جولائی ۲۰۰۰ء

انسانی حقوق اور اسوۂ نبویؐمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خاندانی منصوبہ بندی کی اخلاقی تباہ کاریاںعبد الرشید ارشد 
بیجنگ پلس فائیو کانفرنسپروفیسر ثریا بتول علوی 
گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے پس پردہ عزائمادارہ 
ضلعی حکومتوں کا عالمی استعماری منصوبہعلی محمد رضوی 
ضلعی حکومتیں: پاکستانی ریاست کے خلاف خطرناک سازشڈاکٹر جاوید اکبر انصاری 
اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور چارٹر پر ایک نظرمولانا سخی داد خوستی 
عالمی منظر نامہادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

انسانی حقوق اور اسوۂ نبویؐ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۳ جولائی ۲۰۰۰ء کو ۱۱ بجے دن ڈسٹرکٹ کونسل ہال گوجرانوالہ میں محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر اہتمام سالانہ ڈویژنل سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت محکمہ اوقاف کے زونل ایڈمنسٹریٹر نے کی جبکہ کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن جناب خوشنود اختر لاشاری مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس سے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ مدیر الشریعہ مولانا زاہد الراشدی نے بھی خطاب کیا، ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ الشریعہ)



بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے محکمہ اوقاف پنجاب کا شکر گزار ہوں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور حیات مبارکہ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکت اور آپ حضرات سے گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ سیرت نبویؐ پر گفتگو کرنے والا اپنی بات شروع کرنے سے پہلے اس الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس وسیع و عریض چمنستان کے سدا بہار پھولوں میں سے کس کا انتخاب کرے اور کسے چھوڑے کیونکہ اس باغ کے ہر پھول کی خوشبو نرالی ہے اور کسی ایک کو چھوڑ کر آگے نکل جانے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ اسی کشمکش میں، میں نے آج کے دور میں زیر بحث آنے والے سب سے بڑے موضوع کے حوالہ سے سیرت طیبہ کے صرف ایک پہلو پر کچھ عرض کرنے کا ارادہ کیا ہے اور وہ ہے ’’انسانی حقوق‘‘ کا موضوع جو آج کا سب سے اہم عنوان ہے اور دنیا بھر میں اس پر گفتگو اور بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاف اور شفاف سیرت مبارکہ کو ہم نہ آج کی دنیا کے سامنے تحریر و تقریر کی صورت میں صحیح طور پر پیش کر رہے ہیں اور نہ ہی ہماری عملی زندگی میں اس کی کوئی جھلک پائی جاتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ خود ہم مسلمانوں کا وجود اسلامی تعلیمات اور جناب رسول اکرمؐ کی سیرت طیبہ تک نسل انسانی کی رسائی میں رکاوٹ اور حجاب بن کر رہ گیا ہے۔ بہرحال آج کی دنیا کا سب سے اہم موضوع ’’انسانی حقوق‘‘ ہے اور مغرب آج کی نسل کیانسانی کو یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ اس نے انسانوں کو حقوق کا شعور بخشا اور ان کے حقوق کا تعین کیا ہے۔ لیکن تاریخ کے میزان پر یہ بات درست ثابت نہیں ہوتی اس لیے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے عنوان سے حقوق کا جو تعارف اور تفصیلات قرآن کریم میں چودہ سو برس پہلے سامنے آچکی ہیں آج کا کوئی نظام خدا اور اس کے بندوں کے درمیان اور پھر خود انسانوں کے باہمی حقوق کے بارے میں اس طرح کا جامع تصور اور نظام پیش کرنے سے قاصر ہے۔

جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ میں بے شمار واقعات ہیں جن میں آنحضرتؐ نے انسانوں بلکہ جانوروں تک کے حقوق کی وضاحت کی ہے، ان کی ادائیگی کی تلقین کی ہے اور اپنے حقوق کی پاسداری کے جذبہ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ آج کی مجلس میں انہی میں سے چند واقعات کا تذکرہ کرنا چاہ رہا ہوں۔

ابو داؤد شریف کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ ایک دفعہ مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں ایک کمزور اور لاغر سا اونٹ کھڑا تھا، رسول اکرمؐ کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ اپنی زبان میں کچھ شکایت کرنے لگا۔ نبی کریمؐ نے دریافت کیا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نوجوان نے آگے بڑھ کر کہا کہ یا رسول اللہ! یہ اونٹ میرا ہے۔ اس پر آپؐ نے اسے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اس جاندار کے حقوق میں کوتاہی نہ کرو۔ پھر فرمایا کہ اس اونٹ نے تمہارے بارے میں دو شکایتیں کی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس سے کام اس کی ہمت سے زیادہ لیتے ہو اور دوسری یہ کہ اسے اس کی ضرورت کے مطابق خوراک نہیں دیتے۔ یہ اس کے ساتھ زیادتی ہے، اس پر ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور ضرورت کے مطابق خوراک مہیا کرو۔ اس سے اندازہ کر لیجئے کہ جناب نبی اکرمؐ نے نہ صرف انسانوں کے بلکہ جانوروں کے حقوق بھی بیان فرمائے ہیں اور ان میں کوتاہی کو ظلم قرار دیا ہے۔

ابوداؤد شریف ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز پیدل کسی جگہ تشریف لے جا رہے تھے، ایک صحابیؓ نے جو گدھے پر سوار تھے، دیکھا تو حضورؐ کے پاس آکر آپ سے درخواست کی کہ اس کے ساتھ گدھے پر سوار ہو جائیں۔ یہ کہہ کر وہ صحابی گدھے پر اپنی جگہ سے پیچھے ہٹے تاکہ نبی اکرم ان سے آگے بیٹھ جائیں۔ مگر جناب رسول اکرمؐ نے یہ کہہ کر آگے بیٹھنے سے احتراز فرمایا کہ ’’صاحب الدابۃ احق بصدرھا‘‘ جانور کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں بخوشی اپنے اس حق سے دستبردار ہوتا ہوں تو اس کے بعد آپؐ گدھے پر اس کے آگے بیٹھ گئے۔ یہ بات بظاہر ایک عام اور معمولی سی لگتی ہے لیکن اس میں نبی کریمؐ کی یہ سنت اور تعلیم موجود ہے کہ باہمی حقوق کا احترام کس قدر ضروری ہے اور حقوق کے بارے میں بڑے چھوٹے کی کوئی ترجیح نہیں ہے۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ تشریف فرما تھے، آپ کے دائیں جانب حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیٹھے تھے اور بائیں جانب حضرت خالد بن ولیدؓ تھے۔ یہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی تھے اور ام المؤمنین حضرت میمونہؓ ان کی حقیقی خالہ تھیں اس لیے دونوں آنحضرتؐ کے بھانجے بھی لگتے تھے۔ اس مجلس میں جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں کوئی مشروب پیش کیا گیا جو آپؐ نے نوش فرمایا جس کا کچھ حصہ بچ گیا تو وہ بائیں جانب بیٹھے ہوئے حضرت خالد بن ولیدؓ کو دینا چاہا جبکہ یہ حق دائیں جانب والے کا بنتا تھا جو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ تھے، جو اگرچہ چھوٹے بچے تھے اس لیے کہ رسول اکرمؐ کی وفات کے وقت حضرت عبدا للہ بن عباسؓ کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔ لیکن اس کے باوجود آپؐ نے ان سے اجازت مانگی اور پوچھا کہ تم اجازت دو تو یہ بچا ہوا مشروب بائیں جانب والے کو دے دوں؟ مگر حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ میں آپ کے تبرک کے بارے میں خود پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ جواب سن کر حضورؐ نے پیالہ انہی کو دیا لیکن روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’تلہ فی یدہ‘‘ پیالہ زور سے ان کے ہاتھ میں تھما دیا جس کے بارے میں شارحین کہتے ہیں کہ اس انداز میں ناگواری کا پہلو جھلکتا تھا۔ اس واقعہ پر غور کر کے نتیجہ اخذ کیجئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جی بائیں جانب پیالہ دینے کو چاہتا تھا لیکن جس کا حق تھا اس سے اجازت مانگنا ضروری سمجھا، اور اجازت نہ دینے پر اگرچہ ناگواری بھی ہوئی مگر پیالہ دیا اسی کو جس کا حق تھا خواہ وہ چھوٹا بچہ ہی تھا۔ اس سے زیادہ دوسرے کے حق کے احترام اور اپنے حق کے لیے اڑ جانے کے جذبہ کی حوصلہ افزائی کی اور کیا مثال ہو سکتی ہے۔

یہ واقعہ بھی بخاری شریف میں مذکور ہے اور اس کی تفصیلات حدیث کی دوسری کتابوں میں موجود ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کر دی جس کا نام بریرہؓ تھا۔ وہ لونڈی ہونے کی حالت میں مغیثؓ نامی ایک نوجوان کے نکاح میں تھی۔ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر لونڈی کا اس کے مالک نے کسی سے نکاح کر دیا ہو اور اس کے بعد کسی مرحلہ پر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے خاوند کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس سے علیحدگی اختیار کر لے۔ بریرہؓ کو یہ مسئلہ معلوم تھا اس لیے اس نے اپنا یہ حق استعمال کرتے ہوئے مغیثؓ سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مغیثؒ کو پتہ چلا تو بہت پریشان ہوا کہ اچھا خاصا گھر اجڑ رہا ہے۔ اس نے مختلف طریقوں سے بریرہؓ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ فیصلے پر نظر ثانی کر لے مگر بریرہؓ نے کوئی بات سننے سے انکار کر دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ مغیثؓ کی پریشانی اس حالت تک پہنچ گئی کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں دیوانہ وار آنسو بہاتا پھرتا تھا اور لوگوں سے کہتا تھا کہ خدا کے لیے کوئی بریرہؓ کو اس فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے آمادہ کرے۔ حتیٰ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیؓ کے سامنے اس تعجب کا اظہار کیا کہ اس کی محبت دیکھو کہ وہ گلیوں میں آنسو بہاتا پھر رہا ہے اور بریرہؓ کی نفرت دیکھو کہ وہ اس کا نام سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر خود جناب نبی اکرمؐ نے بریرہؓ سے مغیثؓ کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے بلا کر اس خواہش کا اظہار فرمایا۔ آنحضرتؐ کی زبان مبارک سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی بات سن کر بریرہؓ نے ایک سوال کیا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ حکم ہے یا محض سفارش؟ سوال پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ مومنہ تھی اور صحابیہؓ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر حکم ہوا تو اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرما دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کسی بات کا حکم دے دیں تو پھر کسی مومن مرد یا عورت کا یہ حق باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ اس کے بعد اپنا اختیار استعمال کریں۔ اس لیے بریرہؓ نے اس کی وضاحت چاہی اور جب نبی کریمؐ نے فرمایا کہ یہ حکم نہیں بلکہ صرف سفارش ہے تو اس نے فورًا کہہ دیا کہ مجھے اس (مغیثؓ) کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

آپ غور فرمائیے کہ سفارش کرنے والے کون ہیں؟ کائنات میں اس سے بڑی اور کوئی سفارش نہیں ہو سکتی۔ لیکن اپنے حق پر اڑتے ہوئے اس سفارش کو قبول نہ کرنے والی کون ہے؟ ایک عام خاتون جو چند روز پہلے تک کسی کی لونڈی تھی اور اب خود جناب نبی کریمؐ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی خادمہ ہے۔ لیکن کیا مجال کہ اس کے اس فیصلے پر آنحضرتؐ کی پیشانی پر کوئی بل آیا ہو یا آپؐ نے اس کے بعد اسے کبھی جتلایا بھی ہو حالانکہ وہ بطور خادمہ اکثر حضرت عائشہؓ کے پاس ہی رہتی تھی۔ آج ہمارا کوئی ماتحت ہماری سفارش رد کر کے دیکھے کہ پھر اس کے ساتھ ہمارا کیا معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن جناب رسول اکرمؐ نے اس کے بعد کبھی اس کا ذکر تک نہ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے نہ صرف حقوق کا تعین کیا ہے، ان کی وضاحت کی ہے اور ان کی ادائیگی کی تلقین کی ہے بلکہ اپنے حق کے لیے اڑ جانے والے کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے اور کسی کو اس کی راہ میں حائل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

حضرات محترم ! یہ چند واقعات میں نے انسانی حقوق کے حوالہ سے جناب رسول اکرمؐ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کی طرف توجہ دلانے کے لیے عرض کیے ہیں اور آخر میں پھر یہی عرض کرتا ہوں کہ یہ آج کی دنیا کی ضرورت ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کو دنیائے انسانیت کے سامنے صحیح طور پر پیش کرنے کے لیے ہم سنجیدگی کے ساتھ محنت کریں کیونکہ آج نسل انسانی کو جو مشکلات اور مسائل درپیش ہیں ان کا حل اسی میں ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کی اخلاقی تباہ کاریاں

عبد الرشید ارشد

ماضی اس بات پر گواہ ہے کہ آج سے نصف صدی قبل تک لڑکے لڑکیوں میں ’’کچھ ہو جانے‘‘ کا خوف انہیں اخلاقی بے راہ روی سے بہت دور رکھتا تھا۔ برائی کی آٹے میں نمک سے بھی کم شرح اگر تھی بھی تو انتہائی زیرزمین تھی۔ مگر بتدریج جوں جوں قوم کے قدم ’’ترقی‘‘ کی طرف بڑھتے گئے، قوم مغربی آقاؤں کے ’’فیض‘‘ سے فیضیاب ہوتی گئی۔ اور تعلیم و صحت کے لیے نہیں بلکہ تعلیم و صحت بذریعہ خاندانی منصوبہ بندی کی چھت پھاڑ امداد کاہن برسنا شروع ہوا۔ اسی تدریج کے ساتھ قوم اخلاقی زوال کے راستے کی راہی بنتی چلی گئی۔ اور آج پہلے ’’کچھ ہو نہ جائے‘‘ کو اس خاندانی منصوبہ بندی نے ’’کچھ نہ ہو گا‘‘ کے یقین میں بدل دیا۔ اس تبدیلی سے جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر قومی اخبارات سے بڑھ کر کس کی گواہی معتبر ہو سکتی ہے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے ’’محفوظ طریقوں‘‘ نے قوم کے نوجوانوں میں بے راہ روی کو محلوں، گلی، کوچوں تک پھیلایا اور یوں ملک میں اخلاقی بے راہ روی کا سیلاب آ گیا۔ جس کے افراد پر انفرادی حیثیت میں اور معاشرہ پر اجتماعی حیثیت سے بدترین نتائج مرتب ہوئے۔ اس پر گواہی درکار ہو تو ہسپتالوں سے ہٹ کر چھوٹے ذاتی کلینکوں اور دائیوں کے خصوصی کیسوں کا محتاط سروے کر لیجئے، اس بھیانک تصویر کا شاید آپ نے کبھی تصور نہ کیا ہو گا۔ اسی پہلو سے ذرا ماہرین کی آرا پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے تاکہ آپ مذکورہ سطور کو ملاں کی دقیانوسیت کہہ کر رد نہ کر دیں۔ فطری بات ہے کہ جب ’’کچھ نہ ہونے‘‘ کا یقین ہو تو لذتیت کی جبلت بے قابو ہونے لگتی ہے۔ خصوصاً جب چاروں طرف بے ہودہ فحش لٹریچر اور ٹی وی چینل مصروفِ عمل ہوں۔
’’مانع حمل ذرائع کا علم، ہو سکتا ہے کہ شرح مناکحت کو بڑھا دے لیکن اس کے ساتھ ساتھ (یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ) یہ بیرونِ نکاح جنسی تعلق کے مواقع کو بھی عام کر دیتا ہے، جن کا عام چلن خود ہمارے اپنے زمانے میں شادی کے تنگ و تاریک مستقبل کا ایک اور مظہر سمجھا جاتا ہے۔‘‘
Dr. Westermark Future of Marriage in the West
’’مرد کی زوجیت کا رخ اگر کلیتاً نفسانی خواہشات کی بندگی کی طرف پھر جائے اور اس کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی (اخلاقی) قوت ضابطہ نہ رہے تو اس سے جو حالت پیدا ہو گی وہ اپنی نجاست و دنائیت اور زہریلے نتائج میں ہر اس نقصان سے کہیں زیادہ ہو گی جو ’’بے حد و حساب بچے پیدا کرنے‘‘ سے رونما ہو سکتی ہے۔‘‘
(بحوالہ اسلام اور ضبطِ ولادت — Dr. Faster)
’’خاندانی منصوبہ بندی کے طور طریقوں نے دراصل ملک میں زنا کے محفوظ لائسنس جاری کیے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر اور گندے نالوں سے ’’پھول‘‘ برآمد ہونے کی خبریں روز مرہ کا معمول ہیں۔ ان (مانع حمل ذرائع) کے سبب لذت پرستی بڑھ گئی ہے بلکہ یہ وبا کی طرح چہارسو پھیلتی نظر آتی ہے۔ بچوں کے درمیان جس غیر فطری (کیونکہ فطری وقفہ قدرت کا طے کردہ ہے) وقفے پر زور دے کر ’’خوشحال اور صحتمند گھرانے کی خوشخبری‘‘ اکثر دی جاتی ہے اس پر ان کے اپنے طبی ماہرین کی رائے کیا ہے؟ آپ بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔ یہ لوگ عمرانیات اور نفسیات کے شعبے میں برسہا برس تجربہ کی بنا پر یہ رائے رکھتے ہیں: ’’قریب العمر بچوں (بہن بھائیوں) کی کمی، منجملہ اور چیزوں کے، بچے کو مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے اور وہ چیخنے چلانے یا تخریبی نوعیت کے کام کرنے میں لگ جاتے ہیں۔‘‘
Arnold W. Green The Middle Class Child and Neurosis
’’اگر بچوں کے درمیان عمر کا بہت فرق ہو تو بڑے بچے میں قریب العمر ساتھی نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی خلل تک واقع ہو جاتا ہے، بلکہ بعض ماہرین اس پر بھی متفق ہیں کہ بچے کا ذہنی ارتقا رک جاتا ہے۔‘‘
Dr. David M. Lavy  — Maternal Over-Protection
اختصار کے نکتہ نظر سے ہم مذکورہ چار آرا پر اکتفا کرتے ہیں، اور یہ آرا بھی مغربی آقاؤں کی ہیں کہ ہمارے نزدیک بالعموم ’’سچ ہے ان کا فرمایا ہوا‘‘ معتبر ٹھہرتا ہے۔ ورنہ کیا یہ امرِ واقع نہیں ہے، جسے خود ہمارا قلب قبول کرتا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کا تعارف جوں جوں بڑھ رہا ہے توں توں ہماری سماجی، معاشرتی اور اخلاقی اقدار دم توڑتی جا رہی ہیں۔ ہمہ جہت اقدار کا معیاری سرمایہ رکھنے والی ملتِ مسلمہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہی نہیں، ہر طرح  کی اقدار سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

خاندانی منصوبہ بندی اور ملکی دفاع

خاندانی منصوبہ بندی کے داعی ’’کم بچے خوشحال گھرانہ‘‘ کی مالا جپتے نہیں تھکتے کہ اس ’’وِرد‘‘ پر انہیں مغربی آقاؤں نے لگایا ہے۔ عقل کے اندھے اس خیر خواہی کی تہہ میں چھپی بدخواہی کی تہہ تک نہیں پہنچتے، یا دانستہ پہنچنا نہیں چاہتے، انہیں خاندانی منصوبہ بندی کی ٹافی دینے والے اپنے لیے یہ رائے رکھتے ہیں:
’’آبادی میں عظیم اضافہ۔ ایسا اضافہ جو بے ضبط و بے لگام تھا۔ یورپ کو دنیا کی درجہ اول کی طاقت بنانے میں فیصل کن تھا۔ یورپ کی آبادی کے اس دھماکہ کے ساتھ پھٹ پڑنے ہی کا نتیجہ تھا کہ ملک میں نئی صنعتی معیشت کو چلانے کے لیے کارندے بھی مل گئے اور دوسری طرف یورپ سے باہر پھیل کر حکمرانی کرنے کے لیے فوج میسر آئی جس کے دائرہ میں دنیا کے رقبے کا نصف اور آبادی کا تہائی حصہ آ گیا۔‘‘
(بحوالہ اسلام اور ضبطِ ولادت، صفحہ ۱۱۷ — Population Explosion)
جنگ ایٹمی ہو یا کنوینشنل ہتھیاروں سے، نیوی اور ہوائی فوج کتنی ہی مؤثر کاروائی کرے، ہر کاروائی کو مؤثر اور مستحکم بنانے کا بنیادی کردار بری فوج ہی ادا کرتی ہے۔ اور یہ بات کس سے چھپی ہے کہ بری فوج کی عددی برتری ہر ملک کی بنیادی ضرورت ہے۔ اہلِ ایمان اس عددی برتری کی کمی دولتِ ایمان اور جذبۂ جہاد سے پوری کرتے ہیں، مگر جذبۂ جہاد اور ایمان کے تقاضوں میں یہ کہیں شامل نہیں ہے کہ ان کی بنیاد پر فوج کی تعداد لازماً کم رہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے خالق دو اہم باتوں کے سبب ہمیں ’’منصوبہ بندی کی محفوظ اور مہر لگی تصدیق شدہ‘‘ گولی کھلانے پر مصر ہیں کہ
  1. عالمِ اسلام میں صرف پاکستان ہے جس سے یہود و نصارٰی کے عالمی مفادات کو حقیقی خطرہ ہے۔ اور اس کی بڑھتی آبادی لمحہ لمحہ خطرے میں اضافہ کر رہی ہے۔ لہٰذا ہر قیمت پر ان کی آبادی کو بالخصوص، اور دیگر مسلم ممالک کی آبادی کو بالعموم روکنے کے لیے معاشی، سماجی، تعلیمی اور ثقافتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔
  2. عالمِ اسلام قدرتی ذرائع سے مالامال ہے اور یہ زرعی، صنعتی اور معدنی وسائل ان ممالک کی آبادی سے چھین کر یورپ و امریکہ کی کفالت پر خرچ ہونے چاہئیں۔ لہٰذا ہر حربہ استعمال کر کے ان کی آبادی میں کمی کی جائے اور جو آبادی ابھی آبادی نہیں بنی، مستقبل کی آبادی ہے، اس کے سامنے خاندانی منصوبہ بندی کا بند باندھا جائے۔ جس سے آبادی بھی کم ہو گی اور فحاشی، بے حیائی بھی جیتے جی خاتمہ کر دے گی۔
مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے یہ آقا
  1. مسلم ممالک میں اپنی ایجنسیوں کے ذریعے یو این او اور اس کے ذیلی اداروں کی چھتری تلے کاروائی کرتے ہوئے کبھی آیوڈین ملا نمک کھلانے مصر ہیں۔
  2. عراق کو زہرآلود گندم سپلائی کی جاتی ہے (اس کا انکشاف بھی امریکی اخبارات نے ہی کیا)۔
  3. زرعی ادویات کی بھرمار، جو دشمن کیڑوں کے ساتھ دوست کیڑے اور پرندے بھی ختم کر دیں، بلکہ بتدریج معیاری زمین کو بانجھ کر رہی ہیں۔ جو باغات اور سبزیوں پر سپرے ہو کر پھلوں اور سبزیوں کے ذریعے ’’سلو پائزن‘‘ بن کر انسان میں پیچیدہ بیماریوں کو جنم دیتی ہیں۔
  4. اپنے ممالک میں عرصہ دراز سے متروک ادویات ملٹی نیشنل کمپنیوں یا امپورٹرز کے ذریعے انسانی علاج کے لیے ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔ ادویات جن کے اثراتِ بد پر زمانہ گواہ ہے، ’’گاڑی کی چابی‘‘ کے ساتھ مشروط ہو کر مریضوں کے حلق تک پہنچتی ہیں۔ کیا یہ امرِ واقع نہیں کہ افراد سے قوم بنتی ہے، اور بیمار افراد سے بیمار قوم ہی تشکیل پا سکتی ہے۔ اور بیمار قوم کے افراد نہ اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوتے ہیں اور نہ قومی سطح پر وطن کا۔ بیمار جسم کے اندر طاقتور ایمان اور جذبۂ جہاد ٹھکانہ کرے تو آخر کس بنیاد پر؟ یہی کچھ ہم سے اقوامِ غرب چھین لینے کی فکر میں شب و روز کوشاں ہیں۔
گزشتہ دنوں ملک کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر نے ٹی وی پر خاندانی منصوبہ بندی کی وکالت کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ ملک کی آبادی بہت ہو چکی، اب پیدائش روک دینی چاہیے۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب کو اخبار کے ذریعے اور ذاتی طور پر بھی خط لکھ کر سوال کیا کہ ایٹم چلانے کے بعد پابندی کا بم بھی اگر چلا لیں گے اور نتیجتاً ملک کی افواج میں بتدریج بھرتی ختم ہوتی جائے گی تو پھر ایٹم چلانے کے لیے آپ نے کس ملک کو ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا ہے؟ ابھی تک موصوف کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا۔ آبادی نہ ہو گی تو دفاع کے لیے ٹھیکہ ناگزیر ہو گا۔
خاندانی منصوبہ بندی سرے سے معاشی خوشحالی کا مسئلہ نہیں ہے۔ فلپائن میں ہر گھرانے میں اوسطاً دس بارہ بچے ہیں، وہاں تو آج تک قحط نہیں پڑا۔ ہمیں فلپینیوں کے ساتھ برسوں اکٹھے رہنے کا بھی موقع ملا ہے، ہم نے ان کے چہروں پر محنت کی عظمت اور اطمینان ہی دیکھا۔ کسی ایک کے منہ سے ہائے وائے نہیں سنی، بلکہ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ گھر میں دس بچے یکدم تو نہیں آگئے۔ جو پہلے پیدا ہوئے انہوں نے پہلے کمانا شروع کر کے والدین کا ہاتھ بٹایا۔ پھر چھوٹے بڑے بنتے گئے، کماتے گئے اور بیس سال بعد جب سب کی آمدنی آنے لگی تو خوشحالی نے ہمارے گھر میں ڈیرے ڈال دیے۔
ہمیں الٹ پٹی پڑھائی جا رہی ہے اور ہم عقل و شعور کو زحمت دیے بغیر گردن ہلائے جا رہے  ہیں۔ ہم نے جان بوجھ کر — ہلانا نہیں لکھا، ورنہ ہماری وفاداری کا ثبوت ہے تو اس سے بھی بڑھ کر ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

بیجنگ پلس فائیو کانفرنس

پروفیسر ثریا بتول علوی

۵ تا ۹ جولائی نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کے ذریعے یہودیوں کا ایک خوفناک شیطانی منصوبہ پیش کیا گیا۔ جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے ہم خیال شیطانی دماغ مل کر بیٹھے اور خواتین ۲۰۰۰ء اکیسویں صدی میں صنعتی مساوات، امن اور ترقی کے نام پر چند فیصلے کیے گئے جن کو یو این او کے پلیٹ فارم کے ذریعے ممبر ممالک میں نافذ کیا جانا تھا۔ اس طرح یہ خواتین کے سلسلے میں گویا پانچویں عالمی کانفرنس تھی۔

خواتین کے بارے میں عالمی کانفرنسیں

اس سے قبل حقوقِ نسواں کے نام پر خواتین کی چار عالمی کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں:
  • پہلی بین الاقوامی کانفرنس ۱۹۷۵ء میکسیکو میں
  • دوسری بین الاقوامی کانفرنس ۱۹۸۰ میں کوپن ہیگن میں
  • تیسری بین الاقوامی کانفرنس ۱۹۸۵ء میں نیروبی میں
  • چوتھی عالمی کانفرنس ۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں
بیجنگ کانفرنس میں خواتین کی ترقی اور صنفی مساوات کے سلسلے میں ایک بارہ نکاتی ایجنڈا طے کیا گیا تھا، یہ نکات درج ذیل ہیں: (۱) غربت (۲) تعلیم (۳) حفظانِ صحت (۴) عورتوں پر تشدد (۵) مسلح تصادم (۶) معاشی عدمِ مساوات (۷) مختلف اداروں میں مرد و عورت کی نمائندگی کا تناسب ۳۳ فیصد تک (۸) عورت کے انسانی حقوق (۹) مواصلاتی نظام خصوصاً ذرائع ابلاغ (۱۰) ماحول اور قدرتی وسائل (۱۱) چھوٹی بچی (۱۲) اختیارات اور فیصلہ سازی۔ اس طرح سادہ الفاظ میں ان کانفرنسوں کا اصل مقصد ان کے خیال میں ایسا عالمی نظام متعارف کروانا تھا جس میں عورتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔

خواتین کی پانچویں عالمی کانفرنس جولائی ۲۰۰۰ء

بیجنگ میں طے کردہ بارہ نکاتی ایجنڈا رکن ممالک کو عملدرآمد کے لیے دیا گیا تھا۔ چنانچہ اس ایجنڈے پر کہاں تک عمل ہو سکا؟ اسی کا جائزہ لینے کے لیے اب ۵ جولائی سے ۹ جولائی تک بیجنگ کانفرنس کے پانچ سال بعد یہ نیویارک والی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس لیے اس کا نام بیجنگ پلس ۵ قرار دیا گیا کہ یہ بیجنگ کانفرنس کے پانچ سال بعد ہو رہی تھی۔ اس کانفرنس کا اصل عنوان تھا: ’’۲۰۰۰ء کی خواتین اور اکیسویں صدی میں صنفی مساوات، امن اور ترقی‘‘۔
Women 2000: gender equality, development and peace for the twenty-first century

اس کانفرنس میں اقوامِ متحدہ کے ممبر ممالک جہاں سرکاری طور پر شامل ہوئے وہیں این جی اوز کے کثیر تعداد میں وفود بھی شامل ہوئے۔ اگرچہ بیجنگ کانفرنس کے شرکاء اور مندوبین کی تعداد اس کانفرنس کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی، مگر یہ کانفرنس بہت زیادہ اہمیت کی حامل اس لحاظ سے تھی کہ اس میں بیجنگ کانفرنس کے دوران طے کیے گئے بارہ نکاتی ایجنڈوں کی توثیق اقوامِ متحدہ کی طرف سے ہو کر اسے تمام ممبر ممالک پر حکماً نافذ کرنے کا پروگرام تھا۔ اور اس کی خلاف ورزی پر اقوامِ عالم ’’مجرم ملک‘‘  کے خلاف ایکشن لینے کی مجاز قرار دی گئی تھیں۔

کانفرنس کے درپردہ مضمرات

(۱) امریکہ اپنے نیو ورلڈ کو مستحکم کرنے کی غرض سے اپنے ممکنہ حریف اسلام کے کردار کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

(۲) اپنی عالمی نیشنل کمپنیوں کو مضبوط بنانے اور اس کے استحکام دینے کے لیے مغرب کو ہر جگہ سستی لیبر اور خام مال چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جنسی آزادی والا معاشرہ پیدا کر کے مرد و عورت کی تمیز کے بغیر ان کو ہر جگہ کم داموں پر لیبر، سو فیصد مزدور اور تربیت یافتہ افرادی قوت میسر آجائے، ساتھ ہی مزاحمت کرنے والی دینی قوت بھی غیر مؤثر ہو کر رہ جائے۔

اس کانفرنس کے لیے تیاریاں

بیجنگ پلس فائیو کانفرنس نیویارک کی تیاریاں تو بیجنگ کانفرنس کے فوراً بعد ہی سے شروع ہو گئی تھیں مگر یہ ۱۹۹۹ء اور ۲۰۰۰ء میں پورے عروج کو پہنچ گئی تھیں۔ اس کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً علاقائی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہیں۔ ان میں پہلے تیاری کانفرنس Prep-Com تو ۱۵ مارچ سے ۱۹ مارچ ۱۹۹۹ء میں نیویارک ہی میں منعقد ہوئی۔ پھر نیویارک میں ایک اور کانفرنس ۲۷ فروری سے ۱۷ مارچ تک دوبارہ منعقد ہوئی۔ اس کے علاوہ کھٹمنڈو، بنکاک و دیگر مقامات پر بھی علاقائی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہی تھیں۔

اس کانفرنس میں خصوصی ایجنڈا یہ تھا: خاتونِ خانہ کی گھریلو ذمہ داریوں پر اور پھر اس کی تولیدی خدمات پر اس کو باقاعدہ معاوضہ دیا جائے۔ ازدواجی عصمت دری پر قانون سازی کی جائے اور فیملی کورٹس کے ذریعے مرد کو سزا دلوائی جائے۔ طوائف کو جنسی کارکن قرار دینا۔ ممبر ممالک میں جنسی تعلیم اور کنڈوم کے استعمال پر زور دینا۔ اسقاطِ حمل کو عورت کا حق قرار دینا۔ ہم جنس پرستی کا فروغ۔ چنانچہ اپنی تجویزوں کو رسمی طور پر پانچ دس منٹ کی نمائشی تقریروں کے بعد منظور کر لینے کا پروگرام تھا۔

شیطان بیجنگ کانفرنس سے لے کر اب تک اپنے منصوبہ پر عملدرآمد کے لیے مسلسل متحرک تھا مگر افسوس کہ مسلم ممالک میں اس آنے والے فتنہ کا بجا طور پر نوٹس نہ لیا گیا۔ قاہرہ کانفرنس ۱۹۹۴ء کے انعقاد کے بعد مصر میں نئے عالمی قوانین متعارف کرائے گئے۔ بعد ازاں مراکش اور دیگر مسلم ممالک میں بھی یجنگ ڈرافٹ کے نتیجے میں مین فیملی لاز میں تبدیلیاں لائی گئیں۔ مگر کسی جگہ کوئی قابل ذکر احتجاج دیکھنے میں نہ آیا۔ البتہ مراکش میں دو تین ماہ قبل جب فیملی لاز تبدیل کیے گئے تو وہاں کی دس لاکھ مسلم خواتین نے ان نئے قوانین کے خلاف باپردہ مظاہرہ کیا، اس طرح ایک نئی مثال قائم کی۔ اگر اسی قسم کے مظاہرے مختلف مسلم ممالک میں ہوئے ہوتے تو پھر اس موقع پر عالمِ اسلام متفقہ موقف اختیار کر کے ہم جنس پرستی کے شیطانی منصوبہ کا مؤثر سدباب کر سکتا تھا۔

پاکستان میں اس کانفرنس کی تیاری

چھ سال قبل قاہرہ میں ۱۹۹۴ء میں منعقد ہونے والی بہبود آبادی کانفرنس کے نتیجے میں پاکستان میں بہت سی این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) وجود میں آئیں۔ بیجنگ کانفرنس کے بعد ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ملک میں فیملی پلاننگ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔ جگہ جگہ بہبود آبادی سنٹر کھل گئے۔ ستارہ اور چابی والی گولیاں (مانع حمل ادویات) ملک میں عام ہوئیں۔ ایڈز سے بچانے کے بہانے ملک میں ہم جنس پرستی کے بارے میں وسیع پراپیگنڈا کیا گیا۔ وطنِ عزیز میں بے حیائی و فحاشی کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ، ٹی وی، ڈش، کیبل، انٹرنیٹ، فحش لٹریچر، ماڈلنگ، ویڈیو گیمز وغیرہ کے ذریعے فحاشی کے مظاہرے بہت زیادہ بڑھ گئے۔ اغوا، عصمت دری پھر گینگ ریپ اور گھروں سے دوشیزاؤں کے فرار کے واقعات میں معتد بہ اضافہ ہوا۔ اسی پس منظر میں ’’صائمہ ارشد لو میرج کیس‘‘ بھی منظر عام پر آیا، جس نے مغرب کی ثقافتی یلغار کو وطنِ عزیز میں اور فروغ دیا۔ پھر خواتین کے بینک اور پولیس اسٹیشن بھی قائم کیے گئے۔

۱۹۹۴ء میں حکومتِ پاکستان نے خواتین کی اصلاح و ترقی کے نام پر ایک ’’خواتین تحقیقاتی کمیشن‘‘ ترتیب دیا تھا۔ اس کے ممبران میں زیادہ تر این جی اوز کے نمائندے شامل تھے۔ خصوصاً ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر جیسے لوگ یہ رپورٹ تیار کر رہے تھے۔ ۱۹۹۷ء میں انہوں نے جو رپورٹ پیش کی تھی اس میں پاکستانی خواتین کے لیے بیجنگ کانفرنس والا ایجنڈا ہی پیش کر دیا۔ اس کے بعد ان خواتین نے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے خلاف اس زور سے دہائی دی کہ موجودہ حکومت نے ۲۰ اپریل ۲۰۰۰ء کو ہونے والی انسانی حقوق کانفرنس میں ایسے قتل کو قتلِ عمد ٹھہرا کر اس کی سزا موت قرار دے دی۔

علاوہ ازیں موجودہ حکومت نے بلدیاتی انتخابات میں عورتوں کو ۵۰ فیصد نشستیں دینے کا اعلان کر کے اسی ایجنڈے پر عملدرآمد کیا۔

سرکاری سطح پر کانفرنس کے لیے جو پاکستانی وفد نیویارک گیا اس میں سماجی بہبود اور خواتین کی وزیر شاہین عتیق الرحمان، ڈاکٹر یاسمین راشد، زریں خالد، ثمینہ پیرزادہ اور ڈاکٹر رخسانہ شامل تھیں۔ وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال اس سرکاری وفد کی سربراہ تھیں۔ اس کے علاوہ کئی دانشور خواتین بطور مبصر بھی شامل ہوئیں۔ عاصمہ جہانگیر بھی کئی این جی اوز کے ہمراہ گئی ہوئی تھیں۔

اس طرح پاکستان میں بھی ان اقدامات کے نتیجے میں بہت کم ردعمل دیکھنے میں آیا۔ پھر پاکستانی این جی اوز نے پاکستان کی طرف سے ایک باقاعدہ رپورٹ یو این او کو درج کرائی جس میں نکتہ وار بیجنگ کانفرنس کے بارہ موضوعات پر پاکستان میں ہونے والی پیشرفت اور متعلقہ رکاوٹوں کا جائزہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے یہ رپورٹ بھی دی کہ بے نظیر صاحبہ کے دورِ حکومت میں ان کا کام جاری رہا مگر نواز شریف حکومت کے دوران ترقی کے تمام معاملات جامد رہے۔

علماء کرام اور بہی خواہوں کا مسلمانوں اور خصوصاً مسلم حکمرانوں کو انتباہ

مسلم ورلڈ جیورسٹس ایسوسی ایشن کے صدر جناب اسماعیل قریشی نے لاہور ہائیکورٹ میں اس کانفرنس کے غیر شرعی اور غیر اسلامی نکات کے خلاف رٹ دائر کی۔ نیز انہوں نے زبیدہ جلال وفاقی وزیر تعلیم کی سربراہی میں وفد بھیجنے کی بھی مخالفت کی۔ جبکہ زبیدہ جلال کی مغرب نوازی کی بنا پر دوسری دینی جماعتیں بھی موصوفہ پر شدید تنقید کر رہی تھیں۔ آخر حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کو یقین دلایا کہ ہمارا وفد اسلام کے خلاف نکات کی اس کانفرنس میں مخالفت کرے گا۔ مگر وفد کی سربراہ محترمہ زبیدہ جلال ہی کو بنایا گیا۔

اسی طرح رابطہ العالم الاسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ بن صالح العبید نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام بالعموم اور رائے عامہ کے نمائندوں کے نام بالخصوص ایک خط لکھا جس میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۵۴ویں اجلاس کی جانب توجہ دلائی جو ۵ تا ۹ جولائی نیویارک میں ہو رہا ہے۔ یہ خواتین کے بارے میں اس کا ۲۳واں سیشن ہو گا جس کے لیے ’’اکیسویں صدی میں خواتین کے لیے مساوات، ترقی اور امن‘‘ کا عنوان اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب خواتین کانفرنسوں کا مقصد خاندان کے ادارے کو ختم کرنا اور خواتین بلکہ نوجوان نسل میں اخلاقی بے راہ روی اور والدین سے بغاوت پیدا کرنا ہے۔ اللہ نے مسلمانوں کو نیک کاموں میں تعاون کرنے اور برے کاموں سے الگ رہنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اقوامِ متحدہ کی چھتری تلے نئے عالمی نظام کے منظم حملے کے خلاف سوچنا اور تدبیر کرنا تمام مسلم امہ کی ذمہ داری ہے۔ یہ حملہ صرف مسلم اقدار کے خاتمے کے خلاف سازش نہیں بلکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے پردے میں تمام انسانی رشتوں بلکہ خود انسان کی پہچان کو تبدیل کر دینے کے مترادف ہے۔

سابق صوبائی وزیر اطلاعات پیر بنیامین رضوی نے امریکہ میں ہونے والی اس کانفرنس کو اسلام کے خلاف شرمناک سازش قرار دیا جس میں ہم جنس پرستی کو جائز، اسقاطِ حمل کو فروغ اور طوائفوں کو جنسی کارکن قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این جی اوز کی نمائندہ وفاقی وزیر زبیدہ جلال کو حکومت فوراً واپس بلائے، نیز اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کرے۔ بلکہ انہوں نے اسلامی ممالک کے تمام سربراہوں سے بھی اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اپنے نمائندے اس کانفرنس سے واپس بلا کر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔

اور اسی طرح پاکستان کی تمام دینی جماعتوں نے بھی فرداً فرداً اس کانفرنس کو اپنے مذہب، ایمان اور اقدار کی تباہی کے یہودی منصوبے کے خلاف ڈٹ جانے کی تلقین کی۔

شدید تنقید کی وجہ

یہ ساری تنقید اس بنا پر تھی کہ یو این او کے نمائندے نے اہم نوٹس جاری کیا تھا: ’’یہ کانفرنس پہلی تمام پیشرفت کا جائزہ لے گی‘‘۔ بستی پلیٹ فارم فار ایکشن کے ۱۲ نہایت اہم نکات کا جائزہ لے کر انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ افسوس لوگوں پر ابھی تک روایتی جنسی شناخت طاری ہے، اور عورت کے خلاف جنس کی بنا پر امتیازی سلوک مرد و زن کی مساوات قائم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پھر حکومتوں نے بھی ایسے اقدامات پر توجہ نہ دی، نہ ہی انہوں نے اس امر پر زور دیا جس سے عورتوں کے تولیدی حقوق اور جنسی صحت کے متعلقہ حقوق پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ اس لیے اب یو این او بین الاقوامی تنظیموں، مہذب معاشروں، سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ، نجی شعبہ، سب کو یکساں ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ ایسی عوامی بحث کا آغاز کریں اور باقاعدہ مہم چلائیں جس سے جنس سے متعلقہ امور پر کھلے عام بات چیت ہو، عمومی رویے زیربحث آئیں، نئے تصورات جنم لیں۔ اور جائزہ لیا جائے کہ مرد و عورت کی مساوات پر کس حد تک عمل ہو سکتا ہے۔ پھر شعبہ تعلیم میں کام کرنے والوں کو رسمی و غیر رسمی ذرائع اختیار کر کے یہ بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طرح بین الاقوامی تنظیموں آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، گروپ آف سیون اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو جنس کی مساوات کو فیصلہ سازی کا اہم حصہ بنانا چاہیے۔

تجزیہ

خواتین کے اختیار و اقتدار میں اضافہ، ہر فورم پر ان کی پچاس فیصد نمائندگی، اسقاطِ حمل کا حق، تولیدی خدمات اور گھریلو خدمات پر معاوضہ طلب کرنا، ہم جنس پرستی کو قانونی جواز مہیا کرنا، اور مساواتِ مرد و زن کا نعرہ — کیا یہ سب بیسویں صدی کے پرفریب نعرے نہیں ہیں؟ عورت آخر کونسا اقتدار مانگ رہی ہے؟ کیا ماں کی حیثیت سے وہ معاشرے کا قومی ترین کردار نہیں ہے؟ کیا بیوی کی حیثیت سے وہ اپنے خاوند کی مشیر اور شریکِ سفر نہیں ہے۔ وہ تو گھر کی مالکہ ہے۔ بہن اور بیٹی  کی محبت تو بڑے بڑے سنگدلوں کو پگھلا کر موم کر دیا کرتی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ مسلمان خاتون طاقتور نہیں ہے، یا مرد برتر ہے اور عورت کم تر۔

یہ سارے مسائل مغربی معاشروں کے تو ہو سکتے ہیں، مگر دینِ اسلام تو بذاتِ خود محسنِ نسوانیت ہے۔ وہ تو ۱۴۰۰ برس قبل عورت کو بن مانگے اتنے بڑے حقوق عطا کر چکا ہے جس کے لیے مغربی عورت ابھی تک کشکولِ گدائی لیے ماری ماری پھر رہی ہے۔ مظاہروں، ہڑتالوں، جلوسوں، سیمیناروں اور کانفرنسوں کے ذریعے اپنے جائز حقوق مانگتے مانگتے بے راہ روی کی بگٹُٹ راہ پر نکل کھڑی ہوئی ہے۔ لہٰذا ہمارے ہاں کی خواتین کی حق تلفیوں اور ان کے حقوق سے بہرہ ور کرنے کی باتیں بہت دلسوزی سے جو کی جا رہی ہیں یہ دراصل اسلام کے خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر کفر کے نظام کو ان پر مسلط کرنے کی سازش ہے اور یہ باتیں کرنے والے بھی اہل ِمغرب کے ایجنٹ ہیں۔

دراصل کانفرنس کے محرکین کو عورت کے معاملات سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اگر فی الواقع ایسا ہوتا تو کشمیر، فلسطین، چیچنیا، بوسنیا، کوسووو، اراکان اور دیگر خطوں میں ہونے والی خواتین کی جبری عصمت دری کے خلاف ضرور آواز بلند کی جاتی۔ اسی طرح خواتین کے اور بھی کئی حقیقی مسائل ہیں مگر وہ ان کے ایجنڈے پر نہیں تھے۔ ان کی توجہ تو صرف ان خرافات پر مبذول رہی جس سے خود خواتین بھی تباہ و برباد ہوں اور ساتھ معاشرہ بھی درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ مغرب کی پریشان عورت اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں تلے پناہ ڈھونڈ رہی ہے، مگر خود مسلمان عورت کو اسی تباہی کی راہ پر جبراً اور حکماً ڈالا جا رہا ہے۔

خواتین کی تمام اداروں میں پچاس فیصد نمائندگی بھی اسی طرح ایک ناقابلِ عمل تجویز ہے۔ مثلاً اس حکم کے تحت جنرل پرویز مشرف صاحب نے بلدیاتی کونسل میں خواتین کی پچاس فیصد نمائندگی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی عدمِ شرکت کی صورت میں یونین کونسل میں ان کی چاروں نشستیں خالی رکھی جائیں گی۔ دوسرے الفاظ میں یونین کونسل کے ۸ افراد کے بجائے صرف ۵ (مرد) افراد سے کام چلایا جائے گا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر عام قصبوں اور دیہات میں عورت کسی دفتر، بینک، ڈاکخانے، ریلوے آفس وغیرہ میں نظر نہیں آتی۔ پھر یونین کونسل کے ممبر کی ذمہ داریاں اس نوعیت کی ہوتی ہیں کہ عموماً عورت ان سے بخوبی عہدہ برآ نہیں ہو سکتی، اس سے ترقی کی رفتار بھی سست ہو گی، مگر ساتھ مخلوط معاشرت سے بہت سی نئی الجھنیں پیدا ہوں گی۔

مسلم ممالک کو تو چھوڑیے، خود مغربی ممالک کا کیا حال ہے؟ امریکہ کے پورے دور میں اب آ کر ایک خاتون میڈین البرائٹ وزیر خارجہ بن سکی ہے اب تک کوئی خاتون امریکی صدر نہیں بن سکی۔ امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں بھی عورتوں کا تناسب صرف ۲ فیصد ہے اور جرمن پارلیمنٹ میں صرف ۷ فیصد۔ برطانیہ میں تناسب صرف ۳ فیصد ہے۔ اس طرح انتہائی ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ معاشروں میں مجموعی طور پر عورت کی شرکت کی کثرت ہو گئی ہے مگر مغربی ممالک میں تو نقشہ اس سے بہت بدلا ہوا ہے۔ جب حقائق کی دنیا اس فریب کا پردہ چاک کر رہی ہے تو اس کو پھر زبردستی یو این او کے کفر پر مبنی یہودی نظام کو مسلم ممالک پر مسلط کرنا بہت بڑی گمراہی نہیں تو اور کیا ہے؟

خاتونِ خانہ کے گھریلو کاموں اور تولیدی خدمات پر محنت کا معاوضہ

یہ مطالبہ بھی انتہائی شرمناک ہے۔ عورت اپنے گھر کی مالکہ ہے تو مرد مشکل ترین کام کرتا ہے۔ یعنی باہر کے گرم سرد موسم کی تلخیاں اور صعوبتیں برداشت کر کے کما کر اپنی محنت مزدوری عورت کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیا ہے کہ وہ اس کو اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کرے، سرا نظم و نسق چلائے۔ کیا مرد اس کو اپنا مزدور سمجھ کر وہ رقم اس کے حوالے کرتا ہے؟ عورت اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے، ان کو جنم دیتی ہے تو اس کی اپنی نفسیات تسکین پاتی ہے۔ ہر عورت بچوں کے بغیر اپنے آپ کو غیر مکمل اور ادھوری سمجھتی ہے۔ اس کی مامتا کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہو، اس طرح اس کی ذات کی تکمیل ہو سکے۔ پھر اس کے بچے کو کوئی اور کیوں پالے؟ وہ اس کا لختِ جگر ہے، اس کا گوشت پوست ہے، بچے کی خوشی اس کی اپنی ماں کی خوشی ہے۔ بچے کی بیماری سے خود عورت پژمردہ اور مضمحل ہو جاتی ہے۔ آخر وہ اپنے بچے کو جنم دینے اور پرورش کرنے میں اور اس کی تعلیم و تربیت کرنے میں جو فرحت اور سچی خوشی محسوس کرتی ہے، دنیا کی کونسی چیز ان کا نعم البدل بن سکتی ہے؟ کیا آپ حقیقی والدہ کو نوکر بنا کر رکھ دینا چاہتے ہیں؟ جذباتی مطالبے کرنا، تحریریں اور مضمون لکھ دینا تو اور چیز ہے مگر زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ خصوصاً پاکستانی عورت تو اپنے معاشرے میں بہت زیادہ غالب اور ہمہ مقتدر ہے کہ مرد اپنی ساری کمائی لا کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے اور پھر اپنی چھوٹی موٹی ضرورت کے لیے بھی عورت سے وقتاً فوقتاً مانگتا رہتا ہے۔

اب خود سوچ لیں کہ مسلمان خاتون کے لیے ماں بننے کا اعزاز، پھر تربیتِ اطفال کی ذمہ داری دنیا میں سکون و طمانیت کا باعث ہے اور عاقبت میں عظیم اجر و ثواب کا باعث۔ اس کی جگہ دفتروں میں ملازمت کر کے یا مرد سے اس خدمت کا معاوضہ طلب کر کے چند سکے حاصل کر لینا باعث فخر و اعزاز ہے، یا اس کی مامتا کے منہ پر زبردست طمانچہ؟

اور یہ جو سیکس فری معاشرہ قائم کرنے کی بات ہے، کیا وہ مرد ہونے یا عورت ہونے کا شعور ہی ختم کر دینا چاہتے ہیں؟ یہ شعور یا جبلت تو حیوانوں میں بھی موجود ہے۔ نر جانور مادہ جانور کو خوب جانتا پہچانتا ہے، مادہ جانور اپنی خلقی و جبلی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوتی ہے۔ اور اگر اس سے یہ مراد ہے کہ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کرتا ہے اس لیے ان میں کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہیے تو پھر بھی یہ ایک مہمل اصطلاح ہے۔

یا پھر اس سے مراد خواتین ہم جنس پرست، مرد ہم جنس پرست، اور شادی کیے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑے ہیں، جو جنس کی ہر ذمہ داری سے آزاد رہنا چاہتے ہیں؟ کم از کم راقمہ کو اس اصطلاح کا مفہوم سمجھ میں نہیں آ سکا۔ یا اس سے مراد مخنث حضرات کا معاشرہ پیدا کرنا مقصود ہے جو صرف ناچ گانا اور اچھل کود ہی جانتا ہو، نہ وہ مردوں کی سی ذمہ داریاں ادا کر سکے، نہ عورتوں کے فرائض انجام دے سکے، اور اس طرح تمدن کو زبردست تباہی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ غالباً اسی لیے زنا کی آزادی اور اسقاطِ حمل کی آزادی طلب کی جا رہی ہے اور ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

دستاویز کا ایک نادر نکتہ شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کی جبری عصمت دری ہے جس کو وہ Marital Rape کا نام دیتے ہیں۔ پھر شوہر کے ہاتھوں بیوی پر جنسی زیادتی سے نبٹنے کے لیے فیملی کورٹس کے ذریعے مناسب قانون سازی کر کے مردوں کو سزا دلوانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پھر انہوں نے اسلام کے قانونِ وراثت پر خطِ تنسیخ پھیرنے کا سامان کیا ہے۔ دستاویز میں واضح طور پر ہدایات موجود ہیں کہ قانون سازی اور اصلاحات کے ذریعے جائیداد اور وراثت میں مرد و زن کے مساوی حقوق یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، یعنی عورت کو لازماً مرد کے مساوی وراثت دی جائے۔

پاکستانی وفد سے غیرت کے قتل کے بارے میں بحث مباحثہ ہوا۔ مگر پاکستانی وفد نے غیرت کے قتل کو جرم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ مغرب میں بھی تو جذباتیت کے تحت قتل ہوتے ہیں مگر ان کو جرم تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بعینہ ہمارے ہاں اس جذبات والے قتل کو غیرت کا قتل قرار دیا جاتا ہے لہٰذا یہ جرم نہیں ہو سکتا۔

کیا عورت ۔۔۔ عورت ہے جسے مرد کے بالمقابل کھڑا کیا جا رہا ہے اور اس کے دل میں مرد کے خلاف زبردست نفرت ٹھونسی جا رہی ہے۔ حالانکہ مرد اس کا باپ ہے، بھائی ہے، شوہر ہے اور بیٹا ہے۔ کیا وہ اپنے ان عزیز ترین رشتوں سے دستبردار ہونے کو تیار ہے؟ کیا وہ خود ہی باپ، بھائی، بیٹے کے کردار ادا کر لے گی؟ اس کی نفسیات اور اس کا جسمانی نظام تو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہونا ناممکن ہے، تو پھر یہ ساری اچھل کود کیوں؟

مغرب نے اس بے روک ٹوک جنسی آزادی کے کچھ نتائج تو دیکھ ہی لیے ہیں، گھر برباد ہو گئے، بوڑھے ماں باپ اولڈ ہومز کی زینت بنے۔ بچے ڈے کیئر سنٹرز میں پلنے لگے۔ بحرِ محبت دریاؤں کے کنارے ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ ہوٹل اور پارک آباد ہوئے۔ ہسپتالوں نے ولادت اور موت کا فریضہ سنبھال لیا۔ یہ تو صرف آزادئ نسواں کا کچھ اعجاز ہے۔ اب عورت کو پچاس فیصد نمائندے دے کر اور اسقاطِ حمل و ہم جنس پرستی کا مزید بنیادی حق دے کر اسے طاقتور بنانا مقصود ہے تو پھر یہ ڈراما کیا سین دکھائے گا؟ بقول اقبال ؎

نسوانیتِ زن کا نگہبان ہے فقط مرد

اب عورتیں مرد کو درمیان سے نکال کر چند سکے تو کما لیں گی مگر یہ سکے اس کی عزت، آبرو، ناموس، تمدن، ثقافت، عفت و عصمت اور شرم و حیا جیسی اعلیٰ اقدار کا گلا گھونٹ دیں گے اور عالمِ انسانیت وسیع ترین جنگل کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ مغرب میں تو یہ تمام بربادی فطری انداز میں آئی ہے مگر اب وہ اس تمام خانماں بربادی کو یو این او کے ذریعے ساری دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، یہ کتنا بڑا ظلم اور نا انصافی ہے؟

کانفرنس کا انعقاد

کانفرنس کا ایجنڈا تو سارا پہلے ہی تیار ہو چکا تھا۔ اس موقع پر تو صرف پانچ تا دس منٹ کی نمائشی تقریروں میں اس ایجنڈے کی توثیق کرنا مقصود تھا۔ بہرصورت یہ کانفرنس ۵ سے ۹ جولائی تک منعقد ہوئی۔ اس میں مسلم ممالک شامل ہوئے۔ روزنامہ نوائے وقت ۱۰ جولائی نے اس کے بارے میں لکھا:

’’نیویارک میں عورتوں کے جنسی حقوق کے مسئلے پر اسلامی ممالک اور رومن کیتھولک ممالک ایک ہو گئے۔ جنسی حقوق (جن کا نام بیجنگ کانفرنس میں بدل کر بنیادی انسانی حقوق قرار دیا گیا تھا) میں اسقاطِ حمل اور مرضی سے بچے جننے کا حق بھی  شامل ہے۔ ایران، لیبیا، سوڈان اور پاکستان کے علاوہ رومن کیتھولک ملکوں کی طرف سے بھی اس کانفرنس میں شدید تنقید کی گئی۔ محض اس لیے کہ انہوں نے اس دستاویز کی مخالفت کیوں کی؟ غیرت کے قتل کے موضوع پر بھی خوب بحث ہوئی مگر بہرحال اس کو جرم تسلیم کرنے کی بھرپور مخالفت کی گئی۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت ۔ ۱۰ جولائی ۲۰۰۰ء)

چنانچہ یہ کانفرنس شدید مخالفت کے باعث کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو گئی۔ صرف عورتوں کی تعلیم اور بہتر صحت کی سہولتوں پر ہی اتفاق رائے ہو سکا۔ حسنِ اتفاق یہ ہے کہ خود رومن کیتھولک چرچ نے بھی ابتدا ہی سے بیجنگ کانفرنس کے ایجنڈے کی مخالفت کی تھی۔ چنانچہ اس کانفرنس میں بھی انہوں نے جنسی آزادی اور اسقاطِ حمل جیسے فضول ایجنڈے کی کھل کر مخالفت کی۔ علاوہ ازیں جمہوریہ چین نے بھی ان سفارشات کی مخالفت کی۔ چنانچہ کانفرنس سے واپسی پر خواتین کی صوبائی وزیر شاہین عتیق الرحمان نے رپورٹ پیش کی:

’’چین اور کیتھولک عیسائی ممالک نے بھی مسلم ممالک کے موقف کی اس بنیاد پر بھرپور حمایت کی  کہ عالمی کانفرنس میں مسلم ممالک کی حمایت سے مغربی این جی اوز کی اسقاطِ حمل اور جنسی آزادی کی سفارشات مسترد کروائی گئیں۔ لابنگ سے پاکستانی عورت کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈا غلط ثابت کیا۔ ہمارے وفد کو ہر سطح پر بھرپور نمائندگی ملی۔ بھارت کے مقابلے میں ہمارا سرکاری وفد اگرچہ مختصر تھا مگر اپنی کارکردگی کی بدولت یہ وفد کانفرنس پر چھایا رہا۔ ہم نے کانفرنس میں بتایا کہ پاکستانی عورت پر تشدد اور دباؤ کے الزامات بالکل غلط ہیں۔ یہ محض پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔ ہماری عورت ترقی  کی دوڑ میں شامل ہے۔ اسے تمام بنیادی حقوق اور شہری آزادیاں حاصل ہیں۔

این جی اوز پروگرام کی کاروائی میں حصہ لینے کے بجائے ذاتی گفتگو میں مصروف رہنے کے باعث ناکام ہو گئیں۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت ۔ ۱۶ جون ۲۰۰۰ء)

بہرحال اس پانچ روزہ کانفرنس میں ۱۸۰ ممالک شامل ہوئے۔ پورا وقت طویل بحث مباحثے ہوتے رہے۔ بیشتر مندوبین کو جنسی آزادی، اسقاطِ حمل اور نوخیز نابالغ بچوں کو جنسی تعلیم دینے کے نکتوں پر اتفاق نہ تھا۔ اس طرح منتظمین کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کہ وہ تمام شقوں پر جلد ہی ممبر ممالک سے دستخط کرا لیں گے۔ چنانچہ اس موقع پر این جی اوز نے اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اور جن امور کو آج متنازعہ فیہ قرار دیا گیا ہے بالآخر وہ دنیا بھر سے ان مطالبات کو منوانے میں جلد کامیاب ہو جائیں گے۔

مقامِ غور و فکر

گزشتہ خواتین کانفرنسوں میں اسلامی حکومت کے نمائندوں نے اپنی مذہبی تعلیمات، عقیدے اور ایمان کے صریحاً منافی احکام کی مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ چند تحفظات کا اظہار کر دینا کافی  خیال کیا۔ جبکہ موجودہ کانفرنس کا ایجنڈا اس کفریہ نظام کو جبراً رکن ممالک پر مسلط کرنا تھا۔ لہٰذا دینی جماعتوں، علماء اور امت کے اہلِ فکر و نظر اصحاب نے اپنی اپنی حکومتوں کو خوب سمجھایا اور بغیر سوچے سمجھے اس کانفرنس کے ایجنڈے پر دستخط کرنے کے خطرناک عواقب سے ان کو آگاہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی آن پہنچی۔ اس طرح یہ شیطانی اور یہودی منصوبہ وقتی طور پر اپنی موت آپ مر گیا، فللّٰہ الحمد۔

مگر اس کے خلاف طول منصوبہ بندی کرنا بہت ضروری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندے بار بار اس ایجنڈے کو ہمارے سروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ جس طرح اقلیتوں کے مسئلے پر، توہینِ رسالت کے موضوع پر، قتلِ غیرت کے نام پر، دہشت گردی کے خاتمے کے عنوان سے بار بار ہم سے مطالبے کیے جاتے ہیں۔ اور ان موضوعات پر ہونے والی پیشرفت کا سوال بار بار مختلف فورمز پر اٹھایا جاتا ہے۔ بعینہ جنسی آزادی، اسقاطِ حمل اور پچاس فیصد خواتین کی نمائندگی کے مسائل بار بار اٹھائے جاتے رہیں گے۔ لہٰذا ہمیں مسلسل بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔

(۱) اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں غور و فکر کے مختلف فورم بنیں، جہاں محض تقاریر نہ ہوں، ان عالمی اداروں میں پیش آنے والے عالمی چیلنجز کا جواب ہم ٹھوس انداز میں دے سکیں۔ یہ فرض ہم پر امتِ مسلمہ کے فرد کی حیثیت سے بھی عائد ہوتا ہے اور ایک عام مسلمان کی حیثیت سے بھی۔ ٹھوس بنیادوں پر کام کرنے کے سوا ہم ان طوفانوں کا رخ نہیں موڑ سکتے۔ اگر مؤثر مزاحمت نہ ہوئی تو یہ انسانیت دشمن ایجنڈا ’’تمہاری بربادی کے مشورے ہیں یو این او کے ایوانوں میں‘‘ کے مصداق ہماری موت کا پیغام ہو گا، جب مسلمانوں کو جبراً اسلام اور اسلامی تعلیمات سے روک کر عالمی سطح پر نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ عراق و کیوبا جیسی اقتصادی پابندیاں، طاقت کا استعمال جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں گے کہ ؎

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

وہ نیکی، بدی، گناہ، ثواب، حلال حرام کے بجائے نئے عالمی فرمان کے مطابق وہی صواب ماننا پڑے گا جسے امریکہ صحیح کہے گا، اور جسے وہ غلط کہے گا سب اسے غلط ماننے پر مجبور ہوں گے۔

(۲) ہمارے ہاں ہندوانہ رسم و رواج کی وجہ سے بلاشبہ عورت بہت سے مصائب کا شکار ہے، ضرورت ہے کہ اس کی محرومیاں دور کی جائیں اور اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں ان کے بارے میں رائے عامہ بیدار کی جائے۔ عورت کے ساتھ عمومی رویے بہتر بنائے جائیں۔ تعلیم، صحت، وراثت، حقِ ملکیت، حسنِ سلوک، انتخابِ زوج جیسے حقوق جو اسلام نے اسے عطا کیے ہیں فی الواقع عورت کو یہ حقوق دے کر اس کی عزت و آبرو کا احترام کیا جائے۔ اس کے مقام و مرتبہ کو معاشرے میں بحال کیا جائے۔

(۳) اسلام نے عورت کو جو بہترین حقوق دیے ہیں، خود اپنے معاشروں میں اور بین الاقوامی فورمز میں ان کی وضاحت اور خوبصورتی سے پیش کی جائے۔ آج کی مسلمان عورت کو اپنے دین، اخلاقی اقدار اور علم کے ہتھیار سے مسلح ہو کر اپنے اسلاف سے رشتہ جوڑتے ہوئے اعتماد سے قدم اٹھانا ہوں گے، تاکہ آنے والی صدی میں خواتین سے متعلقہ چیلنجز کا علمی اور عملی دونوں سطح پر مؤثر جواب دیا جا سکے۔

(۴) نیو ورلڈ آرڈر جاری کرنے کے بعد سے امریکہ ہر ممکن مسلم ممالک کو الگ الگ دبا رہا ہے۔ اس کو احساس ہے کہ اس کے اس آرڈر کو صرف اسلام ہی چیلنج کر سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ اور یہودی مسلمانوں کو مسلسل کمزور کرنے اور تقسیم در تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ لہٰذا جلد از جلد مسلمانوں کو متحد ہو کر اپنی یونین قائم کرنی چاہیے۔ یا تو سلامتی کونسل میں اپنی اکثریت کی بنا پر دو تین مستقل ووٹ حاصل کریں، وگرنہ پھر اپنا مسلم بلاک الگ تشکیل دیں۔ اپنے کردار اور جہاد کے ذریعے اپنا لوہا منوائیں۔ اور اتحاد کے ذریعے نہ صرف اپنے دین کا تحفظ کریں بلکہ دکھی انسانیت تک اسلام کا جان بخش اور روح پرور پیغام پہنچائیں۔ اسلام کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کا توڑ کریں۔ اپنی نیوز ایجنسی قائم کریں، اپنا مسلم ٹیلی ویژن نیٹ ورک قائم کریں۔ مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی مسلم فوج تشکیل دے کر ہر جگہ دشمن کا بھرپور مقابلہ کریں۔ یہی راستہ ہمارے لیے سرخروئی اور کامیابی کا ضامن ہے۔

مقامِ مسرت ہے کہ اس موقع پر پاکستان کا سرکاری وفد اس بات پر ڈٹا رہا کہ وہ اپنی اسلامی روایات کے خلاف کوئی ایجنڈا قبول نہیں کرے گا۔ کیونکہ اسلام میں خواتین کی سیاسی و معاشی ترقی کے لیے نمایاں کردار موجود ہے۔ محترمہ زبیدہ جلال نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ہم اس مسئلے پر او آئی سی کے تمام رکن ممالک کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں تاکہ اس معاشرے کی روایات ہم پر مسلط نہ کی جا سکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے اس عزم پر قائم رہتے ہوئے پوری اسلامی دنیا کو مغرب کی بڑھتی ہوئی ثقافتی اور تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرے اور یہ وعدے صرف صفحۂ قرطاس کی زینت نہ بنیں بلکہ ان کو عملی جامہ پہنا کر مسلم امت کی حقیقی فلاح و بہبود کا کام سرانجام دیا جائے۔

(بہ شکریہ: ماہنامہ افکارِ معلم لاہور)


گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے پس پردہ عزائم

ادارہ

ماہنامہ ساحل کراچی نے گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کی موجودہ عالمی مہم اور پاکستان میں حکومتی اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی کے  پروگرام کا جائزہ لیتے ہوئے اس سلسلہ میں دو اہم تجزیاتی رپورٹیں شائع کی ہیں جنہیں ’’ساحل‘‘ کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ دینی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں سے بطور خاص ہماری گزارش ہے کہ وہ ان رپورٹوں کا گہری سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کریں اور اس اہم مسئلہ پر رائے عامہ کی راہنمائی کی طرف فوری توجہ دیں۔ (ادارہ)

عصرِ حاضر کے مغربی استعمار کی دو نئی اصطلاحات ’’گلوبلائزیشن‘‘ اور ’’لوکلائزیشن‘‘ اس وقت پاکستان کے ہر پڑھے لکھے فرد کا موضوعِ گفتگو ہیں۔ ان اصطلاحات کی ایک خاص تاریخ، خاص پسِ منظر، خاص فلسفہ اور خاص تہذیب ہے۔ اس پس منظر سے واقفیت کے بغیر یہ اصطلاحات بظاہر نہایت بے ضرر، غیر مہلک، تیر بہ ہدف اور نہایت کارآمد نظر آتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں لکھنے پڑھنے کی روایت مدتوں پہلے دم توڑ چکی ہے، لہٰذا میدانِ صحافت میں اب دانشور باقی نہیں رہے بلکہ اب صرف ڈھنڈورچی اور طبلچی قسم کے لوگ باقی رہ گئے ہیں۔ جو ہر نئے خیال، نئی لہر، نئے لفظ، نئی اصطلاح کو بے سوچے سمجھے اس بدقسمت قوم کی روٹھی ہوئی قسمت سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ’’مقامیت‘‘ کی اصطلاح کے ضمن میں ہمارے اخبارات جنرل تنویر نقوی کی حمایت سے بھرے پڑے ہیں۔ حمایت کرنے والوں کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ضلعی حکومتیں کس قیامت کی خبر لائیں گی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی قومی ریاست کیسے ریزہ ریزہ ہو گی۔

’’ساحل‘‘ ان اصطلاحوں کے حوالے سے خصوصی اشاعت پیش کر رہا ہے تاکہ قارئین کو ان اصطلاحات کا تاریخی پس منظر، اس کا فلسفہ، اس کے مقاصد، اہداف اور منزل کی بابت تفصیل سے معلومات مہیا  کر دی جائیں۔ لوکلائزیشن اور گلوبلائزیشن کے عالمی استعماری منصوبے نئے نہیں ہیں، تاریخ کے سفر میں وقتاً فوقتاً ایسے منصوبے ماضی میں بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔

انیسویں صدی میں انگریز نے بالکل اسی طرح پر پہلے ہماری مرکزی ریاست کو کمزور اور بالآخر تباہ کیا تھا۔ اس صدی کے نوابوں اور راجاؤں کی پالیسیوں اور راجوڑوں کو مغل سلطنت کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا تھا۔ مرکزی ریاست سے اختیار چھین کر نوابوں کو با اختیار بنانے کی حکمتِ عملی کے ذریعے اصل اختیارات ریاستوں کو منتقل نہیں ہوئے بلکہ انگریزی استعمار کو منتقل ہوئے۔ اس طرح آج پاکستانی ریاست سے اختیارات چھین کر مقامی سطح پر منتقل کرنے سے مقامی حکومتیں مضبوط نہیں ہوں گے بلکہ یہ اختیارات اصل میں عالمی استعمار اور اس کے اداروں کو منتقل ہو جائیں گے۔ ضلعی حکومت ایک کاروباری ادارے کی طرح کام کرے گی جس میں حاکم آجر، اور عوام خریدار ہوں گے۔

لوکلائزیشن کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی ریاست تمام خدمات کی فراہمی کے عمل سے دستبردار ہو جائے اور اس کی ذمہ داری ضلعی اور تحصیل کی سطح کی مقامی حکومتوں کو منتقل کر دی جائے۔ مقامی حکومتیں ان خدمات کو منافع کے حصول کے لیے انجام دیں اور حکومت کے بجائے تجارتی ادارہ بن جائیں۔ جکارتہ میں پانی کا نظام ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے خرید لیا ہے جس کے بعد پانی بھی منافع پر بیچا جا رہا ہے اور لوگ مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ضلعی حکومت کے نتیجے میں اختیارات مرکزی حکومت سے نچلی سطح پر منتقل ہونے کے بجائے تمام اختیارات ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بین الاقوامی بینکوں کو منتقل ہو جاتے ہیں۔

گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ کیونکہ دونوں اعمال کے ذریعے اصل اختیارات مرکزی ریاست سے عالمی استعماری اداروں اور ملکوں کو منتقل کر دیے جاتے ہیں۔

حکومت نے ضلعی حکومتوں کے قیام کے پہلے مرحلے میں ملک کے منتخب اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلعی حکومتیں کیا ہیں؟ اس نظامِ حکومت کا فلسفہ کا ہے؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں عالمی استعمار امریکہ اور اس کی حلیف عالمی مالیاتی طاقتوں یعنی آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے فلسفے، اصطلاحات، اور مغربی تہذیب اور اس کے فلسفہ تاریخ کو اچھی طرح سمجھنا ہو گا۔ اسے سمجھے بغیر ہم ضلعی حکومت جیسے بظاہر بے ضرر معاملات کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔

عموماً ہمارے دینی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ضلعی حکومت کے منصوبے کی منظم اور مضبوط مخالفت ابھی تک نہیں کی گئی، بلکہ اسے اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کے مغربی فلسفے کے تناظر میں ایک عظیم الشان پیش قدمی سمجھا جا رہا ہے۔ مگر دینی جماعتوں کی جانب سے ضلع کی سطح پر مرد اور خواتین کے لیے مساوی نشستوں کے اعلان کی بھرپور مذمت کی گئی ہے جس کا مقصد Effeminization کے ذریعے خاندانی نظام کو تہس نہس کرنا ہے۔ مغرب کے کسی ملک میں نچلی سطح پر کسی انتخابات میں بھی جنس کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم نہیں ہے، ہر جنس کو اختیار ہے کہ وہ انتخابات میں آزادانہ حصہ لے۔ مگر ہمارے حکمران مغرب سے کئی قدم آگے بڑھ کر ریاستی جبر کی طاقت سے عورت اور مرد و ایک دوسرے کے مد مقابل لا کر مقابلے کی کیفیت پیدا کر کے معاشرے سے اخلاقی اقدار کو رخصت کرنا چاہتے ہیں۔ عورتوں کو گھروں سے جبراً نکال کر ترغیب و تحریص کے تحت اپنے جال میں گرفتار کر کے انہیں مردوں کے شانہ بشانہ لانے کا بنیادی مقصد گاؤں اور تحصیل کی سطح پر آج بھی موجود مضبوط خاندانی نظام کو تہہ و بالا کرنا ہے جس کے نتیجے میں مغربی تہذیب کو غلبہ حاصل ہو ۔۔۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری اور علی محمد رضوی کے مضامین معلومات کے نئے دریچے وا کرتے ہیں، ان مضامین سے صورتِ حال کا ایک ایسا رخ سامنے آئے گا جو ابھی تک خاص و عام لوگوں سے مخفی ہے۔

(ماہنامہ ساحل کراچی)

ضلعی حکومتوں کا عالمی استعماری منصوبہ

علی محمد رضوی

اس مضمون میں ہم گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے استعماری منصوبوں کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستانی ریاست کو تباہ کرنے کی استعماری کوششیں ہم پر واضح ہو سکیں۔ آخر میں ہم استعمار کے ان منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چند تجاویز بھی پیش کریں گے۔

استعمار کا منصوبہ کیا ہے؟

اکیسویں صدی کا مغربی استعمار چاہتا ہے کہ قومی ریاستیں کمزور ہوں۔ قومی ریاست کو کمزور کرنا استعمار کے معاشی اور دفاعی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی استعماری حکمتِ عملی سے مختلف ہے۔ بیسویں صدی میں استعمار نے تیسری دنیا میں مضبوط ریاستوں کے قیام کو برداشت ضرور کیا تھا، آج استعمار مضبوط قومی ریاستوں کو برداشت نہیں کر سکتا:
  • اس کی معاشی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے لیے سرمایہ کا بلا روک ٹوک بہاؤ آج انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ مضبوط ریاست سرمایہ کے اس بہاؤ پر روک ٹوک عائد کر سکتی ہے۔ اس قسم کی پابندیاں سرمایہ داری نظام کی بلند و بالا عمارت کو انتہائی آسانی کے ساتھ زمین بوس کر سکتی ہے۔
  • اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آج مغربی ممالک میں نوجوانوں کی تعداد انتہائی کم ہو چکی ہے۔ آج مغربی آدرشوں کے لیے جان دینے والا کوئی نہیں رہا ہے۔ ایسے میں مغرب لمبی زمینی جنگیں لڑنے کے لیے نا اہل ہوتا جا رہا ہے۔ مضبوط قومی ریاستوں کا وجود مغرب کے لیے دفاعی خطرہ بن چکا ہے۔

ان ہی دو وجوہات کی بنیاد پر آج کا استعمار مضبوط قومی ریاستوں سے خائف ہے اور انہیں کمزور کرنا چاہتا ہے۔ موجودہ دور میں کسی بھی ریاست کی قوت کے دو سرچشمے ہوتے ہیں: (۱) اعلیٰ سیاست (۲) ادنٰی سیاست۔

  1. اعلٰی سیاست (High Politics): اعلیٰ سیاست سے مراد ہے ریاست کا اندرونی و بیرونی معاملات، تعلقات کی ہر سطح پر مکمل کنٹرول ہے۔ دراصل سیاست علیا کا مطلب کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی اور دفاعی پالیسی ہے۔ کوئی بھی ریاست اسی حد تک قوی یا کمزور ہوتی ہے جس حد تک وہ اپنی خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی اور دفاعی پالیسی کو مشکّل کرنے، چلانے اور ان کو عملی جامہ پہنانے میں آزاد ہوتی ہے۔
  2. ادنیٰ سیاست (Low Politics) پر ریاست کا مکمل کنٹرول: سیاستِ ادنیٰ میں وہ تمام خدمات شامل ہیں جو تمام جدید ریاستیں کچھ عرصہ قبل تک اپنے عوام کو فراہم کرنا اپنے مقصدِ وجود کا حصہ سمجھتی تھیں۔ ان خدمات میں بجلی و پانی کی فراہمی سے لے کر سڑکوں کی تعمیر تک تمام خدمات شامل ہیں۔ ریاست ان خدمات کی فراہمی منافع کے حصول کے لیے اور مارکیٹ کے نقطۂ نظر سے نہیں کرتی ہے بلکہ اس کو بنیادی ذمہ داری اور بنیادی خدمت سمجھ کر بجا لاتی ہے۔ کسی بھی ریاست کو (موجودہ دور میں) اپنے عوام پر کنٹرول اور ان کی تابعداری اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب تک وہ یہ خدمات اپنے عوام کو فراہم کرتی رہتی ہے۔ اگر کسی ریاست سے یہ بنیادی خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری چھین لی جائے تو اس ریاست کا اپنے عوام پر کنٹرول اور ان کی تابعداری کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔

موجودہ ریاست کی طاقت اور کمزوری کے جو دو بنیادی اصول ہم نے اوپر بیان کیے ہیں ان کا تعلق ریاست کے وظائف سے ہے۔ اب اگر ساختی اور ہیئتی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو موجودہ دور میں وہی ریاستیں مضبوط اور طاقتور ریاستیں ہوں گی جو جغرافیائی لحاظ سے وسیع ہوں، آبادی کے اعتبار سے گنجان اور پھلتی پھولتی ہوں۔ آبادی کے لحاظ سے اور جغرافیائی لحاظ سے چھوٹے ممالک موجودہ دور میں کمزور ممالک ہوں گے اور وہ بیرونی معاشی اور دفاعی مخالفین کے آگے بے بس ہوں گے۔

مندرجہ بالا تمہید کے نتیجہ میں اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ استعمار کے ان منصوبوں کو کوئی نام دے سکیں۔ استعمار کے مندرجہ ذیل تین منصوبے ہیں: (۱) گلوبلائزیشن (۲) لوکلائزیشن (۳) شہری حکومتوں کا قیام۔

(۱) گلوبلائزیشن کیا ہے؟

گلوبلائزیشن کا مقصد یہ ہے کہ مرکزی ریاست سیاستِ علیا (High Politics) سے دستبردار ہو جائے۔ مثلاً اگر پاکستان کے تناظر میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو گلوبلائزیشن کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ پاکستانی ریاست خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی اور دفاعی پالیسی کی تشکیل کے اپنے حق سے دستبردار ہو جائے اور ان ذمہ داریوں کو امریکی استعمار اور اس کی گماشتہ آلہ کار تنظیموں، منصوبوں اور معاہدوں مثلاً ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او، سی ٹی بی ٹی وغیرہ کو منتقل کر دے۔ ظاہر ہے کہ خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی اور دفاعی پالیسی کی تشکیل کے وظائف استعمار کو منتقل کر دینے کے بعد پاکستانی ریاست ایک مجبور، لاچار اور لاغر بے بس ریاست رہ جائے گی، جو استعمار کے کسی بھی منصوبہ کی مخالفت کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ پاکستان انہی معنوں میں استعمار کی باج گزار اور محتاج ریاست بن جائے گی جن معنوں میں آج خلیج کی ریاستیں استعمار کی باج گزار اور محتاج ریاستیں بن چکی ہیں۔

(۲) لوکلائزیشن کیا ہے؟

لوکلائزیشن کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی ریاست خدمات کی فراہمی کے عمل سے دستبردار ہو جائے اور اس کی ذمہ داری ضلعی اور تحصیل کی سطح کی مقامی حکومتوں کو منتقل کر دی جائے۔ ان مقامی حکومتوں کو چلانے کی ذمہ داری محض منتخب نمائندوں کی نہ ہو، بلکہ ورلڈ بینک کی ڈیویلپمنٹ رپورٹ برائے ۲۰۰۰ء کے مطابق اس میں پرائیویٹ سیکٹر، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے دوسرے عناصر (مثلاً سیکولر مفکرین، مدبرین اور ماہرین حضرات) کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ اسی لیے جنرل مشرف کے پروگرام میں عورتوں اور غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستیں اتنی بڑی تعداد میں رکھی گئی ہیں۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ مقامی حکومتیں ان خدمات کو بطور خدمت کے انجام نہ دیں بلکہ منافع کے حصول کے لیے دیں۔ مقامی حکومتیں منافع کے حصول کے لیے کمپنیاں بن جائیں جن کا مقصد:

  • شہریوں کو بنیادی سہولتیں نفع نقصان کے اصول سے بالاتر ہو کر دینا نہ ہو، بلکہ زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول ہو۔
  • مقامی حکومتیں اپنے شیئر اور بانڈ دوسری کمپنیوں کی طرح مارکیٹ میں بیچنے کے لیے پیش کریں گی۔
  • خدمات کے سارے نظام کو پرائیویٹائز کیا جائے گا اور اس کے بڑے خریدار ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوں گی۔ اس کی مثال جکارتہ میں ہمارے سامنے آئی ہے جہاں فراہمئ آب کا سارا نظام ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے خریدا ہوا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اختیارات مرکزی حکومت سے فی الواقع مقامی ضلعی حکومتوں کو منتقل نہیں ہوتے ہیں، بلکہ اصل اختیارات ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اور بین الاقوامی بینکوں کو منتقل ہوتے ہیں۔

انہی معنوں میں ہم کہتے ہیں کہ گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، کیونکہ دونوں اعمال کے ذریعے اصل اختیارات مرکزی ریاست سے استعمار کو منتقل ہوتے ہیں۔

(۳) شہری حکومتوں کا قیام

گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کا حتمی ہدف سنگاپور اور ہانگ کانگ کے طرز کی شہری حکومتوں کا قیام ہے۔ سنگاپور، ہانگ کانگ، پاناما، مکاؤ، کوسٹاریکا جیسے علاقے شہری ریاستوں/حکومتوں کی حقیقت واضح کرتے ہیں۔ یہ تمام شہری مقامی حکومتیں عالمی سرمایہ داری کی تابع مہمل ہوتی ہیں۔ اور اعلیٰ سیاست یعنی خارجہ پالیسی، دفاعی پالیسی، اور عمومی معاشی پالیسی کے مسائل سے ان حکومتوں کے قیام کے ساتھ ہی ان کی ریاستوں اور ان کے شہریوں سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ہے۔ یہ شہری ریاستیں، حکومتیں کم اور منافع کے حصول میں تگ و دو کرنے والی کمپنیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ اور ان کے شہری، شہری کم اور خریدار زیادہ ہوتے ہیں۔ کراچی، لاہور، حیدرآباد، پشاور کو مضبوط پاکستان کا دل و جگر نہیں ہونا چاہیے جو جہادِ کشمیر، جہادِ افغانستان اور استعمار کے خلاف جدوجہد کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکیں، بلکہ ان کو ایسی کمپنیوں کا روپ دھارنا چاہیے جو سرمایہ داری کے شیطانی کھیل کا ایک حصہ ہوں۔

شہری حکومتوں کے قیام کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ملکوں کو توڑا جائے، بلکہ اختیارات عالمی اداروں اور مقامی سطح پر اس طرح منتقل کیے جائیں کہ مرکزی ریاست صرف نام کی ریاست رہ جائے گی جس کا واحد مقصد عالمی اداروں کی پالیسیوں کا نفاذ رہ جائے گا۔

طریقہ کار

گلوبلائزیشن، لوکلائزیشن، اور شہری حکومتوں کے قیام کے اس استعماری منصوبے کو سمجھنے کے بعد اب موقع ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے کیا ذرائع ہیں۔ ذیل میں ہم مختصراً ان عملی اقدامات کو ترتیب وار بیان کریں گے جو استعمار اور اس کے ذیلی ادارے ہماری ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں:

  • استعمار اور اس کے گماشتے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کے یہ استعماری منصوبے اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتے جب تک حرص و حسد ہمارے معاشرے میں قابلِ قبول نہ بن جائیں۔ حرص و حسد کو عام کرنے کا سب سے اہم ذریعہ حقوقِ انسانی ہیں۔ حقوقِ انسانی کے ذریعے ان اجتماعی اداروں، صف بندیوں اور برادریوں کو منتشر کیا جاتا ہے جو روایتی طور پر ہمارے معاشروں میں حرص و حسد کے فروغ میں حائل رہی ہیں، اور جو ہمارے معاشروں میں قربانی، ایثار اور وفا کا سرچشمہ ہے۔ خاندان کے تباہ ہونے کے نتیجہ میں ہر فرد معاشرہ میں یکا و تنہا رہ جاتا ہے، ایسا شخص حرص و حسد کے جال میں با آسانی پھنس جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے سرمایہ کا بندہ بن جانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ استعمار ہمارے معاشروں میں ایسے ہی افراد کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے۔ اس سلسلہ میں استعمار کی پروردہ این جی اوز خاص کردار ادا کر رہی ہیں۔
  • خاندانی نظام کو تباہ کرنے کا سب سے اہم ہتھیار حقوقِ نسواں کی تحریک ہے۔ عورتوں کو حرص و حسد کا بندہ بنائے بغیر اور انہیں گھر سے نکالے بغیر استعمار کے لیے ناممکن ہے کہ ہمارے معاشرے میں سرمایہ اور استعمار کی بالادستی قائم کر سکے۔ حقوقِ نسواں کی تمام تحریکیں ہمارے معاشرے اور ثقافت کو تباہ کرنے کی تحریکیں ہیں۔ حقوقِ نسواں کی تمام تحریکیں ہمارے معاشرے میں محبت، ایثار و وفا کو ختم کر کے حرص و حسد کو عام کرنے کی تحریکیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استعمار کی گماشتہ این جی اوز کو حقوقِ نسواں کی سب سے زیادہ فکر ہے۔ جنرل مشرف کی موجودہ حکومت اس معاملے میں استعمار کی کھلی حلیف ہے۔ اس نے آزادئ نسواں کی حامی استعمار کی گماشتہ خواتین کو اپنی سکیورٹی کونسل اور کابینہ میں شامل کیا ہے اور پیش آمدہ بلدیاتی انتخابات میں کثیر تعداد میں خواتین کی نشستیں مخصوص کی ہیں۔ خواتین کو بازار و سیاست کی رونق بنا کر ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کی جا رہی ہیں اور ہمیں استعمار کے لیے نوالۂ تر بنایا جا رہا ہے۔ عورتوں کو سرمایہ کا غلام بنانے کے لیے اہم ترین پروگرام فیملی پلاننگ اور عورتوں کی معاشرتی ترقی کے پروگرام ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ عورت ماں بننے سے انکار کر دے اور بازار میں عام اجناس کی طرح اس کی بولی لگائی جائے تاکہ سرمایہ داری پاکستانی معاشرے میں اپنے اثرات گہرے کر سکے۔
  • دفاعی اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر استعمار کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان اپنا نیو کلیئر پروگرام ترک کر دے۔ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے پاک علاقہ (Nuclear Free Zone) بنا دیا جائے۔ دفاعی اخراجات میں ہر سال مسلسل کمی کی جائے۔ جنرل مشرف نے ہندوستان کے دفاعی بجٹ میں تیس فیصد اضافہ کے مقابلے میں پاکستانی بجٹ میں کٹوتی کی ہے۔ فنانشل ٹائمز کے نامہ نگاروں کے مطابق جنرل صاحب نے دفاعی بجٹ میں سے سات ارب روپیہ کاٹ کر اپنی غربت مٹاؤ مہم کے لیے مختص کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ دراصل آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ریاست و معاشرت کی ہیئت کو تبدیل کرنا ہے۔
  • چونکہ امریکہ علاقہ میں چینی بالادستی کو کم کرنے کے لیے بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، اس لیے استعمار پاکستان کی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ کشمیر کے جہاد سے دستبردار ہو جائے اور علاقہ میں بھارت کی بالادستی قبول کر لے۔
  • اس طرح امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان جہادِ افغانستان اور کسی قسم کی جہادی سرگرمیوں کی اعانت میں ملوث نہ ہو۔ ’’دہشت گردی‘‘ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں سے معاونت کرے۔ جہادی تحریکوں پر پابندی لگائی جائے۔ مساجد و مدارس سے جہاد کا درس ختم کر کے سرکاری اسلام کا پرچار کیا جائے جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہو۔
  • پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کرنے اور اسے استعمار کا باج گزار بنانے کے لیے اسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی معاشی پالیسیوں کو اپنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس معاشی پالیسی کے اہم نکات یہ ہیں کہ ① آزاد مارکیٹ اور آزاد تجارت کے اصولوں کو قبول کر لیا جائے، ② ملکی اثاثوں کو کوڑیوں کے دامن فروخت کر دیا (اس کا نام پرائیویٹائزیشن ہے)، ③ معاشی پالیسی پر سے حکومت کا کنٹرول ختم کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی بینک کی آزاد معیشت کی پالیسیاں کسی بھی ملک کی معیشت کی تباہی کا سامان ہیں۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے دسیوں ممالک میں ان پالیسیوں پر عمل کیا گیا اور اس کے ذریعے پھلتی پھولتی معیشتوں کو تباہ کر دیا گیا۔ عالمی بینک کی ان پالیسیوں پر عمل کرتے رہنے کا واحد مطلب معاشی خودکشی کا ارتکاب ہو گا جس کا واحد نتیجہ پاکستانی معیشت اور پاکستانی ریاست کی تباہی کی صورت میں منتج ہو گا۔
  • شہری قوتوں کو مرکزی ریاست کے مقابلے میں کھڑا کر کے مرکزی ریاست کو کمزور کرنا۔ خدمات کی فراہمی کے سارے نظام کو مرکزی حکومت سے لے کر مقامی شہری حکومتوں کو سونپ دینا۔
  • ڈبلیو ٹی او کے قوانین قبول کر کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یہ حق دینا کہ وہ اندرونی ذرائعِ وسائلِ خدمات (Domestic Services Resources) کا بلاروک ٹوک استعمال کر سکیں۔
  • ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کے نام پر پانی، بجلی اور دوسری خدمات کا نظام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سپرد کر دیا جائے۔ مقامی حکومتیں سرمایہ داری اور استعمار کی آلۂ کار بن جائیں۔
  • لوگوں کو سرمایہ داری کا حلقہ بگوش بنانے کے لیے ’’غربت مکاؤ پروگرام نما‘‘ فلاحی ادارے بنائے جائیں۔
  • گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن کے نام پر ریاست کی مرکزی شکست و ریخت کے اس سارے عمل کو ایک نئے آئین کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے جس کو بدلنے کا اختیار کسی کو حاصل نہ ہو۔

ہماری مرکزی ریاست کو کمزور کرنے کے یہ تازہ منصوبے کوئی نئے منصوبے نہیں ہیں۔ انیسویں صدی میں انگریز نے بالکل اسی طرز پر پہلے ہماری مرکزی ریاست کو کمزور اور بالآخر تباہ کیا تھا۔ انیسویں صدی کے نوابوں اور راجاؤں کی پالیسیوں اور جواڑوں کو مغل سلطنت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا گیا تھا اور اس طرح انتظامی اختیارات مرکزی ریاست سے ان راجوڑوں اور ریاستوں کو منتقل ہونے لگے تھے۔ اسی طرح انگریز نے مرکزی ریاست کی اعلیٰ سیاست یعنی خارجہ پالیسی، دفاعی پالیسی، اور معاشی پالیسی کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ ان دونوں ذرائع سے اختیارات اصل میں انگریز کو ہی منتقل ہو رہے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مرکزی ریاست سے اختیار چھین کر نوابوں کو با اختیار بنانے کی حکمتِ عملی کے ذریعے اصل اختیارات ریاست کو منتقل نہیں ہوئے بلکہ استعمار کو منتقل ہوئے ہیں۔ 

اسی طرح آج پاکستانی ریاست سے اختیار چھین کر مقامی سطح پر منتقل کرنے سے مقامی حکومتیں مضبوط نہیں ہوں گی بلکہ یہ اختیارات اصل میں استعمار کو منتقل ہوں گے۔ جس کی بنا پر پاکستان کی ریاست استعمار کی مخالفت کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔

ایک مضبوط پاکستان کیوں؟

ہم لوکلائزیشن اور گلوبلائزیشن کے نام پر پاکستانی ریاست کو تباہ کرنے کے ان استعماری منصوبوں کو یکسر طور پر رد کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک مضبوط جہادی اور اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں جو

  • جہادِ افغانستان کی پشتیبان ہو،
  • کشمیر میں جہاد کی حمایت کرتی ہو،
  • استعمار کی ہر چال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

اس لیے کہ پاکستانی کوئی قوم نہیں ہے بلکہ پاکستان ملتِ اسلامیہ کا ہراول دستہ ہے۔ پاکستان کو قومی ریاست بنانا اور پاکستانیوں کو قوم بنانا پاکستان کی تباہی کا سامان ہے۔ گلوبلائزیشن، لوکلائزیشن، شہری حکومتوں کا قیام وغیرہ سیکولرازم کا جدید مظہر ہیں۔ جبکہ پاکستان اور سیکولرازم دو متضاد عمل ہیں جن کے ملاپ کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو ایک سیکولر قومی ریاست بنانے کی تمام کوششیں پاکستان کو تباہ کرنے اور استعمار کی طفیلی ریاست بنانے کا ذریعہ ہیں۔ اسرائیلی رہنما بن گوریان نے فلسطین کو نہیں، عربوں کو نہیں، بلکہ پاکستان کو اسرائیل کا دشمن نمبر ایک قرار دیا تھا۔ استعمار کے دل میں جس طرح پاکستان کھٹکتا ہے کوئی اور ملک نہیں کھٹکتا۔ کیونکہ پاکستان یہود و ہنود کی راہ میں حائل ایک مضبوط چٹان ہے۔

پاکستانی ریاست کو تباہ کرنے کے ان استعماری عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عوامی تحریک (جس کی رہنمائی متحدہ اسلامی قیادت کرے) جلد از جلد برپا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس قیادت کا معاشی لائحہ عمل ان اصولوں پر مشتمل ہو:

  • غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی سے فوری انکار کر دیا جائے۔
  • ایک جہادی معیشت کا قیام جس کی بنیادی حکمتِ عملی دفاعی پیداوار کے لیے مجموعی پیداوار میں اضافہ کو بنیاد کے طور پر استعمال کرنا ہو۔
  • تمام مالی اداروں کو اسلامی و جہادی اصولوں کے ماتحت کرنا،
  • آزاد زرعی پالیسی کا خاتمہ،
  • سرمایہ کی گردش پر کڑی نگرانی کا قیام،
  • غذائی اجناس کی پیداوار میں جلد از جلد خود کفالت۔

ریاستی لائحۂ عمل

  • بلدیاتی انتخابات کا متفقہ اور شرح صدر کے ساتھ بائیکاٹ ہو۔
  • جمہوری اداروں اور جمہوری عمل سے براءت کا اعلان ہو۔
  • اسلامی انقلاب کی عوامی سطح پر پیش بندی اور پیش رفت ہو۔

سماجی لائحۂ عمل

  • مسجد و مدرسہ کو عوامی سطح پر فعال بنایا جائے۔
  • مسجد کی تھانہ پر بالادستی کو قائم کیا جائے۔
  • حکومتی عملداری سے آزاد متفقہ دارالافتاء کا قیام

۔۔۔


ضلعی حکومتیں: پاکستانی ریاست کے خلاف خطرناک سازش

ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

اس مضمون میں تحریکاتِ اسلامی کے کارکنان اور قائدین کی خدمت میں دو گزارشات پیش کی گئی ہیں:
  1. تمام اسلامی جماعتیں متفقہ طور پر بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔
  2. تمام اسلامی جماعتیں لوکلائزیشن کے پروگرام کو اصولاً رد کر کے مرکزی ریاست کو کمزور بنانے کی اس استعماری چال کو ناکام بنائیں۔
تمام اسلامی جماعتیں نفاذِ شریعت اور اعانت ِجہاد کے دو نکاتی پروگرام پر متفق ہو کر عوامی مہمات کے ذریعے اہلِ دین کو متحرک اور منظم کریں۔

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

۱۹۸۷ء میں جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان نے قومی اور صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ ایک بالکل درست اور نہایت مفید فیصلہ تھا، اس کے تین بہت بڑے فائدے حاصل ہوئے۔
اسلامی سیاسی قوتیں موجودہ مقتدر سیاسی قوتوں سے الگ ہو گئیں۔ آج جب ہم یہ بات کہتے ہیں کہ ہمارا موجودہ ظالم سیاسی اور معاشی نظام میں کوئی حصہ نہیں تو اس بات کو جھٹلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ انقلاب کی کامیابی کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ نئی انقلابی قوتیں عوام کی نگاہ میں موجودہ نظامِ اقتدار میں ملوث نہ ہوں۔ صرف اسی صورت میں نئی انقلابی قوتوں سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک نیا نظامِ اقتدار مرتب کرنے کی اہل ہیں۔ ایرانی انقلاب اور تحریکِ نفاذِ نظامِ مصطفٰیؒ میں یہی بنیادی فرق تھا کہ آیت اللہ خمینی کی ۱۹۶۲ء سے جاری جدوجہد کے نتیجے میں ایرانی علماء شاہ کے نظام سے تقریباً یکسر کٹ گئے تھے۔ جب کہ پی این اے (پاکستان نیشنل الائنس) میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو مقتدر طبقے کا جزوِ لاینفک سمجھے جاتے تھے۔
۱۹۹۷ء کے انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے کے نتیجے میں آج ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں تحریکِ اسلامی ایران ۱۹۷۰ء کے اوائل میں تھی۔ ۱۹۹۷ء کے بعد جماعتِ اسلامی پاکستان، جمعیت علماء پاکستان، سپاہ صحابہؓ اور بہت سی دیوبندی تنظیموں نے ثابت کر دیا کہ اقتدار سے باہر رہ کر اسلامی قوتوں کو مجتمع کر کے حکومت پر مؤثر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ نیو کلیئر پروگرام، جہادِ کشمیر اور افغان جہاد کا تحفظ اس ہی وجہ سے ممکن ہوا کہ اسلامی قوتیں ریاستی اقتدار سے باہر منظم تھیں اور اپنی طاقت متحرک کرنے کے لیے انہیں ریاستی ذرائع کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر اسلامی قوتیں ریاستی اقتدار میں ملوث ہوتیں تو نہ Mass Organization ممکن ہو سکتی اور نہ Mass Mobilization۔
۱۹۹۷ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے ہم نے پہلی مرتبہ جماعتی سطح پر جمہوریت کی حقیقت کا ادراک حاصل کیا۔ ۱۹۳۰ء سے جب جمعیت علماء ہند قائم ہوئی، برصغیر کی تمام اسلامی سیاسی جماعتوں نے ـ(سوائے جماعتِ اسلامی ہند) جمہوری عمل کو Mass Mobilization کا مؤثر ترین ذریعہ تصور کیا۔ ۱۹۹۷ء کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ جمہوری عمل میں شمولیت کے ذریعے رسوائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جمہوری عمل کو رد کر کے ہی وسیع تنظیمی اور وسیع عوامی پذیرائی اسلامی بنیادوں پر ممکن ہو سکتی ہے۔ آج بہت سے علماء اور زعماء اس بات کے قائل ہیں اور سپاہ صحابہؓ اور تحریکِ احرار نے اصولاً جمہوریت کو رد کیا ہے اور جمعیت علماء اسلام میں بھی  متعدد علماء جمہوری عمل کے مضر ہونے کا برملا اظہار فرماتے ہیں۔
استعمار اور اس کے پاکستانی حلیف اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اسلامی قوتیں متحد ہو کر انقلابی سیاسی راہ اختیار کر رہی ہیں۔ اسلامی جماعتوں پر زور ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مرکزی حکومت میں شامل ہوں۔ معیشت کو کاغذی سطح پر اسلامیانے کی مذموم سازش میں دینی مدارس اور تبلیغی جماعتوں کو ملوث کیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات اور لوکلائزیشن کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ اسلامی جماعتوں کو جمہوری عمل میں دوبارہ ملوث کیا جائے۔ اگر استعماری اور سیکولر قوتیں اس میں کامیاب ہو گئیں تو اسلامی جماعتوں کو ان کی موجودہ پوزیشن سے اس مقام پر پھینک دیں گی جہاں اسلامی جماعتیں ۱۹۷۸ء میں ضیاء حکومت میں شمولیت کے وقت کھڑی تھیں۔ یہ ہماری ایک بڑی شکست ہو گی اور ہم عوامی حمایت کھو بیٹھیں گے، اور عظیم وسعت پذیر تنظیمی کام اور عظیم عوامی پذیرائی کا کام مشکل سے مشکل تر ہو جائے گا۔

ڈیولوشن Devolution کیا ہے؟

پاکستانی ڈیولوشن منصوبہ، عالمی استعمار کے گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن پروگرام کا حصہ ہے۔ لوکلائزیشن پروگرام کی حقیقت اور پاکستانی ریاست کو اس سے لاحق ہونے والے خطرات اس سلسلہ کے پہلے مضمون (ضلعی حکومتیں از علی محمد رضوی) میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں جنرل مشرف کی ڈیولوشن اسکیم کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں:
  • ریاستی اقتدار کو چار سطحوں پر تقسیم کیا جائے گا۔ وفاق، صوبہ، ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل۔
  • رائے دہندگان کی عمر ۲۱ سے ۲۸ سال کر دی جائے گی۔
  • ہر ڈسٹرکٹ اسمبلی مالی طور پر خودمختار ہو گی اور اس کے پاس آمدنی حاصل کرنے کے اختیارات ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ حکومت مالی طور پر خودکفیل بنائی جائے گی۔
  • ہر ڈسٹرکٹ اسمبلی میں دو غیر مسلم ممبر ہوں گے۔
  • ہر ڈسٹرکٹ اسمبلی اپنی علیحدہ مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے گی تاکہ عوام حکومتی عوامل میں شامل کیے جا سکیں۔
  • ڈسٹرکٹ اسمبلی کے تحت مندرجہ ذیل شعبے ہوں گے: (۱) صحت (۲) تعلیم (۳) تجارت و صنعت (۴) قانون (۵) رابطہ (۶) زراعت (۷) مالیات (۸) بجٹ اور منصوبہ بندی (۹) ماحولیات (۱۰) جمہوری اداروں کا ارتقاء جمہوریت سازی (۱۱) اطلاعات
  • ڈسٹرکٹ حکومت ایک کاروباری ادارے کی طرح کام کرے گی، اس کے حاکم آجر کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور عوام کو خریدار سمجھا جائے گا۔
  • ہر وہ شخص ڈسٹرکٹ، تحصیل اور یونین کونسل کا ممبر منتخب ہو سکے گا جو (۱) ۲۵ سال سے زائد عمر کا ہو (۲) نادہندہ نہ ہو (۳) کنگال ہو (۴) مجرم یا سزا یافتہ نہ ہو۔
جیسا کہ امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ یہ اسکیم خالصتاً غیر ملکی مشیروں اور این جی اوز کی ترجیحات کی غماز ہے۔ استعمار کی خواہش ہے کہ عوام کی توجہ مِلی اور نظریاتی مسائل سے ہٹ جائے، اور اغراض کی سیاست پورے معاشرتی اور ریاستی نظام کو اپنی گرفت میں لے لے۔ یہ معاشرہ اور ریاست کو سیکولر بنانے کا نہایت کارگر طریقہ ہے۔ اس حکومتی نظام کے نفاذ کے نتیجے میں مقامی آبادیوں کو غرض کی بنیاد پر منظم اور متحرک کیا جائے گا۔ ہر شخص اور گروہ اپنے مادی مفادات کی جستجو کو اولیت دے گا، اور پورا معاشرہ اور پورا سیاسی نظام سرمایہ دارانہ ذہنیت کو اپنا لے گا۔ حاکم آجر ہوں اور محکوم خریدار۔ ظاہر ہے کہ جہاں سیاست کو اس طریقہ سے بازاری بنا دیا جائے وہاں نظریاتی جماعتوں کا کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا اور انہیں کوئی عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی۔
انڈونیشیا، ترکی اور ہندوستان کے دو صوبوں کرناٹک اور تامل ناڈو میں اس نوعیت کے بلدیاتی، سیاسی اور انتظامی نظام کا تجربہ کیا گیا ہے۔ ہر جگہ اس کا نتیجہ یہ رہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں، مغربی بینکوں، اور عالمی سٹہ بازوں کی گرفت ان صوبوں اور شہروں پر نہایت مستحکم ہو گئی ہے:
  • جکارتہ کا پورا شہری ترسیلِ آب کا نظام ایک امریکی یہودی کمپنی کے قبضہ میں ہے۔
  • کرناٹک کی صوبائی حکومت اپنے اخراجات کا ۳۰ فیصد عالمی سٹہ بازاروں (Bond Markets) میں میونسپل بانڈ بیچ کر پورے کرتی ہے۔
  • ترکی کے دو صوبے آئی ایم ایف سے اپنے Structural Adjustment Programmes طے کر رہے ہیں جو مرکزی حکومت کی معاشی حکمتِ عملی سے اصولاً متصادم ہیں۔
اسی نوعیت کی معاشی خودمختاری موجودہ پاکستانی ڈیولوشن پروگرام میں تجویز کی گئی ہے۔ اگر یہ نافذ ہوتی ہے تو ڈسٹرکٹ اسمبلی District Assemblies کے اہل کاروں کا زیادہ وقت ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مغربی بینکوں کی خوشامد کرتے گزرے گا، کیونکہ یہی ادارے وہ وسائل فراہم کر سکتے ہیں جو بلدیاتی اداروں اور ڈسٹرکٹ میونسپل کمیٹیوں کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ اس نوعیت کی انتظامی تبدیلی کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں بتدریج وسائل کی فراہمی بھی کم کر دیں گی۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں این جی اوز کی قوت بے اندازہ طور پر بڑھ جائے گی۔
ڈیولوشن پاکستان توڑنے اور امریکہ کی غلامی قبول کرنے کا پروگرام ہے۔ اس کے نتیجہ میں وفاق کمزور ہو گا کیونکہ دینی اور نظریاتی بنیادوں پر لوگوں کو منظم اور متحرک کرنے کے مواقع معدوم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاق کے مالی مسائل بھی محدود ہوں گے اور وفاق کے اختیارات بھی کم کیے جائیں گے۔ ایک فعال اور جہادی خارجہ پالیسی کا تو ان حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کے پاس وہ وسائل ہی نہیں ہوں گے جن سے اعانتِ جہاد یا ریاست کا دفاع ممکن ہو۔ اسی کے ساتھ وہ عوامی تائید سے بھی محروم ہو جائے گی جو جہادی خارجہ پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام تو اغراض کی سیاست کے مکمل اسیر ہو چکے ہوں گے اور اپنے نمائندوں پر مسلسل یہ زور ڈال رہے ہوں گے کہ ملٹی نیشنل اداروں اور مغربی بینکوں اور ساہوکاروں سے اپنے سودے کریں جن سے بلدیاتی مسائل حل ہوں اور علاقہ میں خوشحالی آئے۔
اگر اسلامی جماعتوں نے آنے والے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تو وہ اپنا دینی تشخص کھو بیٹھیں گی۔ وہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ملکی شمولیت کا اسلامی جواز فراہم کریں گی، ان کے کارکن حقوق اور اغراض کی سیاست کے آلۂ کار بن جائیں گے۔ وہ عوام سے قربانیاں مانگنے کے قابل نہ رہیں گے۔ کیونکہ وہ تو خودغرضی، مطلب پرستی، حرص و حسد کو فروغ دینے والے بن جائیں گے۔ اسلامی کارکن دعوٰی کریں گے کہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ہم سے زیادہ اس بات کے اہل نہیں کہ عوام کے حقوق کا تحفظ کریں، اور ان جماعتوں کی بہ نسبت اسلامی جماعتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں، مغربی بینکوں اور آئی ایم ایف کے ساتھ زیادہ بہتر سودے کر سکتے ہیں۔ یہ اسلام کو نفس پرستی کا ذریعہ بنانے کا عمل ہے۔ اگر ہم نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تو ہم وہ تمام فوائد کھو دیں گے جو ہم نے ۱۹۹۷ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے حاصل کیے تھے۔ اسلامی تحریکات آج سے بیس سال پیچھے دھکیل دی جائیں گی۔

اسلامی جماعتیں کیا کر رہی ہیں؟

اس کی تفصیل یونس قادری کے مضمون غیر سیاسی دینی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں والے مضمون میں پیش کی گئی ہے۔ اجمالاً تین باتیں عرض ہیں:
(۱) وقت کی اہم ترین ضرورت اسلامی جماعتوں میں اتحاد ہے۔ یہ اتحاد ایک دو نکاتی پروگرام پر ہو۔ ایک یہ کہ فی الفور نفاذِ شریعت اور دوسرا اعانتِ جہاد۔
(۲) اس اتحاد میں اولاً جمعیت علماء پاکستان، جماعتِ اسلامی، جمعیت علماء اسلام، تحریکِ احرار اور سپاہ صحابہؓ شامل ہوں۔ کوشش کی جائے کہ ایک سال کے اندر دیگر تمام اسلامی جماعتیں بھی اس اتحاد میں شریک ہوں۔
(۳) سی ٹی بی ٹی پر کامیاب ریفرنڈم نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام کی اسلامی عصبیت کو بروئے کار لانے کے لیے قومی مہمات نہایت کارگر ہو سکتی ہیں۔ ہمیں اگلی مہم غیر ملکی قرضوں کی تنسیخ کے لیے فی الفور شروع کر دینی چاہیے۔ یہ قرضہ دسمبر ۲۰۰۰ء میں ری شیڈول ہو گا۔ ہمیں ریاست پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ قرضوں کو ری شیڈول نہ کرے بلکہ ان کو Repudate (فسخ) کر دے۔ اس طرح عالمی سرمایہ دارانہ گرفت کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔
(۴) اتحادِ اسلامی کو قیادت کی سطح تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مساجد و مدارس کو بنیاد بنا کر محلہ کی سطح پر حلال رزق کی فراہمی کی اسکیمیں شروع کی جائیں۔ یہ اسی نوعیت کی ہوں جو دارالارقم (ملائیشیا)، حزب اللہ (لبنان)، اور جماعتِ اسلامی (ہند) مختلف اسلامی خطوں میں چلا رہی ہیں۔ ان اسکیموں کی دو خصوصیات ہیں: (۱) یہ روحانی ارتقاء اور سیاسی جدوجہد سے محترم ہوتی ہیں (۲) یہ سود اور سٹہ کے بازار کا بدل پیش کرتی ہیں۔ ان کا مقصد تحریکات کے کارکنوں کو مالی طور پر خودکفیل بنانا ہے۔ جو لوگ تحریکات میں باضابطہ شامل نہیں ہیں ان کو ان اسکیموں میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاشرتی صف بندی کے کام کو روحانی تطہیر کے کام اور سیاسی جدوجہد کے کام سے مربوط کرتی ہیں، اور معاشرتی کام کو سوشل ورک بننے سے روکتی ہیں۔ اغراض کی بنیاد پر عوامی تحریک Mass Mobilization کو رد کرنے کا یہ مؤثر ذریعہ ہے۔
تحریکاتِ اسلامی کو معاشرتی سطح پر ایسے ادارے بنانے چاہئیں جو ریاستی اداروں پر بالادستی حاصل کر سکیں۔ جمہوری اداروں میں شامل ہو کر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں پورے شرح صدر کے ساتھ جمہوری اور دستوری عمل کو رد کر دینا ہے، کیونکہ جمہوریت اور دستوریت ہی انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اگر اسلامی جماعتوں نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تو وہ یقیناً ناکام ہوں گے۔ اس کی دو وجوہات ہیں:
  1. ایک یہ کہ جو لوگ اغراض کی بنیاد پر متحرک ہوتے ہیں وہ دینی قوتوں کی طرف فطرتاً توجہ نہیں کرتے، اور نہ اپنی مرضی کو اولیت کی بنا پر اسلامی جماعتوں کی طرف رجوع مند ہو سکتے ہیں۔ مشرف کی ڈیولوشن کی اسکیم میں کوئی ایسی چیز نہیں جو عام قوم پرست، جاگیردار اور سرمایہ دار افراد کو نئے نظام میں شمولیت سے روکتی ہو۔ یہی  لوگ اہلِ غرض کے فطری نمائندے ہیں اور ان ہی غرض مندوں کو بھاری تعداد میں منتخب کیا جائے گا۔
  2. دوسری وجہ یہ ہے کہ برصغیر کی اسلامی جماعتیں حضرت قطب العالم امداد اللہ مہاجر مکی قدس سرہ کے فیض کا تسلسل ہے۔ حضرت حاجی صاحبؒ ہمارے متفق علیہ شیخ الطائفہ ہیں۔ آپؒ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ برصغیر کی تمام اسلامی جماعتیں محفوظ جماعتیں ہیں۔ یہ سیکولر نظام کو مستحکم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ حضرت شیخؒ امیرِ جہاد ۱۸۵۷ء تھے، اور آپؒ نے بھی تحریک برپا فرمائی جو ۱۸۵۷ء سے ۱۹۲۰ء تک انگریز کی تمام دستوری اور جمہوری انتظامات کو رد کرتی رہی اور جہاد کو زندہ رکھنے کے لیے بیش بہا قربانیاں پیش کرتی رہی ہے۔ پاکستان کی اسلامی جماعتوں کا مستقبل بھی صرف اور صرف احیائے جہاد میں ہے۔ اگر ہم نے یہ راہ ترک کر دی تو
؎ ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور چارٹر پر ایک نظر

مولانا سخی داد خوستی

اقوامِ متحدہ کے مقاصد میں جو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں جنگ روکنا اور امن آشتی کی فضا پیدا کرنا وغیرہ، یہ خوشنما عناوین صرف لوگوں کو ورغلانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ درحقیقت بات یہ تھی کہ دوسری جنگِ عظیم میں چھ سال مسلسل بڑی طاقتیں اتحادی ممالک سمیت کرائے کے سپاہیوں اور تباہ کن اسلحہ کے ذریعے سے انسانیت کو بربادی کا پیغام دیتی رہیں، بالآخر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر قیامتِ صغرٰی برپا کر کے تصادم کو ختم کیا۔ اس کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے فاتحین نے اپنی فرعونیت کو برقرار رکھنے اور پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک تنظیم کی ضرورت محسوس کی تو اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے ’’اقوامِ متحدہ‘‘ کی تنظیم بنائی۔ اس وجہ سے انہوں نے ’’ویٹو پاور‘‘ کو اپنے لیے مخصوص کر لیا اور یومِ تاسیس سے امروز تک اقوامِ متحدہ کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا قانون ہے کہ اس کے ارکان میں پانچ بڑی طاغوتی ممالک یعنی امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین سلامتی کونسل کے مستقل ممبر ہوں گے اور انہی کو ’’ویٹو پاور‘‘ کا حق حاصل ہو گا۔ ویٹو پاور کے معنی ہیں فیصلہ کن انکار کی قوت۔ یعنی ان ممالک میں سے اگر کوئی ملک کسی قرارداد کے خلاف ووٹ دے دے تو اسے منظور نہیں کیا جا سکتا۔ یا بالفاظ دیگر ویٹو پاور کا مقصد یہ ہے کہ اگر دنیا کی تمام اقوام مل کر کسی مسئلہ پر متفق ہو جائیں لیکن ان پانچ ملکوں میں سے ایک انکار کرے تو پوری دنیا کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ گویا یہ پانچ مستقل ممبر دنیا کے کلی طور پر حکمران ہیں، سب قومیں ان کی یرغمالی ہیں۔
ویٹوپاور کا حق اکثر اسلامی ممالک کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک عالمِ اسلام کا کوئی مسئلہ اقوامِ متحدہ کے ذریعے حل نہیں ہوا ہے۔ بلکہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے سیاسی مسائل میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بھی پانچ بتوں کی عبادت کرتی تھی، افسوس کا مقام ہے کہ آج اسلامی ممالک نے بھی اقوامِ متحدہ کے پانچ غاصبوں کے ویٹو پاور کو تسلیم کر کے اللہ تعالیٰ کے سپرپاور ہونے کا عملی طور پر انکار کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان نے ۱۹۶۸ء میں ایٹم کے عدمِ پھیلاؤ کے عنوان سے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کو این پی ٹی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن ممالک نے ۱۹۶۸ء سے قبل ایٹمی قوت حاصل کی ہے صرف انہی کو ایٹمی قوت تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ صلاحیت حاصل کرنے والے ممالک کو بطور ایٹمی قوت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس معاہدے میں، نیز ویٹوپاور کو صرف پانچ بڑی قوت والے ملکوں کو دینے میں کیا حکمت ہے اور اس کے جواز کی کیا دلیل ہے؟ تو اس سوال کے جواب دینے سے پانچ بڑی طاقتوں سمیت دنیا بھر کے طواغیت قاصر ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ طاقتور ہیں اور دنیا کے معاملات میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہیں، اگرچہ ان کی بات انتہائی غلط ہو۔ حالانکہ یہ معاہدہ جنگ روکنے کے بالکل منافی ہے کیونکہ یکطرفہ قوت ہی جنگ کی دعوت دینے کا ذریعہ ہے۔ مثلاً ماضی قریب میں امریکہ نے افغانستان پر کروز میزائل پھینکے تو افغانستان کے پاس بھی اگر ایسے بحری جہاز اور اس طرح کے میزائل ہوتے تو امریکہ ہرگز ایسا نہ کرتا، تو اس جارحیت کا سبب صرف مدمقابل کی کمزوری تھا۔ اس لیے جنگ روکنے کے لیے ہر ملک کے پاس ایٹمی قوت موجود ہونا ضروری ہے تاکہ قوت کے توازن کی وجہ سے تصادم نہ آجائے، جیسے کہ جنگِ عظیم دوم کے بعد بڑی قوتوں کے آپس میں براہ راست تصادم نہ آنے کی وجہ یہی ہے کہ ہر ایک کے پاس ایٹمی ہتھیار کے انبار ہیں۔

حقوقِ انسانی چارٹر اور اسلام

اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی چارٹر اسلام کے نصوص کے صریح خلاف ہے۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں:
چارٹر دفعہ نمبر ۱: تمام انسان تکریم میں برابر ہیں۔
اسلام: قرآن مجید میں ہے: ترجمہ: ’’بے شک تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ اکرام کا مستحق وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘۔ تو معلوم ہوا کہ اسلام میں متقی اور غیر متقی تکریم میں برابر نہیں۔
چارٹر دفعہ نمبر ۴: غلامی اور غلامی کی تجارت اپنی تمام صورتوں میں ممنوع ہو گی۔
اسلام: غیر مسلم اقوام کے وہ افراد جو خالص اسلام دشمنی کی بنا پر مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں اور معرکۂ جہاد میں پکڑے جائیں تو وہ ازروئے شریعت غلام ہیں، ان کی تجارت بالکل جائز ہے۔ اور ان غلاموں سے اسلام کے بے شمار مسائل و فضائل وابستہ ہیں جو قرآن و حدیث میں مفصل بیان ہوئے ہیں۔
چارٹر دفعہ نمبر ۵: کسی شخص کو تشدد اور ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور کسی شخص کے ساتھ غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا، یا ایسی سزا نہیں دی جائے گی۔
اسلام: چور کا ہاتھ اور ڈاکو کا ایک ہاتھ ایک پاؤں کاٹنا، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا، قتلِ عمد میں قاتل کو قصاصاً قتل کرنا، شرابی اور قاذف کو شریعت کی طرف سے متعین کوڑے لگانا، اور اس قسم کے دیگر حدود جو شریعت نے مقرر کیے ہیں ان سب کا نفاذ اسلامی حکومت پر ضروری ہے۔
چارٹر دفعہ نمبر ۱۶: پوری عمر کی مردوں اور عورتوں کو نسل، قومیت یا مذہب کی کسی تحدید کے بغیر باہم شادی کرنے اور خاندان کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ شادی، دورانِ شادی اور اس کی تنسیخ کے سلسلے میں وہ مساوی حقوق رکھتے ہیں۔
اسلام: مسلمان مرد کو صرف مسلمان عورت یا کتابی عورت سے شادی کرنا، اور مسلمان عورت کو صرف مسلمان مرد سے نکاح کرنا جائز ہے بس۔ نیز تنسیخِ نکاح، جس کو شریعت کی اصطلاح میں طلاق کہا جاتا ہے، کا حق صرف مرد کو حاصل ہے، عورت کو ہرگز حاصل نہیں۔
چارٹر دفعہ نمبر ۱۸: ہر شخص کو آزادئ خیال، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کا حق حاصل ہے۔
اسلام: اتنی آزاد خیالی اور آزادئ ضمیر ممنوع ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مقدس کتابوں اور اس کے پاک فرشتوں اور اس کے معصوم انبیاءؑ اور صحابہ کرامؓ کی توہین و تنقید تک بات پہنچے۔ نعوذ باللہ منہا۔ نیز مسلمان کو اسلام چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ خدانخواستہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہو جائے اور سمجھانے پر بھی باز نہیں آتا تو فرمانِ نبویؐ کے مطابق اسے قتل کیا جائے گا۔
چارٹر دفعہ نمبر ۱۹: ہر شخص کو آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق حاصل ہے۔
اسلام: ایسی تقریر و تحریر قطعاً ممنوع ہے جس سے اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہوں اور امن و سکون غارت ہوتا ہو۔ نیز اسلامی ریاست میں غیر مسلم کو یہ اجازت نہیں کہ وہ مسلمانوں کو کفر کی دعوت دے کر مرتد بنائے۔
چارٹر دفعہ نمبر ۲۱ (۱): ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ براہِ راست یا آزادی سے منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے ملک کی حکومت میں حصہ لے۔
اسلام: اسلامی ریاست میں غیر مسلم کو کلیدی عہدہ و منصب پر فائز کرنا جائز نہیں ہے۔۔۔
چارٹر دفعہ نمبر ۲۱ (۳): عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیاد ہو گی۔ یہ مرضی وقفے وقفے سے اور ایسے صحیح انتخابات کے ذریعے ظاہر کی جائے گی جو عالمگیر اور مساوی رائے دہندگی پر مبنی ہو۔
اسلام: اسلامی ریاست کی بنیاد مغرب سے درآمد شدہ  جمہوریت پر رکھنا حرام ہے، بلکہ اس کی بنیاد امارت و شورائیت پر ہو گی جس میں عوام کالانعام کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں، اور نہ ہی اس میں کوئی متعین وقفہ ہے، بلکہ امیر کا انتخاب غیر  متعین وقت کے لیے صائبِ رائے افراد کریں گے۔
چارٹر دفعہ نمبر ۲۵ (۲): ماں اور بچے کو خصوصی توجہ اور مدد کا حق حاصل ہے، تمام بچے خواہ شادی کے نتیجے میں پیدا ہوں یا بغیر شادی کے پیدا ہوں، یکساں سماجی تحفظ سے بہرہ ور ہونے کا حق رکھتے ہیں۔
اسلام: کسی عورت کو بغیر شادی کے بچے پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر کوئی عورت ایسا کرتی ہے تو اسے اسلامی حدود کے تحت سزا ملے گی، ایسی بدکار عورت کو اسلام کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتا۔
چارٹر دفعہ نمبر ۲۷ (۱): ہر شخص کو آزادانہ طور پر معاشرے کی ثقافتی زندگی میں حصہ لینے، فنونِ لطیفہ (مصوری، رقاصی، موسیقی، سے حظ اٹھانے ۔۔۔۔) کا حق حاصل ہے۔
اسلام: اسلام میں مصوری، رقاصی اور موسیقی حرام ہونے کی وجہ سے ان سے حظ اٹھانے کا کوئی حق کسی کو حاصل نہیں، بلکہ یہ افعال قطعی ممنوع ہیں، کرنے والے تعزیر کے مستحق ہوں گے۔

عالمی منظر نامہ

ادارہ

مسلم ممالک  کا تجارتی بلاک قائم کیا جائے

کوالالمپور (اے ایف پی) اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل عز الدین لاراکی نے کہا ہے کہ اسلامی کانفرنس کے رکن ممالک کو محض مشترکہ مذہب پر اکتفا کرنے سے آگے بڑھنا چاہیے، جو وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلمان ممالک کا تجارتی بلاک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے کچھ مشترکہ مفادات بھی ہونے چاہئیں۔ ان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون سے اتحاد بھی بڑھے گا۔
انہوں نے اسلامی ممالک کو خبردار کیا کہ غالب نوعیت کے عالمی اقتصادی بلاکوں کا قیام اسلامی ملکوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پسند کریں نہ کریں ہمیں مسلم بلاک کے تصور پر قائم رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور تجارتی تعاون سے فوائد کا حصول اسلامی کانفرنس تنظیم کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگرچہ اسلامی کانفرنس تنظیم کمزور ہے مگر اتحاد میں بہرحال ایک قوت پائی جاتی ہے اور مسلمان ممالک کو بہرحال تعاون اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے اسلامی مشترکہ منڈی کے قیام کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ 
بتایا گیا ہے کہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جمعہ کے روز جس قرارداد کے مسودے پر غور کیا اس میں اسلامی مشترکہ منڈی کے قیام کے لیے مسلمان ملکوں میں اقتصادی روابط پر زور دیا گیا ہے۔ مسودہ قرارداد پر معیشت کی عالمگیریت کے منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنانے پر بھی زور دیا گیا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اس کے فوائد تمام ممبر ملکوں کے لیے یکساں طور پر پہنچنے چاہئیں۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ یکم جولائی ۲۰۰۰ء)

فلپائنی حریت پسندوں کا مطالبہ

منیلا (اے ایف پی) فلپائن میں متحرک مسلمان تنظیم ’’ابو سیاف‘‘ نے دو استانیوں کی رہائی کے بدلے صوبہ سولو کے مقامی سکولوں میں غیر اسلامی اقدار ختم کرنے اور زیادہ سے زیادہ مسلمان اساتذہ بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابو سیاف کے ایک سینئر رہنما دولان ساہیرون نے سکول سپروائزروں سے کہا ہے کہ تمام  مسلمان طالبات کو نقاب پہنایا جائے۔ جبکہ کرسمس پارٹیاں اور ہائی سکول میں ڈانس کی کلاسوں کو ختم کیا جائے۔ سرکاری فوج کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان مطالبات پر فوری عملدرآمد کے لیے کہا ہے کہ ابو سیاف نے مارچ میں باسیلان کے ۲ سکولوں سے ۵۰ افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں دو استانیاں بھی شامل ہیں۔ جن میں سے اب تک ۱۵ طلبہ کو فوج رہا کرا چکی ہے جبکہ ۶ فوجی آپریشن کے دوران قتل کر دیے گئے تھے۔
(روزنامہ نوائے وقت ۔ ۲۷ جون ۲۰۰۰ء)

بابری مسجد شہید کرانے والا مسلمان ہو گیا

کراچی (پ ر) بابری مسجد کو شہید کرنے والے ہزاروں انتہاپسند اور جنونی ہندووں کے لشکر کی قیادت کرنے والے بجرنگ دل کے کمانڈر انچیف شیوپرساد نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس کا اسلامی نام محمد مصطفٰی رکھا گیا ہے۔ پاسبانِ امارات کے آرگنائزر ارسلان ہاشمی کو نو مسلم محمد مصطفٰی نے بتایا کہ بابری مسجد کو شہید کرنے کی کاروائی کے دوران جو لوگ سب سے پہلے مسجد کے گنبد پر چڑھے وہ ’’شیوسینا‘‘ کے کارکن تھے اور شیوپرساد نے ان کے دلوں میں مسجد کو تباہ کرنے کے لیے  جنون کی حد تک آگ لگا دی تھی۔ جب بابری مسجد کا مینار گرنے لگا تو شیوسینا کا کہنا ہے کہ ہم نے جئے رام کے زوردار نعرے لگائے اور بھجن گائے اور میں تو خوشی سے پاگل ہو گیا۔
شیوپرساد نے ارسلان ہاشمی کو بتایا کہ اب تو اس واقعہ کو سات برس سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اور میں الحمد للہ مسلمان ہو گیا ہوں، لیکن جیسے ہی مینار گرا اور جو خوشی اور مسرت حاصل ہوئی وہ چند دنوں بعد ہی کافور ہو گئی۔ میرے رگ و پے میں ایک انجانے خوف کی لہر دوڑنے لگی، میں ایک عجیب و غریب پریشانی کا شکار ہو گیا، میرا ضمیر مجھے ملامت کرنے لگا، میں ذہنی خلفشار میں  مبتلا رہنے لگا، اور جلد ہی مجھے اس احساس نے آن دبوچا کہ میں نے شاید کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہے اس کی تلافی اب ممکن نہیں، شاید میں دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کا دل دکھانے والی کاروائی کا سبب بنا ہوں، اب اگر میں کتنے ہی جنم لوں، کتنے ہی اشنان کر لوں، میرا وجود اس گناہ سے اتنا بدبودار ہو گیا ہے کہ اب پاک ہونا میرے لیے ممکن ہیں۔ میں نے فیصلہ کر لیا  کہ میں ہندوستان میں نہیں رہوں گا، شاید یہاں سے دور ہو کر مجھے کھویا ہوا سکون مل جائے۔ بالآخر میں شارجہ پہنچ گیا۔ یہاں مجھے نوکری مل گئی لیکن میری بے چینی بڑھتی گئی۔ بالآخر میں نے سوچ سمجھ کر ایک فیصلہ کیا اور پھر میرے قدم کچھ روز قبل مسجد کی جانب اٹھ گئے اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس فیصلے سے میرا وجود ہلکا ہو گیا اور گناہوں کا بھاری بوجھ میرے سر سے اتر گیا ہے۔
نو مسلم محمد مصطفٰی نے بتایا کہ ماضی میں میرے طرزِ عمل سے اور میری کاروائیوں سے مسلمانوں کو جو دکھ، رنج اور صدمہ پہنچا ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جو دل آزاری ہوئی ہے، میں اس پر شرمندہ ہوں، نادم ہوں، اور اللہ رب العزت اور مسلمانوں سے معافی اور رحمت کا طلبگار ہوں۔ میں اپنے سابقہ مذہب کے تمام پیروکاروں اور ہندو دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں سے تعصب چھوڑ دیں۔ میں پاسبان کی دعوت پر بہت جلد پاکستان آنا چاہتا ہوں۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳ جولائی ۲۰۰۰ء)

ادارہ علومِ اسلامی اسلام آباد کا اعزاز

اسلام آباد (اوصاف رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے بھارہ کہو ٹول پلازہ مری روڈ پر واقع دینی  مدرسے ادارہ علومِ اسلامی کے دو طلبہ نے فیڈرل بورڈ کے حالیہ امتحان برائے میٹرک میں دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کر کے اس تاثر کی نفی کر دی کہ دینی مدارس میں فرقہ واریت یا دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ادارے کے دو طلبہ حافظ جنید خان اور حافظ محمد اعظم نے فیڈرل بورڈ میں پوزیشن حاصل کی، جبکہ مجموعی طور پر ادارہ علومِ اسلامی کا نتیجہ سو فیصد رہا۔
گزشتہ روز ادارہ علومِ اسلامی میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں روزنامہ اوصاف کے ایڈیٹر حامد میر مہمانِ خصوصی تھے، انہوں نے ادارے کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور طلبہ کو بیک وقت دینی علوم اور عصری علوم کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے حافظ جنید خان اور حافظ محمد اعظم سے ملاقات کی اور ادارے میں لیے جانے والے امتحانات کے دوران ان کے انگریزی کے پرچے چیک کیے۔ دونوں طلبہ کی انگریزی کئی پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں کے طلبہ سے بہتر تھی۔
بعد ازاں ایک خصوصی تقریب ہوئی جس میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبہ کو دینی علوم کے ساتھ انگریزی زبان بولنے، پڑھنے اور لکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمِ اسلام کے خلاف اکثر سازشیں انگریزی میں ہوتی ہیں، لہٰذا ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی اور دیگر مغربی زبانوں پر عبور رکھنے والے علماء اسلام کا پیغام یورپ و امریکہ میں بڑی آسانی سے پھیلا سکتے ہیں۔
حامد میر نے کہا کہ اسلام کو جہاد کے بغیر غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں بندوق کے ساتھ ساتھ قلم اور زبان سے بھی جہاد کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ جہاد ظلم کے خلاف مزاحمت کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہادی کردار کے ساتھ ساتھ سوچ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے طلبہ فرقہ واریت سے دور رہیں تو وہ معاشرے کے لیے اعلیٰ کردار کا نمونہ بن سکتے ہیں۔
تقریب سے ادارے کے سربراہ مولانا فیض الرحمان عثمانی نے بھی خطاب کیا جبکہ مولانا شریف ہزاوی نے دعا کروائی۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۲ جولائی ۲۰۰۰ء)

آزاد فلسطینی ریاست کا اعلان

نابلوس (کے پی آئی) فلسطین کے صدر یاسر عرفات نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان چند ہفتوں میں کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو بیت المقدس، غزہ، اور مغربی کنارے کا علاقہ خالی کرنے پر مجبور کرے۔
یہاں فلسطینیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یاسر عرفات نے کہا ہے کہ فلسطینی مملکت کے قیام کا اعلان آئندہ چند ہفتوں میں کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہفتے ہمارے لیے بڑے اہم ہیں۔ اگر فریقین کسی سمجھوتے پر نہ بھی پہنچے تو فلسطینی مملکت کے قیام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیلی مشرقی بیت المقدس اور غزہ سمیت مغربی کنارے کا علاقہ اس طرح خالی کر دے جس طرح اس نے صحرائے سینا کا علاقہ خالی کیا ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۲۷ جون ۲۰۰۰ء)

انڈونیشیا میں مسلم مسیحی فسادات

جکارتہ (آن لائن) انڈونیشیا عیسائی مسلم فسادات کا خونی سلسلہ جاری ہے اور دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ۹ افراد ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق تازہ جھڑپوں کا مرکز ملاکو جزائر کا مرکزی شہر ایمبوں ہے جہاں عیسائیوں نے مسلم آبادی پر حملہ کر کے ۹ مسلم باشندوں کو ہلاک کر دیا۔ عینی شاہدین اور علاقے کے رہائشیوں کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ شہر میں ایک چرچ کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔ ایک نواحی علاقے تالک میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے کئی مکان جلا ڈالے۔
ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈونیشیائی فوج نے بھی ملاکو جزائر میں مارشل لاء کے نفاذ کے مطالبے کی حمایت کر دی ہے کیونکہ امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے تاہم صدر عبد الرحمان واحد مارشل لاء کے نفاذ کی مخالفت کر رہے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۷ جون ۲۰۰۰ء)

بھارتی مسلمانوں پر تشدد

نئی دہلی (این این آئی) جمعیت العلماء ہند نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کو پُرتشدد حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جمعیت کے صدر مولانا سید اسعد مدنی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ راجھستان، مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کا قافیۂ حیات تنگ کرنے کے لیے عبادت گاہوں پر حکومتی کنٹرول کے متنازعہ قانون سے مسلمانوں میں اشتعال پایا جاتا ہے اور ان میں اپنے حقوق کے تحفظ کا احساس اجاگر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دشمنی پر مبنی رویے کی وجہ سے ہی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دیتے ہوئے انہیں ملک سے نکالنے کی کاروائیاں جاری ہیں۔

جمعیت العلماء ہند کے صدر نے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں پر انتہاپسند ہندو تنظیموں کے حملوں اور دوسری تخریبی سرگرمیوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ کیونکہ واجپائی حکومت اقلیتوں پر ہونے والے پُرتشدد حملوں کی غیرجانبدارانہ تحقیق و تفتیش کرائے تو بھارت میں فرقہ وارانہ حالات خراب کرنے کے مرتکب عناصر بے نقاب کیے جا سکتے ہیں۔

سید اسعد مدنی نے اعلان کیا کہ یکم جولائی کو جمعیت مجلسِ عاملہ کے اہم اجلاس میں مسلمانوں کے خلاف حملوں اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کے امتیازی قوانین پر غور کرتے ہوئے آئندہ حکمتِ عملی ترتیب دی جائے گی۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ یکم جون ۲۰۰۰ء)

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

اسلام آباد (کے پی آئی) اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ ملک بھر میں ایسے علاقوں، شہروں اور قصبوں کو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ترجیح دی جائے جہاں کی آبادی کی اکثریت نماز کی پابندی کرتی ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتوں اور ترقی کے لیے نماز کی پابندی کرنے والے ملازمین کو ترجیح دی جائے۔ اور اگر کوئی سرکاری ملازم نماز کی پابندی نہ کرے، اسے وارننگ دینے، جرمانہ کرنے، اور پھر بھی نماز کی پابندی نہ کرنے پر اسے ملازمت سے برطرف کر دینے کا قانون بنایا جائے۔

یہ سفارشات نظریاتی کونسل کی تیار کردہ حتمی رپورٹ میں کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں سرکاری دفاتر میں سادگی اپنانے سے متعلق سفارشات کی گئی ہیں کہ بیوروکریسی کے افسروں کے دفاتر میں غیر ضروری فرنیچر اور آرائش نہ کی جائے، اور انہیں بڑی بڑی محل نما کوٹھیوں کی بجائے چھ چھ سو گز کے مکانات میں رہائش فراہم کی جائے۔ 

رپورٹ میں سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کی کم از کم اجرت ایک تولے سونے کی قیمت کے مساوی مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ملک میں علم و تحقیق اور معاشرے کی فکری راہنمائی کرنے والے اسکالر اور دیگر افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں گولڈ میڈل، اور ملک میں صوبائی عصبیت، مذہبی منافرت ختم کرنے والے افراد کو ستارہ امتیاز اور وی آئی پی ایوارڈ دیا جائے۔

حتمی رپورٹ میں بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں کمرشل، پریس اتاشی کے ساتھ ساتھ اسلامی امور کے وزیر کی بھی آسامیاں پیدا کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور اس پر عالمِ دین کی تقرری کی جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت مغربی معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو نظر میں رکھ کر ملک میں ایسے اقدامات کرے کہ ملک میں مغربیت اور مادیت کے خلاف منظم مہم کے نتیجہ میں معاشرہ ایسے نظریات سے دور رہے۔ اس بارے میں قانون سازی کی سفارش کی گئی ہے۔

کونسل کی حتمی رپورٹ میں معاشرے میں منشیات اور چرس اور سگریٹ نوشی کے رجحان پر قابو پانے کے لیے بھی قانون سازی کرنے کے لیے سفارش کی گئی ہے۔ منشیات بنانے والی فیکٹریاں چلانے والوں کی جائیداد ضبط کی جائے، وہاں کام کرنے والے کاریگروں کو قید، جرمانے اور کوڑوں کی سزا دینے کے لیے قانون بنایا جائے۔ ۲۵ سال سے کم عمر کے تعلیمی اداروں میں کنٹین پر سگریٹ فروخت کرنے والے ٹھیکیداروں کے ٹھیکے منسوخ کر کے زر ضمانت اور اثاثوں کو ضبط کر لیا جائے۔ علاوہ ازیں دفاتر اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ جون ۲۰۰۰ء)

شمال آئرلینڈ کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی

ڈبلن (آن لائن) شمالی آئرلینڈ میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں کے درمیان ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ کشیدگی برطانیہ کے حامی پروٹسٹنٹ کی طرف سے مارچ کے فیصلے کے بعد پیدا ہوئی کیونکہ مارچ کے شرکاء کیتھولک آبادی والے علاقے سے گزرنا چاہتے تھے۔ دونوں گروپوں میں کئی جگہوں پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، حکومت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقے میں پولیس تعینات کر دی ہے۔ گزشتہ سالوں میں اس علاقے میں کئی مرتبہ شدید جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۴ جولائی ۲۰۰۰ء)

انڈونیشیا میں امریکی سفارتخانے کے سامنے مسلمان   طالبات کا احتجاجی مظاہرہ

جکارتہ (این این آئی) انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں مسلمان طالبات نے امریکی سفارتخانے کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک پردہ نشین لڑکیوں نے انڈونیشیا میں ہونے والے مسلم عیسائی فسادات میں امریکہ کے منفی کردار کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ اور صدر کلنٹن  کے خلاف نعرے لگائے اور امریکہ سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ طالبات نے ہاتھوں میں امریکہ مخالف نعروں والے بینر اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر امریکی سفارت خانے کے گرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۲ جولائی ۲۰۰۰ء)

امریکی ریاست ورمونٹ نے ہم جنس پرست جوڑوں کو عام شادی شدگان جیسے حقوق دے دیے

نیویارک (اے ایف پی) امریکہ کی ریاست ورمونٹ کی انتظامیہ نے ایک قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت ہم جنس پرست جوڑوں کو وہی سہولتیں دی جائیں گی جو عام شادی شدہ جوڑوں کو دی گئی ہیں۔ نئے قانون کی رو سے ہم جنس پرست کو شادی شدگان جیسے حقوق اور فوائد حاصل ہوں گے۔ نئے متنازعہ بل کے مخالفین ریاستی اسمبلی میں بحث کے دوران بل کی منظوری روکنے میں ناکام رہے۔ ہم جنس پرستوں کو یونین بنانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۲ جولائی ۲۰۰۰ء)

تیسری عالمی جنگ پانی کے مسئلے پر ہو گی

لاہور (مانیٹرنگ سیل) تیسری عالمی جنگ پانی کے مسئلے پر ہو گی۔ اس وقت دنیا میں ایک سے زائد لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ نصف آبادی کو نکاسِ آب کی سہولتیں میسر نہیں۔ اگلے ۲۵ برسوں میں دنیا کے ایک تہائی افراد ۲ ارب ۷۹ کروڑ کو ضرورت کے مطابق پانی میسر نہیں ہو گا۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آئندہ دس برسوں سے پانی کی کمی کے باعث مختلف غذائی اجناس میں ایک کروڑ ۱۰ لاکھ ٹن کی کمی ہو گی، جو ۲۰۲۰ء تک بڑھ کر ؟؟ کروڑ ٹن ہو جائے گی۔ ۲۰۲۵ء میں آبادی ۲۰ کروڑ ۸۰ لاکھ ہو چکی ہو گی لہٰذا غذائی قلت کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ آبادی میں اضافے کے باعث مزید ۴۶ فیصد پانی کی ضرورت پڑے گی۔ اس وقت پاکستان کی آبپاشی کے لیے ۱۰۶ ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوتا ہے۔ یہ ضرورت ۲۰۲۵ء میں بڑھ کر ۱۵۷ ملین ایکڑ فٹ ہو جائے گی جو کل دریائی پانی سے ۱۰ فیصد زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں زیر زمین آبی ذخائر کم ہوتے ہوتے ختم ہو جائیں گے۔

بی بی سی کے مطابق پانی کے مسئلے پر کئی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔ کئی ممالک ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے مسئلے پر ہو گی۔

دینی مدارس سروے فارم ہرگز پُر نہ کریں

راولپنڈی (این این آئی) تحفظِ مدارسِ دینیہ کی مرکزی رابطہ کمیٹی نے دینی مدارس کے حوالے سے حکومتی اعلانات کو متضاد اور پالیسیوں کو انتہائی غیر تسلی بخش اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے دینی مدارس کا سربراہ اجلاس تیرہ جولائی کو طلب کر لیا ہے جس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اور دینی مدارس سے کوائف حاصل کرنے کے لیے فارم تقسیم کرنے کے اقدام کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے دینی مدارس کو یہ فارم ہرگز پُر نہ کرنے اور اس ضمن میں مرکزی رابطہ کمیٹی سے مسلسل رابطے رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ رابطہ کمیٹی نے اس موضوع پر رابطہ مہم شروع کرنے اور اہم شہروں میں کنونشن منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس پروگرام کی منظوری سربراہ اجلاس میں دی جائے گی۔

تحفظِ مدارسِ دینیہ کی مرکزی رابطہ کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ دینی مدارس کے آزادانہ نظام اور تعلیمی پروگرام میں کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اگر حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی پروگرام زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کی پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کی جائے گی۔

مرکزی رابطہ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر میں درالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم مولانا سمیع الحق کی دعوت پر منعقد ہوا جس کی صدارت جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد نے کی۔ اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ، مولانا زرولی خان کراچی، مولانا ارشد عبید لاہور، مولانا سعید یوسف خان آزاد کشمیر، مولانا قاری سعید الرحمان راولپنڈی، مولانا شیر علی شاہ اکوڑہ خٹک، مولانا انوار الحق اکوڑہ خٹک، قاضی عبد اللطیف کراچی، مولانا سید یوسف شاہ، مولانا مفتاح اللہ کراچی، اور دیگر جید علماء نے شرکت کی۔ سربراہی اجلاس کی جگہ کے تعین اور رہنماؤں سے رابطہ کا اختیار مولانا سمیع الحق کو دے دیا گیا ہے۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ جولائی ۲۰۰۰ء)


تعارف و تبصرہ

ادارہ

تقصیراتِ تفہیم

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے افکار و نظریات کے بارے میں علماء اہل سنت کو شروع سے یہ اعتراض رہا ہے کہ انہوں نے متعدد اسلامی عقائد و احکام کی تشریح و تعبیر میں اہل سنت کے مسلّمہ اصول و ضوابط کو ملحوظ نہیں رکھا اور آزادانہ روش اختیار کی ہے۔ اس حوالے سے ان کے مختلف افکار و نظریات پر سرکردہ علماء کرام نے نقد و جرح کی ہے اور اس سلسلہ میں اچھا خاصا لٹریچر موجود ہے۔ مولانا مودودی کی دیگر کتب و رسائل کی طرح ان کی تفسیرِ قرآنِ کریم ’’تفہیم القرآن‘‘ کے بہت سے مقامات پر بھی اہلِ علم نے گرفت کی ہے اور ان کی تعبیرات و تشریحات کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ بھارت کے بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان بجنوریؒ نے اسی پس منظر میں ’’تفہیم القرآن‘‘ کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کے قابلِ اعتراض مقامات پر ایک تبصرہ تحریر فرمایا تھا جو مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ انڈیا سے شائع ہوا اور اب اسے زمزم پبلشرز اردو بازار کراچی نے شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ دو سو ستر صفحات پر مشتمل یہ کتاب معیاری کتابت و طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ پیش کی گئی اور اس کی قیمت ایک سو روپے ہے۔

تحقیقات و تاثرات

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی ملک کے معروف صاحبِ قلم اور محقق و مؤرخ دانشور ہیں، تاریخ ان کا خاص موضوع ہے۔ تاریخی واقعات کے بارے میں پائی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا تحقیقی جائزہ لیتے رہتے ہیں، اور ان کے تنقیدی مضامین ملک کے علمی حلقوں میں اہمیت کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ ان کے اسی نوعیت کے چالیس سے زائد مضامین کا مجموعہ مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ ادارہ علم و فن ۱۰۸۔۱۸ الفلاح، ملیرہالٹ، کراچی ۷۵۲۱۰ نے شائع کیا ہے۔ جس میں تاریخ و سیاست، شخصیات و سوانح، دینی افکار اور دیگر حوالوں سے مختلف تاریخی واقعات و مسائل کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا انداز تحقیقی اور زبان شستہ ہے اور ان کے یہ مضامین بلاشبہ اہلِ علم کے مطالعہ اور استفادہ کے لیے قابلِ قدر تحفہ ہیں۔ صفحات ۵۴۴، کتابت و طباعت معیاری، خوبصورت ٹائٹل، مضبوط قیمت ۲۵۰ روپے۔
۔۔۔

قرآن مجید ایک عظیم نعمت

مبین ٹرسٹ پوسٹ بکس ۴۷۰ اسلام آباد کی طرف سے مختلف دینی موضوعات پر معلوماتی کتابچے خوبصورت انداز میں عمدہ کاغذ پر معیاری طباعت و کتابت کے ساتھ شائع کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور زیر نظر رسالہ قرآن کریم کی عظمت اور اس کی برکات کے بارے میں چالیس منتخب احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام پرمشتمل ہے جن کے ساتھ دیگر مفید معلومات بھی شامل ہیں۔ آرٹ پیپر پر شائع ہونے والے پچاس سے زائد صفحات کے اس رسالہ کا ہدیہ صدقہ جاریہ کے طور پر صرف پندرہ روپے رکھا گیا ہے۔

صبح صادق و شفق کی تحقیق

برطانیہ میں ایک عرصہ سے علماء کرام میں یہ علمی بحث جاری ہے کہ وہاں سال کے جن مہینوں میں غروبِ آفتاب کے بعد شفق خاصی دیر سے غائب ہوتی ہے یا سرے سے غائب ہی نہیں ہوتی، ان مہینوں میں نمازِ عشا، نمازِ فجر اور سحری وغیرہ کے اوقات کے تعین کے لیے کیا صورت اختیار کی جائے؟ اس سلسلہ میں معروف محقق عالمِ دین حضرت مولانا محمد یعقوب قاسمی زید مجدہم آف ڈیوزبری نے شرعی دلائل اور ممتاز مفتیان کرام کے فتاوٰی کی روشنی میں اس مسئلہ کا تحقیقی جائزہ لیا ہے اور آفتاب کے طلوع و غروب کے حوالے سے مختلف ممالک کی واقعاتی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے متعلقہ مسائل کا شرعی حل پیش کیا ہے۔
مصنف کی کاوش قابلِ دید ہے اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے علماء و طلباء کے لیے یہ کتاب گراں قدر افادیت کی حامل ہے۔ صفحات ۳۲۴، کتابت و طباعت معیاری، مضبوط جلد، قیمت درج نہیں۔ ملنے کا پتہ: مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ
34 Warren Street Savile Town Dewsbury WF129LX (U.K.)