اکتوبر ۲۰۰۰ء

عورت: ثقافتی جنگ میں مغرب کا ہتھیارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلام اور مغرب میں عالمی تہذیبی کشمکشمولانا محمد یعقوب قاسمی 
بچیوں کی پرورش اور سنتِ نبویؐمولانا عصمت اللہ 
گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے پروگرام کا شرعی جائزہادارہ 
دیوبندی مکتبِ فکر کی جماعتوں کے باہمی اشتراک و تعاون کیلئے مجوزہ ضابطۂ اخلاقادارہ 
امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہمولانا سخی داد خوستی 
حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کو دوہرا صدمہادارہ 
عالمی منظر نامہادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

عورت: ثقافتی جنگ میں مغرب کا ہتھیار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں ۱۴ ستمبر ۲۰۰۰ء کو پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام ’’اسلام میں عورت کا مقام اور مغربی دنیا‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نے کی اور اس سے ممتاز دانشور جناب اقبال احمد صدیقی، مولانا عبد الرشید انصاری، مولانا احسان اللہ ہزاروی، مولانا حافظ اقبال اللہ، مولانا لیاقت علی شاہ، مولانا چراغ الاسلام اور دیگر حضرات کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں اجتماعی قرارداد کے طور پر دو باتوں کی طرف بطور خاص توجہ دلائی گئی:

  1. ایک یہ کہ ٹی وی، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں عریانی اور فحاشی کو جو مسلسل فروغ حاصل ہو رہا ہے اسے کنٹرول کرنے کے لیے سرکاری سطح پر سنجیدہ اقدامات اور ایک ’’ضابطۂ اخلاق‘‘ کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس کی طرف فوری توجہ دینی چاہیے۔
  2. دوسری بات یہ کہ مجوزہ بلدیاتی اداروں میں عورتوں کی نصف نمائندگی کا فارمولا قطعی طور پر ناقابل عمل ہے۔ حتیٰ کہ عورت کی آزادی اور مرد و عورت میں مکمل مساوات کے علمبردار مغربی ممالک میں بھی یہ تناسب موجود نہیں ہے، اور اس سے ہماری معاشرتی اقدار اور خاندانی ڈھانچے کے سبوتاژ ہو جانے کا شدید خطرہ ہے۔ اس لیے حکومت اس تجویز پر نظرثانی کرے اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں کو اعتماد میں لے۔
سیمینار سے مولانا راشدی کے خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس وقت عالم اسلام اور مغرب میں فلسفۂ حیات اور کلچر و ثقافت کی جو کشمکش جاری ہے اور جسے خود مغرب کے دانشور ’’سولائزیشن وار‘‘ قرار دے رہے ہیں اس میں مغرب کا دعویٰ ہے کہ وہ جس کلچر اور ثقافت کا علمبردار ہے وہ ترقی یافتہ اور جدید ہے اس لیے ساری دنیا کو اسے قبول کر لینا چاہیے۔ لیکن مغرب کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ جدید تہذیب کی اقدار و روایات میں کوئی ایک بات بھی ایسی شامل نہیں ہے جسے نئی قرار دیا جا سکے بلکہ یہ سب کی سب اقدار و روایات وہی ہیں جو ’’جاہلیت قدیمہ‘‘ کا حصہ رہ چکی ہیں اور اسلام نے جاہلی اقدار قرار دے کر انسانی معاشرہ کو ان سے نجات دلائی ہے۔ ان اقدار و روایات پر ایک نظر ڈالیں: (۱) سود (۲) زنا (۳) ناچ گانا (۴) کہانت (۵) لواطت (۶) جوا (۷) شراب نوشی (۸) بت پرستی (۹) بے پردگی و عریانی (۱۰) اور نسلی و لسانی عصبیت آج کے تمدن کی نمایاں علامات ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں ہے جو نئی کہلانے کی مستحق ہو اور جسے جاہلیت قدیمہ کے ساتھ کشمکش کے موقع پر اسلام نے شکست نہ دی ہو۔ حتیٰ کہ ان اقدار و روایات کے حوالہ سے جو دلائل ان کے جواز کے لیے آج پیش کیے جا رہے ہیں وہ بھی وہی ہیں جو جاہلیت قدیمہ کے علمبردار پیش کیا کرتے تھے، مثلاً:

اس لیے اس تہذیبی کشمکش میں ہمیں کسی گھبراہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بعینہ اسی تہذیب اور کلچر کو ہم ایک بار پہلے مکمل شکست دے چکے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان کیا تھا اس وقت عرب معاشرہ میں یہ ساری چیزیں موجود تھیں لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حجۃ الوداع‘‘ کے موقع پر اپنے مشن کی کامیابی کا اعلان فرمایا تو عرب معاشرہ ان تمام خرابیوں سے پاک ہو چکا تھا۔ لہٰذا تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے تاریخ عالم کے پورے نشیب و فراز کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ کل کی طرح آج بھی اس ’’جاہلیت جدیدہ‘‘ کو شکست ہوگی اور نسل انسانی کا مستقبل اسی تمدن اور ثقافت پر استوار ہوگا جس کی بنیاد آسمانی تعلیمات پر ہے اور جس کی نمائندگی اس وقت اسلام کر رہا ہے۔

دوسری بات جو میں اس موقع پر عرض کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ’’فری سوسائٹی‘‘ یا اباحیت مطلقہ کا یہ فلسفہ جس پر مغربی تہذیب کی عمارت استوار ہے جائز و ناجائز اور حلال و حرام کے تمام دائرے توڑ کر اپنے عروج اور انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ اس کا اندازہ مغربی ممالک کی اسمبلیوں اور عدالتوں کے ان فیصلوں سے لگایا جا سکتا ہے جو گزشتہ ربع صدی سے مسلسل سامنے آرہے ہیں اور جائز و ناجائز کے ان دائروں اور حدود کو پامال کرنے کی مہم میں اسمبلیوں اور عدالتوں کے ساتھ اب چرچ بھی شامل ہوگیا ہے۔ اس سلسلہ میں دو تین حالیہ فیصلوں کا حوالہ دینا چاہتا ہوں:

اس حوالہ سے آپ حضرات کی خدمت میں تیسری گزارش یہ ہے کہ مغربی حکومتیں اور عالمی ادارے اس کلچر کو ہم پر مسلط کرنے کے لیے مسلسل دبا۔ ڈال رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی خواتین کانفرنسوں، اقوام متحدہ کے منشور، جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے ہم سے بار بار یہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ اسلام کے نکاح، طلاق اور وراثت کے قوانین آج کے مروجہ بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں اس لیے ان میں رد و بدل کیا جائے اور انہیں تبدیل کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر اور مروجہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بنایا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح، طلاق اور وراثت کے متعدد اسلامی قوانین اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی بنیاد پر تشکیل پانے والے بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں اور اسی وجہ سے عالم اسلام کی حکومتیں اس سلسلہ میں تذبذب اور گومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں:

اسلام میں عورت کو جو مقام دیا گیا ہے اور اس کے حقوق کے بارے میں قرآن و سنت کی جو واضح ہدایات موجود ہیں ان کے بارے میں میرے پیش رو مقررین نے تفصیل سے گفتگو فرمائی ہے اس لیے میں اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے آج کے اس سیمینار کے موضوع کے دوسرے پہلو پر کچھ گزارشات پیش کی ہیں کہ مغرب نے عورت کو اس ثقافتی جنگ اور سولائزیشن وار میں اپنا ہتھیار بنا کر اس کی تذلیل کا جو سامان فراہم کر رکھا ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں صحیح صورتحال کا ادراک کریں اور مطالعہ و تحقیق کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مدارس کے طلبہ، مساجد کے نمازیوں اور اخبارات و جرائد کے قارئین کی ذہن سازی اور راہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے میں کوئی کوتاہی روا نہ رکھیں۔

اسلام اور مغرب میں عالمی تہذیبی کشمکش

اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کا پیغام

مولانا محمد یعقوب قاسمی

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ۳۰ جولائی ۲۰۰۰ء کو سپورٹ سنٹر ڈیوزبری برطانیہ میں مسلم کمیونٹی فورم ڈیوزبری کے زیراہتمام ایک عالمی سیمینار منعقد ہوا جس سے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (بھارت)، حضرت مولانا محمد تقی عثمانی (پاکستان)، محترم ڈاکٹر تقی الدین ندوی (متحدہ عرب امارات)، حضرت مولانا عبد اللہ کاپودروی (کینیڈا)، الشیخ نادر عبد العزیز (کویت)، حضرت مولانا احمد خانپوری (بھارت)، حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی (لکھنؤ)، ڈاکٹر مزمل الحق صاحب صدیقی (امریکہ)، مفتی زبیر بھیات (جنوبی افریقہ)، حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی (لندن)، حضرت مولانا محمد عیسٰئ منصوری (چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم، لندن)، اور مجلس تحقیقاتِ شرعیہ برطانیہ کے سربراہ مولانا محمد یعقوب قاسمی آف ڈیوزبری نے خطاب کیا۔ مولانا قاسمی موصوف کا مقالہ پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس فانی دنیا میں مخلوق میں سے کسی کو بھی ہمیشگی و دوام نہیں۔ جو دنیا میں ماں کی گود میں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن قبر کی گود میں ضرور جانا ہے۔ حی القیوم صرف باری تعالیٰ کی ذات ہے۔ جو ذی روح دنیا یں آیا اسے کم و بیش وقت گزار کر اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ وقت پر آخرت کی طرف منتقل ہونا ہے۔ خالقِ کائنات کے اس اصول سے کوئی مستثنٰی نہیں، چاہے وہ حیوانات ہوں یا انسان۔ اور انسانوں میں سب سے افضل و اعظم انبیاء و رسل علیہم السلام کی ہستیاں، اور ان میں بھی افضل الرسل و سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس فانی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ طبعی عمر پوری کرنے پر ’’اللھم بالرفیق الاعلیٰ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے اپنے رب ذوالجلال کی بارگاہ میں اس دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے تشریف لے گئے۔ زندگی کے ساتھ موت اس عالم کا اٹل قانون ہے۔ اسی کے تحت روزانہ ہر آن کرۂ زمین پر اس کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور زندہ لوگ اس کا مشاہدہ ہی نہیں کرتے، اپنے ہاتھوں اپنے عزیز و رشتہ داروں کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر زمین میں دفن کر دیتے ہیں۔
کرۂ زمین پر اشرف المخلوقات انسان اور اس میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت و گروہ کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی  فلاح و کامرانی کی رہبری کے لیے منتخب فرمایا، جن کی ربانی تعلیمات سے اپنے اپنے دور میں دنیا سے شرک و ضلالت کی ظلمت ختم ہو کر دنیا منور ہوئی۔ جب دنیا اپنی طبعی عمر کو پہونچی تو ایک ایسی روشنی اور ابدی تعلیم و ہدایت کی دنیا متلاشی اور ضرورتمند تھی کہ جو قیامت تک کے لیے انسانیت کی رہبری و ہدایت کی ضامن ہو۔
چنانچہ اس آخری ہدایت کو لے کر سرتاجِ انبیاء فخر المرسلین سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے ’’قد جاءکم من اللہ نور و کتاب مبین‘‘ فرما کر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘ فرما کر اپنی عالمی و ابدی نبوت کا اعلان کیا۔ رب ذوالجلال نے ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما‘‘ کے ذریعے آپ پر نبوت ختم ہونے کا اعلان فرمایا کہ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات قیامت تک کے لیے ہر دور اور ہر زمانہ میں انسانیت کی رہبری کے لیے کافی ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کی صورت میں ابدی معجزہ دے کر ہمیشہ کے لیے انسانیت کی فوز و فلاح کو اس سے وابستہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ترکت فیکم امرین ان تمسکتھم بھما لن تضلوا کتاب اللہ و سنتی‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد امت کی رہبری کے لیے علماء امت کو اپنی تعلیمات کا وارث بناتے ہوئے فرمایا ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘۔ اب قیامت تک کے لیے احیائے دین اور کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت، اور ان کی روشنی میں امت کی رہبری و قیادت کے ذمہ دار علماء امت قرار دیے گئے۔ چنانچہ ہر دور میں امت کے علماء ربانی نے اپنی اس ذمہ داری کو مخلصانہ طور پر نبھایا اور پورا فرمایا۔ اور ذمہ داری کی ادائیگی میں اپنے اور پرایوں کی طرف سے پہنچنے والی مشقتوں و اذیتوں اور تکالیف کو برداشت ہی نہیں کیا بلکہ ان کو اپنی سعادت تصور و یقین کرتے ہوئے اپنی جانوں تک کے نذرانے پیش کر کے خوشی محسوس کی۔
شمسی تقویم انیس سو ننانوے کی آخری تاریخ ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء جمعہ کا دن ملتِ اسلامیہ بالخصوص ملتِ اسلامیہ ہند کے لیے ایک بجلی اور صاعقہ بن کر ظاہر ہوا۔ برطانیہ کے صبح کے تقریباً نو بجے ہوں گے کہ فون کی گھنٹی بجی اور کہنے والے نے یہ غمناک اور الم انگیز خبر کی اطلاع دی کہ آج ہندی وقت کے مطابق قبل جمعہ تقریباً ۱۲ بجے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے مفکر اسلام ملت کے ہمدرد و غمخوار حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اللہ کی جوار رحمت میں پہونچ گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنہیں آج مرحوم اور قدس سرہ لکھتے ہوئے قلم جھجھکتا ہے، مگر مومن کی ایسے موقع پر ہی اسلامی تعلیم نے دست گیری کرتے ہوئے رضاء بالقضاء اور راضی برضائے مولا کی تلقین کی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک میں وارد ہوا ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جس کی توضیح علماء امت نے اس طرح کی ہے کہ اکابر علماء اللہ کو پیارے ہو جائیں گے اور ان جیسے علم میں پختہ کار لوگ پیدا نہیں ہوں گے تو جہل و جہالت کی بادشاہت ہو جائے گی۔ ہر زمانہ میں اہلِ علم و فضل کی موت سے علم کا نقصان ہوتا رہا ہے، لیکن اسلاف کے زمانہ میں ان کے شاگرد اور اخلاف مسلسل علمی محنت و مجاہدہ سے ان کی خالی جگہوں کو پُر کرتے رہے ہیں۔ مگر اب عصرِ حاضر میں علمی شوق کی کمی، محنت و مطالعہ کے فقدان، سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے طویل علمی راستوں سے وحشت و اجتناب، اور پراپیگنڈا کے ہتھیاروں اور سیاست کے طریقوں سے جلد شہرت و عظمت کے میناروں تک رسائی کی امنگ کی وجہ سے آج جب کسی عظیم عالمی و داعی کا وصال ہوتا ہے تو پھر اس جیسی شخصیت کا دوبارہ پیدا ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عالم اسلام جن نامور اور عظیم ہستیوں سے محروم ہوا ہے ان کا نعم البدل تو کیا بدل ملنا بھی دشوار ہے۔
  • عظیم عالمی داعئ اسلام جامعہ ازہر کے مشہور عالم اور امام حسن بنا شہیدؒ کے خصوصی تربیت یافتہ فضیلۃ الشیخ محمد غزالیؒ،
  • جامعہ ازہر کے عظیم عالم و مفکر، صحابہ و خلفاء رسول کے سیرت نگار الاستاذ خالد محمد خالدؒ،
  • شیخ الازہر فضیلۃ الامام الاکبر شیخ جاد الحق علی جادؒ،
  • دور حاضر کے عظیم محقق شیخ عبد الفتاح ابو غدہؒ،
  • اور مسجد نبوی کے واعظ شیریں بیان اور مدینہ منورہ کے قاضی علامہ شقیطیؒ کی نشانی شیخ عطیہ محمد سالمؒ،

پھر ۱۹۹۹ء میں دنیائے علم نے جن مذہبی رہنماؤں اور ریسرچ اسکالروں کو الوداع کہا ہے ان میں ہر شخص مینارہ نور اور اپنے فن کا نایاب لعل و گوہر تھا۔

  • شیخ ابو زہرہؒ،
  • علامہ شعراویؒ،
  • شیخ عبد القادر شہیدؒ کے بعد جو فقیہ عصر ِ حاضر باقی رہ گیا تھا اور فقہ و قانون کو جس پر ہزار ناز تھا یعنی ڈاکٹر مصطفٰی احمد زرقاءؒ،
  • میدانِ دعوت والی اللہ کے بہادر اور جری سپاہی، توحید کا پرستار اور حق پرست و حق گو مفتی اعظم عبد العزیز بن عبد اللہ بن بازؒ،
  • محافظِ حدیثِ رسولؐ محدث و محقق ناصر السنہ شیخ ناصر الدین البانیؒ،
  • اور سال کے آخری دن عظیم داعئ اسلام، علم و تحقیق و ادب کا شاہکار علی میاں رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ اللہ کو پیارے ہو گئے۔
حضرت مولانا سید ابو الحسن حسنی ندویؒ (جنہیں محبت و اپنائیت کی وجہ سے علی میاں کہا جاتا تھا) عصرِ حاضر کی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔ آپ کی ولادت، ابتدائی حالات، تعلیم و تربیت، دعوت الی اللہ سے بھرپور زندگی، آپ کی علمی و تحقیقی مصروفیات، آپ کے سفر و حضر کے مشغلے، آپ کی تقریریں، اور ہمہ جہات حیاتِ طیبہ کے حسین و جمیل پہلوؤں پر تفصیل پیش کرنا راقم کے مختصر مقالے کا موضوع نہیں ہے، کیونکہ حضرت مولانا مرحوم نے اپنے قلم سے قدرے مفصل بلکہ مطول اپنی داستانِ زندگی بعنوان ’’کاروانِ زندگی‘‘ ۸ جلدوں میں تحریر فرما دی ہے۔ جس میں اپنے عصر کی تاریخ سے لے کر دعوت الی اللہ کے سفروں تک کی کلی و جزوی روداد موجود ہے۔ نیز آپ کے شاگردوں، دوستوں اور آپ کی حیاتِ طیبہ پر لکھنے والوں نے بھی اکثر و بیشتر آپ کی خود نوشت سوانح سے نقل و اقتباس کے ذریعے بہت سے مضامین لکھے ہیں۔
مولانا مرحوم کی تحریروں کے تجزیے، دعوت الی اللہ کے اصولوں پر گفتگو، آپ کی علمی و تحقیقی و اجتہادی آراء پر سیر حاصل بحث، مجھ سے کم علم کے بس کی بات نہیں۔ راقم اس مختصر مضمون میں مولانا کی مغربی تہذیب پر تنقید اور اسلامی تہذیب کی برتری پر گفتگو کرے گا، مولانا کے عہد میں مختصر تصویر اور بعض تحریروں کا اختصار پیش کرے گا، پھر مولانا کی مغرب (میں) کی ہوئیں تقریروں خصوصاً ۱۹۶۹ء میں شیفیلڈ یونیورسٹی اور شیفیلڈ کے تبلیغی اجتماع کی تقریروں سے اس موضوع پر سیر حاصل اقتباس پیش کرے گا۔ یہ تقریریں آج بھی مغربی ممالک میں رہنے والوں کے لیے تاریخی دستاویز و یورپین تہذیب پر صحیح اور ناقدانہ تبصرہ ہیں۔ اور ایسا تریاق ہے جس کے ذریعے تہذیبِ حاضر کے زہریلے جراثیم سے بچا جا سکتا ہے۔ صرف اسلام وہ نسخۂ شفا ہے جسے قلب و نظر اور عقل و ضمیر سے ماننا ہو گا، پھر عملی زندگی میں اس کو اپنانا ہو گا، اور زبانی و عملی دونوں طریقوں سے مغرب کے اندھیروں میں اس روشنی کو پھیلانا ہو گا۔

مولانا کا عہد

مولانا کی ولادت ۱۹۱۴ء میں ہوئی۔ اس سال پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی۔ اس سے پہلے انگریزوں کی دراندازی مشرقی ممالک میں شروع ہو چکی تھی۔ ہندوستان میں پہلے تجارتی کمپنی کے ذریعے، پھر باقاعدہ حکومت کی شکل میں ۱۸۵۷ء کی تحریکِ آزادی کے ناکام ہو جانے پر انگریز سامراج نے اپنا ہمہ جہتی تسلط قائم کر لیا۔ شرعی قوانین و حدود کو ختم کیا۔ انگریز اپنے ساتھ پادریوں کی ایک بڑی کھیپ بھی لائے تھے اور یونیورسٹی کے اسکالروں کی ایک بہت جماعت بھی، جس کا محبوب ترین مشغلہ اسلامی اصولوں کے خلاف نیش زنی، اور اسلامی عقائد و افکار پر اعتراضات، اور مسلمانوں کی شاندار طویل تاریخ کو جھوٹ اور پُرفریب تحقیق کے نام پر داغدار کرنا تھا۔ اس لیے ہندوستان کے باشندوں کے ذمہ دو کام تھے:
  1. ایک تو ملک کی آزادی کی جدوجہد، اس میں علماء اسلام نے ہم وطنوں کے ساتھ مل کر سیاسی طریقوں اور جدوجہد، اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر آخرکار ملک کو آزاد کروا لیا۔
  2. دوسرا اہم کام مسلمانوں کو اکیلے کرنا تھا، یعنی اسلام کے عقائد و افکار کے خلاف انگریزوں نے جس منظم طریقہ پر علم و ریسرچ کے نام پر جو اعتراضات کیے، اور پورے ملک میں مغربی تہذیب کو پھیلانے کا جو منظم پروگرام بنایا، اس کے خلاف محاذ بنانا۔
اس سلسلے میں علماء دیوبند و ندوہ اور دوسرے لوگوں نے بھی کام کیے۔ تاکہ مسلمانوں کے ذہن و دماغ سے مرعوبیت نکلے اور انگریزوں کے علمی مراجع کی بے ثباتی ظاہر ہو جائے۔ اس سلسلہ میں اللہ کی توفیق سے علامہ شبلی نعمانیؒ نے بڑا کارنامہ انجام دیا۔ انگریزوں کے مراجع کی غلطی، ان کے استدلال کی کمزوری، اور ان کے جھوٹ اور فریب کا پردہ چاک کیا۔ ان کے مضامین، ’’کتب خانہ اسکندریہ‘‘، ’’اورنگزیب عالمگیر‘‘، اور آخر میں ’’سیرۃ النبیؐ‘‘ نے تعلیم یافتہ طبقے سے انگریز مرعوبیت کو دور کیا۔ اس سلسلہ میں ہمارے محترم و مخلص دوست بھوپال کے مشہور عالم دین مولانا حبیب ریحان ندوی ازہری کا مقالہ ’’مغربی افکار کی یورش اور شبلیؒ کا کارنامہ‘‘ ملاحظہ کے قابل ہے جو ماہنامہ معارف اعظم گڑھ نومبر ۱۹۹۶ء میں چھپا تھا۔
جس سال مولانا علی میاںؒ کی پیدائش ہوئی اسی سال علامہ شبلیؒ کا وصال ہوا۔ جب مولانا سنِ شعور کو پہونچے تو شبلی کا شہرہ تھا اور ان کے علمی استدلال اور مستشرقین کے جوابات سامنے تھے۔ مولانا ندوہ میں تھے جہاں شبلی کے افکار اور تحریروں کا زور تھا، اور شبلی کے جانشین مولانا سید الملت سید سلیمان ندویؒ کی علمی تحقیقات کا لوہا مانا جاتا تھا۔ اسی وقت شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ شعر کی زبان میں مغربی تہذیب کے فاسد عناصر پر زبردست تنقید کر رہے تھے۔ مولانا علی میاںؒ کو شروع ہی سے علامہ اقبال سے قلبی لگاؤ تھا اور مغربی تہذیب کے مضر اثرات سے نفرت تھی۔ علامہ اقبال سے آپ کا غیر معمولی لگاؤ اور تاثر اس وجہ سے ہے کہ شاعرِ اسلام نے اسلامی نظریۂ حیات کی بہترین تشریح کر کے روحِ جہاد کو میدانِ عمل میں کامیابی کی کلید بتایا ہے، اور مغربی تہذیب کو غارت گر اقوام و اخلاق ثابت کیا ہے۔ قلبی و فکری ہم آہنگی ہی کی وجہ سے مولانا نے ’’روائع اقبال‘‘ کے نام سے اقبال کے کلام کا عربی ترجمہ کر کے عربی دنیا کو پہلی مرتبہ علامہ اقبال سے متعارف کرایا۔
اسی زمانہ میں بعض دوسرے دانشور و مفکرین بھی مغربی افکار اور بے راہ روی، الحاد، نسلی تفوق، جنسی انارکی پر نثر میں پُرزور تنقیدیں کر رہے تھے، اور اس کے بالمقابل اسلام اور اس کی شریعت و قانون پر کامل اعتماد کے ساتھ اس کی برتری پر مدلدل و ؟؟ دلائل پیش کیے جا رہے تھے۔ اور اسلامی نظامِ حیات سے متعلق کتابیں اور مضامین نشر ہو رہے تھے، اور مغربی تہذیب کے ایک ایک طلسم کو مضبوط استدلالی و منطقی پیرایہ میں توڑا جا رہا تھا۔ اور مدافعانہ و معذرت خواہانہ انداز کے بجائے جارحانہ اور ہجوی انداز میں مغربی تہذیب کے علمبرداروں سے اس کی ناکامی کے متعلق سوالات اور اعتراضات کیے جا رہے تھے، جس کے نتیجہ میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے دماغوں سے مغرب کا تفوق اور مرعوبیت کم ہو رہا تھا۔ قدرتی بات ہے کہ مولانا اپنے زمانہ کی اس قسم کی ساری ہی تحریرات سے متاثر ہوئے اور ان کو سراہا، کیونکہ وہ ان کے دل کی بات تھی۔

غلبۂ اسلام اور مغربی تہذیب

حضرت مولانا علی میاںؒ نے دعوتِ اسلام کی خوبیوں کو نشر کرنے اور صالح قیادت کے ماتحت خالص اسلامی قانون و شریعت پر مبنی نظامِ شریعت برپا کرنے کی بات اپنی سب سے پہلی تصنیف ’’سیرتِ سید احمد شہیدؒ‘‘ میں تفصیل سے لکھی ہے۔ اور راہِ خدا میں جہادِ نفس کو عظیم خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ مولانا علی میاںؒ نے مغربی تہذیب بلکہ تمام قدیم و جدید جاہلی تہذیبوں اور تمدنوں کی خامیوں پر اپنی مشہور کتاب ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ میں بحث کی ہے، اور مسلمانوں کے عالمی قیادت سے ہٹ جانے اور علمی و فوجی ترقی میں پیچھے رہ جانے کے تفصیلی اسباب بیان کیے ہیں، اور دنیائے انسانیت کو اس کی وجہ سے جو روحانی اور تہذیبی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں، ان کو بیان کیا ہے۔

اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش

مولانا نے اپنی اہم کتاب ’’اسلامی ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش‘‘ میں، جو ۱۹۶۴ء میں لکھنؤ سے شائع ہوئی ہے، مغربی تہذیب و اقدار پر سخت تنقید کی ہے، اور ہندوستان و اسلامی ممالک میں مغربی تہذیب کی آمد اور رواج پذیر ہونے کی تفصیلی تاریخ اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے بیان کی ہے۔ نیز ان اشخاص اور نقطہ ہائے نظر کی وضاحت بھی کی ہے جنہوں نے اس تہذیب کو درآمد کیا، اس کے پھیلانے میں پوری جدوجہد کی، ان پر مولانا نے بھرپور تنقید کی۔ اور ان مومنانہ کردار اشخاص اور تحریکوں کا بھی تذکرہ کیا جنہوں نے مغرب کے کھوکھلے مادی نظامِ زندگی کی ہلاکت خیزیوں کو بے نقاب کر کے اس کے بالمقابل اسلام کا دفاع کیا اور اسلام کے عادلانہ قانونِ حیات کی تفصیلات پیش کیں، اور ان کی طرف واپسی کی کوششیں کیں۔
مولانا نے مغربی نظامِ تعلیم، مغرب کے الحاد و لا دینی، جنسی انارکی اور جرائم کی داستان بھی بیان کی۔ اور مشرق و مغرب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت کی پھیلائی ہوئی زہریلی بیماریوں کا علاج صرف اور صرف اسلام کی تعلیمات میں بتایا۔ اور یہ کہ مسلمان خیر امت ہے، اور امتِ دعوت ساری انسانیت کو سعادتِ دارین سے ہم کنار کرنے کے منصب پر فائز کی گئی ہے۔ مولانا کا نظریہ یہ ہے کہ پختہ عقیدے اور روح کی سرمستی اور اخلاص و جہد کے ساتھ مادی ترقی کے بہترین اور فائدہ مند اقدار سے استفادہ کے ساتھ انسانیت کی گاڑی صحیح طریقہ پر چل سکتی ہے۔
مولانا کی اکثر کتابوں اور کتابچوں، مضامین اور تقاریر کا مرکزی نقطۂ فکر مغربی تہذیب کی بے راہ روی پر شدید تنقید و تبصرہ اور اسلام پر کامل یقین و اعتماد کے ساتھ اس کی دعوت کو عام کرنا ہے۔
اب راقم قدرے تفصیل سے مولانا کی لیڈز یونیورسٹی میں ۲۶ جون ۱۹۶۹ء کو کی گئی تقریر کے اقتباس پیش کرے گا۔ برطانیہ کے اس سفر میں مولانا نے متعدد مقامات پر تقریریں کی تھیں، راقم کی سعادت ہے کہ راقم جسم و جان اور ہوش و گوش کے ساتھ ان تقریروں میں شریک رہا۔ اس تقریر کی قلمی تصویر راقم کے پاس ہے۔ لیکن چونکہ یہ مولانا کی کتاب ’’مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں‘‘ میں کچھ حذف و اختصار کے ساتھ چھپ چکی ہے، اس لیے مناسب یہ ہے کہ اقتباس اسی سے لے لیے جائیں۔ یہ ایک جامع تقریر ہے جو مغربی تہذیب کی صحیح ترجمانی کرتی ہے، اور اسلام کی جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ تقریر کے بہت سے عنوانات ہو سکتے ہیں، کتاب میں اس کا عنوان ہے ’’سیاسی آزادی لیکن تہذیبی غلامی‘‘۔

مشرق سے مغرب کا تعارف

مغرب کا مشرق سے تجارتی تعلق تو پرانا ہے، لیکن اصل تعلق اس وقت ہوا جب مغربی قوموں کے پاس جارحانہ فوجی طاقت ہوئی اور انہوں نے مشرقی ممالک کو تسخیر کرنا چاہا۔ خلافتِ عثمانیہ کے بعض مقامات پر مغربی طاقتیں بیڑہ ڈال چکی تھیں لیکن مولانائے مرحوم کے نزدیک یہ زیادہ قابل ذکر نہیں، بلکہ مغربی تہذیب کا اصل تعارف مولانا کی نظر میں اس طرح ہے:
’’مغربی تہذیب کا اصل تعارف اس وقت ہوا جب ہندوستان، مصر، اور ترکی براہ راست ایک عظیم مغربی قوم کے تسلط میں آئے۔ ہندوستان، مصر اور ترکی یہ تین ممالک ایسے تھے جو مختلف حیثیتوں سے نہ صرف دنیائے اسلام میں بلکہ اس وقت کی معاصر دنیا میں بڑی اہمیت رکھتے تھے۔
ہندوستان کی اہمیت یہ تھی کہ وہ ایک کثیر تعداد مسلمان قوم کا وطن تھا۔ مسلمان وہاں بڑی تعداد میں رہتے تھے اور بڑی شان و شوکت کے ساتھ صدیوں تک وہاں حکومت کر چکے تھے۔ انہوں نے اسلامی علوم میں بہت بڑا اضافہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی ذہانت، اپنے علم و فضل، اپنے علمی شغف اور اپنی صلاحیت کا مختلف میدانوں میں بڑا ثبوت دیا تھا۔ ۱۸۵۷ء میں جب باقاعدہ انگریزی حکومت کا اقتدار ہندوستان پر قائم ہو گیا، اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بجائے وہاں پر منظم اور باقاعدہ حکومت قائم ہو گئی، تو یہ سمجھا جانے لگا کہ اب ہندوستان انگریزی اقتدار کے قبضہ میں رہے گا۔
مصر کی اہمیت یہ تھی کہ وہ عربی زبان، عربی علوم کا بہت بڑا مرکز تھا۔ وہاں جامع ازہر موجود تھا اور وہاں کے علماء، ادباء، شعراء اور وہاں کی کتابیں عالمِ اسلام میں بہت وقعت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔
ترکی کے متعلق بھی مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں، وہ خلافت کا مرکز تھا اور بڑی حوصلہ مند، باصلاحیت اور جواں مرد قوم وہاں رہتی تھی جس نے دنیا کی تاریخ میں بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔
ان تینوں ملکوں کا جب مغربی تہذیب سے تعارف ہوا تو ان کے لیے ایک نیا تجربہ اور تاریخ کا ایک نیا موڑ تھا۔ اس کو آپ خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی، بلکہ شاید خوش قسمتی بھی تھی اور بدقسمتی بھی۔ بدقسمتی اس لحاظ سے کہ یہ تینوں ممالک قریب قریب ایک ہی وقت میں انگریزی اقتدار سے متاثر ہوئے۔ ہندوستان پر تو براہ راست انگریزوں کا قبضہ ہو گیا، اور مصر میں بھی انتداب کے نام سے اور قرض وصول کرنے کے عنوان سے انگریزوں نے اپنے نمائندے مسلط کر دیے۔ ترکی پر براہ راست اثر تو نہیں پڑا لیکن انگریزی سیاست کا یہ ملک بھی بڑا شکار ہوا۔ اس لیے حقیقت میں مشرق کا تعارف مغربی تہذیب سے اسی قوم کے ذریعے ہوا جس قوم کا یہ وطن ہے، جہاں آج ہم آپ جمع ہیں۔
آج مورخین اسی قوم کے متعلق یہ بات کہہ رہے ہیں کہ مشرق کو پہلا زخم اس سے لگا۔ اس کو اپنی پستی، اپنی پسماندگی اور سیاسی و فوجی کمزوری کا احساس اسی قوم کے ذریعے ہوا۔‘‘
یہ انیسویں صدی کے اوائل کا ذکر تھا، اس کے بعد مولانا نے مختصر بتایا کہ آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں، یہ ایک غیر فطری بات تھی کہ سات سمندر پار سے کوئی قوم آئے اور وسیع رقبے اور کثیر آبادی والے ملکوں پر ہمیشہ قابض رہے، اس لیے قدرتی طور پر یہ نظام ختم ہوا اور ملکوں کو جسمانی آزادی ملی۔

سیاسی آزادی، لیکن تہذیبی غلامی

مولانا اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:
’’ان ملکوں نے سیاسی آزادی تو حاصل کر لی ۔۔۔ لیکن اس تہذیب کی ذہنی، اخلاقی اور دماغی غلامی سے ابھی تک نجات نہیں حاصل ہوئی ۔۔۔ سیاسی آزادی حاصل کرنے کے بعد ذہنی غلامی اور علمی غلامی کی زنجیریں اور زیادہ مضبوط ہو گئیں۔ اس کے اسباب کیا تھے، یہ بحث طویل ہے ۔۔۔ یہ واقعہ ہے کہ جتنے ممالک آزاد ہوتے جا رہے ہیں وہ سیاسی طور پر تو آزاد ہو رہے ہیں لیکن ذہنی، فکری اور علمی طور پر زیادہ غلام ہوتے جا رہے ہیں۔ اور فکری، علمی، سیاسی اور اقتصادی حیثیت سے انہوں نے اپنے کو مغرب کا ایسا دست نگر بنا دیا ہے کہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اُس ملک میں اِس ملک کی رہنے والی قوم حکومت کر رہی ہے۔‘‘
راقم کا خیال ہے کہ یہ ایک فطری صورت حال ہوتی ہے کہ جب تک دشمن اپنی زمین پر رہتا ہے، اس سے نفرت ہوتی ہے۔ اور اگر اپنے عقائد، روحانی تصورات اور تہذیبی اقدار پر مکمل یقین و اعتماد نہ ہو، اور دانشمند دشمن نے اپنے تہذیبی ورثہ کو دل پسند اور مستحسن بنا کر پیش کیا ہو، تو اس کے جانے کے بعد اس کی دشمنی کا احساس ختم ہو جاتا ہے، اور مرعوبیت کی وجہ سے اس کی تقلید شروع ہو جاتی ہے۔ اور اس کی صنعتی و مادی و سائنسی ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس کی تہذیب و اخلاق بھی بلند ہو گا۔ یہ واقعہ ہے کہ انگریزی زبان، لباس اور مختلف تہذیبی مظاہر آج آزادی کے بعد کچھ زیادہ ہی رواج پذیر ہیں۔ اس کی وجہ مولانا کی نظر میں یہ ہے کہ ہم زندگی کے معیار اور دینی نظریات تک میں مغرب کے دست نگر ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم علم مغرب سے لیتے ہیں، زندگی کا معیار مغرب سے لیتے ہیں، یہاں تک کہ ہم دینی نظریات اور دینی تحقیقات بھی مغرب سے لیتے ہیں۔ اس وقت علومِ اسلامیہ میں بھی انہی مغربی یونیورسٹیوں کی نظر دیکھی جاتی ہے۔ مستشرقین کا لوہا نہ صرف مغرب میں بلکہ مشرق میں بھی مانا جاتا ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ مستشرقین جو کہہ دیں وہ حرفِ آخر ہے اور اس پر تبصرہ کا کوئی جواز نہیں۔
یہ وہ صورت حال ہے جس سے اس وقت کوئی اسلامی ملک مستثنٰی نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حقیقی آزادی کا فائدہ اٹھانے کا ان ملکوں اور قوموں کو ابھی تک موقع نہیں مل سکا۔ ان کے دماغوں پر مغرب کے تفوق، مغرب کے نظریات، اور زندگی کے مغربی نقطۂ نظر کا اتنا بڑا بوجھ رکھا ہوا ہے کہ اس بوجھ کے نیچے یہ قومیں دبی بلکہ کچلی جا رہی ہیں۔ بعض ایسے بھی خوش قسمت ملک ہیں کہ وہاں کی کل آبادی مسلمان ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک زندگی کا کوئی ایسا نقشہ نہیں بنایا جو ان کے معتقدات اور ان کی مسلّمات (یعنی جن چیزوں کو وہ تسلیم کرتے ہیں اور طے شدہ عقیدہ سمجھتے ہیں اس) کے وہ مطابق ہو۔ وہ ایسے ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں جس کا نتیجہ سوائے کمزوری اور پراگندگی اور سوائے بے اعتمادی اور کشمکش کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘

فاسد قیادت

تعلیمی نظام کے مغربی اور مادی نہج کی وجہ سے تعلیم یافتہ اور قیادت کرنے والا طبقہ ملک کے سیاسی تخت پر متمکن ہو کر مغربی نظریات کی سرپرستی اور توسیع کا کام کرتا ہے، اور اسلامی اقدار اور ناموس شریعت کے تحفظ سے دست کش ہو جاتا ہے، اور سیدھے سادے مسلم عوام کو گمراہ کرتا ہے، حضرت مولانا مرحوم کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:
’’ایک بڑی کشمکش ان ملکوں میں یہ برپا ہے کہ ان ملکوں کی زمامِ قیادت یعنی ان کی باگ دوڑ جن کے ہاتھ میں ہے وہ مغربی نظریات پر پورا پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔ گو ان کا نام مسلمانوں کا ہے، ان کی رگوں میں مسلمانوں کا خون ہے، وہ بہت اچھے قابل فخر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو اسلام سے انکار بھی نہیں، لیکن ان کا ذہن، ان کا عقیدہ بالکل مغربی سانچہ میں ڈھلا ہوا ہے۔
اور جن قوموں سے ان کا واسطہ ہے ان کی بدقسمتی کہیے یا خوش قسمتی کہ وہ قومیں سیدھی سادی مسلمان ہیں، وہ اللہ و رسول پر عقیدہ رکھتی ہیں، ان کو یہ یقین ہے کہ مرنے کے بعد ایک زندگی آنے والی ہے، وہاں جنت دوزخ ہے، وہاں ہر عمل کا حساب دینا ہو گا، یہاں کا عیش بھی فانی، یہاں کی راحت بھی فانی اور یہاں کی تکلیف بھی فانی ہے۔ ان کے سامنے وہ مقاصد ہیں جو مادی مقاصد سے بالاتر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صرف کھا پی لینا اور صرف اچھی مُرفّہ الحال اور آسودہ زندگی گزار لینا منزلِ مقصود نہیں۔ بلکہ اچھا انسان بننا، خدا سے ڈرنا، نیکی اختیار کرنا، برائی سے بچنا اور صاف ستھری پاکیزہ زندگی اختیار کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور شریعت کے مطابق عمل کرنا، ان کے اسوہ اور نمونہ پر چلنا، انسانیت کی خدمت کرنا، ساری دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانا، انسانیت جن مشکلات سے دوچار ہے اس میں اس کی مدد کرنا، وہ اصل کام ہے جو ایک مسلمان کے شایانِ شان ہے۔
لیکن جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ دوڑ ہے، وہ زندگی کا بالکل ایک دوسرا نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ بہت سی اسلامی حقیقتوں پر سے متزلزل ہو چکا ہے۔ ان کو بہت سی چیزوں میں شک ہے۔ یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں (کہ) اس کے پیچھے کوئی اور دنیا ہے، اس شہود کے پیچھے کوئی غیب ہے، اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ہے، اور ان چیزوں کے علاوہ جن سے آدمی کو لذت و عزت حاصل ہو رہی ہے کچھ اور حقیقتیں ہیں، جن سے آدمی کو لذت حاصل ہو سکتی ہے، جن سے اس کو سکون اور خوشی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس قسم کی کوئی چیز ان کے سامنے نہیں۔‘‘

صحیح رہنمائی اور ایمان کی طاقت

اگر عالمِ اسلام کو مومنانہ قیادت نصیب ہو جائے جو عوام الناس کی صحیح رہنمائی کرے، ان کی خفتہ قوتوں کو بیدار کر دے، اور ان میں ایمان کا جذبہ اور اس کی ناقابل تسخیر صلاحیت بیدار کر دے تو ان ملکوں کا نقشہ بدل جائے۔ مولانا فرماتے ہیں:

’’ہماری مشرقی قومیں وہ ہیں کہ اگر ان کو صحیح قیادت مل جائے اور صحیح رہنما میسر آجائیں جو ان کی اندرونی صلاحیتوں سے واقف ہوں، ان کے اندر خدا نے جو ناقابل تسخیر طاقتیں رکھی ہیں، ان کے اندر زندگی کا جو جوش ہے، قربانی کا جو جذبہ ہے، ایثار کا جو مادہ ہے، جس چیز کو یہ صحیح سمجھ لیں اس پر مٹ جانے کی جو صلاحیت ہے، اگر ہمارے ان ممالک کے رہنما ان کی ان مخفی اور پوشیدہ طاقتوں سے واقف ہو جائیں، اور وہ اس سے باخبر ہوں کہ ان قوموں کا مزاج کیا ہے؟ ان کا خمیر کیا ہے؟ تو یہ اتنی بڑی طاقت بن سکتی ہے کہ اس طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔

ان مشرقی ممالک میں اگر کوئی طاقت ہے تو وہ ایمان کی طاقت ہے، وہ طاقت اس بات کی ہے کہ خدا کا نام لے کر ان سے بڑے سے بڑا کام لیا جا سکتا ہے۔ خدا کے نام میں اب بھی ان کے لیے اتنی کشش ہے کہ یہ قومیں اس پر اپنی جان، اپنی اولاد، اپنا گھربار سب کچھ قربان کر سکتی ہیں۔ خدا کے نام میں، شہادت میں، جہاد کے لفظ میں، اسلام کی خدمت کے نعرہ میں، ان کے اندر اتنی کشش ہے اور ایسی مقناطیسی طاقت ہے کہ اس موقع پر ان کو اپنا ہوش باقی نہیں رہ سکتا اور اس وقت ان کا مقابلہ آسان نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس ہے کہ جو لوگ ان یونیورسٹیوں سے تیار ہو کر جاتے ہیں، وہ سب سے واقف ہوتے ہیں لیکن خود اپنی قوموں کی صلاحیتوں سے واقف نہیں ہوتے۔‘‘

جدید علوم کا حصول ضروری ہے

علم انسانی زندگی کی طرح نمونہ پذیر چیز ہے۔ علم میں کوئی تعصب یا گروہ بندی نہیں۔ ہر مفید علم کے حصول کی کتاب و سنت نے ترغیب دی۔ ہمارے اسلاف عظام نے تمام جدید سے جدید تر علوم حاصل کیے۔ مولانا نے یورپ میں موجود طلباء کو علمی قابلیت پیدا کرنے پر ابھارا لیکن یہ نصیحت بھی کی کہ مقصد اور وسائل کے فرق کو نہ بھولیں۔ مولانا فرماتے ہیں:

’’میں ہرگز یہ پوزیشن اپنے لیے قبول نہیں کر سکتا کہ میں جدید علوم کی مخالفت کروں۔ آپ کو ان یونیورسٹیوں سے زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنا چاہیے۔ بلکہ ہم تو آپ کو آپ کے والدین کو مبارکباد دیں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے مسلمان نوجوان کو جدید عمل میں بڑے سے بڑے مرتبہ حاصل کرنا چاہیے۔ ان میں اتھارٹی بننا چاہیے اور بڑے محقق کا درجہ حاصل کرنا چاہیے۔ یہ موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

لیکن میرے عزیز اور دوستو! آپ جانتے ہیں کہ مقصد اور وسیلہ میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ میری یہ چھڑی بڑی کارآمد چیز ہے، میں اس سے ٹیک لگاتا ہوں، یہ مجھے سہارا دیتی ہے، میں اس سے مدافعت بھی کر سکتا ہوں۔ مگر چھڑی بجائے خود مقصد نہیں، اگر اس سے بہتر چیز مجھے ملے یا میں اس سے بے نیاز ہو سکوں تو میں خودبخود اس کو چھوڑ دوں گا۔ ایک زمانہ میں اس سے ہتھیار کا کام لیا جاتا تھا، لیکن اس سے زیادہ کارگر اور مؤثر ہتھیار ایجاد ہوئے تو لوگوں نے اسے چھوڑ کر بندوق لے لی۔ اس لیے یہ جدید اور قدیم علم کی تقسیم بالکل غلط ہے، علم ہمیشہ تازہ ہی ہوتا ہے، وہ جس کو آپ قدیم کہہ رہے ہیں اپنے زمانہ میں بالکل جدید تھا۔ اور جسے آپ جدید کہہ رہے ہیں، بالکل ممکن ہے وہ پچاس برس بعد ایسا قدیم ہو جائے کہ اس کا نام لینا بھی بڑے عیب اور شرم کی بات ہو جائے۔ آپ زبانوں میں مہارت پیدا کریں، علوم میں کمال پیدا کریں۔ یہاں کے جتنے شعبے ہیں، کیمسٹری سے لے کر انجینئری تک، اور آرٹ، تاریخ، فلسفہ اور نفسیات سب میں بہت شوق سے آپ کمال پیدا کریں، لیکن آپ اس کو ایک ذریعہ سمجھیں۔‘‘

علم کا مقصد اور فائدے

علم کا مقصد و غایت یہ ہونا چاہیے کہ دنیاوی و اخروی نجات اور سعادت حاصل ہو۔ انسانیت کی فتح ہو، ظلمتوں کا پردہ چاک ہو، ظلم و نا انصافی دور ہو، ہر چہار سو روشنی پھیلے، اور سکون کی دولت سے دل بہرہ مند ہو۔ لیکن جدید تعلیم اور مادی و صنعتی اور صرف دنیاوی فلاح پر قائم مغربی سوسائٹی آج مادی فلاح اور سکون سے بھی محروم ہے، کیونکہ خدا، کائنات اور انسان کی ہستی سے بے خبر ہیں۔ اس سلسلہ میں مولانا فرماتے ہیں:

’’اصلی اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ انسان کیا ہے؟ اور انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انسان کس طرح زندگی گزار سکتا ہے؟ اس معاملہ میں یہ قومیں بالکل مفلس ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یہ تمام فتوحات بچوں کا کھیل بن کر رہ گئیں۔ مغربی تہذیب ایک ڈرامہ کھیل رہی ہے۔ جیسے شکسپیئر کے ڈرامے ہوتے تھے، ہم اور آپ تماشائی ہیں، دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ واہ واہ کیا ہوا میں اڑے اور کیا پانی پر چلے۔ لیکن ہوا کیا؟ انسان نے کتنی ترقی کی؟ دنیا میں امن کتنا پھیلا؟ محبت اور بھائی چارہ کتنا عام ہوا؟ انسان ایک دوسرے سے کتنا قریب ہوا؟ انسان نے انسان کو کتنا پہچانا؟ دل کتنے روشن ہوئے؟ قلب کو سکون کتنا حاصل ہوا؟ انسان کو اپنی منزل کا کتنا پتہ چلا؟

انسان کے اخلاق درست ہوئے یا نہیں؟ اس کے اندر جو خراب اخلاق تھے، دوسروں کو پھاڑنا اپنے بچوں کو پالنا، دوسرے کے گھروں کو لوٹ کر اپنے گھروں کو بھرنا، دوسروں کی جیب کاٹ کر اپنی جیب بھرنا، دوسروں کو ذلیل اور غلام بنا کر خوش ہونا اور اپنی فتح کے جھنڈے اڑانا، اس میں کتنی کمی آئی؟ ان قوموں نے اس دنیا کو منڈی سمجھ لیا ہے یا اقبال کے الفاظ میں ایک قمار خانہ اور جوا خانہ سمجھ لیا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں پہلی اور دوسری دو عظیم جنگیں ہوئیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ آخر اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ ان ساری فتوحات سے انسانیت کو کیا حاصل ہوا؟ کیا دنیا کو امن و سکون حاصل ہوا؟ اور انسان نے اپنے حقیقی مقصد میں کتنی کامیابی حاصل کی؟

آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ قوموں کی باہمی عداوتیں کم نہیں ہوئیں بلکہ ایسی شدید نا انصافیاں ہو رہی ہیں جسے کہتے ہیں ہاتھی نگل جانا۔ ایک فلسطین کا مسئلہ لے لیجئے، زبردستی ترقی یافتہ قوموں نے اس سرزمین کے اصلی رہنے والوں کو جلا وطن کر کے ایک ایسی قوم کو وہاں لا کر بسایا اور قومی وطن بنانے کا موقع دیا جو سینکڑوں نہیں ہزاروں برس سے اس ملک سے باہر ٹھوکریں کھا رہی تھی۔‘‘

انسانیت کو نجات دینے والی امت

قدیم تاریخ شاہد ہے کہ امتِ اسلامیہ نے انسانیت کی ڈوبتی کشتی کو ساحلِ مراد سے ہمکنار کیا تھا۔ آج بھی یہ امت اور اس کے صالح افراد قرآن و سنت کے پیغام برحق کے ذریعے انسانیت کے نجات دہندہ بن سکتے ہیں۔ مولانا مرحوم نے حاضرین کو اس طرح عزم و حوصلہ اور ہمت کا سبق دیتے ہوئے فرمایا:

’’آپ اس قوم کے فرد ہیں جس نے ایک زمانہ میں عام دنیا کی قیادت کی ہے، جس نے انسانیت کی ڈوبتی کشتی کو ترایا ہے۔ میں کل ہی اپنے عرب دستوں سے کہہ رہا تھا کہ جس وقت انسانیت کی کشتی ڈوب گئی اور دلدل میں پھنس گئی اور کوئی اس کا نکالنے والا نہ تھا تو یہی امت ِمسلمہ اور یہی عرب جو سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے، آگے بڑھے اور انہوں نے اس کشتی کو دلدل سے نکالا، اور آج ہم آپ اس کشتی میں بیٹھے ہوئے اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ اب مشرقی قوموں کی پست ہمتی کہ ہم نے علوم کے میدان میں ترقی نہیں کی، اس کے برخلاف یورپ نے اس میں خاطر خواہ فتوحات حاصل کیں۔ یہ ہماری بدقسمتی تھی ورنہ اصل میں دنیا کی رہنمائی اور دنیا کی اتالیقی اور نگرانی ہمارے سپرد تھی، اور میں دعوٰی کے ساتھ آپ سے کہتا ہوں کہ آج بھی صرف مسلمان ہی اس قابل ہیں کہ وہ دنیا کی رہنمائی کریں۔‘‘

یورپ سے علوم سیکھئیے لیکن انہیں حقائقِ زندگی سکھائیے

مولانا نے تقریر کے اخیر میں ایک عنوان اس طرح باندھا ہے ’’اگر ہم یورپ سے کچھ لے سکتے ہیں تو اس سے بہتر دے بھی سکتے ہیں‘‘۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یورپ نے جو مادی و صنعتی اور سائنسی ترقی کی ہے اس سے استفادہ کرنا اور اسے سیکھنا یقیناً ضروری ہے، لیکن ہمارے بعض نوجوان ان علوم کے ساتھ ہر کس و ناکس کی اطوار و عادات، خصلتیں اور تہذیب و تمدن کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اسلام میں ہمیں اس کی اجازت نہیں، زندگی کا نصب العین اور دنیا و آخرت کے یقینی حقائق ہمارے پاس ہیں۔ اس لیے درآمد برآمد کے اصول کے تحت ہم یہ روحانی سکون اور دنیا و آخرت کی فلاح کے ضامن حقائق ہمیں دوسروں کو سکھانا ہو گا۔ اس سلسلہ میں مولانا فرماتے ہیں:

’’آپ جن قوموں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا ایک معیار، ایک مقصدِ زندگی ہے، کچھ عقائد ہیں، ان کے سامنے ایک منزل ہے۔ وہ اس مغربی تہذیب پر کبھی مطمئن نہیں ہو سکتے۔ بے شک آپ اہلِ مغرب سے علوم حاصل کیجئے ۔۔۔ اسلامی علوم کے بارے میں بھی آپ ان کے نظریات معلوم کیجئے، اس سے بھی آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن آپ یہ نہ سمجھئے یہ امام برحق ہیں اور آخری مثال ہیں اور دنیا ان کی رہنمائی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اور مشرق کی جاہل، نیم وحشی اور پسماندہ اقوام کے لیے یہ فرشتہ رحمت ہیں، انہوں نے ہم کو سکھایا اور آدمی بنایا۔ اگر آپ ایسا سمجھیں گے تو آپ سے بڑھ کر آپ کا اپنے اوپر، اور جن سے آپ کا انتساب ہے، کوئی ظلم اور قوموں اور اپنی تاریخ کے ساتھ اس سے بڑی کوئی نا انصافی نہ ہو گی۔

آپ بے شک ان سے وہ چیزیں لیجئے جو آپ کو وہاں نہیں مل سکیں گی، لیکن آپ یہاں رہتے ہوئے بھی یہ سمجھئے کہ یہ بہت سی چیزوں میں کھوکھلے ہیں، اور جیسے ہم ان سے بہت سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں، یہ بھی ہم سے بہت سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ جو چیزیں ہم ان کو سکھاتے ہیں وہ زیادہ قیمتی اور اہم ہیں۔ اور جو چیزیں ہم ان سے سیکھتے ہیں وہ بہت غیر اہم اور حقیر ہیں۔ لیکن میں اس موقع پر اتنا ضرور کہوں گا کہ دو چیزیں ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں، تو دو چیزیں ہم ان کو سکھا بھی سکتے ہیں۔ اور یہ بھی میں بہت نیچے اتر کر کہہ رہا ہوں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ دو چیزیں ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں تو چار چیزیں ہم ان کو سکھا بھی سکتے ہیں۔ اس لیے کہ آپ جو اُن کو دے سکتے ہیں اس سے ان کی زندگی یہاں بھی کامیاب ہو سکتی ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہو سکتی ہے (اس پر ہمارا عقیدہ ہے، اور عیسائیوں کا بھی عقیدہ ہے)۔ اور یہ جو ہم کو دے رہے ہیں، اگر یہ نہ ملے تو زیادہ سے زیادہ ہمارا سفر ذرا دیر میں طے ہو گا، ہم کو تھوڑی دقتیں ہوں گی، ہمارا وقت ذرا زیادہ صرف ہو گا۔  یہ حاصل ہے ان کے دین کا اور وہ نتیجہ ہے ہمارے دین کا۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ ہماری دین بڑھی ہوئی ہے یا ان کی؟‘‘

یورپ جانے والوں سے مطالبہ

مولانا علی میاںؒ نے ۱۹۶۱ء میں ایک مضمون اسلامک سنٹر جنیوا کی فرمائش پر لکھا جو عربی رسالہ ’’المسلمون‘‘ میں چھپا تھا، جس میں اسلام کے عالمگیر امتیازات بتانے کے بعد مسلمان نوجوانوں سے مولانا نے تین مطالبے کیے تھے۔ مختصر طور پر ہم ان کو یہاں نقل کرتے ہیں تاکہ یورپ و امریکہ وغیرہ ممالک میں رہنے والے اور مغربی تہذیب میں پلنے والے ان سے فائدہ اٹھائیں:

  1. آپ اسلام کا ازسرنو مطالعہ کریں۔ اور ان خصوصیات اور اس کے روشن امتیازات کی روشنی میں ۔۔۔ آپ نئے طرز، نئے انداز اور جدید خطوط پر اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کے مطالعہ میں اپنی سنجیدہ فکر کا استعمال کریں ۔۔۔ آپ قرآن مجید پڑھیں کہ وہ کوئی قدیم آسمانی کتاب نہیں بلکہ اس دور کے لیے نازل ہوئی ہے اور آپ ہی اس کے مخاطب ہیں۔ آپ سیرت نبویؐ اور حدیث شریف کے مطالعہ میں اپنا قیمتی وقت صرف کریں۔ اور صاحبِ سیرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شخصی محبت اور ذاتی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ تعلق مطالعہ، تحقیق، محبت، جذبات، تکریم و تعظیم اور اتباع و تقلید کی پاکیزہ بنیادوں پر قائم ہو۔
  2. اس کے بعد آپ پر فرضِ عین ہے کہ آپ یورپ میں اسلام کی صحیح نمائندگی کریں، اسلامی عقائد کا اظہار پوری جرأت سے کریں اور اس کی صحیح تصویر پیش کریں۔ اسلام کے دیے ہوئے فرائض، اخلاق اور شعائر کی حفاظت کریں۔ آپ ایسے دین کے نمائندے ہیں جو خیر الادیان اور موجودہ معاشرہ اور تہذیب کے لیے موزوں ہے اور اسے آپ کی ضرورت ہے۔
  3. آپ کو اپنے دوستوں اور ہم عمر مسلمان نوجوانوں کو، جو اسلام کی نمائندگی میں شرم محسوس کرتے ہیں، ان کے سامنے اس کی شکل اچھی پیش کرنا ہے۔ اسلامی ملکوں ۔۔۔ عربی مراکز کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوجوان جو اسلام کے اظہار سے کنارہ کش رہتے ہیں، ان کے لیے ایک اچھی مثال قائم کرنا ہے، اور اس کے لیے یقیناً آپ کے واسطے ایک مستقل اور مسلسل اجر کا وعدہ ہے۔ اس پاکیزہ اسلامی زندگی کے ساتھ، جو صلاح و تقویٰ، صدق و امانت، ذکر و عبادت، رضا و قناعت، نشاط و قوت، روحانی بالیدگی اور پُرکیف جذبات سے معمور ہے، آپ اپنے دوست و احباب، اساتذہ اور پاس پڑوس کے رہنے والوں کو اسلام کی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس طریقہ پر اسلام نے سینکڑوں دانشمندوں کو اپنی گود میں پناہ دی ہے، اور بغیر کسی لشکر کے، فوج کشی اور مجاہد کی تلوار کی جنبش کے، ملکوں اور قوموں نے اس سرمایۂ حیات کو سینے سے لگایا ہے۔ آپ ان حالات میں اپنی اہمیت اور قیمت کو محسوس کریں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس کے حقوق کو پورا کریں۔‘‘

مضمون ختم کرنے سے پہلے راقم مرحوم کی ایک تقریر جو ۲۸ جون ۱۹۶۹ء میں شیفیلڈ کے تبلیغی اجتماع میں کی ہے، سے چند باتیں پیش کرنا چاہے گا۔ یہ تقریر راقم کے پاس تحریری شکل میں موجود ہے، کہیں چھپی ہے یا نہیں مجھے اس کا علم نہیں۔ مولانا نے تقریر آیتِ کریمہ ’’ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ‘‘ کے تحت فرمائی اور دین کی خدمت و نصرت و تبلیغ سے کنارہ کش کو ہلاکت سے تعبیر کرتے ہوئے ناصحانہ انداز میں ارشاد فرمایا:

’’دوستو! اللہ تعالیٰ نے آپ حضرات کو اس سرزمین پر پہنچایا ہے، اب میں آپ کو صاف کہتا ہوں کہ آپ کے لیے خودکشی کیا ہے؟ اور آپ کے لیے اپنے اوپر احسان کیا ہے؟ آپ کے لیے تنزل کا راستہ کیا ہے؟ اور ترقی کا راستہ کیا ہے؟ ہلاکت اور خطرہ کا راستہ کیا ہے؟ اور حفاظت و ضمانت کا راستہ کیا ہے؟

اگر آپ یہاں صرف کاروبار اور پیسہ کمانے میں مشغول رہے اور آپ کی ساری تگ و دو اسی پر صرف ہو گئی تو آپ یاد رکھیئے یہ ایک اجتماعی اور عمومی خودکشی ہو گی جو قوموں کے لیے بہت خطرناک ہوتی ہے ۔۔۔ اگر آپ یہاں نہ آتے اور انگریز قرآن پاک و سیرتِ رسولؐ پڑھ کر اسلام کی طرف مائل ہوتے تو وہ سوچتے کہ یہ امت کیسی ہو گی۔ وہ تو بس مقدس انسان ہوں گے، ہر چیز میں نمونہ اور آئیڈیل ہوں گے، ان کی ہر چیز سیرتِ نبویؐ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو گی۔ فرض شناس، صادق الوعد اور صادق القول ہوں گے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا انہیں خیال ہو گا۔

اس لیے اگر آپ نے اسلامی زندگی کا اچھا نمونہ پیش نہ کیا، آپ کو اللہ کے احکام اور شریعت کے حلال و حرام کے معلوم کرنے کی فرصت نہ ہوئی، اپنی اصلاح کی فکر نہ ہوئی، اور دوسروں میں تبلیغِ دین کی فرصت نہ ہوئی، اپنی ہدایت اور جس ملک میں رہے رہے ہیں اس کے باشندوں کی ہدایت کی فکر نہ ہوئی، تو آپ کا بھی نقصان ہے اور انسانیت کی راہ راست تک رسائی نہ ہونے سے دنیا کا بھی بھاری نقصان ہے۔

آج الحمد للہ قدیم گرجے خرید کر ان میں مسجدیں بن رہی ہیں جن سے اللہ کا نام بلند ہو رہا ہے، ’’اشہد ان محمدًا رسول اللہ‘‘ کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں جو عقیدۂ تثلیث پر ضرب لگا رہی ہیں۔ یہاں تمہاری خصوصیت، قابلیت اور ضرورت اس لیے ہے کہ یہاں کی زندگی ہدایت کی پیاسی ہے۔ یہاں کی فضائیں اذانوں کی منتظر ہیں۔ تم یہ عہد کرو کہ ہم یہاں اسلام کو پھیلائیں گے، چمکائیں گے، اپنی زندگیوں سے بھی اور اپنی تبلیغی و دعوتی سرگرمیوں سے بھی۔ تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح و نصرت عطا کریں گے اور تمہاری اور آل اولاد اور تجارتوں کی بھی حفاظت کریں گے۔ تمہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ تم اس سرزمین کے لیے مفید ہو، اس قوم کو تمہاری ضرورت ہے، تم اس کے معالج ہو، اس کو ہدایت کا راستہ بتانے والے ہو۔  خدا ہمارے قلوب کو ہدایت کی طرف موڑے اور ہم سے اپنے دین کی حفاظت کا کام لے  (آمین)۔ ‘‘


بچیوں کی پرورش اور سنتِ نبویؐ

مولانا عصمت اللہ

اسلام نے جس قدر عورت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے اس کی مثال کسی مذہب، تہذیب، تمدن اور ملک میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ یہ اسلامی تعلیمات ہی ہیں جس نے عورت کی زندگی کو عمر کے مختلف حصوں، شعبوں میں تقسیم کیا ہے اور پھر ہر شعبہ زندگی کی نسبت سے حقوق، احکام و مسائل اور ضرورتِ زندگی کی تفصیلات بیان کر دی گئی ہیں۔
بچی جب پیدا ہوتی ہے تو بالغ ہونے تک کے لیے الگ احکام اور تعلیمات ہیں۔ بالغہ ہونے کے بعد الگ احکامات ہیں۔ اسی طرح شادی سے قبل کی زندگی، شادی کے بعد کی زندگی کے احکامات کی تفصیلات موجود ہیں۔ تیسری تقسیم اس طرح کی جا سکتی ہے کہ بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے لحاظ سے اسلامی تعلیمات میں الگ الگ تفصیلات اور ہر حیثیت کے تعین کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ حقوق موجود ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں عورت کی زندگی کی اس طرح الگ الگ حیثیات کا تعین اور زندگی کے درجات کی تفصیل اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے عورت کو مکمل اہمیت دی ہے۔ اس کی زندگی کے کسی شعبہ کو حقوق سے خالی نہیں چھوڑا۔ زندگی کے پورے سفر میں اس کی حفاظت و نگرانی، عفت و عصمت اور دیکھ بھال پر کسی نہ کسی کو ضرور مقرر کر رکھا ہے۔ بیٹی ہے باپ کی ذمہ داری اور نگرانی میں، بیوی ہے تو شوہر کی حفاظت میں، ماں ہے تو اولاد کے لیے، اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت سنا دی ہے اور اولاد کو ماں کی خدمت پر لگا دیا ہے۔
اس کے برعکس انسانی زندگی کی تاریخ پر نظر ڈالیں۔ مذاہبِ عالم کی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں پر نگاہ دوڑائیں۔ خواہ اس کا تعلق تہذیبِ حاضر سے ہو یا ماضی کے ظالمانہ اور بے ربط نظاموں سے، کہیں بھی عورت کے لیے حقوق کی وہ تفصیلات، انوثت کی وہ اہمیت، اور اس کی عفت کے ایسے انتظامات نظر نہیں آتے جو اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔
انسانی تمدن کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ عورت ننگ و عار کا باعث سمجھی جاتی تھی۔ بچی کی پیدائش باعثِ عزت نہیں تھی بلکہ باعثِ ذلت و رسوائی، شر و فساد اور موجبِ نحوست و عیب تصور کی جاتی تھی۔ جس تہذیب کی عمارت ہی بچی کی پیدائش پر ایسے غلط نظریات سے تعمیر کی گئی ہو، وہاں اس کی پیدائش پر خوشی و مسرت کی لہر کیسے دوڑ سکتی تھی؟ اس کی عفت و عصمت کا انتظام کیونکر کیا جا سکتا تھا؟ اس کی تعلیم و تربیت، کفالت و پرورش اور اچھی دیکھ بھال پر جنت کی بشارت، دوزخ سے آڑ اور رحمت و برکت کی خوشخبری کیونکر سنائی جا سکتی تھی۔
مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’ہندومت میں عورتوں پر ویدوں کی تعلیم کا دروازہ سرے سے ہی بند کر دیا گیا تھا۔ بدھ مت میں بھی اس کا کوئی انتظام نہ تھا۔ یہودیت، مسیحیت ویسے ہی عورت کو گناہ کی بانی و مبانی قرار دیتی تھیں۔ اسی طرح روم، ایران، چین اور مصر کی تہذیب و ثقافت کے مراکز میں عورت کی تعلیم و تربیت کا کہیں نام و نشان تک نظر نہیں (آتا) تھا۔‘‘ (پردہ ص ۱۱)
اور عرب میں بچی کی پیدائش پر باپ اور ماں کا جو حال ہوتا تھا، قرآن اور عرب کے قدیم شعراء نے اس کی کیفیت بیان کی ہے۔ جب کسی کے ہاں بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی تو باپ کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا، وہ غصے کے گھونٹ پیتا، مارے عار اور ذلت کے لوگوں سے چھپتا پھرتا کہ اس کو اپنے پاس رہنے دے یا اس کو مٹی میں دبا دے۔ (النحل آیت ۷)
قرآن کریم نے کوئی افسانوی یا خیالی و فرضی بات بیان نہیں کی بلکہ یہ ایک نفس الامری اور وجودی حقیقت کی نقاب کشائی کی ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ نقل کرتے ہیں:
’’ایک شخص نے آ کر خدمتِ اقدس میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ جاہلیت والے تھے، بتوں کو پوجتے تھے اور اولاد کو مار ڈالتے تھے۔ میری ایک لڑکی تھی، جب میں اس کو بلاتا تو وہ دوڑ کر میرے پاس آتی۔ ایک دن وہ میرے بلانے پر خوش خوش دوڑی آئی، میں آگے بڑھا وہ میرے پیچھے چلی آئی، میں آگے بڑھتا چلا گیا۔ جب میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کنویں میں ڈال دیا، وہ ابا ابا کہہ کر پکارتی رہی اور یہی اس کی زندگی کی آخری پکار تھی۔
رحمتِ کونینؐ اس پُردرد افسانہ کو سن کر آنسو ضبط نہ کر سکے۔ ایک صحابیؓ نے ان صاحب کو ملامت کی کہ تم نے حضورؐ پاک کو غمگین کر دیا۔ فرمایا، اس کو چھوڑ دو کیونکہ جو مصیبت اس پر پڑی ہے وہ اس کا علاج پوچھنے آیا ہے۔ پھر ان صاحب سے فرمایا، میاں تم اپنا قصہ پھر سناؤ۔ اس نے دوبارہ پھر بیان کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت ہوئی کہ روتے روتے ریش مبارک تر ہو گئی۔ پھر فرمایا، جاؤ! جاہلیت کے گناہ اسلام کے بعد معاف ہو گئے، اب نئے سرے سے اپنا عمل شروع کرو۔‘‘ (سیرۃ النبی ص ۱۲۲ ج ۶)
قبیلہ بنی تمیم کے قیص بن عاصمؓ اسلام لائے تو عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے اپنے ہاتھ سے آٹھ لڑکیاں زندہ دفن کی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا، ہر لڑکی کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کرو۔ عرض کیا، میرے پاس اونٹ ہیں۔ فرمایا، ہر لڑکی کے بدلہ میں ایک اونٹ کی قربانی کرو۔
تعجب تو یہ ہے کہ اسلام سے پہلے والدین اپنی مرضی اور خوشی سے بچیوں پر ایسے مظالم ڈھاتے تھے، اپنے بتوں اور دیوتاؤں کی خوشی کے لیے ان کو ذبح کر ڈالتے تھے، منت مانتے تھے کہ میرا فلاں کام ہو گا تو بچے کی قربانی کروں گا۔ یہ رسم صرف عرب میں ہی نہیں تھی بلکہ بہت سی بت پرست قوموں میں جاری تھی۔ رومۃ الکبریٰ کے عظیم الشان قانون میں اولاد کو مار ڈالنے کا باپ کو مکمل اختیار تھا، اس پر کوئی باز پرس کرنے والا نہ تھا۔
ہندوستان کے راجپوتوں میں یہ دردناک منظر لڑکیوں کی شادی کی شرم و عار سے بچنے اور بیواؤں کی ستی کی صورت میں اور لڑائیوں میں جوہر کی صورت میں رائج تھا۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ بتوں اور دیوتاؤں کی خوشی اور نذرانے کے لیے ان معصوموں کی جانیں بہت آسانی سے لی جاتی تھیں۔ (سیرۃ النبی ص ۱۲۵ ج ۶)
اسلام سے پہلے اس قسم کی رسومات کے انسداد کا کوئی انتظام کسی ملک کے قانون یا کسی قوم کی تہذیب میں نہ تھا۔ سوائے ایک یا دو نیک آدمیوں کے جن کی فطرت اور طبعی افتاد میں یہ جذبہ موجود تھا۔
چنانچہ اس سلسلہ میں ایک مشہور شاعر فرزدق کے دادا صعصعہ نے ۳۶۰ لڑکیوں کو خرید کر موت سے بچا لیا تھا۔ اسلام لانے کے بعد انہوں نے خدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا، تم کو اس پر ثواب ملے گا اور خدا نے تم کو مسلمان بنا کر احسان کیا ہے۔
دوسرے شخص زید بن عمرو بن نفیل تھے جو ملت ِابراہیمیؑ پر تھے۔ حضرت امام بخاریؒ ان کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیٹی کو زندہ درگور کرنے کا ارادہ کرتا تو زید بن عمرو اس کے اس ارادے کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس کو کہتے ’’لا تقتلھا انا اکفیکھا مونتھا‘‘ (بخاری شریف ص ۵۴۰ ج ۱) ’’اس کو قتل نہ کر میں تیری طرف سے اس کی پرورش کی مشقت برداشت کر لوں گا‘‘۔ چنانچہ اس بچی کو لے لیتے، تربیت کرتے، جب بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ کو کہتے ’’اگر تو چاہے تو میں اس کو تیرے سپرد کر دیتا ہوں، اور اگر میرے پاس ہی رہنے دینا چاہتا ہے تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔‘‘
یہ انفرادی اور شخصی کوشش تھی ورنہ عموماً لوگ لڑکیوں کے وجود کو مصیبت اور بلا خیال کرتے تھے۔ یہ اسلامی تعلیمات اور ارشاداتِ نبویہؐ کا کرشمہ ہے کہ اس بلا اور مصیبت کو ایسی رحمت بنا دیا کہ یہ نجاتِ اخروی کا ذریعہ بن گئی۔
چنانچہ امام نوویؐ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں:
’’حضرت انس ؓ رسول اکرمؐ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا، جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ دونوں بلوغ تک پہنچ گئیں، میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح ساتھ ساتھ آئیں گے جس طرح یہ دو انگلیاں‘‘۔ (ریاض الصالحین ص ۱۳۶)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان انقلابی تعلیمات کا اثر یہ ہوا کہ عرصے سے زنگ آلود ذہن پاک اور صاف ہو گئے، منفی سوچیں مثبت خیالات میں بدل گئے، دلوں میں نرمی پیدا ہو گئی، سفاک اور شقی مزاج رحیم و شفیق بن گئے، بچیوں سے نفرت و کراہت محبت و پیار میں تبدیل ہو گئی۔ تھوڑا ہی عرصہ پہلے جو لوگ بچی کی کفالت سے دور بھاگتے تھے اب اس کی پرورش کو سعادت سمجھنے لگے، اس کی تربیت پر جھگڑے ہونے لگے۔ بچی کا گھر میں ہونا، پالنا، دیکھ بھال کرنا، تعلیم و تربیت پر مشقت اٹھانا انتہائی آسان ہو گیا۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کی سحر آفرینی تھی۔
چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذی القعدہ ۶ھ کو مکہ کی طرف عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوتے ہیں، اہلِ مکہ آپ کو مکہ میں دخل نہیں ہونے دیتے، آخر کار کچھ شرائط پر طے پاتا ہے کہ آپ آئندہ سال عمرہ کے لیے حاضر ہو سکیں گے۔ جب اگلے سال آپؐ مکہ سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس لوٹتے ہیں تو حضرت حمزہؓ کی بیٹی امامہ ’’چچا چچا‘‘ کہتے ہوئے آپؐ کے پیچھے دوڑی آتی ہے۔ حضرت علیؓ اس کو ہاتھوں میں اٹھا لیتے ہیں اور حضرت خالدؓ ان سے کہتے ہیں یہ لو تمہارے چچا حمزہ کی بیٹی ہے۔ حضرت علیؓ، زیدؓ اور جعفرؓ کے درمیان اس کے بارے میں سرکار دو عالمؐ کے سامنے بحث شروع ہو جاتی ہے۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، لہٰذا اس کی پرورش میں کروں گا، یہ مجھے ملنی چاہیے۔ حضرت جعفر طیارؓ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، لہٰذا اس کی کفالت کی سعادت میں لینا چاہتا ہوں، یہ مجھے دے دیں۔ حضرت زیدؓ عرض کرتے ہیں کہ یہ میرے مذہبی بھائی حمزہؓ کی بیٹی ہے لہٰذا اس کی ذمہ داری میں اٹھانا چاہتا ہوں، آپؐ اسے میرے سپرد کر دیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے یہ ارشاد فرما کر کہ ’’الخالۃ بمنزلۃ الام‘‘ خالہ ماں کے قائم مقام ہے، حضرت جعفر طیارؓ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ (بخاری شریف ص ۶۱۰ ج ۲)
یہ سارے جذبات کس کی تعلیم و تربیت کے اثر سے پیدا ہوئے؟ ورنہ یہ تو وہی بچی ہے جس کی پیدائش کو ننگ و عار سمجھا جاتا تھا، اسے زندہ زمین میں دبا دیا جاتا تھا، اس کی پرورش پر اس کے خون سے ہاتھ رنگنے کو ترجیح دی جاتی تھی، اس کی ولادت پر چہرے سیاہ پڑ جاتے تھے، باپ لوگوں سے چھپتے پھرتے تھے، دم گھٹنے لگتے تھے، اس کے گھر آنے پر صفِ ماتم بچھ جاتی تھی۔ ذرا غور کریں کہ یکدم اس بچی کی پیدائش رحمت کا پیغام کیوں بن جاتی ہے اور اس کی پرورش پر دخولِ جنت کی خوشخبری پنہاں خیال کی جاتی ہے۔ اب اس کی پیدائش پر صفِ ماتم نہیں بچھتی، دم نہیں گھٹتے، چہرے سیاہ نہیں پڑتے، باپ لوگوں سے چھپتے نہیں بلکہ فرحت و مسرت کا اظہار کرتے ہیں، سرور و خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں، اس کی تعلیم و تربیت کو دوزخ سے بچاؤ کا سبب سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس کو تربیت میں لینے پر بحث و مباحثہ شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا اثر ہی تو ہے۔ ورنہ یہاں اکراہ و جبر کا تو نام و نشان تک نہیں ہے۔ کوئی دنیوی اغراض و مقاصد بھی نظر نہیں آتے، یقیناً یہ احساسات قرآنی افکار، دینی سوچ اور اسلامی تعلیمات کا کرشمہ ہی تو ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
’’ایک مرتبہ میرے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں۔ وہ عورت غریب و بے کس تھی، اس نے مجھ سے کچھ سوال کیا، لیکن اس وقت میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔ میں نے اس عورت کے حوالے وہی ایک کھجور کر دی، وہ کھجور تو اس نے لے لی لیکن اس کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا اور اپنی دونوں بیٹیوں کو ایک ایک پھانک دے دی اور خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا، پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور واپس چلی گئی۔ کچھ دیر بعد امام الانبیاءؐ تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپؐ سے سارا واقعہ بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا، جو شخص ان بیٹیوں کی وجہ سے مشقت جھیلتا ہے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرتا ہے، تو وہ لڑکیاں اس شخص کے لیے دوزخ سے آڑ اور ڈھال بن جائیں گی۔‘‘ (متفق علیہ)
یعنی بچیوں کی اچھی تربیت کرنے والا دوزخ میں نہ جائے گا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ایک اور واقعہ بیان کرتی ہیں:
’’ایک اور مرتبہ میرے پاس ایک ضرورتمند اور بے سہارا عورت آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں۔ اس نے سوال کیا تو میرے پاس اس دفعہ تین کھجوریں تھیں۔ میں نے ان کو دے دیں۔ اس نے ان کو اس طرح تقسیم کیا کہ دونوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک اپنے کھانے کے لیے رکھ لی۔ جب اس کی لڑکیوں نے اپنی اپنی کھجور کھا لی، ان کی ماں کھانے کے لیے ابھی منہ تک ہی لائی تھی کہ اس کی لڑکیوں نے وہ بھی مانگ لی، ماں کی محبت دیکھئے کہ اپنے حصہ کی کھجور کھائی نہیں بلکہ اس کے دو ٹکڑے کیے اور وہ آدھی آدھی پھر دونوں کو دے دی۔
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے اس عورت کی یہ بات بڑی اچھی لگی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپؐ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے اس عورت کے لیے جنت واجب کر دی اور اس کو دوزخ کی آگ سے آزاد کر دیا۔‘‘ (ریاض الصالحین ص ۱۳۶)
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ’’والباقیات الصالحات خیر عند ربک ثواباً و خیر املاً‘‘ (الکہف) ’’اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں بہتر ہیں بدلہ میں اور بہتر ہیں توقع میں۔‘‘
عبید بن عمرؓ نے فرمایا کہ باقیات صالحات نیک لڑکیاں ہیں کہ وہ اپنے والدین کے لیے سب سے بڑا ذخیرۂ ثواب ہیں۔ اس پر حضرت عائشہؓ کی ایک روایت دلالت کرتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دے دیا گیا تو اس کی نیک لڑکیاں اس کو چمٹ گئیں اور رونے اور شور کرنے لگیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کی کہ یا اللہ! انہوں نے دنیا میں ہم پر بڑا احسان کیا اور ہماری تربیت میں محنت اٹھائی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما کر بخش دیا۔ (معارف القرآن ص ۵۸۴ ج ۵)
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کو کتنی اہمیت دی ہے اور جاہلیت کی دختر کش روایات و اقدار کو مسترد کرتے ہوئے بچیوں کی پیدائش کو خدا کی رحمت اور ان کی پرورش کو باعثِ نجات قرار دے کر صنفِ نازک پر کس قدر احسان کیا ہے۔

گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے پروگرام کا شرعی جائزہ

ادارہ

سوال

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
جناب مفتیان کرام دامت برکاتکم و اطال اللہ بقاء کم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین اس پیچیدہ مسئلہ میں کہ مستقبل قریب میں جو بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں وہ اکیسویں صدی میں مغربی غلبہ کا ایک ذریعہ ہے، اس کے ذریعے پاکستانی ریاست جو کہ اسلام کا قلعہ ہے، اس کو کمزور کر کے اس کو مغربی استعمار کے نرغہ میں دینے کا منصوبہ ہے، استعمار کے پاکستان میں غلبہ کے تین منصوبے ہیں: (۱) گلوبلائزیشن (۲) لوکلائزیشن (۳) شہری حکومتوں کا قیام-

(۱) گلوبلائزیشن کیا ہے؟

گلوبلائزیشن کا مقصد اعلیٰ سیاست سے مرکزی حکومت کی دستبرداری اور اس اعلیٰ سیاست کو امریکی استعمار اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک) اور بین الاقوامی کمپنیوں (سٹی بینک وغیرہ) کے سپرد کر دینا ہے۔ پاکستانی تناظر میں اگر اس کو دیکھیں تو پاکستانی ریاست خارجہ پالیسی، اقتصادی پالیسی، دفاعی پالیسی کی تشکیل سے دستبردار ہو کر ان کو امریکی استعمار اور ان کے گماشتوں کے حوالے کر دے گی، اس طرح پاکستانی ریاست ایک مجبور، لاچار، لاغر اور بے بس ریاست بن کر استعمار کی باج گزار ریاست بن جائے گی۔

(۲) لوکلائزیشن کیا ہے؟

لوکلائزیشن کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی حکومت خدمات کی فراہمی کے عمل سے دستبردار ہو جائے اور اس کی ذمہ داری ضلعی اور تحصیلی سطح پر مقامی حکومتوں کو منتقل کر دی جائے۔ ان مقامی حکومتوں کو چلانے کی ذمہ داری محض منتخب نمائندوں کی نہ ہو بلکہ ورلڈ بینک کی ڈیویلپمنٹ رپورٹ برائے ۲۰۰۰ء و ۲۰۰۱ء کے مطابق اس میں پرائیویٹ سیکٹر، این جی اوز اور دیگر سیکولر عناصر مدبرین اور ماہرین شامل ہیں۔ اسی طرح غیر مسلموں کے لیے بھی کافی تعداد میں نشستیں رکھی گئی ہیں۔
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ مقامی حکومتیں ان خدمات کو بطور خدمت نہیں بلکہ منافع کے حصول کے لیے انجام دیں۔ گویا مقامی حکومتیں منافع کے حصول کے لیے کمپنیاں بن جائیں اور ان کی خدمت کا سارا نظام پرائیویٹ کر دیا جائے اور اس کے بڑے خریدار ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوں گی اور سود اور سٹہ کو عام کر دیا جائے گا۔

(۳) شہری حکومتوں کا قیام

گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کا حتمی ہدف سنگاپور اور ہانگ کانگ کے طرز کے شہری حکومتوں کا قیام ہے۔ یہ شہری حکومتیں کم اور منافع کے حصول میں تگ و دو کرنے والی کمپنیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ اور ان کے شہری، شہری کم اور خریدار زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، حیدر آباد، پشاور کو مضبوط پاکستان کا دل و جگر نہیں رہنے دیں گے، جو جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کے لیے اور استعمار کے خلاف جدوجہد کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکیں، بلکہ یہ ایسی کمپنیاں بن جائیں گی جو اپنے منافع اور غرض کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس کی گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے لیے موجودہ حکومت بلدیاتی اور ضلعی انتخابات کا کھیل رچانا چاہتی ہے، جس کے خدوخال جنرل صاحب نے یوں وضع کیے ہیں:
  • ریاستی اقتدار کو چار سطحوں پر تقسیم کیا جائے گا: وفاق، صوبہ، ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل۔
  • رائے دہندگان کی عمر ۲۱ سے ۱۸ سال کر دی جائے۔
  • وفاق اور صوبوں کے اختیارات کم کر دیے جائیں گے۔
  • ہر ڈسٹرکٹ اسمبلی میں دو غیر مسلم ممبر ہوں گے۔
  • ہر ڈسٹرکٹ اسمبلی اپنی علیحدہ مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے گی تاکہ عوام حکومتی عمل میں شامل کیے جا سکیں، وغیرہ وغیرہ۔

مذکورہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، نیز اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جمعیت علماء اسلام نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کا ارادہ کیا ہے، یہ بتائیں کہ ہونے والے انتخابات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز اہلیانِ پاکستان کے لیے عموماً اور دینی جماعتوں اور علماء کرام کے لیے خصوصاً ان انتخابات میں حصہ لینا کیسا ہے؟ نیز موجودہ حالات میں اس انتخابات کے لیے عوام اور علماء کرام کے لیے کیا ذمہ داریاں ہیں؟

براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مجموعی نظام کو دیکھتے ہوئے شرعی حکم واضح فرمائیں تاکہ اہلیانِ پاکستان اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

واجرکم علی اللہ

المستفتی: محمد جاوید اکبر انصاری، کراچی


الجواب و منہ الصدق والصواب

واضح رہے کہ دشمنانِ اسلام ہر زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف، اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے کئی تدبیریں کرتے رہے ہیں۔ شروع میں مسلمانوں کو بزور طاقت مٹانے کی کوشش کی، اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ پھر اسلامی عقائد و تعلیمات میں شبہات پیدا کر کے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی، اس میں بھی ان کو ذلت و رسوائی اور خفت اٹھانی پڑی۔ تو دشمنانِ اسلام نے اسلام اور مسلمانوں پر وار کرنے کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔ اب موجودہ دور میں انسانی حقوق کی علمبرداری اور حقوقِ نسواں کے تحفظ کی تحریکوں کے ذریعے سے مسلمانوں میں بے راہ روی اور دین سے بیزاری کا طریقہ اپنایا گیا۔ اس میں کسی حد تک کامیابی حاصل کرنے کے بعد مکمل کامیابی حاصل کرنے کے لیے نظامِ حکومت کی تبدیلی اور معاشی پالیسیوں کی تبدیلی کے ذریعے مسلمان حکومتوں اور مسلم عوام کو خوشنما نعروں کے فریب میں اپنی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے کی تدبیریں تیار کی جا چکی ہیں۔ اور ہمارے دینی غیرت سے عاری حکمران ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر بے وقوف مکھی کی طرح مکڑی کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔

مسلمان عوام اور مسلمان حکومتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم عوام اور حکومتوں کے ساتھ محبت کے تعلق اور میل جول رکھیں، اور ان کے ساتھ مسلمان عوام اور مسلمان حکومتوں کے بالمقابل معاملات میں ترجیحی سلوک کریں، اور ان کی طرز زندگی اور طرز حکومت کو اپنائیں۔ ایسا کرنا ان کے دین اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ تعلقات کے بارے میں قرآن پاک میں واضح ہدایات دی ہیں۔ قرآن پاک کی چند آیات پیشِ خدمت ہیں:

(۱) ترجمہ: اے ایمان والو! مت بناؤ یہود اور نصاریٰ کو دوست، وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے، اور جو کوئی تم (میں) سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے، اللہ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو۔ (سورہ مائدہ پارہ ۶ آیت ۵۱)

(۲) ترجمہ: اے ایمان والو! مت بناؤ ان لوگوں کو جو ٹھہراتے ہیں تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل، وہ لوگ جو کتاب دیے گئے تم سے پہلے، اور نہ کافروں کو اپنا دوست، اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم ایمان والے۔ (سورہ مائدہ پارہ ۶ آیت ۵۷)

(۳) ترجمہ: اے ایمان والو! نہ بناؤ کسی کو صاحبِ خصوصیت اپنوں کے سوا، وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں۔ (سورہ آل عمران پارہ ۴ آیت ۱۱۸)

(۴) ترجمہ: اے ایمان والو! نہ بناؤ میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست، تم ان کو پیغام بھیجتے ہو دوستی کے اور وہ منکر ہوئے ہیں اس سے جو تمہارے پاس آیا سچا دین، نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو اس بات پر کہ تم مانتے ہو اللہ کو جو رب ہے تمہارا۔ (سورہ ممتحنہ پارہ ۲۸ آیت ۱)

(۵) ترجمہ: اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں، پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار، پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے۔ (سورہ ہود پارہ ۱۲ آیت ۱۱۳)

چند احادیث بھی ملاحظہ کریں:

(۱) ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، قیامت کب ہے؟ آپؐ نے فرمایا، تو نے قیامت کے لیے کیا سامان کیا ہے؟ وہ بولا، اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ آپؐ نے فرمایا تو اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھے۔ (مسلم شریف ص ۳۳۱ ج ۲)

(۲) ترجمہ: عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور بولا یا رسول اللہ! آپ کیا فرماتے ہیں اس شخص کے باب میں جو محبت رکھے ایک قوم سے اور اس قوم کے سے عمل نہ کرے۔ آپؐ نے فرمایا، آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرے۔ (مسلم شریف ص ۲۳۳ ج ۲)

غیر مسلم استعمار مسلمان ملکوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنے کے لیے نت نئی تدابیر اور اسکیمیں بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔ انہی دشمنِ اسلام تدابیر و تجاویز میں سے طرز حکومت اور معاشی درستگی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے منصوبے ہیں۔ ان میں سے زیادہ اہم تین منصوبے ہیں: (۱) گلوبلائزیشن (۲) لوکلائزیشن (۳) شہری حکومتوں کا قیام۔ اب ہم ان تینوں کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک میں کس قدر دینی و دنیوی نقصانات ہیں۔ ہر ایک منصوبہ ایک دوسرے سے بڑھ کر خوفناک نتائج لیے ہوئے ہیں۔

گلوبلائزیشن (عالمگیریت)

جس کا مفہوم یہ ہے کہ

(۱) تمام ممالک ایک جیسی پالیسی اپنائیں اور اس میں کسی کی اپنی علیحدہ پالیسی نہیں ہو گی۔ بظاہر اتحاد کی بات کی گئی ہے لیکن عملاً اس میں بڑے بڑے سرمایہ دار ملکوں کی مرضی اور منشا نافذ ہو گی۔ چھوٹے ملک اپنی خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی سے دستبردار ہو کر اپنے آپ کو غیر مسلم بڑے ملکوں کے حوالے کر دیں گے۔

(۲) مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کے کسی مسلمان ملک کے ساتھ خصوصی تعلق کا تصور یکدم ختم ہو جائے گا۔

(۳) کوئی اسلامی ملک اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے گا۔ جبکہ این جی اوز کے نام سے لوگوں کو عیسائی بنانے یا دیگر مذاہب اختیار کرنے کی ترغیبات پر کوئی روک ٹوک نہیں لگائی جا سکے گی۔

(۴) عالمگیریت کے نام سے آئندہ مکہ اور مدینہ کو کھلا شہر قرار دلوا کر اس میں یہودیوں، عیسائیوں کے داخلہ کا راستہ ہموار کر کے یہودیوں کے مدینہ پر قبضہ کے خواب کی تکمیل کی کوشش کرنا ہے۔

(۵) جبکہ حکومت تمام ملکی پالیسیوں میں آئی ایم ایف وغیرہ کی دست نگر بن کر خود لاچار بے بس ریاست بن کر رہ جائے گی۔

لوکلائزیشن

کسی بھی حکومت و سلطنت کی مضبوطی اس کی رفاہی اور سماجی خدمات اور عام رعایا کو زیادہ سے زیادہ مہیا کرنے پر ہوتا ہے۔ جس قدر حکومت کی طرف سے رعایا کی خدمت ہو گی اسی قدر اس کی جڑیں عوام کے اندر راسخ ہوں گی۔ لوکلائزیشن سے مرکزی حکومت خدمات کی انجام دہی سے دستبردار ہو کر مقامی حکومتوں کے سپرد کر دے گی، اور مقامی حکومتیں اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہ ہو سکیں گی۔ جس کی بنا پر یہ تمام خدمات کی فراہمی پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کی جائیں گی اور ان کی بڑی خریدار ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوں گی جو خدمات کو تجارت کا ذریعہ بنائیں گی۔ اور مقامی حکومتوں کے نام سے انہی غیر مسلم دشمنِ اسلام کمپنیوں کی حکومت ہو گی، اور غیر مسلم یقیناً مسلمان اور اسلام کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ یہ کمپنیاں زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لیے عوام پر ناجائز بوجھ ڈال کر ان کو پریشان کیا جائے گا۔ اس تجارتی طریق کار سے آپس میں ایک دوسرے کو نفع رسانی، ہمدردی اور غمگساری کے جذبات کو ختم کر کے صرف دنیا کے مطمع نظر بنا کر انسانیت کا جنازہ نکال دیا جائے گا۔

شہری حکومتوں کا قیام

یہ منصوبہ بھی اپنے مجوزہ طریق کار کے مطابق بے شمار دینی اور دنیاوی نقصانات سے لبریز ہے۔ چند نقصانات کا تذکرہ کیا جاتا ہے:

(۱) شہری حکومتیں تمام خدمات کی فراہمی کی ذمہ دار ہوں گی۔ جس کے لیے فنڈ کی کمی، جو کہ یقینی ہے، کی صورت میں غیر ملکی سکوں اور مالیاتی اداروں سے سود پر رقوم کی فراہمی کی جائے گی، جو قوم کو مزید قرضہ کے شکنجہ میں جکڑنے کا ذریعہ ہو گا۔

(۲) ہر ایک کونسل میں دو غیر مسلم ممبران کا تقرر باوجود عددی معدومی کے غیر مسلم کی شان کو بلند کرنا ہے۔

(۳) مجوزہ منصوبہ کے مطابق آدھی سیٹیں صنفِ نازک کے لیے مخصوص ہوں گی۔ اس پر عملدرآمد سے گھریلو خاندانی نظام، جو کہ پہلے سے زوال پذیر ہے، حرفِ غلط کی طرح مٹ جائے گا۔

(۴) جمہوری نظام کی بنا پر عورت کو کسی بھی مقامی کونسل کا سربراہ بنایا جا سکے گا، جو کہ فطرت کے خلاف ہے۔

(۵) عورتوں کا بے پردہ مردوں کے ساتھ اجلاس میں شریک ہونا بھی ناجائز امر کا مرتکب ہونا ہے۔

(۶) عورتوں کی اس قدر کثیر تعداد میں اس سیاسی نظام میں دخل اندازی سے گھریلو نظام تباہ ہو جائے گا، جس سے سکون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔

(۷) عورتوں کی اتنی کثیر تعداد کی اس مصروفیت کی بنا پر بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تربیت کا نظام شدید متاثر ہو گا، جس سے نسلِ جدید میں جہالت اور بے راہ روی بڑھے گی، جو کہ معاشرہ کی تباہی لائے گا۔ یہ خرابیاں اپنے اندر کئی خرابیاں لے کر آئیں گی۔ ملکی سالمیت اور اس کے اسلامی تشخص کو ناقابلِ تلافی نقصان کا ذریعہ اور سبب ہوں گی۔

ان امور کی بنا پر تمام دیندار عوام، اسلامی تنظیموں، دینی، سیاسی جماعتوں اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی تباہی کے اس مجوزہ منصوبہ اور تدابیر کے لیے سد راہ بن جائیں اور ان منصوبوں پر عملدرآمد کو ہر ممکن طریقہ سے روکنے کی کوشش کریں۔

اللھم وفقنا و وفق ولاۃ امورنا۔

فقط واللہ اعلم

کتبہ: مفیض الرحمٰن چاٹگامی

متخصص فی الفقہ الاسلامی، جامعہ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی

۱۶۔۴۔۱۴۲۱ھ بمطابق ۱۹۔۷۔۲۰۰۰ء

الجواب صحیح (مفتی) نظام الدین شامزئی

رئیس دارالافتاء جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی


دیوبندی مکتبِ فکر کی جماعتوں کے باہمی اشتراک و تعاون کیلئے مجوزہ ضابطۂ اخلاق

ادارہ

۷ ستمبر ۲۰۰۰ء کو دفتر مجلس احرار اسلام پاکستان مسلم ٹاؤن لاہور میں دیوبندی مکتب فکر کی مختلف جماعتوں کے سرکردہ زعماء کا ایک مشترکہ اجلاس حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف صاحب آف کلاچی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں طے پایا کہ ’’علماء کونسل‘‘ کے نام سے دیوبندی جماعتوں کے درمیان اشتراک و مفاہمت کے فروغ کی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے اور اس کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق پر اتفاق کر کے مشترکہ جدوجہد کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ ضابطۂ اخلاق کا متن اور اس پر دستخط کرنے والے زعماء کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء دیوبند کی جماعتوں اور مراکز میں مفاہمت اور رابطہ کار کو بڑھانے کے لیے مثبت اور عملی پروگرام کو آگے بڑھایا جائے اور پہلے مرحلہ میں ایک ضابطۂ اخلاق پر اتفاق کیا جائے تاکہ اس کے دائرہ میں اہلِ حق کی وحدت اور اشتراکِ عمل کو مستحکم بنانے کے لیے تمام جماعتیں اور حلقے کام کر سکیں۔

ضابطۂ اخلاق کے لیے چند ابتدائی تجاویز

(۱) مشترکہ مقاصد اور اہداف کے حوالے سے بلائے جانے والے عوامی اجتماعات میں ہر جماعت دوسری دیوبندی جماعتوں کے راہنماؤں کو بھی دعوت دے گی۔
(۲) مختلف مراکز میں متعلقہ جماعتوں کی مشاورت سے وقتاً فوقتاً مشترکہ اجتماعات کا ’’علماء کونسل‘‘ کی طرف سے بھی اہتمام کیا جائے اور ان اجتماعات میں جماعتی تشخصات اور نعروں کو ابھارنے سے گریز کیا جائے۔
(۳) باہمی اختلافات کو عمومی اجتماعات اور کارکنوں کے عمومی اجلاسوں میں بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔
(۴) کوئی شکایت پیدا ہو تو متعلقہ جماعت کے ذمہ دار حضرات سے رابطہ کر کے اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور اگر باہمی رابطہ سے کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکے تو اس کے حل کے لیے علماء کونسل سے رجوع کیا جائے۔
(۵) تمام جماعتیں ’’علماء کونسل‘‘ کو باہمی رابطہ کے فورم کے طور پر باضابطہ تسلیم کریں اور باہمی اختلافات میں مفاہمت و مصالحت کا اسے اختیار دیا جائے۔
(۶) یہ واضح اعلان کیا جائے کہ ’’علماء کونسل‘‘ کوئی مستقل جماعت نہیں بلکہ علماء دیوبند سے متعلقہ جماعتوں اور مراکز میں مفاہمت اور رابطہ کار کے ایک مشترکہ فورم کے طور پر کام کرے گی۔
(۷) جماعتیں اپنے جلسوں میں بھی دوسری جماعتوں کے راہنماؤں کو بھی حسبِ موقع دعوت دیں۔
(۸) علماء کونسل کے اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو اور باہمی بحث و مباحثہ کو امانت سمجھا جائے اور اسے اجلاس سے باہر بیان کرنے سے گریز کیا جائے، سوائے ان امور کے جنہیں شائع کرنے کا خود اجلاس میں فیصلہ ہو جائے۔

دستخط کنندگان

مولانا قاضی عبد اللطیف (جمعیت علماء اسلام پاکستان (س))، مولانا محمد ضیاء القاسمی (سپاہ صحابہؓ پاکستان)، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری (عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت)، مولانا قاری سعید الرحمٰن (جمعیت اہلِ سنت والجماعت)، مولانا محمد نعیم اللہ فاروقی (جمعیت علماء اسلام (س))، مولانا بشیر احمد شاد (جمعیت علماء اسلام (س))، مولانا قاضی عصمت اللہ (جمعیت اشاعت التوحید والسنہ)، ابوعمار زاہد الراشدی (پاکستان شریعت کونسل)، پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری (مجلس احرار اسلام پاکستان)، مولانا عبد الکریم ندیم (مجلس علماء اہل سنت پاکستان)، مولانا قاضی نثار احمد (تنظیم اہلِ سنت شمالی علاقہ جات)، مولانا محمد اعظم طارق (سپاہ صحابہؓ پاکستان)، مولانا سید حبیب اللہ شاہ (حرکۃ الجہاد الاسلامی)، مولانا سید امیر حسین گیلانی (جمعیت علماء اسلام (ف))، مولانا منظور احمد چنیوٹی (انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ)، مولانا سید مزمل حسین شاہ (حرکۃ المجاہدین)، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ (مجلس احرار اسلام)، مولانا اشرف علی (دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی)، مولانا سید کفیل شاہ بخاری (مجلس احرار اسلام پاکستان)، اور مولانا مفتی محمد جمیل خان (رابطہ سیکرٹری علماء کونسل)

امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ

مولانا سخی داد خوستی

ظلم و ستم کے یہ چند واقعات ’’مشت نمونہ از خروارے است‘‘ ورنہ دنیا میں کافروں نے مسلمانوں پر ماضی قریب میں ظلم و بربریت کے جو پہاڑ ڈھائے ہیں وہ داستانیں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔

حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کو دوہرا صدمہ

ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے فرزند اور مولانا زاہد الراشدی کے چھوٹے بھائی قاری محمد اشرف خان ماجد کا دو ماہ قبل انتقال ہو گیا تھا۔ اور اب قاری صاحب مرحوم کا جواں سال بیٹا محمد اکمل بھی کار کے حادثہ میں شدید زخمی ہو کر گزشتہ بدھ کو جاں بحق ہو گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی گاڑی ہر روز صبح حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کو لانے کے لیے گکھڑ جاتی ہے۔ قاری ماجد صاحب مرحوم کا بیٹا محمد اکمل (عمر ۱۵ سال) اور بیٹی حافظہ رقیہ (عمر ۱۷ سال) مدرسہ نصرۃ العلوم کے قریب اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔ دونوں بہن بھائی گکھڑ واپس جانے کے لیے مدرسہ کی گاڑی میں سوار ہوئے مگر شہر سے باہر نکلتے ہی گاڑی جی ٹی روڈ پر شاہین آباد بائی پاس چوک کے جنگلے سے پوری رفتار کے ساتھ ٹکرا گئی جس سے ڈرائیور جناب محمد حنیف صاحب موقع پر جاں بحق ہو گئے، جبکہ محمد اکمل اور رقیہ کو شدید زخمی حالت میں سول ہسپتال گوجرانوالہ اور پھر جنرل ہسپتال لاہور پہنچایا گیا جہاں محمد اکمل چند روز مسلسل بے ہوش رہنے کے بعد وفات پا گیا جبکہ حافظہ رقیہ جس کی ٹانگ اور جبڑے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، مسلسل زیر علاج اور صاحبِ فراش ہے۔ محمد اکمل شہیدؒ کو نماز جنازہ کے بعد گکھڑ میں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی اور دیگر راہنماؤں، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا قاری سعید الرحمٰن، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا عبد الرشید انصاری، مولانا سیف الرحمٰن ارائیں، مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، مخدوم منظور تونسوی، مولانا محمد حسن کاکڑ، مولانا سخی داد خوستی، مولانا حافظ محمد میانوالوی، مولانا صلاح الدین فاروقی اور مولانا محمد نواز بلوچ نے اس حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ مولانا زاہد الراشدی اور دیگر اہل خاندان سے تعزیت کی ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دیں، پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں اور زخمی حافظہ رقیہ ماجد کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا زاہد الراشدی کے خالہ زاد بھائی کا انتقال

جامع مسجد نور بختے والا گوجرانوالہ کے خطیب مولانا عبد الحمید قریشی کے فرزند اور مولانا زاہد الراشدی کے خالہ زاد بھائی مولانا خالد حمید قریشی گزشتہ ہفتہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
قارئین سے ان سب مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

عالمی منظر نامہ

ادارہ

پاکستان کے بارے میں امریکی خدشات

اسلام آباد (این این آئی) امریکہ کے نائب وزیرخارجہ کارل انڈرفرتھ نے کہا ہے کہ طالبان دوسروں کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے افغانستان کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے طالبان جو اقدامات کر رہے ہیں ان کے پیشِ نظر ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ طالبان دوسروں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ ہمیں اس امر پر گہری تشویش ہے کہ پاکستان بھی طالبانائزیشن کا شکار ہو کر ایک بنیاد پرست ملک بن سکتا ہے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ دہشت گردوں کی سرپرستی، منشیات، اور خواتین سے سخت سلوک جیسے مسئلے حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو اسلام رائج ہے وہ افغانستان میں رائج نہیں ہے۔ میلسٹ اسلام اور معتدل اسلام میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلام اور افغان عوام کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ ہمیں شکایت صرف طالبان کے اقدامات اور پالیسیوں سے ہے۔
مسٹر انڈرفرتھ نے کہا کہ ہمیں اس پر اعتراض نہیں کہ پاکستان نے طالبان کی امداد کی ہے۔ اس وقت طالبان حکومت کے جو عہدے دار ہیں ان میں سے بیشتر نے پاکستان کے مدارس میں مذہبی تربیت حاصل کی ہے۔ طالبان یہ وعدہ کر کے اقتدار میں آئے تھے کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام لائیں گے اور یہی پاکستان چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی ہے جبکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ انہیں امریکی شہریوں کے قتل کے الزام میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ امریکہ کے بار بار مطالبے کے باوجود طالبان کا اصرار ہے کہ اسامہ بن لادن ان کا معزز مہمان ہے جس نے سوویت قبضے کے خلاف جہاد میں اہم کردار ادا کیا، اور اس جہاد میں پاکستان اور دیگر ملکوں کے علاوہ امریکہ نے بھی ان کی بھرپور مدد کی تھی۔ امریکی نائب وزیر نے کہا کہ ہم نے طالبان پر واضح کیا ہے کہ اسامہ بن لادن ان کا معزز مہمان نہیں بلکہ وہ افغانستان کے لیے بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ اس نے معصوم لوگوں کو قتل کیا جو قرآنی تعلیمات کے منافی اقدام ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے افغانستان سے نکالا جائے لیکن بدقسمتی سے طالبان نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی کاروائی نہیں کی۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳ ستمبر ۲۰۰۰ء)

اسامہ بن لادن کو کسی کے سپرد نہیں کیا جائے گا

کابل (آن لائن) طالبان کے سپریم کمانڈر ملا محمد عمر نے کہا ہے کہ طالبان اسامہ بن لادن کو افغانستان چھوڑنے پر مجبور نہیں کریں گے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن افغانستان میں پر اَمن زندگی گزار رہے ہیں اور وہ کسی کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے میں ملوث نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن پر الزامات عائد کرنے کا مقصد طالبان حکومت اور اسلام کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن ہمارے مہمان ہیں اور یہ بات ہماری روایات کے خلاف ہے کہ اپنے مہمان کو ملک بدر کریں یا کسی کے حوالے کریں۔
دریں اثنا بھارتی ٹیلی ویژن زی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان سے چیچنیا منتقل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ زی نیوز نے روسی فوج کے ایک سینئر اہل کار کے حوالے سے بتایا کہ اسامہ بن لادن چیچنیا کی جنگ میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں اور اب تک سینکڑوں کی تعداد میں اپنے آدمیوں کو جدید اسلحہ سمیت چیچنیا بھیج چکا ہے۔ روسی افسر نے الزام عائد کیا کہ اسامہ بن لادن نے چیچنیا کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے سینکڑوں افراد کو تربیت دے رکھی ہے اور وہ ان کو بھی اپنے ساتھ چیچنیا منتقل کریں گے۔ کسی اور ذرائع نے زی نیوز کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۱۰ ستمبر ۲۰۰۰ء)

تمام مذاہب کو یکساں قرار دینے کا تصور انسانیت کے لیے خطرناک ہے ۔ ویٹی کن

روم (این این آئی) ویٹیکن نے کہا ہے کہ تمام مذاہب کو یکساں قرار دینے کا تصور انسانیت کے لیے خطرناک ہے۔ ویٹیکن نے رومن کیتھولک چرچ کی فوقیت کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کا تمام مذاہب کو یکساں قرار دینے کا موقف انسانیت کے لیے مہلک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۸ ستمبر ۲۰۰۰ء)

ترک فوج کی دھمکی

انقرہ (کے پی آئی) ترک فوج کے سربراہ نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر سول سروسز میں گھسے ہوئے ہزاروں اسلام پسندوں کو برطرف کرنے کے لیے قانون منظور نہ کیا تو فوج از خود کوئی اقدام تجویز کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق ترکی کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل حسین نے کہا ہے کہ ہزاروں عسکریت پسند مسلمان سرکاری شعبوں میں گھس کر ترک ریاست کے سیکولر ڈھانچے کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ یہ عناصر گورنروں کے دفاتر، عدلیہ سمیت نوکر شاہی کی مختلف سطحوں اور شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت کے قابل اعتماد ہونے کا دارومدار ترک پارلیمنٹ میں اس مسودۂ قانون کی منظوری پر ہے جو حکومت کو سول سروس کے ایسے ملازمین برطرف کرنے کا اختیار دے گا جن پر انتہاپسند اسلامی تنظیموں اور علیحدگی پسند کردوں سے رابطے کا الزام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہ کیا تو فوج کو کوئی اقدام تجویز کرنا پڑے گا۔
ترکی کے نئے صدر احمد نجوت نے اگست کے شروع میں دو بار ایک ایسے فرمان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کا مقصد حکومت کو اس قسم کے اختیارات دینا تھا کہ اس سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور یہ اقدام قانون کی بالادستی کے حصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔
وزیر اعظم مسٹر ایجوت نے کہا کہ فرمان پر دستخط کرنے سے صدر کے انکار نے مذہبی بنیاد پر عسکری سرگرمیوں کے خلاف حکومت کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اب وہ اس فرمان کو پارلیمنٹ میں اس وقت پیش کریں گے جب اکتوبر میں اس کا دوبارہ اجلاس شروع ہو گا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت کو اس مسودہ قانون کی حمایت حاصل کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔ مجوزہ قانون پر ارکانِ پارلیمنٹ، ذرائع ابلاغ دونوں نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ غیر جمہوری ہے، اس کے ناجائز طور پر استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے۔ ترک کے جنرل، مسلمان عناصر کو بدستور ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۲ ستمبر ۲۰۰۰ء)

اٹلی کی سپریم کورٹ کا فیصلہ

لندن (نمائندہ جنگ) اٹلی کی عورتوں کو یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ دن کے وقت ازدواجی زندگی سے باہر تعلقات قائم کر سکتی ہیں لیکن رات کو انہیں گھر آنا ہو گا تاکہ ان کے خاوند کی عزت مجروح نہ ہو۔ یہ فیصلہ اٹلی کی سپریم کورٹ نے دیا۔ مرد ججوں نے ایک ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اٹلی میں عورتیں دن کے وقت خاوندوں سے بیوفائی تو کر سکتی ہیں لیکن اگر رات کو گھر لوٹ آئیں تو وہ ’’زنا‘‘ کی مرتکب نہیں ہوتیں۔ اٹلی میں ۱۹۶۸ء تک دوسرے مردوں سے جنسی تعلقات مجرمانہ اقدام تھا لیکن جب رومن کیتھولک اثر کم ہوا تو اسے آئینی عدالت نے آئین سے خارج کر دیا۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۰ء)

سوڈان میں عورتوں کی ملازمت پر پابندی

خرطوم (اے ایف پی + اے پی) سوڈان کی حکومت نے دارالحکومت میں خواتین کو عوامی مقامات پر ملازمت کرنے سے روک دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایسی جگہوں پر خواتین کا کام کرنا غیر اسلامی ہے۔ خرطوم کے گورنر مجذوب الخلیفہ نے حکمنامہ جاری کیا ہے جس کے تحت خواتین پر گیس پمپنگ سٹیشن، ہوٹلوں اور کیفے ٹیریا میں بطور ویٹرس ملازمت پر پابندی ہو گی۔ حکمنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین ہوٹلوں کی روم سروس میں بھی صرف اس صورت میں کام کر سکتی ہیں جب وہاں مہمان بھی عورتیں ہوں۔ گورنر نے پولیس اور مقامی حکومتوں سے کہا کہ وہ یہ قانون فوی طور پر عملدرآمد کروائیں۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۷ ستمبر ۲۰۰۰ء)

یوسف کذاب کی رہائی کا مطالبہ

اسلام آباد (رائٹرز) حقوقِ انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں توہینِ رسالتؐ کے جرم میں سزائے موت پانے والے یوسف علی کو ’’ضمیر کا قیدی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے قوانین جو مذہبی بحث کو زندگی موت کا مسئلہ بنا دیں، انہیں ختم کیا جائے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۸ ستمبر ۲۰۰۰ء)

وسطی ایشیا میں مجاہدین کی سرگرمیاں

بشکیک (انٹرنیشنل ڈیسک) کرغستان سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مجاہدین کے تاجکستان کی سرحد کے قریب وادی فرغانہ کے پہاڑی سلسلہ کے اہم درے اراشخ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں سے کرغستان کے نیم فوجی دستے فرار ہو گئے ہیں۔ مجاہدین کی اس پیش قدمی کے بعد اس حساس علاقے میں سرکاری فوج مکمل طور پر پسپا ہو چکی ہے۔
دوسری جانب کرغستان میں وسطِ ایشیا کے کمیونسٹ سربراہوں کا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ ازبک صدر اسلام کریموف کی روسی فوج کی آمد کی تجویز پر اتفاق نہ ہو سکا۔ کرغستان کے صدر عسکرائیوف نے مجاہدین کی حمایت کرنے پر تاجکستان کے اسلام پسندوں اور طالبان پر فضائی حملہ کا مطالبہ کیا ہے۔
(ہفت روزہ الہلال اسلام آباد ۔ ۲۵ تا ۳۱ اگست ۲۰۰۰ء)

بیت المقدس پر سودابازی کی مذمت

اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک) اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے چیئرمین مجاہد شیخ احمد یاسین نے القدس اور فلسطین کی تقسیم پر یاسر عرفات کی طرف سے رضامندی پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی کلمہ گو مسلمان القدس کو تقسیم کر کے یہودیوں کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پورا فلسطین اسلامی وقف ہے، کسی فردِ واحد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس کا سودا کرے۔ انہوں نے کہا کہ حماس جانبدارانہ امن مذاکرات کی پہلے بھی خلاف تھی، اب بھی مزاحمت کرے گی۔ پہلے بھی ہم نے اوسلو معاہدے کو نہیں مانا، اب بھی کسی معاہدے کو نہیں مانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ القدس پر تمام دنیا کے علماء میں اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے پاس ہونا چاہیے، اس کی تقسیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کی نصرت و تائید کے ساتھ القدس اور فلسطین کے ایک ایک انچ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ القدس پر کنٹرول مسلمانوں کا ہونا چاہیے جس میں براق کی دیوار بھی شامل ہے۔
مفتی اعظم فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے خطیب عکرمہ صابری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ القدس مسلمانوں کا ورثہ ہے اور اسلامی وقف کی یہ بات دنیا پر روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ سرے لائن ہے۔ یہودی مسجد اقصیٰ سے دور رہیں، اس کے قریب آنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو نا ختم ہونے والا خونی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
گزشتہ دنوں یہودی رہبروں کا ایک اجلاس ہوا جس میں مسجد اقصیٰ میں معبد تعمیر کرنے کے آخری مرحلہ کا جائزہ لیا گیا۔ شیخ عکرمہ صابری نے کہا کہ یہودیوں کی پوری کوشش ہے کہ مسلمانوں کے اس تیسرے مقدس مقام کو مکمل طور پر یہودیوں کا شہر بنا دیا جائے، اس کے لیے وہ دن رات ایک کر رہے ہیں۔ ہزاروں تنظیمیں اسرائیل سے باہر اس مقصد کے لیے کام کر رہی ہیں، مگر یہ خواب پورا نہیں ہونے دیں گے۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۹ ستمبر ۲۰۰۰ء)

فلپائن: امریکی قیدی کے بدلے میں امریکہ میں قید تین مجاہدین کی رہائی کا مطالبہ

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) پیر کے روز فلپائنی مجاہدین کے ہاتھ لگنے والے امریکی جیفری کے بارے میں مجاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکی جاسوس ہے جس کی رہائی کے بدلے امریکہ میں قید تین مجاہدین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وائس آف امریکہ نے ان تینوں کی نشاندہی نہیں کی تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے دو شیخ عمر عبد الرحمٰن اور یوسف رمزی ممکنہ طور پر ہو سکتے ہیں۔ امریکہ نے مطالبہ ماننے سے انکار کیا ہے جبکہ مجاہدین نے امریکی جاسوس کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
(ہفت روزہ ضرب مومن کراچی ۔ یکم تا ۷ ستمبر ۲۰۰۰ء)

امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ

نیویارک (آن لائن) امریکی محکمہ خارجہ نے چین، برما، ایران، عراق اور سوڈان کو مذہبی انتہاپسند ملک قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان ملکوں کے شہریوں کو مذہبی آزادی میسر نہیں۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے حوالے سے شائع اپنی دوسری سالانہ رپورٹ میں محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو ایسا ملک قرار دیا ہے جہاں مذہبی آزادی کا وجود نہیں۔ جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، بیلجیم اور چیک ری پبلک ایسے ممالک ہیں جہاں مذہبی جماعتوں کے خلاف اطلاعاتی مہم حکومتی سرپرستی میں چلائی جاتی ہے۔ رپورٹ وزیرخارجہ میڈلین البرائٹ نے نیویارک میں میڈیا کے حوالے کی۔
رپورٹ کے مطابق چین میں حقوقِ انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے جبکہ مذہبی گروپوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جاتے ہیں۔ برما میں بدھ مت کے پیروکاروں کو گرفتار کر کے جیلوں میں اذیت ناک سزائیں دی جاتی ہیں۔ بدھ مت کے مذہبی مقامات تباہ کر دیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عراق میں بعض مذہبی جماعتوں کے خلاف مخاصمانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ عراقی شیعہ مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایران میں ایسی پالیسیاں اختیار کی جاتی ہیں جن کا مقصد مذہبی گروپوں کو دبانا ہے۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوڈان میں حکومتی پالیسیوں سے انحراف کرنے والے مذہبی گروپوں پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۷ ستمبر ۲۰۰۰ء)

ترک عالمِ دین پر حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی

انقرہ (کے پی آئی) ترکی کی ایک عدالت نے سرکردہ عالم دین فتح اللہ بلند پر اسلامی مملکت کے قیام کے لیے موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ الزام ثابت ہونے کی صورت میں انہیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲ ستمبر ۲۰۰۰ء)

پاکستان میں خواتین کے بارے میں نئے قوانین

اسلام آباد (این این آئی) قومی کمیشن برائے وقار خواتین کی چیئرپرسن ڈاکٹر شاہین سردار علی نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے منافی جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کی بعض شقوں کو ایک آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کیا جائے گا تاکہ خواتین کو تحفظ اور عزت مل سکے۔ غیرت کے نام پر قتل جہاں کہیں بھی ہوں گے اس میں فوری طور پر سرکار پارٹی بنے گی اور دفعہ ۳۰۲ کے تحت غیرت پر قتل کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلے گا۔
میں علماء حضرات کی بہت قدر اور عزت کرتی ہوں، وہ اسلامی قوانین کی روح کے مطابق غیرت اور قتل کے بارے میں اپنی قیمتی آرا سے آگاہ کریں۔ گزشتہ روز این این آئی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے ۲۰ ممبران ہیں، ان کی مدت تین سال ہے۔ کمیشن کا مقصد خواتین کو ان کے جائز حقوق دلوانا اور ان کو معاشی و اقتصادی طور پر مضبوط کرنا ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۸ ستمبر ۲۰۰۰ء)

تعارف و تبصرہ

ادارہ

الکنز المتواری فی معادن لامع الدراری و صحیح البخاری

صحیح بخاری پر قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے افادات ’’لامع الدراری‘‘ کے نام سے کافی عرصہ قبل منظر عام پر آئے تھے جن سے اہل علم استفادہ کر رہے ہیں، اور صحیح بخاری کے مشکل مقامات کی تشریح میں حضرت گنگوہیؒ کے خصوصی فقہی و تحقیقی ذوق سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے چند تلامذہ نے بخاری شریف اور لامع الدراری کے ساتھ حضرت شیخ الحدیث قدس اللہ سرہ العزیز کے افادات کو شامل کر کے انہیں بخاری شریف کی مکمل شرح کی صورت میں متن کے ساتھ شامل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے جو بلاشبہ بہت بڑی علمی خدمت ہے، اور اس سے حضرت شیخ الحدیثؒ کی گراں قدر علمی کاوشوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آج کی علمی دنیا میں اکابر علماء دیوبندؒ کے تعارف اور ان کے خصوصی علوم و فیوض کی اشاعت کا مقصد بھی حاصل ہو گا۔
دین کے اصول و فروع کی تشریح و تعبیر میں اکابر علماء دیوبند کا معتدل اور متوازن ذوق گزشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران جس امتیازی شان کے ساتھ اہل علم کے سامنے آیا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اکابر کے علوم و فیوض اور علمی افادات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے جو کام ہونا چاہیے تھا وہ بدقسمتی سے نہیں ہو پایا۔ اور اب اس سلسلہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے تلامذہ نے پیشرفت کی ہے تو یہ انتہائی خوشی کی بات ہے اور اس پر اس کارخیر میں شریک سب حضرات بالخصوص حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اس وقت ہمارے سامنے ’’الکنز المتواری‘‘ کی تین جلدیں ہیں جو بالترتیب ۵۱۰، ۴۰۸ اور ۳۵۶ صفحات پر مشتمل ہیں۔ پہلی جلد بطور مقدمہ کے ہے جس میں علمِ حدیث کے ضروری مباحث کے ساتھ ساتھ برصغیر پاک و ہند کے ممتاز محدثین کی خدمات اور ان کی خصوصیات کا تذکرہ ہے۔ جبکہ دوسری اور تیسری جلد ’’کتاب التیمم‘‘ تک کے مباحث پر مشتمل ہے۔ ہر صفحہ کے آغاز میں بخاری شریف کی حدیث کا متن، اس کے بعد ’’لامع الدراری‘‘ کے نام سے حضرت گنگوہیؒ کے افادات، اور اس کے بعد حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ کے افادات درج کیے گئے ہیں۔
عمدہ ٹائپ اور طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ یہ کتاب ’’المکتبۃ الامدادیۃ، باب العمرۃ مکہ مکرمہ‘‘ کی طرف سے شائع کی جا رہی ہے اور پاکستان میں ’’مکتبہ کشمیر، چنیوٹ بازار، فیصل آباد‘‘ سے طلب کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں اسلامی قانون سازی کا جائزہ

وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن صاحب نے اسلامی احکام و قوانین کی تدوین و تشریح اور تنفیذ کے لیے مختلف حیثیتوں سے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں، اور پاکستان میں نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں ان کی علمی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے زیر نظر مقالہ میں گزشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان میں نفاذِ شریعت کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی جدوجہد کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا ہے، اور اسلام کی بالادستی اور عملداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے۔ جس سے دستور و قانون کے محاذ پر نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا ایک مجموعی تناظر سامنے آجاتا ہے۔ 
۳۶ صفحات پر مشتمل یہ مقالہ ’’صدیقی ٹرسٹ، پوسٹ بکس ۶۰۹، کراچی‘‘ نے شائع کیا ہے۔ نفاذِ اسلام کے لیے محنت کرنے والی دینی جماعتوں اور مراکز سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں اور خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ حلقوں، ججوں اور وکلاء میں اس کی عمومی تقسیم کا اہتمام کریں۔

زکوٰۃ و عشر کے مسائل اور ان کا حل

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کو اللہ تعالیٰ نے دینی مسائل کی تفہیم کا خصوصی ذوق عطا فرمایا تھا اور روزنامہ جنگ میں ان کا کالم ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ لاکھوں مسلمانوں کی راہنمائی کا ذریعہ بنا ہے۔
’’مبین ٹرسٹ، پوسٹ بکس نمبر ۴۷۰، اسلام آباد ۴۴۰۰۰‘‘ نے زکوٰۃ و عشر کے بارے میں مختلف سوالات کے حوالے سے حضرت مولانا محمد لدھیانوی شہیدؒ کے جوابات کا ایک جامع انتخاب انتہائی خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے، اور شرعی احکام سے ناواقفیت کے اس دور میں اس بات کی ضرورت ہے کہ اس رسالہ کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے۔ ۸۰ صفحات کا یہ رسالہ آرٹ پیپر پر شائع ہوا ہے اور قیمت درج نہیں ہے۔

فتنہ قادیانیت کو پہچانیے

فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں جناب محمد طارق رزاق جس ذوق اور محنت کے ساتھ مسلسل مصروف کار ہیں وہ بلاشبہ لائقِ رشک ہے اور ان کی بعض تحقیقی کاوشیں دیکھ کر دل سے بے ساختہ ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں۔ انہوں نے قادیانیت کے تعارف اور اس کے اصل خدوخال کو بے نقاب کرنے کے لیے اکابر امت کی تحریرات میں سے ایک جامع انتخاب مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ پونے پانچ سو صفحات کی ضخیم کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے جس میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، علامہ محمد اقبالؒ، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ، مولانا عبد الشکور لکھنویؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، علامہ خالد محمود، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا عبید اللہ عفیف، مفتی عبد القیوم خان، اور مولانا اللہ وسایا کی تحریرات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یہ کتاب ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان‘‘ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو پچاس روپے ہے۔‘‘