آزادی، علماء اور نئی پود
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جس طبقے نے آگے بڑھ کر ایثار و قربانی اور عزیمت و استقامت کی روایات کو زندہ کیا اور امتِ مسلمہ کی جرأت مندانہ قیادت کی، وہ بوریہ نشین علماء کرام کا گروہ تھا، جس کی تگ و تاز کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ اس قدسی طائفہ نے سیاست، ثقافت، تعلیم اور عقائد و نظریات سمیت قومی زندگی کے ہر شعبہ میں بدیشی آقاؤں کا مقابلہ کیا اور بے سروسامانی کے باوجود اپنے علمی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو فرنگی کی تہذیبی یلغار سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔
برصغیر کے طول و عرض میں علماء کی جدوجہد اور قربانیوں کو تاریخ کے اوراق سے چننا اور ان کا کوئی جامع مجموعہ قارئین کے سامنے پیش کرنا آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی یہ مختصر صفحات اس کے متحمل ہیں۔ اس لیے ہم نے ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کے طور پر صرف چند تحریکات اور شخصیات کی جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس سے فرنگی استعمار کی ہمہ پہلو یلغار اور اس کے مقابلے میں بوریہ نشین ملاؤں کی چومکھی جنگ کا سرسری سا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے۔
ان میں سے بیشتر تحریریں نئی نہیں ہیں بلکہ تاریخ کے ریکارڈ میں پہلے سے محفوظ ہیں۔ ہم نے صرف ان کا انتخاب کیا ہے تاکہ نئی نسل کے علم میں یہ بات لائی جا سکے کہ ماضی میں ملتِ اسلامیہ کے عقائد و نظریات، سیاست و تہذیب اور آزادی کا تحفظ کرنے والے کون لوگ ہیں؟ اور آج جبکہ ایک نئے عالمی استعمار کے ہاتھوں عالمِ اسلام کی آزادی، وحدت، خودمختاری اور نظریاتی تشخص کو پھر سے چیلنج کا سامنا ہے، قوم کی راہنمائی اور قیادت کا بار کون لوگ اٹھا سکتے ہیں؟
اس موقع پر ہم ملک کے دینی مراکز اور مدارس سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ نئی پود کو اس کے صحیح ماضی اور تحریکِ آزادی کے اصل کرداروں سے متعارف کرانے کا اہتمام کریں تاکہ اسے آزادی کی صحیح قدر و قیمت کا احساس ہو اور اس کے تحفظ کے لیے اپنے عظیم اسلاف کی جدوجہد کی روشنی میں اپنے کردار اور ترجیحات کا بروقت تعین کر سکے۔
شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو سلطنتِ مغلیہ کا چراغ ٹمٹما رہا تھا۔ طوائف الملوکی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھی اور فرنگی تاجر کمپنیاں دھیرے دھیرے مغل حکمرانوں کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ مرہٹے ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے تھے اور برصغیر ان کے قبضے میں چلے جانے کا خطرہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔ حضرت امام ولی اللہؒ نے فوری حکمت عملی کے طور پر مرہٹوں کی سرکوبی اور ان کے خطرہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ سے رابطہ قائم کیا اور اس سے مدد مانگی اور احمد شاہ ابدالیؒ، حضرت شاہ صاحبؒ اور دیگر دردمند ہندی مسلمانوں کی استدعا پر مرہٹوں کے خلاف ان کی امداد کے لیے آگے بڑھا اور پھر ۱۷۶۱ء میں پانی پت کا وہ تاریخی معرکہ بپا ہوا جس نے عظیم تر مرہٹہ ریاست کے تصور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا۔ مرہٹوں کا زور ٹوٹ گیا۔ دو لاکھ سے زائد مرہٹہ فوجی میدان جنگ میں کام آئے اور احمد شاہ ابدالیؒ جو خود ہندوستان کی بادشاہت حاصل کر سکتا تھا، حکومت شاہ عالم ثانی کے سپرد کر کے واپس چلا گیا۔
اس خطرہ سے نجات حاصل کرنے کے بعد سلطنتِ مغلیہ کا روز افزوں زوال اور فرنگی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ حضرت شاہ صاحب کے سامنے تھا۔ فرنگی جنگ پلاسی میں سراج الدولہ کو شہید کر کے ۱۷۵۷ء میں بنگال پر قبضہ کر چکے تھے۔
حیدرآباد دکن، اودھ اور میسور پر فرنگی کی للچائی ہوئی نظریں صاف دکھائی دے رہی تھیں اور مغل بادشاہ، شاہ عالم ثانیؒ، احمد شاہ ابدالیؒ کی عظیم قربانی اور فراخدلانہ ایثار کے باوجود ہوش میں نہیں آیا تھا، ایسے میں حضرت شاہ صاحبؒ نے سلطنتِ مغلیہ کے بوسیدہ کھنڈرات کو سہارا دینے کے بجائے ’’فک کل نظام‘‘ (ہمہ گیر انقلاب) کا نعرہ لگایا۔ شاہ صاحب یہ سمجھ چکے تھے کہ مغلیہ سلطنت کو جب احمد شاہ ابدالیؒ کی قربانی و ایثار سہارا نہیں دے سکی تو اس کے دن گنے جا چکے ہیں، اس کو سہارا دینے یا اس کی اصلاح کی توقع رکھنے کے بجائے اس ترقی پذیر قوت کے مقابلے کی تیاری کرنی چاہیے جو سلطنتِ مغلیہ کی جگہ لینے والی ہے۔ چنانچہ شاہ صاحب نے ایسا ہی کیا۔ فرنگی کے تسلط کو ایک یقینی امر سمجھتے ہوئے اس دور رس نگاہ رکھنے والے مردِ درویش نے فرنگی کے مقابلے میں ایک فکری و علمی مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی۔
ولی اللّٰہی افکار
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے سب سے پہلے قرآن کریم کا اس وقت کی مروجہ زبان فارسی میں ترجمہ کیا اور ان کے فرزند حضرت شاہ عبد القادر اور حضرت شاہ رفیع الدینؒ نے اسے اردو کا جامہ پہنایا۔ اس کے ساتھ ہی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے آنے والے دور کے مسائل کو محسوس کرتے ہوئے انقلاب فرانس سے پچاس سال قبل اور کارل مارکس کی پیدائش سے ۱۰۰ سال قبل انسان کے جمہوری، معاشرتی و اقتصادی حقوق کی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائی۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر حضرت شاہ صاحبؒ کی تعلیمات کا مختصر سا خلاصہ پیش کر دیا جائے جو ان کی معرکۃ الانصار تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ اور دیگر تصانیف سے ماخوذ ہے۔
سیاسی اصول اور شہریوں کے بنیادی حقوق
(۱) زمین کا مالک حقیقی خدا ہے، باشندگانِ ملک کی حیثیت وہ ہے جو کسی مسافر خانے میں ٹھہرنے والے لوگوں کی ہوتی ہے ملکیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حقِ انتفاع (فائدہ اٹھانے کا حق) میں کسی دوسرے کی دخل اندازی قانوناً ممنوع ہے۔
(۲) سارے انسان برابر ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو مالکِ ملک، ملک الناس مالکِ قوم یا انسانوں کی گردنوں کا مالک سمجھے، نہ کسی کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی صاحبِ اقتدار کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے۔
(۳) ریاست کے سربراہ کی وہ حیثیت ہے جو کسی وقف کے متولی کی ہوتی ہے۔ وقف کا متولی اگر ضرورت مند ہو تو اتنا وظیفہ لے سکتا ہے کہ عام باشندہ ملک کی طرح زندگی گزار سکے۔
(۴) روٹی، کپڑا، مکان اور ایسی استطاعت، کہ نکاح کر سکے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کر سکے بلا لحاظ مذہب و نسل ہر ایک انسان کا پیدائشی حق ہے۔
(۵) مذہب، نسل یا رنگ کے کسی تفاوت کے بغیر عام باشندگان کے لیے ملک کے معاملات میں یکسانیت کے ساتھ عدل و انصاف، ان کے جان و مال کی حفاظت، حق ملکیت میں آزادی، حقوقِ شہریت میں یکسانیت ہر باشندۂ ملک کا بنیادی حق ہے۔
(۶) زبان اور تہذیب کو زندہ رکھنا ہر ایک فرقہ کا بنیادی حق ہے۔
اقتصادی اصول
(۱) دولت کی اصل بنیاد محنت ہے۔ مزدور اور کاشت کار قوت کاسبہ (کمانے والی قوت) ہیں۔ باہمی مدنیت (شہریت) کی روحِ رواں باہمی تعاون ہے۔ جب تک کوئی شخص ملک و قوم کے لیے کام نہ کرے ملک کی دولت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
(۲) جوا، سٹہ اور عیاشی کے اڈے ختم کیے جائیں جن کی موجودگی میں تقسیم دولت کا صحیح نظام قائم نہیں رہ سکتا اور بجائے اس کے کہ قوم اور ملک کی دولت میں اضافہ ہو، دولت بہت سی جیبوں سے نکل کر ایک طرف سمٹ آتی ہے۔
(۳) مزدور کاشت کار اور جو لوگ ملک اور قوم کے لیے دماغی کام کریں، دولت کے اصل مستحق ہیں۔ ان کی ترقی و خوشحالی ملک اور قوم کی ترقی اور خوش حالی ہے، جو نظام ان قوتوں کو دبائے وہ ملک کے لیے خطرہ ہے اس کو ختم ہو جانا چاہیے۔
(۴) جو سماج محنت کی صحیح قیمت ادا نہ کرے اور مزدوروں اور کاشت کاروں پر بھاری ٹیکس لگائے، قوم کا دشمن ہے، اس کو ختم ہو جانا چاہیے۔
(۵) ضرورت مند (مجبور) مزدور کی رضامندی قابل اعتبار نہیں جب تک اس کی محنت کی وہ قیمت ادا نہ کی جائے جو امدادِ باہمی کے اصول سے لازم ہوتی ہے۔
(۶) جو پیداوار یا آمدنی تعاون باہمی کے اصول پر نہ ہو وہ خلاف قانون ہے۔
(۷) کام کے اوقات محدود کیے جائیں۔ مزدوروں کو اتنا وقت ضرور ملنا چاہیے کہ وہ اخلاقی و روحانی اصلاح کر سکیں اور ان کے اندر مستقبل کے متعلق غور و فکر کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔
(۸) تعاونِ باہمی کا بہت بڑا ذریعہ تجارت ہے، لہٰذا اس کو تعاون کے اصول پر ہی جاری رہنا چاہیے۔ پس جس طرح تاجروں کے لیے جائز نہیں کہ وہ بلیک مارکیٹ یا غلط قسم کی کمپیٹیشن سے تعاون کی روح کو نقصان پہنچائیں ایسے ہی حکومت کے لیے درست نہیں کہ بھاری ٹیکس لگا کر تجارت کے فروغ و ترقی میں رکاوٹ پیدا کرے یا رخنہ ڈالے۔
(۹) وہ کاروبار جو دولت کی گردش کو کسی شخص یا طبقہ میں منحصر کر دے، ملک کے لیے تباہ کن ہے۔
(۱۰) وہ شاہانہ نظام زندگی جس میں چند اشخاص یا چند خاندانوں کی عیش و عشرت کے سبب دولت کی صحیح تقسیم میں خلل واقع ہو، اس کا مستحق ہے کہ اس کو جلد از جلد ختم کر کے عوام کی مصیبت ختم کی جائے اور ان کو مساویانہ زندگی کا موقع دیا جائے۔
حضرت شاہ ولی اللہ نے آئندہ جدوجہد کے لیے فکری بنیادیں مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ جماعت بندی بھی شروع کر دی۔ دہلی میں ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔ متعدد شاگردوں اور خصوصاً اپنے خاندان کے افراد کو خصوصیت کے ساتھ تربیت دی۔
مولانا عاشق مظفر نگریؒ، مولانا نور اللہ میرٹھیؒ، مولانا محمد امین کشمیریؒ، مولانا مخدوم لکھنویؒ، مولانا حسین احمد ملیح آبادی اور مولانا شاہ ابو سعید بریلویؒ پر مشتمل خصوصی گروپ قائم کیا۔
دہلی کے علاوہ (۱) تکیہ شاہ علم اللہ رائے بریلی (۲) نجیب آباد (۳) لکھنؤ اور (۴) مدرسہ ملا معین الدین ٹھٹھہ سندھ بھی اسی تحریک کے مراکز تھے۔
سلطان ٹیپو شہیدؒ
تکیہ شاہ علم اللہ رائے بریلی کا معروف روحانی مرکز تھا حضرت جہاں حضرت شاہ ابو سعیدؒ جیسے صاحب علم و فضل، ارادتمندوں کی علمی و روحانی پیاس بجھاتے تھے، بالاکوٹ کے امیر جہاد حضرت سید احمد شہیدؒ آپ ہی کے نواسے تھے اور میسور کا مجاہدِ اعظم سلطان ٹیپو شہیدؒ بھی اسی خانوادے سے متعلق اور حضرت شاہ ابو سعیدؒ کے پوتے شاہ ابواللیث کا مرید تھا جو آخری دم تک فرنگی کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔
دارالحرب کا فتویٰ
تحریک کے لیے فکری بنیادیں فراہم کر کے اور اس فکر کی بنیاد پر عملی جدوجہد کے لیے مختلف مراکز پر تربیتی مراکز قائم فرما کر حضرت شاہ ولی اللہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور آپ کی جانشینی کا اعزاز آپ کے فرزند حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے حصہ میں آیا۔ شاہ عبد العزیزؒ نے ایک سعادت مند بیٹے کی حیثیت سے اپنے عظیم باپ کے ورثہ کو سینے سے لگایا اور تحریک کو آگے بڑھانے کی تگ و دو میں مصروف ہوگئے۔
شاہ صاحبؒ کے دور کا سب سے بڑا اور تاریخ ساز کارنامہ وہ فتویٰ ہے جو آپ نے دہلی میں انگریزوں کی فرمانروائی عمل میں آنے کے بعد جاری کیا اور جس میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر فرنگی کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا۔ یہی فتوی بعد میں آزادی کی تمام مسلم تحریکوں کے لیے بنیاد بنا۔ یہ فتویٰ فتاوی عزیزیہ میں موجود ہے اور اس میں حضرت شاہ عبد العزیزؒ نے اعلان کیا :
(۱) چونکہ شہری آزادیاں سلب ہو چکی ہیں۔
(۲) قانون سازی کے اختیارات عیسائیوں کے ہاتھ میں ہیں اور
(۳) مذہب کا احترام ختم کر دیا گیا ہے اس لیے ہندوستان دارالحرب ہے اور جہاد فرض۔
اس فتویٰ کی پاداش میں حضرت شاہ صاحب کو جن تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ان کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مبینہ طور پر آپ کے جسم پر چھپکلی کا ابٹن مل کر برص پیدا کیا گیا، آپ کو دو مرتبہ دہلی بدر کیا گیا اور ایک بار آپ کو اہل خاندان سمیت شاہدرہ (دہلی) تک پیدل آنا پڑا۔ ایک روایت ہے کہ ان مظالم کی وجہ سے آپ آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے، لیکن عظیم باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تحریک ولی اللّٰہی کی قیادت آپ نے جاری رکھی اور ظلم و جبر کا کوئی دار آپ کے قدموں کو ڈگمگا نہ سکا۔ حضرت شاہ صاحب نے تعلیم و تربیت، تبلیغ و وعظ اور روحانی سلسلہ کے علاوہ باقاعدہ جنگی تربیت بھی شروع کرا دی تھی۔ آپ ہی کی ہدایت پر شاہ ابو سعید بریلویؒ کے نواسے سید احمد شہیدؒ کو امیر علی خاں والیٔ ٹونک کی فوج میں بھرتی کرایا گیا، جہاں حضرت شہید نے نہ صرف مکمل فوجی تربیت حاصل کی بلکہ فرنگی کے خلاف مختلف معرکوں میں حصہ بھی لیا۔
جہاد بالاکوٹ
شاہ عبد العزیزؒ اپنے حصہ کا کام کر کے رخصت ہوئے تو تحریک ولی اللّٰہی کی باگ دوڑ حضرت شاہ محمد اسحاق کے حصہ میں آئی اور سید احمد شہید کے ساتھ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ محمد اسماعیل شہید اور مولانا عبد الحئی کو ملا کر جہاد کی تیاری کے لیے ایک الگ گروپ قائم کر دیا گیا۔ ان تین بزرگوں نے بہت جلد ملک کے متعدد حصوں کا دورہ کر کے ہزاروں افراد کو اس مقصد کے لیے تیار کر لیا۔ ایک بار سینکڑوں افراد کی معیت میں حج بیت اللہ کے لیے بھی گئے۔ یہ سب جہاد کی تیاری کے مختلف مراحل تھے۔ جہاد کے لیے سب سے زیادہ ضروری امر یہ تھا کہ کسی ایسے علاقے میں اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کر لیا جائے جہاں بیٹھ کر دلجمعی کے ساتھ تحریک آزادی کو کنٹرول اور فرنگی کی فوجوں کا مقابلہ کیا جا سکے، چنانچہ نگہٖ انتخاب صوبہ سرحد کے علاقے پر پڑی اور اس خطہ کو اس مقصد کے لیے موزوں خیال کرتے ہوئے مجاہدین کا قافلہ تبلیغ کرتے ہوئے مذہبی وعظ کے بہانے راجستھان، سندھ، خیرپور، ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان وغیرہ کے علاقوں سے ہوتا ہوا آزاد علاقہ پہنچا اور مختلف جھڑپوں کے بعد سکھوں سے پشاور چھین کر وہاں امیر المومنین سید احمد شہیدؒ کی سربراہی میں آزاد حکومت قائم کر دی۔ قرآن و سنت کا نظام نافذ ہوا۔ بیت المال قائم کیا گیا۔ شرعی حدود و تعزیرات کا نفاذ ہوا اور فرنگی سامراج کے خلاف جہاد کے لیے ایک آزاد ریاست معرض وجود میں آئی، مگر خود غرضوں کی ابو الہوسیٰ کا اندازہ کیجیے کہ بقول ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر:
فرنگی نے ڈپلومیسی سے کام لیتے ہوئے ان مجاہدین کے خلاف ’’وہابیت‘‘ کا نفرت خیز پروپیگنڈہ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں بعض خوانین نے غداری کی اور انگریزیت کے بعد برصغیر میں قائم ہونے والی اسلامی حکومت بے دردی کے ساتھ ختم کر دی گئی اور مجاہدین کا پورا قافلہ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی قیادت میں پوری پامردی کے ساتھ شیر سنگھ کی فوجوں اور فرنگی کی ڈپلومیسی کا مقابلہ کرتے ہوئے ۷ مئی ۱۸۳۱ء کو بالاکوٹ کی وادی میں جام شہادت نوش کر گیا۔
شہادت گاہ بالاکوٹ کے بعد شاہ محمد اسحاق اور شاہ محمد یعقوبؒ خانوادہ ولی اللّٰہی کے متعلقین سے ازسرنو رابطہ قائم کرنے اور تحریک ولی اللّٰہی کو نئے سرے سے منظم کرنے کے لیے حجاز مقدس چلے گئے، وہاں ان کے خلاف مختلف شکایتیں کر کے فرنگی کے ایجنٹوں نے انہیں وہاں سے نکلوانے کی سازشیں کیں، مگر خلافتِ عثمانیہ کا دور تھا، سازشیں کامیاب نہ ہوئیں۔ بالآخر دہلی میں اس خاندان کی جائیداد ضبط کر لی گئی۔
علماء صادق پور
صادق پور کے مولانا ولایت علی، مولانا عنایت علی اور ان کے رفقاء نے شہدائے بالاکوٹ کی طرز پر جہاد کا سلسلہ جاری رکھا۔ یاغستان میں ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔ صادق پور اور دوسرے مراکز سے وہاں کمک جاتی رہی اور عرصۂ دراز تک ان غیور و جسور مجاہدین نے سرحد پر فرنگی کو پریشان کیے رکھا۔
اس گروپ پر انبالہ، پٹنہ، مالدہ اور بھاگل پور میں سازش کے متعدد مقدمات قائم ہوئے۔ متعدد رہنماؤں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور تہذیب و تمدن کے دعویدار فرنگی نے انتہائی بے دردی کے ساتھ اس عظیم محب وطن خاندان کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا۔ پٹنہ کے مقدمہ میں جب مولانا احمد اللہ صادق پوری کو حبس و دوام بعبورِ دریائے شور اور ضبطی جائیداد کی سزا دی گئی تو عین عید کے دن فرنگی درندوں نے ان کے خاندان کے مکانات کو مسمار کر دیا، سامان ضبط کر لیا، ان کے صاحبزادہ حکیم عبد الحمید کا دواخانہ ضبط کیا اور ان درندہ صفت حکمرانوں نے اس خاندان کے قبرستان تک کو اکھاڑ دیا اور لاشوں کو پھینک دیا۔
ٹیٹو میر شہیدؒ
تیسری طرف بنگال کے علاقہ فرید پور میں جہاں سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کے دو ماہ کے قیام کلکتہ کے دوران متعدد لوگ ان کی خدمت میں آکر جذبہ جہاد سے سرشار ہوئے تھے۔ نثار علی عرف ٹیٹو میرؒ نے مجاہدین کا گروپ تیار کر کے علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ ضلع فرید پور پر اپنی حکومت قائم کی اور کچھ عرصہ تک فرنگی فوجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بالآخر ٹیٹو میرؒ فرنگی کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگئے اور ان کے دست راست مسکین شاہ کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔
جنرل بخت خاںؒ
چوتھی طرف سید احمد شہیدؒ کے خلیفہ اور ولی اللّٰہی فکری خاندان کے نامور چشم و چراغ مولانا سرفراز علیؒ نئی تکنیک کے مطابق فرنگی کے قدم اکھاڑنے کی مساعی میں مصروف تھے۔ ان کی تحریک پر دہلی کے علماء نے فرنگی کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ اس وقت بہادر شاہ ظفر ہندوستان کا بے اختیار بادشاہ تھا۔ اصل اختیارات ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ میں تھے، فوجوں میں بے چینی کے آثار پہلے سے موجود تھے، اسباب فراہم ہو رہے تھے۔ میرٹھ چھاؤنی میں بغاوت ہوئی، بجنور میں بغاوت ہوئی، علماء دہلی کے فتویٰ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مولانا سرفراز علی کی امارت میں علمِ جہاد بلند کر دیا۔ مولانا سرفراز علیؒ کے مرید خاص جنرل بخت خاں روہیلاؒ نے کمان سنبھالی اور اس طرح ۱۸۵۷ء کا وہ عظیم الشان معرکہ حریت برپا ہوا جسے آج بھی فرنگی اور اس کی معنوی اولاد غدر کے نام سے یاد کرتی ہے اور جس کا تصور آج بھی کسی انگریز کے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تھانہ بھون ضلع سہارنپور کی عظیم خانقاہ میں بھی جہاد کے لیے صلاح مشورہ شروع ہوا۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے دہلی بھیجا گیا۔ رپورٹ ملی تو خانقاہ تھانہ بھون نے فرنگی کے خلاف جہا د کا فتویٰ صادر کر دیا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کو امیر منتخب کر کے باقاعدہ نظامِ حکومت قائم کیا گیا۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سپہ سالار مقرر ہوئے اور شاملی کے میدانوں کو جولا نگاہ کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔ ان مجاہدین نے فرنگی سے توپ اور دیگر ہتھیار چھین کر فرنگی کا مقابلہ کیا۔ شاملی تحصیل پر قبضہ کر لیا جب دہلی میں بعض نام نہاد مسلمانوں کی غداری نے مجاہدین کے حق میں جنگ کا پانسہ پلٹنے اور فرنگی کی واضح شکست کے بعد بھی فتح کو شکست سے تبدیل کر دیا تو شاملی کے محاذ پر بھی فرنگی کا دباؤ بڑھ گیا۔ اس جنگ میں مولانا عبد الجلیلؒ اور حافظ ضامنؒ شہید ہوئے اور شاملی پھر فرنگی کے قبضہ میں چلا گیا۔
فرنگی کے مظالم
۱۸۵۷ء کا عظیم معرکۂ جہاد بھی خود غرضوں کی مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گیا اور فرنگی نے اس بغاوت کا انتقام لینے کے لیے جو طریقے ایجاد کیے انہوں نے ہلاکو خان اور چنگیز خان کی روحوں کو بھی شرما دیا۔
بغاوت کے قیدیوں کو دریا میں غرق کر دیا گیا، زندہ مسلمانوں کو سور کی کھال میں سی کر آگ میں جلا دیا گیا، باہمی بدفعلی پر مجبور کیا گیا، مکانوں میں بند کر کے نذرِ آتش کیا گیا۔ کرنل ہڈسن نے مغل شہزادوں کو ننگا کر کے قتل کیا، ان کی لاشوں کو پاؤں تلے روندا اور پھر چاندنی چوک میں پھینکوا دیا۔
چھ چھ اشخاص کی ٹولیوں کو توپ کے منہ پر باندھ کر گولے کے ساتھ ان کے پرخچے اڑادیے گئے۔ ایک ایک درخت پر سینکڑوں علماء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ہزاروں علماء کو کالے پانی میں قید کر دیا گیا۔ غرض یہ کہ ظلم و جبر کا جو حربہ بھی فرنگی کی سمجھ میں آسکتا تھا اس سے گریز نہیں کیا اور تہذیب و تمدن کے ان دعویداروں نے درندگی، بہمیت اور وحشت و بربریت کی انتہا کر دی۔
تبلیغی مشن
علماء کرام اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کی تحریک چلانے والوں کے اس ہمہ گیر قتل عام کے ساتھ فرنگی نے برصغیر میں عیسائی تبلیغی مشنوں کا جال بچھا دیا لیکن حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے اپنے رفقاء کی معیت میں فرنگی کے اس تبلیغی حملہ کا پوری پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ آگرہ کے مقام پر عیسائیوں کے سب سے بڑے پادری فنڈر کو مولانا رحمت اللہ نے ایسی عبرتناک شکست دی کہ وہ دوسری بار مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کر سکا اور ہندوستان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ مولانا رحمت اللہ نے ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے ایک معرکۃ الآراء کتاب لکھی جسے سلطان عبد العزیزؒ عثمانی نے مختلف زبانوں میں چھپوا کر تقسیم کیا۔ اس کے انگریزی ایڈیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے ۱۸۹۱ء میں لندن ٹائمز نے لکھا تھا کہ ’’اگر یہ کتاب پڑھی جاتی رہی تو دنیا میں عیسائی مذہب ختم ہو جائے گا۔‘‘ اس طرح امام ولی اللہ کے فکری خوشہ چینیوں کے ہاتھوں عیسائی تبلیغی مشن اپنے فطری انجام کو پہنچے۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
تحریک آزادی میں علمائے حق کے قافلہ سالار
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم الصدیقی النانوتویؒ بن شیخ اسد علی بن شیخ غلام شاہ الخ۔ آپ سیدنا حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل اور اولاد میں تھے اور ۱۲۴۸ھ/۱۸۳۲ء کو قصبہ نانوتہ میں پیدا ہوئے۔ تاریخی نام خورشید حسین تھا۔ یہ قصبہ دیوبند سے بارہ کوس مغرب میں، سہارنپور سے پندرہ کوس جنوب میں، گنگوہ سے نو کوس مشرق میں، اور دہلی سے ساٹھ کوس شمال میں واقع ہے۔ آپ کے والد بزرگوار تعلیم سے چنداں بہرہ ور نہ تھے۔ صرف ایک معمولی زمیندار تھے، البتہ بزرگوں کی نیک صحبت سے ضرور متاثر تھے اور دین سے کافی لگاؤ تھا۔
حضرت نانوتویؒ نے اکثر کتابیں حضرت مولانا مملوک علی صاحب نانوتویؒ (المتوفیٰ ۱۲۶۷ھ) سے پڑھی تھیں، جو اپنے وقت کے ٹھوس مدرس، متبحر عالم اور مختلف علوم و فنون کی کامل مہارت رکھنے والے شفیق استاد تھے۔ رب ذو المنن نے حضرت نانوتویؒ کو ابتدا ہی سے بڑی ذہانت اور عمدہ فطانت کی دولت عظیمہ سے وافر حصہ مرحمت فرمایا تھا۔ جب جملہ علوم وفنون کی تعلیم مکمل کر چکے تو آخر میں حضرت مولانا قطب الارشاد رشید احمد گنگوہیؒ (المتوفیٰ ۱۳۲۳ھ) کے ساتھ مل کر راس الاتقیاء شیخ وقت محدث کامل اور یکتائے روزگار حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب مجددی حنفیؒ (المتوفیٰ ۱۲۹۵ھ) سے حدیث شریف کا دورہ پڑھا اور اسی زمانے میں دونوں بزرگوں نے وقت کے رئیس الاولیاء مجاہد کبیر عالم باعمل مولانا حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ (المتوفیٰ ۱۳۱۷ھ) سے بیعت کر کے سلوک کی راہ اختیار کی اور ظاہری علوم کے علاوہ باطنی علوم اور تصوف و ورع میں بھی وہ مقام حاصل کیا جو ان کے زمانے میں انہی کے لیے واہب حقیقی نے مخصوص کر رکھا تھا، جن کے ذریعہ سینکڑوں حضرات کو روحانی فیض بھی حاصل ہوا اور تزکیہ نفس کے وہ اعلیٰ مراتب بھی قادر ِمطلق نے انہی کی بدولت مرحمت فرمائے جو اس دور میں بہت کم کسی اور کو حاصل اور نصیب ہوئے ہوں گے۔
ایامِ طالب علمی کے دو خواب
(۱) — حضرت نانوتویؒ نے طلبِ علم کے زمانے میں بہت سے خواب دیکھے تھے، جو آنے والے دور میں ان کی دینی خدمات اور رفع درجات کی طرف مشیر اور رب قدیر کی طرف سے بشریٰ اور خوشخبری تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ (المتوفیٰ فی حدود ۱۳۰۰ھ) جو حجت الاسلام مولانا محمد قاسم صاحبؒ کے قریبی رشتہ دار، ہم وطن، رفیق درس، استاد زادہ، بعض کتابوں میں شاگرد، ہم زلف اور پیر بھائی تھے، حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ:
’’ایامِ طالب علمی میں مولوی (محمد قاسم) صاحبؒ نے ایک اور خواب دیکھا تھا کہ میں خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوں اور مجھ سے نکل کر ہزاروں نہریں جاری ہو رہی ہیں۔ جناب والد صاحبؒ (یعنی حضرت مولانا مملوک علی صاحبؒ) سے ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم سے علمِ دین کا فیض بکثرت جاری ہوگا۔‘‘ (سوانح مولانا محمد قاسم صاحب، ص ۹۔ ارواحِ ثلاثہ، ص ۲۰۴)
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ دارالعلوم دیوبند اور اس کی دیگر سینکڑوں شاخوں سے قرآن و حدیث، فقہ اور علم دین کی جو نشر و اشاعت ہوئی ہے، اس صدی کے اندر تمام جہان میں اس کی نظیر تلاش کرنا بے سود ہے۔ بلا شبہ قاہرہ یونیورسٹی صدیوں سے حکومت مصر کے زیر سایہ دین اور علم دین کی خدمت انجام دے رہی ہے، مگر صورت و سیرت، گفتار و کردار، ظاہر اور باطن کے اعتبار سے علم و عمل کا جو نمونہ مادر علوم دارالعلوم دیوبند اور اس کی شاخوں نے قائم کیا ہے، وہ اس دور انحطاط میں کہیں بھی نہیں مل سکتا۔
دارالعلوم دیوبند اور اس کی قائم کردہ (یا اس کے نمونہ کے مطابق اور اس کے نقشہ پر قائم کردہ) شاخوں میں ہزاروں جید اور ربانی علماء کرام اور صوفیاء عظام پیدا ہوئے، جن کی بدولت رب العزت نے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو توحید و سنت کا داعی اور شیدائی بننے کا شرف عطا فرمایا اور علم ظاہری کے علاوہ جس طرح لوگوں کے دلوں کو ان سے صفائی اور روشنی نصیب ہوئی اور شرک و بدعت، حسد و تکبر اور اتباع ہویٰ سے ان کو جس طرح کا چھٹکارا حاصل ہوا، وہ کسی منصف مزاج اور ہوش مند مسلمان سے اوجھل نہیں ہے۔
ایک طرف تو ان اکابر کے قائم کردہ اسلامی مدارس سے سینکڑوں ثقہ مدرس، بہترین مبلغ، عمدہ ترین مناظر، اعلیٰ مصنف، نڈر مجاہد، بیباک سیاستدان اور محقق پروفیسر تیار ہوئے، جو اپنے اپنے میدان اور فن میں گوئے سبقت لے گئے، اور دوسری طرف قرآن و سنت اور سلف صالحین کی واضح ہدایات کی روشنی میں ایسے اہل سلوک، صاحب باطن، زاہد اور صوفی پیدا ہوئے، جنہوں نے اپنی خداداد بصیرت اور للٰہیت اور روحانیت سے لوگوں کے قلوب و اذہان کو منور کیا، ان میں توحید و سنت کا جذبہ پیدا کیا، خدا خوفی اور فکرِ آخرت پیدا کی، دنیا کی ناپائیداری اور بے ثباتی کا نقشہ ان کے دلوں میں نقش کیا، آنے والی قبر اور حشر و نشر کی حقیقی زندگی کے حاصل کرنے کا سبق دیا، جنت اور دوزخ کی ابدیت اور ان کی تحصیل و اجتناب کے منصوص احکام سنائے، خالق کے حقوق کے علاوہ مخلوق کے باہمی حقوق کو محفوظ و ملحوظ رکھنے کی شدت سے تلقین کی، نفس امارہ اور شیطان کی فریب کاریوں سے لوگوں کو ڈرایا، اور سلف صالحین کے صحیح دینی جذبات ان میں اجاگر کیے۔
الغرض دل کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اخلاق ذمیمہ سے بچنے اور اوصاف فاضلہ سے متصف ہونے کے وہ گر بتلائے جو اس دور میں صرف انہی حضرات کا حصہ ہو سکتا ہے۔ دیوبند کی اس روحانی تعلیم کا یوپی کے مشہور گریجویٹ اور شگفتہ نگار شاعر اکبر الٰہ آبادیؒ نے کس خوبی سے ذکر کیا ہے (کلیاتِ اکبر مرحوم) ؎
ہے دل روشن مثالِ دیوبند
اور ندوہ ہے زبانِ ہوشمند
گر علی گڑھ کو بھی تم تشبیہ دو
اک معزز پیٹ بس اس کو کہو
بلا شک دیوبند کی وجہ سے سعید روحوں کو جلا اور تاریک دلوں کو بصیرت اور روشنی حاصل ہوئی۔
(۲) — ارواح ثلاثہ میں ہے کہ مولانا نانوتویؒ نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں خانہ کعبہ کی چھت پر کسی اونچی چیز پر بیٹھا ہوں اور کوفہ کی طرف میرا منہ ہے اور ادھر سے ایک نہر آتی ہے جو میرے پاؤں سے ٹکرا کر جاتی ہے۔ اس خواب کو انہوں نے مولوی محمد یعقوب صاحبؒ (المتوفیٰ ۱۲۸۲ھ) یا شاہ محمد اسحاق صاحبؒ (المتوفیٰ ۱۲۶۲ھ) سے اس عنوان سے بیان فرمایا کہ حضرت ایک شخص نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے، تو انہوں نے یہ تعبیر دی کہ اس شخص سے مذہب حنفی کو بہت تقویت ہوگی اور وہ پکا حنفی ہوگا اور اس کی خوب شہرت ہوگی، لیکن شہرت کے بعد اس کا جلدی انتقال ہو جائے گا۔ (ارواحِ ثلاثہ، ص ۱۶۹)
بلا ریب ہندوستان میں قیامِ دارالعلوم دیوبند کے ذریعے جس طرح قرآن و حدیث کے بعد مذہب حنفی کی علمی اور ٹھوس خدمت ہوئی ہے وہ اظہر من الشمس ہے اور بغیر کسی سخت معاند اور کوڑھ مغز کے اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
تصحیح کتب
عالم نبیل، محدث جلیل اور فقیہ وقت حضرت مولانا احمد علی صاحب سہارنپوری حنفیؒ نے محض دینی کتب کے احیاء و ترویج اور علوم و فنونِ اسلامیہ کے بقاء اور تحفظ کے لیے مطبع احمدی قائم کیا تھا، جس کے ذریعہ درسی اور متداول کتب کی کافی حد تک تصحیح کی گئی اور بعض کتب کے حواشی بھی لکھے گئے اور وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت اس طرح پوری ہوئی۔ اسی مطبع احمدی میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تصحیح کتب کا فریضہ سر انجام دیتے رہے اور اس طرح علم دین کی خدمت کا حق ادا کرتے رہے۔ اور ضمنی طور پر اس تصحیح سے معمولی سا جو حقِ محنت ملتا، اس پر گزر اوقات کرتے اور اعزہ و اقارب کے علاوہ مہمانوں کا حق پورا کرتے۔
زندگی نہایت سادہ، بے تکلف اور زاہدانہ تھی، شکل و صورت سے دیکھنے والوں کو یہ وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ یہ بھی کوئی مولوی ہیں، مگر ان کو گودڑی کے اس لعل کی کیا خبر تھی جو وقت کے فراعنہ کے مقابلہ میں لسانِ ہارونیؑ اور یدِ موسویؑ لے کر نکلے اور زبان و قلم سے ان کے دلائلِ باطلہ کے سیل رواں کو بہا کر اور ان کے گمراہ کن براہین کی فوجوں کو حقائق کے بحر قلزم کی موجوں کی نذر کر دیا۔ سچ ہے کہ ؎
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
بخاری شریف کے آخری پاروں کا حاشیہ
کتاب اللہ کے بعد دواوینِ اسلام میں سب سے زیادہ صحیح ترین کتاب بخاری شریف ہے، جس کی قدر و منزلت اور ضرورت و اہمیت سے کون مسلمان انکار کر سکتا ہے؟ جس میں ہمارا دین بھی ہے اور دنیا بھی، ہمارا مذہب بھی ہے اور ہماری سیاست بھی، ہماری معیشت کے اصول بھی اس میں مذکور ہیں اور ہماری معاشرت کے احکام بھی، ہماری جسمانی خوراک کا اصولی انتظام بھی اس میں موجود ہے اور ہماری روحانی غذا کا حل بھی اس میں مشرح ہے۔ سینکڑوں جید علماء اور فقہاء نے مختلف اور متعدد زبانوں میں اس کے شروح و حواشی لکھے ہیں۔
موجودہ بخاری شریف پر جو حاشیہ ہے (جو بڑی کاوش اور محنت کے ساتھ بیسیوں شروح حدیث سے پوری ذمہ داری کے ساتھ اخذ کیا گیا ہے)، اس کے چوبیس پچیس پاروں کا حاشیہ تو حضرت مولانا احمد علی صاحب سہارنپوریؒ نے لکھا ہے۔ اور باقی پانچ یا چھ پاروں کا حاشیہ (اور اہلِ علم ہی جانتے ہیں کہ بخاری شریف کے آخری پارے کتنے مشکل ہیں) مولانا سہارنپوری صاحبؒ نے حضرت حجت الاسلام مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کے سپرد کیا، جو انہوں نے کمال حزم و احتیاط کے ساتھ لکھا اور بڑی عمدگی کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہوئے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ سوانحِ قاسمی میں ارقام فرماتے ہیں کہ:
’’اس زمانہ میں جناب مولوی احمد علی صاحب سہارنپوریؒ نے یحشیہ اور تصحیح بخاری شریف کی۔ پانچ چھ سیپارے آخر کے باقی تھے، مولوی (محمد قاسم) صاحبؒ کے سپرد کیا۔ مولوی صاحبؒ نے اس کو ایسا لکھا ہے کہ اب دیکھنے والے دیکھیں کہ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس زمانہ میں بعض لوگوں نے — کہ جو مولوی صاحب کے کمال سے آگاہ نہ تھے — مولوی احمد علی صاحبؒ کو بطور اعتراض کہا تھا کہ آپ نے یہ کیا کام کیا ہے کہ آخر کتاب کو ایک نئے آدمی کے سپرد کیا۔ اس پر مولوی صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ میں ایسا نادان نہیں ہوں کہ بدوں سوچے سمجھے ایسا کروں۔ اور پھر مولوی صاحبؒ کا یحشیہ ان کو دکھلایا۔ جب لوگوں نے جانا، اور وہ جگہ بخاری میں سب جگہ سے مشکل ہے، علی الخصوص تائیدِ مذہبِ حنفیہ کا اول سے التزام ہے اور اس جگہ پر (حضرت) امام بخاریؒ نے اعتراض مذہبِ حنفیہ پر کیے ہیں اور ان کے جواب لکھنے سے معلوم ہے کہ کتنے مشکل ہیں، اب جس کا جی چاہے اس جگہ کو دیکھ لے اور سمجھ لے کہ کیسا حاشیہ لکھا ہے۔ اور اس حاشیہ میں بھی یہ التزام تھا کہ کوئی بات بے سند کتاب کے محض اپنی طرف سے نہ لکھی جائے۔‘‘ (سوانح عمری مولانا محمد قاسمؒ، ص ۶-۷)
راقم الحروف کی معلومات کی بنا پر ہندوستان میں حاشیہ کے ساتھ جتنی دفعہ اور جہاں بھی بخاری شریف طبع ہوتی ہے، وہ اسی حاشیہ کے ساتھ طبع ہوئی اور ہوتی ہے۔ اندازہ فرمائیے کہ یہ صدقۂ جاریہ کس قدر ان حضرات کے رفع درجات کا موجب اور حضرات علماء کے صحیح بخاری سے استفادہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تا قیامت اس صدقۂ جاریہ کو جاری رکھے۔
؏ رہے لاکھوں برس ساقی ترا آباد میخانہ
قیامِ دارالعلوم کے اسباب
دنیا کا کوئی کام بغیر کسی سبب، داعیہ اور محرک کے معرضِ وجود اور منصۂ شہود پر نہیں آتا۔ جب ہم ٹھنڈے دل کے ساتھ ہندوستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں سر ہنری ایلیٹ کی مسخ شدہ تاریخ سے پہلے ہندوستان کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کسی اور صورت میں نظر آتی ہے — سیاست کی باتیں تو سیاسی حضرات بہتر جانتے ہیں، کیونکہ ’’لکل فن رجال‘‘ — ہم صرف مذہبی نقطۂ نظر سے یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی حکومت اور دور اقتدار رہا ہے، جس میں نہایت فراخ دلی سے (بلکہ بعض بادشاہوں کی طرف سے نرے ملحدانہ انداز میں) ہر فرقہ اور ہر مذہب کو اپنے مذہب پر پابند رہنے اور مذہبی رسوم بجا لانے کی کھلی آزادی تھی۔
جب گردشِ زمانہ سے سلطنتِ مغلیہ کا ٹمٹماتا ہوا چراغ گل ہو گیا اور اپنوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے ظالم اور جابر برطانیہ قہرِ الٰہی کی صورت میں ہندوستان پر نمودار ہوا، تو اس کے مقابلہ کے لیے ہندوستان کی دیگر اقوام عموماً اور مسلمان خصوصاً میدان میں نکلے اور عملی طور پر اس کے ساتھ جہاد کیا۔ اس کو انگریز کے منحوس دور میں ’’نمک خوارانِ برطانیہ‘‘ غدر ۱۸۵۷ء کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ اس جہاد میں کون کون حضرات شریک تھے اور کس کس مقام پر لڑے؟ اور ہر مقام پر اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ یہ اور اسی قسم کے دیگر امور ہمارے حیطۂ امکاں سے باہر ہونے کے علاوہ ہمارے موضوع سے خارج ہیں۔
ہمیں تو اثباتِ مدعیٰ کے لیے بانی دارالعلوم دیوبند اور ان کے چیدہ چیدہ بعض احباب و اصحاب کا تذکرہ کرنا ہے کہ انہوں نے کس حد تک انگریز کے خلاف جہاد کیا؟ اور انگریز نے ان کے خلاف کیا رائے قائم کی؟ اور اس وقت انگریز کے اہلِ ہند اور خصوصاً مسلمانوں کے خلاف کیا عزائم تھے؟ اور وہ ہندوستان میں کیا دیکھنا اور کیا کرنا چاہتا تھا اور کس حد تک وہ کر چکا ہے؟ جب ہم تاریخ کے اس موڑ پر آتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں وہ دلگداز واقعات پڑھتے اور دیکھتے ہیں، تو ہماری آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں، ہاتھ میں قلم لرزتا ہے، دل سیماب کی طرح بے قرار ہو جاتا ہے، سانس رکنے لگتا ہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ سب واقعات تو تاریخ ہی میں پڑھیے، ہم ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ چند حقائق کی طرف اشارہ کیے دیتے ہیں، جن میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
؏ گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را
جہادِ شاملی
اہل ہند جب انگریز کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور جب اس کے خلاف لڑتے ہوئے لاکھوں جانیں جاتی رہیں اور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور تیرہ ہزار سے زیادہ جید علماء کرام کو تختہ دار پر چڑھایا اور پھانسی پر لٹکایا گیا اور اس وقت میدانِ کارزار کے آس پاس شاید ہی کوئی درخت ایسا ہوگا جس پر مظلوم ہندوستانیوں کی اور شہید مسلمانوں کی لاشیں نہ لٹکتی ہوں اور ظالم انگریز کے کارندے ان کو دیکھ دیکھ کر نہ خوش ہوتے ہوں، اسی دور میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ کی زیر قیادت تھانہ بھون سے مسلمانوں کا ایک چھوٹا لشکر شاملی کی گڑھی کی طرف روانہ ہوا، جو انگریز کے کارندوں اور اس کی فوج کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ اس لشکر میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ محمد ضامن صاحب شہیدؒ (جو ۱۸۵۷ء میں اسی شاملی کے مقام پر شہید ہوئے تھے) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
آپ سمجھتے ہیں کہ کہاں جابر اور ظالم برطانیہ جو ملک پر برسر اقتدار تھا اور کہاں نہتے اور بے سرو سامان مجاہد؟ مگر ان بہادروں اور دلیروں نے، اور ان میں خصوصیت کے ساتھ حضرت نانوتویؒ نے اپنی شجاعت کے خداداد جوہر اس جہادِ شاملی میں دکھائے۔ بالآخر ان حضرات کو شکست ہوئی، کچھ حضرات تو زخمی ہوئے، اور حافظ محمد ضامن صاحبؒ شہید ہو گئے۔ الغرض مقابلہ خوب ہوا۔ اور بعض دیوپیکر فوجیوں کو (جن میں ایک سکھ بھی تھا، جس کو حضرت نانوتویؒ نے اپنی تلوار سے کاٹ کر مولی کی طرح دو ٹکڑے کر دیا تھا) جنم رسید کیا گیا۔ اور غالباً ایسے ہی موقع کے لیے کہا گیا ہے کہ ؎
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
جب انگریز کو اس کا علم ہوا کہ حضرت حاجی صاحبؒ، مولانا نانوتویؒ اور مولانا گنگوہی صاحبؒ، جو اپنے زمانے کے نامور عالم اور صوفی تھے، ہمارے خلاف جہاد میں شریک ہوئے ہیں، تو ان تینوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ انگریز کے اس ظالم حکم سے بچنے کے لیے کچھ دن تو حضرت نانوتویؒ وغیرہ احباب کے شدید اصرار پر روپوش رہے، پھر نکل آئے، جیسا کہ بقدرِ ضرورت اس کا ذکر آئندہ آئے گا، ان شاء اللہ العزیز۔ جب لاکھوں انسانوں پر برطانیہ یہ مظالم کر چکا، تو بیرونی دنیا کی مزید بدنامی سے بچنے کے لیے اور اہل ہند پر اپنا فرعونی احسان جتلانے کی خاطر کچھ عرصہ بعد وارنٹ گرفتاری اور دیگر کئی سخت احکام واپس لے لیے گئے اور اس طرح ان مظلوموں کی ظالم کے ہاتھ سے گلو خلاصی ہوئی۔
اس جہاد اور ہنگامہ میں اہل ہند اس قدر حق بجانب تھے کہ خود ظالم انگریز اس کا اقرار کیے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ مسٹر لیکی اس ہنگامہ کے بارے میں اپنا یہ خیال ظاہر کرتا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی بغاوت حق بجانب کہی جا سکتی ہے تو وہ ہندوستان کے ہندو مسلمان کی بغاوت تھی۔ (بحوالہ حکومت خود اختیاری، ص ۴۲)
اور اس ہنگامہ میں انگریز نے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، اس کا بھی کچھ نمونہ دیکھتے جائیے۔ مسٹر رسل کا یہ مقولہ ہے کہ: مسلمانوں کو خنزیر کی کھالوں میں سی دیا گیا اور قتل کرنے سے قبل خنزیر کی چربی ان کے بدن پر ملی گئی اور پھر انہیں جلایا گیا۔ (تمغہ کا دوسرا رخ، مصنفہ ایڈورڈ ٹامس، ص ۴۸۰)
ملاحظہ کیجیے کہ ظالم برطانیہ نے کس قدر سفاکانہ اور حیا سوز حرکتیں مسلمانوں پر روا رکھیں اور کس طرح ان کے بے گناہ خون سے ہولی کھیلی گئی، مگر بایں ہمہ مسلمان مردانہ وار اس ظالم کے سامنے ایمان سے بھرپور سینے تان کر پیش ہوتے رہے اور زبانِ حال سے یوں خطاب کرتے تھے کہ ؎
گئے وہ دن کہ ہمیں زندگی کی حسرت تھی
فضول قتل کی دیتا ہے دھمکیاں صیاد
عزائمِ برطانیہ
انگریز کو جب ہندوستان پر سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا تو شیخ چلی کی طرح اس کے دل میں خفتہ اور نہاں آرزوئیں اور ارادے زبان اور قلم کی نوک سے بھی ظاہر ہونے لگے۔ گورنر ہند لارڈ ایلن برا نے ۱۸۴۳ء میں ڈیوک آف ولنگڈن کو لکھا ہے کہ
’’میں اس عقیدہ سے چشم پوشی نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں کی قوم اصولاً ہماری دشمن ہے۔ اس لیے ہماری حقیقی پالیسی یہ ہے کہ ہم ہندوؤں کی رضا جوئی کرتے رہیں۔‘‘ (اَن ہیپی انڈیا، ص ۳۹۹)
انڈیا کی سپریم کونسل کے باوقار رکن سر چارلس ٹیلیوین، جو حکومت کی طرف سے گورنری کے بلند عہدے پر فائز تھا، پورے وثوق سے یہ کہتے ہوئے کہ یہ میرا یقین ہے، یہ امیدیں قائم کیے ہوئے تھا کہ
’’جس طرح ہمارے بزرگ کل کے کل ایک ساتھ عیسائی ہو گئے تھے، اسی طرح یہاں (ہندوستان) میں بھی ایک ساتھ عیسائی ہو جائیں گے۔‘‘ (بحوالہ مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص ۱۴۳)
اور برطانیہ کی پارلیمنٹ کے رکن مسٹر اینگلس نے آغاز ۱۸۵۷ء میں پارلیمنٹ کے دارالعلوم میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہا کہ
’’خداوند تعالیٰ نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ ہندوستان کی سلطنت انگلستان کے زیر نگیں ہے، تاکہ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لہرائے، ہر شخص کو اپنی تمام تر قوت تمام ہندوستان کو عیسائی بنانے کے عظیم الشان کام کی تکمیل میں صَرف کرنی چاہیے اور اس میں کسی طرح تساہل نہ کرنا چاہیے۔‘‘ (حکومت خود اختیاری، ص ۱۳۶۔ علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے، حصہ اول، ص ۲۶)
اور لارڈ رابرٹس نے کہا کہ
’’ان بدمعاش مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ خدا کے حکم سے صرف انگریز ہی ہندوستان پر حکومت کریں گے۔‘‘ (علمائے ہند کی شاندار ماضی کا آخری حصہ: تصویر کا دوسرا رخ، ص ۳۴، طبع اول)
غور فرمائیے کہ سایۂ بوم (ظالم برطانیہ) کے منحوس دورِ اقتدار میں ہندوستان کی سرزمین پر کس طرح زبوں حالی کا گھپ اندھیرا چھا گیا تھا، جس میں رائے قائم کرنے والوں نے یہاں تک رائے قائم کی کہ
’’اب اسلام صرف چند سالوں کا مہمان ہے۔‘‘ (موجِ کوثر، ص ۱۰۸، مصنفہ شیخ محمد اکرم صاحب ایم اے)
اس نازک دور اور نامساعد حالات میں علمائے دیوبند کثر اللہ جماعتہم نے جس طرح ہمت و استقلال کا ثبوت دیا ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ آخر بتلائیے کہ
- اس وقت تمام گمراہ کن تحریکوں کا مقابلہ کس نے کیا؟
- ظالم برطانیہ کے فولادی پنجہ سے کس نے ٹکر لی؟
- جانِ عزیز کو ہتھیلی پر رکھ کر کس نے جہاد ۱۸۵۷ء میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا؟
- آریوں اور پادریوں کا تعاقب کس نے کیا؟
- اُن کی تردید میں کتابیں اور رسالے کس نے لکھے؟
- کس نے تقریروں کے ذریعہ اسلام کی حقانیت واضح کرتے ہوئے ان باطل فرقوں کے مکائد اور دسیہ کاریوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا؟
- اور اس ہنگامے میں کس طبقہ کے علماء کے ساتھ انتہائی بہیمانہ سلوک روا رکھا گیا، اور نہایت بے دردی کے ساتھ درختوں پر کس کو لٹکایا گیا؟
- اور ملکِ عزیز سے جلاوطنی کی وحشیانہ سزائیں کس طبقہ کی اکثریت کو دی گئیں؟
- اور تختہ دار پر لٹکنے کے لیے زبانِ حال سے یہ کہتے ہوئے کس نے خوشیاں منائیں کہ ؎
فنا فی اللہ کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا
برطانیہ کا ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جس میں ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ہماری حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اگر ایک جگہ غروب ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع ہوتا ہے۔ اور برطانیہ کے مغرور وزیر اعظم مسٹر گلیڈسٹون نے یہ کہا تھا کہ اگر آسمان بھی ہمارے سروں پر گرنا چاہے تو ہم سنگینوں کی نوک پر اسے تھام سکتے ہیں (معاذ اللہ)۔ اس دور میں بھی علمائے دیوبند نے اس ظالم برطانیہ کے خلاف صدائے حق بلند کی اور اس سے نبرد آزما رہے ہیں۔ چنانچہ یوپی کے گورنر سر جیمس امنسٹن نے اسیرِ مالٹا حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندیؒ (المتوفیٰ ۱۳۳۹ھ) کے بارے میں ایک موقع پر کہا تھا کہ
’’اگر اس شخص کو لے جا کر خاک بھی کر دیا جائے تو وہ بھی اس کوچہ سے نہیں اڑے گی جس میں کوئی انگریز ہوگا۔‘‘ نیز یہ بھی ان ہی کا مقولہ ہے کہ ’’اگر اس شخص کی بوٹی بوٹی کر دی جائے تو ہر بوٹی سے انگریزوں کے خلاف عداوت ٹپکے گی۔‘‘ (حاشیہ سوانح قاسمی، جلد ۲، ص ۸۴، مصنفہ حضرت مولانا مناظر احسن صاحب گیلانیؒ المتوفیٰ ۱۳۷۶ھ بمطابق ۱۹۵۶ء)
غالباً ایسے ہی موقعہ کے لیے کہا گیا ہے کہ ؎
وہی مومن ہے جس کو دیکھ کر باطل پکار اٹھے
کہ اس مردِ خدا پر چل نہیں سکتا فسوں میرا
عیسائی بنانے کے لیے طریقہ کار
آپ باحوالہ پہلے یہ پڑھ آئے ہیں کہ انگریز نے ہندوستان میں زمامِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی تمام ہندوستانیوں کو ایک ساتھ عیسائی بنانے کا خواب دیکھنا شروع کیا اور اس کے لیے ملازمتوں اور میموں، نوکریوں اور چھوکریوں کی پیشکش کے علاوہ اور بھی کئی حربے اختیار کیے گئے۔ ان میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو اتنا غریب اور مفلوک الحال کر دیا جائے کہ وہ عیسائیوں کی جھولی میں پڑنے کے لیے مجبور و لاچار ہو جائیں۔ چنانچہ عوام کی غربت اس حد تک عمداً پہنچا دی گئی تھی کہ بقول سرسید صاحب:
’’ڈیڑھ آنہ یومیہ یا ڈیڑھ سیر اناج پر ہندوستانی اپنی گردن کٹوانے پر بخوشی تیار ہو جاتا تھا۔‘‘ (بغاوتِ ہند، ص ۴۰)
اور سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک طریقہ جو انگریز نے تجویز کیا تھا، وہ یہ تھا کہ قرآن پاک اور اس کی تعلیم اور علومِ اسلامیہ کو یکسر مٹا دیا جائے تاکہ ایمان و ایقان کی وہ پختگی جو مسلمانوں کو حاصل ہے، بالکل ختم ہو جائے، اور عیسائیت کا راستہ ان کے لیے سہل اور ہموار ہو جائے۔ اور اس کے مقابلہ میں انگریزی تعلیم کو اس قدر عام اور رائج کر دیا جائے کہ کوئی شخص اپنے لیے اس کے سوا چارہ کار نہ پائے۔ چنانچہ قرآن کریم جیسی جامع و مکمل، بے نظیر اور انقلاب انگیز کتاب کی بے پناہ قوت اور طاقت سے خائف اور بدحواس ہو کر برطانیہ کے مشہور ذمہ دار وزیر اعظم گلیڈسٹون نے بھرے مجمع میں قرآن کریم کو اٹھاتے ہوئے بلند آواز سے یہ کہا تھا کہ
’’جب تک یہ کتاب دنیا میں باقی ہے، دنیا متمدن اور مہذب نہیں ہو سکتی۔‘‘ (بحوالہ خطبہ صدارت، ص ۱۵، اجلاس پنجاہ سالہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ از حضرت مدنیؒ)
اور ہنگری ہرلینگٹن طامس نے کہا کہ
’’مسلمان کسی ایسی گورنمنٹ کے، جس کا مذہب دوسرا ہو، اچھی رعایا نہیں ہو سکتے۔ اس لیے احکامِ قرآن کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘ (بحوالہ حکومت خود اختیاری، ص ۵۵)
الغرض قرآن کریم کو مٹانے اور مسلمانوں کے اسلامی جذبات کو ہندوستان سے نیست و نابود کرنے کے لیے ایسے حربے استعمال کیے گئے کہ شیطان بھی دم بخود ہو کر رہ گیا اور لارڈ میکالے نے تو صاف لفظوں میں کہا کہ
’’ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان پیدا کرنا ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں، تو دل اور دماغ کے اعتبار سے فرنگی۔‘‘ (بحوالہ مدینہ بجنور ۲۸ فروری ۱۹۳۶ء)
اور سچ پوچھیے تو اس میں ان کو کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی، جیسا کہ کسی بھی صاحبِ علم پر مخفی نہیں ہے۔ یہ طریقہ تو وہ تھا جو براہ راست حکومتِ برطانیہ اور اس کے ذمہ دار اصحاب نے اختیار کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ پادری صاحبان کی طرف سے (جن کی حفاظت و نگرانی اور مالی و سرپرستی خود انگریز کر رہا تھا) عیسائیت کی جارحانہ تبلیغ ہندوستان میں جو شروع کی گئی، وہ اپنے مقام پر ایک سانحۂ عظیم اور آفاتِ ارضی میں سے ایک بہت بڑی آفت تھی۔ مسلمانوں پر تو حکومت کی طرف سے صدہا آئینی پابندیاں عائد تھیں کہ وہ انگریز کے خلاف لب کشائی کرنے کے مجاز نہیں، مگر (العیاذ باللہ) اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پادریوں پر کسی قسم کی پابندی نہ تھی۔ بقول کسے ؎
ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
پادریوں کی تبلیغ
ہندوستان میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے سلطنت اور اقتدار جانے کی دیر تھی کہ مختلف قسم کے مذہبی فتنے عذابِ الٰہی کی صورت میں نمودار ہوئے اور ساون کے مینڈکوں کی طرح بازاروں اور کوچوں، گلیوں اور محلوں میں پادری صاحبان جوق در جوق اور جماعت در جماعت گردش کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکے ڈالتے ہوئے نظر آنے لگے۔ اور ہندوستان میں شاید ہی کوئی قابل ذکر شہر اور خوش نصیب قصبہ ایسا ہوگا جس کو پادری صاحبان نے اس دور میں اپنے منحوس پاؤں سے نہ روندا ہو، اور اسلام کے خلاف خوب زہر اگل کر مسلمانوں کی دل آزاری نہ کی ہو، اور جارحانہ رنگ میں عیسائیت کی تبلیغ میں کوئی کمی چھوڑی ہو اور مسلمانوں کو چیلنج نہ دیا ہو۔
ایسے تمام واقعات کا استیعاب اور احاطہ نہ تو ہمارے بس کا روگ ہے اور نہ ان پر ہمارا مدعا موقوف ہے، اس لیے ہم ان کو قلم انداز کرتے ہیں۔ صرف دو تین واقعات بطور نمونہ عرض کیے دیتے ہیں، عقل مند انسان ان سے بخوبی حقیقت کی تہہ کو پہنچ سکتا ہے، اور نادان کے لیے تو دفتر کے دفتر بھی بے سود ہیں۔
چاندا پور کا مذہبی اجتماع
ہندوستان میں عیسائیت کی وسیع پیمانہ پر تبلیغ کو دیکھ کر ہندوؤں میں بھی جرأت پیدا ہو گئی کہ وہ اپنے مذہب کا پرچار کریں اور عیسائیوں کی طرح وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ مذہبی امور میں الجھتے رہیں۔ چنانچہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ ہے کہ مشہور شہر شاہجہانپور سے پانچ چھ میل کی مسافت پر ایک قصبہ تھا جس کا نام چاندا پور تھا، وہاں کے ایک ہندو رئیس منشی پیارے لال کبیر پنتھی نے ۱۲۹۳ھ/۱۸۷۶ء میں ایک مذہبی جلسہ بنام ’’میلہ خدا شناسی‘‘ مقرر کیا، جس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کا باہمی مباحثہ طے پایا اور تینوں فریق اس میں شریک ہوئے۔ مگر لالہ جی نے کمال ہوشیاری اور انتہائی چالاکی سے ایک مختصر سی لیکن نہایت بے معنی اور مہمل لکھی ہوئی تقریر یوں شروع کی کہ
’’میاں کبیر نے کنول کے پھول میں جنم لیا اور ان کے پنتھ میں جاگتے سوتے سانسا چلتا رہتا تھا … الخ‘‘
جس کو چیستان اور پہیلی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اور اس طرح اپنی اور اپنے ہم مذہبوں کی جان چھڑا لی اور اصل گفتگو مسلمانوں اور عیسائیوں میں رہی۔ عیسائیوں کی طرف سے ان کے دیگر نامی گرامی پادریوں کے علاوہ پادری نولس صاحب انگلستانی بھی تھے، جو بڑے لسان، عمدہ مقرر اور چوٹی کے مناظر تھے۔ پادری نولس صاحب کا یہ بے بنیاد دعویٰ تھا کہ مسیحی دین کے مقابلہ میں محمدی دین کی کچھ حقیقت نہیں (معاذ اللہ)۔ اور اہلِ اسلام کی طرف سے جو حضرات اس موقعہ پر موجود تھے، ان میں مشاہیر میں سے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندیؒ، حضرت مولانا فخر الحسن صاحب گنگوہیؒ اور حضرت مولانا سید ابو المنصور صاحب دہلویؒ امامِ فنِ مناظرۂ اہلِ کتاب خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر حضرات علماء اور اہلِ دل دیندار مسلمانوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔
پہلے دن تو اس مباحثہ میں متعدد حضرات نے حصہ لیا اور پادری نولس صاحب کے مزعوم دلائل کے جوابات دیتے رہے اور اپنے دعاوی کا اثبات کرتے رہے، مگر دوسرے دن مناظرہ میں صرف حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ نے حصہ لیا اور ایسے دلائل اسلام کی حقانیت پر پیش کیے کہ مجمع دادِ تحسین دیے بغیر نہ رہ سکا۔ اور دینِ مسیحی کے منسوخ اور ناقابلِ اتباع ہونے پر ایسے ٹھوس براہین پیش کیے کہ پادری باہم کہتے تھے کہ آج ہم مغلوب ہو گئے (گفتگوئے مذہبی بہ لقب تاریخی میلہ خدا شناسی، ص ۳۰) اس مناظرہ کی مکمل روداد اسی کتاب میں ملاحظہ فرمائیے کہ پادری کا مغرور سر کیسے سرنگوں ہوا اور اسلام کی حقانیت اور صداقت کس طرح آشکارا ہوئی۔ سچ ہے کہ ؎
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
شاہ جہان پور
اس مناظرہ کے تقریباً دو سال بعد ۱۲۹۵ھ بمطابق ۱۸۷۸ء میں شاہجہانپور میں اہلِ اسلام اور مختلف باطل فرقوں کا مناظرہ اور مباحثہ طے ہوا، جس میں پنڈت دیانند سرسوتی، منشی اندر من، پادری اسکاٹ مفسر انجیل، اور پادری نولس صاحب وغیرہ نے حصہ لیا؛ اور اہلِ اسلام کی طرف سے متعدد علماء اور مشاہیر اس وقت اور اس مقام پر حاضر اور موجود تھے؛ مگر مناظرہ پادریوں اور مسلمانوں کا ہوا اور لالے وقت کی نزاکت سے فائدہ اٹھا گئے۔ اس میں حضرت حجت الاسلام مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ مناظر تھے۔ انہوں نے عقلی و نقلی رنگ میں ایسی صحیح اور قطعی دلیلیں پیش فرمائیں کہ پادری صاحبان سے ان کا کوئی معقول جواب نہ بن سکا اور اس موقع پر بھی اسلام اور اہلِ اسلام کا بول بالا ہوا۔ مسلمانوں کی کھلی فتح کا مسلمانوں اور عیسائیوں کے علاوہ متعصب ہندوؤں نے بھی اقرار کیا۔ چنانچہ منشی پیارے لال نے یہ کہا کہ
’’مولوی قاسم صاحب کا حال کیا بیان کیجیے؟ ان کے دل پر علم کی سرستی (علم کی دیبی) بول رہی تھی۔‘‘ (مباحثہ شاہجہانپور، ص ۹۲)
اور پورے ۹۲ صفحات پر اس مناظرہ کی روداد بارہا طبع ہو چکی ہے، اہلِ علم اس سے استفادہ کریں۔ اس کے علاوہ حجت الاسلامؒ نے پادری تارا چند سے بھی مناظرہ کیا۔ چنانچہ سوانح قاسمی، ص ۱۵ از مولانا محمد یعقوب صاحبؒ میں ہے: ’’ایک پادری تارا چند نام تھا، اس سے گفتگو ہوئی اور وہ بند ہوا اور گفتگو سے بھاگا۔‘‘ سچ ہے: ’’شیروں کا مقابلہ لومڑیاں کیا کر سکیں!‘‘
پادری فنڈر کا فتنہ
پادری ڈاکٹر کارل فنڈر — (جو ایک جرمنی مشنری تھا، جسے روسی سلطنت نے جارجیا کے قلعے شوشا سے بدر کر دیا تھا، جس نے فارسی زبان میں ’’میزان الحق‘‘ نامی ایک کتاب شائع کی اور پھر اس کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ ملاحظہ ہو: اہلِ مسجد، ص ۳۱۴، مصنفہ ایل بیون جونز بی اے بی ڈی لندن، مترجمہ جے عبد السبحان بی اے بی ڈی پنجاب، ریلیجئس بک سوسائٹی، انار کلی، لاہور) — نے ہندوستان پہنچ کر اور انگریز کی سرپرستی حاصل کر کے جس دریدہ دہنی سے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی اور اہلِ اسلام کے خلاف زہر اگلا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں جو بہتان تراشی اور اتمام بازی اس نے اختیار کی، اس سے مسلمان تو آخر مسلمان ہیں، منصف مزاج غیر مسلم بھی صد نفرین کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پادری فنڈر، جو اپنی بے باکی میں مشہور تھا، ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تبلیغِ عیسائیت کے سلسلہ میں سرگرمِ عمل تھا۔
چنانچہ حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب عثمانی کیرانویؒ — (المتوفیٰ ۲۲ رمضان ۱۳۰۸ھ، جو حضرت مخدوم جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی قدس سرہ العزیز کی اولاد میں تھے اور سلسلۂ ولی اللٰہی میں منسلک ہو کر دہلی میں تعلیمی اور تبلیغی خدمت انجام دے رہے تھے، اور آپ کی ولادت جمادی الاولیٰ ۱۲۳۳ھ میں کیرانہ ضلع مظفر نگر میں ہوئی تھی) — نے پادری فنڈر کے ساتھ خط و کتابت کی اور اس کو مناظرہ کا چیلنج دیا اور تمام ابتدائی مراحل طے کر لینے کے بعد اکبر آباد، آگرہ میں کئی دن کے لیے مناظرہ طے ہوا۔
یہ مناظرہ ۱۱ اپریل ۱۸۵۴ء مطابق ۱۲ رجب ۱۲۷۰ھ کو ہوا تھا، جو اسلام اور عیسائیت کی صداقت اور حقانیت واضح کرنے کے لیے فیصلہ کن، اور تاریخِ ہندوستان میں اس موضوع کا سب سے پہلا اور عظیم الشان مناظرہ تھا۔ جس میں طرفین سے معزز مسلمان، ہندو اور انگریز اس مناظرہ کے جج اور منصف قرار دیے گئے تھے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ اپنے آخری اور سچے دین کا حامی و ناصر ہے، اس نے اسلام کی صداقت کا ظاہری سبب اس موقع پر حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحبؒ کو بنایا، جنہوں نے اپنی خداداد قابلیت، عمدہ ذہانت اور تجربۂ علمی سے تین روز کے متواتر مناظرہ میں دلائلِ قاہرہ و براہینِ ساطعہ سے اس امر کو ثابت کر دیا کہ موجودہ انجیل — جس پر آج پادری صاحبان کو فخر و ناز ہے — بالکل محرف ہے، جس میں ذرہ بھر شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اور خود عیسائیوں کے مایۂ ناز اور چوٹی کے مناظر پادری فنڈر صاحب کو عام جلسہ میں انجیل مقدس کی تحریف تسلیم کیے بغیر اور کوئی چارہ کار نظر نہ آیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رات کی تاریکی میں پادری فنڈر صاحب اپنے چیلوں سمیت بھاگ گئے۔ جب چوتھے دن حسبِ معمول مناظرہ کا وقت آیا تو پبلک اور منصف تو سبھی حاضر ہو گئے، مگر پادری فنڈر صاحب کا کہیں نام و نشان نہ ملا۔ ناچار تمام ججوں اور منصفوں کو، جو طرفین سے حکم قرار دیے گئے تھے، عیسائیت کے خلاف فیصلہ کرنا پڑا۔
اور پادری فنڈر صاحب نے ہندوستان چھوڑ کر دیگر ممالکِ اسلامیہ میں اپنے دجل کا جال پھیلانے کی سعی اور کوشش کی۔ چنانچہ وہ پھرتا پھراتا ترکی بھی جا پہنچا اور وہاں کے علماء کو چیلنج کرتا پھرا۔ چونکہ وہ بے چارے اس کے ہتھکنڈوں سے واقف نہ تھے، اس لیے اس دریدہ دہن کے منہ نہ آتے تھے۔ بالآخر سلطان عبدالعزیز خان ترکیؒ کی خواہش اور صدر اعظم خیرالدین پاشا ٹونسیؒ کی تحریک پر حضرت مولانا رحمت اللہ صاحبؒ نے عربی زبان میں ایک محقق و مدلل کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ’’اظہار الحق‘‘ رکھا۔ جس کا ترکی، فارسی اور یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ جب ۱۸۹۱ء میں انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ شائع ہوا تو مشہور اخبار ٹائمز آف لندن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ لکھا کہ:
’’اگر لوگ اس کتاب کو پڑھتے رہے تو دنیا میں عیسائی مذہب کی ترقی بند ہو جائے گی۔‘‘ (ملاحظہ ہو: علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے، حصہ اول، ص ۲۶)
راقم الحروف نے آج سے تقریباً سولہ سال پہلے ’’اظہار الحق‘‘ کے عربی نسخہ کا مطالعہ کیا ہے، بلاشبہ ردِ عیسائیت کے لیے بہترین اور لاجواب کتاب ہے، مگر صرف اہلِ علم حضرات کے لیے ؎
ان مسائل میں ہے کچھ ژرف نگاری درکار
یہ حقائق ہیں تماشائے لبِ بام نہیں
حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحبؒ کے علاوہ اس وقت حضرت مولانا رحم الٰہی صاحب منگلوریؒ، مولانا سید محمد علی صاحب مونگیریؒ، مولانا عنایت رسول صاحب چڑیا کوٹیؒ، ڈاکٹر وزیر خان صاحب آگرویؒ نے بھی عیسائیت کا خوب رد کیا اور اسلام کے ناقابلِ شکست قلعہ کو محفوظ رکھنے کی سعی بلیغ کی۔
آریہ کا فتنہ
آپ اوراقِ گذشتہ میں یہ پڑھ چکے ہیں کہ انگریز نے اقتدار اور حکومت کے بل بوتے پر اور پادری صاحبان نے حکومتِ برطانیہ ہی کے زیر سایہ رہ کر تبلیغ کے ذریعہ کس طرح مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا اور کیا کیا کوششیں اور کاوشیں کیں۔ یہ مصائب مسلمانوں کے لیے کیا کم تھے؟ مگر جب مصائب و آفات کے گھنگھور بادل چھا جاتے ہیں تو ان میں مصیبت کا صرف ایک ہی قطرہ نہیں ٹپکتا، بلکہ ایسی موسلا دھار بارش ہوتی ہے کہ مشکلات و بلیات کے سیلاب امڈ آتے ہیں۔ ایک طرف انگریز اور عیسائیوں کا عظیم فتنہ تھا۔ اور دوسری طرف انگریزوں کے چہیتے ہندوؤں اور آریاؤں کا کرتا دھرتا سوامی دیانند سرسوتی — جو اپنے منطقیانہ اور فلسفیانہ استدلالات میں مشہور تھا — پورے ہندوستان میں لوگوں کو آریہ بنانے اور مسلمانوں کو مرتد کرنے کی (معاذ اللہ) مہم چلا رہا تھا۔ بیسیوں اس کے چیلے اور شاگرد تھے جو اسی کی ڈگر پر اسلام کے خلاف زہر اگلتے تھے۔ سرسوتی کی حماقت اور دریدہ دہنی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی کتاب ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ کا چودھواں باب ملاحظہ کیجیے، جس میں اس نے بخیال خویش قرآن کریم کی ’’بسم اللہ‘‘ سے لے کر ’’والناس‘‘ تک کی تمام سورتوں پر اعتراضات کیے اور ان کی کمی اور خامی بتلائی ہے۔ (العیاذ باللہ)
سرسوتی ہر مقام پر اسلام اور اسلامی عقائد پر خوب برستا تھا اور اہلِ اسلام کو جواب کے لیے للکارتا تھا۔ چنانچہ اپنا تبلیغی دورہ کرتا ہوا ۱۲۹۵ھ/۱۸۷۸ء میں وہ رڑکی جا پہنچا اور کئی دن تک وہاں قیام کر کے اسلام کے خلاف خوب دل کھول کر زہر اگلتا رہا۔ چونکہ وہاں اس وقت کوئی ایسا مستعد اور مناظر عالم نہ تھا جو اس کے فلسفیانہ اعتراضات کا جواب دے سکتا، اس لیے میدان کو خالی دیکھ کر اس کی ہمت اور دو چند ہو گئی، حتٰی کہ سرِ بازار اس نے اسلام کے خلاف نازیبا اور واہی تباہی باتیں کہنا شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اُن دنوں حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ (جو پہلے ہی سے ضیق النفس کے موذی مرض سے دوچار تھے) بخار اور کھانسی کے شدید مرض میں مبتلا تھے اور ان کی علالت کی خبریں باقاعدہ ان کے احباب و تلامذہ اور عقیدت مندوں کو پہنچتی رہتی تھیں۔ سرسوتی کے کانوں میں بھی حجت الاسلامؒ کی بیماری کی خبر پہنچ گئی تھی۔
جب رڑکی کے کچھ دردِ دل رکھنے والے اور غیرت مند مسلمانوں نے سرسوتی کا حسبِ استطاعت جواب دینا ضروری سمجھا، تو پنڈت صاحب یہ کہہ کر بات ٹال گئے کہ ’’ہم تو جاہلوں سے گفتگو کرنے کے لیے بالکل آمادہ ہی نہیں، اپنے کسی بڑے مذہبی عالم کو لاؤ، پھر ہم گفتگو کریں گے۔‘‘ اور حضرت نانوتویؒ کی علالت کی خبر سن کر اس سے پنڈت جی نے یہ ناجائز فائدہ اٹھایا کہ ’’ہاں اگر مولبی کاسم (مولوی قاسمؒ) آئیں تو پھر ہم گفتگو کریں گے۔‘‘ پنڈت جی نے حالات سے یہ بھانپ لیا تھا کہ مولانا قاسم صاحبؒ اس شدید علالت میں کیونکر اور کیسے آ سکتے ہیں؟ لہٰذا کوئی ایسی شرط لگاؤ کہ گفتگو کی نوبت ہی نہ آئے اور نہ پنڈت جی کے مبلغ علم کا بھرم کُھلے اور نہ شرمندگی حاصل ہو۔ بقول شخصے: ’’نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی۔‘‘ جب لوگوں نے شدید اصرار کیا کہ پنڈت جی آپ مولانا نانوتویؒ ہی سے گفتگو کرنے پر کیوں مصر ہیں؟ تو وجہ تخصیص یہ بیان کی:
’’میں تمام یورپ میں پھرا، اب تمام پنجاب میں پھر کر آیا ہوں، ہر ایک اہلِ کمال سے مولانا کی تعریف سنی، ہر کوئی مولانا کو یکتائے روزگار کہتا ہے۔ اور میں نے بھی مولانا کو شاہجہانپور کے جلسہ میں دیکھا ہے، ان کی تقریر دلاویز سنی ہے۔ اگر آدمی مباحثہ کرے تو ایسے کامل شخص سے کرے جس سے کچھ فائدہ ہو، کچھ نتیجہ نکلے۔‘‘ (بحوالہ مقدمہ انتصار الاسلام از مولانا فخر الحسن صاحب)
اہلِ رڑکی نے جب حضرت نانوتویؒ سے پرزور استدعا کی، تو حضرت کے لیے خود شدتِ علالت میں وہاں پہنچنا تو ناممکن تھا، آپ نے اپنی طرف سے چند نمائندے بھیجے، جن میں خصوصیت سے حضرت مولانا شیخ الہند محمود الحسن صاحبؒ، حضرت مولانا فخر الحسن صاحبؒ اور مولانا حافظ عبد العدل صاحبؒ قابلِ ذکر ہیں۔ یہ حضرات پا پیادہ جمعرات کے دن مغرب سے پہلے روانہ ہوئے اور شام کی نماز دیوبند کے باغوں میں پڑھی گئی، علی الصبح رڑکی پہنچے، حتٰی کہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد مقامی باشندوں کے ہمراہ پنڈت جی کی کوٹھی پر پہنچے اور بحث و مباحثہ کی دعوت دی۔ مگر پنڈت جی اسی پرانی ضد پر مصر تھے کہ مولانا محمد قاسم صاحبؒ آئیں تو مباحثہ کروں گا، اور کسی سے مباحثہ ہرگز نہ کروں گا۔ جب وہ کسی صورت مباحثہ کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو یہ حضرات واپس ہو گئے اور اہلِ رڑکی نے باوجود حضرت نانوتویؒ کی علالت کے محض اتمامِ حجت کے لیے وہاں پہنچنے کی استدعا کی، تو مولاناؒ باوجود علالت، ضعف اور کمزوری کے جس طرح بھی ہو سکا، رڑکی تشریف لے گئے۔
رڑکی میں اجتماع
حضرت مولاناؒ مع اپنے تلامذہ اور احباب کے شہر میں مقیم تھے، اور سرسوتی صاحب رڑکی چھاؤنی میں براجمان تھے۔ بحث و مباحثہ کے لیے ابتدائی مراحل طے کرنے کے لیے خط و کتابت ہوتی رہی، مگر سرسوتی صاحب اور ان کے معتقدین اس سے بھی گھبرا گئے اور یہ بہانہ کیا کہ ’’ہمارے سارے کام بند ہو گئے، آج سے ہمارے پاس کوئی اور تحریر نہ آئے، ہم ہرگز جواب نہ دیں گے۔‘‘ (مقدمہ انتصار الاسلام، ص ۵)
دوسرے روز حضرت مولاناؒ مع مولوی احسان اللہ صاحب میرٹھیؒ اور اپنے چند رفقاء کے چھاؤنی چلے گئے اور کرنل صاحب کی کوٹھی پر انتظام کیا گیا۔ کپتان صاحب اور کرنل صاحب نے مولاناؒ کی بڑی آؤ بھگت کی اور ان سے مختلف مضامین پر تبادلۂ خیال کیا اور دادِ تحسین دیتے رہے۔ اور پنڈت سرسوتی کو وہاں بلا کر کرنل صاحب نے کہا کہ تم مولوی صاحب سے کیوں گفتگو نہیں کر لیتے مجمع عام میں، تمہارا کیا نقصان ہے؟ پنڈت جی نے کہا کہ مجمع عام میں فساد کا اندیشہ ہے۔ کپتان صاحب نے کہا: اچھا ہماری کوٹھی پر گفتگو ہو جائے، ہم فساد کا بندوبست کر لیں گے۔ پنڈت جی نے کہا کہ ہم تو اپنی ہی کوٹھی پر گفتگو کریں گے اور پھر بھی اگر مجمع عام نہ ہو۔ جناب مولاناؒ نے پنڈت جی سے کہا کہ لیجیے اب تو مجمع عام نہیں، دس بارہ ہی آدمی ہیں، اب سہی۔ آپ اعتراض کیجیے، ہم جواب دیتے ہیں۔ پنڈت جی نے کہا کہ میں تو گفتگو کے ارادہ سے نہیں آیا تھا۔ مولاناؒ نے فرمایا کہ اب ارادہ کر لیجیے، ہم آپ کے مذہب پر اعتراض کرتے ہیں، آپ جواب دیجیے؛ یا آپ اعتراض ہم پر کیجیے اور ہم سے جواب لیجیے۔ پنڈت جی نے ایک نہ مانی اور شرائط کے باب میں گفتگو رہی، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ مجلس برخاست ہوئی۔
جناب مولاناؒ بھی اپنی فرودگاہ پر تشریف لائے اور کئی روز تک شرائط میں ردوبدل رہی، آخر الامر مولاناؒ نے یہ کہلا بھیجا کہ پنڈت جی کسی جگہ مباحثہ کر لیں، برسرِ بازار کر لیں، عوام میں کر لیں، خواص میں کر لیں، تنہائی میں کر لیں، مگر کر لیں۔ پنڈت جی اپنی (رہائشی) کوٹھی پر مباحثہ کرنے کو راضی ہوئے اور وہ بھی اس شرط پر کہ دو سو سے زیادہ آدمی نہ ہوں۔ مولانا مرحوم پنڈت جی کی کوٹھی پر جانے کو تیار تھے مگر سرکار کی طرف سے ممانعت ہو گئی کہ چھاؤنی کی حد میں کوئی شخص گفتگو کرنے نہ پائے؛ شہر میں، جنگل میں کہیں بھی چاہے گفتگو کر لے۔ مولاناؒ نے پنڈت جی کو لکھا کہ نہر کے کنارے یا عید گاہ کے میدان میں یا اور کہیں مباحثہ کر لیجیے۔ مگر پنڈت جی کو بہانہ ہاتھ آگیا، انہوں نے ایک نہ سنی، یہی کہا کہ میری کوٹھی پر چلے آؤ۔ چونکہ سرکار کی طرف سے ممانعت ہو گئی تھی اس لیے جناب مولاناؒ کوٹھی پر نہ جا سکے اور پنڈت جی کوٹھی سے باہر نہ نکلے۔ (مقدمہ انتصار الاسلام، ص ۷۰۶)
حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ اور مولانا حافظ عبد العدل صاحبؒ نے کئی روز برسرِ بازار پنڈت جی کے اعتراضات کے جوابات دیے اور پنڈت جی کے مذہب پر اعتراضات کیے اور پنڈت جی اور ان کے حواریوں کو غیرت دلائی کہ جواب دو۔ مگر پنڈت جی اور ان کے شاگردوں اور معتقدوں کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی اور ان کو کوئی ایسا سانپ سونگھ گیا کہ وہ ملنے ہی سے رہے۔ آخر مولانا نانوتویؒ نے فرمایا کہ اچھا پنڈت جی مع اپنے شاگردوں اور معتقدوں کے میرا وعظ ہی سن لیں۔ مگر پنڈت جی وعظ میں تو کیا آتے، رڑکی سے بھی چل دیے، اور ایسے گئے کہ پتہ بھی نہ چلا کہ کدھر گئے۔ آخر مولاناؒ نے بنفس نفیس برسرِ بازار تین روز تک وعظ فرمایا۔ مسلمان، ہندو، عیسائی اور سب چھوٹے بڑے انگریز، جو رڑکی میں تھے، ان وعظوں میں شامل تھے، ہر قسم کے لوگوں کا ہجوم تھا۔ مولاناؒ نے وہ وہ دلائل مذہبِ اسلام کے حق میں بیان فرمائے کہ سب حیران تھے۔ اہلِ جلسہ پر عالم سکتہ کا سا تھا، ہر شخص متاثر معلوم ہوتا تھا۔ پنڈت جی کے اعتراضوں کے وہ وہ جواب دندان شکن دیے کہ مخالف بھی مان گئے۔ (مقدمہ انتصار الاسلام، ص ۷)
پنڈت سرسوتی نے بزعمِ خود اصولی طور پر اسلام پر گیارہ اعتراضات کیے ہیں، جن میں سے پہلے دس کے جوابات حجت الاسلام مولانا نانوتویؒ نے ’’انتصار الاسلام‘‘ میں، گیارہویں اعتراض کا مجمل اور مفصل جواب ’’قبلہ نما‘‘ میں دیا ہے۔ دونوں کتابیں اہلِ علم حضرات کے لیے غنیمت ہیں۔
رڑکی کے بعد میرٹھ
جب پنڈت سرسوتی صاحب رڑکی سے بھاگ گئے تو پھرتے پھراتے میرٹھ پہنچے اور وہاں بھی مذہبِ اسلام پر بے سروپا اعتراضات شروع کر دیے۔ حضرت حجت الاسلام مولانا نانوتویؒ اگرچہ مرض اور ضعف میں مبتلا تھے، پھر بھی رضائے الٰہی حاصل کرنے اور مذہبِ اسلام سے مدافعت کرنے کے لیے آپ بایں ضعف و بیماری کے میرٹھ پہنچے۔ چنانچہ پنڈت جی وہاں سے بھی کافور ہو گئے۔ البتہ ان کے حواری لالہ انند لال نے مذہبِ اسلام کے خلاف ایک مضمون لکھا، جس کا جواب حضرت نانوتویؒ نے اپنی کتاب ’’جواب ترکی بہ ترکی‘‘ میں دیا ہے۔ چنانچہ اسی کتاب ’’جواب ترکی بہ ترکی‘‘ میں لکھا ہے کہ:
’’پھر پنڈت دیانند کہیں پھر پھرا کر میرٹھ پہنچے اور وہاں بھی ان کے وہی دعوے تھے۔‘‘ اور نیز اس میں تصریح ہے کہ ’’ہر چند مرض کے بقیہ اور ضعف کے سبب قوت نہ تھی، مگر ہمت کر کے (میرٹھ) پہنچے۔‘‘ اور پھر لکھا ہے کہ: ’’مولوی محمد قاسم صاحبؒ نے پنڈت جی کو میرٹھ سے بھگا کر کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔‘‘ (ص ۳۹) اور وہ (پنڈت جی) بہانہ کر کے وہاں سے کافور ہو گیا۔‘‘
اس سب واقعہ کی تفصیل سوانح قاسمی (جلد دوم، ص ۵۱۲-۵۱۳، مصنفہ مولانا گیلانیؒ) میں مذکور ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت جی کچھ ایسے حواس باختہ ہو گئے کہ ان کو نہ تو فرار کے بغیر کوئی اور راہ نظر آتی تھی اور نہ سر چھپانے کے لیے کوئی اوٹ ؎
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
اور مورخِ اسلام حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ (المتوفیٰ ۱۳۷۳ھ بمطابق ۱۹۵۳ء) نے ’’حیاتِ شبلی‘‘ کے دیباچہ میں ان اکابر کی علمی اور اصلاحی خدمات کا عمدہ تذکرہ کیا ہے۔
وفات حسرت آیات
بالآخر ۴ جمادی الاولیٰ ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۵ اپریل ۱۸۸۰ء بروز جمعرات بعد از نمازِ ظہر حجت الاسلام حضرت نانوتویؒ موت کی آغوش میں جا پہنچے اور دیوبند میں حکیم مشتاق احمد صاحبؒ کے خطۂ اراضی میں سب سے پہلی قبر آپ کی بنی۔
تحریکِ آزادی میں شاملی کا محاذِ جنگ
الحاج مرزا غلام نبی جانبازؒ
یوں تو مئی سے ستمبر ۱۸۵۷ء تک ہندوستان نے فرنگی اقتدار کے خاتمے کے لیے جس قدر آزادی کی جنگ لڑی، علمائے دین اس میں بطور ہراول دستہ شریک رہے، تاہم شاملی کے محاذ کا ذکر کیے بغیر یہ داستان ادھوری رہے گی۔ گو اس میدان میں کام آنے والے چند درویش منش تھے، جن کا دعویٰ تھا کہ
دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں آزاد منش انسانوں کے
یا تخت جگہ آزادی کی، یا تختہ مقام آزادی کا
ان کے سامنے خاتم الانبیاء ﷺ کا ارشاد بھی تھا کہ ’’حب الوطن من الایمان‘‘ وطن کی محبت ایمان کی نشانی ہے۔ البتہ اس جذبہ کے اظہار کے لیے بہانے کی تلاش تھی
؏ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!
یہ بہانہ کیسے ہاتھ آیا؟ اس کا ذکر ’’تذکرۃ الرشید‘‘ کے مصنف مولانا عاشق الٰہی اس طرح کرتے ہیں:
قاضی عنایت علی تھانہ بھون کے رؤسا میں شمار تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی قاضی امانت علی (عرفِ عام میں انہیں قاضی عبد الرحیم کہا جاتا تھا) کسی ذاتی کام کی غرض سے سہارنپور گئے۔ ان کے گاؤں کا ایک بنیا وہاں موجود تھا۔ زمینداری کے سلسلے میں قاضی عبد الرحیم اور ان کے مابین دیرینہ چپقلش چلی آ رہی تھی۔ بنیا نے اس بنیاد پر ضلع کے کلکٹر کو اطلاع دی کہ تھانہ بھون کا رئیس حکومت کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے سہارنپور سے ہاتھی اور دیگر سامانِ حرب خریدنے آیا ہے۔ اس پر قاضی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ مخبر قاضی صاحب کا عزیز تھا اور خاندانی رقابت کی بنا پر اس نے کلکٹر سے مخبری کی تھی۔
جنگی اور ہنگامی حالات کے دنوں میں سہارنپور کو بڑی فوجی اہمیت حاصل تھی۔ کلکٹر کے پاس یہ اطلاع بھی پہنچ رہی تھی کہ تھانہ بھون کے لوگ، جن کی راہنمائی تھانہ بھون کے رئیس قاضی عبد الرحیم کر رہے ہیں، بغاوت کی غرض سے سہارنپور آ رہے ہیں۔ گو ہندوستانی جنگ ہار چکے تھے اور جنگ قریباً ختم ہو چکی تھی، مگر آگ کا جلا ہوا جگنو سے بھی خوف کھاتا ہے۔ انگریز ایسی ذرا سی افواہ سے بدحواس ہو جاتا تھا۔ چنانچہ انہی غلط اطلاعات اور مخبری پر کلکٹر نے قاضی صاحب اور ان کے رفقاء کو بغیر تحقیق کے گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔
قاضی صاحب کی شہادت کی خبر جیسے ہی تھانہ بھون پہنچی، تمام علاقہ میں انگریز کے خلاف اشتعال پھیل گیا اور بستی کے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے، سب نے بیک وقت حضرت حاجی امداد اللہ سے درخواست کی کہ ہمیں انگریزوں پر حملہ کی اجازت دیں۔ جب مجاہدین اور دوسرے عوام کا احتجاج بڑھا، تو حاجی امداد اللہ نے فورًا حلقۂ احباب کی مشاورت طلب کی۔ اس پر مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد منیر کو بلا بھیجا۔ جبکہ حافظ محمد ضامن، مولانا شیخ محمد احمد اور قاضی عنایت علی تھانہ بھون میں موجود تھے۔ تاریخ کا ایک یہ بھی حصہ ہے کہ ان دنوں تھانہ بھون سے انگریز کی عملداری ختم ہو چکی تھی اور حاجی امداد اللہ یہاں کے ناظم اعلیٰ تھے۔
باہم مشاورت اور عوام کے جوش کی اطلاع جب سہارنپور میں کلکٹر تک پہنچی، تو اس نے اِن حضرات کو کہلا بھیجا کہ غیر ارادی طور پر ہم سے غلطی ہو چکی ہے، آپ صبر سے کام لیں اور کوئی کارروائی نہ کریں، ہم آپ کو مزید جائیداد عطا کریں گے اور آپ (قاضی عنایت علی) کو تھانہ بھون کا مستقل نواب تسلیم کر لیں گے۔ انگریز کی اس پیشکش کو شہید کے بھائی قاضی عنایت علی نے ٹھکرا دیا اور جہاد کے مشوروں میں باقاعدہ شریک رہے۔
جہاد کی تیاریاں
جہاد پر مشاورت کے دوران مولانا شیخ محمد تھانوی نے اعتراض اٹھایا کہ اگر آپ کی جہاد پر تمام شرطیں مان لی جائیں، تو سب سے بڑی شرط جہاد میں امام کا ہونا ہے، امام کہاں ہے؟ (سوانح قاسمی، جلد دوم، ص ۱۲۳) مولانا شیخ محمد احمد تھانوی کے اعتراض پر مولانا محمد قاسم نانوتوی نے بڑے ادب سے پوچھا: حضرت! کیا وجہ ہے کہ آپ دشمنانِ دین وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے؟ جواب میں مولانا شیخ محمد نے کہا: ہمارے پاس نہ تو اسلحہ ہے اور نہ ہی آلاتِ جہاد ہیں، ہم بالکل بے سروسامانی میں کیا کر سکتے ہیں؟ اس پر مولانا نانوتوی نے برجستہ کہا: اتنا بھی نہیں جتنا کہ غزوۂ بدر میں تھا؟ اس پر مولانا شیخ محمد احمد تو خاموش ہو گئے (یہی وہ موڑ ہے جہاں سے تھانہ بھون کے علماء اور دیوبند کے علماء میں سیاسی اختلاف کی خلیج حائل ہوئی اور تا آن موجود ہے) مگر حافظ محمد ضامن نے کہا: بس مولانا! بات سمجھ میں آگئی۔
یہ کہہ کر آپ نے حاجی امداد اللہ کو امام مقرر کیا اور مولانا محمد قاسم کو سپہ سالار، مولانا رشید احمد کو قاضی اور مولانا محمد منیر نانوتوی اور حافظ محمد ضامن تھانوی محاصرے کے آفیسر قرار دیے گئے۔ (نقشِ حیات حضرت مدنیؒ، جلد دوم، ص ۴۲، ۴۳)
ان فوجی عہدوں کی تقسیم کے بعد جہاد کی تیاریاں شروع ہو گئیں … جب اللہ کے راستے میں جہاد کا عزم ہو تو سامانِ جہاد کی فراہمی بھی اللہ کے سپرد کر دینی چاہیے۔ مولانا محمد قاسم نے مولانا شیخ محمد کے جواب میں جب میدانِ بدر کا حوالہ دیا، تو انہیں یقین تھا کہ ناخدا جن کا نہ ہو، ان کا خدا ہوتا ہے۔ مجاہدین کے پاس لاٹھیوں، پرچھوں، چند تلواروں اور توڑے دار بندوقوں کے سوا اور تھا ہی کیا؟ جبکہ انگریزی افواج آتشیں ہتھیاروں سے مسلح تھیں۔ مجاہدین اس سوچ میں تھے کہ یکایکی اطلاع ملی کہ رات انگریز فوج کا دستہ بمعہ توپ خانے اور دیگر سامانِ حرب کے ولہنگیوں کے ساتھ شیر علی کے باغ والی سڑک کے قریب سے گزر رہا ہے۔ یہ سڑک تھانہ بھون کے قریب سے گزرتی تھی۔ اس اطلاع پر مولانا گنگوہی، حافظ محمد ضامن، مولانا محمد قاسم اور قاضی عنایت علی اپنی رعایا کے ساتھ باغ کے ایک کنارے چھپ کر بیٹھ گئے اور یہ فیصلہ ٹھہرا کہ جیسے ہی مولانا محمد قاسم کا اشارہ ہو، آپ انگریزی قافلے پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس اچانک حملے سے افواج انگریزی میں ایسی بھگدڑ مچی کہ سپاہی فوجی سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اس افراتفری میں کچھ فوجی ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے۔ اس طرح مجاہدین کے ہاتھ توپ خانہ اور بہت سا دوسرا سامان آیا، جو انہوں نے حاجی امداد اللہ کے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دیا۔
انگریز کو اطلاع مل چکی تھی کہ تھانہ بھون کے لوگ بغاوت کی تیاریاں کر رہے ہیں، اس خیال سے یہ فوجی سامان شاملی میں جمع کیا جا رہا تھا۔ شاملی، مظفر نگر اور سہارنپور کے درمیان ایک اہم تجارتی منڈی تھی۔ ہندوؤں کی آبادی زیادہ تھی اور کاروباری مرکز۔ جنگِ آزادی کے دنوں فوجی اعتبار سے شاملی بڑی اہمیت حاصل کر چکا تھا۔ جیسے ہی تھانہ بھون میں انگریز فوجی آفیسروں کے مارے جانے اور فوجی سامان کے چھن جانے کی خبر ضلع کے حاکم کے پاس پہنچی، اس نے تھانہ بھون پر حملہ کا حکم دے دیا۔ ادھر تھانہ بھون میں جب انگریز کے حملہ کی اطلاع ملی تو نقارہ بجا دیا گیا اور مجاہدین کے قافلے شاملی پہنچنا شروع ہو گئے۔
۱۲ ستمبر ۱۸۵۷ء کا دن محاذِ شاملی کا اہم دن ہے۔ جب مجاہدین شاملی پر یلغار کر کے تحصیل پر قابض ہو گئے، جو قلعہ کی مانند ایک اہم جگہ تھی، پیشتر سے انگریز فوج یہاں قلعہ بند ہو چکی تھی، لیکن مجاہدین نے جرأت اور دلیری سے مقابلہ کر کے تحصیل کا پھاٹک توڑ دیا اور پہلے سے قابض انگریزوں کا قتلِ عام کیا۔ اس مورچہ پر انگریزوں کو شکست اٹھانی پڑی، جیسے کہ ایک انگریز واقعہ نگار ہنری جارج کین اس شکست کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’لڑائی تمام دن جاری رہی، چونکہ حملہ آور تعداد میں کہیں زیادہ تھے اور عوام بھی ان سے آن ملے تھے، اس لیے ان کا پلہ بھاری رہا۔ بہت سی عمارات کو آگ لگا دی گئی۔ تحصیل کے اندر گھرے ہوئے ایک سو تیرہ فوجی، جن میں علاقہ کا کلکٹر ابراہیم خان بھی تھا، ہلاک ہو گئے۔‘‘
حافظ محمد ضامن کی شہادت
شاملی کی لڑائی تحصیل تک محدود رہی۔ انگریز نے مظفر نگر اور سہارنپور سے اپنی فوجی طاقت اس محاذ پر جھونک دی تھی۔ جنگ اب تیسرے دن یعنی ۱۴ ستمبر میں داخل ہو چکی تھی، جس کی تفصیل ۸ ستمبر ۱۹۶۴ء کے روزنامہ کوہستان لاہور میں عشرت رحمانی یوں لکھتے ہیں:
’’تیسرے روز یعنی ۱۴ ستمبر (۱۸۵۷ء) کو مجاہدین کو پتہ چلا کہ قاضی عبد الرحیم کا قاتل رابرٹ چنکی معائنہ کی غرض سے شاملی آیا ہوا ہے۔ یہ قاضی عبد الرحیم کا قاتل اور تحریکِ آزادئ وطن کا بدترین دشمن بھی تھا۔ مجاہدین اس تاک میں تھے کہ کسی طرح اس سے انتقام لیں۔ چنانچہ شاملی میں اس کے قیام کا پتہ چلتے ہی مجاہدین اس کی کھوج میں نکل کھڑے ہوئے۔ قاضی عنایت علی اس دستے کی قیادت کر رہے تھے۔ لیکن راستے میں انگریز فوج سے مقابلہ ہو گیا۔ طرفین میں گھمسان کا رن پڑا۔ بھاری تعداد میں انگریزی فوج کو راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔ وہ تحصیل کی عمارت میں محصور ہو گئے۔ دروازہ بند کر کے فوج اور پولیس دیواروں پر سے مجاہدین پر گولیاں برساتے رہے، جو کھلے میدان میں صف آرا تھے۔ گولیوں سے حفاظت کا کوئی سامان نہ تھا۔ نتیجہ میں مجاہدین کا شدید جانی نقصان ہوا۔ مگر عزم و جرأت سے میدان میں ڈٹے رہے۔ مجاہدین کے پاس اسلحہ بھی کم تھا اور بھوکے پیاسے گولیوں کی بارش سروں پر برداشت کر رہے تھے۔ مگر استقامت کا یہ عالم کہ دو روز برابر اسی طرح جنگ جاری رکھی۔ تیسرے روز قائد لشکر حافظ محمد ضامن علی نے بڑھ کر تن تنہا تحصیل کے مستحکم پھاٹک پر ایسا حملہ کیا کہ دروازہ ٹوٹ گیا۔ مجاہدین و غنیم کی فوجوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ طرفین کے سینکڑوں آدمی زخمی و ہلاک ہوئے۔ انگریزی فوج کی گولیوں کی پرواہ نہ کر کے حضرت حافظ ضامن نے سینہ سپر ہو کر فاتحانہ پیش قدمی میں جامِ شہادت نوش فرمایا (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اس سے اور بھی جوش بڑھا۔ مجاہدین تحصیل کے اندر داخل ہو گئے اور فتح پائی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کلکٹر کی شاملی میں آمد کی خبر درست نہ تھی۔‘‘
شاملی محاذ کے مذکورہ بالا واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:
’’حافظ ضامن شہید نے حملہ کر کے تحصیل کا دروازہ توڑ دیا۔ دروازے کے قریب چھپر کی ایک کٹیا تھی، جو غالباً محافظ سپاہیوں کے سایہ کے لیے بنائی گئی تھی۔ مولانا نانوتوی نے جلدی سے بڑھ کر اس چھپر کو اپنی جگہ سے اٹھا کر تحصیل کے دروازے سے لا ملایا اور اس کو آگ دے دی۔ آگ کا لگنا تھا کہ تحصیل کے پھاٹک کے کواڑ جل اٹھے۔ بند دروازہ مجاہدین کے لیے وا ہو گیا۔ یلغار کرتے ہوئے مجاہدین تحصیل کے اندر داخل ہو گئے اور دست بدست جنگ ہونے لگی اور پانسہ مجاہدین کے حق میں پلٹ آیا۔‘‘
ایک دوسری تحقیق ہے کہ جیسے ہی انگریز شکست کھا کر پیچھے ہٹے اور شاملی تحصیل پر مجاہدین کا قبضہ ہو چکا، تو ضامن محاذ پر مجاہدین کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اس اثناء میں جب وہ تحصیل کی طرف اپنا رخ موڑے کھڑے محاذ کا جائزہ لے رہے تھے، کہ دشمن کی ایک گولی ان کی ناف پر لگی اور حافظ صاحب تڑپ کر زمین پر آ گرے اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شہادت کے بعد مولانا محمد قاسم، شہید کی لاش کندھے پر اٹھائے قریب کی مسجد میں آئے، قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی۔ آخر شہید کی لاش تھانہ بھون لا کر اسے آسودۂ خاک کر دیا۔
سودا قمارِ عشق میں خسرو سے کوہ کن
بازی اگرچہ لے نہ سکا، سر تو کھو سکا
سرسید کی رائے
’’ستمبر ۱۸۵۷ء میں دفعتاً مسلمانانِ تھانہ بھون نے، جن کا آفیسر قاضی عنایت علی تھا، فساد برپا کر دیا اور ایک بڑے گروہ نے تحصیل شاملی پر حملہ کر دیا۔ اس وقت تحصیل شاملی میں تخمیناً دس سوار پنجابی رسالے کے، اور اٹھائیس سپاہی جیل خانے کے، اور پچاس سے زائد سپاہی متعینہ تھانہ، اور تحصیل کے باقی آدمی۔ اس آفیسر کے خاندان کے بمعہ اکبر خان، اس کے بھائی کے، جو رام پور سے گئے تھے اور وہاں موجود تھے۔ یہ آفیسر باکمال اور دلیری اور بہادری سے لڑا اور تحصیل شاملی کو مستحکم کرا کر اس میں محصور ہو کر بخوبی لڑا اور ہر دفعہ مفسدوں کے حملہ کناں کو ہٹا دیا اور بہت سے آدمی ان کے مارے گئے۔ آخر کو گولی و بارود تحصیل میں ختم ہو چکی اور نہایت مجبوری کا وقت آیا اور مفسدوں کا گروہ بے قابو ہو گیا اور وہ لوگ تحصیل کے قریب آ گئے۔ وہاں بھی مقابلہ ہوا اور یہ آفیسر نہایت بہادری سے بمعہ اکثر آدمیوں اپنے خاندان کے کام آیا اور شرطِ نمک حلالی کو پورا کیا۔
یہ قتل و خونریزی شاملی میں ۱۴ ستمبر ۱۸۵۷ء کو واقعہ ہوئی۔ یہ دن دہلی کی فتح کا دن تھا، مگر نہایت افسوس ہے کہ اس آفیسر کے کان تک مژدۂ فتح دہلی، جس کا وہ ہر دم مشتاق تھا، پہنچنے نہ پایا تھا۔ اس ہنگامے میں ایک سو تیرہ آدمی، جن میں سو سے زیادہ مسلمان تھے، کام آئے اور ہر ایک تمغۂ خیرخواہی انگریز اپنے نام کے ساتھ لے گیا۔ یہ ہنگامہ جو تحصیل شاملی میں تھانہ بھون کے مفسدوں کے ساتھ ہوا، وہ ہنگامہ ہے جس کا مفسدانِ تھانہ بھون نے جہاد نام رکھا تھا۔ مگر ان تمام حالات کو دیکھنے سے واضح ہوگا کہ جو لوگ ان مفسدوں کے مقابلہ میں آئے اور دوبدو ہو کر لڑے اور بہتوں کو جان سے مارا اور مرتے دم تک مقابلہ اور مقاتلہ سے باز نہ رہے، وہ بھی مسلمان تھے اور نیک بخت اور اپنے مذہب کے پکے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مفسدوں نے صرف فساد مچانے اور ہنگامہ کرنے کو اپنے فسادوں کو جھوٹا جہاد کے نام سے مشہور کیا تھا۔‘‘ (واحد الوجود، ص ۵۳ تا ۵۶)
سرسید کی اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’انوار قاسمی‘‘ کے مصنف پروفیسر محمد انوار الحسن شیرکوٹی ص ۲۸۶ پر لکھتے ہیں:
’’ہمیں سرسید کی روح سے معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجاہدینِ آزادی کے بڑے بڑے بزرگوں کے لیے سرسید نے جو سوقیانہ الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ انہیں زیب نہیں دیتے۔ نواب محمود خان کو نامحمود، عبد الکریم عرف ماڑے خان شیرکوٹی کو …، مجاہدینِ تھانہ بھون کو، جن میں حاجی امداد اللہ، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم، حافظ محمد ضامن شہید رحمۃ اللہ علیہم اجمعین تھے، انہیں مفسدین لکھنا غیرمہذب اور ناشائستہ حرکت ہے۔ بھلا انگریزوں کے طرفدار مسلمانوں کو پکا مسلمان کہنا کس کی حدیث میں لکھا ہے؟ کیا سرسید بتائیں گے کہ قاضی عنایت علی کے چھوٹے بھائی اور ان کے ساتھیوں کو بلا تحقیق پھانسی دے دینا، گولیوں سے اڑا دینا، ان کے نزدیک کس طرح جائز ہے؟ رہا ابراہیم تحصیلدار کا بھرم، تو سرسید کے اس جملے سے کھل جاتا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اس افسر کے کان تک مژدۂ فتح دہلی، جس کا وہ ہر دم مشتاق تھا، پہنچنے نہیں پایا تھا۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!
بسوخت منقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است
شکست کا انتقام
ہارا ہوا جواری اور شکست خوردہ بادشاہ جب انتقام پر اترتے ہیں، تو متاعِ عزیز کو بھی اپنے ارادوں پر قربان کر دیتے ہیں۔ دہلی کی فتح اور جنگِ آزادی پر قابو پانے کے بعد شاملی جیسے مختصر محاذ پر انگریز کی شکست اس کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔
مولانا حافظ محمد ضامن کی شہادت کے بعد مجاہدین کے دل ٹوٹ گئے اور دشمن اپنے ارادوں کی دیوار پر چڑھ کر مجاہدینِ حریت کو تاک تاک کر اپنے ظلم کا نشانہ بنانے لگا، یہاں تک کہ ۱۶ ستمبر (۱۸۵۷ء) کو تھانہ بھون کا تمام قصبہ جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس وحشیانہ کارروائی میں انگریز فوج کے علاوہ سکھ اور گورکھا فوجی بھی شریک تھے۔ ان کی کمان ایڈورس کے ہاتھ میں تھی۔ مجاہدین جو افواج کے ہاتھ لگے، پھانسیوں پر لٹکا دیے گئے۔ ہنوز مولانا حاجی امداد اللہ، مولانا محمد قاسم، مولانا رشید احمد گنگوہی دشمن کی دشمنی سے محفوظ تھے، گو ان کے وارنٹ جاری ہو چکے تھے۔ دشمن شکاری کتے کی طرح ان رہنماؤں کے قدموں کی بو سونگھتا رہا …
حضرت حاجی امداد اللہ کی مکہ مکرمہ روانگی اور وفات
جہادِ شاملی کے یہ بہادر جرنیل اور انگریز کے باغی حضرت مولانا حاجی امداد اللہ فقروفاقہ کی سختیاں جھیل کر کراچی کے راستے مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔ یہیں سے آپ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلانے لگے۔ مکہ مکرمہ میں آپ نے چالیس برس تک کلام اللہ کا درس دیا۔ آخر ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۷ھ بمطابق ۱۸۹۹ء بروز بدھ صبح اذان کے وقت ۸۴ سال کی عمر پا کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور یہیں کے معروف قبرستان جنت المعلیٰ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے پہلو میں سپردِ خاک کیے گئے۔
مولانا رشید احمد گنگوہی
تسبیح ٹوٹ جائے تو دانے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں، مگر میدانِ جنگ میں شکست کھانے والے سپاہی اور جرنیل مشکل سے اکٹھے ہوتے ہیں۔ جہادِ شاملی میں انگریز کی کامیابی کے بعد مجاہدین اور سپہ سالار اس طرح بکھرے کہ پھر کبھی نہ مل سکے۔ حضرت مولانا امداد اللہ مہاجر مکی کے بعد اس محاذ کے دوسرے جرنیل مولانا رشید احمد گنگوہی تھے۔
حاجی امداد اللہ کی گرفتاری سے نامراد ہو کر انگریزی جاسوس اور مخبر مولانا رشید احمد کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے، مگر مولانا رشید احمد انگریز کے ہاتھوں دامن بچا کر اپنے گاؤں رام پور میں حکیم ضیاء اللہ کے مکان میں پناہ گزین ہو گئے۔ اس دوران فرانسیسی کرنل اپنے ایک مخبر غلام علی بمع اپنے سترہ فوجی سواروں کے، جن میں سکھ اور مسلمان شامل تھے، گنگوہ پہنچے۔ مولانا کو یہاں نہ پا کر یہ فوجی جتھہ رام پور پہنچا اور مولانا گرفتار کر لیے گئے۔ آپ نے گرفتاری کے وقت کسی اضطراب کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی گرفتاری دینے میں تامل کیا۔ فوجی دستہ بغیر کسی تکلیف کے بڑے احترام کے ساتھ مولانا کو سہارنپور لے آیا اور جیل خانے میں بند کر دیا۔ کچھ دنوں یہاں تحقیق کے بعد حضرت کو ہتھکڑی اور بیڑیاں پہنا کر مظفر نگر جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں قریباً چھ ماہ تک آفیسر تحقیق کرتے رہے۔ آخر عدالت کے روبرو پیش کیے گئے۔
اس موقع پر عدالت نے سوال کیا: رشید احمد! تم نے مفسدوں کا ساتھ دیا اور فساد کیا؟
جواب: ہمارا کام فساد کا نہیں، نہ ہم مفسدوں کے ساتھی ہیں۔
سوال: تم نے سرکار کے مقابل میں ہتھیار اٹھائے؟
جواب: (آپ نے اپنی تسبیح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) ہمارا ہتھیار تو یہ ہے۔
سوال: تمہارا پیشہ کیا ہے؟
جواب: کچھ بھی نہیں، مگر زمینداری۔
غرض حاکم نے ہر چند تحقیق اور تجسیس و تفتیش میں پوری کوشش صَرف کر دی اور ہر بات کا معقول جواب پایا، اور حضرت کو باعزت بری کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد گنگوہ پہنچ کر آپ درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ تمام عمر ریاضتِ الٰہی میں مشغول رہ کر ۱۱ اگست ۱۹۰۸ء کو اس جہاں سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی
ہر قیمتی چیز کی حفاظت نظامِ فطرت کے اصولوں میں داخل ہے۔ پھول جس قدر خوبصورت ہوتا ہے، کانٹے اسی قدر اس کا گھیراؤ کیے ہوتے ہیں۔ قول اور فعل کے میدان میں مولانا محمد قاسم نانوتوی نے قلم اور سیف کا جس انداز سے مظاہرہ کیا، فطرتِ انسانی کے لیے یہی زیور پسندیدہ رہا۔ یہی جوہر تھا جسے حق تعالیٰ نے مستقبل کے لیے سنبھالنا چاہا، ورنہ تھانہ بھون اور شاملی کے جہاد میں مولانا محمد قاسم نے انگریز کو جس انداز سے للکارا، فرنگی نے اسی قدر انہیں سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ مگر جسے خدا رکھے۔ انگریز کے تمام ارادوں کی خاک اس کے مقدر کی سیاہی بن گئی۔
مولانا محمد قاسم انجام سے ماوراء تھے۔ احباب کی خواہش پر کچھ دن روپوش رہے، آخر یہ کہہ کر سامنے آ گئے کہ سنتِ رسولؐ یہی ہے کہ تین دن سے زیادہ روپوش نہ رہا جائے (ہجرت کے بعد سرکارِ دو عالم ﷺ تین دن ہی غارِ ثور میں روپوش رہے)۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ سسرال کے ہاں سے نکل کر دیوبند میں چھتے کی مسجد میں آ رہے اور مخبر نے اطلاع کر دی کہ آپ یہاں ہیں۔ چنانچہ پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ان کی آنکھوں میں ایسی مٹی پڑی کہ مولانا کو دیکھ کر بھی پہچان نہ سکے، حالانکہ وہ مسجد کے برآمدے میں ٹہل رہے تھے۔ اور پولیس کپتان نے حضرت سے پوچھا: مولانا محمد قاسم کہاں ہیں؟ حضرت نے دو قدم پیچھے ہٹ کر کہا: ابھی یہیں کھڑے تھے۔ یہ سن کر کپتان پولیس اِدھر اُدھر ڈھونڈنے لگا اور مولانا پولیس کے درمیان سے گزر کر چپ چاپ مسجد سے باہر نکل گئے۔ حضرت کے باہر ہوتے ہی دیکھا تو پولیس کپتان نے کہا: مولانا تو یہی معلوم ہوتے ہیں، جو جا رہے ہیں۔
اس پر پولیس نے اس مسجد کا بھی محاصرہ کر لیا جہاں حضرت نے قیام کیا۔ اس موقع پر پھر حضرت چادر اوڑھے ہوئے پولیس کے درمیان سے گزر گئے اور دوسری مسجد میں پہنچ گئے …… غرض پولیس اور مولانا محمد قاسم کے درمیان یونہی آنکھ مچولی ہوتی رہی۔
ہجرت
اس دوڑ دھوپ میں مولانا کو چین تو نصیب نہ ہو سکا، مگر خاموش بھی نہ رہے۔ جہاں کہیں موقع ملتا، انگریز کے خلاف اپنے دامن سے بغاوت کی ہوا دیتے رہتے۔ تا آنکہ وہ ہجرت کر کے مکہ معظمہ چلے گئے، جہاں اپنے مرشد مولانا امداد اللہ مہاجر مکی سے ملے اور ایک سال ان کی خدمت میں رہے۔
اس دوران ۱۸۵۹ء میں جب ملکہ وکٹوریہ نے تمام مجاہدین اور انقلاب پسندوں کی معافی کا اعلان کیا، مگر اعلان کے باوجود بھی جو لوگ سامنے آئے، انہیں گرفتار کر کے سخت سزائیں دی گئیں۔ اس بنا پر مولانا محمد قاسم ۱۹۶۱ء کو وطن واپس لوٹے۔ اس طرح شاملی کے محاذ کے رہنماؤں کی کہانی اختتام کو پہنچی۔
فرائضی تحریک، حاجی شریعت اللہؒ اور دودو میاںؒ
دائرہ معارف اسلامیہ
فرائضی تحریک کے بانی حاجی شریعت اللہ ۱۸۸۲ء میں ضلع فرید پور (بنگال) کے ایک گاؤں بندر کھولہ میں پیدا ہوئے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں وہ حج کے لیے مکہ معظمہ چلے گئے، جہاں وہ شیخ طاہر السنبل الشافعی کے حلقۂ ارادت میں شریک ہو کر تقریباً دس برس تک مقیم رہے۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس دوران میں انہوں نے ایک دو بار وطن کا چکر بھی لگایا تھا۔ ڈاکٹر ٹیلر کا بیان ہے کہ قیامِ مکہ کے دوران میں وہ وہابی تحریک سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ ۱۸۲۰ء میں وہ ہندوستان لوٹے تو ایک متقی عالم اور مناظر کی حیثیت سے خاصی شہرت حاصل کر چکے تھے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ جب وہ گھر آ رہے تھے تو راستے میں انہیں ڈاکوؤں نے آلیا اور ان کی ساری پونجی لوٹ لی، جس میں قیامِ عرب کی متعدد یادگاریں اور تبرکات بھی شامل تھے۔ کتابوں اور تبرکات کے بغیر زندگی کو بے مزہ پا کر حاجی صاحب بھی ان کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ ان کے کردار کی بلندی اور ارکانِ دین کی پابندی نے ان رہزنوں کو اس قدر متاثر کیا کہ وہ توبہ کر کے ان کے پیرو ہو گئے۔ اس کے بعد حاجی شریعت اللہ کئی سال تک اپنے وطن کے دیہات میں نہایت خاموشی سے تبلیغ و تدریس میں مصروف رہے۔
اس وقت مسلمان کاشتکار ایک طرف تو ہندو اور انگریز زمینداروں اور تاجروں کے ہاتھوں معاشی طور پر بالکل برباد ہو چکے تھے، اور دوسری طرف وہ صحیح اسلامی تعلیمات سے بھی بے بہرہ ہو گئے تھے۔ ان کے مذہبی عقائد میں ہندوانہ عقائد اور رسوم و رواج اتنے خلط ملط ہو چکے تھے کہ ان میں اور ہندوؤں میں تمیز کرنا مشکل تھا۔ حاجی صاحب نے انہیں صحیح مسلمان بننے اور غیر اسلامی رسوم و عقائد ترک کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ ان کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ صحیح اسلامی تعلیمات سے روگردانی ہے۔ لوگوں کے لیے صدیوں کی عادات اور اُن رسوم کو، جو اُن کی رگ رگ میں سما چکی تھیں، چھوڑنا آسان نہ تھا، کیونکہ وہ انہی کو اسلام سمجھتے تھے۔ لہٰذا شروع شروع میں انہیں شدید مخالفت اور سب و شتم کا سامنا کرنا پڑا۔
حاجی صاحب کی تعلیم یہ تھی کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ غیر اسلامی رسوم و رواج ترک کر دے، خدائے واحد کے سوا کسی کو اپنا معبود نہ مانے، احکامِ شریعت پر عمل کرے، ارکانِ دین کی پابندی کرے، اور تمام مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھے۔ رفتہ رفتہ ان کے کردار اور تعلیم کی سادگی سے عوام متاثر ہونے لگے اور کچھ عرصے بعد ڈھاکہ، فرید پور اور باریسال کے اضلاع کے دیہاتی مسلمانوں کی اکثریت ان کی تحریک میں شامل ہو گئی۔ حاجی صاحب کی یہ تحریک ’’فرائضی تحریک‘‘ کے نام سے یاد کی جاتی ہے، کیونکہ اس میں فرائض کی بجا آوری پر انتہائی زور دیا جاتا تھا۔ ان کا حکم تھا کہ پیر اور مرید کی بجائے استاد اور شاگرد کی اصطلاحیں استعمال کی جائیں۔ انہوں نے بیعت کے وقت ہاتھ میں ہاتھ لینے کی پرانی رسم بھی موقوف کر دی۔ وہ اپنے پیروؤں سے گزشتہ گناہوں سے توبہ کراتے اور اس امر کا اقرار لیتے کہ وہ آئندہ نیکو کاری اور خدا ترسی کی زندگی بسر کریں گے۔ اسی بنا پر یہ لوگ ’’توبار‘‘ (توبہ کرنے والے) بھی کہلاتے تھے۔
تحریک کی مقبولیت کے بعد اس میں بعض ایسی تعلیمات بھی شامل ہو گئیں، جن سے اس کے معاشرتی و سیاسی مقاصد کا سراغ ملتا ہے۔ مساوات اور اخوت کی اسلامی تعلیم سے کاشتکاروں میں جرأت پیدا ہو گئی اور ہندوانہ رسوم و عقائد کو ترک کرنے کے بعد وہ ان ٹیکسوں کی ادائیگی سے بھی انکار کرنے لگے، جو ہندو زمینداروں نے اپنے مذہبی تیوہاروں (مثلاً درگا پوجا) کے لیے ان پر عائد کر رکھے تھے۔ اسی طرح بیگار دینے سے گریز ہونے لگا اور ان کی بہو بیٹیوں نے بھی زمینداروں کے گھروں میں کام کاج کرنا بند کر دیا۔ ان سب باتوں سے زمینداروں کا بھڑک اٹھنا ایک قدرتی امر تھا۔
اسی زمانے میں حاجی شریعت اللہ نے اعلان کر دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور یہاں ایسی حکومت قائم ہے جو مسلمانوں پر شدید مظالم کر رہی ہے، اس لیے یہاں عیدین اور جمعہ پڑھنا جائز نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی یادداشتوں میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ فرائضی تحریک سے ہندو اور انگریز زمیندار بہت خوفزدہ ہو گئے تھے، کیونکہ کسانوں کی طرف سے جتھابندی اور یکجہتی اُن کی طرف سے استحصال میں مانع ہو رہی تھی۔ (Rural Bengal Annalsof W.W. Hunter)
تھوڑے ہی دنوں میں لڑائی جھگڑے کا آغاز ہو گیا، جس نے ۱۸۳۱ء میں باقاعدہ فساد کی شکل اختیار کر لی۔ متعدد فرائضیوں کو دو دو سو روپے جرمانہ اور ایک ایک سال قید کی سزا دی گئی۔ حاجی صاحب پر بھی اس الزام میں مقدمہ چلایا گیا کہ انہوں نے اپنے معتقدین کو ٹیکس نہ دینے کی ہدایت کی ہے، لیکن وہ عدمِ ثبوت کی بنا پر بری کر دیے گئے۔ اس کے بعد حاجی صاحب نواباری (ضلع ڈھاکہ) کی سکونت ترک کر کے اپنے گاؤں میں چلے آئے۔ یہاں بھی انہوں نے سلسلۂ تبلیغ جاری رکھا اور جلد ہی اس علاقے کے غیر تعلیم یافتہ اور جوشیلے مسلمانوں کی ہمدردی اور عقیدت کا مرکز بن گئے۔ اب ان کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ کوئی شخص ان کے حکم کی بجا آوری میں تامل نہ کرتا تھا۔
بایں ہمہ زندگی بھر وہ احتیاط اور مصلحت اندیشی سے کام لیتے رہے اور یہ بات مذہبی مصلحین کے ہاں بہت کم نظر آتی ہے۔ وہ پہلے بنگالی مبلغ ہیں جنہوں نے ان توہمات اور غلط معتقدات کے خلاف آواز بلند کی، جو بت پرست ہندوؤں سے ایک طویل عرصے تک میل جول رکھنے کے باعث مسلمانوں میں رائج ہو گئے تھے۔ لیکن ان کا اس سے کہیں بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بنگال کے بے جان کسانوں میں جوش اور ولولہ پیدا کر کے انہیں سرگرم عمل کر دیا۔ حاجی شریعت اللہ سے بڑھ کر کسی نے ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہیں کیا، اور یہ اس لیے کہ ان کا کردار بے داغ تھا اور ان کے خلوص اور درد مندی سے کوئی انکار نہ کر سکتا تھا۔ ان کے ہم وطن انہیں باپ کا درجہ دیتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ مصیبت کے وقت صرف وہی ان کا سہارا ثابت ہو سکتے ہیں۔
حاجی صاحب کا قد و قامت اوسط درجے کا تھا، رنگ گورا تھا، داڑھی لمبی اور خوش وضع تھی۔ انہوں نے ۱۸۴۰ء میں وفات پائی۔
حاجی صاحب کے بعد فرائضی تحریک کی قیادت ان کے فرزند محمد محسن نے سنبھالی، جو زیادہ تر دودھو میاں کے نام سے مشہور ہیں۔ اگرچہ اس وقت ان کی عمر بیس بائیس سے زیادہ نہ تھی، لیکن جلد ہی انہیں اتنا اثر و رسوخ حاصل ہو گیا کہ یہ تحریک، جو حاجی صاحب کی زندگی میں صرف چند اضلاع تک محدود تھی، پورے مشرقی بنگال میں پھیل گئی۔ اس وقت ملک جس معاشی اور سیاسی بحران کا شکار تھا، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دودھو میاں نے اپنی تحریک کو ایک سیاسی رنگ دیا اور اسے منظم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اپنے والد کی بعض تعلیمات سے انحراف بھی کیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو پیر کہلانا شروع کیا اور اسی نسبت سے ان کے پیرو مرید کہلانے لگے۔
اس کے بعد انہوں نے مشرقی بنگال کو متعدد حلقوں میں تقسیم کیا اور ہر حلقے میں مریدوں کے مسائل کی نگرانی کے لیے اپنا ایک ایک خلیفہ مقرر کیا۔ خلیفہ اپنے حلقے کی ذرا ذرا سی بات سے دودھو میاں کو باخبر رکھتا تھا۔ جو مقامی مریدوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتا تھا اور مرکزی بیت المال کے لیے مریدوں سے چندہ وصول کرتا تھا جو بالعموم جنس کی صورت میں لیا جاتا تھا (اس کی صورت یہ تھی کہ مرید روزانہ ایک ایک چٹکی چاول کسی برتن میں ڈالتا رہتا اور جب خلیفہ کے آدمی آتے تو یہ چاول اسے پیش کر دیے جاتے)۔
اسی طرح جب کوئی زمیندار کسی مرید پر زیادتی کرتا تو اس کے خلاف مناسب کارروائی کا اہتمام بھی خلیفہ کرتا تھا۔ لوگ اس امید پر کہ انہیں ٹیکسوں کے بوجھ اور زمینداروں کے ظلم سے نجات مل جائے گی، جوق در جوق فرائضی تحریک میں شامل ہونے لگے۔ مسلمان کاشتکاروں کے باہمی اتحاد و تنظیم سے ہندو اور انگریز زمیندار بوکھلا اٹھے، اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے حکام کو اس جماعت کے خلاف قدم اٹھانے پر مجبور کرنے لگے۔
ادھر دودھو میاں نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ ’’خاص محل‘‘ کی اراضی پر آباد ہو جائیں، جن کا انتظام براہ راست حکومت کے ہاتھ میں تھا، کیونکہ اس طرح وہ حکومت کے عائد کردہ لگان کے سوا باقی تمام محاصل سے آزاد ہو جائیں گے۔ اس اقدام نے زمینداروں کو اور بھی بھڑکا دیا، کیونکہ مسلمان کسانوں کے چلے جانے سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ ان کی زمین بلا کاشت رہ جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے دودھو میاں، ان کے خلفاء اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔ ۱۸۳۸ء میں ان پر متعدد مکانوں کو لٹوانے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا، ۱۸۴۱ء میں وہ قتل کے الزام میں سیشن سپرد ہوئے، اور ۱۸۴۴ء میں اغوا اور لوٹ مار کے جرم میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ چونکہ ان کے خلاف کوئی شخصی شہادت دینے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا ہر بار وہ بری ہو جاتے تھے۔
اس زمانے میں دودھو میاں نے اعلان کیا کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے، کسی شخص کو بطور میراث اس پر قبضہ جمانے اور مالیہ وصول کرنے کا اختیار نہیں۔ کاشتکار کے لیے زمیندار کو ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ حکومت کو نظم و نسق کے لیے کچھ واجبات دینے ضروری ہیں۔ مزید برآں دودھو میاں نے ہندو بنیوں کے قرضوں اور سود در سود کے خلاف بھی آواز بلند کی۔ غرض کہ ان کی تحریک نے کاشتکاروں کے جملہ مسائل کو اپنا لیا۔
بہادر پور میں، جہاں وہ رہتے تھے، ہر پردیسی مسلمان کو کھانا کھلایا جاتا۔ ان کے مخبر سارے مشرقی بنگال میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ ان کے تمام مفادات کی نگرانی کرتے، جھگڑے چکاتے، مقدمات میں برسرِ موقع سماعت کرتے اور ان لوگوں کو سزا دیتے جو اپنا کوئی مقدمہ — مثلاً وصولی قرضہ کا تنازعہ — ان کے سامنے پیش کرنے کے بجائے براہ راست منصف کی عدالت میں لے جاتے تھے۔ ان کے قاصد دور دراز کے دیہات میں ان کے احکام پہنچاتے۔ ان کے خطوط پر ’’احمد نام نامعلوم‘‘ کے دستخط ہوتے، یا شبہے سے بچنے کے لیے بالائے سطر کوئی عام ہندوانہ نام لکھ دیا جاتا۔ ان خطوط کو مقدس صحیفے کی طرح پڑھا جاتا اور ان کے حکام کی تعمیل کی جاتی۔
وہ کہتے تھے کہ ایسے لوگوں پر جبر و تعدی کرنا گناہ نہیں جو ان کے عقائد کو ماننے سے انکار اور ان کے یا جماعت کے مسلّمہ رہنماؤں کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دراصل ہندوانہ رسوم پر جان دینے والے روایت پرست مسلمان اور زمینداروں کے زر خرید غنڈے، حاجی شریعت اللہ اور ان کے بعد دودھو میاں کے زمانے میں مخالفین کا آلۂ کار بن کر فتنہ و فساد برپا کرتے اور فرائضی تحریک کو ختم کرنے کی کارروائیوں میں شریک ہوتے تھے۔ اس کے پیش نظر اس قسم کے اقدامات ناگزیر تھے۔ ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی مسلمان کو کھلم کھلا تحریک کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت مشکل ہی سے ہوتی تھی۔
اس زمانے کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ویمبر کا بیان ہے کہ دودھو میاں نے کم از کم اَسی ہزار سرگرم کارکن جمع کر لیے تھے اور عام تاثر یہ تھا کہ وہ انگریزوں کو بنگال سے نکال کر وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی بنا پر اس نے فرائضی تحریک کو خلافِ قانون قرار دینے اور دودھو میاں کو نظر بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ ۱۸۵۷ء میں جب جنگِ آزادی کا آغاز ہوا تو حکومت نے اس سفارش پر عمل کرتے ہوئے دودھو میاں کو علی پور (بعد ازاں فرید پور) جیل میں نظر بند کر دیا۔ ۱۸۵۹ء میں وہ بیماری کی حالت میں رہا ہوئے اور ۲۴ ستمبر ۱۸۶۲ء کو بیالیس، تینتالیس کی عمر میں وفات پا گئے۔
وہ ایک طویل القامت اور خوبصورت انسان تھے، داڑھی لمبی اور گھنی تھی اور سر پر بڑی سی پگڑی باندھتے تھے۔ انہیں بہادر پور ہی میں دفن کیا گیا، لیکن آگے چل کر سیلاب آیا تو اس میں ان کا مزار بہہ گیا۔ دودھو میاں نے اپنے پیچھے تین بیٹے چھوڑے، تاہم ان میں سے کوئی بھی اپنے والد کا صحیح جانشین ثابت نہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد اس تحریک کی مقبولیت کم ہوتی چلی گئی۔ بہر حال فرائضی تحریک نے بنگالی مسلمانوں میں خود اعتمادی اور دینی حمیت اور اپنے معاشی، معاشرتی اور سیاسی حقوق کے لیے لڑنے کا جو جذبہ پیدا کیا تھا، اس سے وہاں کے دیہات میں ایک عام بیداری کی رو دوڑ گئی، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
(ماخوذ از دائرۃ المعارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی)
جنگِ آزادی اور علماءِ صادق پور
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ
سیّد احمد شہیدؒ کی تحریک تجدید و احیائے دین اور جہاد کی تحریک تھی۔ توحیدِ خالص کی تبلیغ، شرک و بدعت اور قبر پرستی کا استیصال، مراسمِ محرم کی بیخ کنی، شادی و غمی اور دیگر تقریبات کے غیر اسلامی مراسم کے بجائے اسلامی سادہ زندگی کا احیاء، اور نکاحِ بیوگان کی ترویج و اشاعت اس تحریک کے خاص عناصر تھے۔ اس مقصد کے لیے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے ’’تقویت الایمان‘‘ جیسی انقلاب آفریں کتاب لکھی۔ پھر تو اس سلسلہ کو اس قدر وسعت ہوئی کہ اس خانوادے کے دوسرے تربیت یافتہ علماء نے احیاء سنت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے، اور اچھا خاصا ادب مہیا کر دیا۔
سیّد احمد شہید کی تحریک کا اہم ترین عنصر جہاد، اور اصل مقصد حکومتِ الٰہیہ کا قیام تھا۔ سید صاحب کا کوئی مکتوب یا وعظ ترغیبِ جہاد سے خالی نہ تھا۔ جس زمانہ میں پنجاب میں سکھا شاہی کا زور تھا، مساجد اور اسلامی شعائر کی علانیہ بے حرمتی ہوتی تھی، اس علاقے کے مسلمان سخت مصائب و آلام میں مبتلا تھے، ان کی زندگیاں اجیرن ہو چکی تھیں، سید احمد شہید نے اس طاغوتی اور برائے نام سکھا شاہی حکومت کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا۔ گھر بار چھوڑا، بہت سے شہر اور قصبات کا دورہ کیا، ہجرت و جہاد کے وعظ کہے، اللہ کے دین کی سربلندی اور اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر سرحد کے پہاڑوں کو کمین گاہ بنایا، اور اسلام کے ان خادموں نے ایمان و اخلاص کے بھروسے پر دین کے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور ان کے چھکے چھڑا دیے۔ مگر ملت کا نصیبہ سویا ہوا تھا، گردش کے دن ابھی باقی تھے، غلامی کا دور ابھی ختم نہ ہونا تھا کہ حالات نے ناسازگاری دکھائی، اپنوں نے غیروں کا ساتھ دیا۔ نتیجہ ظاہر تھا کہ ۲۴ ذی قعدہ ۱۲۴۶ھ (۶ مئی ۱۸۳۱ء) کو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے بالاکوٹ میں جامِ شہادت نوش کیا
؏ خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را
حادثہ بالاکوٹ ۱۸۳۱ء کے بعد جماعتی تنظیم کی غرض سے اہل الرائے حضرات کے مشورے اور اصرار پر شیخ ولی محمد پھلتی امیرِ جماعت قرار پائے۔ مجاہدین کی سالاری عامہ کے فرائض مولوی نصیر الدین منگلوری نے انجام دیے۔ اور جب شیخ ولی محمد پھلتی سید احمد شہید کی زوجہ بی بی صاحبہ کو لے کر سندھ چلے گئے تو مجاہدین کی امارت و سالاری کا سارا بار گراں مولوی نصیر الدین منگلوری کے دوشِ ہمت پر رہا۔
مولوی نصیر الدین منگلوری کی شہادت (۱۸۳۸ء) کے بعد جب مولوی سید نصیر الدین دہلوی مجاہدین کے مرکز ستھانہ پہونچے تو وہ امیر بنا دیے گئے۔ لیکن ابھی وہ وہاں کوئی کارنامہ انجام نہ دینے پائے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ مولانا غلام رسول مہر صاحب کا خیال ہے کہ ۱۸۴۰ء میں ان کا انتقال ہوا، اور ان کے انتقال پر تحریکِ مجاہدین کا دوسرا دور ختم ہوا۔
مولانا ولایت علی
مولوی سید نصیر الدین دہلوی کی وفات کے بعد مجاہدین نے میر اولاد علی کو اپنا امیر بنا لیا، جو ایک مرتبہ مولوی نصیر الدین منگلوری کی شہادت کے بعد بھی کچھ مدت کے لیے منصبِ امارت پر مقرر ہوئے تھے۔ لیکن جب مولانا ولایت علی عظیم آبادی اس علاقہ میں پہونچے (۱۷ شوال ۱۲۶۲ھ، ۹ اکتوبر ۱۸۴۶ء) تو قیادت ان کے سپرد ہوئی اور اب تحریکِ مجاہدین کا تیسرا دور شروع ہوا۔ مولانا ولایت علی نے مجاہدین کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس وقت کشمیر کے راجا گلاب سنگھ اور مجاہدین کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی، راجا کو شکست ہوئی۔ اس نے انگریزوں کے سایہ میں جا کر پناہ لی، جو اس وقت تک پنجاب کے ایک حصہ پر قابض اور ملکی معاملات میں پوری طرح دخیل ہو چکے تھے۔ مارچ ۱۸۴۹ء میں تمام پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔
۱۸۴۹ء سے تحریکِ جہاد کا ایک نیا موڑ شروع ہوتا ہے۔ چونکہ اب تک مقابلہ سکھوں سے تھا، اس لیے سرکار کمپنی خاموش تھی۔ جب پنجاب پورے طور پر انگریزوں کے قبضے میں آگیا تو مجاہدین کی سرگرمیاں انگریزی حکومت کو ایک آنکھ نہ بھائیں۔ حکومت کے پیدا کردہ حالات سے مجبور ہو کر مولانا ولایت علی اور ان کے بھائی مولانا عنایت علی اپنے وطن پٹنہ پہونچے اور وہاں مجسٹریٹ کے سامنے جا کر دو سال کے لیے مچلکے دیے۔ مولانا ولایت (عنایت) علی نے تبلیغ و تذکیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا عنایت (ولایت) علی کو بنگال بھیجا، اور دو سال کی مدت گزارنے کے بعد سرحد روانہ ہو گئے، اور وہاں پہونچنے کے سال ڈیڑھ سال بعد ۲۲ محرم ۱۲۲۹ھ (۵ نومبر ۱۸۵۲ء) کو انتقال ہو گیا۔
مولانا عنایت علی
مولانا ولایت علی کے انتقال کے بعد ان کے منجھلے بھائی مولانا عنایت علی امیر مقرر ہوئے، جو نہایت پرجوش مجاہد تھے۔ بہت سے معرکوں میں حصہ لے چکے تھے۔ مولانا عنایت علی نے ۱۸۵۲ء سے ۱۸۵۸ء تک برابر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور براہ راست انگریزی حکومت سے جھڑپیں رہیں۔ انگریزوں کے حلیف جہاں داد خاں والئ امب پر حملہ ہوا۔ اسی زمانے میں مولانا عنایت علی نے انگریزی حکومت کی فوجوں سے بھی براہ راست تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ ۱۸۵۸ء میں پشاور سے جنرل کاٹن کی سرکردگی میں مجاہدین پر حملہ ہوا، مجاہدین نے خوب دادِ شجاعت دی مگر بڑی تعداد میں شہید ہوئے اور کچھ پہاڑوں میں چھپ گئے۔ مولانا عنایت علی نے ستھانہ کا رخ کیا، مگر راستے ہی میں بمقام چمپئی داعئ اجل کو لبیک کہا (۱۲۷۴ھ، ۱۸۵۸ء)۔
مولانا عنایت علی کے بعد ۱۸۶۲ء میں ان کے بھتیجے مولانا عبد اللہ ابن مولانا ولایت علی امیر مقرر ہوئے۔ مولانا عبد اللہ (ف ۱۹۰۲ء) زمامِ کار ہاتھ میں لیتے ہی تندہی اور مستعدی کے ساتھ جماعت کی فوجی تربیت میں لگ گئے۔ مولانا عبد اللہ کے دورِ امارت کا سب سے اہم واقعہ معرکۂ امبیلا (۱۸۶۳ء) ہے۔ معرکۂ امبیلا میں مجاہدین نے دین کی عظمت اور سربلندی کے لیے جس عزم و استقلال اور بہادری و جانبازی کا مظاہرہ کیا، اس سے انگریزی حکومت کے حوصلے پست ہو گئے۔ گو میدان انگریزی حکومت ہی کے ہاتھ رہا، مگر اس کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ سرحد کے مجاہدین کو انگریزی مقبوضات کے اندر سے رسد، اسلحہ، رقوم، اور تازہ دم مجاہدین پہونچتے ہیں، اور ہندوستان میں اس تحریک کا سب سے بڑا مرکز صادق پور پٹنہ ہے، اور اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے معلوم نہیں کتنے مراکز ہیں۔
بغاوت کے مقدمے
جنگِ امبیلا کے بعد انبالے کا مشہور مقدمہ (۱۸۶۴ء) ظہور پذیر ہوا، جس میں گیارہ ملزم تھے: (۱) محمد شفیع انبالوی (۲) عبد الکریم (۳) الٰہی بخش (۴) میاں حسینی تھانیسری (۵) حسینی عظیم آبادی (۶) عبد الغفور (۷) قاضی میاں جان (۸) مولوی یحییٰ علی (۹) میاں عبد الغفار (۱۰) مولوی عبد الرحیم (۱۱) مولوی محمد جعفر تھانیسری۔ جن میں سے اول الذکر چھ حضرات ابتلاء و آزمائش میں ثابت قدم نہ رہ سکے اور سرکاری گواہ بن کر نہایت ذلت و خواری کے ساتھ رہا ہوئے۔ البتہ پانچ حضرات نے ایمان و استقامت کا پورا پورا ثبوت دیا۔ قاضی میاں جان انبالہ جیل میں وفات پا گئے۔ مولوی یحییٰ علی، جو تقویٰ اور ایمان و اخلاص میں سلف کا نمونہ تھے، نے جزیرۂ انڈمان کو آرام گاہ بنایا۔ باقی تین حضرات میاں عبد الغفار، مولوی عبد الرحیم، مولوی محمد جعفر تھانیسری نہایت سخت جان نکلے اور اٹھارہ سال کی مدت جزائر انڈمان میں گزار کر وطن پہونچے۔
مقدمۂ انبالہ کے بعد حکومت نے پٹنہ (۱۸۶۵ء)، مالدہ (۱۸۷۰ء)، راج محل (۱۸۷۰ء)، اور پٹنہ (۱۸۷۱ء، بار دوم) میں بہت سے علماء، تجار، اور مبلغین پر بغاوت اور سازش کے مقدمے چلائے۔ پٹنہ کے پہلے مقدمے ۱۸۶۵ء میں مولانا احمد اللہ صادق پوری بن الٰہی بخش کو ملزم بنا کر مقدمہ چلایا گیا۔ اول انہیں سزائے موت کا حکم ہوا، پھر اپیل کرنے پر یہ سزا حبسِ دوام بعبور دریائے شور میں تبدیل ہوئی، اور ان کا انتقال ۲۸ ذی الحجہ ۱۲۹۸ھ مطابق ۱۲ نومبر ۱۸۸۱ء کو جزائر انڈمان میں ہوا۔
مالدہ کے مقدمہ ۱۸۷۰ء کے ملزم مولوی امیر الدین بن رفیع منڈل تھے۔ مالدہ ان کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ ایک شخص نولوکرسٹو گھوش نے مخبری کی، جس کے نتیجہ میں مولوی امیر الدین گرفتار ہوئے۔ مقدمہ چلا۔ حبسِ دوام بعبور دریائے شور کی سزا ہوئی۔ جزائر انڈمان پہونچے، بحیثیت قیدی ان کا نمبر ۱۷۴۷۸ تھا۔ ۱۸۸۲ء میں مولوی عبد الرحیم کے ہمراہ رہا ہوئے۔ اگلومی (راج محل) پرگنہ سنتھال میں سکونت اختیار کر لی۔
راج محل کے مقدمے ۱۸۷۰ء میں مولوی محمد ابراہیم اور نذیر سردار ملزم تھے۔ مولوی محمد ابراہیم مالدہ اور راج شاہی کے علاقے میں تحریکِ جہاد کے سب سے بڑے رکن تھے۔ اس کام میں ان کے مددگار نذیر سردار بھی تھے۔ ایک شخص اتواری بسواس کی شکایت اور گھوش کی جاسوسی پر دونوں حضرات گرفتار ہوئے۔ مقدمہ چلا۔ حبسِ دوام بعبور دریائے شور کی سزا ہوئی۔ ۱۸۷۷ء میں مولوی محمد ابراہیم رہا ہوئے۔
پٹنہ کا دوسرا مقدمہ ۱۸۷۱ء میں چلا، جس میں سات ملزم تھے: پیر محمد، امیر خان، حشمت داد خان (یا حشم داد خان)، مولوی مبارک علی، مولوی تبارک علی (ابن مولوی مبارک علی)، حاجی دین محمد، اور امین الدین۔ ان حضرات میں جماعتی تنظیم کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہم مولوی مبارک علی تھے۔ اس مقدمہ میں ماخوذین کی جائیدادیں ضبط ہوئیں، ان کو جیلوں میں ٹھونسا گیا، اور حبسِ دوام بعبور دریائے شور کی سزائیں دی گئیں۔
یہی نہیں بلکہ بنگال اور بہار کے تمام مبلغوں کی فہرست مرتب کی گئی، اور اس فہرست کے بموجب تقریباً دس سال تک یہ غریب تنگ کیے جاتے رہے، اور اس کی وجہ سے بنگال کے کتنے ہی خوشحال خاندان تباہ و برباد کر دیے گئے۔
سازش کا ذکر کرنے کے بعد مولوی مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں:
’’اس کے معنی یہ نہیں کہ صرف یہی حضرات قید و محن میں مبتلا کیے گئے۔ ۱۸۴۹ء سے ۱۸۷۱ء تک گرفتاریوں کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ بڑی تعداد لے دے کر چھوڑ دی گئی، اور بے قانون اور بے سزا حوالات اور جیلوں میں سڑتے پھرے۔ ایک اچھی خاصی جماعت وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کی گئی۔‘‘
سر عبد الرحیم لکھتے ہیں:
’’بنگال میں وہابی تحریک کے بعد جو عمل اختیار کیا، اس سے مسلمان جاگیرداروں اور زمینداروں کی تمام املاک، جو وسعت میں تمام بنگال کی ایک چوتھائی تھی، گورنمنٹ انگلشیہ نے ضبط کر لی۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ملت کے سیکڑوں شریف اور خوشحال خاندان نان شبینہ کو محتاج ہو گئے، اور ہماری قوم کے ہزاروں افراد بے کسی اور مفلسی میں دربدر پھرنے لگے۔‘‘
حکومت کی معاندانہ پالیسی
حقیقت یہ ہے کہ انگریز نے تحریکِ جہاد کو بری طرح کچلا۔ مجاہدین اور مصلحین کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے موسوم کر کے بدنام کیا گیا۔ تمام ملک میں ’’وہابیوں‘‘ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ مرکزی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے ان کے حالات اور سرگرمیوں کی کیفیت طلب کی۔ ایک محکمۂ سراغ رسانی اسی مقصدِ خاص کے لیے وجود میں آیا۔ حکومتِ انگریزی نے باغی اور وہابی مترادف الفاظ قرار دیے۔ عامۃ المسلمین میں ان کے خلاف نفرت کا جذبہ پیدا کیا اور ایک عام معاشرتی انقطاع شروع ہو گیا۔
احمد خان کھرل — پنجاب کا ایک عظیم مجاہدِ آزادی
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ
احمد خان کھرل جنگِ آزادی کا مشہور جانباز سپاہی اور قائد ہے، جس نے ضلع منٹگمری میں ۱۸۵۷ء میں آزادی کے جھنڈے کو بلند کیا اور اپنی جان دے کر بقائے دوام حاصل کی۔ راجپوت پنور کی ایک شاخ کھرل ہے، اسی قبیلے سے اس کا تعلق تھا۔
۱۲ مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ کی خبریں براہ لاہور گوگیرہ پہونچیں۔ احمد خان کھرل نے جوئیا خاندان کے ساتھ مل کر انگریزوں کے اقتدار کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا اور مختلف قبائل کو تیار کیا۔ ۸ جولائی ۱۸۵۷ء کو پاک پتن کے ایک گاؤں سکھوکا سے آغاز ہوا، اور وہاں کے جوئیا خاندان نے لگان دینے سے انکار کر دیا۔ ۲۶ جولائی کو احمد خان نے گوگیرہ جیل کو توڑ ڈالا اور انگریزی حکومت سے باقاعدہ ٹکر لی، احمد خان روپوش ہو گیا، پچاس سے زیادہ آدمی ہلاک و زخمی ہوئے۔
حکومت نے انقلابیوں کا زور توڑنے کے لیے ۱۷ ستمبر کو علاقے کے سرداروں اور زمینداروں کی میٹنگ بلائی، مگر آزادی کی ایسی آگ لگی ہوئی تھی کہ یہ میٹنگ کامیاب نہ ہو سکی۔ قبیلہ کھرل کے ایک غدار شخص سرفراز خان کھرل نے مخبری کے فرائض انجام دیے۔ انگریز افسر برکلے، احمد خان کی گرفتاری کے لیے متعین ہوا، لیکن جب اسے کامیابی نہ ہوئی تو الفنسٹن خود اس طرف متوجہ ہوا اور اس نے احمد خان کے گاؤں جھامرہ کو آگ لگا دی۔ احمد خان نے وٹو راجپوتوں سے مدد حاصل کی۔ ۱۹ ستمبر کو سکھوں کی بٹالین انگریز افسر کی کمان میں گوگیرہ پہونچ گئی۔ اس کے بعد مزید کمک آگئی اور انگریزی فوج نے احمد خان اور ان کے ساتھیوں کو جنگل میں محصور کر دیا۔ آخر کار احمد خان سے مقابلہ ہوا، جس میں انگریزوں کے کئی سپاہی مارے گئے، اور معرکے میں احمد خان نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد انگریزوں نے انتقامی کارروائی کی اور یہاں کی آبادی کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔
انگریزوں کے وفاداروں میں سرفراز خان کھرل کے علاوہ ڈھاڑا سنگھ، نہال سنگھ، کھیم سنگھ، اور سیم پورن سنگھ کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح صادق محمد خان تھانیدار ملتان، اور پیر مخدوم ولایت شاہ المعروف مخدوم شیخ عبد القادر خامس (ف ۱۸۷۸ء، سجادہ نشین درگاہ موسیٰ پاک شہید ملتانی) نے بھی جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے موقع پر انگریزوں کی نمایاں خدمات انجام دیں اور انعام و اکرام کے مستحق ٹھہرے۔ چنانچہ مخدوم شیخ عبد القادر خامس کا خاندانی تذکرہ نگار لکھتا ہے:
’’قبل از مسند نشینی، بایماء والد ماجد مخدوم پیر نور شاہ، ملقب بہ مخدوم شیخ حامد گنج بخش چہارم (۱۸۶۸ء) غدر ۱۸۵۷ء کے موقع پر شورش جلی ضلع منٹگمری میں بذاتہ جمعیت ۳۰۰ سواران وہاں جا دھمکے اور امداد گورنمنٹ کی دے کر جوہر شجاعت کا بین ثبوت دیا۔ نیز برسر موقعۂ جنگ یہ علمِ وہبی حاصل کر کے کہ تقدیر حکومت کا قرعہ بنام گورنمنٹ قائم ہو چکی ہے، سردارانِ سرحدی کو اس پر آگاہ کر کے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ مقاومت بیہودہ ہے، موافقت سے کام لے کر اپنا اقتدار بڑھاؤ۔‘‘
تحریکِ آزادی اور علماء لدھیانہ
پروفیسر محمد ایوب قادریؒ
مولوی عبد القادر ابن حکیم حافظ عبد الوارث، رائیں قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ تقریباً ۱۲۰۶ھ میں موضع نوکھروال ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پھر ان کے والد نے موضع بلیہ وال ضلع لدھیانہ میں سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی، پھر تمام علومِ مروجہ کی تحصیل شاہ ولی اللہ کے خاندان کے علماء سے دہلی میں حاصل کی۔ اور حضرت شاہ عبد القادر دہلوی (ف ۱۲۳۰ھ بمطابق ۱۸۱۴ء) کے خلیفہ شاہ عبد اللہ جے راج پوری کرنالوی سے بیعت ہوئے اور ان ہی سے اجازت و خلافت بھی پائی۔ اور اپنے علاقے میں تدریس و تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔
مولوی عبد القادر مرحوم کا تعلق سیّد احمد شہید کی جماعت سے بھی تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ سیّد احمد شہید کی اہلیہ نے مولوی عبد القادر مرحوم کو تین خط بھی بھیجے تھے جو مفتی محمد نعیم صاحب کے پاس اب تک محفوظ ہیں۔
۱۸۳۶ء میں شاہ زمان الملک امیر کابل اور شاہ شجاع الملک اپنے وزیر فتح علی خان سے شکست کھا کر انگریزوں کی پناہ میں آ کر لدھیانہ رہنے لگے۔ شاہ زمان الملک آنکھوں سے معذور تھے اور تصوف کا ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نے مولوی عبد القادر لدھیانوی کے ہاتھ پر موضع بلبیہ وال جا کر بیعت کر لی اور پھر مولوی لدھیانوی مرحوم کو لدھیانہ بلا لیا۔ مولوی صاحب محلہ موجپورہ میں سکونت پذیر ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی تدریسی اور تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز لدھیانہ بن گیا۔ اور اصلاح و تبلیغ کے سلسلے میں انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
۱۸۴۰ء میں شجاع الملک افغانستان واپس چلا گیا اور دوست محمد خان کو تخت سے دستبردار کر دیا گیا۔ دوست محمد خان بھی مولوی عبد القادر لدھیانوی کا بڑا معتقد تھا۔ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد ان کے فرزند اکبر مولوی سیف الرحمان نے کابل جا کر سکونت اختیار کر لی۔
انقلاب ۱۸۵۷ء میں مولوی عبد القادر لدھیانوی نے مردانہ وار حصہ لیا۔ اس میں ان کے بڑے بھائی اور چاروں فرزندان مولوی سیف الرحمان، مولوی محمد، مولوی عبد اللہ اور مولوی عبد العزیز شریک رہے۔ مولوی عبد القادر کی قیادت اور ان کے خاندان کی شرکت کی وجہ سے لدھیانہ تحریک کا خاص مرکز بن گیا۔ سندر لال لکھتے ہیں:
’’لدھیانہ کا شہر پنجاب میں جنگِ آزادی کا ایک خاص مرکز تھا۔ شہر بھر میں اس دن سب جگہ جوش تھا، جیل خانہ توڑ دیا گیا، انگریزی مکان جلا دیے گئے۔ سرکاری خزانے پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے بعد جالندھر، لدھیانہ اور پھلور کی فوج مل کر آزادی کی اِس جنگ میں حصہ لینے کے لیے دلی کی طرف روانہ ہو گئی۔‘‘
مولوی عبد القادر نے پنجاب کی فوجوں سے بھی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ مگر یہ ان ہی چھاؤنیوں میں ممکن ہو سکا جہاں ہندوستانی سپاہی متعین تھے۔ مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں:
’’تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پنجاب میں جہاں جہاں ہنگامے (بسلسلۂ ۱۸۵۷ء) بپا ہوئے وہ پنجابیوں نے نہیں بلکہ ہندوستانیوں نے بپا کیے تھے۔ پنجابیوں نے تو ایک سے زیادہ موقعوں پر درخواست کی تھی کہ انہیں ہندوستانی فوجیوں سے الگ رکھا جائے۔‘‘
ساورکر لکھتے ہیں:
’’سکھ اور فرنگی فوجوں کے خلاف اپنی تازہ فتح کی خوشی اور مسرت سے سرشار ہو کر قوم پرست فوجی رسالہ دوپہر کے وقت شہر میں داخل ہوا۔ شہر میں ایک با اثر مولوی تھے جو ہمیشہ وہاں کے لوگوں کو فرنگی طوقِ غلامی کو اتار پھینکنے اور سوراج قائم کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ اس مولوی کی تقریروں کا یہ اثر تھا کہ یہ شہر پنجاب کی انقلابی پارٹیوں کا ایک مضبوط مرکز بن گیا۔ اور غلامی کی زنجیروں پر آخری ضرب لگانے کا وقت آ گیا تو سارا شہر مولوی صاحب کے اشارے پر بیدار ہو گیا … لدھیانہ میں بھی انقلاب کی آگ لگی۔ جالندھر، پھلور اور لدھیانہ کی انقلابی افواج اور شہریوں کی قومی فوج مولوی صاحب کی زیر کمان دہلی کی طرف روانہ ہو گئی۔‘‘
ایک ہم عصر وقائع نگار ۲ جولائی ۱۸۵۷ء کے ضمن میں لکھتا ہے:
’’عبد الرحمان و عبد القادر دو صد سوار باویزہ خدمت گرد آورند نہ بہ ہمیں بس، جستجو و تکاپو زیادہ ازیں دو صد کس بود بخت خان سپارش نمود کہ خسرو بہ ہر یک زوج دو شالہ بخشود‘‘
مولوی عبد القادر مسجد فتح پوری (دہلی) میں مقیم ہوئے، وہیں ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا۔ سقوطِ دہلی کے بعد مولوی عبد القادر، ان کے بیٹے اور ساتھی کرنال ہوتے ہوئے پٹیالہ کے جنگلات میں روپوش ہو گئے۔ اور لدھیانہ میں مولوی عبد القادر کی تمام جائیداد مع مسجد نیلام کر دی گئی اور گرفتاری کے لیے انعام مقرر ہو گیا۔ مولوی عبد القادر اور ان کے بیٹے پٹیالہ سے بیس میل کے فاصلے پر موضع ستلانہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ یہاں کے مسلمان راجپوتوں نے ان کی ہر طرح خدمت و حفاظت کی اور گرفتاری سے بچایا۔ مولوی عبد القادر اور ان کے بیٹوں کے قیام کی وجہ سے اس گاؤں میں اسلامی شعائر خوب رواج پذیر ہوئے۔
۱۲۷۶ھ بمطابق ۱۸۶۰ء میں مولوی عبد القادر کا ستلانہ میں انتقال ہوا۔ ان کے بڑے بیٹے مولوی سیف الرحمان کابل چلے گئے اور پھر وطن واپس نہ آئے۔ مولوی سیف الرحمان نے دہلی کے مشہور فتوائے جہاد پر دستخط کیے تھے۔
۱۸۶۰ء میں مولوی عبد القادر کے تینوں صاحبزادے مولوی محمد، مولوی عبد اللہ اور مولوی عبد العزیز لدھیانہ واپس آئے۔ مقامی حکام نے ان کو گرفتار کر لیا اور پھر جلد ہی رہا کر دیا۔ اس کے بعد ازسرِنو زندگی کا آغاز ہوا۔ مکانات تعمیر ہوئے، مسجد آباد ہوئی، درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مشہور احرار لیڈر مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی بن مولوی محمد زکریا، مولوی محمد کے پوتے ہیں۔
مولوی عبد اللہ نے سہارنپور کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور وہیں ۲۷ ذی قعدہ ۱۳۱۱ ہجری کو ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے قادیانیت کا خاص طور سے رد کیا۔
مولانا عبد العزیز کا ۲۲ شعبان ۱۳۱۹ھ (۴ دسمبر ۱۹۰۱ء) اور مولانا محمد کا ۶ رمضان ۱۳۱۹ھ (۸ دسمبر ۱۹۰۱ء) کو انتقال ہوا۔ ان دونوں بھائیوں نے ’’نصرۃ الابرار‘‘ کے نام سے ایک فتویٰ کتابی صورت میں کانگریس کی شرکت کے جواز میں شائع کیا، جس میں برصغیر کے بہت سے علماء کے دستخط تھے۔ یہ بات خاص طور سے قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت کانگریس حکومتِ برطانیہ کی مخالف نہ تھی بلکہ مؤید تھی، اور اس کی فتویٰ میں بھی صراحت ہے۔ اس فتویٰ کا دوسرا حصہ سر سیّد احمد خان کے خلاف ہے۔
تحریکِ آزادی کا پہلا میدانِ کارزار – اکوڑہ خٹک
پروفیسر محمد افضل رضا
وادی گندھارا کا قدیم ترین صوبہ اکوڑہ خٹک، اگرچہ اکوڑ خان (۹۸۹ھ، پ) (دورِ اکبری) کے نام سے موسوم ہے، جو صاحبِ سیف و قلم خوشحال خان خٹک کا جدِ امجد تھا، لیکن غزنوی اور غوری ادوار میں اسے سرائے کی حیثیت حاصل تھی۔ وسطِ ایشیا سے تجارتی مال و اسباب لے کر درۂ خیبر کے راستے پشاور میں داخل ہوتے اور قیام کرنے کے بعد برصغیر میں وارد ہونے کے لیے اٹک کے مقام سے کچھ فاصلے پر قائم دریائے کابل اور پہاڑوں کے درمیان اس تاریخی سرائے میں قیام کرتے تھے۔ اکوڑہ خٹک اب تک سرائے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بلکہ حال ہی میں اکوڑہ خٹک میں واقع عمرا خان غونڈئی سے گوتم بدھ کے بتوں کی برآمد سے یہ بات بھی قرینِ قیاس ہے کہ یہ سرائے قبل مسیح زمانے کی ہے جو اپنی قدامت اور تاریخی اہمیت کے لحاظ سے مزید تحقیق کا تقاضا کرتی ہے۔
دورِ اکبری
تحریکِ آزادی میں فرزندانِ اکوڑہ خٹک کے تاریخی کردار کا جائزہ لیتے وقت سب سے پہلے موجودہ اکوڑہ خٹک کے بانی اکوڑ خان کی شجاعت پر نظر پڑتی ہے، جنہوں نے علاقہ چراٹ میں آباد ہندو جوگیوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا، کیونکہ وہ اسلام کے خلاف منافرت پھیلانے میں مصروف تھے، اور اکبر کی نرم مذہبی پالیسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کفر و شرک کی اشاعت کو اپنا فریضۂ اول سمجھتے تھے۔ ایک بار اکبر نے اکوڑ خان خٹک سے ایسے ہندوؤں کی تعداد کے بارے میں پوچھا جنہیں مذہبی حمیت کی وجہ سے آپ نے قتل کیا ہے، تو آپ نے جواب دیا: شمار معلوم نہیں، البتہ ایک طرح سے حساب لگایا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ اُن کے کان میں جو بالی ہوتی تھی، قتل کرنے کے بعد وہ بالی اتار کر مٹکے میں رکھ دیتا تھا، اور اس طرح ان سے دو بڑے مٹکے بھر گئے۔ اکوڑ خان پہلے ان جوگیوں کو دعوتِ اسلام دیا کرتا تھا، اگر دعوت رد کر دی جاتی تو انہیں قتل کر دیا جاتا۔ (پشتون کون؟ پروفیسر پریشان خٹک، ص ۳۲۷-۳۲۸)
دورِ شاہجہانی
شاہجہانی دورِ حکومت میں یہاں حضرت شیخ المشائخ قطب الاقطاب شیخ اخ الدین سلجوتیؒ کا سلسلۂ رشد و ہدایت جاری تھا۔ دینی علوم میں حضرت شیخ قطب الاقطاب حضرت شیخ رحم کار کاکا صاحبؒ کے استاد تھے لیکن طریقت میں آپ ان کے مرید تھے۔ ۱۰۷۴ء میں اکوڑہ خٹک میں وفات پائی۔ آپ کا مزار مرجع خاص و عام ہے۔
شاہجہانی دور میں صاحبِ سیف و قلم خوشحال خان خٹک نے مذہبی اور اسلامی جذبۂ جہاد کے تحت ۱۶۴۲ء میں مہم کاتگرہ میں مغل حکومت کے باغی راجہ جگت سنگھ کے خلاف تلوار اٹھائی اور اسے شکست دے کر قلعہ تارا گڑھ فتح کیا۔
اسی مغلیہ دورِ حکومت میں شیخ یاسین افغانؒ کی اولاد میں حضرت شیخ سلیمان صاحبؒ اور حضرت مولا حسین صاحبؒ کفر و شرک کے خلاف اسلامی تعلیمات کی تبلیغ و تدریس میں مصروف رہے۔ مانکی شریف کا مشہور علمی اور روحانی پیر خاندان اور اکوڑہ کے مشہور عالمِ دین قاضی امین الحق صاحبؒ اور دیگر قاضی خیل اور ملایان خاندان وغیرہ آپ کی اولاد میں شامل ہیں۔
مغلیہ دور میں خوشحال خان خٹک کے برادرِ خورد قطب الاقطاب فقیر جمیل بیگ صاحبؒ بھی تبلیغِ اسلام اور رشد و ہدایت میں مصروف رہے۔ آپ شیخ رحم کار کاکا صاحبؒ کے مرید خاص اور خلیفۂ مجاز تھے۔
دورِ احمد شاہ ابدالی
احمد شاہ ابدالی کے زمانے میں جب مرہٹوں نے پنجاب پر حملہ کیا تو احمد شاہ ابدالی نے جنگِ حسن ابدال میں مرہٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سردارانِ اکوڑہ خٹک کو بھی روانہ کیا۔ سردار اکوڑہ خوشحال خان ولد سعد اللہ خان خٹک حسن ابدال کے مقام پر مرہٹوں کے خلاف بہادری کے جوہر دکھاتا ہوا شہید ہوا۔ بعد میں سعادت مند خان اکوڑہ بھی جنگ میں شامل ہوا۔ آپ نے بہادری اور شجاعت کے وہ کارنامے سر انجام دیے کہ احمد شاہ ابدالی نے خوش ہو کر جہلم تک کی حکمرانی سعادت مند خان خٹک کو بخشی۔ پانی پت کی تیسری لڑائی (۱۷۶۱ء) میں احمد شاہ ابدالی نے آپ کی شجاعت اور دلیرانہ کارکردگی کے پیش نظر آپ کو سرفراز خان کا خطاب بخشا۔
سکھوں کا دورِ حکومت
امام الہند شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی تعلیمات سے فیض یاب جانشین حضرت عبد العزیز صاحبؒ نے برصغیر کے مسلمانوں میں نئی روح پھونکنے کے لیے جس مبارک تحریک کی بنیاد ڈالی تھی، اس کا موثر ترین اظہار سید احمد شہید بریلویؒ (۱۷۸۶ء-۱۸۳۱ء) اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی زیر قیادت ہوا۔ حضرت سید احمد شہید بریلویؒ نے ۱۷ جنوری ۱۸۲۶ء کو سفرِ جہاد اختیار کیا۔ اس وقت آپ کے ہمراہ پانچ چھ ہزار ہندوستانی مجاہد تھے جنہوں نے سکھوں کے خلاف جہاد کرنے اور مسلمانانِ پنجاب و سرحد کو مذہبی آزادی دلانے اور اسلامی شریعت نافذ کرنے کا پختہ عزم کیا۔ بریلی سے گوالیار، ٹونک، اجمیر، مارواڑ، حیدرآباد، شکار پور، بولان، قندھار ہوتے ہوئے کابل افغانستان پہنچ گئے۔ اور وہاں سے آپ خیبر کے راستے پشاور میں وارد ہو کر نوشہرہ پہنچے۔
بیعت و دعوتِ جہاد
جب ۱۸۲۶ء میں سفرِ جہاد کے سلسلے میں حضرت سید احمد شہید بریلویؒ اپنے مجاہدین کے ہمراہ کابل سے پشاور پہنچے۔ وہاں دو تین روز قیام کرنے کے بعد ہشت نگر چارسدہ تشریف لے گئے اور لشکر گاہ قائم کی، تو اس دوران اکوڑہ خٹک کا رئیس امیر خان خٹک ملاقات کے لیے پہنچا اور شرفِ بیعت سے مشرف ہوا، اور ساتھ ہی عرض کی کہ بدھ سنگھ بڑے لشکر کے ساتھ اکوڑہ خٹک پہنچ گیا ہے، مناسب یہ ہے کہ آپ یہاں سے کوچ فرماویں اور اس کو وہیں روک لیں۔
پہلا معرکۂ حق و باطل
جنگ شروع کرنے سے پہلے آپ نے دربارِ لاہور کو ایک تحریری اعلام نامہ حسبِ قاعدۂ شریعت بھیجا، لیکن دربارِ لاہور نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، بلکہ جرنیل بدھ سنگھ کو ایک بڑا لشکر دے کر مجاہدین کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ سب سے پہلا معرکہ ۲۱ دسمبر ۱۸۲۶ء کو نوشہرہ سے سات آٹھ میل کے فاصلے پر اکوڑہ خٹک کے مقام پر ہوا۔ اس میں مجاہدین کامیاب رہے اور بدھ سنگھ کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ (موج کوثر، شیخ محمد اکرم، ص ۳۵)
انگریز مورخ بھی اس سرزمین پر مجاہدین کی شجاعت کے گواہ ہیں۔ ’’دی پٹھان‘‘ کے مصنف اولف کرر لکھتے ہیں:
’’سید احمد نے سب سے پہلے سکھوں کی اس طاقتور فوج کا سامنا کیا، جو بدھ سنگھ سندھانوالیہ کی سرکردگی میں اکوڑہ بھیجی گئی تھی۔ سکھ کمانڈر نے دانش مندی سے کام لے کر اکوڑہ اور جہانگیرہ کے درمیان شیدو کے مقام پر مورچے بنا لیے تھے، جہاں سے سکھ فوج قبائل کے پرجوش حملے روکتی رہی، لیکن اسے سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا، یہاں تک کہ لڑائی زوروں پر تھی تو خود بدھ سنگھ بھی مارا گیا۔‘‘ (پٹھان، اردو ترجمہ، ص ۴۲۳)
تاریخی کتب کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں حریف فوج سات ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ جبکہ مقابلے میں مجاہدین کی تعداد سات سو تھی، جس میں پانچ سو ہندوستانی اور دو سو قندھاری اور مقامی مجاہدین شامل تھے۔ راہِ حق میں اس سرزمین پر دشمنانِ اسلام کے ہاتھوں شہید ہونے والے مجاہد شیخ باقر علی صاحبؒ تھے۔ ۱۰ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۲ھ مطابق ۲۰ دسمبر ۱۸۲۶ء، چہار شنبہ اور پنج شنبہ کی درمیانی شب کو اس معرکے میں ہندوستانی مجاہدین میں سے چھتیس اور قندھاریوں اور مقامی مجاہدین میں سے تقریباً پینتالیس شہید اور دونوں میں سے تیس چالیس مجاہدین زخمی ہوئے۔ سات سو سکھ مارے گئے…
سرزمین اکوڑہ خٹک پر حق و باطل کے اس معرکے کے اثرات کے بارے میں مولانا سید ابو الحسن ندویؒ ’’تاریخِ دعوت و عزیمت‘‘ میں یوں رقم طراز ہیں:
’’اس جنگ کا اثر مسلمانوں اور مخالفین پر خاطر خواہ ہوا۔ مسلمانوں کے دل بڑھ گئے اور حوصلے بلند ہوئے۔ دربارِ لاہور کی بھی آنکھیں کھلیں۔ ملکی سردار جوق در جوق آ کر مبارک باد دینے لگے…‘‘ (حصہ شسشم، جلد ۱، ص ۵۲۴-۵۲۵)
یاسین خیل خاندان کا جہاد
اکوڑہ خٹک کے مشہور یاسین خیل خاندان میں شیخ ضیاء الدینؒ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، جن کا شجرۂ نسب شیخ ضیاء الدین ابن بدر الدین ابن محمد ابراہیم ابن اکرم بیگ ابن فتح محمد ابن محمد یوسف ابن یاسین مختلف تاریخوں میں درج ہے۔ بقول مؤلف ’’اولیائے پاکستان‘‘ قاضی اثر، شیخ محمد یوسفؒ میرنی بابا کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا مزار موضع پڑانگ میں مرجع خلائق ہے۔ (اولیاء پاکستان، ص ۹۹۸)
اکوڑہ کے اسی خاندان میں، جہاں علماء مشائخ گزرے ہیں، اور یاسین خیل قاضیان اور ملایان کی حیثیت سے زیادہ تر افراد درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہے ہیں بلکہ اب تک وابستہ ہیں۔ آج سے تقریباً تیس سال قبل اسی خاندان کے ایک بزرگ اکوڑہ خٹک کے مشہور مدرس جناب صاحبزادہ صاحبؒ نے راقم الحروف کو ملاقات میں بتایا تھا کہ اس قبیلے کے بعض گھرانوں کے افراد سے حضرت استاد شیخ ضیاء الدینؒ اور ان کے فرزند حضرت مولانا شیخ عبد الوہاب صاحبؒ المعروف بہ پیر صاحب مانکی شریف، جو انگریزوں اور سکھوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے، مجاہدین کے لیے بارود اور کمان تیار کروایا کرتے تھے۔ اس لیے بعض گھرانے داروگر اور کمان گر بھی مشہور ہوئے۔
الغرض سکھوں کے مظالم سے تنگ آ کر ان دونوں حضرات نے اکوڑہ سے ہجرت کی۔ ۱۸۵۰ء میں شیخ ضیاء الدین صاحبؒ بدرشی منتقل ہوئے، وہاں تلقینِ جہاد کے ساتھ جامع مسجد میں دینی علوم کی تدریس میں مصروف رہے۔ آپ کا مزار اکوڑہ خٹک میں شیخ سلیمان باباؒ قبرستان میں مرجع خلائق ہے۔ آپ کے فرزند حضرت شیخ عبد الوہاب صاحبؒ المعروف پیر صاحب مانکی شریفؒ (۱۲۲۲ھ-۱۳۲۲ھ) سیدو شریف کے حضرت غوث الزمانؒ کے مرید تھے، اور اپنے پیرِ طریقت کے ساتھ ۱۸۶۳ء میں امبیلہ (سرکاوی) کی جنگ میں انگریزوں کے خلاف نبرد آزما تھے۔ ۱۸۹۵ء میں مالاکنڈ کے مقام پر انگریزوں کے خلاف مصروفِ جہاد رہے۔ قیامِ پاکستان کے لیے آپ کے نواسے جناب امین الحسنات پیر صاحب مانکی شریفؒ کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔
حاجی صاحب ترنگ زئی اکوڑہ خٹک میں
تحریکِ آزادی کی صفِ اول کے مجاہد جناب سید فضل واحدؒ المقلب بہ حاجی صاحب ترنگ زئیؒ انگریزوں کے خلاف معرکوں میں پشتون قوم کی رہنمائی اور قیادت کرتے رہے۔ اور ساتھ ہی معاشرتی اصلاح کا بیڑا بھی اٹھایا، آزاد مدارس کا جال بچھایا، غیر اسلامی طور طریقوں اور رسم و رواج کی بیخ کنی میں مصروف رہے۔ آپ اسی مشغلے میں ۱۹۰۴ء اور ۱۹۱۳ء میں اکوڑہ خٹک تشریف لائے۔ معاشرتی اصلاح کے ساتھ ساتھ یہاں کے باشندوں کو فرنگی استعمار کے خلاف نبرد آزما ہونے کی دعوت بھی دیتے رہے۔
تحریکِ ہجرت اور اکوڑہ خٹک کے مہاجرین
انگریز سامراج کے مظالم جب تحریکِ خلافت اور تحریکِ ترکِ موالات کے نتیجے میں اپنی انتہا کو پہنچ گئے، تو ہندوستان کے مولانا عبد الباریؒ نے ۱۷۶۵ء میں جاری کردہ شاہ عبد العزیز صاحبؒ کے فتویٰ کی روشنی میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا۔ علمائے کرام اور پیرانِ عظام نے لوگوں کو ترکِ وطن پر آمادہ کرنے کی تحریک شروع کی۔ مئی ۱۹۲۰ء میں مولانا محمد علیؒ اور اس کے رفقاء نے وائسرائے ہند کو چیلنج دیا کہ اگر مسلمانانِ ہند کے مطالبات ایک ماہ تک منظور نہ کیے گئے تو ہندوستان کے مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور افغانستان چلے جائیں گے۔
اُن دنوں اعلیٰ حضرت امان اللہؒ نے بھی جذباتی تقریر کی، جو روزنامہ ’’امان افغان‘‘ میں نطقِ ہمایوں کے عنوان کے تحت شائع ہوئی۔ اس میں مولانا محمد علیؒ اور مولانا شوکت علیؒ (میر احمد خیل یوسفزئی) کے مطالبات اور ہجرت کے چیلنج کا ذکر تھا۔ غازی امان اللہؒ نے اس میں یقین دلایا تھا کہ افغانستان اپنی پوری استطاعت کے ساتھ اس قسم کے مہاجرین کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ اس تقریر نے مسلمانانِ ہند میں نیا جوش پیدا کیا اور اعلانِ ہجرت کیا۔ جون ۱۹۲۰ء میں جابجا ہجرت کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ صوبۂ سرحد کے گوشے گوشے سے مہاجرین کے قافلے بیل گاڑیوں، پا پیادہ اور بار بردار جانوروں کے ذریعے سوئے افغانستان روانہ ہوئے۔
اکوڑہ خٹک سے جن افراد نے اپنی بیل گاڑیوں میں پشاور تک سفر کیا اور بعد ازاں پیدل کابل پہنچے، ان میں زینور شاہ بابا (محلہ عادل ذات)، باچا گل (محلہ حاجی رحمان الدین)، سید احمد (محلہ شکور خان)، غلام جیلانی (محلہ قصاباں) اور بہت سے دوسرے حضرات شامل ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا عبد الحق صاحبؒ کے والد محترم جناب الحاج معروف گل صاحبؒ نے مہاجرین کے لیے بیل گاڑی خریدی تھی۔
خدائی خدمتگار تحریک اور اکوڑہ خٹک
۱۹۲۴ء میں باچا خان نے قید سے رہائی کے بعد پشتون قوم کی تعلیمی اور معاشرتی اصلاحی مہم کی ابتداء کی اور ’’انجمن اصلاح افاغنہ‘‘ قائم کی۔ بیرسٹر میاں احمد شاہ اور پشتو کے آتش نوا شاعر محمد اکبر خادم نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خادم صاحب اکوڑہ کے مشہور قبیلے ’’قریشیاں‘‘ سے تعلق رکھتے تھے…
انجمن اصلاح افاغنہ اور افغان یوتھ لیگ نے ۱۱ اپریل ۱۹۳۰ء کو خان عبد الغفار خان اور دیگر رہنماؤں کے مشورے سے ’’خدائی خدمتگار تحریک‘‘ کی شکل اختیار کی۔ ۲۲ اگست ۱۹۳۰ء کو اس تحریک کا حلف نامہ مرتب ہوا۔ برصغیر کی آزادی کے سلسلے میں اس تحریک نے جو قربانیاں پیش کی ہیں، وہ ہماری تاریخ میں روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اکوڑہ کی جن سیاسی شخصیتوں نے خدائی خدمتگار تحریک اور بعد میں سرخ پوش تحریک و کانگریس میں نمایاں کردار ادا کیا، ان میں قاضی ظہیر الدین، سیف الحق صدیقی، قاضی عبد الودود، چاچا غلام ربانی، غلام خان کشمیری، عبد الحمید کشمیری، ماسٹر نور البصر، قاضی شمس الحق، قاضی شریف اللہ، سید نور بادشاہ، اور بعد میں باچا خان کے قریبی ساتھیوں میں جناب اجمل خٹک، حاجی محمد آثم، حیا گل جرنیل، شیریں خان، رحیم بخش اور دیگر حضرات شامل ہیں۔
اکوڑہ خٹک پر انگریزی فوج کا حملہ
برطانوی سامراج نے ۱۹۳۱ء میں بنگال، متحدہ صوبہ جات اور شمال مغربی صوبہ میں جس طرح ظلم و تشدد کا بازار گرم رکھا، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ حالانکہ لندن میں نومبر ۱۹۳۱ء میں گول میز کانفرنس ہو رہی تھی اور صوبۂ سرحد میں خدائی خدمتگاروں کے دفتروں پر چھاپے پڑ رہے تھے، ان کے مشہور رہنما پا بہ زنداں تھے، ان کے گھروں کی بے حرمتی کی جا رہی تھی، تاکہ آزادی کے متوالے آزادی کا مطالبہ نہ کریں۔
۷ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو گورا فوج اور ملیشیا نے خدائی خدمتگاروں کے دفتر واقع مکان قاضی عبد الودود پر چھاپہ مار کر جھنڈا اتارا اور خدائی خدمتگاروں کو پیٹا۔ حاجی مظفر الدین (مالک مکتبہ صدیقیہ اکوڑہ) کے گلے میں قرآن پاک تھا۔ انگریز پولیس کپتان بیلی رام نے مظفر الدین کو مارا پیٹا اور قرآن پاک اس کے گلے سے اتار کر دور پھینکا۔ اس چھاپے میں عبد الحمید کشمیری، غلام محی الدین حجام، حاجی محمد آثم (محلہ دھوبیاں) اور سعد اللہ خان (محلہ شیخاں) بری طرح زخمی ہوئے۔
تحریکِ آزادی کے اس کٹھن مرحلے پر ۱۹۳۱ء میں اکوڑہ خٹک کے جن خدائی خدمتگاروں کو انگریز سامراج نے قید و بند کی سزا دی، ان میں قاضی ظہیر الدین صاحب، قاضی عبد الودود صاحب، جرنیل سیف الحق صدیقی صاحب، ماسٹر نور البصر صاحب، قاضی شمس الحق صاحب، میجر شیریں خان صاحب، سید نور بادشاہ صاحب، چاچا غلام ربانی صاحب، غلام جان کشمیری صاحب، قاضی شریف اللہ صاحب شامل تھے۔ صوفی میاں گل صاحب، محمد گل صاحب اور عبد الرفیق صاحب کو سو روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔
اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کا قیام
اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کے قیام اور تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں خان اعلیٰ محمد زمان خٹک مرحوم پیش پیش تھے۔ اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کا پہلا جلسہ ۴ اگست ۱۹۴۵ء کو منعقد ہوا، جس میں باشندگانِ اکوڑہ خٹک کو مسلم لیگ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ خان اعلیٰ محمد زمان خان خٹک نے اس جلسے کی صدارت کی تھی۔ جناب بابو نور الٰہی قریشی، جناب ملک فرید خان، جناب حاجی محمد ککے زئی، جناب دلبر اخون، جناب مولانا امیرزادہ صاحب مسلم لیگ کے سرگرم کارکنوں میں شامل تھے۔ بقول برادرم طاہر احمد سعید صدیقی اکوڑہ خٹک میں مسلم لیگ کا قیام ۱۹۳۶ء میں عمل میں آیا۔
جنگِ آزادی اور اکوڑہ خٹک کے دینی مدارس
رئیس المجاہدین حضرت مولانا سید احمد شہید بریلویؒ نے جب اکوڑہ خٹک کی سرزمین پر قدم رکھا تو فرمایا: ’’یہاں کی مٹی سے مجھے علم کی خوشبو آ رہی ہے۔‘‘ آپ کا یہ ارشاد بجا تھا۔ انگریزوں کے دورِ حکومت میں جہاں اکوڑہ خٹک کے غیور فرزندوں نے وقتاً فوقتاً نعرۂ حریت بلند کیا، وہاں یہاں کے بیشتر علماء دینی علوم اور باعمل علماء کی ایک بہت بڑی تعداد تیار کر رہے تھے۔
اکوڑہ خٹک کی مشہور مساجد میں جو دینی مدارس قائم تھے، ان میں اکوڑہ خٹک کے مشہور روحانی پیشوا حضرت قطب الارشاد سید مہربان شاہ صاحبؒ (المتوفیٰ ۱۳۶۷ھ) کا قائم کردہ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد حاجی صاحب ترنگ زئیؒ کے رفیقِ خاص حاجی محمد امین صاحبؒ اسی مدرسے کے فارغ تھے۔
اکوڑہ خٹک کے شیخ صدیقی خاندان کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبد القادر صاحبؒ (۱۸۸۴ء-۱۹۲۴ء) نے دریائے لنڈا کے کنارے سفید مسجد میں مدرسہ اعظمیہ قائم کیا تھا، جس کے اساتذہ میں اکوڑہ خٹک کے ممتاز عالم دین مولانا سید عبد النور صاحبؒ المعروف بہ صحرئی ملا صاحبؒ شامل تھے۔ موصوف حضرت مولانا محمود الحسن صاحبؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ اور یوں دینی علوم کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اس شمع حریت کو بھی روشن رکھا جو آپ تحریکِ آزادی کے سلسلے میں اکابرینِ دیوبند کی صحبت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔
اس دوران حضرت سید عبد الرحیم صاحبؒ المعروف بہ قصابا نو حاجی صاحبؒ (۱۸۴۸ء-۱۹۵۶ء) محلہ قصابان کی قدیم مسجد میں طویل عرصے تک درس و تدریس میں مصروف رہے اور جید علماء دین کی ایک بڑی کھیپ تیار کی۔
اکوڑہ خٹک کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبد القیوم استاد صاحبؒ نے محلہ کفش گر میں دینی علوم کی تدریس جاری رکھی۔ خدائی خدمتگار تحریک کے معروف کارکن اور مشہور شاعر جناب عبد الخالق خلیق اور جناب اجمل خٹک آپ ہی کے شاگردوں میں سے ہیں …
(بہ شکریہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک)
دار العلوم دیوبند
مولانا عبد الحق خان بشیر
خوفناک فرنگی سازش
۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔ انگریز دوبارہ اقتدارِ دہلی پر قبضہ مستحکم کر چکے تھے۔ ہزاروں علماء اور عوام کا لہو بہانے کے بعد وحشت و بربریت اور خونی انتقام کا طوفان کافی حد تک تھم چکا تھا۔ اربابِ اقتدار بظاہر مطمئن و پرسکون تھے کہ آزادی و حریت کے شعلے بجھ چکے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ راکھ کے ڈھیر میں دبی چنگاریوں سے بھی دہشت زدہ تھے کہ کسی وقت بھی یہ بھڑک سکتی ہیں۔ کیونکہ گزشتہ جنگِ آزادی اور دیگر معرکہ ہائے حریت میں وہ مسلمانوں کی جنونی فطرت کا بخوبی جائزہ لے چکے تھے کہ جب تک ان کے اندر ملّی غیرت اور دینی حمیت موجود ہے، ان پر حکمرانی آسان نہیں۔
چنانچہ عیّار فطرت فرنگی سامراج نے مسلمانانِ برصغیر کی ذہنی و فکری برین واشنگ کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں سے اسلامی روح ختم کر دی جائے۔ وہ اپنی اسلامی تہذیب، دینی ثقافت، ملی اقدار، روشن روایات اور تابناک ماضی سے دستبردار ہو کر علیحدہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود کھو بیٹھیں۔ اس کے بعد انہیں اپنے رنگ میں رنگنا آسان ہو گا۔ چنانچہ تعلیمی میدان میں اس کے لیے کوششیں شروع ہو گئیں۔ لارڈ میکالے نے ایک ایسا نظامِ تعلیم ترتیب دیا، جس کے ذریعہ ہندوستانی رنگ و نسل کے خول میں یورپین تہذیب و ثقافت کا نصرانی پرورش پانے لگا۔ اور اسلامی کلچر کے نقوش مٹ جانے کے خطرات پیدا ہو گئے۔
قیامِ دارالعلوم دیوبند
اُدھر قصرِ دہلی میں چند سفید فام غیر ملکی مسلمانانِ برِّصغیر کے مستقبل کو ان کے شاندار ماضی سے کاٹنے کے پروگرام تیار کر رہے تھے۔ اور اِدھر دیوبند کی گمنام بستی میں خدا کے چند برگزیدہ بندے اپنی قوم کے ماضی، حال اور مستقبل کا ربط و تسلسل برقرار رکھنے کی فکر میں سر جوڑے بیٹھے تھے۔ ایک خاموش اور غیر محسوس نظریاتی جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ یہ توپ و تفنگ کی جنگ نہ تھی، بلکہ فہم و فراست کا معرکہ تھا۔ ایک طرف مکر و فریب تھا اور دوسری طرف عزم و استقامت۔ چند بے سروسامان بوریا نشین اقتدارِ افرنگ کی خوفناک سازشوں سے الجھنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
چنانچہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حاجی عابد حسینؒ جیسے اہل اللہ نے ایک دینی مدرسہ کے قیام کا پروگرام بنایا اور ۱۵ محرم الحرام ۱۲۸۳ھ مطابق ۳۰ مئی ۱۸۶۷ء بروز جمعرات کو مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی۔ مولانا احمد علی محدث سہارنپوریؒ نے بنیاد کی پہلی اینٹ رکھی، حضرت میاں جی منے شاہؒ نے دوسری، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تیسری، اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے چوتھی اینٹ رکھی۔ اور ساتھ ہی انار کے درخت کے نیچے ایک استاد ملا محمود دیوبندیؒ اور ایک شاگرد محمود الحسنؒ پر مشتمل پہلی کلاس تعلیم کے لیے بٹھا دی گئی۔ قلیل مدت میں وہ چھوٹا سا مدرسہ دارالعلوم کا روپ دھار گیا، اور پھر ایشیا کی عظیم ترین اسلامی یونیورسٹی کی صورت میں دنیا کے اندر متعارف ہوا، اور شرق و غرب و عجم و عرب میں اس کا فیض پھیلتا چلا گیا۔
دیوبند میں اس مختصر سے مدرسہ کی بنیاد رکھنے کے بعد مولانا محمد قاسم نانوتویؒ دوسرے علاقوں کی طرف متوجہ ہوئے اور مراد آباد، امروہہ اور تھانہ بھون وغیرہ علاقوں میں بھی ایسے مدارس قائم کر دیے تاکہ دینی مدارس کا جال پھیلا کر فرنگی سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔
قیامِ دارالعلوم کا مقصدِ اول
دارالعلوم دیوبند کی تاریخ اور خدمات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قیام کے بنیادی مقاصد دو ہیں۔ پہلے مقصدِ قیام کی وضاحت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے بایں الفاظ فرمائی کہ
’’دیوبند آزادی کی چھاؤنی ہے، جس پر تعلیم کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ ہمارے جسم غلام سہی، مگر ہماری روح کو آزاد رہنا چاہیے۔ اس طرح ہم آئندہ ستاون سے پہلے غیر ملکی غلامی کا خاتمہ کر دیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز‘‘
گویا دارالعلوم کے قیام کا بنیادی مقصد ایک ایسی انقلابی ٹیم تیار کرنا تھا جس کے ذریعہ جنگِ آزادی میں ہونے والی شکست کی تلافی بھی کی جا سکے، اور غیر ملکی غلامی کی لعنت سے چھٹکارا بھی حاصل ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے قوم کے اندر دین و حریت کی تڑپ پیدا کرنا ضروری تھا۔ چونکہ دارالعلوم کے قیام کے سلسلہ میں سب سے زیادہ کاوشیں اور محنتیں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ہیں، اس لیے انہیں ہی بانی دارالعلوم دیوبند کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ بانی کی حیثیت سے ان کی مذکورہ وضاحت اپنے اندر کافی وزن رکھتی ہے۔ اور خود مولانا نانوتویؒ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے مقصدِ حیات صرف چار ہی نظر آتے ہیں:
۱۔ مسلمانوں کی اعتقادی، فکری اور عملی اصلاح۔
۲۔ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت و تبلیغ۔
ان دونوں مقاصد کے لیے انہوں نے عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ اسلام کی حقانیت و صداقت کا اثبات بھی کیا اور ادیانِ باطلہ کا رد بھی۔
۳۔ مسلمانانِ برصغیر کے اندر آزادی و حریت کی روح کو بیدار رکھنا۔
۴۔ ترکی کی اسلامی خلافت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے اس مقصدِ قیام کے تحت دارالعلوم کے سب سے پہلے شاگرد شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کی علمی و فکری تربیت اس انداز سے کی گئی کہ ان کی قائدانہ صلاحیتیں اجاگر ہوں اور وہ غلام قوم کی قیادت کا بوجھ اٹھا سکیں۔ چونکہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اپنے ہزاروں عقیدت مندوں سمیت اپنے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قیادت میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں باقاعدہ حصہ لے چکے تھے، اس لیے انہوں نے اپنے ہونہار شاگرد حضرت شیخ الہندؒ کی تعلیم و تربیت خالص انقلابی بنیادوں پر کی۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد آزادئ ہند کی ہر تحریک کی تان حضرت شیخ الہندؒ پر ہی آ کر ٹوٹتی ہے۔
اور پھر بانئ دارالعلوم دیوبند کی پیشین گوئی اس وقت حقیقت بن کر دنیا کے سامنے آئی جب آئندہ ’’ستاون‘‘ سے دس سال قبل ۱۹۴۷ء میں ہی غیر ملکی غلامی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اور اس غیر ملکی غلامی کے خاتمہ کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ ہر تحریک دیوبند سے اٹھی اور دارالعلوم دیوبند کی تربیت یافتہ ٹیم نے ہر تحریک میں ہراول دستہ کا کام دیا۔
قیامِ دارالعلوم کا مقصدِ ثانی
قیامِ دارالعلوم دیوبند کا دوسرا مقصد وہ ہے جس کی وضاحت شاعرِ مشرق علامہ اقبال مرحوم نے بایں الفاظ فرمائی کہ
’’دیوبند ایک ضرورت تھی، اس سے مقصود تھا ایک روایت کا تسلسل، وہ روایت جس سے ہماری تعلیم کا رشتہ ماضی سے قائم رہے۔‘‘
اسلامی تاریخ میں دو دور ایسے بھی آئے جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں:
پہلا چھٹی صدی ہجری میں تاتاریوں کی خونی یلغار کا دور۔ جب چنگیز خان وسطی ایشیائی ریاستوں کو روندتا ہوا روس اور چین تک پہنچا اور اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہرات، بلخ، بخارا، سمرقند اور نیشاپور وغیرہ علاقوں میں اس نے صرف قتل و غارت کا بازار ہی گرم نہیں رکھا، بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مساجد اور دینی مدارس مسمار اور ویران کر دیے۔
دوسرا ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد فرنگی استبداد و بربریت کا دور۔ جب سترہ ہزار علماء کو پھانسی کے تختوں کی زینت بنایا گیا، ہزاروں علماء پابندِ سلاسل کر دیے گئے، انہیں عبورِ دریائے شور کی سزائیں دی گئیں، قرآن پاک کے ہزاروں نسخے جلا دیے گئے، دینی کتب ڈھونڈ ڈھونڈ کر گنگا و جمنا کی نذر کر دی گئیں، مساجد نیلام کی گئیں، مدارس مسمار کیے گئے۔ سلطان محمد تغلق کے دور میں دہلی اور اس کے اطراف میں ایک ہزار سے زائد دینی مدارس قائم تھے، لیکن سب کے سب فرنگی وحشت و بربریت کا شکار ہو گئے، ان میں سے ایک مدرسہ بھی باقی نہ بچا۔ فرنگی سامراج کی سرتوڑ کوشش تھی کہ دینی مدارس کے ذریعہ اسلامی علوم و افکار کی اشاعت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے، لیکن اس کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا اور دارالعلوم دیوبند نے اس کی تمام سازشوں اور کاوشوں پر پانی پھیر دیا۔
سرکاری سرپرستی میں پورے تحفظ اور پروٹوکول کے ساتھ یورپ سے مسیحی مشنریاں لائی گئیں اور ان کے ذریعہ اسلام کے خلاف گمراہ کن تصورات کو فروغ دیا گیا۔ لیکن دارالعلوم دیوبند کی انقلابی ٹیم اس میدان سے بھی غافل نہ تھی۔ اکثر و بیشتر مسیحی مشنریاں مایوس و نامراد ہو کر واپس چلی گئیں۔ عیسائیت کی ترویج و اشاعت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، لیکن دارالعلوم دیوبند آہنی دیوار کی صورت میں آڑے آگیا اور برطانوی اقتدار کے مذموم عزائم و مقاصد پورے نہ ہو سکے۔
بالفاظِ دیگر دارالعلوم دیوبند صرف اسلامی فکر کا محافظ و نگہبان ہی نہیں بنا، بلکہ اسلامی روایات کے امین و ترجمان کی حیثیت سے بھی سامنے آیا۔ مسلمانوں کا وہ تعلیمی ورثہ، جسے دنیا کے کونہ کونہ تک پہنچانے کے لیے اصحابِؓ نبوتؐ دور دراز کے علاقوں میں پہنچے؛ اور جسے کتب و اوراق کی صورت میں آتش، گنگا اور جمنا کی نذر کر کے فرنگی سامراج نے سمجھا کہ مسلمان قوم کو اس کے ماضی سے کاٹ دیا گیا ہے؛ دارالعلوم نے اس تعلیمی ورثہ کو اصلی حالت میں مسلمانوں تک پہنچایا۔ دارالعلوم کے تربیت یافتہ افراد مختلف علاقوں میں پھیلتے چلے گئے اور جگہ جگہ مدارس کا قیام عمل میں آنے لگا۔ اور آج الحمد للہ دارالعلوم کا تعلیمی فیض دنیا کے ہر خطہ میں موجود ہے۔
دارالعلوم دیوبند کی انہی خدماتِ جلیلہ کی بناء پر بعض اصحابِ ذوق دارالعلوم کو چودھویں صدی کا مجدد قرار دیتے ہیں، کیونکہ دین کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں دارالعلوم نے منفرد اور قابلِ تقلید خدمات سرانجام نہ دی ہوں۔ سیاست و حریت، تصوف و طریقت، حدیث و تفسیر، فقہ و ادب، دعوت و تبلیغ، غرضیکہ ہر شعبہ میں دارالعلوم کی منفرد خدمات ہیں؛ اور آج اس کی ہزاروں شاخیں دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہیں۔ مولانا ظفر علی خان مرحوم نے دارالعلوم دیوبند کی خدمات کو بایں الفاظ خراجِ تحسین پیش کیا:
شاد باش و شاد زی اے سر زمینِ دیوبند
ہند میں تو نے کیا اسلام کا پرچم بلند
قادیانیت اور برطانوی استعمار
آغا شورش کشمیریؒ
۱۔ مرزائیت کی اصل بنیاد دین نہیں، سیاست ہے۔ اس کا مطالعہ دینی اعتبار سے نہیں، بلکہ سیاسی اعتبار سے کرنا چاہیے۔ ان سے مذہبی بحث چھیڑنا ہی غلط ہے؛ ان کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہیے، جیسا کہ علامہ اقبال کا خیال ہے۔
۲۔ اگر ہم سلطان ٹیپو کی شہادت ۱۷۹۹ء سے لے کر بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری ۱۸۵۷ء تک کے احوال و وقائع پر نظر رکھیں، تو ہمیں مرزا غلام احمد کی نبوت اور ان کے جانشینوں کی خلافت کے احوال و ظروف کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کی نیو رکھنے میں بالواسطہ اور بلاواسطہ کون سے عوامل و محرکات کا ہاتھ شامل رہا ہے۔
۳۔ انگریزوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے ہاتھ سے سلطنت لے کر محسوس کیا — جیسا کہ سر ولیم میور (لیفٹیننٹ گورنر یوپی) نے کہا تھا — کہ برطانوی عملداری کی راہ میں دو رکاوٹیں ہیں: ایک محمدؐ کی تلوار اور دوسرا محمدؐ کا قرآن۔ محمدؐ کی تلوار کو تنسیخِ جہاد کے نظریہ سے توڑنا چاہا۔ بعض مذہبی فرقے اور ان کے فتاویٰ میسر ہوئے، لیکن انگریزوں کو مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات سے اندازہ ہوا کہ مسلمان — بالفاظِ اقبال — ایک ہی چیز سے متاثر ہوتے ہیں، اور وہ ربانی سند ہے۔ مرزا غلام احمد نے یہ فرض بکمال انجام دیا، جہاد منسوخ کیا، گویا اس طرح محمدؐ کی تلوار کے لیے نیام بننا چاہا۔ خود کو محمد کی مثل (خاکم بدہن) کہا۔ اور اس طرح قرآن سے جہاد کی آیات ساقط کرنا چاہیں۔ نتیجہ [یہ ہوا کہ] سرحد سے ملحق پنجاب کے قلب میں بیٹھ کر برطانوی شہنشاہیت کی غلامی کے لیے الہامی بنیاد قائم کی۔ فی الجملہ مرزائیت سیاسی دینیات کا درجہ رکھتی ہے۔
۴۔ مرزا صاحب نے یہی نہیں کیا، بلکہ اس عمارت کی نیو اٹھانے کے لیے انہوں نے مسلمانوں کی ذہنی زمین کو ہموار کرنا چاہا، آب و ہوا کا رخ بدلا۔ غرض وہ مسلمان جو ٹیپو کے جہاد میں شعلہ جوالہ ثابت ہوئے تھے، جنہوں نے سراج الدولہ کے وجود میں تلوار کی آبرو رکھی تھی، جو بہادر شاہ ظفر کے عہد میں جنگِ آزادی کا مواد لے کر اٹھے تھے، ان کی باقیات سیّد احمد شہید کی تحریک اور اس کے برگ و بار، جنگِ امبیلہ کے نتائج و اثرات؛ انبالہ، راج محل، مالوہ اور پٹنہ میں علماء کے پانچ مقدمات، علماء کا شوقِ جہاد و شہادت، سرحدی علاقے میں جہاد و غزا کی فراوانی — ان تمام واقعات نے مرزا غلام احمد کے وجود کو برطانوی مصالح و مقاصد کی خاک سے اٹھایا اور وہ مسلمانوں کے مزاج کا رخ بدلنے میں منہمک ہو گئے۔
مرزا غلام احمد کی خصوصیات
انہوں نے مسلمانوں کو فضول مذہبی مباحث میں الجھا دیا، مثلاً:
(الف) برطانوی فاتحوں سے ہٹا کر برطانوی پادریوں سے الجھا دیا۔ جس سے تلوار کی جگہ زبان نے لے لی اور جہاد کی امنگ سرد پڑ گئی، ذہنی زاویے بدل گئے۔
(ب) آریہ سماجیوں سے اس طرز کے مناظروں کی نیو رکھی کہ دشنام کے جواب میں دشنام کا جھگڑا اٹھا۔ اور مرزا صاحب کے جواب میں ستیارتھ پرکاش کے اس باب کا اضافہ ہوا جس میں قرآن و سنت و رسالت پر سب و شتم کیا گیا۔
(ج) خلافت کے تصور پر بحثیں ہونے لگیں کہ یہ ایک مذہبی ادارے کو مستلزم ہے؟ یا کسی اسلامی ریاست کا فرمانروا اُن مسلمانوں کا بھی خلیفہ ہو سکتا ہے جو اس کی فرمانروائی کے علاقہ میں آباد نہ ہوں، حکومت غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہو اور وہ اس کی رعایا ہوں۔ [نیز یہ سوالات اٹھے:]
(د) ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالاسلام؟
(ہ) اولی الامر منکم کی شرطیں؟
(و) احادیث میں مہدی کے وُرود کی پیشگوئی کا مطلب اور نوعیت؟
اس فضا کے پیدا ہوتے ہی انگریزوں کو استحکامِ سلطنت کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کے فکر و عمل کا میدان بدل گیا۔ اور یہ ایک ایسی خدمت تھی جس کے نتائج و اثرات ایک پُراسرار و حیرت انگیز تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتے تھے۔ جس سے برطانوی عہد میں مسلمانوں کی ذہنی ویرانی اور قومی بربادی کا پورا نقشہ معلوم ہو سکتا ہے۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ
تحریکِ آزادی کے عظیم جرنیل
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری
حضرت شیخ الہند ۱۲۶۸ھ بمطابق ۱۸۵۱ء میں بریلی میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد مولانا ذوالفقار علی بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے۔ مولانا ذوالفقار علی ان نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جو دارالعلوم دیوبند کے قیام میں ساعی تھے اور اس کی پہلی مجلسِ شوریٰ کے ایک ممتاز رکن تھے۔
تعلیم
حضرت شیخ الہند نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے پائی۔ ابتدائی کتابوں سے آگے بڑھے تو انہیں مولانا محمد قاسم نانوتوی کے سپرد کر دیا گیا۔ مولانا کا قیام اس وقت میرٹھ میں تھا اور وہ منشی ممتاز علی کے مطبع میں مصحح کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ۱۸۶۶ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا تو حضرت شیخ الہند دیوبند تشریف لائے اور دارالعلوم دیوبند میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے مولانا محمود (عرف ملا محمود)، مولانا محمد یعقوب ابنِ مولانا مملوک العلی، اور سید احمد دہلوی سے علوم کی تکمیل کے بعد ۱۸۷۳ء میں تحصیلِ علوم سے فراغت حاصل کی۔
سلسلۂ تدریس
تدریس کا سلسلہ اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب آپ آخری کتابیں پڑھ رہے تھے۔ فراغت کے بعد ۱۸۷۴ء میں معاون مدرس کی حیثیت سے ان کا تقرر عمل میں آیا، لیکن ایک سال تک انہیں اس خدمت کی کوئی تنخواہ نہیں ملی۔ اس سے اگلے سال انہیں مدرسِ چہارم کی حیثیت سے متعین کیا گیا اور پندرہ روپے مشاہرہ مقرر ہوا۔ ۱۸۸۴ء میں انہیں مدرسِ سوم اور تقریباً دو سال کے بعد مدرسِ دوم بنایا گیا۔ ۱۸۸۷ء میں مولانا سید احمد دہلوی نے دارالعلوم چھوڑا تو ان کی جگہ حضرت شیخ الہند کو مدرسِ اول مقرر کیا گیا، ساتھ ہی آپ کی تنخواہ میں بھی اضافہ ہوا، جسے آپ نے باصرار منظور فرمایا۔
دارالعلوم کا عہدۂ صدارت
عہدۂ صدرِ مدرسی کے بارے میں مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں:
’’دارالعلوم کا عہدۂ صدارتِ تدریس محض مدرسی کا عہدہ نہیں، بلکہ مقتدائی کا عہدہ رہا ہے، جس پر آنے والے کے علمی اثرات سے قلوب متاثر اور مستفید رہتے آئے ہیں۔‘‘ (نئی دنیا دہلی، عظیم مدنی نمبر، ۱۹۰۵ء، ص ۷۲)
لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ’’مقتدائی‘‘ فقہ کے کسی خاص مکتبۂ فکر یا تصوف کے کسی خاص سلسلۂ رشد و ہدایت کی نہ تھی، نہ کسی خانقاہ کی تولیت یا کسی صاحبِ سلسلہ کی خلافت سے حاصل ہوئی تھی۔ دارالعلوم کے عہدۂ صدرِ مدرسی کو کسی کلیہ کی پرنسپل شپ یا کسی جامعہ کی وائس چانسلر شپ سے بھی مماثل قرار نہیں دینا چاہیے، کہ محض تعلیم و تدریس میں رہنمائی و نگرانی اور چند انتظامی امور کی بجاآوری سے اس کا تعلق ہو۔
تحریکِ آزادی کا مرکز
دارالعلوم کی تحریک اور اس کے مقاصد و طریقہ کار کے لیے تو الگ ایک باب کی ضرورت ہوگی۔ یہاں اتنی بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ دارالعلوم نہ محض ایک درسگاہ تھی، نہ کوئی خانقاہ؛ دارالعلوم اسلام کے احیاء اور مسلمانوں کی زندگی کے قیام اور سیاسی آزادی کی تحریک کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ دارالعلوم بیک وقت دینی و سیاسی تعلیم گاہ اور تربیت کا مرکز تھا۔ حضرت شیخ الہند نے یہاں مولانا محمد قاسم نانوتوی سے دین اور سیاست کی تعلیم بھی حاصل کی تھی اور تربیت بھی پائی تھی۔ اب اس تحریک کے مجاہدوں کی تعلیم و تربیتِ دینی و سیاسی کی ذمہ داری آپ پر تھی۔
’’ثمرۃ التربیت‘‘ کا قیام
اسی مقصد کے پیشِ نظر آپ نے فضلاء اور بہی خواہانِ تحریکِ دارالعلوم کی ایک جماعت ’’ثمرۃ التربیت‘‘ کے نام سے ۱۸۷۸ء میں قائم کی تھی۔ اور اس طرح علومِ دینی کی تدریس اور سیاسی تعلیم و تربیت نہایت خوش اسلوبی اور کامل درجۂ توازن کے ساتھ ہو رہی تھی۔ مولانا محمد میاں نے اس کے ثمرات کے متعلق لکھا:
’’آپ حجت الاسلام مولانا محمد قاسم کے تلمیذِ خاص اور ہم راز رفیق تھے۔ لہٰذا آپ تحریکِ دارالعلوم دیوبند کے اصلی منشا سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ آپ کی تدریس خشک اور جامد زہد و تقویٰ کی تلقین نہیں ہوتی تھی، بلکہ آپ کی تربیت نے ایسے حضرات کو پیدا کیا جو آسمانِ سیاست کے روشن ستارے مانے گئے۔‘‘ (علمائے حق، حصہ اول، مولانا سید محمد میاں، کتب خانہ فخریہ مراد آباد، ۱۹۴۶، ص ۱۳)
ارشد تلامذہ
مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبید اللہ سندھی، مفتی کفایت اللہ، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا احمد علی لاہوری (امیر انجمن خدام الدین لاہور)، مولانا محمد صادق سندھی (بانی مدرسہ مظہر العلوم کراچی)، مولانا عزیز گل (حضرت شیخ الہند کے رفیقِ اسارتِ مالٹا)، مولانا عبد الرحیم پوپلزئی (آخر الذکر دونوں علمائے کرام شمال مغربی سرحدی صوبے سے تعلق رکھتے تھے) وغیرہ حضرات تو آپ کے شاگرد اور تحریکِ آزادی کے عظیم رہنماؤں میں سے ہیں، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا اشرف علی تھانوی بھی حضرت علیہ الرحمہ کے شاگردوں میں تھے۔
مرکزِ کششِ ثقلِ سیاسی
لیکن اس عہد کے اکابر سیاست دانوں میں سے کون ہے جو شیخ الہند کے افکارِ سیاسی سے مستفید نہ ہوا ہو اور جس نے آپ کے عمل و سیرت سے عزیمت و استقامت کا سبق نہ سیکھا ہو؟ ڈاکٹر مختار احمد انصاری تو آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے۔ حکیم اجمل خان، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی وغیرہ — کون تھا جو وقت کے اس سیاسی سورج کے نظامِ کشش سے کلیۃً آزاد ہو؟
علمائے دہلی و یو پی
اگرچہ علومِ دینی میں دہلی، لکھنؤ وغیرہ میں بعض دوسرے منابعِ نور بھی تھے اور ان کے اپنے الگ الگ نظامِ قمری تھے، لیکن سیاسی روشنی وہ اسی منبعِ نور سے حاصل کرتے تھے۔ سیاست میں انہیں پیشوائی و مقتدائی کا جو مقام حاصل تھا، وہ بذاتہ نہ تھا بلکہ بغیرہ تھا۔ علمائے فرنگی محل کے شیخُ الوقت مولانا عبد الباری آپ کی بزرگی، مشیخت اور سیاسی رہنمائی کے معترف و مداح تھے۔ مولانا محمد الیاس، جنہوں نے تبلیغی جماعت کے بانی اور امیر کی حیثیت سے عالمگیر شہرت پائی، حضرت شیخ الہند کے دستِ حق پرست پر بیعت کر چکے تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد آپ کے حسنِ سیرت کے گرویدہ اور عزیمت کے معترف تھے۔
علمائے پنجاب
علمائے لاہور و لدھیانہ میں سے اکثر ایک الگ فقہی مسلک رکھنے کے باوجود، سیاسی میدان میں ان کے مطاع و مرشد بھی حضرت شیخ الہند تھے۔
اکابرِ علی گڑھ
حضرت شیخ الہند کی دینی بزرگی اور سیاسی رہنمائی کا اعتراف مذہبی حلقے ہی میں نہیں کیا گیا، سیاست کے دوسرے مکتبۂ فکر، یعنی علمائے علی گڑھ کے اکابر نے بھی کیا۔ ۱۹۱۰ء میں دارالعلوم دیوبند کا جو عظیم الشان جلسۂ دستار بندی ہوا، اس میں تحریکِ علی گڑھ کے اکابر بھی شریک ہوئے۔ اس جلسے میں صاحبزادہ آفتاب علی خان نے یہ تجویز پیش کی کہ
- دارالعلوم کے تعلیم یافتہ علی گڑھ کالج میں انگریزی پڑھنے جایا کریں،
- اور علی گڑھ کے گریجویٹ دینی تعلیم کے لیے دیوبند آئیں۔
اس تجویز کو اکابر دیوبند نے بھی پسند کیا، لیکن افسوس کہ اس تجویز کے مطابق علی گڑھ سے جو گریجویٹ سب سے پہلے دینی تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، وہ برٹش حکومت کے سی آئی ڈی تھے، جنہیں بعد میں حسنِ خدمات کے صلے میں سپرنٹنڈنٹ سی آئی ڈی کا عہدہ حاصل ہوا۔
نواب وقار الملک (مولوی مشتاق حسین)
نواب وقار الملک حضرت شیخ الہند کے نہایت درجہ معتقد اور ان کی سیاسی تحریک کے معترف تھے۔ اس کے ثبوت کے لیے یہ بات کفایت کرتی ہے کہ ۱۹۱۳ء میں ’’نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ کے نام سے جو ایک سیاسی ادارہ حضرت شیخ الہند نے قائم کیا اور اپنے شاگردِ رشید مولانا عبید اللہ سندھی کو اس کا ناظم بنایا، اس کے سرپرستوں میں حکیم اجمل خان دہلوی اور نواب وقار الملک یکساں طور پر شریک تھے۔ نظارۃ المعارف کا مقصد پڑھے لکھے خصوصاً علی گڑھ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سیاسی تربیت، اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فلسفہ و حکمت کے مطابق ہندوستان کے موجودہ حالات میں سیاسی رہنمائی کرنا تھا۔
سیاسی تعلیم و تربیت
حضرت شیخ الہند کے نزدیک دینی و سیاسی دونوں قسم کی تعلیم و تربیت کی ضرورت اور اہمیت تھی۔ دینی تعلیم کے مرکز کی حیثیت سے سب سے اول دارالعلوم دیوبند تھا، اور دوسرے شہروں میں بہت سے چھوٹے بڑے دینی مدارس یہ خدمت انجام دے رہے تھے، لیکن سیاسی تعلیم و تربیت کا انتظام اس طرح نہ تھا۔ ملک میں کوئی سیاسی تنظیم اور جماعت موجود نہ تھی، جس کی عملی جدوجہد سے مسلمانوں کی ذہنی و فکری رہنمائی اور عملی تربیت کی ضرورت کسی نہ کسی حد تک پوری ہوتی رہتی۔ دراصل جماعت سازی کے اصول اور طریقہ کار سے ابھی ہندوستان کی سماجی تاریخ آشنا ہی نہیں ہوئی تھی۔ سیاسی تربیت کا کام بھی درس گاہیں اور خانقاہیں انجام دیتی تھیں۔ اگر دارالعلوم میں مصروفِ تعلیم طلبہ ہی کی سیاسی تعلیم و تربیت پر اکتفا کر لیا جاتا، تو یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ تھا، جب کہ حالات کا تقاضا دوسرا تھا۔
اس لیے ایک درس گاہ کی حدود سے زیادہ وسیع حلقے میں اپنے افکارِ سیاسی کی اشاعت، اور حلقۂ تلامذہ کے علاوہ سیاسی رجحانِ فکر رکھنے والے نوجوانوں کی سیاسی تعلیم و تربیت بھی حضرت شیخ الہند کے پیشِ نظر تھی۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے آپ نے ۱۸۷۸ء میں ’’ثمرۃ التربیت‘‘ کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔
’’جمعیت الانصار‘‘ کا قیام
اس کے بعد ۱۹۱۰ء میں جمعیت الانصار کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا عبید اللہ سندھی اس کے ناظم تھے۔ اپریل ۱۹۱۱ء میں مراد آباد میں اس کا جلسہ مولانا احمد حسن امروہوی کی صدارت میں ہوا۔ جلسے میں مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے دین اور زعمائے ملت نے شرکت فرمائی۔ جلسے کا اہتمام دارالعلوم کے قدیم طالب علموں نے کیا تھا۔ لیکن برٹش حکومت سے جمعیت کے مقاصد اور شیخ الہند اور ان کے تربیت یافتگان کے دلی عزائم چھپے نہیں رہے۔ اور اگرچہ رسمًا ایک تجویز میں حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا گیا تھا، لیکن جس جمعیت کے خطبۂ صدارت میں اس کے صدر مولانا احمد حسن امروہوی نے یہ کہہ دیا ہو:
’’جمعیت الانصار ہرگز کسی انجمن کی نقل نہیں ہے اور نہ کسی کے ذاتی مقاصد سے بحیثیتِ دنیاوی اس کا تعلق ہے، بلکہ اس کے مقاصد وہ ضروری مقاصد ہیں جن کی آج بہت کچھ ضرورت ہے۔‘‘
تو اس کے بارے میں حکومت کسی خوش فہمی میں کیونکر مبتلا رہ سکتی تھی اور کب تک؟ سیاسی جدوجہد کے لیے صدر محترم کے اس صاف صاف اعلانِ جہاد کے بعد ’’تجویزِ شکریہ‘‘ کی لیپاپوتی کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے، اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ چنانچہ انگریزوں کی بدگمانی میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔
۱۹۱۳ء میں اربابِ اہتمام کے خاص رویے اور بعض خاص واقعات کے ظہور میں آنے کے بعد مناسب سمجھا گیا کہ سیاسی تعلیم و تربیت کا مرکز دیوبند سے دہلی منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ حضرت شیخ الہند کے حکم سے مولانا عبید اللہ سندھی دہلی تشریف لے گئے۔ ’’نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ کے نام سے ایک مرکز قائم کیا اور پیشِ نظر سیاسی کام شروع کر دیا۔ سیاسی تربیت کے لیے حضرت شیخ الہند کے طریقِ کار پر مولانا عبید اللہ سندھی کے ان الفاظ سے روشنی پڑتی ہے:
’’حضرت شیخ الہند نے جس طرح چار سال دیوبند میں رکھ کر میرا تعارف اپنی جماعت سے کرایا تھا، اسی طرح دہلی بھیج کر مجھے نوجوان طاقت سے ملانا چاہتے تھے۔ اس غرض کی تکمیل کے لیے دہلی تشریف لائے اور ڈاکٹر انصاری سے میرا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر انصاری نے مجھے مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی مرحوم سے ملایا۔ اس طرح تخمیناً دو سال مسلمانانِ ہند کی اعلیٰ سیاست سے واقف رہا۔ ۱۹۱۵ء میں شیخ الہند کے حکم سے کابل گیا۔ مجھے کوئی مفصل پروگرام نہیں بتایا گیا تھا، اس لیے میری طبیعت اس ہجرت کو پسند نہ کرتی تھی، لیکن تعمیلِ حکم کے لیے جانا ضروری تھا۔ کابل جا کر مجھے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند قدس سرہ جس جماعت کے نمائندہ تھے، اس کی پچاس سال کی محنتوں کا حاصل میرے سامنے غیر منظم شکل میں تعمیلِ حکم کے لیے تیار ہے۔ اس میں میرے جیسے ایک خادمِ شیخ الہند کی اشد ضرورت تھی۔ اب مجھے اس ہجرت اور شیخ الہند کے اس انتخاب پر فخر محسوس ہونے لگا۔‘‘ (کابل میں سات سال، ص ۱۰۴-۱۰۵)
حضرت شیخ الہند کا انقلابی اقدام
۱۹۱۲ء تک حضرت شیخ الہند کا طریقِ کار وہی رہا جس کی طرف اوپر کی سطروں میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی دینی و سیاسی تعلیم و تربیت سے ایک ایسی جماعت تیار کر دی جائے جو قیامِ شرع، ادائے فرضِ اسلامیہ، احیاء و تجدیدِ ملت، ملکی سیاست اور آزادی کی جدوجہد میں اپنی ذمہ داریوں کا شدید احساس، اور ان سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت رکھتی ہو۔
جنگِ بلقان و طرابلس
لیکن ۱۹۱۲ء میں جنگِ طرابلس اور کارزارِ بلقان کے سنگین واقعات اور برطانوی پالیسی نے ان کی روح کو تڑپا دیا اور جس کی وجہ سے برٹش حکومت سے ان کا جذبۂ نفرت اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ ترکوں پر ظلم و ستم اور ان پر مصیبتوں کی خبروں نے ان کا خواب و خور حرام کر دیا۔ اس زمانے میں ان کی بے چینی اور بے قراری کا عالم دیدنی تھا۔ ان کا نحیف و نزار جسم بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کو بند کر دیا۔ طلبہ کے وفود ملک میں بھیجے، خود بھی نکلے، چندہ جمع کیا اور ترکوں کی امداد کے لیے جو کچھ ہو سکتا تھا، کیا۔ ترکی میڈیکل مشن بھجوانے کا انتظام کیا اور اس کے لیے سروسامانِ سفر کی جمع و فراہمی کا بندوبست کیا۔
بقولِ شیخ الاسلام مولانا مدنی:
’’مولانا نے تھوڑی مدت میں بہت کچھ کامیابی حاصل کر لی اور کام کرنے والوں کے لیے شاہراہِ عمل قائم کر دی۔‘‘
مولانا عزیز الرحمن فرماتے ہیں:
’’جنگِ بلقان کے وقت حضرت شیخ الہند ترکوں کی شکست کی خبر سنتے تو آپ کی ریشِ مبارک پر آنسو گرتے تھے، راتوں کو دعا مانگا کرتے۔ اگر کوئی دیکھتا تو بالکل یہ حالت تھی کہ اگر حضرت کے بس میں ہوتا تو انگریزوں کو کچا چبا ڈالتے۔ بہر حال پھر بھی جس قدر بس میں تھا، کیا۔ مدرسہ کی چھٹی کر دی۔ طلبہ اور مدرسین کو گاؤں گاؤں بھیجا، چندہ کیا۔ خود اپنی تنخواہ اور تمام ملازمین اور مدرسین کی تنخواہیں چندہ میں دے دیں۔ طلبہ نے آپ کے اشارے پر اپنے انعامات اور مطبخ کی خوراک بھی چندہ میں دے ڈالی۔ اس طرح تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ ترکی بھیجا۔ جس کے صلے میں ترکی حکومت نے آپ کا شکریہ ادا کیا، اور وہ رومال جس میں جنابِ رسول اللہ ﷺ کا پیراہنِ مبارک رکھا رہتا تھا، دارالعلوم کو بطورِ تبرک اور عطیہ بھیجا، جو آج بھی دارالعلوم کے خزانے میں بطور تبرکاً موجود ہے۔‘‘ (تذکرہ شیخ الہند، ص ۱۶۳)
اس زمانے کے حوادث میں حضرت شیخ الہند کی بے چینی، سینہ فگاری اور دور بینی کے بارے میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی تحریر فرماتے ہیں:
’’بلقان کے خونخوار اور طرابلس کے سنگین واقعے نے مولانا کے دل و دماغ پر نہایت عجیب مگر بے چین کنندہ اثر ڈالا۔ چنانچہ اس وقت حسبِ طریقۂ استادِ اکبر مولانا محمد قاسم صاحب (در جنگِ روس) مولانا نے اپنی جان توڑ کوشش امدادِ اسلام میں فرمائی۔ فتوے چھپوائے، مدرسے کو بند کر دیا، طلبہ کے وفود بھجوائے، خود بھی ایک وفد کے ساتھ نکلے، چندے کیے، اور ہر طرح سے مدد کی ترغیب دے کر ایک اچھی مقدار بھجوائی۔ مگر اس پر بھی چین نہ پڑا، کیونکہ جنگِ بلقان کے نتیجے نے دور بینوں کو بالکل غیر مطمئن کر دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ یورپ کے سفید عفاریت اسلام کے ٹمٹماتے چراغ کو گل کرنے کی فکر میں ہیں۔
پھر ذمہ دارانِ برطانیہ مسٹر اسکویتھ وغیرہ کی روباہ بازیاں، خرسِ روس کی جفا کاریاں تو یقین دلاتی ہیں کہ تقسیمِ ترکی اور اجرائے وصایائے گلیڈسٹون کا زمانہ سر پر ہی آ گیا ہے۔ جو مقاصد مسیحی دنیا کے عرصۂ دراز سے چلے آتے تھے اور جن چالوں سے اسلامی دنیا اور خلافتِ مقدسہ کے تکے بوٹی کیے جا رہے تھے، اب ان کی انتہا کا زمانہ آ گیا ہے۔ اب کوئی دن میں اسلامی وجود دنیا سے اس طرح مٹا دیا جائے گا جس طرح یہودیت تمام عالم سے اور اسلام اسپین اور پرتگال سے۔
مولانا مرحوم کو اس فکر نے سخت بے چین کر دیا، زندگی بھاری ہو گئی، نیند اچٹ گئی، مگر زمانے کی تاریکیاں، موسم کی کالی گھٹائیں، احوال کی نزاکتیں، مسلمانوں اور اہلِ ہند کی ناگفتہ بہ کمزوریاں ہر طرح اس میدان میں قدم رکھنے سے مانع ہوتی رہیں۔ چونکہ اس مقدس ہستی کو فقط اپنے خدائے قدوس پر بھروسا تھا، اس لیے اس نے تمام خیالات اور اوہام پر لاحول پڑھا اور مردانہ وار گامزن ہوا۔ اس کو مشکلوں کا سامنا ہوا، اس کو سخت اور تند آندھیوں کا مقابلہ کرنا پڑا، اس پر بادِ سموم کے جھلسانے والے تھپیڑوں نے طمانچے مارے، اس کے لیے احباب و اقارب مار آستین بن گئے، ہر شخص ناصح بن کر سدِ راہ ہوا، مگر اس کے پائے استقلال کے مضبوط قدموں نے ذرا بھی جنبش نہ کی۔ سب کو چھوڑ دیا، مگر اپنے خدا پر بھروسا کر کے دن رات کام میں لگا رہا۔ چونکہ کوشش کا نتیجہ کامیابی ضروری ہے۔ اس کو کچھ عرصے کے بعد معلوم ہو گیا کہ ابھی تک دنیا میں کام کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں، مگر کام لینے والے بہت کم ہیں۔ مسلمانوں میں قابلیت ہے، مگر ان کو جمع کرنے والا نہیں۔‘‘ (سفرنامہ شیخ الہند، ص ۵-۶)
حضرت شیخ الہند کا سیاسی منصوبہ
۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم اول چھڑ گئی اور برٹش حکومت پر ضرب لگانے اور آزادی کی منزل قریب لانے کے لیے امید کی ایک کرن نظر آئی۔ حضرت شیخ الہند نے مجاہدین کے مرکز یاغستان کو — جہاں مولانا سیف الرحمان، حاجی ترنگ زئی وغیرہ حضرات موجود تھے اور عرصے سے جماعت کی ضروریات پوری کر رہے تھے — پیغام بھیجا کہ اب سکون کے ساتھ کام کرنے کا وقت نہیں ہے، سر بکف ہو کر میدان میں آ جانا چاہیے۔ وہاں سے جواب آیا کہ جب تک کسی آزاد حکومت کی پشت پناہی اور امداد حاصل نہ ہوگی، ہماری شجاعت اور جان بازی بے کار ہے۔ اس لیے آپ کسی حکومت کی امداد اور پشت پناہی حاصل کرنے کا انتظام کیجیے اور آپ خود یہاں تشریف لائیے۔
مجاہدین میں جاں بازی اور جگر کاری کا جذبہ بے انتہا تھا، لیکن انہیں کسی حکومت کی امداد حاصل نہ تھی، کوئی ملک ان کا پشت پناہ نہ تھا۔ ہندوستان سے حضرت شیخ الہند ان کی مالی امداد کے فرائض بھی انجام دیتے تھے، یا ملک کے دوسرے حصوں سے علماء اور اہلِ دل انفرادی اور خفیہ طور پر مدد پہنچاتے تھے، لیکن یہ سب امداد اور چندے بھی ضرورت کو پورا نہ کر سکتے تھے۔ مجاہد جان توڑ کر لڑتے تھے، لیکن کھانے کا سامان ختم ہو جاتا تو انہیں مورچہ چھوڑ کر رسد کے لیے دور دراز گاؤں میں جانا پڑتا، کارتوس ختم ہو جاتے تو ان کے حصول کے لیے انہیں مورچہ چھوڑنا پڑتا۔ ان حالات میں برطانوی حکومت پر کوئی کاری ضرب نہ لگائی جا سکتی تھی۔
حضرت شیخ الہند نے ان تمام باتوں کا اندازہ کر کے مولانا عبید اللہ سندھی کو افغانستان بھیجا تاکہ وہ افغانستان کی طرف سے حملہ کرانے کی سعی کریں۔ اور خود حجاز جانے، ترکی زعماء سے ملاقات کرنے، اور مجاہدین کے مرکز کا کوئی مستقل بندوبست کر کے مجاہدین کے مرکز یاغستان پہنچ جانے کا منصوبہ تیار کیا۔
اسی زمانے میں برٹش حکومت نے ایسے تمام افراد کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا، جن سے انہیں غیر مشروط تعاون و امداد، اور ان کی پالیسی کی مکمل حمایت کے بجائے مخالفت، اور برٹش حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے، کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے اور ملک میں انتشار پھیلانے کا خطرہ تھا۔ یہ صورتحال حضرت شیخ الہند کے لیے بڑی تشویشناک تھی، اور اگر وہ گرفتار ہو جاتے تو سارے منصوبے پر پانی پھر جاتا۔
حضرت شیخ الہند کی حجاز روانگی
مولانا غلام رسول مہر صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا ابو الکلام آزاد نے انہیں ایک مرتبہ بتایا کہ
’’ہندوستان میں گرفتاریاں شروع ہو گئیں تو مولانا محمود حسن کو تشویش پیدا ہوئی کہ کہیں بیٹھے بٹھائے گرفتار نہ ہو جائیں۔ ان کے نزدیک کام کا سازگار زمانہ آ گیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ہر اقدام کے لیے آزاد رہیں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے (ابو الکلام آزاد کو) بلا بھیجا۔ دہلی میں ملاقات ہوئی، دیر تک معاملے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہی۔ میری (مولانا آزاد کی) قطعی رائے یہ تھی کہ باہر نہ جانا چاہیے اور یہیں رہ کر اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ اگر اس اثنا میں گرفتاری کی منزل آ جائے تو اسے قبول کیے بغیر چارہ نہ ہوگا۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ باہر جا کر کچھ نہ ہو سکے گا اور دوسرے ملک کے بجائے اپنے ملک میں معطل بیٹھا رہنا بہتر تھا۔ لیکن مولانا محمود حسن نے یہی مناسب سمجھا کہ پہلے حجاز جائیں، پھر ترکوں سے ربط ضبط پیدا کر کے ایران و افغانستان کے راستے یاغستان پہنچ جائیں، جسے وہ آزادی کے لیے تمام سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔‘‘
حضرت شیخ الہند اپنے منصوبے کے مطابق حجاز کے لیے روانہ ہوئے۔ ادھر ان کی گرفتاری کا وارنٹ نکلا۔ بمبئی پولیس کو تار کے ذریعے گرفتاری کا حکم پہنچا۔ مگر عقیدت مندوں کے ہجوم اور خلقت کے اژدہام کی وجہ سے پولیس انہیں گرفتار کرنے سے قاصر رہی۔ پھر جہاز کے کپتان کو تار دیا گیا، مگر جہاز پر یہ تار اس وقت موصول ہوا جب حضرت شیخ الہند جزیرہ سعد میں قرنطینہ کے لیے اتر چکے تھے۔ اور اس طرح اس دفعہ بھی آپ گرفتاری سے بال بال بچ گئے اور بخیریت مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
غالب پاشا سے ملاقات
مکہ مکرمہ کے گورنر غالب پاشا تھے، جو حضرت شیخ الہند سے پہلے سے واقف تھے۔ آپ نے ان سے ملاقات کی اور اپنے منصوبے سے انہیں آگاہ کیا۔ غالب پاشا نے ہر طرح آپ کی امداد اور آپ سے تعاون کا یقین دلایا اور اس سلسلے میں آپ کو کئی تحریریں دیں:
- ایک تحریر مسلمانانِ ہند کے نام تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ تمام ہندوستانیوں کو آزادیٔ کامل پر آمادہ ہو جانا چاہیے اور اپنی جدوجہد کو تیز کر دینا چاہیے۔ صلح کے لیے کانفرنس منعقد ہوگی تو اس میں آزادیٔ ہند کی حمایت کریں گے۔ یہی وہ مشہور تحریر ہے جو تاریخ میں ’’غالب نامہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
- ایک دوسری تحریر گورنرِ مدینہ بصری پاشا کے نام تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مولانا محمود حسن کو استنبول تک بحفاظت پہنچانے اور انور پاشا اور جمال پاشا سے ان کی ملاقات کا بندوبست کرا دیا جائے۔
- تیسری تحریر غازی انور پاشا (وزیرِ حربیہ ترکیہ) کے نام تھی۔ اس میں حضرت شیخ الہند کو ان کے منصوبے میں امداد دینے کی سفارش کی گئی تھی۔
غازی انور پاشا سے ملاقات
حضرت شیخ الہند یہ تحریریں لے کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ حسنِ اتفاق سے غازی انور پاشا بھی وہاں پہنچ گئے اور اس طرح ان دنوں ترکی زعماء سے آپ کی ملاقات مدینہ منورہ ہی میں ہو گئی۔ انور پاشا کی شہرت آپ سن چکے تھے۔ جب آپ نے انہیں اپنا منصوبہ بتایا تو وہ نہایت درجہ خوش ہوئے، امداد کا وعدہ فرمایا، اور چند تحریریں لکھ کر دیں جن میں آزاد قبائل کو مجاہدین کا ساتھ دینے اور انگریزوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز تر کر دینے کی ہدایت تھی۔ نیز آزاد قبائل کو امداد کا اطمینان دلایا گیا تھا۔
یاغستان پہنچنے کا مسئلہ
اب سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ حضرت شیخ الہند یاغستان کس طرح پہنچیں۔ ایران کا راستہ وہاں انگریز فوجوں کے پہنچ جانے کی وجہ سے بالکل بند ہو گیا تھا۔ بحری راستے سے ہندوستان ہو کر آزاد قبائل تک جانا آپ مناسب خیال نہ فرماتے تھے۔ آخر انور پاشا اور جمال پاشا کے مشورے سے یہ طے پایا کہ اطرافِ ہند سے مکران ہوتے ہوئے آزاد قبائل تک پہنچا جائے، لیکن ترکی زعماء اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد کرنے سے معذور تھے۔
شریف حسین کی بغاوت
ان امورِ خاصہ کی انجام دہی کے بعد آپ دوبارہ مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ خیال تھا کہ غالب پاشا سے ملاقات کے بعد منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہوں گے۔ غالب پاشا اس وقت طائف میں تھے۔ آپ طائف تشریف لے گئے۔ لیکن قدرت کو منظور نہ تھا کہ سفرِ جہاد شروع ہو، وہ آپ کے سامنے ایک اور میدانِ سعادت کھولنا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے اسباب بھی پیدا ہوتے چلے گئے۔ آپ کا شتربان ایک ہفتے کی چھٹی لے کر چلا گیا اور دوسری سواری کا انتظام نہ ہو سکا۔
ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ شریف حسین نے انگریزوں کی مدد سے ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی اور حالات کا نقشہ یکسر پلٹ گیا۔ شیخ الہند اس وقت طائف میں تھے۔ اس طرح ۲۰ رجب ۱۳۳۴ھ (۲۳ مئی ۱۹۱۶ء) سے لے کر ۶ شوال ۱۳۳۴ھ (۶ اگست) تک طائف سے نکلنا ناممکن ہو گیا۔ ۱۰ شوال (۱۰ اگست) کو شیخ الہند مکہ مکرمہ تشریف لائے، یہاں سے جدہ تشریف لے گئے، وہاں سے پھر مکہ معظمہ تشریف لائے۔
ترکوں کی تکفیر کا فتویٰ
یہاں خان بہادر مبارک علی اورنگ آبادی نے انگریزوں کے ایما پر ترکوں کی تکفیر اور شریف حسین کی بغاوت کے جواز میں ایک فتویٰ تیار کروا رکھا تھا، جس پر علمائے وقت نے دستخط بھی ثبت فرما دیے تھے۔ حضرت شیخ الہند کے سامنے یہ فتویٰ پیش ہوا تو آپ نے اس کی تصویب و تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔ اس چیز نے شریف اور اس کے حمایتیوں کو سخت مشتعل کر دیا۔
ریشمی رومال
ادھر مولانا عبید اللہ سندھی افغانستان پہنچنے کے بعد اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہو گئے تھے۔ انہوں نے وہاں ہندوستان کی آزاد عارضی حکومت قائم کی، جسے افغانستان کی حکومت نے تسلیم کر کے اس سے معاہدہ کر لیا۔ دوسرے ملکوں میں بھی اس کی سفارتیں بھیجنے کا انتظام کیا گیا تاکہ وہ بھی اسے تسلیم کر کے اس کی اخلاقی و مادی مدد کریں۔
مولانا سندھی نے ان تمام حالات کو ایک رومال پر ریشم سے کاڑھ کر ایک معتمد شخص مسمیٰ عبد الحق کے ہاتھ حضرت شیخ الہند کی تحریک کے ایک خاص رکن شیخ عبد الرحیم کو سندھ بھجوایا۔ تاکہ وہ اسے خود یا کسی قابلِ اعتماد شخص کے ذریعے حجاز میں حضرت شیخ الہند کو پہنچا دیں۔ لیکن وہ خط (رومال) شیخ عبد الرحیم تک پہنچنے کے بجائے عبد الحق کے مربی خان بہادر رب نواز خان (ملتان) کے ہاتھ پہنچ گیا، جس نے اسے انگریز گورنر کی خدمت میں پیش کر دیا، اور ملک و ملت کی آزادی اور بہی خواہی پر انگریز کی خوشنودی کو ترجیح دی۔
شیخ الہند کی گرفتاری
اس رومال کا حکومت کے ہاتھ لگنا تھا کہ ہندوستان بھر میں گرفتاریوں اور قید و بند اور تحقیق و تفتیش کا ایک اور لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاریخ میں یہ کوشش ’’ریشمی خطوط‘‘ یا ’’ریشمی رومال کی تحریک‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اب حکومت کو اپنی کوتاہی کا احساس ہوا کہ اس نے مولانا محمود حسن کو گرفتار نہ کر کے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ لیکن حجاز میں شریفِ مکہ کی بغاوت کی کامیابی کے بعد انگریزوں کو بجا طور پر توقع تھی کہ آپ اب بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں ہیں۔
غالب نامہ کی اشاعت سے برٹش حکومت بوکھلائی ہوئی تھی۔ اس کے بعد انور پاشا کی تحریر برٹش حکومت کے علم میں آئی اور اسے پکڑ لینے کی انتہائی کوشش کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو حکومت حواس باختہ ہو گئی، اور اس نے طے کر لیا کہ حضرت شیخ الہند کو بہرصورت گرفتار کر لینا چاہیے، اس کے بغیر حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ چنانچہ شریف حسین کو حکم بھیجا کہ وہ آپ کو گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دے۔ شریف نے نہایت فرمانبرداری کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی اور دسمبر ۱۹۱۶ء میں آپ کو اور آپ کے رفقاء مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عزیز گل، مولانا حکیم نصرت حسین اور مولانا وحید احمد کو گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دیا۔
اسارتِ مالٹا
فروری ۱۹۱۷ء میں آپ کو جزیرۂ مالٹا پہنچا دیا گیا۔ اس زمانے میں آپ نے بڑے مصائب برداشت کیے، تکلیفیں اٹھائیں، مستقل عوارض میں مبتلا رہے، جو بالآخر مرضِ الموت کا سبب بنے، لیکن آپ کے پائے استقامت میں لغزش نہ پیدا ہوئی۔ مارچ ۱۹۲۰ء میں آپ کی رہائی کا حکم ہوا۔ بالآخر تین برس سات مہینے کی قید و بند کے بعد ۸ جون ۱۹۲۰ء کو بمبئی پہنچا کر رہا کر دیا گیا۔
ہندوستان واپسی اور مرض الموت
جون ۱۹۲۰ء میں حضرت شیخ الہند ہندوستان تشریف لائے۔ اگرچہ آپ کی صحت گر چکی تھی، لیکن مشاغلِ ملّی کا انہماک آپ کو چین نہ لینے دیتا تھا۔ مولانا سید محمد میاں نے آپ کے دورِ آخری کا نقشہ نہایت مؤثر الفاظ میں کھینچا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’حضرت شیخ الہند ہندوستان تشریف لائے تو مرض الموت کا آغاز تھا۔ آپ کو وجع المفاصل کا قدیم سے عارضہ تھا۔ کثرتِ بول کی شکایت بھی پرانی تھی۔ اس پر مالٹا کا سرد موسم اور مزید برآں حضرت والا کی شب بیداری اور ریاضت اور قلتِ غذا، بایں ہمہ پیرانہ سالی، اور پھر ترکوں کی شکست اور اپنی جدوجہد کی ناکامی کا صدمہ — ان تمام اسباب کی بنا پر گویا مرض الموت کا سلسلہ مالٹا ہی میں شروع ہو گیا تھا۔
پھر تقریباً تین ماہ تک راستے کی مشقت اور ہندوستان پہنچنے کے بعد خلقت کا ہجوم، تحریک کی ترقی، مشاغل کی کثرت وغیرہ — یہ سب چیزیں اضافۂ مرض کا سبب بنتی رہیں۔ انتہا یہ کہ آپ کو دق ہو گئی۔ مگر درحقیقت اس شیخِ طریقت اور شیخِ سیاست کی ہمت و استقلال ہر ایک مسلمان بلکہ ہر ایک انسان کے لیے سبق آموز ہے کہ تپ دق کا آخری اسٹیج ہے، چلنا پھرنا تو درکنار، بیٹھنا بھی ممکن نہیں، مگر اس حالت میں تحریک کی قیادت جاری ہے، اجلاسوں کی شرکت کے لیے سفر ہو رہا ہے، صدارت فرمائی جا رہی ہے۔ العظمۃ للہ۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ بسترِ مرگ پر ایک شیخِ فانی کا یہ بے پناہ جذبۂ عمل۔‘‘ (علمائے حق، حصہ اول، مولانا سید محمد میاں، ص ۱۱۲-۱۱۳)
جامعہ ملیہ کا افتتاح
اکتوبر ۱۹۲۰ء کو جامعہ مِلّیہ اسلامیہ کے لیے علی گڑھ اس حالت میں تشریف لے گئے کہ ڈولی میں پڑ کر جلسہ گاہ تک پہنچے۔ چند منٹ بیٹھ کر بھی خطاب کرنا مشکل تھا، مختصر سا خطبۂ صدارت تھا، لیکن علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھ کر سنایا۔
ایک تاریخی خطاب
اس خطبے کا ایک ایک لفظ آپ کی سیاسی بصیرت، ژرف نگاہی اور ملّی بہی خواہی پر دال، اور سوز دلی اور عزیمتِ دعوت کا آئینہ دار ہے۔ آپ کے یہ تاریخی الفاظ اسی خطبے کے ہیں:
’’میں نے اس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں آپ کی اس دعوت پر اس لیے لبیک کہا کہ میں اپنی ایک گمشدہ متاع کو یہاں پانے کا امیدوار ہوں۔ بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے، لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا! جلد اٹھو اور اس امتِ موعود کو کفار کے نرغے سے بچاؤ، تو ان کے دلوں پر خوف و ہراس طاری ہو جاتا ہے۔ خدا کا نہیں، بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامانِ حرب و ضرب کا۔‘‘ (علمائے حق، حصہ اول، ص ۲۱۳-۲۱۴)
دل سوزیٔ ملت
ملتِ اسلامیۂ ہندیہ کی تاریخ میں حضرت شیخ الہند کے یہ الفاظ سونے کے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ نے فرمایا:
’’اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار، جس میں میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں، مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں، تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا، اور اس طرح دو تاریخی مقاموں دیوبند اور علی گڑھ کا رشتہ جوڑا۔‘‘ (ایضاً، ص ۲۱۴)
حضرت شیخ الہند کی فراست
وفات سے صرف ایک ہفتہ قبل دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا دوسرا سالانہ اجتماع حضرت شیخ الہند کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجتماع کا سب سے اہم مسئلہ انتخابِ امیر الہند کا تھا۔ آپ اس کے لیے حد درجہ بے چین تھے کہ یہ انتخاب اسی موقع پر کر لیا جائے۔ مولانا عبد الصمد رحمانی صاحب لکھتے ہیں:
’’وہ لوگ جو اس میں شریک تھے، جانتے ہیں کہ اس وقت حضرت شیخ الہند ایسے ناساز تھے کہ حیات کے بالکل آخری دور سے گزر رہے تھے، نقل و حرکت کی بالکل طاقت نہ تھی۔ لیکن باوجود اِس کے، اُن کو اصرار تھا کہ اس نمائندہ اجتماع میں، جب کہ تمام اسلامی ہند کے ذمہ دار اور اربابِ حل و عقد جمع ہیں، امیر الہند کا انتخاب کر لیا جائے۔ اور میری چارپائی کو اٹھا کر جلسہ گاہ میں لے جایا جائے، پہلا شخص میں ہوں گا جو اس امیر کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔ مگر نزاکتِ حال کو دیکھ کر طبیب و ڈاکٹر اور خدام مخلصین کی اس وقت رائے ہوئی کہ حضرت شیخ الہند کو اس وقت تکلیف نہ دی جائے، اور اس مسئلہ کو حضرت شیخ الہند کی صحت پر اٹھا کر رکھا جائے تاکہ پورے اطمینان اور انشراحِ صدر کے ساتھ اس کو عمل میں لایا جائے۔‘‘ (تاریخِ امارت، ص ۵۳)
اس وقت حضرت شیخ الہند کے اضطراب کے حقیقی سبب کو کوئی شخص نہیں سمجھ سکا۔ لیکن اس وقت انتخابِ امیر کے التواء و تعویق سے جو الجھنیں اور رکاوٹیں اس مسئلے میں پیدا ہوئیں، اس سے حضرت شیخ الہند کے اضطراب و بے چینی کے حقیقی سبب کو سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ کی فراست اور بصیرتِ ایمانی اس حقیقت کو دیکھ رہی تھی کہ جس آسانی کے ساتھ اِس وقت یہ مسئلہ بلا کسی اختلاف کے طے پا سکتا ہے، بعد میں ممکن نہ ہوگا۔ آپ جانتے تھے کہ یہ مسئلہ قواعد و ضوابط کا پابند نہیں، عمل و اقدام کا متقاضی ہے۔
بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ حضرت شیخ الہند کی بے چینی درست تھی۔ آپ کے انتقال کے بعد خود اربابِ دیوبند دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک مخصوص طبقہ مصالحِ وقت اور اپنی ذات کو ملّی مفادات میں نظر انداز نہ کر سکا۔
- علمائے فرنگی محل، جو ملّی معاملات میں دیوبند اور جمعیت علمائے ہند سے نہ صرف قریب بلکہ ان کے شریک رہے تھے، وہ اپنی مخصوص جماعت کے نقطۂ نظر سے سوچنے لگے۔
- اور علمائے بدایوں، جو دیوبند کے مقابلے میں فرنگی محل سے ذہنی قرب رکھتے تھے، وہ نظمِ جماعت اور امارتِ شرعیہ کے ایک ایسے نظامِ شیخ الاسلام کے بارے میں سوچنے لگے جس میں مرکزیت اور مرجعیت انہیں حاصل ہو۔
غرضیکہ حضرت شیخ الہند کے انتقال سے ہندوستان کی اسلامی قوتیں فرادیٰ اور متشتت ہو گئیں، اور نظمِ جماعت کے اسلامی تصور کی حقیقت افتراق و اختلاف میں گم ہو گئی۔
وفاتِ حسرت آیات
دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا مذکورہ سالانہ جلسہ جو آپ کی صدارت میں ہوا تھا، اس میں بقول مولانا سید محمد میاں صاحب اس حالت میں شرکت فرمائی تھی:
’’بیماری اور نقاہت کی وجہ سے اسٹیج پر تھوڑی دیر بیٹھنا بھی دشوار تھا۔ خطبۂ صدارت لکھا ہوا تھا اور کسی اور نے پڑھ کر سنایا تھا۔ اسی زمانے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کا سنگِ بنیاد آپ کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا۔‘‘
ابھی دہلی ہی میں اپنے مریدِ با صفا ڈاکٹر مختار احمد انصاری کے مکان پر مقیم اور انہی کے زیرِ علاج تھے کہ پیامِ اجل آ پہنچا۔ ۳۰ نومبر ۱۹۲۰ء کو آپ اس جہانِ فانی سے رحیل عالمِ جاودانی ہوئے۔ اور مسلمان اس روحِ عظیم و مقدس کے وجودِ گرامی اور اس کی رہنمائی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے۔
اعترافِ عظمت
حضرت شیخ الہند کے سیاسی مرتبے اور آپ کی سیاسی بصیرت اور خدمت کا اعتراف ملک اور بیرونِ ملک کے اکابر نے کیا ہے۔ ان تمام اعترافات کا احاطہ تو ممکن نہیں، صرف چند پر اکتفا کیا جاتا ہے:
امیر امان اللہ خان نے افغانستان کی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
’’محمود حسن ایک نور ہے جس کی روشنی میں ہم بہت کچھ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘
جمال پاشا نے حجاز میں آپ سے ملاقات اور گفتگو کے بعد کہا تھا:
’’ان مختصر سی ہڈیوں میں کس قدر دین اور سیاست بھری ہوئی ہے، اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔‘‘
برطانوی حکومت کے ایک نہایت ذمہ دار رکن مسٹر سر جیمس مسٹن (گورنر یوپی) نے کہا:
’’اگر محمود حسن جلا کر راکھ بھی کر دیا جائے تو اس کی راکھ بھی انگریزوں سے کترا کر گزرے گی۔‘‘
مولانا ابو الکلام آزاد سورۂ توبہ کی آیت ۴۹ کی وضاحت میں ایک ضمنی نوٹ میں ایک مقام پر فرماتے ہیں:
’’۱۹۱۴ء کی بات ہے کہ مجھے خیال ہوا ہندوستان کے علماء و مشائخ کو عزائم و مقاصدِ وقت پر توجہ دلاؤں۔ ممکن ہے چند اصحابِ رشد و عمل نکل آئیں۔ چنانچہ میں نے اس کی کوشش کی، لیکن ایک تنہا شخصیت کو مستثنیٰ کر دینے کے بعد سب کا متفقہ جواب یہی تھا کہ یہ دعوت ایک فتنہ ہے۔ ’’ائذن لی ولا تفتنی‘‘۔ یہ مستثنیٰ شخصیت مولانا محمود حسن دیوبندی کی تھی۔
تم نے بعض علماء کے فتوے پڑھے ہوں گے کہ مسلمانوں کو وقت کی سیاسی مجالس میں شریک نہ ہونا چاہیے، کیونکہ اس میں غیر مسلم عورتیں کھلے منہ موجود ہوتی ہیں، اور اس لیے ان کی شرکت فتنے سے خالی نہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ان کی شرکت سے نمازِ باجماعت فوت ہو جاتی ہے اور یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔
یاد رکھو! یہ تقویٰ اور دین داری نہیں ہے جو اِن کاموں کی مخالفت پر انہیں ابھارتی ہے، یہ مرضِ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم ہے، اور قرآن کی شہادت اس کے لیے بس کرتی ہے۔‘‘ (ترجمان القرآن، جلد سوم، ساہتیہ اکادیمی نئی دہلی ایڈیشن، ص ۲۸۸-۲۸۹)
(ماخوذ از ’’شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، ایک سیاسی مطالعہ‘‘)
ریشمی رومال تحریک کا اصل نام برلن پلان تھا
پروفیسر اولف شمل
لاہور (پ ل) ریشمی رومال تحریک کا اصل نام ’’برلن پلان‘‘ تھا، جو ۱۵ اگست ۱۹۱۵ء کو کابل میں جرمنی اور ترکی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ ہندوستان کی آزادی کے اس منصوبے کی تشکیل میں راجہ مہندر پرتاب، مولانا برکت اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ انکشاف جرمنی کی وزارتِ خارجہ کے ایک سابق ڈپٹی سیکرٹری اور برلن یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسر اولف شمل نے ایک خصوصی ملاقات میں کیا۔
پروفیسر اولف شمل آج کل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں اور ’’برلن پلان‘‘ پر کتاب لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برلن پلان دراصل شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ذہن کی اختراع تھی۔ اس منصوبے کے تحت جرمنی، ترکی اور افغانستان کے علاوہ روس، چین اور جاپان کی مدد سے ہندوستان کو آزاد کروانا تھا۔ تاہم مولانا محمود الحسن صرف جرمنی، ترکی اور افغانستان کے حکمرانوں کو راضی کر سکے۔ اس پلان کے لیے مالی امداد کراچی کے تاجر حاجی عبد اللہ ہارون نے فراہم کی تھی، جبکہ مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان اور نواب وقار الملک نے بھی برلن پلان کے تحت بہت سا کام کیا۔
پروفیسر اولف شمل کے مطابق ۱۵ اگست ۱۹۱۵ء کو کابل میں ہونے والے اجلاس میں جرمن وزارتِ خارجہ کے ایک افسر ڈاکٹر منیربے، جرمن آرمی کے کیپٹن سینڈئر میئر، لیفٹیننٹ وان ہیٹنگ اور کیپٹن ویگز کے علاوہ ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا ایک نمائندہ شامل تھا۔ اس اجلاس میں طے پایا کہ جرمنی قبائلی علاقوں میں فوجی تربیت کے کیمپ قائم کرے گا۔ نیز افغانستان کے راستے سے ساٹھ ہزار جرمن فوجی اور مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ نتیجے میں سلطنتِ عثمانیہ نہ صرف جرمنی کی حمایت کرے گی، بلکہ سلطانِ ترکی برطانیہ کے خلاف اعلانِ جہاد کر دے گا۔ ترکی اور افغانستان کو یہ ضمانت دی گئی کہ ان کے خلاف جارحیت کی صورت میں جرمنی اور ہندوستان ان کا تحفظ کریں گے۔
اس اجلاس کے بعد ہندوستان کی جلاوطن حکومت تشکیل دی گئی، جس کا صدر راجہ مہندر پرتاب، وزیر اعظم مولانا برکت اللہ، وزیر خارجہ مولانا عبید اللہ سندھی، اور فیلڈ مارشل مولانا محمود الحسن کو بنایا گیا۔
۲۶ مئی ۱۹۱۶ء کو عبید اللہ سندھی نے عبد الباری اور شجاع اللہ کو حتمی معاملات طے کرنے کے لیے جرمنی بھیجا، لیکن روس میں ان دونوں کو گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔
اس دوران کابل کے نواحی علاقے باغِ بابر میں جرمن آرمی کے لیفٹیننٹ والکاٹ نے تربیتی کیمپ قائم کر لیا۔ ایک روز وہ مجاہد بھرتی کرنے قبائلی علاقے میں آیا اور گرفتار ہو گیا۔ انگریزوں نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے ریشمی رومالوں پر خفیہ پیغامات لکھ کر اپنے ساتھیوں کو ہندوستان بھیجے، لیکن یہ رومال پکڑے گئے اور منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔ سینکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔ کابل کا حکمران امیر حبیب اللہ خوفزدہ ہو گیا اور یوں منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔
۱۹۱۷ء میں روسی انقلاب کے بعد لینن نے مولانا عبید اللہ سندھی کو ماسکو بلایا اور ہندوستان کی آزادی کے لیے تعاون کی پیشکش کی۔ جرمنی نے بھی ایک دفعہ پھر رضامندی ظاہر کر دی، لیکن کابل نے مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ پروفیسر اولف شمل کے مطابق، حاکمِ جدہ نے مولانا محمود الحسن کو گرفتار کروا دیا تھا، ورنہ یہ منصوبہ دوبارہ بھی شروع ہو سکتا تھا۔
۱۹۳۳ء میں ہٹلر نے برسرِ اقتدار آ کر اپنی وزارتِ خارجہ کو حکم دیا کہ ہندوستانی علماء کے ساتھ دوبارہ رابطہ کیا جائے، لیکن علامہ عنایت اللہ مشرقی کے علاوہ کسی سے رابطہ نہ ہو سکا۔
پروفیسر اولف شمل کا کہنا ہے کہ اگر کابل مدد کرتا تو نہ سلطنتِ عثمانیہ ختم ہوتی اور نہ ہی ہندوستانیوں کو مزید تیس سال غلام رہنا پڑتا، کیونکہ جرمنی، ترکی اور روس نے ہندوستان کو گھیرا ڈال لینا تھا۔
(روزنامہ جنگ لندن، ۱۶ اگست ۱۹۹۴ء)
تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
دسمبر ۱۹۸۹ء کے ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونے والی یہ تحریر موضوع کی مناسبت سے یہاں دوبارہ شائع کی جا رہی ہے۔ (ادارہ)
سترہ نومبر کو روزنامہ جنگ لاہور کے آخری صفحہ پر ایک کونے میں یہ خبر نظر سے گزری کہ تحریکِ آزادی برصغیر کے نامور مجاہد اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے رفیق حضرت مولانا عزیر گلؒ انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ علالت اور ضعف و نقاہت کی خبریں کافی عرصہ سے آرہی تھیں اور عمر بھی سو سال سے تجاوز کر چکی تھی مگر اس کے باوجود دل اس خبر پر یقین کرنے کو تیار نہ ہوا۔ خبر کو بار بار پڑھا، ذمہ دار علمائے کرام کے تعزیتی پیغامابت بھی ساتھ تھے اس لیے مانے بغیر کوئی چارہ نہ تھا، زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا کہ موت ہر ذی روح کا مقدر ہے۔ جو اس دنیا میں آیا ہے اس نے بہرحال جانا ہے۔ ’’کل من علیھا فان ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘۔
مولانا عزیر گلؒ کون تھے؟ آج کی نسل اس سے باخبر نہیں ہے اور نئی نسل کو اس کے ماضی اور اقدار و روایات سے باخبر رکھنے کی ذمہ داری جن حضرات پر ہے انہیں نہ اس کی ضرورت کا احساس ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت ان کے ذہنوں میں موجود ہے۔ مولانا عزیر گلؒ اس قافلۂ حریت کے فرد تھے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف عسکری، تہذیبی، تعلیمی اور سیاسی جنگ لڑی اور بالآخر اسے شکست دے کر اس خطۂ زمین کی آزادی کی راہ ہموار کی۔
اس قافلۂ حریت کے ایک عظیم سالار شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ تھے جنہوں نے اس صدی کے دوسرے عشرہ میں متحدہ ہندوستان کی آزادی کا منصوبہ بنایا اور ملک کے طول و عرض میں مجاہدین آزادی کی فوج منظم کی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ترکی اور افغانستان کی حکومتوں کو جنگِ آزادی میں ہمنوا بنا کر ان کا تعاون حاصل کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ یہ منصوبہ برطانوی سی آئی ڈی کے کاغذات میں ’’ریشمی خطوط سازش کیس‘‘ کے نام سے اس کے ریکارڈ کا ایک اہم حصہ ہے اور ہماری تاریخ میں ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ’’دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا‘‘ کے مصداق یہ منصوبہ عین اس وقت برطانوی سی آئی ڈی کے ہتھے چڑھ گیا جب کہ ملک کے اند رحریت پسند افواج کی تربیت و تنظیم کا کام کم و بیش مکمل ہو چکا تھا اور ترکی کی خلافت عثمانیہ سے عسکری و سیاسی تعاون کے حصول کے لیے حجاز مقدس میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ ترک حکام کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے۔ جہادِ آزادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں ریشمی رومالوں پر لکھے گئے خفیہ خطوط برطانوی کارندوں کے ہتھے چڑھتے ہی شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور ان کے رفقاء کو گرفتار کر لیا گیا اور متحدہ ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک سے تعلق رکھنے والے تمام حضرات حراست میں لے لیے گئے۔
مولانا عزیر گلؒ اس تحریک اور منصوبہ بندی میں شیخ الہندؒ کے معتمد رفیق تھے اور انہی کے ساتھ گرفتار ہو کر مالٹا جزیرہ میں کم و بیش پونے چار سال تک نظر بند رہے۔ مولانا عزیر گلؒ مالاکنڈ ایجنسی کے رہنے والے تھے، دارالعلوم دیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ سے دینی تعلیم کی تکمیل کی اور پھر انہی کے لیے وقف ہو کر رہ گئے۔ آزاد قبائل میں فرنگی فوجوں کے ساتھ مسلسل لڑنے والے حریت پسند قبائل کے ساتھ شیخ الہندؒ کے خصوصی روابط تھے اور اس علاقہ میں شیخ الہندؒ کے شاگردوں اور حریت پسند رفقاء کی ایک بڑی تعداد مصروفِ جہاد تھی۔ قبائل کے ساتھ خفیہ روابط کے لیے مولانا عزیر گلؒ کو شیخ الہندؒ کے معتمد ایلچی کی حیثیت حاصل تھی اور وہ باہمی رابطہ کا ایک اہم ذریعہ تھے۔ حضرت شیخ الہندؒ کو مولانا عزیر گلؒ پر کس قدر اعتماد تھا اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی سی آئی ڈی کی رپورٹوں کے مطابق حجازِ مقدس میں ترک حکام کے ساتھ شیخ الہندؒ کا جو خفیہ معاہدہ طے پانے والا تھا اسے ہندوستان کے معتمد رفقاء تک پہنچانے کی ذمہ داری مولانا عزیر گلؒ کے سپرد ہوئی تھی۔ مولانا عزیر گلؒ اپنے استاد اور قائد حضرت شیخ الہندؒ کے عاشق زار تھے، مالٹا کی تنہائیوں میں خدمت کی سعادت حاصل کی اور اپنے عظیم استادؒ کے عظیم مشن میں ان کی رفاقت کا حق ادا کر دیا۔
مولانا عزیر گلؒ حضرت شیخ الہندؒ کی زندگی تک ان کے ساتھ متحرک رہے مگر ان کی وفات کے بعد پھر کام میں وہ مزہ نہ ملا اور قیام پاکستان کے بعد تو بالکل ہی گوشہ نشین ہوگئے۔ مالاکنڈ ایجنسی میں سخاکوٹ سے دو میل کے فاصلے پر ’’سیرے‘‘ نامی گاؤں ان کا آبائی گاؤں ہے، وہیں سکونت اختیار کر لی۔ راقم الحروف کو متعدد بار حضرت مولانا عزیر گلؒ کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ تب صحت مند اور چاق و چوبند تھے، مزاج میں بے تکلفی، نمود و نمائش سے دلی نفرت اور مہمان نوازی ان کی خصوصیات تھیں۔ اپنے محبوب استاذ حضرت شیخ الہندؒ کی یادوں کے سہارے جی رہے تھے، انہی کا تذکرہ اکثر زبان پر رہتا اور بہت سے دوست تو یہی محبوب تذکرہ سننے ان کی مجلس میں جایا کرتے تھے۔
مولانا عزیر گلؒ کا سینہ تحریک آزادی کی کئی ان کہی کہانیوں کا مخزن تھا، اے کاش کہ اس خزانہ کو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام ہو جاتا مگر اب کفِ افسوس ملنے سے کیا فائدہ۔ وہ اپنی یادوں اور خزانوں سمیت ہم سے رخصت ہو چکے ہیں اور اپنے رب کے پاس جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازیں، آمین یا الٰہ العالمین۔
تحریکِ خلافت
شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا
پہلی عالمگیر جنگ میں ترکوں نے انگریزوں کے خلاف جرمنی اور آسٹریا کا ساتھ دیا تھا۔ نومبر ۱۹۱۸ء میں انگریزوں کو فتح ہوئی۔ ۵ جنوری ۱۹۱۸ء کو برطانوی وزیرِ اعظم لائیڈ جارج نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے زور دے کر واضح کیا تھا کہ ’’ہم ترکی کی سلطنت اور اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ کے لیے قطعاً کسی خطرے کا سبب نہیں بنیں گے اور ہماری طرف سے ترکی کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی‘‘۔ لیکن ۱۹۱۹ء کی صلح کانفرنس میں سلطنتِ ترکی کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، خلافت بھی عملاً ختم کر دی گئی۔
ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ تحریکِ خلافت کا آغاز احتجاجی جلسوں سے ہوا۔ مسلم کانفرنس کے اجلاس لکھنؤ میں آل انڈیا سنٹرل خلافت کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۱۹ء کو ملک بھر میں یومِ خلافت منایا گیا۔ تمام کاروبار بند رہے۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۱۹ء کو حکومت نے ہفتہ تقریباتِ امن منانے کا اعلان کیا، لیکن مسلمانوں نے ان تقریبات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔
خلافت کانفرنس کا پہلا اجلاس ۲۴ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں مسٹر فضل الحق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مسٹر گاندھی، موتی لال نہرو اور پنڈت مدن موہن مالوی بھی شریک ہوئے۔ مسٹر گاندھی نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ ۱۹۲۰ء میں بمبئی میں خلافت کانفرنس کا اجلاس ہوا اور فیصلہ ہوا کہ خلافت کے مسئلے پر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک وفد یورپ روانہ کیا جائے۔
دوسری طرف، برطانیہ دنیا بھر میں یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف تھا کہ ترکی کی حرکتیں اسے سخت ترین سزا کا حقدار بناتی ہیں، ترکی اسی سلوک کا مستحق ہے کہ اسے کچل دیا جائے۔
وفد عدن اور پورٹ سعید کے شہروں سے ہوتا ہوا لندن پہنچا۔ اس وفد میں مولانا محمد علی، مولانا سید سلیمان ندوی اور سید حسن امام (بیرسٹر، پٹنہ) شامل تھے۔ وفد نے برطانوی وزیرِ اعظم سے ملاقات کی، لیکن اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ
’’مفتوحہ قوم، خواہ مسلمان ہو یا عیسائی، ایک جیسے سلوک کی مستحق ہے۔ ترکی نے برطانیہ سے شکست کھائی ہے، لہٰذا اب اسے شکست کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘
مولانا محمد علی نے اس گفتگو کا جواب دینا چاہا تو برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ
’’میں رات بھر بیٹھ کر آپ کی بحث نہیں سننا چاہتا۔‘‘
ملاقات کے خاتمے پر مولانا سید سلیمان ندوی نے خلافت کی اہمیت کے بارے میں ایک کتابچہ دینا چاہا تو برطانوی وزیر اعظم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور کتاب لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وفدِ خلافت نے فرانس اور اٹلی کے متعدد شہروں کا دورہ کیا اور اپنے مشن سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ نومبر ۱۹۲۰ء میں وفد واپس ہندوستان پہنچا۔
ستمبر ۱۹۲۰ء میں گاندھی اور علی برادران کے مشورے سے طے پایا کہ عدمِ تعاون کی ملک گیر تحریک چلائی جائے۔ عدمِ تعاون کے پروگرام کی کانگریس، جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے حمایت کر دی۔ عدمِ تعاون کی اپیل کا ہندوؤں اور مسلمانوں نے کھلے دل سے خیرمقدم کیا۔ دسمبر ۱۹۲۱ء سے جنوری ۱۹۲۲ء کے درمیانی عرصے میں تین ہزار سے زائد ہندو اور مسلم تحریکِ عدمِ تعاون کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے۔ مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد مدنی، ڈاکٹر سیف الدین اور پیر غلام مجدد نثار احمد کو دو دو سال کے لیے قید کر دیا گیا۔ عدمِ تعاون کی تحریک کو گرفتاریوں سے زبردست دھچکا لگا، لیکن اس کے مکمل خاتمے میں تشدد آمیز واقعات نے حصہ لیا۔
تحریکِ خلافت سے کانگریس کو دو فائدے ہوئے: ایک تو مسلمان دھڑا دھڑ کانگریس میں شامل ہونے لگے۔ دوسرے، کانگریس کو وہ طاقت حاصل ہو گئی جو پہلے کبھی حاصل نہ تھی۔ لیکن جس طریق سے گاندھی نے اس تحریک کو ختم کیا، اس نے مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے بارے میں اس قسم کے شکوک و شبہات پیدا کیے جن کو پھر کبھی دور نہ کیا جا سکا۔
تحریکِ خلافت بے نتیجہ ثابت ہوئی، کیونکہ ترکی میں مسلمانوں نے دوبارہ زور پکڑ کر جو آزاد حکومت قائم کی، اس کی اسمبلی کے سربراہ کمال اتاترک نے خلافت کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان کر دیا۔
برٹش گورنمنٹ کی پالیسی
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
’’سب سے بڑا اور اہم، واجب اور ضروری فرض یہ ہے کہ ہم نہایت شدومد سے پورے استقلال و عزم کو کام میں لاتے ہوئے اس ناپاک پالیسی کا مقابلہ کریں، خصوصاً جب کہ تمام قانونی کارروائیاں بے سود ثابت ہو چکی ہیں۔ اور نہایت زیادہ لازم ہے کہ گورنمنٹ کو مجبور کرتے ہوئے اس کے پرانے انسانیت سوز نجس رویہ کو چھڑائیں۔ اسی کے ساتھ، مقابلہ کرنا اپنا حقیقی نصب العین سمجھیں۔ اور جب تک مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہو، نہ خود چین سے بیٹھیں اور [نہ] گورنمنٹ کو چین سے بیٹھنے دیں۔
جس طرح طبیبِ حاذق پر لازم ہے کہ اگر ایک مریض میں مختلف امراض کا اجتماع ہو جائے، اور ان میں بعض امراض ایسے ہوں کہ جو زندگی اور سارے جسم کو خطرہ میں ڈال رہے ہوں، اور بقیہ دوسرے امراض ایسے نہ ہوں بلکہ ان کی وجہ سے کسی خاص عضو پر خطرہ ہے یا راحت و آرام میں کمی ہے، تو طبیب کا فرض ہوگا کہ سب سے اول اور زیادہ اس مرض کی طرف التفات کرے جس سے تمام جسم اور زندگی معرضِ خطرہ میں ہے، باقی ماندہ امراض کو یا تو بعد کے لیے چھوڑ دے یا اس پر معمولی التفات رکھے۔
علیٰ ہذا القیاس، اگر کسی مریض میں چند امراض ایسے مجتمع ہوں کہ ایک مرض تمام دیگر امراض کا منشا اور سبب ہے اور اس کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہے، تو طبیبِ حاذق کا فرض ہوگا کہ اس منشائے امراض پر پوری توجہ صَرف کر دے۔ اس کے زائل ہو جانے کے بعد یہ دوسرے امراض یا تو خود ہی زائل ہو جائیں گے یا نہایت آسانی کے ساتھ ان کا ازالہ ہو سکے گا۔ مگر اس کے خلاف کرنا، اور فروع کی مداوات کو اصل اور مادہ پر مقدم کرنا نہایت بے عقلی ہوگی۔
اسی طرح ہر عقل مند پر لازم ہے کہ برٹش گورنمنٹ کی آج تک کی پالیسی — جو تمام اسلام اور جملہ مشرق کے لیے نہایت مہلک اور خطرناک ہے — اس کا مقابلہ نہایت ہی شدت اور استقلال کے ساتھ جاری رکھیں اور اس میں سرمو تکاسل کو راہ نہ دیں۔‘‘
قادیانی جماعت اور انگریز حکومت کی باہمی تائید
چودھری افضل حق
’’ہندوستان کی سرزمین بڑی عجیب ہے۔ قادیان میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ۳۰، ۴۰ برس کی توجہ تعمیری کاموں کی بجائے اس متنبی کی طرف لگی رہی۔ ایک حصہ کٹ کر الگ ہو گیا۔ انگریزی حکومت کے زیرِ سایہ جہاں چھوٹے بڑے راجے نواب پرورش پا کر سرکار کے گن گاتے ہیں، اسی طرح حکومت کو اعتراض نہ تھا اگر متعدد نبی اور کئی ایک سرکاری ولی پیدا ہو کر ان کے دعاگو بنے رہیں۔
انہیں امورِ سلطنت میں سہولت درکار تھی۔ مسلمانوں کو قابو میں رکھنے کی تدبیروں میں سے یہ بھی حکومتِ انگریزی کی کارگر تدبیر تھی کہ روحانی اداروں پر ان کے ہوا خواہ قابض ہوں، اور یوں سرکارِ انگریزی کی وفاداری مسلمانوں کا جزوِ مذہب بن جائے۔ پنجاب اور سندھ میں [ہر] پیرخانہ سرکاری تعلق داری اور وظیفہ خواری پر پرورش پا رہا ہے۔ یہ تو پیر تھے، مگر حکومت کو قادیان کا پیغمبر ہوا خواہی کے لیے مل گیا۔ مسلمان سیاسی اور مذہبی طور پر انگریزی غلامی پر مطمئن ہو گئے۔ مسلمانوں کی موجودہ مدہوشی کی بڑی وجہ انگریز کی یہ کامیاب تدبیر ہے۔ پھر تو ساری اسلامی آبادی حکومت کی منقولہ جائیداد بن کر رہ گئی تھی۔ جہاں سے اٹھائیں، جہاں ڈالیں۔ مخالفت کی ایک آواز نکالنا مشکل تھی۔
انگریزی حکومت کی سب سے زیادہ تائید قادیان کی جماعت کو حاصل تھی۔ یہ تائید اتنی زیادہ تھی کہ اکثر سرکاری محکموں میں وہ بہت اثر و رسوخ کے مالک ہو گئے۔ بعض جگہ تو سارے کا سارا ضلع ان کے اثر و رسوخ میں آ گیا۔ لوگ حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لیے قادیانی کی تائید حاصل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ محکمہ سی آئی ڈی تو الگ رہا، قادیانی مرزائی حکومت کو تفصیلی خبریں پہنچاتے تھے۔
حکومتِ وقت کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لیے اس جماعت کے افراد سب سے پیش پیش تھے۔ اسی لیے لوگ قادیانی آواز کو حکومت کی آواز کی صدائے بازگشت سمجھتے تھے اور بے حد خائف تھے۔ یہ لوگ معمولی آئینی ایجی ٹیشن کو بڑھا چڑھا کر سرکار کے دربار میں بیان کرتے تھے۔ انتخابات میں حال یہ تھا کہ ہر امیدوار قادیان کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ جسے یہ تائید حاصل ہو گئی، اسے گویا سرکاری تائید حاصل ہو گئی۔‘‘
(مفکرِ احرار چودھری افضل حقؒ)