شادی اور اس کے سماجی اثرات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(میرپور آزاد کشمیر کی بزرگ دینی و سماجی شخصیت اور مدنی ٹرسٹ جامعہ الہدٰی (نوٹنگھم، برطانیہ) کے چیئرمین مولانا ڈاکٹر اختر الزمان غوری کی دختر کے نکاح کی باوقار تقریب ۳ اپریل ۲۰۰۰ء کو جامعہ علوم اسلامیہ میرپور کی جامع مسجد خدیجۃ الکبرٰیؓ میں عصر کی نماز کے بعد منعقد ہوئی جس میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب عبد المجید ملک، سابق وزیر چودھری محمد یوسف، ضلع مفتی مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، بزرگ عالم دین مولانا عبد الغفور اور ممتاز کشمیری لیڈر چودھری فضل الٰہی تاج پوری سمیت سرکردہ معززین علاقہ، سرکاری حکام، علماء کرام اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ علوم عربی و اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور خطاب کیا۔ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے خطبہ مسنونہ پڑھ کر ایجاب و قبول کرایا اور اس موقع پر نکاح کی اہمیت اور دیگر متعلقہ امور پر خطاب کیا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ الشریعہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ ہمارے محترم دوست اور بزرگ ساتھی مولانا ڈاکٹر اختر الزمان غوری صاحب کی بیٹی کے نکاح کی تقریب ہے جس میں شرکت اور آپ حضرات کے ساتھ ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر میں محترم ڈاکٹر صاحب کا شکر گزار ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اس نکاح کو میاں بیوی اور ان کے خاندانوں میں محبت اور اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بنائیں اور باہمی محبت و اعتماد کے ساتھ نیکی کی زندگی کی توفیق دیں، آمین۔
شادی کو عام طور پر ایک سماجی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اسلام نے اسے صرف ضرورت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور نیکی اور عبادت قرار دیا ہے جس سے شادی کے بارے میں اسلام کے فلسفہ اور باقی دنیا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کیونکہ اگر شادی کو محض ایک ضرورت اور مجبوری سمجھا جائے تو پھر یہ ضرورت جہاں پوری ہو اور جس حد تک پوری ہو بس اسی کی کوشش کی جائے گی، لیکن اگر اس کے دائرہ کو وسعت دے کر اسے مقصد اور نیکی بھی شمار کیا جائے تو پھر اس کی حدود اور دائرہ کار کا تعین مقصد اور عبادت کے حوالہ سے ہوگا۔ اور یہی چیز اسلام کے فلسفۂ نکاح اور اس کے خاندانی نظام کے تصور کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت کہا ہے اور یہ سارے پیغمبروں کی مشترکہ سنت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام پیغمبروں نے شادی کی اور ان کی اولاد بھی ہوئی جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے کہ’’بے شک ہم نے آپؐ سے پہلے کئی رسول بھیجے اور انہیں بیویاں اور اولاد بھی عطا کی‘‘ (سورہ الرعد)۔ البتہ دو پیغمبروں کے بارے میں صراحت ہے کہ ان کی شادی نہیں ہوئی۔ ایک حضرت یحییٰ علیہ السلام جن کے بارے میں قرآن کریم میں ہے کہ وہ ’’حصور‘‘ تھے یعنی عورت کے قریب نہ جانے والے تھے اور دوسرے حضرت عیسٰی علیہ السلام ہیں جن کے بارے میں احادیث میں ہے کہ ان کی شادی ابھی ہونی ہے، وہ جب دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو ان کی شادی ہوگی اور اولاد بھی ہوگی۔ اس لیے شادی حضرات انبیاء کرامؑ کی سنت ہے اور عبادت بھی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت کی جائے تو شادی کے ہر عمل پر جناب نبی اکرمؐ نے ثواب کی بشارت دی ہے۔ حتیٰ کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص محبت سے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتا ہے تو یہ بھی صدقہ شمار ہوگا اور اس پر اسے ثواب ملے گا۔ ’’در مختار‘‘ فقہ حنفی کی معروف کتاب ہے، اس میں لکھا ہے کہ دو عبادتیں ایسی ہیں جو تمام انبیاء کرام میں مشترک رہی ہیں اور یہ دو عبادتیں جنت میں بھی ہوں گی۔ ایک ایمان باللہ اور دوسری نکاح اور شادی۔ یعنی باقی عبادات میں تو انبیاء کرام کی شریعتوں میں فرق رہا ہے کہ نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ کی کیفیات مختلف رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کا ذکر اور نکاح یہ دو عمل ایسے ہیں جو تمام انبیاء کرام میں یکساں رہے ہیں اور جنت میں بھی ہوں گے۔
اسلام کی نظر میں شادی انسانی ضرورت بھی ہے، اس کی زندگی کا مقصد بھی ہے، عبادت بھی ہے اور ایک مسلمان کے ایمان اور اخلاق و عادات کی حفاظت کے لیے مضبوط حصار بھی ہے جسے قرآن کریم نے احصان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ’’حصن‘‘ عربی زبان میں قلعہ کو کہتے ہیں اور ’’احصان‘‘ کا معنی قلعہ بنانا اور قلعہ بندی کرنا ہے۔ گویا ایک مسلمان جب شادی کر کے گھر آباد کرتا ہے تو وہ ایک نیا قلعہ تعمیر کرتا ہے جو اس کے ایمان، اخلاق اور عادات کی حفاظت کرتا ہے اور اس باطنی تحفظ کے ساتھ ساتھ اسے لوگوں کی نگاہوں، باتوں اور شکوک و شبہات سے بھی تحفظ مل جاتا ہے اور شادی اس کے لیے بہت سی ظاہری اور باطنی تحفظات کا قلعہ بن جاتی ہے۔ پھر قرآن کریم نے ایک اور بہت خوبصورت اشارہ کیا ہے کہ اس حوالہ سے جہاں مردوں کا ذکر کیا وہاں فرمایا ’’محصنین‘‘ جو فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنٰی ہے قلعہ بنانے والے، اور جہاں عورتوں کا تذکرہ فرمایا وہاں کہا ’’محصنات‘‘ جو مفعول کا صیغہ ہے جس کا معنٰی ہے وہ چیزیں جنہیں قلعے کے اندر رکھ کر ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ گویا قلعہ بنانے والا اور اس پر پہرہ دینے والا مرد ہے۔ اور وہ متاع عزیز جس کی حفاظت کے لیے قلعہ بنایا گیا ہے اور جس کو اس چار دیواری کے اندر رکھ کر اس کی حفاظت مقصود ہے وہ عورت ہے۔
اسی ایک لفظ سے خاندانی نظام کے اسلامی فلسفہ کی وضاحت ہو جاتی ہے اور خاندانی نظام کے حوالہ سے آج کی دنیا کو درپیش صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو اسلام کے اس ’’فلسفہ احصان‘‘ کی اہمیت اور زیادہ اجاگر ہوتی ہے۔ کیونکہ آج مغربی دنیا کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ خاندانی نظام کے بکھر جانے اور فیملی سسٹم کے ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہو جانے کا ہے جس نے پوری مغربی دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے اس سوچ کا کہ شادی محض ایک سماجی ضرورت ہے، اس لیے جس کی یہ ضرورت جہاں اور جس حد تک پوری ہو جاتی ہے اسے اس سے زیادہ اس حوالہ سے کسی اور بات سے دلچسپی نہیں رہ جاتی۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں شادی مقصد ہے، عبادت ہے اور مذہبی فرائض میں سے ہے جس کے لیے مذہب کے واضح احکام ہیں، رشتوں کا تقدس ہے اور باہمی حقوق و مفادات کا ایک متوازن نظام ہے جس نے مرد و عورت کے تعلقات کے گرد تحفظات کا ایک مضبوط حصار قائم کر رکھا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام ابھی تک بحمد اللہ تعالیٰ محفوظ ہے اور اس قلعہ میں شگاف ڈالنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی۔ حتیٰ کہ امریکہ کی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن چند برس قبل جب اسلام آباد کے دورے پر آئیں تو ان کی طرف سے اخبارات میں ایک تبصرہ شائع ہوا کہ انہیں مشرق کا خاندانی نظام دیکھ کر رشک آتا ہے۔ یہی وہ قلعہ بندی ہے جسے قرآن کریم نے ’’احصان‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور اسی بات کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’جس نے شادی کی اس نے اپنے نصف دین کو مکمل کر لیا اور اب اسے باقی نصف دین کی فکر کرنی چاہیے۔‘‘
اس موقع پر ایک دلچسپ تاریخی واقعہ ذکر کرنے کو جی چاہتا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شادی کا سماج پر کیا اثر ہوتا ہے اور معاشرتی زندگی کے ساتھ شادی اور نکاح کا کیا تعلق ہے۔ بعض شادیاں ایسی ہوتی ہیں جو سوسائٹی پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں حتیٰ کہ بسا اوقات ایک شادی پوری سوسائٹی میں انقلاب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسی قسم کی ایک شادی کا تذکرہ گزشتہ دنوں تاریخ کی ایک کتاب میں نظر سے گزرا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے جب خلافت سنبھالنے کے بعد مقتدر طبقہ کے افراد اور شاہی خاندان کے لوگوں سے بیت المال اور قومی خزانے کے اثاثے اور رقوم واپس لینے کا فیصلہ کیا تو ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ اس وقت بیت المال یعنی قومی خزانے کے اسی فیصد اثاثے اور اموال شاہی خاندان اور وی آئی پی لوگوں کے قبضے میں تھے جنہیں واپس لینے کے لیے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے سب سے پہلے اپنے گھر سے آغاز کیا۔ باغ فدک ان کے قبضہ میں تھا اسے واپس کیا، گھر آکر بیوی کے زیور اتروائے اور بیت المال کو بھجوا دیے، اپنی سواری کے لیے شاہی گھوڑوں کا دستہ واپس کر دیا اور اس کے بعد حکمران خاندان کا اجلاس طلب کر کے انہیں الٹی میٹم دیا کہ دو ہفتے کے اندر اندر بیت المال کے تمام اثاثے اور اموال قومی خزانے میں واپس کر دیے جائیں۔ چنانچہ انہیں سب کچھ واپس کرنا پڑا اور مؤرخین کے مطابق دو ہفتے کے اندر قومی خزانے کے تمام اموال پھر سے بیت المال میں جمع ہوگئے۔ اس پر خاندانِ خلافت میں خاصی ناراضگی کا اظہار کیا گیا حتیٰ کہ مسلمہ بن عبد الملکؒ کو جو سالار افواج تھے اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے برادر نسبتی بھی تھے ان سے گفت و شنید کے لیے بھیجا گیا۔ انہوں نے امیر المؤمنین سے سوال کیا کہ جو فیصلے ان سے پہلے خلفاء نے کیے ہیں انہیں وہ کیوں منسوخ کر رہے ہیں؟ مطلب یہ تھا کہ جو عطیات سابقہ حکمرانوں نے دیے ہیں انہیں واپس لینے کا انہیں اختیار نہیں ہے۔ اس پر امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے مسلمہ بن عبد الملکؒ سے دو سوال کیے:
- ایک یہ کہ اگر کسی ایک مسئلہ پر تمہارے پاس دو الگ الگ حکم ہوں، ایک حکم تمہارے والد محترم خلیفہ عبد الملک بن مروان کا ہو اور دوسرا حکم خلافت بنو امیہ کے بانی حضرت امیر معاویہؓ کا ہو جو اس سے مختلف ہو تو تم کس کے حکم کو ترجیح دو گے؟ مسلمہؒ نے جواب دیا کہ حضرت معاویہؓ کے حکم کو ترجیح دوں گا کیونکہ وہ پہلے کا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے کہا کہ میرے پاس ان سے بھی پہلے کا آرڈر موجود ہے جو قرآن کریم کا ہے اور میں اسے ترجیح دے رہا ہوں۔
- انہوں نے مسلمہ سے دوسرا سوال یہ کیا کہ اگر تمہارے علم میں ہو کہ ایک شخص فوت ہوگیا ہے اور اس کی جائیداد پر اس کے چند طاقتور بیٹوں نے قبضہ کر لیا ہے جس سے دوسرے مستحقین افراد وراثت کے حق سے محروم ہوگئے ہیں۔ اور پھر کسی وقت تمہیں یہ اختیار حاصل ہو جائے کہ تم ان محروم مستحقین کو ان کا حق واپس دلا سکو تو تم کیا کرو گے؟ مسلمہ نے جواب دیا کہ میں اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے مستحق افراد کو ان کا حق ضرور دلاؤں گا۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے فرمایا کہ میں نے بھی اس سے مختلف کام نہیں کیا۔
اس پر مسلمہ کو خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ خاندان والوں نے جب دیکھا کہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ پر ان کی کوئی بات اثر نہیں کر رہی تو باہمی مشورہ کر کے خاندان کی اس وقت کی سب سے بزرگ شخصیت فاطمہ بنت مروانؒ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی پھوپھی تھیں اور اس وقت خاندان کی سب سے معمر خاتون تھیں۔ ان حضرات کا خیال تھا کہ پھوپھی محترمہ کے کہنے پر عمر بن عبد العزیزؒ اس معاملہ میں شاید نرمی اختیار کر لیں۔ لیکن جب پھوپھی محترمہ نے عمر بن عبد العزیزؒ کو بلا کر خاندان والوں کی شکایت سے آگاہ کیا اور کچھ نرمی کرنے کی تلقین کی تو انہوں نے اپنے موقف اور پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے انہیں بھی خاموش کرا دیا۔ اس پر فاطمہ بنت مروانؒ نے خاندان والوں سے کہا کہ میں نے تو اس وقت ہی کہہ دیا تھا جب اس کے باپ یعنی عبد العزیز بن مروانؒ کا رشتہ حضرت عمر بن الخطابؓ کی پوتی سے کیا جا رہا تھا کہ یہ رشتہ سوچ سمجھ کر کرنا شاید تم سے نہ نبھ سکے لیکن کسی نے میری بات پر کان نہ دھرے اور آج اسی کے اثرات سب کے سامنے آرہے ہیں اس لیے میں عمر بن عبد العزیزؒ سے اس سے زیادہ اب کچھ نہیں کہہ سکتی۔
یہ رشتہ بھی عجیب تھا، معروف تاریخی واقعہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ایک رات مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے کہ ایک گھر کے اندر سے ماں اور بیٹی کی گفتگو سنائی دی۔ ماں اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ دودھ میں تھوڑا سا پانی ڈال دو تاکہ بازار میں فروخت ہو تو چار پیسے زیادہ مل جائیں۔ بیٹی نے جواب دیا کہ امیر المؤمنینؓ نے سختی کے ساتھ اس سے منع کر رکھا ہے۔ ماں نے کہا کہ امیر المؤمنین کون سا اس وقت ہماری بات سن رہے ہیں۔ بیٹی نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین نہیں سن رہے مگر اللہ تعالیٰ تو ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہماری باتیں سن بھی رہا ہے اس لیے میں دودھ میں پانی نہیں ملاؤں گی۔ حضرت عمرؓ گھر واپس تشریف لے گئے، صبح ماں بیٹی دونوں کو بلا لیا اور رات کے قصے کے بارے میں دریافت کیا، دونوں نے تصدیق کی تو حضرت عمرؓ نے اس نیک دل اور دیانت دار بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے حضرت عاصم بن عمرؓ کے لیے مانگ لیا جو طے ہوگیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی والدہ محترمہ انہی حضرت عاصمؒ اور ان کی اس نیک دل اہلیہ کی بیٹی تھیں اور فاطمہ بن مروانؒ نے اسی طرف اشارہ کیا تھا کہ اس نے رشتہ کرتے وقت کہہ دیا تھا کہ عمر بن الخطابؓ کی پوتی کو گھر میں لا کر اس کے اثرات بھی قبول کرنا ہوں گے اس لیے اب ان کے اقدامات پر شکایات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اس سے آپ اندازہ کر لیں کہ سوسائٹی پر شادیوں کے اثرات کیا ہوتے ہیں اور بعض شادیاں کس طرح بڑی بڑی معاشرتی تبدیلیوں کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس لیے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اگر اپنی شادیوں میں مقصدیت اور نیکی کے پہلوؤں کو غالب کریں گے اور عبادت و ثواب سمجھ کر ان کے تقاضوں کی تکمیل کریں گے تو ہمیں ان کی برکات بھی نصیب ہوں گی اور شادی کے جو فوائد اسلام نے بیان کیے ہیں وہ بھی ہمیں ضرور حاصل ہوں گے۔
مگر ہم نے تو شادی کو خرافات کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا ہے اور شادی کی تقریبات میں اس قدر تکلفات و خرافات کو جمع کر لیا ہے کہ بسا اوقات ایسی تقریبات میں خطبہ اور ایجاب و قبول کی سنت کا بجا لانا بھی ماحول کے پس منظر میں اجنبی سا کام محسوس ہونے لگتا ہے۔ مجھے تو شادی کی ایسی تقریبات سے وحشت ہونے لگی ہے اور اکثر و بیشتر شادیوں میں شرکت سے صرف اس وجہ سے انکار کر دیتا ہوں کہ وہاں جا کر عجیب سی اجنبیت ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں ڈاکٹر اختر الزمان غوری صاحب نے اپنی سعادت مند بیٹی کے نکاح پر مسجد میں یہ باوقار اور سادہ سی جو تقریب منعقد کی ہے اسے دیکھ کر واقعتاً بہت خوشی ہوئی ہے اور میں اس پر ڈاکٹر صاحب بلکہ دونوں خاندانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اس شادی کو میاں بیوی اور دونوں خاندانوں میں باہمی محبت اور اعتماد میں دن بدن اضافے کا ذریعہ بنائیں اور ہم سب کو خوشی کی ایسی تقریبات اسی طرح وقار اور سادگی کے ساتھ نیکی اور برکت کے ماحول میں منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
خواب اور اس کی تعبیر
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
خواب ایک صورت ہوتی ہے اور اس میں پنہاں ایک حقیقت ہوتی ہے جس کو تعبیر کہتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر خواب بڑا خوشنما اور مژدہ افزاء معلوم ہوتا ہے لیکن اس کی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بادی النظر میں خواب نہایت تاریک، اندوہناک اور وحشت انگیز دکھائی دیتا ہے مگر اس کا باطنی پہلو اور تعبیر بہت ہی خوش کن اور خوش آئند ہوتی ہے، اور تعبیر سامنے آ جانے کے بعد خواب دیکھنے والے کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ اس دوسری مد کے خوابوں کے بارے میں اختصارًا چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:
(الف) آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و بارک وسلم کی چچی حضرت ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک خواب دیکھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! آج رات میں نے ایک برا خواب دیکھا ہے (حلما منکرا)۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ کیا خواب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ بہت ہی سخت ہے (انہ شدید)۔ آپؐ نے فرمایا کہ بتائیں تو سہی وہ کیا ہے۔ حضرت ام الفضلؓ نے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا آپؐ کے جسم مبارک سے ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے (اس کی تعبیر یہ ہے) کہ ان شاء اللہ تعالیٰ میری لخت جگر بیٹی (سیدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا جو تمہاری گود میں کھیلے گا۔ چنانچہ (سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پیدا ہوئے اور میری گود میں کھیلے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا (مشکوٰۃ ج ۲ ص ۵۷۲ اصح المطابع)
ملاحظہ کیجئے کہ بظاہر کس قدر برا خواب تھا کہ خود حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس سے گبھرا رہی تھیں اور بتلانے پر بھی آمادہ نہ تھیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکرر استفسار پر انہوں نے آخر بیان کر ہی دیا، اور پھر جب آپؐ نے اس کی تعبیر بیان فرمائی تو وہ کس قدر خوش کن اور خالص خوشخبری تھی۔
(ب) اگر کوئی شخص خواب میں یہ دیکھے کہ اس کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں تو وہ یقیناً اس سے گبھرائے گا اور ضرور پریشان ہو گا۔ لیکن سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
احب القید و اکرہ الغل والقید ثبات فی الدین۔ (بخاری ج ۲ ص ۱۰۳۹ ۔ مسلم ج ۲ ص ۲۴۱، واللفظ لہ ۔ مستدرک ج ۴ ص ۳۹۰)
’’میں بیڑیوں کو پسند کرتا ہوں اور گردن کے طوق کو مکروہ سمجھتا ہوں، بیڑیاں دین کے معاملہ میں ثابت قدمی کی دلیل ہے۔‘‘
(ج) حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اقدس پر پہنچے اور وہاں پہنچ کر مرقد مبارک کو اکھاڑا (العیاذ باللہ تعالیٰ) پس اس پریشان کن اور وحشت انگیز خواب کی اطلاع انہوں نے اپنے استاد کو دی، اور اس زمانہ میں حضرت امام صاحب علیہ الرحمۃ مکتب میں تعلیم پاتے تھے۔ ان کے استاد نے فرمایا، اگر واقعی یہ خواب تمہارا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ تم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی پیروی کرو گے اور شریعت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ) کی پوری کھود کرید کرو گے۔ پس جس طرح ان کے استاد نے بیان کیا تھا، یہ تعبیر حرف بحرف اسی طرح پوری ہوئی۔ (تعبیر الرویا کشوری ص ۳۷۷)
اور مختلف الفاظ کے ساتھ یہ واقعہ تاریخ بغداد للخطیبؒ ج ۱۳ ص ۳۳۵ طبع مصر، اور الخیرات الحسان ص ۶۴ طبع مصر، کتاب الانساب بمعانی ورق ص ۱۹۶ طبع مصر، و مناقب کروریؒ ج ۱ ص ۳۳ طبع دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن، اور مفتاح السعادۃ ج ۲ ص ۸۲ طبع حیدرآباد دکن میں بھی موجود ہے۔
غور فرمائیں کہ اس خواب کی صورت کیا ہے! اور اس کی تہہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و بارک وسلم کی احادیث کی پیروی اور فقہی رنگ میں علمِ دین کی خدمت جو زریں خدمت کی خوشخبری اور بشارت موجود ہے وہ کیا ہے!
(د) تاریخ کی بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید علیہ الرحمۃ کی بیوی زبیدہ علیہا الرحمۃ نے خواب میں دیکھا کہ کثیر التعداد مخلوق جمع ہو کر سب باری باری اس سے مجامعت کرتی ہے۔ جب آنکھ کھلی تو وہ بے حد پریشان ہوئی، گبھراہٹ کی کوئی انتہا نہ تھی، آخرکار جب اس خواب کی تعبیر بتلائی گئی تو معلوم ہوا کہ ان سے کوئی ایسا کام ہو گا جس سے بے شمار مخلوق فیضیاب ہو گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس نے نہر زبیدہ کھدوائی جو عراق عرب کے ایک بہت بڑے حصہ کو سیراب کرتی ہے اور ایامِ حج میں مشرق و مغرب کے مسلمان اس سے فیضیاب ہوتے ہیں، جو اسی خواب کی تعبیر ہے۔ (محصلہ رشار الاخیا ص ۵۱ طبع جید برقی پریس ریلی)
(ہ) امام الحسینؓ بن بوجر الباوریؒ فرماتے ہیں کہ میں شہر الحان میں تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و بارک وسلم کی وفات ہو گئی ہے۔ تو میں نے اس کے جواب میں کہا کہ اگر تیرا خواب سچا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ کوئی ایسا امام فوت ہو گا کہ اس زمانہ میں اس کی نظیر نہ ہو گی۔ اور ایسے ہی خواب حضرت امام شافعی، حضرت امام ثوری اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کی وفات کے وقت دیکھے گئے تھے۔ چنانچہ شام سے پہلے ہی یہ خبر آ گئی کہ شیخ الاسلام الحافظ ابو موسٰی المدینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفی ۵۸۱ھ) وفات پا چکے ہیں۔ تذکرۃ الحفاظ ج ۴ ص ۱۲۵ و ۱۲۶ للذہبیؒ)
یہ چند خواب ہم نے با حوالہ اس لیے نقل کیے ہیں تاکہ یہ بات آشکارا ہو جائے کہ بسا اوقات خواب کا ظاہر کچھ اور ہوتا ہے اور باطن کچھ اور ہوتا ہے۔ اور اس کو وہی حضرات سمجھ سکتے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و بصیرت کے ساتھ ساتھ فنِ تعبیر کی باریکیوں اور مضمر نکات حل کرنے کی توفیق سے نوازا ہوتا ہے، ہر کہ دمہ کی یہاں بات نہیں چلتی۔
؏ نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
تقدیر کی تین قسمیں
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
محدثین کرام تقدیر کی تین قسمیں بیان کرتے ہیں:
پہلی تقدیر کتابی ہے جو کہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ گویا لوحِ محفوظ علمِ الٰہی کا ایک مظہر ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ لوح سے مراد ایسی تختی نہیں جو ہمارے تصور میں ہے بلکہ یہ ایک ایسی لوح ہے جس کی حقیقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، مگر ہے ضرور اور اس میں ہر چیز محفوظ ہے۔ آپ مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ ایک حافظ قرآن کے دماغ میں قرآن پاک اول تا آخر محفوظ ہوتا ہے لیکن اگر اس کے دماغ کا آپریشن کیا جائے تو وہاں گوشت، خون اور رگوں کے سوا قرآن کا ایک حرف بھی نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح لوحِ محفوظ میں ہر چیز درج ہے جو اللہ کے علمِ تفصیلی کا ایک نمونہ ہے۔ اللہ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے ہی ہر چیز لوحِ محفوظ میں درج کر دی تھی۔
تقدیر کی دوسری قسم تقدیرِ ارادی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں اول سے آخر تک جو بھی چیز ظاہر ہو رہی ہے یا جو آئندہ ہو گی وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادے سے واقع ہوتی ہے۔
اور تیسری قسم تقدیرِ علمی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو ازل میں جانتا تھا، آج بھی جانتا ہے اور آئندہ بھی جانتا رہے گا۔ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں چیز کا علم نہیں تو وہ کافر سمجھا جائے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب کوئی چیز ظاہر ہوتی ہے تو اس وقت اللہ کو علم ہوتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے علمِ تفصیلی کے منکر ہیں اور قطعی کافر ہیں۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تقدیرِ کتابی اور تقدیرِ ارادی کے منکر ہیں، اگر ان کا انکار کسی تاویل کی بنا پر ہے تو گمراہ ہیں، اور اگر وہ سرے سے ہی انکار کرتے ہیں تو پھر کافر ہیں۔ کیونکہ حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ توحیدِ رسالت، بعث بعد الموت اور تقدیر پر ایمان نہیں لاتا، اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے ’’والذی قدر فھدٰی‘‘ (الاعلیٰ ۳) خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کا اندازہ ٹھہرایا۔ اور پھر اس کے لیے ہدایت کا انتظام بھی فرمایا۔ خدا تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ میں سے ایک صفتِ تقدیر بھی ہے۔ تقدیر کے جو منکرین یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ ہم تمام اعمال اپنی مرضی سے انجام دیتے ہیں، وہ قدریہ فرقہ کہلاتا ہے۔ یہ فرقہ دوسری صدی میں پیدا ہو گیا تھا۔ اس کے بر خلاف جو لوگ انسان کو پتھر کی طرح مجبورِ محض سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انسان کو کچھ اختیار نہیں، وہ جبریہ فرقہ کہلاتا ہے، یعنی انسان ہر کام مجبورًا کرتا ہے، اس کو نہ کوئی اختیار ہے اور نہ یہ اپنے ارادے سے کرتا ہے، یہ بھی گمراہ فرقہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دے کر اسے مکلف بنا دیا ہے، جس کی بنا پر اسے قانون کا پابند کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ اختیار نہ ہوتا تو انسان پتھر کی طرح جامد ہوتا اور اس سے کوئی باز پرس بھی نہ ہوتی۔ لیکن انسان مختارِ مطلق بھی نہیں ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے اور اس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ نہیں، بلکہ انسان کا اختیار محدود ہے جس سے آگے وہ نہیں جا سکتا۔ جہاں قانون کی پابندی کی ضرورت ہے وہاں تو اللہ نے اختیار دے دیا ہے تاکہ انسان اپنی مرضی اور ارادے سے قانون کی پابندی کرے یا اس کا انکار کر دے۔ اسی بنا پر انسان مکلف ہے اور قانون کی پابندی یا عدمِ پابندی کر کے ہی وہ جزا یا سزا کا مستحق بنتا ہے۔
البتہ اگر کسی جگہ اضطرار کی حالت پیدا ہو جائے تو وہاں مواخذہ نہیں ہو گا۔ مثلاً کوئی شخص رعشہ کا مریض ہے اور اسے اپنے ہاتھوں پر کنٹرول حاصل نہیں۔ اگر ایسی حالت میں اگر اس کے ہاتھ سے کوئی برتن وغیرہ گر کر ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا مواخذہ نہیں ہو گا، یا اس کا ہاتھ کسی دوسرے کو لگ جاتا ہے تو اس کی مجبوری کی بنا پر اس سے انتقام نہیں لیا جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص ارادتاً برتن توڑتا ہے یا کسی دوسرے شخص پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ قابلِ مواخذہ سمجھا جائے گا۔
بہرحال انسان نہ تو مختارِ مطلق ہے اور نہ ہی مجبورِ محض۔ اللہ نے اسے ایک خاص حد تک اختیار دیا ہے جسے وہ اپنی مرضی اور ارادے سے استعمال کرتا ہے اور اسی پر اس کی جزا یا سزا کا دارومدار ہے۔
وثائقِ یہودیت (پروٹوکولز) کا مختصر تعارف
عبد الرشید ارشد
(ہمارے فاضل دوست اور ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین جناب عبد الرشید ارشد نے شہرہ آفاق وثائقِ یہودیت (پروٹوکولز) کا اردو ترجمہ کر کے اسے شائع کیا ہے جو عالمی نظام کے بارے میں یہودی عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک اہم قومی خدمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا تعارفی حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، اس گزارش کے ساتھ کہ اس کا مطالعہ علماء کرام اور دینی کارکنوں کو بطور خاص پورے اہتمام کے ساتھ کرنا چاہیے، یہ کتابچہ جناب عبد الرشید ارشد سے جوہر پریس بلڈنگ جوہر آباد ضلع خوشاب کے ایڈریس سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ ادارہ)
وثائق (پروٹوکولز) کا تعارف
یہ شاہکار دستاویز روسی قدامت پسند چرچ کے پادری پروفیسر سرگ پی اے نیلس کی وساطت سے پہلی بار دنیا کے سامنے آئی جس نے ۱۹۰۵ء میں اسے روسی زبان میں شائع کیا۔ اس کے تعارف میں اس نے کہا کہ عبرانی سے یہ اصل ترجمہ مجھے ایک دوست کی وساطت سے ملا جس نے بتایا کہ یہ فری میسن کی ایک بہت با اثر راہنما خاتون نے فرانس میں، جو یہودی سازشوں کا گڑھ تسلیم کیا جاتا ہے، اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر چرایا تھا۔ (اس کے بعد فری میسن میں عورتوں کی ممبرشپ ممنوع قرار دی گئی، ما سوائے لاج کی سماجی نوعیت کی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کے، جو بہت کم ہوتی ہیں)۔
پروفیسر نیلس کا کہنا ہے کہ یہ پروٹوکولز، ہوبہو اجلاسوں کی کاروائیاں نہیں ہیں بلکہ یہ فری میسن کے کسی با اثر فرد کی مرتب کردہ رپورٹ ہے جس کے بعض حصے غائب محسوس ہوتے ہیں۔ جنوری ۱۹۱۷ء میں اس نے ایک اور ایڈیشن تیار کیا مگر پروٹوکولز کے مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی زار روس کی حکومت کا کرنکسی حکومت نے تختہ الٹ دیا جس نے یہود نوازی کے سبب تمام کتب بازار سے اٹھوا کر ضائع کرا دیں تاکہ حکومت کے خلاف سازش سامنے نہ آ جائے۔ پروفیسر نیلس گرفتار ہوئے، بالشویکوں نے جیل میں ان پر تشدد کیا۔ بعد ازاں اسے ملک بدر کر دیا گیا اور وہ ۱۳ جنوری ۱۹۲۹ء کو ولادیمیر میں وفات پا گیا۔
کتاب اس قدر مقبول ہوئی کہ اسی سال ۱۹۱۷ء میں اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ بڑے وثوق سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ ۱۹۱۷ء میں ہی اس کا چوتھا ایڈیشن طبع ہوا اور ان طبع شدہ اشاعتوں کے ساتھ ساتھ ٹائپ شدہ نقول بھی عوام میں پھیلتی رہیں۔ رائس پیپر پر ٹائپ شدہ نقول سب سے زیادہ سائبیریا میں پھیلیں جہاں سے کسی نہ کسی طرح اگست ۱۹۱۹ء میں ولاڈی واسٹک کی بندرگاہ کے راستے امریکہ لے جائی گئیں اور اس کی طباعت عمل میں آئی۔ امریکی ایڈیشنوں میں گراں قدر ضمیمے بھی شامل ہیں۔ پروفیسر نیلس کے تیار کردہ ۱۹۰۵ء کے مسودہ کی ایک نقل ۱۰ اگست ۱۹۰۶ء کو برٹش میوزیم لائبریری میں موصول ہوئی جس کے ٹائٹل کے اندرونی صفحہ پر مہر کے ساتھ یہ بھی موجود ہے ’’۲۸ ستمبر ۱۹۰۵ء کو ماسکو میں سنسر نے پاس کیا‘‘۔
پروٹوکولز کو روسی زبان سے انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کام ’’مارننگ پوسٹ‘‘ کے روس میں متعین برطانوی نامہ نگار مسٹر وکٹر ای مارسیڈن نے کیا۔ وہ عرصہ دراز تک روس میں مقیم رہا تھا اور اس نے ایک روسی دوشیزہ سے شادی کر رکھی تھی۔ نڈر نقاد ہونے کے ناطے وکٹر ای مارسیڈن نے ۱۹۱۷ء کے انقلاب کے اَن کہے حقائق سے پردہ اٹھایا تو اسے گرفتار کر کے پیٹرپال جیل میں ڈالا گیا۔ دو سال بعد جب اسے رہا کر کے وطن جانے کی اجازت ملی تو اس کی صحت تباہ ہو چکی تھی اور پھر جونہی اس کی توانائی بحال ہوئی اس نے برٹش میوزیم لائبریری میں بیٹھ کر پروٹوکولز کے ترجمہ پر اپنا وقت صرف کیا مگر بالشویک جیل سے جو بیماری وہ ساتھ لایا تھا اس نے اسے لمبی مہلت نہ دی اور وہ جلد ہی وفات پا گیا۔
نیلس کے پروٹوکولز کی کتابی شکل میں اشاعت سے قبل ہی یہ روسی اخبارات ’’نمجا‘‘ (SNAMJA) اور ’’موسکوز کی جی ویڈو موستی‘‘ (Moskowskiji Wiedomosti) میں (۱۹۰۲ء اور ۱۹۰۳ء) طبع ہو کر بے شمار لوگوں تک پہنچ چکے تھے۔
عیسائیت کے تمدن کے خلاف یہود کی خون منجمد کر دینے والی اس گھناؤنی سنگدلانہ سازش کو (پروٹوکولز میں) پڑھنے سے نیلس کو سخت صدمہ ہوا۔ اگرچہ یہ مسلّمہ امر ہے کہ صہیونی یہودی سازش ہر تہذیب و تمدن، خصوصاً اسلام کے نظریۂ حیات کے خلاف ایک مستقل جارحیت ہے، مگر وہ (نیلس) بالخصوص اس سازش سے عیسائیت کو بچانے کے لیے دلچسپی لے رہا تھا، حالانکہ یہودیت کی ہمہ جہت یورش کا عیسائیت کے حوالے سے یہ صرف ایک پہلو تھا۔
وثائقِ یہودیت (پروٹوکولز) تو دراصل پوری دنیا کو یہودی ’’پولیس اسٹیٹ‘‘ بنانے کے عملی پروگرام کا محض ضمیمہ ہیں، خاکہ ہیں، جس کی تکمیل کے لیے وہ زیرزمین عالمی سماج میں ’’بھائی چارہ‘‘ (فری میسن کی اصطلاح) منظم کرنے کی خاطر ہر وقت کوشاں ہیں۔
وثائقِ یہودیت میں بیان کردہ ’’پیش گوئیاں‘‘ اور روسی بالشویک انقلاب میں حیرت انگیز مماثلت اس قدر چونکا دینے والی تھی کہ عرصہ دراز تک انہیں نظرانداز کیے جانے کے باوجود پوری دنیا میں بہت تیزی کے ساتھ یہ وثائق ’’مشہور‘‘ (بدنام) ہوئے۔
وثائقِ یہودیت میں بالشویک ازم کے مقاصد کی تفصیلات اور موثر طریقہ نفاذ بیان کیا گیا ہے۔ ۱۹۰۱ء میں جب نیلس کی ان وثائق تک رسائی ہوئی، یہ طریقے استعمال کیے جا رہے تھے، مگر اس وقت یہ صرف مارکس کے کمیونزم کی حد تک تھے اور ابھی پوری سنگدلانہ قوت سے پولیس یا فوج کے ذریعے عملی نفاذ کا وقت نہ آیا تھا۔
گزرتا وقت اس بات کی شہادت فراہم کر رہا ہے کہ ۳۳ویں ڈگری (یہودی فری میسن کونسل میں بڑا رتبہ) کے یہودی راہنماؤں میں سے وثائق (پروٹوکولز) کے ’’نادیدہ مصنفین‘‘ نے جو کچھ لکھا، بین الاقوامی حالات و واقعات کی عملاً رونمائی نے کم و بیش انہیں درست ثابت کیا ہے۔ جنگیں، بحران، انقلابات، ضروریاتِ زندگی کی گرانی، مسلسل غیر مستحکم و متزلزل معیشت اور بداَمنی، دراصل چور دروازے سے دنیا پر فاتح بن کر چھا جانے کے یہودی حربے ہیں۔
بالشویک روس میں ان وثائقِ یہودیت کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی سزا موت تھی، جو نہ صرف روس میں بلکہ روسی زیر تسلط ریاستوں میں آج بھی ہے۔ یہود کے زیراثر جنوبی افریقہ میں قانوناً وثائقِ یہودیت اپنے پاس رکھنا ممنوع ہے اور روس کی نسبت سزا بھی کم سخت ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر روس اور دنیا کے یہود ان وثائق کی عام اشاعت سے خوفزدہ کیوں ہیں؟
برسوں پر پھیلے لمبے عرصہ میں یہود کے بڑوں کے اجلاسوں میں طے کی گئی منصوبہ بندی کے ملخص کا نام دراصل وثائق (پروٹوکولز) ہے جن کی تعداد ۲۴ ہے۔ ان وثائق کو عام کتاب کے انداز میں پڑھنا بے فائدہ رہے گا۔ ان کے مندرجات دراصل بصیرت کے ساتھ تجزیہ اور کھوج لگا کر تہہ تک پہنچنے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ان میں بہت سی چیزیں عام قاری کو تضاد میں الجھا کر گمراہ کرنے والی بھی ہیں۔ ان وثائق کے مطالعہ کے دوران یہ بات ہر لمحہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ان وثائق کے مخاطب وہ اعلیٰ رتبے والے یہودی ہیں جو حقیقی منصوبہ بندی کی جزیات تک سے با خبر ہیں اور جن کی راہنمائی کے لیے یہ ملخص مرتب کیا گیا ہے، اور جو اس اختصار کو تفصیل میں ڈھالنا جانتے ہیں۔ جبکہ دوسروں کے لیے یہ معمہ سے کم نہیں ہے۔ اس مقام پر ایک غیر یہودی قاری مشکل سے دوچار ہو جاتا ہے۔ یہ امر بھی واقع ہے کہ سبھی یہودی بھی ان وثائق سے مکمل طور پر آگہی نہیں رکھتے۔ یہ وثائق تو فی الواقع اونچے درجہ کی ایک ایسی دستاویز کے طور پر مرتب کیے گئے ہیں کہ یہ قوم (یہود) کے اندر جوش و جذبہ اور راہنمائی کا کام دیں کہ یہود کا عملی کام موثر انداز میں خوش اسلوبی سے آگے بڑھے تو قوم کو فکری غذا فراہم کرے گا۔
یہ وثائق پڑھنے والے سے سنجیدہ اور فکری مطالعے کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ بار بار پڑھی جانے والی دستاویز ہیں کہ ہر بار کا مطالعہ کئی اسرار و رموز سے پردہ اٹھاتا ہے۔ یہودیت کے ’’علامتی سانپ‘‘ پر لکھے گئے نوٹ سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ عیسائیت تو پہلے ہی یہود کی سنگدلانہ اور غیر انسانی زنجیر میں پھنس کر مغلوب ہو چکی ہے اور اب یہودیت اسلام کی جانب اپنا (مکروہ اور سازشی) سفر شروع کر چکی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ یہود اپنے تمام مکر و فریب اور ہر ’’ہتھیار‘‘ سے مسلح (اسلام کے خلاف) پہلے ہی میدان میں موجود ہیں اور ان کے مقابلے میں ذرا سی غفلت و کوتاہی ملتِ مسلمہ کی آزادی و خودمختاری کے لیے کریہہ موت ہو گی۔ مسلمان یہود کا آخری (اہم) نشانہ ہیں مگر عقل و دانش اور مستعدی سے یہ ان کے مذموم خوابوں کی تعبیر کا شیرازہ بکھیر سکتے ہیں۔ اس راہ کی مشکلات اگرچہ مسلّمہ ہیں مگر یہ کام ہے ضروری۔ خطرہ جس قدر زیادہ ہے چیلنج بھی اسی قدر بڑا ہے۔ یقیناً اللہ کی مدد و نصرت سے یہ صہیونیت کے مکر و دجل کے مقابلے میں کامران رہیں گے۔ بلا شک و شبہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے، سعادت کا موقعہ ہے کہ عالمی صہیونیت کے خلاف دامے درمے اور سخنے اس جہاد میں حصہ لیا جائے۔
نائجیریا میں عیسائی مسلم فسادات
ملک احمد اسرار
مسلم اکثریت کے حامل اور آبادی کے لحاظ سے براعظم افریقہ کے سب سے بڑے ملک نائجیریا میں مسلمان عیسائی انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلسل قتل ہو رہے ہیں۔ نائجیریا کی آبادی تقریباً ۱۲ کروڑ اور رقبہ ۳۵۶۶۶۷ مربع میل ہے۔ شمالی علاقوں میں مسلمان اور جنوب میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ مجموعی طور پر مسلمان ۶۵ فیصد سے زیادہ ہیں اس کے باوجود ملک کا کوئی سرکاری مذہب نہیں۔ نائجیریا میں مجموعی طور پر ۲۵۰ قبائل آباد ہیں مگر یوروبا اور باؤسا قبائل سیاسی طور پر زیادہ اہم ہیں۔ یوروبا کی اکثریت عیسائیوں اور باؤسا کی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ نائجیریا کئی دہائیوں سے قبائلی اور لسانی فسادات کی لپیٹ میں ہے اور صرف گزشتہ ۹ ماہ میں ۱۲۰۰ سے زیادہ افراد ان لسانی فسادات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
نائجیریا براعظم افریقہ میں ہے مگر حکمران عیسائی ہیں، نائجیریا کے موجودہ صدر الوسی گن اوبسانجو بھی عیسائی ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا عیسائی سیاستدانوں اور پادریوں کا بنیادی کام ہے۔ اسی نفرت کے نتیجے میں شمالی نائجیریا کے جن جن علاقوں میں عیسائی اکثریت میں ہیں وہاں ۱۹۸۷ء سے مسلمانوں کا مسلسل قتلِ عام ہو رہا ہے۔ فوج میں اگرچہ مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر جرنیلوں اور دیگر فوجی افسروں میں عیسائی ہی غالب اکثریت رکھتے ہیں۔
صدر اوبسانجو سمیت دیگر عیسائی لیڈر اسلام کو نائجیریا کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر نائجیریا میں مسلمان منظم ہو گئے تو افریقہ میں ایک اور سوڈان پیدا ہو جائے گا بلکہ اس سے کہیں زیادہ طاقتور۔ براعظم افریقہ دنیا کا واحد براعظم ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور صلیبی دنیا اپنی تمام کوششوں کے باوجود اسے عیسائی براعظم بنانے میں ناکام ہو چکی ہے لیکن اس کی سازشیں جاری ہیں۔
چونکہ نائجیریا قدرتی وسائل اور افرادی قوت سے بھی مالامال ہے، تیل پیدا کرنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، اس کی اسی اہمیت کے باعث مغربی قوتوں نے اسے مستحکم نہیں ہونے دیا۔ مسلسل بغاوتیں اور لسانی جھگڑے اس ملک کا مقدر بنا دیے گئے ہیں۔ مغربی حکومتوں اور مغرب کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یہاں کرپشن کے نفوذ اور تشدد پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اربوں ڈالر کا تیل برآمد کرنے کے باوجود لسانی فسادات اور کرپشن کے باعث یہ ملک ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کر سکا۔ حکمران، جرنیلوں کا ٹولہ اور ان کے ساتھی یہاں کے امیر ترین لوگ ہیں، جبکہ نصف سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نچلی سطح پر زندگی گزار رہی ہے۔ ۱۹۸۰ء میں فی کس آمدنی ۱۰۰۰ ڈالر تھی جو اب ۲۵۰ ڈالر سالانہ سے بھی کم ہو چکی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کرپٹ جرنیل، جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حصہ دار بھی ہیں، انتہاپسند عیسائیوں کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کرتے ہیں، مقصد مسلمانوں کو ہر حالت میں پسماندہ رکھنا ہے۔ مسلم کش پالیسی کے باعث مغربی طاقتوں نے نائجیریا کے حکمرانوں کو ’’سب اچھا‘‘ کا سرٹیفکیٹ دیا ہوا ہے۔
ترکی کے سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان نائجیریا کی سیاسی و معاشی اہمیت سے آگاہ تھے اسی لیے انہوں نے نائجیریا کو ترقی پذیر ممالک کی تنظیم D-8 میں شمولیت کی دعوت دی۔ اس دعوت کا یہاں کے مسلمانوں نے خیرمقدم کیا مگر مغرب کی آلہ کار عیسائی اقلیت نے اسے پسند نہ کیا۔ D-8 کے سربراہی اجلاس میں نائجیریا کے سربراہ کے بجائے دوسرے افراد نے شرکت کی۔ یہاں کی عیسائی اقلیت اسلام کی اس قدر دشمن ہے کہ اسے کسی اسلامی تنظیم میں نائجیریا کا بطور مبصر شامل ہونا بھی پسند نہیں اور وہ اسے بھی ’’اسلامائزیشن‘‘ کے لیے خفیہ سازش سمجھتی ہے۔ یہاں کی مسلم اکثریت نے جب بھی اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے آواز بلند کی اسے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اپریل ۱۹۹۱ء میں شمالی ریاست کاتسینہ (Katsina) میں اسلامی نظام کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں ۵۰۰ سے زیادہ افراد کو قتل کیا گیا۔ ۷ جنوری ۱۹۹۲ء کو ایک ایسے ہی مظاہرے میں ۴ افراد کو ہلاک ۲۹ کو زخمی اور ۲۶۳ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک دوسری شمالی ریاست کادونہ سے ۸۰ کلومیٹر دور زاویہ میں اسلامی سنٹر پر عیسائیوں نے حملہ کر کے لاتعداد افراد ہلاک کر دیے۔ کئی دیگر شہر اور قصبے بھی فسادات کی لپیٹ میں آگئے۔ مسلم کش فسادات کا یہ سلسلہ وقفوں وقفوں سے جاری رہا۔
یہ گزشتہ سال ۱۹ ستمبر کی بات ہے کہ ریاست زمفارا کے دارالحکومت گساؤ میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کے ۳۹ سالہ گورنر احمد ثانی نے کہا: ’’اللہ کا حکم ہے کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ، یہ نہیں کہ بعض باتوں کو مانو اور بعض کو چھوڑ دو۔‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے مجمع سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ اسلامی شریعت کے نفاذ میں میرا ساتھ دیں گے؟ مجمع نے یک زبان ہو کر اعلان کیا کہ ہم ساتھ دیں گے۔ انہوں نے یہ بات ایک بار پھر پوچھی تو انہیں پہلے والا ہی جواب ملا اور پوری فضا ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ریاست کی اسمبلی نے اکتوبر میں شرعی قوانین کے نفاذ کے بل پاس کر لیے۔ مسلم علاقوں میں شریعت نافذ کرنے کا اعلان مقبولیت حاصل کرنے کا آسان طریقہ ہے۔ زمفارا کے گورنر کی طرح کئی دیگر ریاستوں نے بھی عوام سے وعدہ کیا کہ وہ بھی شرعی قوانین نافذ کر دیں گے، ان ریاستوں میں نائجیریا، سکوٹو، گامے کادوانہ، کاستینہ وغیرہ شامل ہیں۔
ان اعلانات سے عیسائی اقلیت بھڑک اٹھی۔ عیسائی لیڈروں نے اسے آئین کے منافی اقدام قرار دیا، حالانکہ نائجیریا کے دستور کی دفعہ ۴، ۵ اور ۶ کے تحت ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی حدود میں عدل و انصاف کے لیے قانون سازی کر سکتی ہیں۔ زمفارا میں عیسائی لیڈر پیٹر ڈیمو نے کہا کہ احمد ثانی جب سے برسراقتدار آیا ہے عیسائیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پادریوں، مقامی عیسائی تنظیموں، عیسائیوں کی عالمی تنظیم کرسچین سالیڈیٹری انٹرنیشنل اور امریکی کانگریس کے بعض اراکین نے ایک طوفان کھڑا کر دیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں پر باقاعدہ حملے شروع کر دیے۔
زمفارا میں تو تقریباً ساری آبادی ہی مسلمان ہے اور عیسائی نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ کادوانہ میں جہاں عیسائی اقلیت قابلِ ذکر تعداد میں ہے، شرعی قوانین کے نفاذ کے خلاف پرتشدد مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ ماہ فروری میں ہونے والے اس قتل عام میں تین سو سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔ حملہ آور عیسائی لاٹھیوں، ڈنڈوں اور چھروں اور خودکار ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو نذر آتش کرنے کے لیے وہ پٹرول کے ڈبے بھی ساتھ لائے تھے۔ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔ سی این این کے مطابق وینگارڈ کے علاقہ میں یونیورسٹی کے قریب ۲۱۰ مسلمانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ شہر کی پولیس کے مطابق ۹۰ افراد کی لاشیں شہر کے اردگرد دیہاتوں، مسجدوں اور چرچوں سے برآمد ہوئی ہیں۔ سینکڑوں گھروں اور درجنوں مساجد کو بھی عیسائیوں نے نذر آتش کر دیا۔ شہر میں مسلمانوں کی آبادی عیسائیوں کے برابر ہے، مگر یہ حملہ اچانک تھا اس لیے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ جب مسلمانوں نے دفاعی حملہ کیا تو سو کے قریب حملہ آور عیسائی جہنم واصل ہو گئے اور چند چرچ بھی مشتعل نوجوانوں کا نشانہ بن گئے۔
۲۹ فروری کی خبروں کے مطابق نائجیریا کے ایک اور شمالی شہر عابہ میں عیسائیوں نے ۴۵۰ سے زیادہ ہاؤسا قبیلہ کے مسلمانوں کو قتل کر دیا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عیسائی انتہاپسندوں نے مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا۔ سفارتی ذرائع اور مبصرین نے اسے ایک قتلِ عام قرار دیا۔ عیسائیوں نے ایک مسجد بھی جلا دی اور سڑکیں بلاک کر کے مسلمان عورتوں، بچوں اور مردوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا۔ عینی شاہدوں کے مطابق گلیاں لاشوں سے بھر گئیں۔
زمفارا میں نافذ کیے گئے شرعی قوانین کی حیثیت مسلمانوں کے پرسنل لاز سے زیادہ نہ تھی اور عیسائیوں پر ان کا اطلاق بھی نہ ہوتا تھا۔ عملاً یہ معاشرتی اصلاح کے قوانین تھے۔ زمفارا کے دارالحکومت گساؤ کے ایک دینی مدرسے کے پرنسپل سالم عثمان محمد کے مطابق شرعی قوانین کے نفاذ سے پہلے ریاست میں فسق و فجور عام تھا، چوریوں، شراب نوشی اور دوسری برائیوں کو روکنے والا کوئی نہ تھا، ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اسلامی شریعت صدیوں نافذ رہی، مگر برطانیہ نے ہمارے معاشرے کو سیکولر بنانے کے لیے برائیوں کو عام کر دیا اور شرعی قوانین ختم کر دیے۔
گورنر احمد ثانی نے جسم فروشی کے خاتمے کی بھی کوشش کی اور پیشہ چھوڑنے والی طوائفوں کے لیے مراعات کا اعلان کیا۔ بیشتر طوائفیں اپنے اڈوں سے غائب ہو گئیں جبکہ ۳۰ نے پیشکش کا فائدہ اٹھایا۔ گورنر نے مخلوط تعلیم کے خاتمہ اور خواتین کے لیے الگ سفری ٹرانسپورٹ کے لیے بھی کئی اقدام کیے۔ مگر صلیبی صدر اوبسانجو کو اسلامی قوانین کا نفاذ کسی طور منظور نہ تھا، اس نے پہلا کام یہ کیا کہ خاموشی سے زمفارا میں عیسائی پولیس کمشنر لگا دیا جس نے آتے ہی یہ اعلان کیا کہ شرعی قوانین سے متعلق اسے کوئی ہدایات نہیں ملیں اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کو یہ کام کرنے دے گا۔
صلیبی صدر اوبسانجو نے شرعی قوانین کے نفاذ کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ کسی کو سنگسار کرنا یا اس کے ہاتھ کاٹنا آئین کے خلاف ہے۔ اس نے کہا کہ شریعت کوئی مرتب قانون نہیں بلکہ یہ قرآن مجید اور دیگر کتب کے محض حوالے فراہم کرتی ہے کہ یہ قانون کون سی قسم کا ہے۔ صدر اوبسانجو بذاتِ خود امریکہ گیا اور صدر کلنٹن سے ہدایات لیں کہ شرعی قوانین نافذ کرنے والی ریاستوں سے کیسے نمٹنا ہے۔ مغربی میڈیا نے بھی اوبسانجو کا مکمل ساتھ دیا۔ نائجیریا کے مذہبی عیسائی رہنماؤں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ہسٹریا کے مریض ہوں، انہوں نے اشتعال انگیز تقریروں سے صلیبی اقلیت کو خونخوار بنا دیا۔ اینگلی کن چرچ نے اعلان کیا کہ شرعی قوانین کے نفاذ کو نہ روکا گیا تو نائجیریا ایک ’مسلم بنیاد پرست ریاست‘‘ بن جائے گا۔ پینٹی کوسٹل چرچ، رومن کیتھولک بشپ سب چیخنے لگے کہ شرعی قوانین کا فورًا قلع قمع کر دو، ورنہ یہ عیسائیت کی بقاء کے لیے بہت خطرہ بن جائیں گے۔ یہ بیانات پڑھنے اور تقریریں سننے کے بعد عیسائی خونخوار جنونی بن کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور صرف دو دنوں میں ایک ہزار کے قریب مسلمانوں کو شہید کر دیا، بیسیوں مسجدیں اور کروڑوں کی جائیدادیں جلا دیں۔ شرعی قوانین نافذ کرنے والی ریاستوں پر اس قدر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ان قوانین کو واپس لینے پر مجبور ہو گئیں۔ الجزائر اور ترکی کے بعد صلیبی جمہوریت کا یہ ایک اور خوفناک چہرہ ہے۔ یہ جمہوری دہشت گردی کی بدترین شکل ہے۔ اہل مغرب کو سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک ان گھٹیا ہتھکنڈوں، دہشت گردی اور سازشوں سے اللہ کی مخلوق کو اسلام سے دور رکھ سکیں گے۔
(بہ شکریہ روزنامہ پاکستان لاہور)
خواتین کی عالمی کانفرنسیں اور ان کے مقاصد
راحیل قاضی
چند سال پہلے قاہرہ اور بیجنگ میں منعقد ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس کے بعد خواتین کے حقوق اور مرد و عورت میں مساوات کے عنوان سے اقوامِ متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی لابیوں کی مہم میں جو تیزی آئی ہے اس کے اثرات خاص طور پر مسلم ممالک میں محسوس کیے جا رہے ہیں جہاں نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر معاملات میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو تبدیل کر کے انہیں اقوامِ متحدہ اور مغربی ممالک کے معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے مسلم حکومتوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور کئی ممالک میں اس دباؤ کے تحت شرعی قوانین میں ردوبدل کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
اس پس منظر میں ۵ سے ۷ جون ۲۰۰۰ء کو نیویارک میں منعقد ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس کے حوالے سے راحیل قاضی کا یہ معلوماتی مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ عالمِ اسلام کے علمی و دینی اداروں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں سنجیدہ طرزِ عمل اختیار کریں اور قاہرہ کانفرنس اور بیجنگ کانفرنس کے فیصلوں کو ازسرنو مطالعہ کر کے ان کی روشنی میں نیویارک کانفرنس سے قبل عالمی سطح پر ان مسائل پر ٹھوس علمی و دینی موقف کے اظہار کا اہتمام کریں۔
ادارہ
بیجنگ پلس ۵
یہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس خصوصی سیکشن کا نام ہے جس میں اقوامِ عالم کے خصوصی نمائندوں کو اس بات پر غور کرنے کے لیے اکٹھا کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بیجنگ میں عورت کے لیے جو لائحہ عمل تجویز کیا تھا اس پر اقوامِ عالم نے کتنا عمل کیا ہے اور اس سلسلے میں کیا پیشرفت ہوئی ہے۔
عورت کے بارے میں عالمی کانفرنسیں
عورت کے بارے میں پہلی عالمی کانفرنس ۱۹۷۵ء میں، دوسری عالمی کانفرنس کوپن ہیگن میں ۱۹۸۰ء میں، تیسری عالمی کانفرنس ۱۹۸۵ء میں نیروبی میں، اور چوتھی عالمی کانفرنس ۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں منعقد ہوئی۔
بیجنگ کا پلیٹ فارم فار ایکشن
بیجنگ میں ایک پلیٹ فارم فار ایکشن یعنی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا جس میں عورت کے حوالے سے ۱۲ میدانِ کار مختص کیے گئے جو مندرجہ ذیل ہیں: (۱) غربت (۲) تعلیم (۳) حفظانِ صحت (۴) عورتوں پر تشدد (۵) مسلح تصادم (۶) معاشی عدمِ مساوات (۷) اداروں کا نظام (۸) عورت کے انسانی حقوق (۹) مواصلاتی نظام خصوصاً ذرائع ابلاغ (۱۰) ماحول اور قدرتی وسائل (۱۱) چھوٹی بچی (۱۲) اختیارات اور فیصلہ سازی۔
کب اور کہاں
اب ۵ سے ۹ جون تک نیویارک میں بیجنگ پلس ۵ جو کہ بیجنگ کانفرنس کے ۵ سال بعد ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، اور اس میں اقوامِ متحدہ کے ممبر ملکوں کے حکومتی وفود کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں کے وفود بھی شریک ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اتنے بڑے پیمانے کی کانفرنس نہیں ہے جیسا کہ بیجنگ کانفرنس تھی مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس میں سارے معاہدوں کی توثیق کی جائے گی۔
اس کانفرنس کا عنوان ہے
"Women 2000: Gender Equality, Development and Peace for the Twenty-first Century"
۲۰۰۰ء کی خواتین اور اکیسویں صدی میں صنفی مساوات، امن اور ترقی
کون شرکت کر سکتا ہے؟
چونکہ یہ اقوامِ متحدہ کا ایک خصوصی اجلاس ہے اس لیے اس میں اقوامِ متحدہ کے ممبر ملکوں کے وفود اور وہ غیر سرکاری تنظیمیں جو کہ Ecosoc Status کی اہل ہیں، وہ شرکت کر سکتی ہیں۔ Ecosoc اقوامِ متحدہ کی معاشی اور معاشرتی کونسل ہے جو کہ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آپ اس کانفرنس میں شریک ہونے کے اہل ہیں یا نہیں۔
عالمی تیاریاں
اس کانفرنس کے لیے عالمی تیاریاں تو ۱۹۹۵ء کے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھیں مگر ۱۹۹۹ء اور ۲۰۰۰ء کے شروع میں اس کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں، جبکہ ہر مہینے اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی علاقائی کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس سلسلے میں تیاریوں کی کانفرنس یعنی Prep-Com منعقد کی گئیں اور ایک آج کل نیویارک میں ہو رہی ہے۔
- پہلی (Prep-Com) ۱۵ سے ۱۹ مارچ ۱۹۹۹ء نیویارک منعقد کی گئی۔
- ایشیا پیسیفک میٹنگ ۱۱ سے ۱۲ جون پینانگ میں۔
- ساؤتھ ایشیا سب ریجنل NGO میٹنگ ۱۱ سے ۱۴ اگست کھٹمنڈو میں۔
- ایشی اپیسیفک NGO سپمپوزیم ۳۱ سے ۴ ستمبر بنکاک میں۔
- اور بڑی سطح کی وزارتی کانفرنس ۲۶ سے ۲۹ اکتوبر بنکاک میں۔
- Lobbying Training ورکشاپ ۲۸ سے ۲۹ جنوری ۲۰۰۰ء کھٹمنڈو میں۔
- اور دوسری (Prep-Com) ۲۷ فروری سے ۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء تک نیویارک میں منعقد ہوئی ہے۔
مسلمان عورت کیا کرے؟
اگرچہ ان کانفرنسوں میں بڑی تعداد میں مسلمان عورتوں نے شرکت کی مگر بدقسمتی سے وہ اپنے دین کو اس انداز میں سمجھتی ہیں جیسا کہ مغرب ان کو سمجھانا چاہتا ہے۔ ان میں اکثریت اس بات سے لاعلم ہے کہ ہمیں دامِ فریب میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کی خوبصورتی کو اپنی ان لاعلم بہنوں اور ساری دنیا کی سسکتی عورت کے سامنے لایا جائے کہ جن حقوق اور رعایتوں کے لیے آج تم ماری ماری در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہو وہ ۱۴۰۰ سال پہلے محسنِ انسانیت نے تمہاری جھولی میں ڈال دیے تھے۔ تمہیں وہ سارے حقوق بن مانگے ہی عطا کر دیے تھے جن کے لیے آج کشکولِ گدائی لیے پھر رہی ہو۔ مگر یہ زیادہ آسان کام نہیں۔ آج کی مسلمان عورت کو جدید علم کے ہتھیار سے مسلح ہو کر اپنے اسلاف سے رشتہ جوڑتے ہوئے جدید اور قدیم زمانوں کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ پا پر اعتماد سے قدم اٹھانے ہوں گے تاکہ نئی صدی میں شیطان کے چیلنجوں کا مقابلہ کر کے اسے مسلمان عورت کی باوقار صدی بنا سکیں۔
اس سلسلے میں مزید معلومات مندرجہ ذیل ویب سائیٹس سے حاصل کی جا سکتی ہیں:
Official Documents
http://www.un.org/womenwatch
Preview 2000
http://www.gnapc.org/apewomen
چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
پروفیسر میاں انعام الرحمن
’’دنیا میں کیا کچھ موجود ہے جس کی مجھے ضرورت نہیں ہے‘‘۔ ایتھنز کے بازاروں میں عیش و عشرت کا قیمتی ساز و سامان دیکھ کر یہ تاریخی الفاظ سقراط نے کہے تھے۔ اس فقرے میں مضمر دلالتوں اور ابدی صداقتوں نے ’’شہرِ ہجر‘‘ کی تفہیم کو Order کرنے اور نقد و تبصرہ کے لیے راستہ وا کرنے میں میری بڑی معاونت کی۔ میں حیران تھا، چناب کنارے گجرات جیسے زرخیز خطے میں رہنے والا شخص اپنے تخیل میں ’’صحرا‘‘ کیوں بسائے ہوئے ہے، نہ صرف صحرا بلکہ اس کے کچھ Shades، جیسے ریگ، لمحہ، رنج، وداع۔ صحرا میں رنگارنگی، رعنائی اور تنوع نہیں ہوتا، لیکن صحرا ہے وسعت کی علامت۔ اگر ہم سقراط کے محولا بالا مقولے سے مدد لینا چاہیں تو بات کچھ بنتی نظر آتی ہے کہ طارق اشیاء کا رسیا نہیں، اس کا وژن Cosmic ہے۔ وہ زمانی تناظر کی راہنمائی میں تدبر و تفکر کرتا ہے، معاشرتی زندگی کے مادی لوازمات پرکشش سہی، لیکن ہمارے شاعر کے تفکر کو پامال نہیں کر سکے کہ اس کے نزدیک ان کی چنداں اہمیت نہیں۔
اس کی دوسری وجہ، طارق کی ملتان میں سکونت ہو سکتی ہے۔ میرے علم کے مطابق ’’شہر ہجرت‘‘ کا خالق کچھ عرصہ ملتان میں رہائش پذیر رہا ہے۔ شاید طارق کے لیے شہر ملتان، شہر نگاراں بن گیا ہے۔ ملتان اگرچہ صحرائی علاقہ نہیں لیکن اس میں صحرائی ٹچ بہرحال موجود ہے۔ یہ صحرائی ٹچ ان کے تحت الشعور پر ڈیرہ جمائے بیٹھا ہے۔ طارق کی شاعری کا ایک اور عنصر، اس کے اس ملتانی حوالے کو تقویت دیتا ہے، کوئی ظاہر بین بھی بھانپ لے گا کہ ان کے کلام میں صوفیانہ رنگ بھرپور موجود ہے۔ ملتان کا اس ضمن میں تعارف کرانا ضروری معلوم نہیں ہوتا۔
اس کی تیسری وجہ پاکستان اور مسلم دنیا کی حالتِ زار بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایسی ہی صورت حال تھی جب ٹی ایس ایلیٹ نے مغربی دنیا کے انہدام و شکست و ریخت کو Wasteland میں قلم بند کیا۔ طارق نے Wasteland کا ترجمہ صحرا کیا ہے۔
اس پس منظر میں ’’صحرا‘‘ طارق کی داخلی معروضیت کے اظہار کے ساتھ ساتھ استعارہ بن جاتا ہے۔ اگر آپ صحرا کو Depersonify کریں تو ’’رنج‘‘ ابھر آتا ہے۔ یوں صحرا کی ویرانی اور دہشت ’’رنج و وداع‘‘ جیسے لفظوں کو بار بار استعمال کرنے کا موجب بنتی ہے۔ ایسی صورت حال میں ہمارے شاعر کے لیے ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ سخن طرازی کے لیے خود اپنی ذات میں جھانکے، اپنے اندر مجمع لگائے اور اس میں مضمر تنوع، ہمہ رنگی کا عرفان حاصل کرے تاکہ منصبِ تخلیق کے تقاضے پورے ہو سکیں اور پھر یہ تخلیق مغائرت محض Pure Alienation پر مبنی نہ ہو کہ انسانی ذات کی موضوعی صداقتیں اظہار و ابلاغ نہ پا سکیں۔ ہاں ہمارا شاعر ہر حالت، ہر کیفیت میں اپنی آنکھ کھلی رکھتا ہے اور یہ بنیادی پیغام دیتا ہے کہ اگر آپ دانش و فرزانگی کے متلاشی ہیں تو ادھر ادھر جھک مت مارئیے، اپنے سے بڑی دانش، آپ کو اپنے ہی اندر ملے گی۔ طارق کی تخیلی فکر کا یہ پیغام مجھے بے اختیار، ژونگ کا یہ فقرہ یاد دلاتا ہے ’’لاشعور کی دانش‘‘۔ یہیں پر ’’دید‘‘ بھی شہر ہجرت میں بنیادی حیثیت سے رونق افروز ہو جاتی ہے۔ صحرا کے حوالے سے صرف یہی شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
جھلک رہا تھا کہیں دور صبح کا چہرہ
کسی کے دھیان میں صحرائے جاں سلگتا رہا
صحرائے جاں کی ترکیب نہایت خوبی سے استعارۃً استعمال کی گئی ہے۔ پہلے مصرعے میں ’’کہیں دور‘‘ نے شعر کے صحرائی ٹچ کو بہت نمایاں کیا ہے۔ ’’کہیں دور‘‘ اور ’’سلگتا رہا‘‘ لمحہ رواں معلوم ہوتے ہیں۔ ماضی، حال، مستقبل اس لمحہ رواں میں سمٹ آئے ہیں۔ پیکارِ مسلسل کی صورت میں ہمارا شاعر اس ’’لمحے‘‘ سے قربتیں بڑھاتا نظر آتا ہے ؎
یوں لمحہ لمحہ کٹتے ہوئے کٹ ہی جائے گی
طارق زمانوں کی یہ مسافت کسی گھڑی
اس شعر میں تقریباً تمام مترادفات استعمال کیے گئے ہیں۔ لمحہ، زمانوں، گھڑی، پھر مسافت اور کٹنا بھی ضمناً مترادفات میں آجائیں گے کیونکہ مسافت لمحوں کے بغیر ناممکن ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طارق محدود الفاظ میں نہایت خوبصورت انداز سے بہت بامعنی بات کہہ سکتا ہے۔ یہ شعر دیکھئے ؎
لمحہ خواب وداع مانگنے آیا طارق
سایہ خواب نے اک عمر رفاقت چاہی
لفظ وداع بھی آپ کو اس شعری مجموعے میں بار بار ملے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ طارق آئینِ نو سے ڈرتا نہیں۔ طرزِ کہن پر اڑتا نہیں، وداع انہی معنوں پر دلالت کرتا ہے۔ لمحہ خواب اور سایہ خواب پر غور کریں۔ غالباً لمحہ خواب خارجی اور متجسم معنوں میں استعمال ہوا ہے اور خواب داخلی اور تجریدی معنوں میں۔ کہتے ہیں چوٹ گرم ہو تو شدت کا احساس نہیں ہوتا۔ لمحہ خواب گرم چوٹ کی طرح ہے اور سایہ خواب ما بعد کی کیفیات جو نہ صرف دیرپا ہوتی ہیں بلکہ تکلیف بھی ہوتی ہیں۔ دید اور خواب کے حوالے سے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
اک دید میں ہوتا ہے ودع یار اے طارق
اک دید میں دائم سبھی خواب گزراں ہیں
دائم کے ساتھ خواب گزراں بہت خوبی سے استعمال ہوا ہے۔ خواب ندی کی مانند متعین اور متحرک ہوتا ہے۔ ندی کے دو متوازی چلتے ہوئے کنارے جہاں ندی کو متعین کرتے ہیں وہیں مسلسل آگے بڑھتا ہوا پانی ہمہ وقت متحرک ہوتا ہے۔ خواب گزراں ایسا ہی بہتا ہوا پانی ہے اور آپ یہ تو جانتے ہیں کہ ایک ہی ندی میں دوبار نہیں نہایا جا سکتا۔
شہر ہجر کے بالاستیعاب مطالعہ سے طارق کی نفسی کیفیت کھل کر سامنے آتی ہے۔ جدت اور تخلیقی ایج کے باوجود ہمارا شاعر اپنی ذات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ اس کے تفکر و تخیل میں داخلیت بھری پڑی ہے۔ صحرا کا استعارہ اسے اپنی ذات میں گم کرنے کا باعث بنتا ہے کہ خارجی واقعیت موافقِ حال نہیں ؎
خود اپنے بجز کچھ نہیں اندوختہ میرا
جو بھی مری صدیوں کی بضاعت ہے میں خود ہوں
اگر سرسری نظر سے دیکھیں تو اس میں وجودی رنگ جھلکتا ہے لیکن ’’صدیوں کی بضاعت‘‘ سے صرف ماورائیت کا اظہار ہوتا ہے بلکہ ’’میں‘‘، ’’ہم‘‘ کا روپ دھار لیتا ہے۔ ہمارا شاعر داخلی سفر پر آمادہ ہے، اپنی ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ بحیثیت انسان ۔۔۔ کہ انسان کا اندوختہ انسان ہے ؎
چھونے کو عالمِ انفس ہی کے آفاق بہت
سوئے انفس بھی اگر اپنی نظر جانے دو
اختباری روش سے محترز اپنا داخلی سفر جاری رکھتے ہوئے ہمارا شاعر ایک مقام پر بے اختیار کہتا ہے ؎
ہٹا کے خود سے نگاہیں میں اور کیا تکتا
ہر اک لحظہ تھا آشوبِ ذات کا لحظہ
یہ Self Knowing کی طرف پیش قدمی ہے۔ قدیم یونان کے سو فسطائیوں کا نعرہ تھا Assert Thyself ۔ ان کا مقابل سقراط جیسا نابغہ روزگار آیا اور ان کی آواز کو یوں پلٹایا Know Thyself ۔ آشوبِ ذات کی ترکیب اپنی تمام تر معنویت سمیت Self Knowing کے کٹھن سفر کا عنوان ہے۔ اس عنوان کے بین السطور Self Knowing کے تمام Shades بطورِ داستان موجود ہیں۔ اگر شعر کو انہماک سے پڑھیں تو یہ داستانِ سوزِ جگر اپنا طلسمی حصار قاری کے گرد قائم کر دیتی ہے اور قاری طارق کا شریکِ سفر ہو جاتا ہے۔ آشوبِ ذات کی المناکی اور کرب و اندوہ سے ہمارا شاعر مضمحل نہیں ہوتا کہ وہ ہر رنگ میں آنکھیں کھلی رکھتا ہے۔ اس کی یہ خصوصیت آشوبِ ذات کی جگر سوزی کو ارتفاعیت بخشتی ہے اور داخلی سفر کے اس مرحلے پر ہمارا شاعر اپنی کیفیت کا یوں اظہار کرتا ہے ؎
محال ہے کہ یہ صدیوں کی پیاس بجھ جائے
اتر گئے ہیں تہہ ریگ کتنے ہی دریا
ہاں Knowing Thyself قائم ہے اور قائم رہے گا، البتہ طارق ایک حل نکالتا ہے ؎
یہ پیاس وہ نہیں کہ دریا سے بجھ سکے
ہاں موجہ سراب اگر میزبان ہو
تاحال، داخلی سفر کا اختتام، علم و تیقن پر ہونا محال ہے۔ اگر کوئی سفر کی صعوبتوں سے تھک کر، اندرونی توڑپھوڑ سے بدحال ہو کر ’’موجہ سراب‘‘ کو میزبان بنا لے تو بنا لے کہ ہر شخص کی Limitations ہوتی ہیں جو بطور مسافر اس کے Potential کا تعین کرتی ہے۔ آخر وہی ہوتا ہے جو اکثر ہوتا آیا ہے ؎
ہر کوئی اپنے لیے ہے ایک لا ینحل سوال
لفظ ہیں اور اپنے معانی ڈھونڈتے پھرتے ہیں ہم
میں خود ہوں؟ یا کوئی اور؟ یا کچھ بھی نہیں
کون ہے کس کی چاہت میں پھرتا ہوں میں
خلیل جبران کو بھی کہنا پڑا تھا کہ ’’میں کبھی لاجواب نہیں ہوا، لیکن اس شخص سے جس نے پوچھا، تم کون ہو؟‘‘۔ یہ تفکر و تدبر کا وہ مقام ہے جہاں فلسفہ ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور تصور و سلوکیت انسان کے راہنما بن جاتے ہیں۔ ہمارا شاعر اب فلسفی نہیں رہتا۔ کیا، کیوں اور کیسے کے سوالوں سے نجات پانے کی سبیل دیکھ لیتا ہے اور کچھ یوں کلام کرتا ہے ؎
چاک قمیص کی تو کرا لی رفوگری
اب کیوں نہ چاک دل کو بھی بازار لے چلو
یہاں لفظ ’’بازار‘‘ بہت ذو معنی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن شہر ہجراں کے مطالعہ سے مترشح ہوتا ہے کہ طارق عشق کے ابتذالی پہلو سے، جو آرائش خم و کاکل، بادہ و ساغر اور لب و رخسار کے قصوں سے مملو ہوتا ہے، بہت دور فکر و نظر کی بلندیوں پر متمکن ہے۔ ہمارے شاعر کے ہاں زندگی کی اعلیٰ قدروں کا حوالہ Mental Reservation کی حد تک ملتا ہے۔ اس حوالے میں دانستگی شامل نہیں۔ محبت، دل سوزی، کرب و اندوہ کا احساسِ شدید اور ان سب کا خالق ایک جذبہ محیط ۔۔۔ ابنائے جنس سے گہری ہمدردی و خلوص۔ سر آغاز سے اختتام تک، طارق کا یہ جذبہ قائم و دائم نظر آتا ہے۔ اس اعتبار سے ’’بازار‘‘ کے ابتذالی معنی خارج از امکان ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے ’’بازار‘‘ کے Refined اور Cultured معنوں میں استعمال کیا ہے۔ بازار سے مراد کوچہ عشق ہے اور دل کے چاک کی رفوگری محبوب حقیقی سے مطلوب ہے۔ اسی عالمِ کیف وجد میں ہمارا شاعر چند تقاضے کرتا ہے ؎
دو گھڑی کو تو اٹھا لو یہ زمانے کا حجاب
دو گھڑی گردش افلاک ٹھہر جانے دو
تم مرے ہو تو مری ظلمتِ شب میں اک پل
اپنے پیکر کی صباحت کو بکھر جانے دو
آشوبِ ذات پر قائم کی ہوئی یہ ہمہ بینی و ہمہ دانی کی عمارت بہرحال نامکمل رہتی ہے کہ ہر معلوم ایک نامعلوم کی طرف دھکیل دیتا ہے ؎
ازل سے محو جستجو ہوں
اے غایتِ زیست تو کہاں ہے
طارق کے کلام میں بہت تنوع ہے اور مکالمے جیسا انداز جھلکتا ہے۔ مکالمہ زندگی اور حقیقت کے قریب ہوتا ہے۔ ہمارا شاعر حقیقت پسند ہے، آنکھیں کھلی رکھتا ہے۔ اپنے فکری سفر کے ارتقاء میں کہیں پڑاؤ نہیں ڈالتا۔ سفر کو منزل کے طور پر لیتا ہے اور داستان رقم کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
حقیقتِ نفس الامر سے کس کو آگہی ہے
باعتبارِ خیال ہے معنی ہو کہ صورت
یہ شعر خاصا پہلودار ہے۔ ایک نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طارق فلسفے کے ایک مکتبہ فکر میں شامل ہو رہا ہے جو کائنات کی تفہیم کے ضمن میں ’’خیال‘‘ کو برتر مانتے ہیں کہ خیال ہی حقیقت ہے۔ اگر دوسری نظر سے دیکھیں تو یہ معنی بنتے ہیں کہ نفس الامر کی حقیقت کو جاننے میں جو بھی کاوشیں ہیں وہ تو بس اپنے اپنے خیالات میں، ورنہ کسے معلوم حقیقت کیا ہے؟
طارق کے اشعار میں شدید نوعیت کے اتار چڑھاؤ بھی موجود ہے۔ بعض مواقع پر زیادہ اضافتیں ہونے سے شعر میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خیال کے ورود میں شدت ہے جس سے ہمارا شاعر نبرد آزما ہے۔ پھر اظہار ہونے سے فورًا ہی اس جوش و جذبہ کی شدت میں ٹھہراؤ سا آ جاتا ہے اور یہ ٹھہراؤ خیال یا جوش و جذبے کی جزئیات کو بیان کرنے میں طارق کا ہم رکاب ہو جاتا ہے۔
شہر ہجر اردو شاعری کی کلاسیکل روایت کا نیا ایڈیشن ہے۔ یہ نیا ایڈیشن بہرحال کچھ Version بھی رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے مجھ سے طفلِ مکتب کی شہرِ ہجر پر خامہ فرسائی جسارت ہی معلوم ہوتی ہے۔ طارق کے کلام کی معنویت، فکری بلندی، لفظوں کی ترتیب، تراکیب، استعارے، ایک بڑے نقاد کا تقاضا کرتے ہیں جو اردو شاعری کی کلاسیکل روایت سے مکمل آگاہی رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ سنجیدگی، غیر جانبداری، قوتِ استدلال اور اظہارِ رائے کی صفات سے متصف ہو۔ کیونکہ شہرِ ہجر، مروجہ مزاج سے خاصی مختلف ہے، اس لیے بقول نظیری یہی کہوں گا ؎
مشتری گو رد کن و دلال گو در پا فگن
جنس گر خوب است خواہد کرد پیدا قیمتے
اگرچہ خریدار رد کرے اور دلال پامال کرے، اگر چیز اچھی ہو گی تو ضرور قیمت پائے گی۔
امریکی دباؤ کے خلاف پاکستان کی دینی جماعتوں کا مشترکہ موقف
ادارہ
۲۷ مارچ ۲۰۰۰ء کو منصورہ لاہور میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے جناب امیر قاضی حسین احمد کی دعوت پر دینی جماعتوں کے راہنماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس کے شرکاء میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے راہنما مولانا محمد اجمل خان، سپاہ صحابہؓ پاکستان کے راہنما مولانا محمد ضیاء القاسمی اور مولانا محمد احمد لدھیانوی، جمعیت علماء پاکستان (نیازی) کے راہنما انجینئر سلیم اللہ خان اور قاری عبد الحمید قادری، جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کے راہنما مولانا شبیر احمد ہاشمی اور سردار محمد خان لغاری، جماعتِ اہلِ حدیث کے راہنما علامہ زبیر احمد ظہیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے راہنما مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، پاکستان شریعت کونسل کے راہنما مولانا زاہد الراشدی اور مخدوم منظور احمد تونسوی، جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے سربراہ مولانا عبد المالک خان، تحریکِ جعفریہ پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی، سپاہ محمد پاکستان کے سربراہ غلام عباس، جمعیت علماء اسلام (س) کے راہنما مولانا خلیل الرحمٰن حقانی، جماعتِ اسلامی کے مرکزی راہنما لیاقت بلوچ، اور جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے راہنما میاں محمد نعیم بادشاہ بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔
اجلاس میں موجودہ ملکی اور عالمی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کی دینی جماعتوں کے متفقہ موقف کے طور پر مندرجہ ذیل مشترکہ اعلامیہ کی منظوری دی گئی اور مختلف راہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے تمام دینی جماعتوں کو مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کرنا چاہیے۔
مشترکہ اعلامیہ
جماعتِ اسلامی پاکستان کی دعوت پر پنجاب کی دینی جماعتوں اور مرکزی رہنماؤں کا نمائندہ قومی اجلاس اتفاقِ رائے سے اعلان کرتا ہے کہ
- قرآن و سنت کی بالادستی اور شریعت کے نفاذ سے ہی ملک بحران سے نکل سکتا ہے۔ اسلام سے حکمرانوں کے منافقانہ رویہ نے ملک و ملت کو تباہی کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ فوجی حکومت آئین کی اسلامی دفعات بحال کرے، خصوصاً تحفظِ عقیدہ ختم نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالت ایکٹ کے لیے دوٹوک پالیسی کا اعلان کر کے ملک میں پھیلے شکوک و شبہات کا خاتمہ کرے۔
- ملک اندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ خطہ میں دخل اندازی کے اپنے عزائم رکھتا ہے، پوری ملت عزت و غیرت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق رکھتی ہے۔ قومی سلامتی کے لیے ایٹمی صلاحیت ناگزیر ہے۔ بھارت کے جارحانہ اور غاصبانہ اقدامات کے توڑ کے لیے ایٹمی صلاحیت سدِ جارحیت ہے۔ پاکستان کو اپنے تحفظ اور اپنی بقا کا بندوبست خود کرنا ہو گا۔ فوجی حکومت رائے عامہ کا احترام کرے اور سی ٹی بی ٹی مسترد کر دے۔ سی ٹی بی ٹی پر دستخط امتِ مسلمہ کے مقام و منصب اور تشخص کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا۔ سامراجی طاقتوں کے اثر و نفوذ سے نکلنا اور نئے عالمی اسلامی بلاک کی تشکیل وقت کا تقاضا ہے۔
- ملک میں معاشی اور سماجی انقلاب کی ضرورت ہے۔ سود پر مبنی معیشت ناکام اور ظالمانہ نظام ہے۔ فوجی حکومت لیت و لعل سے کام لینے کی بجائے آئین، وفاقی شرعی عدالت، سپریم ایپلیٹ کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے احکامات و سفارشات کی روشنی میں سود کا خاتمہ کرے اور اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ قرضوں کی لعنت کا خاتمہ، خود کفالتی نظام، زرعی و صنعتی انقلاب، مزدور اور غریب عوام کے معاشی حقوق کا تحفظ ہی اسلامی معاشی نظام ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی تنخواہ دار ٹیم ملک کو اسلامی معیشت کی راہ پر نہیں چلا سکتی۔ حکومت علماء اور محبِ دین معاشی ماہرین کو اعتماد میں لے۔
- جہاد ملتِ اسلامیہ کے لیے عزت و عظمت کا میدان ہے۔ عالمی استعمار کے جانبدار اور متعصب نظام کے مقابلہ میں جہادی زندگی نے مسلمانوں کو وقار سے جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔ کشمیر، چیچنیا، فلسطین، بوسنیا میں جاری جہاد اور مجاہدین کی حمایت و امداد ہمارا دینی فریضہ ہے۔ فوجی حکومت آگاہ رہے کہ عوام جہاد کے پشتی بان ہیں۔ پاکستانی ملتِ افغانستان میں عالمی استعماری اور دین دشمن قوتوں کے اشاروں پر کسی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔
- فرقہ واریت کا خاتمہ، دہشت گردی اور تخریب کاری سے پاک معاشرہ ،اہلِ بیتؓ، خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کا احترام اور مقام کا تحفظ تمام دینی جماعتوں کا مشن ہے۔ قتل و غارت گری اور عبادت گاہوں پر محلے دشمن کا کھیل ہے۔ تمام دینی جماعتیں محرم الحرام میں امن اور باہمی احترام کو یقینی بنائیں گی۔ حکومت، انتظامیہ اور پولیس بھی نیک نیتی سے مکمل غیر جانبداری کے ساتھ امن و امان کے لیے انتظام کرے۔ سرکاری میڈیا تمام مسالک کے احترام اور توازن کو برقرار رکھے۔
- امریکی صدر نے اپنے دورہ پاکستان کے موقعہ پر اپنے خطاب میں پاکستانی قوم کو غلامی یا زبردستی کا چیلنج دیا ہے جس کا مقابلہ خودکفالت کے ذریعے کیے جا سکتا ہے۔
- امریکی صدر بل کلنٹن کا دورہ جنوبی ایشیا میں مسائل کے حل کے لیے کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ لیکن امریکی صدر کوئی دوٹوک حکمتِ عملی نہیں دے سکے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی صدر مثبت حل تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ اعلانِ لاہور فرسودہ اور دو قومی نظریہ کے منافی معاہدہ ہے، نیز اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حقِ رائے شماری دینا اور بھارت کو کشمیر میں مظالم سے روکنا ہی عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ تمام دینی جماعتیں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہیں۔ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں سکھوں کا المناک قتل عالمی ادارے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔
- ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی، بدتہذیبی اور مادرپدر آزاد معاشرت پر تمام دینی جماعتیں سخت احتجاج کرتی ہیں۔ سرکاری ذرائع ابلاغ فواحشات کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ اسلامی اخلاق اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لیے تمام دینی جماعتیں مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ حکومت سرکاری الیکٹرانک میڈیا کا قبلہ درست کرے۔ این جی اوز اور مغرب زدہ خواتین کی سرپرستی کر کے حکومت مسلمانوں کے اخلاقی بگاڑ کا مکروہ کھیل بند کرے۔ قوم فیڈرل شریعت کورٹ اور حدود آرڈیننس کے خلاف این جی اوز حکومت میں شامل کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
- فوجی حکومت آئین کو نہ چھیڑے۔ احتساب اور مکمل غیر جانبدار کڑے احتساب کا عمل محدود مدت میں تیز رفتاری سے مکمل کرے۔ آئین کی دفعہ ۶۲، ۶۳ کی روشنی میں جمہوریت کی بحالی کے لیے نظامِ انتخاب کی اصلاح کرے۔ بحالی جمہوریت کے لیے حکومت کا اعلانات مبہم، غیر واضح اور تضاد کا شکار ہیں۔
- تمام دینی جماعتیں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہیں۔ انسانی حقوق کے آڑ میں غیر ملکی تہذیب، مشنری اداروں کا پھیلاؤ، قومی اداروں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کرنا، تعلیمی اداروں کو عیسائی مشنری اداروں کے سپرد کرنا، قادیانیوں کی سرگرمیوں کو کھلی چھٹی دینا، اور تحفظِ ناموسِ رسالت ایکٹ میں کسی نوعیت کی ترمیم اسلامیانِ پاکستان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
- دینی جماعتوں کا اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ جمعہ کی چھٹی بحال کی جائے۔
بعض شرکاء اجلاس کی تجاویز پر مشترکہ اعلامیہ میں مندرجہ ذیل مطالبات کا اضافہ کیا گیا:
- تمام مسلم حکومتیں افغانستان کی امارتِ اسلامی اور چیچنیا میں مجاہدین کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔
- جہادی تحریکات اور دینی مدارس کے خلاف کردار کشی کی مہم کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ جہادی تحریکات اور دینی مدارس کے خلاف کوئی اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا۔
- حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کا شریعت ایپلٹ بنچ تشکیل دیا جائے۔
اسلامی نظام نافذ کیا جائے، CTBT پر دستخط نہ کیے جائیں
مختلف مکاتبِ فکر کے راہنماؤں کے مشترکہ اجلاس کا مطالبہ
ادارہ
پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی کی دعوت پر گوجرانوالہ کی مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس ۲۰ فروری کو مرکزی جامع مسجد میں مولانا احمد سعید ہزاروی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام (ف)، جمعیۃ علماء اسلام (س)، پاکستان شریعت کونسل، جماعتِ اسلامی، جماعتِ اہلِ سنت، مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت، جمعیۃ اشاعۃ التوحید والسنۃ، اور جمعیت شبانِ اہلِ سنت کے راہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ
- عبوری آئین کے مستقل فرمان کے ذریعے دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات بالخصوص قراردادِ مقاصد اور عقیدہ ختمِ نبوت سے متعلقہ دفعات کو بحال کیا جائے،
- ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے،
- CTBT پر دستخط سے صاف انکار کیا جائے،
- سود کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے،
- اور ملک میں فحاشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کیا جائے۔
اجلاس کے شرکاء میں مولانا زاہد الراشدی، علامہ محمد احمد لدھیانوی، مولانا غلام رسول راشدی، ڈاکٹر غلام محمد، مولانا جمیل احمد گجر، جناب امان اللہ بٹ، مولانا حبیب اللہ خان، حافظ محمد ثاقب اور میاں محمد اسماعیل اختر بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
آئین کی اسلامی دفعات اور قادیانی مسئلہ کے بارے میں سرکاری وضاحت
دستورِ پاکستان کے معطل ہونے کے بعد دستور کی اسلامی دفعات بالخصوص قراردادِ مقاصد اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے بارے میں آئینی شقوں کے حوالے سے دینی حلقوں کی طرف سے جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کے جواب میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن ڈاکٹر محمود احمد غازی اور وزارتِ قانون کے ترجمان نے درج ذیل وضاحت کی ہے۔
اس وضاحت پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ ۱۲ اکتوبر کو چیف ایگزیکٹو نے دستورِ پاکستان کو معطل کرنے کا جو اعلان کیا تھا اس میں قراردادِ مقاصد، عقیدۂ ختمِ نبوت اور دیگر اسلامی دفعات کی کوئی استثناء نہیں تھی۔ اس لیے اصولی طور پر اس حوالے سے دستوری خلا بدستور موجود ہے اور اس خلا کو چیف ایگزیکٹو کے باقاعدہ دستوری فرمان کے ذریعے ہی پُر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی اور وزارتِ قانون کے ترجمان کی یہ وضاحت خوش آئند ہے لیکن ان کے ارشادات چیف ایگزیکٹو کے دستوری فرمان کا متبادل نہیں ہیں اور نہ ہی ان سے مذکورہ دستوری ابہام دور ہوتا ہے۔
وزارتِ قانون کی وضاحت
اسلام آباد (ا پ پ) قادیانیوں کے بارے میں آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کلاز تھری بدستور نافذ العمل ہے جس کے تحت قادیانی گروپ اور خود کو احمدی کہنے والے لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات وزارتِ قانون کے ایک ترجمان نے گزشتہ روز بتائی۔ ترجمان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی متعلقہ اسلامی دفعات بشمول آرٹیکل ۲۶۰ کے کلاز تھری کی دفعات، ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے آرڈر، اور عبوری آئینی حکم نمبر ایک، ۱۹۹۹ء سے ہرگز متاثر نہیں بلکہ یہ تمام دفعات اس وقت بھی نافذ العمل ہیں۔
وزارتِ قانون کے ترجمان نے بعض حلقوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے اس تاثر کو قطعی غلط قرار دیا کہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو ہنگامی حالت کے نفاذ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کو معطل قرار دینے کے بعد قادیانیوں سے متعلقہ آئینی دفعات نافذ العمل نہیں رہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں پھیلائے گئے شکوک و شبہات بلاجواز ہیں۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۹۹ء کے عبوری آئینی حکم نمبر ۱ کے آرٹیکل ۲ میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعات معطل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر ممکن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔
(روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۵ فروری ۲۰۰۰ء)
ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ارشادات
لاہور (نمائندہ جنگ) قومی سلامتی کونسل کے رکن ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت صوبوں کی نئی تقسیم نہیں کر رہی البتہ نیا بلدیاتی نظام لایا جا رہا ہے جس کے تحت لوگوں کے مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے کے عمل کو یقینی بنایا گیا ہے۔ نئے بلدیاتی نظام کا اعلان چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف ۲۳ مارچ کو کریں گے۔
وہ گزشتہ روز قائد اعظم لائبریری باغِ جناح میں مولانا امین احسن اصلاحی کی یاد میں پہلے میموریل لیکچر کی تقریب سے خطاب کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل اسلامی عقائد اور قراردادِ مقاصد کو سامنے رکھ کر ہی کوئی کام کرے گی، اس کے علاوہ کسی چیز پر عمل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں اسلامی شقیں معطل نہیں ہیں۔ قادیانی غیر مسلم ہیں اور غیر مسلم ہی رہیں گے۔
ڈاکٹر محمود غازی نے کہا کہ پاکستان میں شریعت ہی سپریم لاء ہے، کسی بھی اعلیٰ عدالت نے آج تک شریعت کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ PCO کے تحت آئین کی محض مخصوص دفعات کو معطل کیا گیا ہے، سارا آئین معطل نہیں۔ عدالتیں بدستور کام کر رہی ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم نہیں کیا جا رہا، یہ ساری غلط فہمیاں ہیں، اس کے ممبران کی کم از کم تعداد ۵ موجود ہے، آئندہ چند دنوں میں نئے ارکان کی تقرری بھی کر دی جائے گی، ان کی سمری چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے پاس ہے۔
ڈاکٹر محمود غازی نے کہا کہ موجودہ حکومت پر قادیانی ازم پھیلانے کا الزام درست نہیں، یہ افواہیں ہیں۔ جن تین اہم شخصیات کے بارے میں قادیانی ہونے کا کہا گیا اس بارے تحقیقات کی گئی تو وہ درست ثابت نہ ہوا۔ انہوں نے مرزا طاہر احمد کی موجودہ حکومت کی تعریف کرنے کے بارے میں سوال پر کہا کہ یہ تو آپ مرزا طاہر سے پوچھیں، وہ اس کا جواب دیں گے۔
ڈاکٹر غازی نے جہادی تنظیموں پر دہشت گردی کے الزام کے حوالے سے سوال پر کہا کہ جہاد کرنا دینی اور شرعی فریضہ ہے، جہادی تنظیمیں اپنا یہ فرض ادا کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کے حوالے سے مغربی میڈیا کا پروپیگنڈا ہے، ہماری تنظیموں کے دہشت گردی کے کوئی ثبوت نہیں ملے، اگر جہادی تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث پائی گئیں تو ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی نے مولانا امین احسن اصلاحی کی دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ خالد مسعود نے مولانا امین احسن اصلاحی کی علمی تربیت، فکر و تفسیر، نظامِ قرآن، اصولِ فہمِ حدیث، حکمتِ قرآن، اسلامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا کی یہ عظیم خدمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم قرآن پر تدبر کے لیے ان کا دیا ہوا لائحہ عمل اپنائیں۔
(روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۸ فروری ۲۰۰۰ء)
امارتِ اسلامی افغانستان اور ڈاکٹر جاوید اقبال
ادارہ
علامہ اقبالؒ کے فرزند، سابق چیف جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال گزشتہ دنوں افغانستان کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہاں طالبان کے طرزِ حکومت کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور وطن واپسی پر دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں طلباء کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابی عالمِ اسلام میں ایک بہترین مثال ہے اور یہ دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ ثابت ہو گا۔ طالبان نے افغانستان میں ایسا امن قائم کیا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کی زبان سے یہ الفاظ سن کر بعض اصحاب کو ضرور حیرت ہو گی، وہ نفاذِ اسلام کے تو حامی رہے ہیں لیکن ان کے بارے میں یہ غلط فہمی بھی گردش کرتی رہی ہے کہ وہ سیکولر ذہن کے مسلمان دانشور ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بارے میں ایک ایسے دانشور کی رائے سن کر جس نے کیمبرج میں تعلیم پائی ہو، جو اجتہادی فکر و نظر کا دعوے دار ہو، اور علومِ جدیدہ کے فروغ میں گہری دلچسپی لے، تو عوام و خواص کو ضرور یقین آ جانا چاہیے کہ نفاذِ اسلام ہی دنیا کی فلاح کا راستہ ہے۔ اور اسوۂ اسلام پر لغوی اور معنوی طور پر عمل کیا جائے تو اس گئے گزرے زمانے میں بھی عوام کو امن و آشتی، مساوات اور انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے دلی خواہش ظاہر کی کہ وہ طالبان کو اس نظام کے استحکام کے لیے ممکنہ وسائل فراہم کرنے کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ وہ افغانستان میں کامیاب تجربے کا مشاہدہ کر آئے ہیں اور نظامِ اسلام کی حقانیت کے قائل ہو گئے ہیں تو اسے اپنے ملک میں فروغ دینے کی سعی بھی فرمائیں، خدا کرے وہ روزِ سعید بھی آئے جب ڈاکٹر جاوید اقبال خود نفاذِ اسلام کا پرچم لے کر میدانِ عمل میں آ جائیں اور اس ملک کے گمراہ حکمرانوں کے ساتھ عوام کی بھی کایا پلٹ دیں۔
(ادارتی شذرہ روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۶ اپریل ۲۰۰۰ء)
عالمی منظر نامہ
ادارہ
دو ہزار سالہ گناہ اور پاپائے روم
روم (ا ف پ + ٹی وی رپورٹ) رومن کیتھولک رہنما پوپ جان پال دوم نے روم میں ایک تقریب کے دوران ماضی میں رومن کیتھولک چرچ کی جانب سے کی جانے والی غلطیوں پر معذرت کی۔ بی بی سی کے مطابق یہ ایک غیر مثالی واقعہ ہے کہ پوپ نے رومن کیتھولک مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی ہو۔ ویٹی کن میں اپنے بیس منٹ کے خطاب میں پوپ نے دنیا چھوڑ جانے والوں اور زندہ رومن کیتھولک افراد کی غلطیوں اور گناہوں پر معذرت کی اور خاص طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد کی تباہ کاریوں میں یہودیوں سے بھی معافی مانگی۔ پوپ نے کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کی ناکامی رہی کہ وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف نہ کر سکا۔ یہ واقعہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ پوپ نے معافی مانگی ہو۔ انہوں نے چرچ کی طرف سے گزشتہ ۲۰۰۰ سال میں کی گئی تمام خطاؤں اور گناہوں پر سرعام معافی کی استدعا کی۔ پوپ نے اپنے خطاب میں کہا، تاریخ میں بعض موقعوں پر چرچ نے ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کیا جس سے اس کی شہرت داغدار ہوئی۔ انہوں نے خصوصاً صلیبی جنگوں اور چرچ کی طرف سے تحقیقات کے دوران طرزعمل کی معافی طلب کی۔
بیت المقدس اور دیگر مقدس مقامات کو مسلمانوں سے حاصل کرنے کے لیے ۲۰۰ برس تک صلیبی جنگیں جاری رہیں۔ عدالتی احتساب کا عرصہ ۷۰۰ برس پر محیط تھا جس دوران چرچ نے ملحدین و بدعتیوں، جادوٹونے، کیمیا گری اور شیطانی عمل کرنے والوں کی باز پرس کی اور انہیں سزائیں سنائیں، ان پر تشدد کیا اور تقریباً ۳ لاکھ افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔ پوپ نے امریکہ اور افریقہ میں جانے والی مشنری ٹیموں کے لیے بھی معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے مقامی لوگوں کی تہذیب اور مذہبی روایات کا استحصال کیا۔ پوپ نے لسانی یا نسلی بنیادوں پر امتیاز برتے جانے والوں سے بھی معافی مانگی۔ پوپ نے مسیحیوں سے کہا کہ وہ آج کے دور کی برائیوں اور خرابیوں کی ذمہ داریاں بھی قبول کریں۔
(بحوالہ مسیحی ماہنامہ شاداب لاہور ۔ مارچ ۲۰۰۰ء)
صومالیہ میں خانہ جنگی
دوبئی (انٹرنیشنل ڈیسک) صومالیہ میں طویل عرصے کی خاموشی کے بعد بیرونی سازش کے تحت مسلم تنظیموں کے درمیان ایک بار پھر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ تازہ واقعہ میں اسلامک کورٹ ملیشیا کے ممتاز رہنما جلال یوسفی سمیت ۹ افراد بارودی سرنگ کے دھماکے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ گاڑی میں موگا کی جانب جا رہے تھے۔
(ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد ۔ ۳۱ مارچ ۲۰۰۰ء)
میکسیکو میں اسلام کی تبلیغ
میکسیکو سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) میکسیکو میں اسلام کی تبلیغ و ترویج کا کام تیزی سے جاری ہے اور حال ہی میں میکسیکو سٹی میں ایک ہی خاندان کے ۵۰ افراد نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میکسیکو اسلامی مرکز مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلامی مرکز قرآن مجید سمیت اسلامی کتب کے تراجم کے انتظامات کے علاوہ انٹرنیٹ اور سرکاری ریڈیو کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی نشریات کا انتظام کر چکی ہے۔ سرکاری ریڈیو سے اسلام کی تبلیغ و ترویج غیر مسلم دنیا میں پہلی کامیاب کوشش ہے۔
(ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد ۔ ۳۱ مارچ ۲۰۰۰ء)
اسرائیلی یہودیوں کا مطالبہ
اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک) یہودیوں کی بنیاد پرست اور دہشت گرد تنظیم ’’کاچ‘‘ کے زیر اہتمام گزشتہ دن اسرائیل میں ایک بڑی عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام بنیاد پرست یہودیوں نے شرکت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام غیر یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیں۔ کاچ تنظیم کی بنیاد امریکی یہودی میر کہانہ نے ۱۹۷۰ء میں رکھی، اس کا مقصد تمام عرب باشندوں کو اسرائیل سے نکالنا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر الخلیل کا ایک انچ غیر یہودیوں کو دیا گیا تو ہم خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے، یہ زمین ہمارے آباؤ اجداد کی ہے اور ہمارے نبی حضرت موسٰیؑ کی ہے۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۔ ۳۱ مارچ ۲۰۰۰ء)
افغانستان پر روسی حملہ اور یوکرائن
پشاور ــ(بیورو رپورٹ) یوکرائن نے افغانستان میں جارحیت کو روسی قیادت کی بہت بڑی غلطی قرار دیا، اور افغانستان کی تباہی میں روسی افواج کے ساتھ شمولیت کا ازالہ کرنے کے لیے جنگ کے دوران معذور اور زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے اور افغانستان کے طول و عرض میں لاکھوں کی تعداد میں یوکرائنی فوجیوں کی مدد سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو نقشوں کی مدد سے صاف کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ہفتہ کے روز پشاور پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویٹرنز افیئرز کمیٹی کے چیئرمین یوکرانی وزیر میجر جنرل ایس وی چرونو سکائی، یوکرائن کی ہلال احمر کمیٹی کے صدر ڈاکٹر آئی جی او سی چٹکو، ویٹرنز افیئرز کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین وائی جی زوبکو، اور اسلام آباد میں یوکرانی سفارت خانے کے ناظم الامور وی ایس یونومارینکو نے کہا کہ افغان جنگ کے دوران یوکرائن نے روس کا ایک حصہ ہونے کے ناطے حصہ لیا۔ تاہم اب یوکرائن ایک آزاد مملکت ہے اور مجبوری کی بنا پر افغان جنگ میں شمولیت کو بھول جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی افواج میں ۲۵ فیصد فوجی یوکرانی، ۵۰ فیصد رشین، اور باقی ۲۵ فیصد کا تعلق دیگر ۱۳ ریاستوں سے تھا۔
یوکرانی راہنماؤں نے کہا کہ افغان جنگ کے دوران ان کے ۷۲ فوجی ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے انہوں نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کر دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا یوکرائن اپنی غلطی پر افغان عوام سے معذرت کرے گا۔ یوکرائن کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یوکرائن میں ہر قسم کی سیاسی و مذہبی آزادی ہے، کسی پر کوئی پابندی نہیں ہے، مسلمانوں کی اپنی ایک سیاسی جماعت بھی موجود ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یوکرائن ایٹمی ہتھیاروں کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے لیکن ہم ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ہیں، ہم نے اپنے تمام میزائل ضائع کر دیے ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳ اپریل ۲۰۰۰ء)
مسلمان بچہ مسیحی ماں کی تحویل میں
لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف نے ایک مسیحی خاتون نصرت کی رٹ درخواست منظور کرتے ہوئے اس کا مسلمان بچہ اس کی تحویل میں دے دیا۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کی ماں ہی اس کی فطری سرپرست ہوتی ہے اس لیے درخواست گزار کے بچے کو اس کے حوالے کر دیا جائے۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کا شوہر عاشق حسین اپنے بچے سمیت عدالت میں پیش ہوا اور بتایا کہ وہ اب مسلمان ہو چکا ہے اور اس نے اپنے بچے کو بھی دائرہ اسلام میں داخل کر لیا ہے اس لیے اس نے درخواست گزار کو چھوڑ دیا ہے اور اب وہ اپنے بچے کے ساتھ الگ زندگی بسر کر رہا ہے، چونکہ اس کا بچہ بھی اب مسلمان ہے اس لیے وہ اسے درخواست گزار کی تحویل میں نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ اس کے بچے کا مذہب تبدیل کر دے گی۔
فاضل عدالت نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور بچے کو درخواست گزار کی تحویل میں دینے کے احکام جاری کر دیے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳۱ مارچ ۲۰۰۰ء)
امریکہ میں غلامی کا کاروبار
نیویارک (اے پی پی) سی آئی اے نے رپورٹ دی ہے کہ اس وقت امریکہ میں مختلف ممالک سے غلام بنا کر لائی گئی ۵۰ ہزار خواتین اور بچوں سے جنسی زیادتی کی جا رہی ہے اور ان سے جبری مشقت لی جا رہی ہے۔ ان خواتین اور بچوں کا تعلق ایشیا، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ سے ہے۔ ان افراد کو غلامی کی جدید شکل میں امریکہ لایا گیا ہے جس کے باعث ان کے خلاف تفتیش اور قانونی چارہ جوئی انتہائی مشکل ہے۔ کیونکہ امریکی قوانین میں اس مسئلہ کو براہ راست زیربحث نہیں لایا گیا ہے جس کے باعث جرم ثابت ہونے پر بھی اپنی مرضی کے خلاف لائے گئے غیر ملکی افراد کو رکھنے والے افراد کو ہلکی سی سزا یا جرمانہ ہوتا ہے۔ نومبر میں مکمل ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں ایک لاکھ کو امریکہ میں لایا گیا ہے لیکن ان میں سے صرف ۲۵۰ کیسوں پر مقدمہ لڑا جا سکا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ پہلی اتنی جامع رپورٹ ہے جس میں ۱۵۰ سے زائد سرکاری حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام، ماہرین اور غلامی کے شکار افراد کے انٹرویو موجود ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۳ اپریل ۲۰۰۰ء)
نیوزی لینڈ میں ہم جنس پرستوں کے لیے جائیدداد کے حقوق
ویلنگٹن (اے ایف پی) نیوزی لینڈ کی کابینہ نے گزشتہ روز ایک قانونی ترمیم کی تجویز منظور کر لی ہے جس کے مطابق ہم جنس پرست جوڑوں کو بھی جائیداد کے وہی حقوق حاصل ہوں گے جو میاں بیوی کو حاصل ہیں۔ نیوزی لینڈ ہرالڈ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ آئندہ ماہ اس تجویز کے بارے میں عوامی رائے طلب کرے گی اور بعد ازاں آئندہ سال جولائی میں یہ ترمیم قانونی حیثیت حاصل کر لے گی۔ اٹارنی جنرل مارگریٹ ولسن نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے ہم جنس پرستوں کو علیحدگی کی بنا پر جائیداد میں حصہ لینے کے حقوق حاصل ہوں گے لیکن ہم جنس پرستوں کو شادی کرنے کی اجازت دینے کا مسئلہ الگ ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۵ اپریل ۲۰۰۰ء)
نائجیریا میں جسم فروشی پر پابندی
کینو (ا ف پ) نائجیریا کی شمالی ریاست کینو نے جسم فروشی، شراب کی فروخت اور جوئے پر پابندی لگا دی، حکام کے مطابق یہ پابندی ریاست کے ڈپٹی گورنر عبد الحئی عمر گندوجے، نائجیریا عیسائی ایسوسی ایشن کے لیڈر اور کونسل آف یوتھ کے مابین ایک میٹنگ کے بعد لگائی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ریاست میں ایڈز خطرناک حد تک پھیل رہا تھا جس بنا پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ ریاست میں جسم فروشی پر پابندی لگا دی جائے اور ویسے بھی کوئی مذہب اس کام کی اجازت نہیں دیتا۔ چار گھنٹے جاری رہنے والی اس میٹنگ میں شرکاء کو ایڈز پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، حکام کے مطابق شرب اور منشیات پر پابندی کا مقصد معاشرتی برائیوں کی روک تھام ہے۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۵ اپریل ۲۰۰۰ء)
بھارت میں مسلمانوں کا احتجاج
نئی دہلی (ا پ پ) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کنونشن میں مذہبی عمارات اور مقامات سے متعلق اترپردیش حکومت کے بل اور بھارتی آئین پر نظرثانی کی تجویز پر احتجاج کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ مسلمان اس بل پر احتجاج کریں گے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اس بل کے تحت لوگوں کو خصوصاً مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی زبان کو پھیلانے سے روک دیا جائے گا۔ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ یہ بل واپس لے۔
(روزنامہ پاکستان ۔ ۲۷ مارچ ۲۰۰۰ء)
جمعیۃ علماء ہند کا مظاہرہ
گوہاٹی (اے ایف پی) شمالی بھارت کے پسماندہ علاقوں کے ۵۰ ہزار کے قریب مسلمانوں نے بی جے پی حکومت کی طرف سے مجاہدین کی مدد کرنے کے شبے میں خوفزدہ کیے جانے پر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین گوہاٹی میں اکٹھے ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ آسام حکومت اور بی جے پی حکومت کی طرف سے ان پر مجاہدین کی مدد کرنے کا الزام غلط ہے۔ مقررین نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کی زبردست مذمت کی۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۲ اپریل ۲۰۰۰ء)
جامعہ ازہر میں احادیثِ نبویؐ پر انسائیکلوپیڈیا کی تیاری
قاہرہ (اے پی پی) مصر کے جامعہ الازہر کی اکادمی تحقیقاتِ اسلامی کے زیراہتمام حضور سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لاکھ ستر ہزار احادیث مبارکہ پر مشتمل ایک انسائیکلو پیڈیا تیار کیا جا رہا ہے جو بیک وقت عربی اور روسی زبانوں میں شائع کیا جائے گا۔ ہر جلد ایک ہزار احادیث پر مشتمل ہو گی۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲۷ مارچ ۲۰۰۰ء)
چیچن مجاہدین ایک بار پھر گروزنی میں
ماسکو (ریڈیو رپورٹ) چیچن مجاہدین روسی فوج کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق مجاہدین کا ایک دستہ چھاپہ مار کاروائیوں کے لیے دارالحکومت گروزنی میں داخل ہو گیا ہے اور اس نے شہر میں روسی فوج کی ایک چوکی پر حملہ کر کے وزارتِ دفاع کے ایک افسر کو ہلاک کر دیا، اس کے علاوہ متعدد روسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں اور چوکی کی عمارت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ادھر روسی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ابھی تک سینکڑون چیچن مجاہدین گروزنی میں چھپے ہوئے ہیں۔
(ہفت روزہ ضرب مومن کراچی ۔ ۳۱ مارچ تا ۶ اپریل ۲۰۰۰ء)
شاہ عبد اللہ تجویز
واشنگٹن (خبری ذرائع) اردن کے شاہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ میرے خیال میں بیت المقدس کو اسرائیلی اور مستقبل کی فلسطینی ریاست دونوں کا دارالحکومت بنا دینا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بیت المقدس اتنا بڑا شہر ہے کہ جو دو ملکوں کا دارالحکومت بن سکتا ہے۔ مذہبی پہلو سے دیکھا جائے تب بھی کیا بیت المقدس کو سب کا مشترکہ شہر نہیں ہونا چاہیے؟ ذرائع کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے بھی بیت المقدس کو دونوں ملکوں کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کی اور ساتھ ہی روم کی مثال دی جو بیک وقت دو ریاستوں یعنی وٹیکن اور اطالوی حکومت کا دارالحکومت ہے۔
(ہفت روزہ ضرب مومن کراچی ۔ ۳۱ مارچ تا ۲۶ اپریل ۲۰۰۰ء)
بابری مسجد کا مقدمہ
لکھنؤ (این این آئی) بابری مسجد کو مسمار کرنے کے مقدمے کے ملزمان پر بچیس اپیل کو فردِ جرم عائد کی جائے گی جبکہ الٰہ آباد ہائی کورٹ ۴۹ میں سے ۳۳ ملزمان کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کرے گی۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’’سی بی آئی‘‘ کی عدالت کے جج جے پی سری داستو نے بابری مسجد کو مسمار کرنے کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ ۲۵ اپریل مقرر کر دی ہے۔ دریں اثنا الٰہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ کے جج جسٹس جگدیش بھالا نے بابری مسجد مسمار کرنے میں نامزد ۴۹ ملزمان میں سے ۳۳ ملزمان کی جانب سے نظرثانی کی درخواست پر غور کرنے کے لیے سماعت ۳۱ تاریخ مقرر کی ہے۔
(روزنامہ جنگ راولپنڈی ۔ ۳۱ مارچ ۲۰۰۰ء)
اسلام سے متاثر ہوں
لندن (اے ایف پی) برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ اسلام سے بہت متاثر ہیں اور اس سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماہنامہ نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میر ےپاس قرآن مجید کے دو ترجمے موجود ہیں اور میں اسلام کے متعلق بہت پڑھ رہا ہوں، اس لیے خود کو قرآن کے دو تراجم کا پروفیسر کہہ سکتا ہوں۔ واضح رہے کہ ٹونی بلیئر ہائی چرچ اینگلی کسن کرسچین ہیں۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ اپریل ۲۰۰۰ء)
انڈونیشیا میں خواتین کو پردے کی ہدایت
جکارتہ (آئی کے اے) انڈونیشیا کے جنبوی صوبے کالی متان کے ضلع بنیار میں نومنتخب ہونے والے ضلع سربراہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی خواتین ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ برقعہ پہن کر دفاتر آئیں۔ ریدی عارفین نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ میں تمام اہل کار مسلمان ہیں اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے جسم کے علاوہ چہرہ چھپانا بھی ضروری ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خاتون نقاب نہیں اوڑھتی تو اس کے لیے اسے مجبور نہیں کیا جائے گا تاہم مجھے امید ہے کہ اس پالیسی کا احترام کیا جائے گا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ضلعی انتظامیہ میں کتنی خواتین اہل کار ہیں تاہم زیادہ تر خواتین سٹاف نے کہا ہے کہ وہ نئی پالیسی کی پابندی کریں گی۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۲۹ مارچ ۲۰۰۰ء)
انڈونیشیا میں مسلمانوں کا مظاہرہ
اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک) انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں گزشتہ روز ہزاروں مسلمانوں نے عیسائیوں کے خلاف جہاد شروع کرنے کے حق میں زبردست ریلی نکالی۔ رپورٹ کے مطابق ریلی کے شرکاء نے سفید چغے پہن رکھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ یہ ریلی جکارتہ کے مرکزی اسٹیڈیم میں نکالی گئی جس میں دس ہزار مسلمان جوانوں نے شرکت کی جبکہ ایک ہزار مسلمان جوانوں نے شرکت کی، جبکہ ۸۰۰ پولیس اہلکار حفاظت کے لیے موجود تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلمان تنظیم کے رہنما ایپ صغیر الدین نے کہا کہ دس ہزار جوان جہاد کے لیے تیار رہیں اور ہم اپنے جہاد گروپ اپریل میں ملاکو بھیج دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عیسائیوں کے خلاف جہاد کے لیے فنڈ اندرون اور بیرون ملک مسلمانوں نے اکٹھا کیا ہے تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ بیرون ملک فنڈ کہاں سے آیا ہے۔ صغیر الدین نے مزید بتایا کہ اگر حکومت نے ملاکو میں جہاد میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو ہم جزیرہ جاوا میں جہادی تحریک شروع کر دیں گے۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۔ ۷ اپریل ۲۰۰۰ء)
کلنٹن کے دورہ جنوبی ایشیا کے اخراجات
واشنگٹن (آن لائن) امریکی صدر بل کلنٹن کے حالیہ غیر ملکی دورے کو امریکی تاریخ کا مہنگا ترین اور غیر نتیجہ خیز قرار دیا جا رہا ہے جس پر پچاس ملین ڈالر سے زائد اخراجات آئے جو کہ کسی بھی امریکی سربراہ مملکت کے غیر ملکی دورے پر اٹھنے والے اخراجات میں سب سے زیادہ ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے امریکی صدر کے بھارت پاکستان بنگلہ دیش اور سوئٹزرلینڈ کے دورے کو مہنگا ترین قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی فضائیہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر کے صرف دورہ برصغیر پاک و ہند پر پچاس ملین ڈالر سے ۷۵ ملین ڈالر کی لاگت آئی۔ تاہم دورے پر اٹھنے والے اصل اخراجات کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اخبار کے مطابق امریکی صدر سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی نقل و حمل کے لیے ۷۶ چھوٹے بڑے طیارے استعمال کیے گئے جن میں ۲۶ سی ۵ اور ۱۷ مال بردار طیارے جبکہ پچاس دیگر امدادی طیارے شامل تھے۔
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے تھے۔ امریکی صدر نے بھارتی شہر ممبئی سے اسلام آباد آمد کے لیے متعدد جہاز تبدیل کیے۔ اخبار کے مطابق امریکی ایئر فورس نے کہا ہے کہ انہیں دورے پر اٹھنے والے اخراجات پوشیدہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی صدر کا غیر ملکی دورہ قومی سلامتی سے مربوط ہوتا ہے۔ امریکی رکن سینٹ جان مکین نے امریکی صدر کے دورہ جنوبی ایشیا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ صرف تصویری پہلو تک محدود رہا اور امریکی صدر پاکستان اور بھارت کو سی ٹی بی ٹی سمیت دیگر اہم امور پر قائل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۔ ۶ اپریل ۲۰۰۰ء)
تعارفِ کتب
ادارہ
معارفِ ترمذی
محدثِ کبیر حضرت مولانا عبد الرحمٰن کامل پوریؒ اپنے دور کے نامور اساتذہ میں سے تھے جن کی علمی ثقاہت اور روحانی مرتبہ کے اظہار کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ محدثِ جلیل حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوریؒ نے ابوداؤد شریف کی معرکۃ کی شرح ’’بذل الجمہود‘‘ پر نظرثانی کا کام ان کے سپرد کیا، اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے انہیں بیعت سے قبل خلافت سے سرفراز فرما دیا۔ حضرت مولانا عبد الرحمٰن کامل پوریؒ کے ترمذی شریف کے درس نے اپنے دور میں بہت زیادہ شہرت حاصل کی، اور عارف باللہ حضرت مولانا حافظ محمد صدیق باندوی خلیفہ مجاز حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے بقول اس زمانہ میں سب علماء کا اتفاق تھا کہ اس دور میں حضرت مولانا عبد الرحمٰن کامل پوریؒ سے زیادہ بہتر ترمذی شریف پڑھانے والا اور کوئی استاذ نہیں ہے۔
حضرت کامل پوریؒ کے لائق فرزند مولانا قاری سعید الرحمٰن مہتمم جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر نے ترمذی شریف کے درس کے دوران حضرتؒ کے افادات کو ضبطِ تحریر میں لانے والے مختلف لائق تلامذہ کی تحریرات کا موازنہ کر کے یہ افادات ’’معارفِ ترمذی‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کر دیے ہیں جو ترمذی شریف کے طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے یکساں افادیت کے حامل اور بیش بہا تحفہ ہیں۔ پہلی جلد ساڑھے پانچ سو صفحات اور دوسری جلد چار سو صفحات پر مشتمل ہے، اور عمدہ کتابت و طباعت اور خوبصورت مضبوط جلد کے ساتھ جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر نے انہیں پیش کیا ہے۔
تجلیاتِ رحمانی
مولانا قاری سعید الرحمٰن نے اپنے عظیم والد حضرت مولانا عبد الرحمٰن کامل پوریؒ کے حالاتِ زندگی اور افادات و خدمات پر ’’تجلیاتِ رحمانی‘‘ کے نام سے ایک خوبصورت مجموعہ کچھ عرصہ قبل شائع کیا تھا جس کا دوسرا ایڈیشن اس وقت ہمارے سامنے ہے اور اس میں سینکڑوں صفحات کا اضافہ بھی شامل ہے۔ ہمارے اکابر نے اس معاشرہ میں دین کے تحفظ و ترویج اور اسلاف کی علمی و عملی جدوجہد کے تسلسل کو باقی رکھنے کے لیے جس خلوص، ایثار، وقار، سادگی اور استغنا کے ساتھ سعئ مسلسل کی ہے اس سے آگاہی کے لیے ’’تجلیاتِ رحمانی‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ اور ہمارے خیال میں نوجوان علماء کو اپنے عظیم اکابر و اسلاف کے حالات و خدمات پر مشتمل اس نوعیت کی مفید کتابوں کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے جن سے انہیں اپنے ماضی کا صحیح طور پر علم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی دینی و علمی ذمہ داریوں سے بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ پونے سات سو کے لگ بھگ صفحات کا یہ مجموعہ عمدہ کتابت و طباعت اور خوبصورت جلد کے ساتھ جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت دو سو پچاس روپے ہے۔
ضربِ درویش
گزشتہ سال افغانستان پر امریکی حملہ کی دھمکی کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے جو جرأتمندانہ موقف اختیار کیا اور امریکی عزائم کے خلاف پاکستان کی رائے عامہ کو بیدار اور منظم کرنے کے لیے جو مہم چلائی اسے قوم کے ہر طبقہ نے سراہا اور ہر مکتبِ فکر کے دانشوروں اور قلم کاروں نے اپنے اپنے انداز میں اس کی حمایت میں کامل اور مضمون لکھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ محمد ریاض درانی نے اس سلسلہ میں قومی پریس میں شائع ہونے والے اہم مواد کو ’’ضربِ درویش‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں جمع کر دیا ہے جس میں مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات اور انٹرویوز کے علاوہ ان کی حمایت میں لکھے جانے والے منتخب مضامین، کالم اور اداریے شامل ہیں اور اس طرح اس جدوجہد کے بارے میں ضروری مواد اکٹھا ہو گیا ہے جس سے علماء اور کارکنوں کے علاوہ تاریخ پر لکھنے والوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ ساڑھے چار سو کے لگ بھگ صفحات کا یہ مجموعہ عمدہ کتابت و طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ جمعیۃ پبلیکیشنز متصل مسجد پائلٹ ہائی سکول وحدت روڈ لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ایک سو اسی روپے ہے۔
عالمِ اسلام کی اخلاقی صورتحال
بھارت کے ممتاز دانشور جناب اسرار عالم کی اس تصنیف پر نامور عالمِ دین حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نے ان الفاظ سے تبصرہ کیا ہے:
’’ماضی میں اور دورِ حاضر میں چلنے والی سری تحریکات اور مستقبل پر پڑنے والے ان کے اثرات پر جیسی نظر اس کتاب کے مصنف کی ہے، اس کی مثال اس دور میں ملنا مشکل ہے۔ موصوف نے اس ذیل میں اسلامی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے عہدِ جدید میں یہودی سازش، صلیبی جنگوں کے اثرات، ہیومنزم اور ریشنلزم (عقلیت) کی شناخت اور ان کے اثرات، پھر تاریخی پس منظر، مسلم فلاسفہ اور متکلمین کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے سترہویں صدی سے بیسویں صدی تک کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ پھر انہوں نے ماڈلز (سانچوں) پر گفتگو کی ہے۔ اس ذیل میں سیکولرازم کے نظریہ، اس کی تاریخ، اس کے اصل مقاصد، اصول، اور عالمِ اسلام میں سیکولرائزیشن کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔‘‘
اس جامع تبصرہ کے بعد اس کتاب کے بارے میں اور کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتے اور ہمارے نزدیک اس کتاب کا مطالعہ ہر اس عالمِ دین اور دینی کارکن کے لیے ضروری ہے جو اس دور میں اسلام کے نفاذ اور اسلام اور مغرب کی کشمکش میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔ یہ کتاب ساڑھے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور عمدہ کتابت و طباعت، خوبصورت ٹائٹل، اور مضبوط جلد کے ساتھ اسے قاضی پبلشرز، ۳۵ بیسمنٹ، حضرت نظام الدین، ویسٹ نئی دہلی ۱۱ نے شائع کیا ہے۔
ماہنامہ لا نبی بعدی
مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت اور برطانوی استعمار کے زیرسایہ اس کی نشوونما کے خلاف برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے اور تحریکِ ختم نبوت کے مختلف ادوار میں مختلف مکاتب فکر کے زعماء مشترکہ طور پر بھی جدوجہد میں شریک رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں قادیانی گروہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور نفوذ کو دیکھتے ہوئے بریلوی مکتب فکر کے سنجیدہ علماء کرام نے ’’تحریکِ تحفظِ ختم نبوت پاکستان‘‘ کے نام سے مستقل پلیٹ فارم قائم کیا ہے اور اس کے ترجمان کے طور پر ماہنامہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کا اجرا کیا ہے جس کا تیسرا شمارہ اس وقت ہمارے سامنے ہے اور اس میں قادیانی نبوت کے تعارف اور قادیانی جماعت کے مکروہ عزائم کی نقاب کشائی کے حوالے سے معلومات اور مفید مضامین شریکِ اشاعت ہیں۔ تحریک ختم نبوت کے ممتاز راہنما اور ہمارے محترم دوست سردار محمد خان لغاری اس کے مدیر ہیں اور اس کا دفتر مدینہ مسجد ۱۰۸ راوی روڈ لاہور میں قائم کیا گیا ہے۔ ہم سردار صاحب موصوف اور ان کے رفقاء کو اس کاوش پر ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے اس مقدس مشن میں ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔
فری میسنز کی اپنی مذہبی رسوم
خفیہ اور پس منظر میں رہ کر کام کرنے والی عالمی تنظیموں میں ’’فری میسنز‘‘ کا نام سرفہرست ہے، اور مختلف انقلابات اور معاشرتی تبدیلیوں کے پس منظر میں اکثر اس کی کارگزاریوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہر صاحبِ فکر شخص اس تنظیم اور اس کے طریق کار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔ ہمارے فاضل دوست اور ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کے نائب صدر جناب عبد الرشید ارشد آف جوہر آباد نے ’’فری میسنز‘‘ ہی کے ایک ذمہ دار رکن کی کتاب کا ترجمہ اردو میں پیش کر کے اس کام کو کافی حد تک آسان کر دیا ہے۔ یہ کتابچہ سو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اسے جوہر پریس جوہر آباد ضلع خوشاب پاکستان سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
کیا بائبل واقعی بدل گئی ہے؟
مسیحیت کے ممتاز ماہر مولانا عبد اللطیف مسعود نے اس رسالہ میں بائبل کا مکمل تعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس میں تحریف کے سلسلہ میں خود بائبل سے شہادتیں پیش کی ہیں۔ علماء اور طلبہ کے لیے اس کا مطالعہ بہت مفید ہے اور اسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضور باغ روڈ، ملتان، یا جامع مسجد خضرٰی، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
خلیفہ عبد الحمید اور قرہ صو آفندی
ادارہ
خلیفہ عبد الحمید کے زمانے میں صیہونی یہودیوں کا ایک وفد خلیفہ سے ملنے گیا۔ یہ ۱۹ویں صدی کے اواخر کی بات ہے۔ اس زمانے تک خلافتِ عثمانیہ مغربی طاقتوں کے مقابلہ میں نہایت کمزور ہو چکی تھی۔ اس کی مالی حالت خستہ تھی اور خلافت مقروض تھی۔ اس صیہونی وفد نے خلیفہ سے کہا کہ اگر آپ بیت المقدس کا علاقہ اور فلسطین ہمیں دے دیں تاکہ یہودی وہاں آباد ہو سکیں تو ہم یہودی سلطنتِ عثمانیہ کا سارا قرض ادا کر دیں گے اور مزید کئی ٹن سونا دیں گے۔ خلیفہ عبد الحمید نے دینی حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے پاؤں کی انگلی سے زمین کی تھوڑی سی مٹی کرید کر کہا کہ اگر یہ ساری دولت دے کر تم لوگ بیت المقدس کی اتنی سی مٹی مانگو گے تو بھی ہم نہیں دیں گے۔
اس صیہونی وفد کا سربراہ ایک ترک یہودی قرہ صو آفندی تھا۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ چند ہی سالوں کے بعد جو شخص مصطفٰی کمال پاشا (اتاترک) کی طرف سے خلافت کے خاتمہ کا پروانہ لے کر خلیفہ کے پاس گیا وہ کوئی اور نہیں یہی یہودی قرہ صو آفندی تھا۔
(عالمِ اسلام کی سیاسی صورتحال ۔ از جناب اسرار عالم)