیا ترقی دی ہے۔
راقم کو ۱۹۶۹ء میں ترکی کا تفصیلی دورہ کرنے کا موقع ملا جبکہ سیکولرازم انقلاب کی تقریباً نصف صدی گزر چکی تھی۔ مجھے وہاں کوئی قابل ذکر ترقی نظر نہیں آئی۔ کوئی قابل ذکر صنعتی شہر یا کوئی بڑا انڈسٹریل کمپلیکس نظر نہیں آیا۔ بڑی بڑی گرینڈ ٹرنک سڑکیں بھی Dirt Road یعنی کچی تھیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ روس ۱۹۱۷ء کے انقلاب کے صرف پچیس سال بعد اتنا ترقی کر چکا تھا کہ اس نے اپنے ہی ملک میں تیار کردہ جہازوں، ٹینکوں اور توپوں سے جرمنی جیسے سپر صنعتی ملک کو عبرتناک شکست دی تھی۔ البتہ جس بات نے مجھے بہت متاثر کیا وہ ترکوں کی ہم پاکستانیوں سے بے پناہ محبت و عقیدت تھی۔ سرحد شام پر پہلی چوکی اور بستی کا نام اتفاق سے ریحانہ تھا جو کہ صدر ایوب خان کے آبائی گاؤں کا نام بھی ہے۔ کسٹم حکام نے پاکستانی پاسپورٹ دیکھتے ہی ہمیں بغیر چیکنگ جانے دیا۔ دیہات، شہر اور بازار جہاں بھی ہم گئے لوگ بڑی محبت سے پیش آئے۔ وجہ یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں حملہ آور برطانوی فوج کے بہت سارے ہندوستانی مسلمان فوجی بھاگ کر ترکوں سے مل گئے تھے اور کئی ایک دہلی میں بھی گئے ہیں۔ پھر برصغیر کے مسلمانوں نے ترکی کو امدادی چندہ دیا، میڈیکل مشن بھیجے اور آخر میں خلافتِ اسلامیہ کے تحفظ کے لیے ہمہ گیر تحریک چلائی۔ تو ان سب کی وجہ سے ترک عوام پاکستانیوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ مصطفٰی کمال کا سیکولرازم ترکوں کے دل سے اسلام کے لیے محبت مٹا نہیں سکا اور اب بھی سیکولرازم صرف حکومتی ایوانوں میں پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں ایک خاتون ممبر اسمبلی کو سر ڈھانپنے کے جرم پر اسمبلی سے نکال دیا گیا تھا۔ اور پھر چند ماہ بی بی سی نے بتایا کہ ترکی فوج میں اسلامی نظریہ کی بیخ کنی پروگرام کے تحت ۵۹ افسروں کو محض صوم و صلاۃ کا پابند ہونے کے جرم میں فوج سے نکال دیا گیا۔ واضح رہے کہ ترک عوام کے دل ہمیشہ کی طرح اب بھی اسلام کے لیے دھڑکتے ہیں اور اسی لیے ترک عوام مصطفٰی کمال سے ایک گونہ نفرت محسوس کرتے ہیں۔ مثلاً ایک گاؤں کے دیہہ خدا نے ہمیں بتایا کہ مصطفٰی کمال نے بس یہی کمال کیا کہ ہماری عورتوں کو بے پردہ و نیم لباس کر دیا۔ اتاترک کے مزار پر ٹورسٹ گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ یہ مسلمان نہیں تھا اس لیے اسے کعبہ رو نہیں دفنایا گیا۔ واللہ اعلم، کیونکہ ہمیں وہاں سمتوں کا ادراک نہیں تھا۔
قونیہ شریف میں حضرت مولانا رومؒ کے مزار کا عجائب گھر ابھی کھلا نہیں تھا اس لیے ہم وقتی طور پر سامنے ٹورسٹ آفس چلے گئے۔ مینیجر کی کرسی کے سامنے اتاترک کی تصویر آویزاں تھی جیسے ہمارے ہاں دفتروں میں قائد اعظم کی تصویر سجانے کا رواج ہے۔ مینیجر بطور خاص ہمیں تصویر کے قریب لے گیا اور کہا ’’ہذا کافر‘‘ یعنی یہ شخص کافر تھا۔ ہم نے ۱۹۶۹ء میں جو کچھ دیکھا وہ من و عن قارئین کے سامنے پیش کر دیا ہے، اگر کسی نے بعد کے دور میں ترکی کا مختلف روپ دیکھا ہو تو اپنے تاثرات قارئین کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مصطفٰی کمال کا سیکولرازم ترک عوام کے دلوں سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے محبت نہیں نکال سکا، اور دوسری طرف اپنے ملک میں کوئی نمایاں مادی ترقی بھی نہیں لا سکا۔ ۱۹۶۹ء میں بلکہ اب بھی پاکستان کی طرح لاکھوں کی تعداد میں مزدور برآمد کر کے روٹی پانی چلا رہا ہے۔ یورپی تہذیب و تمدن کو اپنانے کی کوشش کے باوجود یورپی اقوام یا حالیہ یورپی یونین میں ترکی کے لیے برابری کی سطح پر قبولیت حاصل نہیں کی جا سکی۔ دوسری طرف خلافتِ اسلامیہ کو ختم کر کے ترکی نے عالمِ اسلام میں اپنی مرکزیت اور لیڈرشپ کو خود ہی کھو دیا، بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کو ایک محترم و مکرم مرکز سے محروم کر کے اتنا بے اثر کر دیا ہے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی ہونے کے باوجود آج مسلمان اقوامِ متحدہ میں ایک سکیورٹی کونسل سیٹ نہیں حاصل کر سکتے ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
(بہ شکریہ نوائے وقت)
دیرپا ترقی، فطرت کے ساتھ ساتھ
شہزادہ چارلس
گزشتہ ۴۰ برس سے بی بی سی اپنے ڈائریکٹر ریٹھ (ـJohn Reith) کی یاد میں اہم موضوعات پر ریٹھ لیکچر کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سال دیرپا ترقی (Sustained Development) کے موضوع پر چھ خطبے دیے گئے۔ پانچ نامور سائنسدانوں کے بعد آخری خطبہ پرنس چارلس نے دیا، اس کی اہمیت کے پیش نظر ہم اس کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔ (ادارہ)
دنیا بھر میں لاکھوں سننے والوں کی مانند میں بھی ’’دیرپا ترقی‘‘ کے بارے میں پانچ انتہائی ممتاز مقررین کی امیدوں، خدشات اور خیالات سے مستفید ہوا ہوں۔ یہ سب خیالات ان مقررین نے اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں پیش کیے ہیں۔ پانچوں تقاریر انتہائی خیال انگیز اور سوچ و فکر کی دنیا کے لیے چیلنج کا درجہ رکھتی ہیں۔ کسی نے زیربحث موضوع کے ایک پہلو پر زیادہ زور دیا اور کسی نے دوسرے پر، تاہم ان کے مابین کئی ایک امور پر اتفاقِ رائے بھی موجود ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دیرپا ترقی، بلند مقاصد کی خاطر ذاتی مفاد کا معاملہ ہے۔ دو مقررین نے تو اظہار خیال کے دوران اس اصطلاح کو استعمال کیا، جب کہ میں نہیں سمجھتا کہ بقیہ تین کو اس سے کوئی اختلاف تھا، خود میں بھی اس خیال کے ساتھ متفق ہوں۔
ذاتی مفاد ہم سب کے اندر ایک طاقتور جذبے اور محرک کے طور پر کارفرما رہتا ہے۔ اگر ہم کسی طرح اپنے آپ کو اس بات پر قائل کر لیں کہ دیرپا ترقی ہمارے اپنے مفاد میں ہے تو ہم اس کے حصول کی جانب پہلا اہم قدم اٹھا لیں گے۔ لیکن ذاتی مفاد کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ باہم متقابل صورتوں میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ سب صحیح منزل کی جانب لے جانے والی بھی ہوں، نہ ان سب میں یہ امکان پایا جاتا ہے کہ آنے والی کئی نسلوں کی کئی جہتوں پر مشتمل ضروریات اور تقاضوں سے پوری طرح عہدہ برآ ہو سکیں۔ لہٰذا مجھے یقین ہے کہ دیرپا ترقی کی طویل شاہراہ پر گامزن رہنے کے لیے ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے، ان سے صحیح معنوں میں نمٹنے کے جذبے کو اپنے اندر بیدار کرنے کے لیے کسی تاخیر کے بغیر زیادہ گہرائی میں اتر کر ایک اخلاقی نصب العین کو اختیار کرنا ہو گا۔ اگرچہ اس دور میں انسانی زندگی کی روحانی جہتوں کے بارے میں بات کرنا فیشن کے بہت زیادہ خلاف ہو گیا ہے، لیکن آج میں یہی کرنا چاہتا ہوں۔
یہ تصور کہ بنی نوع انسان اور خالقِ کائنات کے مابین روزِ اول سے ایک مقدس عہد چلا آ رہا ہے، جس کے تحت ہم انسانوں کو روئے ارض پر قیادت کے مقام پر فائز کیا گیا ہے، تاریخ کے ہر دور میں بیش تر مذاہب اور روحانی افکار کا اہم باب رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی، جن کے عقائد میں خالق کا کوئی وجود نہیں ملتا، اخلاقی اور روحانی بنیادوں پر یہی موقف اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ تو تھوڑے عرصے کی بات ہے کہ سائنسی عقلیات کے دھارے نے اس رہنما اصول کو اٹھا کر دور پھینک دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمیں دیرپا ترقی واقعی حاصل کرنا ہے تو پہلے عالمِ فطرت کے ساتھ، اور ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں روحانیت کے احساس کی بازیافت کرنا ہو گی، اور اس کی اہمیت کو دوبارہ تسلیم کرنا ہو گا۔ اگر ہم ان باتوں کو ضعیف الاعتقادی پر مبنی، یا خلافِ عقل قرار دینے کی روش پر قائم رہیں گے، اور اپنے لیے مقدس نہیں جانیں گے، تو پھر اس کائنات کی ہمارے لیے اس سے زیادہ کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ حیاتِ انسانی کے لیے امکانی طور پر دیرپا اور تباہ کن نتائج سے بھرپور ایک بہت بڑی تجربہ گاہ ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ روحانیت کے صحیح ادراک سے ہمیں یہ تسلیم کرنے میں مدد ملے گی کہ عالمِ فطرت کے اندر پایا جانے والا حسنِ توازن، نظم، اور ہم آہنگی، سب مل کر ہمارے عزائم کو ان حدود سے آشنا کرتے ہیں جن کے اندر رہتے ہوئے دیرپا ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہا جا سکتا ہے۔ چند معاملات ایسے ہیں جن میں سائنسی عقلیات کی سطح پر بھی حدود و فطرت سے آگاہ ہوا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر
- ہم جانتے ہیں کہ دامنِ کوہ پر یکدم بہت زیادہ بھیڑوں کو گھاس چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دینا، آخر کار بھیڑوں اور دامنِ کوہ میں سے کسی ایک یا دونوں کے لیے معکوس نتائج کا باعث ہو سکتا ہے۔
- یا جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جراثیم کش اور اینٹی بائیوٹک ادویات کی کثرتِ استعمال سے قوتِ مدافعت کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
- اب تو ہمیں کرہ ارض کی فضاؤں میں ضرورت سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کے مکمل اور ہولناک نتائج کا شعور بھی حاصل ہونا شروع ہو گیا ہے۔
تاہم وہ اقدامات جو حدودِ فطرت کی پامالی سے جنم لینے والے نقصانات کے تدارک کے لیے کیے جا رہے ہیں، دیرپا نتائج کے حصول کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود ابھی تک بہت سے حلقے یہ رائے رکھتے ہیں کہ چونکہ پودوں اور جانوروں میں مصنوعی طریقوں کے ساتھ حیاتیاتی تبدیلیاں لانے کے نقصانات ٹھوس سائنسی سطح پر سامنے نہیں آئے لہٰذا ایسے کاموں کو جاری رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
اس طرح کے اور ایسے ہی امکانی طور پر دیگر نقصان دہ حالات میں محتاط روش اختیار کرنے کو بے پناہ عوامی حمایت حاصل ہے، لیکن حکومتی سطح پر مخالفت کا سامنا ہے۔ شاید اس لیے کہ ایسے کسی امکان کو تسلیم کر لینا کمزوری کی علامت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی خواہش تصور کیا جائے گا۔ اس کے برعکس مجھے اس بات کا یقین ہے کہ بظاہر یہ ہماری داخلی قوت اور عقل و بصیرت کا مظہر ہو گا۔
بظاہر اس امر کی سائنسی شہادت کے باوجود کہ ہم اپنے ماحولیات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ہم صورتحال کی اصلاح کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر رہے، لیکن جب ہمارے پاس ایسی کوئی شہادت بھی نہ ہو تو ظاہر ہے خطرات کی موجودگی کے باوجود ہم سے کچھ نہ ہو پائے گا۔ اس طرزعمل کی ایک وجہ یہ غالب رجحان بھی ہے جو حیاتِ انسانی سمیت پورے عالمِ فطرت کو ایک میکانکی عمل سے زیادہ کا درجہ نہیں دیتا ہے۔ اگرچہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں فطری الٰہیات کے ماہرین مثلاً تھامس مارگن نے عالمِ فطرت کے کامل اتحاد، نظم، بصیرت اور ڈیزائن کی جانب توجہ دلائی تھی، لیکن برٹرینڈرسل جیسے سائنسدانوں نے اس پورے تصور ہی کو نامعقول کہہ کر مسترد کر دیا۔ رسل نے لکھا:
’’میرے خیال میں یہ کائنات منتشر اجزا کا مجموعہ ہے جن میں بغیر کسی تسلسل، ہم آہنگی یا نظم کے اتھل پتھل جاری ہے۔‘‘
سر جولین ہکسلے نے Creation - A Modern Synthesis میں لکھا ہے:
’’جدید سائنس کو نظریۂ تخلیق یا خدائی رہنمائی کو مسترد کر دینا چاہیے۔‘‘
لیکن آخر کیوں؟ جیسا کہ برسٹل یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن لٹن نے تحریر کیا ہے:
’’نظریۂ ارتقاء انسانی ذہن کا وضع کردہ وہ تصور ہے جس میں کرہ ارض پر زندگی کے وجود میں آنے اور تسلسل کے ساتھ قائم رہنے کے عمل کی توجیہ کسی خالق کے بغیر پیش کی گئی ہے۔‘‘
کائنات میں کسی رہنما ہستی کو تسلیم کرنے سے ہمارا انکار یا اس میں کوتاہی کی وجہ سے عالمِ فطرت ہمارے لیے ایسا نظام ہو گیا ہے جس میں سہولت کی خاطر تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں، یا ایک ایسی جھنجھٹ ہے جس سے بچنے کے لیے تدابیر کی جائیں، اور جس میں رونما ہونے والے واقعات کا رخ ٹیکنالوجی اور انسانی علم کی مدد سے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں۔
فرٹز شمچر نے اس نقطۂ نظر میں پنہاں خطرات کا ادراک کر کے ہی یہ کہا تھا کہ:
’’سائنس دو طرح کی ہے: ایک تصرفات کی سائنس اور دوسری فہم و آگہی کی سائنس۔‘‘
ٹیکنالوجی کے اس عہد میں ہم اس حقیقت کو بڑی آسانی کے ساتھ فراموش کر چکے ہیں کہ بنی نوع انسان عالمِ فطرت کا حصہ ہے نہ کہ اس سے الگ کوئی چیز۔ اسی لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کریں وہ جوہرِ فطرت (Gain of Nature) کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ جیسا کہ ماہر اقتصادیات ہرمن ڈلی نے نشاندہی کی ہے کہ عالمِ فطرت ہی وہ ماحول ہے جو معیشت کو حدود میں رکھتا ہے، اسے برقرار رکھتا ہے اور اس کی ضروریات پورا کرتا ہے، نہ کہ اس کے مخالف۔
ان میں سے آپ کے نزدیک کون سی دلیل غالب رہے گی؟ ایک زندہ واحد دنیا، یا ایسی دنیا جو منتشر اجزا سے محض اتفاقاً وجود میں آ گئی ہے، اور اسی وجہ سے ترقی کے نام پر اس کا رخ جدھر چاہے موڑ دیا جائے تو وہ جائز ہو گا۔ میرے نزدیک اس سوال پر دیرپا ترقی کا حقیقی انحصار ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم ازسرنو اپنے اندر عالمِ فطرت کے لیے احترام کے جذبات پیدا کریں، قطع نظر اس سے کہ یہ ہمیں فائدہ مند نظر آتا ہے یا نہیں۔ فلپ شیراڈ کے الفاظ میں
’’ہمیں خدا، انسان اور کائنات کے درمیان باہمی تعلق کے بارے میں زیادہ آگاہ ہونا چاہیے۔‘‘
سب سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمیں اس دانائی اور حکمت کا پورا احترام و لحاظ کرنا چاہیے جو عالمِ فطرت کے سارے نظام کے پس پردہ کارفرما ہے اور جو لاکھوں سال کے تجربات کی بھٹی میں کندن بنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم فطرت کے عمل کو سمجھنے کے لیے سائنس کا استعمال احتیاط سے کریں، نہ یہ کہ فطرت ہی کو بدل کر رکھ دیں، جیسا کہ جنیاتی انجینئری کے ذریعے حیاتیاتی ارتقا کے عمل کو ایک نیا روپ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ نظریہ کہ کائنات کے مختلف اجزا ضبط و توازن کے ایک پیچیدہ نظام کے ذریعے منسلک ہیں، بڑی آسانی سے یہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے کہ اب یہ غیر متعلقہ بات ہے۔ خواہ اس نظام میں بگاڑ پیدا کر کے ہم خود کو خطرے میں ڈالتے ہوں۔ چنانچہ اس عہد میں جب ہمیں یہ سبق دیا جاتا ہے کہ سائنس کے پاس ہر چیز کا جواب موجود ہے، تو جوہرِ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلنے کا بھلا کیا امکان ہے؟ جوہرِ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کی ایک مثال میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ جنیاتی انجینئری کے ذریعے فصلوں کو ترقی دینے کے لیے جو سرمایہ لگایا جا رہا ہے، اگر اس کا معمولی سا حصہ بھی زراعت کے اس روایتی نظام کو سمجھنے اور اسے مفید بنانے پر صرف کیا جائے جو آج تک وقت کی اہم تر آزمائش پر پورا اترتا ہے، تو کہیں زیادہ بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس بات کی تو بہت زیادہ شہادتیں سامنے آ چکی ہیں کہ متنوع فصلوں کی کاشت میں زیادہ علم اور کم کیمیائی مرکبات کے استعمال سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب حقیقی طور پر قابل عمل طریقے ہیں، اگرچہ یہ ان طریقوں سے دور ہیں جو اس کلچر پر مبنی ہیں جس میں بڑے پیمانے پر تجارتی استحصال کو روا رکھا جا رہا ہے۔
ہمارے ممتاز ترین سائنس دانوں کو اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہماری دنیا میں بہت کچھ ہے جو ہم ابھی نہیں جانتے۔ ہمیں ایسی بہت سی مخلوقات کے بارے میں بھی علم نہیں جو اسی کائنات میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ جیسا کہ برطانیہ کے شاہی ماہر فلکیات سر مارٹن ریس کا کہنا ہے کہ:
’’اشیا کی پیچیدگی، نہ کہ ان کا سائز، انہیں سمجھنے میں مشکلات پیدا کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بات ایسی مثال سے سمجھائی ہے جسے صرف ایک ماہر فلکیات ہی پیش کر سکتا ہے۔ سر مارٹن کا کہنا ہے کہ:
’’ایک تتلی سے آگہی حاصل کرنا نظامِ کائنات کو سمجھنے سے زیادہ بڑا حوصلہ شکن علمی چیلنج ہے۔‘‘
دوسرے سائنس دانوں نے، مثلاً ریچل کارسن نے بڑی وضاحت سے ہمیں یاد دلایا:
’’ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ گھاس کا ایک پتا کس طرح بنائیں؟‘‘
جب کہ سینٹ ماتھیو نے یہ اپنی بصیرت کی بنا پر کہا تھا:
’’سلیمان بھی اپنی تمام تر جاہ و حشمت کے ساتھ میدانوں میں کھلنے والے گل سوسن کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔‘‘
جب اتنی نامعلوم باتوں کا سامنا ہو تو نظامِ فطرت میں اپنے مقام کے بارے میں عجز، تحیر اور رعب کا احساس نہ ہونا مشکل ہے۔ یہ احساس قلبِ انسانی کی اس دانش سے جنم لیتا ہے جو ہم کو بعض وقت ۔۔۔ بتاتی ہے کہ ہم زندگی کے اسرار میں گرفتار ہیں، اور ضروری نہیں کہ ہر سوال کا جواب پا لیں۔ پھر شاید اس کی ضرورت بھی نہیں کہ ہر سوال کا جواب ہمیں لازماً ملے۔ قبل اس کے کہ ہم تعین کریں کہ خاص خاص حالات میں ہمیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
اس حقیقت کو سترہویں صدی میں بلیس پاسکل نے یوں بیان کیا تھا:
’’یہ انسانی قلب ہے جو وجودِ خداوندی سے آشنائی کے تجربے سے گزرتا ہے نہ کہ عقل‘‘۔
تو کیا آپ کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم میں سے ہر ایک کے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں وہ وجدانی آگہی پائی جاتی ہے جس سے، اگر ہم اسے اجازت دیں، یہ قابلِ اعتماد رہنمائی ملے گی کہ ہماری سرگرمیاں کرہ ارض اور ضروریاتِ حیات کے طویل المیعاد مفاد میں ہیں یا نہیں؟ یہ آگہی، یہ قلب کی دانش، چاہے پتوں کی سرسراہٹ کی طرح دور دراز سر کی مدھم یاد سے زیادہ نہ ہو، لیکن ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ ہماری یہ زمین بڑی منفرد ہے اور اس کی دیکھ بھال ہمارا فرض ہے۔ دانش، ہمدردی اور رحم دلی ایسے اوصاف ہیں جن کا تجرباتی دنیا میں کوئی مقام نہیں۔ تاہم روایتی بصیرت یہ سوال ضرور اٹھاتی ہے۔ کیا ان اوصاف کو اپنائے بغیر ہم واقعی انسان ہیں؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ سقراط سے جب دانش کی تعریف کرنے کو کہا گیا تو اس نے اپنا نتیجۂ فکر یہ پیش کیا:
’’جب آپ کو اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے کہ آپ کچھ نہیں جانتے۔‘‘
میرے یہ کہنے کا کہ دیرپا ترقی کے حصول کے لیے ہمیں دل سے اٹھنے والی عقلِ سلیم کی جانب زیادہ متوجہ ہونا چاہیے، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سائنسی تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات ہمارے لیے بنیادی اہمیت نہیں رکھتیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ میرے نزدیک تو ضرورت اس بات کی ہے کہ قلب سے اٹھنے والی فطری بصیرت اور سائنسی تجزیے پر مبنی عقلی بصیرت میں توازن پیدا کیا جائے۔ ان دونوں میں سے اگر ایک کو نظرانداز کر کے محض دوسری پر انحصار کیا گیا تو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ لہٰذا اپنے قلب و ذہن اور فطرت کے وجدانی اور عقلی، دونوں حصوں کو یکجا کر کے ہی اس مقدس عہد کا حق ادا کر سکیں گے جو خالقِ کائنات یا رب (Sustainer) نے (جیسا کہ عہدِ قدیم میں خالق کو کہا جاتا تھا) ہمیں ودیعت کیا ہے۔ جیسا کہ گرو ہارلم برنڈٹ لینڈ نے ہمیں توجہ دلائی کہ دیرپا ترقی کا تعلق محض عالمِ فطرت کے ساتھ نہیں بلکہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ اس اصول کا اطلاق ہر طرح صورتحال پر ہوتا ہے، خواہ ہم ان لاتعداد لوگوں پر نظر دوڑائیں جنہیں مناسب غذا اور صاف پانی میسر نہیں، یا وہ جو غربت زدہ ہیں اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ عالمگیریت اپنے جلو میں فوائد لے کر آئی ہے لیکن خطرات بھی لائی ہے۔ سر جان براؤن نے اپنے ’’نظریہ مربوط معیشت‘‘ یعنی ایسی معیشت جو اس سماجی اور ماحولیاتی حوالے کو تسلیم کرتی ہے جس کے اندر وہ روبہ عمل ہوتی ہے۔۔۔میں جس انکسار اور انسانیت کا اظہار کیا ہے، اس کے باوجود، یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ غریب ترین اور کمزور ترین عناصر ترقی سے نہ صرف بہت کم فائدہ اٹھائیں گے بلکہ اس سے بھی بدتر صورت حال سے دوچار ہو جائیں گے۔ یعنی اپنے روزگار اور کلچر دونوں سے محروم ہو جائیں گے۔
لہٰذا اگر ہم دیرپا ترقی کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آگے کی جانب بڑھنے کے لیے قدم اٹھائیں تو تاریخ کے سبق اہم ہو جاتے ہیں۔ بلاشبہ ایک ایسے عہد میں جب اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت تک کسی بھی شے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جب تک اس پر ’’ماڈرن‘‘ ہونے کی مہر نہ لگی ہو، ماضی کے سبق کا تذکرہ کرنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیا یہ سبق ایک ایسے عہد میں سیکھے اور سکھائے جا سکتے ہیں جب علم کا اس طرح کا ذخیرہ منتقل کرنا ’’ترقی‘‘ کی راہ میں اکثر رکاوٹ گردانا جاتا ہے؟
اس میں شک نہیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم میں ہمارے حاشیہ خیال سے بھی زیادہ مہارت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن کیا ان کے اندر وہ بصیرت اور ضبطِ نفس بھی پیدا ہو گا جو اس مہارت کو، ہماری کامیابیوں اور ناکامیوں سے سبق حاصل کر کے، حکمت کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ نسلیں اس وقت تک اس سے محروم رہیں گی جب تک زیادہ کوشش کے ساتھ تعلیم کے لیے وہ نقطۂ نظر وضع نہیں کر لیا جاتا جس میں وجدان اور تعقل کا توازن پایا جاتا ہو۔ اس کے بغیر دیرپا ترقی کا خواب پریشان ہو کر رہ جائے گا۔ یہ محض ایسا بے معنی کھوکھلا منتر ہو جائے گا جسے مریضانہ طور پر بار بار پڑھا جائے تاکہ ہم اپنی حالت بہتر محسوس کریں۔
یقیناً ہماری سب سے بڑی ضرورت لوگوں کو تعلیم دینے میں ایسے توازن کو پیدا کرنا ہے جس میں ماضی کی عملی اور وجدانی بصیرت کو آج کی ٹیکنالوجی اور علوم کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کر دیا جائے کہ ایسی تعلیم کو حاصل کرنے والا انسان مرئی اور غیر مرئی دونوں دنیاؤں کے شعور سے فیضیاب ہو جائے، اور اس کی آگہی پورے کون و مکان کو اپنے احاطہ علم میں لینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو۔
مستقبل میں ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اس حقیقت سے آشنا ہوں کہ
- دیرپا ترقی محض ٹیکنالوجی کے مناسب اطلاق کا نام نہیں ہے۔
- نہ اس چیز کا نام دیرپا ترقی ہے کہ انسانوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا جائے۔
- اور نہ اس کو ترقی کہا جا سکتا ہے کہ حیاتیاتی انجینئری کے ذریعے عالمِ فطرت کو عالمگیر صنعتی ضروریات کے تحت بدلا جائے۔
- بلکہ کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم عالمِ فطرت کے ساتھ دوبارہ منسلک ہو جائیں اور اس کی دیکھ بھال کا وہ گہرا فہم حاصل کریں جس کا طویل المیعاد بنیادوں پر ہمارا قائدانہ کردار تقاضا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے وسیع تر ماحول کو تباہی سے بچانے کے لیے ہمیں سیکولرازم اور روایتی مذہب کے درمیان تخریبی شگاف پر پل تعمیر کرنا ہو گا۔ اور اس کے لیے مادی اور روحانی دنیاؤں کی ایسی وحدت اور نظم کو دوبارہ دریافت کرنا ہو گا جیسا مربوط طب کی نامیاتی زراعت میں یا کسی عمارت کی تعمیر میں ہوتا ہے۔ میں وہ دن نہیں دیکھنا چاہتا جب ہمارے پوتے پوتیاں اور نواسے اٹھ کر ہم سے یہ سوال کریں کہ ہم نے اپنے قلوب کی بصیرت اور عقلی تجزیے کی دانش کی آواز کو کیوں نہیں سنا؟ ہم نے زندگی کے تنوع اور روایتی انسانی آبادیوں کے تحفظ پر زیادہ توجہ کیوں نہ دی؟ یا خلق کی رہنمائی کے حوالے سے اپنے کردار کے بارے میں زیادہ کھل کر کیوں نہیں سوچا؟ حیاتِ انسانی کے بارے میں محتاط رویے کو اختیار کرنے یا اس کے اندر توازن حاصل کرنے کا کوئی شوقیہ متبادل نہیں۔ اگر دیرپا ترقی کا حصول مقصود ہے تو واحد راہِ عمل یہی ہے۔
(بہ شکریہ ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور)
تھامس مورگن Thomas Morgan
سر جولین ہکسلے Sir Julian Huxley
فرٹز شمچر Firtz Schamacher
ہرمن ڈلی Herman Daly
فلپ شیراڈ Philip Sherrad
مارٹن ریس Martin Rees
ریچل کارسن Rachel Carson
سینٹ ماتھیو Saint Matthew
بلیس پاسکل Blaise Pascal
گرو ہارلم برنڈٹ لینڈ Gro Harlem Brundtland
سر جان براؤن Sir John brown
پانی کا متوقع عالمی بحران اور استعماری منصوبے
منو بھائی
یہ عالمی بینک کی پیشین گوئی نہیں دعوٰی ہے کہ آئندہ عالمگیر جنگ پانی کے تنازع پر ہو گی اور اگر خدانخواستہ اس میں ایٹمی اسلحہ استعمال ہوا تو یہ آخری انسانی جنگ بھی ثابت ہو سکتی ہے کہ جس کو یاد رکھنے والا بھی کوئی نہیں بچے گا۔
میرے فرخ سہیل گوئندی جیسے مہربانوں اور ای میلوں اور ویب سائٹوں کے سراغ رسانوں کے فراہم کردہ حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ کرہ ارض نہایت تیزی سے زندگی کے سب سے بڑے وسیلے یعنی تازہ پانی سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ مگر یہ پانی پیاسے انسانوں اور جانداروں کی پیاس نہیں بجھا رہا۔ انسانی مصیبتوں پر پلنے والے عالمی سرمایہ داری نظام کی بھوک مٹانے کے کام آ رہا ہے، اور ساتھ ہی بھوک بھڑکانے کا سامان بھی پیدا کر رہا ہے۔ اس نظام کی کوکھ سے جنم لینے والی ملٹی نیشنل کارپوریشنیں یہ سوچ سوچ کر خوش ہو رہی ہیں کہ وہ وقت کچھ زیادہ دور نہیں ہو گا جب پینے کا پانی تیل سے بھی زیادہ قیمتی ہو جائے گا۔ اور دریاؤں، جھیلوں، ندیوں اور نالوں کی نج کاری ہو جائے گی اور انہیں محض ملٹی نیشنل کمپنیاں ہی خرید سکیں گی۔ اور پھر ضرورتمند ملکوں کے ہاتھ منہ مانگے داموں فروخت کریں گی اور لوگ دو گھونٹ پانی کے عوض اپنا سب کچھ لٹانے پر تیار ہوں گے۔ چنانچہ انہوں نے ابھی سے اس کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جن کا آگے چل کر ذکر آئے گا۔
یہ مفروضہ بالکل غلط ہے کہ دنیا میں پانی کے بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ درحقیقت دنیا بھر کے آبی وسائل کا ایک فیصد حصے کا نصف تازہ پانی ہے جو انسانی استعمال میں آ سکتا ہے۔ باقی پانی سمندروں کی تحویل میں، قطبین کے برف زاروں کے قبضے میں، اور کوہستانی گلیشیروں کی قید میں ہے۔ استعمال شدہ پانی کی تجدید اور حیاتِ نو صرف بارشوں کی مرہونِ منت ہے۔ مگر پانی کے استعمال کی رفتار اس کی تجدید کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے۔ خاص طور پر پانی کے صنعتی استعمال کے بعد اس کے استعمال میں ہر بیس سال کے بعد دوگنا اضافہ ہو رہا ہے جو انسانی آبادی میں اضافے کی رفتار سے دوچند ہے۔
تازہ ترین معلومات کے مطابق اس زمین پر موجود نوے فیصد تازہ پانی گلوبل انڈسٹری، ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور زرعی صنعتوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خام مال فراہم کرنے والی مشینی کاشت میں استعمال ہو رہا ہے، اور صرف ۱۰ فیصد تازہ پانی انسانی استعمال میں آ رہا ہے۔ دنیا کے چھ ارب انسانوں میں سے ایک ارب بدنصیبوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ ۶۵ فیصد تازہ پانی صرف مشینی کاشت پی جاتی ہے جو چھوٹی، خودکفیل، روایتی زراعت کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پانی استعمال کرتی ہے۔ ۲۵ فیصد تازہ پانی ہائی ٹیک اور کمپیوٹر انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے، کیونکہ سلیکان چپس کی تیاری میں بے پناہ صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جتنا تازہ پانی سلیکان چپس کو پلایا جاتا ہے اتنا اس کرہ ارض پر بسنے والے چھ ارب انسانوں کو نہیں ملتا۔
کچھ عرصہ پہلے یہی باتیں بائیں بازو کے دانشوروں کے قلم سے نکل کر سامراجی حلقوں کو تکلیف پہنچاتی تھیں مگر اب وہی باتیں خود سامراجی یونیورسٹیوں کے پروفیسر لکھ رہے ہیں کہ جو صنعتی کثافت گلوبل وارمنگ کی صورت میں دنیا میں تباہی مچا رہی ہے وہی ہوسِ زر کرہ ارض کا پانی بھی نچوڑ رہی ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ پانی کو صنعتی جنس بنانے والے صنعتی ممالک آئندہ ۲۵ سالوں میں پانی کے صنعتی استعمال میں دوگنا اضافہ کر دیں گے، جبکہ دنیا کی دو تہائی آبادی پیاس کی شدت سے تڑپ رہی ہو گی۔ اور اقوامِ غالب کی ملٹی نیشنل کارپوریشنیں دنیا بھر کے آبی وسائل کو کمرشلائز کرنے کے لیے ان پر قبضہ کر چکی ہوں گی، اور انسانی مصائب کے ذریعے کھربوں ڈالر کمانے کا سوچ رہی ہوں گی۔ جیسے کہ انہوں نے تیل کے بحران کے دنوں میں تیل استعمال کرنے کے علاوہ اس کی کمائی کو بھی استعمال کی اور اب بھی کر رہی ہیں۔
امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی محض سستی لیبر کی تلاش میں ہندوستان اور دیگر ایشیائی ملکوں کا رخ کر رہی ہے تاکہ اپنے منافعوں کی شرح برقرار رکھ سکے۔ اب اس کی کارپوریشنیں ایشیا کی ہائی ٹیک انڈسٹریز اور سلیکان ویلی کو پانی فراہم کرنے کا ٹھیکہ لینے کا پروگرام بھی بنا رہی ہیں، کہ جیسے اور جہاں سے بھی کچھ نچوڑا جا سکتا ہے نچوڑ لیا جائے۔
چنانچہ بہت جلد چشم زمانہ کو یہ منظر دیکھنے کو ملے گا کہ شمالی امریکہ کی جھیلوں کا پانی بحر الکاہل سے ایک بہت بڑے سپر ٹینک کی صورت میں گزر رہا ہو گا اور اس کے پیچھے ایک بہت بڑے غبارے میں جھیلوں کا پانی بھرا ہوا ہو گا، جو ایشیا میں سلیکان چپس کی تیاری میں استعمال ہونے جا رہا ہو گا، اور اس قدر مہنگا ہو گا کہ کمپیوٹر فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور خرید کر نہیں پی سکیں گے اور اپنے خشک ہوتے ہوئے جوہڑوں سے رجوع کریں گے۔ یہ باتیں مضحکہ خیز لگتی ہیں نا! مگر ان باتوں سے عالمی سرمایہ داری نظام کی ہوس زر جھلکتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس نظام کے یہی ادارے اس کی موت کو اور زیادہ قریب لا رہے ہیں۔
امریکنائزیشن عرف گلوبلائزیشن کے خلاف میرے بعض کالم پڑھ کر بائیں بازو کے اکثر سابق انقلابی اور حال ’’این جی او آئز‘‘ دوست یہ پھبتی کستے ہیں کہ اس میدانِ عرفات میں شیطان کو کنکریاں مارنے والے تم تنہا رہ گئے ہو۔ مگر میرے خیال میں میرے ان انقلابی دوستوں نے ماسکو اور بیجنگ کو قبلہ بنا کر جو حماقت فرمائی تھی ویسی ہی غلطی انہوں نے یہ کی ہے کہ انقلابی سے اصلاحی بننے کے لیے بہت ہی غلط وقت چنا ہے۔ کیونکہ جیسے ایک خاص حد عبور کر جانے والے گناہ گاروں کے لیے توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، ویسے ہی تباہی کے کنارے پہنچ جانے والوں کے لیے اصلاح کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ اور مغربی سامراجی نظام بھی اب وہاں پہنچ چکا ہے، اور ثبوت اس کا یہ ہے کہ ہماری این جی اوز کے ڈونرز مغربی صنعتی ملکوں کے اپنے دانشوروں نے بھی وہی کچھ کہنا اور لکھنا شروع کر دیا ہے جو ساٹھ کی دہائی میں بائیں بازو کے دانشور لکھ کر زیرعتاب آ جاتے تھے۔
یہ میں نہیں کہہ رہا خود مغربی دانشور کہہ رہے ہیں کہ مغربی صنعتی ملکوں نے گلوبلائزیشن کی آڑ میں دنیا بھر کی منڈیوں پر قبضہ جمانے کے لیے اپنی پیداواری قوت کو حد سے زیادہ بڑھاتے ہوئے کرہ ارض کو جس ظالمانہ طریقے سے کاربن ڈآئی آکسائیڈ میں لپیٹ کر گلوبل وارمنگ کے جہنم میں دھکیل دیا ہے، اور پھر مشینی کاشت، مصنوعی کھاد، کیڑے مار دوائیوں کے زہر سے گرم زرعی ملکوں کی زرخیز زمینوں کو جس بے دردی سے بانجھ بنایا، اسی ہوسناک طریقے سے پینے کے صاف اور تازہ پانی کو صنعتی استعمال میں لا کر کرہ ارض پر زندگی اور ہریالی کے مستقبل کو اور بھی زیادہ تاریک کر دیا ہے۔
دائیں بازو کے مغربی دانشور اور پروفیسر حضرات اب یہ بھی لکھتے ہیں کہ گزشتہ صدی میں دریاؤں کے بند باندھنے، ڈیم تعمیر کرنے اور نہریں کھودنے کے ذریعے پانی کے قدرتی وسائل کو بری طرح متاثر کیا گیا ہے۔ اور اب ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ، گلوبل انڈسٹریز اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں تازہ پانی کے بے دریغ استعمال نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام اور سامراجیت کے اتصال سے پیدا ہونے والی اور گلوبلائزیشن کے گہوارے میں پلنے والی ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے آئندہ ارادے عالمی سطح پر آبی وسائل پر قبضہ کرنے، ان کی اجارہ داریاں قائم کرنے، انہیں کرشلائز کرنے، اور ایک ملک کا پانی دوسرے ملکوں میں بیچنے اور اس کے ذریعے کھربوں ڈالر کمانے کے ہیں، اور ان کے ان ارادوں پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن WTO جو کہ UNO جیسا امریکہ کا بغل بچہ ہے، پانی جیسی قدرتی نعمت کو صنعتی ملکوں کی دولت میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرتے ہوئے پانی کو صنعتی اور تجارتی جنس قرار دے چکا ہے۔ چنانچہ اب اگر پاکستان کی حکومت چاہے تو غیر ملکی قرضے ادا کرنے کے لیے ’’نیسلے‘‘ کے ہاتھ دریائے سندھ بھی فروخت کر سکتی ہے۔ کس کے بعد ’’واپڈا‘‘ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقار علی خان کو کالاباغ ڈیم کے لیے پانی مذکورہ ملٹی نیشنل کارپوریشن سے خریدنا پڑے گا، یا پھر بارانِ رحمت کی امید میں آسمان کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ کسی ملٹی نیشنل کارپوریشن نے بادلوں کا سودا نہ کر لیا ہو، اور بادلوں کو حرکت میں لانے والی ہواؤں پر اجارہ داری قائم نہ کر لی ہو۔ اندیشہ ہے کہ اس وقت تک کوئی کارپوریشن سورج کی دھوپ پر بھی قبضہ کر چکی ہو گی۔ چنانچہ پوری دنیا بھٹہ مزدوروں سے لے کر ’’پاسکو‘‘ تک اور وزارتِ خوراک و زراعت سے واپڈا تک سب آسمانوں کی بجائے ان کارپوریشنوں کا منہ دیکھنے پر مجبور ہو گی، جن کے بارے میں قرآن پاک میں آیا ہے کہ وہ زمین پر خدا بن بیٹھے اور اپنے انجام کو آواز دی۔
اوپر بتایا جا چکا ہے کہ دنیا بھر کے موجودہ آبی وسائل کے ایک فیصد حصے کا آدھا پانی انسانی استعمال کے قابل ہے۔ اس نصف فیصد صاف پانی اور تازہ پانی میں سے نوے فیصد دنیا کی بڑی صنعتوں اور مشینی کاشت میں استعمال ہوتا ہے، اور صرف دس فیصد دنیا کے پانچ ارب انسانوں کے کام آتا ہے، جبکہ ایک ارب لوگوں کو پینے کا صاف پانی نصیب نہیں ہوتا۔ اس وقت سپرپاور کے اپنے پانی کی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کے دریاؤں کا صرف دو فیصد پانی وہاں کے ۶۳۷۵ ڈیموں سے باہر رہ گیا ہے۔ سعودی عرب میں پینے کا جو پانی رہ گیا ہے وہ صرف پچاس سالوں کے لیے ہے۔ ۴۰۱۰ ڈیموں کے ملک ہندوستان میں لوگوں کو پینے کا پانی ان کی ۲۵ فیصد کمائی خرچ کرنے کے عوض ملتا ہے۔ اس وقت جنگل کی آگ کی زد میں آئے ہوئے امریکہ کی پچاس فیصد جھیلیں خشک ہو چکی ہیں۔ میکسیکو کے دریاؤں کا سارا پانی مشینی کاشت اور صنعتی پیاس بجھاتا ہے، اور بچے کوکاکولا اور پیپسی پر گزارہ کرتے ہیں۔ زیرزمین پانی کے بہت زیادہ خارج ہو جانے کی وجہ سے بنکاک کا شہر زمین میں دھنس رہا ہے۔ انگلستان کے دریاؤں کی گہرائی ایک تہائی رہ گئی ہے۔
مغرب کے دائیں بازو کے دانشور تو یہی کہہ سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تسلیم کرو کہ پانی تمام مخلوق کی زندگی ہے۔ کرہ ارض کے تمام قدرتی وسائل اس پر بسنے والوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ قدرت کی نعمتوں کو دولت کمانے والی جنس نہیں بنایا جا سکتا۔ پانی، ہوا، بادل، دھوپ، چاندنی پر کسی کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی۔ منڈی کی معیشت سے زیادہ اہم ضرورت کی معیشت ہے، مگر مغربی دانشور یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کے ان مطالبات پر کون غور کرے گا اور ان سے یہ بھی کوئی نہیں پوچھے گا کہ کیا یہی وہ باتیں نہیں تھیں جو کارل مارکس نے پچھلی صدی کے ایسے ہی موسم میں کہی تھیں اور ان پر عملدرآمد کا طریقہ بھی بتایا تھا کہ لوگوں کے مطالبات بھیک کی صورت میں نہیں مانے جاتے۔
(بہ شکریہ جنگ)
عالمی منظر نامہ
ادارہ
جنوبی افریقہ نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کر دی
پریٹوریا (کے پی آئی) جنوبی افریقہ نے فلسطینی مملکت کے اعلان کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر یاسر عرفات کے منصوبے کی حمایت کر دی ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدر تھابو نے جمعرات کے روز یہاں یاسر عرفات سے ملاقات میں کہا کہ اب فلسطین کی آزادی کے اقدام کی حمایت کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ مسٹر عرفات نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن کا سمجھوتہ ہو یا نہ ہو، انہیں تیرہ ستمبر کو فلسطینی مملکت کا اعلان کرنے کا حق حاصل ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدر نے یاسر عرفات کو یقین دلایا ہے کہ میرا ملک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے گا۔ یاسر عرفات نے مسٹر منڈیلا سے بھی ملاقات کی۔ منڈیلا نے کہا کہ گزشتہ سال اسرائیلی حکومت نے امن کی تجویز مسترد کر دی تھی جو میں نے پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مصر، فرانس، امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب کے رہنماؤں کو ٹیلی فون کریں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ قیامِ امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مربوط کوشش کریں۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۴ اگست ۲۰۰۰ء)
کسوو کے جنگی مجرم
مترویشیا (اے این این) کوسووا کے سنگین جنگی جرائم میں ملوث تین سرب باشندے اقوامِ متحدہ کی تحویل سے فرار ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق ان تینوں ملزمان کو اقوام متحدہ کی امن فوج نے مسلمانوں کے قتل عام کے جرم میں گزشتہ سال کوسووا سے گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ ایک مہینے سے بیمار ہونے کے باعث منقسم شہر مترویشیا کے سرب کنٹرول والے حصے کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے اور ہسپتال کے اس حصے میں فوج کا سخت پہرا تھا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ آئندہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کو اس ہسپتال میں نہیں لایا جائے گا۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۶ اگست ۲۰۰۰ء)
بھارتی حکومت اور حزب المجاہدین میں مذاکرات کا آغاز
سری نگر (اے ایف پی + رائٹر + اے پی) بھارتی حکومت اور حزب المجاہدین فائربندی کے لیے سمجھوتہ کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں اور اس ضمن میں چھ رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جس کا اجلاس جلد سری نگر میں ہو گا۔ اس امر کا اظہار بھارت کے داخلہ سیکرٹری کمل پانڈے نے یہاں نہرو گیسٹ ہاؤس میں حزب المجاہدین کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے حزب کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی ستر منٹ کی بات چیت کو مثبت قرار دیا اور دیگر مجاہد گروپوں سے بھی کہا کہ وہ امن کے عمل میں شریک ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے امن کے عمل کی بنیاد کے لیے طریقہ کار طے کرنے سے اتفاق کیا ہے، اور جو عناصر اس کی مخالفت کریں گے وہ تنہا رہ جائیں گے۔ بھارتی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ مجاہدین کے ساتھ مذاکرات کے نتیجہ میں بنائی گئی کمیٹی ہم آہنگی اور تعاون کے جذبہ سے کام کرے گی اور جنگ بندی پر مؤثر عملدرآمد کے لیے طریقہ کار کو حتمی شکل دے گی۔ کمل پانڈے نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین نے چھ چھ رکنی کمیٹیاں بنانے سے اتفاق کیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی خارجہ سیکرٹری کے ساتھ مذاکرات سے چند گھنٹے قبل پاکستان میں حزب المجاہدین کے ترجمان سلیم ہاشمی نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے ۸ اگست کو شام ۵ بجے تک غیر مشروط سہ فریقی مذاکرات کے لیے کوئی اقدام نہ کیا تو جنگ بندی ختم کر دی جائے گی اور نتائج کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔
(روزنامہ جنگ ۔ ۴ اگست ۲۰۰۰ء)
انڈونیشیا میں مسلم مسیحی فسادات
جکارتہ (اے این این) انڈونیشیا میں عیسائی مسلم فسادات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تازہ فسادات میں ۲۸ افراد ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے شورش زدہ جزیرے ملوکا میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور تازہ فسادات عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں کے مختلف گاؤں پر حملوں کے بعد خونریز جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔ عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں کے گاؤں پر حملے کے بعد مسلم جانبازوں نے ملوکا کے بڑے شہر امبوں کے شمال مشرق میں ۴۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع عیسائیوں کے گاؤں وبائی پر حملہ کر کے ۱۸ عیسائیوں کو ہلاک کر دیا جبکہ حملے میں ۱۰ مسلمان بھی شہید ہوئے۔ علاوہ ازیں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ ادھر کشیدہ حالات کے پیش نظر علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۵ اگست ۲۰۰۰ء)
جانباز ۷ ہزار : روسی فوج نے ۱۴ ہزار شہید کر دیے
ماسکو (اے ایف پی) روسی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف جنرل ویلاری مانیلوو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک برس کے دوران روسی فوج نے داغستان اور چیچنیا میں ۱۴ ہزار جانبازوں کو شہید کر دیا۔ مانیلوو کے مطابق ساڑھے ۱۳ ہزار جانباز ۲ اگست ۱۹۹۹ء سے ۲ اگست ۲۰۰۰ء کے درمیان مارے گئے۔ اے ایف پی نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے دگنا ہے جو تعداد روسی حکام چیچنیا میں متحرک جانبازوں کی بتاتے رہے ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳ اگست ۲۰۰۰ء)
فرانس نے عراق پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کر دیا
پیرس (آن لائن) فرانس نے عراق پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس کے وزیرخارجہ ہوبرٹ و ذرائن نے کہا کہ یہ پابندیاں ظالمانہ، غیر مؤثر اور خطرناک ہیں جس سے سینکڑوں عراقی لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بھوک و افلاس کا شکار عراقی عوام اور عراق کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے ان پابندیوں کو اٹھا لے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل فرانس نے عراق پر امریکی اور برطانوی فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ فرانس اور روس عراق پر اقوام متحدہ کی امریکی حمایت یافتہ اقتصادی پابندیوں کے خلاف ہیں اور ان کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہ پابندیاں عراق کے کویت پر حملہ کی وجہ سے امریکہ نے عائد کر رکھی ہیں، جس سے اب تک سینکڑوں عراقی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عراقی امور کے انچارج آج کل عراق کے دورے پر ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کے آپریشن کی انسپیکشن کر رہے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۴ اگست ۲۰۰۰ء)
قازقستان کی ایٹمی تجربہ گاہ تباہ کر دی گئی
الماتا (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے چوتھے بڑے ایٹمی ملک میں قائم دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی تجربہ گاہ کو امریکی خواہش پر ہفتہ کے روز بین الاقوامی سائنس دانوں نے تباہ کر دیا۔ اس مقصد کے لیے ۱۰۰ ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ امریکی ادارے پینٹاگون کے اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے سابقہ سوویت یونین کے سیمی پلانٹک میں واقع سب سے بڑی اور آخری ایٹمی تجربہ گاہ کو تباہ کر دیا ہے جہاں ۱۹۴۹ء سے لے کر ۱۹۸۹ء تک ۵۰۰ ایٹمی تجربات زیر زمین کیے گئے۔ امریکہ نے اس تجربہ گاہ کو تباہ کرنے کے لیے ۱۹۹۰ء میں قازقستان کو ۷۰ کروڑ ۲۰ لاکھ ڈالر امداد دی تھی۔
واضح رہے کہ امریکہ ساری دنیا پر یہودی تسلط کا خواہاں ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے ملک کے پاس ایٹمی قوت نہ ہونے کا خواہاں ہے۔
(ہفت روزہ الہلال اسلام آباد ۔ ۴ اگست ۲۰۰۰ء)
بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ
تل ابیب (کے پی آئی) اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود بارک نے کہا ہے کہ امریکہ نے ۲۰ جنوری کو اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایہود بارک نے کہا کہ امریکہ ۲۰ جنوری تک بیت المقدس میں جگہ خرید کر اپنا سفارتخانہ منتقل کرے گا۔ سفارت خانے کی یہ منتقلی اس دن عمل میں آئے گی جس دن صدر کلنٹن کی صدارت کی میعاد ختم ہو گی۔
جب تصدیق کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویکٹوریہ ڈی لانگ اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن امریکہ اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرے گا اور اس کے بارے میں موجودہ سال کے آخر تک فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ایہود بارک نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سفارتخانے کی منتقلی کا فیصلہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بیان سخت گیر عناصر کو خوش کرنے کے لیے دیا ہے جو کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کے دوران ایہود بارک سے بہت نالاں ہو گئے تھے۔ کلنٹن کے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے اعلان کے بعد اسلامی جہادی تنظیموں خاص کر حماس اور حزب اللہ کے اہلکاروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کیا تو اسے ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے گا اور امریکی سفارت کاروں کی لاشیں امریکہ بھیج دی جائیں گی۔
کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر کلنٹن نے یاسر عرفات کو فلسطینی خودمختاری کا اعلان کرنے سے منع کر دیا تھا لیکن یاسر عرفات نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ۳۱ ستمبر کو فلسطینی آزادی کا اعلان کرنے والے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۳ اگست ۲۰۰۰ء)
فلپائن میں مسلم حریت پسندوں کی کاروائیاں
منیلا (آن لائن) فلپائن کے جنوبی جزیرے مندانیو میں مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے علیحدگی پسندوں اور سرکاری فوج کے درمیان مختلف جھڑپوں میں سولہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سرکاری فوج کے ترجمان کے مطابق مورو اسلامک لبریشن فرنٹ (ایم آئی ایل ایف) کے سو کارکنوں نے کیمپ راجموڈا کی فوجی ٹریننگ بیس پر قبضہ کرنے کے لیے اچانک حملہ کر دیا۔ سرکاری فوج نے اس حملے کو ناکام بنانے کے لیے توپ خانہ اور ہیلی کاپٹر گن شپ کا استعمال کیا۔ فریقین کے درمیان کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران سات سرکاری فوجی اور چھ آزادی پسند ہلاک ہو گئے۔ تاہم مسلم آزادی پسند ٹریننگ بیس پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے۔ ترجمان کے مطابق کارمن نامی قصبے میں مسلم گوریلوں اور سرکاری فوج کے درمیان ایک علیحدہ جھڑپ میں پانچ سرکاری فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۳ اگست ۲۰۰۰ء)
اسامہ بن لادن کو امریکی وارننگ
واشنگٹن (رائٹرز) امریکہ کی وزیر خارجہ میڈین البرائٹ نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پابندیوں سمیت تمام اقدامات جاری رکھے گا۔ گزشتہ روز اسپین کے وزیرخارجہ جوزف پک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، آخرکار اسامہ اور ان کے ساتھیوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی اور انہیں بھاگنے یا چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشت گردوں کو سر نگوں کرنے کے لیے اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا اور ایک دن آئے گا جب ہماری کوششوں کو محدود کرنے والی کوئی قوت موجود نہیں ہو گی اور ہم جس حد تک چاہیں انہیں تعاون پر آمادہ کر سکیں گے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۵ اگست ۲۰۰۰ء)
ایرانی ایڈیٹر اور عالمِ دین گرفتار
تہران (اے ایف پی) ایرانی پولیس نے ایرانی ماہنامہ ’’ایران فردا‘‘ کے ایڈیٹر اور ممتاز عالم دین حسن یوسفی عشق دری کو ملکی سلامتی اور اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے الزام میں گزشتہ روز بیرون ملک سے واپسی پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں دس سال قید کے علاوہ زمرہ علماء سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
ادھر ایک اور اعتدال پسند ہفت روزہ ’’توانا‘‘ کو علماء اور سیاست دانوں کے کارٹون شائع کرنے کے الزام میں بند اور اس کے ایڈیٹر ایرج راستگر کو چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ؟ اگست ۲۰۰۰ء)
شام میں علماء اہل سنت کی رہائی
دمشق (فارن ڈیسک) شام کے نئے صدر بشیر الاسد کے حکم پر ملک بھر کی جیلوں سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے جن میں درجنوں سیاسی و مذہبی رہنما بھی شامل ہیں۔ الخلیج کی رپورٹ کے مطابق نئے صدر کے حکم پر ۱۸ سال سے قید اسلامی جماعتوں کے رہنماؤں اور کمیونسٹ کارکنوں کو بھی رہائی ملی ہے۔ رہا ہونے والوں میں اخوان المسلمون کے ممتاز رہنما صباح کریمی اور احیائے اسلام کے ابو عبد اللہ بھی شامل ہیں جنہیں ۱۹۸۲ء میں اہل سنت کے خلاف بڑے آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق اب بھی شام کی جیلوں میں سینکڑوں اہل سنت رہنما اور دینی قائدین قید ہیں۔
ـ(ہفت روزہ الہلال اسلام آباد ۔ ۴ اگست ۲۰۰۰ء)
افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی
ڈیرہ اسماعیل خان (کے پی آئی) افغانستان میں افیون (پوست) کی کاشت پر طالبان حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے ضمن میں طالبان کے زیرکنٹرول صوبوں کے گورنرز کو باضابطہ طور پر سرکلر جاری کر دیے گئے ہیں جس میں اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا حکم دیا گیا۔
اس سلسلہ میں طالبان کے سپریم لیڈر ملا محمد عمر کی جانب سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں آئندہ کوئی افیون کاشت نہیں کرے گا۔ اعلامیہ میں فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے تمام افغان کاشتکاروں کو سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ملا محمد عمر کے اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق تمام افغانستان پر ہو گا اور فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مخالفین کے علاقوں پر طالبان کے کنٹرول کے بعد وہاں بھی یہ فرمان فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور ان علاقوں میں افیون کاشت تلف کر دی جائے گی۔ اعلامیہ میں افغان صوبوں کے گورنروں کو اور وزارتِ زراعت کو افغانستان میں افیون کے متبادل کاشت کے منصوبوں پر کام شروع کرنے کا حکم بھی ملا محمد عمر کی جانب سے دیا گیا۔
واضح رہے کہ طالبان تحریک کے سپریم لیڈر کا یہ اعلامیہ ایک ایسے موقع پر جاری ہوا ہے جب افیون کی کاشت میں محض ایک ماہ باقی ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۶ اگست ۲۰۰۰ء)
یوسف کذاب کو سزائے موت
لاہور (اپنے نامہ نگار سے) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میاں محمد جہانگیر نے توہین رسالت کے مقدمات میں ملوث محمد یوسف علی کو سزائے موت، ۳۵ سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ ملزم کے خلاف ۲۹ مارچ ۱۹۹۷ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تھانہ ملت پارک میں مقدمہ درج کرایا تھا کہ یوسف علی نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے اور اس حوالے سے وہ قابلِ اعتراض تقاریر کرتا ہے۔
گزشتہ روز فاضل عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت سزائے موت، ۲۹۵۔اے کے تحت ۱۰ سال قید اور ۵۰ ہزار روپے جرمانہ، دفعہ ۲۹۸۔اے کے تحت ایک سال قید سخت اور ۱۰ ہزار روپے جرمانہ، دفعہ ۲۹۸۔اے کے تحت ۳ سال قید اور ۲۰ ہزار روپے جرمانہ، دفعہ ۵۰۵۔۲ کے تحت سات سال قید اور ۳ ہزار روپے جرمانہ، اور دفعہ ۴۰۶ کے تحت ۷ سال قید اور ۲۰ ہزار روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید ۲۲ ماہ قید بھگتنا ہو گی۔ تمام دفعات میں دی گئی سزائیں یکے بعد دیگرے شروع ہوں گی۔
فاضل عدالت نے گزشتہ روز صبح آٹھ بج کر پانچ منٹ پر فیصلہ سنایا۔ اس وقت سیشن کورٹ کی عمارت اور عدالت کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیر رکھا تھا۔ کسی ممکنہ گڑبڑ کے پیش نظر پولیس حکام فیصلے سے چند منٹ قبل ملزم کو عدالت میں لائے اور فیصلے کے فوری بعد اسے واپس جیل لے گئے۔
یاد رہے کہ فاضل عدالت نے ۳ روز قبل ملزم کی ضمانت منسوخ کر دی تھی جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ کاروائی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی درخواست پر عمل میں لائی گی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم ۳۱ جولائی کو ضمانت پر ہونے کی وجہ سے مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت حاضر نہیں ہوا تھا، اس لیے خطرہ ہے کہ کہیں وہ فیصلے سے قبل فرار نہ ہو جائے۔ فاضل عدالت نے اس درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو جیل بھجوا دیا تھا۔ ملزم کی جانب سے محمد سلیم عبد الرحمٰن اور رخسانہ لون نے پیروی کی، جبکہ مدعی کی جانب سے محمد اسماعیل قریشی نے عدالت کی معاونت کی۔
یاد رہے کہ ۲۹۵۔سی توہین رسالت کی سزائے موت کا قانون مسٹر اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ اور ظفر علی راجہ ایڈووکیٹ کی معاونت سے فیڈرل شریعت کورٹ میں ۵ سال تک مقدمہ لڑنے کے بعد منظور ہوا جو سپریم کورٹ میں بحال رہا۔ اس پٹیشن میں سابق وزیرقانون ایس ایم ظفر، سپریم کورٹ کے سابق جج زیڈ بی کیکاؤس، سابق اٹارنی جنرل شیخ غیاث محمد، جسٹس (ر) بشیر الدین اور جسٹس (ر) چودھری محمد صدیق بھی بطور درخواست گزار شامل تھے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۶ اگست ۲۰۰۰ء)
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور حکمران طبقہ
لاہور (ندائے ملت رپورٹ) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان نے کہا ہے کہ اسلام نے کسی خاص نظام حکومت کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں کی۔ نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی یا کوئی اور، اسلام کو اس سے کوئی غرض نہیں، تاہم اسلام کی رو سے حکومت کا سربراہ یا اس کے دوسرے ارکان سرکاری خزانے سے اپنے ذاتی اخراجات کے لیے کوئی رقم حاصل نہیں کر سکتے، نہ ہی کوئی حاکم سرکاری خزانے سے عیدی وغیرہ تقسیم کر سکتا ہے۔
ہفت روزہ ندائے ملت کے تازہ شمارہ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر ایس ایم زمان نے کہا کہ حکومتوں نے اسلامی نظریاتی کونسل اور اس کی سفارشات کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ۱۹۹۶ء میں سینٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کو ان کی نشستوں پر اسلامی نظریاتی کونسل کی بھرپور رپورٹ کی کاپیاں پہنچائی گئیں مگر تقریباً تمام ارکان نے اس رپورٹ کو اٹھانا ہی گوارا نہیں کیا اور اس کی کاپیاں اپنی نشستوں پر ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ حالت یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ۲۰ میں سے ۱۵ نشستیں پچھلے سات ماہ سے خالی پڑی ہیں۔ حکومت کو بہت عرصہ پہلے مختلف ناموں کی سفارش بھی کر دی گئی تھی مگر اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک یہ نشستیں پُر کرنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ٹیلی ویژن پر سگریٹوں کے اشتہار کے بعد سگریٹ نوشی کے مضرِ صحت ہونے کا اعلان کرنا منافقت اور بے بصیرتی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور کا اسلامی نظام کے قیام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے کوٹا سسٹم کو اسلامی اصولوں اور احکام کے منافی قرار دیا تھا مگر میاں نواز شریف حکومت نے کونسل کی سفارش کو نظرانداز کر کے کوٹہ سسٹم میں ۲۰ برس کی توسیع کر دی۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳ اگست ۲۰۰۰ء)
شمالی افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی
کابل (اے ایف پی) طالبان نے گزشتہ روز افغانستان کے ایک اہم قصبہ اشکاش پر زبردست حملہ کر کے اس پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ اس لڑائی میں اپوزیشن اتحاد کے کئی درجن فوجی جاں بحق ہو گئے۔
اپوزیشن اتحاد کے ترجمان محمد یونس قانونی کے مطابق ملیشیا نے شمالی مشرقی صوبہ تخار میں گزشتہ روز زبردست حملہ کیا اور اپوزیشن اتحاد کی فرنٹ لائن عبور کر کے قصبہ اشکاش پر قبضہ کر لیا لیکن اپوزیشن اتحاد بدستور بعض اہم اور حساس علاقوں پر قابض ہے اور طالبان کے قبضہ میں جو علاقے ہیں انہیں واگزار کرانے کے لیے جوابی حملے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی اس علاقہ میں دونوں پارٹیوں کی فوج کے درمیان شدید جنگ جاری ہے۔ پاکستان اسلامک پریس کے مطابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے کئی درجن حامی اس جنگ میں جاں بحق ہو گئے اور بعض کو قیدی بنا لیا گیا۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
عالمِ اسلام کی اخلاقی صورتحال
بھارت کے ممتاز دانشور جناب اسرار عالم موجودہ عالمی تناظر میں ملتِ اسلامیہ کو درپیش چیلنجز اور اسلام کے خلاف کام کرنے والی عالمی تحریکات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے میں جس تندہی کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں، اسے اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق اور عنایت سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی متعدد تحقیقی و تجزیاتی کاوشیں منظر عام پر آ کر اہلِ علم و دانش سے داد وصول کر چکی ہیں، جن میں سے ساڑھے چار سو صفحات کی ایک ضخیم تصنیف مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ بزرگ عالم دین حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے بقول:
’’ماضی میں اور دور حاضر میں چلنے والی سری (خفیہ) تحریکات اور مستقبل پر پڑنے والے ان کے اثرات پر جیسی نظر اس کتاب کے مصنف کی ہے، اس کی مثال اس دور میں ملنا مشکل ہے۔ موصوف نے اس ذیل میں اسلامی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے عہد جدید میں یہودی سازش، صلیبی جنگوں کے اثرات، ہیومنزم اور ریشنلزم (عقلیت) کی شناخت اور ان کے اثرات، پھر تاریخی پس منظر، مسلم فلاسفہ اور متکلمین کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے سترہویں صدی سے بیسویں صدی تک کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ پھر انہوں نے ماڈلز (سانچوں) پر گفتگو کی ہے اور اس ذیل میں سیکولرازم کے نظریہ، اس کی تاریخ، اس کے اصل مقاصد، اصول اور عالمِ اسلام میں سیکولرائزیشن کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔‘‘
ہمارے خیال میں اسلام اور مغربی فلسفہ و تہذیب کی موجودہ کشمکش کو صحیح تناظر میں سمجھنے کے لیے ہر عالم دین اور دینی کارکن کو اس کتاب کا ضروری مطالعہ کرنا چاہیے۔ عمدہ کتابت و طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ یہ کتاب ’’قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹربیوٹرز، ب۔۳۵ بیسمنٹ، حضرت نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی ۱۳، انڈیا‘‘ نے شائع کیا ہے اور قیمت درج نہیں ہے۔
حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے خطبات و مواعظ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ کی تصانیف کے ساتھ ساتھ ان کے مواعظ و خطبات بھی عام مسلمانوں کے عقائد و اخلاق کی اصلاح اور دینی و روحانی تربیت کے لیے بے پناہ افادیت و تاثیر کے حامل ہیں، اور امت کا ایک بڑا حصہ ان سے مسلسل استفادہ کر رہا ہے۔ ان مواعظ کو عام لوگوں کے لیے قدرے آسان زبان میں پیش کرنے کا سلسلہ حضرتؒ کی زندگی میں ہی ان کی نظرثانی کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ ’’تسہیل المواعظ‘‘ کے نام سے ان کا مجموعہ کئی جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔
اب انہی مواعظ کو الگ الگ عنوانات کے ساتھ چھوٹے کتابچوں کی صورت میں شائع کرنے کا سلسلہ ’’انجمن احیاء السنہ نفیر آباد، باغبان پورہ، لاہور‘‘ نے شروع کیا ہے۔ اور ان میں سے (۱) تکبر کا علاج (۲) پاکیزہ زندگی (۳) آخری عشرہ کے احکام (۴) رمضان کا خالص رکھنا (۵) حاضری کا خوف (۶) ایصال ثواب اور اس کے احکام و مسائل (۷) التہذیب (۸) نگاہ کی حفاظت اور (۹) صوم اور عید کی تکمیل، کے عنوان سے خطبات اس وقت ہمارے سامنے ہیں، اور انہیں عمدہ کتابت و طباعت اور خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ دیدہ زیب بنانے میں اچھے ذوق کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یہ خطبات ’’یادگار خانقاہ امدادیہ اشرفیہ، جامع مسجد قدسیہ، نزد چڑیا گھر، لاہور‘‘ سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اقوالِ سلف
بھارت کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد قمر الزمان الٰہ آبادی نے محنتِ شاقہ کے ساتھ ’’اقوالِ سلف‘‘ کے نام سے سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کے ہزاروں اقوال کو جمع فرمایا ہے جو ان بزرگانِ دین کی زندگی بھر کے مطالعہ و تجربات کا نچوڑ ہیں، اور اصلاح و تربیت کے لیے بے پناہ افادیت کے حامل ہیں۔ حصہ اول میں حضراتِ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور اتباع تابعینؒ میں سے نمایاں شخصیات سمیت تیسری صدی تک کے اہم بزرگوں کے اقوال جمع کیے گئے ہیں، جو سوا تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں۔ ’’قاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ، صوبہ سرحد‘‘ نے پاکستان میں اس روحانی ذخیرہ کی اشاعت کی سعادت حاصل کی ہے۔ اور انڈیا میں اسے ’’مکتبہ دارالمعارف ۴۰۷/۴۶۶ بخشی بازار، الٰہ آباد‘‘ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
معرفتِ الٰہیہ مع اضافات جدیدہ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ مجاز اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوریؒ کے حالاتِ زندگی، دینی و روحانی خدمات اور افادات کو حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب مدظلہ نے اپنے مخصوص والہانہ انداز میں مرتب کیا ہے، اور سوا چھ سو کے لگ بھگ صفحات کا یہ روحانی خزینہ ’’کتب خانہ مظہری، گلشن اقبال، پوسٹ بکس ۱۱۱۸۲ کراچی‘‘ نے شائع کیا ہے۔
نامور خطباء کے خطیبانہ شہہ پارے
جامعہ اشرفیہ لاہور کے فاضل مولانا ابو طلحہ محمد اظہار الحسن محمود نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدینؓ سمیت امت کے اکابر کے خطبات میں سے شہہ پاروں کا انتخاب کیا ہے اور انہیں اس مجموعہ کی صورت میں پیش کر دیا ہے۔ اس میں سلف صالحین کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے نامور خطباء کے مواعظ و خطبات میں سے بھی اقتباسات دیے گئے ہیں اور مصنف کی یہ محنت قابل داد ہے۔ سوا دو سو سے زائد صفحات کا یہ مجموعہ ’’القلم پبلشرز ۱۶۵ حبیب پارک ملتان چونگی لاہور ۱۸‘‘ نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ایک سو روپے ہے۔
چہل حدیث
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس اللہ سرہ العزیز نے چالیس احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیہ والسلام کا ایک جامع انتخاب کیا تھا جو عام مسلمانوں کے روز مرہ مسائل اور ضروریات کے متعلق ہے۔ اسے ’’مبین ٹرسٹ، پوسٹ بکس ۴۷۰، اسلام آباد ۴۴۰۰۰‘‘ نے شائع کیا ہے اور تقسیم کے لیے وہاں سے طلب کیا جا سکتا ہے۔