اسلام اور خواتین کے حقوق
مولانا محمد برہان الدین سنبھلی
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ تفسیر حضرت مولانا برہان الدین سنبھلی نے یہ مقالہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک سیمینار میں پڑھا جسے پندرہ روزہ ’’تعمیرِ حیات لکھنؤ‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ’’کلمہ حق‘‘ کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
قوانینِ اسلام میں عورتوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں ان کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ اس وقت ہو سکے گا جب اسلام کے علاوہ دیگر مذہبی، ملکی، قومی قوانین سے آگہی ہو اور دونوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔ جیسا کہ روشنی کی صحیح قدر اسے ہی ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے جسے تاریکی سے واسطہ پڑا ہو۔ یا غذا کی افادیت کا اندازہ حقیقتاً وہی صحیح لگا سکتا ہے جو بھوک اور فاقہ کا شکار رہا ہو۔ اس لیے پہلے ہلکی سی جھلک غیر اسلامی نظام و قوانین کی دکھانا، نیز جاہلیت کے ان طریقوں کا ذکر کرنا مناسب لگتا ہے جو صنفِ نازک کے بارے میں دنیا بھر میں رائج تھے۔
رومن لاء
ہم یہاں سب سے پہلے رومن لاء کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جسے عام طور پر قوانین کا جنم داتا اور انسانیت کا رکھوالا اور انصاف کا نمائندہ باور کیا اور کرایا جاتا ہے، اور جو عرصہ دراز تک سارے مغرب میں اور خاص طور پر یورپ میں دستوری حکمرانی کرتا رہا ہے۔ اس لاء میں کنبہ کے سربراہ کو کنبہ کے بقیہ افراد پر خواہ وہ بیوی ہو یا بہو، بیٹے بیٹی ہوں یا پوتے پوتی، فروخت کرنے، ہر طرح ایذائیں دینے حتٰی کہ قتل کرنے کا اختیار تھا۔ نیز بیوی کو ترکہ سے محروم رکھنے کا بھی اسے حق حاصل تھا۔ لڑکیاں حقِ ملک نہیں رکھتی تھیں اور اپنے باپ کے ترکہ سے بھی محروم ہوتی تھیں۔ دیکھئے المراۃ بین الفقہ و القانون ص ۱۵، ۱۶ ۔ طبقہ رابعہ ڈاکٹر مصطفٰی سباعی۔ الترکہ والمیراث فی الاسلام ص ۴۰ تا ۵۴ از ڈاکٹر محمد یوسف مصری (المطبعہ المعرفہ)۔
یونانی قانون
یونانی قانون میں مورث کی حیثیت معمولی سامان کی سی تھی جس کی بازار میں آزادانہ خرید و فروخت ہوتی۔ اسے نہ شہری حقوق حاصل تھے نہ آزادی۔ میراث بھی نہیں دی جاتی تھی۔ اسے ناپاک سمجھا جاتا تھا۔ پوری زندگی وہ کسی نہ کسی مرد کے شکنجہ میں گرفتار رہتی۔ شادی سے قبل سرپرست کے اور شادی کے بعد شوہر کے پنجہ استبداد میں رہتی۔ نہ اپنے مال میں تصرف کا حق رکھتی تھی نہ جان میں۔ باپ اپنی بیٹی کو فروخت کرتا تھا اور ہونے والا شوہر اسے خریدتا تھا۔ اس کے بعد اسے (شوہر کو) پورا اختیار ہوتا تھا کہ اسے چاہے اپنی زوجیت میں رکھے یا کسی اور کو سونپ دے۔ (مدیٰ حریت الزوجین ص ۲۷ از ڈاکٹر عبد الرحمٰن صابونی۔ نیز المراۃ بین الفقہ والقانون ص ۱۳)
مسیحی مذہب
مسیحی مذہب جسے دنیا کے مہذب ترین کہلانے والے ملکوں میں سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہے، اس کا حال اور اس کا ریکارڈ تو عورت کے بارے میں سب سے گیا گزرا ہے۔ اس بارے میں غیر عیسائیوں نے نہیں بلکہ خود عیسائیوں نے جو تفصیلات بتائی ہیں وہ عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مثلاً ایک عیسائی انگریز فلسفی ہربرٹ سپنسر کہتا ہے، گیارہویں اور پندرہویں صدی (بعثتِ محمدیؐ کے کوئی آٹھ سو سال بعد تک) انگلستان میں عام طور پر بیویاں فروخت کی جاتی تھیں۔ عیسائی مذہبی عدالتوں نے ایک قانون کو رواج دیا جس میں شوہر کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کسی دوسرے کو جتنی مدت کے لیے چاہے عاریتاً بھی دے سکتا ہے۔ ان سب سے زیادہ شرمناک رواج یہ تھا (جسے ایک طرح سے قانون کا سا درجہ حاصل تھا) کسی کسان کی نئی نویلی دلہن کو مذہبی پیشوا یا حاکم کو چوبیس گھنٹے تک اپنے تصرف میں رکھنے اور اس کے جسم سے لطف اندوز ہونے کا حق حاصل تھا (المراۃ بین الفقہ والقانون ص ۲۱۱)۔ اور تو اور سولہویں صدی ۱۵۶۷ء میں بعثتِ نبویؐ سے تقریباً ایک ہزار سال بعد اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے یہ قانون پاس کیا تھا کہ عورت کو کسی بھی چیز پر ملکیت کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ اور ان سب سے زیادہ تعجب خیز انگلستان کی پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا جس میں عورت کے لیے انجیل پڑھنا حرام قرار دیا (المراۃ بین الفقہ والقانون ص ۲۱۱)۔
اس کا تذکرہ کرنے کے بعد ڈاکٹر سباعی صاحب نے بجا طور پر تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن کو یکجا کر کے ایک مصحف تیار کیا تو وہ حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ وہ خاتون تھیں۔
سب سے بڑھ کر عجیب تر یہ انکشاف ہے کہ ۱۸۰۵ء تک انگلستانی قانون کی رو سے شوہر بیوی کو فروخت کرنے کا پورا اختیار رکھتا، اور اس کی قیمت بھی جو قانوناً مقرر کی گئی تھی وہ اتنی حقیر تھی کہ اس کا ذکر باعثِ شرم ہے یعنی صرف چھ پنس (تقریباً آج کے دو روپیہ ہندوستانی) (المراۃ بین الفقہ والقانون ص ۲۱)
اس کے ساتھ ایک اور مسیحی یورپی ملک فرانس میں ایک کانفرنس کا حال یا روئیداد دل پر پتھر رکھ کر اور سن لیجئے جس میں اس بات پر بحث و مباحثہ ہوا کہ عورت انسان ہے یا کوئی اور جانور؟ اگرچہ آخر میں طے یہ پایا کہ انسان ہے۔ (معارف القرآن ج ۱ ص ۵۴۹ از مفتی محمد شفیع صاحبؒ)
علاوہ ازیں مسیحی مذہب قانون کی رو سے عورت ترکہ سے بہرصورت محروم رہتی تھی بلکہ اکثر اولاد میں بھی صرف بڑا لڑکا ہی استحقاق (ترکہ پانے کا) رکھتا تھا۔
یہودی مذہب
موجودہ یہودی مذہب (جو ظاہر ہے کہ محرف شکل میں ہے) میں عورتیں ترکہ کا استحقاق قطعاً نہیں رکھتی تھیں۔ چاہے بیوی ہو، بیٹی ہو یا ماں، بہن۔ البتہ بڑا لڑکا چھوٹے کے مقابلہ میں دوہرا حصہ اپنے باپ کے ترکہ میں سے پاتا۔ (الترکہ والمیراث ص ۴۱، ۴۲)
ہندو دھرم
ہم سب سے پہلے ’’انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجئن اینڈ ایتھکس‘‘ کے حوالہ سے ہندومت میں عورت کے حقوق وغیرہ کے بارے میں جو ملتا ہے اس کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں۔ بعد ازاں خود ہندوؤں کی معتبر کتابوں سے اس موضوع پر تفصیلات پیش کریں گے۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہو گا کہ مذکورہ کتاب (اخلاق و مذہب کی انسائیکلو پیڈیا) دنیا بھر میں معتبر تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کا مقالہ نگار لکھتا ہے: سمرتی (ہندو مذہب کی معتبر کتاب) میں آٹھ قسم کی شادیوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ان میں ایک قسم کا نام ’’اسورا‘‘ ہے، یہ طریقہ جنگجو اور پچھلی ذات کے لوگوں میں رائج تھا جس میں عورت کو خریدا جاتا تھا۔ اسی طرح (نکاح کی) ایک قسم کا نام راکشش ہے جس میں عورت پر زبردستی قبضہ کر لیا جاتا تھا۔ (انسائیکلوپیڈیا ج ۸ ص ۴۵۱، ۴۵۲)
اب ہندو مذہب کی مشہور کتاب ’’منو سمرتی‘‘ (اردو ترجمہ شائع کردہ بھائی تارا چند چھمبریک سیلر لاہوری گیٹ لاہور) سے براہ راست کچھ دفعات نقل کرتے ہیں جس سے ہندو مذہب میں رشتہ ازدواج اور عورت کی حیثیت سے متعلق حقائق سامنے آتے ہیں۔
منو سمرتی ادھیائے ۹ سلسلہ ۲: رات دن عورت کو پتی کے ذریعہ بے اختیار رکھنا چاہیے۔
منو سمرتی ادھیائے ۹ سلسلہ ۵۸: اگر اولاد نہ ہو تو اپنے خاندان سے اجازت لے کر مالک (شوہر عام طور پر۔شوہر کے لیے ’’مالک‘‘ کا استعمال ملتا ہے، اس سے بھی عورت اور شوہر کی حیثیت کا پتہ لگانا آسان ہو جاتا ہے) خاندان کے رشتہ دار یا دیور سے اولاد پیدا کرے۔
منو سمرتی ادھیائے ۹ سلسلہ ۱۱۹: چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی زوجہ سے بیٹا پیدا کرے تو اس بیٹے کے ساتھ چاچا لوگ برابر تقسیم حصہ کریں۔
ہندو مذہب میں شادی (دواہ) کے علاوہ بھی ایک اور عقد جائز تسلیم کیا گیا جسے ’’نیوگ‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں شادی شدہ عورت سے بھی دوسرا شخص کچھ مدت کے لیے نکاح کر سکتا ہے۔ اس طریقے سے پیدا ہونے والی اولاد اصلی شوہر کی ہی سمجھی جاتی ہے، اور یہ دوسرے قسم کا نکاح (نیوگ) دس مردوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سوامی دیانند سرسوستی کے لیکچروں کا مجموعہ (اپدیشن منجری ص ۱۰۷ از سوامی دیانند سرسوتی، شائع کردہ سیکرٹری آریہ منڈل کیرانہ ضلع مظفر نگر)
واضح رہے کہ ایک مشہور یورپین مصنف جان ڈی مین نے ’’قانون رواج ہنود‘‘ نامی کتاب میں ’’نیوگ‘‘ کی یہ تعریف کی ہے: ’’دوسرے کی زوجہ سے بچہ جنانے کا عام رواج ’’نیوگ‘‘ کے نام سے موسوم تھا‘‘۔ (قانون رواج ہندو ج ۱۰ ص ۱۰۶ ترجمہ از مولوی اکبر علی بی اے آنرز شائع کردہ جامع عثمانیہ حیدرآباد ۱۹۴۱ء)
علاوہ ازیں ابھی چند سال پہلے ۱۹۹۶ء میں ایک رپورٹ ملک کے مشہور اخبارات میں شائع ہوئی جس میں بتایا گیا ہے: ’’ہندوستان سمیت کئی ملکوں میں ایک عورت کے ایک سے زائد شوہر ہونے کی رسم آج بھی موجود ہے‘‘۔ آگے چل کر کہا گیا ہے: ’’ہندوستان میں لداخ، ہماچل کے سرمور ضلع میں اونچی ذات والوں میں، اور اترپردیش کے دہرہ دون ضلع میں یہ رسم موجود ہے۔ لداخ کے کچھ فرقوں میں یہ رسم اس طرح موجود ہے کہ خاندان کے سبھی مردوں کی ایک ہی بیوی ہوتی ہے۔ خاندان کا بڑا بھائی کسی عورت سے شادی کرتا ہے اور بعد میں سبھی بھائی اس عورت کے ساتھ بیوی کے تعلقات قائم کرتے ہیں۔ یہ انکشافات مشہور ماہر سماجیات پروفیسر میش کمار راما نے ایک سروے کرنے کے بعد کیے ہیں جو یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماچل پردیش کے ضلع گزٹ کے مطابق یہ رسم خاص طور پر برہمنوں اور راجپوتوں میں اور کچھ نچلی ذاتوں میں پائی جاتی ہے۔ حال کے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ۹۸ شادیوں میں سے ۲.۴ فیصد کثیر شوہری تھیں۔ (قومی آواز لکھنؤ ۔ مورخہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۶ء)
ہندو مذہب کے قانونِ وراثت میں عورتیں تو سب، اور بڑے بیٹے کے علاوہ بقیہ لڑکے بھی باپ کے ترکہ سے محروم ہوتے ہیں، جیسا کہ منو سمرتی میں ہے: ’’ماں باپ کی تمام دولت بڑا بیٹا ہی لیوے‘‘۔ (منو سمرتی، اردو ترجمہ ۱۸۱)
عرب کا زمانہ جاہلیت
قبل از اسلام عربوں میں عورت کی جو حالتِ زار تھی اس سے تو کم و بیش اکثر اہلِ علم واقف ہی ہیں کہ لڑکی پیدائش ہی سخت عار کی بات سمجھی جاتی تھی اور اس داغ کو مٹانے کے لیے اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا جس کا قرآن مجید میں بھی بڑے بلیغ انداز میں تذکرہ ہے۔ سورۃ النحل آیت ۵۸ میں ہے:
واذا بشر احدھم بالانثٰی ظل وجھہ مسودًا وھو کظیم یتوارٰی من القوم من سوء ما بشر بہ ایمسکہ علیٰ ھون ام یدسہ فی التراب۔
عورت کو، چاہے بالغ ہی ہو، اپنا نکاح خود کرنے کا اختیار نہیں تھا، بلکہ اس کا ولی جس سے چاہے اس کی مرضی کے بغیر بھی نکاح کر سکتا تھا۔ پھر بیوی کی حیثیت بالکل باندی کی سی تھی جو صرف شوہر کی جنسی خواہش بلکہ ہوس کا شکار بننے کے سوا اور کوئی حق نہیں رکھتی تھی۔ بیوہ ہو جاتی تو اس کے شوہر کے ورثاء اس کے ساتھ مرنے والے کے ترکہ کا سا معاملہ کرتے۔ یعنی چاہے اپنے پاس رکھتے یا دوسرے سے نکاح کرتے۔ اسے شوہر کے ترکہ میں سے کچھ بھی نہ دیتے کیونکہ ترکہ کا استحقاق رجولیت اور قوت پر تھا۔ اس بنا پر کم عمر لڑکے بھی ترکہ سے محروم رکھے جاتے تھے اور لڑکیاں تو سب ہی محروم رہتیں۔ ان باتوں کی تفصیل بکثرت کتبِ حدیث، تفسیر و فقہ میں ملتی ہیں۔ بالعموم بڑا لڑکا ہی ترکہ کا مستحق سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ اسی اصول کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کا ترکہ صرف حضرت ابو طالب کو ملا (شرح مسلم نووی ج ۲ ص ۴۳۶)۔
اسلام نے خواتین کو کیا دیا؟
اب آئیے دیکھیں کہ اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے اور اس کے لیے کیسی کیسی شرعی قوانین میں رعایتیں دی گئی ہیں۔
عورت کے بارے میں قرآن مجید کی سورہ نساء آیت ۱ میں انسانیت کی مساوات کا خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا کے الفاظ میں صاف اعلان کر دیا گیا کہ عورت اور مرد دونوں ایک ہی نفس سے پیدا شدہ ہیں، اس لیے دونوں ہم جنس ہیں۔ ایسا نہیں کہ عورت کسی اور جنس سے ہو (مثلاً حیوان ہو) اور مرد دوسری جنس سے، بلکہ دونوں ہی انسانیت کے رشتہ سے برابر ہیں۔ اسی طرح حدیثِ نبوی میں النساء شقائق الرجال ’’عورت مرد کی پسلی ہے‘‘ (احمد و ابوداؤد ص ۲۵ بحوالہ المراۃ ص ۲۵) فرما کر اس کی تصریح و توضیح فرما دی گئی۔ چنانچہ اسلام کے تمام احکام میں صنفی اور طبعی فرق کا لحاظ کرتے ہوئے دونوں کے لیے یکسانیت برتی گئی ہے، بلکہ اسلام کے تمام قوانین پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو عورت کو کچھ زیادہ رعایتیں دی گئی معلوم ہوتی ہیں۔ عرب میں (جیسا کہ اوپر گزرا) لڑکیوں کی پیدائش سخت عیب کی بات سمجھی جاتی تھی۔ اس کے بالمقابل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایات دیں، مثلاً فرمایا:
من بلی ھذہ البنات شیئا فاحسن الیھن کن سترا من النار (صحیح بخاری ج ۲ ص ۸۸۷) یعنی جو شخص لڑکیوں کی بہترین طریقہ پر سرپرستی کرے (تربیت دے) اور اچھا برتاؤ کرے گا وہ جہنم میں نہ جائے گا۔
ایک اور حدیث میں یوں فرمایا من کانت لہ ثلاث بنات او ثلاث اخوات او ابنتان او اختان فاحسن مجنھن واتقی اللہ فیھن فلہ الجنۃ (ترمذی ج ۲ ص ۱۳ و ۱۴ مکتبہ رشیدیہ دہلی)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں من عال جاریتین دخلت انا وھو الجنۃ کھاتین اشاریا صبعیہ (ترمذی ص ۱۳) یعنی جو شخص دو تین بہنوں یا لڑکیوں کی بہترین طریقہ پر تربیت کرے اور کسی طرح کی زیادتی نہ کرے وہ جنت میں جائے گا اور اللہ کے رسولؐ سے اتنا قریب ہو گا جتنی ایک ہاتھ کی دو برابر کی انگلیاں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شوق انگیز اندازِ بیان کے بعد بھلا کون سچا مسلمان ہو گا جو لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش میں کوتاہی کرے اور دلچسپی نہ لے گا۔ ان ہدایات کا یہ اثر ہوا کہ غیر شادی شدہ لڑکیاں اسی خطہ عرب میں جہاں زندہ درگور کی جاتی تھیں ’’کریمہ‘‘ (یعنی خاتون معزز و محترم) کہلائی جانے لگیں۔ مزید یہ کہ اس صنف کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا اور بھی متعدد پیرایہ بیان میں حکم دیا۔
مثلاً قرآن مجید سورہ النساء آیت ۱۹ میں فرمایا عاشروھن بالمعروف ’’عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو‘‘۔ اور حدیث میں فرمایا استو صوابا النساء خیرا ’’عورت کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے میں میری صلاح مانو‘‘۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی ہدایت دی کہ عورتوں سے اگر کوئی تکلیف بھی پہنچے تو یہ خیال کر کے کہ ان میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں، طُرح دے جاؤ۔ غور کیجئے کہ یہ اندازِ بیان کتنا مؤثر ہے۔ الفاظِ حدیث یہ ہیں: لا یفرک مومن مومنۃ ان کرہ منھا خلقا رضی منھا آخر (صحیح بحوالہ مشکوٰۃ ج ۲ ص ۲۸۰)۔ درحقیقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ گرامی مستفاد ہے قرآن مجید کی سورہ النساء آیت ۱۹ فان کرھتموھن فعسٰی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا سے۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسولؐ نے فرمایا اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا و خیارکم خیارکم لنسائھم ’’ایمانِ کامل اس شخص کا ہے جو خوش اخلاقی میں ممتاز ہو، اور تم سب سے اچھا وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے لیے اچھا ہو‘‘۔
انہی آیات و احادیث کی بنیاد پر امام غزالیؒ نے کیا خوب بات فرمائی، لیس حسن الخلق معھا کف الاذٰی عنھا بل احتمال الاذٰی والحلم عند طیشھا وغضبھا (احیاء علوم الدین ج ۲ ص ۳۹)۔ مطلب یہ ہے کہ عورت کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے حکم کا تقاضا صرف یہ نہیں ہے کہ مرد عورت کو اذیت نہ پہنچائے، بلکہ اس کے اندر یہ بھی داخل ہے کہ اگر عورت کی طرف سے کوئی تکلیف دہ بات پیش آئے تو اسے برداشت کرے۔ امام غزالیؒ نے یہ بھی لکھا ہے (اور احادیثِ صحیحہ میں یہ واقعہ موجود ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے بالکل قریب، جبکہ زبان مبارک پورا ساتھ نہیں دے رہی تھی، اس وقت جو چند اہم نصائح امت کو فرمائے ان میں عورت کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے اور اس بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنے کی بھی تھی (احیاء علوم الدین ص ۳۷ و ۳۸ ج ۲)۔
عورت کے اخراجات
عورت کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے، اس کے ساتھ عزت و احترام کا بلکہ دلجوئی کا معاملہ کرنے کا حکم اس کی صنفی نزاکت کے لحاظ و رعایت کی بنا پر ہی ہے۔ کیونکہ نازک چیز کی رعایت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں انہیں قواریر ’’آبگینہ‘‘ فرما کر ان کی نزاکت کا اعتراف آخری درجہ میں کیا گیا ہے۔ جیسے صحیح بخاری ج ۲ ص ۹۱۷ میں ہے رفقاً بالقواریر۔
اس بنیاد پر اسے کسبِ معاش کی مشقتوں سے بچایا گیا اور اس کا نفقہ کسی نہ کسی مرد کے ذمہ کر دیا گیا۔ شادی سے قبل والد پر، والد نہ ہونے یا اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لائق نہ ہونے کی صورت میں حسبِ اصولِ وراثت دادا، چچا، بھائیوں وغیرہ پر۔ شادی کے بعد شوہر پر۔ شوہر سے علیحدگی کی شکل میں عدت کے درمیان کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ۔ شیر خوار بچہ کی موجودگی میں عدت کے بعد بھی، جب تک بچہ ماں کا دودھ پیتا رہے، اس کے نیز بچہ کے اخراجات بھی اس کے سابق شوہر پر ہی ہیں۔ عدت کے بعد (شیر خوار بچہ نہ ہونے کی صورت میں) اولاد پر۔ اولاد نہ ہو تو پھر شادی سے قبل کی طرح والد یا دیگر رشتہ داروں پر لازم ہوتے ہیں۔ جن پر اخراجات لازم ہیں وہ رضاکارانہ نہیں بلکہ ان پر واجب ہوتے ہیں۔
عورت کے اختیارات
اوپر کی تفصیلات سے اسلام میں عورت کے عزت و احترام نیز حقوق کا اندازہ کر لینا مشکل نہ رہا ہو گا۔ اس کے بعد اب ایک جھلک ہم اس کے اختیارات کی دکھاتے ہیں۔ عورت بالغ ہونے کے بعد (مرد ہی کی طرح) اپنے جان و مال، نکاح، مالی لین دین وغیرہ کے بارے میں قانونِ شریعت کے لحاظ سے پوری طرح مختار ہوتی ہے۔ اپنے مال کی پوری طرح مالک ہوتی ہے جس طرح کہ مرد، کہ جہاں چاہے اور جتنا چاہے خرچ کرے۔ (بس جس طرح مردوں کے لیے کچھ پابندیاں مثلاً فضول خرچی نہ کریں اور حرام جگہ پر خرچ نہ کریں اسی طرح عورت کے لیے بھی ہیں)۔ اس بات کے لیے حوالے پیش کرنے کی چنداں ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔ علاوہ اس کے کہ ہر متعلقہ کتاب میں اس کی صراحت موجود ہے۔ عام طور پر یہ معروف حقیقت بھی ہے۔ سب سے نازک مسئلہ اس کے ازدواجی تعلق کا ہے، اس میں (کم سے کم فقہ حنفی میں، ظاہر ہے کہ وہ بھی شریعت ہی کی ترجمان ہے) بالغ عورت مختار ہے کہ جس سے نکاح کرنا چاہے کر سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض شکلوں میں اولیاء کو اعتراض کا حق دیا گیا ہے اور اولیاء کی اجازت و سرپرستی میں ہونے والے نکاح کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ عورت از خود اولیاء کے بغیر نکاح کر لیتی ہے تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے (اگرچہ پسندیدہ نہیں) (بدائع الصنائع ج ۲ ص ۲۴۱ ۔ طبعہ اولیٰ للعلامہ الکاسانیؒ ف ۵۸۷ھ)۔ اور اس کے لیے احادیثِ نبویہؐ سے استدلال کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے الا یم احق بنفسھا من ولیھا (ابوداود ج ۱ ص ۲۸۶ مطبع مجیدی کانپور)۔ مطلب یہ ہے کہ غیر شادی شدہ عورت اپنے نکاح کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے (کہ جس سے چاہے نکاح کرے)۔ اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک کنواری (بالغ) لڑکی کا نکاح اس کے والد نے لڑکی کی مرضی کے بغیر کر دیا تھا تو اس لڑکی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ اس پر اسے اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ چاہے تو نکاح برقرار رکھے اور نہ چاہے تو نکاح ختم کر دے (ایضاً)۔ اور اس کے علاوہ آنحضرتؐ نے یہ بھی صاف صاف فرما دیا کہ لا تنکح الثیب حتٰی تستامر ولا البکر الا بذتھا (ابوداؤد ج ۱ ص ۲۸۵ مطبع مجیدی ۔ کانپور) مطلب یہ کہ شوہر رسیدہ عورت کی شادی اس کے صریح حکم کے بغیر نہ کی جائے۔ اور کنواری لڑکی کا بھی نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں قرآن مجید میں بھی اولیاء کو صاف طور پر اس سے منع کیا گیا ہے کہ وہ عورتوں کی پسند کے شخص سے انہیں اپنا نکاح کرنے میں رکاوٹ ڈالیں۔
عورت کا ترکہ میں شرعی استحقاق
گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب، ملک اور قوم نے عورت کو ترکہ کا مستحق نہیں قرار دیا ہے لیکن اسلام نے بالکل مرد ہی کی طرح عورت کو بھی ترکہ کا مستحق بنایا ہے۔ اور اس بارے میں عمر اور نمبر کا فرق بھی نہیں کیا (مثلاً پہلی ہی اولاد کو ترکہ ملتا، یا نرینہ کو ہی ملتا بقیہ کو نہ ملتا)۔ کیونکہ جب سبب استحقاق میں سب اولاد برابر ہے تو اس کی بنیاد پر ملنے والے حق میں فرق کیوں ہو۔
زمانہ جاہلیتِ قدیمہ میں عرب ہی نہیں، جاہلیتِ جدیدہ میں بھی ترقی یافتہ سمجھے جانے والی بہت سی یورپین اور دوسری قومیں بڑے لڑکے کو ہی ترکہ کا واحد مستحق قرار دیتی ہیں۔ حالانکہ عقلِ سلیم اور مزاجِ مستقیم کے لحاظ سے یہ بالکل الٹی منطق معلوم ہوتی ہے۔ یعنی اولاد کے درمیان اگر فرق کیا جانا ہی ناگزیر ہوتا تو معکوس ترتیب ہوتی کہ چھوٹوں سے چھوٹے کو ملتا۔ سچ کہا ہے، چھٹی صدی ہجری کے ایک مشہور مالکی عالم قاضی ابوبکر ابن العربی (ف ۵۴۳ھ) نے:
ان الورثۃ الصغار الضعاف کانوا احق بالمال من القوی فنکسوا الحکم وابطلوا الحکمۃ۔ (احکام القرآن لابن العربی ج ۱ ص ۱۲۶ ۔ الطبعۃ الاولیٰ مطبعۃ السعادۃ مصر)
’’یعنی کمزور اور کم عمر ورثہ تو قوی وارثوں کے مقابلہ میں مال کے زیادہ ضرورت مند و مستحق ہوتے ہیں، لیکن جاہلوں نے ترتیب الٹ کر رکھ دی تھی۔‘‘
بہرحال اسلام نے سب اولاد کو استحقاقِ ترکہ میں برابر قرار دیا ہے (یہ الگ بات ہے کہ مصالح کی بنا پر مقدار میں فرق کیا ہے)۔
اسلامی نظامِ وراثت کی بنیاد
جیسا کہ امام غزالیؒ (ف ۵۰۵ھ) نے بتایا ہے، نسب اور سبب پر ہے (الوجیز ص ۲۶۰ ۔ مطبوعہ ۱۳۱۷ھ مطبعہ الاداب)۔ اس نظام کی رو سے عورتوں میں ماں، بیٹی، بیوی، کسی حال میں ترکہ سے محروم نہیں رہ سکتیں۔ ان کے علاوہ بہت سی صورتوں میں پوتی، دادی، نانی، بہن (ان کی تینوں قسمیں حقیقی، علاتی، اخیاتی) بلکہ بعض صورتوں میں پھوپھی نواسی بھی ترکہ پانے کی مستحق ہوتی ہیں (تفصیلات کتب فرائض مثلاً سراجی میں دیکھی جائیں)۔
ایک سطحی اعتراض
اسلامی نظامِ وراثت پر بادی النظر میں ایک اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے بلکہ سطحی نظر رکھنے والوں نے پورے اسلامی نظام پر نظر نہ ہونے کی وجہ سے بعض نے کیا بھی ہے کہ عورت کو اکثر صورتوں میں (اگرچہ بعض صورتوں میں مثلاً بہن بھائی کو برابر ملتا ہے) مرد سے نصف حصہ ملتا ہے۔ حالانکہ قانون کے سب پہلوؤں پر نظر ہو تو اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ مثلاً حقیقت سامنے ہو کہ عورت پر اسلامی قانون کی رو سے کوئی خرچ، حتٰی کہ اپنا خرچ بھی نہیں ہے (تفصیل اوپر گزر چکی ہے)۔ اس لیے اسے جو کچھ ملتا ہے محض اس کی دلجوئی اور عزت افزائی کے لیے ملتا ہے۔ اکثر اس کے ’’بینک بیلنس‘‘ بڑھانے یا زیورات بنوانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے برخلاف مرد پر اکثر حالات میں نہ صرف اس کے اپنے بلکہ دیگر اقارب کے اخراجات کا بار بھی ہوتا ہے۔ اور بیوی، نیز لڑکیوں اور نابالغ لڑکوں کے بلکہ معذور بالغوں کے بھی اخراجات اس کے ذمہ ہوتے ہیں۔
علاوہ ازیں عورت نکاح کرتی ہے تو وہ اپنے شوہر سے مہر پانے کی، جو اکثر اوقات میں بڑی رقم ہوتی ہے، حقدار ہوتی ہے۔ اور مرد نکاح کرتا ہے تو اسے مہر ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسے ایک مثال سے سمجھنا آسان ہو گا مثلاً ایک شخص کا انتقال ہوا، اس نے ترکہ میں تیس ہزار روپے اور صرف ایک لڑکا اور ایک لڑکی وارث چھوڑے۔ اب ازروئے قانونِ اسلامی لڑکے کو بیس ہزار روپیہ، لڑکی کو دس ہزار ملے۔ بعد ازاں دونوں نے شادیاں کیں۔ اور فرض کیجئے دونوں کا مہر دس دس ہزار روپے مقرر ہوا۔ اب صورتِ واقعہ یہ بنی کہ لڑکے کے پاس دس ہزار روپیہ مہر کے نکل گئے، اور لڑکی کے پاس دس ہزار (اس کے شوہر سے ملے ہوئے) آ گئے۔ اس طرح لڑکی کے پاس بیس ہزار ہو گئے، اور لڑکے کے پاس دس ہزار ہی رہ گئے، اور وہ بھی بیوی وغیرہ کے اخراجات میں جلد صرف ہو جائیں گے اور باقی نہ رہیں گے۔ اس کے بر خلاف لڑکی کے پاس بالعموم رکھے ہی رہیں گے۔
ان تمام پہلوؤں پر گہری نظر جس کی ہو گی وہ بھلا اس حکیمانہ قانون پر اعتراض کر سکے گا؟ بلکہ عجب نہیں کہ اس کے برعکس عورت کو زیادہ حصہ ملنے اور مرد کو کم ملنے کی شکایت کرنے لگے۔ لیکن مرد کو خداوند تعالیٰ کی طرف سے کسبِ معاش کی جو صلاحیتیں اور مواقع دیے گئے ہیں ان کے پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ شکایت بھی باقی نہ رہے گی۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور جہادِ آزادی
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ۶ ذوالقعدہ ۱۲۴۴ھ سوموار کے دن چاشت کے وقت قصبہ گنگوہ ضلع سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا ہدایت احمد صاحبؒ ۳۵ ویں پشت پر سیدنا حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری الخزرجیؓ سے جا ملتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد نے بہ عمر پینتیس سال ۱۲۵۲ھ میں گورکھپور میں انتقال فرمایا۔ اس وقت قطبِ عالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب علیہ الرحمہ کی عمر صرف سات سال کی تھی۔ مولانا کے دو حقیقی بھائی تھے۔ ایک بڑے، حضرت مولانا عنایت احمد صاحبؒ جو فارسی کی ابتدائی کتابوں میں مولانا کے استاد بھی تھے، اور دوسرے چھوٹے سید احمد جو نو سال کی عمر میں انتقال کر گئے، اور دو بہنیں تھیں۔ ایک حقیقی مسماۃ فصیحاً اور دوسری سوتیلی جن کا نام امۃ الحق تھا۔
حضرت مولانا علیہ الرحمہ کا ایک لڑکا ولادت کے بعد چند ایام ہی کی عمر میں فوت ہو گیا تھا، اور دوسرا صاحبزادہ مولانا حکیم مسعود احمد صاحبؒ ۱۴ جمادی الثانی ۱۲۷۸ھ کو پیدا ہوا، اور ایک لڑکی بنام ام ہانی تین چار سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، اور دوسری صاحبزادی صفیہ خاتون تھیں جو حافظ محمد یعقوب صاحبؒ کی والدہ تھیں۔
مولانا نے نو عمری ہی میں فارسی کی کتابیں کرنال میں اپنے ماموں حضرت مولانا محمد تقی صاحبؒ سے پڑھیں جو فارسی کے قابل ترین استاد تھے۔ علم فارسی سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو عربی کا شوق ہوا۔ آپ نے ابتدائی صرف و نحو کی کتابیں حضرت مولانا محمد بخش صاحب رامپوریؒ سے پڑھیں۔ استاد کی ترغیب سے آپ نے بہ عمر سترہ سال ۱۲۶۱ھ میں دہلی کا سفر کیا اور حضرت مولانا قاضی احمد الدین صاحب جہلمیؒ سے تعلیم شروع کی۔ قاسم العلوم و الخیرات حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ سے، جو دہلی میں اجمیری دروازہ کے قریب صدر مدرس تھے، تعلیم شروع کی۔ اور پھر دونوں حجۃ الاسلام حضرت نانوتویؒ اور قطب الارشاد حضرت گنگوہیؒ ہم سبق ہو گئے اور بہت تھوڑے عرصہ میں کتابیں ختم کر لیں اور حفظ قرآن پاک کی نعمتِ عظمٰی سے بہرہ ور ہوئے۔ آپ کا نکاح خدیجہ خاتون علیہا الرحمہ سے ہوا۔ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ کے ہاتھ پر سلاسل اربعہ میں بیعت کی۔
ظالم برطانیہ کے خلاف جب رمضان المبارک ۱۲۷۳ھ، مئی ۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں تحریکِ آزادی شروع ہوئی تو اس جہاد میں (جس کو کم بخت مورخ غدر لکھنے سے نہیں چوکتے) حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی، حضرت مولانا نانوتوی، حضرت مولانا گنگوہی اور حضرت حافظ محمد ضامن صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے بھرپور حصہ لیا۔ موخر الذکر تو جہادِ شاملی میں شہید ہو گئے۔ اس جہاد کی پرزور تحریک کئی وجوہ کی بنا پر ناکام ہو گئی اور سابق تینوں حضرات کے خلاف حکومتِ برطانیہ نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور گرفتار کرنے والوں کے لیے صلہ اور انعام تجویز کیا۔ اس لیے طالبِ دنیا لوگ ان کی تلاش میں ساعی اور ان کو گرفتار کروانے کی تگ و دو میں سرگرداں رہے۔ حضرت حاجی صاحبؒ اپنے مرید صادق جناب راؤ عبد اللہ خان صاحبؒ کے اصطبل اسپاں میں پنجاماسہ ضلع انبالہ میں روپوش ہو گئے۔ کسی بدبخت مخبر نے حکومت کو خبر کر دی اور سرکاری عملہ آ پہنچا اور راؤ صاحبؒ سے گھوڑوں کی دیکھ بھال کے بہانہ سے پورے اصطبل کا محاصرہ کر کے تلاشی لی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مولانا کو ان کی نگاہ سے اوجھل رکھا اور وہ خائب و خاسر ہو کر بے نیل مرام واپس چلے گئے۔
لیکن برطانیہ ظالم کی آتشِ انتقام اس سے کب ٹھنڈی ہو سکتی تھی۔ مولانا گنگوہیؒ کا تعاقب اور تلاش بدستور جاری رہی۔ مولانا ظالموں کی نگاہوں سے بچ کر رامپور پہنچے اور حضرت حکیم ضیاء الدین صاحبؒ کے مکان میں ٹھہرے اور وہیں سے ۱۲۷۶ھ کے شروع میں گرفتار کیے گئے اور سہارنپور کے جیل خانہ میں پہنچا کر جنگی پہرہ کی نگرانی میں دے دیے گئے۔ تین چار دن آپ کو کال کوٹھڑی میں اور پھر پندرہ دن جیل خانہ کے حوالات میں مقید رکھا گیا۔ اس کے بعد پیدل ہی براستہ دیوبند مظفر نگر کے جیل خانہ میں منتقل کر دیا گیا اور تقریباً چھ ماہ وہاں رہے۔
بالآخر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے باعزت رہائی نصیب ہوئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ظالم برطانیہ کے قدم مضبوط ہو چکے تھے اور کوئی خطرہ باقی نہ رہا تھا اس لیے مسلمانوں کی ایک مقتدر شخصیت کو رہا کر کے ہی ملکی شورش کو ختم کرنا مناسب سمجھا گیا۔ اور مولانا گنگوہیؒ، مولوی ابو النصر علیہ الرحمہ اور ان کے والد مولوی عبد الغنی صاحب علیہ الرحمہ متعلقین و احباب کی معیت میں گنگوہ پہنچے اور گنگوہ میں ۱۳۱۴ھ تک ایک کم پچاس سال تک برہما، سندھ، بنگال، پنجاب، مدراس، دکن، برار اور افغانستان وغیرہ اطراف و اکناف کے طلبہ دین آپ سے مستفید ہوتے رہے۔
۱۲۸۰ھ میں اللہ تعالیٰ نے حج کی سعادت نصیب فرمائی اور یہ حجِ فرض تھا۔ دوسرا حج ۱۲۹۴ھ میں نصیب ہوا جو حجِ بدل تھا اور تیسرا حج ۱۲۹۹ھ میں کیا، یہ بھی حجِ بدل تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو صالح اولاد سے بھی نوازا اور بے شمار دینی خدمات آپ سے لیں اور لاتعداد تلامذہ، خلفاء اور اولاد کے صدقہ جاریہ کے علاوہ فتاوٰی رشیدیہ، اوثق العرای، ہدایہ الشیعہ، سبیل الرشاد، امداد السلوک، القطوف الدانیہ، زبدۃ المناسک، لطائف رشیدیہ، رسالہ تراویح، رسالہ وقف، فتوٰی ظہر احتیاطی، فتوٰی میلاد، ہدایت المعتدی، رسالہ خطوط وغیرہ، علمی ذخیرہ چھوڑ کر ۱۳۲۳ھ میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ
مولانا مشتاق احمد
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لا ساقی
مخدوم العلماء حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کو آج نور اللہ مرقدہ لکھتے ہوئے دل خون کے آنسو رو رہا ہے، قلم لرز رہا ہے۔ حضرت کی پاکیزہ ادائیں، مومنانہ فراست، دلنشین فرمودات دل و دماغ میں امنڈتے چلے آ رہے ہیں۔ قادیانیت کے خلاف حضرت کی للکار سے باطل تھرا رہا ہے۔ مولانا لدھیانویؒ ایک بھرپور مجاہدانہ زندگی گزار کر اللہ جل شانہ کے حضور پہنچ گئے لیکن فتنہ قادیانیت کے خلاف جو عوامی شعور انہوں نے پیدا کیا وہ الحمد للہ برقرار ہی نہیں روز افزوں بھی ہے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بعد کام سنبھالنے کے لیے ایک ٹیم تیار کر دی ہے جو کہ ان شاء اللہ ان کے مشن کو آگے بڑھائے گی اور مولانا لدھیانوی کا نام زندہ رہے گا۔
لہرا چکی وہ برق مگر اس کی تاب سے
ذروں میں زندگی ہے غزل خواں اسی طرح
ردِ قادیانیت پر بلامبالغہ سینکڑوں نہیں ہزاروں علماء کرام نے قلم اٹھایا ہے۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے مشکل اور علمی انداز اختیار کیا۔ وہ بھی تھے جن کا اندازِ تحریر دل نشین بھی تھا اور عوامی بھی، عام فہم بھی تھا اور علمی دلائل سے بھرپور بھی، منفرد بھی تھا اور الہامی بھی۔ حضرت مولانا لدھیانویؒ دوسری قسم کے علماء کرام سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت کے اندازِ تحریر کو مختصر طور پر سہل ممتنع کہا جا سکتا ہے۔ احقر کا حضرت سے تعارف ان کی تحریروں کے واسطہ سے ہوا۔ ان کی علمیت، ان کا دل نشین اور منفرد انداز احقر کو ان کا شیدائی بناتا چلا گیا۔ حضرت کے مضامین کا ایک مجموعہ ’’حسنِ یوسف‘‘ کے نام سے شائع ہوا جو کہ واقعی اس نام کا مستحق تھا۔ ان کے اس معنوی حسن نے ہر کہ و مہ کو اپنا گرویدہ کر رکھا تھا۔ احقر بھی ردِ قادیانیت کے شعبہ کا ایک طالب علم ہے اور حضرت ٹھہرے اس فن کے امام۔ ان سے استفادہ کی خاطر چند بار خط و کتابت ہوئی۔ حضرت نے بڑی فراخ دلی سے جوابات سے نوازا۔
ان سے شعبان ۱۴۲۰ھ میں چناب نگر میں براہ راست پہلی اور آخری ملاقات ہوئی۔ محترم مولانا اللہ وسایا صاحب نے تعارف کرایا کہ یہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کے مدرسہ میں شعبہ ردِ قادیانیت کے استاذ ہیں اور آپ سے مولانا چنیوٹی کی کتاب پر تقریظ لکھوانے آئے ہیں۔ حضرت نے بے ساختہ اس ناکارہ کو اپنے سینہ سے لگا لیا، معانقہ فرمایا اور چند منٹ اسی کیفیت میں دعاؤں سے نوازتے رہے۔ احقر ان کی اپنے معاصرین کے متعلق صاف دلی، چھوٹوں سے حوصلہ افزائی، بزرگانہ شفقت سے بہت متاثر ہوا۔ اسی سفر میں حضرت کا طلباءِ ردِ قادیانیت کو اس سے مدلل خطاب بھی سننے کا موقع ملا جو کہ احقر کے لیے ان کی زندگی کا آخری خطاب تھا۔
خواب بن کر رہ گئی ہیں کیسی کیسی محفلیں
خیال بن کر رہ گئے ہیں کیسے کیسے آشنا
احقر کے خیال میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ میں علمی اعتبار سے دو خصوصیات ایسی تھیں جو کہ اپنے ہم عصروں سے انہیں ممتاز کرتی تھیں:
(۱) عصرِ حاضر میں اسلامی دنیا اور سامراجی طاقتوں کے تعلقات کے اتار چڑھاؤ پر ان کی گہری نظر تھی۔ دورِ حاضر کے تمام فتنوں سے بھی وہ بخوبی آگاہ تھے۔ ان فتنوں کے پس منظر، تہہ منظر اور پیش منظر کے موضوع پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ ان کی تحریریں اس دعوٰی کا واضح ثبوت ہیں۔
(۲) ردِ قادیانیت کے موضوع پر وہ تمام نزاکتوں سے آگاہ تھے۔ قادیانیوں کے جتنے داؤ پیچ وہ جانتے تھے، بہت کم علماء ان کی ہم سری کا دعوٰی کر سکتے ہیں۔ قادیانیت سے متعلقہ فنی باریکیوں پر ان کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔ قادیانی دلائل کے جوابات بخدا کم از کم احقر کو تو الہامی معلوم ہوتے تھے۔ وہ مومنانہ بصیرت جو کہ ’’تحفہ قادیانیت‘‘ سے آشکارا ہے، محض کتابوں کے پڑھنے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ محض الٰہی انعام تھا ان کی ذات پر۔ ان سے براہ راست استفادہ کا موقع نہ مل سکنے کے باوجود احقر ردِ قادیانیت کے حوالے سے ان کو اپنا استاذ سمجھتا ہے، ان کا جب بھی خیال آتا ہے دل سے بے اختیار دعائیں نکلتی ہیں۔
۱۸ مئی ۲۰۰۰ء کو بوقتِ ظہر حضرت کی شہادت کی خبر حواس پر بجلی بن کر گری۔ دل و دماغ کوئی بھی کام کرنے سے انکاری تھے۔ ایک سکتہ کی سی کیفیت طاری تھی جو کہ رات گئے تک برقرار رہی۔ بار بار یہ سوال ذہن میں گھومتا رہا کہ ملک و ملت کے اس بہی خواہ، اسلامی سرحدوں کے اس نظریاتی محافظ، جہادی تحریکوں کے اس سرپرست کا قصور کیا تھا؟ انہیں کس جرم کی سزا ملی ہے؟ ہماری حکومت اور خفیہ ایجنسیاں کہاں سو رہی ہیں؟ علماء کرام کے خون سے کب تک ہولی کھیلی جاتی رہے گی؟
مولانا لدھیانویؒ عاش سعیدا و مات شہیدا کا مصداق تھے۔
وہ حلم و تواضع اور وہ طرزِ خود فراموشی
خدا بخشے جگر کو لاکھ انسانوں کا انسان تھا
اکیسویں صدی اور اسلام
ڈاکٹر مراد ہوف مین
(الجزائر اور مراکش میں جرمنی کے سابق سفیر نامور نومسلم جرمن دانشور ڈاکٹر مراد ہوف مین نے گزشتہ دنوں انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے زیراہتمام کراچی میں ’’اکیسویں صدی اور اسلام کے پھیلاؤ کے امکانات‘‘ کے حوالے سے ایک لیکچر دیا جس کا ترجمہ اور تلخیص جناب ذوالقرنین اور جناب امجد عباسی نے کیا ہے۔ اسے ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
بنی نوع انسان کی تاریخ کا کوئی بھی معروضی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کو لامحالہ ان سوالات سے سابقہ پیش آتا ہے:
- میں کہاں سے آیا ہوں؟
- میں یہاں کیوں موجود ہوں؟
- مجھے یہاں سے آگے کہاں جانا ہے؟
یہ ناگزیر سوالات ہم میں سے ہر کسی کو فلسفی بنا دیتے ہیں، خواہ ہمیں اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ مذہب ان بنیادی سوالات کا جواب دیتا ہے۔ قدیم دور میں تاؤمت، ہندومت اور بدھ مت نے، اور اس کے بعد یہودیت، عیسائیت اور اسلام نے ان سوالات کے جوابات دیے اور انسانی تاریخ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔
نظریات کی صدی
۱۸ویں صدی کے بعد ہم ایک ایسے دور میں داخل ہوئے جسے آئیڈیالوجیکل کہا جا سکتا ہے۔ یہ عقلیت اور جدیدیت کے تصورات کا دور تھا۔ ایک ایسے دور میں مذہب کا تصور عوامی شعور سے محو ہو گیا اور عملاً نظریات نے مذہب کی جگہ لے لی۔ سیکولر نظریوں نے، جن کا مذہب سے کوئی رشتہ نہیں تھا، خود مذاہب کی شکل و صورت اختیار کر لی۔
مارکس، اینگلز اور لینن کے ہاتھوں تشکیل پانے والی مارکس ازم کی آئیڈیالوجی وہ آئیڈیالوجی سمجھی جا سکتی ہے جس نے پہلی بار یہ شکل اختیار کی۔ مارکس ازم نے مذہب کی طرح اپنے پیروکاروں کو مکمل طور پر اپنے سانچے میں ڈھالنے اور کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور ان سے اخلاقی طور پر اس کا پابند رہنے کا تقاضا کیا۔
اٹلی، جرمنی، اسپین، پرتگال اور یونان میں فسطائیت کی مختلف شاخوں نے اسی اشتراکی ویژن میں نسل پرستی پر مبنی شاؤنزم کی تیز خوراک بھی شامل کر دی تاکہ اس کی مدد سے یہودیوں جیسی نسل کے لوگوں اور مشرقی یورپ کی سلاف نسل کے خلاف شرمناک جرائم کا جواز پیدا کیا جا سکے اور لوگوں کو متحرک کیا جا سکے۔ ہر موقع پر مذہب موجود رہا۔ ’’میری جدوجہد‘‘ جرمنی میں مقدس دستاویز اور ہٹلر کی شخصیت نجات دہندہ قرار پائی۔ ہٹلر کے بارے میں یہ خیال راسخ کیا گیا کہ وہ ملک کو ایک خوشحال دور میں لے جائے گا اور یہ ایمپائر ۱۰۰۰ سال تک قائم رہے گی۔ یہاں بھی نازی پارٹی کا وجود چرچ کی مانند موجود تھا، اور اسی کو یہ بتانے کا اختیار حاصل تھا کہ کیا حق ہے اور کیا باطل۔ اور ایس ایس فوجی دستوں کو مذہبی تنظیموں کے اسلوب میں منظم کیا گیا تھا۔
مارکس ازم اور فاشزم کے ردعمل میں دوسرے نظریات پوری قوت کے ساتھ ابھرے۔ میری مراد مغربی لبرل ازم سے ہے، جس میں سرمایہ داری (کیپٹل ازم) اور فرانسیسی طرز کا فاشزم شامل ہیں، جس کی رو سے اجتماعی زندگی سے مذہب کی جڑ کاٹنا ضروری ہے۔ نوآبادیاتی دور کے بعد عرب دنیا میں نیشنلزم، لبرلزم، فاشزم اور سوشلزم غرض یہ کہ تمام مغربی نظریات کو آزمایا گیا لیکن سب بری طرح ناکام ہو گئے۔
اس پس منظر میں بیسویں صدی کو نظریات کی صدی (Ideological Century) کہا جا سکتا ہے۔
اسلام، ایک نظریہ حیات
اب ہم اپنی توجہ اس مشترک عنصر پر مرکوز کرنا چاہیں گے جو ۱۹ویں صدی اور ۲۰ویں صدی کے تمام نظریات کی پہچان ہے۔ یہ سب نظریات مادیت پر مبنی تھے، ان کا مطمح نظر سیکولر تھا، اور ان کی بصیرت وحی و الہام سے خالی تھی۔ یہی سبب ہے کہ ان میں سے کوئی نظریہ بھی بنیادی انسانی سوالات کا جواب نہ دے سکا، یعنی انسان کہاں سے آیا، کیوں آیا، اور کس طرف جا رہا ہے؟
عقلیت پسندی کے دور میں اور اس کے بعد، جلد بعد، عمانویل کانٹ، آگسٹے کومٹے اور فریڈرک ہیگل جیسے فلسفیوں کا خیال تھا کہ انسان مذہب سے آزادی حاصل کرنے کے بعد تنہا اپنی عقلی صلاحیتوں کی مدد سے اپنی دنیا کا آقا بن سکتا ہے۔ عقلیت پسندی بالآخر انسان کو خوشحال، پُراَمن اور انسانیت دوست دنیا کی ضمانت دیتی ہے۔
اب ہم زیادہ بہتر جانتے ہیں اور اس پر حیران نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جدیدیت صرف عقل کے ذریعے انسان کی تخریبی جبلتوں پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ مذہب کو ترک کر کے جنت ارضی کی بجائے ہمیں ناقابلِ یقین حد تک وحشیانہ عالمی جنگوں، کیمیائی اور ایٹمی جنگی اسلحہ، قتل و غارت اور نسلی صفائی جیسے مصائب اور تباہیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں اس پر کوئی حیرانی نہیں، اس لیے کہ بدیہی طور پر صرف مذاہب ہی انسان کو اس بلند سطح تک لے جا سکتے ہیں جہاں سے وہ نسلی جبلتوں، شہوانی جذبات اور انا پرستی پر قابو پا سکے۔ جب خدا کو بادشاہت کے مقام سے اتار کر خود انسان ہر چیز کا معیار بن بیٹھا تو تمام قوانین اس کی صوابدید پر منحصر ٹھہرے۔ اس عمل میں الوہی قانون کا نظریہ رد کر دیا گیا لیکن سب کو ایک کھونٹے سے باندھ کر رکھنے والے ’’فطری قانون‘‘ کو تلاش کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔
ذہانت سے زندگی کا مشاہدہ کرنے والے مغربی افراد ایک نسل قبل اس تلخ نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر انسان مذہب کی بازیافت نہ کر سکا تو بنی نوع انسان نہ صرف اپنے آپ کو تباہ کر لے گی بلکہ اپنے ساتھ کرہ ارض کو بھی لے ڈوبے گی۔
- ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ بیل نے اپنی تصنیف ’’سرمایہ داری کے ثقافتی تضادات‘‘ میں اس بات کی تلقین کی ہے کہ اخلاقیات کی تعمیرِ نو کے لیے کسی نہ کسی طرح کا مذہب اپنانا ضروری ہے، خواہ اسے خود ہی کیوں نہ ایجاد کرنا پڑے۔
- امریکہ کے ایک سابق سفارتکار ولیم آفلس نے پیشگوئی کی ہے کہ مغربی دنیا ایک بار پھر کمیونزم کی طرح مسمار ہو گی، اس لیے کہ یہ اعلیٰ بصیرت سے محروم ہے۔
دونوں اہلِ دانش نے اس بدیہی حقیقت کو دریافت کر لیا ہے کہ کوئی انسانی تہذیب کبھی روحانیت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکی۔
اس پس منظر میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ ۲۰ویں صدی کے ساتویں عشرے سے اسلام غیر متوقع لیکن نمایاں طور پر عالمی منظر پر ابھر رہا ہے۔ ایک ایسے مذہب سے کوئی توقع نہیں کی جا سکتی تھی جس پر شیخ سرہندی، شاہ ولی اللہ، اور محمد بن عبد الوہاب جیسی شخصیتوں کے باوجود ۴۰۰ برس سے جمود کی حالت طاری رہی ہو، اور جس کے تمام ماننے والوں کو یورپی اقوام نے اپنی نوآبادیات میں شامل کر لیا ہو۔
مغربی مستشرقین کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، وہ تو اسلام کا مطالعہ ایسے کر رہے تھے جیسے ماہرینِ حیوانات ان انواع کا مطالعہ کرتے ہیں جن کا وجود تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اسلام ان کے لیے تاریخ کے ایک دلچسپ موضوع سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ میکس ہینگ نے ۱۹۰۱ء میں جرمن زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا:
’’بظاہر اسلام کا سیاسی کردار ختم ہو چکا۔‘‘
ہر شخص کا یہی خیال تھا، کوئی یہ نہیں سمجھتا تھا کہ الافغانی اور محمد عبدہ اسلامی احیا کا پیغام لائیں گے۔ کوئی شخص یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا تھا کہ علامہ محمد اقبال، حسن البنا، سید قطب، یا ابو الاعلیٰ مودودی اور محمد اسد جیسے لوگ دعوتِ اسلامی کو مشرق و مغرب میں پھیلانے کا ذریعہ بن جائیں گے۔ حیرت ہے کہ آج آئس لینڈ سے نیوزی لینڈ اور کوریا سے کولمبیا تک دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جس میں سرگرم و فعال مسلمان موجود نہ ہوں۔ ۱۰۰ سال پہلے جو تعداد کے اعتبار سے دنیا کا ساتواں حصہ تھے، اب ان کی تعداد دنیا کی آبادی کا ۲۰ فیصد ہے۔ اب لندن، پیرس، روم، ویانا، لزبن، زغرب، نیویارک اور لاس اینجلس جیسے شہروں میں نمائندہ مساجد قائم ہیں۔ مزدور کارکنوں کی نقل مکانی اور مغربی یونیورسٹیوں کی دلکشی کی بدولت لاکھوں مسلمان یورپ اور امریکہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر کہیں اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہبی گروہ بنتا جا رہا ہے۔ آج کوئی اخبار یا ٹی وی چینل ایسا نہیں جس میں اسلامی موضوعات شامل نہ ہوں۔ اور صرف حال ہی میں یہ ممکن ہوا ہے کہ تمام یورپی زبانوں میں کلاسیکل اسلامی لٹریچر دستیاب ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کا سب سے زیادہ ترجمہ کیا جا رہا ہے اور زمین پر جس کی تلاوت سب سے زیادہ کی جاتی ہے۔
چونکہ یہ سب کچھ ۲۰ویں نظریاتی صدی میں ہوا ہے، اس لیے بعض اسلامی تحریکیں بنیادی طور پر سیاسی مقاصد کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ صرف مایوسی کے باعث تشدد کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے اسلام کا حوالہ بھی اکثر ایک آئیڈیالوجی کے طور پر دیا جاتا ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے تو درست ہے کہ اسلام بھی دنیا کے امور چلانے کے لیے تصورات کا ایک مجموعہ پیش کرتا ہے، لیکن ہمیں اپنے عقیدے کا حوالہ ایک آئیڈیالوجی کے طور پر دینے سے گریز کرنا چاہیے، اس لیے کہ اصطلاح سے سیاست اور ایسے دنیاوی تصور کا گمان ہوتا ہے جس میں آخرت شامل نہیں۔
مذہب کا مستقبل
صورتحال کچھ بھی ہو، یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ تیسرے ہزاریے کے آغاز پر صرف دو نقطہ ہائے نظریاتی رہ گئے ہیں جو مغرب کے انسان کے دل و دماغ کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ یعنی جدیدیت کے بعد سیکولرازم اور اسلام۔ ان کے علاوہ کوئی تیسرا متبادل نظر نہیں آتا۔ اگرچہ مغربی دانشوروں میں خال خال ایسے افراد بھی ہیں جو بدھ مت میں کشش محسوس کرتے ہیں مگر وہ شاید کسی دوسرے جنم میں موقع ملنے کا انتظار کریں گے۔
لہٰذا اب نہایت اہم سوال یہ ہے کہ مستقبل کس کا ہو گا؟ علاوہ ازیں کوئی نتیجہ نکالنے سے پہلے اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو گا کہ کیا ۲۱ویں صدی مذہبی ہو گی یا نہیں؟
موجودہ دور میں بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ مذاہب معاشرے سے خارج ہو رہے ہیں۔ اور یہ کیفیت امریکہ سے زیادہ یورپ میں پائی جاتی ہے۔ لوگ گروہ در گروہ مسیحی چرچوں کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ یہ چرچ بھی ہمارے عہد کی روح فیشنوں کے مطابق یکے بعد دیگر مصالحتیں کرتے چلے جا رہے ہیں۔ لہٰذا ہم جنس پرستوں کے پادری پیدا ہو چکے ہیں، لوگ جب اور جیسے چاہیں اسقاطِ حمل کی اجازت لے سکتے ہیں، خواتین بشپ بھی ہیں، اور روزہ رکھنے کی عملاً کوئی مدت مقرر نہیں۔ یقین کیجئے کہ اس طرح چرچ تیزی سے منحرف ہو رہے ہیں۔ چنانچہ اب یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ مسیحیت پر ایمان رکھنے والوں کی اکثریت (حتٰی کہ بعض پروٹسٹنٹ پادری بھی) مسیحؑ کی الوہیت اور موت کے بعد دوبارہ بعثت میں یقین نہیں رکھتی۔
بہرحال یہ صورتحال کی مکمل تصویر نہیں، ابھی تک نجی رویوں کا تابع، بے قاعدہ مذہب ادھر ادھر پھیلا ہوا ہے۔ مذہب مسلّمہ چرچوں سے ہٹ کر اپنے وجود کے لیے نئے سہارے تلاش کر رہا ہے۔ آپ مغربی دنیا کی کسی بک شاپ میں چلے جائیے، آپ دیکھیں گے کہ مذہب کے مقابلے میں اسرار و رموز اور طلسمات پر مشتمل کتب کا سیکشن کہیں بڑا ہو گا۔ لوگ آج بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہے؟ وہ ہر قسم کے رازوں کو جاننا اور خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بنیادی طور پر انہی مذہبی خواہشوں نے تمام صنعتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے۔ لوگ کسی بھی چیز کا تجربہ کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ خواہ وہ دشمن پرستی ہو یا جنتر منتر، شیطان پرستی ہو یا ہندو گرو۔
میری تشخیص یہ ہے کہ یہ لوگ جن کی اکثریت نئی نسلوں سے تعلق رکھتی ہے، عبوری طور پر مذہب کے لیے سرگرداں ہیں۔ بے معنویت اور روحانیت سے خالی زندگی سے ان کا دل اچاٹ ہو چکا ہے اور وہ اس حقیقت کی تلاش میں ہیں کہ کیا واقعی کوئی دنیا ایسی ہے جس میں ’’ہر چیز چلی جاتی ہے‘‘۔ ان کی پرورش پابندیوں سے آزاد ماحول میں ہوئی ہے اور ان کے دلوں میں قیادت، حقیقی اقدار اور حق و باطل کے قابلِ اعتماد معیارات کو پا لینے کی شدید خواہش موجزن ہے۔ مختصر یہ کہ ان لوگوں میں بے پناہ مذہبی امکانات موجود ہیں جو اکیسویں صدی کو مذہبی دور میں بدل سکتے ہیں۔
چنانچہ سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کی نسبت آج عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کو بہتر متبادل تصور کیا جائے گا یا نہیں؟ اور کیا اس وقت رائج نجی نوعیت کے مذہب کے مقابلے میں اجتماعی عبادت کو ترجیح دی جائے گی یا نہیں؟
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ یورپ میں مسیحیت ناقابلِ اصلاح ہے۔ اسی طرح مجھے یقین ہے کہ اہلِ مغرب ایک نیا مصنوعی مذہب بنانے کے لیے بھی اپنی کوششوں کو یکجا نہیں کر سکتے۔ ایسا مذہب چل نہیں سکے گا، اس لیے کہ مذہب کے لیے ایک ایسی ہستی کا تصور ناگزیر ہے جو شک و شبے سے بالا ہو۔ صرف وحی و الہام پر ہی مذہب کی تعمیر ممکن ہے۔
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے، میں زیادہ پُر امید ہوں۔ نوجوان نسل آپس کے تعلقات کو عزیز رکھتی ہے اور بڑھاپے میں تنہائی اور مجرد زندگی کے تصور کے بارے میں بہت فکرمند ہے۔ فی الواقع یہ نوجوانوں کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے کہ اسلام اپنے ساتھ خاندان، امت اور اخوت کے تصورات لاتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں مغربی مسیحیوں کے درمیان اپنے ہمسائے سے محبت کے تصور کے مقابلے میں اخوت کا رشتہ کہیں زیادہ حقیقی طور پر قائم ہے۔ اگر مغربی معاشروں کی جذباتی سردمہری ایک حقیقت ہے تو اسلامی امہ کی محبت اور گرمجوشی ہم عصر مغربی بچوں کی ایک بنیادی ضرورت پورا کر سکتی ہے۔
- کمپیوٹر دور کی دروں بیں فطرت،
- جنسی لحاظ سے مشتعل ماحول،
- اور مغربی زندگی میں مقابلے کی وحشیانہ دوڑ جو اسکول سے ملازمت اور ملازمت سے جنسی تعلقات تک جاری رہتی ہے،
- اور زیادہ سے زیادہ کے حصول کی تگ و دو
نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں ہر عام امریکی کم از کم ایک بار نفسیاتی معالج سے مشورے پر مجبور ہے۔ ایسے لوگ اس بدیہی حقیقت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مسلمانوں کی اکثریت اپنی ذات سے مطمئن ہے، نفسیاتی بوجھ سے بے نیاز اور عجلت پسند نہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنے اللہ کی رضا پر راضی اور اپنے ماحول اور اپنی ذات سے مطمئن لوگ ہیں۔
ان تمام اسباب کی بنا پر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ بہت سے لوگ جو اپنی روز مرہ زندگی کی بھاگ دوڑ سے تنگ آ چکے ہیں، اسلام کے بارے میں زیادہ جاننے کی جانب مائل ہوں گے۔
اسلام کے امکانات
(۱) اس سوال کا جواب کہ کیا لوگ اسلام کو دریافت کر سکیں گے یا نہیں؟ اس بات پر منحصر ہے کہ مسلمان اسلام کو درست طور پر پیش کرتے ہیں یا اس کی غلط ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی جنہیں چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔ سان فرانسسکو کے جیفرے لینگ کی طرح بہت سے نومسلم صرف قرآن کریم پڑھ کر مسلمانوں کے حلقے میں شامل ہو گئے، حالانکہ اس سے قبل ان کا مسلمانوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا، لیکن بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو داعی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
(۲) پہلے میں اس بات پر بحث کرنا چاہوں گا کہ مسلمانوں کو اشاعتِ اسلام کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس تجویز کو اس ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے کہ
’’اسلام کو مغربی معاشرے اور تہذیب کی صحتمندی کے لیے ایک اہم علاج کے طور پر پیش کیجئے، ان امراض کے مداوا کے طور پر جو مغرب کو ہلاک کرنے والے ہیں۔‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ پورے ادعا اور فعال انداز میں دعوت پیش کرنے کی ضرورت ہے، معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ دعوت کا انداز ایسا نہیں ہونا چاہیے جیسے کوئی چیز طلب کی جا رہی ہو، بلکہ ایسا ہونا چاہیے جو کسی کو کچھ پیش کرتے وقت اختیار کیا جاتا ہے۔ اور دینے کے لیے ان باتوں کے علاوہ، جن کا ذکر میں قبل ازیں کر چکا ہوں، ہمارے پاس بہت کچھ ہے:
(الف)
مسلمانوں کا تصورِ الٰہ، بے مثل خدائے واحد کا تصور، جو بیک وقت ہر کہیں موجود ہے لیکن سب سے ماورا ہے، جسے حدودِ زمان و مکان میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ وہ واحد ہستی جو مطلق وجود رکھتی ہے، اللہ کا یہ وہ واحد تصور ہے جو جدید تعلیم یافتہ انسان کو مطمئن کر سکتا ہے۔ توحید یعنی ہر قسم کی آلائش سے پاک یہ تصور کہ اللہ ایک ہے، ہمارا بڑا اثاثہ ہے۔
(ب) دنیا کی کوئی تہذیب خاندان کا ڈھانچہ ٹوٹ جانے کے بعد دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی۔ موجودہ دور میں بالفعل خاندان شدید حملے کی زد میں ہے۔ اور ریاست بھی اس میں شامل ہے جو رشتہ ازدواج کے بغیر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کام کر رہی ہے۔ طلاق کی شرح خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں آدھے گھر مجرد افراد چلا رہے ہیں، جن میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو بچہ تو چاہتی ہیں، شوہر نہیں۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد باپ کے بغیر پرورش پا رہی ہے۔ بہت سے بچے کس قدر عدمِ توازن کا شکار ہیں، اس کا اندازہ تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان سے کیا جا سکتا ہے۔ ان کے دل میں بزرگوں اور خاندان کا احترام اتنا کم ہو چکا ہے کہ اب امریکہ میں ناپسندیدہ والدین سے نجات کے لیے بچے قانونی دعوٰی بھی کر سکتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ مسلمان خاندان گلوبلائزیشن اور اقتصادی مجبوریوں اور ٹیلی ویژن کے زیر اثر شدید دباؤ میں ہیں۔ تاہم عمومی طور پر مسلمان خاندان مضبوط تانے بانے میں منسلک ہیں اور عام مغربی گھرانوں کے مقابلے میں زیادہ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے اس اثاثے کا تحفظ کرنا چاہیے۔
(ج) مغربی معاشرے کو اپنے وجود میں دوسرا بڑا خطرہ ہر قسم کی منشیات سے درپیش ہے۔ جن میں سگریٹ، کوکین، ایل ایس ڈی اور دوسری نشہ آور ادویہ شامل ہیں۔ بلکہ ٹی وی اور انٹرنیٹ کو بھی ان میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ کسی مبالغے کے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ نشہ مغربی معاشرے کے پورے وجود میں سرایت کر چکا ہے۔ بڑے صدمے کی بات ہے کہ لوگ جام، گولی اور خاص سگریٹ کے بغیر جی نہیں سکتے۔ ایسے لوگ بالفعل شرک کی ایک جدید قسم پر عمل پیرا ہیں۔ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کے غلام بن چکے ہیں۔ اور اگر کہیں انہیں روزے کے قواعد کی پابندی کرنی پڑے تو یہ بات اور واضح ہو جائے گی، وہ ایسا نہیں کر سکیں گے اس لیے کہ وہ اپنے وجود کے مالک نہیں رہے۔
مسلمان اس امر پر فخر کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے وجود میں سنجیدہ فطرت ہیں۔ وہ ہر لمحے مستعد اور چوکس رہتے ہیں اور کبھی مخمور نہیں ہوتے۔ نہ نشے کے زیراثر مہلک حادثات کے قصوروار ہوتے ہیں۔ شاید ہی کوئی دوسری بات اتنی صراحت کے ساتھ یہ ثابت کر سکے گی کہ اسلام ایک متبادل طرزِ حیات ہے جو مغرب کو حالتِ نیم خوابیدگی میں تباہی سے بچا سکتا ہے۔
(د) تمام مغربی معاشروں کو اپنے اندر مختلف قسم کے گروہی تعصبات، نسل پرستی، شاؤنزم اور دوسرے مذاہب کے خلاف امتیازی سلوک جیسے خطرات لاحق ہیں۔ ان کی غلامی کی تاریخ کا آج بھی امریکہ میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ماضی قریب تک جتنی جنگیں یورپ اور امریکہ میں لڑی گئیں وہ اسی قسم کے تعصبات کی وجہ سے برپا ہوئیں۔
اس پس منظر میں جب ذمہ دار مغربیوں کو معلوم ہو گا کہ اسلام نظری اور عملی دونوں اعتبار سے ایک ایسا مذہب ہے جس نے رنگ و نسل کے بجائے تقویٰ کو معیار بنا کر، ہر انسان کو امت میں قبول کر کے، اور خلوصِ دل سے دوسرے مذاہب کو برداشت کر کے، نسل پرستی اور کثیر المقاصد معاشرے کا مسئلہ حل کر دیا ہے تو وہ اسے جنتِ گم گشتہ خیال کریں گے۔ جب میلکم ایکس کو معلوم ہوا کہ امت میں سب نسلیں شامل ہو سکتی ہیں تو اس کے لیے یہ ایک بڑا انکشاف تھا۔
آئیے ہم اس قدر کو عملی زندگی کا حصہ بناتے ہوئے اپنی صفوں میں رنگ، نسل، زبان اور اسی طرح کے دوسرے امتیازات کو مٹا ڈالیں اور اس سے بہترین فائدہ اٹھائیں۔ امریکہ کے لاکھوں افریقی النسل لوگوں نے اسلام قبول کیا کہ حضرت بلالؓ سیاہ فام تھے۔ دوسرے لاکھوں لوگوں کو بھی انہی مقاصد کے تحت کیوں نہ ان کی پیروی پر آمادہ کیا جائے؟ بین المذاہب رواداری کا منشور بھی اسی طرح مساوی افادیت کا حامل ہے جسے سورہ المائدہ کی آیت ۴۸ اور سورہ البقرہ کی آیت ۲۵۶ میں بیان کیا گیا۔ یہ بنیادی رواداری جس پر عالمی مسیحی اتحاد کی تحریک سے پہلے ۱۴ سو برس تک عمل کیا گیا، مغربی لوگوں کی نظر میں اس قدر غیر معمولی ہے کہ وہ اس کی تحسین کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ہماری جانب سے اس بات کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ ترکوں کی حکمرانی کے دور میں ۵۰۰ برس تک یونان آرتھوڈکس رہا، لیکن سوال یہ ہے کہ ۸۰۰ برس تک اسپین میں بسنے والے مسلمان کہاں گئے؟
(ہ) نوجوان نسل اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتی ہے اور اپنی آزادی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ وہ وراثت میں ملنے والی پیشوائی، پادریوں کی مذہبی رسوم، پراسرار عقائد، اور ہر اس چیز سے نفرت کرتے ہیں جو انہیں چرچ کے ادوار کی یاد دلاتی ہے۔ ایسے لوگ اس وقت خوشگوار حیرت میں گم ہو جاتے ہیں جب انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام چرچ، پوپ، رسوم، تجسیمِ خداوندی، تثلیث، صلیب پر نجات، اور ورثے میں ملنے والے گناہوں جیسے پریشان کن تصورات کو تسلیم نہیں کرتا۔ جب انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان سے زیادہ پابندیوں سے آزاد اہلِ ایمان کوئی اور نہیں تو وہ حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ وہ کوئی درمیانی وسیلہ قبول نہیں کرتے، خواہ وہ پادریوں اور سینٹ کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔ وہ اپنی عبادات میں مکمل انفرادی حیثیت میں اللہ کے روبرو پیش ہوتے ہیں۔ وہ یقیناً اس خبر سے بھی بہت متاثر ہوں گے کہ ہر مسلمان اپنے مرتبے سے قطع نظر امام کے فرائض انجام دینے کا اہل ہے۔
(د) شاید آپ کو یہ بات سن کر حیرانی ہو کہ جنسی معاملات میں مسلمانوں کا ضابطہ آج کل بہت سے نوجوانوں کو مثبت طور پر متاثر کرتا ہے جو ’’اقدار کی قدامت پسندی‘‘ کے جدید نظریے کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں۔ متعدد مغربی خواتین جو گلیوں بازاروں میں سامانِ جنس کے طور پر مردوں کا نشانہ بننے کو توہین آمیز سمجھتی ہیں، ان مسلمان عورتوں کی مداح ہیں جن کا لباس اور رکھ رکھاؤ واضح اشارہ دیتا ہے کہ وہ کوئی ارزاں جنس نہیں ہیں۔ فحش لٹریچر اور فلموں، فیشن شو، حسن کے مقابلوں، اور عریاں جنسی اشتہارات سے عورت کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں آزادئ نسواں کی حامی بہت سی مغربی عورتیں بھی اب سمجھنے لگی ہیں کہ ان کی مسلمان بہنیں بھی اسی مقصد یعنی عورت کے وقار کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور وہ یہ کام زیادہ کامیابی سے انجام دے رہی ہیں۔
اسقاطِ حمل کے بارے میں مسلمانوں کے اس موقف کو، کہ اس کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب ماں کی زندگی خطرے میں ہو، ’’حامئ حیات‘‘ حلقوں میں بڑی عزت کا مقام دیا جاتا ہے۔ یہ حلقے اس امر پر نالاں ہیں کہ کیتھولک بشپ بھی ہر طرح کی وجوہ کی بنیاد پر اسقاطِ حمل کی اجازت دینے لگے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام بچے کی زندگی کے حق میں واضح موقف کا حامل ہے۔
مغرب کی خاموش اکثریت ہم جنس پرستی کے خلاف بھی مسلمانوں کے موقف کا احترام کرتی ہے۔ یہ خاموش اکثریت مغرب کی نئی پالیسی کی مذمت کرتی ہے، جس کے تحت ایک ہی جنس کے افراد کے درمیان تعلقات کو ایک طرزِ زندگی سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے۔ مغرب کے بہت سے دانشوروں کو خدشہ ہے کہ عوامی سطح پر ہم جنس پرستی کا مرتبہ بڑھانا، جس میں ہم جنسوں کی شادیاں بھی شامل ہیں، انحطاط اور زوالِ تہذیب کی علامت ہے۔ یہ لوگ اس بات پر شرم محسوس کرتے ہیں کہ سان فرانسسکو میں شہر کے دو حصے ہم جنس پرستوں پر مشتمل ہیں۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ ایسے لوگ مسلم رویے کو پسند کرتے ہیں جس کے تحت بظاہر ’’پیدائشی‘‘ ہم جنس پرستوں کو قابلِ رحم سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہم جنس پرستی کو زندگی کا معمول تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔
مغرب میں بیک وقت دو انتہائی رویے نظر آتے ہیں: ایک جانب جنس سے مکمل اجتناب ہے تو دوسری جانب بے لگام جنسی آزادی۔ اس لیے مغرب کے صاحبِ نظر لوگ مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے متاثر ہیں جو جنسی جبلت کی حقیقت اور آدمی کی ضروریات کے بارے میں زیادہ متوازن اور باوقار ہے۔ اسلام شادی کے تقدس کو عیسائیت کی رسمی سطح پر نہیں لے جاتا، بلکہ عقلِ سلیم کے مطابق یہ سمجھتا ہے کہ یہ معاہدہ غیر مستقل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام فریقین کے درمیان متاہلِ زندگی کو عبادت قرار دیتا ہے۔
(ز) اقتصادیات کے میدان میں بھی اسلام کو باعثِ رحمت سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی نظر میں ربا کی ممانعت بے معنی اور ناقابلِ عمل لگتی ہے۔ لیکن بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت نجی کاروبار کو، جس پر سرمایہ داری کی عمارت تعمیر کی گئی ہے، تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ جب سرمایہ بیشتر نقصان سے محفوظ کاروبار میں صرف کیا جانے لگتا ہے تو اسلام نفع و نقصان کی بنیاد پر کاروبار پر زور دیتا ہے اور سرمائے کے جمود کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
(ح) اسلام کے چند اور پہلو بھی مغربی لوگوں کے لیے کشش رکھتے ہیں جن میں صحت کے اعتبار سے رمضان کے روزے بھی شامل ہیں۔
لیکن آخری تجزیے میں یہ عوامل مغرب اور مشرق کے درمیان سب سے زیادہ اہم اختلاف کی صورت میں سمٹ جاتے ہیں۔ یعنی زندگی کی کوالٹی، جس کے بارے میں مقدار اور معیار کے اعتبار سے دونوں کے رویے مختلف ہیں۔ مغرب واضح طور پر مقداری پہلو کو اس حد تک عزیز رکھتا ہے کہ جب تک کسی چیز کی مقدار یا اس کے شمار کا تعین نہ کیا جا سکے، وہ اس کے نزدیک کسی قدر و قیمت کی حامل نہیں۔ فی الحقیقت مغرب میں ان اقدار سے انکار کا رجحان عام ہے جن کی مادی مقدار (مادی پہلو) کا تعین نہیں کیا جا سکتا، اور وہ صرف روحانی سچائیاں ہیں۔
اسلامی دنیا سمیت مشرق نئی نئی اشیائے صرف کے استعمال سے حاصل ہونے والی خوشیوں کی طرف راغب ہے، جو گلوبلائزیشن کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ رہی ہیں۔ لیکن آج بھی اس خطے میں زندگی کی کوالٹی کے پہلوؤں کو مقداری پہلو کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسلام زندگی کی کوالٹی کو جس میں سکونِ قلب، فرصت، غور و فکر، دوست داری اور مہمان نوازی شامل ہیں، خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ یہ حقیقت مغرب کے بہت سے لوگوں کے لیے باعثِ توجہ ہونی چاہیے جو احمقانہ مادیت سے خوفزدہ ہیں۔
راہ کی رکاوٹیں
جیسا کہ ہم نے دیکھا، اسلام کو متعدد وجوہ کی بنا پر مغرب کی بیشتر کمزوریوں کے لیے تریاق سمجھا جا سکتا ہے، اور سمجھا جانا چاہیے۔ چنانچہ اسلام ۲۱ویں صدی کی رہنما آئیڈیالوجی بن سکتا ہے۔ لیکن بعض عوامل ایسے بھی ہیں جو مخالف سمت میں کام کر رہے ہیں۔
(۱) مسلمان ابھی تک کسی جگہ ایک حقیقی مسلم معاشی نظام قائم نہیں کر سکے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق جیسے فیصلہ کن مسائل پر بھی مسلمانوں کی پوزیشن ابھی تک ابہام کا شکار ہے، اور ان کے تعلیمی نظام کئی پہلوؤں سے اب تک دورِ وسطٰی سے تعلق رکھتے ہیں۔
(۲) علاوہ ازیں، اکثر مسلمانوں کا طرزِ عمل دعوت و تبلیغ کی کوششوں کو بے اثر کر دیتا ہے۔ مغرب میں آ کر بسنے والے بہت سے مسلمان خصوصاً جو اَن پڑھ ہیں، اپنے عقیدے کو پیش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نتیجتاً وہ کم تر درجے کی بستیوں (Ghettos) میں نسلی گروہوں کی صورت میں رہنے لگتے ہیں۔ اپنے وطن کی ثقافت، اس کی خوراک، لباس، موسیقی، معاشرتی رسوم و رواج اور زبان کے تحفظ کے لیے وہ اپنے قومی تصورات اور رسم و رواج کے مجموعے کو اسلام کے طور پر پیش کرنے لگتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ان تارکینِ وطن کی اصل دلچسپی اپنے آبائی ملک سے ہوتی ہے جہاں وہ جلد سے جلد لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ جرمنی میں آباد ایک ترک، جو ترکی میں اسلام کا احیا چاہتا ہے، بلاشبہ مہمان ملک میں دعوت کے کاموں کے لیے کسی کام کا نہیں رہتا۔
جہاں تک ان چند لوگوں کا تعلق ہے جو مغرب میں اشاعتِ اسلام کی کوشش کر رہے ہیں، وہ اسے اتنا بے لچک، قانونی اور فقہی بنا ڈالتے ہیں کہ مغربی لوگ روحانیت کے عدمِ وجود سے چونک اٹھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ظاہری شکل و صورت کو اصل پر فوقیت دی گئی ہے، اور اکثر فروعی مسائل کو بنیادی اور مرکزی موضوعات کے برابر اہمیت دی جاتی ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر مہمان مسلم کارکن اپنے مغربی پڑوسیوں پر مذہب کے حوالے سے بہت کم اثرانداز ہوتے ہیں۔
(۳) اس کے علاوہ ایک اور بڑا عامل جو اسلام کو غالب آنے سے روکتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان با آسانی حقائق سے منہ موڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ایک بیمار آدمی کو نہ صرف یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ بیمار ہے، بلکہ اسے تجویز کردہ گولی میز پر رکھ دینے کے بجائے اسے نگلنا بھی چاہیے۔ بصیرت کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ عمل کی متبادل نہیں بن سکتی۔ جرمنی کے ایک صدر کے بقول ہمارا مسئلہ علم کا نہیں، اطلاق کا ہے۔
قرآن میں ان قدیم اقوام کی کہانیاں بکثرت بیان کی گئی ہیں جنہوں نے نوشتۂ دیوار پڑھنے سے انکار کر دیا اور تنبیہات پر کان نہ دھرا، حتٰی کہ ان کی تہذیب المناک انجام کو پہنچ گئی۔ عین ممکن ہے کہ ہم عصر مغربی دنیا بھی تباہی تک پہنچنے سے قبل اپنا راستہ تبدیل کرنے اور اسلامی طرزِ زندگی اختیار کرنے کا حوصلہ اور عزم پیدا نہ کر سکے۔ اگر ایسا ہوا تو حال ہی میں کمیونزم پر فتح پانے کے بعد مغرب پر بھی خودفراموشی کی ایک ایسی کیفیت طاری ہو جائے گی جس کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔ مغربی دنیا اپنے اندرونی تضادات کا شکار ہے اور ان تضادات میں سب سے زیادہ مہلک یہ ہے کہ انسان کو دیوتا بنا لیا گیا ہے۔ ہلاکت مغرب کا ناگزیر انجام ہے۔ اگر مغربی دنیا اس انجام سے بچنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ ازسرِنو وجودِ باری تعالیٰ کی مقدس اور الہامی حقیقت کو تسلیم کرے اور قرآنی اقدار اور احکامِ الٰہی کے مطابق، جنہیں اللہ کے آخری نبیؐ کی سنت سے مستحکم کر دیا گیا ہے، زندگی بسر کرنا شروع کر دے، واللہ اعلم۔
تنزانیہ کے حکمران خاندان کا قبولِ اسلام
منظور الحق، کامٹی
تنزانیہ کے سابق صدر اور حکمران پارٹی کے موجودہ سربراہ جولیس نریرے کا خاندان جب دارالسلام میں رابطہ عالم اسلامی کے نمائندے شیخ مصطفیٰ عباس کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا تب یہ خبر جہاں عالم اسلام کے لیے ایک حیرت انگیز مژدہ عظیم تھی، وہیں عیسائی دنیا کے لیے بہت ہی المناک اور مایوس کن تھی۔ کیونکہ نریرے کی اسلام دشمنی اور مسلم بیزاری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ نریرے وہ سخت گیر اور متعصب عیسائی رہا ہے جس نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں پر بے تحاشا مظالم ڈھائے، گویا وہ جدید دور کا فرعون صفت حکمران تھا۔
تنزانیہ براعظم افریقہ میں ایک غالب مسلم اکثریت والا ملک ہے جس کی مجموعی آبادی کا ۷۸ فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ بمشکل ۲۰ فیصد آبادی عیسائیوں کی ہوگی۔ باقی غیر مسلم جنگلی قبائلی ہیں جن کا کوئی معلوم مذہب نہیں ہوتا۔ ۷۸ فیصد مسلم اکثریتی آبادی والے اس ملک میں نریرے نے نام نہاد سوشلزم کی آڑ میں انتہائی متعصب اور ظالم عیسائی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ اپنے دور اقتدار میں اس نے مسلم اکثریت کو ختم کرنے اور عیسائی اکثریت قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی جس میں اسے بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دارالسلام کا نام بدل کر ایک سیکولر نام رکھنے کی کوشش کی گئی جس پر مسلمانوں کے شدید احتجاج اور غیر معمولی ردعمل کی وجہ سے مجبورًا اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا اور دارالحکومت کے لیے نیا شہر بسانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ دارالسلام سے صرف دس کلو میٹر دور تنزانیہ کے نئے دارالحکومت کی تعمیر شروع کی گئی۔ تنزانیہ کے دارالحکومت کو جو ایک خوبصورت شہر ہے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا کیونکہ دارالسلام کی نوے فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور سو فیصد کاروبار بھی مسلمانوں ہی کے پاس ہے۔ اس وقت شہر میں صفائی وغیرہ کا کوئی معقول انتظام نہیں، سڑکوں پر جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں اور شہر کی بڑی بڑی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہیں جن کی مرمت وغیرہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ الغرض نریرے نے مسلمانوں کی دل آزاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
نریرے وہ شخص ہے جس نے تنزانیہ کے مسلمانوں کے ساتھ پڑوسی مسلم ممالک کے حکمرانوں اور مسلمانوں کو بھی چین کا سانس لینے نہیں دیا۔ چنانچہ اس نے یوگنڈا کے عیدی امین کی حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں ایک نیم پادری جنرل اجوئے کو اقتدار پر بٹھایا اور یوگنڈا کے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کرایا جس کے نتیجے میں کمپالا اور دیگر شہروں سے مسلمان پڑوسی ملکوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمان نقل وطن کر کے پڑوسی ملکوں میں جا کر پناہ گزین ہوئے۔ ایشیائی مسلمانوں کی اکثریت جو کاروبار پر چھائی ہوئی تھی وہ انتہائی بے چارگی کے عالم میں جان بچا کر یوگنڈا سے نکل گئی اور خالی ہاتھ اپنے اپنے وطن کو روانہ ہوئی۔ تنزانیہ کی فوج نے جو فاتح بن کر یوگنڈا میں داخل ہوئی تھی بڑی بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ یہ لوگ مسلمانوں کے بیش قیمت اثاثے اپنی فوجی گاڑیوں میں بھر بھر کر اپنے ساتھ لے گئے۔
یہ نریرے ہی تھا جس نے زنجبار کی آزاد و خودمختار عرب سلطنت کو ختم کر کے اسے زبردستی تنزانیہ کی سوشلسٹ یونین میں شامل کیا اور سوشلسٹ اصلاحات کے نام پر زنجبار سے عرب اور مسلم تشخص کو ختم کرنے کی مذموم کوشش کی۔ زنجبار میں ۱۹۶۳ء سے قبل سرکاری زبان عربی تھی اور ذریعہ تعلیم بھی عربی ہی تھا۔ سب سے پہلے اس نے سرکاری دفاتر اور اسکولوں سے عربی زبان کو ختم کیا۔ سواحلی زبان جس کا رسم الخط عربی تھا اسے عربی کے بجائے انگریزی رسم الخط میں تبدیل کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سواحلی زبان پر عربی کا اثر بہت زیادہ ہے، اس کے ستر فیصد الفاظ عربی کے ہیں۔ خصوصاً گنتی مکمل طور پر عربی ہی ہے، انداز گفتگو بھی عربی ہی ہے۔ اگر کوئی شخص عربی سے اچھی طرح واقف نہ ہو تو اندازہ نہ کر پائے گا کہ دو شخص باہم عربی میں گفتگو کر رہے ہیں یا سواحلی میں۔ مسلم خواتین کے لیے برقع کے استعمال کو قانوناً جرم قرار دیا اور عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کی شادی کی سرپرستی سرکاری سطح پر کی۔
یوگنڈا سے عیدی امین کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس نے کمپالا میں پادریوں کی ایک عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ آئندہ دس سالوں میں تنزانیہ سے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل کر ہی دم لوں گا۔ چنانچہ اس نے عالمی کلیساؤں کی مدد سے اپنے اس دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی تھیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔
نریرے کے قبول اسلام کی تفصیلات بیان کرنے سے قبل اس کے قبول اسلام کے ان حالات کو بیان کرنے سے ہمارا مقصد واضح کرنا تھا کہ دنیا یہ دیکھ لے کہ عیسائی حضرات غیر عیسائی لوگوں بالخصوص اسلام اور مسلمانوں کے حق میں کس قدر متعصب اور ظالم ہوا کرتے ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں وہ اور ان کے پادری حضرات اپنی امن پسندی اور انصاف کا ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہیں اور دیگر غیر مسلم حضرات انہیں اپنا مسیحا سمجھ کر ان کی باتوں میں آکر مسلمانوں کے ساتھ دشمنانہ رویہ اپنا لیا کرتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود و ہنود کی نفرت کی طرح عیسائیوں کی نفرت اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے اور اس کی نمایاں مثالیں برطانیہ، فرانس، روس، اور جرمنی سے آنے والی خبروں میں دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ جدید نظاموں کے خوبصورت نام پر قائم ہونے والی حکومتوں کے نام پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوام یہ نہیں سمجھ پاتے کہ پس پردہ عیسائیت ہی کارفرما ہے۔
خیر اب ہم آگے مسٹر نریرے کے قبول اسلام کی حیرت انگیز تفصیلات سے آگاہ کریں گے جسے پڑھ کر ایسا ہی محسوس ہوا جیسے یہ جدید دور کا ایک معجزہ ہے کہ کسی جدید فرعون نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ عین اس وقت جب کہ وہ تنزانیہ میں عیسائیت کے لیے سرگرداں تھا اور عیسائی مشنریوں کی ہر ممکن مدد کر رہا تھا، اس کے بچے اسلام کے گہرے مطالعے میں مصروف تھے اور بتدریج اسلام کی طرف مائل ہو رہے تھے۔ اس کے بچے امریکہ اور کینیڈا کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم تھے کہ اسی دوران اسلام کی دعوت سے متاثر ہوئے۔ سب سے پہلے نریرے کی بہو مسلمان ہوئی پھر یکے بعد دیگرے تین بیٹے اور دونوں بیٹیاں بھی مسلمان ہوگئیں۔ نریرے کے بچوں کا قبول اسلام کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ عیسائی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا دھماکہ تھا۔ یہودی اور عیسائی پریس نے مکمل طور پر ان خبروں کا بائیکاٹ کیا کیونکہ ماضی میں بھی یہودی پریس کا یہی رویہ رہا ہے۔ اگر کسی قابل ذکر شخصیت نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو اسے کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور قطعاً نظر انداز کر دیا گیا اور اگر کہیں دنیا کے کسی دور دراز گوشے میں بھی غیر معروف دو چار اشخاص نے عیسائیت قبول کی تو اسے دنیا بھر میں اخبارات کی زینت بنایا گیا۔ اس سلسلے میں مسلم پریس نے بھی بالکل خاموشی اختیار کر لی۔ ہاں تحریکات اسلامی سے تعلق رکھنے والے بعض جریدوں نے اپنے طور پر تحقیقات کر کے اس خبر کو عام کیا۔
نریرے کے بچوں کے قبول اسلام کے بعد دارالسلام اور دیگر اہم شہروں میں تہلکہ سا مچ گیا تھا اور کافی دنوں تک اس کا چرچا رہا۔ لیکن باقاعدہ طور پر ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے اس کی تشہیر کو روکنے کی پوری پوری کوشش کی گئی۔ لہٰذا عوام الناس اسے افواہ سے زیادہ کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ باقاعدہ طور پر اس وقت عام لوگوں کو اس پر یقین نہ آیا جب تک خود نریرے کے بچوں نے دارالسلام میں عیسائیت کے خلاف جہاد نہ چھیڑ دیا۔ چنانچہ انہوں نے عیسائیت کے خلاف ایک بڑے مناظرے کا انعقاد کیا اور براعظم افریقہ کے تمام پادریوں کو چیلنج کیا اور وسیع پیمانے پر اس کی تشہیر کی۔ سواحلی زبان میں بڑے بڑے پوسٹر دیواروں اور اہم سرکاری دفاتر کے دروازوں پر آویزاں کیے گئے۔ مناظرے کی تاریخ سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہی مساجد اور چرچوں کے دروازے پر کھڑے ہو کر مسلم نوجوانوں نے اس مناظرے سے متعلق پمفلٹس تقسیم کیے۔
تنزانیہ کی سرزمین پر یکایک عیسائیت کے خلاف مسلمانوں کی یہ زبردست یلغار عوام الناس کے لیے انتہائی حیران کن اور بالکل خلاف توقع تھی۔ کیونکہ نریرے کی سخت گیر ڈکٹیٹرشپ اور عیسائیت نواز پالیسی کی موجودگی میں اتنی بڑی جسارت ’’ہماری جیل میں سرنگ‘‘ کے مترادف بات تھی۔ لہٰذا ان سرگرمیوں کی وجہ سے مسلمان دانشور طبقہ بھی حیرت و استعجاب کا شکار تھا کیونکہ مناظرے سے ایک دو روز قبل تک کسی کو پتہ نہیں تھا کہ عیسائیت کے خلاف اس اچانک اٹھنے والی زبردست تحریک کے پیچھے خود جناب صدر مملکت کے صاحبزادگان کارفرما ہیں۔
تنزانیہ کی تاریخ میں یہ بالکل پہلا موقع تھا جب مسلمانوں نے عیسائی مشنریوں کو کھلے عام للکارا تھا۔ چنانچہ عام لوگوں میں اس عظیم مناظراتی اجتماع میں شرکت سے دلچسپی پیدا ہوئی اور پورے تنزانیہ میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ لوگ اس میں شرکت کی تیاری کرنے لگے۔ بلکہ شیخ احمد دیدات کے تین تربیت یافتہ شاگردوں کے نام تھے جو اہل تنزانیہ کے لیے بالکل غیر معروف اور نئے تھے۔ ان تینوں مبلغین نے شیخ احمد دیدات سے ڈربن جنوبی افریقہ میں رہ کر تربیت حاصل کی تھی اور بائبل کے مختلف اور متضاد نسخوں کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ نریرے کے بچوں کا ان سے بڑا گہرا دوستانہ تھا لہٰذا یہ نوجوان مبلغین بھی آپس میں ملتے تو تنزانیہ میں اسلام کی تبلیغ اور عیسائی مشنریوں کے مقابلے کے لیے صلاح مشورہ کرتے۔ آخر انہوں نے یہ طے کیا کہ اس مناظرے کا اہتمام کھلے میدان میں کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو دیکھ سکیں اور خود فیصلہ کریں کہ حق کس کے ہاتھ میں ہے اور برسر باطل کون ہے۔
حسب مشورہ اور پروگرام دارالسلام کے سب سے وسیع و عریض اور خوبصورت میدان جمہوری پارک میں یہ مناظرہ شروع ہو کر دو دن تک چلا۔ درمیان میں نمازوں اور کھانے پینے وغیرہ کے لیے وقفہ ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر حاضرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ نریرے کے تینوں لڑکے مسلم مبلغین کے دوش بدوش بیٹھے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ تینوں مبلغین کے نام درج ذیل ہیں:
(۱) غریباں شیخ موسیٰ فونڈی
(۲) شیخ احمد کامیمبا
(۳) شیخ محمد متانا
ان تینوں میں غریباں شیخ موسیٰ فونڈی سب سے زیادہ چاق و چوبند اور حاضر دماغ و حاضر جواب ہیں۔ مشرقی افریقہ کے مبلغین کے سربراہ بھی یہی ہیں، ان کی تبلیغی کوششوں کی وجہ سے عیسائی پادریوں کی نیند حرام ہو چکی ہے کیونکہ یہ تینوں مبلغین بالکل نوجوان اور صحت مند ہیں، ان کی عمریں بالترتیب تیس، بتیس اور پینتیس سال کی ہیں۔ شیخ احمد دیدات کے یہ تینوں تلامذہ اصل افریقی باشندے ہیں اور مقامی سواحلی زبان کے ماہر اور اچھے ادیب ہیں۔ یہ حضرات مناظرہ بھی سواحلی زبان ہی میں کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تینوں مبلغین پورے مشرقی افریقہ کے پادریوں کے لیے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
اس مناظرے میں شیخ موسیٰ فونڈی کے ساتھیوں کے مقابلے میں دو پادریوں اور راہبہ نے حصہ لیا۔ مسلم مبلغین کے انداز بیان اور طرز تخاطب سے سامعین بخوبی سمجھ رہے تھے کہ فاتح کون اور مفتوح کون؟ حق کس کے ساتھ اور برسر باطل کون۔ مقابلے میں شیخ اور ان کے ساتھیوں کا انداز دلچسپ اور جارحانہ تھا جبکہ عیسائی حضرات کو معذرت خواہانہ اور مدافعانہ پوزیشن لینی پڑی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شرکا کی تعداد تقریباً ستر ہزار سے بھی زائد تھی۔ تیسرے دن ۱۵ فروری کی شام کو جب مناظرہ اختتام کو پہنچا تو تین سو لوگوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کیا اور پوری فضا اللہ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی۔
اسلام اور مسلمانوں کے متعلق اچانک اس نرم پالیسی کے اختیار کرنے کی وجہ سے نریرے کے تعلق سے عیسائی حیران و پریشان تھے کہ اس سخت گیر پالیسی میں یکایک یہ غیر معمولی تبدیلی کیسے آگئی کہ اس قسم کے پروگراموں کی اجازت مل گئی اور خود مسلمان بھی حیران تھے۔ دراصل نریرے کو جب معلوم ہوا کہ خود اس کے بچے اسلام قبول کرنے والے ہیں تو وہ بھی اسلام میں دلچسپی لینے لگا۔ اسی وقت اس نے عہدۂ صدارت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا اور عہدۂ صدارت کے لیے تنزانیہ کے سب سے معروف مسلم رہنما شیخ علی حسن مونٹے کو نامزد بھی کیا۔ صدارت کے لیے علی حسن مونٹے کی نامزدگی سے ہی لوگوں کو معلوم ہوا کہ نریرے کی پالیسی میں تبدیلی آرہی ہے اور مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں اس نے اپنی روش تبدیل کر دی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں اور مظالم کی تلافی کے لیے اس نے شیخ علی حسن مونٹے جیسے عالم فاضل شخص کو صدر نامزد کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی تاریخ پر ایک نظر
مولانا سخی داد خوستی
اقوامِ متحدہ کا اصلی نام جو امریکہ کے سابق صدر روز ویلٹ نے تجویز کیا تھا اور متفقہ طور پر منظور ہوا تھا ’’یونائیٹڈ نیشنز آرگنائزیشن‘‘ ہے جسے مختصراً ’’یو این او‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور لفظ ’’اقوامِ متحدہ‘‘ جو اردو میں مشہو ہوا ہے اس کا ترجمہ ہے، جیسا کہ عربی میں اممِ متحدہ اور پشتو میں مللِ متحدہ سے اس کی تعبیر کی جاتی ہے۔ پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۸ء) کے بعد ’’لیگ آف نیشنز‘‘ قائم کی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ آئندہ اقوامِ عالم کو آپس میں جنگی تصادم سے روکا جائے تاکہ پھر جانی و مالی نقصان نہ ہونے پائے۔ گویا لیگ آف نیشنز، اقوامِ متحدہ کی ابتدائی شکل تھی۔ یہ ادارہ دوسری جنگِ عظیم (۱۹۳۹ء تا ۱۹۴۵ء) کو نہ روک سکا اس لیے یہ ادارہ اپنی موت آپ مر گیا۔
پھر ۱۹۴۱ء میں جبکہ جنگِ عظیم دوم اپنے عروج پر تھی اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم چرچل اور امریکی صدر روز ویلٹ بحرِ اوقیانوس میں کہیں مل بیٹھے، انہوں نے ایک منشور پر رضامندی کا اظہار کیا جس کو منشور اوقیانوس کا نام دیا گیا۔ اس منشور کا مرکزی نقطہ ایسے نظام کا قیام تھا جو دنیا میں جنگ کو روک سکے اور بین الاقوامی امن کو یقینی بنا سکے۔ پھر انہی دو لیڈروں کی دعوت پر ۱۶ جمادی الاولیٰ ۱۳۶۴ھ بمطابق ۲۵ اپریل ۱۹۴۵ء امریکہ کے ایک شہر سان فرانسسکو میں پچاس ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی گئی اور اسی منشورِ اوقیانوس میں چند ترامیم و اضافات کر کے اسے اقوامِ متحدہ کا منشور قرار دیا جسے آج یو این او کے چارٹر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس چارٹر پر پچاس ملکوں نے ۱۵ رجب ۱۳۶۴ھ بمطابق ۲۶ جون ۱۹۴۵ء کو دستخط کیے، مگر حکومتوں نے ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء سے اسے باضابطہ شکل دی اور اس ادارے نے باقاعدہ کام کا آغاز اسی تاریخ سے کیا۔ اس لیے ہر سال ۲۴ اکتوبر کا دن ’’یومِ اقوامِ متحدہ‘‘ کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔
جب پہلی جنگِ عظیم میں بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، پھر اکیس سال کے وقفے کے بعد دوسری جنگِ عظیم چھڑ گئی اور اس میں بھی لاکھوں انسان اور بے حساب اموال اور اثاثے تباہ ہو گئے، تو آئندہ نسلِ انسانی کو ایسی ہولناک جانی و مالی تباہ کاریوں سے بچانے، پوری دنیا میں امن و آشتی کی فضا پیدا کرنے، ملکوں کے درمیان رشتوں کو فروغ دینے، اور بین الاقوامی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی مسائل کو حل کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ وجود میں آئی۔
ابتداء میں اقوامِ متحدہ کی سرکاری زبانیں صرف پانچ رکھی گئیں۔ انگریزی، فرانسیسی، چینی، روسی اور ہسپانوی۔ (یاد رہے کہ ہسپانوی زبان ریاستہائے متحدہ امریکہ کی دوسری بڑی زبان ہے)۔ انتیس سال تک اقوامِ متحدہ کی سرکاری زبانیں یہی پانچ رہیں۔ پھر ۱۹۷۳ء میں پاکستان سمیت ۳۵ ملکوں نے ایک قرارداد پیش کی کہ عربی کو اقوامِ متحدہ کی چھٹی سرکاری زبان قرار دیا جائے، اور اقوامِ متحدہ کی ایک کمیٹی نے بھی یہ سفارش پیش کی تو اس کے بعد بڑی مشکل سے عربی بھی یو این او کی سرکاری زبانوں میں شامل کر لی گئی۔ مگر عربی چونکہ اسلامی زبان ہے اس لیے اب بھی وہ چھٹے نمبر پر ہے۔ دفتری کاروائی صرف انگریزی اور ہسپانوی میں ہوتی ہے۔
چارٹر کی رو سے اقوامِ متحدہ کے بنیادی مقاصد کا لبِ لباب یہ ہے:
(الف) نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانا۔
(ب) بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام اور فروغ کے لیے اجتماعی تدابیر اختیار کرنا۔
(ج) بنی نوع انسان کے حقوق اور خودمختاری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے قوموں کے مابین دوستانہ تعلقات استوار کرنا۔
(د) بین الاقوامی اشتراکِ عمل کی بدولت دنیا سے جہالت، غربت اور بیماری کو دور کرنا۔
(ھ) نسل، رنگ اور مذہب کی بنا پر تفریق کو ختم کر کے انسانیت کی بنا پر اجتماعیت پیدا کرنا۔
(و) اقوامِ متحدہ کو ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکنا۔
(ز) بین الاقوامی قوانین مرتب کر کے قوموں کے باہمی تنازعات انہی قوانین کے ذریعہ حل کرنا۔
اقوامِ متحدہ کے منشور میں اس تنظیم کے مقاصد، بنیادی اصول، تنظیمی ڈھانچہ اور طریق کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ پھر مقاصد میں بڑا مقصد انسانی حقوق کا حصول اور تحفظ ہے، اس لیے انسانی حقوق کا الگ چارٹر مرتب کر کے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیا گیا جس کا اردو ترجمہ ماہنامہ ’’نوائے قانون‘‘ اسلام آباد نے دسمبر ۱۹۹۴ء کے شمارے میں شائع کیا ہے۔ انسانی حقوق کا چارٹر تیس دفعات پر مشتمل ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مندرجہ ذیل چھ اہم ادارے ہیں:
(۱) جنرل اسمبلی
یہ اقوامِ متحدہ کا سب سے بڑا ادارہ ہے، تمام ممبر ممالک اس کے رکن ہوتے ہیں اور ہر ممبر ملک پانچ نمائندے بھیج سکتا ہے، لیکن اسے صرف ایک ووٹ دینے کا حق ہوتا ہے۔ اس کا باقاعدہ اجلاس ستمبر میں ہوتا ہے۔ اس ادارے میں ہر مسئلے پر بحث ہو سکتی ہے جو چارٹر کے دائرۂ اختیار میں ہو۔
(۲) سلامتی کونسل
یہ ادارہ پندرہ ارکان پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں پانچ ممالک مستقل ممبر ہیں یعنی امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین۔ اور دس ممالک غیر مستقل ممبران ہیں جن کا انتخاب دو سال کے لیے جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ سلامتی کونسل کا اجلاس کسی وقت بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس کا صدر انگریزی حروفِ تہجی کے اعتبار سے ہر ماہ مقرر کیا جاتا ہے تاکہ تمام ممبران کو سلامتی کونسل کی صدارت کا موقع مل سکے۔
(۳) سیکرٹریٹ
اس کا سربراہ سیکرٹری جنرل ہوتا ہے جس کا تقرر سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ سیکرٹریٹ مندرجہ ذیل دفاتر پر مشتمل ہوتا ہے:
- سیکرٹری جنرل کا دفتر
- خصوصی سیاسی معاملات کے انڈر سیکرٹریوں کے دفاتر
- قانونی امور کا دفتر
- کنٹرولر کا دفتر
- کانفرنس سروس کا دفتر
- جنرل سروسوں کا دفتر
- سیاسی اور تحفظاتی امور کا محکمہ
- اقتصادی اور سماجی امور کا محکمہ
- تولیتی اور غیر خودمختار علاقوں کا محکمہ
- اطلاعاتِ عامہ کا محکمہ
(۴) اقتصادی و معاشرتی کونسل
اس کے اراکین کی تعداد ۵۴ ہے جنہیں جنرل اسمبلی ۳ سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ مگر اس ترتیب سے کہ ہر سال ایک تہائی حصہ ممبران کی میعاد رکنیت ختم ہوتی ہے۔ ان کی جگہ جنرل اسمبلی نئے ارکان کا انتخاب کرتی ہے۔
(۵) تولیتی کانفرنس
یہ ان علاقوں کے انتظام کی نگرانی کرتی ہے جن کو ممبر ممالک نے اپنی تولیت یا نگرانی میں لے رکھا ہے، اور تولیتی علاقوں کا انتظام چلانے والے ممالک اس کونسل کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ تولیتی کونسل کے ارکان تین قسم کے ہوتے ہیں:
- اول، سلامتی کونسل کے مستقل ممبران۔
- دوم، جنرل اسمبلی کی طرف سے تین سال کے لیے منتخب شدہ ممبران۔
- سوم، وہ ممالک جو تولیتی علاقوں کا انتظام چلا رہے ہیں۔
(۶) عالمی عدالتِ انصاف
یہ ادارہ پندرہ ججوں پر مشتمل ہوتا ہے جو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی ۹ سال کے لیے منتخب کرتی ہیں، اور ایک ملک سے ایک وقت میں ایک سے زیادہ جج نہیں بن سکتے۔
ان چھ اہم اداروں کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے تیس ادارے اور ہیں جن میں چھ بہت مشہور ہیں، وہ یہ ہیں:
- بچوں کا عالمی فنڈ (یونیسیف)۔
- تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ (یونیسکو)۔
- عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)۔
- ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)۔
- اقوامِ متحدہ کی کمشنری برائے مہاجرین (یونسر)۔
- عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک
اقوامِ متحدہ کے اداروں کے صدر دفاتر کہاں ہیں؟
اقوامِ متحدہ ’’عالمی عدالتِ انصاف‘‘ کے سوا باقی تمام بنیادی اہم اداروں کے صدر دفاتر نیویارک (امریکہ) میں ہیں، صرف عالمی عدالتِ انصاف کا صدر دفتر ہیگ (ہالینڈ) میں ہے۔
اور مخصوص اداروں میں سے بھی تین اداروں یعنی (۱) یونیسف، (۲) اقوامِ متحدہ دارالحکومت ترقیاتی فنڈ، اور (۳) اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تربیت و تحقیق کے صدر دفاتر نیویارک میں ہیں۔
اور پانچ اداروں کے صدر دفاتر امریکہ کے شہر واشنگٹن میں ہیں: (۱) بین الاقوامی ترقیاتی انجمن (۲) عالمی تنظیمِ تجارت (۳) بین الاقوامی مالیاتی کمیشن (۴) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (۵) عالمی بینک۔
اور مخصوص اداروں کے چودہ صدر دفاتر جنیوا (سویٹزرلینڈ) میں ہیں: (۱) بین الاقوامی ادارہ محنت (۲) عالمی ادارہ صحت (۳) اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنری برائے مہاجرین (۴) تنظیمِ ورثہ دانش (۵) عالمی مواصلاتی یونین (۶) بین الاقوامی مواصلاتی تجارتی یونین (۷) عالمی ادارہ موسمیات (۸) تجارت و محاصلات کا بین الاقوامی ادارہ (۹) اقوامِ متحدہ کا کمیشن برائے تجارتی قانون (۱۰) انسانی آباد کاری برائے بہتر رہائش (۱۱) بین الاقوامی یونین برائے تحفظِ قدرتی وسائل (۱۲) اقوامِ متحدہ فنڈ برائے آبادیاتی سرگرمیاں (۱۳) اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (۱۴) اقوامِ متحدہ کا تباہی سے بچاؤ کا ادارہ۔
اور عالمی ڈاک یونین کا صدر دفتر سویٹزرلینڈ ہی کے شہر برن میں ہے۔ اور عالمی ادارہ خوراک و بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقیات کے صدر دفاتر روم (اٹلی) میں ہیں۔ اور اقوام متحدہ کا بین الاقوامی ادارہ و اقوامِ متحدہ کا صنعتی ترقیاتی ادارہ کے صدر دفاتر ویانا (آسٹریا) میں ہیں، اور ایک ایک ادارے کے صدر دفتر مندرجہ ذیل ملکوں میں ہیں: جاپان کے شہر ٹوکیو میں اقوامِ متحدہ کی یونیورسٹی، کینیا میں اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام، اور کینیڈا کے شہر مونٹریال میں عالمی ادارہ شہری ہوا بازی، فرانس کے شہر پیرس میں یونیسکو، اور برطانیہ کے شہر لندن میں بین الحکومتی بحری مشاورتی کونسل۔
یاد رہے کہ مذکورہ ممالک یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی، سویٹزرلینڈ، ہالینڈ، آسٹریا، کینیڈا وغیرہ سب غیر مسلم ممالک ہیں، اور صورتحال یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اداروں میں سے کسی ایک ادارے کا صدر دفتر کسی مسلم ملک میں نہیں ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مرکزی عہدہ داران اکثر و بیشتر یہودی ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس تنظیم کے دس اہم اداروں میں ان کے اہم ترین عہدوں پر ۷۳ یہودی فائز ہیں۔ صرف نیویارک کے دفتر میں بائیس شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں۔ یعنی یونیسکو کے ۹ شعبوں میں اور آئی ایل او کے ۳ شعبوں میں اور ایف اے او کے ۱۰ شعبوں کی سربراہی یہودیوں کے پاس ہے۔ نیز واشنگٹن کے دفاتر میں ۱۷ شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں، ۶ عالمی بینک کے اور ۱۱ آئی ایم ایف میں۔ اور یہ سترہ عہدہ داران وہ لوگ ہیں جن کا تعلق یہودیوں کی عالمی تنظیم سے ہے۔
یہ ہے اقوامِ متحدہ کی ماہیت اور اس کا تعارفی خاکہ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی اقوامِ متحدہ، اقوامِ عالم کا ایک مشترکہ ادارہ ہے یا عالمی استعمار اور غیرمسلم قوتوں کے لیے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف سازشوں کی ایک کمین گاہ؟ اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک مستقل مضمون کی ضرورت ہے۔ البتہ سرِدست یہ بات پیشِ نظر رہے کہ اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھنے والی کانفرنس میں پچاس ملکوں میں سے صرف چار مسلمان ملک شریک تھے یعنی سعودی عرب، شام، مصر اور لبنان۔ باقی سب غیر مسلم ممالک تھے۔ ترکی اور ایران بھی اگرچہ اس تاسیسی کانفرنس میں شریک ہوئے تھے مگر ترکی واضح طور پر سیکولر ملک تھا اور ایران بھی ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی دھارے سے کٹا ہوا ہونے کی وجہ سے ملتِ اسلامیہ کی نمائندگی نہیں کر رہا تھا۔
اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ نے گزشتہ نصف صدی میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں کیا طرزِ عمل اختیار کیا؟ اس کی کچھ تفصیل آئندہ ایک الگ مضمون کی شکل میں پیش کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ پر ایک نظر
محمد حنیف قریشی ایم اے
گزشتہ چودہ صدیوں سے دنیا کی متعدد زبانوں میں قرآن پاک کے تراجم اور تفاسیر شائع ہو رہی ہیں۔ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں سب سے پہلے بارہویں صدی ہجری میں امام الہند حکیم الامت حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس وقت کی دفتری اور تعلیمی زبان فارسی میں کلام پاک کا ترجمہ کیا۔ بعد ازاں ان کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ عبد العزیزؒ نے ’’تفسیرِ عزیزی‘‘ میں پہلے سوا پارے اور آخری دو پاروں کی تفسیر فارسی زبان میں ہی لکھی۔ اس کے بعد شاہ صاحبؒ کے دوسرے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ رفیع الدینؒ نے کلامِ پاک کا اردو زبان میں تحت اللفظ ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ آج رائج ہے۔ اسی زمانے میں شاہ صاحب کے تیسرے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ عبد القادرؒ نے کلامِ پاک کا بامحاورہ اردو ترجمہ ’’موضح القرآن‘‘ کے تاریخی نام سے ۱۲۰۵ھ مطابق ۱۷۹۱ء میں شائع کیا۔ یہ ترجمہ اب بھی کثرت سے رائج ہے اور بے حد مقبول ہے۔
گزشتہ دو صدیوں میں اس برصغیر میں جتنے بھی تراجم اور تفاسیر شائع ہوئی ہیں ان میں سے بیشتر کی بنیاد یہی تراجم ہیں۔ تفسیر ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ جو حال ہی میں گوجرانوالہ میں بیس جلدوں میں منظر عام پر آئی ہے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس تفسیر کے مصنف حضرت مولانا صوفی عبد الحمید صاحب سواتی مدظلہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ کو شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے شرفِ تلمذ اور روحانی نسبت کے ساتھ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبد الشکور صاحب فاروق لکھنوی کے ادارہ سے بھی سندِ فضیلت حاصل ہے۔
آپ نے گوجرانوالہ میں ۱۹۵۲ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم کی بنیاد رکھی اور اسی وقت سے درس و تدریس، تصنیف و تالیف، تبلیغ، تحقیق کے شعبوں میں گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے جاری ہونے کے وقت سے ہی آپ نے ہفتہ میں چار دن درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ تفسیر ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ دراصل صوفی صاحب مدظلہ کے ان ارشادات کا ہی مجموعہ ہے جو آپ نے چالیس برس سے زیادہ عرصہ پر محیط ان دروس میں بیان فرمائے۔ ابتدا ہی سے ان دروس کو ریکارڈ کرنے کا بندوبست کر لیا گیا تھا۔ اس طرح قرآن پاک کی مکمل تفسیر چار سو پچھتر کیسٹوں میں پوری ہوئی۔ اس کی طباعت کا سلسلہ رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ مطابق اگست ۱۹۸۱ء میں شروع کیا گیا جو رمضان المبارک ۱۴۱۶ھ مطابق جنوری ۱۹۹۶ء میں بیس جلدوں میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
- تفسیر ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ اب تک کی موجودہ تمام بڑی تفاسیر کے نکات اور مضامین کا ایک نہایت عمدہ خلاصہ ہے۔
- اس کی زبان بالکل سادہ اور عام فہم ہے، یہاں تک کہ معمولی اردو خوان بھی اس سے پوری طرح استفادہ کر سکتا ہے۔
- ہر ایک جلد کی ابتدا میں جلد کی سورتوں کا مختصر تعارف کرایا گیا ہے جس میں سورت کے مضامین کا مختصراً ذکر کر دیا گیا ہے۔
- پوری تفسیر میں ربطِ آیات کا خصوصیت سے خیال رکھا گیا ہے۔
- اہلِ علم حضرات کے لیے مشکل علمی اور تحقیقی مسائل کو احسن طریقہ سے حل کیا گیا ہے، اس طرح ایک قاری کو بڑی تفاسیر کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
- اس تفسیر میں قرآن پاک کے حقائق و معارف اور اللہ جل و شانہ کے ابدی پیغام کو نہایت سہل اور سادہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
- تفسیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں قرآن پاک کی تعلیمات اور مفہوم و مطالب کو حضراتِ خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، ائمہ کرامؒ، سلف صالحینؒ اور بزرگان دینؒ خصوصاً محدثین کرامؒ کے مرتب کردہ اصولوں اور رہنمائی میں بیان کیا گیا ہے۔
- توحید، رسالت، ختمِ نبوت، عظمتِ صحابہؓ اور معاد جیسے اہم موضوعات کو نہایت آسان الفاظ میں قاری کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
- کفر و شرک و بدعات اور ادیانِ باطلہ اور ان سے متعلق تحریکات کا نہایت مفید اور عمدہ طریقہ سے رد کیا گیا ہے۔
- تفسیر میں امام الہند حکیم الامت حضرت مولانا شاہ ولی اللہ کے گراں قدر جواہرات کو نہایت آسان اور عام فہم الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
- ان سب خوبیوں کے ساتھ ضروری مسائل کی تشریح بالکل سادہ زبان میں کی گئی ہے جو بے حد مفید ہے۔
- علاوہ ازیں علمائے حق کے نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے غلط افکار اور باطل فرقوں کی مکمل بیخ کنی کی گئی ہے۔
- دورِ حاضر کے باطل نظامات مثل سرمایہ داری، سوشلزم، کمیونزم اور اس طرح کی دیگر تحریکات اور نظریات کی خامیاں بیان کی گئی ہیں۔
- حکمتِ ولی اللہ کی روشنی میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت اور لازوال حکمتِ عملی کی وضاحت کے ساتھ معاشی اور اقتصادی مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔
- جدت پسند طبقوں کے ذہنوں میں اسلام کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات کو نہایت عمدہ انداز میں رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
- برصغیر کی سیاسی و دیگر تحریکوں اور رہنماؤں پر بھی کہیں کہیں تبصرہ کیا گیا ہے۔
- اور موجودہ ماحول کی خرابیوں کی نشاندہی کے ساتھ ان کا حل اور علاج قرآن پاک اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں بتایا گیا ہے۔
تفسیر ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ طالب علموں، خطیبوں، علمائے کرام اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید اور معلومات افزا ہے۔ اور اپنی تمام معنوی خوبیوں کے ساتھ ظاہری خوبیوں یعنی عمدہ کتابت، اعلیٰ کاغذ، بہترین طباعت اور دیدہ زیب جلد بندی سے بھی مزین ہے۔ کل صفحات تقریباً ۱۳۰۰۰ جبکہ قیمت ۳۱۵۵ روپے ہے۔ ناشر: مکتبہ دروس القرآن، فاروق گنج، گوجرانوالہ۔
(مطبوعہ روزنامہ پاکستان لاہور ۔ ۲۸ اپریل ۲۰۰۰ء)
عالمی منظر نامہ
ادارہ
خواتین کے بارے میں اقوامِ متحدہ کا ’’فرمانِ مقدس‘‘
مغربی دنیا میں عورت کے حق میں پہلا آئینی قدم ۱۸۸۲ء میں اٹھایا گی اور یہ فرمان جاری کیا گیا کہ عورتیں اپنی مزدوری کی رقم اپنے پاس رکھ سکتی ہیں۔
اس کے بعد اقوامِ متحدہ کی سرکردگی میں ۱۹۷۵ء میں میکسیکو، ۱۹۸۰ء میں کوپن ہیگن، ۱۹۹۰ء میں نیروبی، اور ۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں گیارہ روزہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ۱۸۹ ممالک کے پانچ ہزار چار سو مندوبین اور ۴۰ ہزار خواتین پر مشتمل غیر سرکاری مندوبین نے شرکت کی۔
اب ۵ جون سے بیجنگ پلس فائیو کے نام سے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہو رہا ہے جو ۹ جون تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس کا عنوان یہ رکھا گیا ہے:
’’خواتین ۲۰۰۰ء: ۲۱ویں صدی کے لیے جنسی مساوات، ترقی اور امن‘‘۔
اس اجلاس میں ڈیڑھ ہزار مندوبین سرکاری طور پر اور ۲۰ سے ۲۵ ہزار خواتین غیر سرکاری طور پر شرکت کر رہی ہیں۔ اس اجلاس کے ایجنڈے کو ’’فرمانِ مقدس‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس فرمانِ مقدس کے ذریعے عورت کے حقوق کے نام پر معاشرے میں اختلاطِ مرد و زن، جنسی انارکی، خاندانی نظام کی تباہی کو عام کیا جائے گا، اور اس کانفرنس میں عورت کی معاشرے میں ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت کے بجائے محض اسے شمعِ محفل بنا کر رکھ دینے کے قانونی تحفظ کے ساتھ ساتھ جو معاملات خصوصاً زیرِ غور رہیں گے وہ درج ذیل ہیں:
- جنس، نسل، مذہب، عقیدہ، جسمانی معذوری، عمر، یا جنسی رجحان کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرنے اور ختم کرنے کے لیے قوانین تیار کرنا اور نافذ کرنا (H-120)۔
- وہ قوانین جو ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیتے ہیں، ان کا جائزہ لینا اور انہیں منسوخ کرنا (J-102)۔
- خواتین پیداواری اور تولیدی، دونوں سرگرمیوں میں مصروف ہیں، اس لیے انہیں ہر گھریلو کام اور تولیدی کام، دونوں کا معاوضہ ملنا چاہیے تاکہ دنیا سے غربت ختم ہو سکے (J101)۔
- طوائفوں کو جنسی کارکن کا خطاب دینا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا کو اپنے احکامات سے مجبور کرنا۔
- گھریلو ذمہ داریوں کا شماریاتی تجزیہ ناممکن ہونے کی بنا پر خواتین پر نامناسب بوجھ پڑنے کی وجہ سے جو عدمِ توازن ہے، اس کے لیے قانون سازی کرنے کی کوشش کرنا (J-103)۔
- گھریلو کام کرنے سے انکار کرنے پر ابھارنا۔
- ازدواجی عصمت دری کے لیے عائلی عدالتیں قائم کرنا۔
- عائلی تشدد اور جنسی بدسلوکی جیسے مجرمانہ معاملات کے لیے قانون سازی کرنا (M-56 C-103)۔
- قومی سطح پر قانونی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے عورتوں کو معاشی وسائل، جائیداد اور حقوقِ وراثت ایسے تمام معاملات میں مردوں کے مساوی حقوق دینا۔
- عورتوں کو زنا اور اسقاطِ حمل کا قانونی حق دینا۔
- خواتین کے خلاف ہر طرح کا امتیازی سلوک ختم کرنا (D-102)۔
- خواتین کے سلسلے میں تمام موجودہ اور مستقبل کی قانون سازی کا جائزہ لینا تاکہ اس کنونشن سے مطابقت اور مکمل تعمیل کو یقینی بنایا جائے (E-102)۔
نیویارک میں اس کانفرنس میں جو بھی منظور کیا جائے گا وہ بین الاقوامی قانون کی حیثیت اختیار کر لے گا، اور اقوامِ متحدہ کے ممبر ممالک کی ذمہ داری ہو گی کہ ان سفارشات پر عملدرآمد کریں۔ تاہم ہنوز یہ بات منظرِ عام پر نہیں آئی کہ جو ممالک ان احکامات کو نہیں مانیں گے ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
(روزنامہ انصاف لاہور ۔ ۸ جون ۲۰۰۰ء)
پاکستان دستخط نہیں کرے گا
لاہور (خبر نگار خصوصی) وفاقی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان اقوامِ متحدہ کی کسی ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کرے گی جو اسلام کے منافی ہو۔ یہ بات ڈپٹی اٹارنی جنرل شیر زمان خان نے عورتوں کی جنسی آزادی کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پیش کردہ قرارداد پر پاکستان کو دستخط کرنے سے روکنے کے لیے دائر درخواست میں بتائی۔
یہ درخواست ورلڈ مسلم جیورسٹس پاکستان کے چیئرمین محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان جنرل اسمبلی کی قرارداد کی ہر اس آئٹم کی مخالفت کرے گا جو اسلام کے منافی ہو گی۔ جنرل اسمبلی کا اجلاس جس معاملہ پر غور کر رہا ہے پاکستان اس کی مخالفت کرے گا اور اس مقصد کے لیے وفد کو بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھیجا جائے گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے جواب کے بعد درخواست نبٹا دی۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۹ جون ۲۰۰۰ء)
کوسووو میں مسلمانوں اور سربوں کی جھڑپیں
کوسووو (اے این این) کوسووو میں سربوں اور مسلمانوں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ تازہ جھڑپوں میں آٹھ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کوسووو کے قصبے قارچ نیشہ میں مسلمانوں اور سربوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔ تازہ جھڑپیں قصبے کے ایک بازار میں دستی بموں کے دھماکے کے بعد شروع ہوئیں۔
علاوہ ازیں ایک سال قبل سرب فوج کے کوسووو سے انخلا کے باوجود علاقے میں اب تک امن قائم نہیں ہو سکا۔ سرب باشندوں اور مسلمانوں میں منقسم شہر مترویشیا میں جھڑپیں ابھی بھی جاری ہیں۔ مسلمان مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرب باشندے اس علاقے کو خالی کر کے اپنے علاقے میں واپس چلے جائیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۸ جون ۲۰۰۰ء)
بھارتی مسلمان اور سکیورٹی فورسز
گوربائی (اے ایف پی) آسام کے سینئر مسلمان وزیر عبد المحیب مجمعدار نے کہا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو سکیورٹی فورسز پاکستانی جاسوس ہونے کے الزام میں ہراساں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، آسام میں جس کی بھی ڈاڑھی ہو اور سر پر ٹوپی ہو اسے آئی ایس آئی کا مخبر سمجھ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری مسلمان برادری کو پولیس نے کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے، ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہو گا۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۸ جون ۲۰۰۰ء)
کراچی میں مسیحی مشنریوں کی سرگرمیاں
کراچی (خبری ذرائع) عیسائی مشنریوں نے شہر کے متمول علاقوں کو ہدف بنا کر مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی زبردست مہم شروع کر دی ہے۔ انگریزی خواندہ ایک مرد اور ایک عورت پر مشتمل گروپس بڑے پیمانے پر گلشن اقبال، کلفٹن جیسے علاقوں میں گھر گھر دستک دے کر اخلاقیات کے فروغ کے نام پر عیسائیت کی دعوت دے رہے ہیں اور یہ سلسلہ عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق واچ ٹاور ’’بائبل اینڈ ڈسٹرکٹ سوسائٹی نیویارک‘‘ نے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عیسائی نظریات کو فروغ دینے کے لیے مشنریز کا جال بچھا دیا ہے اور اس کام کا سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ Awake نامی سہ ماہی جریدہ ہے جو دنیا کی ۸۲ زبانوں میں دو کروڑ سے زائد تعداد میں شائع ہو رہا ہے۔ اس رسالے کی مفت تقسیم کے لیے مرد و خواتین گھر گھر پہنچتے ہیں اور انگریزی زبان اور متاثر کرنے کے لیے دیگر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اخلاقیات، انسانیت، حقوق، روشنی، اچھائی جیسے الفاظ کا استعمال کر کے پس پردہ عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ یوحنا ۱۷ : ۳ میں جابجا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی فرضی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔
(ہفت روزہ ضربِ مومن کراچی ۔ ۱۵ جون ۲۰۰۰ء)
اقوامِ متحدہ میں قادیانیوں کی درخواست
نیویارک (نمائندہ خصوصی) قادیانی اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ متحرک رہتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ علماء مشائخ ونگ کے صدر پیر آف بھیرہ شریف سید امین الحسنات شاہ نے مسلم لیگ یو ایس اے کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے احمدیہ ایسوسی ایشن آف لندن کی طرف سے پاکستان کے خلاف اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی میں دائر کردہ اپیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اپیل میں بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ پاکستان میں قادیانیوں کو سرکاری ملازمت نہیں ملتی، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ پر پابندی ہے، اور ایک دوسرے کو سلام کہنے کی اجازت نہیں، اور دنیا میں بسنے والے ۴ کروڑ قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے، قادیانی جیلوں میں سڑ رہے ہیں، لہٰذا مغربی ممالک، اقوامِ متحدہ اور امریکہ خصوصی طور پر اس کا نوٹس لے۔
پیر امین الحسنات شاہ نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹا پراپیگنڈا ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ قادیانی ہمیشہ پاکستانی حکومتوں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ ان پر کوئی پابندی نہیں۔
مسلم لیگ یو ایس اے کی جانب سے احمدیہ ایسوسی ایشن کی مذکورہ اپیل کی خبر کی کاپیاں حاضرینِ جلسہ میں تقسیم کی گئیں۔ آخر میں پنجاب اسمبلی کے سابق رکن سہیل ضیاء بٹ، مسلم لیگ کے صدر آغا افضل اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۴ جون ۲۰۰۰ء)
فلپائن میں مجاہدین کے خلاف کاروائی
منیلا (این این آئی) فلپائن میں سرکاری فوج نے مسلم عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر حملہ کر کے گیارہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ سرکاری فوج کے ترجمان کرنل ہمیوجینس نے یہاں اپنے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری فوج نے گزشتہ روز موگودینو نامی صوبے میں کونابانو کے شہر میں مسلم عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر اچانک دھاوا بول دیا۔ ترجمان کے مطابق کیمپ عثمان نامی ٹھکانے پر حملے میں گیارہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے جبکہ فوج نے کیمپ پر قبضہ کر لیا۔ ترجمان کے مطابق مسلم عسکریت پسندوں کے خلاف اس وقت تک مسلح کاروائی جاری رہے گی جب تک ملک میں متوازی حکومت کا نام نشان نہیں مٹ جاتا۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۵ جون ۲۰۰۰ء)
احمد شاہ مسعود کے لیے روسی حمایت
ماسکو (پی پی آئی) روس کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی ایوانوف نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف لڑائی میں روس کھل کر احمد شاہ مسعود کی حمایت کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ مسعود کی افواج کو اسلحے کی فراہمی کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ روس چاہتا ہے کہ افغانستان سے طالبان کی یلغار کو روکنے کے لیے ایک مضبوط فوج تشکیل دی جائے جو طالبان کی انتہاپسندی کو وسطِ ایشیائی ریاستوں کرغیستان اور ازبکستان تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۴ جون ۲۰۰۰ء)
پاکستان سے سودی نظام کے خاتمہ کی نوید
کراچی (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت سودی نظام کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار پیشرفت جاری ہے، کئی غیر اسلامی قوانین کو کالعدم قرار دے کر ان کی جگہ اسلامی قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں، اور ۳۱ دسمبر ۲۰۰۰ء کو ایک آرڈیننس کے ذریعے غیر سودی نظام کا خاتمہ ہو جائے گا۔
یہ باتیں ممتاز اسکالر اور قومی سلامتی کونسل کے رکن ڈاکٹر محمود احمد غازی نے فاران کلب انٹرنیشنل کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتائیں، جس سے کلب کے بانی و نگرانِ اعلیٰ عبد الرحمان چھاپرا، صدر شیخ غلام احمد، شمس الدین خالد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
ڈاکٹر محمود غازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مخلوط انتخابات کا طریقہ رائج کرنے سے ان ممالک میں مسلم تحریکوں کے موقف کو نقصان پہنچے گا جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ پاکستانی پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے نفاذِ اسلام کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ پاکستانی دستور کے تحت اسلام سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا، لیکن یہ المیہ ہے کہ غیر اسلامی قوانین کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔
پوری اسلامی دنیا پاکستان کو اپنا وطن سمجھتی ہے اور اس کی فوج سے محبت کرتی ہے کیونکہ یہ نظریۂ اسلامی کی علمبردار ہے، فجی جیسے جزائر سمیت دنیائے اسلام کے ہر گوشے میں پاکستانی افواج سے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا یہ عالم ہے کہ لوگوں نے اپنے گھروں میں پاکستانی جنرلوں اور میجر عزیز بھٹی جیسے شہید فوجیوں کی تصاویر آویزاں کر رکھی ہیں۔
ڈاکٹر غازی نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے قبل ہی قراردادِ پاکستان میں ریاست کے آئینی و قانونی تصورات کا تعین کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے پہلے مرحلے میں کام مکمل ہو گیا ہے جس کے تحت کئی غیر اسلامی قوانین کو کالعدم قرار دے کر ان کی جگہ اسلامی قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے اور ۳۰ جون تک یہ کام مکمل ہو جائے گا، جبکہ تیسرا مرحلہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۰ء تک پورا ہو گا اور ایک قانون کے ذریعے پورے بینکنگ نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق کر دیا جائے گا۔ قائد اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا بیس کیمپ ہو گا، اس لیے پوری دنیا کی نگاہیں پاکستان پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کے عدلِ اجتماعی نظام کے قیام میں ناکامی کے ذمہ دار صحافی، فوجی، اہلِ علم، دانشور اور سیاستدانوں سمیت بحیثیت مجموعی پوری قوم ہے۔ این این آئی کے مطابق محمود احمد غازی نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر اگر شریعت کے خلاف کوئی بات ہوئی تو میں اس کے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر میں جہاد فرض ہے کیونکہ مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ جب دشمن اس کے کسی علاقے پر قبضہ کر لے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے، اور حکم ہے کہ جہاد کے لیے بیٹا اس سلسلے میں باپ کا حکم تسلیم نہ کرے، شوہر روکے تو بیوی اس کی اطاعت نہ کرے، اور غلام آقا کا حکم نہ مانے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۵ جون ۲۰۰۰ء)
چیچنیا کی امن تجاویز مسترد
ماسکو (ا ف پ) روس نے چیچن لیڈروں کی امریکہ کو پیش کی گئی امن تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ روس صرف علیحدگی پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کی صورت میں امن کا قیام تسلیم کرے گا۔ صدر ویما ریمرپوئن کے ترجمان سرجیو سیرز مسیکی نے بتایا کہ ہم ان تجاویز سے متفق نہیں ہیں اور یہ بے سود کوشش ہے اور ہم صرف یہ چاہیں گے کہ علیحدگی پسند ہتھیار ڈال دیں۔
اتاطاس نیوز ایجنسی کے مطابق چیچن وزیر خارجہ الیاس افمادوف نے دو صفحات پر مشتمل امن تجاویز واشنگٹن کو پیش کی تھیں اور فوری سیزفائر اور مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ تجاویز وزیرخارجہ میڈیلین البرائیٹ کو دورۂ مشرقِ وسطٰی کے دوران پیش کی گئی تھیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۷ جون ۲۰۰۰ء)
عالمی سربراہوں کا سب سے بڑا اجتماع
اقوامِ متحدہ (اے پی) اس سال ستمبر میں منعقد ہونے والا اقوامِ متحدہ کا میلینیم سربراہی اجلاس عالمی راہنماؤں کا سب سے بڑا اجتماع ہو گا۔ ۶ سے ۸ ستمبر تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے تمام ۱۸۸ رکن ممالک کے سربراہوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جس میں ۲۱ویں صدی کی دنیا اور اقوامِ متحدہ کو درپیش بڑے چیلنجوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ترجمان فیڈافرد نے کہا کہ اجلاس میں شرکت کے لیے ۱۴۴ سربراہانِ مملکت، ۴۶ سربراہانِ حکومت، ۵ نائب صدر اور ولی عہد نے اظہار کیا ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۲ جون ۲۰۰۰ء)
انڈونیشیا میں مذہبی فسادات
جکارتہ (اے ایف پی) انڈونیشیا کے قصبہ یوسو میں مذہبی فسادات میں ۱۲۰ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک انڈونیشی ملٹری کمانڈر نے جمعرات کو بتایا کہ وہاں سے آنے والی رپورٹ کے مطابق ان فسادات میں سینکڑوں افراد زخمی ہو گئے۔ فسادات کے بعد پوسو میں ماکسار سے ایک بٹالین نیم فوجی دستے اور ۴ بکتر بند گاڑیاں بھیج دی گئی ہیں، جبکہ مزید ایک بٹالین فورس ۱۰ جون تک ۵ فوجی گاڑیوں کے ہمراہ پوسو پہنچ جائے گی۔ نئی فورس کے آتے ہی پوسو اور پالو کے درمیان زمینی راستہ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۹ جون ۲۰۰۰ء)
ابوسیاف اور فلپائنی حکومت میں مذاکرات
جولو، فلپائن (اے ایف پی) فلپائن میں حکومت اور ۲۱ غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے والے حریت پسند گروپ ابو سیاف میں دوبارہ مذاکرات شروع ہو گئے۔ بدھ کی صبح ۹ رکنی حکومتی وفد جزیرہ جولو پہنچا جہاں اس نے ابو سیاف گروپ کے رہنماؤں سے مذاکرات شروع کر دیے۔ آخری اطلاعات تک مذاکرات ابھی جاری تھے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۸ جون ۲۰۰۰ء)
سعودی عرب اور انسانی حقوق
مکہ مکرمہ (نمائندہ خصوصی) سعودی عرب کسی بھی حالت میں شریعت پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گا اور نہ اسے ترک کرے گا۔ اس عزم کا اظہار سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے برسلز میں یورپی یونین اور جی سی سی وزرائے خارجہ کے مشترکہ اجلاس میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے نمائندہ کو انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس موضوع پر اصولی اور منصفانہ موقف اختیار کرنا چاہیے تھا، سعودی عرب کے حقائق سے آنکھیں موند کر اور اس کے عدالتی اور سیاسی نظام سے ناواقفیت کے عکاس بیان دینا افسوسناک امر ہے۔
انہوں نے جی سی سی وزرائے خارجہ وفد کے سربراہ کی حیثیت سے کہا کہ سعودی عرب انسانی حقوق سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کرتا ہے کیونکہ ہمارا مذہب انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اسلامی ہدایات کا مذاق اڑانے یا ان کی آفاقیت کو نظرانداز کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔
سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ تعجب انگیز امر یہ ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ ہمارے ہاں انسانی حقوق کے تعارف سے متعلق غیر سرکاری خودمختار قومی ادارہ اور وزیراعظم کے ماتحت سرکاری قومی ادارہ کی تشکیل کے لیے اقدامات کیے جا رہے تھے، انسانی حقوق کے عالمی فنڈز میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا جا رہا تھا، انسدادِ تشدد کے معاہدے میں شمولیت اختیار کر لی گئی تھی، ایسے حالات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے من گھڑت الزامات کی مہم چلانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۵ جون ۲۰۰۰ء)
دو لڑکوں کی شادی ۔ نکاح خواں گرفتار
شکارپور (نامہ نگار) شکارپور کے علاقہ گڑھی یاسین میں دو محبت کرنے والے لڑکوں نے آپس میں شادی کر لی۔ نکاح کی تقریب کے سلسلے میں باقاعدہ اہتمام کیا گیا۔ مولوی نے وکیل اور گواہوں کی موجودگی میں دونوں لڑکوں کا نکاح پڑھوایا۔ نکاح کی تقریب میں شریک مہمانوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق ممتاز خان رائس مل گڑھی یاسین میں کام کرنے والے دو لڑکے اعجاز اور ببلو جمالی کی آپس میں محبت چلی آ رہی تھی۔ آخرکار دونوں نے اپنے دوستوں سے مشورہ کرنے کے بعد آپس میں شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس طرح مل کے مزدوروں نے دولہا اعجاز جھکر اور دلہن ببلو جمالی کی آپس میں شادی کے سلسلے میں رائس مل میں ایک تقریب کا اہتمام کر کے نکاح پڑھانے کے لیے مولوی غلام حیدر شیخ اور وکیل کریم ڈنو کو خاص طور پر بلایا۔
اگلے ہی دن دو لڑکوں کی آپس میں شادی کی اطلاع جیسے ہی پولیس کو ملی، پولیس نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے دو لڑکوں کا آپس میں نکاح پڑھانے والے مولوی غلام حیدر شیخ اور شادی کے وکیل کریم ڈنو کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے دولہا اور دلہن لڑکوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا مگر وہ دونوں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۷ جون ۲۰۰۰ء)
سیکولر سٹیٹ اور دینی مدارس پر کنٹرول ۔ وزیر داخلہ کا نیا ایجنڈا
واشنگٹن (این این آئی) وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان کو ترقی پسند، جدید اور متحمل مزاج سیکولر سٹیٹ ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ امریکی ایجنڈا نہیں بلکہ ہماری اپنی پالیسی ہے۔ حکومت واضح طور پر فیصلہ کر چکی ہے کہ ان ہزاروں مدارس کو کنٹرول کیا جائے گا جن میں سے بعض مغرب کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں اور بعض کشمیر، افغانستان، بوسنیا اور چیچنیا میں جہاد کے لیے نوجوان تیار کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے نمائندہ جوڈتھ ملر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں حکومت نے عسکریت پسندوں کا نیٹ ورک بتدریج ختم کرنے کے لیے مہم شروع کر دی ہے کیونکہ ان کے باعث پاکستان میں فرقہ واریت پھیل رہی ہے اور لوگوں کے ذہن زہرآلود کیے جا رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اپیل پر افغانستان میں طالبان نے متعدد پاکستانی اور عرب ملک بدر کیے ہیں جو اپنی حکومتوں کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں مطلوب تھے۔ طالبان نے رشکاور میں کابل کے قریب ایک کیمپ کا بھی سراغ لگایا ہے جہاں عسکری تربیت دی جاتی تھی۔
وزیر داخلہ نے اس امر پر زور دیا کہ قومی سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے ایک اچھا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم کسی کے ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے۔ پاکستان کو ایک پروگریسو، جدید اور متحمل مزاج سیکولر سٹیٹ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام ایک رات میں نہیں ہو سکتا اور اس سے بہت سے لوگ اپ سیٹ ہوں گے۔ تاہم حکومت ان پر قابو پانے اور بتدریج رول بیک کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں چار ہزار کے قریب دینی مدارس رجسٹرڈ ہیں۔ وہ ان دینی مدارس کے سربراہوں سے ملاقات کر کے ان پر زور دے چکے ہیں کہ وہ ان مدارس میں ریاضی اور کمپیوٹر کی تعلیم کو بھی اپنے نصاب میں شامل کریں۔ وہ صرف ایک قسم کے لوگ پیدا نہ کریں بلکہ متبادل شخصیات پیدا کریں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے وزیر داخلہ کے انٹرویو کے حوالے سے پاکستان کے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے تازہ ترین اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات کامیاب ہوں گے، اور کہا ہے کہ ہمیں پاکستان کی حکومت سے اسی قسم کے اقدامات کی امید ہے۔
امریکی نائب وزیرخارجہ برائے جنوبی ایشیا کارل انڈرفرتھ نے وزیر داخلہ کے ایکشن پلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے امریکہ کو باقاعدہ طور پر ان اقدامات سے آگاہ نہیں کیا تاہم ہمیں پاکستان سے ایسی ہی امید ہے اور ہم اسی قسم کے اعلانات کے منتظر ہیں، امید ہے کہ پاکستان اس میں کامیاب ہو گا۔ ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ لگتا ہے پاکستان پہلے سے زیادہ اقدامات کر رہا ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۱ جون ۲۰۰۰ء)
وزارتِ داخلہ کی وضاحت
اسلام آباد (این این آئی) وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ہرگز یہ نہیں کہا کہ پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنایا جائے، اخبار نے غلط بیانی کی ہے۔
اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے نیویارک ٹائمز کے حوالے سے پاکستانی پریس میں شائع ہونے والے وزیر داخلہ کے انٹرویو کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک ٹائمز نے وزیر داخلہ اور انٹرویو کرنے والے کے خیالات کو خلط ملط کر دیا ہے جس سے قارئین کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ انٹرویو کے دوران وزیر داخلہ کے خیالات بالکل واضح اور ٹھوس تھے، انہوں نے پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر داخلہ متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ حکومت کا مقصد پاکستان کو ایک معتبر، جدید، پروگریسو اور متحمل مزاج سٹیٹ بنانا ہے۔ جہاں تک پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے کا تعلق ہے یہ معاملہ آزادی کے وقت ہی طے ہو گیا تھا کیونکہ پاکستان ایک مسلم ملک کی حیثیت سے ہی اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ لہٰذا اسلام ہی پاکستان کا سرکاری مذہب ہے اور پاکستان کے عوام اسلام کے سیاسی، معاشی اور اخلاقی قدروں اور سنہرے اصولوں سے مستفید ہوتے رہیں گے۔۔۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۲ جون ۲۰۰۰ء)
تعارف و تبصرہ
ادارہ
خطباتِ سواتی (جلد ششم)
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دروس القرآن اور خطبات سے علماء کرام، خطباء اور دیگر پڑھے لکھے حضرات جس طرح استفادہ کر رہے ہیں وہ بارگاہِ ایزدی میں ان کی قبولیت کی علامت ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ اس کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
’’خطباتِ سواتی‘‘ کے نام سے حضرت صوفی صاحب کے خطباتِ جمعہ کا چھٹا مجموعہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے متعدد اہم عنوانات پر معلوماتی اور پُر اَثر خطبات پر مشتمل ہے اور خطابت و تدریس سے متعلقہ حضرات کے لیے بطور خاص قابلِ قدر تحفہ ہے۔
صفحات ۴۸۰ ۔ عمدہ طباعت و کتابت ۔ مضبوط جلد ۔ قیمت ایک سو تیس روپے ۔ ملنے کا پتہ: مکتبہ دروس القرآن، فاروق گنج، گوجرانوالہ۔
ہدایہ اور صاحبِ ہدایہ
جامعہ ابوہریرہؓ، خالق آباد، نوشہرہ، صوبہ سرحد کے مہتمم اور معروف مصنف مولانا عبد القیوم حقانی نے ہدایہ کی مسلسل تدریس کے دوران زیرِ بحث آنے والے اہم علمی نکات اور صاحبِ ہدایہ کی سیرت و سوانح کے بارے میں اہم معلومات کو مندرجہ بالا عنوان کے تحت ایک کتابچہ میں جمع کر دیا ہے جو مدرسین اور طلبہ کے لیے بہت فائدہ کی چیز ہے۔
صفحات ۸۰ ۔ کتابت و طباعت معیاری ۔ قیمت درج نہیں ۔ ملنے کا پتہ: القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہؓ، خالق آباد، ضلع نوشہرہ، صوبہ سرحد۔
عقائدِ علماء دیوبند
علماء دیوبند کے عقائد کی وضاحت میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کا تحریر فرمودہ کتابچہ ’’المہند علی المفند‘‘ ایک تاریخی دستاویز ہے جسے اکابر علماء دیوبند کے ساتھ ممتاز عرب علماء کی تصدیق بھی حاصل ہے۔ حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی دامت برکاتہم نے اسی کی بنیاد پر اردو میں ’’عقائدِ علماء دیوبند‘‘ کے نام سے کتابچہ تحریر فرمایا ہے جسے علماء دیوبند کے علمی حلقوں میں پسند کیا گیا ہے۔ اب انہی کے فرزند مولانا مفتی عبد القدوس ترمذی نے اس کا خلاصہ خوبصورت پاکٹ سائز کتابچہ کی صورت میں عمدہ کتابت و طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے جسے جامعہ حقانیہ ساہیوال ضلع سرگودھا سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
ہماری نماز (اردو و انگلش)
حضرت مولانا شاہ مسیح اللہ خان صاحبؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد فاروق صاحبؒ نے ’’ہماری نماز‘‘ کے عنوان سے نماز اور اس سے متعلقہ مسائل اور ایمانیات وغیرہ ضروری معلومات پر مشتمل ایک جامع مجموعہ مرتب فرمایا تھا جسے مبین ٹرسٹ پوسٹ بکس ۴۷۰ اسلام آباد ۴۴۰۰۰ نے اردو اور انگلش میں الگ الگ کتابچوں کی صورت میں شائع کیا ہے۔ دونوں کی کتابت و طباعت عمدہ ہے اور انگلش ایڈیشن بطور خاص آرٹ پیپر پر شائع کیا گیا ہے اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمان بچوں اور بچیوں کے لیے بہت کارآمد چیز ہے۔
جن حضرات کے رشتہ دار اور عزیز مغربی ممالک میں رہتے ہیں، ہم ان سے خصوصی طور پر گزارش کریں گے کہ وہ نماز، ضروری دعاؤں اور ایمانیات کے عربی متن اور ان کے انگلش ترجمہ پر مشتمل یہ کتابچہ اپنے ان عزیزوں کو بھجوانے کا اہتمام کریں تاکہ ان کے بچے نماز جیسے اہم فریضہ کی تعلیم آسانی کے ساتھ حاصل کر سکیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتیں اور ان کا شکر
حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کے فرزند و جانشین اور مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبد العزیز صاحب نے انسان کے وجود اور اردگرد ماحول میں بکھری ہوئی اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے روزمرہ مشاہدہ میں آنے والی کچھ نعمتوں کو اس کتابچہ میں انتہائی دلنشین اور مؤثر انداز میں قلمبند کیا ہے، اور قرآن و سنت کے حوالوں کے ساتھ ساتھ مشاہدات و تاثرات کی صورت میں ان نعمتوں کی شکرگزاری کے احساس کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتابچہ جامعہ فریدیہ، ای سیون، اسلام آباد سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
صدر کلنٹن کے نام مراسلہ اور اس کا جواب
مسیحیت کے ممتاز محقق جناب محمد اسلم رانا نے امریکی صدر کلنٹن کے نام پاکستان کی ایک مسیحی تنظیم کے مراسلہ کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کا جواب تحریر کیا ہے اور یہ بات واضح کی ہے کہ پاکستان میں مسیحیوں کے حقوق کی پامالی کے بارے میں عالمی سطح پر جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، حقائق کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور صرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے یہ شور مچایا جا رہا ہے۔
۳۲ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ دفتر ماہنامہ ’’المذاہب‘‘ ملک پارک، شاہدرہ، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
میں ایک احمدی تھا
ایک معروف قادیانی دانشور پروفیسر منور احمد ملک نے کچھ عرصہ قبل قادیانیت کو خیرباد کہتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے، اور ایک مضمون میں اپنے قبولِ اسلام کے اسباب و وجوہ اور قادیانی جماعت کے ناگفتہ بہ اندرونی حالات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ مضمون روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں شائع ہوا تھا اور اب اسے ہمارے محترم دوست جناب عبد الرشید ارشد نے رائٹرز فورم، جوہر پریس بلڈنگ، جوہر آباد، ضلع خوشاب کی طرف سے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا ہے جو احباب میں تقسیم کے لیے ان سے منگوایا جا سکتا ہے۔