الشریعہ اکادمی کے تعلیمی منصوبہ جات کے لیے مجوزہ نصاب
ادارہ
الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ کے مجوزہ تعلیمی پروگرام کے حوالہ سے تین کلاسوں یعنی (۱) حفظ قرآن کریم مع میٹرک (۲) شہادۃ العالیہ مع گریجویشن اور (۳) فضلاء درس نظامی خصوصی کورس کے لیے تجویز کردہ نصاب کا خاکہ ملک کی اہم علمی شخصیات کی خدمت میں ارسال کیا گیا ہے جو ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔ قارئین اس کے بارے میں اپنی رائے، تجویز یا تجربہ سے ہمیں آگاہ کرنا چاہیں تو شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا جائے گا اور تمام موصولہ آراء و تجاویز کو سامنے رکھ کر تعلیمی پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ (رئیس التحریر)
(کمپوزنگ جاری)
مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
قرآن پاک کی سورہ ۳۳ (الاحزاب) میں ایک آیت آتی ہے۔ اس سورہ میں غزوہ احزاب (جو غزوہ خندق کے نام سے مشہور ہے) کے ان سخت حالات کا ذکر ہے جن کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والے مسلمانوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے بڑی تعریف و ستائش پائی ہے۔ اس تعریف کے مضمون کی یہ آیت ہے:
ترجمہ: ’’ان اہلِ ایمان میں کتنے ہی وہ مردانِ جانباز ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا اس عہد کو جو اللہ سے انہوں نے باندھا تھا۔ پس کوئی ان میں پورا کر چکا ہے اپنا ذمہ اور کوئی ان میں راہ دیکھ رہا ہے اور بدلہ نہیں ہے انہوں نے ایک ذرہ بھر بھی‘‘۔ (آیت ۲۳)
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، جو گزرنے والے سال ۱۹۹۹ء کی آخری تاریخ ۳۱ دسمبر بمطابق ۲۳ رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ کو ہماری اس دنیا سے کنارہ فرما گئے، انہی مردانِ باخدا کی روایت کے امینوں میں سے ایک تھے۔ اور جس وقت اور جس تاریخ میں یہ سانحہ پیش آیا اس وقت نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں بلکہ بلامبالغہ پورے عالمِ اسلام میں وہ اپنے ممتاز مرتبے کی تنہا شخصیت رہ گئے تھے۔ اللہ انہیں اپنی بے پایان رحمتوں سے نہال اور مالامال فرمائے اور ان کے اٹھ جانے سے پیدا ہونے والے خلا کے پر ہونے کی کوئی طُرح اپنی قدرتِ کاملہ سے ڈال دے۔
یوں تو عالمِ اسلام کا کوئی قابلِ ذکر حصہ مشکل ہی سے ایسا ہو گا جہاں کے دینی رجحان رکھنے والے پڑھے لکھے مسلمانوں میں مولانا کی وفات کو ملت کا ایک بڑا نقصان نہ سمجھا جائے، مگر اس کا سب سے زیادہ خسارہ قدرتی طور پر انہیں لوگوں کے حصے میں آنے کا خطرہ ہے جن کے لیے مولانا کی ذات سب سے زیادہ فائدے کا باعث رہی تھی، یعنی مولانا کے ہم وطن مسلمانانِ ہند۔ راقمِ سطور کا تعلق بھی نہ صرف اسی سرزمینِ ہند سے ہے بلکہ ۱۹۴۸ء سے ۱۹۷۶ء تک، جس کے بعد آب و دانہ انگلستان لے آیا، مولانا نے اتنے قریب ہو کر رہنے کا موقع دیا ہے کہ جس سے زیادہ موقع ان کے اہل خانہ اور قریبی اعزہ و اقارب کے علاوہ کم ہی لوگوں کو رہا ہو گا۔ اس بنا پر اسے یہ جاننے کا بھی پورا موقع رہا کہ مولانا کی ذات میں مسلمانانِ ہند کے لیے فائدوں کی کیا نوعیت تھی؟ اور ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کا یہ حصہ دین اور دنیا دونوں کے اعتبار سے جس آزمائش میں چلا آ رہا ہے، اس آزمائش اور ابتلاء کے طویل دور میں مولانا کا کیا کردار اس ملتِ ہندیہ کی خدمت کے سلسلے میں رہا؟ صرف اس پہلو سے مولانا کی زندگی کا کچھ تذکرہ بھی یہ دکھانے کو ان شاء اللہ کافی ہو گا کہ مولانا انہی مردانِ باخدا کی مقدس روایات کے امین تھے جن کا ذکر مذکورہ بالا آیتِ قرآنی میں کیا گیا ہے۔
ہندوستان کی تقسیم ابھی ہوئی نہیں تھی، صرف ۳ جون ۱۹۴۷ء والی قرارداد ہی ہوئی تھی، یا اس سے بھی کچھ پہلے، جبکہ کانگریس اور مسلم لیگ میں سمجھوتے کے تمام امکانات تباہ ہو چکے تھے اور بجز تقسیم کے ملک کا کوئی اور مقدر خارج از امکان بن گیا تھا، پنجاب کے جوہرآباد ضلع خوشاب سے ایک پُرزور اور انتہائی مخلصانہ دعوت آئی کہ اب جبکہ ملک تقسیم ہونے جا رہا ہے، آپ اِدھر کو ہجرت کا ارادہ فرما لیں، ہر طرح کے انتظامات آپ کے لیے کر لیے گئے ہیں، آپ کی یہاں ضرورت ہے۔ یہ دعوت دینے والے وہ مرحوم چوہدری نیاز علی خان تھے جنہوں نے پٹھان کوٹ کے قریب اپنی ستر ایکڑ زمین وقف کر کے اس پر وہ عمارتیں مع ایک خوبصورت مسجد کے بنائی تھیں جو دارالاسلام کے نام سے موسوم ہوئیں اور ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۷ء تک جماعتِ اسلامی ہند کے مرکز کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔ تقسیم سے پہلے چوہدری صاحب کا مسکن اس دارالاسلام کے قریب ہی جلال پور نامی گاؤں تھا جہاں پر چوہدری صاحب کا وسیع و عریض فروٹ فارم ہوتا تھا۔
چوہدری نیاز علی خان صاحب کی اس دعوت کے مخاطب مولانا تنہا نہ تھے بلکہ راقم سطور کے والد مرحوم مولانا محمد منظور نعمانی (وفات ۱۹۹۷ء) جن کے ساتھ مولانا کا رشتہ ایک جان دو قالب کا بنتا جا رہا تھا، وہ بھی اس میں شریک بلکہ چوہدری صاحب کی طرف سے ذریعۂ دعوت بھی وہی تھے، اس لیے کہ چوہدری صاحب کو زیادہ واقفیت میرے والد ماجد ہی سے تھی۔ بہرحال اس پُرخلوص دعوت کا جواب، جس پر چوہدری صاحب کی آزمودہ شخصیت کے حوالے سے پورا اعتماد کیا جا سکتا تھا، یہ دیا گیا کہ ہمیں ہندوستانی حصے میں رہ جانے والے مسلمانوں کے ساتھ ہی رہنا اور جینا مرنا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ضرورت یہاں زیادہ ہے۔
یہاں تذکرہ صرف مولانا علی میاںؒ کا مقصود ہے اس لیے اب میں صرف انہی کے حوالے سے عرض کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی خدمت کے لیے اور ان کے دکھ سکھ میں شریک رہنے کا جو عہد ۱۹۴۷ء میں باندھا تھا اسے پوری ثابت قدمی اور دلجمعی کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری سانس تک نبھایا۔
؎ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
تقسیم کے بعد والے ہندوستانی مسلمانوں کو دو طرح کے مسائل کا سامنا تھا:
- ایک ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ۔
- دوسرے ان کے دین کی سلامتی جس کو اس وقت سے خطرہ لاحق ہو چکا تھا جب شدھی سنگھٹن وغیرہ کی تحریکیں کوئی ۲۵ سال پہلے برہمنیت کے خطرناک عزائم کو آشکارا کر گئی تھیں۔
ان دونوں میں سے پہلی قسم کے مسائل میں مسلمانوں کی خدمت گزاری کے لیے جمعیت علماء ہند کی لیڈرشپ اور وہ دوسرے نیشنلسٹ مسلمان بہتر پوزیشن میں تھے جنہوں نے تقسیمِ ہند کے خلاف کانگریس کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی تھی، اور حق ہے کہ ان حضرات نے اس معاملے میں کوئی کسر اٹھائے نہیں رکھی۔ وہ بلاکسی تفریق کے ہر کلمہ گو کی مدد کو ہر طرف دوڑے، حتٰی کہ جمعیت علماء ہند کے دیوبندی علماء نے تعزیے اٹھوانے اور عرس کروانے تک میں ان مسلمانوں کے حق میں لڑائی لڑی جو ان باتوں کے قائل تھے۔ مولانا علی میاں صاحب (اور ان کے رفیق خاص میرے والد ماجد) اس زمرے میں نہیں آتے تھے۔ یہ عملاً سیاست کے بجائے مسلمانوں کی دینی خدمت کا زیادہ ذوق رکھتے تھے اور پہلے سے اسی لائن پر کام کرتے آ رہے تھے۔ مولانا نے خاص طور سے ہندوستانی مسلمانوں کی جس دینی خدمت کو اپنی تقریری اور تحریری جدوجہد کا مرکزی نقطہ بنایا وہ ان کے توحیدی مزاج کی حفاظت تھی۔
مولانا خاندانی طور پر حضرت سید احمد شہیدؒ کے وارث تو تھے ہی، اس پر مزید (خود ان کے بیان کے مطابق) ان کے دینی ذوق و مزاج کی تعمیر و تربیت میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کے مکتوبات کو بہت خاص دخل تھا جس میں اکبر کے دینِ الٰہی کا توڑ کرنے کے لیے ایک فقیرِ بے نوا کی بے چینیاں ایک عالم کو بے چین کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نئے ہندوستان میں یہی فتنہ نئے سرے سے سر اٹھانے یا ایک نئی بساط کار بچھانے جا رہا تھا اور اس نے زبردست حکومتی وسائل کے ساتھ اپنی بساط کار بچھائی۔ مولانا نے اولین دن سے جو اس کو اپنا خاص نشانہ بنایا تو آخر تک بنائے ہی رکھا۔ وہ برہمنیت کے توڑ میں مسلمانوں کو صاف صاف دعوت دیتے تھے کہ ابراہیمیت کو اپنا اسوہ بنائیں اور اسوۂ ابراہیمی کی پیروی میں کوئی سمجھوتہ مشرکانہ دین سے نہ کریں۔ اللہ نے مولانا کو تحریر و تقریر دونوں ہی پر بھرپور قدرت دی تھی اور انہوں نے اپنے مالک کی دی ہوئی اس قدرت کو اس کی سب سے اہم ’’وصیت‘‘ اخلاصِ توحید اور حفاظتِ توحید ہی میں لگایا۔
ان کے بالکل آخری دور کا (غالباً گزشتہ سال کے نومبر یا دسمبر کا) واقعہ ہے کہ یوپی کے سرکاری سکولوں میں بندے ماترم کو رواج دینے کی جو ایک مہم چل رہی تھی اور دیوبند سے اس کے خلاف فتوٰی نکلا کہ مسلمان بچوں کے لیے اس میں شرکت حرام ہے، تب مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر کی حیثیت سے بعض انگریزی اخبارات کے نمائندوں نے مولانا کا نقطۂ نظر اس معاملے میں جاننا چاہا۔ مولانا کا جواب ٹھیٹھ ابراہیمی لہجے میں دوٹوک تھا کہ ہم شرکیہ گیت میں شرکت کی بجائے مر جانا پسند کریں گے۔ اس تاریخ ساز جواب نے کم از کم فوری اور ظاہری طور پر وندے ماترم کی بساط یوپی سکولوں سے لپیٹ دی۔ باقاعدہ اس حکم کی منسوخی کا اعلان ہوا اور وزیرتعلیم بیک بینی و دوگوش برخاست۔ آج کی بھارتی گورنمنٹ جس بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں چل رہی ہے اس کا مسلمانوں سے صاف صاف کہنا رہا ہے کہ انہیں بھارتی تہذیب کو اپنانا ہو گا مذہب وہ اپنا رکھیں۔ یہ بات کانگریسی لیڈروں کے ایک طبقے کی زبان پر بھی آزادی کے کچھ ہی دنوں بعد ایک غیرجارحانہ انداز میں (یا کہئے دعوت و تلقین کے انداز میں) آ گئی تھی۔ ان میں سب سے نمایاں جواہر لال کے ہم وطن جوہر شوتم داس ٹنڈن تھے، جنہوں نے کانگریس میں اتنی طاقت حاصل کر لی تھی کہ جواہر لال کے امیدوار (اچاریہ کرپلانی) کے مقابلے میں آل انڈیا کانگریس کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنے انتخاب کے فورًا بعد انہوں نے یہی راگ اٹھایا، تب ہمارے مولانا نے ’’مذہب یا تہذیب‘‘ کے عنوان سے ایک عالمانہ مقالہ لکھ کر اس فاشٹ راگ کو چیلنج کیا۔ وہ ایک قابلِ دید مقالہ ہے، اللہ نے مولانا کو بات کہنے کا وہ سلیقہ دیا تھا کہ سخت سے سخت بات بھی کڑواہٹ سے دور ہوتی تھی، اس لیے سنی جاتی تھی۔
اس طرح کی باتوں کا خاص پس منظر یہ تھا کہ ہندوستانی کے ہندی بولنے والے صوبوں اور خاص کر یوپی میں پرائمری اور سیکنڈری سطح پر نصابِ تعلیم رائج کیا جا رہا تھا جو بچوں کے دل و دماغ پر ہندو تہذیب اور ہندو تاریخ کی چھاپ لگائے۔ اس کے مقابلے کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے جو کوششیں شروع ہوئیں ان میں سب سے زیادہ نمایاں کوشش یوپی دینی تعلیمی کونسل کے قیام کی شکل میں ۱۹۰۹ء میں سامنے آئی۔ حضرت مولانا کو اس کا صدر منتخب کیا گیا اور آخر تک آپ ہی اس عہدے پر رہے۔ اسی کوشش کے ردعمل میں یوپی کے اس وقت کے وزیراعلیٰ (یا اگر میں بھول رہا ہوں تو وزیرتعلیم، جو بعد میں بہرحال وزیراعلیٰ ہی ہوئے) بابوسچدیوانانند نے، جو بہت فاضل شخص مانے جاتے تھے، ایک تقریر میں ایک عالمانہ انداز میں سوال اٹھایا کہ آخر ایران میں اسلام آجانے کے بعد تو وہاں کے لوگوں نے اپنے نامور آباؤاجداد سے رشتہ نہ توڑا، وہ بہرام و افراسیاب کی داستانوں پر ایسے ہی فخر کرتے رہے، تو ہمارے ہندوستانی مسلمانوں کو کیا دِقت ہے کہ وہ کرشن اور ارجن سے بھی اپنا رشتہ قائم رکھیں؟ ہمارے مولانا نے اس کا جو جواب دیا بابوسچدیوانانند نے بھی اس کا نوٹس لیا اور ماہنامہ الفرقان لکھنؤ جہاں مولانا کا مضمون شائع ہوا تھا اس کو اپنا جواب اپنے ہی قلم سے اردو میں لکھ کر بھیجا جو ایک بڑا شائستہ جواب تھا۔
الغرض مولانا کی عالمی سطح پر ان اسلامی خدمات کے پہلو بہ پہلو جن سے باہر لوگ فی الجملہ واقف ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے سلسلے میں مولانا مرحوم کا خاص کارنامہ ان کے توحیدی مذہب اور تہذیب کی ہمہ دم پاسبانی کی جدوجہد ہے، اللہ انہیں اس کا بھرپور اجر عطا فرمائے اور مسلمانانِ ہند کو ان کا ثانی، آمین۔
آہ! حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء کو برطانیہ کے شہر برنلے میں مولانا عزیز الحق ہزاروی کے ہاں تھا کہ جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی نے ٹیلی فون پر حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے انتقال کی روح فرسا خبر دیتے ہوئے بتایا کہ حضرت مولانا ندویؒ آج صبح رائے بریلی (انڈیا) میں اپنا دنیا کا سفر مکمل کر کے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا ایک عرصہ سے علیل تھے مگر ضعف و علالت کے باوجود اپنے مشن کے حوالہ سے ان کی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں۔ الشریعہ کے گزشتہ شمارہ میں قارئین نے بمبئی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سالانہ اجلاس میں حضرت مولاناؒ کا خطبہ صدارت ملاحظہ کیا ہے جو وہ علالت کی وجہ سے خود وہاں تشریف لے جا کر نہیں پڑھ سکے تھے اور ان کی طرف سے مولانا عبد اللہ عباس ندوی نے شرکائے کانفرنس کو سنایا تھا۔ اس خطبہ صدارت میں حضرت مولاناؒ نے پرسنل لاء کے مسئلہ پر مسلمانانِ ہند کی جس جرأت اور حوصلہ کے ساتھ ترجمانی کی ہے وہ اکابر علمائے حق اور اربابِ عزیمت کی روایات کی آئینہ دار ہے۔
حضرت ندویؒ کا تعلق امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کے خاندان سے تھا، ان کی ولادت ۱۹۱۴ء میں ہوئی اور اس طرح انہوں نے عیسوی سن کے لحاظ سے پچاسی برس کی عمر پائی۔ انہوں نے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ماحول میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے او راپنے استاذ محترم علامہ سید سلیمان ندویؒ کے جانشین کے طور پر ندوہ کی سربراہی کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے ندوہ کے اکابر مولانا سید علی مونگیریؒ، علامہ شبلیؒ نعمانی، مولانا عبد الحئی حسنیؒ، اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کی علمی روایات اور ملی خدمات کے پرچم کو نہ صرف بلند سے بلند تر کیا بلکہ ان کے دور میں ندوہ کے تعارف و خدمات کا دائرہ پورے عالم اسلام بالخصوص عالم عرب تک پھیلتا چلا گیا۔ اردو ان کے گھر کی زبان تھی جبکہ عربی میں انہیں بے تکلف گفتگو اور تحریر کا ملکہ حاصل تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں فصاحت و سلاست کے جس کمال سے نوازا تھا اس نے خود عرب دانشوروں اور اربابِ علم میں انہیں نمایاں اور ممتاز مقام دے دیا تھا۔
حضرت مولانا علی میاںؒ خاندانی اعتبار سے حضرت سید احمد شہیدؒ کے خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے، تعلیم و تربیت اور تگ و تاز میں انہوں نے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ورثہ کو سنبھالا جبکہ روحانی طور پر انہیں حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، اور حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی جیسے عظیم اکابر سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ اس طرح وہ مختلف عظیم الشان نسبتوں کا مجمع البحار بن گئے تھے۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مغربی ثقافت اور اس کے پیداکردہ نظریاتی و علمی فتنوں کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا۔ وہ بلاشبہ اس دور میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور تاریخ و روایات کے بے باک نقیب تھے۔ انہوں نے اس حوالہ سے دنیائے اسلام کے اربابِ فکر و دانش کے ایک بڑے حصے کو ادراک و شعور کی منزل سے ہمکنار کیا اور مغرب کے سیکولر فلسفہ اور فری سوسائٹی کے تار و پود بکھیر کر ذہنی مرعوبیت کی فضا کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
راقم الحروف کو ایک عرصہ سے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے نیاز حاصل تھے۔ ۱۹۸۴ء میں مکہ مکرمہ میں حضرت ندویؒ اور حضرت مولانا منظور احمدؒ نعمانی کی پہلی بار زیارت ہوئی اور اس کے بعد آکسفورڈ اور لاہور میں حضرت ندویؒ سے کئی بار ملاقات و استفادہ کا شرف حاصل ہوا۔ ایک دو بار کوشش کی کہ ان سے ان کی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت حاصل کی جائے مگر موقع نہ ملا۔ چند ماہ قبل حضرتؒ کی خدمت میں عریضہ ارسال کیا کہ میرا بیعت کا تعلق حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز سے تھا، ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلفاء میں سے آپ کے ساتھ طبیعت زیادہ مانوس ہے اس لیے بیعت کے تعلق اور روایت حدیث کی اجازت کی درخواست کر رہا ہوں۔ اس کے جواب میں ابھی دو ماہ قبل ان کا گرامی نامہ موصول ہوا جس میں دونوں گزارشات کی قبولیت کی اطلاع تھی۔
اس کے بعد میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ رمضان المبارک کے بعد کسی بہانے انڈیا جانے کا پروگرام بنا کر استاذ اور شیخ کی حیثیت سے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی زیارت و ملاقات کا شرف ایک بار پھر حاصل کیا جائے مگر تقدیر کا فیصلہ غالب آگیا اور حضرت مرحوم میرے جیسے ہزاروں عقیدت مندوں کی امیدوں کو حسرتوں میں تبدیل کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک کے حضور پیش ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور اہل خاندان، تلامذہ، منتسبین، احباب اور عقیدت مندوں کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
دعا اور درود منزل پر کیسے پہنچتے ہیں؟
عبد الرشید ارشد
محسنِ انسانیت سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا اور صدقہ تقدیر کو بھی ٹال دیتے ہیں۔ ایک اور موقعہ پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ بندہ وہ ہے جو اس سے مانگے اور جو اپنے کیے پر نادم ہو کر توبہ کرے۔ جیسا کہ ہر نماز کی آخری رکعت کے دوران ایسی مستقل دعا کو جزوِ نماز بنا دیا گیا ہے جو قیامت تک ہر مسلم کے ذمہ فرض ہے۔
موجودہ دور کی سائنسی ایجادات ریڈار، ریڈیو، ٹیلیویژن، وائرلیس اور ٹیلیفون یا کمپیوٹر نے آج ہمارے لیے دعا کے مقامِ قبولیت تک پہنچنے اور اس کے اثرات واپس دعا مانگنے والے تک پہنچانے کے مخفی انتظامات کو سمجھنا بہت آسان کر دیا ہے۔ یہ ساری ایجادات خالق کے تخلیق کردہ انسان کے کاسۂ سر میں رکھے چند اونس وزنی دماغ کی سوچ سے سامنے آئیں کہ ایک شخص ایک مشین کے سامنے بیٹھ کر کوئی بات کرتا ہے تو مطلوبہ مقام پر مطلوبہ شخص اسے سن سکتا ہے اور ان باتوں کا ریکارڈ بھی ممکن ہے اور اس کا جواب بھی سنا جاتا ہے۔ ریڈار ہو، ریڈیو یا ٹیلیویژن ہو، ٹیلیفون یا کمپیوٹر ہو، یا وائرلیس ہو، دن بدن ان کا دائرہ کار وسیع ہو کر کرۂ ارض تک ہی محدود نہیں بلکہ کائنات کی وسعتوں تک پھیل رہا ہے اور اس پر ہم سب گواہ ہیں کہ یہ سب انسانی عقل کا کرشمہ ہے۔ کروڑوں میل دور فضا میں تیرتے سیاروں تک انہی اسباب سے پیغام رسانی ممکن ہوئی ہے۔
انسان کے خالق نے اگر انسان کو اس حد تک صلاحیتوں سے نوازا ہے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ خود خالق نے اپنی مخلوق سے مسلسل ربط کا کس قدر مؤثر انتظام کیا ہو گا۔ قرآن پاک میں مختلف انداز میں خالق جل شانہ نے فرمایا کہ کائنات کی وسعتیں ہوں یا زمین کی تہیں ہوں، بڑی چیز ہو یا انسانی آنکھ کو نظر نہ آنے والے ذرات، ہر شے میرے علم میں ہے اور میرے ہاں ریکارڈ میں محفوظ بھی ہے۔ میں ہر جگہ تمہارے ساتھ ہوں، میں دیکھتا بھی ہوں اور سنتا بھی ہوں۔ انسان کا خودساختہ نظامِ مواصلات مقناطیسی لہروں کا محتاج ہے اور ان کا محدود دائرہ کار ہے، کچھ مقامات ایسے آتے ہیں جہاں یہ ہمت ہار جاتی ہیں۔
انسان شعاعوں سے بھی مختلف فوائد حاصل کرتا ہے جو قدرت کا عطیہ ہیں، سائنس کی دنیا نے ان کو مختلف نام دیے ہیں۔ یہ ایکس ریز ہیں، گاما ریز ہیں، الفا اور بیٹا ریز ہیں۔ ہر شعاع سے نفع نقصان کی کہانی بھی الگ ہے۔ مثلاً ایکس ریز سے علاج ممکن ہوا تو انسان کے لیے نعمت، اور گاما ریز کی مقدار ذرا بڑھے تو نری ہلاکت۔ روشنی کی شعاعیں ہوں یا مقناطیسی لہریں، یہ انسان کی تخلیق نہیں بلکہ یہ خالق ہی کی تخلیق ہے، جس سے متمتع ہوتی ہے ہر نوع کی مخلوق، کہ خالق نے انہیں مخلوق کے لیے مسخر کر دیا کہ کائنات کا نظام منضبط طریقہ سے چلتا رہے۔ ان شعاعوں اور لہروں سے ماوراء ایک اور نظام بھی ہے جس سے کائنات کنٹرول ہوتی ہے اور جس کے ذریعے یہ سب کچھ وجود میں آیا ہے۔ یہ نور کی شعاعیں ہیں جو ہر دوسری معلوم قوت سے بے حد و حساب قوی ہیں اور لامحدود ہیں۔
واحد کے معنی ایک ہیں اور ایک کو تقسیم کیا جا سکتا ہے یا یہ تقسیم در تقسیم ہو سکتا ہے۔ مگر احد ناقابلِ تقسیم یکتائی ہے۔ خالق کی ودیعت کردہ عقل سے انسان، خالق کی تخلیق کردہ ناقابلِ تقسیم اکائی (ایٹم) کی حقیقت و ماہیت جان سکا۔ اس ناقابلِ تقسیم اکائی کی بے پناہ قوت کو جان سکا اور اسے امن یا تباہی کے لیے استعمال پر قادر ہو سکا۔ مگر ساری محنت کے باوجود وہ یہ دعوٰی کرنے کے قابل نہیں ہے کہ یہ اکائی مکمل طور پر اس کی سمجھ میں آ چکی ہے، یا اس پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔
نور کی یکتائی کیا ہے، اگر انسان سمجھ سکے تو اس کی عملی زندگی کے بے شمار مسائل حل کر کے یہ اسے دھرتی کی معتبر ترین ہستی بنا دے۔ اس کائنات میں اس نور کی یکتائی کا عمل دخل اور طریقۂ کار قبولیتِ دعا کو سمجھنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ آئیے اس پہلو پر خالق ہی سے راہنمائی لیتے ہیں۔
’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں) اس نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں رکھا ہوا چراغ، یہ چراغ ایک فانوس ہو اور فانوس موتی کی طرح چمکدار تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑک پڑتا ہو، چاہے اسے آگ نہ لگے، (اس طرح) روشنی پہ روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں)، اللہ اپنے نور کی طرف سے جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔‘‘ (النور ۳۵)
خالق کے مذکورہ فرمان سے جو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں انہیں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
- اللہ (جو احد ہے) آسمانوں اور زمین (کی لامتناہی وسعتوں اور گہرائیوں) کا نور ہے۔
- یہ نور ہمہ جہت ہے، اس نور کا رخ متعین نہیں کیا جا سکتا۔
- یہ نور انتہائی روشن چراغ کی مانند ہے، (جس کے مرکزے کو آنکھ نہیں دیکھ سکتی، یعنی چکاچوند ہے)۔
- چراغ کی مثال سے انسان کو اللہ احد یعنی نور کی یکتائی کا تصور دلانا مقصود ہے۔
اگر انسان دو امور پر عقل کے گھوڑے نہ دوڑائے اور ہر طرح کے تجسس سے دستبردار ہو جائے کہ اللہ جل شانہ کس شکل میں ہے اور کائنات میں اس کے عرش کا مقام کہاں ہے، اور صرف اس پہلو سے غور و فکر کرے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جس صورت میں ہے اور جہاں ہے وہ خالق ہے اور اس کے فرامین برحق ہیں، تو قرآن میں غور و فکر سے اس کے لیے ہر لمحہ نئی راہیں نکلتی رہیں گی۔ مگر مذکورہ دونوں امور پر غور و فکر اسے گمراہی کے راستے پر تو لے جا سکتا ہے، ہدایت اس کا مقدر نہ ہو گی۔
اللہ احد کے نور کی ناقابلِ تقسیم یکتائی کائنات کی وسعتوں میں جہاں بھی ہے اپنے اندر (مرکز میں) وہ العزیز سب سے زیادہ قوی، الجبار والقھار جبار و قہار اور الرحمن الرحیم انتہائی مہربان و شفیق، الودود سب سے بڑھ کر محبت کرنے والی صفات سے متصف ہے۔ اسی طرح دوسری بے شمار صفات جو اسمائے الٰہی میں بیان کی گئی ہیں اس نور کا خاصہ ہیں۔ نور کی یہ بے پایاں قوت یقیناً اپنے چاروں سمت ہی نہیں ہمہ جہت اپنے نور کی کرنوں کو پھیلاتی ہے۔ یہ نور کی صفت ہے کہ اسے پابند نہیں کیا جا سکتا، اور پھر خالق کا نور! لہٰذا اپنے مرکز سے ہمہ جہت کائنات کی وسعتوں میں، سمندر کی گہرائیوں میں، سیاروں کی سخت چٹانوں اور گہرائیوں میں سے آرپار، جہاں تک خالق کا اقتدار ہے، جس کا ہم ساری زندگی صرف کر کے بھی ادراک نہیں کر سکتے، جاتی ہیں، اور یہ نور کی کرنیں ایسی ہیں کہ ان کا شمار ممکن ہی نہیں ہے۔
جب ہم یہاں تک پہنچ جاتے ہیں تو خالق کا یہ فرمان ہم پر بالکل عیاں ہو جاتا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو میں تمہارے ساتھ ہوں، میں دیکھتا ہوں، میں سنتا ہوں۔ آسمان کی وسعتوں میں، ہر ذرہ اور دھرتی کی تہہ اور سمندروں کی گہرائیوں میں موجود ہر شے سے باخبر ہوں کہ نور کی اس کائنات میں پھیلی کرنوں کے ذریعے وہ ہماری شاہ رگ سے بھی یقیناً قریب ہے۔ اور نور کی یکتائی سے خارج ہمہ وقت ہمہ جہت کرنیں ہی اس یکتائی کے کان، اس کی آنکھیں ہیں، اور انہی کے ذریعے ہر کسی مخلوق سے رابطہ ہے۔
مخلوق کے ساتھ رابطہ کا ایک سبب اور بھی خالق کے فرمان سے سمجھ میں آتا ہے۔ قرآن حکیم میں فرمایا کہ آدم کو مٹی سے مکمل شکل و صورت دینے کے بعد میں نے اس میں اپنی روح کا ایک جزو پھونکا (روح یا زندگی) ونفخت فیہ من روحی۔ گویا مخلوق میں زندگی کی رمق، اس کے نور کا ایک معمولی جز اس میں موجود ہونے کے سبب ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ انسان ہو یا کوئی دوسرا ذی روح، اس میں ان صفات کا ایک معمولی جز موجود ہے جو بدرجہ اتم خالق کے پاس ہیں۔ مثلاً جذبہ محبت و مودت، جذباتِ رحم و کرم، داعیات قہر و غضب وغیرہ، جنہیں ہم فطری یا جبلی تقاضے کہتے ہیں، یہ خالق کا مخلوق کے لیے عطیہ ہے اور رابطہ کا سبب بھی ہیں۔
مخلوق میں نور کا جزو خالق کے نور سے ہر لمحہ منسلک ہے اور یہی خالق اور مخلوق کے درمیان ہر وقت ربط کا ذریعہ ہے۔ یہ بات کل سمجھنا مشکل تھا مگر آج انسان کے تخلیق کردہ وائرلیس، ریڈیو یا انٹرنیٹ نے اسے سمجھنا آسان کر دیا ہے کہ ریڈیو اسٹیشن یا وائرلیس اسٹیشن میں رکھی مشنری سے مقناطیسی لہریں فضا میں جو پیغام نشر کرتی ہیں وہ ہر ریڈیو اور وائرلیس سیٹ پر وصول کیے جاتے ہیں۔ وائرلیس دو طرفہ رابطہ کا معروف ذریعہ ہے۔ مرکزی مقام پر مشینری بہت زیادہ ہوتی ہے اور جہاں پیغام بھیجے جاتے ہیں یا جہاں جہاں سے پیغام وصول کیے جاتے ہیں وہاں بہت ہی ہلکا پھلکا انتظام ہوتا ہے یعنی معمولی مشین۔ اس سے یہ بات با آسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو لازوال و لاجواب نور کی یکتائی ہے، اس کے نور کی کرنیں، مخلوق کے اندر نور کے جز کی کمزور کرنوں تک پیغام کیسے ارسال کرتی ہیں اور پیغام کیسے وصول کرتی ہیں، یا ایک پیغام وصول کر کے دوسرے متعلقہ حصے تک پیغام کیسے بھیجتی ہیں۔ قرآن حکیم سے اس کی مثال دیکھیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کو دیکھ کر چیونٹیوں کی ملکہ نے جو کچھ کہا وہ کس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچا۔
جب ہم خالق اور مخلوق کے مابین دوطرفہ کرنوں کے باہم اتصال یا ہر چیز کے علم کے لیے علیم و خبیر خالق کی کائنات کی وسعتوں پر ہاوی نورانی کرنوں کی کیفیت کا اپنی حد تک کچھ نہ کچھ شعور و ادراک پا لیتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی کہ خالق زندوں کے سلام و پیغام و درود مُردوں تک کیسے پہنچاتے ہیں۔ چونکہ اللہ احد کے نور کی یکتائی کی کرنیں ہر چیز کا احاطہ کیے ہیں، ہر چیز سے انفرادی ربط ہے، اور ہر کرن اپنے مرکز سے بھی مربوط ہے، تو ایک شخص جب قبرستان سے گزرتا ہے، فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق السلام علیکم یا اہل القبور کہتا ہے تو اس سے ملی نورِ الٰہی کی کرن مرکزِنور کو یہی سلام پہنچا دیتی ہے۔ اور پھر مرکزِ نور اپنے انداز میں وہی کچھ متعلقہ کرنوں کے ذریعے متعلق دفن افراد کی زندہ جاوید روحوں تک پہنچا دیتا ہے کہ جسمِ خاکی کو فنا ہے روح فنا نہیں ہوتی۔
محسنِ انسانیتؐ پر درود بھیجنے کا حکم خود خالق نے اپنی محکم کتاب میں درج فرما دیا، اور یہ حکم صرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین تک حیاتِ سرورِ دوعالم کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر دور کے ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کے لیے اوقات کا تعین بھی نہیں فرمایا گیا۔ اب کرۂ ارض پر چار سو مسلمان حسبِ توفیق درود بھیجتے ہیں تو خالق ہی کے فرمان کے مطابق ملائکہ بھی نہ صرف یہ کہ نبی اکرمؐ پر درود بھیجتے ہیں بلکہ آپؐ پر درود بھیجنے والوں کے لیے دعا بھی کرتے ہیں۔ ان باتوں پر قرآن و حدیث کی شہادت موجود ہے (سورہ الاحزاب)۔ اگر یہ درود اور دعائیں متعلقین تک نہیں پہنچ سکتیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو معاذ اللہ حکمِ الٰہی عبث ہے۔
درود و سلام اور دعاؤں کو ربانی نور کی کرنوں ہی کے ذریعے ہر جگہ سے وصول کیا جاتا ہے اور ہر متعلقہ ہستی تک پہنچایا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں اگر خالق نے یہ فرمایا کہ اے نبی! تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے تو اس سے لفظی معنی لے کر یہ فرض کر لینا کہ ہماری دعائیں کسی قبر میں داخل ہی نہیں ہوتیں، علم و عقل کی توہین ہے۔ بلکہ خالق کے فرامین کی روح کو نہ سمجھنے کی تصدیق ہے کہ خالق ہمیں ایسی بات کا حکم دے جو اسی کے کسی دوسرے فرمان کی نفی ہو۔
قرآن پاک میں انبیاء علیہم السلام سے دعائیں منقول ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنی مشرک باپ کے لیے دعا کا ذکر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار دعاؤں کی تاکید فرمائی۔ پھر ہر فرض نماز کی آخری رکعت میں دعا نماز کا جز قرار پائی اور وہ بھی قیامت تک رہنے والے مومنین کے لیے۔ یہ سب بے فائدہ ہو جائے گا اگر ہم قرآن کی کسی آیت کی حقیقی روح کو نظرانداز کر کے ظاہری معنی پر ہی اسے محمول کریں۔ قرآن پاک میں تو نبی اکرمؐ کو محاورتاً یہ فرمایا گیا کہ جس طرح مردہ حواسِ خمسہ سے بظاہر عاری ہو جاتا ہے اور اسے اس حالت میں کچھ سنایا نہیں جا سکتا، اسی طرح تم ان مشرکین کو کیا سنا سکتے ہو۔ مثلاً یہی اسلوب سورۃ لقمان میں اپنایا گیا جہاں فبشرہ بعذاب الیم ۔۔ ظاہر ہے خوشخبری اچھی خبر کے لیے ہے نہ کہ بری خبر کے لیے، یہ خالق کا اندازِ کلام ہے، استعارہ ہے۔
دائمی جدائی دینے والوں تک ہماری دعاؤں کی رسائی، رسولِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمارے درود و سلام کی رسائی کی نوعیت و کیفیت سمجھنے میں اب کوئی دشواری نہیں آنی چاہیے کہ یہ سارا کام ربانی نور کی کرنیں سرانجام دیتی ہیں۔ اور یہ ابدی مربوط نظام اس قدر تیز ہے کہ ادھر ذہن میں سوچ آئی، لفظ زبان سے نکلا، ادھر متعلقہ جگہ پر پہنچ کر ان کے نامۂ اعمال میں کریڈٹ ہو گیا جو محشر میں دائیں یا بائیں ہاتھ میں ہو گا۔ اور مالکِ کائنات نے متعلقہ ہستی کو کس طرح آگاہ فرمایا، یا نہیں فرمایا، ہمیں اس پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کہ اس میں عاقبت خراب ہونے کا بھی خطرہ ہے۔ نہ ہم اس تجسس کے لیے مکلف ہیں کہ یہ محشر میں یا قبر میں ہم سے پوچھا جائے گا۔
مذکورہ وضاحت کے بعد اب ہم دعا کی حقیقت پر بات کرتے ہیں کہ جب بندہ دعا کرتا ہے تو وہ خالق تک کیسے پہنچتی ہے اور اس کی قبولیت یا عدمِ قبولیت کی کیفیت کیا ہے۔ دعا کے ضمن میں چند باتیں ذہن نشین رہنی چاہئیں۔
- دینے والے کے مقابلے میں مانگنے والے کا اپنی حیثیت کا تعین کرنا۔
- دینے والے کی عظمت و سخاوت کا اعتراف اور مدد و تعاون پر قادر ہونے کا مکمل ادراک۔
- دینے والے کے ساتھ اپنے تعلق کا شعور اور مانگنے کا انداز۔
روز مرہ زندگی میں ہم اخبارات میں پڑھتے ہیں، سنتے ہیں کہ جب کوئی بحری جہاز مصیبت میں گرفتار ہو، طوفان میں گھر جائے تو بڑے کرب اور دکھ بھری لجاجت کے ساتھ وائرلیس پر بار بار ایک پیغام SOS (ہمیں بچاؤ) نشر کرتا ہے اور گرد و پیش آنے جانے والے بحری جہاز یا قریبی بندرگاہ پر جو بھی اس پیغام کو سنتا ہے مدد کے لیے دوڑ لگا دیتا ہے۔ اسی طرح مشکل میں پھنسا ہوا ہوائی جہاز آخری پیغام کے طور پر وائرلیس پر May Day (مشکل گھڑی) دہراتا ہے جس سے کنٹرول ٹاور کو اس کی مصیبت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور امدادی پارٹیاں جہاز کے مسافروں کی مدد کے لیے روانہ ہو جاتی ہیں۔
بعینہ اسی طرح جب کوئی بندہ اپنے گناہ کی معافی یا اپنی حاجات کی تکمیل کے لیے اپنے اندر کی قلیل نور کی کرنوں کو اعلیٰ و ارفع اللہ کے نور کی کرنوں کے ساتھ پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس رابطے کا انحصار اس بات پر ہے کہ بھیجنے والے کی کرنوں کی کیفیت کیا ہے۔ کیا وہ SOS اور May Day طرز کا پیغام بھیج رہا ہے یا عمومی طرز کا۔ یہ بات نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بخوبی سمجھ آتی ہے کہ یتیم اور مظلوم کی دعا اور عرشِ الٰہی کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ یعنی دونوں طرف کی کرنوں کا اتصال فوری اور مؤثر ہوتا ہے کہ یہ بھیجنے والے کے دل کی گہرائی سے خارج ہوتی ہیں، جسے ہم یک سوئی (Concentration) کہتے ہیں۔ ریڈار یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے بھیجے جانے والے پیغامات میں اگر یک سوئی نہ ہو تو دنیوی نقطۂ نظر سے کبھی بھی مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ یہی صورتِ حال بارگاہِ رب العزت میں کی جانے والی دعا کی ہے۔
یکسوئی پیدا کرنے کے لیے لازم ہے کہ مانگنے والے کے دل و دماغ میں اپنی اور جس ہستی سے مانگا جا رہا ہے اس کی حیثیت واضح ہو۔ جب تک مانگنے والے کے دل و دماغ میں اپنے لیے بے بسی اور بے چارگی کا یقین نہ ہو گا، اور دینے والی ہستی کے متعلق بھی یہی محکم یقین نہ ہو گا کہ صرف اور صرف وہی دے سکتا ہے، اس وقت تک مانگنے والے کے نور کی کمزور کرنیں بھٹکتی پھریں گی، منزل تک لے جانے والی کرنوں کے ساتھ ان کا ملاپ ہی نہ ہو پائے گا۔
یکسوئی کے لیے دوسری ضرورت، بے چارگی و بے بسی کی کیفیت سے آگے ایک اور قدم، دینے والے کے ساتھ اطاعت کا تعلق ہے۔ ایسی اطاعت جس میں محبت اور شوق دونوں پائے جائیں۔ محبت اور شوق جس معیار کے ہوں گے، یکسوئی بھی اسی قدر معیاری ہو گی۔ اور پھر یقیناً دو طرفہ کرنوں کا باہم اتصال بھی اسی قدر جلد، مؤثر اور معیاری ہو گا۔
اطاعت محض جذبے کا نام نہیں ہے بلکہ اطاعت کا تعلق اعمال کے ذریعے فراہم کیے جانے والے ثبوت سے ہے۔ اس کا ایک پلڑا معروف پر عمل یعنی عبادات، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں توازن اور حسن قائم رکھنا ہے، تو دوسرا پلڑا صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بچنا ہی نہیں گناہ کی طرف لے جانے والے راستوں سے بھی دور رہنا ہے۔
نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا یہ مفہوم کس نے نہ سنا ہو گا کہ پیٹ میں لقمہ حرام ہو، جسم پر کپڑے حرام ہوں، حقوق اللہ اور حقوق العباد پامال ہوں، اور اس کے باوجود بندہ یہ سمجھے کہ میں جب چاہوں جو چاہوں اپنے رب سے لے لوں۔ اس کی مثال تو ایسے ہے جیسے کراچی پہنچنے کا متمنی مسافر غلطی سے یا جان بوجھ کر پشاور جانے والی گاڑی میں سوار ہو کر بڑی عاجزی، یکسوئی اور لجاجت سے بخیریت کراچی پہنچنے کی دعا کرے، وہ پشاور تو بلادعا پہنچ جائے گا مگر کراچی کبھی نہ پہنچے گا۔
دعا کے ضمن میں سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ قطع رحمی کے لیے دعا قبول نہیں ہوتی مگر خیر کے لیے کی گئی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ البتہ دعا کے اثرات کا ظاہر ہونا قادرِ مطلق، حکیم و رحیم رب کی حکمت پر منحصر ہے۔ خالقِ کائنات اپنی مخلوق کے جملہ معاملات و مسائل سے ہر لمحہ باخبر ہے۔ انفرادی اور اجتماعی ضروریات اس سے اوجھل نہیں ہیں۔ اگر کوئی چیز بندہ کے لیے اسی وقت نفع بخش ہوتی ہے جب وہ اس کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے فورًا مل جاتی ہے۔ اگر وہ چیز اس وقت اس کے لیے نافع نہیں ہوتی تو اسے اس وقت تک مؤخر کر دیا جاتا ہے جب تک وہ اس شخص یا جماعت کے لیے نافع ثابت نہ ہو۔ جیسا کہ ہم خود تجربہ رکھتے ہیں، ماضی کی بعض دعاؤں کے اثرات بہت بعد نکلتے ہیں۔ اسی طرح بعض دعائیں ایسی ہیں جنہیں مانگنے والا خیر سمجھ کر مانگ رہا ہے مگر علیم و خبیر مہربان رب اس طلب میں پنہاں خرابیوں کو جانتے ہوئے اسے قبول نہیں فرماتا بلکہ اس کا بہتر بدل اسے دے دیتا ہے۔ اور جن دعاؤں کے متعلق بندہ گمان کرتا ہے کہ قبول نہیں ہوئیں، ان کا اجر محشر تک مؤخر کر دیتا ہے۔
فرمانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ محشر میں ایک شخص جب حساب سے فارغ ہو جائے گا تو اللہ جل شانہ فرشتوں سے فرمائیں گے کہ اس کے کھاتے میں اور جو کچھ ہے لے آؤ۔ بندہ حیران ہو گا کہ حساب تو ہو چکا! اسی دوران فرشتے پہاڑ جتنی نیکیاں سامنے لائیں گے تو بندے کی حیرت میں اور اضافہ ہو گا۔ بندے کو یوں حیران دیکھ کر خالقِ کائنات فرمائیں گے کہ بندے یہ تیری ان دعاؤں کا اجر ہے جنہیں دنیا میں تو سمجھتا تھا کہ وہ قبول نہیں ہوئیں۔ اس پر بے ساختہ بندہ کہہ اٹھے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول ہی نہ ہوئی ہوتی۔ یوں بندے کی دعا اور بندے کا پیش کردہ درود مکمل صحت کے ساتھ کسی تاخیری لمحوں میں نہیں، لحظوں میں مقامِ مطلوب تک پہنچ جاتے ہیں۔
سود کے بارے میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ پر عمل کیا جائے
مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی
اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے سودی نظام کے خاتمے کا فیصلہ دے کر اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیا ہے۔ سود سے متعلق سپریم کورٹ کا عظیم الشان فیصلہ صرف پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام میں اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے جس پر پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
مفتی محمد رفیع عثمانی دارالعلوم کورنگی میں ایک بڑے دینی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے دامن میں صرف چند تاریک پہلو لیے ہوئے نہیں ہے، اس کے روشن کارناموں کے ذریعے دل سے امید و حوصلہ مندی کے سرچشمے بھی پھوٹتے ہیں۔ پاکستان کی امتیازی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ
- یہی وہ مملکت ہے جس کے دستور اور آئین میں واضح لفظوں میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیا گیا ہے، جس سے ملک کو سیکولرازم کی راہ پر ڈالنے کی بہت سی مذموم کوششیں دم توڑ گئیں۔
- اسی طرح قادیانیوں کو سرکاری سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں سب سے پہل کرنے کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔ پاکستان کے بعد ہی دوسرے ملکوں نے قادیانیوں کے کفر کو قانونی طور پر تسلیم کیا۔
- اس کے علاوہ دنیا میں پہلی مسلم ایٹمی طاقت بننے کا شرف بھی پاکستان ہی کو حاصل ہے،
- اور اب سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ نے سودی نظام کا قابلِ عمل متبادل پیش کر کے پاکستان کو پورے عالمِ اسلام میں ایک اور قابلِ فخر امتیاز عطا کیا ہے۔
مفتی محمد رفیع عثمانی نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدالتِ عظمٰی کے وقیع اور تاریخی فیصلے کا دل سے احترام کرتے ہوئے تیزی سے کاروائیاں شروع کرے تاکہ مقررہ تاریخ سے پہلے ہی سود کے مکارانہ اور ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ ایسا کرنا حکومت کی نیک نامی اور سعادت مندی کا باعث ہو گا۔ دینی قوتوں اور باشعور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس تاریخی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک انقلابی نوعیت کا فیصلہ ہے، اس کو روبہ عمل لانے کے لیے نیم دلانہ انداز نہ صرف ناکامی کا سبب بنے گا بلکہ اس کا انتہائی مضر اثر ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے ہر نئے نظام کی طرح اس میں بھی شروع میں کچھ عملی دشواریاں پیش آئیں لیکن مسلم ماہرینِ معاشیات اور فقہی بصیرت کے حامل علماء دین کی رہنمائی سے اس کا حل بہ آسانی نکل آئے گا۔
مولانا مسعود اظہر کی پریس کانفرنس
ادارہ
بھارتی طیارہ اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کے مطالبے پر رہا ہونے والے مولانا مسعود اظہر نے جمعرات کو کراچی میں دارالعلوم جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے مفتی نظام الدین شامزئی کی قیام گاہ پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس پریس کانفرنس کا متن یہ ہے:
’’سب سے پہلے میں مجلسِ تعاونِ اسلامی کے چیئرمین حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اپنی صحافی برادی کے ساتھ ہم کلام ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ ان کے بعد میں اپنی صحافی برادری کے ان تمام حضرات کا شکرگزار ہوں جو اس پریس کانفرنس میں تشریف لائے ہیں یا جنہوں نے اپنے نمائندوں کو یہاں بھیجا ہے۔ میں اپنی گفتگو شروع کرنے سے پہلے ان تمام صحافی بھائیوں اور بزرگوں سے معذرت کرتا ہوں جنہیں گزشتہ دنوں مجھ سے ملاقات کرنے کی کوشش میں کچھ تکلیف اٹھانی پڑی حالانکہ میں نہ تو ذرائع ابلاغ سے چھپ رہا تھا، نہ ہی مجھے کوئی بات چھپانا تھی۔ لیکن آج ہر وہ مسلمان جو دنیا پر اسلام کے غلبے اور مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتا ہے اس پر زمین کو تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس سے آزادی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق چھینا جاتا ہے۔ حالانکہ میں بھارت میں قانونی طور پر داخل ہوا تھا اور تقریباً چھ سال بعد مجھے بھارت کے وزیرخارجہ نے خود آ کر طالبان کے سپرد کیا، یعنی بھارت کے حکمرانوں نے مجھے خود رہا کیا، یوں مجھے غیرقانونی حراست کے بعد قانونی آزادی ملی۔ مگر اس کے باوجود بھارت کے منفی پراپیگنڈے نے ایسے حالات پیدا کر دیے جن کی وجہ سے مجھے اپنی صحافی برادری کے سامنے آنے میں دیر لگی۔ امید ہے کہ آپ میری معذرت کو قبول فرمائیں گے اور ان مجبوریوں کے خلاف ضرور آواز اٹھائیں گے جو مجھ پر اپنے محبوب اور عزیز وطن میں واپس آنے کے باوجود مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اب آپ حضرات کے سامنے چند حقائق کا انکشاف کرنا چاہتا ہوں اور میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ آپ ان ناقابلِ تردید حقائق کو باریکی کے ساتھ سمجھیں گے:
- ہائی جیکنگ کے اس معاملے کا سب سے اہم سوال یہ بنایا گیا ہے کہ ہائی جیکر کون تھے؟ اور کہاں گئے؟ معاف کیجئے میرے نزدیک یہ دونوں سوال ثانوی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ ہائی جیکنگ کیوں ہوئی؟ اور اس اہم ترین سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ بھارت جو خود کو ایک جمہوری ملک قرار دیتا ہے اس نے اپنی جیلوں میں کئی افراد کو سالہا سال سے قید کر رکھا ہے اور ان افراد کی رہائی کے تمام قانونی دروازے بند کر دیے ہیں۔ میں اس بارے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں پورے وثوق اور چیلنج کے ساتھ کہہ رہا ہوں اور میں عنقریب اس کے دستاویزی ثبوت بھی پریس کے سامنے لاؤں گا۔ یقیناً آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ جموں کشمیر کی جیلوں میں بند کئی افراد کو وہاں کی عدالتوں نے رہا کر دیا ہے مگر انڈیا انہیں رہا نہیں کرتا۔ یہ سن کر تعجب ہو گا کہ گرفتاری کے پہلے سال مجھے اس لیے ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا کہ میں نے بطور ایک صحافی اپنی رہائی کے لیے ایک وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ کیا بھارت اس بات کا جواب دے سکتا ہے کہ وہ ساٹھ قیدی جنہیں گزشتہ تین ماہ کے عرصے میں جموں کی ٹاڈا کورٹ نے رہا کر دیا ہے اب کس جرم کی پاداش میں بند ہیں؟ کیا بھارت یہ بتا سکتا ہے کہ راجوری اور نوشہرہ کے تھانوں میں بند وہ افراد جنہیں کئی سال پہلے رہا کرنے کا حکم جاری ہو چکا تھا اب کس جرم میں بند ہیں؟ خود مجھے پہلے تو کئی سال تک کورٹ میں نہیں لے جایا گیا، اور جب کورٹ لے جایا گیا تو ٹاڈا کورٹ کے جج نے ۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے مجھے تمام الزامات سے بری قرار دے کر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا مگر انڈین حکام کی طرف سے کہا گیا کہ تم رہائی کا خواب تک نہ دیکھنا۔ یہ عدالتی کاروائی تو محض ایک تماشا ہے چونکہ جیلوں میں بند قیدیوں کے لیے رہائی کے تمام دروازے مسدود کر دیے گئے ہیں اس لیے بھارت کی اس غیرقانونی دہشت گردی کے خلاف بعض ایسے اقدامات ہوتے ہیں جنہیں پوری دنیا دہشت گرد قرار دیتی ہے۔ مگر میں یہ پوچھتا ہوں کہ آخر جیلوں میں بند ان قیدیوں کی رہائی کا اور کیا ذریعے ہیں اور دنیا نے اس سلسلے میں بھارت پر کیا دباؤ ڈالا ہے؟ کیا دنیا یہ چاہتی ہے کہ وہ قیدی ’’ہنسی خوشی‘‘ جیلوں میں سڑتے رہیں اور ہر طرح کا تشدد سہتے رہیں؟
- ہائی جیکنگ کے اس معاملے کا ایک اہم پہلو مسئلہ کشمیر ہے۔ بھارت نے کشمیر میں جو دہشت گردی شروع کر رکھی ہے اور جس طرح اس نے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا استحصال کیا ہے اس کا کوئی بھی ردعمل کسی بھی وقت کسی بھی جگہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کے تمام مہذب ممالک کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو حل کروائیں ورنہ ہائی جیکنگ جیسے معاملات پر واویلا کرنا چھوڑ دیں۔ ہائی جیکروں نے ہوائی جہاز میں کسی عورت کی طرف نگاہِ غلط تک نہیں اٹھائی، جبکہ کشمیر میں تو انڈین فورسز آئے دن وہاں کی عصمت ماب ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کرتی رہتی ہیں۔ تھوڑا سا غور کیجئے وہ ظلم زیادہ سنگین ہے یا یہ؟ وہ حرکت زیادہ قابل مذمت ہے یا یہ؟ انڈیا کو چاہیے کہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں بند تمام قیدیوں کو فی الفور رہا کر دے اور اپنی تمام فورسز کو کشمیر سے واپس بلا لے اور پاکستان سے مذاکرات کر کے اس مسئلے کو حل کرے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ میری پاکستان حکومت سے بھی پرزور اپیل ہے کہ وہ اپنے اس حالیہ موقف پر شدت سے قائم رہے کہ جب تک انڈیا کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کرتا اس وقت تک اس سے دال چینی یا آلو ٹماٹر کے موضوع پر کوئی بات نہ کی جائے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور وہاں کے لوگوں کی جان اور عزت پاکستانیوں کو چینی اور آلو سے زیادہ عزیز ہونی چاہیے۔ میں جنرل پرویز مشرف صاحب کے اس بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ چونکہ یہ پالیسی ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے اس لیے اس میں ذرہ برابر لچک پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ بھارت اگر خطے میں امن چاہتا ہے اور اپنی عوام کی فلاح و بہبود چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کے لیے خود پہل کرنی چاہیے۔
- ہائی جیکر کون تھے؟ اس کے بارے میں میری معلومات یہ ہیں کہ یہ تمام پانچوں افراد بھارتی شہری تھے اور وہ جذبہ جہاد سے معمور گمنام مجاہد تھے جنہوں نے بھارت کے مظالم سے بے چین ہو کر یہ قدم اٹھایا۔ چنانچہ میں عالمی اور ملکی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے بھارت کو یہ چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اغواشدہ جہاز کی اس پرواز کے تمام ریکارڈ کو سامنے لائے جس پرواز کے دوران یہ جہاز اغوا ہوا ہے۔ اگر بھارت نے یہ ثابت کر دیا کہ اس جہاز پر کوئی بھی ایک پاکستانی باشندہ سوار تھا تو ہم اس کے تمام الزامات کو درست مان لیں گے۔ بھارت میں جھوٹ کی عملداری ہے اور ان کے اعلیٰ حکام بھی جھوٹ بولنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہاں تو اگر طاعون (پلیگ) کا مرض پھیل جائے تو یہ کہا جاتا ہے کہ طاعون زدہ چوہے آئی ایس آئی نے بھجوائے تھے۔ بھارت کے تمام اخبارات میں اوسطاً روزانہ پانچ خبریں آئی ایس آئی اور پاکستان کی مبینہ سازشوں کے بارے میں ہوتی ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ سچ ہے تو پھر بھارت کی فوج اور اس کی ایجنسیاں کیا کرتی ہیں؟ میں نہایت وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہائی جیکنگ کے اس معاملے میں پاکستان کا ملوث ہونا تو درکنار یہاں اس کا کسی کو علم بھی نہیں تھا۔ لیکن یہ بھی کہتا ہوں کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے جس کے سات صوبوں میں اس وقت جنگ اور تشدد جاری ہے اور دیگر کئی صوبے اندرونی خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ چنانچہ اگر ہم لوگ بھارت کو اپنی صفائیاں پیش کرتے رہیں گے تو یہ زیادہ سر پر چڑھتا جائے گا۔ چونکہ بھارت مسلمہ طور پر ایک دہشت گرد ملک ہے اور اس نے وطن عزیز پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے اس کے کسی الزام کو قابل توجہ نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اس کی صفائی میں کچھ کہا جائے۔ پاکستان اس پورے معاملے میں بالکل صاف ہے اور اگر بھارت کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ اسے پیش کرے‘‘
(مطبوعہ روزنامہ جنگ، کراچی ۔ ۷ جنوری ۲۰۰۰ء)
مولانا مسعود اظہر کی تقریر پر امریکی ردعمل
امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ حال ہی میں بھارتی طیارے کے اغواکاروں کے مطابق پر رہا کیے گئے مولانا اظہر مسعود کے خلاف کاروائی کی جائے۔ بی بی سی کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان جیمز روبن نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مسعود اظہر نے کراچی میں جو تقریریں اور بیانات دیے ہیں وہ امریکہ کے لیے ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ان بیانات میں مولانا مسعود اظہر نے پاکستانیوں کو امریکیوں اور بھارت کے خلاف اکسایا ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف تحقیقات کرے اور اگر انہوں نے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو ان کے خلاف کاروائی کرے۔ جیمز روبن نے سخت الفاظ میں پاکستان کو متنبہ کیا کہ اگر مولانا مسعود اظہر کے بیانات کی وجہ سے کسی امریکی کو نقصان پہنچا تو اس کا ذمہ دار پاکستان ہو گا۔
بی بی سی کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک طرح سے پاکستان کو وارننگ دی ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ایسی ہی وارننگ طالبان کو بھی دی گئی تھی۔ بی بی سی کے مطابق پانچ اہم امریکی سینیٹرز آئندہ ہفتے پاکستان آ رہے ہیں، یہ سینیٹرز پاکستانی حکام سے تمام مسائل خصوصاً ہائی جیکنگ، دہشت گردی، افغانستان کے ساتھ تعلقات اور اسامہ بن لادن پر بات چیت کریں گے۔ بی بی سی کے مطابق یہ وفد چاہتا ہے کہ پاکستان انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے۔ بی بی سی کے مطابق ان سینیٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام سے جو بات چیت ہو گی اس کی روشنی میں یہ فیصلہ ہو گا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کیسے ہوں گے۔ بی بی سی کے مطابق صدر کلنٹن کے پاکستان جانے کا فیصلہ بھی ان سینیٹروں کے دورے کے بعد ہو گا۔
(رپورٹ: روزنامہ قومی اخبار، کراچی ۔ ۷ جنوری ۲۰۰۰ء)
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کا مکتوبِ عمومی
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ مدرسہ نصرۃ العلوم فاروق گنج گوجرانوالہ گزشتہ اڑتالیس برس سے دین حق کی سربلندی، اسلامی علوم کی تعلیم و ترویج اور مسلکِ حق علماء دیوبند کی ترجمانی کے لیے بحمد اللہ تعالیٰ تسلسل کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہا ہے اور ملک بھر کے اہلِ علم اور اہلِ حق مدرسہ نصرۃ العلوم کی ان خدمات سے بخوبی آگاہ ہیں۔
راقم الحروف مدرسہ کے آغاز سے جامع مسجد نور کے خطیب اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے بانی و مہتمم و سرپرست کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہا ہے، جبکہ ۱۹۹۱ء میں میری علالت کی وجہ سے مدرسہ کی مجلسِ شورٰی نے میرے بڑے فرزند حاجی محمد فیاض خان سواتی کو مدرسہ کا اہتمام سونپ دیا جس نے کامیابی کے ساتھ مسلسل نو سال تک یہ خدمات سرانجام دیں، اور اس کے دور میں مدرسہ نے خاصی ترقی کی اور مدرسہ کا نظام کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ مگر شورٰی کے صدر و سیکرٹری صاحبان کو کچھ ایسی شکایات پیدا ہوئیں جو معقول نہیں تھیں اور بار بار سمجھانے کے باوجود وہ ان پر اڑے رہے تو عزیزم حاجی محمد فیاض خان سلّمہ نے احتجاجاً استعفٰی دے دیا اور چارج حوالے کر کے ملک سے باہر چلا گیا۔
اس دوران شہر کے سرکردہ علماء کرام اور دیگر اہم شخصیات نے مسلسل کوشش کی کہ صدر و سیکرٹری صاحبان ان شکایات کے بارے میں ملک کے سرکردہ علماء کرام میں سے ایک دو بزرگوں کے سامنے بیٹھ کر بات کریں مگر وہ اس کے لیے کسی صورت میں تیار نہ ہوئے۔ البتہ راقم الحروف کو پیشکش کی کہ میں دوبارہ مدرسہ کا اہتمام سنبھال لوں، جس کے لیے ابتداءً میں آمادہ نہیں تھا مگر شہر کے علماء کرام اور سرکردہ دوستوں کے اصرار پر جب میں نے دوبارہ اہتمام قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تو صدر و سیکرٹری صاحبان نے مدرسہ کے سالہاسال پہلے سے چلے آنے والے متفقہ قواعد و ضوابط میں یکطرفہ طور پر ترامیم کر کے مہتمم کو بالکل بے اختیار اور صدر و سیکرٹری کا ملازم بنا دیا، جسے میں نے قبول نہیں کیا اور قواعد و ضوابط کو متنازعہ قرار دے کر مدرسہ کا اہتمام مشروط طور پر دوبارہ سنبھال لیا۔
اس کے بعد صدر و سیکرٹری صاحبان سے بار بار کہا جاتا رہا کہ وہ قواعد و ضوابط کے بارے میں ملک کے بڑے دینی مدارس کے دساتیر کو سامنے رکھ کر مدارس کے معروف نظام کار کو تسلیم کریں اور اس سلسلہ میں مروّجہ طریقہ کار کا احترام کریں مگر انہوں نے جائز موقف تسلیم کرنے کی بجائے راقم الحروف کو نوٹس دے دیا کہ آپ مدرسہ کے اہتمام اور جامع مسجد نور کی خطابت سے فارغ ہیں اس لیے چارج ایک ملازم کے حوالے کر کے آپ چلے جائیں۔ جس پر میں نے شہر کے علماء کرام اور سرکردہ احباب کی میٹنگ بلائی اور ان کے سامنے ساری صورتحال رکھ دی۔ چنانچہ علماء کرام، اہلِ محلہ، جامع مسجد نور کے نمازیوں اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے معاونین کے شدید اصرار پر میں نے یہ نوٹس تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور صدر و سیکرٹری صاحبان کو ان کے ناروا اور معاندانہ طرز عمل کے باعث ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور مدرسہ نصرۃ العلوم و جامع مسجد نور کے تمام انتظامات خود کنٹرول کر کے عبوری طور پر مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل نئی مجلسِ شورٰی قائم کر دی ہے:
- احقر عبد الحمید سواتی (مہتمم)
- میاں محمد عارف ایڈووکیٹ (صدر)
- ڈاکٹر فضل الرحمٰن (سیکرٹری)
- حاجی ملک محمد زاہد یوسف (خزانچی)
- مولانا زاہد الراشدی (رکن)
- حاجی شوکت علی (رکن)
- حاجی محمد فیاض خان سواتی (رکن)
آنجناب کی خدمت میں یہ عریضہ اس پس منظر اور تازہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے ارسال کیا جا رہا ہے کہ مدرسہ نصرۃ العلوم و جامع مسجد نور گوجرانوالہ کے انتظامات میں نے بانی و مہتمم کی حیثیت سے کنٹرول کر لیے ہیں اور نئی شورٰی نے کام شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد سابق صدر میر ریاض انجم اور سیکرٹری حافظ بشیر احمد صاحبان کا مدرسہ کے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کی طرف سے اخبارات میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے لیے چندہ کی جو اپیلیں شائع ہو رہی ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ نیز ان کے نام پر مدرسہ کا اکاؤنٹ بھی اب مدرسہ و مسجد کے لیے استعمال نہیں ہو رہا۔ اس لیے آنجناب سے گزارش ہے کہ دیگر احباب کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کر دیں اور تعاون کرنے والے دوستوں کو بتا دیں کہ مدرسہ و مسجد کے لیے تعاون کی رقم مدرسہ کے دفتر میں براہ راست جمع کرائی جائے یا مدرسہ کے پہلے سے مقررہ سفیروں (۱) حافظ عبد الکریم (۲) حافظ عبد الغفور (۳) مستری رشید احمد، یا مہتمم کی طرف سے مقرر کردہ نمائندوں میں سے کسی کو دے کر رسید حاصل کریں۔ ان کے علاوہ کوئی شخص مدرسہ نصرۃ العلوم یا جامع مسجد نور کے لیے چندہ جمع کرنے کا مجاز نہیں۔ نیز مدرسہ نصرۃ العلوم کا کوئی پوسٹ بکس نمبر نہیں ہے اس لیے مدرسہ نصرۃ العلوم یا جامع مسجد نور کے حوالہ سے ہر قسم کی خط و کتابت براہ راست مدرسہ نصرۃ العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ کے پتہ پر کی جائے،
شکریہ، والسلام
(مولانا صوفی) عبد الحمید سواتی
بانی و مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم و جامع مسجد نور
محلہ فاروق گنج، گوجرانوالہ
اخبار و آثار
ادارہ
مولانا ندویؒ کی وفات پر پورا عالمِ اسلام غمزدہ ہے
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی ؒ عمرہ کی ادائیگی کے بعد کراچی واپس پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی سے فون پر ملک کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں راہنماؤں نے کونسل کی مرکزی مجلسِ شورٰی کے اجلاس کے بارہ میں مشورہ کیا جو اگلے ماہ طلب کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا مولانا فداء الرحمٰن درخواستی ؒ نے مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ مولانا ندویؒ عالمِ اسلام کی عظیم علمی و دینی شخصیت تھے اور ان کی وفات پر پوری ملتِ اسلامیہ سوگوار ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔
پاکستان شریعت کونسل کے دیگر راہنماؤں مولانا زاہد الراشدی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا قاری سعید الرحمٰن، مولانا حامد علی رحمانی، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا سیف الرحمٰن ارائیں، مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، مولانا محمد حسن کاکڑ، مولانا سخی داد خوستی اور مولانا احسان اللہ ہزاروی نے بھی حضرت ندویؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی و ملی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور بلندئ درجات کی دعا کی ہے۔
مولانا زاہد الراشدی کا دورہ برطانیہ
پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے ۱۶ رمضان المبارک سے برطانیہ کا دو ہفتے کا دورہ کیا اور ابوبکرؓ اسلامک سنٹر (ساؤتھال)، ہدایہ سنٹر (ہیز، مڈل سیکس)، مسجد طیبہ (واش وڈ ہیتھ، برمنگھم)، مسجد ابوبکرؓ (والسال)، مسجد فاروق اعظمؓ (برنلے)، پاکستان سنٹر (نوٹنگھم)، اور مسجد قوت الاسلام (کراؤلی) میں تراویح میں ختمِ قرآن کریم کی تقریبات اور دیگر اجتماعات سے خطاب کیا۔ مولانا راشدی ۲۹ رمضان المبارک کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے اور انہوں نے نمازِ عید الفطر حسبِ معمول مرکزی عید گاہ، مبارک شاہ روڈ، گوجرانوالہ میں پڑھائی۔
جامعہ دارالعلوم کراچی کے فضلاء متوجہ ہوں
جامعہ دارالعلوم کراچی کے تعلیمی سال کے آغاز اور افتتاح بخاری کے موقع پر بروز اتوار، پیر مورخہ ۲۹/ ۳۰ شوال ۱۴۲۰ھ مطابق ۶/ ۷ فروری ۲۰۰۰ء کو دو روزہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے جس میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے دورہ حدیث، تخصص فی الافتاء، اور شعبہ تجوید و قراءت کے تمام فضلاء کی دستاربندی کا فیصلہ گیا ہے۔ اس اجتماع میں تعلیمی و تربیتی مجالس کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ ان فضلاء سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے کوائف اور موجودہ پتہ فون نمبر وغیرہ سے دفتر تعلیمات جامعہ دارالعلوم کراچی کو مطلع کریں۔
ناظم تعلیمات، جامعہ دارالعلوم کراچی، ڈاکخانہ دارالعلوم کراچی ۱۴
ایک ضروری اعلان: اہلِ علم توجہ فرمائیں
مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک قصیدہ لکھ کر علماء اسلام سے اس کا جواب طلب کیا۔ علماء کرام میں سے پروفیسر مولانا قاضی ظفر الدین اورینٹل کالج لاہور نے اس کا جواب ’’قصیدہ رائیہ بجواب قصیدہ مرزائیہ‘‘ تحریر فرمایا اور مولانا حکیم شاہ غنیمت حسین اشرفی نے ’’ابطالِ اعجازِ مرزا‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا ہے۔
ملک بھر کے تمام دینی رہنماؤں اور علماء کرام سے درخواست ہے کہ جن حضرات کے پاس ان کتب میں سے کوئی کتاب موجود ہو تو مطلع فرمائیں۔ عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت ان کتابوں کو شائع کرنا چاہتی ہے، امید ہے کہ اس پر توجہ دی جائے گی۔
جواب کیلئے: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مرکزی ناظمِ اعلیٰ، عالی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان۔
جنرل پرویز مشرف کے نام عبد الرشید غازی کا خط
ادارہ
بخدمت جناب چیف ایگزیکٹو آف پاکستان، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزشتہ سال ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو صبح فون پر میری چھوٹی بہن کا خوف سے بھرا یہ پیغام ملا کہ ابا جان کو گھر سے باہر مسجد کے صحن میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے جہاں میں ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اپنے والد کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا وہاں میرا ذہن یہ بھی سوچ رہا تھا کہ میرے درویش صفت والد سے کسی کو کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔ میرے والد نے زندگی بھر نہ تو فرقہ واریت کی بات کی اور نہ کسی سے ذاتی بغض و عناد رکھا۔ بلکہ ہمیشہ حق اور سچ بات کہتے رہے اور اس میں بھی کبھی تشدد سے کام نہ لیا۔ آخر کسی کو پھر ان سے ایسی کیا دشمنی ہو گئی تھی کہ ان کو مسجد کے صحن میں ٹارگٹ بنا کر گولیوں کا نشانہ بنایا۔ لیکن وقت کے ساتھ مجھے ان سب سوالوں کے جوابات ملتے گئے اور اس قتل کے محرکات، اسباب و عوامل عیاں ہو گئے۔
جناب والا! سابقہ دور میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کی آڑ لے کر جس طرح حق بات کہنے والوں کو راستے سے ہٹایا گیا وہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور میرے والد کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تو صورتحال بالکل واضح ہو جائے گی۔ مختصر عرض کروں کہ تفتیش کے آغاز ہی میں بعض شواہد پر اصل قاتل گرفتار ہوا، اس کی شناخت عینی شاہدین نے کی۔ لیکن چونکہ پس پردہ چھپے ہوئے اصل قاتلوں تک رسائی کو ناممکن بنانا تھا اس لیے مکمل شناخت کے باوجود گرفتار شدہ زیرتحویل قاتل کو ڈرامائی انداز میں چھوڑا گیا اور پھر ہمیں مطمئن کرنے اور خانہ پری کرنے کے لیے اسی چھوڑے گئے قاتل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جاتے رہے اور آہستہ آہستہ ایک سال سے بھی کم عرصہ میں کیس کو دبا دیا گیا۔ اس پورے عرصہ میں یہ بات سب پر واضح ہے کہ انتظامیہ اور پولیس مکمل طور پر اوپر والوں سے خوفزدہ نظر آتی تھی۔
اگر حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو معصوم الفطرت، شفیق الطبع اور فرشتہ صفت انسان کے درد انگیز قتل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف اور سابق وزیر فروغ ذرائع ابلاغ مشاہد حسین ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ ملزم کی بھرپور پشت پناہی کی گئی اور ایک سال گزرنے کے باوجود عالمِ اسلام کے مایہ ناز بزرگ، سرکاری حیثیت کی حامل شخصیت، دارالخلافہ کے خطیب، اور پاکستان رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے بہیمانہ قتل کو سردخانہ میں ڈال دیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک حساس ادارے کا بھی بھرپور کردار نظر آتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کی کیفیت سے ہی بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ حکومت کسی صورت میں بھی تحقیقات میں پیشرفت نہیں چاہتی بلکہ کیس کو فوری طور پر دبانا چاہتی ہے۔ بعد از مختلف ذرائع سے ہمیں پریشرائز بھی کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد علماء کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا رہا کہ اس کیس کے بارے میں بات کی تو تمہارا حشر بھی ان جیسا ہو سکتا ہے۔
جناب والا! میرے والد کا جرم صرف حق اور سچ بات کرنا تھا کہ جس کی سزا ان کو سابق حکمرانوں نے دی۔ بہرحال تمام تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر میں نے مورخہ ۶ نومبر ۱۹۹۸ء کو ایک پریس کانفرنس کی اور اس میں بالکل واضح الفاظ میں دلائل کے ساتھ اس وقت تک ہونے والی تحقیقات پر پریس بریفنگ دی اور حکومت کے رویے، ہتھکنڈوں اور اس بھیانک سازش اور ظالمانہ قتل کے عوامل اور پہلوؤں سے بھی آگاہ کیا۔ میری جانب سے حکومتِ وقت کو موردِ الزام ٹھہرانے پر حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت یا تردید نہ کی گئی۔ مزید اس سلسلے میں پاکستان کے جید علماء نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ بھی شائع کی تھی جسے سابق صوبائی وزیر قاری سعید الرحمٰن صاحب نے مورخہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۸ء کو پریس کانفرنس میں پیش کیا لیکن حسبِ سابق ہمارے حکمران اس دفعہ بھی ٹس سے مس نہ ہوئے۔
چونکہ میرے والد کے قتل میں سابق حکمران ملوث ہیں لہٰذا مجھے ان سے انصاف کی توقع نہ تھی اور میں وقت کے انتظار میں رہا۔ اب میں آپ سے انصاف ملنے کی توقع لے کر عرض کر رہا ہوں کہ میرے والد کے ظالمانہ قتل کے ذمہ دار میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور مشاہد حسین ہیں۔ لہٰذا میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ آپ سنجیدگی کے ساتھ اور خصوصی دلچسپی لے کر میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور مشاہد حسین کو میرے والد کے قتل کے مقدمہ میں شاملِ تفتیش کر کے فوری طور پر تحقیقات کرائیں اور انہیں قرار واقعی انجام تک پہنچائیں۔ اس مقصد کے لیے کسی جید عالمِ دین اور ماہرِ قانون کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے جس میں فوج اور عدلیہ کے نیک اور صالح افراد بھی ہوں تاکہ درویش منش، مخلوقِ خدا کے ہمدرد اور محبِ وطن عالمِ دین کے قتل میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
انصاف کا طالب: عبد الرشید غازی
بن شہیدِ اسلام مولانا عبد اللہ شہیدؒ
مرکزی جامع مسجد شہیدِ اسلام، جی ۶، اسلام آباد