مئی ۲۰۰۰ء

الشریعہ اکادمی کے تعلیمی پروگرام کا آغازمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شاہِ حبشہ ؓ کا قبولِ اسلامشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
فیصلہ کن معرکہحامد میر 
منکرینِ حدیث کے بارے میں مفتی اعظم سعودی عرب کا فتویٰڈاکٹر احمد علی سراج 
حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ ۔ شخصیت اور خدماتمولانا محمد عیسٰی منصوری 
پوپ جان پال اور یہودیوں کے تعلقات پر ایک اہم رپورٹادارہ 
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا تاریخی فتوٰیمولانا محمد طیب کشمیری 
عالمی منظر نامہادارہ 
توہینِ رسالت کی سزا کے قانون میں تبدیلیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تعارف و تبصرہادارہ 

الشریعہ اکادمی کے تعلیمی پروگرام کا آغاز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بحمد اللہ تعالیٰ الشریعہ اکادمی کنگنی والا گوجرانوالہ میں تعلیمی سلسلہ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سلسلہ میں ۲۳ اپریل ۲۰۰۰ء کو اکادمی میں صبح ساڑھے نو بجے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں اکادمی کے سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے پند و نصائح اور دعا کے ساتھ اکادمی کے تعلیمی پروگرام کا افتتاح فرمایا۔ جبکہ میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ کے ایڈمنسٹریٹر جناب محمد ایوب قاضی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور شہر کے علماء کرام اور دینی احباب کی ایک بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔

حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے اپنے خطاب میں دینی تعلیم کے اداروں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مدارس دین کے قلعے ہیں اور آج کے معاشرہ میں دینی چہل پہل اور رونق انہی دینی مدارس کے دم قدم سے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کو آج کی مروجہ زبانیں بالخصوص انگریزی زبان اور دیگر ضروری علوم بھی حاصل کرنے چاہئیں کیونکہ اس کے بغیر وہ دنیا تک خدا کا دین پہنچانے کا فریضہ مؤثر طریقہ سے سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنا ایک واقعہ سنایا کہ ۱۹۸۶ء میں انہیں بعض دینی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں کے دوستوں نے کچھ غیر مسلم انگریز دانش وروں سے ان کی ملاقات کا اہتمام کیا جن سے مختلف مسائل پر ترجمان کے ذریعہ گفتگو ہوئی۔ حضرت شیخ الحدیث نے کہا کہ اس موقع پر انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ وہ اگر انگریزی زبان سے واقف ہوتے تو زیادہ بہتر اندا ز میں ان کے سامنے اپنا نقطۂ نظر بیان کر سکتے تھے کیونکہ ترجمان کے ذریعے گفتگو اتنی مؤثر نہیں ہوتی۔

انہوں نے فرمایا کہ ایک انگریز نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے کئی دنوں تک برطانیہ کے مختلف شہروں کا دورہ کیا ہے تو یہاں کے بارے میں ان کے تاثرات کیا ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ کے ہاں جسم کی سہولت اور راحت کے لیے تو بہت انتظام اور سامان موجود ہے مگر روح کی راحت اور آرام کے لیے کوئی بندوبست نہیں ہے۔ اس انگریز دانشور نے اس کے جواب میں سرہلایا اور کہا کہ آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث نے فرمایا کہ جس طرح جسم کے لیے آرام اور راحت کی ضرورت ہے اسی طرح روح کے لیے بھی آرام اور راحت ضروری ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے دین پر چلنے سے حاصل ہوتی ہے، انسان کا تعلق جس قدر اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط ہوگا اس کی روح کو اسی قدر سکون اور اطمینان حاصل ہوگا۔

مہمان خصوصی جناب محمد ایوب قاضی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اکادمی کے تعلیمی پروگرام میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکول اور کالج کے ضروری مضامین کی تعلیم بھی شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ ہم سب بحیثیت مسلمان اچھی زندگی گزار سکیں اور اپنے حقوق و فرائض سے پوری طرح آگاہ ہوسکیں لیکن اس کے ساتھ عصری علوم اور وقت کے تقاضوں سے آگاہی بھی حاصل ہونی چاہیے تاکہ ہم اپنے فرائض کو منظم طریقہ سے صحیح طور پر ادا کرسکیں۔ انہوں نے اکادمی کے تعلیمی پروگرام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس اچھے تعلیمی پروگرام کے لیے کارپوریشن بھی تعاون کرے گی جو جی ٹی روڈ سے اکادمی تک راستہ کو ہموار کرنے کی صورت میں ہوگا۔

راقم الحروف نے شرکاء تقریب کو بتایا کہ مسجد خدیجۃ الکبریٰؓ میں پانچ وقت نماز باجماعت کاسلسلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے نماز فجر کے بعد ایک گھنٹہ اور عصر تا مغرب تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ حفظ قرآن کریم کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے جس میں پرائمری پاس بچوں کو چار سال میں حفظ قرآن کریم اور ضروریات دین کی تعلیم کے ساتھ مڈل کے ضروری مضامین اور کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ یہ کلاس مقامی بچوں کے لیے ہوگی جو صبح سات بجے اکادمی آکر عصر کے بعد گھر واپس چلے جائیں گے۔ راقم الحروف نے شرکاء کو تعمیری پروگرام کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ تہہ خانہ کی چھت ڈالے جانے کے بعد مسجد کی تیاری کا کام جاری ہے، اس کے بعد مدرسۃ البنات کا (۲۴x۲۰) ہال اور اس کے ساتھ فری ڈسپنسری کا ہال مکمل کرنے کا پروگرام ہے اور اس کے بعد دیگر شعبوں کی طرف توجہ دی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

راقم الحروف نے بتایا کہ تعمیری اخراجات احباب کے رضاکارانہ تعاون سے پورے کیے جا رہے ہیں اور اب تک ہونے والے اخراجات میں ایک بڑی رقم قرض کی مد میں حاصل کی گئی ہے جس کی بروقت واپسی ضروری ہے جبکہ تعمیر ی پروگرام میں ضروری پیش رفت کے لیے مزید رقم درکار ہے تاکہ رمضان المبارک تک ضروری تعمیر مکمل کر کے نئے تعلیمی سال سے دیگر کلاسوں کا آغاز کیا جاسکے۔ اس کے بعد حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

قارئین سے درخواست ہے کہ الشریعہ اکادمی کے تعمیری اور تعلیمی پروگرام میں ترقی، مؤثر پیش رفت اور قبولیت و کامیابی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں اور اصحاب خیر نقد رقم، تعمیری سامان، کتابوں، کمپیوٹر سیٹوں اور دیگر ضروری اشیاء کی صورت میں تعاون فرماکر کار خیر میں عملاً شریک ہوں کیونکہ دینی تعلیم کے یہ پروگرام اصحاب خیر کے مخلصانہ اور رضاکارانہ تعاون کے ساتھ ہی آگے بڑھتے ہیں۔

شاہِ حبشہ ؓ کا قبولِ اسلام

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

امام نسائیؒ اور امام بیضاویؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت بیان کی ہے اور امام ابن جریرؒ نے حضرت جابرؓ سے نقل کیا ہے کہ نجران کے ۴۰ عیسائی ایمان قبول کر چکے تھے، حبشہ میں ۳۲ خوش نصیب ایمان کی دولت سے مالامال ہوئے، مدینے کے یہودیوں میں سے حضرت عبد اللہ بن سلامؓ سرفہرست تھے، اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی خود ایمان لے آئے۔
امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ مکہ سے ہجرت کر کے دو قافلے حبشہ پہنچے۔ پہلے قافلہ میں تو مہاجرین کی تعداد کم تھی تاہم دوسرا ۸۰ افراد پر مشتمل تھا جس میں حضرت عثمانؓ بمع اپنی زوجہ اسماءؓ کے ساتھ اسی قافلے کے ہمراہ گئے۔ فرماتے ہیں کہ نجاشی نے حضرت عثمانؓ اور حضرت جعفرؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا، اسے حضور علیہ السلام کی ملاقات کا زیست بھر شوق رہا مگر اس کی یہ حسرت پوری نہ ہو سکی۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر نجاشی نے ۳۰ افراد پر مشتمل ایک وفد، جس میں اس کا اپنا بیٹا بھی تھا، حضور علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا تھا، یہ وفد بحری سفر کے دوران سمندری طوفان کی نذر ہو گیا، کشتی ڈوب گئی اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا، البتہ اس کے علاوہ ایک اور قافلہ وہاں سے مدینہ آیا اور ایمان قبول کیا۔
امام بغویؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ نجاشی کی وفات کے وقت وہاں پر ایک بھی مسلمان موجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حضور علیہ السلام کو خبر دی کہ آج نجاشی فوت ہو گیا ہے، وہ صاحبِ ایمان تھا لہٰذا آپ اس کی نمازِ جنازہ ادا کریں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا عام اعلان فرمایا، لوگ باہر عید گاہ میں نکلے، دو بڑی بڑی صفیں بنیں اور نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ امام بغویؒ فرماتے ہیں کہ حقیقت میں یہ جنازہ غائبانہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مدینے اور حبشہ کے درمیان موجود تمام پردے ہٹا دیے اور نجاشی کی میت حضور علیہ السلام کو نظر آنے لگی اور اس طرح یہ جنازہ گویا حاضر میت پر ہی پڑھا گیا۔

فیصلہ کن معرکہ

حامد میر

حق اور باطل آہستہ آہستہ ایک فیصلہ کن معرکے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر وہ چاہیں بھی تو اس معرکے سےپہلو نہیں بچا سکتے۔ احادیث نبویؐ میں اس معرکے کی جو نشانیاں ملتی ہیں وہ تیزی کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہیں۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا، میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ سے محفوظ کر دیا ہے، ایک وہ جو ہند کے مقابلہ میں جہاد کرے گا اور دوسرا وہ جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہمراہ جہاد میں شرکت کرے گا۔
  • حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارا لشکر ہند کے خلاف جہاد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس لشکر کو ہند پر فتح دے گا اور وہ ہند کے حکمرانوں کو ہتھکڑیوں اور زنجیروں میں طوق ڈال کر لائے گا، اللہ تعالیٰ اس لشکر کے گناہ معاف کر دے گا۔ جس وقت وہ لشکر کامیابی کے ساتھ واپس لوٹے گا اس وقت حضرت عیسٰیؑ ابن مریمؓ کو ملک شام میں دیکھے گا۔
  • حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زمین کے اطراف میں خرابی اور بربادی نمودار ہو گی، پھر سندھ ہند کے ہاتھوں برباد ہو گا اور ہند کی بربادی چین کے ہاتھوں ہو گی۔
ان تینوں احادیث کو مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اپنی کتاب ’’نزول المسیح علیہ السلام‘‘ میں اکٹھا کر دیا ہے۔ مولانا محمد سرفراز خان نے اپنی اس کتاب کا انتساب حضرت عیسٰیؑ کے نام کیا ہے اورامید ظاہر کی ہے کہ اگر وہ زندہ رہے تو ان شاء اللہ یہ کتاب خود حضرت عیسٰیؑ کی خدمت میں پیش کریں گے اور اگر زندہ نہ رہے تو ان کے متعلقین میں سے کوئی یہ کتاب حضرت عیسٰیؑ کی خدمت میں پیش کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ مولانا صاحب کو حضرت عیسٰیؑ کا نزول قریب کیوں نظر آ رہا ہے؟ یقیناً اس کی ایک وجہ جہادِ کشمیر ہے جسے وہ جہادِ ہند سے تعبیر کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس جہاد کا حتمی نتیجہ نکلنے کے فورًا بعد نزولِ مسیح ہو گا۔
جہادِ کشمیر کے باعث ہندوستان اور پاکستان میں ایک بڑی جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور ہندوستان کی نظر سندھ پر ہے۔ دوسری طرف ہندوستان اور چین میں محاذ آرائی بھی بڑھ رہی ہے لہٰذا ہندوستان کی طرف سے سندھ کو نقصان پہنچنے اور چین کی طرف سے ہندوستان کو برباد کیے جانے کے آثار واضح ہو رہے ہیں۔
محمد ذکی الدین شرفی نے ’’رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئیاں‘‘ میں انجیل کا حوالہ بھی دیا ہے۔ وہ انجیل کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ
’’اور میں اوپر آسمان پر عجیب کام اور نیچے زمین پر نشانیاں یعنی خون آگ اور دھوئیں کا بادل دکھاؤں گا۔ سورج تاریک اور چاند خون ہو جائے گا۔‘‘ (اعمال باب ۲ آیات ۱۷ تا ۲۱)
مسلمان انجیل کو تحریف شدہ سمجھتے ہیں لیکن اس کتاب کا یکسر ناقابلِ اعتبار ہونا ممکن نہیں۔ مولانا عطاء الرحمان فاروقی نے اپنی تصنیف ’’الخلیفہ المہدی‘‘ میں حضرت حذیفہؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی یہ نشانیاں بتائیں (۱) دھواں (۲) دجال (۳) دابۃ الارض (۴) پچھم سے سورج کا نکلنا (۵) حضرت عیسٰیؑ کا نزول (۶) یاجوج ماجوج کا سامنے آنا (۷) تین مقامات پر لوگوں کا زمین میں دھنس جانا۔ یہ نشانیاں ایک ساتھ ظاہر نہیں ہوں گی بلکہ باری باری ظاہر ہوں گی۔
غور کریں تو جس دھوئیں کا ذکر انجیل اور احادیثِ نبویؐ میں ہے وہ دراصل کرۂ ارض پر پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی کی چادر ہے جسے اوزون بھی کہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے یہ روایت بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایک مہدی ہو گا، میری امت اس کے زمانہ میں بہت خوشحالی دیکھے گی۔
مولانا مودودیؒ کی تفہیم القران کی جلد چہارم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دجال کے ظہور کے لیے حالات پیدا ہو چکے ہیں جو یہودیوں کا ’’مسیح موعود‘‘ بن کر اٹھے گا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کی ایک حدیث کے مطابق حضرت عیسٰیؑ امام مہدیؒ کے ساتھ مل کر دجال کا خاتمہ اور نفاذِ اسلام کریں گے۔
احادیثِ نبویؐ اور آسمانی کتابوں کی روشنی میں ہند اور اسرائیل کے اتحاد کی وجوہات سمجھ آتی ہیں۔ کچھ لوگ ان باتوں کو مذاق میں ٹال دیں گے لیکن جو لوگ ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں انہیں معرکے کے لیے تیار رہنا چاہئے جو آہستہ آہستہ قریب آ رہا ہے، اور تیاریوں کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے فرقہ وارانہ، نسلی اور علاقائی اختلافات مٹا کر متحد ہو جائیں۔
(بہ شکریہ اوصاف اسلام آباد)

منکرینِ حدیث کے بارے میں مفتی اعظم سعودی عرب کا فتویٰ

ڈاکٹر احمد علی سراج

سعودی عرب کے موجودہ مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن آل شیخ نے اپنے ایک حالیہ فتوٰی میں غلام احمد پرویز اور اس کی جماعت کو کافر و مرتد قرار دیتے ہوئے مسلم حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مرتدین کے اس ٹولے کو شرعی سزا دیں تاکہ اسلام کے خلاف اس فتنہ کی سازش کا قلع قمع ہو۔ مفتی اعظم سعودی عرب کے فتوٰی کا متن درج ذیل ہے:


طلوعِ اسلام نامی جماعت کے عقائد و افکار کہ جن کو اس جماعت کے بانی غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکاروں نے اپنی کتابوں اور مضامین کے ذریعے پھیلایا ہے، اور بہت سے اسلامی ملکوں میں اس جماعت کے خلاف علمائے مسلمین کی کثیر تعداد کی طرف سے جاری کیے گئے فتاوٰی کے بارے میں آگاہی کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ جماعت متعدد گمراہیوں کا مجموعہ ہے جن میں سے اکثر یہ ہیں:
(۱) اطاعتِ رسول اللہ ﷺ کو نہ ماننا، اور سنت کی حجیت (شرعی حیثیت) کا انکار کرنا، اور یہ وہم کہ صرف قرآن ہی شریعت کا ماخذ ہے۔
(۲) ارکانِ اسلام میں تحریف کرنا جو کہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ صلوٰۃ، زکوٰۃ اور حج کے ان کے نزدیک خاص معنی ہیں جیسا کہ باطنی فرقہ کے لوگ اسلام کے بارے کرتے ہیں۔
(۳) ارکانِ ایمان میں تحریف کرنا جو کہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ ملائکہ ان کے نزدیک حقیقی دنیا نہیں ہیں بلکہ کائنات کی قوتوں کا حصہ ہیں اور قضا و قدر ان کے نزدیک مجوسی فریب ہے۔
(۴) جنت و دوزخ کا انکار جو کہ ان کے نزدیک حقیقی جگہیں نہیں ہیں۔
(۵) بحیثیت ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کے وجود کا انکار کہ ان کے نزدیک وہ ایک تمثیلی قصہ ہے، حقیقت نہیں۔
(۶) قرآن کریم کی تفسیر اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق کرنا، اور ان کا کہنا کہ احکامِ قرآن عبوری (وقتی) تھے، ابدی نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ اس جماعت نے بہت سے گمراہانہ عقائد و افکار اپنائے ہوئے ہیں جن کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں۔ اور ان عقائد میں سے ایک ہی عقیدہ اس جماعت کو اسلام سے خارج کرنے کے لیے کافی ہے اور اسے مرتدین کے زمرہ میں شامل کر دیتا ہے، اور یہ تمام عقائدِ کفریہ تو اور زیادہ ان لوگوں کو اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ سو جو مسلمان لوگ ان کے عقائد و افکار کے بارے میں غور و فکر کریں گے وہ اس جماعت کی ضلالت و کفریات کے جاننے کے بعد اس کے کافر و مرتد ہونے کا یقینی فیصلہ کریں گے۔ کیونکہ یہ جماعت اللہ اور اس کے رسول کی اتباع کو جھٹلاتی ہے اور مومنین کے راستے پر نہیں ہے اور معروف ضروریاتِ دین میں تحریف کرتی ہے۔ اور جو کچھ ـ(اس جماعت) کے بارے میں پیش کیا گیا ہے، اس بنا پر جو بھی اس جماعت کی اتباع کرتا ہے، یا اس کی طرف دعوت دیتا ہے، یا کسی بھی وسائل و ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کی آراء (سوچ و فکر) کو متاثر کرتا ہے، وہ کافر ہے اور دینِ اسلام سے مرتد ہے۔ اور مسلم حکمران پر واجب ہے کہ وہ اس سے توبہ طلب کرے، اور اگر وہ تائب ہو جائے اور ایسی (کفریہ) حرکات سے باز آ جائے اور اسلام کی طرف لوٹ آئے تو ٹھیک، ورنہ ایسے کافر کو قتل کر دیا جائے۔
اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس گمراہ جماعت اور اس جیسی دوسری اسلام سے منحرف جماعتوں مثلاً قادیانیوں بہائیوں وغیرہ سے بچیں اور لوگوں کو بچائیں۔ اور ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو وصیت کرتے ہیں کہ وہ قرآن و سنت اور اتباعِ صحابہؓ و تابعینؒ اور ان کے بعد ائمہ مہدینؒ جن کا علم اور دین سے وابستگی ان کی ہدایت یافتگی پر گواہ ہیں، کو تھامیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے دشمنوں کو، جہاں کہیں بھی وہ ہوں، نیچا دکھائے اور ان کے مکر و فریب کا ابطال کرے۔ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین وکیل ہے اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
وصلی اللہ وسلم علیٰ نبینا محمد وآلہ وصحبہ۔
سائنٹیفک ریسرچ و افتاء کی مستقل کمیٹی
مہر و دستخط
مفتی عام برائے حکومت سعودی عریبیہ
عبد العزیز بن عبد اللہ بن آل شیخ
فتویٰ نمبر ۲۱۱۶۸ مورخہ ۱۴۲۰/۱۱/۱۴ ہجری

حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ ۔ شخصیت اور خدمات

مولانا محمد عیسٰی منصوری

مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا خاندانی تعلق سادات کے مشہور حسنی سلسلہ سے ہے جو نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ ہندوستان میں اس خاندان کی علمی و ادبی اور دینی و ملی خدمات کا دائرہ صدیوں کو محیط ہے۔ آپ کے مورثِ اعلیٰ حضرت شاہ علم اللہؒ، پھر جدِ امجد حضرت سید احمد شہیدؒ، آپ کے نامور والد گرامی مولانا عبد الحئی لکھنوئیؒ جن کی مشہورِ زمانہ تالیف ’’نزہت الخواطر‘‘ پورے اسلامی کتب خانہ میں اپنی مثال آپ ہے جس میں برصغیر کے آٹھ سو سالہ دور کے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ علماء، مشائخ، بزرگانِ دین اور مصنفین کا جامع تذکرہ ہے۔
آپ کا بچپن ایسے گھرانہ میں گزرا جہاں علم و فضل، زہد و تقوٰی، عبادت و ریاضت، سادگی و قناعت کی حکمرانی تھی۔ غرض آپ کو بچپن سے علمی، ادبی، دینی و روحانی اور مجاہدانہ ماحول نصیب ہوا۔ عربی آپ نے چوٹی کے عرب علماء اور انشا پرداز مولانا خلیل عربؒ اور مولانا تقی الدین ہلالیؒ مراکش سے پڑھی۔ حدیث شیخ الحدیث مولانا حیدر حسن ٹونکیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے، تفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے، اور انگریزی لکھنؤ یونیورسٹی میں ایک انگریز سے سیکھی۔ آپ کی اصل تربیت گاہ آپ کا اپنا گھر تھا جہاں بچپن سے ہی دعوت و عزیمت اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جانیں قربان کر دینے کی خاندانی روایات اور سینکڑوں داستانیں سنیں۔ جس زمانہ میں بچے طوطا مینا کی کہانیاں سنتے ہیں، آپ کے گھرانہ میں دورِ صدیقیؓ و فاروقیؓ کے جہاد کے کارناموں پر مشتمل واقدی کی ’’فتوح الشام‘‘ پڑھی جاتی تھی۔
آپ نے ایسے زمانہ میں آنکھیں کھولیں جب برصغیر پر انگریز کی حکمرانی پورے شباب پر تھی اور پورا عالمِ اسلام یورپ کی سیاسی، عسکری، تہذیبی، تعلیمی اور فکری غلامی میں جکڑا ہوا تھا۔ برصغیر اور عالمِ اسلام کے بیشتر مصنفین، مفکرین اور اہلِ قلم مغربی علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کے سحر میں مبتلا تھے۔ خواہ مصر کے شیخ محمد عبدہ، رفاعہ، طہطاوی، قاسم امین ہوں، یا برصغیر کے سرسید احمد خان، منشی چراغ علی اور محمد علی لاہوری، سب اسی راہ پر چل رہے تھے۔ یہ حضرات مغربی تعلیم و تربیت کے اثرات اور انگریز حکومت کے دبدبہ کی وجہ سے غالباً یہ سمجھتے تھے کہ مغربی تہذیب و تمدن کی عظمت و شوکت ایک بدیہی و دائمی حقیقت ہے، اس میں نقد و نظر کی گنجائش نہیں، یہ انسانی عقل اور انسانی علم کی ترقی کا آخری زینہ ہے۔ ایسے ماحول میں آپ کے گھرانہ کی دینی، علمی، روحانی اور مجاہدانہ روایات و ماحول نے آپ کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’مجھ پر اللہ کی مہربانی تھی اور اس کی حکمت کہ ایسے ماحول میں نشوونما ہوا جو مغربی تہذیب و تمدن کی سحر طرازیوں اور دل فریبیوں سے محفوظ بلکہ اس کا باغی، افراط و تفریط سے دور، صحیح اسلامی عقائد و تعلیمات سے معمور تھا۔ پھر ایسے اساتذہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہوا جو علمی مہارت کے ساتھ ذہنی و فکری آزادی، اخلاقی جرأت، نقد و نظر کی صلاحیت و ہمت سے بہرہ ور تھے۔ اس ماحول و تربیت کا نتیجہ تھا کہ ایسی تحریروں کے قبول کرنے پر طبیعت آمادہ نہیں ہوتی تھی جن میں کمزوری، شرمندگی یا شکست خوردگی کے اثرات ہوں، یا جو صرف دفاع پر مبنی ہوں۔‘‘ (پرانے چراغ حصہ ۳، صفحہ ۲۶ و ۲۷)
تئیس سال کی عمر میں آپ اچھوتوں کے سب سے بڑے لیڈر بابا امیتدکر کو اسلام کی دعوت دینے بمبئی تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ کا دعوتی سفر اور پیغام نہ صرف برصغیر بلکہ عرب و عجم، مشرق و مغرب، مسلم و غیر مسلم ہر جگہ اور ہر وقت جاری و ساری رہا۔ آپ نے اپنی دعوت و فکر کا موضوع خاص طور پر عربوں کو بنایا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مغرب کا جدید الحادی فتنہ اپنے تمدنی، علمی، فکری رنگ میں جدید عرب نسل کو غیر معمولی طور پر متاثر کر رہا ہے تو آپ تڑپ اٹھے۔ آپ نے اپنی خداداد بصیرت سے ابتدائی دور سے ہی مغربی فکر و فلسفہ کو اپنی تحریر و تقریر کا موضوع بنایا۔ جاذب اور دلکش عنوان ’’ردۃ ولا ابابکر لہا‘‘ آپ کی جدوجہد کا عنوان بن گیا۔ اس میں نہ صرف اس فتنہ کی پوری تاریخ کو سمو دیا بلکہ دین کا درد رکھنے والے عرب علماء و مشائخ کو تڑپا کر رکھ دیا۔ عالمِ عربی میں آپ کے اس مقالے کے لاتعداد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اب بھی مسلسل شائع ہو رہے ہیں۔ یہ عنوان آپ نے اس لیے اختیار کیا کہ عرب اہلِ قلم، ادباء اور مفکرین مغرب کے فکر و فلسفہ اور نظامِ حیات و تمدن سے بے انتہا متاثر ہو چکے تھے، گویا یہ ایک جدید ارتداد تھا۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
’’مجھے ایسا لگتا ہے کہ عرب اہلِ قلم کے اسلوبِ تحریر اور طرزِ فکر پر سید جمال الدین افغانی کے اسکول نے بہت اثر ڈالا۔ وہ جب میدانِ سیاست میں آتے تو استعماری طاقتوں پر جرأت و ہمت کے ساتھ تنقید کرتے اور ان پر سخت حملے کرتے۔ نہ سزاؤں اور دھمکیوں سے ڈرتے، نہ قید و بند اور ملک بدر ہونے کو خاطر میں لاتے۔ لیکن وہی لوگ جب مغربی تہذیب و تمدن کو موضوع بناتے یا سیاسی نظام، اقتصادی فلسفوں اور عمرانی علوم پر لکھنے بیٹھتے تو ان کے قلم جیسے تھک جاتے، زبان لڑکھڑانے لگتی، اسلوب کمزور پڑ جاتا۔ ان کی تحریروں سے یہ جھلکنے لگتا کہ مغرب ہی ہر چیز میں مثالی نمونہ ہے، اور ترقی کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ کسی طرح ان کے مقام تک پہنچا جائے اور انہیں کی نقل کی جائے۔‘‘ (پرانے چراغ حصہ ۳ ص ۲۹)
تعلیم سے فراغت کے بعد جب آپ میدانِ عمل میں اترے تو آپ کے سامنے اپنا ملک ہی نہیں پورا عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیائے انسانیت تھی۔ آپ کا پختہ عقیدہ اور یقینِ کامل تھا کہ جس طرح ماضی میں اسلام نے دنیا کی رہبری کر کے اسے کامیابی کی راہ دکھائی ہے، اسی طرح آج بھی صرف اسلام اور قرآن ہی سسکتی دم توڑتی انسانیت کے دکھوں کا مداوا بن سکتا ہے۔ صرف وہی موجودہ دور کی گمراہیوں، بحران و انتشار، انارکی و خودفریبی سے دنیا کو نجات دلا سکتا ہے۔ آپ نے عربوں کو اسی خواہش اور آرزو سے اپنا مخاطب بنایا کہ وہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا دامن تھام کر اپنے داعی ہونے کی اصل حیثیت اور مقام کو بحال کرا کے دنیا کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لیں۔
چنانچہ آپ نے اپنی تحریر و تصانیف کی ابتداء عربی زبان سے کی۔ ابتدائی عمر ہی میں آپ کے مضامین پر چوٹی کے عرب علماء و دانشور سر دھنتے۔ ۱۸ سال کی عمر میں آپ کا پہلا مضمون مصر کے مشہور معیاری رسالہ المنار میں نامور و ممتاز عالم و صحافی علامہ سید رشید رضا نے اہتمام سے شائع کیا، پھر آپ سے اجازت لے کر اس مضمون کو کتابچہ کی صورت میں الگ سے شائع کیا۔ آپ کا دوسرا مضمون مشہور عربی ترجمان ’’الضیاء‘‘ میں شائع ہوا تو اسے پڑھ کر عالمِ عرب کے عظیم انشا پرداز و ادیب و مفکر شکیب ارسلان نے بڑے بلند الفاظ میں مضمون کی ستائش و تعریف کی۔ ایک ممتاز عرب ادیب و دانشور ڈاکٹر انور الجندی لکھتے ہیں کہ:
’’سید ابو الحسن علی ندوی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عربوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کی، انہیں بیدار کیا، انہیں اپنے حقیقی منصب اور ذمہ داری سنبھالنے کی دعوت دی، اور انہیں یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سرفرازی اسلام کی بدولت عطا کی ہے اور قرآن نے انہیں دنیا کی قیادت کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘
آپ نے بار بار عرب ممالک جا کر ان کے زعماء و مفکرین، علماء و دانشوروں سے مل کر ان کو جھنجھوڑا اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعے عوام و خواص، دانشوروں، سلاطین و شہزادگان کو بڑی جرأت و بے باکی سے ان کی کمزوریوں، مغربی تہذیب کے تحت آ جانے، سامراجی طرزِ تجدد و ترقی پسندانہ خیالات و نظریات اور رجحانات کے زیر اثر آ جانے پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔ ’’اسمعیات‘‘ کے نام سے ہر ملک کو خطاب کیا۔ اسمعی یا مصر، اے مصر سن، اے سیریا سن، اے لالہ صحرا (کویت) سن، اے ایران سن۔ جزیرۃ العرب کا پیغام دنیا کے نام، دنیا کا پیغام جزیرۃ العرب کے نام۔ آپ نے عرب عوام، علماء، دانشوروں، حکمرانوں اور بادشاہوں تک کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہا کہ تمہارا وجود و پہچان صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا رہینِ منت ہے۔ اگر ان دو چیزوں سے تعلق ختم ہو جاتا ہے تو پھر عربوں کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔ غرض آپ نے نصف صدی تک عربوں کو جو پیغام دیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ   ؎
نہیں وجود حدود و ثغور سے اس کا
محمد ﷺ عربی سے ہے عالمِ عربی
نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عربوں کی کوئی حیثیت تھی اور نہ محمدِ عربیؐ سے بے گانہ ہو کر ان کی کوئی حیثیت رہ سکتی ہے۔
عصرِ حاضر کے ممتاز عالم، عظیم دانشور، نامور خطیب و رہنما علامہ یوسف قرضاوی لکھتے ہیں:
’’ہم نے شیخ ابو الحسن علی ندوی کی کتابوں اور رسالوں میں نئی زبان اور جدید روح محسوس کی، ان کی توجہ ایسے مسائل کی جانب ہوئی جن کی جانب ہماری نظر نہیں پہنچ سکی۔ علامہ ابو الحسن علی ندوی پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں الفاظ و موقف کی اہمیت و قیمت سے روشناس کرایا اور ان سے متاثر ہو کر بعد میں دوسرے مصنفین نے لکھنا شروع کیا۔ عربی ادب میں ان کا نام مسلّم ہے۔ بلا مبالغہ اس وقت آپ کی سطح کا مؤرخ و ادیب عرب و عجم میں نایاب ہے۔ آپ کے علمی و فکری مباحث تو تسلیم شدہ ہیں ہی، آپ کی عربی تحریروں کا حال یہ ہے کہ خود عرب علماء و خطباء آپ کی عبارتوں کو رٹتے اور حفظ یاد کرتے ہیں، اور جمعہ کے خطبوں تک میں نقل کرتے ہیں، حتٰی کہ حرمین شریفین کے ائمہ آپ کی عبارتوں کو جمعہ کے خطبات میں نقل کرتے ہیں۔ آپ کی عربی کتابیں عرب ممالک کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں داخلِ نصاب ہیں۔ آپ کی تصنیفی زبان شروع ہی سے عربی رہی ہے۔ پھر دنیا کی مختلف زبانوں میں آپ کی کتابوں کے بے شمار ایڈیشن چھپے اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔‘‘
بلاشبہ آپ عالمِ عرب میں اس وقت محبوبیت و مقبولیت کے انتہائی عروج پر تھے۔ غرض آپ کو عالمِ عرب میں وہ مقام حاصل ہو گیا جو اس دور میں کسی غیر عربی کو حاصل نہ ہو سکا۔ یہ امتیاز و انفرادیت آپ کو اخلاص و للّٰہیت، بے لوثی و بے نیازی کے ساتھ عرب مسائل و مشکلات سے گہری واقفیت، ان سے دلی ہمدردی اور انہیں بروقت جدید فتنوں اور خطرات سے خبردار کرنے کی بدولت حاصل ہوئی۔ آپ کی جو کتاب اردو میں دس پندرہ ہزار میں چھپتی، وہ عربی میں لاکھوں کی تعداد میں چھپتی رہی۔ عربوں نے آپ کی حمیتِ دینی، غیرتِ اسلامی، ربانیت و روحانیت کی وجہ سے آپ کی بے انتہا قدردانی کی۔ انہوں نے کھلے دل سے آپ کی عظمت کا اعتراف کیا۔ بقول پروفیسر خورشید احمد صاحب کے، عرب دنیا آپ کی فصاحت و بلاغت کا لوہا مانتی ہے۔ غرض آپ کو عربوں میں ایسی مقبولیت اور ہر دل عزیزی حاصل تھی کہ جب کسی پڑھے لکھے عرب کی کسی ہندی مسلمان سے ملاقات ہوتی تو بسا اوقات اس کا پہلا سوال یہ ہوتا کہ ابو الحسن علی ندوی کیسے ہیں؟
تاریخ و تذکرہ آپ کے مطالعہ کا خصوصی موضوع رہا۔ آپ نے اسلامی تاریخ اور اکابرینِ اسلام کے احوال و سوانح پر اس قدر لکھا کہ اس دور میں پورے عالمِ اسلام میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ کی تحریروں میں تاریخ و ادب ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی علمی موضوعات پر بھی نہایت دلکش اور افسانوی انداز میں خامہ فرسائی کی جا سکتی ہے اور دینی تحریروں میں بھی ادبی دلچسپی رکھ سکتی ہیں۔ آپ کے اسلوبِ بیان میں علم و فکر، سنجیدگی و متانت، اعتماد و ٹھہراؤ تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی شعلہ کی سی لپک اور طوفان کا سا دبدبہ بھی محسوس ہوتا ہے۔ آپ کی تحریر سے ولولہ و ابتہاج کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔ آپ کے اسلوب نثر کی کشش انگیز توانائی خود آپ کی شخصیت کی مرہونِ منت ہے۔ آپ کی شخصیت بڑی متنوع اور ہمہ گیر ہے جس نے اپنے اندر گلشنِ دین و ادب کے بہت سارے پھولوں کا عطر کشید کر لیا ہے۔ آپ کی تحریروں اور اسلوب میں آپ کی شخصیت کی طرح مدرسہ و خانقاہ کی طمانیت و سکون بھی ہے، علمو ادب کی جاذبیت و حسن بھی، ساتھ ہی ساتھ تحریک و اجتماعیت کی حرارت و سرگرمی بھی ہے۔ یہی جامعیت آپ کی شخصیت کا خاص امتیاز ہے اور آپ کی تحریر کا بھی۔
آپ نے تاریخ و تذکرہ کو اپنے مطالعہ اور انشاء کا موضوع بنایا تاکہ نئی نسل اسلاف کے کارناموں سے روشنی و حرارت حاصل کر کے دعوت و عزیمت پر سرگرمِ عمل ہو جانے کا حوصلہ حاصل کرے۔ آپ کے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے یہاں بے جا جوش کہیں نہیں ملتا جبکہ زور ہر جگہ نظر آتا ہے۔ یہ زورِ بیاں درحقیقت آپ کے فکر و نظر کی دین ہے۔ آپ صاحبِ نظر بھی تھے اور صاحبِ دل بھی، جب فکر کے ساتھ ذکر بھی ہو تو کیا کہنا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریروں میں سنجیدہ و حسین انداز میں نہایت گہری باتیں ملتی ہیں۔ ’’از دل خیزد بر دل ریزد‘‘ کی جھلک آپ کی ہر تحریر و تقریر کا خاصہ ہے۔
آپ کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ۱۷۷ ہے۔ بیشتر کتابوں کے ترجمے اردو، فارسی، ترکی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ جب آپ کی پہلی عربی کتاب ’’ما ذا خسر العالم بانحطاط المسلمین‘‘ منظرِ عام پر آئی تو اس نے عرب دنیا میں ہلچل مچا دی۔ دمشق یونیورسٹی کے کلیہ الشرعیہ کے ممتاز اسکالر و نامور مصنف استاد پروفیسر محمد المبارکؒ نے اسے اس صدی کی بہترین کتاب قرار دیا اور کہا کہ اگر کسی نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو اس کا مطالعہ ناقص رہے گا۔ اس کتاب کے متعلق ایسے ہی تاثرات بیشتر عرب زعماء و مفکرین کے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر یوسف موسٰی، استاد محمد قطب شہیدؒ، علامہ الشام شیخ محمد بہجت البیطار، اور اخوان کے مشہور رہنما ڈاکٹر مصطفٰی سباعی، عظیم مفکر و عالم استاد علی طنطاوی وغیرہ وغیرہ۔ پوری عرب دنیا، سعودی عرب، مصر و شام اور فلسطین و عراق کے چوٹی کے زعماء و مفکرین نے اسے اس صدی کی بہترین کتاب قرار دیا۔ اس کتاب نے ۳۵ سال کی عمر میں آپ کی شہرت و ناموری کو عرب دنیا میں گھر گھر پہنچا دیا۔ مشہور و نامور فاضل، لندن یونیورسٹی میں مڈل ایسٹ سیکشن کے چیئرمین ڈاکٹر بکنگھم نے ان الفاظ میں اس کتاب کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ
’’اس صدی میں مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کی جو کوشش بہتر سے بہتر طریقہ پر کی گئی، یہ اس کا نمونہ اور تاریخی دستاویز ہے۔‘‘
مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کا ایک بڑا کارنامہ علامہ اقبال کی شاعری اور فکر سے عربوں کو روشناس کرنا ہے۔ آپ کی منفرد اور وقیع کتاب ‘‘روائع اقبال‘‘ (عربی) اور اس کے اردو ترجمہ ’’نقوشِ اقبال‘‘ کے بغیر سلسلہ اقبالیات کی فہرست مکمل نہیں سمجھی جا سکتی۔ اگرچہ آپ سے پہلے عزام اور عباس محمود نے عالمِ عربی میں اقبال کو متعارف کرنے کی کوشش کی مگر واقعہ یہ ہے کہ دونوں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ روائع اقبال کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مولانا ندویؒ نے فکرِ اقبال کی بلندی، بلند حوصلگی اور وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل کو اپنی زندگی کا حصہ اور مشن بنا لیا ہے۔ غالباً اسی کے پیشِ نظر جناب ماہر القادری مرحوم نے نقوشِ اقبال پر اپنے ماہنامہ رسالہ فاران میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’یہ کتاب اس مجاہدِ عالم کی لکھی ہوئی ہے جو اقبال کے مردِ مومن کا مصداق ہے، اس لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ نقوشِ اقبال میں خود اقبال کی فکر و روح اس طرح گھل مل گئی ہے جیسے پھول میں خوشبو اور ستاروں میں روشنی۔ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے شبلی کا قلم، غزالی کی فکر اور ابن تیمیہؒ کا جوش و اخلاص اس تصنیف میں کارفرما ہے۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ دینی و عصری علوم کے شناور ہونے کے ناطے علامہ ندویؒ کی نگاہِ بصیرت نے علامہ اقبال کی خوبیوں اور کمالات کا صحیح ادراک کیا۔ آپ لکھتے ہیں:
’’میری پسند و توجہ کا مرکز وہ اس لیے ہیں کہ بلند نظری اور محبت و ایمان کے شاعر ہیں۔ ایک عقیدہ، دعوت و پیغام رکھتے ہیں۔ مغرب کی مادی تہذیب کے سب سے بڑے ناقد اور باغی ہیں۔ اسلام کی عظمتِ رفتہ اور مسلمانوں کے اقبالِ گزشتہ کے لیے سب سے زیادہ فکرمند، تنگ نظر قومیت و وطنیت کے سب سے بڑے مخالف، اور انسانیت و اسلامیت کے سب سے بڑے داعی ہیں۔ جو چیز مجھے ان کے فن و کلام کی طرف لے گئی وہ بلند حوصلگی، محبت اور ایمان ہے جس کا حسین امتزاج ان کے شعر و پیغام میں ملتا ہے۔ میں اپنی طبیعت و فطرت میں انہی تینوں کا دخل پاتا ہوں۔ میں ہر اس ادب و پیغام کی طرف بے اختیار بڑھتا ہوں جو بلند حوصلگی اور احیاء اسلام کی دعوت دیتا اور تسخیرِ کائنات اور تعمیر النفس و آفاق کے لیے ابھارتا ہے، جو مہر و وفا کے جذبات کو غذا دیتا اور ایمان و شعور کو بیدار کرتا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور ان کے پیغام کی آفاقیت و ابدیت پر ایمان لاتا ہے۔‘‘

مارچ ۱۹۹۴ء میں جب یہ ناچیز رائے بریلی حاضر ہوا تو عشاء کی نماز کے بعد آدھی رات تک اقبالیات پر گفتگو فرماتے رہے اور برجستہ اردو فارسی کلام سناتے رہے۔ اندازہ ہوا کہ حضرت مولانا کو اقبال کا تقریباً سارا کلام ازبر ہے۔ مجھے اقبال کی مشہور نظم جس کا پہلا شعر

کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
سماتی کہاں اس فقیری میں میری

سنا کر نوٹ کروائی، اور فرمایا آپ مغرب میں رہتے ہیں اس پر خوب غور و خوض کیجئے، اقبال نے اس میں پورے مغربی فکر و فلسفہ کو سمو دیا ہے۔

آپ اپنی علمی و فکری اور تصنیفی مشغولیت کے باوصف بھارتی مسلمانوں کی سیاسی و ملی خدمات سے کبھی غافل نہیں ہوئے، خاص طور پر آخری بیس سالوں میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے بھارتی مسلمانوں کی مؤثر قیادت اور خدمات انجام دیں۔ آپ کو اپنے ہر دلعزیز اوصاف کی بنا پر تمام مکاتبِ فکر کا بھرپور اعتماد حاصل رہا۔ شاہ بانو کیس کی گتھی سلجھانے میں آپ کی رہنمائی نے اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ دنوں جب یوپی حکومت نے اسکولوں میں سرسوتی پوجا کا گیت لازمی قرار دے دیا تو آپ کے ایک جرأتمندانہ بیان نے ملک کے حالات بدل دیے اور حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ آپ صحیح معنی میں ایک ایسا روشن چراغ تھے جس کی لو سے ظلم و طغیان کے ایوانوں میں ہلچل ہی نہیں قیامت برپا ہو جاتی تھی۔

۱۹۸۰ء میں دیوبند کا صد سالہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کیا تھا انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ اس اجلاس میں سب سے زیاہد برمحل، مؤثر، طاقتور اور مجاہدانہ تقریر، جو بھارتی مسلمانوں کی ترجمان کہی جا سکتی ہے، آپ ہی کی تھی۔ آپ کی یہ تقریر اس اجلاس کی جان اور پیغام سمجھی گئی، آپ نے بھارتی مسلمانوں اور حکومت کو مخاطب کر کے فرمایا:

’’ہم صاف اعلان کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ بھی اعلان کریں کہ ہم ایسے جانوروں کی زندگی گزارنے پر ہرگز راضی نہیں جن کو صرف راتب اور تحفظ (سکیورٹی) چاہیے کہ کوئی ان کو نہ مارے۔ ہم ہزار بار ایسی زندگی گزارنے اور ایسی حیثیت قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم اس سرزمین پر اپنی اذانوں، نمازوں کے ساتھ رہیں گے بلکہ تراویح، اشراق، تہجد تک چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ ہم ایک ایک سنت کو سینے سے لگا کر رہیں گے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ طیبہ کے ایک نقطہ سے بھی دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ہم کسی قومی دھارے سے واقف نہیں، ہم تو صرف اسلامیت کے دھارے کو جانتے ہیں، ہم تو دنیا کی قیادت و امامت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔‘‘

گزشتہ دنوں ۲۸، ۲۹، ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء مسلم پرسنل بورڈ کے اجلاس واقع بمبئی میں آپ کی اپنی صدارتی تقریر میں صاف فرمایا:

’’ہم اس کی بالکل اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے اوپر کوئی اور نظامِ معاشرت، نظامِ تمدن اور عائلی قانون مسلط کیا جائے۔ ہم اس کو دعوتِ ارتداد سمجھتے ہیں اور ہم اس کا اسی طرح مقابلہ کریں گے جیسے دعوتِ ارتداد کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ یہ ہمارا شہری، جمہوری اور دینی حق ہے۔‘‘

آپ عالمِ اسلام اور خاص طور سے بھارتی مسلمانوں کو اکثر فاتحِ مصر حضرت عمرو بن عاصؓ کا انتباہ و آگہی یاد دلاتے ’’انتم فی رباط دائم‘‘ (تم مسلسل محاذِ جنگ پر ہو) تمہیں ہر وقت چوکنا اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ برصغیر کے طبقہ علماء میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحبؒ کے بعد علامہ ابو الحسن علی ندویؒ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے ملکی حدود سے ماورا ہو کر پوری ملتِ اسلامیہ اور پوری انسانیت کی فکر کی۔

۱۹۸۰ء میں ایک رات پے در پے دو بار سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی جس میں سرور دو عالمؐ نے فرمایا میری حفاظت کا کیا انتظام کیا ہے؟ اس وقت آپ نے جنرل ضیاء الحق صاحب کو سرور دو عالمؐ کا پیغام پہنچا کر فرمایا کل قیامت کے روز دربارِ رسالتؐ میں آپ کا دامن ہو گا اور میرے ہاتھ کہ میں نے پیغام پہنچا کر اپنی ذمہ داری ادا کر دی تھی۔ آپ خلیج کی جنگ کے بعد سے سرزمینِ عرب پر امریکی فوجوں کی موجودگی پر سخت پریشان تھے، وفات سے چند ہفتہ پہلے جب یہ ناچیز حاضرِ خدمت ہوا اس وقت فالج کے حملہ کے بعد سے مسلسل نقاہت کے عالم میں تھے۔ کسی صاحب نے پاکستان کے فوجی سربراہ پرویز مشرف صاحب کا اخباری بیان سنا دیا جس میں انہوں نے ترکی کے مصطفٰی کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل و ہیرو بتا کر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس پر آپ تڑپ اٹھے اور فرمایا:

’’اس صدی میں اسلام کو سب سے زیادہ نقصان جس شخص نے پہنچایا وہ اتاترک ہیں۔ کاش کوئی میری کتاب ’’اسلام و مغربیت کی کشمکش‘‘ کا انگریزی ایڈیشن ان تک پہنچا دے (جس میں اتاترک کے متعلق تفصیلی معلومات ہیں)‘‘۔

اس پر میں نے عرض کیا، پرسوں میرا پاکستان کا سفر ہے، ان شاء اللہ کتاب پہنچ جائے گی۔ اس پر خوش ہو کر فرمایا، میں صبح سے دعا کر رہا تھا اے اللہ! میرے اس کام کے انجام دینے کے لیے کسی شخص کو بھیج دے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیج دیا۔ اور فرمایا، ان شاء اللہ یہ کام آخرت میں آپ کی نجات کے لیے کافی ہو گا۔  اس کام کی انجام دہی کی اطلاع پر انتہائی مسرت اور بلند الفاظ میں گرامی نامہ تحریر فرمایا جو میرے پاس حضرت کا آخری گرامی نامہ ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اس دور میں آپ کی ہستی پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک سایہ دار شجر اور اس شعر کی صحیح مصداق تھی ؎

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

جب بھی آپ نے ضرورت محسوس کی، نہ صرف بھارت کے حکمرانوں بلکہ عالمِ عرب اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کو کلمۂ حق جرأت کے ساتھ کہا۔ یہ اس دور میں صرف آپ کا امتیاز تھا، ورنہ اس زمانہ کے طبقۂ علماء و مشائخ میں یہ چیز ناپید ہو چکی ہے۔

علامہ ندویؒ کا سب سے نمایاں وصف آپ کا فکری کام ہے۔ آپ کی تحریروں میں مغرب کے گمراہ کن الحادی فکر و فلسفہ کا مسکت جواب اور مدلل رد موجود ہے۔ اس وقت دنیا اور خاص طور پر ملتِ اسلامیہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اقوامِ عالم اور پوری انسانیت بدقسمتی سے مغرب کے ان افکار و نظریات کی اسیر بن چکی ہے۔ جس نے علم و فکر، تہذیب و تمدن اور ترقی و خوشحالی کے نام پر پوری انسانیت کو وحئ آسمانی سے ہٹا کر خواہشِ نفسانی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ برصغیر کے طبقۂ علماء میں جس چیز نے آپ کی شخصیت کو ممتاز کیا، وہ آپ کا یہی کارنامہ ہے۔ مغربی فکر و فلسفہ اور افکار و نظریات کے غلبہ نے عالمِ اسلام کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ اور جب تک مغرب کا فکری غلبہ موجود ہے، عالمِ اسلام کبھی سربلندی، عزت اور غلبہ نہیں پا سکتا۔ آپ ندوۃ العلماء کے طلبا کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اس وقت جس طبقہ کے ہاتھ میں زمامِ کار ہے، وہ مغربی تہذیب کو مثالی اور انسانی تجربات کی آخری منزل اور حرفِ آخر سمجھتا ہے۔ وہ اس کو زندگی کی تنظیم کی آخری کوشش سمجھتا ہے اور انسانی مسائل کے حل کا آخری کامیاب تجربہ سمجھتا ہے، اور اس کو اسلام کے نظام کے قائم مقام خیال کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسلام کا نظام اپنی ساری افادیت کھو چکا ہے، اب اس کو دوبارہ کارگاہِ حیات میں لانے کی زحمت دینا صحیح نہیں۔

یہ ہے وہ زندہ سوال جو اس وقت ایک شعلہ کی طرح، ایک بھڑکی ہوئی آگ کی طرح تمام اسلامی ممالک میں پھیل چکا ہے۔ اور جس کے اثر سے کوئی طبقہ اور کوئی پڑھا لکھا انسان پورے طور پر محفوظ نہیں ہے۔ یہ ایک سازش چلی آ رہی ہے، فکری طور پر بھی، سیاسی و انتظامی طور پر بھی۔ ہمیں اسی طور پر اس کا مقابلہ کرنا ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ کو مطمئن کرنا اور اسلام پر اس کا یقین واپس لانا، دوبارہ یقین پیدا کرنا ہے کہ اسلام اس زمانہ کا ساتھ دے سکتا ہے، قیادت کر سکتا ہے۔ یہ ہے آج کا اصل فتنہ کہ اسلام اس زمانہ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ آپ کو ثابت کرنا ہو گا کہ اسلام اس زمانہ کو راہ پر لگا سکتا ہے، اس کے لیے آپ کو تیاری کرنی ہے۔۔۔

آج انڈونیشیا، مشرقِ وسطٰی سے مراکش تک امریکہ و یورپ کی سازش سے اسلام پر اعتماد متزلزل کر دیا گیا ہے۔ اسلام پر عمل کرنے کو فرسودگی، رجعت پسندی، فینڈامینٹل ازم سے تعبیر کیا جاتا ہے تاکہ ایک پڑھے لکھے آدمی کو شرم آنے لگے کہ حاشا و کلا وہ فنڈامینٹلسٹ نہیں۔ آپ کو وہ کام کرنا ہے کہ لوگ سینہ تان کر اور آنکھیں ملا کر یہ کہیں کہ ہاں ہم فنڈامینٹلسٹ ہیں، ہمارے نزدیک فنڈا مینٹل ازم ہی دنیا کو بچا سکتا ہے۔ ساری خرابی اور سارا فساد فنڈا مینٹل ازم نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ کوئی اصول نہیں، کوئی معیار نہیں، کوئی حدود نہیں، صرف نفس پرستی ہے، صرف خواہش پرستی ہے، صرف اقتدار پرستی ہے۔ اس لیے آپ کو تیاری کرنی ہے۔‘‘

اس کے بعد آپ مزید وضاحت سے عصرِ حاضر کی سب سے اہم ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے طلباء سے فرماتے ہیں:

’’اسلام کا مجدد کہلانے کا وہی مستحق ہو گا جو اسلامی شریعت کی برتری ثابت کرے، زندگی سے اس کا پیوند لگائے، اور ثابت کرے کہ اسلامی قانون وضعی قانون اور انسانوں کے تمام خودساختہ قوانین سے آگے ہے۔ زمانہ سے آگے کی چیز ہے، زمانہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اور دنیا نے خواہ کتنی ہی ترقی کی ہو لیکن اسلامی قوانین اس کی رہنمائی کی اب بھی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے تمام سوالات کے جوابات دینے اور انسانی زندگی کے پیدا ہونے والے مسائل کا حل ان کے اندر موجود ہے، اس میں ایک بالغ معاشرہ کی تنظیم کی بہترین صلاحیت ہے۔‘‘

مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی شخصیت کوئی معمولی شخصیت نہیں تھی۔ ایسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ملت بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہیں۔ علی میاںؒ ایک فرد اور ایک ذات کا نام نہیں، ایک مشن، ایک تحریک اور ایک دعوت اور ایک انقلاب کا نام ہے۔ آپ کے انتقال سے علم و حکمت کا آفتاب غروب ہو گیا، وہ آفتاب جس کی روشنی سے عرب و عجم مستفید ہو رہے تھے۔ آپ ایک عظیم مفکر، مؤرخ، عالمِ دین، عربی زبان و ادب کے ماہر، اعلیٰ درجہ کے انشا پرداز، سوانح نگار تھے۔ مغرب کی جدید تہذیب و تمدن اور اس کے گمراہ کن افکار و نظریات پر گہری اور بسیط نظر رکھتے تھے۔ برصغیر کے واحد عالمِ دین تھے جن تحریروں میں مغربی فلسفہ و فکر کا رد، اس کے زہر کا تریاق بکثرت موجود ہے۔ مغرب کے برپا کیے ہوئے فساد اور گمراہ کن نظریات کے خلاف آپ کا بے باک، مدلل اور مؤثر قلم جراحت و مرہم دونوں کا کام کرتا تھا۔

عالمی مسائل و امور پر آپ کی نظر گہری اور عمیق، اور ملت کے اجتماعی مسائل سے دلی تعلق تھا۔ ملکی و عالمی، سیاسی و سماجی حالات و مسائل سے آپ کو وسیع و عمیق واقفیت تھی۔ علمی و فکری ہر موضوع پر آپ نے قلم اٹھایا۔ اور جس موضوع پر آپ نے جو لکھا وہ اس فن کے لیے اتھارٹی مانا گیا۔

برصغیر کے اس صدی کے اکابر علماء و اہل اللہ جیسے حضرت مولانا محمد الیاسؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ، و دیگر علماء و اہل اللہ کے آپ ہمیشہ محبوب و منظورِ نظر رہے۔ آپ کے شیخ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کا مقولہ مشہور ہے کہ اگر خدا نے پوچھا کہ دنیا سے کیا لایا تو ’’علی میاں‘‘ کو پیش کر دوں گا۔ آپ کو یہ بھی شرف حاصل ہے کہ برصغیر کے اس صدی کے بیشتر اکابر علماء اور اہل اللہ کا تعارف آپ کے قلم سے ہوا۔

اس کے ساتھ ہی ’’تاریخِ دعوت و عزیمت‘‘ کی سات جلدیں لکھ کر اسلام کے چودہ سو سالہ مشاہیر اور اکابرینِ امت کا تذکرہ ایسے مؤثر، دلکش اور تعمیری انداز میں لکھا جس سے نئی نسل بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ آپ کی شخصیت جس طرح علماء و مدارس، صوفیاء کرام اور خانقاہوں میں مسلّم تھی، اسی طرح عصری طبقات، عصری تعلیم گاہوں، علی گڑھ، قاہرہ، مکہ، جنیوا، لندن اور نیویارک میں بھی مقبولیت رکھتی تھی۔ دنیا بھر کے علماء و زعماء، مفکرین و دانشور حتٰی کہ حکمران آپ کو عقیدت و عظمت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اپنے اخلاقِ عالیہ کی بدولت آپ ہر طبقہ میں مقبولیت رکھتے تھے۔

ندوۃ العلماء (لکھنؤ) کے ناظمِ اعلیٰ ہونے کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شورٰی کے رکن، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر، آل انڈیا ملی کونسل کے سرپرست، رابطہ ادبِ اسلامی (مکہ مکرمہ) کے سربراہ، مدینہ یونیورسٹی کی مجلسِ مشاورت کے رکن، آکسفرڈ یونیورسٹی کے اسلامی سنٹر کے سربراہ، جامعہ الہدٰی (نوٹنگھم)، کے سرپرست، دعوتِ اسلامی کی عالمی مجلسِ اعلیٰ (قاہرہ) کے ممبر، دارالمصنفین و شبلی اکیڈمی (اعظم گڑھ) کے صدر، عالمی یونیورسٹیوں کی انجمن واقع رباط (مراکش)، کے ممبر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) کی ایڈوائزری کونسل کے ممبر۔ قاہرہ، دمشق اور اردن کی عربی اکیڈمی کے ممبر۔ اس کے علاوہ سینکڑوں علمی و دینی اداروں اور تنظیموں کے سرپرست تھے۔

آپ برصغیر کی واحد شخصیت تھے جنہیں دو بار خانہ کعبہ کی کنجی حوالے کی گئی۔ اسی طرح شاہ فیصل ایوارڈ، دبئی (امارات) کا عالمی شخصیت ایوارڈ، اور سلطان برونائی ایوارڈ سے نوازے گئے۔ آپ کے زہد اور دنیا سے بے نیازی کا یہ عالم کہ ان ایوارڈز کے کروڑوں روپیوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا بلکہ اسی وقت ساری رقم افغان مجاہدین، مساجد و مدارس اور دینی و تعلیمی اداروں میں تقسیم فرما دی۔

۱۹۹۶ء میں حکومتِ ترکیہ نے آپ کے اعزاز میں اور آپ کی شخصیت اور علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کی جس میں دنیا بھر کے علماء کرام، دانشوروں اور چوٹی کے اسکالروں نے آپ کی علمی فکری و دینی خدمات پر مقالے پڑھے۔ دنیا بھر کی بیشتر دینی تحریکیں اور عالمی اسلامی تنظیمیں آپ کو اپنا سرپرست و مربی سمجھتی ہیں اور آپ کے قیمتی مشوروں اور رہنمائی کی طالب رہتی ہیں۔ جیسے برصغیر کی مشہور تبلیغی جماعت، عرب دنیا کی سب سے بڑی دینی تحریک اخوان المسلمین، انڈونیشیا کی ماشوی پارٹی اور جماعتِ اسلامی وغیرہ وغیرہ۔ دیوبند کے علاوہ دیگر تمام مکاتبِ فکر کے علماء مشاہیر بھی آپ سے محبت و عقیدت کا تعلق رکھتے تھے۔

۲۸ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس واقع بمبئی میں جب آپ نے اپنی علالت کے سبب استعفا پیش فرمایا تو اس ناچیز نے دیکھا کہ پورے اجلاس پر سناٹا چھا گیا اور کوئی بھی اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔ سب سے پہلے ملی کونسل کے سربراہ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی نے کہا، جب کشتی طوفان اور منجدھار میں ہوتی ہے تو ملاح نہیں بدلا جاتا۔ شیعہ رہنما علماء کلب صادق نے کہا پرسنل لاء بورڈ کی صدارت حضرت مولانا کے لیے کوئی وجۂ عزت و افتخار نہیں بلکہ بورڈ کے لیے یہ اعزاز و فخر کی بات ہے کہ حضرت مولانا اس کے صدر ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے امیر مولانا سراج الحسن صاحب نے کہا آج یہاں پورے ہندوستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے رہنما موجود ہیں، اگر پوری دنیائے اسلام سعودی عرب، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، سوڈان وغیرہ وغیرہ کے زعماء و رہنما یہاں ہوتے تب بھی صدارت کے لیے سب کی زبان پر ایک ہی نام ہوتا اور وہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی کا ہوتا۔ اس کے بعد تمام مکاتبِ فکر کے رہنماؤں نے بیک زبان کہا، حضرت مولانا ہی بورڈ کے تاحیات صدر ہیں۔

اسی طرح بھارت کی تمام سیاسی پارٹیاں آپ کا احترام کرتیں، بھارت کے وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ آپ کے در دولت پر حاضری دیتے، بھارت کی حکومت نے دو بار آپ کو بھارت کا سب سے بڑا قومی ایوارڈ پرم بھوش اور بھرت رتن دینا چاہا مگر آپ نے قبول کرنے سے سختی سے انکار کیا۔

مسلم پرسنل لاء کی جدوجہد کے دوران شاہ بانو کیس کے موقع پر بھارتی حکومت نے اسلامی پرسنل لاء میں تبدیلی کرنے کا ذہن بنا لیا تھا۔ جب ایک نازک موقع پر مسلم وفد سے گفتگو کے دوران بھارتی پرائم منسٹر راجیو گاندھی نے اس دلیل کے ساتھ مسلم پرسنل لاء میں ترمیم کا ارادہ ظاہر کیا کہ متعدد عرب ممالک نے اسلامی پرسنل لاء میں ترمیم کی ہے، تو آپ نے فرمایا الحمد للہ ہم بھارتی مسلمان اسلام کے متعلق خودکفیل ہیں، کسی عرب ملک کے محتاج نہیں۔ جب راجیو صاحب نے اس مسئلہ میں جامع ازہر (مصر) کے علماء سے رجوع کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تو حضرت مولانا نے فرمایا الحمد للہ یہاں ایسے علماء موجود ہیں کہ اگر ان کا نام جامع ازہر میں لیا جائے تو احترام میں ازہر کے چوٹی کے علماء کی گردنیں جھک جائیں۔ آپ نے مزید فرمایا بارہا ایسا ہوا ہے کہ دنیا بھر کے مسلم علماء کی سب سے بڑی تنظیم رابطہ عالمِ اسلامی (مکہ مکرمہ) میں پوری دنیا کے مسلم اسکالرز کی رائے ایک جانب اور آپ کے ملک کے ایک اسکالر کی دوسری جانب ہوتی تب آپ کے ملک کے اسی ایک شخص کی رائے پر فیصلہ کیا گیا اور ساری دنیا کے اسلامی اسکالرز نے آپ کے ملک کے اسکالر کی رائے کے سامنے سر جھکا دیا۔ یہ سن کر راجیو صاحب خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد جب انہیں پتہ چلا کہ وہ شخصیت انہیں کے حلقہ انتخاب (رائے بریلی) کی ہے تو انہوں نے اس پر کئی بار فخر کا اظہار کیا۔

حضرت مولانا کی گفتگو کے بعد راجیو صاحب نے اسلامی شریعت کی روشنی میں (مطلقہ کے نفقہ کے) مسئلہ کو معلوم کرنا چاہا، جب انہیں تشفی بخش جواب ملا تو انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث کے دوران کہا کہ میں نے امریکہ و یورپ سمیت دنیا بھر کے قوانین کا مطالعہ کیا ہے مگر ۱۴ سو سال پہلے قرآن اور اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں وہ اب تک دنیا کا کوئی قانون نہیں دے پایا۔ بالآخر انہوں نے کانگریس کے ممبران کے نام حکم (لازمی حکم) جاری کر کے بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے مطالبہ کے مطابق بل پاس کروایا۔ اس طرح حضرت مولانا کی شخصیت کی بدولت مسلمان پارلیمنٹ میں پرسنل لاء بورڈ کی جنگ جیت گئے، غرض اس دور میں ایسی مقبولیت اور محبوبیت کی کوئی دوسرا نظیر نہیں ہیں۔

آپ کے سانحۂ ارتحال پر پوری ملتِ اسلامیہ نے جس طرح رنج و غم کا اظہار کیا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا بھر کے اخبارات و رسائل و مجلدات کے اداریوں، اور جو مضامین و مقالات آپ کی شخصیت پر چھپ چکے ہیں، اگر صرف انہیں یکجا کیا جائے تو کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ آپ کی زندگی، تالیفات اور علمی کاموں پر سیمیناروں، یادگاری جلسوں کا لامنتہی سلسلہ برابر جاری ہے۔ عربی اردو میں آپ کی متعدد سوانح آ چکی ہیں۔ دنیا بھر کی بیالیس یونیورسٹیوں میں آپ کی شخصیت اور آپ کے کام پر پی ایچ ڈی ہوا ہے۔ یہ آپ کی عند اللہ مقبولیت کی علامت ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے انتقال فرمایا۔ اسی رائے رائے بریلی کے چھوٹے سے قصبہ میں تدفین عمل میں آئی مگر ڈیڑھ دو لاکھ افراد پروانہ وار پہنچ گئے۔ حرمین شریفین میں ۲۷ رمضان المبارک کو شبِ قدر میں، جبکہ حرم اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ بھرا ہوتا ہے، غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ اسی طرح جدہ، ریاض اور سعودی عرب کے دیگر شہروں، جامع ازہر (مصر)، استنبول (ترکی)، بغداد، کویت، متحدہ امارات، یورپ و امریکہ غرض دنیا کے کونے کونے میں کروڑوں مسلمانوں نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ ریڈیو اور ٹی وی پر وفات کی خبر نشر ہوتے ہی برصغیر اور عالمِ اسلام میں غم کے بادل چھا گئے۔ یہ سب آپ کی عند اللہ مقبولیت کی علامت ہے ورنہ محض کسی مفکر اسکالر انشا پرداز کسی تحریک کے لیڈر کے لیے ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ یہاں لندن سے شائع ہونے والے عربی روزناموں الحیاۃ اور الشرق الاوسط میں آپ کی شخصیت پر اس قدر لکھا گیا کہ شاید ہی کبھی کسی شخصیت پر لکھا گیا ہو۔ سعودی عرب کی مجلسِ شورٰی کے رکن ڈاکٹر احمد عثمانی تویجری نے لندن کے معروف روزنامہ الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہ:

’’علامہ ابو الحسن علی ندویؒ دعوت و اصلاح کے اماموں میں سے ایک امام تھے، ان کے اندر بیک وقت زہد و ورع، جہاد و سرمستی اور فکر و ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔‘‘

علامہ ابو الحسن علی ندویؒ گوناگوں تصنیفی، علمی و فکری، ملی و سیاسی مشاغل کے باوصف عصرِ حاضر کے مفکرین و رہنماؤں کی طرح کبھی اپنی باطنی اصلاح سے غافل نہیں ہوئے۔ آپ کی شخصیت تصوف و روحانیت میں بھی مسلّم تھی۔ آپ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری کے خلیفۂ اجل تھے۔ دنیا بھر کے ہزارہا افراد آپ سے بیعت اور روحانی تربیت کا تعلق رکھتے تھے۔ آپ اس دور میں ؏

در کفے جام شریعت در کفے سندانِ عشق 

کا کامل نمونہ تھے۔ آپ کی وفات بھی زندگی کی طرح قابلِ رشک طریقہ پر ہوئی۔ رمضان المبارک کا مہینہ، جمعہ کا دن، عجلت کے ساتھ غسل کر کے نیا لباس پہن کر جمعہ کی تیاری فرمائی اور حسبِ معمول سورہ کہف پڑھنے لگے۔ درمیان میں ہی سورہ یاسین کی تلاوت شروع فرما دی اور روح خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ آپ کے متعلق حضرت ابوبکر صدیقؓ کا وہ فقرہ جو انہوں نے سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر فرمایا تھا ’’طاب حیا و میتا‘‘ (زندگی و موت دونوں مبارک) پوری طرح صادق آتا ہے۔ آپ کی وفات عیسوی کیلنڈر کی صدی بلکہ ہزار سالہ تاریخ کے آخری دن، اور تدفین اس صدی اور ہزارویں سال کی آخری رات میں ہونا، یہ معنی خیز اشارہ ہے کہ یہ صدی علامہ ابو الحسن علی ندویؒ کی صدی تھی۔

علامہ ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے علماء کرام اور نئی نسل کے لیے بہت کچھ چھوڑا۔ ۸۰ کے قریب تصانیف، سینکڑوں مقالات و مضامین، لا تعداد تقاریر۔ آپ نے کام کی طلب رکھنے والوں کے لیے کئی راہیں بنائیں اور روشن کیں۔ ان راہوں پر پیش قدمی ضروری ہے۔ علامہ ندویؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا صرف یہی ایک طریقہ ہے۔


پوپ جان پال اور یہودیوں کے تعلقات پر ایک اہم رپورٹ

ادارہ

ایک دفعہ سوویت رہنما جوزف اسٹالین نے رومن پوپ کا مذاق اڑاتے ہوئے سوال اٹھایا تھا ’’اس پوپ نے کتنوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے ان میں تفرقہ ڈلوا دیا ہے!‘‘۔ بعد میں جب مشرقی یورپ کی کمیونسٹ ریاستوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں تو کہا جانے لگا کہ ’’رومن پوپ نے ان ریاستوں کے حصے بخرے کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے‘‘۔
کہا جا سکتا ہے کہ اسٹالین کے قول کی مذاق کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں۔ اسی طرح مشرقی یورپ کے حصے بخرے کرنے کا الزام رومن پوپ پر تھوپ دینا کسی حد تک اپنے اندر مبالغے کا پہلو سموئے ہوئے ہے۔ لیکن اگر مذاق اور مبالغے کی سرحدوں کے درمیان کھڑے ہو کر جائزہ لیا جائے تو یہ کہنے سے باز نہیں رہا جا سکتا کہ رومن پوپ اور وٹیکن کا بیسویں صدی کے بعض بڑے بڑے واقعات کے وقوع پذیر ہونے میں بنیادی کردار رہا ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ رومن پوپ نے ان بڑے واقعات کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی کردار ادا کیا ہے یا نہیں! بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان واقعات کے وجود میں لائے جانے میں رومن پوپ کا کردار کس حد تک اور کس نوعیت کا رہا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ رومن پوپ کے فلسطین کے دورے کی خبر کے گردش میں آتے ہی غزہ میں موجود فلسطین کے تحقیقی ادارے نے ’’وٹیکن اور عرب اسرائیل مخاصمت‘‘ کے عنوان سے ایک طویل تجزیاتی رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انقلابِ فرانس کو کلیسا کے روحانی تسلط میں سیاسی تسلط کا اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ کلیسا کی حیثیت کو محض روحانی قرار دیا جانا اب ایک زبانی کلامی نظریے کے سوا کچھ نہیں رہا۔ نئے واقعات نے ثابت کر دیا کہ وٹیکن کو مسیحیت کے پیروکاروں میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اس اثر و رسوخ کے سیاسی استعمال کے بہت سے شواہد روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ خصوصاً عرب اسرائیل جنگ میں اس کے سیاسی عمل دخل کے بارے میں دو آراء کی گنجائش ممکن نہیں۔

وٹیکن کی منظم سیاسی سرگرمیاں

مذکورہ رپورٹ میں پہلی عالمی جنگ کے بعد کلیسا کے بے جان جسد میں محسوس کی جانے والی پھرتی کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ کلیسا عالمی بساطِ سیاست کی تشکیل میں ایک اہم کردار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اپنی اس حیثیت کو محسوس کرنے کے بعد وہ بدلتے حالات کے مطابق اپنے رویے میں واضح تبدیلیاں پیدا کرنے تک کا خواہاں ہے۔
۱۱ فروری ۱۹۲۹ء کو روم کے تاریخی شہر میں ایٹالین رہنما مسولین اور پوپ کے خصوصی پرائیویٹ سیکرٹری بیوس الیونتھ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے میں روم اور وٹیکن کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تھا، نیز پوپ کے تسلط کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والی ۴۴ ایکڑ اراضی کو وٹیکن ریاست کی تشکیل کے لیے وقف کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
اس معاہدے کو وٹیکن کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں کا نیا دور قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعہ وہ کیتھولک اثر و رسوخ کا تحفظ بھی کر پایا اور اس کی مسلسل نگرانی کو اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال میں لا سکا۔ بیوس الیونتھ چیکو سلاویہ، یوگو سلاویہ، روم، پرتگال وغیرہ کے ساتھ بھی اس نوعیت کے معاہدے کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نئے عالمی حالات کے مطابق کیتھولک کلیسا کے اندر ضروری تبدیلیاں لانے کے لیے بھی کوششیں کرنے لگا۔
اس وقت پوپ کی سرگرمیوں کا کامیاب عنصر پوپ اور بعض مغربی ممالک کے درمیان میل ملاپ کی خصوصی کوششوں کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ اپنی ان ملاقاتوں کے دوران پوپ نے روس اور سوویت یونین کی دیگر ریاستوں میں سر اٹھانے والے نئے نظریات کے خطرے کی طرف مغربی دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔ ۱۹۳۱ء کو پوپ نے تمام کیتھولک کلیساؤں اور دیگر عام کلیساؤں کے نام ایک خط لکھا جس میں کسی حد تک سرمایہ دارانہ نظام کی گوشمالی بھی کی گئی تھی۔
فلسطین کے تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سیاسی اثر و رسوخ کا حصول وٹیکن کی سرگرمیوں کا بنیادی ہدف رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس چھوٹی سی ریاست نے سفارت کاروں کی تیاری کے لیے ایک اہم ادارہ تشکیل دیا۔ اس ادارے سے تیار ہو کر نکلنے والے عام ڈپلومیٹس نہیں ہوتے، انہیں ’’کہانت‘‘ کی خصوصی تعلیم دی جاتی ہے۔ چار سال تک اس خصوصی تعلیم کے مرحلے میں زیر تربیت رہنے کے بعد آخری دو سال انہیں ڈپلومیسی کی تاریخ، اقسام اور ریاستی قانون وغیرہ کی تعلیم دلائی جاتی ہے۔

وٹیکن اور عرب اسرائیل جنگ

زیر بحث رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عرب اسرائیل جنگ میں وٹیکن کا موقف اس کی سیاسی قلابازیوں کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ اس موقف کے ذریعہ یہود، عرب، اسلام اور بڑی طاقتوں کے ساتھ پوپ کے سیاسی رویے کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ نیز عرب اسرائیل چپقلش کو امن و امان میں تبدیل کرنے کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں کو سمجھنے میں بھی خاصی مدد ملتی ہے۔
رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ اس چپقلش کے آغاز سے لے کر اب تک مشرقِ وسطٰی میں وٹیکن کی سیاست دو متوازی رخ اختیار کیے ہوئے ہے:
  • اس کا پہلا اقدام کیتھولک کلیسا اور عالمِ عرب کے درمیان تعلقات میں خیر سگالی کی فضا کا پیدا کرنا ہے اور اس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطٰی میں موجود عیسائی کمیونٹی کی حمایت کا حصول ہے۔ اس کے لیے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کفر، الحاد اور بے دینی کے خلاف (جس سے ان کی مراد کمیونزم ہے) متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دینا ہے۔
  • دوسرا اقدام، جو پہلے اقدام کے متوازی ہے، وہ یہودیت اور عیسائیت کے درمیان افہام و تفہیم کے تعلقات پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام کو سولی چڑھانے کی پاداش میں روزِ اول سے ہی عیسائی یہودیوں کو اپنا دشمن گردانتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی باہمی سمجھوتے کے لیے عیسائی اقدامات ظہور میں آنا شروع ہو گئے۔ اس کی خاطر صدیوں سے تسلیم شدہ عیسائی مذہبی تصورات تک کو داؤ پر لگا دینے میں عار نہ سمجھا گیا۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد کیتھولک مفادات کے تحفظ کی خاطر اسرائیلی حکومت کے ساتھ غیر رسمی مذاکرات تک کی پیشکش کی گئی۔

دشمنی سے حلیفانہ تعلقات کی طرف پیشرفت کا آغاز

۱۵۱۸ء میں پوپ گریگوری کی جانب سے یہودیوں کے خلاف ایک مذہبی فرمان جاری ہوا جس میں مسیح علیہ السلام کا انکار کرنے والے اور انہیں سولی پر چڑھانے، انہیں اذیت دینے والے گروہ (مراد یہودی) کا گناہ ہر آنے والی نسل تک منتقل ہو کر شدید تر ہو جانے کی صراحت کی گئی تھی۔ اس کے بعد پوپ کے تمام جانشین اپنے اس موقف پر قائم رہے۔
۱۹۱۷ء میں پہلی صہیونی کانفرنس کے بعد وٹیکن کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا:
’’نبوتِ مسیح علیہ السلام کو ایک ہزار آٹھ سو ستائیس برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کی رو سے قدس کی تباہی مقدر تھی۔ جہاں تک قدس کی تعمیرِ نو اور اس کا اسرائیلی ریاست کا مرکز ہونے کی بات ہے تو ہم یہ واضح کیے دیتے ہیں کہ یہ مسیح کی پیشین گوئی کے صریحاً منافی بات ہے۔‘‘
ہرٹزل نے جب اپنے ایک خط کے ذریعہ وٹیکن سے تعاون کی اپیل کی تو بیوس، پوپ کے دسویں جانشین، نے جواباً کہا کہ ہمارے لیے ناممکن ہے کہ ہم اس تحریک کے لیے اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ رکھیں، بے شک ہم یہودیوں کو قدس کی طرف متوجہ ہونے سے باز نہیں رکھ سکتے، تاہم یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ہم ان کی کوششوں کی تائید کریں۔ کلیسا کے نگران کی حیثیت سے تم مجھ سے کسی اور جواب کی توقع نہ رکھو کیونکہ یہودیوں نے ہمارے پیشوا کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے بھی یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ہم یہودی قوم کی حیثیت کو قبول کریں۔ تم لوگوں نے اگر فلسطین کی طرف پیش قدمی کی اور تمہاری قوم نے وہاں سکونت اختیار کی تو تمام عیسائی، چاہے وہ عام باشندے ہوں یا مذہبی رہنما، تمہارے رستے کی دیوار بن جائیں گے۔ بیوس نے اپنے جواب میں فلسطین کے اندر یہودی وطن کے قیام کی صریح مخالفت کرتے ہوئے اسے مسیحی عقائد کے منافی قرار دیا۔
۱۹۱۷ء میں بند کیت پوپ کے پندرہویں جانشین نے ’’مقدس سرزمین میں یہودیوں کی کوئی گنجائش نہیں‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ اس موقع پر وٹیکن نے بیلفور معاہدے کو تسلیم کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ ۱۹۲۱ء میں وٹیکن کا دورہ کرنے والے عربی وفد کا پوپ نے والہانہ استقبال کیا اور یہودیوں کو فلسطین کے اندر کسی قسم کے حقوق دینے سے صاف انکار کیا۔ ۱۵ مئی ۱۹۲۲ء کو جاری ہونے والے کارڈینال کے ایک خط میں اس صورتحال کی پوری وضاحت سے تحریری شکل دی گئی۔
اس دوران وٹیکن کا طرز عمل عرب عیسائیوں سے تعاون، اور عالمِ عرب میں صہیونی تحریک کے خلاف اٹھنے والی بغاوت کی پشت پناہی کے حوالے سے ممیز ہے۔ ۱۹۱۸ء میں تعاون اور پشت پناہی کی یہ کیفیت اپنے جوبن پر تھی۔ عربوں کی سیاسی تنظیموں میں مسیحی برادری نے بھرپور شرکت کر کے یہودی اقدامات کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
۱۹۴۶ء میں وٹیکن نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے نام پیغام پہنچایا کہ فلسطین کو یہودیوں کے سپرد کرنے یا ان کے تسلط میں دینے کی صورت میں کیتھولک چرچ کی دینی حیثیت مجروح ہو کر رہے گی۔ وٹیکن اور دیگر کیتھولک ریاستوں کو اپنا موقف تبدیل کرنے کے لیے شدید تر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً امریکہ کی طرف سے اس ضمن میں خصوصی دباؤ ڈالا گیا۔ چنانچہ آہستہ آہستہ وٹیکن اور کیتھولک چرچ اپنے موقف سے دستبردار ہوتے چلے گئے۔
اس وقت جب ان کی طرف سے اسرائیل کا انکار سامنے آ چکا تھا، اور تقسیمِ فلسطین کی قرارداد کا انہوں نے سراسر انکار بھی کر دیا تھا، وٹیکن اور کیتھولک نے اپنے موقف میں اچانک واضح تبدیلی پیدا کر لی۔ تقسیم کی قرارداد کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس کے نفاذ کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا۔ خصوصاً القدس کو تینوں مذاہب کے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کو خوب سراہا۔
’’اسرائیلی ریاست‘‘ کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی وٹیکن کی طرف سے بیان جاری ہوا:
’’صہیونیت کو اسرائیل کی مجسم شکل قرار نہیں دیا جا سکتا (جیسا کہ تورات میں لکھا گیا ہے) صہیونیت تو ایک عصری تحریک ہے جو موجودہ دور کی پیداوار اور ایک جدید ریاست کی بنیاد بنی ہے۔ یہ نظریاتی اور سیاسی اعتبار سے مکمل سیکولر تحریک ہے۔ سر زمینِ مقدس اور مقدس مقامات کو مسیحی دنیا اپنا ہی علاقہ شمار کرتی ہے۔‘‘
اس پس منظر میں صہیونی ریاست کا قیام، جو در حقیقت وٹیکن کے لیے ایک چیلنج سے کم نہ تھا، کے عمل میں آتے ہی سرزمینِ مقدس سے عیسائیوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔ وٹیکن نے ان کو سرزمینِ مقدس ہی میں سکونت رکھنے کی خصوصی ہدایت کی اور اس کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے۔ ۱۹۴۹ء میں ایک بڑی تعداد کی نقل مکانی کے دوران وٹیکن نے انہیں ہر طرح کی امداد فراہم کی خصوصاً پناہ گزینوں کی تعلیمی، ثقافتی اور دینی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔ ’’بیت الحم‘‘ یونیورسٹی کا قیام اس کی انہی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ سارے اقدامات واشنگٹن اور اسرائیل کو ناراض کرنے کے لیے کافی تھے۔ خصوصاً عرب اور صہیونیت کی چپقلش کے دوران وٹیکن کا طرزِ عمل اس کے جرم کا جواز بننے کے لیے کافی تھا۔ نازیوں کی حمایت کی وجہ سے بھی پوپ کی گدی بہت سے الزامات کا باعث بنی ہوئی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پوپ یوحنا نے صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مذہبی رواداری، درگزر اور تمام مذاہب کے ساتھ رواداری کے بیانات دینے شروع کر دیے۔
۱۹۶۰ء میں صہیونی تنظیموں نے وٹیکن سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے خون کے الزام سے یہودیوں کو بری الذمہ قرار دے۔ چنانچہ وٹیکن نے بیان جاری کیا:
’’مسیح علیہ السلام کو سولی چڑھانے کے جرم کو اس زمانے کے تمام یہودیوں یا آنے والی نسلوں تک منتقل کر دینا زیادتی ہے۔‘‘
اسی طرح کیتھولک مراسم عبودیت کے دوران تلاوت کیے جانے والے ایک قطعے کو بھی حذف کر دیا گیا جس میں یہودیوں کو ملعون قرار دیا گیا تھا۔ دیگر دینی نصوص میں سے بھی ان حصوں کو حذف کر دیا گیا جن میں یہودیوں کے دھتکارے جانے اور رب کی نظرِ رحمت سے محروم ہو جانے کا تذکرہ موجود تھا۔
اس بیان کے جاری کیے جانے کے فورًا بعد کیتھولک عرب کلیسا اور مغربی کلیسا کے درمیان خوفناک تصادم کی کیفیت دیکھنے میں آئی۔ اس لیے کہ بیان جاری کیے جانے کا مطلب نہ صرف یہودیوں کی دینی حیثیت کو تسلیم کیا جانا تھا بلکہ ’’اسرائیلی ریاست‘‘ کے قیام کو تسلیم کرنا، مسیحی عقائد کا کھلم کھلا انکار کرنا، اور اپنے طرزِ عمل کو سیاسی اتار چڑھاؤ کے مطابق تشکیل دے کر نئے حالات سے سمجھوتہ کرنا اس میں شامل تھا۔ اسی دوران پوپ نے القدس کی زیارت کے لیے رختِ سفر باندھا، اپنے سفر کو خالص مذہبی نوعیت کا سفر قرار دیتے ہوئے سیاسی رنگ دینے سے انکار کر دیا، لیکن طرزِ عمل کی تبدیلی کے واضح اشارات سامنے آ چکے تھے لہٰذا صہیونی اور یہودی تنظیموں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز تر کر دیا۔
۱۹۶۷ء کی جنگ اور پورے القدس کے یہودیوں کے قبضے میں چلے جانے کے واقعہ نے وٹیکن کو اپنی سیاست کو نئے رخ پر ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت سے القدس کی حیثیت کو تینوں مذاہب کے لیے قابلِ قبول بنانے پر وٹیکن نے اپنی کوششیں مرکوز کر دیں۔ پوپ پولس کی تقاریر میں ہمیں اس کے واضح اشارات ملتے ہیں۔ ۱۹۷۵ء میں پوپ نے ایک بیان میں کہا:
’’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق تسلیم کرتے ہوئے ان کا احترام کریں۔‘‘
اس دوران کے پوپ کے بیانات میں ’’یہودی قوم‘‘ کی اصطلاحات کا جابجا تذکرہ ملتا ہے، علاوہ ازیں اس نے اپنے بیانات میں یہودیوں کو پیش آئند مشکلات کا بھی جابجا تذکرہ کیا ہے۔ ۱۹۷۲ء میں اپنے ایک خط میں پوپ نے لکھا کہ مقدس سرزمین کے رہائشیوں کو ان تمام حقوق کا تحفظ حاصل ہونا چاہیے جو کسی سرزمین کے باشندوں کو اپنے وطن میں حاصل ہوتے ہیں۔ اس وقت تمام فلسطینی جن میں ایک بڑی تعداد مسیحیوں کی ہے، آزمائش کے مرحلے سے دوچار ہیں۔
اس دوران کے وٹیکن کے اخبارات بھی اسرائیل آبادکاری کی مہم کے خلاف سراپا احتجاج بنے نظر آتے ہیں۔ پوپ پولس کے القدس کو سیاسی اہمیت دینے کے رویے کو وٹیکن اسرائیل تعلقات کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ ۱۹۶۷ء میں اپنی ایک تقریر کے دوران پوپ نے مسئلہ کے سیاسی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے تین نکات پر خصوصی توجہ دی:
(۱) مقدس سر زمین اور اس کے تاریخی اور دینی تشخص کی حفاظت۔
(۲) مقدس سر زمین اور القدس میں نافذ شدہ قانون کی حیثیت۔
(۳) فلسطین میں آباد گروہوں کے مدنی اور دینی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات۔
فلسطین کے تحقیقی ادارے کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وٹیکن کے طرزِ عمل کی بہت سی توجیہات کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً پوپ کے مذہبی جانشین ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں محتاط طرزِ عمل رکھنے میں اپنے تحفظات دیکھتے ہیں جن کی سرحدیں متنازعہ حیثیت کی حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب دنیامیں موجد مسیحی کلیسا (مارونی، قبطی) اسی طرزِ عمل کے حقدار سمجھے گئے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دباؤ کے زیرِ اثر یہودی اور صہیونی کمیونٹی کے ساتھ تعلقات کو نیا رخ دینا وٹیکن کی مجبوری بن گیا۔ اسی دباؤ کے زیرِ اثر ۱۹۸۱ء سے یہ تعلقات دوستانہ اور حلیفانہ نوعیت کے بن چکے ہیں۔ ۱۹۹۴ء میں ببانگِ دہل ان کی حلیفانہ حیثیت کا اعتراف بھی کر لیا گیا۔

اعتراف کے بعد کا مرحلہ

۹ فروری ۱۹۸۱ء کو پہلی دفعہ پوپ نے یہودی ربی سے دوستانہ مصافحہ کیا  جسے صہیونی اور یہودی دنیا نے غیر معمولی تاریخی اہمیت دی۔ کیتھولک کلیسا اور یہود کے درمیان اس مصافحے کو دوستی کی دائمی شکل میں تبدیل کرنے کے لیے یہودی اور صہیونی تنظیموں نے اپنے اقدامات تیز تر کر دیے۔ اس سلسلے میں دباؤ کی پالیسی اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا اور وقتاً فوقتاً نازیوں کے حوالے سے وٹیکن کے موقف کی یاددہانی کرائی جاتی رہی۔
۱۹۸۵ء میں اس دباؤ کے زیرِ اثر وٹیکن کی طرف سے ایک اور بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ اسرائیل دراصل مذہب کے پیروکار یہودیوں اور اسرائیلی کمیونٹی کی مشترکہ ریاست ہے۔ صہیونی اور یہودی تنظیمیں جلد اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ ان کی جارحانہ پالیسیاں پھل لا رہی ہیں، چنانچہ انہوں نے ازسرنو دباؤ ڈالنا شروع کر دیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ بالا بیان میں اسرائیلی ریاست اور یہودی قوم کے درمیان تاریخی تعلق کو واضح نہیں کیا گیا۔ گویا مسیحیوں کے اسرائیلی ریاست کے ساتھ یہودیوں کے دینی تعلق کو تسلیم کر چکنے کے باوجود اصل مطالبہ یہ تھا کہ اس حیثیت کو محض دینی تسلیم کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اسے عالمی برادری کے تسلیم شدہ اصولوں کے عین مطابق قرار دیا جائے۔
اب یہودی رہنماؤں کے ساتھ پوپ کی ملاقاتیں معمول کا حصہ بن چکی تھیں۔ ان کی گفتگو کا مرکزی  مضمون کیتھولک کی طرف سے اسرائیلی ریاست اور یہودیوں کے جائز تعلق کا اعتراف ہوتا تھا۔ تاہم ان میں پوپ کے بعض روایتی بیانات جن میں القدس کی دینی متنازعہ حیثیت، اسرائیل کے ساتھ تعلقات، امن معاہدے کی تائید وغیرہ بھی شامل ہوئے۔ علاوہ ازیں ان فلسطینیوں کے حقوق کا تذکرہ بھی ہوتا جن کی ایک بڑی تعداد وطن کے ہوتے ہوئے بے وطنی اور پناہ گزینی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔
یہودی رہنماؤں کے ساتھ روز بروز بڑھتے ہوئے ان تعلقات کے دوران پہلی مرتبہ القدس کی مشہور مسیحی عرب شخصیت میثال صباح نے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ یاد رہے کہ ۱۰۹۹ء کے بعد یہ پہلا مسیحی عرب ہے جس کی القدس کے معاملات میں ذمہ دارانہ حیثیت تسلیم شدہ ہے۔
القدس کے حوالے سے وٹیکن اپنے موقف پر قائم رہا اور اسے تینوں توحیدی مذاہب یہودیت، نصرانیت اور اسلام کے لیے قابلِ قبول حیثیت دلانے کی طرف توجہ دلاتا رہا۔ اس کے لیے اس نے ایسا قانون تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا:
  • جس میں کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہ ہو اور تینوں مذاہب کے لیے یکساں رواداری برتی گئی ہو۔
  • القدس کے باشندے ہونے کی حیثیت سے تینوں گروہوں کے پیرووں کو مکمل شہری اور دینی حقوق کا تحفظ حاصل ہو۔
  • مسیحیوں اور مسلمانوں کے ساتھ یکساں برتاؤ روا رکھا جائے
مسلمانوں کے لیے یہ طرزِ عمل ایک نئی تبدیلی کا حامل تھا۔ ۱۹۸۷ء میں فلسطینی انتفاضہ کے نام سے بپا ہونے والی اسلامی تحریک کو پوپ نے اخلاقی پشت پناہی فراہم کی۔ تاہم اس دوران وٹیکن اپنی حیثیت کے متضاد پہلوؤں کو چھپا نہ سکا۔ چنانچہ جب کہا گیا کہ مغربی علاقے اور غزہ کی پٹی کے باشندے شدید ترین حالات کا شکار ہیں تو وٹیکن نے بیان جاری کیا کہ
’’اسرائیل ان باشندوں کو امن فراہم کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘‘
ایک اور بیان کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’فلسطین کے تمام باشندے آج آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ اپنی ہی طرح مقدس سر زمین کے ساتھ تاریخ اور عقیدے کا تعلق رکھنے والی قوم کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔‘‘
بیانات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی گہرائی کو بخوبی ناپا جا سکتا ہے۔ ۹ نومبر ۱۹۹۱ء کو امریکی صدر بش کے ساتھ پوپ کی ملاقات کے فورًا بعد بیان جاری ہوا:
’’مڈریڈ میں امن کانفرنس کے انعقاد کی روشنی میں وٹیکن کا یہ طرزِ عمل امریکہ کے اشاروں کے مرہونِ منت ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ وٹیکن نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں کبھی بھی مذہبی عقائد کو حائل نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وٹیکن نے ایک مرتبہ امریکہ کے بعض یہودی رہنماؤں کے سامنے کھڑے ہو کر اقرار کیا تھا: مسیحی تعلیمات کی رو سے ہمیں کہیں بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے باز نہیں کیا گیا۔‘‘
وٹیکن کے طرزِ عمل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ نگار محمد السماک رقمطراز ہیں:
’’اسرائیل اور وٹیکن کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں چار اہم عوامل کارفرما ہیں:
  1. معاملے دینی پہلو سے قطع نظر موجودہ عالمی حالات کے مطابق وٹیکن کے لیے عالمی سیاست کے نئے تقاضوں کو نظرانداز کر کے تنہا رہ جانا نقصان دہ تھا۔
  2. خصوصاً عرب اسرائیل مذاکرات کے مختلف ادوار کے بعد اسے اسرائیل کو فوری طور پر تسلیم کر لینے میں عافیت نظر آئی۔
  3. مشرق میں مسیحی دنیا کے حالات نے بھی وٹیکن کو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔
  4. تاہم اس سلسلے میں سب سے اہم عنصر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے وٹیکن پر تعلقات استوار کرنے کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ ہے۔‘‘

امریکی دباؤ

امریکی دباؤ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ یہاں دباؤ سے مراد محض حکومتِ امریکہ کا دباؤ نہیں بلکہ اس میں وہ تمام امریکی کلیسا اور امریکی ادارے بھی شامل ہیں جن میں سے اکثر صہیونی مسیحیت کے علمبردار ہیں۔ ان میں سے اکثر اداروں اور کلیساؤں کو امریکہ کے سابق صدر ریگن کی خصوصی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ ان کلیساؤں کی عربوں اور مسلمانوں سے دشمنی صہیونیت اور یہودیت کو بھی مات ہے۔ یہ کلیسا صہیونی کمیونٹی کے ایک بہت بڑے عنصر کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہو گئے، اگرچہ ان میں اکثریت Protestants اور انجیلی فرقوں کی ہے، تاہم یہ اپنے ساتھ بہت سے کیتھولک کو شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ’’مسیحی وطن کانگریس‘‘ کی تشکیل کو ان کی کوششوں کا اہم باب قرار دیا جا سکتا ہے۔ ۱۹۸۰ء میں اس کانگریس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے تاسیسی اجتماع میں کیتھولک راہبوں اور کلیسا کے اہم مذہبی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ کانگریس کا بنیادی ہدف یہودی وطن کے حصول کی خاطر تمام مسیحی گروہوں اور تنظیموں کو متحدہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا۔
یہ تنظیمیں اور گروہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالتے ہیں، اور امریکہ وٹیکن پر دباؤ ڈال کر اپنا کام نکلواتا ہے۔ دباؤ کا مقصد چاہے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہو یا کچھ اور، وٹیکن ابھی تک اس حقیقت سے تجاہلِ عارفانہ اختیار کیے ہوئے ہے کہ یہ مسیحی تنظیمیں خود مسیحیت کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، اور انہوں نے یہودیوں کو مسیحیوں سے زیادہ مسیحیت اور مسیحی تعلیمات کا نام لیوا بنا کر مسیحیوں کے حقوق کا استحصال کیا ہے۔
حالات کی تمام تر پیشرفت کے ساتھ فلسطین کی تحریکِ آزادی اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے اوسلو معاہدے کے چند ہی ماہ بعد اسرائیل اور وٹیکن کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس میں القدس کے مسئلے کو قطعی طور پر نظر انداز کیا گیا تھا۔ معاہدے کی شقوں میں مختلف گروہوں کے درمیان تعصب کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اقدامات، مذہبی رواداری، وٹیکن سے تمام وقتی تنازعوں میں غیر جانبدارانہ رویے کی اپیل، خواہ ان تنازعوں کا تعلق مقبوضہ اراضی اور ان کی حدود کے تعین سے ہو یا کسی دیگر مسئلہ سے ہو، جیسے امور شامل تھے۔ یہودیوں اور صہیونیوں نے اس معاہدے کو یہودی قوم اور اسرائیلی ریاست کے لیے شاندار کامیابی قرار دیا۔ وٹیکن نے اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کی کوششوں کا اہم عنصر قرار دیا۔
۵ جون ۱۹۹۴ء کو مذکورہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ دونوں فریقوں کے درمیان ڈپلومیٹک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ خیر سگالانہ وفود کے تبادلے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔ مذکورہ معاہدے کے بعد بھی قابلِ توجہ امور بدستور قائم رہے۔ القدس کی متنازعہ حیثیت قائم رہی اور اس حوالے سے وٹیکن اپنے سابقہ بیانات دہراتا رہا: ’’القدس کی تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے لیے یکساں مقدس حیثیت ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری طرف صہیونی بھی اپنے سابقہ بیان دہراتے رہے: ’’القدس اسرائیل کا جزوِ لاینفک ہے‘‘۔
معاہدے میں صراحت کی گئی کہ اس کا اطلاق وہاں تک ہو گا جہاں تک اسرائیلی قانون نافذ ہے۔ یعنی القدس کا مشرقی حصہ اس میں شامل ہے۔ مگر اس معاہدے کے دو ہی سال بعد ان تمام یقین دہانیوں کی حقیقت زمین بوس ہو گئی۔ استقرارِ امن، عدل، توازن کے الفاظ اپنے معنی کھو بیٹھے۔ اگرچہ اسرائیل کو مسیحیوں کا حامی اور ان کے حقوق کا محافظ ظاہر کیا گیا تھا لیکن ۱۹۹۹ء میں اس وقت اس دعوے کی قلعی کھل گئی جب فلسطین کے شہر ناصرہ پر یہودیوں کی یلغار نے ظلم و ستم کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور وہاں پر موجود بشارہ نامی چرچ کے ساتھ بھی کسی قسم کی کوئی رعایت ملحوظ نہیں رکھی گئی۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اس میں کبھی بھی کسی گروہ کے لیے کسی رعایت کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مسیحیوں کو درپیش تمام تر جارحانہ رویوں کی خصوصی ذمہ داری اسرائیلی ریاست کے کارپردازوں ہی پر عائد ہوتی ہے۔ القدس کے پچاس ہزار عیسائیوں کی تعداد آج گھٹ کر صرف پانچ ہزار رہ گئی ہے۔ قابض قوتوں کی طرف سے مساجد اور گرجاگھروں کی یکساں بے حرمتی کے واقعات آئے روز منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ عیسائیوں میں پھوٹ ڈلوانے کے لیے قابض قوتوں کی طرف سے خصوصی منصوبہ بندی کی جاتی رہی ہے اور ناصرہ میں ہونے والے فسادات میں مذہبی تعصبات کی ہوا کو بھڑکانے میں سرکاری سرپرستی کو خصوصی عمل دخل حاصل ہے۔ مگر وٹیکن نے ان کھلے حقائق اور چشم دید واقعات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا اور گزشتہ دنوں اسرائیل سے ناصرہ میں زیر تعمیر مسجد کی تعمیر روکنے کی اپیل کی، اس کے عوض پوپ نے سر زمینِ مقدس کے دورے کو ملتوی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
کیا وٹیکن کے رویے کو صرف اسرائیل کے ساتھ ڈپلومیٹک تعلقات کے استوار کرنے کی کوششوں کا نام دیا جاتا ہے، جس کے لیے وٹیکن القدس سے متعلق اپنے روایتی موقف سے دستبرداری تک اختیار کر سکتا ہے؟ تاہم یاد رہے کہ ڈپلومیٹک تعلقات آزمانے کے لیے کوئی صحیح انتخاب نہیں، خصوصاً ناصرہ میں کھیلی جانے والی آگ اور خون کی ہولی میں گرجاگھر کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک اس رویے کی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ اس موقع پر وٹیکن کو علاقے میں موجود اس قوم کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے سوچنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے جس نے صدیوں مسجد اور گرجاگھروں کو یکساں احترام کا مقام دیا، اور مسجد اور کلیسا صدیوں ایک دوسرے کے پڑوس میں امن و آشتی کی فضا دیکھتے رہے۔ ہو سکتا ہے رویے میں یہ تبدیلی مسئلے کے حل کے لیے کوئی قابلِ قبول صورت فراہم کر سکے۔
(بہ شکریہ پندرہ روزہ بیت المقدس اسلام آباد)

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا تاریخی فتوٰی

مولانا محمد طیب کشمیری

آزاد کشمیر کے بزرگ اور مجاہد عالمِ دین امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد عبد اللہ کفل گڑھیؒ کے لائق فرزند حضرت مولانا قاضی بشیر احمد صاحب نے حضرت مرحوم کے حالاتِ زندگی اور خدمات کو ’’حیاتِ امیرِ شریعت‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے جس میں ان کی علمی و دینی خدمات اور تحریکِ آزادی میں ان کے مجاہدانہ کردار کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب دائرۃ المعارف کراچی نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ڈیڑھ سو روپے ہے۔ اس کتاب پر ہمارے فاضل دوست اور جامع مسجد سبیل گورو مندر چوک کراچی کے خطیب مولانا محمد طیب کشمیری فاضل نصرۃ العلوم نے کم و بیش ڈیڑھ سو صفحات کا وقیع مقدمہ تحریر کیا ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے حضرت مولانا عبد اللہ کفل گڑھیؒ تک کے مجاہدینِ آزادی کی مسلسل جدوجہد کے تاریخ کے مستند مآخذ کے حوالے سے مرحلہ وار تذکرہ پر مشتمل ہے۔ اور اس طرح انہوں نے تحریکِ آزادی میں علماء حق کے کردار کے بارے میں اچھا خاصا مواد یکجا کر دیا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ مقدمہ بجائے خود ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر اس کی الگ اشاعت کا اہتمام بھی ہو جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اس مقدمہ کا پہلا حصہ جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے دور سے متعلق ہے، ذیل میں نقل کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)


ہندوستان پر جب انگریزی حکومت نے تغلب کیا تو سب سے پہلے کون تھا جس نے قانونِ اسلام کی پیروی کرتے ہوئے ہندوستان کو دوبارہ دارالاسلام بنانے کی سعی کی؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد جب ہندوستان کی حکومت کو گھن لگنا شروع ہوا اور اس میں ابتری پیدا ہوئی تو حضرت شاہ ولی اللہ نے نہ صرف یہ کہ اس کو محسوس کیا بلکہ اپنی تصانیف اور تحریرات کے ذریعے شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کی، اور سیاسی نظام کی اصلاح کے لیے پوری فراستِ ایمانی اور سیاست دانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے اسباب و علل پر بڑی دیدہ وری اور جامعیت کے ساتھ بحث کی، اور حکومت، امراء وزراء اور سوسائٹی کے دوسرے طبقات کو مخاطب کر کے ایک پروگرام دیا جس کا متن سید سلیمان ندویؒ کے الفاظ میں یہ ہے:

’’ہندوستان پر اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہوئی کہ عین تنزل اور سقوط کے آغاز میں شاہ ولی اللہؒ کے وجود نے مسلمانوں کی اصلاح کی دعوت کا ایک نیا نظام مرتب کر دیا تھا۔‘‘ (مولانا سندھیؒ کے افکار و خیالات پر ایک نظر ۔ ص ۹)

اس متن کی شرح مولانا موصوف ہی سے سننے کے لائق ہے:

’’دلی میں اسلامی حکومت کا آفتاب غروب ہو رہا تھا تو اسی کے مطلع سے ایک اور آفتاب طلوع ہو رہا تھا۔ یہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خاندان تھا۔ سچ یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ کی پیشین گوئی کے مطابق اس کے بعد جس کو ملا، اسی دروازہ سے ملا۔ ہندوستان میں ردِ بدعات کا ولولہ، ترجمۂ قرآن پاک کا ذوق، صحاحِ ستہ کا درس، شاہ اسماعیلؒ اور مولانا سید احمد بریلویؒ کا جذبۂ جہاد، فرقِ باطلہ کی تردید کا شوق، دیوبند کی تحریک، ان میں سے کون سی چیز ہے جس کا سررشتہ اس مرکز سے وابستہ نہیں!‘‘ (حیاتِ شبلی ص ۲۹۸)

پھر آپ کے بعد حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے زمانہ میں دہلی کے حالات اور زیادہ بگڑے اور ’’حکومتِ شاہ عالم از دہلی تا پالم‘‘ کی مثل صادق آنے لگی۔ انگریزوں کا اقتدار اور ان کا ظلم و ستم اور اس کے بالمقابل لال قلعہ کے بادشاہ کی طاقت و قوت کا اضمحلال روز افزوں ہو گیا۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر انگریز حکمرانوں کے خلاف سب سے پہلے جس شخص نے آواز بلند کی وہ شاہ عبد العزیزؒ تھے۔ جنہوں نے مسلمانوں کو ابھارا، ان کے جبن اور بزدلی کو دور کیا، ان کے اندر جذبۂ جہاد پیدا کیا، انہیں حوصلہ دیا، انہیں دلائل و براہین سے مسلح کیا، ان کی لکنت اور تھوتھلے پن کو دور کیا، بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے انہیں ہمت و جرأت سے آگے بڑھنے اور غصب شدہ حقوق حاصل کرنے کی تلقین کی، انہوں نے عوام کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ وہ اگر تیار ہو جائیں تو سارے مصائب کا علاج ممکن ہے۔

پھر حضرت شاہ صاحبؒ نے اسی ترغیب و تاکید اور تبلیغ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہندوستان کے ’’دارالحرب‘‘ ہونے کا باضابطہ فتوٰی بھی دیا۔ اصل فتوٰی فارسی زبان میں ہے، اختصار کے پیشِ نظر اس وقت اس کے ترجمہ پر اکتفا کیا جاتا ہے، وہ پیشِ خدمت ہے:

’’یہاں رؤسا نصارٰی (عیسائی افسران) کا حکم بلا دغدغہ اور بے دھڑک جاری ہے۔ اور ان کا حکم جاری اور نافذ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملک داری، انتظاماتِ رعیت، خراج، باج عشر و مال گزاری، اموالِ تجارت، ڈاکوؤں اور چوروں کے انتظامات، مقدمات کا تصفیہ، جرائم کی سزاؤں وغیرہ (یعنی سول، فوج، پولیس، دیوانی اور فوجداری معاملات، کسٹم اور ڈیوٹی وغیرہ) میں یہ لوگ بطور خود حاکم اور مختارِ مطلق ہیں، ہندوستانیوں کو ان کے بارے میں کوئی دخل نہیں۔ بے شک نمازِ جمعہ، عیدین، اذان اور ذبیحہ گاؤ جیسے اسلام کے چند احکام میں وہ رکاوٹ نہیں ڈالتے لیکن جو چیز ان سب کی جڑ اور حریت کی بنیاد ہے (یعنی ضمیر اور رائے کی آزادی اور شہری آزادی) وہ قطعاً بے حقیقت اور پامال ہے۔ چنانچہ بے تکلف مسجدوں کو مسمار کر دیتے ہیں۔ عوام کی شہری آزادی ختم ہو چکی ہے۔ انتہا یہ کہ کوئی مسلمان یا غیر مسلم ان کی اجازت کے بغیر اس شہر یا اس کے اطراف و جوانب میں نہیں آ سکتا۔ عام مسافروں یا تاجروں کو شہر میں آنے جانے کی اجازت دینا بھی ملکی مفاد یا عوام کی شہری آزادی کی بنا پر نہیں بلکہ خود اپنے نفع کی خاطر ہے۔ اس کے بالمقابل خاص خاص ممتاز اور نمایاں حضرات مثلاً شجاع الملک اور ولایتی بیگم ان کی اجازت کے بغیر اس ملک میں داخل نہیں ہو سکتے۔ دہلی سے کلکتہ تک انہی کی عملداری ہے۔ بے شک کچھ دائیں بائیں مثلاً حیدر آباد، لکھنؤ، رام پور میں چونکہ وہاں کے فرمانرواؤں نے اطاعت قبول کر لی ہے، براہِ راست نصارٰی کے احکام جاری نہیں ہوتے (مگر اس سے پورے ملک کے دارالحرب ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا)‘‘۔ (فتاوٰی عزیزی فارسی صفحہ ۱۷  بحوالہ علماء ہند کا شاندار ماضی جلد ۲ صفحہ ۸۰ ۔ و ۱۸۵۷ء کا تاریخی روزنامچہ ص ۱۰)

ایک دوسرے فتوٰی میں بھی حضرت شاہ عبد العزیز صاحبؒ نے مخالفوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ہندوستان کا دارالحرب ہونا ثابت کیا۔ (فتاوٰی عزیزی فارسی ص ۱۰۵ بحوالہ شاندار ماضی ج ۲ ص ۸۰)

کسی ملک کے ’’دارالحرب‘‘ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اب اس ملک کی باگ ڈور اور اقتدار کافروں کے پاس جا چکا ہے، قانون سازی کے اختیارات کافروں کے پاس ہیں، اسلام اور شعائرِ اسلام کا احترام ختم ہو چکا ہے، مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا خاتمہ ہو چکا ہے اور ان کی شہری آزادی سلب کر لی گئی ہے، اس لیے ان حالات میں مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے اور کافر حکمرانوں کا مقابلہ اور ان سے مقاتلہ اب مسلمانوں پر ضروری ہو گیا ہے۔

چنانچہ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جتنی تحریکیں چلیں، معرکے ہوئے، جنگیں ہوئیں اور لڑائیاں لڑی گئیں، ان سب کی بنیاد یہی فتوٰی ہے۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی اس تاریخی فتوے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’شاہ عبد العزیزؒ نے ہندوستان کو ’’دارالحرب‘‘ قرار دے کر غیر ملکی اقتدار کے خلاف سب سے پہلا اور سب سے زیادہ مؤثر قدم اٹھایا۔ اس فتوے کی اہمیت کو وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو ’’دارالحرب‘‘ کے صحیح مفہوم کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی سیاست پر خاندانِ ولی اللہؒ کے اثرات کا بھی صحیح علم رکھتے ہوں۔ سید احمد شہیدؒ، مولانا اسماعیل شہیدؒ نے اپنے سیاسی فکر میں انگریزی اقتدار کو جو درجہ دیا تھا، اس کی بنیاد یہی فتوٰی تھا۔‘‘ (۱۸۵۷ء کا تاریخی روزنامچہ ص ۱۱)

جس طرح شہنشاہیت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کے بانی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے شہنشاہیت کے خلاف ہر طبقہ کے لوگوں کو ابھارنے میں بنیادی کردار ادا کیا، اسی طرح ہندوستان کو دارالحرب قرار دینے والے حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ مجاہدِ اول ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس فتوٰی کے ذریعے مسلمانوں میں جذبۂ جہاد پیدا کرنے کی سعئ بلیغ کی۔ وہاں اسی فتوٰی کے ذریعے مسلمانوں کو غلامی اور محکومی کا جوا اپنے کندھوں سے اتار پھینکنے کی تاکیدِ شدید بھی کی۔

مولانا مفتی نسیم احمد قاسمی مظفر پوری رفیق مجمع الفقہ الاسلامی (الہند) حضرت شاہ عبد العزیز صاحبؒ اور ان کے جاری کردہ فتوٰی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ شیخ الاسلام شاہ ولی اللہؒ کے چشم و چراغ اور ان کے علوم و معارف کے وارث و امین ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ ہی  کے زمانہ میں خاندانِ مغلیہ زوال سے دوچار ہونے لگا تھا اور شاہ عبد العزیزؒ کے زمانہ میں خاندانِ مغلیہ کا چراغ ہمیشہ کے لیے بے نور ہو گیا اور ہندوستان کی قسمت اور اس کے تاجِ شاہی کی مالک ایک بدیسی قوم انگریز بن گئی تھی۔ جب انگریز پوری طرح ہندوستان پر قابض ہو گئے تو مفکر اسلام شاہ عبد العزیزؒ تڑپ اٹھے اور بلا خوف لومۃ لائم یہ فتوٰی دیا کہ ہندوستان انگریزوں کے تسلط کی وجہ سے دارالحرب بن گیا اور مختلف دلائل و شواہد سے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کو ثابت فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا نہایت مفصل فتوٰی صادر کیا۔

شاہ صاحب نے اپنے اس فتوٰی میں ہندوستان کی شرعی حیثیت کے تعین کے ساتھ ساتھ بہت سارے شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کیا ہے اور دارالحرب کی تعریف بیان فرما کر واضح کیا کہ محض بعض احکامِ اسلام مثلاً جمعہ و عیدین، تلاوت اور گاؤ کشی پر پابندی عائدنہ کرنے کی وجہ سے دارالحرب دارالاسلام نہیں بنتا۔ جن لوگوں نے انگریزوں کے دورِ اقتدار میں بھی ہندوستان کو دارالاسلام قرار دیا ہے، ان سب نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ بعض احکامِ اسلام مثلاً جمعہ و عیدین ہندوستان میں اس وقت بھی باقی اور جاری تھے، اور جب تک کسی ملک میں اسلام کے بعض احکام بھی جاری رہیں گے وہ ملک دارالحرب نہیں بنے گا۔ شاہ صاحبؒ نے اسے رد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اقتدار اور ملک کی باگ ڈور غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہے اور اس میں اس کے احکام جاری ہوتے ہیں تو وہ ملک دارالحرب قرار پائے گا، چاہے اس میں اسلام کے بعض احکام جاری ہوں۔‘‘ (مجلہ فقہ اسلامی سیمینار نمبر ۲ ص ۴۵۱)

اسی مسئلہ کو مزید وضاحت کے ساتھ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن خیرآبادی مفتی دارالعلوم دیوبند مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’بہرحال کسی شہر یا ملک کے دارالاسلام یا دارالحرب ہونے کا مدار محض غلبہ و شوکت اور نظامِ احکام پر ہے۔ اگر وہاں مسلمانوں کا غلبہ ہے تو وہ دارالاسلام ہے، اور کفار و مشرکین کا غلبہ ہے تو وہ دارالحرب ہے۔ اگر کسی جگہ مسلمان بھی رہتے ہوں لیکن انہیں اقتدارِ اعلیٰ اور غلبہ و شوکت حاصل نہ ہو تو اسے دارالاسلام نہیں کہتے، ورنہ جرمنی، فرانس، روس اور چین کو بھی دارالاسلام کہا جائے گا۔ اسی طرح جمعہ و عیدین کفار و مشرکین کی اجازت سے ادا کیے جانے پر بھی اسے دارالاسلام نہیں کہیں گے۔ جس طرح دارالاسلام میں ذمی کفار اپنی تمام رسوم آزادی سے ادا کریں تو اسے دارالحرب نہیں کہیں گے۔‘‘ (ایضاً ص ۲۴۷)

اسی موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب مدظلہ صدر مفتی دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:

’’وہ مملکت جہاں مسلمانوں کو اس قسم کا اقتدار (غلبہ و شوکت) حاصل نہ ہو خواہ مسلمان وہاں ہر طرح امن و اطمینان سے رہتے ہوں، وہاں کے سیاسی اور غیر سیاسی کاموں میں حصہ لیتے ہوں، اس کو اپنا وطن سمجھتے ہوں اور باشندہ ملک کی حیثیت سے اس کی حفاظت و ترقی کو بھی اپنا فرض سمجھتے ہوں، اس کے لیے ایثار و قربانی بھی کر دیتے ہوں، مسلمان کی حیثیت سے یا مسلمانوں کی اجتماعی طاقت کی بنا پر نہیں بلکہ ایک شہری کی حیثیت سے وہ اقتدارِ اعلیٰ میں حصہ لے سکتے ہوں، مثلاً رئیس جمہوریہ یا وزیراعظم بن سکتے ہوں، مگر احکامِ اسلام جاری نہ کر سکتے ہوں، جرم و سزا اور اقتصادی مسائل، کرنسی اور شرح تبادلہ وغیرہ کے سلسلے میں احکامِ اسلام کو قانون نہ بنا سکتے ہوں، بلکہ ان میں (یعنی ان مسائل وغیرہ میں) اس ملک کے قوانین کے پابند ہوں، تو وہ دارالاسلام نہیں ہے۔‘‘ (نظام الفتاوٰی ص ۱۹۹ ج ۲)

غرضیکہ غیر ملکی اقتدار کے خاتمے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے بنیادی کردار اگر کسی نے ادا  کیا ہے تو وہ خاندانِ ولی اللہ کا کردار ہے جس نے ہندوستان پر غیر ملکیوں کے قابض ہونے اور اس کی اسلامی حیثیت کے ختم ہونے پر سب سے پہلے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتوٰی دے کر مسلمانوں کے اندر غیر ملکیوں، غیر مسلموں، ظالموں اور سفاکوں کے خلاف جذبۂ جہاد پیدا کرنے اور عَلمِ بغاوت بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


عالمی منظر نامہ

ادارہ

واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے خلاف مظاہرے

واشنگٹن (ریڈیو نیوز / ٹی وی رپورٹ / اے ایف پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر دونوں مالیاتی اداروں کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ واشنگٹن پولیس نے اب تک سات سو مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے، دس ہزار سے زیادہ مظاہرین نے آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے انسانی ہاتھوں کی طویل زنجیر بنائی، امریکی صدر کی سرکاری قیام گاہ وائٹ ہاؤس کے قریب تین سو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، چھ سو مظاہرین کو ہفتہ کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار شدگان کو ہتھکڑیاں لگا کر قریب کھڑی سکول بسوں میں سوار کر کے واشنگٹن کے جنوبی علاقہ میں پولیس کے تربیتی اداروں لے جا کر رکھا گیا۔ پولیس نے اتوار کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران آنسو گیس برسانے کے ساتھ لاٹھی چارج بھی کیا اور مظاہرین کو ڈنڈوں سے بھی زدوکوب کیا۔ ہزاروں مظاہرین نے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی۔ تشدد کے سلسلہ کا آغاز آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹرز کے مشرق میں پانچ سو مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم سے ہوا۔ مظاہرین نے ایک زیر تعمیر عمارت سے آہنی سلاخیں اٹھا کر پولیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی، پولیس نے جوابی کاروائی میں فوم کی گولیاں بھی برسائیں، مظاہرین آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاس کی کاروائی میں کوئی خلل ڈالنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ مظاہرین کا اہتمام کرنے والے ایک گروپ کی جانب سے مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد دس ہزار سے بیس ہزار بتائی گئی ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۱۸ اپریل ۲۰۰۰ء)

امریکی عدالت اور اسلامی قانون

نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی ریاست ورجینیا کی عدالت نے حکومت کو دو مسلم خواتین کو فی کس سوا لاکھ ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ ۱۹۹۶ء میں دونوں خواتین کو برقع پہن کر گھومنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پبلک مقام پر اپنا سر اور منہ چھپا رکھا تھا۔ اس ریاست میں ماسک اور نقاب پر پابندی ہے۔ جیوری نے فیصلہ دیا کہ اسلامی نقطہ نظر سے برقع اوڑھنے پر امریکی قانون لاگو نہیں ہوتا۔
(روزنامہ نوائے وقت ۲۰ اپریل ۲۰۰۰ء)

فلپائن کے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے سرکاری فوج پر حملوں کا اعلان کر دیا

کوٹاباٹو: فلپائن (اے ایف پی) فلپائن کے سب سے بڑے حریت پسند گروپ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے دو روز قبل حکومت کے ساتھ جاری امن مذاکرات ختم کر کے سرکاری فوج پر بھرپور حملوں کا اعلان کر دیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی پہلی کاروائی کے دوران اس نے گزشتہ روز جنوبی شہر آلیوسان کے مضافات میں دو بستیوں پر قبضہ کرنے کے علاوہ ایک دوسرے حریت پسند گروپ کے کیمپ پر سرکاری فوج کے حملے کو بھی پسپا کر دیا۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳ مئی ۲۰۰۰ء)

توہینِ رسالت کی سزا کا قانون اور برطانوی ایم پی

لاہور (پ ر) صوبائی وزیر قانون و انسانی حقوق و اقلیتی امور ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تمام مشنری ادارے مسیحیوں کو واپس کر دیے جائیں گے۔ اس پروگرام پر مرحلہ وار عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت غیر مسلموں کو اقلیت نہیں بلکہ پاکستانی کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔ وہ برطانوی پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے وائس چیئرمین لارڈ ایرک ایوبری کے اعزاز میں اقلیتی مشاورتی کونسل پنجاب کی طرف سے دیے جانے والے ایک استقبالیے میں خطاب کر رہے تھے۔
برٹش پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے وائس چیئرمین لارڈ ایرک ایوبری نے کہا کہ ہم موجودہ حکومت کی اقلیتوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کی صورتحال سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے مخلوط انتخابات کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ چیف ایگزیکٹو نے توہینِ رسالت کے کیسوں میں پروسیجر کو بدلنے کے احکام جاری کر کے اقلیتوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ لارڈ ایرک ایوبری نے کہا کہ وہ برطانیہ میں جا کر اپنی حکومت اور دیگر ممالک پر اس بات کا زور دیں گے کہ پاکستان کو کامن ویلتھ سے نہ نکالا جائے۔
پی پی آئی کے مطابق ایک انٹرویو میں لارڈ ایرک ایوبری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں۔ بلدیاتی الیکشن کا اعلان اس حوالے سے پہلا قدم ہے۔ لارڈ ایرک نے انسانی حقوق کے حوالے سے جنرل پرویز مشرف کی تقریر کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہاں موجودہ نظام خالص جمہوری نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے لیے ابھی بحالئ جمہوریت کا ٹائم ٹیبل دینا ممکن نہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ ممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دینا چاہیے۔
ـ(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۴ مئی ۲۰۰۰ء)

یہودی طالبہ مسلمان ہو گئی

نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی ریاست نیو جرسی میں محبت کی شادی کی خاطر اسلام قبول نہ کرنے والی امریکن یہودی طالبہ نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔تفصیلات کے مطابق نیو جرسی ریاست میں ڈوٹی کو اپنے کلاس فیلو البانی مسلمان احمد سے محبت ہو گئی۔ جب بات شادی تک پہنچی تو لڑکے کے والدین نے غیر مسلم لڑکی سے شادی سے انکار کر دیا۔ احمد نے ڈوٹی سے کہا کہ وہ مسلمان ہو جائے تو محبت پروان چڑھ سکتی ہے لیکن ڈوٹی نے صاف انکار کر دیا کہ وہ شادی کی خاطر اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے دونوں میں جدائی کے سوا کوکئی چارہ نہ رہا۔
بعد ازاں ڈوٹی نے اسلام کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی شروع کر دیں کہ احمد نے مذہب اسلام کے لیے مجھے ٹھکرا دیا ہے، آخر یہ مذہب کیا ہے؟ دوستوں سے معلومات اور کتابیں پڑھنے کے بعد ڈوٹی نے احمد کو خوشخبری سنائی کہ اس نے دائرہ اسلام میں آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شادی کی خاطر نہیں لیکن اس لیے کہ میرے ریسرچ کے بعد مجھے علم ہوا کہ دنیا میں یہی واحد مذہب ہے۔
نیو جرسی کے امام مسجد کے ہاتھوں مسلمان ہونے کے بعد ڈوٹی نے اپنا نام نور رکھ لیا جو عنقریب ماہ اکتوبر میں نور احمد بننے والی ہیں۔ ڈوٹی نے اسلام قبول کرنے کے بعد بتایا کہ وہ ایسا محسوس کر رہی ہے جیسے اس کی زندگی میں کوئی کمی تھی جو اب پوری ہو گئی ہے، دائرۂ اسلام میں آنے کے بعد وہ بہت سکون محسوس کرتی ہے، نماز اور قرآن پاک کا مطالعہ باقاعدگی سے کرتی ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۵ مئی ۲۰۰۰ء)

سعودی عرب میں اسماعیلیوں کا مظاہرہ

لندن (ریڈیو رپورٹ / اے ایف پی) سعودی عرب میں یمن کی سرحد کے قریب نجران کے مقام پر سینکڑوں اسماعیلی شیعہ مسلمانوں نے اپنی ایک مسجد بند کیے جانے کے خلاف گزشتہ روز احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بی بی سی کے  مطابق سعودی عرب کی مذہبی پولیس اسماعیلی برادری کی مسجد میں داخل ہو گئی اور وہاں موجود کتابوں کو ضبط کر کے مسجد بند کرنے کا حکم دیا تو اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مسلمان سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرہ کئی گھنٹے جاری رہا اور اس وقت ختم ہوا جب نجران کے گورنر شہزادہ مشعل بن سعود بن عبد العزیز نے مظاہرین کے وفد سے مذاکرات کیے۔
اے ایف پی کے مطابق سعودی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مظاہرے کے دوران سکیورٹی فورس کا ایک رکن ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ ترجمان نے کہا، نجران میں ہنگامہ اس وقت ہوا جب سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم ایک غیر ملکی کو ’’کالا جادو‘‘ کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ کئی افراد گورنر کی رہائش گاہ کے گرد جمع ہو گئے اور اس شخص کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کئی کاروں کو آگ لگا دی۔ انہوں نے گورنر کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی جس سے سکیورٹی فورس کا ایک رکن ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی فورس کا ایک اور رکن اس وقت زخمی ہوا جب گرفتار کیے جانے والے شخص کے گھر سے کسی نے گولی چلائی۔ ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورس نے شہر میں امن بحال کر دیا ہے، تحقیقات شروع کر دی گئی ہین، مجرموں کو پکڑ کر پوچھ گچھ کے بعد اسلامی قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲۵ اپریل ۲۰۰۰ء)

امریکہ میں ماتم پر پابندی

نیویارک (نمائندہ خصوصی حفیظ کیانی) امریکہ کی نیویارک انتظامیہ نے مرحم کے موقع پر ۱۰ سال سے کم عمر بچوں کے ماتم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس طرح اب چہلم کے موقع پر کم عمر بچے ماتم زنی اور زنجیر زنی نہیں کر سکیں گے۔ مقامی ادارے الخوئی سنٹر نے اعلان کیا کہ وہ ابتدائی مرحلے میں اس کے پابند ہوں گے تاہم وہ اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور مذہب و عقائد کی جو آزادی ہے اس کو ضرور حاصل کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ نیویارک انتظامیہ نے یہ پابندی اس سال عائد کی۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۲۹ اپریل ۲۰۰۰ء)

ہاشمی رفسنجانی کا الزام

تہران (آن لائن) ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے اصلاح پسندوں پر اسلام منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح پسندوں کی شروع کردہ تحریک سے ۱۹۷۹ء کے اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سابق ایرانی صدر نے تہران یونیورسٹی میں خطاب کے دوران کہا کہ ملکی اصلاح پسند اور لبرل عناصر اسلامی قوانین کے خلاف کاروائی میں مصروف ہیں، اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ لبرل عناصر کھلم کھلا اسلامی معاشرہ اور انقلاب کے اصولوں کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ رفسنجانی نے بعض جدت پسند صحافیوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں متعصب اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ عناصر طاغوتی طاقتوں کے ایران پر قبضے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۳۰ اپریل ۲۰۰۰ء)

علامہ اقبالؒ کے خطوط اور قادیانی

لاہور کے ایک اشاعتی ادارہ فکشن ہاؤس نے ’’جدوجہد آزادی پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے پنڈت جواہر لعل نہرو کی کتاب A Punch of Old Letters کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔اس کتاب میں مفکر پاکستان علامہ اقبال کے ایک خط کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا ہے۔ علامہ اقبال نے اس خط میں قادیانیت کے بارے میں اپنی رائے کھل کر دی اور لکھا ہے کہ
’’احمدی اسلام اور ہند دونوں کے غدار ہیں‘‘۔
مترجم ملک اشفاق نے اس خط میں تحریف کر کے مفہوم یکسر الٹ دیا اور لکھا:
’’احمدیوں اور مسلمانوں میں زیادہ اختلاف نہیں ہے، نہ ہی احمدی اسلام اور نہ ہی ہندوستان کے لیے دہشت گرد ہیں۔‘‘
مستزاد یہ کہ مترجم نے اس خط کے چند اہم حصے جن میں قادیانیت کے بارے میں علامہ کے عقائد کی صحیح ترجمانی ہوتی ہے، حذف کر دیے ہیں۔ ہم نے فکشن ہاؤس کے ترجمے، علامہ اقبال کے انگریزی خط کے متن اور ممتاز صحافی اقبال احمد صدیقی کے ترجمے کا (جو اقبال اکادمی لاہور سے ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا اور لاہور میں دستیاب ہوا) موازنہ کیا ہے اور یہ بالکل عیاں ہے کہ اس اشاعتی ادارہ اور پنڈت نہرو کی کتاب کے مترجم ملک اشفاق نے نہ صرف علامہ اقبال کے خط میں تحریف کی ہے بلکہ قادیانیت کے بارے میں علامہ اقبال کا نرم گوشہ رکھنے کا احساس دلانے کی کوشش بھی کی ہے۔
اس ارادی دھاندلی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ جسارت دانستہ اور شعوری ہے جس سے نہ صرف علامہ کا امیج خراب کیا گیا ہے بلکہ اقبال کے ارادت مندوں کے جذبات کو بھی مجروح کیا گیا ہے۔ متذکرہ بالا کتاب کھلے بندوں فروخت ہو رہی ہے۔ حیرت ہے کہ حکومت کے پریس ڈیپارٹمنٹ نے اس کا نوٹس تک نہیں لیا۔ امکان یہ ہے کہ سکولوں اور کالجوں کے بچوں کا ذہن خراب کرنے اور فروغِ قادیانیت ک ےمقصد کے تحت یہ کتاب کالجوں اور سکولوں کی لائبریریوں تک پہنچا دی گئی ہو گی۔
حکومتِ پنجاب کو اس کا فوری نوٹس لے کر اس کتاب کی فروخت ممنوع قرار دینی چاہیے اور اس کی تمام کاپیاں ضبط کرنے، لائبریریوں سے واپس لینے کے علاوہ مترجم و ناشر کے خلاف بھی ایکشن لینا چاہیے۔ علامہ اقبال کے خط کے متن میں تحریف ناقابل معافی جرم ہے۔
(ادارتی شذرہ روزنامہ نوائے وقت لاہور)

توہینِ رسالت کی سزا کے قانون میں تبدیلی

شہدائے بالا کوٹ کی آزادی اور نفاذِ اسلام کیلئے قربانیاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر

پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ توہینِ رسالت کی سزا کے قانون کا طریق کار تبدیل کرنے کی سرکاری تجویز قانون و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس طریقِ کار کو اس سے قبل ملک کے قانونی حلقے متفقہ طور پر مسترد کر چکے ہیں۔
جامعہ حنفیہ قادریہ باغبانپورہ میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام شہدائے بالاکوٹ کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قتل کے جرم میں ایک عرصہ تک ہمارے ہاں یہ طریقِ کار رائج تھا کہ قتل کا مقدمہ سیشن کورٹ میں باضابطہ پیش ہونے اور ملزم پر فردِ جرم عائد کرنے سے پہلے درجہ اول کا مجسٹریٹ اس کیس کی چھان بین کرتا تھا اور اس کی طرف سے توثیق کے بعد وہ مقدمہ سیشن کورٹ میں پیش ہونے کے قابل سمجھا جاتا تھا۔ مگر ۱۹۷۲ء کی قانونی اصلاحات میں اس طریق کار کو قانون پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا گیا۔ جبکہ حکومت اسی طریق کار کو توہینِ رسالت کی سزا کے قانون میں اختیار کر کے ایف آئی آر کے اندراج کو ڈپٹی کمشنر کی منظوری کے ساتھ مشروط کر رہی ہے جو ۱۹۷۲ء کی قانونی اصلاحات کی رو سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ موت کی سزا صرف توہینِ رسالت کے جرم میں نہیں بلکہ قتل، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر کئی جرائم میں بھی موت کی سزا موجود ہے، اس لیے ان میں سے صرف توہینِ رسالت کی سزا کے قانون کا طریقِ کار تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی دباؤ اور این جی اوز کے موقف کو قبول کرتے ہوئے اس شرعی قانون کو غیر مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب توہینِ رسالت پر سزا کے قانون کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر اس کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو فطری طور پر یہ سوال ذہنوں پر ابھرتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبروں کی توہین کرنا بھی انسانی حقوق میں شامل ہو گیا ہے؟ اس لیے مغربی قوتوں اور ناجائز دباؤ ڈالنے والی لابیوں سے ہمارا سوال ہے کہ انہوں نے توہین اور گستاخی کو کب سے انسانی حقوق کی فہرست میں شامل کر لیا ہے؟
مولانا زاہد الراشدی نے اس موقع پر شہدائے بالاکوٹ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امیر المومنین سید احمد شہیدؒ، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے قافلہ نے نہ صرف برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا بلکہ پشاور کے صوبہ میں اقتدار حاصل ہونے پر مکمل اسلامی نظام نافذ کر کے بتا دیا کہ مجاہدینِ آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کا اصل مقصد اس خطہ میں خلافتِ اسلامیہ کا احیا اور اسلامی نظام کا عملی نفاذ ہے۔ اس لیے جب تک پاکستان میں مکمل طور پر اسلامی  نظام کا نفاذ عمل میں نہیں آ جاتا اس وقت تک مجاہدینِ آزادی کی جدوجہد کا تسلسل قائم ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ جہادِ آزادی کی نظریاتی تکمیل تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں۔
پاکستان شریعت کونسل صوبہ پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء حق نے ہر دور میں کفر اور باطل کی قوتوں کو للکارتے ہوئے اسلام کی سربلندی اور حق کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آج بھی ان کی یہ جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی جدوجہد شہدائے بالاکوٹ کی عظیم تحریکِ آزادی کا ہی تسلسل ہے اور انہوں نے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی جدوجہد کو تکمیل تک پہنچایا، اس لیے علماء حق طالبان کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

شورٰی سے ولایتِ فقیہ تک

مشہور عرب دانشور اور محقق الاستاذ احمد الکاتب نے اہلِ تشیع کے سیاسی افکار و نظریات کا تاریخی اور علمی تجزیہ کرتے ہوئے ’’تطور الفکر السیاسی الشیعی من الشورٰی الی ولایۃ الفقیہ‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اہلِ بیت کرام رضوان اللہ اجمعین کے بزرگوں نے عمومی شورٰی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قرنِ اول میں جو سیاسی فکر پیش کیا تھا، وہ کس طرح رفتہ رفتہ اہلِ بیت کے دائرہ میں محدود، معصوم اور منصوص امامت کی شکل اختیار کر گیا اور اب اس نے ایران میں ولایتِ فقیہ کی دستوری حیثیت حاصل کر لی۔ یہ کتاب
51 Robert Owen House London SW66JB
نے چند برس بیشتر شائع کی تھی اور راقم الحروف کی شدید خواہش تھی کہ کوئی ادارہ اس کے اردو ترجمہ اور اس کی اشاعت کا اہتمام کر دے تو یہ اہلِ علم کے کام کی چیز ہے۔ بحمد اللہ تعالیٰ دارالشورٰی لندن نے ہی اس کا اہتمام کر دیا ہے اور یہ ترجمہ ساڑھے چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل خوبصورت اور معیاری کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
اسلام کے سیاسی نظام اور اہلِ تشیع کے سیاسی موقف سے دلچسپی رکھنے والے اربابِ علم و دانش کے لیے یہ گراں قدر تحفہ ہے اور اس کے بارے میں پوسٹ بکس نمبر ۱۳۲۰ اسلام آباد کے ایڈریس سے بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

قادیانیت کش

تحریکِ ختم نبوت کے لیے سرگرمی سے کام کرنے والے پرجوش نوجوان جناب محمد طاہر رزاق قادیانیت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً مختصر کتابچے اور پمفلٹ شائع کرتے رہتے ہیں جو عوامی سطح پر قادیانیت کو بے نقاب کرنے کے لیے بہت مفید ہیں اور ضروری معلومات پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے چند اہم رسالوں کو ’’قادیانیت کش‘‘ کے عنوان سے یکجا شائع کیا گیا ہے جس کے صفحات ڈیڑھ سو سے زائد ہیں اور یہ مجموعہ خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین ہے۔ اس کی قیمت ۸۰ روپے ہے اور اسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

تذکرہ علامہ اختر شاہ امروہیؒ

شیخ الہند حضرت مولانا احمد حسین دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کے شاگردوں میں حضرت مولانا محمد اختر شاہ خان امروہیؒ کا تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے جنہوں نے میرٹھ کے مدرسہ امداد الاسلام میں مدتوں دینی علوم کی تدریس و تعلیم کی خدمات سرانجام دیں اور ان کا شمار اپنے دور کے ممتاز علماء، خطباء اور شعراء میں کیا جاتا ہے۔ ان کے شاگرد علامہ محمد اسحاق القاسمی میرٹھی نے ان کے حالاتِ زندگی اور فیوضات کو مرتب کر کے شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے اور اس میں حضرت مرحوم کا مجموعہ کلام بھی شامل ہے۔ ایک سو بیس صفحات پر مشتمل اس کتابچہ کی قیمت پچاس روپے ہے اور ملنے کا پتہ یہ ہے: المکتبہ القیمہ، ۴۰۸/۱ سی، سنٹرل کمرشل ایریا، پی ای سی ایچ ایس، کراچی، کوڈ نمبر ۷۵۴۰۰

احادیثِ شریفہ سے منتخب پیاری دعائیں

حضرت مولانا محمد اسحاق میرٹھی نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ شریفہ میں سے روز مرہ کا ڈیڑھ سو سے زائد دعاؤں کا ایک خوبصورت انتخاب پیش کیا ہے جس میں اہم مواقع اور ضروریات کے حوالے سے مسنون دعائیں شامل ہیں۔ اس کے صفحات ساٹھ ہیں اور اسے بھی مکتبہ قیمہ کے مندرجہ بالا ایڈریس سے منگوایا جا سکتا ہے۔

کیا مسیح خدا کا بیٹا ہے؟

ممتاز محققِ مسیحیت مولانا عبد اللطیف مسعود نے سولہ صفحات پر مشتمل اس پمفلٹ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں مسیحیوں کے اس عقیدہ کا تحقیقی جائزہ لیا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) خدا کے بیٹے ہیں۔ مولانا موصوف نے بائبل کے مستند حوالوں سے یہ بات واضح کی ہے کہ ’’خدا کا بیٹا‘‘ ہونے کا یہ تصور مسیحی امت میں کیسے آیا اور بائبل میں کن کن حضرات کو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔ یہ مضمون عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان سے طلب کیا جا سکتا ہے۔