طالبان، امریکہ اور اقوام متحدہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
امریکی صدر بل کلنٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے پر طالبان کو سزا دینا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا مقصد طالبان تحریک کو عالمی برادری سے دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر عدم تعاون کی راہ اپنانے کی سزا دینا ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان جنرل اسمبلی میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ افغانستان دنیا بھر کے مذہبی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور ان کے خیال میں افغانستان میں خانہ جنگی، وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور مذہبی انتہا پسندی کی لہر نئی صدی میں افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جائے گی۔ مسٹر کوفی عنان کا کہنا ہے کہ افغانستان مذہبی انتہا پسندوں کی پرورش گاہ بن چکا ہے جہاں پاکستان سمیت عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے کم عمر بچوں کو طالبان کے ساتھ جہاد میں جھونکا جاتا ہے۔
بل کلنٹن اور کوفی عنان کی طالبان کے بارے میں یہ شکایات نئی نہیں ہیں اور وہ ایک عرصہ سے ان الزامات کا تکرار کر رہے ہیں لیکن اصل میں انہیں تکلیف اس بات پر ہو رہی ہے کہ ان کے بیانات، وسیع تر پراپیگنڈے اور طالبان کی کردار کشی کی مہم پر پاکستان اور جنوبی ایشیا کے مسلمان ’’ایمان‘‘ نہیں لائے اور ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے طالبان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی حکومت اور اس کی آلہ کار اقوام متحدہ کے بزرجمہروں کا خیال تھا کہ وہ جو ارشاد فرمائیں گے وہ سچ سمجھا جائے گا، ان کی قراردادوں اور فیصلوں کو صحیفۂ آسمانی تصور کیا جائے گا اور جب وہ طالبان کی کردار کشی کی عالمی مہم اور میڈیا کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد افغانستان پر پابندیاں عائد کریں گے تو اس خطہ کے عوام سجدۂ شکر بجا لائیں گے کہ امریکہ بہادر نے دہشت گردوں سے ان کی حفاظت کا انتظام کر دیا ہے اور وہ طالبان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور امریکہ کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کر کے ان کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ طالبان کے ساتھ اس خطہ کے عوام کی ہمدردیاں بڑھ گئی ہیں اور اہل دانش پہلے سے زیادہ اعتماد اور حوصلہ کے ساتھ طالبان کا دفاع کر رہے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کے بارے میں عالمی برادری کے نام نہاد ٹائٹل میں لپٹا ہوا امریکی ایجنڈا من و عن قبول کرنے سے معذرت کر دی ہے، ایران نے افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے پیش رفت کی ہے اور پاکستان کی دینی جماعتیں افغانستان اور طالبان کی حمایت میں پہلے سے زیادہ متحرک اور سرگرم ہوگئی ہیں۔
کلنٹن اور کوفی عنان کو اس بات کا بھی دکھ ہے کہ انہوں نے طالبان پر دیوبندی کا لیبل چسپاں کر کے پاکستان کے بہت سے دینی حلقوں کو ان سے دور رکھنے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اور بین الاقوامی پریس کی رپورٹوں میں اسے دیوبندیوں کی حکومت قرار دے کر طالبان کو کارنر کرنے کی جو کوشش کی تھی وہ بھی کامیابی کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ اور طالبان کو جہاں مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کی قومی آواز کی پشت پناہی حاصل ہے وہاں وہ مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، قاضی حسین احمد، لشکر طیبہ اور علامہ ساجد نقوی کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں اور طالبان کی تحریک کو کارنر کرنے کا امریکی منصوبہ فلاپ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسٹر کلنٹن کا ’’حقائق نامہ‘‘ اور کوفی عنان کی یہ رپورٹ اسی غصہ کا اظہار ہے جو انہیں اپنی پالیسیوں میں ناکامی پر چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ طالبان آج بھی وہی ہیں جو روس کے خلاف جہاد کے موقع پر تھے، اس وقت بھی انہوں نے ڈاڑھیاں رکھی ہوئی تھیں، ان کی عورتیں پردے سے باہر نہیں آتی تھیں، وہ تب بھی نمازیں پڑھتے تھے، دنیا بھر سے مسلمان نوجوان جہاد کی تربیت کے لیے ان کے پاس آتے تھے، وہ اس وقت بھی اسلام کی بالادستی اور اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتے تھے، ان کے دل اس وقت بھی شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے دھڑکتے تھے اور روس کے خلاف وہ جنگ بھی انہوں نے جہاد کے نام پر لڑی تھی، اس لیے آج افغانستان کے کیمپوں میں اور طالبان کے حلقوں میں کوئی نئی بات نہیں ہو رہی۔
وقت زیادہ نہیں گزرا، ابھی چند سال پہلے کی بات ہے اور اگر اقوام متحدہ کو اور امریکہ بہادر کو شوق ہے تو آئیں ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ غیر جانبدار مبصرین کا ایک کمیشن مقرر کر لیں اور افغانستان میں روس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ اور اب امریکہ کی بالادستی اور اس کے گماشتوں کی مداخلت کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا باہمی موازنہ کر لیں اور کوئی ایک نئی بات دکھا دیں جو اس دور میں نہیں ہوتی تھی اور اب ہوتی ہے۔ ہمیں انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اگر وہ اس جنگ اور آج کی جنگ کے حوالہ سے افغانستان کے حالات، مجاہدین کے طرز عمل اور کیمپوں کی صورتحال میں کوئی فرق دکھا دیں تو ہم ان کے موقف کی حمایت پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
امریکہ کو شکایت ہے کہ روس کے خلاف جنگ میں اس نے افغان مجاہدین کی حمایت کی تھی اور ساتھ دیا تھا اس لیے اب افغان مجاہدین کو آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چلنا چاہیے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ نے ساتھ دیا تھا لیکن امریکہ نے اپنی حمایت کا پھل وصول کر لیا ہے اور سوویت یونین کی شکست و ریخت کی صورت میں نتائج حاصل کر لیے ہیں۔ جبکہ وہ خود سارے نتائج حاصل کر کے افغان عوام کو ان کے حصے کے نتائج سے بہرہ ور ہونے کا حق نہیں دے رہا اور انہیں اپنی جدوجہد کے جائز اور منطقی ثمرات سے محروم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جسے کم از کم الفاظ میں کمینگی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
ہم مسٹر کلنٹن اور کوفی عنان سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ افغان عوام اور طالبان میں کوئی فرق نہیں آیا، وہ جب روسی استعمار کے خلاف نبرد آزما تھے اس وقت بھی ان کا واحد ہدف اپنی خود مختاری اور دینی تشخص کا تحفظ تھا اور آج جب انہیں امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے تب بھی ان کی جنگ اپنے دینی تشخص اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہے۔ تبدیلی اگر آئی ہے تو اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے کلنٹن اور کوفی عنان کو آئینے کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے کوئی بات ان سے اوجھل نہیں رہے گی۔ اس لیے آج اگر عالم اسلام کی رائے عامہ بالخصوص جنوبی ایشیا کے مسلمان اور پاکستان کے دینی و سیاسی حلقے افغانستان کے بارے میں امریکہ اور اقوام متحدہ کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے موقف کو قبول نہیں کر رہے اور منافقت کو دیکھ کر انہوں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا ہے تو اس میں طالبان کا کیا قصور ہے؟ یہ تو مکافاتِ عمل ہے اور منافقت کا منطقی انجام ہے جس سے امریکہ اور اقوام متحدہ کو اب بہرحال گزرنا ہی ہے۔
نماز کی اہمیت اور چند ضروری مسائل
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے سب سے چھوٹے فرزند حافظ منہاج الحق خان راشد (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم) کی شادی خانہ آبادی ۲۸ نومبر ۱۹۹۹ء کو جامع مسجد علیؓ (اعوان ٹاؤن، ملتان روڈ، لاہور) میں نمازِ ظہر کے بعد مسجد مذکورہ کے خطیب مولانا قاری عبد الخالق کی دختر کے ساتھ انجام پائی۔ قاری صاحب موصوف حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے ہم زلف اور حافظ منہاج الحق خان راشد کے خالو محترم ہیں۔ خطبۂ نکاح حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے پڑھا اور اس موقع پر حاضرین کی فرمائش پر خطاب بھی فرمایا۔ ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اِن دنوں طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ بڑھاپے کے ساتھ گھٹنوں کا درد اور مختلف بیماریاں بھی لاحق ہیں اور گزشتہ کئی دنوں سے عرق النساء (لنگڑی کا درد) نے زیادہ پریشان کر رکھا ہے۔ یہ وہ درد ہے جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام کو لاحق ہوا تھا اور انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر انہیں شفا ہو گئی تو وہ اپنے کھانے میں مرغوب ترین چیز کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ترک کر دیں گے۔ چنانچہ وہ شفا یاب ہوئے تو اونٹ کا گوشت انہوں نے کھانا چھوڑ دیا۔ اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ’’الّا ما حرم اسرائیل علیٰ نفسہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔
آج اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے نکاح کے سلسلہ میں آپ حضرات کے پاس حاضری ہوئی ہے، اس لیے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کچھ مسائل آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق دیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ امت کے چاروں بڑے اماموں اور سب محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ مسلمان مرد یا عورت پر بالغ ہونے کے بعد نماز، روزہ اور دیگر عبادات جو شرعاً فرض ہو جاتی ہیں، ان کی ادائیگی بہرحال ضروری ہے۔ اور اگر کسی شخص کی کوئی نماز یا روزہ رہ گیا ہے تو وہ محض توبہ سے معاف نہیں ہو گا بلکہ اس کی قضا کرنی ہو گی۔ آج کل ایک غلط فہمی عام طور پر پڑھے لکھے لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ توبہ اور استغفار سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے۔
- حقوق اللہ میں جو امور فرائض سے متعلق ہیں وہ صرف توبہ سے معاف نہیں ہوں گے بلکہ توبہ کے ساتھ ان کی قضا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کے ذمہ ایک فرض نماز یا ایک فرض روزہ قضا ہے، تو ساری زندگی توبہ کرتا رہے، جب تک اسے قضا کی نیت سے ادا نہ کر لے گا وہ اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہو گا۔
- اسی طرح حقوق العباد کا معاملہ ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی حق اس کے ذمہ ہے تو وہ صرف توبہ سے معاف نہیں ہو گا۔ اس کے لیے شرط ہے کہ جس کا حق ہے اُسے واپس کرے، یا حق والا شخص خود اسے معاف کر دے۔ اس کے بغیر حقوق العباد کی معافی نہیں ہو گی۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ اشکال پایا جاتا ہے کہ زندگی کا کوئی ایک حصہ ایسا گزر گیا ہے کہ نماز نہیں پڑھی، روزہ رکھا ہے اور نہ زکوٰۃ دی ہے۔ اب اس کا حساب کیسے ہو گا کہ اس شخص کے ذمہ کتنی نمازیں باقی ہیں، کتنے روزے ہیں اور کتنے سالوں اور کتنی رقموں کی زکوٰۃ اس کے ذمہ ہے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ شریعت نے ایسے معاملات میں، جن کا قطعی طور پر تعین نہ کیا جا سکتا ہو، ’’تحری‘‘ کا اصول بتایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے پوری کوشش اور سوچ بچار کے ساتھ ظن غالب کے طور پر ایک اندازہ طے کر لے اور پھر اس اندازے کے مطابق نماز اور دیگر واجب الذمہ فرائض کی قضا کر لے۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح وقتی نمازوں میں ترتیب اور تعین ضروری ہے کہ وہ کون سی نماز ادا کر رہا ہے، اسی طرح قضا نمازوں میں بھی ترتیب اور تعین ضروری ہے۔ اور اگر قضا نماز میں یہ تعین کیے بغیر کہ وہ کس دن کی کونسی نماز قضا پڑھ رہا ہے، مطلق قضا کی نیت سے جتنی مرضی نمازیں پڑھ لے، وہ قضا اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہو گی۔ اس کی آسان صورت فقہاء نے یہ بتائی ہے کہ مثلاً فجر کی نماز قضا کر رہا ہے تو یہ نیت کر لے کہ میرے ذمہ فجر کی جتنی نمازیں قضا ہیں، اُن میں سے پہلی نماز پڑھ رہا ہوں، یا اُن میں سے آخری نماز پڑھ رہا ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں نماز کا تعین ہو جائے گا اور وہ نماز ادا ہو جائے گی۔
نماز کے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ وہ کسی حالت میں معاف نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایک شخص سولی پر لٹک رہا ہے، ابھی جان باقی ہے اور نماز کا وقت ہو گیا ہے، تو اگرچہ وہ وہاں وضو یا تیمم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز کی ادائیگی اس حالت میں بھی ضروری ہے، اور حکم یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اشارے کے ساتھ نماز پڑھے۔ نماز اسے بھی معاف نہیں ہے۔
اسی طرح اگر کسی ظالم نے اسے ایسی جگہ قید کر دیا ہے جو ناپاک ہے، وہاں نہ نماز پڑھی جا سکتی ہے اور نہ ہی تیمم کیا جا سکتا ہے، تو حکم یہ ہے کہ جس حالت میں بھی ہے، تیمم کر کے نماز پڑھ لے، اور یہ نیت رکھے کہ اگر اسے موقع ملا تو صحیح حالت میں آنے کے بعد اس نماز کو دوبارہ ادا کرے گا۔ اگر اس نیت کے ساتھ اس نے وہ نماز گندگی کے ماحول میں پڑھ لی اور اسے دوبارہ موقع نہیں ملا تو اس کی وہی نماز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جائے گی۔
ایک جزئیہ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک شخص درخت پر چڑھا ہوا ہے اور نیچے شیر یا کوئی درندہ ہے جس سے جان کا خوف لاحق ہے، اس کیفیت میں نماز کا وقت آ گیا ہے تو نماز معاف نہیں ہے۔ حکم یہ ہے کہ درخت پر جس طرح بھی ممکن ہے، نماز پڑھ لے، اور بعد میں موقع ملنے پر دوبارہ اس نماز کو ادا کرے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ایک مسئلہ لکھا ہے، جو فقہ حنفی کی مستند کتاب ہے، اسے سلطان محی الدین اورنگ زیب عالمگیرؒ کے حکم پر پانچ سو علماء کرام کی مجلس نے مرتب کیا تھا، اور یہ پانچ سو علماء ایسے تھے کہ ان میں سے کسی ایک کی مثال بھی علم اور تقویٰ کے لحاظ سے آج کے دور میں نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ یہ مسئلہ البحر الرائق اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو رہا ہے، سر جسم سے باہر آ گیا ہے اور باقی دھڑ ابھی رحم میں ہے، اس حالت میں نماز کا وقت جا رہا ہے، تو حکم یہ ہے کہ اس حالت میں بھی جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھ لے۔ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ بچے کی ولادت کے بعد عورت کو خون آتا ہے جو دمِ نفاس کہلاتا ہے، اس حالت میں نماز فرض ہی نہیں ہوتی۔ تو فقہاء کہتے ہیں کہ بچے کی ولادت مکمل ہو جانے کے بعد جو خون آتا ہے، وہ دمِ نفاس ہوتا ہے، ولادت مکمل ہونے سے پہلے نفاس نہیں ہوتا، اس لیے اس دوران جس نماز کا وقت آیا ہے، وہ اس کے ذمہ فرض ہے اور وہ اسے ہر حالت میں ادا کرنی چاہیے۔
نماز کے بارے میں ایک مسئلہ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اپنی بیوی اور گھر کے افراد کو نماز کے لیے کہنا اور اپنا پورا زور صَرف کرنا بھی گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’قوا انفسکم واہلیکم نارا‘‘ خود بھی جہنم کی آگ سے بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی بچاؤ۔ اس لیے جو شخص خود تو نماز پڑھتا ہے مگر اپنے گھر کے افراد کو، بیوی کو، بچوں کو اور دیگر ماتحت حضرات کو نماز کی تلقین نہیں کرتا اور اس کے لیے اپنا پورا زور صَرف نہیں کرتا، وہ بھی ان لوگوں کے بے نماز ہونے کی ذمہ داری میں شریک ہے اور ان کے نماز نہ پڑھنے سے وہ بھی گنہگار ہو گا۔ کسی نے خوب کہا ہے ؎
حق نے کر ڈالی ہیں دوہری خدمتیں تیرے سپرد
خود تڑپنا ہی نہیں اوروں کو تڑپانا بھی ہے
نماز کے بارے میں ایک مسئلہ اور بھی یاد رکھیں، اگرچہ اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے، لیکن نوے فی صد فقہاء اس پر متفق ہیں اور مفتیٰ بہ قول بھی یہی ہے کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے تو وہ جو کلمات اور تکبیرات زبان سے ادا کر رہا ہے، وہ اتنی آواز میں ضرور پڑھے کہ اس کے کان انہیں سنیں۔ اگر اس کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کو خود اس کے کان نہیں سن رہے تو وہ تلفظ شمار نہیں ہو گا اور نماز ادا نہیں ہو گی۔ بے شک دوسروں کے کان نہ کھائے، لیکن اس کے الفاظ کا اس کے اپنے کانوں تک پہنچنا بہرحال ضروری ہے، ورنہ نماز ادا نہیں ہو گی۔
نماز کی اہمیت شریعت میں بہت زیادہ ہے اس لیے اس بارے میں سستی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ آپ اندازہ کریں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو جب ابولؤلؤ مجوسی نے فجر کی نماز کے دوران زخمی کر دیا تو زخموں کی حالت یہ تھی کہ انتڑیاں کٹ گئی تھیں اور جو دودھ شہد وغیرہ پلاتے تھے وہ انتڑیوں کے راستے باہر آ جاتا تھا، حتیٰ کہ طبیبوں نے ظاہری حالت دیکھ کر مایوسی کا اظہار کر دیا تھا۔ اس حالت میں ان کے بیٹے نے یاد دلایا کہ امیر المؤمنین! آپ فجر کی نماز پوری نہیں کر سکے تھے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسی حالت میں فجر کی نماز ادا کی۔ اور حضرت عمرؓ تو یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے حُکام کی کارکردگی کا اندازہ نماز سے کیا کرتا ہوں، جو نماز کا پابند ہے وہ باقی کام بھی صحیح کرتا ہو گا، اور جو نماز میں کوتاہی کرتا ہے وہ دوسرے معاملات میں زیادہ کوتاہی سے کام لیتا ہو گا۔
خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل امت کو جو آخری وصیت فرمائی، وہ نماز کے بارے میں تھی کہ ’’الصلوٰۃ و ما ملکت ایمانکم‘‘ نماز کی پابندی کرنا اور ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ یہ نصیحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمائی۔ اس لیے سب حضرات اس بات کا عہد کریں کہ آئندہ نماز کی پابندی کریں گے اور گزشتہ نمازیں جو رہتی ہیں انہیں بھی قضا کریں گے۔
اس موقع پر عورتوں کے لیے بھی دو تین مسئلے بیان کرنا چاہتا ہوں جو میں عام طور پر بیان کیا کرتا ہوں۔ عورتیں اگر خود سن رہی ہیں تو وہ انہیں یاد کر لیں، اور مرد حضرات بھی اپنے گھروں میں عورتوں کو ان مسائل سے آگاہ کریں۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورتیں عام طور پر ناخن پالش لگاتی ہیں جن میں ناخن پر لیپ ہو جاتا ہے اور وضو اور غسل کے موقع پر پانی ناخن کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ ایسی صورت میں نہ وضو ہوتا ہے نہ غسل۔ اور جب وضو اور غسل نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوتی، بلکہ غسل کرنے کے باوجود عورت ناپاک کی ناپاک رہتی ہے۔ اسی طرح ناخن لمبے ہوں تو ان کے نیچے میل جم جاتی ہے اور پانی میل کے نیچے جسم تک نہیں پہنچتا۔ اس صورت میں بھی وضو اور غسل نہیں ہوتا۔ کیونکہ فقہاء نے مسئلہ لکھا ہے کہ غسل اگر فرض ہو تو جسم کا سوئی کے ناکے جتنا حصہ بھی خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوتا۔ یہی حالت وضو کی بھی ہے۔
البتہ مہندی کا مسئلہ یہ نہیں ہے کیونکہ مہندی سے جسم میں رنگت پیدا ہوتی ہے مگر لیپ نہیں ہوتا اور جسم تک پانی پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ البتہ ہونٹوں پر لگائی جانے والی سرخی اگر ایسی ہے کہ اس سے ہونٹوں پر لیپ ہو جاتا ہے اور پانی ہونٹوں کی جلد تک نہیں پہنچتا تو اس کا حکم بھی یہی ہو گا کہ غسل اور وضو نہیں ہو گا۔ اور ان تمام صورتوں میں پڑھی ہوئی نماز بھی نہیں ہو گی۔
یہاں ایک اور مسئلہ کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اگرچہ اس مسئلہ میں خود ہمارے اکابر میں بھی اختلاف ہے مگر ہمارے شیخ و مرشد حضرت مولانا حسین علی صاحب قدس اللہ سرہ اور ان کے استاذ محترم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نور اللہ مرقدہ، دونوں کا فتویٰ ہے کہ بے وضو سجدہ کرنا کفر ہے۔ اس لیے عورتوں کو اس معاملہ میں بہت احتیاط کرنی چاہیے کہ ایسی چیزوں کے استعمال سے نہ صرف یہ کہ وضو اور غسل نہیں ہوتا اور نماز ادا نہیں ہوتی بلکہ بے وضو سجدے کرنے کی وجہ سے کفر کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ عورتیں ناک میں کوکا اور کانوں میں بالیاں یا کانٹے پہنتی ہیں اور ہاتھوں میں انگوٹھی ہوتی ہے۔ وضو اور غسل میں ان سب کو اس طرح حرکت دینا ضروری ہے کہ ان کے نیچے سوراخ اور جلد تک پانی پہنچ جائے، ورنہ نہ وضو ہو گا اور نہ ہی غسل ہو گا۔
عورتوں کے لیے ایک اور بات بھی ضروری ہے کہ نماز میں ان کا سر اور بال پوری طرح ڈھکے ہوئے ہوں۔ بال اگر چوتھائی حصہ سے زیادہ ننگے ہوں گے، یا دوپٹہ باریک اوڑھا ہوا ہو گا، تو بھی نماز نہیں ہو گی، خواہ بند کمرے میں نماز پڑھیں۔ اسی طرح بازو ننگے ہوں یا کان کا چوتھا حصہ بھی ننگا ہو تو نماز نہیں ہو گی۔
یہ سب مسائل حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ’’بہشتی زیور‘‘ میں تفصیل کے ساتھ لکھ دیے ہیں۔ انہیں عورتوں کو پڑھائیں۔ ورنہ یہی عورتیں کل قیامت کے دن گریبان پکڑیں گی کہ اِن مردوں نے ہمیں دنیا کی سہولتیں تو سب فراہم کیں مگر دین کے بارے میں ہماری راہ نمائی نہیں کی۔
یہ مسئلے میں اس لیے بیان کرتا ہوں کہ یہ بیماریاں ہمارے اندر موجود ہیں اور علاج اسی بیماری کا کیا جاتا ہے جو موجود ہو۔ انسان کو بیماری کوئی اور لاحق ہو، اور طبیب علاج کسی اور بیماری کا شروع کر دے، تو اسے حکمت نہیں کہا جاتا۔ اس لیے سب دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ ان مسائل پر توجہ دیں اور ان سے اپنے گھر والوں کو اور خواتین کو بھی آگاہ کریں۔
میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ آج ہماری حاضری نکاح کے سلسلہ میں ہے۔ میرے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ منہاج الحق خان راشد کا نکاح قاری عبدالخالق صاحب کی بیٹی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ نکاح دین کے تقاضوں میں سے ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین صحابہ کرام حضرت علیؓ، حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ نے آپس میں صلاح مشورہ کیا۔ ایک نے کہا کہ میں ساری زندگی رات کو نیند نہیں کروں گا اور رات عبادت میں بسر کیا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ساری زندگی شادی نہیں کروں گا۔ اور تیسرے نے کہا کہ میں ساری زندگی بلا ناغہ روزے رکھوں گا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ باتیں سن کر فرمایا کہ میں تم سے زیادہ تقویٰ اور خدا خوفی رکھتا ہوں اور میں نے شادی بھی کی ہے، میری اولاد بھی ہے، رات کو نیند بھی کرتا ہوں اور عبادت بھی کرتا ہوں، روزے رکھتا بھی ہوں اور کبھی نہیں رکھتا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی۔
’’نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت سے اعراض کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
اس لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ شادی سنت ہے۔ بلکہ غلبۂ شہوت کی صورت میں اگر طاقت اور وسائل رکھتا ہو تو شادی فرض ہو جاتی ہے، اگر اس صورت میں شادی نہیں کرے گا تو گنہگار ہو گا۔
ایک حدیث میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’النکاح نصف الدین‘‘ نکاح دین کا نصف ہے۔ اور ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی مشترک سنت ہیں:
(۱) ان میں سے ایک مسواک ہے جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والی چیز ہے۔ خود میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ۱۹۳۴ء میں میرے دانتوں میں کیڑا لگ گیا اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ سب دانت نکلوا دیں۔ ہمارے استاذ محترم حضرت مولانا عبد القدیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’میاں مسواک کیا کرو‘‘۔ چنانچہ میں نے اسی وقت سے مسواک شروع کی اور جب تک منہ میں دانت رہے، پوری پابندی کے ساتھ مسواک کرتا رہا، اور اس کی برکت یہ ہوئی کہ اس کے بعد زندگی بھر میرے دانتوں میں کیڑا نہیں لگا۔
(۲) دوسری چیز خوشبو بیان فرمائی کہ عطر لگانا بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی مشترک سنت ہے۔
(۳) جبکہ تیسری چیز نکاح بیان کی کہ کم و بیش سبھی انبیاء کرام علیہم السلام نے نکاح کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے نکاح نہیں کیا تھا بلکہ نکاح سے پہلے ہی آسمانوں کی طرف اٹھا لیے گئے تھے۔ لیکن یہ بات ہمارے عقیدے میں شامل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، وہ آسمانوں پر موجود ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہ جب دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو ان کی شادی ہو گی اور دو بیٹے پیدا ہوں گے جن میں ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام موسیٰ رکھیں گے۔ تو نکاح بھی انبیاء کرامؑ کی سنت ہے اور دین کا تقاضا ہے۔
(۴) انبیاء کرام علیہم السلام کی چوتھی مشترک سنت بعض روایات میں حیاء اور بعض میں ختنہ بیان کی گئی ہے۔
میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
رمضان ’رمض‘ کے مادہ سے ہے جس کا معنی تپش ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں تو ویسے ہی تپش ہوتی ہے اور روزے کی تپش اس کے علاوہ ہوتی ہے۔ مفسرین اور علماء کرام فرماتے ہیں کہ روزے کی اس تپش کی وجہ سے روزے دار کے گناہ پگھل جاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی حضور علیہ الصلوٰۃ کا ارشادِ مبارک ہے ’’لکل شئی زکوٰۃ و زکوٰۃ الجسد الصوم‘‘ کہ ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے جیسے مال کی زکوٰۃ اس کا چالیسواں حصہ محتاجوں پر خرچ کرنا ہے۔ کپڑے کی زکوٰۃ یہ ہے کہ اس کو دھو کر صاف ستھرا رکھا جائے گا۔ اسی طرح انسان کے جسم کی زکوٰۃ یہ روزہ ہے۔ روزہ رکھ کر انسان اپنے جسم کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
روزہ ایک سلبی عبادت ہے کیونکہ اس میں ضبط اور صبر کرنا پڑتا ہے۔ سید علی ہجویریؒ اور بعض دیگر علماء فرماتے ہیں کہ ہر عبادت میں ریاکاری کا امکان موجود ہے۔ صرف روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریاکاری کا کوئی امکان نہیں ہوتا کیونکہ روزے کا تعلق بندے اور اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر عام لوگوں کے سامنے منہ بند رکھیں مگر غسل خانے میں جا کر پانی پی لیں تو اس کو کون جانتا ہے؟ مگر یہ بندے اور اللہ کے درمیان معاملہ ہے۔
اللہ نے روزے اگرچہ فرض قرار دیے ہیں مگر بیماروں اور مسافروں کو رعایت بھی دی ہے۔ بیمار آدمی کے لیے رعایت یہ ہے کہ وہ بیماری کے دوران روزہ نہ رکھے بلکہ تندرست ہونے پر روزہ قضا کر لے۔ مسافر بھی اگر دورانِ سفر روزہ نہ رکھ سکے، سفر کی تکلیف ہو یا سحری اور افطاری کا انتظام نہ ہو سکتا ہو، تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ جب مقیم ہو جائے تو چھوڑے ہوئے روزے رکھ لے۔ ایسا کرنے میں بیمار اور مسافر پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ روزہ رکھ لیں تو ان کے لیے اچھا ہے۔ بیمار اور مسافر کے علاوہ اس بوڑھے اور ضعیف آدمی کو بھی رعایت حاصل ہے جو اپنی زندگی کی آخری منزل میں ہے اور دس پانچ گھنٹے کا فاقہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ بھی روزہ نہ رکھے اور اس کے بدلے فدیہ ادا کر دے۔ اگر بعد میں تندرست ہو گیا تو چھوڑے ہوئے روزے قضا کرنے ہوں گے۔ اللہ نے معذوروں کے عذر کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں بھی رعایت دی ہے۔ اور باقی لوگوں پر رمضان کے انتیس یا تیس روزے فرض قرار دیے ہیں۔
روزہ اسلام کے برحق ہونے کی دلیل ہے جسے غیروں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انگریز مصنف آرنلڈ اپنی کتاب تبلیغِ اسلام (Preaching of Islam) میں لکھتا ہے کہ جو لوگ محمد (ﷺ) کے دین کو عیاشی اور آرام طلبی کا دین کہتے ہیں، وہ جھوٹے ہیں کیونکہ اس دین میں بڑے مشکل احکام بھی ہیں جن میں روزے جیسا مشکل رکن بھی موجود ہے۔
افریقی ممالک میں برصغیر کی نسبت چھ گنا زیادہ گرمی پڑتی ہے اور وہاں پر بسا اوقات دن بھی اٹھارہ انیس گھنٹے کا ہوتا ہے مگر مسلمان وہاں بھی روزے جیسے مشکل حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ اسی لیے مومن کے ایمان کو پرکھنے کے لیے گرمی کا روزہ ایک معیار ہوتا ہے۔
میں نے عرض کیا کہ روزے میں ریا نہیں آتی اور اللہ تعالیٰ نے روزے کو فرض قرار دے کر ایک مومن کو ضبط کا قانون سمجھایا ہے۔ اس سے مراد اپنے جذبات، خواہشات اور ہر چیز پر قابو پانا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ قانون کی پابندی سکھانے والی عبادت ہے۔ اس میں ضبطِ نفس یعنی انسانی اور بہیمانہ خواہشات پیدا کرنے والے محرکات پر ضبط کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ کھانا، پینا اور جنسی تعلقات ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کی خواہشات ابھرتی ہیں اور انہی تین چیزوں پر پابندی کا نام روزہ ہے۔
اللہ نے روزے میں عجیب حکمت رکھی ہے۔ یہ ایسا حکیمانہ عمل ہے جو کہ قانون سکھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر انسان رمضان کے ایک مہینے میں نفس پر ضبط کر سکتا ہے تو پھر سال کے باقی گیارہ مہینوں میں کیوں نہیں کر سکتا؟ اور اگر اس نے ایک ماہ میں قانونِ ضبط نہیں سیکھا تو پھر سارا سال انسانوں کی بجائے جانوروں کی طرح وقت گزارے گا۔ انسان وہی ہے جو ضبطِ نفس کا قانون سیکھ لیتا ہے اور پھر اس پر پورا سال عمل کرتا ہے۔
اب دیکھیے، روزے کی حالت میں ایک تندرست آدمی کے لیے کھانا، پینا اور جنسی تعلقات حرام ہو جاتے ہیں۔ یعنی حلال کمائی سے کمایا ہوا دودھ، پھل، کھانا، چائے حرام ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ منکوحہ بیوی بھی حرام ہو جاتی ہے۔ جس طرح روزے کی حالت میں یہ پابندی عائد ہے، اسی طرح باقی قوانین کی پابندی بھی لازمی ہے۔ جہاں رکنے کا حکم ہے وہاں رک جاؤ، یہی ضبطِ نفس کا قانون ہے جو روزہ سکھاتا ہے اور انسان کو انسانی اور بہیمانہ خواہشات سے روکتا ہے۔
یہ تو روزے کی ظاہری صورت ہے اور باطنی طور پر روزہ رکھنے کے لیے اس کی نیت کرنا بھی ضروری ہے۔ ہر عبادت نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے لیے نیت یعنی دل کا ارادہ ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی عبادت نیت کے بغیر ادا نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ باطنی طور پر انسان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے دل اور زبان کو قابو میں رکھے۔ یہ سب باتیں قانونِ ضبط سے تعلق رکھتی ہیں۔
امام غزالیؒ نے روزے کی حقیقت اس طرح بیان فرمائی ہے کہ روزے کے ظاہری لوازمات پورے کرنے یعنی کھانے، پینے اور جنسی تعلقات سے رک جانے کے علاوہ روزے کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ روزے کی حالت میں آنکھ کی حفاظت ضروری ہے۔ اگر روزے دار کی نگاہ غیر محرم پر پڑے گی یا کسی اور غلط جگہ پر پڑے گی تو روزے میں نقصان آئے گا۔ ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی غلط نگاہ ’’سہم من سہام ابلیس‘‘ ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو زہر میں بجھا ہوا ہے، جس جسم میں زہر آلود تیر لگے گا تو اس کو ہمیشہ کے لیے بگاڑ دے گا۔ اسی طرح اگر روزے دار کی نگاہ غلط جگہ پر پڑے گی تو روزے کا ستیاناس کر دے گی۔ روزے کی حالت میں زبان کی حفاظت بھی ضروری ہے تاکہ اس سے صرف سچی بات ہی نکلے، کوئی غلط بات اور جھوٹ نہ نکلنے پائے۔ کسی بھی بیہودہ بات اور غیبت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ روزے میں کان کی حفاظت بھی لازمی ہے، مکروہ اور فحش گانوں اور بیہودہ باتوں سے کان کو بچا کر رکھو۔ اس کی بجائے نصیحت والی اچھی بات ہی کان میں پڑنی چاہیے۔ اللہ کی کتاب اور سنتِ رسول کی سچی بات ہی کان میں آنی چاہیے۔ اسی طرح ہاتھ پاؤں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ روزے کی حالت میں اپنے اعضاء و جوارح کو برائیوں سے بچانا چاہیے۔ ہاتھ اور پاؤں کو نیکی کے کاموں میں لگانا چاہیے۔ باقی اعضاء بھی کسی برائی میں ملوث نہ ہوں۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ روزے کے لیے کھانا اتنا کھانا چاہیے جس سے بھوک مٹ جائے۔ بہت زیادہ نہیں کھانا چاہیے کہ اس طرح روزے دار روزے کی آزمائش میں پورا نہیں اتر سکے گا۔ اتنا زیادہ کھا لینا کہ دوپہر تک کھٹے ڈکار ہی آتے رہیں، یہ روزے کی روح کے منافی ہے۔ بہت زیادہ کھانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے صرف کھانے کا ٹائم ٹیبل تبدیل کیا ہے، روزے کی حقیقت کو نہیں پایا۔ پہلے اگر تین یا چار دفعہ دن میں کھاتے تھے تو اب سحری و افطاری صرف دو دفعہ رہ گیا۔ البتہ کھانے کی مقدار میں کمی نہیں آئی بلکہ کچھ زیادہ ہی ہوئی ہے۔ لہٰذا ماہِ رمضان میں کھانے کا بہت زیادہ اہتمام کرنا بھی درست نہیں ہے کہ اس سے آزمائش کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
امام غزالیؒ نے ایک یہ بات بھی سمجھائی ہے کہ روزہ رکھ کر اس کی قبولیت کے لیے بھی فکر مند ہونا چاہیے۔ جب آدمی شام کو روزہ افطار کرے تو اس کے دل میں خدشہ بھی ہو کہ ہمارا روزہ معیارِ الٰہی پر پورا بھی اترا ہے یا نہیں، اور یہ کہ یہ بارگاہِ خداوندی میں قبول بھی ہوا ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی کے کام کرنے کے باوجود ان لوگوں کے دل ڈرتے رہتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ انہیں رب تعالیٰ کے سامنے لوٹ کر جانا ہے۔ اگر ان کی عبادت قبول نہ ہوئی تو یہ ضائع چلی جائے گی۔ گویا عبادت کرنے کے باوجود انہیں اس کی قبولیت کے متعلق دھڑکا لگا رہتا ہے۔ اسی لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادت کو قبول کر لے۔
سلف صالحین تو اسی انتظار میں رہتے تھے کہ ماہِ رمضان آئے تاکہ وہ روزے رکھ کر اس کی عبادت و ریاضت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تو رمضان کی آمد سے دو ماہ پہلے ہی انتظار شروع کر دیتے تھے اور مضطرب رہتے تھے کہ کہیں رمضان کی برکات سے محروم نہ رہ جائیں۔ اس ماہِ مبارک کا جتنا بھی وقت مل جائے، اس کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔
روزے کی حالت میں انسان کے پیٹ میں کھانے پینے یا دوائی کی قبیل سے کوئی چیز نہیں پہنچنی چاہیے۔ البتہ اگر کوئی شخص بھول کر کچھ کھا پی لے تو روزے میں کوئی نقصان نہیں آتا۔ اگر کھانے کے بعد پتہ چلا کہ میں نے بھول کر کھا لیا ہے تو پھر قے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا نے کھلا پلا دیا ہے۔ آئندہ احتیاط رکھے۔ قے کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر خودبخود آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اگر خود کوشش کر کے قے کرے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور آدمی کو قضا کرنی ہو گی۔
مسلم پرسنل لاء اور بھارتی مسلمانوں کی جدوجہد
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ
۲۸، ۲۹ اور ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو بمبئی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا تیرہواں سالانہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے ہزاروں علماء کرام اور لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ شرکاء اجلاس نے ’’کامن سول کوڈ‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی کے عزم کا اظہار کیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سربراہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی دامت برکاتہم علالت اور ضعف کی وجہ سے اس اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، البتہ ان کی طرف سے مندرجہ ذیل خطبۂ صدارت مولانا محمد عبد اللہ نے اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔ (ادارہ)
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین وخاتم النبیین محمد وآلہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان و دعا بدعوتہم الیٰ یوم الدین۔
حضرات سامعین کرام!
ہم مسلمانوں نے پورے عزم کے ساتھ سوچ سمجھ کر اپنے وطن ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے اس فیصلہ کو ارادۂ الٰہی کے سوا کوئی طاقت نہیں بدل سکتی۔ ہمارا یہ فیصلہ کسی کم ہمتی، مجبوری، بے چارگی پر مبنی نہیں۔ ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔
ہمارا دوسرا فیصلہ یہ ہے (جو عزم اور قطعیت میں پہلے فیصلہ سے کسی طرح کم اور غیر اہم نہیں) کہ ہم اس ملک میں اپنے پورے عقائد، دینی شعائر، قانونِ شریعت اور اپنی پوری مذہبی و تہذیبی خصوصیات کے ساتھ رہیں گے۔
ہم ان میں سے کسی ایک نقطہ سے بھی دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس ملک کے باشندے کی حیثیت سے ہمیں یہاں آزادی اور عزت کے ساتھ رہنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ اس ملک کی جمہوریت اور دستور و آئین کا بھی فیصلہ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی خصوصیات، قانون و شریعت، احکامِ دین، اپنے عقائد و شعائر، اپنی زبان و تہذیب اور اپنی ان چیزوں کو چھوڑ کر، جو ہم کو عزیز ہیں، اس ملک میں رہیں۔ اس طرح رہنے سے یہ وطن، وطن نہیں بلکہ ایک جیل خانہ اور قفس بن جاتا ہے جس میں گویا پوری قوم کو زندگی کی عزتوں اور لذتوں سے محروم رکھ کر سزا دی جاتی ہے۔
ہمارا خمیر ضرور اس ملک میں تیار ہوا ہے اور یہ خاک ہم کو بہت عزیز ہے، لیکن ہماری تہذیب ابراہیمی ہے۔ اور مسلمان جس ملک میں رہے گا، اس کی وطنیت خواہ کچھ ہو، اس کی تہذیب ابراہیمی ہو گی۔ ہم یہاں زندہ اور باعزت انسانوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ ہم اس ملک میں آزاد ہیں۔ اس کی تعمیر و ترقی اور دستور سازی میں شریک ہیں۔ اس لیے اس کا کوئی سوال نہیں کہ ہم دوسرے درجہ کے شہریوں کی طرح زندگی بسر کریں۔ اپنے ملک میں آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا ہر شخص کا فطری، انسانی، اخلاقی اور قانونی حق ہے۔ اور اس حق کو جب بھی چھیننے کی کوشش کی گئی تو اس کے ہمیشہ سنگین نتائج نکلے۔ زندگی اور موت بھی اسلام پر ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام اور ایمان پر قائم رہنے کی کوشش کریں، اسی پر اپنی زندگی گزاریں اور جب موت آئے تو اسی دین و ملت پر آئے۔
ولا تموتن الا وانتم مسلمون (آل عمران)
’’تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘
اسی کی وصیت ابراہیم و یعقوب علیہما السلام نے اپنی اولاد کو کی کہ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
ووصیٰ بھا ابراھیم بنیہ ویعقوب یا بنی ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون (البقرہ)
’’اسی طریقہ پر چلنے کی ہدایت ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوبؑ نے اپنی اولاد کو کی۔ انہوں نے کہا تھا، میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا۔‘‘
شریعتِ اسلامی نے ایک مسلمان کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک اس کے انتظامات کیے ہیں اور ایسا ماحول تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے جس میں مسلمان اس حقیقت کو فراموش نہ کر پائے، اس کو ہر وقت یاد رہے کہ اس کا تعلق اس دینِ ملت سے ہے جس کے داعی ابراہیم اور محمد علیہما السلام تھے، جس کی بنیاد توحید پر ہے اور وہ ایک الگ امت ہیں۔ مسلمان جس وقت بھی پیدا ہوتا ہے، اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، اس کا اسلامی نام رکھا جاتا ہے، ناموں میں ان ناموں کو ترجیح دی گئی ہے جن میں عبدیت و حمد کا اظہار ہے، اس سے ابراہیمی سنتیں ادا کرائی جاتی ہیں، اور جب مرتا ہے تو سب اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اپنے لیے اور سب مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔
اللھم من احییتہ منا فاحیہ علی الاسلام ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان۔
’’اے اللہ ہم میں سے تو جس کو زندہ رکھے، اس کو ایمان پر زندہ رکھیو، اور جس کو موت دے تو اس کو ایمان کے ساتھ دنیا سے اٹھائیو۔‘‘
یہاں تک کہ قبر میں اتارتے ہوئے اور آخری ٹھکانے پر پہنچاتے ہوئے بھی یہی لفظ زبان پر ہوتے ہیں۔
بسم اللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ۔
’’اللہ کے نام پر اور رسول اللہ کے دین و ملت پر۔‘‘
اس کا مقصد اور پیغام یہ ہے کہ ہمیں اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اور زندگی کی ہر منزل پر اس کو یا رکھنا ہے کہ ہم ملتِ ابراہیمی اور امتِ محمدی کے فرد اور ایک مخصوص شریعت اور آئین و مسلکِ زندگی کے پیرو اور خدا کے موحد اور وفادار بندے ہیں۔ ہماری زندگی بھی اسی آئین و مسلک کی وفاداری میں گزرے اور ہمیں موت بھی اسی حال میں آئے۔ ہماری موجودہ نسلیں بھی اسی راستہ پر گامزن رہیں اور ہماری آئندہ نسلیں بھی اسی صراط مستقیم پر چلیں۔
ملتِ ابراہیمی اور دینِ محمدی کی اس دعوت کو آج صراحت اور تعین کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اس تہذیب کی دعوت ہے جس کی بِنا ابراہیم علیہ السلام نے ڈالی اور تکمیل و تجدید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ اجتماع و اخلاق میں اس کے معین اصول ہیں۔ یہ فرد کی حریت اور فلاح کی ضامن ہے۔ چند معین عقائد، معین اصولوں اور معین کرداروں نے اس کو وجود بخشا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مشترکہ دعوت اور میراث ہے اور اس کے سوا کوئی تیسری چیز خدا کو قبول نہیں ؎
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
(اقبالؒ)
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے ایمان و عقیدہ کا جز ہے کہ ان کا عائلی قانون (Family Law) اسی خدا کا بنایا ہوا ہے جس نے قرآن اتارا اور عقائد و عبادات کا قانون عطا کیا۔ سارا قرآن مجید ان تصریحات سے بھرا ہوا ہے، مسلمان اس عقیدہ پر ایمان لانے پر مجبور ہیں اور اس کے بغیر وہ مسلمان نہیں رہ سکتے۔ اس کا مطلب یہ کہ یہ قانون خدائے علیم و خبیر کا بنایا ہوا ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور اس کائنات کا بھی۔ وہ فطری ضرورتوں اور کمزوریوں دونوں سے واقف ہے، وہ فرماتا ہے:
الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔
’’کیا وہی آگاہ نہ ہو گا جس نے پیدا کیا ہے، وہ تو (بڑا ہی) باریک بین ہے اور (پورا) باخبر ہے۔‘‘
اسی طرح وہ زمانہ کا خالق ہے۔ ہمارے لحاظ سے ماضی، حال و مستقبل کی تقسیم کتنی ہی صحیح اور ضروری ہو، اس کے لحاظ سے سب ماضی ہی ماضی ہے۔ اس لیے ایک بار یہ مان لینے کے بعد کہ وہ خدا کا بنایا ہوا قانون ہے، جو ایک زندہ جاوید امت اور ایک عالمگیر اور دائمی شریعت کے لیے بنایا گیا ہے، تو ترمیم و تبدیلی کی ضرورت کا مطالبہ ایک کھلے منطقی تضاد (اور جہاں تک مسلمان کہلانے والے اشخاص کا تعلق ہے) ایک اعتقادی و علمی نفاق کے سوا کچھ نہیں۔ پھر معاملہ صرف ایمان بالغیب اور مذہبی عقیدت اور عصبیت کا نہیں، اس قانون کے مکمل متوازن اور عادل ہونے اور زمان و مکان کی تبدیلی پر حاوی ہونے کے عقلی و علمی شواہد اور مسلم و غیر مسلم، مشرقی و مغربی فضلاء، جری و انصاف پسند مقننین کے واضح اعترافات اور عملی تجربے اتنے ہیں کہ کوئی ’’شپرہ چشم‘‘ ہی ان سے انکار کر سکتا ہے۔ اس موضوع پر متعدد نامور فضلاء نے قلم اٹھایا ہے اور بڑا قیمتی مواد جمع کر دیا ہے۔
ہندوستان میں جب یہ مسئلہ اٹھا اور دیکھنے والوں کو یہ نظر آیا کہ افق پر خطرہ کی علامتیں نمایاں ہو گئی ہیں اور یہ بادل جو ابھی کسی کسی وقت گرجتا ہے، کسی وقت ضرور برسے گا، تو انہوں نے ’’مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ کے نام سے دسمبر ۱۹۷۲ء میں بمبئی میں ایک متحدہ پلیٹ فارم بنایا جس سے وقتاً فوقتاً قانون سازی کی نوعیت اور اس کے رخ کا جائزہ لیا جاتا رہے اور مسلمانوں کی رائے عامہ کو بیدار رکھنے کا سامان کیا جاتا رہے تاکہ اچانک ان پر یہ یا کوئی دوسرا مسئلہ شب خون نہ مارنے پائے۔ یہ ایک ایسا نمائندہ بورڈ تھا جس کی مثال اپنی وسعت اور عمومیت اور مختلف مکاتبِ خیال کی نمائندگی کے لحاظ سے تحریکِ خلافت کے بعد نہیں ملتی۔ ۱۹۴۷ء کے بعد اتنے بڑے اجتماعات دیکھنے میں نہیں آئے۔ اس بورڈ کی تشکیل اور اس کے ان شاندار اور بے نظیر جلسوں کا اتنا اثر ضرور ہوا کہ حکومت اور مسلم پرسنل لاء میں اصلاح و ترمیم کی آواز بلند کرنے والے حضرات کو ہوا کا رخ معلوم ہو گیا، اور اتنا ثابت ہو گیا کہ مسلمان اس مسئلہ پر صد فیصد متفق ہیں۔ اس لیے دانش مندی، حقیقت پسندی اور انتخابی سیاست کا بھی تقاضا ہے کہ اس مسئلہ کو اٹھانے میں احتیاط کی جائے۔
حضرات! یہ دین جو ہم تک پہنچا ہے اور جس دولت کے ہم آپ امین اور (محافظ کا لفظ تو بہت بڑا ہے) اس دولت کے حامل ہیں، وہ دین ہمیں دانشوروں، سماجی خدمت گاروں، اصلاحی کام کرنے والوں (Reformers) یا بانیانِ سلطنت کے ذریعہ نہیں پہنچا ہے۔ یہ سارے گروہ قابلِ احترام ہیں لیکن کسی دین میں — اور کسی تہذیب، نظامِ فکر و دبستانِ خیال (School of Thought) اور خالص مطالعہ، غور و فکر اور تجربہ کے نتائج میں — ایک حدِ فاصل، سرحدی لکیر (Line of Demarcation) ہوتی ہے جو ایک کو دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ اس خط کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حدِ فاصل یہ ہے کہ آسمانی مذاہب (ادیان) ان برگزیدہ افراد کے ذریعہ پہنچے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے منصب سے سرفراز فرمایا تھا اور جن پر وحی آتی تھی۔
اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے خلط مبحث (Confliction) ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ نادانستہ طریقہ پر ان مذاہب سے توقع، اور بعض اوقات آگے بڑھ کر ایسی چیز کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں، جن کی ان مذاہب میں گنجائش اور ان کا کوئی جواز نہیں۔ وہ بعض اوقات ان کی تشریح کا فرض اپنے ذمہ لے لیتے ہیں، اپنی وسعتِ مطالعہ اور وسعتِ اظہار کے لیے وہ مذاہب کی ترجمانی ایسی کرنے لگتے ہیں جیسے کہ یہ نرے فلسفے یا انسانوں کے بنائے ہوئے تہذیب و تمدن کے نظام اور سماجی تجربے اور معاشرتی نظریات ہیں۔ یہ ہے وہ غلطی جو نادانستہ طریقہ پر بعض بڑے ذمہ دار اور سنجیدہ لوگوں سے ہوتی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ دین اور غیر دین میں حدِ فاصل اور امتیازی نشان کیا ہے۔
فلسفۂ سماجیات (Social Sciences) کا علم، تہذیب و تمدن (Civilization)، سوسائٹی اور انسانی معاشرہ، یہ سب اپنی جگہ حقائق ہیں، ہم ان کا انکار نہیں کرتے، ان کا احترام کرتے ہیں اور اپنے ذمہ ان کو حقوق سمجھتے ہیں۔ خود مسلم ملت ایک معاشرہ، تہذیب و تمدن اور فکر و دانش کا ایک مستقل مدرسہ (School of Thought) بھی ہے، لیکن اس کی جو اصل حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک ’’دین‘‘ ہے۔ اور اس دین کو دنیا میں پیش کرنے والے اور اس کو بروئے کار لانے والے، اس کو ہماری زندگی میں داخل کرنے والے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ اور (یہ دین) ان کی زبان اور ان کا طرزِ فکر نہیں، اس کا بنیادی چشمہ ان کے دماغ میں نہیں تھا بلکہ ان سے باہر اور ان سے بلند تھا، اور وہ ان کے لیے اسی درجہ قابلِ احترام اور قابلِ اطاعت تھا جیسے ہمارے آپ کے لیے اور سارے امتیوں کے لیے۔
وما ینطق عن الہویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ (النجم)
’’اور وہ خواہشِ نفس سے منہ سے بات نہیں نکالتے ہیں۔ یہ (قرآن) تو حکمِ خدا ہے (اور ان کی طرف بھیجا جاتا ہے)۔‘‘
ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان ولٰکن جعلناہ نورا نھدی بہ من نشآء من عبادنا و انک لتھدی الیٰ صراط مستقیم (الشوریٰ)
’’آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب (اللہ) کیا چیز ہے، نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا انتہائی کمال) کیا چیز ہے، لیکن ہم نے اس (قرآن) کو ایک نور بنایا جس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، ہدایت کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ایک سیدھے رستہ کی ہدایت کر رہے ہیں۔‘‘
وحی و نبوت کا فرق اساسی فرق ہے۔ ہمیں غیر مسلم بھائیوں اور غیر مسلم فضلاء سے زیادہ شکوہ نہیں کہ وہ وحی و نبوت کے عہد سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ ان کے مفہوم سے بہت سے حضرات ناآشنا ہیں۔ بعثتِ محمدی سے پہلے خود عربوں کا یہی حال تھا۔ اس میں نہ کسی ذہانت کا انکار ہے اور نہ کسی کی نیت پر حملہ ہے۔ ایک تاریخی یا نفسیاتی تجزیہ ہے کہ جو شخص نبوت اور وحی کی حقیقت سے واقف نہیں اور یہ نہیں جانتا کہ اس کا کیا مرتبہ اور حق ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ کس چیز کی متقاضی ہے، وہ مسلمانوں کے بارہ میں مشورہ دینے یا فیصلہ کرنے کا اخلاقی یا قانونی طور پر مجاز نہیں۔
دوسری ضروری بات یہ ہے کہ دینِ اسلام کے دائرہ کو سمجھ لیا جائے۔ اس بارہ میں مذاہب میں خود اختلاف ہے اور اس میں درجوں کا فرق ہے۔ کئی مذاہب ایسے ہیں کہ وحی و نبوت سے ان کا آغاز ہونے کے باوجود انہوں نے مذہبی زندگی کو ایک خاص دائرہ میں محدود کر لیا ہے، مثلاً عبادات کے دائرہ میں۔ لیکن اسلام کا معاملہ یہ نہیں ہے، اسلام میں دین کا دائرہ پوری زندگی پر محیط ہے۔ یہ ایک اساسی حقیقت ہے جو عبد و معبود کے تعلق کو سمجھے بغیر سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ ہر مسلمان خدا کا فرمانبردار بندہ ہے اور اس کا تعلق خدا سے دائمی ہے، عمومی ہے، عمیق بھی ہے اور وسیع بھی ہے، غیر محدود بھی ہے اور جامع بھی۔ قرآن شریف میں ہے:
یا ایھا الذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم کآفۃ ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین (البقرہ)
’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو، وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے۔‘‘
میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان اگر مسلم پرسنل لاء (شرعی، عائلی قانون) میں تبدیلی قبول کر لیں گے تو آدھے مسلمان رہ جائیں گے۔ اس کے بعد خطرہ ہے کہ آدھے مسلمان بھی نہ رہیں۔ فلسفۂ اخلاق، فلسفۂ نفسیات اور فلسفۂ مذاہب کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ مذہب کو اپنے مخصوص نظامِ معاشرت و تہذیب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کا ایسا فطری تعلق اور رابطہ ہے کہ معاشرت مذہب کے بغیر صحیح نہیں رہ سکتی اور مذہب معاشرت کے بغیر مؤثر و محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کا نتیجہ ہو گا کہ آپ مسجد میں مسلمان ہیں (اور مسجد میں کتنی دیر مسلمان رہتا ہے، اپنے سارے شوقِ عبادت کے باوجود؟) اور گھر میں مسلمان نہیں، اپنے معاملات میں مسلمان نہیں، اپنے عائلی و خاندانی روابط و تعلقات میں مسلمان نہیں، حقوق کی ادائیگی اور ترکہ کی تقسیم میں مسلمان نہیں۔
اس لیے ہم اس کی بالکل اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے اوپر کوئی دوسرا نظامِ معاشرت، نظامِ تمدن اور عائلی قانون مسلط کیا جائے۔ ہم اس کو دعوتِ ارتداد سمجھتے ہیں اور ہم اس کا اس طرح مقابلہ کریں گے جیسے دعوتِ ارتداد کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اور یہ ہمارا شہری، جمہوری اور دینی حق ہے۔ اور ہندوستان کا دستور اور جمہوری ملک کا آئین اور مفاد نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتا ہے کہ جمہوریت کی بقا اپنے حقوق کے تحفظ اور اظہارِ خیال کی آزادی اور ہر فرقہ اور اقلیت کے سکون و اطمینان میں مضمر ہے۔
یہاں سے یہ عہد کر کے جائیے کہ اب قانونِ شریعت پر آپ چلیں گے۔ یہ جہیز کیا مصیبت ہے؟ لڑکے والوں کی طرف سے مطالبات کی ایک لمبی چوڑی فہرست پیش ہوتی ہے، شرائط پیش کیے جاتے ہیں، ان کے پورا نہ ہونے پر یہ معصوم لڑکیاں جلا دی جاتی ہیں۔ ملک میں سیکڑوں واقعات پیش آتے ہیں۔ صرف دہلی میں ہر بارہ گھنٹے پر ایک نئی بیاہی دلہن کو جلا کر مار ڈالا جاتا ہے (قومی آواز، دہلی۔ ۱۰ جون ۱۹۸۴ء)۔ کیا اس کائنات کے خالق اور نوعِ انسانی کے مربی (جس کی مخلوق مرد و عورت دونوں ہیں) کو یہ چیز گوارا ہو سکتی ہے؟ کیا اس ظلم کے ساتھ کوئی ملک کوئی معاشرہ پنپ سکتا ہے؟ خدا کی رحمت و نصرت کا مستحق ہو سکتا ہے؟ آپ رحمۃ للعالمین کی امت ہیں، آپ کے ہوتے ہوئے دوسروں کو بھی اس کی ہمت نہیں ہونا چاہیے تھی۔ میں نے دہلی کے ایک جلسہ میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون (الانفال)
’’اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں تھے، انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخشش مانگیں اور وہ انہیں عذاب دے۔‘‘
آپ رحمۃ للعالمین کی امت ہیں، آپ کے ہوتے ہوئے ہندوستانی سماج میں، ہندوستان کے معاشرہ اور سوسائٹی میں یہ ظلم ہو؟ اس کو عقل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ کے ہوتے بھی یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، چہ جائیکہ آپ کے ہاتھوں ہو۔ عہد کیجیے کہ آپ اسلامی طریقہ پر شریفانہ انسانی طریقہ پر شادی کا پیام دیں گے، آپ لڑکی مانگیں گے، اپنے لیے رفیقہ حیات کی تلاش کریں گے، بیٹے کے لیے پیام دیں گے تو جہیز کے لیے آپ کے بڑھے چڑھے مطالبات نہیں ہوں گے کہ ہمیں یہ ملنا چاہیے، وہ ملنا چاہیے۔ لڑکوں کو اور ان کے وارثوں اور بزرگوں کو اس کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے یہاں تو کیا، ہم اس ملک سے اس رسم کو ختم کر دیں گے۔
عربوں کی دولت پر مغربی ممالک کی عیاشی
مولانا محمد عیسٰی منصوری
ملتِ اسلامیہ اپنی چودہ سو سالہ تاریخ کے کسی بھی دور میں اس قدر بے حیثیت، بے بس، کمزور، دشمنانِ اسلام کے لئے لقمہ تر اور ذلت و نکبت کا شکار نہیں تھی جتنی آج ہے۔ کہنے کو تو پچپن کے قریب مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر موجود ہیں، کرۂ ارض کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی ملتِ اسلامیہ پر مشتمل ہے، اور قدرت نے اپنے خزانوں سے پٹرول سمیت تمام نعمتوں سے اس دھرتی کو نواز رکھا ہے، مگر ان سب کے باوجود دنیا میں پوری ملتِ اسلامیہ کی حیثیت اتنی بھی نہیں جتنی یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سوئٹزرلینڈ کی ہے۔ پچپن ملکوں کے مسلم وزراء خارجہ کے جمع ہونے کی خبر عالمی میڈیا میں اتنی جگہ بھی نہیں پاتی جتنی کسی عام یہودی کے قتل یا زخمی ہونے کی خبر۔ یورپ کے قلب (بوسنیا) میں مسلسل چھ ماہ تک اس ملت کی ایک لاکھ کے قریب بیٹیوں کی عصمت دری اور لاکھوں مسلمانوں کے ذبح کیے جانے پر کفر کی اجازت کے بغیر کسی مسلم ملک کے سربراہ نے زبانی احتجاج بھی نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کی اجازت کے بغیر لیبیا اور عراق کے مسلمان فریضہ حج تک ادا نہیں کر سکتے۔
ملتِ اسلامیہ کی اس بے حیثیتی، ذلت و زبوں حالی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ہمارے حکمران ہیں جن کی باگ ڈور مغربی آقاؤں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس وقت عالمی صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا پر کفر کا اقتدارِ اعلیٰ اور غلبہ ہے۔ مسلم دنیا پر مغرب کے اشاروں پر رقصاں ایسے بے حمیت حکمرانوں کا تسلط ہے جو ظلم کے خلاف بولنے والی زبان اور ظلم کو روکنے کے لیے اٹھنے والے ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اور اسلام کی سربلندی کے لیے سوچنے والے سر قلم کر دیتے ہیں۔
موجودہ دور کو اقتصادی دور کہا جاتا ہے۔ یعنی اب قوموں اور ملکوں کی فتح و شکست کا فیصلہ عسکری میدان کے بجائے اقتصادی میدان میں ہوتا ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں، سوویت یونین عسکری طور پر دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا مگر جیسے ہی اس کا اقتصادی ڈھانچہ کمزور ہوا، وہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا۔ اس صدی کی پانچویں دہائی میں اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا پر کنٹرول کی چابی یعنی کالا سونا (پٹرول) مسلمانوں کو عطا کیا۔ ۱۹۷۳ء میں مشہور امریکی جریدے ٹائمز نے لکھا تھا کہ اقتصادیات کے سارے راستے ریاض (سعودی دارالخلافہ) کی طرف جاتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عربوں کو پٹرول کے سیال خزانے دے کر انہیں پوری دنیا پر کنٹرول کرنے کے لیے فیصلہ کن اقتصادی حیثیت عطا فرما دی تھی، جس سے نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کی تقدیر بدلی جا سکتی تھی۔ گویا دنیا میں اقتصادی دور کے شروع ہونے سے پہلے اس کی شاہ کلید عربوں کو عطا کر دی گئی تھی، مگر اس نعمتِ خداوندی کی یہ قدر کی گئی کہ آج پٹرول کے نرخ بھی مغرب کے اشاروں پر مقرر ہوتے ہیں۔
عرب وزرائے تیل اوپیک کے اجلاس میں جانے سے پہلے امریکہ سے احکامات لے کر جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جس پٹرول کے دام ۱۹۷۴ء میں ۳۴ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے تھے، اب کم ہوتے ہوئے ۹ ڈالر فی بیرل ہیں۔ جبکہ ان پچیس سالوں میں مغرب کے اسلحہ، مشنریوں، ساز و سامان کی قیمت کم از کم پانچ گنا بڑھی ہے۔ آج عربوں سے جو پٹرول ۹ ڈالر میں لیا جاتا ہے، وہ یہاں ہمیں کئی سو ڈالر میں بیچا جاتا ہے، یعنی سینکڑوں گنا نفع انگریزوں کی جیب میں جاتا ہے۔ لیکن مغربی میڈیا پٹرول کی گرانی کا سارا الزام عربوں پر رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کا آٹھ سو بلین ڈالر سے زائد سرمایہ مغرب کے بینکوں میں پڑا ہے جسے بظاہر کبھی نہیں نکالا جا سکے گا۔ گزشتہ ۳۰ سال سے اس سرمایہ کے بل بوتے پر مغرب نے پوری دنیا پر اقتصادی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ اتنی خطیر رقم ہے کہ اس کی سالانہ زکوٰۃ بیس ملین ڈالر بنتی ہے جو پوری ملتِ اسلامیہ کی معاشی بدحالی دور کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔ مگر یہ حسرت ناک منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ چند ماہ پہلے سعودی عرب پانچ بلین ڈالر کا سودی قرض حاصل کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہا تھا۔
خلیجی جنگ کے بعد سے ہر سال سعودی بجٹ کا خسارہ بڑھتا جا رہا ہے جو اس سال اس قدر زیادہ ہو گیا کہ ساؤتھ افریقہ کے ساتھ کئی سال پہلے اسلحہ کا جو سودا ہوا تھا، اس کی قیمت ادا کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے اسے منسوخ کرنا پڑا۔ سعودی حکومت ہر سال تقریباً بیس بلین ڈالر کا اسلحہ خریدتی ہے اور دس بلین ڈالر فاضل پرزوں پر خرچ کرتی ہے۔ اس طرح تیس بلین ڈالر ہر سال مغرب کے خزانوں میں پہنچ جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تمام اسلحہ اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کرنے کی شرط پر بیچا جا رہا ہے۔ پورے خطہ میں اسرائیل کے سوا سب مسلم ملک ہی ہیں اور سعودی عرب کے حساس اسلحہ پر کنٹرول امریکہ یعنی یہود و نصاریٰ کا ہے۔ مغرب مختلف بہانوں سے سعودی عرب کو اس اسلحہ کی خریداری پر مجبور کرتا ہے۔ یہ اتنی خطیر رقم ہے کہ اگر ایک سال کی رقم صحیح خرچ کی جائے تو پوری دنیا کے مسلمانوں کے اقتصادی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا جا رہا ہے کہ وہ مسلم ملکوں میں امیر ترین شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ۲۶ فروری ۱۹۹۹ء کے فنانشل ٹائمز نے سعودی عرب کی اقتصادی حالت پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے اسلحہ کی سب سے بڑی کمپنی برٹش ایروسپیس کا چودہ فیصد کاروبار سعودیہ پر منحصر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کمپنی کے ساڑھے پانچ ہزار ماہرین کو سعودی عرب میں فروخت کردہ اسلحہ کی نگرانی اور سروس کے لیے نہایت اعلیٰ مشاہروں پر روزگار دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی مالی حالت خصوصاً خلیج کی جنگ کے بعد یہ ہو چکی ہے کہ اسلحہ کی قیمت نقد ادا کرنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے اب روزانہ چھ لاکھ بیرل پٹرول برطانیہ کو دیا جا رہا ہے۔ سعودی کرنسی (ریال) دنیا کی مستحکم ترین کرنسی شمار کی جاتی تھی، اب اس کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے ۲۵ فروری ۱۹۹۹ء کو سعودی عرب نے ایک بلین ڈالر خرچ کیے، اس کے بعد ۹ مارچ ۱۹۹۹ء کو دوبارہ ایک بلین ڈالر خرچ کیے۔ ریال کی قیمت اب بھی خطرے میں ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کے محفوظ ذخائر صرف سات بلین ڈالر رہ گئے ہیں، جبکہ بھارت جیسے ملک کے ذخائر بڑھ کر تیس بلین ڈالر سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس سال ۱۹۹۹ء کے سعودی بجٹ کے اخراجات میں بارہ فیصد کٹوتی کے باوجود بجٹ کا خسارہ ۹.۴ فیصد ہے۔ تیسری دنیا کے غریب ممالک کے بجٹ کا خسارہ بھی اتنا نہیں ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ اگر کسی گھر سے مسلسل سامان نکال کر باہر منتقل کیا جاتا رہے تو ایک وقت ایسا آئے گا جبکہ گھر میں کچھ نہیں بچے گا۔ یہی حال ان عرب ملکوں کا ہے۔ گزشتہ تیس سال سے مسلسل ان ملکوں کا سرمایہ مغرب کے بینکوں اور کمپنیوں میں منتقل ہو رہا ہے۔
فائنینشل ٹائمز ہی کی ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق تیل کی دولت سے مالامال ملکوں کی موجودہ اقتصادی صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب و خلیجی ریاستوں کی پچیس ملین نفوس پر مشتمل ملکوں کی سالانہ آمدنی اب محض ۲۳۵ بلین ڈالر رہ گئی ہے۔ جبکہ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سوئٹزرلینڈ — جس کی آبادی صرف ۶ ملین نفوس پر مشتمل ہے اور جس کے پاس پٹرول جیسی نعمت بھی نہیں — سالانہ آمدنی ۲۶۰ بلین ڈالر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی ڈیڑھ فیصد آبادی کے آٹھ سو بلین ڈالر سے زیادہ مغربی بینکوں میں رکے پڑے ہیں جنہیں بینک استعمال کر کے مسلسل اپنی ثروت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
آج دنیا کا ہر ملک صنعتی ترقی میں آگے بڑھنے کے لیے اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی خاطر ہزار جتن کر رہا ہے، مگر مسلم عرب ملکوں نے اپنے ملکوں کو صنعتی قوت بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ بھارت کی آبادی سو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں دس بلین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی بدولت اس کی صنعتی ترقی کھلی آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ سرمایہ فی الحقیقت اس کا ہوتا ہے جو اس کو سنبھالتا ہے۔ عربوں کے سرمایہ کے بل بوتے پر آج یہودی پوری دنیا کے مالک و آقا بن بیٹھے ہیں۔ فائنینشل ٹائمز کا یہی مضمون نگار مزید لکھتا ہے کہ اب ان عرب ملکوں کی پچیس سالہ خوشحالی اور مزے کی ہالی ڈے یا پکنک پوری ہو چکی ہے۔ ان کی نئی نسل کو سخت ترین حالات و تلخ حقائق کا سامنا ہے، لیکن عوام اور نئی نسل کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔
ملتِ اسلامیہ کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ سعودی عرب و خلیج کی ریاستیں مغرب کے شکنجہ میں اس بری طرح جکڑی جا چکی ہیں کہ ان کے کسی حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کر سکتیں۔ چند سال پہلے مغرب نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں خلیج کی جنگ کے جال میں پھانسا۔ اس جنگ کی قیمت امریکہ ایک سو بیس بلین ڈالر سے زیادہ مختلف طریقوں سے پہلے ہی وصول کر چکا ہے۔ یہ ممالک مسلسل اپنی حفاظت و بقا کا ٹیکس (جزیہ) برابر ادا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم امریکی فوجیوں کی (جو حرمین شریفین سے چند منٹ کے ہوائی فاصلہ پر ہر قسم کی حرام کاریوں میں مصروف ہیں) امریکی معیار کے مطابق تنخواہیں اور بے شمار دیگر مراعات سعودی عرب سے وصول کی جا رہی ہیں۔ نیز اسے ہر سال کئی بلین ڈالر کا مزید اسلحہ خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سعودی سرمایہ سے خریدا گیا امریکی اسلحہ امریکی فوجوں کے لیے ہے۔ جبکہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی آخری وصیت یہود و نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکالنے کی تھی، جسے سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں عملی جامہ پہنایا گیا۔ چودہ سو سال کے بعد اس مقدس سرزمین پر یہود و نصاریٰ کے ناپاک قدم پہنچ چکے ہیں۔ یہ صورتحال ہر مسلمان کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے۔
ادھر چند ماہ سے امریکہ نے ان ملکوں پر گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے عراق سے پھر چھیڑخانی شروع کر رکھی ہے۔ ظاہر ہے، اس کے اخراجات بھی اِن ملکوں ہی سے اصول کیے جائیں گے۔ ماضی میں جب کبھی سی آئی اے نے جنوبی امریکہ کی حکومتوں کا تختہ الٹ کر اپنی منشا کی حکومت لانے کی منصوبہ بندی کی، اور اخراجات کی امریکی کانگریس نے منظوری نہیں دی، تو وہ اخراجات سعودی عرب سے وصول کیے گئے۔
یہ حقیقت ہے کہ سعودی حکومت یعنی خاندانِ آل سعود نے حرمین شریفین کی تعمیر و تزئین پر بڑی فراخ دلی سے بڑی دولت خرچ کی ہے، جس سے حج و عمرہ کرنے والوں کو بڑی راحت و سہولت پہنچی ہے۔ اسی طرح خاندانِ آل سعود کا یہ کارنامہ بھی سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ انہوں نے حرمین شریفین کو صحیح معنی میں توحید و سنت کا مرکز بنایا، توہم پرستی اور جاہلی رسوم و رواج (شرک و بدعات) کے مظاہر اس مقدس سرزمین سے ختم کیے۔ نیز اس سے قبل ترکی دور میں حرمِ مکہ میں چار مصلوں (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) پر جو الگ الگ جماعت ہوتی تھی، اسے ختم کر کے تمام مسلمانوں کو ایک امام پر جمع کر کے ملتِ اسلامیہ کی یکجہتی کو فروغ دیا۔
ان باتوں پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو سعودی عرب کے موجودہ حکمران خاندان کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حرمین شریفین پر جتنا خرچ ہو رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ سعودی مملکت میں صرف فٹ بال کے کھیل پر خرچ ہو رہا ہے۔ دوسرے اخراجات کی بھی کوئی حد و انتہا نہیں۔ مغربی ممالک میں کون سی مشہور جگہ ہے جہاں ان کے کروڑوں اربوں کے پیلس (محل) نہ ہوں۔ حرمین کو شرک و بدعت کے مظاہر ہے پاک کرنا یقیناً ایک مستحسن اقدام ہے مگر سیاسی و اجتماعی صورتحال یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ مکہ مکرمہ، اور سعودیہ کا قبلہ امریکہ بن چکا ہے۔ مختلف مسلک کے مصلے حرمِ مکہ سے ختم کر کے یکجہتی کو فروغ دینا بلاشبہ قابلِ تعریف اقدام ہے، مگر ساتھ ہی ملت کی اجتماعیت اور سیاسی حیثیت کو نقصان سے بچانا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
مغربی ذرائع کے مطابق سعودیہ نے امریکہ کے اشارے پر سوڈان کی اسلامی حکومت کے خلاف وہاں کے باغی عیسائیوں کو اسلحہ فراہم کیا۔ شمالی و جنوبی یمن کے اتحاد کے خلاف کروڑوں ریال کے خرچ سے جلاوطن کمیونسٹ حکومت بنائی گئی۔ اور اب افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے امریکی فارمولے پر عمل کروانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اگر ہم طویل عرصہ کے سعودی عرب کے سیاسی کردار کا خلاصہ ایک جملے میں ادا کرنا چاہیں تو وہ یہ ہو گا کہ ’’غریب مسلم ملکوں کی مالی امداد کر کے انہیں امریکہ کی غلامی پر راضی کرنا۔‘‘
دستاویزات کی روشنی میں اب یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ مصر کے مرحوم صدر سادات کا کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ ہو، یا یاسر عرفات کا موجودہ فلسطین اسرائیل سمجھوتہ، ان سب کے پیچھے سب سے بڑی حقیقت ہمارے حکمرانوں کا مغرب نواز کردار ہے۔
عرصہ دراز سے دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے نام پر سعودی سرمایہ میرے خیال میں نمائشی چیزوں پر صَرف ہو رہا ہے۔ جس میں سرفہرست یورپ اور امریکہ میں لاکھوں کروڑوں ڈالر کی لاگت سے عالی شان مساجد کی تعمیر بھی ہے۔ چند ماہ پہلے ایڈنبرا میں دو ملین پونڈ کی لاگت سے ایک شاندار مسجد تعمیر کی گئی۔ اس مسجد کے افتتاحی دن کی تقریب پر تخمیناً اتنی ہی رقم خصوصی طیاروں، فائیو سٹار ہوٹلوں، مرسڈیز کاروں اور نمود و نمائش کی نذر ہو گئی۔ کون نہیں جانتا کہ موجودہ دور میں دین کے نام پر دی جانے والی امداد درحقیقت سیاسی لابنگ کے لیے ہوتی ہے۔
گزشتہ پچیس سال میں دنیا بھر کے پچاس مسلم ملکوں نے برطانیہ میں اپنی لابنگ پر جتنی رقم صَرف کی، اس سے کہیں زیادہ اس مقصد کے لیے سعودی عرب نے خرچ کی، تقریباً بیس کروڑ پونڈ کے لگ بھگ۔ مگر سعودی عرب کی اس خطیر مالی امداد سے برطانیہ میں مسلمانوں کا کوئی اجتماعی اہم مسئلہ ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ یہ ساری امداد ایسے اداروں، مساجد اور افراد کو دی گئی جن کی بدولت برطانیہ میں ایسے مولویوں کی پوری کھیپ تیار ہو چکی ہے جن کا ایمان سعودی عرب کی ثناخوانی اور وفاداری بن چکا ہے۔ اب تو رمضان اور عیدین کا چاند بھی سعودی عرب سے برآمد ہونے لگا ہے۔
ہم یہ باتیں اپنے زخمی دل پر پتھر رکھ کر لکھ رہے ہیں۔ عموماً ہمارے حکمرانوں کے کرتوت ہر صاحبِ حمیت مسلمان کو تڑپانے والے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے حکمران خدائے واحد پر بھروسہ کر کے مغرب کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ہر دردمند مسلمان کی دلی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو اتنی عقل دے کہ وہ یہود و نصاریٰ کے آلۂ کار بننے کے بجائے محمدؐ رسول اللہ کے وفادار بنیں۔
قرآنی علوم کے ارتقائی مراحل
مولانا ظفر احمد اعظمی
علوم قرآن سے مراد وہ تمام علوم ہیں جن کا تعلق قرآن کریم سے ہے، جیسے علم تفسیر، علم قراءۃ، اسباب نزول و شان نزول کی معرفت، ناسخ و منسوخ کا علم، مکی و مدنی سورتیں، نزول قرآن میں سورتوں و آیتوں کی ترتیب، جمع قرآن اور اس کی کتابت، اعجاز قرآن وغیرہ وغیرہ۔ اور موجودہ زمانہ میں مستشرقین کے اعتراضات جو وحی اور قرآن پر ہیں ان کے جوابات، یہ سب بھی علوم قرآن کے اندر داخل ہوں گے۔ اس طرح علوم قرآن کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا۔
لیکن یہ علم کب وجود میں آیا اور کن مراحل سے گزرتا ہوا ہم تک پہنچا؟ اس کو جاننے کے لیے نزول قرآن کے وقت سے اب تک کے تمام ادوار کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اس پورے زمانے کو پہلے ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: (۱) دور تمہید (۲) دور تدوین اور اس کے مختلف مراحل۔
دورِ تمہید
قرآن کریم رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کے جمع کرنے اور بیان کرنے کی ذمہ داری لے لی گئی۔
ان علینا جمعہ و قرانہ۔ فاذا قراناہ فاتبع قرانہ۔ ثم ان علینا بیانہ۔ (القیامہ ۱۷۔۱۹)
ترجمہ: ’’بے شک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوانا، تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپؐ اس کے تابع ہو جایا کیجیے، پھر اس بیان کر دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔‘‘
صحابہ کرامؓ صحیح عربیت کا ذوق رکھنے کی وجہ سے قرآن کے مطالب، اوامر و نواہی کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آیت کا شان نزول کیا ہے اور کس موقع پر قرآن کی کون سی آیت نازل ہوئی۔ انہیں جب کسی آیت کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے اور آپؐ سے اس کی تفسیر معلوم کرتے۔ چنانچہ جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مہتدون۔ (الانعام ۸۲)
ترجمہ: ’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا، ایسوں ہی کے لیے تو امن ہے۔‘‘
تو صحابہ کرامؓ کو تشویش ہوئی اور کہا ’’اینا لم یظلم نفسہ؟‘‘ ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے اوپر ظلم نہیں کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ظلم سے مراد شرک باللہ ہے۔ چنانچہ قرآن کی دوسری آیت میں ہے:
ان الشرک لظلم عظیم۔ (لقمان ۱۳)
ترجمہ: ’’بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘
اس طرح دور رسالتؐ اور دور صحابہؓ میں علوم قرآن کی تدوین کی کوئی حاجت نہیں تھی۔ پھر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی اکثریت ناخواندہ تھی کہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، اور ان کے علم کا سارا دارومدار قوت حافظہ پر تھا۔ نیز یہ بات بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو قرآن کے علاوہ دوسری چیزوں کے لکھنے سے منع کر دیا تھا کہ مبادا قرآن کے ساتھ کسی دوسری چیز کا اختلاط ہو جائے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تکتبوا عنی و من کتب غیر القرآن فلیمحہ وحدثوا عنی و لا حرج و من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ فی النار۔
ترجمہ: ’’میری طرف سے قرآن کے علاوہ دوسری چیزوں کو مت لکھو۔ جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہے تو اس کو مٹا دو۔ میری طرف سے بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور جس نے قصدا میری طرف سے جھوٹ کہا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘
اس طرح عہد رسالت میں علوم قرآن کا دارومدار ایک دوسرے سے تلقی اور سماع پر رہا۔ ابتدائی تدوین قرآن عہد صدیقی میں حضرت عمرؓ کے مشورہ سے ہوا۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کے زمانۂ خلافت میں عرب و عجم کا اختلاط زیادہ ہوا تو انہوں نے اسی مصحف صدیقی کی مختلف نقلیں کرا کر مختلف ملکوں کو روانہ کر دیں اور یہ بھی حکم جاری فرما دیا کہ اس کے علاوہ جو قرآن کے نسخے ہوں، انہیں جلا دیا جائے، مبادا امت میں اس کی وجہ سے اختلاف پیدا ہو۔ یہ حضرت عثمانؓ کی فراست ایمانی تھی جو کہ انہوں نے یہ حکم دیا۔
ہمارے موضوع سے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت عثمانؓ نے کتابت کے سلسلے میں بعض بنیادی چیزیں بتائیں، جنہیں بعد میں چل کر علم رسم قرآن یا علم رسم عثمانی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اسی طرح پر حضرت عثمانؓ کو علم رسم قرآن کا موسس یا واضع کہا جا سکتا ہے۔ نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابوالاسود الدولی (متوفی ۶۹ھ) کو عربی زبان کی سلاست و صحت کے لیے بعض قواعد کو مرتب کرنے کو کہا، تو اس بنا پر حضرت علیؓ کو علم اعراب کا موسس کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ علوم قرآن کے واضعین اور موسسین میں مندرجہ ذیل حضرات ہیں:
- صحابہ کرامؓ میں سے خلفائے اربعہؓ، ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ، زید بن ثابتؓ، ابی بن کعبؓ، ابو موسی اشعریؓ، اور عبد اللہ بن زبیرؓ۔
- تابعین میں سے مجاہدؒ، عطاء بن یسارؒ، عکرمہؒ، قتادہؒ، حسن بصریؒ، سعید بن جبیرؒ، اور زید بن اسلمؒ۔
- اور تبع تابعین میں سے حضرت مالک بن انسؒ کو کہا جا سکتا ہے، جنہوں نے حضرت زید بن اسلمؒ سے یہ علم حاصل کیا۔
یہ تمام حضرات ان علوم کے بانی اور موسس ہیں جنہیں اب ہم علم تفسیر، علم اسباب نزول، علم مکی و مدنی، علم ناسخ و منسوخ، علم غریب القرآن کے نام سے موسوم کرتے ہیں، یا مجموعی طور پر علوم قرآن کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
دورِ تدوین
دور تدوین کو ہم نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے:
- پہلا دور دوسری صدی ہجری پر ختم ہوتا ہے، اس دور میں علم تفسیر کے علاوہ دوسرے علوم قرآن شروع نہیں ہوئے تھے۔
- دوسرا دور تیسری صدی ہجری سے شروع ہوتا ہے، جب تفسیر کے علاوہ دوسرے علوم قرآن کی بھی تدوین شروع ہوئی۔ یہ دور آٹھویں صدی ہجری پر ختم ہوتا ہے، اس میں ہر صدی کی مشہور کتابوں کا ذکر ہے جو اس موضوع پر لکھی گئیں۔
- تیسرا دور آٹھویں صدی ہجری سے شروع ہو کر نویں صدی ہجری پر ختم ہوتا ہے، اس دور میں علوم قرآن میں بہت سے جدید علوم داخل ہوئے، جیسے امثال القرآن اور جدل القرآن وغیرہ۔
- چوتھا دور دسویں صدی ہجری سے شروع ہوتا ہے اور موجودہ زمانہ کو بھی شامل ہے، یہ دور اخیر ہے۔
پہلا دور
جب علوم کی تدوین کا دور شروع ہوا تو سب سے پہلے علم تفسیر کو مدون کیا گیا کہ وہ تمام علوم قرآنیہ کی اصل اور بنیاد ہے۔ دوسری صدی ہجری کے جن علماء کرام نے اس فن کی طرف توجہ کی اور اس میں کتابیں تصنیف کیں، ان میں سے سر فہرست شعبہ بن الحجاج محدث بصرہؒ، سفیان بن عیینہؒ جو اہل حجاز کے تفسیر و حدیث میں امام کہلاتے ہیں، اور وکیع بن الجراحؒ جو عبد اللہ بن المبارکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے استاذ ہیں۔ ان حضرات نے علم تفسیر سے شغل رکھا، ان کی تفسیرات صحابہ کرامؓ اور تابعین کے اقوال و آراء کی جامع ہیں۔
پھر انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ابن جریر طبریؒ (متوفی ۳۱۰ھ) نے اپنی تفسیر لکھی، جس میں احادیث صحیحہ، اعراب، استنباط مسائل کا ذکر کیا۔ وہ نہج، جس کو ابن جریر طبریؒ اور اس سے پہلے کے مفسرین نے اختیار کیا، یعنی صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال و آراء پر اکتفا کیا، تفسیر کے اس طرز کو تفسیر بالماثور کہا جاتا ہے۔
اسی دور میں تفسیر کا دوسرا نہج بھی شروع ہوا، جس کو تفسیر بالرائے کہا جاتا ہے۔ پھر قرآن کی مختلف تفسیریں لکھی گئیں، کسی نے مکمل قرآن کی تفسیر لکھی، کسی نے ایک جز، ایک سورہ، اور کسی نے خاص خاص آیتوں کی، مثلا تفسیر آیات الاحکام، جس کو تفسیر موضوعی بھی کہا جاتا ہے۔
دوسرا دور
اس دور میں تفسیر کے علاوہ دوسرے علوم قرآن کی تصنیف و تالیف ہوئی اور علماء کرام نے خاص طور پر اس کی طرف توجہ کی۔
چنانچہ تیسری صدی ہجری میں علی بن المدینیؒ، جو امام بخاریؒ کے شیخ ہیں، انہوں نے اسباب نزول پر، اور ابوعبید القاسم بن سلامؒ نے ناسخ و منسوخ اور قراءۃ و فضائل قرآن پر لکھا، اور محمد بن ایوب الفریسؒ (۲۹۴ھ) نے مکی و مدنی سورتوں کے بارے میں لکھا، اور محمد بن خلف بن المرزبانؒ (۳۰۹ھ) نے اپنی کتاب الحاوی فی علوم القرآن تصنیف کی، ابن ندیمؒ نے الفہرست میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ ۲۷ اجزاء پر مشتمل ہے۔
واضح رہے کہ قرآن کے متعلق سارے علوم کے لیے ’’علوم القرآن‘‘ کا لفظ بطور اصطلاح کے سب سے پہلے محمد بن خلف بن المرزبانؒ نے اپنی کتاب ’’الحاوی فی علوم القرآن‘‘ میں استعمال کیا۔
چوتھی صدی ہجری میں ابوبکر محمد بن القاسم الانباریؒ (۳۲۸ھ) نے ’’عجائب علوم القرآن‘‘ تالیف کی، جس میں انہوں نے فضائل قرآن، قرآن کا سات حرفوں پر نزول، مصاحف کی کتابت، سورتوں اور آیتوں کی تعداد، نیز کلمات قرآنی کی تعداد پر بحث لکھی۔ ابوالحسن اشعریؒ (۳۲۴ھ) نے ایک عمدہ کتاب ’’المختزن فی علوم القرآن‘‘ کے نام سے لکھی۔ ابوبکر السجستانیؒ نے ’’فی غریب القرآن‘‘ اور ابو محمد القصاب محمد بن علی الکرخیؒ نے ’’نکت القرآن الدالۃ علی البیان فی انواع العلوم والاحکام المنبئۃ عن اختلاف الانام‘‘ تصنیف کی، اور محمد بن علی الادفویؒ (۳۸۸ھ) نے ’’الاستغناء فی علوم القرآن‘‘ بیس جلدوں میں لکھی۔
پانچویں صدی ہجری میں ابو الحسن علی بن ابراہیم بن سعید الحوفیؒ (۴۳۰ھ) نے ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ اور ’’اعراب القرآن‘‘ نامی دو کتابیں تصنیف کیں۔ ابو عمرو الدانیؒ (۴۴۴ھ) نے ’’التیسیر فی القراءات السبع‘‘ اور ’’المحکم فی النقط‘‘ لکھیں۔
چھٹی صدی ہجری میں ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ، جو السہیلیؒ (۵۸۱ھ) کے نام سے مشہور ہیں، انہوں نے ایک کتاب ’’تنبیہات القرآن‘‘ لکھی۔ حاجی خلیفہؒ نے اپنی کتاب ’’کشف الظنون‘‘ میں اس کا نام ’’التعریف والاعلام بما ابہم فی القرآن من الاسماء والاعلام‘‘ بتایا ہے، نام سے کتاب کی غرض و غایت بھی معلوم ہو جاتی ہے۔
علامہ ابن الجوزیؒ (۵۹۷ھ) نے بھی دو کتابیں ’’فنون الافنان فی عیون علوم القرآن‘‘ اور ’’المجتبی فی علوم تتعلق بالقرآن‘‘ لکھیں۔
ساتویں صدی ہجری میں عز الدین ابن عبد السلامؒ (۶۶۰ھ) نے مجاز القرآن کے متعلق ایک کتاب ’’الاشارۃ الی الایجاز فی بعض انواع المجاز‘‘ لکھی۔ علم الدین السخاویؒ (۶۴۳ھ) نے ’’جمال القراء وکمال الاقراء‘‘ اور ابو شامہ المقدسیؒ (۶۶۵ھ) نے ’’المرشد الوجیز فیما یتعلق بالقرآن العزیز‘‘ لکھی۔
تیسرا دور
اس دور میں سابقہ علوم قرآن کے ساتھ ساتھ علوم قرآن سے متعلق کچھ نئے گوشے رونما ہوئے، جیسے بدائع القرآن، حجج القرآن، اقسام القرآن اور امثال القرآن وغیرہ۔ بدیع کے جو انواع قرآن کریم میں وارد ہوئے ہیں، اس موضوع پر ابن ابی الاصبع المصریؒ (۶۵۴ھ) نے ایک مستقل کتاب ’’بدیع القرآن‘‘ لکھی۔ حجج القرآن یا علم جدل القرآن — یعنی قرآن میں براہین اور ادلہ کے جو انواع مذکور ہیں — اس موضوع پر نجم الدین الطوفیؒ (۷۱۶ھ) نے ایک کتاب لکھی۔ اقسام القرآن پر متقدمین علماء میں سے ابن القیمؒ (۷۵۱ھ) نے ’’التبیان فی اقسام القرآن‘‘، اور متاخرین علماء میں سے مولانا حمید الدین فراہیؒ نے اپنی کتاب ’’امعان فی اقسام القرآن‘‘ لکھی۔ امثال القرآن کی بہت سی مثالیں ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘، جو علامہ سیوطیؒ کی ہے، اس کی ۶۸ ویں نوع میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
آٹھویں صدی ہجری میں بدر الدین الزرکشیؒ (۷۹۴ھ) نے ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ لکھی، جو استاد محمد ابو الفضل ابراہیمؒ کی تحقیق کے ساتھ چار جلدوں میں شائع ہوئی۔
نویں صدی ہجری میں جلال الدین البلقینیؒ (۸۲۴ھ) نے ’’مواقع العلوم فی مواقع النجوم‘‘ تصنیف کی۔ پھر جلال الدین سیوطیؒ (۹۱۱ھ) نے ’’التبحیر فی علوم التفسیر‘‘ اور ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ لکھیں۔ مؤخر الذکر کتاب میں الزرکشیؒ کی ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ سے بڑی حد تک مدد لی گئی ہے۔
چوتھا دور
نویں صدی ہجری کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ پھر بہت سے علماء نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور مختلف تصنیفات دنیا کے سامنے آئیں۔ کسی نے تاریخ القرآن پر لکھا اور کسی نے علوم قرآن اور متعلقات قرآن پر۔ شیخ طاہر الجزائریؒ نے ’’التبیان لبعض المباحث المتعلقۃ بالقرآن‘‘، شیخ محمد جمال الدین القاسمیؒ نے مقدمۂ تفسیر ’’محاسن التاویل‘‘، شیخ محمد عبد العظیم الزرقانیؒ نے ’’مناہل العرفان فی علوم القرآن‘‘، اور شیخ محمد علی سلامہؒ نے ’’منہج الفرقان فی علوم القرآن‘‘ لکھیں۔
عربی زبان و ادب کے استاد کبیر مصطفی صادق الرافعیؒ نے ’’اعجاز القرآن والبلاغۃ النبویۃ‘‘، استاد سید قطبؒ نے ’’التصویر الفنی فی القرآن‘‘، اور استاد مالک بن نبیؒ نے ’’الظاہرۃ القرآنیۃ‘‘ لکھی، جس میں مسئلۂ وحی پر بہت عمدہ بحث کی گئی ہے۔
علامہ رشید رضا مصریؒ کی ’’تفسیر القرآن الحکیم‘‘ — جو ’’تفسیر المنار‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے — اس کے مقدمے میں بھی علوم قرآن پر بہت عمدہ مواد موجود ہے۔ جدید کتابوں میں ڈاکٹر محمد عبد اللہ درازؒ کی دو کتابیں ’’النبا العظیم‘‘ اور ’’نظرات جدیدۃ فی القرآن‘‘، شیخ محمد الغزالیؒ کی کتاب ’’نظرات فی القرآن‘‘، استاد محمد المبارک (عمید کلیہ الشریعہ جامعہ دمشق) کی کتاب ’’المنہل الخالد‘‘، ڈاکٹر مناع القطان کی کتاب ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘، ڈاکٹر صبحی الصالح کی کتاب ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘، اور شیخ محمد علی الصابونیؒ کی کتاب ’’التبیان فی علوم القرآن‘‘ قابل ذکر ہیں۔
امت اسلامیہ کا دائرہ وسیع ہونے کی وجہ سے عربی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی اس موضوع پر کتابیں وجود میں آئیں۔ ہمارے ہندوستانی علماء میں سے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’الفوز الکبیر‘‘ جو اصلا فارسی میں لکھی گئی ہے، وہ علوم قرآن ہی کے موضوع پر ہے۔ ابھی چند سال ہوئے اس کی عربی زبان میں مولانا سعید احمد صاحب پالنپوری استاذ دارالعلوم دیوبند نے ’’العون الکبیر‘‘ کے نام سے بہت عمدہ شرح لکھی ہے۔
موجودہ زمانہ میں علوم قرآن کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سی چیزوں کا انکشاف اور مختلف چیزوں کی تسخیر دنیا کے سامنے آئی تو بہت سے لوگوں نے قرآن اور تسخیر کائنات کے موضوع پر قلم اٹھایا۔ ان ساری بحثوں کو علوم قرآن ہی کے دامن میں جگہ ملنی چاہیے۔ ایسے ہی اعدائے اسلام نے جو قرآن کے اوپر اعتراضات کیے ہیں اور علمائے اسلام نے ان کے مختلف زبانوں میں جوابات دیے ہیں، یہ ساری بحثیں بھی علوم قرآن سے متعلق سمجھی جائیں گی۔ اس طرح علوم قرآن کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔
یہ علوم قرآن کے متعلق چند سطریں ہیں، اس کا مقصد اس موضوع پر لکھی گئی ساری کتابوں کا استقصاء یا احاطہ نہیں ہے، اور یہ اس جیسے چھوٹے مضمون میں ممکن بھی نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ یہ علم ہم تک کن مراحل سے گزرتا ہوا پہنچا ہے اور علمائے اسلام نے اس ایک موضوع پر کس طرح کتابیں لکھی ہیں، اور امت اسلامیہ کبھی بھی ایسے علماء کرام سے خالی نہیں رہی ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)
معاشرہ میں دینی مدارس کا کردار اور اہمیت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۳۰ نومبر ۱۹۹۹ء کو جامعہ اسلامیہ کامونکی کی نوتعمیر شدہ مسجد شہداء میں نماز باجماعت کے آغاز اور جامعہ کے ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر ایک باوقار تقریب ہوئی جو ظہر سے مغرب تک جاری رہی۔ تقریب کی صدارت استاد العلماء حضرت مولانا قاری محمد ظریف صاحب فاضل دیوبند نے کی جبکہ پیر طریقت حضرت مولانا پیر عبد الرحیم نقشبندی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، پنجاب یونیورسٹی کے دائرہ معارف اسلامیہ کے مدیر ڈاکٹر محمود الحسن عارف، مولانا خورشید احمد گنگوہی، مولانا سعید الرحمان احمد، قاری محمد عالمگیر رحیمی، حافظ فیاض احمد بٹ اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا اور جامعہ اسلامیہ کے بانی و مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی نے جامعہ کی کارکردگی اور عزائم سے شرکائے محفل کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر مولانا زاہد الراشدی نے ’’معاشرہ میں دینی مدارس کی اہمیت اور کردار‘‘ کے عنوان پر جو گفتگو کی اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ الشریعہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی اور ان کے رفقاء کو جامعہ کی جدوجہد میں مسلسل پیش رفت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مولانا فاروقی نے اپنی رپورٹ میں ہسپتال اور دیگر حوالوں سے جن عزائم کا ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں وقت کے تقاضوں اور آنے والے دور کی ضروریات کا احساس بیدار ہو رہا ہے، اگرچہ اس کی رفتار بہت سست ہے جو ہمارے عمومی مزاج کا حصہ ہے تاہم یہ خوشی کی بات ہے کہ وقت کی ضرورتوں کا احساس پیدا ہو رہا ہے اور انہیں پورا کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ اس وقت کسی تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ہے اس لیے اختصار کے ساتھ اس درسگاہ اور اس جیسی ہزاروں دینی درسگاہوں کے حوالہ سے ایک دو ضروری باتیں عرض کرنا چاہوں گا، اس لیے کہ آج دینی مدارس اور درسگاہیں دنیا بھر کی اعلیٰ دانش گاہوں، اداروں، لابیوں اور میڈیا سنٹروں کا موضوع بحث ہیں اور معاشرہ میں ان کے کردار اور ضرورت کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ یہ درسگاہیں جنہیں دینی مدارس کے نام سے یاد کیا جاتا ہےاس سطح پر موضوع گفتگو ہیں کہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ جیسے نشریاتی ادارے ان کے بارے میں پروگرام پیش کرتے ہیں، ایمنسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ان کے بارے میں رپورٹیں جاری کرتے ہیں، بین الاقوامی پریس ان مدارس کے کردار کو موضوع بحث بنا رہا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ امریکہ کی کانگریس میں گزشتہ دنوں یہی دینی مدارس زیربحث آئے ہیں اور ان کی بندش کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ان مدارس کے حقیقی کردار سے آپ حضرات بھی واقف ہوں اور اسی خیال سے چند معروضات پیش کر رہا ہوں۔
- ان مدارس پر الزام ہے کہ یہ نئی پود کو مستقبل کی بجائے ماضی سے جوڑ رہے ہیں اور ترقی اور پیش رفت کی بجائے پسپائی کا سبق دے رہے ہیں۔
- ہمارے ہاں ایک اور بات بھی کہی جاتی ہے کہ ان مدارس سے تیار ہونے والی کھیپ کی معاشرہ میں کھپت نہیں ہے اور یہ بیکاروں کا ایک ایسا طبقہ پیدا کر رہے ہیں جو سوسائٹی کے کسی شعبے میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کوئی مالک اپنی فیکٹری میں ایسا مال تیار نہیں کرتا جس کی مارکیٹ میں مانگ نہ ہو اور کوئی کاشتکار اپنے کھیت میں ایسی فصل نہیں بوتا جس کی منڈی میں طلب اور کھپت نہ ہو مگر یہ مدارس دھڑا دھڑ ایسے افراد تیار کرتے جا رہے ہیں جن کی معاشرہ کے کسی شعبہ میں نہ طلب ہے اور نہ ہی کھپت ہے، اس لیے ان مدارس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
الزامات کی فہرست بڑی لمبی ہے اور شکایات کا سلسلہ بہت طویل ہے لیکن وقت مختصر ہے اس لیے ان میں سے صرف دو الزامات کا آج کی محفل میں جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ یہ مدارس آج کی تہذیب اور ورلڈ کلچر کے خلاف نئی نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں اور دوسرا یہ کہ ان مدارس کے تیار کردہ افراد کی معاشرہ کے کسی شعبہ میں کھپت نہیں ہے۔
جہاں تک ورلڈ کلچر اور جدید تہذیب کے خلاف نئی پود کی ذہن سازی کا تعلق ہے میں اس الزام کو قبول کرتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آج کے ورلڈ کلچر کو جو ویسٹرن سولائزیشن کی جدید شکل ہے تسلیم نہیں کرتے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے دینی مدارس کا بنیادی مشن ہی یہ ہے کہ نئی پود کو ویسٹرن سولائزیشن کا شکار ہونے سے بچایا جائے اور صرف اپنے نوجوانوں کو نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو ہم اس ورلڈ کلچر سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ اس کلچر نے انسانیت کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا ہے اور انسانی اخلاق و اقدار اور رشتوں کے تقدس کا جنازہ نکال دیا ہے۔ میں ان مغرب والوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ ہمیں کس کلچر اور تمدن کی دعوت دیتے ہیں اور کس سولائزیشن کو ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ ان کے ورلڈ کلچر نے آج انسانی سوسائٹی کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے کم و بیش سب ملکوں میں ہم جنس پرستی اور مرد کا مرد کے ساتھ جنسی تعلق قانونی طور پر جائز قرار پا چکا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ برطانیہ کی ایک عدالت میں مقدمہ چلتا رہا جس میں ایک مرد نے دعویٰ کیا کہ اس کا ایک اور مرد کے ساتھ جنسی تعلق تھا اور وہ دونوں ایک جوڑے کے طور پر اکٹھے رہتے تھے، اب اس کے پارٹنر کا انتقال ہوگیا ہے اس لیے اسے اپنے مرنے والے پارٹنر کی بیوی تسلیم کر کے اس کا قانونی طور پر وارث قرار دیا جائے۔ ابھی دو تین ہفتے قبل یہ خبر میں نے اخبارات میں پڑھی ہے کہ عدالت نے اس کا موقف تسلیم کر لیا ہے اور اسے مرنے والے ساتھی کا وارث قرار دے دیا گیا ہے۔
ہم اس کلچر کو تسلیم نہیں کرتے جس کلچر کی وجہ سے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر خدائی عذاب نازل ہوا تھا اور سدوم اور عمورہ جیسی بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا تھا۔ یہ کلچر انسانیت کی تباہی کا کلچر ہے، انسانی اخلاق و اقدار کی بربادی کا کلچر ہے اور خدا کی لعنت اور عذاب کو دعوت دینے والا کلچر ہے جس کے خلاف جدوجہد کو ہم اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ آج انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ نسل انسانی کو اس بربادی سے بچایا جائے اور اسے ان انسانی اخلاق و اقدار کی طرف واپس لایا جائے جن کی بنیاد آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی پر ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ دینی مدارس یہی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔
دوسرا الزام یہ ہے کہ مدارس جو طبقہ پیدا کر رہے ہیں اس کی معاشرہ میں کھپت نہیں ہے اور یہ معاشرہ کی کوئی ضرورت پوری نہیں کر رہے اس لیے ان مدارس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ الزام قطعی طور پر غلط ہے اور میں آپ حضرات کی خدمت میں یہ جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مدارس معاشرہ کی کون سی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں اور ان مدارس کے پیدا کردہ افراد سوسائٹی کے کون سے خلا کو پر کر رہے ہیں۔ اس کے لیے میں حکومت پاکستان کے ایک اعلان کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو کم و بیش تین سال قبل وفاقی محتسب اعلیٰ کے ایک حکم کے بعد کیا گیا تھا کہ حکومت ملک بھر کے پرائمری اسکولوں میں قرآن کریم کی لازمی ناظرہ تعلیم کا انتظام کرے گی۔ یہ دینی تعلیم کی سب سے نچلی سطح اور سب سے کم تر درجہ ہے کہ ایک مسلمان کم از کم قرآن کریم ناظرہ پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس لیے جب حکومت نے سرکاری سطح پر پرائمری سکولوں میں قرآن کریم کی لازمی ناظرہ تعلیم کی ذمہ داری قبول کی تو ہم بہت خوش ہوئے کہ سب سے نچلی اور عمومی سطح پر ہی سہی مگر حکومت نے اس سلسلہ میں کسی ذمہ داری کا احساس تو کیا ہے۔ اس کو معمولی سطح پر میں اس حوالہ سے کہہ رہا ہوں کہ یہ کام ہمارے ہاں بالکل معمولی درجہ کا سمجھا جاتا ہے، حتیٰ کہ یہ کام وہ ہے جو دیہات میں بعض عورتیں اپنے گھروں میں بیٹھی ہوئی کرتی رہتی ہیں کہ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو ناظرہ قرآن کریم پڑھا دیں اور بہت سی عورتیں ایسی ہیں کہ جیسا بھی قرآن کریم ان کو پڑھنا آتا ہے وہ محلے کے بچوں کو پڑھانے کی کوشش کرتی ہیں۔
چنانچہ ہماری حکومت نے ملک میں قرآن کریم کی تعلیم کا انتظام کرنے کی ذمہ داری اس سطح پر قبول کی لیکن تین چار سال گزر جانے کے باوجود ملک کے پرائمری اسکولوں میں آج تک اس کا انتظام نہیں ہو سکا اور اس وقت بھی سرکاری پرائمری اسکولوں میں یہ سلسلہ موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ محکمہ تعلیم کے ذمہ دار حضرات سے دریافت کی گئی تو جواب ملا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا ہے کیونکہ ملک بھر میں پرائمری اسکولوں کی جو تعداد ہے اگر فی اسکول دو استاذ بھی مہیا کیے جائیں تو اتنی تعداد میں قرآن کریم کے اساتذہ مہیا کرنا مشکل ہے اور اگر استاذ کہیں سے مل بھی جائیں تو انہیں تنخواہ دینے کے لیے بجٹ میں رقم نہیں ہے اس لیے یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے۔
دوسری طرف اس بات کا جائزہ بھی لے لیجئے کہ ملک میں مسجدوں کی تعداد پرائمری اسکولوں سے کم ہے یا زیادہ؟ میرا اندازہ ہے کہ ملک بھر میں مساجد اگر بہت زیادہ نہیں تو مجموعی طور پر پرائمری اسکولوں سے پانچ گنا زیادہ تعداد میں تو یقیناً ہوں گی۔ ان مساجد میں خطیب فراہم ہو رہے ہیں، امام مل رہے ہیں، قرآن کریم پڑھانے والے استاذ مل رہے ہیں اور اب رمضان المبارک قریب ہے اور ہر مسجد میں قرآن کریم تراویح میں سنانے کے لیے نہ صرف حافظ میسر ہوگا بلکہ سامع بھی ملے گا۔ حتیٰ کہ بعض علاقوں میں حافظوں کی تعداد مساجد کی تعداد سے بڑھ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کھیپ کہاں سے آرہی ہے؟ یہ کھیپ نہ آسمان سے نازل ہوتی ہے اور نہ زمین سے اگتی ہے بلکہ یہی دینی مدارس ہیں جو معاشرے کی اتنی بڑی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ اور جس کام کی ذمہ داری قبول کرنے سے پورے ملک کا ریونیو وصول کرنے والی اور قومی بجٹ کنٹرول کرنے والی حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں اس قوی ضرورت کو یہ دینی مدارس پورا کر رہے ہیں۔
اور پھر یہ بھی دیکھیے کہ ان دینی مدارس کے بجٹ کو سرکاری تعلیمی اداروں کو دیے جانے والے بجٹ کے ساتھ کوئی نسبت ہے؟ آپ حضرات تصور بھی نہیں کر سکتے کہ قرآن کریم پڑھانے والے استاذ کتنے تھوڑے وظیفے پر کتنی لمبی ڈیوٹی دیتا ہے؟ قرآن کریم پڑھانے والا ایک صحیح استاذ صبح سحری کے وقت بچوں کو لیے بیٹھا ہوتا ہے، نماز فجر کے بعد پڑھاتا ہے، ظہر کے بعد پڑھاتا ہے، مغرب کے بعد پڑھاتا ہے اور رات سردیوں میں لمبی ہو تو عشاء کے بعد بھی گھنٹہ ڈیڑھ کے لیے بچوں کو لے کر پھر بیٹھ جاتا ہے۔ اتنی لمبی ڈیوٹی پر اس کو تنخواہ کتنی ملتی ہے، آپ کسی ایسے استاذ سے پوچھ کر دیکھ لیں۔ پھر آپ نے کبھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ قاریوں نے تنخواہ کم ہونے کی وجہ سے ہڑتال کر دی ہے، حافظوں نے قرآن کریم سنانے سے انکار کر دیا ہے یا اماموں نے نماز پڑھانے سے معذرت کر دی ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ جو طبقہ اتنے تھوڑے بجٹ کے ساتھ، اس قدر معمولی وظیفوں پر اور انتہائی صبر و ایثار کی فضا میں قوم کی اتنی بڑی ضرورت کو پورا کر رہا ہے اور اتنے بڑے خلا کو پر کیے ہوئے ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ معاشرے میں اس کی ضرورت نہیں ہے اور دینی مدارس کے پیدا کردہ افراد کی سوسائٹی میں کوئی کھپت نہیں ہے۔
اس مختصر جائزے کے بعد ایک اور بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب دینی مدارس کے خلاف اتنی اعلیٰ سطح پر باتیں ہوتی ہیں کہ امریکہ اور اقوام متحدہ سے مطالبے آنے لگتے ہیں اور حکومتیں دھمکیاں دینے اور خوف زدہ کرنے پر اتر آتی ہیں تو بعض دوست پریشان ہو جاتے ہیں کہ ان مدارس کا کیا بنے گا؟ میں ان سے عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مدارس کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور یہ اسی طرح اپنا کام کرتے رہیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس لیے کہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن کریم کی قیامت تک حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ وہ قرآن کریم کی حفاظت کرے گا تو اس سینے کی بھی حفاظت کرے گا جس میں قرآن کریم موجود ہے اور اس سسٹم اور نظام کی حفاظت بھی کرے گا جو قرآن کریم کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال سے بات سمجھانا چاہتا ہوں کہ دو دوست ایک جگہ بیٹھے دودھ پی رہے ہیں، ایک دوست اپنا دودھ کا گلاس رکھ کر دوسرے سے کہتا ہے کہ میں دو چار منٹ کے لیے ضروری کام سے جا رہا ہوں، میری واپسی تک دودھ کی حفاظت کرنا تاکہ کوئی جانور اسے پی نہ جائے۔ اب وہ دوسرا شخص اپنے دوست کے آنے تک دودھ کی حفاظت کر رہا ہے تو ظاہر ہے کہ صرف دودھ کی نہیں بلکہ اس گلاس یا پیالے کی حفاظت بھی کر رہا ہے جس میں دودھ موجود ہے، اس طرح دودھ کے ساتھ ساتھ اس برتن کی حفاظت خود بخود ہو رہی ہے۔ اس لیے کسی تردد کے بغیر عرض کرتا ہوں کہ یہ دینی مدارس قرآن کریم اور اس کے علوم کی حفاظت کا تکوینی ذریعہ ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ساتھ ساتھ ان دینی مدارس کی حفاظت کا وعدہ بھی فرما رکھا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ سچا اور پکا ہے۔ لہٰذا آپ حضرات کسی قسم کی پریشانی کا شکار نہ ہوں، ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ نیت صحیح رکھیں، جذبہ خالص رکھیں اور اپنی ہمت و استطاعت کے مطابق جو کچھ ہم سے ہو چکے کام کرتے رہیں۔ نتائج اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہیں اور اس نے خود پر صحیح بھروسہ رکھنے والوں کو پہلے بھی کبھی مایوس نہیں کیا اور آئندہ بھی کبھی نہیں کرے گا۔
اظہاری رویے میں تخیل کی اہمیت
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن
عصرِ حاضر کے اظہاری رویوں میں عکاسی کا تغلب، شاذ اچھائیوں کے باوجود منفی میلانات کا حامل ہے۔ عکاسی اپنے مجموعی اثرات کے لحاظ سے انسانی فطرت کی سنگ دلی کو شدید تر کرتی ہے۔ بالخصوص سکرین پر مشتہر کیا گیا معاشرے کی اندرونی کشمکش کا عکس گری کے ذریعے اظہار، بوجوہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ کیونکہ بعض ایسے امور، جو ہم معمول کی زندگی میں دیکھتے ہیں یا ان کے تجربے سے گزرتے ہیں، ہمیں کسی قسم کے مستقل اضطراب سے دوچار نہیں کرتے۔ ان کے منفی اثرات کے نقوش طویل المدت نہیں ہوتے۔ ہم بہت جلد ایسی اضطرابی کیفیت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔ ہماری شخصیت کا باطن، خارج کی ان یورشی دستکوں کے مقابل مدافعتی رویہ اپنا کر انہیں تہہ و بالا کر دیتا ہے۔ ایسا وقتی اضطراب نتیجتاً ہمارے اعصاب اور شعور کو توانائی اور پختگی بخشتا ہے۔
لیکن سکرین پر دکھایا گیا عکاسی کا رویہ کشش رکھتا ہے۔ ہیجان خیزی کو ہوا دیتا ہے۔ ہمارا داخلی اضطراب، ایسے لمحوں میں ٹھاٹھیں مارتا ابھرتا ہے اور ہمارے ذہن و شعور پر اَن مٹ نقوش ثبت کر دیتا ہے۔ ایسے نقوش کا مستقل، دیرپا اور موثر ہونا سکرین کے ’’حجاب یا بالواسطگی‘‘ کی بدولت ہے۔ اس بالواسطگی کی پیدا کردہ کشش سے ہم اپنی روز مرہ زندگی کو سکرین جیسی تزئین سے آراستہ کرنے کا رجحان اپنا لیتے ہیں۔ سکرین پر عکاسی کا مروجہ اظہار ہمارے سماجی رویوں کے انحطاط کا بنیادی سبب ہے۔ ایسی عکس گری سطحیت کو فروغ دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ سچائی ہمارے داخلی وجود سے اپنے نقوش و ارتسامات چھوڑے جا رہی ہے کیونکہ عکاسی، زندگی کی کلی تفہیم کا ذریعہ نہیں۔ عکاسی سچائی کے مترادف نہیں۔ عکس گری کا موجودہ رویہ جس قسم کی واقعیت پسندی کو معاشرے میں رائج کرتا ہے، اس سے انسان واقعات کی زد میں آیا ہوا ذرہ بن کر رہ جاتا ہے اور وہ ذرہ بغیر کوئی تخلیق کیے، بغیر کوئی یادگار چھوڑے معدوم ہو جاتا ہے۔ یوں عکاسی امیدوں کا مدفن بن جاتی ہے اور امکانات کو فنا کر دیتی ہے۔
تجزیاتی بصیرت پر مبنی معاشرتی عکاسی کی اہمیت سے بھی مفر ممکن نہیں۔ لیکن عکاسی کا وسیلہ صرف تحریر کو ہونا چاہیے، تحریر بھی ایسی جو لفظی تطہیر سے آراستہ ہو کر معاشرتی برائیوں کی سنگینی سے روشناس کرا سکے۔ بے لباس الفاظ ایسے لوگوں کے لیے ’’چسکے‘‘ کا باعث بنتے ہیں جن کی ذاتی و اخلاقی سطح پست ہوتی ہے۔ تاریخی ادراک پر مبنی عکاسی کا تحریری اظہار معاشرے کے باشعور طبقے کو موجودہ مسائل کے بنیادی سوالوں کی شناخت کراتا ہے اور وہ ایسی آگہی و باخبری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ غیر سنجیدہ لوگوں کی عکاسی کے ادب تک رسائی — اور وہ بھی ایسا جو ملفوف نہ ہو — معاشرتی انحطاط کے عمل کو تیز تر کر دیتی ہے کہ وہ اسی انداز سے سوچنے اور عمل کرنے لگ جاتے ہیں اور عکس گری حقائق کی Distorton بن کر رہ جاتی ہے۔
فنونِ لطیفہ اور ادب میں عکاسی کے رویے ہی نے تیسری دنیا کے تعلیم یافتہ طبقے کو سیاسی نظام کے طور پر جمہوری نظریہ سے متعارف کرایا ہے۔ جہاں تک جمہوریت کے خارجی مظہر — سیاسی جماعتیں، الیکشن، حزبِ اقتدار، حزبِ اختلاف وغیرہ — کا تعلق ہے، تیسری دنیا کے بہت سے ممالک بشمول پاکستان بارہا اس تجربے سے گزرے ہیں لیکن جمہوریت اپنے مثبت نتائج و اثرات دینے سے قاصر رہی ہے۔ ایسا ہی مغرب کے لیے بھی سچ ہے کیونکہ جمہوریت اپنے نظری پہلو میں ’’مساوات‘‘ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مساوات مغرب کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ کیونکہ اجارہ داریاں ہیں، فریب ہیں، گروپ بندیاں ہیں، ریاست کے اندر بھی، اور ریاستوں کے مابین بھی۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ سیاسی فکر نے جمہوریت کے خارجی مظہر کو اپنا منتہائے مقصود تسلیم کر لیا ہے۔ End of History اسی ہی تسلیمیت کا اظہار ہے۔ مشہور مفکر روسو — جس کی روحانیت جمہوری قدروں کے فروغ کا باعث بنی — اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’معاہدہ عمرانی‘‘ میں خود تسلیم کرتا ہے کہ ’’حقیقی جمہوری حکومت‘‘ نہ کبھی قائم ہوئی ہے نہ ہوگی۔ ایسا کہتے ہوئے روسو کی دور اندیش نظروں نے یقیناً بھانپ لیا تھا کہ جمہوریت — نظری پہلو سے قطع نظر — خارجی مظہر کی حد تک اثر و نفوذ پا سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا حل کیا ہے؟
میرے ذاتی نقطہ نظر کے مطابق، جمہوریت اپنے پسِ منظر کے ساتھ گواہ ہے کہ وہ انسان کے ’’شعوری تسلسل‘‘ کو دو مختلف انداز سے توڑنے کا باعث بنی ہے:
ا۔ ایک تو یہ کہ انسان نے زینہ بہ زینہ فکری سفر کرنے کی بجائے جست لگانے کی کوشش کی ہے، بالخصوص تیسری دنیا کے انسان نے۔ اس جست کا پیدا کردہ خلا انسان کے تمام مسائل اپنے اندر سموئے ہوئے ہے کہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں جمہوریت کی آمد درحقیقت ایک لمبی جست ہے۔ اور پھر ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس جست سے قائم کی گئی جمہوریت فوراً ہی مغربی ممالک جیسے فوائد سے ہم کنار کر دے گی (اگرچہ خارجی مظہر کی حد تک)۔ لیکن جب ہم موازنے میں اپنی جمہوریت کو صرف ’’لینے والی‘‘ دیکھتے ہیں، جو دیتی کچھ نہیں، تو اس خارجی مظہر کو بھی، جو اصل صورت میں نافذ نہیں، لپیٹنے کی سعیِ تام کرتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے ایسا کیا ہے۔ اگرچہ خارجی مظہر حقیقی جمہوریت کا ایک پہلو ہے، لیکن اس تک رسائی بھی بتدریج ارتقائی انداز میں ہو سکتی ہے۔ حقیقی جمہوریت تو ایک لمبے ارتقاء کا مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں محدود شرح خواندگی اور مخصوص معاشرتی حالات کے تناظر میں یہ ارتقاء کچھ اس طرح ہوگا:
- پہلے الیکشن کے بعد سے پندرہ سال تک۔ اسے ہم ماقبل جمہوریت کا مرحلہ Pre-Democratic Phase کہہ سکتے ہیں۔
- دوسرے مرحلے پر مزید پندرہ سال۔ اسے ہم جمہوریت کی جانب پیش قدمی Initiative to Democracy کہہ سکتے ہیں۔
- تیسرے مرحلے پر ہم جمہوریت کے خارجی مظہر کو پا سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ الیکشن مسلسل ہوتے رہیں۔
پاکستان میں عملی صورتِ حال کچھ اس طرح ہے کہ ابھی ہم پہلے مرحلے سے نہیں نکلتے کہ مارشل لاء لگ جاتا ہے۔ اور پھر مارشل لاء کے بعد دوبارہ پہلے مرحلے میں ہی داخل ہوتے ہیں۔ یوں جمہوریت خارجی مظہر کی حد تک بھی پاکستان میں قدم نہیں جما سکی۔ اس کی وجہ نظام کی ناکامی نہیں، ہماری عجّلت پسندی ہے۔
۲۔ دوسرا یہ کہ مغرب کے انسان نے جمہوریت کے خارجی مظہر تک رسائی اگرچہ اپنے تخیلی شعور سے کی ہے — کیونکہ مغرب کے سامنے کوئی ’’پہلی دنیا‘‘ نہیں تھی جہاں سے وہ اس خارجی مظہر کو مستعار لیتا — پھر بھی مغرب کا انسان بنفسہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ مغرب کے تخیلی رویے کی راہ بھی، جمہوریت کے خارجی مظہر کے حصول کے بعد مسدود ہو چکی ہے۔ مغرب اسی خارجی مظہر کو فکری تسلسل کا مقصود ٹھہراتا ہے۔
حقیقی جمہوریت ایسے نظام کو کہتے ہیں جس میں تمام افراد کی حیثیت برابر ہو۔ کوئی فرد یا ادارہ مقتدر قوت کا حامل نہ ہو کہ مساوات کو گزند پہنچے۔ لیکن عملاً ہوتا یہ ہے کہ عوام میں پھیلا ہوا اختیار یا اقتدار، عوام کے نام پر چند افراد استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ کثرت قدرتی طور پر وحدت میں ڈھلنے کا رجحان رکھتی ہے، اور اقتدار و اختیارات ایک نقطے پر جمع ہونے کا میلان رکھتے ہیں۔ ایسی مصنوعی وحدت کو — جو مساوات کے منافی ہے، حقیقی جمہوریت کے منافی ہے — پارہ پارہ کرنے کے لیے علیحدگیِ اختیارات کا نظام اپنایا جاتا ہے اور کبھی تکثیری عاملہ کا۔ لیکن بات وہی ہے کہ کثرت، وحدت کی طرف میلان رکھتی ہے، اور اختیارات کا ارتکاز کسی فرد یا ادارے میں ہو جاتا ہے۔ جس سے جمہوریت، خارجی مظہر کے طور پر موجود ہونے کے باوجود، اصلی سپرٹ سے محروم رہتی ہے۔ اب پارلیمانی نظام کو بھی وزیرِ اعظمی نظام Prime Ministerial نظام کہا جانے لگا ہے۔ مغرب کے اہل دانش اس کا سدِ باب چاہتے ہیں لیکن تا حال کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کا حل ایک ہی اصول ہے:
’’ہم سب ماوراء‘‘ اور اس کے تحت ’’ہم سب برابر‘‘۔
میرے نقطہ نظر کے مطابق یہ اصول جمہوریت کا داخلی پہلو ہے جس کی سرایت سے جمہوریت، حقیقی جمہوریت میں بدل جاتی ہے۔ اور کوئی فرد یا ادارہ عوام کے نام پر قوت حاصل کر کے مساواتِ انسانی کو ختم کرنے کے درپے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وحدت و اختیار ماورائیت میں ہو گا، نہ کہ کسی فرد یا ادارے کے پاس۔ میری مراد خدا کو مقتدرِ اعلیٰ ماننے کے تصور سے ہے۔ لیکن جمہوریت کے خارجی مظہر کو منتہائے مقصود تسلیم کر کے اپنے تخیل کی راہ مسدود کرتے ہوئے اہلِ مغرب، ریاست کے اندر اور ریاستوں کے مابین عدمِ مساوات کو تقویت دے رہے ہیں۔
جمہوریت کے حقیقی مفہوم سے شناسائی تبھی ممکن ہے کہ معاشرتی سطح پر افراد کے اذہان میں ماورائیت سرایت کر جائے تاکہ وہ انفرادی سطح پر داخلی وحدت سے آشنا ہو سکیں۔ ادب میں تخیلی رویے کا فروغ اس داخلی وحدت کو اجتماعی سطح پر پھیلا سکتا ہے اور انسان حقیقی جمہوریت کے ثمرات سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ جدید عہد کی پیچیدگیوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ادب کو تخیلی رویہ اپنانا ہو گا۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ الشریعہ
’’امام اعظم ابوحنیفہؒ کا عادلانہ دفاع‘‘
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ پر بعض حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں ہر دور میں ممتاز اہلِ علم نے قلم اٹھایا ہے اور مختلف فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے اکابر علماء کرام نے امام اعظمؒ کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا رد کیا ہے۔
اس سلسلہ میں عرب دنیا کے معروف حنفی عالم الاستاذ المحدث محمد زاہد الکوثری رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ’’تانیب الخطیب‘‘ ایک قابل قدر علمی کاوش ہے جس میں پانچویں صدی کے محدث خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
برادر عزیز مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن سلّمہ استاذ حدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اس کا ترجمہ اردو میں ’’امامِ اعظمؒ کا عادلانہ دفاع‘‘ کے نام سے کیا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ سوا چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب عمر اکادمی، نزد گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ نے عمدہ کتابت و طباعت، خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ پیش کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو چالیس روپے ہے۔
’’قادیانی شبہات کے جوابات‘‘
قادیانی گروہ کے ساتھ علماء اسلام کی گفتگو اور مباحثے عقیدۂ ختم نبوت، حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، اور صدق و کذبِ مرزا قادیانی جیسے موضوعات پر ہر دور میں ہوتے رہے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں قادیانی گروہ کے مناظرین اور مصنفین کی طرف سے مختلف اعتراضات اور شبہات پیش کیے جاتے رہے ہیں جن کے جوابات اہلِ اسلام کے بہت سے محقق اور مناظر علماء کرام نے اپنے اپنے انداز میں دیے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما حضرت مولانا اللہ وسایا نے اب تک سامنے آنے والے قادیانی شبہات و اعتراضات اور ان کے جوابات کو یکجا مرتب کر کے شائع کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس سلسلہ کی پہلی کاوش ‘‘عقیدۂ ختم نبوت‘‘ کے عنوان سے جلد اول کے طور پر پیش کی ہے جس میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، اور حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ جیسے اکابر سے لے کر حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ جیسے مناظرین تک کے جوابات و افادات کو جمع کر دیا ہے، اور اس علمی محنت پر مولانا موصوف بلا شبہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں۔
تین سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ کتاب خوبصورت اور مضبوط جلد اور عمدہ کتابت و طباعت کے ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو روپے ہے۔
’’تاريخ المشاہير‘‘
سیرت النبیؐ پر اردو کی شہرہ آفاق کتاب ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کے مصنف حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ تعالیٰ اب سے ایک صدی قبل اخبار ’’وکیل‘‘ میں ملتِ اسلامیہ کی عظیم شخصیات پر مسلسل مضامین لکھتے رہے ہیں اور ان کی یہ نگارشات اہلِ علم میں بہت مقبول ہوئی ہیں۔ زیر نظر کتاب ان مضامین کا مجموعہ ہے اور اس میں فقہاء کرام، محدثین، مشائخ، قضاۃ، ملوک و وزراء اور شعراء و ادباء میں سے چیدہ چیدہ شخصیات کے حالات اور کارناموں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
سوا تین سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ کتاب عمدہ کتابت و طباعت، خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ بیت العلوم، ۲۰ نابھ روڈ، پرانی انار کلی، لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت کتاب پر درج نہیں ہے۔
ماہنامہ ’’محدث‘‘ لاہور کا ’’سود نمبر‘‘
اہلِ حدیث مکتبِ فکر کے ممتاز عالمِ دین اور دانشور مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی کی زیر ادارت شائع ہونے والے علمی جریدہ ’’محدث‘‘ کا سود کے بارے میں خصوصی شمارہ ہمارے سامنے ہے۔ جس میں مسئلہ سود کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ علم کی وقیع نگارشات کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سود پر ہونے والی بحث کی مختصر اور جامع رپورٹ، سپریم کورٹ کے سوالنامہ کا تفصیلی جواب، اور سپریم کورٹ میں مدیر ’’محدث‘‘ کی طرف سے پیش کیا جانے والا تحریری بیان بھی شامل ہے۔ اور اس طرح اس موضوع سے دلچسپی اور مطالعہ و تحقیق کا ذوق رکھنے والے حضرات کے لیے اچھا خاصا مواد جمع کر دیا گیا ہے۔
’’محدث‘‘ کا یہ ’’سود نمبر‘‘ ستمبر و اکتوبر ۹۹ء کا مشترکہ شمارہ ہے جو ۲۴۰ صفحات پر مشتمل ہے اور اسے دفتر ماہنامہ ’’محدث‘‘ ۹۹ جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’نو مسلم خواتین کی ایمان افروز آپ بیتیاں‘‘
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں اسلام قبول کرنے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے جو مصنوعی اور غیر فطری معاشرتی نظام کے ہاتھوں بے سکون ہو کر اسلام کے دامنِ فطرت میں پناہ لیتی ہیں۔
محترمہ نگہت عائشہ نے زیر نظر کتاب میں اسلام قبول کرنے والی ایسی ستر خواتین کے حالات و تاثرات کو مرتب کر کے پیش کیا ہے۔ اور پونے چار سو صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب ندوۃ المعارف ١٣ کبیر اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور نے شائع کی ہے جس کی قیمت ڈیڑھ سو روپے ہے۔
’’تاریخِ انسانی کے پانچ دور اور ان کے تقاضے‘‘
معروف عالمِ دین حضرت مولانا عبد اللطیف مسعود نے زیر نظر کتاب میں انسانی زندگی کے مختلف ادوار یعنی عالمِ ارواح، بطن، دنیا، برزخ، اور آخرت کے بارے میں قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ کے حوالہ سے بہت سی مفید معلومات جمع کر دی ہیں، اور عذابِ قبر کے ثبوت پر قرآن و سنت کی روشنی میں سیر حاصل بحث کی ہے۔
کتاب کے صفحات دو سو چالیس ہیں، اسے جامعہ عربیہ تعلیم القرآن، جامع مسجد وہاب، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
’’مولانا ظفر علی خانؒ کی آپ بیتی‘‘
مولانا ظفر علی خان مرحوم ہماری قومی تاریخ کی ایک اہم شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت اور سیاست دونوں میدانوں میں برصغیر پاک و ہند کی آزادی اور ملی اقدار کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔
محترمہ رابعہ طارق نے زیر نظر کتابچہ میں مولانا مرحوم کی آپ بیتی کو مفید حواشی اور اچھی ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔ اور ۲۳۲ صفحات پر مشتمل یہ کتاب خوبصورت ٹائٹل اور مضبوط جلد کے ساتھ ندوۃ المعارف، ۱۳ کبیر اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور نے شائع کی ہے، جس کی قیمت ایک سو بیس روپے ہے۔
’’صبر و استقامت‘‘
حضرت الاستاذ المحدث عبد الفتاح ابو غدۃ رحمہ اللہ تعالٰی نے ’’صفحات من صبر العلماء‘‘ کے نام سے امت کے چیدہ چیدہ اصحابِ علم و دانش کی ان مشکلات اور صبر آزما تکلیف کا تذکرہ جمع کیا ہے جو انہیں علم کے حصول اور اس کی اشاعت و ترویج میں پیش آئیں، اور انہیں ان ایثار پیشہ علماء و فضلاء نے انتہائی صبر و استقامت اور وقار و حوصلہ کے ساتھ برداشت کیا۔
مولانا عبد الستار سالم قاسمی نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور ندوۃ العلماء، ۱۳ کبیر اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور نے اس کی اشاعت کی سعادت حاصل کی ہے۔ صفحات دو سو کے قریب ہیں اور قیمت ۹۶ روپے ہے۔
’’سیرتِ بانئ دارالعلوم‘‘
دارالعلوم دیوبند کے بانی حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی سیرت و سوانح پر برصغیر کے ممتاز محقق، دانشور اور عالمِ دین حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ کی کتاب ’’سوانحِ قاسمی‘‘ علمی حلقوں میں معروف ہے جو تین جلدوں میں ہے۔ اس کے علاوہ مولانا گیلانیؒ نے ۱۳۶۰ھ اور ۱۳۶۱ھ میں ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند کے ابتدائی شماروں میں حضرت نانوتویؒ کی سوانح اور خدمات پر ایک مقالہ لکھا تھا جو چھ قسطوں میں شائع ہوا۔
مجلسِ یادگارِ گیلانیؒ، ڈی ۴۸، گلی نمبر ۳، سکیٹر ۱۱/۲/۱، اورنگی ٹاؤن، کراچی نے یہ مقالہ ’’سیرتِ بانئ دارالعلوم‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے جو حضرت نانوتویؒ کی حیات و خدمات پر بیش بہا معلومات کا ذخیرہ ہے۔ اس کے صفحات ۱۳۰ اور قیمت ۸۰ روپے ہے۔
’’عقیدۃ اہل الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘
معروف محقق اور دانشور مولانا حکیم محمود احمد ظفر نے زیر نظر کتابچہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، رفعِ آسمانی، اور نزول کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ اسلام کے اجماعی عقیدہ کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس سلسلہ میں قادیانیوں کے اعتراضات و شبہات کا تفصیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔ اس کے صفحات ۱۵۰ ہیں، قیمت درج نہیں ہے، اور اسے ادارہ معارفِ اسلامیہ، مبارکپورہ، سیالکوٹ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’کیا انجکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟‘‘
مولانا سخی داد خوستی نے سولہ صفحات پر مشتمل اس مقالہ میں اس موقف پر دلائل پیش کیے ہیں کہ انجکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور جو حضرات انجکشن کو ناقصِ صوم نہیں سمجھتے ان کا موقف درست نہیں ہے۔
مقالہ نگار کے موقف سے اتفاق ضروری نہیں ہے البتہ ان کی کاوش قابلِ داد ہے۔ یہ مقالہ مکتبہ طیبہ، شیخ آباد ضلع ژوب، بلوچستان سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
’’توراۃ و انجیل کی صحت کا محاکمہ‘‘
پاکستان میں ’’بائبل کورس‘‘ کے نام سے تورات و انجیل کے متعدد کورس چل رہے ہیں جن کے ذریعہ مسلمان نوجوانوں کو آسمانی تعلیمات کے مقدس عنوان کے ساتھ بائبل کی تعلیم دی جاتی ہے۔
محترم عبد الرشید ارشد آف جوہر آباد نے اس مقالہ میں موجودہ بائبل میں شامل تورات و انجیل کی مختلف کتابوں کی صحت کے بارے میں ایک تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے، اور بتایا ہے کہ بائبل کو موجودہ شکل میں تورات اور انجیل قرار دینا تحقیق و انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
ساٹھ صفحات پر مشتمل یہ مقالہ جوہر پریس بلڈنگ، جوہر آباد، ضلع خوشاب کے پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
’’میراث کا حساب‘‘
محترم جناب سید شبیر احمد کاکاخیل، مدیر فنی امور، عالمی ادارہ تسہیل الحسابات الاسلامیہ، ۵۹۳/۲۹، اللہ آباد، ویسٹرج، راولپنڈی نے اس کتابچہ میں وراثت سے متعلقہ شرعی مسائل اور ان کے حسابات کو اردو میں اچھے انداز میں مرتب کر دیا ہے، جو اس مشکل اور پیچیدہ فن کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ مفتیان کرام کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ ایک سو صفحات پر مشتمل اس کتابچہ کی قیمت تیس روپے ہے اور مندرجہ بالا پتہ سے مل سکتا ہے۔
’’بشارتِ عیسٰیؑ
حضرت مولانا بشیر احمد حسینی ہمارے ملک کے معروف محقق ہیں جو ایک عرصہ سے مسیحیت کے مطالعہ و تحقیق کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت ان کے دو کتابچے ہمارے پیش نظر ہیں۔
ایک ’’بشارتِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے نام سے ہے جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اس سلسلہ میں انجیل یوحنا کی شہادت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
جبکہ دوسرا رسالہ ’’محمدیم کون ہے؟‘‘ کے نام سے ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بشارت اور اس حوالہ سے عبرانی بائبل کی شہادت پر محققانہ تبصرہ کیا گیا ہے۔
اول الذکر رسالہ کے صفحات تقریباً دو سو اور قیمت ۴۵ روپے ہے، جبکہ ثانی الذکر رسالہ ۹۶ صفحات پر مشتمل ہے اور قیمت ۳۵ روپے ہے۔ دونوں رسالے مصنف محترم سے جامع مسجد حسینی، شور کوٹ چھاؤنی، ضلع جھنگ کے پتہ پر طلب کیے جا سکتے ہیں۔
’’متاعِ نور‘‘
مفتئ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کے داماد اور رفیق کار حضرت مولانا نور احمد مرحوم اپنے دور کے سرگرم علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے علمی اور سیاسی دونوں میدانوں میں مسلسل تگ و دو کی ہے اور نفاذ اسلام کی جدوجہد میں بھی شریک رہے ہیں۔ ان کے حالاتِ زندگی اور خدمات کو مولانا رشید اشرف سیفی نے بڑی محنت کے ساتھ ’’متاعِ نور‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے، اور ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ، ۴۳۷ گارڈن ایسٹ، نزد لسبیلہ چوک، کراچی ۵ نے خوبصورت جلد، عمدہ کاغذ، اور معیاری کتابت و طباعت کے ساتھ انتہائی باذوق انداز میں پیش کیا ہے۔ صفحات ساڑھے چار سو سے زیادہ ہیں اور قیمت درج نہیں ہے۔
کرائے کی کلیسائیں اور واشنگٹن آفس
میجر (ر) ٹی ناصر
گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں بے شمار خود ساختہ ’’پاسٹر‘‘ اور ’’بشپ‘‘ وجود میں آئے ہیں کہ پاکستانی کلیسیا اس معاملہ میں خود کفیل ہوئی بلکہ فاضل پاسٹر اور بشپ برآمد کرنے کے بھی قابل ہو گئی ہے۔ ان ’’پاسٹر‘‘ اور ’’بشپ‘‘ صاحبان کا طریقہ کار ہمارے سیاسی رہنماؤں سے مختلف نہیں۔ یعنی ملک کے مختلف شہروں میں روحانی اجتماع کیے جاتے ہیں، مفت شفا کے اشتہار دیے جاتے ہیں، اپنے جلسوں کی رونق بڑھانے کے لیے ضیافتوں کا انتظام کیا جاتا ہے، دوسرے شہروں سے ’’ہجوم‘‘ اکٹھا کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ پھر ان ’’روحانی‘‘ جلسوں کی ویڈیو فلمیں بنتی ہیں، فوٹو گرافی ہوتی ہے، ان جلسوں میں ایک آدھ غیر ملکی ضرور شامل ہوتا ہے جو خاص طور پر پاکستانیوں کو شفا دینے کے لیے سمندر پار کے ملکوں سے آتا ہے، یا آتے ہیں۔ بعض ’’پاسٹر‘‘ اور ’’بشپ‘‘ صاحبان ٹیلی ویژن کے مقامی عملے کو بھی بلا لیتے ہیں جہاں روپیہ بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ غیر مسیحی افراد بھی ’’شفا‘‘ پانے آتے ہیں اور یوں ان جلسوں کی رپورٹ بیرون ملک بھجوا کر پاکستان میں مسیحیت اختیار کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں بتا کر اچھا خاصا منافع کمایا جاتا ہے۔
چند برس پیشتر ایک مولوی صاحب نے یورپ کے دورے سے واپسی پر بیان دیا کہ وہ یورپ میں ’’پانچ عدد‘‘ پوپ مسلمان کر کے آئے ہیں۔ جب ان کو یاد دلایا گیا کہ پوپ تو صرف ایک ہی ہوتا ہے اور تاحال وہ مسیحی ہے، تو مسلمان ہونے والے — پانچ پوپ — پانچ پادری اور بعد ازاں پانچ مسیحی بن گئے۔ اسی طرح پاکستانی ’’پاسٹر‘‘ اور ’’بشپ‘‘ صاحبان اب تک پاکستان کی نصف آبادی کو مسیحیت قبول کروا چکے ہیں۔
اس دھوکے اور جھوٹ میں جتنا کردار پاسٹر اور بشپ صاحبان کا ہے، اتنا ہی ہماری کلیسا کا ہے۔ دو وقت کی مفت ضیافت اور مفت سفری سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بغیر سوچے سمجھے جہاں کسی نے بلایا، چل دیے۔ ان روحانی اجتماعات میں مسیحیت کی منادی تقریباً صفر ہوتی ہے۔ اول تو شور و غل میں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کیا وعظ کیا جا رہا ہے۔ دوسرے، عوام کی توجہ مبلغین کے سٹیج پر ادھر ادھر بھاگنے پر زیادہ مذکور رہتی ہے۔ ہماری کلیسا اتنی ’’ویلی‘‘ یا فارغ ہے کہ دو وقت کی روٹی اور مفت سفر یا سیر کرنے کے شوق میں کرائے کی کلیسا بنتی جا رہی ہے۔ اتوار کے دن گرجا گھر نہ جانے کے ہزار بہانے تو موجود ہیں لیکن کرائے کی کلیسا بننے میں ہر جواز موجود ہے۔
کلیسا کا فرض ہے کہ وہ اپنے گرجا گھروں کو آباد کریں۔ اپنے ہدیے اور نذرانوں سے کلیسا کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے تیار کریں، نہ کہ اپنا مقامِ عبادت چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹکتے پھریں۔ (یاد رہے کہ پاسٹر یا پاسبان کسی بھی ایک مقامی کلیسیا کا پادری ہوتا ہے، سارے ملک میں منادی کرنے والے ’’پادری‘‘ کہلاتے ہیں جو مبلغ بھی ہو سکتا ہے)۔ کلیسا کو ایسے ’’پاسٹر‘‘ اور ’’بشپ‘‘ صاحبان سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو خود کسی ایک بھی کلیسا کے پاسبان نہیں، اور پورے ملک کی پاسبانی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ خداوند یسوع مسیح کا قول یاد رکھیں (متی ۳۴: ۱۱، ۲۴ / مرقس ۱۳: ۲۱-۲۳ / لوقا ۲۱: ۸ / استثنا ۱۸: ۲۰-۲۲) اپنی بائبل کو پڑھیں اور دیکھیں کہ خدا ایسے ’’پاسٹر‘‘ اور ’’بشپ‘‘ صاحبان کے لیے کیا فرماتا ہے جو مقامی سطح پر کلیسا کو اجاڑ کر خداوند کی کلیسا کو ’’کرائے کی کلیسائیں‘‘ بنانے میں دن رات مصروف ہیں۔ خداوند یسوع مسیح کلیساؤں کو بدعتی تعلیم سے بچائے، کرائے کی کلیسا بننے سے بچائے۔ آمین
(بشکریہ: ماہنامہ کلامِ حق، گوجرانوالہ۔ اکتوبر ۱۹۹۹ء)
چیچن مجاہدوں کی عظمت کو سلام
عبد الرشید ارشد
انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں اپنے لہو سے داستانِ حریت تاریخ کے سپرد کرنے والے چیچن مجاہدو! اپنے بیوی بچوں، والدین اور گھربار کی قربانی دے کر آزادی و حریت کی مانگ بھرنے والے مجاہدو! تم سے ہزار میل دور بیٹھا تمہارا ایک بھائی تمہاری عظمت کو سلام پیش کرتا ہے اور ملتِ مسلمہ کے سرخیلوں کی بے حسی و بے غیرتی پر آنسو بہاتا ہے۔ کاش! ملتِ اسلامیہ ان بے غیرتوں سے نجات حاصل کر سکتی۔
چیچن مجاہدو! ایک مسلّمہ دنیوی قوت کے مقابل بے سروسامانی کی حالت میں تم جو تاریخ دہرا رہے ہو، امام شاملؒ کی قیادت میں یہی کچھ تمہارے اجداد نے کیا تھا۔ روسی ریچھ کی برتری نہ ان سے جذبۂ آزادی چھین سکی تھی، نہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ تم سے چھینا جا سکے گا۔ بلاشبہ تم خالدؓ و طارقؒ و ایوبیؒ کے قافلۂ حریت کے مجاہد ہو۔
مجاہدو! جو صرف اپنے رب کی رحمت کے سہارے ظلم سے نبرد آزما ہوتے ہیں، وہ کسی فہد، کسی قابوس، کسی صباح، کسی خلیفہ اور مبارک و حافظ کی آشیرباد کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کا اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو شہید ہوں تو کامیاب، وہ دشمن پر غالب آئیں تو سینہ دھرتی کا مان کہ رب کی دھرتی پر رب کا نظام۔
چیچن جانبازو! میں تمہارا گمنام بھائی مجبور ہوں کہ میرے بس میں تمہارے لیے کلمۂ خیر سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور اس موقع پر بے ساختہ وہی کچھ کہوں گا جو ایک مجبور مردِ حق مولانا محمد علی جوہرؒ نے جیل میں اپنی علیل بیٹی کے لیے کہا تھا: ’’میں ہوں مجبور پر اللہ تو مجبور نہیں، میرا اور تمہارا رب یقیناً اس بہو کی لاج رکھے گا۔‘‘
مجاہدو! میرا اور آپ کا رب زندہ جاوید ہے، وہ ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے، وہ دیکھ رہا ہے، وہ سن رہا ہے، وہ ظالم کے ظلم کی انتہا اور صابر کے صبر کی انتہا کے ساتھ ساتھ اب بے غیرتوں کی بے غیرتی کی انتہا بھی دیکھ رہا ہے کہ اس نے ہر ایک سے حساب چکانا ہے، انصاف کرنا ہے جو ہر کسی کو نظر آئے۔