فروری ۲۰۰۰ء

امریکی ایجنڈا اور جنرل پرویز مشرفمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حدیثِ نبویؐ کی اہمیت اور بخاری شریفشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
معاشرتی دیوالیہ پن کے اسبابشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ اور جنرل محمد ضیاء الحق مرحومہارون الرشید 
امریکہ، اسلام اور دہشت گردیولیم بی مائیلم 
پاکستانی معیشت پر غلبہ کے لیے عالمی بینک کا پروگرامعلی محمد رضوی 
عالمی معیشت، یہودی ساہوکار اور مسلم ممالکعبد الرشید ارشد 
مسلم ممالک کے لیے مغربی ممالک کا ایجنڈاظہیر الدین بھٹی 
اسلام آباد میں چیچنیا کے سابق صدر کی گرفتاریحامد میر 
عالمی منظرادارہ 
دستور کی رو سے اسلامی دفعات کے تحفظ کا فرمان جاری کیا جائےادارہ 
غیر سودی نظام کے لیے کمیشن کا قیامادارہ 
کشمیر اور چیچنیا کے مجاہدین کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہارمولانا فداء الرحمٰن درخواستی 

امریکی ایجنڈا اور جنرل پرویز مشرف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکی نائب وزیرخارجہ مسٹر انڈرفرتھ گزشتہ دنوں اسلام آباد آئے اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف اور دیگر مقتدر شخصیات سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ کیا کہ پاکستان کو اپنی سرحدی حدود میں کام کرنے والے انتہا پسند اسلامی گروپوں پر پابندی عائد کرنا ہوگی جو بین الاقوامی برادری کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مسٹر انڈر فرتھ نے کہا کہ حرکۃ المجاہدین سمیت بہت سے مسلح اسلامی گروپ دہشت گردی کر رہے ہیں اس لیے ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی سینٹروں کے وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کے اختتام پر وفد کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے پانچ شرائط پیش کی گئی ہیں۔ روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفد کی پیش کردہ شرائط یہ ہیں:

جہاں تک امریکی مطالبات اور شرائط کا تعلق ہے یہ نئی نہیں ہیں بلکہ ایک عرصہ سے یہ شرائط الفاظ اور عنوان کی تبدیلوں کے ساتھ بار بار سامنے آرہی ہیں اور امریکی حکومت ان شرائط کی تکمیل کے لیے حکومت پاکستان پر مسلسل دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے۔ مگر امریکی صدر مسٹر بل کلنٹن کے مجوزہ دورۂ بھارت سے قبل اس سلسلہ میں کسی حتمی فیصلہ کے لیے پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مسٹر کلنٹن بھارت کے ساتھ پاکستان کا دورہ بھی کر سکیں اور امریکہ کی منصوبہ بندی میں جنوبی ایشیا اور کشمیر کے حوالہ سے جو پروگرام پہلے سے طے شدہ ہے وہ اس کے آغاز کا اعلان کر سکیں۔

امریکہ کی مجبوری یہ ہے کہ جہاد کے جس عمل اور مجاہدین کے جن گروپوں کو اس نے اپنے روایتی حریف سوویت یونین کے خلاف افغانستان کے جہاد آزادی میں سپورٹ کیا تھا اور مالی، عسکری اور تربیتی امداد مہیا کی تھی، امریکہ نے ان سے یہ توقع بھی وابستہ کر لی تھی کہ مجاہدین کی یہ تنظیمیں سوویت یونین کے خاتمہ اور روس کی شکست کے بعد امریکہ کی احسان مند رہیں گی اور امریکہ آئندہ بھی انہیں اپنے مقاصد اور پروگرام کے لیے حسب منشا استعمال کر سکے گا۔ مگر جہاں افغانستان میں امریکی امداد حاصل کرنے والے افغان گروپوں کے ہاتھ سے وہاں کا اقتدار نکل گیا اور طالبان کے نام سے ایک نئی قوت نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کر کے امریکی ایجنڈے کے لیے آلۂ کار بننے سے انکار کر دیا وہاں مجاہدین کی تنظیموں نے بھی اپنی سرگرمیوں کے لیے نئے محاذوں کا انتخاب کیا اور امریکی اشاروں کی پروا کیے بغیر کشمیر، فلسطین، بوسنیا، صومالیہ، کسووو اور چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لیے سرگرم ہوگئیں۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ طالبان اور جہادی تنظیمیں سنکیانگ میں وہاں کے مسلمانوں کے لیے جہاد آزادی کا میدان گرم کر کے چین کو بھی سوویت یونین کی طرح شکست دینے کے امریکی پروگرام کا حصہ بنیں مگر ان مجاہدین کی ترجیحات میں خلیج عرب سے امریکی فوجوں کی واپسی، کشمیر کی آزادی، بوسنیا، کسووو اور چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کی امداد اور فلسطین کی حقیقی آزادی جیسے معاملات زیادہ ضروری اور مقدم قرار پائے جس سے امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر اور اس کی عالم اسلام پر بالادستی کا منصوبہ فلاپ ہوتا دکھائی دینے لگا۔ چنانچہ اسی غصہ میں امریکہ بہادر ان جہادی تحریکات کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں ختم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جن کی وہ خود روسی استعمار کے خلاف حمایت و امداد کرتا رہا ہے۔ اور امریکی نائب وزیرخارجہ اور سینٹروں کے حالیہ دورۂ پاکستان کا پس منظر بھی یہی ہے مگر چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے وفد کو ملاقات کے دوران جو جواب دیا ہے وہ ہمارے نزدیک پاکستانی عوام کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور معروضی حالات میں ایک غیور حکمران کی حیثیت سے انہیں یہی جواب دینا چاہیے تھا۔ چنانچہ روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق:

’’چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے وفد کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کو جہاد سے روکا جا سکتا ہے جیسے روس کے خلاف جہاد کو نہیں روکا جا سکا تھا۔ اعلیٰ عسکری ذرائع نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جہاد مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے، امریکہ کو دہشت گردی اور جہاد میں بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا۔ ان اعلیٰ عسکری ذرائع کے بقول جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کو بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور ہائی جیکنگ کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور کرتا رہے گا تاہم جہاں تک جہاد کا تعلق ہے یہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، دنیا میں مسلمان جہاں بھی جہاد کرتے ہیں وہ دراصل اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہادی تنظیمیں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں سرگرم عمل ہیں اور یہ تنظیمیں کشمیر ہو یا چیچنیا جہاں بھی جہاد کر رہی ہیں اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

ہمارے خیال میں جنرل پرویز مشرف کی اس دوٹوک وضاحت کے بعد اس سلسلہ میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ البتہ جنرل صاحب کو پاکستانی عوام کے جذبات کی اس جرأت مندانہ ترجمانی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہم ان سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ امریکہ کی دیگر شرائط کے بارے میں بھی وہ دوٹوک اور صاف انداز میں وضاحت کر دیں کہ ہم ایک اسلامی ریاست کے باشندے ہیں اور اسلام صرف ہمارا سرکاری مذہب ہی نہیں بلکہ دستور پاکستان کی صراحت کے مطابق قومی دستورِ حیات اور حکومتی پالیسیوں کا سرچشمہ بھی ہے، اس لیے جمہوریت، معیشت، آزادی، حقوق اور ایٹمی قوت سمیت تمام امور کے بارے میں ہم وہی پالیسی اختیار کر سکتے ہیں جس کی قرآن و سنت کی تعلیمات میں گنجائش ہو۔

اس کے ساتھ ہی سی ٹی بی ٹی پر دستخط کی حمایت کرنے والے حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس پر دستخط کر دینے سے پاکستان کی موجودہ ایٹمی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگر اصولی طور پر دو باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے:

ہمیں امید ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں گے اور جہادی تحریکات کی طرح سی ٹی بی ٹی کے بارے میں بھی اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے امریکہ کو دو ٹوک جواب دے کر دینی حمیت اور قومی غیرت کا بروقت مظاہرہ کریں گے۔

حدیثِ نبویؐ کی اہمیت اور بخاری شریف

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تعلیمی سال کا آغاز ۱۸ شوال المکرم ۱۴۲۰ھ کو ہوا اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے بخاری شریف کے سبق کی ابتدا کر کے نئے تعلیمی سال کا افتتاح فرمایا۔ اس تقریب میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے اساتذہ و طلبہ کے علاوہ معززینِ شہر، مختلف دینی مدارس کے اساتذہ اور جماعتی احباب کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ تعالیٰ کا بے پناہ احسان اور اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں انسان اور اشرف المخلوقات بنایا، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا، اور ایمان اور دین کی دولت عطا فرمائی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
ان اللہ یعطی الدنیا من یحب و من لا یحب ولا یعطی الدین الا من یحب۔
’’اللہ تعالیٰ دنیا اس کو بھی دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اس کو بھی دیتا ہے جس سے اس کو محبت نہیں ہوتی، مگر دین صرف اس کو دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘
حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت اور نبوت دونوں عطا فرمائیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو خلافت عطا فرمائی اور نبوت بھی دی۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ جِنّوں اور انسانوں پر اقتدار بھی دیا۔ جبکہ دولت قارون جیسے نافرمان کو بھی دی جس کے بارے میں قرآن کریم میں آتا ہے کہ اس کے خزانہ، یا ایک تفسیر کے مطابق خزانہ کی چابیوں کو نوجوانوں کا مضبوط گروہ (عصبہ) اٹھاتے ہوئے تھک جاتا تھا۔ عصبہ عربی زبان میں دس سے ستر تک کی جماعت پر بولا جاتا ہے، یعنی قارون کے پاس اتنے خزانے تھے کہ دس نوجوانوں کا مضبوط گروہ بھی ان خزانوں کو یا ان کی چابیوں کو نہیں اٹھا سکتا تھا۔ تفسیر ابن کثیرؒ میں ہے کہ قارون کا نام منور تھا اور وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا رشتہ میں پڑپوتا تھا۔ جبکہ امام رازیؒ نے لکھا ہے کہ قارون حضرت موسٰی علیہ السلام کا چچازاد بھائی تھا مگر سرکشی کی وجہ سے اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ 
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دنیا کی دولت اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور نافرمانوں سب کو مل سکتی ہے مگر دین اور ایمان کی دولت اللہ تعالیٰ صرف اپنے پیاروں کو عطا فرماتے ہیں۔ اور ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں دین پڑھنے اور پڑھانے کی توفیق سے نوازا اور ایمان کی دولت نصیب فرمائی۔
دین کی بنیاد قرآن کریم پر ہے اور حدیثِ رسولؐ اس کی تشریح ہے۔ جبکہ فقہ اسلامی قرآن و سنت سے مستنبط کیے جانے والے احکام کا نام ہے۔ منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ حدیث کی کوئی حیثیت نہیں، مگر یہ بات غلط ہے کیونکہ حدیث کے بغیر قرآن کریم سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اس وقت اس کی تفصیل کا موقع نہیں، البتہ دو تین باتیں ضروری طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں:
  • قرآن کریم میں حکم ہے ’’اقیموا الصلوٰۃ‘‘ نماز قائم کرو۔ مگر نماز کی کیفیت، نمازوں کے اوقات، رکعات کی تعداد اور دیگر تفصیلات قرآن کریم میں مذکور نہیں ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل سے ہی ہم یہ تفصیلات معلوم کر سکتے ہیں۔ اس کے بغیر نماز کی ترتیب اور کیفیت کا تعین نہیں ہو سکتا۔
  • اسی طرح قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ’’واٰتوا الزکوٰۃ‘‘ زکوٰۃ ادا کرو۔ مگر اس میں نصاب کی تفصیل کہ کتنے مال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اور زکوٰۃ کی مقدار کہ کتنی رقم زکوٰۃ کے طور پر ادا کرنی ہے، قرآن کریم میں ان کا ذکر نہیں ہے، اور یہ تفصیل جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور عمل سے ہی معلوم ہو سکتی ہے۔
  • قرآن کریم میں حج کا حکم ہے اور یہ ارشاد ہے کہ ’’وللہ علی الناس حج البیت‘‘ صاحبِ استطاعت مسلمان پر حج فرض ہے۔ مگر حج کا طریقہ کیا ہے؟ اس کے اعمال کیا ہیں اور ان میں کیا ترتیب ہے؟ قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائے، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث سے ہی ان کا علم حاصل ہو سکتا ہے۔
  • ابوداؤد شریف میں روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمران بن حصینؓ سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مسئلہ قرآن کریم سے بتانا۔ اس پر حضرت عمران بن حصینؓ ناراض ہو گئے اور فرمایا کہ قرآن کریم نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے، اب تم یہ بتاؤ کہ ہاتھ کہاں سے کاٹنا ہے اور قرآن کریم میں اس کی تفصیل کہاں ہے؟ اس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے معافی مانگی۔ چنانچہ مستدرک حاکمؒ کی روایت میں ہے کہ ’’فصار من فقہاء المسلمین‘‘ وہ بعد میں مسلمانوں کے فقہاء میں شمار ہونے لگا۔
منکرینِ حدیث کا کہنا ہے کہ حدیث کو حجت ماننے سے اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن وہ مغالطہ دیتے ہیں، اس لیے کہ حدیث کو ماننے والے مسلمان سب کے سب نمازوں کی تعداد اور رکعات وغیرہ کی اصولی باتوں پر متفق ہیں، اور ان میں سے زیادہ سے زیادہ جزوی کیفیات پر اختلاف ہے کہ رفع یدین کرنا ہے یا نہیں، آمین آہستہ کہنی ہے یا بلند آواز سے۔ جبکہ حدیث کا انکار کرنے والے گروہ تو نمازوں کی تعداد اور ان کے اوقات پر بھی متفق نہیں ہیں۔ کوئی ایک نماز کہتا ہے، کوئی دو کہتا ہے، اور کوئی چھ نمازیں فرض مانتا ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ ’’فر عن المطر وقام تحت المیزاب‘‘ بارش سے بھاگا پرنالے کے نیچے کھڑا ہو گیا۔
منکرینِ حدیث کے ان اختلافات کی کچھ تفصیل ہم نے اپنی کتاب ’’انکارِ حدیث کے نتائج‘‘ میں بیان کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دیں محدثین اور فقہاء کو کہ محدثینؒ نے احادیث کو مستند طریقہ سے جمع کر دیا، اور فقہاء کرامؒ نے ان کے معانی امت کو سمجھائے۔ حدیث میں متن اور سند بھی ضروری ہے اور معنی اور مفہوم کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پہلے کام کا اہتمام محدثینؒ نے کیا ہے اور دوسری ضرورت فقہاءؒ نے پوری کر دی ہے۔ امام ترمذیؒ نے ایک مقام پر ایک حدیث نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’وکذلک قال الفقہاء و ھم اعلم بمعانی الحدیث‘‘ اور فقہاء نے (اس حدیث کے بارے میں) یہ کہا ہے کہ وہ حدیث کے معانی کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ 
حدیث کی کتابوں میں سب سے اہم بخاری شریف ہے جو امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ نے جمع کی ہے۔ امام بخاریؒ کے پردادا مغیرہؒ حضرت یمان جعفیؓ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ امام بخاریؒ کی ولادت ۱۹۴ھ اور وفات ۲۵۶ھ میں ہوئی اور انہوں نے ۶۲ سال سے کچھ زیادہ عمر پائی۔ امام بخاریؒ نے چھ لاکھ احادیث میں سے صحیح بخاریؒ کا انتخاب کیا اور بخاری شریف کا پورا نام یہ ہے: ’’الجامع المسند الصحیح من حدیث رسول اللہ و سنتہ و احکامہ‘‘۔ بخاری شریف کی ترتیب و تدوین ۱۶ سال میں مکمل ہوئی اور احادیث کے اندراج میں امام بخاریؒ کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ خود فرماتے ہیں کہ ہر حدیث کے لکھنے سے پہلے میں نے غسل کیا اور دو رکعت نماز ادا کی، پھر حدیث لکھی۔
امام بخاریؒ امت کے عظیم محدث اور باوقار اور غیور عالم تھے جنہوں نے علم کے احترام اور وقار کو اس حد تک ملحوظ رکھا کہ بخارا کے حاکم خالد بن احمد نے امام بخاریؒ سے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس آ کر اس کے بچوں کو الجامع الصحیح اور تاریخ پڑھا دیا کریں۔ امام بخاریؒ نے انکار کر دیا۔ آج کا زمانہ ہوتا تو اس پر فخر کیا جاتا کہ گورنر کے گھر جا کر اس کے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ مگر امام بخاریؒ نے اسے علم اور دین کے وقار کے خلاف سمجھا اور انکار کر دیا۔ اس کے بعد گورنر نے کہا کہ چلیں ہمارے گھر آ کر نہ پڑھائیں بلکہ ہمارے بچے خود آپ کے پاس آ کر پڑھیں گے مگر ان کے لیے الگ مجلس کا اہتمام کر دیں۔ حضرت امام بخاریؒ نے اس سے بھی انکار کر دیا اور فرمایا کہ وہ دین پڑھانے میں تفریق نہیں کر سکتے۔ اس پر گورنر بخارا امام بخاریؒ سے ناراض ہو گیا اور اس حد تک تنگ کیا کہ جلاوطن ہو گئے اور سمرقند کے قریب خرتنگ کے  مقام پر مسافرت کے عالم میں امام بخاریؒ کا انتقال ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں، آمین۔

معاشرتی دیوالیہ پن کے اسباب

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

فرمایا ’’واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ‘‘ جان لو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اگر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں سستی دکھاؤ گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے دل کے درمیان آڑے آ جائے اور تم سے تعمیلِ حکم کی توفیق ہی سلب کر لے اور پھر تم نیکی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاؤ۔ ظاہر ہے کہ انسان کا دل تو اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص اس کے حکم پر آمادۂ تعمیل نہیں ہوتا تو وہ اس دل کو پلٹ بھی سکتا ہے۔
دل کا معاملہ بڑا نازک ہے۔ انسان کے ارادے کا مرکز یہی دل ہے اور اس کے ذریعے انسان نیکی یا برائی کی طرف جاتا ہے۔ اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دعا میں سکھایا کرتے تھے ’’یا مقلب القلوب ثبت قلبی علیٰ دینک‘‘ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما۔ آپ نے یہ دعا بھی سکھلائی ’’یا مقلب القلوب صرف قلوبنا الیٰ طاعتک‘‘ اے دلوں کے پھیرنے والے مولا کریمأ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ کہیں یہ الٹ ہی نہ جائیں، جس طرح اہلِ کتاب کے دل نافرمانیوں کی وجہ سے معکوس ہو گئے، اس طرح ہمارے دلوں سے بھی نیکی کی توفیق سلب نہ ہو جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں غفلت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کے درمیان حائل ہو کر اس کی کیفیت ہی بدل دے اور پھر تم ہمیشہ کے لیے تعمیلِ حکم سے محروم ہو جاؤ۔

فتنوں سے بچو

ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایک اور تنبیہ بھی کی ہے ’’واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ‘‘ اس فتنے سے بچ جاؤ جو خاص طور پر صرف ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا بلکہ اس میں پوری کی پوری قوم ملوث ہو جائے گی۔ امام شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ دین میں خرابی پیدا نہ کرو۔ شرکیہ رسوم اور بدعات کو رواج نہ دو کیونکہ اس کا وبال صرف بدعت کرنے والوں پر ہی نہیں بلکہ پوری ملت پر پڑے گا۔ اسی طرح جب دنیا میں کھلے عام برائی کا ارتکاب ہوتا ہے اور پھر لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی انجام نہیں دیتے تو پھر پوری قوم اور جماعت مبتلائے سزا ہو جاتی ہے اور اس میں نیک و بد کا کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا۔ قتلِ ناحق، زنا، شراب نوشی، شرک اور بدعات ایسی بیماریاں ہیں جن کی سزا پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اس فتنہ سے بچ جاؤ جو نہ صرف برائی کے مرتکبین کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے وبالِ جان بن سکتا ہے۔

ریاست کا فتنہ

مفسرِ قرآن مولانا عبید اللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیتِ کریمہ میں جن فتنوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ان میں ریاست کا فتنہ بھی شامل ہے۔ جب تک مسلمان جہاد کرتے رہے، جماعت درست رہی، مگر جب جہاد کو ترک کر دیا تو ریاست کا فتنہ پیدا ہو گیا۔ حضرت عثمان غنی ؓ کے زمانے میں شروع ہونے والا فتنہ آج تک قائم و دائم ہے۔ یہ ایک مسلّمہ اصول ہے کہ جب تک مسلمان عامل بالجہاد رہے ریاست کا نظم و نسق ٹھیک طور سے کام کرتا رہا، مگر جونہی جہاد کا جذبہ کمزور پڑ گیا تو اس کی جگہ حرص و لالچ نے لے لی۔ ہر فرد اور پارٹی دوسری پر غالب آنے کی کوشش میں مصروف ہو گئی اور اس طرح آپس میں قتال شروع ہو گیا جس کی وجہ سے دیگر بے شمار برائیاں قوم میں در آئیں۔ پہلے تو مذہبی فرقے وجود میں آئے اور پھر سیاسی پارٹیاں بن گئیں اور آپس میں سرپھٹول ہونے لگا۔ اس کی مثال خود اپنے ملک میں دیکھ لیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہر جماعت اقتدار کی بھوکی نظر آتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز حربے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتی ہے، جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ساری قوم مشکلات و مصائب کی چکی میں پس رہی ہے۔ نہ سیاسی طور پر سکون ہے نہ معاشی حالت اچھی ہے۔ معاشرہ فتنہ و فساد کا گہوارہ بن چکا ہے۔ قوم روبہ تنزل ہے اور اس سزا میں صرف فتنہ پرداز ہی شامل نہیں بلکہ پوری قوم دینی، معاشرتی اور معاشی لحاظ سے دیوالیہ بن چکی ہے۔
فرمایا ’’واعلموا ان اللہ شدید العقاب‘‘ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ جب کوئی قوم اس قسم کے فتنہ میں مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر اللہ کی گرفت بھی آ جاتی ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ سخت گرفت کرنے والا ہے۔

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ اور جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم

ہارون الرشید

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے توسط سے اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عہد باندھا تھا ۔۔۔ وقت آ گیا ہے کہ یہ راز بیان کر دیا جائے، جنرل پرویز مشرف کو اس وعدے سے آگاہ کر دیا جائے اور یہ عہد ان کی طرف منتقل کر دیا جائے۔ ایک صادق اور امین گواہ موجود ہے جو پوری ذمہ داری اور تفصیل کے ساتھ اس تحریر پر شہادت دے سکتا ہے اور جنرل پرویز مشرف اس گواہ سے ذاتی طور پر واقف ہیں۔ یہ ان کے سکیورٹی کونسل کے رکن ڈاکٹر محمود غازی ہیں، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر اور سپریم کورٹ کے سابق جج۔
بہت دن پہلے ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ اس عاجز کو سنایا تھا، انہوں نے اشاعت کی اجازت مرحمت نہ کی تھی۔ جمعہ کی شب جب کسی اور موضوع پر گفتگو کے لیے اس صاحبِ علم کو زحمت دی گئی تو ازراہِ کرم انہوں نے رونگٹے کھڑے کر دینے والا یہ واقعہ میرے لیے دہرایا اور اشاعت کی اجازت عطا کی۔ پورے چوبیس گھنٹے میں نے معاملے کے سیاق و سباق پر غور کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ پیغام منتقل کرنے کا وقت ہے اور اب اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
یہ آٹھویں عشرے کا ذکر ہے (تاریخ اخبارات کی فائل سے متعین کی جا سکتی ہے) جب مدینہ منورہ سے جنرل محمد ضیاء الحق کے رفیق کار جناب اے کے بروہی نے ٹیلی فون پر ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ جدہ سے بھارت جاتے ہوئے نصف دن کے لیے کراچی میں قیام کریں گے۔ وہ ایک انتہائی اہم پیغام لے کر آ رہے ہیں لہٰذا صدر راولپنڈی سے کراچی پہنچ کر ان سے مل لیں۔ معلوم نہیں عظیم قانون دان نے سرکار ﷺ کا حوالہ دیا یا نہیں، تاہم جنرل محمد ضیاء الحق نے فورًا ہی آمادگی ظاہر کی۔ حجاز سے اے کے بروہی بھی ان کے ساتھ آئے۔
جیسا کہ بعد میں جناب بروہی نے ڈاکٹر محمود غازی کو بتایا کہ یکایک انہیں الجھنوں نے آ لیا تھا اور وہ قرار کی تلاش میں حجازِ مقدس گئے تھے۔ مدینہ منورہ میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ وہ شخص کہ عالم کی حیثیت سے تاریخ جس کا تذکرہ ابوالکلام آزادؒ، علامہ اقبالؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ساتھ کرے گی، اور جہاں تک ان کے خاص ہنر یعنی عربی زبان میں نثرنگاری کا تعلق ہے، ساری دنیا جانتی ہے، عرب و عجم میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا۔ اس آدمی کی ذاتی زندگی اجلی، پاکیزہ اور قابلِ تقلید تھی۔ مدینہ منورہ میں اے کے بروہی نے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کو یکایک اس حال میں دیکھا کہ اضطراب ان کے پورے پیکر سے پھوٹ رہا تھا۔ سرکار ﷺ کا پاک باز امتی گنبدِ خضرٰی کے سائے میں حیران اور ہراساں تھا، یہ کس قدر تعجب خیز بات تھی!
ابوالحسن علی ندویؒ ایسے لوگ اپنے اضطراب کا راز بیان نہیں کیا کرتے لیکن اے کے بروہی غالباً اسی لیے مدینہ منورہ بلائے گئے تھے کہ پیغام سنیں اور پہنچا دیں۔ ابوالحسن علی ندویؒ نے، جنہیں پیار سے علی میاں کہا جاتا تھا، خواب میں سرکار ﷺ کو دیکھا تھا اور عالی مرتبت ﷺ نے ان سے خواب میں یہ پوچھا کہ انہوں نے آپؐ کی حفاظت کا کیا انتظام کیا ہے؟ جیسا کہ بعد میں علی میاں نے بیان کیا، وہ مضطرب ہو کر اٹھ بیٹھے لیکن کچھ دیر میں دوبارہ سوئے تو پھر سے سرکار ﷺ کی زیارت ہوئی اور آپؐ نے دوسری بار سوال کیا، تم نے میری حفاظت کا کیا انتظام کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ کے دونوں امتی اضطراب، حیرت، رنج، خوف اور تعمیل کی آرزو کے ساتھ بہت دیر تک اس سوال پر غور کرتے رہے کہ سرکارؐ کے ارشاد کا مفہوم کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نور الدین زندگی کا سا معاملہ نہ تھا جب وہ دو بدبخت یہودیوں نے مرقد مبارک میں نقد لگانے کی جسارت کی تھی۔ نو سو برس سے سیسے کی دیواریں جسمِ اطہر کی حفاظت کرتی ہیں، اب اس اشارے کا مفہوم شاید کچھ اور تھا۔
آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس معاملے کو عالمِ اسلام کی سب سے بڑی سپاہ کے سردار جنرل محمد ضیاء الحق کے سپرد کر دیا جائے۔ ان کے نزدیک اس پیغام کا مطلب یہ تھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرزمین بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم خطرات سے دوچار ہے۔ یہ سمجھ میں آنے والی بات تھی کیونکہ سرکارؐ کو اپنی امت سے بڑھ کر کبھی کسی چیز کی فکر لاحق نہ ہوئی تھی۔ بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ جزا و سزا کے دن جب عظیم الشان انبیاءؑ سمیت ہر شخص اپنی جان کے روگ میں مبتلا ہو گا، سرکارؐ اس روز بھی امت کے غم خوار ہوں گے۔
خیرمقدم ہو چکا، عظیم استقبالیہ تقریب برپا کی جا چکی اور تنہائی کا لمحہ وارد ہوا، یہ وقت ان سب پر بہت بھاری تھا۔ سادہ، سچے اور کھرے آدمی نے، سارا عرب جس کے حسنِ بیاں کا مداح تھا، صاف اور آسان الفاظ میں اپنا خواب دہرایا۔ پھر شائستہ آدمی نے اپنا ہاتھ شائستہ جنرل کے گریبان پر رکھا اور کہا، میں نے سرکار ﷺ کا پیغام آپ کو پہنچا دیا، قیامت کے دن حضورؐ کے سامنے مجھ سے سوال کیا گیا تو اسی گریبان کو تھام کر آپ کو سامنے لے جاؤں گا اور عرض کروں گا کہ میں نے فرض چکا دیا تھا۔ یہ کہتے ہوئے ۷۳ سالہ عالمِ دین رو دیا۔ گداز اور درد کی شدت سے شاید اس کا پورا پیکر کانپ رہا ہو گا۔ بروہی روئے اور محمد ضیاء الحق بھی روئے کہ دونوں گریہ کرنے والے آدمی تھے۔ لیکن جنرل کے لیے یہ فیصلے کی ساعت تھی اور وہ زیادہ دیر تک نہ رو سکا لہٰذا اس نے جلد ہی خود کو تھام لیا۔ پانچ لاکھ فوج اور ایٹمی پاکستان کے سربراہ نے اپنے آنسو پونچھے، پھر انکساری اور عاجزی لیکن محکم لہجے میں انہوں نے کہا، اگر آنجناب کو پھر سے حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہو تو نہایت ادب سے عرض گزاریں کہ پاکستانی فوج کا آخری سپاہی تک کٹ مرے گا لیکن مدینہ منورہ اور حرمین شریفین پر آنچ نہ آنے دے گا۔
کون جانتا ہے کہ اس وقت جنرل کی آنکھوں میں کیسی چمک ہو گی اور وہ کن رفعتوں کو چھو رہا ہو گا۔ جنرل نے اپنا وعدہ کس طرح پورا کیا؟ میرا خیال ہے کہ ایٹمی پروگرام کی تکمیل اور حفاظت سے۔ پھر وہ قتل کر دیے گئے اور ظاہر ہے کہ انہیں ان لوگوں نے قتل کیا جو عالمِ اسلام کے دشمن تھے۔ ان کے جانشین صدر غلام اسحاق خان ایک نوکری پیشہ آدمی تھے اور ان سے کسی کو امید نہ تھی، لیکن تاریخ شہادت دے گی انہوں نے امانت داری کے تمام تقاضے پورے کر دکھائے۔ وہ امریکی سازشوں کے سامنے ڈٹے رہے حتٰی کہ اقتدار سے الگ کر دیے گئے۔ بے نظیر کو ایٹمی پروگرام میں مداخلت کی اجازت ہی نہ تھی، وہ ایسی بدقسمت پاکستانی حکمران تھیں جنہیں کہوٹہ میں داخل ہونے کی توفیق تک نہ ہو سکی۔
جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے، جلد ہی کھل جائے گا کہ انہوں نے صرف کارگل پر بہنے والے پاک لہو کا سودا نہ کیا تھا بلکہ وہ افغانستان، اسامہ بن لادن، ایٹم بم اور میزائل پروگرام کا قضیہ چکانے کا وعدہ بھی کر چکے تھے۔ لیکن پھر ایک ذرا سی غلطی انہیں اسی طرح اڑا لے گئی جیسے تنکے کو آندھی اڑا لے جاتی ہے۔ اب یہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے بلند عزم رفقاء کی ذمہ داری ہے جن میں سے بعض کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ شاید گردنیں کٹوا دیں مگر پاکستان اور اسلام سے بے وفائی نہ کریں۔
اس عاجز کا فرض صرف یہ تھا کہ ۱۹۸۰ء کی پاک فوج کے سربراہ نے سید ابوالحسن علی ندویؒ کے توسط سے سرکارؐ کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ ۲۰۰۰ء کی سپاہ اور اس کے سرداروں تک پہنچا دیا جائے۔ اس سوال پر غور کرنا ان کا کام ہے کہ کیا ایٹمی پروگرام کے بغیر یہ وعدہ پورا کیا جا سکتا ہے، اور یہ کہ کیا سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں کے بعد یہ پروگرام محفوظ ہو جائے گا؟ رہ گیا وہ شخص جو سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں کے لیے بہت بے چین ہے تو تحقیق کر لی جائے کہ اس شخص اور اس کی اولاد کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں یا امریکہ سے؟ ۔۔۔ اس عاجز کے پاس کچھ شواہد موجود ہیں، وقت آیا تو وہ قوم کے سامنے پیش کر دے گا۔ اگر وہ زندہ رہا، اگر اس کا سر اس کے کندھوں پر سلامت رہا۔
’’اور اللہ کی رحمت سے صرف گمراہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔‘‘ (القرآن)
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ، کوئٹہ ۔ ۳ جنوری ۲۰۰۰ء)

امریکہ، اسلام اور دہشت گردی

ولیم بی مائیلم

(اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سفیر جناب ولیم بی مائیلم نے ۲ دسمبر ۱۹۹۹ء کو انگلش اسپیکنگ یونین لاہور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام اور دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی حکومت کے موقف اور پالیسیوں کی وضاحت کی ہے، ان کا یہ خطاب روزنامہ نوائے وقت لاہور کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس پر مدیر ’’الشریعہ‘‘ مولانا زاہد الراشدی کا تبصرہ آئندہ شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں۔ ادارہ)


امریکہ کے سفیر ولیم بی مائیلم کا خطاب

آج میں وہ کچھ کرنا چاہتا ہوں جو کسی بھی مقرر کے لیے ایک انتہائی مشکل کام ہو سکتا ہے یعنی ایک ایسے تصور کی بیخ کنی کرنا اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا جو ذہنوں کی گہرائی میں جاگزیں ہو چکا ہو۔ یہ تصور نہ صرف یہ کہ غلط ہے بلکہ امکانی طور پر خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اور وہ تصور یہ ہے کہ امریکہ اسلام کو اپنا دشمن گردانتا ہے اس لیے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ امریکہ سے دشمنوں جیسا سلوک کریں۔ اس تصور کے شواہد بہت نمایاں ہیں اور اس کے لیے ہمیں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ یہاں پاکستان میں یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں بعض سیاسی یا مذہبی انتہاپسند، غیر ذمہ دارانہ بیانات میں اپنے دینی بھائیوں سے کہتے رہتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی امریکی نظر آئیں انہیں نشانہ بنایا جائے۔ جبکہ امریکہ میں اس قسم کے عاقبت نا اندیش تصورات اتنے نمایاں نظر نہیں آتے لیکن بدقسمتی سے وہاں بھی کچھ ایسے ناسمجھ لوگ موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام اگر امریکہ کا دشمن نہیں تو کم از کم ان کے ملک کے لیے خطرہ ضرور ہے۔ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ سوچ نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ انتہائی خطرناک ہے۔
اگر آپ اخبارات پڑھتے ہیں تو آپ کے علم میں ہو گا کہ میں نے گزشتہ سال کئی تقاریر میں اس قسم کے غلط اور کم فہم رویوں کی مخالفت کی ہے۔ اکثر اوقات میں ان تصورات کو نظریاتی اور تاریخی حوالوں کی روشنی میں دیکھتا ہوں تاکہ اس عظیم فلسفیانہ باہمی مطابقت کو اجاگر کیا جا سکے جو دونوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ میں حقائق کے برعکس ان تاریخی اور واقعاتی حوالوں پر بھی نظر رکھتا ہوں جو ایسے نتائج اخذ کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں کہ امریکہ اور اسلام ایک دوسرے کے دشمن ہیں یا فطری حریف ہیں۔
آج میں تصورات و نظریات کی بلندیوں کے تذکرے کے بجائے ایک ایسے موضوع پر اظہارِ خیال کروں گا جس کا تعلق عملی سیاست کے نشیب سے ہے۔ یہ مسئلہ اسلام سے خوفزدہ امریکیوں اور امریکہ کو دشمن سمجھنے والے مسلمانوں کے ان اندیشوں کا نتیجہ ہے جو اسلام اور دہشت گردی کو گڈمڈ کر دینے سے پیدا ہوئے۔ میں بلا خوفِ تردید یہ کہتا ہوں کہ امریکی حکومت اور بیشتر امریکی عوام اس الجھن کا شکار نہیں ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ یا بیشتر مسلمان بھی اس الجھن میں مبتلا نہیں ہیں، لیکن ہم میں سے ایک بہت چھوٹی سی اقلیت کا بھی اس مخمصے کا شکار ہونا انتہائی مہلک اور تباہ کن ہے۔
امریکہ کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ دہشت گردی انسانی تاریخ کے لیے نئی نہیں ہے۔ البتہ حالیہ عشروں میں یہ ان لوگوں کا پسندیدہ ہتھیار بن گئی ہے جنہیں عوامی اور اخلاقی حمایت حاصل نہیں ہوتی اور جو اپنے مطالبات منوانے کے لیے نہ تو سیاسی جدوجہد کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے نظریات رائے عامہ کے لیے کوئی کشش رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کسی ایک مذہب، علاقے یا سیاسی گروہ تک محدود نہیں ہے۔ بدقسمتی سے آپ کا وطن اور میرا وطن دونوں ہی نہ صرف داخلی دہشت گردی بلکہ بیرونی شہہ پر کی جانے والی دہشت گردی کا شکار ہیں۔
امریکی کانگریس نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت انتظامیہ ہر دو سال میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست مرتب کرنے کی پابند ہے۔ اس سلسلے کی دوسری فہرست گزشتہ ماہ سامنے آئی ہے، اس فہرست میں اٹھائیس تنظیموں کے نام شامل ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں یعنی اس سے قطع نظر کہ یہ چھوٹی سی اقلیت کیا سمجھتی ہے، یہ فہرست نہ تو صرف اسلامی گروپوں پر مبنی ہے اور نہ ہی اس میں شامل ناموں میں غالب اکثریت مسلمان گروپوں کی ہے۔ بلاشبہ اس فہرست میں اسامہ بن لادن کی تنظیم القائدہ (Al-Qaida) شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں جنوبی امریکن، جاپانی، یورپی اور ایشیائی دہشت گرد گروپ بھی شامل ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کا نشانہ کوئی مذہب یا نظریہ نہیں بلکہ ہماری جنگ ان مجرموں کے خلاف ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قتل اور تشدد کی راہ اپناتے ہیں۔ یہ دستاویز محض ان تنظیموں کے ناموں پر مشتمل فہرست نہیں ہے جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مؤثر ہتھیار ہے جسے حقیقی دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میں آپ کے سامنے کچھ ایسے ٹھوس نتائج بیان کر سکتا ہوں جو اس ہتھیار کے استعمال سے حاصل ہوئے ہیں:
  • دس سال قبل پین امریکن کی پرواز ۱۰۳ کی بم دھماکے سے تباہی کے دو مشتبہ ملزمان اب حراست میں ہیں اور اسکاٹ لینڈ کی عدالتیں ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کی تیاری کر رہی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے ضمن میں ہمارا حافظہ بہت ہی قوی ہے۔
  • الخبر (Khobar) سعودی عرب میں بم دھماکے کے ایک مشتبہ ملزم کو مقدمہ چلانے کی غرض سے گزشتہ ماہ سعودی عرب بھیج دیا گیا۔
  • ہم نے حال ہی میں افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مشتبہ ملزم کو متعلقہ ملک کے حوالے کیا ہے جو ہمارے خیال میں دارالسلام میں امریکی سفارتخانے میں بم دھماکے میں ملوث ہے۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ بہت سے مسلمان ممالک بھی دہشت گردی کا شکار ہیں، دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں ہم ان حکومتوں سے بھی تعاون کرتے ہیں جو دہشت گردی کا نشانہ اور شکار ہیں۔ ہم نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ساتھی ممالک بلکہ کئی ایسے دوسرے ملکوں سے بھی قریبی تعاون کر رہے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا عزم کر رکھا ہے۔ ہم ان ملکوں کو صرف اپنی فہرستوں سے استفادہ کرنے یا محض یہ کہنے پر اکتفا نہیں کرتے کہ وہ اپنے حفاظتی انتظامات بہتر بنائیں، بلکہ انسدادِ دہشت گردی کے پروگرام کے تحت بھی ان سے تعاون کرتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت فنڈ مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی امریکی سفیر مثال کے طور پر یہ کہہ سکتا ہے کہ ہمارے خیال میں ہوائی اڈے پر آپ کے حفاظتی انتظامات کمزور اور ناقص ہیں اور ہم انہیں بہتر بنانے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف متعلقہ ملک کو تربیتی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں بلکہ ہمارے سفارت خانوں اور متعلقہ ممالک کے سکیورٹی کے اداروں کے تعلقات مستحکم ہوتے ہیں۔ اس طرح کے تعلقات نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں اور ہمیں دنیا بھر میں ہوائی اڈوں کے ذریعے نقل و حرکت کرنے والے دہشت گردوں کو پکڑنے کا موقع ملتا ہے اور خاطرخواہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

امریکہ روادار، جامع، اور جمہوری معاشروں کا حامی ہے

اب تک میں نے ان باتوں پر اظہارِ خیال کیا ہے جن کا امریکہ مخالف ہے یعنی دہشت گردی اور جبر و ظلم۔ لیکن اب کچھ ذکر ان باتوں کا جن کا امریکہ حامی ہے اور یہ کہ مسلمان ملکوں سے ہمارے تعلقات پر وہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگرچہ امریکہ کو اپنے آئین اور ان مخصوص سیاسی اداروں پر فخر ہے جو اس نے پروان چڑھائے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ انہیں مثالی اداروں کی حیثیت سے دوسرے ملکوں کو براہ راست برآمد نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اس کے بجائے ہم ایسے معاشروں کے فروغ کی حوصلہ افزائی اور مدد کرتے ہیں جو روادار، جامع اور جمہوری ہوں۔

مغرب اور عالمِ اسلام دونوں میں کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں: آیا اسلام جمہوریت سے ہم آہنگی اور مطابقت رکھتا ہے؟ ایران اور افغانستان میں سیاسی اسلامی تحریکوں کے بعض مغربی ناقدین کی رائے ہے کہ مذہب کے زیراثر اسلامی حکومتیں روادار اور جمہوری نہیں ہو سکتیں۔ عالمی سیاست میں مغرب کی بالادستی کے مخالف بعض مسلمان ناقدین سمجھتے ہیں چونکہ جمہوری ادارے مغربی سامراجیت کی دین ہیں اس لیے اگر امریکہ روادار، جامع اور جمہوری معاشروں کی حمایت کرتا ہے تو گویا وہ عالمِ اسلام سے تصادم کی راہ پر گامزن ہے۔

اسلامی نظام کے بعض حامیوں نے اسلام کے اصولوں اور دلائل کی آمیزش سے پارلیمانی جمہوریت کو اسلام کا لبادہ پہنایا ہے۔ مصر کی اخوان المسلمین اور یہاں پاکستان میں جماعتِ اسلامی جیسی پارٹیاں جمہوری نظام کی حامی ہیں اور جمہوری انتخابات میں حصہ لے چکی ہیں، ترکی کی اسلامی رفاہ پارٹی تو برسرِ اقتدار بھی رہ چکی ہے۔

اسلام کے ایک امریکی اسکالر ڈاکٹر جان اسپوزیٹو نے اس مسئلے کا جائزہ لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جمہوریت جدید اسلامی سیاسی فکر و عمل کا ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔ بہت سے مسلمان ملکوں میں اسے ایک ایسی کسوٹی کے طور پر قبول کیا گیا ہے جس کے ذریعے حکومتوں کی فراخدلانہ پالیسیوں اور اسلامی جماعتوں کی موزونیت کی پرکھ ہوتی ہے۔ اور یہ جواز مباح اور غیر مباح قرار دینے کی ایک مضبوط و توانا علامت بن چکا ہے کیونکہ اسے ایک آفاقی خوبی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

اسلامی تحریکوں کو ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہ تنوع کو برداشت کرنے کے سلسلے میں صلاحیت ثابت کریں۔ اسلامی نظام کے زیر اثر بعض حکومتوں کو اقلیتوں کی حیثیت، خواتین کے حقوق، اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ میں بلا جھجھک یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ خود میرے ملک میں رواداری، جامعیت اور جمہوریت کے مقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کانگریس نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ہم دنیا بھر کے ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک سالانہ رپورٹ شائع کرنے کے پابند ہیں۔ ہم خود بھی اس رپورٹ پر سو فیصد پورا نہیں اترتے، لہٰذا میں کہوں گا کہ امریکہ، مغربی دنیا اور عالمِ اسلام ہم سب ہی ان مقاصد کے حصول کے لیے یکساں خواہشمند ہیں۔ بڑے پیمانے پر سیاسی آزادی اور سیاسی عمل میں شرکت تبدیلی کے اس عمل کا حصہ ہیں جس کے ذریعے نئی سیاسی روایات اور ادارے وجود میں آتے ہیں لیکن اس کے لیے وقت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔

گزشتہ عشروں میں جمہوری تحریکوں اور حکومتِ وقت سے مزید آزادیوں کے حصول کے لیے دباؤ میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ دس سال پہلے جب سوویت یونین اور مشرقی یورپ جمہوریت کی رو میں بہے تو

  • سوویت یونین میں زیادہ خودمختاری کے لیے مسلمان قومیتوں کے مطالبے،
  • اور مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے عمل کے لیے فلسطینیوں،
  • اور آزادی کے لیے کشمیریوں کے مطالبات

نے دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کی توجہ حاصل کر لی۔

سیکولرازم اور اسلامی نظام کے علمبردار اپنی حکومتوں پر سیاسی آزادی اور جمہوریت کے حوالے سے نکتہ چینی کرتے ہیں۔ اردن، مصر، کویت، تیونس اور پاکستان جیسے ملکوں میں سیاسی تبدیلیوں کے محرکین میں بڑے پیمانے پر دوسروں سے ہم آہنگی کا احساس جمہوری اداروں، اقلیتوں اور اپوزیشن کے نقطہ نظر سے رواداری کے لیے قبولیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

امریکہ بذاتِ خود ایک بڑا مُسلم معاشرہ ہے

امریکہ کے اسلام مخالف نہ ہونے کا ایک اور واضح سبب یہ ہے کہ امریکہ بذاتِ خود ایک بڑا مسلمان معاشرہ ہے۔ آپ اس دعوے کو حیرت انگیز کہہ سکتے ہیں یا اسے غلط سمجھ سکتے ہیں مگر حقیقت ہے کہ ساٹھ سے ستر لاکھ کے درمیان امریکی شہری مسلمان ہیں۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی اردن سے زیادہ ہے بلکہ کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اومان کی کل مسلم آبادی کے مقابلے میں امریکی مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مسلمان امریکہ کی ہر ریاست اور علاقے میں موجود ہیں۔ امریکی معیشت کے ہر شعبے میں ان کا عمل دخل ہے۔ وہ عام مزدور سے لے کر کمپنی ایگزیکٹوز تک ہر حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔ وہ امریکی مسلح افواج میں شامل ہیں اور وزارتِ خارجہ سمیت تمام سرکاری محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

بیشتر امریکی مسلمان یا ان کے والدین پاکستان، لبنان، مصر یا دوسرے مسلمان ملکوں سے امریکہ منتقل ہوئے ہیں۔ دیگر تارک وطن گروپوں کی طرح وہ بھی امریکی معاشرہ اپنانے کے لیے تندہی سے کوشاں ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے دین اور ثقافت سے بھی رشتہ برقرار رکھا ہے۔ یہ تسلیم ہے کہ انہیں دوسرے تارک وطن گروپوں کی طرح غلط فہمیوں اور مسائل کا سامنا ہے لیکن ان مسائل کو حل کرنے کے لیے وہ سماجی دباؤ، سیاسی قوت اور اپنے قانونی حقوق منظم کر کے مسلسل مؤثر حیثیت حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ ان حالات کے پیشِ نظر بعض مذہبی انتہا پسندوں کا مسلمانوں سے یہ کہنا کہ وہ امریکیوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیں، ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ ساٹھ لاکھ افراد مسلمان اور امریکی ہیں، وہ اس وقت امریکہ میں سب سے تیزی سے پھیلنے والے دین کی نمائندگی کرتے ہیں۔

امریکی معاشرے کے اندر موجود اس بہت بڑے طبقے کے ہم پر مثبت تعمیری اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مسلمان کنبوں کے مضبوط و مستحکم خاندانی رشتے اور ان کے برتاؤ اور سلوک کے اعلیٰ معیار ہمارے معاشرے کی تعمیر کے عوامل میں استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی سے لاس انجلس اور کیلیفورنیا تک امریکہ کے طول و عرض میں قائم ہزاروں مساجد ہمارے شہروں کے تعمیراتی تنوع میں ایک دلکش اضافہ ہیں۔ روز مرہ اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے درکار وقت کے لیے آجر ہفتے کے اوقات کار میں ردوبدل کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔ بہت سے مسلمان خاندان جو دینی احکامات کے مطابق لباس کو ترجیح دیتے ہیں، سکولوں حتٰی کہ مسلح افواج کو لباس کے بارے میں پابندیاں نرم کرنے پر مصر ہیں۔ ان میں سے کوئی بات اختلافِ رائے اور مزاحمت کے بغیر عمل میں نہیں آتی، لیکن اپنی ضروریات کے مطابق ردوبدل اور تبدیلی کے لیے امریکی مسلمانوں کی جدوجہد امریکہ کو ہمیشہ سے کہیں زیادہ جامع، کثیر الثقافتی اور روادار معاشرہ بنانے کے لیے ایک صحت مندانہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

ثقافتوں کے درمیان مکالمے اور گفتگو کی ضرورت

ہم میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ اپنے معاشرے کے اندر تضادات اور ثقافتوں کے درمیان تصادم پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اتفاقِ رائے کو اخبارات اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی کہ وہ اختلافِ رائے کو اچھالتے ہیں۔ ویسے بھی اختلافِ رائے مکالمے سے زیادہ ڈرامائی لگتا ہے۔ لیکن مجھے اجازت دیجئے کہ میں ثقافتوں کے بارے میں ڈائیلاگ کی ضرورت کے بارے میں کچھ فکر انگیز باتیں دہرا سکوں جو حال ہی میں ایک پاکستانی تجزیہ نگار ڈاکٹر رفعت حسین نے، جن کا میں احترام کرتا ہوں، لکھی ہیں۔ ڈاکٹر رفعت حسین روزنامہ ’’دی نیشن‘‘ میں رقم طراز ہیں:

  1. ’’گفتگو اور مکالمے سے لوگوں، اقوام اور ملکوں کے درمیان اختلافات کے پُراَمن تصفیے کو فروغ ملتا ہے۔ اور چونکہ ثقافت اور ثقافتی تشخص کے نمایاں پہلو محاذ آرائی کا سبب ہوتے ہیں اس لیے ثقافتوں کے درمیان ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔
  2. مکالمے کے متبادل خصوصاً جنگ یکسر ناقابلِ قبول ہے۔ آج کے ایٹمی دور میں کوئی قوم جنگ کی راہ نہیں اپنانا چاہتی۔
  3. گفتگو سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کے بارے میں بہتر مفاہمت فروغ پاتی ہے، اور ارسطو کے بقول مکالمے اور بات چیت سے ایسے اعمال کی راہ ہموار ہوتی ہے جن سے ذاتی منفعت اور خودغرضی کی بجائے دوسروں کی بھلائی کی سوچ پروان چڑھتی ہے۔
  4. مکالمے سے انسانی مساوات اور برابری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو انسانی تہذیب کا جوہر ہے۔
  5. بات چیت تعاون اور مشترکہ سلامتی کے لیے عملی اقدام کی حیثیت رکھتی ہے۔
  6. مکالمے سے تعاون کے امکانات و فوائد کے علاوہ مسلسل محاذ آرائی، دشمنی اور تصادم کے نقصانات واضح ہو جاتے ہیں، جس سے محاذ آرائی کے محرکات بدلنے میں مدد ملتی ہے۔
  7. مکالمہ اور گفتگو، مذاکرات اور سمجھوتے کے لیے شرطِ اول اور تمہید کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘

میرے نزدیک ان باتوں میں بڑی معنویت ہے۔ لہٰذا آج میری اپیل یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کو اپنا دشمن تصور کرنے کے آسان مگر گمراہ کن راستے کو ترک کرنے کا چیلنج قبول کرنے کے لیے کمربستہ ہو جائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور بعض مسلمان ملکوں کے درمیان حقیقی اختلافات ہیں، لیکن جیسا کہ آج میں نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اختلاف کے مقابلے میں ہمیں متحد کرنے والی باتیں کہیں زیادہ ہیں۔ اگر ہم سب

  • باہم مفاہمت بڑھانے،
  • زیادہ جمہوریت،
  • اقلیتوں کے ساتھ زیادہ برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرنے،
  • انسانی حقوق کے احترام کا معیار بلند کرنے،
  • اور اپنے سیاسی نظاموں میں تمام سماجی گروپوں کو وسیع تر بنیاد پر شامل کرنے

کے لیے اپنی کوششوں کو مزید موثر و مستحکم بنا لیں، تو ہم امریکہ اور مسلمان ملکوں کے درمیان نہ صرف شکوک و شبہات کم کر سکیں گے بلکہ ہم اپنے اپنے ملکوں کو زیادہ مستحکم اور منصفانہ معاشرہ بنا سکیں گے۔


پاکستانی معیشت پر غلبہ کے لیے عالمی بینک کا پروگرام

علی محمد رضوی

پاکستانی معیشت کی کارکردگی کے بارے میں عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ اس لحاظ سے ایک اہم دستاویز ہے کہ اس کے ذریعے ہمیں پاکستان کے بارے میں استعمار کی پالیسی کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

(۱) عالمی بینک کی حکمتِ عملی

معیشت کے ان پہلوؤں پر ورلڈ بینک نے سفارش کی ہے:
  • ۱۹۸۶ء/۱۹۸۷ء سے لے کر ۱۹۹۷ء/۱۹۹۸ء کے درمیان دفاعی اخراجات میں جی ڈی پی کے تناسب سے ۳۳ فیصد کمی۔
  • اسی عرصہ کے دوران حکومتی سطح پر چلنے والے کاروباری اور پیداواری اداروں میں کمی آئی اور ان کی تعداد ۲۰۰ سے گھٹ کر ۱۱۰ ہو گئی ہے۔
یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اس رپورٹ میں اس بات کا قطعاً کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ پرائیویٹائز کیے گئے ان اداروں میں ۹۰ فیصد یا تو بھاری خسارے میں جا رہے ہیں یا بند ہو چکے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک طرف تو ورلڈ بینک اخراجات میں کمی بات کرتا ہے، لیکن دوسری طرف قرضوں کی مد میں سود کی ادائیگی، جو کہ اخراجات کے اعتبار سے اہم ترین مد ہے، کے بارے میں ورلڈ بینک بالکل خاموش ہے۔ ۱۹۸۵ء سے لے کر ۱۹۸۹ء تک قرضوں پر سود کی ادائیگی کا مجموعی بجٹ کے اعتبار سے تناسب ۱۴ فیصد سے بڑھ کر ۳۳ فیصد ہو گیا ہے، لیکن قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ورلڈ بینک ہمدردی کے دو لفظ بولنے پر بھی تیار نہیں ہے۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک نے پاکستانی معیشت کے جن اصلاح طلب پہلوؤں کی جانب متوجہ کیا ہے وہ یہ ہیں:
  • مجموعی قومی معیشت کے توازن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بجٹ کا غیر متوازن خسارہ ہے (یہ اور بات ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی معاشی دلیل نہیں پیش کی گئی ہے اور اس قسم کی دلیل پیش بھی کیونکر کی جا سکتی تھی کہ ایسی کوئی دلیل موجود ہی نہیں)
  • حکومتی اخراجات کی کمی کے نتیجے میں سوشل ایکشن پروگرام کی مد میں اہم منصوبوں پر عمل متاثر ہوا ہے۔
  • حکومتی اخرجات کی بہتر تنظیم کی راہ میں ادارتی کمزوریاں حائل ہیں۔
  • ورلڈ بینک کے خیال میں وفاقی حکومت صوبوں کے معاملات میں، اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی امور میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے اخراجات کی مناسب تقسیم اور استعمال نہیں ہو پاتا ہے۔
معیشت کی ان خرابیوں کو درست کرنے کے لیے ورلڈ بینک کے خیال میں مندرجہ ذیل اصلاحات روبہ عمل لائی جانی چاہئیں:
  • بجٹ کے خسارے کو کم کرنا
  • حکومتی سطح پر کیے گئے اخراجات کا بڑا حصہ سوشل سیکٹر اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کرنا۔
  • حکومتی اخراجات کو بہتر طور پر منظم کرنا۔
مندرجہ بالا اصلاحات کو روبہ عمل لانے کے لیے ضروری ہے کہ
  • ہر سطح پر حکومت کے معاشی کردار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
  • درمیانی مدت کے بجٹ کو سالانہ بجٹ کی ترجیحات کے مطابق بنایا جائے۔
  • حکومتی سطح پر اخراجات کے بارے میں سختی سے ترجیحات مرتب کی جائیں اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ترجیح سوشل سیکٹر کو دی جائے۔
  • اخراجات کے سلسلہ میں غیر حکومتی اداروں کو زیادہ اختیارات اور ذمہ داریاں تفویض کی جائیں۔
  • عوامی خدمات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تنظیم کا کام زیادہ سے زیادہ صوبائی اور بلدیاتی سطح پر منتقل کیا جائے۔
  • سول سروس کی تنظیمِ نو اور اس کے ڈھانچے کی تشکیلِ نو کی جائے، اور سول سروسز کے حجم کو کم کیا جائے اور اس کو غیر سیاسی ادارہ بنایا جائے۔
مرکزی حکومت کو کمزور کرنا ورلڈ بینک کی پالیسی کا ایک اہم ہدف ہے اور رپورٹ میں اس کا تذکرہ بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کیا گیا ہے۔ حکومت کے کردار کی تعمیرِ نو میں صوبائی حکومتیں اہم کردار ادا کریں گی۔ حکومت ان ذمہ داریوں سے دست کش ہو جائے گی جو پرائیویٹ سیکٹر بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر تاسف کا اظہار کیا گیا ہے کہ ۱۹۹۶ء میں نگران حکومت کی قائم کردہ ڈاؤن سائزنگ کمیٹی نے ۱۵ ہزار حکومتی ملازمین کو فارغ کرنے کی جو تجویز دی تھی اسے پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت چھوٹی ہو، اختیارات کا ارتکاز نہ ہو، اور اس کی ذہنیت کاروباری ہونی چاہیے۔ حکومت کو اشیاء اور خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہیے اور یہ ذمہ داری پرائیویٹ سیکٹر اور این جی اوز کو سونپ دینی چاہئیں۔ مواصلات اور توانائی کے شعبے نجی شعبہ کو دے دینے چاہئیں، اور اس نجی شعبہ (جو بالعموم بڑی بڑی غیر ملکی کمپنیوں پر مشتمل ہو گا) پر حکومت کو کوئی قابو نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں ایسی ’’خودمختار‘‘ ایجنسیوں کے ذریعے ریگولیٹ کیا جانا چاہیے جو کہ مارکیٹ کے اصولوں پر چلتی ہوں۔
رپورٹ میں جو لفظ سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے وہ ’’خودمختاری‘‘ ہے:
  • صوبوں کو قومی حکومت کے مقابلے میں خودمختاری دے دی جائے۔
  • بلدیاتی اداروں کو صوبائی حکومت کے مقابلے میں خودمختاری عطا کر دی جائے۔
  • اور سب سے بڑھ کر این جی اوز اس ملک کی ہر حکومت اور ادارے کے مقابلے میں خودمختار ہوں تاکہ وہ یکسوئی سے اس ملک میں اپنے استعماری آقاؤں کی پالیسیوں کو نافذ العمل کر سکیں۔
اس ’’خودمختاری‘‘ میں اضافے کے لیے جو لائحہ عمل ہے اس کے اہم اجزاء یہ ہیں:
  • نج کاری۔
  • عوامی خدمات کی قیمتوں میں مرکزی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر اضافہ۔
  • خدمات کی ادائیگی اور تنظیم کے نظام کو غیر مرتکز کرنا۔
ورلڈ بینک نے مالیاتی سطح پر حکومتی پالیسیوں کو مندرجہ بالا مقاصد کے تحت رکھنے کے لیے درمیانی مدت کے اخراجات کا فریم ورک دیا ہوا ہے، جس کا مقصد حکومتی پالیسی کو ان اہداف کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ موثر طریقہ سے استعمال کرنا ہے۔ معاشرتی سطح پر اس کا ذریعہ سوشل ایکشن پروگرام (ایس اے پی) جس کے تحت فیملی پلاننگ کا کام موثر طریقے سے چل رہا ہے۔ ایس اے پی (سیپ) کا مجموعی مقصد یہ ہے کہ پانی، شہری سہولتیں، تعلیم اور صحت کے حوالے سے فیصلہ سازی کلیتاً استعماری اداروں کے ہاتھ میں چلی جائے۔

(۲) عالمی بینک کی حکمتِ عملی کے اثرات

ورلڈ بینک کی حکمتِ عملی کے تین اجزاء ہیں:
  • حکومتی اخراجات میں زبردست کمی اور اس کی ترتیبِ نو۔
  • مالیاتی نظام پر استعماری اداروں کا غلبہ قائم کرنا، بالکل اسی طرح جس طرح سیپ کے ذریعے سوشل سیکٹر میں استعماری اداروں کو غلبہ حاصل ہو چکا ہے۔
  • حکومتی عمل پر مارکیٹ کی اجارہ داری قائم کرنا۔
موجودہ حکومتیں ورلڈ بینک کی اس پالیسی کو نافذ کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ یہ نہیں چاہتی ہیں کہ پاکستانی ریاست کمزور ہو۔ لیکن جیسا کہ ہم ثابت کریں گے کہ یہ بات ناممکن ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ مندرجہ بالا حکمتِ عملی پر عمل کیا جائے اور پاکستانی ریاست کمزور نہ ہو۔ حکومتی اخراجات میں کمی حکومتی طاقت، قوتِ نافذہ اور کنٹرول کو ختم کرنے کا مجرب نسخہ ہے۔ حکومتی اخراجات میں کمی کے نتیجہ میں اختیارات حکومت سے ان اداروں یا ایجنسیوں کو منتقل ہو جاتے ہیں جن کو اخراجات استعمال کرنے کی یہ قوت منتقل ہوتی ہے۔
مغربی ممالک میں ریگن اور تھیچر کے دور کے بعد حکومتی اخراجات میں کمی کے نتیجہ میں حکومت کی اتھارٹی ختم ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک اپنے وسائل کے ضیاع میں سب سے آگے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں او ای سی ڈی ممالک میں ۲۰ ملین سے زائد افراد مستقل طور پر بے روزگار ہیں۔ کئی اہم صنعتوں میں استطاعت کا ناکافی استعمال ایک اہم مسئلہ ہے۔ طلب میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کے نتیجہ میں زرعی اور دوسری مصنوعات بڑی تعداد میں تلف کرنا پڑتی ہیں۔ مغربی حکومتیں روز افزوں معاشی اور تکنیکی عدم کارکردگی کے آگے بے بس اور خاموش تناظر ہیں۔ مغربی ممالک میں بھی حکومتیں فینانشل مارکیٹوں کے مصنوعی پھیلاؤ، مجموعی پیداوار میں جمود، ماحول کی روز افزوں برتری، نسلی نفرت کی روز افزوں افزائش، اور مستضعفین کے نظامِ امداد میں کمی جیسے مسائل کے آگے بے بس ہیں۔ جو بھی ’’نظریہ‘‘ معاشی کارکردگی میں اضافہ کا نسخہ حکومتی اخراجات میں تخفیف کو قرار دیتا ہے وہ بدیہی طور پر غلط ہے۔
پاکستان میں حکومتی اخراجات میں کمی کے اثرات تباہ کن ہوں گے، اس کی دو وجوہات ہیں:
  • اولاً تو حکومت کے علاوہ کوئی اور دوسرا ادارہ موجود ہی نہیں ہے جو انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے مطلوب پیسہ اور وسائل فراہم کر سکے۔
  • پاکستان میں حکومتی اخراجات کے بارے میں مختلف مطالعہ جات یہ ثابت کرتے ہیں کہ حکومتی سرمایہ کاری نجی سرمایہ کاری کو ’’کھینچتی‘‘ ہے۔ اس لیے حکومتی اخراجات میں کمی نجی سرمایہ کاری میں کمی کا باعث بنے گی۔
اس بات پر زور دینا بھی ضروری ہے کہ بجٹ میں خسارہ یا اس کی شرح میں اضافہ فی نفسہ مجموعی قومی معیشت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر بجٹ کا خسارہ بالیدگی میں اضافے کا باعث بنے تو ایسا خسارہ مجموعی قومی معیشیتی کارکردگی کے لیے سودمند ہے۔ کئی او ای سی ڈی ممالک کا تجزیہ بتاتا ہے کہ بجٹ کا خسارہ پیداوار، روزگار اور مناع میں اضافہ کا باعث بن کر مجموعی معیشت کو بہتری کی طرف گامزن کرتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ خسارہ کو کس طرح ختم کیا جائے بلکہ قرضوں کی ادائیگی کے نظام کو کس طرح تسلی بخش بنایا جائے۔ قرضوں کی ادائیگی کے ضمن میں اور بجٹ کے خسارہ کے حوالے سے اگر کوئی چیز معیشت کے لیے خطرناک ہے تو وہ صرف قومی اور بین الاقوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی ہے۔ اس بارے میں بھی اسلامی نظریاتی کونسل کی ۱۹۸۰ء کی رپورٹ پر عملدرآمد کیا جائے تو قرضوں کی ادائیگی کا نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
حکومتی اخراجات میں کمی کا سب سے برا اثر دفاعی شعبہ پر پڑے گا۔ پہلے ہی اضافی اعتبار سے دفاعی اخراجات پر رقم آدھی رہ گئی ہے۔ استعماری ادارے پاکستان کو نیوکلیئر پروگرام ختم کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف قسم کی چالیں چل رہے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ اپنی قومی خودمختاری کا تحفظ کیا جائے اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں۔ ایک مکمل نیوکلیئر پاور کی استطاعت کشمیر میں ہندوستان کے ظلم و ستم کے خلاف واحد ہتھیار ہے، اس کا تحفظ ضروری ہے۔
عام خیال کے  برعکس پاکستانی معیشت چھوٹی اور کھلی معیشت نہیں ہے جو بیرونی تجارت یا بیرونی سرمایہ کی مرہونِ منت ہے۔ پاکستان کی تجارت جی این پی کا صرف تیس فیصد ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ محض دو فیصد ہے، اور امریکہ سے تجارت مجموعی قومی پیداوار کا صرف ۲۴ فیصد ہے، جبکہ مجموعی بیرونی سرمایہ کاری صرف ۱۲ فیصد ہے۔
آئی ایم ایف کو چاہیے کہ ان اعداد و شمار کا بغور مطالعہ کرے۔ مغرب کی پاکستان کو سزا دینے کی استطاعت نہایت محدود ہے۔ قرضوں کی ری شیڈولنگ کے پروگرام جو آئی ایم ایف مرتب کرتا ہے، پاکستان کی ضرورت نہیں ہیں بلکہ استعماری طاقتوں کی ضرورت ہیں۔
حکومتی اخراجات میں کمی کے ذریعے عالمی استعماری ادارے پاکستانی ریاست کے اثر و نفوذ کو ختم کر کے اختیارات استعماری ایجنسیوں، استعماری اداروں اور استعمار کے گماشتوں کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں۔ عالمی بینک کی معاشی پالیسیوں کے لیے کوئی معاشی دلیل نہیں ہے۔ جیسا کہ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ممالک میں ان پالیسیوں کے نتیجہ میں معاشی طور پر تباہی و بربادی اور ریاستوں کی قوت و اختیارات میں کمی اور استعماری گرفت میں مضبوطی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
  • ریاست کے اخراجاتی معیشت کو ختم کرنے
  • ریاست کو کمزور کرنے
  • ریاست کے اختیارات کو صوبوں، بلدیاتی اداروں اور این جی اوز کو منتقل کرنے
کی بھرپور مخالفت کریں کیونکہ یہ ریاست کو تباہ کرنے، معاشرہ اور فرد کو قربانی اور جہاد کے لیے نا اہل بنا کر اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
(بہ شکریہ: ماہنامہ ساحل، کراچی)

عالمی معیشت، یہودی ساہوکار اور مسلم ممالک

عبد الرشید ارشد

یہود کے بڑوں نے ۹۲۹ ق م میں عالمی حکمرانی کے لیے جو منصوبہ بندی کی اور جسے ہر دور کے بڑے یہودی سینے سے لگائے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اس منصوبہ بندی کی نوک پلک سنوارتے، اس کی حفاظت کرتے آئے، سود کے حوالے سے اس کے انکشافات چونکا دینے والے ہی نہیں، با شعور مسلمانوں کی نیندیں حرام کرنے والے ہیں۔
نزولِ قرآن سے کم و بیش ساڑھے سولہ سو سال قبل جس خباثت کی بنیاد پر دنیا مسخر کرنے کا یہود نے منصوبہ بنایا تھا، خالق نے قرآن حکیم میں اس خباثت کا توڑ اہلِ ایمان کے سامنے سود کو حرام قرار دے کر، اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دے کر فرمایا کہ مجھ پر ایمان کا دعوٰی کرنے والے اس زہر سے محفوظ رہیں۔
یہود کی مذکورہ منصوبہ بندی (Protocols) ’’وثائقِ یہودیت‘‘ کے نام سے مصدقہ دستاویز کی صورت میں آج بھی محفوظ ہے۔ آئیے پروٹوکولز میں سود کے کرشمے دیکھتے ہیں:
’’یہودیت کے خفیہ ریکارڈ کی رو سے ۹۲۹ ق م سلیمان اور یہودیوں کے سربراہوں نے پُراَمن عالمی تسخیر کا عملی منصوبہ بنایا۔ تاریخ جوں جوں آگے بڑھتی گئی اس کام میں ملوث افراد نے اس منصوبہ کی جزیات طے کیں جس سے بڑی خاموشی اور امن کے ساتھ یہود کے لیے تسخیرِ عالم کا یہ منصوبہ شرمندہ تعبیر ہو سکے۔‘‘ (وثائقِ یہودیت ۔ اصلاحات، صفحہ ۲۵)

راز کی بات

’’آج ہم اپنے مالیاتی پروگرام کو زیربحث لائیں گے جسے انتہائی مشکل ہونے کے ناتے ہم نے مؤخر کر رکھا تھا کہ دراصل یہی امر ہمارے تمام منصوبوں کی جان ہے۔ بات شروع کرنے سے پہلے یہ بتا دوں کہ میں نے آغاز میں اشارتاً اس پروگرام کا ذکر کیا تھا جب میں نے کہا تھا کہ ہماری تمام سرگرمیوں کا محور اعداد و شمار ہیں۔‘‘ (پروٹوکولز، ۲۰۔۱)
’’غیر یہود کے مالیاتی اداروں اور ان کے زعماء کے لیے ہم جو اصلاحات کریں گے وہ ایسی شوگر کوٹڈ ہوں گی کہ نہ تو انہیں چونکائیں گی اور نہ ہی انہیں نتائج کا احساس ہو گا۔ غیر یہود نے اپنی حماقتوں سے اپنے مالیاتی امور کو جس طرح الجھا لیا اور بند گلی میں کھڑے ہو گئے، ہم انہیں اصلاحات کے نام پر یہ راہ سجھائیں گے۔‘‘ (پروٹوکولز ۲۰۔۲۷)

شکاری کا جال

’’غیر یہود کو، بلا ان کی حقیقی ضرورت کے، قرضوں کی چاٹ لگا کر، ان کی افسر شاہی میں رشوت خوری عام کر کے، انہیں کاہلی اور نا اہلی کے غار میں دھکیل کر ہم ان سے دو گنا، تین اور چار گنا بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ مال سمیٹا ہے۔‘‘ (پروٹوکولز ۲۱۔۲)
’’ہمارے مزاحیہ ڈرامے کا پردہ ہٹتے ہی یہ حقیقت سب کے سامنے آجائے گی کہ ہمارے قرض سے بوجھ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی رہتا ہے۔ یہ سودی بوجھ کم کرنے کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں جن سے نئے قرضے اور نئے سود کا بوجھ بڑھتا ہے۔ اور یوں اصل زر کی ادائیگی تو رہی ایک طرف، صرف سود کی ادائیگی کے لیے عوام کے گاڑھے (پسینے) کی کمائی ٹیکسوں کی زد میں آجاتی ہے۔ یہ عوامی ٹیکس، قرض اور سود سے بڑھ کر قوم کے لیے اذیت ناک ثابت ہوتے ہیں۔‘‘ (پروٹوکولز ۲۱۔۴)
’’غیر یہود نے یہ سوچنے کی کبھی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ وہ جو قرض ہم سے لیتے ہیں، اس کی ادائیگی، یا اس پر سود کی ادائیگی کے لیے بھی وہ ہم ہی سے قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ دراصل یہ ہماری منظم سوچ کا عروج ہے جس سے ہم نے غیر یہود حیوانوں کو مسخر کر رکھا ہے۔‘‘ (پروٹوکولز ۲۰۔۳۶)

سود کا کرشمہ

’’غیر یہود کے ہاں جب تک معاملہ مقامی داخلی قرضوں تک محدود تھا تو بات یوں تھی کہ مال غریب کی جیب سے امراء کی جیبوں میں منتقل ہوتا تھا۔ مگر جب ہم نے اپنے زر خرید ایجنٹوں کے ذریعے غیر ملکی قرضوں کی چاٹ لگائی تو غیر یہود کے تمام تر سرمایہ نے ہماری تجوریوں کی راہ دیکھ لی۔ یوں کہئیے کہ یہ خارجی قرضوں پر سود کی صورت میں غیر یہود کا خراج ہے جو وہ ہمیں باقاعدگی سے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘ (پروٹوکولز ۲۰۔۳۲)
’’غیر یہود حکمرانوں کے بناوٹی معیار، معاملات، اور نا اہل بے تدبیر وزراء، شعور و احساسِ ذمہ داری سے عاری افسر شاہی، اور ان سب کا اقتصادیات کی ابجد سے ناشناس ہونا، سب پہلو مل کر ان ممالک کو ہمارا مقروض بناتے ہیں۔ اور جب ایک بار سودی جال میں پھنس جاتے ہیں تو پھر نکلنا ان کے لیے ناممکن بن جاتا ہے۔‘‘ (پروٹوکولز ۲۰۔۳۳)
’’کوئی حکومت اپنے ہی ہاتھوں دم توڑ جائے، یا اس کی اندرونی خلفشار اس پر کسی دوسرے کو مسلط کر دے، معاملہ جیسا بھی ہو، یہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اور اب یہ ہماری (حقیقی) قوت ہے۔ سرمایہ پر بلاشرکتِ غیرے ہمارا کنٹرول ہے، جو جس قدر ہم چاہیں کسی حکومت کو (اپنی شرائط پر) دیں۔ وہ خوشدلی سے اسے قبول کر لے یا مالی بحران اپنا مقدر بنا لے۔‘‘ (پروٹوکولز ۱۔۸)
’’غیر یہود حکومتوں (گوئم) کی سیاسی موت اور غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے ہلاکت کی خاطر ہم بہت جلد مختلف شعبہ ہائے حیات میں اپنی اجارہ داریاں قائم کریں گے، خصوصاً زر و دولت کے ذخائر پر۔ جو غیر یہود کو لے ڈوبیں گے کہ ان کی قسمتوں کا فیصلہ یہی سونا کرے گا۔‘‘ (پروٹوکولز ۶۔۱)
مالیات پر یہود کی یہ اجارہ داری ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، لندن کلب، اور پیرس کلب جیسے بہت سے اداروں کے ذریعے ہے، جنہوں نے آکٹوپس کی طرح ہر حکومت کے مالیاتی نظام کو بے بس کر رکھا ہے۔ سیاسی اجارہ داری کے لیے اقوامِ متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل ہے، تو صحت پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی اجارہ داری ہے۔ تجارت اور مزدور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ تعلیم و صحت کے لیے یونیسف ہے، تو زراعت کے لیے ایف اے او کا دستِ قدر کارفرما ہے۔ سماجی معاشرتی میدان میں لائنز اور روٹری انٹرنیشنل طرز کے سماجی ادارے ہیں۔

قرض کی ری شیڈیولنگ

’’قرض، بالخصوص غیر ملکی قرض کی حقیقت کیا ہے؟ قرض فی الاصل ایسی گارنٹی کا نام ہے جو رقم کے ساتھ سود کی ادائیگی کے لیے لکھی جاتی ہے۔ مثلاً اگر ۵ فیصد شرح سود طے ہو تو قرض لینے والا حکمران ۲۰ سال بعد قرض کی اصل رقم کے برابر سود ادا کرے گا۔ (بروقت ادا نہ کر کے ری شیڈیول کرائے تو) ۴۰ سال بعد اسے دوگنا کر لیجئے اور ۶۰ سال ہوں تو تین گنا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اصل زر پھر بھی ادا نہیں ہوتا۔‘‘ (پروٹوکولز ۲۰۔۳۰)
مذکورہ مختصر بحث کے بعد عقل کی قلیل مقدار ہی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ انسان کے خالق کا علم اور اس علم کی روشنی میں راہنمائی کس قدر کامل، اعلیٰ و ارفع ہے۔ جو چیز آج مسلمان حکمرانوں کو یہود کا باجگزار بنا رہی ہے، جس غلاظت نے معیشت تباہ کی ہے، جس تباہی پر ہر کوئی شاہد ہے، جس قباحت نے افراد کا، خاندان اور اداروں کا سکھ چھین لیا ہے، اس کے نقصانات پر ساڑھے چودہ سو سال قبل ہمہ جہت مکمل راہنمائی دے دی گئی تھی۔ مگر کس قدر عقل کا اندھاپن ہے کہ خالق پر ایمان کے دعوے دار ہی خالق کے فرامین سے بغاوت کے مرتکب ہوئے اور خالق کے باغی ہونے کے ناتے ناک تک دلدل میں دھنس گئے کہ اب سانس لینا مشکل ہے۔

مسلم ممالک کے لیے مغربی ممالک کا ایجنڈا

ظہیر الدین بھٹی

(عالمی ادارے اور مغربی قوتیں مسلم ممالک کے نظام اور معاشرت میں کس قسم کی تبدیلی چاہتی ہیں؟ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً ’’الشریعہ‘‘ میں عالمی پریس کے حوالے سے معلومات پیش کی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں روزنامہ جرأت لاہور نے ۵ نومبر ۱۹۹۹ء کو برادر مسلم ملک تیونس میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے جناب محمد ظہیر الدین بھٹی کی مندرجہ ذیل رپورٹ شائع کی ہے جس سے مسلم ممالک کے لیے مغربی اداروں کے تجویز کردہ عزائم اور ایجنڈے کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، اور ہمارے ہاں این جی اوز ان حوالوں سے جو کام کر رہی ہیں اس کے مقاصد بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ ادارہ)


’’شمالی افریقہ (جسے مغرب بھی کہا جاتا ہے) کے ایک اہم ملک تیونس میں آزادی کے بعد پہلے صدر حبیب بور قیبہ نے ۳۰ سالہ عہدِ حکومت میں کمال اتاترک کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسلامی تہذیب و تمدن کے اس مرکز (تیونس) کو سیکولر خطوط میں ڈھالنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کیے۔ ۱۹۸۷ء میں زید بن علی نے انہیں برطرف کر کے اقتدار سنبھالا، زید بن علی سے ابتدا میں اچھی توقعات تھیں لیکن پھر سب کچھ اسی طرح ہونے لگا۔ اسلامی تحریک کے افراد مظالم کا شکار ہوئے۔ آج بھی ہزاروں مرد اور عورتیں جیل میں ہیں۔ تحریک کے رہنما راشد الغنوشی جلاوطن ہیں، انسانی حقوق مفقود ہیں۔ لیکن جموریت کا لبادہ اوڑھے رکھنے کے لیے انتخابات کا ڈرامہ شاید مجبوری ہے، مگر جمہوریت کی عملی شکل، ریاستی طاقت سے عوام کو کچلنا اور ان کی مرضی کے خلاف حکومت سے چمٹے رہنا ہے۔ آپ دیکھیں کہ مسلمانوں کی ۹۵ لاکھ آبادی کے اس ملک کے شہریوں کے ساتھ ان کے مسلمان حکمرانوں نے کیا کچھ کیا ہے۔
تیونس ۲۰ مارچ ۱۹۵۶ء کو فرانسیسی تسلط سے آزاد ہوا۔ ۱۳ اگست ۱۹۵۶ء کو سرکاری ضابطہ قوانین جاری ہوا جس پر عملدرآمد یکم جنوری ۱۹۵۷ء سے شروع ہوا۔ اس ضابطے کے زیادہ تر قوانین شریعتِ اسلامی کے بالکل خلاف و متضاد بلکہ اس سے متصادم تھے۔ آزادی کے بعد سے اسلامی نظام عملاً معطل چلا آ رہا ہے۔ اب تو اسلام کے اصول و فروع، احکام و اخلاق اور آداب سب کچھ شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ یہاں پر شواہد پیش کیے جاتے ہیں:

شرعی عدالتوں کا خاتمہ اور واحد عدالتی نظام

ملک میں شرعی عدالتوں کی تنسیخ کا کام آزادی کے بعد ہوا، انہیں عام عدالتوں میں ضم کر دیا گیا۔

جامعۃ الزیتونہ کے اسلامی تشخص کا خاتمہ

جامعۃ الزیتونہ کا شمار عالمِ اسلام کی قدیم ترین اسلامی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ اسے اموی گورنر عبد اللہ بن الحجاب نے ۱۱۴ھ (۷۳۲ء) میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ جامعہ پورے شمالی افریقہ میں اسلام اور عربی زبان کی حفاظت کا قلعہ رہی ہے، مگر اب اس کا اسلامی تشخص ختم کر دیا گیا ہے۔ مخلوق تعلیم رائج ہے۔ جمعہ کے بجائے اتوار کے دن چھٹی ہوتی ہے۔ موسیقی اور رقص و سرود کے کلبوں سے نمائندگی کی جاتی ہے۔ اس کا اپنا ایک ریڈیو اسٹیشن ہے جہاں سے جامعہ میں گانے نشر کیے جاتے ہیں۔ طالبات کے دوڑ کے مقابلے مردوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ گانے بجانے کی محفلوں کے لیے گلوکار مردوں اور عورتوں کو باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے۔ رمضان میں بھی یہ پروگرام ہوتے ہیں، اور ان محفلوں میں شرکت کی دعوت ادارے کے ڈائریکٹر کی طرف سے دی جاتی ہے۔ جامعہ میں طلبہ کی تعداد فرانسیسی عہد میں ۳۰ ہزار سے زیادہ ہوتی تھی۔ آزادی کے دور میں کل تعداد ۶۵ ہزار ہے۔ ان میں ۸۵ فیصد طالبات ہیں جن کے لیے بے حجاب ہونا ضروری ہے۔ نیز جامعہ میں موجود تیراکی کے تالاب میں تیراکی کا مخصوص لباس زیب تن کر کے نہانا لازم ہے۔

شرعی اوقاف کا خاتمہ

جامعہ زیتونہ کے طلباء اور علماء کے لیے وقف کردہ تمام شرعی اوقاف ضبط کر لیے گئے ہیں۔ اسی طرح ملک کی دیگر تمام مساجد اور خیراتی اداروں کے تمام اوقاف، زمینیں، جائیدادیں ختم کر دی گئی ہیں۔ کئی چھوٹی مسجدوں کو گوداموں میں اور سٹوروں میں بدل دیا گیا ہے۔

رمضان کے روزوں سے نفرت

حکومتِ تیونس رمضان کے روزے رکھنے کو بہ نظر ناپسندیدگی دیکھتی ہے کہ روزہ رکھنے سے پیداوار کم ہو جاتی ہے اور ملکی ترقی اور پیشرفت میں رکاوٹ پڑتی ہے۔

قرآن اور رسول اکرمؐ پر الزامات و اتہامات

سابق صدر حبیب بور قیبہ نے قرآن پر الزام لگایا کہ اس میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس نے (معاذ اللہ) سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ مبارک میں توہین کی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تیونس سے شائع ہونے والا اخبار ’’صحیفۃ الصبح‘‘ مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۷۳ء۔

شریعتِ اسلامی پر نقص کا الزام

سابق صدر بور قیبہ نے اپنے ایک خطاب میں عورت و مرد کی مساوات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم عورتوں کی ترقی میں حائل سب رکاوٹوں کو دور کر دیں گے اور ہر سطح پر مرد و زن میں کامل مساوات قائم کریں گے۔ قرآنی حکم کہ ’’میت کے ترکے میں ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے‘‘ کی رکاوٹ کو بھی دور کر کے دم لیں گے۔ ہم اس مسئلے کے حل کے لیے اجتہاد سے کام لیں گے تاکہ شرعی احکام کو زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مجلہ ’’الدستور‘‘ شمارہ ۵۸۷ مورخہ ۸ اگست ۱۹۸۳ء)

متبنّٰی بنانے کی اجازت

قرآنِ حکیم نے صاف الفاظ میں متبنٰی (منہ بولا بیٹا، بیٹی) بنانے کو ممنوع قرار دیا ہے مگر حکومتِ تیونس نے اس شرعی حکم کی مخالفت کرتے ہوئے ۴ مارچ ۱۹۵۸ء کو صادر ہونے والے اپنے قانون نمبر ۲۷ میں اسے جائز قرار دیا ہے۔ قانون کی ذیلی شق ۱۵ کی رو سے متبنیٰ کو قانونی بیٹے کے حقوق حاصل ہوں گے اور اس پر وہی فرائض عائد ہوں گے۔

خاندانی ڈھانچے کی تباہی

حکومت نے وقتاً فوقتاً ایسے قوانین جاری کیے ہیں جس سے تیونسی خاندان کا شیرازہ بکھر کے رہ گیا ہے۔ اس نے عورت کو اخلاقی باختگی کی اجازت دی ہے۔ بیوی کو اتنا قانونی تحفظ دیا ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے اخلاقی طرز عمل سے چشم پوشی کرتا ہے۔ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو زنا کا مرتکب پا کر اسے پکڑ لیتا ہے تو یہ بیوی کے ذاتی معاملات میں مداخلت متصور ہو گا اور ایسا شوہر سزائے موت تک کا مستوجب ہو گا۔

معاہدہ نیویارک پر دستخط

حکومت نے شرعی احکام و قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے آزادی کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کی رو سے عورت کے خلاف تمام امتیازی قوانین کالعدم ہیں۔ ایک غیر مسلم کو اجازت ہے کہ وہ ایک تیونسی مسلم خاتون سے شادی رچائے، اور اس کے لیے صرف ایک مرد و عورت کی گواہی کو کافی قرار دیا گیا ہے۔ تیونسی ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی اس معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

مسلم مستورات کے لیے شرعی لباس کی ممانعت

قانون نمبر ۱۰۸ کے مطابق مسلم عورت کے لیے تمام سرکاری محکموں اور تعلیمی اداروں میں شرعی لباس پہننا ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس لیے کہ اس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے، نیز یہ انتہا پسندی کی علامت ہے۔ باپردہ خواتین پر علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محض نماز کی ادائیگی اور اسلامی لباس پہننے کے جرم میں خواتین کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جاتا ہے اور سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔

سرکاری اداروں میں قائم مساجد کا انہدام

آرڈیننس نمبر ۲۹ کی رو سے تمام وہ مساجد منہدم کر دی جائیں گی جو پرائیویٹ اور پبلک محکموں میں قائم ہیں، جیسے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی مساجد، ہسپتالوں، بندرگاہوں، فیکٹریوں اور سرکاری محکموں میں موجود مساجد۔ مزدوروں اور ملازمین پر ڈیوٹی کے دوران نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

قانونِ مساجد کا اجرا

اس قانون کی رو سے مسجدوں میں درسِ قرآن دینے اور املا کروانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ قانون پر عملدرآمد کے لیے حکومت نے پولیس کی ایک مخصوص جمعیت مساجد کی نگرانی پر مامور کر دی ہے۔ ہر نماز کے وقت مسجد صرف ۲۰ منٹ کے لیے کھلتی ہے، اس کے بعد پولیس کی یہ نفری مساجد کو نمازیوں سے خالی کرانے کی کاروائی کرتی ہے، نمازیوں کو باہر نکالتی ہے، تاخیر سے والوں کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیتی۔ اس قانون سے جامعۃ الزیتونہ بھی مستثنٰی نہیں ہے، البتہ اسے غیر ملکی سیاحوں کی آمد پر کسی وقت بھی کھول دیا جاتا ہے۔

مساجد میں نوجوانوں کی آمد

تیونس میں نوجوان نمازیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ کسی ممنوعہ انتہا پسند تنظیم سے وابستہ ہیں، یا کسی دہشت گرد جماعت کے ارکان ہیں۔ حکومت کے اس رویے نے مسجدیں ویران کر دی ہیں اور نوجوان مسجدوں کا رخ کرتے ہوئے گبھراتے ہیں۔ مسلم نوجوان پولیس افسران کے سامنے عمداً اپنے دینی احساسات چھپاتے ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر وقت پر نماز ادا کرنا حکومت کے نزدیک انتہاپسندی اور دہشت گردی کی نشانی ہے، اور نوجوان سزا اور قید کے مستحق ہیں۔ پولیس صبح سویرے روشن ہونے والے گھروں کی بھی نگرانی کرتی ہے۔
اب حال یہ ہے کہ لوگ گھروں میں چھپ کر اندھیرے میں نماز پڑھتے ہیں۔ پولیس مشکوک نوجوانوں سے تفتیش کرتے وقت پہلا سوال یہ کرتی ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے یا نہیں۔ جواب اثبات میں ہو تو اسے طرح طرح کی سزائیں دی جاتی ہیں اور اس سے یہ اعتراف کرایا جاتا ہے کہ وہ ’’اخوانجی‘‘ ہے، یعنی اخوان کی طرف سے منسوب ہے۔ تیونس میں اخوانجی ہونا گویا ایک گالی ہے۔ اگر نوجوان اپنے نمازی ہونے کی نفی کر دے، دین سے اعلانِ بیزاری  کر دے، مگر پھر بھی  پولیس کو اس کے بارے میں شک ہو تو اسے دینِ اسلام اور ذاتِ الٰہی کو گالی بکنے کا حکم دیتی ہے۔ مزید رفع شک کے لیے گلاس میں شراب ڈال کر پینے کے لیے کہتی ہے۔

اسلامی لٹریچر کی چھانٹی کے لیے کمیٹی کا قیام

ایک کمیونسٹ ملحد کی سربراہی میں اعلیٰ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اسلامی کتابوں کا جائزہ لیتی ہے اور پھر ایسی تمام کتابوں کو کتب خانوں سے ضبط کر لیا جاتا ہے، دکانوں اور نمائشوں میں ان کا رکھنا ممنوع ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ حکومت کے خیال میں اسلامی کتابیں انتہاپسندی کا منبع ہیں۔ مساجد میں قائم لائبریریوں کو بدعت قرار دے کر ختم کر دیا گیا ہے۔

رقص و سرود کے مخلوط کلبوں کا پھیلاؤ

شہروں، قصبوں اور دیہات میں رقص و سرود کے مخلوط کلب وسیع پیمانے پر قائم کر دیے گئے۔ نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو ان میں شمولیت کی ترغیب دی جاتی ہے اور والدین اور سرپرستوں کو شرکت سے روکنے پر ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔

جادو، علمِ نجوم اور ٹونے ٹوٹکے کی ترغیب

عقیدۂ توحید کمزور کرنے اور لوگوں کے دلوں سے ایمان محو کرنے، گھروں کو اجاڑنے، بے حیائی اور بدکاری کے فروغ کے لیے حکومت جادو، ٹونے ٹوٹکے اور کہانت کے فروغ میں دلچسپی لیتی ہے۔ حکومت جادوگروں اور نجومیوں کو اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت دیتی ہے، اخبارات اور رسالوں میں ان کے اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں۔

ثقافت کے نام پر بے حیائی و بدکاری کی حوصلہ افزائی

حکومتِ تیونس نے ایک ویڈیو فلم کو تیونس کے دورِ جدید کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے اس میں کام کرنے والوں کو سرکاری انعام اور ثقافتی میڈل سے نوازا ہے۔ اس میں عورتوں کے حمام میں ایک نوجوان کو دکھایا گیا ہے جو بالکل برہنہ عورتوں کے قابلِ ستر مقامات کو گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔ مائیکل جیکسن گلوکار کا خود وزیر ثقافت نے ایئرپورٹ پر شاندار خیرمقدم کیا اور لوگوں نے اس کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

الحاد، زندقہ کا فروغ

پبلک مقامات، سرکاری مجالس، عام محافل اور ادبی نشریات میں الحاد و زندقہ کی لہر عام ہو رہی ہے اور قابلِ تکریم رشتوں اور ہستیوں کی توہین و بے قدری فیشن بنتا جا رہا ہے۔ تیونس میں خدائے ذوالجلال کی شان میں گستاخی اور گالیاں بکنے کی ایسی بری رسم ہے کہ دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔

مخلوط ہوسٹل

تیونس میں یونیورسٹیوں میں مخلوط ہوسٹل تعمیر کیے گئے ہیں جس سے اخلاقی اور جنسی بے راہروی میں اضافہ ہوا ہے۔ حالت یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے طلبہ اور طالبات کو کنڈوم دیے جاتے ہیں۔

اسرائیل کو تسلیم کرنا

صہیونی مملکت کو تسلیم کرنے کے بعد اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے گئے ہیں۔ تیونس اب بدکاری اور جنسی بے راہ روی کا ملک بن چکا ہے۔ وزارتِ صحت کی طرف سے بندرگاہوں پر قائم دفتر غیر ملکی سیاحوں کو ایک کارڈ دیتا ہے جس کارڈ پر لکھا ہے ’’ہر مشتبہ جنسی عمل کے وقت کنڈوم استعمال کیجئے۔‘‘

اسلامی سلام دعا کے الفاظ کا خاتمہ

تیونس سے اسلام کے نشانات مٹانے کے لیے اب ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کے الفاظ بھی ممنوع قرار پا چکے ہیں کیونکہ سرکار کی نظر میں یہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کی علامت ہیں۔ یہ شدت پسندوں، بنیاد پرستوں اور اخوانجیوں (اخوان المسلمون والوں) کا سلام ہے۔ حکام نے ٹیلی ویژن، قومی اور مقامی ریڈیو پر ’’السلام علیکم‘‘ کے الفاظ کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ عوام نے بھی الزام سے بچنے کے لیے ان الفاظ کو ترک کر دیا ہے۔

تعددِ ازواج پر پابندی

قانون نمبر ۱۸ کی رو سے ایک سے زائد شادی کرنے کو خلافِ قانون قرار دیا گیا ہے۔ حکومتِ تیونس نے شہری اور سیاسی حقوق کے متعلق اقوامِ متحدہ کو جو رپورٹ بھیجی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی تعددِ ازواج کے جواز میں رکھی گئی حکمت کو لغو قرار دیا گیا ہے۔
تیونس میں آج اسلامی قوانین اور روایات کو مسخ کرنے اور مٹانے کے لیے آزادی کے بعد وہ کچھ کہا گیا ہے جو فرانس کے دورِ غلامی میں بھی نہیں ہوا تھا۔ اس کی ایک جھلک سے یہ احساس بھی بیدار ہوتا ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں آزادی کے بعد اسلامی نظام کے لیے جو اجتماعی جدوجہد کی گئی اس کا یہ ثمرہ ہے کہ آج دینی قوتوں کو کام کرنے کا میدان ملا ہوا ہے۔ مواقع کا حق یہ ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ حقیقی اسلامی بیداری کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ ملک کے عوام کی اکثریت اسلامی نظام کی برکتوں کی قائل ہو، اور ایسی قیادت کا انتخاب کرے جو ملک میں اسلامی نظام فی الواقع قائم کرے۔ اس سے دوسرے مسلمان ملکوں میں اسلامی نظام کی جدوجہد کرنے والوں کو تقویت حاصل ہو گی اور راہیں کھلیں گی۔
(روزنامہ جرأت لاہور راولپنڈی مظفر آباد ۔ صفحہ ۵ ۔ ۵ نومبر ۱۹۹۹ء)

اسلام آباد میں چیچنیا کے سابق صدر کی گرفتاری

حامد میر

چیچنیا کے سابق صدر اور موجودہ چیچن حکومت کے مشیر سلیم خان کو اسلام آباد میں گرفتار کیے جانے کے افسوسناک واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ منگل کی صبح یہ واقعہ میرے علم میں آیا تو دل و دماغ کو ایک جھٹکا لگا۔ دوپہر کو پتہ چلا کہ سلیم خان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس دوران عالمی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر بھی نشر کر دی کہ چیچن مجاہدین نے گروزنی خالی کر دیا ہے۔ لہٰذا سلیم خان سے ملاقات ضروری ہو گئی۔
شام کو میں دھڑکتے دل کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے رویے میں وہ گرمجوشی نظر نہ آئی جس کا مظاہرہ عام طور پر چیچن مجاہدین پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ میں نے جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ ندامت بھرے لہجے میں ان سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ جو ہوا اس کی تلافی تو حکومت ہی کر سکتی ہے لیکن پاکستانی عوام کا ایک حقیر نمائندہ بن کر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے دل میں کسی غلط فہمی کو پیدا نہ ہونے دیجئے گا۔ سلیم خان نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ مجھے آپ کی عوام سے کوئی شکوہ نہیں لیکن جو سلوک میرے ساتھ یہاں ہوا وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں ہوا۔ میں نے دوبارہ ہمت جمع کی اور پھر کہا کہ شاید یہ واقعہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ سلیم خان نے فوری طور پر کاٹ دار لہجے میں کہا کہ یہ سازش ہے اور حکومتِ پاکستان نے اس سازش کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہ کی تو کل کو کوئی اور ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آ سکتا ہے۔
میں نے موضوع بدلتے ہوئے کہا کہ گروزنی سے مجاہدین کی پسپائی میں کہاں تک صداقت ہے؟ سلیم خان کے باریش چہرے پر سرخی چھا گئی اور انہوں نے پُر اعتماد لہجے میں کہا کہ یہ پسپائی نہیں بلکہ جنگی حکمتِ عملی کے تحت پیچھے ہٹنا ہے۔ اگر روسی فوج میں ہمت ہے تو گروزنی میں داخل کیوں نہیں ہوتی؟ سلیم خان نے بلند آواز میں کہا کہ ہم آخری گولی اور خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے لیکن آپ سے درخواست ہے کہ ہماری کامیابی کے لیے دعا کریں۔ یہ درخواست سن کر میں نے دوبارہ نظریں جھکا لیں۔ سلیم خان میرے اندرونی احساسات کو بھانپ گئے اور انہوں نے ہمدردانہ لہجے میں کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ بھول جاؤ اور کچھ مت لکھنا ورنہ خفیہ ادارے تمہیں بھی نقصان پہنچائیں گے۔ یہ سن کر میں بھڑک اٹھا اور گستاخی کرتے ہوئے بزرگ مجاہد سے کہا کہ ہمیں اتنا بھی بزدل مت سمجھیں کہ اپنے مہمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر اف بھی نہ کریں۔
سلیم خان نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کے جس حصے میں گیا وہاں مسلمانوں نے ہمارے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم اپنی ملاقاتوں کو منظر عام پر نہ لائیں اور لب و لہجہ بھی دھیما رکھیں۔ سلیم خان پوچھ رہے تھے کہ چیچنیا میں روسی جارحیت کے خلاف امریکی ذرائع ابلاغ اور امریکی حکومت بھی مذمت پر مجبور ہیں، پھر پاکستانی حکومت ہمارے معاملے میں اتنی محتاط کیوں ہے؟ سوال سن کر میں خاموش ہو گیا اور سوچنے لگا کہ روس دھڑا دھڑ بھارت کو اسلحہ فروخت کر رہا ہے، طالبان مخالف شمالی اتحاد کی مدد بھی کر رہا ہے، اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات میں کہیں گرمجوشی نظر نہیں آتی، پھر ہماری حکومت چیچن مجاہدین کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کرتی؟ بہت سوچنے کے باوجود مجھے سلیم خان کے سوال کا جواب نہیں سوجھا تو میں نے رخصت لی۔ واپسی پر سلیم خان نے دوبارہ مشورہ دیا کہ میں ان کے ساتھ زیادتی کے خلاف لکھ کر کوئی خطرہ مول نہ لوں۔
بوجھل دل کے ساتھ دفتر واپسی پر میں نے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر سے فون پر بات کی اور سلیم خان کی گرفتاری کی وجہ پوچھی۔ وزیر داخلہ کا جواب مزید پریشان کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تھوڑی دیر پہلے غیر سرکاری ذریعے سے اس واقعے کا علم ہوا ہے اور نہیں معلوم کہ واقعے کا ذمہ دار کون ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ قومی مفاد میں اس واقعے پر کچھ نہ لکھیں۔ میں نے جواب میں کہا کہ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ان عناصر کا احتساب کیا جائے جنہوں نے ایک مظلوم اسلامی ملک کے نمائندے کی توہین کی ہے۔
وزیر داخلہ معین الدین حیدر ایک سچے اور محبِ وطن پاکستانی ہیں، ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن نیت پر شک ممکن نہیں۔ سلیم خان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ یقیناً کسی خفیہ ادارے کے اہلکاروں کی بے وقوفی ہے کیونکہ جس دن یہ واقعہ ہوا اسی دن افغان وزارتی کونسل کے صدر ملا ربانی نے جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی۔ سلیم خان کے دورہ پاکستان کے بارے میں وزارتِ خارجہ کے ’’بابو حضرات‘‘ کے تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن جنرل پرویز مشرف ان کے لیے وہی جذبات رکھتے ہیں جن کا اظہار ملا ربانی کے ساتھ کیا گیا۔
ہمیں امید ہے کہ حکومت سلیم خان کی غلط فہمی دور کرے گی اور ان کے ساتھ زیادتی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرے گی کیونکہ سلیم خان اعلیٰ حکام کی اجازت سے ویزا لے کر پاکستان آئے تھے اور کئی دن سے پاکستان میں موجود تھے۔ وزیر داخلہ چاہتے تھے کہ ہم اس واقعے پر کچھ نہ لکھیں۔ میں نے ان کی ہدایت نظر انداز کی ہے کیونکہ میرے خیال میں ملکی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ اس افسوسناک واقعے کو سامنے لایا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کی ۔۔۔۔

عالمی منظر

ادارہ

برطانیہ میں طلاق یافتہ حضرات کو دوبارہ نکاح کا حق

لندن (ا ف پ) اگر چرچ آف انگلینڈ نے منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ کی منظوری دے دی تو مطلقہ لوگوں کو دوبارہ شادی کی اجازت مل سکتی ہے، لیکن برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس شاید اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق چرچ کی قائم کردہ ورکنگ پارٹی اس معاملے کا جائزہ لے کر پرانے قواعد تبدیل کرنے کی سفارش کرنے والی ہے جس کے تحت مطلقہ افراد کو، جن کے سابق شریکِ حیات ابھی تک زندہ ہیں، دوبارہ شادی کرنا منع ہے۔ اگرچہ ورکنگ پارٹی کا اصرار ہے کہ اس کا ترجیحی آپشن یہ ہے کہ شادی زندگی بھر کے لیے ہے لیکن اس نے برطانیہ میں طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات کا بھی اعتراف کیا۔
یہ رپورٹ چرچ آف انگلینڈ کے قانون ساز ادارے کو جاری کی جائے گی جو امید ہے کہ سفارشات کی منظوری دے دے گی۔ اگرچہ رپورٹ میں شہزادہ چارلس کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن ان کے حالات قریب سے دیکھے جا رہے ہیں۔ بادشاہ بننے پر چارلس چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ بن جائیں گے۔ وہ ابھی تک مطلقہ ہیں جبکہ ان کی پرانی دوست کمیلا پارکر کا سابق خاوند ابھی تک زندہ ہے۔ جب وہ دونوں دوسری شادی کے لیے چرچ جائیں گے اس وقت ایک اور پیچیدگی پیدا ہو گی، نئے قواعد کے مطابق مذہبی حلقوں کو کہا جائے گا کہ چرچ میں ایسی شادی کی اجازت نہ دیں جہاں کسی کے کسی اور سے غیر قانونی جنسی تعلقات قائم ہوں اور کوئی ایک دوسرے سے بے وفائی کرتا رہا ہو، جبکہ چارلس ڈیانا سے بے وفائی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں دوسری شادی کی اجازت کے لیے واضح قواعد کی سفارشات کی گئی ہیں۔ خاص طور پر شادی ختم ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہو، اور دوسری شادی ایسی صورت میں ممنوع قرار دی گئی ہے جس کسی نے اپنے خاوند یا بیوی سے بے وفائی کی ہو جس کے باعث شادی ختم ہوئی۔ 
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)

اوسلو کی مساجد میں اذانین دینے کی اجازت

سویڈش حکام نے دارالحکومت کی ۱۸ مساجد میں بلند آواز سے اذانیں دینے کی اجازت دی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ علاقوں کے کونسلروں کی مرضی سے ہو گا۔ اوسلو کے محکمہ اربن پلاننگ کے سربراہ نے قرار دیا ہے کہ اذان شور شرابا کم کرنے کے قانون کی زد میں نہیں آتی۔ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو اوسلو کے ایک علاقے میں پہلی بار بلند آواز سے اذان دی گئی تھی۔ شہر کی پانچ لاکھ آبادی میں ۳۶ ہزار مسلمان ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)

مصر میں عورت کو طلاق کا حق مل گیا

قاہرہ (ٹی وی رپورٹ) مصر کی پارلیمنٹ نے متنازع مسودہ قانون کی منظوری دے دی جس کے تحت عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ یہ بل حکومت نے پیش کیا تھا، اسے بھاری اکثریت سے منظوری حاصل ہوئی۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۸ جنوری ۲۰۰۰ء)

اسٹیٹ بینک کا شرعی مالیاتی کمیشن

کراچی (نامہ نگار) وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی شریعت ایپلٹ بینچ کے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کے فیصلہ کے مطابق اسٹیٹ بینک میں ۱۱ رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا ہے جو موجودہ مالیاتی نظام کو شریعت کے مطابق بنانے کے عمل کو انجام دینے اور اس کی نگرانی کے لیے پوری طرح با اختیار ہو گا۔ اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر آئی اے حنفی اس کے سربراہ ہوں گے۔ کمیشن معیشت کو سود سے پاک کرنے کے قرین ایپلیٹ بینچ کے فیصلہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
کمیشن کے ارکان میں ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ڈویژن چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان محمد یونس خان، اور چیف اکانومسٹ ایڈوائزر اسٹیٹ بینک ایم اشرف جنجوعہ شامل ہوں گے۔ جبکہ دوسرے ارکان اکانومسٹ سلمان شاہ، ڈاکٹر پرویز حسن ایڈووکیٹ، مولانا رفیع عثمانی، اسلامک اسکالر ذاکر نامزد صدر حبیب بینک، عامر ظفر خان نامزد صدر یو بی ایل، اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ایس امجد  حسین، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے ڈاکٹر فہیم خان کمیشن کے رکن اور سیکرٹری کے طور پر کام کریں گے۔
سپریم کورٹ کی شریعت ایپلیٹ بینچ کے فیصلہ کے مطابق ملک کی موجودہ سودی معیشت کو ختم کر کے اس کی جگہ غیر سودی معیشت قائم کی جائے گی۔ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن ملکی طور پر با اختیار ہو گا جو فوری طور پر کام شروع کر دے گا۔ شریعت ایپلیٹ بینچ نے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کو ایک فیصلہ کے تحت ہر سطح کے سود کو اور سودی کاروبار کو مکمل طور پر حرام قرار دیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تین ماہ کے اندر اس فیصلہ پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی جس کے لیے کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۳ جنوری ۲۰۰۰ء)

طالبان کی حکومت تسلیم کی جائے

نیویارک (کے پی آئی) افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو افغانستان پر طالبان کی حکمرانی تسلیم کر لینی چاہیے اور اس جنگ زدہ ملک کی دوبارہ بحالی کی کوششیں شروع کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان نے افغانستان کے ۹۰ فیصد حصے میں امن قائم کر لیا ہے لیکن ان علاقوں کی تعمیر کے لیے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں کیونکہ اس کی تعمیر پر بہت خرچہ ہو گا جو طالبان کی برداشت سے باہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے متعلق مغربی ممالک میں جو تاثر پایا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے، اقوام متحدہ اور دوسری امدادی ایجنسیاں افغانستان کو امداد فراہم کر رہی ہیں لیکن طالبان کی تحریک بنیاد پرستانہ تحریک سمجھی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان عوام نے طالبان کو نجات دہندہ سمجھ کر خوش آمدید کہا کیونکہ وہ ۱۹۸۰ء کے بعد جنگی صورتحال سے نالاں تھے۔ عوام کو امن اور سلامتی کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواہاں ہیں اور اپنے ملک کی تعمیر کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں امدادی کارکنوں اور طالبان کو اکٹھے کرنے کا اہم تجربہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ سچ کو سچ ہی کہنا چاہیے۔ لڑکیوں کے لیے سکول کھولے جا رہے ہیں، ان میں سے کچھ سرکاری سطح پر اور کچھ نجی سطح پر لوگ گھروں میں کھول رہے ہیں۔ طالبان انتظامیہ بیرونی ممالک کی خواتین کو بازاروں میں گھومنے سے منع نہیں کر رہی۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء)

نائیجیریا کی تیسری ریاست میں بھی شرعی قوانین کا نفاذ

لاگوس (ا ف پ) نائیجیریا کی تیسری ریاست کانو میں بھی شرعی قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ریاستی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔ ریاستی گورنر کے دستخطوں کے بعد بل باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آئینی لحاظ سے نائیجیریا ایک سیکولر ملک ہے جہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ اس سے قبل ملک کی دو ریاستیں اسلامی قوانین نافذ کر چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مزید دو ریاستیں بھی اسلامی قوانین کے نفاذ پر غور کر رہی ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء)

پاک فوج اور مغربی پریس

ہانگ کانگ (نیوز ڈیسک) فار ایسٹرن اکنامک ریویو نے پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ فوج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مغرب اور پاکستان کے علاقائی اتحادیوں نے ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، تاہم آہستہ آہستہ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں غیر ملکی سفارتکاروں کے مطابق مغربی ممالک پاکستان کی طرف سے اندرونی اور بیرونی محاذ پر واضح پیشرفت دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاک بھارت تعلقات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔
جریدے کے مطابق صدر کلنٹن اسی صورت میں پاکستان کا دورہ کریں گے جب فوجی حکومت بقول امریکہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی کرے گی، جبکہ کلنٹن بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر بھی آمادہ کریں گے۔
جریدے نے لکھا ہے کہ کرپشن اور اقتصادی حوالے سے عوام کی فوج سے توقعات پوری نہیں ہوئیں جس کی بدولت فوج کی عوامی مقبولیت کم ہوئی ہے، جبکہ فوج میں بنیاد پرستوں کو آگے لایا جا رہا ہے اور لبرل فوجی افسروں کو کھڈے لائن لگایا جا رہا ہے، جبکہ جنرل مشرف نے لبرل ہونے کا تاثر برقرار رکھا ہوا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۳ جنوری ۲۰۰۰ء)

انڈونیشیا کے فسادات

لاہور (انٹرنیشنل ڈیسک) جزائر ملاکا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے انڈونیشیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے جس سے انڈونیشیا کی حکومت ہل کر رہ گئی ہے۔ فار ایسٹرن اکنامک ریویو کی رپورٹ کے مطابق جکارتہ کی مسجد الاصلاح نے، جو مسلمانوں سے بھری پڑی تھی، ۹ جنوری کو جزائر مالاکا میں عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں پر تشدد کے خلاف آواز بلند کی۔ ان مسلمانوں نے کہا کہ اب تک ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ہے، ہزاروں مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کی گئی ہے اور ہزاروں مسلمان بچے یتیم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ خونریزی ان کے اپنے ہاں بھی شروع ہو سکتی ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۱۸ جنوری ۲۰۰۰ء)

بلا سود بینکاری کے ۳۰ طریقے

دنیا میں بلا سود بینکاری کے ۳۰ طریقے ہیں۔ اس سلسلے میں کویت، ایران، سعودی عرب، سوڈان، ملائیشیا جیسے اسلامی ممالک کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ میں تجربات ہو چکے ہیں۔ اس امر کا اظہار بینکار اور ماہرِ معاشیات سلیم سالم انصاری نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ مصنف نے قبل از اسلام سودی نظام کے حوالے بھی دیے ہیں اور تاریخی تناظر میں بھی اس کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ مضاربہ، مشارکہ، لیزنگ، لیٹر آف کریڈٹ کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۰ جنوری ۲۰۰۰ء)

گوتم بدھ کا دوبارہ ظہور

بیجنگ (ریڈیو نیوز) چین کی جانب سے سرکردہ بودھ لیڈر کرماپالامہ کے بھارت فرار کے بعد ڈھائی سالہ بچے کی شکل میں گوتم بودھ کے دوبارہ ظہور کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اس بچے کو مقدس قرار دینے کی مذہبی رسوم بھی ادا کر دی گئی ہیں۔ ’’سوشنام بنکوگ‘‘ نامی یہ بچہ تبت کے دارالحکومت لہاسہ کے شمالی مقام لہاری میں ۱۳ اکتوبر ۱۹۹۷ء کو پیدا ہوا۔ اس بچے کی مذہبی حیثیت کی توثیق بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے دلائی لامہ سے ضروری خیال کی جاتی ہے۔ بچے کو مقدس قرار دینے کے لیے لہاسہ کی ’’جوبکنگ‘‘ نامی خانقاہ میں تقریب ہوئی جس میں سرکردہ حکام نے بھی شرکت کی۔ اس بچے کو ’’رینوچی‘‘ کا مذہبی مقام دیا گیا ہے۔ تبت کے خودمختار علاقہ کے نائب صدر کی جانب سے بھی بچے کے ساتویں ’’رینوچی‘‘ ہونے سے متعلق تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔
ادھر بھارتی وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے کہا ہے کہ تبت سے فرار ہو کر آنے والے بودھ مذہبی لیڈر کرماپالامہ کو بھارت میں رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ وزیر مملکت امور خارجہ اجیت پانچا نے بھی کہا ہے کہ کرماپالامہ کو کچھ عرصہ کے لیے بھارت میں رہنے کی اجازت ہے۔ ’’نومولود بودھا‘‘ کی تاجپوشی کی ایک اور رسم ابھی باقی ہے جس کے بعد اس کی مذہبی زندگی کا آغاز ہو گا۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۱۸ جنوری ۲۰۰۰ء)

چین، طالبان اور بھارت

نئی دہلی (جنگ نیوز) ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کا دیرینہ دوست چین طالبان سے بھی تعلقات استوار کر رہا ہے اور اس نے طالبان کے وفد کو دورے کے لیے مدعو کیا تھا۔ کابل کے حکمرانوں کے لیے سلامتی کونسل کے طاقتور رکن سے شناسا ہونے کا یہ بہترین موقع رہا۔
رپورٹ کے مطابق چین اپنے سرحدی صوبے میں اسلامی تحریک سے پریشانی کے باوجود طالبان سے راہ و رسم اس لیے بڑھا رہا ہے کہ اسے اپنے صوبے میں بعض ایسی مشکلات درپیش ہیں جن سے نمٹنے کے لیے وہ طالبان سے مدد حاصل کر سکتا ہے۔ نیز اسے طالبان کی دہشت گردی سے بھی خطرہ نہیں کیونکہ اسے یقین ہے کہ اس کا دوست پاکستان ضرورت پڑنے پر طالبان پر قابو کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ چین کے پیپلز انسٹیٹیوٹ برائے خارجہ امور نے حال ہی میں طالبان کے ۳ رکنی وفد کو مدعو کیا تھا جس نے چین جا کر چینیوں سے ملاقات کی۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۰ جنوری ۲۰۰۰ء)

چین میں مردوں کو زچگی کی چھٹیاں ملیں گی

شنگھائی (اے ایف پی) چینی حکومت نے خواتین کی طرح مردوں کو بھی زچگی کی چھٹیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری فیملی پلاننگ کمیشن کے مطابق صوبہ ہیولانگ جیانگ میں ان خاوندوں کو تنخواہ کے ساتھ ۵ سے ۱۰ دن کی چھٹی دینے کے قوانین یکم فروری سے لاگو کیے جا رہے ہیں جن کی بیوی نے بچے کو جنم دیا ہو۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء)

برما نے بنگلہ دیش سے ۱۴ ہزار مسلمان پناہ گزینوں کو واپس لینے سے انکار کر دیا

واشنگٹن (ریڈیو رپورٹ) برما نے بنگلہ دیش سے ۱۴ ہزار مسلمان پناہ گزینوں کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق بنگلہ دیشی حکام نے بتایا کہ برما کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو برما کے شہری نہیں مانتے، بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گزین ان کی معیشت پر بوجھ ہیں۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء)

فلپائن کے مسلمان حریت پسندوں کی جدوجہد

زنگوانگا، فلپائن (ا ف پ) فلپائن کے جزیرہ جولو میں مسلمان حریت پسندوں اور فوجی دستے کے درمیان ایک جھڑپ میں چھ حریت پسند جاں بحق اور آٹھ فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ دونوں طرف سے فائرنگ کا سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ جاں بحق ہونے والے ۶ افراد کی لاشیں تلاش کر لی گئی ہیں۔ فوجی دستے نے کمک طلب کر لی جس پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مزید فوج بھیج دی گئی جس نے حریت پسندوں پر راکٹ برسائے۔ حکام کے مطابق گشت کرنے والے فوجی ایک گینگ کا تعاقب کر رہے تھے جس نے ایک مقامی تاجر کا اغوا کر لیا تھا، تاہم بعد میں اسے بخیریت رہا کر دیا تھا۔
(نوائے وقت، لاہور ۔ ۲ فروری ۲۰۰۰ء)

اٹھارہ ہزار امریکی فوجی مسلمان ہو گئے

واشنگٹن (کے پی آئی) امریکہ میں اٹھارہ ہزار فوجیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ امریکی بحریہ کے ایک مسلم کپتان یحیٰی نے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکہ کی بری، بحری اور فضائی افواج میں ۱۸ ہزار فوجی مسلمان ہو چکے ہیں۔ تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ میں آٹھ (ہزار) فوجی ایسے ہیں جنہوں نے فوج میں پہلے سے موجود مسلمان افسروں اہلکاروں سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا ہے۔ جبکہ کئی بڑے افسروں کو ان کی کارکردگی پر تعریفی اسناد اور میڈل ملنے کے بعد غیر مسلم امریکی فوجی بھی اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کے بعد بحریہ کے علامتی نشان میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے، صلیب کے اندر چاند بنا کر نیا نشان تشکیل دیا گیا ہے۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۔ ۳۱ جنوری ۲۰۰۰ء)

ججوں کے حلف نامہ سے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ خارج

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ آف پاکستان کے نئے چیف جسٹس اور جج صاحبان، اور سندھ، سرحد، پنجاب، اور بلوچستان کی ہائیکورٹس کے چیف جسٹس اور جج صاحبان نے بدھ کی صبح عبوری آئین کے حکم کے تحت جو حلف اٹھایا اس میں انہوں نے دستوری حلف میں دیے گئے حلف کے یہ نکات نہیں پڑھے کہ
’’میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا۔‘‘
اسی طرح انہوں نے دستور میں دیے گئے حلف کی یہ عبارت بھی نہیں پڑھی:
’’میں اپنے فرائض کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق انجام دوں گا۔‘‘
عبوری آئین کے حکم نمبر ایک مجریہ ۱۹۹۹ء کے آرٹیکل ۳ کے تحت فاضل جج صاحبان نے جو حلف اٹھایا، اس کا متن درج ذیل ہے:
’’میں صدقِ دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوصِ نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا کہ بحیثیت چیف جسٹس پاکستان، یا جج عدالتِ عظمٰی پاکستان، یا چیف جسٹس یا جج عدالتِ عالیہ، میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ عبوری آئین کے حکم نمبر ایک آف ۱۹۹۹ء (جیسا کہ ترمیم شدہ ہے) اور ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو نافذ شدہ ہنگامی حالت کے اعلان اور قانون کے مطابق سرانجام دوں گا، کہ میں اعلیٰ عدالتوں کونسل (سپریم جوڈیشیل کونسل) کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کروں گا، کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا، اور یہ کہ میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ بلا خوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد قانون کے مطابق انصاف کروں گا۔ اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے، آمین۔‘‘
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۷ جنوری ۲۰۰۰ء)

کوفی عنان کی ہمدردیاں

گروزنی (آن لائن) اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف ہے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینا چاہیے، تاہم ان کے خلاف طاقت کے استعمال میں عام شہریوں کو محفوظ رکھا جائے۔ اپنے دورہ ماسکو کے دوران روسی عبوری صدر ولادمیرپوٹین کے ساتھ ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ان کی ہمدردی چیچن علیحدگی پسندوں کے خلاف لڑنے والے روسی فوجیوں کے ساتھ ہے تاہم اس لڑائی میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کاروائیاں بہت سوچ سمجھ کر کرنی چاہئیں کیونکہ ان میں شہریوں کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۳۰ جنوری ۲۰۰۰ء)

چیچن مجاہدین پہاڑوں میں منتقل ہو گئے

گروزنی (ا ف پ) چیچنیا میں جانبازوں اور روسی فوج کے درمیان لڑائی ملک کے جنوبی پہاڑوں کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ روسی فوجی ذرائع کے مطابق گروزنی سے نکلنے والے جانبازوں نے شہر کے نواحی پہاڑی علاقہ میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں اور مورچہ بند ہو کر روسی فوج پر حملے کر رہے ہیں۔ فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔ روسی فوج نے تباہ شدہ دارالحکومت میں اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔
فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جانبازوں کے شہر سے نکل جانے کے باعث مزاحمت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ روس کے فوجی عہدے داروں نے چیچن جانبازوں کے گروزنی سے نکل جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ دو ہزار کے قریب جانباز روس کے مضبوط حصار کو توڑ کر شہر سے محفوظ انخلاء کر گئے ہیں۔ فوجی عہدے دار نے اسے مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ قیادت سے خفیہ ڈیل کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ عہدے دار نے مزید کہا ہے کہ وہ شہر کے باہر روسی فوج کی ایک دفاعی لائن کو توڑ سکتے ہیں، جبکہ اس طرح جُل دے کر نکلنا ممکن نہیں ہے۔
ادھر معلوم ہوا ہے کہ برطانوی اخبار دی ٹائمز سے وابستہ ایک صحافی کو روسی فوج نے حراست میں لے لیا ہے۔ صحافی گائلز ویل روسی فوج کو اپنی شناخت کرانے میں ناکام ہو گیا جس پر اسے حراست میں لے لیا گیا۔
(روزنامہ اوصاف ۔ ۴ فروری ۲۰۰۰ء)

سعودی عرب میں انتخابات نہیں ہو سکتے

ریاض (ا ف پ) ایک سعودی عہدے دار نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ مجلسِ شورٰی (مشاورتی کونسل) کے سربراہ الشیخ محمد بن ابراہیم الجبیر نے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال مجلسِ شورٰی کے ارکان کے انتخابات کے لیے الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سعودی عرب میں انتخابات آئیڈیل راستہ نہیں ہے، کیونکہ ارکان کی نامزدگی کے لیے معیار کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے، جبکہ انتخابات میں اس معیار کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو مجلسِ شورٰی میں نمائندگی نہیں دی جا سکتی۔
الشیخ محمد بن ابراہیم الجبیر نے کہا کہ ۸۰ رکنی مجلسِ شورٰی کے لیے امیدواروں کی نامزدگی سینئر سعودی حکام پر مشتمل کمیٹی کرتی ہے جو حکومت کو مشورے دیتی ہے، تاہم اسے فیصلہ سازی کا اختیار نہیں ہے۔
ادھر شورٰی کے ایک رکن نے کہا کہ کمیٹی الشیخ محمد جبیر کے علاوہ وزیر داخلہ، گورنر ریاض، شاہ فہد، اور ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کے مشیروں پر مشتمل ہے، تاہم حتمی فیصلہ خادمِ حرمین الشریفین خود کرتے ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۳ فروری ۲۰۰۰ء)

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

ٹوبہ ٹیک سنگھ (نامہ نگار) مرکزی جامع مسجد اہلِ حدیث میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے مرکزی رہنما ممبر اسلامی نظریاتی کونسل مولانا علامہ ارشاد الحق نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ۱۹۷۳ء سے ۱۹۸۷ء تک فوجداری دیوانی دستور ترامیم پر نظرثانی مکمل کر کے اسے حتمی شکل دے دی ہے۔ اب دستور کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے تمام تجاویز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل و ارکان چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر کے انہیں پیش کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے معطل ہونے سے قادیانیوں نے دوبارہ سر اٹھایا ہے اور قادیانیوں نے مساجد میں بشیر الدین محمود کا ترجمہ شدہ قرآن رکھنا شروع کر کے اذان دینا شروع کر دی ہے۔ آئین میں دوبارہ اسلامی شقوں کے نفاذ سے یہ فتنہ ختم ہو جائے گا۔
(نوائے وقت، لاہور ۔ یکم فروری ۲۰۰۰ء)

دستور کی رو سے اسلامی دفعات کے تحفظ کا فرمان جاری کیا جائے

چیف ایگزیکٹو سے ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کا مطالبہ

ادارہ

ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کے چیئرمین چوہدری ظفر اقبال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی دعوت پر مختلف دینی راہنماؤں اور ماہرینِ قانون کا ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس ۶ فروری ۲۰۰۰ء کو نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں مجلسِ احرارِ اسلام پاکستان کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں ۱۹۷۳ء کے دستور کی معطلی اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے پی سی او کے تحت حلف نامہ میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے الفاظ حذف کیے جانے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دستورِ پاکستان کے معطل ہونے کے بعد سے ملک میں قادیانیوں اور سیکولر لابیوں کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ججوں کے حلف نامہ سے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے الفاظ حذف ہونے سے پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت مشکوک ہو کر ایک سیکولر ملک کا تاثر ابھر رہا ہے۔ اسی طرح چیف ایگزیکٹو کی حکومت میں شامل بعض افراد کے بارے میں قادیانی ہونے یا بین الاقوامی سیکولر لابیوں سے ان کے تعلق کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ چیف ایگزیکٹو کی طرف سے اس سلسلہ میں پوری قوم بالخصوص دینی حلقوں کو اعتماد میں لیا جائے اور صورتحال کی وضاحت کی جائے۔ 
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے چیف ایگزیکٹو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ۱۹۷۷ء میں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے ۱۹۷۳ء کا دستور معطل کرنے کے بعد دینی حلقوں کے مطالبہ پر عبوری آئین میں دستور کی اسلامی دفعات اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی دفعات کو بحال رکھنے کا اعلان کیا تھا، اسی طرح جنرل پرویز مشرف بھی پی سی او کے تحت ایک مستقل فرمان کے ذریعے ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، قراردادِ مقاصد کی بالادستی، اور ملک کے نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی بحالی کا اعلان کریں۔
اجلاس میں ملک بھر کی دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ٹھوس مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر کے عقیدہ ختم نبوت کی دستوری حیثیت اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے لیے بروقت اور موثر کردار ادا کریں۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ اس سلسلہ میں دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے رابطہ کیا جائے گا اور لاہور کی سطح پر تمام دینی جماعتوں کا ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ اس مسئلہ پر دینی جماعتوں کے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پروگرام مشترکہ طور پر طے کیا جا سکے۔
اجلاس میں مجلسِ احرارِ اسلام کے راہنماؤں مولانا سید عطاء المہیمن شاہ بخاری، مولانا محمد اسحاق سلیمی، چودھری ثناء اللہ بھٹہ، مولانا سید کفیل شاہ بخاری، عبد اللطیف خالد چیمہ، میاں اویس احمد، عالمی مجلسِ تحفظِ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور پاکستان شریعت کونسل کے راہنماؤں مولانا زاہد الراشدی اور مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر کے علاوہ ممتاز قانون دان چودھری نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ اور ملک رب نواز ایڈووکیٹ نے بھی شرکت کی۔

غیر سودی نظام کے لیے کمیشن کا قیام

ادارہ

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت بنچ کے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کے فیصلے کے مطابق اسٹیٹ بینک میں ۱۲ رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا ہے جو موجودہ مالیاتی نظام کو شریعت کے مطابق بنانے کے عمل کو انجام دینے اور اس کی نگرانی کے لیے پوری طرح با اختیار ہو گا۔ اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر آئی اے حنفی اس کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔ یہ کمیشن معیشت کو سود سے پاک کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
سپریم کورٹ کے شریعت بنچ نے ربوٰا کو حرام قرار دینے کا جو فیصلہ دیا ہے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا ہے اور قیامِ پاکستان کے موقع پر ہم نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان تمام دنیا کے لیے مینارۂ نور ثابت ہو گا اور ہم دنیا کو اسلام کے عادلانہ نظام کا نمونہ پیش کریں گے۔ قیامِ پاکستان کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، اس دوران دینی جماعتوں کی طرف سے سود کے خلاف مہم چلتی رہی اور پاکستان میں سود سے پاک مالی نظام کے قیام کا مطالبہ ہوتا رہا لیکن حکومت نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔
اب سپریم کورٹ کے شریعت بنچ نے اپنے ۲۳ دسمبر کے فیصلے میں ربوٰا کی ساری شکلیں غیر اسلامی قرار دی ہیں اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں غیر سودی مالی نظام قائم کرے۔ اس لحاظ سے حکومت کا یہ فیصلہ بڑا مستحسن ہے کہ اس نے اس فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے ایک گیارہ رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا ہے جو معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرے گا۔
اس وقت دنیا میں مغرب کا مالیاتی نظام رائج ہے جو سر تا پا سود پر مبنی ہے۔ پاکستان بھی اس مالیاتی نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ اس لحاظ سے غیر سودی نظام کا نقشہ پیش کرنا ایک جرأت مندانہ کام ہے اور اس کی توقع انہی لوگوں سے کی جا سکتی ہے جو اسلام کے مالیاتی نظام سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ اس پر پختہ ایمان بھی رکھتے ہوں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس اعلیٰ سطحی کمیشن کے قیام سے کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کمیشن میں کمٹڈ لوگ شامل کیے جاتے جو سود کو حرام سمجھتے۔ لیکن ایک آدھ کو چھوڑ کر اس کمیشن میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل کیے گئے ہیں جو سود کے حق میں دلائل دیتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اسٹیٹس کو سے ہٹ کر غیر سودی نظام کا نقشہ پیش کریں گے۔
اس کمیشن کے لیے انقلابی ذہنوں کی ضرورت تھی جو روایتی سودی نظام کو ختم کر کے غیر سودی اسلامی مالیاتی نظام پر یقین رکھتے ہوں۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اس کمیشن پر نظرثانی کرے گی اور ایسے لوگوں کو سامنے لائے گی جو واقعی کچھ کر کے دکھانا چاہتے ہوں۔ صرف لیپاپوتی کرنے والے نہ ہوں ورنہ حکومتی ارادوں کے بارے میں بھی شک و شبہے کا اظہار شروع ہو جائے گا۔
(ادارتی شذرہ نوائے وقت لاہور ۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء)

کشمیر اور چیچنیا کے مجاہدین کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار

سابق چیچن صدر کی گرفتاری کی مذمت

مولانا فداء الرحمٰن درخواستی

پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ۵ فروری کو ملک گیر ہڑتال اور ہمہ گیر تقریبات کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں پاکستانی عوام ان کے ساتھ ہیں اور وہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ برطانوی استعمار نے اپنے مخصوص مفادات کے لیے جان بوجھ کر کھڑا کیا تھا اور اقوامِ متحدہ کے واضح فیصلوں اور قراردادوں کے باوجود عالمی طاقتیں اس مسئلہ کو حل کرانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں جس کی وجہ سے کشمیری عوام نے مجبور ہو کر بھارت کی مسلح جارحیت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور وہ مسلسل جہاد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کا یہ مسلّمہ حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کریں اور بھارت عالمی فورم پر اس کا وعدہ کرنے کے باوجود کشمیری عوام کا یہ حق انہیں دینے سے انکاری ہے جس کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ مغربی طاقتوں کا اپنا کوئی مفاد نہیں ہے اس لیے وہ مظلوم مسلمانوں کی پکار سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی تیمور میں چند برسوں میں ریفرنڈم اور آزادی کا اہتمام کرنے والے عالمی اداروں نے کشمیر، فلسطین، چیچنیا، کسوو اور بوسنیا میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے واضح ہو گیا ہے کہ یہ مغربی قوتیں مسلمانوں کے بارے میں معاندانہ رویہ اور دہرا معیار رکھتی ہیں اور جہاں مسلمانوں کے حقوق کی بات ہوتی ہے یہ منافقت کا شکار ہو جاتی ہیں۔
مولانا درخواستی نے کشمیری مجاہدین اور چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی اور
یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد میں چیچنیا کے سابق صدر سلیم خان کی گرفتاری اور ان کے ساتھیوں پر خفیہ ادارے کے اہل کاروں کے تشدد کی شدید مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ چیچنیا کے سابق صدر کے خلاف اس شرمناک کارروائی کے ذمہ دار افسران کو معطل کر کے سزا دی جائے۔
پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ نے کہا کہ ملک کی تازہ صورتحال اور نفاذ شریعت کی جدوجہد کو تیز کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے کونسل کی مرکزی مجلسِ شورٰی کا اجلاس عید الاضحٰی سے قبل طلب کیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔