کیا اسلامی نظام صرف مولویوں کا مسئلہ ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے یہ کہہ کر اسلامی نظام اور اس کی علمبردار دینی قوتوں کے خلاف ایک بار پھر وہی گھسی پٹی دلیلیں دہرائی ہیں جو اس سے قبل پچاس سال سے ہم سن رہے ہیں کہ ’’الگ الگ جھنڈے اٹھا کر مذہبی جماعتیں ملک میں کون سا اسلام نافذ کرنا چاہتی ہیں اور اگر دینی جماعتیں واقعی موزوں، مفید اور مناسب طور پر یہ کام کر رہی ہیں تو وہ اب تک کے الیکشنوں میں اچھے نتائج کیوں نہیں دکھا پائیں؟‘‘
یہ بات پاکستان کے قیام کے بعد ہی سیکولر حلقوں نے کہنا شروع کر دی تھی کہ ملک میں مختلف دینی مکاتب فکر ہیں اور اسلام کی الگ الگ تعبیر و تشریح کر رہے ہیں، اس لیے یہاں کون سا اسلام نافذ کیا جائے گا؟ لیکن تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے تحریک پاکستان کے عظیم راہنما علامہ سید سلیمان ندوی کی زیر صدارت اسلامی نظام کی ۲۲ متفقہ دستوری بنیادیں طے کر کے اس بات کو رد کر دیا تھا اور قوم کو یہ بتا دیا تھا کہ مختلف مکاتب فکر اور فقہی مذاہب میں فروعات، جزئیات اور تعبیرات میں جو اختلافات موجود ہیں ان کا اسلامی نظام (کے نفاذ) سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلامی نظام کے اصولوں، طریق کار اور احکام و قوانین کے ضوابط پر وہ سب متفق ہیں۔ اس اتفاق و اجتماع میں اہل السنۃ والجماعۃ اور اہل تشیع دونوں شامل تھے۔ اہل سنت کے تمام مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی کے اکابر شریک تھے اور کوئی مسلمہ مذہبی مکاتب فکر اس سے باہر نہیں تھا۔ اس لیے یہ دلیل اسی وقت دم توڑ گئی تھی کہ ملک میں کون سا اسلام نافذ کیا جائے اور کس مذہبی مکتب فکر کی تعبیر و تشریح کو نفاذ اسلام کی بنیاد بنایا جائے؟
جناب معین الدین حیدر کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ان دستوری نکات اور خاکہ پر آج بھی ملک کے تمام مکاتب فکر متحد ہیں اور کسی مذہبی فرقہ کو ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے اس لیے اگر وزیر داخلہ اور ان کے رفقاء ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے اصولوں سے متفق ہیں تو انہیں ’’کون سا اسلام‘‘ کی بے جا رٹ چھوڑ کر تمام مکاتب فکر کے متفقہ ۲۲ دستوری نکات کو دستور پاکستان میں سموکر ان کی بنیاد پر نفاذ اسلام کا آغاز کر دینا چاہیے۔
پھر یہ دلیل اس وقت بھی دہرائی گئی تھی جب ۱۹۷۳ء کے دستور کے لیے دستور ساز اسمبلی میں بحث ہو رہی تھی اور دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبد المصطفٰی ازہریؒ، مولانا محمد ذاکر اور پروفیسر غفور احمد سمیت تمام بڑے مکاتب فکر کے نمائندے موجود تھے۔ اس وقت حکمران کیمپ کی طرف سے چیلنج کیا گیا تھا کہ یہ علماء تو مسلمان کی قانونی تعریف پر متفق نہیں ہو سکتے اس لیے اسلامی نظام کی متفقہ تعبیر کہاں سے لائی جائے گی مگر ان علماء کرام نے دستور ساز اسمبلی میں نہ صرف مسلمان کی متفقہ تعریف پیش کی بلکہ دستور میں اسلامی نکات کی شمولیت کے لیے متحد ہو کر پارلیمانی جنگ لڑی جس کے نتیجے میں حکمران کیمپ کو اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دینا پڑا اور ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھال دینے کی ضمانت دینا پڑی۔ اسمبلی میں موجود علماء کے اس موقف کو اسمبلی سے باہر کے تمام علماء کرام اور مکاتب فکر کی تائید حاصل تھی اور پوری قوم اس پر متفق تھی لیکن دستوری ضمانت کے باوجود ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہو ا اور قوم بدستور انتظار میں ہے۔
وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر سے گزارش ہے کہ اسی دستور نے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی ہے جس میں نہ صرف تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام شامل ہیں بلکہ عصری قانونی نظام کے نمائندے بھی موجود ہیں۔ اس کونسل نے ملک کے قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے جو مسودات مرتب کیے ہیں اور جو سفارشات پیش کی ہیں ان پر تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا اجماع اور اتفاق ہے۔ اور ۲۲ دستور ی نکات کی اصولی اور آئینی دستاویز کے بعد ملکی قوانین کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ جامع اور مکمل رپورٹ دوسری بڑی دستاویز ہے جو متفقہ ہے جس سے ملک کے کسی مسلمہ مذہبی مکتب فکر کو اختلاف نہیں اور اس میں تمام مروجہ قوانین کے بارے میں تفصیلی تجزیہ اور سفارشات موجود ہیں۔ اس لیے جب دستور اور قانون دونوں معاملات میں قائم مذہبی جماعتوں کا اتحاد موجود ہے اور ریکارڈ پر ہے تو ہمارے وزیر داخلہ محترم علماء کرام سے اور کس قسم کے اتحاد کا تقاضا کر رہے ہیں اور انہیں مذہبی جماعتوں کے الگ الگ جھنڈوں میں کون سا ایسا اختلاف نظر آرہا ہے جو اسلامی نظام کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہو؟
وزیرداخلہ صاحب نے دوسری بات یہ کی ہے کہ اگر مذہبی جماعتیں مفید ہیں تو انہیں الیکشن میں عوامی حمایت حاصل کیوں نہیں ہوتی؟ ہمارا ان سے سوال یہ ہے کہ اگر عوامی حمایت ہی واحد معیار ہے اور انہوں نے سارے فیصلے اس کی کسوٹی پر پرکھ کر کرنے ہیں تو ان کے پاس بھاری عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت اور قومی اسمبلی کو توڑنے کا کیا جواز ہے؟ بے شک عوام نے مولویوں کی حمایت نہیں کی تھی مگر اس اسمبلی کو تو ووٹ دیے تھے، اسے توڑ کر جناب معین الدین حیدر وزارت داخلہ کا قلمدان کس اصول کے تحت سنبھالے ہوئے ہیں؟ ہماری گزارش کا یہ مطلب نہیں کہ ہم موجودہ حکومت کے قانونی اور اخلاقی جواز کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا وجود اور اس میں جناب معین الدین حیدر کا وزارت داخلہ کے منصب کو سنبھالنا اس بات کی دلیل ہے کہ قومی معاملات میں عوامی حمایت اور ووٹنگ پاور واحد معیار نہیں ہے بلکہ اس کے ہوتے ہوئے بھی بعض دیگر امور کی طرف دیکھنا اور انہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہو جاتا ہے اور بسا اوقات قومی مفاد کے دیگر معاملات عوامی حمایت اور ووٹنگ پاور سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں حتیٰ کہ ان کی خاطر عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی اسمبلیوں اور حکومتوں کو برطرف کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام کے نفاذ کا معاملہ بھی ان اہم ترین قومی امور اور ملی معاملات میں سے ہے جنہیں صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا پرچم اٹھانے والی جماعتوں کو الیکشن میں ووٹ نہیں ملتے۔ یہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے، پاکستان کی نظریاتی بنیاد کا مسئلہ ہے اور ملکی بقا و استحکام کا تقاضا ہے اور اسے اسی حوالہ سے دیکھنا ہوگا۔ ہم مانتے ہیں کہ دینی جماعتوں میں اختلافات موجود ہیں جو اسلامی دستور اور قوانین کے کسی مسئلہ یا ان کے نفاذ کے طریق کار پر نہیں ہیں بلکہ غیر متعلقہ امور اور قیادت کی ترجیحات پر ہیں، اور ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دینی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کی یہ باہمی معاصرت اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر آگے بڑھنے کی کشمکش نفاذ اسلام کی جدوجہد کے لیے سخت نقصان دہ ہے اور اسی وجہ سے انہیں انتخابات میں عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ ورنہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دینی قوتیں متحد ہوئی ہیں عوام نے ان کے پرچم تلے مجتمع ہونے میں کبھی دیر نہیں لگائی۔
لیکن اس سب سے قطع نظر ہم جناب معین الدین حیدر سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ الگ الگ جھنڈے اٹھانے والی مذہبی جماعتوں کو ایک طرف رہنے دیں، انہیں آپس میں لڑنے جھگڑنے دیں، انہیں بھول جائیں اور صرف یہ دیکھیں کہ اسلام ہماری ملی ضرورت اور قومی تقاضا ہے۔ آپ خود مسلمان ہیں، قرآن و سنت پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلامی نظام و قوانین کی ضرورت و اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے جب آپ کے پاس اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت جیسے دستوری اداروں کے مرتب کردہ اسلامی قوانین کے مسودات موجود ہیں تو پھر آپ کو انتظار کس بات کا ہے؟ آپ انہیں نافذ کیوں نہیں کر دیتے اور دنیا کو یہ کیوں نہیں بتا دیتے کہ یہ مذہبی جماعتیں تو خود کو اس کا اہل ثابت نہیں کر سکیں مگر ہم نے پاکستان میں اسلامی نافذ کر دیا ہے اور نو آبادیاتی دور کے استحصالی نظام سے ملک کی جان چھڑا کر قرآن و سنت کے عادلانہ قوانین و احکام کی عملداری قائم کر دی ہے۔ اور اگر وزیر داخلہ صاحب ناراض نہ ہوں تو ڈرتے ڈرتے ان سے یہ پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ کیا اسلامی نظام صرف مولویوں اور مذہبی جماعتوں کا مسئلہ ہے، آپ کا مسئلہ نہیں ہے؟ اور اگر یہ آپ کا مسئلہ بھی ہے تو پھر بال کو مولویوں کی کورٹ میں پھینک کر آپ خود کو ہر ذمہ داری سے بری الذمہ ظاہر کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟
اسلام کے راستے میں ظاہری رکاوٹیں
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
اسلام کے راستے میں ظاہری رکاوٹوں کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ ایک رکاوٹ تو ظاہری ہے کہ جہاں پر کفر کا غلبہ ہو وہاں اہلِ ایمان کو شعائرِ دین پر عمل کرنے سے روک دیا جائے۔ جیسے پوری تاریخ انبیاء میں اس قسم کے واقعات ملتے ہیں کہ انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو خدا کی عبادت کرنے اور دین کی تبلیغ کرنے سے جبراً روک دیا گیا۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا ذکر سورۃ الشعراء میں موجود ہے۔ ’’قالوا لئن لم تنتہ یا نوح لتکونن من المرجومین‘‘ (آیت ۱۱۶) ’’اے نوح! اگر تم نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنا نہ چھوڑا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی آپ کے باپ نے یہی کہا کہ اے ابراہیم! تو ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتا ہے، اگر تو ان حرکات سے باز نہ آیا ’’لارجمنک واھجرنی ملیا‘‘ (مریم ۴۶) ’’تو میں تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا، لہٰذا میری نظروں سے دور ہو جا۔‘‘
جب حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو ہم جنسی سے منع کیا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے ’’اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون‘‘ (الاعراف ۸۲) کہ ’’لوط علیہ السلام اور اس کے چند پیروکار بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں، ان کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔‘‘
شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو ماپ تول میں کمی بیشی سے منع فرمایا۔ نیز انہیں راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے سے منع کیا تو قوم کے سرکردہ لوگ کہنے لگے کہ اے شعیب! ہم تمہیں اور تمہارے پیروکاروں کو اپنی بستیوں سے نکال دیں گے ’’او لتعودن فی ملتنا‘‘ (الاعراف ۸۸) ’’اگر یہاں رہنا ہے تو اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین میں واپس آ جاؤ‘‘۔
خود حضور علیہ السلام کی تبلیغ کے راستے میں ہر قسم کے روڑے اٹکائے گئے۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائی گئیں۔ آپ کو لالچ دیا گیا کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیتے ہیں۔ مال و دولت آپ کے قدموں میں ڈھیر کر دیتے ہیں۔ خوبصورت ترین عورت نکاح میں دے دیتے ہیں۔ آپ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں۔ مگر اللہ کے مقرب انبیاء دشمنان کے کسی رعب اور لالچ میں نہ آئے اور اپنا مشن جاری رکھا۔
راہ حق میں روکنے کا دوسرا طریقہ سازشوں کا جال ہے، جس کے ذریعے اہل ایمان کو اس دینِ حق سے بدظن کیا جاتا ہے اور نئے آنے والوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے اسلام قبول کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ماضی قریب میں روسیوں کا کردار ہے جنہوں نے کسی بھی مذہبی تبلیغ پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی۔ ان کے آئین کے مطابق مذہب کے خلاف تو پراپیگنڈا کیا جا سکتا ہے مگر مذہب کے حق میں کوئی زبانی یا عملی تحریک جائز نہیں۔ اس آڑ میں کتنے ہی بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ یہودی اور عیسائی مشنریاں دین حق سے روکنے کے سلسلے میں زیادہ پیش پیش ہیں۔ وہ کبھی سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کر کے اور ایڈ دے کر لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ افریقہ اور جنوبی ایشیا کے پسماندہ ممالک میں یہی حربہ استعمال کر کے لاکھوں لوگوں کو عیسائی بنایا جا چکا ہے۔
کبھی زمانہ تھا کہ خود مسلمان دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا صحیح سلوک کیا کرتے تھے، مگر آج دیگر اقوام ہیں جو نام نہاد ہمدردی کے جال میں پھنسا کر لوگوں کو بے دین بنا رہی ہیں۔ ساتویں صدی میں مسلمانوں پر زوال آنا شروع ہوا اور پھر ان کے قدم نہیں سنبھل سکے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پچاس سے زیادہ مسلمان حکومتوں کے باوجود دنیا میں مسلمانوں کو کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے، بلکہ یہ دوسروں کے دستِ نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک سازش کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں ٹکراتے رہتے ہیں اور پھر ان کی مدد کی آڑ میں بندر بانٹ شروع کر دیتے ہیں۔ آج مسلمانوں کی نہ کوئی اپنی سوچ ہے اور نہ کوئی نظریہ، جس پر چل کر وہ ترقی کی منازل طے کر سکیں۔
ایک امریکی مصنف نے پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر مسلمانوں کے حالات پر مبنی ایک کتاب The New World of Islam (جدید دنیائے اسلام) لکھی۔ یہ کتاب امیر شکیب ارسلان (المتوفی ۱۹۴۶ء) کے پاس بھیجی گئی۔ اس کا عربی ترجمہ ’’حاضر العالم الاسلامی‘‘ کے نام سے پروفیسر عجاب نویہض نے کیا۔ اس پر تین ضخیم جلدوں میں مقدمہ اور تقریظ امیر شکیبؒ نے لکھی جس میں مسلمانوں کے زوال کی وجوہات درج کیں۔ آپ شام کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ترکی میں ہسپتالوں کے انچارج رہے، خود بالفعل انگریزوں اور اٹلی والوں کے خلاف جنگ میں شریک رہے، اور آخر میں بے کسی کے عالم میں شام میں وفات پائی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ عیسائی اور یہودی طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کی اس قدر دشمن ہیں کہ وہ دین اسلام، پیغمبر اسلام اور قرآن کے خلاف چھ لاکھ کتابیں اور پمفلٹ شائع کر چکے ہیں، ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح مسلمان دینِ حق سے بیزار ہو جائیں، قرآن کا دامن چھوڑ دیں اور پھر سے کفر و الحاد کی بھول بھلیاں میں بھٹکتے پھریں۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ اور فقہ اسلامی
مولانا عتیق احمد
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بڑی ہمہ جہت اور ہشت پہل ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر کی اسلامی تاریخ پر ان کے اثرات اس قدر وسیع اور گہرے ہیں کہ ان کے تذکرے کے بغیر ہر تاریخ ادھوری رہے گی۔ خواہ فکرِ اسلامی کی تاریخ ہو یا ادبِ اسلامی کی یا علومِ اسلامی کی یا تحریکاتِ اسلامی کی۔ عالمِ اسلام کے ہر خطہ کو اور زندگی کے ہر میدان کو انہوں نے کم و بیش متاثر کیا۔ برصغیر ہند و پاک تو ان کا وطن تھا، وہ اسلامیانِ ہند کی آبرو اور ان کی زبان و ترجمان تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان میں اسلام کی جڑیں مستحکم کرنے اور تشخصِ اسلامی کی حفاظت میں ان کا بنیادی کردار رہا۔ بلادِ عربیہ اور بلادِ اسلامیہ میں ان کی دعوت دور دور تک پہنچی اور ان کے افکار و پیغام کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ عالمِ اسلام کی سیاسی، سماجی تبدیلیوں پر ان کی نظر بہت گہری تھی، خطرات کا احساس بہت پہلے کر لیا کرتے تھے، اور ’’نذیر عریاں‘‘ کی طرح صاف لفظوں میں خطرات سے آگاہ کرتے، ان سے تحفظ کی تدبیر بتاتے۔ دنیا میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں (خواہ یورپ ہو، امریکہ، آسٹریلیا ہو یا افریقہ) حضرت مولانا علی میاںؒ کی تصنیفات و افکار کی خوشگوار روشنی وہاں تک پہنچی ہے اور ہر ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ کے دل و دماغ پر مولانا محروم نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
حضرت مولاناؒ کی شخصیت کی شاہ کلید
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کیا کچھ نہیں تھے؟ آپ بلند پایہ مفکر، زبردست داعی الی اللہ، شہرۂ آفاق مصنف، مؤرخ، مفسر، ادیب و انشاء پرداز، سحر بیان مقرر و خطیب اور ممتاز ترین مربی و عالمِ ربانی تھے۔ لیکن میری نظر میں ان کی شخصیت کی شاہ کلید دعوت الی اللہ ہے۔ ان کا دعوتی پہلو تمام دوسرے پہلوؤں پر حاوی اور غالب ہے۔ جب وہ سیرت نگاری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو تاریخ اسلامی کی ان شخصیات کا انتخاب کرتے ہیں جن کی حیات اور کارناموں میں دعوت و عزیمت کا پہلو بہت نمایاں ہے۔
’’السیرۃ النبویہ‘‘ میں لکھتے ہیں تو حیاتِ نبویؐ کے دعوتی پہلو سب سے زیادہ اجاگر کرتے ہیں، نصابی کتابیں مرتب کرنے میں انبیاء کرامؑ کے ایمان افروز قصوں کو اپنی توجہات کا مرکز بناتے ہیں اور ’’قصص النبیین‘‘ جیسی البیلی کتاب وجود میں آتی ہے جس کی سطر سطر میں ادب کی چاشنی اور دعوت کی تڑپ ہے۔ مختارات میں ادبِ عالی کا انتخاب کرنے بیٹھتے ہیں تو عربی ادبیات سے ایسے شہ پارے تلاش کر کے لاتے ہیں جن میں دعوتی برق و رعد پنہاں ہیں۔ ’’ماذا خسر العالم‘‘ میں امتِ مسلمہ کے عروج و زوال کی داستان سناتے ہیں تو امت ِمسلمہ کو اس کا کھویا ہوا داعیانہ و قائدانہ مقام یاد دلاتے ہیں۔ ہندوستان کے مقامی حالات میں ان کا داعیانہ ذہن ’’پیامِ انسانیت‘‘ کے نام سے ایک نیا عنوان تراشتا ہے اور پیامِ انسانیت کے غلاف میں اسلام کی دعوت برادرانِ وطن تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ غرضیکہ ان کی تمام تحریروں اور تحریکوں میں دعوت کی روح رچی بسی ہوئی ہے۔ اس لیے میرے خیال میں حضرت مولانا علی میاںؒ سب سے اول اور سب سے آخر میں جلیل القدر عالم ربانی اور داعی الی اللہ تھے۔ ان کے سارے کاموں اور کارناموں کو اگر ہم ایک لفظ میں کشید کر لینا چاہیں تو وہ لفظ ’’دعوت‘‘ ہے۔
داعی کا لفظ اس دور میں بڑا ہلکا اور پامال سا ہو گیا ہے حالانکہ یہ لفظ بڑا پُر عظمت ہے۔ انبیاء کرامؑ کی کوششوں کا سر عنوان دعوت الی اللہ ہے۔ صحابہ کرامؓ کی دینی جدوجہد کا خلاصہ دعوت الی اللہ ہے۔ داعی انبیاء کرامؑ کا وارث و امین ہوتا ہے۔ اس کے دل میں انبیاءؑ والا سوز و گداز ہوتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں تمام انسانیت کے لیے خلوص و محبت، فکر مندی و دل سوزی کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ داعی الی اللہ بڑا حساس و زیرک ہوتا ہے۔ زمانہ کی حرکت و رفتار کا نباض، حقیقت آگاہ اور حق آشنا ہوتا ہے۔ خلوص و محبت کے ساتھ حکمت و دانائی اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اس کی لغت میں مایوسی اور پست ہمتی کے الفاظ نہیں ہوتے، وہ نا امیدوں میں امید کے چراغ جلاتا ہے۔ ایک بلند پایہ داعی مفکر بھی ہوتا ہے۔ اپنے دور کی فکری گتھیوں کو اسلامی بنیادوں پر سلجھاتا ہے۔ امت کی ذہنی و فکری رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے علومِ اسلامیہ سے وابستہ معرکہ الآراء فکری مسائل میں بھی اسے اپنا موقف واضح کرنا ہوتا ہے۔
مولانا علی میاںؒ اور علومِ اسلامیہ
علومِ اسلامیہ میں حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کو سب سے زیادہ دلچسپی قرآن سے تھی۔ تفسیرِ قرآن سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے انہوں نے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے درسِ قرآن میں شرکت کی اور امتیازی کامیابی حاصل کی۔ حضرت مولانا مرحوم نے ایک مدت تک بڑے ذوق و شوق سے تفسیرِ قرآن کا درس دیا۔ قرآن کی تلاوت اور قرآن میں تفکر و تدبر آخری عمر تک ان کا محبوب ترین مشغلہ رہا۔ ایک بار میں نے ان سے بذریعہ خط مشورہ چاہا کہ کن تفسیروں کو مطالعہ میں رکھا جائے، تو انہوں نے تحریر فرمایا:
’’تفسیر کے سلسلے میں میرا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ متن ِقرآن زیادہ سے زیادہ پڑھیں اور اس سے ذاتی ربط پیدا کریں۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کا رسالہ ’’الفوز الکبیر‘‘ ضرور مطالعہ میں رکھیں، باقی کسی ایک تفسیر کا مشورہ دینا بہت مشکل ہے۔‘‘
ان کی تحریروں اور تقریروں کا سب سے بڑا سرچشمہ قرآن کریم تھا۔ آیاتِ قرآنی سے تذکیر و استنباط میں ان کا ذہن اخاذ اور رسا تھا۔ اپنی برجستہ تقریروں میں انہوں نے آیاتِ قرآنی اور مضامینِ قرآنی کا جس کثیر اور لیاقت کے ساتھ استعمال کیا ہے اس سے ان کے تبحرِ علمی، دقیقہ سنجی اور نکتہ رسی کا اندازہ ہوتا ہے۔
احادیثِ نبویہؐ سے انہیں بہت مناسبت تھی۔ فنِ حدیث انہوں نے بڑے جلیل القدر اساتذہ سے سیکھا۔ ان میں نمایاں ترین نام حضرت مولانا حیدر حسن خان صاحبؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے ہیں۔ کچھ دنوں انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں صحیح بخاری اور دیگر کتبِ حدیث کا درس بھی دیا۔
علمِ فقہ کی تحصیل بھی انہوں نے ماہر فنِ اساتذہ سے کی ،لیکن اس علم سے تدریسی اشتغال کا انہیں زیادہ موقع نہیں ملا۔ اس لیے مسئلہ بتانے اور فتویٰ دینے سے وہ ہمیشہ گریز فرماتے تھے۔ کوئی اگر مسئلہ پوچھتا تو مفتی صاحب ندوۃ العلماء یا کسی دوسرے استاذِ فقہ کے پاس بھیج دیتے۔ استفتاء پر مشتمل خطوط دارالافتاء، ندوۃ العلماء یا مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ کو بھجوا دیتے۔
ائمہ مجتہدین اور فقہ اسلامی مولاناؒ کی نظر میں
بیسویں صدی میں متجددین کا ایک طبقہ پوری اسلامی فقہ کو ائمہ مجتہدین کی ذاتی رائے قرار دے کر مسترد کر دینے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ شریعت کا جوا کندھے سے اتار پھینکا جائے۔ یہ طبقہ فقہائے مجتہدین کے کارناموں کا استخفاف کر رہا تھا اور ان کے خلاف زبانِ طعن دراز کر رہا تھا۔ اس پس منظر میں حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے فقہ اسلامی اور فقہائے اسلام کا زبردست دفاع کیا۔ اپنی متعدد تحریروں میں فقہائے مجتہدین کے کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور نئی نسل کے دل و دماغ میں فقہ اسلامی اور فقہاء کے اجتہادی کارناموں کی اہمیت جاگزیں کر دینے کی کوشش کی۔ حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’اسلام جزیرۃ العرب سے (جہاں زندگی سادہ اور تمدن انتہائی محدود تھا) نکل کر مصر و شام، عراق و ایران اور دوسرے وسیع، زرخیز اور سرسبز و شاداب خطوں میں پہنچ گیا تھا۔ جہاں کا انتظامِ تمدن و معیشت، تجارت، انتظامِ ملکی سب بہت وسیع اور پیچیدہ شکلیں اختیار کر گئے تھے۔ اس وقت ان نئے حالات و مسائل میں اسلام کے اصول کی تطبیق کے لیے بڑی اعلیٰ ذہانت، معاملہ فہمی، باریک بینی، زندگی اور سوسائٹی سے وسیع واقفیت، انسانی نفسیات اور اس کی کمزوری سے باخبری، قوم کے طبقات اور زندگی کے مختلف شعبوں کی اطلاع، اور اس سے پیشتر اسلام کی تاریخ، روایات اور روحِ شریعت سے گہری واقفیت، عہدِ رسالت اور زمانۂ صحابہؓ کے حالات سے پوری آگاہی، اور اسلام کے پورے علمی ذخیرہ (قرآن و حدیث اور سنت و قواعد) پر کامل عبور کی ضرورت تھی۔
یہ اللہ کا بڑا فضل تھا اور اس امت کی اقبال مندی کہ اس کارِ عظیم کے لیے ایسے لوگ میدان میں آئے جو اپنی ذہانت، دیانت، اخلاص اور علم میں تاریخ کے ممتاز ترین افراد ہیں۔ پھر ان میں سے چار شخصیتیں امام ابوحنیفہ (م۱۵۰ھ)، امام مالک (م۱۷۹ھ)، امام شافعی (م۲۰۴ھ)، امام احمد بن حنبل (م۲۴۱ھ) جو فقہ کے چار دبستان فکر کے امام ہیں، اور جن کی فقہ اس وقت تک عالمِ اسلام میں زندہ اور مقبول ہے، اپنے تعلق باللہ، للّٰہیت، قانونی فہم، علمی انہماک اور جذبۂ خدمت میں خاص طور پر ممتاز ہیں۔ ان حضرات نے اپنی پوری زندگی اور اپنی ساری قابلیتیں اس بلند مقصد اور اس اہم خدمت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ انہوں نے دنیا کے کسی جاہ و اعزاز اور کسی لذت و راحت سے سروکار نہیں رکھا تھا۔
امام ابوحنیفہ کو دو بار عہدہ قضاء پیش کیا گیا اور انہوں نے انکار کیا، یہاں تک کہ قید خانہ میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔ امام مالکؒ نے ایک مسئلہ کے اظہار میں کوڑے کھائے اور ان کے شانے اتر گئے۔ امام شافعیؒ نے زندگی کا بڑا حصہ عسرت میں گزارا اور اپنی صحت قربان کر دی۔ امام احمدؒ نے تن تنہا حکومتِ وقت کے رجحان اور اس کے ’’سرکاری مسلک‘‘ کا مقابلہ کیا اور اپنے مسلک اور اہلِ سنت کے طریقہ پر پہاڑ کی طرح جمے رہے۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے موضوع پر تن تنہا کام کیا اور مسائل و تحقیقات کا اتنا بڑا ذخیرہ پیدا کر دیا جو بڑی بڑی منظم جماعتیں اور علمی ادارے بھی آسانی سے نہیں پیدا کر سکتے۔
اسلام کی ابتدائی صدیوں میں ان ائمہ فن اور صاحبِ اجتہاد علماء کا پیدا ہو جانا اس دین کی زندگی اور اس امت کی کارکردگی کی صلاحیت کی دلیل تھی۔ ان کی کوششوں اور ذہانتوں سے اس امت کی عملی معاملاتی زندگی میں ایک نظم اور وحدت پیدا ہو گئی، اور امت اس ذہنی انتشار اور معاشرتی بے نظمی اور ابتری سے محفوظ ہو گئی جس کی دوسری قومیں اپنے ابتدائی عہد میں شکار ہو چکی ہیں اور وہ تدریجی طور پر ایسے لا دینی راستے پر پڑ گئیں کہ ان کے لیے لا دینی نظامِ زندگی اختیار کرنا ضروری ہو گیا۔ یا پھر ایسے غیر اسلامی قوانین کو انہیں اختیار کرنا پڑتا جو اس کی دینی روح اور اصول و مبادی سے متصادم ہوں۔ اور وہ مسیحی یورپ کے نظریۂ دین و سیاست کی تفریق کے ان اصولوں کو اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے جو خاص حالات و ماحول اور مسیحی مذہب کی مخصوص وضع اور ساخت کا نتیجہ تھا۔
اگر خدانخواستہ علمائے متقدمین فقہی اجتہاد، احکام اور مسائل کے استنباط و استخراج میں کسلمندی اور سستی اور ڈھیل سے کام لیتے اور جدوجہد کے بجائے راحت و آرام کو اختیار کرتے، یا ان کے علمی کارنامے اہمیت کے حامل نہ ہوتے اور ان کے فطری ملکہ اور صلاحیت میں جمود و تعطل پیدا ہو جاتا، تو اس وقت کی حکومت عملی زندگی اور وقت کے مطالبات و تقاضوں سے مجبور ہو کر رومی اور ایرانی قوانین کو اسلامی دنیا پر منطبق نہ کر دیتی؟ اس لیے کہ نئے حالات و مسائل سے مسلمانوں کا مقابلہ تھا، تجارت و زراعت، جزیہ و خراج، محکومین اور مفتوحہ ممالک کے نئے نئے مسائل درپیش تھے۔ قدیم عادات و رواج کا بہت بڑا ذخیرہ اور نئی نئی ضروریات تھیں جو مسلمانوں کی قوتِ فیصلہ اور اسلامی احکام کی منتظر تھیں۔ ان میں سے نہ کسی ضرورت کو ٹالا جا سکتا تھا اور نہ سرسری طور پر ان سے گزرا جا سکتا تھا۔ حکومت مفصل و مکمل آئین و قانونِ سلطنت کی طالب تھی، حکومت کی انتظامی مشین کو روکا نہیں جا سکتا تھا۔ اور قانونِ اسلامی کی ترتیب میں تاخیر ہوتی تو وہ رومی یا ایرانی قانون کو اختیار کرنے پر مجبور تھیں۔ جس کا نتیجہ وہ ہوتا جو اس وقت نام نہاد اسلامی سلطنتوں کا ہوا ہے۔ علماء کی ذرا سی غفلت اور محافظینِ سنت کی دماغی کاہلی اور راحت پسندی اس امت کو ہزاروں برس کے لیے اسلامی معاشرت اور اس کے اجتماعی قوانین کی برکت سے محروم کر دیتی۔
؏ یک لحظہ بودم و صد سالہ را ہم دو رشد
اور مساجد میں تھوڑے وقت اور محدود وقت کے لیے دینداری کی زندگی گزارنا اور اپنے گھروں، بازاروں اور عدالتوں میں زیادہ وقت جاہلی یا لادینی زندگی گزارنا اس کے لیے نوشتۂ تقدیر بن جاتا۔ جیسا کہ اس وقت ان ملکوں اور حکومتوں کا حال ہے جس کا سرکاری مذہب تو عیسائیت ہے لیکن ان کے پاس مسیحی قانونِ شریعت موجود نہیں۔ یا جیسا کہ (انتہائی شرمندگی اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے) ان ملکوں اور حکومتوں کا حال ہے جو عقیدے اور عبادات کی حد تک تو مسلمان کہلاتی ہیں لیکن اسلام کو قانونِ شریعت کے طور پر قبول نہیں کرتیں۔ اگر یہ بات اس مسیحیت کے لیے قابلِ قبول اور گوارا ہے جو دستور اور قانون سازی کے سرچشہ سے محروم ہے، اور دین کو زندگی پر منطبق کرنے پر اس کو اصرار بھی نہیں، لیکن یہ کسی طرح بھی اس اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جو دین و دنیا اور عبادت و سیاست کا جامع ہے۔
چنانچہ امتِ اسلامیہ اپنی زندگی کے انتہائی سنگین مرحلہ سے گزر رہی تھی بلکہ وہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑی تھی جہاں ایک غلطی یا معمولی لغزش بھی اس کے رشتۂ حیات کو اسلامی نظام اور قانون سے کاٹ کر رکھ دیتی، اور آنے والی نسلوں کو ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتی جس میں دین و مذہب کی ہلکی سے ہلکی پرچھائیں بھی نہ پائی جاتی۔
اسی طرح اس بات کی شدید ضرورت تھی کہ عبادات کے احکام و مسائل بیان کیے جائیں تاکہ سہو و نسیان اور انسانی بھول چوک اور شریعت کی ناواقفیت کی وجہ سے جو باتیں پیش آتی ہیں ان کو حل کیا جائے۔ جو لوگ نئے نئے اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے ہیں ان کے مسائل کا حل، نماز میں بھول چوک، رکعات میں کمی زیادتی، روزہ دار کے احکام و مسائل، زکوٰۃ کب اور کن چیزوں پر کتنی مقدار میں فرض ہے، اسی طرح حج جیسی عبادت جس کی ادائیگی میں خاصا وقت صرف ہوتا ہے اور ایک بڑے رقبہ میں حاجی کو شعائرِ حج ادا کرنے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور قدم قدم پر سنت اور اسوۂ نبویؐ کا لحاظ اس کو رکھنا پڑتا ہے۔ ان تمام امور میں فوری احکام اور بروقت فیصلہ کی ضرورت تھی۔ کسی ادنیٰ تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں تھی، اور نہ ہی اس بات کی ضرورت کہ ہر کس و ناکس کو قرآن و سنت سے براہ راست رجوع کر کے مسائل اخذ کرنے کا مشورہ دیا جائے۔
اس لیے ضروری تھا کہ احکام و جزئیات کا وجود ہو اور فقہی ذخیرہ آسانی کے ساتھ ہر ایک کو میسر آ سکے۔ ایسے سرآمد روزگار علماء اور ماہرینِ شریعت کی موجودگی بھی ضروری تھی جو عوام کی رہنمائی کے لیے ہر وقت مستعد ہوں۔ اسی بنا پر اسلام دیگر مذاہب کی طرح تاریخی یادگاروں کا ایسا میوزیم بننے سے محفوظ ہو گیا جہاں ہر طرح کی عبادات اور طرح طرح کی حرکات و سکنات پائی جاتی ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہمیں ان مذاہب کے ماہانہ یا سالانہ تہواروں میں اچھی طرح ہو جاتا ہے جن کے ماننے والوں میں عملی وحدت اور یکجہتی کا فقدان ہوتا ہے اور نہ ہی ان میں روحانی اخلاقی و دینی رنگ پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کی مساجد، حج کے مقامات اور شعائر کی ادائیگی، سب میں یکسانیت، نظم و وحدت، ہم آہنگی اور باہمی ربط و اتحاد پایا جاتا ہے۔ ان میں عقیدے اور عبادات کی وحدت ہوتی ہے کہ ایک ہی شریعت کے آگے سب سرنگوں ہوتے ہیں۔ اس کے دو بنیادی اسباب ہیں: ایک تو یہ کہ دینی تعلیمات میں حیرت انگیز وحدت و اصالت ہے۔ دوسرے محدثین اور فقہاء کا کمال اور ان کا عظیم احسان ہے کہ انہوں نے اپنی غیر معمولی جدوجہد سے اسلامی شریعت کے ذخیرہ کو نہ صرف محفوظ اور باقی رکھا بلکہ قرآن و سنت اور یکساں دینی نظام سے اس کو مربوط کر دیا۔
اسلامی فقہ کی تدوین و ترتیب اور شرعی احکام و مسائل کے استنباط میں جس اجتہادی بصیرت کا ثبوت دیا گیا وہ انتہائی بروقت، مناسب اور برمحل تھا، اور فطری و منطقی تقاضوں اور اس انسانی، عالمی اور ابدی دین کی خصوصیات کے عین مطابق ۔۔۔ جس طرح صرف و نحو عربی زبان و بیان کے قواعد کی بنیاد قرآن مجید، عربی اشعار اور اولین عرب کے کلام پر رکھی گئی اور ان کا تدریجی ارتقاء ہوا، اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ فقہ کی تدوین انتہائی ضروری تھی کہ عرب و عجم پر دین حاوی تھا اور اس کے دائرے میں داخل ہونے والا ہر مسلمان اس کا مکلف ہے۔ اس لیے بھی کہ فقہ کا تعلق مسلمان کی پوری زندگی سے ہوتا ہے اور عقیدہ و عبادت سے اس کا غیر معمول ربط و تعلق اور اُخروی عذاب و ثواب، نجات و ہلاکت اور سعادت و شقاوت کا دارومدار ان فقہی احکام پر ہی ہے۔‘‘ 1
دورِ حاضر اور اجتہاد
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے اجتہاد و تقلید کے معرکۃ الآراء مسئلہ میں بھی نقطۂ اعتدال کی طرف امت کی رہبری کی۔ اپنے اپنے حدود و قیود میں دنوں کو ضروری قرار دیا۔ دور ِحاضر میں اجتہاد کی ضرورت و اہمیت تسلیم کرنے کے ساتھ وہ اس طبقہ پر سخت نکیر کرتے ہیں جو اجتہاد کے نام پر شریعتِ اسلامی کے حقائقِ ثابتہ سے کھلواڑ کرنا چاہتا ہے۔ ایک جگہ حضرت مولانا تحریر فرماتے ہیں:
’’اس دور میں اجتہاد کی باتیں بہت ہو رہی ہیں اور یہ نعرہ لگایا جا رہا ہے کہ اس زمانہ میں اجتہاد کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اجتہاد کا نعرہ لگانا ایک طرح سے ترقی پسندی کی علامت بن گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اجتہاد اس زمانہ کی حاجت اور اس دین کی ضرورت ہے جو زندگی کے قافلے کی رہنمائی اور قیادت کرتا ہے۔ خصوصاً اس زمانہ میں اور بھی اس کی ضرورت ہے جب کہ تمدن اور صنعت و تجارت نے ایسی غیر معمولی اور حیرت انگیز ترقی کر لی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جدید تجارتی معاملات اور معاہدوں میں ایسے فقہی احکام اور فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اسلامی فقہ کے اصولوں اور شریعت ِاسلامی کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوں۔
لیکن شرعی مسائل اور جدید عصری ایجادات کے بارے میں جو لوگ اجتہاد کا نعرہ لگاتے رہتے ہیں وہ اسلامی دنیا کے وہ قائدین و مفکرین اور مغربی دانشگاہوں کے فضلاء ہیں جنہوں نے خود مغربی تہذیب و تمدن کا سامنا پورے عزم و ارادے اور ایمان و یقین سے کرنے میں اپنی مہارت اور ذہانت و ذکاوت کا ثبوت نہیں دیا ہے۔ حالانکہ ان کا فرض تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن اور اس کی سائنسی ایجادات اور ترقی، اس کی خوبیوں اور خامیوں کے درمیان تمیز کر کے وہی چیزیں لیتے جو مشرقی قوموں اور ان کے دین و مذہب اور تہذیب و مزاج سے میل کھائیں اور ان قوموں کو بھی روشنی دکھاتے جو مادیت کا شکار ہو چکی ہیں۔ وہ مغرب سے جو کچھ حاصل کرتے پہلے اس سے اس غبار کو جھاڑ دیتے جو قرونِ مظلمہ ہی سے ان کا جز بن گئی ہیں، اور اب بھی اس کی وجہ سے نفسیاتی کشمکش اور اعصابی تناؤ میں مبتلا ہیں۔ مغربی دانشگاہوں کے ان فضلاء کو اس کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس دور میں وہ ان علوم سے فائدہ اٹھائیں۔ اس لیے کہ جن میدانوں میں انہوں نے تخصص کیا ہے اور جو ان کا خاص موضوع رہا ہے اس میں بھی انہوں نے اپنے رول کو ادا نہیں کیا۔ اور نہ ہی نظامِ تعلیم و تربیت کو آزاد اسلامی نظامِ تعلیم کے سانچے میں انہوں نے ڈھالنے کی کوشش کی۔ حالانکہ یہ کام بھی اجتہاد ہی کی طرح ہے۔ لیکن انسان کی ہمیشہ سے یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کر پاتا تو دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے اور اس سے مطالبہ کر بیٹھتا ہے۔
اس گرفت اور احتساب کے باوجود یہ بات بہرحال اپنی جگہ صحیح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اجتہاد کی ضرورت اپنی جگہ پر ہے، اس مسئلہ پر کوئی اختلاف نہیں۔ جو لوگ علومِ شریعت میں بصیرت اور اس پر دسترس رکھتے ہیں وہ اس میدان میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں، اور اصولِ فقہ جیسے قیمتی خزانہ سے، جس کی کوئی نظیر قوموں اور ملکوں میں نہیں ملتی، احکام و مسائل کے استنباط میں فائدہ اٹھائیں۔ فقہ کا یہ ذخیرہ عرصہ سے صرف تاریخ بن کر رہ گیا ہے، جس سے ہمیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دور کے مجتہدین کس طرح احکام و مسائل کا استنباط کیا کرتے تھے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن وقت کی گھڑی کو نہ تو اپنی جگہ روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسی قوموں اور معاشرہ کا دین ہے جو ان مسائل و مشکلات کے ساتھ ساتھ چلتا ہے بلکہ ان کا سامنا کرتا ہے۔
اجتہاد کے معطل ہونے کی وجہ
مختلف ادوار، ملکوں اور شہروں میں امت نے اجتہاد کو اختیار کیا اور علماء اس پر گامزن رہے، مذاہبِ اربعہ کی کتابیں ان مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن تاتاری حملہ کے بعد مذاہبِ اربعہ (جدید مفہوم میں ہم اس کو علمی اکیڈمی یا ادارے سے تعبیر کرتے ہیں) پر کسی قدر پژمردگی اور کمزوری چھا گئی، اس لیے کہ تاتاری حملے نے خوداعتمادی اور ذہانت کے سوتوں کو خشک کر دیا تھا۔
جو قومیں تاتاری قوموں کے ماتحت ہوئیں ان کے اندر مسلح اور غیر مسلح لشکر کے مقابلے کی جرأت ختم ہو کر رہ گئی۔ چنانچہ اسلامی دنیا کے مشرقی حصے کے علماء نے اس خاص وقفہ میں اجتہاد کی سرگرمیوں پر کسی حد تک پابندی لگانے ہی میں عافیت سمجھی۔ اس لیے کہ انہیں اندیشہ ہونے لگا کہ اگر اجتہاد کی اجازت دے دی گئی تو حکّام اور والیان ِسلطنت کے سیاسی اور انفرادی مصالح کا اس میں خیال رکھا جائے گا اور اس سے نفع کے بجائے نقصان زیادہ ہو گا۔ اس کا بھی امکان ہے کہ دین میں تحریف کا سبب انفرادی اجتہاد بن جائے، یا اس امت کی رفتار میں انحراف اور کجی پیدا ہو جائے۔ اگرچہ ان علماء کا یہ خیال وقتی طور پر پابندی کے لیے تھا جس کی بنیاد فقہ کے اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ جلبِ منفعت پر دفعِ ضرر کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اب اگر اجتہاد کا دروازہ کھولنا ہی ضروری ہے تو ضرور کھولا جائے، لیکن اصولِ فقہ کی کتابوں میں اس کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں ان کا لحاظ ضروری ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ انفرادی طور پر اجتہاد کے بجائے اجتماعی طور پر اجتہاد کیا جائے۔ وہ اس طرح کہ شریعت کے ماہرین کی ایک اکیڈمی ہو جس میں کسی مسئلہ پر طویل غور و فکر، بحث و مباحثہ اور تبادلۂ آراء اور قرآن و سنت اور فقہ و اصولِ فقہ کے پورے ذخیرے کے بھرپور جائزے کے بعد فیصلہ کیا جائے تاکہ کسی سازش یا کسی سیاسی قوت یا استبدادی حکومت کا عکس نہ پڑنے پائے۔
اجتہاد کے حدود اور اس کا میدان
جدید طبقہ کے لوگ اجتہاد کی دعوت دیتے ہیں۔ خصوصاً عصری دانشگاہوں کے پُرجوش جذباتی نوجوان اور اسلامی ملکوں کے بعض سربراہ۔ ان کی اس دعوت سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ ہر مسئلہ میں اجتہادِ مطلق کی دعوت دے رہے ہیں۔ وہ مغربی اقدار و قیم اور عصری پیمانوں کو جوں کا توں لینے پر مُصر ہیں، گویا کہ زمانہ پہلے اسلامی دور کی طرح ہو گیا ہے جب اسلام نیا نیا آیا تھا اور انسانی سوسائٹی مکمل طور پر انقلاب سے دوچار ہو چکی تھی، اور گزشتہ دور میں فقہاء اور مجتہدین نے جو نتائج نکالے اور علم و تحقیق اور مطالعہ کے بعد جو اصول انہوں نے بنائے تھے، وہ اپنی قیمت اور اہمیت کھو چکے ہیں، اور اب موجودہ زمانہ اور قوم کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔
اس میں زیادہ سطحیت، لاپروائی، نام نہاد ترقی پسندانہ ادب کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈے کا اثر ہے۔ اس ادب نے نوجوانوں کے سامنے زمانہ کی ایسی تصویر کھینچی ہے جیسے یہ دور بالکل نیا ہے اور گزشتہ زمانہ سے یہ دور کسی طرح بھی ہم آہنگ نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ تصویر تخیلات پر مبنی ہے اور اس میں ذرہ برابر حقیقت نہیں، واقعیت و منطقیت سے زیادہ اس میں جذباتیت سے کام لیا گیا ہے۔
اسلام ایک تغیر پذیر دنیا میں
یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقالہ کا اختتام اس تقریر کے اقتباس پر کروں جو میں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک سیمینار بہ عنوان ’’اسلام ایک تغیر پذیر دنیا میں‘‘ کی تھی۔
’’زمانہ اپنی تغیر پذیری اور زیادہ صحیح الفاظ میں تغیر پرستی، یا اقبال کے الفاظ ’’تازہ پسندی‘‘ کے لیے بدنام زیادہ ہے اور بد کم ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمانہ تغیر پذیری ہی کا نام ہے۔ زمانہ ثبات اور تغیر کے متوازن مرکب اور مجموعے کا نام ہے۔ اور جب کبھی اس کا تناسب بگڑے گا یعنی ٹھہراؤ تغیر پر غالب آجائے گا، یا تغیر ٹھہراؤ پر غالب آجائے گا تو زمانے، سوسائٹی اور تہذیب کا قوام بگڑ جائے گا۔ ان دونوں کے تناسب کا معاملہ کیمیاوی اجزاء کے تناسب سے بھی کہیں زیادہ نازک ہے۔ زمانہ جہاں تغیر کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کو بدلنا چاہیے، اس لیے کہ بدلنا زندگی کی کوئی کمزوری، کمی یا عیب نہیں، وہ زندگی کا عین مزاج ہے، اور زندگی کی تعریف ہے ؏
جاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگی
وہ زندگی، زندگی کہلانے کی مستحق نہیں جس میں نمو کی صلاحیت مفقود ہو چکی ہو، وہ درخت شاداب اور پُر ثمر نہیں کہلایا جا سکتا جو اپنی نمو کی صلاحیت کھو دے۔
تغیر پذیری یا اس کے بجائے اگر آپ اس کو نمو یا ترقی کا نام دیں تو میرے خیال میں آپ اس کے ساتھ زیادہ انصاف کر سکیں گے۔ زمانہ تغیر قبول کرنے کے ساتھ مقابلہ کی بھی ایک طاقت رکھتا ہے۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ زمانہ کتنا بدل گیا اور اس تبدیلی کے مظاہر بھی ہم کو صاف نظر آتے ہیں۔ لیکن زمانے نے اپنی اندرونی صلاحیتوں کو باقی رکھنے اور اپنے صالح اجزا و عناصر کو محفوظ رکھنے کے لیے کتنی کشمکش کی اور کس قوتِ مقابلہ سے کام لیا، عام حالات میں ہم اس کو نہیں دیکھ پاتے۔ اس کے لیے ایک خاص طرح کی خوردبین کی ضرورت ہے۔
ایک دریا ہی کو آپ لے لیں جو روانی اور حرکت کے لیے سب سے بہتر مثال ہو سکتا ہے۔ دریا کی کوئی موج اپنی پہلی موج کے بالکل عین اور مماثل نہیں ہوتی۔ لیکن دریا اپنی گزرتی ہوئی موجوں کے باوجود اپنے نام کے ساتھ، اپنے حدود کے ساتھ، اپنی بہت سی خصوصیات کے ساتھ ہزاروں برس سے قائم ہے۔ دجلہ و فرات آج بھی دجلہ و فرات کہلائیں گے اور گنگ و جمن آج بھی گنگ و جمن کہلاتے ہیں۔
زمانے کا اندر ٹھہراؤ بھی ہے اور بہاؤ بھی۔ اگر زمانہ ان دونوں خصوصیتوں اور صلاحیتوں میں سے کسی ایک سے محروم ہو جائے تو وہ اپنی افادیت کھو دے گا۔ اسی طرح کائنات میں جتنے بھی وجود، شخصیتیں اور ہستیاں ہیں، سب کے اندر مثبت اور منفی لہریں برابر اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ اور دونوں لہروں کے ملنے سے وہ فریضہ ادا ہو جاتا ہے اور وہ منصب پورا ہوتا ہے جو ان کے سپرد کیا گیا ہے۔
مذہب زندگی کا نگراں ہے
جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، مذہب کے ایک پیرو اور طالب علم کی حیثیت سے میں مذہب کے لیے یہ پوزیشن قبول نہیں کر سکتا، اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ حضرات بھی مذہب کے لیے یہ پوزیشن پسند نہیں کریں گے کہ مذہب ہر تغیر کا ساتھ دے۔ یہ کسی تھرمامیٹر کی تعریف تو ہو سکتی ہے کہ وہ درجہ حرارت و برودت بتلائے، یہ مرغ بادنما (Weathercock) کی بھی تعریف ہو سکتی ہے جو کسی اونچی عمارت یا ہوائی اڈے پر لگایا گیا ہے، صرف یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ہوا کس طرف کی چل رہی ہے، لیکن مذہب کی تعریف یہ نہیں ہو سکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ حضرات میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا کہ مذہب کو اس کے بلند مقام سے اتار کر تھرمامیٹر یا مرغ بادنما کا مقام دینا چاہتا ہو کہ مذہب کا کام یہ ہے کہ وہ صرف زمانے کی تبدیلیوں کی رسید دیتا ہے، اکنالج (Acknowledge) کرتا رہے یا اس کی عکاسی کرتا رہے۔
صحیح آسمانی مذہب کے تو کیا کسی نام نہاد مذہب کے پیرو یا اس کے نمائندے بھی اس پوزیشن کو قبول کر لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔
مذہب تغیر کو ایک حقیقت مانتا ہے اور اس کے لیے وہ ساری گنجائشیں رکھتا ہے جو ایک صالح، صحیح، فطری اور جائز تغیر کے لیے ضروری ہوں۔ مذہب زندگی کا ساتھ دیتا ہے، لیکن یہ محض ساتھ دینا یا محض رفاقت اور پیروی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مذہب کا فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ اس کا فرق کرے کہ یہ صالح تغیر ہے یا غیر صالح تغیر ہے، یہ تخریبی رجحان ہے اور یہ غیر تخریبی رجحان ہے۔ اس کا نتیجہ انسانیت کے حق میں یا کم از کم اس مذہب کے پیروؤں کے حق میں کیا ہو گا۔ مذہب جہاں رواں دواں زندگی کا ساتھ دینے والا ہے وہاں وہ زندگی کا محتسب نگران، گارڈین (Guardian) اور زندگی کا اتالیق بھی ہے۔
گارڈین کا کام یہ نہیں ہے کہ جو ہستی اس کی اتالیقی میں ہے اس کے ہر صحیح و غلط رجحان کا ساتھ دے اور اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دے۔ مذہب ایسا سسٹم نہیں ہے کہ جہاں ایک قسم کی مہر رکھی ہوئی ہے، ایک ہی طرح کی روشنائی ہے اور ایک ہی طرح کا ہاتھ ہے، جو دستاویز اور تحریر آئے، مذہب کا کام یہ ہے کہ وہ اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دے۔ مذہب پہلے اس کا جائزہ لے گا اور پھر اس پر اپنا فیصلہ صادر کرے گا، اور ترغیب اور بعض اوقات مجبوراً ترہیب کے ذریعے اس سے باز رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اور اگر کوئی غلط دستاویز اس کے سامنے آتی ہے جس سے اس کو اتفاق نہیں، یا جس کو وہ انسانیت کے حق میں مہلک اور تباہ کن سمجھتا ہے، تو نہ صرف یہ کہ وہ اس پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے سے انکار کرے گا بلکہ اس کی بھی کوشش کرے گا کہ وہ اس کی راہ میں مزاحم ہو۔
یہاں اخلاقیات اور مذہب میں ایک فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ مذہب اپنی ذمہ داری اور فرض سمجھتا ہے کہ غلط رجحان کو روکے۔ ماہرِ اخلاقیات و نفسیات کی ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ وہ غلط رجحانات کی نشاندہی کرے یا اپنا نقطۂ نظر ظاہر کر دے۔ لیکن مذہب اس کی کوشش کرے گا کہ وہ اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو جائے۔
اگر ہم نے اس باریک بینی، گہرائی و گیرائی، امانت و احساسِ ذمہ داری، اس دین کے مزاج اور اس کے پیغام سے گہری واقفیت کا ثبوت دیا، اور اسی کے ساتھ ہم نے موجودہ زمانہ کے مزاج و خصوصیات کو سمجھا، جس میں نمو اور تغیر کی صلاحیت ہے اور ثبات و استقامت بھی، اور اس نے قدیم صالح عناصر کو باقی بھی رکھا ہے۔ اگر ہم نے ان خصوصیات کو اچھی طرح سمجھ لیا تو فقہ اسلامی کی ضرورت (وسیع معنوں میں) کو ہم پوری کر سکتے ہیں، اور ہم اسلامی سوسائٹی کی بھی ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں، اور اسلامی احکام اور دینی تعلیمات پر ہم اس مہذب اور ترقی یافتہ زمانہ میں بھی عمل کر کے دکھا سکتے ہیں، اور اس زندگی کا بھی ساتھ دے سکتے ہیں جو تیزی اور انتہائی سرعت کے ساتھ ترقی کرتی جا رہی ہے۔‘‘2
تقلید کے بارے میں مولاناؒ کا نقطۂ نظر
تقلید کے مسئلہ میں بھی حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ بہت معتدل نقطۂ نظر رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کا نقطۂ نگاہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نقطۂ نگاہ سے ہم آہنگ تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے نقطۂ نظر کو حضرت مولانا علی میاںؒ نے بہت تفصیل کے ساتھ تحسین و استحسان کے انداز میں بیان فرمایا ہے۔ مولانا مرحوم رقم طراز ہیں:
’’شاہ صاحب غایتِ انصاف اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ایسے شخص کو تقلید کے بارے میں معذور سمجھتے ہیں جو کسی مذہبِ فقہی یا معیّن امام کا مقلّد تو ضرور ہے لیکن اس کی نیت محض صاحبِ شریعت کی پیروی اور اتباعِ نبویؐ ہے۔ لیکن وہ اپنے اندر اس کی اہلیت نہیں پاتا کہ وہ حکمِ شرعی اور جو چیز کتاب و سنت سے ثابت ہے اس تک براہِ راست پہنچ جائے۔ اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ مثلاً وہ عامی شخص ہے، یا اس کے پاس براہ راست تحقیق کرنے کے لیے وقت اور فرصت نہیں، یا ایسے وسائل (علم و تحقیق) حاصل نہیں جن سے وہ نصوص کا خود پتہ چلائے، یا ان سے مسئلہ استنباط کرے۔ شاہ صاحبؒ علامہ ابن حزمؒ کا یہ قول نقل کرنے کے بعد کہ تقلید حرام ہے اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے قول کو بلا دلیل قبول کر لے، تحریر فرماتے ہیں:
’’ابن حزم کے قول کے مصداق وہ شخص نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے علاوہ کسی کو اپنے لیے واجب الطاعت نہیں سمجھتا۔ وہ حلال اسی کو گردانتا ہے جس کو اللہ اور اس کے رسولؐ نے حلال کیا، اور حرام اسی کو مانتا ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا، لیکن چونکہ اس کو براہ راست آنحضرتؐ (کے قول و احوال) کا علم حاصل نہیں، اور وہ آپ کے مختلف اقوال میں تطبیق دینے کی صلاحیت اور آپ کے کلام سے مسائل استنباط کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، وہ کسی خدا ترس عالم کا دامن پکڑ لیتا ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ صحیح بات کہتا ہے، اور اگر مسئلہ بیان کرتا ہے تو اس میں وہ محض سنتِ نبویؐ کا پیرو اور ترجمان ہوتا ہے۔ جیسے ہی اس کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا یہ خیال صحیح نہیں تھا، اسی وقت وہ بغیر کسی بحث و اصرار کے اس کا دامن چھوڑ دیتا ہے، بھلا ایسے آدمی کو کوئی کیسے مطعون کرے اور اس کو سنت و شریعت کا مخالف قرار دے گا؟
سب کو معلوم ہے کہ استفتاء اور افتاء کا سلسلہ عہدِ نبویؐ سے لے کر برابر چلتا رہا ہے، اور دونوں میں فرق ہے کہ آدم ہمیشہ ایک سے فتویٰ لیتا ہے، یا کبھی ایک سے فتویٰ لیتا ہے کبھی دوسرے سے۔ ایسی حالت میں کہ اس کا ذہن صاف ہے، اس کی نیت سلیم ہے، اور وہ صرف اتباعِ شریعت چاہتا ہے، یہ بات کیسے جائز نہیں؟ جب کہ کسی فقیہ کے بارے میں ہمارا یہ ایمان نہیں ہے کہ اللہ نے اس پر آسمان سے فقہ اتاری اور ہم پر اس کی اطاعت فرض ہے۔‘‘3
ایک دوسری جگہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اجتہاد و تقلید کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے معتدل نقطۂ نظر کی تمہید بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حضرت شاہ صاحب کے ان وہبی کمالات اور تجدیدی امتیازات میں سے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص طور پر نوازا تھا، وہ متوازن اور معتدل مسلک اور وہ نقطۂ اعتدال ہے جو انہوں نے اجتہاد و تقلید کے درمیان اختیار کیا۔ اور جو ان کے طبع سلیم، ذوقِ صحیح اور حقیقت پسندی کا بہترین مظہر ہے۔
ایک طرف وہ لوگ تھے جو ہر مسلمان کو خواہ وہ عام ہو یا خاص، براہ راست کتاب و سنت پر عمل کرنے اور ہر معاملہ میں وہیں سے احکام حاصل کرنے کا مکلف قرار دیتے تھے اور تقلید کی مطلق حرمت کے قائل تھے۔ اگر ان کے کلام میں اس کی صراحت نہیں ملتی تو ان کے طرز عمل اور ان کی تحریروں سے قدرتی طور پر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔ اس گروہ میں متقدمین میں علامہ ابن حزم پیش پیش نظر آتے ہیں، لیکن یہ بالکل ایک غیر عملی بات ہے، اور اس کا ہر مسلمان کو مکلف قرار دینا تکلیف مالایُطاق ہے۔
دوسری طرف وہ گروہ تھا جو تقلید کو اسی طرح ہر مسلمان پر واجب قرار دیتا تھا اور اس کے تارک کو سخت فقہی احکام ’’فاسق‘‘ اور ’’ضال‘‘ سے یاد کرتا تھا، جیسا کہ پہلا گروہ مقلدین اور کسی خاص مذہبِ فقہی کے متبعین کو۔ یہ گروہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ تقلید عوام کو نفسانیت اور خودرائی سے بچانے، مسلم معاشرہ کو انتشار و فوضویت (انارکی) سے محفوظ رکھنے، دینی زندگی میں وحدت و نظم پیدا کرنے، اور احکامِ شریعت پر بسہولت عمل کرنے کا موقع دینے کی ایک انتظامی تدبیر ہے۔ لیکن انہوں نے اس انتظامی عمل کو تشریعی عمل کا درجہ دے دیا اور اس پر اس شدت سے اصرار کیا جس نے اس کو ایک مذہبِ فقہی اور مسئلہ اجتہادی کے بجائے منصوص اور قطعی عمل اور مستقل دین کا درجہ دے دیا۔‘‘4
حضرت مولانا علی میاںؒ جس طرح اجتہاد کے نام پر شریعت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے بارے میں سخت ترین نکیر کرتے ہیں، اسی طرح تقلید میں غلو و انحراف کا سختی کے ساتھ نوٹس لیتے ہیں، تقلید کی جائز اور فطری شکل کی وضاحت کرنے کے بعد اس میں غلو و انحراف کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’رفتہ رفتہ عوام میں جہالت نے اثر کیا اور کہیں کہیں ائمہ کی حیثیت وسائط اور وسائل کے بجائے مقصود، اور ایک طرح سے شارع و مطاع کی پیدا ہو گئی۔ لوگوں کو ان مذاہب سے بالذات دلچسپی اور ان کی اس درجہ عصبیت پیدا ہو گئی کہ وہ کسی حال میں ان کے ایک شوشہ یا نقطہ سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس سلسلے میں عوام تو زیادہ قابلِ الزام نہیں ہیں کہ انہوں نے ان مذاہب کو سنت کی پیروی سمجھ کر اختیار کیا تھا، اور ان کے مطابق ترکِ مذہب یا ایک مذہب سے دوسرے مذہب کی طرف انتقال مشکل بھی تھا اور خطرناک بھی۔ لیکن بہت سے علماء کی یہ حالت تھی کہ ان کو اگر اپنے امام یا مذہب کے کسی مسئلہ کا حدیث و سنت کے خلاف ہونا ثابت ہو جائے، اور اس کا قطعی علم حاصل ہو جائے کہ اس مسئلہ میں اپنے امام کا مسئلہ مرجوح اور دوسرے امام یا مذہب کا مسئلہ راجح اور حدیث و سنت کے مطابق ہے، اور اپنے مذہب اور عمل کے خلاف کیسی ہی صحیح و صریح احادیث ملیں، تب بھی وہ اس مسئلہ کو ترک کرنے اور احادیث پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور ان کی طبیعت اس کے لیے منشرح نہیں ہوتی۔‘‘5
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اس بات کے داعی تھے کہ تمام فقہی مسالک کو امتِ مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ تصور کیا جائے، تمام ائمہ فقہ کا احترام کیا جائے، بیجا تعصب و تشدد سے گریز کیا جائے اور نئے مسائل کے حل میں کتاب و سنت کے ساتھ تمام فقہی مسالک سے استفادہ کیا جائے۔
فقہ اسلامی پر حضرت مولانا علی میاںؒ کی تحریریں مختصر ہیں لیکن جتنی بھی ہیں بڑی پُرمغز اور فکر انگیز ہیں۔ آپ کی کتاب ’’ارکانِ اربعہ‘‘ احکامِ شریعت کے اسرار و حکم پر لاثانی کتاب ہے۔ اس موضوع پر امام غزالیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے جو کارنامہ انجام دیا تھا، اس کتاب کے ذریعے اس کام کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ اجتہاد کے موضوع پر حضرت مولاناؒ کا ایک مختصر رسالہ ہے۔ ’’تاریخِ دعوت و عزیمت‘‘ کی جلد اول، دوم، پنجم میں فقہ اسلامی کی وکالت و ترجمانی میں طاقتور تحریریں ہیں۔ نئے مسائل کے حل کے لیے حضرت مولاناؒ نے ’’مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ‘‘ قائم فرمائی۔ اس ادارہ نے نئے مسائل کے حل میں خاصی پیشرفت کی۔ حضرت مولانا ’’مجمع الفقہ الاسلامی ( مکہ مکرمہ)‘‘ کے رکن اور ’’مجمع الفقہ الاسلامی (الہند)‘‘ کے سرپرست تھے۔ مجمع الفقہ الاسلامی ہند کے متعدد سیمیناروں میں موصوف نے گراں قدر خطبات پیش فرمائے جنہیں ’’اجتماعی اجتہاد‘‘ کے نام سے شائع کر دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی تربت کو انوار سے بھر دے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حوالہ جات
- مجلہ بحث و نظر فقہی سیمینار جلد نمبر ۲ شمارہ ۶ ص ۵۰ تا ۵۴
- ایضاً ص ۵۹ تا ۶۵
- تاریخِ دعوت و عزیمت ج ۵ ص ۲۰۸، ۲۰۹
- ص ۲۰۴، ۲۰۵
- ایضاً ج ۲ ص ۳۳۷، ۳۳۸
علامہ اقبال اور عصری نظامِ تعلیم
ڈاکٹر محمود الحسن عارف
دورِ جدید کے جو مسائل مسلم امہ کی فوری توجہ کے منتظر ہیں ان میں مسلمانوں کے نظامِ تعلیم کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ تعلیم کے مسئلے کی یہ اہمیت آج سے نہیں بلکہ اس وقت سے ہے جب سے انگریزوں نے ہندوستان میں قدم رکھا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک اس گتھی کو سلجھانے اور اس مسئلے کے تصفیہ طلب حل کے لیے متعدد تعلیمی کمیشن نامزد کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے قدیم کمیشن لارڈ میکالے کی سربراہی میں ۱۸۳۴ء میں اس وقت بٹھایا گیا تھا جب انگریز مفتوحہ ملک ہندوستان میں انقلابی تبدیلی لانا چاہتا تھا۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور نامعلوم کب تک جاری رہے گا۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ کوئی کمیشن اس مسئلے کا اطمینان بخش حل تلاش کرنے میں کامیاب و کامران نہیں ہو سکا ہے۔
اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ لارڈ میکالے کی وضع کردہ تعلیمی پالیسی ہے جس سے چھٹکارا پانے کی اب تک کوئی بھی وقیع اور سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔ ہر تعلیمی کمیشن کنویں سے ڈول نکالنے کی تو پُرزور سفارش کرتا ہے مگر اس تعلیمی کنویں سے لارڈ میکالے کا مار کر پھینکا ہوا مردہ چوہا باہر نکالنے کی کوئی بھی سفارش نہیں کرتا۔ جس کا نتیجہ ہے کہ کنواں بدستور گندا اور پلید ہے۔ بھلا اس قوم کے ذہن و فکر میں بالیدگی اور بالغ نظری کیسے پیدا ہو سکتی ہے جس قوم کی رگ رگ میں میکالے کی تعلیمی پالیسی کا زہر بھرا ہوا ہو۔ لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی پر اکبر الٰہ آبادی نے کیا خوب تبصرہ کیا تھا:
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
کالج، مدرسہ، یونیورسٹی اور اسکول کسی سنگ و حجر کی عمارت کا نام نہیں بلکہ ان کا نظامِ تعلیم یا ان میں رائج ان کا تعلیمی طور طریق (Educational system) ہوتا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ ان عمارتوں کی پیشانی پر اتنے ماہ و سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ’’لارڈ میکالے‘‘ کی یہ تعلیمی رپورٹ جلی حروف میں لکھی ہوئی ہے کہ
We must at present do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern. A class of persons; Indian in blood and colour but English in taste, in opinion, in motives and in intellect.
ترجمہ: ’’ہمیں لازماً اس وقت ایسی جماعت بنانی چاہیے جو ہم میں اور کروڑوں رعایا میں واسطہ ہو۔ اور یہ جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خون اور رنگت کے اعتبار سے ہندوستانی ہو مگر مذاق، رائے، اخلاق و کردار اور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے انگریز ہو۔‘‘
ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہدِ حکومت میں جو ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی تک جاری رہا، تعلیمی منصوبہ بندی اور وسیع پیمانے پر عیسائی مشنز کی ہندوستان آمد وغیرہ کے واقعات اس بات کی علامت تھے کہ انگریزوں نے جس طرح عیاری سے ملک کے مختلف حصوں پر آہستہ آہستہ اپنا اثر و اقتدار قائم کر کے اہلِ ہند کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیا تھا، اب اسی طرح نہایت چالاکی اور ہوشیاری سے افرادِ ملت کے قلب و ذہن کا آپریشن شروع ہونے والا ہے۔ بقول اکبر الٰہ آبادی؎
توپ کھسکی پروفیسر پہونچے
جب بسولا ہٹا تو رندا ہے
حسبِ توقع یہ آپریشن ہوا اور اس دھوم دھام سے ہوا کہ پہلے ہلے میں ہی پورا ہندوستان نشتر کی چبھن سے بلبلا اٹھا۔ اس کے خلاف ۱۸۵۷ء میں بھی شدت سے ردعمل ہوا مگر انگریزوں نے جلد اپنے ہندوستانی نمک خواروں کی مدد سے آزادی کی اس آگ کو پوری قوت سے دبا دیا اور ہندوستان ’’ملکہ بارطانیہ‘‘ کے زیر تسلط آ گیا اور اس طرح مذکورہ بالا تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کی رفتار اور بھی تیز ہو گئی۔
سامراجی تعلیمی مقاصد اور قومی احساس و فکر میں تصادم و تخالف نے قدیم و جدید تعلیم یافتہ طبقوں کے درمیان ایک وسیع کشمکش پیدا کر دی جو دن بدن رو بہ ترقی رہی۔ اس تصادم کے نتیجے میں مسلمانوں میں کوئی بھی متحدہ قومی سوچ پیدا نہ ہو سکی اور مسلمانوں کی توانائیاں آپس کی اس جنگ کی نذر ہو گئیں۔ اس تفریق نے مسلمانوں میں واضح طور پر دو گروہ پیدا کر دیے:
- ایک مسلمانوں کے قدیم علوم و فنون کا دلدادہ مگر جدید علوم سے بے بہرہ تھا،
- دوسرا جدید علوم اور انگریزی تہذیب و ثقافت کا والہ و شیدا مگر قدیم علوم کی اہمیت سے نابلد تھا۔
دن بدن دونوں گروہوں میں اختلاف کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی، تاہم صالح فطرت انسان ہر جگہ ہوتے ہیں، یہ قدرت کا عجیب و غریب کرشمہ ہے کہ وہ بیگانوں سے اپنوں کا کام لیتی ہے۔ بقول اقبال ؎
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
اس جدید تعلیم اور نصابِ تعلیم کی قدیم علماء کی جانب سے جو مخالفت کی جاتی تھی، اسے رجعت پسندی اور دقیانوسی اندازِ فکر قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ رب العزت نے ہندوستان میں اس تعلیمی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنے کا کام جدید تعلیم یافتہ لوگوں سے لیا۔ اس گروہ کے سرخیل اکبر الٰہ آبادی اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جو دونوں ہی جدید تعلیم یافتہ بزرگ ہیں۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے وقت کی بہترین جدید تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ بیک وقت انگلستان اور جرمنی کی تعلیم گاہوں سے فیض تعلیم یافتہ تھے۔ اور پھر تعلیم بھی اپنی نوعیت کے مشکل مضمون یعنی فلسفہ میں حاصل کی تھی جس کا گہرا مطالعہ انسان کو وادئ تشکیک میں لے جاتا ہے، مگر یہاں تو حالت ہی مختلف تھی۔ انہوں نے قیامِ ولایت میں ولایت کو نہایت قریب سے اور نہایت گہرائی سے دیکھا تھا۔ آپ کی نظر ایک عام شخص کی نظر نہ تھی، بلکہ ایک ایسے شخص کی نظر تھی جس کے دل میں قومی اور ملی درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے یورپ کو جب قریب سے دیکھا تو وہ اس سے حد درجہ متنفر ہو گئے۔ وہ تنفر سطحی اور عام نوعیت کا نہیں بلکہ نہایت گہرا اور پائیدار تھا۔
آپ نے یورپ اس زمانے میں دیکھا تھا جب اسے کسی عالمگیر جنگ (World war) کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ جب لندن اور پیرس کی تہذیب کی چمک دمک نگاہوں کو خیرہ کرتی تھی، انگریز قوم پوری طرح چوکنا اور بیدار تھی۔ مگر اس کے باوجود علامہ اقبال نے ان کی تہذیب و طرزِ معاشرت پر آئندہ پڑنے والی دراڑوں کو بڑی عمدگی اور گہرائی سے دیکھ لیا تھا۔ اور علامہ اقبال نے اسے دیکھ کر ہی اپنی یہ الہامی پیشگوئی فرمائی تھی ؎
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا۔
علامہ اقبال صرف یورپی تہذیب و معاشرت کے ہی مخالف نہ تھے بلکہ آپ ان کے طرزِ تعلیم اور نصابِ تعلیم دونوں کے بھی یکسر خلاف تھے۔ کیونکہ اسی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں معاشرتی اور سماجی بگاڑ پیدا ہو رہا تھا اور اسی طرزِ تعلیم سے مسلمان اپنے مذہب اور اپنے دین سے دور ہی نہیں بلکہ اس سے بیزار ہو رہے تھے۔ اسی تعلیم نے مسلمانوں میں خوئے غلامی کو راسخ کر دیا تھا کہ وہ اپنی آقائی اور حکمرانی کا زمانہ بھول کر سات سمندر پار کی اس قوم کی مدح و ستائش کا دم بھرنے لگے تھے۔ اس طرزِ تعلیم نے مسلمانوں میں تنگ نظری اور جمود پیدا کر دیا تھا اور وہ کنویں کے مینڈک بن کر رہ گئے تھے۔ اسی نظامِ تعلیم کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں میں اعلیٰ پائے کے مفکر، سائنسدان، ادیب اور دانشور پیدا ہونے کی بجائے محض دفتروں کے کلرک پیدا ہو رہے تھے جس پر اکبر الٰہ آبادی کو یہ کہنا پڑا ؎
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا
اسی تعلیم کے یہ ثمرات تھے کہ قوم کی بہو بیٹیوں سے حجاب اور پردہ داری کی روایت ختم ہو رہی تھی، اور مخلوط تعلیم کی ’’برکات‘‘ کے نتیجے میں آزادانہ میل جول کے مواقع اب محدود اور شاذ نہ تھے، بلکہ یہ مواقع عام اور وسیع تھے جس پر علامہ اقبال کو یہ کہنا پڑا ؎
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہو گا
گزر گیا اب وہ دور ساقی کا کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان میخانہ ہر کوئی بادہ خوار ہو گا
اور یہ اسی طرزِ تعلیم کے ’’فوائد‘‘ تھے کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں بے دینی اور الحاد بڑھ رہا تھا۔ پہلے جن چیزوں کو چھپ چھپا کر منہ لگایا جاتا تھا، اب انہیں دھڑلے سے پیا جاتا تھا، اور ایسے پینے والوں کو نہ تو محتسب کا ڈر رہا تھا اور نہ قاضی کی گرفت کا۔ الغرض اس تعلیم نے مسلمانوں کی نئی نسل کو طرح طرح کے مسائل سے دوچار کر دیا تھا۔ اور بعینہ یہی مسائل، قدیم و جدید کا یہ تفاوت، ذہنوں کی یہ تشکیک ابھی تک جوں کی توں باقی ہے، بلکہ اس میں کسی قدر اضافہ ہی ہوا ہے۔
انہی وجوہ کی بنا پر شاعرِ مشرق کو دوسرے شعبوں کے ساتھ تعلیم و تربیت کے اس شعبے کو اپنی توجہ اور فکر کا مرکز بنانا پڑا۔ علامہ اقبال چونکہ ان تمام حالات کے چشم دید گواہ تھے، اسی لیے ان سے بہتر ان حالات اور ان مقامات کے تجزیے کا اور کسے حق پہنچتا تھا۔ بہرحال علامہ اقبال نے اس طرزِ تعلیم کا تجربہ کیا اور نہایت عمدہ تجزیہ کیا۔ اور اس تجزیے اور نقد و تبصرہ کو اپنی اردو اور فارسی کی شاعری کا موضوع ٹھہرایا۔ اس بحث میں علامہ اقبال کی آواز جہاں اونچی اور گونجدار ہے وہاں اس میں کاٹ اور تیزی بھی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی ظریفانہ شاعری اور سنجیدہ شاعری دونوں میں اس عنوان پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ پہلے ملاحظہ ہوں علامہ اقبال کی مزاحیہ شاعری کے چند اشعار۔ لڑکیوں کی تعلیم پر آپ نے کیا خوبصورت تبصرہ فرمایا ہے ؎
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روش مغربی ہے مدِ نظر
وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
تعلیمِ مغربی کے نتیجے میں طالب علموں میں جو لفاظی اور ’’تنگ آبی‘‘ پیدا ہو جاتی ہے اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے ؎
تعلیمِ مغربی ہے بہت جرأت آفریں
پہلا سبق ہے بیٹھ کے کالج میں مار ڈینگ
بستے ہیں ہند میں جو خریدار ہی فقط
آغا بھی لے کے آئے ہیں اپنے وطن سے ہینگ
اس تعلیم کے حصول کے لیے جس طرح ٹیوشن لینے کا سلسلہ چل نکلا تھا اور ابھی تک جاری ہے، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر کوئی طالب علم ٹیوشن نہ پڑھے تو وہ عتاب کا شکار ہو جاتا ہے، اس پر یوں تعریض کرتے ہیں ؎
تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ؟
دفعِ مرض کے واسطے پل پیش کیجئے
تھے وہ بھی دن کہ خدمتِ استاد کے عوض
دل چاہتا تھا ہدیۂ دل پیش کیجئے
بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق
کہتا ہے ماسٹر سے کہ ’’بل‘‘ پیش کیجئے
اس ظریفانہ تلمیحات اور تعریضات کے ساتھ علامہ اقبال نے اپنی سنجیدہ شاعری اور نثر میں بھی اس مسئلے کو اپنا مرکزِ توجہ بنایا ہے۔
علامہ اقبال بجا طور پر مسلم ذہن و فکر رکھنے والے فلسفی شاعر تھے، اس بنا پر ان کا مسلمانوں کے نظریات سے متاثر ہونا بدیہی تھا۔ اس کے علاوہ علامہ نے جن لوگوں سے خاص طور پر استفادہ کیا ان میں الغزالی جیسے اکابر بھی شامل ہیں۔ شاعرِ مشرق کے کلام میں اکابرِ اسلام سے استفادہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انہی تاثرات کے زیر اثر علامہ اقبال کا نظریۂ تعلیم اسلامی اصولوں پر استوار تھا۔ ان کے خیال میں صحیح اور بہتر تعلیم وہ ہے کہ جس میں جسمانی و ظاہری نشوونما کے ساتھ روحانی اور معنوی صحت و تندرستی کا بھی خیال رکھا جائے۔ علامہ کے خیال میں مسلمانوں کا نظامِ تعلیم ایسا ہونا چاہیے کہ جس کے ذریعے اسلامی عقائد و خیالات کو راسخ اور مستحکم کیا جائے۔ اس کے برعکس جس تعلیم و تربیت کے نتیجے میں مذہبِ اسلام سے طالب علموں کا تنفر بڑھے وہ تعلیم نہ مسلمانوں کو زیبا ہے اور نہ مسلم ممالک کو۔ بانگِ درا میں علامہ ’’مسلمان اور جدید تعلیم‘‘ کے عنوان سے فرماتے ہیں ؎
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آئی ہے مگر تیشہ فرہاد بھی ساتھ
مسلمانوں کے ممالک سے جو طالب علم فراغت حاصل کرتے ہیں ان سے بجا طور پر مسلمانوں کو توقعات اور امیدیں ہوتی ہیں، لیکن اگر تعلیم کے ذریعے ان کے باطن میں چھپے ہوئے ’’مردِ مومن‘‘ کو جاں بحق تسلیم کر لیا جائے تو پھر وہ توقعات کہاں سے اور کیونکر پوری ہوں گی، علامہ فرماتے ہیں ؎
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ
علامہ اقبال کے نزدیک وہ مسلمان ہی کیا ہے جس کا سینہ گرمئ قرآن اور جس کا فکر نورِ ایمان سے منور نہ ہو۔ علامہ اقبال ’’جاوید نامہ‘‘ میں نئی نسل سے یوں خطاب فرماتے ہیں ؎
سینہ ہا از گرمی قرآن تہی
از چنیں مرداں چہ امید بہی
؎
گر خدا سازد ترا صاحب نظر
روز گارے را کہ می آید نگر
عقل ہا بے باک و دل ہا بے گداز
چشم ہا بے شرم و غرق اندر مجاز
علم و فن دین و سیاست عقل و دل
زوج زوج اندر طواف آب و گل
عقل و دین و دانش و ناموس و ننگ
بستۂ فتراکِ لُردانِ فرنگ
تا ختم پر عالم افکار او
بردریدم پردۂ اسرار او
علامہ اقبال کے نزدیک تعلیم سمیت مسلمانوں کے ہر شعبۂ حیات کا طرۂ امتیاز یہ ہونا چاہیے کہ اس کی منزلِ مقصود ذاتِ رسالتمآبؐ ہو ؎
مصطفٰیؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی است
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا کو قرآن حکیم کی جو عظیم نعمت ملی، علامہ اقبال تعلیم میں اسے بنیادی اور اساسی اہمیت دینے کے قائل تھے ؎
گر تو می خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن
علامہ اقبال ایسی تعلیم و تربیت کے سخت مخالف تھے جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں عقائد کی تشکیک اور تذبذب جیسی مذموم و مسموم امراض پیدا ہوتی ہیں۔ ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں ؎
جب پیر فلک نے ورق ایام کا پلٹا
آئی یہ صدا پاؤ گے تعلیم سے اعزاز
آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل
دنیا تو ملی طائر دیں کر گیا پرواز
دیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی
فطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر و زمیں تاز
علامہ اقبال مسلمان نوجوانوں میں سطحیت اور عمومیت کے بجائے ان کے علم و فکر میں گہرائی اور گیرائی دیکھنا چاہتے تھے۔ اور آپ اس بات کے متمنی تھے کہ مسلم نوجوان صرف ’’دفتروں کے کلرک‘‘ بننے پر قانع نہ ہوں بلکہ اپنے اسلاف کی وہ وراثت یعنی علم و فن حاصل کرنے کی تگ و دو کریں جو یورپ نے مسلمانوں سے ہتھیا لی تھی۔ علامہ ایک پُردرد نظم میں جوانانِ اسلام سے یوں ہمکلام ہوتے ہیں ؎
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئین مسلّم سے کوئی چارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا
اس نظم کے اختتام پر اس شعر سے تضمین کی ہے ؎
غنی روز سیاہ پر کنعاں را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را
گویا مسلمانوں کی علمی میراث (یوسف) نے یورپ (زلیخا) کی آنکھ کو جا کر منور کیا ہے مگر اس کے حقیقی حقدار مسلمان اس سے محروم و درماندہ ہیں۔
علامہ اقبال مسلمان طالب علموں سے بجا طور پر یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ مسلمانوں کی اس متاعِ گم گشتہ کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں گے اور ان کی تعلیم ادھوری اور سطحی نہیں بلکہ علم و فن کی گہرائی اور تہہ تک پہنچنے والی ہو گی۔ شاعرِ مشرق مسلمان طالب علموں کو یوں دعائیہ انداز میں فہمائش کرتے ہیں ؎
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
طالب علم کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت کا پہلو بھی علامہ کے مدنظر رہا ہے۔ علامہ مسلم اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم سے بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ’’لعل بدخشاں‘‘ کی تربیت میں ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اندازِ بیان کی خوبی ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں ؎
مقصد ہو اگر تربیت لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ کیا مدرسہ والوں کی تگ و دو
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
مسلمانوں کی تعلیم گاہیں، مدارس، یونیورسٹیاں اور کالج بھی مثالی ہونے چاہئیں۔ ان کی تعلیم ان کے ماحول اور اخلاق و رویے کا انداز ایسا خوش کن ہو کہ اس میں طالب علموں کی صحیح تربیت ہونا ممکن ہو سکے۔ علامہ کے خیال میں جن تعلیم گاہوں میں رٹے رٹائے الفاظ اور کتابیں پڑھا دی جاتی ہیں اور طالب علموں کو فطرت، مناظرِ فطرت اور مظاہرِ فطرت سے آشنا نہیں کیا جاتا وہ تعلیم گاہیں اپنے ’’مقصدِ حیات‘‘ سے ابھی بہت پیچھے ہیں۔ انہیں وقت اور زمانے کا ساتھ دینا چاہیے، فرماتے ہیں ؎
عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش
اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بے گانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش
مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش
الغرض علامہ اقبال ہر اعتبار سے مسلمانوں کے نصابِ تعلیم، نظامِ تعلیم اور طریقۂ تعلیم کو خوب سے خوب تر بنانے کے قائل تھے۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کی تعلیم جیسے مسئلے کو ’’غیروں‘‘ کے ہاتھ میں دے دینا اپنی نسل اور ملت کے ساتھ دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
حکومت کے لے لمحۂ فکریہ
اس مقام پر بے جا نہ ہو گا کہ اگر مملکتِ خداداد پاکستان کے نظامِ تعلیم پر ذرا ایک نظر ڈال لی جائے۔ مملکتِ خداداد پاکستان کو قائم ہوئے تقریباً ۴۳ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور یہ اتنا طویل عرصہ ہے کہ اس میں کسی بھی نظامِ تعلیم کو پرکھنے اور اس کے اثرات کے جائزے کا بخوبی موقع مل سکتا ہے۔ اس وقت دفتروں، تعلیم گاہوں اور حکومتی اداروں میں جو کھیپ کام کر رہی ہے، یہ خالصتاً پاکستانی تعلیم گاہوں کی تیار کردہ کھیپ ہے، مگر کیا وجہ ہے کہ ہر محکمے اور ہر شعبے کی کارکردگی ترقی پذیر ہونے کے بجائے روبہ زوال اور روبہ پستی ہے؟ تحقیق و تفتیش کے میدان سے لے کر علمی، فکری اور سیاسی سطح تک ’’مُسلم تشخص‘‘ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ محض اور محض یہ ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم ابھی تک مکمل طور پر اسلامی اصولوں پر استوار نہیں ہو سکا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ اس مروّجہ پالیسی کو بدلا جاتا، مگر بدلنے کے بجائے اسے دن بدن مستحکم اور مضبوط تر بنایا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں سے پیچھے اور ان کے دست نگر ہیں۔
آخر میں بڑے افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری تعلیمی حالت آج بھی ویسی ہی ہے جو آزادی سے پہلے تھی۔ علامہ اقبال کے حسبِ ذیل قطعہ کو پڑھیے اور سر دھنیے ؎
کل ایک شوریدہ خواب گاہِ نبیؐ پہ رو رو کے کہہ رہا تھا
کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بِنائے ملّت مِٹا رہے ہیں
یہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں
غضب ہیں یہ ’’مُرشدانِ خود‘‘ بیں، خُدا تری قوم کو بچائے!
بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں
سُنے گا اقبالؔ کون ان کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے
نئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سنا رہے ہیں!
مجھے رہ رہ کر یہ رنج دہ تجربہ ہو رہا ہے کہ مسلمان طالب علم جو اپنی قوم کے عمرانی، اخلاقی اور سیاسی تصورات سے نابلد ہیں، روحانی طور پر بھی بمنزلہ ایک بے جان لاش کے ہیں۔
تعلیم کی سیکولرائزیشن
غطریف شہباز ندوی
اقبال نے کہا تھا ؎
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
تعلیم ایک با مقصد سماجی عمل ہے، اس کے ذریعے نئی نسل کو معاشرہ میں مقبول افکار و اطوار سکھائے جاتے ہیں جو معاشرہ میں پہلے سے موجود اور رائج ہوتے ہیں اور اساتذہ کے ذہنوں میں راسخ ہوتے ہیں۔ انہیں افکار و خیالات اور روایات کے مجموعہ سے اس معاشرہ کے تعلیمی اقدار کی تشکیل ہوتی ہے۔ پورا درسی نظام انہی اقدار پر مبنی ہوتا ہے۔ ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، درسی لٹریچر وغیرہ سب اسی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ اقدار ہر نظامِ تعلیم میں پائے جاتے ہیں۔ معاشرہ کی مخصوص فضا و ماحول نیز روایات کے اعتبار سے ان میں باہم فرق ہوا کرتا ہے۔
دیکھا جاتا ہے کہ مغرب کے تعلیمی اقدار مشرق سے مختلف ہیں اور مشرق کی سماجی و اخلاقی روایات مغربی ذہن و فضا سے یکسر الگ۔ پھر چونکہ کوئی معاشرہ مشرقی ہو یا مغربی، اسلامی ہو یا غیر اسلامی، صرف انسانی بھیڑ کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک جسم نامی (Organism) ہوا کرتا ہے، جس کے لیے ایک مرکزی خیال کا ہونا ضروری ہے جو اس کے لیے روح کا کام کرے، جس سے اس کے تمام اعضاء جوارح غذا پائیں۔ مثلاً اسلامی معاشرہ میں وہ بالعموم انسانی زندگی کے بنیادی حقائق (انسان، کائنات، خدا اور آخرت) کے بارے میں فکر و تخیل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہی مجموعۂ فکر و خیال آئیڈیالوجی (Ideology) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہی آئیڈیالوجی دراصل معاشرے کی روح اور اس کی ترجمان ہوتی ہے۔ اور چونکہ کوئی بھی نظامِ تعلیم باہر سے تھوپی جانے والی چیز نہیں ہوتی، اس لیے کسی بھی معاشرہ میں وہی نظامِ تعلیم فروغ پا سکتا ہے جو اس آئیڈیالوجی سے ہم آہنگ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ غیر اسلامی اقدار و مقاصد پر مبنی نظامِ تعلیم، چاہے مغربی برانڈ کا ہو یا مشرقی ٹرینڈ رکھتا ہو، کسی مسلم معاشرہ کے لیے نہ عملاً مفید ہو سکتا ہے نہ وہاں پنپ سکتا ہے، کہ غیر اسلامی نظام کے مسلّمہ تعلیمی اقدار بالکل الگ ہیں اور اسلامی نظامِ تعلیم کے اصول ان سے یکسر مختلف۔ غیر اسلامی تناظر میں اس کے مقاصد کچھ اور ہوں گے، اسلامی تناظر میں کچھ اور۔
غیر اسلامی نظامِ تعلیم نے اپنے مقاصد اس طرح متعین کیے ہیں:
- فلاحِ عام،
- مسرت کا حصول،
- افادیت پرستی،
- زیادہ سے زیادہ لذت و آسائش کا حصول۔
اس کے برخلاف اسلامی نظامِ تعلیم کے مقاصد میں:
- انسان کو دنیا و آخرت میں کامیاب بنانا،
- اس کا مادی و روحانی ارتقاء،
- اس کے نفس کا تزکیہ اور اخلاق و معاملات کی تربیت،
- اسی کے ساتھ وہ انسان کو مادی ترقی سے بھی نہیں روکتا بلکہ سائنٹیفک مزاج کو بڑھاوا دیتا ہے۔
چنانچہ تاریخ کی شہادت ہے کہ اسلامی تہذیب کے دورِ عروج میں تعلیم بہت زیادہ عام رہی اور ہر طرح کی سائنسی، عقلی اور تہذیبی و علمی ترقیاں بھی ہوئیں۔ تاہم اس کا بڑا امتیاز یہ تھا کہ اس عہد میں انسان کا رابطہ خدا سے نہیں ٹوٹا۔ جبکہ آج مغربی نظامِ تعلیم کے غالب ہو جانے کے بعد ہر طرف خدا بیزاری اور مذہب سے لاتعلقی کا رجحان پایا گیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبب ہے نظامِ تعلیم کا سیکولر بنیادوں پر قائم ہو جانا، جس کے لیے باطل قوتیں گزشتہ تین صدیوں سے کام کر رہی ہیں، اور بالآخر وہ تعلیم کو سیکولرائز کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ مغربی دنیا اور عالمِ اسلام کے کامیاب تجربوں کے بعد اب وہ اسی تجربہ کو ہندوستان میں بھی دوہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چنانچہ یہاں تعلیم کو سیکولرائز کرنے کی زبردست کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کے خاص پیٹرن ہیں:
- تعلیم کو ہندوانہ بنانا (Hinduisation)،
- اور تعلیم کو قومی یا انڈین بنانا (Indianisation)۔
جہاں تک تعلیم کے سیکولرائزیشن کی بات ہے تو اس سلسلے میں پہلے سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کے بارے میں چند بنیادی حقائق سامنے لانا ضروری ہے۔ سیکولرازم کی مختلف تعبیریں کی جاتی ہیں۔ مغرب میں اس کو دوسرے انداز سے ڈیفائن کیا جاتا ہے، مشرق میں اس کی تعریف دوسری ہے۔ بالخصوص ہندوستان کے تناظر میں اس کی مختلف تشریحات کی جاتی ہیں۔ ایک تشریح وہ ہے جو کانگریس کرتی ہے، دوسری تعبیر مارکس وادی اور سوشلسٹ عناصر کرتے ہیں، ان سب سے مختلف تعبیر سنگھ پریوار پیش کرتا ہے۔ ان میں کوئی مذہب مخالف ہے، کوئی غیر جانبدار اور مذہب کو فرد کی زندگی تک محدود کرتے ہیں، تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ یہ ساری تعبیریں بظاہر متضاد اور مختلف نظر آتی ہیں، لیکن اپنی حقیقت اور روح کے اعتبار سے تقریباً سب یکساں ہیں۔ جو اختلافات ہیں وہ بس لفظی اور شکلی اختلاف ہے، یا حکمتِ عملی اور طریقہ کار کا اختلاف ہے۔
سیکولرازم دراصل ریگولرازم (ضابطہ و شریعت کی پابندی) کے خلاف ہے۔ بعض جگہوں پر سیکولرازم کا وہ ایڈیشن بھی ملتا ہے جو مذہب کو تسلیم کرتا ہے، مثلاً ہندوستانی سیکولرازم، لیکن یہ ایڈیشن بھی معاشرہ کی شدید مذہبی وابستگی کو دیکھ کر ایک اسٹریٹیجی کے طور پر اپنایا گیا ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ سیکولر کا مطلب ہوا ریگولر کی ضد یعنی متشرع کا ضد۔ گویا وہ بنیادی طور پر خدا اور مذہب کے خلاف ہے۔ انسانی زندگی کے سبھی شعبوں کو لامذہبی بنیاد پر کھڑا کر دینا اور اس کے مطابق ڈھال دینے کی کوشش کو سیکولرائزیشن کہا جاتا ہے، جس کا عمل دنیا میں صدیوں سے جاری ہے اور جس نے پوری دنیا پر بالعموم اور عالمِ اسلام پر بالخصوص گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ یہ لادینی نظریہ ایک دو دن میں نہیں پنپ گیا تھا بلکہ اس کے پیچھے صدیوں جاری رہنے والی تحریکات تھیں۔ ماسوئیت نے اسے آگے بڑھایا، میومنزم اور ریشنلزم کے فلسفوں نے اس کو عقلی بنیادیں فراہم کیں، یونانی علوم کی طرف رجعت نے اسے مہمیز دی، اس نظریہ کے علمبرداروں نے زندگی کے ہر میدان میں بے پناہ عقلی و فکری کاوشیں کیں اور اس کے فروغ میں نمایاں رول ادا کیا۔ جن میں خاص ہیں بوکاشیو (Boccaccio)، پیتراکو، رینزو (Renzo)، میڈیسی (Medici)، دیکاٹ زونگلی (Zongli)، روسو (Rousseau)، کانٹ (Cant)، ہیگل (Hegal)، میکیاولی اور آدم اسمتھ ولی ارون انس کی جدوجہد سے مغربی نشاۃ ثانیہ کی داغ بیل پڑی۔ (ملاحظہ ہو ص ۶۷، اسرار عالم، عالمِ اسلام کی اخلاقی صورتحال)
ڈیکارٹ (Decartes) نے روح کو مادی اجزاء سے اور ذہن کو جسم سے الگ قرار دیا، اور بلا کسی تحقیق کے مادہ و جسم کو اصل اہمیت دے دی۔ اسی طرح لوائے زر (Lavoisier) نے دعویٰ کیا کہ مادہ شکلیں بدلتا ہے، فنا نہیں ہوتا۔ اور اس سے منفی طور پر یہ نتیجہ نکالا کہ یہ دنیا غیر فانی ہے، لہٰذا مذہب کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ کائنات فانی ہے۔ اسحاق نیوٹن (Isaac Newton) کی تحقیقات نے ثابت کیا کہ دنیا چند قوانین کے تحت وجود میں آئی ہے، انہیں کی بنیاد پر چل رہی ہے، لہٰذا اسے خالق و صانع کی ضرورت نہیں ہے۔ ان خیالات نے جدید سائنٹیفک نظریہ کو جنم دیا۔ یہودیوں کی آلہ کار مغربی قوتوں نے مذہب و کلیسا پر کاری ضرب لگانے اور نئی نسلوں کو لامذہب بنانے کے لیے سب سے زیادہ کلچر اور تعلیم کا استعمال کیا۔ بطور خاص تعلیم ان کے لیے ایک بے انتہا کار آدم ذریعہ ثابت ہوا اور اس میدان میں اس نظریے نے بڑے دور رس اور خطرناک اثرات پیدا کیے کہ ؏
دل بدل جائیں گے تعلیم کے بدل جانے سے
جن قوموں، علاقوں اور تہذیبوں کو سیاسی اور فوجی محاذوں پر شکست نہ دی جا سکی اور انہوں نے استعمار کے آگے سخت مزاحمت (Resistance) سے کام لیا، انہیں تعلیم کے ذریعے سے بہت آسانی سے شکار کر لیا گیا۔ اب تک پوری دنیا میں مختلف قوموں اور ملکوں میں تعلیم کو تہذیبِ نفس اور تطہیرِ فکر کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اور اس رجحان کو اسلام نے خصوصی طور پر تقویت دی اور اسے اتنا ارتقاء دیا کہ اس سے زیادہ ممکن نہ تھا، اس کے تہذیبی ارتقاء کے دور میں سارا تعلیمی نظام اسی نکتہ پر چلتا رہا۔
لیکن جدید دور میں صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ جدید تعلیم کے ایک اہم ستون بیکن (Francis Bacon) نے تعلیم کو فضائل سے آراستہ کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے مادی غلبہ کے حصول کا ذریعہ بتایا۔ روسو جدید تعلیم کا امام ہے، اس کا کہنا تھا کہ تعلیم واقعی اور مثبت ہونی چاہیے، جس کا مقصد بچہ کی ذہنی قوتوں کی پرورش ہو نہ کہ باہر سے تھوپی جانے والی مذہبی و اخلاقی تعلیم۔ آدم اسمتھ جدید معاشیات میں ایک بڑا نام ہے، اس نے تعلیم کا مقصد ملکی پیداوار میں اضافہ قرار دیا۔ اس نظریہ کا حاصل تھا کہ ’’انسان دنیا کے لیے، نہ کہ دنیا انسان کے لیے‘‘۔ نتیجتاً تعلیم انتہائی شکل میں معاش سے وابستہ کر دی گئی۔
انیسویں صدی کے آخر میں پوری دنیا پر مغربی سامراجیت کا تسلط قائم ہو گیا، اور اب سرکاری زور کے ساتھ اس سیکولر نظامِ تعلیم کو پوری دنیا میں رائج کرنے کی کوشش ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پوری دنیا پر چھا گیا۔ مذکورہ بالا افکار کی روشنی میں مغربی نظامِ تعلیم نے اپنے تعلیمی اقدار اس طرح متعین کیے:
(۱) مذہب کا انکار
مذہب کا انکار اس نظام کی مسلّمہ قدر ٹھہری، ما بعد الطبیعات کے انکار کو یہاں اصولِ موضوعہ کی حیثیت حاصل ہو گئی، سرکاری سطح پر بھی مذہب کی تعلیم ممنوع قرار پائی۔ چنانچہ ۱۸۲۸ء میں امریکہ میں تعلیمی ایکٹ نافذ کیا گیا جس کی رو سے سرکاری تعلیم گاہوں میں مذہبی تعلیم کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد انگلینڈ و فرانس نے بھی اسی طرح کے قدم اٹھائے۔ عالمِ اسلام میں ترکی نے اس میں سبقت لی اور اپنے سفید آقاؤں سے بھی بازی لے گیا، اذان عربی میں ممنوع ہو گئی، ترکی زبان کا رسم الخط بھی عربی زبان سے بدل کر لاطینی کر دیا گیا۔ ہندوستان میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ گاندھی کی تعلیمی اسکیم ’’واردھا اسکیم‘‘ بھی سیکولرائزیشن کی انہیں کوششوں کا ایک حصہ تھی جو اب بھی جاری ہے۔
(۲) غیر جانب داریت
مغرب کا کہنا ہے کہ ہر فرد کو مذہب و اخلاق کے بارے میں اپنی رائے خود وضع کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ کسی خاص مذہب یا کسی خاص شخصیت کا عقیدت مند بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ تعلیم پورے طور پر غیر جانبدار ہو اور وہ طالب علم کو معروضی انداز میں محض معلومات دے دے، اس کے بعد اس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ دیکھنے میں تو یہ خیال بڑا حسین اور خوشنما ہے، لیکن حقیقت میں بالکل بے بنیاد ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں غیر جانب داریت کا وجود کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔ ہر انسان اپنے معاشرہ، ماحول اور زمانہ کی پیداوار ہوتا ہے اور ان تینوں عناصر سے وہ گہرا اثر قبول کرتا ہے۔ اس لیے مطلقاً غیر جانب داریت ایک وہم ہے۔
(۳) مطلق آزادی
آزادی انسان کا فطری حق ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی، عقیدہ کی آزادی وغیرہ کا اسلام نے زبردست احترام کیا ہے۔ حتٰی کہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ
’’تم نے لوگوں کو کب غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا ہے۔‘‘
یہ قول دراصل آزادئ فرد کے سلسلہ میں ٹھیٹھ اسلامی نقطۂ نظر کی ترجمانی ہے۔ آج روسو کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ
’’انسان آزاد پیدا کیا گیا تھا لیکن وہ ہر جگہ زنجیروں میں بند ہے۔‘‘
وہ اصلاً حضرت عمرؓ کے قول سے ہی ماخوذ ہے۔ لیکن مغرب میں فرد کی آزادی کا تصور مطلق آزادی کا ہے۔ سماجی رسوم، روحانی قدروں، اخلاقی ضابطوں، سب سے آزادی ہونی چاہیے۔ اور اسی لیے وہ مذہب و اخلاق کا انکار ضروری سمجھتا ہے۔
(۴) فطرت پرستی
اس کا مطلب ہے مادر پدر آزادی۔ انسان کی خواہشات اور آرزوئیں ہی سب کچھ ہیں اور اسے انہیں پورا کرنے کی لامحدود چھوٹ ہونی چاہیے۔ اس قدر کے خلیے ڈارون، فرائڈ، ڈور کائم اور جان پال سارتر کے آراء و نظریات سے تیار ہوئے ہیں۔
(۵) زمانہ پرستی
اس کا مفہوم ہے کہ ہر نئی چیز اچھی ہے، ہر پرانی چیز ٹھکرائے جانے کے قابل ہے۔ اور دنیا میں ہر چیز تغیر پذیر ہے، مادیات میں بھی معنویات میں بھی۔ آج جو سچ ہے کل وہ جھوٹ ہو سکتا ہے۔ جو اخلاقی ہے وہ غیر اخلاقی ہو سکتا ہے۔ اس لیے انسان کو اپنے ماحول کے مطابق بدلتے رہنا چاہیے۔ عقائد و اخلاق میں بھی ہمیشہ تبدیلی آتی رہتی ہے، گویا ؎
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
(۶) افادیت پسندی
ہر وہ چیز جو انسان کو مادی نفع اور فائدہ پہنچائے خیر ہے، اور جو مادی نقصان پہنچائے وہ شر ہے۔ چنانچہ زر اس کے لیے قابلِ قدر ہے اور اس کا حصول ہی آج مغرب بلکہ پور دنیا کی غایت الغایات (Summum Bonum) ہے۔ حقیقت میں یہ خود غرضی کا ہی ایک مہذب نام ہے۔ جس نے آج ایسے جملہ کو رواج دیا ہے کہ Money is God۔
(۷) قوم پرستی
اپنے وطن اور قوم سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے، اور یہ ایک فطری چیز ہے جسے اسلام تسلیم کرتا ہے۔ لیکن مغرب میں اس کی بنیاد نسل پرستی، وطن اور زبان کی یکسانیت پر رکھی گئی ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ ہر قوم اپنی شرافت اور بڑائی کے نعرے لگاتی اور دوسروں کی تحقیر کرتی ہے۔ یہ وہ دیوی ہے جس کی بھینٹ پوری تاریخِ انسانیت ہی نہیں بلکہ انیسویں اور بیسویں صدی میں کروڑوں معصوم انسان چڑھا دیے گئے اور انسانی خون کی ندیاں بہہ گئی ہیں۔
سیکولرائزیشن کے عمل کے ذریعے یہودی اور سامراجی قوتوں نے پورے مشرق اور بالخصوص عالمِ اسلام کو ہر سطح پر سیکولرائز کرنے کی کوشش کی۔ جس کے مختلف و متنوع حربے، طریقے اور پیٹرنز اپنائے گئے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں اسرار عالم، عالم اسلام کی اخلاقی صورت حال، باب ۱۲ ص ۳۱۷ اور باب ۱۳ ص ۳۴۳)
تعلیم کے پورے عمل کو اپنے حق میں مفید بنانے کے لیے انہوں نے صحافت، اشتہارات، زبان و ادب سب کو سیکولرائز کیا۔ زبانوں میں ترکی رسم الخط کو لاطینی کر دیا گیا۔ عربی میں فصحی کی جگہ عامی کو رواج دینے کا ہنگامہ کیا۔ اردو کو اس کے رسم الخط سے محروم کرنے کی سازش ہوئی۔ عربی اور اردو کے جدید ادب میں فحاشی اور جنسیت، اباحیت اور غیر اسلامی اقدار کا سیلاب لا دیا گیا۔ اردو میں ترقی پسند ادب اور عربی میں ادب المھجر اسی آلودگی کی علامتیں ہیں۔ اردو میں ترقی پسند تحریک نے فحش لکھنے والوں مثلاً سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کو پیدا کیا۔ تنقید کے جدید مکاتب فکر کے نام پر اسلامی قدروں اور اخلاقی و روحانی عناصر کو ایک ایک کر کے نکال پھینکا گیا۔ حتٰی کہ موجودہ اردو ادب پر پورے طور پر اباحیت پسند اور لادینی ٹولہ کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔
سیکولرائزیشن کا یہ عمل تعلیمی نظام کو مخصوص نہج اور محتویات کے ساتھ مرتب کر کے پورا کیا گیا۔ ان میں تین امور اہم ہیں: (الف) نصاب تعلیم (ب) محلِ تعلیم (ج) اضافی نصاب یعنی اکسٹرا کریکولر اشغال (Extra Curricular Activities)۔
نصابِ تعلیم اس طرح مرتب کیا گیا کہ وہ از خود تعلیمِ توحید، رسالت اور آخرت سے عاری بنا دے۔ اس کی گہرائی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ سیکولر تعلیم کے ۸۰ فیصد پر مخلص مسلمان یقین نہیں کر سکتا۔ تعلیم کی یہ ترتیب بڑے دور رس نتائج پیدا کر رہی ہے۔ نصاب میں یہ عمل تقریباً تمام علوم و فنون کو محیط ہے۔ فلسفہ، جغرافیہ، عمرانیات، تاریخ، طبیعات، طب، کوئی اس سے خالی نہیں۔
محلِ تعلیم سے مراد تعلیم گاہ میں نشست و برخاست کا مخصوص نظم ہے۔ مخلوط تعلیم گاہ بنانا اور نیچے سے اعلیٰ ترین تعلیم گاہ تک مخلوط تعلیم پر اصرار کرنا ایسی چیز ہے جس نے اکثر جگہوں پر مسلمانوں کو ایک دوراہے پر ڈال دیا کہ یا تو دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے سیکولرائز ہونا پسند کر لیں یا مسلمان بن کر رہیں، لیکن زندگی کی دوڑ میں اعلیٰ صلاحیتوں کے استعمال سے دست کش ہو جائیں۔
اضافی نصاب سے مراد وہ تعلیمی سرگرمیاں ہیں جن کو نصابی تعلیم میں نہیں رکھا جاتا۔ ان سرگرمیوں میں لازماً ہر سرگرمی بری نہیں تھی۔ لیکن ان کا Orientation سیکولرائزیشن کے لیے کیا گیا۔ آج بھی یہ طریقہ عام ہے اور سیکولرائزیشن کے مؤثر طریقوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
سیکولرائزیشن کے وسائل میں تین چیزوں کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔
- جدید و قدیم کا ہوّا کھڑا کیا گیا۔ پھر قدیم علوم اور ان کے حاملین کو رفتہ رفتہ زندگی کی دوڑ سے الگ کر دینے کی کوششیں ہوئیں۔ ان پر سرکاری نوکری کے دروازے بند کر دیے گئے۔ ان کے اوقاف ضبط کر لیے گئے اور آخر انہیں معاشرہ سے الگ تھلگ ہو جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی اعتبار سے کمر توڑنے اور انہیں صدیوں سے دھکیلنے کے اس طریقہ کا استعمال انگریزی دور کی وحشیانہ پن اور بے رحمی کے ساتھ ہوا، وہ ہماری تاریخ کا ایک خوں چکاں باب ہے۔
- معروضی تحقیق اور غیر جانبدارانہ مطالعہ کے نام پر ہر چیز کو تنقید کے قابل بنا دیا گیا۔ چنانچہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی نقد کا نشانہ تھی اور صحابہ کرامؓ کی زندگیاں بھی۔ قرآنیات پر بھی حملے ہوئے، حدیث بھی ہدفِ ملامت بن گئی۔
- علومِ اسلامیہ پر اجارہ داری: دورِ زوال میں امت کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر مستشرقین کی فوجوں نے علومِ اسلامیہ کے قلعوں پر شب خون مارے اور یکے بعد دیگرے قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، لغت، ادب و تاریخ غرض یہ کہ ہر فن پر انہوں نے دست رس حاصل کی۔ نئے مخطوطے دریافت کیے، تحقیقات شائع کیں، انڈکس تیار کیے، فہارس اور مفاہم اور لغت ترتیب دیے۔ یورپ کے تقریباً ہر ملک میں اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹیاں اور ریسرچ اکیڈمیاں اسلامی علوم پر تحقیق کے لیے قائم ہوئیں۔ یورپ کی حکومتیں ان کا ساتھ دے رہی تھیں۔ حتٰی کہ انیسویں صدی آنے تک ان کی اجارہ داری قائم ہو گئی اور عالمِ اسلام اپنے ہی ثقافتی و فکری سرمایہ کے لیے ان کا دست نگر بن گیا۔
مذکورہ مقاصد کو پانے کے لیے انہوں نے پروپیگنڈہ کے فن کا بھرپور استعمال کیا اور اس میں صحافت کے تینوں شعبوں مقروء (Rreadable)، منظور (Visible) اور مسموع (Audible) نے زبردست رول ادا کیا۔ یہ سازشیں اب بھی جاری ہیں اور اب ان میں مزید وسعت اور تنوع جدید مواصلاتی انقلاب اور انٹرنیٹ کی ایجاد نے بپا کر دیا ہے۔ اور اس طرح تعلیم کو سیکولر بنا کر معاشرہ کو بتدریج اسلامی تعلیمات سے دور کرنے اور ان سے اجنبی بنانے کا مقصد کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا گیا، اور جو نئی نسل کو مختلف سطحوں سے آج بھی سیکولرائز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، بالخصوص اس لیے بھی کہ اس میں کسی ردعمل کا خطرہ بھی کم سے کم ہوتا ہے۔
(بہ شکریہ ماہنامہ ’’مِلی اتحاد‘‘ دہلی)
میڈیا کے ذریعے اسلامی دعوت
محمد ارشد امان اللہ
بنیادی طور پر میڈیا کی دو قسمیں ہیں۔ پیپر میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا۔ میڈیا کا جدید ترین اور سب سے مؤثر وسیلہ انٹرنیٹ ہے۔ ذیل میں اسی انٹرنیٹ کے بارے میں کچھ عرض کیا گیا ہے۔
انٹرنیٹ کیا ہے؟
انٹرنیٹ دراصل کئی چھوٹے چھوٹے کمپیوٹر نیٹ ورک اور مواصلاتی نظام کا مجموعہ ہے۔ اس کے ذریعے لمحوں میں دنیا بھر کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور اس نظام سے منسلک ہر کمپیوٹر والے سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ دنیا کا سب سے بڑا کمپیوٹر نیٹ ورک ہے جس سے تقریباً ۱۶۰ ملکوں کے ۵۰ ملین افراد براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
انٹرنیٹ مختلف نظاموں سے مربوط کرنے والا محض ایک مواصلاتی نظام ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعے اپنے افکار و خیالات کی نشر و اشاعت عالمی پیمانے پر کی جا سکتی ہے، اپنے پیام کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچایا جا سکتا ہے، دوسروں کی فکر پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے اور ان کی ذہن سازی کی جا سکتی ہے۔ سائنس کے اس کرشمے نے جغرافیائی حدود کو بے معنی اور پوری دنیا کو گھر کا آنگن بنا دیا ہے۔ یہ نظام درحقیقت ایک ایسے نظام کا پیش خیمہ ہے جو انسان کے طرزِ معاشرت کو ہی بدل کر رکھ دے گا۔
دعوت کے میدان میں انٹرنیٹ کا استعمال
لگتا ہے کہ اکیسویں صدی انٹرنیٹ کی صدی ہو گی۔ انفارمیشن سپر ہائی وے (Information Super Highway) کے اس دور میں دعوتِ حق کے لیے اس کا منظم استعمال ناگزیر ہے۔ اس کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:
عالمی نیٹ ورک (Wrold Wide Web)
انٹرنیٹ کی مشہور ترین اور سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی سروس ہے، اس کے ذریعے معلومات نشر کرنے کے لیے ہوم پیج (Web page) کام میں لایا جاتا ہے جن میں آڈیو، ویڈیو اور گرافکس کی شکل میں معلومات بھر دی جاتی ہیں۔ ہوم پیج پڑھنے کے لیے ایک خاص قسم کا پتہ (Address) ہوتا ہے جس کو کمپیوٹر میں دیتے ہی تمام معلومات اس کمپیوٹر میں آ جاتی ہیں۔ ایسے ہوم پیج بھی بنائے جا سکتے ہیں جن کے مخصوص حصے پر ان کا آپریٹر اپنے ملاحظات و سوالات لکھ سکتا ہے۔
دعوت کے میدان میں سرگرم افراد اور تنظیمیں اس سروس کا استعمال یوں کر سکتی ہیں:
- ہر زندہ زبان میں ایسے ویب پیجز (Web pages) تیار کیے جائیں جن میں عقائد، عبادات، جدید ذہن میں اسلام کے تعلق سے جنم لینے والے شبہات اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا تشفی بخش جواب، عالم اسلام کو درپیش خطرات کے بارے میں مفصل معلومات ڈال دی جائیں۔
- ایسے ویب پیجز تیار کیے جائیں جن میں لوگوں کے ذہن میں اسلام کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالوں کو حاصل کرنے کا خاص انتظام ہو تاکہ ماہر و تجربہ کار علماء کے پاس بھیج کر کتاب و سنت کی روشنی میں ان کا جواب معلوم کیا جا سکے۔
- حجرہ ہائے مذاکرہ (Studios) پر مشتمل ایسے ویب پیجز تیار کیے جائیں جن میں فوری مذاکرے (Chat shows) کرانے کا اہتمام ہو۔
انٹرنیٹ پر اسلام مخالف محاذ
عصر حاضر میں اسلام کی دعوت پیش کرنے کے لیے اسلام کی جانکاری کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے تقاضوں سے مکمل آگاہی بھی ناگزیر ہے۔ چونکہ انٹرنیٹ کی حیثیت اب ’’لسان العصر‘‘ کی سی ہو گئی ہے اس لیے دعوت کے میدان میں انٹرنیٹ کا منصوبہ بند اور دانش مندانہ استعمال اس وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔ اگر ہم نے یہ ضرورت نہ پوری کی تو اس کے بھیانک نتائج ہمیں صدیوں بھگتنے ہوں گے، خصوصاً اس لیے بھی کہ باطل نے بڑی ہوشیاری سے انٹرنیٹ پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چھیڑ رکھی ہے۔ الازہر کے سنٹر فار اسلامک اکانومی کے ڈائریکٹر جنرل کا بیان ہے کہ اب تک انٹرنیٹ پر آنے والے ۲۷ ایسے پروگراموں کا پتہ چل چکا ہے جو اسلام کے خلاف غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ اس نفرت انگیز مہم کے حجم اور ابعاد (Dimensions) کا اندازہ ذیل کی مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
- اگست ۱۹۹۷ء میں امریکہ میں متعصب عیسائیوں نے ایک فورم تشکیل دیا، اس کا نام ’’تلوار کے مقابلے میں قلم‘‘ رکھا۔ یہ فورم ’’اسلام کے بارے میں انکشافِ حقائق‘‘ کے عنوان سے عربی، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں میں انٹرنیٹ پر اپنا پروگرام پیش کرتا ہے۔ پروگرام کے عنادین کچھ یوں ہوتے ہیں:
- اسلام کے مخفی چہرے کی نقاب کشائی،
- اسلام کے بارے میں حقائق اور جعل سازیاں،
- حقائقِ حیات قرآن کی نظر میں،
- ہیبت ناک تعلیمات،
- کیا آپ کسی مسلمان کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ وغیرہ
- امریکہ آن لائن (America Online) انٹرنیٹ پر اپنی خدمات پیش کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے، اس کے چینل پر ۲۵ ستمبر ۱۹۹۷ء سے دو اسلام مخالف پروگرام شروع کیے گئے، ان میں سے ایک کا آغاز تو آیت کریمہ ’’و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ‘‘ ’’(قرآن کی شکل میں) جو کچھ ہم نے اپنے بندے (محمدؐ) پر نازل کیا ہے، اگر اس (کے منزل من اللہ ہونے) میں تمہیں شک ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ‘‘ کے انگریزی ترجمے سے ہوتا تھا۔ اس کے بعد قرآنی آیات کے وزن پر نصرانی الفاظ سے بنی چار سورتیں پیش کی جاتی تھیں۔ مقصد یہ باور کرانا ہوتا تھا کہ ان جعلی سورتوں کے ذریعے قرآن کے اس چیلنج کو قبول کر لیا گیا۔ ان سورتوں کے نام یہ ہیں: الایمان، التجسد، المسلمین، الوصایا۔
مسلمانوں نے احتجاجی خطوط لکھے تو کمپنی نے یہ دونوں پروگرام بند کر دیے مگر ’’جیو سٹیز‘‘ اور ’’ٹرائی‘‘ نامی کمپنیوں کے چینلوں پر مجرم نے پھر وہی حرکت کی۔ دوبارہ احتجاج کیا گیا تو ٹرائی بورڈ نے اپنے چینل پر نشر ہونے والے پروگرام کو بند کر دیا لیکن جیو سٹیز نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
عالمِ اسلام کیا کرے؟
مسئلے کی نزاکت سمجھنے کے لیے یہ دونوں مثالیں کافی ہیں۔ دعوت کے میدان میں اگر جلد ہی انٹرنیٹ کا منصوبہ بند استعمال نہ کیا گیا تو مسلمانانِ عالم کو اپنے دین و ایمان اور ملی تشخص کی خیر منانی پڑے گی۔ کیونکہ انفارمیشن سپر ہائی وے کے اس دور میں اس میڈیائی طوفان کا مقابلہ روایتی ذرائع ابلاغ سے ناممکن ہے۔ یہاں تو نا معلوم فرد یا گروہ کا سامنا ہے، اگر ہم ایک پروگرام بند کراتے ہیں تو کئی دوسرے پروگرام شروع کر دیے جاتے ہیں۔ اس لیے مثبت خطوط پر سوچنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ
- دعوتِ دین کے لیے انٹرنیٹ کے منصوبہ بند طرزِ استعمال کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں اور انٹرنیٹ پر اپنے پروگرام پیش کریں۔
- تمام دعوتی مراکز کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کی کوشش کریں۔
- اس کے لیے باضابطہ کمپنیاں اور تنظیمیں بنائیں بلکہ حکومتوں کو اس جانب متوجہ کریں کیونکہ یہ کسی فردِ واحد کے بس کی بات نہیں۔
لائقِ تحسین اقدام
انٹرنیٹ پر آنے والے اسلام مخالف مذکورہ پروگرام کا اتنا فائدہ تو ضرور ہوا کہ انٹرنیٹ کی افادیت اور بے پناہ تاثیر سے مسلمانانِ عالم بخوبی واقف ہو گئے۔ خوشی کی بات ہے کہ بعض اسلامی تنظیموں اور حکومتوں نے اس سمت میں پیش قدمی شروع کر دی۔
- اس میدان میں پہل کرنے کا شرف سعودی عرب کو حاصل ہے۔ گزشتہ حج سے پہلے ہی ٹیلی ویژن کمپنی سی این این (Cable News Network) اور بی بی سی لندن کے اسٹار ٹی وی سے سعودی حکومت نے یہ معاہدہ کیا کہ تجربے کے طور پر حج کے تمام مناظر کو پوری دنیا میں ٹی وی پر دکھایا جائے۔ بعد میں رفتہ رفتہ اس کی مدت بڑھا دی جائے۔
- اسی طرح قطر میں ’’خدمت الاسلام علیٰ انترنت‘‘ نامی ایک پراجیکٹ ڈاکٹر حامد الانصاری کی نگرانی میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ پراجیکٹ پہلے عربی، انگریزی، ملاوی اور پھر تمام زندہ زبانوں میں انٹرنیٹ پر اپنے پروگرام پیش کرے گا۔ اس میں غیر مسلموں، نو مسلموں اور فتاویٰ کے لیے الگ الگ چینل قائم کیے جائیں گے۔ مؤثر اسلوب میں جاذب معلومات کی تیاری کے لیے متخصصین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
- ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی کی صدارت میں ’’اقرا‘‘ نامی ایک فلاحی ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر ’’اعلام الاسلام‘‘ (مشاہیر اسلام) کے نام سے ایک پروگرام پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس کا ہیڈ کوارٹر شکاگو میں ہے۔
- انٹرنیٹ پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے ترکی کی ایک اسلامی تنظیم ’’موسسۃ الموسوعۃ الاسلامیۃ‘‘ کے تعاون سے ایک پراجیکٹ شروع کرنے جا رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان تنظیموں کو اپنے مقصد میں کامیاب کرے، آمین۔
(بہ شکریہ ’’تعمیرِ حیات‘‘ لکھنؤ)
مغربی تہذیب کا ارتقائی جائزہ
ادارہ
مغربی تہذیب کے بارے میں ہمارے ہاں عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ہر شے خراب ہے اور اس میں گندگی ہی گندگی ہے۔ اس کا صحیح تجزیہ (Analysis) وہ ہے جو علامہ اقبالؒ نے کیا ہے۔ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں کہ اس تہذیب کا Inner core خالص قرآنی ہے۔ اس تہذیب کا آغاز اسلام کے عطا کردہ اصولوں پر ہوا۔ اسلام نے جو بنیادی اصول دیے تھے ان میں اولین اصول جسے اس تہذیب نے بنیاد بنایا، یہ ہے کہ اپنے موقف کی بنیاد توہمات پر نہ رکھو بلکہ علم پر رکھو۔
’’کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہیں۔ یقیناً آنکھ، کان اور دل ہی کی بازپرس ہونی ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل ۳۶)
اسی طرح استخراجی منطق (Deductive logic) کی تنگنائیوں میں بال کی کھال اتارتے رہنے کی بجائے کائنات کا وسیع تر مشاہدہ کرو۔
کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
یقیناً آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کو ذرا دیکھ آنے میں، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے، اور (اپنے اسی انتظام کی بدولت) زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، ان لوگوں کے لیے بے شمار نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ (البقرہ ۱۶۴)
گویا یہ وسیع تر صحیفۂ کائنات تمہارے سامنے ہے، اس میں آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرو۔ اسے Induction (استقراء) کہتے ہیں۔ توہمات کی بیخ کنی اور Deduction (استخراج) کی بجائے Induction (استقراء) پر انسان کی سوچ کو استوار کرنا، یہ عالمِ انسانیت کے لیے اسلام کی دین ہے۔ اسی سے پھر سائنسی طریقہ کار کا آغاز ہوا۔ یعنی اشیاء کو دیکھ کر، مطالعہ کر کے نتیجہ نکالو۔ ان کے خواص (Properties) کیا ہیں، ان سے آپ کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیسے Exploit کر سکتے ہیں۔ یہ دنیا تمہارے لیے مسخر کی گئی ہے، ان میں سے کوئی شے دیوی یا دیوتا نہیں ہے، نہ سورج دیوتا ہے، نہ چاند دیوتا ہے، نہ جل دیوی ہے، نہ کوئی آگ دیوتا ہے، بلکہ یہ تمام چیزیں تو تمہارے لیے مسخر کی گئی ہیں، یہ تمہاری خدمت میں لگا دی گئی ہیں۔ اس بات کو سمجھو اور ان کا تجزیہ کرو۔ جو ان میں حقیقتیں مخفی ہیں ان کی تلاش کرو، جستجو کرو۔
پھر قرآن نے انسان کو یہ شعور دیا ہے کہ انسان پر انسان کی حاکمیت غلط ہے، بلکہ ان الحکم الا للہ ’’حاکمیت صرف اللہ کی ہے‘‘۔ انسان کے لیے حاکمیت کا تصور نہیں ہے، اس لیے کہ تمام انسان پیدائشی اعتبار سے مساوی ہیں۔ کوئی پیدائشی طور پر اونچا نہیں، کوئی نیچا نہیں، کوئی اعلیٰ نہیں، کوئی ادنیٰ نہیں، کوئی گھٹیا نہیں اور کوئی بڑھیا نہیں۔ یہ سارے تصورات درحقیقت اسلام نے دیے ہیں۔
پھر دورِ عباسی میں انہی تصورات کے نتیجے میں مسلمانوں نے یونان کی سائنس اور فلسفے کو ازسرنو زندہ کیا اور اس میں اضافے کیے۔ پھر مسلمانوں نے سائنسی عمل کا آغاز کیا اور بہت سی ایجادات کیں۔ پھر ہوا یہ کہ ہسپانیہ کی یونیورسٹیوں سے یہ علم یورپ کو منتقل ہوا۔ ہسپانیہ کے بالکل ساتھ تین سرحدی ملک ہیں۔ سب سے پہلے فرانس آتا ہے، پھر جرمنی ہے اور پھر نیچے اٹلی کی ٹانگ کی سی صورت بنتی ہے۔ یہ سمجھیے کہ سنٹرل روپ ہے، جہاں سے نوجوان ہسپانیہ کی یونیورسٹیوں میں یہ تعلیم حاصل کرنے جاتے تھے- قرطبہ اور غرناطہ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں وہ آ کر تعلیم حاصل کرتے تھے اور روشن خیالی لے کر جاتے تھے۔ اسی تعلیم اور روشن خیالی کے زیراثر یورپ میں احیاء العلوم (Renaissance) اور اصلاح مذہب (Reformation) کی تحریکیں چلیں۔ ان تحریکوں کا نقطۂ آغاز درحقیقت اسلام ہے، جس کو علامہ اقبالؒ قرآنی Inner core کہتے ہیں۔
البتہ دو عوامل ایسے تھے جن کے شدید ردعمل کے نتیجے میں انتہاپسندی پیدا ہو گئی۔ یورپ کے تاریک ادوار (Dark ages) میں وہاں دو طرح کا جبر تھا: ایک تو وہاں بادشاہوں کی حکومت تھی اور بادشاہوں کے حقوق کو خدائی حقوق (Divine rights) سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ یورپ اور کلیسا کا اختیار خدائی اختیار (Divine authority) مانا جاتا تھا۔ گناہوں کا معاف کرنا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔
’’اللہ کے سوا کون ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہو؟‘‘ (آل عمران ۱۳۵)
لیکن یہ اختیار بھی پوپ کو حاصل تھا۔ وہ کوئی نذرانہ لیں گے اور لکھ کر دے دیں گے تو گناہ معاف ہو جائے گا۔ یہ پوپ کے پاس خدائی اختیار ہے۔ اسی طرح حلت و حرمت اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے، وہ طے کرتا ہے کہ حلال کیا ہے، حرام کیا ہے، لیکن
’’انہوں نے تو اپنے احبار و رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا لیا‘‘ (التوبہ ۳۱)
بایں معنیٰ کہ جس شے کو وہ حرام کہہ دیں وہ ان کے ہاں حرام ہے اور جس شے کو وہ حلال کہہ دیں وہ ان کے نزدیک حلال ہے۔ حالانکہ تحلیل و تحریم تو اللہ کے اختیار میں ہے۔
یہ دو جبر تھے جس کے زیراثر واقعہ یہ ہے کہ پورا یورپ ایک عرصے سے تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اب اس تاریکی کے خلاف جب روشن خیالی آئی، جب علم پھیلا اور جدید نظریات نے انسانی شعور کو حیاتِ نو عطا کی، اور یہ نظریات جب ہسپانیہ سے ہو کر ان ممالک کے اندر پہنچے تو وہاں پر ایک شدید ردعمل پیدا ہو گیا اور مذہب اور پاپائیت کے خلاف بالعموم بغاوت پیدا ہو گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ شہنشاہیت کے خلاف بھی نفرت کے جذبات پروان چڑھنے لگے۔ ظاہر بات ہے کہ جب ردعمل ہوتا ہے تو نیوٹن کے تیسرے قانونِ حرکت کی رو سے ہر عمل کا اس کے مساوی اور مخالف سمت میں ردعمل ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں جتنا جبر تھا اس کے خلاف اس کا ردعمل بھی اتنا ہی شدید تھا۔
اس ضمن میں یہ بات بہت اہم ہے، اس کو سمجھ لیجئے کہ ایک طرف تو عیسائی یورپ ردعمل کی طرف جا رہا تھا، دوسری طرف یہودیوں نے عیسائیوں کی پشت میں چھرا گھونپنے کے لیے ہسپانیہ کے ذریعے یورپ میں جو خیر جا رہا تھا اس میں شر کی آمیزش کر دی۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ مسلم ہسپانیہ میں یہودیوں کو بڑی مراعات حاصل تھیں اور اس دور کے بارے میں بن گوریان نے کہا ہے کہ
Muslims Span was the goldean era of our diaspora.
۷۰ء سے یہودیوں کا جلاوطنی اور انتشار کا دور شروع ہوا تھا کہ انہیں فلسطین سے نکال کر پوری دنیا میں منتشر کر دیا گیا تھا کہ جدھر تمہارے سینگ سمائیں چلے جاؤ۔ ان کا جو یہ Diaspora کا دور تھا یہ ۱۹۱۷ء میں بالفور ڈکلیریشن کے ذریعے ختم ہوا ہے۔ اس طرح اس انتشار کو تقریباً ۱۹۰۰ برس ہو گئے۔ اس کے بارے میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے یہودی عیسائیوں کے ہاتھوں شدید تشدد کا شکار تھے۔ یورپ کے عیسائیوں کی اکثریت ان سے شدید نفرت کرتی تھی۔ لہٰذا عیسائی انہیں بری طرح ستاتے تھے۔ انہیں پیٹتے تھے، ان پر تھوکتے تھے اور انہیں اپنے شہروں میں آنے نہیں دیتے تھے۔ اس شدید ظلم کے ردعمل میں یہودیوں نے مسلمان حملہ آور طارق بن زیاد کی مدد کی۔ اس پر مسلمانوں نے انہیں اپنا محسن سمجھتے ہوئے مسلم اسپین میں ان کی سرپرستی کی اور انہیں بہترین مراعات دیں اور انہوں نے وہاں بیٹھ کر عیسائیت کی پیٹھ میں چھرے گھونپے۔ وہ جو کسی نے بڑے خوبصورت الفاظ میں کہا ہے ’’کون سیاہی گھول رہا ہے وقت کے بہتے دریا میں‘‘۔ یہ جو علم، شعور اور آگہی کا دریا ہسپانیہ سے یورپ کی طرف رواں تھا ان یہودیوں نے اس میں سیاہی گھولنے کا کام بہت گہری سازش کے ساتھ کیا۔
چنانچہ آزادی کو انہوں نے مادر پدر آزادی بنا دیا کہ ہر شے کی آزادی اور ہر شے سے آزادی، حتیٰ کہ خدا اور مذہب سے بھی آزادی۔ چنانچہ اس آزادی نے ’’زندگی برائے زندگی‘‘ اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ علام دوبارہ نیست‘‘ کی صورت اختیار کی۔ اسی طرح یہودیوں نے Protestants کے ذریعے سے سود کی اجازت حاصل کی اور بینک قائم کیے۔ ورنہ یورپ میں جب تک پوپ کا اختیار تھا تو بہت سی خرابیوں کے ساتھ ساتھ ایک بھلائی بھی تھی کہ سود کو حرام سمجھا جاتا تھا اور کسی بھی سطح پر سودی لین دین کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن ’’اصلاحِ مذہب‘‘ کی تحریک اور مذہبی بغاوت کے نتیجے میں جب پوپ کا اختیار ختم ہوا اور پروٹسٹنٹ مذہب فروغ پذیر ہوا تو تمام مذہبی پابندیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ یہودیوں نے جس طرح حضرت عثمانؓ کے دور میں اسلام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا، اسی طرح عیسائیت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور اسے دولخت کر دیا۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں ’’الفتنۃ الکبریٰ‘‘ یہودیوں ہی کا برپا کیا ہوا تھا۔ یہ عبد اللہ بن سبا یہودی کی سازش تھی اور آج تک اس زخم سے خون بہہ رہا ہے۔ اسلام میں شیعہ سنی تفرقے کا آغاز حقیقت میں اس وقت عبد اللہ بن سبا کے ذریعے سے ہی ہوا تھا۔ ایسے ہی یورپ میں یہودیوں نے عیسائیت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور اسے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ میں تقسیم کر دیا۔ اور پروٹسٹنٹس کے ذریعے سے سود کی اجازت حاصل کر کے بینکنگ کا زبردست نظام قائم کر لیا۔ بینکنگ کے اس نظام پر علامہ اقبالؒ کے یہ دو شعر ملاحظہ ہوں ؎
ایں بنوک ایں فکر چالاک یہود
نور حق از سینہ آدم ربود
تا تہہ و بالا نہ گردد ایں نظام
دانش و تہذیب و دیں سودائے خام
یہ بینکنگ نظام کیا ہے؟ یہ یہودیوں کی چالاکی اور مکاری والے فکر کا مظہر ہے۔ ان بینکوں نے انسانوں کے سینوں سے نورِ حق یعنی روح ربانی (Divine spark) کو ختم کر دیا اور انسان کو بھیڑیا بنا کر رکھ دیا ہے۔ جب تک بینکوں کا یہ نظام تہہ و بالا نہیں ہوتا، اس کو بالکل نسیاً منسیاً نہیں کر دیا جاتا، دانش و تہذیب اور مذہب و اخلاق سب کہنے کی باتیں ہیں، یہ محض خام خیالی ہے۔ اس نظام کی موجودگی میں یہ چیزیں آ ہی نہیں سکتیں۔
پھر مساواتِ مرد و زن کا نظریہ دیا گیا کہ مرد اور عورت بالکل برابر ہیں۔ ان کے بالکل برابر کے حقوق ہیں اور انہیں کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہیے۔ جس نے آگے بڑھ کر مساواتِ نسواں (Feminism) کی تحریک کی صورت اختیار کی۔ جس سے واقعہ یہ ہے کہ عائلی نظام کا خاتمہ کر دیا کہ ان کا خاندانی نظام تباہ و برباد ہو گیا۔ اور بینکنگ کے نظام کے ذریعے ان کا معاشی استحصال کر کے ان کی گردن پر سوار ہو کر بیٹھ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبالؒ اس صدی کے آغاز میں یورپ جا کر یہ دیکھ آئے تھے کہ ؏
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے
یہ در حقیقت اس تہذیب کی انتہاپسندی کے دو اسباب ہیں۔ ورنہ اس کا آغاز اور اس کا Inner core خالص اسلامی تھا۔ اس کا آغاز مسلمانوں کے زیراثر ہسپانیہ کی یونیورسٹیوں سے ہوا ہے، اور اس تہذیب میں اگر کوئی خیر ہے تو وہ اسلام سے مستعار لیا گیا ہے۔ جیسے کہ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں ؎
ہر کجا بینی جہان رنگ و بو
آن کہ از خاکش بروید آرزو
یا زنور مصطفٰیؐ او را بہا است
یا ہنوز اندر تلاش مصطفٰیؐ است
یعنی اگر آج دنیا میں کوئی خیر موجود ہے تو وہ یا تو نورِ محمدیؐ سے مستعار لیا گیا ہے، یا یہ کہ ابھی انسان اس مقامِ محمدیؐ تک رسائی کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
شمالی علاقہ جات کے دینی حلقوں کی عرضداشت
مولانا قاضی نثار احمد
شمالی علاقہ جات کے دینی حلقوں کی عرضداشت
بحضور عالی جناب جنرل پرویز مشرف صاحب،
منتظم و سالارِ اعلیٰ اسلامی جمہوریہ پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ جناب عالی!
آنجناب کی خدمتِ عالیہ میں انتہائی اہم گزارش ایک ایسے خطے کے باشندے ہونے کے ناطے پیش کر رہے ہیں جو پسماندہ ہونے کے باوجود مذہبی اور جغرافیائی حوالے سے بڑا حساس علاقہ ہے اور توقع رکھتے ہیں کہ ہماری معروضات پر اپنے منصب و مقام کے مطابق ہمدردانہ توجہ فرمائیں گے۔
صاحبِ شمشیر و سنان اور مملکتِ خداداد پاکستان کے منتظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ نے اپنے پیش رو منتظمینِ مملکت کے برعکس عالمی برادری کے سامنے جس جرأت اور حسنِ تدبیر سے ملی و ملکی موقف پیش کیا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ اسی طرح ملک و ملت کی بہتری و خوشحالی کے لیے آنجناب نے جن بنیادی اصلاحات کا اعلان فرمایا تھا کہ آئندہ کوئی بد دیانت، کرپشن اور دہشت گردی میں ملوث فرد اور ملک و ملت کا بدخواہ شخص اقتدار کے منصب پر نہ صرف یہ کہ بیٹھنے نہ پائے گا بلکہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکے گا۔جناب کے اس تاریخی اور یادگار اعلان سے پورے ملک میں بالعموم اور شمالی علاقہ جات میں بالخصوص ایک اچھا تاثر پیدا ہوا۔
ان حسین اور خوبصورت تاثرات اور تصورات کے تاج محل میں اس وقت ایک بڑا دھماکہ ہوا جب شمالی علاقہ جات سے پورے ملک کے لیے ایک بدنام زمانہ دہشت گرد، حد درجہ فرقہ پرست اور انتہائی متنازعہ فیہ شخص سید رضی الدین رضوی کو چیف ایگزیکٹو ایجوکیشنل معائنہ کمیشن کے لیے ممبر چن کر مراعات سے نوازا گیا۔ اس چناؤ سے شمالی علاقہ جات کے ہر مکتبہ فکر کو بالعموم اور اہل سنت والجماعت کو بالخصوص سخت تشویش لاحق ہو چکی ہے۔ مذکورہ شخص کے بابت چند ضروری معلومات اور حقائق سے آنجناب کو آگاہ کرنا ہم اپنا مذہبی فریضہ، ملکی سالمیت اور علاقائی امن و امان کے لیے لازمی تقاضہ سمجھتے ہیں جو کہ پیش خدمت ہے:
- سید رضی الدین اور ان کے بھائی سید ضیاء الدین خطیب امامیہ جامع مسجد گلگت جو کہ رضی برادران کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، دونوں بھائیوں نے بڑی ہوشیاری سے شمالی علاقہ جات کے ہر نئے آفیسر کو بلیک میل کرنے کے لیے یہ طریقہ اپنایا ہوا ہے کہ اول منبر و محراب کو متعلقہ آفیسر کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، پھر سیاسی سطح پر مک مکاؤ کیا جاتا ہے، جس پر کئی زندہ شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں۔
- ماضی میں انہی برادران اور انہی کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے گروپ نے نہ صرف یہ کہ ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگایا بلکہ دھڑلے سے پاکستان مردہ باد جیسے شنیع اور قبیح نعرے بھی لگائے۔
- رضی الدین اور اس گروپ نے گزشتہ سال چیف سیکرٹری شمالی علاقہ جات کے دفتر کے سامنے اپنی طاقت کے زعم میں ایک اعلیٰ اور معمر سرکاری آفیسر فنانس سیکرٹری جناب احمد خان کے دفتر میں گھس کر نہ صرف یہ کہ اسے لہولہان کر دیا تھا بلکہ قتل کی دھمکی بھی دی تھی۔
- یہی برادران اپنی گرتی ساخت کو بچانے اور بعض خفیہ عزائم کی تکمیل کے لیے حضرات خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرنے سے بھی نہیں چوکے، گزشتہ ماہ محرم الحرام ان کے سیاہ کرتوت پر شاہد عدل ہیں۔
- حال ہی میں اسی رضی الدین اور اس کے کارندوں نے گزشتہ نصف صدی سے رائج پاکستانی قومی تعلیمی نصاب کمیٹی کی منظور شدہ نصاب کی تحریری طور پر تبدیلی نصاب کا مطالبہ کر کے اسلام کے بنیادی عقائد اور تواتر سے ثابت شدہ احکاماتِ الٰہی اور شعار اسلام کا کھلے بندوں انکار کیا، جس کے تحریری ثبوت موجود ہیں۔
- اس کے علاوہ رضی الدین گزشتہ دور حکومت میں شمالی علاقہ جات کے مشیر زراعت و خوراک کی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کالا دھن یعنی کیمیکل کی سمگلنگ میں بھی بھرپور طور پر ملوث رہے ہیں۔ مملکت کا دل، کان، دماغ کہلائے جانے والے مؤقر اور باخبر ادارے اس بابت صحیح طور پر نشاندہی کر سکتے ہیں۔
- یہ شخص ۱۵ سے زائد فوجداری مقدمات اور بے شمار معاشرتی جرائم میں ملوث ہے۔ خود اپنے فرقے میں بھی یہ شخص انتہائی متنازعہ ہے۔ علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر ان بھائیوں (ضیاء الدین اور رضی الدین) کے ہاتھ اور دامن کئی مظلوم اور بے گناہ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔ ایسے شخص کی تقرری خود محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر بدنما داغ ثابت ہو گی۔ اس سب کچھ کے باوجود ایک ایسے شخص کو تعلیم کے فروغ اور ترقی کا ذمہ دار بنانا کہاں کا انصاف ہے؟
حقیقت پر مبنی ان معروضات میں ہم آنجناب سے یہ مطالبہ نما درخواست کرنے میں حق بجانب ٹھہرتے ہیں کہ
- اس گھناؤنے کردار کے حامل شخص کی تقرری اور انتخاب کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔
- نہ صرف شمالی علاقہ جات کی اہمیت و حساسیت بلکہ پورے ملک کی سالمیت کے پیش نظر ایسے کسی بھی فرد کا تقرر اتنے بڑے عہدے کے لیے ممنوع قرار دیا جائے جو کہ ملک و ملت کا بدخواہ ہو اور جن کے زیر زمین مخصوص عزائم ہوں۔
- واضح ہو کہ اس تقرری سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے تاریخی موقف پر بڑی زک پہنچنے کا بھی قوی احتمال ہے۔
ہم آنجناب سے یقین کی حد تک توقع رکھتے ہیں کہ ہماری یہ معروضات ہوا میں تحلیل ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ ترجیحی بنیاد پر اس اہم مسئلے کی طرف بھرپور توجہ دی جائے گی تاکہ ان اہم اور حساس علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات پھر ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر نہ اٹھیں کہ شاہ ہستی می توانی۔ جزاکم اللہ خیرا۔
والسلام، آپ کا مخلص
قاضی نثار احمد
امیر تنظیم اہل سنت والجماعت شمالی علاقہ جات بشمول کوہستان
مرکزی خطیب جامع مسجد گلگت
اور اب پاکستان میں بھی
میجر (ر) ٹی ناصر
فیصل آباد سے شائع ہونے والے ایک جریدے کے سرورق کے اندرونی صفحہ پر ایک آزاد نظم بعنوان ’’پینل کوڈ ۳۷۷‘‘ شائع کی گئی ہے، نظم کا آخری حصہ یوں ہے:
میں نسلِ انسانی کا وہ راز ہوں جو کسی پر منکشف نہیں ہو سکا
اس لیے مجھے غیر فطری قرار دے کر
جرم دفعہ ۳۷۷ بنا دیا گیا
تم میرے فطری تقاضے کو غیر فطری کیوں کہتے ہو
یہ حق تمہیں کس نے دیا ہے
پاکستان پینل کوڈ ۳۷۷ یا تعزیراتِ پاکستان ۳۷۷ غیر فطری فعل کے خلاف ہے۔ یعنی ہم جنس پرستی، عورت سے غیر فطری فعل، اور جانور سے غیر فطری فعل قابلِ تعزیر جرم ہے۔ تعزیراتِ پاکستان دفعہ ۳۷۷ ’’قوانین بائبل‘‘ یا حکمِ الٰہی کے عین مطابق ہے۔ معاشرے سے شاعر نے پوچھا ہے کہ اس کے فطری تقاضے یعنی ہم جنس پرستی کے فعل کو غیر فطری کہنے کا حق ہمیں کس نے دیا ہے؟ یہ شاعر جس کا نام افتخار نسیم ہے اور جو شکاگو، امریکہ میں مقیم ہے، یہ نہیں جانتا کہ اس کے غیر فطری تقاضے جسے یہ سدوم اور عمورا کے لوگوں کی طرح فطری کہتا ہے، اس کو روکنے اور اس کے تحت سزا دینے کا حق مذہب، معاشرہ اور پاکستانی قانون دیتا ہے۔ اس کی سزا کم از کم ۷ برس اور زیادہ سے زیادہ عمر قید ہے اور اس کے ساتھ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، یا قید و جرمانہ دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں (دیکھیے تعزیراتِ پاکستان دفعہ ۳۷۷)
ایک مذہبی جریدے میں ایسی بے شرمی سے کیے ہوئے اقرارِ گناہ کی اشاعت ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کیتھولک قیادت کو اس شرمناک نظم کی اشاعت سے گریز کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چونکہ کیتھولک قیادت ملکی سیاست میں خود کو ملوث کیے ہوئے ہے، مذہب کی طرف دھیان ہی کہاں؟ بڑے افسوس کا مقام، دکھ اور شرم کی بات ہے۔
(بہ شکریہ مسیحی ماہنامہ کلامِ حق)
ممتاز کشمیری دانشور پروفیسر سید بشیر حسین جعفری کا مکتوب گرامی
پروفیسر سید بشیر حسین جعفری
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مولانا، میں شکرگزار ہوں کہ آپ نے الشریعہ کے دو شمارے اور ’’مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے بروشر بذریعہ ڈاک بھجوایا۔ میں نے اس سارے لٹریچر کو اچھی طرح دیکھا۔ اگرچہ الشریعہ میں شائع ہونے والے مواد کو اوصاف کے صفحات پر بھی پڑھا مگر یہاں یک جا دیکھ کر یوں لگا کہ ریچھ کو یکبارگی شہد کا پورا چھتا ہاتھ لگ گیا ہو۔
الشریعہ میں آپ نے ہلکے پھلکے، دلچسپ، موزوں اور اہم مضامین، موضوعات کو گلدستہ میں پرویا ہے۔ بات وہی ہوتی ہے کہ بیان کرنے کا سلیقہ، طریقہ، اٹھان اور اندازِ بیان کسی موضوع میں جان ڈال دیتا ہے۔ تنوع کا بھی ایک مقام ہے۔ اکثر و بیشتر علماء عموماً ثقیل یا روایتی زبان لکھتے ہیں۔ جدید معلومات سے نابلد رہنے کے سبب ان کے بیان میں Information نہیں ہوتی۔ زیادہ زور محض احادیث کے Quotation سے سامنے آتا ہے۔ قرآن اور احادیث بے شک سرمایۂ ایمان ہے لیکن لوگوں کو ادھر لے جانے کے لیے علومِ حاضرہ سے کہانی ترتیب دینا پڑتی ہے۔ شاعری میں بھی اصل موضوع ’’محبت کا بیان‘‘ ہوتا ہے مگر شعراء کے ہاں ’’غزلوں‘‘ میں خیالات اور باریکیوں کا ایک انبوہ کثیر ہوتا ہے جس سے شعر لازوال ہو جاتا ہے۔ کشمیر کی خوبصورتی میں نے بھی دیکھی ہے بلکہ علامہ اقبالؒ سے زیادہ، مگر اقبالؒ کو الفاظ اور خیالات پر قدرت حاصل تھی اس لیے علامہ نے بیان کی ؎
پھول ہیں صحرا ہیں پریاں ہیں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
یا خوشی محمد ناظر نے ’’جوگی‘‘ نام کی نظم میں لکھا ؎
کل صبح کے مطلع تاباں سے جب عالم بقعہ نور ہوا
سب چاند ستارے ماند ہوئے خورشید کا نور ظہور ہوا
ہر وادی، وادئ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوہ طور ہوا
بھلا ان الفاظ کا شکوہ اور دبدبہ کوئی کہاں سے لائے۔ ما شاء اللہ آپ دل آویز زبان لکھتے ہیں، وسیع و جاری مطالعہ نے آپ کے خیالات کو جلا بخشی ہے، اللہ اور توفیق دے، آمین۔
مخلص سید بشیر حسین جعفری
۲۱ اگست ۲۰۰۰ء