دسمبر ۲۰۰۰ء

پاکستان شریعت کونسل کے عزائممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سنت نبویؐ کی جامعیت و اہمیتشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
لباس کے چند ضروری مسائلشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
مغرب میں آزادئ نسواں کے نتائجحکیم محمود احمد ظفر 
حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری اور اسلامی تعلیماتمولانا محمد عیسٰی منصوری 
انسانی حقوق کے مغربی تصورات اور سیرتِ طیبہمولانا محمد عبد المنتقم سلہٹی 
ملک کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہمولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی 
امریکی عورت کا المیہمنو بھائی 
ٹینک کے مقابلے میں غلیل کی جیتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
یورپ میں مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہےادارہ 
عالمی منظر نامہادارہ 
تعارف کتبادارہ 
پاکستان میں ہر فرد پچیس ہزار روپے کا مقروض ہےادارہ 
ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاسادارہ 
قافلۂ معادادارہ 

پاکستان شریعت کونسل کے عزائم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کو واچ کرنے اور اسلام اور پاکستان کے خلاف ان سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے تمام دینی جماعتوں سے رابطہ قائم کرنے اور جدوجہد کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا جو گزشتہ دنوں جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ انڈونیشیا میں این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں کے تلخ نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں کا تعاقب وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں دیگر دینی جماعتوں سے رابطہ و مشاورت کے ساتھ جدوجہد کو منظم کیا جائے گا۔اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو کھلی تحقیقات کے ذریعے این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں اور مالیات کا جائزہ لے اور اس کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں اسلام اور پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں پر پابندی لگائی جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا میں مسیحی مشنریوں، قادیانی گروہ اور این جی اوز کے مشترکہ نیٹ ورک نے جو افراتفری اور انارکی کی صورتحال پیدا کر دی ہے ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اسی طرز پر پاکستان کی نظریاتی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے اور فکری و معاشرتی انتشار کو بڑھانے کے لیے جو منظم کام ہو رہا ہے اس کی روک تھام کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ قرارداد میں ملک کی تمام دینی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مسئلہ کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان شریعت کونسل کی ملک بھر میں تنظیم نو کی جائے گی اور اس سلسلہ میں مجلس شوریٰ نے امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمان درخواستی کو مکمل طور پر اختیار دے دیا ہے کہ وہ مرکزی اور صوبائی سطح پر نئے تنظیمی ڈھانچوں کا اعلان کریں اور ضرورت کے مطابق نئے عہدہ داروں کا تقرر کریں۔ اجلاس میں دیوبندی مکتب فکر کی جماعتوں اور مراکز کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے لیے کام کرنے والے مشترکہ فورم ’’علماء کونسل‘‘ کی طرف سے تجویز کیے جانے والے ’’ضابطۂ اخلاق‘‘ کی توثیق کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ہم مسلک جماعتوں اور مراکز میں مفاہمت و اشتراک کے فروغ کے لیے مجلس عمل، علماء اسلام پاکستان اور علماء کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قانونی شکل دینے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق مروجہ قوانین میں ضروری تبدیلیاں کر دے تو یہ اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالہ سے اس کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا، اور اگر اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو مکمل طور پر قبول کر لیا جائے تو ملک میں نظام شریعت کے نفاذ کا مقصد حل ہو جائے گا اور پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بن جائے گا۔

ایک اور قرارداد میں ضلعی حکومتوں کے منصوبہ کو عالمی استعمار کی سازش قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کر کے سے ایک سو سے زائد نیم خودمختار ریاستوں میں تبدیل کر دینا ہے تاکہ عالمی ادارے انہیں آسانی کے ساتھ کنٹرول کر سکیں اور ایک نظریاتی ریاست اور ایٹمی قوت کے طور پر پاکستان کو عالم اسلام میں قیادت کا جو مقام حاصل ہو رہا ہے اسے ختم کر کے مسلم ممالک پر عالمی قوتوں اور امریکی استعمار کے تسلط کو مستحکم کیا جائے اور مزاحمتی قوتوں کو مکمل طور پر کچل دیا جائے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کو فوری طور پر ترک کرنے کا اعلان کیا جائے۔
ایک اور قرارداد میں ٹی وی، کیبل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کے ذریعے فحاشی اور عریانی کی بڑھتی ہوئی یلغار کو اسلامی ثقافت اور مشرقی معاشرت کے خلاف خوفناک سازش قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کو فحاشی کی اس مذموم مہم کی سرپرستی سے باز رکھا جائے اور خاندانی نظام کے حوالہ سے اس تباہ کن منصوبے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

ایک قرارداد میں دینی مدارس کو معاشرہ میں اسلامی علوم و روایات کے تحفظ و فروغ کے مراکز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مغربی میڈیا اور اداروں کی منفی مہم کی مذمت کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ دینی مدارس کی خودمختاری اور آزدانہ کردار کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایک قرارداد میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں روز افزوں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ مہنگائی بین الاقوامی معاشی اداروں کی سودی اور استحصالی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور اس سے صرف اس صورت میں چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے کہ سودی معیشت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے چنگل سے گلوخلاصی حاصل کی جائے اور ٹیکس فری معیشت کے اسلامی اصولوں کو اپنا کر ملک کے معاشی ڈھانچے کو قرآن و سنت کے احکام کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دیا جائے۔

ایک قرارداد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان کے معزول صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کو نمائندگی دینے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ مسلمہ اصولوں اور روایات کے منافی ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے تمام ممالک بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے پچانوے فیصد علاقہ اور دارالحکومت پر کنٹرول رکھنے والی طالبان حکومت کو بلاتاخیر تسلیم کیا جائے جس نے افغان عوام کو خانہ جنگی سے نجات دلا کر امن قائم کیا ہے اور جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کی تکمیل کرتے ہوئے اسلامی نظام نافذ کر دیا ہے۔

مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے کہا کہ عرب ممالک کے بعد اب پاکستان میں بھی منظم طریقہ سے فحاشی کو پھیلایا جا رہا ہے جس کا مقصد نئی نسل کو بے راہ روی کا شکار بنا کر اسلامی روایات سے باغی کرنا ہے۔ اس لیے علماء کرام کو چاہیے کہ وہ جذباتی نعروں اور سطحی بیانات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اسلام دشمن قوتوں کے عزائم کا ادراک حاصل کریں اور ان کو ناکام بنانے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے عوام کی ذہن سازی کی ضرورت ہے اور یہ کام علماء کرام ہی کر سکتے ہیں۔

راقم الحروف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت مغرب کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں اور مغربی دانشوروں نے خود اسے ’’سولائزیشن وار‘‘ کا نام دے رکھا ہے جس کا مقصد پوری دنیا پر مغرب کے لا دین فلسفہ اور بے حیا ثقافت کو مسلط کرنا ہے۔ اور چونکہ اسلام اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لیے مغربی اداروں اور میڈیا کی منفی مہم کا سب سے بڑا ہدف اسلام ہے۔ لیکن ہمارے ہاں علماء کرام اور دینی حلقوں میں ابھی اس تہذیبی کشمکش کا شعور پوری طرح بیدار نہیں ہے اور ہم منظم انداز میں جنگ نہیں لڑ رہے۔ راقم الحروف نے دینی جماعتوں اور علمی مراکز سے اپیل کی کہ وہ اپنے کارکنوں کو ذہنی اور فکری طور پر اس جنگ کے لیے تیار کریں اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو اس آخری حملہ سے بچانے کے لیے اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں۔

اجلاس میں مفتی عطاء الرحمان قریشی، مولانا غلام مصطفٰی، مولانا خادم حسین، مولانا محمد صدیق، مولانا محمد اقبال آصف، قاری فاروق احمد صدیقی، مولانا عبد الغفور شاکر، مولانا عبد المتین قریشی، مولانا سیف الرحمان ارائیں، مولانا حافظ اقبال اللہ، مولانا احسان اللہ ہزاروی، مولانا محمد حنیف، مولانا عبد العزیز محمدی، مولانا فیض محمد نقشبندی، مولانا قاری اللہ داد، مولانا محمد عمر قریشی، مولانا مطیع الرحمان درخواستی، مولانا جلیل الرحمان درخواستی، مولانا صوفی عبد الحنان، مولانا منظور احمد اور دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔

سنت نبویؐ کی جامعیت و اہمیت

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

وحی غیر متلو اور حدیث

ہدایت کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو وحئ خفی یا وحئ غیر متلو اور حدیث کہا جاتا ہے۔ اور جس کی رہبری میں اور جس کے سانچے میں ڈھل کر آنحضرت ﷺ کی زندگی، جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں اور تمام شعبوں کی جامع ہے، ہر ایک کی رہبری کے لیے بہترین نمونہ اور عمدہ سامانِ ہدایت بن گئی ہے، اور اسی کو سنتِ رسولؐ کہا جاتا ہے۔ اور اس وحئ خفی کے ذریعہ دی ہوئی تعلیم کا نام قرآن مجید میں حکمت لیا گیا ہے ’’وانزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ‘‘۔ جس میں قرآن مجید کے علاوہ اور بھی بہت سی باتوں اور اعمال کی خدا تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق تعلیم فرمائی ہے۔
جس طرح احکامِ خداوندی سے بے نیازی نہیں ہو سکتی، اسی طرح اسوۂ رسولؐ اور سنتِ رسول اللہ سے بے پروائی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ سنتِ رسول اللہ کی اطاعت بھی ایسی ہی ضروری ہے جیسی کتاب اللہ کی۔ اس لیے کہ دونوں کی پیروی حکمِ الٰہی کی پیروی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ کی اطاعت دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔ تو جس طرح قرآن مجید کی اطاعت خود اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی خود خدا تعالیٰ کی اطاعت ہے۔
ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ (پ ۵ النساء رکوع ۱۱)
’’اور جو رسول اللہ کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘
یہ معلوم اور ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ثواب اور عذاب، نیکی اور بدی کا تعیّن، اور اس کا صحیح امتیاز، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا۔ جس چیز کو آپ نے گناہ اور جرم قرار دیا ہو، دنیا میں کوئی شخص اس کی خوبی ثابت نہیں کر سکتا۔ اور جس چیز کو آپ نے نیکی قرار دیا ہو، دنیا کی کوئی طاقت اس کی برائی ثابت نہیں کر سکتی۔ تمام وہ اخلاقِ حسنہ جو اقوامِ عالم اور نسلِ انسانی میں مستحسن اور پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں، وہ سب الہاماتِ الٰہیہ اور تعلیماتِ انبیاءؑ اور خصوصاً جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا نتیجہ ہیں۔ کیا خوب کہا گیا ہے ؎
چمکتی ہے جو ریگ اکثر، نشاں ہے مہ جبینوں کا
جسے ہم روندتے پھرتے ہیں، یہ سب خاکِ انساں ہے
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہنچائی ہوئی اور بتائی ہوئی ہر ایک تعلیم خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت ہوتی ہے۔ رسول کا کام صرف دین ِحق کی تبلیغ کرنا ہے، دین کا بنانا نہیں۔ اور اسی لیے وہ مطاع ہوتا ہے اور اس کی اطاعت ہر شخص پر فرض ہوتی ہے۔ اور اس کی پیش کردہ تعلیم کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ رسول کے سوا کسی دوسرے شخص کو اور اس کی پیش کردہ تعلیم کو ہرگز ہرگز یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم عین فطرتِ انسانی کے موافق اور متوازی ہے، اور انسانی فطرت کے دبے اور چھپے ہوئے جملہ تقاضوں کی ترجمانی ہے، اور اس کی خلاف ورزی فطرت سے بغاوت ہے۔ ہادئ برحق، راہبرِ کامل، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور آئین جس توجہ کا مستحق ہے، اگر ویسی ہی توجہ اس کی طرف کی جائے تو آج بھی مسلمان وہی جوشِ ایمانی اور وہی مبہوت کن کارنامے دنیا کو پھر دکھا سکتا ہے جو حضراتِ صحابہ کرامؓ نے دکھائے تھے۔ مذہبِ اسلام اور سنتِ رسول اللہ ہی کے ذریعہ دنیا میں کامل اتحاد، صحیح عدل اور مکمل امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔ نہ تو آپ جیسا رہبرِ کامل دنیا میں پیدا ہوا، اور نہ تا قیامت پیدا ہو گا، اور نہ کوئی نظام اور آئین ہی ایسا موجود ہے ؎
شراب خوشگوارم ہست و یار مہرباں ساقی
ندارد ہیچ کس یارے چنیں یارے کہ من دارم
ولادت سے لے کر وفات تک، خوشی سے لے کر غمی تک، زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبہ میں اس کی اصلاح کے لیے ہم کو صرف سنتِ رسول اللہ اور شریعتِ اسلامی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا، جو ہر طرح سے محفوظ و موجود ہے۔ کسی دوسری شریعت، کسی دوسرے ہادی، کسی اور آئین، اور کسی رسم و رواج کی طرف نہ تو ہمیں نگاہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ بھلا جس کے گھر میں شمع کافوری روشن ہو اس کو فقیر کی جھونپڑی سے اس کا ٹمٹماتا ہوا چراغ چرانے کی کیا ضرورت اور حاجت ہے؟ ہاں اگر کوئی خوش نصیب اس کی طرف ہاتھ بھی بڑھائے، کوتاہ دست اور بدقسمت کو سنتِ رسول اللہ کے آبِ حیات سے کیا فائدہ؟

لباس کے چند ضروری مسائل

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

قرآن و حدیث میں لباس کے متعلق بہت سے احکام وارد ہوئے ہیں۔ محدثین نے اپنی کتابوں میں ’’کتاب اللباس‘‘ کے نام سے باب باندھے ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسول اکرمؐ کے احکام متعلقہ لباس بیان کیے ہیں۔ ویسے بھی عربی کا مقولہ ہے ’’الناس باللباس‘‘ لوگ لباس کے ساتھ ہی متمدن نظر آتے ہیں۔ انسان کی حیثیت، وقار اور شان و شوکت لباس ہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ جس لباس سے اعضائے مستورہ کی پردہ پوشی کی جاتی ہے وہ فرض ہے اور باقی لباس سنت ہے۔ چنانچہ عبادت کے لیے صاف ستھرا لباس ہونا چاہیے، خاص طور پر جمعہ اور عیدین کی نماز کے لیے۔ اگر نیا لباس میسر نہیں تو کم از کم دھلا ہوا تو ہونا چاہیے۔ خصوصاً صاحبِ ثروت آدمی کو اچھا لباس زیب تبن کرنا چاہیے، اگر پھٹا پرانا لباس پہنے گا تو ناشکرگزاری کا مرتکب ہو گا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک شخص کو میلے کچیلے کپڑے پہنے دیکھا، فرمایا، کیا تیرے پاس مال ہے؟ عرض کیا، ہاں، میرے پاس بھیڑ، بکریاں، گائے، بیل، اونٹ اور لونڈی غلام ہیں۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا:
فلیریٰ اثر نعمۃ اللہ علیک و کرامتہ (احمد و نسائی)
’’تو پھر اللہ کے انعام و احسان اور اس کے فضل کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔‘‘
(یعنی) پھٹا پرانا لباس تو مجبور آدمی پہنتا ہے، تو اچھا لباس پہنا کرو۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے:
کل ما شئت و والبس ما شئت ما اخطاتک اثنتان سرف و مخیلۃ۔
’’جو جی چاہے کھاؤ اور پہنو جب تک کہ دو چیزیں نہ ہوں یعنی اسراف اور تکبر۔‘‘
یہ دونوں چیزیں مکروہ تحریمی میں داخل ہیں۔ کھانا پینا اور پہننا مباح ہے مگر ان دو شرائط کے ساتھ۔ شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ اپنے ترجمۂ قرآن میں اس مقام پر حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ دشمن نے تم سے جنت کے کپڑے اتروا لیے، پھر ہم نے تمہیں دنیا میں لباس کی تدبیر سکھائی کہ لباس اس طرح بنا کر پہنو، چنانچہ اب وہی لباس پہننا چاہیے جس میں پرہیزگاری ہو۔
مرد کے لیے اس دنیا میں ریشمی لباس حرام ہے، البتہ جنت میں ’’ولباسھم فیھا حریر‘‘ (الحج) ان کے لیے ریشمی لباس ہو گا۔ اسی طرح اس دنیا میں شراب حرام ہے مگر جنت میں شرابِ طہور نصیب ہو گی۔ اس طرح اس جہان میں مرد صرف چاندی کی انگوٹھی پہن سکتا ہے، اس کے علاوہ سونا اور چاندی حرام ہے، مگر جنت میں اسے سونے اور چاندی کے زیورات پہنائے جائیں گے۔
لباس کے متعلق بعض اور بھی احکام ہیں۔ مثلاً مرد ریشمی لباس نہ پہنیں اور دامن دراز نہ کریں۔ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا مکروہ ِتحریمی ہے۔ شلوار، تہبند، پتلون یا چادر ہو، مرد کے لیے ٹخنے ننگے ہونے چاہئیں وگرنہ نماز بھی مکروہ ہو گی۔ البتہ عورت کو اجازت ہے۔ صحیحین کی روایت میں ہے:
من جرثویہ خیلآء لم ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ۔
’’جو کوئی فخر کے طور پر اپنا کپڑا نیچے کرے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔‘‘
حضور علیہ السلام نے عورت کو باریک کپڑے پہننے سے بھی منع فرمایا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت اسماءؓ کو باریک دوپٹہ اوڑھے پہنے ہوئے دیکھا جس سے چھن کر بال نظر آ رہے تھے، آپؐ ناراض ہو گئے اور فرمایا، جب عورت بالغ ہو جاتی ہے تو اس کے چہرے اور ہاتھوں کے سوا جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے۔
اور جوان عورت بلا وجہ چہرہ بھی نہ کھولے، تاہم یہ ستر میں داخل نہیں، ضرورت کے وقت منہ ننگا کر سکتی ہے۔ ایسی وضع قطع کا لباس پہننا جس سے جسم کے بعض حصے نظر آئیں، یہ بھی بے حیائی کی بات ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ عورت بہت باریک لباس نہ پہنے۔ نیز سورۃ نور کے احکام ’’ولا یبدین زینتھن‘‘ کے مطابق اپنی زینت کا اظہار نہ کرے سوائے خاوند یا دیگر محرم مردوں کے سامنے۔
بہرحال لباس فرض بھی ہے، سنت بھی ہے، حرام بھی ہے، مکروہ بھی ہے، اور مباح بھی ہے۔ فخر و تکبر والا لباس جائز نہیں۔ اسی طرح میلا کچیلا لباس مکروہ ہے۔ لباس کے معاملہ میں اسراف بھی نہیں ہونا چاہیے۔ باقی سب لباس مباح ہیں۔ ہر ملک کے باشندے مقامی وضع قطع، یا آب و ہوا، گرمی سردی کی مناسبت سے لباس پہن سکتے ہیں۔

مغرب میں آزادئ نسواں کے نتائج

حکیم محمود احمد ظفر

یہ درست ہے کہ عورت ایک طویل عرصہ سے مظلوم چلی آ رہی تھی۔ وہ اسلام سے قبل ہر قوم اور ہر خطہ میں مظلوم تھی۔ یونان، مصر، روم، عراق، چین اور ہندوستان و عرب میں ہر جگہ مظلوم تھی۔ ہر جگہ وہ ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی تھی۔ بازاروں میں میلوں میں اس کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ اس سے حیوانوں سے بدتر سلوک ہو رہا تھا۔ اہلِ عرب اس کے وجود کو باعثِ ننگ و عار سمجھتے تھے بلکہ بعض شقی القلب لوگ اس کو زندہ درگور کرتے تھے۔ یونان میں عرصہ تک یہ بحث جاری رہی کہ اس کے اندر روح بھی ہے یا نہیں؟ ہندوستان میں یہ اپنے شوہر کے ساتھ چتا پر جل کر راکھ ہو جاتی تھی۔ کوئی اس کا پرسان حال نہیں تھا۔ کسی کے دل میں اس کے لیے رحم کے جذبات نہیں تھے۔ راہبانہ مذاہب اس کو معصیت اور گناہ کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ اس کا وجود مجسم پاپ اور گناہ سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں وہ ذلیل و حقیر سمجھی جاتی تھی۔ اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں تھی۔ اس پر ظلم و ستم کی کوئی دادرسی نہیں ہوتی تھی۔ وہ معاشرہ میں مجبور و مقہور تھی اور اسے فریاد کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔ وہ باپ کی، پھر شوہر کی اور اس کے بعد اپنی اولاد کی محکوم اور تابع تھی۔
اسلام نے عورت کو ظلم کے گرداب سے نکالا۔ اس کو معاشرہ میں عزت اور سربلندی عطا کی۔ اس کا احترام سکھایا۔ اس کے ساتھ انصاف کیا۔ اس کی داد رسی کی۔ لیکن مغرب کی جو قومیں اسلام کے سایۂ رحمت میں نہ آ سکیں وہ اسلام کی ان برکات اور ثمرات سے محروم رہیں۔ ان میں عورتوں کے حقوق برابر پامال رہے۔ اور وہ ہر قسم کا ظلم و ستم سہتی رہی۔ موجودہ دور میں جب ان قوموں میں عورت کی آزادی اور مساوات کا تصور ابھرا تو انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ صنفی اور نوعی اختلاف کے باوجود عورت مرد سے کم تر اور فرو تر نہیں ہے۔ وہ ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے۔ وہ مرد کی طرح ہر عہدہ اور منصب کی اہل ہے۔ لہٰذا مرد کی بالادستی اس پر سے ختم ہونی چاہیے اور اس کو وہ سارے حقوق ملنے چاہئیں جو مرد کو حاصل ہیں اور وہ ہر لحاظ سے آزاد ہے، اس پر کوئی قید نہیں ہے۔
عورت جو صدیوں سے مردوں کے ظلم و ستم سہہ رہی تھی، اس کے لیے آزادی کا یہ تصور بڑا دل خوش کن تھا۔ اس نے فوراً لبیک کہہ کر اس کو قبول کیا۔ جیسے فردوسِ گم گشتہ اسے مل گئی ہو۔ یورپ کے صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) نے بھی ایک انگیخت کا کام کیا۔ چنانچہ وہ آہستہ آہستہ معاشی، معاشرتی، سماجی، تہذیبی اور تمدنی امور میں مرد کے شانہ بشانہ شریک بنتی گئی۔ وہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر کارخانوں، دفتروں، اسکولوں اور کالجوں میں مرد کے دوش بدوش معاشی جدوجہد کر رہی تھی تو پارکوں، تفریح گاہوں، کلبوں اور کھیل کے میدانوں میں مردوں کے ساتھ کھیل کود اور عیش و تفریح میں بھی برابر حصہ لے رہی تھی۔
اب یہ ہوا کہ اس کا وجود ہر شعبۂ زندگی میں ضروری قرار پایا اور اس کے بغیر ہر شعبۂ حیات میں زندگی بے کیف اور بے لطف تصور کی جانے لگی۔ عورت اس کو ترقی کا نام دے کر اس کی طرف پیشرفت کرتی رہی اور اس تہذیب کے ظاہری حسن پر فریفتہ ہو گئی۔ لیکن اس کے بطن میں جو خرابیاں پنہاں تھیں، اپنی کم عقلی کی وجہ سے اس تک اس کی نظر نہ گئی، وہ یہ جان نہ سکی کہ جس تہذیب کے زینہ پر وہ چڑھ رہی ہے وہ ؎
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر ہے
عورت کی اس بے قید آزادی (Unristricted Freedom) نے مغرب کی پوری زندگی کا دھارا بدل کر رکھ دیا اور اس کے نہایت گھناؤنے اور خطرناک نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے جس سے اس کی معاشی، معاشرتی اور سماجی زندگی میں عدمِ توازن پیدا ہو گیا۔
سب سے پہلا خطرناک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ زندگی کے ہر گوشہ میں مرد اور عورت کے بے باکانہ اور آزادانہ اختلاط نے پورے معاشرہ میں جنسی آوارگی کا رجحان پیدا کر دیا۔ فحاشی اور بدکاری کا عام چلن ہو گیا اور عورت کی اس آزادی کے بطن سے ایسی ننگی اور بے حیا تہذیب نے جنم لیا کہ اس کی عفونت اور سرانڈ سے شرم و حیا کا دم گھٹنے لگا اور اخلاق کا پھلتا پھولتا چمن اجڑ گیا۔ عورت جب چار دیواری سے نکل کر مجلسوں اور محفلوں کی زینت بنی تو جنسی آوارگی اس طرح پھیلی کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جو گندگی اور عفونت گھر کے بند کمروں میں بھی برداشت نہیں کی جا سکتی تھی وہ بازاروں اور سڑکوں میں سرعام پھیلنے لگی۔ انتہائی قابلِ احترام رشتے بھی اس گندگی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اور پھر جنسیات اور اخلاقی آوارگی کی ایسی ایسی داستانیں لوگوں میں پھیلنے لگیں جن کو سن کر آدمی شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ بیواؤں اور رنڈیوں کا نام آرٹسٹ رکھ دیا گیا تاکہ ضمیر کا وہ کانٹا جو برے نام پر اندر خلش پیدا کرتا ہے، اس کو بھی نکال دیا جائے۔ آرٹ اور کلچر کے نام سے جنسی جذبات کی ترجمانی ہونے لگی۔ عریاں تصاویر کھنچنے لگیں اور وہ سر بازار بکنے لگیں تاکہ ان سے لوگوں کے جنسی جذبات کی تسکین ہو سکے۔ رقص اور موسیقی کے نام پر عورت سے لذت حاصل کی گئی۔ افسانہ، ڈرامہ، شاعری اور ادب کے ذریعہ جنسی اعمال و کیفیات کی تشریح ہونے لگی۔ اور عورت کا مقصد صرف اور صرف یہ رہ گیا کہ وہ مرد کے جنسی جذبات کی تکمیل اور تسکین کرے۔ غرضیکہ عورت مرد کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گئی اور اب وہ واپس گھر کی چار دیوار میں جانے کے قابل نہ رہی۔
اس بے قید آزادی کا دوسرا گھناؤنا نتیجہ یہ نکلا کہ خاندانی نظام تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ خاندانی نظام عورت کی وجہ سے قائم تھا اور وہی اس کے نظم و نسق کو سنبھال رہی تھی۔ لیکن جب وہ گھر سے باہر کارخانوں، دفتروں اور دوسرے اداروں میں کام کرنے کے لیے گئی تو اس کی زندگی کی ساری تگ و دو گھر سے باہر ہونے لگی۔ بیرونی مصروفیات سے اس کا گھر عدمِ توجہی کا شکار ہو کر برباد ہو گیا۔ خاندان معاشرہ کا بنیادی پتھر ہوتا ہے، اس کی بربادی پورے سماج کی بربادی ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پورا معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ عورت اور مرد کے درمیان محبت کا رشتہ ختم ہو گیا۔ والدین اور اولاد کی محبت کا رشتہ کمزور پڑ گیا۔ اولاد سے والدین کی محبت کا مرکز چھن گیا اور نرسنگ ہاؤس (Nursing Houses) کے حوالے ہو گئے۔ والدین سے بڑھاپے کا سہارا چھن گیا۔ غرضیکہ وہ سارے رشتے اور تعلقات جو خاندان کی بقا اور مضبوطی کا باعث ہوتے ہیں ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے۔ اور انسان اس سکون سے یک قلم محروم ہو گیا جو ایک خاندان ہی اسے فراہم کر سکتا ہے۔
تیسرا نقصان اس آزادی کا یہ ہوا کہ عورت کے حقوق اور ذمہ داریوں میں تناسب اور توازن قائم نہ رہا۔ کیونکہ عورت کی فطرت میں اللہ نے ماں بننا رکھا ہے تاکہ اس کی گود میں نسلِ انسانی پروان چڑھ سکے۔ اس کے لیے جن جذبات و احساسات اور جن صلاحیتوں اور قوتوں کی ضرورت ہے وہ بھی فطرت نے اس میں رکھے ہیں۔ لیکن کارخانوں اور دفتروں کی کارکردگی نے اس کے ان جذبات اور ان صلاحیتوں کو ضائع کر دیا۔ نسلِ انسانی کو آگے بڑھانا کوئی ہنگامی اور وقتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک طویل اور دشوار گزار عمل ہے۔ اس میں حمل، ولادت، رضاعت اور بچہ کی پرورش اور تربیت وغیرہ ایک طویل سلسلہ ہے۔ عورت کی بیرون خانہ مصروفیات کی وجہ سے اس کے پاس اس عمل کے لیے کوئی وقت نہ ہے۔ لہٰذا مغربی ملکوں میں اولاد کا سلسلہ کم ہو گی اور ملکی آبادی خطرناک حد تک گرنے لگی۔ یہاں تک کہ بعض حکومتوں کو بچے پیدا کرنے کے لیے لوگوں کو ترغیب (Incentive) دینا پڑی۔
چوتھا خطرناک نتیجہ اس بے قید آزادی سے یہ برآمد ہوا کہ عورت اور مرد کے درمیان باہمی محبت اور ہمدردی کا جذبہ، جو ایک فطری جذبہ تھا، حقوق کی اس جنگ اور مادرپدر آزادی نے اس فطری جذبہ کو مجروح بلکہ نیم جان کر دیا۔ اس جذبہ کے فقدان سے عورت کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے کہ صرف قانون اس کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان مساوات کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے کہ لیکن عملاً مساوات برتی نہیں جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نے اس کو جو معاشرتی اور سماجی حقوق دیے ہیں ان سے وہ پوری طرح بہرہ یاب نہیں ہو پاتی۔ اور اب حالت یہ ہے کہ عورت برسر بازار بکنے لگی۔ اس کی عزت و آبرو بے دریغ لٹ رہی ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قانونی طور پر یورپ اور امریکہ میں عورت کو بڑا تحفظ دیا گیا ہے۔ چنانچہ جب کبھی عورت اور مرد کا جھگڑا ہو کر مقدمہ عدالت میں جاتا ہے تو عدالت مرد کی نصف جائیداد اور دوسرے کئی حقوق کی رقم کی ڈگری عورت کے نام کر دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرد اس فیصلہ سے سخت پریشان ہو جاتا۔ اب مردوں نے یہ صورت اختیار کی کہ بغیر نکاح کے اس نے عورت کے ساتھ زن و شوئی کے تعلق رکھنے شروع کر دیے۔ اور آج یورپ میں ۸۰ فیصد مرد اور عورت بغیر قانونی نکاح کے شوہر اور بیوی بن کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ اب اگر عورت کا مرد کے ساتھ کوئی تنازعہ پیدا ہو جاتا ہے تو قانون اس کو کوئی تحفظ نہیں دیتا کیونکہ وہ اس مرد کی داشتہ تھی، قانونی بیوی نہ تھی۔
مختصر یہ کہ عورت کتنے ہی قانونی حقوق کیوں نہ حاصل کر لے، ان سب کا اسے ملنا آسان نہیں۔ عورت مرد سے لڑ کر یہ حقوق حاصل نہیں کر سکتی۔ وہ صرف اس صورت میں اسے مل سکتے ہیں جب مرد اسے دینا چاہے۔ اور مرد اسی صورت میں اسے یہ حقوق دے سکتا ہے جب اس کے دل میں عورت کے بارہ میں ہمدردی اور محبت کا جذبہ ہو، اور وہ عورت کے ساتھ زیادتی کو گناہ اور جرم سمجھے۔
اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جس نے عورت کو وہ سب بنیادی حقوق دیے جن سے وہ عرصہ دراز سے یک قلم محروم چلی آ رہی تھی۔ اور اسلام ان حقوق کو صرف قانون کی زبان بیان کر کے خاموش نہیں ہو جاتا بلکہ وہ ترغیب و ترہیب کے ذریعہ مرد میں اس کی ادائیگی کا زبردست جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ اسلام نے عورت کو دنیا میں پہلی بار سوسائٹی میں ایک اہم درجہ دیا۔ چنانچہ ایک مغربی دانشور مسٹر اینی بسنت (Mr. Annie Besant) نے لکھا ہے:
’’ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عورتوں کے متعلق اسلام کے قوانین ابھی حالیہ زمانہ تک انگلستان میں اپنائے جا رہے تھے۔ یہ سب سے زیادہ منصفانہ قانون تھا جو دنیا میں پایا جاتا تھا۔ جائیداد، وراثت کے حقوق اور طلاق کے معاملات میں یہ مغرب سے کہیں آگے تھا اور عورتوں کے حقوق کا محافظ تھا۔ (لیکن) یک زوجگی اور تعددِ ازدواج کے الفاظ نے لوگوں کو مسحور کر دیا ہے، اور وہ مغرب میں عورت کی اس ذلت پر نظر نہیں ڈالنا چاہتے جسے اس کے اولین محافظ سڑکوں پر صرف اس لیے پھینک دیتے ہیں کہ ان سے ان کا دل بھر جاتا ہے، اور پھر اس کی کوئی مدد نہیں کرتا۔‘‘
(Annie Besant: The Life and Teaching of Muhammad - 1932, p.3)

حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری اور اسلامی تعلیمات

مولانا محمد عیسٰی منصوری

آج کل مغربی میڈیا اسلام کو سب سے زیادہ نشانہ انسانی حقوق کے حوالہ سے بنا رہا ہے۔ مغرب دنیا پر اپنی سیاسی، عسکری، علمی، فکری اور تمدنی بالادستی اور ذرائع ابلاغ پر مکمل تسلط کی بدولت بزعمِ خود انسانی حقوق کا چیمپئن بن بیٹھا ہے۔ اس کی پوری کوشش ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے کسی طرح اسلام کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔ ہم اس مضمون میں انسانی حقوق کے صرف ایک چھوٹے سے پہلو یعنی جنگی حالات میں انسانی حقوق کے حوالے سے علمی و تاریخی طور پر معروضی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیں گے۔
اسلام نے جنگ کے متعلق جو اصلاحی و انقلابی نظریہ پیش کیا ہے اور حالتِ جنگ میں بنی نوع انسان کے حقوق کی جس طرح پاسداری و تحفظ کیا، اس کا ذکر کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت پوری دنیا میں جنگ کا جو تصور، طریقہ کار اور عملی صورتحال تھی اس پر ایک نظر ڈالیں، کیونکہ اس کے بغیر اسلام کی دور رس انقلابی اصلاحات کی اہمیت کماحقہ نہیں سمجھی جا سکتی۔

نزولِ قرآن کے وقت عرب کی حالت

اسلام سے پہلے عربوں کے نزدیک لڑائی سے زیادہ پسندیدہ اور مرغوب کوئی چیز نہیں تھی۔ عرب میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور مرنے کو اپنے لیے عار اور ذلت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک جنگوں کا مقصد قتل و غارت گری، لوٹ مار، اموال پر قبضہ، غلام باندی بنانے کا شوق، حسین لڑکیوں کا حصول، زرخیز علاقوں، باغات، چراگاہوں اور پانی کے چشموں پر قبضہ کرنا ہوتا تھا۔ اسلام سے پہلے عرب میں جتنی بھی بڑی لڑائیاں لڑی گئیں وہ عموماً اپنے تفاخر، غرور اور بڑائی کے اظہار سے شروع ہوئیں۔
عرب کی مشہور لڑائی حرب بسوس جو بنی تغلب اور بنی بکر بنی وائل کے درمیان چالیس برس تک جاری رہی صرف اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ بنی تغلب کے سردار کلیب بن ربیعہ کی چراگاہ میں بنی بکر بنی وائل کے ایک مہمان کی اونٹنی گھس گئی تھی۔ جب تک دونوں قبائل پوری طرح تباہ نہیں ہو گئے ان کی تلواریں میان میں نہیں گئیں۔
دوسری بڑی لڑائی جو حرب داحس کے نام سے مشہور ہے محض اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ بنی عبس کے سردار قیس بن زہیر کے دو تیز رفتار گھوڑے دوڑ کے مقابلہ میں بنی بدر کے سردار حذیفہ بن بدر سے آگے نکل رہے تھے۔ یہ جنگ بھی تقریباً نصف صدی تک جاری رہی، اس وقت تک نہیں رکی جب تک دونوں قبیلوں کے گھوڑوں اور اونٹوں کی نسل منقطع ہونے کے قریب نہیں پہنچ گئی۔
اسی طرح مدینہ منورہ کے دو بڑے قبیلوں اوس اور خزرج کی مشہور لڑائی جس کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ پہنچنے تک تقریباً ایک صدی جاری رہا، اس بات پر شروع ہوئی تھی کہ بنی قینقاع کے بازار میں ایک قبیلہ نے تعلی اور فخر سے اعلان کر دیا کہ میرا حلیف قبیلہ زیادہ اشرف و افضل ہے۔
اسی طرح پہلی حرب فجار عکاظ کے میدان میں بنی کنانہ کے ایک شخص کے فخر و مباہات کے بڑے بول سے ہوئی جس سے نہ صرف کنانہ و ہوازن بلکہ دونوں کے حلیف قبائل عرصہ دراز تک لڑتے لڑتے بدحال ہو گئے۔

ایران اور روم کا طریقِ جنگ

جنگوں کے حوالے سے یہ تو جاہل وحشی عربوں کا حال تھا۔ اس وقت دنیا میں دو سپر طاقتیں تھیں جو اپنی تہذیب و تمدن پر نازاں تھیں۔ دونوں نے دنیا کے بڑے حصہ کی بندر بانٹ کر رکی تھی۔ ایک پرشین امپائر، دوسری رومن امپائر۔ دنیا کی اکثر اقوام (عرب، مشرقِ وسطیٰ، شمال بھارت، یورپ) ان دونوں میں سے کسی کے زیر اثر تھیں۔ ان کا حال بھی عربوں سے مختلف نہ تھا۔
شہنشاہِ ایران قباد (۵۰۱ء، ۵۳۱ء) کے زمانہ میں جب حکومتِ ایران کے ایما پر حیرہ کے بادشاہ منذر نے شام پر چڑھائی کی تو انطاکیہ میں چار سو راہبات (عیسائی مبلغہ) کو پکڑ کر اپنے بت عزیٰ پر ذبح کر دیا۔ اور جب خسرو پرویز نے سلطنتِ روم کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو اپنی تمام مملکت میں مسیحی رعایا کے کلیسا مسمار کرا دیے اور مسیحیوں کو آتش پرستی پر مجبور کر دیا۔ سینٹ ہلینا اور قسطنطین کے عظیم الشان گرجاگروں کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا۔ نوے ہزار عیسائیوں کو قتل و قید کیا۔ خود ایران میں جب مانی نے اپنے نظریات کا پرچار کیا تو شاہِ ایران بہرام نے ایسی شدید کاروائی کی کہ اس کے ایک ایک ماننے والے کو ڈھونڈھ ڈھونڈ کر قتل کیا اور خود مانی کو گرفتار کر کے اس کی کھال کھنچوا کر اس میں بھس بھروا کر جنڈی سابور کے دروازے پر لٹکا دیا۔ جب رومن شہنشاہ ہرقل کے سفیر صلح کا پیغام لے کر خسرو پرویز کے دربار میں پہنچے تو خسرو نے ان کے رئیس کی کھال کھنچوا ڈالی اور باقی سفیروں کو قید کر دیا۔ ہر قل کے نام جو خط لکھا وہ اس طرح شروع ہوتا ہے:
’’خداوند بزرگ و فرمانروائے عالم کی جانب سے اس کے احمق و کمینہ غلام ہرقل کے نام‘‘۔
اسی طرح عادل کہلانے والے ایرانی شہنشاہ نوشیرواں نے ۵۷۲ء میں جب شام پر حملہ کیا تو تقریباً ۳ لاکھ شامیوں کو پکڑ کر ایران بھیج دیا، اور ملک کی حسین لڑکیاں گرفتار کر کے ایلخان اتراک کے پاس بھیج دیں تاکہ وہ رومیوں سے اتحاد ختم کرے۔
دوسری جانب ۵۷۱ء میں جب رومی شہنشاہ ٹینوس نے بیت المقدس فتح کیا تو پورے علاقہ کی حسین لڑکیاں اس کے لیے چن لی گئیں، اور تمام بالغ لڑکے اور مرد پکڑ کر مصری کانوں میں مشقت کے لیے روانہ کر دیے گئے، اہرام ایسے عجائبات کے نیچے ایسے ہی ہزارہا بدقسمت غلاموں کی لاشیں دبی ہیں، اور ایمی تھیٹروں اور کلو رسیموں میں نمائش بینوں کے آگے جنگلی درندوں سے پھڑوانے اور شمشیر زنوں سے کٹوانے کے لیے بھیج دیے گئے۔ ستانوے ہزار قیدیوں میں سے گیارہ ہزار صرف اس وجہ سے مر گئے کہ نگہبانوں نے انہیں کھانے کو نہیں دیا۔ صرف بیت المقدس کے شہر میں جو لوگ قتلِ عام کی بھینٹ چڑھے ان کی تعداد ایک لاکھ پینتیس ہزار سات سو انچاس ہے۔ اس کے علاوہ دمشق، انطاکیہ، حلب وغیرہ دوسرے شہروں میں بھی انسانیت کا یہی حشر ہوا۔
قیصرِ روم قیصر جسٹنین نے جب افریقہ کے وانڈالوں پر چڑھائی کی تو پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ایک لاکھ ساٹھ ہزار نبرد آزما مردوں کے علاوہ کسی عورت، بچے، بوڑھے کو زندہ نہ چھوڑا۔ جب روک و ہیومن سیاح نے اس ملک میں قدم رکھا تو آبادی کی کثرت، تجارت، زراعت، خوشحالی دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا۔ اس کے بیس سال بعد قیصرِ روم نے ۵۰۸ء میں اس خوشحال ملک کی آبادی کو اس طرح فنا کے گھاٹ اتارا کہ یورپ کا مشہور مؤرخ گبن لکھتا ہے:
’’سارا ملک اس طرح تباہ ہوا کہ ایک سیاح سارا دن گھومتا مگر کسی آدم زاد کی شکل دکھائی نہ دیتی۔‘‘
خود یورپ میں گاتھوں کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا۔ ان کی آبادی کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کے بادشاہ ٹوٹیلا کو قتل کر کے اس کے تخت و تاج کے ساتھ بدن کے کپڑے تک اتار کر قیصرِ روم جسٹنین کے پاس بھیج دیے گئے۔
نزولِ قرآن تک بدقسمت مفتوح قوموں کے گرفتار شدہ مردوں (غلاموں) کا ایک مصرف فاتح اقوام کو کھیل و تفریح بہم پہنچانا بھی ہوتا تھا۔ رومیوں کے یہ تفریحی کھیل اتنے بڑے پیمانے پر منعقد ہوتے کہ ہزارہا آدمیوں کو بیک وقت تلواروں سے قتل ہونے کا تماشا دکھانا پڑتا۔ ڈیوس جسے مغرب میں نسلِ انسانی کا لاڈلا کہا جاتا ہے (Darling of the human race) نے ایک بار پچاس ہزار درندوں کو پکڑوا کر تفریح طبع کے لیے کئی ہزار یہودیوں کے ساتھ ایک احاطہ میں چھوڑ دیا۔ اسی طرح یورپ کے ٹراجان کے کھیلوں میں گیارہ ہزار درندے اور دس ہزار آدمی ایک ساتھ لڑائے جاتے تھے۔ یہ کھیل آخری شخص کے باقی رہنے تک جاری رہتے۔
اس دور میں شکست کھانے والی بدقسمت قوموں کے لیے قتل ہو جانا سب سے باعزت اور بہتر راستہ تھا۔ دوسرا راستہ غلامی کا تھا جو بقول فیرا وہ ذلت کے بچپن، مشقت کی جوانی اور بے رحمانہ غفلت کے بڑھاپے میں پیدائش سے موت تک کے مراحل طے کرتے۔ رومیوں کی فتوحات جب وسیع ہوئیں تو کروڑوں مقتولوں کے علاوہ غلاموں کی تعداد چھ کروڑ تک پہنچ گئی۔ رومی و یونانی اپنے علاوہ سب قوموں کو وحوش و برابرہ کہتے۔ ان قوموں کے لیے ان کے پاس قتل یا غلامی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ارسطو جیسا معلم اخلاق بے تکلف لکھتا ہے کہ قدرت نے برابرہ (غیر یونانی) اقوام کو محض غلامی کے لیے پیدا کیا۔ دوسرے مقام پر حصولِ دولت و ثروت کے جائز و معزز طریقے گناتے ہوئے کہتا ہے، ان اقوام (غیر یونانیوں) کو غلام بنانا بھی ان میں شامل ہے۔

اسلام سے پہلے جنگوں کا مقصد

اسلام سے پہلے مختلف قوموں، ملکوں یا مذاہب میں جو لڑائیاں ہوتی تھیں ان میں حکام و سلاطین کے سامنے جنگ کا کوئی مقصد یا اخلاقی نصب العین نہیں ہوتا تھا۔ محض اقتدار کو وسعت دینا اور اپنی برتری جتانا مقصود ہوتا۔ جنگ کے مواقع پر عام باشندوں کا جو انبوہِ عظیم ساتھ ہو جاتا، ان کا مقصد عیش و عشرت کے لیے مال و دولت، لونڈی غلام اور شہوت رانی کے لیے خوبصورت لڑکیاں حاصل کرنا ہوتا۔ اس لیے جب فوجیں کسی ملک پر حملہ آور ہوتیں تو بچے، بوڑھے، عورتیں، جانور، درخت، عبادت گاہیں، کوئی چیز ان کے دستِ ستم سے نہیں بچتی تھی۔ جو لوٹا جا سکتا تھا لوٹ لیا جاتا تھا، اور جو نہ لوٹا جا سکتا اسے توڑ پھوڑ اور جلا کر خاک کر دیا جاتا۔

یہودی اور ہندو مذہب میں جنگ کا مقصد اور طریق

اسلام سے پہلے دنیا میں جو بڑے مذاہب موجود تھے، ان میں عیسائیت اور بدھ مذہب میں تو سرے سے کسی بھی حالت میں جنگ کا تصور ہی نہیں۔ ان مذاہب میں انسان کی نجات نفس کشی اور رہبانیت یعنی کاروبارِ دنیا سے فرار اور کنارہ کشی اختیار کرنے میں رہی۔ یہ مذاہب شر و فساد، ظلم و طغیان کو ختم کرنے کی کوشش کے بجائے انسان کو اس سے فرار اختیار کرنے اور پہاڑوں، جنگلات میں بھاگ جانے کی تعلیم دیتے ہیں۔
البتہ یہودی اور ہندو مذہب میں نہ صرف جنگ کا تصور موجود ہے بلکہ ان کی بیشتر مذہبی کتابیں درحقیقت جنگوں کی رزمیہ داستانیں ہی ہیں۔
موجودہ توراۃ میں کثرت سے لڑائیوں کا ذکر آیا ہے اور جگہ جگہ لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ توراۃ میں بہت سی جگہوں پر ہر مرد کو قتل کرنے، عورتوں، لڑکوں، مویشی اور دیگر مال و اسباب کو لوٹ لینے، ہر سانس لیتی چیز (جاندار) کو قتل کرنے، باغوں کو کاٹ دینے، عمارتوں، مندروں، معبدوں اور بتوں کو توڑ ڈالنے کا حکم ملتا ہے۔ کنواری لڑکیوں کے علاوہ سب کو موت کے گھاٹ اتار دینے، یا زیادہ سے زیادہ رحم کر کے غلام بنا لینے کا حکم ہے۔
اسی طرح ہندو مذہب کے بنیادی مآخذ (چاروں وید، بھاگوت، گیتا، منو، سمرتی) میں بکثرت دشمنوں کو جلا ڈالنے، برباد کرنے، ان کے مویشی خاص طور پر خوبصورت گھوڑوں اور گائیوں کے حصول، مال و خزانے کے حاصل ہونے کی دعائیں، اور دشمنوں (غیر آریہ) کے لیے بد دعاؤں کے سینکڑوں کلمات ملتے ہیں۔ یہی نہیں، دشمن کو ہلاک کر کے سر قلم کرنے، اس کی کھال کھینچ لینے، ہڈیوں کو توڑنے، کچلنے، ان کے جسم کی بوٹی بوٹی کرنے کی دعائیں ہیں۔
بھاگوت گیتا جو جنگ کے فلسفہ کا سب سے بڑا گرنتھ ہے، اس میں سری کرشن کے بھاشن (خطاب) کے ذریعہ لڑنے، قتل و غارت گری، خونریزی پر ابھارنے کی نہایت مؤثر و بلیغ الفاظ میں تعلیم و تلقین ہے۔ گیتا کے فلسفۂ جنگ کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی انسان کے قتل کرنے کو گناہ و جرم سمجھنا اور اس پر رنج کرنا محض جہالت اور دھرم کی حقیقت سے ناواقفیت ہے۔ کیونکہ روح کے لیے جسم کی حیثیت وہی ہے جو جسم کے لیے کپڑے کی، کسی انسان کا قتل کرنا ایسا ہی ہے جیسے جسم کے کپڑے پھاڑ دینا، جب انسان کو ایک دن مرنا ہی ہے تو اسے قتل کرنے میں کیا برائی ہے۔ نیک و بد کا امتیاز صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو گیانی (عارف) نہیں۔ گیان (عرفان) حاصل ہو جانے پر بد سے بدتر فعل (قتل خونریزی) انسان کے لیے گناہ نہیں رہتا۔
ایک طرف گیتا پوری طرح انسان کو قتل و خونریزی پر اکساتی ہے، دوسری طرف گیتا کے ابواب میں کسی ایک جگہ بھی نہ جنگ کا کوئی بہتر نصب العین و مقصد بتاتی ہے، اور نہ جنگ کے آداب و حدود، نہ کوئی اعلیٰ اخلاقی ہدایت۔ گیتا سے زیادہ سے زیادہ جنگ کا جو مقصد معلوم ہوتا ہے وہ ہے حکومت و سلطنت، مال و دولت، ناموری و شہرت کا حصول، اور شکست کی بدنامی و ذلت کا خوف۔ یہی حال یہودیوں کی توراۃ کا ہے، وہ بھی جنگ کے کسی اعلیٰ مقصد اور اخلاقی ہدایات سے یکسر خالی ہے۔
موجودہ دور میں بھارت زور و شور سے خود کو اہنسا (عدمِ تشدد و امن) کا پیامبر و معلم ظاہر کر رہا ہے اور جنگ کے حوالے سے الزام تراشی میں (اسلام پر) مغربی میڈیا کا ہمنوا ہے، جبکہ وید دھرم میں اہنسا کی تعلیم کہیں موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے اہنسا کا تصور بدھ مذہب سے لیا ہے جو ایک زمانہ میں بھارت کی اکثریت کا مذہب تھا۔ مگر ساتویں صدی عیسوی میں ہندو مت کے پیروکاروں نے بدھ مذہب کے پیروکاروں کا قتل عام کر کے انہیں بہت معمولی اقلیت میں تبدیل کر دیا۔ بھارت کی تاریخ بتاتی ہے کہ مہاتما بدھ سے لے کر مہاتما گاندھی تک امن و اہنسا کی بات کرنے والے ہر شخص کو مار دیا گیا۔ ہندو مذہب کے جتنے بھی ہیروز ہیں وہ سب ہی جنگ کے ہیرو ہیں۔

اسلام میں جنگ کا مقصد اور نصب العین

ہم تفصیل سے ذکر کر آئے ہیں کہ اسلام سے پہلے دنیا میں ہر قوم و ملک و مذہب کے نزدیک جنگ کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ طاقتور کی خواہشِ زن و زمین و زر اور اقتدار کے حصول کے لیے وحشت و بربریت، شقاوت و سنگدلی، قتل و خونریزی اور لوٹ کھسوٹ کا وسیع سلسلہ شروع کر کے کمزور اقوام کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے یا انہیں غلام بنا لیا جائے۔ یہ تھی اس دور میں جنگ کی حقیقت۔
ایسے حالات میں اسلام نے جنگ کے نظریہ و مقصد، قوانین و ضوابط میں اعلیٰ و ارفع اصلاحات کا عَلم بلند کیا۔ جنگ کے متعلق اسلام کے نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ بغیر کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کے جنگ و قتال ایک معصیت اور گناہِ عظیم ہے۔ ہاں جب دنیا میں ظلم و طغیاں پھیل جائے اور خدا کے نا فرمان و سرکش لوگ خلقِ خدا کا جینا دوبھر کر دیں، ان کا امن و راحت چھین لیں تو محض دفعِ مضرت کے لیے جنگ کرنے کی اجازت بلکہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس مقصد کو ایران کے سپہ سالار رستم کے دربار میں صحابئ رسولؐ ربیع بن عامرؓ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: ’’ہمارا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کی غلامی سے نکال کر خدا کی بندگی میں، اور مذاہب کے ظلم و ستم سے اسلام کے عدل میں، دنیا کی تنگیوں سے نکال کر اس وسعت و فراخی میں داخل کریں۔‘‘
اس نظریہ کے مطابق جنگ کا مقصد چونکہ حریف و مقابل کو ختم کرنا یا تباہ کرنا نہیں، بلکہ محض اس کے ظلم و طغیان، شر و فساد اور نافرمانی کی طاقت کو ختم کر کے اس کے شر و ظلم کو دفع کرنا ہے، اس لیے اسلام یہ اصول پیش کرتا ہے کہ جنگ میں صرف اتنی ہی طاقت استعمال کرنی چاہیے جتنی دفعِ شر و طغیان کے لیے ناگزیر ہو۔ اس لیے جنگ اور اس کے ہنگامۂ کارزار کو ان لوگوں تک متجاوز نہیں کرنا چاہیے جن کا جنگی طاقت اور ظلم و طغیان کے بقاء سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسرے بے ضرر طبقات کو جنگ کے اثرات و تباہ کاریوں سے حتی الامکان محفوظ رکھنا چاہیے۔
جنگ کے اس مقصد اور اعلیٰ تصور کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنے کی خاطر اسلام نے جنگ و لڑائی کے تمام رائج الوقت الفاظ کو چھوڑ کر جنگ کے لیے ایک ایسی اصطلاح پیش کی جو کہ اس کو وحشیانہ جنگ کے تصور سے بالکل الگ کر دیتی ہے، اور اسلام کے اعلیٰ و ارفع تصورِ جنگ پر ٹھیک ٹھیک دلالت کرتی ہے۔ وہ ہے ’’جہاد‘‘ یعنی کسی مقصد کے حصول کے لیے انتہائی کوشش صَرف کرنا۔ مگر کوشش کا لفظ بھی انسانی خیرخواہی و بہبودی کے پورے مفہوم کو ظاہر نہیں کرتا، کیونکہ کوشش نیکی اور بدی دونوں جہت میں ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسلام نے جنگ کا اعلیٰ تصور و مقصد ہر وقت پیشِ نظر رکھنے کے لیے ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی قید لگا دی۔
اب ہر وہ لڑائی جو کسی ملک و قوم کی تسخیر، اقتدار کی ہوس، مال و دولت، یا کسی عورت کے حصول، ذاتی عداوت و دشمنی، یا شہرت و ناموری کی خاطر ہو، وہ جہاد سے خارج ہو گی، اسلام کے نزدیک جہاد نہیں کہلائے گی۔ جہاد صرف وہ جنگ ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے ہو، ظلم و شرک کو دفع کرنے کے لیے ہو، جس میں کوئی سی غرض یا خواہش کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔

اسلام کا تصورِ جنگ و جہاد

جنگ کے اس ارفع اور پاکیزہ تصور کے تحت اسلام نے جنگ کا ایک مکمل ضابطہ اور قوانین وضع کیے۔ جس میں جنگ کے آداب، اخلاقی حدود، محاربین جنگ کا ایک مکمل ضابطہ اور قوانین و فرائض، مقاتلین و غیر مقاتلین کا امتیاز، قیدیوں کے حقوق، مفتوح قوموں کے حقوق، نہ صرف تفصیل سے بتائے بلکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء راشدینؓ نے اپنے عمل سے برت کر اعلیٰ نمونے بھی قائم کر کے ہر دور کے لیے عملی نظائر اور مثال قائم فرما دی۔
بہت سی صحیح احادیث میں بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص مالِ غنیمت کے حصول، فرمانروائی کی خواہش، شہرت و ناموری، اپنی شجاعت کے اظہار، حمیتِ قومی و ملکی، یا جوشِ انتقام میں لڑتا ہے تو وہ اسلام کے نزدیک ہرگز جہاد نہیں، بلکہ وہ شخص خدا کا بدتر نافرمان قرار پائے گا۔ اسلام نے جنگ کی اصلاح و تطہیر کے سلسلہ میں سب سے پہلی اصلاح یہ کی کہ دشمن کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیا۔ اہلِ قتال اور غیر اہلِ قتال۔
  1. ایک وہ جو جنگ میں عملاً حصہ دار بنتے ہیں یا حصہ لینے کی قدرت رکھتے ہیں جیسے جوان تندرست مرد۔
  2. دوسرے وہ جو عرفاً و عقلاً عملی جنگ میں حصہ نہیں لیتے یا عام طور پر حصہ نہیں لیا کرتے۔ جیسے عورتیں، بچے، بیمار، زخمی، اپاہج، اندھے، عبادتگاہوں کے مجاور، کاروبارِ دنیا سے یکسو رہبان، اور ایسے ہی دیگر بے ضرر لوگ۔
اسلام نے جنگ میں صرف اول الذکر طبقہ کو قتل کرنے کی اجازت دی۔ اور ثانی الذکر طبقات کے قتل کرنے کو سختی سے منع کر دیا۔ غرض جو لوگ عادۃً معذور کے حکم میں ہیں یا لڑتے نہیں، جنگ میں ان سے تعرض نہ کیا جائے گا۔ البتہ اگر یہ لوگ عملاً اہلِ قتال بن جاتے ہیں، مثلاً بیمار یا زخمی کمانڈر جنگی چالیں بتا رہا ہو، یا عورت جاسوسی یا تخریب کاری کر رہی ہو، تو اس وقت وہ بھی اہلِ قتال کے حکم میں شامل ہو جائیں گے۔
پھر اہلِ قتال جن سے جنگ کرنا اور ان پر تلوار اٹھانا جائز ہے، ان پر بھی غیرمحدود حق حاصل نہیں ہے، بلکہ اسلام نے اس کے بھی حدود و آداب کا تعین کیا ہے جن کی پابندی لازمی ہے۔ نہایت اختصار کے ساتھ ہم انہیں ذکر کرتے ہیں۔

اسلام میں طریقۂ جنگ کی تطہیر و اصلاحات

(۱) اہلِ عرب کا قاعدہ تھا کہ رات کو جب لوگ بے خبر سو جاتے، اچانک قتل و غارت گری شروع کر دیا کرتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وحشیانہ طرز کی اصلاح فرمائی۔ آپ جب کسی دشمن پر رات کے وقت پہنچ جاتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی حملہ نہیں فرماتے ’’اذا جاء قوماً بلیل لم یغر علیہم حتیٰ یصبح‘‘۔
(۲) عربوں اور دیگر اقوام میں عام طور پر شدتِ انتقام میں دشمن کو زندہ جلانے کا رواج تھا۔ آنحضرتؐ نے اس وحشیانہ حرکت کو قطعاً ممنوع قرار دیا اور حکماً زندہ جلانے کی ممانعت فرما دی۔ ’’لا تعذبوا بعذاب اللہ لا یعذب بالنار الا رب النار‘‘ آگ میں جلانا صرف خدا کا حق قرار دیا۔
(۳) دشمن کو باندھ کر قتل کرنا بھی معمول تھا۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے دشمن کو باندھ کر تکلیفیں دے دے کر یا تڑپا تڑپا کر مارنے سے منع فرما دیا۔ ایک صحابی عبد الرحمٰن بن خالدؓ نے لاعلمی میں چار دشمنوں کو باندھ کر قتل کر دیا۔ جب انہیں اسلام کے حکم کا علم ہوا تو اپنی غلطی کے کفارے کے طور پر چار غلام آزاد کیے اور سخت نادم ہوئے۔
(۴) میدانِ جنگ کے علاوہ لوٹ مار سے منع کر دیا۔ فتحِ خیبر کے وقت کچھ مسلمانوں نے مفتوح قوم کے ساتھ زیادتی شروع کر دی۔ آنحضرتؐ کو علم ہوا تو آپؐ نے اسی وقت سب کو جمع فرما کر اسلام کا حکم پہنچاتے ہوئے فرمایا، فتح کے بعد تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں کہ بلاوجہ ان کے گھروں میں گھس جاؤ یا خواتین پر ہاتھ اٹھاؤ یا ان کے پھل کھا جاؤ۔ آپؐ نے اس حکم کو قرآن کی طرح بلکہ اس سے زیادہ واجب العمل قرار دیا۔
(۵) دشمن کے مویشی چھین لینے سے اسلام نے روک دیا۔ ایک جنگی سفر کے موقع پر اسلامی لشکر نے کچھ بکریاں چھین کر ان کا گوشت پکا لیا۔ جب پیغمبر اسلامؐ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے آ کر پکے ہوئے گوشت کی دیگچیاں الٹ دیں اور فرمایا ’’النہبہ لیست باحل من المیت‘‘ چھینا ہوا مال مردار کی طرح بدترین حرام ہے۔
(۶) اس دور کا عام دستور تھا کہ جب فوجیں نکلتیں تو ساری منزل اور راستوں میں پھیل جاتیں اور راہ گیروں کے لیے راستے تنگ یا بند ہو جاتے۔ پیغمبر اسلامؐ نے منادی کر ادی ’’من ضیق منزلاً او قطع طریقاً فلا جہاد لہ‘‘ یعنی جو کوئی منزل و راستوں کو تنگ کرے گا اور راہ گیروں کو لوٹے گا اس کا جہاد نہیں۔

فوجوں کو اخلاقی ہدایات کا رواج

انسانی تاریخ میں فوجوں اور لشکروں کو اخلاقی ہدایات دینے کا دستور آپؐ نے قائم فرمایا۔ جب آپ کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو لشکر کو تقویٰ اور خدا کا خوف اختیار کرنے کی نصیحت کے بعد فرماتے ’’اغزوا بسم اللہ فی سبیل اللہ قاتلوا من کفر باللہ اغزوا ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تمثلوا و لا تقتلوا ولیداً‘‘ جاؤ اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں لڑو ان لوگوں سے جو خدا سے کفر کرتے ہیں، جنگ میں کسی سے بدعہدی نہ کرنا، مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا، مثلہ (اعضا کاٹنا) نہ کرنا، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرنا۔
اسی طرح خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب شام کی طرف فوجیں روانہ کیں تو ان کو دست ہدایات دیں جن کو تمام مؤرخین و محدثین نے نقل کیا ہے۔ وہ ہدایات یہ ہیں:
  1. عورتیں، بچے اور بوڑھے قتل نہ کیے جائیں۔
  2. مثلہ نہ کیا جائے (یعنی جسم کے اعضاء نہ کاٹے جائیں)۔
  3. راہبوں اور عابدوں کو نہ ستایا جائے اور نہ ان کے معابد مسمار کیے جائیں۔
  4. کوئی پھل دار درخت نہ کاٹا جائے، نہ کھیتیاں جلائی جائیں۔
  5. آبادیاں ویران نہ کی جائیں۔
  6. جانوروں کو ہلاک نہ کیا جائے۔
  7. بدعہدی سے ہر حال میں احتراز کیا جائے۔
  8. جو لوگ اطاعت کریں ان کی جان و مال کا وہی احترام کیا جائے جو مسلمانوں کی جان و مال کا ہے۔
  9. اموالِ غنیمت میں خیانت نہ کی جائے۔
  10. جنگ میں پیٹھ نہ پھیری جائے۔
ان احکامات کے ذریعے اسلام نے جنگ کو تمام وحشیانہ اور ظالمانہ افعال سے پاک کر دیا۔ اور جنگ کو ایک ایسی مقدس جدوجہد میں بدل دیا جس کے ذریعے ایک نیک شریف اور بہادر آدمی کم سے کم ممکن نقصان پہنچا کر دشمن کے شر و فساد کو دفع کر کے امن قائم کر سکے۔

جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری کی تلقین

اس دور میں حالتِ جنگ میں دشمن قیدیوں کے قتل عام، عمارتوں کی توڑ پھوڑ، آتش زنی کے ساتھ ساتھ فصلوں اور کھیتوں کو برباد کر دینا بھی جنگ کی عام روایت تھی۔ قرآن نے فصلوں اور نسلوں کی بربادی و قتل کو فساد قرار دے کر اس کو ممنوع و حرام قرار دیا (دیکھئے سورہ بقرہ آیت ۲۰۵)۔ البتہ جنگی ضرورت کے تحت درختوں کو کاٹنے کی اجازت ہے، جیسا کہ بنی نضیر کے محاصرہ کے وقت کیا گیا۔ اس وقت بھی قرآن کی تصریح کے مطابق صرف ایک قسم کے کھجور کے درخت جنہیں لیتہ کہا جاتا تھا کاٹے گئے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ بنی نضیر کھجوروں میں عجوہ و برنی بطور غذا استعمال کرتے تھے، لیتہ ان کی غذا نہیں تھی۔ یہ کاٹنا بھی محاصرہ کو مضبوط بنانے کے لیے جنگی ضرورت کے تحت تھا، لہٰذا شرعاً ناگزیر حالات میں جنگی ضرورت کے لیے درخت کاٹے جا سکتے ہیں، محض دشمن کا نقصان کرنے یا تخریب و غارت گری کے لیے نہیں۔

اسی طرح عرب کا یہ دستور بھی تھا کہ دشمن کے قتل پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ جوشِ غضب میں اس کا مثلہ کیا جاتا یعنی کان ناک اور دیگر اعضاء کاٹے جاتے۔ اسلام نے مثلہ کی سختی سے ممانعت کر دی اور دشمن کا صرف سر قلم کرنے پر اکتفا کرنے کا حکم دیا۔

اسی طرح قیدیوں کے متعلق قرآن نے صرف دو طرح کے سلوک کی اجازت دی’’اما مناً بعد واما فداءً‘‘ یا تو احسان کا برتاؤ کر کے بلامعاوضہ رہا کر دو، یا فدیہ (مالی معاوضہ) لے کر رہا کرو۔ البتہ قیدیوں میں جو شر و فساد کے ائمہ اور فتنہ عظیم اور قتل و غارت گری کے اصل ذمہ دار ہیں انہیں قتل کرنے کی اجازت ہے۔

اس دور میں سفیروں اور قاصدوں تک کو بے دریغ قتل کر دیا جاتا تھا خواہ وہ قاصد خود بادشاہ و وزیر ہی کیوں نہ ہو۔ اسلام نے مطلقاً قاصد کے قتل کو ممنوع قرار دیا۔ مسیلمہ کذاب کا قاصد عبادۃ بن حارث جس نے پیغمبر اسلامؐ کی خدمتِ اقدس میں نہایت گستاخانہ پیغام دیا تو آپ نے فرمایا ’’لو لا ان الرسل لا تقتل لضربت عنقل‘‘ اگر قاصدوں کا قتل (اسلام میں) ممنوع نہ ہوتا تو میں اسی وقت تیری گردن مار دیتا۔

فتح مکہ کے موقع پر جب اسلامی لشکر مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہا تھا  (جہاں رسول اللہؐ اور آپ کے ساتھیوں کو تیرہ سال تک شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا) آپؐ کا حکم تھا ’’لا تجہزن علی جریح ولا یتبعن مدبر و لا یقتلن اسیراً من اغلق بابہ فہو امن‘‘ کسی زخمی پر حملہ نہ کیا جائے، کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے، اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے۔

اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کے اثرات

جنگ کے متعلق اسلام کی اس اصلاحی اور اعلیٰ تعلیم نے عرب کی جاہل، وحشی اور خونخوار قوم، جو کسی قانون یا اخلاقی ضابطہ کی قائل نہیں تھی، ایسا زبردست ذہنی انقلاب پیدا کر دیا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ جو وحشی لٹیرے تھے، اب دنیا میں بنی نوع انسان کی جان و مال، عزت و آبرو کے محافظ بن گئے۔ اس کا سب سے بڑا نمونہ خود فتح مکہ ہے۔ ایک ایسا شہر جس نے پیغمبر اسلامؐ اور آپ کے خاندان اور جانثار ساتھیوں پر اذیت رسانی، تکلیف دہی اور وحشیانہ ظلم و جور کے وہ تمام طریقے آزما لیے تھے جو انسانی بس میں ہو سکتے ہیں۔ مگر ان پر قابو پانے کے بعد نہ قتلِ عام کیا جاتا ہے، نہ لوٹ مار ہوتی ہے، نہ کسی کے مال و عزت سے تعرض ہوتا ہے۔ پورے شہر کی تسخیر و فتح میں صرف وہی ۲۴ آدمی مارے جاتے ہیں جو خود پیش قدمی کر کے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہبار بن اسود جس نے پیغمبر اسلامؐ کی بے قصور جواں بیٹی کو بے رحمی سے شہید کیا۔ وحشی بن حرب جس نے آپؐ کے محبوب چچا کو قتل کیا۔ ہندہ بنت عتبہ جس نے پیغمبر اسلامؐ کے چچا کے کان ناک کاٹے، کلیجہ نکال کر چبایا۔ سب سے بڑے دشمن ابو جہل کا بیٹا عکرمہ عبد اللہ بن سراح اور کعب بن زبیر جیسے پیغمبرؐ کے جانی دشمن تک کے قصور یکلخت معاف کر دیے جاتے ہیں۔

کیا اس کا ہزارواں حصہ بھی آج کی تہذیب کی علمبردار اور انسانی حقوق کی ٹھیکیدار مغربی اقوام پیش کر سکتی ہیں؟ یوں تو جنیوا کنونشن اور اقوامِ متحدہ نے حالتِ جنگ کے متعلق بڑے اچھے اچھے قوانین اور چارٹ بنا رکھے ہیں، لیکن اچھے اچھے الفاظ کا لکھ لینا اور چیز ہے اور عمل کارِ دیگر۔ کسی نے سچ کہا ہے ’’اخلاق کہنے کی نہیں کرنے کی چیز ہے‘‘۔

حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری کی چند مثالیں

اسلام نے حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے جو اصلاحات کیں، پیغمبر اسلامؐ نے کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی ان پر عمل کرنے کی درخشاں روایت قائم رکھی۔ اختصار کی خاطر صرف تین مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔

اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگِ بدر کے موقع پر کفارِ مکہ کے گیارہ سو کا لشکرِ جرار (جو جنگی ہتھیاروں سے پوری طرح مسلح تھا) کا مقابلہ محض تین سو تیرہ بے سروسامان اور نہتے مسلمانوں سے تھا۔ اس وقت ایک ایک شخص کی ضرورت و اہمیت تھی۔ ایسی حالت میں حضرت حذیفہ بن یمانؓ اپنے والد کے ساتھ میدانِ جنگ میں پہنچتے ہیں اور بتاتے ہیں ہمیں راستے میں دشمنوں کے لشکر نے روک لیا تھا، مجبورًا ہمیں یہ وعدہ کرنا پڑا کہ ہم آپؐ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف نہیں لڑیں گے، آپؐ ہمیں ایسے اہم اور فضیلت کے موقع پر جنگ میں حصہ لینے کی اجازت دیں۔ مگر پیغمبر اسلامؐ نے اجازت نہیں دی اور ابوجہل جیسے سخت دشمنِ اسلام سے مجبوری کے عالم میں کیے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا۔

اسی طرح جنگِ خیبر کے موقع پر جب دشمنوں (یہود) کا سخت محاصرہ کے دوران قلعہ سے ایک چرواہا ان کی بکریاں چرانے کے لیے نکلتا ہے اور آنحضرتؐ سے سوال و جواب کے بعد مسلمان ہو جاتا ہے تو آنحضرتؐ اسے پہلا حکم یہ دیتے ہیں کہ اہلِ خیبر کی بکریاں واپس کر کے آؤ۔

اور آگے بڑھیے، حضرت معاویہؓ جو آپؐ کے صحابیؓ اور تمام مسلمانوں کے خلیفہ ہیں، بلادِ روم یعنی اہلِ یورپ سے معاہدہ کرتے ہیں۔ آپ صلح کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک حملہ کرنے کے لیے اسلامی فوجوں کو اپنی سرحدوں پر جمع کرنا چاہتے ہیں تو ایک صحابی حضرت عمرو بن عبسہؓ اس کو بدعہدی سے تعبیر کرتے ہوئے پکار کر کہتے ہیں ’’اللہ اکبر وفاء لا غدرًا‘‘ فرماتے ہیں، ہمیں رسول اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کسی قوم (دشمن) سے معاہدہ ہو اس میں اتنی سی بھی خیانت نہ کی جائے (کہ دشمن سمجھے کہ اگر حملہ ہوا تو مسلمانوں کا لشکر مرکز سے چل کر اتنے دنوں میں سرحد تک پہنچے گا، اس لیے اسے پہلے معاہدہ کے ختم کرنے کا نوٹس دیا جائے)۔ اس پر حضرت معاویہؓ لشکر سرحد سے واپس بلا لیتے ہیں۔

کیا دنیا کی کوئی قوم  بشمول مغرب کے حالتِ جنگ میں عہد کی پاسداری کی ایسی ایک مثال بھی پیش کر سکتی ہے؟ کیا مغرب کی مہذب کہلانے والی اقوام حالتِ جنگ میں دشمن کے ساتھ ایسے اخلاقی برتاؤ کا تصور بھی کر سکتی ہے؟ ان انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کا یہ حال ہے کہ حالت ِجنگ میں نہیں (سرد جنگ میں) لیبیا و ایران کے مسافر بردار طیاروں کو مار گراتی ہے۔ عراق، ایران، لیبیا کے کھربوں ڈالر کے بینک اثاثوں کو فریز کر کے بے دھڑک ہضم کر جاتی ہے اور ان کا ضمیر ذرہ برابر شرم و حیا محسوس نہیں کرتا۔

انسانی حقوق کی پاسداری میں مغربی اقوام اور مسلمانوں کا موازنہ

مسلمانوں کا حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری کا ریکارڈ اتنا شاندار ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے تربیت یافتہ جماعت سینکڑوں جنگیں کرتی ہے، نصف سے زیادہ دنیا فتح کرتی ہے مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا  ان عظیم الشان فتوحات اور مسلسل جنگوں میں کبھی کسی عورت، بچے یا بوڑھے پر ہاتھ اٹھایا ہو۔ اس کے برخلاف اس صدی میں پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں تہذیب و تمدن کی دعویدار مغربی اقوام نے، جو خود کو انسانی حقوق کی چیمپئن کہتی ہیں، ایک دوسرے کے ملک میں گھس کر جو تباہیاں پھیلائیں اور کروڑوں بے قصور شہریوں کو جن بھیانک طریقوں سے ہلاک کیا، دشمن (جرمنی و جاپان) کے ہتھیار ڈالنے کی موثق اطلاعات کے باوجود محض اپنی ہیبت و طاقت کے مظاہرہ کے لیے (ہیروشیما پر ایٹم بم ڈال کر) جنگ کے اختتام کا وحشیانہ طریقہ اختیار کیا، اس سے کون ناواقف ہے؟ حال ہی میں بوسنیا اور کوسووا میں مغرب کے سرب درندوں ہی نے نہیں، بلکہ اقوامِ متحدہ کے محافظ دستوں میں شامل امریکہ یورپ کے فوجیوں نے ہزارہا مسلمان خواتین کے ساتھ جو کچھ کیا وہ طشت از بام ہو چکا ہے۔

جنگ میں اسلام کے اصلاحی اقدامات کے ثمرات و نتائج

جنگ میں انسانی حقوق کے متعلق اسلام کی عطا کردہ اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کا نتیجہ اور اس کی برکت تھی کہ چند ہی سالوں میں نہ صرف جزیرۃ العرب و مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بلکہ ایشیا، افریقہ کا بڑا حصہ اسلام کے سایۂ عاطفت میں پناہ گزین ہو گیا۔ یہ اقوام اتنی سرعت سے اسلام کی طرف آئیں کہ مؤرخین محوِ حیرت ہیں۔ ہم نہایت اختصار سے سرسری جائزہ پیش کرتے ہیں۔

عہدِ نبوی میں کل لڑائیوں (غزوات و سرایا) کی مقدار ۸۲ ہے جس کے نتیجہ میں تقریباً ۱۰ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح ہوا۔ اور اس میں ایسا امن و امان قائم ہوا کہ مملکت کے آخری کنارے حیرہ (یمن) سے ایک حسین عورت سونے کے زیورات سے لدی نکلتی ہے اور بیت اللہ کا طواف کر کے واپس آجاتی ہے، ہزارہا میل کے طویل سفر میں کوئی متنفس اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ اس قدر عظیم اخلاقی و ذہنی انقلاب کے لیے طرفین کا جو جانی نقصان ہوا وہ یہ ہے۔ کل مسلمان شہید ہوئے ۲۵۹ اور کل غیر مسلم قتل ہوئے ۷۵۹۔ دس سالہ جنگوں میں کام آنے والے مسلم و غیر مسلم کا کل میزان ۱۰۱۸ بنتا ہے۔ آج اتنے انسان تو معمولی جھڑپوں میں ہلاک کر دیے جاتے ہیں۔

اور آگے بڑھیے۔ دورِ فاروقیؓ میں ۲۲ لاکھ مربع میل، دورِ عثمانیؓ میں ۴۴ لاکھ مربع میل اور دورِ معاویہؓ میں تقریباً ۶۵ لاکھ مربع میل کا علاقہ۔ یعنی اس دور کی معلوم دنیا (ایشیا، افریقہ و یورپ) کے بڑے حصہ پر اسلام کی عملداری قائم ہو جاتی ہے۔ اس میں صرف ۳۰ سال کا عرصہ لگتا ہے اور آدھی سے زیادہ دنیا کو فتح کرنے میں جانی نقصان اس قدر کم ہوتا ہے کہ اس پر آج تک مؤرخین محوِ حیرت ہیں۔ اس کے برعکس انسانی حقوق کی علمبردار مغربی اقوام نے گزشتہ نصف صدی میں جس قدر انسانوں کو قتل کیا اس پر بھی ایک نظر ڈالیں۔ الجزائر میں فرانس نے تقریباً دس لاکھ، صرف ویتنام میں امریکہ نے ۱۴ لاکھ، لیبیا میں اٹلی نے تقریباً ساڑھے تین لاکھ، افغانستان میں روس نے تقریباً ۱۵ لاکھ، دونوں جنگِ عظیم میں مغربی اقوام نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ، روس اور چین کے کمیونسٹ انقلاب میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا میں کوئی بڑی جنگ نہ ہونے کے سبب اسے سرد جنگ یا امن کا دور کہا جاتا ہے۔ مگر اس سرد جنگ کے دوران گزشتہ ساٹھ سالوں میں جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ ہے، اور تقریباً اتنی ہی تعداد وطن سے ہجرت پر مجبور ہونے والوں کی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق جنگوں میں مرنے اور ہجرت کرنے والوں میں تقریباً نصف کے قریب مسلمان ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں ۴۵ ملین (ساڑھے چار کروڑ) مہاجرین ہیں جن میں ۳۲ ملین (تین کروڑ بیس لاکھ) مسلمان ہیں۔ یعنی گزشتہ ساڑھے تیرہ سو سالوں میں اتنے مسلمان قتل نہیں ہوئے جتنے مغرب کے عطا کردہ امن کے ساٹھ سالوں میں۔ کہیں یہ فریضۂ جہاد کو چھوڑنے کی سزا تو نہیں؟

دنیا سے جنگوں کے خاتمہ اور انسانی حقوق کی بحالی کا واحد طریقہ

نزولِ قرآن کے وقت دنیا کو امن کی جس قدر ضرورت تھی آج پھر دنیا کو امن کی اس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ پوری دنیا تباہی کے کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا سے جنگیں اور فساد کبھی اخلاقی وعظ و نصیحت سے ختم نہیں ہوا۔ سقراط سے ایک بار پوچھا گیا، انسان کو جنگوں سے نجات مل سکے گی؟ اس کا جواب تھا جنگیں اس وقت تک ناگزیر رہیں گی جب تک انسان دیوانگی میں مبتلا رہے گا۔ اس پر لوگوں نے سوال کیا، اور انسان کب تک دیوانگی میں مبتلا رہے گا؟ سقراط کا جواب تھا ’’ہمیشہ‘‘۔ امن کے شہزادے (حضرت عیسٰیؑ) کا اعلان تھا ’’وہ دنیا کو امن نہیں تلوار دینے آیا ہے‘‘۔ فنلے (Finly) لکھتا ہے ’’عیسائیت نے اہنسا کا خوشنما مژدہ ضرور سنایا مگر اس پر کبھی کسی رومی شہنشاہ نے عمل کیا نہ مذہبی پادریوں اور پوپ نے‘‘۔

آج بھی مسیحی دنیا کی ذہنی صلاحیت اور مادی وسائل کا بڑا حصہ دنیا کی تباہی و ہلاکت کے ذرائع کی ایجاد میں صرف ہو رہا ہے۔ یہی حال اہنسا کے علمبردار بھارت کا ہے۔ اہنسا کا تصور ہمیشہ ناقابلِ عمل رہا ہے۔ مشہور آسٹریلوی مدبر آرجی کیسے (R.G. Case) مسٹر گاندھی کے نظریۂ عدمِ تشدد پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’یہ تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ میں دوسروں کے خلاف تشدد نہ کروں، لیکن میں دوسروں کو اپنے خلاف تشدد سے کیسے باز رکھ سکتا ہوں؟‘‘

اسلام نے دنیا سے ظلم اور جنگوں کو ختم کرنے کے لیے ہی تلوار اٹھانے کا حکم دیا ہے، جیسے کوئی ماہرِ جراحت سرجن نشتر لے کر آپریشن روم میں جاتا ہے۔ اسلام کا فلسفۂ امن یہ ہے کہ طاقت اور ہتھیار نفس و خواہش پرست جنگ کے دلدادہ لوگوں کے بجائے انسانی حقوق کے پاسبان و محافظ جہاد کا تصور رکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہو۔ انسانی تاریخ شاہد ہے، دنیا میں امن صرف اسی وقت قائم ہو سکا جب تلوار خوفِ خدا رکھنے والوں کے ہاتھوں میں تھی۔ ماضی کی طرح مستقبل میں جب بھی دنیا میں صحیح معنٰی میں امن قائم ہو گا وہ اسلام کے ارفع فلسفۂ امن یعنی جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ ہی ہو گا۔


انسانی حقوق کے مغربی تصورات اور سیرتِ طیبہ

مولانا محمد عبد المنتقم سلہٹی

آج کی دنیا میں انسانی حقوق کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جاتی ہے، اور انسانی حقوق کے حوالے سے کی جانے والی گفتگو سب سے زیادہ مؤثر گفتگو سمجھی جاتی ہے۔ لیکن عام طور پر انسانی حقوق کا ایک ایسا صاف اور واضح تصور ذہنوں میں موجود نہیں ہے کہ جس سے قابلِ تحفظ حقوق کے تعیّن کی کوئی بنیاد فراہم ہوتی ہو، اور حقوق و فرائض کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنے کی کوئی اساس مہیا ہو سکے۔ اس کھوکھلے پن کا نتیجہ یہ ہے کہ عقلی سوچ اور ذہنی تخیل کی روشنی میں انسانی حقوق کا کوئی خاکہ متعیّن کر لیا جاتا ہے اور اسی کو معیارِ حق قرار دے دیا جاتا ہے، اور پھر اسی خود ساختہ معیار پر ہر چیز کو پرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حالانکہ انسانی حقوق کے تعیّن میں اگر عقل کی بالادستی کو تسلیم کر لیا جائے تو حقوق کے تعیّن کی کوئی بنیاد فراہم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ابتدائے آفرینش سے آج تک انسانی حقوق کے بارے میں تصورات بدلتے چلے آئے ہیں۔ ایک دور میں انسان کے لیے کسی حق کو لازمی سمجھا گیا اور دوسرے دور میں اسی حق کو ناحق قرار دیا گیا۔ مثال کے طور پر نبی کریم سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دنیا میں تشریف لائے اس وقت انسانی حقوق ہی کے حوالے سے یہ تصور پھیلا ہوا تھا کہ جو شخص کسی کا غلام بن گیا تو نہ صرف اس کے جان و مال مملوک ہو گئے بلکہ آقا کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس طرح چاہے غلام کو استعمال کرے، چاہے گردن میں طوق پہنچائے، اور چاہے پاؤں میں بیڑیاں ڈالے۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے فاشزم نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ جو طاقتور ہے اس کا ہی بنیادی حق ہے کہ وہ کمزور پر حکومت کرے، اور کمزور کے ذمہ واجب ہے کہ وہ طاقت کے آگے سر جھکائے۔
ذرا غور فرمائیے! غلامی کے جس تصور کو آقا کا بنیادی حق قرار دیا جاتا تھا، اسی کو آج جاہلیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کمزور پر جس حکمرانی کو طاقتور کا یکطرفہ حق سمجھا گیا، اسی کو بعد میں نہ صرف یہ کہ بدترین ظلم کے عنوان سے تعبیر کیا گیا بلکہ فاشزم کا نام خود گالی بن گیا ہے۔
انسانی حقوق کے تصورات کی اس تاریخی حقیقت کے پیشِ نظر یہ سوال بجا طور پر ذہن میں ابھرتا ہے کہ آج جن حقوق کو عقل کے فیصلہ پر انسانی حقوق کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں کیا ضمانت ہے کہ وہ کل بھی تسلیم کیے جائیں گے اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟ اور وہ کونسی بنیاد ہے جو اس فیصلہ کو حرفِ آخر قرار دے سکے گی؟
یہ وہ نازک سوال ہے جس کا حل پیش کرنے سے عقلِ انسانی عاجز ہے۔ کیونکہ عقل، حواسِ خمسہ کی طرح ایسا ذریعۂ علم ہے جس کا دائرہ کار ایک مخصوص حد میں جا کر ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ حواسِ خمسہ میں سے ہر ایک کی پرواز ایک متعیّن حد میں رک جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک گھر کو آنکھوں سے دیکھ کر یہ علم ہو جاتا ہے کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ لیکن صرف آنکھوں سے دیکھ کر یا ہاتھوں سے چھو کر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس گھر کو کس انسان نے بنایا ہے؟ بلکہ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔ پھر آگے چل کر جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس گھر کو کس طرح استعمال کرنا چاہیے؟ کس کام میں استعمال کرنے سے فائدہ ہو گا اور کس میں استعمال کرنے سے نقصان ہو گا؟ اس سوال کا حل پیش کرنے سے عقل بھی ناکام ہو جاتی ہے۔
یہ اور اس قسم کے سوالات کا جواب دینے کے لیے جو ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اس کا نام ’’وحی‘‘ ہے۔ وحی انسان کے لیے وہ اعلیٰ ترین ذریعۂ علم ہے جو اسے زندگی سے متعلق ان سوالات کا جواب مہیا کرتا ہے، جو عقل اور حواس کے ذریعہ تو حل نہیں ہو سکتے لیکن ان کا علم حاصل کرنا اس کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے عقل اور مشاہدہ کا محدود دائرۂ اثر ختم ہو جانے کے بعد وحئ الٰہی کے شفاف چشمۂ حیات سے رہنمائی حاصل کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ورنہ انسانیت منزلِ مقصود کی راہ سے کوسوں دور چلی جاتی ہے اور ہر وقت مصائب و مشکلات کے صحرا میں بھٹکتی پھرتی ہے، لیکن اپنے سفرِ حیات کا وہ نشانِ راہ اسے نظر نہیں آتا جو منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہو۔
انسانی حقوق کے حوالے سے جو تصورات آج مغرب کی طرف سے پھیلائے جا رہے ہیں، ان کی بنیاد بھی نری عقل پر ہے۔ جس کا نتیجہ آج مغرب میں معاشرتی بگاڑ، جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی کے جس خوفناک روپ میں ظاہر ہو رہا ہے اس نے خود مغربی دانشوروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے۔
ان حقائق کے پس منظر میں اگر انسانی حقوق سے متعلق قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و احکام کو سامنے لایا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انسانی حقوق کے تعیّن اور تحفظ کا جو معیار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے وحئ الٰہی کے سرچشمۂ فیض سے پیش کیا تھا اور حقوق و فرائض کے درمیان جو خطِ امتیاز انہوں نے قائم فرمایا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا متبادل سامنے نہیں لا سکی۔
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانی حقوق کے سلسلے میں سب سے بڑا کنٹریبیوشن (Contribution) یہ ہے کہ آپ نے قابلِ تحفظ حقوق کے تعیّن کی وہ بنیاد انسانیت کے سامنے پیش کی جو ایک ایسی اتھارٹی کی طرف سے عطا فرمائی گئی ہے جس کا علمِ کامل کائنات کے ایک ایک ذرہ پر محیط ہے، اور جو انسانوں کا بھی خالق و مالک ہے اور ان کی وسیع تر ضروریات کے بارے میں بخوبی وقف ہے۔ اسی قادرِ مطلق ذات نے اپنی حکمتِ بالغہ سے ’’وحی‘‘ کی صورت میں جو خالص اور قطعی علم اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا، وہی علمِ حقیقی انسانی حقوق کے تعیّن کے لیے واحد بنیاد اور منفرد معیار ثابت ہو سکتا ہے۔
لیکن مغرب نے وحئ الٰہی کی جگمگاتی ہوئی روشنی سے (کے ذریعے) راہِ نجات تلاش کرنے کے بجائے انسانی حقوق کے تعیّن و تحفظ کے لیے عقل کو نگران مقرر کیا اور اس پہلو پر غور نہ کیا کہ عقل کی کمزور لگام خواہشات کے منہ زور گھوڑے کو کنٹرول کرنے میں ہمیشہ ناکارہ ثابت ہوئی ہے۔ اور انسانی خواہشات نے صرف اس وقت فطرت کے دائرے میں رہنا قبول کیا جب ان پر وحئ الٰہی کی حکمرانی قائم ہوئی ہے۔ اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کر کے جو خمیازہ مغرب کو بھگتنا پڑ رہا ہے، اس کا اندازہ صرف ایک مثال سے ہو سکتا ہے۔
مغرب نے اپنی ’’خواہش پرست عقل‘‘ کے فیصلہ پر یہ تصور پیش کیا کہ مرد و عورت جس درجہ کے اختلاط پر باہم رضامند ہوں اس پر کسی تیسرے کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ دیکھیے! یہاں مغرب نے مرد اور عورت کی باہمی رضامندی تو دیکھ لی، مگر پورے معاشرے پر اس اختلاط کے اثرات کو نہ دیکھ سکا، جس کے نتیجے میں ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خاندانی نظام تباہی کی آخری حدود کو چھو رہا ہے۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی بنیاد پر مرد و عورت کی اس باہمی رضامندی کو بھی جرم قرار دیا ہے جو معاشرے کے لیے منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہو۔ چنانچہ آپؐ نے مرد و عورت کے باہمی اختلاط کے لیے رشتۂ ازدواج کے فطری اور پُر مسرت تعلق کو جائز رکھا اور باقی ہر قسم کے میل جول سے منع فرما دیا۔
اسی طرح سود کے بارے میں مغرب نے یہ فلسفہ پیش کیا کہ جب سود دینے اور لینے والے آپس میں متفق ہیں تو پھر تیسرے کسی کو حقِ اعتراض حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں بھی مغربی عقل نے اپنی کرشمہ سازی دکھائی اور حقوق کے تعیّن میں صرف دو افراد کی رضامندی کو بنیاد بنایا۔ جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے پر بحیثیت مجموعی سود کے منفی اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ آج سودی معیشت کے نتیجے میں جس طرح چند مخصوص گروہوں کی اجارہ داری کے شکنجے میں پوری دنیا کے انسان کسے جا رہے ہیں، اس سے اسلامی تعلیمات کی صداقت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مغرب جس طرح انسانی حقوق کے تعیّن میں غلطاں و پیچاں ہے اسی طرح حقوق و فرائض میں توازن قائم کرنے اور ان کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنے میں بھی وہ ناکام رہا ہے۔ مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں ایسا خلط ملط کر دیا کہ ان کے درمیان کوئی خطِ امتیاز قائم نہ رہا، لیکن وہ اپنے اس کھوکھلے فلسفے کا غلط پروپیگنڈا اس زور و شور سے کر رہا ہے کہ آج کا معاشرہ انسانی حقوق کے بارے میں مسلسل ذہنی انتشار اور فکری بے راہ روی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
مثلاً حلال روزگار کے ذریعہ اہلِ خانہ کی کفالت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتا ہے۔ مگر مغرب نے روزی کمانے کے فریضے پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر دیا اور اس طرح عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ دینے کے لیے ورغلایا۔ اس دلچسپ نعرے سے عورت بیچاری بہت متاثر ہوئی اور یہ سمجھ کر خوش ہو گئی کہ اب میں مساوی حق سے بہرہ ور ہو رہی ہوں۔ لیکن حقوق و فرائض کے اس گڈمڈ فلسفہ نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے گوربا چوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات کی رو سے حکومت و اقتدار ایک نازک ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کی سنگینی اور نزاکت کے بارے میں آپ نے قدم قدم پر خبردار کیا ہے، جس کا ثمرہ حکمرانوں میں احساسِ ذمہ داری اور خوفِ خدا کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کے بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اقتدار کو حقوقِ انسانی کی فہرست میں شامل کیا، جس کا منطقی انجام حکمرانوں میں خودغرضی، نفس پروری اور ہوس پرستی کی ہولناک صورت میں سامنے آیا اور لیلائے اقتدار تک پہنچنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربے کو زینہ بنا لیا گیا۔
ان چند مثالوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مغرب نے نہ انسانی حقوق کے تعیّن کی کوئی بنیاد فراہم کی، اور نہ حقوق و فرائض کے درمیان کوئی خطِ امتیاز قائم کیا۔ جس کے نتیجے میں انسانی معاشرہ کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے تباہی و بربادی کا سامنا ہے۔ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق کی حقیقی بنیاد فراہم کی اور انسانیت کو وحئ الٰہی کے شفاف اور خوش ذائقہ چشمۂ حیات کی طرف رہنمائی فرمائی۔

ملک کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

اصحابِ خیر خصوصی توجہ فرمائیں

مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

آپ حضرات کو بخوبی معلوم ہے کہ دینی مدارس اس وقت اسلام کے مضبوط قلعے اور مسلمانوں کے دینی تشخص کو برقرار رکھنے کا واحد مؤثر ذریعہ اور آخری پناہ گاہیں ہیں۔ آج پوری دنیا کی اسلام مخالف قوتیں دینی مدارس کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ حالانکہ ان مدارس میں قرآن و سنت اور دیگر علومِ اسلامیہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کو اللہ تعالیٰ نے جہادِ کبیر سے تعبیر کیا ہے، اس سے کفر و شرک، بدعات و خرافات اور تمام برائیوں کے خلاف ہر وقت جہاد کیا جاتا ہے۔ گویا کہ اس کی تعلیم حاصل کرنا اور پھر اسے آگے دوسروں تک پھیلانا جہادِ اکبر ہے جو اِن دینی مدارس کے ذریعہ جاری و ساری ہے ۔
مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے دینی مدارس کی اہمیت کے متعلق فرمایا:
’’ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ مُلا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہو گا؟ جو کچھ ہو گا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہو گا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔ ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔‘‘
ان ہی دینی مدارس میں سے آپ کا مدرسہ نصرۃ العلوم بھی ہے جسے ۹۵۲ء میں ایک مردِ قلندر مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی فاضل دارالعلوم دیوبند نے نہایت بے سروسامانی کی حالت میں اللہ رب العزت کی ذات پر توکل کرتے ہوئے موہن سنگھ نامی جوہڑ پر قائم فرمایا۔ آج پچاس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اہلیانِ گوجرانوالہ بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ پچاس برسوں میں مدرسہ نصرۃ العلوم نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، معاونین اور خیر خواہوں کی پُرخلوص دعاؤں اور تعاون سے اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق دینی خدمات سرانجام دی ہیں۔ جس کی بدولت اس وقت آپ کا یہ مدرسہ پاکستان کے درجہ اول کے مدارس کی صف میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے تعلیم یافتہ نہ صرف گوجرانوالہ اور پاکستان کے ہر علاقہ میں بلکہ دنیا کے کئی مختلف ممالک میں کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ اور دینی تعلیمات سے بنی نوع انسان کے قلوب کو منور کر رہے ہیں۔ جو یقیناً ایک صدقہ جاریہ ہے جس میں عامۃ المسلمین اور خصوصاً اہلیانِ گوجرانوالہ کا بھرپور حصہ ہے اور اس کا اجر و ثواب ان کو اخروی زندگی میں حاصل ہو گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اسی مناسبت سے رمضان المبارک کے موقع پر ہم ہر سال مدرسہ نصرۃ العلوم کے معاونین اور خیرخواہوں کی خدمت میں گزارش کیا کرتے ہیں کہ وہ اپنی حلال طیب کمائی میں سے مدرسہ کو فراموش نہ کریں اور حسبِ معمول اپنے پُرخلوص تعاون سے اس دینی کام کو رواں دواں رکھیں۔ اس کو مصر کے قومی شاعر احمد شوقی نے اس طرح کہا ہے ؎
فانصر بھمتک العلوم واھلھا
ان العلوم قلیلۃ الانصار
’’اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق علم اور اہلِ علم کی مدد کرو کیونکہ علوم کے مددگار لوگ دنیا میں کم ہی ہوتے ہیں۔‘‘
حضرت مجدد الف ثانیؒ کا قول بھی ہے:
’’دینی تعلیم میں پیسہ خرچ کرنا دیگر امور میں خرچ کرنے کی بنسبت دوہرا اجر پاتا ہے۔‘‘
اس لیے کہ ایک تو پیسہ مستحقین تک پہنچتا ہے اور دوسرا دینی تعلیم میں معاونت کا علیحدہ اجر و ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت وطنِ عزیز پاکستان شدید ترین معاشی، اقتصادی اور سیاسی زبوں حالی کا شکار ہے جس کے اثرات مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ بجلی اور سوئی گیس کے بھاری بھر کم بلز اور روزہ مرہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں ہوشربا زیادتی سے جہاں ایک عام آدمی متاثر ہوا ہے وہاں دینی مدارس کے بجٹ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو جاری رکھنا جہاد ہی تو ہے، اور اس میں حصہ لینے والے خوش نصیب ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں بھی نیکی کی توفیق دیتا ہے۔
مدرسہ نصرۃ العلوم میں اس وقت
لیکن فی الحال کئی اہم شعبہ جات وسائل کی کمی کے باعث التوا میں پڑے ہوئے ہیں جن کی اشد ضرورت ہے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم چونکہ سرکاری گرانٹ حاصل نہیں کرتا اور اس کے بجٹ کا سارا دارومدار عوام الناس کے چندوں پر ہی منحصر ہے، اس لحاظ سے مدرسہ کا ماہانہ خرچ تقریباً چار لاکھ روپے ہے جو محض اللہ تعالیٰ کے کرم اور آپ حضرات کے پُرخلوص تعاون سے اب تک پورا ہوتا رہا ہے۔ لیکن چند ماہ قبل مدرسہ کی گاڑی کو حادثہ پیش آ جانے کی وجہ سے دو جانوں کے ضیاع کے ساتھ خاصا مالی نقصان بھی ہوا ہے جس کی وجہ سے مدرسہ زیربار ہے۔ اس لیے آپ حضرات سے پُرزور اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے اموال زکوٰۃ و عشر، صدقات و خیرات، عطیہ، ہدیہ اور ماہانہ و سالانہ چندہ جات کی صورت میں مدرسہ کے ساتھ بھرپور تعاون فرمائیں اور کسی وقت فرصت نکال کر خود مدرسہ تشریف لا کر کام کا جائزہ لیں اور ضروریات دیکھیں۔ آپ کے تعاون سے صدقہ جاریہ کی صورت میں یہ دینی سلسلہ تا قیامِ قیامت جاری رہے گا اور ہم سب اس کے معاون و مددگار بن کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے جان و مال اور عزت و آبرو میں برکت نصیب فرمائے، آمین یا الٰہ العالمین۔

امریکی عورت کا المیہ

منو بھائی

نیویارک سے ہیوسٹن تک امریکہ کے چار بڑے شہروں میں ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ قیام کے دوران سینکڑوں دوستوں، ہزاروں پاکستانیوں، ہندوستانیوں اور دیگر ایشیائی ملکوں کے محنت کشوں اور کاروباری لوگوں سے انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں، کم از کم ایک درجن بڑے جلسوں، ادبی محفلوں، مذاکروں میں شرکت، تین ٹیلی ویژن پروگراموں اور تین ریڈیو انٹرویوز میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرنے اور یہاں کی شان و شوکت، گہماگہی اور رونق دیکھنے کے علاوہ میں نے امریکی معاشرے کے بعض انتہائی گھناؤنے پہلو بھی دیکھے ہیں۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎
یاد ہے سیر چراغاں ناصر
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
مگر میں نے یہاں جو کچھ بھی دیکھا ہے اس میں سب سے نمایاں یہاں کی عورت کی حالتِ زار ہے اور مجھے سب سے زیادہ ترس بھی یہاں کی عورت پر ہی آیا ہے۔ میرے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام اور منڈی کی معیشت یعنی معیشت بازار میں سب سے زیادہ اور سب سے سستے داموں فروخت ہونے والا ’’مال‘‘ عورت ہے اور سب سے زیادہ استحصال کا نشانہ بننے والی بھی عورت ہے۔
میرے اس خیال سے یہاں کے صوفی مشتاق، جوہر میر، منظور اعجاز اور افتخار نسیم جیسے دانشور دوستوں کو بھی اتفاق ہے کہ امریکہ میں کتوں اور بلیوں کا عورتوں سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ موٹر کاروں کے پہیوں اور انجنوں پر عورتوں سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ میرے ان دانشوروں کا یہ خیال بھی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ بازاری معیشت کا نظامِ سرمایہ داری اگر اسٹاک مارکیٹ کے کریش کر جانے کے صدمے سے بچ بھی گیا تو عورت کی بے حرمتی کے ہاتھوں مارا جائے گا۔
یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں کوئی نیکوکار نہیں اور اخلاقیات کا علمبردار بننا بھی مجھے زیب نہیں دیتا، مگر انسان اور حیوان میں تمیز رکھتا ہوں اور یہاں امریکہ کے بڑے شہروں میں یعنی بڑی منڈیوں اور بازاروں میں، سڑکوں، پارکوں، ٹیوب اسٹیشنوں، دفتروں، نائٹ کلبوں، ہوٹلوں کے کمروں، لابیوں اور گھروں میں اچھے بھلے انسانوں کو حیوانوں میں تبدیل ہوتے دیکھ کر دکھی ہوتا ہوں۔ اور یہ سن کر بھی تکلیف ہوتی ہے کہ عورتوں کے لیے وہی الفاظ استعمال ہوتے ہیں جو کتوں اور بلیوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دنیا کی پندرہ بڑی ملٹی نیشنل کارپوریشنیں محض عورتوں کی آرائش و زیبائش کا سامان تیار کر کے اربوں ڈالر کماتی ہیں، مگر ان کی مصنوعات سے عورتوں کی صحت پر کوئی اچھا اثر نہیں پڑتا۔ یہ تمام مصنوعات لباس سے زیبائش اور میک اپ تک مردوں کے دل لبھانے کے لیے ہوتی ہیں، عورتوں کو دیدہ زیب بنانے اور انہیں بازار میں بٹھانے کے لیے ہوتی ہیں۔
یہ لکھتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ بہت سی نیک دل خواتین کو میری یہ باتیں اچھی نہیں لگ رہی ہوں گی لیکن اگر انہوں نے نیویارک، واشنگٹن، لاس ویگاس اور ہیوسٹن کے نائٹ کلبوں میں، اسکولوں اور کالجوں کی طالبات اور دیگر ضرورتمند لڑکیوں کو تمام کپڑے اتار کر ناچتے تھرکتے اور بازی گری کے انتہائی بے ہودہ مظاہرے کرتے اور انتہائی مکروہ قسم کے لوگوں کی آغوشوں میں لوٹ پوٹ ہو کر بیلیں وصول کرتے دیکھا ہو تو ان کی آنکھیں بھیگ جائیں گی، یا پومیائی کا زلزلہ یاد آ جائے گا، یا طوفانِ نوح کا سبب بنے والی بارش امڈتی دکھائی دے گی۔ 
امریکی معاشرے میں مردانگی کا مضحکہ خیز گھمنڈ یورپ کے معاشروں سے بھی زیادہ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ امریکی آئین، قوانین اور اقدار میں انسانی حقوق کی پاسداری کے بہت تذکرے ہیں مگر یہ تذکرے امریکی معیشت کی طرح کھوکھلے، بے جان اور بے روح ہیں۔ امریکہ میں عورت کی بے حرمتی کی وجہ سے خاندانوں کی طرح ازدواجی زندگی بھی وفات پا چکی ہے۔ بازاری معیشت نے یہاں کی اخلاقی قدروں کا بھی دیوالیہ نکال دیا ہے۔ اخلاقی افلاس سے جو قحط جنم لیتا ہے وہ تمام قحطوں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، امریکہ اس قحط سے دوچار ہو چکا ہے۔
(بشکریہ جنگ)

ٹینک کے مقابلے میں غلیل کی جیت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسرائیلی فوج کے خلاف فلسطینی بچوں نے غلیل اور پتھر کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا تو بہت سے لوگوں کو یہ عجیب سی بات لگی۔ ایک طرف گولے اگلتے ہوئے ٹینک تھے، آگ برساتی ہوئی توپیں تھیں، اور تجربہ کار جنگجو نوجوان تھے۔ جبکہ دوسری طرف نہتے معصوم بچے ہاتھوں میں غلیلیں اور پتھر پکڑے ان کے سامنے سینہ تانے کھڑے تھے۔ اور تاریخ نے ایک بار پھر قوتِ ایمانی اور اسلحہ و ہتھیار کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا تھا۔

میری نگاہوں کے سامنے ہزاروں سال پہلے کا ایک منظر گھومنے لگا۔ یہی فلسطین کی سرزمین تھی، دو فوجیں آمنے سامنے تھیں، ایک کی کمان جالوت کر رہا تھا جو وقت کا بہت بڑا جابر اور سفاک حکمران تھا، اور دوسری فوج کی کمان اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے طالوت کے ہاتھ میں تھی۔ جالوت کے پرچم تلے ۸۰ ہزار کا لشکر جرار تھا اور طالوت کی کمان میں صرف ۳۱۳ افراد تھے۔ جالوت طاقت کے نشے میں میدانِ جنگ میں اترا اور آگے بڑھ کر اپنے مد مقابل کسی کو سامنے آنے کا چیلنج کر دیا۔ وہ سر سے پاؤں تک لوہے میں ڈوبا ہوا تھا، مضبوط لوہے کی موٹی چادروں نے اسے چاروں طرف سے ڈھانپ رکھا تھا، آنکھوں کے سامنے دو سوراخوں کے سوا جسم کی اور کوئی جگہ خالی نہیں تھی اور دونوں ہاتھوں میں تلواریں چمک رہی تھیں۔ اس کے سامنے ایک نوجوان جس کا نام داؤد تھا اور جو بعد میں حضرت داؤد علیہ السلام کے نام سے نبوت اور سلطنت کا تاجدار بنا، داؤد نوجوان کے جسم پر سادہ لباس تھا اور ہاتھ میں ایک کوپیا اور چھوٹے چھوٹے پتھر تھے۔ کوپیا ایک ڈوری کو کہتے ہیں جسے پتھر کے گرد لپیٹ کر اسے گھما کر نشانے پر پھینکتے ہیں تو وہ چھوٹا سا پتھر آج کی گولی کا کام کرتا ہے۔

دونوں آمنے سامنے کھڑے ہیں، ایک مکمل طور پر بکتر بند لباس میں ملبوس اور ہتھیار بند ہے، اور دوسرے سادہ کپڑوں میں ایک ڈوری اور چند پتھر ہاتھوں میں تھامے ہوئے اپنے حریف کی آنکھوں میں آنکھے ڈالے ہوئے ہں۔ تاریخ دم بخود ہے اور وقت نے سانس روک رکھی ہے مگر یہ مقابلہ چند لمحوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ بکتربند کی نظر نے تلوار کا وار کیا جسے پھرتیلے نوجوان داؤد نے اپنی پھرتی سے ضائع کر دیا، پھر داؤد نے ڈوری گھما کر جالوت کی آنکھ کا جو نشانہ لیا تو پلک جھپکتے ہی چھوٹا سا پتھر اس کی آنکھ سے گزر کر دماغ میں گھس گیا اور اپنے تمام تر جاہ و جلال، قوت و اقتدار اور ساز و سامان کے باوجود جالوت کو اس نوجوان پر دوسرے وار کی مہلت نہ مل سکی۔

تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی تھی اور بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے مقابلہ میں پتھر بدست معصوم بچے کھڑے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقل والوں کی عقل ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور دانشوروں کی دانش خوف کے مارے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی ہے۔ یہاں سے جنون کے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جہاں عقل اور دانش کی بریکیں فیل ہو جاتی ہیں وہاں سے جنون قوموں کی لگام تھام لیتا ہے۔ مجھ سے برطانیہ میں بعض دوستوں نے پوچھا کہ ان فلسطینیوں کا کیا ہو گا؟ کیا یہ اس طرح اسرائیل کو شکست دے سکیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ قومیں جب آزادی کی جنگ لڑتی ہیں تو انہیں اس طرح کے دو چار سخت مقامات سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور جو قومیں ان مقامات سے گزرنے کا حوصلہ کر لیتی ہیں وہ آزادی کی حقدار بھی ہو جایا کرتی ہیں۔ اس لیے ؎ ’’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘‘۔

چنانچہ جب گرد بیٹھ رہی ہے اور پیڑیں ٹھنڈی ہو رہی ہیں تو ٹینک اور غلیل کی جنگ کے نتائج بھی رفتہ رفتہ سامنے آ رہے ہیں۔ آئیے آپ بھی اب تک کے ان نقد نتائج پر ایک نظر ڈال لیجئے:

  1. اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ یاسر عرفات کے درمیان ہونے والے مذاکرات ’’زیرو پوائنٹ‘‘ پر واپس چلے گئے ہیں، ان پر وہ دستخط نہیں ہو سکے جن کے لیے امریکہ کی طرف سے یاسر عرفات پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر امریکی وزیر خارجہ مسز میڈیلین البرائٹ نے مذاکرات والے ہال کے دروازے حکماً بند کرا کے یاسر عرفات پر واک آوٹ کا راستہ بھی روک دیا تھا۔ مذاکرات کی تیز رفتاری اور میڈیلین البرائٹ کی چستی اور چابکدستی سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ امریکہ بہادر دو چار روز میں یاسر عرفات سے اس معاہدہ پر دستخط کروا ہی لے گا، جس سے ’’مستقل امن‘‘ کے نام پر مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی غیر مشروط بالادستی کی راہ ہموار ہو جائے گی، مگر فلسطینی بچوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر یاسر عرفات کے ہاتھ سے دستخط کرنے والا قلم بھی چھین لیا۔
  2. ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے پتھر پکڑ کر اسرائیلی ٹینکوں کے سامنے آنے والے معصوم فلسطینی بچوں نے عرب حکمرانوں اور مسلم حکمرانوں کی سوئی ہوئی غیرت کو جگایا۔ چنانچہ انہوں نے دوحہ میں جمع ہونے کا پروگرام بنا لیا۔ مسلم سربراہ کانفرنس کے انعقاد کا کے لیے قطر کو اسرائیل سے تعلقات ختم کرنا پڑے۔ مسلم سربراہ کانفرنس نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے تمام مسلم ممالک پر زور دیا، جس کے تحت مصر اور اردن نے اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں اور دیگر ممالک بھی ان تعلقات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
  3. سب سے بڑھ کر سعودی حکومت کے لہجے میں واضح تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ ولی عہد شہزادہ عبد اللہ جس لب و لہجہ میں بیت المقدس اور فلسطین کے مسئلہ پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں اس سے شہید شاہ فیصلؒ کی یاد پھر سے تازہ ہونے لگی ہے۔ ابھی گزشتہ روز شہزادہ عبد اللہ نے ریاض میں عرب دانشوروں کے گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہم بیت المقدس سے کسی قیمت پر دستبردار نہیں ہوں گے خواہ اس کے لیے ہمارے بچے بھی ذبح ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے علاقہ میں امن کی خاطر اسرائیل کے بارے میں نرم رویہ اختیار کر لیا تھا مگر اس کا مطلب غلط سمجھا گیا ہے۔ اسرائیل نے انسانیت اور اخلاقیات کی تمام حدود پامال کر دی ہیں اور وہ اپنے رویہ میں کوئی لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے سخت لب و لہجہ میں امریکہ اور یورپی ممالک سے دریافت کیا ہے کہ وہ آخر کب تک اسرائیل کی حمایت کو جاری رکھ سکیں گے؟ شہزادہ عبد اللہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ جنگ سو سال تک جاری رہے تب بھی عرب بیت المقدس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
  4. اس کے ساتھ ہی صورتحال میں تبدیلی کے ایک اور پہلو پر بھی نظر ڈال لیجئے کہ مسجد نبویؐ کے ہر دلعزیز امام الشیخ علی عبد الرحمان الحذیفی اپنے منصب پر بحال ہو گئے ہیں۔ انہیں دو سال قبل مسجد نبویؐ میں خطبہ جمعۃ المبارک کے دوران امریکی پالیسیوں، یہودی تسلط، اسرائیلی مظالم اور مسلم حکمرانوں کے طرز عمل پر تنقید کی وجہ سے اس منصب سے الگ کر دیا گیا تھا۔ مگر وہ دوبارہ اپنے منصب پر واپس آ گئے ہیں اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ جب وہ بحالی کے بعد عشاء کی نماز پڑھانے کے لیے مسج دنبویؐ میں آئے تو لوگ انہیں دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ایک دوسرے سے بغلگیر ہو کر مبارکباد دینے لگے اور بہت سے افراد فطرِ محبت سے زار و قطار رونے لگ گئے۔

یہ سب کچھ کیا ہے؟ یہ ان فلسطینی بچوں کے خون کی صدائے بازگشت ہی تو ہے جنہوں نے اسرائیلی ٹینکوں پر پتھر پھینک کر اپنے معصوم سینوں پر گولیاں کھائیں اور اپنے معصوم اور مقدس خون کی قربانی دے کر اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی۔ میں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر زیرلب بڑبڑانے والے دانشوروں سے گزارش کروں گا کہ وہ آنکھوں سے ہاتھ ہٹائیں، آنکھیں کھولیں، ٹینک کے مقابلہ میں غلیل کی جیت کے اس خوشنما منظر کا کھلی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ کریں اور ان معصوم فلسطینی بچوں کو سلامِ عقیدت پیش کریں جنہوں نے بیت المقدس اور فلسطین کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل حکمتِ عملی کے حالیہ ’’راؤنڈ‘‘ کو ناکام بنا کر رکھ دیا ہے۔

یورپ میں مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

ادارہ

شہر کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی برطانیہ کے ڈیڑھ ماہ کے دورہ کے بعد گوجرانوالہ واپس آ گئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے لندن، برمنگھم، گلاسگو، مانچسٹر، نوٹنگھم، برنلی، لیسٹر، والسال، کراؤلی، چارلی اور دیگر شہروں میں دو درجن سے زائد دینی اجتماعات سے خطاب کیا۔ مرکزی جمعیت علماء برطانیہ کے زیر اہتمام بیت المقدس کے مسئلہ پر ہڈز فیلڈ میں منعقد ہونے والی ’’القدس کانفرنس‘‘ میں شرکت کی۔ نوٹنگھم کے معروف تعلیمی ادارہ جامعہ الہدیٰ کی تعلیمی کمیٹی کے سالانہ اجلاس کی صدارت کی، اور ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔

ورلڈ اسلامک فورم مولانا نے بھارت سے تعلق رکھنے والے عالم دین اور دانشور مولانا محمد عیسٰی منصوری کے ساتھ مل کر ۱۹۹۲ء میں قائم کیا تھا، اس کا ہیڈکوارٹر لندن میں ہے۔ ابتدائی پانچ سال مولانا زاہد الراشدی اس کے چیئرمین رہے ہیں، اس کے بعد سے مولانا محمد عیسٰی منصوری اس کے چیئرمین ہیں اور ان کے ساتھ مفتی برکت اللہ، بیرسٹر منصور ملک، مولانا رضاء الحق سیاکھوی، حاجی افتخار احمد، مولانا محمد عمران خان جہانگیری، حاجی غلام قادر اور ڈاکٹر نذر الاسلام بوس، فیض اللہ خان، مولانا محمد قاسم رشید، مولانا مشفق الدین، حافظ ذکاء الرحمٰن تاراپوری اور دیگر سرکردہ اہلِ دانش کی ایک ٹیم ہے جو برطانیہ میں مقیم مسلمانوں میں دینی بیداری کو فروغ دینے اور علماء کرام و دینی مراکز کو دعوت و تعلیم کے حوالہ سے آج کے دور کی ضروریات اور تقاضوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ جبکہ میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا رضاء الحق سیاکھوی سیکرٹری جنرل کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

گوجرانوالہ واپس پہنچنے پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ اس سال معمول سے ہٹ کر دو نئی باتیں سامنے آئی ہیں جن کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے ایک ممتاز راہنما ڈاکٹر عبید اللہ غازی سے ملاقات ہے جو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے حوالہ سے برطانیہ کے شہر لیسٹر میں آئے ہوئے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے جامعہ الہدٰی نوٹنگھم میں بھی آئے۔ ڈاکٹر عبید اللہ غازی کا تعلق بھارت کے ممتاز علمی خاندان سے ہے، ان کے پردادا مولانا عبد الرحمٰن انصاری دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی کے داماد تھے اور علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے پہلے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر غازی کے دادا مولانا منصور انصاری کا شمار برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کے نامور اور سرگرم رہنماؤں میں ہوتا ہے، وہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کی تحریک کے اہم راہنما تھے اور انہوں نے مفکر انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ کابل ہجرت کی تھی جہاں وہ مولانا سندھیؒ کے دستِ راست کی حیثیت سے افغانستان کی آزادی کے تحفظ اور متحدہ ہندوستان کی آزادی کے حصول کے لیے سرگرم رہے۔

اپنے حالیہ دورۂ برطانیہ کے حوالہ سے دوسری اہم بات مولانا راشدی نے یہ بتائی کہ برطانیہ اور دیگر یورپی شہروں میں مسلمانوں کی مسلسل دینی بیداری اور مذہبی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے حتیٰ کہ اب یہ بات کھلی بندوں کہی جانے لگی ہے کہ اپنے مذہب اور دینی روایات و ثقافت کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی بے لچک ہے جسے تبدیل یا کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

گذشتہ دنوں فرانس کے بارے میں ایک رپورٹ بین الاقوامی پریس میں شائع ہوئی تھی کہ وہاں مسلمان آبادی میں دوسرے نمبر پر ہیں، یعنی سب سے بڑی اقلیت ہیں، لیکن مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے وہ فرانس کی سب سے زیادہ سرگرم کمیونٹی شمار ہوتے ہیں کیونکہ عیسائی اکثریت کو اپنے مذہب اور عبادت سے اتنی دلچسپی نہیں رہی کہ وہ روز مرہ مذہبی سرگرمیاں دکھا سکیں اور اپنے عبادت خانوں کو آباد رکھ سکیں۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں نماز، روزہ، عید، قرآن کریم کی تعلیم، مذہبی شعائر کے ساتھ وابستگی اور ان پر عملدرآمد کا رجحان زیادہ ہے۔

اسی طرح کی صورتحال برطانیہ میں بھی ہے جہاں ایک محتاط اندازہ کے مطابق مسلمانوں کی تعداد چار ملین سے اوپر ہے، لیکن مدارس و مساجد کی روز مرہ سرگرمیوں اور مذہبی اقدار و روایات سے عملی وابستگی کے پس منظر میں وہ دیگر تمام مذاہب کے پیروکاروں سے زیادہ متحرک اور نمایاں نظر آتے ہیں اور اس بات کو اعلیٰ سطح پر بھی محسوس کیا جانے لگا ہے۔

چنانچہ گزشتہ ماہ وہاں ’’اسلام کے بارے میں بیداری اور آگہی‘‘ کا ہفتہ منایا گیا اور اس دوران دیگر سرگرمیوں کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کے سرکردہ حضرات نے اسلام کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور برطانوی معاشرہ میں مسلمانوں کی سرگرمیوں کا مختلف انداز میں تذکرہ کیا۔ اس ہفتہ کا آغاز پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے ہوا جس کا اہتمام ’’اسلامک سوسائٹی آف گریٹ بریٹن نے کیا تھا اور اس میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے نمائندہ کے طور پر ہوم سیکرٹری جیک اسٹرا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مردم شماری میں مذہب کا خانہ رکھا جا رہا ہے جس سے برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی کا صحیح اندازہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثر پھیلایا جاتا ہے اور انہیں مسلمان دہشت گرد کہا جاتا ہے لیکن آئرلینڈ میں دہشت گردی کرنے والوں کو کیتھولک دہشت گرد اور پروٹسٹنٹ دہشت گرد نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ۹۹ فیصد مسلمان محنتی اور مخیر ہیں۔

جبکہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر رونا ولیم ہیگ نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ’’ہفتہ آگہی اسلام‘‘ سے مقامی آبادی کو اسلام کے بارے میں بہت سی باتیں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ تقریب سے ہاؤس آف لارڈز کے مسلمان ممبر لارڈ نذیر احمد اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور برطانوی معاشرہ میں مسلمانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں اظہارِ خیال کیا۔

مولانا راشدی نے بتایا کہ برطانوی پارلیمنٹ ہاؤس آف لارڈز اور اسکاٹش پارلیمنٹ میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت سے تعلق رکھنے والے مسلمان ممبران کی تعداد نصف درجن تک پہنچ گئی ہے۔ جن میں پارلیمنٹ کے رکن گلاسگو کے محمد سرور اور ہاؤس آف لارڈز کے رکن رادھرم کے لارڈ نذیر احمد سب سے زیادہ متحرک ہیں۔ ان دونوں کا سابقہ تعلق پاکستان سے ہے اور وہ مسلمانوں اور عالم اسلام کے مسائل کے حوالہ سے متحرک کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں لارڈ نذیر احمد نے دیگر ممبران کے تعاون سے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا جس میں مذہبی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ یہ اجلاس رؤیتِ ہلال کے سلسلہ میں تھا جس پر برطانیہ میں ہر سال اختلاف ہوتا ہے اور رؤیتِ ہلال کے کسی فارمولا پر مذہبی جماعتوں کے متفق نہ ہونے کی وجہ سے دو دو بلکہ بسا اوقات تین تین عیدیں منائی جاتی ہیں۔ لارڈ نذیر احمد نے اس اجلاس میں کہا کہ اگر علماء کرام کسی متفقہ فارمولے پر آجائیں اور برطانیہ میں متفقہ طور پر ایک روز عید منائی جا سکے تو وہ حکومت اور بی بی سی وغیرہ کو اس پر آمادہ کر سکتے ہیں کہ عید کے روز مسلمانوں کے لیے باضابطہ چھٹی کا اعلان کیا جائے، اور بی بی سی و دیگر ذرائع ابلاغ سے عید کے اعلان کے ساتھ ساتھ خصوصی پروگرام نشر کی جائیں، جس کے لیے وہ متعلقہ حکام اور اداروں سے ابتدائی بات چیت کر سکتے ہیں۔ اس اجلاس میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسٰی منصوری نے بھی شرکت کی اور اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے لارڈ نذیر احمد اور دوسرے مسلم ارکانِ پارلیمنٹ کے جذبہ کو سراہتے ہوئے متفقہ عید کے لیے سب حلقوں کے نزدیک قابلِ قبول فارمولا تلاش کرنے کی غرض سے باہمی رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں اگلا اجلاس فروری ۲۰۰۱ء میں متوقع ہے اور قریبی حلقے پر امید ہیں کہ یہ کوششیں ضرور بار آور ہوں گی۔


(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳۰ نومبر ۲۰۰۰ء)

عالمی منظر نامہ

ادارہ

پاکستان کو ایک کے بدلے گیارہ ڈالر واپس کرنا پڑتے ہیں

لاہور (نمائندہ جنگ) پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے جو قرضے ملتے ہیں ان کے ایک ڈالر کے گیارہ ڈالر واپس کرنا پڑتے ہیں۔ تمام غریب ممالک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو قرضے واپس نہ کرنے کے بارے میں بحث زور و شور سے جاری ہے اور عنقریب یہ تحریک کی شکل اختیار کر لے گی۔
یہ باتیں آسٹریلیا کی ڈیموکریٹک سوشل پارٹی کی رہنما مس سوبل اور مزدور رہنما ٹم گڈن نے لاہور پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں سے فرسٹ ورلڈ کے ممالک میں امیری اور تھرڈ ورلڈ کے ممالک میں غربت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا، دنیا سے غربت کے خاتمے کا حل ’’کیپٹل ازم‘‘ کا خاتمہ ہے۔ آسٹریلوی رہنماؤں نے کہا کہ ورلڈ ٹرڈ آرگنائزیشن اور آئی ایم ایف امیر ممالک کو مزید امید بنانے کے ادارے ہیں۔ غریب ممالک کے عوام میں ان اداروں کی بالادستی کے بارے میں شعور بڑھ رہا ہے۔ امیر ممالک اس نئی تحریک سے لرزاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈبلیو ٹی او کو اپنے اجلاس کے لیے جگہ نہیں مل رہی۔ مس سوبل اور ٹم گڈن نے کہا کہ پاکستان کے ذمے ۳۳ ارب ڈالر کا قرضہ ہے اور اسے ایک ڈالر کے بدلے میں گیارہ ڈالر ادا کرنا ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف دباؤ ڈال رہا ہے کہ منافع بخش سرکاری ادارے، تیل، گیس، ایئرپورٹس، ٹیلی کمیونیکیشن وغیرہ فروخت کیے جائیں جس سے بے روزگاری پھیلے گی۔ (روزنامہ جنگ، کراچی ۔ ۲۰ نومبر ۲۰۰۰ء)

چرچ آف انگلینڈ کے بارے میں ایک رپورٹ

لندن (جنگ نیوز) ایک بشپ نے کہا ہے کہ چرچ آف انگلینڈ بحیثیت ادارہ نسل پرست ہے اور اس کے نسلی اقلیتی ارکان یکہ و تنہا اور الگ تھلگ ہیں۔ سنڈے انڈیپنڈنٹ کے مطابق آرچ بشپ آف کنٹر بری ڈاکٹر جارج کیری کو اس ہفتے ایک رپورٹ پیش کی جائے گی جو معروف سیاہ فام بشپ آف سٹپنی ڈاکٹر جان سنٹامو نے لکھی ہے۔ سنٹامو اسٹیون لارنس انکوائری کے رکن تھے اور جب اس کی رپورٹ شائع ہوئی تو انہوں نے آرچ بشپ کو بتایا کہ چرچ آف انگلینڈ ابھی تک معاشرتی اعتبار سے یک رنگ ثقافت کے ذریعے باہم مربوط ہے یعنی سفید فام کلچر۔ نئی رپورٹ بڑی تشویش کا سبب ہو گی۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نسلی اقلیتی برادریوں کی بہت کم تعداد چرچ آف انگلینڈ اٹینڈ کرتی ہے۔ رپورٹ میں چرچ کے طور طریقوں کو منجمد بتایا گیا ہے جہاں سیاہ فاموں کو مخصوص بندھے ٹکے انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ برطانیہ کے بیشتر پیرش گرجاؤں میں اتوار کو فقط ایک فیصد سیاہ فام یا ایشیائی لوگ موجود ہوتے ہیں، جبکہ دوسرے چرچز خصوصاً ایونجیکل گرجاگھروں میں اقلیتی عبادت گزاروں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ (روزنامہ جنگ لندن ۔ ۱۳ نومبر ۲۰۰۰ء)

ترکی میں اسلامی اقدار کی پامالی

لندن (سٹاف رپورٹر) سکارف اتارنے سے انکار پر پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم کی جانے والی نوجوان ترک خاتون ماروکاروچ نے کہا ہے کہ ترکیہ کی حکومت مذہبی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ یہ خلاف ورزیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب ترکی نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں اور وہ یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ہاؤس آف لارڈز (برطانیہ) کے موزز روم میں اپنے اعزاز میں لارڈ احمد کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماروکاروچ نے کہا، حکومت نے مذہب پر عمل کرنے کی پاداش میں ۱۹۹۷ء اور ۲۰۰۰ء کے درمیان ۲۳ ہزار اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے، جبکہ سکارف پہننے پر ۳۳ ہزار سے زیادہ طالبات کو سکول سے خارج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب جدید مغربی ملک میں، جو خود کو جمہوری کہتا ہے، ہو رہا ہے۔
ماروکاروچ نے کہا کہ مغربی ملک انسانی حقوق کے بارے میں دوہرا معیار اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ افغانستان میں طالبان حکومت کی اس لیے مذمت کرتے ہیں کہ وہاں عورتوں کے حقوق مجروح کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کی ناک کے نیچے ترکی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔ ماروکاروچ نے سامعین کو اپنے مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تفصیلات بھی بتائیں اور کہا کہ وہ مسلمان ہیں، ۱۹۸۶ء میں وہ امریکن سکول میں تھیں اور حجاب پہننے پر سکول سے نکال دی گئیں۔ انہوں نے امریکہ جا کر تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۹۹ء میں ان کی ویلفیئر پارٹی نے انہیں پارلیمانی امیدوار نامزد کیا۔ کل ۱۷ خواتین امیدوار تھیں جن میں بعض سکارف استعمال کرتی اور بعض نہیں کرتی تھیں۔ تین پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔ انہوں نے کہ وہ الیکشن کمیشن میں سکارف پہن کر پیش ہوئیں، کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ جب رکن منتخب ہوئیں تو حلف کے لیے بلایا گیا، حلف کے وقت صدر بھی موجود تھے، ان سے سکارف اتارنے کو کہا گیا لیکن انکار پر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ دہشت گردی میں مدد دینے، ایجنٹ ہونے اور کئی دوسرے کیسز بنائے گئے۔ والدین کو ہراساں کیا گیا اور میڈیا کے چار بڑے مفاد پرست گروپوں کی طرف سے کردار کشی کروائی گئی۔ ترک شہریت ختم کر دی جو انہوں نے شادی کر کے دوبارہ حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ سکارف پہننا ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ آئین میں سکارف نہ پہننے کی کوئی پابندی نہیں۔ انہوں نے مذہبی بنیادوں پر امتیاز کی متعدد دوسری مثالیں بھی دیں اور کہا کہ یہ سب کچھ ایک چھوٹا سا حکمران طبقہ کر رہا ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوتا، انہوں نے مذہب کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اور ثقافت کو خطرہ کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے اور ایک روز جیت کر رہیں گی۔ 
لارڈ احمد نے ماروکاروچ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آزادئ اظہارِ رائے اور آزادئ مذہب کے لیے برطانوی پارلیمنٹ میں پرائیویٹ ممبرز بل پیش کر رکھا ہے جسے تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حجاب کا اشو بنیادی حقوق میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مذہبی حقوق اور عبادت کے حقوق پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حجاب انسانی حقوق کا اشو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں ۹۸ فیصد مسلمان ہیں، عورتیں سڑکوں پر حجاب استعمال کر سکتی ہیں لیکن پارلیمنٹ یا سرکاری دفتر میں اس کی اجازت نہیں۔ دو فیصد آبادی ۹۸ فیصد کو کس انداز میں کنٹرول کر رہی ہے۔
لارڈ ایوبری نے کہا کہ انسانی حقوق یورپ کنونشن کا حصہ ہے اور اگر ترکی یورپی یونین کا ممبر بننا چاہتا ہے تو اسے انسانی حقوق کی پاسداری کرنا پڑے گی۔ انہوں نے ماروکاروچ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا کیس انٹر پارلیمانی یونین میں اٹھائیں۔ یوکے کے ارکان ان کی جانب سے اس مسئلہ کو آگے بڑھائیں گے۔
بیرونس وتیکر نے کہا کہ یورپی یونین کے حالیہ معاہدہ کے تحت ملازمتوں میں مذہبی یا دوسرے امتیاز غیر قانونی قرار دیے گئے۔ اور وہ اس حق میں ہیں کہ حکومت ایسا قانون پاس کرے جس کے تحت مذہبی بنیادوں پر امتیاز کی پابندی عائد کی جائے۔ (روزنامہ جنگ، لندن ۴ نومبر ۲۰۰۰ء)

امریکہ اور طالبان

واشنگٹن (این این آئی) امریکہ کے نائب وزیرخارجہ ٹامس پکرنگ نے کہا ہے کہ اگر طالبان امریکہ کو لاحق خدشات اور تشویش کا ازالہ کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں تو نہ صرف امریکی بلکہ عالمی برادری بھی ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ وائس آف کو انٹرویو میں ٹامس پکرنگ نے کہا کہ پاکستان کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا ایسی حکومت کی حمایت کرنی چاہیے جو دہشت گردی کی پشت پناہی اور منشیات کی پیداوار میں اضافہ کر رہی ہو اور ملکی استحکام اور مذاکرات کی خواہشمند نہ ہو۔
افغانستان میں براہ راست فوجی مداخلت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اور روس کو اس قسم کی بعض اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ہم نے اس مسئلے کو پاکستان کے سامنے اٹھایا ہے، جبکہ پاکستان نے اس قسم کے دعووں کی سخت تردید کی ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ اطلاعات درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے تعلقات ان کے لیے خود مسئلہ ہیں، لیکن پھر بھی پاکستان میں موجود درسگاہوں میں طالبان کو تربیت دی جاتی ہے اور یہ طالبان پاکستان کے اندر کئی مسائل بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ متعدد اسلامی ملکوں میں رہ چکے ہیں جن میں عوام اس تناظر میں طالبان کی پالیسیوں سے مختلف زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اسلام کا مخالف نہیں ہے اور امریکہ میں اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اگر ہم اسلام کے خلاف ہوتے تو یہاں اسلام فروغ نہیں پاتا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات صرف اسلام میں منع ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ اس کی پیداوار ختم ہونی چاہیے اور اقوام متحدہ سے اس کے متبادل تعاون لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اقوامِ متحدہ سے امداد وصول کی گئی لیکن افیون کی کاشت کو نہیں روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے امریکہ لویہ جرگہ سمیت ان تمام گروپوں کی حمایت کرتا ہے جو مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کا حل ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت افغانستان بعض چیزیں درآمد کر رہا ہے جو ضروریات کو پورا نہیں کر رہیں۔ اور یہی چیزیں پاکستان میں اسمگل ہو جاتی ہیں جس سے ان کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے تاہم اس کے باوجود پاکستان کی حمایت کر رہا ہے۔ (روزنامہ جنگ لندن ۴ نومبر ۲۰۰۰ء)

جمائما عمران اور یہودی پریس

لندن (جنگ نیوز) تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ جمائما کو اپنے ایک آرٹیکل کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے اسرائیل اور امریکہ پر کڑی تنقید کی تھی۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق گولڈ سمتھ کے خاندانی وکیل تک نے جمائما کی نمائندگی کرنے سے انکار کر دیا۔ مسٹر سمپسن نے اپنے خط میں جمائما پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گولڈ سمتھ کا صحیح مطلب تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔
جمائما نے برطانوی اخبار گارجین میں اپنے آرٹیکل میں لکھا تھا کہ امریکہ میں ذرائع ابلاغ پر اسرائیلی لابی کا قبضہ ہے اور کلنٹن کی انتظامیہ میں بھی تقریباً تمام عہدے ایسے ہی لوگوں کے پاس ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب امریکہ ایک غیر جانبدارانہ ثالث کا کردار ادا کرے اور ذرائع ابلاغ بھی جانبداری سے گریز کریں۔
مسٹر سمپسن کا موقف ہے کہ یہودی پس منظر رکھنے والے افراد کو ایسے معاملات پر اظہارِ خیال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمائما کی وفاداریاں منقسم ہیں لہٰذا انہیں خاموش ہی رہنا چاہیے۔
تاہم جمائما نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں بھی دھمکی آمیز خطوط موصول ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہودی مخالف نہیں ہوں کیونکہ میرے خاندان کے بیشتر افراد اس عقیدے سے متعلق ہیں۔ جمائما نے بتایا کہ بی بی سی نے اس آرٹیکل پر ٹاک شو میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم عمران نے مجھے روک دیا۔ (روزنامہ جنگ، لندن ۱۳ نومبر ۲۰۰۰ء)

سندھو دیش کے لیے امریکہ سے مدد کی درخواست

جئے سندھ قومی محاذ سمیت متعدد قوم پرست جماعتوں نے سندھ کی علیحدگی اور سندھو دیش کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ اور امریکہ سے مدد طلب کر لی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایک حساس ادارے نے حکومت کو حالیہ تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ حال ہی میں جسقم نے ایک طویل ترین برقیہ میں اقوامِ متحدہ اور امریکہ کو لکھا ہے کہ پاکستان اس وقت کرپشن اور بداَمنی کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ یہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے تحت صوبے کے عوام کے حقوق غصب کر کے بنیاد پرستوں کی سرپرستی کے ذریعے مسلسل خطرہ ہے۔ علاوہ ازیں سندھ کی علیحدگی کے لیے سندھی عوام میں پوسٹرز اور ہینڈ بل تقسیم کرنے کے لیے تیار کر لیے گئے ہیں۔ امن و امان کو متاثر کرنے کی کوشش جاری ہے جس کی بنیاد پر سندھ میں کسی بڑے بحران اور خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔ (ہفت روزہ نوائے وقت اسکاٹ لینڈ ۳ تا ۹ نومبر ۲۰۰۰ء)

۷۲ فیصد امریکی مسلمانوں نے بش کو ووٹ دیا، سروے رپورٹ

واشنگٹن (نمائندہ جنگ) امریکہ میں مسلمانوں کی ۷۲ فیصد تعداد نے ریپبلکن صدارتی امیدوار جارج بش کو ووٹ دیا۔ مسلمان امریکی ووٹروں کے سروے کے نتائج کے مطابق ۷۲ فیصد نے ووٹ دینے کا اقرار کیا۔ یاد رہے کہ امریکی مسلمانوں کی تنظیم نے جارج بش کو ووٹ دینے پر زور دیا تھا۔ ۹۴ فیصد مسلمان ووٹروں نے کہا کہ وہ اس حمایت سے واقف تھے۔ اس سروے میں شامل ووٹروں میں ۶۱ فیصد مرد تھے اور ان کی عمر ۳۹ یا اس سے کم تھی۔ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد ۶ ملین بتائی جاتی ہے۔ (روزنامہ جنگ لندن ۱۹ نومبر ۲۰۰۰ء)

بھارتی مسلمانوں کی صورتحال

نئی دہلی (این این آئی) بھارت کے سرکردہ مسلمان نمائندوں اور بھارت کے سیاسی رہنماؤں و دانشوروں نے مسلمانوں کی ابتر حالت کی ذمہ داری کانگریس اور بی جے پی پر عائد کی ہے۔
بھارتی سیاست میں مسلمانوں کے مستقبل کے موضوع پر نئی دہلی میں منعقدہ سیمینار میں بھارت کے دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے کہا، یہ تشویش کی بات ہے اور بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی نمائندگی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ انتخابات میں مسلم رائے دہندگان کے ووٹوں کا تناسب بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے جو ۳۵ فیصد تک نیچے آ گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان بھارت کے سیاسی نظام پر مکمل عدمِ اعتماد کر رہے ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادیو نے کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، کانگریس نے اپنے طویل دورِ اقتدار میں نام نہاد سیکولرازم پر عمل کیا جس سے بی جے پی جیسی ہندو انتہاپسند جماعت کو فائدہ پہنچا۔
صحافی جاوید اختر نے کہا کہ کانگریس کے دعوے اس کے عملی کردار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ کانگریس سمیت کسی بھی جماعت نے مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے پر توجہ نہیں دی بلکہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر ہر شعبہ زندگی میں پیچھے رکھا گیا۔ روزگار، خواندگی، سرکاری و نجی ملازمتوں اور سیاسی نمائندگی کے معاملات میں مسلمانوں کے حقوق غصب کیے گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف بھارتی حکومتوں کی مخالفانہ کاروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں ۱۹۸۰ء کے گوپال کمیشن کی رپورٹ آج تک پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئی جس میں مسلمانوں کی حالت شودروں (اچھوتوں) جیسی بیان کی گئی ہے۔ سیمینار سے صحافی شاہد صدیقی، مولانا انوار الحق قاسمی، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتارام جیسوری اور ممتاز صحافی کلدیپ نیر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھارت کے تمام شعبوں میں مسلمانوں کی شراکت کم ہو رہی ہے اور اس صورتحال سے بھارت میں بسنے والے مسلمان اپنے حقوق کے لیے الگ راستہ اپنانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی حکومتوں کو مسلمانوں کے ساتھ مخاصمانہ اور غیر مساویانہ سلوک ترک کر دینا چاہیے اور انہیں تمام شعبوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی اور ملازمتیں دی جانی چاہئیں تاکہ وہ بھارت کی ترقی میں بھرپور حصہ لے سکیں۔ (روزنامہ جنگ لندن ۱۹ نومبر ۲۰۰۰ء)

عائلی قوانین میں ترمیم کے بل پر عیسائی تنظیموں کا احتجاج

نئی دہلی (جنگ نیوز) بھارت کی عیسائی تنظیموں نے بھارتی حکومت کی مرکزی کابینہ کی طرف سے عیسائیوں کے لیے طلاق کے قوانین میں تبدیلی پر شدید تنقید کی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی کابینہ نے جمعرات کو عیسائی مرد یا خواتین کی طرف سے طلاق حاصل کرنے کے قانون میں ترمیمی بل ۲۰۰۰ء پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا کے ترجمان ڈومینک امپانوئل نے کہا کہ حکومت بھارت کے ۸۷ فیصد عیسائیوں کی ترجمان تنظیم کی منظوری کے بغیر کس طرح ترمیم کا فیصلہ کر سکتی ہے؟ (روزنامہ جنگ لندن ۱۹ نومبر ۲۰۰۰ء)

تعارف کتب

ادارہ

ڈاکٹر مراد ولفورڈ ہوف مین کے خطبات

ڈاکٹر مراد ولفورڈ ہوف مین معروف جرمن دانشور ہیں جو جرمن وزارتِ خارجہ کے اہم عہدوں کے علاوہ نیٹو کے ڈائریکٹر انفارمیشن اور مراکش میں جرمنی کے سفیر کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کے بعد مغرب میں اسلام کے تعارف، اور اسلام اور مغرب کے درمیان موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالہ سے مسلسل اظہار خیال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سالِ رواں کے دوسرے ماہ میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی دعوت پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں انہی عنوانات پر چار لیکچر ارشاد فرمائے جن کا اردو ترجمہ انسٹیٹیوٹ آف پالیس اسٹڈیز نے اپنے سہ ماہی جریدہ ’’مغرب اور اسلام‘‘ کی خصوصی اشاعت میں شائع کر دیا ہے۔ یہ خطبات مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی و تہذیبی صورتحال اور مغرب اور عالمِ اسلام کی ثقافتی کشمکش کے تاریخی و معروضی پس منظر کو سمجھنے کے لیے بہت مفید ہیں اور دینی تحریکات کے کارکنوں کو ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس شمارہ کی قیمت پینسٹھ روپے ہے اور بک ٹریڈرز بلاک ۱۹ مرکز ایف سیون اسلام آباد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

چند نئے نصابی کتابچے

مولانا محمد اکرم ندوی ہمارے فاضل دوست ہیں، آکسفورڈ میں مقیم ہیں اور آکسفورڈ فار اسلامک اسٹڈیز میں علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے آج کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کے لیے مختلف علوم و فنون میں بنیادی رسائل مرتب کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو خاصا مفید اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب تک مندرجہ ذیل کتابچے شائع ہوئے ہیں:
(۱) مبادی فی اصول التفسیر
(۲) مبادی فی اصول الحدیث والاسناد
(۳) مبادی فی علم اصول الفقہ
(۴) مبادی التصریف
(۵) مبادی النحو
ان رسائل میں مذکورہ علوم کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کے ضروری مباحث کو ابتدائی درجہ کے طلبہ کے لیے عربی میں آسان انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔ اور ہمارے خیال میں ان علوم میں بڑی کتابوں سے قبل ان کتابچوں کی تدریس طلبہ کو ذہنی طور پر ان علوم و فنون کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی استعداد میں اضافہ کا باعث بھی ہوں گے۔ اس لیے دینی مدارس کو ان سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ ان رسائل کے حصول کے لیے مولانا محمد اکرم ندوی سے مندرجہ ذیل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
34 Cranley Road Headington, Oxford, OX3 8BW, (UK)

جوابِ مقالہ

ایک مجلس میں تین طلاقوں کے واقع ہونے کے بارے میں جمہور فقہاء اور سلفی حضرات کے درمیان مناقشہ صدیوں سے جاری ہے۔ چاروں فقہی مذاہب کے جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ صراحتاً تین طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں، مگر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور ان کے پیروکاروں کا موقف تین طلاقوں کی صراحت میں بھی ایک طلاق واقع ہونے کا ہے۔
اس سلسلہ میں گوجرانوالہ کے اہلِ حدیث عالمِ دین مولانا محمد امین نے ’’مقالہ‘‘ کے عنوان سے اپنے دلائل پیش کیے ہیں اور جمہور فقہاء کے موقف کی تغلیط کے لیے دلائل دیے ہیں۔ جس کے جواب میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذِ حدیث مولانا حافظ عبد القدوس قارن نے ’’جوابِ مقالہ‘‘ کے عنوان سے ان کے دلائل کا جواب دیا ہے اور جمہور فقہاء کے موقف کو قرآن و سنت اور ائمہ عظام کی تصریحات کے ساتھ واضح کیا ہے۔ ۱۷۲ صفحات پر مشتمل اس کتابچہ کی قیمت ۳۵ روپے ہے اور اسے عمر اکادمی نزد گھنٹہ گھر گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اپنے دور کے عظیم مجاہد اور عارف باللہ تھے جنہوں نے سلوک و احسان کی مسند آباد کرنے کے ساتھ ساتھ فرنگی استعمار کے خلاف جہاد میں بھی حصہ لیا اور ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے۔ حضرت حاجی صاحبؒ کو علماء دیوبند کے سب سے بڑے روحانی بزرگ اور پیشوا کا درجہ حاصل ہے اور علماء دیوبند سے ہٹ کر اس دور کے دیگر بڑے بڑے علماء اور مشائخ بھی حضرت حاجی صاحبؒ کے ساتھ تعلقِ ارادت رکھتے تھے۔
ہمارے فاضل دوست حافظ محمد اقبال رنگونیؒ نے حضرت حاجی صاحبؒ کے حالات اور ارشادات و فرمودات کے حوالہ سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مواعظ اور تحریرات میں سے ایک جامع اور خوبصورت انتخاب زیرنظر کتابچہ میں پیش کیا ہے۔ ۱۳۶ صفحات کے اس کتابچہ کی قیمت دو برطانوی پونڈ ہے اور اسے مندرجہ ذیل پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے:
Islamic Academy, 19 Chorltonterrece, Off Upper Brook Street, Manchester 13, (UK)

صحت اور جدید ریسرچ

حاصل پور کے جناب محمد زاہد راشدی نے انتہائی عرق ریزی اور محنت کے ساتھ اس موضوع پر معلومات کا ایک بیش بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے کہ اسلامی عبادات، تعلیمات اور اخلاقی اقدار میں انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی امراض کا مؤثر علاج پوشیدہ ہے، اور اسلام ایسا دینِ فطرت ہے جس کے احکام و تعلیمات پر صدقِ دل سے عمل کر کے انسان نہ صرف اخروی نجات سے بہرہ ور ہوتا ہے بلکہ اس دنیا میں بھی ذہنی پریشانیوں، جسمانی بیماریوں اور اخلاقی ناہمواریوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے، اور انسانی معاشرہ کے پاس اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے اسلام کی ان فطری تعلیمات کی طرف واپسی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سوا چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب دارالمطالعہ بالمقابل جامع مسجد بازار والی حاصل پور ضلع بہاولپور نے عمدہ کتابت و طباعت اور خوبصورت جلد کے ساتھ پیش کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو ساٹھ روپے ہے۔

قادیانیت پر دو معلوماتی کتابیں

جناب محمد طارق رزاق جس تندہی اور جوش و جذبہ کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے محاذ پر سرگرم عمل ہیں وہ بلاشبہ لائقِ رشک ہے۔ اور بعض مضامین و رسائل کی زبان اور اسلوب میں بے جا تندی و تلخی کے احساس کے باوجود ان کی مسلسل محنت پر ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اس وقت ہمارے سامنے ان کی دو نئی کتابیں ہیں۔
ایک میں ’’جنہیں ختمِ نبوت سے عشق تھا‘‘ کے عنوان سے انہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے کام کام کرنے والے مشائخ، علماء اور کارکنوں کے اس مشن کے ساتھ جذب و کیف کے واقعات کو جمع کیا ہے۔ اور دوسری کتاب میں ’’قادیانی غداروں کی تلاش‘‘ کے عنوان سے انہوں نے اسلام اور پاکستان کے خلاف مختلف مواقع پر قادیانی حضرات کی سازشوں کے بارے میں مفید معلومات کو یکجا کیا ہے۔ دونوں کتابوں کے صفحات دو سو سے زائد ہیں اور طباعت و کتابت نیز جلد معیاری ہے اور دونوں کی قیمت ۹۰، ۹۰ روپے ہے جو عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان سے طلب کی جا سکتی ہیں۔

پاکستان میں ہر فرد پچیس ہزار روپے کا مقروض ہے

ادارہ

کراچی (نیشن نیوز) پاکستان کے ذمہ یکم جون ۲۰۰۰ء کو غیر ملکی قرضے کا بوجھ ۳۷.۳۰۴ بلین ڈالر (۳۷ ارب ۳۰ کروڑ ۴۰ لاکھ ڈالر) تھا۔ یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان کی ۱۴ کروڑ آبادی کا ہر بالغ فرد اوسطاً ۲۶۶ ڈالر سے زائد غیر ملکی رقم کا مقروض ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت پر اندرون ملک قرضے کا بوجھ بھی ۱۵۵۸.۸ بلین روپے (تقریباً ۵۵۹ ارب روپے) ہے جو پاکستان کے ہر فرد پر ۱۱۱۳۴ روپے کے قرضہ کے مساوی ہے۔
اسی طرح قرضوں کا بوجھ پاکستان کی مجموعی سالانہ پیداوار کے ۹۷.۵ فیصد کے برابر ہے جو کسی بھی آزاد ملک کے لیے باعثِ افتخار نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملکی قرضے مجموعی قومی پیداوار کا ۴۹.۱ فیصد اور غیر ملکی قرضے ۴۸.۴ فیصد کے مساوی ہے۔
رواں سال میں پاکستان کے روپے کی قیمت بتدریج اور مسلسل کمی کے سبب پاکستان پر غیر ملکی قرضے کا بوجھ بڑھتا گیا ہے جبکہ ملکی قرضے میں بھی رپورٹ کے مطابق غیر صحتمندانہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کو ان بھاری قرضوں پر سود کی بھی بھاری رقوم ادا کرنا پڑتی ہیں۔
چنانچہ ۳۰ جون کو ختم ہونے والے سال میں اس مد میں ۳۳۸.۲ بلین روپے ادا کیے گئے جو پاکستان کی آبادی کے اعتبار سے اوسطاً فی کس ۲۴۱۶ روپے کے مساوی ہے۔ ان میں سے ۱۴۸.۱ بلین روپے غیر ملکی مد میں اور ۱۸۹.۶ بلین روپے ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق غیر ممالک میں مقیم پاکستانی وطن کو جو رقوم بھیجتے ہیں ان میں گزشتہ پانچ سال سے مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ اب یہ مجموعی طور پر صرف ۹۱۳.۵ ملین ڈالر (۹۱ کروڑ) رہ گئی۔ ۱۹۹۶ء میں یہ رقم ۱۲۲۷.۵ ملین ڈالر (۱۲۳ کروڑ) تھی۔
اس دوران پاکستان کو سعودی عرب سے جو تعاون حاصل ہوا تو اس کی وجہ سے پاکستان کو ۸۰۰ ملین ڈالر کی قوم ادا کرنے میں بچت ہوئی۔ سعودی عرب کے تعاون کی شکل یہ تھی کہ اس نے تیل کی قیمت کی وصولی مؤخر کر دی تھی۔
ایک اور تشویشناک بات امریکہ اور برطانیہ میں موجود اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلِ زر میں کمی کا رجحان ہے۔ ان ممالک میں ہنڈی سسٹم متوازی طور پر ترسیلِ زر کا کام کر رہا ہے۔ مگر ان ممالک میں ہنڈی سسٹم چلانے والوں کو دیے جانے والے کی شرح خلیجی ممالک سے کہیں کم ہے۔
(ہفت روزہ نیشن، لندن ۔ ۱۰ تا ۱۷ نومبر ۲۰۰۰ء)

ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کا سالانہ اجلاس ۸ نومبر ۲۰۰۰ء کو جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم برطانیہ میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں دیگر ارکان کے علاوہ مولانا زاہد الراشدی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کو ازسرنو منظم اور تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور آئندہ دو سال کے لیے فورم کے مندرجہ ذیل تنظیمی ڈھانچے کی منظوری دی گئی:
چیئرمین: مولانا محمد عیسٰی منصوری، لندن
ڈپٹی چیئرمین: مولانا مفتی برکت اللہ، لندن
سیکرٹری جنرل: مولانا رضاء الحق سیاکھوی، نوٹنگھم
رابطہ سیکرٹری: بیرسٹر منصور ملک، لندن
ارکان مرکزی کونسل: (۱) مولانا زاہد الراشدی، پاکستان (۲) ڈاکٹر اختر الزمان غوری، برمنگھم (۳) مولانا محمد قاسم رشید، کرائیڈن (۴) حاجی افتخار احمد، لندن (۵) مولانا محمد قاسم، برمنگھم (۶) مولانا قاری محمد عمران خان جہانگیری، لندن (۷) مولانا مشفق الدین، لندن (۸) حافظ حفظ الرحمٰن تاراپوری، لندن (۹) ڈاکٹر نذر الاسلام بوسی، لندن (۱۰) فیض اللہ خان، لندن (۱۱) حاجی غلام قادر، لندن۔
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکات سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسلام اور مغرب کی موجودہ تہذیبی کشمکش کے پس منظر میں اسلامی ثقافت کے تحفظ اور دعوتِ اسلام کے فروغ کے لیے باہمی رابطہ و مفاہمت کو فروغ دیں اور اسلام کو درپیش جدید فکری و علمی چیلنجز کا ادراک کرتے ہوئے نئی نسل کو ان کے مقابلہ کے لیے تیار کریں۔
ایک اور قرارداد میں بیت المقدس پر اسرائیل کے مسلسل قبضہ اور فلسطینی عوام پر روز افزوں تشدد کی مذمت کرتے ہوئے دوحہ کی مسلم سربراہ کانفرنس کے اعلانات کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور مسلمان حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کی جائے۔
ایک قرارداد میں افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف عالمی پابندیوں کو ناروا قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کریں اور افغانستان کی تعمیر نو کے لیے طالبان حکومت کی بھرپور امداد کی جائے۔
ایک قرارداد میں اقوام متحدہ کے موجودہ کردار کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسلمان حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مسلم ممالک کے متحدہ بلاک کی تشکیل کے لیے پیشرفت کریں۔ اور اقوام متحدہ کے ارکان مسلم ممالک مشترکہ دباؤ کے ذریعہ اقوام متحدہ میں اپنا صحیح مقام حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو اقوام متحدہ سے علیحدگی اختیار کر کے مسلم ممالک کی الگ اقوامِ متحدہ تشکیل دی جائے۔

قافلۂ معاد

ادارہ

اہلیہ حضرت درخواستیؒ

حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کی اہلیہ محترمہ گزشتہ دنوں خانپور میں انتقال کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ نیک دل، عبادت گزار اور خدا ترس خاتون تھیں اور حضرت درخواستیؒ کی علمی و دینی جدوجہد میں ان کی شریک کار رہیں۔

حضرت مولانا سید فیض علی شاہؒ

دارالعلوم دیوبند کے سابق مدرس اور ہزارہ کے بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا سید فیض علی شاہؒ کا گزشتہ دنوں مانسہرہ میں انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز فضلاء میں سے تھے اور حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے انہیں خصوصی سند بھی عطا فرمائی تھی۔ عمر کا بیشتر حصہ درس و تدریس میں گزرا اور کچھ عرصہ گوجرانوالہ کے مدرسہ اشرف العلوم میں بھی تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ کئی برسوں سے برطانیہ کے شہر بولٹن میں مقیم تھے، ان کے فرزند مولانا سید اسعد شاہ برنلی (برطانیہ) کی جامع مسجد فاروق اعظمٌ میں خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑویؒ

اہلِ سنت کے معروف مناظر حضرت مولانا محمد امین صفدرؒ کا گزشتہ دنوں انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ عیسائیت اور قادیانیت کے محاذ پر ایک کامیاب مناظر تھے اور احناف کی عوامی سطح پر وکالت کا خصوصی ملکہ رکھتے تھے۔ انہوں نے اس شعبہ میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں اور خاص طور پر نوجوان علماء کی تربیت کی طرف توجہ دی جو ان کا صدقہ جاریہ رہے گا۔

حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ

جمعیت علماء اسلام کے ممتاز راہنما حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہوں نے تحریکِ ختم نبوت اور تحریکِ نفاذ شریعت میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور کئی بار قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہوئے، اپنے علاقہ کے عوام کی سماجی خدمات میں پیش پیش رہتے تھے۔

مولوی عبد الغفورؒ

مولانا زاہد الراشدی کے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد کے والد محترم مولوی عبد الغفور صاحب گزشتہ دنوں عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ جاتے ہوئے راستہ میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ نیک دل اور خداترس بزرگ تھے اور گوجرانوالہ کچی پمپ والی کی ایک مسجد میں بے لوث خدمت سرانجام دیتے تھے۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ان سب بزرگوں کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازتے ہوئے ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔