جنوری ۱۹۹۷ء

شادی، سوشل کنٹریکٹ یا سنت نبویؐمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نکاح و طلاق کی شرعی حیثیتشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ 
اسلام میں نکاح و طلاق کا تصورشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
اسلامی قانون اور مغربی قوانین ایک تقابلی جائزہمولانا مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی 
خاندانی نظاممولانا مفتی محمد تقی عثمانی 
خاندانی نظام کا تحفظعمران خان 
اسلام میں عورتوں کے حقوقحضرت مولانا مفتی محمود 
آزادئ نسواں کا پس منظر اور نتائجمولانا مفتی محمد تقی عثمانی 
پاکستانی ثقافت اور نئی نسلارشاد احمد حقانی 
جنسی انقلاب اور اقوام متحدہجاوید اقبال خواجہ 
خواتین کی عالمی کانفرنسوں کے اصل مقاصدمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلام اور عورت کا اختیارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نکاح میں سرپرست کے اختیار کے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے نام ایک خطمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خاندان کے اکٹھے مل کر کھانے کی ضرورتپروفیسر غلام رسول عدیم 
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہقاری حماد الزہراوی 
شہزادہ چارلس کی دوسری شادی اور چرچ آف انگلینڈمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مغربی معاشرہ کی چند جھلکیاںمیڈیا 
علماء کرام پورے اعتماد اور دلجمعی کے ساتھ مغربی ثقافت کا مقابلہ کریںادارہ 
خاندانی نظام کی بحالی مغرب کا سب سے بڑا مسئلہ ہےروزنامہ جنگ 
تعارف و تبصرہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ہم اپنی سوچ پر سائنس کی اجارہ داری کے خطرناک نتائج سے آگاہ ہو رہے ہیںشہزادہ چارلس 
اسلام ہی انسانی مسائل کا بہترین حل ہےشہزادہ چارلس 

شادی، سوشل کنٹریکٹ یا سنت نبویؐ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے اور سنت سے اعراض کرنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار فرمایا ہے۔ نکاح انسانی فطرت کے تقاضوں میں سے ہے اور نسل انسانی کی نشوونما اور ان کی معاشرت کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے جب بعض صحابہؓ نے زندگی بھر شادی نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تو جناب نبی اکرمؐ اس بات پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ’’نکاح میری اور انبیاء کرامؑ کی سنت ہے‘‘۔ اسی طرح جناب رسول اللہؐ نے شادی کو ایک شرعی تقاضہ قرار دے کر نہ صرف یہ کہ اس سے بلاوجہ گریز کو پسند نہیں کیا بلکہ نکاح کے بعد اسے عمر بھر نبھانے کی تلقین فرماتے ہوئے طلاق کو ناپسندیدہ ترین چیز قرار دیا کہ اسے انتہائی مجبوری کی صورت میں ہی اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ بعض احادیث میں آنحضرتؐ نے عورت پر مال خرچ کرنے حتیٰ کہ اس کے منہ میں لقمہ ڈالنے کو خاوند کے لیے رضائے خداوندی کا ذریعہ بتایا ہے جبکہ عورت کے لیے خاوند کی اطاعت کو جنت کا راستہ ارشاد فرمایا ہے۔ یوں نکاح اسلام میں ایک مذہبی فریضے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جسے روحانی تقدس حاصل ہے اور وہ انسانی معاشرہ میں خاندان کے یونٹ اور اکائی کی مستحکم بنیاد ہے۔

آج ایک طرف مسلمان معاشرے کا خاندانی سسٹم تمام تر کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود بھی دنیا بھر کی توجہات کا مرکز ہے۔ اور دوسری طرف خاندانی سسٹم سے نجات کے خواہشمند اپنی راہ کا سب سے بڑا پتھر سمجھتے ہوئے اسے ختم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ جبکہ ’’فری سوسائٹی‘‘ کی بلندیوں کو چھو کر واپسی کی راہ تلاش کرنے والے لوگ مسلم معاشرہ کے خاندانی نظام کو رشک اور امید کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

مغرب نے جب نکاح کو مذہبی تقدس اور تحفظ سے الگ کر کے محض ’’سوشل کنٹریکٹ‘‘ قرار دیا تو اس وقت اسے نتائج کا اندازہ نہ ہو سکا۔ آج جب یہ سوشل کنٹریکٹ یا برابری کا معاہدہ مغرب کو خاندانی زندگی کے تصور اور رشتوں کے تقدس سے کلی طور پر محروم کر چکا ہے تو وہی مغرب اب متبادل راہوں کی تلاش میں ہے۔ گزشتہ دنوں خبر رساں ایجنسی رائٹر نے میکسیکو کے بارے میں ایک خبر دی ہے کہ وہاں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نکاح کے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے اب کئی جوڑے ’’قانونی معاہدوں‘‘ کا سہارا لے رہے ہیں۔ خبر کے مطابق ایک جوڑے نے شادی کو عمر بھر کا بندھن بنانے کے لیے جو قانونی معاہدہ کیا ہے، اس کی تفصیلات سولہ صفحات پر مشتمل ہیں۔

خاندانی سسٹم کی تباہی اور طلاق کی شرح میں اضافہ نے مغرب کو اس حد تک پریشان کر دیا ہے کہ سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گورباچوف نے اپنی کتاب ’’پرسٹرائیکا‘‘ میں اس کا رونا روتے ہوئے خاندانی نظام کی بحالی پر بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ برطانوی وزیراعظم جان میجر Back to basics (بنیادوں کی طرف واپسی) کا نعرہ لگا کر ان عورتوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی پالیسیاں وضع کر رہے ہیں جو بچوں کی پرورش کے لیے گھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ برطانیہ میں تو یہ محاورہ عام طور پر سننے میں آتا ہے کہ تھری ڈبلیوز (Three Ws) کا کوئی اعتبار نہیں۔ وومن، ویدر، ورک۔ یعنی بیوی کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب چھوڑ کر چلی جائے، موسم کا کچھ پتہ نہیں کہ کب کیا صورت اختیار کر لے، اور ملازمت کا کوئی اعتبار نہیں کہ کس روز اچانک جواب مل جائے۔

ظاہر بات ہے کہ جب شادی محض ایک سوشل کنٹریکٹ یا برابری کا معاہدہ ہوگا اور اسے مذہب اور روحانیت کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا تو دونوں شراکت داروں میں سے جس کا جب جی چاہے چھوڑ دے۔ یہ تو دین اسلام ہے جو شادی کو روحانی رشتہ قرار دیتا ہے، طلاق کو ناپسندیدہ بلکہ شیطانی عمل کہتا ہے، میاں بیوی کی محبت کو خدا کی رضا کی علامت بتاتا ہے، بیوی بچوں کو کما کر کھلانے اور ان پر خرچ کرنے کو صدقہ اور اجر و ثواب کا باعث قرار دیتا ہے، اور خاوند کی اطاعت کو بیوی کے لیے جنت کے حصول کا ذریعہ بیان کرتا ہے۔ الغرض انسانی معاشرہ آج بھی شادی کو محض ایک سوشل کنٹریکٹ سمجھنے کی بجائے مذہبی فریضہ اور انبیاء کرامؑ کی سنت کے طور پر اختیار کر لے تو اسے ان تمام مصیبتوں سے نجات مل سکتی ہے جو خاندانی انارکی کی صورت میں اس پر مسلط ہو چکی ہیں۔

نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

مذہب اسلام ایک نہایت جامع اور مکمل مذہب ہے جس میں انسان کی زندگی کے مختلف اور متنوع گوشوں پر سیر حاصل ہدایات موجود ہیں۔ انسان اپنی زندگی کے کسی موڑ اور کسی مرحلہ میں کسی ایسی الجھن میں مبتلا نہیں ہوتا جس میں اسلام نے اس کی رہنمائی نہ کی ہو اور عقائد و اعمال اور اخلاق و معاملات کے سبھی پہلوؤں پر حسب ضرورت روشنی نہ ڈالی ہو۔ اس وقت دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں بتایا جا سکتا جو اپنی جامعیت میں اسلام کے ہم پلہ تو کیا اس کا عشر عشیر بھی ثابت ہو سکے اور صداقت اسلام تو اس پر مستزاد ہے، مگر صد افسوس ہے کہ اس برحق، بہترین اور اعلیٰ مذہب کو مسلمان اپنانے اور اس کے نفاذ سے بھی جی چراتے اور شرماتے ہیں۔ 

جس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کی نحوست نے ان کے دل و دماغ کو ماؤف اور آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے اور خواہشات و اہوا کی آزادی انہیں اسلام کی حدود و قیود پر پابند رہنے کی راہ میں سخت رکاوٹ ڈالتی ہے اور آئے دن اسلام کی نت نئی تعبیریں اور تفسیریں کی جاتی ہیں اور عقل و خرد اور رفتار زمانہ کے ساتھ ساتھ چلنے اور اسلامی اصول و فروع کو اس نہج پر ڈھالنے کے لیے خوشنما اور دلربا الفاظ اور تعبیر سے تلقین کی جاتی ہے۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ فکر خداداد بھی ایک نعمت ہے مگر اسی حد تک جب تک کہ شریعت کے مطابق ہو، ورنہ بقول علامہ اقبال مرحوم یہ ابلیس کی ایجاد ہے ؎

گو فکرِ خداداد سے روشن ہے زمانہ 
آزادئ افکار ہے ابلیس کی ایجاد

انسانی زندگی کے سفر میں ایک مرحلہ نکاح کا بھی آتا ہے جس پر قرآن و حدیث میں کھرے کھرے احکام اور اس کی ترغیب پر صریح ارشادات موجود ہیں۔ کہیں اس کو نصف دین سے تعبیر فرمایا (مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۲۶۸) اور کہیں مستطیع کے لیے اس سے اعراض پر سنت سے اعراض کرنے کی وعید فرمائی (بخاری جلد ۲ ص ۷۵۸) اور کہیں یہ ارشاد ہے کہ  چار چیزیں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنتوں میں سے ہیں: حیا کرنا، خوشبو لگانا، نکاح کرنا اور مسواک کرنا (الجامع الصغير جلد ا، ص ۳۷ وقال حسن) 

غرضیکہ تکمیل انسانیت کے لیے ازدواجی زندگی کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اور جب نکاح کرنا اور شرعی دائرہ میں رہ کر میاں بیوی کا گہرا تعلق رضائے الٰہی، اتباع سنت اور تکمیل انسانیت کا ایک بہترین ذریعہ ہے تو اس تعلق کا توڑنا بھی اسی انداز کا مبغوض و ناپسندیدہ امر ہوگا جس قدر کہ وہ محبوب ہے۔ 

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں حلال کی ہیں، ان میں طلاق سے زیادہ مبغوض اور کوئی چیز نہیں ہے (الجامع الصغیر جلد ۲ ص ۴۲ و قال حسن و مستدرک جلد ۲ ص ۱۹۶ و قال الحاكم صحیح الاسناد و قال الذہبی صحیح علیٰ شرط مسلم) 

اس سے معلوم ہوا کہ طلاق باوجود حلال اور جائز ہونے کے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مبغوض ترین چیز ہے اور اللہ تعالیٰ بلا وجہ طلاق پر راضی نہیں ہوتا۔ 

اور حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عورت نے بلا کسی مجبوری کے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کی خوشبو حرام کر دیتا ہے (الجامع الصغیر جلد ا ص ۱۳۷ و قال حسن و مستدرک جلد ۲ ص ۲۰۰ وقال الحاكم والذہبی صحیح علیٰ شرطہما) 

اس صحیح اور صریح روایت سے معلوم ہوا کہ بدون اشد مجبوری کے طلاق کا مطالبہ درست نہیں ہے اور ایسا مطالبہ کرنے والی عورت کو تشدید اور تنبیہ کے طور پر یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کر دیتا ہے چہ جائیکہ وہ جنت میں داخل ہو سکے۔ 

مگر آخر انسان انسان ہے بعض اشد اور ناگزیر حالات میں مذہب اسلام نے طلاق کی اجازت بھی دی ہے اور اس کی قیود و حدود بھی متعین فرمائی ہیں۔ دور جاہلیت میں سو سو بلکہ ہزار ہزار تک طلاقیں دے کر رجوع کر لینے کا دستور بھی تھا مگر اسلام نے اس کی حد بندی کر دی اور بیوی کے مغلظہ ہونے کا تین طلاقوں میں انحصار کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (جس کا خلاصہ یہ ہے) کہ طلاق دو دفعہ کی ہے، اس کے بعد یا تو اچھے طریقہ سے رکھنا مناسب ہے یا عمدہ طریقہ سے چھوڑ دینا اچھا ہے، لیکن اگر اس کے بعد تیسری طلاق بھی دے دی تو اب وہ عورت اپنے سابق خاوند کے لیے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح نہ کر لے۔

اسلام میں نکاح و طلاق کا تصور

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک دائمی اور اجتماعی معاہدہ ہے جسے مرتے دم تک نبھانے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ جب تک نکاح کا معاہدہ طے نہیں پاتا، اس معاہدہ کے فریقین یعنی مرد اور عورت کے اخلاق کی چھان بین کی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کس حد تک قابل قبول ہیں۔ پھر جب نکاح طے پا جاتا ہے تو زوجین پر معاہدۂ نکاح کی قانونی پابندی عائد ہو جاتی ہے جسے پورا کرنے کے وہ پابند ہوتے ہیں۔ 

شریعت نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کچھ حقوق دیے ہیں اور کچھ فرائض سونپے ہیں۔ اگر فریقین ان کی پابندی کرتے ہیں تو ان کی ازدواجی زندگی نہایت پرسکون گزرتی ہے۔ تاہم بعض اوقات اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جن میں اس معاہدہ سے منسلک فریقین کا نباہ ممکن نہیں رہتا، تو ایسی صورت میں شریعت نے ان میں تفریق کا قانون بھی نافذ کر دیا ہے تاکہ وہ ساری عمر کٹھن زندگی گزارنے کی بجائے اپنے لیے کوئی دوسرا بہتر ذریعہ تلاش کر سکیں۔

دوسرے مذاہب سے تقابل

اس مسئلہ میں اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے معاشروں میں طرح طرح کی قباحتیں پیدا ہو رہیں ہیں۔ مثلاً‌:

اسلام میں نظریۂ طلاق

اسلام نے افراط و تفریط سے ہٹ کر اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح اس لیے نہیں کیا جاتا کہ زوجین میں تفریق ڈال دی جائے۔ اس معاہدہ (Agreement) کو نباہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے باوجود اگر میاں بیوی کے لیے اکٹھے زندگی گزارنا ممکن نہ ہو، تو پھر اسلام نے طلاق کے ذریعے ان کی علیحدگی کا انتظام بھی کر دیا ہے، اگرچہ طلاق پسندیدہ چیز نہیں ہے۔ 

حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے ابغض المباحات الى اللہ الطلاق یعنی مباح اشیا میں سے سب ناپسندیدہ چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ تاہم ضرورت کے تحت اس کی اجازت ہے۔ 

طلاق کی صورت میں اسلام نے ایک اور ضروری قانون عدت کا دیا ہے جو دوسرے مذاہب میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق کے بعد عورت ایک خاص مدت تک دوسرا نکاح نہیں کر سکتی۔ اس کا مقصد تحفظ نسب ہے تاکہ پیدا ہونے والی اولاد کا نسب مشکوک نہ ہو جائے۔ طلاق کے بعد اگر عورت فوراً‌ دوسرا نکاح کر لے تو بچے کے نسب پر شبہ ہو سکتا ہے کہ پہلے خاوند کا ہے یا دوسرے کا، اور اس طرح کئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ اسلام نے عورت کے دو نکاحوں کے درمیان مختلف صورتوں میں مختلف مدتیں مقرر کر دی ہیں تاکہ اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ آئندہ پیدا ہونے والا بچہ کس باپ کا ہے۔ نیز نکاح کے احترام کا تقاضا بھی ہے کہ دوسرے نکاح سے پہلے کچھ وقفہ ہونا چاہیے۔

عدت

عدت اس کم از کم مدت کا نام ہے جو طلاق کی تاریخ یا شوہر کی فوتیدگی کی تاریخ سے لے کر نکاح ثانی تک کے لیے مقرر ہے۔ اس عرصہ میں عورت دوسرا نکاح نہیں کر سکتی۔ عدت مختلف صورتوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً‌:

فوتیدگی کی صورت میں عدت تاریخ وفات سے چار ماہ دس دن ہے۔ اتنے عرصہ میں پتہ چل جاتا ہے کہ عورت حاملہ تو نہیں ہے۔ اگر حاملہ نہیں ہے تو چار ماہ دس دن کی عدت گزار کر عورت نکاح کر سکتی ہے۔ 

اور اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ جس دن بچہ جنے گی، اس کے بعد نکاح کر سکتی ہے۔ بیوگی سے لے کر وضع حمل تک کی مدت کا کوئی تعین نہیں ہے۔ یہ عرصہ خواہ ایک دن کا ہو یا پورے نو ماہ کا۔ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ لہٰذا بچہ جب بھی پیدا ہو، عورت نکاح کر سکتی ہے۔ حجۃ الوادع کے سفر میں ایک صحابی اونٹنی سے گر کر فوت ہو گئے۔ ان کی بیوی حاملہ تھی۔ ٹھیک بائیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا، اس کی عدت ختم ہو گئی ہے، یہ جب چاہے نکاح ثانی کر سکتی ہے۔ 

اگر عورت عاقل، بالغ اور آزاد ہے، اور اسے حیض آتے ہیں، کسی وجہ سے طلاق ہو گئی ہے تو اس کی عدت تین حیض ہو گی۔ یہ تین حیض خواہ دو ماہ میں آجائیں یا ۱۹ ماہ میں، اسے بہرحال تین حیض تک انتظار کرنا ہو گا۔ عام طور پر حیض ماہ بماہ آتے ہیں۔ اس لیے ایسی عورت کے حیض کم و بیش تین ماہ میں پورے ہو جاتے ہیں، جس کے بعد اسے نکاح کی اجازت ہوتی ہے۔ 

پاکستان میں نافذ عائلی قوانین میں ایسی عورت کی عدت نوے دن مقرر کی گئی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ حیض والی عورت جو ابھی بالغ نہیں ہوئی، یا جو کبڑی میں پہنچ چکی ہے اور اس کے حیض بند ہو چکے ہیں، ایسی عورتوں کی عدت تین ماہ یا نوے دن درست ہے۔ اس کی تفصیلات سورۃ احزاب میں موجود ہیں۔ 

ایک اور صورت بھی ہو سکتی ہے کہ نکاح ہو گیا مگر میاں بیوی کی خلوت صحیحہ نہیں ہوئی، انہیں مباشرت کا موقع نہیں ملا، ایسی صورت میں اگر طلاق واقع ہو جائے تو فرمايا فما لكم عليھن من عدة تعتدونھا ایسی عورتوں کے لیے کوئی عدت نہیں، وہ جب چاہیں دوسرا نکاح کر سکتی ہیں۔ اس معاملہ میں بھی عائلی قوانین درست نہیں کیونکہ وہاں سب کے لیے نوے دن کی عدت مقرر ہے حالانکہ یہاں کوئی عدت نہیں ہے۔ 

ایسا ہی عدت کا ایک مسئلہ ہمارے نوٹس میں آیا تھا۔ کہوٹہ کے رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ کسی عورت کو طلاق ہو گئی۔ اس کو حیض دیر سے آتا ہے اور نوے دن میں اس کے تین حیض مکمل نہیں ہوئے۔ مگر یونین کونسل والوں نے نوے دن کے بعد اس کا نکاح کرا دیا۔ حالانکہ یہ نکاح ہوا ہی نہیں ہے کیونکہ عدت کے دوران نکاح ہو نہیں سکتا۔ تو اس قسم کی خرابیاں ہیں جو عائلی قوانین میں خامی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس قسم کے نکاح قرآن و سنت کے خلاف ہیں، اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو ایسا حکم دیتے ہیں۔

اسلامی قانون اور مغربی قوانین ایک تقابلی جائزہ

مولانا مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی

اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اللہ کی طرف سے جو تعلیم دینے کے لیے مامور کیے جاتے ہیں، اس تعلیم کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک اخلاقی تعلیم، دوسرے قانونی تعلیم (شریعت)۔ قانون میں اخلاقی اصولوں کی آمیزش کا ٹھیک ٹھیک تناسب بھی پیغمبر قائم کرتے ہیں، تاکہ اخلاقی اصولوں اور انسانی فطرت کے تقاضوں کے مابین توازن قائم رہ سکے۔ کچھ پیغمبروں کا مشن اخلاقی تعلیم کے ساتھ قانونِ شریعت کا نفاذ بھی رہا ہے اور کچھ پیغمبروں کا مشن صرف اخلاقی تعلیم تک محدود رہا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اخلاقی تعلیم کے ساتھ شریعت الہٰی کا نفاذ بھی فرمایا۔ مگر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام صاحبِ شریعت نہ تھے، اجرائے شریعت کی نوبت آنے سے پہلے ہی دنیا میں ان کی نبوت کا مشن ختم ہو گیا، اس لیے ان کے ارشادات میں ہمیں اخلاق کے ابتدائی اصول ہی مل پاتے ہیں۔ نبوت کے سلسلہ زریں کی آخری کڑی خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم نہ صرف معلم اخلاق اور صاحب شریعت تھے بلکہ قانون شریعت الہٰی کی تکمیل بھی آپ ہی پر ہوئی۔ (الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی تعلیم میں فرمایا گیا ہے:

’’جسے خدا نے جوڑا، اسے آدمی جدا نہ کرے‘‘ (متی 6:19)

قرآن مجید میں ہے:

الذین ینقضون عہد اللہ من بعد میثاقہ و یقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ویفسدون فی الارض اولئک ھم الخاسرون (بقرہ 3) 
’’جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور ان تعلقات کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، یقیناً‌ وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

’’جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسرا بیاد کرے وہ زنا کرتا ہے۔‘‘ (متی 19 : 19)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ابغض الحلال الی اللہ الطلاق‘‘ 
’’اللہ کے نزدیک جائز کاموں میں سب سے زیادہ برا کام طلاق ہے۔‘‘ (روایت ابوداؤد، مشکوٰۃ، باب الخلع والطلاق، الفصل الاول صفحہ 283) 

ہر دو پیغمبروں کے ان ارشادات کا تعلق اخلاقی ہدایات سے ہے نہ کہ قانون شریعت ہے۔ ان ہدایات میں اشخاص کو تعلیم دی گئی ہے کہ شریعت کے قانون پر عمل پیرا ہونے میں وہ مذکورہ ہدایات کو پیش نظر رکھیں۔ 

سینٹ پال نے حضرت مسیحؑ کی ان اخلاقی ہدایتوں کو لے کر اپنے آپ کو شریعتِ الہٰی سے بے نیاز سمجھ لیا، اور ان اخلاقی اصولوں پر خود قانون سازی کا کام شروع کر دیا۔ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ارشاد کہ ’’جسے خدا نے جوڑا، اسے آدمی جدا نہ کرے‘‘ کو لے کر یہ قانون بنایا کہ ایک مرتبہ نکاح ہونے کے بعد کبھی جدائی نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ تعلق خدا نے جوڑا ہے اور آدمی اس کو توڑنے کا حق نہیں رکھتا۔ اب رہی یہ آیت کہ ’’جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑے اور دوسرا بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے‘‘،  کیونکہ یہ آیت پہلی آیت سے ٹکراتی ہے کہ اس میں حرام کاری کی وجہ سے چھوڑنے کی اجازت ملتی ہے، اس لیے اس آیت کی دو طرح سے توجیہ کی گئی ہے:

صدیوں تک مسیحی دنیا اس پر عمل کرتی رہی اور نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی عقل کے تراشے ہوئے اس غیر فطری قانون کی بدولت مسیحی دنیا میں بد اخلاقی پھیلتی چلی گئی۔ اس شدید اور ناقابل عمل قانون سے بچنے کے لیے مسیحی علماء نے طرح طرح کے شرعی حیلے نکال رکھے تھے:

ایک حیلہ یہ تھا کہ کسی طور پر یہ ثابت کیا جائے کہ مرد و عورت نے ساتھ رہنے کا جو عہد کیا تھا وہ ان سے بلا اِرادہ سرزد ہو گیا تھا تو اس صورت میں مذہبی عدالت بطلانِ نکاح (Nullity) کا فیصلہ کر دے گی۔ اور نکاح باطل ہونے کا یہ مطلب تھا کہ سرے سے کوئی نکاح ہوا ہی نہیں، اب تک ان میں ناجائز تعلقات تھے اور ان سے جو اولاد ہوئی وہ حرامی اولاد تھی۔ 

کلیسائے روم کے مذہبی قانون (Cannon Law) میں تفریق کے لیے چھ صورتیں تجویز کی گئی تھیں, (1) زنا یا خلافِ فطرت جرائم (2) نا مردی (3) ظالمانہ برتاؤ (4) کفر (5) ارتداد (6) زوجین کے درمیان خونی رشتوں میں سے کوئی رشتہ نکل آنا۔ 

مذکورہ چھ صورتوں میں قانونی چارہ کار یہ تجویز کیا گیا کہ زوجین ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں اور ہمیشہ تجرد کی زندگی بسر کریں۔ اس قانونی تفریق (Judicial Separation) کے معنی رشتۂ نکاح کے پورے طور پر ختم ہونے (Divorce) کے نہیں تھے کہ اس کے بعد بھی زوجین میں سے کوئی دوسرا نکاح کر سکے۔ 

رومن چرچ کے مقابلے میں مذہبی کلیسا (Orthidic Eastern Church) نے نسبتاً‌ ایک بہتر اور قابل عمل قانون بنایا۔ اس کے نزدیک زوجین کو حسب ذیل وجوہ کی بنا پر بند نکاح سے آزاد کیا جا سکتا ہے: (1) زنا اور اس کے مقدمات (2) ارتداد (3) شوہر کا اپنی زندگی کو قسیس کی حیثیت سے مذہبی خدمت کے لیے وقت کر دینا (4) بغاوت (5) نشوز (6) نامردی (7) جنون (8) برص و جذام (9) طویل مدت کے لیے قید (10) باہمی نفرت اور مزاج کی ناموافقت۔

واضح رہے کہ مذہبی کلیسا کو فقہ اسلامی سے متاثر ہونے کے بہت زیادہ مواقع ملے، اس لیے اس کے قانون میں اسلامی فقہ کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ لیکن مغربی ملکوں کے مذہبی پیشوا مشرقی کلیسا کے اس قانون کو نہیں مانتے۔ 

انقلاب فرانس سے پہلے تک یورپ کے زیادہ تر ملکوں میں رومن چرچ کا مذہبی قانون چلتا تھا۔ انقلابی دور میں جب آزاد تنقید اور آزادئ فکر کی ہوا چلی تو سب سے پہلے فرانس نے اس مذہبی قانون کی کمزوریوں کو دیکھ کر سرے سے اس مذہبی قانون کا جوا ہی اپنے کندھے سے اتار پھینکا۔ اس کے بعد آزادی کی یہ ہوا دوسرے ملکوں تک پہنچی اور رفتہ رفتہ انگلستان، جرمنی، آسٹریلیا، بیلجیم، ہالینڈ، سویڈن، ڈنمارک، سوئزرلینڈ وغیرہ ملکوں نے بھی مذہبی قانون چھوڑ کر اپنے اپنے جداگانہ قوانین نکاح و طلاق وضع کر لیے۔ 

مذہبی قانون سے آزاد ہو جانے کے بعد مغربی ملکوں میں جو ازدواجی قانون وضع کیے گئے ہیں ان کے بنانے میں اگرچہ سینکڑوں ہزاروں دماغوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ حصہ لیا ہے اور تجربات کی روشنی میں برابر اصلاحیں کی جاتی رہی ہیں لیکن ان سب کوششوں کے باوجود ان کے قوانین میں وہ اعتدال اور توازن پیدا نہیں ہو سکا جو عرب کے ایک اُمّی کے پیش کیے ہوئے قوانین میں پایا جاتا ہے۔ 

مثال کے طور پر انگلستان میں 1857ء سے پہلے زنا اور ظالمانہ برتاؤ کی وجہ سے زوجین میں تفریق کی جا سکتی تھی، مگر طلاق نہیں تھی کہ اس کے بعد زوجین میں سے کوئی دوسرا نکاح کر سکے۔ پھر 1857ء میں زنا اور ظالمانہ برتاؤ کے علاوہ تعلقات زوجیت کا انقطاع (Desertion) کو بھی شامل کیا گیا، بشرطیکہ یہ انقطاع دو سال یا اس سے زیادہ مدت تک جاری رہا ہو۔ یہ اسلامی قانون ایلاء کی ایک ناقص نقل تھی۔ 1857ء ہی کے قانون میں ایک تبدیلی اور کی گئی کہ تفریق کے ساتھ طلاق کو بھی جائز کیا گیا۔ مگر طلاق کے لیے شرط لگائی گئی کہ مرد اور عورت عدالت سے رجوع کریں، بطور خود طلاق کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اور عدالت کے لیے طلاق کی ڈگری دینے کی صرف ایک ہی صورت رکھی گئی کہ دونوں میں سے جو طلاق لینا چاہے، وہ دوسرے فریق کا مرتکب زنا ہونا ثابت کرے۔ اس قانون میں شوہر کو یہ حق بھی دیا گیا کہ اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کے ناجائز دوست سے اپنی بیوی کی عصمت کا ہرجانہ بھی وصول کر سکتا ہے۔ 

1886ء میں قانون بنایا گیا جس میں عدالت کو اختیار دیا گیا کہ اگر وہ چاہے تو نکاح توڑنے کے ساتھ ساتھ ’’خطا کار‘‘ شوہر سے عورت کو نفقہ دلوا سکتی ہے۔ 

1907ء کے قانون میں شوہر کے خطا کار ہونے کی شرط اڑا دی گئی اور عدالت کو یہ اختیار دیا گیا کہ جہاں مناسب سمجھے مطلقہ عورت کے نفقہ کی ذمہ داری مرد پر ڈال دے۔ ہندوستانی قانون کی دفعہ 125 اسی کی نقل ہے۔ 

انگلستان کے بہترین دماغوں کی پچاس برس کی پے در پے محنت کے بعد انیسویں صدی کے آخر میں 1895ء میں ایک قانون بنایا گیا کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتیوں کی وجہ سے گھر چھوڑ کر چلی جائے تو عدالت شوہر کو اس کے پاس جانے سے روک دے گی، بچوں کو عورت کے پاس رکھنے کا مجاز قرار دے گی۔ اور اگر اس صورت میں عورت زنا کی مرتکب ہے تو اس کے خلاف شوہر کا طلاق کا دعویٰ قابل سماعت نہ ہوگا۔ 

1910ء میں طلاق اور ازدواجی معاملات پر غور کرنے کے لیے ایک شاہی کمیشن مقرر کیا گیا تھا جس نے تین سال کی محنت کے بعد 1912ء کے آخر میں رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں دیگر سفارشات کے علاوہ ایک سفارش یہ تھی، جسے قبول کر کے 1923ء کے قانون Matrimonial Cases Act میں شامل کیا گیا کہ 

’’طلاق کے اسباب اور وجوہات کے اعتبار سے مرد اور عورت دونوں کو مساوی قرار دیا جائے۔ مثلاً‌ اگر شوہر ایک بار بھی زنا کا مرتکب ہو تو عورت اس سے طلاق لے سکے۔‘‘

انگلستان کے یہ بہترین دماغ عورت یا مرد کے ارتکابِ زنا کا فطری فرق تک نہ سمجھ سکے اور اس قانون کی بدولت عورتوں کی طرف سے اپنے شوہروں کے خلاف طلاق کے مقدموں کی بھر مار ہو گئی۔ یہاں تک کہ عدالتیں پریشان ہو گئیں اور — میں لارڈ مری ویل (Lord Merrivale) کو ان کی روک تھام کرنی پڑی۔ 

آئر لینڈ اور اٹلی کے قوانین پر رومن چرچ کا اثر ہے اور وہاں رشتۂ نکاح اب تک ناقابلِ انقطاع ہے۔ بعض صورتوں میں قانونی تفریق ہو جاتی ہے مگر قانونی تفریق کے بعد زوجین نہ مل سکتے ہیں، نہ آزاد ہو کر نکاح ثانی کر سکتے ہیں:

؏    کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

فرانس میں قانونِ ازدواج بہت سے نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ انقلاب کے بعد طلاق کو نہایت آسان کر دیا گیا تھا۔ نپولین کے قانون میں اس پر کچھ پابندیاں لگائی گئیں۔ 1816ء میں طلاق قطعاً‌ ممنوع کر دی گئی۔ 1884ء میں طلاق پھر جائز کی گئی۔ اس کے بعد 1886ء، 1907ء اور 1924ء میں طلاق کے لیے مختلف قانون بنائے گئے جس میں طلاق کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے 

اس قانون میں اسلامی قانون کے قانونِ عدت کی ناقص نقل کرتے ہوئے طلاق کے بعد تین سو دن کی عدت مقرر کی گئی۔ اسلام میں عدت کی اصل غرض براءتِ رحم ہے کہ مرد سے الگ ہونے کے بعد یہ اطمینان کر لیا جائے کہ عورت حاملہ تو نہیں ہے۔ اس کے لیے اسلام نے فطری صورت تین حیض اختیار کی ہے۔ البتہ حاملہ کی عدت وضعِ حمل ہے۔ اس فطری صورت کے مقابلہ میں تین سو دن یا دس ماہ کی عدت کے لیے فطری بنیاد کیا ہے؟ 

آسٹریلیا، بیلجیم، سوئزر لینڈ اور ناروے میں مرد اور عورت صرف باہمی رضا مندی سے ہی طلاق کی ڈگری حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ بھی اسلام کے قانونِ ضلع کی ایک ناقص سی نقل ہے۔ 

جرمنی میں زوجین اگر مسلسل ایک سال تک ایک دوسرے سے لاتعلق رہیں تو طلاق ہو سکتی ہے۔ اس میں اسلام کے قانونِ ایلاء کا ایک دھندلا سا عکس ہے۔ 

سوئزر لینڈ میں یہ مدت تین سال ہے اور ہالینڈ میں پانچ سال۔ دوسرے ملکوں کے قانون اس باب میں خاموش ہیں۔ 

سویڈن میں شوہر کے لاپتہ ہونے پر مدتِ انتظار چھ سال ہے اور ہالینڈ میں دس سال۔ دوسرے ملکوں نے اس سلسلہ میں کوئی قانون وضع نہیں کیا۔ 

پاگل پن کی صورت میں جرمنی، سویڈن اور سوئزر لینڈ میں تین سال کی مہلت ہے، باقی ملکوں میں اس کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ بیلجیم میں مطلقہ کی عدت دس ماہ ہے، فرانس میں تین سو دن۔ باقی ملکوں میں عدت کا کوئی قانون نہیں ہے۔ 

آسٹریلیا کا قانون یہ ہے کہ اگر مرد یا عورت میں سے کسی کو پانچ سال قید کی سزا ہو جائے تو طلاق کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ بیلجیم میں صرف سزایاب ہونا طلاق کے دعوے کے لیے کافی ہے۔ سویڈن اور ہالینڈ میں اس کے لیے حبسِ دوام کی شرط ہے۔ 

یورپ کے ملکوں میں طلاق کے قانون ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں مگر ناقص اور غیر معتدل ہونے میں سب متفق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ایک مکمل اور معتدل قانون بنانے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ 

اس کے مقابلے میں اسلامی قانون کو جو شخص انصاف کی نظر سے دیکھے گا اس کو ماننا پڑے گا کہ عدل، توازن، فطرتِ انسانی کی رعایت، فتنوں کا سدباب، اخلاق کی حفاظت، تمدنی مصالح کی نگہداشت اور ازدواجی زندگی کے تمام مسائل و معاملات میں اسلامی قانون حدِ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ پھر اس نمایاں فرق کے باوجود اگر انسان اپنے زندگی کے معاملات میں ہدایتِ الہٰی کی ضرورت سے انکار کرے تو اس کو حماقت کے سوا اور کیا عنوان دیا جا سکتا ہے؟ 

ایک نظر کامن سول کوڈ پر 

یورپ کے مختلف ملکوں کے قوانین کے ساتھ ایک نظر کامن سول کوڈ پر بھی ڈال لی جائے جو ہندوستانی آئین کے رہنما اصولوں میں جگہ پا چکا ہے۔ بھارت کا آئین حصہ 4 مملکت کی حکمت عملی کے ہدایتی اصول (Directive Principles) کے عنوان کے تحت دفعہ 44 میں کہا گیا ہے کہ

The State shall endeavor to secure for citizens a uniform civil code throughout the territory of India.
’’مملکت یہ کوشش کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقہ میں شہریوں کے لیے یکساں مجموعۂ قانونِ دیوانی کی ضمانت ہو۔‘‘ (صفحہ 58 بھارت کا آئین، شائع کردہ ترقئ اردو بیورو 1982ء) 

اس یکساں قانونِ دیوانی کے بظاہر چار نشانے ہوں گے:

  1. نسلِ انسانی کی بقا۔ (مگر اقتصادی خوشحالی کی خاطر کثرتِ آبادی پر کنٹرول کے ساتھ)
  2. ایک متحد قوم اور متحدہ وطنی قومیت کی تشکیل۔
  3. معاشرتی معاملات میں ہر مرد اور ہر عورت کی مکمل اور مساوی آزادی۔
  4. معاشرتی معاملات سے مذہب کی بے دخلی۔

یہ یکساں قانون اپنے اصول اور مقاصد دونوں میں اسلامی قانون سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہوگا۔ مثلاً‌:

  1. اسلامی قانون کہتا ہے کہ نکاح ان معاملات میں سے ہے جو دین و شریعت کے دائرہ بحث میں شامل ہے اور اسی لیے یہ فعل عبادت بھی ہے۔ کامن سول کوڈ کہتا ہے کہ نکاح کا معاملہ خالص دنیوی اور تمدنی معاملہ ہے، اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
  2. اسلامی قانون کہتا ہے کہ نکاح کے جائز ہونے کے لیے ہم دینی کی شرط لازم ہے۔ کامن سولی کوڈ کہتا ہے کہ جوازِ نکاح کے لیے ہم دینی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بلاتامل شادی ہو سکتی ہے۔
  3. اسلامی قانون کہتا ہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کے نکاح کے معاملہ میں ان کے سرپرستوں کو بھی ایک حد تک دخل حاصل ہے۔ کامن سول کوڈ کہتا ہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کے معاملہ میں ان کے سرپرستوں کو مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، وہ بھی مردوں کی طرح اپنے نکاح کے معاملے میں آزاد اور خودمختار ہیں۔
  4. اسلامی قانون کہتا ہے کہ بعض اہم چیزوں خصوصاً‌ دین و تقویٰ کے معاملہ میں مرد کو عورت کا کفو اور ہمسر ہونا چاہیے۔ کامن سول کوڈ کہتا ہے کہ  کفاءت اور ہمسری کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
  5. اسلامی قانون کہتا ہے کہ اگرچہ عام معمول یہی ہونا چاہیے کہ شادیاں بلوغ کے بعد کی جائیں مگر نابالغی میں بھی نکاح کی اجازت ہے۔ کامن سول کوڈ کہتا ہے کہ بلوغ ہی نہیں، قانونی بلوغ سے پہلے نکاح خلافِ قانون ہے۔
  6. اسلامی قانون کہتا ہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے کم از کم دو مسلمان گواہوں کی موجودگی ضروری ہے۔ کامن سول کوڈ کہتا ہے کہ نکاح کے صحیح اور قانونی طور پر جائز ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ مرد اور عورت میرج آفیسر کے دفتر میں جا کر شادی کا اندراج کرا دیں۔ 

اسلامی قانون اور کامن سول کوڈ کے اصول و مقاصد پر ایک سرسری نظر ڈال کر ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلامی قانون کس قسم کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے اور کامن سول کوڈ کس قسم کا معاشرہ تیار کرے گا۔ اسلامی قانون ایسا معاشرہ بناتا ہے جو بنیادی اکائی سے لے کر اوپر کے وسیع خاندان تک ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح آپس میں جڑا ہوا ہو۔ ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ جس کے اندر جنسی بے راہ روی کے امکانات کم سے کم ہوں۔ ایسا آزاد اور منضبط معاشرہ جس میں اپنے نکاح کے معاملہ میں افراد کی مصلحتوں کی پابندی بھی ہے۔ اس معاشرہ کے افراد آپس کے حقوق اندرونی داعیہ اور مذہبی ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں، نہ کہ صرف قانون کا مطالبہ سمجھ کر۔ کیا کامن سول کوڈ ان اہم معاشرتی تقاضوں کو پورا کر سکے گا، بلکہ کیا وہ خود اپنے مقرر کردہ نشانے بھی حاصل کر سکے گا؟

خاندانی نظام

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

عائلی زندگی معاشرے کا وہ بنیادی پتھر ہے جس پر تہذیب و تمدن کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر معاشرے میں خاندانی نظام کا ڈھانچہ توڑ پھوڑ اور افراتفری کا شکار ہو، تو خواہ زمینیں سونا اگل رہی ہوں، یا مشینوں سے لعل و جواہر برآمد ہو رہے ہوں، زندگی سکون سے محروم جاتی ہے۔ آج یورپ اور امریکہ کی وہ دنیا جو سیاسی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے لیے قابل رشک سمجھی جاتی ہے، خاندانی نظام کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے اسی سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دولت کی ریل پیل اور تیز رفتار مادی ترقی کے باوجود لوگ ایک انجانے اضطراب کا شکار ہیں۔ اپنی اندرونی بے چینی سے گھبرا کر کوئی یوگا کے دامن میں پناہ لے رہا ہے، کوئی منشیات اور خواب آور دواؤں میں سکون ڈھونڈ رہا ہے، اور بالآخر جب ان میں سے کوئی چیز اس بے چینی کا علاج نہیں کر پاتی تو آخری چارہ کار کے طور پر لوگ خود کشی کر رہے ہیں، اور خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے میں سوئزر لینڈ میں تھا۔ میرے میزبانوں نے آمد و رفت کے لیے جس گاڑی کا انتظام کیا تھا، اس کا ڈرائیور ایک اطالوی نسل کا تعلیم یافتہ آدمی تھا اور انگریزی روانی سے بول لیتا تھا۔ وہ چند روز میرے ساتھ رہا۔ اس کی عمر تقریباً چالیس سال کو پہنچ رہی تھی لیکن ابھی تک اس نے شادی نہیں کی تھی۔ میرے وجہ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں شادی اکثر اس لیے بے مقصد ہو جاتی ہے کہ شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان زندگی کی پائیدار رفاقت کا تصور بہت کمیاب ہے۔ اس کے بجائے شادی ایک رسمی تعلق کا نام رہ گیا ہے جس کا مقصد بڑی حد تک ایک دوسرے سے مالی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین شادی کے بعد جلد ہی طلاق حاصل کر لیتی ہیں اور یہاں کے قوانین کے مطابق شوہر کی جائیداد کا بڑا حصہ ہتھیا کر اسے دیوالیہ کر جاتی ہیں۔ اور یہ پہچاننا مشکل ہوتا ہے کہ کون سی عورت صرف شوہر کی جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے شادی کر رہی ہے اور کون وفاداری کے ساتھ زندگی گزرانے کے لیے۔ 

اس نے حسرت بھرے انداز میں یہ بات کہہ کر ساتھ ہی یہ تبصرہ بھی کیا کہ آپ کے ایشیائی ممالک میں شادی واقعی بامقصد ہوتی ہے۔ اس سے ایک جما ہوا خاندان وجود میں آتا ہے جس کے افراد آپس میں دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں۔ ہم ایسے خاندانی ڈھانچے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین یا بہن بھائی تمہیں اچھی بیوی کی تلاش میں مدد نہیں دیتے؟ اس نے یہ سوال بڑے تعجب کے ساتھ سنا اور کہنے لگا کہ میرے والدین تو رخصت ہو چکے، بہن بھائی ہیں، لیکن ان کا میری شادی سے کیا تعلق؟ ہر شخص اپنے مسائل کو خود ہی حل کرتا ہے، میری تو ان سے ملاقات کو بھی سال گزر جاتے ہیں۔ 

یہ ایک ڈرائیور کے تاثرات تھے۔ (واضح رہے کہ یورپ کے سفید فام ڈرائیور بھی اکثر پڑھے لکھے اور بعض اوقات خاصے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ جس ڈرائیور کا میں نے ذکر کیا اس کا نام آرلینڈو تھا، وہ گریجویٹ تھا اور تاریخ، جغرافیہ اور بہت سے سماجی معاملات پر اس کا مطالعہ خاصا تھا) ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے ذاتی حالات کی وجہ سے کچھ مبالغے سے بھی کام لیا ہو، لیکن مغرب میں خاندانی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر زیادہ دلائل قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات پوری دنیا میں مشہور و معروف ہے۔ مغرب کے اہل فکر اس پر ماتم کر رہے ہیں اور جوں جوں اس کا علاج کرنا چاہتے ہیں، اتنی ہی تیز رفتاری سے خاندان کا ڈھانچہ مزید تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ 

سابق سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گوربا چوف اب دنیا کے سیاسی منظر سے تقریباً‌ غائب ہو چکے ہیں لیکن ان کی کتاب (Perestroika) جو انہوں نے اپنے اقتدار کے زمانے میں لکھی تھی، نہ صرف سوویت یونین بلکہ پورے مغرب کے سماجی اور معاشی نظام پر ایک جرأت مندانہ تبصرے کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے بعض حصوں میں آج بھی غور و فکر کا بڑا سامان ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ’’خواتین اور خاندان‘‘ کے عنوان سے خاندانی نظام کی شکست و ریخت پر بھی بحث کی ہے۔ انہوں نے شروع میں لکھا ہے کہ تحریک آزادئ نسواں کا یہ پہلو تو بے شک قابل تعریف ہے کہ اس کے ذریعے عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق ملے۔ عورتیں زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے قابل ہوئیں اور اس کے نتیجے میں ہماری معاشی پیداوار میں اضافہ ہوا، لیکن آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:

’’لیکن اس اپنی مشکل اور جرأت مندانہ تاریخ کے پچھلے سالوں میں ہم خواتین کے ان حقوق اور ضروریات کی طرف توجہ دینے میں ناکام رہے جو ایک ماں اور گھرستن کی حیثیت میں نیز بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں ان کے ناگزیر کردار سے پیدا ہوتے ہیں۔ خواتین چونکہ سائنسی تحقیق میں مشغول ہو گئیں، نیز زیر تعمیر عمارتوں کی دیکھ بھال میں، پیداواری کاموں اور خدمات میں اور دوسری تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہیں، اس لیے ان کو اتنا وقت نہیں مل سکا کہ وہ خانہ داری کے روز مرہ کے کام انجام دے سکیں، بچوں کی پرورش کر سکیں اور ایک اچھی خاندانی فضا پیدا کر سکیں۔ اب ہمیں اس حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ ہمارے بہت سے مسائل جو بچوں اور نوجوانوں کے ذریعے، ہماری اخلاقیات، ثقافت اور پیداواری عمل سے تعلق رکھتے ہیں، اس وجہ سے بھی کھڑے ہوئے ہیں کہ خاندانی رشتوں کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے اور خاندانی فرائض کے بارے میں ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پروان چڑھا ہے۔ ہم نے عورتوں کو ہر معاملے میں مردوں کے برابر قرار دینے کی جو مخلصانہ اور سیاسی اعتبار سے درست خواہش کی تھی، یہ صورتحال اس کا تضاد آفرین نتیجہ ہے۔ اب اپنی تعمیر نو کے دوران ہم نے اس خامی پر قابو پانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پریس میں، عوامی تنظیمات میں، کام کے مقامات میں، اور خود گھروں میں ایسے گرما گرم مباحث منعقد کر رہے ہیں جن میں اس سوال پر بحث کی جاری ہے کہ عورت کو اس کے خالص نسوانی مشن کی طرف واپس لانے کے لیے ہمیں کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘ (Perestroika, P 117, Ed 1987) 

یہ ایک ایسے سیاسی لیڈر کا تبصرہ ہے جس کے معاشرے میں خاندان سے متعلق یا مرد و عورت کے حقوق و فرائض کے بارے میں کسی قسم کی مذہبی اقدار کا کوئی تصور یا تو موجود نہیں ہے یا اگر ہے تو اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ لہٰذا خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ پر اس کا اظہار افسوس کسی اعلیٰ آسمانی ہدایت کے زیر اثر نہیں بلکہ اس کے صرف ان نقصانات کی بنا پر ہے جو ٹھیٹھ مادی زندگی میں اسے آنکھوں سے محسوس ہوئے۔ 

ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم صرف ظاہری اور مادی یا دنیوی نفع و نقصان کے نہیں، بلکہ ان آسمانی ہدایات کے بھی پابند ہیں جو قرآن و سنت کے واسطے سے ہمارے لیے واجب الفعل ہیں۔ لہٰذا خاندانی نظام کی ابتری صرف ہمارا سماجی اور معاشرتی نقصان ہی نہیں ہے بلکہ ہمارے عقیدے، ہمارے نظریۂ حیات اور ہمارے دین کے لحاظ سے ایک بہت بڑا فساد ہے جو ایک مسلم معاشرے میں کسی بھی طرح قابل برداشت نہیں۔ 

جب سے ہمارے درمیان مغربی افکار کا ایک سیلاب امڈا ہے بالخصوص جب سے ٹی دی، ویڈیو اور انگریزی فلموں کی بہتات نے ہمارے معاشرے پر ثقافتی یلغار شروع کی ہے، اس وقت سے ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر انہی معاشرتی تصورات کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کی داغ بیل مغرب نے ڈالی تھی۔ الحمد اللہ ابھی ہمارا خاندانی نظام درہم برہم نہیں ہوا لیکن جس رفتار سے مغربی ثقافت ہمارے درمیان پھیل رہی ہے، انگریزی فلموں کے سیلاب نے مغربی طرز زندگی کو جس طرح گھر گھر اور گاؤں گاؤں پھیلا دیا ہے، جس طرح بے سوچے سمجھے خواتین کو گھروں سے نکالنے اور انہیں ایک عاملِ معیشت (Factor of Production) بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، اور گھر اور خاندان کے بارے میں اسلامی تعلیمات جس تیزی کے ساتھ دوری اختیار کی جا رہی ہے، وہ مستقبل میں ہمارے خاندانی نظام کے لیے ایک زبردست خطرہ ہے۔ جس کی روک تھام آج ہی سے ضروری ہے اور اس روک تھام کا طریقہ اسلام کی ان معقول تعلیمات کی ٹھیک ٹھیک پیروی کے سوا کچھ نہیں جو نہ مشرقی ہیں نہ مغربی، جن کا ماخذ و منبع وحی الہٰی ہے اور وہ ایک ایسی ذات کی وضع کردہ تعلیمات ہیں جو انسان کے حال و مستقبل کی تمام ضروریات سے بھی پوری طرح باخبر ہے اور انسانی نفس کی ان چوریوں کو بھی خوب جانتی ہے جو زہر ہلاہل پر قند و شکر کی تہیں چڑھانے میں مہارت تامہ رکھتی ہے۔ 

لہٰذا ہمارا کام وقت کے ہر چلے ہوئے نعرے کے پیچھے چل پڑنا نہیں ہے بلکہ اسے قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ ہمارے مزاج و مذاق کے مطابق ہے یا نہیں؟ جب تک ہم میں یہ جرأت اور یہ بصیرت پیدا نہ ہوگی، ہم باہر کی ثقافتی یلغار کے لیے ایک تر نوالہ بنے رہیں گے، اور ہماری اجتماعی زندگی کی ایک ایک چول رفتہ رفتہ ہلتی چلی جائے گی۔

(روزنامہ جنگ کراچی، ۸ مئی ۱۹۹۶ء)

خاندانی نظام کا تحفظ

عمران خان

یہ محض اتفاق کی بات نہیں ہے کہ برطانیہ کی ثقافت کو اس وقت عروج حاصل ہوا جب وہاں اخلاقی قدروں اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس پایا جاتا تھا۔ انیسویں صدی کے شروع میں ناجائز پیدائش کی شرح حیران کن حد تک زیادہ تھی۔ کچھ سروے رپورٹوں کے مطابق یہ شرح ۱۲ فیصد تھی۔ صدی کے اواخر تک یہ شرح کم ہو کر ۳ سے ۴ فیصد ہو گئی۔ 

اس کی توجیہ بالکل سادہ ہے۔ وکٹورین عہد میں بے راہروی کی مذمت کی جاتی تھی اور مضبوط مسیحی اقدار کے پیمانے پر معاشرے کو پرکھا جاتا تھا۔ خاندان اور معاشرے کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کیا جاتا تھا۔ کوئی بھی ایسی چیز جس سے انہیں خطرہ لاحق ہو، معاشرہ میں بری سمجھی جاتی تھی۔ کھلے عام بے حیائی کی ممانعت کر کے معاشرتی وقار کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ یوں مضبوط خاندان اور مضبوط معاشرہ وجود میں آیا۔ ایک طلاق یافتہ آدمی کو سرکاری دفاتر کے لیے غیر موزوں تصور کیا جاتا تھا۔ 

۱۹۶۰ء کے عشرہ میں برطانیہ میں صورتحال اس کے بالکل برعکس تھی۔ وہ معاشرہ جو قدرے قدامت پسند معاشرہ تھا، جنس، منشیات اور راک اینڈ رول کلچر کا شکار ہو گیا، جس میں نہ صرف برائی کی طرف سے چشم پوشی برتی گئی بلکہ کھلے بندوں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب نوجوانوں نے بزرگوں کے خلاف بغاوت کر دی اور یوں خود کو اس حکمت سے محروم کر لیا جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ اس کا فوری نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ برائی فیشن کا حصہ بن گئی۔ منشیات، آزاد جنسی تعلقات، عیاشی اور بدکاری رواج پا گئے۔ طلاق کی شرح میں اضافہ ہو گیا اور گھریلو ناچاقیاں انتہا کو پہنچ گئیں۔ اس وقت برطانیہ میں طلاق کی شرح ۵۰ فیصد ہے۔ برطانیہ میں ۳۳ فیصد اور امریکہ میں ۳۵ فیصد بچے شادی کے بغیر ہی جنم لیتے ہیں۔

اس موجودہ تکلیف وہ صورتحال کے ذمہ دار ذرائع ابلاغ ہیں جو بے راہ روی کو پھیلا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر Pretty Women باکس آفس پر ہٹ ہوئی۔ موجودہ دور کی امریکی فلموں میں اس نے ایک کلاسک کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرہ کس حد تک ابتری کا شکار ہو چکا ہے۔ My Fair Lady میں سنڈریلا، جو ایک خوبصورت پریوں کی کہانی تھی (جس میں ایک رئیس ایک غریب لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے) کو موجودہ زمانے کی ضرورت کے مطابق تبدیل کر لیا گیا ہے۔ اب ایک امریکی مالدار شخص ایک بازاری عورت کے قدموں میں گرتا ہے۔ دوسری اسی قسم کی فلمیں انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ تشدد، جرائم، جنگ اور آزادانہ جنسی تعلقات کو فروغ دے رہی ہیں۔ 

جمہوریت معاشرہ میں جو آزادی لاتی ہے اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور اسے جو جی چاہے وہی کرنے کی آزادی سمجھا جا رہا ہے۔ امریکہ میں فحش نگاری کا ایک ارب (Billion) روپے کا کاروبار ہے جو موسیقی کے کاروبار کے بعد سب سے زیادہ آمدنی دینے والا کاروبار ہے۔ خاندان کے ٹوٹنے کے بہت دور رس عواقب ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ۸۰ فیصد کالے بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے کالوں میں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے اور وہ تعلیمی لحاظ سے سب سے پیچھے ہیں۔ اس کے برعکس اسی ملک میں ایشیائی لوگوں میں، جو اپنے خاندانی نظام کے لیے مشہور ہیں، طلاق کی شرح سب سے کم ہے اور تعلیمی میدان میں یہ سب سے آگے ہیں (تعلیمی میدان میں کامیابی کے لحاظ سے پہلی دو پوزیشنیں پاکستانیوں کی ہوتی ہیں)۔

اس کے علاوہ مغرب میں خاندانی نظام کو جس چیز نے نقصان پہنچایا وہ آزادئ نسواں کا وہ پہلو ہے جس میں یہ تصور کر لیا گیا کہ عورت بالکل مرد جیسی ہے۔ اس طرح مامتا کی قدر و قیمت کم ہو گئی ہے یہاں تک کہ اسے ظلم و جبر سمجھا جانے لگا۔ جب عورت معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے مسابقانہ رویہ اختیار کرتی ہے تو لا محالہ خاندان متاثر ہوتا ہے۔ کتب جیسا کہ Fight fire with fire جو مرد اور عورت کے درمیان جنگ کی تعلیم دیتی ہے، امریکہ میں ۹۳ء میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب تھی۔ اس کتاب نے اس مخالفت کی آگ کو ہوا دینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ 

ہم پاکستانی خوش قسمت ہیں جہاں ہمارے دیگر تمام ادارے تباہی کا شکار ہو چکے ہیں، خاندانی نظام ابھی باقی ہے۔ ہم اس معاملہ میں بھی خوش قسمت ہیں کہ ہماری مملکت ایک نظریاتی مملکت ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی اور بے راہروی کے خلاف سیکولر جمہوریتوں کی طرح بے دست و پا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر فحش نگاری اور ہم جنس پرستی جیسی برائیاں جو مغربی ممالک میں قانونی تحفظ حاصل کر چکی ہیں، اسلام میں ممنوع قرار دی گئی ہیں کیونکہ یہ خاندانی نظام کے لیے زہر قاتل ہیں۔

ہمارے خاندانی نظام کو ایک چھوٹے مگر انتہائی بارسوخ جنونی مغرب کے دلدادہ لوگوں کے گروہ سے خطرہ لاحق ہے، ان کا نعرہ ہے کہ مغرب کی تقلید کرنا ہی حقیقت میں ترقی کرنا ہے۔ اور یہ کہ اسلام از پاکستانی ثقافت قدامت پرست اور دقیانوسی ہے۔ ذرائع ابلاغ، بیوروکریسی اور تدریس اس چھوٹے سے گروہ کے قبضہ میں ہے۔ چونکہ یہ اسلام اور پاکستانی ثقافت کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، بنیاد پرستی سے لے کر حقوق نسواں، ایڈز، منشیات، انسانی حقوق تک ہر نعرہ باہر سے آیا ہے اور ان کے غیر اہم پہلوؤں پر زور دیا جاتا ہے اور ان سے متعلقہ حقیقی مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس گروہ کی وجہ سے ایک چھوٹا گروہ پیدا ہو گیا ہے جو مغرب کی ہر چیز سے نفرت کرتا ہے۔ ان دونوں انتہا پسند گروہوں نے اکثریت کے لیے متوازن سماجی بحث کے لیے حالات کو مشکل بنا دیا ہے۔ 

پاکستان میں عورتوں کو ہمیشہ ہی ان کے حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے معاشرہ میں جہاں صرف ایک قانون چلتا ہے، جنگل کا قانون، جہاں کمزور کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ وہ عورتیں جو اپنے حقوق سے محروم ہیں زیادہ تر ایسے طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں جہاں مردوں کے حقوق بھی بہت کم ہیں۔ لیکن ہمارے اعلیٰ طبقہ میں عورتوں کو جو مقام حاصل ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو مغرب کی عورتوں کو حاصل ہے۔ ہمارے ملک کی وزیراعظم ایک خاتون ہیں جبکہ امریکہ میں آج تک کوئی عورت چیف ایگزیکٹو نہیں بنی۔ جب ہمارے اعلیٰ طبقہ کی ایک خاتون کی چند سال قبل بے حرمتی کی گئی تو اس کی وجہ سے حکومت تک خطرے میں پڑ گئی۔ اس کا موازنہ امریکہ میں سالانہ دس لاکھ بے حرمتی کے ہونے والے واقعات سے کریں۔ 

پاکستانی خواتین کی تحریک امریکی خواتین کی تحریک سے مختلف ہے۔ یہاں کی اس جدوجہد کا حل تعلیم (خصوصاً‌ خواتین کی تعلیم) اور انصاف کے ذریعے ممکن ہے۔ ہمارے پہلے ہی سے تقسیم شدہ معاشرہ میں جنس کی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جو ان لوگوں کی پیدا کردہ ہے جو بدخواہ تو نہیں ہیں مگر راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ 

مزید برآں ہمیں اپنی خاندانی اقدار کی حفاظت کی خاطر پریس کی آزادی کے جال میں پھنس کر ایسی کہانیاں شائع نہیں کرنی چاہئیں جو جنسی ہیجان پیدا کرتی ہیں اور معاشرہ میں ناشائستگی پھیلاتی ہیں۔ اسلام، وکٹورین فلسفہ کی طرح، اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ فرد کو اپنے اور دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنا چاہیے۔ برطانوی شاہی خاندان کو اپنی جنسی بے راہروی کا عوام کے سامنے اعتراف کر کے کیا حاصل ہوا؟ وکٹورین عہد میں بھی شاہی خاندان میں یہی کچھ ہوتا تھا، مگر اپنے گناہوں پر پردہ ڈال کر انہوں نے اپنے وقار کو بھی قائم رکھا اور معاشرہ کا بھی تحفظ کیا۔ اسلام میں بدکاری کی واضح طور پر ممانعت ہے لیکن اس بات کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، کیونکہ انسان فطری طور پر کمزور ہے، کہ اگر وہ خاندان اور معاشرہ کے لیے کوئی غلطی کر بیٹھے تو وہ اس بات کا چرچا نہ کرے کیونکہ اس طرح کرنے سے وہ برائی معاشرہ میں قابلِ قبول بن جائے گی۔ 

ہماری حکومت مغربی دنیا پر یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ہم بنیاد پرست نہیں ہیں، اس حد تک مشتاق ہے کہ اس نے ہمیں محض مغربی دنیا کے مقلد کی حیثیت سے ۲۱ویں صدی میں لے جانے کے لیے انہیں کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ ٹی وی پر ایم ٹی وی (TV) اور زی ٹی وی (Zee TV) کے گھنیا چربے یوں پیش کیے جاتے ہیں گویا وہ ہماری ثقافت کا حصہ ہوں۔ ہمیں یقیناً‌ اپنے نوجوانوں کو کولہے مٹکانے کے علاوہ بھی کچھ دینا ہو گا۔ ٹی وی ڈراموں میں ہم ایک عجیب مخلوط نسل کی ثقافت کا نمونہ دیکھتے ہیں جو بھارتی اور مغربی ثقافت کا آمیزہ ہے۔ کیا ہمارے ٹی وی کو، جو عوام کے پیسے سے چلتا ہے، یہ پتہ نہیں کرنا چاہئے کہ کتنے فیصد عوام ایسے تماشوں کو پسند کرتی ہے۔ ہمارے ٹی وی کے اہلکاروں کا رویہ ویسا ہے جیسا کہ مغرب زدہ لوگوں کا، جو یہ سمجھتے ہیں کہ متوسط طبقہ اور دیہاتی عوام بہت دقیانوسی ہیں اور انہیں تہذیب سکھانے کی ضرورت ہے۔ 

قائد اعظم محمد علی جناح کے مطابق پاکستان کے قیام کی واحد وجہ مسلمانوں کی الگ واضح اقدار اور ثقافت رکھنے والی قومیت تھی۔ میرے خیال میں پاکستانی برقی ذرائع ابلاغ بھارت کی نقل کر کے ان کی بات کو غلط ثابت کر رہے ہیں۔ ایران میں انقلاب اس لیے آیا کہ وہاں کے ایک مغرور حکمران نے سوچا کہ ترقی کی واحد راہ مغرب کی تقلید ہے۔ اس قدر فراخ دلی سے ایک دوسرے تمدن کو اپنا کر انہوں نے اپنی بے حسی کا ثبوت دیا ہے اور اکثریت کے جذبات کی توہین کی ہے۔ اگر ہم پاکستان میں ایک بڑے معاشرتی انقلاب سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایران کی مثال سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ 

بلاشبہ مغرب کی بہت باتیں قابل ستائش بھی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم نے مغرب کے جن اطوار کو اپنایا ہے، وہ ہمارے لیے نہ صرف یہ کہ سود مند نہیں ہیں بلکہ ہمارے اس واحد ادارے کی تباہی کا باعث بن جائیں گے جو ابھی تک قائم ہے یعنی ہمارا خاندانی نظام۔

(روزنامہ جنگ لندن، جمعہ ۲۳ رجب المرجب ۱۴۱۶ھ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۵ء)

اسلام میں عورتوں کے حقوق

حضرت مولانا مفتی محمود

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے درج ذیل انٹرویو میں اسلام میں عورتوں کے حقوق اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ انٹرویو ماہنامہ ’’چلمن‘‘ لاہور کے مدیر جناب فرید الدین احمد نے لیا اور ’’چلمن‘‘ کے اگست ۱۹۷۳ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔

سوالات

پچھلے چھبیس سال میں جہاں ہم نے پاکستان میں اور بہت سے مسائل کو پیدا کیا اور پروان چڑھایا، وہاں ملک میں خواتین کے عدمِ تحفظ و احترام کا مسئلہ بھی ایک نہایت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ راہ چلتی عورتوں اور طالبات کو تنگ کرنا اور آوازے کسنا ایک عام بات ہو گئی ہے۔ اخبارات میں روزانہ خواتین کے اغوا، بے حرمتی اور حقوق تلفی کی خبریں اب معمول بن چکی ہیں اور ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ اب جبکہ ملک میں پہلی بار ایک عوامی دستور نافذ ہو چکا ہے، پاکستانی خواتین کے ذہن میں بجا طور پر یہ سوال ابھر رہا ہے کہ وہ عورت جو کبھی ہمارے معاشرے میں عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی اور محفوظ و مامون تھی، آج اس کی یہ بے قدری کیوں ہو رہی ہے؟ اس کے ساتھ ہی خواتین کے ذہن میں یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ افراد، قوم اور سیاسی رہنماؤں کی نظروں میں ان کے تحفظ اور تقدس کے مسائل کو کوئی اہمیت بھی حاصل ہے یا نہیں؟ 

خواتین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے ان ہی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ملک کی چار فعال سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں سے پانچ سوال کیے:

  1. عورت معاشرے کی بقا اور اعلیٰ اقدار کی آئندہ نسلوں میں ترویج و ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں عورت کا تقدس اور احترام ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اخبارات میں روزانہ خواتین کی حق تلفی اور بے حرمتی کی خبریں ہماری قومی غیرت اور حمیت کا مذاق اڑاتی ہیں۔ ان حالات میں عورت کا تقدس اور تحفظ بحال کرنے کے لیے آپ کے ذہن میں کیا عملی تجاویز ہیں؟
  2. آج کل لڑکیوں اور لڑکوں کو تقریباً ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم دی جا رہی ہے۔ کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟ اگر نہیں تو آپ کے خیال میں لڑکوں کے تعلیمی نصاب میں کن بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟
  3. ہمارے معاشرے میں عورت عام طور پر مرد کی محتاج اور مرہونِ منت ہے۔ اس کی اپنی کوئی انفرادی حیثیت نہیں۔ بہ حیثیت ایک مسلمان آپ اس صورت حال کو مناسب خیال کرتے ہیں؟ آپ کے خیال میں عورت کو بہتر معاشی تحفظ کس طرح فراہم کیا جا سکتا ہے؟
  4. مغربی ممالک کی دیکھا دیکھی اب ہمارے ملک میں بھی مردوں اور عورتوں میں دفاتر وغیرہ میں شانہ بشانہ کام کرنے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔ آپ عورتوں اور مردوں کے دائرہ کار میں کچھ فرق روا رکھتے ہیں یا مرد و وزن کی اس آزادانہ ہم دوشی کو مناسب خیال کرتے ہیں؟
  5. تجارتی اشیا کے اشتہارات میں عورتوں کی تصاویر کا عام رواج ہوتا جا رہا ہے۔ آپ اسے کن وجوہ کی بنا پر مناسب یا نامناسب خیال کرتے ہیں؟
(فرید الدین احمد)

جوابات

(۱) مولانا مفتی محمود صاحب نے عورت کے تحفظ اور تقدس کے بارے میں میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

اسلام میں عورتوں کے رہن سہن کے چار بنیادی اصول متعین ہیں۔ ان اصولوں کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ معاشرے سے فحاشی اور بدکرداری کا خاتمہ ہو جائے اور عورت کو معاشرے میں اس کا جائز مقام و منزلت اور احترام میسر آسکے۔ مثلاً‌:

  1. ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ عورت کا اپنے شوہر یا کسی اور محرم کے بغیر اکیلے سفر کرنا ناجائز ہے۔ عورت کے تنہا سفر کی ممانعت اس حد تک ہے کہ عورت حج جیسا فریضہ بھی خاوند یا محرم (باپ، بیٹا، بھائی) کے بغیر ادا کرنے کی مجاز نہیں۔
  2. اسی طرح کسی اجنبی غیر محرم عورت پر قصداً نظر ڈالنا بھی ممنوع ہے۔ اگر اتفاقاً‌ ایک نظر پڑ جائے تو دوبارہ نظر پر قابو رکھنا مومن کا فرض ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’ایک نظر کے پیچھے دوسری مت ڈالو‘‘۔
  3. تیسرا اصول یہ ہے کہ غیر محرم عورتوں اور مردوں کو ہاتھ ملانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح غیر محرم عورت کے جسم کے کسی بھی حصے کو چھونا منع ہے۔ سوائے اس صورت کے جب تشخیصِ مرض یا جان بچانے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہو۔
  4. چوتھے اصول کے تحت عورت کا غیر محرم کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا منع ہے۔ یہ اصول مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور پر پابند کرتے ہیں اور دونوں پر ان کا احترام لازم ہے۔ اس بات کی وضاحت ایک حدیث شریف سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ ایک نابینا صحابی حضور کی دو ازواج مطہراتؓ کے سامنے گھر میں تشریف لائے۔ حضورؐ نے منع فرمایا تو بیویوں نے عرض کی کہ حضورؐ یہ تو نابینا ہیں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا ’’کیا تم بھی نابینا ہو؟‘‘ 

غرض بود و باش اور رہن سہن کے یہ چار بنیادی اصول معاشرے کی تمام فحاشیوں اور بداعمالیوں کے راستوں کو بند کر دیتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ اسلام نے عورت کے تمام حقوق، اس کے روز مرہ کے اخراجات، رہائش، علاج اور تمام ضروریات کی تکمیل کی ذمہ داری مرد کے ذمہ ڈال دی ہے۔ چنانچہ ایک مسلم معاشرے میں عورت کو اپنے معاش کے سلسلے میں ادھر ادھر جانے اور بازاروں میں پھرنے اور اجنبیوں سے ملنے کی قطعاً‌ ضرورت نہیں۔ 

ہم سمجھتے ہیں اگر معاشرہ ان اسلامی اصولوں کی بنیاد پر استوار ہو جائے تو اس وقت معاشرے میں پھیلی ہوئی بدکرداری اور عورتوں کی حقوق تلفی کے قریباً‌ ننانوے فیصد واقعات کا سدباب ممکن ہے۔ لیکن اگر کوئی مرد یا عورت پھر بھی ان حدود کو پھلانگ کر کسی غیر معمولی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے اسلام نے سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔ مثلاً‌ شادی شدہ عورت یا مرد اگر اخلاقی بے راہ روی کا ارتکاب کریں تو ان کے لیے اسلامی سزا جسے ’’حد‘‘ کہتے ہیں یہ ہے کہ دونوں کو سنگسار کر دیا جائے۔ اور مجرم اگر غیر شادی شدہ ہوں تو انہیں سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ اس غیر معمولی سخت سزا کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس سزا کو دیکھنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں اور مارے دہشت کے پھر اسلامی حد تجاوز کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ 

اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اس ملک پاکستان اور دیگر تمام ممالک میں بھی نہ تو ان اسلامی اصولوں کی تعلیم دی جاتی ہے، نہ ان کا پروپیگنڈا (تشہیر) کیا جاتا ہے، اور نہ ہی ان اصولوں کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کی جاتی ہے۔ 

معاشرہ سراسر غیر اسلامی ہے۔ عورتیں بناؤ سنگھار کر کے عمدہ لباس زیب تن کر کے بازاروں میں اکیلی بغیر کسی محرم کے بے پردہ نکلتی ہیں۔ بسوں، ہوائی جہازوں اور ریل گاڑیوں میں بغیر محرم کے سفر کرتی ہیں۔ ہمسایوں کے گھروں میں وقت بے وقت بلا جھجھک جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ خلوت میں بیٹھنے میں عار محسوس نہیں کرتیں اور ان سے بلا تکلف راز و نیاز کی باتیں کرتی ہیں۔ جب معاشرہ اسلامی اصولوں کے بالکل بر عکس مخالف سمت میں چل پڑا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ بد نتائج رونما نہ ہوں جس سے آج پوری انسانیت شرمندہ ہے اور اپنا سر پیٹ رہی ہے۔ 

اس وقت عملی طور پر عورتوں کے تقدس اور تحفظ کو بحال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حکومت اسلامی قانون کے اصولوں پر ملک کا قانون وضع کرے۔ میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس کے بعد معاشرے کے تمام نقصان دہ جراثیم اور رجحانات ہلاک ہو جائیں گے اور موجودہ معاشرتی بیماریاں مکمل طور پر دم توڑ دیں گی۔ شاید اس زمانے کے جدید تعلیم یافتہ لوگ جن کے ذہن یورپ کی بے ہنگم تعلیم اور آزادی سے متاثر ہیں، میری اس رائے سے اتفاق نہ کریں، لیکن حقائق کو اگر عمیق نگاہ سے دیکھا جائے تو اسلام کی طرف رجوع کیے بغیر یہ حالات درست نہیں ہو سکتے۔

(۲) لڑکیوں کی تعلیم کے مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا: 

آج کل مسلمانوں میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ وہ معاشرتی اصول یورپ سے درآمد کرتے ہیں اور اپنے عظیم دین، دینِ اسلام کی طرف نظر نہیں کرتے۔ اسلام نے زیورِ علم سے آراستہ ہونا عورت اور مرد دونوں کے لیے یکساں طور پر ضروری قرار دیا ہے اور حصولِ علم دونوں کا فرض ہے۔ چنانچہ احادیث کے ذخیرہ میں بکثرت روایتیں حضورؐ کی ازواج مطہراتؓ اور دوسری صحابیاتؓ سے مذکور ہیں کہ عورتیں بھی دینی مسائل پوچھنے کے لیے حضورؐ کے پاس آیا کرتی تھیں اور حضورؐ بعض اوقات عورتوں کے لیے علیحدہ مجلسِ علم قائم فرمایا کرتے تھے تاکہ عورتوں سے متعلق معاملات و مسائل انہیں سمجھائیں۔ ایک مرتبہ حضورؐ نے فرمایا: ’’انصار کے قبیلے کی عورتیں بہت ہی اچھی عورتیں ہیں، حیا ان کے دینی مسائل معلوم کرنے میں حائل نہیں ہوتی۔‘‘

ان تمام باتوں سے معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنا اسلام کی رو سے مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں طور پر ضروری ہے۔ یہاں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ علم سے مراد کیا ہے؟ علم سے مراد ہمیشہ وہ تعلیم ہوتی ہے جو طالب علم کی اصلاح اور تربیتِ اخلاق کے لیے ضروری ہو، اور انسان میں زندگی کو خدا کے حکم کے مطابق احسن طریق پر گزارنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ چنانچہ اس قسم کے علوم کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. وہ علم جو مرد اور عورت مشترک طور پر حاصل کر سکیں۔ جیسے عقائد کی تعلیم، اخلاق کی تعلیم، عبادات و روز مرہ معاملات کی تعلیم، اسلامی احکام کی تعلیم وغیرہ۔ یہ تعلیم پرائمری کے درجہ تک بچوں اور بچیوں کو مشترک طور پر دی جا سکتی ہے۔
  2. تعلیم کا دوسرا حصہ صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس میں حیض و نفاس کے مسائل، خاوند کے ساتھ کس طرح بود و باش رکھی جائے، گھریلو مسائل، صحت کی حفاظت اور دیکھ بھال کے مسائل، بچوں کو دودھ پلانے کے مسائل، امور خانہ داری مثلاً‌ کھانا پکانے کے مختلف طریقے، سلائی کا کام، گھر کی دیکھ بھال، غرض گھر کی دنیا سنبھالنے کے تمام پہلو اس میں شامل ہیں۔ ان تمام باتوں کا جاننا عورتوں کے لیے ضروری ہے اور اس کے لیے انہیں اصولی اور عملی دونوں طرح کی تربیت دینی ضروری ہے۔ تمام نصاب اور کتابیں ان ہی ضروریات کو سامنے رکھ کر مرتب کرنی چاہئیں۔
  3. تعلیم کا تیسرا شعبہ مردوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس میں فنِ سپہ گری اور تمام قسم کی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت شامل ہے۔ جس کے ذریعہ انسان کائنات کے ذرائع اور وسائل پر قابو حاصل کر کے انہیں خدا کی منشا اور خوشنودی کی خاطر استعمال کر سکے۔ زراعتی ماہرین، انجینئر، ڈاکٹر، سائنسدان، اور دیگر تمام شعبوں کے ماہرین اور کارکن اس ذیل میں آجاتے ہیں۔

اب اگر علوم کی اس تقسیم کی روشنی میں موجودہ نظامِ تعلیم کو دیکھا جائے تو معاملہ بالکل الٹ نظر آتا ہے:

گویا بچپن کے معصوم دنوں میں انہیں الگ رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور جوانی کے پُرجوش اور جذباتی طور پر نازک ترین دور میں آگ اور پانی کو اکٹھا کر کے کڑے امتحان و آزمائش میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ پرائمری تک مشترک تعلیم کے بعد مرد اور عورت کو ان کی تعلیم کے مخصوص شعبوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

(۳) عورت کی معاشرے میں انفرادی حیثیت اور ان کے معاشی تحفظ کے ضمن میں مولانا مفتی محمود صاحب نے فرمایا:

اسلام نے عورتوں اور مردوں کو مساوی حقوق دیے ہیں۔ لیکن کیونکہ عورتوں میں دفاعی قوت نسبتاً‌ کم ہوتی ہے اور مردوں کو ان کے محافظ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے مردوں کا درجہ ذرا فائق ہے۔ تاہم اس سے عورت کی انفرادیت اور اس کے حقوق کا تحفظ ہرگز متاثر نہیں ہوتا۔ 

مردوں کی اس برتری کے احساس کی نوعیت بالکل ویسی ہی ہے جیسی کسی ملک کی فوج کو ملک کی دفاعی قوت ہونے کی وجہ سے ایک برتری حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے اور آپ غیر مسلم معاشروں میں بھی دیکھیں تو وہاں بھی آپ کو کوئی عورت فیلڈ مارشل نظر نہیں آئے گی۔ لیکن جہاں مسئلہ حقوق کا ہے تو وہاں 

عیسائیت میں بنیادی طور پر طلاق کا تصور موجود نہیں ہے۔ جبکہ یہ عورت کا حق ہے کہ نباہ نہ ہو اور وہ شوہر سے الگ ہونا چاہے تو ہو جائے۔ ہندو مت میں بھی عورت کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں، یہاں تک کہ وہ ورثہ میں بھی حصہ دار نہیں ہے۔ نکاح ثانی کا مسئلہ بھی ہندوؤں کے ہاں موجود نہیں، یہیں سے یہ بدعت مسلمانوں میں بھی آگئی تھی۔ جبکہ حضورؐ نے خود بیواؤں سے شادی کر کے بیوہ عورتوں کی حق تلفی کا قصہ ہی ختم کر دیا تھا۔ 

غرض اسلام عورتوں کے حقوق کے بارے میں بہت واضح اصول اور قوانین رکھتا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں، اور دنیا کے کسی بھی اور نظامِ حیات سے زیادہ مکمل اور عورت کی انفرادیت اور ان کی شخصیت کے تحفظ کے ضامن ہیں۔

(۴) (عورتوں اور مردوں کے دائرہ کار میں فرق کے بارے میں مفتی صاحب نے فرمایا): 

جہاں تک عورت اور مرد کے دائرہ کار اور تقسیم کار کا تعلق ہے تو مغرب میں عورت نے یہ فرق ختم کیا۔ وہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے نکل پڑیں۔ معاشرے میں بے راہ روی پھیلی۔ ہزار میں سے نو سو ننانوے باپوں کو یہ یقین نہیں رہا کہ ان کے بچوں میں سے کون سا ان کا ہے اور کون سا ان کا نہیں۔کنواری مائیں اور غیر قانونی بچے معاشرے کا پیچیدہ ترین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ مانع حمل تدابیر اور ادویات کے آزادانہ استعمال نے زنا کو عام کر دیا ہے۔ اخلاقیات کا کوئی تصور نوجوان نسلوں کے ذہنوں میں نہیں رہا۔ یورپ اب اس صورت حال سے تنگ آچکا ہے۔ ان کے سامنے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ 

میں یقین سے کہتا ہوں کہ آج اگر ہم مسلمان اپنی اصلاح کر لیں اور یہ غیر مسلم ہمیں دیکھ کر اسلام کا مطالعہ کر لیں تو اسے فوراً‌ اپنا لیں، کیونکہ انسانیت کی بقا اور نجات اسلام کے نظامِ حیات میں ہی ممکن ہے۔ اسلام کے نظامِ حیات میں زندگی واضح طور پر دو حصوں میں منقسم ہے:

  1. گھر کے اندر کی زندگی۔ 
  2. گھر سے باہر کی زندگی۔ 

یہ دونوں شعبہ ہائے زندگی اپنی نوعیت اور دائرہ کار کی حیثیت سے بالکل الگ اور یکساں طور پر اہم ہیں۔ گھر کے اندر انتظام و انصرام اور خاندان کی دیکھ بھال عورت کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ گھر سے باہر کی ذمہ داری اور گھر کے اخراجات کی فراہمی مرد کی ذمہ داری ہے۔ 

جو عورت گھر سے نکل کر دفتروں کلبوں میں جا پہنچتی ہے اس کا گھر، گھر نہیں ویرانہ ہوتا ہے۔ اور جو مرد باہر کی ذمہ داریاں چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتا ہے، وہ مرد نہیں نکھٹو، نکما اور بے حیا ہوتا ہے اور اپنے فرائض سے اغماض برتتا ہے۔ اسلام کی رو سے عورت اور مرد کی ذمہ داریوں کی اس واضح تقسیم کے بعد میرا خیال ہے، آپ کے سوال کا واضح جواب سامنے آ جاتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے نسب محفوظ رکھنے ہیں تو ہمیں یورپ کی اس انسانیت کش ڈگر کو یکسر ترک کرنا ہوگا۔

(۵) تجارتی اشیا کے اشتہارات میں عورتوں کی تصاویر کے سوال پر مفتی محمود صاحب نے قدرے توقف کے بعد ارشاد فرمایا: 

تجارت کی بنیاد صداقت اور امانت پر ہے۔ ایک حدیث شریف ہے کہ ’’تاجر سچا بھی ہو اور ایماندار بھی‘‘۔ 

جب تاجر خائن، جھوٹے، بے ایمان ہو جائیں، مال دکھانے کا اور ہو، دینے کا اور، تو ایسے کاروبار میں برکت نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں اپنی کمائی بڑھانے کے لیے وہ دیگر ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں ظاہری چمک دمک اور شیطانی کشش پیدا کرنے کے لیے نوجوان لڑکیاں مسافروں کی خدمت کے لیے مقرر کی جاتی ہیں۔ اور اشیائے صَرف کے اشتہارات پر عورت کی تصویر چھاپ کر اس کی عظمت اور حرمت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ جہاں کوئی چیز اصل اور ملاوٹ سے پاک نہ ہو، وہاں نقل پر عورت کی تصویر لگا دی جاتی ہے۔ یہ سب مذموم اور مروود حرکات ہیں۔

(مطبوعہ ہفت روزہ ترجمانِ اسلام لاہور، ۷ ستمبر ۱۹۷۳ء)

آزادئ نسواں کا پس منظر اور نتائج

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

یورپ میں اٹھارویں صدی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ وہاں کے اکثر لوگوں کے دل سے خوفِ خدا کا آخری پیج بھی مارا جا چکا تھا، اس سے پہلے یورپ میں وہی فطری تقسیمِ کار تھی کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرے، اور چونکہ اس زمانے میں جاگیری نظام رائج تھا اور تمدن کا نیا ڈھانچہ وجود میں نہ آیا تھا، اس لیے زیادہ تر لوگ زراعت پیشہ تھے، ادھر زندگی کا معیار بھی سادہ تھا اور زندگی گزارنے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کی ضرورت نہ تھی، اس لیے مرد نے اس تقسیم کار کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔

اٹھارویں صدی میں جب مشین ایجاد ہوئی تو یورپ کے اندر صنعتی انقلاب رونما ہوا جس نے اہلِ یورپ کی زندگی کے ہر شعبے پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔ جاگیری نظام نے دم توڑ دیا اور سرمایہ داری نظام (Capitalistic System) نے اس کی جگہ لے لی، شہروں میں بڑے بڑے کارخانے کھلنے لگے، اور دیہاتی آبادیاں جو جاگیرداروں کے ظلم و ستم سے تنگ آچکی تھیں، شہروں کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گئیں۔

اس پورے نظامِ معیشت کی تبدیلی کا اثر یہ ہوا کہ عام لوگوں کا معیارِ زندگی بھی بڑھنے لگا، ہر شخص کو سوسائٹی میں اپنا وقار باقی رکھنے کے لیے کافی سرمایہ کی ضرورت پیش آئی، چنانچہ پیسہ کمانے کی ہر ممکن کوشش کی جانے لگی، وقت کی رفتار کے ساتھ طرزِ بود و باش بدلتا رہا، ضروریاتِ زندگی بڑھتی ہی چلی گئیں، اس لیے حصولِ زر کی دوڑ شدید سے شدید تر ہوتی گئی۔ 

ان حالات میں مغربی مرد کی خود غرض طبیعت، جو ہمیشہ سے بغیر کوئی قربانی دیے عورت سے نفع اٹھاتی چلی آئی تھی، یہ برداشت نہ کر سکی کہ جو سرمایہ اس کی اپنی ضروریات کے لیے بہ مشکل مہیا ہوتا ہے اس میں عورت کو بھی حصہ دار بنائے، اور اس کے لیے یا تو اپنی ضروریات میں کمی کرے یا مزید پیسہ حاصل کرنے کے لیے اپنی جان پر اور بوجھ ڈالے۔ نظامِ معیشت اور طرزِ تمدن کے اس غیر معمولی انقلاب کے بعد مرد کو عورت کا گھر میں رہنا دو وجہ سے بری طرح کھلنے لگا:

  1. ان میں سے ایک تو اس کی وہ ہوس ناک طبیعت تھی جو عورت سے جدا ہونا پسند نہ کرتی تھی۔ جاگیری نظام کے زمانے میں عورت کا گھریلو کام کرنا اور گھر میں رہنا اس کے لیے اس لیے نقصان دہ نہ تھا کہ اس کی بیرونی مشغولیات ایسی نہ تھیں جن کی بنا پر اسے عورت سے دور رہنا پڑے۔ لیکن جب پوری زندگی کا ڈھانچہ ہی تبدیل ہو گیا تو اب مرد کا کام صرف ہل جوتنا یا دوکانداری کرنا نہ تھا، بلکہ صنعت اور تجارت کے غیر معمولی فروغ کی وجہ سے اسے دن رات کارخانوں اور دفتروں میں رہنا ہوتا تھا، اسے اس کام کے لیے دور دراز کے سفر کرنے پڑتے تھے، جس کے لیے عورت سے دور رہنا لازمی تھا۔
  2. دوسری وجہ وہی تھی کہ چونکہ معیارِ زندگی (Standard of living) کے بلند ہونے کی وجہ سے اسے اپنے مصارف کا برداشت کرنا ہی مشکل تھا، اس لیے اسے اپنے ساتھ ایک اور فرد کے لیے بھی محنت و مشقت اٹھانا اپنے نفس پر ایک غیر ضروری بوجھ محسوس ہونے لگا۔ 

ان دونوں مشکلات کا حل اسے ایک ہی نظر آیا کہ اب کسی طرح عورت کو بھی کمانے کے کام پر آمادہ کرو، تاکہ حصولِ زر کی مشکلات بھی ختم ہوں اور عورت کے ہر قدم پر ساتھ رہنے سے اس نفسانی جذبے کی بھی تسکین ہو جو رگ وپے میں پیوست ہو چکا ہے۔ 

لیکن اگر یہ بات سیدھے سادے طریقے سے عورت سے کہی جاتی تو وہ مرد کی اس انسانیت سوز خود غرضی سے خبردار ہو جاتی کہ وہ ایک طرف تو ہر قدم پر عورت کے وجود سے اپنی جنسی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف جب اس عورت کے لیے روٹی کے چند ٹکڑے مہیا کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو اسے یہ کام دوبھر معلوم ہوتا ہے۔ عورت یہ سوچتی کہ مرد کو اپنی جسمانی تکالیف کا تو اتنا احساس ہے کہ وہ ان کی وجہ سے عورت کو گھر سے نکالنا چاہتا ہے، مگر اسے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ عورت جیسی صنفِ نازک روپیہ کمانے اور گھر کا انتظام کرنے کے دونوں کام کس طرح کرے گی؟ 

اپنی اس خود غرضی پر پردہ ڈالنے کے لیے مغربی مرد کی عیاری نے جو ہمرنگ زمیں جال تیار کیا وہ اس قدر نظر فریب تھا کہ بیچاری عورت آج تک اس جال میں پھنسی ہوئی ہونے کے باوجود اس کی دلفریبی میں مگن ہے۔ اسی نظر فریب جال کا دلکش اور معصوم نام ’’تحریکِ آزادئ نسواں‘‘ ہے۔ مرد نے اپنی اس خود غرضی پر عمل کرنے کے لیے آزاد خیالی (Liberalism) کا سہارا لیا، اور وہ لبرلسٹ جو عرصہ دراز سے یورپ کی معاشی، اقتصادی، اخلاقی اور مذہبی زندگی میں انقلاب لانا چاہتے تھے، اس کام کے لیے موزوں ترین ثابت ہوئے۔ چنانچہ انہوں نے اس مقصد کے لیے ’’عورتوں کی آزادی‘‘ کا نعرہ لگایا اور عام مطالبہ کیا کہ عورت کو گھر کی چار دیواری میں محصور رکھنا اس پر ظلم ہے حالانکہ مرتبہ کے لحاظ سے اس میں اور مرد میں کوئی فرق نہیں، اسے مردوں کے دوش بدوش ہر کام میں حصہ لینا چاہیے، حصولِ معاش کے معاملہ میں اسے مرد کا محتاج ہونے کی بجائے مستقل بالذات (Independent) ہونا چاہیے۔ 

یہ نعرہ چونکہ ہر اس مرد کی دلی آواز تھا جو نئے طرزِ زندگی کے بعد عورت کا گھر میں رہنا اپنی حرص و ہوس کی وجہ سے برا سمجھ رہا تھا، چنانچہ لبرل پارٹی کی یہ آواز یورپ کے ہر خطے سے اٹھنی شروع ہو گئی۔ بیچاری عورت مرد کی اس مکارانہ چال کو نہ سمجھ سکی اور اس نے بخوشی گھر کو خیر باد کہہ کر مرد کی حرص و ہوس کو نہایت اطمینان سے پورا کر دیا۔ 

پھر مرد نے اپنی اس چال سے بڑے بڑے کام لیے، جب عورت بازاروں میں نکلی اور دفتروں میں داخل ہوئی تو مرد نے اپنی ہوسناک نگاہوں کی تسکین کے علاوہ اس کے ذریعے اپنی تجارت بھی خوب چمکائی، دوکانوں اور ہوٹلوں کے کاؤنٹروں پر، دفتروں کی میزوں پر، اخبار و اشتہار کے صفحات پر، اس کے ایک ایک عضو کو سرِ بازار رسوا کیا گیا اور گاہکوں کو اس کے ذریعہ دعوت دی گئی کہ آؤ اور ہم سے مال خریدو۔ یہاں تک کہ وہ عورت جس کے سر پر فطرت نے عزت و آبرو کا تاج رکھا تھا اور جس کے گلے میں عفت و عصمت کے ہار ڈالے تھے، دوکان کی زینت بڑھانے کے لیے شو کیس اور مرد کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے ایک تفریح کا سامان بن کر رہ گئی۔ 

یک زوجی کا افسانہ

اسی دوران عورت کو اسی حال پر خوش رکھنے اور اسے تسلی دینے کے لیے نت نئے افسانے گھڑے گئے جس سے عورت کو یہ محسوس ہوا کہ واقعی ہمارے مرد ہمارے بڑے ہمدرد ہیں اور ہمیں ظلم سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ انہی افسانوں میں سے ایک افسانہ کا سرِعنوان ’’تعددِ ازواج کی برائی‘‘ ہے۔ مغربی مرد جانتا تھا کہ سوکن عورت کی کمزوری ہے، اور جو شخص اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے، عورت اسے اپنا حقیقی خیر خواہ اور سچا ہمدرد سمجھ سکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ان اقوام پر جن کے یہاں تعددِ ازواج رائج اور عام تھا، طعن و تشنیع شروع کی کہ دیکھو یہ قومیں عورت پر کتنا ظلم کرتی ہیں کہ اسے سوکنوں کی وجہ سے مرد کے جور و ستم سہنے پڑتے ہیں، اور ہم کتنے منصف ہیں کہ ہمارے یہاں تعددِ ازواج جائز ہی نہیں، ہم ایک ہی بیوی پر قناعت کرتے ہیں۔ 

اب ان سے کوئی یہ پوچھنے والا نہ رہا کہ اگر تم ایسے ہی صابر اور قانع ہو تو تمہارے ہر ہوٹل، ہر نائٹ کلب، ہر پارک اور ہر تفریح گاہ پر تمہاری ایک نئی ’’بیوی‘‘ کیسے پیدا ہو جاتی ہے؟ ہم نے جو ’’تحریکِ آزادئ نسواں‘‘ کی بنیاد مرد کی خود غرضی کو قرار دیا ہے، اگر واقعہ ایسا نہیں تو کوئی ہمیں بتلائے کہ یہ لبرل ازم کوئی نئی چیز تو نہ تھی، یورپ میں اس وسیع المشربی کا راگ تو کم و بیش پندرہویں صدی سے الاپا جا رہا تھا۔ 

تاریخ شاہد ہے کہ اٹھارویں صدی سے تین سو سال پہلے یہ لبرلسٹ تمام فکری، اخلاقی، مذہبی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی بندشوں کو توڑنے کے لیے ان تمام میدانوں میں تجدید و اصلاح کا پرچم لے کر اٹھے تھے۔ اس عرصہ میں انہوں نے صدیوں کے بنے اور جمے ہوئے دائروں سے باہر قدم نکالنے کے لیے پادریوں اور جاگیرداروں سے بڑی بڑی لڑائیاں لڑیں، کلیسا کے پرخچے اڑائے، جاگیری نظام کی دھجیاں بکھیریں، جب یہ زندگی کے ہر شعبے میں تجدید و اصلاح کے نعرے لگا رہے تھے، اس وقت ان کے دل میں عورت کی ’’مظلومیت‘‘ اور گھر میں محصور ہونے کے تصور نے کیوں درد پیدا نہیں کیا؟ اس وقت انہیں یہ خیال کیوں نہ آیا کہ ہم عورت کو اس ظلم سے نجات دلائیں، جب کہ یہ کام جاگیری نظام کا تختہ الٹنے اور کلیسا کا وقار تہس نہس کرنے سے کہیں زیادہ آسان تھا …، عورت کے مقید ہونے کا درد تین سو سال کے بعد اٹھارویں صدی ہی میں کیوں پیدا ہوا جب کہ صنعتی انقلاب آ چکا تھا؟ 

ہم نے اہلِ مغرب کے ان اعتراضات کو بھی، جو انہوں نے اسلام پر تعددِ ازواج کے سلسلے میں کیے ہیں، اسی عورت کو ورغلانے کا ذریعہ قرار دیا ہے، اگر ہمارا یہ خیال غلط ہے تو ہمیں کوئی یہ سمجھائے کہ اسلام میں تعددِ ازواج کا اصول تو بارہ سو سال سے چلا آتا تھا، اس عرصہ میں کسی نے اس اصول پر اس قدر شد و مد کے ساتھ کیوں اعتراض نہیں اٹھایا؟ بارہ صدیاں گزرنے کے بعد ہی اس اصول میں کون سے کیڑے پڑ گئے تھے جن کی بنا پر اہلِ مغرب کو اس کی تردید کی اس قدر شدت کے ساتھ ضرورت ہوئی؟ 

ان تمام چیزوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں کہ ’’تحریکِ آزادئ نسواں‘‘ کا نعرہ مغربی مرد نے محض اپنے ذاتی مقاصد کے لیے لگایا تھا، اس تحریک سے عورت پر کس قدر ظلم ہوا؟ اور اس سے اسے کیا کیا نقصانات پہنچے؟ ان سوالات کا جواب تفصیل چاہتا ہے … اس وقت تو ہمیں محض یہ بتلانا ہے کہ تعددِ ازواج کے خلاف اہلِ مغرب کے اعتراضات صرف اس احساس کمتری کا نتیجہ تھے جو انہیں عورت کے ساتھ اپنے خود غرضانہ سلوک کی وجہ سے پیدا ہوا۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ عورت کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ مردوں نے اپنے ذاتی مقاصد کی وجہ سے آزادئ نسواں کا ڈھونگ رچایا ہے اور عورت کی توجہ ان بہیمانہ حرکات کی طرف مبذول نہ ہو سکے جن کا مظاہرہ شب و روز تفریح گاہوں پر ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے انہوں نے یہ ڈنکا پیٹنا شروع کر دیا کہ ہم بڑے صبر و قناعت پر عمل کرنے والے ہیں کہ ایک بیوی سے زیادہ کی کوئی خواہش ہمارے دل میں پیدا نہیں ہوتی، اور دوسری قوموں کی جنسی بھوک اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ وہ عورت کو سوکنوں کے جھنجٹ میں پھنسانا گوارا کر سکتے ہیں مگر اپنی جنسی بھوک پر کوئی کنٹرول نہیں کر سکتے۔ 

اس سفید جھوٹ کی نشر و اشاعت گوبلز کے اصول پر پوری دنیا میں اس اہتمام سے کی گئی کہ دنیا اسے سچ سمجھنے لگی، مشرقی عورت نے اسی فریب میں آکر اپنے یہاں بھی یک زوجی کے نعرے بلند کرنے شروع کر دیے۔

یورپ اور امریکہ میں یک زوجی کے عبرتناک نتائج

حالانکہ خود مغرب میں یک زوجی کا یہ اصول مرد کے لیے کتنے ہی سامانِ تعیش پیدا کر رہا ہو، عورت کے لیے ایک ایسا عذابِ جان بن چکا ہے کہ ان کی مظلومیت آج اس مظلومیت سے بدرجہا زیادہ ہے جس کا بڑے سے بڑا تصور تعددِ ازواج کی صورت میں کیا جا سکتا ہو۔ یہاں تک کہ وہاں کے منصف مزاج مفکرین عورت کی اس المناک مظلومیت کو محسوس کر کے یک زوجی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ 

ایک نامہ نگار نے، یک زوجی کے سبب سے عورتیں جس انسانیت سوز ظلم و ستم کا شکار ہیں، ان کا پول اپنے ایک بیان میں کھولا ہے، جس کے کچھ اقتباسات ہم ذیل میں ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں:

’’۱۹۱۴ء اور ۱۹۳۹ء کی عالمگیر جنگوں نے انگلستان میں عورتوں کا تناسب مردوں سے زیادہ کر دیا ہے چنانچہ یہاں اکثر عورتیں شادی کا ارمان دل ہی میں لیے ہوئے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ یوں تو وہ زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہوتی رہتی ہیں لیکن زندگی کا حقیقی سکون انہیں میسر نہیں آتا۔ 
لندن کے ایک پادری صاحب کہتے ہیں کہ ’’آج کل اگر غلطی سے کسی دوشیزہ کو شادی شدہ سمجھ لیا جاتا ہے تو وہ چند لمحوں کے لیے باغ باغ ہو جاتی ہے۔ اکثر کنواری لڑکیوں نے زندگی کا مقصد ہی شادی سمجھ رکھا ہے۔ وہ شادی کے لیے ماری ماری پھرتی ہیں اور انہیں جو لڑکا بھی مل جاتا ہے، اسے اپنا ممکن شوہر سمجھنا شروع کر دیتی ہیں۔‘‘ 
پادری صاحب مزید فرماتے ہیں ’’جو دوشیزائیں مسز کہلا سکتی ہیں وہ اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع سمجھنا شروع کر دیتی ہیں اور احساس برتری کے مرض کا شکار ہو جاتی ہیں، وہ ان سہیلیوں کو ذرا نفرت سے دیکھنا شروع کر دیتی ہیں جن کو شوہر نہیں ملتے۔ عام لڑکیاں جب ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو سب سے پہلے ان کی نگاہیں دوسری کی انگلی میں شادی کی انگوٹھی تلاش کرتی ہیں۔ ان حالات میں لڑکیاں شادی کے خیال ہی سے محبت شروع کر دیتی ہیں۔‘‘

 آگے لندن میں تمام ملک سے لڑکیوں کے کھنچ کھنچ کر جمع ہونے کے اسباب اور وہاں ان کے مشاغل کی تفصیل نامہ نگار یوں بیان کرتا ہے:

’’ گھر میں ماں بوائے فرینڈ سے ملنے پر اعتراض کرتی تھی، یہاں ترقی کے مواقع زیادہ ہیں، منگیتر سے جھگڑا ہو گیا تھا، ایکٹرس بننے کا شوق بھی صاحب زادی کو چراتا ہے، اور کچھ دنیا دیکھنے گھر سے نکل کھڑی ہوتی ہیں، اور پھر یہاں پر سینکڑوں شاخوں والے ’’لائنز‘‘ اور اے بی سی کے سستے کھانے والے ریستوران ہیں جہاں ہزاروں لڑکیاں کام کرتی ہیں۔ ’’دل ورتھ‘‘ اور ’’اسپنسر اینڈ مارکس‘‘ کے وسیع و عریض اسٹوروں میں شاپ گرل بن سکتی ہیں، ہوٹلوں میں ویٹر بن سکتی ہیں، سیکریٹری بن سکتی ہیں، اور فوٹو گرافوں کی ماڈل اور ہندوستانی شہزادوں کے حرم کی زینت۔ ان میں سے اکثر چار پانچ پونڈ سے لے کر سات آٹھ پونڈ فی ہفتہ تک کماتی ہیں جس سے بمشکل اپنا ضروری خرچ چلاتی ہیں۔ اور جنہیں کچھ بچا کر اپنے بوڑھے ماں باپ کو بھی بھیجنا ہوتا ہے، وہ زندہ رہنے کے لیے پوری غذا بھی نہیں کھا سکتیں اور تقریباً تمام ہی شام کو تفریح کے لیے ’’شکار‘‘ کی تلاش میں رہتی ہیں جو انہیں پکچر دکھا دے، ریستوران میں ایک وقت کا کھانا کھلا دے، یا کسی اچھے کافی ہاؤس میں کافی کی ایک پیالی ہی پلا دے۔ اور اس کے لیے انہیں اس آزادی اور دنیا دیکھنے  کی ’’قیمت‘‘ ادا کرنی پڑتی ہے۔ 
یہاں عورت آزاد ہے لیکن اس کی حالت قابلِ رحم ہے، یہاں عام عورت کی کوئی عزت نہیں، کوئی مقام نہیں۔ اگر وہ مشرق کی ’’مظلوم عورت‘‘ کی ’’جیل کی زندگی‘‘ کی ایک جھلک دیکھ لے تو آزادی اور مساوات سے فوراً‌ توبہ کر لے۔ یہاں ہزاروں عورتیں ساری عمر گھر اور اولاد کو ترستے ہوئے زندگی بسر کر دیتی ہیں اور انہیں اپنی مظلومی اور کسمرسی کا پورا احساس ہوتا ہے۔‘‘

یہ ہے انگلستان اور یورپ کے اکثر ملکوں کے معاشرہ کا حال، اس اقتباس کو بار بار پڑھیے، خصوصیت کے ساتھ آخری پیراگراف پر پوری توجہ کے ساتھ غور فرمائیے اور اس میں اس دعوے کی مضبوط دلیلیں دیکھیے جو ہم نے شروع میں کیا ہے۔ 

یہ تو انگلینڈ کا حال تھا، اب آپ ایک نظر امریکہ کے حالات پر بھی ڈال لیجئے، وہاں کے جنسی حالات کا سب سے زیادہ مستند جائزہ اس کتاب سے لیا جا سکتا ہے جو وہاں کے مشہور ماہر جنسیات ڈاکٹر سی کنزے (C.Kinsay) نے پندرہ سال کی طویل تحقیق اور ریسرچ کے بعد امریکی لوگوں کے جنسی طرزِ عمل پر لکھی ہے۔ اس کا ایک جملہ ہمیں خصوصیت سے دعوتِ فکر و نظر دیتا ہے: 

’’اگر عورتوں کو جنسی آوارگی کی بناء پر سزا دی جائے تو وہاں کے رائج الوقت قانون کی رو سے اَسی فیصد عورتوں کو اس وقت جیلوں میں بند ہونا چاہیے۔‘‘ 

ذرا غور فرمائیے کہ اَسی فیصد عورتیں صرف ان جرائم کا ارتکاب کرتی ہیں جو قانون کی رو سے ناجائز ہیں، اور آپ کو یہ اندازہ تو ہو گا ہی کہ بے شمار جنسی جرائم ایسے ہیں جو فطرت کے خلاف امریکہ کے قانون کی نگاہ میں جرائم نہیں۔ ڈاکٹر سی کنزے نے اپنی اس رپورٹ کے ذریعہ امریکی تہذیب کو بیچ چوراہے کے ننگا کر دیا ہے۔

اور اگر آپ کو اس کی مزید تفصیل سننی ہو تو ڈاکٹر گڈوچ سی شوفلر کی وہ تقریر جگر تھام کر پڑھیے جو انہوں نے امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے اراکین کے سامنے کی تھی، وہ فرماتے ہیں:

’’امریکہ میں کنواری ماؤں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ۱۹۳۸ء میں اٹھاسی ہزار ناجائز بچے پیدا ہوئے تھے مگر ۱۹۵۰ء میں ایک لاکھ ۴۲ ہزار ہوئے۔ ان ماؤں کی عمریں بیس سال سے کم تھیں بلکہ ۴۴ فیصد مائیں ۱۵ سے ۲۰ سال تک تھیں۔ ۱۹۵۰ء میں تقریباً ۳۲ ہزار مائیں ۱۷ سال کی یا اس سے کچھ کم عمر کی تھیں۔ اب ایسی ماؤں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اسکول اور کالج کی طالبات اور عمدہ ملازمت والی کنواری مائیں زیادہ ہیں۔ غریب اور مفلس لڑکیوں کی تعداد جو مائیں بن رہی ہیں نسبتاً‌ کم ہے۔ نو عمروں میں جنسی احساسات حد سے زیادہ تجاوز کرتے جا رہے ہیں۔ موجودہ صحافت، تفریحات، سینما، ریڈیو، ٹیلیویژن اور تھیٹر اس کے کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔‘‘ (روزنامہ جنگ کراچی، ستمبر ۱۹۵۴ء)

یہ اعداد و شمار ببانگِ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں عفت و عصمت کا ادنیٰ سے ادنیٰ تصور بھی آزادی کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا یا جا چکا ہے، قوم کی قوم آبرو باختہ ہو کر رہ گئی ہے، اور جنسی جرائم کا ایک نہ رکنے والا سیلاب ہے جو قانونی محکموں کی چابک دستی کے باوجود اٹھتا ہی چلا آتا ہے۔ 

بعض حضرات کو تعجب ہے کہ مغرب کے داناؤں کو یہ باتیں منظور ہیں، مگر منظور نہیں تو تعددِ ازواج، جو ان مشکلات کا واحد حل ہے۔ مگر جو گزارشات ہم نے اوپر کے صفحات میں پیش کی ہیں ان کی روشنی میں یہ بات کوئی تعجب خیز نہیں۔ مغربی مرد تعددِ ازواج کی اجازت کیوں دے؟ جب کہ اس کی خواہش من وعن پوری ہو رہی ہے جس کی بنا پر اس نے ’’آزادئ نسواں‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ مغرب میں ہر قدم پر اس کے لیے جنسی تسکین کا سامان موجود ہے۔ دوسری طرف جو دوہری محنت اسے عورت کے گھر میں رہنے کی وجہ سے کرنی پڑتی تھی اب وہ بھی نہیں کرنی پڑتی۔ اس کی نظر میں تو سانپ بھی مر رہا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹ رہی، پھر اسے یہ فکر کیوں ہو کہ عورت کو اس ’’آزادی‘‘ کی بدولت کتنا زبردست خمیازه بھگتنا پڑ رہا ہے اور کتنے ظلم و ستم وہ غریب اس یک زوجی کی قیمت ادا کرنے کے لیے سہ رہی ہے۔

پاکستانی ثقافت اور نئی نسل

ارشاد احمد حقانی

چند روز پیشتر میں اپنے دفتر میں بیٹھا معمول کے کام کر رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھایا، دوسری طرف سے ایک نوجوان لڑکی بات کر رہی تھی، لیکن ایک آدھ فقرے کے بعد وہ رونے لگی اور اس کے لیے بات چیت وضاحت سے جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔ اس نے مجھے کہا کہ حقانی صاحب! میں سخت ذہنی کرب و اضطراب کی حالت میں ہوں۔ میرے ذہن میں اسلام کے بارے میں بے شمار سوالات ہیں جن کی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی اور نہ مجھے کہیں سے ان کا جواب مل رہا ہے۔ کیا آپ اس معاملے میں میری کچھ مدد کریں گے؟ 

لڑکی کی گفتگو سے صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کسی انگلش میڈیم اسکول کی پڑھی ہوئی ہے کیونکہ وہ آدھی بات اردو میں کرتی تھی اور آدھی انگریزی میں۔ میں نے اس سے کہا، بیٹی جب تک مجھے تمہارے سوالات کی نوعیت ٹھیک ٹھیک معلوم نہ ہو اور مجھے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ تمہارا تعلیمی اور سماجی پس منظر کیا ہے، میں تمہیں اس کرب سے نکالنے میں کوئی خاص مدد نہیں دے سکتا۔

لڑکی نے بتایا کہ میں نے حال ہی میں بی۔کام کیا ہے اور اب میں ایم بی اے کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں، مجھے کوئی مالی یا گھریلو مسئلہ درپیش نہیں لیکن میں اپنے ذہنی اشکالات کی وجہ سے سخت پریشان ہوں۔ 

میں نے پوچھا کہ تم نے آج تک اسلام کے بارے میں کیا کچھ پڑھا ہے اور کس حوالے سے تمہارا تعلیماتِ اسلامی کو سمجھنے کی خواہش ہے یا مشکل پیش آرہی ہے؟ 

اس نے جواب دیا کہ میں اسلام کے بارے میں صرف اسی قدر جانتی ہوں جو میں نے تھوڑا بہت اسکول کی نصابی کتب میں پڑھا ہو گا یا کبھی کبھار میں نے ٹی وی پر کسی اسلامی پروگرام سے کچھ سمجھا ہو گا، یا میرے والدین نے اپنے محدود علم اور مطالعے کے حوالے سے کبھی سرسری طور پر کچھ بتایا ہو گا۔ اس گفتگو کے دوران وہ بچی مسلسل روتی رہی بلکہ ہچکیاں لیتی رہی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ آپ مجھے کوئی کتاب بتا دیں جس سے مجھے اپنے سوالات کا جواب مل جائے، یا کوئی ایسا ادارہ بتا دیں جس میں میں داخلہ لے لوں اور وہاں میرے سوالات کا مجھے جواب مل سکے۔ 

میں نے اس بچی سے کہا کہ جب تک میں تمہارے سوالات کی ٹھیک ٹھیک نوعیت سے آگاہ نہ ہوں، میں تمہیں کوئی ایک کتاب تجویز نہیں کر سکتا، کیونکہ ہو سکتا ہے تمہارے سوالات معاشرتی حوالے سے ہوں، فقہی اور مسلکی اور محدود معنوں میں مذہبی موضوعات پر ہوں، اسلام کی سیاسی یا اقتصادی تعلیمات سے متعلق ہوں، یا حیات بعد الممات اور مابعد الطبیعات سے ان کا تعلق ہو، یا انسان کی تخلیق، اس کی زندگی کے انجام، تخلیقِ کائنات، ذاتِ باری تعالیٰ کی ماہیت اور صفات، اسلام کی اخلاقی تعلیمات، اور اسلامی معاشرے میں عورت کے مقام اور کردار، حجاب کی حدود اور ضرورت اور افادیت کے مسئلے پر ہوں۔ میں نے ان تمام موضوعات اور مسائل پر نوجوانوں کے اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات وقتاً‌ فوقتاً‌ سنے ہیں، اور جب تک مجھے واضح طور پر معلوم نہ ہو کہ تمہارے سوالات اور اشکالات کا پس منظر کیا ہے، ان کی نوعیت کیا ہے، میں نہ تو تمہیں کوئی کتاب تجویز کر سکتا ہوں اور نہ کسی ایسے ادارے کا پتہ دے سکتا ہوں جہاں پہنچ کر تمہارے سوالات کا جواب مل سکے۔ 

اس بچی نے کہا، تو پھر آپ کے پاس میری مدد کرنے کی کیا صورت ہے؟ 

میں نے کہا، بظاہر اس کے سوا کوئی صورت مجھے نظر نہیں آتی کہ یا تو تم مجھے تفصیل سے اپنی فکری مشکل لکھ کر بھیجو، یا بذاتِ خود میرے پاس آکر مجھ سے گفتگو کرو، صرف اس کے بعد ہی میں تمہیں کوئی صحیح مشورہ اور برمحل اور موزوں رائے دے سکتا ہوں۔ 

یہ گفتگو قریب قریب میرے ذہن سے نکل چکی تھی کہ گزشتہ جمعے کے روز (۱۵ مارچ) مجھے ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے اسلام آباد جانا پڑا۔ ٹیلی ویژن ان دنوں خواتین کے لیے ایک ہفتہ وار پروگرام ’’حوا کے نام‘‘ سے نشر کرتا ہے اور میں نے اس سیریز کا ایک آدھ پروگرام اس وقت دیکھا تھا جب اس کی کمپیئرنگ لاہور کی ایک خاتون صحافی کرتی تھیں جن کے صحافی میاں سے میری دوستی اور نیاز مندی ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے پروگرام کی پروڈیوسر خاتون نے، جہاں ممتاز ٹی وی اداکارہ عظمیٰ گیلانی، شاعرہ اور ادیبہ محترمہ کشور ناہید، اور ایک ممتاز خاتون ڈانسر کو مدعو کیا ہوا تھا وہاں اس نے میرے علاوہ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن، ممتاز قانون دان اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن سید افضل حیدر، اور ممتاز دانشور پروفیسر خواجہ مسعود کو بھی بلایا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ تین طالبات ایسی بھی مدعو تھیں جن میں سے ایک تو ایک یونیورسٹی میں ادیان کے تقابلی مطالعے کی استاد تھیں، وہ اس قدر مکمل حجاب میں تھیں کہ ان کی صرف آنکھیں ہی قدرے کھلی ہوئی تھیں، انہوں نے ہاتھوں میں دستانے بھی پہن رکھے تھے، چونکہ اس وقت غیر معمولی سردی کا موسم نہیں ہے، اس لیے میرا خیال اور گمان ہے کہ اس بچی نے ہاتھوں کو بھی اپنے حجاب کے حصے کے طور پر ہی ڈھانپ رکھا تھا۔ دو دوسری طالبات ایسی تھیں جنہوں نے صرف سر کا حجاب پہن رکھا تھا۔ گفتگو کا موضوع ’’پاکستانی کلچر اور اس میں عورت کا مقام‘‘ تھا۔ 

یہ پروگرام اسی روز رات کو ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ ہو گیا، مجھے اس کے بارے میں یہاں کوئی بات نہیں کرنی۔ میں نے اس کا حوالہ یہاں صرف اس لیے دیا ہے کہ جو نوجوان لڑکی مکمل حجاب میں تھی اور جس نے نہایت سلجھی ہوئی گفتگو کی اور جس کے لب و لہجے اور اندازِ گفتگو سے صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اچھی خاصی تعلیم یافتہ اور صاحبِ علم بچی ہے۔ اس نے دورانِ گفتگو عربی کی کسی عبارت کا حوالہ دیا جس سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس کا عربی کا تلفظ بھی بہت معیاری تھا۔ لیکن مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ اس ’’استاد طالبہ‘‘ نے بھی کہا کہ ہمیں اپنی تعلیم کے دوران کبھی یہ نہیں بتایا گیا اور پڑھایا گیا کہ اسلامی یا پاکستانی کلچر کیا چیز ہے؟ اس کی حدود کیا ہیں اور دنیا کے دوسرے معاشروں سے ہمارا کلچر کسی حوالے سے مختلف یا ممیّز یا مماثل ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے تو کبھی آج تک اس سوال پر غور کیا ہے نہ کبھی ہمارے کسی استاد نے اس موضوع پر بات کی۔ 

پروگرام میں ایک نوجوان لڑکا بھی شامل تھا جو یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے، اس نے بھی ایک سے زیادہ دفعہ یہ بات کی کہ ہمیں قطعاً‌ معلوم نہیں کہ پاکستانی کلچر اور اس کی منفرد خصوصیات کیا ہیں اور اس معاملے میں اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ 

جس مذاکرے میں بارہ چودہ افراد شریک ہوں، جن کی عمریں اور مطالعہ اور نظریات قطعاً‌ مختلف ہوں، اور جنہوں نے ایک مختصر اور محدود وقت میں ایک انتہائی تہہ در تہہ مسئلے پر بات کرنی ہو، وہاں گفتگو میں کچھ نہ کچھ الجھاؤ اور خلط مبحث پیدا ہو جانا ناقابلِ فہم نہیں۔ لیکن مجھے اس مذاکرے میں شرکت کر کے دو باتوں پر حیرت ہوئی:

  1. اولاً‌، اچھے خاصے پڑھے لکھے مرد اور خواتین کلچر کے موضوع پر کنفیوژن کا شکار تھے۔ 
  2. ثانیاً‌، ایک نہایت اچھی پڑھی لکھی لڑکی نوجوان لڑکی جو تقابلِ ادیان کی استاد بھی ہے اس نے برملا اعتراف کیا کہ اپنے تعلیمی کیریئر کے دوران کبھی اس حوالے سے رہنمائی نہیں ملی کہ پاکستانی یا اسلامی کلچر کیا ہے اور اس کی حدود کیا ہیں۔ 

جس معاشرے میں یہ حالت ہو، اس کے نوجوان طلباء اور طالبات اگر فکری اور نظریاتی حیرانی اور سرگردانی اور کنفیوژن کی گرفت میں ہوں، تو اس پر کسی کو حیرت نہ ہونی چاہیے۔ ان دنوں پاکستان پر بھارتی کلچر کی یلغار کی بات ہو رہی ہے۔ ادھر جدید ذرائع ابلاغ کی وجہ سے دنیا بھر کے ٹی وی چینل ہر گھر کے اندر پروگرام دکھا رہے ہیں اور وہ اپنے اپنے کلچر اور نظریات کے مظہر ہیں۔ ایسی فضا میں اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو فکری لحاظ سے خودرو پودوں کی طرح بڑھنے کے لیے چھوڑ دیں تو نتیجہ پھر انارکی کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا اور یہ نہ بھولیے ’’خانۂ خالی را دیو می گیرد‘‘۔

اس بات پر اعتراض کیا جا رہا ہے، اور بجا طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ورلڈکپ کے موقع پر جو کلچر پروگرام ترتیب دیے گئے وہ یا ان کا کچھ حصہ ہماری فکری اور تہذیبی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اور صدر لغاری کو بھی یہ کہنا پڑا ہے کہ پاکستان میں ناچ گانا کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ ان کلچر پروگراموں میں نوجوانوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا ہے، خوب بھنگڑے اور دھمالیں ڈالی ہیں، اور ان پروگراموں میں اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ 

اس صورت حال کے رونما ہونے کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارا بنیادی نظامِ تعلیم و تربیت شعورِ سمت سے خالی ہے، اور ہمارے ہاں قومی سطح پر نہ ایسا نصابِ تعلیم رائج ہے، نہ ایسا تعلیمی ماحول موجود ہے کہ ہماری نئی نسل منفرد پاکستانی اور اسلامی تصورات کا شعور بھی حاصل کر سکے اور ان سے وابستگی بھی رکھتی ہو۔ دوسرے بہت سے حوالوں سے بھی ہمارا قومی نظامِ تعلیم و تربیت تباہ کن حالت میں ہے۔ تعلیمی سہولتوں کا فقدان ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی تربیت بہت محدود ہے، اور ہم ان خامیوں اور کمزوریوں کا کچھ ادراک بھی رکھتے ہیں اور ان کا تذکرہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ 

اصلاحِ احوال کی ضرورت کا احساس بھی پایا جاتا ہے لیکن جہاں تک ہمارے قومی نظامِ تعلیم و تربیت (یہ ایک نہایت وسیع اور جامع اصطلاح ہے، اس کی وسعتوں اور گہرائیوں پر غور کیجئے) کا تعلق ہے، ہم نے اسے بالکل Mess بنا رکھا ہے۔ کوئی واضح فکری بنیادی ہیں نہ واضح اہداف اور نہ ان پر عمومی قومی اتفاقِ رائے۔ کئی قسم کے نصاب، کئی قسم کے تعلیمی فلسفے رائج ہیں، اور ایک قوم کے اندر فکری حوالے سے کئی قومیں ابھر رہی ہیں، جن کے باہمی تضادات اور اختلافِ تصورات اس قدر واضح ہیں کہ اگر کوئی شخص دیدۂ بینا رکھتا ہے تو انہیں سمجھنے سے غافل نہیں رہ سکتا۔ 

ابلاغ کی دنیا میں جو عظیم انقلابات رونما ہو رہے ہیں اور جن کی وسعت اور ہمہ گیری میں بھی اضافہ ہونے والا ہے، ان کے اثراتِ بد سے بچنے اور صرف اچھے اثرات کو قبول کرنے کے لیے ہمارے ہاں قومی سطح پر کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں۔ کہنے کو ہم اسلام کے پیروکار ہیں اور پاکستان میں ایک اسلامی معاشرہ وجود میں لانا ہمارا دستوری ہدف ہے، لیکن اگر عدلِ اجتماعی کے حوالے سے ہم اس میدان میں کچھ نہیں کر سکے تو فکری اور نظریاتی اور تعلیمی اور ثقافتی دائروں میں بھی ہماری حالت انتہائی ناقابلِ رشک ہے۔ 

اللہ اس قوم کی حالت پر رحم کرے جو اپنے آپ کو متضاد فکری اور نظریاتی حملوں کا صید زبوں بنا دے، اور جسے اپنے فکری اور نظریاتی تشخص کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کا احساس ہی نہ ہو ؎

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

کیا کوئی شخص ایمانداری سے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسلام، اسلام کا اتنا زبانی تذکرہ کرنے کے باوجود ہم نے کوئی ایسا قومی نظامِ تعلیم و تربیت پروان چڑھایا ہے جو قوم کو اور بالخصوص اس کی نئی نوجوان نسل کو فکری لحاظ سے کوئی شعورِ سمت دے سکے۔ میرے خیال میں اس سوال کا جواب ایک واضح نفی میں ہے اور یہ ہماری عظیم ترین اور سنگین ترین قومی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔ اس پس منظر میں اس بات پر اظہارِ افسوس اور اظہارِ تعجب کیسا کہ بھارت کی ثقافتی یلغار کے ہم پر غالب آجانے کی باتیں اندرونِ ملک کی بھی ہو رہی ہیں اور سرحد پار سے بھی ہمیں ان کے طعنے دیے جا رہے ہیں۔  فاعتبروا یا اولی الابصار۔ 

(روزنامہ جنگ لاہور، ۱۷ مارچ ۱۹۹۶ء)

جنسی انقلاب اور اقوام متحدہ

جاوید اقبال خواجہ

دنیا میں جنسی سیلاب پھیلانے، جنسی تعلیم کو لازمی اور عام کرنے، اسقاطِ حمل کو آسان اور جائز بنانے، کنڈوم کے استعمال کو فروغ دینے، اور ہم جنس پرستی کو قابلِ قبول بنانے کے پروگرام کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ یہ کانفرنس ایک اسلامی ملک مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہو رہی ہے اور اس بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام اقوامِ متحدہ نے کیا ہے۔ کانفرنس کی مہتمم پاکستان کی ڈاکٹر نفیسہ صادق ہیں۔ 

اگرچہ کانفرنس کا عنوان ’’آبادی پر کنٹرول اور ترقی‘‘ تجویز کیا گیا ہے اور کانفرنس سے پہلے اقوام متحدہ نے ایک سو تیرہ صفحات پر مشتمل جو ایجنڈا تمام حکومتوں کے لیے جاری کیا ہے، اس میں ’’ترقی‘‘، ’’معیشت کے پھیلاؤ‘‘، اور ’’بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، لیکن ایک مبصر کے بقول 

’’یہ مغرب کے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت تیسری دنیا خصوصاً‌ اسلامی ممالک میں جنسی سیلاب پھیلانے اور جنسی انقلاب برپا کرنے کا منصوبہ ہے، جسے مغرب اپنے دوسرے بے کار منصوبوں کی طرح روبہ عمل لانے کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کر رہا ہے۔‘‘

بین الاقوامی اسلامی تنظیموں، اسکالرز، ماہرینِ تعلیم، علماء اور دانشوروں نے قاہرہ کانفرنس کے ایجنڈے کی شدید مخالفت کی ہے۔ مصر میں واقع عالمِ اسلام کی قدیم اور سب سے مقتدر درسگاہ الازہر کے علماء، رابطہ عالمِ اسلامی، مسلم نوجوانوں کی بین الاقوامی تنظیم نے قاہرہ کانفرنس کے ذریعے اقوام متحدہ کے پیش کردہ پروگرام کو اسلامی معاشروں پر مغربی طرز کے جنسی حقوق کا قانون (Bill of Sexual Rights) مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ مغربی دانشور، فلاسفر اور سیاستدان ایک عرصے سے دنیا پر مغرب کی برتری کو مسلمان عوام کی بڑھتی ہوئی آبادی کی طرف درپیش چیلنج سے نپٹنے کی جن تدابیر کو اختیار کرنے کا ذکر کرتے رہے ہیں، وہ اقوام متحدہ کے اس پروگرام میں ہر طرح سے مربوط نظر آتی ہیں۔

کانفرنس کے لیے جاری کردہ ایجنڈے کا بغور مطالعہ کیا جائے اور ’’آبادی پر کنٹرول اور ترقی‘‘ کے نام پر استعمال کی گئی خوبصورت اصطلاحات کے بین السطور اصل پروگرام کو پڑھا جائے تو مسلمانوں کے اعتراضات کی نوعیت اور ان کا جواز مکمل طور پر سمجھ میں آجاتا ہے۔

ا۔ جنسی تعلیم کا پھیلاؤ

کانفرنس کے پروگرام کے مطابق اقوام متحدہ کے ممبر ممالک پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ جنسی تعلیم کو عام کرنے اور اس پھیلاؤ میں حائل تمام قانونی، سماجی اور معاشرتی رکاوٹوں کو دور کریں۔ بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ نوجوانوں (لڑکوں اور لڑکیوں) کے جنسی تعلیم کے متعلق حقوق کو وسیع کریں اور ان کی حفاظت کریں۔ 

شادی کے بغیر جنسی تعلق کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ہر ایک اس حقیقت سے باخبر ہے کہ مغربی درس گاہوں میں جنسی تعلیم نصاب کا کسی نہ کسی صورت میں لازمی حصہ ہے، کئی مغربی ممالک میں یہ سیکنڈری اسکول سے شروع ہوتی ہے جبکہ بعض معاشروں میں اس کا اہتمام نچلی سطح سے کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اقوام متحدہ کا اپنے ممبر ممالک پر جنسی تعلیم کو قائم کرنے اور اسے پھیلانے پر زور ان معاشروں کے لیے ہے جہاں یہ تعلیم ابھی نصاب کے طور پر رواج نہیں پا سکی، اور ظاہر ہے کہ اسلامی ممالک کی درس گاہیں، مسلمان طلباء اور طالبات اس کا نشانہ ہیں۔ اپنی فلموں، گانوں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے مغربی ذرائع ابلاغ دن رات ’’جنسی کلچر‘‘ کے فروغ میں مصروف ہیں۔ اب وہ اسے مسلم معاشروں میں اتنی بنیادی سطح پر لازمی تعلیم کے ذریعے لے جانا چاہتے ہیں کہ مغربی جنس پرستی کی حامل تہذیب کے بارے میں کسی بھی سطح پر کوئی مزاحمت باقی نہ رہے۔ اور آج کے طالب علم کل جب عملی دنیا میں قدم رکھیں تو وہ اس کلچر کے سب سے بڑے علمبردار ہوں۔ 

اقوام متحدہ کی آڑ میں مغرب نہ صرف اساتذہ کے ذریعے جنسی تعلیم کا انتظام کرنے پر زور دے رہا ہے بلکہ ممبر ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ خصوصاً‌ ٹی وی کو اس کام میں لائیں اور تفریح کے نام پر پیش کیے جانے والے پروگراموں میں بھی جنسی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ سب سے زیادہ خطرناک مطالبہ یہ ہے کہ طالب علموں کے لیے جنسی تعلیم کا حصول ایک حق کے طور پر تسلیم کیا جائے اور جس طرح باقی انسانی حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے، اسے بھی وہی درجہ دیا جائے۔

۲۔ شادی کے بغیر جنسی تعلق کی حوصلہ افزائی اور کنڈوم کلچر کا فروغ

اقوام متحدہ کانفرنس کے ذریعے حکومتوں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ 

’’فرد اور جوڑوں کے لیے مانع حمل ادویات کے حصول، ان کے بارے میں معلومات، خاندانی منصوبہ بندی کی نسبت مشورے اور ہدایات کے حصول کو حق کے طور پر تسلیم کریں اور انہیں آسان بنائیں۔‘‘

یہ بھی کہا گیا ہے کہ 

’’حکومتیں نوجوانوں (مرد اور عورت) کی جنسی خواہشات کی تکمیل میں مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں مدد فراہم کریں۔‘‘

یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس حکم میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ یہ مدد شادی شدہ جوڑوں کو، یا رشتۂ ازدواج میں منسلک مرد اور عورت کو فراہم کی جائے۔ اس حکم کا صاف مقصد یہ ہے کہ حکومتیں جنسی بے راہ روی کو اور جنسی تعلق کو اسی طرح عام کریں جس طرح مغربی معاشروں میں یہ عام ہے۔ عورت اور مرد کو کھلی چھٹی دی جائے کہ وہ اپنی اپنی خواہشات کے مطابق شادی کے بغیر جس طرح چاہیں آزادانہ طور پر جنسی تعلق قائم کریں اور معاشرے میں انہیں کوئی پوچھ کچھ کرنے والا نہ ہو۔ بلکہ حکومت ان کی اس روش کو ان کا بنیادی حق تسلیم کرتے ہوئے قانونی تحفظ فراہم کرے، اور ساتھ اس بات کا بھی پوری طرح اہتمام کرے کہ انہیں مانع حمل ادویات آسانی سے فراہم ہوں، اور آزادانہ جنسی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی معلومات درکار ہوں یا ہدایات چاہئیں تو وہ انہیں مل سکیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنڈوم کی فراہمی کو آسان اور عام بنایا جائے۔ اقوام متحدہ کا حکم یہ ہے کہ 

’’کنڈوم ہر جگہ موجود ہو، سستا ہو اور لازمی ادویات کی فہرست میں شامل ہو۔‘‘

حکومتوں پر یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا خاص اہتمام کریں کہ 

’’قابلِ اعتماد اور محفوظ لیکن سستے کنڈوم کی سپلائی اور تقسیم میں کوئی کمی نہ رہنے دی جائے۔‘‘

اقوام متحدہ نے ترقی یافتہ ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو اعلیٰ قسم کے کنڈوم بنانے کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا اہتمام کریں۔ اقوام متحدہ کنڈوم کے پھیلاؤ میں کس قدر سنجیدہ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اگلے چند سالوں میں دنیا بھر میں کنڈوم کو عام کرنے کے لیے ۳۴ بلین ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ موجودہ عیسوی صدی کے آخر تک پروگرام اس بجٹ کو اور زیادہ بڑھانے کا ہے۔ صرف ’’کنڈوم بجٹ‘‘ کے لیے رقم کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اصل پروگرام کیا ہے اور مغرب نے دنیا کے معاشروں کو کس راہ پر لگانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

۳۔ اسقاطِ حمل کو آسان اور جائز بنانا

اگرچہ کنڈوم کے فروغ اور اس کے استعمال پر زور، مانع حمل ادویات کی با آسانی فراہمی کے بعد نسلِ انسانی کی افزائش کوئی مسئلہ نہیں رہنا چاہیے، لیکن اقوام متحدہ کا پروگرام یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسان رحمِ مادر میں پرورش پانے والے بچے کو ختم کرنا چاہیں، انہیں نہ صرف اس کی آزادی ہونی چاہیے بلکہ انہیں اس کام کی تکمیل میں حکومتیں ہر طرح سے مدد فراہم کریں۔ اس لیے حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 

’’اس بات کا پوری طرح خیال رکھیں کہ صحت کے بنیادی پروگرام میں اسقاطِ حمل شامل ہو۔‘‘ 

عورتوں کو یہ قانونی حق دیا جا رہا ہے کہ وہ جب چاہیں اپنا حمل ختم کرا سکیں، اور اس کے لیے انہیں معلومات، مشورے اور ڈاکٹر و ادویات کی سہولت حاصل ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ صاف لفظوں میں ممبر ممالک خصوصاً‌ اسلامی ممالک (اس لیے کہ مغربی ممالک میں یہ سہولیات موجود ہیں) کو حکم دے رہا ہے کہ وہ اسقاطِ حمل کو جائز اور قانونی قرار دیں اور اس کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں۔ ماں کے پیٹ میں ایک معصوم کو قتل کرنا اسلامی تعلیمات کے صریحاً‌ خلاف ہے، اور اب اقوام متحدہ کا حکم یہ ہے کہ مسلمان حکومتیں اس ’’جرم‘‘ کی پوری طرح اعانت کریں۔ اسقاطِ حمل کے نتیجے میں عورتوں کے لیے جو جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اقوام متحدہ کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کا مقصد تو ’’جنسی انقلاب‘‘ کے ثمرات کو محفوظ کرنا اور معاشرے خصوصاً‌ اسلامی سوسائٹی میں سوشل بریک ڈاؤن پیدا کرنا ہے۔

۴۔ ہم جنس پرستی کو قابلِ قبول بنانا

مغربی معاشروں میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس معاملے میں ان معاشروں کی ’’ترقی‘‘ کا یہ عالم ہے کہ برطانیہ میں ایک خاتون ممبر نے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا کہ ہم جنس پرستوں کی قانونی عمر کو ۲۱ سال سے کم کر کے ۱۶ سال کر دی جائے، جبکہ پارلیمینٹ نے ۱۶ اور ۲۱ کے درمیان ۱۸ سال کی عمر کا درمیانی راستہ اختیار کیا۔ ہالینڈ میں یہ حد ۱۲ سال کی ہے۔ 

اب اقوام متحدہ کے ذریعے مغرب اپنی اختیار کردہ ان جنسی اقدار کو اسلامی ممالک میں پھیلانا چاہتا ہے۔ قاہرہ کانفرنس کے مطابق ممبر ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ 

’’فرد کو اس آزادی کی ضمانت دیں کہ وہ اپنی جنسی خواہشات کے لیے متبادل جنسی طرزِ زندگی اختیار کر سکیں۔‘‘

اس ’’آزادی‘‘ کا صاف مقصد معاشرے کے اندر ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو اس بات کی کھلی اجازت دینا ہے کہ وہ مرد وزن کے قدرتی رشتے سے ہٹ کر غیر فطری طرزِ زندگی اختیار کر سکیں، اور معاشرہ اور حکومت انہیں اس کی نہ صرف سہولت فراہم کرے بلکہ انہیں اس کے لیے تحفظ فراہم کرے۔ اور جو ممالک اس لائن کو اختیار کرنے سے پہلو تہی کریں، اقوام متحدہ ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر سکے۔ 

اب تک ہم نے اقوام متحدہ کے جن احکامات کا جائزہ لیا ہے ان کا تعلق اگرچہ مسلم معاشروں سے خصوصی بنتا ہے، تاہم تیسری دنیا کے اور بھی بہت سے ممالک اس دائرے میں شامل ہیں جن کی معاشرتی اور سماجی اقدار مغرب سے مختلف ہیں، اور جنہیں اقوام متحدہ کے ذریعے الٹ پلٹ کر کے مغربی طرزِ زندگی سے بدلنے کی واضح کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاطینی امریکہ کے بعض ممالک کے رہنماؤں اور چرچ لیڈروں نے قاہرہ کانفرنس کے بعض پہلوؤں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ تاہم اس کانفرنس کے چند ایک پہلو ایسے ہیں جو بالکل اور واضح طور پر مسلم معاشروں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔

اسلام میں خاندانی زندگی پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور معاشرے میں انتہائی بنیادی اکائی قرار دے کر اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے قاہرہ کانفرنس کے ذریعے اس زندگی پر کاری ضرب لگانے کا پروگرام بنایا ہے۔ ممبر ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ عورتوں کو اس بات کی آزادی فراہم کریں کہ وہ ’’روایتی طریقوں سے ہٹ کر اپنی آمدنی کے ذرائع اختیار کر سکیں‘‘۔ اور اس بات کا بھی اہتمام کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ ’’عورتوں پر گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ کم ہو سکے‘‘۔ مسلمانوں کے قانونِ وراثت پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے ممبر ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ’’عورتوں کو ہر طرح کے برابر حقوق فراہم کریں‘‘۔ شادی کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر کرنے کی تجویز بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ 

شادی اور خاندانی زندگی کے ادارے بین الاقوامی سطح پر کبھی اس طرح کی یلغار کی زد میں نہیں آئے تھے جس طرح کا سیلاب اب اقوام متحدہ کے ذریعے مسلم معاشروں کے دروازوں پر آپہنچا ہے۔ جنسی تعلیم کے نتیجے میں جنسی خواہشات کی آگ مسلمان سوسائٹی کو جس طرح گھیرے میں لے گی، اور مانع حمل ادویات کی موجودگی اور کنڈوم کی فراہمی اس کے شعلے کے لیے جس ہوا کا کام دیں گی، وہ ہمارے خاندانی ڈھانچے کو جلا کر راکھ کر دے گی۔ 

اس کے نام پر خوبصورت اصطلاحوں کے پردے میں عورت کے لیے ’’جنسی غلامی‘‘ کی زندگی تجویز کی جا رہی ہے اور یہ خوامخواہ کا ہوّا نہیں ہے، مغربی ممالک ’’جنسی انقلاب‘‘ کے نتیجے میں غیر شادی شدہ ماؤں کی روز افزوں تعداد، ناجائز بچوں کی بڑھتی ہوئی فوج، طلاق کی شرح میں بے پناہ اضافے، اور امن و امان کی جس خراب صورتحال سے دوچار ہیں، وہ اب اسلامی ممالک کو برآمد کرنے کا پروگرام روبہ عمل لا رہے ہیں۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب کچھ ’’ترقی اور آبادی کے کنٹرول‘‘ کے نام سے کیا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک سے کہا جا رہا ہے کہ چونکہ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اور تمہارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ تم اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو فیلڈ کر سکو، اس لیے آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے مغربی جنسی ذرائع اختیار کرو۔ 

اس کا مقصد ایک طرف مغربی طرزِ معاشرت کو دوسرے معاشروں خصوصاً‌ اسلامی معاشروں میں عام کرنا، اور دوسری طرف ’’گوری‘‘ نسل کی سیاسی اور اقتصادی برتری کو قائم دائم رکھنا ہے۔ مغربی فلاسفروں جن میں مشہور زمانہ فلاسفی برنائیڈرمل بھی شامل ہیں، اس نظریے کے حامی رہے ہیں کہ رنگدار افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کی شرح پیدائش میں کمی ہو، وگرنہ سفید رنگت کی نسل دنیا سے معدوم ہو جائے گی۔ جبکہ ہنری کسنجر کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ پاکستان، ترکی، انڈونیشیا، مصر اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے اسٹرٹیجک خطرہ ہے۔ مغربی دانشور اس کے لیے ’’پاپولیشن بم‘‘ کی اصلاح استعمال کرتےہیں۔ 

ترقی پذیر ممالک کے لیے ابھی تک یہ بحث حل طلب ہے کہ آبادی میں اضافہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے یا وسائل کی منصفانہ تقسیم کا؟ پھر ہر ملک میں ان مسائل کی نوعیت جدا ہے۔ خود مغربی ماہرین کے اندازوں کے مطابق دنیا کی ایک چوتھائی آبادی ان ممالک میں رہتی ہے جو دنیا کے تین چوتھائی وسائل پر قابض ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں عموماً‌ انہی ممالک کے مسلط کیے ہوئے حکمران براجمان ہیں جن کے اختیار میں پوری قوم کے وسائل ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک تیسری دنیا کے ممالک سے اپنے قرضوں کے سود کے طور پر ان کی قومی پیداوار کا بیشتر حصہ وصول کر لیتے ہیں۔ 

اقوام متحدہ جس کا مقصد دنیا میں امن کا قیام تھا، کسی بھی علاقائی جھگڑے کو طے کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اس لیے بیشتر ممالک کے وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ اسلحے کی خریداری کے نام پر ترقی یافتہ ممالک کے خزانوں میں ہر سال منتقل ہو جاتا ہے۔ سیاسی، اقتصادی اور فوجی برتری حاصل کرنے کے بعد اب وہ ان معاشروں میں جو تبدیلی مسلط کرنا چاہتا ہے اس کے لیے اس نے اقوام متحدہ کا سہارا لیا ہے، تا کہ وہ تمام ممالک اور معاشرے جو مغرب کے چنے ہوئے اور آزمائے ہوئے ’’جنسی انقلاب‘‘ کی کسی بھی شق کو رد کریں گے، ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ 

مسلمان حکومتوں کی طرف سے اقوام متحدہ کی آڑ میں اس مذموم مغربی منصوبے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے معاشروں میں مغرب کے تجویز کردہ ’’کنڈوم کلچر‘‘ کو مسلط ہونے سے روکیں۔ وگرنہ غربت، جہالت اور بیماری کے ساتھ جنسی بے راہ روی کا سیلاب ان کے معاشروں کو بہا کر لے جائے گا۔ 

ایک اسلامی ملک کے دارالحکومت قاہرہ، اور اس پروگرام کو روبہ عمل لانے کے لیے ایک پاکستانی مسلمان خاتون کا انتخاب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ سارا منصوبہ مسلمان ممالک کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ تہذہبی لحاظ سے یہ پروگرام، فلسطین، کشمیر اور بوسنیا میں جاری مسلم نسل کشی سے زیادہ خطرناک ہے۔

(روزنامہ جنگ لندن ۳ ستمبر ۱۹۹۴ء)

خواتین کی عالمی کانفرنسوں کے اصل مقاصد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بیجینگ (چین) میں اقوام متحدہ کی چوتھی خواتین عالمی کانفرنس کا آغاز ہو چکا ہے جس میں خواتین کے حقوق اور مختلف معاشروں میں انہیں درپیش مسائل و مشکلات پر غور ہو رہا ہے اور ان کے حل کے لیے تجاویز تیار ہو رہی ہیں۔ گزشتہ سال قاہرہ (مصر) میں بھی اس نوعیت کی کانفرنس منعقد ہو چکی ہے جس کی منظور کردہ سفارشات اور تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے بیجنگ کی خواتین کانفرنس کے بنیادی اہداف و مقاصد کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کانفرنسوں کا اصل مقصد تیسری دنیا اور عالم اسلام کی خواتین کو معاشرتی لحاظ سے اس مقام اور حیثیت پر لانا ہے جو مغربی معاشرہ میں عورت کو حاصل ہے اور جسے خواتین کے حقوق کے حوالے سے آئیڈیل مقام قرار دیا جا رہا ہے۔

جہاں تک خواتین کے جائز حقوق اور ان کے صحیح اور شایان شان معاشرتی مقام و مرتبہ کا تعلق ہے تو یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ دنیا میں اس وقت کسی جگہ بھی مجموعی طور پر خواتین کو معاشرہ میں وہ مقام و حیثیت حاصل نہیں ہے جو حوا کی ان بیٹیوں کا جائز اور فطری حق ہے۔ ہمارے نزدیک اس معاملہ میں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک، تیسری دنیا کے ممالک، اور عالم اسلام کے ترقی پذیر و پسماندہ ممالک سب ہی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یکساں طور پر قصوروار ہیں۔ اس لیے اگر خواتین کی ان عالمی کانفرنسوں کا مقصد صرف یہ ہو کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جائے اور کسی سوسائٹی کا امتیاز کیے بغیر عورت کے جائز اور فطری معاشرتی مقام و مرتبہ کی بحالی کے لیے جدوجہد کی جائے تو یہ انتہائی خوش آئند بات ہوگی۔ اور اس صورت میں ملت اسلامیہ کے اہل علم و دانش کی بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس جدوجہد میں شریک ہوں اور اس کے حق میں عالم اسلام کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن قاہرہ کانفرنس کی سفارشات کا مقصد عورتوں کے حقوق و مقام کے تعین اور اس کے لیے جدوجہد کا نہیں بلکہ خواتین کے حوالے سے ویسٹرن سولائزیشن کو آئیڈیل اور معیار قرار دینے اور دنیا بھر کے انسانی معاشروں کو اس کی پیروی پر مجبور کرنے کا بن گیا ہے۔ یہ وہ دوراہا ہے جہاں تیسری دنیا اور عالم اسلام کے دانشوروں کا راستہ مغربی دانشوروں اور میڈیا کاروں سے الگ ہو جاتا ہے، اور وہ ان کانفرنسوں کو خواتین کے حقوق کی بحالی کی بجائے ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی قائم کرنے کی جدوجہد کا ایک حصہ قرار دے کر ان سے اختلاف کر رہے ہیں۔

عالم اسلام کی بدقسمتی یہ ہے کہ ایک آدھ کی جزوی استثنا کے ساتھ اس کے تمام ممالک پر ابھی تک دورِ غلامی کے اثرات کا غلبہ ہے اور عالمی استعمار کی مداخلت اور سازش کی وجہ سے مسلم ممالک کا معاشرتی نظام اسلامی اصولوں پر استوار نہیں ہو سکا۔ چنانچہ دنیا میں کہیں بھی اسلامی معاشرہ کا وہ مثالی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جسے بطور نمونہ پیش کیا جا سکے۔ اس لیے مغربی میڈیا کار اس بات میں آسانی محسوس کر رہے ہیں کہ مسلم ممالک کے موجودہ معاشرتی ڈھانچوں کو اسلام کا نمائندہ قرار دے کر ان تمام ناانصافیوں اور حق تلفیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈال دیں جو ان ممالک میں سیاسی، معاشرتی، اور معاشی طور پر روا رکھی جا رہی ہیں۔ ورنہ جہاں تک حقوق کا تعلق ہے، معاشرے کے کسی طبقہ کو سامنے رکھ لیں، اس کے حقوق اور ذمہ داریوں میں اسلام نے جو توازن قائم کیا ہے دنیا کا کوئی دوسرا نظام اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اور آج مغرب اپنی آزادی کی بے اعتدالیوں کے فطری نتائج دیکھنے کے بعد اسی توازن کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دے رہا ہے۔

عورت ہی کو لے لیجیے، اسلام نے اسے معاشرہ میں بیٹی، بہن، بیوی، اور ماں کے طور پر شفقت، محبت، اور احترام کا مقام دیا۔ مگر ان چار جائز رشتوں سے ہٹ کر ’’پانچواں رشتہ‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو کہ آج ویسٹرن سولائزیشن کا طرۂ امتیاز ہے۔ اور جسے جائز تسلیم کرانے اور قانونی تحفظ دلانے کے لیے عالمی سطح پر خواتین کی کانفرنسوں کا اہتمام ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن مغرب خود اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہے۔ ایک طرف مسٹر گورباچوف کا کہنا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر دفتر اور فیکٹریاں تو آباد کر لیں لیکن اپنا فیملی سسٹم تباہ کر لیا اور اب عورت کو واپس گھر لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ امریکہ کی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں کھلم کھلا کہا کہ امریکی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ لڑکی کا کنوارپن میں ماں بن جانا ہے۔ اور برطانوی وزیراعظم جان میجر ’’بنیادوں کی طرف واپسی‘‘ (Back to basics) کا نعرہ لگا کر ان خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے پالیسیاں وضع کر رہے ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے ساتھ دوسری طرف مغربی دانشور ان خواتین کانفرنسوں کے ذریعے تیسری دنیا اور عالم اسلام کو اسی دلدل میں آگے بڑھنے کی دعوت بھی دے رہے ہیں جس سے نکلنا خود ان کے لیے مشکل تر ہوگیا ہے۔

اسلام کا ’’قصور‘‘ یہ ہے کہ اس نے عورت کو ان زائد ذمہ داریوں کا سزاوار نہیں ٹھہرایا جو اس کے فطری فرائض سے متصادم ہیں، اور بچے کی پیدائش و پرورش اور خانہ داری کے فرائض کے بعد معاشی کفالت کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا۔ مگر مغرب نے معاشی کفالت کے لیے ملازمت اور محنت مزدوری کو ڈیوٹی اور فرائض کی فہرست سے نکال کر حقوق کی فہرست میں شامل کر دیا اور یوں معاشی مساوات کے پر فریب نعرے کے ساتھ عورت کو دوہری ذمہ داریوں کے شکنجے میں کس دیا۔ جبکہ بے چاری عورت خوش ہے کہ اس نے مرد کے برابر معاشرتی حقوق حاصل کر لیے ہیں۔ اب بیجنگ کانفرنس میں ایسی ہی آزادی اور حقوق حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس نے رشتوں کا تقدس ختم کر کے آزادی اور مساوات کے نام پر ایسے طرز معاشرت کی داغ بیل ڈالی اور مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط کو فروغ دیا۔ جس کے منطقی اور فطری نتائج یہ ہیں کہ کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، فیملی سسٹم تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، اور ماں باپ کی شفقت سے محروم بچوں میں نفسیاتی امراض روز مرہ سامنے آرہے ہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے مغرب کی عورت انسانی معاشرہ کی مظلوم ترین عورت ہے کہ لڑکپن سے جوانی تک جب اسے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جنسی ہوسناکیوں کا شکار گاہ بنتی رہتی ہے، اور جوانی ڈھل جانے کے بعد جب خدمت اور احترام اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اولڈ پیپلز ہوم میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں وہ سال کے ان مخصوص دنوں کے انتظار میں زندگی گزارتی ہے کہ کب اس کے جوان بیٹے اور بیٹیاں کاغذی پھولوں کا گلدستہ لیے اسے دیکھنے آئیں گے۔

گزشتہ سال قاہرہ میں ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس میں جو سفارشات کی گئیں ان میں اسقاط حمل کو قانونی تحفظ دینے ، کنڈوم کی کھلم کھلا اور عام فراہمی کو یقینی بنانے، بن بیاہی ماں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے، اور ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کی سفارشات شامل ہیں۔ حالانکہ یہ وہی اسباب ہیں جنہوں نے مغربی معاشرہ کو رشتوں کے تقدس اور خاندانی نظام سے محروم کیا ہے۔ حتیٰ کہ گورباچوف، ہیلری کلنٹن، اور جان میجر جیسے لیڈر بھی اس تباہ کاری پر چیخ اٹھے ہیں۔ مگر عالم اسلام اور تیسری دنیا کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان اسباب کو اختیار کریں اور جنسی انارکی کی دلدل میں پھنس کر رشتوں کے تقدس اور خاندانی زندگی کو مغرب کی خواہشات پر قربان کر دیں۔

چنانچہ بیجنگ کی ’’عالمی خواتین کانفرنس‘‘ میں اقوام متحدہ کے پالیسی سازوں اور خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والے اداروں و دانشوروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خواتین کے حوالے سے اپنی مہم کے اہداف اور ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور اسے ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی کی جنگ بنانے کی بجائے انسانی معاشرہ اور عالمی برادری میں خواتین کے جائز اور فطری مقام و حیثیت کے تعین اور اس کی بحالی کی جدوجہد کا درجہ دیں۔ لیکن اگر ’’بیجنگ کانفرنس‘‘ کی سفارشات و تجاویز کا تانابانا بھی ’’قاہرہ کانفرنس‘‘ کی سفارشات سے ہی بنا گیا تو ہمارے نزدیک یہ ساری تگ و دو عالم اسلام اور تیسری دنیا کو ان کے کلچر سے محروم کرنے، بالخصوص مسلم دنیا کو خاندانی زندگی کے بارے میں ان کے بنیادی مذہبی احکام سے منحرف کرنے کی عالمی مہم کا حصہ متصور ہوگی۔ اور عالم اسلام کے دینی ادارے اس قسم کی سفارشات و تجاویز کو مسلم معاشرہ میں نفوذ کا راستہ دینے کے لیے کسی صورت بھی تیار نہیں ہوں گے۔

اسلام اور عورت کا اختیار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عربی ادب کی کہاوت ہے کہ ایک مصور دیوار پر تصویر بنا رہا تھا جس کا منظر یہ تھا کہ ایک انسان کے ہاتھوں میں شیر کی گردن ہے اور وہ اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ رک کر تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ مصور نے شیر سے پوچھا کہ میاں تصویر کیسی لگی؟ شیر نے جواب دیا کہ بھئی برش تمہارے ہاتھ میں ہے جیسے چاہے منظر کشی کرلو، ہاں اگر برش میرے ہاتھ میں ہوتا تو تصویر کا منظر اس سے یقیناً مختلف ہوتا۔

کچھ اسی قسم کی صورتحال آج عالم اسلام کو مغربی میڈیا کے ہاتھوں درپیش ہے۔ میڈیا کے تمام وسائل کا کنٹرول چونکہ مغرب کے ہاتھ میں ہے اس لیے وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اپنی مرضی کی تصویریں اور مناظر بنا کر دنیا کو مسلسل دکھائے جا رہا ہے۔ انہی مناظر میں سے ایک منظر عورت کے بارے میں بھی ہے جس میں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام میں عورت کے لیے مجبوری، محکومی، اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہے اور اسلام اسے کسی قسم کا کوئی اختیار دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ جب ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معاملہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے اور عورت کی تکریم، اس کی رائے کے احترام، اور اس کے اعزاز کے واقعات قدم قدم پر مشعلوں کی صورت میں روشن دکھائی دیتے ہیں۔ آج کی صحبت میں ہم انہی میں سے ایک ایمان افروز واقعہ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔

جناب نبی اکرمؒ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ایک لونڈی تھی جس کا نام بریرہؓ تھا اور وہ مغیثؓ نامی ایک نوجوان کے نکاح میں تھی۔ حضرت عائشہؓ نے جب بریرہؓ کو آزاد کیا تو اسے اسلامی اصولوں کے مطابق ’’خیار عتق‘‘ حاصل ہوگیا۔ خیار عتق کا مطلب یہ ہے کہ کوئی لونڈی آزاد ہوتے وقت اگر کسی کے نکاح میں ہو تو اسے یہ اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اگر اپنے اس خاوند کے نکاح میں نہ رہنا چاہے تو اس سے الگ ہو جائے۔ بریرہؓ نے یہ حق استعمال کرتے ہوئے اپنے خاوند مغیثؓ سے علیحدگی اختیار کر لی جس کا مغیثؓ کو بے حد صدمہ ہوا۔ احادیث میں ذکر ہے کہ مغیثؓ اس صدمہ میں گلیوں میں روتا پھرتا تھا اور لوگوں سے کہتا تھا کہ کوئی میری سفارش کرے اور بریرہؓ کو مجھ سے راضی کرا دے۔

رفتہ رفتہ بات جناب نبی اکرمؐ تک پہنچی۔ حضورؐ نے مغیثؓ کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا کہ میں بریرہؓ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب بریرہؓ سے پوچھا گیا تو اس اللہ کی بندی نے جواب دیا کہ میں مغیثؓ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ جناب رسول اللہؐ نے بریرہؓ سے مغیثؓ کی سفارش کی اور فرمایا کہ اگر تم واپس اس کے پاس چلی جاؤ تو بہتر ہے۔ اس پر بریرہؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے مغیثؓ کے پاس واپس جانے کا حکم دے رہے ہیں یا یہ آپ کا مشورہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ حکم نہیں مشورہ ہے۔ اس پر بریرہؓ نے جو جملہ کہا وہ عورت کی رائے اور حق کے احترام کی روشن مثال ہے۔ اس نے کہا ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ اس پر مغیثؓ اور بریرہؓ کے نکاح کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔

بریرہؓ نے اپنے حق کا آزادانہ استعمال کیا اور اس کے بارے میں اللہ کے نبی کا مشورہ بھی قبول نہیں کیا۔ لیکن اپنے حق اور رائے پر سختی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے بھی اس صحابیہ نے اس احتیاط کا دامن ضرور تھامے رکھا کہ کہیں حکم کی خلاف ورزی نہ ہو جائے، اسی لیے حضورؐ سے پوچھا کہ یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ ہے۔ گویا انہوں نے یہ بات واضح کر دی کہ اگر حکم ہوتا تو سرتابی کی مجال نہ تھی، ہاں مشورہ ہے تو اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔

اس واقعہ میں ہمیں سنت نبویؐ سے دو سبق ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ عورت کو جو اختیار حاصل ہے اسے وہ کسی روک ٹوک کے بغیر استعمال کر سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اختیار صرف اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ وحی الٰہی سے نہ ٹکرائے لیکن جب وحی سامنے آجائے تو اس کے مقابلہ میں کسی کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ الغرض یہ واقعہ جو احادیث کی اکثر کتابوں میں مذکور ہے، عورت کی رائے کے احترام کی واضح مثال ہے، چنانچہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام کے دامن میں عورت کے لیے جبر کے سوا کچھ نہیں تو اسے عناد اور ضد کے سوا کوئی اور عنوان نہیں دیا جا سکتا۔

نکاح میں سرپرست کے اختیار کے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے نام ایک خط

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بگرامی خدمت جناب عزت ماب جسٹس احسان الحق چودھری صاحب

و عزت ماب جسٹس ملک محمد قیوم صاحب

لاہور ہائی کورٹ لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟

گزارش ہے کہ آپ کی عدالت میں زیر سماعت ’’صائمہ کیس‘‘ کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے کچھ ضروری معروضات پیش کر رہا ہوں، قانوناً گنجائش ہو تو انہیں باضابطہ ریکارڈ میں شامل کر لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر وضاحت کے لیے عدالت میں حاضری کے لیے بھی تیار ہوں۔ ورنہ ذاتی معاونت و مشاورت سمجھتے ہوئے ان گزارشات کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ ضرور فرمایا جائے، بے حد شکریہ۔

اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کی روشنی میں اس کیس کا بنیادی طور پر توجہ طلب نکتہ یہ نظر آتا ہے کہ کیا کوئی عاقلہ بالغہ مسلمان لڑکی اپنے خاندان یا ولی اور سرپرست کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود کر سکتی ہے؟ اس سلسلہ میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ’’فیض الباری علیٰ صحیح البخاری‘‘ میں فقہی مذاہب کی جو تفصیل بیان کی ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

  1. حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ کنواری لڑکی ولی کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ ولی کی اجازت اور رضا کی صورت میں بھی ایجاب و قبول کا اختیار لڑکی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے یہ ذمہ داری ولی سر انجام دے گا۔
  2. احناف میں سے حضرت امام ابویوسفؒ اور حضرت امام محمدؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی رضا کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی، البتہ ولی کی رضا اور اجازت کی صورت میں ایجاب و قبول وہ خود کر سکتی ہے۔
  3. امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کا مذہب یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتی ہے۔ البتہ اسے اس طرح اپنا نکاح کرنے کی صورت میں ’’کفو‘‘ کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہوگا اور اگر اس نے ولی کی اجازت کے بغیر ’’غیر کفو‘‘ میں نکاح کر لیا تو ولی کو نہ صرف اعتراض کا حق ہے بلکہ وہ تنسیخ نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
  4. ’’کفو‘‘ کا مفہوم فقہائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ کسی لڑکی کا نکاح ایسی جگہ نہ ہو جہاں لڑکی کا ولی اور اہل خاندان اپنے لیے عار محسوس کریں۔ کفو کے اسباب فقہائے کرامؒ نے اپنے اپنے عرف اور ذوق کے مطابق مختلف بیان کیے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی اور اس کا خاندان جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں کے عرف اور معاشرتی روایات کے مطابق جو بات بھی ان کے لیے باعث عار سمجھی جاتی ہو کفو کے اسباب میں شامل ہوگی۔ کیونکہ کفو کی علت سب فقہاء نے ’’دفع ضرر عار‘‘ بیان کی ہے اور عار کے اسباب ہر معاشرہ اور عرف میں مختلف ہوتے ہیں۔
  5. اس تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو حضرت امام ابوحنیفہؒ کا موقف سب سے زیادہ قرین انصاف اور متوازن معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں لڑکی اور اس کے ولی دونوں کی رائے کا لحاظ رکھا گیا ہے اور اسی بنیاد پر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے امام اعظمؒ کا مذہب یہ بیان کیا ہے کہ نکاح میں لڑکی اور اس کے ولی دونوں کی رضا کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔ اور یہ بات انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اس لیے کہ نکاح صرف دو افراد کے باہمی تعلق کا نام نہیں بلکہ دو خاندانوں کے باہمی تعلقات، معاشرہ میں ان کی عزت و وقار، اولاد کی کفالت و تربیت ، اور ایک نئے تشکیل پانے والے خاندان کے مستقبل کے معاملات اس نکاح سے وابستہ ہیں۔ اور اصول یہ ہے کہ کسی فیصلہ سے جتنے لوگ بھی متاثر ہوتے ہوں فیصلہ کرتے وقت ان سب کے مفادات کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
  6. ویسٹرن سولائزیشن نے اسی مقام پر دھوکہ کھایا ہے کہ مغربی دانشوروں نے فرد کی آزادی اور عورت کے حقوق کے پرفریب عنوان کے ساتھ نکاح کو دو افراد کا معاملہ قرار دے کر اس کے باقی لوازمات و نتائج کو نظر انداز کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مغربی معاشرہ خاندانی زندگی کے نظام اور رشتوں کے تقدس سے محروم ہو چکا ہے۔ اور مغرب کا فیملی سسٹم انارکی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے جس کا ذکر چوٹی کے مغربی دانشوروں کی زبان پر بھی انتہائی حسرت کے انداز میں ہونے لگا ہے۔

اس سلسلہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے موقع پر شائع ہونے والی اس خبر کا حوالہ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ:

’’امریکی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن اسلام آباد کالج فار گرلز کی اساتذہ اور طالبات کے ساتھ گھل مل گئیں اور ان سے ایک گھنٹے سے زیادہ بے تکلفانہ گفتگو کی۔ ہیلری کلنٹن نے طالبات سے ان کے مسائل دریافت کیے۔ طالبات نے دوستانہ انداز میں کلنٹن کی اہلیہ کو سب مسائل بتائے۔ فورتھ ایئر کی طالبہ نائلہ خالد نے امریکی خاتون اول سے پوچھا کہ امریکی طالبات کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اس پر امریکہ کی خاتون اول نے کھل کر گفتگو شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طالبات کا مسئلہ تعلیم کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے، تعلیمی اداروں میں فنڈز کی کمی کا مسئلہ ہے، مگر امریکہ میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں بغیر شادی کے طالبات اور لڑکیاں حاملہ بن جاتی ہیں۔ اس طرح بے چاری لڑکی ساری عمر بچے کو پالنے کی ذمہ داری نبھاتی ہے۔ ایک دوسری طالبہ وجیہہ جاوید نے کہا کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ اس پر ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو خواہ وہ عیسائی ہوں یا مسلمان اپنے مذہب اور معاشرتی اقدار سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ مذہبی و سماجی روایات اور اصولوں کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھنا چاہیے۔ اپنی اور اپنے والدین کی عزت و آبرو اور سکون کو غارت نہیں کرنا چاہیے۔ مسز ہیلری کلنٹن نے کہا کہ وہ اسلام اور عیسائیت کی شادی کے خلاف نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی روایات کا احترام کرتے ہوئے شادی ہوتی ہے اس لیے یہاں لڑکیوں کے مسائل کم ہیں۔‘‘ (جنگ لاہور ۲۸ مارچ ۱۹۹۵ء)

اس پس منظر میں آنجناب سے میری استدعا یہ ہے کہ مسلمانوں کے خاندانی معاملات کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت اسلامی احکام و قوانین، معاشرتی روایات، اور عدالتی نظائر کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرہ میں فیملی سسٹم کی تباہی کے اسباب کو بھی سامنے رکھا جائے۔ کیونکہ یہ کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہوگی کہ مغرب جس دلدل سے واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے ہم آزادی اور حقوق کے نام نہاد مغربی فلسفہ کی پیروی کے شوق میں قوم کو اسی دلدل کی طرف دھکیلنا شروع کر دیں۔ امید ہے کہ آپ ان معروضات پر ضرور توجہ فرمائیں گے۔ بے حد شکریہ۔

والسلام: ابوعمار زاہد الراشدی، 

خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

نوٹ: لاہور کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام نے جن میں جامعہ اشرفیہ کے مولانا عبد الرحمان، مولانا فضل رحیم، مولانا مفتی شیر محمد علوی، جامعہ رضویہ ماڈل ٹاؤن کے مولانا مفتی غلام سرور قادری، جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو کے ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، جمعیۃ اہل حدیث کے مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، اور جامع مسجد خضرا سمن آباد کے خطیب مولانا عبد الرؤف فاروقی کے علاوہ جامعہ المنتظر کے مفتی صاحب بھی شامل ہیں، اس مکتوب پر دستخط کر کے اسے علمائے کرام کام تفقہ موقف قرار دیا ہے اور ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس مقدمہ میں علمائے کرام کو بھی اپنے موقف کی وضاحت کا موقع دیا جائے۔

خاندان کے اکٹھے مل کر کھانے کی ضرورت

لندن کے معروف اخبار ’’دی آبزرور‘‘ کی خصوصی رپورٹ

مترجم : پروفیسر غلام رسول عدیم

مسیحیو فورٹ کا کہنا ہے کہ بچے دستر خوان سے آداب و اقدار سیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جب رسمی تناول طعام کی بجائے ٹی وی ڈنر کا آغاز ہوا تو ۱۹۶۲ء ہی میں قوم کے زوال کا آغاز ہو گیا تھا۔ ۱۹۶۲ء میں کنبے کی تباہی شروع ہو گئی۔ یہ وہ سال تھا جب مجرد افراد نے تیار کھانے (Vesta range of ambient) شروع کیے۔ آج ملک بھر میں ان کے بعد آنے والے فریجوں کی فریجیں اور فریزر کے فریزر چٹ کر رہے ہیں۔ 

دلیل دی جا سکتی ہے کہ زوال تو بہت پہلے ۱۹۳۶ء میں اس وقت شروع ہو گیا تھا جب ٹیلی ویژن نے پہلا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس کی تکمیل اس وقت تک نہ ہوئی تھی جب تک کہ غذائی ٹیکنالوجی نے ٹمٹماتی سکرین کے سامنے بیٹھ کر کھانے کی سہولت فراہم نہ کی تھی اور کمپنیوں نے اپنے پسندیدہ پروگرام سے پہلے یا بعد اکٹھے مل بیٹھ کر کھانا نہیں چھوڑ دیا تھا۔ ایسا فی الفور نہیں ہو گیا۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانے کا رواج ۱۹۶۰ء کی دہائی کے آخر تک رہا۔ لیکن اس وقت چھوٹی اسکرین کی دلکشی بہت زیادہ ہو گئی۔ اوقاتِ طعام کو ٹی وی پروگراموں تک محدود کر دینے کے امکان کا مطالبہ ہونے لگا۔ ہم ٹی وی دیکھنے میں کھانے پینے کو دخیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ Birds age یو کے میں پہلی کمپنی تھی جس نے اس بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کی اور ۱۹۶۹ء میں یو کے کا پہلا ٹی وی ڈنر بھنا ہوا گوشت مہیا کیا۔

Algy نے The importance of earnest میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ہفتہ میں ایک مرتبہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ کھانا کافی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ آج کل اکثر لوگ ایک ہفتے میں بھی ایسا نہیں کرتے۔ سکول کے بچوں کے حالیہ جائزوں سے معلوم ہوا کہ گزشتہ ہفتے تین میں سے ایک بچے نے بھی اپنے والدین کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھایا۔ در حقیقت اتنے کنبے باقی ہی نہیں رہے۔ صرف پچیس فیصد گھر ایک میاں بیوی اور ۲.۴ بچوں پر مشتمل ہیں۔ یہ ۱۳ فیصد انحطاط ۱۹۷۱ء سے ہے۔ سن ۲۰۰۰ء میں یہ اور بھی کم رہ جائیں گے۔ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ ہم اس وقت اخلاقی اور معاشرتی بحران سے گزر رہے ہیں۔ 

مجرم بچے، غیر ذمہ دار والدین، بڑھتے ہوئے جرائم، قید خانے کا نظریہ پیش کرنے والے سکول، بظاہر اچھے نظم کے نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ خاموشی سے سیاستدانوں کی قبول کی گئی رشوت، کاروبار کی نااہلیت، جس پر بہت زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ ذاتی ذمہ داری کی کمی (سیاستدانوں اور کاروباری رہنماؤں میں) وغیرہ بحران کے مختلف نمونے ہیں۔ 

یہ نقطۂ نگاہ بھی نشوونما پاتا دکھائی دیتا ہے کہ یہ برائیاں کسی بھی درجے کی بھی کیوں نہ ہوں، خاندان کے معاشرتی یونٹ کی حیثیت سے انحطاط پر قابلِ مذمت ہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو ضابطوں کا پابند بنانے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، اور بچے خاندان کو اپنی معاشی اور معاشرتی قدروں کے ماخذ کی حیثیت سے نہیں دیکھتے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ایک نسل سے دوسری نسل کو تجربہ اور اقدار کی کوئی منتقلی نہیں ہو رہی۔ ہر نسل اب اپنی اس کمی کو خود پورا کرتی نظر آتی ہے۔ 

ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا، پھر گزشتہ نسلوں نے اچھے برے کے احساس اور ایک برادری کی ذمہ داری کے ساتھ نشوونما پائی؟ جواب یہ ہے کہ ٹی وی ڈنر سے پہلے کے زمانے میں جب خاندان اکٹھے کھانے پر بیٹھا کرتے تھے، اکٹھے مل کر کھانے کا رواج، خاندانی روابط میں ایسا فورم پیش کرتا جو دوسری کوئی سرگرمی پیش نہ کرتی تھی۔ ممکن ہے کہ آپ اپنے والدین یا بھائی بہنوں کو زیادہ پسند نہ کرتے ہوں، ممکن ہے آپ ان سے نفرت کرتے ہوں، ممکن ہے گھر پر پکانا ظلم سمجھا جاتا ہو، لیکن ناشتے، دوپہر کے کھانے، چائے یا شام کے کھانے کے علاوہ اور کونسی رسمی صورتحال ہے جو ایسا موقعہ فراہم کرے جس سے آپ اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں اور دوسرے آپ کے لیے اظہارِ جذبات کر سکیں۔ ایسے حالات میں تو مکمل خاموشی بھی خیالات کے منتقل کرنے کی ایک صورت بن جاتی ہے ؏

خاموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

اکثر خاندانوں کے لیے کھانا یا دستر خوان مباحثہ گاہ بن گیا۔ کاٹنے، چبانے، ایک دوسرے سے نمک وغیرہ لینے، ایک شائستگی کا رکھ رکھاؤ پیدا کیا۔ خوش اطواریوں ہی سے مرد اور عورت شائستہ بنتے تھے۔ اہلِ برطانیہ میں ہمیشہ بڑوں اور بچوں کو الگ الگ رکھنے کا احساس موجود رہا ہے۔ معاشرتی تحرکات کو بڑی احتیاط سے منظم کیا جاتا رہا ہے تاکہ فریقین متصادم نہ ہوں۔ 

تاہم بچوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ کم از کم کچھ وقت ہی کے لیے بڑوں کے ساتھ رہیں، نگاہوں میں رہیں، خواہ ان کی بات نہ سنی جائے۔ اور اب تو نہ وہ سامنے ہوتے ہیں اور نہ ان کی بات ہی سنی جاتی ہے۔ وہ دباؤ جن کے تحت ہم میں سے اکثر کام کرتے ہیں، وہ اوقات جن میں ہمیں اپنے معاہدات اور معیارِ زیست کو قائم رکھنے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، اور بہت سوں کے لیے وہ مالی مجبوریاں جن کی وجہ سے والد اور والدہ دونوں کو کام کرتا پڑتا ہے۔ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ باوجود شدید خواہش کے ہم اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکتے۔ اقتصادی برتری کے لیے کوشش کرنا بھی تو ذاتی اور معاشرتی تقاضے رکھتا ہے، وجوہ کچھ بھی ہوں بعض اعداد و شمار قابلِ غور ہیں۔ 

۱۹۷۱ء سے، جب سے ہم نے ٹی وی ڈنر کی ترغیب کو ناقابلِ مزاحمت پانا شروع کیا، تو اس وقت سے طلاق کی شرح چھ گنا بڑھ گئی ہے۔ تنہا والدین کی تعداد تین گنا ہو گئی ہے، اور پچیس فیصد سے زیادہ گھر تنہا اہلِ خانہ پر مشتمل ہو گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کا یورپ کے کسی دوسرے ملک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اٹلی، فرانس، جرمنی، چین اور پرتگال کے اپنے دوسرے مسائل ہوں گے مگر ان ملکوں کے معاشروں کا اندرونی اتصال باقی نہیں رہا۔ ان سب ملکوں میں اکٹھے مل بیٹھ کر کھانے کی رسم کا احترام موجود ہے۔ وہ اس بارے میں بھی بہت محتاط ہیں کہ وہ اکٹھے کیا کھاتے ہیں؟ وہاں حکومتی وزراء اور سول ملازمین میں عدمِ مفاہمت موجود رہے، اس بات پر عدمِ مفاہمت ہے کہ اہلِ یورپ گائے کے گوشت پر اتنی ہنگامہ پروری کیوں کرتے ہیں۔ بلاشبہ زیادہ تناؤ سیاسی ہے۔ مگر بظاہر آلودہ غذا کے خلاف ایک واقعی نفرت ہے۔ 

خاندانی ذمہ داری کا احساس اس وقت بہت مشکل ہو جاتا ہے جب یہ خیال نہ کیا جائے کہ کھانا آپ کس نوعیت کا پیش کر رہے ہیں۔ ہم غذا تیار کرنے والوں اور خوردہ فروشوں پر اعتماد کرتے ہیں کہ ہماری یہ ذمہ داری وہ اٹھائیں گے (کھانے کے معیاری ہونے کے سلسلے میں) بالکل اسی طرح ہم ریاستی انتظامات، اسکولوں اور اداروں پر اعتماد کرتے ہیں کہ ہماری طرف سے وہ یہ ذمہ داری سنبھالیں۔ ظاہراً‌ دوسروں کے خیال رکھنے کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے۔ 

ان کے کاموں کی اپنی فہرست ہوتی ہے، اور ہمارے کاموں سے مختلف ہوتی ہے۔ عید فصح اور عشائے ربانی کی علامت ہمارے مفروضہ خدا ترس کی سیاستدانوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ قوم کی صحت پر اچھی غذا کے ثابت شدہ مفید نتائج کے باوجود غذا ان کی، اور زیادہ بات تو یہ ہے کہ ہماری ترجیحات کی فہرست میں بہت ہی نیچے آرہتی ہے۔ اب جبکہ محکمہ صحت نے مجموعی طور پر قوم کے لیے غذائی اہداف مقرر کر دیے ہیں، محکمہ تعلیم کے یکے بعد دیگرے آنے والے سیکرٹریوں نے نصاب کے بڑے مضامین سے باورچی گری کو خارج کر دیا ہے۔ اور اس کی جگہ بعض غیر معروف تکنیک فنون کو جگہ دے دی ہے۔ 

کیا آپ خیال کر سکتے ہیں کہ فرانسیسی اور اطالوی باورچی گری کو ایک معمولی مضمون سمجھتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ فرانسیسی حکومت اس امر پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کہ ایک عام فرانسیسی خاندان ۱۹۶۳ء کے مقابلے میں جب کہ وہ اڑھائی گھنٹے کھانے پر اکٹھے گزارتا تھا، اب صرف ۸۰ منٹ اکٹھے گزارتا ہے۔ اور ٹی وی اشتہارات اور سکولوں نے مختلف پروگراموں سے تصحیحی عمل کے ذریعے بچوں کو انہیں ان کا مطبخی ورثہ یاد دلانا شروع کر دیا ہے۔ اگر جمعے کے روز آپ کے بچے لندن میں Lyeell Francais (ایک فرانسیسی ہوٹل کا نام) میں ہوں تو بچہ ہو یا بچی اسے تین چیزوں کا انتخاب کرنا ہوگا:  آلو کا سلاد، کھیوے کا سلاؤ، جس کے بعد یا تو کاڈ مچھلی یا دنبے کی تلی ہوئی ٹانگ، جس کے ساتھ کبھی کبھار الغوزہ پھلی بھی ہوتی ہے۔ آخر میں وہ کھانا فروٹ پر ختم کرتا ہے۔ یہ کھانا کھاتے وقت اسے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ کیا کوئی برطانوی سکول کھانے کو یہ اہمیت اور اتنا وقت دے گا؟ 

ہمارے بچے کھانا بھی وہیں سے سیکھتے ہیں جہاں سے وہ اقدار و اطوار سیکھتے ہیں، یعنی اپنے خاندان سے۔ آج کل انہیں نہایت ناقص غذا ملتی ہے، وہ جہاں سے بھی لیں، یا جہاں سے ان کے والدین کو میسر آجائے۔ یہ کھانا کاروباری وقفے میں فریزر سے نکالا جاتا ہے جس کو مائیکرو ویو میں پھینکا جاتا ہے۔ اگلے وقفے میں حاصل کر لیا جاتا ہے اور بے سوچے سمجھے نگل لیا جاتا ہے۔ اور زیادہ اہمیت کی بات تو یہ ہے کہ ایک دوسرے سے بے نیاز ہو کر کھایا جاتا ہے۔ ہم بہت جلدی جلدی کھاتے ہیں اور پھر فارغ وقت میں پچھتاتے ہیں۔

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ

قاری حماد الزہراوی

میں حنفی ہوں، مرے لب پہ ثنائے بو حنیفہًؒ ہے

زہے قسمت، میسر اقتدائے بو حنیفہؒ ہے


انہیں قرآن و سنت کے فہم نے برتری بخشی

فقاہت میں بلند پایہ ادائے بو حنیفہؒ ہے


وہ عرفان و معارف کے ہیں خورشید درخشندہ

جہانِ علم میں ہر سو ضیائے بو حنیفہؒ ہے


لقب ان کو ملا امامِ اعظم فی الائمہ کا

نشانِ راہِ حق، ہر نقش پائے بو حنیفہؒ ہے


فراست کی ضیاء پاتی ہے مومن کی نظر جس سے

وہ اکسیرِ فراست، خاکپائے بو حنیفہؒ ہے


فقیہانِ زمانہ ہیں عیال و خوشہ چیں ان کے

نمایاں تر فقاہت میں ذکائے بو حنیفہؒ ہے


بجھائیں پیاسِ علمی طالبانِ فقہِ دیں آ کر

وہ جاری ہے، جو چشمہ صلائے بو حنیفہؒ ہے


سبھی شاگرد ان کے علم کے روشن ستارے ہیں

رہیں ضو فشاں وہ، یہ دعائے بو حنیفہؒ ہے


وہ ہر منصب کو ٹھکرا کے عزیمت کے بنے راہی

مسلم دہر میں زہد و تقائے بو حنیفہؒ ہے


زہر کے گھونٹ پی کر بھی نہ حق پہ آنچ آنے دی

شہادت کا بڑا رتبہ، جزائے بو حنیفہؒ ہے


صحابہؓ کی زیارت کا ہوا ان کو شرف حاصل

صحابہؓ کا ہے اسوہ، جو ادائے بو حنیفہؒ ہے


وہ ہیں مصداق ’’لما یلحقوا بہم‘‘ کی آیت کے

مسلم بالیقیں فضل و علائے بو حنیفہؒ ہے


خدا نے اس قدر بخشی ہے شہرت چار سو ان کو

کہ لب پہ حاسدوں کے بھی صدائے بو حنیفہؒ ہے


وہ نعمان ابن ثابتؒ مقتدائے اہلِ ایماں ہیں

اے زہراوی! ہر اک مومن فدائے بو حنیفہؒ ہے


شہزادہ چارلس کی دوسری شادی اور چرچ آف انگلینڈ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے درمیان طلاق مؤثر ہوجانے کے بعد جن مسائل نے جنم لیا ہے ان میں چارلس کی دوسری شادی کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ شہزادہ چارلس مبینہ طور پر کمیلا پارکر نامی ایک لڑکی میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اس سے شادی کے خواہشمند ہیں۔ جبکہ چرچ آف انگلینڈ کے ذمہ دار پادری صاحبان اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اخبای رپورٹوں کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ چارلس کو چرچ میں دوبارہ شادی کی اجازت دینے سے چرچ اور ریاست کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ اس سلسلہ میں مانچسٹر کے بشپ کرسٹوفر فیلڈ کا ایک بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ ایک مرتبہ شادی ہو جائے تو وہ ختم نہیں ہو سکتی، چنانچہ دوبارہ شادی ممکن نہیں۔

برطانیہ کا بادشاہ چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور شہزادہ چارلس اس منصب پر فائز ہونے والے ہیں۔ چنانچہ وولچ کے بشپ کولن بکائن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہزادہ چارلس نے ایک عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات کا کھلے بندوں اعتراف کر رکھا ہے اس لیے ’’ایک تسلیم شدہ زانی کو سپریم گورنر بنانا بے حد بے قاعدگی کی بات ہوگی‘‘۔

یہ مسئلہ تو ہے شہزادہ چارلس کی دوسری شادی کا جس کی وجہ سے چارلس کو اس فیصلہ کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ دوسری شادی نہیں کریں گے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور مسئلہ بھی اس حوالہ سے اخبارات میں موضوع بحث ہے کہ شاہی خاندان کے کسی فرد کو کیتولک فرقہ کی کسی لڑکی سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اگر شہزادہ چارلس نے کسی کیتھولک لڑکی کو شریک حیات بنا لیا تو وہ تاج و تخت سے محروم ہو جائیں گے۔ اس سلسلہ میں لندن سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامے نے ۲۰ اگست ۱۹۹۶ء کی اشاعت میں بتایا ہے کہ اس وقت شاہی خاندان میں جو قوانین رائج ہیں ان کے مطابق شاہی خاندان کا کوئی فرد کیتھولک لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چونکہ بادشاہ چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کی حیثیت سے پروٹسٹنٹ فرقہ کے عقائد اور مفادات کا آئینی محافظ ہے اس لیے ضروری ہے کہ شاہی خاندان کو کیتھولک اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ حتیٰ کہ تین سو سال قبل نافذ ہونے والے اس قانون کی رو سے تخت کا وارث کسی یہودی، مسلمان یا بدھ مت لڑکی سے شادی کر سکتا ہے مگر کیتھولک لڑکی سے شادی کی کسی صورت میں اجازت نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملکہ برطانیہ ایلزبتھ ان دنوں شاہی خاندان کے ان قواعد پر نظر ثانی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ موجودہ صدی ختم ہونے سے قبل شاہی خاندان کے نظام میں نئی اصلاحات نافذ کر دی جائیں۔ شاہی خاندان اور ۱۰ ڈائننگ اسٹریٹ یعنی وزیراعظم ہاؤس کے حکام پر مشتمل ایک کمیٹی نے ملکہ کی ہدایت پر اصلاحات کے لیے چند تجاویز مرتب کی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کی حیثیت سے بادشاہ کا کردار ختم کر دیا جائے اور شاہی خاندان کے افرا د کو کیتھولک فرقہ میں شادی کرنے کی اجازت دے دی جائے۔

اس کے ساتھ ہی شاہی خاندان کو ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہے کہ موجودہ قانون کی رو سے شاہی خاندان میں جب تک وارث بننے کا اہل کوئی مرد موجود ہے، عورت ملکہ نہیں بن سکتی۔ جبکہ اصلاحات میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ بادشاہ کی پہلی اولاد خواہ مرد ہو یا عورت، اسے وارث تخت قرار دیا جائے۔ اسی طرح شاہی خاندان کے اخراجات کے لیے اس وقت قومی خزانے سے آٹھ ملین پاؤنڈ سالانہ دیے جاتے ہیں اور عوام ایک عرصہ سے ان اخراجات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔

خیر ہمیں ان امور سے غرض نہیں، ہم اس نکتہ پر گفتگو کر رہے ہیں کہ برطانوی ولی عہد اگر دوسری شادی کرنا چاہے یا کیتھولک فرقہ کی کسی خاتون سے شادی کرنا چاہے تو چرچ کو اس پر اعتراض ہے کیونکہ چرچ کے نزدیک ایک دفعہ شادی ہو جائے تو اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے، دوسری شادی ممکن نہیں ہے اور ولی عہد کو کیتھولک لڑکی سے شادی کا حق نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف چرچ آف انگلینڈ اور پاپائے روم دونوں کے زیر سایہ مغربی معاشرہ کی حالت عملی طور پر یہ ہے کہ طلاق کے روز افزوں شرح نے سوسائٹی کے لیڈروں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ میکسیکو کے بارے میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اب کئی جوڑوں نے شادی کو زیادہ دیر تک باقی رکھنے اور طلاق سے بچانے کے لیے قانونی معاہدوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بغیر شادی کے اکٹھا رہنے اور بچے پیدا کرنے کا رجحان بھی ترقی پذیر ہے اور ایسے جوڑوں کا تناسب دن بدن بڑھ رہا ہے جو سرے سے شادی کے بندھن کو تکلف سمجھتے ہوئے اسے روا نہیں رکھتے۔ حتیٰ کہ شہزادہ چارلس اگر دوسری شادی کرنے کی بجائے کسی لڑکی کو گرل فرینڈ کی صورت میں ساتھ رکھ لیں تو نہ صرف مغربی سوسائٹی بلکہ چرچ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

ہمارے خیال میں اسی افراط و تفریط نے مغربی معاشرہ کو جنسی انارکی اور خاندانی نظام کی تباہی سے ہمکنار کیا ہے، اور عیسائی دنیا کی مذہبی قیادت انسانی زندگی کے فطری تقاضوں کو سمجھنے اور انہیں مذہبی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں بدستور ناکام چلی آرہی ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے شادی، طلاق اور دوسری شادی کے احکام، اور خاندانی رشتوں کے معاملات کو جس طرح متوازن رکھا ہے وہی انسانی فطرت کا حقیقی تقاضہ ہے۔ اور اسی کی برکت ہے کہ مسلمانوں کا خاندانی نظام اس افراتفری اور انارکی سے بچا ہوا ہے جس کا رونا کچھ عرصہ سے مغربی دانشور مسلسل رو رہے ہیں۔ خدا کرے کہ ہم مغرب کی نئی ثقافتی یلغار اور ورلڈ میڈیا کے دام ہمرنگ زمین سے اپنے خاندانی نظام کو بچا سکیں، آمین۔

مغربی معاشرہ کی چند جھلکیاں

میڈیا

مردوں کے لیے مساوی حقوق کا مطالبہ

ہیل سنکی (رائٹر) یورپی وزراء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مردوں کو خواتین کے مساوی حقوق دیے جائیں تاکہ وہ ایک مکمل فیملی لائف گزار سکیں۔ ۳۵ یورپی ممالک تعلق رکھنے والے وزراء کی فیملی افیئرز کے موضوع پر منعقدہ ایک سہ روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر برائے وومن یوتھ، فیملی اور پنشنرز مس کلاڈیا نولٹ نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق کئی عشروں کی مہم کے بعد اب ماہرین کو مردوں کے کردار اور اسٹیٹس پر تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ 

کونسل آف یورپ کے سیکرٹری جنرل ڈینئل ٹارسکی نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ فیملی معاملات میں مردوں کی فعال شمولیت میں اضافہ کے لیے مزید اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے بکھرنے کی صورت میں بچوں کی مالی ذمہ داریوں کا ہار ان کے والدوں پر بھی ڈالا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا اگر خواتین مردوں کی ضرورت محسوس نہ بھی کریں تب بھی مردوں کو خواتین کی اور بچوں کو والدین کی ضرورت ہوتی ہے۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۲۹ جون ۱۹۹۵ء)

مریضوں کے ساتھ جنسی تعلقات کی اجازت دی جائے

لندن (پی اے) کارِ مسیحائی انجام دینے والے اب یہ حق مانگنے والے ہیں کہ انہیں اپنے مریضوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ اور جو ڈاکٹر یہ حق استعمال کریں ان کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی نہ کی جائے۔ معالجوں کے خیال میں متعلقہ قانون اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ 

برائن میں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں اس پر غور کیا جائے گا کہ آیا مریض و معالج کے درمیان جنسی تعلقات کے قیام کی صورت میں معالج کا لائسنس خودبخود منسوخ ہو جانے کی سزا غیر منصفانہ تو نہیں؟ اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد میں معالجوں کی تجویز ہے کہ مرتکب ڈاکٹر پر انتہائی سزا لاگو کرنے سے پہلے اے تنبیہ کی جانی چاہیے۔ پی ایم اے کی کونسل تجاویز پر غور کرے گی، بعد ازاں جنرل میڈیکل کونسل قوانین میں کوئی تبدیلی لا سکے گی۔ 

۱۹۸۶ء سے اب تک ایک سو ڈاکٹر مریضوں سے نامناسب جنسی یا جذباتی تعلقات قائم کرنے پر جی ایم سی کی ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، جن میں سے پندرہ کے لائسنس معطل یا منسوخ ہوئے اور باقی کا کیریئر تباہ ہو گیا۔ 

اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ باہمی رضامندی سے تعلقات قائم کرنے والے متعدد ڈاکٹروں کے کیریئر تباہ ہو گئے جبکہ مریضوں کی ہلاکت کے ذمہ دار معالجین کو اس سے کم سزا ملی۔ قرارداد پیش کرنے والے گسسٹن لیسٹر شائر کے جی پی ڈاکٹر مائیکل گردو نے کہا کہ قوانین کے غیر ضروری جوش و خروش سے نفاذ کی وجہ سے مریض بھی متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم بعض دیگر کے خیال میں قانون میں ترمیم سے بعض ڈاکٹر ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔ 

رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز کے ترجمان نے کہا کہ معالج اور مریض کے درمیان جنسی تعلق نہیں قائم ہونے چاہئیں اور اس معاملے کو زیر بحث نہیں لایا جانا چاہیے تاکہ عوام الناس یہ تاثر نہ لے سکیں کہ یہ معاملہ بحث کے لیے کھلا ہے۔ 

نیوزی لینڈ میں معالج مریض تعلقات کے بارے میں کی گئی بعض اسٹڈیز میں سے ایک کے مطابق دو تہائی ڈاکٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جنسی طور پر اپنے مریض کی جانب راغب ہوئے اور ہر پچیسواں ڈاکٹر اپنے مریض کے ساتھ جنسی طور پر ملوث ہوا۔ 

پی ایم اے کے سینئر افسر نے کہا میں اپنے طلبا کو بتاتا ہوں کہ اکثر ڈاکٹر مریضوں سے تعلقات رکھتے ہیں اور مریض اسے پسند کرتے ہیں۔ 

مریضوں سے جنسی تعلقات سے متعلق ڈاکٹروں کے مطالبہ کے بعد برطانیہ میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور ریڈیو و اخبارات پر فون کر کے لوگ اس مطالبہ کے حق اور مخالفت میں اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض افراد نے کہا ہے کہ اگر ڈاکٹروں کو اس طرح کی کوئی اجازت دی گئی تو ڈاکٹری کا مقدس پیشہ بدنام ہو گا۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۲۴ جون ۱۹۹۶ء)

شوہر، مرد یا عورت؟

لندن (سٹاف رپورٹر) اپیل کورٹ نے ایک جوڑے کو سترہ سال بعد اس وقت طلاق کی اجازت دی ہے جب بیوی کو یہ علم ہوا کہ اس کا شوہر دراصل ایک عورت ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ان کی شادی ’’دھوکہ‘‘ پر مبنی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ’’خاوند‘‘ ہم بستری کے لیے پلاسٹر آف پیرس کا بنا عضو استعمال کرتا تھا لیکن بیوی نے ہمیشہ اسے مرد سمجھا۔ اس جوڑے کے دو بچے ہیں اور یہ بچے کسی اور کے عطیہ کیے گئے مادہ حمل سے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے خاوند نے شادی کے وقت اسے بتایا تھا کہ اس نے ضبطِ تولید کا آپریشن کرایا ہے۔ اس شخص نے آپریشن کے ذریعے اپنی چھاتیاں بھی ختم کرا دی تھیں۔ دونوں کے درمیان طلاق کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب بیوی نے اس پر مرد نہ ہونے کا الزام لگایا۔ چنانچہ ایک عدالت نے طلاق کی اجازت دے دی اور چار لاکھ پونڈ کے گھر میں حصہ سے بھی محروم کر دیا۔ 

’’مرد‘‘ یہ کیس اپیل کورٹ میں لے گیا، عدالت کو بتایا گیا کہ میاں بیوی کے درمیان جب تنازعہ کھڑا ہوا تو بیوی نے ایک سراغ رساں کی خدمات حاصل کیں جس نے اس کا برتھ سرٹیفکیٹ نکال لیا جس سے پتہ چلا کہ وہ پیدائشی طور پر عورت ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ’’مرد‘‘ نے شادی کے وقت عورت کو دھوکہ دیا۔ اپیل کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رکھا ہے۔ 

(روزنامہ جنگ لندن، ۱۹ جولائی ۱۹۹۶ء)

شاہی خاندان کی شادیاں

لندن (سٹاف رپورٹر) ملکہ ایلزبتھ شاہی نظام میں اصلاحات نافذ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ان کے پیش نظر ایک پانچ نکاتی پروگرام ہے جس پر عملدرآمد کی صورت میں شہنشاہیت کی موجودہ شکل مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی۔ ملکہ جن تجاویز پر غور کر رہی ہے ان کے تحت چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کے طور پر ان کا رول ختم ہو جائے گا، اور کیتھولک مذہب رکھنے والوں کی شاہی خاندان میں شادی کی اجازت مل جائے گی۔ ملکہ سول لسٹ بھی ختم کرنے کے حق میں ہیں جبکہ وہ قانون میں تبدیلی کر کے ملکہ یا بادشاہ کے پہلے بچے کو، خواہ وہ لڑکی ہی کیوں نہ ہو، تخت کا وارث بنانا چاہتی ہیں۔ اسی طرح وہ سرکاری شاہی خاندان کی تعداد بھی محدود کرنا چاہتی ہیں۔ 

یہ تمام تجاویز ایک خفیہ کمیٹی نے تیار کی ہیں جس میں ملکہ، پرنس فلپ، ان کے بچے اور رائل فیملی کے چند افراد کے علاوہ ڈاؤننگ سٹریٹ کے حکام شامل ہیں۔ کمیٹی کا نام ’’وے آئیڈ گروپ‘‘ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملکہ انقلابی تبدیلیوں کے حق میں ہیں تاکہ شہنشاہیت ۲۱ویں صدی میں بھی پنپ سکے۔ سول لسٹ پر ان دنوں ۸ ملین پونڈ سالانہ سرکاری خزانہ سے خرچ ہوتے ہیں جو شاہی خاندان کے اخراجات کے لیے ہیں۔ ان کو ختم کرنے کے عوض شاہی خاندان کے سینئر ارکان کو رائل اسٹیٹس سے مخصوص آمدنی دی جائے گی۔ 

لیکن ملکہ یا بادشاہ کی حیثیت بطور سربراہ چرچ آف انگلینڈ ختم کرنے اور شاہی خاندان کو رومن کیتھولک سے شادی کی اجازت سے کئی آئینی مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس شادی پر پابندی ۱۷۰۱ء کے ’’ایکٹ آف سیٹلمنٹ‘‘ کے تحت لگائی گئی تھی۔ بکنگھم پیلس نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ملکہ نے ایک اسٹریٹجک پالیسی کمیٹی قائم کی ہے جو اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ محل کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ شہنشاہیت کے ایک ہزار سال تک زندہ رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ خود کو تبدیلیوں میں ڈھالتی رہتی ہے۔ 

ملکہ ایلزبتھ بادشاہت کے نظام میں جن تبدیلیوں پر غور کر رہی ہیں ان میں سب سے اہم دو پہلو ہیں: ایک جانشینی کا مسئلہ اور دوسرا تخت کے وارث کی کیتھولک لڑکی سے شادی ہے۔ جانشینی کا موجودہ سلسلہ گیارہویں صدی سے چلا آ رہا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت اگر پرنس چارلس اور ان کے دو بیٹے پرنس ولیم اور ہیری مر جاتے ہیں تو پرنس چارلس کے چھوٹے بھائی پرنس اینڈریو تخت کے وارث بنیں گے۔ لیکن قانون میں تبدیلی سے پرنسیس این تخت نشین ہو سکیں گی۔ تخت کے وارث کی کیتھولک عورت سے شادی پر پابندی کا قانون ۲۹۵ سال پرانا ہے۔ اس قانون کے تحت تخت کا وارث یہودی، مسلمان یا بدھ لڑکی سے تو شادی کر سکتا ہے لیکن کیتھولک لڑکی سے اس کی شادی نہیں ہو سکتی۔ 

(روزنامہ جنگ لندن، ۲۰ اگست ۱۹۹۶ء)

رومن کیتھولک چرچ اور جنسی آزادی 

لندن (پی اے) رومن کیتھولک آرچ بشپ پر ایڈز سے بچاؤ کے تعلیمی پیک کی توثیق کرنے پر وٹیکن کی طرف سے سخت تنقید کی گئی ہے کیونکہ اس پیک میں کنڈوم کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔ روم کے اسقف ہائے اعظم نے سینٹ اینڈریو اور ایڈنبرا کے آرچ بشپ کیتھ او برائن سے کہا ہے کہ وہ اس تعلیمی پیک پر سے اپنی توثیق واپس لیں` اس پیک کو تمام کیتھولک اسکولوں سے بھی واپس لیا جائے۔ یہ پیک دو کیتھولکوں نے تحریر کیا ہے۔ 

آرچ بشپ او برائن نے وٹیکن کے حکم پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، تاہم چرچ کی طرف سے کہا گیا کہ انہوں نے اپنی توثیق واپس لے لی ہے۔ اسکاٹش کیتھولک میڈیا کے ڈائریکٹر ٹامکونلی نے کہا کہ کیتھولک چرچ جنسی عمل کو صرف شادی تک محدود کرتا ہے اور اس میں شادی کے بغیر جنسی عمل کی اجازت نہیں۔ اس لیے کنڈوم کا استعمال کیتھولک چرچ کی نظر میں ہمیشہ غلط رہا ہے۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۱۳ نومبر ۱۹۹۵ء)

پادری کا مریدنی کے ساتھ فرار

گلاسگو (نمائندہ جنگ، طاہر انعام شیخ) سکاٹ لینڈ کا ایک پادری جس کی ایک ہفتے سے پراسرار گمشدگی کے متعلق چرچ کے حلقوں میں نہایت تشویش پائی جاتی تھی، اس کے اچانک غائب ہونے کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ آرگائل اینڈ آئی لینڈز کے ۵۵ سالہ رومن کیتھولک بشپ راڈرک کے اپنی ایک مرید خاتون تین بچوں کی ۴۰ سالہ ماں کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے خفیہ تعلقات تھے۔ عورت کی رازدان سہیلیوں کے مطابق وہ آپس کی ملاقاتوں کے علاوہ ٹیلی فون پر بھی کئی کئی گھنٹے اظہارِ عشق کرتے رہے۔ فادر راڈرک اس خاتون کی مالی مدد بھی کیا کرتا تھا، اب دونوں باہمی رضامندی کے ساتھ نئی زندگی بسر کرنے کے لیے دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ 

راڈرک کی اچانک گمشدگی پر چرچ کے حلقوں میں زبردست پریشانی پائی جاتی تھی اور اس کے لیے اکثر مقامات پر دعائیہ تقریبات منعقد ہو رہی تھیں۔ پادری کے مطلقہ عورت کے ساتھ فرار ہونے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد اس کے عقیدت مندوں، رومن کیتھولک کمیونٹی اور چرچ کے حلقوں میں افسردگی پائی جاتی ہے۔ اوبن میں چرچ لیڈروں کی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہو رہی ہے جس میں اس نئی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ چرچ لیڈر ابھی تک پادری راڈرک کی خفیہ رہائش سے لاعلم ہیں۔ اگر متعلقہ پادری نے چرچ کے اعلیٰ حکام سے فوری رابطہ قائم نہ کیا تو ایڈنبرا اور سینٹ اینڈریوز کے آرچ بشپ وقتی طور پر اس کے چرچ کی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ 

دریں اثنا ایک ہفتے تک لاپتہ رہنے والے سکاٹ لینڈ کے رومن کیتھولک بشپ نے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنے ایک بیان میں معافی اور دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۱۷ ستمبر ۱۹۹۶ء)

پادریوں کو شادی کی اجازت دی جائے

لندن (پی اے) کیتھولک چرچ پر پھر دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ پادریوں کے غیر شادی شدہ ہونے کا قانون منسوخ کرے۔ سروے کے مطابق کیتھولکس کی اکثریت پادریوں کے شادی شدہ ہونے کے حق میں ہے۔ چرچ کے حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یقین ہے کہ یہ قانون جو صدیوں سے متنازع ہے، آخر کار بدل جائے گا۔ سروے ویکلی کیتھولک ہیرالڈ نے ایسے موقع پر کیا ہے جب بشپ راڈرک رائٹ کے حالیہ افیئر سمیت متعدد سکینڈل سامنے آئے ہیں۔ ۱۸ ماہ قبل کیتھولک ٹائمز نے بھی ایسا ہی سروے کیا تھا جس کے نتائج بھی ایسے ہی برآمد ہوئے تھے۔ کیتھولک ہیرالڈ نے میں سال قبل بھی سروے کیا تھا جس کے نتائج کے مطابق ہر تین رائے دہندگان میں سے صرف ایک قانون میں تبدیلی کا حامی تھا۔ 

(روزنامہ جنگ لندن، ۳ نومبر ۱۹۹۶ء)

ہم جنس پرستوں کا بچہ

گلاسگو (طاہر انعام شیخ، نمائندہ جنگ) سائنس کی ترقی نے جہاں نوع انسانی کے لیے بے شمار سہولتیں پیدا کی ہیں وہاں اس کے غلط استعمال سے پوری معاشرتی قدریں تہ و بالا ہو سکتی ہیں۔ سکاٹ لینڈ میں دو ہم جنس پرست مردوں کے ہاں بچی کی پیدائش کے بعد اس کی پرورش کے معاملے میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ بلی زیک اور مارٹن ایڈمز جو کہ ایڈنبرا کے ایک شاندار مکان میں کئی سال سے ازدواجی زندگی بسر کر رہے تھے، ان کو یوں تو زندگی کی سبھی آسائشیں میسر تھی لیکن اولاد کی کمی ان کو ہمیشہ کھٹکتی رہتی۔ اس گھمبیر مسئلے کا حل انہوں نے یوں نکالا کہ بلی زیک نے ہزاروں پونڈ خرچ کر کے امریکہ کی ایک عورت کو اپنے سپرم دے کر کرائے کی ماں بننے پر آمادہ کر لیا۔ اور مصنوعی طریقے سے جو بچی پیدا ہوئی، اس کا نام دونوں مردوں بلی زیک اور مارٹن آدمز کے نام پر سارہ کلیر آدم زیک رکھا گیا۔ والدین جو بچی کی پیدائش پر نہایت خوش تھے، اس خبر کے عام ہوتے ہی چھ ہفتے کی بچی کو لے کر کہیں روپوش ہو گئے ہیں اور ایڈنبرا میں ان کے گھر کے باہر رالپر سٹریٹ میں میڈیا والوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ 

اس طریقہ پیدائش اور بچی کی پرورش میں پیش آنے والی فطری مشکلات کے پیش نظر چرچ لیڈروں، ممبران پارلیمنٹ، سماجی اداروں اور سوشل ورکرز نے سخت اعتراضات کیے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دونوں مرد مل کر بھی ماں کی فطری کمی کو پورا نہیں کر سکیں گے۔ محلے کی ایک عورت نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں مرد علاقے کی شہرت نہیں بلکہ بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ 

(روزنامہ جنگ لندن، ۳ ستمبر ۱۹۹۶ء)

ٹیچر کے خلاف ہنگامہ

گلاسگو (نمائندہ جنگ، طاہر انعام شیخ) سکاٹ لینڈ میں ایک سکول کی نوجوان لڑکیوں نے اپنے ایک مرد استاد کے خلاف ہڑتال کر دی ہے کیونکہ اس نے اپنی کلاس میں عریاں قسم کے لباس پہننے سے منع کیا تھا۔ واقعات کے مطابق کرک لینڈ ہائی سکول کے مذکورہ استاد نے اپنی شاگرد لڑکیوں سے کہا کہ ان کے جنسی جذبات ابھارنے والے منی سکرٹ اور تنگ شرٹ سے جسم کے پوشیدہ حصے غیر ضروری طور پر نمایاں ہو رہے ہیں لہٰذا وہ اس قسم کا لباس پہن کر سکول آیا کریں جس سے شرم و حیا اور تقدس قائم رہے۔ لیکن نوجوان لڑکیاں اپنے استاد کے ان ریمارکس پر اتنی ناراض ہوئیں کہ کلاس میں چالیس کی چالیس لڑکیاں احتجاج کرتے ہوئے باہر نکل آئیں اور کہا کہ وہ اس وقت تک کلاس میں واپس نہیں جائیں گی جب تک کہ اس استاد کو ملازمت سے برطرف نہیں کر دیا جاتا۔ لڑکیوں کا موقف تھا کہ ان کا لباس سکول کی یونیفارم پالیسی کے بالکل مطابق ہے۔ ایک پندرہ سالہ طالبہ نے کہا کہ یہ استاد کیا چاہتا ہے کہ ہم اس گرمی کے موسم میں لمبی پتلون اور جرسی پہن کر آئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس طلب کر لی گئی ہے اور طلبہ کے نمائندوں و سینئر اساتذہ کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ 

(روزنامہ جنگ لندن، ۲۸ ستمبر ۱۹۹۶ء)

عورتوں کے لیے گاڑیاں بنانے کا مطالبہ

لندن (جنگ نیوز) خاتون ڈرائیور خطرناک ہوتی ہیں، کم از کم اپنے لیے۔ یہ بات تازہ ترین سرکاری تحقیق میں معلوم ہوئی ہے۔ سنڈے ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں مانچسٹر یونیورسٹی کے ’’ڈرائیورز بی ہیورل یونٹ‘‘ کے لیکچرر ڈاکٹر ائیو اسٹریڈلنگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خاتون ڈرائیوروں کو کار کے حادثات میں زخمی ہونے کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں ۴۰ فیصد زیادہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ اسٹیرنگ وہیل پر ان کی ضرورت سے زیادہ توجہ ہوتی ہے۔ خواتین گاڑی چلاتے ہوئے بہت محتاط ہوتی ہیں۔ دوسری طرف گاڑی کی ساخت خواتین کی جسمانی ساخت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ معاملہ اب ڈرائیونگ کے ماہرین کے درمیان شدت سے زیر بحث ہے۔ ڈاکٹر اسٹریڈلنگ نے کہا کہ خواتین دھیمی رفتار سے گاڑی چلانا چاہتی ہیں، انہیں حادثات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اسی لیے وہ حادثات کا زیادہ شکار بھی ہوتی ہیں۔ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کے لیے علیحدہ گاڑیاں بنائی جائیں جن کی تیاری میں ان کی جسمانی ساخت کا خیال رکھا جائے۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۲ اکتوبر ۱۹۹۷ء)

سکول یا قحبہ خانے؟

لندن (جنگ نیوز) برطانیہ میں نو عمر بچیوں کے ماں بننے کا تناسب یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔ شیڈو منسٹر ہیریٹ ہرمن کے حاصل کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز سکول گرلز کے حاملہ ہونے کے لحاظ سے سرفہرست ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانوی والدین اپنے بچوں سے زیادہ اوپن نہیں ہیں اور اس سلسلے میں ان کی رہنمائی نہیں کرتے۔ 

اعداد و شمار کے مطابق ۱۵ سے ۱۹ سال کی ہزار میں سے ۳۳ لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں جن کی بڑی تعداد نے ۱۷ سال کی عمر میں پہلی بار جنسی عمل کر لیا ہوتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ اور السٹر میں یہ شرح بالترتیب ۳۲ اور ۲۹ ہے۔ یہ شرح ہالینڈ میں سب سے کم ہے جہاں اس عمر کی صرف ۴ فی ہزار لڑکیاں حاملہ ہوتی ہیں۔ باقی ممالک میں یہ شرح کچھ یوں ہے: فرانس (۸.۸) ڈنمارک (۹.۱) بلجیم(۹.۳) اٹلی (۹.۸) جرمن (۱.۴۶) فن لینڈ (۱۲.۴) اسپین (۱۳.۴) آئرلینڈ (۱۶.۲) آسٹریلیا (۲۱.۳) یونان (۲۱.۸) پرتگال (۲۴.۶) اور شمالی آئرلینڈ (۲۹.۳)

(روزنامہ جنگ لندن، ۴ ستمبر ۱۹۹۶ء)

کم عمر ماؤں کی شادیاں

لندن (جنگ نیوز) امریکہ میں شادی سے قبل جنسی تعلقات کے نتیجے میں ماں بننے والی نو عمر لڑکیوں اور ان کے بوائے فرینڈز کو شادی کے بندھن میں باندھا جا رہا ہے۔ امریکی ریاست کیلفورنیا کی اورنج کاؤنٹی میں حالیہ مہینوں میں ۱۵ ایسی لڑکیوں کی سوشل سروس کی جانب سے ان کے بچوں کے باپوں سے شادی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض لڑکیوں کی عمر صرف ۱۳ سال ہے۔ کاؤنٹی کے سوشل سروسز ڈپارٹمنٹ کے سربراہ لیری لیمین کے مطابق اس اسکیم کا مقصد لڑکیوں کی زندگی تباہ ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد پیسوں کی بچت نہیں بلکہ کم عمر ماؤں کی تعداد میں کمی لانا ہے۔ واضح رہے کہ کیلفورنیا میں ملک بھر میں سب سے زیادہ کم عمر لڑکیاں مائیں بنتی ہیں۔ بعض حلقوں نے اس اسکیم پر اعتراض کیا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ کم عمر لڑکیوں کو حاملہ کرنے کے ذمہ داروں کو ان کے بچوں کا باپ بننے کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ 

(روزنامہ جنگ لندن، ۱۰ ستمبر ۱۹۹۶ء)

کھلے بندوں شراب نوشی پر پابندی کا مطالبہ

لندن (سٹاف رپورٹر) حکومت پولیس کو اختیارات دے رہی ہے کہ وہ ۱۸ سال سے کم عمر کے نوجوانوں سے، جو سرِعام الکحل استعمال کرتے ہیں، شراب ضبط کرے اور ان کے نام اور ایڈریس لے۔ یہ تجویز ہوم آفس کے ایک مشاورتی پیپر میں پیش کی گئی ہے۔ ہوم آفس کے وزیر مملکت ٹموتھی کرک ہوپ کا کہنا ہے کہ شراب کے نشہ میں لوگوں کی پراپرٹی پر حملہ کرنے اور عوامی جگہوں پر گڑبڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔  انہوں نے کہا اکثر لوگ کم عمر بچوں کی شراب نوشی کے خلاف ہیں، خصوصاً‌ جب ہنگامہ کرتے ہیں انہیں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ پولیس نے ان تجاویز کو سراہا ہے اور وہ لیبر پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ لیبر پارٹی بھی لا اینڈ آرڈر کے سلسلہ میں سختی کی قائل ہے۔ حکومت کی تجاویز کے تحت سرعام شراب نوشی پر ممانعت ہوگی۔ 

اس سے قبل گلاسگو کونسل نے بڑھتے ہوئے تشدد اور ہنگاموں کے پیش نظر کھلے بندوں شراب پر پابندی لگا دی ہے۔ نومبر ۱۹۸۸ء میں کاؤنٹری پہلا شہر تھا جس نے یہ پابندی لگائی، جو لوگ اسے نظر انداز کرتے ہیں انہیں ایک سو پونڈ جرمانہ کیا جاتا ہے۔ پابندی کے پہلے سال جرائم میں ۲۱ فیصد کمی ہوئی۔ ۱۹۸۹ء میں ہاتھ کی سٹی کونسل نے کاؤنٹری کی تقلید کی لیکن اس کے خلاف احتجاج ہوا۔ ۱۹۹۳ء میں گرنیچ لندن کا پہلا برا تھا جس نے سرعام شراب نوشی پر پابندی لگائی۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۱۰ ستمبر ۱۹۹۶ء)

ہم جنس پرست ارکان پارلیمنٹ

لندن (سٹاف رپورٹر) برطانوی عوام کی ۷۸ فیصد اکثریت اس حق میں ہے کہ ہم جنس پرست ارکان پارلیمنٹ کھل کر اعتراف کریں کہ ان کا دوسرے مرد سے ’’معاشقہ‘‘ ہے۔ ۶۲ فیصد کی رائے ہے کہ فوج میں جنرل اپنی ہم جنس پرستی کا اعتراف کریں تو لوگ اسے ناپسند نہیں کریں گے۔ چرچ اور مذہبی اداروں میں کام کرنے والے ہم جنس پرستوں کے اعتراف کی حمایت کے حق میں ۲۰ فیصد، ٹیچرز کے حق میں ۷۳ فیصد رائے ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ اگر ارکانِ پارلیمنٹ ہم جنس پرستی کا اعتراف کریں گے تو ووٹر ان کے خلاف نہیں جائیں گے۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۱۵ دسمبر ۱۹۹۵ء)

چرس پینے کی اجازت دی جائے 

لندن (ریڈیو رپورٹ) برطانیہ کے ڈیڑھ سو وکلاء، ڈاکٹروں، اداکاروں اور دیگر سرکردہ شخصیات کی جانب سے ایک عرضداشت ’’ٹائمز‘‘ میں شائع ہوئی ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ برطانیہ میں چرس پینے کی قانوناً‌ اجازت دی جائے۔ بی بی سی کے مطابق ان شخصیات نے کہا ہے کہ چرس کو غیر قانونی قرار دینا شروع سے ہی ایک غلط فیصلہ تھا، اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ معاشرہ انسدادِ منشیات کے قوانین پر معقول انداز میں نظر ثانی کرے۔ 

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں ۵۰ لاکھ افراد یا باقاعدہ چرس پیتے ہیں یا اس کے نشے سے روشناس ہو چکے ہیں۔ ان شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ نشہ تمباکو اور شراب جتنا خطرناک نہیں۔ بی بی سی کے مطابق ہالینڈ میں چرس اپنے پاس رکھنا کوئی جرم نہیں۔ ایمسٹرڈیم شہر کے کئی کافی ہاؤس ایسے ہیں جہاں سے چرس با آسانی ملتی ہے۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۱۳ جنوری ۱۹۹۶ء)

شہزادی کے ساتھ بدکاری کی سزا موت 

لندن (سٹاف رپورٹ) ایک برطانوی ماہر قانون نے کہا ہے کہ ایک سابق برطانوی میجر جیمز ہیوٹ کو، جس نے پرنسس ڈیانا سے ہم بستری کا دعویٰ کیا ہے، غداری کے ایکٹ ۱۳۵۱ء کے تحت موت کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت تخت کے وارث کی بیوی کے ساتھ مباشرت منع ہے۔ ایکٹ کا مقصد یہ تسلی کرنا بھی ہے کہ تخت کا وارث ناجائز اولاد نہیں۔ ماہر قانون مارک سٹیفنز کا کہنا ہے کہ ’’جو شخص بادشاہ یا ملکہ کے سب سے بڑے بیٹے اور تخت کے وارث کی بیوی کے ساتھ اخلاقی حدود کو پھلانگ جاتا ہے وہ غداری کا مرتکب ہوتا ہے، اس کی سزا موت ہے’’۔

(روزنامہ جنگ لندن، ۵ اکتوبر ۱۹۹۴ء)

علماء کرام پورے اعتماد اور دلجمعی کے ساتھ مغربی ثقافت کا مقابلہ کریں

ورلڈ اسلامک فورم کے چوتھے سالانہ تعلیمی سیمینار کی رپورٹ

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کا چوتھا سالانہ تعلیمی سیمینار ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۶ء کو جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم برطانیہ میں منعقد ہوا جس میں مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی تعلیم کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا اور اس میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔ 

سیمینار کی پہلی نشست کی صدارت ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کی اور سعودی عرب کے ممتاز دانشور ڈاکٹر محمد المسعری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ جبکہ دوسری نشست کی صدارت جامعہ اسلامیہ نیوارک کے شیخ الحدیث مولانا فضل رحیم نے کی اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ 

سیمینار میں مسلمانوں کے لیے الگ اسکولز کی ضرورت، دینی جامعات کے نظام، اور قرآن کریم کی تعلیم کے شام کے مکاتب کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلہ میں مختلف تجاویز طے کی گئیں۔ 

سیمینار کے مقررین اور بحث میں حصہ لینے والوں میں ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا عیسیٰ منصوری، مدنی ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر اختر الزمان غوری، المہاجرون کے امیر الشیخ عمر بکری محمد، مولانا امداد الحسن نعمانی، مولانا قاری تصور الحق، مولانا رضاء الحق سیاکھوی، مولانا محمد قاسم، مولانا اور نگزیب، فیض اللہ خان اور جناب رفعت لودھی شامل ہیں۔ 

سیمینار میں جامعہ الہدیٰ کے پرنسپل مولانا ضیاء الحق سیاکھوی نے جامعہ کے قیام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جامعہ الہدیٰ کا قیام اسی مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا ہے کہ دینی تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے ایک متوازن نظام تعلیم سامنے لایا جائے، اور عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی سرپرستی میں جامعہ نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران جامعہ میں طالبات کی پہلی کلاس کا آغاز ہو گیا ہے اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے لکھنو سے فون پر پہلا سبق پڑھا کر کلاس کا افتتاح کیا ہے۔ جبکہ دیگر شعبوں میں دینی تعلیم اور دعوتِ اسلام کا مربوط پروگرام طے کیا جا رہا ہے اور ہمارا بنیادی ہدف جامعہ الہدیٰ کو اسلام کی دعوت اور تعلیم کا ایک مثالی مرکز بنانا ہے۔ 

ورلڈ اسلامک فورم کے تعلیمی پروگرام ’’اسلامک ہوم سٹڈی کورس‘‘ کے ڈائریکٹر مولانا اورنگزیب نے کورس کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انگلش اور اردو میں دینی تعلیمات کے اس دو سالہ خط و کتابت کورس میں اس وقت برطانیہ اور دیگر ممالک کے پندرہ سو کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات شریک ہیں، اور اسے برطانیہ کے تعلیمی حکام نے بھی اسلامک سٹڈی کے او لیول کے کورس کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، جو کہ یورپ میں اسلامک سٹڈی کے کسی پروگرام کے سرکاری سطح پر قبول کیے جانے کا پہلا موقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام ورلڈ اسلامک فورم نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ دعوۃ اکیڈیمی کے تعاون سے شروع کیا ہے اور انتظامی طور پر اس کے تمام امور کا مدنی ٹرسٹ ذمہ دار ہے اور اس کے دفاتر جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم میں کام کر رہے ہیں۔

سیمینار کے شرکاء نے اسلامک ہوم سٹڈی کو اس پروگرام میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور او لیول کے بعد اے لیول پر کورس کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، جس پر طے پایا کہ اسلامی تعلیمات کے اس خط و کتابت کورس کو ڈگری کلاسز تک آگے لے جایا جائے گا۔ چنانچہ اے لیول پر کورس کے نصاب اور دیگر تفصیلات کے تعین کے لیے ڈاکٹر محمد المسعری اور مولانا اورنگزیب پر مشتمل کمیٹی مقرر کی گئی جو اس سلسلہ میں تمام ضروری امور کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔

پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی نے قرآن کریم کی تعلیم کے شام کے مکاتب کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کی جس میں مسلمان بچوں کو دین سے وابستہ کرنے کے لیے اس کام کو انتہائی ضروری، مفید اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے شام کے مکاتب کے نظام و نصاب کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں تین باتوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے:

  1.  ایک یہ کہ بچوں کو دن کا زیادہ حصہ اسٹیٹ اسکولز کے ماحول میں رہنے کا موقع ملتا ہے اور شام کو وہ صرف دو گھنٹے مسجد یا مکتب میں گزارتے ہیں، اس لیے لازماً‌ وہ اسکول کے ماحول کے اثرات زیادہ قبول کرتے ہیں۔ 
  2. دوسری بات یہ کہ جس کشش اور سہولتوں کا اہتمام اسٹیسٹ اسکولوں میں موجود ہے، شام کے دینی مکاتب کا ماحول اس سے قطعی طور پر مختلف ہوتا ہے، اور طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے اساتذہ کی تعداد بھی بہت کم ہوتی ہے۔ 
  3. اور تیسری بات یہ کہ ہر مکتب فکر اور علاقے سے تعلق رکھنے والے حضرات نے اپنے اپنے مکاتب میں الگ الگ نصاب مقرر کر رکھے ہیں اور ان کی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس کی وجہ سے ان مکاتب میں تعلیم پانے والے بچوں میں ذہنی ہم آہنگی اور فکری وحدت پیدا کرنے کا مقصد پورا نہیں ہو رہا۔ 

سیمینار میں اس رپورٹ کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد مولانا قاری تصور الحق اور جناب فیض اللہ خان پر مشتمل کمیٹی مقرر کی گئی جو شام کے دینی مکاتب میں پڑھائے جانے والے مختلف نصابوں کو جمع کر کے ان کا جائزہ لے گی، ان سب کو سامنے رکھ کر ایک مشترکہ نصاب کا خاکہ مرتب کرے گی، اور مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور تعلیمی ماہرین سے رابطہ کر کے مشترکہ نصاب پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے کمیٹی ویک اینڈ کے ہفتہ وار تعلیمی مکاتب کا بھی جائزہ لے گی اور ان کے نظام و نصاب کے بارے میں رپورٹ مرتب کرے گی۔ 

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے مغربی ممالک میں قائم ہونے والے دینی جامعات کے نصاب و نظام کا تفصیلی جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں بتایا کہ علماء و خطباء، ائمہ مساجد، مدرسین، اور دینی ماہرین کی تیاری کے لیے ان جامعات کی ضرورت ہے اور سوسائٹی میں ان کا کردار مسلّم ہے، لیکن ان کے نصاب کو آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جس طرح عملی اور اجتماعی زندگی میں دین اور سیاست کی تفریق ہمارے دورِ زوال کی پیدا کردہ ہے اور ہم ہر سطح پر اس کے نقصانات بھگت رہے ہیں، اسی طرح تعلیم میں بھی دین اور دنیا کی تفریق زوال اور ادبار کی علامت ہے۔ اور پہلی صدیوں میں ہماری درسگاہوں میں دینی علوم اور دنیاوی علوم کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی۔ 

انہوں نے کہا کہ دینی علوم کی بنیاد قرآن پاک، سنتِ نبوی، اور فقہِ اسلامی پر ہے جن کی مہارت ہر عالم کے لیے شرط ہے، لیکن ان سب کے ساتھ علماء کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ابلاغ کے جدید ذرائع، زبان اور اسالیب سے واقف ہوں، قوموں کی تاریخ پر ان کی نظر ہو، اور وہ مختلف مذاہب کے عقائد و افکار کے تقابلی مطالعہ سے بہرہ ور ہوں، کیونکہ اس کے بغیر وہ آج کے دور میں اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ عقائد، عبادات اور شخصی اخلاق کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات پر عبور کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کے معاملات مثلاً‌ سیاست، قانون، تجارت، بین الاقوامی معاملات، معیشت، بینکاری، خاندانی نظام اور ثقافت کے بارے میں قرآن و سنت کے تعلیمات پر مہارت بھی علماء کے لیے ناگزیر ہے۔ اور دینی جامعات کو اپنے نصاب و نظام میں وقت کی ان ضروریات کا احساس کرنا ہوگا، ورنہ وہ اسلام کو درپیش آج کے چیلنج کا سامنا نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج اسلام اور عالمِ اسلام کو مغربی فلسفہ کی طرف سے جس چیلنج کا سامنا ہے وہ ثقافت اور اجتماعی نظام کے حوالہ سے ہے۔ اور قرآن و سنت میں ان معاملات میں مکمل راہنمائی اور ہدایات موجود ہیں، لیکن ہمارے دینی جامعات کا نصاب و نظام اس سلسلہ میں تہی دامن ہے، جس کی وجہ سے وقت کی ضرورت اور تقاضوں کے مطابق علماء سامنے نہیں آ رہے، اور علماء اور نئی نسل کے درمیان ذہنی خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔

الشیخ عمر بکری محمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اسلام کی تاریخ اور اجتماعی زندگی کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات سے آگاہ کرنا چاہیے، اور اس سلسلہ میں تعلیم اور میڈیا کے ہر ممکن ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جو نوجوان کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں انہیں دین سے بے گانہ قرار دے کر چھوڑ نہ دیا جائے بلکہ ان پر زیادہ توجہ دی جائے کیونکہ وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو خلافت، اسلامی معیشت، اور اسلامی وحدت کے تصورات سے روشناس کرائیں اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کریں۔ 

ڈاکٹر محمد المسعری نے اپنے خطاب میں علماء کرام پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کو مغربی ثقافت کا شکار ہونے سے بچائیں اور انہیں تعلیم و تربیت کے ذریعے اس ثقافت کے مقابلہ کے لیے تیار کریں۔ 

انہوں نے کہا کہ اسلام کے بارے میں مغرب کے عقلی دلائل کا جواب دینے کی ضرورت ہے، اور ہم اپنی نئی نسل کے ذہن اور عقل تک رسائی حاصل کر کے ہی اسے گمراہی اور مغربی ثقافت میں ضم ہونے سے بچا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ علماء اسلام نے ہر دور میں اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے اس دور کی زبان اور اسلوب کو اختیار کیا ہے، اور آج کی زبان اجتماعی نظام، انسانی حقوق، اور معاشرہ کی مشکلات کے حل کی زبان ہے۔ اس لیے علماء کرام کو چاہیے کہ وہ خود بھی اس زبان اور اسلوب سے آگاہی حاصل کریں اور اپنے مدارس اور جامعات کے طلبہ کو بھی اس کے لیے تیار کریں۔ 

مولانا فضل الرحیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی اور سکول سے پہلے ہمارا گھر کا ماحول بچوں کی تربیت گاہ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں گھروں کے ماحول کو بہتر بنانے کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔ کیونکہ بچوں کو گھر کے ماحول میں نماز، تلاوتِ قرآن کریم، اور دینداری کی بجائے بے دینی اور ویڈیو و ٹیلی ویژن کے فحش پروگرام ملیں گے تو باہر کی تربیت و تعلیم ان پر اثر انداز نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے بچوں کو مسلمان اور دیندار بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے خود دیندار بنیں اور گھر کے ماحول کو اسلامی بنائیں۔ 

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ فورم نے چار سال قبل علماء اور دینی حلقوں کو وقت کے تقاضوں اور ضروریات کا احساس دلانے کی جس فکری مہم کا آغاز کیا تھا، اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں اور بیداری بڑھ رہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلام اور کفر کے آج کے فیصلہ کن نظریاتی اور ثقافتی معرکہ میں علماء کرام نظر و فکر اور ابلاغ کے جدید ترین ہتھیاروں مسلح ہوں، اور وہ پورے اعتماد اور دلجمعی کے ساتھ مغرب کی نظریاتی اور ثقافتی یلغار کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلہ میں تعلیم اور میڈیا کے ذرائع پر یقین رکھتے ہیں اور ان محاذوں پر ہماری جدوجہد مسلسل جاری رہے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ 

جامعہ اسلامیہ نیوارک کے مہتمم مولانا محمد کمال خان کی پُرخلوص دعا پر تعلیمی سیمینار اختتام پذیر ہوا۔

خاندانی نظام کی بحالی مغرب کا سب سے بڑا مسئلہ ہے

’’خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان پر سیمینار

روزنامہ جنگ

ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار اسلامک اکیڈیمی مانچسٹر میں علامہ ڈاکٹر خالد محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی مہمان خصوصی تھے اور ورلڈ اسلامک فورم کے راہنماؤں مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور مولانا محمد عمران خان جہانگیری کے علاوہ مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی، مولانا محمد قاسم، مولانا اخلاص الرحمان، مولانا ثمیر الدین قاسمی اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔

علامہ خالد محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خاندانی نظام کا جو تصور اسلام نے دیا ہے وہی فطری ہے اور قرآن کریم نے مرد اور عورت کی جسمانی ساخت اور صلاحیتوں کے مطابق ان میں حقوق و فرائض کی جو تقسیم کر دی ہے، اس کو اپنائے بغیر معاشرے میں کوئی خاندان صحیح مقام حاصل نہیں کر سکتا۔

مولانا عبد الحفیظ مکی نے کہا کہ ہم اپنی نئی پود کی تربیت اور ذہن سازی سے غفلت برت رہے ہیں اور ہمیں اپنے اس طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہو گا۔ 

مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ مغرب کے دانش ور اپنے خاندانی نظام کی تباہی سے پریشان ہیں اور بنیادوں کی طرف واپسی اور خاندانی اقدار کی طرف رجوع کا نعرہ لگا رہے ہیں، لیکن جن اسباب نے مغرب کو خاندانی نظام کی برکات سے محروم کیا ہے، ہمیں ان کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 

مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کہا کہ مغرب کے خاندانی نظام کی بنیاد خواہشات اور لذت پرستی پر ہے، اس لیے انسانی خواہشات کی طرح ان کی بنیاد پر قائم ہونے والی سوسائٹی بھی کسی قسم کے کنٹرول سے بالا تر ہو گئی ہے۔ 

مولانا مفتی برکت اللہ نے کہا کہ خاندانی نظام کی بحالی مغرب کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ 

مولانا سمیر الدین قاسمی نے کہا کہ اسلام نے نکاح کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور طلاق کو ناپسندیدہ ترین چیز قرار دیا ہے۔ 

مولانا محمد اقبال رنگونی نے کہا کہ اسلام نے نوجوان بچوں اور بچیوں کے اخلاق و کردار کی کڑی نگرانی اور بوڑھے ماں باپ کی خدمت اور ادب و احترام کا حکم دیا ہے اور یہی فطرت کا اصل تقاضا ہے۔ 

مولانا اخلاص الرحمٰن نے کہا کہ مسلم ممالک میں مغربی ممالک کی امداد سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیمیں ہمارے عقائد اور معاشرتی اقدار کے خلاف کام کر رہی ہیں اور ان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ 

(بشکریہ جنگ لندن ۲۱ نومبر ۱۹۹۲ء)

تعارف و تبصرہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’توضیح المرام فی نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے اس کتابچہ میں اپنے مخصوص تحقیقی انداز میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کے مسئلہ پر بحث کی ہے اور اس سلسلہ میں قادیانیوں اور دیگر گمراہ گروہوں کے اعتراضات و شبہات کے مسکت جوابات دیے ہیں۔ یہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی تازہ ترین تصنیف ہے جو انہوں نے پیرانہ سالی، بے چاری اور ضعف کے باوجود احقاقِ حق کے لیے تحریر فرمائی ہے، اور بطور مصنف ان کا اسم گرامی سامنے آنے کے بعد کتابچہ کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت اور گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کو صحت عطا فرمائیں اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر سلامت رکھیں۔

صفحات ۱۰۰، کتابت و طباعت معیاری، قیمت بیس روپے، ملنے کا پتہ: مکتبہ صفدریہ، نزد مدرسہ نصرۃ العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ۔

’’خطباتِ سواتی جلد سوم‘‘

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم بانئ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دروسِ قرآن کریم اور دروسِ حدیث کے ساتھ ساتھ ان کے خطباتِ جمعہ بھی اہتمام اور تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں اور ملک بھر کے خطباء اور علماء ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔

خطباتِ سواتی کی تیسری جلد اس وقت ہمارے سامنے ہے جو اتباع و اطاعتِ رسولؐ، سیرتِ نبویؐ میں استغفار کا پہلو، اسوۂ حسنہ، نبی آخر الزمانؐ کا مشن، اُمی نبیؐ کا اتباع، سابقہ امتوں کے واقعات، اچھی بات کا اتباع، صراطِ مستقیم کی تلاش، علماء دیوبند کی قربانیاں، دارالعلوم دیوبند کا صد سالہ اجلاس، وقوعِ قیامت اور محاسبۂ اعمال، حضرت موسیٰ کا سفرِ مدین، بیت اللہ شریف کی عزت و حرمت، علم کی ضرورت و اہمیت، علم اور اہلِ علم، سکونِ قلب کی تلاش، عظمتِ صحابہ کرامؓ، نزولِ قرآن کریم، صحابہ کرامؓ کے ساتھ حسنِ ظن اور دینِ حق کا سیاسی غلبہ جیسے اہم عنوانات پر حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے گراں قدر خطبات پر مشتمل ہے۔ حضرت صوفی صاحب ان دنوں صاحب فراش ہیں۔ قارئین ان کی صحتِ کاملہ عاجلہ کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔

کتابت و طباعت حسبِ معمول معیاری، مضبوط جلد، صفحات ۳۸۲، قیمت ۹۰ روپے، ملنے کا پتہ: مکتبہ دروس القرآن فاروق گنج، گوجرانوالہ، پاکستان۔

’’تحریکِ جامع مسجد نور‘‘

جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے اور شروع سے دینی تعلیمات اور جدوجہد کا مرکز ہے۔ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ کے گراں قدر خطبات سے ہر جمعہ کو شہر کے باذوق لوگ اسی مسجد میں مستفید ہوتے ہیں۔

حضرت صوفی صاحب کی حق گوئی اور مسجد میں اہلِ حق کی سرگرمیوں سے پریشان ہو کر ۷۶ء میں اس وقت کی حکومت نے مسجد نور کو مدرسہ نصرۃ العلوم کی عمارت سمیت محکمہ اوقاف کی تحویل میں دینے کا حکم نامہ صادر کر دیا تھا۔ جس پر پورا شہر سراپا احتجاج بن گیا اور مسجد پر سرکاری قبضہ کو روکنے کے لیے احتجاجی تحریک چلائی گئی، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے دینی کارکنوں نے گرفتاریاں دیں۔ تحریک کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت مسجد پر قبضہ نہ کر سکی اور اسے بالآخر مسجد کی واگزری کا اعلان کرنا پڑا۔

مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم نے اس تحریک کے بارے میں اس دور کے اخبارات و جرائد میں شائع ہونے والی رپورٹوں کی مدد سے یہ کتابچہ مرتب کیا ہے جو تحریک کے بارے میں مفید معلومات پر مشتمل ہے۔

صفحات ۱۲۰، کتابت و طباعت عمدہ، قیمت ۳۰ روپے، ملنے کا پتہ: ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ۔

’’معرکۂ حق و باطل‘‘

معروف صاحبِ قلم مولانا عبد اللطیف مسعود نے اس رسالہ میں قادیانیت کے حوالے سے مخصوص مسائل کا ذکر کیا ہے اور خود قادیانیوں کی کتابوں سے ان کا باحوالہ رد کیا ہے۔ علماء اور خطباء کے لیے یہ بہت مفید رسالہ ہے۔

صفحات ۷۲، ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ۔

’’معارف الایمان (حصہ اول)‘‘

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے فرزند قاری حماد الزہراوی دینی تعلیمات کے فروغ اور نصابِ تعلیم کو نئی نسل کی ضروریات کے حوالہ سے ازسرِنو مرتب کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور انہوں نے اس سلسلہ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں سوال و جواب کی شکل میں اسلامی عقائد کی تشریح عام فہم زبان میں کی گئی ہے جو سکول کی سطح کے طلباء کے لیے بہت مفید اور مؤثر ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کو ان کے جذبہ کے مطابق اس کام کی تکمیل کی توفیق سے نوازیں آمین۔

صفحات ۱۵۴، کتابت و طباعت معیاری، قیمت درج نہیں، ملنے کا پتہ: ندوۃ المعارف، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ۔

’’اساس المنطق شرح تيسير المنطق‘‘

مدرسۃ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ مولانا محمد سیف الرحمٰن قاسم علومِ عربیت کے ساتھ ساتھ منطق کی تعلیم و تدریس کا بھی خصوصی ذوق رکھتے ہیں اور رب العزت نے انہیں تقسیم کے منفرد انداز سے نوازا ہے۔ انہوں نے منطق کے مشہور رسالہ تیسیر المنطق کی شرح اساس المنطق کے نام سے کر کے منطق کے اساتذہ اور طلبہ کو بھی اپنے ساتھ اس ذوق میں شریک کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

اساس المنطق کا حصہ اول ۲۴۸ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت ۵۰ روپے ہے۔ ملنے کا :پتہ مکتبہ حراء نزد رحمانیہ مسجد، ۴ کنور گڑھ، کالج روڈ، گوجرانوالہ۔

’’تحفۃ المشتاق الیٰ دقائق الالحاق‘‘

یہ رسالہ بھی مولانا محمد سیف الرحمٰن قاسم کا تحریر کردہ ہے جس میں انہوں نے علمِ صَرف کے معروف اور مشکل مبحث الحاق اور ملحق برباعی کے مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اسے آسان انداز میں پیش کر کے علمِ صَرف کے طلبہ اور اساتذہ کو بہت سی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے نجات دلا دی ہے۔ اس رسالہ کے صفحات ۷۲ ہیں اور اسے بھی مذکورہ بالا پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’’امام ابوحنیفہؒ اور عمل بالحدیث‘‘

تیسری صدی ہجری کے معروف محدث امام ابوبکر ابن ابی شیبہؒ نے اپنی عظیم الشان کتاب ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ کے ایک مستقل باب میں ایک سو پچیس ایسے مسائل کا ذکر کیا ہے جن میں ان کے بقول امام ابو حنیفہؒ نے احادیثِ رسولؐ کے خلاف فتویٰ دیا ہے۔

’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ کے اس باب میں مذکور اعتراضات کے جواب میں متعدد اہلِ علم نے مختلف ادوار میں قلم اٹھایا ہے اور اس امر کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ ان مسائل میں امام ابوحنیفہؒ نے احادیثِ رسول کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کے موقف کی بنیاد بھی بعض دوسری احادیثِ رسولؐ پر ہے جنہیں وہ اپنے اصولِ اجتہاد کے مطابق ترجیح دے رہے ہیں۔

اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اردو میں عام فہم انداز میں ان مسائل پر حضرت امام ابوحنیفہؒ کے موقف اور دلائل کی وضاحت کر دی جائے تاکہ امام صاحبؒ پر حدیثِ رسولؐ کی مخالفت کے بے جا الزام کی صفائی کے ساتھ ساتھ عام پڑھے لکھے حضرات بھی امام صاحبؐ کے اسلوبِ اجتہاد سے آگاہ ہو سکیں۔ چنانچہ اس ضرورت کے پیش نظر عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہؒ کے ذکر کردہ ایک سو پچیس مسائل کا ترتیب وار ذکر کر کے ان کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ کے موقف اور دلائل کو عام فہم انداز میں واضح کر دیا ہے، جس سے امام ابوحنیفہؒ کے طرزِ اجتہاد اور روایت و درایت کے حوالہ سے فقہ حنفی کی خصوصیات کا بھی ایک حد تک اندازہ ہو جاتا ہے۔

صفحات ۳۱۲، کتابت و طباعت عمدہ، قیمت ۷۵ روپے، ناشر: ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ۔

’’خطباتِ ختمِ نبوت (جلد اول)‘‘

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت پر اکابر علماء امت کے خطبات کو جمع کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے، اور یہ اس کی پہلی جلد ہے جس میں امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، حضرت مولانا قاری محمد طیب، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہم اللہ اور دیگر اکابر کے خطبات شامل ہیں۔

صفحات ۳۸۴، کتابت و طباعت معیاری قیمت ۱۵۰ روپے، ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان۔

ہم اپنی سوچ پر سائنس کی اجارہ داری کے خطرناک نتائج سے آگاہ ہو رہے ہیں

شہزادہ چارلس

لندن (پ پ) پرنس آف ویلز چارلس نے اسلام اور مغرب کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جمعہ کے روز ولٹن پارک کے قیام کے ۵۰ سال مکمل ہونے کے سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اسلام نے ہمارے اردگرد کی دنیا کے تقدس کا زیادہ مربوط نظریہ برقرار رکھا ہے۔ اسلامی روایات کا احترام کر کے مغرب اپنی روایات کو تلاش کر سکتا ہے اور اس طرح دونوں عقیدوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ زیادہ تعداد میں مسلمان اساتذہ کو مقرر کر کے انگریز بچوں کو اسلامی اقدار کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ 

یہ پہلا موقع نہیں جب شہزادہ چارلس نے، جو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز کے سرپرست بھی ہیں، اسلامی اقدار کو سربلند کرنے کی بات کی ہے۔ ۱۹۹۲ء میں بھی انہوں نے اسلام اور مغرب کے درمیان مفاہمت کی بات کی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ میرا تبصرہ روحانی امور سے متعلق ہے، اسلام کی سیاسی اور سماجی اقدار کا تجزیہ نہیں۔ سائنس نے ہماری سوچ پر اجارہ داری حاصل کر لی ہے۔ ہم مغرب میں رہنے والے اب اس کے خطرناک نتائج سے آگاہ ہو رہے ہیں۔ ہم اپنے ماحول کی سالمیت اور پوری کائنات سے متعلق سوچ سے عاری ہو چکے ہیں۔ سائنس نے دنیا کے بہت سے حقائق ہم پر واضح کر دیے ہیں، وہ سب کچھ بتانے سے قاصر ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ خدا محض ایک حساب دان نہیں۔ انہوں نے فرانسس بیکن کے مقولے کو دہرایا کہ اللہ ان لوگوں کو قائل کرنے کے لیے معجزے نہیں کرے گا جو گھاس کے پتے کے اگنے اور بارش برسنے کے معجزے محسوس نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دو عظیم عقیدوں کے درمیان پھر سے پل دریافت کرنے کی ضرورت ہے اور یہ پل ہماری انسانیت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا عظیم تاریخ دان ابن خلدون شہری منصوبہ بندی کے بارے میں سمجھتا تھا کہ شہری زندگی اور روحانی آسودگی تہذیب کی اہم بنیاد ہے۔ کیا ہمارے شہروں میں کبھی ایسا میل ملاپ پیدا ہو سکتا ہے؟

(روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد ۱۶ دسمبر ۱۹۹۶ء)

اسلام ہی انسانی مسائل کا بہترین حل ہے

شہزادہ چارلس

لندن (سلطان محمود) انگلستان کے ولی عہد شہزادہ چارلس کی اسلام میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور رغبت سے مغربی ممالک کے مذہبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے چارلس کے اس رویہ کو جواز بنا کر ان کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ 

پرنس چارلس، جنہوں نے حال ہی میں خلیجی ریاستوں کا سرکاری دورہ کیا تھا، کے قریبی حلقوں کے مطابق چارلس مسلمانوں کے طرزِ زندگی اور اسلام حکم (اسلامی احکام) سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور اسلامی نظریہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ 

لندن کی مضافاتی کاؤنٹی سیکس کے ٹاؤن ہال میں برطانوی دانشوروں، سائنسدانوں، ماہرین تعلیم اور سرکردہ مذہبی سکالروں کے غیر معمولی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پرنس چارلس نے کھل کر اسلامی عظمت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے اسلام کی پیروی کو حیاتِ انسانی کے موجودہ تمام مسائل اور محرومیوں کا بہترین حل قرار دیا۔ 

پرنس چارلس کے اس غیر متوقع استدلال سے عیسائی سامعین ششدر رہ گئے اور ہال میں کھسر پھر شروع ہو گئی، لیکن چارلس نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے اور خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسلام بے شک اللہ کا ایک محبوب مذہب ہے، اگر دنیا میں ذہنی آسودگی، روحانی تسکین اور سکون کے ساتھ ساتھ آخرت میں اللہ کے حضور اپنی نجات چاہتے ہیں تو اسلام کا راستہ اپنانے سے یہ مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔ 

چارلس نے مغربی دنیا کے مادہ پرست اور سرمایہ دارانہ نظام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ استحصال اور عوام میں عدمِ مساوات کی خرافات کو فروغ دینے کا سبب ہے۔ (جہاں تک) میری دانست اور فکر کا تعلق ہے تو میرے نزدیک اس وقت اسلام ہی ایسا ضابطۂ حیات ہے جو مساوات، انسانی برابری، اور معاشرتی انصاف کی منزل دکھاتا ہے، اور اس منزل پر پہنچ کر ہی انسان کے لیے پر سکون زندگی کا حصول ممکن ہے۔ اگر ہم اپنی روز مرہ کی زندگی کے لیے اسلام کی ان خوبیوں سے استفادہ کریں تو یہ دنیا تمام انسانوں کے لیے جنت ثابت ہوگی۔ 

برطانیہ کے مذہبی رہنماؤں (عیسائی) اور خصوصاً‌ یہودی لابی نے پرنس چارلس کے اسلامی فلسفوں کی حمایت میں تقریر کا سخت نوٹس لیا اور انہوں نے اپنے اخباری بیانات میں برطانوی ولی عہد کو یاد دلایا ہے کہ وہ کسی اسلامی ملک کے نہیں بلکہ برطانیہ کے ہونے والے بادشاہ ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے دنوں شہزادی ڈیانا کے بارے میں سننے میں آیا تھا کہ وہ اسلامی فکر کی قائل ہو چکی ہیں۔

(روزنامہ نوائے وقت، ۱۶ دسمبر ۱۹۹۶ء)