امریکہ، اسلام اور دہشت گردی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ شمارہ میں اسلام آباد میں متعین امریکہ کے سفیر محترم جناب ولیم بی مائیلم کے ایک خطاب کا متن قارئین نے ملاحظہ کر لیا ہو گا جو انہوں نے گزشتہ دسمبر کے اوائل میں لاہور میں ارشاد فرمایا ہے، اور اس میں انہوں نے عام طور پر پائے جانے والے اس ذہن اور تاثر کو غلط قرار دینے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اور عالمِ اسلام اس وقت ایک دوسرے کے حریف کے طور پر آمنے سامنے کھڑے ہیں، اور امریکی فلسفہ اور اسلام کے درمیان کشمکش دن میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تصور غلط بلکہ خطرناک ہے اور ان کے خیال میں اس تصور کی بیخ کنی کرنا اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔ اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنے نقطہ نظر سے معروضی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ باور کرانے کی سعی فرمائی ہے کہ امریکہ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے، جو بقول ان کے ایسے لوگوں کا پسندیدہ ہتھیار بن گئی ہے جنہیں عوامی اور اخلاقی حمایت حاصل نہیں ہوتی اور جو اپنی بات منوانے کے لیے سیاسی جدوجہد نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کے نظریات رائے عامہ کے لیے کشش رکھتے ہیں۔
جناب ولیم بی مائیلم کا کہنا ہے کہ امریکہ روادار، جمہوری اور جامع معاشروں کی حمایت کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اختلاف رائے کو مکالمہ اور ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے اور اپنی بات منوانے کے لیے تشدد کا راستہ نہ اختیار کیا جائے۔ ان کا ارشاد ہے کہ امریکہ خود اپنے معاشرے میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو سموئے ہوئے ہے اس لیے اس کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مخاصمت رکھتا ہے۔
ہم انتہائی ادب و احترام کے ساتھ یہ عرض کر رہے ہیں کہ محترم ولیم بی مائیلم کا یہ موقف حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، اور تاریخی پس منظر اور معروضی حقائق کا آئینہ دار ہونے کی بجائے صرف ان خواہشات کی عکاسی کرتا ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے حکمرانوں اور پالیسی ساز دانشوروں نے عالم اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے یکطرفہ طور پر اپنے دلوں میں سجا رکھی ہیں۔ اور وہ یہ چاہ رہے ہیں کہ دنیا کے سوا ارب سے زائد مسلمان اپنے عقائد، کلچر، روایات اور مذہبی احکام و قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ایجنڈے کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیں جو امریکہ کی قیادت میں مغرب نے ان کے لیے طے کر لیا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ عالم اسلام میں دینی بیداری کی تحریکات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور اسلام کے ساتھ مسلمانوں کی شعوری وابستگی میں مسلسل اضافے کے ساتھ ساتھ مغرب کے معاندانہ اور متعصب رویہ کا ادراک بتدریج بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے مسلم ممالک میں مغرب نواز حکمران طبقات اور اداروں کے لیے مغرب کے ایجنڈے پر آزادانہ طور پر عمل کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ اور اسی بات نے مسلمانوں کے بارے میں مغربی دانشوروں کی ذہنی الجھن کو جھنجھلاہٹ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
ہم جناب ولیم بی مائیلم کی طرح نظریات اور فلسفوں کی باریکیوں میں پڑنے کی بجائے معروضی حالات اور واقعات کے حوالہ سے اپنے موقف کے حق میں چند شواہد پیش کرنا چاہتے ہیں، مگر زیادہ تفصیلات میں جائے بغیر چند اصولی گزارشات پر اکتفا کریں گے تاکہ سفیر موصوف کے اس ارشاد کا حقائق کی بنیاد پر جائزہ لے کر تصویر کے اصل رخ سے قارئین کو متعارف کرایا جا سکے۔ ہم دو حوالوں سے اپنی گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں:
- ایک یہ کہ اس وقت عالم اسلام اور مسلم ممالک سے امریکہ کے تقاضے اور مطالبات کیا ہیں اور مسلمانوں کے معتقدات اور مسلمہ اسلامی تعلیمات کے پس منظر میں ان تقاضوں اور مطالبات کی نوعیت و حیثیت کیا ہے؟
- اور دوسرا یہ کہ ان تقاضوں اور مطالبات کے حوالہ سے مختلف ملکوں کے ساتھ امریکہ کے طرز عمل میں یکسانیت کا معیار کیا ہے؟ اور کسی جگہ اس یکسانیت کا فقدان نظر آتا ہے تو وہاں بادی النظر میں اس کے اسباب کیا ہیں؟
جناب ولیم بی مائیلم نے تو صرف یہ کہہ کر بات نمٹانے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ جامع، روادار اور جمہوری معاشروں کا حامی ہے۔ اور یہ کہہ کر انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی تعلیمات اور ان کی نمائندگی کرنے والی بعض اسلامی تحریکات اسلامی معاشرہ کے لیے جامع، روادار اور جمہوری تصور کو قبول نہیں کر رہیں، جس کی وجہ سے تضاد اور کشمکش کی فضا نظر آ رہی ہے۔ مگر وہ اس تفصیل میں نہیں گئے کہ جامع، روادار اور جمہوری معاشرہ سے ان کی مراد کیا ہے؟ اس لیے اس تفصیل کو جاننے کے لیے ہمیں امریکہ کی دیگر ذمہ دار شخصیات سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے کہ جب کوئی امریکی راہنما کسی معاشرہ سے جمہوری، روادار اور جامع ہونے کا تقاضا کرتا ہے تو اس کے ذہن میں اس کا عملی خاکہ کیا ہوتا ہے؟ چنانچہ دو ذمہ دار امریکی عہدیداروں کے حالیہ خطابات اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں: ایک امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کارل انڈر فرتھ ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں ہاورڈ یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی میں ’’امریکی اور جنوبی ایشیا نئی صدی میں‘‘ کے عنوان سے اس مسئلہ پر وضاحت کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ اور دوسرے امریکہ کے شعبہ عالمی امور میں ایشیا پیسفک سب کمیٹی کے چیئرمین ڈوگ بیرٹر ہیں جنہوں نے واشنگٹن ڈی سی کے ولسن سنٹر میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں اسی مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔
مسٹر کارل انڈر فرتھ نے جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کے چار نکاتی ایجنڈے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
- ’’امریکہ اس خطے میں جمہوریت کا فروغ چاہتا ہے۔
- اس کی معاشی ترقی کا خواہشمند ہے۔
- اس خطہ کے عوام کی معاشرتی بہبود کے لیے کوشاں ہے، اور
- عالمی رو (گلوبل مین اسٹریم) میں اس کی بھرپور شمولیت کے حق میں ہے۔‘‘
جبکہ معاشی ترقی کے حوالہ سے مسٹر ڈوگ بیرٹر امریکی عزائم کا ہدف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ:
’’امریکہ کو اس امر پر توجہ کرنی چاہیے اور اپنے وسائل کو بڑھانا چاہیے تاکہ اس ریجن میں ہمارے تجارتی مفادات کو بڑھایا جا سکے اور اس علاقے میں امریکی اثر و رسوخ قائم رہے۔‘‘
جس کا مطلب واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکہ کی معاشی پالیسیوں کا اصل مقصد اس خطہ کے عوام کی معاشی ترقی نہیں بلکہ اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ اور اپنے تجارتی مفادات کو بڑھانا ہے۔ اور ہمارا خیال ہے کہ ایجنڈے کی باقی شقوں کے حوالہ سے بھی امریکی پالیسیوں کا ہدف اس سے مختلف نہیں ہے۔ اور یہ صرف جنوبی ایشیا کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے ہر حصے کے لیے امریکی پالیسیوں اور تقاضوں کا اصل ہدف اور ٹارگٹ صرف اس کے اپنے مفادات ہوتے ہیں، اور اپنے مفادات و اغراض کے علاوہ اسے اور کسی بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ورنہ حالات کا تناظر اس طرح دکھائی نہ دے کہ پاکستان میں تو ایک جمہوری حکومت کی برطرفی امریکہ کے لیے تکلیف کا باعث ہو اور کارل انڈر فرتھ صاف طور پر یہ کہیں کہ:
’’اکتوبر میں پاکستان میں ہونے والے فوجی اقدام سے پورے جنوبی ایشیا کو دھچکہ لگا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ یہ محض عارضی ہو گا، جس طرح جنرل نے کنٹرول حاصل کیا ہے ہم اس کی تائید نہیں کر سکتے، اور ہم نے ان سے اور ان کی منتخب کی ہوئی نئی انتظامیہ سے بغیر لگی لپٹی اس کا اظہار کیا ہے۔‘‘
مگر پاکستان کے پڑوس میں خلیج عرب کے ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں عوام کے سرے سے رائے دہی کے حق سے محروم رہنے پر امریکہ کو کوئی تشویش نہ ہو۔ اور اس کی ساری جمہوریت پسندی ایک طرف لگی لپٹی تیل کے چشموں کے پاس مدہوش پڑی رہے۔
جناب ولیم بی مائیلم کا یہ کہنا بھی مغالطہ نوازی کی انتہا ہے کہ وہ جسے دہشت گردی قرار دے رہے ہیں، یعنی اپنی بات منوانے کے لیے جبر و تشدد کا سہارا لینا، وہ صرف انہی گروہوں کا پسندیدہ ہتھیار ہے جو عوامی اور اخلاقی حمایت سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے پروگرام میں رائے عامہ کے لیے کوئی کشش نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ الجزائر کی مثال اس سلسلہ میں ہمارے سامنے ہے کہ وہاں کی اسلامی جماعتوں نے اپنا نقطہ نظر عوام کے سامنے پیش کیا، ان کی ذہن سازی کی، ان کی حمایت حاصل کی اور وہاں کے عوام کی بھارتی اکثریت نے انہیں ۱۹۹۲ء کے عام انتخابات میں اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کر لیا۔ اس وقت وہاں کسی طرف سے تشدد کا کوئی شائبہ موجود نہیں تھا، لیکن عوام کی اس رائے کو فوجی قوت کے زور پر ٹھکرا دیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں تشدد کی لہر اٹھی اور امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک نے عوامی فیصلے اور جمہوری عمل کے خلاف فوجی آمریت کو سپورٹ کیا۔
اس لیے یہ کہنا کہ امریکہ کو جمہوری معاشرہ سے دلچسپی ہے، قطعی طور پر غلط ہے۔ امریکہ کو صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔ وہ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں عوام کو سرے سے رائے کا حق نہ دینے، اور الجزائر میں عوامی رائے کو فوجی طاقت کے زور پر ٹھکرانے سے پورے ہوتے ہوں تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور اگر پاکستان میں وہ مفادات ایک جمہوری حکومت کے ذریعے حاصل ہو رہے ہوں تو اس جمہوری حکومت کے خلاف فوجی جنرل کا اقدام امریکہ کے لیے ناقابل قبول ہو جاتا ہے۔
اسی طرح معاشرتی بہبود کا پہلو لے لیجئے جسے مسٹر کارل انڈر فرتھ نے جنوبی ایشیا کے لیے امریکی ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا ہے، مگر اس کی تشریح امریکی رہنماؤں کے نزدیک خود کارل انڈر فرتھ کے بقول یہ ہے کہ:
’’حقوق انسانی کے لیے عالمی ڈیکلیریشن کے مطابق تعلیم، خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔‘‘
اور مسٹر ڈوگ بیرٹر اس کی تشریح کرتے ہیں کہ:
’’امریکی کمٹمنٹ کو ذہن نشین رکھتے ہوئے ہمیں باہمی، علاقائی اور کثیر القومی اپروچز استعمال کرنی چاہئیں تاکہ ہم اس خطہ میں ان اصولوں کو فروغ دے سکیں۔‘‘
امریکہ اور اس کے رفقاء اس حوالہ سے مسلمانوں کا یہ حق تسلیم نہیں کرتے کہ وہ انسانی حقوق، تعلیم، صحت اور دیگر مسائل میں اپنے مذہبی عقائد و احکام کی ترجیحات کا لحاظ رکھ سکیں، بلکہ وہ ان سے سیکولرازم اور حقوق انسانی کے عالمی ڈیکلیریشن کے ساتھ اسی کمٹمنٹ کی پابندی کرانا چاہتے ہیں جو امریکہ نے کر رکھی ہے، اور وہ اس کمٹمنٹ کا ساری دنیا کو پابند بنانے کے درپے ہیں، حالانکہ امریکی دانشور اچھی طرح اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ:
- سیکولرازم کا یہ تصور کہ دینی احکام کا ریاستی نظام اور قومی معاملات سے سرے سے کوئی تعلق نہ ہو ، اسلام اور مسلمانوں کے لیے قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔
- حقوق انسانی کے عالمگیر چارٹر کی متعدد دفعات مسلمانوں کے مسلمہ عقائد اور اسلامی احکام و قوانین سے متصادم ہیں۔
- حقوق انسانی کا یہ چارٹر نصف صدی قبل جب ترتیب دیا گیا تھا، بیشتر مسلم ممالک ابھی آزاد نہیں ہوئے تھے اور مسلمان مجموعی طور پر اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اس چارٹر میں اپنا نقطہ نظر شامل کرا سکتے، اس لیے یہ چارٹر یکطرفہ اور جانبدارانہ ہے۔
لیکن اس کے باوجود امریکہ اس چارٹر کو پورے عالم اسلام پر مسلط کرنے پر تلا ہوا ہے اور اس کو حتمی معیار قرار دے کر اس کے خلاف اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات اور روایات و اقدار کو کلیتاً مسترد کر رہا ہے۔ اور پھر اسے اس بات پر بھی اصرار ہے کہ اس کی اس مہم کو اسلام کے خلاف نہ سمجھا جائے اور امریکہ کو اسلام کا مخالف قرار نہ دیا جائے۔
جناب ولیم بی مائیلم نے جامع، روادار اور جمہوری معاشرہ کی بات کی ہے اور وہ مسلم ممالک سے تقاضہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اندرونی دائروں میں ان تینوں اصولوں کی پابندی کریں۔ لیکن عالمی دائرے میں، جسے مسٹر کارل انڈر فرتھ نے ’’گلوبل مین اسٹریم‘‘ سے تعبیر کیا ہے، یہی تین اصول امریکی رہنماؤں کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ اور وہ نہ صرف مسلم ممالک بلکہ چین اور دیگر کئی ممالک کا بھی یہ حق تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے عوام کی رائے کا احترام کریں اور اپنی قوم کے عقائد و روایات اور کلچر و تمدن کو ترجیح دیں۔ گویا ان ملکوں کے عوام کی رائے امریکی لیڈروں کے نزدیک ’’رائے عامہ‘‘ نہیں کہلاتی اور امریکی فلسفہ کے نزدیک رائے عامہ کا اطلاق صرف اس پر ہوتا ہے جس سے مغرب کے کلچر اور فلسفہ کو تقویت حاصل ہوتی ہو اور مذہبی اقدار کی بجائے مذہب بیزار رجحانات کو فروغ ملتا ہو۔ ورنہ امریکہ اور یورپ کے ممالک کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ محض اپنی سیاسی، سائنسی اور معاشی بالادستی کے زور پر ایشیا اور افریقہ کے ممالک کو ان کے عوام کی رائے، مذہب اور مرضی کے علی الرغم مغربی فکر و فلسفہ کو قبول کرنے پر مجبور کریں؟
اس لیے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سفیر محترم سے عرض ہے کہ حالات کا رخ بالکل واضح ہے کہ امریکہ صرف اپنے مفادات کے حصول اور اپنےفکر و فلسفہ اور کلچر کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے، اسے نہ جمہوری روایات اور رائے عامہ سے کوئی غرض ہے، نہ دوسری قوموں کے مذہبی تشخص کا کوئی پاس ہے اور نہ ہی ان کے کلچر اور ثقافت کی بقا سے کوئی دلچسپی ہے، حتٰی کہ اس کی جمہوریت پسندی، اس کے مفادات اور خودغرضی کی اس حد تک اسیر اور پابند ہے کہ کراچی میں اس کا فلسفہ و معیار اور ہوتا ہے اور اس سے صرف دو گھنٹے کی فضائی مسافت پر دوبئی میں اس کے نظریات اور افکار بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا اس نوعیت کے معروضی حقائق کی روشنی میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ امریکہ خود کو واحد سپر پاور سمجھتے ہوئے ’’گلوبل مین اسٹریم‘‘ کی قیادت اور کنٹرول سنبھالنے کے لیے بے چین ہے، اور چونکہ اس کے راستہ میں نظریاتی اور ثقافتی طور پر اسلام ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے اس لیے وہ اسلام کو اپنا حریف سمجھتے ہوئے اسلامی تصورات کو دبانے، اسلامی بیداری کی تحریکات کو کچلنے، اور مغربی ہٹ دھرمی اور ظلم و نا انصافی کے خلاف ردعمل کے طور پر ابھرنے والی قوتوں پر ’’دہشت گردی‘‘ کا لیبل چسپاں کر کے ان کی کردارکشی کی مہم میں مصروف ہے۔
آخر میں کچھ بات ’’دہشت گردی‘‘ کے حوالہ سے بھی ہو جائے کہ آخر امریکہ کے نزدیک اس کی تعریف کیا ہے؟ افغانستان کے حوالہ سے دیکھ لیں کہ وہی عمل افغان مجاہدین روس کے خلاف کریں تو امریکہ کے نزدیک یہ ان کا جہادِ آزادی ہے۔ اور اسی لہجے میں وہ امریکی مداخلت کو قبول کرنے سے انکار کریں تو وہ دہشت گردی قرار پائے۔ امریکی سفیر یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ طالبان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی ہے اس لیے وہ دہشت گرد ہیں، اس لیے کہ اسامہ بن لادن کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’دہشت گردی‘‘ کا کوئی معروف اصول اور قانون بھی ہے یا امریکہ ہی دنیا کا واحد معیار ہے کہ جسے امریکی حکومت دہشت گرد کہہ دے اس پر وحی آسمانی کی طرح ایمان لانا پوری نسل انسانی کے ذمہ فرض ہو جاتا ہے؟
جناب ولیم بی مائیلم سے بڑے ادب کے ساتھ ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اگر بالفرض کسی وقت کوئی بڑی قوت امریکہ کی کسی ریاست میں اپنی فوجیں اتار کر اس کے تمام وسائل پر قبضہ کر لے، اور امریکہ میں ایسی حکومت ہو جو وہاں کے عوام کو ووٹ اور رائے کا حق دینے سے صاف انکار کر رہی ہو، اور اس شخصی آمریت اور قابض فوجی قوت کے درمیان گٹھ جوڑ کے خلاف آواز اٹھانے اور اپنی بات کہنے کا کوئی فورم موجود نہ رہا ہو، ایسے حالات میں اگر کوئی باغیرت امریکی شہری ’’اسامہ بن لادن‘‘ کی طرح تنگ آ کر غیر ملکی افواج کے تسلط سے اپنے وطن کو نجات دلانے کے لیے ہتھیار اٹھا لے تو کیا سفیر محترم اسے بھی دہشت گرد قرار دے دیں گے؟ اور آئندہ کیا، امریکہ تو ماضی میں اس مرحلہ سے گزر چکا ہے کہ برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف امریکی قوم نے اسی طرح ہتھیار بکف ہو کر آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ اور جناب ولیم بی مائیلم شاید یہ یاد دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ امریکہ جس طرح آزادی کی بات کر رہا ہے خود اس کی اپنی آزادی کے پیچھے اسامہ بن لادن طرز کے کئی ’’دہشت گرد‘‘ تاریخ کے جھروکوں سے جھانک رہے ہیں۔ اور صرف برطانوی استعمار کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا عمل نہیں بلکہ افغانستان میں طالبان اور شمالی اتحاد کی باہمی جنگ کی طرح بلکہ اس سے کہیں خوفناک خانہ جنگی بھی امریکی آزادی کی بنیادوں میں صاف دکھائی دے رہی ہے۔
لہٰذا اپنے لیے الگ اور دوسروں کے لیے الگ معیار قائم نہ کیجئے، اور جن مراحل سے خود گزر کر اس مقام پر پہنچے ہیں، دوسری قوموں کو ان مراحل سے گزرتے ہوئے ان پر پھبتیاں کس کر اور انہیں طعن و طنز کا نشانہ بنا کر خود اپنے ماضی کی نفی نہ کیجئے کہ یہ زندہ اور انصاف پسند قوموں اور افراد کا شیوہ نہیں ہوتا۔ ہم نے صرف دو حوالوں سے مختصر گفتگو کی ہے:
- ایک یہ کہ امریکہ کی موجودہ مہم جوئی واضح طور پر اسلام اور اسلامی فلسفہ و تہذیب کے خلاف ہے۔
- اور دوسرا یہ کہ جس جمہوریت اور انسانی حقوق کا پرچم امریکہ نے اٹھا رکھا ہے اس کے بارے میں امریکہ نے مختلف علاقوں اور ملکوں کے لیے الگ الگ معیار قائم کر رکھا ہے۔
اس لیے جناب ولیم بی مائیلم کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ امریکہ اسلام کا مخالف نہیں ہے اور ان کا یہ ارشاد بھی حقائق کے یکسر منافی ہے کہ امریکہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم عمل ہے۔ بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ امریکہ انتہائی خودغرضی کے ساتھ صرف اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے مفادات کی راہ میں اسلام، جمہوریت یا انسانی حقوق میں سے جو فلسفہ بھی رکاوٹ بنتا ہے وہ اسے روند کر آگے بڑھنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا۔
قربانی اور سنتِ نبویؐ
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
(۱) حضرت ابو سعید الخدریؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یا اھل المدینۃ‘‘ اے مدینہ میں بسنے والو! قربانی کا گوشت تم تین دن کے بعد نہیں کھا سکتے۔ (مسلم ۔ جلد ۲ ص ۱۵۸ و مستدرک ۴ ص ۲۳۲)
یہ تین دن کی تخصیص صرف ایک سال ایک خاص اور معقول وجہ کی بنا پر تھی اور بعد کو اس سے زیادہ کی اجازت بھی مل گئی تھی۔ جیسا کہ انہی روایات میں اس کی تصریح موجود ہے۔
(۲) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ طیبہ میں پیش کیا تھے۔ (بخاری ص ۸۳۵)
(۳) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں ہمیں عید کی نماز پڑھائی۔ آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ بعض لوگوں نے نمازِ عید سے قبل ہی قربانی کر لی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں دوبارہ قربانی کرنا ہو گی۔ (مسلم جلد ۲ ص ۱۵۵)
(۴) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں کبھی اونٹ کی قربانی کی اور کبھی بھیڑ اور بکری کی۔ (سنن الکبرٰی ۹ ص ۲۷۲)
(۵) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے مدینہ طیبہ میں دو مینڈھے قربانی دیے۔ (بخاری ۱ ص ۲۳۱)
(۶) حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ مدینہ طیبہ میں قربانی کے دنوں میں ایک کثیر تعداد قافلہ آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ تین دن سے زائد گوشت اپنے گھروں میں نہیں رکھا جا سکتا، باقی سب ان قافلہ والوں میں تقسیم کر دو۔ (موطا امام مالک ص ۱۸۸)
(۷) حضرت ابو زید انصاریؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انصار (مدینہ) کے گھروں میں سے ایک گھر کے سامنے سے گزر رہے تھے کہ آپ کو گوشت کی خوشبو محسوس ہوئی۔ آپ نے حضرت ابو بردہ بن نیارؓ کو تحقیقِ حال کے لیے بھیجا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک انصاریؓ نے نمازِ عید سے قبل ہی قربانی کر لی ہے۔ چنانچہ حضورؐ نے اس کو دوبارہ قربانی کا حکم دیا۔ (ابن ماجہ ص ۲۳۵)
(۸) حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں اپنے ہاتھ سے اونٹوں کی قربانی دی اور اپنے ہاتھ سے وہ ذبح کیے۔ (نسائی ج ۲ ص ۱۷۹)
(۹) حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پورے دس سال مدینہ طیبہ میں اقامت پذیر رہے اور ہر سال قربانی کرتے رہے (ترمذی ج ۱ ص ۱۸۲ و مشکوٰۃ ص ۱۲۹)۔ بلکہ فیلسوفِ اسلام علامہ ابن رشدؒ (المتوفی ۵۹۵ھ) لکھتے ہیں کہ
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے، جیسا کہ آپؐ سے روایت کیا گیا ہے، کبھی قربانی ترک نہیں کی۔ حتٰی کہ سفر میں بھی آپ نے ترک نہیں کی، جیسا کہ حضرت ثوبانؓ کی روایت میں آتا ہے کہ آپؐ نے اپنے ہاتھ مبارک سے قربانی کی، پھر فرمایا کہ اے ثوبانؓ اس قربانی کا گوشت ٹھیک کر کے پکاؤ، چنانچہ میں مدینہ طیبہ تک آپؐ کو کھلاتا آیا۔ (محصلہ)
(۱۰) حضرت علیؓ ہر سال دو جانور قربانی دیا کرتے تھے، ایک اپنی طرف سے اور ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں آپؐ کی طرف سے قربانی کیا کروں۔ (مستدرک ۴ ص ۲۳۰)
(۱۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے قربانی دیے اور فرمایا کہ ایک میری طرف سے اور ایک میری امت کے ان افراد کی طرف سے جنہوں نے توحید و رسالت کا اقرار کیا ہو گا لیکن قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ہوں گے۔ (مستدرک ۴ ص ۲۳۸)
(۱۲) حضرت عاصم بن کلیبؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم فارس کے علاقہ میں دشمن سے جنگ کر رہے تھے اور ہمارے جرنیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابیؓ تھے۔ چنانچہ ہمیں یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ قربانی کے دن تو آ گئے ہیں اور ہمیں سال بھر عمر کی بکریاں دستیاب نہیں ہو سکتیں، تو حضرت مجاشع بن مسعودؓ نے فرمایا کہ اگر بکریاں نہیں مل سکتیں تو کیا حرج ہے، میں نے جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چھ ماہ سے زائد عمر کے دنبہ کی قربانی بھی جائز ہے، سو اس کی قربانی کر لو (مستدرک ۴ ص ۲۳۶، نسائی ج ۲ ص ۱۸۰، سنن الکبرٰی ۹ ص ۲۷۰)
(۱۳) حضرت ابو امام بن سہلؓ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ طیبہ میں قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح پالا کرتے تھے۔ (بخاری ۲ ص ۸۳۳)
بیت اللہ کی تعمیر کے مختلف مراحل
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی اور اس کی تجدید حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے ہوئی۔ اس کے بعد قبیلہ جرہم نے تعمیر کی۔ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سسرال کا خاندان ہے۔ پھر قوم عمالقہ کا ذکر ملتا ہے اور اس کے بعد قریش نے حضور علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل بیت اللہ شریف کی تعمیر کی جب کہ اس کی چھت کمزور ہو چکی تھی۔ یہ وہی تعمیر ہے جس کے دوران حطیم کا حصہ خانہ کعبہ سے باہر نکالا گیا تھا جو آج بھی اسی حالت میں ہے۔ اس کے بعد عبد اللہ بن زبیرؓ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ پھر عبد الملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے بیت اللہ کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کیا۔ اور پھر یہ آخری تعمیر ترکی عہدِ حکومت میں سلطان مراد کے زمانے میں ہوئی جو اب تک قائم ہے۔
البتہ موجودہ سعودی حکومت نے حرم شریف کی تعمیر میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ خانہ کعبہ کے گرداگرد ترکی عہد کے برامدوں کے پیچھے بڑے وسیع برامدے اور چاروں طرف سات بلند اور خوبصورت مینار تعمیر کیے ہیں۔ اب صفا و مروہ کا پورا حصہ ساتھ شامل ہو چکا ہے۔ اس دو منزلہ عمارت کا فرش سنگِ مرمر کا ہے جس پر دبیز قالین بچھائے گئے ہیں۔ آب زم زم کی فراہمی کے لیے جدید نظام قائم کیا ہے۔ حرمِ پاک میں روشنی کے لیے ٹیوب لائٹس اور فانوس روشن ہیں۔ برقی پنکھے ہمہ وقت چلتے رہتے ہیں اور لاؤڈ اسپیکر کا مربوط نظام قائم ہے۔
اہلِ کتاب نے اس مقدس مقام کی فضیلت کو کم کرنے کی غرض سے اپنی ہی کتابوں میں تحریف کی ہے۔ زبور میں موجود ہے کہ خدا کے مقدس بندے وادی بکہ میں گزریں گے۔ وہاں پر پانی کے چشمے کا بھی ذکر ہے۔ اس سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ اور چشمہ سے مراد آب زم زم ہے۔ مگر انہوں نے ’’بکہ‘‘ کو ’’بکا‘‘ بنا دیا اور کہا کہ یہ وادی مکہ کا نہیں بلکہ وادی بکا کا ذکر ہے اور عربی زبان میں بکا سے مراد رونا ہے۔ اسی طرح ان کی کتابوں میں مروہ کا ذکر بھی ملتا ہے کہ اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی دی۔ مروہ سے مراد تو وہی صفا اور مروہ پہاڑیاں ہیں مگر انہوں نے اس لفظ کو بگاڑ کر موریا بنا دیا۔ یہ بھی ان کی تحریف کا ایک شاہکار ہے۔
مقامِ ابراہیم
فرمایا بیت اللہ شریف وہ مقدس مقام ہے ’’فیہ اٰیات بیّنات‘‘ جس میں واضح نشانیاں ہیں۔ منجملہ ان کے ’’مقامِ ابراھیم‘‘ مقامِ ابراہیم ہے۔ مقامِ ابراہیم کا ایک معنی تو یہ ہے کہ اس جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد اسماعیل علیہ السلام کے لیے اقامت گاہ بنایا جیسا کہ سورۃ ابراہیم میں موجود ہے: ’’ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ۔۔۔ الخ‘‘۔ اے ہمارے پروردگار! میں اپنی اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس بے آب و گیاہ زمین میں آباد کرتا ہوں تاکہ وہ نماز قائم کریں، تیری عبادت کریں اور دنیا کے دل وہاں کھنچے ہوئے آئیں، اور انہیں پھلوں سے روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی ’’اطعمھم من جوع و اٰمنھم من خوف‘‘ اللہ نے انہیں بھوک سے نجات دی اور خوف سے امان بخشی۔ تو اس لحاظ سے اس میں بڑی واضح نشانیاں ہیں۔
عام مشہور یہ ہے کہ مقامِ ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ شریف تعمیر کیا تھا۔ خانہ کعبہ کی دیواریں جوں جوں اونچی ہوتی جاتی تھیں پتھر بھی خود بخود اوپر کو اٹھتا تھا، اور آپ اس پر کھڑے کھڑے تعمیر کا کام کرتے تھے۔ اس سخت پتھر پر اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کا نشان بھی نقش کر دیا، جس کا مشاہدہ دنیا بھر کے لوگ آج تک کر رہے ہیں۔ پہلے یہ پتھر ایک دوسری عمارت میں بند کر کے رکھا گیا تھا، موجودہ حکومت نے اس کو شیشہ میں بند کر کے بابِ رحمت کے سامنے مطاف میں رکھ دیا ہے، یہ دیکھنے والوں کو بخوبی نظر آتا ہے۔ سعودی حکومت نے شیشہ کا یہ خول ۳۵ لاکھ ریال میں امریکہ سے خصوصی طور پر تیار کروایا تھا، بیک وقت دو خول بنائے گئے تھے تاکہ ایک ٹوٹ جائے تو دوسرا وہاں رکھ دیا جائے۔ یہ خاص قسم کا شیشہ ہے جو موسی اثرات سے محفوظ رہتا ہے، بہرحال مقامِ ابراہیم اللہ کی واضح نشانیوں میں سے ہے۔
فری میسن تحریک اور اس میں شمولیت کا حکم
ادارہ
رابطہ عالمِ اسلامی کی مجلسِ فقہی نے شعبان ۱۳۹۸ھ میں فری میسن تحریک میں شمولیت کے سوال کا جائزہ لیا اور اس پر مجلس کی جانب سے ایک جامع تبصرہ تحریر کیا گیا۔ اس کا ترجمہ میرپور آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی کے قلم سے پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
حمد و ستائش خدائے بزرگ و برتر کے لیے ہے اور صلوٰۃ و سلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی آل و اصحاب پر اور جنہوں نے راہِ ہدایت اختیار کی ان پر۔ مجمع الفقہی الاسلامی نے فری میسن تحریک اور اس کی رکنیت اختیار کرنے کے بارے میں اپنے اجلاس میں غور و خوض کیا۔ اس ضمن میں اس تحریک کا تمام لٹریچر کھنگالا گیا جس کے نتیجہ میں مجلسِ فقہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ
- فری میسن تحریک ایک خفیہ تنظیم ہے جو حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ کبھی اپنی سرگرمیاں زیرزمین انجام دیتی ہے اور کبھی علی الاعلان۔ تاہم یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ دراصل یہ خفیہ تنظیم، اس کے ارکان بھی اس کی سرگرمیوں اور مقاصد سے بے خبر رہتے ہیں، حتٰی کہ اس تنظیم کے ایسے ارکان بھی اس کی خفیہ سرگرمیوں سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے جو سالہا سال سے اس کے رکن ہیں اور تنظیم میں ذمہ دار مناصب پر فائز ہیں۔
- اس کے تمام ارکان ظاہری طور پر پوری دنیا میں انسانی بھائی چارے کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے روابط برقرار رکھتے ہیں، اور بظاہر اس تنظیم میں تمام ادیان و مذاہب کے لوگ بلا لحاظ عقیدہ و دین شریک ہیں۔
- یہ تنظیم لوگوں کو مالی، سیاسی منفعت کا لالچ دے کر اپنے ممبران میں شامل کرتی ہے اور پوری دنیا میں ہر حالت میں اپنے ارکان کے سیاسی مفادات کے لیے کام کرتی ہے خواہ وہ باطل پر ہی کیوں نہ ہوں، لیکن ان کے نزدیک فری میسن کا ہر رکن بہرحال حق پر ہے چاہے وہ باطل پر ہی کیوں نہ ہو۔
- اس تنظیم کی ممبر شپ حاصل کرتے وقت ایسی مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں عجیب و غریب اشارات، علامات ہوتی ہیں۔ جن میں دہشت اور وحشت کے ایسے اسالیب اختیار کیے جاتے ہیں جن سے ممبر شپ حاصل کرنے والا شخص اولین مرحلے پر ہی ایسے خوف کا شکار ہو جاتا ہے کہ اگر اس نے کسی مرحلے پر بھی تحریک کے اسرار و رموز کو منکشف کیا تو اسے خوفناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
- اس تنظیم میں احمق اور بے وقوف قسم کے دیندار مجروں کو اپنے دین کے مطابق عبادت کی پوری آزادی دی جاتی ہے اور انہیں چھوٹے موٹے عہدے بھی دے دیے جاتے ہیں۔ تاہم ملحد اور بے دین اور دہریہ قسم کے ممبران مختلف ٹیسٹوں اور تجربات سے گزار کر اعلیٰ ترین مناصب پر فائز کر دیے جاتے ہیں تاکہ ان کی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک کے زیر انتظام جاری تخریب کاریوں کو تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
- یہ تحریک پوری دنیا میں سیاسی کھیل کھیلتی ہے اور اقوامِ عالم میں اکثر انقلابات اور ملکوں کے اندرونی فسادات اور شورشوں میں اس تحریک کا خفیہ ہاتھ کارفرما ہوتا ہے۔
- یہ تحریک دراصل صہیونی تحریک ہے جو یہودیوں نے ہی قائم کی ہے اور پوری دنیا میں یہ تحریک یہودیت کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔
- یہ تحریک خفیہ طور پر تمام ادیانِ عالم کو ملیامیٹ کرنے اور ان کی اصلی شکل بگاڑنے کے لیے قائم کی گئی ہے، جبکہ اس کا اصلی ہدف اسلام اور مسلمانانِ عالم کے خلاف سازشوں کے لیے جال تیار کرنا ہے۔
- اس تنظیم کا بنیادی منشور یہ ہے کہ ہر ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی، ادبی اور مالی اعتبار سے مستحکم شخصیات اور اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین کو قابو کیا جائے، تاکہ جس ملک میں جب چاہے اپنے مقاصد کے لیے انقلاب برپا کروا دے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم کی رکنیت کے لیے بادشاہوں، صدور اور عمائدینِ حکومت پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
- چونکہ یہ تنظیم خفیہ طور پر کام کرتی ہے اور لوگوں کی نظروں سے بچنے اور قانونی گرفت سے محفوظ رکھنے کے لیے اس تنظیم کے مختلف ادارے ظاہری ناموں سے کام کرتے ہیں، تاکہ فری میسن تحریک کو اگر کبھی کسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے تو یہ ادارے آزادی سے کام کرتے رہیں جو دراصل فری میسن کا دوسرا نام ہیں۔ ان میں سے دو ادارے ایسے ہیں جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، لائنز کلب اور روٹری کلب۔ ان کی تمام سرگرمیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہیں۔
مجمع الفقہی اس نتیجے پر پہنچا کہ فری میسن تحریک قطعی طور پر عالمی صہیونی تحریک ہے جو صرف اور صرف یہودی استعمار کی بین الاقوامی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس کا مقصد فلسطینی سرزمین کو یہود کے پنجہ میں دینا، عرب حکمرانوں کو گمراہ کرنا، مسلمان ممالک میں اسلامی نظام کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے، مقامی ایجنٹوں کی مدد سے شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرنا، فرقہ واریت کا زہر پھیلا کر باہمہ گر مسلمانوں میں کشت و خون کا بازار گرم کرنا، مسلمانوں کی دفاعی قوت کو کمزور کرنے کے لیے مسلمانوں کی دفاعی افواج میں افراتفری اور فکری انتشار پیدا کرنا، اس کے اہم اہداف ہیں۔
لہٰذا جو شخص ان مقاصد کو جانتے ہوئے اس تحریک میں شامل ہو کر کام کرے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، البتہ اگر کسی شخص کو ان مقاصد کا علم نہ ہو اور وہ رکن بن جائے تو وہ گناہگار ہو گا۔
دستخط
محمد علی الحرکان — وائس پریزیڈنٹ، سیکرٹری جنرل رابطہ عالمِ اسلامی
عبد اللہ بن حمید — صدر مجلس، صدر سپریم جوڈیشل کونسل، سعودی عرب
اراکین
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز (رئیس ادارت الجرث العلمیہ والافتاء والدعوۃ والارشاد، سعودی عرب)۔ محمد محمود الصواف ۔ صالح بن عسیمین۔ محمد بن عبد اللہ السبیل۔ محمد رشید قبانی۔ عبد القدوس ہاشمی۔ مصطفٰی الزرقا۔ محمد رشیدی۔ ابوبکر کوی۔
چیچن مسلمانوں کے جہادِ آزادی کا پسِ منظر
زیلم خان پاندرے
چیچنیا کی موجودہ تحریکِ آزادی کا آغاز علمی و ادبی حلقے سے ہوا۔ مجھے ایک ادیب اور شاعر ہونے کے ناطے علمی و ادبی حلقوں میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا اور آپس کی گفتگو میں روسی مظالم اور چیچن قوم کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور اسلامی تشخص، جسے روس مٹانے پر تلا ہوا تھا، موضوع بحث بنتے رہے۔ یہی وہ فکر، سوچ اور جذبہ تھا جس نے ہمیں آگے بڑھ کر اپنی ثقافت کے تحفظ اور اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے پر ابھارا۔
میں یونین آف رائٹرز فورم کا ممبر تھا اور ہمیں شاعری، نثر اور دیگر ادبی کتب کی تیاری اور اشاعت کا کام کرنا ہوتا تھا۔ اس فورم کے تحت اشتراکی نظریات کے پرچار کے لیے لٹریچر تیار کیا جاتا تھا۔ ہم نے شاعری، نثر اور دیگر ادبی اصناف میں اشتراکی نظریات کی آڑ میں چیچن انگش قوم کی تاریخِ حریت، ثقافت، تہذیب و تمدن اور ملی شعور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ وطن سے محبت، حریتِ فکر، سچائی، دیانت داری اور عزت سے جینے اور آزادی کی سوچ دینے کی کوشش کی۔ اس میں اشتراکی نظریات کا پرچار بھی ہوتا تھا مگر یہ سب راہ ہموار کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ اس لٹریچر کے نتیجے میں چیچن قوم میں آزادی اور قومی تشخص کے لیے ایک تڑپ پیدا ہونے لگی۔
یہ ۱۹۷۵ء کی بات ہے۔ آہستہ آہستہ یونین آف رائٹرز فورم سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنتا چلا گیا۔ ہم چونکہ یہ کام بہت محتاط طریقے سے کر رہے تھے اس لیے ایک مدت تک کمیونسٹ پارٹی اور حکومت کو ہماری سرگرمیوں کا پتا نہ چل سکا۔ پھر حکومت کو کچھ شبہ ہوا تو اس نے اقدامات اٹھانا شروع کیے اور کے جی بی کے ذریعے کاروائیاں بھی کی گئیں۔
ہماری اس جدوجہد کے نتیجے میں عوام میں یہ سوچ جڑ پکڑنے لگی کہ کمیونسٹ پارٹی چیچن قوم کی دشمن ہے۔ یہ چیچن تہذیب و ثقافت اور ملی تشخص کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ یہی سوچ قومی سوچ کا رخ اختیار کرتی چلی گئی، اسی طرح سے یہ کوشش قومی تشخص اجاگر کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ اس وقت ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ کام سیاسی بیداری کا ذریعہ بن جائے گا، ہمیں اس کی زیادہ توقع نہیں تھی۔ ہماری توقع سے بڑھ کر کام ہو گیا، پھر وہ وقت بھی آیا کہ ۱۹۷۹ء میں براہ راست حکومت اور چیچن انگش تصادم شروع ہو گئے۔
۱۹۸۹ء میں گوربا چوف کی گلاس ناسٹ اور پرسٹرائیکا اصطلاحات کے نتیجے میں کچھ سیاسی آزادی میسر آئی۔ سیاسی جماعتیں بنانے کی آزادی بھی مل گئی۔ چنانچہ ۱۹۸۹ء میں ماسکو سے واپسی پر میں نے وائی ناخ ڈیمو کریٹک پارٹی کی بنیاد ڈالی جسے ہم لوگ وائی ناخ جماعت کہتے تھے۔ پارٹی کے بنیادی مقاصد چیچن انگش قوم کو روس سے علیحدہ کرنا، آزادی حاصل کرنا اور اسلامی جمہوری نظام کا نفاذ تھا۔
۱۹۹۰ء تک یہ صورتحال تھی کہ چیچنیا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ۷۰ فیصد تک روسی قابض تھے اور باقی ۳۰ فیصد پر چیچن انگش تھے۔ اس سے چیچن قوم میں روس سے نفرت پیدا ہو گئی اور ظلم و ستم کا احساس شدت پکڑنے لگا۔
۱۹۵۸ء میں جلاوطنی کے بعد جب ہم لوگ واپس اپنے وطن آئے تو گروزنی شہر میں ہمارے خلاف مظاہرے ہوئے کہ ہمیں نکالا جائے اور واپس بھیجا جائے، مظاہرین در پردہ روسی تھے۔ ۱۹۷۳ء میں انگش قوم کے جو علاقے واپس نہیں کیے جا رہے تھے ان کے لیے مظاہرے شروع ہوئے۔ مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا، گرم پانی پھینکا گیا اور دیگر حربے استعمال کیے گئے۔ اس طرح سے یہ ظلم ستم کا سلسلہ چلتا رہا۔ عالم یہ تھا کہ جو بھی ادیب یا شاعر روس کے خلاف بات کرتا، اسے ستایا جاتا اور نوکری سے بھی نکال دیا جاتا۔
۱۹۹۰ء تک کوئی بھی چیچن انگش باشندہ اس ریاست کا سربراہ یا کسی نمایاں عہدے پر تعینات نہیں تھا۔ اگر کوئی چیچن نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی ریاست میں نوکری چاہتا تو اسے یہاں ملازمت نہ دی جاتی بلکہ روس بھیج دیا جاتا تاکہ روسی ثقافت میں ضم ہو جائے اور قومی تشخص نہ ابھر سکے۔ حتٰی کہ جو نوجوان دس پندرہ سال کی ملازمت کے بعد بھی چیچنیا اپنی ریاست میں واپسی یا تبادلے کے لیے کہتے تو ان کا تبادلہ نہ کیا جاتا اور ان کے بجائے روسی افسر نامزد کیے جاتے۔ اگر نوجوان اپنی ثقافت، روایات، اسلامی تشخص کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے تو انہیں نوکری سے نکال دیا جاتا اور جیل بھیج دیا جاتا۔ یہ سب ظالمانہ اقدام چیچن قوم کے تشخص کو مٹانے اور ان کی آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے کیے جاتے رہے۔ یہ ان مظالم کی ایک معمولی جھلک ہے جو روسی، چیچن قوم پر ڈھاتے رہے۔ تمام تر مظالم کے باوجود روسی، چیچن عوام کے دل سے جذبۂ جہاد اور آزادی کی تڑپ نہ نکال سکے۔
چیچن لوگ کس قسم کے عزم و ہمت کے مالک ہیں اور روسی ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ روس میں جبری فوجی ملازمت کے دوران چیچن نوجوان روسی افسروں سے قطعاً نہ ڈرتے تھے بلکہ اپنے رعب و دبدبے سے ان سے اپنے کپڑے حتٰی کہ موزے تک دھلوا لیا کرتے تھے، چاہے اس کے نتیجے میں انہیں کتنی ہی سزا کیوں نہ بھگتنا پٍڑتی۔ یہ بات مشہور تھی کہ ایک فوجی دستے میں دو چیچن نہیں ہونے چاہئیں، ایک ہی بہت ہوتا ہے۔ اگر کسی دستے میں دو چیچن سپاہی ہو جاتے تو وہ سب پر حاوی ہو جاتے۔ شاید روس کے موجودہ وزیراعظم سے کسی چیچن نے ایسا ہی سلوک کیا ہو جو وہ آج بدلہ لے رہا ہے۔
چیچنیا کی تحریکِ آزادی اسی طرح آگے بڑھتی رہی۔ ہم نے کبھی روسی قانون کو تسلیم نہیں کیا، ہمارے علاقوں میں اپنا قانون تھا۔ ہم نے اسلامی شریعت نافذ کر رکھی تھی۔ جو بھی روسی قانون ہوتا ہمارے قبائل اسے شریعت کے مطابق پاتے تو قبول کر لیتے وگرنہ رد کر دیتے تھے۔ گویا ہماری قوم نے روسیوں اور روسی نظام کو ذہنی طور پر کبھی بھی قبول نہ کیا اور نہ ہی تسلیم کیا۔
اس تحریک کو وائی ناخ جمہوری پارٹی کنٹرول کرتی رہی۔ پھر وہ مرحلہ بھی آیا کہ جہاں کہیں کسی روسی نے کسی چیچن پر ظلم کیا، کسی عورت سے بدسلوکی کی گئی تو لوگ گھروں سے نکل آتے، مظاہرے کرتے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے اور انتظامیہ کے ساتھ تصادم بھی ہوتا۔ اس طرح بتدریج یہ تحریک ایک قومی تحریک میں بدل گئی۔ پوری قوم کی ایک ہی آرزو تھی کہ روس سے نجات اور آزادی حاصل کی جائے۔
نومبر ۱۹۹۰ء میں وائی ناخ ڈیموکریٹک پارٹی نے پوری چیچن قوم کی نمائندگی کے لیے نیشنل کانگرس بلائی، اس میں حکمران پارٹی کے لوگ بھی شریک ہوئے۔ کانگرس میں چیچنیا کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ حکومت نے بھی قومی دباؤ کے پیشِ نظر اس قرارداد کی تائید کی اور چیچنیا کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ انہیں خدشہ تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قوم اٹھ کھڑی ہو گی۔ ماسکو نے اس فیصلے پر تنقید تو کی لیکن کوئی ایکشن نہ لیا۔ ان کا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات دب جائے گی۔
ایک سال کے اندر اندر چیچن عوام کے دباؤ میں اس قدر اضافہ ہوا کہ حکومت مفلوج ہو کر رہ گئی۔ حکومت نے آزادی کا اعلان تو کیا مگر وہ چالبازی کر رہے تھے اور ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ عملاً حکومت نیشنل کانگرس کے ہاتھ آ گئی تھی۔
۲۷ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو چیچن انگش پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوئے۔ اس کے بعد انگش باشندوں نے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا، وہ روسی حکومت کے تحت ہی رہنا چاہتے تھے، ہم نے بھی انہیں مجبور نہ کیا۔ اس طرح سے پہلی چیچن پارلیمنٹ وجود میں آ گئی اور جوہر داؤد صدر بن گئے۔ اس وقت میں پارلیمنٹ کا رکن تھا۔ پھر ۱۹۹۳ء میں مجھے نائب صدر کے لیے چن لیا گیا۔
ان انتخابات کے بعد روس سے کئی بار بات چیت، مذاکرات ہوئے اور آزادی کی بات ہوئی۔ یورپ کے کچھ ممالک مثلاً فن لینڈ، جارجیا، آرمینیا، لتھونیا، اسٹونیا وغیرہ بھی ہماری آزادی کے حق میں تھے۔ اسی بنا پر ہم نے اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک سے درخواست کی کہ وہ ہماری آزادی تسلیم کر لیں۔ اقوامِ متحدہ کو ۷۶ مختلف دستاویزات بھیجی گئیں کہ وہ ہماری آزادی اور قانونی حیثیت کو تسلیم کریں۔ جبکہ ۱۲ مارچ ۱۹۹۲ء کو چیچن پارلیمنٹ سے ملک کا دستور بھی منظور کیا جا چکا تھا۔ خاص طور پر یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ یہ آزادی سیاسی طور پر حاصل کی گئی تھی، کسی جنگ و جدل یا غیر سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے حاصل نہیں کی گئی تھی۔
جون ۱۹۹۲ء میں چیچنیا سے تمام روسی افواج کو نکال باہر کیا گیا۔ یہ ایک تاریخ ساز واقعہ تھا کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ سوویت یونین کی کسی ریاست سے یا دنیا کے کسی ملک سے روسی فوجوں کو اس طرح سے نکالا گیا ہو۔ اس کے بعد پھر دیگر بالٹک ریاستوں سے روسی فوجیں نکلی تھیں۔ اس دوران روس سے کئی بار مذاکرات ہوئے جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آئینی اور دستوری لحاظ سے ہمیں ایک دوسرے کو تسلیم کر لینا چاہیے، مگر روس اس کے لیے تیار نہ تھا۔
چیچنیا کی آزادی کے بعد روس نے ہماری آزادی کو تسلیم کرنے کی بجائے سازشیں شروع کر دیں۔ کے جی بی کے ذریعے دہشت گردی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ہماری اہم تنصیبات کو دھماکوں سے اڑایا گیا۔ جوہر داؤد پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے جن میں ہمارے کئی وزیر ہلاک ہو گئے۔ مجھ پر بھی حملہ کیا گیا۔ روس تخریب کاری اور دہشت گردی سے اس ریاست کو ختم کر دینا چاہتا تھا۔ اس کام کے لیے اس نے چیچن باشندے اور اپنے تخریب کار بھی استعمال کیے۔ روسی حکومت نے کئی مرتبہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں کیں لیکن ہر دفعہ ان کو ناکامی ہوئی۔ روس نے سیاسی طور پر انتشار پھیلانے کی کوشش بھی کی اور ایک مصنوعی اپوزیشن گروپ اسمبلی میں بنا کر اپنے مقاصد پورے کرنا چاہے۔
جب ان تمام کوششوں میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو ۲۶ نومبر ۱۹۹۴ء کو ریگولر آرمی کو چیچن باشندوں کے لباس اور بہروپ میں چیچنیا میں داخل کر دیا۔ گروزنی پر یہ حملہ صبح سویرے کیا گیا مگر دوپہر تک اس حملے کو پسپا کر دیا گیا۔ تقریباً دو سو فوجی گرفتار کیے گئے۔ ۶۰ حملہ آور ٹینکوں میں سے ۱۰ صحیح سلامت پکڑ لیے گئے اور باقی تباہ کر دیے گئے۔ اس ناکامی کے بعد روس نے اسے تختہ الٹ دینے کی اندرونی سازش قرار دیا۔ اس پر ہم نے گرفتار روسی فوجیوں کو ٹی وی پر دکھایا اور ان کی تصاویر جاری کر دیں۔ اس سازش کے بے نقاب ہو جانے پر اور عالمی سطح پر شرمندگی سے بچنے کے لیے روس نے مختلف روسی سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کے ذریعے درخواست کی کہ گرفتار فوجیوں کو چھوڑ دیا جائے۔ مذاکرات کے نتیجے میں روسی حکومت نے وعدہ بھی کیا کہ آئندہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔ مگر جیسے ہی قیدی واپس کیے گئے روس وعدے سے پھر گیا۔ چیچن فوج کو ہتھیار ڈالنے اور روس کے وفاق کا پابند رہنے کو کہا گیا اور حملے کا الٹی میٹم دے دیا۔
بالآخر ۱۱ دسمبر ۱۹۹۴ء کو دوبارہ حملہ کر دیا گیا۔ جوہر داؤد نے مذاکرات کی کئی بار کوشش کی، اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں کو روسی جارحیت پر متوجہ کیا مگر بے سود رہا۔ اس جنگ میں ایک لاکھ بیس ہزار چیچن باشندے کام آئے جبکہ مکانات، عمارات اور ہسپتال تک تباہ و برباد کر کے رکھ دیے گئے۔ جوہر داؤد کی شہادت کے بعد صدارت کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔
۲۷ مئی ۱۹۹۶ء کو ماسکو میں صدر یلسن اور میرے درمیان عالمی پروٹوکول کے مطابق مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں یہ بات طے پائی کہ لڑائی بند کی جائے۔ یہ مذاکرات یورپی یونین کی کوششوں سے ممکن ہوئے تھے۔ کچھ دن کے امن کے بعد روس نے اپنے تمام تر وعدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پھر لڑائی شروع کر دی۔ اس دوران ہم نے چیچنیا میں اسلامی نظامِ شریعت بھی نافذ کر دیا۔ روس نے گروزی پر ایک بار پھر قبضہ کر لیا۔ روس نے ایک ماہ سے زائد مدت میں یہ قبضہ کیا تھا مگر کچھ عرصے کے بعد ہم نے صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر گروزنی آزاد کروا لیا۔
یورپی یونین کے تعاون سے ۳۱ دسمبر ۱۹۹۶ء کو ایک بار پھر روس اور چیچنیا کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں روس کو اپنی فوج نکالنا پڑی۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ چیچنیا میں ازسرنو انتخابات کروائے جائیں تاکہ ایک منتخب حکومت بنے جسے روس تسلیم کرے گا۔ روسی حکومت گزشتہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی تھی۔
جنگ کی تباہی کے بعد انتہائی کٹھن حالات میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوتا تھا مگر ہم نے امن کی خاطر نئے انتخابات بھی کروائے۔ یہ انتخابات چیچنیا کے دستور کے تحت ہوئے تھے جنہیں دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا۔ ان آزاد انتخابات کا روس سمیت عالمی اداروں اور یورپی نمائندوں کی ایک بڑی ٹیم نے براہ راست مشاہدہ کیا اور منصفانہ قرار دیا۔ روسی حکومت نے ارسلان مسخادوف کو باقاعدہ صدر بننے پر مبارکباد دی۔ اس کے بعد یلسن اور ارسلان مسخادوف کے درمیان ماسکو میں مذاکرات ہوئے جس کے تحت ایک معاہدہ امن پر دستخط بھی ہوئے۔ یہ معاہدہ ۱۲ مئی ۱۹۹۷ء کو ماسکو میں ہوا۔ اس طرح سے قانونی طور پر یہ بات واضح ہو گئی کہ روس نے چیچنیا کو تسلیم کر لیا ہے۔
اس لحاظ سے اگر آئینی، دستوری اور دنیا کے مُسلّمہ اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو روسی فوجوں کے انخلا کے بعد چیچنیا کے دستور کے تحت منصفانہ انتخابات کا ہونا، جنہیں روس نے عالمی سطح پر تسلیم کیا ہو، اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ چیچنیا ایک خودمختار اور بااختیار ریاست ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ ہم نے اقوامِ متحدہ اور دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک سے درخواست کی کہ چیچنیا کی حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ مگر روس نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درپردہ اپنے سفارتکاروں کے ذریعے مختلف ممالک پر دباؤ ڈالا جنہوں نے روس کے خوف کی وجہ سے ہمیں تسلیم نہ کیا۔
اگر غور کیا جائے تو اس لحاظ سے گزشتہ دس برس سے چیچنیا ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔ ہم نے تمام تر جدوجہد آئینی اور قانونی اصولوں کے مطابق کی ہے۔ روس سے متعدد معاہدے بھی کیے ہیں جن سے وہ پھرتا رہا ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کے ممالک ہمیں تسلیم نہ کریں۔ مسلمان ممالک کا تو فرض ہے کہ اس جارحیت اور ظلم و ناانصافی کے پیش نظر ہمیں نہ صرف تسلیم کریں بلکہ ہماری اخلاقی و مادی مدد بھی کریں۔ پاکستان جس کا عالمِ اسلام میں ایک منفرد مقام ہے، اس سے ہماری خاص طور پر اپیل ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور حکومتِ پاکستان ہماری حکومت کو تسلیم کرے۔ مگر ہمیں افسوس ہے کہ مسلم ممالک بھی جرأت کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور امریکہ یا دیگر ممالک سے خوفزدہ ہیں۔
آج امتِ مسلمہ کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ مختلف سمتوں میں بٹی ہوئی اور منتشر ہے۔ امت کے سامنے کوئی واضح حکمتِ عملی اور ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہے۔ مسلمان حکمران امریکہ، روس یا مختلف طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، جبکہ اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے خلاف متحد ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ جاری ہے۔ چیچنیا، بوسنیا، کوسووو، کشمیر، فلسطین، سوڈان اور مشرقی تیمور اس بات کے کھلے ثبوت ہیں۔ یہودی، عیسائی، ہندو سب مل کر مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہیں، مگر یہ حکمران کوئی سبق سیکھنے کی بجائے الٹا مسلمانوں کے خلاف ان قوتوں کی ہی مادی امداد کر رہے ہیں، یہ بات انتہائی افسوسناک ہے۔
اگر یہی مایوس کن صورتحال رہی تو اس بات کا خدشہ ہے کہ جس طرح آج چیچنیا پر جارحیت کی گئی ہے، اگر ایک چیچنیا ختم ہو گا تو دس چیچنیا سامنے آئیں گے، ایک کشمیر ختم ہو گا تو کئی کشمیر سامنے آئیں گے، ایک فلسطین ختم ہو گا تو کئی فلسطین سامنے آئیں گے۔ اسلام دشمن قوتیں جو چاہتی ہیں کر گزرتی ہیں۔ انہیں انڈونیشیا کو کمزور اور تقسیم کرنا تھا تو مشرقی تیمور کا مسئلہ پیدا کر دیا۔ مسلمان حکمران امریکہ کے آگے سر بہ سجود ہیں۔ اگر اس روش کو نہ بدلا گیا تو آپ بہت جلد دیکھیں گے کہ قازقستان کے ایک بڑے حصے پر روس قبضہ کر لے گا۔ پاکستان کو بھی بہت سے خطرات کا سامنا ہے، اسے بھی کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ آج ایک معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ مسلمان حکمران امریکہ، روسی اور یورپ کے آگے سجدہ ریز اور ان کے غلام ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں صرف دو ممالک ہی آزاد ہیں۔ ایک چیچنیا اور دوسرا افغانستان، جنہوں نے جرأت مندانہ موقف اپنایا ہے اور اس کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ دیگر مسلم ممالک میں پاکستان کسی حد تک آزاد ہے۔ عراق روس پر انحصار کرتا ہے، ایران بھی روس کے رحم و کرم پر ہے، جبکہ سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک بھی امریکہ کے زیراثر ہیں۔
ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم اس ذلت کا کیوں شکار ہیں؟ یہ اس لیے کہ ہم نے اللہ کے راستے کو چھوڑ دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمارے لیے ایک قرآن اور ایک امتِ مسلمہ کو چھوڑ کر گئے تھے مگر ہم نے قرآن کو بھی چھوڑ دیا اور امت کے اتحاد کو بھی پارہ پارہ کر دیا۔ یہ ساری ذلت و پستی اسی روش کا نتیجہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان متحد ہو کر ازسرنو خلافت کے احیا کی کوشش کریں۔ اگر تمام مسلمان ممالک نہیں تو کم از کم چند ممالک بالخصوص پاکستان اور افغانستان باہمی اتحاد سے اس صورتحال کا مقابلہ کریں۔ پاکستان آج ایک ایٹمی طاقت ہے، وہ امتِ مسلمہ کی امامت کا فریضہ بہتر انداز میں ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کو ٹھوس لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔ پاکستان اور افغانستان مل کر اسلامی فوج تشکیل دیں اور دنیا پر یہ واضح کر دیں کہ جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلوک روا رکھا گیا یا جارحیت یا دہشت گردی کی گئی تو ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ یہ جرأت مندانہ موقف اپنانے کی اس لیے بھی ضرورت ہے کہ پوری امتِ مسلمہ کی یہ دل کی آواز ہے۔ مسلمان اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ ضرورت صرف عزم و حوصلے کی ہے۔ یہ صرف اللہ پر پختہ ایمان و یقین اور جہاد کا راستہ اپنانے ہی سے ممکن ہو گا۔ جو قومیں سر اٹھا کر چلنے کا عزم رکھتی ہیں وہی دنیا میں جینے کا بھی حق رکھتی ہیں۔ چیچنیا نے اپنے لیے اسی راستے کو منتخب کیا ہے۔
(بہ شکریہ ماہنامہ ترجمان القرآن، لاہور)
عالمی منظر
ادارہ
عالی جاہ محمد کے پیروکاروں نے کلمہ طیبہ پڑھنے کا اعلان کر دیا
واشنگٹن (ریڈیو رپورٹ) امریکہ کے نام نہاد مسلمان ’’نیشن آف اسلام‘‘ نامی فرقے کے لیڈر لوئیس فرح خان نے اہلِ سنت مسلم امریکن سوسائٹی کے لیڈر وارث دین محمد کے ساتھ نماز ادا کر کے اعلان کیا کہ وہ اور ان کے ہزاروں پیروکار اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے ہیں اور اب وہی کلمہ طیبہ پڑھیں گے جو دنیا کے ایک ارب مسلمان پڑھتے ہیں۔ اس سے پہلے نیشن آف اسلام اور اس کے لیڈر لوئیس فرح خان کا ایمان تھا کہ خدا تنظیم کے بانی ڈبلیو ای فرح کے روپ میں اپنے شاگرد عالی جاہ محمد کے ساتھ آیا۔ لوئیس فرح خان پیشہ ور گلوکار تھے، وہ قرآن پاک نہایت خوش الحانی سے پڑھتے ہیں۔ انہوں نے دس لاکھ سیاہ فام مسلمانوں کا تاریخی اجتماع کیا تھا۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۴ مارچ ۲۰۰۰ء)
دہلی میں مسلمانوں کا مظاہرہ
نئی دہلی (اے ایف پی) گزشتہ روز یہاں ہزاروں مسلمانوں نے یو پی کی اسمبلی میں پیش آنے والے اس بل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے تحت عبادت گاہیں تعمیر کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد پچاس ہزار سے زائد مسلمانوں نے وزیراعظم ہاؤس تک مارچ کیا اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے جامع مسجد کے نائب امام سید احمد بخاری نے کہا کہ بھارتی آئین میں نہ صرف مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے بلکہ ہر شخص کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا بھی حق حاصل ہے، مگر مذکورہ بل اس حق کو غصب کر لے گا اس لیے اسے فوری طور پر واپس لے لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت ایسی حرکتیں کرنے سے باز نہ آئی تو اس سے بھارت کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے گا۔ اس سے قبل مسلم عمائدین کے ایک وفد نے بھارتی صدر سے بھی ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اس طرح کا قانون پاس کرنے کی مزاحمت کریں۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۴ مارچ ۲۰۰۰ء)
اسرائیل میں عرب دوسرے نمبر کے شہری
اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی پارلیمنٹ (کیبنٹ) نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت اسرائیل میں رہنے والے عرب باشندے اسرائیل کے شہری نمبر ۲ ہیں۔ ان کو ایک نمبر شہری کی سہولیات دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ لیکوڈ پارٹی کی طرف سے ایک بل پیش کیا گیا ہے جس میں شام کے ساتھ مذاکرات کے لیے ریفرنڈم کرانے کے لیے کہا گیا ہے اور اس کو ۵۱ فیصد ووٹ سے منظور کر لیا گیا ہے۔ یہودیوں کی بنیاد پرست پارٹی شاش نے بھی اس بل کی حمایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عرب باشندوں کو اس میں شامل نہ کیا جائے تاکہ صحیح رائے سامنے آ سکے۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۔ ۴ مارچ ۲۰۰۰ء)
انڈونیشیا میں اسلامی جماعتوں کے اتحاد کا پہلا مظاہرہ
جکارتہ (انٹرنیشنل ڈیسک) انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ملک بھر کی ممتاز اسلام پسند جماعتوں کی مشترکہ ریلی منعقد ہوئی جس نے بعد میں اجتماع کی صورت اختیار کر لی۔ اسلامی جماعتوں کی طرف سے اتحاد کا یہ حیران کن مظاہرہ جکارتہ فٹ بال اسٹیڈیم میں دیکھا گیا جہاں تقریباً ۶۰ ہزار سے زائد اسلام پسندوں کی نعرہ تکبیر سے فضا گونج رہی تھی۔ ریلی میں پارلیمنٹ کے سپیکر اور ممتاز اسلام پسند رہنما امین رئیس کے علاوہ درجن بھر رہنما تھے۔ ریلی کے منتظم اور ممتاز سرگرم اسلام پسند رہنما عمر الحامد نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ریلی کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں تاہم یہ اسلام پسندوں کو متحد کرنے کی پہلی کامیاب کوشش ہے۔
(ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد ۔ ۲۵ فروری ۲۰۰۰ء)
کوسوو میں مسلمانوں کا امریکہ کے خلاف مظاہرہ
پرسٹینا (مانیٹرنگ ڈیسک) کوسوو کے دارالحکومت پرسٹینا میں گزشتہ روز ہزاروں مسلمانوں نے امریکہ اور نیٹو کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کوسوو میں تعینات ایک امریکی فوجی کی طرف سے سربوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی ایک مسلمان لڑکی کی لاش کے ساتھ زیادتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے مذکورہ امریکی فوجی کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے دوران کوسوو کے فساد زدہ شہر میٹرووتسا میں حالیہ مسلم سرب فسادات کے دوران سربوں کی پشت پناہی کرنے پر نیٹو افواج کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی اور نیٹو افواج کی مقامی قیادت تبدیل کرنے اور اسے نگران کونسل کے ماتحت کرنے کا مطالبہ کی۔ مظاہرے میں ہزاروں مرد و خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔
(ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد ۔ ۲۵ فروری ۲۰۰۰ء)
مصر میں طلاق کے مقدمات کی بھرمار
قاہرہ (اے ایف پی) مصر میں خواتین کو طلاق کا حق دینے کا نیا قانون نافذ ہو گیا ہے۔ قانون نافذ ہونے کے دوسرے دن ہی طلاق کے لیے مقدمات میں زبردست اضافہ شروع ہو گیا ہے۔ طلاق کے لیے ایک دن میں معمول کی جتنی درخواستیں آ رہی تھیں ان سے دگنی آنے لگی ہیں۔ طلاق کے لیے گزشتہ روز جو ۲۰ درخواستیں آئی تھیں وہ نئے قانون کی بنیاد پر تھیں۔ نئے قانون کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ساتھ ناچاقی پر طلاق لے سکتی ہے۔ طلاق کے بدلے میں اسے تمام مالیاتی حقوق سے دستبردار ہونا پڑتا ہے حتٰی کہ شوہر سے وصول کیا گیا حق مہر اور بری بھی واپس کرنا پڑتی ہے۔
(روزنامہ پاکستان، لاہور ۔ ۳ مارچ ۲۰۰۰ء)
اسلام فرانس کا دوسرا بڑا مذہب بن گیا
اسلام آباد (خبری ذرائع) اسلام آباد میں متعین فرانس کے سفیر نے اعتراف کیا ہے کہ اسلام فرانس کا دوسرا سب سے بڑا مذہب بن گیا ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد ۴۵ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ واضح رہے کہ فرانس میں اسلام کی تیزی سے پھیلتی ہوئی مقبولیت اس کے باوجود ہے کہ سرکاری سطح پر اسلام اور مسلمانوں سے بھرپور تعصب برتا جاتا ہے اور فرانس کی اسلام سے بغض و عناد کی تاریخ طویل ترین ہے۔
(ہفت روزہ ضرب مومن، کراچی ۔ ۳ تا ۹ مارچ ۲۰۰۰ء)
اسامہ بن لادن کا نیٹ ورک
واشنگٹن (انٹر نیوز) امریکی سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینٹ نے کہا ہے کہ امریکہ کو مطلوب اسامہ بن لادن کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی کوئی سمت نہیں ہے۔ اس کی تمام صلاحیتیں انہی کاروائیوں پر صرف ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ نے دہشت گردی کا ایک نیٹ ورک بنایا ہوا ہے جو آج بھی موجود ہے اور وہ پورے پلاننگ کے ساتھ کاروائیاں کرتے ہیں۔ ۱۹۹۸ء میں دو امریکی سفارت خانوں میں دھماکہ بھی ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس میں ۲۲۰ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
(روزنامہ انصاف، لاہور ۔ ۳ مارچ ۲۰۰۰ء)
نائیجیریا میں مسلم مسیحی فسادات
لاگوس (آن لائن) نائیجیریا میں عیسائی اور مسلمان باشندوں کے درمیان جاری خونریز لڑائی میں ۵۰۰ سے زائد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ فسادات کا مرکز عبا نامی شہر ہے۔ ایک پولیس ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجی دستوں اور سکیورٹی ایجنسیوں نے امن و امان کی صورت حال کو کسی حد تک کنٹرول کر لیا ہے تاہم اب بھی مختلف علاقوں سے چھوٹے پیمانے پر فسادات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ انہیں انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ دو تین روز سے جاری ملک کے بدترین نسلی اور مذہبی فسادات میں ایک اندازے تک ۵۰۰ سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ عبا اور قریبی شہروں میں عینی شاہدین کے مطابق ان شہروں کے مختلف علاقوں میں جا بجا لاشیں بکھری پڑی نظر آتی ہیں۔
(روزنامہ انصاف، لاہور ۔ ۳ مارچ ۲۰۰۰ء)
کینیڈا کی ریاست میں سکھ وزیراعظم
(واشنگٹن) کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا میں ایک سکھ نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ۵۲ سالہ اجل سنگھ نے صوبہ میں حکمران جماعت نیو ڈیموکریٹس میں قیادت کی دوڑ میں کامیابی کے بعد گزشتہ روز صوبے کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ برٹش کولمبیا کے ۳۳ویں وزیراعظم ہیں۔
حلف برداری کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوشگوار بات ہے۔ اجل سنگھ ۳۵ سال قبل ۱۷ سال کی عمر میں بھارت سے ہجرت کر کے کینیڈا آئے تھے۔ انہوں نے ۴۰۰ سے زائد مہمانوں کے سامنے اپنے نئے وطن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میرے لیے بہت اچھا ثابت ہوا ہے۔ حلف برداری کے موقع پر ان کی بیوی اور تینوں بچے بھی موجود تھے۔ اجل سنگھ نے مزید کہا کہ وہ اپنے صوبے کے عوام کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ہم ایک سرے سے دوسرے تک متحد ہیں۔ وزارتِ عظمٰی کا حلف سنبھالنے سے قبل اجل دوسنج صوبے کے اٹارنی جنرل تھے اور اگلے منگل کو وہ اپنی کابینہ کا اعلان کریں گے۔
اخبار ’’ٹورنٹو سٹار‘‘ کے مطابق دوسنج کو سیکنڈل زدہ صوبے برٹش کولمبیا میں حکومتی امور چلانے کے لیے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہو گا۔ اجل دوسنج کی حلف برداری کی تقریب ایک ناچ گھر میں ہوئی۔ اس موقع پر بھارت کے روایتی کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی جبکہ روایتی پگڑیاں پہنے فنکاروں نے ستار اور ڈھول پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۷ فروری ۲۰۰۰ء)
چیچن مسلمانوں کا قتلِ عام اور امریکی ادارے
واشنگٹن (کے پی آئی) امریکہ کی حقوقِ انسانی کی ایک تنظیم نے چیچنیا میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے تین واقعات کی رپورٹ کانگریس میں پیش کر دی ہے۔ رپورٹ پیش ہونے کے بعد ری پبلکن اور ڈیموکریٹک سینیٹروں نے امریکی انتظامیہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلنٹن انتظامیہ چیچنیا میں روسی مظالم بند کرنے کے بجائے دوسرے امور پر توجہ دے رہی ہے۔
سینیٹر جاسف اوبیڈن نے کہا کہ کلنٹن انتظامیہ ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاملے کو اہمیت دے کر چیچنیا میں روسی فوجی مظالم سے نگاہ پھیر رہی ہے۔
امریکی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جس ٹائمز نے کہا کہ روس کے حق میں امریکی حکام کے بیانات پر اسے شرمندگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیچن جانبازوں کے خلاف فوجی کاروائی کو دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کہنے والے انسانیت پر ظلم کر رہے ہیں۔
سینیٹر بیڈن نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کو ریڈیو لیبرٹی کے رپورٹر ہپٹسکی کی رہائی میں بری طرح ناکامی ہوئی ہے۔
حقوقِ انسانی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے اہلکار پیٹر بوکیرٹ نے خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ روسی فوج نے الدمی میں ۶۲ سے زیادہ بے گناہ چیچن باشندوں کو شہید کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ گلیوں اور صحنوں میں روسی فوج کو اپنے دستاویزات دکھا رہے تھے۔ بوکیرٹ نے کہا کہ انہوں نے الدمی اور دیگر قتل عام کے دو واقعوں کی تفصیلات ان افراد سے حاصل کی ہیں جو حملوں اور فائرنگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۴ مارچ ۲۰۰۰ء)
برمنگھم میں اسلامی کتابوں کی دوکان پر چھاپہ
برمنگھم۔ انگلینڈ (ا ف پ) برطانوی پولیس نے برطانیہ سے باہر دہشت گردی کے واقعات کے سلسلے میں یہاں ایک اسلامی لٹریچر والی ایک دکان اور کئی مکانوں کی تلاشی لے کر ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر بھاری تعداد میں نقدی، دستاویزات اور الیکٹرانک آلات پر قبضہ کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق انکوائری چند دنوں میں مکمل کر لی جائے گی۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ اسلامی تنظیموں کی طرف سے دہشت گردی کے ساتھ روابط کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے تلاشی کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ برمنگھم میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲ مارچ ۲۰۰۰ء)
جذبات بھڑکانے والے اشتہارات پر پابندی
بیجنگ (اے این پی) بیجنگ میں فحاشی کی روک تھام کے لیے انتظامیہ نے اشتہارات کے بورڈز پر ماڈلز کی عریاں تصاویر پر پابندی لگا دی ہے۔ نئے قانون کے تحت اشتہاری کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ماڈل گرل کے گلے سے ۱۵ سینٹی میٹر نیچے اور گھٹنوں سے ۱۵ سینٹی میٹر اوپر تک کا حصہ عریاں نہیں ہونا چاہیے۔ اشتہاری ایجنسیوں نے اس قانون کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲ مارچ ۲۰۰۰ء)
نائجیریا: صوبہ کانو کے گورنر نے بھی اسلامی شریعت کو قانون بنانے کے مسودے پر دستخط کر دیے
لاگوس (اے ایف پی) افریقہ کی سب سے بڑی ریاست نائجیریا جہاں اسلامی شریعت کو قانون بنائے جانے کے خلاف کئی صوبوں میں عیسائی مسلم فسادات جاری ہیں وہاں شمالی صوبہ کانگو کے گورنر نے بھی وفاقی حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے صوبے میں شریعت کے مطابق قانون سازی کا عمل شروع کرنے کے مسودے پر دستخط کر دیے ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۳ مارچ ۲۰۰۰ء)
صومالیہ میں فسادات
مغادیشو (ا ف پ) جنوبی صومالیہ میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ راہانوین مزاحمتی فوج کے ایک اعلان کے مطابق اس نے اسلامک کورٹ ملیشیا کے چار ارکان کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ اس کے دو ارکان مارے گئے۔ مزاحمتی فوج کے ترجمان اصغر نے کہا کہ اسلامک کورٹ ملیشیا کی ایک جیپ تباہ کر دی گئی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے، تاہم اسلامک کورٹ کے ایک اہلکار نے اس تنظیم کے ارکان کی ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی لڑائی میں ملوث نہیں ہوئی۔ یہ لڑائی آر آر اے اور کوسوارے کے لوگوں کے درمیان تھی۔ انہوں نے کہا کہ آر آر اے کی طرف سے نصب کی جانے والی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا کر مقامی ملیشیا کی ایک جیب تباہ ہو گئی۔ مقامی لوگ آر آر اے کی طرف سے علاقے کی زمین پر زبردستی قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ متاثرہ علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ چند ہفتوں سے آر آر اے اور اسلامک کورٹ ملیشیا علاقے میں اپنی طاقت میں اضافہ کر رہی ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۷ فروری ۲۰۰۰ء)
گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اور ۲۱ویں صدی
لاہور (لیڈی رپورٹر) اکیسویں صدی میں شاید لڑکیوں کو عقل آ گئی ہے اور وہ بیسیوں صدی کے مقابلے میں کم تعداد میں گھروں سے بھاگی ہیں۔ پاکستان میں ۱۹۹۴ء سے ۱۹۹۹ء تک لڑکیاں گھروں سے سب سے زیادہ فرار ہوئیں لیکن ۲۰۰۰ء میں اچانک یہ تعداد گھٹ گئی۔ دسمبر میں ۵۸ عورتیں اور ۱۳ بچے دارالامان میں داخل ہوئے جس سے عورتوں کی تعداد ۱۱۳ اور بچوں کی ۲۵ ہو گئی۔ اسی مہینے ۵۲ عورتیں اور ۱۴ بچے ڈسچارج ہو گئے۔
نئی صدی شروع ہوئی تو ماہ جنوری میں ۶۱ عورتیں اور ۱۱ بچے دارالامان میں رہ گئے۔ جنوری میں صرف ۲۵ عورتیں گھروں سے بھاگ کر دارالامان پہنچیں، ان کے ہمراہ ۴ بچے تھے۔ جنوری میں داخلے کی ۲۹ تعداد رہی جبکہ ڈسچارج ہونے والوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ ۴۱ عورتیں اور ۷ بچے ڈسچارج ہوئے۔ ماہ فروری میں ۴۵ عورتیں اور ۱۰ بچوں کا اندراج ہوا۔ اسی ماہ ۳۰ عورتیں اور ۵ بچے پنجاب کے مختلف اطراف سے فرار ہو کر دارالامان پہنچے۔ فروری میں ۳۰ عورتیں اور ۴ بچے ڈسچارج کیے گئے۔ اس طرح پہلی بار دارالامان میں رش ختم ہوا۔
دارالامان کی سپرنٹنڈنٹ زبیدہ خاتون نے کہا کہ نئی صدی نے اگر لڑکیوں کو عقل دے دی ہے اور انہیں احساس ہو گیا ہے کہ گھر کی دہلیز پار کرنا شرافت کے منافی ہے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ خدا لڑکیوں کو ہدایت دے کہ وہ ماں باپ کی عزت سے نہ کھیلا کریں۔ زندگی ایڈونچر نہیں ہے کہ اسے داؤ پر لگا دیا جائے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۲۷ فروری ۲۰۰۰ء)
تعارفِ کتب
ادارہ
حیاتِ امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے حالاتِ زندگی اور خدمات پر معروف احرار راہنما جانباز مرزا مرحوم نے انتہائی عرق ریزی اور جستجو کے ساتھ ’’حیاتِ امیرِ شریعتؒ‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی تھی جو ان کی زندگی میں متعدد بار شائع ہو چکی ہے اور اب ان کے فرزند جناب خالد جانباز کی اجازت سے مکتبہ احرار (۶۹ سی، حسین اسٹریٹ، وحدت روڈ، نیو مسلم ٹاؤن، لاہور) نے شائع کی ہے۔
پونے پانچ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ کتاب حضرت شاہ جیؒ کے حالاتِ زندگی اور کارناموں کے ساتھ ساتھ اس دور کے سیاسی حالات اور اہلِ حق کی جدوجہد سے بھی قاری کو متعارف کراتی ہے اور قافلۂ حق کے شرکاء کے لیے اس کا مطالعہ بطور خاص ضروری ہے۔
خزائن السنن (جلد دوم)
ترمذی شریف پر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے درسی افادات خزائن السنن (جلد اول) کے عنوان سے چھپ چکے ہیں جو ترمذی حصہ اول کے ابواب پر مشتمل ہیں۔ اب ترمذی کے کتاب البیوع سے متعلقہ ابواب پر مولانا حافظ عبد القدوس قارن استاذِ حدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اپنے درسی افادات کو اسی عنوان کے ساتھ پیش کیا ہے جو مفید مباحث اور معلومات پر مشتمل ہیں اور طلبہ و اساتذہ کے لیے یکساں افادیت کے حامل ہیں۔
اڑھائی سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب عمدہ طباعت اور خوبصورت جلد کے ساتھ عمر اکادمی، نزد مدرسہ نصرۃ العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ نے شائع کی ہے، اور اس کی قیمت ۹۰ روپے ہے۔
تحفۂ جہاد
جہاد کے موضوع پر حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افادات کو حرکۃ المجاہدین کے راہنما مولانا اللہ وسایا قاسم نے عمدہ ترتیب کے ساتھ جمع کیا ہے اور ۵۰ کے لگ بھگ عنوانات کے تحت منتخب احادیث ترجمہ اور مختصر تشریح کے ساتھ جمع کر دی ہیں۔ ۶۴ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ حرکۃ المجاہدین کے مرکزی دفتر خیابان سرسید نزد سی ڈی اے اسٹاپ راولپنڈی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
خطباتِ جرنیل
سپاہِ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد اعظم طارق نے چار سالہ اسارت کے دوران جیل میں اپنے بعض رفقاء کے اصرار پر ہفتہ میں ایک بار موقع ملنے پر ان کے سامنے اظہارِ خیال کا معمول بنا لیا تھا اور وہی خطبات اب تحریری شکل میں ’’خطباتِ جرنیل‘‘ کے عنوان سے ہمارے سامنے ہیں۔ سپاہ صحابہؓ کا موقف، مولانا محمد اعظم طارق کا اندازِ بیان اور اس پر جیل کا مخصوص ماحول ان خطبات میں جو رنگ بھر سکتا ہے اس کا اظہار الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی حرارت اور اثر خیزی کا اندازہ اس کے مطالعہ سے ہی ہو سکتا ہے۔
پونے پانچ سو سے زائد صفحات کا یہ مجموعۂ خطبات سپاہِ صحابہؓ پاکستان نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت دو سو روپے ہے۔
آزادی کی انقلابی تحریک
برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف آزادی کی تحریک مختلف مراحل سے گزری ہے اور حریت پسندوں کے مختلف گروہوں نے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ انہی میں سرفروشوں اور جانبازوں کا ایک عظیم گروہ ’’مجلسِ احرارِ اسلام‘‘ کے نام سے باشندگانِ وطن کے سینوں میں بغاوت کی آگ بھڑکاتا اور دار و رسن کی وادیوں سے دیوانہ وار گزرتا رہا۔ مجلسِ احرار اسلام نے برطانوی استعمار کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مختلف عنوانات کے ساتھ تحریکات کے کئی محاذ گرمائے اور عزیمت و استقامت کی نئی روایات قائم کیں۔ انہی میں سے ایک تحریک ’’فوجی بھرتی بائیکاٹ‘‘ کی تحریک بھی ہے جس کا آغاز مجلسِ احرارِ اسلام کے راہنماؤں نے ۱۹۳۹ء میں کیا اور باشندگانِ وطن کو برطانوی فوج میں بھرتی ہونے سے روکنے میں اپنا پورا زور لگا دیا۔
برطانوی حکمرانوں نے برصغیر سے فوج بھرتی کر کے اس خطہ کے نوجوانوں کے خون سے مشرقِ وسطیٰ میں خلافتِ عثمانیہ اور عالمِ اسلام کے خلاف اپنے تیار کردہ سامراجی نقشے میں جو رنگ بھرا وہ آج اسرائیل کے مکروہ وجود اور خلیج پر امریکی استعمار کے مسلح قبضے کی صورت میں صاف دکھائی دے رہا ہے، اور ان بوریہ نشین درویشوں کی بصیرت کی گواہی دے رہا ہے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو برطانیہ کی فوج میں بھرتی ہونے اور اس کو اپنے خون سے ازسرنو زندگی مہیا کرنے سے روکا تھا۔
نوجوان، با صلاحیت اور صاحبِ درد قلمکار محمد عمر فاروق نے اسی داستان کو نئی نسل کے لیے خوبصورت انداز میں مرتب کر دیا ہے، اور اس تحریک کے حالات و واقعات کو دستاویزی انداز میں پیش کر کے تاریخ کے ریکارڈ میں ایک قابل قدر اضافہ کیا ہے۔
پونے تین سو صفحات کی یہ ایک مجلد اور خوبصورت کتاب مکتبہ احرار ۶۹ سی، حسین اسٹریٹ، وحدت روڈ، نیو مسلم ٹاؤن، لاہور نے شائع کی ہے اور قیمت درج نہیں ہے۔
اسلام اور اکیسویں صدی کا چیلنج
بھارت کے معروف مسلم دانشور جناب اسرار عالم نے موجودہ دور کے معروضی حقائق کا تجزیہ کرتے ہوئے اکیسویں صدی کے متوقع عالمی سیٹ اپ میں اسلام کے کردار اور اس حوالہ سے ذہنوں میں ابھرنے والے شکوک و شبہات اور خدشات پر سیر حاصل بحث کی ہے، اور اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ آنے والے دور میں اسلام ہی عالمِ انسانیت کی صحیح راہنمائی اور قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس فکر و فلسفہ کے تقاضوں اور اس کے لیے اہلِ علم و دانش کی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ گراں قدر مقالہ اصحابِ علم و دانش کی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے اور اسے دانش بک ڈسٹریبیوٹرز (۱۷۳۹/۳ نیو کوہ نور ہوٹل، پٹوڈی ہاؤس، دریا گنج، نیو دہلی ۱۱۰۰۰۲) سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
مولانا حافظ مہر محمد کے دو رسالے
اہلِ سنت کے معروف محقق مولانا حافظ مہر محمد میانوالوی نے ’’حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت اور سبائیوں کے کرتوت‘‘ اور ’’اسلام اور شیعیت کا تقابلی جائزہ‘‘ کے عنوان سے دو رسالے شائع کیے ہیں جو اپنے موضوعات پر معلوماتی رسالے ہیں اور مصنف موصوف نے اس سلسلہ میں اہلِ سنت کے موقف کو واضح کرنے کے لیے خاصی محنت کی ہے۔ دونوں رسالوں کی مجموعی قیمت بیس روپے ہے اور مکتبہ عثمانیہ ڈھوک مستال میانوالی سے طلب کیے جا سکتے ہیں۔
اشکِ مسلمانانِ برما
برما کے صوبہ اراکان کے مظلوم مسلمان ایک عرصہ سے اپنے اسلامی تشخص کے تحفظ اور آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور اس خطہ کے معروف عالمِ دین حضرت مولانا حبیب اللہ پکتلی نے اس جدوجہد کے احوال اور تقاضوں پر اس رسالہ میں روشنی ڈالی ہے۔ برما کے مسلمانوں کے حالات، مظلومیت، جدوجہد اور قربانیوں کے بارے میں یہ معلوماتی رسالہ مکتبہ فیضیہ برمی کالونی ۳۶ جی لانڈھی کراچی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ
جہاد کے احکام اور فضائل پر مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس اللہ سرہ العزیز کا معروف رسالہ جو پہلے بھی کئی بار چھپ چکا ہے، مبین ٹرسٹ پوسٹ بکس ۴۷۰ اسلام آباد ۴۴۰۰۰ نے معیاری اور خوبصورت انداز میں دوبارہ شائع کیا ہے اور اسے ٹرسٹ کی طرف سے مفت تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مبین ٹرسٹ اپنی مطبوعات مفت تقسیم کرتا ہے، البتہ بذریعہ ڈاک منگوانے کی صورت میں ڈاک خرچ منگوانے والے کے ذمہ ہو گا۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی دینی خدمات بے مثل ہیں
گوجرانوالہ میں تعزیتی اجتماع
اعجاز میر
ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سربراہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ عالمِ اسلام کی عظیم علمی و دینی شخصیت تھے جن کا گذشتہ سال بلکہ صدی کے آخری دن ۳۱ دسمبر کو رائے بریلی میں کم و بیش ۸۷ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا اور ان کی وفات کے صدمہ کو دنیا بھر کے علمی و دینی حلقوں میں یکساں طور پر محسوس کیا گیا۔ مختلف ممالک میں ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا اور ہر مکتبہ فکر کے علماء کرام اور اہلِ دانش نے ان کی دینی و ملی خدمات کا اپنے اپنے انداز میں تذکرہ کیا۔
گوجرانوالہ میں بھی گزشتہ جمعہ کو اس سلسلہ میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس کا اہتمام الشریعہ اکادمی کے ناظم حافظ محمد عمار خان ناصر نے مرکزی جامع مسجد میں کیا اور شہر کے سرکردہ علماء کرام اور اہلِ دانش نے اس میں شرکت کی۔ اس تعزیتی ریفرنس کی صدارت اسلامیہ کالج گوجرانوالہ کے ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر محمد عبد اللہ جمال نے کی جبکہ ثانوی تعلیمی بورڈ گوجرانوالہ کے شعبہ امتحانات کے نگران پروفیسر غلام رسول عدیم مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی اور گورنمنٹ ظفر علی خان ڈگری کالج وزیر آباد کے پروفیسر حافظ منیر احمد نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ معروف صحافی اور استاد سید احمد حسین زید نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے اور بزرگ عالمِ دین علامہ محمد احمد لدھیانوی کی دعا پر یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔
پروفیسر غلام رسول عدیم
پروفیسر غلام رسول عدیم نے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ملی کردار اور مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی دینی و علمی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ۱۹۵۷ء کی جنگِ آزادی میں ناکامی کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کو سنبھالا دینے کے لیے دو مکاتبِ فکر وجود میں آئے:
- ایک کی بنیاد سرسید احمد خان مرحوم نے رکھی جن کا موقف یہ تھا کہ مسلمان اگر جدید تعلیم اور انگریزی زبان میں پیچھے رہے تو وہ نئے نظام کا حصہ نہیں بن سکیں گے اور ہندو پورے نظام پر حاوی ہو جائیں گے، اس کے لیے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ انگریزی زبان اور جدید علم و فنون پر عبور حاصل کرنا چاہیے۔
- جبکہ دوسرے مکتب فکر کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تھے جنہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے زوال اور شکست کا سب سے بڑا سبب ان کی دین سے دوری ہے، اس لیے دینی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔
چنانچہ ان دونوں کی کوششوں سے علی گڑھ اور دیوبند کے تعلیمی ادارے وجود میں آئے جن کا رخ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور متضاد تھا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سر سید احمد خان مرحوم اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ دونوں ایک ہی استاذ مولانا مملوک علی نانوتویؒ کے شاگرد تھے اور استاد بھائی تھے اور دونوں نے مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے تعلیم کا میدان منتخب کیا۔ البتہ دونوں کا راستہ الگ الگ اور سمت ایک دوسرے سے مختلف تھی۔
ان دونوں سوچوں کو جمع کر کے ایک نئی راہ نکالنے کے لیے ۱۸۹۸ء میں ایک تیسرا ادارہ وجود میں آیا جس کا نام ’’ندوۃ العلماء لکھنؤ‘‘ ہے جس نے یہ فکر پیش کی کہ مسلمانوں کے لیے دینی تعلیم و تربیت انتہائی ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جدید علم اور زبانوں کی تعلیم بھی ضروری ہے کیونکہ وہ اسی صورت میں آنے والے دور میں دینِ اسلام کی بہتر طور پر نمائندگی کر سکیں گے۔ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی بنیاد مولانا سید محمد علی مونگیریؒ نے رکھی اور ان کے ساتھ جن اکابر نے اس فکر کو پھیلنے کے لیے محنت کی ان میں علامہ شبلی نعمانیؒ، مولانا عبد الحق حقانیؒ اور مولانا حکیم عبد الحئی حسنیؒ بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ جن کی کوششوں سے ندوہ ایک علی و فکری تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ مولانا حکیم عبد الحئی حسنیؒ ندوۃ کے ناظم تھے اور بہت بڑے عالم اور ادیب تھے، اردو ادب پر ان کی تصنیف ’’گلِ رعنا‘‘ سے ہر صاحبِ ذوق آگاہ ہے، اور عربی زبان میں علمی شخصیات پر ان کی آٹھ جلدوں میں ضخیم کتاب ’’نزہۃ الخواطر‘‘ موجود ہے جس سے اہلِ علم مسلسل استفادہ کر رہے ہیں۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ انہی مولانا حکیم عبد الحئی حسنیؒ کے فرزند ہیں۔
پروفیسر غلام رسول عدیم نے بتایا کہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ۱۹۱۴ء میں پیدا ہوئے جب ان کے والد ندوہ کے منتظم تھے، اس لیے انہوں نے ندوہ کے ماحول میں آنکھ کھولی، اسی ماحول میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے، پھر نصف صدی تک ندوہ کے سربراہ رہے۔ اور ان کے دور میں ندوہ نے عالمگیر شہرت حاصل کی کیونکہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ایک بین الاقوامی شخصیت اور عربی و اردو کے بلند پایہ ادیب تھے۔ انہیں پورے عظیم عالمِ اسلام میں ایک فکری و علمی رہنما کی حیثیت حاصل تھی اور وہ رابطہ عالم اسلامی کے بانی رکن ہونے کے علاوہ عرب دنیا کے بہت سے علمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی اہم کمیٹیوں کے ممبر تھے۔ ان کی تصنیفات سے دنیا بھر کے علماء کرام اور دانشوروں نے استفادہ کیا ہے اور امت اسلامیہ کے ایک بڑے حصے نے ان سے رہنمائی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ ندوہ کا خصوصی ذوق ادب اور تاریخ کا ہے، اسلامی تاریخ کو ازسرنو مرتب کرنے اور تاریخِ اسلام کے ساتھ ساتھ مسلم شخصیات کے کارناموں کو نئی پود کے سامنے پیش کرنے میں علامہ شبلی نعمانیؒ مولانا سید سلمان ندویؒ، اور مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے جو عظیم خدمات سرانجام دی ہیں وہ ندوہ کا امتیاز و افتخار ہے اور اس بارے میں برصغیر کا کوئی اور ادارہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی ہمسری نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے کارناموں میں ایک بہت بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کو عرب دنیا میں متعارف کرایا اور علامہ اقبالؒ کے کلام کا عربی میں ترجمہ کر کے ان کی فکر کو عرب دانشوروں تک پہنچایا۔ اس سلسلہ میں مولانا ندویؒ نے خود بیان کیا ہے کہ وہ جب عرب ممالک میں گئے تو دیکھا کہ برصغیر کے ہندو مفکر اور شاعر رابندراناتھ ٹیگور کا تعارف تو وہاں کے علمی و ادبی حلقوں میں موجود ہے مگر مسلمان مفکر علامہ اقبالؒ سے وہاں کے ادبی حلقے متعارف نہیں ہیں، چنانچہ انہوں نے ۲۴ برس کی عمر میں علامہ اقبالؒ کی وفات سے چند ماہ قبل خود ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے ساتھ اس کا ذکر کیا اور خواہش ظاہر کی کہ وہ ان کے کلام کا عربی میں ترجمہ کرنا چاہتے ہیں جس پر اقبالؒ نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور اجازت دے دی۔ اور اس کے بعد مولانا ندویؒ نے جس ذوق اور کاوش کے ساتھ عرب دنیا کو علامہ اقبالؒ کے فکر اور کلام سے روشناس کرانے کا کام کیا یہ انہی کا حصہ ہے اور یہ حقیقت ہے کہ عرب علماء اور دانشوروں کو اقبال کے متعارف کرانے کا سہرا سب سے زیادہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے سر ہے۔
مولانا زاہد الراشدی
مولانا زاہد الراشدی نے تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی خدمات کا بطور خاص تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ بھارت کے مظلوم مسلمانوں کے لیے بہت بڑے سہارے اور ڈھارس کی حیثیت رکھتے تھے اور صرف قلم اور زبان کی دنیا کے آدمی نہیں تھے بلکہ انہوں نے عملی میدان میں بھارتی مسلمانوں کی جرأت مندانہ قیادت کی۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ مسلمانوں کے خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے قائم ہونے والے کل جماعتی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سربراہ تھے اور انہوں نے آخر دم تک اس ذمہ داری کو پوری جرأت و استقامت کے ساتھ نبھایا۔
بھارت میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان پر ایک عرصہ سے یہ دباؤ چلا آ رہا ہے کہ وہ نکاح، طلاق اور وراثت سے متعلقہ خاندانی قوانین میں مذہبی احکام سے دستبردار ہو کر ہندوؤں اور دیگر غیر مسلمانوں کے ساتھ مشترکہ خاندانی قوانین (کامن سول کوڈ) کو قبول کر لیں لیکن مسلمان اس کے لیے تیار نہیں ہیں، اور مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی سربراہی میں تمام مسلم جماعتوں اور مکاتبِ فکر کے نمائندوں پر مشتمل آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی قیادت کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے شخصی اور خاندانی قوانین کو ابھی تک تحفظ حاصل ہے۔
اس سلسلہ میں اپنی وفات سے صرف دو ماہ قبل مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے ممبئی میں ہونے والے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ملک گیر اجتماع میں جو خطبہ صدارت پیش کیا اس میں انہوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ نکاح، طلاق اور وراثت میں مذہبی احکام سے دستبردار ہونے کی دعوت کو ہم ارتداد کی دعوت سمجھتے ہیں اور اس کا اسی طرح مقابلہ کریں گے جس طرح ہمارے اسلاف نے ارتداد کی دعوت کا ہمیشہ کیا ہے۔
اسی طرح بھارت کے سب سے بڑے صوبہ یوپی میں بی جے پی کی حکومت نے جب سرکاری تعلیمی اداروں میں روزانہ صبح ’’بندے ماترم‘‘ کا ترانہ گانے کو تمام طلبہ اور طالبات کے لیے لازمی قرار دیا تو مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے اعلان کیا کہ اس ترانے کے بعض اشعار شرکیہ ہیں اور ہم مسلمان ہیں، کوئی شرکیہ ترانہ نہیں گا سکتے، اس لیے ہم موت قبول کر لیں گے مگر ہمارے بچے سکولوں میں یہ ترانہ نہیں پڑھیں گے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے اس دوٹوک اور شدید احتجاج پر یو پی حکومت کو بالآخر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے عالمِ اسلام کو سب سے زیادہ جس فتنے سے خبردار کیا اور اس کے لیے مسلسل محنت کی وہ ’’نیشنلزم‘‘ کا فتنہ ہے۔ مولانا ندویؒ کا کہنا ہے کہ وطنی قومیت کا یہ فتنہ عالمِ اسلام کا شیرازہ بکھیرنے اور خلافتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے سازش کے تحت کھڑا کیا گیا ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس فتنے سے نجات حاصل کرنی چاہیے اور مِلی سوچ اور جذبات کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ بہت سی علمی و روحانی نسبتوں کا مجموعہ تھے۔ ان کا خاندانی تعلق امیر المومنین سید احمد شہیدؒ کے خاندان سے تھا اور وہ رائے بریلی کی عظیم خانقاہ دائرہ شاہ علم اللہؒ کے مسند نشین تھے۔ علمی طور پر وہ ندوۃ العلماء کے نمائندہ تھے اور روحانی طور پر انہیں حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوری سے خلافت و اجازت حاصل تھی، اور بلاشبہ وہ ہمارے ان عظیم اسلاف و اکابر کی آخری نشانی تھے جو ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس تعزیتی ریفرنس کا مقصد جہاں مولانا ندویؒ کی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نسبت کا اظہار ہے وہاں نئی نسل کو ان کے کارناموں کا تعارف کرانا بھی ہے جو نئی پود کا حق ہے کیونکہ ان جیسے بزرگوں اور اکابر کی خدمات اور کارناموں سے سبق حاصل کر کے ہی ہماری نئی نسل آنے والے دور میں ملتِ اسلامیہ کی صحیح طور پر خدمت اور رہنمائی کر سکتی ہے۔
نشست کے اختتام پر مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے دعا کی گئی۔